ابو شامل

داستان ہندوستان پر برطانیہ کے "احسانات" کی

لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ ہمیں ہندوستان میں ایک ایسا طبقہ بنانے کی لازمی کوشش کرنا ہوگی جو ہمارے اور کروڑوں ہندوستانیوں کے درمیان ترجمان کاکام کرے، ایک ایسا طبقہ جو رنگت میں تو ہندوستانی ہو، لیکن اپنے مزاج، خیالات اطوار اور سوچ میں انگریز ہو۔" آج یہی طبقہ زندگی کے ہرمرحلے اور ہر سطح پرانفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر برصغیر کے عوام کوہر وقت وہ احساس کمتری دلاتا رہتا ہے جو پیدا کرنے کے لیے اس طبقے کو تخلیق کیا گیا تھا۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، سوشل میڈیا پر آپ کا سابقہ ایسے بہت سے افراد سے ہوا ہوگا جن کے خیال میں ہمارا قومی ترانہ اردو نہیں بلکہ فارسی ہے، ہمارا یوم آزادی 14 نہیں بلکہ 15 اگست ہے، ہماری "اصل" قومی ترانہ حفیظ جالندھری کا نہیں بلکہ جگن ناتھ آزاد کا لکھا ہوا تھا اور پاکستان کے قیام کا ایک سیکولر ریاست کا قیام تھا وغیرہ وغیرہ۔ ایسی تمام بے سند باتوں کا مقصد صرف اور صرف ایک ہی ہے کہ ہم ہر وقت احساس کمتری میں رہیں کہ ہماری تو اتنی چھوٹی کل بھی سیدھی نہیں اور یوں لاشعوری طور پر گوروں کی عظمت کے قائل رہیں۔

برطانیہ نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے بعد اسے کیا دیا؟ اس موضوع پر حلقہ احباب میں بڑی سیر حاصل بحثیں ہو چکی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت کے سیاست دان ششی تھرور کی نئی کتاب "Inglorious Empire" بالکل اسی موضوع اور دلائل کا احاطہ کر رہی ہے جن کی بنیاد پر یہ بحثیں گرما گرم روپ اختیار کرتی رہیں۔ اس کتاب میں کون سے دلائل دیے گئے ہیں، ان کا کچھ خلاصہ خود ششی تھرور نے کیا ہے:

تقسیم ہند کے بعد سے اب تک پورے برصغیر میں ایک طبقہ ایسا ضرور پایا جاتا ہے جو نوآبادیاتی قبضے کے بارے میں معذرت خواہانہ لہجہ رکھتا ہے۔ وہ بدترین استحصال، لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا جواز تو پیش نہیں کر سکتا لیکن ایک نیا موضوع چھیڑ کر اس کی کراہیت کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ برطانیہ دو صدیوں میں جو کچھ لوٹ سکتا تھا لے گیا، لیکن پیچھے کئی ایسی چیزیں چھوڑ گیا جن سے ہمیشہ فائدہ اٹھایا گیا۔ جیسا کہ سیاسی وحدت، جمہوریت، قانون کی حکمرانی، ریلوے نظام، انگریزی تعلیم، یہاں تک کہ وہ ان کے "احساسات" میں چائے اور کرکٹ کو بھی شمار کر دیتا ہے۔ بدقسمتی سے انگریزوں کے دو صدیوں پر محیط اقتدار نے ہندوستان کو اتنا پیچھے کردیا ہے کہ آج بھی علمی سطح پر ان تمام بے وقوفانہ دلائل کو رد نہیں کیا جاتا بلکہ ایک بہت بڑا عوامی طبقہ بھی ایسا ہے جو ان کی تائید کرتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان تو قبل از تاریخ سے ایک وحدت تھا اور اسے "متحد" کرنے کا سہرا برطانیہ کے سر پر سجانا کچھ جچتا نہیں ہے۔ قدیم ہندو مذہبی کتب دیکھ لیں، ہمالیہ اور سمندر کے درمیان کی سرزمین "بھارت ورش" کہلاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عرب اس علاقے کے تمام افراد کو 'ہندی' کہتے تھے۔ سلطنت موریا سے لے کے عظیم مغلوں تک، کئی سلاطین نے لگ بھگ پورے ہند پر حکومت کی ہے تو اس کا سہرا آخر برطانوی نو آبادیاتی قابضوں کو کیوں دیا جائے کہ انہوں نے ہند کو متحد کیا؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ برطانوی راج کا دور ہی تھا کہ جس میں ملک کے سیاسی اداروں کی بیخ کنی کی گئی اور مذہبی و فرقہ ورانہ تقسیم اور باقاعدہ سیاسی امتیاز کے ذریعے اپنی حکومت کو مستحکم کیا۔ 1757ء میں جنگ پلاسی کے بعد تو برطانیہ نے نہایت عیاری سے ہندوستانی ریاستوں کے درمیان دراڑیں پیدا کیں اور اپنی 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کی پالیسی کے ذریعے غلبہ حاصل کیا۔

جب ایک صدی بعد 1857ء میں ہندو اور مسلمان سپاہیوں نے مل کر راج کے خلاف بغاوت کی اور مغل بادشاہ کی اطاعت کا اعلان کیا تو قابض برطانوی سلطنت کے کان کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے اسی میں عافیت جانی کہ ان دو سب سے بڑے گروہوں کو ایک دوسرے سے بدظن کیا جائے اور یوں اپنے اقتدار کو طول دے۔ ہندو مسلم تصادم صرف نو آبادیاتی دور ہی میں ہوئے اور بالآخر اس کا نتیجہ 1947ء میں تقسیم ہند کی صورت میں نکلا جس میں 10 لاکھ لوگ فسادات کی نذر ہوئے، ایک کروڑ سے زیادہ بے گھر ہوئے، اربوں روپے کی املاک خاکستر ہوئی اور نفرت کی ایسی آگ لگی کہ جس کی حدت آج بھی خطے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ ہندوستان پر برطانیہ کے ناکام ترین اقتدار کا بدترین اختتام تھا۔

پھر تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ ہندوستان میں جمہوری اداروں کے فروغ کے لیے کام برطانیہ نے کیا جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ نچلی سطح پر مقامی حکومت کے نظام کو کھڑا کرنے کے بجائے ایسٹ انڈیا کمپنی نے جو سسٹم موجود تھا، اسے بھی برباد کیا۔ برطانیہ نے صرف حکومت کی، لگان اکٹھا کیا اور انصاف کے لیے عدالتیں سجائیں اور اس پورے عمل سے مقامی ہندوستانیوں کو کوسوں دور رکھا گیا۔ پھر تاج برطانیہ کے زیر نگیں غیر منتخب شدہ صوبائی و مقامی "قانون ساز" کونسلیں تھیں جن کے اراکین تعلیم یافتہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے جو نہ عوام کو جواب دہ تھے، نہ انہوں نے کوئی اہم قانون سازی کی اور نہ ہی ان کے بعد کوئی طاقت اور اختیار تھا۔

1920ء کی دہائی کے اواخر میں جب "اصلاحات" کی گئیں اور ہندوستانی نمائندگان کو کونسلوں میں جگہ دی گئی تو اسے اتنا محدود و مخصوص رکھا گیا کہ 250 میں سے صرف ایک ہندوستانی ہی اپنا ووٹ استعمال کر سکا۔ پھر تعلیم و صحت کے شعبوں کی کوئی پروا نہیں کی گئی اور حقیقی طاقت کے سرچشمہ صوبائی گورنر ہی رہا جس کے بعد تمام اختیارات تھے۔

بالفاظ دیگر 200 سالوں تک ہندوستان کے عوام پر ظلم و تشدد کیا گیا، انہیں قید و بند میں ڈالا گیا، غلام بنایا گیا، اپنی زمینوں سے بے دخل کیا گیا، سزائے موت تک دی گئیں اور اس کے بعد دعویٰ کیا گیا کہ ہم نے آپ کو جمہوریت دی۔

ایک پہلو ہی بھی دیکھیں کہ جب مقامی افراد کے خلاف گورا کسی جرم کا مرتکب ٹھیرتا تو کم سے کم سزا پاتا۔ ایک گورا اگر اپنے ہندوستانی نوکر کو گولی مار دے تو اسے چھ مہینے کی قید ہوتی تھی اور جرمانہ بھی معمولی سا، تقریباً 100 روپے۔ جبکہ اگر کوئی ہندوستانی کسی گوری سے زیادتی کی کوشش کرنے پر ہی 20 سال قید بامشقت کی سزا پاتا تھا۔ برطانوی عہد کی پوری دو صدیوں میں صرف تین ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں کسی ہندوستانی کو مارنے پر کسی انگریز کو سزائے موت دی گئی ہو۔ جبکہ گوروں کے ہاتھ ہزاروں دیگر افراد کے خون سے رنگے رہے اور انہیں کوئی سزا نہیں ملی۔ کسی گورے کے ہاتھوں ہندوستانی کا مارا جانا ہمیشہ حادثہ کہلاتا جبکہ کسی بھی مقامی کا معمولی سا قدم بھی ہمیشہ بڑا جرم۔

بلاشبہ برطانیہ نے ہندوستان کو انگریزی زبان دی جس کے فائدے آج بھی سمیٹے جا رہے ہیں لیکن کیا واقعی انہوں نے اپنی زبان دی؟ انگریزی زبان درحقیقت ہندوستان کے لیے تحفہ نہیں تھی بلکہ لارڈ میکالے کے مندرجہ بالا الفاظ میں ترجمانی کے لیے ایک مخصوص طبقے کو عطا کی گئی تھی۔ برطانیہ کو ہندوستانی عوام کی تعلیم کی نہ کوئی خواہش تھی اور نہ ہی اس سے اس مقصد کے لیے کوئی بجٹ رکھا۔ یہ ہندوستانی تھے، جنہوں نے انگریزی کا دامن پکڑا اور اسے تھامے رکھا اور اس کے بل بوتے پر آزادی کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے برطانیہ کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے انگریزی کو آلے کے طور پر استعمال کیا۔

ریلوے کا قیام بھی برطانیہ کا ایک ایسا ہی "کارنامہ" ہے جس کا سہرا بلاوجہ برطانیہ کے قابضین کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اصل میں یہ کام اپنے مفاد کے لیے کیا تھا۔ گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ نے 1843ء میں کہا تھا کہ ریلوے تجارت، حکومت اور ملک پر عسکری قبضے کے لیے اہم ہوگی۔ پھر برطانیہ نے ریلوے میں سرمایہ لگا کر اندھا پیسہ بنایا۔ ہندوستانیوں سے لیے گئے محصول کو ہی استعمال کیا، بلکہ دوگنا لگان تک لگا کر ریلوے بنائی جسے بنانے کا پہلا مقصد ہندوستان کی کانوں سے نکالے جانے والے کوئلے اور خام لوہے اور کپاس سمیت دیگر فصلوں کو ان بندرگاہوں تک پہنچانا تھا جہاں سے انہیں برطانیہ لے جایا جاتا۔ لوگوں کو سفری سہولت دینا تو بس اس کی 'بائی پروڈکٹ' تھی اور اس میں بھی نوآبادیاتی عمل صاف نظر آیا۔ تیسرے درجے کے ڈبوں میں بیٹھنے کے لیے لکڑی کے تختے ہوتے تھے، اور بیت الخلاء سمیت کوئی بنیادی سہولت دستیاب نہیں ہوتی تھی۔ یہ وہ "عظیم خدمت" تھی جس سے ہندوستانی "فائدہ" اٹھا رہے تھے۔

پھر ریلوے میں ہندوستانیوں کو ملازمتیں بھی نہیں دی گئیں۔ سرمایہ کاری کو تحفظ دینے کے لیے صرف گورے بھرتی کیے گئے۔ 20 ویں صدی کے اوائل تک ریلوے بورڈ کے ڈائریکٹرز سے لے کر ٹکٹ چیکر تک پورا عملہ انگریزوں پر مشتمل تھا۔ 1854ء سے 1947ء کے درمیان انگلستان سے ساڑھے 14 ہزار ریلوے انجن درآمد کیے گئے جبکہ 3 ہزار اضافی کینیڈا، امریکا اور جرمنی سے بھی منگوائے گئے اور 1912ء تک ہندوستان میں ایک بھی نہیں بنا۔ ٹیکنالوجی منتقل نہ ہونے کی وجہ سے آزادی کے بعدبھی ہندوستان کو بدستور انگلستان سے مدد لینا پڑی۔

ہندوستان میں نو آبادیاتی اقتدار اقتصادی استحصال اور کروڑوں زندگیوں کے خاتمے کا نام تھا۔ابھرتی ہوئی صنعتوں کی تباہی، مسابقت کے مواقع تک رسائی سے روکنا، حکومت کے مقامی اداروں کے خاتمے اور سب سے بڑھ کر اپنی شناخت اور خود عزت نفس کا خاتمہ تھا۔ 1600ء میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی بنی تو برطانیہ دنیا کے کل جی ڈی پی کا صرف 1.8 فیصد پیدا کرتا تھا جبکہ ہندوستان 23 فیصد جو 1700ء میں 27 فیصد تک پہنچا۔ لیکن 1940ء میں، دو صدیوں تک برطانوی راج کے اقتدار میں رہنےکے بعد برطانیہ عالمی جی ڈی پی کا 10 فیصد پیدا کرنے لگا اور ہندوستان "تیسری دنیا" کا غریب ملک بن چکا تھا۔ یہ ایک مفلس، کنگال اور بھوکا ہندوستان تھا، جو غربت اور افلاس کا عالمی مرکز تھا اور کسی حد تک آج بھی ہے۔ برطانیہ نے ایک ایسا ملک چھوڑ کر گیا جہاں شرح خواندگی صرف 16 فیصد تھی، متوقع عمر صرف 27 سال، جہاں کوئی مقامی صنعت نہیں تھی اور 90 فیصد سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی تھی۔ وہ ہندوستان جہاں جب برطانوی آئے تھے تو یہ ایک امیر، خوش حال، ترقی یافتہ ملک اور تجارت کا مرکز تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں دلچسپی کی وجہ بھی یہی خصوصیات تھیں۔ ہندوستان ہرگز پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ علاقہ نہیں تھا بلکہ قبل از نو آبادیاتی دور میں یہاں ایسی اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار ہوتی تھیں جن کی برطانیہ کی فیشن ایبل سوسائٹی میں بڑی مانگ تھی۔

برطانیہ کی اشرافیہ بھارتی لینن اور ریشم پہنتی تھی، اپنے گھروں کو ہندوستانی چیزوں سے سجاتی تھی اور ہندوستانی مصالحے یہاں عام تھے۔ 17 ویں اور 18 ویں صدی تک برطانوی کارخانے ہندوستانی کپڑوں کی جعلی نقلیں بنا کر انہیں ملک میں بیچ کر سادہ لوح عوام کو لوٹتے تھے۔

اپنی ہزاروں سالہ تہذیبی تاریخ میں ہندوستان کی داستان عظیم تعلیمی اداروں، عظیم شہروں، عظیم ایجادات، عالمی معیار کی عظیم صنعتوں اور زبردست ترقی کی کہانی ہے۔ اگر برطانیہ اس کے وسائل کو بری طرح نہ لوٹتا تو شاید آج کا برصغیر مختلف ہوتا۔

Hello world!

Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!

بے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا

مشینوں سے پہلے انسان تقریباً ہر کام ہاتھ سے کرتا تھا۔ جو آسائشیں ہمیں آج ہمیں گھر میں میسر ہیں، ان کا تو چند صدی پہلے بادشاہوں نے بھی تصور نہ کیا ہوگا۔ جہاں مشینوں نے ہماری زندگیوں کو آسان کردیا ہے لیکن وہیں ہم سے محبت و انسیت چھین لی ہے۔ اقبال نے کہا تھا کہ “ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت” بس کچھ یہی حال ہے۔

پہلے اپنے کام سے محبت ہوتی تھی، قلبی لگاؤ ہوتا تھا، انسیت ہوتی تھی، تبھی ہمیں ایسے شاہکار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ آج ہم کیا کرتے ہیں؟ اپنا وقت گزارتے ہیں، کام سے جان چھڑاتے ہیں، جی چراتے ہیں، دفتر میں ‘ٹائم پاس’ کرتے ہیں۔ جہاں “نظر” ہٹی، ڈنڈی مارتے ہیں۔

لیکن اپنے کام سے محبت اور لگن آج بھی ہر اس کام میں باقی ہے جو انسان اپنے ہاتھ سے کرتا ہے۔جس میں وہ کسی مشین کا محتاج نہیں۔ اب آپ ہی بتائیں، مٹی، پتھر اور گارے کو شاہکار بنانے کی بھلا کیا قیمت ہوگی؟ کوئی اس محبت اور لگن کی قیمت ادا بھی کرسکتا ہے؟ اس تخلیقی ذہن اور عرق ریزی کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی۔ یہ انمول ہے، کیونکہ اس میں محبت شامل ہے۔

(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "//connect.facebook.net/en_GB/all.js#xfbml=1"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);}(document, 'script', 'facebook-jssdk'));

Ked û sebr

Posted by Rudaw Kurmanci on Saturday, November 7, 2015

کہانی راشد آباد کی

چند سال پہلے، جب گرمی اپنے جوبن پر تھی، کراچی سے میرپور خاص جاتے ہوئے راستے میں دور سے کچھ چمکتا دکھائی دیا۔ سڑک سے اٹھنے والی حدت کی وجہ سے منظر دھندلایا ہوا تھا، پھر ذہن میں ‘ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی’ کا ‘سنہرا اصول’ بھی گردش کررہا تھا لیکن منظر واضح ہوتا گیا اور جب قریب پہنچے، تو وہ ایک مسجد تھا۔ اپنے اردگرد کے علاقے سے کہیں مختلف ایک انوکھی بستی تھی۔ گاڑی میں سوال اٹھا “کون سی جگہ ہے یہ؟” مختصر سا جواب آیا “راشد آباد!”

