سائنسیات

پہلا مائیکروسافٹ فون

لومیا535535لومیا 535 ائیکروسافٹ کے برانڈ نیم کے ساتھ فروخت کیلئے پیش کیا جانے والا پہلا فون ہے۔2012 میں نوکیا کے موبائل مینوفیکچرنگ یونٹ کی خریداری کے بعد پہلا موقع ہے کہ نوکیا کا تیار کردہ یہ موبائل اب نوکیا کی بجائے مائیکروسافٹ کے نام سے دستیاب ہو گا(جس کا ذکر اس بلاگ پوسٹ میں ہے۔)۔یوں بلاآخر دو سال کے بعد مائیکروسافٹ نے نوکیا برانڈ کو خداحافط کہہ کر موبائل فون کے میدان میں اپنی اننگز کا آغاذ کر دیا ہے۔لومیا535:لومیا 535 ایک انٹری لیول سمارٹ فون ہے جو کہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم پر مشتمل سستے ترین موبائلوں سے ایک لومیا 530 کا نیا ترین ورژن ہے۔بتاتے چلیں کہ  نوکیا لومیا 530 ونڈوز فون کے کامیاب ترین ہینڈ سیٹ میں سے ایک تھا ۔
یہ فون قابل ذکر ہارڈوئیر سے لیس ہے جن میں 5انچ qHD ڈسپلے،1.2 گیگا ہرٹز کواڈ کور سنیپ ڈریگن پروسیسر اور ایک جی بی ریم شامل ہیں۔فون کی انٹرنل میموری 8 جی بی ہے جبکہ یہ 128 جی بی تک کے میموری کارڈ کو سپورٹ کر سکتا ہے۔
ساتھ ہی اس میں فرنٹ کیمرہ سنسر کو بہتر کر کے 5 میگا پکسل کر دیا گیا ہے جس سے آپ بہترین کوالٹی کے سیلفی فوٹوز لے سکتے ہیں ۔اگرچہ اس میں بیک کیمرہ سنسرکو اپگریڈ نہیں کیا گیا لیکن پھر بھی 5 میگا پکسل کے ساتھ یہ قابل قبول ہے۔فون کا پلاسٹک بیک کوّر کئی رنگوں میں دسیتیاب ہے جس میں سے آپ اپنی پسند کا رنگ منتخب کر سکتے ہیں۔
لومیا 525 ونڈوز فون کاتازہ ترین نسخے 8.1 موجود ہے۔ ساتھ ہی فون میں ڈوئل سم کا آپشن موجود ہے جبکہ دونو ں ایک ساتھ 3G نیٹ ورک پر کام کر سکتی ہیں۔ اس میں مائیکروسافٹ کی پانچ سروسز کو پہلے سے ہی شامل کیا گیا ہے ان میں مائیکروسافٹ آفس، سکائپ،ون ڈرائیو ،ون نوٹ اور وائس اسسٹنٹ کورٹانہ(Microsoft Cortana) شامل ہیں۔
موبائل کو رواں ماہ کچھ ممالک میں فروخت کیلئے پیش کیا جائےگا جہاں موبائل مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور لوگ فیچر فون سے سمارٹ فون پر منتقل ہو رہے ہیں۔فون کی قیمت لگ بھگ 14 ہزار پاکستانی روپے کے قریب ہو گی ۔اس قیمت میں لومیا 535 کو دوسرے بہت سے موبائلوں سے سخت مقابلہ کرنا ہو گا۔
علاوہ ازیں ایک ہائی اینڈ فون کی بجائے انٹری لیول فون کے لانچ سے آئی فون 6 اور گلیکسی ایس5 جیسے بڑے ناموں سے ٹکر لینے سے اجتناب کیا ہے۔لگتا یہی ہے کہ کم خرچ موبائل فون کی فروخت سے مائیکروسافٹ ونڈوز فون کو آپریٹنگ سسٹم کے میدان میں قدم جمانے کیلئے استعمال کر رہا ہے۔

خطرے کی گھنٹی گلوبل وارمنگ:

آج ہم اپنے موجود ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈاور دوسری گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتی ہوئی مقدار کے اثرات پر بحث کریں گے۔کیا واقعی فضا میں موجود یہ گیسیں ہمارے لئے ایک حقیقی خطرہ بن سکتی ہیں؟ گرین ہاؤس ایفیکٹ ہے کیا ؟ اور اس سے کرہ ارض پر زندگی کس طرح متاثر ہو سکتی ہے ؟اور گرین ہاؤس ایفیکٹ سےپیدا ہونے والے خطرات سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
یہ تحریر پروگرام اسرار جہاں کے دوسرےپروگرام کا خلاصہ جس میں گلوبل وارمنگ کے اسباب،خطرات اور ممکنہ حل پر بحث کی گئی ہے ۔جسکی وڈیو آپ یہاں ملاحضہ کر سکتے ہیں ۔
خطرے کی گھنٹی from EACPE on Vimeo.
آج کےترقی تافتہ اور صنعتی دور میں جہاں انسان کو ان گنت آسائشیں میسر ہیں وہیں پہ ہمیں اس ترقی کی قیمت میں اپنے لئے اور اس دنیا کے باقی جانداروں کے لئے بہت سے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔بہت سےانواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔جنگلات کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔پانی صنعتی فاضل مادوں اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کی وجہ سے آلودہ و مضر صحت ہو رہا ہے۔ساتھ ہی کرہ ہوائی میں موجود گیسوں کا لاکھوں صدیوں سے قائم توازن بھی خطرےسے دو چار ہے۔یہیں پہ بس نہیں بلکہ بگڑتے ہوئے عالمی حالات میں ایٹمی،کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی سانحہ کا سبب بن سکتے ہیں۔
ہماری فضا:ہمارے ارد گرد”ہوا “ کا ایک بہت بڑا” سمندر“ موجود ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں ،چلتے پھرتے ہیں اور پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔اس فضا میں بہت سے گیسیں مختلف تناسب سے موجود ہیں۔ان گیسوں میں نائٹروجن ، آکسیجن ہوا میں بالترتیب کثرت سے موجود ہیں ہیں۔جبکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری نایاب گیسوں کا حصہ بہت ہی کم تقریبا 1 ایک فیصد ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گیسوں کا یہ تناست صدیوں سے تقریباً یکساں حالت میں موجود ہے۔ جس میں کچھ ادوار میں معملولی کمی بیشی ہوتی رہی ہے۔ لیکن پچھلی صدی سے جاری بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی اور پٹرولیم مصنوعات کے بے دریغ استعمال سے فضامیں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقدار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی یہ ذیادتی گرین ہاؤس ایفیکٹ کا باعث بن رہی ہے۔
گرین ہاؤس ایفیکٹ:فرض کریں کے آپ کے پاس ایک کار ہےجو کہ گرمی کے موسم میں دھوپ میں پار ک کرنا پڑھی۔ کچھ دیر بعد آپ گاڑی میں بیٹھیں گے تو یقیناً وہ بہت ذیادہ گرم ہوگی اور گاڑی کے اندر کا درجہ حرارت باہر سے بھی ذیادہ ہو گا۔ کارمیں اس اضافی گرمی گرین ہاؤس ایفیکٹ کی وجہ سے ہے۔جب دھوپ گاڑی کے شیشوں پر پڑھی ہے تو بغیر رکاوٹ کے اندر داخل ہو گئی لیکن جب روشنی گاڑی کے اندر کے باہر منعکس ہو لگتی ہے تواب شیشہ اسے باہر جانے کے بجائے دوبارہ اندر منعکس کر دیتا ہے جس سے کار کا درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے۔گرین ہاؤس ایفیکٹ آپ کو صرف کارمیں ہی نہیں نظر آتا بلکہ زراعت کے شعبے میں اس کو بہت کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سردی کے موسم میں جب درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے ، اس موسم میں گرمی کی فصلین اگانے کیلئے اس فارم کے گرد شیشے یا پلاسٹک کی شفاف دیواریں بنائی جاتی ہیں۔ دن کو دھوپ جب شیشے یا پلاسٹک پر پڑھتی ہے تو وہ سیدھی گرین ہاؤس میں داخل ہو جاتے ہے لیکن زمین اور پودوں سے منعکس ہونے ہوالی شعاعیں واپس گرین ہاؤس میں قید ہو جاتی ہیں جس سے فارم کا درجہ حرارت باہر کی نسبت بڑھ جاتا ہے ۔ گرم موسم کے پودے سردی میں بھی زندہ رہتے ہیں اورخوب منافع بخش پیدوار دیتے ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ اور گرین ہاؤس ایفیکٹ:ہماری زمین کےگیسوں کی تہہ میں سے گزرتی ہوئی زمین تک پہنچتی ہے۔ فضا کی اس تہہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پرت بالکل شفاف شیشے کی طرح عمل کرتی ہے یعنی یہ سورج کے روشنی کو تو زمین تک آنے دیتی ہے مگر زمین سے واپس لوٹنے والی حرارتی شعاعوں کو سطح زمین پر واپس منعکس کر دیتی ہے۔اس وجہ سے زمین کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔درجہ حرارت میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے ہونے والے اضافے کو ہم گرین ہاؤس ایفیکٹ کا نام دیتے ہیں۔وجوہات: فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بڑھتے ہوئے اخراج و اضافے کی وجوہات نیچے دی گئی ہیں۔
  • لکڑی اور ایندھن کا جلنا
  • جنگلا ت کی کٹائی/جلنا
  • پٹرول اور دوسرے فوسل ایندھن کےجلنے سے گاڑیوں /فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں
میتھین: کاربن ڈائی آکسائیڈ کےعلاوہ ایک اور گیس میتھین کی فضا میں موجودگی بھی گرین ہاؤس ایفیکٹ کا باعث بنتی ہے ۔ آپکی دلچسبی کیلئے بتاتے چلیں کہ میتھین ہی وہ گیس ہے جو گھروں میں موجود گیس کے چولہوں میں جلانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر یہ زیر زمین معدنیاتی طور پر موجود ہوتی ہے اور بطور ایندھن استعمال کی جاتی ہے۔مگر اس کے علاوہ بھی مختلف زرائع سے اس کی کچھ مقدار فضا میں شامل ہوتی رہتی ہے۔ایک بھینس سےاوسطاً 50 کلو گرام سالانہ میتھین فضا میں شامل ہوتی ہے۔علاوہ ازیں دلدلی علاقوں میں مختلف اشیاء کے گلنے سڑنے اور چاول کے جڑوں میں کیمیائی عمل سے بھی میتھین خارج ہوتی رہتی ہے۔بہت سے خرد بینی جاندار بھی میتھین فضا میں خارج کرتے رہتے ہیں ۔اس کے باوجود اگرچہ میتھین کی فضا میں موجوگی بہت کم ہے مگر درجہ حرارت میں اضافے کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے دو سو گنا ذیادہ ہے۔اس لحاظ سے اس گیس کی فضا میں موجودگی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ذیادہ خطرناک ہے۔گلوبل وارمنگ سے پیدا ہونے والے  ممکنہ خطرات:زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے زمین پر زندگی کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے۔جن میں سے چند یہ ہیں۔موسمیاتی تبدیلیاں:آج ہمیں علم ہے کہ زمین پر ایک سال میں رفتہ رفتہ موسم ایک سے دوسرے میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔مگر کرہ ارض میں درجہ حرارت میں اضافے سے موسموں میں تبدیلیاں یک لخت او رغیر یقینی ہو سکتی ہیں۔ساتھ ہے طوفانوں اور سیلابوں میں بھی ذیادہ شدت آسکتی ہے اور بارشوں کے اوقات بھی بہت حد تک تبدیل ہو سکتے ہیں۔سطح سمندر میں اضافہ:قطبین اور دوسرے بلند پہاڑی سلسلوں میں اس وقت پانی کی بہت بڑھی تعداد برف اور گلیشئر ز کی شکل میں موجود ہے۔برھتے ہوئے درجہ حرارت سے برف پگھنے کا عمل تیز ہو جائے گا اور اس سے پانی کی ذیادہ مقدار سمندروں میں شامل ہو جائے گی جس کے سمندر کی سطح میں کئی میٹر کا اضافہ ہو گا ۔اس وجہ سے بہت سے ساحلی شہروں کے زیر آب آ جانے کا خطرہ ہے۔علاوہ ازیں درجہ حرارت بڑھنے سے ٹھنڈے علاقوں کے باسی جانوروں اور پودوں کی معدومیت کا بھی خطرہ ہےجو ذیادہ درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے۔

