چائلڈاسٹار

بادشاہی مسجد، لاہور


ہندوستان کے چھٹے مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی سرپرستی میں ان کے سوتیلے بھائی، مضفرحسین( جو فدائی خان کوکا کے نام سے مشہور ہوئے) نے یہ عظیم الشان مسجد بنوائی۔  مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر تمام مغلوں میں سے سب سے زیادہ مذہبی بادشاہ تھے۔ اس کی تعمیر ی کام کا آغاز1671ء میں شروع ہوا اور مسجد 1673ء میں مکمل ہوئی۔یہ مسجد مغلوں کے دور کی ایک شاندار مثال ہے اور لاہور شہر کی شناخت بن چکی ہے۔ مسجد کا طرز ِ تعمیردلی کی جامع مسجد سے کافی ملتا جلتا ہے جسے اورنگزیب کے والد شاہجاں نے تعمیر کروایا تھا۔ بادشاہی مسجد ، فیصل مسجداسلام آباد کے بعد پاکستان کی دوسری اور جنوبی ایشیاء کی پانچویں بڑی مسجد ہے جس میں بیک وقت 60 ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد کو تین سو تیرہ (313) سال تک دنیا کی سب سی بڑی مسجدہونے کا اعزاز حاصل رہا۔ اس کے چار مینار ہیں جن کی بلندی 54 میٹر ہے۔ میناروں کی اونچائی تاج محل کے میناروں سے بھی زیادہ ہے۔

بادشاہی مسجد کی ایک نایاب تصویر  1799ء میں رنجیت سنگھ کی زیر قیادت سکھ افواج نے لاہور پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس تاریخی مسجد کو شدید نقصان پہنچایا۔ مسجد کا صحن سکھ سپاہیوں کے اصطبل اور اس کے صحن کے گرد بنے ہوئے حجرے سپاہیوں کی قیام گاہ اور اسلحہ خانے کے طور پر استعمال ہونے لگے اور مسجد اور شاہی قلعے کے درمیان واقع حضوری باغ رنجیت سنگھ کے دربار کے طور پر سجنے لگا۔ صرف یہیں پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ رنجیت سنگھ کے بعد سکھوں میں پڑنے والی پھوٹ اور خانہ جنگی میں مسجد کے مینار تک گولہ باری کے لیے استعمال ہوئے، جس سے قلعے اور مسجد کو سخت نقصان پہنچا۔


جب انگریزوں نے سکھوں سے پنجاب حاصل کیا تو امید تھی کہ مسجد کی حالت کچھ بہتر ہوگی لیکن انہوں نے مسجد کو بد سے بدترین حالت تک پہنچا دیا۔ انگریزوں نے نہ صرف یہ کہ قلعے کا بحیثیت چھاؤنی استعمال جاری رکھا بلکہ بادشاہی مسجد کے صحن کے گرد واقعے تمام حجرے اور مینار کے بالائی حصے ڈھا دیے تاکہ مسجد کا دوبارہ کسی عسکری مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے اور اسے اصطبل اور اسلحہ خانے کی حیثیت سے استعمال کیا۔ اس فعل پر مسلمانوں میں پائے جانے والے جذبات کے باعث بالآخر انگریزوں نے طویل عرصے کے بعد اسے مسلمانوں کے حوالے کیا، لیکن اس کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھانا نہ مسلمانوں کے بس کی بات تھی اور نہ انگریز سرکار کو اس سے کچھ دلچسپی تھی۔ کچھ نیم دلانہ کوششیں ضرور ہوئیں لیکن اتنی بڑی مسجد کو اپنے عظیم نقصان کے بعد پرانی شان و شوکت کے ساتھ بحال کرنا ایک بہت بڑے منصوبے کا متقاضی تھا۔


قیام پاکستان کے بعد 1960ء میں حکومت پاکستان نے اس تاریخی مسجد کی اصل شکل میں بحالی کے لیے ایک منصوبے کا آغاز کیا اور بالآخر لاکھوں روپے کی لاگت سے مسجد کو اس کی اصلی شکل میں بحال کردیا گیا۔ میناروں کے بالائی حصے اور صحن کے گرد تمام حجرے اپنی اصلی شکل و صورت میں تعمیر کیے گئے۔ آج مسجد ہر سال لاکھوں سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہے اور لاہور میں سب سے زيادہ دیکھے جانے والے مقامات میں شامل ہے۔



