[ --- دریچہ ---] آن لائن اردو میگزین

سیاست اور زبان از شیخ محمد غیاث الدین

اردو سوشل میڈیا سمٹ، بلاگنگ سمیت سوشل میڈیا کے ان تمام حلقوں سے وابستہ افراد کے لیے تازہ ہوا کا ایک جھونکا تھی جن کا ذریعہ اظہار اردو ہے۔ مئی کی ایک گرم صبح تجربہ کار بلاگرز اور سوشل میڈیا ماہرین سے لے کر ابلاغ عامہ پڑھنے والے طلباء تک، ایک کثیر تعداد جامعہ کراچی کے ایچ ای جے آڈیٹوریم میں موجود تھی جہاں اگلے چند گھنٹے ان کے لیے بہت یادگار رہے۔ تقریب کے پہلے سیشن میں سمٹ کے اسپانسر شاہی انٹرپرائزز کے مالک شیخ محمد غیاث الدین کی ایک تقریر بھی شامل تھی۔ اگر کوئی عام فرد مقررین کی فہرست پر نظر ڈالتا تو شاید یہی سمجھتا کہ ان کی تقریر چند خیرمقدمی کلمات اور اپنے ادارے کی اس تقریب میں شمولیت کی وجوہات پر مشتمل ہوگی لیکن غیاث الدین صاحب نے تقریب سے کئی روز پہلے اپنے لیے "سیاست اور زبان" کا موضوع منتخب کیا تھا اور پھر انہوں نے دن کے اہم ترین خطابات میں سے ایک کیا۔ یہ پوری تقریر یہاں تحریری صورت میں ان قارئین کی نذر کی جارہی ہے جو اس تقریب میں موجود نہیں تھے یا کسی وجہ سے یہ تقریر نہیں سن سکے۔

سیاست اور زبان

"یہ تو سب جانتے ہیں کہ انسان حیوانِ ناطق ہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ انسان ایک سیاسی حیوان بھی ہے۔ اگر معاشرہ صرف ایک انسان پر مشتمل ہوتا تو نہ زبان ہوتی اور نہ سیاست۔ اگر ایک سے دو ہوجائیں تو زبان کی ضرورت پیش آ جاتی ہے، مگر سیاست کی نہیں۔ کوئی سیاست وجود میں آہی نہیں سکتی بغیر اختلاف کے۔ اگر دو انسانوں میں اختلاف ہو تو سیاست کی ضرورت نہیں، جو طاقتور ہے وہ اپنی بات منوا لے گا، اور ہمیشہ منواتا رہے گا۔ لیکن جہاں دو سے تین ہوجائیں، سیاست کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ماشآ اللہ 20 کروڑ ہیں اور سیاست ہی سیاست ہے۔

سیاست کا بنیادی تقاضہ کیا ہے؟ میری رائے میں اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اختیار و اقتدار حاصل کرنا۔ مقاصد، جن کے لیے اقتدار حاصل کیا جائے، نیک بھی ہوسکتے ہیں اور مذموم بھی۔ موجودہ دور میں دونوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ اپنی زندگی ہی میں میں نے دیکھا کہ کس طرح لی کوان یوو نے ایک چھوٹے سے شہر سنگاپور کو ایک تجارتی طاقت کا سرچشمہ بنا دیا۔ ماؤزے تنگ اور چو این لائی اور ان کے بعد آنے والے دیگر رہنماؤں نے دیکھتے ہی دیکھتے چین کو دنیا کی دوسری بڑی طاقت بنا دیا۔ مہاتیر محمد نے ملائیشیا کی قسمت بدل دی اور طیب اردوغان نے ترکی کو معاشی بدحالی سے نکال کر ایک خوشحال معاشرے میں تبدیل کردیا۔ اور اس کے برعکس، اس کے بالکل برعکس، جو مثالیں ہیں ان سے بھی آپ بخوبی واقف ہیں، وہ بھی آپ کے سامنے ہیں اور شاید اتنی قریب ہیں کہ ان کے بھیانک خدوخال آپ دیکھ نہیں سکتے۔

لیکن مقاصد کچھ بھی ہوں، یہ نقطہ نظر کی بات بھی ہوسکتی ہے۔ جو میرے لیے مذموم ہے، وہ آپ کے لیے نیک ہو، جو آپ کے لیے نیک ہے، وہ میرے لیے مذموم ہو۔ میں جس نکتے پر آنا چاہتا ہوں ویہ ہے کہ اقتدار میں آنے اور رہنے کے لیے کچھ داؤ پیچ، حربے اور کچھ ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں، ان میں سے دو ہتھیار بہت خوفناک ہیں، جو عموماً مذموم مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک مذہب، دوسرا زبان۔ سیاست اور مذہب میرا موضوع نہیں ہے لیکن میں یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ زبان اور عقیدہ کسی بھی شخص کی بہت بڑی شناخت ہوتے ہیں۔ ہمارا ان سے عقلی بھی اور جذباتی بھی بہت گہرا لگاؤ ہوتا ہے اور ہمیں ان پر بہت آسانی سے بھڑکایا جاسکتا ہے۔ سیاست کرنے والے اقتدار کے شکاری، یہ حقیقت بخوبی جانتے ہیں اور زبان و مذہب کے تعصبات کو ایک تکنیک کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یوں معصوم عوام الناس کا شکار کھیلتے ہیں، اور ان کا استحصال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سے چند سال پہلے ممبئی کی سڑکوں پر پسے ہوئے غریب لوگ ایک دوسرے کے سینے میں خنجر پیوست کررہے تھے کیونکہ ایک گجراتی بولتا تھا اور دوسرا مراٹھی۔

پاکستان میں زبان کی سیاست کا کھیل ابتداء ہی میں شروع ہوگیا تھا۔ اس نعرے سے کہ اردو پاکستان کی واحد قومی زبان ہے اور اسے تسلیم کیا جائے۔ یہ نعرہ بظاہر تو اردو کے حق میں نظر آتا ہے، مگر اس سے اردو کا یا ہماری قوم کا کوئی فائدہ مقصود تھا اور نہ ہے۔ اہل بنگال، جو تقسیم ہند سے پہلے ایسے گرے ہوئے کاغذ کو جس پر اردو تحریر ہو اٹھا کر احترام سے رکھ دیا کرتے تھے، اردو سے نفرت کرنے لگے۔ اور مغربی پاکستان میں بھی دوسری زبانیں بولنے والوں کے دلوں میں اردو سے کوئی الفت پیدا نہیں ہوئی جو میرے نزدیک بالکل فطری بات ہے۔ اردو کو کوئی واحد قومی زبان کی حیثیت سے کیوں تسلیم کرے؟ قومی زبان تو وہ ہے جو قوم بولتی ہے، قوم تو سندھی بھی بولتی ہے پشتو بھی، میں پنجابی کا ذکر نہیں کروں گا کہ وہ میری نظر میں اردو ہی کی ایک بہتر شکل ہے۔ اگر آپ شمال میں بلتستان سے چلیں تو وہاں بلتی سے لے کر جنوب میں بلوچی تک، تقریباً 30 سے 35 بولیاں ہیں جو ہماری قوم بولتی ہیں۔ آپ صحیح سوچ رہے ہیں، یہ تو بولیاں ہیں، زبان اور بولی میں فرق ہے۔ ٹھیک ہے، یہ قومی زبانیں ہیں یا بولیاں ہیں، لیکن ہیں۔ نہ ان کے وجود کو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے بولنے والوں کے دلوں سے ان سے جذباتی لگاؤ ختم کیا جا سکتا ہے۔

پھر کیوں اردو کو دیگر قومی زبانوں کے مقابلے میں سہارا دیا گیا؟ میرے خیال میں ایساکرنے کا مقصد صرف ایک تھا اور ہے، وہ یہ کہ قوم کو ایک بحث میں الجھا دیا جائے اور 'اسٹیٹس کو' کو برقرار رکھا جائے۔ وہ اسٹیٹس کو ہے انگریزی کو اس کی جگہ پر قائم رکھنا۔ اردو کو اگر کوئی جگہ ملنی چاہیے تو وہ دوسری مقامی زبان کے سامنے کھڑا کرنے سے نہیں بلکہ انگریزی کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی ہے ۔ ہمارے روزمرہ کے معاملات میں انگریزی کو جو مقام حاصل ہے، وہ اردو کو ملنا چاہیے۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ انگریزی کے مقابلے میں پاکستان کے طول و عرض میں اردو زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہے، اس لیے اگر قوانین اردو میں ہوں، قانون کی کتابیں اردو میں ہوں، دفاتر اور فائلوں میں اردو میں نوٹنگ ہو، عدالت کی کارروائی اور فیصلے اردو میں لکھے جائیں، حکومت کی جانب سے عام لوگوں کو نوٹس اردو میں بھیجے جائیں اور اس کے جواب اردو میں وصول کیے جائیں تو ایک عام آدمی کی زندگی بہ نسبت بہت آسان ہوجائے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کا مقصد اس سے پورا نہیں ہوگا۔ ہماری بیوروکریسی کو یہ خوف ہے کہ ایک سیشن افسر ایک سیکرٹری سے اچھی نوٹنگ نہ کرے۔ اب تو اس کی گنجلک اور اوٹ پٹانگ انگریزی پر اسے ڈانٹ پلائی جا سکتی ہے، کہیں اس کے برعکس شرمندگی نہ ہو۔ اور قانون کو تو عام فہم بنایا ہی نہیں جا سکتا، اس سے تو بہت بڑا اور ناپسندیدہ اختلاف آ جائے گا۔ میں آپ کو بتاؤں کہ انگریزی میں بھی اگر کوئی بے وقوف افسر قانون ڈرافٹ کرتے ہوئےاسے بہت واضح اور غیر مبہم اور صراحت کے ساتھ لکھ دے تو اس کی شامت آ جاتی ہے۔ اسے یا تو تبدیل کردیا جاتا ہے یا ہٹا دیا جاتا ہے۔ یہ میں ازراہ مذاق نہیں کہہ رہا، یہ واقعات میرے علم میں ہیں۔ لہٰذا اردو کو واحد قومی زبان کا ایک جذباتی اور کھوکھلا نعرہ دے دیا گیا، جس سے دونوں طرف کے جذبات ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا دیے گئے،لیکن عملی قدم کوئی نہیں اٹھایا گیا۔

میری اہلِ اردو سے ایک گزارش ہے اور دیگر قومی زبانوں والوں سے بھی، کہ وہ ہرگز اپنی زبان کو سیاسی استحصال کی نذر نہ کریں۔ اگر آپ کو اپنی زبان سے محبت ہے تو اس کے لیے کام کریں، اس کے لکھنے پڑھنے والوں کو بڑھائیں، اور اس میں پڑھنے کے مواد میں اضافہ کریں۔ میں اپنے آپ سے بھی کہتا ہوں اور اہلِ اردو سے بھی کہوں گا کہ ہم موپے ساں، چیخوف اور دیگر غیر ملکی لکھاریوں کے بارے میں تو جانتے ہیں لیکن اپنے بلوچی اور براہوی اور سندھی اور پشتو کہانی نویسوں سے بالکل ناواقف ہیں۔ اُن کی تمام کتابوں کے ترجمے اردو میں کیوں نہیں؟ میں سمجھتا ہوں گہ اہلِ اردو کو اردو کی سیاست سے زیادہ اردو کو علمی زبان بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

دیکھیں اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایک کثیر الزبان ملک میں کسی ایک زبان کو فوقیت دے کر مکمل قومی سطح پر نافذ کرنا ایک دشوار مسئلہ ہے۔ لیکن ترقی پسند قومی مسئلوں کا حل نکالتی ہیں انہیں کھٹائی میں نہیں ڈالتیں۔ فی الحال تو ارباب اختیار نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ ایک elitist معاشرہ قائم رکھنے کے لیے اور ایک استحصالی نظام قائم رکھنے کے لیے انگریزی جہاں اور جس طرح ہے، وہیں رہے، اور کوئی قومی زبان، بشمول اردو کے،جو میرے نزدیک یکے از قومی زبان ہے، انگریزی کی جگہ نہ لے سکے۔ یہ سوچنا اب معاشرے کے اُن لوگوں کی ذمہ داری ہے جو اس نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو جہالت اورغربت کی دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں کہ کیا انگریزی کی موجودگی میں ایسا ممکن ہے؟ میں انگریزی کے ہر گز خلاف نہیں ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اسکول کی ایک خاص سطح سے انگریزی ہر ایک کے لیے لازمی ہونی چاہیے۔ اگر عوام کی اکثریت انگریزی سے واقف ہوجائے اور انگریزی پڑھ کر علم کی روشنی سے آشنا ہوجائے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی؟ لیکن صورتحال یہ ہےکہ میرے گھر اور کاروبار کے جتنے بھی ڈرائیورز آج تک مجھے ملے ہیں، اُن میں سے کوئی بھی ہائی وے کوڈ اور ٹریفک کے قوانین، جو انگریزی میں ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ اور تو اور وہ تمام پولیس والے جن کا کام اس کوڈ پر عمل کرانا ہےوہ بھی اسے نہیں پڑھ سکتے۔ تو ہم کون سے قانون پر کس سے عمل کرانا چاہتے ہیں؟ ٹریفک کی صورتحال تو آپ کے سامنے ہے۔ تقریباً ایسی ہی صورتحال اندرونِ خانہ ہر جگہ پر ہے۔ لاکھوں ریستوراں کے مالکان پشاور سے لے کر مکران تک، انہیں نہیں معلوم، نہ وہ پڑھ سکتے ہیں کہ فوڈ ایکٹ بھی کوئی چیز ہے۔ ہزاروں لاکھوں دکانداروں کو نہیں پتہ کہ شاپ ایکٹ ہے یا انہوں نے کبھی پڑھنے کی کوشش کی یا اگر وہ کوشش کریں گے تو پڑھ سکیں گے۔ لاکھوں کروڑوں مزدور بلکہ مزدوروں کو مزدوری دینے والے بھی نہیں جانتے کہ لیبر ایکٹ کیا ہے۔ اور تو اور ہمارے بہت سے ممبران اسمبلی کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ہمارا آئین کیا ہے۔