نوکیا۔۔۔پکچر ابھی باقی ہے دوست

اگرچہ نوکیا نے اپنا موبائل فون بزنس مائیکروسافٹ کو فرخت کر دیا ہے۔ مگر اس فروخت کا یہ مطلب نہیں کہ فن لینڈ کی شہرہ آفاق کمپنی نے موبائل فون تیار کرنا بھی مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے۔ اس حوالے سے خبریں گردش میں ہیں کہ نوکیا نہ صرف نئے موبائل تیار کر رہی ہے بلکہ یہ نیا فلیگ شپ موبائل مائیکروسافٹ ونڈوز کی بجائے حریف آپریٹنگ سسٹم اینڈرائد پر مشمل ہو گا۔
نوکیا کارپوریشن کے CEO راجیو سوری نےموبائل مارکیٹ میں دوبارہ انٹری کے علاوے سے مشہور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹویٹر کےذریعے اشارہ دیا تھا۔خیال کیا جا رہا ہے کہ نوکیا کی دوبارہ فون بزنس میں آمد ایک اینڈرائد سیٹ کے ساتھ ہو گی۔
اس ٹویٹ کو آپ نیچے اسی صفحے پر ملاحضہ کر سکتے ہیں۔Want to know how the #Nokia story continues? Find out with the @nokia team from Nov 17th: http://t.co/LfSik0aB3u pic.twitter.com/0Fru28yoGc
— Nokia USA (@NokiaUS) October 31, 2014
نوکیا این9نوکیا کا یہ نیا فلیگ شپ موبائل، انجنیئرز کی وہی ٹیم تیار کی ہے جس نے چند سال پہلے نوکیا N9 تیار کیا تھا۔N9 میگو آپریٹنگ سسٹم پر مشتمل سیٹ تھا ۔جبکہ اس دور میں نوکیاموبائل سیٹ سمبین آپریٹنگ سسٹم سے لیس ہوا کرتے تھے۔میگو اوایس دیکھنے میں اینڈرائڈ کی ہی ایک سادہ صورت لگتی تھی؛جبکہ فون کا ڈیزائن بھی بہت دلکش اور سٹائلش تھا۔اس لئے یہ ٹیم کیا ایسا دیدہ زیب اور اعلیٰ ہارڈوئیر پر مشتمل فون بنا سکے گی جو نوکیا موبائل کو دوبارہ اپنے عروج کی طرف لے جائے۔
مائیکروسافٹ اور نوکیا:اگرچہ نوکیا کی فروخت کے ساتھ ہی”نوکیا “ برانڈ نیم بھی دس سال کے عرصے تک مائیکروسافٹ کو بیچ دیا گیا تھا ۔ لیکن نوکیا اپنے لئے نئے ہینڈ سیٹ کی تیاری کے لئے آذاد ہے مگر یہ اپنے تیار شدہ موبائل کو”نوکیا “موبائل کےبرانڈسے مارکیٹ میں نہیں پیش کر سکتی ۔ ساتھ ہی مائکروسافٹ نے اعلان کیا ہے کہ نوکیا کے تیار کردہ “”نوکیالومیا “ فلیگ شپ موبائل اب صرف “مائیکروسافٹ لومیا “کے نام سے فروخت ہونگے۔یعنی مائیکروسافٹ اب خود بھی نوکیا کی بجائے اپنی برانڈ کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
نوکیا اور اینڈرائڈ:اگر دیکھا جائے تو 2008تا 2010 جب سیمسنگ ،ایچ ٹی سی اور دوسرے ادارے دھڑا دھڑ اینڈرائڈ فون تیار کرنے لگے تو اس وقت نوکیا نے اینڈرائڈ سے خدا واسطے کا بیر رکھا۔صارفین کے خواہش کے باوجود بھی نوکیا نے اینڈرائڈ سے ہاتھ نہیں ملایا اور جب مائیکروسافٹ نے ونڈوز او ایس تیار کیا تو نوکیا فوراً مائیکروسافٹ کے قدموں میں ایسا بیٹھا کہ مائیکروسافٹ نے خود نوکیا کو ہی خرید لیا۔
نوکیا کی طرف سے پہلے بھی اینڈرائڈ فون نوکیاایکس ،ایکس ایل اور ایکس ایل پلس مارکیٹ میں پیش کئے گئے جو کہ اینڈرائڈ کے کسٹمائز ڈ ورژن پر مشتمل تھے ۔ان میں اینڈرائد کی شکل اتنی بگاڑی گئی کہ دیکھنے میں یہ ونڈوز او ایس کے مشابہ معلوم ہوتے تھے۔لیکن یہ فون قابل ذکر کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بلآخر اتنے عرصے بعد نوکیا کا اینڈرائڈ سیٹ مارکیٹ میں سیمسنگ ، ایچ ٹی سی ،ایل جی اور سونی جیسے اداروں کا مقابلہ کر پائے گا جو کہ ایک عرصے سے اینڈرائڈ موبائل تیار کرتے آرہے ہیں اور اپنی مظبوط ساکھ اور مقام بنا چکے ہیں۔نوکیا کا یہ موبائل کس برانڈ نیم سے آئے گا ؟ اورصارفین کا کھویا ہوا اعتمادبحال کر سکے گا ؟اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔

اسرار جہاں

پی ٹی وی پر نشر کیا جانے ولا یہ پروگرام بلاشبہ عمومی سائنسی موضوع کے حوالے سے ایک کلاسیک کی حثیت رکھتا ہے ۔ جو کہ 14 پروگراموں کی سیریز ہے جسکے میزبان مشہور پاکستانی طبیعات دان و دانشور پروفیسر ہود بھائی تھے۔ پروگرام کا دورانیہ تقریباً 25 منٹ ہے جس میں چند دلچسب اور معروف سائنسی موضوعات پر عام فہم اور آسان انداذ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ تقریباً ایک دہائی پہلے پاکستان ٹیلی ویژن پر پہلی دفعہ اردو زبان میں ایک سائنسی پروگرام دیکھ کر حیرت میں گم ہو گیا تھا ۔اسی دن سے سائنس سے دلچسبی جو سکول میں یونیسف کی عمومی سائنسی کتب پڑھ کر شروع ہوئی تھی یک لخت دو چند ہو گئی ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب انٹرنیٹ تو کجا تب کیبل ٹی وی بھی صرف شہری علاقوں تک محدود تھی۔
بعد ازاں اس دور میں جب ملک میں یوٹیوب آذاد تھی تو اس پروگرام کی وڈیو کو بہت تلاش کیا مگر کوشش کے باوجودکہیں نہ مل سکا۔ پچھلے ہفتے اتفاقاً ہی ایک تعلیمی سائٹ پر ایک ہی جگہ تمام اقساط موجود تھیں اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ تمام وڈیوز vimeo.com پر موجود ہیں، جن کو آپ پاکستان میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔

پروگرام کی پہلی قسط میں تعارف کے ساتھ اگلی ا قساط میں پیش کیے جانے والےتصورات کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔جو کہ آپ ذیل میں دیے گئے لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔

اسرار کی باتیں from EACPE on Vimeo.


سیمسنگ کے نئے گلیکسی سمارٹ فون

حال ہی میں سیمسنگ کی جانب سے دو نئے جدید موبائل فونز A5 اور A3 مارکیٹ میں پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ مکمل طور پر دھات سے بنی ہوئی میٹلالک باڈی اور سیمسنگ کے تیار شدہ  پتلے ترین ہینڈ سیٹ کی نئی  A سیریز کے  یہ موبائل سیمسنگ کی نئی امید  ہونگے ۔

سیمسنگ کوسمارٹ فونز کی فروخت کی حوالے سے دنیا کی نمبر ایک کمپنی کا اعزاز حاصل ہے مگرآجکل سمارٹ فونز کی فروخت میں کمی اور مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مسابقت سے کمپنی سخت دباؤ کا شکار ہے۔اسی وجہ سے سیمسنگ کا اس سہ ماہی میں ہونے والا منافع پچھلے تین سالوں میں کم ترین سطح پر ہے۔
 کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں اپنا مقام اور ساکھ اورقائم رکھنے کے لئے موجودہ موبائل فونز کو بہتر بنانے کے ساتھ نئے اور جدید فون متعارف کرائے گی۔
اپنی پہلی کوشش میں کمپنی نے دو نئے جدید موبائل فونز A5 اور A3 تیار کیے گئے ہیں۔سیمسنگ A5
خصوصیات:دونوں سمارٹ فونز1.2 گیگا ہرٹز کواڈ کور پروسیسر، اینڈرائڈ 4.4 آپریٹنگ سسٹم،5میگا پکسل فرنٹ فیسنگ کیمرہ سے لیس ہیں،ساتھ ہی 16 جی بی کی اندرونی ڈیٹا سٹوریج کی صلاحیت موجود ہے جبکہ یہ 64 جی بی تک کے ایس ڈی میموری کارڈ کو سپورٹ کرتے ہیں۔
ان میں گلیکسی A5 ذیارہ بہتر فیچر رکھتا ہے۔جسکی چوڑائی صرف 6.7 ملی میٹر ہے۔ اس کے 5 انچ ایچ ڈی ڈسپلے سپر AMLED ٹیکنالوجی کی وجہ سے وڈیو کلر ذیادہ شوخ اور جاذب ہونگے۔ ساتھ ہی اس میں 2جی بی ریم ، 13 میگا پکسل کیمرہ اور 2300 ملی ایمپیر ہارو کی طاقتور بیٹری موجود ہے۔
گلیکسی A3 کی موٹائی 6.9 ملی میٹر ہے ۔ یہ سکرین سائز 4.5 انچ qHD ڈسپلے کیساتھ دستیاب ہو گا۔ ساتھ ہی اس میں ریم کی گنجائش 1 جی بی ، 8 میگا پکسل کیمرہ اور 1900 ملی ایمپیر آور بیٹری موجود ہو گی۔
ان دونون فونز میں میٹل باڈی کیساتھ ڈیزائن کی تبدیلی ایک خوشگوار تبدیلی ہے کیونکہ اس سے پہلے بہت سے صارفین سیمسنگ کی گلیکسی ایس سیریز میں ایک ہی طرح کے ڈیزائن اور پلاسٹک باڈی میں تبدیلی چاہتے تھے۔
مارکیٹ میں دستیابی کے حوالے سے کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ دونوں موبائل نومبر تک چائنا سمیت کچھ ممالک میں دستیاب ہونگے جبکہ قیمت اور تمام ممالک کیلئے دستیابی کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

اور اب گوگل روبوٹس بھی

 گوگل نے ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے آپ کو مارکیٹ لیڈربرقرار رکھنے کیلئے نئے اور اچھوتے منصوبوں پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔ان میں سے ایک گوگل کار  کا منصونہ ہے، جو کہ بغیر ڈرائیور کے خود کار انداز میں چلنے کے قابل ہوگی مگر گو گل نے یہیں پہ بس نہیں کی بلکہ اب گوگل روبوٹکس کے میدان میں بھی قسمت آزمائی کیلئے تیار ہے۔
گوگل جو اپنے سرچ انجن اور آنلائن سروسز کے حوالے سے اجارہ داری اورعا لمگیر شہرت رکھتا ہے،آہستہ آہستہ ہارڈ وئیر کے میدان میں بھی اپنے قدم مظبوط کرر                                          ہا ہے۔سرچ انجن کے علاوہ گوگل کی اضافی مصنوعات میں اوپن سورس موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈرائڈ،ویب بیس کروم آپریٹنگ سسٹمکروم ، کروم براؤزر، نیکس 6اور اس لائن سے ملحقہ اسمارٹ فون ،نیکسس 7 ،10اور امسال پیش کی جانے والی نیکس 9 ٹیبلٹ اور مستقبل قریب متعارف کئے جانےوالی گوگل گلاس شامل ہیں، کمپنی کی یہ مصنوعات  ہر طرح الگ جہت میں کام کرتی ہیں۔
گوگل روبوٹ:گوگل کے روٹس سے متعلقہ  روپوٹس کے  بارے میں گوگل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس گوگل نے کئی روبوٹ ساز اداروں کی خریداری کی ہے اوراب گوگل روبوٹ کی ڈویلپمنٹ کیلئے سٹاف کی ہائرنگ بھی کی جا چکی ہے۔گوگل کی طرف سے اس منصوبے کا نگران اینڈی روبن کو بنایا گیا ہے۔ جی ہاں !وہی اینڈی روبن جو کہ اینڈرائڈ او ایس کو انتہائی کامیابی سے پائہ تکمیل تک پہنچا چکے ہیں۔مگر تا دست گوگل کی جانب سے روبوٹ کے مقاصد ، ڈیزائن اور استعمال کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا۔گوگل روبوٹ کے منصوبے سے روبوٹکس کے میدان میں پیشرفت میں بہت تیزی آجائے گی۔کچھ ماہ پہلے نیویارک ٹائمز میں شامل ایک رپورٹ کے مطابق ان روبوٹس سے گوگل کی تیار کردہ اشیاء کی صارفین تک فراہمی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے،چونکہ حال ہی میں گوگل نے امریکہ کے چند شہروں میں اسی دن آنلائن خریدی گئی اشیاء کی فراہمی کی سروس بھی شروع کی ہے۔ اس کے علاوہ گوگل انروبوٹس کو اپنے دوسرے منصوبے گوگل کار کی ساتھ بھی یکجا کر سکتا ہے۔اسوجہ سے گوگل روبوٹ اور ایمزون کے ڈرون ائیر پروجیکٹ میں بھی مسابقت کا آغازہو گیا ہے،جس میں ایمزون آنلائن خریدی گئی اشیاء ڈرون کے ذریعے صارفین تک تیز ترین ترسیل کے لئے ڈرون طیارے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔مگر گوگل کا کہنا ہے کہ نیویارک ٹائم کی یہ روپورٹ اور گوگل روبوٹ کے استعمالات کے بارے میں لکھی گئی باتیں مصنف کے اپنے ادراک اور کچھ لوگوں کے انٹرویو سے حاصل شدہ خیالات ہیں۔ لیکن ایک اور ماہر جو کہ انڈنبرگ یونیورسٹی میں روبوٹکس لیب کے انچارج بھی ہیں کا کہنا ہے کہ" روبوٹکس میں حرکات کنٹرول اور سنسررٹیکنالوجی پر بہت پیش رفت ہو چکی ہے :اور گوگل جیسے بڑھے نام کی اس میدان میں آمد سے دوسرے پس پشت عوامل یعنی روبوٹ سافٹ وئیر ،میعارات اور ماڈیولر ڈیزائن کے شعبوں میں بھی ترقی کی رفتار بڑھ جائے گی"۔گوگل اپنے روبوٹکس پروجیکٹ کا ایک دفتر جاپان میں بھی کھولے گا ۔سردست جاپان کو روبوٹ ٹیکنالوجی میں باقی دنیا پر سبقت حاصل ہے۔اینڈی روبن کا ایک انٹر ویو میں کہنا تھا کہ اس منصوبے سے 10 سال کے عرصے میں تجارتی فوائد حاصل ہونا شروع ہو نگے۔ہمارے پاس مختلف ماہرین موجود ہیں ہارڈوئیر ،سافٹ وئیر کیساتھ روبوٹکس سسٹم کی تیاری پر کام کر رہے ہیں"۔

ساتھ ہی گوگل نے آکسفرڈ یونیورسٹی کے مصنوئی ذہانت (Artificial Intelligence)کے شعبے سے بھی ذہین اور انسانوں کی طرح روبوٹ بنانے کیلئے اشتراک کیا ہے۔جن میں ایک تو  روبوٹس کی نقل و حرکت کوجدید اور درست بنانے کیلئے کام کیا جائے گا بلکہ ساتھ ہی وژیول ریکگنیشن (Visual Recognition)یعنی بصری شناخت کے نظاموں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ 

