صدف ایوب

یہ معمہ ہے نہ سمجھنے کا

پچهلے دنوں کہیں پڑهنے کا اتفاق ہوا کہ اس دنیا میں قریبا سات بلین لوگ موجود ہیں اور ان سات بلین لوگوں کے چودہ بلین چہرے ہیں. پہلے پہل تو اس بات پہ ہنسی آئی لیکن سچ بات تھی تو ذہن میں ٹھہر سی گئی. بلاشبہ اس دہریت کا اندازہ/شکار تو میں، آپ، ہم سب چلتے پهرتے لگاتے/ہوتے ہی رہتے ہیں اور بہت اچھی طرح واقف بھی ہیں. عام طور پہ لوگوں سے بات کرتے ہوئے یا ملاقات کرتے ہوئے ہم ان کے جس رخ سے متعارف ہوتے ہیں انکی شخصیت کی وہ تصویر ہوتی ہے جو وہ ہمیں دکهانا چاہتے ہیں. یہاں زمانہ شناس اور چہرہ شناس لوگوں کو ہرگز نہیں بهلایا جاسکتا جو پہلے ہی ٹکراؤ میں لوگوں کے اندر چھپی شخصیت کو بهی پہچان لیتے ہیں مگر مجھ سے کم علم اور اندها دهند اعتماد والے اکثر چوک ہی جاتے ہیں. دیکها جائے تو ہم سب ہی کا ایک دوسرا رخ ہمارے اندر ہر دم موجود ہوتا ہے جو اچانک خوشی، غمی یا اس مخصوص لمحے میں جب ہم ساری دنیا سے الگ تهلگ، تنہائی میں، کسی پرسکون گوشے میں، گہرے خیال میں ڈوبے اسے یاد کرتے ہیں اور وہ چهم سے کود پڑتا ہے. اپنے دوسرے رخ سے کلام کا سرور بهی اس دنیا سے سوا ہے. بنا کسی خوف کے سب کچھ کہہ ڈالنے کی آزادی کا احساس ہی بڑی حد تک انسان کو مطمئن کردیتا ہے.
خودکلامی بهی شاید ہمارے دنیا کو نظر آنے والے رخ اور شیشے میں خود کو دیکهتے وقت جهلکنے والے شخص کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ہی نام ہے. تو اگر ہم سب میں موجود ہمارا یہ رخِ دوئم کسی کے بهی نقصان کا خواہشمند نہ ہو تو یہ معصوم ہی ٹهہرا ناں؟ خیر بات یہ نہیں کرنی تهی مگر ہوگئی..
چونکہ ہم لوگوں کو ان کے بظاہر نظر آنے والے رخ ہی سے جانچتے ہیں تو اسی کی بات کرلیتے ہیں. یہ رخ بهی دراصل بلکل مصنوعی نہیں ہوتا. کہیں نہ کہیں اس رخ میں بهی انسان کے تمام رنگ جهلکتے ہیں. سادہ سی بات ہے کہ چاہے کوئی پیڑ اپنی شاخوں کو جس سمت بڑهالے اپنی جڑوں سے جدا نہیں ہوسکتا… وہی حال لوگوں کا ہے.
دنیا کو نظر آنے والے اس رخ کی بنیاد پہ اگر لوگوں کو تقسیم کیا جائے تو میری ذاتی و بے ضرر رائے میں کچھ لوگ بلکل کسی لیبلڈ ڈائگرام کی مانند ہوتے ہیں. بلکل عیاں، کچھ لاگ لپیٹ کے نہ رکهنے والے. کاپی میں بنی وہ شکل کہ جس کے ہر حصے کے آگے تیر سے اس کا نام و کام آویزاں ہو… بلکل اسی طرح چیخ چیخ کر اپنے بارے میں سب کچھ بیان کردینے والے لوگ. ایسے لوگوں کو باآسانی پڑها/پہچانا جاسکتا ہے. جبکہ اس کے برعکس کچھ لوگ انتہائی مشکل پیسج کی طرح ہوتے ہیں. ایسی عبارت جو انتہائی ثقیل اور مشکل الفاظ سے بنی ہو، جسے بار بار پڑهنا پڑهے اور کہیں کہیں ڈکشنری کی بهی ضرورت پیش آجائے.. ایسے لوگ کم شاید بہت کم ہوتے ہیں.
انسان میں تجسس کوٹ کوٹ کے بهرا ہے اسے ہر اس شے میں کشش محسوس ہوتی ہے جو ہاتهوں ہاتھ نہ لی جاسکے اور سب کی پہنچ میں نہ ہو.یہی وجہ ہے کہ یہ مشکل پیراگراف جیسی شخصیت رکهنے والے بلا کے متاثرکن لگتے ہیں. ہر سطر میں کسی نئی بات کی طرح ان کی ذات کے نہاں پہلو دوسروں کو باآسانی اپنی طرف راغب کرلیتے ہیں.. ہر ادا مبہم پر اپنی جانب دهیان کهینچ لینے والی.. ایسے لوگوں کو سمجھ پانا مشکل بے حد مشکل ہوجاتا ہے…

PS: آئم ناٹ آ سائکالوجسٹ

اگر آپ نے پوسٹ واقعی پوری پڑھ ڈالی ہے تو بے حد شکریہ.
سلامت رہیں!


یہ معمہ ہے نہ سمجھنے کا

پچهلے دنوں کہیں پڑهنے کا اتفاق ہوا کہ اس دنیا میں قریباُ سات بلین لوگ موجود ہیں اور ان سات بلین لوگوں کے چودہ بلین چہرے ہیں. پہلے پہل تو اس بات پہ ہنسی آئی لیکن سچ بات تھی تو ذہن میں ٹھہر سی گئی. بلاشبہ اس دہریت کا اندازہ/شکار تو میں، آپ، ہم سب چلتے پهرتے لگاتے/ہوتے ہی رہتے ہیں اور بہت اچھی طرح واقف بھی ہیں. عام طور پہ لوگوں سے بات کرتے ہوئے یا ملاقات کرتے ہوئے ہم ان کے جس رخ سے متعارف ہوتے ہیں انکی شخصیت کی وہ تصویر ہوتی ہے جو وہ ہمیں دکهانا چاہتے ہیں. یہاں زمانہ شناس اور چہرہ شناس لوگوں کو ہرگز نہیں بهلایا جاسکتا جو پہلے ہی ٹکراؤ میں لوگوں کے اندر چھپی شخصیت کو بهی پہچان لیتے ہیں مگر مجھ سے کم علم اور اندها دهند اعتماد والے اکثر چوک ہی جاتے ہیں. دیکها جائے تو ہم سب ہی کا ایک دوسرا رخ ہمارے اندر ہر دم موجود ہوتا ہے جو اچانک خوشی، غمی یا اس مخصوص لمحے میں جب ہم ساری دنیا سے الگ تهلگ، تنہائی میں، کسی پرسکون گوشے میں، گہرے خیال میں ڈوبے اسے یاد کرتے ہیں اور وہ چهم سے کود پڑتا ہے. اپنے دوسرے رخ سے کلام کا سرور بهی اس دنیا سے سوا ہے. بنا کسی خوف کے سب کچھ کہہ ڈالنے کی آزادی کا احساس ہی بڑی حد تک انسان کو مطمئن کردیتا ہے.
خودکلامی بهی شاید ہمارے دنیا کو نظر آنے والے رخ اور شیشے میں خود کو دیکهتے وقت جهلکنے والے شخص کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ہی نام ہے. تو اگر ہم سب میں موجود ہمارا یہ رخِ دوئم کسی کے بهی نقصان کا خواہشمند نہ ہو تو یہ معصوم ہی ٹهہرا ناں؟ خیر بات یہ نہیں کرنی تهی مگر ہوگئی..
چونکہ ہم لوگوں کو ان کے بظاہر نظر آنے والے رخ ہی سے جانچتے ہیں تو اسی کی بات کرلیتے ہیں. یہ رخ بهی دراصل بلکل مصنوعی نہیں ہوتا. کہیں نہ کہیں اس رخ میں بهی انسان کے تمام رنگ جهلکتے ہیں. سادہ سی بات ہے کہ چاہے کوئی پیڑ اپنی شاخوں کو جس سمت بڑهالے اپنی جڑوں سے جدا نہیں ہوسکتا… وہی حال لوگوں کا ہے.
دنیا کو نظر آنے والے اس رخ کی بنیاد پہ اگر لوگوں کو تقسیم کیا جائے تو میری ذاتی و بے ضرر رائے میں کچھ لوگ بلکل کسی لیبلڈ ڈائگرام(labelled diagram) کی مانند ہوتے ہیں. بلکل عیاں، کچھ لاگ لپیٹ کے نہ رکهنے والے. کاپی میں بنی وہ شکل کہ جس کے ہر حصے کے آگے تیر سے اس کا نام و کام آویزاں ہو… بلکل اسی طرح چیخ چیخ کر اپنے بارے میں سب کچھ بیان کردینے والے لوگ. ایسے لوگوں کو باآسانی پڑها/پہچانا جاسکتا ہے. جبکہ اس کے برعکس کچھ لوگ انتہائی مشکل پسیج(passage) کی طرح ہوتے ہیں. ایسی عبارت جو انتہائی ضخیم اور مشکل الفاظ سے بنی ہو، جسے بار بار پڑهنا پڑهے اور کہیں کہیں ڈکشنری کی بهی ضرورت پیش آجائے.. ایسے لوگ کم شاید بہت کم ہوتے ہیں.
انسان میں تجسس کوٹ کوٹ کے بهرا ہے اسے ہر اس شے میں کشش محسوس ہوتی ہے جو ہاتهوں ہاتھ نہ لی جاسکے اور سب کی پہنچ میں نہ ہو.یہی وجہ ہے کہ یہ مشکل پیراگراف جیسی شخصیت رکهنے والے بلا کے متاثرکن لگتے ہیں. ہر سطر میں کسی نئی بات کی طرح ان کی ذات کے نہاں پہلو دوسروں کو باآسانی اپنی طرف راغب کرلیتے ہیں.. ہر ادا مبہم پر اپنی جانب دهیان کهینچ لینے والی.. ایسے لوگوں کو سمجھ پانا مشکل بے حد مشکل ہوجاتا ہے…

PS: آئم ناٹ آ سائکالوجسٹ

اگر آپ نے پوسٹ واقعی پوری پڑھ ڈالی ہے تو بے حد شکریہ.
سلامت رہیں!


سوچ کا قیدی

اس نے بے یقینی کے عالم میں دائیں بائیں نظر دوڑائی. ریل کی رفتار سست ہوتے ہوتے تهم چکی تهی اور ڈبہ خالی ہوچکا تها آخری اسٹیشن پہ اترنے والوں کی تعداد ویسے بهی کم تهی اور سب ہی منزل پر پہنچنے کی عجلت میں جلدی جلدی اپنے مانوس رستوں پر چل پڑے تهے. خشک ہونٹ اور چہرے پر جمی گرد کی تہہ نہ صرف اسکے نقوش کو بے روشن کررہی تهی بلکہ طویل سفر کی داستان بیان کرنے کیلئے بهی کافی تهی. منزل سے بے خبری اور راستے سے ناواقفیت اپنی جگہ مگر اب ریل سے اترنا اسکی مجبوری تهی. شکستہ قدموں سے وہ اسٹیشن سے نکل کر اطراف میں موجود ٹهیلے ریڑهوں کو پار کرتا ہوا ایک درخت کی جانب چل پڑا کسی بهلے مانس کی رکهی صراحی سے خشک ہونٹوں اور گلے کو تر کرکے اس نے اپنے قدم پهر اس رستے پر بڑهادیے جسکے آخری سرے کی اسے خبر نہ تهی.