ماں


ماں خدا کی نعمت ہے اور اس کے پیار کا انداز سب سے الگ اور نرالا ہوتا ہے۔ بچپن میں‌ایک بار بادو باراں کا سخت طوفان تھا اور جب اس میں بجلی شدت کے ساتھ کڑکی تو میں خوفزدہ ہو گیا۔ ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ میری ماں‌نے میرے اوپر کمبل ڈالا اور مجھے گود میں بٹھا لیا، تو محسوس ہوا گویا میں امان میں ‌آگیا ہوں۔
میں‌ نے کہا، اماں! اتنی بارش کیوں‌ہو رہی ہے؟‌ اس نے کہا، بیٹا! پودے پیاسے ہیں۔ اللہ نے انہیں پانی پلانا ہے اور اسی بندوبست کے تحت بارش ہو رہی ہے۔ میں‌ نے کہا، ٹھیک ہے! پانی تو پلانا ہے، لیکن یہ بجلی کیوں بار بار چمکتی ہے؟ یہ اتنا کیوں‌کڑکتی ہے؟ وہ کہنے لگیں، روشنی کر کے پودوں کو پانی پلایا جائے گا۔ اندھیرے میں تو کسی کے منہ میں، تو کسی کے ناک میں‌ پانی چلا جائے گا۔ اس لئے بجلی کی کڑک چمک ضروری ہے۔
میں ماں کے سینے کے ساتھ لگ کر سو گیا۔ پھر مجھے پتا نہیں چلا کہ بجلی کس قدر چمکتی رہی، یا نہیں۔ یہ ایک بالکل چھوٹا سا واقعہ ہے اور اس کے اندر پوری دنیا پوشیدہ ہے۔ یہ ماں‌کا فعل تھا جو ایک چھوٹے سے بچے کے لئے، جو خوفزدہ ہو گیا تھا۔ اسے خوف سے بچانے کے لئے، پودوں کو پانی پلانے کے مثال دیتی ہے۔ یہ اس کی ایک اپروچ تھی۔ گو وہ کوئی پڑھی لکھی عورت نہیں تھیں۔ دولت مند، بہت عالم فاضل کچھ بھی ایسا نہیں تھا، لیکن وہ ایک ماں تھی۔
(زاویہ دوم، باب پنجم۔ از: اشفاق احمد)

ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک


ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک کوئٹہ سے 20کلو میٹر دور جنوب مغرب میں واقع ایک انتہائی خوبصورت پارک ہے۔ اسکا رقبہ 32,500ایکڑ ہے۔ یہ پارک سطح سمندر سے 2021 سے 3264 میٹر بلندی پر واقع ہے ۔ اسے 1980ء میں جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے قائم کیا گیا۔یہ پارک قدرتی پہاڑی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں مغرب میں چلتن اور مشرق میں ہزار گنجی پہاڑی سلسلہ ہے۔چلتن کا شمار بلوچستان کے سب سے اونچی چوٹیوں میں ہوتا ہے۔ اس پارک میں ایک بہترین عجائب گھر دیکھنے کے لائق ہے۔ یہاں آرام گاہ (ریسٹ ہاؤس) بھی ہے اور تفریح کیلئے خوبصورت مقامات بھی، جس کے باعث باہر سے سیر کیلئے آنے والے یہاں رہتے ہوئے اس خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
ہزار گنجی نیشنل پارک میں پائے جانے والے جنگلی حیات
ہزار گنجی کا مطلب ہزار خزانوں والی جگہ ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں پہاڑوں کی تہوں میں ہزاروں خزانے دفن ہیں، اس تاثر کی وجہ اسکا مخلتلف تاریخی افواج اور بلوچ قبائل کی گزرگاہ ہونا ہے۔ابتدا میں اس پارک کے قیام کا مقصد چلتن جنگلی بکری اورمارخور کی نسل کو بچانا تھا جو 1950ء کی تعداد 1200 سے کم ہو کر 1970ء میں صرف 200 رہ گئے تھے۔ اب ان کی تعداد دوبارہ 800 سے تجاوز کر چکی ہے۔ اب یہاں سلیمان مارخور بھی محفوظ ہیں اور دھاری دار چیتا اور لومڑیاں بھی ہیں۔ پارک کے قیام سے یہ جانور غیر قانونی شکاری کاروائیوں سے بچے ہوئے ہیں۔انکے علاوہ کئی اور نایاب جانور ور پرندے بھی یہاں موجود ہیں۔

