سائنسیات

2015 کے بہترین سمارٹ فون

سال 2015 اپنے اختتام کے بلکل قریب ہے ۔اس سال میں  ایپل ، سیمسنگ ، ایل جی ، سونی اور گوگل سمیت تمام مشہور کمپنیاں اپنے اپنے بہترین سیٹ مارکیٹ میں پیش کر چکی ہیں۔ان موبائل فونز  میں چھوٹے بڑے، مہنگے سستے اور بجٹ دوست موبائل ہر طرچ کے فون شامل ہیں ، لیکن تمام فون کے استعمال کے بعد ماہرین نے سال کے بہترین  موبائل فونز کی فہرست پیش خدمت ہے تا کہ آپ اگر نیا فلیگ شپ فون خریدنا چاہیں یا پھر کسی کو مشہورہ دینا چاہیں تو آپ اپنی ضروریات کے مطابق بہترین ہینڈ سیٹ خرید سکیں۔ تو پیش خدمت ہیں سال 2015 کے  دس بہترین موبائل فون۔10: 2 OnePlus اوایس: اینڈرائیڈ 5.1 |  سکرین سائز:  5.5  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1920 x 1080 | ریم : 3/4 جی بی | فون میموری: 16/64 جی بی|بیٹری:3300 ملی ایمپیر ہاور |پرائمری کیمرہ: 13 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 5 میگا پکسل
ون پلس ٹو
چین کی کمپنی ون پلس رواں برس بھی ٹاپ 10 میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہے ، ون پلس ٹو بلاشبہ اپنے ہارڈوئیر اور خوبیوں سے کسی بھی فلیگ شپ فون کو مات دے سکتا ہے۔ خاص بات ون پلس ٹو کی قیمت ہے جو کہ کسی بھی فلیگ شپ کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔ لیکن  بد قسمتی سے  یہ فون فی الوقت پاکستان میں متعارف نہیں کرایا گیا۔ البتہ ہے گرے مارکیٹ میں دستیاب ضرور ہے مگر بین الاقوامی قیمت سے مہنگے ریٹ پر۔مزید پڑھیں:سال 2013کے بہترین سمارٹ فون 9: Nexus 6Pاوایس: اینڈرائیڈ 6 |  سکرین سائز:  5.7  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1440 x 2560 | ریم : 3جی بی | فون میموری:  32 جی بی|بیٹری:3450 ملی ایمپیر ہاور |پرائمری کیمرہ: 12 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 8 میگا پکسل
نیکسس 6پی
گوگل نے اس سال ایپل کی طرز پردو نیکسس فون متعارف کرائے ہیں، ایک نیکسس 6X اور دوسرا نیکسس 6P۔ اس فہرست میں 6P ہی جگہ بنا پایا ہے۔ 6P پچھلے سال کے نیکسس 6 کے مقابلے میں کم سکرین سائز  کا ہے جس کی وجہ سے ایک ہاتھ سے فون آپریٹ کرنا نسبتاً آسان ہے۔ساتھ ہی فون کا ڈیزائن  فل میٹل باڈی کی وجہ سےدلکش اور قیمتی دکھائی دیتا ہے۔ اینڈائنڈ صارفین کی لئے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ اینڈائیڈ 6 مارش میلو سے لیس پہلا فون ہے جو کہ سٹاک اینڈارائیڈآپریٹنگ سسٹم کی وجہ سے انتہائی رواں اور برق رفتار ہے۔8 : HTC One M9اوایس: اینڈرائیڈ 5.1 |  سکرین سائز:  5  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1920 x 1080 | ریم : 3 جی بی | فونمیموری:  32 جی بی||بیٹری:2840 ملی ایمپیر ہاور پرائمری کیمرہ: 20.7 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 4 میگا پکسل
ون ایم 9
تائیوانی کمپنی ایچ ٹی سی پچھلے دو برس سے سب سے بہترین فون بنا رہی تھی ، مگر امسال اپنی پوزیشن کو قائم نہ رکھ سکی۔ اس کے باوجودOne M9  ایک زبردست فون ہے۔اپنی ساخت کی بنا پر یہ اب بھی بہترین فون ہے ، جبکہ ایچ ٹی سی سینس  اور اینڈرائیڈ سے مزین ایم 9 کسی بھی موبائل صارف کا پسندیدہ فون ہونے کا حقدار ہے۔ لیکن ایم 9 اپنے پچھلے ورژن ایم 8  کی خصوصیات سے لیس ہے جن کو ایم 9 میں مزید بہتر کیا گیا۔ 20 میگا پکسل کیمرہ بھی مارکیٹ میں موجود دوسرے کیمروں کے مقابلے میں اوسط کارکردگی کا حامل ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال ایچ ٹی سی نئے موبائل کے ساتھ کس طرح مارکیٹ میں واپس آتی ہے۔7:Samsung Galaxy S6 Edge Plusاوایس: اینڈرائیڈ 5.1 |  سکرین سائز:  5.7  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1440x2560 | ریم : 4 جی بی | فون میموری: /6416 جی بی|بیٹری:3000 ملی ایمپیر ہاور |پرائمری کیمرہ: 16 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 5 میگا پکسلگلیکیس ایس 6 ایج پلس
 سیمسنگ سمارٹ فونز کی گرتی ہوئی فروخت کی وجہ سے کپمنی نے اس سال بہترین پروڈکٹس  مارکیٹ میں لائی ہیں، اگرچہ سیمسنگ گلکسی ایج ایک بہترین فون ہے ، اسی فون کابڑا بھائی گلیکسی ایج پلس جو کہ 5.7 انچ فیبلٹ ہے ، جو کہ اضافی سکرین سائز کیساتھ اضافی ہارڈوئیر پاور سے لیس ہے۔بہترین کیمرہ،انتہائی نفیس ڈیزائن، دیدہ ذیب سکرین  اور ایج ڈسپلے اس کو منفرد بناتے ہیں۔اگر آپ ایک پریمیئیم فیبلٹ خریدنا چاہتے ہیں تو آپکی پہلی پسند گیکسی ایس 6 ایج پلس ہو نا چاہیے۔  6:  iPhone 6S Plusاوایس: آئی او ایس 9| سکرین سائز:  5.5  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1920 x 1080 | ریم : 2 جی بی | فون میموری:  16/64/128جی بی|بیٹری:2750 ملی ایمپیر ہاور |پرائمری کیمرہ: 12 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 5 میگاپکسلآئی فون 6 ایس پلس
آئی فون 6S پلس ایپل کی دوسری فیبلٹ ہے، جو اگرچہ سائز اور ڈیزائن میں آئی فون 6 پلس ہی کی طرح ہے، مگر ہارڈوئیر اور کیمرہ پہلے سے بہت بہتر ہیں۔ یہ فیلبٹ ایک مکمل ایچ ڈی سکرین کے ساتھ 12 میگا پکسل کے کیمرہ سے لیس ہے جو کہ 4K وڈیو ریکارڈنگ  کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آپٹیکل امیج سٹیبلائزیشن کی بدولت کم روشنی میں بھی  ساکن تصاویر کا معیاربھی بہت بہتر بنایا گیا ہے۔ذیادہ سائز ہونے کی وجہ سے 6S پلس کی بیٹری بھی آئی فون 6S  سے ذیادہ گنجائش کی ہے جوکہ آپکو اضافی فون ٹائم مہیا کرتی ہے۔ان سب خوبیوں کے ساتھ یہ یقیناً ایک بہترین فون ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ اس وقت دنیا کے مہنگے ترین موبائل فونوں میں سے ایک ہے  اور یہی اس فون کے سب سے بڑی خامی بھی ہے۔5: Sony Xperia Z5اوایس: اینڈرائیڈ 5.1 |  سکرین سائز:  5.2  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1920 x 1080 | ریم : 3 جی بی | فون میموری: 32 جی بی|بیٹری:2900 ملی ایمپیر ہاور |پرائمری کیمرہ: 23 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 5.1 میگا پکسلایکسپیریا زی 5

سونی نئے فون متعارف کرانے میں انتہائی فعال کمپنی ہے۔ ایکسپیریا Z3+ کے لانچ کے تقریباً 6 ماہ بعد Z5  پیش کیا گیا ہے جس میں   پچھلے ورژن کی تصریفات کو انتہائی بہترین انداذ میں اپگریڈ کیا گیا ہے۔خاص کر فون میں موجود فنگرپرنٹ سنسر اور نیا فون ڈیزائن اسکو Z3+ سے ممتاز بناتا ہے۔ واٹر پروف ڈیزائن کی بدولت  اپنے فون کو بلا ہچکچاہٹ ساحل سمندر اور تراکی کیلئے لے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایکسپیریا لائن کا پہلا فون ہے جس میں 23 میگاپکسل کا کیمرہ سنسرر استعمال کیا گیا ہے، ساتھ ہی جدید آٹوفوکس ٹیکنالوجی کی بدولت آپ اپنے فون سے بہترین تصاویر بنا سکتے ہیں۔4 : iPhone 6Sاوایس: آئی او ایس 9| سکرین سائز:  4.7  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1334 x 750 | ریم : 2 جی بی | فون میموری:  16/64/128جی بی|بیٹری:1715 ملی ایمپیر ہاور |پرائمری کیمرہ: 12 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 5 میگا پکسلآئی فون 6 ایس
ایپل آئی فون ،دنیا کی مشہور ترین اسمارٹ فون برانڈ ہے۔ بہت سے ایپل صارفین نئے آئی فون کی تصریفات جانے بغیر ہی نئی پروڈکت خریدنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ایپل آئی فون 6 ایس اگرچہ سائز اور دیکھنے میں آئی فون 6 جیسا ہی ہے،لیکن اندرونی ہارڈوئیر میں ایپل نے بہت نمایاں تبدیلیاں  کی ہیں۔ ان میں 12 میگا پکسل کا نیا کیمرہ سنسراور خاص کر 3D ٹچ کی نئی اختراع اس کو  بہترین موبائل فون بناتی ہیں۔لیکن آئی فون  کی قیمت کی نسبت اس کی سکرین کم سکرین ریزولوشن ، کمتر بیٹری لائف  اس فون کی نمایاں کمزوری ہیں۔6 ایس کا 16 جی بی ورژن 12 میگا پکسل کیمرہ کے ساتھ نہایت قلیل ڈیٹاسٹوریج  کی گنجائش رکھتا ہے، کیونکہ اب 32 جی بی ورژن نہیں اسلئے کم ازکم آپ کا 64 جی بی کا ورژن خریدنا ہو گا ، جو کہ 16 جی بی آئی فون 6ایس سے 100ڈالر مہنگا پڑھتا ہے۔
مزید پڑھیں:سال 2014 کے دس بہترین سمارٹ فون3: Samsung Galaxy S6 Edgeاوایس: اینڈرائیڈ 5.1 |  سکرین سائز:  5.1  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1440 x 2560 | ریم : 3 جی بی | فون میموری: 32/64/128جی بی|بیٹری:2560 ملی ایمپیر ہاور |پرائمری کیمرہ: 16 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 5 میگا پکسلگلیکسی ایس 6 ایج
سیمسنگ گلیکسی ایس 6 ایج تقریباً ہر لحاظ سے اپنے ہم نام گلیکسی ایس 6 سے بہتر خصوصیات رکھتا ہے، چاہیے  وہ سکرین ریزولیشن ہو، کیمرہ یا پھربرق رفتار پروسیسنگ پاور۔یہی نہیں بلکہ اس میں سکرین ایج کی اضافی خصوصیت بھی موجود ہے۔اگرچہ آپ ایک ایسا فون چاہتے ہیں کہ جو  بہترین ہاروڈ وئیر کے ساتھ منفرد ڈیزائن کا بھی حامل ہو تو اس فون میں بلاشبہ سیمسنگ نے اعلیٰ ہارڈ وئیر کے ساتھ جمالیاتی حسن کو بھی یکجا کیا ہے۔فون کی واحد خامی اس کی قیمت ہے جو کہ گلیکسی ایس6 کی نسبت کافی ذیادہ ہے۔ 2: LG G4اوایس: اینڈرائیڈ 5.1 |  سکرین سائز:  5.5  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1440 x 2560 | ریم : 3 جی بی  |  فون میموری: 32جی بی|بیٹری:3000 ملی ایمپیر ہاور |پرائمری کیمرہ: 16 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 8 میگا پکسلایل جی : جی 4
ایل جی G4 بلاشبہ کمپنی کا اب تک کا بہترین اسمارٹ فون ہے۔ اس فون میں ایل جی نے  بہترین کیمرہ،ہارڈ وئیر اور منفرد ڈیزائن جیسی خصوصیات اور بطریق احسن سمایا ہے۔ فون کا بیک کور  روایتی پلاسٹک یا  المونیم کی بجائے  چمڑے سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فون کا 16 میگا پکسل  لیزر آٹو فوکس کیمرہ آپ کو Raw تصاویر محفوظ کرنے کی سہولت بھی دیتا ہے۔ ساتھ ہی 8 میگا پکسل کیمرہ سیلفی کے شوقین حضرات کیلئے  ذیادہ پکسل مہیا کرتا ہے۔صرف کیمرہ ہی  نہیں  بلکہ فون کا ہارڈ وئیر بھی انتہائی برق رفتار ہے، جسکی بدولت ملٹی ٹاسکنگ انتہائی رواں اور بلا تعطل ہوتی ہے۔جی 4 کی نمایاں خصوصیت اسکی ارزاں  قیمت ہے جو کہ ذیادہ تر  فلیگ شپ موبائلوں کی نسبت بہت کم ہے۔1: Samsung Galaxy S6اوایس: اینڈرائیڈ 5 |  سکرین سائز:  5.1  انچ   |  سکرین ریزولوشن:1440 x 2560 | ریم : 3 جی بی | فون میموری: 32/64/128جی بی|بیٹری:2560 ملی ایمپیر ہاور |پرائمری کیمرہ: 16 میگا پکسل| فرنٹ کیمرہ : 5 میگا پکسلسیمنگ گلیکسی ایس 6
پچھلے برس گلیکسی ایس 5 کی ناکامی سے سبق حاصل کرتے ہوئے سیمسنگ کے از سر نو ایک نیا فون تیار کیا  جو کہ سیمسنگ کی گرتی موبائل ساکھ کو بحال کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہا۔ گلیکسی 1یس 6 میں سیمسنگ نے QHD ڈسپلے کو 5.1  انچ سکرین  میں جمع کیا ہے، جو کہ انتہائی جاذب نظر ہے، لیکن اس قدر کثیف پکسل موبائل کی بیٹری کو بہت جلد ہضم کرنے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ فون کا بیک کور اس دوفعہ مکمل طور پر دھات سے تیار شدہ ہے، جس کی وجہ سے فون پریمیم اپیل رکھتاہے۔فون کا 16 میگا پکسل کیمرہ انتہائی خوبصورت تصاویر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہےا ور سیمسنگ کی جانب سے قیمتوں میں کمی کے باعث بلاشبہ یہ اس وقت دنیا کا بہترین موبائل سیٹ ہے، جو کہ کسی بھی اسمارٹ فون صارف کا اولین انتخاب ہونے کا حقدار ہے۔
 سائنسیات نے 2014 کے اختتام پر سال کے  10بہترین سمارٹ فون پر پر فیچر پیش کیا تھا،جو کہ اس بلاگ کی مقبول ترین پوسٹوںمیں سے ایک ہے اس وجہ سے سال 2015 کے بہترین سمارٹ فون کا تعارف اور درجہ بندی پیش کی گئی یاد رہے کہ جو لسٹ آپ نے ملاحضہ کی ہے اس میں موجودموبائل سیٹ ایک عام پاکستانی موبائل صارف کیلئے انتہائی مہنگے ہیں  اس لئےہی میری یہ کوشش ہو گی کہ اگلی کسی تحریر میں بہترین بجٹ اور انٹری لیول موبائل فون کو بھی آپ کو سامنے پیش کیا جا سکے۔اپنے "کمینٹ" کے زریعے تجاویر اور آراء سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔

گوگل میپس اب آفلائن سرچ اور نیویگیشن کے ساتھ

گوگل کو اپنی نقشہ جاتی سروس گوگل میپس کے زریعے بہترین معیار کے عالمی نقشے  مفت فراہم کرنے کےحوالے سے شہرت رکھتی ہے۔انٹرنیٹ کی موجودگی میں کوئی بھی صارف گوگل کی اس سروس سے اسمارٹ فون ایپلیکشن یا ویب کے زریعے رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ نقشوں کے ساتھ ساتھ گوگل میپس کے زریعے آپ کسی مقام کو تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں  تک رسائی کا راستہ بھی جان سکتے ہیں۔ جس کو نیوگیشن کہا جاتا ہے۔آفلائن گوگل میپس کی فراہمیمثلاً اگر ایک صارف کراچی میں موجود ہے تو وہ گوگل میپس کی سرچ بار مں "سیف المکوک" لکھ کر نہ صرف سیف الملوک جھیل کا محل وقوع جان سکتا ہے بلکہ جھیل تک رسائی کیلئے راستہ بھی بہ آسانی معلوم کر سکتا ہے۔یہی نہیں بلکہ گلوگل میپش آپ جھیل تک کا فاصلہ اور وہاں تک پہنچنے کا وقت بھی بتائے گا۔مگر اسی صورت میں جب آپ انٹرنیٹ سے منسلک ہوں۔اس لئےپہلے کسی مقام کی تلاش اور راستہ جاننے کیلئےصارف  انٹرنیٹ سے منسلک ہونا لازمی تھا مگر اب ایک نئی اپڈیٹ کے بعد کوئی بھی صارف اپنی موبائل میں موجود گوگل میپس کی ایپلیکیشن کو بغیر انٹرنیٹ کے سرچ اور نیویگیشن کے لئے استعمال کر سکے گا۔مزید پڑھیں: بلیک فرائی ڈے: عالمی شاپنگ فیسٹول اس سروس کے آغاز کا اعلان اگرچہ مئی 2015 میں منعقدہ گوگل آئی او کانفرنس میں کیا گیا تھا ، لیکن اس کا با قاعدہ آغاز اس ماہ شروع کیا گیا ہے۔ آفلائن میپس کی فراہمی ترقی پذیر ممالک کے صارفین کیلئے ایک اہم اقدام ہے کیونکہ اندازہ 60 فیصد  موبائل صارفین ابھی بھی ہمہ وقت انٹرنیٹ کی سروس سے محروم رہتے ہیں۔اسی وجہ سے ان ممالک میں Sygic  جیسے ایپس ذیادہ مقبول ہیں جو کہ آفلائن سرچ اور نیوگیشن کی سہولت مہیا کرتی ہیں۔اس اپڈیٹ کے بعد اب گوگل کی اسمارٹ فون ایپ پہلے سے ذیادہ موثر ثابت ہو گی اور مارکیٹ میں موجود دوسری ایپلیکشنز سے بہتر مقابلہ بھی کر سکے گی۔ خاص کر اگر آپ سیاحت کے شوقین ہیں یا کسی اور مصروفیت کی وجہ سے ایک نئی جگہ جانا چاہتے ہیں تو گوگل میپس کی یہ سروس آپ کے سفر کی بہترین معاون ثابت ہو گی۔مزید پڑھیں: کینڈی کرش اس قدر لت لگا دینے والی کیوں ہے؟ 

بلیک فرائی ڈے: عالمی شاپنگ فیسٹول

نومبر کے آمد کے ساتھ ہی بلیک فرائی ڈے کا نام تسلسل سے سننے میں آتا ہے۔خاص کر جو لوگ بیرون ملک رہائش پزیر ہیں یا آنلائن شاپنگ کا تجربہ رکھتے ہیں وہ بلیک فرائی ڈے سے واقفیت رکھتے ہیں اور شاپنگ کیلئےبھی سال بھرا س خاص موقعے کا انتطار کرتے ہیں کیونکہ اس دن بہت سے بین لاقوامی سپر سٹور اور آنلائن سٹور سال کی سب سے بڑی سیل کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ دن رفتہ رفتہ بین الاقوامی سیل ڈے(Sale Day) کی حثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔بلیک فرائیڈے امریکہ میں نومبر کی آخری جمعرات "Thanks Giving Day" کے بعد آنے والے جمعہ کو کہا جاتا ہے۔اس دن کے آغاز سے ہی مغرب میں کرسمس شاپنگ سیزن بھی شروع ہو جاتا ہے جس دوران ماریکٹوں میں گہما گہمی اپنے عروج پر ہوتی ہے اور ہر طرح کی ضروریات زندگی او ر تحائف کی خریداری اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ ایک سٹور میں بلیک فرائی ڈے کے دن گاہکوں کا رششاپنگ کا تہوار:بلیک فرائی ڈے کا آغاز امریکہ میں سے ہوا جب ایک سٹور نے خریداری کے لحاظ سے بنجر دنوں میں صارفین کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ایک دن میں سیل کا اہتمام کیا، حسب توقع اس دن گاہکوں کی بڑی تعداد نے خریداری کی۔ یوں کاروباری لحاظ سے ایک غیر منافع بخش سیزن میں اس دن ریکارڈ فروخت ہوئی۔اگلے سال ایک سے زائد سٹورز نے اسی دن سیل کا اہتمام کیا اور یوں رفتہ رفتہ یہ دن ایک نئی روایت اور تہوار کی حثیت حاصل کر گیا۔ 90ء کی دھائی میں انٹرنیٹ اور آنلائن شاپنگ سٹورز کی وجہ سے یہ روایت امریکہ سے دوسرے ترقی ممالک میں بھی پھیل گئی اور اب آہستہ آہستہ یہ تمام دنیا میں اپنائی جا رہی ہے۔امسال بلیک فرائی ڈے 27 نومبر 2015 کو منایا جائے گا، دنیا بھر کے بڑے آنلائن سٹورز اور سپر سٹور چین صارفین کیلئے سب سےبڑی سیل کا اہتمام کریں گے ۔جس کا دورانیہ صرف ایک دن کیلئے ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سٹور چاہے وہ آنلائن ہو یا کسی چین کا حصہ ہو ، کی کوشش ہوتی ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ ڈسکاؤٹ ، اور تمام پروڈکٹس کو قیمت سے ہرممکن حد تک کم قیمت پر فروخت کیا جائے ۔ یہی وجہ ہےکہ ہر سال پہلے سے ذیادہ صارفین خریداری کیلئے اسی دن کا انتخاب کرتے ہیں ۔ریٹ کم ہونے کی وجہ سے ہر صارف کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ضرورت کی تمام اشیاء اسی دن خرید سکے ۔ اس لئے یہ بین الاقوامی طور پر اس دن نہ صرف ماریکٹوں میں بلا کا رش ہوتا ہے بلکہ آنلائن شاپنگ سائٹس پر بھی ٹریفک اپنے زوروں پر ہوتی ہے ،یہی چیزیں بلیک فرائی ڈے کو سال کا سب سے منافع بخش دن بناتی ہیں۔یوں اشیاء سے سستے ریٹ اور اوسط سے ذیادہ خریداری کی عجہ سے سٹورز اور صارفین دونوں فریقین کو یکساں فائدہ ہوتا ہے۔اس دن نہ صرف روز مرہ استعمال کی اشیاء بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے مزین آلات مثلاً اسمارٹ فون، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ ، ٹیبلیٹ اور ٹیلی وژن تک بھی انتہائی کم داموں فروخت کیلئے پیش کیے جاتے ہیں۔ بلیک فرائی ڈے پاکستان میں بھی:امریکہ،کینیڈا، برطانیہ اوردوسرے یورپی ممالک میں بلیک فرائی ڈے کی روایت کافی عرصے سے موجود ہے۔ذیادہ منافع بخش ہونے کی وجہ سے اب یہ بہت تیزی سے دوسرے ممالک میں بھی فروغ حاصل کر رہی ہے۔اس دن کی آمد سے پہلے ہی ذیادہ سے ذیادہ گاہکوں کو متوجہ کرنے کیلئے تشہیری مہم شروع کر دی جاتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ پاکستانی آنلائن شاپنگ سائٹ "دراز "نے اس سال پاکستان میں پہلی دفعہ بلیک فرائی ڈے سیل کیلئے تشہیری مہم شروع کر رکھی ہے،امید ہے کہ اگلے برس ایک سے ذیادہ سٹور اس منافع بخش دن میں سے اپنا حصہ حاصل کرنے کیلئے اس روایت میں شامل ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: نیا لیپ ٹاپ کون سا خریدیں؟

زیر زمین میٹھا پانی قلت کا شکار

اس وقت دنیا بھر میں زیر زمین پانی کے بہت سے ذخائر موجود ہیں۔ یہ ذخیرے ہمارے لئے ایک پانی کے بینک کا کام کرتے ہیں۔ بارشوں ،ڈیموں اوردریاؤں کے زریعے ان میں پانی جمع ہو سکتا ہے ، اور اسے استعمال کیلئے نکالا جا سکتا ہے۔یہی پانی دنیا کی ایک بڑی آبادی کے پینے ،روزمرہ استعمال اور زراعت کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ایک نئی تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ :موسمیاتی تبدیلیاں اور حد سے بڑھتا ہوئے ا انسانی استعمال سے نہ صرف زیر زمین ذخائر میں موجود پانی کی مقدار میں انتہائی تیزی سے کم ہو رہی بلکہ بعض ممالک میں کمی کی رفتار خطرناک حد تک ذیادہ ہے۔
کنواں: زیر زمین پانی کو نکالنے کا صدیوں پرانا طریقہ
پانی کی ذخیروں میں کمی میٹھے پانی کی قلت کے بہت سے مسائل کا باعث بنے گی جن میں سرفہرست پینے کے قابل پانی کی قلت ہے کیونکہ یہ ذخیرے دنیا بھر کے 2 ارب سے ذیادہ انسانوں کے پینے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے علاقوں میں زرعی پانی بھی انہی ذخیروں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں موجود میٹھے پانی کے 37 بڑھے ذخیروں میں سے 21 پانی کی مقدار مسلسل گھٹ رہی ہے۔واشنگھٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ماہر آیبات (hydrologist) ساشا رچی ، جو کہ اس تحقیقی مقالے کی شریک لکھاری ہیں کا کہنا ہے کہ "لوگوں کو یہ علم ہونا چاہیے کہ زیر زمین پانی کے یہ ذخیرے پانی کی فراہمی کا بہت قیمتی و اہم زریعہ ہیں جنکو دنیا کے بیشر حصوں میں غیر مناسب طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔"زیر زمین پانی ایک خاص قسم کی چٹانوں میں جمع ہوتا ہے جو کہ ایقویفائر (aquifer ) کہلاتی ہیں ۔ یہ چٹانیں بارش ، ڈیموں ، دریاؤں اور ندی نالوں سے مٹی میں جذب ہونے والی پانی کو ذخیرہ کر لیتی ہیں ۔ضرورت کے تحت کنویں اور ٹیوب ویل کھود کر انہی چٹانوں سے پانی نکالا جاتا ہے۔پانی ذخیرہ کرنے والی چٹانوں"ایقوفائز" کی تصویرجب ذیر زمین پانی میں کمی ہو تو کنویں یا ٹیوب ویل میں پانی کی سطح گرنے لگتی ہے۔ اس لئے کسی علاقے میں کنوؤں اور ٹیوب ویلز کی گہرائی میں کمی بیشی سے زیر زمین پانی میں تبدیلی کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ہم اس طرح سے عالمی پیمانے پر پانی کے ذخائر کے بارے میں قابل اعتماد اعداد و شمار نہیں حاصل کر سکتے۔یوں عالمی طور ہر زیر زمین پانی کے ذخائر کو جانچنے کیلئے ساشا رچی اور ان کی ٹیم نے مصنوعی سیاروں گریس " GRACE " کو استعال کرنا پڑھا۔گریس مشن میں دو مصنوعی سیاروں کو موسمیاتی اور زمین کی کشش ثقل میں ہونے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: کینڈی کرش اس قدر لت لگا دینے والی کیوں ہے؟ کیونکہ مختلف خطوں میں زمین کی بیرونی سطح کی کثافت میں ہونے والی تبدیلی ، اس مقام پر کشش ثقل میں بھی تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔اور زمین کی بیرونی سطح کی کثافت میں تبدیلی کی ایک وجہ زیر زمین ذخائر میں پانی کا بڑھنا اور کم ہونا بھی ہے۔ اسی لئے پانی کے ان ذخیروں کے اوپر سے گزرتے ہوئے گریس سٹیلائٹ کشش ثقل میں ہونے والی تبدیلی سے پانی کی مقدار کی پیمائش کر لیتے ہیں۔تحقیق کاروں نے 2003سے 2013 تک کے عرصے میں ان خطوں میں ثقل میں تبدیلیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ ا س عشرے میں آٹھ ذخائر پانی کے بہت بڑھے حجم سے محروم ہوئے۔ماہرین نے ان کی درجہ بندی "انتہائی دباؤ" (overstressed)کے شکار ذخائر کے طور پر کی ہے۔ کیونکہ ان ذخائر میں سے نکالے جانے والے پانی کی مقدار ، قدرتی طور پر جمع ہونے والی پانی کی مقدار سے انتہائی ذیادہ ہے۔ان خطوں میں جنوبی امریکا، مشرق وسطیٰ ، شمال مغربی ہندوستان اور پاکستان شامل ہیں۔پانی کی قلت کا شکار زیر زمین ذخائر انتہائی گنجان آباد شہروں کے قریب ہیں، یا وہ بہت زیادہ زرعی علاقے یا پھر بارانی علاقوں میں موجود ہیں۔ یوں امریکی ریاست کیلفورنیا، مشرق وسطی ٰ اورپاکستان میں زیر زمین پانی کی قلت کی معقول وجہ سامنے آتی ہے۔ کیونکہ ان جگہوں پر زیر زمین پانی زراعت اور انسانی آبادی دونوں کے استعمال میں ہے۔امریکی ماہر آبیات گورڈن گرانٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ گریس کے ڈیٹا سے ہمیں یہ علم ضرور ہوا ہے کہ عالمی پیمانے پر زیر زمیں پانی کا لیول کس طرح تبدیل ہو رہا ہے۔ مگر اس ڈیٹا سے ہم یہ نہیں معلوم کر سکتے کہ ان زیر زمیں ذخائر میں پانی کی کتنی مقدار باقی ہے۔لیکن ماہر آبیات اس بات کا حساب ضرور رکھ سکتے ہیں کہ سالانہ ان ذخیروں میں کتنا پانی جمع اور خرچ ہو رہا ہے۔