کچے راستے پر اسکے اٹهتے قدم ریت کو ہوا میں شامل کرتے جارہے تهے. آس پاس درختوں سے اٹهنے والا پرندوں کا شور اور ہوا کی مدهم سرسراہٹ سے یکسر بے دهیان وہ چلتا چلا گیا. اسکی زندگی مسلسل سفر ہی تو تهی. بچپن سے جوانی کا سفر، چین سے بے چینی کا، روشنی سے اندهیرے کا، جنوں سے وحشت کا سفر اور نہ جانے کتنی چیزوں کو بسر کر چکا تها. زیست کی مسافت طے کرتے کرتے وہ دور نکل آیا تها اتنا دور کے اب ماضی کسی حسین نازک خواب کی مانند لگنے لگا تها جو فقط پلکوں کی جنبش سے ٹوٹ کر بکهر جاتا ہے. ایک گهنے پیڑ سے ٹیک لگا کر اپنی تهکی سوچ کو آرام پہنچانے کے خیال سے اس نے آنکهیں موند لیں. مگر اتنا ہی خود پر اختیار ہوتا تو آج وہ شاید یوں ویرانوں میں نہ پهر رہا ہوتا. معاملہ اگر اختیار اور بے اختیاری کا ہو تو انسان کا اختیار بهی اتنا ہی ناپائیدار ہے جتنا کہ اسکا خاکی جسم. وہ بیک وقت مختار بهی ہے اور مجبور بهی. جہاں اسکے اختیار کی حد ختم ہوتی ہے ٹهیک وہیں سے جبر کی سرحد شروع ہوجاتی ہے. اور کبهی کبهی اختیار ہوتے ہوئے بهی وہ مجبور ہوجاتا ہے. قسمت کے فیصلے کے آگے کب انسان کا اختیار کچھ کر پاتا ہے. وہ بهی اس قسمت کے کهیل میں زخمی ہوکر گر پڑنے والوں میں سے تها.

آنکهوں کے کواڑ بند ہوتے ہی گزشتہ دنوں کی مانوس یادیں کسی پرانی فلم کی طرح اسے بے چین کرنے آ پہنچیں. شرارتوں سے بهرا بهرپور بچپن، دنیا کے سارے جهمیلوں سے دور خوش رنگ لڑکپن اور کالج کا بے فکرا دور جب وہ زندگی کو ہر لمحہ حسین سمجھ بیٹها تها. بظاہر زندگی نے اپنے سارے رنگ اسکے جهولی میں ڈالے تهے لیکن اسکے اندر کا کهوکهلا پن اسے کب سکون لینے دیتا تها. پاس سے گزرنے والی سائیکل کی آہٹ نے اس کے خیالات کی ڈور کو ذرا سی دیر کیلئے تهام لیا اس نے آنکهیں کهولیں اور اپنے سامنے کهڑے سائیکل سوار کے سوالات پر انہیں دوبارہ موند لیا

“کون ہو تم؟”
“مسافر ہو؟”
“کہاں جانا چاہتے ہو؟”
“راستہ بهول کر ادهر آ نکلے ہو؟”

وہ ان تمام سوالات سے بهاگتا رہا تها مگر ہر جگہ یہی سوالات اس کا راستہ آن روکتے تهے. اس نے چہرہ دوسری طرف پهیر کر سوالات کو نظر انداز کردیا. رکنے والا سوار بهی اسے مجذوب سمجھ کر واپس اپنے راستے پر چل پڑا.

شام کے گہرے ہوتے سائے سے بے خبر وہ اسی درخت کے تنے سے ٹیک لگائے اپنے خیالوں میں ڈوبا اپنی گزری زندگی اور ادهورے خوابوں کو سوچتا رہا. محرومیوں سے زیادہ ظالم شاید مجبوریاں ہوتی ہیں. سب کچھ حاصل کرلینے کے بعد بهی بسااوقات انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے. کبھی معاشرے کے بنائے اصولوں،کبھی پیاروں کی ضد اور کبھی اپنی انا کے ہاتھوں انسان مجبور ہو ہی جاتا ہے..زندگی کے سفر میں قدم قدم پر سامنے آکھڑے ہونے والے امتحانوں کا مقابلہ کرنے کی اس میں اب ہمت باقی نہ تھی. گو انسانوں کے جنگل میں اسکے خواب بڑی خاموشی سے ٹوٹ کر بکهرے تهے مگر ان کی کرچیاں چنتے اسے لگنے والے زخموں کی چیخیں اسکے کانوں میں آج بهی گونجتی تهیں. اسکے خاموش سراپے اور شور کرتے دماغ نے اسے سب سے الگ لا کهڑا کیا تها. عجب بےنام سی اداسی تهی جس نے تمام مسکراہٹوں کو اس سے چهین لیا تها. آوارہ بهٹکتی سوچوں نے اس کے سراپے کو بهی آوارگی کی لپیٹ میں لے لیا تها، وہ حواس رکھتے ہوئے بهی اس احساس کو کوئی نام دینے سے قاصرتها. اکثر اوقات انسان خود اپنے لئے باعث ِآزار ہوجاتا ہے، وہ اپنی خودساختہ بیڑیوں میں کچھ اس طرح جکڑتا ہے کہ باقی سب اسے ویران دکهائی دینے لگتا ہے. وہ بهی اپنی پاگل سوچ کا قیدی تها وہ سوچ جو چاہے تو انسان کو مہکتے گلستان میں پہنچادے اور چاہے تو دہکتے آتشدان میں لا پٹخے. اس کی روح بھی سوچوں کے بهنور میں ڈوب چکی تهی اور وہ چاہ کے بهی اس سے فرار حاصل کرنے میں ناکام…..

شام کے گہرے سائے دیکھ کر اپنے اپنے آشیانوں کو لوٹنے والے پرندوں نے پیڑ کی چهایا میں بیٹهے اپنی ہی آگ میں خاکستر ہوتے مسافر کو دیکھا اور اپنے گھونسلوں میں دبک گئے.


سوچ کا قیدی

اس نے بے یقینی کے عالم میں دائیں بائیں نظر دوڑائی. ریل کی رفتار سست ہوتے ہوتے تهم چکی تهی اور ڈبہ خالی ہوچکا تها آخری اسٹیشن پہ اترنے والوں کی تعداد ویسے بهی کم تهی اور سب ہی منزل پر پہنچنے کی عجلت میں جلدی جلدی اپنے مانوس رستوں پر چل پڑے تهے. خشک ہونٹ اور چہرے پر جمی گرد کی تہہ نہ صرف اسکے نقوش کو بے روشن کررہی تهی بلکہ طویل سفر کی داستان بیان کرنے کیلئے بهی کافی تهی. منزل سے بے خبری اور راستے سے ناواقفیت اپنی جگہ مگر اب ریل سے اترنا اسکی مجبوری تهی. شکستہ قدموں سے وہ اسٹیشن سے نکل کر اطراف میں موجود ٹهیلے ریڑهوں کو پار کرتا ہوا ایک درخت کی جانب چل پڑا کسی بهلے مانس کی رکهی صراحی سے خشک ہونٹوں اور گلے کو تر کرکے اس نے اپنے قدم پهر اس رستے پر بڑهادیے جسکے آخری سرے کی اسے خبر نہ تهی.

کچے راستے پر اسکے اٹهتے قدم ریت کو ہوا میں شامل کرتے جارہے تهے. آس پاس درختوں سے اٹهنے والا پرندوں کا شور اور ہوا کی مدهم سرسراہٹ سے یکسر بے دهیان وہ چلتا چلا گیا. اسکی زندگی مسلسل سفر ہی تو تهی. بچپن سے جوانی کا سفر، چین سے بے چینی کا، روشنی سے اندهیرے کا، جنوں سے وحشت کا سفر اور نہ جانے کتنی چیزوں کو بسر کر چکا تها. زیست کی مسافت طے کرتے کرتے وہ دور نکل آیا تها اتنا دور کے اب ماضی کسی حسین نازک خواب کی مانند لگنے لگا تها جو فقط پلکوں کی جنبش سے ٹوٹ کر بکهر جاتا ہے. ایک گهنے پیڑ سے ٹیک لگا کر اپنی تهکی سوچ کو آرام پہنچانے کے خیال سے اس نے آنکهیں موند لیں. مگر اتنا ہی خود پر اختیار ہوتا تو آج وہ شاید یوں ویرانوں میں نہ پهر رہا ہوتا. معاملہ اگر اختیار اور بے اختیاری کا ہو تو انسان کا اختیار بهی اتنا ہی ناپائیدار ہے جتنا کہ اسکا خاکی جسم. وہ بیک وقت مختار بهی ہے اور مجبور بهی. جہاں اسکے اختیار کی حد ختم ہوتی ہے ٹهیک وہیں سے جبر کی سرحد شروع ہوجاتی ہے. اور کبهی کبهی اختیار ہوتے ہوئے بهی وہ مجبور ہوجاتا ہے. قسمت کے فیصلے کے آگے کب انسان کا اختیار کچھ کر پاتا ہے. وہ بهی اس قسمت کے کهیل میں زخمی ہوکر گر پڑنے والوں میں سے تها.

آنکهوں کے کواڑ بند ہوتے ہی گزشتہ دنوں کی مانوس یادیں کسی پرانی فلم کی طرح اسے بے چین کرنے آ پہنچیں. شرارتوں سے بهرا بهرپور بچپن، دنیا کے سارے جهمیلوں سے دور خوش رنگ لڑکپن اور کالج کا بے فکرا دور جب وہ زندگی کو ہر لمحہ حسین سمجھ بیٹها تها. بظاہر زندگی نے اپنے سارے رنگ اسکے جهولی میں ڈالے تهے لیکن اسکے اندر کا کهوکهلا پن اسے کب سکون لینے دیتا تها. پاس سے گزرنے والی سائیکل کی آہٹ نے اس کے خیالات کی ڈور کو ذرا سی دیر کیلئے تهام لیا اس نے آنکهیں کهولیں اور اپنے سامنے کهڑے سائیکل سوار کے سوالات پر انہیں دوبارہ موند لیا

“کون ہو تم؟”
“مسافر ہو؟”
“کہاں جانا چاہتے ہو؟”
“راستہ بهول کر ادهر آ نکلے ہو؟”

وہ ان تمام سوالات سے بهاگتا رہا تها مگر ہر جگہ یہی سوالات اس کا راستہ آن روکتے تهے. اس نے چہرہ دوسری طرف پهیر کر سوالات کو نظر انداز کردیا. رکنے والا سوار بهی اسے مجذوب سمجھ کر واپس اپنے راستے پر چل پڑا.

