حکیم خالد کا بلاگ

آشوب چشم میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اور عرق گلاب مفید ہے :حکیم قاضی خالد


چھوتدار مرض ہے'بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستانلاہور:وطن عزیزمیں برسات 'لوڈ شیڈنگ'شدید گرمی'حبس اور پسینے کی زیادتی کی وجہ سے لاہور سمیت دیگرکئی شہر وںمیںبھی آشوب چشم کی وبا پھیل گئی ہے۔ متاثر ہونے والوں میں بچے' بڑے'مرد اور خواتین شامل ہیں۔اس سلسلے میں مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آشوب چشم ایک موسمی وباء ہے جوہر سال مون سون میں پھیلتی ہے تاہم طویل دورانئے کی لوڈ شیڈنگ اور شدید مرطوب گرمی بھی آشوب چشم کی وباء پھیلانے کااہم سبب ہے اس وائرل مرض کا دورانیہ کم و بیش ایک ہفتہ پر مشتمل ہوتاہے۔جدید تحقیقات اور ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق آشوب چشم کا کوئی خاص علاج نہیں لیکن چودہ سوسال قبل (بحوالہ نزہ المجا لس جزثانی)طبیب اعظم نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے آشوبِ چشم کا علاج ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے فرمایا۔ دنیا بھر کے تمام معالجین اس مرض سے نجات کیلئے طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔یونانی میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں 'خالص شہد سلائی سے لگانا مفید ہے علاوہ ازیں عرق گلاب سو ملی لیٹرمیں ایک گرام پھٹکری سفید شامل کرکے بطور آئی ڈراپس استعمال کریں یہ نسخہ بارہ سال سے کم عمر بچوںکیلئے نہیں ہے انہیں صرف صاف ٹھنڈے پانی یا عرق گلاب کا استعمال کروائیں۔دھوپ کی عینک کا استعمال اوربرف سے آنکھوں کی ٹکور فائدہ مندثابت ہوتی ہے یاد رہے برف صاف پانی کا ہویا عرق گلاب سے تیار کی گئی ہو۔ ٹھنڈک سے آشوب چشم کاوائرس کمزور پڑ جاتاہے۔ گرمی'حبس اور بارش کے بعد آلودہ پانی کی وجہ سے آشوب چشم کاوائرس زیادہ نشو و نما پاتا ہے اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے یہ وائرس دم توڑ دیتا ہے۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے آنکھ سرخ ہو جاتی ہے اورتکلیف کی شدت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ میں ریت گر گئی ہو۔ ایک آنکھ کے متاثر ہونے کے بعد دوسری آنکھ عموماً 48گھنٹے بعد متاثر ہو جاتی ہے۔ احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے ہوئے حکیم خالد نے کہا کہ یہ ایک چھوتدار مرض ہے جومتاثرہ فرد کے زیر استعمال اشیا ء خصوصاًتولئے'رومال یاا لودہ ہاتھ ملانے سے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو آشوب چشم سے متاثر ہوں وہ بار بارصابن یالیکوئڈ سوپ سے ہاتھ دھوئیں۔ آنکھوں سے بہنے والے پانی کو ہاتھ کی بجائے ٹشو پیپر سے صاف کر یں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کی صورت میںفوری طور پرہسپتال یاماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ آشوب چشم میںمندرجہ بالا بے ضرر گھریلو علاج کے علاوہ طرح طرح کی ادویات ازخود استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ غلط دوا کے استعمال سے قرنیہ متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

ایک صحت مند معاشرے کےلئے۔۔۔۔ ہمیں احتجاجی طریق کار ہر صورت بدلنا ہوں گے۔


 ماحولیاتی آلودگی'کینسر کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد ٹائر جلانے سے کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز وجود میں آتے ہیں: کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان
 ماحولیاتی آلودگی'دیگر امراض کے ساتھ ساتھ کینسر کے پھیلاؤ کا اہم سبب ہے۔ گاڑیوں کے دھویں سے خارج ہونے والاکاربن مونو آکسائیڈ'سیسہ 'نائٹروجن اور سلفر آکسائیڈ'سڑکوں کے کنارے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر'ہسپتالوں کا کچرا 'سرنجیں'استعمال شدہ بوتلیں'مضرِصحت کیمیائی کچرا'چمڑے کی فیکٹریوں کی آلودگی 'کارخانوں سے خارج ہونے والا مہلک دھواںاور زہریلی گیسوں کے ساتھ ساتھ شہروں میں خاص طور پر احتجاج کے موقع پر ٹائر جلانے سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے ہائڈروکاربن اور دیگر کیمیکلز وجود میں آتے ہیںجو آنکھوں 'ناک' گلے اور پھیپھڑوں کے متعدد امراض کے ساتھ ساتھ کینسر کا سبب بھی بنتے ہیں۔ٹائر جلانے سے نہ تو لوڈشیڈنگ میں فرق پڑاہے نہ کشمیر آزاد ہو جائے گانہ ہی اس سے معصوم فلسطینیوں کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی یہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا اظہار ہے البتہ اس اقدام سے ہم اپنے ہی لوگوں کو ضرور نقصان پہنچاتے ہیں۔احتجاج کی افادیت اور ضرورت سے کسی طور انکار ممکن نہیں زندہ قومیں احتجاج ضرور ریکارڈ کرواتی ہیں لیکن ہمیں اپنے معصوم بچوں اور بڑوں کی صحت کیلئے احتجاجی طریق کار بدلنا ہوں گے۔معالجین کا کا م صرف علاج کرنا ہی نہیں بلکہ عوام میں شعورِصحت بیدار کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔صحت مند پاکستانی معاشرے کیلئے طبی ایسوسی ایشنوں اوردیگرتمام این جی اوز کو بھی کینسر کے بارے میں آگہی اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کیلئے شعوربیدارکرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی عملی اقدامات کرنا ہوںگے۔ #( ''ہیلتھ پاک'' کے زیر اہتمام کینسراور ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں شعور و آگہی مہم کے حوالے سے منعقدہ ایک مجلس مذاکرہ سے مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد کا خطاب)
٭…٭…٭

موسم گرما : امراض سے بچا ؤکیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں: حکیم قاضی ایم اے خالد


سوتی ملبوسات استعمال کریں'پانی ابال کر پیئں'لیموں پانی اور دیگر مشروبات بکثرت استعمال کریںسرکہ موسم گرما کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے :کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور22مئی: اگر موثراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرمابیشتر امراض کا باعث بنتا ہے۔ لولگنا'بھوک کی کمی 'سردرد'صفراوی بخار'گھبراہٹ 'خفقان' ٹائیفائڈ'پھوڑے پھنسیاں'ہیپاٹائٹس 'یرقان 'گیسٹرو'ہیضہ' اسہال اور پیچش وغیرہ جیسے عوارضات اسی موسم میں ہوتے ہیں۔موسم گرما میںکولا مشروبات کی بجائے دودھ یا دہی کی لسی'بزوری 'صندل' فالسہ اور نیلوفر کا شربت 'لیموں پانی' تازہ پھل اورگوشت و فاسٹ فوڈز کی بجائے سبزیوں کا استعمال مفید ہے۔سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں بہت ضروری ہو تو سادہ پانی 'نمکین لسی یا لیموں پانی پی کراور سر و گردن پر کوئی کپڑا لے کر نکلیں۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل ہذاکے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک سیمینار بعنوان'' موسم گرما کے امراض اور ان سے بچاؤ''سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم میں سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں موجودہ دور میں جو پانی ہمیں میسرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پینا چاہیئے۔ بعض پھل مثلاً خربوزہ 'تربوزاور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیا ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی 'گیسٹرو'اسہال (دست)یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلا کر سکتی ہے ۔اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖ کے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوں پر عمل کریں تو یقینا ہم موسم گرما کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔٭…٭…٭

بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔



سوشل میڈیا پر ایک اسٹیٹس کے جواب پر مختصر مکالمہ ہوا پہلے وہ ۔۔۔۔۔۔اس کے بعد کچھ اپنا اظہار خیال ۔۔۔۔۔نذر قارئین ہے۔۔Hakim Khalidبلاگنگ ۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا۔۔۔۔کی خوبصورتی اور طاقت۔۔۔۔۔غیر منظم اور انفرادی سوچوں کے اطہار میں ہی پنہاں ہے۔۔۔۔۔۔اسے منظم کرنے والے کتنے ہی مخلص کیوں نہ ہوں ۔۔پاکستان میں۔۔۔اس حوالہ سے" غیر منظم ہونے کی خاصیت کا ختم ہونا" ۔۔۔۔۔۔ان جدید صحافتی اصناف کےلئے انتہائی خطرناک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Fahad Keharآپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، لیکن ہم کسی تنظیمی یا ضابطہ اخلاق کے بندھن میں نہیں باندھ رہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ایک پلیٹ فارم بنائیں جو بلاگنگ اور سوشل میڈيا میں اردو استعمال کرنے والوں کے لیے کارآمد ہو۔
Hakim Khalidاپنے بلاگ اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز۔۔۔۔۔ کیا کم ہیں؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فہد بھائیجس طرح بعض افراد ۔۔۔۔۔ لوگوں کے انگلش کے الفاظ درست کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔۔۔۔اسی طرح اب اردو کی املاء درست کروائی جا رہی ہے۔۔۔۔۔جبکہ الفاظ کے اندر چھپے۔۔۔۔۔۔ مفہوم کا ادراک کیا جاتا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔اعلی اردو دانی ۔۔۔۔۔اظہار رائے کےلئے ضروری نہین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹوٹے پھوٹے الفاط بھی بہت اچھا پیغام دے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو معاشرے کےلئے اہم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Ammar IbneZiaحکیم صاحب، گویا آپ کا کہنا ہے کہ الٹی سیدھی جیسی تیسی اردو لکھی جا رہی ہے تو لکھی جاتی رہے، اس کی درستی کی ضرورت نہیں ہے؟
Hakim Khalidجی بالکل ۔۔۔۔۔عمار بھائی۔۔۔۔اظہاررائے کو اردو دانی کے قواعدوضوابط کے ساتھ نتھی نہیں کیا جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اردو میں ایک وسعت ہے۔۔۔اور یہ کئی زبانوں کا مجموعہ ہے۔۔۔۔۔۔۔یہ زبان پرانے الفاظ متروک کرکے۔۔۔۔۔۔ نئے الفاظ خواہ وہ کسی بھی زبان سے متعلقہ ہوں ۔۔۔(آپ کے نا چاہتے ہوئے بھی) محفوظ کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔آپ ہر ممکن کوشش کے باوجود اسے نہیں روک سکتے ۔دہلی کی اردو۔۔۔۔۔الہ آباد کی اردو۔۔۔۔۔کو آپ موجودہ دور میں مسلط نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Ammar IbneZiaبات دہلی کی اردو اور لکھنو کی اردو کی نہیں ہے۔ اگر میں قواعد و انشا سے بے پروا ہوکر اردو لکھنے لگوں تو آپ میرا پیغام سمجھ بھی نہ سکیں۔ کسی کے لیے کہی گئی بات کو اپنے اوپر منطبق کرلیں۔ اور بات تو وہی اثر رکھتی ہے جو عمدہ پیرائے میں کہی گئی ہو۔ اب کوئی یہ اعتراض کر دے کہ بیمار افراد بھی اس کائنات کا حسن ہیں اور ان کے علاج پر توجہ نہیں دی جانی چاہیے، آپ کون ہوتے ہیں جو ان کا علاج کریں تو بتائیے کیسا لغو اعتراض مانا جائے گا۔ سیکھنے کا عمل زندگی بھر چلتا رہتا ہے۔ جس نے سیکھنا ہو سیکھ لے، جو نہ چاہے نہ سیکھے۔
Hakim Khalidیہی وجہ ہے کہ ایک سطحی تعلیم کے حامل رپورٹر کی۔۔۔۔۔۔ رپورٹنگ حالا ت و واقعات کی آگاہی کے حوالہ سے۔۔۔۔ انتہائی بہتر اور زیادہ پر اثرہوتی ہے۔۔(حالانکہ بعض اوقات اس کے الفاظ پر ہنسی آتی ہے)۔۔۔بہ نسبت ماس کمیونی کیشن ماسٹر یا اعلی تعلم یافتہ کے۔۔۔۔۔۔جو الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں اصل واقعات کی ہو بہو عکاسی نہیں کر پاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اظہار رائے کو کسی بھی قسم کے قواعدو ضوابط میں منضبط کرنا کسی طور مناسب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض امراض میں ۔۔۔۔۔۔۔علاج کے حوالہ سے زبردستی۔۔۔۔۔اور مریض کو گھر کے ماحول سے ۔۔۔۔۔۔ہسپتال لا پھینکنا۔۔۔ اسے مزید بیمار کر دیتاہے۔۔۔اور اسے ہسپتال کے قواعد و ضوابط میں جکڑ کر اسے وقت سے پہلے موت سے ہمکنار کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیکھنا ہی اگر ہو تو دوسروں کی کم علمی ٗجہل اورغلطیوں سے بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔
Ammar IbneZiaبہرحال، اپنی اپنی رائے ہے۔ اور یہ رائے کا ایسا اختلاف نہیں جس سے دلوں میں کدورتیں پیدا ہوں۔
  دلوں میں کدورتیں پیدا نہ ہوں اس لئے ہم جزوی اتفاق کرلیتے ہیں کہ اردو قواعدو انشاء کے قوانین کو مدنطر رکھتے ہوئے تحریر لکھی جائے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس اصول کا نفاذ صرف اخبارات کے ادارتی شعبہ تک ہی محدود ہو (جو پہلے سے ہی اس پر عمل پیرا ہیں)۔۔۔۔۔۔۔لیکن عام رپورٹنگ ۔۔۔۔بلاگنگ ۔۔۔۔۔اور سوشل میڈیا کے استعمال پر اس کی پابندی لازم نہین۔۔کیونکہ۔۔۔صرف اینگلینڈ اور عرب اسٹیٹس کے کچھ بلاگرز ہوں گے جو اپنی تحریروں میں اپنی زبان کی گرائمر کا خیال رکھتے ہوں گے ۔۔۔۔۔ورنہ دنیا بھر کے بلاگرز کی تحریریں اپنے آپ کو قواعدو انشاء کے اصولوں میں مقید نہیں کرتیں۔۔۔۔۔لہذا یہ اصول صرف اردو بلاگرز پر ہی کیوں لاگو ہو۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی اس سے ہمارے محترم بلاگرز کی تحریروں میں "بلاگیاں شلاگیاں " ختم ہو کر رہ جائیں گی۔۔۔۔سنجیدگی اچھی بات ہے لیکن انسان غیر سنجیدگی سے جو کچھ سیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔سنجیدگی سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے بھی ہمارے محترم اردو بلاگرز اردو قواعدو انشاء کو پس پشت ڈالتے ہوئے جب اپنی تحریروں میں پنجابی ،سندھی، بلوچی، پشتو ،کشمیری سمیت متعدد زبانوں اور بعض اوقات خود ساختہ زبانوں کے الفاظ کا "تڑکا" لگاتے ہیں تو "ریسیپی" بہترین بنتی ہے۔۔۔۔اور سب کو پسند بھی آتی ہے۔۔۔یہی حال اردو داں سیاست دانوں کا ہے جو اینگلینڈ میں بیٹھ کر اپنی اردو تقریر میں جب پنجابی بھڑکیں لگاتے ہیں تو عوام بہت محظوظ ہوتے ہیں اور ان کی صرف ایک پنجابی بھڑک پوری تقریر کو یاد رکھنے کا باعث بن جاتی ہے۔۔۔۔مختصراً یہ کہ غیر سنجیدگی کے پیچھے جو سنجیدہ پیغام چھپا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کے قارئین اسے بہتر طور پر یاد رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ اب اخبارات کی غیر سنجیدہ اور حقیقت سے کسی حد تک دور "سرخیاں" (جس کا سمٹ میں برا منایا گیا)عوام الناس کو زیادہ اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔۔۔۔۔اور وہ پوری خبر پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔۔۔۔(یہ طریقہ "اردو پوائنٹ" سمیت متعدد سائٹس نے بھی اپنایا ۔۔۔۔اور اپنی ویب سائٹ تک قارئین کو لانے میں بہت حد تک کامیاب ہین۔)
سوشل میڈیا اور بلاگنگ کی تحریریں ۔۔۔۔آزاد ہوتی ہیں۔۔۔۔۔انہیں آزاد ہی رہنا چاہئیے۔۔۔۔جہاں انسانیت کا استحصال ہو رہا ہو ۔۔۔۔وہاں زبانوں کا استحصال ایک بے معنی اور ضمنی سی چیز ہے۔۔۔۔عجیب اردوداں دانشور ہیں کہتے ہیں زباں بگڑی تو شخصیت بگڑ جاتی ہے ۔۔میں کہتا ہوں کہ معاشرہ بگڑنے پہ تو معترض نہین یہ دانشور ۔۔۔۔اور زباں بگڑنے پر کس قدر نوحہ کناں ہیں۔۔۔جب معاشرے کے بگاڑ کے بارے میں بات ہوتی ہے۔۔۔تو انسان جذباتی بھی ہوتا ہے۔۔۔اور جب انسان جذباتی ہوتا ہے تو وہ نون یا نون غنے کا خیال نہیں رکھتا ۔۔الف کی جگہ عین اس کے کی بورڈ سے نکلنا فطری ہوتا ہے ۔۔۔جب وہ اپنی رائے کا اظہار کر ڈالتا ہے تو اس کی طبیعت میں ایک سکون آ جاتا ہے یہ سکون اسے پرنٹ میڈیا کے قواعدو ضوابط میں نہیں مل سکتا ۔۔۔الیکٹرانک میڈیا میں الفاظ کے رکھ رکھاؤ میں وہ مکمل اظہار نہین کر پاتا ۔۔۔۔۔تمام قواعدو ضوابط سے آزاد اس لئے بھی ہونا ضروری ہیں کہ کاپی پیسٹ کا زمانہ ہے۔۔۔۔۔بیشتر پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔قواعدو انشاء کا خیال رکھنے والی ایک اچھی تحریر فوراً کاپی ہو کر انپیج کنورٹ ۔۔۔۔۔اور اگلے دن کسی اور نام سے اخبار کی زینت۔۔۔۔۔۔۔اب جو تحریر غیر سنجیدگی کا عنصر لئے ہوئے ہو گی ۔۔۔۔۔وہ اس تحریری سرقہ سے بھی محفوظ رہے گی۔آخر میں۔۔۔۔۔۔۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا ۔۔۔۔بلاگنگ اورسوشل میڈیا  کا محتاج ہونا چاہئیے ناکہ بلاگر اور سوشل میڈیا ان کی جھولی میں جا گرے ۔۔۔۔وہ "دھوتی مین " پر تبصرہ تو رہ ہی گیا ۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ اسے بغیر تبصرہ کے ہی رہنے دیتے ہین۔۔۔۔
تاہم ایک مرتبہ پھر کہوں گا۔۔۔۔۔۔بلاگنگ اور سوشل میڈیا کو آزاد رہنے دو۔۔۔۔۔

عصری تعلیم لازم مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلامی واخلاقی تعلیم کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔


حکیم قاضی ایم اے خالد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تہذیب، اخلاق، تمدن، انسانیت، شرافت، نیکی، بھلائی اور خیرخواہی فطرت کا اصل حصہ ہیں۔ تعلیم سے جس میں جلا پیدا ہوتی ہے، اس لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلیم ایک انسان کے لئے بنیادی ضرورت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تعلیم سے تہذیب و تمدن کا رشتہ جڑا ہوا ہے، جہاں تعلیم ہوگی وہاں انسانیت زندہ ہوگی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت نبی پاک سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے تک جہالت کا دور دورہ تھا۔ دور جاہلیت کی پہچان علم کے فقدان سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام وہ دین ہے، جس نے اپنی پہلی وحی میں علم و قلم کا ذکر فرماکر لکھنے پڑھنے کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ کتاب و سنت کی روشنی میں جس علم کی حوصلہ افزائی ملتی ہے، وہ علم نافع ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر جو قرآن پاک نازل ہوا، اس کی ایک معجزانہ شان یہ ہے کہ وہ علوم و فنون کا گنجینہ اور معارف و اسرار کا خزینہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تعلیم کو اگر مغرب زدگی کا دیمک لگ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ تہذیب و تمدن کو خیرباد کہہ دیتی ہے۔ایسی تعلیم اخلاقی زوال کے سارے راستے کھول دیتی ہے۔ اور انسانی اقدار کو پامال کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب سے دوری اور اخلاق سے عاری تعلیم اخلاقی خرابیوں کے راستے بناتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بری عادات کو اپنانے کے جواز تلاش کرکے خود کو اور دوسروں کو گمراہ کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عصری علوم کے ساتھ اسلامی و اخلاقی تعلیم کا حصول بھی لازم ہے۔ مغرب زدہ مذہب بیزار افراد اور مغرب زدہ تہذیب نے مذہب و اخلاق سے دوری کا نام ترقی رکھ لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب کہ یہ فطرت کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

املتاس تپ دق کے علاج میں موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


دنیا کی ایک تہائی آبادی ٹی بی کا شکار ہے'ہرآدھے منٹ بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے
آلودہ خوراک 'تنگ وتاریک مکانات 'غلاظت کے ڈھیر اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں
 غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور15مارچ:بھوک اور وزن میں کمی'لگاتار ہلکا بخار'بہت جلد تھکاوٹ ہونا'خصوصا رات کو پسینے میں شرابور ہوجانا ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں جبکہ مسلسل کئی ہفتوں سے کھانسی جو عام علاج سے درست نہ ہواور کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج نیز سینے میں دردوغیرہ جیسی علامات پھیپھڑوں کی ٹی بی کی نشاندہی کرتی ہیں۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں لعوق خیارشنبر اسکا قدیم مرکب ہے۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے ٹی بی کے مرض کی آگہی مہم کے آغاز پر (سٹاپ ٹی بی پارٹنر)ہیلتھ پاک کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیاکی آبادی کا ایک تہائی ٹی بی کی انفیکشن جبکہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد سے زائد ٹی بی کی مرض کا شکار ہیں۔کم وبیش ہرتیس سیکنڈ کے بعد ایک انسان ٹی بی سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور تیس لاکھ افراد سالانہ اس مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اسوقت ملک میں بیس لاکھ افراد تپ دق کے مریض ہیں جبکہ ان میں ہرسال تین لاکھ مریضوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔علاوہ ازیں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ ستر ہزارسے زائدپاکستانی اس مرض سے وفات پا جاتے ہیں۔ خصوصا ڈیرہ غازی خان'اوکاڑہ اور دیگر پسماندہ علاقوں میں بڑوں سمیت بچے بھی اس کا شکار ہورہے ہیں ٹی بی مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسیس نامی جرثومے سے پھیلتا ہے یہ جرثومہ مریض کے ناک کان تھوک بلغم اور خون میں موجود ہوتا ہے مریض کے تھوکنے کھانسنے اور چھینکنے سے یہ جرثومہ دوسروں تک منتقل ہوجاتا ہے لہذا مریض چھینکتے اورکھانستے و قت منہ کے آگے کپڑا رکھے کیونکہ ایک مریض کم وبیش مزید پندرہ نئے مریض وجود میں لانے کا باعث بنتا ہے تنگ وتاریک مکانات غلاظت کے ڈھیر گندے غذائی اجزا اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کم روشنی نمی یا سیلن والے تنگ وتاریک مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے ۔کچادودھ استعمال نہ کیا جائے اور رنج وغم سے دور رہا جائے۔ طبی تنظیموں اور دیگر این جی اوز کی جانب سے تپ دق کے مرض کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنا جبکہ حکومتی سطح پر غربت اور آلودگی کا خاتمہ ٹی بی سے نجات کیلئے انتہائی اہم ہے ۔طب یونانی میں بھی اس مرض کا موثر علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں املتاس کی پھلیوں کے گودے سے عالمی سطح پر ہربل و جدیدادویات تیار کی جارہی ہیں جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج ہیں ۔ جہاں ایلو پیتھک طریق علاج کی رسائی نہ ہو سکتی ہو وہاں طب یونانی سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس مرض کے علاج کیلئے ڈبلیو ایچ او نے ایک کم مدت اورسستاعلاج ڈاٹس متعارف کروایا ہے ۔جس سے فوری استفادہ کرکے تپ دق کے موذی مرض پر قابوپایا جاسکتا ہے۔
٭…٭…٭