انٹرسٹیلر2014 کی بہترین سائنس فکشن

سائنس فکشن مجھے ذاتی طور پر بہت پسند ہیں۔لیکن عموماً ہالی وڈ کی سائنس فکشن فلمیں سائنس فکشن سے ذیادہ سائنس فینٹیسی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود ہر سال ہالی وڈ ایسی فلمیں ضروربناتا ہے جس میں سائنس کو عمدگی اور حقیقت کے قریب تر پیش کیا جاتا ہے۔ انہی فلموں میں گذشتہ برس پیش کی جانے والی "انٹرسٹیلر" ہے ،جس میں مستقبل میں نظام شمسی سے ماوراء خلائی سفر کی کہانی انتہائی مہارت اور باریک ترین جزئیات کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔انٹرسٹیلر :فلم پوسٹراس فلم کے ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کی بنائی ہوئی تقریباً ہر فلم ایک ماسٹرپیس کا درجہ رکھتی ہے۔چاہے تو وہ کامک ہیرو پر مبنی" بیٹ مین سیریز "ہو کہ اس سپر ہیرو فرنچائز میں نولان میں نہ صرف نئی روح پھونکی ہے بلکہ وہ کامک ہیروز پر بننے والی فلموں کو نئی بلندیوں تک لے گئے ہیں۔سائنس فکش اور خوابوں کی سحرانگیر دنیا "Inception" ہو، ایک صدی پہلے کی جادوائی دنیا"Prestige"ہو یا پھر انسانی دماغ کی بھول بھلیاں "Memento" ہو۔نولان نے اپنی ہر فلم میں کہانی ، کردار نگاری ،سسپنس،تھرل اور مکالمات ہر چیز سے مکمل انصاف کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج کے دور کے انتہائی کامیاب اور شائقین کے پسندیدہ ترین ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں۔اس لیے صرف نولان کا نام اور ان کا پروجیکٹ ہونے کی وجہ سے شائقین کو اس فلم کی نمائش کا بے چینی سے انتظار تھا اور یہ فلم ان کی توقعات پر پورا بھی اترتی ہے۔
مزید پڑھیں: گریوٹی : ایک سائنس فکشن شاہکار کہانی:فلم کی کہانی میں زمین کے مستقبل کی تصویر کشی کرتی ہے، جب کہ زمین بیشتر بنجر ہونے لگتی ہے اور ہر وقت گرد وغبار کے طوفان اس سیارے کو اپنے گھیرے میں لئے رکھتے ہیں۔ایسے میں انسانی آبادی کی بقا کیلئے زمین سے ماؤراء کسی ایسی دنیا کے تلاش ناگزیر ہو جاتی ہے جو کہ قابل رہائش ہو ،تاکہ تمام نسل انسانی کو خاتمے سے بچایا جا سکے۔انہی کوششوں کےدوران سائنسدان سیارہ زحل کے قریب زمان و مکان میں ایک ورم ہول دریافت کرتے ہیں جس کی بدولت نظام شمسی سے ماؤراء خلائی سفر ممکن ہوتا ہے۔اس سفر کیلئے خلا بازوں کی ایک ٹیم روانہ کی جاتی ہے تا کہ وہ بنی آدم کیلئے ایک نیا رہائشی سیارہ ڈھونڈ سکیں۔ چونکہ فلم کے پلاٹ اور کہانی سے پیشگی واقفیت سے فلم میں دلچسبی کم یاختم ہو سکتی ہے اس لیے بجائے اس کے کہ کہانی /پلاٹ کی مزید تفصیل پیش کیا جائے اس فلم کی کچھ خاص باتیں آپکی خدمت میں پیش ذیادہ مناسب ہے۔1۔نظریاتی طبیعات کا استعمال :اس فلم کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں نظریاتی طبیعات(Theoretical Physics) کے تصورات کو انتہائی احسن اندازمیں کہانی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔اس مقصد کے لئےخاص طور پر مشہور طبیعات "کپ تھورن" کی خدمات حاصل کی گئیں، جو کہ فلم کی پوری کہانی اور سکرین پلے میں موجود طبیعاتی تصورات کی مستند اور حقیقت سے قریب ترمنظر کشی کیلئے راہنمائی کرتے رہے۔بیک ہول کے گرد گردش کرتے سیارے کا سینان تصورات میں بلیک ہول، ورم ہول ، مصنوعی ذہانت اورآئن سٹائن کا نظریہ اضافت اور بالخصوص وقت کی اضافیت کو بہت عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔2۔ خلائی سفر:کیونکہ فلم ایک بین الستاروی خلائی سفر کی ہی کہانی ہے اس لئے اس میں مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے اس خلائی سفر کو انتہائی خوش اسلوبی سے بیان کیا گیا ہے۔ چاہے وہ خلائی جہازوں کے ڈیزائن ہوں، عملے کے انسانی رویے اور جذباتی کشمکش ہو یا پھر خلائے بسیط کے بے پناہ وسعتیں اور بے نظیر فلکیاتی مناظر نولان نے ہر ایک جزو کو انتہائی مہارت سے پردہ سکرین پر پیش کیا ہے۔
فلم میں دکھایا جانے والا خلائی جہاز

3۔وژیول ایفیکٹس:فلم خلائی سفر،دوسرے سیاروں پر لینڈنگ اور خلائی جہازوں کی منظر کشی کیلئے بہت سے بصری اثرات کو استعمال کیا گیا ہے۔کچھ ناقدین کی رائے میں نولان کی اب تک کی فلموں میں انٹرسٹیلر بصری (Visual) لحاظ سے سب سے خوبصورت مناظر سے مزین ہے۔سفر در سفر کائنات کے پرتوں میں جاری یہ سفر ایک وژیول ٹریٹ(Visual Treet) ہے خاص کر ان لوگوں کیلئے ایک بہترین تحفہ ہے جو کھلی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہیں۔خلائی سفر کا ایک خوبصورت منظرانٹرسٹیلر اپنے بصری اثرات کی وجہ سے اکیڈمی ایوار ڈ کیلئے نامزد ہوئی اور سال 2014 میں بہترین وژیول ایفیکٹس کا ایوارڈ جیتنے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔دلچسب بات یہ ہے کہ یہ وژیول ایفیکٹس ناصرف جمالیاتی طور پر خوب صورت ہیں بلکہ بلیک ہولز، ورم ہولز اوردیگر مناظر کو حقیقت کے قریب تر پیش کیا گیا ہے۔اس مقصد کیلئے پیچیدہ سائنسی مساواتوں اور تصورات کو پردہ سکرین پر لانے (Simulate) کیلئے خاص طور پر ایک خصوصی سی جی آئی(CGI) سافٹ وئیر تیارکیا گیا تھا۔ 4۔ ماضی سے رشتہ:جو فلم بین ہالی وڈ کے شائقین ہیں وہ اسٹین کیوبرک کی 1968 کی یاد گار ہالی وڈ کلاسیک "2001: اے سپس آڈیسی" کے علاوہ "سٹار وار" اور" سٹار ٹریک "سیریزسے ضرور واقفیت رکھتے ہونگے۔ خاص کیوبرک نے ساٹھ کی دہائی میں بننے والی شاہکار فلم میں دو خلابازوں کے خلائی سفر کی داستان بیان کی گئی تھی۔ فلم میں خلائی جہاز میں انکا ساتھ دینے کیلئے ایک مصنوعی ذہانت سے لیش کمپیوٹر پروگرام "ہال 9000" بھی ہے۔"ہال" اگرچہ عملے کی معاونت کیلئے تیار کیا گیا تھا مگر کسی فنی خرابی کی وجہ سے وہ مددگار سے ولن میں ڈھل جاتا ہے۔ان فلموں کی خاص بات سائنس فکشن کے علاوہ ان میں موجود بصری اثرات ہیں ، جب CGI ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر معاونت نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن مناظر اس قدر دم بخود کرنے والے ہیں جوآج بھی دیکھنے والوں کو دھنگ کر دیتے ہیں۔انٹرسٹیلر میں نولان نے بھی کوپر ، ڈاکٹر برانڈ اور باقی ٹیم کے ساتھ ایک ذہین روبوٹ "ٹارس" کاکردار رکھا ہے۔ٹارس اپنی مصنوعی ذہانت کے علاوہ اپنی اعلیٰ حرکت پزیری(High Level Mobility) کی بدولت انتہائی مشکل صورتحال میں عملے کامعاون و مددگارثابت ہوتا ہے۔نولان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی فلم کے زریعے نئی نسل کو اسی خوابناک اور حیرت انگیز دنیا میں لے جانا چاہتے ہیں ، جس کے تجربے سے وہ ماضی میں "2001: اے سپیس آڈیسی "،"سٹارٹریک " یا "سٹاروار" کو دیکھتے ہوئے گزرے ہیں۔ کاسٹ :نولان کے تعارف کے بعد انٹرسٹیلر کی کاسٹ کی بات کریں تو اس میں ہیرو "کوپر"کا کردار آسکر انعام یافتہ میتھیو میکانہےنے بخوبی نبھایا ہے جو کہ دو بچوں کا باپ اور ایک سابقہ پائلٹ ،خلانورد اور انجنیئر ہے۔ ہیروئن "ڈاکٹر برانڈ کوپر" کے کیلئے بھی آسکر انعام یافتہ اینی ہیتھوے کا انتخاب کیا گیا۔معاون اداکاروں میں جیسکا چیسٹن اور مائکل کین اور میٹ ڈیمن قابل ذکر ہیں۔میتھیو میکانہے اور اینی ہیتھوےساتھی اداکار کے ساتھ
باکس آفس کارکردگی اور پزیرائی:باکس آفس پر بھی اس فلم کو کامیابی حاصل ہوئی۔اپنے سنجیدہ موضوع کے باعث یہ گارڈین آف گلیکسی اور ٹرانفارمرز :ایج آف ایکسٹینشن جیسی بلاک بسٹر تو نہ بن سکی مگر ناقدین اور شائقین سے بھرپور دار حاصل کی۔165 ملین ڈالر کے بجٹ سے بننے والی اس فلم سے دنیابھر میں 675 ملین ڈالر(67کروڑ 5 لاکھ)کا بزنس کیا۔کچھ فلمی پنڈتوں نے اس کو 2014 اور نولان کے کیرئیر کی بہترین فلم قرار دیا ہے۔ساتھ ہی مشہور سائٹ آئی ایم ڈی بی کے چارٹ پر بھی یہ پچھلے سال کی بہترین فلم قرار پائی ہے۔ اگر آ پ نے یہ فلم دیکھی ہے تو اپنی رائے کا ضرور اظہار کیجیے گا۔
فلم ٹریلیرآپ یہاں ملاحضہ کر سکتے ہیں۔
Interstellar Official Movie Trailer (2014) (HD... by Gamers-Incorporated

ونڈوز 10کی تنصیب اور پہلا تاثر

مائیکروسافٹ نے بلاآخر 29 جولائی 2015 کو اپنے نئے آپرئٹنگ سسٹم کا اجراء کیا۔ونڈوز 10 کے نام کے ساتھ پیش کیا جانے والا یہ او ایس 3 سال پرانی  ونڈوز 8  کے بعد مائیکروسافٹ کی پہلی  بڑی اپڈیٹ ہے۔ ونڈوز 8 میں مائیکروسافٹ نے پرسنل کمپیوٹرز کے ساتھ ٹیبلٹ اور موبائل فون ہر ایک کیلئے ایک ہی آپریٹنگ سسٹم  وضع کرنے کی کوشش کی ۔پرانے آئیکون کی بجائے اس میں لائیو ٹائیلز کو پیش کیا گیا،ونڈوز ایپس کیلئے ٹچ سپورٹ مہیا کی گئی،مگر شاید سب سے بڑا  رسک  سٹارٹ مینو بٹن کو ختم کرنے کا فیصلہ تھا۔لیکن ونڈوز 8 کا لائیو ٹائل انٹرفیس صارفین کو باکل متاثر نہ کر سکا ۔ونڈوز 10 ڈیفالٹ ڈیکسٹاپاب ونڈوز 10 کے ساتھ مائیکرسافٹ دوبارہ پی سی ، ٹیبلٹ اور موبائل مارکیٹ میں اپنی گرتی  ہوئی ساکھ بحال کرنے کے عزم کے ساتھ واپس آئی ہے۔شاید اسی لیےونڈوز 10 کے لانچ کے ساتھ مائیکروسافٹ کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب کمپنی  کسی نئے آپریٹنگ سسٹم کو صارفین کیلئے مفت اپگریڈ کرنے کی آفر دی گئی۔ لیکن یاد رہے یہ اپڈیٹ ونڈوز 7 اور 8 کی جینوئن کاپی رکھنے والے صارفین کیلئے ہی ہے۔اسی وجہ سے میں نے بھی مائیکروسافٹ کی فیاضی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ دونوں کیلئے ونڈوز کی ایک کاپی اپنے لئے محفوظ کرا لی۔خدا خدا کر کے جب 29 جولائی کا دن آیا تو بار ہا ونڈوز 10 ایپ کودیکھا کہ اب اپڈیٹ آئی کہ اب آئی، مگر اس کے تو کوئی آثار ہی نہ تھے۔آخر تنگ آ کر انٹرنیٹ پر چیک کہ کسی طرح اس انتظار کی زحمت کا علاج مل جائے، حسب توقع ایک  جگاڑ مل گیاجس کو استعمال کرنے ہوئے کمپنی کی اپڈیٹ کیلئے  انتظار کی چکی میں پسنے سے بچ گیا  ۔کیونکہ شک تھا  اس انسٹالیشن کی دوران کہ پی سی شاید درست اپڈیٹ نہ ہو سکے اس لیے اپڈیٹ کرنے پہلے اپنے تمام ڈاکومنٹس اور ڈاونلوڈ فائلز کو سی ڈرائیو سے نکال کر  ادھر ادھر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔خدا خدا کر کے جب اپڈیٹ شروع ہوئی تو 32 بٹ ونڈوز 10 کی فائنل کا سارز 2 جی بی سے ذیادہ تھااور پی ٹی سی ایل کنکشن پر 2 جی بی کی اپڈیٹ کیلئے اچھا خاصا وقت چاہیے ۔  یوں بھی رات کافی بیت چکی تھی ،اس لیے پی سی اپڈیٹ پہ لگارہنے دیا اور  سورہا۔ صبح اٹھا تو ونڈوز 10 ڈاونلوڈ ہو چکی تھی۔لیکن کمپوٹر صاحب کا کہنا تھا کہ کچھ دیگر ونڈوز اپڈیٹ انسٹال نہیں ہو سکیں اس لئے  نئی ونڈوز اپنی تنصیب مکمل نہیں کر سکتی۔اف خدایا۔۔۔ اتنی محنت اور انتظار کے بعد ایک اور زحمت ۔خیر پھر انٹرنیٹ کنگھالا اور  شکرکیا کہ ایک چھوٹی سی یوٹیلیٹی سے  اپڈیٹ فائل میں آنے والا ایرر (Error) حل ہو گیا۔اس کے بعد جیسے ہی کمپیوٹر جی نے پوچھا کیا آپ ونڈوز 10 انسٹال کرنا چاہتے ہیں تو فوراً اثبات والے بٹن پہ کلک کیا اور لیجئے ونڈوز انسٹالیشن شروع ہو گئی۔آپ کو بتاتا چلوں کی جس پی سی پر ونڈوز انسٹال کی وہ ڈیل کا Optiplex" 755"ہے جو کہ  2008 میں مارکیٹ میں آیا ، راقم نے2.3 گیگا ہرٹز کور ٹو ڈو پروسیسر اور 3 جی بی ریم  پر مشتمل اس سسٹم کو اس طرح کے تجربات کیلئے کہنہ مشق بنایا ہوا ہے۔ونڈوز اپگریڈیشن پروسیسغیر کوئی 40 منٹ میں ونڈوز 10 کی تنصیب مکمل ہوئی،جیسے ہی پاسورڈ انٹر کرنے کے بعد ہوم  سکرین نمودار ہوئی تو یہ خوشگوار حیرت ہوئی کہ پہلے سے انسٹال تمام سافٹ وئیر اسی طرح موجود تھے، تمام ڈرائیورز از خود انسٹال ہو چکےتھے،مائی ڈاکومنٹ میں موجود فائلز بھی جوں کی توں موجود تھیں  اور یہاں تک کہ ڈیسک ٹاپ بیک گرانڈ کی تصویر بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ساتھ ہی ونڈوز 10 پچھلے 24 گھنٹوں سے بغیر کسی رکاؤٹ کے روانی کے ساتھ چل رہی ہے اور ابھی تک تو سسٹم سست ہوتا محسوس نہیں ہوا ہے۔اب چند بڑی تبدیلیاں جو کہ ونڈوز 10 کو ممتاز کرتی ہے انکا مختصر احوال ہو جاہے۔1۔سٹارٹ مینو کی واپسی ونڈوز انسٹال کرنے کے بعد  سب سے پہلے سٹارٹ مینو پر کلک کی اور ونڈوز 10 کے نئے سٹارٹ مینوکو دیکھا تو یقین آیا کہ واقعی ونڈوز 10 ہی انسٹال ہوئی ہے۔ اس نئے سٹارٹ مینو میں ونڈوز 7 اور 8 دونوں کی خوصیات جمع ہیں،یعنی اس میں آپ بیک جدت اور قدامٹ دونوں کا امتزاج دیکھ سکتے ہیں۔ونڈوز 10 سٹارٹ مینو2۔ مائیکرسافٹ کورٹانہ سٹارٹ بٹن کے ساتھ ہی مائیکروسافٹ ڈیجیٹل اسسٹنٹ کورٹانہ کا بٹن و سرچ باکس موجود ہے جس کے زریعے آنلائن اور آفلائن دونوں جگہ سرچ کی جا سکی ہے۔جیسے ہی آپ کورٹانہ پر کلک کریں تو یہ موسم اور دوسری ضروری معلمومات سکرین پر دکھاتا ہے۔کورٹانہ مجازی معاون
3۔ٹاسک ویوکورٹانہ کے ساتھ ہی ٹاسک ویو کا بٹن ہی جس پہ کلک کرتے ہی تمام جاری ونڈوز کا سنیپ شاٹ سکرین پر نمودار ہو جاتا ہے اور ایک سافٹ وئیر ونڈؤز سے دوسری  میں جانا آسان ہو جاتا ہے۔ٹاسک ویو
4۔ مائیکروسافٹ ایج  براؤزرساتھ ہی اس ونڈوزمیں انٹرنیٹ ایکسپلورر کی جگہ مائیکروسافٹ ایج کا براؤز بھی موجود ہے۔مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ یہ رفتارمیں گوگل کروم سے بہتر ہے۔مجھےایج بروزکا انٹر فیس بہت سادہ اور آوٹ آف ڈیٹ لگا۔ اورچونکہ ونڈوز 8 میں نصب فائر فاکس اپگریڈیشن کے بعد بھی موجود تھا اس لئے میں نے ابھی تک اسے ذیادہ استعمال نہیں کیا۔مائیکروسافٹ ایج براؤزر5۔ونڈوز ایکشن سنٹڑ ایک اور واضح تبدیلی ونڈوز 8 اور 8.1 میں موجود چارم بار کا خاتمہ ہے جسکی جگہ اب ونڈوز ایکشن سنٹر کا بٹن موجود ہے۔ایکشن سنٹر میں موبائل او ایس کی طرز پہ ونڈوز نوٹیفکیشن سنٹر ہے۔6۔ ورچوئل ڈیسک ٹاپونڈوز 10 میں آپ کسی تھرڈ پارٹی سافٹ وئیر کے علاوہ بھی ورچوئل ڈیکس ٹاپ بنا سکتے ہیں۔ یوں ایک سے ذیادہ کام کرتے ہوئے ، مختلف ڈیکس ٹاپ استعمال کرتے ہوئے اپنے کام کو منظم کر سکتے ہیں۔ورجوئل ڈیکسٹاپ