جس رفتار سے ہم جا رہے تھے، راشد آباد چند سیکنڈوں سے زیادہ ہماری میزبانی نہ کرسکا۔ مسجد کے علاوہ چند بینک اور دیگر عمارات نظروں کے سامنے آئیں، اور اگلی ساعت میں بستی ختم ہوگئی۔ البتہ اتنا اندازہ ہوگیا کہ یہ کوئی مثالی بستی ہے کیونکہ نہ راشد آباد سے پہلے، اور نہ ہی اس کے بعد، ہمیں کوئی اتنی منظم آبادی نظر آئی۔

تعارف تو کہیں بعد میں جاکر ہوا، معلومات تو بعد میں ملیں، لیکن تاثر ایسا تھا کہ گاڑی رکوا کر اس بستی کی خاک چھاننے کا دل چاہ رہا تھا۔ کیا آپ بھی راشد آباد کی کہانی سننا چاہتے ہیں؟ سنیے، وسعت اللہ خان کی زبانی

(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "//connect.facebook.net/en_GB/all.js#xfbml=1"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);}(document, 'script', 'facebook-jssdk'));

وائی کنگز کے درمیان – پہلی قسط

ایک ہزار سال سے بھی پہلے، جب وائی کنگ حملہ آوروں کے بیڑے مغربی یورپ کے ساحلوں اور دریاؤں کے کناروں پر بسنے والے لوگوں کے لیے خوف کی علامت تھے، وائی کنگ سرزمین ہی کے تجارت کی طرف مائل افراد مشرق کا رخ کررہے تھے۔ ان میں دلیری و شجاعت اور حوصلے کی ہرگز کمی نہ تھی، وہ اعلیٰ پوستین چڑھائے اور عنبر کی ڈلیاں لیے ان وسیع میدانوں میں داخل ہوتے جو آج یوکرین، بیلاروس اور روس میں شامل ہیں اور پھر وہاں سے وسط ایشیا میں قدم رکھتے۔ یہاں وہ مسلمان تاجروں سے ملتے اور ان چیزوں کے بدلے چاندی کے سکے حاصل کرتے، جو وہ خود نہیں ڈھال سکتے تھے لیکن انہیں پسند بہت تھے۔

وہ مختلف راستے اپناتے یہاں تک کہ نویں اور دسویں صدی میں تجارت کا ایک وسیع جال بچھ گیا۔ اسکینڈینیویا کے چند باشندے زمینی اور دریائی سفر کرتے، جبکہ دیگر بحیرۂ اسود اور بحیرۂ قزوین سے آتے اور اونٹ کی پشت پر سوار ہو کر بغداد تک پہنچ جاتے جو اس وقت عباسی خلافت کا مرکز تھا اور تقریباً 10 لاکھ نفوس کا ایک جیتا جاگتا شہر تھا۔ یہاں اسکینڈینیویا کے ان باشندوں نے ایسا تجارتی مرکز دیکھا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، وہ اپنی سرزمین پر جنہیں شہر سمجھتے تھے وہ تو ابھی چھوٹے موٹے قصبے تھے۔

بغداد کے عربوں کے لیے ان دور دراز کے باشندوں کی موجودگی اتنی زیادہ حیران کن نہیں تھی کیونکہ وہ بہت عرصے سے مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے افراد سے ملنے کے عادی ہو چکے تھے۔ وہ بہت گہری اور عمیق نگاہ اور مشاہدہ رکھنے والے لوگ تھے۔ عباسی مؤرخین اور خلیفہ کے نمائندوں نے اسکینڈینیویا کے ان باشندوں یعنی نورس مین کے بیانات لکھے، جو وائی کنگ تاریخ اور ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ کے بھی ایسے گوشوں کو نمایاں کرتے ہیں، جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں اور یوں ایک تاریخی ورثہ چھوڑا۔

آٹھویں صدی کے اواخر میں انگلستان پر پہلے وائی کنگ حملے سے لے کر اگلے 300 سال کا زمانہ ‘وائی کنگ عہد’ کہلاتا ہے جس میں نورس مین کسی بھی دوسری یورپی قوم کے مقابلے میں زیادہ قسمت آزمائی کررہے تھے۔ انہوں نے شمالی بحر الکاہل کے تقریباً تمام علاقوں کو اپنی نوآبادی بنایا، یہاں تک کہ ہزاریہ کے اختتام پر شمالی امریکہ میں بھی مختصر عرصے کے لیے ایک نوآبادی قائم کی۔ یہ زیادہ تر موجودہ ناروے اور ڈنمارک کے باشندے تو جو مغرب کی جانب سفر کرتے تھے، لیکن “مشرقی وائی کنگز” زیادہ تر سویڈش باشندوں پر مشتمل تھے، اور انہوں نے جنوب مشرق کا رخ کیا، کیف اور نووگراڈ میں تجارتی مراکز قائم کیا، جہاں ان کی اشرافیہ نے حکومت کی۔ یہی وہ زمین ہے جہاں مسلم مؤرخین نے ان وائی کنگز کا مشاہدہ کیا۔

عرب مورخین ان طویل قامت گوری چمڑی اور سنہری بالوں والے باشندوں کو “وائی کنگز” نہیں کہتے تھے بلکہ انہیں نسلی نام “روس” سے پکارتے تھے۔ اس لفظ کی حقیقت ابھی تک مبہم ہے، لیکن دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ سوئیڈن کے لیے مغرب فن زبانوں کے نام ‘روتسی’ سے نکلا ہے اور اس پر کسی حد تک اب اتفاق ہے۔ بزنطینی اور عرب مورخین سوئیڈش تاجروں اور آباد کاروں اور ان کے ساتھ ساتھ جن اقوام میں وہ قیام کرتے اور شادیاں کرتے تھے ان کو بھی، روس کہتے تھے اور یہی جدید روس کے نام کا منبع بھی ہے۔

یہ نام صرف مشرق میں استعمال ہوتا تھا۔ فرانس اور صقلیہ (سسلی) میں وہ نارمنز کے طور پر جانے جاتے تھے۔ بزنطینی بادشاہوں کے مشرقی نورس مین پر مشتمل منتخب محافظ کو ویرنجیئنز (Varangians) کہلاتے تھے، لیکن یہ اصطلاح اس خطے سے باہر کبھی بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہوئی۔ اندلس یعنی اسلامی ہسپانیہ میں انہیں مجوس یعنی آتش پرست کہا جاتا تھا، جو ان کے مشرکانہ عقائد کی جانب اشارہ کرتی تھی۔

صرف برطانوی ہی ان کو، اور یہ خود بھی اپنے آپ کو، “وائی کنگز” کہتے تھے اور یہ لفظ شاید ‘وک’ یعنی خلیج اور اوسلو جھیل کے نام ‘ویکن’ سے نکلا تھا، وہی کہ جہاں سے ابتدائی وائی کنگ بحری جہاز نمودار ہوئے تھے۔ لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں اولڈ نورس ادب کے پروفیسر جیسی بیوک کہتے ہیں کہ ” اسکینڈینیویا کے تمام باشندے وائی کنگ نہیں تھے۔ یہاں تک کہ وہ خود بھی اپنے خطے کے لٹیروں کے لیے یہی اصطلاح استعمال کرتے تھے، لیکن حقیقت میں یہ اصطلاح کبھی ان مقامی کاشت کاروں کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی۔”

مغربی یورپ میں وائی کنگ حملوں کا زیادہ تر ذکر راہب اور مذہبی پیشواؤں کے حوالے سے ملتا ہے، جن کی زیادہ تر توجہ اس بات پر تھی کہ حملہ آوروں کو بدترین اور وحشیانہ انداز میں پیش کیا جائے۔ لیکن مشرق میں معاملہ مختلف تھا۔ یہاں قوم روس کو عام طور پر تلاش کار، آباد کار اور تاجر سمجھا جاتا تھا، حالانکہ وہ اچھی طرح مسلح ہوتے تھے لیکن مسلمان تاجر انہیں تاجر-جنگجو سمجھتے تھے جن کا بنیادی کام کاروبار کرنا تھا۔ قوم روس عباسی خلافت کے درہموں کی دلدادہ تھی، انہوں نے خطے میں قدم رکھا اور دور دراز علاقوں میں بس گئے، تاکہ خراج و محصول سے بچ سکیں، وہ زیادہ تر تجارت مسلمانوں کے ساتھ کرتے تھے جو نئے تجارتی مواقع کی تلاش میں شمال اور مغرب میں ان کے علاقوں کا رخ کرتے تھے۔

ہم درحقیقت اِس قوم روس ، یعنی مشرقی نورس مین، کے بارے میں آج بہت کم علم رکھتے، اگر مسلم سیاح ابن فضلان نویں صدی عیسوی میں تفصیلاً ان کا ذکر نہ کرتے۔ انہوں نے دریائے وولگا کے کناروں پر مقیم قوم روس اور ساتھ ساتھ دیگر کئی اقوام کا بھی تفصیلی احوال اپنے “رسالہ” میں درج کیا ہے۔ ایک صدی بعد قرطبہ کے ایک تاجر طرطوشی نے ڈنمارک کے ایک قصبے کا حوالہ دیا ہے جو ہمیں اس علاقے کی بودوباش کے بارے میں ایک معمولی سی جھلک دکھاتا ہے۔ 943ء میں مسعودی کی لکھی گئی “سونے کےمرغزار” اور مقدسی کی 985ء میں تحریر کردہ “خطے کے بہترین علمی ادارے” بھی روس کا ذکر کرتی ہیں۔

یورپ کے مقابلے میں یہ عرب حوالے قوم روس کے خلاف معاندانہ رویہ نہیں رکھتے تھے، اس لیے یہ زیادہ غیر متعصب اور جدید دور کے ماہرین کی نظر میں زیادہ قابل بھروسہ سمجھے جاتے ہیں۔ کئی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ وائی کنگز قرونِ وسطیٰ کے “ناقص ذرائع ابلاغ” کا نشانہ بنے ہیں حالانکہ اس عہد میں شارلمین اور دیگر یورپی بادشاہوں کے عسکری حملے بھی اتنے ہی بے رحمانہ ہوتے تھے۔ لیکن وائی کنگز پڑھے لکھے نہیں تھے، اور سوائے قبروں کے کتبوں اور چند مقامات کی علامتیں نصب کرنے کے علاوہ وہ کبھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکے کہ تاریخ کو خود سے بہتر بنائیں۔ ان کے سورماؤں اور دیوتاؤں کی زبانی کلامی کہانیاں بھی 12 ویں صدی سے پہلے قلم زد نہیں ہوئیں۔

———– جاری ہے ———–

یہ تحریر ناروے سے تعلق رکھنے والی امریکی صحافی جوڈتھ گیبریل کے مضمون “Among the Norsetribes” کا ترجمہ ہے۔ آپ مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ اسکینڈینیویا کے بارے میں بھی لکھتی ہیں۔ آپ لاس اینجلس کے سہ ماہی الجدید اور نیو یارک کے ہفتہ وار ناروے ٹائمز دونوں کے لیے ادارت کی خدمات انجام دیتی ہیں۔

وائی کنگز کے درمیان – پہلی قسط

ایک ہزار سال سے بھی پہلے، جب وائی کنگ حملہ آوروں کے بیڑے مغربی یورپ کے ساحلوں اور دریاؤں کے کناروں پر بسنے والے لوگوں کے لیے خوف کی علامت تھے، وائی کنگ سرزمین ہی کے تجارت کی طرف مائل افراد مشرق کا رخ کررہے تھے۔ ان میں دلیری و شجاعت اور حوصلے کی ہرگز کمی نہ تھی، وہ اعلیٰ پوستین چڑھائے اور عنبر کی ڈلیاں لیے ان وسیع میدانوں میں داخل ہوتے جو آج یوکرین، بیلاروس اور روس میں شامل ہیں اور پھر وہاں سے وسط ایشیا میں قدم رکھتے۔ یہاں وہ مسلمان تاجروں سے ملتے اور ان چیزوں کے بدلے چاندی کے سکے حاصل کرتے، جو وہ خود نہیں ڈھال سکتے تھے لیکن انہیں پسند بہت تھے۔

وہ مختلف راستے اپناتے یہاں تک کہ نویں اور دسویں صدی میں تجارت کا ایک وسیع جال بچھ گیا۔ اسکینڈے نیویا کے چند باشندے زمینی اور دریائی سفر کرتے، جبکہ دیگر بحیرۂ اسود اور بحیرۂ قزوین سے آتے اور اونٹ کی پشت پر سوار ہو کر بغداد تک پہنچ جاتے جو اس وقت عباسی خلافت کا مرکز تھا اور تقریباً 10 لاکھ نفوس کا ایک جیتا جاگتا شہر تھا۔ یہاں اسکینڈے نیویا کے ان باشندوں نے ایسا تجارتی مرکز دیکھا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، وہ اپنی سرزمین پر جنہیں شہر سمجھتے تھے وہ تو ابھی چھوٹے موٹے قصبے تھے۔

بغداد کے عربوں کے لیے ان دور دراز کے باشندوں کی موجودگی اتنی زیادہ حیران کن نہیں تھی کیونکہ وہ بہت عرصے سے مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے افراد سے ملنے کے عادی ہو چکے تھے۔ وہ بہت گہری اور عمیق نگاہ اور مشاہدہ رکھنے والے لوگ تھے۔ عباسی مؤرخین اور خلیفہ کے نمائندوں نے اسکینڈے نیویا کے ان باشندوں یعنی نورس مین کے بیانات لکھے، جو وائی کنگ تاریخ اور ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ کے بھی ایسے گوشوں کو نمایاں کرتے ہیں، جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں اور یوں ایک تاریخی ورثہ چھوڑا۔

آٹھویں صدی کے اواخر میں انگلستان پر پہلے وائی کنگ حملے سے لے کر اگلے 300 سال کا زمانہ ‘وائی کنگ عہد’ کہلاتا ہے جس میں نورس مین کسی بھی دوسری یورپی قوم کے مقابلے میں زیادہ قسمت آزمائی کررہے تھے۔ انہوں نے شمالی بحر الکاہل کے تقریباً تمام علاقوں کو اپنی نوآبادی بنایا، یہاں تک کہ ہزاریہ کے اختتام پر شمالی امریکہ میں بھی مختصر عرصے کے لیے ایک نوآبادی قائم کی۔ یہ زیادہ تر موجودہ ناروے اور ڈنمارک کے باشندے تو جو مغرب کی جانب سفر کرتے تھے، لیکن “مشرقی وائی کنگز” زیادہ تر سویڈش باشندوں پر مشتمل تھے، اور انہوں نے جنوب مشرق کا رخ کیا، کیف اور نووگراڈ میں تجارتی مراکز قائم کیا، جہاں ان کی اشرافیہ نے حکومت کی۔ یہی وہ زمین ہے جہاں مسلم مؤرخین نے ان وائی کنگز کا مشاہدہ کیا۔

عرب مورخین ان طویل قامت گوری چمڑی اور سنہری بالوں والے باشندوں کو “وائی کنگز” نہیں کہتے تھے بلکہ انہیں نسلی نام “روس” سے پکارتے تھے۔ اس لفظ کی حقیقت ابھی تک مبہم ہے، لیکن دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ سوئیڈن کے لیے مغرب فن زبانوں کے نام ‘روتسی’ سے نکلا ہے اور اس پر کسی حد تک اب اتفاق ہے۔ بزنطینی اور عرب مورخین سوئیڈش تاجروں اور آباد کاروں اور ان کے ساتھ ساتھ جن اقوام میں وہ قیام کرتے اور شادیاں کرتے تھے ان کو بھی، روس کہتے تھے اور یہی جدید روس کے نام کا منبع بھی ہے۔

یہ نام صرف مشرق میں استعمال ہوتا تھا۔ فرانس اور صقلیہ (سسلی) میں وہ نارمنز کے طور پر جانے جاتے تھے۔ بزنطینی بادشاہوں کے مشرقی نورس مین پر مشتمل منتخب محافظ کو ویرنجیئنز (Varangians) کہلاتے تھے، لیکن یہ اصطلاح اس خطے سے باہر کبھی بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہوئی۔ اندلس یعنی اسلامی ہسپانیہ میں انہیں مجوس یعنی آتش پرست کہا جاتا تھا، جو ان کے مشرکانہ عقائد کی جانب اشارہ کرتی تھی۔

صرف برطانوی ہی ان کو، اور یہ خود بھی اپنے آپ کو، “وائی کنگز” کہتے تھے اور یہ لفظ شاید ‘وک’ یعنی خلیج اور اوسلو جھیل کے نام ‘ویکن’ سے نکلا تھا، وہی کہ جہاں سے ابتدائی وائی کنگ بحری جہاز نمودار ہوئے تھے۔ لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں اولڈ نورس ادب کے پروفیسر جیسی بیوک کہتے ہیں کہ ” اسکینڈے نیویا کے تمام باشندے وائی کنگ نہیں تھے۔ یہاں تک کہ وہ خود بھی اپنے خطے کے لٹیروں کے لیے یہی اصطلاح استعمال کرتے تھے، لیکن حقیقت میں یہ اصطلاح کبھی ان مقامی کاشت کاروں کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی۔”

مغربی یورپ میں وائی کنگ حملوں کا زیادہ تر ذکر راہب اور مذہبی پیشواؤں کے حوالے سے ملتا ہے، جن کی زیادہ تر توجہ اس بات پر بھی کہ حملہ آوروں اور بدترین اور وحشیانہ انداز میں پیش کیا جائے۔ لیکن مشرق میں معاملہ مختلف تھا۔ یہاں قوم روس کو عام طور پر تلاش کار، آباد کار اور تاجر سمجھا جاتا تھا، حالانکہ وہ اچھی طرح مسلح ہوتے تھے لیکن مسلمان تاجر انہیں تاجر-جنگجو سمجھتے تھے جن کا بنیادی کام کاروبار کرنا تھا۔ قوم روس عباسی خلافت کے درہموں کی دلدادہ تھی، انہوں نے خطے میں قدم رکھا اور دور دراز علاقوں میں بس گئے، تاکہ خراج و محصول سے بچ سکیں، وہ زیادہ تر تجارت مسلمانوں کے ساتھ کرتے تھے جو نئے تجارتی مواقع کی تلاش میں شمال اور مغرب میں ان کے علاقوں کا رخ کرتے تھے۔

ہم درحقیقت اِس قوم روس ، یعنی مشرقی نورس مین، کے بارے میں آج بہت کم علم رکھتے، اگر مسلم سیاح ابن فضلان نویں صدی عیسوی میں تفصیلاً ان کا ذکر نہ کرتے۔ انہوں نے دریائے وولگا کے کناروں پر مقیم قوم روس اور ساتھ ساتھ دیگر کئی اقوام کا بھی تفصیلی احوال اپنے “رسالہ” میں درج کیا ہے۔ ایک صدی بعد قرطبہ کے ایک تاجر طرطوشی نے ڈنمارک کے ایک قصبے کا حوالہ دیا ہے جو ہمیں اس علاقے کی بودوباش کے بارے میں ایک معمولی سی جھلک دکھاتا ہے۔ 943ء میں مسعودی کی لکھی گئی “سونے کےمرغزار” اور مقدسی کی 985ء میں تحریر کردہ “خطے کے بہترین علمی ادارے” بھی روس کا ذکر کرتی ہیں۔

یورپ کے مقابلے میں یہ عرب حوالے قوم روس کے خلاف معاندانہ رویہ نہیں رکھتے تھے، اس لیے یہ زیادہ غیر متعصب اور جدید دور کے ماہرین کی نظر میں زیادہ قابل بھروسہ سمجھے جاتے ہیں۔ کئی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ وائی کنگز قرونِ وسطیٰ کے “ناقص ذرائع ابلاغ” کا نشانہ بنے ہیں حالانکہ اس عہد میں شارلمین اور دیگر یورپی بادشاہوں کے عسکری حملے بھی اتنے ہی بے رحمانہ ہوتے تھے۔ لیکن وائی کنگز پڑھے لکھے نہیں تھے، اور سوائے قبروں کے کتبوں اور چند مقامات کی علامتیں نصب کرنے کے علاوہ وہ کبھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکے کہ تاریخ کو خود سے بہتر بنائیں۔ ان کے سورماؤں اور دیوتاؤں کی زبانی کلامی کہانیاں بھی 12 ویں صدی سے پہلے قلم زد نہیں ہوئیں۔