اُن لوگوں سے مخاطب ہونے کا کوئی فائدہ نہیں جو اس صورتحال سے خوش ہیں، اور اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ میں ان لوگوں سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں جن کے لیے یہ صورتحال تکلیف دہ ہے۔ کیا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ کاروبارِ حکومت ایک غیر ملکی زبان میں ہونے کی وجہ سےعام لوگ پریشانی اور نانصافی کا شکار ہیں؟ اور کیا یہ کسی قومی زبان میں نہیں ہونے چاہئیں؟ یہ ضروری نہیں کہ یہ اردو میں ہوں، یا صرف اردو میں ہوں، لیکن ان ایک یا دو یا تین زبانوں میں ضرور ہوں جو ملک کے کثیر عوام سمجھ سکیں۔ اور اگر زبان کے تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک زبان پر متفق ہوجائیں تو یہ ایک بہت بڑا قدم ہوگا جو آسان نہیں ہوگا۔ لیکن اگر کوئی قدم نہیں اٹھے گا تو وقت کے قدم تو اٹھتے رہیں گے اور ہر چیز اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گی۔ "

روداد - اردو سوشل میڈیا سمٹ 2015ء

اردو سورس کے زیرِ اہتمام  شعبۂ ابلاغِ عامہ، جامعہ کراچی کے اشتراک سے پہلی بین الاقوامی اردو سوشل میڈیا سمٹ 2015 کا انعقاد 8 مئی بروز جمعہ، سلیم الزماں صدیقی آڈیٹوریم (ایچ ای جے، جامعہ کراچی) میں کیا گیا۔ سمٹ میں شرکت کے لیے پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر اور سوشل میڈیا پر فعال افراد پروگرام سے قبل کراچی پہنچ چکے تھے جن کی رہائش کا انتظام اردو سورس کی جانب سے جامعہ کراچی ہی کے گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ اس سمٹ کو شاہی فوڈز کی جانب سے اسپانسر کیا گیا جبکہ ایکسپریس میڈیا گروپ نے بطور میڈیا پارٹنر حصہ ڈالا۔

ڈاکٹر محمود غزنوی

ڈاکٹر محمود غزنوی حاضرین سے خطاب کر رہے ہیں

سمٹ کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے ہوا۔ تلاوت کلام پاک و نعت رسول مقبول (ص) کے بعد، اردو بلاگر عمار ابنِ ضیا نے اُردو سورس کی جانب سے تمام مہمانانِ گرامی اور شرکا کو خوش آمدید کہا۔ اس کے بعد معروف مقرر و خطیب، براڈکاسٹر اور شعبۂ ابلاغِ عامہ کے صدر نشیں جناب ڈاکٹر محمود غزنوی صاحب کو اظہارِ خیال کی دعوت دی۔
ڈاکٹر محمود غزنوی نے اپنے خطاب میں اُردو سوشل میڈیا سمٹ کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک باد دیتے ہوئے اردو زبان کی اہمیت اور ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، زبان ہماری شخصیت سازی اور تہذیب کی صورت گری کرتی ہے اور انسان کو  اپنی زبان کے ہر ہر لفظ سے نہ صرف جذباتی لگاؤ ہوتا ہے بلکہ قومی روایات اور تجربات ان میں پیوست ہوتے ہیں ۔کسی قوم کی شناخت اس کی زبان بنتی ہے اور زبان سے رشتہ توڑنا کسی بھی قوم کو تباہی و بربادی کی طرف لاکھڑا کرتا ہے اور رسم الخط سے رشتہ ٹوٹنا اس کا پہلا قدم ہوسکتا ہے۔ اردو کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ کرۂ ارض میں بارہا تہذیبیں برپا ہوئی ہیں اور ان کی آمیزش سے سوائے اردو کے کوئی زبان جنم نہیں لے سکی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی یونیورسٹی کے اپریل 2015ء میں جاری ہونے والے سروے کے مطابق اردو کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے اور یہ ایشیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی دوسری زبان ہے۔

رومن طرز تحریر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر رسم الخط سے رشتہ ٹوٹا تو پھر ہماری تاریخ و تہذیب، ہمارے علمی ورثے، ہمارے ادب، ہمارے مذہب  غرض یہ کہ موجودہ نسل کا اپنے ماضی سے رشتہ مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو اب ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوچکی ہے، اردو بلاگرز بھی یہاں موجود ہیں، اردو کا اتنا بڑا کام ہوچکا ہے تو پھر ہم اردو کو استعمال کیوں نہیں کرتے؟

ڈاکٹر غزنوی نے اُردو تحریر میں انگریزی الفاظ کے بے دریغ استعمال پر کہا کہ جب بھی کسی زبان کا لفظ دوسری زبان میں شامل ہوتا ہے تو صرف لفظ ہی شامل نہیں ہوتا، بلکہ اُس کا مکمل پس منظر اور ثقافت بھی ساتھ چلی آتی ہے۔ انہوں نے اشتہارات میں انگریزی الفاظ کا تڑکا لگانے اور اُردو کو رومن رسم الخط میں لکھنے پر شدید نکتہ چینی بھی کی۔

ڈاکٹر محمود غزنوی کے بعد، اظہارِ خیال کے لیے شاہی فوڈز کے چیئرمین جناب غیاث الدین صاحب تشریف لائے۔ آپ نے اردو زبان اور زبان کی سیاست پر پُر مغز تقریر کی۔ غیاث الدین صاحب نے کہا کہ زبان اور عقیدے کسی بھی انسان کی بہت بڑی شناخت ہوتے ہیں جن سے ہمارا عقلی اور جذباتی طور پر بہت گہرا لگاؤ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید نے کہا کہ کوئی زبان برتر اور کمتر نہیں ہوتی اور زبان کی بنیاد پر سیاست کرنا تعصب کو فروغ دیتا ہے؛ اس لیے صرف اُردو ہی نہیں، تمام قومی زبانوں کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس وقت انگریزی کو جو مقام دیا جاتا ہے درحقیقت وہ اردو کو ملنا چاہیے تھا کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ انگریزی کے مقابلے میں پاکستان کے طول و عرض میں اردو زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے اگر قوانین اردو میں، قانون کی کتابیں اردو میں ہوں، دفاتر میں اردو میں اندراج ہو، عدالت کی کاروائی اور فیصلے اردو میں لکھے جائیں، حکومت کی جانب سے عوام کو اطلاعات اردو میں بھیجی جائیں اور اس کے جواب اردو ہی میں وصول کیے جائیں تو ایک عام آدمی کی زندگی بہت زیادہ آسان ہوجائے گی۔ انہوں نے اہل اردو اور دیگر قومی زبانیں بولنے والوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ ہرگز اپنی زبان کو سیاسی استحصال کی نظر نہ کریں۔ اگر آپ کو اپنی زبان سے محبت ہے، اس کے لیے کام کریں، اس میں لکھنے پڑھنے والوں کو آگے بڑھائیں اور اس کے مواد میں اضافہ کریں۔ انہوں نے ذاتی تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک جتنے بھی ڈرائیور حضرات میں نے رکھے ان میں سے کوئی ہائی وے ایکٹ یا ٹریفک کے قواعد، جو انگریزی میں ہیں، نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اردو سورس کے بانی عامر رفیق اور ان کے ساتھی لائق تحسین ہیں کیونکہ وہ زبان کی سیاست میں الجھے بغیر اور زبان کے تعصبات سے بالاتر ہو کر قدم اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اردو سورس کا ساتھ دینے والے بڑھتے رہیں گے۔

بعد ازاں، اُردو پوائنٹ کی نمائندہ فوزیہ بھٹی نے اُردو کی معروف اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ویب سائٹ، اُردو پوائنٹ کا تعارف، اس کی ابتدا و ارتقا کے مراحل اوردیگر  دلچسپ اعداد و شمار پیش کیے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری، منظور حمید آرائیں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو لشکری زبان ہے اور یہ لوگوں میں تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ ہے اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اپنی پیدائش سے لے کر آج تک اردو نے تعلق پیدا کیا ہےمگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اس زبان کو وجہ تنازع بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے دانشور اور سیاسی لیڈر اس زبان کو تعلق جوڑنے کا ذریعہ رکھتے تو شاید اس کی ترویج و اشاعت آج سے زیادہ بہتر ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی کہ دیگر زبانوں کے علوم کو اپنی زبان میں ترجمہ نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ ہم غالب یا میر تقی میر جیسے شعرا، ادیب یا رہنما نہیں پیدا کرسکے۔

ایک اور اہم مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے انگریزی کو تفاخر سمجھ لیا ہے یعنی جو شخص انگریزی بولتا، لکھتا یا سمجھتا ہے اس کی اعلی کلاس ہے۔ سوشل میڈیا اور اردو بلاگرز کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہ نوجوان نسل نے ویب سائٹس کے ذریعے سعادت حسن منٹو، پروین شاکر، جالب اور اردو کا وہ ذخیرہ پڑھنا شروع کردیا جو شاید وہ کتابوں میں نہیں پڑھ پا رہے تھے۔ سمٹ کے انعقاد پر انہوں نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے پروگرامات ہوتے رہنے چاہیں جن سے سوشل میڈیا میں اردو زبان کی ترویج مزید بہتر انداز سے ہوسکے۔

غازی صلاح الدین

غازی صلاح الدین نے سبین محمود کا بھی ذکر کیا

معروف دانشور، غازی صلاح الدین نے سبین محمود کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا سے وابستہ ایک اہم شخصیت تھیں اس لیے ہمیں ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ ان کے دفتر ٹی ٹو ایف (T2F) میں جتنے بھی پروگرام ہوتے تھے وہ سب اردو ہی میں ہوتے تھے۔ اردو کے حوالے سے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں زبان کی بنیادی پر فوقیت کا مسئلہ ہے مثلاً اگر آپ کو انگریزی نہیں آتی تو اچھی نوکری نہیں ملے گی بوجود اس کے کہ گزشتہ تیس چالیس سالوں میں انگریزی کا معیار بھی بہت گر گیا ہے اس لیے اب ہمیں صحیح انگریزی بولنے والے بھی نہیں ملتے اور صحیح اردو بولنے والے بھی نہیں اس لیے میں کہتا ہوں کہ ہم بے زبان لوگ ہیں۔ غازی صاحب نے انگریزی کو سر کا تاج اور پاؤں کی زنجیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنی زبان اپنائے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔

تقریب کے ایک منفرد مہمان ایلن کیزلر تھے، جو امریکی ہونے کے باوجود پاکستان سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں اور شستہ اُردو بولتے ہیں۔ اُردو بلاگر محمد اسد اسلم نے سمٹ کے شرکا سے ایلن کیزلر کا تعارف کروایا اور ایلن سے اُن کی  پاکستان سے محبت اور اردو زبان سے لگاؤ کے بارے میں سوالات  کیے۔ اس دوران حاضرین حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات و احساسات میں، ایلن کی گفتگو سنتے رہے۔ ایلن نے بتایا کہ اُن کی پیدائش پاکستان کے قیام سے چند ہفتوں پہلے ہوئی اور انہوں نے انگریزی یا اردو زبان کے بجائے پنجابی کے لفظ 'ککڑ' سے بولنا شروع کیا۔ ایلن نے بتایا کہ انہوں پاکستان کے مختلف شہروں میں سفر کیا اور رہائش اختیار کی جن میں خانیوال، لاہور اور رائیونڈ بھی شامل ہے۔ انہوں نے امریکا سے پاکستان واپس آنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خاص ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہاں سے پوری دنیا میں سلامتی، امن پھیلے گا۔

سوشل میڈیا سے اپنا تعلق بیان کرتے ہوئے ایلن کیزلر نے بتایا کہ تین چار سال پہلے ایک پاکستانی لڑکے نے مجھے فیس بک پر ایک ویڈیو بھیجی اور یوں میرا فیس بک سے تعارف ہوا۔ اس کے بعد ریحان اللہ والا سے ملاقات ہوئی جس کے بعد میں نے فیس بک کے ذریعے اپنی ویڈیوز بنانا شروع کیں جن میں ملا نصرالدین کے سبق آموز کہانیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔

ایلن نے گفتگو کے اختتام پر پاکستان کے روشن اور تابناک مستقبل کے بارے میں اپنی اُمیدوں اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے ایک گیت گنگنایا اور والہانہ رقص کرنے لگے، جس پر پورا ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔

اس کے بعد ریحان اللہ والا نے سوشل میڈیا کے بہتر استعمال کے حوالے سے گفتگو کی اور حاضرین کو اس کے زیادہ سے زیادہ مثبت استعمال کی تحریک دی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ایک عام آدمی کو طاقت دی ہے کہ وہ اپنا پیغام دور دور تک پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا سے فاصلوں میں کمی آئی ہے، چاہے براک  اوبامہ ہو، چاہے نواز شریف ہو یا عمران خان سب سے رابطے کے برابر مواقع موجود ہو گئے ہیں۔

دنیا کے دیگر ممالک میں اردو زبان کی تعلیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ دسیوں ممالک میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے اور یوں فیس بک کے استعمال سے بھی ہم باقی دنیا سے جڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہونے کے باوجود ہمارے ملک کا ہر شخص موبائل فون استعمال کرتا ہے جو جلد اسمارٹ فون پر آجائے گا، سوال یہ ہے کہ ہم مواد تخلیق کر رہے ہیں یا نہیں؟ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے آس پاس موجود تمام لوگوں کو انٹرنیٹ سے منسلک کریں اور مثبت خبریں پھیلانا شروع کریں۔
نمازِ جمعہ اور ظہرانے کے وقفے سے قبل شعبۂ ابلاغِ عامہ جامعہ کراچی کے طلبا کی جانب سے حال ہی میں قتل کیے جانے والے پروفیسر وحید الرحمان کی یاد میں ایک پروگرام پیش کیا گیا۔

ظہرانے کا انتظام ایچ ای جے (جامعہ کراچی) کے کمرۂ طعام (ڈائننگ ہال) میں کیا  گیا تھا۔ اس دوران سمٹ کے شرکا جن میں طلبا و طالبات کے علاوہ ملک بھر سے آنے والے بلاگرز اور سوشل میڈیا صارفین بھی تھے کو آپس میں مل کر بیٹھنے اور نئے لوگوں سے متعارف ہونے کا موقع ملا۔