کینڈی کرش اس قدر لت لگا دینے والی کیوں ہے؟

اگر آپ سمارٹ فون یوزر ہیں تو غالب امکان ہے کہ آپ نے کینڈی کرش گیم ضرور کھیلی ہو گی ۔بالفرض اگر آپکو اس گیم سے چڑ ہے اور یہ نہ بھی کھیلی ہو تب بھی فیس بک پر اس گیم کے انوائٹس نے آپکی ناک میں ضرور دم کر رکھا ہو گا۔آخر کیا وجہ ہے کہ یہ گیم اتنی مقبول ہے اور جس کو ایک دفعہ چسکا پڑھ جائے وہ ہر وقت یہی گیم کھیلتا نظر آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ 2012 میں اپنی ریلیز کے بعد اس گیم نے کروڑوں ڈالرز کمائے ہیں ، جب کہ کھیلنے والے کروڑوں صارفین کے وقت کا ضیاع اس کے علاوہ ہے۔جب گیم ایکسپرٹ جیسپر جول (جو کہ میچ –تھری ٹائپ کی گیموں کی تاریخ پر کام کر چکے ہیں )سے یہ سوال پوچھا گیا توانکا جواب انتہائی سادہ تھا۔۔۔"کیوں کہ اس سیکھنا بہت آسان ہے پر اس میں مہارت حاصل کرنا انتہائی مشکل۔"ایک لت زدہ کھلاڑی کیںڈی کرش کھیلتے ہوئے کینڈی کرش کمپیوٹر گیمز کی کیٹگری "میچ -3" سے تعلق رکھتی ہے۔ جس میں آپ اوپر /نیچے ، دائیں /بائیں یا ڈائیگنل کسی بھی سمت میں تین رنگ،اشکال،ٹائلز یا ایک طرح کی تصاویر کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں ، اور جیسے ہی یہ رنگ یا اشکال ایک لائن میں آئیں تو ایک اطمیان بخش سرسراہٹ سے غائب ہو اجاتے ہیں۔مزید پڑھیں:  مشتری اور زہرا اتنے پاس پاس لیکن اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہر گزرتے لیول میں گیم بورڈ میں آہستہ آہستہ گیم مشکل ہوتا جاتاہے اور ابتدائی لیول کے بعد انتہائی پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔پچھلے برس روم میں کمپیوٹر سائنٹسٹ کے ایک گروپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ "میچ-3"گیم کے پیش گوئی ہر موو کے ساتھ انتہائی پیچیدہ ہوتی جاتی ہے ۔لیکن اگر کوئی گیم یا سٹیج بہت ہی مشکل ہو توکھلاڑی اسے کھیلنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اسلئے اس طرح کی گیموں میں ہر موو (Move)کے ساتھ پلئیر کو چھوٹی موٹی پیش رفت کا احساس ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے ایک تو اسکی گیم میں دلچسبی برقرار رہتی ہے اور دوسرا وہ سٹیج یا لیول کلئیر کرنے کی طلب قائم رہتی ہے۔اس کے علاوہ کینڈی کر ش اور اس طرح کی گیموں میں پلئیر وقت کے دباؤ سے بھی آزاد ہوتے ہیں اس سے وہ ذیادہ توجہ کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔کینڈی کرش اس نوعیت کی واحد گیم نہیں ہے، میچ -3 گیموں کو مقبولیت 2001 میں ملی جب بی جیولڈ "Bejeweled"نامی گیم ریلیز ہوئی اوراس میں کینڈی کی بجائے مختلف جواہرات کو ملا یا جاتا تھا۔جبکہ بی جیولڈ کا آئیڈیا بھی 1994 میں پیش کئے جانے والی رشین گیم شاریکی سے لیا گیا۔ جیسپر جول کہنا ہے کہ خود شاریکی بھی 1980 کی دہائی کی مشہور گیم "ٹیٹرس " سے متاثر ہو کر ڈیزائن کی گئی۔مزید پڑھیں: ایٹم کا ابتدائی تصور کینڈی کرش سکرین شاٹان سب توجہیات کے علاوہ جیشپر یہ بھی کہتے ہیں کہ "کینڈی کرش ا ب کہ روایت اور ٹرینڈ کا حصہ بن چکی ہے، اور کیونکہ یہ مشہور ہے، اس وجہ سے یہ اوربھی مشہور ہوتی جا رہی ہے۔"

زہرہ اور مشتری اتنے پاس پاس

تصویر میں روشن ستارے درحقیقت زہرہ اور مشتری ہیں۔اگر آپ آجکل (جون /جولائی 2015) میں شام کے بعد آسمان پر جنوب مغرب کے سمت دیکھیں تو دو انتہائی روشن ستارے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ دونوں ستارے نہیں بلکہ ہمارے نظام شمسی ہی کے دو سیارے زہرہ اور مشتری ہیں۔چونکہ زہرہ آسمان پر چاند کے بعد سب سے روشن فلکی جسم ہےاور مشتی زہرہ کے بعد دوسرے روشن ترین سیارہ۔اس لئے آپکو یہ دونوں بہ آسانی اور دوسرے کے انتہائی قریب دکھائی دیں گے۔ان روشن سیاروں کا ایک سیدھ میں نظر آنا غیر معولی اور انوکھا تو نہیں مگرایک خوبصورت فلکی نظارہ ہے جس سے آپ بغیر کسی مشقتلطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

اس گف انیمیمشن میں روز بہ روز سیاروں کو قریب اور پھر دور ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔اس مظہر کو زہرہ مشتری اقتران (Venus Jupiter Conjunction) کہا جاتا ہےاور اگلے پورے ہفتے کے دوران سورج غروب ہونے کے دو گھنٹے بعد تک اس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ یہ سیارے انتہائی ہیں اس لیے آپ شہر کی گرد آلود فضا میں بھی (اگر وقت نکال سکیں تو) انھیں بہ آسانی ننگی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں۔ زہرہ زمین کا سب سے قریبی پڑوسی ہےعطارد کے بعد سورج کے بھی قریب ترین ہے۔جبکہ مشتری کا سورج سے فاصلہ زہرہ کی نسبت سات گناہ ہے، اس لئے روزانہ مشاہدے پر سیارہ زہرہ آپکو مشتری کی طرف بڑھتا دکھائی دے گا۔یہاں تک کہ 30 جون اور 31 جولائی کو ایک دوسرے انتہائی قریب ہو جائیں گے اور ایک ہی بڑھے لمبوترے چاند کی شکل میں دکھائی دیں گے۔اس کے بعد ان کا فاصلہ دوبارہ بڑھنا شروع ہو گا ۔زہرہ اور مشتری ہر کچھ سالوں بعد آسمان پر ایک دوسرے کے قریب سے گزرتے ہیں۔ کیونکہ زہرہ کا مدار زمین کی نسبت سورج کے قریب ہے اسلئے ہمیں انکا مشاہدہ شام یا پھر صبح کے اوقات میں ہوسکتاہے ۔ کم مدار ہونے کی وجہ سےیہ ہر 584 دن میں زمین کو "پیچھے چھوڑ" دیتا ہے ، اور اس طرح یہ" شام کے ستارے"(جو سورج غروب ہونے کے فوراً بعد نظر آنے لگتا ہے) سے "صبح کے ستارے"(جو سورج طلوع ہونے سے پہلے تک دکھائی دیتا رہتاہے) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

نیویارک انٹرنیشنل آٹو شو 2015

 مارچ 2015 میں  نیویارک میں ایک بین الاقوامی کار میلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا کے مشہور کار تیار کرنے والے اداروں نے اپنی بہترین پروڈکٹس کے ساتھ شرکت کی۔اس میلے میں پیش کی جانے والی کاریں دلفریب ڈیزائن، جدید ٹیکنالوجی ، پہلے سے بہتر کارکردگی اور ایندھن کیکم کھپت جیسی خصوصیات سے لیس تھیں۔ ماہرین کی جانب سے اس نمائش میں شامل دس بہترین لگژری  کاروں کا تعارف پیش خدمت ہے ۔(کاروں کے نام سہولت کیلئے انگریزی میں ہی لکھے گئے ہیں۔)10: 2016 Nissan Maximaجاپانی کمپنی نسان کی تیار کردہ 2016 نسان میکسیما (2016 Nissan Maxima) کو اس نمائش میں ناقدین نے دسوان نمبر دیا ہے۔نہایت سرعت سے رفتار پکڑنےکی صلاحیت، بہترین انٹیریئر ، جدید  میٹیریل اور خو بصورت ڈیزائن رکھنے والی کار کی خامی اس کی نسبتاًذیادہ قیمت ہے۔ 

9: 2016 Kia Optimaجنوبی کوریا کی دوسرے بڑی آٹو انڈسٹری "کیا" کی نئی کار 2016 کیا آپٹیما اس نمائش میں نواں نمبر حاصل کر سکی ہے۔اگرچہ یہ فی الوقت قابل ذکر مقبولیت نہیں حاصل کر سکی ہے مگر اس کہ باوجود کیا کا یہ نیا ماڈل اتنا دلکش اور سٹائلش ہے کہ روڈ پر اپنی "موجودگی" محسوس کر ا سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کار اب صارفین میں اپنی مقبولیت حاصل کر رہی  ہے۔ 

8: 2016 Toyota RAV4 Hybridہائیبرڈ کاریں جن میں ایندھن کی بچت کیلئے برقی موٹر نصب ہوتی ہے تیار کرنے میں ٹیوٹا ااس وقت سب سے آگے ہے۔ اگرچہ اس سال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا رجحان رہا اس کے باوجود ٹیوٹا کا یہ نیا ترین ہائیبرڈ ماڈل اس وقت امریکہ میں دستیاب بہترین ہائیبرڈ کار ہے۔جو کہ ٹیوٹا کی فروخت میں بیش بہا اضافہ کر سکتی ہے۔ 

7: 2016 Jaguar XFبرطانوی کار ساز ادارے جیگوار لینڈ رُوور (Jaguar Land Rover) کی نئی ترین کار ہے۔( یاد رہے کہ 2008 کو یہ ادارہ بھارتی ملٹی نیشنل ٹاٹا گروپ نے خرید لیا تھا اور اب یہ ٹاٹا آٹوز کی ملکیت ہے۔) اگرچہ ساخت اور شکل کے اعتبار سے یہ پچھلے ماڈل کے جیسی ہے مگر اس میں استعمال شدہ میٹریل پہلے سے ہلکا مگر ذیادہ مظبوط ہے۔ساتھ ہی کار سسپنشن ،چیسیس اور ڈرائیونگ انٹرفیس کو ذیادہ بہترکیا گیا ہے۔اس لئے رواں سال کی لگژری کاروں میں یہ بھی صارفین کی خریداری کی فہرست میں رہے گی۔ 