———– جاری ہے ———–

یہ تحریر ناروے سے تعلق رکھنے والی امریکی صحافی جوڈتھ گیبریل کے مضمون “Among the Norsetribes” کا ترجمہ ہے۔ آپ مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ اسکینڈینیویا کے بارے میں بھی لکھتی ہیں۔ آپ لاس اینجلس کے سہ ماہی الجدید اور نیو یارک کے ہفتہ وار ناروے ٹائمز دونوں کے لیے ادارت کی خدمات انجام دیتی ہیں۔

انقلاب کا آغاز اپنی ذات سے

انقلاب کا آغاز اپنی ذات سے۔ پہلے اپنے ظرف کو اتنا بلند کریں کہ وہ آپ کو وزیر اعلیٰ پنجاب سے مفت لیپ ٹاپ وصول کرنے اور میٹرو میں بیٹھ کر سفر کی سہولت حاصل کرنے سے روکے۔

مخالفت بھی کرنی ہے لیکن فائدہ بھی اٹھانا ہے، اس سوچ کے ساتھ کبھی “انقلاب” نہیں آیا کرتے۔

دماغ کی بتی کیسے جلائیں؟

کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ دماغ منجمد ہے، اس میں موجود ہر خیال ‘ڈیپ فریز’ ہوچکا ہے اور اسے نکالنے کی مشق بالکل ایسی ہی ہوجائے جیسے عاشورے سے قبل عید الاضحیٰ والا گوشت فریزر سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔ ہر خیال، ہر سوچ، ہر منصوبہ اور ہر ارادہ اس طرح سے دماغ میں نہیں آتا، جس طرح اسے آنا چاہیے۔ جو لوگ لکھتے ہیں، یا جو میری طرح لکھنا چاہتے ہیں، انہیں کئی بار اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس میں وہ کچھ تحریر کرنے بیٹھتے ہیں تو گویا خود پر جبر کرنا پڑتا ہے۔ الفاظ بجائے خود ذہن میں آنے کے سوچ سوچ کر قلم زد ہوتے ہیں اور اس کڑی مشق کے باوجود تحریر میں وہ جان نظر نہیں آتی۔ بارہا اس مرحلے سے گزرنا پڑا اور کیونکہ علاج خود سے کرنے کا عارضہ بھی ہے اس لیے پہلی کوشش تو یہی رہی کہ کسی سے مشورے کا ‘احسان’ نہ لیا جائے لیکن جب ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو استادوں سے مدد طلب کی، جنہوں نے ‘رائٹرز بلاک’ سے نکالا۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر ایسا ہوتا کیوں ہے؟ جس طرح جسم مسلسل محنت سے تھک جاتا ہے، پٹھے چڑھ جاتے ہیں اور انہیں آرام کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح دماغ کے لیے بھی آرام ضروری ہے۔ معمول کی نیند اپنی جگہ، لیکن اس کے علاوہ بھی ذہن کو پریشانیوں سے جھنجھٹوں سے نکالنا ضروری ہے۔ یہ پریشانی مالی بھی ہوسکتی ہے، کسی دوسرے تناؤ کا نتیجہ بھی، اور ہم جیسے بند شب و روز میں جکڑے ہوئے شہریوں کے لیے روٹین کی غلامی بھی، جس کو بہرصورت انجام دینا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دماغ کی تخلیقی صلاحیت کو زنگ لگنے لگتا ہے۔ پھر اگر وہ لکھاری ہے تو تحریر میں، مصور ہے تو فن پاروں میں اور اگر تخلیق کار ہے تو نئے منصوبے میں جان نہیں ڈال پاتا۔

اب اس مسئلے سے جان کیسے چھڑائی جائے؟ سب سے پہلے تو اس کام سے ہی جان چھڑا لیں۔ یہ “روز کا آنا جانا” دراصل “قدر” کھو دیتا ہے، اس لیے آپ اگر کچھ عرصے کے لیے وہ کام چھوڑ دیں، جس میں آپ کی تخلیقی صلاحیت صرف ہوتی ہے، تو یہ دوری “محبت” میں اضافہ بھی کرے گی اور اس کام کے لیے آپ کی لگن بھی بڑھائے گی۔

اگر آپ لکھاری ہیں تو پہلے کام کے ساتھ آپ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لکھنے کے بجائے پڑھنے کی طرح دھیان دیں۔ یہ تو ہر لکھاری کو ہمہ وقت کرنا چاہیے لیکن اگر آپ رائٹرز بلاک سے دوچار ہوں تو لکھے کے بجائے ان لکھاریوں کو پڑھنا شروع کردیں جو آپ کو بہت پسند ہیں۔ چند دنوں میں ہی محسوس ہوگا کہ آپ کا دل اب لکھنے کی جانب مائل ہونے لگا ہے۔ بس جیسے ہی اس طلب میں اضافہ ہو، قلم یا کی بورڈ سنبھالیے اور شروع ہوجائیے!

اپنی بیٹھنے اور لکھنے کی جگہ بدلیں! کہنے میں تو یہ بہت عجیب لگ رہا ہے لیکن اس کا رائٹرز بلاک بہت گہرا تعلق ہے۔ ہم زیادہ تر دفتر میں بھی اور گھر پر بھی ایک مخصوص جگہ پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں، جب ہم سالوں تک ایک ہی جگہ بیٹھتے ہیں تو دماغ اس معمول کا عادی ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نئی سوچ اور تخلیق اس میں جنم نہیں لے پاتی۔ جگہ بدل کر دیکھیں، آپ کو خود اندازہ ہوگا کہ یہ معمولی سا فرق ذہن میں کتنی تبدیلیاں لاتا ہے۔

کچھ میرے اپنے راز بھی ہیں :) کیونکہ ‘خوش قسمتی’ سے میں لکھنے کی جانب راغب ہوں اور یہ پیشہ ورانہ مجبوری بھی ہے تو ایسے چند طریقے خود سے بھی ایجاد کرنا پڑتے ہیں۔ اس میں ایک طریقہ تو یہ ہے کہ لکھنے کا انداز تبدیل کردیں۔ ذہن میں تصور کے ساتھ تحریر لکھنا یا خیالات کے بہاؤ کے ساتھ تحریر کو اختتام تک پہنچانا یا پھر بار بار مٹا کر دوبارہ لکھنا۔ ان میں سے کوئی بھی انداز اگر آپ اپناتے ہیں تو دوسرے کو اختیار کرنے کی کوشش کریں۔ دماغ کو یہ نئی مشق بہت پسند آتی ہے کیونکہ وہ ‘طرز کہن پہ اڑنا’ پسند نہیں کرتا۔ جیسا کہ ایک طریقہ جو میں نے آزمایا ہے، بالخصوص کرک نامہ پر، کہ تحریر کے نکات پہلے ترتیب دے ڈالیں۔ آپ اس تحریر میں کیا لکھنا چاہتے ہیں، کیا نتیجہ پیش کرنے کے خواہاں ہیں، وہ سب کچھ پہلے نکات کی صورت میں موجود ہے اور پھر ان میں سے ہر نکتے کو پچھلی کڑی سے ملاتے چلے جائیں اور آخر میں ابتدائیہ و اختتامیہ شامل کرکے تیار تحریر پائیں۔ یہ بالکل اس طرح ہوتا ہے جیسا کہ ہم بچوں کے رسالوں میں نقطے ملاتے تھے۔ پہلے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا لیکن نقطے ملانے کے بعد واضح تصور ابھر آتی تھی۔

اگر کسی موضوع پر ذہن میں نکات اکٹھے نہیں ہو رہے، یا اس کی گرہیں نہیں کھل رہیں تو آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ اس موضوع پر کسی کے ساتھ گفتگو کرلیں۔ یہ گفتگو اپنے بھائی سے بھی ہوسکتی ہے، اہل خانہ کے کسی فرد سے بھی، دوست، ساتھی بلاگر یا استاد سے بھی۔ جو اس موضوع پر کچھ عبور رکھتا ہو اس سے بات کرنا دراصل اپنے ذہن کو کھولنا ہے۔ آپ کو باتوں کے دوران ہی احساس ہوگا کہ آپ کے دماغ میں کچھ نئے نکات آ رہے ہیں اور کچھ باتیں آپ کو دوسرے سے بھی ملیں گی۔اگر آپ کو میری طرح باتیں یاد رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے تو پھر آڈیو ریکارڈنگ کا سہارا لیں۔ آجکل تقریباً ہر موبائل یا اسمارٹ فون میں آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہوتی ہے، اسے استعمال کریں اور بعد میں اپنی تحریر کے لیے اس ریکارڈ شدہ گفتگو سے مدد لیں۔

کچھ لوگوں میں خودکلامی کی عادت ہوتی ہے، یہ وہ مشق ہے جو دراصل دماغ سے نکل کر زبان تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کو ہوا میں ضائع نہ ہونے دیں، ریکارڈ کرلیں۔ یہ بعد میں آپ کو لکھنے میں کافی مدد دے سکتی ہے۔

ویسے تحریر اس طرح لکھنا کہ گویا لکھاری بات کررہا ہے، کمال ہے۔ قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی مصنف کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ اس لیے اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو آڈیو ریکارڈنگ بہت اچھا طریقہ ہوسکتا ہے۔

کیا آپ بھی اس صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں؟ اگرہاں تو کس طرح نکلتے ہیں؟ مجھے اپنے مشوروں سے ضرور نوازیں۔

دماغ کی بتی کیسے جلائیں؟

کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ دماغ منجمد ہے، اس میں موجود ہر خیال ‘ڈیپ فریز’ ہوچکا ہے اور اسے نکالنے کی مشق بالکل ایسی ہی ہوجائے جیسے عاشورے سے قبل عید الاضحیٰ والا گوشت فریزر سے نکالنے کی کوشش کی جائے۔ ہر خیال، ہر سوچ، ہر منصوبہ اور ہر ارادہ اس طرح سے دماغ میں نہیں آتا، جس طرح اسے آنا چاہیے۔ جو لوگ لکھتے ہیں، یا جو میری طرح لکھنا چاہتے ہیں، انہیں کئی بار اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس میں وہ کچھ تحریر کرنے بیٹھتے ہیں تو گویا خود پر جبر کرنا پڑتا ہے۔ الفاظ بجائے خود ذہن میں آنے کے سوچ سوچ کر قلم زد ہوتے ہیں اور اس کڑی مشق کے باوجود تحریر میں وہ جان نظر نہیں آتی۔ بارہا اس مرحلے سے گزرنا پڑا اور کیونکہ علاج خود سے کرنے کا عارضہ بھی ہے اس لیے پہلی کوشش تو یہی رہی کہ کسی سے مشورے کا ‘احسان’ نہ لیا جائے لیکن جب ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو استادوں سے مدد طلب کی، جنہوں نے ‘رائٹرز بلاک’ سے نکالا۔

سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر ایسا ہوتا کیوں ہے؟ جس طرح جسم مسلسل محنت سے تھک جاتا ہے، پٹھے چڑھ جاتے ہیں اور انہیں آرام کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح دماغ کے لیے بھی آرام ضروری ہے۔ معمول کی نیند اپنی جگہ، لیکن اس کے علاوہ بھی ذہن کو پریشانیوں سے جھنجھٹوں سے نکالنا ضروری ہے۔ یہ پریشانی مالی بھی ہوسکتی ہے، کسی دوسرے تناؤ کا نتیجہ بھی، اور ہم جیسے بند شب و روز میں جکڑے ہوئے شہریوں کے لیے روٹین کی غلامی بھی، جس کو بہرصورت انجام دینا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دماغ کی تخلیقی صلاحیت کو زنگ لگنے لگتا ہے۔ پھر اگر وہ لکھاری ہے تو تحریر میں، مصور ہے تو فن پاروں میں اور اگر تخلیق کار ہے تو نئے منصوبے میں جان نہیں ڈال پاتا۔

اب اس مسئلے سے جان کیسے چھڑائی جائے؟ سب سے پہلے تو اس کام سے ہی جان چھڑا لیں۔ یہ “روز کا آنا جانا” دراصل “قدر” کھو دیتا ہے، اس لیے آپ اگر کچھ عرصے کے لیے وہ کام چھوڑ دیں، جس میں آپ کی تخلیقی صلاحیت صرف ہوتی ہے، تو یہ دوری “محبت” میں اضافہ بھی کرے گی اور اس کام کے لیے آپ کی لگن بھی بڑھائے گی۔

اگر آپ لکھاری ہیں تو پہلے کام کے ساتھ آپ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لکھنے کے بجائے پڑھنے کی طرح دھیان دیں۔ یہ تو ہر لکھاری کو ہمہ وقت کرنا چاہیے لیکن اگر آپ رائٹرز بلاک سے دوچار ہوں تو لکھے کے بجائے ان لکھاریوں کو پڑھنا شروع کردیں جو آپ کو بہت پسند ہیں۔ چند دنوں میں ہی محسوس ہوگا کہ آپ کا دل اب لکھنے کی جانب مائل ہونے لگا ہے۔ بس جیسے ہی اس طلب میں اضافہ ہو، قلم یا کی بورڈ سنبھالیے اور شروع ہوجائیے!

اپنی بیٹھنے اور لکھنے کی جگہ بدلیں! کہنے میں تو یہ بہت عجیب لگ رہا ہے لیکن اس کا رائٹرز بلاک بہت گہرا تعلق ہے۔ ہم زیادہ تر دفتر میں بھی اور گھر پر بھی ایک مخصوص جگہ پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں، جب ہم سالوں تک ایک ہی جگہ بیٹھتے ہیں تو دماغ اس معمول کا عادی ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نئی سوچ اور تخلیق اس میں جنم نہیں لے پاتی۔ جگہ بدل کر دیکھیں، آپ کو خود اندازہ ہوگا کہ یہ معمولی سا فرق ذہن میں کتنی تبدیلیاں لاتا ہے۔

کچھ میرے اپنے راز بھی ہیں 🙂 کیونکہ ‘خوش قسمتی’ سے میں لکھنے کی جانب راغب ہوں اور یہ پیشہ ورانہ مجبوری بھی ہے تو ایسے چند طریقے خود سے بھی ایجاد کرنا پڑتے ہیں۔ اس میں ایک طریقہ تو یہ ہے کہ لکھنے کا انداز تبدیل کردیں۔ ذہن میں تصور کے ساتھ تحریر لکھنا یا خیالات کے بہاؤ کے ساتھ تحریر کو اختتام تک پہنچانا یا پھر بار بار مٹا کر دوبارہ لکھنا۔ ان میں سے کوئی بھی انداز اگر آپ اپناتے ہیں تو دوسرے کو اختیار کرنے کی کوشش کریں۔ دماغ کو یہ نئی مشق بہت پسند آتی ہے کیونکہ وہ ‘طرز کہن پہ اڑنا’ پسند نہیں کرتا۔ جیسا کہ ایک طریقہ جو میں نے آزمایا ہے، بالخصوص کرک نامہ پر، کہ تحریر کے نکات پہلے ترتیب دے ڈالیں۔ آپ اس تحریر میں کیا لکھنا چاہتے ہیں، کیا نتیجہ پیش کرنے کے خواہاں ہیں، وہ سب کچھ پہلے نکات کی صورت میں موجود ہے اور پھر ان میں سے ہر نکتے کو پچھلی کڑی سے ملاتے چلے جائیں اور آخر میں ابتدائیہ و اختتامیہ شامل کرکے تیار تحریر پائیں۔ یہ بالکل اس طرح ہوتا ہے جیسا کہ ہم بچوں کے رسالوں میں نقطے ملاتے تھے۔ پہلے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا لیکن نقطے ملانے کے بعد واضح تصور ابھر آتی تھی۔

اگر کسی موضوع پر ذہن میں نکات اکٹھے نہیں ہو رہے، یا اس کی گرہیں نہیں کھل رہیں تو آزمودہ طریقہ یہ ہے کہ اس موضوع پر کسی کے ساتھ گفتگو کرلیں۔ یہ گفتگو اپنے بھائی سے بھی ہوسکتی ہے، اہل خانہ کے کسی فرد سے بھی، دوست، ساتھی بلاگر یا استاد سے بھی۔ جو اس موضوع پر کچھ عبور رکھتا ہو اس سے بات کرنا دراصل اپنے ذہن کو کھولنا ہے۔ آپ کو باتوں کے دوران ہی احساس ہوگا کہ آپ کے دماغ میں کچھ نئے نکات آ رہے ہیں اور کچھ باتیں آپ کو دوسرے سے بھی ملیں گی۔اگر آپ کو میری طرح باتیں یاد رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے تو پھر آڈیو ریکارڈنگ کا سہارا لیں۔ آجکل تقریباً ہر موبائل یا اسمارٹ فون میں آڈیو ریکارڈنگ کی سہولت موجود ہوتی ہے، اسے استعمال کریں اور بعد میں اپنی تحریر کے لیے اس ریکارڈ شدہ گفتگو سے مدد لیں۔

کچھ لوگوں میں خودکلامی کی عادت ہوتی ہے، یہ وہ مشق ہے جو دراصل دماغ سے نکل کر زبان تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کو ہوا میں ضائع نہ ہونے دیں، ریکارڈ کرلیں۔ یہ بعد میں آپ کو لکھنے میں کافی مدد دے سکتی ہے۔

ویسے تحریر اس طرح لکھنا کہ گویا لکھاری بات کررہا ہے، کمال ہے۔ قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی مصنف کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ اس لیے اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو آڈیو ریکارڈنگ بہت اچھا طریقہ ہوسکتا ہے۔

کیا آپ بھی اس صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں؟ اگرہاں تو کس طرح نکلتے ہیں؟ مجھے اپنے مشوروں سے ضرور نوازیں۔

اردو سوشل میڈيا سمٹ، قصہ ہمالیہ کے سر ہونے کا

میں اور ماؤنٹ ایورسٹ پر؟ مذاق کرتے ہو یار، یہ کیسے ممکن ہے؟ لیکن دوسرے ہی لمحے یہ خیال کہ اگر اچانک میں خود کو ماؤنٹ ایورسٹ کی کسی چٹان پر پاؤں؟ وہ بھی ایسی جگہ پر کہ جہاں سے واپس آنا ممکن نہ ہو، اور چوٹی سر کرنے کے علاوہ بھی کوئی چارہ نہ ہو تو؟ تو شاید معرکہ سر ہوجائے۔ اردو سوشل میڈیاسمٹ 2015ء کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اردو بلاگرز کے مشترکہ پلیٹ فارم “اردو سورس” سے جب پہلی بار خیال پیش ہوا تو “دیوانے کی بڑ” محسوس ہو رہا تھا لیکن پانچ، چھ ماہ میں ہم نے بے یقینی کی انتہائی گہرائیوں سے یقین کی بلندیوں تک ہر انتہا کا سفر کیا۔ اتنے نشیب و فراز دیکھ لیے ہیں کہ سفر کے اختتام پر اب سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔ آپ نے چاہے امتحان کی تیاری کتنی ہی اچھی کیوں نہ کر رکھی ہو؟ پرچے خواہ بہترین کیوں نہ ہوئے ہو؟ سب سے زیادہ تناؤ نتیجے والے دن ہی ہوتا ہے۔ ایک بے چینی اور بے کلی سی دل و دماغ پر چھا جاتی ہے۔ تناؤ کی کیفیت میں دماغ جسم کا ساتھ چھوڑتا محسوس ہوتاہے۔ 8 مئی کی صبح کچھ یہی کیفیت میری تھی۔

