لاء سوسائٹی پاکستان

پھتوئی تحریر صفی الدین اعوان


پھتوئی ۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوانچند سال پرانی بات میرے ایک دوست کے پاس لڑائی جھگڑے کا کیس آیا وہ عدالت میں پیش ہوا تو جج نہایت ہی اول درجے کا رشوت خور تھا لیکن معتصب نہ تھا بین المسالک ہم آہنگی بین المزاہب ہم آہنگی اور بین الصوبائی یکجہتی پر یقین رکھتا تھا وہ رنگ ونسل زبان صوبایئت اور مذہب کی تفریق کیئے بغیر سب سے رشوت بٹورا کرتے تھے جج صاحب کا نام تھا بالا دوبئی والا میرے دوست نے ضمانت کی درخواست داخل کی تو سادگی میں جج صاحب کو رشوت دینے کی ہمت نہ کرسکےخیر جج صاحب نے ضمانت کی درخواست پر نوٹس کردیا اور ایک ہفتے بعد کی تاریخ مقرر کردی اب میرا دوست کمرہ عدالت کے باہر کھڑا تھا کہ اس کو ایک خان صاحب نظر آئے جو لین دین کا ماہر تھا پوچھا کیوں کھڑے ہو اس نے کہا یار اس بالے دوبئی والے کے پاس ضمانت کی درخواست ہے اور وہ ٹرخا رہا ہے خان صاحب نے کہا کہ پیسے دوگے اس نے کہا پیسے تو ہیں لیکن دیتے ہوئے شرم آتی ہے کہیں برا نہ مان جائے یہ سن کر اس نے کہا کہ پیسے ادھر لاؤ اس نے دوہزار روپیہ لیا اور چیمبر میں وکیل صاحب کو لیکر چلا گیا اور مصنوئی غصے سے کہا کہ بچے کا کام کیوں نہیں کرتے بالے دوبئی والے نے انگلی سے پیسے گننے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا ہمارا کام کرونا تو ابھی ضمانت دے دیتا ہوں خان صاحب نے کہا کرتو رہا ہے یہ کہہ کر خان صاحب جج صاحب کے قریب ہوئے اس کی پھتوئی کی جیب میں پیسے ڈالے لیکن وہاں ایک نیا مسئلہ بن گیا خان صاحب بہت تیز آدمی تھے جب پھتوئی کی جیب میں پیسے ڈالنے کیلئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اندر اور بھی بہت سے نوٹ تھے خان صاحب کی انگلیوں نے پھتوئی کی جیب میں موجود ہزار ہزار روپے کے رم گرم نوٹوں کی حرارت کو فوری طورپر محسوس کرلیا اور بجائے پیسے جیب ڈالنے کے "پھتوئی" کی وسیع جیب میں موجود ساری رقم بھی چپکے سے نکال لی ساب کو محسوس بھی نہیں ہوا جج صاحب نے جلدی جلدی آرڈر کیا ملزم کا ریلیز آرڈر نکلوایا اور خان صاحب وہاں سے وکیل صاحب کو لیکر ت سے تیتر ہوگئےبارروم میں جاکر مڑے تڑے نوٹ گنے تو ٹوٹل سترہ ہزارروپیہ ہوا وکیل صاحب جو سادہ آدمی تھے پوچھا کہ خان صاحب یہ کیاکیا آپ نے بجائے پیسے ڈالنے کے اس غریب مجسٹریٹ کے پیسے بھی نکال لیئےخان صاحب نے کہا کہ ابھی دیکھنا کیسے مزہ آئے گا وہ اندر بارروم میں بیٹھ گیا تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ جج صاحب کا چپڑاسی بھاگتا ہوا آگیا اور کہا کہ وہ خان کدھر ہے ساب بلارہے ہیں وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ خان تو گھر چلاگیاتھوڑی دیر کے بعد بالا دوبئی والا اپنی پھتوئی سنبھالتا ہوا اور گالیاں بکتا جھکتا ہوا خود آگیا اور جب اندر داخل ہوا تو اندر خان بیٹھا ہوا تھا غصے سے کہا یہ کیا گھٹیا حرکت کی ہے بدمعاش میرا مال دن دیہاڑے ہی لوٹ لیاخان نے کہا تم تو چھپے استاد ہو ہرروز پچیس ہزار ساتھ لیکر جاتے ہو پھر بھی روتے ہی رہتے ہوبالے نے کہا بے شرم یہ میرے خون پسینے کی کمائی ہے اس طرح تم کو نہیں لوٹنے دونگاخان نے کہا چل آدھے تیرے تے آدھے میرے یہ سن کر بالا مزید مشتعل ہوگیاخیر تھوڑی بک بک اور جھک جھک کے بعد خان صاحب نے جج صاحب کو اس کے خون پسینے کی کمائی واپس کی اور وہ واپس چلاگیاخیر وہ بھی ایک وقت تھا بعد ازاں رشوت کے ریٹ کم ہونا شروع ہوئے یہاں تک کہ بہت سے جوڈیشل مجسٹریٹ سوروپے کے ایزی لوڈ پر بھی کام کردیا کرتے تھے رشوت کو اتنا زوال پوری انسانی تاریخ میں کبھی نہیں آیاجس کے بعد صوبہ سندھ میں سجاد علی شاہ صاحب نے سوروپے رشوت لینے والے ججز کو برطرف کیا تو دوسری طرف پنجاب کے چیف جسٹس نے بھی گھٹیا قسم کے رشوت خوروں کو کند چھری سے ذبح کرڈالا
رہ گئی رشوت تو وہ کبھی ختم ہوہی نہیں سکتی اور کسی کا باپ بھی ختم نہیں کرسکتا لیکن اب رشوت نئے چہرے بدل کر سامنے آگئی ہے یہ اچھا ہوا کہ ریٹ میں اب دوبارہ اضافہ ہوگیا ماتحت عدلیہ میں بھی ججز نے اپنے رشتے قبیلے کے وکلاء کے ساتھ پارٹنر شپ کرلی ہے تو دوسری طرف ہایئکورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی جسٹس صاحبان نے مختلف لاء فرمز کے ساتھ سرعام پارٹنر شپ کررکھی ہے جسٹس بن جانے کے بعد بھی ان کے وکالت کے آفس چل رہے ہیں یعنی پانچوں کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاھی میںآج کل نیب والے بڑے چھاپے شاپے ماررہے ہیں اگر کسی دن کوئی جسٹس ساب شکنجے میں آگیا تو سارا حلوہ اندر اور سویاں باہر ہوجائیں گی تہہ خانوں سے اتنے نوٹ نکلیں گے کہ پیسے گننا ناممکن ہوجائیں گےجس طرح اب پھتوئی کو پھتوئی نہیں کہا جاتا درزی کو درزی نہیں کہا جاتا اسی طرح رشوت کو بھی رشوت نہیں کہا جاتاویسے یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ ہمارے جسٹس صاحبان جن ذاتی بنگلوں میں رہتے ہیں اور جس تیزی سے جسٹس بن جانے کے بعد بنگلوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اگر حق حلال کی بات کی جائے تو جو تنخواہ ان کو سرکار سے ملتی ہے اس تنخواہ سے تو وہ کسی اچھے علاقے میں 120 گز کا مکان بھی نہیں خرید سکتے
ہمارے ایک سینئر ہیں وہ روزانہ مجھے کہتے ہیں کہ چاپلوسی اور خوشامد ایک ایسا ہتھیار ہیں جو ہرجگہ کام آتے ہیں اس لیئے بیٹا تھوڑی خوشامد کرنا سیکھو تھوڑی سی چاپلوسی کرنا سیکھو دیکھو لوگ خوشامد اور چاپلوسی سے کروڑوں کمارہے ہیںگزشتہ دنوں ایک جنازے میں جانا ہوا تو بہت سے جسٹس صاحبان بھی جنازے میں شریک تھے جنازے کے بعد بہت سے وکلاء ایک قابل احترام جسٹس کے پاس موجود تھے اور خوشامد اور چاپلوسیوں میں مصروف تھے جسٹس صاحب نے بہت ہی اعلٰی درجے کی پھتوئی سلوا کر پہن رکھی تھی میں نے سینیئر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے خوشامد کا آغاز کرتے ہوئے ساب سے سے کہا کہ ماشاء اللہ سے بہت ہی خوبصورت "پھتوئی" ہے لگتا ہے کسی اچھے درزی سے سلوائی ہے یہ سن کر جسٹس ساب آپے سے ہی باہر ہوگئے انگریزی زبان میں شٹ اپ کی کال دیکر غصے سے دیکھتے ہوئے روانہ ہوگئے اور کار میں بیٹھنے سے پہلے مولا جٹ کی طرح نظر نہ آنے والی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کہا میری کورٹ کا رخ نہیں کرنا چھوڑوں گا نہیںکیا زمانہ آگیاہے یارو پھتوئی کو پھتوئی کہنا بھی جرم بن گیا اور ظلم کی حد یہ کہ کوئی درزی کو بھی درزی نہ کہے

رشوت اور بھیک دوناقابل علاج عادات ۔۔۔۔۔۔تحریر : صفی الدین اعوان



رشوت اور بھیک دوناقابل علاج  عادات ۔۔۔۔۔۔تحریر : صفی الدین اعوان
بادشاہ  سلامت کو  ملکہ  عالیہ  کے  متعلق  افواہیں سن کر افسوس ہوا لیکن وہ خاموش رہے !ابھی چند ماہ پہلے ہی تو بادشاہ سلامت نے  ایران  سے لائی  گئی   خوبصورت  کنیز سے اپنی پسند سے شادی کی تھی   بادشاہ نے ملکہ "عالیہ" کی محبت  میں گرفتار  ہوکر  اس  کیلئے دنیا کی ہرنعمت ڈھیر کردی قیمتی سے قیمتی زیوارت ہیرے اور جواہرات   دنیا کے ہر ملک سے  قیمتی  ریشمی لباس    لاکر ملکہ "عالیہ" کو پیش کردیئے   بادشاہ نے  ملکہ عالیہ کو اپنی محبت کا یقین دلانے کیلئے وہ کونسا جتن تھا جو نہیں کیا  لیکن ایک دن  ایک سرچڑھے درباری نے جان کی امان پاکر بادشاہ  سلامت کو بتایا کہ ملکہ "عالیہ" اکثر محل کی  کھڑکی سے  مردوں  سے اشارے بازی میں باتیں کرتی ہے جس سے  بادشاہ کے خیرخواہوں کو سخت شرمندگی ہوتی ہے یہاں تک کہ ملکہ نچلے طبقے کے سپاہیوں سے بھی  ہنس ہنس کر باتیں کرتی ہے   اور ان سے تعلقات  بڑھانے  کی کوشش کرتی  ہےبادشاہ کو یہ سن کر افسوس ہوا  لیکن خاموشی کے علاوہ کوئی چارہ  نہ تھا بادشاہت کا غیض و غضب   محبت پر حاوی ہوگیا    بادشاہ ملکہ سے اس موضوع پر بات کرنا چاہتا تھا لیکن نہ کرسکا دوسری طرف ملکہ کی شکایات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا  بادشاہ کو یہ جان کر افسوس ہوا کہ ملکہ ازدواجی تعلقات  اور محبت کے معاملے میں "ایمانداری " سے کام نہیں لے رہی آخر کار ایک دن بادشاہ نے بات کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا  ملکہ بادشاہ کی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتی رہی دوسری طرف بادشاہ  شرمندگی کی تصویر بن چکا تھا آخر کار بادشاہ نے فیصلہ کن طورپر  ملکہ سے بات کی کافی دیر تک شکوے شکایات کا سلسلہ چلتا رہا   اور بالآخر معاملات تلخ ہوگئے اور بادشاہ نے کہہ دیا کہ تم محبت اور دیگر معاملات میں ایماندار نہیں ہو یہ سن کر ملکہ نے ایک سرد آہ بھری اور کہا بادشاہ سلامت آپ کی محبت کا شکریہ   آپ  کی  نوازشوں  اور مہربانیوں کا شکریہ  آپ کے برداشت کے جذبے کا شکریہ لیکن میرا تعلق بازار حسن سے ہے  اور مجھے بازار حسن والوں نے ایک ایرانی  تاجر کو بیچ دیا تھا آپ نے مجھے خرید کر انمول کیا اپنے حرم میں داخل کیا اور محبت کی انتہاکردی  میں مانتی ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ایماندار نہیں ہوں میں مانتی ہوں کہ غیر مردوں سے مجھے ملنا اچھا لگتا ہے  غیر مردوں سے اشارے بازی کرنا مجھے اچھا لگتا ہے اس کی وجہ میری وہ عادت ہے جو بازار حسن سے مجھے بچپن  سے ہی ملی  ہے اور بری عادت اب  میری فطرت  کا حصہ بن گئی آپ ہزار پہرے لگادیں  مجھے قید کردیں یا سولی چڑھادیں  میں اپنی عادت سے باز نہیں آسکتی یہ میری فطرت کا حصہ بن چکی آپ چاہیں تو  میرا مقام   کم  سے کمتر کردیں  مجھے حقیر سی کنیز بنادیں اپنے حرم سے نکال دیں لیکن میں مجبور ہوں کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی  بادشاہ نے کہا ملکہ اگر آپ اپنی فطرت تبدیل کرنے پر راضی ہوجاؤ تو میں ہرشرط پوری کرنے کیلئے تیار ہوں ملکہ مسکرائی اور کہا ایک شرط ہے اگر وہ پوری کردیں تو میں  وعدہ کرتی ہوں کہ  زندگی بھر آپ کو  کبھی بھی دھوکہ نہیں دونگیبادشاہ نے وعدہ کیا کہ وہ ہرشرط پوری کرے گا ملکہ نے کہا کیا تم میری محبت  حاصل کرنے  کی  خاطر  چالیس دن تک بھیک مانگنے کیلئے تیارہویہ سن کر خاموشی چھاگئی موت جیسا سناٹا کافی دیر چھایا رہا یہ شرط اپنے وقت کے بہت بڑے بادشاہ کیلئے کسی بھی صورت ناقابل قبول تھی  بادشاہ سلامت خفت سے سرخ ہوگئے اور ملکہ مسکراتی رہی بالآخر بادشاہ  اپنی  محبت  کے  سامنے  بے بس  ہوکر ہار گیا  اور اس نے ذلت  کی آخری حد  تک گرنے  کی  شرط  بھی مان لی بادشاہ نے چالیس دن کیلئے کاروبار سلطنت وزیراعظم کے حوالے کیا اور چندوفادار سپاہیوں اور ملکہ کو لیکر سرحدی قصبے  میں  واقع  محل  کی طرف شکار کے بہانے نکل گیا  بادشاہ  صبح سویرے ہرروز بھیس بدل کر  محل  کے عقبی  دروازے  سے نکل جاتا  اور سارا سارا دن مختلف قصبوں  اور بستیوں  میں   بھیک مانگتا اور شام کو دوبارہ گھر آجاتا اسی طرح چالیس دن گزرگئے  فیصلے کی گھڑی آگئی بادشاہ سلامت حسب معمول صبح بیدار ہوا  فقیر والا بھیس بدلا  کاسئہ  گدائی  اور زنبیل اٹھا کر  محل کے عقبی دروازے سے نکلنے ہی والا تھا کہ ملکہ عالیہ پاؤں میں گرگئی   اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور روروکر اپنی محبت کا یقین دلانے لگی اور کہا بادشاہ سلامت آپ  شرط جیت گئے آپ ایک عظیم انسان ہیں  اب میں پوری زندگی ملکہ نہیں بلکہ آپ کے پاؤں کی خاک بن کر رہوں گی   آپ بلاشبہ اس دنیا کے عظیم ترین انسان ہیں  بادشاہ نے ملکہ سے اپنا دامن زبردستی چھڑایا اور کہا  اب  میرا راستہ مت روکو اب موت بھی مجھے بھیک مانگنے سے نہیں روک سکتی  یہ سن کر بادشاہ سلامت ملکہ کو ٹھوکر مار کر بھیک مانگنے  محل سے نکل گیا یہ سب دیکھ کر ملکہ حیرت کی تصویر بن  کر رہ گئی بھیک مانگنا اور رشوت مانگنا یہ دنیا کے وہ دوپیشے ہیں جس کا تعلق عادت  سے ہے  اگر کوئی  بدقسمت  انسان ا ن میں سے کسی مرض کا  شکار ہوجائے تو  وہ کبھی بھی اس بری عادت اور بیماری   کو چھوڑ نہیں سکتا  صرف موت ہی  انسان کو ان دوعادات اور ناقابل علاج  بیماریوں   سے روک سکتی ہے  رشوت   کا تعلق  سرکاری  عہدے   سے ہے  رشوت  لینے والا صرف  ایک  ہی صورت ہے جس کے زریعے وہ رشوت لینے سے باز رہ سکتا  ہے   کہ   انسان اس  سرکاری  عہدے پر ہی نہ رہے جس  کا ناجائز  استعمال  کرکے  وہ  رشوت لیتا تھا  یہ دووہ بیماریاں ہیں جن کو مختلف حربے استعمال کرکے  کنٹرول کیا جاسکتا ہے ختم نہیں کیا جاسکتا میں نے بڑے بڑے امیر لوگوں کو عادت سے مجبور ہوکر ہاتھ پھیلاتے دیکھا اور  کئی عزت داروں  اور عزت نفس رکھنے والوں کو بھوک سے فاقہ کرتے دیکھا لیکن ہاتھ پھیلانا گوارہ نہ کیا میرے جان پہچان والوں میں ایک  غریب سید خاندان تھا  رکھ رکھاؤ کی وجہ سے  مشکل زندگی بسر کرتے  محنت مزدوری کرتے اور  لوگوں کی امداد کو یہ کہہ کر ٹھکراتے دیکھا کہ ہم سید ہیں    آپ اپنی مالی امداد اپنے پاس رکھیںرشوت اور بھیک انسان کی عزت نفس کو ہمیشہ کیلئے ماردیتی ہیں  ذہنی طورپر انسانی ضمیر  ہمیشہ کیلئے مردہ ہوجاتا ہے  آپ کسی سرکاری افسر کو کسی پٹواری کو کسی پولیس افسر کو کسی جج کو کسی وزیر کو یا کسی حکومتی عہدیدار کو  رشوت لینے سے روکنے کیلئے ہزار بار  نوکری سے نکال دیں ہزار بار اس کے خلاف مقدمات قائم کریں    ہزاروں ریفرنس تیار کرلیں  رشوت کی سزا سزائے موت تک مقرر کرکے دیکھ لیں جس نے ایک بار  اس لذت کا ذائقہ اس دنیا میں بیٹھ کر چکھ لیا وہ   زندگی بھر رشوت اور بھیک مانگنا نہیں  چھوڑے گا  رشوت ستانی کے مقدمے کے دوران اپنے بیوی بچوں کے ساتھ  عبرت کی تصویر بن کر گھومتا رہے گا  اور اپنی بے گناہی پر اصرار کرتا رہے گا  مقدمے بھگتے گا  جیسے ہی مقدمہ ختم ہوگا  جیسے ہی اپنے سرکاری  عہدے پر "دوبارہ" بحال ہوگا پہلے سے زیادہ زور وشور سے رشوت لینا شروع کردے گا بھیک مانگنے والے کا واحد علاج اس کی آخری سانس  ہے صرف قبر کی مٹی ہی اس کو  روک سکتی ہے اسی طرح سرکاری عہدیدار کو رشوت لینے سے روکنے کا واحد علاج یہ ہے کہ  اس کے بیوی بچوں  کا لحاظ کیئے بغیر بڑی ہی بے رحمی اور بے مروتی کے ساتھ اس کو  نوکری سے ہمیشہ ہمیشہ  کیلئے  الگ کردیا جائے رشوت کا واحد علاج   عہدے سے علیحدگی ہے ایک اہم ترین عدالتی عہدے پر فائز   شخصیت  کا یہ کہنا کہ وہ  کسی کو روزگار سے محروم  نہیں کرسکتے کسی کی بیوی بچوں کو دربدر نہیں کرسکتے  وہ  اکثر یہ کہتے ہیں کہ کسی کے پیٹ پر وہ کسی بھی صورت لات نہیں مارسکتے وہ کسی کے  بچوں سے چھت کا سایہ نہیں چھین سکتے بلاشبہ رحم اچھی چیز ہے اللہ رحم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے   لیکن رشوت کے معاملے میں رحم " حقیقی  بے رحمی" ہے ایک شخص  جو عدالت  یا کسی  بھی  سرکاری  ادارے  سے منسلک ہے اور اس کے پاس اختیار  بھی ہے    چاہے وہ کورٹ اسٹاف ہے جج ہے یا کسی بھی سیٹ پر بیٹھ کر لوگوں کو انصاف یا عوام کو تعلیم  صحت   جیسی  خدمات  فراہم  کرنے کیلئے اللہ نے اس کو وسیلہ بنایا ہے  تو اس کو اس وقت اپنے بیوی بچوں پر رحم کیوں نہیں آتا جب  وہ جائز یا ناجائز کام کیلئے رشوت وصول کرتا ہے  جس شخص  کورشوت لیتے وقت اپنے اہل خانہ پر اپنے ماں باپ پر اپنے بیوی بچوں پر رحم نہیں آیا  اس پر آپ کیوں رحم کھارہے ہیں  ہمارے عدالتی نظام  میں  ہمارے  پراپرٹی  کے سسٹم  میں  ہمارے وہ  ادارے  جو مکان  بنانے  کیلئے نقشوں  کی منظوری   دیتے  ہیں  ہمارے  وہ  ادارے جو پلاٹ  الاٹ  کرتےہیں   ہمارے وہ  تمام  سرکاری  ادارے  جن سے لوگوں کا روزمرہ  واسطہ  پڑتا  ہے   سڑکیں  بناتے ہیں  پل تعمیر کرتے ہیں  صفائی کا نظام کنٹرول کرتے  ہیں    تمام کے  تمام  ہی رشوت  ستانی کے  اہم مراکز  ہیں  ہمارے  اسپتالوں  میں رشوت ہمیشہ ناسور بن کر رہے گی ہمیشہ  رشوت ایک سوالیہ نشان بن کررہے گی یہ رشوت ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے سرکاری اسکولوں میں پہلے نااہل ٹیچر بھرتی کیئے جاتے ہیں  بعد ازاں وہ ٹیچرز گھر بیٹھ کر تنخواہیں لیتے ہیں   جس کا نتیجہ غیر معیاری تعلیم کی صورت میں نکلتا ہے اور ہمیں ہرمہینے بچوں کی تعلیم کی مد میں  پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو رقم ادا کرنی پڑتی ہے  جو سرکاری ملازمین  کم تنخواہ میں رشوت نہیں لیتے تھے وہ آج بھی رشوت کی کمائی پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتے   نہ ہی ان کو کبھی بھی  شکوہ  شکایات  کرتے دیکھا اور سنا  اور جو مردہ  دل   کل تک کم تنخواہ کا رونا روکر رشوت لیتے تھے  اور اپنے بچوں  کیلئے دن رات  حرام جمع  کرکے  ان کی  پرورش  حرام  مال  سے کرتے تھے  وہ تنخواہوں میں اضافے کے بعد آج بھی  روتے ہی رہتے  ہیں  آج بھی ان کی ضروریات  موجودہ تنخواہ  سے پوری نہیں ہورہی ہیں  اور قیامت تک ان کی ضروریات پوری نہیں ہونگی جس  سرکاری ملازم نے کبھی رشوت کا ذائقہ نہیں چکھا  وہ زندگی بھر ہی اس ذائقے سے محروم ہی رہنا  پسند کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ قیامت کے دن اس قسم کے بے شمار ذائقے اس کے منتظر ہیں جس نے زندگی میں ایک بار صرف ایک بار رشوت  کا ذائقہ چکھ لیا  جس نے ایک بار  بھیک مانگ کر پیٹ بھرلیا پھر تنخواہوں میں کئی ہزار گنا اضافہ اور بیش بہا مراعات  بھی   اس کو رشوت سے نہیں روک سکتے اور دنیا بھر کی دولت کسی   بھکاری کو بھیک مانگنے سے نہیں روک سکتی   پاکستان  میں بھی بہت سے سرکاری ملازمین کے خلاف صرف اس وجہ سے کاروائی روک دی جاتی ہے کیونکہ   برسراقتدار لوگوں کو ان کے  بیوی بچوں کا خیال آجاتا ہے  اور اس خیال کی قیمت میرے اور آپ سب کے بیوی بچوں کو اداکرنی پڑتی ہے ہمارے ان   اداروں کی ساکھ بھی ہمیشہ  سے  اچھی نہیں ہے جو کرپشن  کے خلاف  برسرپیکار  ہیں   نیب کے قوانین کو  ہمیشہ  سے سیاہ قوانین کہا جاتا ہے جبکہ انڈیا جیسا ملک جو کرپشن کی جنت ہے وہاں بھی سی بی آئی جیسا  معتبرادارہ موجود ہے  یہی وجہ ہے کہ جب لالو پرشادیادیو کو جو عوام میں انتہائی مقبول ہیں  کو گرفتار کیا گیا  اور اس کو  مقدمہ  چلاکر "چارہ اسکینڈل "میں سزا دی گئی تو کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ  ان  کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ سی بی آئی  نے اپنے  عملے کیلئے جو  جزا وسزا کا معیار مقرر کیا ہے اس کی تعریف دنیا بھر میں  کی جاتی ہےجب تک رشوت لینے والوں کو اس ملک کو لوٹنے والوں کو  نشان عبرت نہیں بنادیا جاتا ہم اس وقت تک ہمیشہ مسائل سے دوچار رہیں  گے    

آرمی کی اچھی اچھی باتیں ۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



آرمی کی اچھی اچھی باتیں ۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان اتحاد تنظیم یقین محکم ہی کا نتیجہ ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان ،سرمے والی سرکار جناب ضیاءالحق    سے لیکر جناب مشرف تک ہر بار قوم نے  پاکستان آرمی کے اقتدار سنبھالنے  کا نہ صرف خیر مقدم کیا بلکہ  مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں  راحیل شریف بھی اقتدار سنبھالتے سنبھالتے رہ گئے  اگرچہ یار لوگوں نے زور بہت لگایا لیکن راحیل شریف ان کے چکر میں نہیں آیا پاکستان آرمی کی سول اداروں پر  مکمل  بالادستی کی ایک اہم وجہ پاکستان آرمی کا مشہور زمانہ سلوگن اور اس پر عمل بھی ہے  یعنی اتحاد تنظیم اور یقین محکمجہاں آرمی  اور مسلح افواج کا  ڈسپلن مثالی ہے وہیں  وہیں اسی تربیت کا تیجہ یہ نکلا کہ  جب آرمی  افسران کی کھیپ فارغ ہوکر عملی میدان میں اتری تو انہوں نے کارپوریٹ سیکٹر میں بھی خوب  نام پیدا کیا ڈیفنس  ہاؤسنگ اتھارٹی کی صورت میں مثالی رہائیشی اسکیم ، فوجی فرٹیلائزر بن قاسم ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی ،عسکری بینک  سمیت بے شمار سیکٹرز میں آرمی کے ریٹائرڈ افسران نے  بے شمار   مضبوط کارپوریٹ  ادارے بنا کر  یہ ثابت کیا  کہ ذرانم ہوتو یہ مٹی بہت ذرخیز ہےدوسری طرف ہمارے سول اداروں نے ہرسطح پر نااہلی کا ثبوت دیا ہے  کیا آپ لوگوں نے  کبھی سنا کہ  فلاں ریٹائرڈ میجر واپس آرمی میں کنٹریکٹ پر  آگیا  فلاں برگیڈیئر کو دوبارہ آرمی میں تین سال کا کنٹریکٹ دے دیا گیا  یا کسی ریٹائرڈ جرنیل کو دوبارہ آرمی میں نوکری دی گئی ہو پاکستان کے عدالتی نظام میں  "ریٹائرڈ سیشن جج اور جسٹس مافیا " پورے نظام کو ہمیشہ تباہ کرتے رہے ہیں نہ ان ریٹائرڈ   بوڑھوں میں نہ تو  کوئی شرم ہے  اور ان کو حیا پچاس میل دور سے چھو کر   بھی نہیں گزری  ریٹائرڈ ججز بھی عدالتی نظام کیلئے ایک مافیا کا درجہ رکھتے ہیں  اور یہ مافیا ہی ہیں اور یہ سب کے سب اہل "زبان" ہیں حضور امیرالمجاہدین جناب  حضرت علامہ خادم حسین رضوی دامت برکاتہم العالیہ کے  خیالات سے میں  جزوی  اتفاق کرتا ہوں صرف اور صرف   "ریٹائرڈ  کنٹریکٹ ججز "کے متعلق میرے وہی  خیالات ہیں جو حضورامیرالمجاہدین  نے  عدلیہ کے متعلق ارشاد فرمائے ہیں  ریٹائرمنٹ کے بعد جو  جج کنٹریکٹ پر نوکری کررہے ہیں  وہ اپنے ہی ایک  نوجوان سیشن جج کا حق مارکر   کھارہے ہیں    یہی وہ مافیا ہیں جو نوجوان ججز کو ان کے حق سے محروم کررہے ہیں  پاکستان کا آئین اور قانون ان یتیم اور شرم و حیا سے محروم ریٹائرڈ بوڑھوں کو کنٹریکٹ کی اجازت نہیں دیتا لیکن    آج بھی بہت بڑی تعداد میں  ہمیں عدالتوں میں  ریٹائرڈ مافیا کے لوگ نوکری سے جونک کی طرح چمٹے دکھائی دیتے ہیں  ان معذور بوڑھوں میں آگے بڑھنے کی خواہش مرچکی ہے  نہ ان کو شوکاز کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی پروموشن ٹرانسفر  کا خواہش  شام کو جاکر بہوؤں کی جھڑکیاں سننا اور رات  کو تو ویسے بھی  اس عمر میں نیند نہیں آتی یہی   غلطی سول اداروں کی تباہی کا باعث ہے ہم کیوں نہیں آرمی سے ان کی اچھی باتیں  سیکھتے عدلیہ نے جس طرح  ریٹائرڈ  جسٹس ناصر اسلم زاہد کو کام تلاش کرکے دیا ہے چند ایک کو (کے سی ڈی آر میں کھپایا ہے ) اسی طرح  عدلیہ بھی ٹرانسپورٹ کمپنی کھولے  اس سے ٹرانسپورٹرز کے مسائل  بھی سمجھنے میں آسانی ہوگی   عدلیہ ریٹائرڈ ججز کو بینک کھولنے کی ترغیب دے ہاؤسنگ اسکیمیں متعارف  کروا کر بحریہ ٹاؤن اور  ڈیفنس کا مقابلہ کرے  کھاد کے کارخانے خالص دودھ   ٹیٹرا پیک کے کارخانے کھول کر  ان یتیم ریٹائرڈ ججز اور   ریٹائرڈ جسٹس صاحبان جو شکل وصورت سے ہی بے روزگار لگتے ہیں ان کو باعزت روزگار دیا جاسکتا ہے  لیکن  ریٹارئرڈ  مافیا کے لوگوں نے پوری زندگی میں  مفت بیٹھ کر اور صرف قلم سے  چند الفاظ لکھ کر  پوری زندگی حرام کمایا ہو کیا ان کو محنت کی کمائی راس آئے گی؟ اس ساری بحث کا مقصد یہ تھا کہ آرمی نے  جس طرح اپنے ڈسپلن پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا  اور ریٹائرمنٹ  کے بعد فوجی افسران کو آرمی  میں دوبارہ کنٹریکٹ  کبھی نہیں دیا   جاتا  بلکہ  آرمی  کے کارپوریٹ  اداروں  میں جاکر کام کرتے ہیں   اور تنخواہ  کیلئے حکومتی خزانے پر بوجھ نہیں بنتے  اسی طرح  عدلیہ کو  اتحاد تنظیم اور یقین محکم کے اصولوں  کو مدنظر رکھ کر  کبھی  بھی نوجوان ججز کے حق پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیئے اور رعشے کے مارے ہوئے معذور  ریٹائرڈ ججز کا عدالتی نظام سے مکمل طورپر خاتمہ کرنا چاہیئے    کم ازکم کراچی بارایسوسی ایشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سٹی کورٹ  کمپاؤنڈ میں چاروں سیشن ججز  ریگولر ہیں اورکراچی بار کے وکلاء نے ریٹائرڈ ججز کا منحوس سایہ کبھی بھی ڈسٹرکٹ کورٹس میں برداشت نہیں کیا  یہ سارے خبیث سائڈ پوسٹیں لیکر کرپشن کرنے میں مصروف ہیں  پاکستان آرمی زندہ باد ریٹائرڈ کنٹریکٹ  جج مردہ باد