سیمسنگ کی انقلابی وائی فائی ٹیکنالوجی

  آپ نے اکثر اپنے موبائل سے بلیو ٹوتھ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے میوزک یا وڈیو فائل شیئر کی ہونگی۔ لیکن اگر فائل سائز بڑا ہو تو بلیو ٹوتھ سے فائل ٹرانسفر کرنے کے کیلئے درکار وقت بہت بڑھ جاتا ہے اور ساتھ ہی موبائل کی بیٹری لائف بھی بہت کم رہ جاتی ہے۔ اس لئے اگر آپ کے پاس اگر جدید موبائل  سیٹ موجود ہیں تو بلیو ٹوتھ کے علاوہ اس میں وائی فائی ٹیکنالوجی سے فائل شیئر کرنے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ جس کو استعمال کرتے ہوئے آپ نسبتاۙ تیزی سے فائل شیئر کر سکتے ہیں۔
مگر اب چاہیں کچھ بڑھ کے:
جیسے جیسے فائل شیئرنگ سسٹم تیز رفتار ہو رہے ہیں اس طرح سے فائل سائز بھی بڑھ رہے ہیں۔ اب ہائی ڈیفینیشن آڈیو اور وڈیو فائل کا سائز ماضی کےمقابلے ميں کئی گنا بڑھ چکا ہے۔اس لئے سیمسنگ نے وائی فائی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے جس کے زریعے آپ ایک گیگا بائٹ(ایک جی بی)کی فلم صرف تین سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو وائی فائی 60 ہرٹز کا نام دیا گیا ہے۔وائی فائی 60ہرٹز کی انتہائی رفتار 4.6Gbpsموجودہ وائی فائی سسٹمز کی انتہائی رفتار 886Mbps سے 5 گنا زیادہ ہے۔ اس لئے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے آپ موبائل یا لیپ ٹاپ میں موجود وڈیو فائلز کو بغیر کسی وقفے یا تاخیر کے اپنے سمارٹ ٹی وی میں دیکھ کر لطف اندوز ہو سکیں گے۔
سیمسنگ وائی فائی ٹیکنالوجی کا ممنکہ استعمالوائی فائی 60 ہرٹز کو کمرشل بنیادوں پر کامیاب بنانے کیلئے سیمسنگ نے جدید موڈیم سرکٹ کو استعمال کرنے کےساتھ بیم انٹینا ٹیکنالوجی استعمال کی ہے۔سیمسنگ کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد پروڈکٹس میں یہ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی جن میں سیمسنگ کی جانب سے تیار کئے گئے آڈیو وژیول، میڈیکل اور ٹیلی فونی آلات شامل ہیں۔ساتھ ہی اس ٹیکنالوجی کو سیمسنگ سمارٹ ہوم کے منصوبے Internet of Things یعنی اشیاء کے اینٹرنیٹ میں بھی کامیابی سے استعمال کیا جائے گا۔

یونانی نظریہ حرکت کے نقائص

پچھلے حصے میں یہاں  یونانی نظریہ حرکت کو تفصیل بیان کیا گیا ہے۔کیونکہ اس نظریئے کو طبعی تاریخ کے ایک عظیم دماغ  یعنی ارسطو نے بیان کیا تھا؛اور اس نظریہ سے بہت سے وسیع مشاہدات کی وضاحت ممکن کی جا سکتی تھی۔اس لئے  تقریباً دو ہزار سال تک عمومی طور پر دنیا نے اسے قابل قبول سمجھا؛تاہم آج اس نظرئیے کی جگہ نئے نظریات رائج ہو چکے ہیں جو نہ اس سے بہت مختلف ہیں۔بلکہ حرکت کی بہتر اور آسان وضاحت بھی ممکن بناتے ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ارسطو کا نقطہ نظر اگرچہ منطقی اور مفید لگتا ہے ،توپھر اسے کیوں تبدیل کر دیا گیا؟اگر یہ غلط تھا تو بہت ذیادہ دانشور اور عالم اسے درست کیوں سمجھتے رہےاور کیا وجہ تھی کہ اسکو 'غلط' قرار دیا گیااور اس کی جگہ نئے نظریات نے لے لی؟اب ہم ان سوالوں کا جواب ڈھونڈتے ہیں۔۔۔ایک آسان طریقہ جس سے کسی مروجہ نظریہ کو مشکوک بنایا جا سکتا ہے  (چاہے وہ کتنے ہی عرصے سے درست تسلیم کیا جاتا رہے)کہ:صرف یہ ثابت کیا جائے کہ اس نظریہ سے دو متضاد نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔مثال کے طور پر ہوا کی نسبت پانی میں آہستگی سے گرتا ہے۔اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ جتنی واسطے کی کثافت (Density)کم ہو گی پتھر اتنی ذیادہ تیزی سے قدرتی جگہ کی طرف گرے گا۔اور کسی خلاء میں سے پتھر کی قدرتی جگہ کی طرف گرنے کی رفتار لا محدود ہو جائے گی۔اس نقطہ کو بہت سے طبعی فلاسفروں نے اٹھایا؛ چونکہ کسی چیز کیلئے لامحدودرفتار لاصل کرنا ناممکن ہے ،سو انھوں نے خیال کیا کہ مکمل خلاء پیدا کرنا نا ممکن ہے۔مگر اب ایک دوسرے زاویے سے اسطو نے یہ بیان کیا تھا کہ ہوا میں پھینکے گئے پتھر کو توانائی ہوا کے زریعے منتقل ہوتی ہےجس کی وجہ سے پتھر حرکت کی سمت حرکت کرتا ہے(جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے)۔اگر ہو ا ختم ہو جائے تو قوت کو منتقل کرنے والی کوئی چیز نہ ہو گی یوں حرکت پیدا کرنا ممکن نہیں ہو گا ۔سو اس طرح ہم اس نظریہ سے مساوی طور پر یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خلاء میں حرکت کی رفتار یا تو صفر ہو گی یا پھر حرکت پیدا کرنا ممکن نہیں ہو گا۔یعنی ہم دونوں نتائج بیک وقت اخذ کر سکتے ہیں۔دو پتھروں کا نظام: ایک دوسرا ممکنہ تضاد یہ ہے:فرض کریں ایک اور دو کلوگرام کے دو پتھر ایک دوسرے سے باندھ کر آزادانہ زمین پر گرائے جائیں۔دو کلوکا پتھر بھاری ہونے کی وجہ سے ذیادہ تیزی سے اپنی قدرتی جگہ کی طرف آئے گا ۔اب اگردونوں پتھرون ایک دوسرے سے مظبوطی سے باندھ کر آزادانہ گرایا جائے تو دو کلو کا پتھر جلدی زمین پر گرنے کی کوشش کرے گامگر ایک کلو والے پتھر آہستہ گرنے کی وجہ سے اسکی رفتار بھی کم کر دے گا۔اسلئے دونوں پتھروں کی مجموعی رفتار ایک کلو کے پتھر سے ذیادہ مگر دو کلو کے پتھر سے کم ہو گی۔لیکن یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دونوں پتھر ملکر ایک تین کلو کا پتھر بنائیں گے جو دونوں پتھروں کی انفرادی شرح ر فتار سے ذیادہ تیز ی سے گرے گا۔اب سوال یہ پیدا ہوا ہے :دونوں پتھر کے گرنے کی رفتار ذیادہ ہو گی یا ذیادہ؟۔۔۔یقیناً ہم مساوی طور پر دونوں نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔اس طرح کی گہری چھان بین سے یونانی نظریہ حرکت کے کمزور پہلوؤں کو اجاگر کر سکتے ہیں۔مگر اس سے( نظریہ کی افادیت میں کمی نہیں آتی)اور عام لوگوں کے یقین میں دراڑھ نہیں پڑھتی،کیونکہ نظریہ کے حامی اپنے جوابی دلائل پیش کرتے ہیں۔مثلاً پہلی صوتحال کیلئے یہ جواب دیا جا سکتا ہے : خلا میں بنیادی جگہ کی طرف حرکت تو لامحدود ہو گی جبکہ جبری حرکت(Forced Movment)ناممکن ہے۔علاوہ ازیں دو پتھروں کے مجموعی طور پر گرنے کی شرح اس بات پر منحصر ہے کہ انھیں کتنی سختی سے باندھا گیا ہے۔ایک دوسرا طریقہ جس سے ہم کسی نظریہ کو صداقت کو پرکھ سکتے ہیں جو کہ ذیادہ مفید بھی ہے۔پہلے نظریہ سے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے اور پھر اسکی حقیقی دنیا میں ہر ممکن حد تک سخت پڑتال کی جائے۔جیسا کہ ایک دو کلو وزن کا پتھر ہاتھ پر ایک کلو وزن سے ذیادہ دباؤ ڈالے گا۔سو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک کلو کے پتھر سے دوگنی رفتار سے زمین پر گرے گا۔کیونکہ کہ اگر دو کلو وزن کا دباؤ دوگنا ہے تو پھر اس کے گرنے کی رفتار بھی دوگنی ہونی چاہیے۔کیا نہ ہم دونوں پتھروں کے گرنے کی درست رفتار کا تعین کریں،کیاواقعی دو کلو وزنی پتھر دوگنی رفتار سے گرتا ہے۔اگر ایسا نہیں تو پھر ہمیں لازماً ارسطو کے نظریہ میں ترمیم کرنی پڑے گی۔اور اگر دو کلو کے پتھر کے گرنے کی رفتار بھی دو گنا ہوئی تو یقیناً ارسطوکے نظریات کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ایسی ارادی پڑتال ارسطو کے اپنے دور تو کجا آئندہ دو ہزار سال تک نہ ہو سکی۔اسکی دو ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اہل یونان نظریاتی لوگ تھے،انھوں نے جیومیٹری میں زبردست ترقی کی ،جو کہ تجریدی تصورات مثلاًبغیر کسی جہت کے نقاط،بغیر کسی چوڑائی کے لکیروں سے بحث کرتی تھی۔ان تصورات سے بہت سے عام اور آسان تنائج حاصل ہوئے جو کہ حقیقی اشیاء سے حاصل نہیں ہو سکتے تھے۔اس لیے عام خیال یہ تھا کہ ہمارے ارد گرد کے ماحول اور حقیقی دنیا کے واقعات اس قدر بے ہنگم اور پیچیدہ ہیں کہ وہ کسی تجریدی نظریہ سے درست طور پر بیان کیے جا سکیں1(آج بھی ہمارے ملک میں عام سوچ یہی ہے)۔تاہم ایسے یونانی سکالر بھی موجود تھے جنہوں نے تجربات سے مفید نتائج اجذ کیے(مثلاًارشمیدس اور ہیرو)۔لیکن اسکے باوجود قدیم اور زمانہ وسطٰی میں عام رجحان مفرضات سے اخذ کیے گئے نتائج پر منطقی بحث کرنا رہا بجائے ان سے حاصل کردہ نتائج کی تجربات سے جانچ کی جائے۔دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ عملی طور پر کوئی تجربہ کرنا عام خیال کی نسبت ذیادہ دشوار اور کٹھن ہے۔آجکل کے ترقی یافتہ دور میں گڑیوں کی موجودگی میں کسی چیز کے آذادانہ گرنے کی رفتار معلوم کرنابہت آسان ہے،کیونکہ ہم گھڑی کی مدد سے وقت کے قلیل وقفے کو بھی آسانی سے ناپ سکتے ہیں۔لیکن اب سے تین صدی پہلے ایسے کسی آلے کا تصور بھی نہیں تھا۔لہٰذاصرف عقل اور منطق پر انحصار کرتے ہوئےقدیم فلاسروں اور سکالروں نے اپنے دور میں نظریات پر مباعث تو کیے مگر غیر دلچسب اور بیزار کن عملی تجربات بڑی حد تک پہلو اجتناب  کیے رکھا۔تجرباتی سائنس کا آغاز:  بہت لمبے عرصے تک تجربات داں طبقے کا سائنس پر اثرنہ ہونے کے برابر رہا۔یہاں تک کے اٹلی کے سائنسداں گیلیو گیلیلی نے سائنس کے میدان میں قدم رکھے۔گیلیلیو نے از خود تو سائنس کی بنیاد تو نہیں رکھی لیکن اس نے تجربات کی افادیت کو ثابت کیا اور انھیں قابل ستائش اور مقبول عام ضرورکیا۔اس کے تجربہ بہت سادہ ہونے کے باوجود اتنے نتیجہ خیز تھے کہ ان سے ارسطو کے نظریات کی بنیادیں اکھاڑیں بلکہ سائنس کیلئے تجربہ کی اہمیت بھی واضح کی۔گیللیو سے ہی ہمارے موجودہ دور کی "تجرباتی سائنس"(جس کی بنیاد تجربات سے ثابت شدہ نظریات پر ہیں)یا جدیدسائنسی علم کی ابتداء ہوئی۔

1 پھر بھی اہل یونان پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ایسے تجربات کیوں نہ کیے جن کیلئے کوئی آلات و اوزار درکار نہیں ہوتے۔جیسا کہ کاغذ کا ٹکڑا آہستگی کے آذادانہ گرے گا مگر، اگرہم اسی ٹکڑے کو مظبوطی کے ساتھ لپیٹ کر چھوٹی سی گیندبنا لیں تو اس کے گرنے کی رفتار بڑھ جائے گی۔کیوں لپیٹے پر کاغذ کا وزن تو نہیں بڑھا اسکے باوجود گرنے کی شرح کیوں بڑھ گئی؟ایسا سادہ سوال یونانی نظریہ کی توسیع و توثیق کیلئے اہم ثابت ہو سکتے تھےاور سائنس ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی تھی۔