اردو سوشل میڈیا سمٹ سے قبل رات کو مہمان خانے میں کاشف نصیر، عامر ملک، اسد اسلم اور میں موجود تھے۔ باقی احباب تو ساری رات جاگتے رہے اور ایک لمحے کے لیے آنکھ نہ جھپکائی لیکن میں نے چپکے سے چند گھنٹوں کی نیند لے لی۔ جب زبردستی اٹھایا گیا تو میں غسل خانے میں داخل ہوا، کئی منٹوں تک ‘شاور’ کے نیچے سر جھکا کر کھڑا رہا اور آنے والے دن کے بارے میں اپنے انجانے خدشات کو دبانے کی کوشش کرتا رہا۔ جب باہر نکلا تو معلوم ہوا کہ دیگر شہروں سے آئے ہوئے مہمان بلاگرز ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں، انہیں اٹھایا گیا کیونکہ پروگرام کا آغاز 10 بجے ہونا تھا اور یہ احباب پونے دس بجے تک سو رہے تھے۔ البتہ عمار ابن ضیاء، شعیب صفدر، اسد اسلم اور کاشف نصیر اچھے بچوں کی طرح صبح سویرے ہی آڈیٹوریم پہنچ چکے تھے اور ساتھ ہی فہیم اسلم، وقار اعظم، اویس مختار اور دیگر ساتھی بھی اپنی اپنی پوزیشنیں سنبھال چکے تھے۔ انہی کی موجودگی میں تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سمٹ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب مہمان بلاگرز تقریب کے لیے تیاریوں اور میں اور عامر ملک اپنے اعصاب کو معمول پر لانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ایک دوسرے کو حوصلہ ضرور دیا، ہمت بھی بندھائی لیکن دلوں کے حال سے ہم خود بھی واقف تھے، لیکن چہرے دل کا آئینہ بنے ہوئے تھے۔ آڈیٹوریم کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے میری حالت تو ایسی تھی گویا تختہ دار کی جانب لے جایا جا رہا ہو۔ دماغ پر گویا ہتھوڑے برس رہے تھے اور ہر ضرب پر یہی صدا آ رہی تھی “اب کیا ہوگا؟” اور ایسے ہی درجنوں خدشات سے بھرے سوالات۔ ابھی ایک، دو دن پہلے ہی تو انتظامی اجلاس میں ہم تمام منتظمین کے حوصلے بلند کر رہے تھے، انہیں یقین کی سرحدوں کی جانب کھینچ رہے تھے لیکن اب خود ایسی صورتحال سے دوچار تھے کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔

پھر خدا کو ہماری حالت پر رحم آ گیا۔ ایچ ای جے آڈیٹوریم کے سیاہ شیشے والے دروازے کھلے اور اس کے ساتھ ہی ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ تقریباً 400 شرکاء کے ساتھ آڈیٹوریم کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ بلکہ تمام مہمان بھی اپنی نشستوں پر موجود تھے، وہ سب ٹھیک وقت پر آئے تھے اس لیے پہلی صفوں پر براجمان تھے اور ہم بلاگرز اور منتظمین کے لیے پچھلی نشستیں سنبھالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

اعصاب پر جو تناؤ تھا، بے یقینی کی جو دھند چھائی ہوئی تھی، وہ عمار ابن ضیاء کی میزبانی کے شاندار انداز سے محض چند لمحوں میں ہی چھٹ گئی۔ باضابطہ آغاز کے ہم نے ڈاکٹر محمود احمد غزنوی کی دھواں دار تقریر سنی۔ اُن کی تقریر میں میرے لیے سب سے اہم رومن طرز تحریر پر ان کی تنقید تھی جس میں انہوں نے کہا کہ اگر رسم الخط تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر ہمارا تاریخی و تہذیبی اور علمی ورثے یہاں تک کہ مذہب سے رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے اردو کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے کارناموں کو سراہا اور کہا کہ ٹیکنالوجی کے ضمن میں اردو میں اتنا کام ہوچکا ہے کہ اب ہمارے پاس اردو استعمال نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہے۔ انہوں نے اردو میں انگریزی کے بے جا استعمال پر بھی تنقید کی اور مثال دے کر واضح کیا کہ استعمال ہونے والا کوئی بھی لفظ محض لفظ نہیں ہوتا بلکہ اپنے ساتھ پورا تاریخی و ثقافتی پس منظر لے کر آتا ہے۔

ان کے بعد جامعہ کراچی میں سوشل سائنسز کے ڈین فیکلٹی ڈاکٹر مونس احمر نے بھی خطاب کیا لیکن علمی لحاظ سے مجھے دن بھر میں جو تقریر سب سے زیادہ پسند آئی وہ شاہی انٹرپرائزز کے سربراہ غیاث الدین صاحب کی تھی۔ “زبان اور سیاست” کے نازک موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے چند اتنے اہم نکات اٹھائے کہ انہیں سنہری الفاظ میں لکھنا چاہیے اور خاص طور پر اردو کے لیے کام کرنے والوں کو تو انہیں اپنا نصب العین بنا لینا چاہیے۔

غیاث الدین صاحب نے کہا کہ زبان اور عقیدہ کسی بھی انسان کی بہت بڑی شناخت ہوتے ہیں، ہمارا ان سے بہت گہرا عقلی و جذباتی لگاؤ ہوتا ہے۔ سیاست کے کھلاڑی زبان اور مذہب کے تعصبات سے کھیلنا اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں عوام الناس کا شکار آسانی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ زبان اور سیاست کی سب سے بڑی مثال اردو-بنگلہ تنازع ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جو بنگالی کسی گرے ہوئے کاغذ کو جس پر اردو لکھی ہو، احتراماً اٹھا لیتا تھا، لیکن اردو-بنگلہ تنازع کے بعد وہ اردو سے نفرت کرنے لگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام زبانیں قومی زبانیں ہیں، سندھی، پشتو، بلوچی، براہوی اور وہ تمام زبانیں جو پاکستانی قوم بولتی ہے، قومی زبانیں ہیں۔ کوئی زبان برتر یا کمتر نہیں ہوتی اور زبان کی بنیاد پر سیاست دراصل تعصب کو بڑھاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کا اصل مقابلہ مقامی زبانوں سے نہیں بلکہ انگریزی سے ہونا چاہیے کیونکہ جو مقام اس وقت پاکستان میں انگریزی کو حاصل ہے، دراصل یہی وہ مقام ہے جو اردو کو ملنا چاہیے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اشرافیہ نے ایسا ماحول ترتیب دیا کہ ملک میں اردو کی حیثیت ثانوی نوعیت کی رہے اور انگریزی کاروبار زندگی پر چھائی رہے۔ ارباب اختیار نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ خواص کی حکمرانی کے نظریے کو پروان چڑھانے اور ایک استحصالی نظام قائم رکھنے کے لیے انگریزی کا جو مقام ہے، وہ برقرار رہے اور اردو سمیت کوئی قومی زبان انگریزی کی جگہ نہ لے۔آج لاکھوں ڈرائیورز ٹریفک قوانین نہیں پڑھ سکتے، ریستوراں مالکان فوڈ ایکٹ کا مطالعہ نہیں کرسکتے، مزدور لیبر ایکٹ کے بارے میں نہیں جانتے، یہاں تک کہ قانون نافذ کرنے والے پولیس اہلکار اس بارے میں نہیں جانتے کہ انہیں آخر نافذ کیا کرنا ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے منتخب نمائندے آئین کے بارے میں اچھی طرح نہیں جانتے، کیونکہ یہ سب انگریزی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو اپنی زبان سے محبت ہے تو اس کے لیے کام کریں، اس میں لکھنے پڑھنے والوں کو آگے بڑھائیں اور اس میں پڑھنے کے مواد میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستانی قارئین انگریزی، فرانسیسی اور روسی مصنفین کو تو جانتے ہیں لیکن بلوچی، سندھی، پشتو اور دیگر مقامی زبانوں کے کہانی نویسوں، افسانہ نگاروں اور شعراء کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے۔ ان کی کتابوں کے اردو ترجمے کیوں نہیں ہیں؟

پہلے سیشن سے معروف دانشور اور صحافی غازی صلاح الدین نے بھی خطاب کیا، جس میں انہوں نے سب سے پہلے حال ہی میں کراچی میں قتل ہونے والی سماجی رہنما سبین محمود کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے جو سب سے اہم بات کی وہ یہ تھی کہ اب ہمیں اچھی انگریزی بولنے والے بھی نہیں ملتے اور اچھی اردو بھی نظر نہیں آتی، گویا ہم اب بے زبان ہیں۔

استقبالیہ سیشن سے کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری منظور حمید آرائیں اور معروف کاروباری شخصیت ریحان اللہ والا نے بھی خطاب کیا لیکن سمٹ کے پہلے مرحلے میں میلہ لوٹنے والا لمحہ ایلن کیزلر کا انٹرویو تھا۔ انہیں امریکی-پاکستانی کہیں یا پاکستانی-امریکی، لیکن ایلن کیزلر کا انٹرویو دن کے بہترین لمحات میں سے ایک تھا۔ ہمارے ساتھی اردو بلاگر محمد اسد اسلم نے ایلن کیزلر کا انٹرویو لینے کا مشکل کام اپنے سر لیا اور بہت خوبی کے ساتھ اس ذمہ داری کو پورا کیا۔ انٹرویو کے دوران ایلن نے بتایا کہ ان کی پیدائش تقسیم ہند سے ایک ماہ قبل یعنی جولائی 1947ء میں خانیوال میں ہوئی تھی اور اس کے بعد انہوں نے لاہور میں کافی وقت گزارا یہاں تک کہ 1965ء میں امریکہ چلے گئے۔ اس دوران محفل اس وقت زعفران زار ہوگئی جب ایلن نے بتایا کہ انہوں نے کچھ وقت رائے ونڈ میں بھی گزارا ہے اور ان کے نام یعنی ایلن کا مطلب بھی “شریف” ہے۔ اس پر محفل میں خوب قہقہے پھوٹے اور اب تک جو سنجیدگی، بلکہ نوجوان طلباء کے لیے کسی حد تک اکتاہٹ، کا تاثر تھا، وہ کم ہوتا دکھائی دیا۔ ایلن نے کچھ حیران کن باتیں بھی کیں، جیسا کہ انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان عام ملک نہیں ہے، یہ ایک خاص ملک ہے کیونکہ یہ اللہ کے حکم سے بنا ہے اور جلد ہی امن و سلامتی یہیں سے دنیا بھر میں پھیلے گی۔ انہوں نے جامعۃ الرشید کے حالیہ دورے کے بارے میں اپنے تاثرات بھی پیش کیے اور ایک نغمے کے ذریعے حاضرین کے جوش کو عروج پر بھی پہنچایا۔

جامعہ کراچی کے شہید استاد وحید الرحمٰن کی یاد میں ایک تعزیتی سیشن اور پریزنٹیشن کے بعد نماز جمعہ اور کھانے کا وقفہ ہوا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد طعام خانے (میس) میں ایک پرتکلف ظہرانہ دیا گیا۔ نصف پروگرام کی بھرپور کامیابی کے بعد ہمارے ذہن سے بھی خدشات مٹ چکے تھے، دل کی بے ترتیب دھڑکنیں اب معمول پر آ چکی تھیں،اس لیے کھانا بھی بہت مزیدار لگ رہا تھا اور یہی حالت مجھ سمیت دیگر منتظمین کی تھی۔ عامر ملک، کاشف نصیر، اسد اسلم، عمار ابن ضیاء اور شعیب صفدر کے چہروں کی مسکراہٹ واپس آ چکی تھی۔ ملاقاتوں کا دور اسی سیشن میں ہوا، نئے لوگوں سے بھی اور کئی پرانے احباب سے بھی۔ ایسے بھی کہ جن سے عرصے سے ملنے کی تمنا تھی اور وہ بھی کہ جن سے ملاقات ہوئے عرصہ گزر گیا تھا، پرانی یادیں تازہ ہوئیں، نئی یادیں حافظے کا حصہ بنیں اور اس کے ساتھ ہی دوسرے سیشن کے آغاز کا وقت آ گيا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر خورشید تنویر اور ان کے بعد معروف محقق، کالم نگار اور سوشل میڈیا سے وابستہ شخصیت کاشف حفیظ صدیقی نے خطاب کیے۔ کاشف حفیظ کا موضوع زندگی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے آج کے نوجوانوں کے رحجانات تھا، جس کے بارے میں انہوں نےایک دلچسپ پریزنٹیشن دی۔ ان کی تقریر کی ایک خاص بات اشعارات کا بہترین استعمال بھی تھا۔

بی بی سی اردو کے سربراہ اور مدیر عامر احمد خان کے خطاب کے بعد دوسرے سیشن کا اہم ترین مرحلہ آن پہنچا۔ روایتی اور سوشل میڈیا کی اہم ترین شخصیات کے مابین مذاکرہ۔ بی بی سی کے وسعت اللہ خان، جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ محمود احمد غزنوی، معروف فیس بک صارف رعایت اللہ فاروقی، اے آر وائی کے رپورٹر لیکن اس سے زیادہ سوشل میڈیا پر مشہور فیض اللہ خان اور سماء کے اینکر و اردو بلاگر فیصل کریم اس سیشن میں شریک تھے اور ان جیسی بڑی شخصیات کو ‘سنبھالنے’ کا مشکل فریضہ انجام دیا اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر مہتاب عزیز نے۔ ویسے اس مذاکرے کا عنوان “روایتی میڈیا بمقابلہ سوشل میڈیا” نہیں تھا، جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا۔ یہ “بمقابلہ” اور “مرغے لڑانے” کا کام روایتی میڈیا کو ہی مبارک ہو۔ لیکن کچھ ہی دیر میں یہ پروگرام اردو کی “ترقی” میں روایتی میڈیا کے خلاف چارج شیٹ میں بدل گیا۔ سب سے پہلے وسعت اللہ خان نے کہا کہ روایتی میڈیا دراصل ایک دکان ہے، جس طرح صابن بیچنے والے صابن بیچتے ہیں، تمباکو اور سونا بیچنے والے بھی اپنا کام کرتے ہیں، اسی طرح یہ ادارے خبریں بیچتے ہیں۔ ہماری حیثیت ان دکانوں پر ایک کارندے سے زیادہ نہیں ہے، ہمیں جو کہا جاتا ہے ہم وہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کا کام اب صرف ابلاغ کرنا رہ گیا ہے، زبان و بیان اور لہجے کی درستگی ان کی ترجیح ہی نہیں۔ “بھئی گالی کا املاء چاہے کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو، اس کا ابلاغ بہت اچھے طریقے سے ہوجاتا ہے۔” وسعت اللہ خان نے مزيد کہا کہ سوشل میڈیا ایک آئینے کی طرح ہے، آپ کتنے عقل مند ہیں یا کتنے جاہل ہیں، یہ سب یہاں کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مت سمجھیں کہ سوشل میڈیا پر نظریں نہیں ہیں، جس طرح روایتی میڈیا پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے، اتنی ہی سوشل میڈیا پر بھی ہے یعنی یہ کام بھی اتنا ہی خطرناک ہوسکتا ہے۔ محمود غزنوی صاحب نے روایتی ذرائع ابلاغ کے بارے میں داتا دربار کی مثال دی اور کہا کہ “کارندوں ” کو کہا جاتا ہے کہ خود بھی کھاؤ اور ہمیں بھی کھلاؤ۔ رعایت اللہ فاروقی نے کہا کہ 25 سال صحافت میں “جھک” مارنے اور اپنی تحاریر کو سنسر ہوتے دیکھنے کے بعد انہیں اصل مقام سوشل میڈیا میں ملا۔ جو پیغام وہ دینا چاہتے تھے، وہ حقیقی روپ میں اور اتنی ہی اثر انگیزی کے ساتھ عوام تک پہنچا، جو ان کی خواہش تھی۔ فیصل کریم نے روایتی میڈیا میں اردو کی زبوں حالی کا پردہ چاک کیا، ماضی کی مثالیں دیں کہ کس طرح پاکستان ٹیلی وژن پر خبریں پڑھنے والے نامانوس غیر ملکی ناموں کے صحیح تلفظ جاننے کے لیے متعلقہ سفارت خانے یا قونصل خانے فون کرکے تصدیق کیا کرتے تھے، اور اس کے مقابلے میں آجکل کیا رحجان پایا جاتا ہے۔ بہرحال، تقریباً پون گھنٹے تک اس سیشن نے حاضرین کو مکمل طور پر اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ یہاں تک کہ مہتاب عزیز کے اختتامی کلمات کے ساتھ یہ مذاکرہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔

آخر میں معروف بین الاقوامی اسکالر اور دانشور اور آئی بی اے کراچی سے وابستہ پروفیسر نعمان الحق نے خطاب کیا۔ آپ اسلامی تاریخ و فلسفہ میں اہم نام ہیں اور بیرون ملک بھی انگریزی پڑھا چکے ہیں لیکن جتنی سلیس اور نستعلیق اردو ان کی تقریر میں سنی، بہت کم سننے کو ملتی ہے۔ نعمان الحق صاحب نے اردو کے سکڑتے ہوئے دامن کا شکوہ کیا، اردو کے الفاظ کے استعمال میں جھجک کو اس کا قصور وار ٹھہرایا، ذرائع ابلاغ کے اردو پر پڑنے والے اثرات پر روشنی ڈالی اور آخر میں حاضرین کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔

سب سےآخر میں اہم ترین سیشن تھا یعنی ایوارڈز کا۔ تین “اردو سورس ایوارڈز”، تین مختلف زمروں میں دیے گئے۔ ایک اردو بلاگنگ کے لیے، دوسرا فیس بک اور تیسرا ٹوئٹر پر اردو کا بہترین استعمال کرنے والے کے لیے۔ سب سے پہلے بچوں کی تربیت کے لیے بنائے گئے عمدہ فیس بک صفحے “طفلی” کو اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز طفلی کے عاطف بقائی نے محمود احمد غزنوی صاحب سے وصول کیا۔ تالیوں کی گونج ابھی مدھم ہی نہ پڑی تھی کہ ٹوئٹر پر اردو کے بہترین استعمال پر محسن حجازی صاحب کے نام کا اعلان ہوا جن کا اعزاز حاصل کرنے کا شرف مجھ ناچیز کو ملا۔ میزبان عمار ابن ضیاء نے آخر میں بہترین اردو بلاگ کے لیے ریاض شاہد کے بلاگ “جریدہ” کے نام کا اعلان کیا، جن کی عدم موجودگی میں ملتان سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر وجدان عالم نے وسعت اللہ خان صاحب سے ایوارڈ وصول کیا۔

تقریب کے خاتمے کے اعلان کے بعد کامیابی کا جشن قومی مشروب یعنی چائے کے ساتھ منایا گیا۔ جہاں ایک مرتبہ پھر کئی احباب سے ملاقاتیں ہوئیں، خاص طور پر ٹوئٹستان کے احسن سعید سے پہلی بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اردو سورس کی ٹیم جب مبارکبادوں کے ڈھیر قبول کرنے کے بعد مغرب کے وقت واپس مہمان خانے پہنچی تو ایسا محسوس ہو رہا تھا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہمارے کاندھوں سے اتر چکی تھی۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس نے ہماری کوششوں اور محنتوں کا صلہ اس سے کہیں بڑھ کر دیا۔ ٹیم کے کئی اراکین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ کچھ انہیں روکنے کی کوشش کرتے رہے اور کچھ چہرہ چھپانے کی۔

بہرحال، اگلے روز ہفتے بھر کی تھکاوٹ کے باوجود ہم نے مہمان اردو بلاگرز کو کراچی کی سیر کرانے کی ٹھانی۔ پاک فضائیہ کے عجائب گھر سے لے کر سمندر تک کا سفر کیا اور سورج غروب ہونے کا منظر نظروں میں لیے واپس لوٹ آئے۔ منتظمین نے کئی دنوں کے بعد گھر والوں کو اپنا “روشن چہرہ” دکھایا، جو سمندر کی سیر سے مزید “روشن” ہوگیا تھا :) اسی روز اپنے ‘میڈیا پارٹنر’ ایکسپریس کی شاندار کوریج کا لطف اٹھایا، دل باغ باغ ہوا۔ وہ اردو کہ جس کو بولتے ہوئے آج کا نوجوان شرمارہا تھا، اسے ہم نوجوانوں کے اندر جامعہ کراچی میں موضوع بنا کر آ گئے۔ اردو سورس اردو اور ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آیا اور اردو بلاگنگ کو یہ فائدہ کہ اسے کئی نئے اردو بلاگرز ملیں گے، بلاگنگ اگلے سال تک ابلاغ عامہ کے نصاب کا حصہ بنے گی اور بلاگرز کے لیے یہ فائدہ کہ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر عزم و حوصلہ بلند ہو، نیت خالص ہو اور ایثار و قربانی کا جذبہ ہو اور اجتماعی طور پر مل کر کام کرنے کی لگن ہو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، یہاں تک کہ ماؤنٹ ایورسٹ بھی سر ہوسکتا ہے!