ایک تھا جسٹس سجاد علی شاہ اور ایک ہے جسٹس احمد علی شیخ۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



ایک تھا جسٹس سجاد علی شاہ اور ایک ہے جسٹس احمد علی شیخ۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان (زیرنظر تحریر میں سابق چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ جناب سجاد علی شاہ  اور موجودہ چیف جسٹس جناب احمد علی شیخ صاحب دامت برکاتہم العالیہ  کی کرپشن کے خلاف کاکرکردگی کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا خصوصاً کرپشن کے خاتمے کیلئے  دونوں جسٹس صاحبان کی "نیت" کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی)پہلی قسطاعمال کا دارومدار  نیتوں پر ہےعوام کی حفاظت کیلئے پہرہ دینے والا سپاہی بھی رات بھر پہرہ دیتا ہے اور رات بھر جاگ کر اپنے بچوں کےلیئے روزی کماتا ہے  جبکہ ایک چور بھی رات بھر جاگتا ہے لیکن چور کا رات بھر جاگنا بری نیت سے ہوتا ہے وہ لوگوں کو  غافل پاکر گھر میں داخل ہوتا ہے اور لوٹ مارکرکے اپنے بچوں کیلئے رزق حرام کماتا ہے نیت  کا زندگی کے ہرشعبے میں ایک اہم کردار ہوتا ہے  جبکہ قانون کے شعبے میں سب سے زیادہ اہم کردار نیت ہی کا ہوتا ہے اگر کوئی جج ،وکیل کورٹ ،اسٹاف یا پراسیکیوٹر گھر سے رزق حلال کمانے کی نیت سے نکلتا ہے تو وہ سارا دن رزق حلال ہی کمائے گا  جب کہ اگر   کوئی گھر سے ہی حرام کمانے کی نیت لیکر نکلتا ہے تو  وہ سارا دن اپنے بچوں کیلئے حرام ہی کمائے گا حرام ہی تلاش کرے گا چند سال قبل میں عدالتی معاملات کا ذکر اشارتاً  اپنے بلاگ  میں  اکثر کیا کرتا تھا  بعد ازاں سندھ ہایئکورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ان اشاروں ہی کی بنیادپر بدعنوان ججز کا سراغ لگایا  اور کراچی کے تقریباً سارے کے سارے اس وقت کے بدنام زمانہ ججز فارغ کیئے گئے  ان میں سے بیشتر وہ گھٹیا لوگ تھے جو سارا دن سو سوروپے کا دھندہ کرتے تھے   میں اس حوالے سے ان کا شکر گزار ہوں کہ جب  اپنے  اردو بلاگ  میں کرپشن کی نشاندہی کی تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ توہین عدالت کا جرم ہوگیا بلکہ انہوں نے میرے بلاگ کو سنجیدہ لیکر کرپشن کے خلاف کاروائی کی ایک برطرف جوڈیشل مجسٹریٹ تو پورا نیٹ ورک بناکر چلتا تھا    اس کے چار اپنے  تفتیشی افسر ہواکرتے تھے  جہاں اس کا ٹرانسفر ہوتا تھا  اس کے ساتھ ساتھ چلتے تھے   تفتیشی  افسران کا ٹرانسفر بھی  اپنی  حدود میں واقع  تھانوں میں کروالیتا  تھا اس نے اپنے تفتیشی افسران کے ساتھ مل کر "انت" مچائی ہوئی تھی وہ   "اے کلاس " کے پرانے کیسز تلاش کرتے تھے  اور جن پرانے کیسز  کو "اندھا" کیس کہہ کر بند کردیا جاتا تھا یا جن میں نامعلوم افراد  نامزد ہوتے تھے اور سراغ نہیں ملتا تھا اور اے کلاس ہوجاتے تھے ان میں  جج اور پولیس والے ملکر شکار پھنساتے   شکار گرفتار ہوتا  جج صاحب ریمانڈ دیتے اور اس کے بعد لین دین کرکے چھوڑ دیا جاتا تمام وکلاء جانتے ہیں کہ "اے کلاس" کیسز کا اسکوپ کتنا لامحدود ہے  یہ نیٹ ورک جمعے کو میٹنگ کرتا تھا جمعہ کی شام کو   شریف معزز شہریوں کو گرفتار کیا جاتا  اور گرفتاری ہفتے کے دن ڈال دی جاتی تھی  جس کے بعد  مجسٹریٹ صاحب کی ڈیوٹی ہفتے اتوار کے دن بطور ڈیوٹی مجسٹریٹ لگوائی جاتی تھی   یاد رہے کہ اتوار کو صرف ایک ہی  جوڈیشل  مجسٹریٹ  بیٹھتا  ہے جو پورے ضلع کے ریمانڈ لیتا  ہے اور وہ ملزمان اتوار کے دن  دوپہر دوبجے چپکے سے "ریمانڈ" کیلئے  پیش  کیئے جاتے تھے سارے معاملات  جج کے چیمبر میں طے ہوجاتے تھے    اور بھاری رشوت وصول کی جاتی تھی کیونکہ  اکثر اے کلاس کیسز سنگین نوعیت کے ہوتے تھے دہشتگردی اور قتل کے مقدمات ہوتے تھے  اس طرح جج پولیس کورٹ اسٹاف نیٹ ورک میں شامل  دیگر اسٹیک  ہولڈرز نے کروڑوں روپے کمائے جب میں نے اس نیٹ ورک کا  اپنے اردو بلاگ  میں  انکشاف کیا تھا  تو اس وقت کے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے اس کو توہین عدالت نہیں سمجھا خاموشی سے تحقیقات کروائی  اور اس  ناسور کو فارغ کیا  ملازمت سے برطرف کیا اسی طرح اس وقت چونکہ ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹس سٹی کورٹ کا پوسٹ آفس جاری کرتا تھا  اور اکثر ججز نے ان کے ساتھ بھی معاملات "سیٹ" کیئے ہوئے تھے جب ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ  عدالت میں بطور ضمانت جمع ہوتے تھے  تو وہ ناظر برانچ میں بھیجے نہیں جاتے تھے  جج اپنے اسٹاف کے ساتھ مل کر  چندروز بعد ہی وہ سرٹیفیکیٹس  ڈاک خانے والوں سے مل کر کیش کروالیتے تھے  جس کے بعد ملزم سے بھی رشوت لیکر چھوڑ دیا جاتا تھا اس طرح ڈبل کمائی ہوتی تھی   اس معاملے کے انکشاف کے بعد ہی ڈاک خانے والوں کو ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ کے اجراء سے روکا گیا اور یہی وجہ ہے کہ اب یہ مقامی بینک کے زریعے  جاری کیئے جاتے ہیں اور اگر کیش کروانا ہوتو  بینک کی سٹی کورٹ برانچ یہ سرٹیفیکیٹس کیش  نہیں کرتی بلکہ بولٹن مارکیٹ سے کیش ہوتے ہیں  یہ بھی میری ہی تجویز تھی سندھ ہایئکورٹ نے اس واقعہ میں ملوث ایک اہم جج کو نہ صرف فارغ کیا بلکہ  تادیبی کاروائی بھی کی  بعد ازاں اس جج کے چیمبر سے چارسو سے زائد ایسی فائل ملیں تھیں جن میں پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا تھا   اور ملزمان کو ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹس کی بنیاد پر ضمانت پر چھوڑا گیا  اس کے بعد نہ ملزمان کا کوئی اتا پتا نہ ہی  ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹس کا کوئی اتا پتا  لیکن جج کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک میں شامل کورٹ اسٹاف کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہونا افسوسناک ہےجب جسٹس سجادعلی شاہ صاحب چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ ہواکرتے تھے تو وکلاء ہرروز ہی منتظر ہوتے تھے  کہ آج کس کا نمبر لگنے والا ہے  اور سندھ ہایئکورٹ سے ہرہفتے ہی خبر آتی تھی کہ ایک اور وکٹ اڑادی گئی ہے  اور مجھے فخر ہے اور یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان میں سے پچاس فیصد لوگ میرے اردو بلاگ کی بنیادپر فارغ کیئے گئے وہ سارا ریکارڈ آج بھی میرے اردو بلاگ پر موجود ہے  اور جن لوگوں کی میں نے نشاندہی کی تھی وہ ججز کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث تھے  ایک خاتون جج صاحبہ نے  اسی کروڑ روپے سے زیادہ رقم بیرون ملک منتقل کی تھی  اور فراغت کے بعد انہوں نے بیرون ملک جاکر اپنا کاروبار ہی سنبھالا ہے ایک اور بہت بڑا نیٹ ورک تھا جعلی ضمانت جمع کروانے کا  اس وقت ڈسٹرکٹ کورٹس میں  ایسے دلال گھومتے تھے جو جعلی کاغزات بطور ضمانت عدالت میں جمع کرواتے تھے  اس نیٹ ورک میں وکیل کورٹ اسٹاف اور چند ججز شامل تھے  سادہ بات تھی پراپرٹی کے جعلی کاغذات عدالت میں پیش ہوتے تھے  نیٹ ورک میں شامل لوگ متعلقہ اداروں کی  جعلی  مہروں سے تصدیق کرتے تھے  اور ملزم رہا کرکے وہ جعلی کاغزات ناظر برانچ میں جمع ہوجاتے تھے  اس کے بعد نہ ہی ملزم کا کوئی اتا پتا نہ ہی ضامن کا کوئی اتا پتا  کاغذی طورپر ضمانت بحق سرکار ضبط کرلی جاتی تھی  سب سے زیادہ مال اسی طریقے سے بنایا گیا تھا    یہ نیٹ ورک بھی جسٹس سجاد علی شاہ نے مکمل طورپر ختم کیا  اور آج ضمانت جمع کرواتے وقت دوبار کمپیوٹرائزڈ تصدیق ایک سیشن جج کی زیرنگرانی ہوتی ہے لیکن ان دنوں  جعلسازی کا ایک نیا راستہ تلاش کرلیا گیا ہے جس کا ذکر بعد میں کیا جائے گا اسی طرح ایک اور نیٹ ورک تھا جو  سیٹنگ کرکے ملزمان سے جھوٹی درخواستیں لگوا کر  ان کی ضمانت  کی رقم پانچ ہزار روپے کرتے تھے اور لاکھوں روپے نقد بطور رشوت جیب میں چلی جاتی تھی   وہ "ڈاکٹر  "نیٹ ورک تھا  یہ فامولا ایک سابق سیشن جج نے ایجاد کیا تھا   جو جسٹس بھی رہا تھا  لیکن کنفرم  نہیں  ہوا  تھا شکل سے نہایت ایماندار لگتا تھا  بدقسمتی سے یہ صاحب نہ صرف بچ گئے بلکہ ریٹائرڈ ہوکر دوبارہ کنٹریکٹ بھی حاصل کرلیا چند ججز  جو اس دوران برطرف ہوئے تھے ان کا دعوٰی ہے کہ ان کے خلاف زیادتی ہوئی  تھی  وہ  ایک تحریک بھی چلارہے  ہیں  میں آگے چل کر ان کا  مؤقف بھی بیان کروں گا  جسٹس سجادعلی شاہ  نے  برصغیر  پاک  وہند کی تاریخ میں سب سے زیادہ ججز برطرف کیئے لاہور ہایئکورٹ کے  جسٹس منصور نے ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا  ساتھ رہیئے گا یہ پہلی قسط ہے چغل خوروں کا شکریہ

زاشیہ رحمان کی داڑھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قسط نمبر 2 تحریر صفی الدین اعوان



تحریر : صفی الدین اعواندوسری قسط جب  میں نے    غریب بچوں کیلئے  غریبوں کی اس بستی میں اسکول کی تعمیر کو رکوانے  والے "قبضہ مافیا" کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کروانے کیلئے عدالت میں پٹیشن داخل کی تو مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ میری یہ پٹیشن  ماضی کے اس دم توڑتے" پیشے "کو ایک نئی زندگی  کی  حرارت  عطاکرے  گی  کیونکہ  زمینوں پر قبضے کرنا بھی  ایک   "اہم  ترین  پیشہ"  ہے "قبضہ مافیا "کراچی کا ایک اہم کردار ہیں   کراچی  شہر کی آدھی سے زیادہ "آبادکاری" قبضہ مافیا ہی کی مرہون منت ہے چند ماہ پہلے تک یہ  ایک "دم توڑتا ہوا پیشہ "تھا  کیونکہ زمینوں پر قبضے روکنے کیلئے وفاقی حکومت نے قانون سازی کردی تھی لیکن میری عدالتی پٹیشن نے اس پیشے کو دوبارہ زندہ کردیا  اور کراچی ضلع وسطی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جناب ایاز مصطفٰی صاحب نے اس کیس میں ایسے اصول بیان کردئیے جن کے بارے میں سوچنا بھی جرم تھاسب سے پہلے تو پٹیشن لگانے کے بعد میرا یہ خیال تھا کہ چند روز میں اس پر فیصلہ ہوجائے گا لیکن جج صاحب نے پٹیشن کو بھی " ست  لکھی وظیفہ" بنادیا  اور پٹیشن میں حصول ثواب کی نیت سے  تاریخ پر تاریخ دینے کا سلسلہ شروع کردیا  میں  صبح  سویرے  عدالت  میں پیش  ہوتا  تو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج  چوہدری  ایاز مصطفٰی  گجر صاحب چیمبر میں بیٹھ کر اللہ ہو اللہ ہو کی آوازیں نکال رہے ہوتے تھے   اس دوران  کراچی  کے ڈسٹرکٹ  اینڈ سیشن  کورٹ  ضلع  وسطی  کی  پوری  عمارت  پر انوار  وتجلیات  کی   برسات  ہورہی ہوتی  تھی   اور جب  ایڈیشنل  ڈسٹرکٹ  اینڈ سیشن  جج  صاحب چاشت اور اشراق کے نوافل سے فارغ ہوکر  حق حق  سچ سچ کا ورد اور  ذکر کرکے جھومتے ہوئے چیمبر سے نکل کر انوار وتجلیات کی بارش میں   عدالت  میں  آتے تو ایک عجیب سماں بندھ جاتا   اورصبح سویرے ہرتاریخ پر میری پٹیشن  بھی اگلی تاریخ کیلئے فارغ کردیا کرتے تھےمیں بھی خوش خوش  عدالت سے واپس آتا  اور اس بات پر خوشی محسوس  کرتا کہ  عدالت میں جاکر ایک ولی کامل کی زیارت کرلی   اور جج صاحب کے چیمبر سے آنے والی اللہ ہو اللہ ہو کی صداؤں سے فیض بھی حاصل کرلیا   آخر کئی مہینوں کے بعد "ست لکھی وظیفہ " اپنے اختتام کو پہنچا  اور    جج صاحب نے  انواروتجلیات  کی  بارش میں  ایک ایسا تاریخی فیصلہ لکھا جس نے کراچی میں  "قبضہ گروپوں " کو ایک نئی زندگی کی حرارت  عطا کی   زمینوں پر قبضے کا یہ پیشہ کراچی میں تیزی سے دم توڑ رہا تھا بڑے بڑے قبضہ گروپ بے روزگاری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوچکے تھےیہ ہرلحاظ سے ایک تاریخی فیصلہ ہے  کیونکہ اس عدالتی فیصلے نے ڈاکوؤں اور ڈکیتوں کو بھی ایک نئی زندگی عطا کی ہے  اور ان کے "پیشے" کو بھی تحفظ فراہم کیا ہے  جج صاحب نے انواروتجلیات کی بارش میں لیز اور الاٹمنٹ  کے  قانونی کاغزات کو  مروڑ کر"بتی" بنادیا ہے   عدالتی فیصلوں کا احترام کرنا چاہیئے لیکن عدالتی  فیصلے میں جج صاحب نے یہ جھوٹ بولا کہ پٹیشنر نے لیز کے کاغزات فراہم ہی نہیں کیئے وہ تمام کاغزات  نہ صرف پیش کیئے گئے بلکہ  ان کی مکمل تفصیلات  اور پٹیشنر کا پاور آف اٹارنی سول اپیل میں کورٹ کے  ریکارڈ پر موجود ہے  یہاں ہم حسن ظن سے کام لیتے ہیں کیونکہ جب   جج صاحب چاشت اور اشراق کے نوافل پڑھ کر اللہ ہو اللہ  ہو کی آوازیں نکالتے ہیں  تو  انواروتجلیات کی  کمرہ  عدالت اور چیمبر میں  اتنی زیادہ بارش ہوجاتی ہے کہ شاید وہ لیز کے کاغزات  اور پاور آف اٹارنی   اور جائیداد کے قانونی مالک   کے درمیان جو رقم کی ادائیگی کا معاہدہ ہوا تھا جو عدالت میں بھی پیش کیا گیا تھا شاید وہ ان کو نظر ہی نہیں آیا ہوگا اس لیئے میں حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہ کہتا ہوں کہ ان کو عدالتی ریکارڈ پر موجود  یہ ریکارڈ نظر ہی نہیں آیا  یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انوار وتجلیات کی بارش میں سارا ریکارڈ ہی بھیگ کر ضائع ہوگیا ہو اگرقبضہ مافیا نے کسی کی کروڑوں روپے  کی  لیز جائیداد پر کسی کے بنگلے پر قبضہ کرنا ہو ایک سوروپے کا اسٹامپ پیپر خریدیں  پلاٹ  کا  ایک خودساختہ سیل ایگریمنٹ بنا کر "منہ اٹھا کر " کورٹ میں پہنچ جائیں "یادرہے " دھونے "کی  بھی ضرورت  نہیں ہے اور بغیر منہ" دھوئے" صرف  سوروپے کے اسٹامپ  پیپر کی بنیادپر کسی کے کروڑوں روپے کے بنگلے کے سامنے کھڑے ہوکر یہ  دعوٰی کردیں کہ یہ پلاٹ یا بنگلہ میرا ہے اگر  سینئر سول جج  وہ جعلی اسٹامپ کو قانونی دستاویز تسلیم کرنے سے انکار کردے  اور وہ کیس رجسٹر کرنے سے انکار کردے تو  بالکل بھی گھبرانے کی  ضرورت نہیں آپ کراچی کے ضلع وسطی کی عدالت تین نمبر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  کورٹ  سے رابطہ کریں  جج صاحب نے جب ایف آئی آر رجسٹر کروانے کیلئے داخل کی گئی پٹیشن  پر فیصلہ دیا تو اس میں   چوروں ڈاکوؤں اور ڈکیتوں کو بھی   ایک طریقہ کار کے تحت یہ حق دے دیا کہ وہ کسی بھی بھر میں جاکر ڈاکہ بھی ڈالیں چوری بھی کریں لوٹ مار بھی کریں  سب کچھ کریں یہ کوئی جرم نہیں ہے  اس حوالے سے انہوں نے جس کیس لاء کا حوالہ دیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے 2010 YLR 189یہ عدالتی فیصلہ اس بات کا حق دیتا ہے  چوروں ڈاکوؤں اور ڈکیتوں کو یہ قانونی حق فراہم کررہا ہے  کہ وہ  کسی بھی جائیداد پر قبضے کیلئے سوروپے کے اسٹامپ پیپر پر سیل ایگریمنٹ بناکر  عدالت میں آجائیں اور اگر  عدالت اس کیس کو رجسٹر کرنے سے انکار کردے  اور وہ جعلی کاغزات اٹھا کر منہ پر ماردے تو  ایازمصطفٰی کی عدالت  میں سول اپیل داخل کردیں اور اس کے بعد قانون آپ کو اجازت دے رہا ہے کہ  وہ پورا بنگلہ جاکر لوٹ لیں  قانون آپ کے ساتھ ہے صرف سول اپیل کی بنیادپر کسی بھی گھر میں داخل  ہوکر ان کی خواتین کی عصمت دری سمیت  ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی یہ تشریح لامحدود اختیار فراہم کررہی ہے  یوں سمجھ لیں کہ ایک نیک دل جج نے چوروں اور ڈاکوؤں کے پیشے کو بھی تحفظ فراہم کرکے ان کو  گویا ایک  قسم کا  پرمٹ فراہم کردیا ہےقانون کی تشریح تو دیکھئے  سوروپے کے اسٹامپ پیپر کی بنیادپر   ہونے والی سول اپیل  اس کیس کی سول اپیل جسے ایک سینئر سول جج زاشیہ رحمان نے  اس قابل بھی نہ  سمجھا کہ کیس رجسٹر کیا جائے اور  قبضہ  مافیا  سے تعلق  رکھنے والے جعلی مالک کے منہ پر کاغزات ماردیئے وہ جعلی کاغز ات "مذہب کا ڈھونگ  رچائے  بیٹھے  " ایک ڈھونگی   جج  کیلئے اسقدر معتبر کیسے  ہوگئے کہ  اس  سول اپیل کو بنیادبنا کر  جج صاحب نے   اس گھر میں گھس کر لوٹ مار کی بھی اجازت دے دی  I find support from the judgment reported in 2010 YLR 189.
  “The provisions of S.22-A, Cr.P.C have been misused in a number of cases. The wisdom of legislature was not that any person who in discharging of duties takes an action against the accused would be subjected to harassment by invoking provision, of S.22-A, Cr.P.C. The Courts in mechanical manner should not allow application under S.22-A & B and should apply its mind as to whether the applicant has approached the court with clean hands or it is tainted with malice. Unless such practice is discharged, it would have far-reaching effect on the police officials who in discharge of duties take actions against them. The law has to be interpreted in a manner that its protection extends to every one. I am therefore, of the opinion that order of the Sessions Judge was passed in mechanical manner and the applicant approaching the Sessions Judge. As per the record reflects that it was tainted with malice.” 
          The petitioner has failed to make out a case of issuance of directions as prayed in the instant petition. The dispute if any in between the parties which is of civil nature for which civil Misc. Appeal is pending for adjudication. The intentions of petitioner are clear, that he wants to convert civil litigations into criminal and civil court is competent forum to resolve such types of controversy. There is no substance in this petition, I therefore, dismiss this petition.سوروپے کے جعلی اسٹامپ پیپر کو  عدالت میں بیٹھے ہوئے ایک  صوفی منش  ایک بزرگ جج ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جو عزت  بخشی ہے اور اس جعلی کاغذکو جس طرح وقار دیا ہے اور لیز کے کاغذات کو جس طرح "بتی"  بنا کر "واڑ" دیا ہے  اس  کی مثال  عدالتی  تاریخ  میں  نہیں ملتی  لیکن ان تمام باتوں سے قطع نظر میرا بھی ایک سوال ہے کہ چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ قابل احترام احمد علی شیخ صاحب دامت برکاتہم العالیہ مدظلہ العالی  آپ کی عدلیہ میں ایک ادارہ تھا جو ایم آئی  ٹی کے نام سے مشہور تھا  آپ سے پہلے جو چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ  ہواکرتے تھے جسٹس سجاد علی شاہ ان کا نام تھا  ان کے دور میں   آپ کے اس ادارے نے چالیس  ججز کو کرپشن اور دیکر الزامات کے تحت برطرف کیا تھا  میرا سوال یہ ہے کہ کیا جسٹس سجاد علی شاہ صاحب کے جانے کے بعد آپ کی عدالتوں سے کرپشن ختم ہوچکی ہے  یا پھر ایم آئی ٹی اتنا فعال نہیں رہا یا پھر کرپشن کے خلاف کاروائی ختم کردی گئی ہے اور ججز کو رشوت  لوٹ مارکی کھلم کھلا اجازت دے دی ہے جس کی وجہ سے آپ کے بابرکت دور میں کسی بھی جج کے خلاف کاروائی سامنے نہیں آئی نہ ہی ہوگی  احمد علی شیخ صاحب آپ کے "بابرکت دور "میں ایم  آئی ٹی کا  "اچانک "غیر فعال  ہوجانا  بدعنوان ججز کے خلاف  تادیبی کاروائی  اچانک  ہی روک دینا  چیف صاحب کچھ تو ہے جس کی "پردہ داری" ہےجس طرح بعض ججز نے مذہب کی آڑ لیکر ایمانداری کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے   سجاد علی شاہ صاحب کے جانے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ایم آئی ٹی بھی  اب ایک ڈھونگ ہی  تو بن کر رہ گئی ہےچیف صاحب  یا تو سابق چیف جسٹس سجادعلی شاہ غلط تھا یا تم غلط ہو اگر سجاد علی شاہ صاحب غلط تھے تو جن ججز کو برطرف کیا گیا ان کو دوبارہ بحال کردو  ورنہ میں یہ کہنے کا مکمل حق رکھتا ہوں کہ  عدلیہ میں ساری کرپشن کے اکیلے ذمہ دار  "تم  اور صرف تم ہی ہو "  کیونکہ تم   نے ہی اپنے دور میں   ایم آئی ٹی کو ایک زندہ لاش بنا یا ہوا ہے
جج صاحب کی جانب سے اسکول کی تعمیر روکنے  کیلئے  قبضہ مافیا کے خلاف چوری کی درخواست پر  عدالتی  فیصلہ مندرجہ ذیل ہے     IN THE COURT OF III ADDITIONAL SESSIONS JUDGE KARACHI, CENTRAL.CR. PETITION NO.792/2017.
ABC --------------------------------Applicant.
VERSUS
S.H.O PS Kh. Ajmer Nagri, Karachi.-----------------Respondent.
O R D E R.27-10-2017.
     By this order, I would like to dispose of application under section 22-A Cr.P.C, filed by the applicant through his advocate, praying therein to direct the respondent / SHO PS Kh. Ajmer Nagri, Karachi to record the statement of applicant U/S 154 Cr.P.C and to take legal action against culprits and also register FIR against the proposed accused.
     I have heard learned counsel for the applicant, learned counsel for the proposed accused and have perused the report submitted by the SHO PS Kh. Ajmer Nagri, Karachi.
     As per contention of learned counsel for the applicant, that subject Faizan Academy is running under the management of Memon Madrassa Faizul Uloom since last 27 years, and said Faizan Academy entered into deal in respect of purchase and paid 60% of the deal to the owner and original documents are in possession of the applicant but in this regard, neither the petitioner has annexed any documentary evidence with this petition, which could prove his contention that Faizan Academy is running under the management of Memon Madrassa Faiz-ul-Uloom for the last 27 years, nor any authority letter issued by said Memon Madrassa in his favour to sue the proposed accused on their behalf. Further more, neither any alleged deal annexed by the applicant with this petition, which could prove contention of petitioner that Faizan Academy has entered into a deal of purchase subject plot from its owner and they paid 60% of said deal to its owner. Further more,وضاحت:؛یہاں میں مختصر یہ بیان کردوں کہ  پٹیشنر سوروپے کے اسٹامپ پیپر  کی  بنیادپر پر ہونے والی  نام نہاد سول اپیل میں  نہ صرف  لیز کے قانونی کاغزات پیش کرچکا تھا بلکہ ایک عدد پاور آف اٹارنی بھی اسی عدالت کے ریکارڈ پر جمع کرواچکا تھا  اسی طرح ساٹھ فیصد ادائیگی کا ثبوت  سول کیس میں پیش کرچکا تھا  سمجھ سے بالاتر ہے کہ جج صاحب نے یہ عدالتی فیصلہ لکھتے ہوئے جھوٹ کا سہارا کیوں لیا  اور  اتنے دھڑلے سے عدالتی فیصلوں میں جھوٹ بولنا سمجھ سے بالاتر ہے  as per contention of learned counsel for proposed accused, Haq Nawaz purchased subject plot from its previous owner(وضاحت:  یہاں سابق مالک سے مراد قبضہ مافیا ہے جو مقامی تھانے کے ہیڈ محرر کا بھائی ہے )and he is in possession of subject plot since date its purchase in the year 2013 and in this regard proposed accused Haq Nawaz had filed suit for declaration and Permanent injunction but unfortunately, learned senior Civil Judge returned plaint to be presented before proper court and said order of learned Senior Civil Judge Karachi Central is impugned in Civil Misc. Appeal No.13/2017 before this court.عدالتی فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ قبضہ مافیا کے کارندے جب سینئر سول جج کی عدالت میں کیس داخل کرنے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا تھا اور سوروپے کے اسٹامپ پیپر پر داخل ہونے والی اپیل کا ذکر بھی کردیا                    From the above position, it has come on record that the dispute, if any, in between the parties over landed property and a civil suit in respect of subject property was filed by the proposed accused and a civil Miscl. Appeal is in respect of subject property is also pending before this court. There are instances of misuse of provisions of S.22-A Cr.P.C. and therefore, it is the duty of the court that such misuse should be taken care of and such application should not be lightly entertained in a mechanical manner. I find support from the judgment reported in 2010 YLR 189.
  “The provisions of S.22-A, Cr.P.C have been misused in a number of cases. The wisdom of legislature was not that any person who in discharging of duties takes an action against the accused would be subjected to harassment by invoking provision, of S.22-A, Cr.P.C. The Courts in mechanical manner should not allow application under S.22-A & B and should apply its mind as to whether the applicant has approached the court with clean hands or it is tainted with malice. Unless such practice is discharged, it would have far-reaching effect on the police officials who in discharge of duties take actions against them. The law has to be interpreted in a manner that its protection extends to every one. I am therefore, of the opinion that order of the Sessions Judge was passed in mechanical manner and the applicant approaching the Sessions Judge. As per the record reflects that it was tainted with malice.” 
          The petitioner has failed to make out a case of issuance of directions as prayed in the instant petition. The dispute if any in between the parties which is of civil nature for which civil Misc. Appeal is pending for adjudication. The intentions of petitioner are clear, that he wants to convert civil litigations into criminal and civil court is competent forum to resolve such types of controversy. There is no substance in this petition, I therefore, dismiss this petition.              Announced in open Court.Given under my hand, this 27th day of October, 2017.