ظہرانے کے بعد سمٹ کی اگلی نشست کا آغاز پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر، خورشید تنویر کی تقریر سے ہوا۔ آپ کے خطاب کا اہم ترین نکتہ وہ تھا جب آپ نے کہا کہ دنیا کی کوئی زبان کمتر یا افضل نہیں ہوتی۔ ہمیں بھائی چارگی اور محبت کے ساتھ دوسروں کی تہذیب، تمدن، زبان، ثقافت اور رہن سہن سے محبت کرنی چاہیے اور یہی انسانیت کے لیے آدرش ہے۔ دوسروں کی زبان کی عزت و تکریم کی صورت میں ہماری زبان کی بھی عزت ہوگی۔

کاشف حفیظ

کاشف حفیظ نے پاکستانی نوجوانوں بالخصوص طلباء کے حوالے سے تحقیق پیش کی

بعد ازاں معروف کالم نگار اور محقق کاشف حفیظ صدیقی نے پریزینٹیشن کے ساتھ خطاب کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے ظہرانے کے فوراً بعدتقریر کا شکوہ کیا، ان کا جملہ "ایک تو اپنا پیٹ بھرا ہوتا ہے، پھر دوسروں کے بھی پیٹ بھرے ہوتے ہیں"، اس جملے سے محفل میں مسکراہٹ کی صورت میں زندگی کی رمق دوڑ گئی۔ اردو شعراء کی شاعری پڑھنے کے بجائے ان کے گائے جانے کا شکوہ کرنے کے بعد کاشف حفیظ نے اپنی پریزنٹیشن سنبھالی۔ انہوں نے ایک سروے کا احوال بتایا کہ جو ان کے ادارے نے 2003ء، 2008ء اور 2013ء میں تین مختلف سالوں میں پاکستانی نوجوانوں بالخصوص طلباء میں کیا ۔ ان سوالات کی نوعیت میں تینوں سال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور رحجانات میں پیدا ہونے والی تبدیلی کا مشاہدہ کیا گیا۔ سروے کے بارے میں کاشف حفیظ نے بتایا کہ "جنریشن زیڈ" ڈیجیٹل عہد سے مانوس ہے، سہل پسند ہے، اپنی حفاظت کے بارے میں فکرمند اور حقائق سے فرار اختیار کرتی ہے۔ ان کی تقریر انہی چار نکات کو بیان کرنے میں گزری، جس میں انہوں نے 15 کلیدی اشاریے پیش کیے جنہوں نے دور جدید کے نوجوان کے رحجانات کو کھول کر بیان کیا۔ آخر میں انہوں نے اس امر کا شکوہ کیا کہ ہمارے معاشرے میں اب کوئی 'رول ماڈل' نہیں ہے۔ اس کے لیے انہوں نےنوجوانوں کی اردو ادب سے لاتعلقی اور اس کے پڑنے والے اثرات پر بھی چند باتیں کیں اور تالیوں کی گونج میں اپنے پروگرام کا خاتمہ کیا۔

بی بی سی اردو کے سربراہ اور مدیر عامر احمد خان نے اپنے ادارے کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال اور ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے تیزی سے تبدیل ہوتے منظرنامے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وہ زمانے گزر گئے جب بی بی سی جیسے ادارے براڈکاسٹر ہوا کرتے تھے، سوشل میڈیا کے اس عہد میں اب ہر شخص براڈکاسٹر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیس بک پر بی بی سی کے 31 لاکھ اور ٹوئٹر پر ساڑھے تین لاکھ فالوورز ہیں۔ بی بی سی کا 20 فیصد ٹریفک فیس بک سے آتا ہے۔ عامر احمد خان نے مزید کہا کہ بی بی سی ریڈیو، ٹی وی اور ویب سائٹ کے بعد سوشل میڈیا کو اپنا چوتھا میدان سمجھتا ہے اور اس چوتھے میدان کے لیے ہم الگ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آئندہ دنوں میں سوشل میڈیا ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جسے ہم سب کو بہت سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ کیونکہ جس طرح گزشتہ سالوں میں 'سیلفی' جیسا نیا لفظ سامنے آیا ہے، اس طرح آئندہ چند سالوں میں کئی نئے الفاظ میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی داخل ہوں گے، اور آپ ان نئے الفاظ کا سوشل میڈیا پر جیسی استعمال کریں گے، اردو کے ارتقائی عمل کی سمت ویسی ہی متعین ہوگی۔ اس لیے مستقبل قریب میں سوشل میڈیا پر اردو کا استعمال بہت اہمیت رکھتا ہے ، یہ محض محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ رابطے کا ٹول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے مستقبل کے حوالے سے جو خدشات ہیں، وہ جلد ہی چھٹ جائیں گے کیونکہ اب اس کی بقاء ہمارے ہاتھ میں ہے، ہم جس طرح اردو کو استعمال کریں گے، اس کی راہ ویسے ہی متعین ہوگی۔

روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا ایک ساتھ

دوسرے سیشن کے اہم ترین مذاکرے میں روایتی اور سوشل میڈیا سے وابستہ اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

اردو سوشل میڈیا سمٹ 2015ء کے دوسرے سیشن کا اہم ترین اجلاس وہ مذاکرہ تھا جس میں روایتی اور سوشل میڈیا سے وابستہ اہم شخصیات شریک تھے۔ ایک جانب بی بی سی سے وابستہ وسعت اللہ خان تھے، تو دوسری جانب جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ محمود احمد غزنوی، فیس بک پر مشہور لکھاری رعایت اللہ فاروقی، اے آر وائی سے وابستہ لیکن سوشل میڈیا پر بھی یکساں شہرت رکھنے والے فیض اللہ خان اور سماء نیوز سے بطور اینکر وابستہ اردو بلاگر فیصل کریم۔ اس سیشن کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس کی میزبانی اسلام آباد سے خصوصی طور پر آئے ہوئے اردو بلاگر مہتاب عزیز نے کی۔ جنہوں نے اپنے سوالات کا رخ سب سے پہلے وسعت اللہ خان کی جانب کیا، جن کا کہنا تھا کہ سونا بھی اگر خالص ہو تو اس سے زیور نہیں بنتا، اس میں کچھ کھوٹ ملانا پڑتا ہے، اس لیے خالص معلومات تو بہت خشک ہوتی ہے، اس کی مثال ابلے ہوئے چاولوں جیسی ہے جو زیادہ عرصے تک نہیں کھائے جا سکتے، ان میں بھی مصالحہ ضروری ہے۔ اس لیے ہمیں خالص اور کھوٹی خبروں سے آگے نکل جانا چاہیے۔  اس وقت روایتی میڈیا ایک انڈسٹری یعنی صنعت بن چکا ہے، جس طرح کارخانوں میں صابن بنتا ہے اور وہ مارکیٹ میں بیچا جاتا ہے، اس طرح اب خبریں بنانے اور فروخت کرنے کا کام ہو رہا ہے۔ خاندانی صحافیوں کا دورہ اب ختم ہوچکا ہے، اب جس کے پاس پیسہ ہے، جسے طاقت چاہیے، وہ اس کاروبار میں آ رہا ہے۔ سونا بیچنے والے بھی اس کاروبار میں شامل ہوگئے ہیں اور تمباکو بیچنے والے بھی۔ اب یہ ایک منافع بخش صنعت ہے، کوئی مقدس گائے نہیں رہی۔ اب یہ ایک دکان ہے، جس میں ہم کام کرنے والوں کی حیثیت محض کارکنوں اور کارندوں کی سی ہے۔ محمود غزنوی نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اب ذرائع ابلاغ منافع اور مارجن حاصل کرنے کی صنعت ہیں۔ ہم آفاقی سچائی اور صحافت کے نظریات کے پڑھاتے ہیں، ہم وہ پڑھاتے ہیں جو ہونا چاہیے، لیکن نوجوان چاہتے ہیں انہیں وہ پڑھایا جائے جو ہو رہا ہے، جو ہمارے لیے ممکن نہیں۔ جب طالب علم حقیقی میدان میں اترتا ہے تو اس کی مثال "نیلی چڑیا" جیسی ہوتی ہے جسے اس کے قبیلے والے بھی نہیں پہچانتے۔

رعایت اللہ فاروقی نے روایتی میڈیا میں سنسر کی پابندی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ 25 سال تک وہ صحافت میں اس اذیت کا نشانہ بنتے رہے کہ جو وہ حقیقت میں عوام تک پہنچانا چاہتے تھے، وہ نہیں پہنچتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میری 25 سالہ صحافت کے مقابلے میں سوشل میڈیا کا ایک سال کئی گنا زیادہ باثمر ہے۔ انہوں نے ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد تک اپنی رائے بعینہ اسی طرح پہنچائی، جیسے وہ چا ہتے تھے۔

فیض اللہ خان نے کہا کہ صحافت شاید ہماری پیدائش سے بھی پہلے کی بات ہو اب تو چینل کی ایک لگی لپٹی پالیسی ہے، جس پر اِدھر سے اُدھر نہیں ہوا جاسکتا،  اس کی سختی کے ساتھ پیروی کرنا پڑتی ہے۔ اس کے بعد جو ہمارے دل کی بھڑاس رہ جاتی ہے، وہ نکالنے کے لیے سوشل میڈیا ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم سچ لکھتے ہیں۔ چینلوں میں کام کرنے والے اکثر افراد محض نوکری کررہے ہیں،حدیں مقرر ہیں جہاں سب کے پر جلتے ہیں۔

فیصل کریم نے روایتی میڈیا پر اردو املاء کی اغلاط،خبریں نشر کرنے کے غیر پیشہ ورانہ انداز اورحقیقی اہلیت رکھنے والے افراد کے بجائے ظاہری حلیے کی بنیاد پر افراد کے انتخاب کا شکوہ کیا۔ انہوں نے ماضی کی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب خبریں پیش کرنے میں نہ وہ پیشہ ورانہ انداز ہے، نہ ہی وہ لگن اور محنت دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ ماضی کے مقابلے میں اب کئی سہولیات بھی موجود ہیں۔

وسعت اللہ خان سے جب دوبارہ سوال کیا گیا تو انہوں نے سچ لکھنے کے خطرات کے حوالے سے سوال پر جواب دیا اور کہا کہ خوف بہرحال انسانی جبلت ہے، وہ تو رہتا ہے لیکن جو حالات ہیں ان میں ایک رویہ تو یہ ہے کہ دبک کر بیٹھ جائیں، دوسرا ردعمل یہ ہے کہ بیٹھ کر بھی کیا کرلیں گے، جس نے مارنا ہوگا مار دے گا، تو وہ کریں جو دل چاہتا ہے۔ سوشل میڈیا کے بارے میں اگر یہ تاثر ہے کہ یہ بے ضرر ہے، یہ اتنا ہی خطرناک ہے جتنا کہ کسی ٹیلی وژن چینل کا کوئی پروگرام یا اخباری کالم ہے۔ ان دونوں مقامات پر تو آپ سنسر ہوجاتے ہیں لیکن آپ کتنے عقلمند ہیں یا کتنے جاہل ہیں، یہ سوشل میڈیا پر آئینے کی طرح شفاف ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم من حیث القوم طنز، مزاج، سنجیدہ اور غیر سنجیدہ بات میں تمیز کھو بیٹھے ہیں۔ اردو زبان کے درجے سے گھٹ کر بولی کے درجے پر آ گئی ہے، اب ہم اردو پڑھ کر نہیں بلکہ سن کر سیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے لیے پہلی ترجیح ابلاغ ہے، اگر گھٹیازبان کے ساتھ بھی ابلاغ ہو رہا ہے تو کسے ضرورت ہے کہ زبان و بیان کو درست کرے؟ معمولی تنخواہوں پر ملازمین کو رکھنے کے بعد ان سے مولوی عبد الحق بننے کی توقع رکھنا بیکار ہے۔ یہ سیشن تقریباً 46 منٹ تک جاری رہا، طوالت کے لحاظ سے یہ سوشل میڈیا سمٹ کا سب سے طویل سیشن تھا لیکن جتنی دلچسپی اس مذاکرے میں دکھائی دی، اتنی دن بھر میں کم ہی پروگراموں کو نصیب ہوئی۔

سمٹ کا آخری خطاب معروف بین الاقوامی دانشور اور آئی بی اے کراچی کے پروفیسر نعمان الحق نے کیا۔ آپ نے اردو کے دامن کو تیزی سے سکڑنے کا شکوہ کیا۔ اعراب کی معمولی تبدیلی سے مختلف معانی دینے والے الفاظ کی نشاندہی کی اور ان کے عدم استعمال سے پیدا ہونے والے خلاء کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پڑھ کے لکھنے اور بولنے اور سن کر لکھنے اور بولنے میں بہت فرق ہے۔ ہمارے ہاں پڑھنے کا کلچر مفقود ہے، سننے یا سنانے کی روایت مضبوط ہے یہی وجہ ہے کہ اردو تنزلی کا شکار ہے۔

اردو سورس بہترین فیس بک صفحہ ایوارڈ 2015

بہترین فیس بک صفحے کا اعزاز کے لیے "طفلی" کو دیا گیا

اس کے بعد دن کے آخری اور اہم ترین سیشن کا آغاز ہوا یعنی اردو سورس سوشل میڈیا ایوارڈز کہ جن میں بہترین اردو بلاگر، بہترین فیس بک پیج اور بہترین ٹوئٹر صارف کے لیے تین خوبصورت اعزازات موجود تھے۔

یہ اعزازات دینے کے لیے اردو سورس کی مرکزی ٹیم عامر ملک، اسد اسلم، کاشف نصیر اور فہد کیہر کے ساتھ وسعت اللہ خان اور محمود احمد غزنوی اسٹیج پر موجود تھے۔ سب سے پہلے بہترین فیس بک صفحے کا اعزاز "طفلی" نے حاصل کیا۔ بچوں کی تربیت کے لیے والدین کے لیے بنایا گیا یہ صفحہ اپنے مخصوص انداز اور معلوماتی اردو مواد کی وجہ سے خاصی شہرت اور ساکھ رکھتا ہے۔ طفلی کی جانب سے عاطف بقائی نے وسعت اللہ خان سے اعزاز حاصل کیا۔