گریوٹی۔۔۔ایک سائنس فکشن شاہکار

گریوٹی:فلم پوسٹراگر فلم بینی آپ کا مشغلہ ہے اور آپ روایتی مصالحہ اور کمرشل فلموں سے اکتا چکے ہیں تو گریوٹی آپ ہی کے لئے بنائی گئی ہے۔ فلم میں منفرد کہانی، حقیقت سے قریبی تر اداکاری ،بہترین عکس نگاری ، حیرت انگیز اور چونکا دینے والی منظر کشی اور سب سے بڑھ کر بے عیب اورکمال ڈائرکشن سمیت ہر وہ خوبی موجود ہے جس کی ایک سنجیدہ فلم بین کو جستجو رہتی ہے۔ موضوع کےا عتبار سے ایکشن تھرلراورسائنس فکشن کے زمرے میں آتی ہے(بلکہ کچھ ناقدین اسے سپیس تھرلر بھی کہتے ہیں)۔جسے بہت ہی محنت اور عرق ریزی سے فلمایا گیا ہے۔
فلم کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں خلا کے ماحول اور فزکس کے قوانین کو بہت عمدگی اور حقیقتی ماحول کی طرح عکس بندکیاگیاہے۔بالخصوص اگر آپ فزکس کے طالب علم ہیں تو ہر سین پرچونک اٹھیں گے اورفلم کےڈائریکٹرکو بہترین منظر کشی پر داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے ۔علاوہ ازیں اگر آپ فزکس سےجزوی واقفیت رکھتے ہیں تو بھی درسی کتب میں پڑھی گئی ہر بات تمام تر جزیات کے ساتھ آپکے سامنے آجائے گی۔خاص طور پر طلباء کیلئے بہترین فلم ہے جس میں تفریح کے ساتھ  ثقل ،بے وزنی ،سٹیلائٹ کی حرکت کےجیسےتمام تر تصورات کے یادہانی بھی ہو جائے گی۔
اس فلم کے ڈائریکٹر الفانسو کورن ہیں جو ساتھ ہی فلم کے کہانی کاروں میں بھی شامل ہیں۔جبکہ فلم کی کاسٹ میں مشہور اداکار جارج کلونی اور سانڈرا بولک نے مرکزی کردار نبھائے ہیں ۔بلکہ صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو فلم کا مرکزی کردار سانڈرا بولک ہیں اور پوری کہانی ان ہی کے کردار کے گرد گھومتی ہے۔
وارنر برادز کمپنی کی جانب سے پروڈیوس کی گئی91منٹ دوارانیہ کی اس فلم پر تقریباً 10کروڑ امریکی ڈالر کی لاگت آئی تھی۔جسے ناظرین کی جانب سے بہت پسند کیا گیا اور فلم کوانٹرنیشنل باکس آفس پر بھر پور کامیابی حاصل ہوئی ۔مجموعی طور پر اس سے 25 کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔کہانی اور پلاٹ:سانڈرابولک اور جارج کلونی فلم کی کہانی دو خلا بازوں کے گرد گھومتی ہے جو کہ خلا میں موجود ہیں جہاں پر اس وہ بنیادی قوت موجود نہیں جس کے نام پر فلم کا نام رکھا گیا ہے۔جی ہاں، ہماری مراد '”گریوٹی” یعنی قوت قوت ثقل ہے،جو کہ زمین کے بیرونی مدار میں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے خلاباز بے وزنی کی حالت میں خلائی لباس میں ملبوس تیر تے ہوئے خلائی دور بین ہبل میں کچھ اضافی آلات نصب کر رہے ہوتے ہیں ۔جن میں سانڈرا بلوک ایک میڈیکل سائنسدان رائن سٹون کے کردار میں ہیں جو کہ صرف 6 ماہ کی ٹرینگ کے بعد دور بین پر جدید آلات نصب کر رہی ہیں ۔جبکہ ایک تجربہ کار خلا بازمیٹ کواسکی (جارج کلونی ) مشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔اسی دوران انھیں ہیوسٹن مشن کنٹرول سے غیر متوقع حالات کے پیش نظر مشن کو فی الفور ختم کرنے کا کی ہدایت کی جاتی ہے۔ جس میں خلائی ملبہ کے خوفناک ٹکراؤ میں انکا ایک ساتھی اور خلائی شٹل تباہ ہو جاتے ہیں جبکہ یہ دونوں خلا کے خاموش ، ٹھنڈے ، آکسیجن سے عاری اورسب سے بڑھ کر گریوٹی کے بغیر سفاک ،بے رحم ماحول میں تیرتے رہ جاتے ہیں۔بعد ازاں کہانی ان خلانوردوں کی زمین واپسی تک کی تگ ودوکے گرد گھومتی ہے۔اس کے بعد کے واقعات اور پلاٹ کو قارئین کی فلم میں دلچسبی برقرار رکھنے کیلئے بیان نہیں کیا جارہا ہے۔ایوارڈز اور پزیرائی: فلم کے خلائی ماحول کی بہترین منظرکشی کی گئی ہے۔ جس میں خلا سے گھومتی ہوئی نیلگوں زمین ، بے وزنی کی حالت اور سپیس سٹیشنوں کو کمال مہارت سے دکھایا گیا ہے کہ جسے دیکھ کر آپ کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔اسی بنا پر فلم کو ناقدین کی جانب سے بھی بھرپور پزیرائی ملی۔ اس بات کی اندازہ اس سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ فلم کو آسکر 2014 میں دس مختلف ایوارڈز کیلئے نامزد کیا گیا ہے۔جن میں بہترین اداکار، بہترین ڈائریکٹر اورسال کی بہترین فلم کی کیٹگریز شامل ہیں۔
گریوٹی: سپیسس شٹل کے تباہ ہونے کا منظرفلم کے ریلیز ہونے کے بعد اس پر تنقید بھی کی گئی کہ فلم میں خلائی ماحول کی جو “” تصویر پیش کی گئی ہے وہ سائنسی فینٹیسی کا نتیجہ ہیں اور گمراہ کن ہیں۔جیسا کہ خلا میں ہونے والے دھماکوں کی آواز میں سپیس سٹیشن کے دروازوں کی کھرکھراہٹ وغیرہ ۔لیکن اس کے باوجود پوری فلم میں خلا کا جو ماحول دکھایا گیا ہے؛اگر آپ اس حوالے سے دیکھے کہ اس کو زمین پر موجود سٹوڈیو میں شوٹ کیا گیا ہے اور آپ ڈائریکٹر اورفلم کی باقی ٹیم کو داد دینے پر مجبور ہونگے ۔ مگر ااس حوالے سے آپ اپنی رائے فلم دیکھنے کے بعد ہی کر سکتے ہیں۔

حرکت کے قدیم نظریات۔۔۔ کچھ وضاحتیں

پچھلی پوسٹ میں ہم نے اہم یونان کے نظریہ حرکت کو بیان کیا تھا۔اب اسی نظریہ پر مزید بحث پیش کی جارہی ہے۔"بنیادی جگہ" کا نظریہ یونانیوں کو مفید لگا۔۔۔اگر اس کو درست تسلیم کر لیا جائے تو ہر عنصر جسے بنیادی جگہ سے دور کیا جائے؛جیسا کہ اگر ایک پتھر کو زمین کی سطح سے بلند کیا جائے تو وہ جلد از جلد اپنی بنیادی جگہ پلٹنےکی کوشش کرے گا،اس کوشش کو ہم پتھر کے وزن کی صورت میں محسوس کر سکتے ہیں اور یہی وجہ پتھر کے وزن کا سبب ہے۔اس طرح ہم یہ وضاحت کی جا سکتی ہے کہ ہوا کے شعلے ہوا میں اوپر کیوں اٹھتے ہیں؟یا پانی کے اندر پتھر نیچے کیوں ڈوب جاتے ہیں اور ہوا کے بلبلے اس کے برعکس پانی کی تہہ سے سطح آب پر کیوں آتے ہیں؟(یقینی طور پر وہ اپنی بنیادی جگہ واپس جانا چاہییں گے اور اس لیے وہ اپنی بنیادی جگہ جانا چاہیئں گے۔)یوں ہم بارش کے قطروں کے زمین پر گرنے کی وضاحت بھی کر سکتے ہیں:دن میں سورج کی تپش سے بخارات بنتے ہیں(یونانی کی سوچ کے لحاظ سے پانی "ہوا" کی صورت اختیار کر لیتا ہے)،تو وہ اپنی بنیادی جگہ تلاش میں اوپر اٹھتا جاتا ہے،مگر جیسے ہی بخارات پانی میں تبدیل ہوتے ہیں تو دوبارہ اپنی بنیادی جگہ کی تلاش میں واپس سطح زمین پر کھچے چلےآتے ہیں۔بنیادی جگہ کے نظرئیے سے اس کے علاوہ مزید نتائج بھی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔مثلاً ایک جسم کسی دوسرے کی نسبت بھاری ہو توبھاری جسم ہلکے کی نسبت ذیادہ تیزی سے اپنی بنیادی جگہ پلٹنے کی کوشش کرے گا۔اس لئے بھاری وزن اٹھانا مشکل اور ہلکا وزن اٹھانا آسان ہوتا ہےاور اگر ہم دونوں اوزان کو بیک وقت گرائیں توبھاری جسم ذیادہ تیزی سے بنیادی جگہ پلٹے گا۔اس لئے ارسطو نے خیال کیا اور یہی ہمارا مشاہدہ بھی ہے کہ پرندوں کے پر اور پرف کے گالے آہستہ جبکہ اینٹیں اور پتھر بہت تیزی سے زمین پر گرتے ہیں۔تاہم مندرجہ بالا یونانی نظریہ ان حالات میں بھی حرکت کی درست وضاحت کرتا ہے جب ارادتاً پیچیدگی پیدا کر دی جائے۔مثلاً اگر ہم اپنے بازو سے بیرونی قوت لگا کر ایک پتھر کو ہوا میں اوپر پھینک کر اسکی بنیادی جگہ سے دور کر دیں تووہ یکدم بنیادی جگہ واپس آنے کی بجائے پہلے اوپر اٹھے گا اور پھر نیچے آئے گاحالانکہ کہ بیرونی قوت تو صرف اوپر پھینکنے کے فوراً بعد ختم ہو جاتی ہےاور پتھر کو نہیں پہنچ رہی ہوتی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پتھر کیوں فوراً ہی نہیں پلٹا ؟اور یہ اتنی بلندی تک کیوں اٹھتا چلا گیا؟ارسطو نے اسکا جواب کچھ یوں دیا کہ بازو سے لگائی گئی قوت ہوا میں منتقل ہوئی اور پھر ہوا پتھر کو اڑا کر بلندی تک لے گئی۔تاہم ہر لمحہ یہ قوت کمزور ہوتی جاتی ہے اسکے برعکس پتھر کی بنیادی جگہ پلٹنے کی طاقت بڑھتی جاتی ہے،حتٰی کہ اونچائی کی طرف حرکت بلکل رک جاتی ہے اور پتھر واپس زمیں کی جانب گرنا شروع کر دیتا ہےاور اپنی بنیادی جگہ پہنچ کر ساکن ہو جاتا ہے۔مزید یہ کہ بازو غلیل یا کمان سے لگائی گئی یہ قوت کبھی اتنی زیادہ نہیں بڑھ سکتی کہ کسی پتھر کی بنیادی جگہ آنے کی قوت پر غالب آ جائے۔یعنی ہوا میں پھینکی گئی ہر چیز زمیں پر واپس پلٹے گی۔(ہم عام طور پر یہی خیال کرتے ہیں۔)پس ہم یہ نتیجہ حاصل ہو کہ "بیرونی قوت سے دی گئی حرکت "(جو نبیادی جگہ سے دور لے جائے)پر "بنیادی جگہ سے قریب لانے والی حرکت" غالب آ جائے گی اور جسم ہر صورت پر واپس اپنی بنیادی جگہ واپس پہنچے گا۔چونکہ بنیادی جگہ سےمزید کہیں اور نہیں جا سکتا اس لئے اپنی حرکت ختم کر کے حالت سکون میں آ جائے گا۔اس لئے حالت سکون اشیاء کی قدرتی حالت ہے۔ہمارے روز مرہ مشاہدات سے بھی یہ ثابت ہے کہ:ہوا میں اوپر پھینکے ہوئے اجسام واپس زمین پر پلٹتے ہیں؛ااور حتٰی کہ زندہ اجسام بھی آخرکار حالت سکون میں آ جاتے ہیں۔جب ہم کسی پہاڑی پر بلندی کی طرف چڑتے ہیں تو قدرتی حرکت پر قابو پانے کیلئے ہمارے پٹھے مسلسل قوت لگاتے ہیں جس سے ہمیں تھکن کا احساس ہوتا ہے اور وقفے وقفے سے رک رک کر آرام کرنا پڑھتا ہے۔ہلکی سے ہلکی حرکت کیلئے بھی ہمارے پٹھوں کو توانائی خرچ کرنی پڑھتی ہے،یہاں تک کہ تمام قوت ختم ہو جانےپر زندہ جسم کی موت واقع ہو جاتی ہے،یوں وہ ہمیشہ کیلئے حالت سکون میں آجاتا ہے۔یہاں تو ٹھیک ہے لیکن آسمانی اجسام کے بارے میں کیا کہیں گے؟اجسام فلکی کی حرکت زمینی اجسام سے بہت مختلف ہے۔زمینی اشیاء کی قدرتی حرکت اوپر یا نیچے کی جانب ہوتی ہےجبکہ اجسام فلکی نہ اوپر جاتے ہیں نا نیچے بلکہ ایک مرکز کے گرد دائرے میں حرکت کر تے نظر آتے ہیں۔اب ان کی حرکت کی انوکھی حرکت کی وضاحت کیلئے ارسطو کو مزید ایک مفروضہ قائم کرنا پڑاکہ فلکی اجسام ایک ایسے عنصر سے بنے ہیں جو نہ "آگ،ہوا،پانی اورمٹی"کے علاوہ پانچواں عنصر ہے۔اس عنصر کو 'ایتھر' کہا گیا۔یونانی میں ایتھر کے معنٰی 'اڑتے رہنا'کے ہیں۔جو کہ فلکی اجسام کی مسلسل حرکت کی وجہ سے رکھا گیا۔اس پانچویں عنصر کی بنیادی جگہ عنصر آگ کے دائرے کی بیرونی سطح کے باہر تھی۔مگر یہاں ایک مزید سوال اٹھتا ہے کہ :اگر فلکی اجسام اپنی قدرتی جگہ موجود ہیں تو پھر یہ ساکن کیوں نہیں؟۔۔۔(کچھ یونانی لوگ اسکا جواب شاید یوں دیتے کہ اجسام فلکی کو دیو یا جنات ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں۔)لیکن ارسطو نے ایسی کسی دلیل کو قبول نہیں کیا تھا۔اس لیے اسے پھر مزید مفروضہ قائم کرنا پڑا کہ:فلکی اجسام کے قوانین حرکت زمینی اجسام سے جدا ہیں۔زمینی اجسام کی قدرتی حالت سکون جبکہ فلکی اجسام کی قدرتی حالت دائروی حرکت ہے۔ساتھ ہی یہ کہ  آسمانی اجسام زمینی عناصر کی بجائے ایک  باکل خالص اور بے عیب مادے ایتھر سے بنے ہوئے ہیں۔