گرمیوں میں کم پانی پینے سے گردے میں پتھری ہوسکتی ہے:حکیم خالد

گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہرگھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے لاہور 12مارچ :مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ موسم گرما میں گردے کی پتھری کے مریض خصوصی احتیاط برتیں کیونکہ گرمیوں میں گردوں کی پتھری اور دیگر امراض گردہ میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے۔یہ بات انہوں نے عالمی یوم گردہ کے حوالے سے ''ہیلتھ پاک '' کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب میں کہی انہوں نے مزید کہا کہ گرمی میں گردے کے مریضوں کو زیادہ پانی پینا چاہئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ صحتمندافراد بھی اگرگرمیوں میں پانی کم استعمال کریںتو انہیں گردے کی پتھری کے مرض کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالد کے مطابق گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہر ایک گھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے جبکہ رات کو بھی سونے سے کم از کم ایک دو گھنٹہ قبل پیٹ بھر کے پانی پینا چاہئے۔ اس کے علاوہ ورزش کے بعد اور کھانے سے پہلے یا درمیان پانی زیادہ پینے سے گردے کے امراض کم لاحق ہوتے ہیں۔معالج کے مشورے سے خربوزہ'تخم خربوزہ اور کھیرے کا استعمال نیز دیگر موسمی پھل اور ان کے جوسزبھی گردے کے امراض میں فائدہ مند ہیں۔کلونجی آئل اورخالص سرکہ وشہد کا مرکب امراض گردہ خصوصا پتھری اور ریگ گردہ کیلئے موثر ہے لیکن سرکہ سنتھیٹک یعنی مصنوعی نہ ہو ۔گردے کے پچیدہ امراض میں مبتلا افراد پانی کا استعمال اپنے معالج کے مشورہ سے کریں۔
٭٭٭

لیموں کی اسکنج بین کا استعمال گردے کی پتھری کا موثر علاج ہے:حکیم خالد


لاہور 12مارچ :مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ لیموں کی اسکنج بین کا استعمال گردے کی پتھری کا موثر علاج ہے جو صدیوں سے طب یونانی طریق علاج میں مستعمل ہے اب اسکی تصدیق نیویارک امریکہ میںایک طبی تحقیق نے بھی کر دی ہے یہ بات انہوں نے عالمی یوم گردہ کے موقع پرمنعقدہ ایک تقریب میں کہی انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں میں لیموں کی اسکنج بین نہ صرف ترو تازگی کا احساس بخشتی ہے بلکہ گردے کی بیماریوں سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔امریکہ میں گردے کے ا مراض میں مبتلا افراد پر کی جانے والی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لیموں کا رس گردے میں پتھری بننے کا عمل انتہائی کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ماہرین کے مطابق لیموں میں موجود Citrate کا تناسب کسی بھی دوسرے Citrus Fruit کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوتا ہے جو قدرتی طور پر گردے میں بننے والی پتھری کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ماہرین کاکہناہے کہ دو لیٹر پانی میں چارعدد لیموں کا رس ملا کر باقائدگی سے پینے سے گردے کا نظام موثر انداز میں کام کرتا ہے ۔ ٭…٭…٭

سرخ انقلاب سے واپس آجائیے ۔۔۔۔۔۔۔سبز انقلاب کی طرف


آزادی اور انقلاب مارچ کا مزید آگے بڑھنا ۔۔۔۔۔سرخ انقلاب۔۔۔۔۔۔۔۔کا باعث بن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔جو وطن عزیز میں کسی کےلئے بھی قابل قبول نہیں ۔۔۔۔۔ان آزادی اور انقلاب مارچ کے قائدین و کارکنان کی واپسی۔۔۔کسی طور شکست نہین۔۔۔۔بلکہ یہ واپسی۔۔۔۔سبز انقلاب۔۔۔۔۔۔۔لا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ہم عمران خان اور قادری صاحب کو کسی صورت کھونا نہیں چاہتے۔۔۔۔۔۔۔اس وقت کہ جب اپوزیشن بالکل مفقود ہو چکی ۔۔اور حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے ہمراہ ایک "پیج" پر ہیں۔۔۔۔ہم عمران کو "شیڈو وزیراعظم" کے طور پر قبول کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اور قادری صاحب کو بھی اپنے حقوق کے تحفظ کےلئے ضروری خیال کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔تاہم انہیں آئین اور پارلیمنٹ کا تقدس مدنظر رکھنا ہو گا۔۔۔۔۔۔مزاکرات میں ان قائدین کو کچھ ملے یا نا ملے ۔۔۔۔۔۔۔۔اب بھی عمران صاحب اور قادری صاحب عوام کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ۔۔۔۔پلیز بیک ٹو ۔۔۔۔۔۔۔۔گرین ریوولیشن۔۔۔۔۔۔۔!!!

ڈپریشن اورکولیسٹرول میں توازن کیلئے نمازبہترین علاج ہے:حکیم خالد

نماز تراویح 'بیسیوں امراض سے تحفظ فراہم کرتی ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان
لاہور :موجودہ ملکی سیاسی'سماجی و معاشی حالات کے باعث ڈپریشن (یاسیت )کی مرض میں انتہائی اضافہ ہو رہا ہے ۔ ڈپریشن کے خاتمہ کیلئے وضو ' نمازپنجگانہ اور تراویح کی ادائیگی انتہائی فائدہ مند ہے اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالدنے ینگ مسلمز انٹرنیشنل کے زیر اہتمام''نماز پنجگانہ اور تراویح ۔جدید تحقیق و طبی نکتہ نگاہ '' پر مبنی خصوصی لیکچر میں کیاانہوں نے کہا کہ جدید تحقیقات کے مطابق ڈپریشن کے خاتمہ کیلئے وضو 'نماز پنجگانہ اور تراویح کی ادائیگی کو دنیا بھر کے محققین نے تسلیم کیا ہے۔امریکن ہاروڈ یونیورسٹی کے ایک معروف محقق ڈاکٹر ہربرٹ بِنسن نے اپنی ایک تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دوران نماز تراویح قرآنی آیات بار بار سننے اور ذکر الٰہی سے عضلات میں تحریک پیدا ہونے کے علاوہ ذہن برے خیالات سے پاک ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ایک خاص قسم کاری لیکسیشن ریسپونس Relaxation Responseوجود میں آتا ہے جس سے بلند فشارِ خون میں واضح کمی نمودار ہونے کے علاوہ جسم میں آکسیجن کی تقسیم میں بہتری سے 'قلب اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔قاضی خالد نے کہا کہ دنیا میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس میں نمازوں اور تراویح میں جسم کی حرکات و سکنات' روحانی ورزش کے طورپر استعمال ہوتی ہیں۔ اگر ایک مسلمان نمازیں اور تراویح باقاعدہ ادا کرتا ہے تو وہ نہ صرف زندگی کے مشکل ترین کام اور بھی بخوبی انجام دینے کے قابل بن جاتا ہے بلکہ اس سے بیسیوں طبی و روحانی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔حکیم خالد نے کہا کہ نماز پنجگانہ اور باقاعدہ تراویح پڑھنے سے اضافی حرارے جلتے ہیں جس سے موٹاپے اور اضافی وزن میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔بند جوڑ کھل جاتے ہیں اورہڈیوںو عضلات میںمضبوطی پیدا ہو جاتی ہے۔میٹابولزم کی رفتار میں سرعت اورگردشِ خون پر خوشگوار اثرات پڑتے ہیں۔رفتارِ قلب اور کولیسٹرول اعتدال پر رہتا ہے۔یکسوئی اور مکمل دھیان سے مراقبہ کے تمام فوائد حاصل ہوتے ہیںیاداشت میں بہتری آجاتی ہے پریشانی اور افسردگی سے چھٹکاراحاصل ہوتا ہے۔ڈپریشن یاسیت اوربے خوابی سے نجات مل جاتی ہے۔جسمانی اور ذہنی دباؤ دور ہو کرروح کی پاکیزگی اور تازگی حاصل ہوتی ہے نظام تنفس اورقلب پر مثبت اثرات پڑنے سے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات میں کمی پیدا ہوتی ہے۔ہڈیوں کی بیشتر بیماریوںسے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بعض محققین کے مطابق عبادت کا یہ انداز اینٹی ایجنگ کیفیت رکھتا ہے نیزبڑھاپے میں بھی متحرک اور فعال رہا جا سکتا ہے تمام نمازوں اور تراویح کی ادائیگی سے رضائے پروردگار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ طبی فوائد حاصل کر کے ایک بہترین اورصحت مند زندگی گذاری جا سکتی ہے۔

روزہ شوگر لیول 'کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد


افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیا کا بکثرت استعمال کئی امراض کا باعث بنتا ہے
اولاد کی نعمت سے محروم اور موٹاپے کی شکار خواتین ضرور روزے رکھیں
روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور: دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمان اسلامی و قرآنی احکام کی روشنی میںبغیر کسی جسمانی و دنیاوی فائدے کاطمع کئے تعمیلاًروزہ رکھتے ہیں تاہم روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ روزہ رکھنے سے جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیںجسے دنیا بھر کے طبی ماہرین خصوصا ڈاکٹر مائیکل' ڈاکٹر جوزف' ڈاکٹر سیموئیل الیگزینڈر'ڈاکٹر ایم کلائیو'ڈاکٹر سگمنڈ فرائیڈ'ڈاکٹر جیکب 'ڈاکٹر ہنری ایڈورڈ'ڈاکٹر برام جے 'ڈاکٹر ایمرسن' ڈاکٹرخان یمر ٹ 'ڈاکٹر ایڈورڈ نکلسن اور جدید سائنس نے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز سے تسلیم کیا ہے روزہ شوگر لیول 'کولیسٹرول اوربلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے اسٹریس و اعصابی اور ذہنی تناؤختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتاہے روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہوجاتا ہے اور جسم کی تطہیر ہوجاتی ہے۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور معروف یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے ماہ صیام کی آمد کے موقع پرکونسل ہذا کے زیراہتمام ایک مجلس مذاکرہ بعنوان'' روزہ اور جدید سائنس'' سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ روزہ انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کا اخراج کرتا ہے روزہ رکھنے سے دماغی خلیات بھی فاضل مادوں سے نجات پاتے ہیںجس سے نہ صرف نفسیاتی و روحانی امراض کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ اس سے دماغی صلاحیتوں کو جلامل کر انسانی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیںوہ خواتین جواولاد کی نعمت سے محروم ہیں اور موٹاپے کا شکار ہیں وہ ضرور روزے رکھیں تاکہ ان کا وزن کم ہوسکے 'یا د رہے کہ جدید میڈیکل سائنس کے مطابق وزن کم ہونے سے بے اولاد خواتین کو اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

 روزہ موٹاپا اورپیٹ کو کم کرنے میں مفید ہے خاص طور پر نظام ہضم کو بہتر کرتا ہے علاوہ ازیں مزید کئی امراض کا علاج بھی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم سحر وافطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں۔خصوصاً افطاری کے وقت زیادہ ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلا ًسموسے' پکوڑے 'کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فوائدبھی مفقود ہوجاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے لہذا افطاری میں دستر خوان پر دنیا جہان کی نعمتیں اکٹھی کرنے کی بجائے افطار کسی پھل 'کھجور یا شہد ملے دودھ سے کرلیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے اس طرح دن میں تین بار کھانے کا تسلسل بھی قائم رہے گا اور معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں ۔انشاء اللہ ان احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کرنے سے روزے کے جسمانی وروحانی فوائدحاصل کر سکیں گے۔

جیو کے بعد اے آر وائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر؟؟؟؟


بےوقوف الیکٹرانک میڈیا۔۔۔۔۔نے۔۔۔۔۔۔۔۔جیو گروپ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔۔حمائت۔۔۔۔۔اور۔۔۔رائے عامہ استوار کر کے ۔۔اصل میں۔۔"شیخ چلی کے کلاسیک کردار" کو دہرایا ہے ۔۔۔۔۔۔جو اسی ٹہنی کو کاٹتا ہے جس پر کہ خود بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کام مشرف دور میں غیر قانونی طور پر ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔اب "قانونی" طور پر ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جس پر احتجاج اور کالی پٹیوں کی بھی گنجائش نہیں رہی۔۔۔۔۔۔۔جیو کے بعد اے آر وائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔۔۔معلوم نہیں کونسا چینل ؟؟؟۔۔۔۔۔اب یہ طوطا۔۔۔۔۔۔۔۔کہ جس میں الیکٹرانک میڈیا کی جان ہے۔۔۔بذریعہ پیمرا۔۔۔۔حکومت کی تحویل میں ہے۔۔۔۔۔وہ جب چاہے گردن گھونٹ دے۔۔۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے "مجبور" میڈیا کبھی غیر جانبدار نہیں ہوا کرتا۔۔۔۔۔فلسفہ اقبال یہاں بھی "فٹ" بیٹھتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔"عقل کی انتہا پاگل پنے کی ابتدا ہے"

ویلنٹائن ڈے ایک اخلاقی اور تہذیبی کینسر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد



اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے وطنِ عزیز پاکستان میںکچھ عرصے سے مغربی ذرائع ابلاغ کی تعلیمات و ہدایات کے زیراثر ہمارے ہاں تو اتر سے ایک ایسا طبقہ پروان چڑھ رہا ہے جس نے تہذیب مغرب کی نقالی کو اپنا ایمان بنا رکھا ہے۔ اپنے آپ کو، ماڈرن سمجھنے اور دکھانے کا انہوں نے واحد اسلوب ہی یہ سمجھ رکھا ہے کہ اہل مغرب سال بھر میں جو تقریبات منائیں ان کے نقشِ قدم پر اس ہنگامہ آرائی میں دیوانہ وارشامل ہو جائیں ۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ آخر ان مغربی تہواروں کا پس منظر کیا ہے؟ ان کے لئے تو بس یہی امرکافی ہے کہ وہ مغرب زدہ ذرائع ابلاغ پر ایک جھلک دیکھ لیں یا معمولی سی خبر سن لیں کہ فلاں تاریخ کو مغرب کی جدید و جواں نسل کوئی تہوار منا رہی ہے۔ اس جدیدیت گزیدہ طبقہ کو تو تہوار منانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ چاہئے۔جس ،ویلنٹائن ڈے، کو منامنا کر ہمارے ہاں بعض، محبت کے متوالے، للکان ہوتے رہے ہیں وہ،تقریب شریف، تو اہل مغرب کے لئے بھی بدعت جدیدہ کا درجہ رکھتی ہے۔ ماضی میں یورپ میں بھی اس کو منانے والے نہ ہونے کے برابر تھے۔ اگر یہ کوئی بہت اہم یا ہردلعریز تہوار ہوتا تو انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں اس کا ذکر محض چار سطور پر مبنی نہ ہوتا جہاں معمولی واقعات کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں سینٹ ویلنٹائن ڈے، کے متعلق چند سطری تعارف کے بعد، ویلنٹائن ڈے، کے متعلق تذکرہ محض ان الفاظ میں ملتا ہے،سینٹ ویلنٹائن ڈے، کو آج جس طرح عاشقوں کے تہوار(Love,s Festival) کے طور پر منایا جاتا ہے یا ویلنٹائن کارڈ بھیجنے کی جو نئی روایت چلی نکلی ہے اس کا سینٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق یا تو رومیوں کے دیوتاپر کا لیا کے حوالے سے 15 فروری کو منائے جانے والے تہوار بار آوری یا پرندوں کے، ایام اختلاط،(Meeting season) سے ہے۔گو یا اس مستند حوالے کی کتاب کے مطابق اس دن کو سینٹ سے سرے سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ بعض رومانیت پسند ادیبوں نے جدت طرازی فرماتے ہوئے اس کو خواہ مخواہ سینٹ ویلنٹائن کے سر تھوپ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ نے ماضی میں کبھی بھی اس تہوار کو قومی یا ثقافتی تہوار کے طور پر قبول نہیں کیا لبتہ آج کے یورپ کے روایت شکن جنونیوں کا معاملہ الگ ہے۔ایک اور انسائیکلوپیڈیا ،بک آف نالج، میں اس دن کے بارے میں نسبتاًزیادہ تفصیلات ملتی ہیں مگر وہ بھی تہائی صفحہ سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس کی پہلی سطر ہی رومان انگیز ہے۔14″ فروری محبوبوں کے لئے خاص دن ہے۔” اس کے بعد وہی پرندوں کے اختلاط کا ملتا جلتاتذکرہ ان الفاظ میں ملتا ہے۔،ایک وقت تھا کہ اسے سال کا وہ وقت خیال کیا جاتا تھا جب پرندے صنفی مواصلت کا آغاز کرتے ہیں اور محبت کا دیوتا نوجوان مردوں اور عورتوں کے دلوں پر تیر بر ساکرانہیں چھلنی کرتا ہے۔ بعض لوگ خیال کرتے تھے کہ ان کے مستقبل کی خوشیاں ویلنٹائن کے تہوار سے وابستہ ہیں ۔،اس انسائیکلوپیڈیا میں ، ویلنٹائن ڈے، کا تاریخی پس منظر یوں بیان کیا گیا ہے:،ویلنٹائن ڈے، کے بارے میں یقین کیا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار پر کا لیا (Calia Luper) کی صورت میں ہوا۔ قدیم رومی مرد اس تہوار کے موقع پر اپنی دوست لڑکیوں کے نام اپنی قمیضوں کی آستینوں پر لگا کر چلتے تھے۔ بعض اوقات یہ جوڑے تحائف کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ بعد میں جب اس تہوار کو سینٹ ویلنٹائن کے نام سے منایا جانے لگا تو اس کی بعض روایات کو برقرار رکھا گیا ۔ اسے ہر اس فرد کے لئے اہم دن سمجھا جانے لگا جو رفیق یا رفیقہ حیات کی تلاش میں تھا۔ سترہویں صدی کی ایک پر امید دوشیزہ سے یہ بات منسوب ہے کہ اس نے ویلنٹائن والی شام کو سونے سے پہلے اپنے تکیے کے ساتھ پانچ پتے ٹانکے۔ اس کا خیا ل تھا کہ ایسا کرنے سے وہ خواب میںاپنے ہونے والے خاوند کو دیکھ سکے گی۔ بعد ازاں لوگوں نے تحائف کی جگہ ویلنٹائن کا رڈ ز کا سلسلہ شروع کر دیا۔14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کے متعلق کوئی مستند حوالہ تو موجود نہیں ہے البتہ ایک غیر مستند خیالی داستان پائی جاتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع تھا اس لئے ایک دن ویلنٹائن صاحب نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں یہ بتایا گیا ہے کہ14 فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں تو اسے گناہ نہ سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے۔کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کر دیا گیا ۔ بعد میں کچھ منچلوں نے ویلنٹائن صاحب کو،شہید محبت، کے درجے پر فائز کرتے ہوئے ان کی یاد میں دن منانا شروع کر دیا۔ چرچ نے ان خرافات کی ہمیشہ مذمت کی ادراسے جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال بھی عیسائی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں سخت بیانات دیے۔ بنکاک میں تو ایک عیسائی پادری نے بعض افراد کو لے کر ایک ایسی دکان کو نذر آتش کر دیا جس پر،ویلنٹائن کارڈ، فروخت ہورہے تھے۔آج کل یورپ امریکہ میں ویلنٹائن ڈے کیسے منایا جاتاہے اور اس کو منانے والے دراصل کون ہیں ؟ اس کی تفصیلات جاننے کے بعد اس دن کو محض ،یوم محبت، سمجھنا درست نہیں ہے۔ یہ تہوار ہر اعتبار سے یومِ اوباشی کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ مغرب میں ، محبت، کا تصور و مفہوم یکسر مختلف ہے جس جذبے کو وہاں،محبت، (Love) کا نام دیا جاتا ہے وہ در حقیقت بوالہوس(Lust) ہے۔ مغرب کے تہذیبی اہداف میں جنسی ہوس اور جنسی باؤ لے پن کی تسکین کی خاطر مردوزن کے آزادانہ اختلاط کو بھر پور ہوا دینا ہے۔ اس معاشرے میں عشق اور فیق میں کوئی فرق روانہیں رکھا جاتا۔مردوزن کی باہمی رضامندی سے ہر طرح شہوت رانی اور زناکاری وہاں ،محبت، ہی کہلاتی ہے اسی طرح ویلنٹائن جنسی بے راہ روی کے لئے بطور استعارہ استعمال ہوتاہے۔ محترم عزیزالرحمن ثانی کے مطابق ایک فاضل دوست جونہ صرف امریکہ سے بین الاقوامی قانون میں پی ایچ ڈی کرکے آئے ہیں بلکہ وہاں ایک معروف یونیورسٹی میں پڑھانے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں انہوں نے اپنے چشم دیدواقعات کی روشنی میں اس کا پس منظر بیان کیا کہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور یورپ میں اس دن کو جوش و خروش سے منانے والوں میں ہم جنس پرستی میں مبتلانوجوان لڑکے اور لڑکیاں پیش پیش تھیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سان فرانسسکو میں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ہم جنس پرست خواتین و حضرات کے برہنہ جلوس دیکھے۔ جلوس کے شرکاء نے اپنے سینوں اور اعضائے مخصوصہ پر اپنے محبوبوں کے نام چپکار کھے تھے۔ وہاں یہ ایسا دن سمجھا جاتا ہے جب،محبت، کے نام پر آوارہ مرد اور عورتیں جنسی ہو سنا کی کی تسکین کے شغل میں غرق رہتی ہیں ۔ جنسی انار کا بدترین مظاہرہ اسی دن کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہ دوست آج کل لاہور میں ایک پرائیویٹ لاء کالج کے پرنسپل ہیں۔ ایک جدید روشن خیال اور وسیع المطالعہ شخص ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان میں ،ویلنٹائن ڈے، منانے والوں کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا کہ، میراجی چاہتا ہے کہ اس دن کو منانے کے لئے جہاں جہاں اسٹال لگائے گئے ہیں انہیں آگ لگادوں ،۔قدیم روم میں اس تہوار کو،خاوند کے شکار، کادن سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں کسی عورت کے لئے مارکیٹ میں خاوند کی تلاش میں نکل کھڑے ہونا بے حمیتی اور بے غیرتی کی بات سمجھی جاتی ہے۔ہمارے خاندانی نظام میں عورت کو جواحترام حاصل ہے اس کے پیش نظر اس کی شادی بیاہ کا اہتمام اس کے خاندان کی ذمہ داری ہوتی ہے جبکہ مغرب میں یہ کام وہاں کی عورت کو خود کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے ۔،آپ سے یہود ونصار ہرگزراضی نہیں ہونگے جب تک کہ آپ انکے مذہب کے تابع نہ بن جائیں ،(البقرہ :120)اور اللہ کے رسول کا فرمان ہے ،تم اپنے سے پہلی امتوں کے طریقوں کی ضرورباضرور پیروی کروگے،بالشت دربالشت،ہاتھ درہاتھ حتی کہ اگر وہ گوہ کیبل میں داخل ہوئے ہونگے تو تم بھی ان کی پیروی میں اسمیں داخل ہوگے ،ہم نے کہا اے اللہ کے رسول !کیا یہوداورنصار؟ آپ نے فرمایا: پھراور کون؟ ، (صحیح بخاری تاب العتصام بالتاب والسن :8/151)اور آپ کا ارشاد ہے ،من تشبہ بِقوم فہو مِنھم،جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے(مسند احمد 2/50) قارئین محترم! دفتر تعاونی برائے دعوت وتوعی الجالیات ربوالریاض کے محقق شفیق الرحمن ضیاء اللہ اورمعروف عالم دین ابو عبد المعیدسے تہوارمحبت ، ویلنٹائن ڈے،کے حوالے سے کتاب وسنت کی روشنی میںجو معلومات حاصل ہوئیں وہ درج ذیل ہیں۔ رب کریم کا ہم پر لا کھ لاکھ شکرو احسان ہے کہ ہمیں اس دنیائے آب وگل میں پیدا کرنے کے بعد ہماری رشدوہدایت کے لئے ا نبیا ورسل کا سلسلہ جاری کیا ،جوحسب ضرورت وقتا فوقتا ہر قوم میں خدائی پیغام کو پہنچاتے رہے ،اوراس سلسلہ نبوت کے آخری کڑی احمد مجتبیٰ،محمد مصطفی ہیں جوکسی خاص قوم کیلئے نہیں ،بلکہ ساری انسانیت کے لئے رشدوہدایت کا چراغ بن کرآئے،جنہوں نے راہ ہدایت سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم کے روشن شاہراہ پرلا کر گامزن کیااورتیئیس سالہ دور نبوت کے اندر رب کریم نے دین کومکمل کردیا اور یہ فرما ن جاری کردیا کہ، الیوم ملت لم دِینم وتممت علیم نِعمتِی ورضِیت لم الِسلام دِینا ،آج میںنے تمہارے لئے دین کومکمل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھر پورکردیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضا مند ہوگیا (سور المائدہ: 3 ) یہ آیت کریمہ حجۃ الوداع کے موقع پرجمعہ کے دن عرفہ کی تاریخ کو نازل ہوئی اور محمدﷺ کے ذریعہ شریعت کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا لہذا اب دین میں کسی کمی وزیادتی کی ضرورت باقی نہ رہی اور آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ،لوگوں میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہوگے گمراہ نہیں ہوگے،ایک کتاب اللہ دوسری میری سنت یعنی حدیث،پھرآپ کا چند مہینے کے بعدوصال ہوگیااور لوگ چند صدیوں تک دین کے صحیح شاہراہ پر قائم رہے یہاں تک کہ خیرالقرون کا دور ختم ہوگیااوررفتہ رفتہ عہد رسالت سے دوری ہوتی گئی اورجہالت عام ہونے لگی، دین سے لگا ؤکم ہوتا گیا،مختلف گمراہ اور باطل فرقے جنم لینا شروع کردئیے ،یہودو نصار اور دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ تیز پکڑتا گیا اوربہت سارے باطل رسم ورواج اورغیر دینی شعائر مسلمانوں نے یہودونصاری کی اندہی تقلید میں اپنا نا شروع کردیا ،چنانچہ انہیں باطل رسم رواج اورغیردینی شعائر میں سے عید الحب ،ویلنٹائن ڈے یا محبت اورعشق وعاشقی کا تہوار ہے ۔ جسکوموجودہ دورمیں ذرائع بلاغ (انٹرنیٹ،ٹیلی ویژن،ریڈیو،اخباروجرائد)کے ذریعہ پوری دنیا میںبڑے ہی خوشنما اورمہذب انداز میں پیش کیا جارہاہے جسمیںنوجوان لڑکوںاورلڑکیوں کاباہم سرخ لباس میں ملبوس ہوکر گلابی پھولوں،عشقیہ کارڈوں،چاکلیٹ اورمبارکبادی وغیرہ کے تبادلے کے ذریعے عشق ومحبت،کا کھلم کھلا اظہارہوتا ہے ،اوربے حیائی وفحاشی اورزناکاری کے راستوں کو ہموارکیا جاتا ہے اوررومی وثنیت اورعیسائیت کے باطل عقیدے اورتہوارکو فروغ وتقویت دی جاتی ہے اور مسلمان کافروں کی اند ھی تقلید کرکے اللہ ورسول کی غضب وناراضگی کا مستحق ہوتا ہے۔آئیے ہم آپ کو اس تہو ار کی حقیقت وپس منظر اور اسلامی نقطہ نظرسے اسکے حکم کے بارے میں بتاتے چلیں تاکہ اس اندھی رسم ورواج کا مسلم معاشرے میںایک ناسور کی طرح پھیلتا چلا جارہا ہے اورنوخیز عمرکے لڑکوں اور لڑکیوں کو فحاشی و زناکاری کی طرف دعوت دے رہا ہے اسکا علاج ا ورخاتمہ ہوسکے ۔
