لاء سوسائٹی پاکستان

JehanPakistan ePaper | جہاں پاکستان اخبار

JehanPakistan ePaper |

جہاں پاکستان اخبار


میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
انیس سو باسٹھ   کا ایوبی دستور نیانیا نافذ ہوا تھا  ہرطرف قبرستان کی خاموشی تھی بنیادی حقوق  منسوخ کیئے جاچکے تھے عدالت کا رٹ کا حق   بھی ختم کردیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس ایم آر کیانی مرحوم کراچی بارایسوسی ایشن کی تاریخی تقریر میں  آمریت کے خلاف بھرپور آواز بلندکرنے کی "غلطی" کرچکے تھے  اور مارشل لاء کے خلاف یہ واحد آواز تھی جو پورے پاکستان میں سب سے پہلے بلند ہوئی تھی  جشن مری کا موقع تھا شاعروں  کی "ریم" مری میں جمع تھی   وزیر قانون جناب   منظور قادر اور بہت سے وزراء جمع تھے بڑے بڑے شعراء وفاقی وزراء کا دل بہلانے  کیلئے  جمع تھے شوکت تھانوی صاحب  مرزا غالب کی  غزل کا  مزاحیہ ہندی ورژن پیش کرکے   اور مرزاغالب کی  خوب توہین   کرکے حکمران طبقے کا دل بہلا چکے تھے   سید محمود جعفری اور  ظریف جبل پوری جیسے مشاعرہ لوٹ قسم کے شعراء بھی ابھی مشاعرے میں موجود تھے   یہ تینوں طنزومزاح میں شعر کہتے تھے اور  حکمران  ان کو پسند کرتے تھے  اسی دوران ناظم مشاعرہ نے  نوجوان شاعر حبیب جالب کو غزل پڑھنے کی دعوت دی لیکن اس سے پہلے ہی تینوں   بڑے بڑے شعراء اپنا رنگ جما کر جاچکے تھے  محسوس یہ ہورہا تھا کہ اب کسی اور کیلئے رنگ جمانا شاید ممکن نہ ہو اس زمانے میں حبیب جالب  اپنی نظم دستور لکھ چکے تھے اور پڑھنے کیلئے مناسب موقع کی تلاش تھی   حبیب جالب نے مشاعرے  کیلئے  اپنی لکھی ہوئ غزل واپس جیب میں ڈالی اور  جیب سے نظم نکالی اور مائیک پر آکر کہا  آج غزل سنانے  موڈ نہیں ہورہا اس لیئے خلاف معمول غزل کی بجائے ایک نظم پیش کروں گا جس کا  عنوان ہے "دستور" یہ سنتے ہی ناظم مشاعرہ نے مائیک جھپٹ  کر  واپس   چھیننے کی ایک ناکام کوشش کی  اور احتجاجاً کہا کیا کررہے ہو کیا کررہے ہو جالب نے  مائک  مضبوطی  سے پکڑ  کر کہا ہٹ جاؤ مائیک کی تلوار میرے ہاتھ میں ہے آج  میں آمریت کو لہولہان کرکے ہی چھوڑوں گا یہ کہہ کر انہوں نے خوب ترنم کے ساتھ اپنی نظم "دستور "کے تاریخی اشعار ترنم کے ساتھ  کسی  مشاعرے میں  پہلی بار پڑھنا شروع کیئے دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا...
یہ نظم جب پہلی بار پڑھی گئی تو  لوگ سہم گئے تھے   لیکن بعد ازاں نعرہ زن ہوگئے اور ایک ایک بند کو بار بار سنا   اس طرح حبیب جالب نے 1962 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مری میں اپنا دستور نافذ کیا جو آج تک   نافذ ہے  جالب کے بعد مشاعرہ  ختم ہوگیا  حبیب جالب اسٹیج سے نیچے اترے تو ایک بزرگ شاعر  کو منتظر پایا چھوٹتے ہی کہا یہ کونسا موقع تھا   نظم پڑھنے کا جالب نے کہا میں موقع پرست نہیں ہوں اور یہ کہہ  آگے بڑھ گئے یہ نظم منٹوں سیکنڈوں میں پورے شہر میں پھیل گئی  اور یہ نظم وزیر قانون منظورقادر تک بھی پہنچی تو  ایک تقریب میں کہا اب میرا دستور نہیں چلتا  ایک لڑکا دستور پڑھ گیا ہے  بعد ازاں یہ نظم محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں حبیب جالب پڑھتے تھے اور لوگوں کے جذبات کو گرماتے تھے  بدقسمتی سے یہی نظم  حبیب جالب کو  بے شمار آزمائیشوں میں مبتلا   بھی  کرگئی  اور زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اسی نظم کے مرہون منت  جیل  میں گزرا  حبیب جالب نے اس زمانے کے شعراء اور اہل ادب سے بھرپور شکوہ کیا تھا کیونکہ  بہت ہی بڑے بڑے شعراء آمریت کا حصہ بن گئے تھے  ایک بہت بڑے شاعر  صدرایوب خان  کے  "مشیر" مقرر ہوئے تو ان کی ملاقات  سرراہ حبیب جالب سے ہوگئی   کہنے لگے  بہت جلدی میں ہوں صدر کا مشیر مقرر ہوگیا ہوں ان کو مشورے دیتا ہوں  حبیب جالب نے کہا کیا مشورے دیتے ہو   مشہور زمانہ شاعر نے مسکراتے ہوئے کہا ایوب خان  رات کو تین بجے بھی بلالیتا ہے دوبجے بھی بلالیتا ہے مشورہ مانگتا ہے کہ میں کیا کروں میں ایک ہی  مشورہ دیتا ہوں کہ  سب کو ڈنڈے کے نیچے رکھ ان وکیلوں پر ڈنڈا رکھ ، طلبہ  جو یونیورسٹی  آرڈیننس  کے  خلاف   جلوس  نکالتے  ہیں  ان   پر ڈنڈا رکھ مسلمان  صرف ڈنڈے کو مانتا ہے ان سب عوام کو ڈنڈے کے نیچے رکھ حبیب جالب نے  جب یہ تقریر سنی تو ان کے  ذہن میں ایک  خیالی مکالمہ آیا    جو ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان  ہورہا تھا  اور مشیر خاص پاکستانی عوام کے متعلق اپنے خیالات سے صدر ایوب کو آگاہ کررہا تھا  بعد ازاں حبیب جالب جب رخصت ہوئے تو صدر ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان ہونے والے خیالی مکالمے کو وہ نظم کی شکل دے چکے تھےمیںنے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
تو ہے مہر صبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شر پسند ہیں
ان کی کھینچ لے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا
میں نے اس سے یہ کہا
جن کو تھا زباں پہ ناز
چپ ہیں وہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے
کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید
لوگ تیرے راج میں
آدمی ہے وہ بڑا
در پہ جو رہے پڑا
جو پناہ مانگ لے
اس کی بخش دے خطا
میں نے اس سے یہ کہا
ہر وزیر ہر سفیر
بے نظیر ہے مشیر
واہ کیا جواب ہے
تیرے ذہن کی قسم
خوب انتخاب ہے
جاگتی ہے افسری
قوم محو خواب ہے
یہ ترا وزیر خاں
دے رہا ہے جو بیاں
پڑھ کے ان کو ہر کوئی
کہہ رہا ہے مرحبا
میں نے اس سے یہ کہا
چین اپنا یار ہے
اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام
اس طرف نہ جائیو
اس کو دور سے سلام
دس کروڑ یہ گدھے
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں
تو ''یقیں'' ہے یہ ''گماں''
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نے اس سے یہ کہااکثر لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یہ نظم حبیب جالب نے پاکستانی عوام کے بارے میں لکھی تھی یہ درست نہیں  بلکہ یہ  ایک عظیم شاعر  جو  صدر  کا مشیر تھا اور صدر پاکستان کے درمیان ایک  خیالی مکالمہ ہے جس میں مشیر نے صدر کے سامنے پاکستانی عوام کیلئے اپنی رائے کا  اظہار کیا تھاشعراء اور ادیب ہی عوام کی سوچ کی سمت کا تعین کرتے ہیں  جب بھی قوموں پر مشکل وقت آئے جب بھی قوموں پر بحران آئے جب بھی اقوام عالم میں سے کسی کی آزادی کو چھینا گیا تو یہ شاعر  اور ادیب ہی تو تھے جنہوں نے شاعری  اور نثر نگاری  کے ذریعے  اپنی  سوئی ہوئی قوم کو جگایا یا ان  کیلئے  درست سمت کا تعین  بھی کیا چاہے مولانا حسرت موہانی ہوں چاہے مخدوم محی الدین ہوں  یا مولانا ظفر علی خان ان سب نے انگریزی سامراج کے خلاف اپنا ایک بھرپور کردار اداکیا تھا آج کا پاکستان بھی   شدید بحران کا  شکار ہے  چاہے دہشت گردی کا معاملہ ہو  کرپشن کا معاملہ ہو ی،جمہور کی حکمرانی کا معاملہ ہو یا پاکستان کی آزادی اور بالادستی  کی بات ہو مذہبی قوانین  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ہو  یا اس ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی ہو موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ  شعراء  حضرات نثرنگار حضرات اپنی شاعری اور نثر نگاری کا رخ  حالات حاضرہ کی طرف موڑدیں اخبارات  اپنے  قیمتی صفحات  قوم  کی درست رہنمائی اور الیکٹرانک  میڈیا قوم  کی درست  رہنمائی   کیلئے  اپنا وقت   قوم کی فلاح وبہبود  کیلئے مقرر کریں   اور قوم کو مایوسی سے نکالنے کیلئے  ہربحران کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا ایک بھرپور کردار ادا کریں یہ الگ بات ہے کہ  بقول  سابق  چیف جسٹس  مغربی  پاکستان  ایم  آر کیانی   مرحوم   جنہوں  نے ایوب خان کے مارشل  لاء  کے خلاف سب سے  پہلے 1958 میں  کراچی  بارایسوسی ایشن میں آکر  آواز بلند  کی تھی   اور  اپنی  تقریر  میں قانون کی حکمرانی   پر اصرار کیا تھا  انہوں نے  1962 میں ریٹائرمنٹ  کے موقع  پر  جاتے جاتے بھی آمریت پر آخری نشتر  یہ کہہ کر چلایا تھا کہ " میری غلطی ۔۔قانون کی حکمرانی پر اصرار تھا " 

JehanPakistan ePaper | جہاں پاکستان اخبار

JehanPakistan ePaper |

جہاں پاکستان اخبار


میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
انیس سو باسٹھ   کا ایوبی دستور نیانیا نافذ ہوا تھا  ہرطرف قبرستان کی خاموشی تھی بنیادی حقوق  منسوخ کیئے جاچکے تھے عدالت کا رٹ کا حق   بھی ختم کردیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس ایم آر کیانی مرحوم کراچی بارایسوسی ایشن کی تاریخی تقریر میں  آمریت کے خلاف بھرپور آواز بلندکرنے کی "غلطی" کرچکے تھے  اور مارشل لاء کے خلاف یہ واحد آواز تھی جو پورے پاکستان میں سب سے پہلے بلند ہوئی تھی  جشن مری کا موقع تھا شاعروں  کی "ریم" مری میں جمع تھی   وزیر قانون جناب   منظور قادر اور بہت سے وزراء جمع تھے بڑے بڑے شعراء وفاقی وزراء کا دل بہلانے  کیلئے  جمع تھے شوکت تھانوی صاحب  مرزا غالب کی  غزل کا  مزاحیہ ہندی ورژن پیش کرکے   اور مرزاغالب کی  خوب توہین   کرکے حکمران طبقے کا دل بہلا چکے تھے   سید محمود جعفری اور  ظریف جبل پوری جیسے مشاعرہ لوٹ قسم کے شعراء بھی ابھی مشاعرے میں موجود تھے   یہ تینوں طنزومزاح میں شعر کہتے تھے اور  حکمران  ان کو پسند کرتے تھے  اسی دوران ناظم مشاعرہ نے  نوجوان شاعر حبیب جالب کو غزل پڑھنے کی دعوت دی لیکن اس سے پہلے ہی تینوں   بڑے بڑے شعراء اپنا رنگ جما کر جاچکے تھے  محسوس یہ ہورہا تھا کہ اب کسی اور کیلئے رنگ جمانا شاید ممکن نہ ہو اس زمانے میں حبیب جالب  اپنی نظم دستور لکھ چکے تھے اور پڑھنے کیلئے مناسب موقع کی تلاش تھی   حبیب جالب نے مشاعرے  کیلئے  اپنی لکھی ہوئ غزل واپس جیب میں ڈالی اور  جیب سے نظم نکالی اور مائیک پر آکر کہا  آج غزل سنانے  موڈ نہیں ہورہا اس لیئے خلاف معمول غزل کی بجائے ایک نظم پیش کروں گا جس کا  عنوان ہے "دستور" یہ سنتے ہی ناظم مشاعرہ نے مائیک جھپٹ  کر  واپس   چھیننے کی ایک ناکام کوشش کی  اور احتجاجاً کہا کیا کررہے ہو کیا کررہے ہو جالب نے  مائک  مضبوطی  سے پکڑ  کر کہا ہٹ جاؤ مائیک کی تلوار میرے ہاتھ میں ہے آج  میں آمریت کو لہولہان کرکے ہی چھوڑوں گا یہ کہہ کر انہوں نے خوب ترنم کے ساتھ اپنی نظم "دستور "کے تاریخی اشعار ترنم کے ساتھ  کسی  مشاعرے میں  پہلی بار پڑھنا شروع کیئے دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا...
یہ نظم جب پہلی بار پڑھی گئی تو  لوگ سہم گئے تھے   لیکن بعد ازاں نعرہ زن ہوگئے اور ایک ایک بند کو بار بار سنا   اس طرح حبیب جالب نے 1962 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مری میں اپنا دستور نافذ کیا جو آج تک   نافذ ہے  جالب کے بعد مشاعرہ  ختم ہوگیا  حبیب جالب اسٹیج سے نیچے اترے تو ایک بزرگ شاعر  کو منتظر پایا چھوٹتے ہی کہا یہ کونسا موقع تھا   نظم پڑھنے کا جالب نے کہا میں موقع پرست نہیں ہوں اور یہ کہہ  آگے بڑھ گئے یہ نظم منٹوں سیکنڈوں میں پورے شہر میں پھیل گئی  اور یہ نظم وزیر قانون منظورقادر تک بھی پہنچی تو  ایک تقریب میں کہا اب میرا دستور نہیں چلتا  ایک لڑکا دستور پڑھ گیا ہے  بعد ازاں یہ نظم محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں حبیب جالب پڑھتے تھے اور لوگوں کے جذبات کو گرماتے تھے  بدقسمتی سے یہی نظم  حبیب جالب کو  بے شمار آزمائیشوں میں مبتلا   بھی  کرگئی  اور زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اسی نظم کے مرہون منت  جیل  میں گزرا  حبیب جالب نے اس زمانے کے شعراء اور اہل ادب سے بھرپور شکوہ کیا تھا کیونکہ  بہت ہی بڑے بڑے شعراء آمریت کا حصہ بن گئے تھے  ایک بہت بڑے شاعر  صدرایوب خان  کے  "مشیر" مقرر ہوئے تو ان کی ملاقات  سرراہ حبیب جالب سے ہوگئی   کہنے لگے  بہت جلدی میں ہوں صدر کا مشیر مقرر ہوگیا ہوں ان کو مشورے دیتا ہوں  حبیب جالب نے کہا کیا مشورے دیتے ہو   مشہور زمانہ شاعر نے مسکراتے ہوئے کہا ایوب خان  رات کو تین بجے بھی بلالیتا ہے دوبجے بھی بلالیتا ہے مشورہ مانگتا ہے کہ میں کیا کروں میں ایک ہی  مشورہ دیتا ہوں کہ  سب کو ڈنڈے کے نیچے رکھ ان وکیلوں پر ڈنڈا رکھ ، طلبہ  جو یونیورسٹی  آرڈیننس  کے  خلاف   جلوس  نکالتے  ہیں  ان   پر ڈنڈا رکھ مسلمان  صرف ڈنڈے کو مانتا ہے ان سب عوام کو ڈنڈے کے نیچے رکھ حبیب جالب نے  جب یہ تقریر سنی تو ان کے  ذہن میں ایک  خیالی مکالمہ آیا    جو ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان  ہورہا تھا  اور مشیر خاص پاکستانی عوام کے متعلق اپنے خیالات سے صدر ایوب کو آگاہ کررہا تھا  بعد ازاں حبیب جالب جب رخصت ہوئے تو صدر ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان ہونے والے خیالی مکالمے کو وہ نظم کی شکل دے چکے تھےمیںنے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
تو ہے مہر صبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شر پسند ہیں
ان کی کھینچ لے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا
میں نے اس سے یہ کہا
جن کو تھا زباں پہ ناز
چپ ہیں وہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے
کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید
لوگ تیرے راج میں
آدمی ہے وہ بڑا
در پہ جو رہے پڑا
جو پناہ مانگ لے
اس کی بخش دے خطا
میں نے اس سے یہ کہا
ہر وزیر ہر سفیر
بے نظیر ہے مشیر
واہ کیا جواب ہے
تیرے ذہن کی قسم
خوب انتخاب ہے
جاگتی ہے افسری
قوم محو خواب ہے
یہ ترا وزیر خاں
دے رہا ہے جو بیاں
پڑھ کے ان کو ہر کوئی
کہہ رہا ہے مرحبا
میں نے اس سے یہ کہا
چین اپنا یار ہے
اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام
اس طرف نہ جائیو
اس کو دور سے سلام
دس کروڑ یہ گدھے
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں
تو ''یقیں'' ہے یہ ''گماں''
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نے اس سے یہ کہااکثر لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یہ نظم حبیب جالب نے پاکستانی عوام کے بارے میں لکھی تھی یہ درست نہیں  بلکہ یہ  ایک عظیم شاعر  جو  صدر  کا مشیر تھا اور صدر پاکستان کے درمیان ایک  خیالی مکالمہ ہے جس میں مشیر نے صدر کے سامنے پاکستانی عوام کیلئے اپنی رائے کا  اظہار کیا تھاشعراء اور ادیب ہی عوام کی سوچ کی سمت کا تعین کرتے ہیں  جب بھی قوموں پر مشکل وقت آئے جب بھی قوموں پر بحران آئے جب بھی اقوام عالم میں سے کسی کی آزادی کو چھینا گیا تو یہ شاعر  اور ادیب ہی تو تھے جنہوں نے شاعری  اور نثر نگاری  کے ذریعے  اپنی  سوئی ہوئی قوم کو جگایا یا ان  کیلئے  درست سمت کا تعین  بھی کیا چاہے مولانا حسرت موہانی ہوں چاہے مخدوم محی الدین ہوں  یا مولانا ظفر علی خان ان سب نے انگریزی سامراج کے خلاف اپنا ایک بھرپور کردار اداکیا تھا آج کا پاکستان بھی   شدید بحران کا  شکار ہے  چاہے دہشت گردی کا معاملہ ہو  کرپشن کا معاملہ ہو ی،جمہور کی حکمرانی کا معاملہ ہو یا پاکستان کی آزادی اور بالادستی  کی بات ہو مذہبی قوانین  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ہو  یا اس ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی ہو موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ  شعراء  حضرات نثرنگار حضرات اپنی شاعری اور نثر نگاری کا رخ  حالات حاضرہ کی طرف موڑدیں اخبارات  اپنے  قیمتی صفحات  قوم  کی درست رہنمائی اور الیکٹرانک  میڈیا قوم  کی درست  رہنمائی   کیلئے  اپنا وقت   قوم کی فلاح وبہبود  کیلئے مقرر کریں   اور قوم کو مایوسی سے نکالنے کیلئے  ہربحران کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا ایک بھرپور کردار ادا کریں یہ الگ بات ہے کہ  بقول  سابق  چیف جسٹس  مغربی  پاکستان  ایم  آر کیانی   مرحوم   جنہوں  نے ایوب خان کے مارشل  لاء  کے خلاف سب سے  پہلے 1958 میں  کراچی  بارایسوسی ایشن میں آکر  آواز بلند  کی تھی   اور  اپنی  تقریر  میں قانون کی حکمرانی   پر اصرار کیا تھا  انہوں نے  1962 میں ریٹائرمنٹ  کے موقع  پر  جاتے جاتے بھی آمریت پر آخری نشتر  یہ کہہ کر چلایا تھا کہ " میری غلطی ۔۔قانون کی حکمرانی پر اصرار تھا " 

میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
انیس سو باسٹھ   کا ایوبی دستور نیانیا نافذ ہوا تھا  ہرطرف قبرستان کی خاموشی تھی بنیادی حقوق  منسوخ کیئے جاچکے تھے عدالت کا رٹ کا حق   بھی ختم کردیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس ایم آر کیانی مرحوم کراچی بارایسوسی ایشن کی تاریخی تقریر میں  آمریت کے خلاف بھرپور آواز بلندکرنے کی "غلطی" کرچکے تھے  اور مارشل لاء کے خلاف یہ واحد آواز تھی جو پورے پاکستان میں سب سے پہلے بلند ہوئی تھی  جشن مری کا موقع تھا شاعروں  کی "ریم" مری میں جمع تھی   وزیر قانون جناب   منظور قادر اور بہت سے وزراء جمع تھے بڑے بڑے شعراء وفاقی وزراء کا دل بہلانے  کیلئے  جمع تھے شوکت تھانوی صاحب  مرزا غالب کی  غزل کا  مزاحیہ ہندی ورژن پیش کرکے   اور مرزاغالب کی  خوب توہین   کرکے حکمران طبقے کا دل بہلا چکے تھے   سید محمود جعفری اور  ظریف جبل پوری جیسے مشاعرہ لوٹ قسم کے شعراء بھی ابھی مشاعرے میں موجود تھے   یہ تینوں طنزومزاح میں شعر کہتے تھے اور  حکمران  ان کو پسند کرتے تھے  اسی دوران ناظم مشاعرہ نے  نوجوان شاعر حبیب جالب کو غزل پڑھنے کی دعوت دی لیکن اس سے پہلے ہی تینوں   بڑے بڑے شعراء اپنا رنگ جما کر جاچکے تھے  محسوس یہ ہورہا تھا کہ اب کسی اور کیلئے رنگ جمانا شاید ممکن نہ ہو اس زمانے میں حبیب جالب  اپنی نظم دستور لکھ چکے تھے اور پڑھنے کیلئے مناسب موقع کی تلاش تھی   حبیب جالب نے مشاعرے  کیلئے  اپنی لکھی ہوئ غزل واپس جیب میں ڈالی اور  جیب سے نظم نکالی اور مائیک پر آکر کہا  آج غزل سنانے  موڈ نہیں ہورہا اس لیئے خلاف معمول غزل کی بجائے ایک نظم پیش کروں گا جس کا  عنوان ہے "دستور" یہ سنتے ہی ناظم مشاعرہ نے مائیک جھپٹ  کر  واپس   چھیننے کی ایک ناکام کوشش کی  اور احتجاجاً کہا کیا کررہے ہو کیا کررہے ہو جالب نے  مائک  مضبوطی  سے پکڑ  کر کہا ہٹ جاؤ مائیک کی تلوار میرے ہاتھ میں ہے آج  میں آمریت کو لہولہان کرکے ہی چھوڑوں گا یہ کہہ کر انہوں نے خوب ترنم کے ساتھ اپنی نظم "دستور "کے تاریخی اشعار ترنم کے ساتھ  کسی  مشاعرے میں  پہلی بار پڑھنا شروع کیئے دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا...
یہ نظم جب پہلی بار پڑھی گئی تو  لوگ سہم گئے تھے   لیکن بعد ازاں نعرہ زن ہوگئے اور ایک ایک بند کو بار بار سنا   اس طرح حبیب جالب نے 1962 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مری میں اپنا دستور نافذ کیا جو آج تک   نافذ ہے  جالب کے بعد مشاعرہ  ختم ہوگیا  حبیب جالب اسٹیج سے نیچے اترے تو ایک بزرگ شاعر  کو منتظر پایا چھوٹتے ہی کہا یہ کونسا موقع تھا   نظم پڑھنے کا جالب نے کہا میں موقع پرست نہیں ہوں اور یہ کہہ  آگے بڑھ گئے یہ نظم منٹوں سیکنڈوں میں پورے شہر میں پھیل گئی  اور یہ نظم وزیر قانون منظورقادر تک بھی پہنچی تو  ایک تقریب میں کہا اب میرا دستور نہیں چلتا  ایک لڑکا دستور پڑھ گیا ہے  بعد ازاں یہ نظم محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں حبیب جالب پڑھتے تھے اور لوگوں کے جذبات کو گرماتے تھے  بدقسمتی سے یہی نظم  حبیب جالب کو  بے شمار آزمائیشوں میں مبتلا   بھی  کرگئی  اور زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اسی نظم کے مرہون منت  جیل  میں گزرا  حبیب جالب نے اس زمانے کے شعراء اور اہل ادب سے بھرپور شکوہ کیا تھا کیونکہ  بہت ہی بڑے بڑے شعراء آمریت کا حصہ بن گئے تھے  ایک بہت بڑے شاعر  صدرایوب خان  کے  "مشیر" مقرر ہوئے تو ان کی ملاقات  سرراہ حبیب جالب سے ہوگئی   کہنے لگے  بہت جلدی میں ہوں صدر کا مشیر مقرر ہوگیا ہوں ان کو مشورے دیتا ہوں  حبیب جالب نے کہا کیا مشورے دیتے ہو   مشہور زمانہ شاعر نے مسکراتے ہوئے کہا ایوب خان  رات کو تین بجے بھی بلالیتا ہے دوبجے بھی بلالیتا ہے مشورہ مانگتا ہے کہ میں کیا کروں میں ایک ہی  مشورہ دیتا ہوں کہ  سب کو ڈنڈے کے نیچے رکھ ان وکیلوں پر ڈنڈا رکھ ، طلبہ  جو یونیورسٹی  آرڈیننس  کے  خلاف   جلوس  نکالتے  ہیں  ان   پر ڈنڈا رکھ مسلمان  صرف ڈنڈے کو مانتا ہے ان سب عوام کو ڈنڈے کے نیچے رکھ حبیب جالب نے  جب یہ تقریر سنی تو ان کے  ذہن میں ایک  خیالی مکالمہ آیا    جو ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان  ہورہا تھا  اور مشیر خاص پاکستانی عوام کے متعلق اپنے خیالات سے صدر ایوب کو آگاہ کررہا تھا  بعد ازاں حبیب جالب جب رخصت ہوئے تو صدر ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان ہونے والے خیالی مکالمے کو وہ نظم کی شکل دے چکے تھےمیںنے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
تو ہے مہر صبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شر پسند ہیں
ان کی کھینچ لے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا
میں نے اس سے یہ کہا
جن کو تھا زباں پہ ناز
چپ ہیں وہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے
کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید
لوگ تیرے راج میں
آدمی ہے وہ بڑا
در پہ جو رہے پڑا
جو پناہ مانگ لے
اس کی بخش دے خطا
میں نے اس سے یہ کہا
ہر وزیر ہر سفیر
بے نظیر ہے مشیر
واہ کیا جواب ہے
تیرے ذہن کی قسم
خوب انتخاب ہے
جاگتی ہے افسری
قوم محو خواب ہے
یہ ترا وزیر خاں
دے رہا ہے جو بیاں
پڑھ کے ان کو ہر کوئی
کہہ رہا ہے مرحبا
میں نے اس سے یہ کہا
چین اپنا یار ہے
اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام
اس طرف نہ جائیو
اس کو دور سے سلام
دس کروڑ یہ گدھے
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں
تو ''یقیں'' ہے یہ ''گماں''
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نے اس سے یہ کہااکثر لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یہ نظم حبیب جالب نے پاکستانی عوام کے بارے میں لکھی تھی یہ درست نہیں  بلکہ یہ  ایک عظیم شاعر  جو  صدر  کا مشیر تھا اور صدر پاکستان کے درمیان ایک  خیالی مکالمہ ہے جس میں مشیر نے صدر کے سامنے پاکستانی عوام کیلئے اپنی رائے کا  اظہار کیا تھاشعراء اور ادیب ہی عوام کی سوچ کی سمت کا تعین کرتے ہیں  جب بھی قوموں پر مشکل وقت آئے جب بھی قوموں پر بحران آئے جب بھی اقوام عالم میں سے کسی کی آزادی کو چھینا گیا تو یہ شاعر  اور ادیب ہی تو تھے جنہوں نے شاعری  اور نثر نگاری  کے ذریعے  اپنی  سوئی ہوئی قوم کو جگایا یا ان  کیلئے  درست سمت کا تعین  بھی کیا چاہے مولانا حسرت موہانی ہوں چاہے مخدوم محی الدین ہوں  یا مولانا ظفر علی خان ان سب نے انگریزی سامراج کے خلاف اپنا ایک بھرپور کردار اداکیا تھا آج کا پاکستان بھی   شدید بحران کا  شکار ہے  چاہے دہشت گردی کا معاملہ ہو  کرپشن کا معاملہ ہو ی،جمہور کی حکمرانی کا معاملہ ہو یا پاکستان کی آزادی اور بالادستی  کی بات ہو مذہبی قوانین  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ہو  یا اس ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی ہو موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ  شعراء  حضرات نثرنگار حضرات اپنی شاعری اور نثر نگاری کا رخ  حالات حاضرہ کی طرف موڑدیں اخبارات  اپنے  قیمتی صفحات  قوم  کی درست رہنمائی اور الیکٹرانک  میڈیا قوم  کی درست  رہنمائی   کیلئے  اپنا وقت   قوم کی فلاح وبہبود  کیلئے مقرر کریں   اور قوم کو مایوسی سے نکالنے کیلئے  ہربحران کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا ایک بھرپور کردار ادا کریں یہ الگ بات ہے کہ  بقول  سابق  چیف جسٹس  مغربی  پاکستان  ایم  آر کیانی   مرحوم   جنہوں  نے ایوب خان کے مارشل  لاء  کے خلاف سب سے  پہلے 1958 میں  کراچی  بارایسوسی ایشن میں آکر  آواز بلند  کی تھی   اور  اپنی  تقریر  میں قانون کی حکمرانی   پر اصرار کیا تھا  انہوں نے  1962 میں ریٹائرمنٹ  کے موقع  پر  جاتے جاتے بھی آمریت پر آخری نشتر  یہ کہہ کر چلایا تھا کہ " میری غلطی ۔۔قانون کی حکمرانی پر اصرار تھا "

خانہ بدوش ، زمین دار اور گورنر ۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