قدیم اہل یونان کا نظریہ حرکت

اہل یونان نے سب سے پہلےجس مظہر فطرت پر غور کیا ،وہ حرکت تھا۔حرکت سے ہمارے ذہن میں فوراًیہ خیال پیدا ہوتا سے کہ یہ زندہ اجسام کی صفت و خصوصیت (Attributes)ہے،جیسا کہ انسان اور جانور آزادانہ حرکت کر سکتے ہیں جبکہ پتھر اور کتابیں نہیں۔یقینا ً ایک زندہ جسم کی بیرونی قوت کے زیرِاثر ہم بے جان اشیاء مثلاً پتھروں کی حرکت کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔تاہم یہ نقطہ نظر بہت مواقع پر پورا نہیں اترتا،کیونکہ حرکت کی بہت سی اقسام میں کسی جاندار کی عمل پزیری ممکن نہیں: مثلاً اجسامِ فلکی آسمان پر ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتے نظر آتے ہیں یا  ہوا پنی مرضی سے چلتی ہے۔ممکن ہے تب لوگ فلکی اجسام کی حرکت کی یہ متبادل وضاحت کرتے ہوں کہ فلکی اجسام کو فرشتے حرکت دیتے ہیں، ہوا کسی دیوی ،دیوتاکے سانس لینے سے چلتی ہے۔اور واقعتاً ایسی وضاحتیں صدیوں تک مختلف معاشروں میں رائج رہیں۔تاہم یونانی فلاسفر مختلف مظاہرِ فطرت کی ایسی وضاحت کیلئے کوشاں رہےجو کہ خالصتاً عقلی بنیادوں پر استوار ہوں اور ان مظاہر فطرت کو بھی بیان کرسکیں۔سو دیوتا ،جنات اور شیطان اس بحث سے خارج ہو گئے۔
اسکے علاوہ بھی حرکت کی کچھ مزید مثالیں بھی ماحول میں موجود ہیں: آگ سے نکلتا دھواں بے ترتیبی سے اوپر کی طرف اٹھتا ہے،اگر پتھر کو بغیر سہارے کی ہوا میں معلق کیا جائے تو وہ فوراً زمین کیطرف گرتا ہے۔حالانکہ اس پر ظاہری طور پر کوئی قوت عمل نہیں کرتی۔یقیناً کسی آسیب سے مرعوب دماغ میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ دھویں کے ہر زرے میں کوئی چھوٹا سا جن بیٹھ کر اسے اوپر حرکت دے رہا ہو۔یا پھر کوئی دیوتا آسمانی اجسام کی حرکت کو کنڑول کررہا ہو۔ان داستانوں سے قطعِ نظر حرکت کے متعلق اہلِ یونان کے فلاسفر کے نظریات کو ارسطو نے منظم کیا۔ارسطو کے مطابق کائنات میں ہر عنصر(اس وقت اہل یونان کے مطابق چار بنیادی عناصر تھے:ہوا،پانی،مٹی اور آگ) کی ایک مخصوص "بنیادی جگہ" ہے۔عنصر "مٹی"(جس میں زمیں اور تمام مادی اشیاء شامل ہیں) کی بنیادی جگہ کائنات کے مرکز میں ہے۔تمام مٹی اور ٹھوس مادہ کائنات کے مرکز میں جمع ہوکر زمیں بنائی ،جس پر ہم موجود ہیں۔عنصر مٹی کا ہر زرہ ممکنہ حد تک زمین کے مرکز کے گرد جمع ہوتا گیا جس سے زمیں کی شکل کسی فٹبال کی طرح کروی ہو گئی۔یہ دلیل ان چند دلائل میں سے ایک ہے جس سے ارسطو نے ثابت کیا کہ زمین کی شکل کروی ہے نہ کہ گول ڈسک کی طرح چپٹی۔اسی طرح عنصر "پانی" کی بنیادی جگہ عنصر زمین کےکرے کی سطح سے باہر ہے،عنصر "ہوا" کی بنیادی جگہ پانی کے کرے سے باہر اور عنصر "آگ " کی بنیادی جگہ ہوا کے کرے کی سطح سے باہر ہے۔اب چونکہ کوئی بھی شخص نظامِ کائنات کی وضاحت کسی بھی طریقے سے کر سکتا ہے مگر ہمارے لئے وہ وضاحت بےکار اور وقت کا ضیاع ہو گی جو کے ان ٹھوس "حقائق" کے برعکس ہو جن کا مشاہدہ ہم اپنی حساسیات کے تحت کرتے ہیں۔مگر مندرجہ بالا یونانی نظریہ حرکت میں ہمارے مشاہدات ارسطو کے نظریے کی تصدیق و توثیق کرتے ہیں۔جیسا کہ ہماری حساسیات ہمیں بتاتی ہیں کہ زمین کائنات کے مرکز میں ہے؛سمندر کی تہہ نے سطح زمین کے بہت بڑے حصے کو ڈھانپ رکھا ہے؛اور پانی کی اس سطح کے اوپر ہوا کی دبیز تہہ ہے،جسکا مشاہدہ آندھی و طوفان میں بادلوں کے گرج سے ہوتا ہے۔مفروضہ: یہ نظریہ کہ ہر عنصر کی ایک بنیادی جگہ ہے،ایک مفروضہ کی مثال ہے۔سائنسی طریقہ کار میں مفروضہ کو بغیر ثبوت کے درست تسلیم کیا جاتا ہےاور محض مفروضے کو غلط یا صحیح نہیں کہا جاسکتا:کیونکہ اسے نہ تو ہم درست ثابت کر سکتے ہیں نہ غلط(اگر ایسا ہو جائے تو وہ پھر مفروضہ نہیں رہتا)۔لیکن کسی مفروضے سے اخذ کیے گے نتائج کا حقیقی نتائج کے عین مطابق یا برعکس ہونے پر اسے ہم کارآمدیا بےکارقرار دے سکتے ہیں۔اب اگر دو مختلف طرح کے مفروضے حقیقی مشاہدات کو یکساں طور پر بیان کریں تو اس صورت میں ہم کس مفروضے کو برتر کہیں گے؟یقینی طور پر وہ مفروضہ جو سادہ اور حقائق کی زیادہ گہرائی سے وضاحت کر رہا ہو۔دوسرے لحاظ سے ایک مفروضہ کسی بھی دلیل کا کمزور پہلو ہوتا ہے: کیونکہ طبعی سائنس میں اسے بنیادی طور پر درست ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔جبکہ طبعی سائنس کی اپنی بنیادیں انسانی عقل پر استوار ہیں۔لیکن چونکہ ہمیں کہیں نہ کہیں سے ابتداء تو کرنی ہے، اس لیے مفروضات ناگزیر ہیں اور ان سے ہم دامن نہیں بچا سکتے۔مگر ہم یہ کر سکتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے،اتنا ہی مفروضات کی تعداد کم سے کم رکھی جائے۔یوں اگر کائنات کے کسی پہلو کو دو نظریات یکساں طور پر بیان کریں تو وہ نظریہ زیادہ قابل ِقبول ہو گا جس میں مفروضات کی تعداد کم از کم ہو۔(یہ نقطہ نظر قرونِ وسطا کے انگریز فلسفی ولیم اوکمWillam Occam))نے پیش کیا تا کہ غیر ضروری مفروضات سے ہر ممکن حد تک اجتناب کیا جا سکے،یوں ہم غیر ضروری مفروضات کو اوکم ریزر(Occam Razer)کے زریعے رد کر دیتے ہیں۔

فزکس، اہل یونان کے فلسفے سے موجودہ دور تک

 قدیم یونان کے عالم اور دانشور وہ پہلے لوگ تھے جنھوں نے کائنات کو پہلی بار مکمل طور پر صرف اور صرف عقلی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی۔اسکےساتھ ہی انھوں نے عقلی کاوشوں سے حاصل شدہ علم کو منطقی اصولوں کے تحت جمع کرنا شروع کیا۔'فلسفی' وہ لوگ تھے جنھوں نے غیر عقلی اور روایتی نظریا ت (دیومالائی داستانوں کے اور بشمول مذہبی کائناتی نظریات )کی بجائے عقلی استدلال اور منطقی دلائل کے ساتھ کائنات کو سمجھا۔(فلسفی کا لفظی مطلب علم و دانش سے الفت رکھنے والا انسان ہے۔)
فلاسفی میں ایک طرف انسانی رویوں کی جانچ،اخلاقیات،معاشرتی اقدار اور سماجی محرکات و ردِعمل پر بحث کی گئی تو ساتھ ہی انسانی دماغ کی ان دیکھی دیواروں سے ماوراء تمام نظامِ کائنات اور مختصر اشیائے قدرت پر بھی تحقیق کی گئی۔یوں کائناتی اسرار و امور پر تحقیق کرنے والے "طبعی فلاسفر" کہلائے۔اہلِ یونان کے علمی و عسکری عروج کے دور میں مظاہر ِ قدرت کی پڑتال و مطالعہ کو "طبعی فلاسفی " ہی کہا جاتا تھا۔علم سائنس کے لئے موجودہ مستعمل لفظ "سائنس"(لاطینی معنیٰ:جاننا)نویں صدی کے آغاز تک مقبول نہیں ہوا تھا،یعنی آج اسی "طبعی فلاسفی" کو ہم" سائنس" کے نام سے جانتے ہیں۔حتیٰ کہ آج بھی سائنس کی سب سے اعلیٰ ڈگریPh.Dڈاکٹر آف فلاسفی کا ہی مخفف ہے۔

علم طبیعات،طبعی فلاسفی یا قدرتی فلاسفی کی ایک وسیع شاخ ہے؛ طبیعات کیلئے مستعمل لفظ Physicsکے لغوی معنیٰ "مجموعہِ سائنس "کے ہیں۔تاہم جیسے جیسے سائنسی میدان میں تحقیق وسیع اور عمیق ہوتی گئی،اور معلومات کا انبار بڑھتا گیا،تو طبعی فلاسفروں کو سائنس کی صرف کسی ایک شاخ کو اختیار کر کے مہارت اور تخصیص حاصل کرنا پڑی۔ان خاص تحقیقی شاخوں کو نیا نام دے کر طبیعات کی آفاقی حدود سے علیحدہ کر دیا گیا۔
اس لیے اعداد و اشکال کی خصوصیات اور باہمی تعلق کوریاضی کہا گیا۔فلکیاتی اجسام کے مقامات و حرکات کےمشاہدے کو  فلکیات کا نام دیا گیا۔سیارہِ زمین(جس پر ہم موجود ہیں)کی طبعی خصوصیات کا مطالعہ جیالوجی؛ مادہ کی ساخت اور مختلف میں باہمی تعاملات کا مطالعہ کیمیاءاور زندہ اجسام کی ساخت ،افعال اور باہمی تعلق کو حیاتیات کے نئے ناموں سے علم کی نئی تخصیص قرار دیا گیا۔
اب طبعیات کی اصطلاح مندرجہ بالا شعبوں میں سے باقی رہ جانے والے مظاہر قدرت کے علم کیلئے استعمال ہونے لگی۔اس لئے طبعیات کی ایک جملے میں تعریف کرنا اتنا آسان نہیں ہے، جتنا کہ ہونا چاہیے تھا۔باقی رہ جانے والے مظاہر قدرت میں حرکت ،حرارت ،آواز، روشنی،بجلی اور مقناطیسیت وغیرہ شامل ہیں۔یہ سبھی توانائی کی مختلف اقسام ہیں۔(توانائی کے متعلق تفصیلا ً اگلے ابواب میں بیان کیا جائے گا۔)اس لئے ہم طبعیات کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ "طبعیات مادے اور توانائی کی خصوصیات اور انکے باہمی تعلق سے بحث کرتی ہے"۔
طبیعات کی مندرجہ بالا تعریف کی وضاحت جامع و وسیع ،دونوں تناظر میں کی جا سکتی ہے۔وسیع تناظر میں طبیعی تحقیق و مطالعہ کا پھیلاو سائنسی علوم کی دوسری شاخوں کے ساتھ منطبق (Overlap)ہو جاتا ہے۔درحقیقت بیسویں صدی عیسوی کے بعد سے یہ صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔چونکہ سائنس کی مختلف شاخوں میں تقسیم مصنوہی اور انسانی عمل ہے۔جب معلومات کا حجم کم تھا تو یہ تقسیم کارآمد اور مفید معلوم ہوئی،تب یہ ممکن تھا کہ کوئی بھی فلکیات یا حیاتیات کو کیمسٹری یا طبیعات کے بغیر سمجھ سکے۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مختلف علوم کے مابین انسانی تقسیم کی سرحدیں کمزور ہوئیں اور ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو گیئں۔ایک سائنسی شاخ میں مستعمل طریقہ کار دوسری شاخوں کی وضاحت میں بھی استعمال ہونے لگا۔
انیسویں صدی کے دوسرے آدھے حصے میں طبیعی طریقہ کار کو استعمال کر کے یہ ممکن ہو گیا کہ ستاروں کی کیمیائی ترکیب اور طبیعی ساخت معلوم کی جا سکے،یوں طبعی فلکیات کا آغاز ہوا۔زلزلے کی وجہ سے زمین میں آنے والے ارتعاشات(جھٹکوں)کے مطالعہ سے جیوفزکس کی ابتدا ہوئی۔طبعی طریقہ کا کو استعمال کرتے ہوئے کیمیائی تعاملات کے مطالعہ نے طبعی کیمیاء(Physical Chemistry) کو جنہم دیا، یہی شاخ وسعت حاصل کرتے رہی اوراسکے حیاتیات میں اطلاق سے مالیکیولر حیاتیات(Molecular Biology)کا آغاز ہوا۔
جہاں تک ریاضی کے استعمال کا تعلق ہے تو یہ ہمیشہ سے ہی طبعیات دانوں کا سب سے اہم اوزار(Tool)رہی ہے (طبعیات میں ریاضی کا استعمال حیاتیات اور کیمیاء کی نسبت کہیں زیادہ ہے)۔جیسے جیسے طبعی قوانین و نظریات پیچیدہ اور دقیق ہوتے گئے ،نظری طبعیات اور ریاضی میں فرق کرنا، ناممکن ہوتا گیا۔تاہم اس کتاب میں ہم خالصتاً طبعیات کو بیان کریں گے اور طبعیات کے دوسرے علوم میں استعمال و اطلاق سے اجتناب برتیں گے۔

گوگل سرچ ، کچھ خفیہ راز۔۔۔کچھ دلچسب پہلو


اگر آپ گوگل پر رویتی سرچ سکرین دیکھ دیکھ کر اکتا گئے ہیں تو سرچ کو دلچسب بنانے کیلئے گوگل ایسٹر ایگز (Extra Eggs)استعمال کریں ۔چونکہ گوگل سرچ انجن آجکل ہماری ضرورت بن چکا ہے اور انٹرنیٹ پر سرچ کا بہشتر حصہ گوگل پر انجام دیاجاتاہے۔ اس لئے گوگل  نے سرچ انجن میں کچھ ایسٹر ایگز کا اضافہ کرتی رہتی ہے۔