شام کے گہرے ہوتے سائے سے بے خبر وہ اسی درخت کے تنے سے ٹیک لگائے اپنے خیالوں میں ڈوبا اپنی گزری زندگی اور ادهورے خوابوں کو سوچتا رہا. محرومیوں سے زیادہ ظالم شاید مجبوریاں ہوتی ہیں. سب کچھ حاصل کرلینے کے بعد بهی بسااوقات انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے. کبھی معاشرے کے بنائے اصولوں،کبھی پیاروں کی ضد اور کبھی اپنی انا کے ہاتھوں انسان مجبور ہو ہی جاتا ہے..زندگی کے سفر میں قدم قدم پر سامنے آکھڑے ہونے والے امتحانوں کا مقابلہ کرنے کی اس میں اب ہمت باقی نہ تھی. گو انسانوں کے جنگل میں اسکے خواب بڑی خاموشی سے ٹوٹ کر بکهرے تهے مگر ان کی کرچیاں چنتے اسے لگنے والے زخموں کی چیخیں اسکے کانوں میں آج بهی گونجتی تهیں. اسکے خاموش سراپے اور شور کرتے دماغ نے اسے سب سے الگ لا کهڑا کیا تها. عجب بےنام سی اداسی تهی جس نے تمام مسکراہٹوں کو اس سے چهین لیا تها. آوارہ بهٹکتی سوچوں نے اس کے سراپے کو بهی آوارگی کی لپیٹ میں لے لیا تها، وہ حواس رکھتے ہوئے بهی اس احساس کو کوئی نام دینے سے قاصرتها. اکثر اوقات انسان خود اپنے لئے باعث ِآزار ہوجاتا ہے، وہ اپنی خودساختہ بیڑیوں میں کچھ اس طرح جکڑتا ہے کہ باقی سب اسے ویران دکهائی دینے لگتا ہے. وہ بهی اپنی پاگل سوچ کا قیدی تها وہ سوچ جو چاہے تو انسان کو مہکتے گلستان میں پہنچادے اور چاہے تو دہکتے آتشدان میں لا پٹخے. اس کی روح بھی سوچوں کے بهنور میں ڈوب چکی تهی اور وہ چاہ کے بهی اس سے فرار حاصل کرنے میں ناکام…..

شام کے گہرے سائے دیکھ کر اپنے اپنے آشیانوں کو لوٹنے والے پرندوں نے پیڑ کی چهایا میں بیٹهے اپنی ہی آگ میں خاکستر ہوتے مسافر کو دیکھا اور اپنے گھونسلوں میں دبک گئے.


ڈائری کا ایک صفحہ

ڈیئر ڈائری،
تم سے تعلق بنائے رکهنے کا تہیہ، ارادہ اور وعدہ تو ہر بار ہی کیا مگر بظاہر اس فارغ نظر آنے والے مصروف جیون میں سے اسے پورا کرنے کا وقت نہ نکال پائی. زندگی میں اور کچهہ کنسسٹنٹ ہو یا نہ ہو مگر تم سے مخاطب ہوتے ہوئے میں نے ہر بار اس وعدہ فراموشی کا اعتراف ضرور کیا ہے. گواہ رہنا! خیر گلے شکوے تم کرتی نہیں بس یہی تمہاری خوبی ہے جو خوشی یا غمی تم سے بانٹنے کا حوصلہ دیتی ہے. آج بهی تم سے ڈهیر ساری باتیں کرنی ہیں. تم سے اچها سامع اور دوست کون ہے بهلا میرا؟
تمہارے اس آخری صفحے کو کهول کر ایک عجیب سا احساس ہورہا ہے کچهہ چهوٹ جانے کا، جیسے ہاتهہ سے ریت پهسلے جاتی ہو بے شک یہ آج کی تاریخ ہی کا اثر ہے آج اکتیس دسمبر ہے سال کا آخری دن جو اب تقریبا گزر ہی چکا ہے اس کے آخری سورج کو ڈوبے بهی کئی گهنٹے بیت چکے ہیں اور کچهہ ہی دیر میں گهڑی کی دونوں سوئیوں کے بارہ کے ہندسے کو چهوتے ہی ہم نئے سال میں داخل ہوجائینگے. فضا میں دسمبر کی یخ بستہ ہواءوں کے ساتهہ ساتهہ لوگوں کے سرد روویوں کا اثر بهی محسوس ہوتا ہے. کچهہ دیر پہلے ٹوئیٹری پیغامات بهی دیکهے جن میں کچهہ لوگ اپنے گزرے سال کے احوال کا ذکر کرتے نظر آئے تو کچهہ آنے والے سال کے حوالے سے اپنے عزائم اور ارادوں کا تذکرہ…
پیاری ڈائری! تم تو جانتی ہی ہو اس برس کیا کچهہ ہوا. بلاناغہ نہ سہی مگر جو جو مجهے اہم لگا میں تم سے شیئر کرتی آئی ہوں. وطن عزیز کے حالات سے دل کے واقعات سب کا حال تمہیں پتا ہی ہے. سال کے بارہ مہینوں، باون ہفتوں اور تین سو پینسٹهہ دنوں میں جہاں گرمی، سردی، خزاں، بہار کی رتیں چهائی رہیں وہیں درخت جاں پہ خوشی، غمی، امید اور نا امیدی کے موسم اترے. دل پہ کچهہ قیامتیں بلاوجہ کی توقعات کے سبب ٹوٹیں تو کچهہ آس پاس رونما ہونے والے واقعات کے باعث. مسکراہٹوں سے زیادہ آنسو اس سال وطن عزیز کا مقدر بنے جنکی نمی سے ہر ذی شعور و ذی احساس شخص بهیگا. خشک رہے تو اونچے اونچے منسب پہ فائز سنگ دل لوگ. زمین سر سبز سے زیادہ سرخ ہوئی. آسمان کهلا رہنے کے بجائے بارود اور گولیوں کے دهویں سے ڈهکا رہا. انصاف کے نام پہ ناانصافی ہوئی تو مجبور کے ساتهہ. بهوک کے نام پہ روٹی چهنی تو فاقہ کش کی. بےامنی کے خلاف جنگ میں امن چهینا گیا تو بے ضرر کا اور زمین کی منصفانہ تقسیم کے نام پہ آسمان کے نیچے آیا تو کچے گهر کا مکین. چہرے بدلے نظام اس برس بهی نہ بدلا. سب کچهہ ویسا ہی رہا. لوگ تنکا تنکا ہوکر بکهرتے رہے اور اتحاد کا پهول مرجهاتا چلاگیا. اب تو امید کا درخت بهی جهڑتے جهڑتے خالی سا ہوگیا ہے. نئے خواب بهی اس پہ گهونسلہ نہیں بناتے. عجب ویرانی ہے اس سبز پرچم کے دیس میں گلشن جیسے تو حال نظر ہی نہیں آتے. اس نئے سال کو لے کر سب نئی نئی باتیں کر رہے ہیں. نئے وعدے اور نئے ارادے باندهہ رہے ہیں. خدا جانے ان کا انجام کیا ہوگا؟ ہر برس کی طرح چند دنوں بعد یہ سب ہوا میں تحلیل ہوجائینگے یا ہم متحد ہو کے کچهہ کرپائیں گے. عجب بے یقینی سی ہے. کافی کا کپ ختم ہوگیا ہے اور شاید اسوقت میرے خیالات بهی. میں پهر لوٹوں گی. دعا کرتی ہوں اگلے بار کچهہ بہتری کی روداد تمہیں سنا سکوں.
نیا سال مبارک ہو…

ص


ڈائری کا ایک صفحہ

ڈیئر ڈائری،
تم سے تعلق بنائے رکهنے کا تہیہ، ارادہ اور وعدہ تو ہر بار ہی کیا مگر بظاہر اس فارغ نظر آنے والے مصروف جیون میں سے اسے پورا کرنے کا وقت نہ نکال پائی. زندگی میں اور کچهہ کنسسٹنٹ ہو یا نہ ہو مگر تم سے مخاطب ہوتے ہوئے میں نے ہر بار اس وعدہ فراموشی کا اعتراف ضرور کیا ہے. گواہ رہنا! خیر گلے شکوے تم کرتی نہیں بس یہی تمہاری خوبی ہے جو خوشی یا غمی تم سے بانٹنے کا حوصلہ دیتی ہے. آج بهی تم سے ڈهیر ساری باتیں کرنی ہیں. تم سے اچها سامع اور دوست کون ہے بهلا میرا؟
تمہارے اس آخری صفحے کو کهول کر ایک عجیب سا احساس ہورہا ہے کچهہ چهوٹ جانے کا، جیسے ہاتهہ سے ریت پهسلے جاتی ہو بے شک یہ آج کی تاریخ ہی کا اثر ہے آج اکتیس دسمبر ہے سال کا آخری دن جو اب تقریبا گزر ہی چکا ہے اس کے آخری سورج کو ڈوبے بهی کئی گهنٹے بیت چکے ہیں اور کچهہ ہی دیر میں گهڑی کی دونوں سوئیوں کے بارہ کے ہندسے کو چهوتے ہی ہم نئے سال میں داخل ہوجائینگے. فضا میں دسمبر کی یخ بستہ ہواءوں کے ساتهہ ساتهہ لوگوں کے سرد روویوں کا اثر بهی محسوس ہوتا ہے. کچهہ دیر پہلے ٹوئیٹری پیغامات بهی دیکهے جن میں کچهہ لوگ اپنے گزرے سال کے احوال کا ذکر کرتے نظر آئے تو کچهہ آنے والے سال کے حوالے سے اپنے عزائم اور ارادوں کا تذکرہ…
پیاری ڈائری! تم تو جانتی ہی ہو اس برس کیا کچهہ ہوا. بلاناغہ نہ سہی مگر جو جو مجهے اہم لگا میں تم سے شیئر کرتی آئی ہوں. وطن عزیز کے حالات سے دل کے واقعات سب کا حال تمہیں پتا ہی ہے. سال کے بارہ مہینوں، باون ہفتوں اور تین سو پینسٹهہ دنوں میں جہاں گرمی، سردی، خزاں، بہار کی رتیں چهائی رہیں وہیں درخت جاں پہ خوشی، غمی، امید اور نا امیدی کے موسم اترے. دل پہ کچهہ قیامتیں بلاوجہ کی توقعات کے سبب ٹوٹیں تو کچهہ آس پاس رونما ہونے والے واقعات کے باعث. مسکراہٹوں سے زیادہ آنسو اس سال وطن عزیز کا مقدر بنے جنکی نمی سے ہر ذی شعور و ذی احساس شخص بهیگا. خشک رہے تو اونچے اونچے منسب پہ فائز سنگ دل لوگ. زمین سر سبز سے زیادہ سرخ ہوئی. آسمان کهلا رہنے کے بجائے بارود اور گولیوں کے دهویں سے ڈهکا رہا. انصاف کے نام پہ ناانصافی ہوئی تو مجبور کے ساتهہ. بهوک کے نام پہ روٹی چهنی تو فاقہ کش کی. بےامنی کے خلاف جنگ میں امن چهینا گیا تو بے ضرر کا اور زمین کی منصفانہ تقسیم کے نام پہ آسمان کے نیچے آیا تو کچے گهر کا مکین. چہرے بدلے نظام اس برس بهی نہ بدلا. سب کچهہ ویسا ہی رہا. لوگ تنکا تنکا ہوکر بکهرتے رہے اور اتحاد کا پهول مرجهاتا چلاگیا. اب تو امید کا درخت بهی جهڑتے جهڑتے خالی سا ہوگیا ہے. نئے خواب بهی اس پہ گهونسلہ نہیں بناتے. عجب ویرانی ہے اس سبز پرچم کے دیس میں گلشن جیسے تو حال نظر ہی نہیں آتے. اس نئے سال کو لے کر سب نئی نئی باتیں کر رہے ہیں. نئے وعدے اور نئے ارادے باندهہ رہے ہیں. خدا جانے ان کا انجام کیا ہوگا؟ ہر برس کی طرح چند دنوں بعد یہ سب ہوا میں تحلیل ہوجائینگے یا ہم متحد ہو کے کچهہ کرپائیں گے. عجب بے یقینی سی ہے. کافی کا کپ ختم ہوگیا ہے اور شاید اسوقت میرے خیالات بهی. میں پهر لوٹوں گی. دعا کرتی ہوں اگلے بار کچهہ بہتری کی روداد تمہیں سنا سکوں.
نیا سال مبارک ہو…

ص


دسمبر لوٹ آیا ہے…

گیارہ ماہ کی مسافت طے ہوئی اور دسمبر آن پہنچا. ایک دو نہیں پورے گیارہ معمول کے ماہ اور پهر شاہوں کے شاہ دسمبر کی آمد. کہر آلود صبحیں، یخ بستہ طویل راتیں کچھ تو ہے اس ستمگر، ستم شعار مہینے میں جو دسمبر رسیدہ روحیں اپنے زخم خوردہ دلوں پر ٹوٹنے والی ساری قیامتوں کا ذمےدار اسے ٹهہراتی ہیں. کوئی بستر پہ بکهری کتابوں کے بهیگنے کا الزام دیتا ہے تو کوئی فرقتوں کی جڑِ فساد اسے مانتا ہے مطلب معصوم چیزوں کو ناحق تو کوئی قصوروار نہیں قرار دیتا.