خانہ بدوش ، زمین  دار  اور گورنر ۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان ایک  دفعہ  کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت  کے سامنے  چوری کے تین  ملزمان  پیش کیئے گئے
بادشاہ نےچوری کے تینوں ملزمان سےپوچھاکہ کہ  تم  تینوں کے والدین   کیاکرتے ہیں
پہلے چورنےکہاکہ میرا باپ  خانہ بدوش ہے   اورمیں خودبھی خانہ بدوش  ہوں دوسرے نے کہاکہ میں فلاں زمیندار کا بیٹا ہوں  اورفارغ ہوں کوئی کام  نہیں  کرتا ہوں تیسرے نے  خاموشی اختیارکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بادشاہ نےکہاکہ جواب دووالدکیاکام  کرتے ہیں تیسرے  چورنےکہاکہ  میرے والدصاحب صوبے کے گورنر تھے  یہ کہہ کر چور نے خاموشی اختیار کی
بادشاہ  نےحکم  دیا کہ   خانہ بدوش  کا ناک کاٹ دوزمیندارکے بیٹے کو دوکوڑے مارواورگورنر کے بیٹے کو انتہائی غضب ناک نظروں سے دیکھادومنٹ کے بعدانتہائی غصے سےکہاکہ شرم نہیں آتی بے شرم گورنرکے بیٹے ہوکر چوری چکاری کرتے ہو   دور ہوجاؤ  میری نظروں کے سامنے سے باپ کی بھی عزت کا خیال نہیں
حکم کی تعمیل ہوئیدرباریوں نے بادشاہ سےکہاکہ  ایک ہی جرم کی تین الگ الگ سزابادشاہ نے کہاکہ  اس کا نتیجہ کل سامنے آجائے گا
دوسرے دن  خانہ  بدوش کا بیٹا جس کی ناک کاٹ دی گئی تھی چوک پر  کھڑا ناچ  رہا تھازمیندار کا بیٹا   شہر چھوڑ کرچلا گیا تھا  اورگورنر کے بیٹے سے بادشاہ کے دربار میں  ہونے والی   بے عزتی برداشت  نہ ہوسکی  اس نے شرم کے مارے   خودکشی کرلی بہت سے  لوگ سزاؤں کے  اصلاحی نظریئے کے بارے میں نہیں جانتے اور بہت سے لوگ شاید یہ بھی نہیں  جانتے کہ   صرف ہتھکڑی لگانے کا احساس ہی  کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے ایک ملزم کو جب پولیس گرفتارکرکے تھانے لاتی ہے جب اس کو لاک اپ میں رکھا جاتا ہے اور جب اس کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے  اور عدالت سے  جیل بھیجنے کیلئے جب اس کو قیدیوں کے مخصوص لاک اپ میں جمع کروایا جاتا ہے اور وہاں سے قیدیوں کے لیئے مخصوص گاڑی میں میں جب اس کو جیل لیجایا جاتا ہے  اور وہاں سے جب اس کی  آمد کا اندراج جیل میں کیا جاتا ہے تو یہ سب کے سب مراحل کتنے تکلیف دہ ہیں ان کو نہ تو محسوس کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس ذلت اور تکلیف کو کوئی محسوس کرسکتا ہے  کسی بھی باعزت شخص کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کیلئے یہ تمام مراحل ہی کافی ہیں  پولیس کی حراست میں جانے والے  باعزت افراد عمر بھر اس احساس ندامت سے باہر نہیں نکل پاتے اور دوران حراست ان کی عزت نفس کو جو ٹھیس پہنچی تھی وہ اس احساس سے بھی عمر بھر نہیں نکل سکتے دنیا بھر میں قیدیوں کی اصلاح کیلئے  مختلف طریقے موجود ہیں جن میں سے ایک پروبیشن کا طریقہ بھی موجود ہے جو پاکستان میں رائج ہے  اور ایسے لوگ جو پہلی بار پولیس کی حراست میں جاتے ہیں  ان پر اگر ٹرائل کے دوران جرم ثابت ہوجائے اور سزا دوسال ہو  تو   عدالت سزا کے بعد ایسے شخص کو پروبیشن آفیسر کے حوالے کرسکتی ہے دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی جج کیلئے سب سے مشکل مرحلہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ  کسی  ملزم کے مقدمے کا فیصلہ کرتا ہے ایک بار میں اپنے ایک دوست جج کو ملنے گیا  تو وہ ابھی عدالت میں ہی تھے میں انتظار کرنے لگا کہ وہ عدالت سے چیمبر جائیں  گے تو ملاقات ہوگی اسی دوران جج صاحب نے ایک مقدمے کا فیصلہ سنانے کیلئے ملزم کو بلایا ملزم ہتھکڑی میں تھا اور اس پر قتل کا الزام تھا  جج صاحب نے   ملزم کو چارج پڑھ کر سنایا کیس میں پیش ہونے والے گواہوں سے متعلق بتایا  بعد ازاں ملزم کو  الزام ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی   جس  کے بعد وہ اپنے چیمبر میں چلے گئے  اسی دوران ملزم کی ماں   بہن اور بیوی نے  عدالت کے باہر رونا اور بین کرنا شروع کردیا ملزم کے  کم عمر بچوں نے بھی رونا شروع کردیا  پولیس افسر ملزم کو عدالت سے دور لے گیا  مجھے  پیش کار نے بتایا کہ صاحب کی طبیعت خراب ہے وہ آج نہیں مل سکتے  اسی دوران انہوں نے ڈرایئور کو بلایا  اور چند ہی منٹ میں وہ عدالت سے گھر کیلئے روانہ ہوگئے بعد ازاں تین دن کے بعد مجھے بلایا میں چیمبر میں ملنے گیا تو  انہوں نے بتایا کہ کسی کو سزا سنانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ایک انسان کی بیوی بچے بوڑھے ماں باپ اور جوانی ہمارے سامنے ہوتی ہے   جرم ثابت ہونے کے باوجود بھی دل نہیں چاہتا کہ کسی جیتے جاگتے انسان کی جوانی بربادکردیں لیکن   ہماری مجبوری ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ مجرم کو کیفرکردار تک پہنچائیں    اور ہم ملزمان کو کیفرکردار تک  پہنچاتے ہیں یہ ہمارا فرض بھی ہے اور ڈیوٹی بھی ہے  لیکن سزا دینے کے بعد  کے بھی مراحل ہیں ملزمان کی آنکھوں کی حسرت  اس کی  برباد جوانی  ان کے بیوی بچوں  کی امیدیں  سب ٹوٹ جاتی ہیں  اس لیئے افسوس ضرور ہوتا ہے  یہی  وجہ تھی کہ ملزم کو سزا سنانے کے بعد  میرے لیئے ممکن نہ رہا کہ میں عدالت میں موجود رہتا اس لیئے اس دن جلدی گھر چلاگیا  ایسا نہیں ہے کہ ملزمان سے مجھے کوئی ہمدردی ہے  لیکن ایک خاص مقام پر آکر ہمیں افسوس ضرور ہوتا ہے اس لیئے ہم کئی بار یہ سوچتے ہیں کہ کسی کی جوانی برباد نہ ہو اور جن کی سزا کم ہو  ان کو ہم  پروبیشن پررہا کردیتے ہیں دنیا بھر میں سزاؤں کے حوالے سے بہت سے نظریات موجود ہیں  لیکن پوری دنیا میں اس بات پر تو اتفاق ہے کہ سزا کا مقصد اصلاح ہو اور ملزم جیل سے رہا ہوکر  جب دوبارہ معاشرے میں واپس آئے تو  ایک اچھی زندگی بسر کرے اور معاشرے کیلئے ایک اچھا فرد ثابت ہو گزشتہ دنوں  یہ خبریں  کراچی سے آنا شروع ہوئیں کہ  ججز نے انوکھی سزائیں  سنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے تحت ملزم کو یہ سزا دی گئی کہ وہ ہرہفتے روڈ کے کنارے مصروف شاہراہ پر پلے کارڈ پکڑ کر کھڑا ہوگا جس  پر ٹریفک قوانین     کی پابندی کے متعلق  لکھا ہوگا اسی طرح  بعض  ملزمان کو یہ بھی سزائیں دی گئیں کہ وہ کسی اسپتال   یا مسجد کی صفائی کریں اور اس طرح اپنی سزا معاشرے کے اندر رہ کر ہی مکمل کریں  سندھ ہایئکورٹ نے ان سزاؤں کا نوٹس لیا اور ججز کو اس قسم کی سزائیں سنانے سے روک دیا ہے کیونکہ  پاکستان میں ابھی سماجی سزاؤں کے حوالے   سے  ابھی  قانون سازی نہیں ہوئی ہے ماضی میں ایک کھلی جیل کا  تصور بھی رہا ہے بدین کے مقام پر   ایک بہت بڑی اراضی  جیل کی تھی جہاں ملزمان اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے تھے اور سزایافتہ  ملزمان  کھیتی باڑی کرکے وہ اناج اگا کر  جیل حکام کو بھجوادیا کرتے تھے   اس طرح وہ اپنی سزا مکمل کیا کرتے تھے   اس اراضی کے اردگرد کوئی باڑ بھی نہیں تھی اس کے باوجود ملزمان اپنی سزا مکمل کرکے ہی جاتے تھے دوسری طرف  اس طرح جیل کی گندم اور سبزی وغیرہ کی ضروریات بھی پوری ہوتی تھیں  اب یہ سلسلہ مکمل طورپر ختم ہوچکا ہے ضرورت اس عمل کی ہے  صوبے  سماجی سزاؤں کے حوالے سے ملزمان کی اصلاح کیلئے قانون سازی کریں تاکہ  ملزمان  کی سزاکے دوران اصلاح بھی ہو اور ملزمان معاشرے کے ایک مفید فرد کے طورپر اپنی زندگی بھی گزارسکیں  اس طرح جیلوں میں قیدیوں کا دباؤ بھی کم ہوگا اور  فی کس قیدی اخراجات کی مد میں بھی بچت ہوگی دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری جیلیں  ملزمان کیلئے جرائم کے تربیتی ادارے ثابت ہورہی ہیں اور اکثر ملزمان جیل جا کر عادی مجرم بن کرہی نکلتے ہیں   اس لیئے  قیدیوں کی اصلاح کیلئے   ایسی قانون سازی کی ضرورت  ہے جس کے زریعے ملزمان کو سماجی قسم کی سزائیں سناکر  قیدیوں کی اصلاح کی جاسکے  

ہم نے اپنا ملال بیچ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان

ہم نے اپنا ملال بیچ دیا (9 اپریل 2008 سانحہ طاہر پلازہ)تحریر صفی الدین اعوان  9 اپریل 2008  دوپہر 01:00 بجے کا وقت بسوں میں بھر کرلائے  گئے  دو درجن سے زائد مسلح افراد کو لائٹ ہاؤس کے قریب بلدیہ عظمٰی کراچی کی  قدیم بلڈنگ کی بغلی سڑک  پر  اتارا گیا  تھا جہاں سے کچھ  دیر کے بعد  وہ  پارکنگ  والے گیٹ سے سٹی کورٹ میں داخل ہوئے اور دندناتے ہوئے  کراچی بارایسوسی ایشن کی عمارت کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے عمارت میں گھس  گئے ان کے پاس  تحریک میں متحرک وکلاء کی تصاویر اور چند نام تھے  مسلح افراد کو سردار طارق خان نیازی ، نصیر عباسی ، شہریار شیری اور چند دیگر وکلاء رہنماؤں کی تلاش  تھی  کمیٹی روم میں حسن بانڈ صاحب  موجود تھے اس سے سردار طارق نیازی کے بارے میں پوچھا  نفی میں جواب ملنے پر کہا اوئے تیرے بارے میں بھی اطلاع ہے تم بھی بہت  چخ  چخ کرتا ہے  یہ کہہ کر مسلح افراد نے گالیاں  بکنے کے بعد  حسن بانڈ  ایڈوکیٹ کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا   جس کے بعد درجنوں مسلح افراد  خواتین وکلاء کے بارروم میں داخل ہوئے   خوش  قسمتی سے کمرہ خالی تھا  جس کے بعد  لیڈیز بارروم کو آگ لگادی گئی وکلاء کراچی کے ضلع وسطی کی عمارت میں جمع ہوگئے تھے  میں  ضلع وسطی کی بلڈنگ کی  فرسٹ فلور کی کھڑکی سے یہ مناظر دیکھ رہا تھا کہ لیڈیز بارروم سے دھواں نکل رہا ہے اسی دوران سیشن جج  نے مجھے ڈانٹ کر بلایا اور ایک جج کے چیمبر میں جانے کا کہا  جہاں بہت سی خواتین وکلاء بھی موجود تھیں سیشن جج  قانون نافذ کرنے والے اداروں سے  مسلسل  رابطہ کررہے تھے وہاں  بہت سے وکلاء  موجود تھے کورٹ کا  بیرونی گیٹ بندکردیا گیا تھا  اسی دوران مسلح افراد جلاؤ گھیراؤ کرتے ہوئے   اسی راستے سے  بلدیہ عظمٰی  کراچی  کی بلڈنگ  سے لائٹ ہاؤس کی طرف واپس لوٹ گئے اور ایم اے جناح روڈ  پر آگئے جہاں  سامنے سے شہریار شیری  پیدل  چلتا  ہوا آرہا تھا  مسلح افراد کو اسی کی تلاش تھی  شیری   وکلاء تحریک میں نعرے بہت لگاتا تھا  مسلح افراد کے للکارنے  پر شہریار شیری نے ایک بار پھر  نعرہ لگایا مسلح افراد نے  شہریا ر شیری کو ایم اے جناح روڈ پر ہی گولیاں مارکر شہریار شیری کو شہید کیا اور  غلہ منڈی والے روڈ  پر کھڑی وکلاء کی  کاروں کو نزرآتش کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ان کے پاس ایک مخصوص کیمیکل تھا جو فوری آگ پکڑلیتا تھا  تقریباً دوسو گاڑیوں کو آگ لگانے کے بعد مسلح افراد غوثیہ مرغ چھولے پہنچے  ان  کے عملے سے  نصیر عباسی  اور دیگر وکلاء رہنماؤں کے آفس کی نشاندہی کرنے کو کہا نفی میں جواب ملنے پر تمام  دیگیں الٹ دی گئیں اور رزق کی بے حرمتی کی گئی  بعد ازاں مسلح افراد طاہر پلازہ میں داخل ہوئے فرسٹ فلور پر اسٹاف کو تشدد کا نشانہ بنایا  پانچویں اور  چھٹے فلور پر کراچی بارایسوسی ایشن کے عہدیداران کو تلاش کیا  نصیر عباسی کو تلاش کرتے ہوئے وہ الطاف عباسی کے آفس     جا پہنچے  جہاں وہ اپنے آفس میں   باہر کے حالات  سے بے خبر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے   آفس میں  پانچ معصوم شہری بھی  اپنے مقدمات  کے سلسلے میں موجود تھے جو اپنے مقدمات کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے  جب مسلح افراد کو اس  بات کی تصدیق ہوگئی  کہ اندر لوگ موجود ہیں تو  آفس کی کھڑکی سے    گولی سے استعمال  ہونے والا کیمیکل پھینکا  اور گولی چلادی  جس کے بعد آفس میں  شدید آگ بھڑک اٹھی الطاف عباسی اور ان کے آفس میں موجود افراد نے جان بچانے کیلئے  آفس سے نکلنے  کی کوشش کی  مگر باہر سے تالا ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہیں نکل سکے   چیخوں کی  آوازیں   پلازہ  میں گونجتی  رہیں  اور الطاف عباسی سمیت چھ افراد ان کے آفس  کے اندر  ہی  جل کر شہید ہوگئے   جنگ میں استعمال ہونے والے کیمیکل کی وجہ سے انسان تو انسان آفس کے  لوہے کے دروازے  پلستر کی دیواریں  اور پنکھے تک پگھل گئے اور لاشیں جل کر کوئلہ اور ناقابل شناخت ہوگئیں   مسلح افراد نے طاہر پلازہ کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ شروع کیا  اور دوفلور زکو آگ لگا کر اطمینان سے بسوں میں بیٹھ کر واپس روانہ ہوگئے طاہر پلازہ میں موجود وکلاء نے ساتھ والی بلڈنگ میں کود کر اپنی جان بچائی  لیکن طاہر پلازہ کے بیرونی مناظر اس سے بھی زیادہ خطرناک تھے  سینکڑوں کی تعداد میں  گاڑیاں جل رہی تھیں اور وکلاء اپنی  گاڑیوں کو حسرت سے  جلتا ہوا دیکھ رہے تھے  اسی دوران فسادیوں نے ملیر بارایسوسی ایشن کی بلڈنگ اور دیگر املاک کو  بھی جنگی کیمیکل سے جلا کر تباہ وبرباد کردیا  کوئی جانی نقصان  تو نہیں ہوا  لیکن بار کی عمارت اور فرنیچر  مکمل طورپر تباہ برباد ہوگئے وکلاء کی دوسوسے زائد  کاروں ،طاہر پلازہ  اور ملیر بارایسوسی  ایشن  کی   عمارتوں  میں  لگائی  گئی  آگ کو بجھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی فائر  بریگیڈ کی گاڑیاں  پانی کے بغیر ہی پہنچ گئے جب سب کچھ جل کر خاک ہوگیا تو آگ خود ہی بجھ گئی ہم بڑی حسرت سے  کاروں اور طاہر پلازہ  سے اٹھتا ہوا دھواں  دیکھ رہے تھے شام کو کئی وکلاء   کوان کی گھریلو خواتین اور بچوں کو مسلح افراد نے  ان کے گھر وں میں جاکر تشدد کا نشانہ بنایا گیا  فلیٹ نذر آتش کیئے گئے اور گاڑیوں کو آگ لگائی گئی  طاہر پلازہ  چھٹی منزل پر ہرجگہ گوشت اور خون کے لوتھڑے  چپکے ہوئے تھے جلی ہوئی لاشوں کو کس طرح اور کس نے نکالا یہ کوئی نہیں جانتا   اس ظلم اور جبر کے باوجود اگلے  ہی روز کراچی بارایسوسی ایشن کی جنرل باڈی  شہداء پنجاب  ہال  میں  منعقد ہوئی یہ تاریخ  کی شاید وہ پہلی جنرل باڈی تھی جس میں  وکلاء کے پاس  بیان کرنے کیلئے کچھ نہیں تھا  صرف آنسو اور دبی دبی سی چیخیں تھیں  لیکن آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہیں تھا بہت سے وکلاء تقریر کرنے کیلئے ڈائس پر آتو جاتے تھے   مائک  بھی ہاتھ میں پکڑتے تھے  لیکن  بات کرنے کی ہمت اور حوصلہ کہاں سے لیکر آتے   بڑے بڑے وکلاء اس دن  تقریر کی ہمت پیدا نہیں کرسکے  کہتے بھی تو کیا کہتے  کہنے کیلئے کچھ بچا ہی کہاں تھا  جنرل باڈی اجلاس  سے خطاب کرنے والے مقررین   کچھ دیر آنسو بہاتے تھے ، رونے کی دبی دبی  آوازیں آتی تھیں بعد ازاں  مقررین  کی ہچکیاں  بندھ  جاتی تھیں    لیکن سامعین کے  رونے  اور ہچکیوں  کی آوازوں میں مقررین کے رونے  اور ہچکیوں  کی آوازیں دب جاتی تھیں اس دن تو حوصلہ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا جب رورو کر آنسو  بھی خشک ہوگئے تو جنرل باڈی کا اختتام ہوا  ،وکلاء طاہر پلازہ کی طرف روانہ ہوئے جلی ہوئی بلڈنگ سے ابھی بھی دھواں اٹھ رہا تھا  جلے ہوئے انسانی گوشت کی بو ابھی بھی موجود تھی اور انسانی گوشت کے لوتھڑے ابھی بھی موجود تھے  ہم وکلاء ہی ان گوشت کے لوتھڑوں کے لواحقین تھے ہم ہی ان کے شہدا کے وارث تھے  اگلے چند مہینوں کے بعد  طاہر پلازہ کے مکینوں نے دوبارہ سے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا  وقت بھی تو ایک مرہم ہے  ہمیں اپنے شہید دوستوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے  بدقسمتی سے  9 اپریل کو پورے پاکستان میں کسی وکلاء تنظیم نے  9 اپریل  طاہر پلازہ کے شہداء کو یاد نہیں کیا ان کی یاد میں کسی بھی  جگہ یوم سیاہ نہیں منایا گیا  کوئی جنرل باڈی منعقد نہیں ہوئی   سوائے ناہید افضال  ایڈوکیٹ  صاحب اور شبانہ ایڈوکیٹ صاحبہ  اور ان کے دیگر دوست  احباب   جو ہرسال  اس موقع  پر طاہر پلازہ میں قرآن خوانی  کرواکر شہدا کو یاد کرتے ہیں مفلسی میں وہ دن بھی آئےہیں
ہم نے اپنا ۔۔۔۔۔ملال بیچ دیا
تحریر صفی الدین اعوان سیکرٹری نشرواشاعت  پاکستان مسلم لیگ ن لائرزفورم کراچی ڈویژن

ون مین آرمی ناقابل شکست فوج ۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان









ون مین آرمی  ناقابل شکست فوج ۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
زیادہ پرانی بات نہیں ابھی یہ  چند سال پہلے  انیس سونونے کی دہائی  یعنی  کل ہی کی تو بات ہے کہ   کراچی کے ڈسٹرکٹ کورٹس میں رشوت کا دور دورہ تھا  اور فلورنگ  رشوت کی بدترین شکل تھی  پیسہ گھن آ تے آرڈر گھن ونج۔۔۔۔لے آ لے آ لے آ لے آ مال لے  آ۔۔۔۔۔کھنی اچ کھنی اچ  پیسہ کھنی اچ  آرڈر کھنی ونج
پاکستان  اور عدالتوں میں رشوت کی تاریخ بہت پرانی ہے  پاکستان کے ہرادارے کی طرح   عدلیہ کا دارہ  اس سے کیسے محفوظ رہ سکتا تھا  ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک وقت وہ بھی آیا جب  عدالتوں کے پورے فلور کے فلور  پر جرائم پیشہ عناصر وکیل کا یونیفارم پہن کر قبضہ کرلیتے تھے  اس  مقبوضہ  علاقے  میں پریکٹس کو فلورنگ کہا جاتا تھا  "فلورنگ" کرپشن کی بدترین شکل تھی  زیر حراست افراد سے  جعلی وکیل  زبردستی وکالت نامے دستخط کروا کر معاملات طے کرلیئے جاتے تھے وکالت نامے کے ساتھ ہی  دو آرڈر تیار ہوجاتے تھے پہلا آرڈر ملزم کو جیل بھیجنے کا دوسرا  ریلیز آرڈر بننا شروع ہوجاتا تھا   یعنی ملزم  کی رہائی  کا  ضمانت کی درخواست لکھنا اور پراسیکیوشن کو نوٹس پرانی تاریخوں میں بعد میں ہوجاتے تھے   ضلع کا بڑا ساب بڑا لفافہ لے لیا کرتا تھا  وہ نظام الگ سے قائم تھا فلورنگ کرنے والے جرائم پیشہ عناصر صرف وکالت نامے اور لفافے کا بندوبست کرتے تھے اگلا کا م ساب لوگ کرتے تھے لیکن  ساب لوگوں  کو   ڈائریکٹ ڈیل کی اجازت بھی نہیں ہوتی تھی ساب کا اسٹاف ریلیز بھی بناتا تھا اور ضمانت کی درخواستیں بھی لکھ لکھ  کر فائل کا خالی پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کرتا تھا جرائم پیشہ عناصر نے مافیا کی طرح   پورے کے پورے فلور قبضہ کیئے ہوئے ہوتے تھے  اور ایک عام وکیل کو کسی صورت پریکٹس کی اجازت نہیں ہوتی تھی عام وکیل کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا   عام وکیل صرف سول کیسز ڈیل کرتا تھا اس وقت  ساب لوگوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ رشوت لینا ان کا بنیادی حق ہے یہ سوچ آج بھی قائم ہیں  ۔۔۔۔۔سنا ہے جرائم پیشہ لوگ بہت ظالم تھے   سب کچھ لوٹ لیتے تھے  بہت سے جرائم پیشہ لوگ اور ان کے ساب لوگ ساتھی   برے انجا م سے دوچار ہوئے قدرت کے انتقام سے کوئی نہ بچ سکا  لیکن  گنتی  کے ایک دو دانے  آج بھی حیات ہیں
پھر  ڈسٹرکٹ  کورٹس سے فلورنگ کا خاتمہ ہوگیا کس طرح  ہوا اس حوالے  سے تاریخ خاموش ہے  لیکن اعلٰی عدلیہ میں فلورنگ ایک  نئے انداز سے سامنے آئی جس کا ذکر بعد میں ۔۔۔۔۔بعد ازاں فلورنگ والے جج برطرف ہوئے  بہت سے آج بھی موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔جرائم پیشہ عناصر غائب ہوگئے کچھ مرکھپ گئے کچھ تائب ہوگئے اور  کچھ نے تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر حج و عمرہ کرکے   اللہ اللہ شروع کردیا  لیکن کوئی بھی ظالم اللہ کی پکڑ سے بچ نہ سکا   فلورنگ کرکے ظلم کرنے والے ہرکردار کو دنیا میں ہی سزا ملی  اور ملے گی جب ہم آئے تو فلورنگ کا سلسلہ  مکمل طورپر ختم ہوچکا تھا    لیکن  فلورنگ  کے خاتمے کے بعد ساب لوگ  اپنے اسٹاف  کے زریعے  یا براہ  راست   ڈیل  کرنے کی کوشش  کرتے تھے  یہ سلسلہ بھی کافی عرصہ کامیابی سے چلا اور آج بھی  کسی  حد تک موجود ہے    عجیب وغریب ٹیڑھی شکلوں والے ساب لوگ ہوا کرتے تھے   ایک تو شکل ٹیڑھی دوسرا منہ سے بات نہ کرنا  تیسرا نیت میں فتور ہم نے وکالت کی کوشش کی ابتدا میں  ناکا م رہے اس وقت جس پیشے کو وکالت کہا جاتا تھا  وہ وکالت ہرگز ہرگز نہ تھا میں وکالت سے دلبرداشتہ اس وقت ہوا جب میرے پاس ایک بہت ہی  زبردست  نوعیت  کا کیس آیا   اس کیس کی نوعیت کچھ اس قسم کی تھی کہ میرے کلائینٹ کو سرعام گولیاں ماردی گئی تھیں   موقع کے چشم دید  گواہان موجود تھے   ایف  آئی آر  بروقت  تھی   مختصر یہ کہ  ضمانت  مسترد  کرنے کے سارے لوازمات  پورے  تھے سپریم کورٹ  کے بہت سے  کیس لاء موجود تھے  جن کی روشنی میں مجھے یہ غلط فہمی ہوچکی تھی  کہ ملزم کی ضمانت مسترد ہوجائیگی بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا ساب منہ سے بات کرتا ہی نہیں تھا اور لوگ کہتے تھے کہ یہ اصول کا بہت پکا ہے  بعد ازاں کافی عرصہ لٹکانے  کے  بعد ساب نے ضمانت کی درخواست منظور کرلی  یہ تو مجھے اندازہ تھا کہ ساب نے مال پکڑا ہے لیکن کچھ عرصے بعد یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ساب نے  اس کیس میں  صرف دو بلیک بیری  فون سیٹ لیئے تھے حالانکہ   اس کیس میں کم ازکم دس لاکھ روپیہ آسانی سے مل سکتا تھا  یقین کریں کہ افسوس رشوت لینے پر نہ ہوا بلکہ  گھٹیا  اور کم رشوت لینے پر ہوا  مجھے یہ بھی افسوس ہوا کہ میں نے میرٹ کا راستہ  کیوں چنا کیونکہ ہماری پارٹی اس سے زیادہ اچھے موبائل فون دے سکتی تھی  منہ مانگا پیسہ دے سکتی تھی خیر اس قسم کے بہت سے واقعات روزانہ معمول کا حصہ تھے
ذاتی طورپر میں اس واقعہ کے بعد  بہت دلبرداشتہ ہوا اور سوشل سیکٹر میں چلا گیا  لیکن وکالت سے تعلق  برقرار رکھاپھر عدالتی اصلاحات کا سلسلہ شروع ہوا  لیکن ججز کا رویہ درست نہ ہوا  چند خاندانی لوگ تو منہ سے بات کرلیا کرتے تھے میں نے اپنی آنکھوں سے صرف ڈبل سواری کے ملزمان کو  جیل جاتے ہوئے دیکھا   نااہلوں کو یہ احسا س تک نہ ہوتا تھا کہ انسانی حقوق بھی کوئی چیز ہوتے ہیں یہ ادارہ انصاف کا  ادارہ ہے
پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی  پیسہ کھنی اچ کھنی اچ  کھنی اچ کا سلسلہ وقتی طور پر اس وقت دم توڑ گیا  جب بہت بڑی تعداد میں ججز کو قانونی  تقاضے پورے کرنے کے بعد  جھاڑو پھیر کر  پیسے جمع کرنے کی نوکری سے فارغ کردیا گیا  لیکن پھر بھی  متاثرین بجائے رونے دھونے کے اگر جمع شدہ مال   طریقے سے خرچ کریں تو وہ لوگ اتنا مال جمع کرچکے تھے کہ مرتے دم تک گھر بیٹھ کر کھاسکتے ہیں  اس کے باوجود بہت سے لوگ شکوے کرتے پھررہے ہیں  اس کے بعد اب ججز کا رویہ کافی بہتر ہوچکا ہے اور بہت  سے لوگ اب منہ سے بات کرتے ہیں وقت کی دوسری کروٹ یہ تھی کہ نوجوان وکلاء میں سے میرٹ کی بنیادپر ججز  بھرتی ہوگئے  اور وہ چونکہ رشوت دے کر نہیں آئے تھے اس لیئے وہ رشوت نہیں لیتے ہاں وہ ناتجربہ کار ضرور ہیں لیکن وہ منہ سے بات کرتے ہیں  برابری کی بنیادپر بات کرتے ہیں  یہ لوگ بہت اچھے ہیں وقت کی ایک اور کروٹ یہ ہے کہ  پیشہ وکالت میں تبدیلی آئی ہے  ترقی کے بے شمار مواقع سامنے آرہے ہیں  اگر کسی بھی وکیل میں قابلیت نام کی ذرا سی بھی کوئی چیز ہے تو وہ اچھا خاصا کما رہا ہے  اب اس پورے سسٹم میں  صرف تین مسئلے باقی بچ گئے ہیں پہلا مسئلہ مشکوک نوعیت کی بھرتی والے بڈھے جج ہیں    یہ زیادہ تر  انیس سو نوے  کی دہائی میں  رشوت دے کر بھرتی  ہوئے تھے  یہ مایوس عناصر ہیں  اگر کوئی جج بحیثیت جوڈیشل مجسٹریٹ آج سے دس سال پہلے بھرتی ہوا تھا اور اس کا پروموشن نہیں ہوا  اور وہ آج بھی جوڈیشل مجسٹریٹ  ہے تو اس کو خود ہی  یہ نوکری چھوڑدینی   چاہیئے  صاف  ظاہر ہے کہ  آپ سینیارٹی   اور قابلیت  کے معیار  پورا  نہیں  اترے آپ لوگ اس  نوکری پر لعنت بھیجیں استعفٰی دیں اللہ پر یقین رکھیں    اور پریکٹس شروع کردیں  اب ایک  لاکھ روپے کی معمولی نوکری کیلئے  انسان کو اتنا بھی نہیں گرنا چاہیئے ادارہ سینیارٹی کی بنیاد پروموشن نہیں دے رہا تو  بجائے  ہروقت عدالت میں روٹھی ہوئی بیوہ کی طرح شکل بناکر بیٹھ  کر اور بازو کی آستین  سے  بار بار ناک صاف کرکے  مایوسی  کے اندھیرے پھیلانے سے ہزار درجے  یہ بہتر ہے کہ استعفٰی لکھ کر جمع کروادیں اور وکالت شروع کردیں ہمارے سامنے تین جوڈیشل مجسٹریٹس کی مثال موجود ہے ایک کو پروموشن نہیں ملی دوکو ہایئکورٹ نے غلط شوکاز بھیجے تو بجائے ذلیل ہونے کے ان لوگوں نے  غیرت کا مظاہرہ  کرتے  ہوئے استعفٰی کو ترجیح دی اور نوکری پر لعنت بھیج کر  "ون مین آرمی " یعنی  وکالت کی آزاد زندگی شروع کردی نہ کسی شوکاز کا خوف نہ کسی  کی بلاوجہ کی جواب طلبی اور آج وہ پہلے سے زیادہ خوشحال زندگی  بسر کررہے ہیں  آمدن کے لحاظ سے اور ہر لحاظ سے  وہ لوگ پہلے سے بہتر ہیں دوسری طرف وہ جوڈیشل مجسٹریٹ جن کی نوکری کو دس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا  وہ ناسور بننا شروع ہوجاتے ہیں اور پندرہ سال کی نوکری والے نہ صرف ناسور بن چکے ہیں   بلکہ ادارے اور دھرتی دونوں پر ایک مستقل بوجھ چکے ہیں  سپریم کورٹ کو چاہیئے کہ  وہ نئی قانون سازی کروائے اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی نوکری کو دس سال تک محدود کردے اس دوران جو مجسٹریٹ پروموشن حاصل نہ کرسکے اس کو تھوڑی بہت پنشن دے دلا کر  مکمل عزت اور احترام سے رخصت کردےکیونکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے یہ مایوس قسم کے بڈھے  مجسٹریٹس پورے سسٹم کو خراب کرنا چاہتے ہیں اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ  ناسور اب نوجوان ججز کو بھی خراب کررہے ہیں  اور یہی نوجوان ججز ہی تو ادارے کا اثاثہ ہیں  اس لیئے فوری طورپر ناسور بڈھے مجسٹریٹس کیلئے گولڈن ہنڈ شیک کا اعلان کرکے ان سے فوری  نجات حاصل کی جائے   دوسرا  مسئلہ صرف کراچی میں ہے اور وہ یہ ہے کہ پندرہ ملین  روپے تک کے  سول  نوعیت  کے کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس میں چلتے ہیں جوکہ ٹرائل کورٹ ہے  سندھ ہایئکورٹ جو کہ اپیل کی عدالت ہے وہاں پندرہ ملین  روپے سے زائد کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے  اس حوالے سے تاویل پیش کی جاتی ہے کہ کیونکہ کراچی ساحلی شہر ہے اس لیئے  ہندوستان کے تمام ساحلی شہروں میں انگریز یہی اصول مقرر کرگیا تھا بھائی اب انگریز جاچکا ہے اس  انگریز کو گولی مارو دوسری بات یہ ہے کہ سندھ ہایئکورٹ  ایک اپیل کا فورم ہے یہ ٹرائل کا فورم نہیں  یہاں کیس صحیح طریقے سے ٹرائل نہیں ہوتے  نہ ہی ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ  وراثت کا جو مقدمہ ایک مہینے میں  ڈسٹرکٹ  کورٹس  میں حل ہوجاتا ہے ہایئکورٹ میں وہ پورا کیس ہی ذلیل ہوجاتا ہے   اور دیوانی مقدمہ تو رل ہی جاتا ہے  اس لیئے اس  حقیقت کو تسلیم کرکے کیسز ٹرائل کا حق صرف ڈسٹرکٹ کورٹس  ہی کو ہونا چاہیئے   ہایئکورٹ  کو کیس  ٹرائل  کے سارے اختیارات  ڈسٹرکٹ  کورٹس  کو دے دینے  چاہیئں  اور یہ ہوگا ضرور ہوگا  انشاء اللہ تعالٰی سندھ ہایئکورٹ صرف اور صرف اپیل کی عدالت بنے گی انصاف کی عدالت بن کر انصاف فراہم کرے گی تیسرا اہم مسئلہ قابل احترام جسٹس صاحبان کی آل اولاد ہے  جو ہورہا ہے وہ غلط ہورہا ہے یہ آپ لوگ خود بھی جانتے ہیں   باربار وضاحت کی ضرورت نہیں لیکن یہ انکل ججز کی  فلورنگ عدلیہ زیادہ عرصہ  نہیں چلے گی  اور یہ رجحان اب  ڈسٹرکٹ کورٹس تک آگیا   موجودہ دور میں یہ بھی فلورنگ کی ایک بدترین اور جدید  گندی  شکل ہے   اور انشاءاللہ یہ فلورنگ بھی  جلد ختم ہوگی  جب دونمبر جج نہ رہے تو تمہاری اولاد کس طرح فلورنگ کرے گی ون مین آرمی  دنیا کی بہترین  تربیت یافتہ آرمی ہوتی ہے یہ خود ہی چیف آف آرمی اسٹاف ہوتے ہیں خود ہی کمانڈر اور خود ہی  جنرل  اس ناقابل شکست آرمی کو عرف عام میں لوگ وکیل کے نام سے جانتے ہیں  اور یہ قلم کی مار مارتے ہیں غیر تربیت یافتہ  وکیل لوگ اس میں شامل نہیں   اور ہر وکیل ون مین آرمی نہیں بنا سکتا