ویلنٹائن ڈے(یوم محبت) کا پس منظریوم محبت رومن بت پرستوں کے تہواروں میں سے ایک تہوارہے جبکہرومیوں کے یہاں بت پرستی سترہ صدیوں سے زیادہ مدت سے رائج تھی اوریہ تہواررومی بت پرستی کے مفہوم میں حب الہٰی سے عبار ت ہے ۔اس بت پرست تہوار کے سلسلے میں رومیوں اوران کے وارثین عیسائیوں کے یہا ں بہت ساری داستانیں اورکہانیاں مشہورہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہوریہ ہے کہ رومیوں کیاعتقاد کے مطابق شہرروما کے مسِس روملیوس کو ایک دن کسی مادہ بھیڑیا نے دودھ پلایا جس کی وجہ سے اسے قوت فکری اور حلم وبردباری حاصل ہوگئی لہذارومی لوگ اس حادثہ کی وجہ سے ہرسال فروری کے وسط میں اس تہوار کو منایا کرتے ہیں,اسکا طریقہ یہ تھا کہ کتا اور بکری ذبح کرتے اور دو طاقتور مضبوط نوجوان اپنے جسم پر کتے اور بکری کے خون کا لیپ کرتے,اور پھر اس خون کو دودہ سے دہوتے,اور اسکے بعد ایک بہت بڑا قافلہ سڑکوں پرنکلتا جسکی قیادت دونوں نوجوانوں کے ہاتہ میں ہوتی, اوردونوں نوجوان اپنیساتہ ہاتہ میں چمڑے کے دو ٹکڑے لئے رہتے, جو بھی انہیں ملتا اسے اس ٹکڑے سے مارتے اور رومی عورتیں بڑی خوشی سے اس ٹکڑے کی مار اس اعتقاد سے کھاتیںکہ اس سے شفا اور بانجھ پن دور ہو جاتا ہے ۔سینٹ،ویلنٹائن ،کا اس تہوار سے تعلق :سینٹ ویلنٹائن نصرانی کنیسہ کے دو قدیم قربان ہونے والے اشخاص کا نام ہے اورایک قول کے مطابق ایک ہی شخص تھا جو شہنشاہ، کلاودیس ،کے تعذیب کی تاب نہ لا کر 296 میں ہلاک ہوگیا ۔اور جس جگہ ہلاک ہوا اسی جگہ 350میلادی میں بطور یادگار ایک کنیسہ تیار کردیا گیا ۔ جب رومیوں نے عیسائیت قبول کرلی تو وہ اپنے اس سابقہ تہوار کو مناتے رہے لیکن انہوں نے اسے بت پرستی،محبت الہٰی کے مفہوم سے نکا ل کردوسرے مفہوم محبت کے شہدامیںتبدیل کر دیا اورانہوں نے اسے محبت وسلامتی کی دعوت دینے والے،سینٹ ویلنٹائن،کے نام کردیا جسے وہ اپنی گمان کے مطابق اسے اس راستے میں شہید گردانتے ہیں ۔اور اسے عاشقوں کی عید اورتہوار کا نام بھی دیتے ہیںاورسینٹ ویلنٹائن کو عاشقوں کا شفارشی اور ان کا نگراں شمار کرتے ہیں۔اس تہوار کے سلسلے میں ان کے باطل اعتقاد ات میں سے یہ تھی کہ نوجوان اور شادی کی عمر میں پہنچنے والی لڑکیوں کے نام کاغذ کے ٹکڑوں پرلکھ کر ایک برتن میں ڈالتے اوراسے ٹیبل پر رکھ دیا جاتااور شادی کی رغبت رکھنے والے نوجوان لڑکوں کو دعوت دی جاتی کہ ا ن میں سے ہرشخص ایک پرچی کونکا لے لہذا جس کا نام اس قرعہ میں نکلتا وہ اس لڑکی کی ایک سال تک خدمت کرتا اور وہ ایک دوسرے کے اخلاق کا تجربہ کرتے پھر بعد میں شادی کرلیتے یاپھر آئندہ سال اسی تہوار یوم محبت میں دوبارہ قرعہ اندازی کرتے۔لیکن دین نصرانی کے علما اس رسم کے بہت زیادہ مخالف تھے اوراسے نوجوان لڑکے لڑکیوں کیاخلاق خراب کرنے کا سبب قرار دیالہذا اٹلی جہاں پر اسے بہت شہرت حاصل تھی اسے باطل وناجائز قراردے دیا گیا پھر بعد میں اٹھارہ اورانیسویں صدی میں دوبارہ زندہ کیا گیا وہ اس طرح کہ کچھ یوروپی ممالک میں کچھ بک ڈپوں پر ایک کتاب (ویلنٹائن کے نام )کی فروخت شروع ہوئی جس میں عشق ومحبت کے اشعار تھے ,جسے عاشق قسم کے لوگ اپنی محبوبہ کو خطوط میں لکھنے کیلئے استعمال کرتے تھے اوراس میں عشق ومحبت کے خطوط لکھنے کے بارہ میں چند ایک تجاویزبھی درج تھے۔2 ا س تہوار کاایک سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جب رومی بت پرستوںنے نصرانیت قبو ل کرلی اور عیسائیت کے ظہور کے بعد اس میں داخل ہوگئے توتیسری صدی میلادی میں رومانی بادشاہ کلاودیس دوم نے اپنی فوج کے لوگوں پر شادی کر نے کی پابندی لگادی کیونکہ فوجی بیویوں کی وجہ سے اس کیساتھ جنگوں میں نہیں جاتے تھے۔لیکن سینٹ ویلنٹائن نے اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے چوری چھپے فوجیوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیااور جب کلاودیس کو اس کا علم ہوا تو اس نے سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیااور اسے پھانسی کی سزادے دی کہا جاتا ہے کہ قید کے دوران ہی سینٹ ویلنٹائن کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی اور سب کچھ خفیہ ہواکیونکہ پادریوں اور راہبوں پر عیسائیوںکے نزدیک شادی کرنا اورمحبت کے تعلقات قائم کرنا حرام ہیں نصاری کے یہاں اس کی شفارش کی گئی کہ نصرانیت پر قائم رہے اورشہنشاہ نے اسے عیسائیت ترک کرکے رومی بت پرستی کے دین کو قبول کرنے کو کہا کہ اگر وہ عیسائیت تر ک کردے تو اسے معاف کردیا جائیگا اور وہ اسے اپنا داماد بنا نے کے ساتھ اپنے مقربین میں شامل کرلے گا لیکن ویلنٹائن نے اس سے انکار کردیا اورعیسائیت کو ترجیح دی اوراسی پر قائم رہنے کا فیصلہ کیاتو چودہ فروری 270 کے دن اور پندرہ فروری کی رات اسے پھانسی دے دی گئی اور اسی دن سے اسے قدیس یعنی پاکباز بشب کا خطاب دے دیا گیا ۔اسی قصہ کوبعض مصادر نے چند تبدیلی کے سا تھ اس طرح ذکرکیا ہے کہ پادری ویلنٹائن تیسری صدی عیسوی کے اواخرمیں رومانی بادشاہ کلاودیس ثانی کے زیر اہتمام رہتا تھا کسی نافرمانی کی بنا پر بادشاہ نے پادری کو جیل کے حوالے کردیا جیل میں جیل کے ایک چوکیدار کی لڑکی سے اس کی شناسائی ہوگئی اور وہ اس کا عاشق ہوگیایہاں تک کہ اس لڑکی نے نصرانیت قبول کرلیا اور اس کے ساتھ اس کے 46رشتہ دار بھی نصرانی ہوگئے وہ لڑکی ایک سرخ گلاب کا پھول لے کر اس کی زیارت کے لئے آتی تھی جب بادشاہ نے یہ معاملہ دیکھا تو اسے پھانسی دینے کا حکم صادر کردیاپادری کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ اس کا آخری لمحہ اس کی معشوقہ کے ساتھ ہو چنانچہ اس نے اس کے پاس ایک کارڈ ارسال کیا جس پر لکھا ہوا تھانجات دہندہ ویلنٹائن کی طرف سے پھر اسے 14فروری 270 کو پھانسی دے دی گئی اس کے بعد یورپ کی بہت ساری بستیوں میں ہر سال اس دن لڑکوں کی طرف سے لڑکیوں کوکارڈ بھیجنے کا رواج چل پڑا ایک زمانہ کے بعد پادریوں نے سابقہ عبارت کو اس طرح بدل دیا پادری ویلنٹائن کے نام سے ۔انہوں نے ایسا اسلئے کیا تاکہ پادری ویلنٹائن اور اس کی معشوقہ کی یادگارکو زندہ جاوید کردیں ۔اورکتاب قص الحضارمیں ہے کہ کنیسہ نے گرجا گھر کی ایک ایسی ڈائری تیارکی ہے جس میں ہر دن کسی نہ کسی پادری(قدیس)کا تہوارمقرر کیاجاتا ہے اورانگلینڈ میں سینٹ ویلنٹائن کا تہوار موسم سرما کے آخر میں منایا جاتا ہے اورجب یہ دن آتا ہے تو ان کے کہنے کے مطابق جنگلوں میں پرندے بڑی گرمجوشی کے ساتھ آپس میں شادیاں کرتے ہیںاورنوجوان اپنی محبوبہ لڑکیوں کے گھروں کی دہلیزپرسرخ گلاب کے پھول رکھتے ہیں(قص الحضار تالیف: ول ڈیورنٹ 15-33) ویلنٹائن ڈے کے موقع پرخوشی وسرور کا اظہارکیا جاتا ہے۔سرخ گلاب کے پھولوں کا تبا دلہ اوروہ یہ کام بت پرستوں کی حب الٰہی اورنصاری کے باب عشق کی تعبیرمیں کرتے ہیں ۔اوراسی لئے اسکا نام بھی عاشقوں کا تہوار ہے ۔ اس کی خوشی میں کارڈوں کی تقسیم اور بعض کارڈوں میں کیوپڈ کی تصویر ہوتی ہے جو ایک بچے کی خیالی تصویر بنائی گئی ہے اس کے دوپیر ہیں اور اس نے تیر کمان اٹھا رکھا ہے جسے رومی بت پرست قوم،محبت کا دیوتا مانتے ہیں ۔کارڈوں میں محبت وعشقیہ کلمات کا تبادلہ جو اشعار،یا نثریا چھوٹے چھوٹے جملوں کی شکل میں ہوتے ہیںاور بعض کارڈوں میں گندے قسم کے ا قوال اور ہنسانے والی تصویریں ہوتی ہیںاور عام طورپر اس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ،لنٹائینی، ہو جا جو کہ بت پرستی کے مفہوم سے منتقل ہو کر نصرانی مفہوم کی تمثیل بنتی ہے ۔بہت سے نصرانی علاقوں میں دن کے وقت بھی محفلیں سجائی جاتی ہیں ,اوررات کو بھی عورتوں اورمردوں کا رقص وسرور ہوتا ہے ,اور بہت سے لوگ پھول ،چاکلیٹ کے پیکٹ وغیرہ بطورتحفہ محبت کرنے والوں، شوہروں اور دوست واحباب کو بھیجتے ہیں ۔مذکورہ بالا کہانیوں کے تناظرمیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تہوار اصل میں رومی بت پرستوں کا عقیدہ ہے جسے وہ محبت کے خداسے تعبیرکرتے ہیں۔رومیوں کے یہاں اس تہوارکی ابتدا قصے کہانیوں اورخرافات پرمشتمل تھی جیسے مادہ بھیڑیے کا شہرروم کے مسِس کودودھ پلانا جو حلم وبردباری اورقوت فکرمیں زیادتی کا سبب بنایہ عقل کے خلاف ہے کیونکہ حلم وبردباری اورقرت وفکر میں اضافہ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے نہ کہ بھیڑیا اوراسی طرح یہ عقیدہ کہ ان کے بت برائی اورمصیبت کو دفع کرتے ہیں اورجانوروں کو بھیڑیوں کے شر سے دوررکھتے ہیں باطل اور شرکیہ عقیدہ ہے۔اس تہوار سے بشپ ویلنٹائن کے مرتبط ہونے میں کئی ایک مصادر نے شک کا اظہارکیا ہے اوراسے وہ صحیح شمارنہیں کرتے۔کیتھولیک فرقہ کے عیسائی علما نے اس تہوارکو اٹلی میںمنانے پر پابندی لگا دی کیونکہ اس سے گندے اخلاق کی اشاعت اورلڑکوں و لڑکیوں کی بے راہ روی بڑھنے سے فحاشی وزناکاری کا دروازہ کھلتا ہے ۔مسلمانوں کے لئے اس تہوارکا منانا نا جائز بلکہ کفرہےاسلام میں عیدوں کی تعداد محدود و ثابت(زیادتی وکمی ممکن نہیں)اور توقیفی ہیں۔ابن تیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیںعیدین اورتہوارشرع اورمنا ہج ومناسک میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نے ہر ایک کیلئے طریقہ اور شریعت مقررکی ہے اورایک دوسری آیت میں اسطرح ہے ہم نے ہرقوم کے لئے ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس پروہ چلتے ہیںمثلا قبلہ،نمازاور روزے لہذا ان کا عید اورباقی مناہج میں شریک ہونے میں کوئی فرق نہیں اسلئے کہ سارے تہوار میں موافقت کفر میں موافقت ہے اوراسکے بعض فروعات میں موافقت کفر کی بعض شاخوں میں موافقت ہے بلکہ عیدین اورتہوار ہی ایسی چیزیں ہیں جن سے شریعتوں کی تمیزہوتی ہے اور جن کی ظاہری شعائر ہوتی ہیںتو اس میںکفارکی موافقت کرنا گویاکہ کفرکے خاص طریقے اور شعار کی موافقت ہے اوراس میں کوئی شک نہیں کہ پوری شروط کیساتھ اس میں موافقت کفرتک پہنچا سکتی ہے اور اس کی ابتدا میں کم ازکم حالت یہ ہے کہ یہ معصیت وگناہ کا سبب ہے اوراسی کی جانب ہی پیارے نبیﷺ نے اپنے اس فرمان میں اشارہ کیا ہے کہ یقینا ہر قوم کیلئے ایک عید اور تہوار ہے اور یہ ہماری عید ہے ۔(صحیح بخاری 529صحیح مسلم893 القتضا 11/471-472)دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے کفار،بت پرست رومیوں اورعیسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے اورکفار چاہے وہ بت پرست ہوں یا اہل کتاب ان سے عمومی مشابہت اختیارکرنا حرام ہے،چاہے وہ مشابہت عقیدہ میں ہو،یا ان کی عادات ورسم ورواج ،یا عید وتہوارمیں۔ اللہ کا فرما ن ہے،اورتم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیںآجانے کے بعد تفرقہ ڈالا اوراختلاف کیا انہیں لوگوں کیلئے بہت بڑا عذاب ہوگا ۔(آل عمران :105)اورفرمان رسول ﷺ ہے جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیارکی وہ انہیں میں سے ہے ۔مسند احمد (2/50)شیخ السلام ابن تیمیہ لکھتے ہیںاس حدیث کی کم ازکم حالت ان سے مشابہت کرنے کی تحریم کا تقاضا کرتی ہے ۔اگر چہ حدیث کا ظاہرمشابہت کرنے والے کے کفر کا متقاضی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ، اورجو بھی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے یقینا وہ انہیں میں سے ہے۔