ان کے بعد ٹوئٹر پر اردو کے بہترین استعمال پر اعزاز محسن حجازی کے نام ہوا۔ محسن حجازی گزشتہ کئی سالوں نے انٹرنیٹ پر اردو کی محافل و مجالس سے منسلک رہے ہیں اور ان کا پہلا کارنامہ پاک نستعلیق نامی فونٹ بنانے کا تھا، جس نے ایک کارآمد و قابل استعمال نستعلیق فونٹ کی جانب پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔ بیرون ملک مقیم محسن حجازی کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ اعزاز فہد کیہر نے وسعت اللہ خان سے وصول کیا۔

اردو سورس بہترین بلاگ ایوارڈ 2015

بہترین بلاگ کا اعزاز کے لیے "جریدہ" لکھنے والے ریاض شاہد کو دیا گیا

اس کے بعد بہترین اردو بلاگ کے اہم ترین اعزاز کے لیے "جریدہ" لکھنے والے ریاض شاہد کی نام کی صدا سنائی دی۔ آپ نے 2009ء میں اردو بلاگنگ کے میدان میں قدم رکھا اور گزشتہ تقریباً  چھ سالوں میں تاریخ، سیاست، فلسفہ، ادب اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف موضوعات پر بہت عمدہ تحاریر لکھیں جو علم کے نئے دروازے وا کرتی ہیں۔ ریاض شاہد کی عدم موجودگی میں یہ اعزاز ملتان سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر وجدان عالم نے ڈاکٹر محمود غزنوی سے حاصل کیا۔

پروگرام کا خاتمہ معزز مہمانوں اور شرکاء کے شکریے اور عصرانے کے ساتھ ہوا۔ پروگرام سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز یہاں موجود ہیں۔

اردو سورس کا اب تک کا سفر، ایک جائزہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مارچ 2013
اردو سورس کا قیام

اردو کی ترقی و ترویج کے لیے مارچ 2013ء میں اسلام آباد میں اردو سورس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔
اردو سورس کے بنیادی مقصد مندرجہ ذیل ہیں:
اردو بلاگز کے ذریعے کمپیوٹنگ اور جدید تکنیکی تعلیم تک عام افراد کی رسائی ۔
اردو کے مختلف منصوبوں پر کام کرنے والوں کے درمیان تعاون کی روایت پیدا کرنا اور اس تعاون کے لیے انہیں ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا۔

اپریل 2013
بلاگستان ایگریگیٹر کا اجراء

aggregator

اپریل 2013ء میں اردو سورس کی پہلی پروڈکٹ "بلاگستان ایگریگیٹر" کا آغاز کیا گیا۔ اس ایگریگیٹر کا مقصد اردو بلاگز تک قارئین کی رسائی کو آسان اور بڑھاناہے۔
اردو بلاگستان کا دامن وسیع ہونے کی وجہ سے بلاگز کی زمرہ بندی پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ قارئین کے لیے اپنے مزاج کی تحریر تک پہنچنے میں آسانی پیدا ہو۔ اسی مقصد کے لیے موضوعاتی بلاگز کے لیے ایک الگ زمرہ مختص کیا گیا۔

جون 2013
سوشل میڈیا پر اردو بلاگز کی فیڈز

بلاگستان فیڈز

2 جون 2013ء کو فیس بک اور 8 جون  کو ٹوئٹر کے لیے "بلاگستان فیڈز" کے نام سے صفحات متعارف کروائے گئے، جہاں عام صارفین اردو بلاگز کی تازہ ترین تحاریر فوری طور پر حاصل کرسکتے ہیں۔ ان صفحات کے لیے عام صارفین کو مدنظر رکھا گیا تاکہ اردو بلاگنگ کا دائرہ عام افراد تک وسیع ہوسکے۔

جون 2013-15
اسمارٹ فون کے لیے بلاگستان ایگریگیٹر کا اسمارٹ ورژن

اسمارٹ ورژن

15 جون کو بلاگستان ایگریگیٹر کے ویب ایڈیشن کا اینڈرائیڈ، آئی فون اور ونڈوز فون کے لیے "اسمارٹ ورژن" متعارف کروایا گیا تاکہ قارئین کبھی بھی اور کہیں بھی تازہ ترین اردو بلاگز تک باآسانی رسائی حاصل کرسکیں۔

جولائی 2013
اس ہفتے کا بہترین بلاگ

بہترین بلاگ

جولائی 2013ء میں تجرباتی بنیادوں پر "اس ہفتے کا بہترین بلاگ" نامی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس سلسلے کو ابتداء ہی سے زبردست پذیرائی ملی۔ یہ سلسلہ اپریل 2014ء میں مستقل بنیادوں پر شروع کیا جائے گا۔

اگست 2013
تحریری مقابلہ "میرے خوابوں کا پاکستان"

تحریری مقابلہ

اگست 2013ء میں "میرے خوابوں کا پاکستان" کے عنوان سے ایک ایک انعامی تحریری مقابلہ منعقد کیا گیا۔ اس مقابلے کی سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر کی گئی اور اس کے بہترین نتائج ملے۔ اردو بلاگستان  کے ساتھ ساتھ عام افراد نے بھی بذریعہ فیس بک اپنی رائے کا اظہار کیا اور اس موضوع پر تحاریر قلمبند کیں۔ ایسی مثبت سرگرمیوں کا سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید جاری رکھا جائے گا۔

نومبر 2013
"دریچہ" آن لائن اردو میگزین

دریچہ

13 نومبر 2013ء کو آن لائن اردو میگزین "دریچہ" کا آغاز کیا گیا۔ یہ اردو سورس کی جانب سے منعقدہ سلسلوں جیسے تحریری مقابلے، بہترین بلاگز اور بلاگرز کی کتب کے تعارف وغیرہ کا بھی مرکز ہے۔ دریچہ کی جانب سے بہت جلد نئے سلسلوں کا آغاز ہوگا۔

دسمبر 2013-09
اردو بلاگ ایگریگیٹر کا گوگل کروم ایکسٹینشن

کرم ایکسٹینشن

9 دسمبر 2013ء کو اردو فیڈز کا گوگل کروم ایکسٹینشن جاری کیا گیا تاکہ اردو بلاگستان کے قارئین صرف ایک بٹن دبا کر تازہ ترین تحاریر حاصل کرسکیں، وہ بھی بغیر کوئی ٹیب کھولے۔

دسمبر 2013-18

"اردو" فیڈز اینڈرائڈ ایپ

اردو فیڈز ایپ

18 دسمبر 2013ء کو اردو فیڈز کے نام سے اینڈرائیڈ ایپ جاری کی گئی۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے نہ صرف اینڈرائیڈ موبائل پر صارفین کو بلاگستان کی تازہ ترین تحاریر تک آسان رسائی حاصل ہوئی بلکہ اب انہیں خود ویب سائٹ پر جانے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔

اس ایپلی کیشن کے ذریعے تازہ ترین تحاریر خودکار طور پر موبائل فون یا ٹیبلٹ میں پہنچ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان پڑھی تحاریر کا ریکارڈ رکھنے، تحاریر بک مارک کرنے اور بلاگستان ایگریگیٹر پر چلنے والے مختلف سلسلوں کے اپڈیٹس حاصل کرنے کی سہولیات بھی اس ایپ میں موجود ہیں۔

بلاگستان پر اٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے نظر رکھنے کے لیے یہ ایپلی کیشن ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

اردو سورس کی ٹیم کو آپ کی بے لاگ آراء کی سخت ضرورت ہے تاکہ کمی، خامی، کوتاہی یا کمزوری کو دور کرکے اور خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

نوٹ: اردو سورس کا مکمل منصوبہ جلد پیش کیا جائے گا۔

افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)

عمر بنگش کے افسانوں کا مجموعہ

کتاب کا نام: افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)
مصنف: عمر بنگش
تبصرہ نگار: عمران اسلم
صفحات:60
سن اشاعت:اکتوبر، 2013ء
پی ڈی ایف اور ای پب فارمیٹ میں شائع کی گئی
ای پب فارمیٹ میں کتاب یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں
پی ڈی ایف فارمیٹ میں یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں

لالے عمر کی آواز پہلے بار’ گوگل ہینگ آؤٹ‘ پر ہی سنی تھی۔ متانت سنجیدگی،ٹھہراؤ بہرحال ایک وصف ہے ۔ آواز سن کر محسوس
ہوا کہ سگریٹ انگلیوں میں سلگ رہا ہے اور خیالات دماغ میں ابل رہے ہیں۔ بلاگنے کا چسکا لگا تو جن پندرہ بیس بلاگروں سے متاثر ہو کر "پانچوں سواروں "میں شامل ہوا ان میں ایک لالا بھی ہے ۔ اندر سے نرا پینڈو، لکھائی کا انداز ایسا کہ لسی کی گھڑوی میں مکھن کا پیڑا تیر رہا ہو، بندے کا جی چاہے ہاتھ بڑھا کر اپنی روٹی پر رکھ لے ۔ اس کے خیالات کا بہاؤاپنا اپنا سا ہے ، اس کی تحریر اجنبی نہیں ہوتی، اس کے الفاظ میں غیریت نہیں جھلکتی۔ شاید زہنی ہم آہنگی کہہ سکتے یا اس کے الفاظ میں موجود دھرتی کا اپنا پن۔ لیکن کئی بار اس کی تحریر کو پڑھ کر لگا کہ یہ میں نے کہا، میں نے لکھا، یہ میں نے سوچا اور اس سے بڑھ کر کسی تحریر کی خوبی کیا ہو سکتی کہ وہ قاری کے ساتھ تعلق استوار کر لے ۔ وہ سیدھے سادھے ، سچے کھرے انداز میں بات کہہ دیتا ہے ۔ کبھی کوزہ گر کے سامنے رکھی مٹی کی خوشبو کا احساس دلاتے ،کبھی کنہار کنارے دریا کی لہروں سے روشناس کراتے ، کبھی درختوں کی ڈالیوں میں جھولتے ، کبھی تھل کے اصیل گاؤں کا نقشہ کھینچتے ۔ اور کبھی" بوئے حرم " کی تنگ گلیوں میں جھجکتے ڈرتے گزرتے ہوئے لالا سماج کے دو رخے مونہوں پر طمانچے رسید کرتا ہے ۔ وہ سوچوں کو نچوڑ کر افسانہ گری کرتا رہتا ہے ۔ عمر کسی بوڑھے سمدے کسان کی طرح تپتی دوپہر میں شیشمی چھاؤں تلے حقہ گُڑگڑاتے داستان سرائی کر تا ہے ، اور قاری، لڑکے بالوں کے جیسے محویت سے سنتا جاتا ہے ۔ وہ الفاظ کو کتابوں سے نہیں نکالتا بلکہ مٹی میں سے نتھارتا ہے ۔ دھرتی کی کوکھ میں سوچ کے بیج بوتا ہے تو تحریر کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ سجے کو دکھا کر کھبے چپیڑ مارنے کا ہنر اسے بخوبی آتا ہے ۔ کہاں،کس موڑ پر کب قاری کو چونکانا ہے ، کب ٹہوکا دینا ہے ، کب سوچوں کے بھنور میں دھکیلنا ہے اس کے انداز تحریر میں بہتیرے شامل ہے ۔ انسانی مجبوریوں کو "حلال رزق" میں بیان کرنا، معاشرتی منافقت کو "پہلی صف" میں کھڑا کرنا اس کا خاصہ ہے ۔ وہ انسانی نفسیات کا خلاصہ بخوبی کرتا ہے لیکن اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر۔ "کنواں کود لوں؟" کا سوال جہاں ہجر و فراق کی ٹیس محسوس کراتا ہے وہیں کچی عمر کی بے باکیوں اور نتیجتا ھولناکیوں کو ایسے میٹھے انداز میں بیان کرتا ہے کہ کہیں سے وعظ کا گمان تک نہیں گزرتا۔ "تئیس میل" پڑھتے ہوئے یقین ہو چلتا ہے کہ بس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بھی لالا بیٹھا ہوا "فرنٹ مرر" سے سواریوں کی حرکات و سکنات کو گاڑی چلاتے ہوئے دیکھ رہا اور کنڈیکٹری بھی لالا کر رہا، قاری کسی آخری نشست پر دبک کر بیٹھا سارے منظر کو حیرانی سے دیکھتا جاتا ہے ۔ "ریل تال" اور "ناٹکا" میں اس کے ڈائیلاگ نے جان ڈال دی ہے ۔ خود پڑھئے اور سر دھنئے ۔
لالے نے لکھنا کب شروع کیا معلوم نہیں۔ لیکن دیر سے لکھا یہ احساس ہے ، اس کی تحریر کو اب تک پہچانا جا چکا ہوتا۔ شاید اسے اپنا آپ پہچاننے میں تاخیر ہو ھئی اور اس تاخیر سے بے شک کچھ نہ کچھ نقصان بھی ہوا ہے ۔ اس وقت گریزی کی بنا کبھی کبھار اس کا قلم کوئی فقرہ کہتے ہانپ جاتا، کانپ جاتا۔ شاید وہ کھل کر گالی نہیں دینا چاہتا یا لاشعوری طور پر کسی بھی قاری کو دکھیارا کرنا اس کے بس میں نہیں۔ اس کا ازالہ یہی کہ عمر لکھے ، اچھا لکھے اور بہت لکھے تا کہ اس حساس دل کی دھڑکنوں اور پُر خیال زہن کی سوچوں سے قارئینِ اردو ادب کو بہترین مل سکے ۔