          (Ayaz Mustafa Jokhio)       III Additional Sessions Judge,                                   Karachi, Central.
ابھی میرے ساتھ ہی رہیئے گا ابھی اس تحریر کی  تیسری  قسط باقی ہے لیز کے قانونی کاغزات کے  مقابلے میں ایک  سوروپے والا اسٹامپ پیپر کتنی اہم قانون دستاویز ہے یہ بتانا ابھی باقی ہے  کراچی کے ایک تھانے کے ہیڈ محرر کا بھائی  اپنی مرضی کا عدالتی فیصلہ کیسے لیکر گیا یہ بتانا ابھی باقی ہے ابھی یہ بھی بتانا باقی ہے کہ مذہب کا ڈھونگ رچائے بیٹھے ایک ڈھونگی جج نے ایک غریب  بستی کے بچوں  کیلئے اسکول کی تعمیر  روکنے کیلئے کون کون سے گھٹیا ہتھکنڈے  اور طریقے اختیار کیئے  ابھی تو علامہ اقبال کے اس شعر کی بھی تشریح بھی باقی ہے کہ لباس  خضر میں یاں سینکڑوں رہزن بھی بیٹھے ہیںجینے کی تمنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر  کیونکہ یہ تو ابھی بتایا ہی نہیں کہ   نام  نہاد سول اپیل  پر عدالت نے کیا فیصلہ دیا جبکہ میں ٹھوس ثبوت کے ساتھ اپنے خلاف  ہونے والی  ممکنہ   توہین عدالت کی کاروائی کا بھی بے چینی سے منتظر ہوں

زاشیہ رحمان کی داڑھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان




زاشیہ رحمان کی داڑھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان

جج صاحب کا نورانی چہرہ اور گھنی داڑھی دیکھ کر دل ہی خوش ہوگیا ماتھے پر بنا ہوا محراب   گواہی دے رہا تھا کہ جج صاحب  پنج وقتی نماز کے علاوہ تہجد گزار بھی ہیں فیضان اکیڈیمی کراچی کا ایک مشہور ومعروف تعلیمی ادارہ ہے یہ ادارہ غریب آبادیوں میں   جدید سہولیات سے آراستہ اسکول تعمیر کرکے نہایت ہی کم فیس میں   غریب بچوں  کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتا ہے  یہ اسکول ایک ٹرسٹ کے زیراہتمام چلتا ہے   میرٹ  کا یہ عالم  ہے کہ یہاں داخلہ  آسانی  سے نہیں  ملتا اسی سلسلے میں انہوں نے سرجانی کی ایک غریب بستی میں اسکول کی تعمیر کیلئے ایک پلاٹ خریدا اور وہاں اسکول کی تعمیر شروع کردی  پلاٹ لیز تھا اور اس کی قیمت تقریباً سترلاکھ کے لگ بھگ تھی جس کا بیشتر حصہ ادا کردیا گیا اور باقی ماندہ رقم  جائیداد کی منتقلی کی کاروائی کے  بعد ادا کرنی تھی اسی دوران پلاٹ پر دن رات کام جاری تھا اور اسکول کی تعمیر زوروشور سے جاری تھی اسی دوران انتظامیہ پر  عدالت کا نوٹس بم بن کر گرا میرے ایک دوست نے کیس کی تفصیلات مانگیں تو میں نے  فائل  چیک کرکے ان کو بتایا کہ  یہ ایک بلیک میلر قبضہ مافیا نے کیس داخل کیا ہے اور ان کے پاس کسی بھی قسم کی کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے  یہی وجہ ہے کہ قبضہ گروپ  نے جب  سینئر سول جج صاحبہ زاشیہ رحمان  کی عدالت سے تعمیرات روکنے  کیلئے " اسٹے آرڈر"لینے کی کوشش کی تو انہوں نے کھڑے کھڑے اس کیس کو خارج کردیا اور قبضہ مافیا سے کہا کہ  سوروپے کے اسٹامپ پیپر پر زمینوں پر قبضے کا دور چلاگیا  اگر کوئی قانونی دستاویز ہے تو لیکر آجاؤ  قبضہ مافیا نے بہت زور دیا کہ ماضی میں اسٹامپ پیپرز پر اسٹے ملتے رہے ہیں   یا بکتے  رہے ہیں  اس لیئے ہمیں بھی اسٹے دیا جائے لیکن سینئر سول جج  زاشیہ رحمان صاحبہ نے  کھڑے کھڑے ہی یہ کیس نمٹا دیا یہاں میں یہ عرض کردوں کہ زاشیہ رحمان کی داڑھی نہیں ہے  یہ ایک خاتون جج صاحبہ ہیں  نہ ہی ان کے ماتھے پر محراب بناہوا ہے  اس نے اپنے چیمبر میں جاء نماز بھی نہیں رکھی ہوئی(ہوسکتا ہے کہیں چھپا کر رکھی ہوئی) اور ہم نے اس کو کبھی نماز پڑھتے ہوئے بھی نہیں دیکھا  ویسے بھی عموماً ہم اس عدالت میں صبح دس یا گیارہ بجے کے درمیان پیش ہوتے ہیں   اس دوران نماز کا ٹائم تو ویسے بھی نہیں ہوتا  لیکن  فی زمانہ جو ریاکاری  اور نمائیش  کا  دور چل رہا ہے تو  ان کو ہم نے کبھی اشراق اور چاشت کے نوافل ادا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا  اور نہ ہی جج صاحبہ چیمبر میں بیٹھ کر اللہ ہو اللہ ہو کی آوازیں نکالتی ہے خیر قبضہ مافیا  کے معززین  زاشیہ رحمان کی عدالت سے جوتے اور چھتر کھاکر   اپنا اسٹامپ  پیپر لیکر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ  اینڈ سیشن جج کراچی سینٹرل جناب  ایاز مصطفٰی جوکھیو کی عدالت میں گرتے پڑتے  جادھمکے اور وہاں اپیل داخل کردیمیں جب پہلی بار عدالت میں گیا تو وہاں جاکر جو ایمان افروز نظارے دیکھے  خدا کی قسم ایمان تازہ ہوگیا  جج صاحب چیمبر میں ہی تھے اور چاشت اشراق کی نماز پڑھ کر اللہ ہو اللہ ہو کے ذکر میں مصروف تھے   جس کی ہلکی ہلکی آواز چیمبر سے باہر بھی آرہی تھی اسی دوران  جب جج صاحب چیمبر سے نکل کر عدالت  سے  میں آئے تو ان کے چہرہ مبارک کو دیکھ ایمان تازہ ہوگیا یوں محسوس ہورہا تھا کہ انوارو تجلیات کی کمرہ عدالت میں بارش شروع ہوچکی ہے  نورانی   چہرے  پر بنا ہوا محراب جج صاحب کے تہجد گزار ہونے کی دلیل دے رہا تھا اسی دوران کمرہ عدالت ہی میں مجھے یہ اطلاع ملی کی        قبضہ مافیا نے  عدالت میں داخل اپیل کی آڑلیکر پلاٹ پر قبضہ بھی  کرلیا ہے میں نے وکالت نامہ داخل کرتے ہوئے جب فائل دیکھی تو پتہ چلا کہ  ایک شخص منہ اٹھاکر عدالت آیا ہے اور پلاٹ کی ملکیت کا دعوٰی کررہا ہے میں نے یہ دیکھ کر بیٹھے  بیٹھے ہی لیز کے کاغزات منسلک کرکے ایک سادہ پیپر پر ہی جواب تحریر کیا اور مختصر لکھا کہ زاشیہ رحمان سینئر سول( جس خاتون   جج  کا ذکر کیا جارہا ہے اس کی داڑھی بھی نہیں ہے اور وہ صبح عدالت میں آکر چاشت اشراق کے نوافل بھی نہیں پڑھتی اور اس نے اپنے چیمبر میں  سرعام نمائیش  کیلئے جاء نماز بھی نہیں رکھی ہوئی  نہ ہی چیمبر میں اسلامی کتابیں رکھتی ہے )اس کا فیصلہ درست تھا قبضہ مافیا کے پاس پلاٹ کی ملکیت کا کوئی ثبوت بھی نہیں ہے اور سینئر سول جج نے قبضہ مافیا کا کیس رجسٹر کرنے سے ہی انکار کرکے بالکل درست فیصلہ کیا ہے  رجسٹرڈ لیز کاغذات  اور قانونی قبضے  کے مقابلے میں صرف سوروپے کے اسٹامپ پیپر  کی اوقات ہی کیا ہے گزارش ہے کہ یہ اپیل خارج کی جائے   میں نے دولائینیں لکھ کر عدالت میں جمع کروادیں  عدالت نے تاریخ دے دی خیر اگلے دن  تھانے والوں نے قبضہ مافیا سے جگہ خالی کرواکر پلاٹ  پر تالا لگادیا اسی دوران قبضہ مافیا نے پلاٹ پر قبضہ کے دوران جنریٹر وغیرہ اور دیگر قیمتی سامان چوری کیا جس کی ایف آئی آرتھانے نے رجسٹر کرنے سے انکار کردیا تو  عدالت میں 22 اے کی پٹیشن  داخل کی جو اسی نورانی چہرے والے جج کی عدالت میں سیشن جج نے ٹرانسفر کردی پھر کیا ہوا میرے ساتھ رہیں یہ  بات بعد میں بتاؤں گا جاری ہےپہلی قسط  

JehanPakistan ePaper | جہاں پاکستان اخبار

JehanPakistan ePaper |

جہاں پاکستان اخبار


میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
انیس سو باسٹھ   کا ایوبی دستور نیانیا نافذ ہوا تھا  ہرطرف قبرستان کی خاموشی تھی بنیادی حقوق  منسوخ کیئے جاچکے تھے عدالت کا رٹ کا حق   بھی ختم کردیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس ایم آر کیانی مرحوم کراچی بارایسوسی ایشن کی تاریخی تقریر میں  آمریت کے خلاف بھرپور آواز بلندکرنے کی "غلطی" کرچکے تھے  اور مارشل لاء کے خلاف یہ واحد آواز تھی جو پورے پاکستان میں سب سے پہلے بلند ہوئی تھی  جشن مری کا موقع تھا شاعروں  کی "ریم" مری میں جمع تھی   وزیر قانون جناب   منظور قادر اور بہت سے وزراء جمع تھے بڑے بڑے شعراء وفاقی وزراء کا دل بہلانے  کیلئے  جمع تھے شوکت تھانوی صاحب  مرزا غالب کی  غزل کا  مزاحیہ ہندی ورژن پیش کرکے   اور مرزاغالب کی  خوب توہین   کرکے حکمران طبقے کا دل بہلا چکے تھے   سید محمود جعفری اور  ظریف جبل پوری جیسے مشاعرہ لوٹ قسم کے شعراء بھی ابھی مشاعرے میں موجود تھے   یہ تینوں طنزومزاح میں شعر کہتے تھے اور  حکمران  ان کو پسند کرتے تھے  اسی دوران ناظم مشاعرہ نے  نوجوان شاعر حبیب جالب کو غزل پڑھنے کی دعوت دی لیکن اس سے پہلے ہی تینوں   بڑے بڑے شعراء اپنا رنگ جما کر جاچکے تھے  محسوس یہ ہورہا تھا کہ اب کسی اور کیلئے رنگ جمانا شاید ممکن نہ ہو اس زمانے میں حبیب جالب  اپنی نظم دستور لکھ چکے تھے اور پڑھنے کیلئے مناسب موقع کی تلاش تھی   حبیب جالب نے مشاعرے  کیلئے  اپنی لکھی ہوئ غزل واپس جیب میں ڈالی اور  جیب سے نظم نکالی اور مائیک پر آکر کہا  آج غزل سنانے  موڈ نہیں ہورہا اس لیئے خلاف معمول غزل کی بجائے ایک نظم پیش کروں گا جس کا  عنوان ہے "دستور" یہ سنتے ہی ناظم مشاعرہ نے مائیک جھپٹ  کر  واپس   چھیننے کی ایک ناکام کوشش کی  اور احتجاجاً کہا کیا کررہے ہو کیا کررہے ہو جالب نے  مائک  مضبوطی  سے پکڑ  کر کہا ہٹ جاؤ مائیک کی تلوار میرے ہاتھ میں ہے آج  میں آمریت کو لہولہان کرکے ہی چھوڑوں گا یہ کہہ کر انہوں نے خوب ترنم کے ساتھ اپنی نظم "دستور "کے تاریخی اشعار ترنم کے ساتھ  کسی  مشاعرے میں  پہلی بار پڑھنا شروع کیئے دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا...
یہ نظم جب پہلی بار پڑھی گئی تو  لوگ سہم گئے تھے   لیکن بعد ازاں نعرہ زن ہوگئے اور ایک ایک بند کو بار بار سنا   اس طرح حبیب جالب نے 1962 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مری میں اپنا دستور نافذ کیا جو آج تک   نافذ ہے  جالب کے بعد مشاعرہ  ختم ہوگیا  حبیب جالب اسٹیج سے نیچے اترے تو ایک بزرگ شاعر  کو منتظر پایا چھوٹتے ہی کہا یہ کونسا موقع تھا   نظم پڑھنے کا جالب نے کہا میں موقع پرست نہیں ہوں اور یہ کہہ  آگے بڑھ گئے یہ نظم منٹوں سیکنڈوں میں پورے شہر میں پھیل گئی  اور یہ نظم وزیر قانون منظورقادر تک بھی پہنچی تو  ایک تقریب میں کہا اب میرا دستور نہیں چلتا  ایک لڑکا دستور پڑھ گیا ہے  بعد ازاں یہ نظم محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں حبیب جالب پڑھتے تھے اور لوگوں کے جذبات کو گرماتے تھے  بدقسمتی سے یہی نظم  حبیب جالب کو  بے شمار آزمائیشوں میں مبتلا   بھی  کرگئی  اور زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اسی نظم کے مرہون منت  جیل  میں گزرا  حبیب جالب نے اس زمانے کے شعراء اور اہل ادب سے بھرپور شکوہ کیا تھا کیونکہ  بہت ہی بڑے بڑے شعراء آمریت کا حصہ بن گئے تھے  ایک بہت بڑے شاعر  صدرایوب خان  کے  "مشیر" مقرر ہوئے تو ان کی ملاقات  سرراہ حبیب جالب سے ہوگئی   کہنے لگے  بہت جلدی میں ہوں صدر کا مشیر مقرر ہوگیا ہوں ان کو مشورے دیتا ہوں  حبیب جالب نے کہا کیا مشورے دیتے ہو   مشہور زمانہ شاعر نے مسکراتے ہوئے کہا ایوب خان  رات کو تین بجے بھی بلالیتا ہے دوبجے بھی بلالیتا ہے مشورہ مانگتا ہے کہ میں کیا کروں میں ایک ہی  مشورہ دیتا ہوں کہ  سب کو ڈنڈے کے نیچے رکھ ان وکیلوں پر ڈنڈا رکھ ، طلبہ  جو یونیورسٹی  آرڈیننس  کے  خلاف   جلوس  نکالتے  ہیں  ان   پر ڈنڈا رکھ مسلمان  صرف ڈنڈے کو مانتا ہے ان سب عوام کو ڈنڈے کے نیچے رکھ حبیب جالب نے  جب یہ تقریر سنی تو ان کے  ذہن میں ایک  خیالی مکالمہ آیا    جو ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان  ہورہا تھا  اور مشیر خاص پاکستانی عوام کے متعلق اپنے خیالات سے صدر ایوب کو آگاہ کررہا تھا  بعد ازاں حبیب جالب جب رخصت ہوئے تو صدر ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان ہونے والے خیالی مکالمے کو وہ نظم کی شکل دے چکے تھےمیںنے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
تو ہے مہر صبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شر پسند ہیں
ان کی کھینچ لے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا
میں نے اس سے یہ کہا
جن کو تھا زباں پہ ناز
چپ ہیں وہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے
کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید
لوگ تیرے راج میں
آدمی ہے وہ بڑا
در پہ جو رہے پڑا
جو پناہ مانگ لے
اس کی بخش دے خطا
میں نے اس سے یہ کہا
ہر وزیر ہر سفیر
بے نظیر ہے مشیر
واہ کیا جواب ہے
تیرے ذہن کی قسم
خوب انتخاب ہے
جاگتی ہے افسری
قوم محو خواب ہے
یہ ترا وزیر خاں
دے رہا ہے جو بیاں
پڑھ کے ان کو ہر کوئی
کہہ رہا ہے مرحبا
میں نے اس سے یہ کہا
چین اپنا یار ہے
اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام
اس طرف نہ جائیو
اس کو دور سے سلام
دس کروڑ یہ گدھے
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں
تو ''یقیں'' ہے یہ ''گماں''
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نے اس سے یہ کہااکثر لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یہ نظم حبیب جالب نے پاکستانی عوام کے بارے میں لکھی تھی یہ درست نہیں  بلکہ یہ  ایک عظیم شاعر  جو  صدر  کا مشیر تھا اور صدر پاکستان کے درمیان ایک  خیالی مکالمہ ہے جس میں مشیر نے صدر کے سامنے پاکستانی عوام کیلئے اپنی رائے کا  اظہار کیا تھاشعراء اور ادیب ہی عوام کی سوچ کی سمت کا تعین کرتے ہیں  جب بھی قوموں پر مشکل وقت آئے جب بھی قوموں پر بحران آئے جب بھی اقوام عالم میں سے کسی کی آزادی کو چھینا گیا تو یہ شاعر  اور ادیب ہی تو تھے جنہوں نے شاعری  اور نثر نگاری  کے ذریعے  اپنی  سوئی ہوئی قوم کو جگایا یا ان  کیلئے  درست سمت کا تعین  بھی کیا چاہے مولانا حسرت موہانی ہوں چاہے مخدوم محی الدین ہوں  یا مولانا ظفر علی خان ان سب نے انگریزی سامراج کے خلاف اپنا ایک بھرپور کردار اداکیا تھا آج کا پاکستان بھی   شدید بحران کا  شکار ہے  چاہے دہشت گردی کا معاملہ ہو  کرپشن کا معاملہ ہو ی،جمہور کی حکمرانی کا معاملہ ہو یا پاکستان کی آزادی اور بالادستی  کی بات ہو مذہبی قوانین  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ہو  یا اس ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی ہو موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ  شعراء  حضرات نثرنگار حضرات اپنی شاعری اور نثر نگاری کا رخ  حالات حاضرہ کی طرف موڑدیں اخبارات  اپنے  قیمتی صفحات  قوم  کی درست رہنمائی اور الیکٹرانک  میڈیا قوم  کی درست  رہنمائی   کیلئے  اپنا وقت   قوم کی فلاح وبہبود  کیلئے مقرر کریں   اور قوم کو مایوسی سے نکالنے کیلئے  ہربحران کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا ایک بھرپور کردار ادا کریں یہ الگ بات ہے کہ  بقول  سابق  چیف جسٹس  مغربی  پاکستان  ایم  آر کیانی   مرحوم   جنہوں  نے ایوب خان کے مارشل  لاء  کے خلاف سب سے  پہلے 1958 میں  کراچی  بارایسوسی ایشن میں آکر  آواز بلند  کی تھی   اور  اپنی  تقریر  میں قانون کی حکمرانی   پر اصرار کیا تھا  انہوں نے  1962 میں ریٹائرمنٹ  کے موقع  پر  جاتے جاتے بھی آمریت پر آخری نشتر  یہ کہہ کر چلایا تھا کہ " میری غلطی ۔۔قانون کی حکمرانی پر اصرار تھا " 

JehanPakistan ePaper | جہاں پاکستان اخبار

JehanPakistan ePaper |

جہاں پاکستان اخبار


میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
انیس سو باسٹھ   کا ایوبی دستور نیانیا نافذ ہوا تھا  ہرطرف قبرستان کی خاموشی تھی بنیادی حقوق  منسوخ کیئے جاچکے تھے عدالت کا رٹ کا حق   بھی ختم کردیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس ایم آر کیانی مرحوم کراچی بارایسوسی ایشن کی تاریخی تقریر میں  آمریت کے خلاف بھرپور آواز بلندکرنے کی "غلطی" کرچکے تھے  اور مارشل لاء کے خلاف یہ واحد آواز تھی جو پورے پاکستان میں سب سے پہلے بلند ہوئی تھی  جشن مری کا موقع تھا شاعروں  کی "ریم" مری میں جمع تھی   وزیر قانون جناب   منظور قادر اور بہت سے وزراء جمع تھے بڑے بڑے شعراء وفاقی وزراء کا دل بہلانے  کیلئے  جمع تھے شوکت تھانوی صاحب  مرزا غالب کی  غزل کا  مزاحیہ ہندی ورژن پیش کرکے   اور مرزاغالب کی  خوب توہین   کرکے حکمران طبقے کا دل بہلا چکے تھے   سید محمود جعفری اور  ظریف جبل پوری جیسے مشاعرہ لوٹ قسم کے شعراء بھی ابھی مشاعرے میں موجود تھے   یہ تینوں طنزومزاح میں شعر کہتے تھے اور  حکمران  ان کو پسند کرتے تھے  اسی دوران ناظم مشاعرہ نے  نوجوان شاعر حبیب جالب کو غزل پڑھنے کی دعوت دی لیکن اس سے پہلے ہی تینوں   بڑے بڑے شعراء اپنا رنگ جما کر جاچکے تھے  محسوس یہ ہورہا تھا کہ اب کسی اور کیلئے رنگ جمانا شاید ممکن نہ ہو اس زمانے میں حبیب جالب  اپنی نظم دستور لکھ چکے تھے اور پڑھنے کیلئے مناسب موقع کی تلاش تھی   حبیب جالب نے مشاعرے  کیلئے  اپنی لکھی ہوئ غزل واپس جیب میں ڈالی اور  جیب سے نظم نکالی اور مائیک پر آکر کہا  آج غزل سنانے  موڈ نہیں ہورہا اس لیئے خلاف معمول غزل کی بجائے ایک نظم پیش کروں گا جس کا  عنوان ہے "دستور" یہ سنتے ہی ناظم مشاعرہ نے مائیک جھپٹ  کر  واپس   چھیننے کی ایک ناکام کوشش کی  اور احتجاجاً کہا کیا کررہے ہو کیا کررہے ہو جالب نے  مائک  مضبوطی  سے پکڑ  کر کہا ہٹ جاؤ مائیک کی تلوار میرے ہاتھ میں ہے آج  میں آمریت کو لہولہان کرکے ہی چھوڑوں گا یہ کہہ کر انہوں نے خوب ترنم کے ساتھ اپنی نظم "دستور "کے تاریخی اشعار ترنم کے ساتھ  کسی  مشاعرے میں  پہلی بار پڑھنا شروع کیئے دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا...
یہ نظم جب پہلی بار پڑھی گئی تو  لوگ سہم گئے تھے   لیکن بعد ازاں نعرہ زن ہوگئے اور ایک ایک بند کو بار بار سنا   اس طرح حبیب جالب نے 1962 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مری میں اپنا دستور نافذ کیا جو آج تک   نافذ ہے  جالب کے بعد مشاعرہ  ختم ہوگیا  حبیب جالب اسٹیج سے نیچے اترے تو ایک بزرگ شاعر  کو منتظر پایا چھوٹتے ہی کہا یہ کونسا موقع تھا   نظم پڑھنے کا جالب نے کہا میں موقع پرست نہیں ہوں اور یہ کہہ  آگے بڑھ گئے یہ نظم منٹوں سیکنڈوں میں پورے شہر میں پھیل گئی  اور یہ نظم وزیر قانون منظورقادر تک بھی پہنچی تو  ایک تقریب میں کہا اب میرا دستور نہیں چلتا  ایک لڑکا دستور پڑھ گیا ہے  بعد ازاں یہ نظم محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں حبیب جالب پڑھتے تھے اور لوگوں کے جذبات کو گرماتے تھے  بدقسمتی سے یہی نظم  حبیب جالب کو  بے شمار آزمائیشوں میں مبتلا   بھی  کرگئی  اور زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اسی نظم کے مرہون منت  جیل  میں گزرا  حبیب جالب نے اس زمانے کے شعراء اور اہل ادب سے بھرپور شکوہ کیا تھا کیونکہ  بہت ہی بڑے بڑے شعراء آمریت کا حصہ بن گئے تھے  ایک بہت بڑے شاعر  صدرایوب خان  کے  "مشیر" مقرر ہوئے تو ان کی ملاقات  سرراہ حبیب جالب سے ہوگئی   کہنے لگے  بہت جلدی میں ہوں صدر کا مشیر مقرر ہوگیا ہوں ان کو مشورے دیتا ہوں  حبیب جالب نے کہا کیا مشورے دیتے ہو   مشہور زمانہ شاعر نے مسکراتے ہوئے کہا ایوب خان  رات کو تین بجے بھی بلالیتا ہے دوبجے بھی بلالیتا ہے مشورہ مانگتا ہے کہ میں کیا کروں میں ایک ہی  مشورہ دیتا ہوں کہ  سب کو ڈنڈے کے نیچے رکھ ان وکیلوں پر ڈنڈا رکھ ، طلبہ  جو یونیورسٹی  آرڈیننس  کے  خلاف   جلوس  نکالتے  ہیں  ان   پر ڈنڈا رکھ مسلمان  صرف ڈنڈے کو مانتا ہے ان سب عوام کو ڈنڈے کے نیچے رکھ حبیب جالب نے  جب یہ تقریر سنی تو ان کے  ذہن میں ایک  خیالی مکالمہ آیا    جو ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان  ہورہا تھا  اور مشیر خاص پاکستانی عوام کے متعلق اپنے خیالات سے صدر ایوب کو آگاہ کررہا تھا  بعد ازاں حبیب جالب جب رخصت ہوئے تو صدر ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان ہونے والے خیالی مکالمے کو وہ نظم کی شکل دے چکے تھےمیںنے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
تو ہے مہر صبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شر پسند ہیں
ان کی کھینچ لے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا
میں نے اس سے یہ کہا
جن کو تھا زباں پہ ناز
چپ ہیں وہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے
کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید
لوگ تیرے راج میں
آدمی ہے وہ بڑا
در پہ جو رہے پڑا
جو پناہ مانگ لے
اس کی بخش دے خطا
میں نے اس سے یہ کہا
ہر وزیر ہر سفیر
بے نظیر ہے مشیر
واہ کیا جواب ہے
تیرے ذہن کی قسم
خوب انتخاب ہے
جاگتی ہے افسری
قوم محو خواب ہے
یہ ترا وزیر خاں
دے رہا ہے جو بیاں
پڑھ کے ان کو ہر کوئی
کہہ رہا ہے مرحبا
میں نے اس سے یہ کہا
چین اپنا یار ہے
اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام
اس طرف نہ جائیو
اس کو دور سے سلام
دس کروڑ یہ گدھے
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں
تو ''یقیں'' ہے یہ ''گماں''
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نے اس سے یہ کہااکثر لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یہ نظم حبیب جالب نے پاکستانی عوام کے بارے میں لکھی تھی یہ درست نہیں  بلکہ یہ  ایک عظیم شاعر  جو  صدر  کا مشیر تھا اور صدر پاکستان کے درمیان ایک  خیالی مکالمہ ہے جس میں مشیر نے صدر کے سامنے پاکستانی عوام کیلئے اپنی رائے کا  اظہار کیا تھاشعراء اور ادیب ہی عوام کی سوچ کی سمت کا تعین کرتے ہیں  جب بھی قوموں پر مشکل وقت آئے جب بھی قوموں پر بحران آئے جب بھی اقوام عالم میں سے کسی کی آزادی کو چھینا گیا تو یہ شاعر  اور ادیب ہی تو تھے جنہوں نے شاعری  اور نثر نگاری  کے ذریعے  اپنی  سوئی ہوئی قوم کو جگایا یا ان  کیلئے  درست سمت کا تعین  بھی کیا چاہے مولانا حسرت موہانی ہوں چاہے مخدوم محی الدین ہوں  یا مولانا ظفر علی خان ان سب نے انگریزی سامراج کے خلاف اپنا ایک بھرپور کردار اداکیا تھا آج کا پاکستان بھی   شدید بحران کا  شکار ہے  چاہے دہشت گردی کا معاملہ ہو  کرپشن کا معاملہ ہو ی،جمہور کی حکمرانی کا معاملہ ہو یا پاکستان کی آزادی اور بالادستی  کی بات ہو مذہبی قوانین  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ہو  یا اس ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی ہو موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ  شعراء  حضرات نثرنگار حضرات اپنی شاعری اور نثر نگاری کا رخ  حالات حاضرہ کی طرف موڑدیں اخبارات  اپنے  قیمتی صفحات  قوم  کی درست رہنمائی اور الیکٹرانک  میڈیا قوم  کی درست  رہنمائی   کیلئے  اپنا وقت   قوم کی فلاح وبہبود  کیلئے مقرر کریں   اور قوم کو مایوسی سے نکالنے کیلئے  ہربحران کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا ایک بھرپور کردار ادا کریں یہ الگ بات ہے کہ  بقول  سابق  چیف جسٹس  مغربی  پاکستان  ایم  آر کیانی   مرحوم   جنہوں  نے ایوب خان کے مارشل  لاء  کے خلاف سب سے  پہلے 1958 میں  کراچی  بارایسوسی ایشن میں آکر  آواز بلند  کی تھی   اور  اپنی  تقریر  میں قانون کی حکمرانی   پر اصرار کیا تھا  انہوں نے  1962 میں ریٹائرمنٹ  کے موقع  پر  جاتے جاتے بھی آمریت پر آخری نشتر  یہ کہہ کر چلایا تھا کہ " میری غلطی ۔۔قانون کی حکمرانی پر اصرار تھا " 

میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



میری غلطی قانون کی حکمرانی پر اصرار۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
انیس سو باسٹھ   کا ایوبی دستور نیانیا نافذ ہوا تھا  ہرطرف قبرستان کی خاموشی تھی بنیادی حقوق  منسوخ کیئے جاچکے تھے عدالت کا رٹ کا حق   بھی ختم کردیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس ایم آر کیانی مرحوم کراچی بارایسوسی ایشن کی تاریخی تقریر میں  آمریت کے خلاف بھرپور آواز بلندکرنے کی "غلطی" کرچکے تھے  اور مارشل لاء کے خلاف یہ واحد آواز تھی جو پورے پاکستان میں سب سے پہلے بلند ہوئی تھی  جشن مری کا موقع تھا شاعروں  کی "ریم" مری میں جمع تھی   وزیر قانون جناب   منظور قادر اور بہت سے وزراء جمع تھے بڑے بڑے شعراء وفاقی وزراء کا دل بہلانے  کیلئے  جمع تھے شوکت تھانوی صاحب  مرزا غالب کی  غزل کا  مزاحیہ ہندی ورژن پیش کرکے   اور مرزاغالب کی  خوب توہین   کرکے حکمران طبقے کا دل بہلا چکے تھے   سید محمود جعفری اور  ظریف جبل پوری جیسے مشاعرہ لوٹ قسم کے شعراء بھی ابھی مشاعرے میں موجود تھے   یہ تینوں طنزومزاح میں شعر کہتے تھے اور  حکمران  ان کو پسند کرتے تھے  اسی دوران ناظم مشاعرہ نے  نوجوان شاعر حبیب جالب کو غزل پڑھنے کی دعوت دی لیکن اس سے پہلے ہی تینوں   بڑے بڑے شعراء اپنا رنگ جما کر جاچکے تھے  محسوس یہ ہورہا تھا کہ اب کسی اور کیلئے رنگ جمانا شاید ممکن نہ ہو اس زمانے میں حبیب جالب  اپنی نظم دستور لکھ چکے تھے اور پڑھنے کیلئے مناسب موقع کی تلاش تھی   حبیب جالب نے مشاعرے  کیلئے  اپنی لکھی ہوئ غزل واپس جیب میں ڈالی اور  جیب سے نظم نکالی اور مائیک پر آکر کہا  آج غزل سنانے  موڈ نہیں ہورہا اس لیئے خلاف معمول غزل کی بجائے ایک نظم پیش کروں گا جس کا  عنوان ہے "دستور" یہ سنتے ہی ناظم مشاعرہ نے مائیک جھپٹ  کر  واپس   چھیننے کی ایک ناکام کوشش کی  اور احتجاجاً کہا کیا کررہے ہو کیا کررہے ہو جالب نے  مائک  مضبوطی  سے پکڑ  کر کہا ہٹ جاؤ مائیک کی تلوار میرے ہاتھ میں ہے آج  میں آمریت کو لہولہان کرکے ہی چھوڑوں گا یہ کہہ کر انہوں نے خوب ترنم کے ساتھ اپنی نظم "دستور "کے تاریخی اشعار ترنم کے ساتھ  کسی  مشاعرے میں  پہلی بار پڑھنا شروع کیئے دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو، صبح بےنور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو
جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو
اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا...
یہ نظم جب پہلی بار پڑھی گئی تو  لوگ سہم گئے تھے   لیکن بعد ازاں نعرہ زن ہوگئے اور ایک ایک بند کو بار بار سنا   اس طرح حبیب جالب نے 1962 میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مری میں اپنا دستور نافذ کیا جو آج تک   نافذ ہے  جالب کے بعد مشاعرہ  ختم ہوگیا  حبیب جالب اسٹیج سے نیچے اترے تو ایک بزرگ شاعر  کو منتظر پایا چھوٹتے ہی کہا یہ کونسا موقع تھا   نظم پڑھنے کا جالب نے کہا میں موقع پرست نہیں ہوں اور یہ کہہ  آگے بڑھ گئے یہ نظم منٹوں سیکنڈوں میں پورے شہر میں پھیل گئی  اور یہ نظم وزیر قانون منظورقادر تک بھی پہنچی تو  ایک تقریب میں کہا اب میرا دستور نہیں چلتا  ایک لڑکا دستور پڑھ گیا ہے  بعد ازاں یہ نظم محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں حبیب جالب پڑھتے تھے اور لوگوں کے جذبات کو گرماتے تھے  بدقسمتی سے یہی نظم  حبیب جالب کو  بے شمار آزمائیشوں میں مبتلا   بھی  کرگئی  اور زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ اسی نظم کے مرہون منت  جیل  میں گزرا  حبیب جالب نے اس زمانے کے شعراء اور اہل ادب سے بھرپور شکوہ کیا تھا کیونکہ  بہت ہی بڑے بڑے شعراء آمریت کا حصہ بن گئے تھے  ایک بہت بڑے شاعر  صدرایوب خان  کے  "مشیر" مقرر ہوئے تو ان کی ملاقات  سرراہ حبیب جالب سے ہوگئی   کہنے لگے  بہت جلدی میں ہوں صدر کا مشیر مقرر ہوگیا ہوں ان کو مشورے دیتا ہوں  حبیب جالب نے کہا کیا مشورے دیتے ہو   مشہور زمانہ شاعر نے مسکراتے ہوئے کہا ایوب خان  رات کو تین بجے بھی بلالیتا ہے دوبجے بھی بلالیتا ہے مشورہ مانگتا ہے کہ میں کیا کروں میں ایک ہی  مشورہ دیتا ہوں کہ  سب کو ڈنڈے کے نیچے رکھ ان وکیلوں پر ڈنڈا رکھ ، طلبہ  جو یونیورسٹی  آرڈیننس  کے  خلاف   جلوس  نکالتے  ہیں  ان   پر ڈنڈا رکھ مسلمان  صرف ڈنڈے کو مانتا ہے ان سب عوام کو ڈنڈے کے نیچے رکھ حبیب جالب نے  جب یہ تقریر سنی تو ان کے  ذہن میں ایک  خیالی مکالمہ آیا    جو ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان  ہورہا تھا  اور مشیر خاص پاکستانی عوام کے متعلق اپنے خیالات سے صدر ایوب کو آگاہ کررہا تھا  بعد ازاں حبیب جالب جب رخصت ہوئے تو صدر ایوب خان اور ان کے مشیر کے درمیان ہونے والے خیالی مکالمے کو وہ نظم کی شکل دے چکے تھےمیںنے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں
جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سو گئی
ہر امید کی کرن
ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے
ان کی موت ہو گئی
بے شعور لوگ ہیں
زندگی کا روگ ہیں
اور تیرے پاس ہے
ان کے درد کی دوا
میں نے اس سے یہ کہا
تو خدا کا نور ہے
عقل ہے شعور ہے
قوم تیرے ساتھ ہے
تیرے ہی وجود سے
ملک کی نجات ہے
تو ہے مہر صبح نو
تیرے بعد رات ہے
بولتے جو چند ہیں
سب یہ شر پسند ہیں
ان کی کھینچ لے زباں
ان کا گھونٹ دے گلا
میں نے اس سے یہ کہا
جن کو تھا زباں پہ ناز
چپ ہیں وہ زباں دراز
چین ہے سماج میں
بے مثال فرق ہے
کل میں اور آج میں
اپنے خرچ پر ہیں قید
لوگ تیرے راج میں
آدمی ہے وہ بڑا
در پہ جو رہے پڑا
جو پناہ مانگ لے
اس کی بخش دے خطا
میں نے اس سے یہ کہا
ہر وزیر ہر سفیر
بے نظیر ہے مشیر
واہ کیا جواب ہے
تیرے ذہن کی قسم
خوب انتخاب ہے
جاگتی ہے افسری
قوم محو خواب ہے
یہ ترا وزیر خاں
دے رہا ہے جو بیاں
پڑھ کے ان کو ہر کوئی
کہہ رہا ہے مرحبا
میں نے اس سے یہ کہا
چین اپنا یار ہے
اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں ہے جو نظام
اس طرف نہ جائیو
اس کو دور سے سلام
دس کروڑ یہ گدھے
جن کا نام ہے عوام
کیا بنیں گے حکمراں
تو ''یقیں'' ہے یہ ''گماں''
اپنی تو دعا ہے یہ
صدر تو رہے سدا
میں نے اس سے یہ کہااکثر لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ یہ نظم حبیب جالب نے پاکستانی عوام کے بارے میں لکھی تھی یہ درست نہیں  بلکہ یہ  ایک عظیم شاعر  جو  صدر  کا مشیر تھا اور صدر پاکستان کے درمیان ایک  خیالی مکالمہ ہے جس میں مشیر نے صدر کے سامنے پاکستانی عوام کیلئے اپنی رائے کا  اظہار کیا تھاشعراء اور ادیب ہی عوام کی سوچ کی سمت کا تعین کرتے ہیں  جب بھی قوموں پر مشکل وقت آئے جب بھی قوموں پر بحران آئے جب بھی اقوام عالم میں سے کسی کی آزادی کو چھینا گیا تو یہ شاعر  اور ادیب ہی تو تھے جنہوں نے شاعری  اور نثر نگاری  کے ذریعے  اپنی  سوئی ہوئی قوم کو جگایا یا ان  کیلئے  درست سمت کا تعین  بھی کیا چاہے مولانا حسرت موہانی ہوں چاہے مخدوم محی الدین ہوں  یا مولانا ظفر علی خان ان سب نے انگریزی سامراج کے خلاف اپنا ایک بھرپور کردار اداکیا تھا آج کا پاکستان بھی   شدید بحران کا  شکار ہے  چاہے دہشت گردی کا معاملہ ہو  کرپشن کا معاملہ ہو ی،جمہور کی حکمرانی کا معاملہ ہو یا پاکستان کی آزادی اور بالادستی  کی بات ہو مذہبی قوانین  کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا معاملہ ہو  یا اس ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی ہو موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ  شعراء  حضرات نثرنگار حضرات اپنی شاعری اور نثر نگاری کا رخ  حالات حاضرہ کی طرف موڑدیں اخبارات  اپنے  قیمتی صفحات  قوم  کی درست رہنمائی اور الیکٹرانک  میڈیا قوم  کی درست  رہنمائی   کیلئے  اپنا وقت   قوم کی فلاح وبہبود  کیلئے مقرر کریں   اور قوم کو مایوسی سے نکالنے کیلئے  ہربحران کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا ایک بھرپور کردار ادا کریں یہ الگ بات ہے کہ  بقول  سابق  چیف جسٹس  مغربی  پاکستان  ایم  آر کیانی   مرحوم   جنہوں  نے ایوب خان کے مارشل  لاء  کے خلاف سب سے  پہلے 1958 میں  کراچی  بارایسوسی ایشن میں آکر  آواز بلند  کی تھی   اور  اپنی  تقریر  میں قانون کی حکمرانی   پر اصرار کیا تھا  انہوں نے  1962 میں ریٹائرمنٹ  کے موقع  پر  جاتے جاتے بھی آمریت پر آخری نشتر  یہ کہہ کر چلایا تھا کہ " میری غلطی ۔۔قانون کی حکمرانی پر اصرار تھا "

خانہ بدوش ، زمین دار اور گورنر ۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



خانہ بدوش ، زمین  دار  اور گورنر ۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان ایک  دفعہ  کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ سلامت  کے سامنے  چوری کے تین  ملزمان  پیش کیئے گئے
بادشاہ نےچوری کے تینوں ملزمان سےپوچھاکہ کہ  تم  تینوں کے والدین   کیاکرتے ہیں
پہلے چورنےکہاکہ میرا باپ  خانہ بدوش ہے   اورمیں خودبھی خانہ بدوش  ہوں دوسرے نے کہاکہ میں فلاں زمیندار کا بیٹا ہوں  اورفارغ ہوں کوئی کام  نہیں  کرتا ہوں تیسرے نے  خاموشی اختیارکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بادشاہ نےکہاکہ جواب دووالدکیاکام  کرتے ہیں تیسرے  چورنےکہاکہ  میرے والدصاحب صوبے کے گورنر تھے  یہ کہہ کر چور نے خاموشی اختیار کی
بادشاہ  نےحکم  دیا کہ   خانہ بدوش  کا ناک کاٹ دوزمیندارکے بیٹے کو دوکوڑے مارواورگورنر کے بیٹے کو انتہائی غضب ناک نظروں سے دیکھادومنٹ کے بعدانتہائی غصے سےکہاکہ شرم نہیں آتی بے شرم گورنرکے بیٹے ہوکر چوری چکاری کرتے ہو   دور ہوجاؤ  میری نظروں کے سامنے سے باپ کی بھی عزت کا خیال نہیں
حکم کی تعمیل ہوئیدرباریوں نے بادشاہ سےکہاکہ  ایک ہی جرم کی تین الگ الگ سزابادشاہ نے کہاکہ  اس کا نتیجہ کل سامنے آجائے گا
دوسرے دن  خانہ  بدوش کا بیٹا جس کی ناک کاٹ دی گئی تھی چوک پر  کھڑا ناچ  رہا تھازمیندار کا بیٹا   شہر چھوڑ کرچلا گیا تھا  اورگورنر کے بیٹے سے بادشاہ کے دربار میں  ہونے والی   بے عزتی برداشت  نہ ہوسکی  اس نے شرم کے مارے   خودکشی کرلی بہت سے  لوگ سزاؤں کے  اصلاحی نظریئے کے بارے میں نہیں جانتے اور بہت سے لوگ شاید یہ بھی نہیں  جانتے کہ   صرف ہتھکڑی لگانے کا احساس ہی  کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے ایک ملزم کو جب پولیس گرفتارکرکے تھانے لاتی ہے جب اس کو لاک اپ میں رکھا جاتا ہے اور جب اس کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے  اور عدالت سے  جیل بھیجنے کیلئے جب اس کو قیدیوں کے مخصوص لاک اپ میں جمع کروایا جاتا ہے اور وہاں سے قیدیوں کے لیئے مخصوص گاڑی میں میں جب اس کو جیل لیجایا جاتا ہے  اور وہاں سے جب اس کی  آمد کا اندراج جیل میں کیا جاتا ہے تو یہ سب کے سب مراحل کتنے تکلیف دہ ہیں ان کو نہ تو محسوس کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس ذلت اور تکلیف کو کوئی محسوس کرسکتا ہے  کسی بھی باعزت شخص کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کیلئے یہ تمام مراحل ہی کافی ہیں  پولیس کی حراست میں جانے والے  باعزت افراد عمر بھر اس احساس ندامت سے باہر نہیں نکل پاتے اور دوران حراست ان کی عزت نفس کو جو ٹھیس پہنچی تھی وہ اس احساس سے بھی عمر بھر نہیں نکل سکتے دنیا بھر میں قیدیوں کی اصلاح کیلئے  مختلف طریقے موجود ہیں جن میں سے ایک پروبیشن کا طریقہ بھی موجود ہے جو پاکستان میں رائج ہے  اور ایسے لوگ جو پہلی بار پولیس کی حراست میں جاتے ہیں  ان پر اگر ٹرائل کے دوران جرم ثابت ہوجائے اور سزا دوسال ہو  تو   عدالت سزا کے بعد ایسے شخص کو پروبیشن آفیسر کے حوالے کرسکتی ہے دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی جج کیلئے سب سے مشکل مرحلہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ  کسی  ملزم کے مقدمے کا فیصلہ کرتا ہے ایک بار میں اپنے ایک دوست جج کو ملنے گیا  تو وہ ابھی عدالت میں ہی تھے میں انتظار کرنے لگا کہ وہ عدالت سے چیمبر جائیں  گے تو ملاقات ہوگی اسی دوران جج صاحب نے ایک مقدمے کا فیصلہ سنانے کیلئے ملزم کو بلایا ملزم ہتھکڑی میں تھا اور اس پر قتل کا الزام تھا  جج صاحب نے   ملزم کو چارج پڑھ کر سنایا کیس میں پیش ہونے والے گواہوں سے متعلق بتایا  بعد ازاں ملزم کو  الزام ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی   جس  کے بعد وہ اپنے چیمبر میں چلے گئے  اسی دوران ملزم کی ماں   بہن اور بیوی نے  عدالت کے باہر رونا اور بین کرنا شروع کردیا ملزم کے  کم عمر بچوں نے بھی رونا شروع کردیا  پولیس افسر ملزم کو عدالت سے دور لے گیا  مجھے  پیش کار نے بتایا کہ صاحب کی طبیعت خراب ہے وہ آج نہیں مل سکتے  اسی دوران انہوں نے ڈرایئور کو بلایا  اور چند ہی منٹ میں وہ عدالت سے گھر کیلئے روانہ ہوگئے بعد ازاں تین دن کے بعد مجھے بلایا میں چیمبر میں ملنے گیا تو  انہوں نے بتایا کہ کسی کو سزا سنانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ایک انسان کی بیوی بچے بوڑھے ماں باپ اور جوانی ہمارے سامنے ہوتی ہے   جرم ثابت ہونے کے باوجود بھی دل نہیں چاہتا کہ کسی جیتے جاگتے انسان کی جوانی بربادکردیں لیکن   ہماری مجبوری ہے ہمارا یہ فرض ہے کہ مجرم کو کیفرکردار تک پہنچائیں    اور ہم ملزمان کو کیفرکردار تک  پہنچاتے ہیں یہ ہمارا فرض بھی ہے اور ڈیوٹی بھی ہے  لیکن سزا دینے کے بعد  کے بھی مراحل ہیں ملزمان کی آنکھوں کی حسرت  اس کی  برباد جوانی  ان کے بیوی بچوں  کی امیدیں  سب ٹوٹ جاتی ہیں  اس لیئے افسوس ضرور ہوتا ہے  یہی  وجہ تھی کہ ملزم کو سزا سنانے کے بعد  میرے لیئے ممکن نہ رہا کہ میں عدالت میں موجود رہتا اس لیئے اس دن جلدی گھر چلاگیا  ایسا نہیں ہے کہ ملزمان سے مجھے کوئی ہمدردی ہے  لیکن ایک خاص مقام پر آکر ہمیں افسوس ضرور ہوتا ہے اس لیئے ہم کئی بار یہ سوچتے ہیں کہ کسی کی جوانی برباد نہ ہو اور جن کی سزا کم ہو  ان کو ہم  پروبیشن پررہا کردیتے ہیں دنیا بھر میں سزاؤں کے حوالے سے بہت سے نظریات موجود ہیں  لیکن پوری دنیا میں اس بات پر تو اتفاق ہے کہ سزا کا مقصد اصلاح ہو اور ملزم جیل سے رہا ہوکر  جب دوبارہ معاشرے میں واپس آئے تو  ایک اچھی زندگی بسر کرے اور معاشرے کیلئے ایک اچھا فرد ثابت ہو گزشتہ دنوں  یہ خبریں  کراچی سے آنا شروع ہوئیں کہ  ججز نے انوکھی سزائیں  سنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کے تحت ملزم کو یہ سزا دی گئی کہ وہ ہرہفتے روڈ کے کنارے مصروف شاہراہ پر پلے کارڈ پکڑ کر کھڑا ہوگا جس  پر ٹریفک قوانین     کی پابندی کے متعلق  لکھا ہوگا اسی طرح  بعض  ملزمان کو یہ بھی سزائیں دی گئیں کہ وہ کسی اسپتال   یا مسجد کی صفائی کریں اور اس طرح اپنی سزا معاشرے کے اندر رہ کر ہی مکمل کریں  سندھ ہایئکورٹ نے ان سزاؤں کا نوٹس لیا اور ججز کو اس قسم کی سزائیں سنانے سے روک دیا ہے کیونکہ  پاکستان میں ابھی سماجی سزاؤں کے حوالے   سے  ابھی  قانون سازی نہیں ہوئی ہے ماضی میں ایک کھلی جیل کا  تصور بھی رہا ہے بدین کے مقام پر   ایک بہت بڑی اراضی  جیل کی تھی جہاں ملزمان اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے تھے اور سزایافتہ  ملزمان  کھیتی باڑی کرکے وہ اناج اگا کر  جیل حکام کو بھجوادیا کرتے تھے   اس طرح وہ اپنی سزا مکمل کیا کرتے تھے   اس اراضی کے اردگرد کوئی باڑ بھی نہیں تھی اس کے باوجود ملزمان اپنی سزا مکمل کرکے ہی جاتے تھے دوسری طرف  اس طرح جیل کی گندم اور سبزی وغیرہ کی ضروریات بھی پوری ہوتی تھیں  اب یہ سلسلہ مکمل طورپر ختم ہوچکا ہے ضرورت اس عمل کی ہے  صوبے  سماجی سزاؤں کے حوالے سے ملزمان کی اصلاح کیلئے قانون سازی کریں تاکہ  ملزمان  کی سزاکے دوران اصلاح بھی ہو اور ملزمان معاشرے کے ایک مفید فرد کے طورپر اپنی زندگی بھی گزارسکیں  اس طرح جیلوں میں قیدیوں کا دباؤ بھی کم ہوگا اور  فی کس قیدی اخراجات کی مد میں بھی بچت ہوگی دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری جیلیں  ملزمان کیلئے جرائم کے تربیتی ادارے ثابت ہورہی ہیں اور اکثر ملزمان جیل جا کر عادی مجرم بن کرہی نکلتے ہیں   اس لیئے  قیدیوں کی اصلاح کیلئے   ایسی قانون سازی کی ضرورت  ہے جس کے زریعے ملزمان کو سماجی قسم کی سزائیں سناکر  قیدیوں کی اصلاح کی جاسکے  

ہم نے اپنا ملال بیچ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان

ہم نے اپنا ملال بیچ دیا (9 اپریل 2008 سانحہ طاہر پلازہ)تحریر صفی الدین اعوان  9 اپریل 2008  دوپہر 01:00 بجے کا وقت بسوں میں بھر کرلائے  گئے  دو درجن سے زائد مسلح افراد کو لائٹ ہاؤس کے قریب بلدیہ عظمٰی کراچی کی  قدیم بلڈنگ کی بغلی سڑک  پر  اتارا گیا  تھا جہاں سے کچھ  دیر کے بعد  وہ  پارکنگ  والے گیٹ سے سٹی کورٹ میں داخل ہوئے اور دندناتے ہوئے  کراچی بارایسوسی ایشن کی عمارت کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے عمارت میں گھس  گئے ان کے پاس  تحریک میں متحرک وکلاء کی تصاویر اور چند نام تھے  مسلح افراد کو سردار طارق خان نیازی ، نصیر عباسی ، شہریار شیری اور چند دیگر وکلاء رہنماؤں کی تلاش  تھی  کمیٹی روم میں حسن بانڈ صاحب  موجود تھے اس سے سردار طارق نیازی کے بارے میں پوچھا  نفی میں جواب ملنے پر کہا اوئے تیرے بارے میں بھی اطلاع ہے تم بھی بہت  چخ  چخ کرتا ہے  یہ کہہ کر مسلح افراد نے گالیاں  بکنے کے بعد  حسن بانڈ  ایڈوکیٹ کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا   جس کے بعد درجنوں مسلح افراد  خواتین وکلاء کے بارروم میں داخل ہوئے   خوش  قسمتی سے کمرہ خالی تھا  جس کے بعد  لیڈیز بارروم کو آگ لگادی گئی وکلاء کراچی کے ضلع وسطی کی عمارت میں جمع ہوگئے تھے  میں  ضلع وسطی کی بلڈنگ کی  فرسٹ فلور کی کھڑکی سے یہ مناظر دیکھ رہا تھا کہ لیڈیز بارروم سے دھواں نکل رہا ہے اسی دوران سیشن جج  نے مجھے ڈانٹ کر بلایا اور ایک جج کے چیمبر میں جانے کا کہا  جہاں بہت سی خواتین وکلاء بھی موجود تھیں سیشن جج  قانون نافذ کرنے والے اداروں سے  مسلسل  رابطہ کررہے تھے وہاں  بہت سے وکلاء  موجود تھے کورٹ کا  بیرونی گیٹ بندکردیا گیا تھا  اسی دوران مسلح افراد جلاؤ گھیراؤ کرتے ہوئے   اسی راستے سے  بلدیہ عظمٰی  کراچی  کی بلڈنگ  سے لائٹ ہاؤس کی طرف واپس لوٹ گئے اور ایم اے جناح روڈ  پر آگئے جہاں  سامنے سے شہریار شیری  پیدل  چلتا  ہوا آرہا تھا  مسلح افراد کو اسی کی تلاش تھی  شیری   وکلاء تحریک میں نعرے بہت لگاتا تھا  مسلح افراد کے للکارنے  پر شہریار شیری نے ایک بار پھر  نعرہ لگایا مسلح افراد نے  شہریا ر شیری کو ایم اے جناح روڈ پر ہی گولیاں مارکر شہریار شیری کو شہید کیا اور  غلہ منڈی والے روڈ  پر کھڑی وکلاء کی  کاروں کو نزرآتش کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ان کے پاس ایک مخصوص کیمیکل تھا جو فوری آگ پکڑلیتا تھا  تقریباً دوسو گاڑیوں کو آگ لگانے کے بعد مسلح افراد غوثیہ مرغ چھولے پہنچے  ان  کے عملے سے  نصیر عباسی  اور دیگر وکلاء رہنماؤں کے آفس کی نشاندہی کرنے کو کہا نفی میں جواب ملنے پر تمام  دیگیں الٹ دی گئیں اور رزق کی بے حرمتی کی گئی  بعد ازاں مسلح افراد طاہر پلازہ میں داخل ہوئے فرسٹ فلور پر اسٹاف کو تشدد کا نشانہ بنایا  پانچویں اور  چھٹے فلور پر کراچی بارایسوسی ایشن کے عہدیداران کو تلاش کیا  نصیر عباسی کو تلاش کرتے ہوئے وہ الطاف عباسی کے آفس     جا پہنچے  جہاں وہ اپنے آفس میں   باہر کے حالات  سے بے خبر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے   آفس میں  پانچ معصوم شہری بھی  اپنے مقدمات  کے سلسلے میں موجود تھے جو اپنے مقدمات کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے  جب مسلح افراد کو اس  بات کی تصدیق ہوگئی  کہ اندر لوگ موجود ہیں تو  آفس کی کھڑکی سے    گولی سے استعمال  ہونے والا کیمیکل پھینکا  اور گولی چلادی  جس کے بعد آفس میں  شدید آگ بھڑک اٹھی الطاف عباسی اور ان کے آفس میں موجود افراد نے جان بچانے کیلئے  آفس سے نکلنے  کی کوشش کی  مگر باہر سے تالا ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہیں نکل سکے   چیخوں کی  آوازیں   پلازہ  میں گونجتی  رہیں  اور الطاف عباسی سمیت چھ افراد ان کے آفس  کے اندر  ہی  جل کر شہید ہوگئے   جنگ میں استعمال ہونے والے کیمیکل کی وجہ سے انسان تو انسان آفس کے  لوہے کے دروازے  پلستر کی دیواریں  اور پنکھے تک پگھل گئے اور لاشیں جل کر کوئلہ اور ناقابل شناخت ہوگئیں   مسلح افراد نے طاہر پلازہ کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ شروع کیا  اور دوفلور زکو آگ لگا کر اطمینان سے بسوں میں بیٹھ کر واپس روانہ ہوگئے طاہر پلازہ میں موجود وکلاء نے ساتھ والی بلڈنگ میں کود کر اپنی جان بچائی  لیکن طاہر پلازہ کے بیرونی مناظر اس سے بھی زیادہ خطرناک تھے  سینکڑوں کی تعداد میں  گاڑیاں جل رہی تھیں اور وکلاء اپنی  گاڑیوں کو حسرت سے  جلتا ہوا دیکھ رہے تھے  اسی دوران فسادیوں نے ملیر بارایسوسی ایشن کی بلڈنگ اور دیگر املاک کو  بھی جنگی کیمیکل سے جلا کر تباہ وبرباد کردیا  کوئی جانی نقصان  تو نہیں ہوا  لیکن بار کی عمارت اور فرنیچر  مکمل طورپر تباہ برباد ہوگئے وکلاء کی دوسوسے زائد  کاروں ،طاہر پلازہ  اور ملیر بارایسوسی  ایشن  کی   عمارتوں  میں  لگائی  گئی  آگ کو بجھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی فائر  بریگیڈ کی گاڑیاں  پانی کے بغیر ہی پہنچ گئے جب سب کچھ جل کر خاک ہوگیا تو آگ خود ہی بجھ گئی ہم بڑی حسرت سے  کاروں اور طاہر پلازہ  سے اٹھتا ہوا دھواں  دیکھ رہے تھے شام کو کئی وکلاء   کوان کی گھریلو خواتین اور بچوں کو مسلح افراد نے  ان کے گھر وں میں جاکر تشدد کا نشانہ بنایا گیا  فلیٹ نذر آتش کیئے گئے اور گاڑیوں کو آگ لگائی گئی  طاہر پلازہ  چھٹی منزل پر ہرجگہ گوشت اور خون کے لوتھڑے  چپکے ہوئے تھے جلی ہوئی لاشوں کو کس طرح اور کس نے نکالا یہ کوئی نہیں جانتا   اس ظلم اور جبر کے باوجود اگلے  ہی روز کراچی بارایسوسی ایشن کی جنرل باڈی  شہداء پنجاب  ہال  میں  منعقد ہوئی یہ تاریخ  کی شاید وہ پہلی جنرل باڈی تھی جس میں  وکلاء کے پاس  بیان کرنے کیلئے کچھ نہیں تھا  صرف آنسو اور دبی دبی سی چیخیں تھیں  لیکن آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہیں تھا بہت سے وکلاء تقریر کرنے کیلئے ڈائس پر آتو جاتے تھے   مائک  بھی ہاتھ میں پکڑتے تھے  لیکن  بات کرنے کی ہمت اور حوصلہ کہاں سے لیکر آتے   بڑے بڑے وکلاء اس دن  تقریر کی ہمت پیدا نہیں کرسکے  کہتے بھی تو کیا کہتے  کہنے کیلئے کچھ بچا ہی کہاں تھا  جنرل باڈی اجلاس  سے خطاب کرنے والے مقررین   کچھ دیر آنسو بہاتے تھے ، رونے کی دبی دبی  آوازیں آتی تھیں بعد ازاں  مقررین  کی ہچکیاں  بندھ  جاتی تھیں    لیکن سامعین کے  رونے  اور ہچکیوں  کی آوازوں میں مقررین کے رونے  اور ہچکیوں  کی آوازیں دب جاتی تھیں اس دن تو حوصلہ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا جب رورو کر آنسو  بھی خشک ہوگئے تو جنرل باڈی کا اختتام ہوا  ،وکلاء طاہر پلازہ کی طرف روانہ ہوئے جلی ہوئی بلڈنگ سے ابھی بھی دھواں اٹھ رہا تھا  جلے ہوئے انسانی گوشت کی بو ابھی بھی موجود تھی اور انسانی گوشت کے لوتھڑے ابھی بھی موجود تھے  ہم وکلاء ہی ان گوشت کے لوتھڑوں کے لواحقین تھے ہم ہی ان کے شہدا کے وارث تھے  اگلے چند مہینوں کے بعد  طاہر پلازہ کے مکینوں نے دوبارہ سے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا  وقت بھی تو ایک مرہم ہے  ہمیں اپنے شہید دوستوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے  بدقسمتی سے  9 اپریل کو پورے پاکستان میں کسی وکلاء تنظیم نے  9 اپریل  طاہر پلازہ کے شہداء کو یاد نہیں کیا ان کی یاد میں کسی بھی  جگہ یوم سیاہ نہیں منایا گیا  کوئی جنرل باڈی منعقد نہیں ہوئی   سوائے ناہید افضال  ایڈوکیٹ  صاحب اور شبانہ ایڈوکیٹ صاحبہ  اور ان کے دیگر دوست  احباب   جو ہرسال  اس موقع  پر طاہر پلازہ میں قرآن خوانی  کرواکر شہدا کو یاد کرتے ہیں مفلسی میں وہ دن بھی آئےہیں
ہم نے اپنا ۔۔۔۔۔ملال بیچ دیا
تحریر صفی الدین اعوان سیکرٹری نشرواشاعت  پاکستان مسلم لیگ ن لائرزفورم کراچی ڈویژن

ون مین آرمی ناقابل شکست فوج ۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان









ون مین آرمی  ناقابل شکست فوج ۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
زیادہ پرانی بات نہیں ابھی یہ  چند سال پہلے  انیس سونونے کی دہائی  یعنی  کل ہی کی تو بات ہے کہ   کراچی کے ڈسٹرکٹ کورٹس میں رشوت کا دور دورہ تھا  اور فلورنگ  رشوت کی بدترین شکل تھی  پیسہ گھن آ تے آرڈر گھن ونج۔۔۔۔لے آ لے آ لے آ لے آ مال لے  آ۔۔۔۔۔کھنی اچ کھنی اچ  پیسہ کھنی اچ  آرڈر کھنی ونج
پاکستان  اور عدالتوں میں رشوت کی تاریخ بہت پرانی ہے  پاکستان کے ہرادارے کی طرح   عدلیہ کا دارہ  اس سے کیسے محفوظ رہ سکتا تھا  ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک وقت وہ بھی آیا جب  عدالتوں کے پورے فلور کے فلور  پر جرائم پیشہ عناصر وکیل کا یونیفارم پہن کر قبضہ کرلیتے تھے  اس  مقبوضہ  علاقے  میں پریکٹس کو فلورنگ کہا جاتا تھا  "فلورنگ" کرپشن کی بدترین شکل تھی  زیر حراست افراد سے  جعلی وکیل  زبردستی وکالت نامے دستخط کروا کر معاملات طے کرلیئے جاتے تھے وکالت نامے کے ساتھ ہی  دو آرڈر تیار ہوجاتے تھے پہلا آرڈر ملزم کو جیل بھیجنے کا دوسرا  ریلیز آرڈر بننا شروع ہوجاتا تھا   یعنی ملزم  کی رہائی  کا  ضمانت کی درخواست لکھنا اور پراسیکیوشن کو نوٹس پرانی تاریخوں میں بعد میں ہوجاتے تھے   ضلع کا بڑا ساب بڑا لفافہ لے لیا کرتا تھا  وہ نظام الگ سے قائم تھا فلورنگ کرنے والے جرائم پیشہ عناصر صرف وکالت نامے اور لفافے کا بندوبست کرتے تھے اگلا کا م ساب لوگ کرتے تھے لیکن  ساب لوگوں  کو   ڈائریکٹ ڈیل کی اجازت بھی نہیں ہوتی تھی ساب کا اسٹاف ریلیز بھی بناتا تھا اور ضمانت کی درخواستیں بھی لکھ لکھ  کر فائل کا خالی پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کرتا تھا جرائم پیشہ عناصر نے مافیا کی طرح   پورے کے پورے فلور قبضہ کیئے ہوئے ہوتے تھے  اور ایک عام وکیل کو کسی صورت پریکٹس کی اجازت نہیں ہوتی تھی عام وکیل کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا   عام وکیل صرف سول کیسز ڈیل کرتا تھا اس وقت  ساب لوگوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ رشوت لینا ان کا بنیادی حق ہے یہ سوچ آج بھی قائم ہیں  ۔۔۔۔۔سنا ہے جرائم پیشہ لوگ بہت ظالم تھے   سب کچھ لوٹ لیتے تھے  بہت سے جرائم پیشہ لوگ اور ان کے ساب لوگ ساتھی   برے انجا م سے دوچار ہوئے قدرت کے انتقام سے کوئی نہ بچ سکا  لیکن  گنتی  کے ایک دو دانے  آج بھی حیات ہیں
پھر  ڈسٹرکٹ  کورٹس سے فلورنگ کا خاتمہ ہوگیا کس طرح  ہوا اس حوالے  سے تاریخ خاموش ہے  لیکن اعلٰی عدلیہ میں فلورنگ ایک  نئے انداز سے سامنے آئی جس کا ذکر بعد میں ۔۔۔۔۔بعد ازاں فلورنگ والے جج برطرف ہوئے  بہت سے آج بھی موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔جرائم پیشہ عناصر غائب ہوگئے کچھ مرکھپ گئے کچھ تائب ہوگئے اور  کچھ نے تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر حج و عمرہ کرکے   اللہ اللہ شروع کردیا  لیکن کوئی بھی ظالم اللہ کی پکڑ سے بچ نہ سکا   فلورنگ کرکے ظلم کرنے والے ہرکردار کو دنیا میں ہی سزا ملی  اور ملے گی جب ہم آئے تو فلورنگ کا سلسلہ  مکمل طورپر ختم ہوچکا تھا    لیکن  فلورنگ  کے خاتمے کے بعد ساب لوگ  اپنے اسٹاف  کے زریعے  یا براہ  راست   ڈیل  کرنے کی کوشش  کرتے تھے  یہ سلسلہ بھی کافی عرصہ کامیابی سے چلا اور آج بھی  کسی  حد تک موجود ہے    عجیب وغریب ٹیڑھی شکلوں والے ساب لوگ ہوا کرتے تھے   ایک تو شکل ٹیڑھی دوسرا منہ سے بات نہ کرنا  تیسرا نیت میں فتور ہم نے وکالت کی کوشش کی ابتدا میں  ناکا م رہے اس وقت جس پیشے کو وکالت کہا جاتا تھا  وہ وکالت ہرگز ہرگز نہ تھا میں وکالت سے دلبرداشتہ اس وقت ہوا جب میرے پاس ایک بہت ہی  زبردست  نوعیت  کا کیس آیا   اس کیس کی نوعیت کچھ اس قسم کی تھی کہ میرے کلائینٹ کو سرعام گولیاں ماردی گئی تھیں   موقع کے چشم دید  گواہان موجود تھے   ایف  آئی آر  بروقت  تھی   مختصر یہ کہ  ضمانت  مسترد  کرنے کے سارے لوازمات  پورے  تھے سپریم کورٹ  کے بہت سے  کیس لاء موجود تھے  جن کی روشنی میں مجھے یہ غلط فہمی ہوچکی تھی  کہ ملزم کی ضمانت مسترد ہوجائیگی بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا ساب منہ سے بات کرتا ہی نہیں تھا اور لوگ کہتے تھے کہ یہ اصول کا بہت پکا ہے  بعد ازاں کافی عرصہ لٹکانے  کے  بعد ساب نے ضمانت کی درخواست منظور کرلی  یہ تو مجھے اندازہ تھا کہ ساب نے مال پکڑا ہے لیکن کچھ عرصے بعد یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ ساب نے  اس کیس میں  صرف دو بلیک بیری  فون سیٹ لیئے تھے حالانکہ   اس کیس میں کم ازکم دس لاکھ روپیہ آسانی سے مل سکتا تھا  یقین کریں کہ افسوس رشوت لینے پر نہ ہوا بلکہ  گھٹیا  اور کم رشوت لینے پر ہوا  مجھے یہ بھی افسوس ہوا کہ میں نے میرٹ کا راستہ  کیوں چنا کیونکہ ہماری پارٹی اس سے زیادہ اچھے موبائل فون دے سکتی تھی  منہ مانگا پیسہ دے سکتی تھی خیر اس قسم کے بہت سے واقعات روزانہ معمول کا حصہ تھے
ذاتی طورپر میں اس واقعہ کے بعد  بہت دلبرداشتہ ہوا اور سوشل سیکٹر میں چلا گیا  لیکن وکالت سے تعلق  برقرار رکھاپھر عدالتی اصلاحات کا سلسلہ شروع ہوا  لیکن ججز کا رویہ درست نہ ہوا  چند خاندانی لوگ تو منہ سے بات کرلیا کرتے تھے میں نے اپنی آنکھوں سے صرف ڈبل سواری کے ملزمان کو  جیل جاتے ہوئے دیکھا   نااہلوں کو یہ احسا س تک نہ ہوتا تھا کہ انسانی حقوق بھی کوئی چیز ہوتے ہیں یہ ادارہ انصاف کا  ادارہ ہے
پھر وقت نے ایک اور کروٹ لی  پیسہ کھنی اچ کھنی اچ  کھنی اچ کا سلسلہ وقتی طور پر اس وقت دم توڑ گیا  جب بہت بڑی تعداد میں ججز کو قانونی  تقاضے پورے کرنے کے بعد  جھاڑو پھیر کر  پیسے جمع کرنے کی نوکری سے فارغ کردیا گیا  لیکن پھر بھی  متاثرین بجائے رونے دھونے کے اگر جمع شدہ مال   طریقے سے خرچ کریں تو وہ لوگ اتنا مال جمع کرچکے تھے کہ مرتے دم تک گھر بیٹھ کر کھاسکتے ہیں  اس کے باوجود بہت سے لوگ شکوے کرتے پھررہے ہیں  اس کے بعد اب ججز کا رویہ کافی بہتر ہوچکا ہے اور بہت  سے لوگ اب منہ سے بات کرتے ہیں وقت کی دوسری کروٹ یہ تھی کہ نوجوان وکلاء میں سے میرٹ کی بنیادپر ججز  بھرتی ہوگئے  اور وہ چونکہ رشوت دے کر نہیں آئے تھے اس لیئے وہ رشوت نہیں لیتے ہاں وہ ناتجربہ کار ضرور ہیں لیکن وہ منہ سے بات کرتے ہیں  برابری کی بنیادپر بات کرتے ہیں  یہ لوگ بہت اچھے ہیں وقت کی ایک اور کروٹ یہ ہے کہ  پیشہ وکالت میں تبدیلی آئی ہے  ترقی کے بے شمار مواقع سامنے آرہے ہیں  اگر کسی بھی وکیل میں قابلیت نام کی ذرا سی بھی کوئی چیز ہے تو وہ اچھا خاصا کما رہا ہے  اب اس پورے سسٹم میں  صرف تین مسئلے باقی بچ گئے ہیں پہلا مسئلہ مشکوک نوعیت کی بھرتی والے بڈھے جج ہیں    یہ زیادہ تر  انیس سو نوے  کی دہائی میں  رشوت دے کر بھرتی  ہوئے تھے  یہ مایوس عناصر ہیں  اگر کوئی جج بحیثیت جوڈیشل مجسٹریٹ آج سے دس سال پہلے بھرتی ہوا تھا اور اس کا پروموشن نہیں ہوا  اور وہ آج بھی جوڈیشل مجسٹریٹ  ہے تو اس کو خود ہی  یہ نوکری چھوڑدینی   چاہیئے  صاف  ظاہر ہے کہ  آپ سینیارٹی   اور قابلیت  کے معیار  پورا  نہیں  اترے آپ لوگ اس  نوکری پر لعنت بھیجیں استعفٰی دیں اللہ پر یقین رکھیں    اور پریکٹس شروع کردیں  اب ایک  لاکھ روپے کی معمولی نوکری کیلئے  انسان کو اتنا بھی نہیں گرنا چاہیئے ادارہ سینیارٹی کی بنیاد پروموشن نہیں دے رہا تو  بجائے  ہروقت عدالت میں روٹھی ہوئی بیوہ کی طرح شکل بناکر بیٹھ  کر اور بازو کی آستین  سے  بار بار ناک صاف کرکے  مایوسی  کے اندھیرے پھیلانے سے ہزار درجے  یہ بہتر ہے کہ استعفٰی لکھ کر جمع کروادیں اور وکالت شروع کردیں ہمارے سامنے تین جوڈیشل مجسٹریٹس کی مثال موجود ہے ایک کو پروموشن نہیں ملی دوکو ہایئکورٹ نے غلط شوکاز بھیجے تو بجائے ذلیل ہونے کے ان لوگوں نے  غیرت کا مظاہرہ  کرتے  ہوئے استعفٰی کو ترجیح دی اور نوکری پر لعنت بھیج کر  "ون مین آرمی " یعنی  وکالت کی آزاد زندگی شروع کردی نہ کسی شوکاز کا خوف نہ کسی  کی بلاوجہ کی جواب طلبی اور آج وہ پہلے سے زیادہ خوشحال زندگی  بسر کررہے ہیں  آمدن کے لحاظ سے اور ہر لحاظ سے  وہ لوگ پہلے سے بہتر ہیں دوسری طرف وہ جوڈیشل مجسٹریٹ جن کی نوکری کو دس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا  وہ ناسور بننا شروع ہوجاتے ہیں اور پندرہ سال کی نوکری والے نہ صرف ناسور بن چکے ہیں   بلکہ ادارے اور دھرتی دونوں پر ایک مستقل بوجھ چکے ہیں  سپریم کورٹ کو چاہیئے کہ  وہ نئی قانون سازی کروائے اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی نوکری کو دس سال تک محدود کردے اس دوران جو مجسٹریٹ پروموشن حاصل نہ کرسکے اس کو تھوڑی بہت پنشن دے دلا کر  مکمل عزت اور احترام سے رخصت کردےکیونکہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے یہ مایوس قسم کے بڈھے  مجسٹریٹس پورے سسٹم کو خراب کرنا چاہتے ہیں اور سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ  ناسور اب نوجوان ججز کو بھی خراب کررہے ہیں  اور یہی نوجوان ججز ہی تو ادارے کا اثاثہ ہیں  اس لیئے فوری طورپر ناسور بڈھے مجسٹریٹس کیلئے گولڈن ہنڈ شیک کا اعلان کرکے ان سے فوری  نجات حاصل کی جائے   دوسرا  مسئلہ صرف کراچی میں ہے اور وہ یہ ہے کہ پندرہ ملین  روپے تک کے  سول  نوعیت  کے کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس میں چلتے ہیں جوکہ ٹرائل کورٹ ہے  سندھ ہایئکورٹ جو کہ اپیل کی عدالت ہے وہاں پندرہ ملین  روپے سے زائد کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے  اس حوالے سے تاویل پیش کی جاتی ہے کہ کیونکہ کراچی ساحلی شہر ہے اس لیئے  ہندوستان کے تمام ساحلی شہروں میں انگریز یہی اصول مقرر کرگیا تھا بھائی اب انگریز جاچکا ہے اس  انگریز کو گولی مارو دوسری بات یہ ہے کہ سندھ ہایئکورٹ  ایک اپیل کا فورم ہے یہ ٹرائل کا فورم نہیں  یہاں کیس صحیح طریقے سے ٹرائل نہیں ہوتے  نہ ہی ہوسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ  وراثت کا جو مقدمہ ایک مہینے میں  ڈسٹرکٹ  کورٹس  میں حل ہوجاتا ہے ہایئکورٹ میں وہ پورا کیس ہی ذلیل ہوجاتا ہے   اور دیوانی مقدمہ تو رل ہی جاتا ہے  اس لیئے اس  حقیقت کو تسلیم کرکے کیسز ٹرائل کا حق صرف ڈسٹرکٹ کورٹس  ہی کو ہونا چاہیئے   ہایئکورٹ  کو کیس  ٹرائل  کے سارے اختیارات  ڈسٹرکٹ  کورٹس  کو دے دینے  چاہیئں  اور یہ ہوگا ضرور ہوگا  انشاء اللہ تعالٰی سندھ ہایئکورٹ صرف اور صرف اپیل کی عدالت بنے گی انصاف کی عدالت بن کر انصاف فراہم کرے گی تیسرا اہم مسئلہ قابل احترام جسٹس صاحبان کی آل اولاد ہے  جو ہورہا ہے وہ غلط ہورہا ہے یہ آپ لوگ خود بھی جانتے ہیں   باربار وضاحت کی ضرورت نہیں لیکن یہ انکل ججز کی  فلورنگ عدلیہ زیادہ عرصہ  نہیں چلے گی  اور یہ رجحان اب  ڈسٹرکٹ کورٹس تک آگیا   موجودہ دور میں یہ بھی فلورنگ کی ایک بدترین اور جدید  گندی  شکل ہے   اور انشاءاللہ یہ فلورنگ بھی  جلد ختم ہوگی  جب دونمبر جج نہ رہے تو تمہاری اولاد کس طرح فلورنگ کرے گی ون مین آرمی  دنیا کی بہترین  تربیت یافتہ آرمی ہوتی ہے یہ خود ہی چیف آف آرمی اسٹاف ہوتے ہیں خود ہی کمانڈر اور خود ہی  جنرل  اس ناقابل شکست آرمی کو عرف عام میں لوگ وکیل کے نام سے جانتے ہیں  اور یہ قلم کی مار مارتے ہیں غیر تربیت یافتہ  وکیل لوگ اس میں شامل نہیں   اور ہر وکیل ون مین آرمی نہیں بنا سکتا

چورن پور کا مسخرہ تیسری قسط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان




چورن  کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔3"چورن پور  کا مسخرہ  "کی تیسری قسط پیش خدمت ہے  میں وضاحت کردوں کہ  تیسری قسط کا ایک ایک لفظ سفید جھوٹ پر مبنی ہے   لیکن    مردود شیطان آپ کے ذہن میں یہ وسوسہ ڈال سکتا ہے کہ یہ کہانی سچ پر مبنی ہے اس لیئے گزارش ہے کہ باوضو ہوکر  تیسری قسط پڑھیں تاکہ مردود شیطان اس جھوٹی کہانی کو سچ سمجھنے پر مجبور نہ کرسکے
  مرحوم اداکار رنگیلے کی سنجیدہ فوٹو اسٹیٹ کاپی نے پولیس والے کو گھورا اور اس طرح  غصے سے دیکھا جیسے " گابھن " گائے کتے  کی طرف  دیکھتی ہے اور کہا بے ایمان کام چور ،سفارشی کلچر کی پیداوار کیوں آئے ہو کورٹ  میں
پولیس والے نے کہا کہ کورٹ سے نوٹس آیا تھا آج وہ کیس میں گواہی دینے کیلئے حاضر ہوا ہے  چورن پور کے مسخرے نے  کہا کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی  رشوت لیتے ہو  اور اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کرتے صرف تم لوگوں کی نااہلی  کی وجہ سے کیس نہیں  چلتے  صرف اور صرف تم لوگوں کی وجہ سے  کیس نہیں  چلتے  جس کے بعد تو تقریر کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا  بک بک ، چخ  چخ چخ  مسخرے نے پولیس والے کو خوب خوب لیکچر دیا اور پولیس والا بھی ہاں  میں ہاں اس طرح ملارہا تھا جیسے آج اس مسخرے کی تقریر اور وعظ سن کر توبہ کرلے گا  اور  ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رشوت لینا چھوڑ دے گا دوسری طرف مسخرہ  پورے جوش و خروش سے اپنی نہ ختم ہونے والی تقریر کا سلسلہ  جاری رکھے ہوئے تھا  وعظ تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا اس طرح پورا ایک گھنٹہ گزر گیا  پولیس والے کا  تو تقریریں  سن سن کر "ترا "  ہی  نکل گیا  وہ  پسینے میں شرابور کھڑا  تھا کہ  یہ  منحوس  مسخرہ تو تقریر کیلئے نفلوں کا بھوکا نکلا  تقریر تھی کہ  ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی   دوسری  طرف  حاظرین  محفل  اور وکلاء کے تو مزاحیہ  ڈائیلاگ  سن سن کر  پیٹ میں وٹ  ہی پڑگئے  تھے مجھے تو کئی  بار مسخرے کے مزاحیہ  ڈائیلاگ  سن سن کر اسقدر ہنسی  کا دورہ پڑا کہ  میرے تو آنکھوں سے  آنسو ہی نکل  آئے خیر خدا خدا کرکے پہلی تقریر اور وعظ کا سلسلہ ختم ہوا  اور پولیس والے کی جان چھوٹی جاتے جاتے پولیس والے نے پوچھا جی کیس کب چلے گا یہ سن کر مسخرے نے ایک بار پھر  پولیس والے کی طرف دوبارہ گندی گندی نظروں سے اس طرح دیکھا جیسا کہ  " گابھن " گائے کتے کی طرف  دیکھتی ہے اور کہا زیادہ ہمارا باپ بننے کی کوشش نہ کر کیس چلانا یا نہ چلانا ہمارا کام ہے  لیکن پولیس والا بھی کوئی بگڑا ہوا افسر تھا کہنے لگا ساب سال سے اوپر ہوگیا ہے آپ اسی طریقے سے ہر تاریخ پر مجھے تقریریں سنا سنا کر  اور تین بجے تک بٹھا  بٹھا کر واپس  بھیج دیتے ہو لیکن کیس  کبھی بھی نہیں چلاتے ہو آخر ہمارا قصور کیا ہے جو تقریریں آپ ہر تاریخ پر سناتے ہیں خدا کے واسطے کبھی خود بھی عمل کرلیا کرو آپ ہمیشہ پولیس کی غیر زمہ داری کی بات کرتے ہو ہمیں چور اور رشوت خور ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہو باربار ہمیں یہ طعنے دیتے ہو کہ پولیس والے سفارشی ہیں  لیکن ساب کیا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں کہ کبھی کیس بھی چلا لیا کرو ساب حقیقت یہ ہے کہ آپ کو بک بک کے علاوہ کچھ آتا ہی نہیں یہ  سننا تھا کہ  مسخرہ "تسے داند" کی طرح  دوبارہ بھڑک اٹھا اور پولیس والے کی دوبارہ ایسی مٹی پلید کی کہ وہ پوری زندگی کبھی کسی جج کے سامنے زبان  چلانے کی جرات نہیں کریگا  باربار ایک ہی آواز آتی تھی کہ میں تو زہر کھا کر بیٹھا ہوں ابھی جیل بھیج دونگا   یہاں میں خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ چورن پور کا مسخرہ اس صدی کا حقیقی معنوں میں سب سے بڑا مزاحیہ  فنکار ہے  کیونکہ یہ   سنجیدگی سے جس طرح سے پرفارم کرتا ہے دنیا کا بڑے سے بڑا فنکار بھی اس طرح پرفارم نہیں کرسکتا دنیا کے بڑے سے بڑے فنکار کے پاس نت نئے ڈائیلاگ کی ایک مخصوص اور محدود ورائٹی ہے لیکن مسخرے کے پاس لوگوں کو ہنسانے کی لامحدود ورائٹی ہے ہرروز نیا ڈائیلاگ  چورن پور کا   مسخرہ  عدالت میں  بیٹھے بیٹھے ایسے ایسے ڈائیلاگ مارتا ہے کہ آپ  کتنے ہی پریشان کیوں نہ ہوں  ہنس ہنس کے پیٹ میں وٹ پڑجائیں گے اور ایسے ایسے وٹ پڑیں گے جو ہفتوں ٹھیک نہیں ہوتے  جن افراد کا مثانہ کمزور ہے ان کو میرا مشورہ ہے کہ  چورن پور کے مسخرے کی عدالت کا رخ ہی نہ کریں کیوں کہ ایسا نہ کہ ہنستے ہنستے  "پشی"  ہی نہ نکل جائے   میں دعوے سے کہتا ہوں موجودہ صدی میں جتنے بھی  بڑے سے بڑے مسخرے پیدا  ہوئے ہیں   ممبئی سے لیکر ہالی ووڈ تک لیکن اتنا بڑا فن کار اور اتنا بڑا مسخرہ نہ صرف پوری دنیا بلکہ انسانی تاریخ میں آج تک پیدا ہی نہیں ہوا  لیکن یہ چورن پور کے شہریوں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے کیونکہ مسخرے کی عدالت میں ہرروز بلا ناغہ ہونے والا یہ شو صرف اور صرف چھ سے زیادہ افراد نہیں دیکھ سکتے   یہ اکیسویں صدی کے اس سب سے بڑے مسخرے اور فن کار کے فن کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے  اس لیئے میں چورن پور کے شہریوں کی جانب سے حکومت چورن پور سے مطالبہ  کرتا ہوں کہ  مسخرے کو اپنا روزانہ شو دکھانے کیلئے ایک بہت بڑا آڈیٹوریم بنایا جائے جہاں  چورن پور کے شہری براہ راست روزانہ ہونے والا شو دیکھ سکیں اسی طرح بہت سے پرایئویٹ چینل  چورن پور کے مسخرے کا صبح کا شو براہ راست دکھانا چاہتے ہیں  ان کو بھی جلد ازجلد اجازت دی جائے کیونکہ گھروں میں کام کرنے والی خواتین تو کبھی بھی اس شو میں نہیں آسکتی  ہیں  یہ عورتوں کے حقوق کی  بھی سب سے  بڑی خلاف ورزی ہے کیونکہ چورن پور میں عورتوں کا ہر سطح پر استحصال کیا جاتا ہے اور یہ استحصال  صرف اور صرف  صنف کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے  ۔ ویسے  یہ  واقعہ بھی مشہور ہے کہ جب چورن پور میں  مجاہدین آزادی کو  چورن پور کی موجودہ آسیب ذدہ بلڈنگ  میں مقدمات چلاکر  چورن پور کی بلڈنگ کے پیچھے واقع پھانسی گھاٹ میں پھانسیاں دی جارہی تھیں تو ان بدقسمت افراد میں  چورن پور  کا اس زمانے میں مشہور ترین مسخرہ  " کالو ونجی" بھی تھا کالو ونجی پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ  اس نے  مجاہدین کے سامنے انگریزوں  سے متعلق  ایک ڈرامہ پیش کیا تھا   اور انگریزی  پولیس کا مزاق  اڑایا تھا جس کی بنیاد پر جب مجاہدین کو گرفتار کیا گیا تو چورن پور کے مشہور مسخرے " کالوونجی " کو بھی  گرفتار کرکے پولیس کا مذاق اڑانے کی پاداش  میں  پھانسی پر چڑھا دیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ  کالو ونجی کی  بے قرار روح صدیوں سے اس آسیب ذدہ بلڈنگ میں بھٹک رہی تھی  جیسے ہی کالو  مسخرے کا ٹرانسفر چورن پور میں ہوا کالو ونجی کی  بے قرار روح کو بالآخر قرار مل ہی گیا  اور کالو ونجی کی روح   چورن پور کے مسخرے میں سرایت کرچکی ہے  یہی وجہ ہے کہ چورن پور کا مسخرہ   سب کو ونجی دینے کے چکر میں گھوم رہا ہوتا ہے  لیکن میں لوگوں کی اس رائے سے بالکل بھی اتفاق نہیں کرتا کیونکہ لوگ تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں  بہت سے لوگ تو یہ بکواس بھی کرتے ہیں کہ ماضی کی سابقہ بیوٹی کوئین اور ایک ڈرامے کی  مشہور زمانہ  اداکارہ کی  ادکاری  چورن پور کے ایک جسٹس کو اسقدر پسند آئی کہ اس نے دوسرے دن ہی اس سے دوستی کرکے اس کو وکالت کی ڈگری خرید کردی اور مقامی بار سے لایئسنس خریدنے کے بعد  اس کو سول جج لگادیا لیکن جب ماضی کی اس مشہور فن کارہ کا تبادلہ چورن پور کی آسیب ذدہ بلڈنگ میں ہوا تو یہاں   ایک مغل شہزادی شہزادی سلطانہ کی بھٹکتی ہوئی روح   کو بالآخر قرار مل گیا  اور اس کی روح  ماضی  کی  مشہور زمانہ اداکارہ اور ماضی کی بیوٹی کوئین میں سرایت کرگئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ  جج صاحبہ کا رویہ  شہزادی سلطانہ کی طرح ہوگیا  وکلاء اور کورٹ اسٹاف کو  فرشی  تعظیمی  سلام پر مجبور کرتی تھی   بعد ازاں مغل شہزادی سلطانہ کی بھٹکتی ہوئی روح نے ماضی کی اس عظیم فن کارہ  کو اسقدر پریشان کیا کہ  چورن پور کی اعلٰی عدالت کو اس کا ٹرانسفر مشرقی صوبے  میں کرنا پڑا لیکن شہزادی سلطانہ کی ڈھیٹ روح نے  ماضی کی اس فنکارہ کا پیچھا نہ چھوڑا اور حالات یہاں تک پہنچے کہ جو کورٹ کا اسٹاف شہزادی سلطانہ  کو فرشی  تعظیمی  سلام نہیں کرتا تھا  شہزادی  سلطانہ کی  روح مجبور کردیتی کہ  وہ اسٹاف کو چھڑی سے مارپیٹ کرے ایک صبح کورٹ کا  نیا پیش کار صبح سویرے پیش ہوا تو   وہ حیدرآباد  دکن والے اسٹائل میں  فرشی  تعظیمی سلام کرنا بھول  گیا  جس کے بعد اس کو سبق سکھانے کیلئے جج صاحبہ نے  چھڑی  اٹھائی یہ دیکھ کر پیش کار ڈر کے مارے بھاگ کھڑا  ہوا لیکن  جج صاحبہ  نے  پیش کار کے پیچھے بھاگنا شروع کردیا  اب سین یہ تھا کہ پیش کار آگے آگے بھاگا جارہا ہے اور جج  صاحبہ  پیچھے پیچھے  پیش کار بھاگتا ہوا روڈ پر نکل  گیا لیکن جج صاحبہ  چھڑی لیکر پیچھے پیچھے جس کے بعد عوام نے بڑی مشکل سے قابو کیا  اور  رسی سے باندھ کر پاغل خانے جمع کروایا  چند  دن کے علاج معالجے کے بعد  ماضی کی فن کارہ کو گھر بھیج دیا گیا لیکن چورن پور کی عدلیہ   نے فوری طورپر  جج صاحبہ کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا بعد ازاں عدلیہ اب اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جج صاحبہ کو گھر بیٹھے لاکھوں روپیہ ماہانہ تنخوا ادا کررہی ہے جبکہ نیا بھرتی ہونے والا پیش کار ایسا بھاگا کہ واپس ہی نہیں آیا ثقافت اور کلچر کے ساتھ ساتھ فن اور فنکاروں کی جو خدمت چورن پور کی  عدلیہ نے کی ہے اس کی مثال دنیا بھر میں نہیں  ملتی  اب دیکھ لیں مسخرے کو ماہانہ بنیاد پر لاکھوں روپے ادا کیئے جاتے ہیں اور ماضی کی عظیم اداکارہ  کو گھر بیٹھے لاکھوں روپے  ادا کیئے جاتے ہیں  اس حوالے سے چورن پور کے شہری بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں جن کے ٹیکس  کے پیسوں سے ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ کی مد میں ایک مسخرے اور  ماضی کی اداکارہ کو پیش کیئے جاتے ہیں لیکن  چورن پور کے شہری  اس بات پر بہت خوش ہیں  انہوں نے کبھی بھی اعتراض نہیں کیا اس لیئے اصل خراج تحسین کے مستحق تو بلاشبہ چورن پور کے عظیم شہری ہیں   دوسرے کیس کیلئے آواز لگائی گئی تو اتفاق سے وہ بھی قتل ہی کا مقدمہ تھا چورن پور کی ایک اور اہم ترین روایت بھی ہے سوال یہ ہے کہ اچھا جج کون ہوتا ہے اچھا  جج وہ ہوتا ہے جو کسی بھی ملزم کو اس کا جرم ثابت ہونے کے بعد سزا سنانے کی اہلیت رکھتا ہے کیونکہ سزا کا فیصلہ لازمی طورپر  ہایئکورٹ میں چیلنج کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں  ہایئکورٹ میں جب اعلٰی پائے کے وکیل اور جسٹس صاحبان  اس عدالتی فیصلے کا تفصیل سے پوسٹ مارٹم کرتے ہیں تو جج کی اہلیت کھل کر سامنے آجاتی ہے اس لیئے  ججز کی اکثریت کوشش کرتی ہے کہ سزا سنانے کے بجائے ملزمان اور مدعیان کی آپس میں بن جائے اور وہ کیس کے دوران ہی صلح کرلیں  اور اس قسم کے نالائق  سفارشی اور نااہل  کوشش کرتے رہتے ہیں کہ  ملزمان  اور مدعی  آپس میں صلح ہی کرلیں   تاکہ ان کی نااہلی چھپی رہے اور کبھی بھی سامنے نہ آئے مدعیان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کافی کوشش کے باوجود صلح  ناممکن ہے اس لیئے آپ گزارش ہے کہ  اس کیس میں گواہان کے بیانات قلمبند کرکے فیصلہ سنا دیا جائے
مسخرے نے سنی ان سنی کرتے ہوئے  ملزمان سے کہا اپنی اکڑخانیاں بند کرو اور جا کر مدعی سے معافی مانگو، مدعی کے وکیل نے کہا  ساب آپ کافی عرصے سے کوشش کررہے ہیں کہ اس قتل کے مقدمے میں صلح ہوجائے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مدعی مقدمہ کی خواہش یہ ہے کہ  قتل کے ملزمان کو مقدمہ چلا کر سزائے موت دی جائے مسخرے نے وکیل صاحب سے کہا وکیل صاحب  مجھے تو یہ لگتا ہے کہ صلح میں آپ رکاوٹ  پیدا کررہے ہیں  وکیل نے کہا ساب ہم کیسے رکاوٹ پیدا کررہے ہیں  حکومت نے جو قانون  بنایا ہے اس کے مطابق تو ان ملزمان کو سزائے موت ملنی چاہیئے تاکہ دیگر لوگوں کو عبرت ہو مسخرے نے کہا تو کیا سزائے موت دینے سے  تمہارا  بندہ واپس  آجائے گا اس لیئے تو میں کہتا ہوں کہ آپس میں بن جاؤ لڑائی جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں  وکیل صاحب فیس ہی سب کچھ نہیں ہوتی آپ تھوڑی کوشش کرو مسئلہ حل ہوجائے گا وکیل نے کہا ساب اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو میں کیا کروں مسخرے نے اس بار انتہائی گندی نظروں سے ملزمان کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور غضبناک نظروں سے مدعی مقدمہ کی طرف دیکھا جو کہ ایک پٹھان تھا مسخرے نے پوچھا خان صاحب صلح کیوں نہیں کرتے خان صاحب نے کہا ہمارے بھائی کو مارا ہے ہم بدلہ ضرور  لے گا تم سزا نہیں لگائے گا تو ہم ان کو روڈ پر گولی مارے گا اگرچہ صلح کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن ساب نے کوششیں جاری رکھیں  ساب نے  پیش کا ر سے کہا کہ ان ملزمان کو قبر والی ویڈیو دکھائی ہے قبر والی ویڈیو پیش کار نے حیرت سے پوچھا کیونکہ پیش کار نیا تھا  اس لیئے پیش کار نے نفی میں سر ہلایا کہ ان لوگوں کو ابھی تک وہ قبر اور سانپ  والی ویڈیو  نہیں دکھائی یہ سن کر  مسخرہ سخت غصے میں آگیا اور کہا کہ کمبخت ابھی تک ان کو  سانپ  اور قبر والی ویڈیو نہیں دکھائی جس کے بعد  مسخرے نے اپنا سمارٹ فون اٹھایا اور قبر کے  سانپ والی ویڈیو تلاش کرنا شروع کردی کچھ دیر کے بعد  سانپ والی ویڈیو  مل گئی اور ساب نے میرے ہاتھ میں  فون دیا اور کہا ذرا احتیاط سے کیوں کہ کافی قیمتی فون ہے جس کے بعد ملزمان نے وہ سانپ والی فلم  دیکھی جس میں ایک سانپ  قبر سے نکل رہا تھا  اور خطرناک قسم کی آوازیں  بھی نکال رہا تھا ساب نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں گناہ کرتے ہیں ظلم  کرتے ہیں  تمہارا بھی یہی انجام ہوگا  اسی طرح قبروں سے سانپ نکلیں گے اور قبر میں بچھو ڈنگ ماریں گے جب ملزمان نے   دس منٹ کی وہ ویڈیو دیکھ لی تو   سانپ  اور قبر والی ویڈیو دیکھنے  کے بعد  ملزمان کا تو "ترا" کئی بار نکل چکا چکا تھا اور وہ  تھر تھر کانپ رہے تھے ساب نے کہا اب اگر  کیونکہ یہ فلم ملزمان نے دیکھ لی ہے تو یہ فلم مدعی کو نہ دکھا نا سخت زیادتی ہوگی جس کے بعد سانپ والی فلم ملزمان کے ساتھ ساتھ مدعی کو بھی دکھائی گئی لیکن  مسخرے کی تبلیغ کوئی فائدہ نہ پہنچا سکی اور صلح نہ ہوسکی  اب آدھا دن گزرچکا تھا مجھ سمیت  تمام وکلاء کو یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ مسخرے کو کام وغیرہ کچھ نہیں آتا وہ صرف اور صرف ٹائم برباد کرنے کی مشین ہے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو کورٹ میں موجود تھا اور مشکوک انداز میں نوٹس لے رہا تھا پہلے مجھے  یہ شک ہوا کہ یہ کسی ایجنسی کا آدمی ہے
پھر کیا ہوا یہ اگلی قسط میں پہلی اور دوسری قسط  بھی منسلک ہیں چورن پور کا مسخرہ۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان پہلی قسط ۔۔۔1دوسری قسط۔۔۔۔2ساحلی شہر چورن پور کی مرکزی غلہ منڈی  کھل چکی تھی اور کاروبار کا آغاز ہوچکا تھا ایک طرف اونٹ گاڑیاں غلہ لیکر اندرون شہر جارہی تھیں تو دوسری طرف   لوڈنگ گاڑیاں بیرون شہر سے غلہ لیکر پہنچ چکی تھیں جس کی وجہ سے حسب معمول ٹریفک جام ہوچکا تھا آسمان پر ہزاروں کی تعداد میں چیلیں اڑ رہی تھیں اور آوازیں نکا ل نکال کر اپنی موجودگی کا احساس دلارہی تھیںچورن پور کی  مرکزی غلہ منڈی کے سامنے برٹش دور کا قدیم پھانسی گھاٹ تھا جہاں ایک  خشک  آسیب زدہ درخت کے عقب میں  ایک آسیب زدہ پرانی مگر باوقار برٹش  دور کی   پتھر سے بنی  ہوئی بلڈنگ تھی  پھانسی  گھاٹ  کے ساتھ  واقع آسیب زدہ درخت کے بارے میں مشہور تھا   کہ اس پر کبھی کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا تھا  جبکہ  پھانسی  گھاٹ  کے نیچے واقع ایک کمرہ عدالت  میں تعینات  جج  نے چند سال پہلے ایک جج نے  پراسرار طورپر اپنے گھر کے اندر خودکشی کرلی تھی اس کے علاوہ وہاں ایک مخصوص عدالت میں ججز ہمیشہ نفسیاتی ہوکر ہی نکلے تھے میں اپنے کلایئنٹ کے ساتھ چورن پور کی  سیشن عدالت میں  داخل ہوا جو اسی آسیب زدہ بلڈنگ میں قائم تھیں  سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے تھوڑا سا خوف محسوس ہوا لیکن میں نے چند وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے جس کے بعد دل میں ذرا سا سکون محسوس ہوا اور میں نے اپنے آپ کو آسمانی اور زمینی بلییات سے  محفوظ محسو س کیا لیکن اس کے باوجود دل میں ایک نامعلوم نوعیت کا خوف محسوس ہوا جس کی وضاحت الفاظ میں نہیں کی جاسکتی آسیب ذدہ بلڈنگ کی آسیب زدہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میری نظر سامنے لگے  کلوز سرکٹ کیمرے پر پڑی جو ہمیشہ کی طرح خراب تھا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس خراب کلوز سرکٹ کیمرے  سے  چند نامعلوم  آنکھیں گھورتی ہوئی محسوس ہورہی تھی وکلاء اور سائلین حسب معمول  عدالت میں پیش ہورہے تھے ایک طرف سیڑھیوں سے ملحق  ایک لفٹ زیر تعمیر تھی  جس  پر کافی عرصے سے کام رکا ہوا تھا اس حوالے سے بھی ایک پراسرار داستان مشہور تھی  اگرچہ میں نے ہمیشہ کی طرح وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے تھے  کام  کی زیادتی کی وجہ سے اور چند دیگر مصروفیات کی وجہ سے میں کیسز کی تیاری نہیں کرسکا تھا اور چند نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر دل  میں ایک عجیب سی اداسی تھی  اور کام کی زیادتی کی وجہ سے دل میں پریشانی سی تھی اس کے بعد آگے چل کر صرف چند منٹ کے بعد ہی چورن پور میں میرے ساتھ ایک ایسا عجیب  اور پراسرار واقعہ ہوا جو ہمیشہ کیلئے یادگار بن گیااور اس واقعہ نے زندگی میں ایک عجیب سی تبدیلی پیدا کی جب  میں آسیب زدہ بلڈنگ کی مشکل سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر پہنچا تو ہلکا سا سانس پھول گیا سامنے   ایک  چھوٹا سا آسیب ذدہ شکایت  بکس لگا ہوا تھا جس پر لگا ہوا   زنگ آلود تالا اس کے آسیب ذدہ ہونے کا اعلان  کررہا تھا  بظاہر   اس تالے کو کبھی نہیں کھولا جاتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ شام کو اندھیرا چھا جانے کے بعد  اس آسیب زدہ بلڈنگ میں روحوں کی ہرروز لگنے والی عدالت میں اس تالے کو روز کھولا جاتا ہے  اور درج ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتاہے مشہور ہے کہ چورن پو ر میں  ہرروز روحوں کی اپنی ایک عدالت لگتی ہے اور رات کو خوب  چہل پہل ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ چورن پور کی  رات کی عدالتوں کے فیصلے نہایت ہی سخت ہوتے ہیں  جن لوگوں کو   چورن  پور کی  حدود میں واقع   عدالتوں  سے دنیا میں انصاف نہیں  ملتا  چورن پور کے مظلوم شام کو   عدالت لگا کر  الگ سے کیس چلاتے ہیں اور سزا سناتے ہیں اس عدالت کی شان ہی کچھ اور ہے یہ دنیا کی واحد عدالت ہے  جو شام کو لگائی جاتی ہے   چورن پور کی شام کی عدالت دنیا کی واحد عدالت ہے جس کے فیصلے میرٹ پر سنائے جاتے ہیں  اور فوری طورپر نافذ العمل ہوتے ہیں  چورن پور کی شام کی عدالت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ شام کو بیٹھنے والے ججز پولیس کے ذہنی ماتحت اور ذ ہنی  غلام بھی نہیں ہیں چورن پور کی رات کی عدالتوں کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ جب انگریز دور میں مجاہدین آازدی کو نام نہاد مقدمات  چلا کر  عدالت  سے متصل پھانسی گھاٹ قائم کرنے کے بعد پھانسی کی سزایئں سنائی گئیں تو اس کے کچھ عرصے کے بعد ہی یہاں  پراسرار واقعات جنم لینا شروع ہوگئے تھےآزادی کے بعد جب چورن پور کا قیام عمل میں آیا تو انصاف کا چورن بنادیا گیا  شروع دن سے ہی انصاف کا  مذاق بنایا گیاتھا  یہاں عدالتوں میں سرعام قتل کرنے والوں کو رشوت کا بازار گرم کرکے چھوڑ دیا جاتا تھا اور مظلوم  بے بسی کی تصویر بن کر  چورن پور کی قدیم بلڈنگ کے ساتھ ہی سر پھوڑ کر گھر واپس چلے جایا کرتے تھے اکثر مظلوم  جھولی پھیلا کر بددعائیں دیتے تھے اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کردیا کرتے تھے جس کے بعد چورن پور میں ایک علیحدہ سے  متوازی  عدالت قائم ہوگئی جو  رات کے وقت قائم ہوتی تھی ان عدالتوں میں صرف قتل کے مقدمات چلتے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر قاتلوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں  یہاں نہ وکیلوں کو جرح کی اجازت ہوتی ہے نہ پولیس کی رپورٹ کا انتظار کیا جاتا ہے  چورن پور کی رات کی عدالتوں کا اپنا ایک نظام ہے ان کا اپنا ایک طریقہ کار ہے جس کو ہم نہیں سمجھتے نہ ہم سمجھنا چاہتے ہیں  ویسے تو چورن پور کی شام کی عدالتوں نے  بے شمار مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں  بے شمار قتل کے ملزمان  کو موت  کی سزائیں  سنا کر ان پر عمل درآمد  بھی کردیا گیا لیکن چورن پور کی رات کی عدالتوں میں جو سب سے بڑا اور اہم مقدمہ آج تک آیا ہے وہ ایک فیکٹری میں چار سو مزدوروں کو زندہ  جلانے کا تھا  جب چورن پور کی ایک فیکٹری میں سینکڑوں  غریب ملازمین کو زندہ جلا کر کوئلہ بنادیا گیا  تھا پہلے یہ مقدمہ  چورن پور کی مقامی عدالت میں چلایا گیا جس میں تفتیشی افسر نے پانچ کروڑ روپے رشوت لیکر ان لوگوں کے خلاف چالان پیش نہیں کیا جنہوں نے فیکٹری کو آگ لگائی تھی بلکہ بے گناہ  فیکٹری مالکان سے ہی پانچ کروڑ روپے لیکر ان ہی کے خلاف چالان بھی پیش کیا لیکن قتل کی سیکشن ختم کرنے اور مقدمے کا چورن چٹنی بنانے کے  لیئے رشوت وصول کرلی تفتیشی افسر اسی رشوت کی رقم  سے حج کی سعادت حاصل کرنے گیا تو اس دوران اس کی نوجوان  بیٹی کا اچانک ہی انتقال ہوگیا اور اس کو بیٹی کا جنازہ پڑھنا بھی نصیب  نہ ہوا جب واپس آیا تو ایک نفسیاتی مریض بن کر واپس لوٹا  رشوت کی رقم اب بوجھ بن چکی تھی   شاید چورن پور کی شام کی عدالت نے اس کو کوئی ایسی سزا سنائی کہ  وہ ہمیشہ کیلئے چپ ہی  ہو گیا ہے بس خاموشی سے چپ چاپ آفس میں بیٹھا رہتا ہے  عدالت میں آتا ہے تو چپ ہی رہتا ہے   بس دیوار کو تکتا رہتا ہےاسی رشوت کی رقم سے  اب اس تفتیشی افسر نے  اپنے علاقے میں ایک مسجد بناکر  زیادہ دیر مسجد میں بیٹھا رہتا ہے   اسی طرح  چورن پور کی فیکٹری  میں چار سوافراد کو زندہ جلانے والے کسی بھی کردار کو سکون نصیب نہ ہوا چاہے وہ شخص جس نے پلاننگ کی اور چاہے وہ لوگ  جنہوں نے آگ لگائی  ان سب کو سزا ضرور ملے گی ۔۔۔۔مل رہی ہے ذمہ داران  خود ہی سامنے آرہے ہیں اور  مظلوموں کی عدالتیں مجبور کررہی ہیں کہ وہ خود عدالتوں میں آکر اپنے جرائم کو قبول کریں  وہ خود ہی قبول کررہے ہیں چورن پور میں فیکٹری میں مزدوروں کو زندہ جلانے والے ایک درجن اہم ترین کرداروں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی عبرت  ناک ہے لیکن فی الحال اس کو بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے فیکٹری کو آگ لگانے والے بہت سے کردار تھے اگر ریسرچ کی جائے تو سب کے سب برے انجام کا شکار ہیں  بہت سے قاتل خوشی خوشی رشوت دیکر رہا ہوجاتے ہیں لیکن جب مقدمہ شام کی عدالت میں چلتا ہے  اور وہاں سے سزا کا حکم سنایا جاتا ہے تو وہی قاتل صرف روز بعد  ہی یاتو پولیس مقابلے میں مرجاتا ہے یا موت خود ہی اس کو تلاش کرتی ہوئی آتی ہے اور اس کو دبوچ لیتی ہے ۔۔۔۔وہ سزا بڑی ہی سخت ہوتی ہے چورن پور میں بے شمار بے گناہوں کو قتل کیا گیا بے شمار قاتل رہا ہوئے اور قانون کی گرفت میں وہ کبھی بھی نہیں آئے  اور اگر قانون کی گرفت میں آئے بھی تو وہ گرفت اس قدر ڈھیلی تھی کہ باآسانی رہا ہوگئے لیکن ایک بات میں دعوے سے کہتا ہوں کہ  چور ن پور کی رات کی عدالتوں نے آج تک کسی ملزم کو نہیں چھوڑا
میں نے چورن پور سے رشوت  دے کر باعزت طورپر بری ہونے والے قاتلوں کو ہمیشہ غیر فطری  اور بدترین موت کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا ہے  اگر آپ کے پاس وقت ہو  تو تحقیق کرکے دیکھ لیں کہ چورن پور میں جتنے بھی قتل کے مقدمات چلے اور کسی وجہ سے رشوت دیکر یا کسی اور طریقے سے رہا ہوگئے تھے اور ورثاء  نے ان کو معاف نہیں کیا تھا  اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا ہوا تھا تو ان کا انجام کیا ہوا  ان کا حشر کیا ہواان سب کو سزا ملی ہے ان سب کو عبرت ناک سزا ملی ہے اور ایسی موت ملی جسے دیکھ کر لوگوں نے دعا کی کہ خدا کسی دشمن کو بھی ایسی سزا  نہ دے یہ  چورن پور کی روحوں کی کہانی بھی عجیب و  غریب ہے مشہور ہے کہ  فرنگیوں کے دور میں جب آسیب زدہ بلڈنگ سے منسلک قدیم پھانسی گھاٹ میں ہزاروں  بے گناہوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا  تو ان کی روحیں آج تک وہاں بھٹکتی پھرتی ہیں بعد ازاں  ان روحوں کی چورن پور کے ان زندہ  مظلوموں سے دوستی ہوگئی جن کے  پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن  قاتل عدالت سے بچ نکلے  اور ان کو عدالت سزا  سنانے میں کامیاب نہ ہوسکی   کچھ عرصے بعد ہی چورن پور میں شام کی متوازی  عدالتیں  قائم ہوگئیں  اور صرف قتل  کے  مقدمات شام  کی عدالتوں پیش کیئے جانے لگے  اور باعزت بری ہونے والے قاتل اپنی بریت کے کچھ عرصے بعد ہی  پراسرار اموات کا شکار ہونے لگے
  قدیم لاک اپ کے سامنے نیم کے درختوں نے ایک سوکھے ہوئے درخت کو اپنے درمیان چھپا رکھا ہے اس پر کبھی بھی  کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا  اس بظاہر سوکھے ہوئے قدیم درخت کو کاٹنے کی جب بھی کوشش کی گئی ناکامی ہوئی مشہور ہے کہ یہاں بھی چند روحوں کا  مستقل قیام ہے
اسی  طرح لفٹ کی تنصیب  کے دوران جب زمین کو وہاں کے  مکینوں کی اجازت کے بغیر ہی  کھودا گیا تو آسیب زدہ بلڈنگ کے  کے مکینوں نے اس بات کا سخت برا منایا   اور اس کھدائی کو   اپنے سسٹم  کی حدود میں مداخلت قرار دیا بعد ازاں    لفٹ کی تنصیب کیلئے جس کمپنی کو ٹھیکہ ملا تھا اس کا چیف ہی اغواء ہوگیا تھا بعد ازاں معافی تلافی کے بعد  چورن پور کے  سینکڑوں برس  قدیم  مکینوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور بچہ   مشکل سے واپس ملا   لیکن مل گیا  اس کے بعد سے ابھی تک  لفٹ کی تنصیب کا کام کھٹائی میں پڑا ہوا ہے میں نے  سائلین کی شکایات    کیلئے نصب  پرانے بکس کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے کو ترجیح دی اور سیکنڈ فلور پر  پہنچ گیا  سیدھے ہاتھ پر پانچ کمرے چھوڑ کر عدالت میں جاکر بیٹھ گیا ابھی جج کے آنے میں زرا تاخیر تھیاس دوران اعلان ہوا کہ ساب آرہے ہیں  ہم کھڑے ہوگئے میں نے دیکھا کہ ایک کالا بھجنگ  ہٹا کٹا     ملنگ نما پہلوان جھومتا ہوا عدالت میں داخل ہوا  آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا  جبکہ  بالوں میں تیل یوں چپڑا ہوا تھا جیسے   ساب نے سرپر تیل نہیں لگایا بلکہ  تیل کی کڑھائی میں سر آدھا گھنٹہ ڈبو کر بالوں میں تیل  کی چمپی  کی تھی رنگ  زیادہ سیاہ  تو نہیں  تھا   لیکن دل کی سیاہی  نے چہرے کی سیاہی پر بہت زیادہ اثر ڈالا تھا  مجھے ایک بار محسوس ہوا کہ اداکار رنگیلا مرحوم سنجیدہ ہوکر بیٹھ گیا ہو بظاہر وہ شخص مجھے سنجیدہ  سا محسوس ہوا  اسی دوران آفس بوائے نے ساب کے سامنے ٹھنڈے پانی کا لال رنگ کا  "مگا "  رکھا جس پر  بہتے ہوئے آبی بخارات اس پانی کے یخ ٹھنڈا ہونے کی گواہی دے رہے تھے  باہر پٹے والوں کے آوازیں گونج رہی تھیںمیں نے کاز لسٹ اٹھا کر دیکھی تو میرا کیس بیسویں نمبر پر لگا ہوا تھا میں نے جاکر پیش کار کو بتایا کہ بیس نمبر پر کیس لگا ہوا ہے تو ساب کے چہرے پر شدید ناگواری اور ناپسندیدگی کے تاثرات نظر آئے  پیش کار نے بتایا سرگوشی والے لہجے میں بتایا کہ تشریف رکھیں نمبر آنے پر کیس چلے گا اسی دوران ساب نے  پانی کے "مگے " سے  پانی پیا میں اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ کسی ڈرامے کی شوٹنگ ہورہی ہے  میں نے پیش کار سے پوچھا کہ ساب کب آئیں گے تو پیش کار نے  سرگوشی میں کہا یہی تو ساب ہے جو سامنے بیٹھا ہوا ہےمیں نے کہا  ساب ایسے ہوتے ہیں  یہ کس قسم کے ساب آرہے ہیں آج کل  پیش کار نے کہا جی اسی قسم کے ساب آرہے ہیں آپ کو کوئی اعتراض ؟   یہ سن کر مجھے زرا شرمندگی ہوئی کیونکہ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ صاحب کسی  مزاحیہ ڈرامے کی شوٹنگ کیلئے تشریف لائے ہیں ساب کے  چہرے پر بہت زیادہ  اور گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی  صاف محسوس ہوتا تھا  ساب سنجیدہ نظر آنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں  میں کازلسٹ دوبارہ دیکھی تو مجھے ایک بار پھر شدید جھٹکا لگا کیونکہ کازلسٹ میں بہت سے قتل کے مقدمات بھی شامل تھی  مجھے ان تمام ملزمان  اور مدعیان سے دل میں بہت زیادہ ہمدردی محسوس ہوئی  کہ جن کے مقدمات وہاں لگے ہوئے تھےخیر عدالتی کاروائی شروع ہوئی اور ساب نے پہلا کیس ہی قتل کا اٹھایاپٹے والے نے آواز لگائی تو ایک پولیس افسر عدالت میں پیش ہوا سنجیدہ ساب جو خاموشی سے مرحوم  اداکار رنگیلا کی سنجیدہ  فوٹو کاپی بنا بیٹھا تھا یوں محسوس ہوا جیسے پولیس والے پر نظر پڑتے ہی  وہ بے چین سا ہو گیا  اس میں  کرنٹ  دوڑ  گیا ہو اس کی حالت یوں ہوگئی جیسے "تسے داند" (پیاسے بیل )  کے سامنے کسی نے لال رنگ کا کپڑا لہرا دیا ہو اور پیاسے  بیل یعنی  تسے داند کی طرح  سامنے والے کو اپنے سینگ سے ٹکر مارنے کیلئے رسا تڑا کر بھاگنے کی تیاری کررہا    ہو اور   گرم گرم  سانسیں لیکر مدمقابل پر حملہ آور ہونے کیلئے تیار ہوگیا ہو  اور زمین پر  اگلے  دونوں پاؤں رگڑ رگڑ کر مدمقابل  کو اپنے سینگوں سے ٹکر مارنے کی تیاری کررہا ہو