(ویکیپیڈیا)

تعلق کیا چیز ہے؟

یہ بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضع نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ کو اندر ہی اندر یہ یقین محکم رہتا ہے کہ "آپ کی آگ" میں سلگنے والا کوئی دوسرا بھی موجود ہے، دہرا وزن آدھا رہ جاتا ہے۔   (بانو قدسیہ کے ناول "حاصل گھاٹ"  سے اقتباس)

خلیفہ ہارون الرشید کا استفسار اور بہلول کا انوکھا جواب



ایک دن بہلول بازار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ خلیفہ ہارون الرشید کا گزر ہوا تو انہوں نے پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو تو بہلول نے کہا کہ بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔
ہارون الرشید نے کہا کہ پھر کیا بنا؟
بہلول نے کہا کہ اللہ تو مان رہا ہے لیکن بندے نہیں مان رہے۔

کچھ دن بعد خلیفہ کا ایک قبرستان کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا بہلول قبرستان میں بیٹھے ہیں۔
قریب جا کر پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو۔
بہلول نے کہا بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔
ہارون الرشید نے کہا کہ پھر کیا بنا؟
بہلول نے کہا بندے تو مان رہے ہیں مگر آج اللہ نہیں مان رہا ہے۔
دوستوں! اس بارے میں ضرور سوچو، کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے اور اللہ کو منانے کا موقع ہاتھ سے نکل جائے۔ اب بھی وقت ہے اپنا آپ پہچانو اپنے رب کے پیغام کو جانو۔

مائیکرو سافٹ نے ونڈوز کا نیا ورژن ریلیز کر دیا


مائکروسافٹ نے آج اپنے مشہور زمانہ آپریٹنگ سسٹم ونڈوز کا نیا ورژن لانچ کر دیا ہے۔ ونڈوز 8 استعمال کرنے والے صارفین، ونڈوز8.1 کے نام سے جاری اس ورژن کو مائیکروسافٹ کی ویب سائٹ سے بلکل مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس نئی اپڈیٹ میں پچھلے ورژن کی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ نئے فیچرز بھی شامل کئے گئے ہیں۔

ونڈوز 8 کی ریلیز پر ماہرین نے اس کے یوزرانٹرفیس اور مشہور زمانہ "اسٹارٹ بٹن" کی غیر موجودگی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ونڈوز 8.1 میں "اسٹارٹ بٹن" کو ایک نئے انداز میں دوبارہ شامل کر دیا گیا ہے۔ ونڈوز کے اس نئے ورژن کا انٹرفیس ونڈوز 8 سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اس ورژن میں انٹرنیٹ ایکسپلورر11، بِنگ سرچ، سکائی ڈرائیو کنیکٹیویٹی اور سکائپ جیسے نئے فیچرز شامل کئے گئے ہیں۔

ونڈوز 8 استعمال کرنے والے صارفین کو نیا ورژن خریدنے کی ضرورت نہیں اور وہ اسے ونڈوز ایپ اسٹور سے بلکل مفت ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔ دیگر صارفین کے لئے اس کی قیمت 200 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

مائیکروسافٹ پہلے ہی یہ ورژن ہارڈوئیر شراکت داروں کو بھیج چکا ہے تاکہ وہ نئے کمپیوڑز، لیپ ٹاپس اور ٹیبلیٹس پر اسے انسٹال کر سکیں۔ نئے ورژن کی لانچنگ کے ساتھ ہی ونڈوز 8.1 کے حامل کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور ٹیبلیٹس مارکیٹ میں لانچ کردئے گئے ہیں۔
ونڈوز 8.1 کے بارے میں مزید جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ 

ایک باز اور مرغ کا مکالمہ


ایک جگہ پہ ایک باز اور ایک مرغ اکٹھے بیٹھے تھے۔ باز مرغ سے کہنے لگا کہ میں نے تیرے جیسا بے وفا پرندہ نہیں دیکھا۔ تو ایک انڈے میں بند تھا۔ تیرے مالک نے اس وقت سے تیری حفاظت اور خاطر خدمت کی، تجھے زمانے کے سرد و گرم سے بچایا۔ جب تو چوزہ تھا تو تجھے اپنے ہاتھوں سے دانہ کھلایا اور اب تو اسی مالک سے بھاگا پھرتا ہے۔