6: 2016 Scion iA and iMسکائین جاپانی کمپنی ٹیوٹا کی ہی ایک خود مختار شاخ ہے مگر یہ کمپنی کے لئے متواتر سڑکوں پر رہنے اور بزنس کرنے والی کاریں نہیں بنا سکا ہے۔ 2002 میں یوتھ برانڈ کے ساتھ کم خرچ مگر سٹائلش اور دید زیب کار ڈیزائن کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا سکائین آئی اے (Scion iA) اور آئی ایم کی صورت میں اسکا نتیجہ آج موجود ہے۔ان ماڈلز میں کمپنی "کم خرچ" اور "سستی" کاروں کے بین ایک توازن حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔یہ ماڈل مارکیٹ میں اپنی مستحکم جگہ بنا سکتے ہیں۔
5: 2016 Lexus RXجاپانی کمپنی ٹیوٹا ہی کی ایک شاخ لیکسس شاخ ہے جس کا 20 سال پہلے آغاز کیا گیا تھا۔ لیکسس آر ایکس، ادراے کی جانب سے پیش کی گئی اب تک کی سب سے کامیاب کار ہے۔ اس کار میں لگژری ،سٹائل اور افادیت جیسی خصوصیات یکساں طور پر موجود ہیں۔ 
 4: Honda Civicجاپانی کمپنی ہونڈا اپنی سیوک کاروں کی وجہ سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ لیکن گزشتہ عرصے میں سیوک آہستہ آہستہ تنزلی کی جانب روان تھی مگر 2016 ماڈل میں نئی ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور سٹائل ہر چیز موجود ہے جو کہ سیوک کار کو پھر سے مین سٹریم میں لے آئے ہیں۔ 

3: 2016 Cadillac CT6امریکی آٹوز انڈسٹری کے مشہور ادارے جنرل موٹرز کی کیڈلک کاریں لگژری اپنی ایک منفرد پیچان رکھتی ہیں۔ کیڈلک سی ٹی 6 جنرل موٹرز کی جدید ترین پروڈکٹ ہے جو کہ ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور خوبصورتی میں مرسیڈیز اور بی ایم ڈبلیو کی کاروں کے ہم پلہ ہونے کا دعویٰ کر سکتی ہے۔ 

2: 2016 Chevrolet Malibuجنرل موٹرز ہی کی تیار کردہ شیورلتٹ مالیبو 2016 اس شو کی رنر اپ کار رہی ہے۔ کار نئے ڈیزائن کے ساتھ اور بھی بہت خوبیوں سے لیس ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کی بدولت یہ اینڈھن کا کم از کم استعمال کرتی ہے اور ساتھ ہی اس میں چلڈرن کنڑول فیچر کے زریعے والدین اپنے بچوں کی ڈرائیونگ کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ 

1: Lincoln Continental Conceptاور اب نیویارک آٹو شو 1016 میں موجود اب سے بہترین سیڈان سپورٹس کار کا تعارت پیش خدمت ہے۔اور یہ اعزاز جاتا ہے مشہور زمانہ امریکی آٹو کمپنی فورڈ کے ذیلی ادارے لنکلن کو۔کانٹینینٹل کانسٹ اس ادارے کی بلاشبہ بہترین پیشکش ہے جو کہ  ڈیزائن، سٹائل اور ٹیکنالوجی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اسی وجہ سے ناقدین نے اسے شو کی بہترین کار کا تاج پہنایا ہے۔

حشرات سے محفوظ رکھنے والا لائٹ بلب

آجکل اگرچہ ملک کے شمالی حصوں میں موسم بہار پوری آب تاب سے رواں ہے اور ابھی گرمی کے دن نہیں آئے مگر اس کے باوجود سورج نے آنکھیں دکھانی شروع کر دی ہیں۔ جہاں گرمی میں واپڈا کی مہربانیوں میں اضافہ اور گا اور لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی پھیلتا جائے گا ،وہیں مکھیوں ،مچھروں ، بھنوروں اور پتنگوں کے لشکر بھی ہر روشن بلب پر حملہ آور ہونگے ۔ اس لئے ان سے چھٹکارہ پانے کیلئے طرح طرح کے انسیکٹ کلر ( Insect Killers) استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان حشرات میں خاص کر مچھر سر فہرست ہے جس کی ہلاکت خیزیوں میں رات کی نیند کا ستیا ناس کرنے کے ساتھ ساتھ ملیریا اور ڈینگی جیسی وباؤں کا پھیلانا بھی شامل ہے۔ایل ای ڈی جو حشرات کو کم سے کم اپنی طرف راغب کرتی ہے۔رات کے وقت روشن کی جانے والی مصنوعی روشنیاں مختلف حشرات کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں ، جس کی تصدیق اپکے گھر یا دفتر میں روشن بلبوں کے گرد کیڑے مکوڑوں کی بڑی تعداد دیکھ کر سکتے ہیں۔ لیکن اب سائنسداں ایسے نئے بلب تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو کہ حشرات کی کم سے کم تعداد کو اپنی جانب راغب کریں۔آپکے علم میں ہو گا کہ سفید روشنی ساتھ مختلف رنگوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ہر رنگ ایک خاص طول موج (Wavelengths ) کو ظاہر کرتی ہے۔عام طور پر استعمال ہونے والے فلوریسنٹ بلب تقریباً تمام طول موج کی روشنی خارج کرتے ہیں، جب کہ جدید مصنوعی روشنی آلات مثلاً انرجی سیور اور ایل ای ڈی لائٹیں نیلے رنگ کی طول موج کے قریب قریب کی طول موجیں ذیادہ خارج کرتی ہیں جس سے توانائی کی بچت ہوتی ہے ۔ مگر خدشہ ہے کہ یہ روشنی ہماری حیاتیاتی گھڑی (جو کہ چوبیس گھنٹوں میں  نیند اور آرام کے اوقات کا  تعین کرتی ہے )کو متاثر کر رہی ہیں۔ یہی نیلا رنگ حشرات کو بہت بھلا لگتا ہے اور وہ جوق در جوق بلب کے طواف کیلئے کھچے چلے آتے ہیں۔اسی لئے سائنسدانوں نے مختلف رنگوں کی ایل ای ڈیز کو استعمال کرتے ہوئے ایسی سفید روشنی حاصل کی جس میں نیلے اور سرخ رنگ کی مقدار کم سے کم رکھی گئی ۔یہی دو رنگ حشرات کیلئے سب سے ذیادہ پرکشش ہیں۔یوں نتیجتاً حاصل ہونی والے بلب کی روشنی اگرچہ سفید ہی تھی ،مگر جب اس کو کھلے ماحول میں جلایا گیا تھا تو اس کے گرد حشرات کی 20 فیصد کم تعداد میں جمع ہوئے۔اگرچہ یہ نتائج ذیادہ حوصلہ افزاء نہیں مگر ایک جہت میں ہمارا پہلا قدم ہے ، اس لئے سائنسدان پر امیدہیں کہ اس طریقہ کار کو مزید کارگر بنایا جا سکتا ہے۔ٹرایوس لنگکور جو کہ ساؤتھ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں ،انکا کہنا ہے کہ " ابھی ہم یہ نہیں جانتے کہ حشرات کو راغب نہ کرنے کیلئے کیا صرف یہی مختلف طول موجوں(رنگوں )کا بہترین امتزاج ہے کیونکہ یہ اس میدان میں ابھی پہلی کوشش ہے۔ایل ای ڈی تیار کرنے والے اداروں کیلئے یہ ایک موقع ہے کہ وہ روشنی کے علاوہ ایک اضافی خوبی کا اضافہ کر سکتے ہیں"۔ وہ پر امید ہیں کہ درست طول موج کے امتزاج کے زریعے ایسا بلب بنایا جا سکتا ہے جو کہ حشرات کی ایک بڑی تعداد کو ہم ہے دور رکھے گا۔

نیا ویب پروٹوکول،برق رفتار اور محفوظ براؤزنگ

 ایچ ٹی ایل ایل 5
کمپیوٹر ماہرین نے ویب کیلئے ایک نئے پروٹوکولHTML/2 کی منظوری دی ہے۔جس کے بارے میں کہا جا رہاہے کہ 1999ء میں HTML
 1.1کے بعد آج تک کے 16 سالوں میں یہ ویب پروٹول میں ہونے والی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔ایچ ٹی ایم ایل کا موجودہ نسخہ/ورژن
 (HTML 5 )ہے ۔اس لئے ایچ ٹی ایم ایل /2 ایک نئی ویب عہد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔آئی ای ایس جی(Internet Engineering Steering Group) نے اس اس نئے پروٹوکول کی منطوری دے دی ہے،جو کہ استعمال میں آنے سے پہلے کچھ آخری تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔قارئین کو بتاتے چلیں کہ آجکل انٹرنیٹ پر ایک ارب سے زائد ویب صفحات موجود ہیں ۔HTMLیعنی ہائپر ٹیکسٹ مارک اپ لینگوئج کوویب  میں ریڑ کی حثیت حاصل ہے۔کیونکہ تمام ویب براؤزر ویب صفحات کو ویب سرورز سے HTML کی صورت میں وصول کر کے سکرین پر پیش کرتے ہیں۔مگر آجکل ویب صفحات ذیادہ انٹرایکٹو اور خوشنما ہونے کی وجہ سے براؤزر میں رینڈر ہونے میں ذیادہ وقت لیتے ہیں۔ساتھ ہی سائبر کرائمز میں اضافے کی وجہ سے ہیکنگ کے خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مارک اپ لینگوئج کا یہ نیا ورژن انھیں جگہوں میں مزید بہتری پیدا کرنے کیلئے بنایاگیا ہے۔ایچ ٹی ایم ایل ،ویب کی زبانیعنی یہ نیا سٹینڈرڈ نہ صرف تیز رفتار ہو گا بلکہ اس میں انٹرنیٹ سکیورٹی کو بھی پہلے سے بہتر بنایا گیا ہے۔IETF ایچ ٹی ایم ایل کے ورکنگ گروپ کے سربراہ مارک ناٹنگم کا کہنا ہے کہ "اس نئے سٹیندرڈ میں ایچ ٹی ایم ایل کو نئے سرے سے نہیں تیار کیا بلکہ پہلے سے موجود سٹینڈرڈ کو بہترین حالت میں لے کر آئے ہیں"۔اس لئے صارفین اس سٹینڈرڈ سے کسی جادوائی تبدیلی کی توقع نہ رکھیں۔یہ کہنے کی بجائے کہ اس سے ویب پیج دوگنی رفتارسے ڈسپلے ہو گا، اب قبل از وقت ہے ۔مگر ہم نے پچھلے سٹینڈرڈ میں شامل ویب صفحات کی کارکردگی پر اثر انداز ہونے والے مسائل کو ممکن حد تک ختم کیا گیا ہے۔جب ویب پیج اور سرور ان تبدیلیوں کا فائدہ اٹھائیں گے توویب صفحات کی رفتار خود بخود بہتر ہو جائے گی۔مزید پڑھیں:مائیکروسافٹ ڈاٹ نیٹ فریم ورک اب اوپن سورس اور وژیول سٹوڈیو بلکل مفت یہ سٹینڈرڈ گوگل کی حالیہ سالوں میں بنائی گئی ٹیکنالوجی SPDY سے ماخوز شدہ ہےاور گوگل اپنے کروم براؤزر میں اس سٹینڈرڈ پر منتقل ہو گا۔مزید براں فائر فاکس اور انرنیٹ ایکسپلورر میں بھی اس کی سپورٹ شامل ہے۔مگرفیس بک ،ٹویٹر اور گوگل جیسے بڑھے اداروں کے علاوہ باقی ویب دنیا میں اس کی سپورٹ شامل نہیں۔

جی میل سے بھیجی گئی ای میل کو واپس کیجئے

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ای میل بھیجنے کے بعد آخری لمحے میں خیال آتا ہے کہ "او، ابھی اس میں تبدیلی کرنی تھی۔" لیکن اب کچھ ہو نہیں سکتا کیونکہ ای میل تو send ہو چکی ہوتی ہے۔ اس پریشانی سے بچنے کیلئے گوگل اور مائیکروسافٹ نے ای میل کو والپس کرنے unsend کرنے کا آپشن مہیا کیا ہوا ہے۔مگر ڈیفالٹ سیٹنگ میں یہ آپشن فعال نہیں ہوتا۔آپ کی سہولت کیلئے جی میل میں بھیجی ہوئی  ای میل کو واپس کرنے کا طریقہ کار دیا گیا ہے۔
1۔جی میل اکاؤنٹ پہ لاگ ان ہوں۔2۔ سیٹنگ کے گئیر بٹن پر کلک کریں اور ظاہر ہونے والے آپشنز میں سے سیٹنگ کو منتخب کریں۔3۔  اب ظاہر ہونے والی ٹیب میں سے "Labs"کو تلاش کر کے کلک  کیجئے۔4۔آپ نے اب  نیچے دیے گئے آپشنز میں سے آپ نے undo sendکو تلاش کرنا ہے۔5۔ undo send کے سامنے دیے گئے بٹن میں سے enable کو سیلکٹ کر لیں۔
6۔ اب آپ سیٹنگ منتخب کر چکے ہیں ،تبدیلی کو محفوظ کرنے کیلئے save changes پر کلک کریں کو آپشنز سے باہر
آ جائیں۔مزید پڑھیں:سیمسنگ کی انقلابی وائی فائی ٹیکنالوجی 7۔اب پھر دوبار سیٹنگ پر جائیں اور وہاں سے "undo send"والی ٹیب منتخب کریں ۔ یہاں پر آپ undo time جو کہ 10 سیکنڈ(یعنی 10 سیکنڈ اب آپ ای میل واپس نہیں کر سکتے) ہے اس کو  30 سیکنڈ تک سیٹ کر سکتے ہیں۔  8۔ اب آپ جب بھی ای میل send کریں گے تو ایک سکرین نوٹیفیکیشن کے ذریعے آپ سے پوچھا جائے گا کہ ایک آپ ای میل کو واپس کرنا چاہتے ہیں۔اگر  کوئی تبدیلی کرنی ہو  تو undo پرکلک کریں اور ای میل واپس ہو جائی گی۔  اس کے علاوہ بھی لیبز ٹیب میں موجود دوسے فیچرز کو اپنی سہولت  اور پسند کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔


ایپل اپنے سرچ انجن کی تیاری میں مصروف،گلوگل ہشیار باش۔۔۔

ایپل اس وقت دنیا کی نمبر ایک ٹیکنالوجی کمپنی ہے جبکہ گوگل سرچ انجن کے میدان میں بے تاج بادشاہ۔ اس کے علاوہ موبائل آپریٹنگ سسٹم ،ایپ سٹورز اور میوزک سٹریمنگ  جیسے کئی میدانوں میں  دونوں کمپنیاں کے دوسرے کی حریف ہیں ۔لیکن اب یہ جنگ ایک نئے محاز پر منتقل ہونے جا رہی ہے۔گوگل اور ایپل ایپل پہلے ہی اپنے آلات یعنی آئی فون،آئی پیڈ اور میک بک میں سے گوگل سروسز مثلاً گول میپ اور گوگل سرچ سے چھٹکارا پانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔اس سلسلے میں پہلے کمپنی نے گوگل کے مقابل ایپل میپ متعارف کرائے اور حالیہ عرصے میں تمام ایپل آلات اور سفاری براؤزر کیلئے گلوگل کی بجائے مائیکروسافٹ کے بنگ سرچ انجن کو ترجیح دے دی ہے۔لیکن اسی پر بس نہیں؛ خبر یہ ہے کہ دنیا کی نمبر ایک ٹیکنالوجی کمپنی اب اپنے لئے علیحدہ سرچ انجن تیار کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔مزید پڑھیں:گوگل سرچ ، کچھ خفیہ راز۔۔۔کچھ دلچسب پہلو ساتھ ہی ایپل کمپنی نے ممکنہ طور پر ایپل سرچ انجن کیلئے "انجئنرنگ پروجیکٹ مینیجر" کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔ اس نئی پوسٹ کے کیلئے جاری کردہ ورک سمری کے مطابق ایک ایسا سرچ انجن جو نہ صرف بیک وقت کروڑوں صارفین کو برت سکے بلکہ ساتھ ہی موبائل اور کمپیوٹرز پر کی موجودہ استعمال میں جدت اور انقلابی تبدیلی لا سکے۔اگرچہ کچھ عرصہ بعد ایپل سرچ انجن حقیقی طور پر انٹرنیٹ پر موجود ہو گا ،لیکن یہ تقریباً نا ممکن ہے کہ وہ فی الفور گوگل کیلئے کوئی بڑا خطرہ ثابت ہو سکے گا۔اس لئے یہ بھی عین ممکن ہے کہ ایپل سرچ ایک علیحدہ ڈومین نیم پر مشتمل ویب انجن کی بجائے ایک آئی فون اور آئی پیڈ میں موجود"سروس" کی طرح پیش کیا جائے۔ایپل آلات میں موجود صوتی معاون(Voice Assistant) سری(Siri) کی صورت میں ایپل کے پاس پہلے سے ایک مظبوط امیدوار موجود ہے۔اس لئے اگرچہ مستقبل قریب میں ایپل کسی مین سرچ انجن کی جگہ تو لے سکے گا۔لیکن اگرایپل صرف مقبول ایپل آلاپ آئی فون ،آئی پیڈ ،میک بکس کے ساتھ سفاری براؤزر کے کڑوروں صارفین کیلئے گوگل اور مائیکروسافٹ کی جگہ ہی لے پایا تو یہ بھی اس کیلئے بہت بڑی کامیابی ہو گی۔مزید پڑھیں:نوکیا اب ایپل آئی پیڈ منی کے مقابل کیونکہ سرچ انجن ،سرچ رزلٹ کے ساتھ صارفین کو اشہتار بھی دکھاتے ہیں جو کہ کسی بھی سرچ انجن کی کمائی کا بڑا زریعہ ہیں ۔اس لئے مختلف کمپنیاں سرچ کے مقابلے میں گوگل کی اجارہ داری کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں۔حالانکہ اس وقت گوگل کے بعد مائیکروسافٹ اپنے بنگ سرچ انجن اور یاہو سرچ اس وقت بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود تو ہیں ۔مگرانکا استعمال انتہائی محدور حد تک ہے۔اس لئے اس وقت ایپل کے لئے موقع ہے کہ وہ کم از کم یاہو اور مائیکروسافٹ کو سخت ٹکر دے سکتا ہے۔جیساکہ ایپل پروڈکٹ پریمئیر اپیل رکھتی ہیں اس لئے ہم ایپل سرچ کے بھی بڑھی توقعات وابستہ کر سکتے ہیں۔

نئے لیپ ٹاپ کی خریداری سمجھ داری کے ساتھ

حالیہ دنوں میں سمارٹ فون اور ٹیبلس کی مقبولیت کی وجہ سے اگرچہ پرسنل کمپیوٹرز (ڈیسک ٹاپ/لیپ ٹاپ ) کی مانگ اور مقبولیت میں کمی آ رہی ہے مگران کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ آج بھی برقرار ہے۔موبائل /ٹیبلٹ انٹرٹینمنٹ (میوزک ،وڈیوز اور گیمنگ) اور انٹرنیٹ (ویب سرفنگ،ای میل اور چیٹنگ ) کی حد تک تو بلاشبہ بہت آسانی پیدا کرتے ہیں؛لیکن اگر آپ طالب علم ہیں یا پروفیشنل تو پھر ذیادہ کمپوٹنگ صلاحیت کے آلات یعنی ڈیسک ٹاپ /لیپ ٹاپ بدستور آپ کی ضرورت ہیں۔ پاکستان میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کے مسئلےکی وجہ سے بہتر رہے گا کہ آپ اپنے لئے ایک لیپ ٹاپ خریدیں۔مسئلہ یہ ہے کہ کچھ سال پہلے لیپ ٹاپ صرف لیپ ٹاپ ہوا کرتے تھے مگر مختلف فیلڈز میں صارفین کی ضروریات اور توقعات کے مطابق آج مختلف الاقسام لیپ ٹاپ مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ ان انواع واقسام اور رنگا رنگ صلاحیتوں سے لیس لیپ ٹاپس میں سے اپنے لئے لیپ ٹاپ منتخب کرنا ایک مشکل مرحلہ ثاب ہوتا ہے؛ اسی لئے موجودہ تحریر آپکو مختلف لیپ ٹاپس اقسام سے متعارف کرانے کیلئے لکھی گئی ہے تا کہ آپ اپنی ضرورت کے مطابق اپنے لئے بہترین لیپ ٹاپ کو انتخاب کر سکیں۔الٹرا بک:کچھ سال پہلے ایپل کی میک بک ائر کے لانچ سے روایتی لیپ ٹاپ میک بک کے مقابل وزنی اور بے ہنگم نظر آنے لگے۔کیونکہ یہ ونڈوز ڈیوائس کے مقابلے میں سٹائلش،پتلا،ہلکا اور ذیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت سے لیس لیپ ٹاپ تھا۔اس لئے انٹل نے میک بک کےساتھ مسابقت کیلئے الٹرا بک کا تصور پیش کیا۔ان مقرر کردہ حدود کے اندر ایک پتلے ،ہلکے اور طاقتور کمپیوٹنگ صلاحیت رکھنے والے لیپ ٹاپ کوالٹرابک(Ultra Book)کہا جاتا ہے۔13 انچ ایپل میک بک ائیراس طرح آج مختلف اداروں کی تیار کردہ الٹرا بکس اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے ایپل کی بہترین ائر بکس کا بہ آسانی مقابلہ کر سکتی ہیں۔یہ ایک انچ سے پتلے،ہلکے ہونے کے ساتھ لمبی بیٹری لائف اور انتہائی جاذب ڈسپلے سے لیس ہوتے ہیں۔لیکن ان خوبیوں کے ساتھ ایک خامی بھی ہے ؛یہ مشینیں اگرچہ ہلکی ہیں مگر جیب پر بھاری پڑھتی ہیں ۔ ایک عام پاکستانی صارف (اگر آپ کا کوئی عزیر اوور سیز موجود نہیں) کی قوت خریداری سے بہت دور ہیں۔یہ بھی پڑھیں:دنیا کے بہترین 10 سمارٹ فون ورک بک:جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے یہ لیپ ٹاپس خاص کر پیشہ ورانہ کاموں کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ان کے ڈیزائن میں ذیادہ سے ذیادہ پروڈکٹیوٹی کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔اس لئے ان میں پروفیشنل لیول گرافکس کارڈ مثلاًاین ویڈیا " کواڈرو" یا اے ایم ڈی کی" فائر لائن "سیریز کو نصب کیا جاتا ہے۔مزید ان میں بیٹری یبک اپ ٹائم بڑھانے کیلئے ان میں طاقتور بیٹریوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ایک اور چیز جو ورک بکس کو ممتاز کرتی ہے وہ ان میں بیرونی آلات سے منسلک ہونے کے لئے پورٹس کی ذیادہ تعداد اور اندرونی ہارڈوئیر تک آسان رسائی کی خوبی ہے۔ساتھ ہی سیکیورٹی کے حوالے سے کچھ ورک بکس میں فنگر پرنٹ سکینرز بھی موجود ہوتے ہیں۔ورک بک کی قیمتیں بھی اتنی ذیادہ ہوتی ہیں کہ عام صارفین کی بجائے صرف پروفیشنل حضرات اوربڑی کمپنیاں (اپنے ملازمین کیلئے)ہی انہیں خرید سکتی ہیں۔کروم بک:یہ لیپ ٹاپ گوگل کے تیار کررہ آپریٹنگ سسٹم کروم اوایس سے لیس ہوتے ہیں۔جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کروم او ایس گوگل کے کروم براؤزر پر ہی مشتمل ہے۔اس میں ورڈ ڈاکومنٹ ، پریزنٹیشن،میوزک /وڈیو پلےانگ اور حتیٰ کہ گیم کھیلنے تک تمام کاموں کو کروم براوزرکے ہی زریعے انجام دیا جاتا ہے۔ڈیل کروم بکاسی خوبی کی وجہ سےکروم او ایس درمیانے درجے کے ہارڈ وئیر پر بھی بہ خوبی چل سکتا ہے ۔یوں کروم بکس کی قیمتیں بہت کم اوربجٹ رینج کے اندر ہوتی ہیں ۔جو کہ خاص کر طلباء کےلئے بہت کشش رکھتی ہیں۔لیکن کروم بکس صرف اسی صورت میں سو فیصد کارآمد ہیں جب تک انٹرنیٹ سے منسلک ہوں ۔مگر گبھرانے کی بات نہیں حالیہ سالوں میں گوگل نے اس خامی پر قابو پانے کیلئے ان کی آف لائن کارگردگی کو بہت حد تک بڑھایا ہے۔گیمنگ لیپ ٹاپ:آپ ایک گیمنگ لیپ ٹاپ کو دیکھتے اس کے بڑھے حجم،جلتی بجھتی روشنیوں،بھڑکیلے رنگ اور آواز دارپنکھوں سے بہ آسانی پہچان سکتے ہیں۔گیمنگ لیپ ٹاپس کو این ویڈیا یا قوالقم کے جدید ترین موبائل گرافکس پروسیسرز سے لیس کیا جاتا ہےتاکہ یہ گیمز کے تازہ ترین ورژن کو عمدگی اور نفاست کے ساتھ سکرین پرپیش کر سکیں۔یاد رہے کہ آج کل گیمنگ لیپ ٹاپس بھی سٹائلش ،ہلکے ہونے کے ساتھ دوسرے گیمنگ میڈیا (کنسول اور ڈیسک ٹاپ ) کو ٹکر دینے کیلئے تیار ہیں۔ ٹو ان ون ہائبرڈ لیپ ٹاپ:اگر آپ لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ دونوں میں سے کسی ایک کے انتخاب میں شش و پنج کا شکار ہیں تو ہائبرڈ لیپ ٹاپ آپ کے ہی لئے تیار کئے گئے ہیں۔لیناوو آئیڈیا پیڈ ےوگا مائیکروسافٹ ونڈرز 8 کے جدید ترین ٹچ سپورٹد ورژن کے ساتھ یہ ہائبرڈ مشینیں دو اقسام کے ساتھ دستیاب ہیں۔اول قسم ایک عام ٹیبلٹ کی طرح ہو گی ،جس کے ساتھ کی بورڈ اور ماؤس منسلک کر کے اس لیپ ٹاپ میں بدلا جا سکتا ہے؛دوسری قسم میں ابتدائی حالت میں یہ لیپ ٹاپ کی طرح کام کرتی ہیں مگر آپ ضرورت کے مطابق سکرین کو الگ کر بطور ٹیبلٹ استعمال کر سکتے ہیں۔
لیکن یہ ٹو ان ون ،لیپ ٹاپ/ٹیبلٹ اگرچہ مارکیٹ میں دسیتاب تو ہیں پر ابھی تک صارفین میں خاطر خواہ مقبولیت نہیں حاصل کر سکے۔جنرل لیپ ٹاپ:یہ وہ لیپ ٹاپ ہیں جن کو ہم آسانی کے ساتھ مندرجہ بالا کسی بھی کیٹیگری میں بہ آسانی فٹ نہیں کر سکتے۔یعنی یہ دہائیوں پہلے استعمال ہونے والے لیپ ٹاپس کے اصل جانشین ہیں۔آپ انہیں ہر فن مولا کہہ سکتے ہیں اور اپنے روزمرہ کے تمام کام ان کے زریعے انجام دے سکتے ہیں مگر ذیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت والے کام ("ہیوی سافٹ وئیر") کے لئے یہ مناسب نہیں۔یہ لیپ ٹاپس 11 سے 17 انچ سکرین اور پلاسٹک باڈی کے ساتھ دستیاب ہوتے ہیں ۔خاص بات یہ ہے قیمت کے لحاظ سے یہ مڈ رینج یا بجٹ رینج میں آتے ہیں۔
 یہ بھی پڑھیں: بہترین فیبلٹس۔۔۔ جوآپ خریدنا چاہیںحرف آخر:آجکل عموماً نئے لیپ ٹاپ ٹچ سپورٹڈ ہوتے ہیں۔ لیکن   خریدنے سے پہلے یہ تسلی ضرور کر لیں کہ وہ ٹچ سپورٹ موجود ہے کہ نہیں۔اس پوسٹ میں صرف لیپ ٹاپ کی اقسام کا ذکر کیا گیا ہے۔آئندہ انشاءاللہ ہر  ایک قسم  کے بہترین ماڈلز پر علیحدہ تحریز پیش کی جائے گی۔  

آڈی کی نئی کار 900 کلومیٹر کاسفر بغیر ڈرائیور کےکرنے کو تیار

آڈی کاریں تیار کرنے والی جرمنی کی مشہور کمپنی ہے جو کہ بغیر ڈرائیور کی چلنے والی کارکی تیار کے حوالے سے سرگرم کمپنیوں میں شامل ہے۔کمپنی کی موجودہ جدید ترین گاڑی A7 سپورٹس بیک جسے کہ جیک کا نام دیا گیا ہے الیکٹرانکس مصنوعات کی مشہور ترین عالمی نمائش CES 2015 یعنی  Consumer Electronics Showمیں شرکت کیلئے سیلیکان ویلی ،کیلفورنیا سے لیکر لاس ویگاس تک کا تقریباً 900 کلومیٹر سفر بغیر ڈرائیور کہ خود بخود تہہ کرنے کیلئے تیار ہے۔
آڈی کی جانب سے تیار کئے گئے سیلف ڈرائیونگ کار ماڈلز سالہا سال سے مسلسل بہتری کے مراحل سے گزر رہے ہیں ۔یہ ماڈل دونوں طرح سے چلائے جا سکتے ہیں ایک تو نارمل موڈ جس میں عام گاڑی کی طرح ڈرائیورگاڑی چلاتا ہے تو دوسرا "آٹو پائلٹ " جس میں گاڑی خود کار طریقے سے چلتی ہے۔یعنی موڑ کاٹنا، سپیڈ بڑھانا ،بریک اور اوورٹیکنگ وغیرہ جیسے کام مختلف سنسرز سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں خود کار طریقے سے ہوتے ہیں۔ پچھلے سال بھی اسی عالمی نمائش میں پیش کی گئی ماڈل کار نے آٹو ڈرائیونگ کا مظاہرہ کیاتھا۔ مگراس دوران ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کے دوران سسٹم کسی فنی خرابی کا شکا ر ہو گیا جس سے کارڈرائیور نے گاڑی کو "ڈرائیو" کر کے کنٹرول کرنا پڑا۔مگر اس دفعہ کمپنی پر عزم ہے کہ نئی کار جیک A7 ٹیکنالوجی پورا سال ترقی اور آزمائش کے مختلف مراحل سے گزرنے کی بعد اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ اسے 900 کلو میٹر فاصلے کی میراتھن میں اعتماد سے اتا را جا رہا ہے۔آٹو پائلٹ معاون سنسرز:آٹو پائلٹ فیچر جس میں گاڑی بغیر ڈرائیور کے خودکار طریقے سے چلتی ہے مختلف سنسرز پر مشتمل ایک پیچیدہ نظام ہے۔اس نظام میں ایک سٹینڈرڑ لانگ رینچ ریڈار ، دو فرنٹ اور بیک شارٹ رینج ریڈار روڈ پر آگے اور پیچھے موجود گاڑیوں کی شناخت اورسپیڈ معلوم کرنے کیلئے استعمال کئے گئے ہیں۔ساتھ ہی ایک لیزرسکینر بھی ارد گرد گاڑیوں کی شناخت کیلئے ریڈار سسٹم کی معاونت کرتا ہے ۔  ماحول کی بصری شناخت (Visual Recognition ) کیلئے ایک 3 ڈی فرنٹ کیمرہ اور اس کے ساتھ دو فرنٹ اور دو بیک کیمرے سامنے اور پیچھے دونوں اطراف کی تصویر کشی مسلسل میں کمپیوٹر کو بھیجتے ہیں۔مین کپمیوٹر میں موجود گرافکس کنرولر اور سگنل پروسیسر اور جی پی ایس سے حاصل شدہ سگنل کی بنیاد پر اپنے الگورتھم کو استعمال کرتے ہوئے گاڑی کے سٹیرنگ، بریکس اور ایکسلریٹر کو ایک ماہر ڈرائیور کی طرح کنٹرول کرتا ہے۔آڈی کا کہنا ہے کہ فری ہائی وے پر یہ کار 0 سے 113 کلومیٹڑ فی گھنٹہ کی سپیڈ سے چل سکتی ہے اور اس دوران یہ دوسری لائن میں جا کر کسی گاڑی کو اوور ٹیک بھی محفوظ طور پر کر سکتی ہے۔لیکن جب گاڑی بہت مصروف اور گنجان علاقے میں ہو گی تو اس صورت میں یہ سگنل فلیش کرے گی تا کہ ڈرائیور کنٹرول سنبھال سکے۔ڈرائیور کے کنٹرول نہ سنبھالنے کی صورت میں گاڑی خود بہ خود سائیڈ پر رک جائے گی۔خدشات: لانگ روٹ پر ڈرائیونگ کے دوران روڈ پر لین کی نشاندی کیلئے کیلئے جانے والے پینٹ لائن پر انحصار کرتی ہے اس لئے اگر یہ لائن مرمٹ یا مومسمیاتی وجہ سے مٹ گئیں ہوں تو اس صورت میں گاڑی کیلئے اپنی لائن میں رہنا اور موڑکاٹنا بہت دشوار اور کٹھن ہو گا۔ساتھ ہی شہری اور گنجان علاقوں میں ڈرائیونگ کے قابل نہ ہونا یہ نشاندہی کرتا ہے کہ آڈی کا سسٹم ابھی اتنا قابل بھروسہ نہیں کہ ایک مکمل آٹو ڈرائیونگ کار کہا جا سکے۔
لیکن اس کے باوجود بھی اگر سسٹم میں مذکورہ خصوصیات پر پورا اترا تو اگلے کچھ سالوں میں روڑ پر یہ کم از کم لمبے روٹ پر ڈرائیونگ کے دوران ڈرائیور کو آرام پہنچا سکے گا۔