چورن پور کا مسخرہ تیسری قسط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان




چورن  کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔3"چورن پور  کا مسخرہ  "کی تیسری قسط پیش خدمت ہے  میں وضاحت کردوں کہ  تیسری قسط کا ایک ایک لفظ سفید جھوٹ پر مبنی ہے   لیکن    مردود شیطان آپ کے ذہن میں یہ وسوسہ ڈال سکتا ہے کہ یہ کہانی سچ پر مبنی ہے اس لیئے گزارش ہے کہ باوضو ہوکر  تیسری قسط پڑھیں تاکہ مردود شیطان اس جھوٹی کہانی کو سچ سمجھنے پر مجبور نہ کرسکے
  مرحوم اداکار رنگیلے کی سنجیدہ فوٹو اسٹیٹ کاپی نے پولیس والے کو گھورا اور اس طرح  غصے سے دیکھا جیسے " گابھن " گائے کتے  کی طرف  دیکھتی ہے اور کہا بے ایمان کام چور ،سفارشی کلچر کی پیداوار کیوں آئے ہو کورٹ  میں
پولیس والے نے کہا کہ کورٹ سے نوٹس آیا تھا آج وہ کیس میں گواہی دینے کیلئے حاضر ہوا ہے  چورن پور کے مسخرے نے  کہا کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی  رشوت لیتے ہو  اور اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کرتے صرف تم لوگوں کی نااہلی  کی وجہ سے کیس نہیں  چلتے  صرف اور صرف تم لوگوں کی وجہ سے  کیس نہیں  چلتے  جس کے بعد تو تقریر کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا  بک بک ، چخ  چخ چخ  مسخرے نے پولیس والے کو خوب خوب لیکچر دیا اور پولیس والا بھی ہاں  میں ہاں اس طرح ملارہا تھا جیسے آج اس مسخرے کی تقریر اور وعظ سن کر توبہ کرلے گا  اور  ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رشوت لینا چھوڑ دے گا دوسری طرف مسخرہ  پورے جوش و خروش سے اپنی نہ ختم ہونے والی تقریر کا سلسلہ  جاری رکھے ہوئے تھا  وعظ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا اس طرح پورا ایک گھنٹہ گزر گیا  پولیس والے کا  تو تقریریں  سن سن کر "ترا "  ہی  نکل گیا  وہ  پسینے میں شرابور کھڑا  تھا کہ  یہ  منحوس  مسخرہ تو تقریر کیلئے نفلوں کا بھوکا نکلا  تقریر تھی کہ  ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی   دوسری  طرف  حاظرین  محفل  اور وکلاء کے تو مزاحیہ  ڈائیلاگ  سن سن کر  پیٹ میں وٹ  ہی پڑگئے  تھے مجھے تو کئی  بار مسخرے کے مزاحیہ  ڈائیلاگ  سن سن کر اسقدر ہنسی  کا دورہ پڑا کہ  میرے تو آنکھوں سے  آنسو ہی نکل  آئے خیر خدا خدا کرکے پہلی تقریر اور وعظ کا سلسلہ ختم ہوا  اور پولیس والے کی جان چھوٹی جاتے جاتے پولیس والے نے پوچھا جی کیس کب چلے گا یہ سن کر مسخرے نے ایک بار پھر  پولیس والے کی طرف دوبارہ گندی گندی نظروں سے اس طرح دیکھا جیسا کہ  " گابھن " گائے کتے کی طرف  دیکھتی ہے اور کہا زیادہ ہمارا باپ بننے کی کوشش نہ کر کیس چلانا یا نہ چلانا ہمارا کام ہے  لیکن پولیس والا بھی کوئی بگڑا ہوا افسر تھا کہنے لگا ساب سال سے اوپر ہوگیا ہے آپ اسی طریقے سے ہر تاریخ پر مجھے تقریریں سنا سنا کر  اور تین بجے تک بٹھا  بٹھا کر واپس  بھیج دیتے ہو لیکن کیس  کبھی بھی نہیں چلاتے ہو آخر ہمارا قصور کیا ہے جو تقریریں آپ ہر تاریخ پر سناتے ہیں خدا کے واسطے کبھی خود بھی عمل کرلیا کرو آپ ہمیشہ پولیس کی غیر زمہ داری کی بات کرتے ہو ہمیں چور اور رشوت خور ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہو باربار ہمیں یہ طعنے دیتے ہو کہ پولیس والے سفارشی ہیں  لیکن ساب کیا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں کہ کبھی کیس بھی چلا لیا کرو ساب حقیقت یہ ہے کہ آپ کو بک بک کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں یہ  سننا تھا کہ  مسخرہ "تسے داند" کی طرح  دوبارہ بھڑک اٹھا اور پولیس والے کی دوبارہ ایسی مٹی پلید کی کہ وہ پوری زندگی کبھی کسی جج کے سامنے زبان  چلانے کی جرات نہیں کریگا  باربار ایک ہی آواز آتی تھی کہ میں تو زہر کھا کر بیٹھا ہوں ابھی جیل بھیج دونگا   یہاں میں خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ چورن پور کا مسخرہ اس صدی کا حقیقی معنوں میں سب سے بڑا مزاحیہ  فنکار ہے  کیونکہ یہ   سنجیدگی سے جس طرح سے پرفارم کرتا ہے دنیا کا بڑے سے بڑا فنکار بھی اس طرح پرفارم نہیں کرسکتا دنیا کے بڑے سے بڑے فنکار کے پاس نت نئے ڈائیلاگ کی ایک مخصوص اور محدود ورائٹی ہے لیکن مسخرے کے پاس لوگوں کو ہنسانے کی لامحدود ورائٹی ہے ہرروز نیا ڈائیلاگ  چورن پور کا   مسخرہ  عدالت میں  بیٹھے بیٹھے ایسے ایسے ڈائیلاگ مارتا ہے کہ آپ  کتنے ہی پریشان کیوں نہ ہوں  ہنس ہنس کے پیٹ میں وٹ پڑجائیں گے اور ایسے ایسے وٹ پڑیں گے جو ہفتوں ٹھیک نہیں ہوتے  جن افراد کا مثانہ کمزور ہے ان کو میرا مشورہ ہے کہ  چورن پور کے مسخرے کی عدالت کا رخ ہی نہ کریں کیوں کہ ایسا نہ کہ ہنستے ہنستے  "پشی"  ہی نہ نکل جائے   میں دعوے سے کہتا ہوں موجودہ صدی میں جتنے بھی  بڑے سے بڑے مسخرے پیدا  ہوئے ہیں   ممبئی سے لیکر ہالی ووڈ تک لیکن اتنا بڑا فن کار اور اتنا بڑا مسخرہ نہ صرف پوری دنیا بلکہ انسانی تاریخ میں آج تک پیدا ہی نہیں ہوا  لیکن یہ چورن پور کے شہریوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے کیونکہ مسخرے کی عدالت میں ہرروز بلا ناغہ ہونے والا یہ شو صرف اور صرف چھ سے زیادہ افراد نہیں دیکھ سکتے   یہ اکیسویں صدی کے اس سب سے بڑے مسخرے اور فن کار کے فن کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے  اس لیئے میں چورن پور کے شہریوں کی جانب سے حکومت چورن پور سے مطالبہ  کرتا ہوں کہ  مسخرے کو اپنا روزانہ شو دکھانے کیلئے ایک بہت بڑا آڈیٹوریم بنایا جائے جہاں  چورن پور کے شہری براہ راست روزانہ ہونے والا شو دیکھ سکیں اسی طرح بہت سے پرایئویٹ چینل  چورن پور کے مسخرے کا صبح کا شو براہ راست دکھانا چاہتے ہیں  ان کو بھی جلد ازجلد اجازت دی جائے کیونکہ گھروں میں کام کرنے والی خواتین تو کبھی بھی اس شو میں نہیں آسکتی  ہیں  یہ عورتوں کے حقوق کی  بھی سب سے  بڑی خلاف ورزی ہے کیونکہ چورن پور میں عورتوں کا ہر سطح پر استحصال کیا جاتا ہے اور یہ استحصال  صرف اور صرف  صنف کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے  ۔ ویسے  یہ  واقعہ بھی مشہور ہے کہ جب چورن پور میں  مجاہدین آزادی کو  چورن پور کی موجودہ آسیب ذدہ بلڈنگ  میں مقدمات چلاکر  چورن پور کی بلڈنگ کے پیچھے واقع پھانسی گھاٹ میں پھانسیاں دی جارہی تھیں تو ان بدقسمت افراد میں  چورن پور  کا اس زمانے میں مشہور ترین مسخرہ  " کالو ونجی" بھی تھا کالو ونجی پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ  اس نے  مجاہدین کے سامنے انگریزوں  سے متعلق  ایک ڈرامہ پیش کیا تھا   اور انگریزی  پولیس کا مزاق  اڑایا تھا جس کی بنیاد پر جب مجاہدین کو گرفتار کیا گیا تو چورن پور کے مشہور مسخرے " کالوونجی " کو بھی  گرفتار کرکے پولیس کا مذاق اڑانے کی پاداش  میں  پھانسی پر چڑھا دیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ  کالو ونجی کی  بے قرار روح صدیوں سے اس آسیب ذدہ بلڈنگ میں بھٹک رہی تھی  جیسے ہی کالو  مسخرے کا ٹرانسفر چورن پور میں ہوا کالو ونجی کی  بے قرار روح کو بالآخر قرار مل ہی گیا  اور کالو ونجی کی روح   چورن پور کے مسخرے میں سرایت کرچکی ہے  یہی وجہ ہے کہ چورن پور کا مسخرہ   سب کو ونجی دینے کے چکر میں گھوم رہا ہوتا ہے  لیکن میں لوگوں کی اس رائے سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتا کیونکہ لوگ تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں  بہت سے لوگ تو یہ بکواس بھی کرتے ہیں کہ ماضی کی سابقہ بیوٹی کوئین اور ایک ڈرامے کی  مشہور زمانہ  اداکارہ کی  ادکاری  چورن پور کے ایک جسٹس کو اسقدر پسند آئی کہ اس نے دوسرے دن ہی اس سے دوستی کرکے اس کو وکالت کی ڈگری خرید کردی اور مقامی بار سے لایئسنس خریدنے کے بعد  اس کو سول جج لگادیا لیکن جب ماضی کی اس مشہور فن کارہ کا تبادلہ چورن پور کی آسیب ذدہ بلڈنگ میں ہوا تو یہاں   ایک مغل شہزادی شہزادی سلطانہ کی بھٹکتی ہوئی روح   کو بالآخر قرار مل گیا  اور اس کی روح  ماضی  کی  مشہور زمانہ اداکارہ اور ماضی کی بیوٹی کوئین میں سرایت کرگئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ  جج صاحبہ کا رویہ  شہزادی سلطانہ کی طرح ہوگیا  وکلاء اور کورٹ اسٹاف کو  فرشی  تعظیمی  سلام پر مجبور کرتی تھی   بعد ازاں مغل شہزادی سلطانہ کی بھٹکتی ہوئی روح نے ماضی کی اس عظیم فن کارہ  کو اسقدر پریشان کیا کہ  چورن پور کی اعلٰی عدالت کو اس کا ٹرانسفر مشرقی صوبے  میں کرنا پڑا لیکن شہزادی سلطانہ کی ڈھیٹ روح نے  ماضی کی اس فنکارہ کا پیچھا نہ چھوڑا اور حالات یہاں تک پہنچے کہ جو کورٹ کا اسٹاف شہزادی سلطانہ  کو فرشی  تعظیمی  سلام نہیں کرتا تھا  شہزادی  سلطانہ کی  روح مجبور کردیتی کہ  وہ اسٹاف کو چھڑی سے مارپیٹ کرے ایک صبح کورٹ کا  نیا پیش کار صبح سویرے پیش ہوا تو   وہ حیدرآباد  دکن والے اسٹائل میں  فرشی  تعظیمی سلام کرنا بھول  گیا  جس کے بعد اس کو سبق سکھانے کیلئے جج صاحبہ نے  چھڑی  اٹھائی یہ دیکھ کر پیش کار ڈر کے مارے بھاگ کھڑا  ہوا لیکن  جج صاحبہ  نے  پیش کار کے پیچھے بھاگنا شروع کردیا  اب سین یہ تھا کہ پیش کار آگے آگے بھاگا جارہا ہے اور جج  صاحبہ  پیچھے پیچھے  پیش کار بھاگتا ہوا روڈ پر نکل  گیا لیکن جج صاحبہ  چھڑی لیکر پیچھے پیچھے جس کے بعد عوام نے بڑی مشکل سے قابو کیا  اور  رسی سے باندھ کر پاغل خانے جمع کروایا  چند  دن کے علاج معالجے کے بعد  ماضی کی فن کارہ کو گھر بھیج دیا گیا لیکن چورن پور کی عدلیہ   نے فوری طورپر  جج صاحبہ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا بعد ازاں عدلیہ اب اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جج صاحبہ کو گھر بیٹھے لاکھوں روپیہ ماہانہ تنخوا ادا کررہی ہے جبکہ نیا بھرتی ہونے والا پیش کار ایسا بھاگا کہ واپس ہی نہیں آیا ثقافت اور کلچر کے ساتھ ساتھ فن اور فنکاروں کی جو خدمت چورن پور کی  عدلیہ نے کی ہے اس کی مثال دنیا بھر میں نہیں  ملتی  اب دیکھ لیں مسخرے کو ماہانہ بنیاد پر لاکھوں روپے ادا کیئے جاتے ہیں اور ماضی کی عظیم اداکارہ  کو گھر بیٹھے لاکھوں روپے  ادا کیئے جاتے ہیں  اس حوالے سے چورن پور کے شہری بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں جن کے ٹیکس  کے پیسوں سے ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ کی مد میں ایک مسخرے اور  ماضی کی اداکارہ کو پیش کیئے جاتے ہیں لیکن  چورن پور کے شہری  اس بات پر بہت خوش ہیں  انہوں نے کبھی بھی اعتراض نہیں کیا اس لیئے اصل خراج تحسین کے مستحق تو بلاشبہ چورن پور کے عظیم شہری ہیں   دوسرے کیس کیلئے آواز لگائی گئی تو اتفاق سے وہ بھی قتل ہی کا مقدمہ تھا چورن پور کی ایک اور اہم ترین روایت بھی ہے سوال یہ ہے کہ اچھا جج کون ہوتا ہے اچھا  جج وہ ہوتا ہے جو کسی بھی ملزم کو اس کا جرم ثابت ہونے کے بعد سزا سنانے کی اہلیت رکھتا ہے کیونکہ سزا کا فیصلہ لازمی طورپر  ہایئکورٹ میں چیلنج کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں  ہایئکورٹ میں جب اعلٰی پائے کے وکیل اور جسٹس صاحبان  اس عدالتی فیصلے کا تفصیل سے پوسٹ مارٹم کرتے ہیں تو جج کی اہلیت کھل کر سامنے آجاتی ہے اس لیئے  ججز کی اکثریت کوشش کرتی ہے کہ سزا سنانے کے بجائے ملزمان اور مدعیان کی آپس میں بن جائے اور وہ کیس کے دوران ہی صلح کرلیں  اور اس قسم کے نالائق  سفارشی اور نااہل  کوشش کرتے رہتے ہیں کہ  ملزمان  اور مدعی  آپس میں صلح ہی کرلیں   تاکہ ان کی نااہلی چھپی رہے اور کبھی بھی سامنے نہ آئے مدعیان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کافی کوشش کے باوجود صلح  ناممکن ہے اس لیئے آپ گزارش ہے کہ  اس کیس میں گواہان کے بیانات قلمبند کرکے فیصلہ سنا دیا جائے
مسخرے نے سنی ان سنی کرتے ہوئے  ملزمان سے کہا اپنی اکڑخانیاں بند کرو اور جا کر مدعی سے معافی مانگو، مدعی کے وکیل نے کہا  ساب آپ کافی عرصے سے کوشش کررہے ہیں کہ اس قتل کے مقدمے میں صلح ہوجائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مدعی مقدمہ کی خواہش یہ ہے کہ  قتل کے ملزمان کو مقدمہ چلا کر سزائے موت دی جائے مسخرے نے وکیل صاحب سے کہا وکیل صاحب  مجھے تو یہ لگتا ہے کہ صلح میں آپ رکاوٹ  پیدا کررہے ہیں  وکیل نے کہا ساب ہم کیسے رکاوٹ پیدا کررہے ہیں  حکومت نے جو قانون  بنایا ہے اس کے مطابق تو ان ملزمان کو سزائے موت ملنی چاہیئے تاکہ دیگر لوگوں کو عبرت ہو مسخرے نے کہا تو کیا سزائے موت دینے سے  تمہارا  بندہ واپس  آجائے گا اس لیئے تو میں کہتا ہوں کہ آپس میں بن جاؤ لڑائی جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں  وکیل صاحب فیس ہی سب کچھ نہیں ہوتی آپ تھوڑی کوشش کرو مسئلہ حل ہوجائے گا وکیل نے کہا ساب اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو میں کیا کروں مسخرے نے اس بار انتہائی گندی نظروں سے ملزمان کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور غضبناک نظروں سے مدعی مقدمہ کی طرف دیکھا جو کہ ایک پٹھان تھا مسخرے نے پوچھا خان صاحب صلح کیوں نہیں کرتے خان صاحب نے کہا ہمارے بھائی کو مارا ہے ہم بدلہ ضرور  لے گا تم سزا نہیں لگائے گا تو ہم ان کو روڈ پر گولی مارے گا اگرچہ صلح کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن ساب نے کوششیں جاری رکھیں  ساب نے  پیش کا ر سے کہا کہ ان ملزمان کو قبر والی ویڈیو دکھائی ہے قبر والی ویڈیو پیش کار نے حیرت سے پوچھا کیونکہ پیش کار نیا تھا  اس لیئے پیش کار نے نفی میں سر ہلایا کہ ان لوگوں کو ابھی تک وہ قبر اور سانپ  والی ویڈیو  نہیں دکھائی یہ سن کر  مسخرہ سخت غصے میں آگیا اور کہا کہ کمبخت ابھی تک ان کو  سانپ  اور قبر والی ویڈیو نہیں دکھائی جس کے بعد  مسخرے نے اپنا سمارٹ فون اٹھایا اور قبر کے  سانپ والی ویڈیو تلاش کرنا شروع کردی کچھ دیر کے بعد  سانپ والی ویڈیو  مل گئی اور ساب نے میرے ہاتھ میں  فون دیا اور کہا ذرا احتیاط سے کیوں کہ کافی قیمتی فون ہے جس کے بعد ملزمان نے وہ سانپ والی فلم  دیکھی جس میں ایک سانپ  قبر سے نکل رہا تھا  اور خطرناک قسم کی آوازیں  بھی نکال رہا تھا ساب نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں گناہ کرتے ہیں ظلم  کرتے ہیں  تمہارا بھی یہی انجام ہوگا  اسی طرح قبروں سے سانپ نکلیں گے اور قبر میں بچھو ڈنگ ماریں گے جب ملزمان نے   دس منٹ کی وہ ویڈیو دیکھ لی تو   سانپ  اور قبر والی ویڈیو دیکھنے  کے بعد  ملزمان کا تو "ترا" کئی بار نکل چکا چکا تھا اور وہ  تھر تھر کانپ رہے تھے ساب نے کہا اب اگر  کیونکہ یہ فلم ملزمان نے دیکھ لی ہے تو یہ فلم مدعی کو نہ دکھا نا سخت زیادتی ہوگی جس کے بعد سانپ والی فلم ملزمان کے ساتھ ساتھ مدعی کو بھی دکھائی گئی لیکن  مسخرے کی تبلیغ کوئی فائدہ نہ پہنچا سکی اور صلح نہ ہوسکی  اب آدھا دن گزرچکا تھا مجھ سمیت  تمام وکلاء کو یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ مسخرے کو کام وغیرہ کچھ نہیں آتا وہ صرف اور صرف ٹائم برباد کرنے کی مشین ہے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو کورٹ میں موجود تھا اور مشکوک انداز میں نوٹس لے رہا تھا پہلے مجھے  یہ شک ہوا کہ یہ کسی ایجنسی کا آدمی ہے
پھر کیا ہوا یہ اگلی قسط میں پہلی اور دوسری قسط  بھی منسلک ہیں چورن پور کا مسخرہ۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان پہلی قسط ۔۔۔1دوسری قسط۔۔۔۔2ساحلی شہر چورن پور کی مرکزی غلہ منڈی  کھل چکی تھی اور کاروبار کا آغاز ہوچکا تھا ایک طرف اونٹ گاڑیاں غلہ لیکر اندرون شہر جارہی تھیں تو دوسری طرف   لوڈنگ گاڑیاں بیرون شہر سے غلہ لیکر پہنچ چکی تھیں جس کی وجہ سے حسب معمول ٹریفک جام ہوچکا تھا آسمان پر ہزاروں کی تعداد میں چیلیں اڑ رہی تھیں اور آوازیں نکا ل نکال کر اپنی موجودگی کا احساس دلارہی تھیںچورن پور کی  مرکزی غلہ منڈی کے سامنے برٹش دور کا قدیم پھانسی گھاٹ تھا جہاں ایک  خشک  آسیب زدہ درخت کے عقب میں  ایک آسیب زدہ پرانی مگر باوقار برٹش  دور کی   پتھر سے بنی  ہوئی بلڈنگ تھی  پھانسی  گھاٹ  کے ساتھ  واقع آسیب زدہ درخت کے بارے میں مشہور تھا   کہ اس پر کبھی کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا تھا  جبکہ  پھانسی  گھاٹ  کے نیچے واقع ایک کمرہ عدالت  میں تعینات  جج  نے چند سال پہلے ایک جج نے  پراسرار طورپر اپنے گھر کے اندر خودکشی کرلی تھی اس کے علاوہ وہاں ایک مخصوص عدالت میں ججز ہمیشہ نفسیاتی ہوکر ہی نکلے تھے میں اپنے کلایئنٹ کے ساتھ چورن پور کی  سیشن عدالت میں  داخل ہوا جو اسی آسیب زدہ بلڈنگ میں قائم تھیں  سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے تھوڑا سا خوف محسوس ہوا لیکن میں نے چند وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے جس کے بعد دل میں ذرا سا سکون محسوس ہوا اور میں نے اپنے آپ کو آسمانی اور زمینی بلییات سے  محفوظ محسو س کیا لیکن اس کے باوجود دل میں ایک نامعلوم نوعیت کا خوف محسوس ہوا جس کی وضاحت الفاظ میں نہیں کی جاسکتی آسیب ذدہ بلڈنگ کی آسیب زدہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میری نظر سامنے لگے  کلوز سرکٹ کیمرے پر پڑی جو ہمیشہ کی طرح خراب تھا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس خراب کلوز سرکٹ کیمرے  سے  چند نامعلوم  آنکھیں گھورتی ہوئی محسوس ہورہی تھی وکلاء اور سائلین حسب معمول  عدالت میں پیش ہورہے تھے ایک طرف سیڑھیوں سے ملحق  ایک لفٹ زیر تعمیر تھی  جس  پر کافی عرصے سے کام رکا ہوا تھا اس حوالے سے بھی ایک پراسرار داستان مشہور تھی  اگرچہ میں نے ہمیشہ کی طرح وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے تھے  کام  کی زیادتی کی وجہ سے اور چند دیگر مصروفیات کی وجہ سے میں کیسز کی تیاری نہیں کرسکا تھا اور چند نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر دل  میں ایک عجیب سی اداسی تھی  اور کام کی زیادتی کی وجہ سے دل میں پریشانی سی تھی اس کے بعد آگے چل کر صرف چند منٹ کے بعد ہی چورن پور میں میرے ساتھ ایک ایسا عجیب  اور پراسرار واقعہ ہوا جو ہمیشہ کیلئے یادگار بن گیااور اس واقعہ نے زندگی میں ایک عجیب سی تبدیلی پیدا کی جب  میں آسیب زدہ بلڈنگ کی مشکل سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر پہنچا تو ہلکا سا سانس پھول گیا سامنے   ایک  چھوٹا سا آسیب ذدہ شکایت  بکس لگا ہوا تھا جس پر لگا ہوا   زنگ آلود تالا اس کے آسیب ذدہ ہونے کا اعلان  کررہا تھا  بظاہر   اس تالے کو کبھی نہیں کھولا جاتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ شام کو اندھیرا چھا جانے کے بعد  اس آسیب زدہ بلڈنگ میں روحوں کی ہرروز لگنے والی عدالت میں اس تالے کو روز کھولا جاتا ہے  اور درج ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتاہے مشہور ہے کہ چورن پو ر میں  ہرروز روحوں کی اپنی ایک عدالت لگتی ہے اور رات کو خوب  چہل پہل ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ چورن پور کی  رات کی عدالتوں کے فیصلے نہایت ہی سخت ہوتے ہیں  جن لوگوں کو   چورن  پور کی  حدود میں واقع   عدالتوں  سے دنیا میں انصاف نہیں  ملتا  چورن پور کے مظلوم شام کو   عدالت لگا کر  الگ سے کیس چلاتے ہیں اور سزا سناتے ہیں اس عدالت کی شان ہی کچھ اور ہے یہ دنیا کی واحد عدالت ہے  جو شام کو لگائی جاتی ہے   چورن پور کی شام کی عدالت دنیا کی واحد عدالت ہے جس کے فیصلے میرٹ پر سنائے جاتے ہیں  اور فوری طورپر نافذ العمل ہوتے ہیں  چورن پور کی شام کی عدالت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ شام کو بیٹھنے والے ججز پولیس کے ذہنی ماتحت اور ذ ہنی  غلام بھی نہیں ہیں چورن پور کی رات کی عدالتوں کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ جب انگریز دور میں مجاہدین آازدی کو نام نہاد مقدمات  چلا کر  عدالت  سے متصل پھانسی گھاٹ قائم کرنے کے بعد پھانسی کی سزایئں سنائی گئیں تو اس کے کچھ عرصے کے بعد ہی یہاں  پراسرار واقعات جنم لینا شروع ہوگئے تھےآزادی کے بعد جب چورن پور کا قیام عمل میں آیا تو انصاف کا چورن بنادیا گیا  شروع دن سے ہی انصاف کا  مذاق بنایا گیاتھا  یہاں عدالتوں میں سرعام قتل کرنے والوں کو رشوت کا بازار گرم کرکے چھوڑ دیا جاتا تھا اور مظلوم  بے بسی کی تصویر بن کر  چورن پور کی قدیم بلڈنگ کے ساتھ ہی سر پھوڑ کر گھر واپس چلے جایا کرتے تھے اکثر مظلوم  جھولی پھیلا کر بددعائیں دیتے تھے اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کردیا کرتے تھے جس کے بعد چورن پور میں ایک علیحدہ سے  متوازی  عدالت قائم ہوگئی جو  رات کے وقت قائم ہوتی تھی ان عدالتوں میں صرف قتل کے مقدمات چلتے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر قاتلوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں  یہاں نہ وکیلوں کو جرح کی اجازت ہوتی ہے نہ پولیس کی رپورٹ کا انتظار کیا جاتا ہے  چورن پور کی رات کی عدالتوں کا اپنا ایک نظام ہے ان کا اپنا ایک طریقہ کار ہے جس کو ہم نہیں سمجھتے نہ ہم سمجھنا چاہتے ہیں  ویسے تو چورن پور کی شام کی عدالتوں نے  بے شمار مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں  بے شمار قتل کے ملزمان  کو موت  کی سزائیں  سنا کر ان پر عمل درآمد  بھی کردیا گیا لیکن چورن پور کی رات کی عدالتوں میں جو سب سے بڑا اور اہم مقدمہ آج تک آیا ہے وہ ایک فیکٹری میں چار سو مزدوروں کو زندہ  جلانے کا تھا  جب چورن پور کی ایک فیکٹری میں سینکڑوں  غریب ملازمین کو زندہ جلا کر کوئلہ بنادیا گیا  تھا پہلے یہ مقدمہ  چورن پور کی مقامی عدالت میں چلایا گیا جس میں تفتیشی افسر نے پانچ کروڑ روپے رشوت لیکر ان لوگوں کے خلاف چالان پیش نہیں کیا جنہوں نے فیکٹری کو آگ لگائی تھی بلکہ بے گناہ  فیکٹری مالکان سے ہی پانچ کروڑ روپے لیکر ان ہی کے خلاف چالان بھی پیش کیا لیکن قتل کی سیکشن ختم کرنے اور مقدمے کا چورن چٹنی بنانے کے  لیئے رشوت وصول کرلی تفتیشی افسر اسی رشوت کی رقم  سے حج کی سعادت حاصل کرنے گیا تو اس دوران اس کی نوجوان  بیٹی کا اچانک ہی انتقال ہوگیا اور اس کو بیٹی کا جنازہ پڑھنا بھی نصیب  نہ ہوا جب واپس آیا تو ایک نفسیاتی مریض بن کر واپس لوٹا  رشوت کی رقم اب بوجھ بن چکی تھی   شاید چورن پور کی شام کی عدالت نے اس کو کوئی ایسی سزا سنائی کہ  وہ ہمیشہ کیلئے چپ ہی  ہو گیا ہے بس خاموشی سے چپ چاپ آفس میں بیٹھا رہتا ہے  عدالت میں آتا ہے تو چپ ہی رہتا ہے   بس دیوار کو تکتا رہتا ہےاسی رشوت کی رقم سے  اب اس تفتیشی افسر نے  اپنے علاقے میں ایک مسجد بناکر  زیادہ دیر مسجد میں بیٹھا رہتا ہے   اسی طرح  چورن پور کی فیکٹری  میں چار سوافراد کو زندہ جلانے والے کسی بھی کردار کو سکون نصیب نہ ہوا چاہے وہ شخص جس نے پلاننگ کی اور چاہے وہ لوگ  جنہوں نے آگ لگائی  ان سب کو سزا ضرور ملے گی ۔۔۔۔مل رہی ہے ذمہ داران  خود ہی سامنے آرہے ہیں اور  مظلوموں کی عدالتیں مجبور کررہی ہیں کہ وہ خود عدالتوں میں آکر اپنے جرائم کو قبول کریں  وہ خود ہی قبول کررہے ہیں چورن پور میں فیکٹری میں مزدوروں کو زندہ جلانے والے ایک درجن اہم ترین کرداروں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی عبرت  ناک ہے لیکن فی الحال اس کو بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے فیکٹری کو آگ لگانے والے بہت سے کردار تھے اگر ریسرچ کی جائے تو سب کے سب برے انجام کا شکار ہیں  بہت سے قاتل خوشی خوشی رشوت دیکر رہا ہوجاتے ہیں لیکن جب مقدمہ شام کی عدالت میں چلتا ہے  اور وہاں سے سزا کا حکم سنایا جاتا ہے تو وہی قاتل صرف روز بعد  ہی یاتو پولیس مقابلے میں مرجاتا ہے یا موت خود ہی اس کو تلاش کرتی ہوئی آتی ہے اور اس کو دبوچ لیتی ہے ۔۔۔۔وہ سزا بڑی ہی سخت ہوتی ہے چورن پور میں بے شمار بے گناہوں کو قتل کیا گیا بے شمار قاتل رہا ہوئے اور قانون کی گرفت میں وہ کبھی بھی نہیں آئے  اور اگر قانون کی گرفت میں آئے بھی تو وہ گرفت اس قدر ڈھیلی تھی کہ باآسانی رہا ہوگئے لیکن ایک بات میں دعوے سے کہتا ہوں کہ  چور ن پور کی رات کی عدالتوں نے آج تک کسی ملزم کو نہیں چھوڑا
میں نے چورن پور سے رشوت  دے کر باعزت طورپر بری ہونے والے قاتلوں کو ہمیشہ غیر فطری  اور بدترین موت کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا ہے  اگر آپ کے پاس وقت ہو  تو تحقیق کرکے دیکھ لیں کہ چورن پور میں جتنے بھی قتل کے مقدمات چلے اور کسی وجہ سے رشوت دیکر یا کسی اور طریقے سے رہا ہوگئے تھے اور ورثاء  نے ان کو معاف نہیں کیا تھا  اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا ہوا تھا تو ان کا انجام کیا ہوا  ان کا حشر کیا ہواان سب کو سزا ملی ہے ان سب کو عبرت ناک سزا ملی ہے اور ایسی موت ملی جسے دیکھ کر لوگوں نے دعا کی کہ خدا کسی دشمن کو بھی ایسی سزا  نہ دے یہ  چورن پور کی روحوں کی کہانی بھی عجیب و  غریب ہے مشہور ہے کہ  فرنگیوں کے دور میں جب آسیب زدہ بلڈنگ سے منسلک قدیم پھانسی گھاٹ میں ہزاروں  بے گناہوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا  تو ان کی روحیں آج تک وہاں بھٹکتی پھرتی ہیں بعد ازاں  ان روحوں کی چورن پور کے ان زندہ  مظلوموں سے دوستی ہوگئی جن کے  پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن  قاتل عدالت سے بچ نکلے  اور ان کو عدالت سزا  سنانے میں کامیاب نہ ہوسکی   کچھ عرصے بعد ہی چورن پور میں شام کی متوازی  عدالتیں  قائم ہوگئیں  اور صرف قتل  کے  مقدمات شام  کی عدالتوں پیش کیئے جانے لگے  اور باعزت بری ہونے والے قاتل اپنی بریت کے کچھ عرصے بعد ہی  پراسرار اموات کا شکار ہونے لگے
  قدیم لاک اپ کے سامنے نیم کے درختوں نے ایک سوکھے ہوئے درخت کو اپنے درمیان چھپا رکھا ہے اس پر کبھی بھی  کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا  اس بظاہر سوکھے ہوئے قدیم درخت کو کاٹنے کی جب بھی کوشش کی گئی ناکامی ہوئی مشہور ہے کہ یہاں بھی چند روحوں کا  مستقل قیام ہے
اسی  طرح لفٹ کی تنصیب  کے دوران جب زمین کو وہاں کے  مکینوں کی اجازت کے بغیر ہی  کھودا گیا تو آسیب زدہ بلڈنگ کے  کے مکینوں نے اس بات کا سخت برا منایا   اور اس کھدائی کو   اپنے سسٹم  کی حدود میں مداخلت قرار دیا بعد ازاں    لفٹ کی تنصیب کیلئے جس کمپنی کو ٹھیکہ ملا تھا اس کا چیف ہی اغواء ہوگیا تھا بعد ازاں معافی تلافی کے بعد  چورن پور کے  سینکڑوں برس  قدیم  مکینوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور بچہ   مشکل سے واپس ملا   لیکن مل گیا  اس کے بعد سے ابھی تک  لفٹ کی تنصیب کا کام کھٹائی میں پڑا ہوا ہے میں نے  سائلین کی شکایات    کیلئے نصب  پرانے بکس کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے کو ترجیح دی اور سیکنڈ فلور پر  پہنچ گیا  سیدھے ہاتھ پر پانچ کمرے چھوڑ کر عدالت میں جاکر بیٹھ گیا ابھی جج کے آنے میں زرا تاخیر تھیاس دوران اعلان ہوا کہ ساب آرہے ہیں  ہم کھڑے ہوگئے میں نے دیکھا کہ ایک کالا بھجنگ  ہٹا کٹا     ملنگ نما پہلوان جھومتا ہوا عدالت میں داخل ہوا  آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا  جبکہ  بالوں میں تیل یوں چپڑا ہوا تھا جیسے   ساب نے سرپر تیل نہیں لگایا بلکہ  تیل کی کڑھائی میں سر آدھا گھنٹہ ڈبو کر بالوں میں تیل  کی چمپی  کی تھی رنگ  زیادہ سیاہ  تو نہیں  تھا   لیکن دل کی سیاہی  نے چہرے کی سیاہی پر بہت زیادہ اثر ڈالا تھا  مجھے ایک بار محسوس ہوا کہ اداکار رنگیلا مرحوم سنجیدہ ہوکر بیٹھ گیا ہو بظاہر وہ شخص مجھے سنجیدہ  سا محسوس ہوا  اسی دوران آفس بوائے نے ساب کے سامنے ٹھنڈے پانی کا لال رنگ کا  "مگا "  رکھا جس پر  بہتے ہوئے آبی بخارات اس پانی کے یخ ٹھنڈا ہونے کی گواہی دے رہے تھے  باہر پٹے والوں کے آوازیں گونج رہی تھیںمیں نے کاز لسٹ اٹھا کر دیکھی تو میرا کیس بیسویں نمبر پر لگا ہوا تھا میں نے جاکر پیش کار کو بتایا کہ بیس نمبر پر کیس لگا ہوا ہے تو ساب کے چہرے پر شدید ناگواری اور ناپسندیدگی کے تاثرات نظر آئے  پیش کار نے بتایا سرگوشی والے لہجے میں بتایا کہ تشریف رکھیں نمبر آنے پر کیس چلے گا اسی دوران ساب نے  پانی کے "مگے " سے  پانی پیا میں اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ کسی ڈرامے کی شوٹنگ ہورہی ہے  میں نے پیش کار سے پوچھا کہ ساب کب آئیں گے تو پیش کار نے  سرگوشی میں کہا یہی تو ساب ہے جو سامنے بیٹھا ہوا ہےمیں نے کہا  ساب ایسے ہوتے ہیں  یہ کس قسم کے ساب آرہے ہیں آج کل  پیش کار نے کہا جی اسی قسم کے ساب آرہے ہیں آپ کو کوئی اعتراض ؟   یہ سن کر مجھے زرا شرمندگی ہوئی کیونکہ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ صاحب کسی  مزاحیہ ڈرامے کی شوٹنگ کیلئے تشریف لائے ہیں ساب کے  چہرے پر بہت زیادہ  اور گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی  صاف محسوس ہوتا تھا  ساب سنجیدہ نظر آنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں  میں کازلسٹ دوبارہ دیکھی تو مجھے ایک بار پھر شدید جھٹکا لگا کیونکہ کازلسٹ میں بہت سے قتل کے مقدمات بھی شامل تھی  مجھے ان تمام ملزمان  اور مدعیان سے دل میں بہت زیادہ ہمدردی محسوس ہوئی  کہ جن کے مقدمات وہاں لگے ہوئے تھےخیر عدالتی کاروائی شروع ہوئی اور ساب نے پہلا کیس ہی قتل کا اٹھایاپٹے والے نے آواز لگائی تو ایک پولیس افسر عدالت میں پیش ہوا سنجیدہ ساب جو خاموشی سے مرحوم  اداکار رنگیلا کی سنجیدہ  فوٹو کاپی بنا بیٹھا تھا یوں محسوس ہوا جیسے پولیس والے پر نظر پڑتے ہی  وہ بے چین سا ہو گیا  اس میں  کرنٹ  دوڑ  گیا ہو اس کی حالت یوں ہوگئی جیسے "تسے داند" (پیاسے بیل )  کے سامنے کسی نے لال رنگ کا کپڑا لہرا دیا ہو اور پیاسے  بیل یعنی  تسے داند کی طرح  سامنے والے کو اپنے سینگ سے ٹکر مارنے کیلئے رسا تڑا کر بھاگنے کی تیاری کررہا    ہو اور   گرم گرم  سانسیں لیکر مدمقابل پر حملہ آور ہونے کیلئے تیار ہوگیا ہو  اور زمین پر  اگلے  دونوں پاؤں رگڑ رگڑ کر مدمقابل  کو اپنے سینگوں سے ٹکر مارنے کی تیاری کررہا ہو