اگر آپ ایسٹر ایگز سے واقف نہیں تو بتاتے چلیں کہ ایسٹر ایگز ایک کمپیوٹر پروگرام کے ایسے خفیہ گوشے ہوتے ہیں جن کے متعلق سافٹ وئیر ڈاکومنٹینشن میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی جاتی ۔ ایسٹر ایگ کی کمانڈ پر کوئی میسج ،تصویر یا وڈیو دکھائی جا سکتی ہے یا ان کے علاوہ کوئی دلچسب رسپانس ملتا ہے ۔اور اصطلاح کو  ایسٹر کے تہوار پر رنگا رنگ انڈوں سے منسوب کیا گیا ہے۔جن میں بچوں کے لئے چھوٹے موٹے تحائف چھپائے جاتے تھے۔ اس لئے ایسٹر ایگز بھی سافٹ وئیر استعمال کنندگان کی دلچسبی اور تفریحی کیلئے   استعمال ہوتے ہیں۔
ذیل گوگل سرچ انجن میں موجود کچھ ایسٹر ایگز کا ذکر ہے، ابھی ٹرائی کریں اور لطف اٹھائیں۔
1۔   Do a barrel roll اگر آپ فائر فاکس یا کروم براؤزر استعمال کر رہے ہیں توگوگل کے سرچ باکس میں "Do a barrel roll"لکھ کر انٹر کرنے سے آپکی ویب سکرین گھومنے لگے گی اورایک  چکر گھومنے کے بعد ہی رکے گی۔
2۔ askew یا tilt :گوگل سرچ باکس میں "" یا "" لکھ کر انٹر کریں اور آپکی ویب سکرین ٹھوڑی سے ٹیڑھی ہو جائے گی ۔
3۔ zerg rushzerg rush میرے نزدیک سب سے دلچسب ایکسٹرا ایگ ہے ۔اگر سرچ باکس میں zerg rush لکھ کر انٹر کریں تو گوگل کے "O" سرچ رزلٹس پر حملہ آور ہو جائیں گے اور آہستہ آہستہ ساری سکرین پر موجود سرچ رزلٹس کو پھدکتے ہوئے توڑتے جائیں گے حتیٰ کہ  خالی ہو جائے گی اور GGلکھا آ جائے گا۔

4۔ Atari Breakoutگوگل امیج سرچ کے باکس میں Atari Breakout لکھ کر انٹر کرنے سے رزلٹ امیج پر مشتمل بریک آؤٹ گیم شروع ہو جائے گا ، سوفارغ وقت میںAtari Breakout انٹر کریں اور فری گیم سے لطف اندوز ہوں۔
5۔ Conway's Game of Lifeکمپیوٹر سائنس کے طالب علم لائف گیم سے ضرور واقف ہونگے ، جو کہ کمپیوٹر مضامین میں بنیادی طور پر سکھائی جاتی ہے۔اگر آپ Conway's Game of Lifeلکھ کر انٹر کریں تو سکرین پر لائف گیم کی انیمیشس چلنا شروع ہو جائے گی۔
6۔Google in 1998سرچ باکس میں  Google in 1998لکھ کر انٹر کرنے سے آپ ٹائم ٹراول کرتے ہوئے ماضی میں چلے جائیں گے،یعنی آپکا ویب پیچ ہو بہو ویسا ہی ہو گا جیسا کہ یہ 1998 میں دکھائی دیتا تھا۔سو یہ سارے ایکسٹرا ایگز ضرور ٹرائی کریں اور مزید بھی ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔

Google in 1998

بہترین فیبلٹس۔۔۔ جوآپ خریدنا چاہیں

اگر ہم موجودہ دور میں سمارٹ فونز کے سائز کی بات کریں تو  نئے فون میں بڑی سکرین کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، جس سے ایک تو ملٹی میڈیا  مثلاً فوٹو گرافی اور وڈیو پلےبیک کیلئے  وسیع جگہ ملتی ہے تو ساتھ ہی اندرونی ہارڈ وئیر  کے نسب کرنے کیلئے بھی مزید جگہ دستیاب ہوتی  ہےجس سے ڈیوائس کی  کمپیوٹنگ صلاحیت میں بھی بڑھ جائے گی۔ لیکن کیونکہ فون ایک دستی آلہ(Hand held Device) ہے، اس لئے اسکا سائز ایک خاص حد سے ذیادہ بڑھائیں گے تو ہاتھ میں اس پر  گرفت رکھنا مشکل ہو جائے گی۔اسلئے تقریباً 6 انچ سائز کے دستی آلے کو  سمارٹ فون کی بجائے فیبلٹ کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں ایک توکمپیوٹنگ صلاحیت ٹیبلٹ پی سی کے قریب ہوتی ہے ،ساتھ ہی سکرین سائز بھی 7 انچ ٹیبلٹ کے قریب ہوتا ہے۔

اگرچہ دیکھنے میں ٹیبلٹس بھدے لگتے ہیں ،مگر اپنی خصوصیات کی بنا پر ان کا استعمال آئے دن بڑھ رہا ہے۔ فیبلٹس میں سب سے مشہور سیمسنگ گلیسکسی نوٹ سیریز ہے، جس کی کامیابی  کے بعد اور بھی بہت سے اداروں نے  فیبلٹس تیار کی  ہیں،جن میں سے چند کامیاب اور مشہور فیبلٹس مندرجہ ذیل ہیں۔
سیمسنگ:Galaxy Note 3سیمسنگ گلیکسی نوٹ پہلا دستی آلہ تھا جس میں ایک ٹیبلٹ اور فون کی خوبیوں کو یکجا کیا گیا۔2011میں سیمسنگ نے 5.2انچ کی بڑی سکرین   کے ساتھ گلیکسی نوٹ کو متعارف کرایا ، اس کے بعد اگلے برس نوٹ2 اور اس سال ستمبر میں گلیکسی نوٹ 3 کو پیش کیا گیا ۔ اگرچہ اپنےبڑے  ڈیزائن کی وجہ سے یہ گلیکسی ایس اور آئی فون جیسی کامیابی تو حاصل نہ کر سکے، مگر  اس کے باوجود بڑی سکرین کے فون کی علیحدہ  شناخت  متعارف ضرور کرا دی۔گلیکسی نوٹ 3کی سکرین 5.7 انچ اور 388 پکسل فی انچ کی ریزولیشن پر مشتمل ہے۔ اسکے اندونی ہارڈ وئیر کی بات کریں تو GSMورژن میں1.9گیگا ہرٹز اوکٹا کوراور LTEورژن 2.3گیگا ہرٹز کا کواڈ کور پروسیسر نصب ہے۔ ساتھ ہی برق رفتار ملٹی ٹاسکنگ کیلئے 3 جی ریم موجود ہے۔ انٹرنل فون میموری کی گنجائش 32 یا 64 جی بھی رکھی گئی ہے۔
کیمرہ کی بات کریں تو نوٹ 3 میں 13 میگا پکسل بیک  کیمرہ موجود ہے، جبکہ وائس چیٹ کیلئے اس میں  2 میگا پکسل فرنٹ کیمرہ موجود ہے۔ اسکے ساتھ  ہی ان پٹ کیلئے اضافی Sسٹائلس(Stylis)بھی دستیاب ہے۔ہواوے:Asend Mateہواؤے کو سستے اور معیاری موبائل فون بنانے کے حوالے سے خصوصی شہرت حاصل ہے، سال 2013 کے آغاذ میں ادارے  کی جانب سے 6.1 انچ کی 241 پکسل پر انچ کی بڑی سکرین کے ساتھ ایسنڈ میٹ فیبلٹ کو متعارف کرایا گیا ۔ جس میں 1.5گیگا ہرٹز کا کواڈ کور پروسیسرراور 2 جی بی ریم نصب تھے۔ اگرچہ فیلبٹ میں انٹرنل میموری صرف 8 جی بی تھی مگر یہ 64 جی بی تک کی اضافی میموری کو سپورٹ کرتا ہے۔علاوہ ازیں اس میں 8 میگا پکسل بیک اور 5 میگا پکسل فرنٹ کیمرہ موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کی قیمت بھی دوسرے اداروں کی نسبت بہت کم رکھی گئی ہے۔
سونی:Xperia Z Ultraدوسرے ااداروں کی طرح سونی کی طرف سے بھی ایک بہترین فیبلٹ ایکسپریا زی الٹرا کو جون میں متعارف کرایا گیا جو صحیح معنوں میں ایک ہائی اینڈ ڈیوائس کہلانے کی مستحق ہے۔اس فیبلٹ کا سکرین سائز  6.4 انچ اور 344 پکسل فی انچ کی 1920*1080 کی سکرین ریزولوشن دستیاب ہے۔اندرونی ہارڈ وئیر میں 2.2گیگا ہرٹز کا کواڈ کور پروسیسر اور 2 جی بی ریم موجود ہے۔  جبکہ میموری کی گنجائش 16 جی بی ہےاور یہ 64 جی بی تک کی اضافی میموری کو سپورٹ کرتی ہے۔ کیمرہ کی بات کریں تو اس  میں 8 میگا پکسل بیک کیمرہ اور 2 میگا پکسل فرنٹ کیمرہ نصب ہیں۔
ایل جی:Optimus G proایل  جی  آپٹیمس پرو جی کو فروری 2013 میں لانچ کیا گیا۔ڈسپلے کے حوالے سے بات کی جائے تو اگرچہ اسکا سکرین سائز 5.5انچ ہے مگر ساتھ ہی پکسل فی انچ کی تعداد 400 رکھی گئی ہے۔اندرونی ہارڑ وئیر میں 1.7گیگا ہرٹز کواڈ کو ر پروسیسر اور 2 جی بی ریم موجود ہے۔ فیبلٹ کی انٹرنل میموری 32 جی بی ہے جب کہ اضافی کارڈ سلاٹ 64 جی بی تک میموری کو سپورٹ کرتا ہے ۔ کیمرہ کے حوالے سےاس  فیبلٹ میں 13 میگا پکسل پرائمری اور 2.1میگا پکسل فرنٹ کیمرہ نصب ہے۔ ایچ ٹی سی:HTC One Maxجب باقی سب ادارے فیبلٹس تیار کرنے لگے تو ایچ ٹی سی کیسے پیچھے رہتے، اس لئے ادارے نے اپنے بہترین ڈیوائس ایچ ٹی سی ون کی نسل کی فیبلٹ ایچ ٹی سی ون میکس کے نام سے متعارف کرائی۔ون میکس کا  5.9انچ کی ڈسپلے  اور  373 پکسل فی انچ کی ریزولیشن کے ساتھ دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ  اندرونی ہارڈ ویئر میں 1.7 گیگا ہرٹزکواڈ کو ر  پروسیسر نصب ہے ۔جبکہ فیبلٹ میں 16 یا 32 جی بی انٹرنل میموری کے ساتھ اضافی کارڈ سلاٹ اور 2 جی بی ریم موجود ہے۔ اس میں 4 میگا پکسل کا جدید کیمرہ موجود ہے۔اس کے ساتھ ہی اس میں فنگر پرنٹ سکینر بھی موجود ہے، جس کی مدد سے آپ اپنی ایپس کو فنگر پرنٹ کے زریعے لاک کر سکتے ہیں۔

نوکیا: Nokia Lumia 1520نوکیا کی جانب سے ونڈوز فون 8 پر مشتمل یہ فیبلٹ اکتوبر 2008 میں متعارف کرائی گئی۔ اس کا  6 انچ ڈسپلے  367 پکسل فی انچ کی ریزولوشن سے مزین ہے۔اسکے علاوہ یہ فیبلٹ اندرونی ہارڈ وئیر میں کسی سے بھی کم نہیں ۔ اس میں 2.2گیگا ہرٹز کا کواڈ کور پروسیسر کا برق رفتار پروسیسر نصب ہے۔ ساتھ ہی یہ اضافی میموری کارڈ سلاٹ اور 16،32 اور 64 جی بی میموری کے ساتھ 2 جی بھی ریم کے ساتھ دستیاب ہے۔اگر کیمرہ کی بات کریں تو لومیا 1520 میں 20 میگا پکسل کا بہترین کیمرہ موجود ہے۔جبکہ وڈیو کالز کیلئے 1.2 میگاپکسل کا سیکنڈری کیمرہ موجود ہے۔