متنازعہ فلم "دی انٹرویو"کی آنلائن نمائش

سونی پکچرز کی جانب سے پیش کی گئی فلم دی انٹرویو آجکل بہت ذیادہ خبروں میں ہے۔یہ فلم شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان (Kim Jong-un ) کے قتل پر بننے والی اس افسانوی کہانی پر مشتمل ہے۔فلم کی ریلیز سے پہلے ہی ہیکرز نے سونی پکچرز سے اس فلم کی کاپی کے ساتھ ہی سٹوڈیو کے ملازمین کے ریکارڈز تک کو ہیک کر لیا تھا۔سونی نے الزام عائد کیا کہ یہ ہیکنگ شمالی کوریاکے ہیکرز کی جانب سے کی گئی ہے تا کہ فلم کو نقصان پہنچایا جا سکے۔دی انٹرویو: فلم پوسٹر
اگرچہ شمالی کوریا نے اس الزام کی تردید کی کہ اس سائبر حملے میں شمالی کورین گورنمنٹ ملوث ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہیکرز نے بالکل ٹھیک کام کیا ہے۔اسکے باوجود سونی پکچرز نے شمالی کوریا سے ہیکرز کے خلاف کاروائی کا مطالبہ جاری رکھا۔ساتھ ہی امریکی گورنمنٹ بھی معاملے میں الجھ پڑھی اور شمالی کوریا کو بھی آلائن سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑھا۔جس میں پچھلے دنوں شمالی کوریا کا تمام انٹرنیٹ منجمد کر دیا گیا۔
انہی حالات میں سٹوڈیو نے فلم کی ریلیز کو مؤخر کر نے کا فیصلہ کیا مگر بعض حلقوں نے اصرار کیا کہ فلم کی ریلیز میں تاخیر "اظہار رائے کی آذادی " پر بڑا حملہ ہے اس لئے فلم کو مقررہ تاریخون میں ہی ریلیز کیا جانا چاہیے۔انہی حلقوں میں امریکی صدر بارراک اوبامہ بھی شامل تھے جنھوں نے اصرار کیا کہ فلم کی ریلیز کو مؤخر نہ کیا جائے بلکہ مقررہ تاریخوں پر اسکو سینما گھروں میں لایا جائے۔  شائقین و ناقدین کے اصرار پر اگرچہ سونی نے فلم کو ریلیز تو کیا ہے مگر یہ انتہائی محدود سنیما گھروں تک محدود ہے اور شو ٹائمنگ بھی کم ہیں۔کیونکہ ان حالات نے فلم کے پبلسٹی کا چار چاند لگائے جس سے فلمی شائقین کو فلم دیکھنے کی خواہش بہت بڑھ گئی ہے اس لئے سونی نے امریکہ کیلئے فلم کو آنلائن ریلیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اب کرسمس چھٹیوں کے کاروباری دنوں میں فلم آنلائن یوٹیوب ،گوگل پلے اور ایکس باکس وڈیو پر سٹریمنگ کے لئے پیش کی گئی ہے۔لیکن فلم مفت نہیں بلکہ اسے دیکھنے کیلئے آپ کو 8 ڈالر تک وہ خریدنے کیلئے تقریباً 15 ڈالر ادا کرنے ہونگے۔

یو ٹیوب کی سب سے مشہور وڈیو،جس کیلئے ویب سائٹ کوڈ میں تبدیلی کرنا پڑھی

اگرچہ آجکل بلکہ تین سالو ں سے پاکستان میں یو ٹیوب پر پابندی عائد ہے مگر سچ یہی ہے کہ یو ٹیوب وڈیو شئیرنگ کی سب سے مشہور اورسب سے ذیادہ دیکھی جانی والی ویب سائٹ ہے۔یوٹیوب پر کروڑوں وڈیوز کو آپ باآسانی انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔
لیکن کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ یوٹیوب پر موجود کروڑوں وڈیوز میں سب سے مشہوراور سب سے ذیادہ بار دیکھے جانے والی وڈیو کون سی ہے؟ تو جناب یو ٹیوب پر اس وقت سب سے مشہور اور ذیادہ دفعہ دیکھے جانے والی وڈیو جنوبی کوین گلوکار سائی”PSY” جنکا مکمل نام پارک جائ سنگ (Park Jae-sang) ہے کے  گائے ہوئے گانے گنگم سٹائل “Gangnam Style” کی وڈیو ہے۔ جس کو آج تک یو ٹیوب پر دو ارب سولہ  کروڑتیس  ہزار سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔یہ تحریر لکھتے وقت اس وڈیو کے ویوز کی تعداد2160030789 تک پہنچ چکی ہے۔
اس گانے کو یوٹیوب پر بین الاقومی اور بے مثل کامیابی حاصل ہوئی تھی اور سب سے پہلے ایک ارب دفعہ پلے ہونے کا بھی اعزاز بھی اسی وڈیو کو حاصل ہوا۔
علاوہ ازیں اس گانے کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ سے یوٹیوب کو وڈیو پلے کاونٹر یعنی وڈیو کی دیکھے جانے والی تعداد کو محفوظ رکھنے والے نمبر کو بھی دوگنا کرنا پڑھا۔اپنے گوگل پلس پیچ پر یوٹیوب کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی وڈیو ایک 32 بٹ نمبر یعنی 2,147,483,647 سے ذیادہ دفعہ پلے ہو گی۔مگر “Gangnam Style” نے ہماری سوچ غلط ثابت کر دی اس وجہ سے ہم نے یوٹیوب کے کوڈ کو تبدیل کر نا پڑھا اور اب ایک یوٹیوب وڈیو پلے کاؤنٹر ایک 64 بٹ نمبر یعنی 9,223,372,036,854,775,808 بار تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔
ساتھ ہی گوگل اور یو ٹیوب نے  اس موقع کو یادگار بنانے کیلئے ایک اضافی تبدیلی بھی کی ہے اگر آپ یوٹیوب پر اس گانے کی کاؤنٹر کے اوپر ماؤس کرسر کو لے کے جائیں تو ایک کار کے مائلیج میٹر کی طرح اعداد آپ کو تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے دکھائی دیں کے۔
گانے کی وڈیو آپ یہاں ملاحضہ کر سکتے ہیں۔

دنیا کے بہترین 10 سمارٹ فون

موجودہ دور میں یقیناً آپ کے پاس ایک سمارٹ فون موجود ہو گااگر نہیں بھی ہے تو پاکستان میں 3G موبائل نیٹ ورک کی آمد کے بعد سمارٹ فونز کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اگر آپ نیا موبائل خریدنا چاہتے ہیں یا موجود موبائل کو بہتر فون سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو بلاشبہ نیا موبائل کا انتخاب ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔کیونکہ آج سیمسنگ سےلیکر مائیکروسافٹ ،ایچ ٹی سی سے سونی اور سب سے بڑھ کر ایپل ۔۔۔ ہر ایک کمپنی اپنے بہترین موبائل کے ساتھ مقابلے میں موجود ہے۔بہترین سمارٹ فونمارکیٹ میں دستیاب ان ہزاروں فونز میں دنیاکے دس بہترین فو ن کا تعارف پیش خدمت ہے
تا کہ اگر آپ نیا موبائل خریدنا چاہیں یا کسی دوست کو مشورہ دیں تو اپنی ضرورت کے مطابق بہترین فون کا انتخاب کر سکیں۔ان موبائل کے انتخاب میں ڈیزائن، ہارڈویئر اور موبائل کی قیمت جیسے عوامل کو مد نظر رکھا گیا ہے۔تو آئیے آپکا  ان بہترین فون سے تعارف کراتے ہیں۔10۔ گوگل نیکسس 5گوگل کی جانب سے گزشتہ برس پیش کیے جانے والا یہ موبائل ابھی بھی ٹاپ دس میں شامل ہے۔اس فون کو معروف ادارے LGنے تیار کیا تھا ۔نیکسس 5 اینڈرائڈ 4.4 کٹ کیٹ کے سٹاک ورژن سے لیس ہے۔یعنی یہ اینڈرائڈ بغیر کسی تبدیلی کے ساتھ موجود ہے۔نیکسس 5 انتہائی پتلا ہے جس سے ہاتھ میں گرفت رکھنا بہت آسان ہوتا ہے۔اسکا قریباً 5 انچ ڈسپلے نہایت جاندار اور جاذب نظر ہے۔یہ فون 2جی بی ریم اور 2.3 گیگا ہرٹز کواڈ کور ،کریٹ 400 پروسیسر اور اینڈرینو 330 جی پی یو کے ساتھ ہر طرح کی ایپلیکیشن کو بغیر کسی مشکل کے چلا سکتا ہے۔ساتھ ہی یہ حریف فونز کی نسبت کم قیمت بھی ہے۔گوگل نیکس 5اس موبائل میں موجود کچھ خامیوں میں اس کا کم تر کیمرہ ہے جو کہ 8 میگا پکسل ہے ،فون میں اضافی ایس ڈی کارڈ نصب کرنے کی سہولت موجود نہیں۔ساتھ ہی یہ موبائل گوگل پلے سٹور پہ آنلائن دستیاب ہے ۔پاکستان میں اس کی دستیابی گرے مارکیٹ کے ذریعے ہے۔9۔ سیمسنگ گلیکسی S5:گلیکسی S4 کامیابی کے بعد اس سال اس نئے گلیکسی موبائل کی آمد کے بہت چرچے تھے ۔بہت سے گلیکسی فین اس کو نویں نمبر پر دیکھ کر مایوسی کا اظہار کریں گے۔مگر۔۔۔اگرچہ یہ سیمسنگ کا بنایا ہوا آج تک کا بہترین فون ہے۔جس میں انتہائی تیز رفتار ہارڈ وئیر نصب ہے ، ہارڈوئیر بنچ مارکس میں اس کا سکور بہت ذیادہ رہا ہےاور اسکا سکرین سائز بھی بڑھا کر 5.1 انچ کر دیا گیا ہے۔ساتھ ہی اس میں کیمرہ کو بہتر بنایا گیا ہے ،فنگر پریٹ سکینر کا استعمال کیا گیا ہے۔سیمسنگ گلیکسی ایس 5مگر اختراع کے معاملے میں یہ کچھ پیچھے رہا گیا ہے۔ S4 میں شامل اشاریاتی کنٹرول اگرچہ اب بھی موجود ہے مگراس فون میں وہ مین فوکس نہیں۔فون ڈیزائن میں کوئی بھی تبدیلی نا پید ہے ۔ اسی وجہ سے ناقدین نے اسے ٹاپ ٹین میں بہت نچلا درجہ دیا ہے۔شاید یہ گلیکسی S5کی فروخت میں کمی ہی ہے جس وجہ سے سیمسنگ کا اس سہ ماہی کا منافع تین سال کی کم ترین سطح پر ہے۔8۔ سونی ایکسپریا Z3جاپانی کمپنی سونی کے جانب سے ایکسپریا Z2 کے بعد Z3 کو لانچ کیا گیا۔ اس موبائل میں بھی اپنے پیشرو Z2 کے نسبت بہت کم تبدیلیاں کی گئیں لیکن آج بھی یہ کچھ بہترین موبائل سیٹ میں سے ایک ہے اور لسٹ میں آٹھوان نمبر حاصل کر سکا ہے۔سونی ایکسپیریا z3یہ موبائل پہلےکی نسبت بہت پتلا ہے اور اس کا 5 انچ ڈسپلے شوخ اور جاذب رنگوں کے ساتھ ایچ ڈی وڈیوزبہ آسانی پلے کر سکتاہے۔ موبائل میں 20 میگا پکسل کیمرے کے ساتھ آپ بہترین تصاویر حاصل کر سکتے ہیں۔ساتھ ہی اس کی طاقتور بیٹری آپ کے موبائل کو ذیادہ عرصے تک چارج رکھتی ہے۔7۔ ون پلس ونغالب امکان ہے کہ بہت سے قارئین نے ون پلس کا نام پہلی دفعہ سنا ہو گا مگر جو لوگ اس نام سے واقف ہیں وہ بہتر جانتے ہیں کہ یہ نیا نام ٹاپ ٹین میں چھٹے نمبر پر کس وجہ سے موجود ہے۔دسمبر 2013 میں کام شروع کرنے والی اس چائنی کمپنی نے بہت ہی کم وقت میں اپنے لئے بہت ذیادہ نام کما چکی ہے۔ون پلس کا موبائل سیمسنگ گلیکسی ایس 5 کے کم و بیش تمام فیچر رکھتا ہے ۔مگر خوبی یہ ہےکہ اس کی قیمت گلیکسی ایس 5 سے آدھی ہے۔اگر آپ ایک اعلیٰ معیار کا کم قیمت موبائل خریدنا چاہتے ہیں تو ون پلس ون آپکی پہلا انتخاب ہو گا۔ONE Plus Oneفون کی ایک خامی اس کا باقی مشہور عام پروڈکٹس کی نثبت عدم دستیابی ہے۔انٹرنیشنل مارکیٹس میں بھی یہ خال خال ہی دستیاب ہے۔مگر مستقبل میں کمپنی کی سیلز بڑھنے کے ساتھ اس کی دستیابی بھی ہر جگہ بہ آسانی ہو سکے گی۔6۔سونی ایکسپریا Z3کمپیکٹ:ایکسپریا Z3 سے کم طاقتور،کم معیار کی سکرین کے ساتھ سونی کا یہ چھوٹا پیکٹ اپنے بڑھے بھائی سے دو پوزیشن آگےہے۔ اس برتری کی بہت سے وجوہا ت ہیں۔کمتر ہونے کے باوجود اتنے ہی معیار کا کیمرہ، سی پی یو،ریم سائز ،پلے سٹیشن ریموٹ کنٹرول کی خوبیاں اور صاف سکرین ایک ایسے سائز میں جسے کا استعمال کی نسبت بہت آرام دہ ہے۔سب سے بڑھ کر اس کی قیمت جو کہ معقول حد تک کم ہے۔SONY XPERIA Z3 COMPACTاس لئے اگر قیمت اور خوبیوں کا موازنہ کیا جائے تو ایکسپریا Z3 کمپیکٹ ہی اس وقت سونی کا بہترین فون ہے۔5۔ایپل آئی فون 6پلسایپل آئی فون 6 پلس ایپل کی تیار کروہ پہلی فیبلٹ ہے۔اگرچہ یہ آئی فون 6 جتنی متاثر کن تو نہیں مگرآپکا دل جیتنے کیلئے اس میں بیسیوں خوبیاں موجود ہیں۔6پلس میں آئی فون کی بہترین خوبیاں جیسا کہ خوشنما ڈیزائن،خوبصورت یوزر اینٹرفیس اور بہترین کیمرہ وغیرہ۔ساتھ ہی اس میں اضافی صلاحیتیں بھی ہیں مثلاً آئی فو ن6 سے ذیادہ بڑھی بیٹری اور فل ایچ ڈی سکرین ؛ جو کہ اسے بہت خاص بناتے ہیں۔iPhone 6 Plusلیکن اس کی کچھ خامیاں بھی ضرور ہیں جیسا کہ بڑھا سائزاور نارمل فیبلٹ سے ذیادہ چوڑائی جس سے اس کو ایک ہاتھ میں پکڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ساتھ ہی اس کی قیمت جو کہ آئی فون 6سے بھی کافی ذیادہ ہے۔لیکن اگر آپ ایپل کے فین ہیں ، پیسے مسئلہ نہیں اور فون رکھنے کیلئے ایک بڑااور اضافی جیب موجود ہے تو پھر آپ یقیناً یہ سپر لگژری ڈیوائس خرید سکتے ہیں۔4۔سیمسنگ گلیکسی نوٹ4سیمسنگ نے اپنی اس فیبلٹ کے نئے ورژن میں صارفین کے سب گلے ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔نوٹ 4 کا ڈسپلے سپر AMOLDٹیکنالوجی اور QHDریزولیشن کی وجہ سے موجودہ دور میں سب سے جاندار اور باریک تر جزیات کے ساتھ وڈیو پیش کرتا ہے جس وجہ سے سکرین سے نظریں ہٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔Glaxy Note 4
فیبلٹ میں بہترین ہارڈوئیر نصب ہے جس سے آپ بنا تاخیر اور وقفے کے ہر طرح کی ایپس سے لطف اندور ہو سکتے ہیں۔ساتھ ہی ایس پین (سٹائلس) کی مدد سے آپ نوٹس لینے کے ساتھ اضافی ٹرکس بھی ٹرائی کرسکتے ۔یہ فیبلٹ اگرچہ ہر لحاظ سے اپنے کورین حریف ایل جی G3پر سبقت رکھتی ہے،اس کی بڑھی خامی اس کی قیمت ہے جو کی G3کے مقابلے میں دو تہائی سے بھی ذیادہ ہے۔