سندھ اسمبلی کا جبری مذہب کی بتدیلی کا بل مزید شواہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان





بہت سے مسلمان بھی جعلی طورپر اسلام قبول کرتے ہیں  جبکہ بہت سے غیر مسلم بھی  جعلی طورپر جبری اسلام  قبول کرتے ہیں   آج کل  منظم جرائم پیشہ گروہ کورٹس کے آس پاس آفسز بنا کر  قبول اسلام کی اسناد فروخت کرتے ہیں اگر شکار اچھا ہو تو اس قسم کے سرٹیفیکیٹ   لاکھوں روپے میں فروخت ہوجاتے ہیں  لیکن  نارمل حالات میں یہ سند دس ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے  خود ساختہ قبول اسلام کے کچھ عرصے بعد   جبری اسلام قبول کرنے والا   جعلی مرتد ہوجاتا ہے جس کے بعد ایک اور کارندہ کسی مدرسے میں جاتا ہے اور ایک شرعی مسئلہ پوچھتا ہے  جس پر شرعی فتوٰی آجاتا ہے کہ مرتد کی سزا  یہ ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے  اب دیکھ لیں  این جی اوز کے پاس کتنا فٹ کیس آگیا ایک  جعلی مسلمان جو مرتد ہوچکا ہے اس کی جان کو شدید  خطرہ  ہے شدت پسند اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں ایک نہایت ہی منظم گروہ لاکھوں روپے لیکر اس طریقے سے اس قسم کے کیسز میں   بیرون ملک سیاسی پناہ دلواتے ہیں اور  یہ جعلی مرتد والا کیس تو اے کٹیگری میں شمار ہوتا ہے اس لیئے فوری طور پر اس کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرلی جاتی ہے  اس کاروبار میں مذہب سے منسلک  ہائی پروفائل اہم شخصیات ملوث ہیں  بعض اوقات تو جعلی  قسم کے خود ساختہ مفتی تو کسی گمنام مدرسے کی جانب سے جعلی مرتد کے قتل کا فتوٰی اس کے نام کے ساتھ ہی جاری کردیتے ہیں

مذہب کی تبدیلی اور سندھ اسمبلی میں ہونے والی قانون سازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : صفی الدین اعوان




مذہب کی تبدیلی اور سندھ اسمبلی  میں ہونے والی قانون سازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر  : صفی الدین  اعوان
مجھ سمیت مذہب ہرانسان کا ذاتی مسئلہ ہے  کسی کو کیا پتہ کہ میرا مذہب کیا ہے  میرے پاس کوئی ایسا سرٹیفیکیٹ موجود نہیں ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میرا مذہب کونسا ہےمیں ایک مسلمان ہوں عقیدہ توحید اور ختم نبوت پر میرا یقین ہے اور مجھے اس حوالے سے کسی سرٹیفیکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔لیکن سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نے ایک بہت بڑے مسئلے کو جنم دیا ہے جسے جبری مذہب کی تبدیلی کے نام سے ہم جانتے ہیں میں نے ایک طویل عرصے تک اقلیتوں کی قانونی امداد کی ہے ابھی بھی اقلیتی برادری کے بہت سے کیسز میرے پاس موجود ہیں  ان کیسز کے ذریعے میں نے پاکستانی سماج کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا میرے پاس آیا وہ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتے تھے لیکن رکاوٹ یہ تھی کہ لڑکی شادی شدہ تھی  اس لیئے   وہ مجھ سے  مشورہ لینے آئے تھے میں نے حسب معمول مشورہ دیا کہ  پہلی شادی کی تنسیخ کیلئے کیس داخل کریں جس کے بعد ہی دوسری شادی ممکن ہوگی  ان کا تعلق کرسچن کمیونٹی سے تھا میں نے لڑکی کی جانب سے  تنسیخ  نکاح کی  پٹیشن داخل کردی  کافی عرصے تک وہ  لڑکا اور لڑکی کورٹ میں رلتے رہے ان کو تنسیخ نکاح کا فیصلہ نہ ملا پھر ایک دن وہ لوگ اچانک ہی غائب ہوگئے  ایک دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے شادی کرلی ہے میں نے کہا  کم بختو تم لوگوں نے نکاح کے اوپر نکاح کرلیا ہے   وہ مسکرائے اور کہا وکیل صاحب آپ اچھے وکیل نہیں ہیں آپ بلاوجہ ہی ہم دونوں کے چھ ماہ  خراب کیئے بلاوجہ کورٹ کے دھکے کھانے پڑے ہیں  جبکہ ایک  وکیل نے صرف پانچ منٹ میں میرا مسئلہ حل کردیامیں نے حیرت سے کہا کیا مطلب انہوں نے  بتایا کہ ایک  وکیل نے کہا تم لوگ اسلام قبول کرلو تو  لڑکی کا پرانا نکاح خود ہی ختم ہوجائے گا   اور تم اس سے فوراً نکاح کرلینا  پھر وہ ہمیں ایک مفتی کے پاس لے گیا اس نے اسلام قبول کروایا ہمیں قبول اسلام کی سند دی اور ہم دونوں نے فوری طور پر نکاح کرلیا میں نے کہا کیا اب تم  دونوں اسلام قبول کرکے مسلمان ہوگئے ہو انہوں نے جواب دیا نہیں  انہوں نے صرف قبول اسلام کی سند شادی کرنے کیلئے لی ہے وہ گھر پڑی ہے ہم پہلے بھی کرسچن تھے آج بھی کرسچن ہیں لیکن اگر  اسلام قبول نہ کرتے تو ہماری  شادی ہوناہی ناممکن تھی  ہم نے اسلام تو  صرف قبول  اسلام کی سند حاصل کرنے کیلئے  قبول کیا ہے قبول اسلام کی سند کسی بھی غیر مسلم شادی شدہ عورت کو یہ  سہولت دیتی ہے کہ وہ   اپنا پرانا نکاح تنسیخ کیئے بغیر  صرف قبول اسلام کی سند حاصل  کرکے  نیا نکاح کرلے یہی وجہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد اس سہولت سے ناجائز طورپر فائدہ  اٹھاتی ہے مجھے تبدیلی مذہب کے بل پر شدید اعتراض ہے اور حیرت ہے کہ ممبران سندھ اسمبلی نے کس طرح یہ قانون سازی کرلی ہے  کسی بھی انسان کو  مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے  یہ تاثر بھی غلط ہے کہ لوگ مذہب تبدیل کرکے مسلمان  ہوتے  ہیں بہت سے لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ پاکستان میں بہت سے مسلمان بھی مرتد ہوکر عیسائی مذہب بھی  قبول کرلیتے ہیں   بہت سے چرچ  بھی عیسائی  مذہب قبول  کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں  نادرا  سے اس ریکارڈ کی تصدیق سرکاری ذرائع سے بھی کی جاسکتی ہے وہ  لوگ  اسلام  قبول کرنے کے بعد کیوں مرتد ہوجاتے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے یہ بہت حسا س مسئلہ ہے  کسی شخص کا اسلام قبول کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن اسلام  قبول کرنے کے بعد  کچھ عرصے بعد  مرتد ہوکر مذہب  تبدیل کرنا ایک انٹرنیشنل مسئلہ ہے  اور اس کی بنیاد پر منظم گروہ  ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانیوں کو سیاسی پناہ بھی دلواتے ہیں  پاکستان میں قبول اسلام کی سند  اور عیسائی  مذہب اختیار  کرنے کی سند  کی بنیادپر بہت بڑے کھیل کھیلے جاتے ہیں   مذہب ایک بہت نفع بخش کاروبار ہے  اور اس کی بنیاد پر بہت سے ڈرامے رچائے جاتے ہیں  جو لوگ اسلام قبول کرلیتے ہیں  ان میں سے بہت کم لوگ ہی قبول اسلام کی سند لیکر نادرا کے پاس جاتے ہیں اور اپنے کوائف تبدیل کرواتے ہیں کیونکہ ان کے مذہب کی تبدیلی کا تعلق زیادہ تر واقعات میں  صرف اسلام قبول کرنے کی سند سے ہوتا ہے اور قبول اسلام کی سند سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں کیا اس حوالے سے قانون سازی ممکن ہوگی کہ کوئی بھی شادی شدہ عورت جو  اسلام قبول کرلیتی ہے تو کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ اس کا ماضی کا نکاح بذریعہ عدالت تنسیخ کیا جائے ؟ علماء اکرام کو اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیئے حالانکہ  تبدیلی مذہب سے کسی بھی مذہب کو کوئی خطرہ نہیں   ہے  ۔ تبدیلی مذہب کے حوالے سے صوبہ سندھ میں زیادہ تر شور شرابہ ہندو برادری کی جانب سے مچایا جاتا ہے    ہندو برادری سے تعلق  رکھنے والے نچلی ذات کے ہندو اکثر اسلام قبول کرتے ہی رہتے ہیں  یہ ایک روٹین کی بات ہے ان میں سے اکثر اسلام کے دائرے میں بھی داخل ہوجاتے ہیں کیونکہ اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں ہے  لیکن  ہنگامہ اس وقت برپا ہوجاتا ہے جب کسی اونچی ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکی اسلام قبول کرکے اپنی پسند سے شادی  کرلیتی ہے  نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار لڑکیاں بھی اسلام قبول کرکے شادی کرلیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا فرق صرف اونچی ذات کی لڑکی  کی جانب سے اسلام قبول کرنے سے پڑتا ہے  میرے پاس  ماضی  میں  جبری مذہب کی تبدیلی کے کئی کیسز رہے ہیں زیادہ تر وہ نچلی ذات سے تعلق رکھتے تھے جب وہ کیسز عدالت میں آئے تو کسی ادارے نے ان کی کوئی مدد نہیں کی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی  لیکن جب  جبری مذہب کی تبدیلی کے کیسز میں عدالت کی مداخلت پر لڑکیوں کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ تصدیق کرتی ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ان کو کسی نے بھی اغواء نہیں کیا اور وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں   اس طرح  عدالتوں نے بھی اقلیتی برادری کو مطمئین کرنے کیلئے ہر ممکن راستہ اختیار کیا لیکن ہر بار یہی ہوا کہ کم ازکم میرے سامنے جبری مذہبی تبدیلی کا کوئی کیس  ثابت نہیں ہوا لیکن اس کے باوجو د بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بلاوجہ انکار ہی  کرتے رہتے ہیں اسی طرح  نابالغ افراد کا اسلام تبدیل کرنا اس سے بے شمار تکلیف دہ مسائل جڑے ہوئے ہیں  دل ہی نہیں  چاہتا کہ اس پر بات کی جائے لیکن متحدہ ہندوستان میں  یہی ہوتا تھا کہ جب نابالغ اسلام  کی تعلیمات سے متاثر ہوجاتے تھے تو  وہ اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہونے کے بعد  خاموش رہتے تھے اور بالغ ہونے کے بعد وہ قبول اسلام کا اعلان کرتے تھے کسی بھی نابالغ کیلئے سب سے بڑی پناہ گاہ اس کا گھر ہوتا ہے اس کے ماں باپ ہوتے ہیں  چاہے ان کا کوئی بھی مذہب ہو اتنا بڑا رسک کس طرح لیا جاسکتا ہے کہ ایک نابالغ بچہ  اپنی مرضی سے اپنا مذہب بھی تبدیل کرلے اور وہ اپنا گھر  چھوڑ کر کہیں الگ رہنا شروع کردے  کیا اخلاقیات اس بات کی اجازت دیتی ہیں  ؟  ویسے بھی کسی بچے کو قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے ہم اور آپ کون ہوتے ہیں   ٹھیک ہے  اگر کسی ہندو  نابالغ بچے نے اسلام قبول کرنا ہے خوشی سے کرے  جس  طرح میں مسلمان ہوں لیکن میرا اسلام کسی سرٹیفیکیٹ کا محتاج نہیں ہے   مجھے کسی مدرسے کے سرٹیفیکیٹ کی کبھی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی  تو  ایسے نابالغ بچوں کیلئے یہی مناسب نہیں کہ وہ اسلام قبول کرنے کے  بعد اپنے ماں باپ کی پناہ میں ہی رہیں اور جب وہ خود مختار ہوجائیں تو  اپنے مذہب کی تبدیلی کا اعلان کردیں مذہب کی تبدیلی ایک بہت بڑا کاروبار ہے اس مسئلے سے بے شمار  مسائل جنم لے رہے ہیں   جب تک ہم اس کاروبار کو سمجھیں گے نہیں اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا  حکومت کو چاہیئے کہ قبول اسلام کی اسنادپر پابندی عائد کرے اسلام کبھی کسی کے سرٹیفیکیٹ کا محتاج نہیں رہا  مذہب کی تبدیلی کیلئے  یہ طریقہ کار طے کیا جاسکتا ہے کہ    نومسلم عدالت میں کیس دائر کرے کہ اس نے  اسلام قبول کرلیا ہے اس لیئے اس کو عدالت  قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ صرف اس نیت سے جاری کرسکتی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی دستاویزات پر  اپنا نیا اسلامی نام تحریر کروالے اور شناختی کارڈ وغیرہ پر اپنے کوائف  تبدیل کروالے  اور اگر لڑکی شادی شدہ ہوتو اس کا نکاح بھی  تنسیخ کردیا جائے ویسے سال کے تین سوپینسٹھ دن  اور چوبیس گھنٹے میں ہر غیر مسلم کو  یہ سہولت حاصل ہے کہ   وہ اسلامی تعلیمات سے  متاثر ہوکر صرف کلمہ توحید پڑھ کر اور  ختم نبوت کا اقرار کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوسکتا ہے وہ بخوشی اسلام قبول کرے اس کو کسی سرٹیفیکیٹ کی  کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان میں  کروڑوں مسلمانوں کے پاس اس قسم کا کوئی سرٹیفیکیٹ موجود نہیں جس سے ان کا اسلام قبول کرنا  یا مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہو  
تبدیلی مذہب کے حوالے سے صرف یہ قانون سازی کی  جاسکتی ہے کہ  تبدیلی مذہب کے سرٹفیکیٹس جاری کرنے کا اختیار مدارس اور چرچ کو  نہیں ہونا چاہیئے اگر کوئی ہندو عیسائی مذہب بھی قبول کرتا ہے تو یہ اختیار سیشن جج کو دے دیا جائے کہ  صرف ایک سماعت کے ذریعے اس کو تعلیمی کوائف اور  شناختی کارڈ وغیرہ میں نام کی تبدیلی اور پرانے نکاح کی موجودگی میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرانے نکاح کو تنسیخ کرکے   اگر شادی شدہ عورت اسلام قبول کرتی ہے تو  اس کو نیا نکاح کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے   
مختصر یہ کہ یہ ایک نان ایشو ہے جسے بلاوجہ ایشو بنادیا گیا ہے