علی حسان کا شجر محبت

علی حسان کے افسانوں کا مجموعہ

کتاب کا نام: شجر محبت
مصنف: علی حسان
تبصرہ: ریاض شاہد

لیجئے ہم کل اردو  کتابوں   کے عنقا ہونے اور چرغے کی فضیلت کا بیاں کر رہے تھے تو ناگاہ ہمارے دوست اور” اس طرف سے” بلاگ کے ناخدا  علی حسان کی طرف ٹی سی ایس کے ذریعے ایک عدد تحفہ موصول ہوا ۔ ویسے تو چند روز قبل جب انہوں فیس بک کے ذریعے  ڈاک کا پتہ مانگا تو اسی دم سے قیاس آرائیاں کرتے کرتے  من میں  لڈو پھوٹنے شروع ہو گئے کہ ہو نہ ہو علی یقیننا کچھ میٹھی شے بھیجے گا کہ جس شہر کی مٹی سے ان کا خمیر اُٹھا ہے وہاں کا خاصہ  صدیوں  سے سوہن حلوہ اور پیڑے ہیں ۔ کھانے تو ایک طرف رہے  ہمارا مشورہ یہی ہے کہ اگر کبھی جان بوجھ کر محبت کے دریائے پر شور میں چھلانگ لگانے کو جی چاہے تو ملتان سے بہتر جگہ کوئی اور نہیں ۔ وہ کیا  ہمارے مغفور و متشرع  گلوکار جنید جمشید نے فرمایا تھا ” جامنی ہونٹ سرائیکی بولیں اور کانوں میں رس ٹپکے ” تو گویا ملتان  رس اور کن رس لوگوں کا شہر ہوا  جس کے باسی محبت کے معاملے میں مغل بچے اور ان کے سراپا ناز  نک چڑھے معشوق کے برعکس زور زبردستی اور دھول دھپے کے بالکل قائل نہیں ہیں جب  محب کو جب محبت آزار لگنے لگتی ہے تو اپنے ہاتھوں اس کو بہاول پور کی ٹرین پر بٹھا کے آنے کی روایت کو اس کلجگ میں بھی نبھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ۔ ثبوت میں اوروں کو چھوڑیے صرف  ناہید اختر کا نام ہی کافی ہے جنہوں نے امیر خسرو کے کلام”  چھاپ تلک سب چھین لی رے ، موہ سے نیناں ملائی کے ” گا کر امیر خسرو کے کلام کو زندہ و جاوید کر دیا ہے اور شادی کے بعد شوہر کی خواہش پر گھٹی میں پڑی موسیقی اور پندرہ برس کی عمر  سے ان پر برسنے والی سٹوڈیو  لائٹس کے نور کی طرف سے بغیر آہ بھرے پیٹھ پھیر لی حالانکہ سیانے کہتے ہیں کہ کوچہ صحافت اور فلم نگری دونوں ، شوق کے  ایسے کوہ ندا پہ واقع ہیں کہ  وہاں سے آنے والی صدا پہ بندہ سب قسمیں اور   رسوم و قیود توڑ  دوبارہ بے اختیار کھنچا چلا جاتا ہے ۔

ڈاک سے جو شے موصول ہوئی وہ پورا شجر تھا اور وہ بھی محبت کا ۔ سینتیس افسانوں کا مجموعہ “شجر محبت ” علی حسان کے کے اس سفر کی کہانی ہے جو اس نے اب تک  اپنی ذات اور ارد گرد کی دنیا کے اندر معصومیت اور محبت کا مشک نافہ اپنے اندر چھپائے طے کیا ہے ۔ مثلا  اپنے افسانے غلط فہمی میں وہ صبا کو  لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے میں عالم شوق میں چومنے کے بعد مارے شرمندگی کے  صدق دل معافی کا خواستگار نظر آتا ہے جو  وہ معافی مانگنے پر حیرت سے پوچھتی ہے کہ ” میں تو سمجھتی تھی کہ میں آپ کو اچھی لگتی ہوں ” یا پھر افسانہ “چھوڑو” کی ہیروئن ایک دن سنسان گلی میں خود اس کا ہاتھ پکڑتی ہے تو ہاتھ چھڑانے پر منہ میں دوپٹہ ٹھونس کر ہنسی روکتی چلی جاتی ہے ۔

بدلتے سماج اور عالمگیریت کے کلچر نے اقدار کو تہ و بالا  اور بدل کر کے رکھ دیا ہے جس سے ایڈجسمنٹ میں عام اور سادہ افراد مشکل پیش آ رہی ہے ۔ افسانے ” نئی دنیا” کا ہیرو  غربت سے تنگ  جھوٹی گواہی کا عوضانہ بطور راشن گھر لانے کے بعد بیوی سے یہی کہتا ہے کہ جھوٹی گواہی دینے سے پرانے زمانے میں ہی لال آندھی آیا کرتی تھی اس زمانے میں تو یہ راشن کے انتظام کا ذریعہ ہے ۔

علی اپنے افسانوں میں آپ کو زندگی کے  کسی پر پیچ فلسفے سے روشناس کرانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ سادہ اور عام فہم انداز میں اپنی بات کہنے کا گر جانتا ہے مثلا ” اوسلو میں ، میں اور وہ  ” میں لکھتے ہیں ” ہم تمام عمر زندگی کو اپنی ڈھب پر لانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور زندگی ہمین اپنی راہ اختیار کرنے کی دعوت دیتی رہتی ہے ۔۔۔ نہ وہ ہار مانتی ہے نہ ہم تھکتے ہیں ، بس فرق یہ ہے کہ اگر پلڑا ہمارا بھاری رہتا ہے تو کس قدر اطمینان رہتا ہے ۔۔ وگرنہ ایک خلش رہتی ہے ۔۔ جو تمام عمر بات بے بات ٹھنڈی آہیں بھرنے کا سبب رہتی ہے ” ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک افسانہ نگار اس وقت تک بڑا افسانہ نہیں لکھ سکتا جب تک اس کی نظر مجاز کے پردے میں حقیقت کو تلاش کرنے کا حوصلہ نہ رکھتی ہو اور  علی کے ہاں یہ حوصلہ نظر آتا ہے۔

ہمارا معاشرہ جو کہ طاقت کا معاشرہ ہے اس کی تصویر کشی افسانے”  چکر ” اور “اشرف الحیوانات”  میں نظر آتی ہے جس میں تعلیم یافتہ نوجوان تعلیم سے مایوس ہو کر انگوٹھا چھاپ اور شیر کی کھال میں لومڑ حکومت کرتے نظر آتے ہیں ۔ طاقت کے معاشرے میں اپنے منظور نظر افراد کو نوازا جاتا ہے  تو شیر نما لومڑ بھی اپنے حامیوں میں قیمتی پتھر تقسیم کرتا نظر آتا ہے ۔

افسانہ “دائرے کا سفر”  انسان کی اپنی جنم بھومی سے محبت کا عکس ہے ۔ انسان جہاں پیدا ہوتا ہے اس کا ماحول چاہے وہ چولستان کا صحرا ہو یا قطب شمالی کا برف زار ، اس کی جھاڑیاں ، ہوا ، پھول اور جانور یادوں کے درخت بن کر اپنی جڑیں انسان کے اندر اتنی گہری اتار لیتے ہیں کہ پھر  اسے چھوڑ کر جانے کی سزا کے طور پر برلن شہر پہ بھی  کیچڑ میں لتھڑا ہوا سعید آباد کا گاوں کسی دلآویز آویزے کی طرح جھلملا کر برلن کی چمک کو ماند کر دیتا ہے ۔

مصنف کی زبان سادہ ، خیال میں ندرت  اور بیان میں روانی پائی جاتی ہے ۔ ان کے بقول وہ وہی لفظ استعمال کرنا پسند کرتے ہیں جس کا مطلب کسی لغت میں جھانک کے نہ دیکھنا پڑے یا کسی دوسرے سے پوچھنا پڑے ۔ ان کا یہ انداز انہیں نئی نسل میں مقبول بناتا ہے جس کا اندازہ ان کے بلاگ پر مہمانوں کی آمد کے ضرب پیما سے بھی ہوتا ہے ۔

ایک سوانسٹھ صفحات پر مشتمل یہ افسانوی مجموعہ الہی پبلیکیشنز کراچی نے 2013 میں  چھاپا ہے اور ڈھائی سو روپے قیمت کچھ زیادہ نہیں ہے ۔ البتہ چونکہ مجموعے میں شامل زیادہ تر افسانے علی کے بلاگ پر پہلے سے چھپ چکے ہیں تو مجموعے کی قیمت یوں کچھ زیادہ محسوس ہوتی ہے ۔ امید ہے کہ آئندہ چھپنے والے مجموعے میں تمام تر غیر مطبوعہ افسانے شامل ہوں گے ۔  میری دعا ہے کہ علی کا یہ سفر جاری رہے اور روزگار کے دیو نے  اگر انہیں اچک کر کوچہ ادب سے دور نہ کر دیا تو اس بات کی پھر پور امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ایک نوجوان  اردو افسانہ نگار کے طور پر اپنا مقام بنانے میں یقیننا کامیاب ہوں گے ۔

 

ہمارا مزاجِ اکبری

چند روز قبل محترم ریاض شاہد کے بلاگ پر مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کا وہ مشہور قصہ پڑھا، جس میں انہوں نے دو یورپی باشندوں کی ہندوستان میں چھاپہ خانہ لگانے کی درخواست نامنظور کردی تھی۔ وجہ؟ اس کی چھپائی میں وہ نفاست اور خوبصورتی نہ تھی، جو ہاتھ سے لکھی خطاطی میں ہوتی تھی۔گو اکبر کو خود پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی شاہی مزاج چھاپہ خانے کی ایسی بھدی چھپائی کو کہاں برداشت کرتا؟ اسے تو اپنے دربار میں موجود دنیا کے بہترین خطاطوں پر ناز تھا۔ یورپی وفد کی پیشکش رد کردی گئی اور یوں ہندوستان علم کی دوڑ میں پیچھے ہی رہ گیا، بلکہ آج تک پيچھے ہی ہے۔

Khat-e-Nastaliq

کہنے کو تو یہ صرف یہ ایک واقعہ ہے لیکن یہ دور جدید کے ایک اہم مسئلے کے حوالے سے ہماری بہترین رہنمائی بھی کرتا ہے۔ تقریباً یہی کہانی گزشتہ صدی میں اس وقت بھی دہرائی گئی جب اردو کو مشینی لکھائی میں ڈھالنے کی کوششیں کی گئی لیکن ہم "اکبر بادشاہ" بنے۔ ہر اس طریقے کو رد کرتے رہے جو ہمیں نستعلیق جیسا خوبصورت دکھائی نہ دیتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج 'انفارمیشن ایج' میں دنیا نجانے کہاں پہنچ چکی ہے اور ہماری اردو اب بھی انٹرنیٹ پر عہد طفلی میں ہے، یا یوں کہیے کہ گھٹنوں گھٹنوں چل رہی ہے۔

ہم نے اکبر کی طرح کا ان پڑھ رویہ اپنایا، جسے خوبصورتی عزیز تھی، علم کی ترویج میں آنے والی آسانی نہیں۔ اگر ہماری بنیادی ترجیح علم کی ترسیل و ترویج ہوتی تو ہم کبھی 'نستعلیقی چکروں' میں نہ پڑتے۔ "مجبوری کانام شکریہ" کہہ کر تاہوما ہی سے کام چلا لیتے، تاج نستعلیق کا انتظار نہ کرتے۔

درحقیقت ہمارا قومی مزاج بھی کراچی میں چلنے والی منی بسوں جیسا ہے۔ اندر چاہے سیٹیں پھٹی اور ٹوٹی ہوئی ہوں، انجن میں چلنے کا دم نہ ہو، 28 مسافروں کی جگہ 56 سوار ہوں، لیکن ۔۔۔۔ بس کو چمک پٹی کے ذریعے دلہن کی طرح سجایا ضرور جائے گا۔ لاکھوں روپے آرائش کے بجائے اگر اس کے انجن پر لگا دیے جاتے تو شاید کہیں بہتر ہوتا۔ بس ۔۔۔۔ اردو کا معاملہ بھی کچھ یہی ہے، نستعلیق کی 'چمک پٹیوں' کے انتظار میں ہم نے اس کی ترقی کو سالوں کے لیے روک دیا اور اب جبکہ اردو سے کئی گنا چھوٹی زبانیں اس سے کئی 'نوری سال' آگے نکل چکی ہیں، ہم قافلے سے بچھڑ جانے کے بعد صحرا میں سرابوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمیں حالات کا درست ادراک ہی نہ ہوسکا۔ نستعلیق پر پیشرفت ضرور ہوتی، اس کی اہمیت سے بالکل انکار نہیں، لیکن ایک مشکل منصوبے کی تکمیل تک انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا بھی تو کوئی عقلمندی نہیں۔ جب 2006ء کے انہی ایام میں اردو وکی پیڈیا پر پہنچا تھا تو اس وقت تاہوما کے علاوہ کوئی ایسا موزوں فونٹ میسر نہ تھا جو اردو میں کام کرنے کے لیے میسر ہوتا۔ نفیس ویب نسخ ضرور موجود تھا، کسی حد تک اس سے استفادہ بھی حاصل کیا لیکن جبر کرتے ہوئے خود کو تاہوما کا عادی بنایا۔ یہاں تک کہ ڈیڑھ سے دو ہزار چھوٹے موٹے مضامین اسی فونٹ کی مدد سے لکھ کر اردو وکی پیڈیا کی نظر کیے۔ میرے تمام ساتھی نے بھی، جن کی مدد سے اردو وکی پیڈیا نے 10 ہزار مضامین کا تاریخی سنگ میل عبور کیا، اس انتظار میں نہیں بیٹھے رہے تھے کہ ایک اچھا نستعلیق فونٹ آئے، جو آنکھوں کو بھلا لگے، نظروں کو خیرہ کرے، دل کو لبھائے اور من کو گدگدائے، تب ہم یہ کام کریں گے۔ اردو کا اصل مسئلہ نستعلیق سرے سے ہے ہی نہیں۔ اور جو لوگ نستعلیق بمقابلہ نسخ کی جنگ کو اردو کی بقاء کا معاملہ سمجھتے ہیں وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔ اسے تجاہل عارفانہ کہہ لیں یا بہانہ!