مجھے دیکھ، میں آزاد پرندہ تھا، میرے مالک نے مجھے پکڑا تو سخت قیدو بند میں بھوکا پیاسا رہا، مالک نے بہت سختیاں کیں لیکن جب بھی مالک شکار کے پیچھے چھوڑتا ہے تو شکار کو پکڑ کر اسی مالک کے پاس ہی لاتا ہوں۔

مرغ کہنے لگا۔ "تیرا اندازِ بیان شاندار ہے اور تیری دلیل میں بہت وزنی لگتی ہے، لیکن اگر تو دو باز بھی سیخ پہ ٹنگے ہوئے دیکھ لے تو تیری دلیل دھری کی دھری رہ جائے اور کبھی لوٹ کر مالک کے پاس واپس نہ آئے۔"

حکایتِ سعدی


شیخ سعدی بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں مجھے عبادت کا بہت شوق تھا۔ میں اپنے والد محترم کے ساتھ ساری ساری رات جاگ کر قرآن مجید کی تلاوت اور نماز میں مشغول رہتا تھا۔ ایک رات والدِمحترم اور میں حسبِ معمول عبادت میں مشغول تھے اور ہمارے قریب ہی کچھ لوگ فرش پر پڑے غافل سورہے تھے۔ میں نے اُن کی یہ حالت دیکھی تو اپنے والد صاحب سے کہا کہ ان لوگوں کی حالت پر افسوس ہے! ان سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ اٹھ کر تہجد کی نفلیں ہی ادا کرلیتے۔

والد محترم نے میری یہ بات سنی تو فرمایا: بیٹا! دوسروں کو کم درجہ خیال کرنے اور برائی کرنے سے تو بہتر تھا کہ تو بھی پڑکر سوجاتا۔

(حکایاتِ گلاستانِ سعدی)

قربانی کی اہمیت


سنت ابراہیمی کا دن قریب آ رہاہے جو ہمارے اخلاص و ایثار کا امتحان ہے۔ یہ دن عید الضحیٰ کہلاتا ہے جو حضرت ابرہیم خلیل اللہ کی جانب سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے۔قربانی کا تصور ہر آسمانی مذہب میں پایا جاتا ہے۔ جذبہ ایثار کا یہ ایک بہترین محرک ہے۔ اس کی ابتدا قابیل کے واقعہ سے ہوتی ہے، لیکن جس کی یاد گار کو ہم مناتے ہیں اس کا اجرا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا تھا کہ یہ قربانی کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کی! ہمیں اس میں کیا ملے گا۔ فرمایا جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا قربانی کے دن اﷲ کے ہاں خون بہانے سے کوئی عمل زیادہ محبوب نہیں۔ قربانی کے جانور کے سینگ ‘ بال کھر قیامت کے روز سب اجر وثواب بن جائیں گے۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کے ہاں بلند درجہ پا لیتا ہے۔ لہذا ایسی قربانیوں سے اپنے دل خوش کرو۔

قربانی کا گوشت تقسیم بھی کیا جا سکتا ہے اور حسب ضرورت رکھا بھی جا سکتا ہے۔ کوئی پابندی نہیں۔ شریعت کی رو سے قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جاتے ہیں۔ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں اور تیسرا حصہ مساکین کیلئے مختص کیا جاتا ہے۔ اسی قربانی کی یہ حکمت وبرکت ہے کہ غریب سے غریب شخص بھی ان دنوں گوشت سے محروم نہیں رہتے۔

قربانی کا گوشت تقسیم ہو یا نہ ہو استعمال میں آئے یا نہ آئے اس سے قربانی کی اہمیت کسی صورت بھی کم نہیں ہوتی ۔قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ’’اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے بلکہ تمہارا تقوی پہنچتا ہے-" (سورۃ الحج آیت نمبر 37)

آخر میں قربانی کی استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں کے بارے میں رسول اکرم ﷺ کا ایک ارشاد مبارک بھی پڑھ لیجئے- ارشاد نبوی ﷺ ہے:

’’جو شخص قربانی کی استطاعت رکھتا ہو پھر بھی قربانی نہ کرے وہ (نماز عید کے لئے) ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے"۔ (مسند احمد)

قربانی کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث ہیں، اس لئے اس عبادت کو ہرگز ترک نہ کریں جو اسلام کے شعائر میں سے ہے اور اس سلسلہ میں جن شرائط و آداب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے، انہیں اپنے سامنے رکھیں اور قربانی کا جانور خوب دیکھ بھال کر خریدیں۔

طبیب کی نصیحتیں


حجاج بن یوسف نے اپنے دور کے مشہور طبیب سے فرمائش کی کہ اسے طب کی کچھ اچھی اچھی باتیں بتائے۔

اُس مشہور طبیب نے کہا:
  1. گوشت صرف جوان جانور کا کھاؤ۔
  2. جب دوپہر کا کھانا کھاؤ تو تھوڑا ٹائم سو جاؤ اور شام کا کھانا کھا کر چلو، چاہیے تمہیں کانٹوں پر چلنا پڑے۔
  3. جب تک پیٹ کی پہلی غذا ہضم نہ کر لو دوسرا کھانا نہ کھاؤ، بھلے تمہیں تین دن ہی کیوں نہ لگ جائیں۔
  4. جب تک بیت الخلاء نہ جاؤ، سونے کے لئے مت لیٹو۔
  5. پھلوں کے نئے موسم میں پھل کھاؤ، جب موسم جانے لگے تو پھل کھانا چھوڑ دو۔
  6. کھانا کھا کر پانی پینے سے بہتر ہے کہ زہر پی لو یا پھر کھانا ہی نا کھاؤ۔

کیا آئرن مین حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے؟


امریکی فوج نے سائنس و ٹیکنالوجی کے اداروں، حکومتی لیبارٹریوں اور سائنس دانوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ مشہور زمانہ فلم "آئرن مین" کی طرز پر لباس تیار کیا جا سکے۔ امریکی فوج پہلے ہی ایسے ایگزو سکیلیٹنز کے ٹیسٹ کر چکی ہے، جسے استعمال کرنے سے فوجی باآسانی زیادہ وزن لاد کر حرکت کر سکیں گے۔
امریکی ادارے لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ایگزو سکیلیٹن تجربات کے مراحل میں ٹیکٹیکل اسالٹ لائٹ آپریٹر سوٹ (ٹیلوس) نامی اس لباس میں ایسے سنسرز نصب کئے جائیں گےجس کی مدد سے فوجیوں کے جسمانی درجۂ حرارت، دل کی دھڑکن اور ہائیڈریشن کی سطح باآسانی معلوم کی جاسکے گی۔ "آئرن مین" سیریز کی فلموں میں دکھائے گئے لباس کے مانند ٹیلوس میں بھی وسیع رینج کے نیٹ ورکس اور گوگل گلاس کی مانند پہنے جانے والے کمپیوٹر لگے ہوں گے۔ ہاتھ اور ٹانگوں کے ساتھ لگائے جانے والے ایگزو سکیلیٹنز میں ہائیڈرولک سسٹم بھی موجود ہو گا تاکہ فوجیوں کو مزید قوت مل سکے۔
امریکی فوج کے ریسرچ اور انجینئرنگ کمانڈ کے لیے سائنسی مشیر لیفٹیننٹ کرنل کارل بورجیز کا کہنا ہےکہ ہماری خواہش ہے کہ یہ آرمر سوٹ ایگزو سکیلیٹن، صحت اور توانائی کی مسلسل نگرانی اور ہتھیاروں پر مشتمل ایک جامع سسٹم پر مشتمل ہو۔ ان کے مطابق یہ ایک جدید بکتربند سوٹ ہو گا، اس میں کمیونیکیشن، سینسرز، سرکٹس اور انٹینے نصب ہوں گے۔ امریکی فوج کے سارجنٹ میجر کرس فیرس کا کہنا ہے کہ ایسے جدید بکتر بند لباس کی تیاری اکیلے کسی ایک دارے کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے ہم نے ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ اداروں، نجی سائنسی اداروں اور حکومتی لیبارٹریوں سے اس منصوبے میں مدد کی درخواست کی ہے۔ امریکی فوج چاہتی ہے کہ ٹیلوس آرمر سوٹ کو تین سال کے اندر اندر تیار کر لیا جائے۔
امریکی فوج کے مطابق، یہ عین ممکن ہے کہ میسی چیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنس دان بھی اس منصوبے پر کام کریں۔ ایم آئی ٹی کی ایک ٹیم ان دنوں ایسے مائع جسمانی بکتر بند کی تیاریوں میں مصروف ہے، جسے برقی یا مقناطیسی کرنٹ دینے پر ٹھوس شکل دی جا سکے گی۔
امریکا کی نیوز ویب سائٹ این پی آر سے ایک انٹرویو میں ایم آئی ٹی کے پروفیسر گیرتھ مک کینلی نے مستقبل کے آرمر لباس کا موازنہ ہالی وڈ کی فلموں میں دکھائے جانے والے لباسوں سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بالکل آئرن مین جیسے لباس ہوں گے۔