چورن پور کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان











چورن پور کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر  صفی الدین اعوانقسط نمبر 2جب  میں آسیب زدہ بلڈنگ کی مشکل سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر پہنچا تو ہلکا سا سانس پھول گیا سامنے   ایک  چھوٹا سا آسیب ذدہ شکایت  بکس لگا ہوا تھا جس پر لگا ہوا   زنگ آلود تالا اس کے آسیب ذدہ ہونے کا اعلان  کررہا تھا  بظاہر   اس تالے کو کبھی نہیں کھولا جاتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ شام کو اندھیرا چھا جانے کے بعد  اس آسیب زدہ بلڈنگ میں روحوں کی ہرروز لگنے والی عدالت میں اس تالے کو روز کھولا جاتا ہے  اور درج ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتاہے مشہور ہے کہ چورن پو ر میں  ہرروز روحوں کی اپنی ایک عدالت لگتی ہے اور رات کو بند عدالتوں میں   خوب  چہل پہل ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ چورن پور کی  رات کی عدالتوں کے فیصلے نہایت ہی سخت ہوتے ہیں  جن لوگوں کو   چورن  پور کی  حدود میں واقع   عدالتوں  سے دنیا میں انصاف نہیں  ملتا  چورن پور کے مظلوم شام کو   عدالت لگا کر  الگ سے کیس چلاتے ہیں اور سزا سناتے ہیں اس عدالت کی شان ہی کچھ اور ہے یہ دنیا کی واحد عدالت ہے  جو شام کو لگائی جاتی ہے   چورن پور کی شام کی عدالت دنیا کی واحد عدالت ہے جس کے فیصلے میرٹ پر سنائے جاتے ہیں  اور فوری طورپر نافذ العمل ہوتے ہیں   ان فیصلوں کے خلاف  دنیا کی کسی عدالت  میں اپیل  بھی نہیں  ہوسکتی  چورن پور کی شام کی عدالت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ شام کو بیٹھنے والے ججز پولیس کے ذہنی ماتحت اور ذ ہنی  غلام بھی نہیں ہیں چورن پور کی رات کی عدالتوں کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ جب انگریز دور میں مجاہدین آازدی کو نام نہاد مقدمات  چلا کر  عدالت  سے متصل پھانسی گھاٹ قائم کرنے کے بعد پھانسی کی سزایئں سنائی گئیں تو اس کے کچھ عرصے کے بعد ہی یہاں  پراسرار واقعات جنم لینا شروع ہوگئے تھےآزادی کے بعد جب چورن پور کا قیام عمل میں آیا تو انصاف کا چورن بنادیا گیا  شروع دن سے ہی انصاف کا  مذاق بنایا گیاتھا  یہاں عدالتوں میں سرعام قتل کرنے والوں کو رشوت کا بازار گرم کرکے چھوڑ دیا جاتا تھا اور مظلوم  بے بسی کی تصویر بن کر  چورن پور کی قدیم بلڈنگ کے ساتھ ہی سر پھوڑ کر گھر واپس چلے جایا کرتے تھے اکثر مظلوم  جھولی پھیلا کر بددعائیں دیتے تھے اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کردیا کرتے تھے جس کے بعد چورن پور میں ایک علیحدہ سے  متوازی  عدالت قائم ہوگئی جو  رات کے وقت قائم ہوتی تھی ان عدالتوں میں صرف قتل کے مقدمات چلتے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر قاتلوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں  یہاں نہ وکیلوں کو جرح کی اجازت ہوتی ہے نہ پولیس کی رپورٹ کا انتظار کیا جاتا ہے  چورن پور کی رات کی عدالتوں کا اپنا ایک نظام ہے ان کا اپنا ایک طریقہ کار ہے جس کو ہم نہیں سمجھتے نہ ہم سمجھنا چاہتے ہیں  ویسے تو چورن پور کی شام کی عدالتوں نے  بے شمار مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں  بے شمار قتل کے ملزمان  کو موت  کی سزائیں  سنا کر ان پر عمل درآمد  بھی کردیا گیا لیکن چورن پور کی رات کی عدالتوں میں جو سب سے بڑا اور اہم مقدمہ آج تک آیا ہے وہ ایک فیکٹری میں چار سو مزدوروں کو زندہ  جلانے کا تھا  جب چورن پور کی ایک فیکٹری میں سینکڑوں  غریب ملازمین کو زندہ جلا کر کوئلہ بنادیا گیا  تھا  اس مقدمے کو دیکھ کر   رات کی عدالتوں کے جج  بھی ایک بار چکرا گئے  تھے پہلے یہ مقدمہ  چورن پور کی مقامی عدالت میں چلایا گیا جس میں تفتیشی افسر نے پانچ کروڑ روپے رشوت لیکر ان لوگوں کے خلاف چالان پیش نہیں کیا جنہوں نے فیکٹری کو آگ لگائی تھی بلکہ بے گناہ  فیکٹری مالکان سے ہی پانچ کروڑ روپے لیکر ان ہی کے خلاف چالان بھی پیش کیا لیکن قتل کی سیکشن ختم کرنے مقدمہ کمزور کرنے  اور مقدمے کا چورن چٹنی بنانے کے  لیئے رشوت وصول کرلی تفتیشی افسر اسی رشوت کی رقم  سے حج کی سعادت حاصل کرنے گیا تو اس دوران اس کی نوجوان  بیٹی کا اچانک ہی انتقال ہوگیا اور اس کو بیٹی کا جنازہ پڑھنا بھی نصیب  نہ ہوا جب  حج  سے واپس آیا تو ایک نفسیاتی مریض بن کر واپس لوٹا  رشوت کی رقم اب بوجھ بن چکی تھی   شاید چورن پور کی شام کی عدالت نے اس کو کوئی ایسی سزا سنائی کہ  وہ ہمیشہ کیلئے چپ ہی  ہو گیا ہے بس خاموشی سے چپ چاپ آفس میں بیٹھا رہتا ہے  عدالت میں آتا ہے تو چپ ہی رہتا ہے   بس دیوار کو تکتا رہتا ہےاسی رشوت کی رقم سے  اب اس تفتیشی افسر نے  اپنے علاقے میں ایک مسجد بناکر  زیادہ دیر مسجد میں بیٹھا رہتا ہے   اسی طرح  چورن پور کی فیکٹری  میں چار سوافراد کو زندہ جلانے والے کسی بھی کردار کو سکون نصیب نہ ہوا چاہے وہ شخص جس نے پلاننگ کی اور چاہے وہ لوگ  جنہوں نے آگ لگائی  ان سب کو سزا ضرور ملے گی ۔۔۔۔مل رہی ہے ذمہ داران  خود ہی سامنے آرہے ہیں اور  مظلوموں کی عدالتیں مجبور کررہی ہیں کہ وہ خود عدالتوں میں آکر اپنے جرائم کو قبول کریں  وہ خود ہی قبول کررہے ہیں چورن پور میں فیکٹری میں مزدوروں کو زندہ جلانے والے ایک درجن اہم ترین کرداروں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی عبرت  ناک ہے لیکن فی الحال اس کو بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے فیکٹری کو آگ لگانے والے بہت سے کردار تھے اگر ریسرچ کی جائے تو سب کے سب برے انجام کا شکار ہیں  بہت سے قاتل خوشی خوشی رشوت دیکر رہا ہوجاتے ہیں لیکن جب مقدمہ شام کی عدالت میں چلتا ہے  اور وہاں سے سزا کا حکم سنایا جاتا ہے تو وہی قاتل صرف روز بعد  ہی یاتو پولیس مقابلے میں مرجاتا ہے یا موت خود ہی اس کو تلاش کرتی ہوئی آتی ہے اور اس کو دبوچ لیتی ہے ۔۔۔۔وہ سزا بڑی ہی سخت ہوتی ہے چورن پور میں بے شمار بے گناہوں کو قتل کیا گیا بے شمار قاتل رہا ہوئے اور قانون کی گرفت میں وہ کبھی بھی نہیں آئے  اور اگر قانون کی گرفت میں آئے بھی تو وہ گرفت اس قدر ڈھیلی تھی کہ باآسانی رہا ہوگئے لیکن ایک بات میں دعوے سے کہتا ہوں کہ  چور ن پور کی رات کی عدالتوں نے آج تک کسی ملزم کو نہیں چھوڑا
میں نے چورن پور سے رشوت  دے کر باعزت طورپر بری ہونے والے قاتلوں کو ہمیشہ غیر فطری  اور بدترین موت کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا ہے  اگر آپ کے پاس وقت ہو  تو تحقیق کرکے دیکھ لیں کہ چورن پور میں جتنے بھی قتل کے مقدمات چلے اور کسی وجہ سے رشوت دیکر یا کسی اور طریقے سے رہا ہوگئے تھے اور ورثاء  نے ان کو معاف نہیں کیا تھا  اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا ہوا تھا تو ان کا انجام کیا ہوا  ان کا حشر کیا ہواان سب کو سزا ملی ہے ان سب کو عبرت ناک سزا ملی ہے اور ایسی موت ملی جسے دیکھ کر لوگوں نے دعا کی کہ خدا کسی دشمن کو بھی ایسی سزا  نہ دے یہ  چورن پور کی روحوں کی کہانی بھی عجیب و  غریب ہے مشہور ہے کہ  فرنگیوں کے دور میں جب آسیب زدہ بلڈنگ سے منسلک قدیم پھانسی گھاٹ میں ہزاروں  بے گناہوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا  تو ان کی روحیں آج تک وہاں بھٹکتی پھرتی ہیں بعد ازاں  ان  بے چین  روحوں کی چورن پور کے ان زندہ  مظلوموں سے دوستی ہوگئی جن کے  پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن  قاتل عدالت سے بچ نکلے  اور ان کو عدالت سزا  سنانے میں کامیاب نہ ہوسکی   کچھ عرصے بعد ہی چورن پور میں شام کی متوازی  عدالتیں  قائم ہوگئیں  اور صرف قتل  کے  مقدمات شام  کی عدالتوں پیش کیئے جانے لگے  اور باعزت بری ہونے والے قاتل اپنی بریت کے کچھ عرصے بعد ہی  پراسرار اموات کا شکار ہونے لگے
  قدیم لاک اپ کے سامنے نیم کے درختوں نے ایک سوکھے ہوئے درخت کو اپنے درمیان چھپا رکھا ہے اس پر کبھی بھی  کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا  اس بظاہر سوکھے ہوئے قدیم درخت کو کاٹنے کی جب بھی کوشش کی گئی ناکامی ہوئی مشہور ہے کہ یہاں بھی چند روحوں کا  مستقل قیام ہے
اسی  طرح لفٹ کی تنصیب  کے دوران جب زمین کو وہاں کے  مکینوں کی اجازت کے بغیر ہی  کھودا گیا تو آسیب زدہ بلڈنگ کے  کے مکینوں نے اس بات کا سخت برا منایا   اور اس کھدائی کو   اپنے سسٹم  کی حدود میں مداخلت قرار دیا بعد ازاں    لفٹ کی تنصیب کیلئے جس کمپنی کو ٹھیکہ ملا تھا اس کا چیف ہی اغواء ہوگیا تھا بعد ازاں معافی تلافی کے بعد  چورن پور کے  سینکڑوں برس  قدیم  مکینوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور بچہ   مشکل سے واپس ملا   لیکن مل گیا  اس کے بعد سے ابھی تک  لفٹ کی تنصیب کا کام کھٹائی میں پڑا ہوا ہے میں نے  سائلین کی شکایات    کیلئے نصب  پرانے بکس کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے کو ترجیح دی اور سیکنڈ فلور پر  پہنچ گیا  سیدھے ہاتھ پر پانچ کمرے چھوڑ کر عدالت میں جاکر بیٹھ گیا ابھی جج کے آنے میں زرا تاخیر تھیاس دوران اعلان ہوا کہ ساب آرہے ہیں  ہم کھڑے ہوگئے میں نے دیکھا کہ ایک کالا بھجنگ  ہٹا کٹا     ملنگ نما پہلوان جھومتا ہوا عدالت میں داخل ہوا  آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا  جبکہ  بالوں میں تیل یوں چپڑا ہوا تھا جیسے   ساب نے سرپر تیل نہیں لگایا بلکہ  تیل کی کڑھائی میں سر آدھا گھنٹہ ڈبو کر بالوں میں تیل  کی چمپی  کی تھی رنگ  زیادہ سیاہ  تو نہیں  تھا   لیکن دل کی سیاہی  نے چہرے کی سیاہی پر بہت زیادہ اثر ڈالا تھا  مجھے ایک بار محسوس ہوا کہ اداکار رنگیلا مرحوم سنجیدہ ہوکر بیٹھ گیا ہو بظاہر وہ شخص مجھے سنجیدہ  سا محسوس ہوا  اسی دوران آفس بوائے نے ساب کے سامنے ٹھنڈے پانی کا لال رنگ کا  "مگا "  رکھا جس پر  بہتے ہوئے آبی بخارات اس پانی کے یخ ٹھنڈا ہونے کی گواہی دے رہے تھے  باہر پٹے والوں کے آوازیں گونج رہی تھیںمیں نے کاز لسٹ اٹھا کر دیکھی تو میرا کیس بیسویں نمبر پر لگا ہوا تھا میں نے جاکر پیش کار کو بتایا کہ بیس نمبر پر کیس لگا ہوا ہے تو ساب کے چہرے پر شدید ناگواری اور ناپسندیدگی کے تاثرات نظر آئے  پیش کار نے بتایا سرگوشی والے لہجے میں بتایا کہ تشریف رکھیں نمبر آنے پر کیس چلے گا اسی دوران ساب نے  پانی کے "مگے " سے  پانی کا ایک گھونٹ   پیا میں اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ کسی ڈرامے کی شوٹنگ ہورہی ہے  میں نے پیش کار سے پوچھا کہ ساب کب آئیں گے تو پیش کار نے  سرگوشی میں کہا یہی تو ساب ہے جو سامنے بیٹھا ہوا ہےمیں نے کہا  ساب ایسے ہوتے ہیں  یہ کس قسم کے ساب آرہے ہیں آج کل  پیش کار نے کہا جی اسی قسم کے ساب آرہے ہیں آپ کو کوئی اعتراض ؟   یہ سن کر مجھے زرا شرمندگی ہوئی کیونکہ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ صاحب کسی  مزاحیہ ڈرامے کی شوٹنگ میں مسخرے کا کردار ادا کرنے  کیلئے تشریف لائے ہیں ساب کے  چہرے پر بہت زیادہ  اور گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی  صاف محسوس ہوتا تھا  ساب سنجیدہ نظر آنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں  میں کازلسٹ دوبارہ دیکھی تو مجھے ایک بار پھر شدید جھٹکا لگا کیونکہ کازلسٹ میں بہت سے قتل کے مقدمات بھی شامل تھی  مجھے ان تمام ملزمان  اور مدعیان سے دل میں بہت زیادہ ہمدردی محسوس ہوئی  کہ جن کے مقدمات وہاں لگے ہوئے تھےخیر عدالتی کاروائی شروع ہوئی اور ساب نے پہلا کیس ہی قتل کا اٹھایاپٹے والے نے آواز لگائی تو ایک پولیس افسر عدالت میں پیش ہوا سنجیدہ ساب جو خاموشی سے مرحوم  اداکار رنگیلا کی سنجیدہ  فوٹو کاپی بنا بیٹھا تھا یوں محسوس ہوا جیسے پولیس والے پر نظر پڑتے ہی  وہ بے چین سا ہو گیا  اس میں  کرنٹ  دوڑ  گیا ہو اس کی حالت یوں ہوگئی جیسے "تسے داند" (پیاسے بیل )  کے سامنے کسی نے لال رنگ کا کپڑا لہرا دیا ہو اور پیاسے  بیل یعنی  تسے داند کی طرح  سامنے والے کو اپنے سینگ سے ٹکر مارنے کیلئے رسا تڑا کر بھاگنے کی تیاری کررہا    ہو اور   گرم گرم  سانسیں لیکر مدمقابل پر حملہ آور ہونے کیلئے تیار ہوگیا ہو  اور زمین پر  اگلے  دونوں پاؤں رگڑ رگڑ کر مدمقابل  کو اپنے سینگوں سے ٹکر مارنے کی تیاری کررہا ہو
چورن پور کے مسخرے کی دوسری قسط  تھی   بدقسمتی سے چند اس قسم کے پراسرار  مسائل نے جنم لیا جن کی وجہ سے پانچ سو صفحات کا یہ ناول  مجبوراً مختصر کرنا پڑ رہا ہے
  پہلی قسط بھی منسلک ہے


چورن پور کا مسخرہ۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



پہلی قسط ۔۔۔1ساحلی شہر چورن پور کی مرکزی غلہ منڈی  کھل چکی تھی اور کاروبار کا آغاز ہوچکا تھا ایک طرف اونٹ گاڑیاں غلہ لیکر اندرون شہر جارہی تھیں تو دوسری طرف   لوڈنگ گاڑیاں بیرون شہر سے غلہ لیکر پہنچ چکی تھیں جس کی وجہ سے حسب معمول ٹریفک جام ہوچکا تھا آسمان پر ہزاروں کی تعداد میں چیلیں اڑ رہی تھیں اور آوازیں نکا ل نکال کر اپنی موجودگی کا احساس دلارہی تھیںچورن پور کی  مرکزی غلہ منڈی کے سامنے برٹش دور کا قدیم پھانسی گھاٹ تھا جہاں ایک  خشک  آسیب زدہ درخت کے عقب میں  ایک آسیب زدہ پرانی مگر باوقار برٹش  دور کی   پتھر سے بنی  ہوئی بلڈنگ تھی  پھانسی  گھاٹ  کے ساتھ  واقع آسیب زدہ درخت کے بارے میں مشہور تھا   کہ اس پر کبھی کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا تھا  جبکہ  پھانسی  گھاٹ  کے نیچے واقع ایک کمرہ عدالت  میں تعینات  جج  نے چند سال پہلے ایک جج نے  پراسرار طورپر اپنے گھر کے اندر خودکشی کرلی تھی اس کے علاوہ وہاں ایک مخصوص عدالت میں ججز ہمیشہ نفسیاتی ہوکر ہی نکلے تھے میں اپنے کلایئنٹ کے ساتھ چورن پور کی  سیشن عدالت میں  داخل ہوا جو اسی آسیب زدہ بلڈنگ میں قائم تھیں  سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے تھوڑا سا خوف محسوس ہوا لیکن میں نے چند وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے جس کے بعد دل میں ذرا سا سکون محسوس ہوا اور میں نے اپنے آپ کو آسمانی اور زمینی بلییات سے  محفوظ محسو س کیا لیکن اس کے باوجود دل میں ایک نامعلوم نوعیت کا خوف محسوس ہوا جس کی وضاحت الفاظ میں نہیں کی جاسکتی آسیب ذدہ بلڈنگ کی آسیب زدہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میری نظر سامنے لگے  کلوز سرکٹ کیمرے پر پڑی جو ہمیشہ کی طرح خراب تھا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس خراب کلوز سرکٹ کیمرے  سے  چند نامعلوم  آنکھیں گھورتی ہوئی محسوس ہورہی تھی وکلاء اور سائلین حسب معمول  عدالت میں پیش ہورہے تھے ایک طرف سیڑھیوں سے ملحق  ایک لفٹ زیر تعمیر تھی  جس  پر کافی عرصے سے کام رکا ہوا تھا اس حوالے سے بھی ایک پراسرار داستان مشہور تھی  اگرچہ میں نے ہمیشہ کی طرح وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے تھے  کام  کی زیادتی کی وجہ سے اور چند دیگر مصروفیات کی وجہ سے میں کیسز کی تیاری نہیں کرسکا تھا اور چند نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر دل  میں ایک عجیب سی اداسی تھی  اور کام کی زیادتی کی وجہ سے دل میں پریشانی سی تھی اس کے بعد آگے چل کر صرف چند منٹ کے بعد ہی چورن پور میں میرے ساتھ ایک ایسا عجیب  اور پراسرار واقعہ ہوا جو ہمیشہ کیلئے یادگار بن گیااور اس واقعہ نے زندگی میں ایک عجیب سی تبدیلی پیدا کی

ڈھائی کلو گرم پکوڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان






پاکستان کی عدالتوں میں اس وقت بھی پانچ سو چھ بی کے  لاکھوں جعلی اور جھوٹے   مقدمات زیر سماعت ہیں  

پاکستان کے تمام ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایک وقوعہ ناقابل یقین حد تک عام ہے یہ ایک جعلی وقوعہ ہوتا ہے جس میں باقاعدہ ڈھونگ رچاکر ایک مصنوعی حملہ کروایا جاتا ہے۔سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے ہی گھر پر یا اپنے آپ پر یا اپنی گاڑی پر خود  ہی  فائرنگ کروادی جاتی ہے وقوعہ کے گواہ قریبی عزیز واقارب ہوتے ہیں جو پولیس کے سامنے گواہی دیتے ہیں کہ فلاں ابن فلاں آیا تھا اور فائرنگ کرکے چلا گیا کوئی بندہ زخمی نہیں ہوا بعض اوقات دروازے یا دیوار پر گولیوں کےنشانات دکھانے کیلئے  چند گولیاں بھی ماردی جاتی ہیں  اقدام قتل کے ایسے تمام مقدمات جن میں کوئی زخمی نہیں ہوتا ایسے تمام مقدمات ہی جعلی اور پلانٹڈ ہوتے  ہیں زیادہ تریہ زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ چار ملزمان دن دیہاڑے گھر میں داخل ہوئے پستول لہرا کر جان سے مارنے کی دھمکی اور دھمکیاں دیتا ہوا چلا گیا عدالتوں کی آدھی سے زیادہ رونق اس قسم کے جھوٹے مقدمات  کی وجہ سے ہے ایف آئی آر رجسٹر کروانے کیلئے 22 اے کے زریعے بھی ایف آئی آر رجسٹر کروائی جاتی ہے  ہماری وکلاء برادری نے بھی بائیس اے کے ساتھ اتنا لاڈ پیار کیا ہے کہ اب اگر بائیس اے کی درخواست لیکر جاؤ تو ججز کو بالکل درست غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ یہ جعلی وقوعہ بنایا گیا ہے  اور وہ درخواست  خارج کردیتے ہیں گزشتہ دنوں  کراچی  کے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ایک سندھی وڈیرے کا مقدمہ آیا جس میں اس وڈیرے نے اپنے ہی گاؤں   کےایک پولیس انسپکٹر کے ساتھ مل کر ایک مشکوک نوعیت کا مقدمہ قائم کیا جس کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ چار افراد نے مل کر اس  وڈیرے کو جان سے مارنے کی نیت سے کراچی کی ایک سڑک پر فائرنگ کی لیکن وہ خوش نصیب شخص محفوظ رہا جس کے بعد پولیس نے  فوری طور پر مقدمہ قائم کرکے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو ٹندو آدم سے جاکر گرفتار کیا  اور ریمانڈ کیلئے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا مجسٹریٹ صاحب نے مکمل روداد سنی اور سننے کے بعد متعلقہ ضلع کے ایس ایس پی کو عدالت کے  اس  جعلی اور مشکوک  واقعہ سے متعلق  تحفظات اور کسی اور تفتیشی افسر سے تفتیش کروانے کا کہا ایس ایس پی نے فوری طور پر نیا تفتیشی افسر مقرر کیا اصل حقیقت اس وقت سامنے آئی جب جوڈیشل مجسٹریٹ نے یہ کہا کہ مدعی مقدمہ کے موبائل فون کا سی ڈی آر ڈیٹا  نکلوا کر لاؤ تو پتہ یہ چلا کہ  مدعی مقدمہ تو کبھی کراچی آیا ہی نہیں تھا اس کی غیر موجودگی میں اس کے گاؤں  اور قبیلے سے تعلق رکھنے والے تفتیشی افسر نے نمک حلال کیا تھا  اور خودہی ایک خود ساختہ وقوعہ بنا کر  ایف آئی آر رجسٹر کرکے ملزمان کو گرفتار کیا تھاجج صاحب نے اچھا کردار ادا کیا ان کی وجہ سے ملزمان کی جان بچ گئی لیکن ایک اہم بات یہ سامنے آئی کہ ان تمام حقائق کے باوجود پولیس افسر کے خلاف نہ تو کوئی کاروائی ہوئی نہ کوئی ایکشن ہوا بلکہ اس کو چھوڑ دیا گیا   اس کی وجہ کیا ہے وہ ہم اور آپ جانتے ہی ہیں کہ عدلیہ بحیثیت ادارہ پولیس کی ذہنی ماتحت  اور ذہنی غلام ہے  اس لیئے ایک خاص مقام پر آکر ججز کی حدود بھی ختم ہوجاتی ہیں   جس ملک کا چیف جسٹس پولیس کی ذہنی غلامی اور ذہنی  ماتحتی پر فخر کرتا ہو وہاں ماتحت عدلیہ سے ہم کیا توقع کریں یہ  ڈسٹرکٹ کورٹس ظلم اور بربریت کی جگہ ہے یہاں آتے ہی انسانیت دم توڑدیتی ہے کیونکہ یہاں آج بھی اقدام قتل  اور جان سے ماردینے کی جھوٹی دھمکیاں  دینے کے ایسے ہی مقدمات پیش ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے ایف آئی آر چالان کاپی سپلائی فرد جرم گواہی ہڑتال تاریخیں اچھا چار سال گزرنے کا پتہ ہی کہاں چلتا ہے کل ایک عجیب واقعہ ہوا ایک    انتہائی  بااثر آدمی نے تھانے سے رابطہ کیا اور اپنے ڈیرے پر بلوا  کر  کہا کہ صبح سویرے مجھے چار افراد نے  لائٹ  ہاؤس کے قریب  پستول دیکھا کر مجھے لوٹ لیا ہے ملزمان کافی دیر سے میرا پیچھا کررہے تھے ایس ایچ او نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تو کسی منسٹر کے زریعے دباؤ ڈالا تو ڈی ایس پی خود  ڈیرے پر حاضر ہوگیا ڈی ایس پی بہت ہی سمجھدار آدمی اور نفسیاتی مار مارنے والا انسان تھا ڈی ایس  پی پوچھا یہ صبح کتنے بجے کا واقعہ ہے بااثر آدمی نے کہا صبح آٹھ بجے  تو ڈی ایس پی نے  کہا آج صبح آٹھ بجے تو میں اسی چوک پر ڈیوٹی پر تھا اوگشت بھی کررہا تھا  ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو کہا اچھا ایسا کرو وہاں کیمرے لگے ہوئے ہیں ان کا ریکارڈ دس منٹ کے اندر نکلوا کر لاؤ  ویسے بھی ڈاکو ایک گھنٹے سے پیچھا کررہے تھے راستے میں کتنے سگنل آئے ٹریفک جام ہوا ملزمان کو میرے تھانے کی حدود ہی ملی تھی تمہیں لوٹنے کیلئے یہ سن کر تو بااثر بندے کی ہوا نکل گئی اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگ گیا  اس سے پہلے کہ ایس ایچ او سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ لینے جاتا وہ بندہ  ڈیرے سے پشی کرنے کے بہانے وہاں سے ایسا  بھاگا کہ مڑ کر دیکھا ہی  نہیں مزے کی بات یہ کہ  بعد میں مجھے ڈی ایس  پی  نے بتایا کہ اس مقام پر سی سی ٹی وی کیمرہ تھا ہی نہیں   مزید  کہا کہ دولاکھ کا کام منسٹر کے فون پر مفت کیوں کریںگزشتہ دنوں چیف جسٹس سندھ  اور صوبہ سندھ کی  عدلیہ  کے مرد آہن جناب سجاد علی شاہ صاحب نے ایک عجیب بتائی اور ٖ فخر بھی کیا کہ  سندھ کی عدالتوں سے چار لاکھ کریمینل  مقدمات ختم ہوگئے ہیں اور مزید سوا لاکھ مقدمات  ابھی بھی زیر سماعت ہیں  چیف صاحب اگر گستاخی معاف تو ایک ننھی منی سی عرض ہے کہ  جس ملک میں تقریباً سو فیصد   شرح ملزمان کی رہائی کی ہوتو اس ملک میں کیس چلا کر مقدمہ ختم کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے  کیوں اتنا قیمتی وقت  برباد کیا جاتا ہے اگر باقی ماندہ کیسز کی فائلیں کسی کباڑی کو بلا کر  تول کر فروخت کردی جائیں اور ملزمان کو چھوڑ دیا جائے تو  قیمتی وقت بھی بچ جائے گا اور باقی ماندہ مقدمات بھی نمٹ جائیں گے  یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جعلی جھوٹے مقدمات پر مبنی کیسز کی فائلیں کسی کباڑی کو ردی کے بھاؤ بیچنے پر یہ بھی ممکن ہے کہ دو ڈھائی کلو پکوڑے ہی مل جائیں گے چیف صاحب ادب سے درخواست ہے کہ جب جعلی جھوٹے اور فریب پر مبنی مقدمات کی فائلیں  ردی کے بھاؤ تول کر بیچ دینے کے بعد اگر ڈھائی کلو  گرم گرم پکوڑے مل جائیں تو پکوڑوں کی  شاندار دعوت اڑاتے ہوئے مجھے  اس دعوت میں شریک کرلینے کی التجا ہے کیونکہ  آج کل کے دور میں   اتنا قیمتی مشورہ کون دیتا ہے وہ بھی بالکل مفت   یقین کریں یہ بہت ہی اچھا مشورہ ہے بلاوجہ وارنٹ نکلتے ہیں بلاوجہ ہی کورٹ محرر جعلی رپورٹس لگاتے ہیں  بلاوجہ ہی   جعلی گواہی ریکارڈ کی جاتی ہے گواہی ریکارڈ کرتے ہوئے کتنا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے   وکلاء  اوٹ پٹانگ سوال کرکرکے  بلاوجہ کا وقت  برباد کرتے ہیں  اور ججز کے قلم بھی  جھوٹی  گواہیاں لکھ لکھ کر ان کی نوک گھس جاتی ہے بلاوجہ ملزمان کو ڈانٹ ڈپٹ  اور غیر حاضری پر اسکول ماسٹر کی طرح ڈانٹ ڈپٹ  اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات میرا کہنا یہ کہ یہ سب جھوٹ ہے  