سال 2013 کے بہترین سمارٹ فون 2

اپرئل 2013 میں سیمسنگ گلیکسی ایس 4 کی ریلیز کے بعد اسی سمارٹ فونز کی آمد کے بعد نئے فونز کی آمد اسی طرح تھم گئی جیسے کہ ایک سپر ہٹ فلم کے بعد باقی پروڈیوسر اپنی فلم کی نمائش موخر کر دیتے ہیں۔ خیر اس کے بعد اگلا سمارٹ فون نوکیا کی طرف سے آیا جس کا تعارف کچھ یوں بنتا ہے۔نوکیا :LUMIA 1020نوکیا کی طرف سے لومیا سیریز کے اگلی نسل کو  لومیا 1020 کے نام سے پیش کیا گیا۔مائیکروسافٹ کے  ونڈوز فون 8 آپریٹنگ سسٹم پر مشتمل اس موبائل کو بہترین ونڈوز فون کا اعزاز حاصل ہے۔ اگر سکرین کی بات کریں تو لومیا 1020 کی 4.5انچ سائز کی سکرین  332 پی پی آئی  کے ساتھ مقابلے میں موجود اینڈرائڈ فونز کے مقابلے میں کم تر درجے کی ہے۔اس کے ساتھ  ہی اس میں قوالقم کا 1.5 گیگا ہرٹز  پروسیسر اور اینڈرونو 225 گرافکس چپ    سے لیس اس فون میں 2 جی بی ریم اور 32 یا 64 جی بی میموری  گنجائش کے ساتھ اضافی میموری کیلئے ایس ڈی کارڈ سلاٹ بھی موجود ہے۔نوکیا:لومیا1020 ،41 میگا پکسل کیمرہ کے ساتھ
مگر اس موبائل کی اصل خوبی اسکا کارل زیس لینس ، زینون فلیش لائٹ اور 41 میگا پکسل کے نوکیا پیور ویو ٹیکنالوجی سنسرر  کا کیمرہ ہے، جو کہ فوٹو گرافی کے شوقین حضرات کیلئے بہت  کشش رکھتا ہے۔علاوہ ازیں اس کی قیمت بھی دوسرے اینڈرائڈ کی نسبت بہت ذیادہ ہے۔ایل جی: G 2ایل جی ، جی ٹو کو اس سال اگست میں پیش کیا گیا ، اور اس موبائل سے ایل جی نے ثابت کیا کہ  وہ اپنی ہم وطن کمپنی سیمسنگ کی طرح بہترین سمارٹ فون تخلیق کر سکتی ہے۔ جی ٹو  صحیح معنوں میں ایک جدید ترین سمارٹ فون ہے جس کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔ایل جی:جی ٹو
5.2 انچ سکرین  424پی پی آئی پکسل ڈنسٹی کے بڑے ڈسپلے کے ساتھ ، قوالقوم  کے 2.26گیگا ہرٹز کے  پروسیسر اور اینڈرینو 330 پروسیسر چپ  کے ساتھ ملٹی ٹاسکنگ کو بہت روانی  سے انجام دے سکتا ہے۔علاوہ ازیں 13 میگا پکسل کے کیمرے سے آپ اپنے یادگار لمحات کو ہمیشہ کیلئے تصاویر اور 1080Pمعیار کی وڈیو بنا سکتے ہیں۔ساتھ ہی میموری کے حوالے سے اس میں 2جی بی ریم کے علاوہ ، 16 اور 32 جی بی کی فکس میموری  دستیاب ہے اور اضافی میموری کی سہولت موجود نہیں۔مزید براں   اتنے عمدہ فیچرز کے باوجود اسکی قیمت بھی دوسرے موبائلوں کی نسبت کم رکھی گئی ہے، جس سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔سونی:EXPERIA Z1ستمبر کے ماہ میں سونی نے ایکسپریا زی کے سلسلے کو مزید بڑھاتے ہوئے اسکا ایڈوانس ورژن  ایکسپریا زی ون  پیش کیا۔جو کہ دوسرے موبائل کے آنے سے ایکسپریا زی کے کم پڑھتے ہوئے فیچرز کو دوبارہ برتر پوزیشن پر لے آیا۔سونی:زی1 ،20میگا پکسل کیمرہ اور سکریچ و واٹر پروف سکرین کے ساتھ
اگرچہ اسکی سکرین ریزولوشن اپنے سے پرانے ایکسپریازی کے برابر تھی ،مگر سونی نے اسکے اندرونی ہارڈ وئیر کو بہتر بنایا جس میں قوالقوم کے تیار کردہ 2.2گیگا ہرٹز پروسیسر اور نئی اینڈرینو 330 گرافکس چپ استعمال کی گئی۔ساتھ ہی اس میں کیمرہ کو 20.7میگا پکسل کیمرہ سے اپ گریڈ کیا گیا۔جس سے آپ 1080Pکی وڈیوبھی بنا سکتے ہیں۔اگرچہ اس میں 2جی بی میموری ریم کے ساتھ میموری گنجائش 16 جی بی ہے جسے 64جی بی تک کے اضافی کارڈ سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ایپل:iPhone 5Sستمبر میں ہی ایپل کی جانب سے دنیا کی مشہور ترین سمارٹ فون سیریز آئی فون کا اگلا ماڈل پیش کیا گیا ۔ اس دفعہ کی خاص بات یہ تھی کہ اپنی پچھلی رویات کے بر عکس ایپل نے ایک کی بجائے دو سمارٹ فون نسبتاً کم درج 5Cاور فلیگ شپ 5S متعارف کرائے ۔اس مضمون میں ہم صرف آئی فون 5ایس کی خصوصیات کا جائزہ یپش کریں گے۔ایپل: آئی فون 5ایس،مشہور ترین سمارٹ فون
آئی فون 5ایس ایپل کے موبائل او ایس ،ائی او ایس 7 سے مزین ہے ۔ اسکی سکرین صرف 4 انچ کی ہے ،جبکہ پکسل ڈنسٹی بھی صرف 326 پوانٹس فی انچ ہے۔آئی فون کے اندرونی ہارڈوئیر میں 1.5گیگا ہرٹز کا ڈدئل کور پروسیسر نصب ہے ،جس سے گرافکس کااضافی بوجھ کم کرنے کیلئے پاور  وی آر کی کواڈ کور گرافکس چپ نصب کی گئی ہے۔میموری گنجائش کی بات کریں تو اس میں 1جی بی کی ریم کے ساتھ 16 ،32 اور 64 جی بی جنجائش کے ورژن دستیاب ہیں ،مگر اضافی کارڈ سلاٹ موجود نہیں۔ ساتھ ہی اس کا کیمرہ 8 میگا پکسل کے سنسر  سے آپ 1080Pکوالٹی کی وڈیو بنا سکتے ہیں۔اس فون کی سب سے اہم بات اس کا فنگر پرنٹ سنسر ہے ، جس سے آپ موبائل کو  اپنے فنگر پرنٹ(انگلیوں کے نشانات)سے ان لاک کر سکتے ہیں۔یوں موبائل کو محفوظ رکھنے کیلئے آپ سکیورٹی کوڈز یاد رکھنے کی کوفت سے بچ جائیں گے۔اگر آپ دوسرے فلیگ شپ فونز کے ساتھ موازنہ کریں تو اگرچہ مندرجہ بالا خصوصیات بہت متاثر کن نہیں،اور اس سے بہتر کوالٹی کے موبائل اس سے کم قیمت اور بہتر فیچرز رکھتے ہیں مگر ان سب کے باوجود یہ"پر جوش ایپل فینز " سال کی آخری سہ ماہی میں سب سے ذیادہ فروخت ہونے والا سمارٹ فون ہو گا۔گوگل:Nexus 5گوگل کی  جانب سے نیکسس لائن کے سمارٹ فون کا نیا ورژن نیکسس 5 اس سال اکتوبر میں پیش کیا گیا، جسے جنوبی کورین کمپنی ایل جی نے گوگل کیلئے تیار کیا گیا۔ اس فون کی خاص بات یہ تھی کہ یہ اینڈرائڈ کے نئے ورژن کٹ کیٹ  4.4سے لیس پہلا سمارٹ فون تھا۔اس کی خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔فون سکرین 4.95انچ سکرین کی پکسل ڈنسٹی 445 فی انچ ہے۔جبکہ اس میں قوالقوم کے 2.3 گیگا ہرٹز کا کواڈ کور پروسیسر  اور اینڈرینو 330 گرافکس چپ نصب ہے۔یہ فون 16 اور 32 جی بی کی میموری گنجائش اور 2 جی بی ریم موجود ہے۔ جبکہ اضافی میموری کیلئے کارڈ سلاٹ کی سہولت موجود نہیں۔ علاوہ اذیں اسکا کیمرہ بھی 8 میگا پکسل ہے جو دوسرے سمارٹ فونز کے مقابلے میں بہت کم تر ہے۔ مگر اس کی خاص بات اسکی قیمت ہے جو کہ دوسرے موبائلز کے مقابلہ میں بہت معقول رکھی گئی ہے۔لیکن یہ صرف گوگل سٹور سےآنلائن خریداری کیلئے میسر ہے، جسے آپ پاکستان میں نہیں خرید سکتے۔گوگل نیکسس 5، کم قیمت مگر بہترین 
یوں ہمارا سال بھر کاسمارٹ فونز کا جائزہ مکمل ہو گیا ہے ، جس ہم نے صرف بہترین کمپنیوں کے بہترین موبائلز کا جائزہ لیا ،جس میں ہواؤے ، زی ٹی ای اور موٹرولا جیسے اداروں کے موبائلز بھی حذف کرنے پڑے ، جن کا ذکر آئندہ کسی پوسٹ میں کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اس تجزئیے میں فیبلٹس کا ذکر بھی نہیں جن پر آئندہ تحریز پیش کی جائے گی۔

سال کے بہترین سمارٹ فون

2013کے آغاز ہی سے مختلف کمپنیوں کی جانب سے بہیترین سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر سے لیس موبائل تیار کرنے کا سلسلہ جاری رہا، جنہیں ہم ہائی رینج کا فلیگ شپ موبائل کہتے ہیں۔ اس لئے ایک سے بڑھ کر ایک معیاری ، خوبصورت ،دلفریب اور برق رفتار موبائل صارفین کا اعتماد جیتنے کے لئے ایک کے بعد ایک میدان میں آتے گئے، ذیل میں ہم صرف چند مشہور موبائل ماڈل کا ذکر کریں گے جو کہ اپنی کمپنیوں کی بہترین پروڈکت رہے ہیں ۔

سونی :Xperia Z جنوری 2013میں سونی کی جانب سےفلیگ شپ Xperia Zاسمارٹ فون پیش کیا گیا ، جو کہ نہ  پانی سے مزاحمت رکھتا ہے ،بلکہ اسکی نینو ٹیکنالوجی سے تیار کردہ سکرین خراشوں کےخلاف مزاحم ہونے کے ساتھ خود کو  گرد سے بھی محفوظ رہتی ہے۔سونی ایکسپریا
اس کے ساتھ ہی اینڈرائڈ او ایس پر مشتمل  اس موبائل کا ہارڈ وئیر بھی 5 انچ، 441 ڈی پی آئی کی بہترین سکرین ریزولوشن کے ساتھ 1.5گیگا ہرٹز کواڈ کور پروسیسر ،اینڈرینو 320 گرافکس چپ، 2 جی بی ریم اور 13 میگا پکسل کے لیس ہے۔ اس کے علاوہ اضافی میموری کیلئے مائیکرو ایس ڈی کارڈ نصب کرنے کی بھی سہولت ہے۔سونی کو سمارٹ فون کے ٹاپ مینو فیکچررز میں لے آیا۔

HTC ONEHTC نے سال کا آغاز فروری میں اپنے بہترین ماڈل HTC ONE سے کیا ۔ جس میں پہلی ہارڈ وئیر کی اپ گریڈیشن کے ساتھ اس دفعہ الٹرا پکسل کیمرہ ٹیکنالوجی کا اطلاق کیا گیا ہے،کمپنی کے مطابق الٹرا پکسل عام پکسل سے ذیادہ حساس ہوتا ہے ،جس سے کم روشنی میں بھی واضح اور کمتر noise کی تصاویر اتاری جا سکتی ہیں۔
ایچ ٹی سی ون اس کے علاوہ یہ موبائل جدید اینڈرائڈ او ایس، 4.7انچ کی 449 ڈی پی آئی سکرین ریزولوشن سے لیس ہے۔ اس کے اندرونی ہاررڈ وئیر میں 1.7 گیگا ہرٹر پروسیسر 2 جی بی ریم اور اینڈرینو 320 گرافکس چپ نصب ہے۔ یہ فون 32 اور 64 جی بی انٹرنل سٹوریج کے ساتھ دستیاب ہے اور اس میں ایس ڈی کارڈ سلاٹ موجود نہیں،
Black Berry Z10سال کے آغاز نوکیا ہی کی طرح میں پرانی  اسمارٹ فون لیڈر  کینیڈین کمپنی، ریسرچ ان موشن (RIM)نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کیلئے خود کو اپنے برینڈ نام  بلیک بیریسے وابستہ کر لیا۔ کمپنی نے بہت ذیادہ ریسرچ اور تبدیلیوں کے بعد اپنے موبائل کیلئے نئے آپرینٹنگ سسٹم  بلیک بیری   10 جسے مختصراً بی بی 10 کہا جاتا ہے، کو نئے سرے سے تیار کیا  اور دو نئے فون، ٹچ  انٹر فیسBBZ10اور Qwerty کی بورڈ پر مشتمل Q10 پیش کیے۔
بلیک بیری Z10 Z10 کو کا اعلان جنوری میں کیا گیا جبکہ  گلوبل مارکیٹ میں اسکی آمد فروری کے ماہ تک ہو سکی۔ 4.2انچ 355 ڈی پی آئی ٹچ سکرین کے ساتھ یہ موبائل ڈوئل کور 1.5 گیگا ہرٹز پروسیسر ،2 جی بی ریم اور اینڈرینو 230 گرافکس چپ پر مشتمل تھا۔ اس کے ساتھ 8 میگا پکسل کیمرہ اور صرف جی بی کی انٹرنل میموری اور ایس ڈی کارڈ سلاٹ کے ساتھ یہ باقی بہتر فیچر موبائلز کے سامنے اپنی جگہ نہیں بنا سکا۔بلیک بیری کمپنی کی بقا کا دارومدار انہی آلات  کی کامیابی پرمنحصر تھا۔جو کہ خاظر خواہ مقبولیت حاصل نہ کر سکے۔ اور حتیٰ کہ سال کے آخرمیں کپمنی سے خود کو فروخت کرنے کیے لیا تیار کر لیا۔ اگرچہ ابھی تک کمپنی فروخت نہیں ہوئی مگر اس کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔
سیمسنگ : Galaxy S4 بلاشنہ گلیکسی ایس سیریز کو دنیا میں کروڑوں صارفین کا اعتماد حاصل ہے، اسی لئے سال اپرئل میں پیش کیے گئے گلیکسی ایس 4 کو بھی صارفین نے ہاتھوں ہاتھ لیا، اور یہ فون گرم کیکوں کی طرح فروخت ہوا۔ اس فون میں بھی اینڈرائڈ 4.2کواڈ کور1.7 گیگا ہرٹز پروسیسر ، 2جی بی ریم اور پاور وی آر گرافکس چپ سےلیس تھا۔ 5انچ کی 441 ڈی پی آئی ریزولوشن اور 13 میگا پکسل کے شاندار کیمرے کے ساتھ یہ موبائل16،32اور 64 جی کی میموری گنجائش کے ساتھ ایس ڈی کارڈ سلاٹ کے زریعے 64 جی بی تک اضافی میموری بھی مہیا کرتا ہے۔ گلیکسی ایس 4اس کے علاوہ اس موبائل میں ایسے حساسیئے نصب ہیں کہ اسے اشاروں سے بھی کنڑول کیا جا سکتا ہے۔ 