اردو سوشل میڈيا سمٹ، قصہ ہمالیہ کے سر ہونے کا

میں اور ماؤنٹ ایورسٹ پر؟ مذاق کرتے ہو یار، یہ کیسے ممکن ہے؟ لیکن دوسرے ہی لمحے یہ خیال کہ اگر اچانک میں خود کو ماؤنٹ ایورسٹ کی کسی چٹان پر پاؤں؟ وہ بھی ایسی جگہ پر کہ جہاں سے واپس آنا ممکن نہ ہو، اور چوٹی سر کرنے کے علاوہ بھی کوئی چارہ نہ ہو تو؟ تو شاید معرکہ سر ہوجائے۔ اردو سوشل میڈیاسمٹ 2015ء کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اردو بلاگرز کے مشترکہ پلیٹ فارم “اردو سورس” سے جب پہلی بار خیال پیش ہوا تو “دیوانے کی بڑ” محسوس ہو رہا تھا لیکن پانچ، چھ ماہ میں ہم نے بے یقینی کی انتہائی گہرائیوں سے یقین کی بلندیوں تک ہر انتہا کا سفر کیا۔ اتنے نشیب و فراز دیکھ لیے ہیں کہ سفر کے اختتام پر اب سب کچھ خواب سا لگتا ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔ آپ نے چاہے امتحان کی تیاری کتنی ہی اچھی کیوں نہ کر رکھی ہو؟ پرچے خواہ بہترین کیوں نہ ہوئے ہو؟ سب سے زیادہ تناؤ نتیجے والے دن ہی ہوتا ہے۔ ایک بے چینی اور بے کلی سی دل و دماغ پر چھا جاتی ہے۔ تناؤ کی کیفیت میں دماغ جسم کا ساتھ چھوڑتا محسوس ہوتاہے۔ 8 مئی کی صبح کچھ یہی کیفیت میری تھی۔

اردو سوشل میڈیا سمٹ سے قبل رات کو مہمان خانے میں کاشف نصیر، عامر ملک، اسد اسلم اور میں موجود تھے۔ باقی احباب تو ساری رات جاگتے رہے اور ایک لمحے کے لیے آنکھ نہ جھپکائی لیکن میں نے چپکے سے چند گھنٹوں کی نیند لے لی۔ جب زبردستی اٹھایا گیا تو میں غسل خانے میں داخل ہوا، کئی منٹوں تک ‘شاور’ کے نیچے سر جھکا کر کھڑا رہا اور آنے والے دن کے بارے میں اپنے انجانے خدشات کو دبانے کی کوشش کرتا رہا۔ جب باہر نکلا تو معلوم ہوا کہ دیگر شہروں سے آئے ہوئے مہمان بلاگرز ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہیں، انہیں اٹھایا گیا کیونکہ پروگرام کا آغاز 10 بجے ہونا تھا اور یہ احباب پونے دس بجے تک سو رہے تھے۔ البتہ عمار ابن ضیاء، شعیب صفدر، اسد اسلم اور کاشف نصیر اچھے بچوں کی طرح صبح سویرے ہی آڈیٹوریم پہنچ چکے تھے اور ساتھ ہی فہیم اسلم، وقار اعظم، اویس مختار اور دیگر ساتھی بھی اپنی اپنی پوزیشنیں سنبھال چکے تھے۔ انہی کی موجودگی میں تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سمٹ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب مہمان بلاگرز تقریب کے لیے تیاریوں اور میں اور عامر ملک اپنے اعصاب کو معمول پر لانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ایک دوسرے کو حوصلہ ضرور دیا، ہمت بھی بندھائی لیکن دلوں کے حال سے ہم خود بھی واقف تھے، لیکن چہرے دل کا آئینہ بنے ہوئے تھے۔ آڈیٹوریم کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے میری حالت تو ایسی تھی گویا تختہ دار کی جانب لے جایا جا رہا ہو۔ دماغ پر ہتھوڑے برس رہے تھے اور ہر ضرب پر یہی صدا آ رہی تھی “اب کیا ہوگا؟” اور ایسے ہی درجنوں خدشات سے بھرے سوالات۔ ابھی ایک، دو دن پہلے ہی تو انتظامی اجلاس میں ہم تمام منتظمین کے حوصلے بلند کر رہے تھے، انہیں یقین کی سرحدوں کی جانب کھینچ رہے تھے لیکن اب خود ایسی صورتحال سے دوچار تھے کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔

پھر خدا کو ہماری حالت پر رحم آ گیا۔ ایچ ای جے آڈیٹوریم کے سیاہ شیشے والے دروازے کھلے اور اس کے ساتھ ہی ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ تقریباً 400 شرکاء کے ساتھ آڈیٹوریم کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ بلکہ تمام مہمان بھی اپنی نشستوں پر موجود تھے، وہ سب ٹھیک وقت پر آئے تھے اس لیے پہلی صفوں پر براجمان تھے اور ہم بلاگرز اور منتظمین کے لیے پچھلی نشستیں سنبھالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

اعصاب پر جو تناؤ تھا، بے یقینی کی جو دھند چھائی ہوئی تھی، وہ عمار ابن ضیاء کی میزبانی کے شاندار انداز سے محض چند لمحوں میں ہی چھٹ گئی۔ باضابطہ آغاز کے بعد ہم نے ڈاکٹر محمود احمد غزنوی کی دھواں دار تقریر سنی۔ اُن کی تقریر میں میرے لیے سب سے اہم رومن طرز تحریر پر ان کی تنقید تھی جس میں انہوں نے کہا کہ اگر رسم الخط تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر ہمارا تاریخی و تہذیبی اور علمی ورثے یہاں تک کہ مذہب سے رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے اردو کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے کارناموں کو سراہا اور کہا کہ ٹیکنالوجی کے ضمن میں اردو میں اتنا کام ہوچکا ہے کہ اب ہمارے پاس اردو استعمال نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہے۔ انہوں نے اردو میں انگریزی کے بے جا استعمال پر بھی تنقید کی اور مثال دے کر واضح کیا کہ استعمال ہونے والا کوئی بھی لفظ محض لفظ نہیں ہوتا بلکہ اپنے ساتھ پورا تاریخی و ثقافتی پس منظر لے کر آتا ہے۔

ان کے بعد جامعہ کراچی میں سوشل سائنسز کے ڈین فیکلٹی ڈاکٹر مونس احمر نے بھی خطاب کیا لیکن علمی لحاظ سے مجھے دن بھر میں جو تقریر سب سے زیادہ پسند آئی وہ شاہی انٹرپرائزز کے سربراہ غیاث الدین صاحب کی تھی۔ “زبان اور سیاست” کے نازک موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے چند اتنے اہم نکات اٹھائے کہ انہیں سنہری الفاظ میں لکھنا چاہیے اور خاص طور پر اردو کے لیے کام کرنے والوں کو تو انہیں اپنا نصب العین بنا لینا چاہیے۔

غیاث الدین صاحب نے کہا کہ زبان اور عقیدہ کسی بھی انسان کی بہت بڑی شناخت ہوتے ہیں، ہمارا ان سے بہت گہرا عقلی و جذباتی لگاؤ ہوتا ہے۔ سیاست کے کھلاڑی زبان اور مذہب کے تعصبات سے کھیلنا اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں عوام الناس کا شکار آسانی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ زبان اور سیاست کی سب سے بڑی مثال اردو-بنگلہ تنازع ہے۔ تقسیم ہند سے قبل جو بنگالی کسی گرے ہوئے کاغذ کو جس پر اردو لکھی ہو، احتراماً اٹھا لیتا تھا، لیکن اردو-بنگلہ تنازع کے بعد وہ اردو سے نفرت کرنے لگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام زبانیں قومی زبانیں ہیں، سندھی، پشتو، بلوچی، براہوی اور وہ تمام زبانیں جو پاکستانی قوم بولتی ہے، قومی زبانیں ہیں۔ کوئی زبان برتر یا کمتر نہیں ہوتی اور زبان کی بنیاد پر سیاست دراصل تعصب کو بڑھاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کا اصل مقابلہ مقامی زبانوں سے نہیں بلکہ انگریزی سے ہونا چاہیے کیونکہ جو مقام اس وقت پاکستان میں انگریزی کو حاصل ہے، دراصل یہی وہ مقام ہے جو اردو کو ملنا چاہیے تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اشرافیہ نے ایسا ماحول ترتیب دیا کہ ملک میں اردو کی حیثیت ثانوی نوعیت کی رہے اور انگریزی کاروبار زندگی پر چھائی رہے۔ ارباب اختیار نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ خواص کی حکمرانی کے نظریے کو پروان چڑھانے اور ایک استحصالی نظام قائم رکھنے کے لیے انگریزی کا جو مقام ہے، وہ برقرار رہے اور اردو سمیت کوئی قومی زبان انگریزی کی جگہ نہ لے۔آج لاکھوں ڈرائیورز ٹریفک قوانین نہیں پڑھ سکتے، ریستوراں مالکان فوڈ ایکٹ کا مطالعہ نہیں کرسکتے، مزدور لیبر ایکٹ کے بارے میں نہیں جانتے، یہاں تک کہ قانون نافذ کرنے والے پولیس اہلکار اس بارے میں نہیں جانتے کہ انہیں آخر نافذ کیا کرنا ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے منتخب نمائندے آئین کے بارے میں اچھی طرح نہیں جانتے، کیونکہ یہ سب انگریزی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو اپنی زبان سے محبت ہے تو اس کے لیے کام کریں، اس میں لکھنے پڑھنے والوں کو آگے بڑھائیں اور اس میں پڑھنے کے مواد میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستانی قارئین انگریزی، فرانسیسی اور روسی مصنفین کو تو جانتے ہیں لیکن بلوچی، سندھی، پشتو اور دیگر مقامی زبانوں کے کہانی نویسوں، افسانہ نگاروں اور شعراء کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے۔ ان کی کتابوں کے اردو ترجمے کیوں نہیں ہیں؟

پہلے سیشن سے معروف دانشور اور صحافی غازی صلاح الدین نے بھی خطاب کیا، جس میں انہوں نے سب سے پہلے حال ہی میں کراچی میں قتل ہونے والی سماجی رہنما سبین محمود کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے جو سب سے اہم بات کی وہ یہ تھی کہ اب ہمیں اچھی انگریزی بولنے والے بھی نہیں ملتے اور اچھی اردو بھی نظر نہیں آتی، گویا ہم اب بے زبان ہیں۔

استقبالیہ سیشن سے کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری منظور حمید آرائیں اور معروف کاروباری شخصیت ریحان اللہ والا نے بھی خطاب کیا لیکن سمٹ کے پہلے مرحلے میں میلہ لوٹنے والا لمحہ ایلن کیزلر کا انٹرویو تھا۔ انہیں امریکی-پاکستانی کہیں یا پاکستانی-امریکی، لیکن ایلن کیزلر کا انٹرویو دن کے بہترین لمحات میں سے ایک تھا۔ ہمارے ساتھی اردو بلاگر محمد اسد اسلم نے ایلن کیزلر کا انٹرویو لینے کا مشکل کام اپنے سر لیا اور بہت خوبی کے ساتھ اس ذمہ داری کو پورا کیا۔ انٹرویو کے دوران ایلن نے بتایا کہ ان کی پیدائش تقسیم ہند سے ایک ماہ قبل یعنی جولائی 1947ء میں خانیوال میں ہوئی تھی اور اس کے بعد انہوں نے لاہور میں کافی وقت گزارا یہاں تک کہ 1965ء میں امریکہ چلے گئے۔ اس دوران محفل اس وقت زعفران زار ہوگئی جب ایلن نے بتایا کہ انہوں نے کچھ وقت رائے ونڈ میں بھی گزارا ہے اور ان کے نام یعنی ایلن کا مطلب بھی “شریف” ہے۔ اس پر محفل میں خوب قہقہے پھوٹے اور اب تک جو سنجیدگی، بلکہ نوجوان طلباء کے لیے کسی حد تک اکتاہٹ، کا تاثر تھا، وہ کم ہوتا دکھائی دیا۔ ایلن نے کچھ حیران کن باتیں بھی کیں، جیسا کہ انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان عام ملک نہیں ہے، یہ ایک خاص ملک ہے کیونکہ یہ اللہ کے حکم سے بنا ہے اور جلد ہی امن و سلامتی یہیں سے دنیا بھر میں پھیلے گی۔ انہوں نے جامعۃ الرشید کے حالیہ دورے کے بارے میں اپنے تاثرات بھی پیش کیے اور ایک نغمے کے ذریعے حاضرین کے جوش کو عروج پر بھی پہنچایا۔

جامعہ کراچی کے شہید استاد وحید الرحمٰن کی یاد میں ایک تعزیتی سیشن اور پریزنٹیشن کے بعد نماز جمعہ اور کھانے کا وقفہ ہوا۔ نماز کی ادائیگی کے بعد طعام خانے (میس) میں ایک پرتکلف ظہرانہ دیا گیا۔ نصف پروگرام کی بھرپور کامیابی کے بعد ہمارے ذہن سے بھی خدشات مٹ چکے تھے، دل کی بے ترتیب دھڑکنیں اب معمول پر آ چکی تھیں،اس لیے کھانا بھی بہت مزیدار لگ رہا تھا اور یہی حالت مجھ سمیت دیگر منتظمین کی تھی۔ عامر ملک، کاشف نصیر، اسد اسلم، عمار ابن ضیاء اور شعیب صفدر کے چہروں کی مسکراہٹ واپس آ چکی تھی۔ ملاقاتوں کا دور اسی سیشن میں ہوا، نئے لوگوں سے بھی اور کئی پرانے احباب سے بھی۔ ایسے بھی کہ جن سے عرصے سے ملنے کی تمنا تھی اور وہ بھی کہ جن سے ملاقات ہوئے عرصہ گزر گیا تھا، پرانی یادیں تازہ ہوئیں، نئی یادیں حافظے کا حصہ بنیں اور اس کے ساتھ ہی دوسرے سیشن کے آغاز کا وقت آ گيا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے نائب صدر خورشید تنویر اور ان کے بعد معروف محقق، کالم نگار اور سوشل میڈیا سے وابستہ شخصیت کاشف حفیظ صدیقی نے خطاب کیے۔ کاشف حفیظ کا موضوع زندگی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے آج کے نوجوانوں کے رحجانات تھا، جس کے بارے میں انہوں نےایک دلچسپ پریزنٹیشن دی۔ ان کی تقریر کی ایک خاص بات اشعارات کا بہترین استعمال بھی تھا۔

بی بی سی اردو کے سربراہ اور مدیر عامر احمد خان کے خطاب کے بعد دوسرے سیشن کا اہم ترین مرحلہ آن پہنچا۔ روایتی اور سوشل میڈیا کی اہم ترین شخصیات کے مابین مذاکرہ۔ بی بی سی کے وسعت اللہ خان، جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سربراہ محمود احمد غزنوی، معروف فیس بک صارف رعایت اللہ فاروقی، اے آر وائی کے رپورٹر لیکن اس سے زیادہ سوشل میڈیا پر مشہور فیض اللہ خان اور سماء کے اینکر و اردو بلاگر فیصل کریم اس سیشن میں شریک تھے اور ان جیسی بڑی شخصیات کو ‘سنبھالنے’ کا مشکل فریضہ انجام دیا اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر مہتاب عزیز نے۔ ویسے اس مذاکرے کا عنوان “روایتی میڈیا بمقابلہ سوشل میڈیا” نہیں تھا، جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا۔ یہ “بمقابلہ” اور “مرغے لڑانے” کا کام روایتی میڈیا کو ہی مبارک ہو۔ لیکن کچھ ہی دیر میں یہ پروگرام اردو کی “ترقی” میں روایتی میڈیا کے خلاف چارج شیٹ میں بدل گیا۔ سب سے پہلے وسعت اللہ خان نے کہا کہ روایتی میڈیا دراصل ایک دکان ہے، جس طرح صابن بیچنے والے صابن بیچتے ہیں، تمباکو اور سونا بیچنے والے بھی اپنا کام کرتے ہیں، اسی طرح یہ ادارے خبریں بیچتے ہیں۔ ہماری حیثیت ان دکانوں پر ایک کارندے سے زیادہ نہیں ہے، ہمیں جو کہا جاتا ہے ہم وہی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ذرائع ابلاغ کا کام اب صرف ابلاغ کرنا رہ گیا ہے، زبان و بیان اور لہجے کی درستگی ان کی ترجیح ہی نہیں۔ “بھئی گالی کا املاء چاہے کتنا ہی غلط کیوں نہ ہو، اس کا ابلاغ بہت اچھے طریقے سے ہوجاتا ہے۔” وسعت اللہ خان نے مزيد کہا کہ سوشل میڈیا ایک آئینے کی طرح ہے، آپ کتنے عقل مند ہیں یا کتنے جاہل ہیں، یہ سب یہاں کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مت سمجھیں کہ سوشل میڈیا پر نظریں نہیں ہیں، جس طرح روایتی میڈیا پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے، اتنی ہی سوشل میڈیا پر بھی ہے یعنی یہ کام بھی اتنا ہی خطرناک ہوسکتا ہے۔ محمود غزنوی صاحب نے روایتی ذرائع ابلاغ کے بارے میں داتا دربار کی مثال دی اور کہا کہ “کارندوں ” کو کہا جاتا ہے کہ خود بھی کھاؤ اور ہمیں بھی کھلاؤ۔ رعایت اللہ فاروقی نے کہا کہ 25 سال صحافت میں “جھک” مارنے اور اپنی تحاریر کو سنسر ہوتے دیکھنے کے بعد انہیں اصل مقام سوشل میڈیا میں ملا۔ جو پیغام وہ دینا چاہتے تھے، وہ حقیقی روپ میں اور اتنی ہی اثر انگیزی کے ساتھ عوام تک پہنچا، جو ان کی خواہش تھی۔ فیصل کریم نے روایتی میڈیا میں اردو کی زبوں حالی کا پردہ چاک کیا، ماضی کی مثالیں دیں کہ کس طرح پاکستان ٹیلی وژن پر خبریں پڑھنے والے نامانوس غیر ملکی ناموں کے صحیح تلفظ جاننے کے لیے متعلقہ سفارت خانے یا قونصل خانے فون کرکے تصدیق کیا کرتے تھے، اور اس کے مقابلے میں آجکل کیا رحجان پایا جاتا ہے۔ بہرحال، تقریباً پون گھنٹے تک اس سیشن نے حاضرین کو مکمل طور پر اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ یہاں تک کہ مہتاب عزیز کے اختتامی کلمات کے ساتھ یہ مذاکرہ بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔

آخر میں معروف بین الاقوامی اسکالر اور دانشور اور آئی بی اے کراچی سے وابستہ پروفیسر نعمان الحق نے خطاب کیا۔ آپ اسلامی تاریخ و فلسفہ میں اہم نام ہیں اور بیرون ملک بھی انگریزی پڑھا چکے ہیں لیکن جتنی سلیس اور نستعلیق اردو ان کی تقریر میں سنی، بہت کم سننے کو ملتی ہے۔ نعمان الحق صاحب نے اردو کے سکڑتے ہوئے دامن کا شکوہ کیا، اردو کے الفاظ کے استعمال میں جھجک کو اس کا قصور وار ٹھہرایا، ذرائع ابلاغ کے اردو پر پڑنے والے اثرات پر روشنی ڈالی اور آخر میں حاضرین کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔

سب سےآخر میں اہم ترین سیشن تھا یعنی ایوارڈز کا۔ تین “اردو سورس ایوارڈز”، تین مختلف زمروں میں دیے گئے۔ ایک اردو بلاگنگ کے لیے، دوسرا فیس بک اور تیسرا ٹوئٹر پر اردو کا بہترین استعمال کرنے والے کے لیے۔ سب سے پہلے بچوں کی تربیت کے لیے بنائے گئے عمدہ فیس بک صفحے “طفلی” کو اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز طفلی کے عاطف بقائی نے محمود احمد غزنوی صاحب سے وصول کیا۔ تالیوں کی گونج ابھی مدھم ہی نہ پڑی تھی کہ ٹوئٹر پر اردو کے بہترین استعمال پر محسن حجازی صاحب کے نام کا اعلان ہوا جن کا اعزاز حاصل کرنے کا شرف مجھ ناچیز کو ملا۔ میزبان عمار ابن ضیاء نے آخر میں بہترین اردو بلاگ کے لیے ریاض شاہد کے بلاگ “جریدہ” کے نام کا اعلان کیا، جن کی عدم موجودگی میں ملتان سے تعلق رکھنے والے اردو بلاگر وجدان عالم نے وسعت اللہ خان صاحب سے ایوارڈ وصول کیا۔

تقریب کے خاتمے کے اعلان کے بعد کامیابی کا جشن قومی مشروب یعنی چائے کے ساتھ منایا گیا۔ جہاں ایک مرتبہ پھر کئی احباب سے ملاقاتیں ہوئیں، خاص طور پر ٹوئٹستان کے احسن سعید سے پہلی بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اردو سورس کی ٹیم جب مبارکبادوں کے ڈھیر قبول کرنے کے بعد مغرب کے وقت واپس مہمان خانے پہنچی تو ایسا محسوس ہو رہا تھا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہمارے کاندھوں سے اتر چکی تھی۔ اس پر اللہ تبارک و تعالی کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس نے ہماری کوششوں اور محنتوں کا صلہ اس سے کہیں بڑھ کر دیا۔ ٹیم کے کئی اراکین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ کچھ انہیں روکنے کی کوشش کرتے رہے اور کچھ چہرہ چھپانے کی۔

بہرحال، اگلے روز ہفتے بھر کی تھکاوٹ کے باوجود ہم نے مہمان اردو بلاگرز کو کراچی کی سیر کرانے کی ٹھانی۔ پاک فضائیہ کے عجائب گھر سے لے کر سمندر تک کا سفر کیا اور سورج غروب ہونے کا منظر نظروں میں لیے واپس لوٹ آئے۔ منتظمین نے کئی دنوں کے بعد گھر والوں کو اپنا “روشن چہرہ” دکھایا، جو سمندر کی سیر سے مزید “روشن” ہوگیا تھا 🙂 اسی روز اپنے ‘میڈیا پارٹنر’ ایکسپریس کی شاندار کوریج کا لطف اٹھایا، دل باغ باغ ہوا۔ وہ اردو کہ جس کو بولتے ہوئے آج کا نوجوان شرمارہا تھا، اسے ہم نوجوانوں کے اندر جامعہ کراچی میں موضوع بنا کر آ گئے۔ اردو سورس اردو اور ٹیکنالوجی کے لیے ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آیا اور اردو بلاگنگ کو یہ فائدہ کہ اسے کئی نئے اردو بلاگرز ملیں گے، بلاگنگ اگلے سال تک ابلاغ عامہ کے نصاب کا حصہ بنے گی اور بلاگرز کے لیے یہ فائدہ کہ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر عزم و حوصلہ بلند ہو، نیت خالص ہو اور ایثار و قربانی کا جذبہ ہو اور اجتماعی طور پر مل کر کام کرنے کی لگن ہو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، یہاں تک کہ ماؤنٹ ایورسٹ بھی سر ہوسکتا ہے!

دھوبی کے کتے ہوگئے گھر کے نہ گھاٹ کے

القصہ اک وہ دین تھا دنیا کا دوست دار
واعظ، ادیب، ناصح، مشفق، صلاح کار

مونس، رفیق، موجب تسکین، غم گسار
ہم درد، بے ریا و ہوا خواہ جاں نثار

وہ کھینچتا تھا بار امیر و فقیر کا
دنیا میں اس میں ربط تھا شاہ و وزیر کا

اب ہم نے اپنے دیں کو بنایا چھوئی موئی
دنیا میں اور دیں میں لگانے لگے دوئی

پھر قاصر اس قدر نظر نارسا ہوئی
شہتیر بن گیا جو حقیقت میں تھی سوئی

دیں کے عوض تعصب و اوہام رہ گئے
دیں دار اصل مر گئے، بدنام رہ گئے

دنیا گئی کہ ہم نہ ہوئے اس کے خواستگار
اور کیونکہ ہوتے مولوی جنت کا چوبدار

مسجد میں وعظ کہتا تھا منبر پر آشکار
مفلس بمیر مومن و دست از طلب بدار

دنیا و دیں کے ربط کی رسی کو کاٹ کے
دھوبی کے کتے ہوگئے گھر کے نہ گھاٹ کے

ادبار کا یہی تو ہے سب سے بڑا سبب
دنیا میں اور دیں میں عداوت، ارے غضب

دنیا بغیر سخت مصیبت ہے روز و شب
لازم ہے دین کا بھی کماحقہ ادب

خستہ ہوئے خراب ہوئے ہائے مٹ گئے
ان دونوں کی لڑائی میں ہم مفت پٹ گئے

دل بجھ گیا ہے دیکھ کے دنیا کا انقلاب
افسوس کیا خراب ہوئی قوم انتخاب

دیں کے خدا پرست وہ دنیا کے فتح یاب
آپس میں رحم و لطف، عدو کے لیے عذاب

مسجد میں سر بہ سجدہ پڑے ہیں زمین پر
میدان میں ڈٹے ہوئے گھوڑوں کی زین پر

لوگوں کو گر مناصب دنیا گناہ ہوں
داخل محرمات میں اعزاز و جاہ ہوں

دنیا کی آبرو سے اگر دیں تباہ ہوں
ان کا تو دیں یہی تھا کہ ہم بادشاہ ہوں

اگلے بزرگ لوگ تھے خاص امتیاز کے
پیشانیوں پر ان کے تھے گھٹے نماز کے

معمول ہیں خزائن انعام کردگار
بے انتہا، و بے حد و بے حضر و بے شمار

وہ چھینتا نہیں ہے کبھی دے کے ایک بار
شایاں اسے نہیں ہے کہ بندوں کو دے ادھار

دنیا بدل گئی ہمہ نعمت بدل گئی
اس واسطے کہ قوم کی ہمت بدل گئی

افسوس قوم میں عصبیت نہیں رہی
ہم میں کسی طرح کی مزیت نہیں رہی

مضبوطی ارادہ و نیت نہیں رہی
جرات کہاں سے ہو کہ حمیت نہیں رہی

ہم میں ہر اک بشر کے خیالات پست ہیں
پس لاجرم ذلیل ہیں اور تنگ دست ہیں

اے قوم یہ تباہی و افلاس جائے شرم
اے قوم یہ تعصب و وسواس جائے شرم

اس درجہ ضعف قوت احساس جائے شرم
تقصیر فی مقابلۃ الناس جائے شرم

تم اور تمہاری نسل ہو مشغول کھیل میں
اور لوگ چل رہے ہیں ترقی کی ریل میں

کیا خوب کہہ گیا ہے کوئی شخص خوش خیال
لفظ عرب میں نحن رجال و ھم رجال

اب اے عزیزو تم سے ہمارا ہے یہ سوال
کیا آ گیا ہے قوم کی حالت میں اختلال

اقوام روزگار میں ہیٹے ہو کس لیے
بے وقعتی کی خاک پہ لیٹے ہو کس لیے

کثرت سے تم میں صاحب مقدور کیوں نہیں
لوہا تمہارا مانتے جمہور کیوں نہیں

منہ پر تمہارے حسن نہ ہو، نور کیوں نہیں
دل قوم کے شگفتہ و مسرور کیوں نہیں

آخر تمہاری قوم پہ یہ کیا وبال ہے
جس شخص پر خیال کرو خستہ حال ہے

جب تک ہماری قوم میں تاج و نگیں رہا
ہم میں کسی کو فکر معیشت نہیں رہا

کس کس کا نام لیں کہ چنا اور چنیں رہا
ہر فرد عافیت سے غنا کے قریں رہا

ہم مالک خزائن روئے زمین تھے
اہل زمانہ قاطبۃ خوشہ چین تھے

(اقتباس از: فسانۂ مبتلا، ڈپٹی نذیر احمد دہلوی)

تمہیں لیڈرکہوں یا اپنی مجبوری کا مفتوحہ علاقہ؟

تحریر: زبیر انجم صدیقی

اگر چہ ہمارے ٹی وی چینلز نے اگست کے آغاز سے ہی کپتان کے آزادی مارچ اور طاہرالقادری کی سرگرمیوں کی غیرمتوازن اور صحافتی اقدار سے ماورا کوریج کر کے قوم کو سنسنی میں مبتلا کررکھا تھا۔ مگر دونوں مارچز کے شرکا کے اسلام آباد کے ریڈزون میں پہنچنے کے بعد بال بائی بال کمنٹری نے اس سنسنی کوہیجان میں بدل دیا۔ انقلاب اور آزادی کی تاریخ پہ تاریخ ملتی رہی۔ نہ ’’انقلاب‘‘ آیا نہ ’’آزادی‘‘ ملی۔

اس چوبیس گھنٹے کی غیرمتوازن نشریات میں قائدین کے کنٹینر سے باہر آنے ، چھت پر ٹہلنے ،سیاسی ملاقاتوں ، تقریروں یہاں تک کے ناچ گانے تک کوبلاتعطل دکھایا گیا مگر ’’اصل خبر‘‘ نشر کرنے کی کسی چینل کو توفیق نہ ہوئی۔ ’’اصل خبر‘‘ ملی تو امریکی اخبارات سے۔ اور یہ خبرمیری طرح ہر جمہوریت پسند پاکستانی کے لیئے انتہائی تکلیف دہ بھی ہے اور مایوس کن بھی۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل لکھتا ہے کہ فوج عمران خان اور طاہرالقادری کے تحریکوں کا اصل مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اور وہ یہ کہ اس دباؤکے نتیجے میں وزیراعظم نوازشریف نے خارجہ ، دفاع اور داخلی سلامتی کے معاملات فوج کو سرنڈر کردیئے ہیں۔ اور اب اس سمجھوتے میں واحد رکاوٹ محض یہ رہ گئی ہے کہ فوج کو اس معاملے وزیراعظم کی جانب سے کچھ ضمانتیں درکار ہیں۔ یہ سمجھوتہ سامنے آنے کے بعد یہ بات بھی ناقابل فہم نہیں رہی کہ گزشتہ پانچ روز میں وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف کی تین اور جنرل راحیل شریف سے شہباز شریف اور چوہدری نثار کی دو ملاقاتوں کے مقاصد کیا تھے ؟

بھاری مینڈیٹ والے وزیراعظم نوازشریف کسی طرح بھی میرے پسندیدہ سیاستدانوں میں شامل نہیں ،مگر جس طرح انہوں نے اس مرحلے پر ہتھیار ڈالے ہیں یا وہ ڈالنے پر مجبور ہوئے ہیں ، وہ نہ صرف انہیں منتخب کرنے والی پارلیمان بلکہ پارلیمان کو منتخب کرنے والے عوام کے لیے توہین آمیز ہے۔ نوازشریف سے زیادہ یہ مینڈیٹ دینے والے عوام کی توہین ہے جن کے وزیراعظم کی اب دنیا کی نظر میں کوئی اہمیت ہوگی اور نہ ہی کوئی انہیں سنجیدگی سے لے گا ،عالمی رہنما اور اب پرائم منسٹرہاؤس کے بجائے جی ایچ کیو کے ون ونڈوآپریشن سے ہی استفادہ کیا کریں گے اور اب وزیراعظم کا کام دفاع ، داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر جی ایچ کیو کے فیصلوں پرکسی ماتحت کی طرح مہرتصدیق ثبت کرنے کا ہی رہ جائے گا۔ کسی ایسے وزیراعظم کی دنیا کی نظر کیا اہمیت ہوگی؟یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں۔ یہ نوازشریف سے زیادہ ان اٹھارہ کروڑ عوام کی توہین ہے جن کی منتخب کردہ پارلیمان نے انہیں وزارت عظمیٰ کا منصب سونپا۔ اخبار کے مطابق فوج یہ سب کچھ اپنے پیدا کردہ سیاسی بحران سے وزیراعظم کو دباؤ میں لاکر یہ سب منوانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ نوازشریف نے ابتدا میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی وہ آصف زرداری نہیں ہیں۔ مگر اس وقت ہی فوج نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ نواز شریف کو آصف زرداری کی طرح محدود کرکے رہیں گے۔

اس سرنڈرکے بعدنواز شریف کو بھارت سے اچھے تعلقات اورافغانستان کے معاملات میں عدم مداخلت پالیسیوں کو شیلف میں رکھنا پڑے گا۔ جس کا ذکر وہ انتخابی مہم اور وزیراعظم بننے کے بعد کرتے رہے ہیں۔

نوازشریف کے ریت کی طرح ڈھے جانے کا پہلا اظہار اس وقت ہوا جب میجر جنرل سطح کے افسر ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ نے فریقین (حکومت اور اسلام آباد میں دھرنا دینے والی جماعتوں ) کو مذاکرات سے معاملہ حل کرنے کی تلقین کی۔ کوئی مستحکم جمہوریت تو دور کی بات ہے ، کیا بھارت یا سری لنکا میں بھی کوئی میجر جنرل سیاسی معاملات میں اس طرح مداخلت کرکے برطرفی سے بچ سکتا تھا ؟

نوازشریف کی بھاری مینڈیٹ والی حکومت سے کہیں زیادہ استقامت تو چند سیٹیں جیتنے والی جماعت اسلامی نے اس وقت دکھائی تھی جب سابق امیرجماعت منور حسن کے انٹرویو نے طوفان کھڑا کردیا تھا۔ آئی ایس پی آر نے ان کے بیان کو شہیدوں اور ان کے لواحقین کی توہین اورغداری قراردیتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔

منور حسن کی جانب سے ڈرون حملوں میں مرنے والوں کو شہید قرار دینے کا بیان درست تھا یا غلط اس پر بحث ہوسکتی ہے۔ مگر آئی ایس پی آر کے مطالبے کے جواب میں جماعت اسلامی کی شوریٰ نے جو بیان جاری کیا اس سے کوئی بھی بااصول اور جمہوریت پسند اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والا اختلاف نہیں کرسکتا۔ شوریٰ کے اجلاس کے بعد لیاقت بلوچ نے چند سطروں کا بیان پڑھ کر سنایا کہ فوج کو ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور آئی ایس پی آر نے ایک سیاسی بیان جاری کرکے اپنی حدود سے تجاوز کیا جو بذات خود ایک قابل گرفت فعل ہے۔ معافی یا بیان واپس لینا تو دور کی بات جماعت اسلامی کی مرکزی شوری ٰ نے الٹا آئی ایس پی آر پر چڑھائی کر دی۔ اور اس کے بعد آئی ایس پی آر اور اس کے ڈی جی عاصم سلیم باجوہ کو ایسا سانپ سونگھا کہ انہیں آج تک یہ بھی یاد نہیں کہ انہوں نے ایک کمزور اور معمولی سی مذہبی جماعت کے امیر سے معافی اور بیان واپس لینے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

اس مرحلے پر بے نظیر بھٹو کو بھی داد دینے کو جی چاہ رہا ہے۔ جنہوں نے دو ہزار سات میں اقتدار تو کیا ملک سے بھی باہر ہوتے ہوئے فوجی صدر سے اپنی مرضی کا سمجھوتہ کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جس میں این آر او جیسا غیرقانونی آرڈننس کا اجراء بھی شامل تھا۔ اور ایک یہ نوازشریف ہیں جو اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اپنے جائز ،آئینی اور قانونی اختیارات سرنڈر کر چکے ہیں۔ منیر نیازی کے شعر میں معذرت کے ساتھ تصرف کررہا ہوں:

اک اور چیتے کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک چیتے کے منہ سے نکلا تو میں نے دیکھا