مچھ جیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان



کسی زمانے میں   بلوچستان کی  مچھ جیل کی وجہ   شہرت یہ تھی کہ وہاں اگر کسی  سیاسی  قیدی کو پھینک دیا جاتا تو پہلے تین سال تک تو اس کو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا کہ  جیل آئے ہی کیوں ہو بعد ازاں  تین سال بعد اس سے خیر خیریت پوچھی جاتی کہ بھائی جان معاملہ کیا ہے اور کیوں ہے اور تین سال بعد اس کو عدالت روانہ کیا جاتا ہے  ہوسکتا ہے کہ یہ بات مبالغہ آرائی پر مبنی ہو لیکن عوام الناس میں مچھ جیل ایک محاورہ تھا کہ جو زیادہ تنگ کرے اس کو مچھ جیل بھیج دو جہاں وہ بغیر عدالتی ٹرائل کے پڑا رہے گا غریب آدمی اور عوام الناس کیلئے اعلٰی عدلیہ مچھ جیل ہی بن  چکی ہے  پہلے تین سال تک تو کوئی پوچھتا ہی نہیں  تین سال  بعد کبھی وکیل نہیں تو کبھی  جج نہیں اور زیادہ تر تو نمبر نہیں آتا  اور اگر خوش قسمتی سے نمبر آبھی جائے تو کیس چلتا ہی نہیں ہے  جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں اس وقت بہت تیزی سے کام جاری ہے عملی طور پر اعلٰی سطح یعنی سپریم کورٹ اور ہایئکورٹس کی سطح پر عدالتی نظام کم ازکم غریب آدمی کیلئے مفلوج ہوچکا ہے اعلٰی عدلیہ میں جاکر غریب صرف دربدر ہی ہوتا ہے  اسی لیئے ساب لوگ آپس میں بات کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا ساب لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا اور اگر پیدا ہو بھی گیا تھا تو   عدالت کیوں آیا کیونکہ اربوں کھربوں روپے کے تنازعات کے حل کے دوران غریب آدمی کا تو نمبر ہی نہیں آتا ہایئکورٹ میں کیسز کیوں نہیں  چلتے یہ ایک الگ بحث ہے  اگر ہم صرف کراچی میں  بیٹھ کر گزشتہ دس سال کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو   ڈسٹرکٹ  کورٹس  کی سطح  پر عدالتی نظام میں واضح تبدیلیاں آئی ہیں عدالتی نظام مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے ۔ کیسز  کے نمٹائے جانے میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے    جوڈیشل مجسٹریٹ  سینئر  سول ججز اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  ججز کو اب پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ کر بھی رہے ہیں   اور وہ کمپیوٹرائزڈ سوفٹ  ویئر کی وجہ سے اب کام  کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں  ہم یہ نہیں کہتے کہ سب کچھ بہت اچھا ہوچکا ہے لیکن  ماضی کی ابتر صورتحال کے مقابلے میں   صورتحال بہت ہی زیادہ بہتر ہوئی اب صرف اہم معاملہ رہ گیا  وہ نااہلی کا ہے کیونکہ سفارشی لوگ جو کسی نہ کسی طرح سسٹم میں  گھس گئے  تھے ان کی نااہلی کی وجہ سے   قانونی مسائل جنم لے رہے ہیں دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نااہلی دونوں اطراف سے ہے  ججز کے ساتھ ساتھ وکلاء بھی نااہلی کا شکار ہیں   جتنی محنت درکار ہوتی وہ محنت وکیل اب کم ہی کرتے ہیں  جبکہ دوسری طرف   عدلیہ  میں بھی سفارشی لوگوں کو پروموشن بھی بہت جلد مل جاتی ہے         پولیس اسی طرح غلط تفتیش کرکے غریب آدمی کو مقدمات میں پھنسانے  میں مصروف ہے تو  پہلے جعلی کیس ختم ہونے میں تین سال کا وقفہ ہوتا تھا تو اب یہ دورانیہ  پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہوگیا ہے  اس حوالے سے عدلیہ بدستور پولیس کی سہولت کار کا کردار ادا کرتی رہے گی کیونکہ  پولیس کی بددیانتی اور غلط تفتیش کو کنٹرول کرنے کیلئے جو صلاحیتیں درکار ہیں اس سطح کے عدالتی افسر  پاکستان کے عدالتی نظام میں موجود ہی نہیں ہیں   صرف ایک فیصد ایسے عدالتی افسران موجود ہیں  جو پولیس کی بددیانتی کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں موجودہ عدلیہ شاید پولیس کی جعلی تفتیش کے بعد ایک مخصوص مدت کے اندر شاید کیسز ختم کرنے کی پابند ہے  اس کو پولیس کی ذہنی ماتحتی بھی  کہا جاسکتا ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود  اگر جائزہ لیا جائے تو  ماضی کے مقابلے میں  کام کی رفتار میں ایک ہزار فیصد تیزی آئی ہے   جبکہ اعلٰی عدالتیں اس حوالے سے بہت  ہی زیادہ پیچھے رہ گئی ہیں  بلکہ عدالتی کام کے حوالے سے اب ڈسٹرکٹ کورٹس اور ہایئکورٹ کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے  ہایئکورٹ  میں  ججز کی تعداد میں  اضافے کے باوجود کام کی رفتار میں کوئی تیزی نہیں آئی ہے  اور یہ ایک بہت بڑا المیہ ثابت ہورہا ہے    جس کا کوئی حل کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہاماتحت عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت ہی زیادہ تیزی آئی ہے  اتنی زیادہ تیزی آئی ہے کہ پورے صوبہ سندھ میں موجود سندھ ہایئکورٹ  کے جتنے جسٹس موجود ہیں  وہ  سب مل کر جتنا کام ایک مہینے میں  کرتے ہیں  ان کے مقابلے میں   صرف کراچی  کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں   بیٹھا  ہوا  ایک جوڈیشل مجسٹریٹ ایک سینئر سول جج ،ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج     پورے سندھ کے ہایئکورٹ کے تمام  جسٹس حضرات کے مقابلے میں ان سے زیادہ کام کرتا ہے   موجودہ دور میں یہ  بات کسی المیہ سے کم بالکل بھی نہیں ہے  جس طریقے سے ماتحت عدلیہ میں ججز کو ڈیل کیا جارہا ہے  بالکل اسی طریقے سے ایک جسٹس کو بھی ڈیل کرنے کی  سخت ضرورت ہے  جو کمپیوٹرائزڈ  سوفٹ ویئر ماتحت عدلیہ میں استعمال کیا جارہا ہے وہی  سوفٹ ویئر  اب ہایئکورٹ میں بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے  باکل اسی طریقے سے  ای میل کی  ضرورت ہے کہ  آج اس کیس میں ججمنٹ ہونا تھا کیوں نہیں ہوا مقصد یہ ہے کہ ایک جسٹس کو بھی اب اسی طریقے سے ڈیل کرنے کی ضرورت ہے جس طرح سے ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کو ہایئکورٹ ڈیل کرتی ہے  سسٹم کے اندر کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہوتا  کاز لسٹ میں ہرروز کیسز کی  تعداد شاید اس وجہ سے بھی  بڑھ رہی ہے کیونکہ جب مقدمات کو حل نہیں کیا جائے گا ان کو لٹکا کر رکھا جائے گا تو کاز لسٹ میں کیسز کی تعداد میں  دن دوگنی رات چوگنی  ترقی اور اضافہ جاری رہے گا  جبکہ  سندھ ہایئکورٹ کراچی  میں ڈیڈھ کروڑ  روپے سے زیادہ مالیت کے کیسز  ایک عام کیس کی طرح ٹرائل بھی ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کیونکہ  کراچی  سمندر کے کنارے آباد ہے اس لیئے انگریز سرکار یہ اختیار   ہایئکورٹ کو دے گیا تھا کہ  مخصوص  مالیت کے  دیوانی تنازعات   ہایئکورٹ میں ڈسٹرکٹ کورٹس کی طرح ٹرائل ہونگے  اسی قسم کے کیسز نے پورے سسٹم کو جام  نہیں  بلکہ  فیل  کررکھا ہے اس لیئے فوری طورپر ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی کو  اس حوالے سے لامحدود نوعیت کے اختیارات دے کر فوری طور پر وہ  تمام دیوانی  نوعیت  کے کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں  ٹرانسفر جو سندھ ہایئکورٹ میں ٹرائل کے  لیئے  کئی سال سے  ٹرائل کے منتظر ہیں اور اس وجہ سے پورا سسٹم ہی جام ہوکر رہ گیا ہے   اگر آج  پورے صوبہ سندھ کی عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت  زیادہ تیزی آئی ہے تو اس کے پیچھے اس کمپیوٹرائزڈ سوفٹ ویئر کاکمال  ہے جس کی وجہ سے آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ بہت زیادہ کمزوریوں کے باوجود ہزاروں خامیوں کے باوجود ہزاروں   مسائل  کے باوجود آج صوبہ سندھ کی ڈسٹرکٹ کورٹس تیزی سے بحران سے نکل چکی ہیں  اور تیزی سے نکل رہی ہیں  اور آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں بیٹھا ہوا ایک عام جج ماہانہ جتنا کام کرتا ہے جتنا ایک عام شہری کو ریلیف فراہم کرتا ہے ایک عام شہری کے مسائل کو حل کرتا ہے  وہ پورے صوبے کے  تمام جسٹس بھی  ایک ڈسٹرکٹ کورٹ  کے  جج کے مقابلے میں کام نہیں کرپارہے   یہ صورتحال کیوں پیدا ہورہی ہے اور ہوچکی ہے اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا چاہیئے کراچی بار کو چاہیئے ملیر بار کو چاہیئے کہ اس صورتحال کا جائزہ لیکر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو اس حوالے سے خصوصی طور پر جاکر خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے  سیشن  ججز  کو ایوارڈ دینا  چاہیئے  ڈسٹرکٹ عدلیہ کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا بہت زیادہ زیادتی ہوگی  یاد رہے کہ یہاں بات صرف عدالتی  کام کی رفتار پر ہورہی  ہے   یہ بھی حقیقت ہے کہ معیار میں بہت کمی ہے لیکن  جیسے ہی فضول  اور فالتو قسم کے کیسز ختم ہوجائیں گے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ ملزمان کو کیفرکردار تک بھی پہنچایا جائے گا  موجودہ صورتحال میں تو  عدلیہ صرف ایک  بے مقصد  قسم  کے ٹرائل  کے زریعے پولیس  کی سہولت کار  کا کردار ادا کررہی ہے سارے کے سارے ملزمان باعزت طور پر  ہی بری ہورہے ہیں  جب ملزمان پر  بامقصد عدالتی ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہوگا ان پر سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوگا  تو اس کے بعد پاکستان  کی عدلیہ میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جس کے بارے میں نہ تو ہم سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی تصور کرسکتے ہیں اس سے یہ بھی مراد ہر گز نہیں کہ عدلیہ دھڑا دھڑ سب کو سزا لگانا شروع کردے بلکہ اکثر ملزم  بے گناہ ہی ہوتے ہیں پولیس ان کو مقدمات  میں پھنساتی ہے اور پولیس  کی غلط  تفتیش  کو کو کنٹرول کرنے کیلئے جو مطلوبہ صلاحیت ہوتی ہے  وہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے    عدلیہ بھی مجبور ہے  لیکن جب یہ صلاحیت آجائے گی  تو پھر  جو صورتحال جنم لے گی وہ تصور سے ہی باہر ہے 

کسی زمانے میں   بلوچستان کی  مچھ جیل کی وجہ   شہرت یہ تھی کہ وہاں اگر کسی  سیاسی  قیدی کو پھینک دیا جاتا تو پہلے تین سال تک تو اس کو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا کہ  جیل آئے ہی کیوں ہو بعد ازاں  تین سال بعد اس سے خیر خیریت پوچھی جاتی کہ بھائی جان معاملہ کیا ہے اور کیوں ہے اور تین سال بعد اس کو عدالت روانہ کیا جاتا ہے  ہوسکتا ہے کہ یہ بات مبالغہ آرائی پر مبنی ہو لیکن عوام الناس میں مچھ جیل ایک محاورہ تھا کہ جو زیادہ تنگ کرے اس کو مچھ جیل بھیج دو جہاں وہ بغیر عدالتی ٹرائل کے پڑا رہے گا غریب آدمی اور عوام الناس کیلئے اعلٰی عدلیہ مچھ جیل ہی بن  چکی ہے  پہلے تین سال تک تو کوئی پوچھتا ہی نہیں  تین سال  بعد کبھی وکیل نہیں تو کبھی  جج نہیں اور زیادہ تر تو نمبر نہیں آتا  اور اگر خوش قسمتی سے نمبر آبھی جائے تو کیس چلتا ہی نہیں ہے  جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں اس وقت بہت تیزی سے کام جاری ہے عملی طور پر اعلٰی سطح یعنی سپریم کورٹ اور ہایئکورٹس کی سطح پر عدالتی نظام کم ازکم غریب آدمی کیلئے مفلوج ہوچکا ہے اعلٰی عدلیہ میں جاکر غریب صرف دربدر ہی ہوتا ہے  اسی لیئے ساب لوگ آپس میں بات کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا ساب لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا اور اگر پیدا ہو بھی گیا تھا تو   عدالت کیوں آیا کیونکہ اربوں کھربوں روپے کے تنازعات کے حل کے دوران غریب آدمی کا تو نمبر ہی نہیں آتا ہایئکورٹ میں کیسز کیوں نہیں  چلتے یہ ایک الگ بحث ہے  اگر ہم صرف کراچی میں  بیٹھ کر گزشتہ دس سال کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو   ڈسٹرکٹ  کورٹس  کی سطح  پر عدالتی نظام میں واضح تبدیلیاں آئی ہیں عدالتی نظام مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے ۔ کیسز  کے نمٹائے جانے میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے    جوڈیشل مجسٹریٹ  سینئر  سول ججز اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  ججز کو اب پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ کر بھی رہے ہیں   اور وہ کمپیوٹرائزڈ سوفٹ  ویئر کی وجہ سے اب کام  کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں  ہم یہ نہیں کہتے کہ سب کچھ بہت اچھا ہوچکا ہے لیکن  ماضی کی ابتر صورتحال کے مقابلے میں   صورتحال بہت ہی زیادہ بہتر ہوئی اب صرف اہم معاملہ رہ گیا  وہ نااہلی کا ہے کیونکہ سفارشی لوگ جو کسی نہ کسی طرح سسٹم میں  گھس گئے  تھے ان کی نااہلی کی وجہ سے   قانونی مسائل جنم لے رہے ہیں دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نااہلی دونوں اطراف سے ہے  ججز کے ساتھ ساتھ وکلاء بھی نااہلی کا شکار ہیں   جتنی محنت درکار ہوتی وہ محنت وکیل اب کم ہی کرتے ہیں  جبکہ دوسری طرف   عدلیہ  میں بھی سفارشی لوگوں کو پروموشن بھی بہت جلد مل جاتی ہے         پولیس اسی طرح غلط تفتیش کرکے غریب آدمی کو مقدمات میں پھنسانے  میں مصروف ہے تو  پہلے جعلی کیس ختم ہونے میں تین سال کا وقفہ ہوتا تھا تو اب یہ دورانیہ  پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہوگیا ہے  اس حوالے سے عدلیہ بدستور پولیس کی سہولت کار کا کردار ادا کرتی رہے گی کیونکہ  پولیس کی بددیانتی اور غلط تفتیش کو کنٹرول کرنے کیلئے جو صلاحیتیں درکار ہیں اس سطح کے عدالتی افسر  پاکستان کے عدالتی نظام میں موجود ہی نہیں ہیں   صرف ایک فیصد ایسے عدالتی افسران موجود ہیں  جو پولیس کی بددیانتی کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں موجودہ عدلیہ شاید پولیس کی جعلی تفتیش کے بعد ایک مخصوص مدت کے اندر شاید کیسز ختم کرنے کی پابند ہے  اس کو پولیس کی ذہنی ماتحتی بھی  کہا جاسکتا ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود  اگر جائزہ لیا جائے تو  ماضی کے مقابلے میں  کام کی رفتار میں ایک ہزار فیصد تیزی آئی ہے   جبکہ اعلٰی عدالتیں اس حوالے سے بہت  ہی زیادہ پیچھے رہ گئی ہیں  بلکہ عدالتی کام کے حوالے سے اب ڈسٹرکٹ کورٹس اور ہایئکورٹ کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے  ہایئکورٹ  میں  ججز کی تعداد میں  اضافے کے باوجود کام کی رفتار میں کوئی تیزی نہیں آئی ہے  اور یہ ایک بہت بڑا المیہ ثابت ہورہا ہے    جس کا کوئی حل کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہاماتحت عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت ہی زیادہ تیزی آئی ہے  اتنی زیادہ تیزی آئی ہے کہ پورے صوبہ سندھ میں موجود سندھ ہایئکورٹ  کے جتنے جسٹس موجود ہیں  وہ  سب مل کر جتنا کام ایک مہینے میں  کرتے ہیں  ان کے مقابلے میں   صرف کراچی  کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں   بیٹھا  ہوا  ایک جوڈیشل مجسٹریٹ ایک سینئر سول جج ،ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج     پورے سندھ کے ہایئکورٹ کے تمام  جسٹس حضرات کے مقابلے میں ان سے زیادہ کام کرتا ہے   موجودہ دور میں یہ  بات کسی المیہ سے کم بالکل بھی نہیں ہے  جس طریقے سے ماتحت عدلیہ میں ججز کو ڈیل کیا جارہا ہے  بالکل اسی طریقے سے ایک جسٹس کو بھی ڈیل کرنے کی  سخت ضرورت ہے  جو کمپیوٹرائزڈ  سوفٹ ویئر ماتحت عدلیہ میں استعمال کیا جارہا ہے وہی  سوفٹ ویئر  اب ہایئکورٹ میں بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے  باکل اسی طریقے سے  ای میل کی  ضرورت ہے کہ  آج اس کیس میں ججمنٹ ہونا تھا کیوں نہیں ہوا مقصد یہ ہے کہ ایک جسٹس کو بھی اب اسی طریقے سے ڈیل کرنے کی ضرورت ہے جس طرح سے ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کو ہایئکورٹ ڈیل کرتی ہے  سسٹم کے اندر کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہوتا  کاز لسٹ میں ہرروز کیسز کی  تعداد شاید اس وجہ سے بھی  بڑھ رہی ہے کیونکہ جب مقدمات کو حل نہیں کیا جائے گا ان کو لٹکا کر رکھا جائے گا تو کاز لسٹ میں کیسز کی تعداد میں  دن دوگنی رات چوگنی  ترقی اور اضافہ جاری رہے گا  جبکہ  سندھ ہایئکورٹ کراچی  میں ڈیڈھ کروڑ  روپے سے زیادہ مالیت کے کیسز  ایک عام کیس کی طرح ٹرائل بھی ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کیونکہ  کراچی  سمندر کے کنارے آباد ہے اس لیئے انگریز سرکار یہ اختیار   ہایئکورٹ کو دے گیا تھا کہ  مخصوص  مالیت کے  دیوانی تنازعات   ہایئکورٹ میں ڈسٹرکٹ کورٹس کی طرح ٹرائل ہونگے  اسی قسم کے کیسز نے پورے سسٹم کو جام  نہیں  بلکہ  فیل  کررکھا ہے اس لیئے فوری طورپر ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی کو  اس حوالے سے لامحدود نوعیت کے اختیارات دے کر فوری طور پر وہ  تمام دیوانی  نوعیت  کے کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں  ٹرانسفر جو سندھ ہایئکورٹ میں ٹرائل کے  لیئے  کئی سال سے  ٹرائل کے منتظر ہیں اور اس وجہ سے پورا سسٹم ہی جام ہوکر رہ گیا ہے   اگر آج  پورے صوبہ سندھ کی عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت  زیادہ تیزی آئی ہے تو اس کے پیچھے اس کمپیوٹرائزڈ سوفٹ ویئر کاکمال  ہے جس کی وجہ سے آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ بہت زیادہ کمزوریوں کے باوجود ہزاروں خامیوں کے باوجود ہزاروں   مسائل  کے باوجود آج صوبہ سندھ کی ڈسٹرکٹ کورٹس تیزی سے بحران سے نکل چکی ہیں  اور تیزی سے نکل رہی ہیں  اور آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں بیٹھا ہوا ایک عام جج ماہانہ جتنا کام کرتا ہے جتنا ایک عام شہری کو ریلیف فراہم کرتا ہے ایک عام شہری کے مسائل کو حل کرتا ہے  وہ پورے صوبے کے  تمام جسٹس بھی  ایک ڈسٹرکٹ کورٹ  کے  جج کے مقابلے میں کام نہیں کرپارہے   یہ صورتحال کیوں پیدا ہورہی ہے اور ہوچکی ہے اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا چاہیئے کراچی بار کو چاہیئے ملیر بار کو چاہیئے کہ اس صورتحال کا جائزہ لیکر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو اس حوالے سے خصوصی طور پر جاکر خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے  سیشن  ججز  کو ایوارڈ دینا  چاہیئے  ڈسٹرکٹ عدلیہ کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا بہت زیادہ زیادتی ہوگی  یاد رہے کہ یہاں بات صرف عدالتی  کام کی رفتار پر ہورہی  ہے   یہ بھی حقیقت ہے کہ معیار میں بہت کمی ہے لیکن  جیسے ہی فضول  اور فالتو قسم کے کیسز ختم ہوجائیں گے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ ملزمان کو کیفرکردار تک بھی پہنچایا جائے گا  موجودہ صورتحال میں تو  عدلیہ صرف ایک  بے مقصد  قسم  کے ٹرائل  کے زریعے پولیس  کی سہولت کار  کا کردار ادا کررہی ہے سارے کے سارے ملزمان باعزت طور پر  ہی بری ہورہے ہیں  جب ملزمان پر  بامقصد عدالتی ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہوگا ان پر سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوگا  تو اس کے بعد پاکستان  کی عدلیہ میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جس کے بارے میں نہ تو ہم سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی تصور کرسکتے ہیں اس سے یہ بھی مراد ہر گز نہیں کہ عدلیہ دھڑا دھڑ سب کو سزا لگانا شروع کردے بلکہ اکثر ملزم  بے گناہ ہی ہوتے ہیں پولیس ان کو مقدمات  میں پھنساتی ہے اور پولیس  کی غلط  تفتیش  کو کو کنٹرول کرنے کیلئے جو مطلوبہ صلاحیت ہوتی ہے  وہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے    عدلیہ بھی مجبور ہے  لیکن جب یہ صلاحیت آجائے گی  تو پھر  جو صورتحال جنم لے گی وہ تصور سے ہی باہر ہے 

راحیل شریف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



راحیل شریف  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان امریکی اخبارات کے مطابق انڈیا  کا وزیراعظم  اور امریکہ کا صدر ایک خوبصورت دیو ہیکل ہاتھی پر سوار ہیں جس پر قیمتی قالین بچھا ہوا ہے    یہ  بھارت اور امریکہ کی دوستی کی ایک مثال ہے دوسری طرف  اس کے ساتھ ساتھ ایک  کمزور اور مریل سا خچر  چل رہا ہے جس پر صرف پاکستان کا  وزیراعظم اکیلا سوار ہے  اور اس پر پاک چائینہ دوستی لکھا ہوا ہے لیکن  وقت اور جنرل راحیل شریف نے امریکی  اخبارات کے دعوے کو غلط اور جھوٹا ثابت کیا  فوج  میں ہمیشہ متباد ل قیادت موجود ہوتی ہے  اور یہی پاک فوج کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ پاک فوج میں  ہر سطح پر انتہائی تربیت یافتہ قیادت  موجود ہے  جبکہ موجودہ دور میں پاکستان میں متبادل سیاسی قیادت کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا موروثیت کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں  چلائی جاتی ہیں  طلبہ تنظیموں پر پابندی کے بعد  مڈل کلاس طبقے سے  سیاسی قیادت کا سلسلہ بھی ختم ہوچکا ہے  تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی کے زریعے مڈل کلاس کو متبادل سیاسی قیادت دینے کا ناکام تجربہ کیا کیونکہ  صرف طلبہ یونین ہی اس ملک کی سیاسی جماعتوں کو متبادل قیادت دے سکتی ہے  طلبہ تنظیموں  نے اپنے عروج کے دور میں  پاکستان کو ہمیشہ بہترین قیادت فراہم کی تھی  لیکن  اب سیاسی میدان میں قیمتی گاڑیوں  والے سیاسی بھگوڑوں کا قبضہ ہے   جبکہ فوج میں آج بھی  اعلٰی قیادت  مڈل کلاس طبقے سے ہی آگے آرہی ہے کافی عرصے بعد پاک فوج کو ایک ایسا سپہ سالار ملا جس کی وجہ سے عوام میں پاک فوج کی عزت دوبارہ سے بحال ہوئی  حالیہ دنوں میں پاک انڈیا کشیدگی کے دوران پاکستان کو انڈیا پر نفسیاتی  برتری حاصل رہی  اور وہ نفسیاتی برتری راحیل شریف کی صورت  میں تھی  بلوچستان میں فوج سے نفرت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے کسی زمانے میں گاڑیوں پر لکھا ہوتا تھا پاک فوج کو سلام جبکہ موجودہ دور میں  جنرل راحیل شریف کی تصاویر اکثر گاڑیوں میں لگی نظر آتی ہے  پاکستانی سیاست میں امریکی اثرورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے  لیکن  امریکی اثرورسوخ کا زوال شروع ہوچکا ہے پاکستان میں امریکی اثر ورسوخ کے زوال کی ابتدا اس وقت ہوئی جب  اوبامہ انڈیا کے دورے پر آئے  اور اوباما   کا طیارہ انڈیا اور  عین اسی وقت راحیل شریف کا طیارہ چین میں اتر رہا تھا اور یہ امریکہ کو واضح پیغام تھا  جس طرح امریکہ نے  پاکستان کی دوستی کو ٹھکرایا  اسی طرح  پاکستان نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا  بعد ازاں امریکی اخبارات نے  انڈیا اور امریکہ کی دوستی کا موازنہ  پاک  چائینا دوستی کے ساتھ انتہائی مضحکہ خیز انداز میں ایک کارٹون بنا کر کیا  لیکن بعد میں امریکی اخبار کا تجزیہ درست ثابت نہیں ہوا  جبکہ  موجودہ دور میں امریکی سفیر کا اثررسوخ بھی کافی کم ہوا ہے   لیکن امریکہ  امریکہ ہی ہے  اس کا ایک اثرورسوخ ہے جس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا جنرل  راحیل شریف کی اس وقت  عوام میں بے تحاشا مقبولیت ہے لیکن یہ مقبولیت بحیثیت ایک فوجی جنرل ہی کی حیثیت سے ہے  پاکستان کے چیف آف آرمی  اسٹاف ہی کی حیثیت سے ہی ہے  عوام نے جنرل راحیل شریف کو کبھی بھی ایک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر   کے طور پر   نہیں سوچا  پاکستان میں موجودہ سیاسی  استحکام  صرف اس وجہ سے ہے کہ پاک فوج اور سیاسی قیادت کی سوچ ایک ہے اور اسی سوچ کی وجہ سے کراچی میں امن قائم ہوچکا ہے  شہر کی رونق پوری طرح  بحال ہوچکی ہے سینکڑوں ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد وں کا قلع قمع کیا جاچکا ہے اور بچے کھچے  ہاتھ میں تسبیح لیکر تبلیغ اللہ اللہ کرتے پھر رہے ہیں پاک چایئنا کوریڈور   بہت سی طاقتوں کیلئے ایک پیغام ہے امریکہ  واضح طور پر محسوس کررہا ہے  کہ اسلام آباد اور وائٹ ہاؤس کے درمیان  فاصلے بڑھ رہے ہیں اگرچہ امریکہ نے پاکستان کو کبھی دوست نہیں سمجھا لیکن پاکستانیوں کی غلط فہمی کو دور بھی نہیں کیا   جنرل راحیل شریف کے دور میں  یہ فاصلہ شاید اب پاکستان کی جانب سے بڑھنا شروع ہوا ہے    جبکہ سیاستدانوں کی نظریں اب بھی امریکہ کی طرف ہی دیکھتی ہیں لیکن چین کا  پاکستان  میں  اثر ورسوخ   ایک حقیقت بن چکا ہے  لیکن امریکی قیادت  نہ کیوں یہ حقیقت تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہورہی کہ پاکستان میں سیاسی استحکام پورے خطے کے مفاد میں ہے   اور امریکی نے کبھی ایسی پالیسی تشکیل نہیں دی جس سے پاکستان   میں استحکام ہو جہاں ایک طرف مقبولیت ہے عوام میں بے پنا محبت ہے وہیں دوسری طرف مجبوریاں بھی ہیں  اور  ایک فوجی جنرل کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آرہا ہے تو  عوام اور سرمایہ کاروں میں بے چینی کی فضا ء  محسوس ہورہی ہے  کیونکہ موجودہ سیاسی استحکام  کے حوالے سے  جنرل راحیل شریف کا نام لازم  وملزوم سمجھا جارہا ہے عوامی  خواہش تھی کہ  مدت ملازمت میں توسیع کردی جائے   تو دوسری طرف   یہ سوچ فوج کیلئے بھی ایک چیلنج ہے جس کے پاس   بہترین  متباد ل قیادت موجود رہتی ہے جو متبادل قیادت کو  تیار کرتی ہے  ایک سوچ یہ بھی ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع سے متبادل قیادت   یعنی  آنے والے اگلے جنرل  کے سامنے ایک رکاوٹ آئے گی لیکن جنرل راحیل شریف نے جس طرح طالبان کے  ساتھ جنگ کرکے ان کو شدید کمزور کیا اس کے بعد اس سلسلے کو جاری رکھنا مشکل ہورہا ہے   کیا نیا فوجی جنرل اس جنگ کو جاری رکھے گا  کراچی کا سرمایہ کار پریشان  ہورہا  ہے کہ  کیا  کراچی میں جاری امن کی کوششوں کو دوام بخشنے کیلئے کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا  یا مفاہمت  کی  پالیسی اپنا کر  دہشت  گردی  کو پھلنے پھولنے کا دوبارہ موقع دیا جائے گا  اسی قسم کے بہت سے سوال پوری قوم کو پریشان کررہے ہیں  میرے خیال میں بے شمار خوبیوں کے باوجود  پاک فوج کے پاس اس وقت  بھی نہایت ہی اچھے فوجی افسر موجود ہیں لیکن  جنرل راحیل شریف  جیسی عوامی مقبولیت شاید کسی کو  دوبارہ نصیب نہیں سکے گی  یہ فرق واضح ہے  اگرچہ ایک جمہوری معاشرے میں  فوج کا کوئی  کردار نہیں ہوتا   لیکن جمہوری معاشروں میں وہ رویئے بھی نہیں ہوتے جو پاکستانی سیاستدانوں کے ہیں  ۔  اسی وجہ سے   فوج اور سیاستدانوں کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان میں سیاسی استحکام آیا ہے    جس پر سرمایہ کاروں نے  کھل  کر اعتماد  کا اظہار بھی کیا ہے دوسری طرف پاکستان آج بھی حالت جنگ میں ہے کیونکہ اسلام کے نام پر  بنائے جانے  والے  عالمی دہشت گرد گروپ ہر وقت پاکستان کی مظلوم عوام کو  خودکش  دھماکوں  کے زریعے نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ۔  تو دوسری طرف  بین  الاقوامی  خفیہ ایجنسیاں  بھی پاکستان میں عدم استحکام کی پالیسی پر کمر بستہ ہیں جنرل راحیل شریف  ہی کے دور میں  عدلیہ واپس اپنے اصل مقام پر پہنچ چکی ہے   آزاد عدلیہ  مکمل آزاد ہوچکی ہے موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے  ہیں کہ موجودہ سیٹ  اپ ہی کو برقرار رکھا جائے   کچھ عرصے کیلئے جنرل راحیل شریف  صاحب  مزید چیف آف آرمی اسٹاف رہیں  کیونکہ  حالت جنگ میں  جنرل کا ریٹائر ڈ ہونا اچھا شگون  نہیں ہوتا سرمایہ کاروں کا اعتماد تیزی سے بحال ہورہا ہے  بیرونی سرمایہ کار صرف موجودہ سیاسی سیٹ اپ ہی کو پسند کررہے ہیں چیف صاحب   ریٹائرمنٹ  بہرحال ایک حقیقت ہے آج اور کل میں کوئی فرق نہیں ہے  لیکن اس کے باوجود موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ  آپ    موجودہ سیٹ اپ میں برقرار رہیں  کیونکہ سیاسی گدھ  صرف آپ کی ریٹائرمنٹ ہی کے منتظر ہیں    کیونکہ  جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے  اور یہ انتقام عوام سے لیا جاتا ہے