یادوں کا دهارا گزرے دنوں کی جانب موڑدینے والے دسمبری موسم میں جہاں سوختہ تن، شکستہ دل، دریدہ جانیں، منتظر نگاہیں واپس نہ لوٹنے والوں کی راه تکتے منجمد سی ہوتی ہے وہیں گرم کافی کے کپ سے اٹهنے والا دهواں اور اس میں نظر آنے والی صورت دیکهتے دیکهتے خیالوں کی ریل نامعلوم پٹری پہ رواں ہوتی ہے اور جب یادوں کا یہ سلسلہ ٹوٹتا ہے تو یاس و نراس کی کہر شدید اور حزن و ملال کے سائے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں. ٹهنڈی کافی کی تلخیوں سے تلخ یادوں کو بهلانے کی کوشش بهی سودمند نہیں رہتی. شاید ماہِ دسمبر زخموں کو ہرا کرنے میں کمال مہارت رکهتا ہے.

مگر صاحب اس ماہ کے مندرجہ بالا عذاب و ثواب سے قطع نظر گزشتہ تین سالوں سے ہماری زندگی نے دسمبر کے جو رنگ ملاحظہ فرمائے بخدا آئیندہ چند سال تک خوف کے بادل چهٹ نہ پائیں گے. اکیسویں صدی کے گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں دسمبر نے ہماری شرارتوں، بذلہ سنج طبیعت سمیت موسم انجوائے کرنے کے تمام مواقع ہی سلب کرڈالے. بچپن میں ابرارالحق کو ‘اب کتابوں میں جی نہیں لگتا’ کہتے سن کر ہمیں ان پر اپنی کلاس کے لاسٹ سیٹ پر بیٹهنے والے شریر بچے کے بڑے بهائی کا گمان ہوتا تها مگر جیسے جیسے عمر کی بہاریں گزرتی چلیں اس نظریے نے بهی یو ٹرن لے لیا. دسمبر کے مہینے میں بهلا کتابوں میں جی لگ سکتا؟ اور پهر دسمبر میں امتحانات وہ کیسے لیے جاسکتے ہیں؟ مگر گزشتہ تین سالوں میں یونیورسٹی نے ہماری خواہشات کا نہ صرف قتل عام کیا (دستانے پہن کر) بلکہ ہم اپنی معصوم خواہشوں کا گلے کٹتے دیکهتے ہوئے بهی کچهہ نہ کرسکے. لحاف میں دبک کرمونگ پهلی اور چلغوزوں کے بجائے نہارمنہ بادامیں کهائیں، حرارت کیلئے کهائے جانے والے حلوہ جات کے بجائے معجونوں پہ اکتفا کیا. کافی کسی کی یاد میں تو ٹهنڈی نہ ہوئی پر ہر شب وصالِ کتب کی خاطر خوب کافی کے کپ انڈیلے. آنکهیں کسی کی راہ تکتے نہ تهکیں مگر پڑھ پڑھ کے ضرور سوج گئیں. نیندیں بهی اڑیں مگر ناکامی کے خوف سے. کہتے ہیں دسمبر جس گریس سے پورے سال کو الوداع کہتا ہے ویسا ظرف کسی اور مہینے میں نہیں مگر ہمارے لیے دسمبر ہر بار زحمت ہی بنتا جارہا نہ جانے کیوں؟

درختِ جاں پہ جب بھی اترا دسمبر
کچھ نہ پوچھو کتنے عذاب آئے


دسمبر لوٹ آیا ہے…

گیارہ ماہ کی مسافت طے ہوئی اور دسمبر آن پہنچا. ایک دو نہیں پورے گیارہ معمول کے ماہ اور پهر شاہوں کے شاہ دسمبر کی آمد. کہر آلود صبحیں، یخ بستہ طویل راتیں کچھ تو ہے اس ستمگر، ستم شعار مہینے میں جو دسمبر رسیدہ روحیں اپنے زخم خوردہ دلوں پر ٹوٹنے والی ساری قیامتوں کا ذمےدار اسے ٹهہراتی ہیں. کوئی بستر پہ بکهری کتابوں کے بهیگنے کا الزام دیتا ہے تو کوئی فرقتوں کی جڑِ فساد اسے مانتا ہے مطلب معصوم چیزوں کو ناحق تو کوئی قصوروار نہیں قرار دیتا.

یادوں کا دهارا گزرے دنوں کی جانب موڑدینے والے دسمبری موسم میں جہاں سوختہ تن، شکستہ دل، دریدہ جانیں، منتظر نگاہیں واپس نہ لوٹنے والوں کی راه تکتے منجمد سی ہوتی ہے وہیں گرم کافی کے کپ سے اٹهنے والا دهواں اور اس میں نظر آنے والی صورت دیکهتے دیکهتے خیالوں کی ریل نامعلوم پٹری پہ رواں ہوتی ہے اور جب یادوں کا یہ سلسلہ ٹوٹتا ہے تو یاس و نراس کی کہر شدید اور حزن و ملال کے سائے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں. ٹهنڈی کافی کی تلخیوں سے تلخ یادوں کو بهلانے کی کوشش بهی سودمند نہیں رہتی. شاید ماہِ دسمبر زخموں کو ہرا کرنے میں کمال مہارت رکهتا ہے.

مگر صاحب اس ماہ کے مندرجہ بالا عذاب و ثواب سے قطع نظر گزشتہ تین سالوں سے ہماری زندگی نے دسمبر کے جو رنگ ملاحظہ فرمائے بخدا آئیندہ چند سال تک خوف کے بادل چهٹ نہ پائیں گے. اکیسویں صدی کے گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں دسمبر نے ہماری شرارتوں، بذلہ سنج طبیعت سمیت موسم انجوائے کرنے کے تمام مواقع ہی سلب کرڈالے. بچپن میں ابرارالحق کو ‘اب کتابوں میں جی نہیں لگتا’ کہتے سن کر ہمیں ان پر اپنی کلاس کے لاسٹ سیٹ پر بیٹهنے والے شریر بچے کے بڑے بهائی کا گمان ہوتا تها مگر جیسے جیسے عمر کی بہاریں گزرتی چلیں اس نظریے نے بهی یو ٹرن لے لیا. دسمبر کے مہینے میں بهلا کتابوں میں جی لگ سکتا؟ اور پهر دسمبر میں امتحانات وہ کیسے لیے جاسکتے ہیں؟ مگر گزشتہ تین سالوں میں یونیورسٹی نے ہماری خواہشات کا نہ صرف قتل عام کیا (دستانے پہن کر) بلکہ ہم اپنی معصوم خواہشوں کا گلے کٹتے دیکهتے ہوئے بهی کچهہ نہ کرسکے. لحاف میں دبک کرمونگ پهلی اور چلغوزوں کے بجائے نہارمنہ بادامیں کهائیں، حرارت کیلئے کهائے جانے والے حلوہ جات کے بجائے معجونوں پہ اکتفا کیا. کافی کسی کی یاد میں تو ٹهنڈی نہ ہوئی پر ہر شب وصالِ کتب کی خاطر خوب کافی کے کپ انڈیلے. آنکهیں کسی کی راہ تکتے نہ تهکیں مگر پڑھ پڑھ کے ضرور سوج گئیں. نیندیں بهی اڑیں مگر ناکامی کے خوف سے. کہتے ہیں دسمبر جس گریس سے پورے سال کو الوداع کہتا ہے ویسا ظرف کسی اور مہینے میں نہیں مگر ہمارے لیے دسمبر ہر بار زحمت ہی بنتا جارہا نہ جانے کیوں؟

درختِ جاں پہ جب بھی اترا دسمبر
کچھ نہ پوچھو کتنے عذاب آئے


پانچویں جماعت کا سبق

ایمبولنس کی چنگهاڑتی آواز سن کر اس نے اپنی آنکهیں کهول دیں.نجانے کب وہ اپنی سوچوں کی دنیا سے خوابوں کی دنیا کے سفر پہ نکل پڑا تها مگر اچانک گزرنے والی ایمبولنس کی تیز آواز نے اسے واپس ہوش کی دنیا میں پہنچا دیا. ٹیبل پر بکهرے اخبارات سمیٹتے ہوئے اس نے ریموٹ کنٹرول سے ایک نیوز چینل ٹیون کیا. جس دوران ٹی وی اسکرین روشن ہوئی وہ سب کی خیریت کی دعا زیر لب دہرا چکا تها.

خلاف امید اور حسب عادت شہر میں ہونے والے کسی ناخوشگوار واقعے کی تفصیلات شہہ سرخی کی صورت بار بار نیوز چینل پر نمایاں کی جارہی تهیں. گزشتہ چند دنوں سےاٹهنے والی دہشت گرد کاروائیوں کی لہر نے شہر کی فضا میں عجیب ہلچل پیدا کر رکهی تهی. نیوز اینکر جائے حادثہ کی تصاویر کے ہمراه زبانی بهی واقعے کی تفصیلات بیان کر رہے تهے. واقعہ کسی ہوٹل کے قریب رونما ہوا تها.تخریب کاروں کی کاروائی نے پهر سے چار خاندانوں کے چراغ گل کردیے تهے. زندگی کی بازی ہارنے والے چاروں افراد کا تعلق ایک مخصوص فرقے سے تها. گزرے دنوں میں فرقہ واریت کا نشانہ بننے والے دیگر افراد کے رخصت ہوجانے کے بعد کی طرح اس بار بهی واقعے کی مذمت کرنے والوں کے بیانات یکے بعد دیگرے خبروں کے ساتهہ نشر کیے جارہے تهے. اس نے تاسف سے آنکهوں کو موند لیا اور اس دنیا سے گزر جانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کی. شہر میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہ تها. گزشتہ کئی دنوں سے اسی طرح کے واقعات رونما ہو رہے تهے اور معصوم لوگوں کا خون بلاوجہ خاک میں ملتا رہا تها. نہ مرنے والے کو اپنے ناکردہ جرم کی خبر تهی اور نہ مارنے والے کا مقصد کوئی سمجهہ پایا تها. سیاسی اور مذہبی رہنماءوں کا حصہ صرف بیانات دینے، ان واقعات کی مذمت کرنے یا ان واقعات کا ذمہ دار کسی اور کو ٹہرانے کی حد تک تها. اور کسی بهی بہتری کی توقع صرف زبانی کلامی دعووں تک محدود ہوچکی تهی.