نستعلیق بلاشبہ عربی خطاطی کے ماتھے کا جھومر ہے لیکن 'مذہبِ اردو' کا پہلا کلمہ ہرگز نہیں ہے کہ اس کو پڑھے بغیر دائرۂ اردو میں داخل ہی نہیں ہوا جا سکتا۔ ہمیں خود کو 'بے نستعلیق' زندگی کا عادی بنانے کی ضرورت تھی، ہم نہ بنا سکے، لیکن اب جبکہ اس کی کمی پوری ہو چکی ہے تو ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں ترویج اردو پر لگانی چاہئیں۔

یہ بات یاد رکھیے کہ ہماری اس 'تکنیکی کمزوری' کو دور کرنے کے لیے نہ مائیکروسافٹ میدان میں آئے گا اور نہ ٹوئٹر اور فیس بک۔ کیونکہ ہم منافع بخش مارکیٹ نہیں ہیں، ہمیں اس حقیقت کو بھی سمجھنا ہوگا۔ جس مارکیٹ سے کاروباری ادارے کو منافع نہ ہو، وہ اس کے لیے کبھی اتنے پیچیدہ مسئلے حل نہیں کرتے۔ البتہ بنیاد پڑ چکی ہے، ایسے نستعلیق فونٹس میدان میں آ چکے ہیں، جو کم از کم اس پروپیگنڈے کا تو خاتمہ کر ہی سکتے ہیں کہ اردو میں نستعلیق فونٹ سرے سے ہے ہی نہیں ۔ اب اگلا مرحلہ ہے، جس قدر ہوسکے، قومی زبان کو ذریعہ اظہار بنائیں۔ بلاگ ہو یا فیس بک اور ٹوئٹر، اردو میں لکھی اور جس موضوع پر آپ مہارت رکھتے ہوں اسے اپنے قلم کی زد میں لائیں۔

ایک ہزار سال قبل کئی سیاحوں نے دنیا کی سیر کی ہوگی لیکن دنیا آج صرف ابن بطوطہ کو جانتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس نے جو دیکھا، وہ لکھا۔ آپ بھی لکھیے اوراردو کے ساتھ خود کو بھی امر کرلیجیے۔

عجب چیز ہے لذت آشنائی

رات کو میں اپنے کمرے کی ساری روشنیاں گل کرنے سے پہلے اپنی بیوی اور بیٹی کوسکون کی نیند سوتے ہوئے دیکھتاہوں  اور اپھر اپنے والدین کے کمرے میں نظر دوڑاتا ہوں کہ وہ جاگ تو نہیں رہے۔۔۔ انہیں کچھ چاہیے تو نہیں۔۔۔ صحن سے منسلک اپنےچھوٹے بھائی کے کمرے کی طرف جھانکتا ہوں کہ وہ اب تک سویا یا نہیں۔۔۔ اپنی چھوٹی بہن کے کمرے کی جلتی روشنی دیکھ کر سوچتا ہوں کہ یہ اتنا پڑھتی کیوں ہے۔۔۔

وضو کرتا ہوں اور روشنی گل کرنے کے بعد نماز وتر کے لیےجائے نماز بچھا کر 10 سے 15 سیکند کے لیے کھڑا ہو کر سوچتا ہوں کہ میں کیا کرنے والا ہوں؟ کس کے سامنے کھڑا ہونے والا ہوں؟ میں کیا بات کروں گا اس سے؟ میرا مقصد کیا ہے یہ مشق کرنے کا۔۔۔؟

اندھیرے کمرے میں، مجھے محسوس ہونے لگتا ہے کہ میری بیوی، میری بیٹی اور میرے علاوہ کوئی اور بھی ہے۔۔۔ جو اتنا بڑا ہے کہ وہ میرے کمرے میں سما نہیں سکتا۔۔۔ لیکن پھر بھی موجود ہے۔۔۔ وہ ایسا ہے کہ جس کے سامنے میں آنکھوں سے دو آنسو بہاوں گا تو وہ میرے پاس آ کر کہے گاا کہ بس۔۔۔ فکر نا کر۔۔۔ میں ہوں نا۔۔۔

وہ ایسا ہے۔۔۔ کہ جس کے سامنے میں اپنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہونگا۔۔۔ تو وہ حکم کرےگا  کہ بخش دو میرے اس گناہگار بندے کو۔۔۔ اس نے کسی اور کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے لیکن صرف مجھ سے بخشش مانگی۔۔۔

میرا دل چاہتا ہے کہ میں زور زور سے چلا کر ساری دنیا کو بتاوں کہ “اللہ سب سے بڑا ہے۔۔۔” ۔۔۔ لیکن میں آداب ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سرگوشی کرنا ہی بہتر سمجھتا ہوں۔۔۔  ہاتھ باندھے کہتا ہوں کہ “ساری تعریف صرف اللہ کی ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے”۔۔۔ میں اس کے سامنے جھک کر اسے بتاتا ہوں کہ “اے اللہ، پاکی صرف تیرے لیے ہے اور تو سب سے عظیم ہے”۔۔۔ اور جب میں  زمیں پر اپنا ماتھا لگاتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ میں اس ہستی کے سامنے جھک رہا ہوں جس نے مجھے سب کچھ دیا۔۔۔ زندگی دی، سانسیں دی۔۔۔ اتنے خوبصورت  رشتے دیے۔۔۔عزت اور محبت دیے۔۔۔ اور آج تک مجھے بھوکا نہیں رہنے دیا۔۔۔ تو میرے ہونٹ اور دل ایک ساتھ کہہ اٹھتے ہیں کہ  “اے اللہ، پاکی صرف تیرے لیے ہے اور تو بلند تر ہے”۔۔۔ اور “اے اللہ تو پاک ہے، اے میرے پروردگار اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں۔۔۔ یا اللہ مجھے بخش دے”۔۔۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس اندھیرے کمرے میں میرا آقا، میرا پروردگاراور میرا دوست میرے ساتھ ہے جو میری سرگوشیاں سن رہا ہے ۔۔  میں جو بھی کچھ اسے بتاتا ہوں وہ سنتا ہے۔۔۔ اور پھر نماز کے بعد دعا کے لیے جب میرے ہاتھ اٹھتے ہیں اوربے اختیار میں اپنے دوست سے دل کے سب حال کہہ جاتا ہوں کہ میرا یہ کام بنا دے۔۔۔ میرا وہ کام پورا کر دے۔۔۔ میرے والدین، میری بیوی، میری بیٹی، میرے بھائی بہنوں اور پھر سب مسلمانوں  کو صحت، معافی اور ہدایت عطا فرما۔۔۔ تو میں یہ محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ میرے دو کھلے ہاتھوں کو کوئی تھام رہا ہے۔۔۔ کوئی مجھے کہہ رہا ہے کہ تو فکر نا کر۔۔۔ تو جانتا ہے کہ تو نے کس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہیں۔۔۔ تو جانتا ہے کہ تیرا پروردگار تیرا صرف بھلا چاہتا ہے۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ تو جانتا ہے کہ اگر تو وہ کرے جو میں نے تجھے کرنے کا حکم دیا تو، تو کبھی افسوس نا کر پائے گا۔۔۔ میں تجھے وہ دوں گا جو میں نے نیک کاروں سے وعدہ کیا ہے۔۔۔ لیکن اگر تو کرے گا وہ جو شیطان کہتا ہے تو اس کی سزا تو تجھے ملے گی ہی۔۔۔

میرا پروردگار۔۔۔ میرا آقا۔۔۔ میرا ولی۔۔۔ میرا اللہ۔۔۔ میرا دوست ہے۔۔۔ جب ساری دنیا کے رشتے مجھے چھوڑ جائیں گے تو میرا دوست میرے ساتھ ہوگا۔۔۔ اور جب میں دنیا چھوڑ جاوں گا تب بھی میرا دوست میرے ساتھ ہوگا۔۔۔

میرا اللہ میرا ایسا دوست ہے کہ میری چھوٹی چھوٹی اچھائیوں پر خوش ہوتا اور ثواب کے ڈھیر لگا دیتا ہے۔۔۔ اور میرا اللہ میرا ایسا دوست ہے کہ میں کوئی غلطی کر دوں۔۔۔ کوئی گناہ کر دوں تو شرمندگی کے دو آنسو کے عوض وہ مجھے معاف کر دیتا ہے۔۔۔ اب دوست ایسے ہی تو ہوتے ہیں۔۔۔

میرا دوست ہر وقت میرے ساتھ رہتا ہے۔۔۔ غم میں مجھے حوصلہ دیتا ہے اور خوشیوں میں شکرکرنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔۔۔

میں یہ سوچنا ہی نہیں چاہتا کہ اللہ کہاں رہتا ہے۔۔۔ عرش پر ہے یا زمین پر ہر جگہ موجود ہے۔۔۔ میرے لیے تو یہی کافی ہے کہ وہ میرا دوست ہے اور میری شہ رگ سے بھی زیادہ میرے قریب ہے۔۔۔ جو میری خاموشی سے کہی گئی عرضیں بھی سنتا ہے۔۔۔

میرا اللہ۔۔۔ میرا دوست ہے۔۔۔  جب مجھے اس پر پیار آتا ہے تو یون محسوس ہوتا ہے کہ وہ مجھے محسوس کروا رہا ہے کہ وہ بھی مجھے پیار کرتا ہے۔۔۔ اور میرے دوست سے زیادہ اور کون مجھےپیار کرنے والا ہوگا کہ جو جو یہ چاہے کہ میں نہ صرف اس دنیا میں، بلکہ اگلی دنیا میں بھی ہر تکلیف اور عذاب سے بچ جاوں۔۔۔

اورپھر جب میں اپنے دوست سے باتیں کرتے کرتے اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹتا ہوں تو میرا یہ ایمان کامل ہو جاتا ہے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔۔۔ میرا خیال رکھ رہا اور اب مجھے کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اتنا سکون اور محبت بھرا احساس لیے میں نیند کی آغوش میں اتر جاتا ہوں۔۔۔

سوال جواب

صاحبو آپکے ساتھ کبھی ایسا ہوا کہ گویا کوئی آندھی آئی ہو اندر ہی اندر۔ جھکڑ چلے ہوں زوردار اور اس طوفان نے اندر کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہو۔ پرانے خیالات کے بوڑھے برگد کہ جنکی شاخوں سے خود ساختہ فرسودہ روایات لٹک رہی تھیں، جڑوں سے اکھڑ گئے ہوں اور پھر ایک لمحہ سکون کا، خاموشی کا جو ایک نوید ہو کسی الہام کی، کسی نئے خیال کی، کسی نئی تخلیق کی، گویا ایک نئی زندگی کی۔ بالکل ایسے جیسے جنگل میں لگنے والی آگ کے بعد جل کر سیاہ ہوئے پیڑ پودوں پر ٹھنڈے سبز رنگ کی نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ نہیں صاحب اپنے ایسے نصیب کہاں۔ چھوٹے موٹے طوفان تو آتے ہیں لیکن ایسا سونامی کبھی نہیں آیا۔ اور کبھی آنے کی کوشش بھی کی تو لاشعوری کوشش سے اسکا گلا ہی گھونٹ دیا کہ بنے بنائے گھونسلے کو چھوڑنا، نئی ابتدا کرنا مشکل کام ہے اور میری سہل پسندی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی یا کم از کم میں نے کبھی یہ آزمایا نہیں۔ ہاں البتہ انھی چھوٹی چھوٹی لہروں سے ہی تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے اور وہ بھی اپنے مطلب کی تبدیلی۔
بہرحال کچھ ایسا ہی لمحہ تھا جب گویا کسی نے میرے دماغ میں اس خیال کو کِیل کی طرح ٹھونک دیا کہ دنیا میں جو کچھ مجھے اب تک حاصل ہوا ہے وہ میرے زورِ بازو کی پیداوار نہیں ہے۔ ایسا تو خیر پہلے بھی نہیں سوچا تھا لیکن اب بہرحال میں شدت سے یہ محسوس کرنے لگا کہ جہاں میں آج ہوں قطع نظر اس سے کہ یہ اچھی جگہ ہے یا بری، اسمیں کتنے ہی زیادہ، بلکہ شائد سارے کے سارے، بیرونی عوامل ہیں۔ مثلاً اگر مجھے یورپی یونین کی طرف سے بیرونِ ملک تعلیم کے لئے وظیفہ ملا تو اسمیں میرا کچھ کمال نہیں تھا۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی، وقت کی فراغت، انگریزی میڈیم سکول کی تعلیم وہ سب باتیں تھیں جنھوں نے اس وظیفے کے حصول میں مدد کی۔ اب کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک رسائی پاکستان میں ہر شخص کو تو کیا ہر یونیورسٹی کے ہر طالبعلم کو بھی میسر نہیں۔ پرائیویٹ انگریزی میڈیم سکول میں تعلیم بھی کم ہی بچوں کا نصیب ہے اور وقت کی فراغت بھی اسلئے تھی کہ گھر چلانے کی ذمہ داری مجھ پر نہیں تھی۔ شائد ایسی ہی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جنکی وجہ سے نہایت ذہین، محنتی اور اچھے طالبعلم زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتے اور حالات کا جبر انھیں معمولی نوکریاں یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
بہرحال میری یہ بات کوئی غیر معمولی یا انوکھی بات نہیں بلکہ ہم سب جانتے ہیں اور یقیناً میرے برعکس بہت سے لوگوں کو تو اسکا ذاتی تجربہ بھی ہو گا۔ لیکن میں دراصل اس سے آگے، کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملنے والی ایسی بہت سی favors سے مجھے ڈر سا لگنے لگا ہے۔ جوں جوں اسکی نعمتیں مجھے مل رہی ہیں توں توں میرے ڈر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا وجہ ہے؟ میں ہی کیوں؟ وہ کیا کام لینا چاہتا ہے؟ گویا یہ کیسا امتحان ہے کہ جسکا جواب تو چھوڑیں، مجھے تو سوال تک نہیں معلوم۔۔۔ یا شائد سوال سامنے ہے لیکن اسکو پڑھنے کا، غور کرنے کا وقت نہیں یا موڈ نہیں، نیت نہیں۔ اور اگر ایسا ہے تو یہ تو اور بھی قابلِ فکر بات ہے۔ میری نالائقی سمجھیے کہ پیسے لے کر جیب میں ڈال لئے، یہ نہیں پوچھا کہ کام کیا کرنا ہے۔ اب جب وہ پوچھے گا کہ وہ کام کیا جسکے لئے پیسا دیا تھا، ذرائع دیے تھے، تو میں کیا جواب دونگا؟ کیا یہ کہونگا کہ مجھے تو اپنی job description کا ہی علم نہیں تھا، میں تو سمجھا تھا کہ تُو رحیم و کریم ہے، سب کو دے رہا ہے، سو مجھے بھی دے دیا۔ یا کیا یہ کہونگا کہ مجھ ہی میں کوئی سرخاب کے پر لگے تھے کہ یہ نعمتیں میں نے اپنا حق سمجھ کر رکھ لیں؟ لیکن یہ تو مجھے بھی علم ہے کہ ایسا کچھ نہیں۔ دن گزر رہے ہیں، گھڑی کی ٹِک ٹِک مسلسل چل رہی ہے اور میری پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب مجھے کچھ کچھ سمجھ آ رہا ہے کہ کیوں سدھارت کپل وستو کا تخت چھوڑ کر پیپل کے درخت تلے جا بیٹھا تھا جہاں اسے نروان ملا، اللہ کے نیک بندے کیوں اتنے minimalist ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال کیا یہ میری حد درجہ نالائقی نہیں کہ سوالات کا ہی علم نہیں، جوابات تو بعد کی بات ہے؟ یقیناً پرچہ حل کرنے کے لئے بھی تو وقت چاہئے نا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ بس یار ایسے ہی ٹھیک ہے تو نہیں، ایسا ہرگز ٹھیک نہیں۔ وہ رحیم و کریم تو ہے، منصف بھی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں برابر ہوں جاؤں کسی ایسے شخص کے جو جوابات لکھ رہا ہو، مجھ سے کئی گنا زیادہ بڑی ذمہ داریاں نبھا رہا ہو، باوجود اسکے کہ اسکے پاس مجھ سے کم ذرائع ہوں۔ تو اسکو دیکھ کر کہ اللہ میاں نے جو مجھے دیا ہے، یقیناً میرا کام تو بہت ہی مشکل ہونا چاہئے۔ آہ لیکن کیا کیجئے۔ مجھے علم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، جانا کہاں ہے۔ یا شائد علم تو ہے لیکن سامنا کرنے کا یارا نہیں۔ لیکن ٹھہریے صاحب، اس سے پہلے کہ آپکو مجھ پر ترس آئے یا آپ مجھ سے ہمدردی کا اظہار کریں، مجھے اس کا حل بتائیے۔ کیا آپکے ساتھ ایسا ہوا ہے اور اگر ہاں تو آپ نے کیا کیا ہے؟ مجھے انتظار رہے گا۔