سندھ اسمبلی کا جبری مذہب کی بتدیلی کا بل مزید شواہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان





بہت سے مسلمان بھی جعلی طورپر اسلام قبول کرتے ہیں  جبکہ بہت سے غیر مسلم بھی  جعلی طورپر جبری اسلام  قبول کرتے ہیں   آج کل  منظم جرائم پیشہ گروہ کورٹس کے آس پاس آفسز بنا کر  قبول اسلام کی اسناد فروخت کرتے ہیں اگر شکار اچھا ہو تو اس قسم کے سرٹیفیکیٹ   لاکھوں روپے میں فروخت ہوجاتے ہیں  لیکن  نارمل حالات میں یہ سند دس ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے  خود ساختہ قبول اسلام کے کچھ عرصے بعد   جبری اسلام قبول کرنے والا   جعلی مرتد ہوجاتا ہے جس کے بعد ایک اور کارندہ کسی مدرسے میں جاتا ہے اور ایک شرعی مسئلہ پوچھتا ہے  جس پر شرعی فتوٰی آجاتا ہے کہ مرتد کی سزا  یہ ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے  اب دیکھ لیں  این جی اوز کے پاس کتنا فٹ کیس آگیا ایک  جعلی مسلمان جو مرتد ہوچکا ہے اس کی جان کو شدید  خطرہ  ہے شدت پسند اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں ایک نہایت ہی منظم گروہ لاکھوں روپے لیکر اس طریقے سے اس قسم کے کیسز میں   بیرون ملک سیاسی پناہ دلواتے ہیں اور  یہ جعلی مرتد والا کیس تو اے کٹیگری میں شمار ہوتا ہے اس لیئے فوری طور پر اس کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرلی جاتی ہے  اس کاروبار میں مذہب سے منسلک  ہائی پروفائل اہم شخصیات ملوث ہیں  بعض اوقات تو جعلی  قسم کے خود ساختہ مفتی تو کسی گمنام مدرسے کی جانب سے جعلی مرتد کے قتل کا فتوٰی اس کے نام کے ساتھ ہی جاری کردیتے ہیں

مذہب کی تبدیلی اور سندھ اسمبلی میں ہونے والی قانون سازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : صفی الدین اعوان




مذہب کی تبدیلی اور سندھ اسمبلی  میں ہونے والی قانون سازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر  : صفی الدین  اعوان
مجھ سمیت مذہب ہرانسان کا ذاتی مسئلہ ہے  کسی کو کیا پتہ کہ میرا مذہب کیا ہے  میرے پاس کوئی ایسا سرٹیفیکیٹ موجود نہیں ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میرا مذہب کونسا ہےمیں ایک مسلمان ہوں عقیدہ توحید اور ختم نبوت پر میرا یقین ہے اور مجھے اس حوالے سے کسی سرٹیفیکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔لیکن سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نے ایک بہت بڑے مسئلے کو جنم دیا ہے جسے جبری مذہب کی تبدیلی کے نام سے ہم جانتے ہیں میں نے ایک طویل عرصے تک اقلیتوں کی قانونی امداد کی ہے ابھی بھی اقلیتی برادری کے بہت سے کیسز میرے پاس موجود ہیں  ان کیسز کے ذریعے میں نے پاکستانی سماج کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا میرے پاس آیا وہ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتے تھے لیکن رکاوٹ یہ تھی کہ لڑکی شادی شدہ تھی  اس لیئے   وہ مجھ سے  مشورہ لینے آئے تھے میں نے حسب معمول مشورہ دیا کہ  پہلی شادی کی تنسیخ کیلئے کیس داخل کریں جس کے بعد ہی دوسری شادی ممکن ہوگی  ان کا تعلق کرسچن کمیونٹی سے تھا میں نے لڑکی کی جانب سے  تنسیخ  نکاح کی  پٹیشن داخل کردی  کافی عرصے تک وہ  لڑکا اور لڑکی کورٹ میں رلتے رہے ان کو تنسیخ نکاح کا فیصلہ نہ ملا پھر ایک دن وہ لوگ اچانک ہی غائب ہوگئے  ایک دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے شادی کرلی ہے میں نے کہا  کم بختو تم لوگوں نے نکاح کے اوپر نکاح کرلیا ہے   وہ مسکرائے اور کہا وکیل صاحب آپ اچھے وکیل نہیں ہیں آپ بلاوجہ ہی ہم دونوں کے چھ ماہ  خراب کیئے بلاوجہ کورٹ کے دھکے کھانے پڑے ہیں  جبکہ ایک  وکیل نے صرف پانچ منٹ میں میرا مسئلہ حل کردیامیں نے حیرت سے کہا کیا مطلب انہوں نے  بتایا کہ ایک  وکیل نے کہا تم لوگ اسلام قبول کرلو تو  لڑکی کا پرانا نکاح خود ہی ختم ہوجائے گا   اور تم اس سے فوراً نکاح کرلینا  پھر وہ ہمیں ایک مفتی کے پاس لے گیا اس نے اسلام قبول کروایا ہمیں قبول اسلام کی سند دی اور ہم دونوں نے فوری طور پر نکاح کرلیا میں نے کہا کیا اب تم  دونوں اسلام قبول کرکے مسلمان ہوگئے ہو انہوں نے جواب دیا نہیں  انہوں نے صرف قبول اسلام کی سند شادی کرنے کیلئے لی ہے وہ گھر پڑی ہے ہم پہلے بھی کرسچن تھے آج بھی کرسچن ہیں لیکن اگر  اسلام قبول نہ کرتے تو ہماری  شادی ہوناہی ناممکن تھی  ہم نے اسلام تو  صرف قبول  اسلام کی سند حاصل کرنے کیلئے  قبول کیا ہے قبول اسلام کی سند کسی بھی غیر مسلم شادی شدہ عورت کو یہ  سہولت دیتی ہے کہ وہ   اپنا پرانا نکاح تنسیخ کیئے بغیر  صرف قبول اسلام کی سند حاصل  کرکے  نیا نکاح کرلے یہی وجہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد اس سہولت سے ناجائز طورپر فائدہ  اٹھاتی ہے مجھے تبدیلی مذہب کے بل پر شدید اعتراض ہے اور حیرت ہے کہ ممبران سندھ اسمبلی نے کس طرح یہ قانون سازی کرلی ہے  کسی بھی انسان کو  مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے  یہ تاثر بھی غلط ہے کہ لوگ مذہب تبدیل کرکے مسلمان  ہوتے  ہیں بہت سے لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ پاکستان میں بہت سے مسلمان بھی مرتد ہوکر عیسائی مذہب بھی  قبول کرلیتے ہیں   بہت سے چرچ  بھی عیسائی  مذہب قبول  کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں  نادرا  سے اس ریکارڈ کی تصدیق سرکاری ذرائع سے بھی کی جاسکتی ہے وہ  لوگ  اسلام  قبول کرنے کے بعد کیوں مرتد ہوجاتے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے یہ بہت حسا س مسئلہ ہے  کسی شخص کا اسلام قبول کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن اسلام  قبول کرنے کے بعد  کچھ عرصے بعد  مرتد ہوکر مذہب  تبدیل کرنا ایک انٹرنیشنل مسئلہ ہے  اور اس کی بنیاد پر منظم گروہ  ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانیوں کو سیاسی پناہ بھی دلواتے ہیں  پاکستان میں قبول اسلام کی سند  اور عیسائی  مذہب اختیار  کرنے کی سند  کی بنیادپر بہت بڑے کھیل کھیلے جاتے ہیں   مذہب ایک بہت نفع بخش کاروبار ہے  اور اس کی بنیاد پر بہت سے ڈرامے رچائے جاتے ہیں  جو لوگ اسلام قبول کرلیتے ہیں  ان میں سے بہت کم لوگ ہی قبول اسلام کی سند لیکر نادرا کے پاس جاتے ہیں اور اپنے کوائف تبدیل کرواتے ہیں کیونکہ ان کے مذہب کی تبدیلی کا تعلق زیادہ تر واقعات میں  صرف اسلام قبول کرنے کی سند سے ہوتا ہے اور قبول اسلام کی سند سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں کیا اس حوالے سے قانون سازی ممکن ہوگی کہ کوئی بھی شادی شدہ عورت جو  اسلام قبول کرلیتی ہے تو کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ اس کا ماضی کا نکاح بذریعہ عدالت تنسیخ کیا جائے ؟ علماء اکرام کو اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیئے حالانکہ  تبدیلی مذہب سے کسی بھی مذہب کو کوئی خطرہ نہیں   ہے  ۔ تبدیلی مذہب کے حوالے سے صوبہ سندھ میں زیادہ تر شور شرابہ ہندو برادری کی جانب سے مچایا جاتا ہے    ہندو برادری سے تعلق  رکھنے والے نچلی ذات کے ہندو اکثر اسلام قبول کرتے ہی رہتے ہیں  یہ ایک روٹین کی بات ہے ان میں سے اکثر اسلام کے دائرے میں بھی داخل ہوجاتے ہیں کیونکہ اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں ہے  لیکن  ہنگامہ اس وقت برپا ہوجاتا ہے جب کسی اونچی ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکی اسلام قبول کرکے اپنی پسند سے شادی  کرلیتی ہے  نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار لڑکیاں بھی اسلام قبول کرکے شادی کرلیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا فرق صرف اونچی ذات کی لڑکی  کی جانب سے اسلام قبول کرنے سے پڑتا ہے  میرے پاس  ماضی  میں  جبری مذہب کی تبدیلی کے کئی کیسز رہے ہیں زیادہ تر وہ نچلی ذات سے تعلق رکھتے تھے جب وہ کیسز عدالت میں آئے تو کسی ادارے نے ان کی کوئی مدد نہیں کی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی  لیکن جب  جبری مذہب کی تبدیلی کے کیسز میں عدالت کی مداخلت پر لڑکیوں کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ تصدیق کرتی ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ان کو کسی نے بھی اغواء نہیں کیا اور وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں   اس طرح  عدالتوں نے بھی اقلیتی برادری کو مطمئین کرنے کیلئے ہر ممکن راستہ اختیار کیا لیکن ہر بار یہی ہوا کہ کم ازکم میرے سامنے جبری مذہبی تبدیلی کا کوئی کیس  ثابت نہیں ہوا لیکن اس کے باوجو د بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بلاوجہ انکار ہی  کرتے رہتے ہیں اسی طرح  نابالغ افراد کا اسلام تبدیل کرنا اس سے بے شمار تکلیف دہ مسائل جڑے ہوئے ہیں  دل ہی نہیں  چاہتا کہ اس پر بات کی جائے لیکن متحدہ ہندوستان میں  یہی ہوتا تھا کہ جب نابالغ اسلام  کی تعلیمات سے متاثر ہوجاتے تھے تو  وہ اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہونے کے بعد  خاموش رہتے تھے اور بالغ ہونے کے بعد وہ قبول اسلام کا اعلان کرتے تھے کسی بھی نابالغ کیلئے سب سے بڑی پناہ گاہ اس کا گھر ہوتا ہے اس کے ماں باپ ہوتے ہیں  چاہے ان کا کوئی بھی مذہب ہو اتنا بڑا رسک کس طرح لیا جاسکتا ہے کہ ایک نابالغ بچہ  اپنی مرضی سے اپنا مذہب بھی تبدیل کرلے اور وہ اپنا گھر  چھوڑ کر کہیں الگ رہنا شروع کردے  کیا اخلاقیات اس بات کی اجازت دیتی ہیں  ؟  ویسے بھی کسی بچے کو قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے ہم اور آپ کون ہوتے ہیں   ٹھیک ہے  اگر کسی ہندو  نابالغ بچے نے اسلام قبول کرنا ہے خوشی سے کرے  جس  طرح میں مسلمان ہوں لیکن میرا اسلام کسی سرٹیفیکیٹ کا محتاج نہیں ہے   مجھے کسی مدرسے کے سرٹیفیکیٹ کی کبھی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی  تو  ایسے نابالغ بچوں کیلئے یہی مناسب نہیں کہ وہ اسلام قبول کرنے کے  بعد اپنے ماں باپ کی پناہ میں ہی رہیں اور جب وہ خود مختار ہوجائیں تو  اپنے مذہب کی تبدیلی کا اعلان کردیں مذہب کی تبدیلی ایک بہت بڑا کاروبار ہے اس مسئلے سے بے شمار  مسائل جنم لے رہے ہیں   جب تک ہم اس کاروبار کو سمجھیں گے نہیں اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا  حکومت کو چاہیئے کہ قبول اسلام کی اسنادپر پابندی عائد کرے اسلام کبھی کسی کے سرٹیفیکیٹ کا محتاج نہیں رہا  مذہب کی تبدیلی کیلئے  یہ طریقہ کار طے کیا جاسکتا ہے کہ    نومسلم عدالت میں کیس دائر کرے کہ اس نے  اسلام قبول کرلیا ہے اس لیئے اس کو عدالت  قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ صرف اس نیت سے جاری کرسکتی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی دستاویزات پر  اپنا نیا اسلامی نام تحریر کروالے اور شناختی کارڈ وغیرہ پر اپنے کوائف  تبدیل کروالے  اور اگر لڑکی شادی شدہ ہوتو اس کا نکاح بھی  تنسیخ کردیا جائے ویسے سال کے تین سوپینسٹھ دن  اور چوبیس گھنٹے میں ہر غیر مسلم کو  یہ سہولت حاصل ہے کہ   وہ اسلامی تعلیمات سے  متاثر ہوکر صرف کلمہ توحید پڑھ کر اور  ختم نبوت کا اقرار کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوسکتا ہے وہ بخوشی اسلام قبول کرے اس کو کسی سرٹیفیکیٹ کی  کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان میں  کروڑوں مسلمانوں کے پاس اس قسم کا کوئی سرٹیفیکیٹ موجود نہیں جس سے ان کا اسلام قبول کرنا  یا مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہو  
تبدیلی مذہب کے حوالے سے صرف یہ قانون سازی کی  جاسکتی ہے کہ  تبدیلی مذہب کے سرٹفیکیٹس جاری کرنے کا اختیار مدارس اور چرچ کو  نہیں ہونا چاہیئے اگر کوئی ہندو عیسائی مذہب بھی قبول کرتا ہے تو یہ اختیار سیشن جج کو دے دیا جائے کہ  صرف ایک سماعت کے ذریعے اس کو تعلیمی کوائف اور  شناختی کارڈ وغیرہ میں نام کی تبدیلی اور پرانے نکاح کی موجودگی میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرانے نکاح کو تنسیخ کرکے   اگر شادی شدہ عورت اسلام قبول کرتی ہے تو  اس کو نیا نکاح کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے   
مختصر یہ کہ یہ ایک نان ایشو ہے جسے بلاوجہ ایشو بنادیا گیا ہے