اچانک ہی بج اٹهنے والی موبائل فون کی گهنٹی نے اسکی توجہ اپنی جانب مبزول کروائی. اسکرین پر اسکے قریبی دوست کا نمبر چمک رہا تها. فون اٹها کر ابهی سلام کرنا ہی چاہا تها کہ اسکے دوست کی پریشان آواز نے اسے روک دیا.کچهہ دیر قبل رونما ہونے والے واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے افراد میں سے دو افراد اسکے دوست کے کزن اور اسکے پرانے ساتهیوں میں سے تهے. اس نے اپنے بچپن سمیت زندگی کا یادگار وقت انکے ساتهہ گزارا تها ایک لمحے کیلئے اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا مگر حقیقت یہی تهی. بوجهل دکهی دل کے ساتهہ وہ کرسی پر ڈهے سا گیا. اچانک اسکی آنکهوں کے سامنے پانچویں جماعت کی کلاس کا منظر تها جہاں وہ اور اسکے ساتهی اسلامیات کی کتاب ہاتهہ میں تهامے نہایت محویت سے اپنی ٹیچر کی بات سن رہے تهے.

“قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں،

ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺳّﯽ ﮐﻮ
ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺭﮐﮭﻮ،ﺍﻭﺭ ﺍٓﭘﺲ ﻣیں
ﭘﮭﻮﭦ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻮ

یعنی بچوں! شیطان اور مسلمانوں کے دشمن لاکهہ کوشش کرلیں بہکانے کی، ایک دوسرے سے بدگمان کرنے کی لیکن اگر مسلمان متحد ہو کر رہیں اور آپس میں نہ لڑیں تو کوئی انہیں نقصان نہیں پہنچاسکتا. آپ سب بهی آپس میں مل کر رہتے ہیں نہ؟”

ٹیچر کی آواز آج بهی حرف بہ حرف اسکی یادداشت میں محفوظ تهی.


پانچویں جماعت کا سبق

ایمبولنس کی چنگهاڑتی آواز سن کر اس نے اپنی آنکهیں کهول دیں.نجانے کب وہ اپنی سوچوں کی دنیا سے خوابوں کی دنیا کے سفر پہ نکل پڑا تها مگر اچانک گزرنے والی ایمبولنس کی تیز آواز نے اسے واپس ہوش کی دنیا میں پہنچا دیا. ٹیبل پر بکهرے اخبارات سمیٹتے ہوئے اس نے ریموٹ کنٹرول سے ایک نیوز چینل ٹیون کیا. جس دوران ٹی وی اسکرین روشن ہوئی وہ سب کی خیریت کی دعا زیر لب دہرا چکا تها.

خلاف امید اور حسب عادت شہر میں ہونے والے کسی ناخوشگوار واقعے کی تفصیلات شہہ سرخی کی صورت بار بار نیوز چینل پر نمایاں کی جارہی تهیں. گزشتہ چند دنوں سےاٹهنے والی دہشت گرد کاروائیوں کی لہر نے شہر کی فضا میں عجیب ہلچل پیدا کر رکهی تهی. نیوز اینکر جائے حادثہ کی تصاویر کے ہمراه زبانی بهی واقعے کی تفصیلات بیان کر رہے تهے. واقعہ کسی ہوٹل کے قریب رونما ہوا تها.تخریب کاروں کی کاروائی نے پهر سے چار خاندانوں کے چراغ گل کردیے تهے. زندگی کی بازی ہارنے والے چاروں افراد کا تعلق ایک مخصوص فرقے سے تها. گزرے دنوں میں فرقہ واریت کا نشانہ بننے والے دیگر افراد کے رخصت ہوجانے کے بعد کی طرح اس بار بهی واقعے کی مذمت کرنے والوں کے بیانات یکے بعد دیگرے خبروں کے ساتهہ نشر کیے جارہے تهے. اس نے تاسف سے آنکهوں کو موند لیا اور اس دنیا سے گزر جانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کی. شہر میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہ تها. گزشتہ کئی دنوں سے اسی طرح کے واقعات رونما ہو رہے تهے اور معصوم لوگوں کا خون بلاوجہ خاک میں ملتا رہا تها. نہ مرنے والے کو اپنے ناکردہ جرم کی خبر تهی اور نہ مارنے والے کا مقصد کوئی سمجهہ پایا تها. سیاسی اور مذہبی رہنماءوں کا حصہ صرف بیانات دینے، ان واقعات کی مذمت کرنے یا ان واقعات کا ذمہ دار کسی اور کو ٹہرانے کی حد تک تها. اور کسی بهی بہتری کی توقع صرف زبانی کلامی دعووں تک محدود ہوچکی تهی.

اچانک ہی بج اٹهنے والی موبائل فون کی گهنٹی نے اسکی توجہ اپنی جانب مبزول کروائی. اسکرین پر اسکے قریبی دوست کا نمبر چمک رہا تها. فون اٹها کر ابهی سلام کرنا ہی چاہا تها کہ اسکے دوست کی پریشان آواز نے اسے روک دیا.کچهہ دیر قبل رونما ہونے والے واقعے میں جان کی بازی ہارنے والے افراد میں سے دو افراد اسکے دوست کے کزن اور اسکے پرانے ساتهیوں میں سے تهے. اس نے اپنے بچپن سمیت زندگی کا یادگار وقت انکے ساتهہ گزارا تها ایک لمحے کیلئے اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا مگر حقیقت یہی تهی. بوجهل دکهی دل کے ساتهہ وہ کرسی پر ڈهے سا گیا. اچانک اسکی آنکهوں کے سامنے پانچویں جماعت کی کلاس کا منظر تها جہاں وہ اور اسکے ساتهی اسلامیات کی کتاب ہاتهہ میں تهامے نہایت محویت سے اپنی ٹیچر کی بات سن رہے تهے.

“قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں،

ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺳّﯽ ﮐﻮ
ﻣﻀﺒﻮﻃﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﺭﮐﮭﻮ،ﺍﻭﺭ ﺍٓﭘﺲ ﻣیں
ﭘﮭﻮﭦ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻮ

یعنی بچوں! شیطان اور مسلمانوں کے دشمن لاکهہ کوشش کرلیں بہکانے کی، ایک دوسرے سے بدگمان کرنے کی لیکن اگر مسلمان متحد ہو کر رہیں اور آپس میں نہ لڑیں تو کوئی انہیں نقصان نہیں پہنچاسکتا. آپ سب بهی آپس میں مل کر رہتے ہیں نہ؟”

ٹیچر کی آواز آج بهی حرف بہ حرف اسکی یادداشت میں محفوظ تهی.


سیلف نوٹ

سوچ جتنے سادہ انداز سے لفظوں میں پروئی جائے بہتر ہے. ثقیل اور ضخیم طرز کچه لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے مگر سادہ بات دل میں اترتی ہے. اسکا سحر ہی مختلف ہوتا ہے. تحریر وہی اچهی جسے پڑهتے ہوئے اکتاہٹ نہ ہو اور ایک سانس ہی میں پڑه لی جائے. 


سیلف نوٹ

سوچ جتنے سادہ انداز سے لفظوں میں پروئی جائے بہتر ہے. ثقیل اور ضخیم طرز کچه لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے مگر سادہ بات دل میں اترتی ہے. اسکا سحر ہی مختلف ہوتا ہے. تحریر وہی اچهی جسے پڑهتے ہوئے اکتاہٹ نہ ہو اور ایک سانس ہی میں پڑه لی جائے. 


اے دل بتا…

اے دل بتا اب کدهر چلیں؟
وہ رستہ تو اب چهوٹ گیا
جو جوگ بجوگ کا ساتهی تها
وہ بهی ہم سے روٹهہ گیا
جو کچا پکا ریشم سا
رشتہ ہم نے جوڑا تها
نہ جانے کیسے ٹوٹ گیا؟
اے دل بتا اب کدهر چلیں؟
ساحل ریت پہ چهوٹا سا
جو گهر ہم نے بنایا تها
تیز برستی ساون کی
ٹپ ٹپ گرتی بوندوں سے
اب وہ بهی دیکهو ٹوٹ گیا
اے دل بتا اب کدهر چلیں؟
جو اب تک جیون راہوں میں
ہاتهہ ہمارا ہاتهہ میں لے کر
ساتهہ ہمارے چلتا تها
وہ رہبر ہم کو لوٹ گیا
اے دل بتا اب کدهر چلیں؟
کس طرح اور کس سہارے
ان نینوں کی ساری باتوں
ان ہونٹوں کی میٹهی سی
ہر آن سجی مسکان پہ اب ہم
کسطرح یقین کریں؟
کس طرح بہلائیں خود کو؟
کس سمت بڑهائیں اپنے قدم؟
کس راہ پہ خود کو ڈالیں ہم؟
اب تو ہی بتا ہم کدهر چلیں؟


کا-اہلیت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بے شک اول و آخر وہی پاک ذات ہے جس نے ہمیں پیدا کیا. اسی کی عطا کردہ صلاحیتوں کے بل پہ ہم اترائے ہوئے پهرتے ہیں اور بسا اوقات شکر کے دو بول ادا کرنا بهی بهول جاتے ہیں پر وہ ہمیں کسی حال میں نہیں بهولتا… نوازتا رہتا ہے اپنی رحمتوں سے، نعمتوں سے، خیالات سے اور نت نئے الفاظ سے. بس آج مجه گناہگار کو بلاگ کا آغاز کرتے ہوئے اس پاک ذات کی حمدوثناء کا شرف حاصل ہوگیا اب برکت تو آپ ہی پڑجانی اس بلاگ میں. انشآاللہ :)

ہاں تو دوستوں آج جو گستاخیوں کا طوفان امڈا ہے اسے طبیعتء ناساز بهی نہیں روک پائی.اتنا چیختے ہیں یہ الفاظ کے انہیں باہر نکالنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں بیمار کے پاس. نہ! نہ! کانوں سے انگلیاں باہر نکالیں فورا”… سننا (مطلب پڑهنا) تو یہ آپ کو ہی پڑے گا. تو عزیزوں عرض یہ ہے کہ انسانوں کے اس جنگل میں بهانت بهانت کے لوگوں سے آپ سب روز ہی ٹکراتے ہونگے. کچهہ رک کر سوری کہتے ہونگے اور کچهہ یونہی نکل جاتے ہونگے.. انہی پچاس ساٹهہ ہزار کروڑ لوگوں کی نمائندہ جماعت ‘کاہلوں’ کو آج ہم ڈسکس کرنے کا شرف حاصل کریں گے. بظاہر عام انسانوں سے نظر آنے والے یہ خاص لوگ دراصل
“رات کو جوں توں صبح کیا، صبح کو جوں توں شام کیا”
کی عملی تفسیر ہوتے ہیں. یہ عموما” بیڈ، کاءوچ، صوفے وغیرہ پہ نیم دراز حالت میں پائے جاتے ہیں. کانوں میں ائیر فونز اور موبائل فون پہ تهرکتی انگلیاں انکا ‘آئیڈنٹیفائینگ کریکٹر’ ہیں. عام عوام انہیں خوش مزاج ہی تصور کرتی ہے کیونکہ یہ ہمیشہ سر جهکائے مسکراتے رہتے ہیں. آج کا کام کل پر ڈالنا انکا شیوہ ہوتا ہے اور خوش قسمتی سے انکی کل کبهی نہیں آتی. ان سے بات کرنے پر آپ کو ایسا گمان ہوتا ہے کہ یہ دنیا کے مصروف ترین باشندے ہیں کیونکہ بقول ان عظیم لوگوں کے انکے پاس ‘ٹیم’ ہی نہیں ہوتا کہ یہ کار جہاں سمیٹ پائیں. کهانا، پینا، سونا اور فون اور لیپ ٹاپ چارج کر کر کے بجلی جلانا انکے ہوبییز میں شمار کیے جاتے ہیں. بقول ایک مشہور کاہل کے:

چارجنگ دراز مانگ کر لائے تهے چار آرز
دو فیس بک پہ مک گئے دو ٹوئیٹرستان پہ

اور ایک سست موصوفہ نے اس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجهہ لیجئیے
ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے گیجٹس میں وقت بتانا ہے

ہاں تو ہم کہہ رہے تهے دنیا کے بکهیڑے سنبهالنے کا ان کاہل، سست، نکموں کو کوئی شوق نہیں ہوتا.انکی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں جن میں ذرا سا خلل یہ برداشت نہیں کرپاتے. کوئی بهولا معصوم بندہ یا انکا کوئی بڑا اگر انہیں کوئی کام دے دے تو اول تو یہ اپنی کتابوں کی موٹائی (درحقیقت جن کے صفحے بهی نہیں کاٹے گئے ہوتے) بتا کر انہیں ٹالنے کی بهرپور کوشش کرتے ہیں پر اگر سامنے والا بضد ہوجائے اور انہیں اپنا سر مجبورا” اثبات میں ہلانے کی زحمت پیش آجائے تو دل ہی دل میں یہ بڑا مسوستے ہیں اور بعد ازاں سپرد کیا جانے والا کام اس قدر بے دلی سے کرتے ہیں کہ بندہ اپنی اس غلطی پر زندگی بهر پچهتاتا رہے.

احمقوں کی طرح ان کی بهی ایک جنت ہوتی ہے جہاں یہ حوروں کے بجائے فری وائی فائی کے سپنے دیکهتے ہیں. سوچتے ہی کهانا حاضر ہوجانے والی ڈیمانڈ البتہ کچهہ مختلف نہیں.

ڈهٹائی ان میں کوٹ کوٹ کر بهری ہوتی ہے بلکہ گزشتہ دنوں ابهرنے والی ایک تحقیق سے یہ سن گن بهی لگی کہ یہ ڈهٹائی، بے شرمی اور هڈ حرامی کا ہی مرکب ہوتے ہیں. یہ عظیم ہستیاں اپنے سپرد کیے جانے والے کام کو ٹالنے میں جتنی ایکسپرٹ ہوتی ہیں اتنا ہی دوسروں سے اپنا کام نکلوانے میں بهی. اس حوالے سے ان کا سلوگن “یار یہ کام کردے، بهائی نہیں ہے؟” کافی مشہور ہے.

بیٹهے بیٹهے ٹهونسنے اور ہر وقت سونے کے باوجود بهی یہ دکهنے میں کافی فٹ اور اسمارٹ لگتے ہیں. اسکی اہم وجہ انکی اپنے ڈیفالٹ فاسٹ میٹابولک ریٹ سے واقفیت ہوتی ہے. یہ جانتے ہیں کہ انکا ٹهونسا گیا ایک ایک نوالہ تیزی سے ہضم ہوکر انکے جسم کو مزید متناسب بنانے میں صرف ہوجانا یہی وجہ ہے کہ یہ بهاری ڈیل ڈول والے افراد کو دیکهہ کر ‘ایول اسمائیلز’ پاس کرتے ہیں اور ورک آءوٹ جیسے خطرناک مراحل سے نبرد آزما ہونے والے ڈیفالٹ موٹے بیچارےصرف جل بهن کر رہ جاتے ہیں.

کاہلوں کی شان میں یہ قصیدے پڑهتے مجهے ایک گهنٹے سے زیادہ بیت چکا مگر اب بهی بتانے کو اتنا کچهہ باقی ہے کہ ہم بتلائیں کیا؟ زندگی رہی تو پهر کبهی کسی اور بلاگ میں انکی بقیہ خصلتوں پر روشنی ڈالیں گے. فی الحال تو چهینک چهینک کے اپنا حال برا… اور اوپر سے یہ پنکها پتا نہیں کون چلتا چهوڑ گیا..
ارے میرے بهائی! یہ پنکها بند کردو ذرا…

ہاں تو میں کہہ رہی تهی کہ کاہلوں کی ان تمام عادات کو بتانے میں ہم نے کسی بے ایمانی سے کام نہیں لیا. بڑها چڑها کے کچهہ نہیں بتایا، سب سچی سچی لکهہ دیا ہے… ہاں وہ دیکهئیے پیچهے وہ سر بهی ہلا رہے ہماری بات پر.. بات اتنی سی ہے کہ کاہل کی عادت اور اسکا دکهہ صرف ایک کاہل ہی جان اور سمجهہ سکتا ہے. باقی سب غلط بیانی کرکے اپنے پرانے حساب نکالتے ہیں اس جماعت سے… مگر کاہل کو کون روک پایا ہے یہ ہر دور میں زندہ تها اور رہے گا حالانکہ اس کا تعلق تیر والی جماعت سے بهی نہیں مگر کاہلیت کو تاقیامت زندہ رکهیں گے اسکے متوالے… آل ہیل کاہلزززز! یسسسس…..


کا-اہلیت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بے شک اول و آخر وہی پاک ذات ہے جس نے ہمیں پیدا کیا. اسی کی عطا کردہ صلاحیتوں کے بل پہ ہم اترائے ہوئے پهرتے ہیں اور بسا اوقات شکر کے دو بول ادا کرنا بهی بهول جاتے ہیں پر وہ ہمیں کسی حال میں نہیں بهولتا… نوازتا رہتا ہے اپنی رحمتوں سے، نعمتوں سے، خیالات سے اور نت نئے الفاظ سے. بس آج مجه گناہگار کو بلاگ کا آغاز کرتے ہوئے اس پاک ذات کی حمدوثناء کا شرف حاصل ہوگیا اب برکت تو آپ ہی پڑجانی اس بلاگ میں. انشآاللہ :)

ہاں تو دوستوں آج جو گستاخیوں کا طوفان امڈا ہے اسے طبیعتء ناساز بهی نہیں روک پائی.اتنا چیختے ہیں یہ الفاظ کے انہیں باہر نکالنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں بیمار کے پاس. نہ! نہ! کانوں سے انگلیاں باہر نکالیں فورا”… سننا (مطلب پڑهنا) تو یہ آپ کو ہی پڑے گا. تو عزیزوں عرض یہ ہے کہ انسانوں کے اس جنگل میں بهانت بهانت کے لوگوں سے آپ سب روز ہی ٹکراتے ہونگے. کچهہ رک کر سوری کہتے ہونگے اور کچهہ یونہی نکل جاتے ہونگے.. انہی پچاس ساٹهہ ہزار کروڑ لوگوں کی نمائندہ جماعت ‘کاہلوں’ کو آج ہم ڈسکسنے کا شرف حاصل کریں گے. بظاہر عام انسانوں سے نظر آنے والے یہ خاص لوگ دراصل
“رات کو جوں توں صبح کیا، صبح کو جوں توں شام کیا”
کی عملی تفسیر ہوتے ہیں. یہ عموما” بیڈ، کاءوچ، صوفے وغیرہ پہ نیم دراز حالت میں پائے جاتے ہیں. کانوں میں ائیر فونز اور موبائل فون پہ تهرکتی انگلیاں انکا ‘آئیڈنٹیفائینگ کریکٹر’ ہیں. عام عوام انہیں خوش مزاج ہی تصور کرتی ہے کیونکہ یہ ہمیشہ سر جهکائے مسکراتے رہتے ہیں. آج کا کام کل پر ڈالنا انکا شیوہ ہوتا ہے اور خوش قسمتی سے انکی کل کبهی نہیں آتی. ان سے بات کرنے پر آپ کو ایسا گمان ہوتا ہے کہ یہ دنیا کے مصروف ترین باشندے ہیں کیونکہ بقول ان عظیم لوگوں کے انکے پاس ‘ٹیم’ ہی نہیں ہوتا کہ یہ کار جہاں سمیٹ پائیں. کهانا، پینا، سونا اور فون اور لیپ ٹاپ چارج کر کر کے بجلی جلانا انکے ہوبییز میں شمار کیے جاتے ہیں. بقول ایک مشہور کاہل کے:

چارجنگ دراز مانگ کر لائے تهے چار آرز
دو فیس بک پہ مک گئے دو ٹوئیٹرستان پہ

اور ایک سست موصوفہ نے اس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجهہ لیجئیے
ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے گیجٹس میں وقت بتانا ہے

ہاں تو ہم کہہ رہے تهے دنیا کے بکهیڑے سنبهالنے کا ان کاہل، سست، نکموں کو کوئی شوق نہیں ہوتا.انکی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں جن میں ذرا سا خلل یہ برداشت نہیں کرپاتے. کوئی بهولا معصوم بندہ یا انکا کوئی بڑا اگر انہیں کوئی کام دے دے تو اول تو یہ اپنی کتابوں کی موٹائی (درحقیقت جن کے صفحے بهی نہیں کاٹے گئے ہوتے) بتا کر انہیں ٹالنے کی بهرپور کوشش کرتے ہیں پر اگر سامنے والا بضد ہوجائے اور انہیں اپنا سر مجبورا” اثبات میں ہلانے کی زحمت پیش آجائے تو دل ہی دل میں یہ بڑا مسوستے ہیں اور بعد ازاں سپرد کیا جانے والا کام اس قدر بے دلی سے کرتے ہیں کہ بندہ اپنی اس غلطی پر زندگی بهر پچهتاتا رہے.

احمقوں کی طرح ان کی بهی ایک جنت ہوتی ہے جہاں یہ حوروں کے بجائے فری وائی فائی کے سپنے دیکهتے ہیں. سوچتے ہی کهانا حاضر ہوجانے والی ڈیمانڈ البتہ کچهہ مختلف نہیں.

ڈهٹائی ان میں کوٹ کوٹ کر بهری ہوتی ہے بلکہ گزشتہ دنوں ابهرنے والی ایک تحقیق سے یہ سن گن بهی لگی کہ یہ ڈهٹائی، بے شرمی اور هڈ حرامی کا ہی مرکب ہوتے ہیں. یہ عظیم ہستیاں اپنے سپرد کیے جانے والے کام کو ٹالنے میں جتنی ایکسپرٹ ہوتی ہیں اتنا ہی دوسروں سے اپنا کام نکلوانے میں بهی. اس حوالے سے ان کا سلوگن “یار یہ کام کردے، بهائی نہیں ہے؟” کافی مشہور ہے.