جسٹس اور گالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان




جسٹس اور گالی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان افغانستان کے صوبہ خراسان کی ہایئکورٹ کے کمرہ عدالت کا   صبح  سویرے  کاایک منظرخون جمادینے والی  سردی کے باوجود  وسیع  و عریض  رقبے پر پھیلا  ہوا کمرہ عدالت  کھچاکھچ بھرا ہوا تھا   صرف خوش قسمت افراد کو ہی بیٹھنے کی جگہ مل سکی تھی جبکہ  بے شمار افراد  کھڑے ہوکر کاروائی دیکھ رہے تھے جسٹس  فضل اکبر  کمرہ عدالت  میں داخل ہوئے  مقدمے کی سماعت شروع ہوئی   جسٹس  ساب نے   نہایت ہی  حقارت  اور نفرت سے  کمرہ عدالت  میں موجود وکلاء  کو دیکھا  اور کیس چلانے کیلئے اپنے سامنے موجود سینئر وکیل کی طرف انتہائی  گندی  گندی نظروں سے دیکھا اور دل ہی دل میں  چار پانچ سو   ناقابل اشاعت لاہوری قسم کی   ایوارڈ یافتہ  کلاسک  گالیاں  دینے کے بعد چہرے پر مزید  شدید ترین  نفرت کے تاثرات لانے کے بعد  نفرت  بھرے لہجے  اور نپے  تلے انداز میں میں کہا  بڈھے وکیل    دلائل کا سلسلہ شروع کرسینئر وکیل نے یہ سن کر حیرت سے جسٹس فضل اکبر کی طرف  حیرت  سے دیکھا  تو جسٹس فضل اکبر نے فوری طورپر آپے سے باہر ہوکر  کہا  ابے بھڑوے    دیکھتا  کیا ہے مادر ٭٭٭٭٭   جانتا نہیں میرا نام جسٹس  فضل اکبر ہے پھر انگلیوں سے چٹکیاں بجاکر کہا  ایک منٹ میں  اٹھا کر  باہر پھینکوادوں گااس قسم   کی گالیاں اور لب و  لہجہ  وکیل  صاحب  کیلئے  خلاف معمول تھیں  لیکن   افغانستان  کے صوبہ  خراسان  کے جسٹس  فضل اکبر کی کورٹ کا معمول  کا حصہ تھیں کیونکہ  وہ سینئر وکیل  وہاں پہلی بار    قندھار  سے لاعلمی  کی وجہ سے پیش ہوا تھا عدالتوں میں ہمیشہ وکلاء کو عزت دی جاتی  تھی لیکن سینئر وکیل کو محسوس ہوا کہ جسٹس کی مقدس سیٹ پر کوئی جسٹس نہیں بیٹھا ہوا بلکہ  ایک درجہ الف کا  موالی  قسم کا  شیطان غنڈہ  اور  بدمعاش  بیٹھا ہوا ہے شاید ان گالیوں اور رویئے کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں کی بار کمزور اور ہایئکورٹ کی بغل بچہ تھی جس کی وجہ سے بار کے عہدیدار ذاتی مفادات کی وجہ سے  اس  درجہ اول کے بدمعاش کی غنڈہ گردی سے آنکھیں چراکر ہرروز  خوشی خوشی  گالیاں سننے  ،کھانے  اور پینے پر مجبور تھے  بلکہ   جسٹس  فضل اکبر  سے  تاریخی قسم کی  گالیاں کھانا  بہت  سے عہدیدار  اپنے لیئے اعزاز سمجھتے تھے  اور جسٹس ساب بھی بلا تفریق سب کو گالیوں سے بے دریغ نوازتے تھے  افغانستان کے صوبے خراسان کے جسٹس فضل اکبر  نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ   ہوا میں شہادت  کی انگلی لہرا کر کہا کیا ہوا  منحوس بڈھے  آج تو صبح سویرے ہی   تو میرے متھے لگ  گیا ہے تم مجھے جانتے نہیں ہو جاؤ دفع  جاؤ یہاں سے  اور جاکر کسی اور کے متھے لگ جاکر سویرے سویرے سارے موڈ کی ٭٭٭٭ ناقابل اشاعت گالیاں ٭٭٭٭٭٭  دی   نکالو اس   ٭٭٭٭ کو یہاں سے  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ناقابل اشاعت گالیاں ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 ویسے بھی جسٹس فضل اکبر کی عدالت گالیوں کے  حوالے سے ایک عالمی     یونیورسٹی کا درجہ اختیار کرچکی تھی اور افغانستان کے نوآموز   غنڈوں  موالیوں اور بدمعاشوں کیلئے یہ  لازمی قرار پایا تھا کہ  وہ  لازمی طور پر جسٹس فضل اکبر کی عدالت میں   گالیاں سیکھنے  کیلئے   ایک " چلہ" کاٹیں گے  کیونکہ گالی دینا  ہر ایرے غیرے کاکام  نہیں  ہوتا  جسٹس فضل اکبر فرماتے تھے کہ یہ بھی ایک فن ہے ۔گالی دینے کے دوران جسٹس صاحب کے چہرے   پر جو  نپے تلے  تاثرات ہوتے تھے  اور جو ان کی آواز کے زیروبم کا جو اتار چڑھاؤ ہوتا تھا  اور ان کی فی البدیہہ   نئی نئی  گالیوں سے   اپنے وکلاء  دشمنوں   سے جس  شدید نفرت کا اظہار ہوتا تھا ان نفرت  بھرے تاثرات  کا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں تھا  اس لیئے  سارا دن  افغانستان کے کونے کونے سے آئے ہوئے غنڈے اور   موالی  جسٹس فضل اکبر کی عدالت میں  بیٹھ  کر غنڈہ گردی کی تربیت کا تربیتی چلہ  کاٹا کرتے تھے  جسٹس صاحب کا قول زریں تھا کہ  نپے تلے انداز میں  دی گئی   گالی کی  آواز گولی سے زیادہ تیز اور طاقتور ہوتی ہے اور کمزور انداز میں گالی دینے سے بہتر ہے کہ گالی دی ہی نہ جائے   یوں محسوس ہوتا تھا کہ  جسٹس صاحب کو قدرت نے  تخلیق  ہی گالیاں بکنے  کیلئے کیا ہے اسی دوران جسٹس  فضل اکبر کی  فی البدیہہ گالیوں کی شہرت کا چرچہ دنیا بھر میں بھی ہوچکا تھا جسٹس صاحب کو یہ بھی عالمی اعزاز حاصل ہوچکا تھا کہ  کم ازکم  پچاس ہزار  نئی گالیوں کی ایجاد کا  عالمی اعزاز ان کو حاصل ہوچکا تھا  صرف یہی وجہ تھی کہ  افغان حکومت کو دنیا بھر کے نوآموز  غنڈوں اور موالیوں کی جانب سے   جسٹس فضل  اکبر کی  عدالت  سے گالیوں کی تربیت حاصل کرنے کیلئے دنیا بھر سے  ہزاروں کی تعداد میں   تعلیمی   اور سیاحتی  ویزے کیلئے درخواستیں وصول ہورہی تھیں جس کی وجہ سے  افغان حکومت بھی مشکلات کا شکار ہورہی تھی یہی وجہ تھی کہ  افغان حکومت نے  اس قسم کی درخواستوں پرویزا پراسیس  فیس  پانچ  ہزار  ڈالر مقرر کردی تھی   اس کے باوجود کئی ہزار درخواستیں  وصول ہورہی تھیں   یہی وجہ تھی کہ  حکومت  اس بات پر غور کررہی تھی کہ جسٹس صاحب  کی عدالت میں داخلے کیلئے انٹری فیس مقرر کردی جائے  اور ان کی عدالت  کو  باقاعدہ طور پر  گالیاں سکھانے کیلئے دنیا کی پہلی  یونیورسٹی  کا درجہ دے دیا جائے لیکن وہاں کی مقامی بار اس حوالے سے سخت مزاحمت کررہی تھی   اور بار کا  اصولی  مؤقف یہ تھا کہ خوشیوں کو ترسی ہوئی  افغان  عوام کیلئے جسٹس  فضل اکبر کی عدالت مفت تفریح کا ذریعہ ہے  اور انٹری فیس مقرر کرکے افغان حکومت شہریوں کو مفت تفریح کے بنیادی حق سے محروم  کرنا  اور چھین لینا چاہتی ہے  جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اعلان کردیا تھا کہ اگر افغان حکومت نے جسٹس فضل اکبر   پر ٹکٹ لگایا تو وہ شدید احتجاج کریں گی   دوسری طرف یہ افواہ بھی گرم تھی کہ پاکستان کی ایک اپوزیشن جماعت کا رہنما اپنے مخالفین کو   گالیاں   بکنے کیلئے جسٹس صاحب سے فون  پر  رہنمائی حاصل کرتے ہیں  اور اپوزیشن لیڈر جسٹس صاحب کا  چہیتا  اور شاگرد خاص ہے  لیکن جسٹس صاحب نے  نہ تو اس الزام کی تردید کی تھی  اور  نہ ہی تایئد کی تھی بلکہ  ہمیشہ مسکرا کر ٹال دیتے تھے   جس سے پاکستانی حکومت افغانستان کی حکومت پر بار بار الزام لگا رہی تھی کہ   افغانستان   اس کی حکومت کے خلاف تحریک  چلانے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کررہی ہے  حکومت  نے افغان حکومت  کو ٹیلی فون کالز  کا ریکارڈ بھی فراہم کیا تھا کہ کس طرح سے افغانستان سے  فون  کے زریعے اپوزیشن لیڈر کا جسٹس ساب سے رابطہ  تھا کیونکہ  اپوزیشن لیڈر جیسے ہی حکومت کو ٹھوک  بجا کر  گالی دیتا تھا   حکومتی  ایوانوں پر لرزہ طاری ہوجاتا تھا حکومت کو یوں محسوس ہوتا تھا زلزلہ آگیا ہے   اور  اس کی حکومت اب چند لمحوں کی مہمان ہے    یہی وجہ  تھی پاکستانی حکومت  افغانستان  کے  اس  مایہ ناز جسٹس صاحب  جو اب بے پناہ  شہرت کی وجہ سے انٹرنیشنل  اثاثہ  بن چکے تھے کو دہشت قرار دیکر  پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے پر غور کررہی تھی خیر سینیئر وکیل وہاں سے   بے عزت  ہوکر   چلاگیا جس کے بعد   اگلا کیس پیش ہوا  جسٹس ساب نے   دوسرے وکیل کو  بھی  اسی نپے تلے لہجے میں کہا  چل  بھڑوے دلائل کا سلسلہ شروع کر یہ سن کر وکیل نے حیرت سے دیکھا تو جسٹس نے حسب روایت کہا کیا دیکھتا ہے مادر ٭٭٭٭٭ تم جانتے نہیں کہ میں کتنا گھٹیا قسم کا انسان ہوں  وکیل نے کہا  جی جی مجھے  خوب اندازہ ہورہا ہے  کہ آپ کتنے گھٹیا انسان ہیں جسٹس فضل اکبر مزید بھڑک اٹھا اور کہا  تم  وکیل لوگ جانتے نہیں کہ میں خاندانی قسم کا  حرامی  ہوں وکیل نے کہا مجھے بالکل اندازہ ہے کہ آپ واقعی خاندانی حرامی ہیں  آپ یہ بات بار بار کیوں بتاتے ہیں یہ سن کر جسٹس فضل اکبر کا پارہ مزید چڑھ گیا   اور وکیل سے غصے سے کہا تم سوچ نہیں سکتے کہ میں کتنا ننگا  اورگندہ  قسم کا آدمی ہوں  تم نے پوری زندگی میں میرے جیسا ننگا   اور گندہ  قسم  کا آدمی نہیں دیکھا ہوگا   میں انتہائی گھٹیا قسم کا انسان ہوں اور میرا سارا خاندان گھٹیا ہے میں سب کی ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ دوں گا جسٹس فضل اکبر نے کہا صرف تم  وکیلوں کی سوچ ہے تم  لوگ  بہت  بدمعاش بنے ہوئے ہو  مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ یہاں کون  بدمعاش ہے میں ابھی اس کی پشی نکال  کر  ابھی   اس وکیل کی بدمعاشی ختم کرتا ہوں  میرے جیسا بدمعاش اور غنڈہ   جسٹس  تم وکیلوں نے پہلے کبھی دیکھا نہیں ہوگا اگر کسی وکیل میں ہمت ہے تو آج یہاں اس عدالت میں    میرے سامنے بدمعاشی کرکے دکھائے     وکیل  نے کہا جی  ہمیں آہستہ آہستہ اندازہ ہورہا ہے کہ  آپ کتنے گھٹیا  حرامی  اور ننگے قسم کے جسٹس ہیں  اور واقعی میں نے جسٹس کی سیٹ پر تم جیسا موالی غنڈہ کبھی نہیں دیکھا جسٹس  فضل اکبر نے کہا  نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں نہیں   بالکل بھی نہیں   یہ سب تیری سوچ ہے ابھی تم لوگوں نے تو کچھ دیکھا ہی نہیں ہے  میں وکیلوں کو وہ سب کچھ دکھاؤں گا کہ ان کی آنے کیا جانے والے نسلیں بھی یاد رکھیں گی تم  وکیل  لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ تم وکیلوں کو  کس گھٹیا  صفت  انسان سے واسطہ پڑچکا ہے  میں سب کی بدمعاشی ختم کرنے کیلئے آیا ہوں  کون کون   وکیل  یہاں بدمعاش ہے   مجھے بتایا جائے اتنے میں جسٹس صاب نے نے عدالت میں موجود  تمام وکلاء  اور  عدالت  میں موجود شائقین  کو  ایک بار پھر چیلنج دیا کہ کسی میں ہمت ہے تو اس کے ساتھ میدان میں  آکر لڑائی کرے وکلاء  نے کہا جسٹس ساب  ہم میں سے کوئی آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتا  اور ویسے بھی  ہم آپ کی طرح بدمعاش نہیں ہیں اسی دوران کورٹ اسٹاف میں سے کسی نے بار کے چیئرمین کو فون پر اطلاع دی کہ ساب آج پھر  دھڑا دھڑ گالیاں بک رہا ہے آپ جلدی آجاؤبار کا چیئرمین  فوری طور پر وہاں پہنچا تو  وہاں تو حالات مزید   خراب ہوچکے تھے جسٹس فضل اکبر  ساب اپنی    قابل احترام شیروانی اتار کر جسٹس کی  قابل احترام شیروانی کے احترام اور تقدس کو پامال کرنے کے بعد شیروانی  کو  جسٹس کی قابل احترام کرسی  پر رکھنے  کے بعد   اس کرسی  پر   نہایت ہی بے ادبی  سے جوتے رکھ کر کھڑے ہوچکے تھے  اور جسٹس کی شیروانی  کے تقدس کو پاؤں کے نیچے روند کر رکھ دیا تھا اور تمام وکلاء  اور دنیا بھر سے آئے شائقین کو  جسٹس  کی قابل احترام  کرسی پر کھڑے ہو کر اپنے  کمزور مسلز دکھا کر  بار بار چیلنج کررہے تھے کہ اگر کوئی بدمعاش ہے تو میرے ساتھ میدان میں آکر مقابلہ کرے  عوام اور وکلاء  اس تماشے سے لطف  اندوز ہورہے تھے  لیکن عدالت کے احترام کی وجہ سے تالیاں بھی نہیں بجا سکتے تھے چیئرمین ساب نے فوری طور پر    قابل احترام بھا بھی صاحبہ کو فون کیا اور کہا  لگتا  ہے آج پھر اس کمینے کو چرس پلائے بغیر  کورٹ  بھیج دیا ہے  بھابھی نے کہا  اوہو سویرے سویرے چرس کا بھرا ہوا سیگریٹ پینے کیلئے  منگوایا تھا  لیکن جلدبازی کے چکر میں چرس کا بھرا ہوا سگریٹ  ناشتے کی ٹیبل پر ہی چھوڑ گئے ہیں  چیئرمین ساب نے غصے سے کہا اب دیکھو یہ کمینہ آج پھر  صبح  سویرے ہی  سے کورٹ میں ڈرامے کررہا ہے  اور مکمل طور پر کنٹرول سے باہر ہوچکا  ہے ہم نے بھی وکلاء کو  منہ  دینا ہوتا ہے   بھابھی آپ کی ذرا سی غلطی  اور کوتاہی  سے کتنا  بڑا  ڈرامہ ہوگیا ہے ایک ہزار بار کہا ہے کہ  اس کمینے  کو  صبح سویرے چرس لازمی پلا کر بھیجا کریں  اور اگر تمہارے شوہر کی یہی حرکتیں جاری رہیں تو کل حکومت مجبور ہو کرسرکس کے اس مداری  کا تماشا دکھانے  کیلئے حکومت مجبور ہو کر ٹکٹ لگانے پر مجبور ہوجائے گی اس کے بعد  چیئرمین ساب نے  گیٹ پر ڈیوٹی  دینے والے ایک پولیس  کے سپاہی  سے چرس کا بھرا ہوا سیگریٹ منگوایا اور ساب کو  تین چار   کورٹ اسٹاف کی مدد سے  بہلا  پھسلا کر کورٹ  کے چیمبر میں لے گئے   اسی دوران  ساب  کی  قابل احترام شیروانی باہر ہی رہ گئی  جسے بعد میں  کورٹ کا اسٹاف اٹھا کر پوری عقیدت  ادب اور احترام  کے ساتھ  اندر لے گیا  اس دوران  گالیوں کی  اعلٰی  تعلیم  حاصل کرنے کیلئے افغانستان  کے دور دراز  شہروں  اور امریکہ سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے   طالبعلم   اور علم کے پیاسے    اور متلاشی  جسٹس صاحب کے احترام میں کھڑے ہوگئے  اور ساب کو خراج تحسین پیش کیا چیمبر میں جاکر  چیئرمین ساب نے   جسٹس ساب سے چرس کے چار  زوردار  گرما گرم  کش لگوائے تو ساب کا دماغ فوراً ہی ٹھکانے آگیا  چیئرمین نے کہا   کتنی بار منع کیا ہے چرس پیئے بغیر عدالت میں نہیں آیا کرو ویسے بھی تم چرس پی پی کر بالکل ہی "خشکے" ہوچکے ہو اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو جو  عوامی   تفریح  کا    شو عدالت میں  بیٹھ کر بالکل مفت دکھاتے ہو کل حکومت اس پر ٹکٹ لگادے  گی اور پوری دنیا سے  لوگ سرکس کے جانور کی طرح  تمہارا تماشہ دیکھنے کیلئے آیا کریں گے یہ سن کر افغانستان کی عدالت کے جسٹس فضل اکبر گہری سوچ میں ڈوب گئے  بعد  میں کیا ہوا یہ بعد میں بتاؤں گا ابھی اس کہانی میں  بہت کچھ  باقی ہے

کراچی کا شہری ووٹ بینک اور سیاسی تبدیلیاں ۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان


کراچی کا شہری ووٹ بینک   اور سیاسی تبدیلیاں ۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان اگلے دوسال میں کراچی سیاسی تبدیلیوں کی زدمیں ہے  کراچی کے حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں  کراچی کا شہری ووٹ بینک  خاموشی کی کیفیت میں چلا گیا ہے شاید یہ بھی  اپنی  سیاسی قیادت سے خاموش  احتجاج ہے  جبکہ مضافاتی ووٹ تو ہمیشہ ہی مخالف رہا ہے اسی دوران کراچی کا شہری  ووٹ بینک کا کافی بڑا حصہ   گزشتہ  عام  انتخابات  کے دوران تحریک انصاف کی طرف  بھی گیا لیکن شاید  تحریک انصاف کی طرز سیاست کراچی کے شہری ووٹروں کو راس نہ آئی تو دوسری طرف خان صاحب کراچی کی کیمسٹری اور کراچی کے ووٹرز کا مزاج سمجھنے میں بھی ناکام رہے  یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف اب کراچی  کے شہری حلقوں میں  اب  متبادل سیاسی قوت نہیں ہے  ایم کیو ایم میں قائد کی تبدیلی کا عمل کامیاب ثابت نہیں ہوا اور نئے قائد کے حادثے میں زخمی ہونے کے بعد لاکھوں افراد کا ہجوم تڑپ کر  باہر بھی نہیں نکلا اور  نہ ہی اسپتال اور گھر پہنچا جب فاروق ستار بھائی صحتیاب ہوکر گھر پہنچے تو گنتی کے چند افراد استقبال کیلئے موجود تھے یہاں تک کہ رش کی کیفیت بھی نہیں تھی    جس سے  شہری حلقوں کی لاتعلقی کو تقویت ملتی ہے بانی ایم کیو ایم  کی  تیزی  سے گرتی ہوئی صحت  اب ان کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے سے قاصر ہے اس لیئے بظاہر ایم کیو ایم کی  سیاست بانی قائد کی صحت سے منسلک ہوچکی ہے   مضبوط  متحرک  اور طاقتور متبادل  قیادت  موجود نہیں  ہے اس وقت  ایسا کوئی رہنما موجود نہیں  جو بانی  قائد کی طرح مضبوط  اعصاب کا مالک  ہو اور قائدانہ صلاحیت  رکھتا  ہو  ۔ عامر خان ایک واحد نام ہے جو  الطاف حسین کا کسی حد تک متباد ل ہے لیکن کیا قوم  عامر خان کو قبول کرلے گی   جہاں  عامر خان میں دیگر "صلاحیتیں " تو موجود ہیں  لیکن تقریر  کی شاید وہ صلاحیت نہیں جو  ایم کیو ایم کے بانی قائد کے اندر موجود ہے   اسی طرح بانی ایم کیو ایم کے پاس فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت تھی   اور کیا کراچی کی  عوام کو ان تمام  باتوں سے دلچسپی  بھی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا  ایم کیو ایم کیلئے  آپریشن  کے  دوران تنظیمی بحران حل کرنا آسان نہیں ہے    ایک بڑے فوجی آپریشن اور نصیراللہ بابر کے آپریشن  کلین  اپ   کا مقابلہ کرنے  والی ایم کیو ایم آج مزاحمت کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے    اور پورے کراچی کے ایک گلی کوچے میں بھی  مزاحمت نہیں ہوئی دوسری طرف ایم کیو ایم کا مرکز نائن زیرو بھی بند کروادیا گیا ہے لیکن  کراچی  کی عوام نے اس معاملے سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے رینجرز نے بھی طریقہ کار تبدیل کیا اور اس انداز میں  کراچی آپریشن ہوا کہ  آبادی کو ٹارگٹ کرنے کے بجائے مطلوب افراد کو  رات کی تاریکیوں میں  غائب کردیا گیا  اس طرح پارٹی مزاحمت ہی نہ کرسکی  رینجرز گزشتہ دوسال سے رات کی تاریکیوں میں کاروائیاں کرتی رہی لیکن یہ بات کبھی بھی میڈیا پر نہ آئی  رینجرز کا نظر نہ آنے والا آپریشن   ماضی کے مقابلے میں سخت ترین آپریشن تھا لیکن  رینجرز نے ماضی کی کمزوریوں اور خامیوں سے سبق سیکھ کر آپریشن کیا اور رونے کا موقع  بھی نہ دیا    رینجرز  نے بھی اس بار نہ ہی  شہری آبادیوں کے محاصرے کیئے اور نہ ہی عام پبلک کو تنگ کیا اخبارات اور ٹی وی چینلز کیلئے  الطاف حسین کانام  شجر ممنوع ہے  جس کی وجہ سے  عوامی رابطہ بھی منقطع ہوچکا ہے  شاید عوام بھی اس ساری صورتحال سے مکمل  لاتعلق ہیں اس وقت وہ جان نثار  لڑکے بھی موجود نہیں ہیں جو قائد  کی  ایک کال پر جان کی   بازی لگا دیا کرتے تھے  لڑکے بھی  ملائیشا  دبئی  وغیرہ  کی طرف تیتر  ہوچکے ہیں   ماضی  کے فوجی آپریشن کے دوران   بھی پارٹی نے شدید ترین مزاحمت کی تھی  اسقدر شدید  مزاحمت  تھی کہ فوج بھی گھبرا گئی تھی  جبکہ نصیراللہ بابر کے آپریشن  کا بھی پارٹی نے سخت مقابلہ کیا تھا اس وقت  مزاحمت کرنے والے لڑکے بھی موجود تھے آج وہ لڑکے  بھی موجود نہیں ہیں  گورنر ہاؤس میں بیٹھا ہوا  جان نثار لڑکا بھی اب لڑکا نہیں رہا  اور وہ  اب  کافی سمجھدار  ہوچکا ہے  دوسری طرف  مصطفٰی کمال صاحب کی پارٹی تیزی سے جگہ بنارہی ہے اور آری سے نا کٹنے  والا  بہاری قبیلہ مصطفٰی کمال کے ساتھ ہے   یوں محسوس ہوتا ہے کہ کمال صاحب معاملات کو  ٹیک اوور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے  وہ خاموشی مگر تیزی سے معاملات کو  اپنے حق میں استعمال کررہے ہیں  لیکن کیا وہ شہری  حلقوں اور شہری ووٹرز کا دل جیتنے میں کامیاب ہونگے کیونکہ  عوامی مقبولیت تو ان کے پاس بھی نہیں ہے  عوامی مقبولیت کا اندازہ تو آنے والے الیکشن میں ہوگا  
کراچی کی کیمسٹری اور کراچی کے شہریوں کا مزاج سمجھنا نہایت ہی مشکل کام ہے   میری ذاتی رائے ہے کہ کراچی کا شہری ووٹ بینک اگلے الیکشن میں کسی بہت بڑی تبدیلی کے موڈ میں ہے  کراچی اگر جاگ  گیا تو پورے پاکستان میں سیاسی تبدیلیاں شروع ہوجائیں گی  کیونکہ ماضی میں کراچی ہمیشہ سیاسی تبدیلیوں کا مرکز رہا ہے   

ایک منٹ میں سارا قاعدہ قانون (ایک سچا واقعہ ) تحریر صفی الدین اعوان

 ایک منٹ  میں سارا قاعدہ قانون (ایک سچا واقعہ )۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین

جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی نے  مجھے دیکھ کر تھوک نگلنے کی ناکام کوشش کی اور  ماتھے پر آیا ہوا ٹھنڈا پسینہ رومال سے  کئی   بار صاف کیا  کانپتے ہاتھوں سے کورٹ کی فائل کھولی اور پانچ منٹ  تک  خالی خالی نظروں سے اس  درخواست کو پڑھنے اور سمجھنے کی ناکام کوشش کرنے کے بعدجج کی نشست پر بیٹھے ہوئے شخص نے  پوچھا جی وکیل صاحب کیا فرماتے ہیں  میں نے فائل کھولی اور جج کی نشست پر بیٹھے ہوئے آدمی کو بتایا کہ  یہ میں نے آپ کی عدالت میں  سیکشن چار سو اکیانوے کے تحت درخواست داخل کی ہے   یہ سن کر جج کی نشست پر بیٹھے ہوئے آدمی نے فوری طور پر ضابطہ دیوانی کھول لی اور تھوڑی دیر کے بعد مسکرائے اور کہا وکیل صاحب  کہاں سے تعلیم حاصل کی ہے  میں نے کہا کیوں جی کیا ہوا فرمانے لگے ضابطہ دیوانی میں تو ٹوٹل سیکشن ہی  ایک سو اٹھاون ہیں آپ چار سو اکیانوے کہاں سے نکال کر لے آئے  یہ سن کر تو  میں نے سر ہی  پیٹ لیا اور کہا ساب جی آپ نے تو کتاب ہی غلط کھول لی ہے  کیونکہ میں نے ضابطہ دیوانی کے تحت درخواست داخل ہی نہیں کی ہے یہ سن کر جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی نے پاکستان پینل کوڈ کی کتا ب کھول لی میں نے کہا  حضور    اس  بار بھی آپ نے  قانون  کی غلط  کتاب  کا انتخاب  کیا ہے میں نے کریمینل   پروسیجر کوڈ کی سیکشن  چارسو اکیانوے کے تحت درخواست داخل کی ہے  آپ ضابطہ فوجداری کھولیں  جج کی سیٹ پر بیٹھے آدمی نے کہا مجھے   قاعدہ قانون سکھانے کی ضرورت نہیں میں سب جانتا ہوں  یعنی یہ ایک کریمینل کیس ہے  میں نے کہا  حضور والا یہ حبس بے جا کی پٹیشن ہے ایک پانچ مہینے کے دودھ پیتے بچے کو اس کا باپ زبردستی اٹھا کر لے گیا ہے اس لیئے  ہم نے یہ پٹیشن   ضابطہ  فوجداری  کی سیکشن  چار سو اکیانوے  کے تحت داخل کردی ہے کیونکہ قواعد وضوابط کے مطابق  اس قسم کی ایمرجنسی میں  ابتدائی  طور پر اسی ضابطے کے تحت ہی داخل کی  جاتی  ہے  جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے   تیلی پہلوان  نے جھنجھلا کر کہا   میاں بیوی  کے ذاتی  جھگڑے میں میرا  کیا قصور ہے میرے پاس کیوں آگئے ہیں  اور  پٹیشنر کدھر ہے؟ میں نے کہا وہ تو گھر چلی گئی ہے کیونکہ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی لیکن اس کا  کمپیوٹرائزڈ نادرا کا آن لائن  حلف نامہ ساتھ لگا ہوا ہے دوسری بات یہ ہے کہ یہ اب میاں بیوی کا معاملہ نہیں رہا شوہر بیوی کو طلاق دے چکا ہے یہ سن کر جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی  کی جان میں جان آئی اور فائل ایک طرف کردی اور کہا کہ  پہلے پٹیشنر کو بلا کر لاؤ میں نے کہا پہلوان صاحب  نادرا کا کمپیوٹرائزڈ حلف نامہ  ساتھ لگا ہے آپ  پولیس کو نوٹس کردیں  یہ بہت ہی ایمرجنسی نوعیت کا مسئلہ ہے  اور قانون کے مطابق اس پر فوری کاروائی کی ضرورت ہوتی ہے  حبس بے جا کے کیس میں  تو ایک ایک لمحہ  ایک ایک سیکنڈ قیمتی اور اہم ہوتا ہے کانگڑی پہلوان نے کہا  وکیل صاحب آخر آپ پٹیشنر کو کیوں پیش نہیں کرنا چاہتے ضرور کوئی چکر ہے میں نے کہا استاد جی کوئی چکر نہیں  کامن سینس بھی کوئی چیز ہوتی ہے خیر کل پیش کردیتا ہوں اگلے دن پٹیشنر کو پیش کیا تو  جج کی سیٹ پر  مسلط  کیئے  گئے آدمی نے کہا کہ یہ تو میاں بیوی کا آپس کا مسئلہ ہے ہم لوگ کون ہوتے ہیں بیچ میں  بولنے والے  میں نے  کہا استاد جی   گزارش ہے کہ یہ ایمرجنسی قسم کا مسلہ ہے  اور قواعد وضوابط  ہی کے مطابق  درخواست  داخل کی گئی ہے   اس قسم  کی  درخواستیں روز کا معمول ہیں اس لیئے آپ سے عرض ہے کہ  پولیس کو فوری نوٹس کریں کہیں ایسا نہ ہوکہ اس کہ بچہ  کسی اور جگہ منتقل  کردیں جج کی سیٹ پر بیٹھے ہوئے کانگڑی پہلوان نے  معنی خیز لہجے میں کہا " مسلہ"  ہم مسلے حل کر نے کیلئے تو بیٹھے ہیں  میں نے زچ ہوکر کہا کہ جناب پھر  مسلے کو حل کرنے کیلئے  علاقہ پولیس کو نوٹس کریں اور انہیں حکم دیں کہ مغوی بچے  کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کریں  آپ کا ٹائم تو ہے ہی فالتو  میرا قیمتی وقت برباد کرنے پر کیوں تلا ہوا ہے آزاد عدلیہ کے ترجمان نے کرسی پر جھولا جھولتے ہوئے  معنی خیز لہجے  میں  کہا کہ وکیل صاحب آپ کو اتنی جلدی کیوں ہورہی ہے  صبر سے کام لیں ٹھنڈا کرکے کھایئں   زیادہ  مت بولیں ایسا نہ ہوکہ توہین عدالت کے کیس میں  جیل بھجوادوں  اور میرے وقت کو ہرگز فالتو مت کہیں  میرا وقت  ہی تو سب سے زیادہ قیمتی ہے یہ سن کر میں دل ہی دل میں بہت زیادہ  سہم گیا کیوں کہ اگر توہین عدالت کے کیس میں جیل چلا گیا تو لینے کے دینے پڑجایئں گے میری ضمانت کون کروائے گا   میں  نے بحیثیت وکیل اپنے آپ کو بہت زیادہ تنہا  اور کمزور  محسوس  کیا کیونکہ آج کل تو بار  والوں  نے وکلاء کی حمایت سے   ویسے ہی ہاتھ کھینچا ہوا ہے  وہ تو صاف کہتے ہیں کہ کوئی ایسا کام کرو ہی نہیں جس کی وجہ سے جیل جانا پڑجائے   اور اگر کوئی ایسا مسلہ ہو بھی جائے تو "یاشیخ اپنی اپنی دیکھ " کے فارمولہ پر عمل کرنا ہوگا میں نے آخری بار پھر کوشش کی اور کہا پہلوان جی   آپ تھوڑی سی مہربانی کردیں کیونکہ  صرف پانچ مہینے کا دودھ پیتا  بچہ اس کی ماں سے چھین  لیا گیا ہے اب یہ رورو کر ہلکان ہورہی ہے  سب  سے پہلے آپ  خود قانون کا احترام کریں  یہ فوری سماعت کا کیس ہے قواعد وضوابط کے مطابق   کسی  اس کیس میں  فوری سماعت کا حکم ہے کانگڑی پہلوان یہ سن کر بھڑک اٹھا اور کہا  مجھے قاعدہ قانون سکھاتے ہو  تم کون ہوتے مجھے قاعدے قانون سکھانے والے  خاموش ہوجاؤ حد ادب گستاخ   وکیل جانتے  نہیں  میرا نام کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جج کے سامنے  اونچی  آواز میں  بات کرنے کا نہیں ایک منٹ میں سارا قاعدہ قانون گھسیڑ دے گا   یہاں پرہم  بولے گا تم صرف سنے گا  کانگڑی پہلوان  نے اچانک ہی غصے سے بپھر  کر   الٹے ہاتھ سے ایک ناقابل  اشاعت  گندا اشارہ کرتے ہوئے انڈین فلم  'گنگا جل " کے کردار منگنی رام  کے  ڈائلاگ دہرائے میرے دل کا خوف  بے بسی  کی وجہ سے مزید  بڑھ گیا اور دل کی دھڑکن  بھی خوف  کی وجہ سے   بہت  زیادہ تیز ہوگئی  مجھے کئی  بار یہ خوف محسوس  ہوا کہ خوف کی وجہ سے  دل باہر ہی نہ آجائے  میں  بہت زیادہ خوفزدہ  ہوچکا تھا اور دوسری طرف  اپنے بچے کی جدائی میں روروکر ہلکان ہونے والی  ماں  بھی سہم  کر  خوف  کی وجہ سے خاموش ہوگئیساب حبس  بے جا کی درخواست میں ایک ایک لمحہ اور ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے آپ سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کررہے آپ کیوں  انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں   میں نے بیچارگی کے عالم میں آخری بار بھینس کے سامنے بین بجانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا 
کانگڑی پہلوان نے  ایک بار پھر میرا قیمتی وقت برباد کرتے  ہوئے  دس دن کی تاریخ دے کر  ایک بار پھر مجھے ٹرخا دیا درخواست داخل کرنے کے بارہ دن بعد اور  تیسری بار اس کیس کی سماعت ہوئی تو بیچاری ماں کے روروکر تو آنسو ہی خشک ہوچکے تھے  کانگڑی پہلوان حسب  معمول چیمبر میں جج کی سیٹ پر بیٹھا اونگھ رہا تھاکیس پیش ہوا تو کانگڑی پہلوان نے ہاتھ سے ہی اونگھتے ہوئے اشارہ کیا کہ   آرڈر کرتا ہوں  انتظارکرو اور چار دن کی مزید ایک بار پھر تاریخ دے دیمیں  اس بار مکمل طور پر زچ ہوچکا تھا   ایک بار پھر  ہمت  کرکے کہا کہ ساب بارہ دن گزرچکے ابھی تک جناب نے  تھانے کو نوٹس تک نہیں کیا وکلاء کا وقت بھی بہت قیمتی ہوتا ہے آپ جناب کیوں بلاوجہ  میرا  نہایت  ہی قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں   لیکن اسی دوران  قانون  کی سیٹ  پر  بیٹھے کانگڑی پہلوان نے کرسی پر جھولتے جھولتے  اونگھتے ہوئے آنکھیں موند لیں  شاید قانون کی نیند کافی گہری ہوتی ہے  اسی لیئے  قانون  جلد ہی گہری نیند سوگیا   اور چیمبر میں قانون کے خراٹوں کی آواز گونجنے لگی میں خاموش ہوگیا  اور آواز پیدا کیئے بغیر آہستگی سے محتاط  اور بے آواز قدم   اٹھا کر چیمبر سے باہر آگیا کیونکہ اگر مزید بول کر   قانون کی  گہری نیند خراب کرتا تو خدشہ تھا کہ توہین عدالت کا قانون مجھ  غریب حقیر بے توقیر پر  ہی  نافذ نہ ہوجائے اور مجھے جیل نہ بھیج دیا جائے  اور مجھ غریب کے خلاف  توہین عدالت کے ایک اور ریفرنس کا اضافہ نہ ہوجائے  چاردن بعد جب عدالت میں پیش ہوئے تو پتہ چلا کہ کانگڑی پہلوان چھٹی منانے کیلئے  اپنے آبائی گاؤں  جوتے چھوڑ کر بھاگ گیا ہے دوسرے الفاظ میں قانون اپنی سیٹ چھوڑ کر بھگوڑا ہوچکا تھا   بعد ازاں  یہ کیس ایک  اصلی  جج صاحب کے سامنے پیش کیا گیا  جج صاحب نے بھی  اپنے ادارے پر حیرت  اور خفگی  کا  اظہار کیا کہ  اس قدر نااہلی۔۔۔۔اور صرف اتنا  جامع  ترین تبصرہ کیا کہ ۔۔۔ ایسے ویسے" کیسے کیسے "ہوگئے اصلی  جج  صاحب نے فوری طور پر  بالآخر  پورے سولہ دن گزرجانے کے بعد متعلقہ  تھانے کو نوٹس کیا اگلے دن بچہ عدالت میں پیش کیا گیا اور مختصر سماعت کے بعد دودھ پیتا بچہ ماں کے حوالے کردیا گیا
مہذب طریقہ یہی تھا کہ اس واقعہ کی اطلاع فوری طور پر اس صوبے کے رجسٹرار اور سیشن جج کو مہذب  طریقے اور مہذب الفاظ میں  دے  دی گئی  لیکن چونکہ  صوبے کا رجسٹرار   بقلم  خود جسٹس  بننے کی  " تپسیا" کرنے میں مصروف ہے  اور چاپلوسی کا " چلہ" کاٹ کاٹ کر ہلکان ہورہا ہے اس لیئے انہوں نے  اس مسلے کو نظرانداز کردیا کیونکہ  چاپلوسی کا  چلہ کاٹتے ہوئے  اس قسم کے مسائل کا نوٹس لینا شاید ان کو ان کی منزل یعنی جسٹس بننے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرسکتا تھا اس لیئے انہوں نے اپنی  "تپسیا" کو خراب کرنا شاید مناسب نہیں سمجھا ویسے بھی اگر اتنی اہم ترین سیٹ پر کوئی چپڑاسی سطح کا آدمی بیٹھا ہوا ہے تو وہ کوئی عام آدمی  ہر گز نہیں ہوگا ایسا نہ ہوکہ  نوٹس  لینے  کے بعد رجسٹرار خود ہی فارغ نہ ہوجائے  اور جسٹس بننے کی  ساری کی ساری تپسیا دھری کی دھری رہ جائے بلکہ جسٹس تو دور کی بات موجودہ نوکری کے ہی لالے نہ پڑجائیں  
نوٹ : عدلیہ کا احترام ہم سب پر  فرض کی طرح واجب ہے ایک ایسا بلاگ  جس  کو قانون  کے شعبے کا قابل قدر  طبقہ باقاعدگی  سے  پڑھتا  اور رائے دیتا ہے جس کی تعریف چند روز قبل ہی  سپریم کورٹ کے ایک جسٹس  نے کی ہے  اس کے باوجود اس تحریر کو آن لائن   کرنے  سے پہلے مجھے ایک ہزار بار سوچنا پڑا ہے  دوستوں سے مشورہ کیا تو سب نے  منع ہی کیا لیکن دل نے کہا کہ اگر ہم خاموش ہوجائیں گے اس قسم کے واقعات پر خاموشی اختیار کریں گے تو اس قسم کے رویئے عام ہوجائیں گے  لیکن اس کے باوجود  یہ  تحریر آن لائن کرنے سے پہلے متعلقہ رجسٹرار اور سیشن جج کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ  بلاوجہ  وکیل کا قیمتی وقت برباد کرنا بھی توہین عدالت  ہی میں آتا ہے اور جب متعلقہ رجسٹرار نے واقعہ کا نوٹس نہیں  لیا تو اس کے بعد یہ تحریر آن لائن کررہا ہوں  واقعہ کا مکمل  سرٹیفائڈ ریکارڈ میرے پاس موجود ہے 
سارا قاعدہ قانون ایک منٹ میں گھسیڑ دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین

چوہدری سجاد کا المیہ تحریر صفی الدین اعوان





دسمبر 2012 کی سرد اور بھیگی بھیگی شام تھی اسلام آباد  کے ایک فایئو اسٹار ہوٹل میں قانون تک 
رسائی کے ایک پروگرام کی افتتاحی تقریب تھی  جس کے مہمان خصوصی سپریم کے ایک جسٹس تھے پروگرام کی خاص بات  چوہدری سجاد نامی لڑکے کی کہانی تھی جس کو پراپرٹی کے تنازع پر فائرنگ کرکے زخمی کیا گیا تھا اس  کہانی کو ڈاکومنٹری کی صورت میں پیش کیا گیا   چوہدری سجاد نے بتایا کہ اس کو تفتیش کے دوران کس قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس  نے کس طرح قدم قدم پر ہراساں اور پریشان کیا  اور کس کس طریقے سے  رشوت طلب کی  یہ کیس  ڈاکومینٹری  بنانے کیلئے میں نے منتخب کیا تھا ۔ اس لیئے مجھے بھی خوشی ہوئی کہ سپریم کورٹ کے جسٹس سمیت قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس ڈاکومینٹری کو پسند کیا چار سال بعد اس کیس کا فیصلہ ہوا اور مرکزی ملزم کو تین سال کی سزا ہوئی میں نے اس کیس میں مشاہدہ کار کا رول ادا کیا  مدعی مقدمہ نے صرف مشور مانگا وہ ہم نے دیا لیکن کیس کی پیروی  مختلف  وجوہات  کی بیاد پر نہیں کی  اس کیس میں ایک   بنیادی خامی تھی تفتیش کے دوران پولیس نے  ڈاکٹر کو گواہ ہی نہیں بنایا تھا جس پر چوہدری سجاد نے  درخواست داخل کرکے ڈاکٹر کو گواہ بنانے کی استدعا کی جو منظور کرلی گئی   چوہدری سجاد  اور چشم دید گواہان کے بیانات کے بعد چوہدری سجاد ذخمی  حالت میں  ہی  ملتان شفٹ ہوگیا جہاں اس کے سسرال نے اس کا علاج کروایا  اسی دوران کیس اللہ کے آسرے پر چلتا رہا شواہد مضبوط تھے ملزم کو  سزا ہوئی  چوہدری سجاد صاحب عدالتی فیصلہ لیکر میرے پاس آئے تو میں  نے کہا کہ اس پورے کیس کی بنیادی خامی ابھی تک موجود ہے  عدالت نے ڈاکٹر کو گواہی کیلئے طلب کیا لیکن اس کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا  اس لیئے صرف اس بنیاد پر     ملزم رہا ہوجائے گا ملزم نے اپیل داخل کی اور اسی بنیادی خامی کی بنیاد پر کیس کو دوبارہ ٹرائل کیلئے کورٹ  بھجوادیا گیا ہے  اور  ٹرائل کورٹ کا فیصلہ   کالعدم قرار دے دیا  گیا
 بنیادی سوال اپنی  جگہ موجود ہے کہ ڈاکٹر کو گواہ بنانا مدعی مقدمہ کی ذمہ داری نہ تھی تفتیشی افسر کی ذمہ داری تھی  اس نے یہ ذمہ داری پوری نہ کی پراسیکیوٹر نے بھی اعتراض نہ کیا اور سب سے بڑھ کر مجسٹریٹ نے  بھی اپنا کام نہیں کیا  اور انتظامی  حکم نامہ  جاری کیا اس کے باوجود کے ڈاکٹر کو گواہ  نہیں  بنایا گیا پولیس اسی قسم کی غلطیاں کرتی ہے  جس کی بنیاد پر ملزم باعزت بری ہوجاتے ہیں  اور مجسٹریٹ وغیرہ اس قسم کی غلطی کی نشاندہی نہیں کرپاتے
اگرچہ سیشن جج نے دوبارہ ٹرائل کا حکم تو دیا ہے اور ڈاکٹر کا بیان ریکارڈ  کرنے کا حکم دیا ہے لیکن انصاف کا تقاضہ تھا کہ  وہ پریزائڈنگ افسر جس نے ڈاکٹر کی گواہی  ریکارڈ کیئے بغیر ہی فیصلہ دیا  اس  کے خلاف ایکشن لیا جاتا اسی طرح بالترتیب  مجسٹریٹ پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر کے خلاف ایکشن لیا جاتا  اس کے بعد  لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہے  اگرچہ  سیشن جج نے بہترین فیصلہ دیا لیکن  ان تمام ذمہ داران جن کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے  ڈاکٹر  کو گواہ نہیں بنایا گیا اور بعد ازاں اس کا بیان ریکارڈ  نہیں ہوا  ان تمام لوگوں کے خلاف  ایکشن ہوتا تو محسوس ہوتا کہ یہ ایک ترقی یافتہ ملک کی عدالت کا فیصلہ ہے لیکن ہم یتیموں کے خلاف ایکشن نہیں لے سکتے کیوں عدلیہ نے یتیم پالنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے  تمام زمہ داران وہ یتیم ہیں جن کی کفالت کا ٹھیکہ عدلیہ کے پاس ہے  اور یہی ہمارے نظام کی بنیادی خامی ہے یہاں تو مدعی مقدمہ کے خلاف ہی ایکشن ہوگیا  
پھر بھی اللہ کا شکر ہے کہ سیشن جج نے مدعی مقدمہ کو  جیل بھیجنے کا حکم نہیں دیا 

انصاف کا خون کرنے والوں کا خون تحریر صفی الدین

انصاف کا خون کرنے والوں کا خون تحریر صفی الدین کل میں اپنی دھن میں مست تنہا جارہا تھا تو اچانک زمین سے آواز آئی غور سے سنا تو میری زمین میری دھرتی زاروقطار رورہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھرتی نے کہا کہ میں پیاسی ہوں میں نے اپنی پیاس بجھانی ہے میں نے غصے سے کہا کہ ہزاروں بے گناہ لوگوں کی جان لیکر بھی تیری پیاس نہیں بجھی کتنے ہی لوگ خود کش بم دھماکوں میں شہید ہوگئے یہ تیری پیاس کی ہوس کیسے کم ہوگی کتنے لوگ روڈ پر دہشت گردی کی نظر ہوگئے لیکن تیری پیاس کم نہ ہوئی بڑھ گئی ہے
دھرتی نے جواب دیا بس آخری بار ہی اب پیاس بجھانی ہے جن لوگوں نے اس دھرتی پر بیٹھ کر انصاف کا خون کیا اب آخری بار ان کا خون پینا ہے
دھرتی نے کہا انصاف کا خون کرنے والوں سے اب میں خود انصاف کروں گی یہ کہہ کر میری دھرتی خاموش ہوگئی اور مجھے ایک بار پھر خوفناک قسم کی سرسراہٹ اور آہٹ محسوس ہونے لگی

چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ کے نام ایک کھلا خط تحریر صفی الدین اعوان

   محترم  جنا ب چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ

جناب اعلٰی دوسری جنگ عظیم کے دوران چرچل سے جنگ کے بارے میں پوچھا جاتا تھا تو وہ قوم سے ایک ہی سوال کرتا تھا کہ کیا برطانیہ کی عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں  قوم کی طرف سے جواب ملتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں چرچل جواب دیتا تھا کہ جب تک اس ملک کی عدالتیں شہریوں کو انصاف فراہم کررہی ہیں اس وقت تک  کوئی قوم برطانیہ کو شکست نہیں دے سکتی ۔۔ اور یہ بات سچ ثابت ہوئی  حبس بے جا ایک مشہور زمانہ   ضابطہ ہے قانون کا ایک عام طالبعلم اور ایک عام وکیل بھی جانتا ہے کہ حبس بے جا کی رٹ کیا ہوتی ہے لیکن یہ اعزاز صرف سندھ ہایئکورٹ کو حاصل ہے کہ   گزشتہ دنوں  یہ بات سامنے آئی کہ ایک چوبیس سال کی سروس کرنے والی اور ڈبل پروموشن حاصل کرکے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی ایک جج صاحبہ کو یہ نہیں پتا تھا کہ حبس بے جا کیا ہوتی ہے اسی طرح ایک  چودہ سال کی سروس کرنے والے ایڈیشنل  ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو  بھی حبس بے جا کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ حقیقت ہرلحاظ سے شرمناک  اور افسوسناک ہے لیکن اس میں ان دونوں ججز کا کیا قصور؟ قصور تو ان نااہلوں کا ہے جنہوں نے اپنے جیسے ان نااہلوں کو  ایک بار نہیں دوبار پروموشن دیگزشتہ دنوں ہی یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو ججز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی سلیکشن کیلئے این ٹی ایس کے امتحانات میں وکلاء کے ساتھ   گزشتہ چھ سال سے شریک ہوکر بار بار فیل ہوتے رہے ہیں ان کو پروموشن کمیٹی نے ڈبل پروموشن دے کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنا کر  اس ملک میں سول وار اور خانہ جنگی کی راہ ہموار کردی ہے سیلیکشن کمیٹی کے وہ ممبران جنہوں نے این ٹی ایس فیل ججز کو پروموٹ کیا بلاشبہ وہ اس   قوم کے مجرم ہیں جن کی کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے اس ملک کو یہ دن دیکھنا پڑا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو یہ پتا  ہی نہیں کہ حبس بے کی رٹ کیا ہوتی ہےدوسری طرف سندھ ہایئکورٹ نے ایک بار پھر میرٹ کی دھجیاں اڑا کر اسی  پروموشن بورڈ کے ممبران کے زریعے جو اس صوبے کے عوام کو دھوکہ دے کر نااہل ججز کو عدلیہ پر مسلط کرکے اس ملک میں سول وار اور خانہ جنگی کی بنیاد رکھ چکے ہیں وہ دوبارہ  میرٹ کا جنازہ نکال کر  ڈرامہ رچانے کا پروگرام بنا چکے ہیں سندھ ہایئکورٹ کی جانب سے جاری کردہ  اشتہار میں یہ بات کہیں بھی نہیں لکھی ہوئی ہے کہ عدالتی نظام میں این ٹی ایس فیل سفارشی اور نااہل ججز کو نوازنے اور ان کو دوبار پروموشن دینے کے بعد  اس وقت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی کتنی سیٹیں خالی ہیں  سوال یہ ہے کہ جب تمام سیٹوں پر این ٹی ایس میں فیل ہونے والے نااہلوں کی فوج بٹھا دی گئی ہے تو پھر یہ این ٹی ایس کا ڈرامہ کیوں رچایا جارہا ہے کیوں لوگوں کا قیمتی وقت ضائع کررہے ہوملک میں آپریشن ضرب عضب چل رہا ہے لیکن ایک نہیں ایک ہزار آپریشن ضرب عضب کروالیئے جایئں  جب تک عدالتی نظام میں موجود نااہلوں  کے خلاف  آپریشن ضرب عضب کرکے اہل ججز عدلیہ میں تعینات کرکے ان کے زریعے ملزمان کو سزا دینے کا کوئی نظام نہیں بنایا جاتا اس وقت تک سارے  ضرب عضب اور فوجی آپریشن بے کار ہیں دوسری طرف سندھ ہایئکورٹ نے نااہل ججز کو تعینات کرکے اس ملک میں سول وار کی راہ ہموار کردی ہے دوسری طرف چیف جسٹس پاکستان نے تسلیم کیا کہ  نوے فیصد ملزمان عدالتوں سے باعزت بری ہوجاتے ہیں اگرچہ چیف صاحب نے ملبہ پراسیکیوشن  پر ڈال دیا ہے لیکن  جن ججز کو  حبس بے جا کے ضابطے کا علم نہیں وہ کسی ملزم کو سزا کیا سنائیں گے اور پراسیکیوشن یا  جھوٹا مقدمہ بنانے والے تفتیشی افسر کے خلاف کیا کاروائی کریں گے وہ صرف تھوک کے حساب سے صرف ملزمان کو رہا ہی کرکے ملبہ پراسیکیوشن پر ہی ڈال سکتے ہیں  اس پس منظر میں چیف جسٹس ہایئکورٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طورپر  اخبارات میں اشتہار دے کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی سیٹوں کی تعداد اناؤنس کی جائے تاکہ شفافیت قائم ہوہم چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں  گزشتہ چھ سال کے دوران جو ججز این ٹی ایس  کے امتحانات میں شریک ہوکر فیل ہوتے رہے ہیں ان کا ریکارڈ طلب کرکے اس ریکارڈ کی روشنی میں تمام پروموشن کو  کالعدم قرار دیا جائے اور ان نااہلوں کو برطرف کیا جائے  اور نااہل  پروموشن بورڈ میں شامل ان تمام قابل احترام جسٹس صاحبان کے خلاف پورے احترام کے ساتھ  ان کے ریفرنس بنا کر جوڈیشل کمیشن میں  بھیجا جائے
ججز کو پروموشن  دینے   کیلئے کریمینل  کیسز میں  ڈسپوزل پالیسی کو فوری طور پر ڈسپوز کیا جائے اس پالیسی کو واش روم میں فلیش کردیں اور پروموشن کو   ججز کی کارکردگی سے مشروط کردیں  کہ کتنے کیسز میں ملزمان کو سزا دی اور جھوٹے مقدمات بنانے والے کتنے تفتیشی افسران  کے خلاف مقدمات قائم کیئے  یہ پروموشن کا معیار ہونا چاہیئے  اسی طرح پروموشن کیلئے ڈیپارٹمینٹل ٹیسٹ ہونا چاہیئے ہم چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ سے یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں  صوبائی سیلیکشن بورڈ توڑ دیاجائے  اور  صاف ستھرے اجلے کردار  اور باضمیر افراد پر مشتمل جسٹس صاحبان   کو سیلیکشن بورڈ  میں شامل کیا جائے چیف جسٹس صاحب اگر این ٹی ایس فیل ججز کو دو بار پروموشن دینے کے عمل میں اگر آپ خود بھی شریک ہیں تو اصولی طور پر پاکستان کی مظلوم عوام سے معافی مانگ کر آپ کو اپنے عہدے سے استعفٰی دے دینا چاہیئے  کیونکہ نااہل ججز کو عدالتوں میں تعینات کرکے  نہ صرف صوبہ سندھ کے عدالتی نظام پر ضرب کاری لگا کر ایک خودکش حملہ کردیا ہے بلکہ  انصاف کے نظام کو تباہ  و برباد کردینے کے بعد   پاکستان میں سول وار اور خانہ جنگی کی راہ ہموار کردی ہے  اور یہ آپریشن ضرب عضب کو بھی ناکام بنانے کی کامیاب سازش ہے سابق صوبائی سلیکشن بورڈ کے چیئرمین   جسٹس مشیر عالم نے خود کہا تھا کہ نااہلوں کو جج لگانے سے بہتر ہے کہ کسی کو جج لگایا ہی نہیں جائے  لیکن کتنے شرم اور افسوس کی بات ہے کہ  جسٹس مشیر عالم سابق چیئر مین صوبائی سیلیکشن بورڈ نے جن لوگوں کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی سیٹ کیلئے نا اہل قرار دیا تھا آج  وہ سب کے سب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج بن چکے ہیں  اور جس جسٹس مشیر عالم کی زیر نگرانی این ٹی ایس کے امتحان میں شریک ججز  نمایاں نمبروں سے فیل ہوگئے  تھے ان میں سے نوے فیصد ججز کو سینیارٹی کا بہانہ  بناکر  پروموشن دے دی گئی ہے   اس سے بڑھ کر افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ جسٹس مشیر عالم صاحب نے پورے صوبے سے جو صرف تین ہیرے تلاش کیئے تھے ان کے میرٹ کا یہ عالم تھا کہ  ان  میں سے دوججز  بنیادی قابلیت کے معیار پر بھی پورے نہیں اترتے تھے یعنی بنیادی شرط یہ تھی کہ  امتحان  میں شرکت  کیلئے جج کی چھ سال کی سروس ہونا ضروری تھی لیکن سفارش اتنی  بڑی تھی کہ قواعد وضوابط توڑ کر ان کی دھجیاں اڑانے کے بعد اس جج کو کامیاب قرار دیا گیا  جس ہیرے کو پورے صوبے سے میرٹ  کی بنیاد پر تلاش کیا گیا  اس کی  سروس صرف چار سال تھی  اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ  کرپشن کس  بدمعاشی  اور غنڈہ  گردی  سے کی جاتی ہے اور آج وہ ہیرا صوبہ سندھ میں سروس ہی نہیں کررہا وہ اسلام آباد بیٹھا ہے  اور تنخواہ سندھ ہایئکورٹ ادا کرتی ہے  اس پر میں نے ایک بلاگ بھی لکھا تھا کہ  " پپا اوتھ  نہ لینا" جو   ہمارے اردو بلاگ پر موجود ہے
باقی مختصر یہ ہے کہ   اگر آزاد عدلیہ سے مراد کرپشن کی آزادی ہے اقرباء پروری کی آزادی  میرٹ کی دھجیاں اڑانے کی آزادی  تو آپ سب لوگ سخت  غلطی کررہے ہیں کیا پاکستان کی عدالتیں انصاف فراہم کررہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب ہے بالکل بھی  نہیں  این ٹی ایس ججز کو پروموشن  دینے والے بدعنوان عناصر پر مبنی صوبائی سیلیکشن بورڈ کو کسی صورت تسلیم  نہیں کیا جاسکتا  چیف جسٹس  سندھ  ہایئکورٹ  صاحب گزارش ہے کہ تین دن کے اندر صوبائی سیلیکشن بورڈ کو توڑ کر   ان  لوگوں پر مشتمل  بورڈ  تشکیل  جائے جو  این  ٹی ایس  فیل ججز کو پروموشن  دے کر ملک کو سول وار اور خانہ  جنگی  کے راستے پر  لے  جانے کے جرم  میں  شریک  نہیں ہیں   ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی  سیٹوں کی تعداد کا اعلان کرنے  کے بعد  این ٹی ایس کے  نئے شیڈول کا اعلان کیا جائے اور موجودہ  صوبائی سیلیکشن بورڈ کی جانب سے  تشکیل دیئے گئے شیڈول کو منسوخ کیا جائے چیف جسٹس صاحب میں آپ  کو یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ سندھ ہایئکورٹ آپ کی یا کسی کی بھی ذاتی جاگیر نہیں ہے   عدلیہ کو جو بجٹ دیا جاتا ہے وہ اس غریب ملک کے عوام کے ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس  عدالتی  نظام کو ایک آئین کی روشنی میں چلانے کے آپ بھی پابند ہیں  کسی قسم کی من مانی  کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جاسکتیچیف جسٹس پاکستان اور کراچی بدامنی کیس کی سماعت کرنے والے خصوصی بینچ نے  سندھ پولیس  کو پروموشن اور نئی تعیناتیوں کے حوالے جو گایئڈ لائن   دی تھی اور پاکستا ن بھر کے سرکاری اداروں  کو  نئی تعیناتیوں کیلئے  سارا  دن  جو نصیحتیں   آپ لوگ کرتے ہیں  اس پر سب سے پہلے آپ لوگ خود عمل کرنے کے پابند ہیں اس لیئے گزارش ہے کہ فوری ایکشن لیاجائے  شکریہ صفی الدین اعوان

Pages