تمہیں لیڈرکہوں یا اپنی مجبوری کا مفتوحہ علاقہ؟

تحریر: زبیرانجم صدیقی

اگر چہ ہمارے ٹی وی چینلز نے اگست کےآغاز سے ہی کپتان کے آزادی مارچ اور طاہرالقادری کی سرگرمیوں کی غیرمتوازن اور صحافتی اقدار سے ماورا کوریج کر کے قوم کو سنسنی میں مبتلا کررکھا تھا ۔ مگر دونوں مارچز کے شرکا کے اسلام آباد کے ریڈزون میں پہنچنے کے بعد بال بائی بال کمنٹری نے اس سنسنی کوہیجان میں بدل دیا ۔ انقلاب اور آزادی کی تاریخ پہ تاریخ ملتی رہی ۔نہ ’’انقلاب‘‘ آیا نہ ’’آزادی‘‘ ملی ۔

اس چوبیس گھنٹےکی غیرمتوازن نشریات میں قائدین کےکنٹینر سے باہر آنے ، چھت پر ٹہلنے ،سیاسی ملاقاتوں ، تقریروں یہاں تک کے ناچ گانے تک کوبلاتعطل دکھایا گیا مگر ’’اصل خبر‘‘ نشر کرنے کی کسی چینل کو توفیق نہ ہوئی۔ ’’اصل خبر‘‘ ملی تو امریکی اخبارات سے ۔اور یہ خبرمیری طرح ہر جمہوریت پسند پاکستانی کے لیئے انتہائی تکلیف دہ بھی ہے اور مایوس کن بھی ۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل لکھتا ہے کہ فوج عمران خان اور طاہرالقادری کے تحریکوں کا اصل مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ اور وہ یہ کہ اس دباؤکے نتیجے میں وزیراعظم نوازشریف نےخارجہ ، دفاع اور داخلی سلامتی کے معاملات فوج کو سرنڈر کردیئے ہیں ۔اور اب اس سمجھوتے میں واحد رکاوٹ محض یہ رہ گئی ہے کہ فوج کو اس معاملے وزیراعظم کی جانب سے کچھ ضمانتیں درکار ہیں ۔یہ سمجھوتہ سامنے آنے کے بعد یہ بات بھی ناقابل فہم نہیں رہی کہ گزشتہ پانچ روز میں وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف کی تین اور جنرل راحیل شریف سے شہباز شریف اور چوہدری نثار کی دو ملاقاتوں کے مقاصد کیا تھے؟

بھاری مینڈیٹ والے وزیراعظم نوازشریف کسی طرح بھی میرے پسندیدہ سیاستدانوں میں شامل نہیں ،مگر جس طرح انہوں نے اس مرحلے پر ہتھیار ڈالے ہیں یا وہ ڈالنے پر مجبور ہوئے ہیں ، وہ نہ صرف انہیں منتخب کرنے والی پارلیمان بلکہ پارلیمان کو منتخب کرنے والےعوام کے لیے توہین آمیز ہے ۔ نوازشریف سے زیادہ یہ مینڈیٹ دینے والے عوام کی توہین ہے جن کے وزیراعظم کی اب دنیا کی نظر میں کوئی اہمیت ہوگی اور نہ ہی کوئی انہیں سنجیدگی سے لے گا ،عالمی رہنما اور اب پرائم منسٹرہاؤس کے بجائے جی ایچ کیو کےون ونڈوآپریشن سے ہی استفادہ کیا کریں گے اور اب وزیراعظم کا کام دفاع ، داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر جی ایچ کیو کے فیصلوں پرکسی ماتحت کی طرح مہرتصدیق ثبت کرنے کا ہی رہ جائے گا ۔ کسی ایسے وزیراعظم کی دنیا کی نظر کیا اہمیت ہوگی؟یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں ۔یہ نوازشریف سے زیادہ ان اٹھارہ کروڑ عوام کی توہین ہے جن کی منتخب کردہ پارلیمان نے انہیں وزارت عظمیٰ کا منصب سونپا ۔ اخبار کے مطابق فوج یہ سب کچھ اپنے پیدا کردہ سیاسی بحران سے وزیراعظم کو دباؤ میں لاکر یہ سب منوانے میں کامیاب ہوئی ہے ۔اخبار لکھتا ہے کہ نوازشریف نے ابتدا میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی وہ آصف زرداری نہیں ہیں ۔ مگر اس وقت ہی فوج نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ نواز شریف کو آصف زرداری کی طرح محدود کرکے رہیں گے ۔

اس سرنڈرکےبعدنواز شریف کو بھارت سے اچھے تعلقات اورافغانستان کے معاملات میں عدم مداخلت پالیسیوں کو شیلف میں رکھنا پڑے گا ۔جس کا ذکر وہ انتخابی مہم اور وزیراعظم بننے کے بعد کرتے رہے ہیں ۔

نوازشریف کے ریت کی طرح ڈھے جانے کا پہلا اظہار اس وقت ہوا جب میجر جنرل سطح کے افسر ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ نے فریقین (حکومت اور اسلام آباد میں دھرنا دینے والی جماعتوں ) کو مذاکرات سے معاملہ حل کرنے کی تلقین کی ۔کوئی مستحکم جمہوریت تو دور کی بات ہے، کیا بھارت یا سری لنکا میں بھی کوئی میجر جنرل سیاسی معاملات میں اس طرح مداخلت کرکے برطرفی سے بچ سکتا تھا ؟

نوازشریف کی بھاری مینڈیٹ والی حکومت سے کہیں زیادہ استقامت تو چند سیٹیں جیتنے والی جماعت اسلامی نے اس وقت دکھائی تھی جب سابق امیرجماعت منور حسن کے انٹرویو نے طوفان کھڑا کردیا تھا ۔آئی ایس پی آر نے ان کے بیان کو شہیدوں اور ان کے لواحقین کی توہین اورغداری قراردیتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا ۔

منور حسن کی جانب سے ڈرون حملوں میں مرنے والوں کو شہید قرار دینے کا بیان درست تھا یا غلط اس پر بحث ہوسکتی ہے ۔مگرآئی ایس پی آر کے مطالبےکے جواب میں جماعت اسلامی کی شوریٰ نے جو بیان جاری کیا اس سے کوئی بھی بااصول اور جمہوریت پسند اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والا اختلاف نہیں کرسکتا ۔شوریٰ کے اجلاس کے بعد لیاقت بلوچ نے چند سطروں کا بیان پڑھ کر سنایا کہ فوج کو ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور آئی ایس پی آر نے ایک سیاسی بیان جاری کرکے اپنی حدود سے تجاوز کیا جو بذات خود ایک قابل گرفت فعل ہے ۔ معافی یا بیان واپس لینا تو دور کی بات جماعت اسلامی کی مرکزی شوری ٰ نے الٹا آئی ایس پی آر پر چڑھائی کر دی ۔ اور اس کے بعد آئی ایس پی آر اور اس کے ڈی جی عاصم سلیم باجوہ کو ایسا سانپ سونگھا کہ انہیں آج تک یہ بھی یاد نہیں کہ انہوں نے ایک کمزور اور معمولی سی مذہبی جماعت کے امیرسے معافی اور بیان واپس لینے کا مطالبہ کر رکھا ہے ۔

اس مرحلے پر بےنظیر بھٹو کو بھی داد دینے کو جی چاہ رہا ہے ۔ جنہوں نے دو ہزار سات میں اقتدار تو کیا ملک سے بھی باہر ہوتے ہوئے فوجی صدر سے اپنی مرضی کا سمجھوتہ کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔جس میں این آر او جیسا غیرقانونی آرڈننس کا اجراء بھی شامل تھا ۔ اور ایک یہ نوازشریف ہیں جو اقتدار میں رہتے ہوئے بھی اپنے جائز ،آئینی اور قانونی اختیارات سرنڈر کر چکے ہیں ۔ منیر نیازی کے شعر میں معذرت کے ساتھ تصرف کررہا ہوں:

اک اور چیتے کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک چیتے کے منہ سے نکلا تو میں نے دیکھا

ہاشم خان ، بال بوائے سے سات مرتبہ کے چیمپئن تک

پشاور سے خیبر ایجنسی جانے والے راستے پر واقع ایک معمولی سے گاؤں نواں کلی کے 8 سالہ بچے نے اپنے والد کے ہمراہ پشاور میں قائم برطانوی افواج کے افسران کے کلب میں قدم رکھا۔ درۂ خیبر کی حفاظت کی ذمہ داری پر مامور انگریز افواج کے لیے بنائے گئے کلب میں مختلف کھیلوں کے میدان تھے۔ اس بچے کو ٹینس کورٹس میں بال بوائے کی حیثیت سے خدمات کی ذمہ داری دی گئی۔ یہ وہ دن تھے جب جب کلب میں اسکواش کورٹس کی تعمیر ہو رہی تھی۔ آؤٹ ڈور، بغیر چھت والے اسکواش کورٹس جن کو دیکھتے ہی ننھے دل میں تجسس ابھرا، اور یہیں سے ہاشم خان اور پاکستان کے اسکواش میں عظیم سفر کی داستان شروع ہوتی ہے۔

ہاشم خان کی ابتدائی زندگی بہت کٹھن تھی۔ انتہائی پسماندہ ہونے کے علاوہ جب وہ محض 11 سال کے تھے تو ان کے والد ایک حادثے میں چل بسے۔ اس کا نتیجہ اسکول چھوڑ کر مستقل طور پر کلب سے وابستگی کی صورت میں نکلا اورہاشم خان “ترقی” پا کر اسکواش کورٹس کی صفائی پر مامور ہوئے لیکن دل کھیل کی جانب لگا رہتا اور نگاہیں کھیلنے کے طریقے پر جمی رہتیں۔ جب فوجی افسران فارغ ہوجاتے تو ہاشم خان ایک ریکٹ اٹھاتے اور کسی پرانی سی گیند سے کھیلنا شروع کردیتے، اکیلے۔ یہاں تک کہ چاندنی راتوں میں وہ رات گئے تک کورٹ میں اپنے ہی خلاف لڑتے دکھائی دیتے۔

جوتے میسر نہ ہونے کی وجہ سے کورٹ میں ننگے پیر کھیلنے والے ہاشم آہستہ آہستہ اسکواش کی باریکیوں کو سمجھتے گئے یہاں تک کہ 1944ء میں بمبئی سے تعلق رکھنے والے ایک پروفیشنل اسکواش کھلاڑی کو شکست دے کر انہوں نے کلب میں اپنی دھاک بٹھائی اور پھر 1944ء میں بمبئی میں آل انڈیا اسکواش چیمپئن شپ جیت کر خود کو ثابت کر دکھایا۔ اگلے تین سال تک ہندوستان کا کوئی کھلاڑی ان کو شکست نہ دے سکا لیکن ہندوستان تقسیم ہوگیا۔ پاکستان کی نومولود ریاست سخت مالی مسائل سے دوچار تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہاشم خان کی پرواز رک جائے گی۔ وہ رائل ایئرفورس کلب سے بطور اسکواش کوچ وابستہ ہوگئے اور 1951ء میں کہیں جاکر انہیں برٹش اوپن میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔ اس وقت ان کی عمر 37 سال تھی اور اب ہندوستان میں بھی معدودے چند لوگ ہی انہیں جانتے تھے ۔ ایک نومولود ملک کا غیر معروف کھلاڑی اس عمر میں جیتنے کے لیے برطانیہ پہنچا، جب بیشتر کھلاڑی ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں۔پھر ہاشم نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ فائنل میں مصر کے مسلسل چار مرتبہ کے چیمپئن بلکہ دفاعی چیمپئن محمود الکریم کو شاندار شکست دی۔ اس کے بعد اگلے پانچ سال تک برٹش اوپن فاتح رہے اور مجموعی طور پر سات بار برٹش اوپن جیتا۔ جب انہوں نے آخری بار 1958ء میں برٹش اوپن کی ٹرافی اپنے ہاتھوں میں لی تو ان کی عمر 44 سال تھی اور اس کے دو سال بعد ہی وہ امریکہ منتقل ہوگئے۔

ہاشم خان کے خاندان نے اگلے تقریباً 50 سالوں تک اسکواش کورٹس میں پاکستان کے پرچم کو سربلند کیے رکھا۔ ہاشم کے بعد اعظم خان، روشن خان اور جان شیر خان نے شاندار فتوحات پا کر اس خاندان کو کھیلوں کی تاریخ کا سب سے عظیم خاندان بنایا۔ جس سفر کا آغاز ننگے پیر ہوا تھا وہ چند نسلوں بعد ورلڈ اسکواش فیڈریشن کی صدارت، کھیلوں کی تاریخ کے انوکھے ترین ریکارڈز اور بلاشرکت غیرے اسکواش دنیا پر حکمرانی پر منتج ہوا۔ یہاں تک کہ اس منزل کی جانب پہلا قدم اٹھانے والے ہاشم خان چند روز قبل 18 اگست کو انتقال کرگئے۔ انہوں نے ابھی یکم جولائی ہی کو اپنی 100 ویں سالگرہ منائی تھی۔

حوصلوں کو مہمیز دینے والی اس عظیم داستان کا افسوسناک ترین پہلو یہ ہے کہ ایسے افراد اور اذہان جن پر بحیثیت قوم ہمیں ہمیشہ فخر رہے گا، ہماری قدر کے طالب ہی رہے اور بالآخر اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ ہاشم خان چاہے جتنے عظیم کھلاڑی ہوں، لیکن ان کو حقیقی قدر مغرب نے دی۔ ان کے بیٹے شریف خان کو برطانیہ کے مہنگے ترین اسکولوں میں سے ایک میں داخلہ بھی انہوں نے ہی دیا، ہاشم خان کو خود امریکہ منتقل کرنے کے لیے بھی انہی افراد نے کامیاب کوششیں کیں جو ان کے حقیقی قدردان تھے۔ ہم؟ ہم صرف ان کے مرنے کے بعد مرحوم کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے کے لیے رہ گئے ہیں۔ افسوس صد افسوس!

شیشہ و تیشہ

شاہراہ فیصل کراچی کی شہ رگ ہے، ہوائی اڈے اور بندرگاہ کو ملانے والی یہ شاہراہ اس وقت بھی جاگتی اور زندگی کو رواں رکھتی ہے جب پورا شہر سوجاتا ہے۔ دفتری اوقات میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ درحقیقت، یہ شہر کے قلب سے گزرتا ہوا ایسا خطِ زندگی ہے جو اسے ہر دم جواں اور پیہم رواں رکھتا ہے۔ یہ شاہراہ عوام کے کئی رازوں سے اسی طرح واقف ہے، جیسے ان کے گھر کی دیواریں۔

اب جبکہ شہر قائد میں موسم گرما کے ابتدائی ایام ہیں۔ سورج صبح سویرے ہی سے اس کے تارکول کو سینک رہا ہے۔ حد نظر تک گاڑیوں کا سیلاب ہے، بمپر سے بمپر ملا ہوا ہے اور ہر کوئی اس پل صراط کو پار کرکے اپنی منزل تک جلد پہنچنے کے لیے بے تاب ہے۔ اسی بہاؤ میں آگے ایک ٹرک نظر آ رہا ہے۔ تمام گاڑیوں میں سب سے نمایاں ۔ اسے گاڑی کیا کہیں کہ بس لوہے کا ایک بڑا سا ڈبہ ہے۔ بالائی حصے میں روشن دان ہیں، جن میں سلاخیں لگی ہیں اور انہی سلاخوں کو تھامے ہوئے چند ہاتھ بھی ظاہر ہیں۔ یہ قیدیوں کی گاڑی ہے، جو انہیں حوالات سے عدالت لے جا رہی ہے۔ زندگی سے موت کی طرف یا شاید موت سے زندگی کی طرف!

باہر زندگی کی ہماہمی ہے، ایک ہنگامہ بپا ہے، آدمی آدمی پر ٹوٹا پڑ رہا ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سب کے درمیان یہ بے حس ٹرک کھڑا ہے۔ خوشیوں اور آرزوؤں کے سمندر میں اداسیوں کے جزیرے اور مایوسیوں کے ٹاپو کی طرح یا زندگی کے صحرا میں خدشات و خطرات کی ایک دلدل کی مانند۔ لوہے کی صرف ایک موٹی چادر اور چند معمولی سلاخوں کے اندر، محض چند ملی میٹر پیچھے، زندگی کے معنی کتنے مختلف ہیں نا؟ چہار اطراف خوشی و انبساط ہے، آزادی ہے، غم دنیا و فکر روزگار بھی ہے، آسانیاں ہیں، مشکلات بھی ہیں، دوڑ دھوپ اور جدوجہد ہے، کامیابیاں و کامرانیاں ہیں، الغرض روانی ہے، گرانی ہے لیکن عین اس کے وسط میں بظاہر حرکت کرتی، لیکن بے دلی کے ساتھ، یہ گاڑی۔ جس کی سلاخوں کو تھامے ہوئے ہاتھوں میں کئی رنگ نظر آ رہے ہیں، شاید خوف کے، یا احساس ندامت کے، یا بے بسی کے۔ یہ ہاتھ اپنے مبینہ جرم پر نوحہ کناں بھی نظر آتے ہیں اور اپنی مبینہ مظلومیت کا رونا روتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اسی اثناء میں سیاہ رنگ کی ایک چمچماتی ہوئی کار آگے بڑھی اور گاڑیوں کے درمیان جگہ بناتی ہوئی عین اس ٹرک کے برابر میں کھڑی ہوگئی۔ شیشے چڑھے ہوئے، جن کے پیچھے ایئر کنڈیشنر کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتا ایک شخص نظر آ رہا ہے۔ چہرہ غرور و نخوت کا حامل لیکن آسودگی کا نور ضرور موجود۔ خلاؤں میں گھورتی نظروں کے ساتھ غالباً دو جمع دو کو پانچ بنانے کی کوشش میں مشغول یہ شخص نجانے کیوں مجھے ایک حنوط شدہ لاش جیسا لگا۔ اردگرد ہونے والے ہنگامے سے بے پروا اور باہر زندگی کی دوسری جہت سے ناآشنا۔ شیشے کے عین پیچھے وہ بالکل دوسری دنیا کا نمائندہ ہے۔ ایک طرف سرکاری قید میں بندھا شخص، اس کے ساتھ غربت کے شکنجے میں کسے ہوئے سینکڑوں بلکہ ہزاروں قیدی، اور دوسری جانب یہ دو عالم سے بیگانہ۔ میں سوچنے لگا کہ اگر حالات ان دونوں کو مقابلے پر لے آئے تو لوہے کی چادریں کاٹنے سے کہیں زیادہ آسان شیشے کی یہ تہہ توڑنا ہوگا۔

شیشہ و تیشہ

شاہراہ فیصل کراچی کی شہ رگ ہے، ہوائی اڈے اور بندرگاہ کو ملانے میں والی یہ شاہراہ اس وقت بھی جاگتی اور زندگی کو رواں رکھتی ہے جب پورا شہر سوجاتا ہے۔ دفتری اوقات میں یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ درحقیقت، یہ شہر کے قلب سے گزرتا ہوا ایسا خطِ زندگی ہے جو اسے ہر دم جواں اور پیہم رواں رکھتا ہے۔ یہ شاہراہ عوام کے کئی رازوں سے اسی طرح واقف ہے، جیسے ان کے گھر کی دیواریں۔

اب جبکہ شہر قائد میں موسم گرما کے ابتدائی ایام ہیں۔ سورج صبح سویرے ہی سے اس کے تارکول کو سینک رہا ہے۔ حد نظر تک گاڑیوں کا سیلاب ہے، بمپر سے بمپر ملا ہوا ہے اور ہر کوئی اس پل صراط کو پار کرکے اپنی منزل تک جلد پہنچنے کے لیے بے تاب ہے۔ اسی بہاؤ میں آگے ایک ٹرک نظر آ رہا ہے۔ تمام گاڑیوں میں سب سے نمایاں ۔ اسے گاڑی کیا کہیں کہ بس لوہے کا ایک بڑا سا ڈبہ ہے۔ بالائی حصے میں روشن دان ہیں، جن میں سلاخیں لگی ہیں اور انہی سلاخوں کو تھامے ہوئے چند ہاتھ بھی ظاہر ہیں۔ یہ قیدیوں کی گاڑی ہے، جو انہیں حوالات سے عدالت لے جا رہی ہے۔ زندگی سے موت کی طرف یا شاید موت سے زندگی کی طرف!