بیٹهے بیٹهے ٹهونسنے اور ہر وقت سونے کے باوجود بهی یہ دکهنے میں کافی فٹ اور اسمارٹ لگتے ہیں. اسکی اہم وجہ انکی اپنے ڈیفالٹ فاسٹ میٹابولک ریٹ سے واقفیت ہوتی ہے. یہ جانتے ہیں کہ انکا ٹهونسا گیا ایک ایک نوالہ تیزی سے ہضم ہوکر انکے جسم کو مزید متناسب بنانے میں صرف ہوجانا یہی وجہ ہے کہ یہ بهاری ڈیل ڈول والے افراد کو دیکهہ کر ‘ایول اسمائیلز’ پاس کرتے ہیں اور ورک آءوٹ جیسے خطرناک مراحل سے نبرد آزما ہونے والے ڈیفالٹ موٹے بیچارےصرف جل بهن کر رہ جاتے ہیں.

کاہلوں کی شان میں یہ قصیدے پڑهتے مجهے ایک گهنٹے سے زیادہ بیت چکا مگر اب بهی بتانے کو اتنا کچهہ باقی ہے کہ ہم بتلائیں کیا؟ زندگی رہی تو پهر کبهی کسی اور بلاگ میں انکی بقیہ خصلتوں پر روشنی ڈالیں گے. فی الحال تو چهینک چهینک کے اپنا حال برا… اور اوپر سے یہ پنکها پتا نہیں کون چلتا چهوڑ گیا..
ارے میرے بهائی! یہ پنکها بند کردو ذرا…

ہاں تو میں کہہ رہی تهی کہ کاہلوں کی ان تمام عادات کو بتانے میں ہم نے کسی بے ایمانی سے کام نہیں لیا. بڑها چڑها کے کچهہ نہیں بتایا، سب سچی سچی لکهہ دیا ہے… ہاں وہ دیکهئیے پیچهے وہ سر بهی ہلا رہے ہماری بات پر.. بات اتنی سی ہے کہ کاہل کی عادت اور اسکا دکهہ صرف ایک کاہل ہی جان اور سمجهہ سکتا ہے. باقی سب غلط بیانی کرکے اپنے پرانے حساب نکالتے ہیں اس جماعت سے… مگر کاہل کو کون روک پایا ہے یہ ہر دور میں زندہ تها اور رہے گا حالانکہ اس کا تعلق تیر والی جماعت سے بهی نہیں مگر کاہلیت کو تاقیامت زندہ رکهیں گے اسکے متوالے… آل ہیل کاہلزززز! یسسسس…..


ایک اور گستاخی…

عجیب بات ہے… نہایت عجیب بات ہے. ورڈ پریس کا رخ کرنے سے قبل الفاظ، فقرے، جملے ذہن میں زور و شور سے اپنی اپنی کہہ رہے ہوتے ہیں مگر جیسے ہی انہیں اسکرین پہ منتقل کرنے کا تہیہ کرکے مابدولت ایک خوش شکل مضمون کی صورت ڈهالنے کا ارادہ کرتی ہے سارے کے سارے دائیں، بائیں، شائیں نکل پڑتے ہیں.

سمجهہ نہیں آتا آخر ایسا کیا بیر ہے انہیں ہم سے..کہیں ایسا تو نہیں کائنات کی ہر شے کی طرح انہیں بهی آزادی پسند ہو یا پهر ہم ہی کمزور ارادہ واقع ہوئے ہیں کہ انہیں صرف چپ کروانے پر اکتفا کرکے ترتیب دینے جیسے دلچسپ جرم سے آزاد کر دیتے ہیں.

لفظ بهی تو جگنوءوں کی طرح ہوتے ہیں. ذہن کے گرد منڈلاتے رہتے ہیں. وہاں سے اٹهتی روشنی کو سمیٹنا ان کی چاہ ہوتی ہوگی اور اگر انہیں ایسے بهٹکتا چهوڑ دیا جائے تو تهوڑی ہی دیر میں روشنی کی شدت سے جل کر اپنے انجام کو روانہ ہوجائیں؟ یا روشنی کے گل ہوتے ہی اپنے پروں سے محروم؟

لفظ دراصل جگنو ہی ہوتے ہیں انہیں بهٹکتا نہیں چهوڑنا چاہئے. انہیں ہمیشہ جلدی سے کسی خوبصورت شیشی میں بند کرلینا چاہئیے. مر تو کچهہ دیر میں یہ تب بهی جائیں گے مگر انکی باقیات ہمیشہ کسی بهولی سی یاد کی صورت زندہ ره جائیں گی. اور جب کبهی جی میں آئے ان روشن اجسام کے مزار کی حاضری کا موقع بهی میسر رہے گا…

ویسے لفظ گری بهی کیا خوب فن ہے. دل کا احوال کہنا ہو یا ذہن پہ سوار تفکرات سے جان چهڑانی ہو بس لفظوں کے راستے انہیں آزاد کردیا. کیا کہا؟ خود کلامی؟ ہاں خود کلامی کی ہی ایک صورت ہے مگر کیا برا ہے. سامع نہیں میسر تو نہ سہی. کاغذ سے بہتریں سامع کیا شے ہوسکتی ہے؟ کتنی خاموشی سے ساری باتیں سنتا ہے اور کسی سے کچهہ کہتا بهی نہیں. اپنے آپ سے غم بانٹنا ہو تو لکهو، خوشی کو دوگنا کرنا ہو تو لکهو، خود کو حوصلہ دینا ہو تو لکهو اور ذرا سوچو یادوں کا یہ مینار بعد میں کتنا بهلا معلوم ہوگا… اپنی ہی غلطیوں سے سبق سیکهنے کا موقع بهی دے گا اور اپنی خوشیوں کو یاد کرکے خوش ہونے کی خوشی بهی. جب زندگی کورا کاغذ ہے ہی نہیں تو اسکی رنگینی کو قرطاس پر بکهرنے سے کیوں روکا جائے بهلا؟


ایک اور گستاخی…

عجیب بات ہے… نہایت عجیب بات ہے. ورڈ پریس کا رخ کرنے سے قبل الفاظ، فقرے، جملے ذہن میں زور و شور سے اپنی اپنی کہہ رہے ہوتے ہیں مگر جیسے ہی انہیں اسکرین پہ منتقل کرنے کا تہیہ کرکے مابدولت ایک خوش شکل مضمون کی صورت ڈهالنے کا ارادہ کرتی ہے سارے کے سارے دائیں، بائیں، شائیں نکل پڑتے ہیں.

سمجهہ نہیں آتا آخر ایسا کیا بیر ہے انہیں ہم سے..کہیں ایسا تو نہیں کائنات کی ہر شے کی طرح انہیں بهی آزادی پسند ہو یا پهر ہم ہی کمزور ارادہ واقع ہوئے ہیں کہ انہیں صرف چپ کروانے پر اکتفا کرکے ترتیب دینے جیسے دلچسپ جرم سے آزاد کر دیتے ہیں.

لفظ بهی تو جگنوءوں کی طرح ہوتے ہیں. ذہن کے گرد منڈلاتے رہتے ہیں. وہاں سے اٹهتی روشنی کو سمیٹنا ان کی چاہ ہوتی ہوگی اور اگر انہیں ایسے بهٹکتا چهوڑ دیا جائے تو تهوڑی ہی دیر میں روشنی کی شدت سے جل کر اپنے انجام کو روانہ ہوجائیں؟ یا روشنی کے گل ہوتے ہی اپنے پروں سے محروم؟

لفظ دراصل جگنو ہی ہوتے ہیں انہیں بهٹکتا نہیں چهوڑنا چاہئے. انہیں ہمیشہ جلدی سے کسی خوبصورت شیشی میں بند کرلینا چاہئیے. مر تو کچهہ دیر میں یہ تب بهی جائیں گے مگر انکی باقیات ہمیشہ کسی بهولی سی یاد کی صورت زندہ ره جائیں گی. اور جب کبهی جی میں آئے ان روشن اجسام کے مزار کی حاضری کا موقع بهی میسر رہے گا…

ویسے لفظ گری بهی کیا خوب فن ہے. دل کا احوال کہنا ہو یا ذہن پہ سوار تفکرات سے جان چهڑانی ہو بس لفظوں کے راستے انہیں آزاد کردیا. کیا کہا؟ خود کلامی؟ ہاں خود کلامی کی ہی ایک صورت ہے مگر کیا برا ہے. سامع نہیں میسر تو نہ سہی. کاغذ سے بہتریں سامع کیا شے ہوسکتی ہے؟ کتنی خاموشی سے ساری باتیں سنتا ہے اور کسی سے کچهہ کہتا بهی نہیں. اپنے آپ سے غم بانٹنا ہو تو لکهو، خوشی کو دوگنا کرنا ہو تو لکهو، خود کو حوصلہ دینا ہو تو لکهو اور ذرا سوچو یادوں کا یہ مینار بعد میں کتنا بهلا معلوم ہوگا… اپنی ہی غلطیوں سے سبق سیکهنے کا موقع بهی دے گا اور اپنی خوشیوں کو یاد کرکے خوش ہونے کی خوشی بهی. جب زندگی کورا کاغذ ہے ہی نہیں تو اسکی رنگینی کو قرطاس پر بکهرنے سے کیوں روکا جائے بهلا؟


گستاخی معاف

تعجب نہیں کہ بیٹهے بیٹهے میرے ذہن میں محیر العقول خیالات بنا کسی روک ٹوک آتے جاتے رہتے ہیں ان میں سے ایک مثال تو یہ بلاگنگ کی آپکے سامنے ہے ہی دوسری اگر اب تک آپ کی سوچ کے پردے سے نہ ٹکرائ ہو تو بہت جلد عقدہ کهل جائے گا دهیرج رکھئے.

اردو میں بلاگ لکھنے کا ویسے ارادہ تو نہ تها لیکن پهر بهی لکهہ رہی ہوں – بی کاز سواگ!!! #جسٹ کڈنگ.
سواگ سے زیادہ اہم اور سنجیدہ وجہ دراصل راقم کی نظر سے گزرنے والی ایک ٹوئیٹ ہے جس نے بہت کچهہ سوچنے کیساتهہ ساتهہ ان سوچوں کو بلاگ پوسٹ پر منتقل کرنے پہ بهی مجبور کردیا.. راقم اپنے ٹوئٹر اکاءونٹ کے ذریعے ملک بهر کے مختلف شہروں سے تعلق رکهنے والے سینکڑوں لوگوں اور کئ دوسرے ملکوں میںبسنے والے پاکستانیوں کے بهی تعاقب میں ہے. بهانت بہانت کے خیالات رکهنے والے ساتهیوں سے انٹریکٹ کرنا بلاشبہ دلچسپ بهی ہے اور سبق آموز بهی…

اس طویل تمہید کے بعد اگر کام کی بات کا آغاز کریں تو گزشتہ دنوں کچهہ ٹوئیٹس پڑهنے کا اتفاق ہوا جن میں اردو کا وہ برا حشر کیا گیا تها کہ اگر مولوی عبد الحق زندہ ہوتے تو صدمے سے بے ہوش ضرور ہو جاتے… سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پہ اکثریت انگریزی زبان میں بات چیت کو ترجیح دیتی ہے. آٹے میں نمک برابر عوام اردو رسم الخط کا استعمال کرتی ہے اور تهوک کے حساب سے لوگ رائج الوقت طریقے ‘رومن’ کا استعمال کرکے اپنے خیالات کا پرچار کرتے ہیں.