چورن پور کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان











چورن پور کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر  صفی الدین اعوانقسط نمبر 2جب  میں آسیب زدہ بلڈنگ کی مشکل سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر پہنچا تو ہلکا سا سانس پھول گیا سامنے   ایک  چھوٹا سا آسیب ذدہ شکایت  بکس لگا ہوا تھا جس پر لگا ہوا   زنگ آلود تالا اس کے آسیب ذدہ ہونے کا اعلان  کررہا تھا  بظاہر   اس تالے کو کبھی نہیں کھولا جاتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ شام کو اندھیرا چھا جانے کے بعد  اس آسیب زدہ بلڈنگ میں روحوں کی ہرروز لگنے والی عدالت میں اس تالے کو روز کھولا جاتا ہے  اور درج ہونے والی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتاہے مشہور ہے کہ چورن پو ر میں  ہرروز روحوں کی اپنی ایک عدالت لگتی ہے اور رات کو بند عدالتوں میں   خوب  چہل پہل ہوتی ہے حقیقت یہ ہے کہ چورن پور کی  رات کی عدالتوں کے فیصلے نہایت ہی سخت ہوتے ہیں  جن لوگوں کو   چورن  پور کی  حدود میں واقع   عدالتوں  سے دنیا میں انصاف نہیں  ملتا  چورن پور کے مظلوم شام کو   عدالت لگا کر  الگ سے کیس چلاتے ہیں اور سزا سناتے ہیں اس عدالت کی شان ہی کچھ اور ہے یہ دنیا کی واحد عدالت ہے  جو شام کو لگائی جاتی ہے   چورن پور کی شام کی عدالت دنیا کی واحد عدالت ہے جس کے فیصلے میرٹ پر سنائے جاتے ہیں  اور فوری طورپر نافذ العمل ہوتے ہیں   ان فیصلوں کے خلاف  دنیا کی کسی عدالت  میں اپیل  بھی نہیں  ہوسکتی  چورن پور کی شام کی عدالت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ شام کو بیٹھنے والے ججز پولیس کے ذہنی ماتحت اور ذ ہنی  غلام بھی نہیں ہیں چورن پور کی رات کی عدالتوں کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ جب انگریز دور میں مجاہدین آازدی کو نام نہاد مقدمات  چلا کر  عدالت  سے متصل پھانسی گھاٹ قائم کرنے کے بعد پھانسی کی سزایئں سنائی گئیں تو اس کے کچھ عرصے کے بعد ہی یہاں  پراسرار واقعات جنم لینا شروع ہوگئے تھےآزادی کے بعد جب چورن پور کا قیام عمل میں آیا تو انصاف کا چورن بنادیا گیا  شروع دن سے ہی انصاف کا  مذاق بنایا گیاتھا  یہاں عدالتوں میں سرعام قتل کرنے والوں کو رشوت کا بازار گرم کرکے چھوڑ دیا جاتا تھا اور مظلوم  بے بسی کی تصویر بن کر  چورن پور کی قدیم بلڈنگ کے ساتھ ہی سر پھوڑ کر گھر واپس چلے جایا کرتے تھے اکثر مظلوم  جھولی پھیلا کر بددعائیں دیتے تھے اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کردیا کرتے تھے جس کے بعد چورن پور میں ایک علیحدہ سے  متوازی  عدالت قائم ہوگئی جو  رات کے وقت قائم ہوتی تھی ان عدالتوں میں صرف قتل کے مقدمات چلتے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر قاتلوں کو عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں  یہاں نہ وکیلوں کو جرح کی اجازت ہوتی ہے نہ پولیس کی رپورٹ کا انتظار کیا جاتا ہے  چورن پور کی رات کی عدالتوں کا اپنا ایک نظام ہے ان کا اپنا ایک طریقہ کار ہے جس کو ہم نہیں سمجھتے نہ ہم سمجھنا چاہتے ہیں  ویسے تو چورن پور کی شام کی عدالتوں نے  بے شمار مقدمات کے فیصلے سنائے ہیں  بے شمار قتل کے ملزمان  کو موت  کی سزائیں  سنا کر ان پر عمل درآمد  بھی کردیا گیا لیکن چورن پور کی رات کی عدالتوں میں جو سب سے بڑا اور اہم مقدمہ آج تک آیا ہے وہ ایک فیکٹری میں چار سو مزدوروں کو زندہ  جلانے کا تھا  جب چورن پور کی ایک فیکٹری میں سینکڑوں  غریب ملازمین کو زندہ جلا کر کوئلہ بنادیا گیا  تھا  اس مقدمے کو دیکھ کر   رات کی عدالتوں کے جج  بھی ایک بار چکرا گئے  تھے پہلے یہ مقدمہ  چورن پور کی مقامی عدالت میں چلایا گیا جس میں تفتیشی افسر نے پانچ کروڑ روپے رشوت لیکر ان لوگوں کے خلاف چالان پیش نہیں کیا جنہوں نے فیکٹری کو آگ لگائی تھی بلکہ بے گناہ  فیکٹری مالکان سے ہی پانچ کروڑ روپے لیکر ان ہی کے خلاف چالان بھی پیش کیا لیکن قتل کی سیکشن ختم کرنے مقدمہ کمزور کرنے  اور مقدمے کا چورن چٹنی بنانے کے  لیئے رشوت وصول کرلی تفتیشی افسر اسی رشوت کی رقم  سے حج کی سعادت حاصل کرنے گیا تو اس دوران اس کی نوجوان  بیٹی کا اچانک ہی انتقال ہوگیا اور اس کو بیٹی کا جنازہ پڑھنا بھی نصیب  نہ ہوا جب  حج  سے واپس آیا تو ایک نفسیاتی مریض بن کر واپس لوٹا  رشوت کی رقم اب بوجھ بن چکی تھی   شاید چورن پور کی شام کی عدالت نے اس کو کوئی ایسی سزا سنائی کہ  وہ ہمیشہ کیلئے چپ ہی  ہو گیا ہے بس خاموشی سے چپ چاپ آفس میں بیٹھا رہتا ہے  عدالت میں آتا ہے تو چپ ہی رہتا ہے   بس دیوار کو تکتا رہتا ہےاسی رشوت کی رقم سے  اب اس تفتیشی افسر نے  اپنے علاقے میں ایک مسجد بناکر  زیادہ دیر مسجد میں بیٹھا رہتا ہے   اسی طرح  چورن پور کی فیکٹری  میں چار سوافراد کو زندہ جلانے والے کسی بھی کردار کو سکون نصیب نہ ہوا چاہے وہ شخص جس نے پلاننگ کی اور چاہے وہ لوگ  جنہوں نے آگ لگائی  ان سب کو سزا ضرور ملے گی ۔۔۔۔مل رہی ہے ذمہ داران  خود ہی سامنے آرہے ہیں اور  مظلوموں کی عدالتیں مجبور کررہی ہیں کہ وہ خود عدالتوں میں آکر اپنے جرائم کو قبول کریں  وہ خود ہی قبول کررہے ہیں چورن پور میں فیکٹری میں مزدوروں کو زندہ جلانے والے ایک درجن اہم ترین کرداروں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی عبرت  ناک ہے لیکن فی الحال اس کو بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے فیکٹری کو آگ لگانے والے بہت سے کردار تھے اگر ریسرچ کی جائے تو سب کے سب برے انجام کا شکار ہیں  بہت سے قاتل خوشی خوشی رشوت دیکر رہا ہوجاتے ہیں لیکن جب مقدمہ شام کی عدالت میں چلتا ہے  اور وہاں سے سزا کا حکم سنایا جاتا ہے تو وہی قاتل صرف روز بعد  ہی یاتو پولیس مقابلے میں مرجاتا ہے یا موت خود ہی اس کو تلاش کرتی ہوئی آتی ہے اور اس کو دبوچ لیتی ہے ۔۔۔۔وہ سزا بڑی ہی سخت ہوتی ہے چورن پور میں بے شمار بے گناہوں کو قتل کیا گیا بے شمار قاتل رہا ہوئے اور قانون کی گرفت میں وہ کبھی بھی نہیں آئے  اور اگر قانون کی گرفت میں آئے بھی تو وہ گرفت اس قدر ڈھیلی تھی کہ باآسانی رہا ہوگئے لیکن ایک بات میں دعوے سے کہتا ہوں کہ  چور ن پور کی رات کی عدالتوں نے آج تک کسی ملزم کو نہیں چھوڑا
میں نے چورن پور سے رشوت  دے کر باعزت طورپر بری ہونے والے قاتلوں کو ہمیشہ غیر فطری  اور بدترین موت کا شکار ہوتے ہوئے دیکھا ہے  اگر آپ کے پاس وقت ہو  تو تحقیق کرکے دیکھ لیں کہ چورن پور میں جتنے بھی قتل کے مقدمات چلے اور کسی وجہ سے رشوت دیکر یا کسی اور طریقے سے رہا ہوگئے تھے اور ورثاء  نے ان کو معاف نہیں کیا تھا  اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا ہوا تھا تو ان کا انجام کیا ہوا  ان کا حشر کیا ہواان سب کو سزا ملی ہے ان سب کو عبرت ناک سزا ملی ہے اور ایسی موت ملی جسے دیکھ کر لوگوں نے دعا کی کہ خدا کسی دشمن کو بھی ایسی سزا  نہ دے یہ  چورن پور کی روحوں کی کہانی بھی عجیب و  غریب ہے مشہور ہے کہ  فرنگیوں کے دور میں جب آسیب زدہ بلڈنگ سے منسلک قدیم پھانسی گھاٹ میں ہزاروں  بے گناہوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا  تو ان کی روحیں آج تک وہاں بھٹکتی پھرتی ہیں بعد ازاں  ان  بے چین  روحوں کی چورن پور کے ان زندہ  مظلوموں سے دوستی ہوگئی جن کے  پیاروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن  قاتل عدالت سے بچ نکلے  اور ان کو عدالت سزا  سنانے میں کامیاب نہ ہوسکی   کچھ عرصے بعد ہی چورن پور میں شام کی متوازی  عدالتیں  قائم ہوگئیں  اور صرف قتل  کے  مقدمات شام  کی عدالتوں پیش کیئے جانے لگے  اور باعزت بری ہونے والے قاتل اپنی بریت کے کچھ عرصے بعد ہی  پراسرار اموات کا شکار ہونے لگے
  قدیم لاک اپ کے سامنے نیم کے درختوں نے ایک سوکھے ہوئے درخت کو اپنے درمیان چھپا رکھا ہے اس پر کبھی بھی  کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا  اس بظاہر سوکھے ہوئے قدیم درخت کو کاٹنے کی جب بھی کوشش کی گئی ناکامی ہوئی مشہور ہے کہ یہاں بھی چند روحوں کا  مستقل قیام ہے
اسی  طرح لفٹ کی تنصیب  کے دوران جب زمین کو وہاں کے  مکینوں کی اجازت کے بغیر ہی  کھودا گیا تو آسیب زدہ بلڈنگ کے  کے مکینوں نے اس بات کا سخت برا منایا   اور اس کھدائی کو   اپنے سسٹم  کی حدود میں مداخلت قرار دیا بعد ازاں    لفٹ کی تنصیب کیلئے جس کمپنی کو ٹھیکہ ملا تھا اس کا چیف ہی اغواء ہوگیا تھا بعد ازاں معافی تلافی کے بعد  چورن پور کے  سینکڑوں برس  قدیم  مکینوں کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور بچہ   مشکل سے واپس ملا   لیکن مل گیا  اس کے بعد سے ابھی تک  لفٹ کی تنصیب کا کام کھٹائی میں پڑا ہوا ہے میں نے  سائلین کی شکایات    کیلئے نصب  پرانے بکس کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھنے کو ترجیح دی اور سیکنڈ فلور پر  پہنچ گیا  سیدھے ہاتھ پر پانچ کمرے چھوڑ کر عدالت میں جاکر بیٹھ گیا ابھی جج کے آنے میں زرا تاخیر تھیاس دوران اعلان ہوا کہ ساب آرہے ہیں  ہم کھڑے ہوگئے میں نے دیکھا کہ ایک کالا بھجنگ  ہٹا کٹا     ملنگ نما پہلوان جھومتا ہوا عدالت میں داخل ہوا  آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا  جبکہ  بالوں میں تیل یوں چپڑا ہوا تھا جیسے   ساب نے سرپر تیل نہیں لگایا بلکہ  تیل کی کڑھائی میں سر آدھا گھنٹہ ڈبو کر بالوں میں تیل  کی چمپی  کی تھی رنگ  زیادہ سیاہ  تو نہیں  تھا   لیکن دل کی سیاہی  نے چہرے کی سیاہی پر بہت زیادہ اثر ڈالا تھا  مجھے ایک بار محسوس ہوا کہ اداکار رنگیلا مرحوم سنجیدہ ہوکر بیٹھ گیا ہو بظاہر وہ شخص مجھے سنجیدہ  سا محسوس ہوا  اسی دوران آفس بوائے نے ساب کے سامنے ٹھنڈے پانی کا لال رنگ کا  "مگا "  رکھا جس پر  بہتے ہوئے آبی بخارات اس پانی کے یخ ٹھنڈا ہونے کی گواہی دے رہے تھے  باہر پٹے والوں کے آوازیں گونج رہی تھیںمیں نے کاز لسٹ اٹھا کر دیکھی تو میرا کیس بیسویں نمبر پر لگا ہوا تھا میں نے جاکر پیش کار کو بتایا کہ بیس نمبر پر کیس لگا ہوا ہے تو ساب کے چہرے پر شدید ناگواری اور ناپسندیدگی کے تاثرات نظر آئے  پیش کار نے بتایا سرگوشی والے لہجے میں بتایا کہ تشریف رکھیں نمبر آنے پر کیس چلے گا اسی دوران ساب نے  پانی کے "مگے " سے  پانی کا ایک گھونٹ   پیا میں اب تک یہی سمجھ رہا تھا کہ کسی ڈرامے کی شوٹنگ ہورہی ہے  میں نے پیش کار سے پوچھا کہ ساب کب آئیں گے تو پیش کار نے  سرگوشی میں کہا یہی تو ساب ہے جو سامنے بیٹھا ہوا ہےمیں نے کہا  ساب ایسے ہوتے ہیں  یہ کس قسم کے ساب آرہے ہیں آج کل  پیش کار نے کہا جی اسی قسم کے ساب آرہے ہیں آپ کو کوئی اعتراض ؟   یہ سن کر مجھے زرا شرمندگی ہوئی کیونکہ میں سمجھ رہا تھا کہ یہ صاحب کسی  مزاحیہ ڈرامے کی شوٹنگ میں مسخرے کا کردار ادا کرنے  کیلئے تشریف لائے ہیں ساب کے  چہرے پر بہت زیادہ  اور گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی  صاف محسوس ہوتا تھا  ساب سنجیدہ نظر آنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں  میں کازلسٹ دوبارہ دیکھی تو مجھے ایک بار پھر شدید جھٹکا لگا کیونکہ کازلسٹ میں بہت سے قتل کے مقدمات بھی شامل تھی  مجھے ان تمام ملزمان  اور مدعیان سے دل میں بہت زیادہ ہمدردی محسوس ہوئی  کہ جن کے مقدمات وہاں لگے ہوئے تھےخیر عدالتی کاروائی شروع ہوئی اور ساب نے پہلا کیس ہی قتل کا اٹھایاپٹے والے نے آواز لگائی تو ایک پولیس افسر عدالت میں پیش ہوا سنجیدہ ساب جو خاموشی سے مرحوم  اداکار رنگیلا کی سنجیدہ  فوٹو کاپی بنا بیٹھا تھا یوں محسوس ہوا جیسے پولیس والے پر نظر پڑتے ہی  وہ بے چین سا ہو گیا  اس میں  کرنٹ  دوڑ  گیا ہو اس کی حالت یوں ہوگئی جیسے "تسے داند" (پیاسے بیل )  کے سامنے کسی نے لال رنگ کا کپڑا لہرا دیا ہو اور پیاسے  بیل یعنی  تسے داند کی طرح  سامنے والے کو اپنے سینگ سے ٹکر مارنے کیلئے رسا تڑا کر بھاگنے کی تیاری کررہا    ہو اور   گرم گرم  سانسیں لیکر مدمقابل پر حملہ آور ہونے کیلئے تیار ہوگیا ہو  اور زمین پر  اگلے  دونوں پاؤں رگڑ رگڑ کر مدمقابل  کو اپنے سینگوں سے ٹکر مارنے کی تیاری کررہا ہو
چورن پور کے مسخرے کی دوسری قسط  تھی   بدقسمتی سے چند اس قسم کے پراسرار  مسائل نے جنم لیا جن کی وجہ سے پانچ سو صفحات کا یہ ناول  مجبوراً مختصر کرنا پڑ رہا ہے
  پہلی قسط بھی منسلک ہے


چورن پور کا مسخرہ۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



پہلی قسط ۔۔۔1ساحلی شہر چورن پور کی مرکزی غلہ منڈی  کھل چکی تھی اور کاروبار کا آغاز ہوچکا تھا ایک طرف اونٹ گاڑیاں غلہ لیکر اندرون شہر جارہی تھیں تو دوسری طرف   لوڈنگ گاڑیاں بیرون شہر سے غلہ لیکر پہنچ چکی تھیں جس کی وجہ سے حسب معمول ٹریفک جام ہوچکا تھا آسمان پر ہزاروں کی تعداد میں چیلیں اڑ رہی تھیں اور آوازیں نکا ل نکال کر اپنی موجودگی کا احساس دلارہی تھیںچورن پور کی  مرکزی غلہ منڈی کے سامنے برٹش دور کا قدیم پھانسی گھاٹ تھا جہاں ایک  خشک  آسیب زدہ درخت کے عقب میں  ایک آسیب زدہ پرانی مگر باوقار برٹش  دور کی   پتھر سے بنی  ہوئی بلڈنگ تھی  پھانسی  گھاٹ  کے ساتھ  واقع آسیب زدہ درخت کے بارے میں مشہور تھا   کہ اس پر کبھی کوئی پرندہ نہیں بیٹھتا تھا  جبکہ  پھانسی  گھاٹ  کے نیچے واقع ایک کمرہ عدالت  میں تعینات  جج  نے چند سال پہلے ایک جج نے  پراسرار طورپر اپنے گھر کے اندر خودکشی کرلی تھی اس کے علاوہ وہاں ایک مخصوص عدالت میں ججز ہمیشہ نفسیاتی ہوکر ہی نکلے تھے میں اپنے کلایئنٹ کے ساتھ چورن پور کی  سیشن عدالت میں  داخل ہوا جو اسی آسیب زدہ بلڈنگ میں قائم تھیں  سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے تھوڑا سا خوف محسوس ہوا لیکن میں نے چند وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے جس کے بعد دل میں ذرا سا سکون محسوس ہوا اور میں نے اپنے آپ کو آسمانی اور زمینی بلییات سے  محفوظ محسو س کیا لیکن اس کے باوجود دل میں ایک نامعلوم نوعیت کا خوف محسوس ہوا جس کی وضاحت الفاظ میں نہیں کی جاسکتی آسیب ذدہ بلڈنگ کی آسیب زدہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میری نظر سامنے لگے  کلوز سرکٹ کیمرے پر پڑی جو ہمیشہ کی طرح خراب تھا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس خراب کلوز سرکٹ کیمرے  سے  چند نامعلوم  آنکھیں گھورتی ہوئی محسوس ہورہی تھی وکلاء اور سائلین حسب معمول  عدالت میں پیش ہورہے تھے ایک طرف سیڑھیوں سے ملحق  ایک لفٹ زیر تعمیر تھی  جس  پر کافی عرصے سے کام رکا ہوا تھا اس حوالے سے بھی ایک پراسرار داستان مشہور تھی  اگرچہ میں نے ہمیشہ کی طرح وظائف پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیئے تھے  کام  کی زیادتی کی وجہ سے اور چند دیگر مصروفیات کی وجہ سے میں کیسز کی تیاری نہیں کرسکا تھا اور چند نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر دل  میں ایک عجیب سی اداسی تھی  اور کام کی زیادتی کی وجہ سے دل میں پریشانی سی تھی اس کے بعد آگے چل کر صرف چند منٹ کے بعد ہی چورن پور میں میرے ساتھ ایک ایسا عجیب  اور پراسرار واقعہ ہوا جو ہمیشہ کیلئے یادگار بن گیااور اس واقعہ نے زندگی میں ایک عجیب سی تبدیلی پیدا کی

ڈھائی کلو گرم پکوڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان






پاکستان کی عدالتوں میں اس وقت بھی پانچ سو چھ بی کے  لاکھوں جعلی اور جھوٹے   مقدمات زیر سماعت ہیں  

پاکستان کے تمام ڈسٹرکٹ کورٹس میں ایک وقوعہ ناقابل یقین حد تک عام ہے یہ ایک جعلی وقوعہ ہوتا ہے جس میں باقاعدہ ڈھونگ رچاکر ایک مصنوعی حملہ کروایا جاتا ہے۔سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنے ہی گھر پر یا اپنے آپ پر یا اپنی گاڑی پر خود  ہی  فائرنگ کروادی جاتی ہے وقوعہ کے گواہ قریبی عزیز واقارب ہوتے ہیں جو پولیس کے سامنے گواہی دیتے ہیں کہ فلاں ابن فلاں آیا تھا اور فائرنگ کرکے چلا گیا کوئی بندہ زخمی نہیں ہوا بعض اوقات دروازے یا دیوار پر گولیوں کےنشانات دکھانے کیلئے  چند گولیاں بھی ماردی جاتی ہیں  اقدام قتل کے ایسے تمام مقدمات جن میں کوئی زخمی نہیں ہوتا ایسے تمام مقدمات ہی جعلی اور پلانٹڈ ہوتے  ہیں زیادہ تریہ زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ چار ملزمان دن دیہاڑے گھر میں داخل ہوئے پستول لہرا کر جان سے مارنے کی دھمکی اور دھمکیاں دیتا ہوا چلا گیا عدالتوں کی آدھی سے زیادہ رونق اس قسم کے جھوٹے مقدمات  کی وجہ سے ہے ایف آئی آر رجسٹر کروانے کیلئے 22 اے کے زریعے بھی ایف آئی آر رجسٹر کروائی جاتی ہے  ہماری وکلاء برادری نے بھی بائیس اے کے ساتھ اتنا لاڈ پیار کیا ہے کہ اب اگر بائیس اے کی درخواست لیکر جاؤ تو ججز کو بالکل درست غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ یہ جعلی وقوعہ بنایا گیا ہے  اور وہ درخواست  خارج کردیتے ہیں گزشتہ دنوں  کراچی  کے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ایک سندھی وڈیرے کا مقدمہ آیا جس میں اس وڈیرے نے اپنے ہی گاؤں   کےایک پولیس انسپکٹر کے ساتھ مل کر ایک مشکوک نوعیت کا مقدمہ قائم کیا جس کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ چار افراد نے مل کر اس  وڈیرے کو جان سے مارنے کی نیت سے کراچی کی ایک سڑک پر فائرنگ کی لیکن وہ خوش نصیب شخص محفوظ رہا جس کے بعد پولیس نے  فوری طور پر مقدمہ قائم کرکے اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کو ٹندو آدم سے جاکر گرفتار کیا  اور ریمانڈ کیلئے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا مجسٹریٹ صاحب نے مکمل روداد سنی اور سننے کے بعد متعلقہ ضلع کے ایس ایس پی کو عدالت کے  اس  جعلی اور مشکوک  واقعہ سے متعلق  تحفظات اور کسی اور تفتیشی افسر سے تفتیش کروانے کا کہا ایس ایس پی نے فوری طور پر نیا تفتیشی افسر مقرر کیا اصل حقیقت اس وقت سامنے آئی جب جوڈیشل مجسٹریٹ نے یہ کہا کہ مدعی مقدمہ کے موبائل فون کا سی ڈی آر ڈیٹا  نکلوا کر لاؤ تو پتہ یہ چلا کہ  مدعی مقدمہ تو کبھی کراچی آیا ہی نہیں تھا اس کی غیر موجودگی میں اس کے گاؤں  اور قبیلے سے تعلق رکھنے والے تفتیشی افسر نے نمک حلال کیا تھا  اور خودہی ایک خود ساختہ وقوعہ بنا کر  ایف آئی آر رجسٹر کرکے ملزمان کو گرفتار کیا تھاجج صاحب نے اچھا کردار ادا کیا ان کی وجہ سے ملزمان کی جان بچ گئی لیکن ایک اہم بات یہ سامنے آئی کہ ان تمام حقائق کے باوجود پولیس افسر کے خلاف نہ تو کوئی کاروائی ہوئی نہ کوئی ایکشن ہوا بلکہ اس کو چھوڑ دیا گیا   اس کی وجہ کیا ہے وہ ہم اور آپ جانتے ہی ہیں کہ عدلیہ بحیثیت ادارہ پولیس کی ذہنی ماتحت  اور ذہنی غلام ہے  اس لیئے ایک خاص مقام پر آکر ججز کی حدود بھی ختم ہوجاتی ہیں   جس ملک کا چیف جسٹس پولیس کی ذہنی غلامی اور ذہنی  ماتحتی پر فخر کرتا ہو وہاں ماتحت عدلیہ سے ہم کیا توقع کریں یہ  ڈسٹرکٹ کورٹس ظلم اور بربریت کی جگہ ہے یہاں آتے ہی انسانیت دم توڑدیتی ہے کیونکہ یہاں آج بھی اقدام قتل  اور جان سے ماردینے کی جھوٹی دھمکیاں  دینے کے ایسے ہی مقدمات پیش ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے ایف آئی آر چالان کاپی سپلائی فرد جرم گواہی ہڑتال تاریخیں اچھا چار سال گزرنے کا پتہ ہی کہاں چلتا ہے کل ایک عجیب واقعہ ہوا ایک    انتہائی  بااثر آدمی نے تھانے سے رابطہ کیا اور اپنے ڈیرے پر بلوا  کر  کہا کہ صبح سویرے مجھے چار افراد نے  لائٹ  ہاؤس کے قریب  پستول دیکھا کر مجھے لوٹ لیا ہے ملزمان کافی دیر سے میرا پیچھا کررہے تھے ایس ایچ او نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا تو کسی منسٹر کے زریعے دباؤ ڈالا تو ڈی ایس پی خود  ڈیرے پر حاضر ہوگیا ڈی ایس پی بہت ہی سمجھدار آدمی اور نفسیاتی مار مارنے والا انسان تھا ڈی ایس  پی پوچھا یہ صبح کتنے بجے کا واقعہ ہے بااثر آدمی نے کہا صبح آٹھ بجے  تو ڈی ایس پی نے  کہا آج صبح آٹھ بجے تو میں اسی چوک پر ڈیوٹی پر تھا اوگشت بھی کررہا تھا  ڈی ایس پی نے ایس ایچ او کو کہا اچھا ایسا کرو وہاں کیمرے لگے ہوئے ہیں ان کا ریکارڈ دس منٹ کے اندر نکلوا کر لاؤ  ویسے بھی ڈاکو ایک گھنٹے سے پیچھا کررہے تھے راستے میں کتنے سگنل آئے ٹریفک جام ہوا ملزمان کو میرے تھانے کی حدود ہی ملی تھی تمہیں لوٹنے کیلئے یہ سن کر تو بااثر بندے کی ہوا نکل گئی اور آئیں بائیں شائیں کرنے لگ گیا  اس سے پہلے کہ ایس ایچ او سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ لینے جاتا وہ بندہ  ڈیرے سے پشی کرنے کے بہانے وہاں سے ایسا  بھاگا کہ مڑ کر دیکھا ہی  نہیں مزے کی بات یہ کہ  بعد میں مجھے ڈی ایس  پی  نے بتایا کہ اس مقام پر سی سی ٹی وی کیمرہ تھا ہی نہیں   مزید  کہا کہ دولاکھ کا کام منسٹر کے فون پر مفت کیوں کریںگزشتہ دنوں چیف جسٹس سندھ  اور صوبہ سندھ کی  عدلیہ  کے مرد آہن جناب سجاد علی شاہ صاحب نے ایک عجیب بتائی اور ٖ فخر بھی کیا کہ  سندھ کی عدالتوں سے چار لاکھ کریمینل  مقدمات ختم ہوگئے ہیں اور مزید سوا لاکھ مقدمات  ابھی بھی زیر سماعت ہیں  چیف صاحب اگر گستاخی معاف تو ایک ننھی منی سی عرض ہے کہ  جس ملک میں تقریباً سو فیصد   شرح ملزمان کی رہائی کی ہوتو اس ملک میں کیس چلا کر مقدمہ ختم کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے  کیوں اتنا قیمتی وقت  برباد کیا جاتا ہے اگر باقی ماندہ کیسز کی فائلیں کسی کباڑی کو بلا کر  تول کر فروخت کردی جائیں اور ملزمان کو چھوڑ دیا جائے تو  قیمتی وقت بھی بچ جائے گا اور باقی ماندہ مقدمات بھی نمٹ جائیں گے  یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جعلی جھوٹے مقدمات پر مبنی کیسز کی فائلیں کسی کباڑی کو ردی کے بھاؤ بیچنے پر یہ بھی ممکن ہے کہ دو ڈھائی کلو پکوڑے ہی مل جائیں گے چیف صاحب ادب سے درخواست ہے کہ جب جعلی جھوٹے اور فریب پر مبنی مقدمات کی فائلیں  ردی کے بھاؤ تول کر بیچ دینے کے بعد اگر ڈھائی کلو  گرم گرم پکوڑے مل جائیں تو پکوڑوں کی  شاندار دعوت اڑاتے ہوئے مجھے  اس دعوت میں شریک کرلینے کی التجا ہے کیونکہ  آج کل کے دور میں   اتنا قیمتی مشورہ کون دیتا ہے وہ بھی بالکل مفت   یقین کریں یہ بہت ہی اچھا مشورہ ہے بلاوجہ وارنٹ نکلتے ہیں بلاوجہ ہی کورٹ محرر جعلی رپورٹس لگاتے ہیں  بلاوجہ ہی   جعلی گواہی ریکارڈ کی جاتی ہے گواہی ریکارڈ کرتے ہوئے کتنا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے   وکلاء  اوٹ پٹانگ سوال کرکرکے  بلاوجہ کا وقت  برباد کرتے ہیں  اور ججز کے قلم بھی  جھوٹی  گواہیاں لکھ لکھ کر ان کی نوک گھس جاتی ہے بلاوجہ ملزمان کو ڈانٹ ڈپٹ  اور غیر حاضری پر اسکول ماسٹر کی طرح ڈانٹ ڈپٹ  اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات میرا کہنا یہ کہ یہ سب جھوٹ ہے  