کیا ڈیجیٹل دماغ تیار ہوسکے گا؟


یورپی یونین نے ایک ارب پونڈ کی لاگت سے ایک پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے تاکہ انسانی دماغ کو مکمل طور پر سمجھا جا سکے۔ ہیومن برین پراجیکٹ (ایچ بی پی) نامی منصوبے میں یورپی ممالک کے 135 سائنسی اداروں میں کام کرنے والے سائنسدان حصہ لے رہے ہیں۔ 
برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس منصوبے میں سائنسدان ایسی کمپیوٹر سمولیشن تیار کرنے کی کوشش کریں گے جس سے انسانی دماغ کو مکمل طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

سائنسدانوں کے مطابق انسانی دماغ ایک ارب سے زیادہ نیوران اور سو کھرب سے زیادہ لونیا جوڑوں پر مشتمل ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے پروفیسر ہنری مارکرم کے مطابق اس منصوبے کا مقصد انسانی دماغ کے بارے میں تمام معلومات کو اکھٹا کر کے ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا قیام ہے جس کے تحت دماغ کے بارے سمولیشن بن سکیں۔ انہوں نے کہا اس پراجیکٹ کے مقاصد میں یہ بھی شامہ ہے کہ دماغی بیماریوں کا کیسا پتا چلا جائے اور انسانی ذہن کو سمجھ کر کیسے ایک نیا ڈیجیٹل دماغ تیار کیا جائے؟

سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ موجودہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی انسانی ذہن کے پیچیدہ گوشوں کی مکمل سمولیشن تیار کرنے کے قابل نہیں ہے۔ انسانی ذہن کو سمجھنے کے اس منصوبے کا انسانی جینوم پراجیکٹ کے ساتھ موازانہ کیا جا رہا ہے۔ ایک عشرے تک جاری رہنے والے انسانی جینوم پراجیکٹ میں ہزاروں سائنسدانوں نے حصہ لیا تھا اور اس منصوبے میں انسانی جینیٹک کوڈ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ اس منصوبے پر اربوں ڈالر کے اخراجات آئے تھے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس منصوبے کے بعد سائنسدان انسانی دماغ اور ڈیجیٹل دماغ کا موازانہ کر کے انسانی دماغ کی بیماریوں کا پتہ چلایا جا سکے گا۔

بکرے کا انتخاب



ایک صاحب نے کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد ایک بکرا منتخب کیا اور اس دوران بکرے کی نسل، شکل و صورت، خاندان اور ماضی اور مستقبل کے بارے میں اتنے سوال کئے جو عام طور پر لوگ ہونے والے داماد کے بارے میں بھی نہیں پوچھتے۔ 
بکرے والا اُن کے ہر سوال کا جواب دیتا رہا لیکن تمام انکوائری کے بعد جب خریدار نے یہ کہا:
"اور تو میاں سب ٹھیک ہے مگر اس کے سینگ چھوٹے ہیں"۔ تو بکرے والے سے رہا نہ گیا۔ اس نے جل کر کہا۔ 
"معاف کیجئے گا۔ آپ نے اس کی قربانی کرنی ہے یا اس پر کپڑے لٹکانے ہیں"۔ (امجد اسلام امجد کی چشم تماشا سے اقتباس)   