باہر زندگی کی ہماہمی ہے، ایک ہنگامہ بپا ہے، آدمی آدمی پر ٹوٹا پڑ رہا ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سب کے درمیان یہ بے حس ٹرک کھڑا ہے۔ خوشیوں اور آرزوؤں کے سمندر میں اداسیوں کے جزیرے اور مایوسیوں کے ٹاپو کی طرح یا زندگی کے صحرا میں خدشات و خطرات کی ایک دلدل کی مانند۔ لوہے کی صرف ایک موٹی چادر اور چند معمولی سلاخوں کے اندر، محض چند ملی میٹر پیچھے، زندگی کے معنی کتنے مختلف ہیں نا؟ چہار اطراف خوشی و انبساط ہے، آزادی ہے، غم دنیا و فکر روزگار بھی ہے، آسانیاں ہیں، مشکلات بھی ہیں، دوڑ دھوپ اور جدوجہد ہے، کامیابیاں و کامرانیاں ہیں، الغرض روانی ہے، گرانی ہے لیکن عین اس کے وسط میں بظاہر حرکت کرتی، لیکن بے دلی کے ساتھ، یہ گاڑی۔ جس کی سلاخوں کو تھامے ہوئے ہاتھوں میں کئی رنگ نظر آ رہے ہیں، شاید خوف کے، یا احساس ندامت کے، یا بے بسی کے۔ یہ ہاتھ اپنے مبینہ جرم پر نوحہ کناں بھی نظر آتے ہیں اور اپنی مبینہ مظلومیت کا رونا روتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

اسی اثناء میں سیاہ رنگ کی ایک چمچماتی ہوئی کار آگے بڑھی اور گاڑیوں کے درمیان جگہ بناتی ہوئی عین اس ٹرک کے برابر میں کھڑی ہوگئی۔ شیشے چڑھے ہوئے، جن کے پیچھے ایئر کنڈیشنر کی ٹھنڈک سے لطف اندوز ہوتا ایک شخص نظر آ رہا ہے۔ چہرہ غرور و نخوت کا حامل لیکن آسودگی کا نور ضرور موجود۔ خلاؤں میں گھورتی نظروں کے ساتھ غالباً دو جمع دو کو پانچ بنانے کی کوشش میں مشغول یہ شخص نجانے کیوں مجھے ایک حنوط شدہ لاش جیسا لگا۔ اردگرد ہونے والے ہنگامے سے بے پروا اور باہر زندگی کی دوسری جہت سے ناآشنا۔ شیشے کے عین پیچھے وہ بالکل دوسری دنیا کا نمائندہ ہے۔ ایک طرف سرکاری قید میں بندھا شخص، اس کے ساتھ غربت کے شکنجے میں کسے ہوئے سینکڑوں بلکہ ہزاروں قیدی، اور دوسری جانب یہ دو عالم سے بیگانہ۔ میں سوچنے لگا کہ اگر حالات ان دونوں کو مقابلے پر لے آئے تو لوہے کی چادریں کاٹنے سے کہیں زیادہ آسان شیشے کی یہ تہہ توڑنا ہوگا۔

ہمارا اکبری مزاج

چند روز قبل محترم ریاض شاہد کے بلاگ پر مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کا وہ مشہور قصہ پڑھا، جس میں انہوں نے دو یورپی باشندوں کی ہندوستان میں چھاپہ خانہ لگانے کی درخواست نامنظور کردی تھی۔ وجہ؟ اس کی چھپائی میں وہ نفاست اور خوبصورتی نہ تھی، جو ہاتھ سے لکھی خطاطی میں ہوتی تھی۔گو اکبر کو خود پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا، لیکن پھر بھی شاہی مزاج چھاپہ خانے کی ایسی بھدی چھپائی کو کہاں برداشت کرتا؟ اسے تو اپنے دربار میں موجود دنیا کے بہترین خطاطوں پر ناز تھا۔ یورپی وفد کی پیشکش رد کردی گئی اور یوں ہندوستان علم کی دوڑ میں پیچھے ہی رہ گیا، بلکہ آج تک پيچھے ہی ہے۔

کہنے کو تو یہ صرف یہ ایک واقعہ ہے لیکن یہ دور جدید کے ایک اہم مسئلے کے حوالے سے ہماری بہترین رہنمائی بھی کرتا ہے۔ تقریباً یہی کہانی گزشتہ صدی میں اس وقت بھی دہرائی گئی جب اردو کو مشینی لکھائی میں ڈھالنے کی کوششیں کی گئی لیکن ہم “اکبر بادشاہ” بنے۔ ہر اس طریقے کو رد کرتے رہے جو ہمیں نستعلیق جیسا خوبصورت دکھائی نہ دیتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ‘انفارمیشن ایج’ میں دنیا نجانے کہاں پہنچ چکی ہے اور ہماری اردو اب بھی انٹرنیٹ پر عہد طفلی میں ہے، یا یوں کہیے کہ گھٹنوں گھٹنوں چل رہی ہے۔

یہ تحریر اردو بلاگستان کے میگزین ‘دریچہ’ کے لیے لکھی گئی تھی، مکمل تحریر اس لنک پر ملاحظہ کریں۔

میرے خوابوں کا پاکستان

90ء کی دہائی کے اوائل کا زمانہ تھا، آمریت کے طویل دور کے خاتمے کے بعد پاکستان جمہوری عہدمیں تازہ تازہ داخل ہوا تھا۔ نئی امنگیں، نئے حوصلے اور نئی توانائیاں تھیں۔ کرکٹ کے میدانوں میں فتوحات نے پوری قوم کو سحر زدہ کر رکھا تھا اور اس کے بعد ہاکی کے عالمی کپ، اسنوکر کی ورلڈ امیچر چیمپئن شپ اور معمول کی اسکواش فتوحات سے کھیلوں کی دنیا میں پاکستان کا سورج نصف النہار پر پہنچا دیا تھا۔ اس چکاچوند میں ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو گویا ہمارے لیے تو پاکستانی ہونا اور اس پر فخر کرنا بنتا بھی تھا۔ شاید یہ وجہ بھی ہو کہ اس وقت دنیا اس قدر جڑی ہوئی نہیں تھی، لے دے کر ملک میں تین ٹی وی چینل آیا کرتے تھے جس کی وجہ سے بھانت بھانت کی بولی سننے کے بجائے ایک ہی بات ملتی۔ گو کہ ”سب اچھا نہ تھا“ لیکن آج کی طرح سب برا بھی نہیں تھا۔اس وقت کو دیکھیں تو ہماری نظر میں 2010ء کا پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک تھا۔ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت نے اسے ایک امتیازی حیثیت دے دی تھی۔

لیکن ……. خواب چکناچور ہوگیا۔ ہماری بحیثیت قوم بھی اور سیاسی رہنماؤں کی بھی کوتاہ اندیشی، غفلت، آرام طلبی اور متعصب ذہنیت نے ہمیں اکیسویں صدی میں قدم رکھنے سے بھی پہلے دھر لیا۔ ہزاریہ تبدیل ہونے سے پہلے ہی ہم ایک مرتبہ پھر آمریت کے ہاتھوں جکڑے گئے اور اس مرتبہ ”بہت برے پھنسے“۔ پرویز مشرف کی صورت میں ملکی تاریخ کا بدترین آمر ہم پر مسلط ہوا، جس سے ”اپنے بھی خفا اور بیگانے بھی ناخوش“ تھے۔ ایک طرف عاصمہ جہانگیر اور اعتزاز احسن جیسے لبرلز بھی اس کے چھتر کھاتے تو دوسری طرح لال مسجد کے ملّا بھی گولیوں سے بھون ڈالے گئے۔ منظرنامہ اتنی تیزی سے بدلا کہ صرف دس سال پہلے اور آج کے پاکستان زمین و آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے، ”وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں“

بادشاہی مسجد

دس سال پہلے بھلا یہ تصور کیا تھا کہ ہم دن میں 18 گھنٹے بجلی کی بندش کو بھگتیں گے، یہ سوچا بھی نہ تھا کہ بجلی کے اس حال کے باوجود ایک عام گھر کا بل پانچ ہزار روپے سے اوپر آیا کرے گا، اس چیز کو ذہن قبول ہی نہ کرسکتا تھا کہ سبزیوں کی فی کلو قیمتیں بھی کبھی تہرے ہندسے میں پہنچ جائیں گی، بھلا کسی نے یہ سوچا ہوگا کہ پٹرول کی قیمت 100 روپے سے بڑھ جائے گی اور ڈیزل جو اس وقت پٹرول کی قیمت کا نصف ہوتا تھا اس سے بھی آگے نکل جائے گا، الغرض ”کہاں تک سنو گے، کہاں تک سنائیں“۔ یہ تو صرف وہ معاملات ہیں جن سے ہر شخص متاثر ہے لیکن کچھ ایسے اجتماعی مسائل بھی ہیں جنہوں نے بحیثیت مجموعی ہماری قوم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

دہشت گردی و لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ نہ مساجد محفوظ ہیں نہ امام بارگاہیں، نہ بازار نہ مدارس، نہ گھر نہ دفاتر اور نہ سڑک نہ شاہراہ۔ دہشت گردی کے بڑے واقعات تو ایک طرف صرف اسٹریٹ کرائمز ہی کو لے لیں تو کراچی میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہوگا جس کا کم از کم ایک فرد کبھی ان اچکوں اور لٹیروں کے ہتھے نہ چڑھا ہو جو دن ڈھلے اور دن چڑھے کسی بھی لمحے آپ کو اپنی قیمتی اشیاء اور جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں۔

اگر معاملات صرف اس حد تک ہی ہوتے تو قوموں کی آزمائش یا مشکل مرحلہ کہا جا سکتا تھا لیکن کوئی مسیحا، کوئی رہنما، کوئی دور اندیش اور حالات سے آشنا فرد بھی تو نہیں دکھائی دیتا۔ لیکن ٹھہریے، ایک شخص ہے ایسا۔ اس ملک و ملت کے حالات پر کڑھنے اور اس ”ایک شخص“ کو ڈھونڈنے کی انتھک کوششوں کے بعد بالآخر وہ مل گیا ہے جو اس ملک کو اندھیروں سے نکال سکتا ہے، جو اس کی ڈوبتی نیّا کو پار لگا سکتا ہے، ہاتھ سے نکلتی ہوئی بازی کو بچا سکتا ہے، بے قابو ہوتی ہوئی گاڑی کو دوبارہ سڑک پر لا سکتا ہے اور ہمارا ہاتھ تھام کر ہمیں ایک گہری کھائی میں گرنے سے بچا سکتا ہے اور وہ شخص ہمارے اندر چھپا ہے یعنی کہ ہم خود۔

موجودہ حالت اور حالات کو صرف اور صرف ہم ہی بدل سکتے ہیں ۔ ہم طے کرلیں کہ ہم کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں گے جس کے اثرات اجتماعی سطح پر سب پر مرتب ہوں گے۔ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی زندگی کی گاڑی آگے چلائیں گے۔ مطلب ہم کبھی اپنی آسانی کے لیے رشوت دے کر کام نہ نکلوائیں گے، ہم کسی کا حق نہ ماریں گے، جو کام بھی کریں گے وہ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے کریں گے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں، یہ سینہ شمشیر پر چلنے کے مترادف ہوگا، خصوصاً موجودہ حالات میں تو یہ بڑی آزمائش ہوگی۔ لیکن جس دن ہم نے یہ تہیہ کرلیا کہ ہم ایک ذمہ دار شہری بنیں گے، اور حتی الامکان ان اصولوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے وہ ترقی کی جانب سفر کا ہمارا پہلا دن ہوگا۔ نتائج بہت دیر سے ملیں گے لیکن ہم نے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے 6 سے زیادہ دہائیاں بھی تو گزار ہی لی ہیں۔لیکن ہمارا آج کا یہ فیصلہ انفرادی و اجتماعی سطح پر دوررس اثرات کا حامل ہوگا۔ ہم نہ سہی، ہماری آنے والی نسلیں اس پاکستان کو ضرور دیکھیں گی جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا۔

ہمیں اپنی حالت کو بدلنے کا خیال خود کرنا ہوگا۔ دراصل ہم اپنی ذمہ داریوں کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کے عادی ہو گئی ہیں۔ نظام درست نہیں، حکمران درست نہیں، معاملات درست نہیں، کیوں؟ کیونکہ ہم درست نہیں ہیں۔ انفرادی سطح پر ہم میں وہ خامیاں موجود ہیں جو اجتماعی سطح پر بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔ آپ تہیہ کرلیں کہ کوئی آپ کے ساتھ چلے یا نہ چلے آپ نے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے۔ چاہے لوگ آپ کے بے وقوف کہیں لیکن آپ کا ضمیر مطمئن ہوگا کہ قوم کے اس زوال میں انفرادی طور پر آپ کا حصہ شامل نہیں۔

یہ بت ذہن میں رکھیں کہ جب چینی ، جسے دنیا افیمی قوم کے نام سے جانتی تھی، آج سپر پاور بن سکتے ہیں تو ہم بھی بن سکتے ہیں، جب جاپان ایٹم بم کے ہاتھوں تباہ ہونے اور اپنا سب کچھ جنگ کے تاوان کی ادائیگی میں گنوا کر اٹھ سکتا ہے تو ہم بھی اٹھ سکتے ہیں، اگر جرمنی جنگ عظیم میں بدترین شکست کے بعد آج یورپ کی سب سے بڑی معاشی قوت بن سکتا ہے تو ہم بھی بن سکتے ہیں۔ بات صرف عزم و حوصلے کی ہے اور جرات و ہمت کی ہے۔ کیا آپ میں ہمت ہے؟

(یہ تحریر ماہ اگست میں بلاگستان فیڈز کے سلسلے “میرے خوابوں کا پاکستان” کے لیے لکھی گئی۔ اگر آپ بھی اس مقابلے میں لکھنا چاہتے ہیں تو اپنے بلاگ پر تحریر لکھیے اور یہاں جمع کرائیے)

کرک نامہ، اک نیا سنگ میل

عرصہ ہوا ہم ایک اور بلاگ کو پیارے ہو گئے، جی ہاں! کرکٹ بلاگ کرک نامہ کو اور اب تو کئی دن گزر جاتے ہیں اِس کوچے کا رخ کیے ہوئے۔ بہرحال، اب آئے ہیں تو ذکر کرتے چلیں کہ کرک نامہ اک اور سنگ میل طے کر چکا ہے یعنی اب وہ اردو سے آگے بڑھ کر انگریزی میں بھی جاری ہو گیا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ اردو بلاگستان کے خیر خواہ ساتھیوں کو اس پر کچھ اعتراض ہو، لیکن چند معاملات ایسے ہیں جن کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ کرک نامہ کو شروع ہوئے ڈھائی سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور اس پورے عرصے میں میری، محمد اسد اور چند دیگر دوستوں کی بھرپورکوششوں کے باوجود بلاگ اپنے قارئین میں اتنا زیادہ اضافہ نہیں کر سکا، جس کی توقع تھی اور جو اس منصوبے کو ‘زندہ’ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اہم ہدف یہ تھا کہ کرک نامہ پر روزانہ آنے والے افراد کی تعداد اتنی ہو جائے کہ اس کے نتیجے میں اشتہارات ملیں، جن سے نہ صرف یہ کہ بلاگ خود کفیل ہوجائے بلکہ وابستہ افراد کے لیے بھی ایک کارآمد منصوبہ ثابت ہو۔

اسی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے انگریزی بلاگ کی شروعات کی ہے، جس کا مقصد اردو کے لیے لانچنگ پیڈ فراہم کرنا ہے۔ ایک ماہ تک ہمیں انگریزی کے نتائج بہت حوصلہ افزاء ملے ہیں اور اب جبکہ سال کا اہم ترین ٹورنامنٹ چیمپئنز ٹرافی شروع ہونے جا رہا ہے، پوری ٹیم کو بھرپور توقع ہے کہ اردو اور انگریزی دونوں کرک نامہ شائقین کرکٹ میں بھرپور مقبولیت حاصل کریں گے۔

مجھے اندازہ ہے کہ ابھی کرک نامہ پر بہت خامیاں موجود ہیں، لیکن پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنا چاہوں گا کہ میں نے اور پوری ٹیم نے اپنی بساط کے مطابق کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ جس حد تک ہم جا سکتے تھے،وقت لگانے، سرمایہ کاری، منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کرنے کے لیے تمام ممکنہ جدوجہد کی ہے۔ اور یہ تمام کام ہم نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگیوں میں سے وقت نکال کر کیے ہیں۔

اب ہم نے ایک قدم مزید آگے بڑھایا ہے، جو پیشہ ورانہ نوعیت کا ہے کہ انگریزی کے میدان میں بھی قدم رکھا ہے تاکہ وہاں آنے والے قارئین کو بتا سکیں کہ اگر آپ کو یہ بلاگ اور اس پر موجودہ تحاریر پسند آئی ہیں، تو ‘اطلاعاً عرض ہے’ کہ یہ مواد دراصل اردو سے ترجمہ شدہ ہے، اس اردو کو جو آپ کی قومی زبان ضرور ہے لیکن آپ نے اسے دھتکارا ہوا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ اس سے اردو بلاگز کے بارے میں جو عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ معیاری نہیں ہوتے، اس کو زائل کرنے میں مدد ملے گی اور خود کرک نامہ بھی خودکفالت کی منازل طے کرے گا۔

میں ان تمام دوستوں کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں جنہوں نے ڈھائی سال کے اس عرصے میں ہر قدم پر میری رہنمائی کی، تعریف کے ذریعے بھی اور تنقید کے ذریعے بھی۔ اور ساتھ میں یہ توقع بھی رکھتا ہو ں کہ اس سفر میں آنے والے تمام تر مراحل میں ان کا تعاون ہمیشہ کی طرح ایسے ہی موجود رہے گا۔

آخر میں میں آپ لوگوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ آپ کرک نامہ پر کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟ میں کوشش کروں گا کہ ٹیم کے ساتھ مل کر آپ کی فرمائشوں کو پورا کر سکوں۔

Pages