مچھ جیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان



کسی زمانے میں   بلوچستان کی  مچھ جیل کی وجہ   شہرت یہ تھی کہ وہاں اگر کسی  سیاسی  قیدی کو پھینک دیا جاتا تو پہلے تین سال تک تو اس کو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا کہ  جیل آئے ہی کیوں ہو بعد ازاں  تین سال بعد اس سے خیر خیریت پوچھی جاتی کہ بھائی جان معاملہ کیا ہے اور کیوں ہے اور تین سال بعد اس کو عدالت روانہ کیا جاتا ہے  ہوسکتا ہے کہ یہ بات مبالغہ آرائی پر مبنی ہو لیکن عوام الناس میں مچھ جیل ایک محاورہ تھا کہ جو زیادہ تنگ کرے اس کو مچھ جیل بھیج دو جہاں وہ بغیر عدالتی ٹرائل کے پڑا رہے گا غریب آدمی اور عوام الناس کیلئے اعلٰی عدلیہ مچھ جیل ہی بن  چکی ہے  پہلے تین سال تک تو کوئی پوچھتا ہی نہیں  تین سال  بعد کبھی وکیل نہیں تو کبھی  جج نہیں اور زیادہ تر تو نمبر نہیں آتا  اور اگر خوش قسمتی سے نمبر آبھی جائے تو کیس چلتا ہی نہیں ہے  جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں اس وقت بہت تیزی سے کام جاری ہے عملی طور پر اعلٰی سطح یعنی سپریم کورٹ اور ہایئکورٹس کی سطح پر عدالتی نظام کم ازکم غریب آدمی کیلئے مفلوج ہوچکا ہے اعلٰی عدلیہ میں جاکر غریب صرف دربدر ہی ہوتا ہے  اسی لیئے ساب لوگ آپس میں بات کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا ساب لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا اور اگر پیدا ہو بھی گیا تھا تو   عدالت کیوں آیا کیونکہ اربوں کھربوں روپے کے تنازعات کے حل کے دوران غریب آدمی کا تو نمبر ہی نہیں آتا ہایئکورٹ میں کیسز کیوں نہیں  چلتے یہ ایک الگ بحث ہے  اگر ہم صرف کراچی میں  بیٹھ کر گزشتہ دس سال کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو   ڈسٹرکٹ  کورٹس  کی سطح  پر عدالتی نظام میں واضح تبدیلیاں آئی ہیں عدالتی نظام مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے ۔ کیسز  کے نمٹائے جانے میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے    جوڈیشل مجسٹریٹ  سینئر  سول ججز اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  ججز کو اب پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ کر بھی رہے ہیں   اور وہ کمپیوٹرائزڈ سوفٹ  ویئر کی وجہ سے اب کام  کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں  ہم یہ نہیں کہتے کہ سب کچھ بہت اچھا ہوچکا ہے لیکن  ماضی کی ابتر صورتحال کے مقابلے میں   صورتحال بہت ہی زیادہ بہتر ہوئی اب صرف اہم معاملہ رہ گیا  وہ نااہلی کا ہے کیونکہ سفارشی لوگ جو کسی نہ کسی طرح سسٹم میں  گھس گئے  تھے ان کی نااہلی کی وجہ سے   قانونی مسائل جنم لے رہے ہیں دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نااہلی دونوں اطراف سے ہے  ججز کے ساتھ ساتھ وکلاء بھی نااہلی کا شکار ہیں   جتنی محنت درکار ہوتی وہ محنت وکیل اب کم ہی کرتے ہیں  جبکہ دوسری طرف   عدلیہ  میں بھی سفارشی لوگوں کو پروموشن بھی بہت جلد مل جاتی ہے         پولیس اسی طرح غلط تفتیش کرکے غریب آدمی کو مقدمات میں پھنسانے  میں مصروف ہے تو  پہلے جعلی کیس ختم ہونے میں تین سال کا وقفہ ہوتا تھا تو اب یہ دورانیہ  پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہوگیا ہے  اس حوالے سے عدلیہ بدستور پولیس کی سہولت کار کا کردار ادا کرتی رہے گی کیونکہ  پولیس کی بددیانتی اور غلط تفتیش کو کنٹرول کرنے کیلئے جو صلاحیتیں درکار ہیں اس سطح کے عدالتی افسر  پاکستان کے عدالتی نظام میں موجود ہی نہیں ہیں   صرف ایک فیصد ایسے عدالتی افسران موجود ہیں  جو پولیس کی بددیانتی کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں موجودہ عدلیہ شاید پولیس کی جعلی تفتیش کے بعد ایک مخصوص مدت کے اندر شاید کیسز ختم کرنے کی پابند ہے  اس کو پولیس کی ذہنی ماتحتی بھی  کہا جاسکتا ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود  اگر جائزہ لیا جائے تو  ماضی کے مقابلے میں  کام کی رفتار میں ایک ہزار فیصد تیزی آئی ہے   جبکہ اعلٰی عدالتیں اس حوالے سے بہت  ہی زیادہ پیچھے رہ گئی ہیں  بلکہ عدالتی کام کے حوالے سے اب ڈسٹرکٹ کورٹس اور ہایئکورٹ کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے  ہایئکورٹ  میں  ججز کی تعداد میں  اضافے کے باوجود کام کی رفتار میں کوئی تیزی نہیں آئی ہے  اور یہ ایک بہت بڑا المیہ ثابت ہورہا ہے    جس کا کوئی حل کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہاماتحت عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت ہی زیادہ تیزی آئی ہے  اتنی زیادہ تیزی آئی ہے کہ پورے صوبہ سندھ میں موجود سندھ ہایئکورٹ  کے جتنے جسٹس موجود ہیں  وہ  سب مل کر جتنا کام ایک مہینے میں  کرتے ہیں  ان کے مقابلے میں   صرف کراچی  کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں   بیٹھا  ہوا  ایک جوڈیشل مجسٹریٹ ایک سینئر سول جج ،ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج     پورے سندھ کے ہایئکورٹ کے تمام  جسٹس حضرات کے مقابلے میں ان سے زیادہ کام کرتا ہے   موجودہ دور میں یہ  بات کسی المیہ سے کم بالکل بھی نہیں ہے  جس طریقے سے ماتحت عدلیہ میں ججز کو ڈیل کیا جارہا ہے  بالکل اسی طریقے سے ایک جسٹس کو بھی ڈیل کرنے کی  سخت ضرورت ہے  جو کمپیوٹرائزڈ  سوفٹ ویئر ماتحت عدلیہ میں استعمال کیا جارہا ہے وہی  سوفٹ ویئر  اب ہایئکورٹ میں بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے  باکل اسی طریقے سے  ای میل کی  ضرورت ہے کہ  آج اس کیس میں ججمنٹ ہونا تھا کیوں نہیں ہوا مقصد یہ ہے کہ ایک جسٹس کو بھی اب اسی طریقے سے ڈیل کرنے کی ضرورت ہے جس طرح سے ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کو ہایئکورٹ ڈیل کرتی ہے  سسٹم کے اندر کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہوتا  کاز لسٹ میں ہرروز کیسز کی  تعداد شاید اس وجہ سے بھی  بڑھ رہی ہے کیونکہ جب مقدمات کو حل نہیں کیا جائے گا ان کو لٹکا کر رکھا جائے گا تو کاز لسٹ میں کیسز کی تعداد میں  دن دوگنی رات چوگنی  ترقی اور اضافہ جاری رہے گا  جبکہ  سندھ ہایئکورٹ کراچی  میں ڈیڈھ کروڑ  روپے سے زیادہ مالیت کے کیسز  ایک عام کیس کی طرح ٹرائل بھی ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کیونکہ  کراچی  سمندر کے کنارے آباد ہے اس لیئے انگریز سرکار یہ اختیار   ہایئکورٹ کو دے گیا تھا کہ  مخصوص  مالیت کے  دیوانی تنازعات   ہایئکورٹ میں ڈسٹرکٹ کورٹس کی طرح ٹرائل ہونگے  اسی قسم کے کیسز نے پورے سسٹم کو جام  نہیں  بلکہ  فیل  کررکھا ہے اس لیئے فوری طورپر ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی کو  اس حوالے سے لامحدود نوعیت کے اختیارات دے کر فوری طور پر وہ  تمام دیوانی  نوعیت  کے کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں  ٹرانسفر جو سندھ ہایئکورٹ میں ٹرائل کے  لیئے  کئی سال سے  ٹرائل کے منتظر ہیں اور اس وجہ سے پورا سسٹم ہی جام ہوکر رہ گیا ہے   اگر آج  پورے صوبہ سندھ کی عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت  زیادہ تیزی آئی ہے تو اس کے پیچھے اس کمپیوٹرائزڈ سوفٹ ویئر کاکمال  ہے جس کی وجہ سے آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ بہت زیادہ کمزوریوں کے باوجود ہزاروں خامیوں کے باوجود ہزاروں   مسائل  کے باوجود آج صوبہ سندھ کی ڈسٹرکٹ کورٹس تیزی سے بحران سے نکل چکی ہیں  اور تیزی سے نکل رہی ہیں  اور آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں بیٹھا ہوا ایک عام جج ماہانہ جتنا کام کرتا ہے جتنا ایک عام شہری کو ریلیف فراہم کرتا ہے ایک عام شہری کے مسائل کو حل کرتا ہے  وہ پورے صوبے کے  تمام جسٹس بھی  ایک ڈسٹرکٹ کورٹ  کے  جج کے مقابلے میں کام نہیں کرپارہے   یہ صورتحال کیوں پیدا ہورہی ہے اور ہوچکی ہے اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا چاہیئے کراچی بار کو چاہیئے ملیر بار کو چاہیئے کہ اس صورتحال کا جائزہ لیکر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو اس حوالے سے خصوصی طور پر جاکر خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے  سیشن  ججز  کو ایوارڈ دینا  چاہیئے  ڈسٹرکٹ عدلیہ کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا بہت زیادہ زیادتی ہوگی  یاد رہے کہ یہاں بات صرف عدالتی  کام کی رفتار پر ہورہی  ہے   یہ بھی حقیقت ہے کہ معیار میں بہت کمی ہے لیکن  جیسے ہی فضول  اور فالتو قسم کے کیسز ختم ہوجائیں گے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ ملزمان کو کیفرکردار تک بھی پہنچایا جائے گا  موجودہ صورتحال میں تو  عدلیہ صرف ایک  بے مقصد  قسم  کے ٹرائل  کے زریعے پولیس  کی سہولت کار  کا کردار ادا کررہی ہے سارے کے سارے ملزمان باعزت طور پر  ہی بری ہورہے ہیں  جب ملزمان پر  بامقصد عدالتی ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہوگا ان پر سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوگا  تو اس کے بعد پاکستان  کی عدلیہ میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جس کے بارے میں نہ تو ہم سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی تصور کرسکتے ہیں اس سے یہ بھی مراد ہر گز نہیں کہ عدلیہ دھڑا دھڑ سب کو سزا لگانا شروع کردے بلکہ اکثر ملزم  بے گناہ ہی ہوتے ہیں پولیس ان کو مقدمات  میں پھنساتی ہے اور پولیس  کی غلط  تفتیش  کو کو کنٹرول کرنے کیلئے جو مطلوبہ صلاحیت ہوتی ہے  وہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے    عدلیہ بھی مجبور ہے  لیکن جب یہ صلاحیت آجائے گی  تو پھر  جو صورتحال جنم لے گی وہ تصور سے ہی باہر ہے 

کسی زمانے میں   بلوچستان کی  مچھ جیل کی وجہ   شہرت یہ تھی کہ وہاں اگر کسی  سیاسی  قیدی کو پھینک دیا جاتا تو پہلے تین سال تک تو اس کو کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا کہ  جیل آئے ہی کیوں ہو بعد ازاں  تین سال بعد اس سے خیر خیریت پوچھی جاتی کہ بھائی جان معاملہ کیا ہے اور کیوں ہے اور تین سال بعد اس کو عدالت روانہ کیا جاتا ہے  ہوسکتا ہے کہ یہ بات مبالغہ آرائی پر مبنی ہو لیکن عوام الناس میں مچھ جیل ایک محاورہ تھا کہ جو زیادہ تنگ کرے اس کو مچھ جیل بھیج دو جہاں وہ بغیر عدالتی ٹرائل کے پڑا رہے گا غریب آدمی اور عوام الناس کیلئے اعلٰی عدلیہ مچھ جیل ہی بن  چکی ہے  پہلے تین سال تک تو کوئی پوچھتا ہی نہیں  تین سال  بعد کبھی وکیل نہیں تو کبھی  جج نہیں اور زیادہ تر تو نمبر نہیں آتا  اور اگر خوش قسمتی سے نمبر آبھی جائے تو کیس چلتا ہی نہیں ہے  جبکہ ڈسٹرکٹ کورٹس میں اس وقت بہت تیزی سے کام جاری ہے عملی طور پر اعلٰی سطح یعنی سپریم کورٹ اور ہایئکورٹس کی سطح پر عدالتی نظام کم ازکم غریب آدمی کیلئے مفلوج ہوچکا ہے اعلٰی عدلیہ میں جاکر غریب صرف دربدر ہی ہوتا ہے  اسی لیئے ساب لوگ آپس میں بات کرتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا ساب لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ غریب پیدا ہی کیوں ہوا تھا اور اگر پیدا ہو بھی گیا تھا تو   عدالت کیوں آیا کیونکہ اربوں کھربوں روپے کے تنازعات کے حل کے دوران غریب آدمی کا تو نمبر ہی نہیں آتا ہایئکورٹ میں کیسز کیوں نہیں  چلتے یہ ایک الگ بحث ہے  اگر ہم صرف کراچی میں  بیٹھ کر گزشتہ دس سال کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو   ڈسٹرکٹ  کورٹس  کی سطح  پر عدالتی نظام میں واضح تبدیلیاں آئی ہیں عدالتی نظام مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے ۔ کیسز  کے نمٹائے جانے میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے    جوڈیشل مجسٹریٹ  سینئر  سول ججز اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  ججز کو اب پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے اور وہ لوگ کر بھی رہے ہیں   اور وہ کمپیوٹرائزڈ سوفٹ  ویئر کی وجہ سے اب کام  کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں  ہم یہ نہیں کہتے کہ سب کچھ بہت اچھا ہوچکا ہے لیکن  ماضی کی ابتر صورتحال کے مقابلے میں   صورتحال بہت ہی زیادہ بہتر ہوئی اب صرف اہم معاملہ رہ گیا  وہ نااہلی کا ہے کیونکہ سفارشی لوگ جو کسی نہ کسی طرح سسٹم میں  گھس گئے  تھے ان کی نااہلی کی وجہ سے   قانونی مسائل جنم لے رہے ہیں دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نااہلی دونوں اطراف سے ہے  ججز کے ساتھ ساتھ وکلاء بھی نااہلی کا شکار ہیں   جتنی محنت درکار ہوتی وہ محنت وکیل اب کم ہی کرتے ہیں  جبکہ دوسری طرف   عدلیہ  میں بھی سفارشی لوگوں کو پروموشن بھی بہت جلد مل جاتی ہے         پولیس اسی طرح غلط تفتیش کرکے غریب آدمی کو مقدمات میں پھنسانے  میں مصروف ہے تو  پہلے جعلی کیس ختم ہونے میں تین سال کا وقفہ ہوتا تھا تو اب یہ دورانیہ  پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہوگیا ہے  اس حوالے سے عدلیہ بدستور پولیس کی سہولت کار کا کردار ادا کرتی رہے گی کیونکہ  پولیس کی بددیانتی اور غلط تفتیش کو کنٹرول کرنے کیلئے جو صلاحیتیں درکار ہیں اس سطح کے عدالتی افسر  پاکستان کے عدالتی نظام میں موجود ہی نہیں ہیں   صرف ایک فیصد ایسے عدالتی افسران موجود ہیں  جو پولیس کی بددیانتی کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں موجودہ عدلیہ شاید پولیس کی جعلی تفتیش کے بعد ایک مخصوص مدت کے اندر شاید کیسز ختم کرنے کی پابند ہے  اس کو پولیس کی ذہنی ماتحتی بھی  کہا جاسکتا ہے لیکن ان تمام باتوں کے باوجود  اگر جائزہ لیا جائے تو  ماضی کے مقابلے میں  کام کی رفتار میں ایک ہزار فیصد تیزی آئی ہے   جبکہ اعلٰی عدالتیں اس حوالے سے بہت  ہی زیادہ پیچھے رہ گئی ہیں  بلکہ عدالتی کام کے حوالے سے اب ڈسٹرکٹ کورٹس اور ہایئکورٹ کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے  ہایئکورٹ  میں  ججز کی تعداد میں  اضافے کے باوجود کام کی رفتار میں کوئی تیزی نہیں آئی ہے  اور یہ ایک بہت بڑا المیہ ثابت ہورہا ہے    جس کا کوئی حل کسی کو بھی سمجھ نہیں آرہاماتحت عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت ہی زیادہ تیزی آئی ہے  اتنی زیادہ تیزی آئی ہے کہ پورے صوبہ سندھ میں موجود سندھ ہایئکورٹ  کے جتنے جسٹس موجود ہیں  وہ  سب مل کر جتنا کام ایک مہینے میں  کرتے ہیں  ان کے مقابلے میں   صرف کراچی  کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں   بیٹھا  ہوا  ایک جوڈیشل مجسٹریٹ ایک سینئر سول جج ،ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج     پورے سندھ کے ہایئکورٹ کے تمام  جسٹس حضرات کے مقابلے میں ان سے زیادہ کام کرتا ہے   موجودہ دور میں یہ  بات کسی المیہ سے کم بالکل بھی نہیں ہے  جس طریقے سے ماتحت عدلیہ میں ججز کو ڈیل کیا جارہا ہے  بالکل اسی طریقے سے ایک جسٹس کو بھی ڈیل کرنے کی  سخت ضرورت ہے  جو کمپیوٹرائزڈ  سوفٹ ویئر ماتحت عدلیہ میں استعمال کیا جارہا ہے وہی  سوفٹ ویئر  اب ہایئکورٹ میں بھی استعمال کرنے کی ضرورت ہے  باکل اسی طریقے سے  ای میل کی  ضرورت ہے کہ  آج اس کیس میں ججمنٹ ہونا تھا کیوں نہیں ہوا مقصد یہ ہے کہ ایک جسٹس کو بھی اب اسی طریقے سے ڈیل کرنے کی ضرورت ہے جس طرح سے ڈسٹرکٹ کورٹس کے ججز کو ہایئکورٹ ڈیل کرتی ہے  سسٹم کے اندر کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہوتا  کاز لسٹ میں ہرروز کیسز کی  تعداد شاید اس وجہ سے بھی  بڑھ رہی ہے کیونکہ جب مقدمات کو حل نہیں کیا جائے گا ان کو لٹکا کر رکھا جائے گا تو کاز لسٹ میں کیسز کی تعداد میں  دن دوگنی رات چوگنی  ترقی اور اضافہ جاری رہے گا  جبکہ  سندھ ہایئکورٹ کراچی  میں ڈیڈھ کروڑ  روپے سے زیادہ مالیت کے کیسز  ایک عام کیس کی طرح ٹرائل بھی ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کیونکہ  کراچی  سمندر کے کنارے آباد ہے اس لیئے انگریز سرکار یہ اختیار   ہایئکورٹ کو دے گیا تھا کہ  مخصوص  مالیت کے  دیوانی تنازعات   ہایئکورٹ میں ڈسٹرکٹ کورٹس کی طرح ٹرائل ہونگے  اسی قسم کے کیسز نے پورے سسٹم کو جام  نہیں  بلکہ  فیل  کررکھا ہے اس لیئے فوری طورپر ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی کو  اس حوالے سے لامحدود نوعیت کے اختیارات دے کر فوری طور پر وہ  تمام دیوانی  نوعیت  کے کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں  ٹرانسفر جو سندھ ہایئکورٹ میں ٹرائل کے  لیئے  کئی سال سے  ٹرائل کے منتظر ہیں اور اس وجہ سے پورا سسٹم ہی جام ہوکر رہ گیا ہے   اگر آج  پورے صوبہ سندھ کی عدلیہ میں کام کی رفتار میں بہت  زیادہ تیزی آئی ہے تو اس کے پیچھے اس کمپیوٹرائزڈ سوفٹ ویئر کاکمال  ہے جس کی وجہ سے آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ بہت زیادہ کمزوریوں کے باوجود ہزاروں خامیوں کے باوجود ہزاروں   مسائل  کے باوجود آج صوبہ سندھ کی ڈسٹرکٹ کورٹس تیزی سے بحران سے نکل چکی ہیں  اور تیزی سے نکل رہی ہیں  اور آج ہم یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ڈسٹرکٹ کورٹس کراچی میں بیٹھا ہوا ایک عام جج ماہانہ جتنا کام کرتا ہے جتنا ایک عام شہری کو ریلیف فراہم کرتا ہے ایک عام شہری کے مسائل کو حل کرتا ہے  وہ پورے صوبے کے  تمام جسٹس بھی  ایک ڈسٹرکٹ کورٹ  کے  جج کے مقابلے میں کام نہیں کرپارہے   یہ صورتحال کیوں پیدا ہورہی ہے اور ہوچکی ہے اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا چاہیئے کراچی بار کو چاہیئے ملیر بار کو چاہیئے کہ اس صورتحال کا جائزہ لیکر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو اس حوالے سے خصوصی طور پر جاکر خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے  سیشن  ججز  کو ایوارڈ دینا  چاہیئے  ڈسٹرکٹ عدلیہ کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا بہت زیادہ زیادتی ہوگی  یاد رہے کہ یہاں بات صرف عدالتی  کام کی رفتار پر ہورہی  ہے   یہ بھی حقیقت ہے کہ معیار میں بہت کمی ہے لیکن  جیسے ہی فضول  اور فالتو قسم کے کیسز ختم ہوجائیں گے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوگا کہ ملزمان کو کیفرکردار تک بھی پہنچایا جائے گا  موجودہ صورتحال میں تو  عدلیہ صرف ایک  بے مقصد  قسم  کے ٹرائل  کے زریعے پولیس  کی سہولت کار  کا کردار ادا کررہی ہے سارے کے سارے ملزمان باعزت طور پر  ہی بری ہورہے ہیں  جب ملزمان پر  بامقصد عدالتی ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہوگا ان پر سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوگا  تو اس کے بعد پاکستان  کی عدلیہ میں ایک ایسا انقلاب آئے گا جس کے بارے میں نہ تو ہم سوچ سکتے ہیں اور نہ ہی تصور کرسکتے ہیں اس سے یہ بھی مراد ہر گز نہیں کہ عدلیہ دھڑا دھڑ سب کو سزا لگانا شروع کردے بلکہ اکثر ملزم  بے گناہ ہی ہوتے ہیں پولیس ان کو مقدمات  میں پھنساتی ہے اور پولیس  کی غلط  تفتیش  کو کو کنٹرول کرنے کیلئے جو مطلوبہ صلاحیت ہوتی ہے  وہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے    عدلیہ بھی مجبور ہے  لیکن جب یہ صلاحیت آجائے گی  تو پھر  جو صورتحال جنم لے گی وہ تصور سے ہی باہر ہے 

راحیل شریف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان



راحیل شریف  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان امریکی اخبارات کے مطابق انڈیا  کا وزیراعظم  اور امریکہ کا صدر ایک خوبصورت دیو ہیکل ہاتھی پر سوار ہیں جس پر قیمتی قالین بچھا ہوا ہے    یہ  بھارت اور امریکہ کی دوستی کی ایک مثال ہے دوسری طرف  اس کے ساتھ ساتھ ایک  کمزور اور مریل سا خچر  چل رہا ہے جس پر صرف پاکستان کا  وزیراعظم اکیلا سوار ہے  اور اس پر پاک چائینہ دوستی لکھا ہوا ہے لیکن  وقت اور جنرل راحیل شریف نے امریکی  اخبارات کے دعوے کو غلط اور جھوٹا ثابت کیا  فوج  میں ہمیشہ متباد ل قیادت موجود ہوتی ہے  اور یہی پاک فوج کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ پاک فوج میں  ہر سطح پر انتہائی تربیت یافتہ قیادت  موجود ہے  جبکہ موجودہ دور میں پاکستان میں متبادل سیاسی قیادت کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا موروثیت کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں  چلائی جاتی ہیں  طلبہ تنظیموں پر پابندی کے بعد  مڈل کلاس طبقے سے  سیاسی قیادت کا سلسلہ بھی ختم ہوچکا ہے  تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی کے زریعے مڈل کلاس کو متبادل سیاسی قیادت دینے کا ناکام تجربہ کیا کیونکہ  صرف طلبہ یونین ہی اس ملک کی سیاسی جماعتوں کو متبادل قیادت دے سکتی ہے  طلبہ تنظیموں  نے اپنے عروج کے دور میں  پاکستان کو ہمیشہ بہترین قیادت فراہم کی تھی  لیکن  اب سیاسی میدان میں قیمتی گاڑیوں  والے سیاسی بھگوڑوں کا قبضہ ہے   جبکہ فوج میں آج بھی  اعلٰی قیادت  مڈل کلاس طبقے سے ہی آگے آرہی ہے کافی عرصے بعد پاک فوج کو ایک ایسا سپہ سالار ملا جس کی وجہ سے عوام میں پاک فوج کی عزت دوبارہ سے بحال ہوئی  حالیہ دنوں میں پاک انڈیا کشیدگی کے دوران پاکستان کو انڈیا پر نفسیاتی  برتری حاصل رہی  اور وہ نفسیاتی برتری راحیل شریف کی صورت  میں تھی  بلوچستان میں فوج سے نفرت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آرہی ہے کسی زمانے میں گاڑیوں پر لکھا ہوتا تھا پاک فوج کو سلام جبکہ موجودہ دور میں  جنرل راحیل شریف کی تصاویر اکثر گاڑیوں میں لگی نظر آتی ہے  پاکستانی سیاست میں امریکی اثرورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے  لیکن  امریکی اثرورسوخ کا زوال شروع ہوچکا ہے پاکستان میں امریکی اثر ورسوخ کے زوال کی ابتدا اس وقت ہوئی جب  اوبامہ انڈیا کے دورے پر آئے  اور اوباما   کا طیارہ انڈیا اور  عین اسی وقت راحیل شریف کا طیارہ چین میں اتر رہا تھا اور یہ امریکہ کو واضح پیغام تھا  جس طرح امریکہ نے  پاکستان کی دوستی کو ٹھکرایا  اسی طرح  پاکستان نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا  بعد ازاں امریکی اخبارات نے  انڈیا اور امریکہ کی دوستی کا موازنہ  پاک  چائینا دوستی کے ساتھ انتہائی مضحکہ خیز انداز میں ایک کارٹون بنا کر کیا  لیکن بعد میں امریکی اخبار کا تجزیہ درست ثابت نہیں ہوا  جبکہ  موجودہ دور میں امریکی سفیر کا اثررسوخ بھی کافی کم ہوا ہے   لیکن امریکہ  امریکہ ہی ہے  اس کا ایک اثرورسوخ ہے جس کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا جنرل  راحیل شریف کی اس وقت  عوام میں بے تحاشا مقبولیت ہے لیکن یہ مقبولیت بحیثیت ایک فوجی جنرل ہی کی حیثیت سے ہے  پاکستان کے چیف آف آرمی  اسٹاف ہی کی حیثیت سے ہی ہے  عوام نے جنرل راحیل شریف کو کبھی بھی ایک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر   کے طور پر   نہیں سوچا  پاکستان میں موجودہ سیاسی  استحکام  صرف اس وجہ سے ہے کہ پاک فوج اور سیاسی قیادت کی سوچ ایک ہے اور اسی سوچ کی وجہ سے کراچی میں امن قائم ہوچکا ہے  شہر کی رونق پوری طرح  بحال ہوچکی ہے سینکڑوں ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد وں کا قلع قمع کیا جاچکا ہے اور بچے کھچے  ہاتھ میں تسبیح لیکر تبلیغ اللہ اللہ کرتے پھر رہے ہیں پاک چایئنا کوریڈور   بہت سی طاقتوں کیلئے ایک پیغام ہے امریکہ  واضح طور پر محسوس کررہا ہے  کہ اسلام آباد اور وائٹ ہاؤس کے درمیان  فاصلے بڑھ رہے ہیں اگرچہ امریکہ نے پاکستان کو کبھی دوست نہیں سمجھا لیکن پاکستانیوں کی غلط فہمی کو دور بھی نہیں کیا   جنرل راحیل شریف کے دور میں  یہ فاصلہ شاید اب پاکستان کی جانب سے بڑھنا شروع ہوا ہے    جبکہ سیاستدانوں کی نظریں اب بھی امریکہ کی طرف ہی دیکھتی ہیں لیکن چین کا  پاکستان  میں  اثر ورسوخ   ایک حقیقت بن چکا ہے  لیکن امریکی قیادت  نہ کیوں یہ حقیقت تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہورہی کہ پاکستان میں سیاسی استحکام پورے خطے کے مفاد میں ہے   اور امریکی نے کبھی ایسی پالیسی تشکیل نہیں دی جس سے پاکستان   میں استحکام ہو جہاں ایک طرف مقبولیت ہے عوام میں بے پنا محبت ہے وہیں دوسری طرف مجبوریاں بھی ہیں  اور  ایک فوجی جنرل کی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آرہا ہے تو  عوام اور سرمایہ کاروں میں بے چینی کی فضا ء  محسوس ہورہی ہے  کیونکہ موجودہ سیاسی استحکام  کے حوالے سے  جنرل راحیل شریف کا نام لازم  وملزوم سمجھا جارہا ہے عوامی  خواہش تھی کہ  مدت ملازمت میں توسیع کردی جائے   تو دوسری طرف   یہ سوچ فوج کیلئے بھی ایک چیلنج ہے جس کے پاس   بہترین  متباد ل قیادت موجود رہتی ہے جو متبادل قیادت کو  تیار کرتی ہے  ایک سوچ یہ بھی ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع سے متبادل قیادت   یعنی  آنے والے اگلے جنرل  کے سامنے ایک رکاوٹ آئے گی لیکن جنرل راحیل شریف نے جس طرح طالبان کے  ساتھ جنگ کرکے ان کو شدید کمزور کیا اس کے بعد اس سلسلے کو جاری رکھنا مشکل ہورہا ہے   کیا نیا فوجی جنرل اس جنگ کو جاری رکھے گا  کراچی کا سرمایہ کار پریشان  ہورہا  ہے کہ  کیا  کراچی میں جاری امن کی کوششوں کو دوام بخشنے کیلئے کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا  یا مفاہمت  کی  پالیسی اپنا کر  دہشت  گردی  کو پھلنے پھولنے کا دوبارہ موقع دیا جائے گا  اسی قسم کے بہت سے سوال پوری قوم کو پریشان کررہے ہیں  میرے خیال میں بے شمار خوبیوں کے باوجود  پاک فوج کے پاس اس وقت  بھی نہایت ہی اچھے فوجی افسر موجود ہیں لیکن  جنرل راحیل شریف  جیسی عوامی مقبولیت شاید کسی کو  دوبارہ نصیب نہیں سکے گی  یہ فرق واضح ہے  اگرچہ ایک جمہوری معاشرے میں  فوج کا کوئی  کردار نہیں ہوتا   لیکن جمہوری معاشروں میں وہ رویئے بھی نہیں ہوتے جو پاکستانی سیاستدانوں کے ہیں  ۔  اسی وجہ سے   فوج اور سیاستدانوں کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان میں سیاسی استحکام آیا ہے    جس پر سرمایہ کاروں نے  کھل  کر اعتماد  کا اظہار بھی کیا ہے دوسری طرف پاکستان آج بھی حالت جنگ میں ہے کیونکہ اسلام کے نام پر  بنائے جانے  والے  عالمی دہشت گرد گروپ ہر وقت پاکستان کی مظلوم عوام کو  خودکش  دھماکوں  کے زریعے نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ۔  تو دوسری طرف  بین  الاقوامی  خفیہ ایجنسیاں  بھی پاکستان میں عدم استحکام کی پالیسی پر کمر بستہ ہیں جنرل راحیل شریف  ہی کے دور میں  عدلیہ واپس اپنے اصل مقام پر پہنچ چکی ہے   آزاد عدلیہ  مکمل آزاد ہوچکی ہے موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے  ہیں کہ موجودہ سیٹ  اپ ہی کو برقرار رکھا جائے   کچھ عرصے کیلئے جنرل راحیل شریف  صاحب  مزید چیف آف آرمی اسٹاف رہیں  کیونکہ  حالت جنگ میں  جنرل کا ریٹائر ڈ ہونا اچھا شگون  نہیں ہوتا سرمایہ کاروں کا اعتماد تیزی سے بحال ہورہا ہے  بیرونی سرمایہ کار صرف موجودہ سیاسی سیٹ اپ ہی کو پسند کررہے ہیں چیف صاحب   ریٹائرمنٹ  بہرحال ایک حقیقت ہے آج اور کل میں کوئی فرق نہیں ہے  لیکن اس کے باوجود موجودہ حالات یہ تقاضہ کرتے ہیں کہ  آپ    موجودہ سیٹ اپ میں برقرار رہیں  کیونکہ سیاسی گدھ  صرف آپ کی ریٹائرمنٹ ہی کے منتظر ہیں    کیونکہ  جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے  اور یہ انتقام عوام سے لیا جاتا ہے

Pages