اکبر بادشاہ


آپ نے حضرت ملا دو پیازہ اور بیربل کے ملفوظات میں اس بادشاہ کا حال پڑھا ہو گا، راجپوت مصوری کے شاہکاروں میں اس کی تصویر بھی دیکھی ہوگی، ان تحریروں اور تصویروں سے یہ گمان ہوتا ہے، کہ بادشاہ سارا وقت داڑھی گھٹوانے، مونچھیں تراشوائے، اکڑوں بیٹھا پھول سونگھتا رہتا تھا یا لطیفے سنتا رہتا تھا، یہ بات نہیں اور کام بھی کرتا تھا۔


اکبر قسمت کا دھنی تھا، چھوٹا سا تھا کہ باپ بادشاہ ستارے دیکھنے کے شوق میں کوٹھے سے گر کر جاں بحق ہو گیا اور تاج و تخت اسے مل گیا۔

ایڈورڈ ہفتم کی طرح چونسٹھ برس ولی عہدی میں نہیں گزارنے پڑے۔ ویسے اس زمانے میں اتنی لمبی ولی عہدی کا رواج بھی نہ تھا، ولی عہد لوگ جونہی باپ کی عمر کو معقول حد سے تجاوز کرتا دیکھتے تھے اسے قتل کرکے، یا زیادہ رحم دل ہوتے تو قید کرکے، تخت حکومت پر جلوہ افروز ہو جایا کرتے تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ دن رعایا کی خدمت کا حق ادا کر سکیں۔

(اقتباس: ابنِ انشاء کے مضامین)

سورۃ یٰسین کے فوائد


حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "ہر چیز کا دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورۃ یٰسین ہے"۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے مجربات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں:"تم یٰسین کو لازم کرلو، اس میں بے شمار فوائد ہیں"۔
اس سورۃ کے چند فوائد درج ذیل ہیں:
  • اگر کوئی بھوکا آدمی اسے پڑھے تو اس کی طبیعت سیر ہوجائے گی۔
  • اگر پیاسا آدمی پڑھے تو اس کی پیاس بجھ جائے گی۔
  • اگر لباس نہیں تو پڑھنے سے لباس میسر آجائے گا۔
  • اگر غیر شادی شدہ مرد یا عورت پڑھے تو اس کی شادی ہوجائے گی۔
  • اگر خوف زدہ پڑھے تو اس کا خوف ختم ہوجائے گا۔
  • اگر قیدی اس کو پڑھا کرے تو رہائی پائے گا۔
  • اگر مسافر پڑھے تو سفر میں اس کی اعانت ہوگی۔
  • اگر غم یا وہم والا پڑھے تو وہ شفا پائے گا۔
  • اگر گم شدہ آدمی یا چیز کی واپسی کے لیے پڑھیں تو دستیاب ہوگی۔
  • اگر بیمار کے لیے پڑھے تو مریض صحت یاب ہوجائےگا۔
(ماخوذ از مجربات امام سیوطی رحمہ اللہ)

اب کھانے "پرنٹ" کئے جائیں گے


امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے ایک ایسے 3D پرنٹر کی تیاری پر کام شروع کیا ہے جو ہمارے لئے کھانا "پرنٹ" کر سکے۔ ناسا کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن پر خوارک عام گھریلو طریقے سے پکانے کے بجائے خصوصی 3D پرنٹر کی مدد سے پرنٹر کئے جائیں جو ذائقے اور معیار میں کسی بھی طرح گھریلو کھانے سے کم نہ ہو۔ اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں ایک 3D پرنٹر کی مدد سے پیزا کی تیاری کا عمل دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں پیزا کو تیاری کے بعد ایک گرم سطح پر پکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اگرچہ اس پیزا کا معیار فی الحال اچھا نہیں ہے لیکن اس کامیابی کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل تصور کیا جارہاہے۔ پرنٹر ابھی اپنی تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ماہرین کے خیال میں وہ بہت جلد اسے مزید بہتر بناسکیں گے۔ اگر یہ پرنٹرز مارکیٹ میں آگئے تو آپ کسی بھی وقت بھیڑ کی بھنی ہوئی "پرنٹڈ" ران اور "پرنٹڈ" تکے، آلو کے "پرنٹڈ" قتلوں اور مزیدار "پرنٹڈ" چھٹنی کےساتھ تناول کرسکیں گے۔

Pages