3۔ایل جی G3 ایل جی G3 ایل جی کا نیا فلیگ شپ فون ہے ۔اس میں ایل جی نے روان برس پیش کیے گئے G2موبائل کو بہت ذیادہ بہتری سے ساتھ مارکیٹ میں پیش کیا ہے۔فون ریزولیوشن qHDہےجسکا مطلب ہے کہ فون میں پکسل ڈنسٹی اس لسٹ میں موجود بعض موبائلوں سے چار گنا ذیادہ ہے۔کیمرہ میں لیزر بیس آٹو فوکس کا استعمال،ڈیزائن میں بہتری اور یوزر انٹرفیس میں مثبت تبدیلیاں وہ خوبیاں ہیں جو اس فون کو ٹاپ 3 میں جگہ دلاتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی اس کی کم قیمت بھی اسے ایسی پروڈکٹ بناتے ہیں جس کو ہم"پیسہ وصول "کہ سکتےہیں۔ لیکن ایک خامی فون کا سائز 5.5انچ ہے جس کی وجہ سے اسکا ایک ہاتھ سے استعمال اور جیب میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔LG G3اگر آپ ایک ایسا فون خریدنا چاہیں جس کا ڈسپلے سائز بڑا اور شاندار ہو،کیمرہ کوالٹی عمدہ اور بیٹری لائف دیرپا ہو ؛اور یہ سب معقول قیمت میں ملیں تو ایل جی G3یقیناً آپ کی اولین چوائس ہو گا۔2۔ایپل آئی فون6:ایپل آئی فون 6 ،ایپل کا جدید ترین موبائل ہینڈ سیٹ ہے۔اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے ایپل کو شہرت حاصل ہے۔ان میں انتہائی نفیس اور دیدہ زیب ڈیزائن، خوشنما اور خوبصورت یوزر انٹر فیس اور سب سےبڑھ کر آسان طریقہ استعمال ایپل آئی فون 6 کو باقی موبائل پروڈکٹس سے ممتاز کرتی ہیں۔موبائل میں کیمرہ اور سکرین ریزولوشن اگر چہ کمتر ہیں مگر اس کے جاندار رنگ اور شوخ سکرین یہ کمی محسوس ہونے نہیں دیتیں۔علاوہ ازین کیمرہ ریزولیوشن میں کمی کو کیمرہ سپیڈ ااور آسان استعمال چھپا لیتے ہیں۔iPhone 6آئی فون کو پہلی پوزیشن سے محروم اس کی سب سے ذیادہ قیمت ،کمتر کیمرہ اور سکرین ریزولیشن کرتی ہیں۔کیونکہ جب آپ سب سے ذیادہ پیسے ادا کر رہے ہیں تو پروڈکٹ بھی سب سے اعلیٰ معیار کی ہو جو کہ قیمت سے انصاف کر سکے۔لیکن اگر آپ آئی فون کے فین ہیں تو آئی فون 6 اب سے بہترین چوائس ہے۔ 1۔ ایچ ٹی سی ون M8 کہا جاتا ہے کہ نمبر ون کی پوزیشن حاصل کرنا مشکل نہیں مگر اس پوزیشن پر قائم رہنا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ایچ ٹی سی اپنے امتحان میں اس دفعہ کامیاب رہی ہے۔ پچھلے برس کے بہترین فون ایچ ٹی سی ون کا نیا جنھم ایچ ٹی سی ون M8 امسال بھی پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔فون میں ہارڈ وئیر،ڈیزائن اور کیمرہ ہر چیز میں بہتری لائی گئی ہے۔ایپلیکیش تو برق رفتاری سے چلتے ہی ہیں مگر کیمرہ سپیڈ بھی آپ کو حیر ان کر دے گی۔بم ساؤنڈ کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت آپ کیلئے موسیقی اور سر اورجاذبیت پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ فون کا منفرد اور دیدہ زیب ڈیزائن لاجواب ہے۔فون پر وڈیو گیمنگ ، فوٹو گرافی اور براوزنگ ہر چیز بالکل رواں اور سہل انداز میں چلتی ہیں۔HTC One M8ایچ ٹی سی ون M8 ایک ایسا فون ہے جس کی صلاحیتوں کے قریب ایل جی G3 ہے یا آئی فون 6۔مگر آئی فون کی ذیادہ قیمت اور کم سکرین ریزولیوشن اسے M8سے کم سکور پر رکھتے ہیں۔

نوکیا اب ایپل آئی پیڈ منی کے مقابل

نوکیا کی مائیکروسافٹ کے ہاتھون فروخت کے صرف سات ماہ بعد ہی نوکیا ایک نئے سٹائل کے ساتھ مارکیٹ میں واپس آیا چاہتا ہےاور یہ نیا ڈیوائس اینڈرائد پر مشتمل ایک ٹیبلٹ پی سی ہے۔اس آلے کی رونمائی یورپ کی مشہور ٹیکنالوجی نمائش SLUSH میں کی گئی۔این ون اینڈرائڈ کے جدید ترین ورژن اینڈرائڈ 5 یعنی لولی پاپ سے لیس ہے اور یہ نہ صرف دیکھنے میں آئی پیڈ منی کے مماثل ہے بلکہ اس کے فیچرز بھی آئی پیڈ منی کی ہی طرح ہیں۔ جو کہ اس کو متنازعہ ڈیوائس بنانے کیلئے بہت کافی ہیں۔نوکیا این ون ٹیبلٹ
اسکا ڈسپلے سائز 7.9 انچ اور ریٹینا آئی 2048 * 1536 کی سکرین ریزولوشن بالکل آئی پیڈ منی 2 اور 3 کی ہی طرح ہےاور سونے پہ سہاگہ یہ کہ اسکا المونیم باڈی ڈیزائن بھی  یہ  ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ این ون کی ڈیزائن انسپائریشن آئی پیڈ منی ہی ہے۔

لیکن اگر اندرونی ہارڈ وئیر کے بات کریں تو یہ آئی پیڈ سے بہت ہی مختلف ہے۔اس میں 64 بٹ انٹل ایٹم Z8035 کواڈ کور پروسیسر نصب ہے جو کہ 2.4 گیگا ہرٹز کی فیریکونسی پر کام کر سکتا ہے۔ریم سائر 2 جی بی اور انٹرنل میموری 32 جی بی تک موجود ہے۔اس ہارڈ وئیر کے ساتھ آپ اینڈرائڈ ایپ بغیر کسی تا خیر کے چلا سکتے ہیں۔
ٹیبلٹ کی کیمرہ ریزولوشن بھی بہت مناسب حد تک ہے۔ 8 میگا پکسل بیک کیمرہ اور 5 میگا پکسل سے اعلیٰ کوالٹی سیلفی کے ساتھ آپ اپنے یادگار لمحات کو محفوظ کر سکتے ہیں۔
ایک اور خاص بات کہ اس میں ریورس ایپل یو ایس بی C کنکٹر نصب ہے جو کہ اگلے سال تک تمام آلات میں دستیاب ہو گا۔اس کنکٹر کی بدولت آپ دونوں اطراف سے یوایس بی کیبل کو پورٹ کے ساتھ منسلک کر سکتے ہیں۔
ٹیبلٹ کی بیٹری 5300 ملی ایمپیر آور چارج سٹور کر سکتی ہے جو کہ اس لمبے عرصے تک چلنے کے قابل بناتی ہے۔اگر آپ یہ ٹیبلت خریدنا چاہتے ہیں تو کی قیمت تقریباً 249 ڈالر رکھی گئی ہے جو کہ آئی پیڈ منی کے کافی کم ہےاوراس کو فروری 2015 سے چین میں پہلے اور پھر یورپ اور دوسرے ممالک میں فروخت کیلئے پیش کیا جائے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آئی پید منی سے 13 گرام کم وزن یہ ٹیبلٹ ایپل کو کتنا ٹف ٹائم دے سکتی ہے۔نوکیا کے اینڈرائد فون بنانےکے حوالے سے خبر کچھ دن پہلے ہم شئیر کر چکے ہیں۔جسے آپ یہا ں پڑھ سکتے ہیں۔

مائیکروسافٹ ڈاٹ نیٹ فریم ورک اب اوپن سورس اور وژیول سٹوڈیو بلکل مفت

ڈاٹ نیٹ فریم ورک جو کہ ونڈوز ایپلیکیشن بنانے کیلئے وضع کیا گیا تھا اور مائیکروسافٹ کے دوسرے سافٹ وئیرز کی طرح کلوزڈ سورس تھا، اب اوپن سورس ہو چکا ہے اور یہ آپ کو سورس کوڈ کے ساتھ دستیاب ہو گا۔اوپن سورس تحریک کی بڑھتی ہوئی کامیابی اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے مائیکروسافٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں وہ نا صرف ڈاٹ نیٹ فریم ورک کو اوپن سورس بنا رہی ہے بلکہ ساتھ ہی یہ دوسرے کراس پلیٹ فارمز یعنی میک اوایس ایکس اور لینکس کے ساتھ بھی چلنےکے قابل ہو گا۔
اس طرح نہ صرف ڈویلپرز حضرات ڈاٹ نیٹ فریم ورک کو اپنی سہولت کے مطابق تبدیل کر سکیں گے بلکہ اس میں مزید تبدیلیاں بھی کر سکیں گے۔بلکہ ساتھ ہی دوسرے پلیٹ فارمز پر بھی ونڈوز ایپلیکشن کو ایکسپورٹ کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اب مائیکروسافٹ ڈیلپرز کیلئے وژیول سٹوڈیو کا ایک مفت ورژن وژیول سٹوڈیو کمیونٹی 2013 بھی شائع کیا ہے ۔ جو کہ قیمتاً دستیاب وژیول سٹوڈیو کی مکمل صلاحیتوں سے لیس ہے لیکن اس پر ایک وقت میں ذیادہ سے ذیادہ 5 ڈویلپرز کام کر سکتے یعنی یہ صرف چھوٹے بزنس اور انفرادی ایپ ڈیزائنر کو میسر ہے ۔اس ورژن کو استعمال کرتے ہوئے آپ نہ صرف ونڈوز یا ونڈوز فون بلکہ آئی فون اور اینڈرائڈ تک کیلئے مفت یا قیمتاً دستیاب ایپ بنا سکتے ہیں۔ اب ونڈوز،آئی فون اور ینڈرائڈ ہر طرح کی ایپ ایک ٹول سے تیاران دونوں طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے اب مائیکروسافٹ دوسرے ایکو سسٹم(یہاں ایکو سسٹم سے مراد ڈیجیٹل ایکو سسٹم ہے جس میں ایک خاص پروڈکٹ مثلاً آئی فون ،ونڈوزیا اینڈرائڈ کےلئے ایپ پروگرامنگ کے لئے ٹولز مہیا کرنا اور پھر ان ایپس کو صارفین تک پہچانے کا مربوط اور ہم آہنگ نظام ہے جس سے ڈویلپرز کوایپ کی بہترین قیمت اور صارفین کو تک آسان رسائی حاصل ہوتی ہے۔ ) جن میں آئی او ایس اور اینڈرائڈ قابل ذکر ہیں میں شمولیت حاصل کرنا چاہتا ہے بلکہ ونڈوز فون کے لئے اپنے ایکو سسٹم کو بھی مظبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
نئے سی ای او سٹیا نڈالا نے مائیکروسافٹ کی زمہ داری سنبھالے کے بعد تیز ی سے کمپنی  میں مختلف تبدیلیاں کر رہے ہیں تا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں کمپنی کی اہمیت اور مقام آنے والے دنوں میں بڑھتی ہوئی مسابقت کا بہتر طور پر قائم رہ سکے۔


Pages