اجما ع :ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ کفار کی عیدوں اورتہواروں میں مشابہت اختیارکرنے کی حرمت پر تما م صحابہ کرام کے وقت سے لیکر اجما ع ہے ،جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی اسپر علما کرام کا اجما ع نقل کیا ہے۔(القتضا/454اور حام ہل الذم لبن القیم 2/722-723)اس دورمیں یوم محبت منانے کا مقصد لوگوں کے مابین محبت کی اشاعت ہے چاہے وہ مومن ہوں یا کافر،حالانکہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ کفار سے محبت ومودت اوردوستی کرنا حرا م ہے اللہ کا ارشاد ہے ۔،اللہ تعالیٰ اورقیامت کے دن پر ایما ن رکھنے والوں کو آپ ،اللہ تعالیٰ اوراسکے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت کرتے ہوئے ہرگز نہیں پائیں گے،اگر چہ وہ کافر ان کے باپ ،یا بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے قبیلے کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں ۔،(المجادل :22)شیخ السلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس آیت میں یہ خبر دی ہے کہ کوئی بھی مومن ایسا نہیں پایا جاتا جو کافرسے محبت کرتا ہو، لہذا جو مومن بھی کافر سے محبت کرتا اوردوستی لگاتا ہے وہ مومن نہیںاور ظاہری مشابہت بھی کفارسے محبت کی غماز ہے لہذا یہ بھی حرام ہوگی ۔ القتضا (1/490) اسلئے مذکورہ بالادلائل کی روشنی میں یہ ثابت ہوا کہ اس تہوار کامنانا یا منا نے والوں کی محفل میں شرکت ناجائز ہے۔حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب یہودیوں کی خاص عید ہے اور عیسائیوں کی اپنی خاص عید تو پھر جس طرح ان کی شریعت اور قبلہ میں مسلمان شخص شریک نہیں, اسی طرح ان کے تہواروں میں بھی شریک نہیں ہوسکتا۔(مجل الحکم 3/193)اس تہوار کومنا نے یا انکی محفلوں میں شرکت کرنے سے ان کی مشابہت،انہیں خوشی وسروراورانکی تعداد میں بڑھوتری حاصل ہوتی ہے جوناجائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے ایمان والو!تم یہود ونصاری کو دوست نہ بنا ؤیہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ،یقینااللہ تعالیٰ ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں دکھاتا۔(المائدہ:51) اور شیخ السلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کیلئے جائز نہیں کہ وہ کفارسے ان کے خصوصی تہواروں میں ان کے لباس ،کھانے، پینے، غسل کرنے، آگ جلانے اور اپنی کوئی عبادت اور کام وغیرہ یا عبادت سے چھٹی کرنے میں ان کفار کی مشابہت کریں ۔مختصر طور پریہ کہ ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ کفار کے کسی خاص تہوار کو ان کے کسی شعار کے ساتھ خصوصیت دیں بلکہ ان کے تہوار کا دن،مسلمانوں کے یہاں باقی عام دنوں جیسا ہی ہونا چاہئے۔(مجموع الفتاو :35/329)مسلمانوںمیں سے جو بھی اس تہوارکو منا تا ہے اس کی معاو نت نہ کی جائے بلکہ اسے اس سے روکنا واجب ہے کیونکہ مسلمانوں کا کفارکے تہوار کو منانا ایک منکر اور برائی ہے جسے روکنا واجب ہے۔ شیخ السلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اور جس طرح ہم ان کے تہواروں میں کفارکی مشابہت نہیں کرتے تو اس طرح مسلمانوں کی اس سلسلے میں مدد واعانت بھی نہیں کی جائیگی بلکہ انہیں اس سے روکا جائیگا ۔(القتضا 2/519-520) تو شیخ السلام کے فیصلے کی بنا پر مسلمان تاجروں کے لیے جائز نہیں کہ وہ یوم محبت کے تحفے و تحائف کی تجارت کریں،چاہے وہ کوئی معین قسم کا لباس ہویا سرخ گلاب کے پھول وغیرہ اور اسی طرح اگرکسی شخص کو یوم محبت میں کوئی تحفہ دیا جائے تو اس تحفہ کو قبول کرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ اسے قبو ل کرنے میں اس تہوار کا اقرار اور اسے صحیح تسلیم کرنا ہے اور باطل ومعصیت میں مدد ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے نیکی اورپرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گنا ہ اور ظلم وزیادتی میں مدد نہ کرو (المائد:3)یوم محبت کی مبارکبادی کا تبادلہ نہیں کرنا چاہئے اس لیے کہ نہ تو یہ مسلمانوں کا تہوار ہے اور نہ ہی عید اور اگر کوئی مسلمان کسی کو اسکی مبارکباد بھی دے تو اسے جوابا مبارکباد نہیں دینی چاہئے۔ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اورکفارکے خصوصی شعارجو صرف ان کے ساتھ ہی خاص ہیں ان کی مبارکباد دینا متفقہ طور پر حرام ہے مثلاانہیں ان کے تہواروںیاروزے کی مبارکباد دیتے ہوئے یہ کہا جائے ،آپ کو عید مبارک یا آپ کو یہ تہوار مبارک ہو لہذا اگر اسے کہنے والا کفرسے بچ جائے تو پھر بھی یہ حرام کردہ اشیا میں سے ہے اوریہ اسی طرح ہے کہ صلیب کو سجدہ کرنے والے کسی شخص کو مبارکبادی دی جائے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شراب نوشی اور بے گناہ شخص کو قتل کرنے اور زنا کرنے سے بھی زیادہ عظیم اور اللہ کو ناراض کرنے والی ہے اوربہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے یہاں دین کی کوئی قدر وقیمت نہیںوہ اس کا ارتکا ب کر تے ہیںاور انہیں یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ انہوں نے کتنا بڑا قبیح جرم کیا ہے لہذا جس نے بھی کسی کو معصیت اور نافرمانی یا کفروبدعت پر مبارکبادی دی اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے غصہ اورناراضگی پر پیش کردیا۔(حکام ہل الذم 1/441-442)یوم محبت کے بارے میں عصر حاضر کے علماء کرام کے فتو ےسوال :محترم فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمن حفظہ اللہ(سعودی عرب)السلام علیکم ورحم اللہ وبرکاتہ، کچھ عرصہ سے ویلنٹائن ڈے( یوم محبت ) کا تہوار منایا جانے لگا ہے اور خاص کر طالبات میں اس کا اہتمام زیادہ ہوتا ہے ۔جو نصارٰی کے تہواروں میں سے ایک تہوارہے اس دن پورا لباس ہی سرخ پہنا جاتا ہے اور جوتے تک سرخ ہوتے ہیںاور آپس میں سرخ گلاب کے پھولوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے ,ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس طرح کے تہوارمنانے کا حکم بیان کریں اور اس طرح کے معاملات میں آپ مسلمانوں کو کیا نصیحت کرتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے ۔جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وبعد یوم محبت کا تہوارکئی وجوہات کی بنا پر ناجائز اور حرام ہے٭۔ ۔ ۔ یہ بدعتی تہوار ہے اور اسکی شریعت میں کوئی اصل نہیں٭۔ ۔ ۔ یہ تہوار عشق ومحبت کی طرف دعوت دیتا ہے٭۔ ۔ ۔ یہ تہوار دل کو اس طرح کے سطحی ذیل امور میں مشغول کردیتا ہے جو سلف صالحین کے طریقے سے ہٹ کر ہے لہذا اس دن اس تہوار کی کوئی علامت اور شعار ظاہر کرنا جائزنہیں چاہے وہ کھانے پینے میں ہویا لباس ،یا تحفے تحائف کے تبادلہ کی شکل میں ہویا اسکے علاوہ کسی اور شکل میں ہو اور مسلمان شخص کو چاہئے کہ اپنے دین کو عزیز سمجھے اورایسا شخص نہ بنے کہ ہر ھانک لگانے والے کے پیچھے چلنا شروع کردے یعنی ہر ایک کے رائے وقول کی صحیح و غلط کی تمیزکئے بغیر پیروی اوراتباع کرنے لگے۔میری اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو ہرطرح کے ظاہری وباطنی فتنوں سے محفوظ رکھے اورہمیں اپنی ولایت میں لے اور توفیق سے نوازے واللہ تعالیٰ ا علم ۔مستقل کمیٹی برائے تحقیقات وافتاء کا فتو یٰسوال:بعض لوگ ہر سال چودہ فروری کو یوم محبت(ویلنٹائن ڈے)کا تہوار مناتے ہیں اور اس دن آپس میں ایک دوسرے کو سرخ گلاب کے پھول ہدیہ میں دیتے ہیں اور سرخ رنگ کا لباس پہنتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکبادی بھی دیتے ہیں, اوربعض مٹھا ئی کی د کان والے سرخ رنگ کی مٹھائی تیارکرکے اس پر دل کا نشان بناتے ہیںاوربعض دکانداراپنے مال پراس دن خصوصی اعلانات بھی چسپاں کرتے ہیں تو اس سلسلے میں آپ کی کیارائے ہے؟جواب :سوال پرغورفکر کرنیکے بعد مستقل کمیٹی نے کہا کہ کتاب وسنت کی واضح دلائل ،اورسلف صالحین کے اجماع سے یہ بات ثابت ہے کہ اسلام میں صرف دو عیدیں ہیں کوئی تیسری نہیں،ایک عید الفطر اور دوسری عید الضحیٰ,ان دونوں کے علاوہ جوبھی تہواریاعید چاہے کسی عظیم شخصیت سے متعلق ہو،یا جماعت سے ،یا کسی واقعہ سے ،یا اورکسی معنی سے تعلق ہو سب بدعی تہوارہیں ،مسلمان کیلئے انکامنانا یا اقرار کرنا یااس تہوارسے خوش ہونا یا اس تہوارکا کسی بھی چیزکے ذریعہ تعاون کرناجائزنہیں ،اسلئے کہ یہ اللہ کے حدود میں زیادتی ہے اورجو شخص بھی حدوداللہ میں زیادتی پید ا کرے گا تو وہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرے گا۔اورجب ایجاد کردہ تہوار کے ساتھ یہ مل گیا کہ یہ کفارکے تہواروں میں سے ہے تویہ گنا ہ اورمعصیت ہے اسلئے کہ اس میں کفار کی مشابہت اورموالات ودوستی پائی جاتی ہے اوراللہ تعالیٰ نے مومنوں کو کفارکی مشابہت اوران سے مودت ومحبت کرنے سے اپنی کتاب عزیز میں منع فرمایا ہے اورنبی کریم سے آپ کا یہ فرمان ثابت ہے کہ،من تشبہ بقوم فہومنہم،جوشخص کسی قوم سے محبت کرتا ہے تووہ انھیں میں سے ہے۔
اورمحبت کا تہواربعینہ مذکورہ بالاجنس یاقبیل سے ہے اسلئے کہ یہ بت پرست نصرانیت کے تہواروں میں سے ہے،لہذا کسی مسلمان کلمہ گوشخص کیلئے جو اللہ اوریوم آخرت پرایمان رکھتا ہواس تہوارکو منانایا اقرارکرنایا اسکی مبارکباد دینا جائزنہیںبلکہ اللہ ورسول کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اورانکی غضب وناراضگی سے دوررہتے ہوئے اس تہوار کا چھوڑنا اوراس سے بچنا ضروری ہے،اسی طرح مسلمان کیلئے اس تہواریا دیگرحرام تہواروں میںکسی بھی طرح کی اعانت کرنا حرام ہے چا ہے وہ تعاون کھانے،یاپینے، یا خرید وفروخت یا صنا عت یا ہدیہ وتحفہ یا خط وکتابت یا اعلانات وغیرہ کے ذریعہ ہواسلئے کہ یہ سب گناہ وسرکشی میں تعاون اوراللہ ورسول کی نافرما نی کے قبیل سے ہیںاور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نیکی اور پرہیزگاری کے معاملے میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اورگناہ اورظلم وزیادتی میں مدد نہ کرو , اوراللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ,بے شک اللہ تعال سخت سزا دینے والا ہے ۔( المائدہ4)اورمسلمان کیلئے ہرحالت میںکتاب وسنت کو پکڑے رہنا خا ص طورسے فتنہ وکثرت فساد کے اوقات میں لازم وضروری ہے ۔اسی طرح ان لوگوں کی گمراہیوں میں واقع ہونے سے بچاؤ اورہوشیاری اختیارکرنا بھی ضروری ہے جن پر اللہ کا غضب ہوا اورجو گمراہ ہیں(یعنی یہود ونصارٰی) اوران فاسقوں سے بھی جو اللہ کی قدروپاس نہیں رکھتے ا ورنہ ہی اسلام کی سربلندی چاہتے ہیںاورمسلمان کے لئے ضروری کہ وہ ہدایت اوراس پے ثابت قدمی کے لئے اللہ ہی کی طرف رجوع کرے کیونکہ ہدایت کا مالک صرف اللہ ہے اور اسی کے ہاتھ میں توفیق ہے اوراللہ ہمارے نبی محمد انکے آل وصحاب پر درودوسلام نازل فرمائے آمین !(دائمی کمیٹی برائے تحقیقات وافتاء ،الریاض ،فتویٰ نمبر( 21203) بتاریخ 23/11/1420ھ)،ویلنٹائن ڈے، ہر اعتبار سے،یوم اوباشی، ہے۔ اس کا اصل مقصود عورت اور مرد کے درمیان نا جائز تعلقات اور ہم جنسیت اور بے راہ روی کو فروغ دینا ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں نوجوان نسل کو ان خرافات کے مضمرات سے آگاہ نہیں کیا جارہا۔برعکس اس کے، اخبارو جرائد اور الیکٹرانک میڈیا میں اس،یوم، کی ترویج کے حوالے سے جس طرح ،کوریج، دی جارہی ہے عوام الناس میںا س سے اسکے مزید بڑھنے کا امکانات پیدا ہوگئے ہیں ۔ راقم الحروف کو دئیے گئے ایک انٹرویومیں تحریک پاکستان کی عظیم کارکن محترمہ بیگم سلمیٰ تصدق حسین نے کہا تھا ،افسوس کہ جن مسلمانوں کیلئے پاکستان بنایا تھا وہ پاکستان کے قابل نہ رہے، اب آپ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے کہ ان خرافات سے نجات حاصل کر کے ہمیں لاکھوں قربانیوں سے حاصل کردہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قابل بننا ہے یا۔۔۔۔۔۔۔۔
Shortlink:

جدید تحقیقات کے مطابق نباتاتی علاج سے شوگر کنٹرول کی جاسکتی ہے:حکیم خالد

٭… دنیا کے35کروڑ افرادشوگر میں مبتلا ' جبکہ ہر دس سیکنڈ کے بعد ذیابیطس سے ایک موت ہوتی ہے ٭…ذیابیطس بھی بلڈ پریشر کی طرح خاموش قاتل'پانچ سیکنڈ بعدشوگر کے مریض میں اضافہ٭…روایتی طورطریقے چھوڑ کرمغربی طرز زندگی اپنانا'ذیابیطس کی بڑی وجہ ہے مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اوریونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد کی گفتگو
لاہور14نومبر: ذیابیطس بھی بلڈ پریشر کی طرح خاموش قاتل ہے کیونکہ اس کے لاحق ہونے کا علم بھی عموماًتاخیر سے ہوتا ہے ۔ دنیا کے 350ملین سے زائد افراد شوگرمیں مبتلا ہیں جبکہ پاکستان میںتقریبا ً8ملین یعنی 80لاکھ ذیابیطس کے مریض موجود ہیںشوگر کے حوالے سے پاکستان عالمی سطح پر ساتویں نمبر پر ہے اقوام متحدہ نے ذیابیطس کو ایچ آئی وی ایڈز کے بعد دوسری خطرناک ترین بیماری قرار دیا ہے جو ہر 10سیکنڈ بعد ایک فرد کو موت کے منہ میں لے جانے کاباعث بن رہی ہے جبکہ ہر پانچ سیکنڈ بعدشوگر کا ایک نیا مریض سامنے آرہا ہے۔ذیابیطس کی دونوں قسمیں 'ذیابیطس نوع اول اور نوع دوم تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے عالمی یوم ذیابیطس کے موقع پرالیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوںسے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں ذیابیطس کے بڑھنے کی وجوہات میںسرفہرست یہ ہے کہ ہم نے اپنے روایتی طرز زندگی کو چھوڑ کر مغربی طرز زندگی کو اپنا لیا ہے۔آرام طلبی میں اضافہ'جسمانی مشقت میں کمی 'کھیل کود 'سیراور ورزش کی بجائے ٹی وی'ویڈیو گیمزاور کمپیوٹرکا بکثرت استعمال'کولا مشروبات'برگرز' چپس و دیگر مرغن غذاؤںکا انتہائی استعمال شوگر کے بنیادی اسباب ہیں اس کے علاوہ موٹاپااور جینیاتی ساخت بھی ڈایابیٹیزکا باعث بنتی ہے۔حکیم خالد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جدید میڈیکل سائنس بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے عاری ہے اور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے۔لہذا شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں تاہم شوگر کنٹرول کر کے نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ دیگر رائج طریقہ ہائے علاج کی طرح طب یونانی 'اسلامی یعنی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کی متعدد بے ضررادویات وجڑی بوٹیاں موجود ہیں اورصدیوں سے مستعمل ہیں جبکہ حال ہی میں کنیڈا'امریکہ'جرمنی'جاپان اور پاکستان میںدارچینی 'کلونجی 'کاسنی 'کریلا'جامن'سفید موصلی اور دیگر ہربز پرکئے گئے متعدد مطالعوں اور جدیدتحقیقات نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ 

خسرہ میں خوب کلاں' صدیوں سے آزمودہ ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد

 ایلو پیتھک میں خسرہ کا کوئی علاج نہیں ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز

لاہور 29جنوری… صوبہ سندھ میںسینکڑوں انسانی جانیں نگلنے والی خسرہ کی وباء صوبہ سرحد 'اوراب صوبہ پنجاب سمیت ملک بھر میں پھیل رہی ہے۔ملک بھر میں ہزاروں بچے اس مرض میں مبتلا ہیں' خسرہ ایک متعدی مرض ہے جس کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں اس دوران کھانسی کی شکایت بھی ہوتی ہے ناک اور آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے اس کے بعد چہرے اور گردن کے اوپر سرخ دانے نکل آتے ہیں جو جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتے ہیں' جسم پر شدید خارش ہوتی ہے اور مریض کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے عام طور پر پانچ دن بعد سرخ دانے کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اوردانوںکی رنگت سیاہی مائل ہوتے ہوئے مرض ختم ہوجاتا ہے لیکن وہ بچے جنہیں خسرے کے حفاظتی ٹیکے نہ لگوائے گئے ہوں ان کو خسرہ سے انتہائی نقصان اور جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔اس امر کا اظہارکونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالدنے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق خسرہ کا کوئی مخصوص ایلوپیتھک علاج نہیںاس حوالے سے صرف علامتی علاج ہی کیا جاتا ہے تاہم طب یونانی میں خسرہ کیلئے شافی علاج موجود ہے اور اس سلسلے میں خوب کلاں جسے خاکسی اور خاکشیر بھی کہا جاتا ہے صدیوں سے آزمودہ ہے۔خوب کلاں ایک خود رو پودے کے سرخ رنگت کے خشخاش کے سائز کے بیج ہیںجوملک بھر کے پنسار سٹورز اور اطباء سے عام دستیاب ہیںخسرہ کی علامات شروع ہوتے ہی درج ذیل نسخہ کا استعمال کروائیں۔ہوالشافی:عناب 3عدد'مویز منقیٰ5عدد'انجیر1عدد'خاکسی(خوب کلاں)9گرام 'چینی 12گرام 'آدھے کپ پانی میں جوش دیکر پلائیں اگر نقاہت و کمزوری زیادہ ہو تو اس کے ساتھ خمیرہ مروارید دوگرام کا اضافہ کریں۔مریض کے بستر پربھی خوب کلاںکے دانے چھڑکوائیں۔قبض ہو تو خمیرہ بنفشہ فائدہ مند ہے کھانسی کی صورت میں لعوق سپستان استعمال کروائیں۔انشاء اللہ شفا یابی ہوگی۔