گھریلو پودوں کے ذریعے ڈینگی سے نجات

مصنف: مصطفٰی ملک
بہترین تحریر برائے:15 ستمبر تا 28 ستمبر

جوں جوں ہم فطرت سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم طرح طرح کے مسائل میں گھرتے جارہے ہیں،ہمارے بزرگوں کے زمانہ میں ہر بیماری اور مسئلہ کا حل قدرتی غذاؤں اورگھریلوٹوٹکوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ کچن میں استعمال ہونے والے مصالحہ جات ،پودے اور ان کے بیج ہر بیماری کی شفا ثابت ہوتے تھے۔ آج کیمیکل کا استعمال ہماری زندگیوں میں اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اس کے مضر اثرات نے ہماری نوجوان نسل کو طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نباتات قدرت کی طرف سے انسانی ذات کیلئے ایک بہترین تحفہ ہے۔زمانہ قدیم سے یہ حقیقت سبھی جانتے ہیں کہ قدرت نے نیم کے درخت میں بہت سے طبی، زراعتی اور ماحولیاتی فوائد رکھے ہیں اور انہی فوائد کو جدید تحقیق نے بھی ثابت کیا ہے، نیم کا درخت مچھروں کو بھگانے کا بھی ایک قدرتی ذریعہ ہے۔نیم کے درخت کے ارد گرد مچھر نہیں ہوتے اور اسی وجہ سے ڈینگی کے خاتمے کیلئے اسے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔کیڑے مکوڑوں سے نجات کیلئے

استعمال ہونے والے پودوں میں پودینہ کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس پودے کی خوشبو سے مچھر پریشان ہو کر دور بھاگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  پودینہ کو صدیوں سے مکھی مچھر کو دور رکھنے کے لئے استعمال کیاجا تا ہے۔ اس پودے کو صحن میں لگانے یا کمرہ میں اسکا گملا رکھنے سے مچھر آپ کے قریب نہیں آئے گا۔ گیندے کا پودا یعنی میری گولڈ بھی اپنے پھول کی خوبصورتی اور کیڑے مکوڑوں کو دور رکھنے میں انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔ گیندے کے پھول کی خوشبو بھی مچھروں کو پسند نہیں، اسلئے مچھروں سے چھٹکارا پانے کے لئے اسے چھوٹے کنٹینرز، گملوں، صحن یا مرکزی دروازے کے دونوں اطراف لگانے سے مچھروں کو گھر میں داخل ہونے سے روکا جاسکتا ہےصرف یہی نہیں بلکہ تلسی کا چھوٹا سا پودا اپنی مخصوص خوشبو کےباعث مکھی مچھروں کیلئے نفرت انگیز سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مچھر اس پودے کے اردگرد بھی نہیں پھٹکتے،اس کے پتوں کو ہاتھوں اور  چہرے پر مسل کر آپ باہر بیٹھ جائیں مچھر آپ کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا ۔تلسی ہی کی طرز کا ایک عام گھروں میں پایا جانے والا پودا نیاز بو بھی اسی کام آتا ہے۔اس کے علاوہ  لیمن گراس پلانٹ گھاس کی ایک خوبصورت قسم ہے اور اسے بھی مچھروں سے بچا کیلئے انتہائی کارآمد تصور کیا جاتا ہے۔ یہ پرکشش، تروتازہ اور خوبصودار اونچی گھاس گھریلو باغیچوں میں لگانے سے بھی مچھروں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ یہ تمام پودے گملوں میں لگائے جا سکتے  ہیں اور پھر میرا وہی ماٹو، ہیں بھی انتہائی سستے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں کیڑے مکوڑوں اور خاص طور پر مچھروں سے تحفظ کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت ان پودوں کی گھر گھر شجرکاری سے متعلق آگاہی کا پروگرام تشکیل دیا جاسکتا ہے، جس کی مدد سے ڈینگی مچھر اور وائرس سے مستقل چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہے۔ موسم گرما میں مچھروں کی بہتاب ہوتی ہے اور ایسے میں ان پودوں کو زمین یا گملوں میں باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ حکومت خاص طور پر پنجاب حکومت کیمیاوی اسپرے پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ڈینگی مچھر پر قابو نہیں پا سکی، بلکہ ماہرین کا تو یہ کہنا ہے کہ کیمیاوی اسپرے کی وجہ سے مچھر دشمن اور مچھر خور دیگر حشرات بھی ختم ہورہے ہیں۔ ایسے میں حکومتی سطح پر سڑکوں کے کنارے نیم کے درخت کی شجرکاری اور دوسرے پودے لگانےسے ڈینگی مچھر اور وائرس سے مستقل چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس مضمون کی تیاری میں مختلف تحقیقاتی مضامین سے مدد لی گئی ہے)

دس روپے پیٹی

مصنف: خرم ابن شبیر
تحریر برائے: 8 ستمبر تا14 ستمبر

فجر کی نماز کے بعد اس نے رات کا بچا ہوا کھانا  ناشتے کے طور پر کھایا اور  تیار ہونا شروع ہو گیا۔ پینٹ شرٹ، ٹائی، پالش کیے ہوئے جوتے اور ہاتھ میں بریف کیس لیے ہوئے اپنے سوئے ہوئے بچوں کو اللہ حافظ کیا اور کام کے لے نکل گیا۔ جب وہ گلی سے گزر رہا تھا تو کچھ لوگ اور بھی کام کے لیے نکل رہے تھے سب اس کی بڑٰی عزت کرتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو سرکاری آفس  میں جاب  کرتا تھا لیکن کنٹیکٹ پر ہونے کی وجہ سے اور کچھ سیاسی تبدیلوں کی وجہ سے نوکری ہاتھ سے نکل گئی۔ لیکن اب بھی وہ صبح فجر کے بعد ہی گھر سے نکلتا ہے، ویسے ہی جیسے ملازمت کے دوران آفس کے لیے صبح گھر سے نکلا کرتا تھا۔ محلے والوں کو ابھی تک اس بات کا پتہ نہیں تھا کہ وہ نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

محلے سے دو

ر نکل کر سٹاپ پر آ کر کھڑا ہو گیا اور گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔ ایک ویگین آئی تو باقی لوگوں کے ساتھ یہ بھی سوار ہو گیا اور پیر ودھائی سے کچھ پہلے پولیس لائن والے سٹاپ پر اتر گیا۔ یہاں سے اس نے پیدل چلنا شروع کیا اور چلتے چلتے فروٹ منڈی کی طرف موڑ گیا۔ اس کی ظاہر حالت سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کسی ادارے کا آفیسر یا پھر اچھی پوسٹ کا ملازم ہے۔ اس لیے ہر بندہ اس کی طرف دیکھتا  تھا۔ چلتے چلتے وہ فروٹ منڈی کی اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں فروٹ کی پیٹیاں فروخت ہوتی تھیں۔ قریب سے ہی مزدوروں کی آواز آ رہی تھی “دس روپے پیٹی، دس روپے پیٹی” یہ سب مزدور ٹرک کے پاس کھڑے تھے وہاں سے جو خریدار پیٹی خریدتا اس پیٹی کو منڈی سے باہر تک یا پھر گاڑی تک  پہنچانے کے لیے مزدور دس روپے لیتے تھے۔

یہ بھی ان مزدوروں کے پاس سے گزرا اور ایک ٹرک کے پاس کھڑا ہو گیا۔ پیٹیاں بیچنے والوں کو سلام کیا اور انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ٹرک پر چڑھا لیا۔ وہ ٹرک کے اندر پیٹیوں کے پیچھے چلا گیا اور آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ کچھ ہی دیر کے بعد گندے اور پھٹے کپڑے پہنے ہوا آدمی پیٹیوں کے پیچھے سے  نکلا ،ٹرک سے نیچے چھلانگ لگائی اور اسی دوران مزدوروں کی آواز کے ساتھ ایک اور آواز بھی بلند ہوئی “دس روپے پیٹی”

ایک تھا پاکستان

مصنف: محمد سعد
تحریر برائے: میرے خوابوں کا پاکستان
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک علاقے میں ایک قوم کے لوگ کچھ دوسری قوموں کے زیرِ تسلط رہ رہے تھے۔ جب زندگی گزارنا انتہائی دشوار ہو گیا تو انہوں نے خدا سے ایک ڈیل کی۔ کہ اگر خدا ان کو ایک ٹکڑا زمین پر ایسا دے دے جس پر وہ آزادی سے زندگی گزار سکیں تو وہ لوگ وہاں پر خدا کی مرضی کا نظام قائم کریں گے۔

زمین کا ٹکڑا انہیں مل گیا۔ کچھ عرصہ انہوں نے اپنا وعدہ یاد رکھا۔ خدا کی مرضی کا نظام لاگو کرنے کے لیے خوب محنت کی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کا جذبہ کم پڑتا گیا۔ اور وہ اپنا وعدہ بھول کر دنیا کی غیر اہم آسائشوں کی دوڑ میں لگ پڑے، جس نے انہیں اتنا مفلس بنا دیا کہ ان کو جان کے لالے پڑ گئے جس سے گھبرا کر انہوں نے نئے خدا بنا لیے اور اپنے حقیقی خدا کو فراموش کر دیا۔
آج وہ اپنے بنائے چھوٹے موٹے خداؤں سے دھکے، ٹھڈے اور ماریں بھی کھاتے ہیں لیکن ذلیل ہونے اور کچھ فائدہ نہ پانے کے باوجود انہی جھوٹے خداؤں کے دروں پر بیٹھے ہیں۔
کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ وہ اپنے حقیقی خدا کی طرف ہی لوٹ آئیں جو اکیلا ہی ان سب چھوٹے چھوٹے جھوٹے خداؤں کے چھکے چھڑا دینے کے لیے کافی ہے، وہ وعدہ پورا کریں جو ایک صدی سے بھی زیادہ پہلے کیا تھا، اور پھر اپنے حقیقی خدا کی مدد و نصرت کے ساتھ ایک پروقار زندگی گزاریں؟

میرے خوابوں کا پاکستان

مصنف: رشید احمد
 تحریر برائے: میرے خوابوں کا پاکستان ۔ 

حُسن تیرا جب ہوا بامِ فلک سے جلوہ گر
آنکھ سے اڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا اثر
نور سے معمور ہو جاتا ہے دامانِ نظر
کھولتی ہے چشمِ ظاہر کو ضیا تیری مگر
ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیے
چشمِ باطن جس سے کھل جائے وہ جلوا چاہیے

خواب تو بس اتنا سا ہے۔۔۔ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔۔۔
احیائے اسلام کے عظیم داعی، سید قطبؒ کو مصر میں نفاذِ اسلام کی کوششوں کی پاداش میں پھانسی کی سزا سنائی جاتی ہے۔ انہیں پھانسی گھاٹ پر لے جایا جا رہا ہے۔ ایک سپاہی،  جو پھانسی سے پہلے کلمہ پڑھانے پر مامور ہے ، آگے بڑھتا ہے اور کہتا ہے: ’’ سید کلمہ پڑھ لو، پھانسی ہونے والی ہے‘‘۔  سید صاحب اس کی جانب مڑے اور فرمایا، ’’کون سا کلمہ۔۔۔ جس کی وجہ سے تمہارا روزگار لگا ہوا  ہے، یا جس پر عمل کے جرم میں مجھے پھانسی دی جا رہی ہے؟‘‘۔
جی، خواب تو بس اتنا سا ہے۔۔۔ پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ۔۔۔مگر لا الہ الا اللہ ،سید قطب والا ہو، ناکہ کلمہ پڑھانے والے سپاہی والا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک کلمہ ہم  اور آپ نے پڑھا ، ایوب و یحییٰ و ضیا و پرویز نے پڑھا،  بے نظیر و نواز شریف  نے پڑھا، ہر  افسر و جاگیردار، جرنیل و سیاست دان نے پڑھا۔۔۔ پھر مل جل کر پاکستان کا یہ حال کیا کہ ۶۷ سال بعد بھی خوابوں کا پاکستان ہی ڈھونڈنا  پڑتا ہے۔
ایک کلمہ  ملا عمر نے بھی پڑھا ، اور  اس نے بارہ سال پہلے اس کلمے کی تشریح یوں کی ، ’’ اگر پوری دنیا بھی ہمارے خلاف اکٹھی ہو جائے تو ہم اپنے اصولوں اور اپنے ایمان پر سودے بازی نہیں کر سکتے، کیوں کہ ہم اپنے اصول اور اپنی اقدار اپنے دین سے سیکھتے ہیں۔  دین کے معاملے میں سودے بازی کرنا تو ایک مسلمان کے لیے موت کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔ آج پوری دنیا سر جھکائے کھڑی ہے، مگر ملا عمر سربلند کھڑا ہے۔
میں اپنا خواب یہ بتاؤں کہ پاکستان، عمرِ فاروقؓ والا پاکستان بن جائے تو کہیں یہ خیال نہ گزرے، کہ دیوانے کا خواب ہے۔۔۔ ہاں اگر کسی ملّا عمر والے پاکستان کا خواب دیکھوں تو یہ اتنا بعید از تعبیر تو نہیں ۔۔۔!