اس بات پہ کوئ شبہ نہیں کہ رومن رسم الخط نے جس تیزی سے ترقی کا زینہ چڑها ہے اسی تیزی سے اردو زبان کی تنزلی دیکهی جاسکتی ہے. آج بے شمار لوگ پراعتمادی سے رومن میں اردو جملے لکهہ لیتے ہیں لیکن وہی بات اگر اردو حروف تہجی میں بیان کرنے کو کہا جاءے تو انتہائ آسان الفاظ میں بهی غلطی تلاشنا مشکل نہ ہوگا. نہ صرف یہ بلکہ اب سلینگ الفاظ کہ نام پر ایسے ایسے الفاظ اردو میں استعمال کیے جانے لگے ہیں جن کا سر ملتا ہے نہ ہی پیر…

گزشتہ دنوں راقم کو ایک ایسی ہی ٹوئیٹ پڑهنے کا اتفاق ہوا جسمیں لفظ ‘کیا’ کی جگہ ‘کرا’ استعمال کیا گیا تها. نہایت مودبانہ انداز میں اس غلطی کی نشان دہی مجهے کتنی بهاری پڑی اسے احاطہ تحریر میں لانا ہر گز ممکن نہیں…  مگر اتنا ضرور کہنا چاہونگی کہ تصیح کو اپنی عزت نفس پر حملہ سمجهنے کے بجاءے لوگ اگر اپنی اصلاح کرلیں تو ان کا اپنا ہی بهلا ہے.

اسے اردو کی حرماں نصیبی کہئے یا لوگوں کی ماڈرن سوچ کہ اسی نوعیت کی غلطی اگر کوئ انگریزی میں کردے تو اردو تصیح پر “سمجهہ تو آگیا نہ؟”  کہہ کر منہ بگاڑنے والے لوگ سب سے پہلے اپنی دانشمندی جهاڑنے آموجود ہونگے… یہاں میرا مقصد کسی طور اردو انگریزی کا موازنہ کرنا نہیں مگر ایک سی صورتحال اور لوگوں کے متضاد انداز و برتاءو میری محدود عقل میں نہیں سماتے. آپ جتنا مرضی چاہیں اردو کو پس پشت ڈال کر انگریزی میں طاق ہوجائیں قومی زبان کو نظر انداز کرنا کسی طور مناسب نہیں. تو کیا ہی اچها ہو اگر اردو غلطیوں کی تصیح کو بهی اسی طرح خوشدلی سے قبول کیا جائے جسطرح انگریزی کی خامیاں درست کی جاتی ہیں…

کیا پچهلی چند سطریں آپ کو بهی گهسی پٹی لگیں؟ اب جو ہیں وہ تو لگیں گی نہ؟ لوگ کہہ کہہ کر تهکے ہی نہیں مر کهپ بهی گئے مگر کتے کی دم کبهی سیدهی ہوئ ہے؟ 66 سالوں سے لوگ یہی کہتے آرہے ہیں کسی پہ اثر ہوا؟ اس بلاگ کے بعد کونسا انقلاب آجانا ہے…میں تو یونہی بجلی کے انتظار میں بیٹهی تهی کہ ذہن میں ایک خیال کوندا… محیر العقل خیال کچهہ ایسی باتیں دہرانے کا جنہیں نظر انداز کرنا لوگوں کی عادت بن گیا ہے… میرا خیال حقیقت بن گیا میں بے حد مسرور ہوں اگر آپ کو پڑهنے کے بعد وقت کی بربادی کا احساس ہو تو بلا جهجهک بتلادیں یہ خوشی دوچند ہوجائے گی! 

شکریہ.
سلامت رہیں :ڈ


گستاخی معاف

تعجب نہیں کہ بیٹهے بیٹهے میرے ذہن میں محیر العقول خیالات بنا کسی روک ٹوک آتے جاتے رہتے ہیں ان میں سے ایک مثال تو یہ بلاگنگ کی آپکے سامنے ہے ہی دوسری اگر اب تک آپ کی سوچ کے پردے سے نہ ٹکرائ ہو تو بہت جلد عقدہ کهل جائے گا دهیرج رکھئے.

اردو میں بلاگ لکھنے کا ویسے ارادہ تو نہ تها لیکن پهر بهی لکهہ رہی ہوں – بی کاز سواگ!!! #جسٹ کڈنگ.
سواگ سے زیادہ اہم اور سنجیدہ وجہ دراصل راقم کی نظر سے گزرنے والی ایک ٹوئیٹ ہے جس نے بہت کچهہ سوچنے کیساتهہ ساتهہ ان سوچوں کو بلاگ پوسٹ پر منتقل کرنے پہ بهی مجبور کردیا.. راقم اپنے ٹوئٹر اکاءونٹ کے ذریعے ملک بهر کے مختلف شہروں سے تعلق رکهنے والے سینکڑوں لوگوں اور کئ دوسرے ملکوں میںبسنے والے پاکستانیوں کے بهی تعاقب میں ہے. بهانت بہانت کے خیالات رکهنے والے ساتهیوں سے انٹریکٹ کرنا بلاشبہ دلچسپ بهی ہے اور سبق آموز بهی…

اس طویل تمہید کے بعد اگر کام کی بات کا آغاز کریں تو گزشتہ دنوں کچهہ ٹوئیٹس پڑهنے کا اتفاق ہوا جن میں اردو کا وہ برا حشر کیا گیا تها کہ اگر مولوی عبد الحق زندہ ہوتے تو صدمے سے بے ہوش ضرور ہو جاتے… سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پہ اکثریت انگریزی زبان میں بات چیت کو ترجیح دیتی ہے. آٹے میں نمک برابر عوام اردو رسم الخط کا استعمال کرتی ہے اور تهوک کے حساب سے لوگ رائج الوقت طریقے ‘رومن’ کا استعمال کرکے اپنے خیالات کا پرچار کرتے ہیں.

اس بات پہ کوئ شبہ نہیں کہ رومن رسم الخط نے جس تیزی سے ترقی کا زینہ چڑها ہے اسی تیزی سے اردو زبان کی تنزلی دیکهی جاسکتی ہے. آج بے شمار لوگ پراعتمادی سے رومن میں اردو جملے لکهہ لیتے ہیں لیکن وہی بات اگر اردو حروف تہجی میں بیان کرنے کو کہا جاءے تو انتہائ آسان الفاظ میں بهی غلطی تلاشنا مشکل نہ ہوگا. نہ صرف یہ بلکہ اب سلینگ الفاظ کہ نام پر ایسے ایسے الفاظ اردو میں استعمال کیے جانے لگے ہیں جن کا سر ملتا ہے نہ ہی پیر…

گزشتہ دنوں راقم کو ایک ایسی ہی ٹوئیٹ پڑهنے کا اتفاق ہوا جسمیں لفظ ‘کیا’ کی جگہ ‘کرا’ استعمال کیا گیا تها. نہایت مودبانہ انداز میں اس غلطی کی نشان دہی مجهے کتنی بهاری پڑی اسے احاطہ تحریر میں لانا ہر گز ممکن نہیں…  مگر اتنا ضرور کہنا چاہونگی کہ تصیح کو اپنی عزت نفس پر حملہ سمجهنے کے بجاءے لوگ اگر اپنی اصلاح کرلیں تو ان کا اپنا ہی بهلا ہے.

اسے اردو کی حرماں نصیبی کہئے یا لوگوں کی ماڈرن سوچ کہ اسی نوعیت کی غلطی اگر کوئ انگریزی میں کردے تو اردو تصیح پر “سمجهہ تو آگیا نہ؟”  کہہ کر منہ بگاڑنے والے لوگ سب سے پہلے اپنی دانشمندی جهاڑنے آموجود ہونگے… یہاں میرا مقصد کسی طور اردو انگریزی کا موازنہ کرنا نہیں مگر ایک سی صورتحال اور لوگوں کے متضاد انداز و برتاءو میری محدود عقل میں نہیں سماتے. آپ جتنا مرضی چاہیں اردو کو پس پشت ڈال کر انگریزی میں طاق ہوجائیں قومی زبان کو نظر انداز کرنا کسی طور مناسب نہیں. تو کیا ہی اچها ہو اگر اردو غلطیوں کی تصیح کو بهی اسی طرح خوشدلی سے قبول کیا جائے جسطرح انگریزی کی خامیاں درست کی جاتی ہیں…

کیا پچهلی چند سطریں آپ کو بهی گهسی پٹی لگیں؟ اب جو ہیں وہ تو لگیں گی نہ؟ لوگ کہہ کہہ کر تهکے ہی نہیں مر کهپ بهی گئے مگر کتے کی دم کبهی سیدهی ہوئ ہے؟ 66 سالوں سے لوگ یہی کہتے آرہے ہیں کسی پہ اثر ہوا؟ اس بلاگ کے بعد کونسا انقلاب آجانا ہے…میں تو یونہی بجلی کے انتظار میں بیٹهی تهی کہ ذہن میں ایک خیال کوندا… محیر العقل خیال کچهہ ایسی باتیں دہرانے کا جنہیں نظر انداز کرنا لوگوں کی عادت بن گیا ہے… میرا خیال حقیقت بن گیا میں بے حد مسرور ہوں اگر آپ کو پڑهنے کے بعد وقت کی بربادی کا احساس ہو تو بلا جهجهک بتلادیں یہ خوشی دوچند ہوجائے گی! 

شکریہ.
سلامت رہیں :ڈ


Breathing Eid

So finally Eid ul Adha is here. Since most of the people prefer sacrificing their animals on 10th of Zil Hajj i.e. the first day of Eid so all that chunn chunn, moo’s and mein mein of cattles are finally at their end. But still Eid is in the air. No doubt you can smell it :3

Being the citizen of metropolis you expect your city to be clean and managed during the festivals (especially Eid ul Adha, when its all about animals) but what you really find totally sucks.

In the remembrance of great sacrifice by Hazrat Abraham (A.S) every year on the tenth of Zil Hajj (according to Hijri Calendar ) Muslim Ummah celebrate Eid ul Adha (also called as Eid e Qurbaan or Bari Eid). Days before Eid people buy variety of animals including goats, lambs, cows  and camels. You find them roaming around your streets every now and then. Few places were especially arranged for taking care of these animals. Besides people keep their animals near their houses too. The presence of animals in city in this large number causes alot of mess. Negligence of municipal corp. could be easily observed all around the city. You find heaps of animal excreta on every road and street. Stalls selling animal food could be seen everywhere increasing air pollution. But wait this is just a trailer the big thing happens on the big day!

Soon after the Eid prayers the real shit happens. You see swarms of butchers carrying their knives and stuff roaming around the animals. You settle with them the amount you going to pay them for slaughtering your animal and they with or without their experience slaughter your animals. Completely ignoring laws of city cleanliness (are there any such laws btw?) they paint and stuff our streets with blood and unwanted animal organs. Adding in the misery you see number of beggars with scalpels and small knives curbing fats from those dumped animal organs. Municipal corporation could be rarely seen collecting these heaps of polluting agents. Bees all over the blooded organs could bring us what you least wanna expect and as the time passes the sickening smell just make you puke but wait its Eid.. Stay calm. Use your room freshner to get rid of this nauseous smell. Or buy some flowers maybe? Yeah you need a stock because this superb smell is not going to disappear any soon. On the brighter side if you stay inside your home somewhere near kitchen you can smell some delicious tikkay, kebabs frying. So cheer up grab your plate of yummilicous wanted stuff (or better say meat) of your animal.

Just be careful before stepping outside your place. Its going to be difficult for your nostrils to bear the stinky air after eating your aromatic meal.

PS. I am on the road right now sensing, feeling and inhaling Eid. Are you too?

PS2. This post is unedited.Scribbled these lines on my way. Felt like sharing how i am feeling atm. So just ignore the mistakes!

Cheers :D


Pages