احتیاطی تدابیرسے کینسر کو شکست دی جاسکتی ہے:حکیم قاضی ایم اے خالد


80فیصدکینسر کے مریض تشخیص اور علاج کے بغیر ہلاک ہو جاتے ہیں
متوازن غذا'سبزیوںاور پھلوں کا استعمال' کینسر سے بچاؤ میں موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور26جنوری :ملک میں80فیصدکینسر کے مریض تشخیص اور علاج کے بغیر لاعلمی کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں اور جو 20فیصدعلاج کرواتے ہیں وہ بھی اس وقت ہسپتال یامعالجین کے پاس آتے ہیں جب اس موذی مرض کے اثرات اتنے گہرے ہو چکے ہوتے ہیںکہ اس پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے۔کینسر کا تدارک اسی صورت ممکن ہے جب سرطان کے سلسلے میںعوام الناس میں شعورکوبیدارکیا جائے۔سرطان کے بارے میں معلومات کو عام کرنے کیلئے نہ صرف طبی تنظیموں بلکہ دیگر تمام این جی اوز کوبھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔اس امر کا اظہار کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالدنے کینسر سے متعلقہ آگہی مہم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ کینسرکے خاتمے کے لیے احتیاط سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ فوڈ سٹریٹس جیسے تعیشات میں آگ پر بھنے زیادہ مرچ مصالحے اور نمک لگے خشک گوشت سے حتی الامکان پرہیز رکھیں۔ تلی ہوئی اشیاء گوشت و آلو کی چپس وغیرہ میں سرطان پیدا کرنے والا ایک جز''ایکریلامائڈ'' بہت زیادہ بڑھ جاتاہے۔ گوشت کو بہت زیادہ نہ پکائیں بہت زیادہ بھنا ہوا کڑاہی گوشت سرطان پیدا کرنے کا باعث بن سکتاہے۔اپنی غذا میں فائبر یعنی ریشہ دار اشیاء شامل رکھیں۔حیاتین الف (وٹامن اے) اور حیاتین ج (وٹامن سی) والی غذائیں زیادہ استعمال کریں۔ گوبھی اور اس جیسی دوسری ترکاریاںوپھل ضرورکھائیں۔اوزون کی تہہ ختم ہونے کے باعث سورج کی کرنیں مزید نقصان دہ ہو چکی ہیں۔لہٰذا ''سن باتھ'' بلاضرورت نہ لیںاورسورج کی کرنوں کی زد میں بلا مقصد نہ رہیں۔ مایوسی'نفرت' بدگمانی' حسد'عداوت' حرص وطمع جسم کے غدودی نظام کو متاثر کرتے ہیں جس سے دماغی صلاحیتیں' شریانیں اور جسم کے خلیات پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔یہ منفی احساسات آخرکار جسم کے خلیات اور ریشوں کو جلاجلا کر سرطان کا باعث بن جاتے ہیں۔ان منفی احساسات سے بچنے کے لیے سب سے بہترین طریقہ ورزش ہے۔بیس پچیس منٹ کی ورزش مردوخواتین دونوں کے لیے سرطان سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ورزش سے جسم وذہن تروتازہ ہو جاتاہے۔ورزش اور اس کے ذریعے آکسیجن کا حصول جسم کی قوت مدافعت(Immunity) بڑھادیتاہے اور یہ قوت سرطان سمیت ہر قسم کے امراض کی مدافعت کا باعث بنتی ہے۔ مندرجہ بالاتدابیرپر عمل کرکے انشاء اللہ یقینا ہم سرطان سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ذیابیطس کیلئے سفید موصلی انتہائی موثر ہے:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان


برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹرکے سائنسدانوں نے تصدیق کر دی :حکیم قاضی ایم اے خالد

لاہور13نومبر:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان کے زیر اہتمام ''ذیابیطس اورنباتاتی ادویات''کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے اس امر کا انکشاف کیا کہ ذیابیطس کیلئے معروف جڑی بوٹی سفید موصلی انتہائی موثرہے ۔انہوں نے اس سلسلے میں حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسسٹر کے محققین کی ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق موصلی سفید ذیابیطس سے لڑنے میںبے حد مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسی غذائیں جن میں فائبر زیادہ ہوتا ہے ناصرف بھوک کی اشتہا میں کمی لاتی ہیں بلکہ جسم کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ کرتی ہیں جس کے تحت وہ خون میں شوگر کی سطح پر قابو رکھتی ہیںموصلی سفید اور دیگر کئی جڑی بوٹیاں ایسے تیز کاربوہائیڈریٹس مانے جاتے ہیں جو جسم میںGutہارمونزتیزی سے پھیلاتے ہوئے بھوک کو قابو میں رکھتے ہیں۔یہ جڑی بوٹیاں جسم کے خلیوں میں گلوکوز بھیجنے والے ہارمون انسولین کی حساسیت میں بھی بڑھا ؤپیدا کرتی ہیں تاکہ وہ جسم میں گلوکوز کی سطح کو ایک حد تک متعین رکھ سکے۔سائنس دانوں کے مطابق موصلی سفید وہ واحد ادویاتی پودہ ہے جو سیارہ مریخ کی زمین پر بھی بارآور ہو سکتا ہے یاد رہے کہ موصلی سفید شوگر سمیت پیشاب اور دیگر امراض کے حوالے سے برصغیر پاک و ہندمیں زمانہ قدیم سے مستعمل ہے جس کی افادیت کی اب سائنسی تصدیق کر دی گئی ہے۔اس سلسلے میںحکومت'بیوروکریسی اورایلوپیتھک ماہرین کو تعصب کی عینک اتار کر شہید پاکستان حکیم محمد سعیدکے اتحاد ثلاثہ(ڈاکٹر'حکیم اور سائنسدان)کے فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے فلاح انسانیت اور عوام کی صحت کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنا چاہئے۔ ایلو پیتھک طریق علاج بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے ابھی تک عاری ہے اور تاحال صرف شوگر کے توازن کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے لہذا شوگر کے مکمل خاتمے کے دعوے عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں تاہم شوگر کنٹرول کر کے نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ دیگر رائج طریقہ ہائے علاج کی طرح طب یونانی 'اسلامی یعنی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں بھی شوگر کنٹرول کرنے کی متعدد بے ضررادویات وجڑی بوٹیاں موجود ہیں جن میں سائنسی طور پر مصدقہ موصلی سفید بھی شامل ہے۔٭…٭…٭

آشوب چشم میں ٹھنڈے پانی کے چھینٹے اور عرق گلاب مفید ہے :حکیم قاضی خالد


چھوتدار مرض ہے'بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں:کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستانلاہور:وطن عزیزمیںبرسات 'لوڈ شیڈنگ'شدید گرمی'حبس اور پسینے کی زیادتی کی وجہ سے لاہور سمیت دیگرکئی شہر وںمیںبھی آشوب چشم کی وبا پھیل گئی ہے۔ متاثر ہونے والوں میں بچے' بڑے'مرد اور خواتین شامل ہیں۔اس سلسلے میں مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آشوب چشم ایک موسمی وباء ہے جوہر سال مون سون میں پھیلتی ہے تاہم طویل دورانئے کی لوڈ شیڈنگ اور شدید مرطوب گرمی بھی آشوب چشم کی وباء پھیلانے کااہم سبب ہے اس وائرل مرض کا دورانیہ کم و بیش ایک ہفتہ پر مشتمل ہوتاہے۔جدید تحقیقات اور ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق آشوب چشم کا کوئی خاص علاج نہیں لیکن چودہ سوسال قبل (بحوالہ نزہ المجا لس جزثانی)طبیب اعظم نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے آشوبِ چشم کا علاج ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے فرمایا۔ دنیا بھر کے تمام معالجین اس مرض سے نجات کیلئے طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی علاج کا مشورہ دیتے ہیں۔یونانی میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ آشوب چشم سے متاثرہ مریضوں کو چاہئے کہ وہ ٹھنڈے و صاف پانی یا عرق گلاب سے آنکھیں بار بار دھوئیں 'خالص شہد سلائی سے لگانا مفید ہے علاوہ ازیں عرق گلاب سو ملی لیٹرمیں ایک گرام پھٹکری سفید شامل کرکے بطور آئی ڈراپس استعمال کریں یہ نسخہ بارہ سال سے کم عمر بچوںکیلئے نہیں ہے انہیں صرف صاف ٹھنڈے پانی یا عرق گلاب کا استعمال کروائیں۔دھوپ کی عینک کا استعمال اوربرف سے آنکھوں کی ٹکور فائدہ مندثابت ہوتی ہے یاد رہے برف صاف پانی کا ہویا عرق گلاب سے تیار کی گئی ہو۔ ٹھنڈک سے آشوب چشم کاوائرس کمزور پڑ جاتاہے۔ گرمی'حبس اور بارش کے بعد آلودہ پانی کی وجہ سے آشوب چشم کاوائرس زیادہ نشو و نما پاتا ہے اور آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے یہ وائرس دم توڑ دیتا ہے۔ وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے آنکھ سرخ ہو جاتی ہے اورتکلیف کی شدت سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنکھ میں ریت گر گئی ہو۔ ایک آنکھ کے متاثر ہونے کے بعد دوسری آنکھ عموماً 48گھنٹے بعد متاثر ہو جاتی ہے۔ احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرتے ہوئے حکیم خالد نے کہا کہ یہ ایک چھوتدار مرض ہے جومتاثرہ فرد کے زیر استعمال اشیا ء خصوصاًتولئے'رومال یاا لودہ ہاتھ ملانے سے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے افراد جو آشوب چشم سے متاثر ہوں وہ بار بارصابن یالیکوئڈ سوپ سے ہاتھ دھوئیں۔ آنکھوں سے بہنے والے پانی کو ہاتھ کی بجائے ٹشو پیپر سے صاف کر یں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کی صورت میںفوری طور پرہسپتال یاماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ آشوب چشم میںمندرجہ بالا بے ضرر گھریلو علاج کے علاوہ طرح طرح کی ادویات ازخود استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ غلط دوا کے استعمال سے قرنیہ متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

صبح آزادی:چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی


چودہ اگست 1947ء سے قبل بلاواسطہ ہم انگریز کے تسلط میں  تھے اور اب 14 اگست 2012ء کو ہم بزدل حکمرانوں کی بدولت بالواسطہ بیرونی آقاؤں کی غلامی میں ہیں کیونکہ ہم اپنی داخلہ ، خارجہ پالیسی میں کسی بھی طرح آزاد و خود مختار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ موجودہ غلامی براہ راست غلامی سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بانیان پاکستان کے خوابوں کی تعبیر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 بقول نثار ناسک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزادی ملی بھی مجھے تو کچھ ایسے ناسک
جیسے کمرے سے کوئی صحن میں  پنجرہ رکھ دے
ان حالات میں  ہمیں  14 اگست 2012ء کو جشن آزادی کے موقع پر سوچنا چاہئے کہ کیا ہم آزاد ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔’‘ہمیں جشن منانا چاہیئے ؟؟؟’’ ۔ یا غلامی سے آزادی کےلیے دوبارہ تحریک پاکستان جیسی جدوجہد ضروری ہے۔
بقول فیض ۔۔۔۔۔۔۔۔چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح آزادی؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ اِنتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں  جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں  نہ کہیں
فلک کے دشت میں  تاروں  کی آخری منزل
کہیں  تو ہو گا شب سست موج کا ساحل
کہیں  تو جا کے رُکے گا سفینہ غم دل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جگر کی آگ، نظر کی اُمنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں  کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں  سے آئی نگارِ صبا، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں  کمی نہیں  آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں  آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں  آئی
———————-
فیض احمد فیض
———————-

سترہ رمضان...یوم الفرقان:نزول قرآن اور غزوہ بدر کادن

 سترہ رمضان المبارک تمام دنیائے انسانیت اور مسلم امہ کےلیےانتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دن نزول قرآن کی ابتدا ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کہ جس کی حفاظت کا ذمہ خود باری تعالی نے اٹھایا۔۔۔۔۔۔۔۔
 جبکہ رمضان المبارک کی سترہ ١٧ تاریخ کو غزوہ بدر کا واقعہ بھی ہوا جو تاریخ اسلام کا بہت بڑا واقعہ اور عظیم الشان معرکہ تھا۔ غزوہ بدر کےافق پر توحید کامل کا آفتاب پورے عالم پر ہمیشہ کےلیےطلوع ہوگیا اسی لیےقرآن مجید نےغزوہ بدر کا نام یوم الفرقان یعنی فیصلےکا دن رکھا ہےکہ وہ آخری فیصلہ کا دن تھا۔یہ معرکہ مشرکین کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا۔امت مسلمہ کو غزوہ بدر کےحقائق اور تاریخی پس منظر کو دیکھنا چاہیےاور اس کےمقاصد اور نصب العین کو چراغ راہ بنانا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش ! مسلمان اور مسلم دنیا موجودہ حالات میں بدر کےتاریخی کردار سےسبق لےکر اپنےاندر اسلامی اتحاد و اخوت پیدا کرےاور اس تاریخی واقعہ کو بھی حرز جان بنائےکہ حقیقی نصب العین کی تکمیل چند سالوں کےبعد فتح مکہ کی شکل میں ہوئی وہ بھی رمضان المبارک کی بیس ٢٠ تاریخ تھی جس کی وجہ سےپورا جزیرہ العرب عالم گیر اسلامی برادری کا مرکز بن گیا اور عالمی سطح پر غلبہ توحید کی روشنی پھیل گئی تاکہ دنیائےانسانیت حقیقی اسلام کےغلبہ و اظہار کا مشاہدہ کرلےجو اس کےلیےاتمام حجت بنے۔

Pages