ایک قبائلی لڑکے کے خوابوں کا پاکستان

مصنف :مکرم منصور
تحریر برائے: میرے خوابوں کا پاکستان

اردو بلاگرز  کمیونٹی کی طرف سے میرے خوابوں کا پاکستان  کے عنوان کے تحت ایک انعامی مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔اور اسکے ساتھ ہی اردو بلاگرز پر زور دیا گیا کہ بھئی لکھنا تو ضرور ہے،ہم نے بڑا کہا کہ جناب ہم مقابلوں والے رائٹر نہیں،لیکن ایڈمن صاحب کا کہنا تھا کہ سب اردو بلاگرز نے لکھنا ہی ہے ،چاہے جیسے بھی لکھ لیں۔اب  اردو بلاگنگ کے دعوے دار ہم بھی بنے تھے،اسی لئے مجبورا اس موضوع پر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا،

لیکن وہی مسئلہ کہ لکھیں تو کیا ؟

چنانچہ  اس پریشانی میں ہم سرگرداں گھوم رہے تھے کہ یکایک سامنے سے دلاور خان آتے نظر آئے۔ دلاور خان  ایک قبائلی لڑکا ہے ،جسکی عمر 20-22 سال تک ہوگی، چھوٹی موٹی مزدوری کرکے اپنے ابو کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ خیر ہم تو بڑے خوش ہوئے کہ لوجی مسئلہ ہی حل ہوگیا۔لوگ اپنے اپنے خواب بتاتے ہیں پاکستان کے بارئے ،آج میں ذرا دلاور خان کے خواب جان لوں ،کہ موصوف کیا خواب دیکھتے ہیں پاکستان کے بارئے میں۔ چنانچہ علیک سلیک کے بعد میں اسکو  قریبی چائے کے ہوٹل پر لے گیا ،اور ہم باہر تھڑے پر بیٹھ گئے۔دلاور خان کے خواب سننے کیلئے چائے پلانا تو ضروری تھا ،ورنہ تو یہ خطرہ پورے جوبن پر تھا کہ وہ خواب ادھورا چھوڑ کر نکل جائیں۔ ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد میں نے دلاور خان سے پوچھا کہ خانصاحب یہ تو بتاؤ کہ 14 آگست منایا ہے  کہ نہیں۔ تو خان  صاحب کی منہ سے ایک اہ نکلی گئی۔ بولے منصور بھائی وہ ایک زمانہ تھا ،جب ہم بچے تھے اور اپنے قبیلے کے سکول میں پڑھتے تھے،اور 14 آگست کیلئے جیب خرچ بچاتے تھے کہ اس سے بیج خریدیں گے ،جیب پر لگانے کیلئے۔ اور میں تو سب دوستوں کے مقابلے میں ایک بہت بڑا جھنڈا خرید کر گھر کی چھت پر لہرانے کیلئے ایک ہفتہ پہلے سے ہی سکول کی آدھی چھٹی میں کینٹین سے خوراک لینا بند کردیتا تھا، تاکہ میرے پاس زیادہ پیسے بچ جائیں ۔ پھر جب 14 آگست کا دن ہوتا تھا، تو جب ابو  فجر کی نماز پڑھنے کیلئے مسجد جانے لگتے ،تو میں اسی وقت  اُٹھ جاتا تھا اور جلدی جلدی چھت پر چڑھ کر جھنڈا لگا لیتا تھا۔چنانچہ جب لوگ فجر کی نماز پڑھ کر ہمارے گھر کی گلی سے گذرتے تو جھنڈا دیکھ کر ادب سے گذرنے لگتے۔ اس کے بعد میں فورا کپڑے بدل کر بیج اپنی جیب پر لگا لیتا تھا،اور چائے پی کر سکول کی طرف جاتا تھا۔وہاں دوستوں کے سامنے میرا سر فخر سے اونچا ہوتا تھا کہ گاؤں کے سب بچوں سے بڑا جھنڈا میں نے لہرایا ہوا ہوتا تھا۔پھر سکول میں ملی نغمے  اور قومی ترانے پڑھے جاتے ،جس کو ہم سب مل کر جوش و خروش سے  بلند آواز سےپڑھتے۔ اسی طرح وقت گذرتا گیا ،اور ہم ساتویں جماعت تک پہنچ گئے۔ساتویں جماعت  میں ابھی پڑھائی شروع ہوئے چند مہینے ہوئے تھے کہ  ہمارے علاقے میں حکومت نے طالبان کے خلاف آپریشن کرنے کا اعلان کردیا ۔ اور ہمیں بتایا گیا کہ تم سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر پناہ گزینوں کے کیمپ میں چلے جاؤ، تاکہ ہم یہاں مکمل آپریشن کرکے امن بحال کرسکیں۔ میں چونکہ سب سے بڑا تھا ،اسی لئے ابو  کے بعد میں ہی گھر کا رکھوالا تھا۔ جن دنوں ہمیں گھر سے جانے کا کہا گیا تو ان وقتوں میں ابو جی دوبئی میں مزدوری کرنے گئے ہوئے تھے۔ایک میں ہی گھر میں بڑا تھا ،اسی لئے ضروری سامان اکھٹا کرکے میں اپنی ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ متاثرین کیمپ چلا گیا۔ ابھی ہم کیمپ میں ہی تھے کہ 14 آگست کی تاریخ آگئی۔ میں نے ارادہ کیا کہ ابو نے جو رقم بھیجی ہے گھر چلانے کیلئے ،اسی میں سے کچھ بچا کر اپنے خیمے کے اوپر پاکستان کا جھنڈا لہرا  دوں۔لیکن جب امی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بیٹا ان روپوں میں سے صرف اتنی رقم بچی ہے کہ  ہم چند دن اس پر گذارا کرسکیں۔لیکن پھر بھی امی نے مجھے خوش کرنے کیلئے 20 روپے مجھے دئے ،کہ جاؤ بیٹا ،اس سے ہی جشن آزادی مناؤ۔ لیکن 20 روپے میں تو صرف ایک چھوٹا سا جھنڈا ہی خریدا جا سکتا تھا۔جبکہ مجھے تو بڑ ا والا جھنڈا خریدنا تھا اور ساتھ میں بیج  بھی۔  چنانچہ میں  نے ہمت کی اور کیمپ سے باہر نکل کر دیکھا کہ لوگ بازار جا رہے ہیں ،تو میں بھی امی سے چھپ کر بازار گیا اور   وہاں سے غباروں کا ایک چھوٹا سا پیکٹ خرید لایا ،اور  پھر ان غباروں کو پُھلا کر میں  نے ایک ڈنڈے کے ساتھ باندھ لیے،اور کیمپ کے بچوں  کی طرف روانہ ہوگیا۔ دوپہر تک سب غبارے فروخت ہوگئے تھے، جب میں نے دیکھا کہ اب مجھے کافی روپے مل گئے تو پھر میں بازار گیا اور ایک بڑا جھنڈا خرید لیا۔ اور خوشی خوشی واپس اپنے خیمے میں آگیا ،اور خیمے کے بانس کے ساتھ وہ بڑا جھنڈا باندھ لیا،لیکن میں صرف جھنڈا ہی خرید سکا ،کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھےکہ میں بیج بھی خریدتا،اسلئے اس سال جشن آزادی منانے کیلئے میرے پاس بیج نہیں تھا ،اور جو بیج میں نے خریدے تھے پچھلے سال ،تو وہ گھر سے افراتفری کی صورت میں نکلنے کے سبب ادھر اُدھر ہوگئے۔ پھر  اپنے خیمہ کے قریب ہی باقی خیمہ  بستی کے چند بچوں کو اکھٹا کر لیا ، اور ہم سب نے مل کر پاکستان زند ہ باد کے نعرے لگائے، مجھے سکول والی ایک نظم یاد تھی ، محبت امن ہے ،اور امن کا پیغام  پاکستان پاکستان پاکستان ،پاکستان پاکستان وہ میں نے بچوں کو سُنا ڈالی۔اور پھر ہم سب اپنے اپنے خیموں کو لوٹ گئے۔ پھر میرے ابو کے پاس جب کچھ روپے جمع ہوگئے تو وہ واپس پاکستان اگئے۔ ہمارے خیموں کے خستہ حالی دیکھ کر ابو  بہت خفاء ہوگئے۔لیکن کیا کرسکتے تھے،ہم اپنے گھر بھی تو واپس نہیں جا سکتے تھے۔ چنانچہ ابو نے ایک دوست سے بات کی، جس کے گھر کا ایک حصہ خالی تھا، تو انہوں نے ہمیں رہائش کیلئے دے دیا۔اور ہم خیمہ بستی سے نکل کر ابو کے دوست کے گھر کے خالی حصے میں آباد ہوگئے۔اور اب یہاں چار پانچ سال  ہوگئے ہیں ہمارے۔ میں نے پوچھا کہ دلاور خان یہ تو بتاؤ کہ اب  تمھارے کیا خواب ہیں  اپنے پاکستان کے بارئے میں۔ تو دلاور خان نے بتایا کہ خوچے  منصور بھائی  امارا  کیا خواب ہوسکتا ہے۔ ام اپنا گھر جانا چاہتا ہے۔ اپنے گاؤں کو دیکھنے کو دل بہوت خواہش کرتا ہے۔امارا اپنا سکول جانا چاہتا ہے۔ ہمارا سبق درمیان میں رہ گیا ہے، اسکو مکمل کرنا چاہتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو آپ نے اپنی بات کی ،اسکے علاوہ بھی تو خواب ہوسکتے ہیں آپکے۔ تو انہوں نے بتایا کہ منصور بھائی خوچہ خواب تو بہوت ہے لیکن کونسا کونسا خواب بیان کروں میں۔ اسی دوران میری نظر اسکے پیالے پر پڑی تو وہ خالی ہوچکی تھی، مجھے فورا خیال آیا کہ اگر اسکے خواب کے بارئے میں جاننا ہے تو اسکو ایک پیالی چائے اور پلانی ہوگی۔ چنانچہ بیرے کو ایک پیالی چائے اور لانے کا آرڈر دیا۔ بیرے کو چائے کا آرڈر دئے کر میں نے دلاور خان کو گویا خواب کی تفصیل بیان کرنے پر راضی کر ہی لیا ۔ چنانچہ دلاور خان  میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے یوں گویا ہوا کہ منصور بھائی خوچہ میرا خواب تو یہ ہے کہ امارا وطن دوبار امن والا بن جائے۔ امارا   بڑا  بڑا  جو  لوگ ہے، انکو یہ سبق مل جائے کہ یہ وطن امارا ہی ہے،اسکو لوٹنا نہیں چاہئے۔ امارا تعلیم خراب ہوگیا ہے۔ جس سکول میں ہم پڑھتے تھے ،اسمیں فوجی رہتے ہیں۔ہم کو بھی ڈر لگتا ہے ،سکول کو جانے میں کہ فوجی ماما     غصہ نہ ہوجائے۔ ہمارا دل چاہتا ہے کہ امارا ابو یہی ہمارے ساتھ رہے،اور یہی کوئی روزگار کا ذریعہ بن جائے۔امارا چھوٹا بھائی جو ہے ،اسکو بھی سکول میں داخل کرنا ہے۔ لیکن وہ ہر وقت بیمار رہتا ہے۔ امارا دل کرتا ہے کہ کسی اچھا  ڈاکٹر کو دکھائے لیکن اتنا رقم نہیں ہے۔ منصور بھائی تم تو جانتا ہے کہ ہمارا گذارا کس طرح ہوتا ہے۔ ہمارا دل چاہتا ہے کہ یہاں اچھا ہسپتال بن جائے ،تو پھر ہم اپنے چھوٹے کاکے بھائی کا علاج کروائے۔امارا دل کرتا ہے کہ ہم اس ملک میں خوش خرم  رہیں ۔ ہمارا دل کرتا ہے کہ ہم یہاں چین وسکون سے رہیں۔امارا یہ خواب بھی ہے کہ ہم اچھا تعلیم حاصل کرکے بڑا آدمی بن جائے ،اور اپنے وطن کی ترقی کیلئے کام کرئے ۔ امارا دل بہوت کچھ چاہتا ہے ۔اسلئے ہم اللہ سے روز دعاء کرتا ہے کہ امارا ملک ایک اچھا ملک بن جائے۔ اسی دوران میں نے گھڑی کی طرف دیکھا تو کافی دیر ہوچکی تھی۔ دلاور خان کو بھی جانا تھا ،اپنے گھر ۔چنانچہ چائے کی پیالی پی کر ہم وہاں سے رخصت ہوئے  اور میں اپنے گھر چلا آیا ،تاکہ دلاور خان کے خوابوں کو تحریر شکل دئے سکوں۔