سیمنگ بمقابلہ ایپل : سمارٹ فون قسط 5


سیمنگ بمقابلہ ایپل:ایپل آئی فون کے لانچ سے ہی اسمارٹ فون کے میدان میں بغیر کسی مقابل کے  حکمرانی کر رہا تھا ،2010میں بھی اہک نئے آئی فون 4 کی مارکیٹ میں آمد ہوئی جو کہ ہائی ریزولیشن ریٹینا آئی ڈسپلے کے ساتھ وڈیو کالنگ کیلئے ایک عدد فرنٹ فیسنگ کیمرہ سے بھی لیس تھا۔لیکن امسال آئی فون کے مقابلے میں سیمسنگ الیکٹرانکس نے ایک نئی اینڈرائڈ  ذہین فون گلیکسی لائن Glaxy S  کا پہلا سیٹ متعارف کرایا ،جس نے آتے ہی آئی فون سے بڑے ڈسپلے ،برق رفتار کاہارڈویئر اور دیگر خوببیوں سے صارفین کے دل جیت لئے۔سیمسنگ گلیکسی اور آئی فون
مگر ایپل سیمسنگ گلیکسی ایس کے آئی فون سے مماثل ڈیزائن پر تلملاا ٹھا اور مختلف عالمی عدالتوں میں سیمسنگ پر اپنے ملیکتی حقوق کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کر دیا،اور کہا کہ سیمسنگ کے آئی فون کی ہو بہو نقل کی ہے۔ جس پرسیمسنگ اور ایپل مختلف ممالک کی عدالتوں میں ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو گئے اور بعد  ازاں سیمسنگ کو ایک امریکی عدالت کے فیصلے پرایک بہت بھاری  رقم ایپل کو ہرجانے کے طور پر ادا کرنی پڑی۔
 مائیکرسافٹ ونڈوزاور نوکیا ڈیل: 2011میں مائیکروسافٹ نے ونڈوز موبائل کے متبادل کے طور پر بالکل نیا او ایس ونڈوز فون7ایپل کے آئی او ایس ااور اینڈرائڈ کے مقابل پیش کیا۔اگرچہ سیمسنگ ،HTC،اور ڈیل نے ونڈوز فون 7 پر مشتمل موبائل متعارف کرائے۔لیکن ساتھ ہی نوکیا ،جس کے سمبئین موبائل اینڈرائڈ اور آئی فون کے مقابلے میں دن بدن غیر مقبول ہو رہے تھےWP7(Windows Phone 7)ایک متبادل آپریٹنگ سسٹم کی جگہ لے سکتا تھا۔ یوں مایئکروسافٹ اور نوکیانے اپنی گرتی  ساکھ کو بچانے کیلئے ایک معاہدہ کیا جس کے بعد نوکیا اپنے ذہین فون میں ونڈوز فون او ایس استعمال کرے گا۔اس طرح نوکیا نے اپنے مسقبل کو ونڈوزفون کے ساتھ منسلک کر لیا،لیکن اس دوران میں حریف اداروں کو اپنے پیر مظبوطی سے جمانے کا موقع مل گیا۔
سیمسنگ نے اپنے  گلیکسی S2کے ساتھ ہی انتہائی بڑےڈسپلے کیساتھ گلیکسی Noteکو متعارف کرایا، جس میں ایک مرتبہ پھر قلم یعنی سٹائلس کساتھ تھا۔مگر ااس دفعہ یہ ان پٹ کی بجائے ایک اضافی سہولت کی صورت میں تھا اور بہ آسانی ہاتھ سے لکھائی کو پہچان سکتا تھا۔
نوکیا این9علاوہ ازیں نوکیا12 میگاپکسل کے ذبردست کیمرہ کے ساتھ N8سمبیئن ٹچ فون کے علاوہ ایک اور تجربہ کیا  Meego OSسے مزین N9جاری کیا مگر مائیکروسافت سے پارٹنر شپ کے بعد اس او ایس کے مزید موبائل نہ بنانے کافیصلہ  کیا۔ایپل کی طرف سے اگلا آئی فون 4Sکو 16، 32اور 64 جی بی کی میموری گنجائش کے ساتھ پیش کیا ۔اس آئی فون کی خاص بات سری(Siri) نامی اطلاقیہ تھا ،جو کہ انٹر نیٹ سے منسلک سرور پر آواز کی شناخت اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے آواز میں دی گئی ہدایات کے مطابق عمل کر تا ہے۔سال کے آخری مہینوں میں طویل انتظار کے بعد نوکیا نے ونڈوز فون 7پر مشتمل  Lumiaسریز کے دو سمارٹ فون 900اور 800 فروخت کیلئے پیش کیے۔ دلکش ڈیزائن اور نئے ٹائل انٹرفیس کے باوجود یہ اپنے حریف ایپل اور اینڈرائڈ کے مقابلے میں بہت بنیادی خوبیوں سے محروم تھا۔ ساتھ ہی مائیکرسافٹ نے اعلان کیا کہ ونڈوز فون 7 ابتدائی مرحلہ ہے،جبکہ اصل ونڈوز فون 8 کو اگلے سال لانچ کیا جائے گا۔اس سےنوکیا صارفین کو بہت مایوسی ہوئی کیونکہ WP7کے فونWP8پر اپگریڈکیے جانے کے نہیں ۔مٹرولا موبیلٹی گوگل کے ہاتھوں میں:گوگل نےایک اور بڑا قدم اٹھایا اور میٹرولا موبلٹی کو خرید لیا۔تا کہ اینڈرائڈ کو ایک  مستحکم  فون سار ادارے کی سر پرستی حاصل ہو جائے  اور کسی متوقع عدالتی(ایپل اور سیمسنگ کی تناضعہ کی طرح) کاروائی سے بچنے کیلئے مٹرولا کے پیٹنٹ سٹور کو استعمال کیا جاسکے۔
2012کے آغاز میں سونی نےسونی ایریکسن میں سے ایرکسن کے شیئر خرید لیے اوردوبارہ  نئے سرے سونی کے نام سے سے اپنےاعلی معیار 12میگا پکسل کیمرہ سے لیسXperia Sاینڈرائڈ موبائل سے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کیااوربعد ازاں کم بجٹ کے کئی Xperiaذہین فون پیش کیے۔ 
ایچ ٹی سی : ڈرائد ڈی این اے /بٹر فلائیHTCنے اپنےفروری اعلی معیار کے اینڈرائڈ  One S,X & Vسے اینڈرائڈ میدان اپنے نام کرنے کی کوشش کی تو بعد ازاں بٹر فلائی (Driod DNA)جیسے ہائی ریزولیشن سکرین موبائل کو مقابلے میں اتارا۔
جبکہ مئی میں سیمسنگ نے آخر کار اپنے گلیکسی ایس کی اگلی نسل S3کو لانچ کیا ،جسے صارفین نے ہاتھوں ہاتھ لیااور بے حد سراہا گیا۔جبکہ مشہور سائٹ ٹیک راڈار نے اسے سال 2012 کا بہترین موبائل فون قرار دیا۔نوکیا کی جانب سے فروری میں متعارف کیا گئے Pureview 808کو41 میگا پکسل کے ناقابل کیمرہ سنسر کیوجہ سے بہترین کیمرہ موبائل کا اعزاز حاصل ہے۔مگر مائیکروسافٹ اور نوکیا کی پارٹنر شپ کی وجہ سے  یہ خاطر خواہ اہمیت  نہ حاصل کر سکا،اور سال کے اختتام پر نوکیا نے اسے اپنا آخری سمبین موبائل قرار دیا۔اس کے ساتھ سیمسنگ کی ہم وطن کورین حریف نے پہلے Optimus 4X HD کے ساتھ کواڈ کور سی پی یو کی دوڑ کا آغاز کیا اور بعد ازاں ستمبر میں گوگل کیلئے Nexus 4کے اعلی معیار نفیس ہارڈدیئر فون پیش کر کےذہین فون کی دنیا میں مظبوط مقام حاصل کیا۔
نوکیا پیور ویو:41 میگا پکسل کیمرہ کے ساتھستمبر میں  صبر آزما انتظار کے بعد ایپل iOS 6سے لیس iPhone 5مارکیٹ میں لایا ،جس میں نقشہ جات کیلئے گوگل میپ کی متبادل ایپل  اطلاقیے میں موجودفاش غلطیوں سے ایپل کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اگست  میں نوکیا کی بجائے سیمسنگ نےمائیکروسافٹ کے نئے او ایس ونڈوز فون 8 ذہین فون ATIV Sپیش کیا تو آخر کار ستمبر میں ہی نوکیا نے بھی WP8سے آراستہ دو جدید سمارٹ فون Lumia 920 & 820مارکیٹ میں پیش کیے،جو کہ نوکیا کی Pureviewکیمرہ ٹیکنالوجی سے تیار کیمروں سے آراستہ تھے۔اگلے ماہ HTC نے بھی WP8کے دو سیٹ 8Xاور8Sپیش کیے۔اتنے اعلی معیار اور نفیس ذہین فونوں کی موجودگی کے باوجود انکی عام عوام میں مقبولیت کی راہ میں حائل انکی ہوشربا قیمتیں ہیں جو کہ اوسط صارف کی   کی پہنچ سے بہت باہر ہیں ۔اس صورتحال میں بہت سے مقامی اداروں اور خاص کر Huawieاور ZTEنے کم خرچ اورنسبتاً کم میعار کے ذہین فون متعارف کرائے ،جنھیں نہ صرف ابھرتی ہوئی منڈیوں بلکہ  بشمول ترقی یافتہ ممالک کے بہت پزیرائی حاصل ہوئی۔جس کے بعد بڑے ادارے بھی بجٹ فون تیار کرنے اور قیمتیں کم کرنے پر مجبور ہوگئے۔

سمارٹ فون ماضی ، حال اور مستقبل 4

آئی فون کی آمد:قسط 4
آنجہانی سٹیو جابزآئی فون متعارف کراتے ہوئے2007ذہین فون کی تاریخ کا یادگار ترین  سال رہا،جب جون 2007میں ایپل انکارپوریشن iPhone کے زریعے  سمارٹ فون کے میدان میں اور  پہلے ہی وار میں سب حریفوں  کو گھائل کر کے رکھ دیا،اگرچہ یہ مکمل  سمارٹ فون نہیں تھا کیونکہ اس میں تھرڈ پارٹی اطلاقیے نصب کرنے کی سہولت نہیں تھی مگر پھر بھی اسکا یوزر انٹرفیس آئندہ آنے والے ذہین فونوں کیلئے   معیار(Standard) بن گیا ،اور مسقبل میں سب ذہین فون انٹرفیس اسی طرز پر  ڈیزائن کیے جانے  لگے۔ iPhoneمیں ملٹی ٹچ خوبی کے ساتھ ساتھ براہ راست انگلیوں کے لمس سے ان پٹ دی جا سکتی تھی اور  اس سے پہلے  ٹچ موبائل میں ان پٹ کیلئے مخصوص قلم'Stylus'استعمال کیا جاتا تھا۔
نوکیا این 95اسی دوران نوکیا نے بغیر ٹچ کے اعلی معیار سمبئین ذہین فون بنانے کا سلسلہ جاری رکھااور ایک جدید ترین موبائل N95آئی فون سے پہلےمارچ2007  میں مارکیٹ میں پیش کیا،اگرچہ اسکے ابتدائی فروخت میں کچھ سافٹ ویئر خرابیاں تھیں مگر یہ اس دور کا بہترین موبائل تھا،جو کہ آج بھی 5میگا پکسل کے اعلی معیار کیمرہ،وائی فائی ،G3 ،جی پی ایس،ایکسلیریٹو میڑ اور TV-outجیسی خوبیوں  کی بدولت اتنا ہی کارآمد ہے جتنا اس وقت تھا مگر اس میں صرف اسکی2.6انچ بغیر ٹچ سکرین ہی ایک ماضی کا حصہ  لگتی ہے۔
اس دوران یورپ اور ایشائی مارکیٹ پر نوکیا جبکہ مشرقی امریکہ میں بلیک بیری کی حکمرانی تھی۔لیکن بلیک بیری عام صارفین کی بجائے بزنس کلاس کے کیلئے ذہین فون تیار کرنے پر توجہ رکھی۔جبکہ  HTCنے اپنی توانائیاں ونڈوز موبائل سے آراستہ پاکٹ پی سی طرز کے موبائل وضع کرنے پر مرکوز صرف کیں۔اوپن ہیندسیٹ الائنس: 2007 ہی میں گوگل نے ہارڈ ویئر ،سافٹ ویئر اور موبائل نیٹورک آپریٹرز کے اہم  ترین 34 کمپنیوں کے ساتھ ملکر Open Handset Allianceکی بنیاد رکھی ،جسکا مقصد تجارتی موبائل کے مقابلے اور آذاد معیارات متعارف کرانا اور انکو جدید تر بنانا تھا۔ساتھ ہی موبائل کیلئے آزاد مصدر آپریٹنگ سسٹم اینڈرائڈ لانچ کیا گیا۔ ایپل ایپ سٹور:2008 میں ایپل نے نیا آئی فون 3Gپیش کیا۔اس آئی فون میںWeb 2ٹیکنالوجی پر تیار کیے  تھرڈ پارٹی اپلیکیشن  نصب کی جا سکتی تھیں۔ ساتھ ہی ایپل نے آنلائن ایپ سٹور کا تصور دیا ،جہاں سے صارفین براہ راست اطلاقیے اپنے فون میں اتار کر فی الفور نصب کر سکتے تھے۔ اس سے اطلاقیوں کی تیاری میں انقلاب پیدا ہوا۔ 
اسی اثنا میں اینڈائڈ آپریٹنگ سسٹم کے سلسلے میں پہلی قابل ذکر پیش رفت ہوئی جب HTCکی جانب سے پہلا اینڈرائڈ ذہین فونDreamمارکیٹ میں پیش کیا گیا۔بعد ازاں ادارے نے اپنے مزید اینڈرائد ذہین فون  Touch pro ،Touch DiamondاورTouch HDبھی مارکیٹ کی زینت بنائے۔ سونی ایریکسن نے لگژری ونڈوز موبائل پر مشتمل ذہین فون Xperia X1تیار کیا تو بلآخر  نوکیا نے بھی  ٹچ فون کے خطرے کا ادراک کرتے ہوئے سمبین ٹچ موبائل 5800 مقابلے میں پیش کیا ۔اسی سال کی پیڈ کی بجائے  ٹچ ذہین فونوں کی عالمی  مارکیٹ میں سبقت کا آغاز ہوا۔ 2009 2009میں اینڈرائڈ موبائل کثرت سے دستیاب تھے۔HTC نے دو غیر راویتی ماڈل Heroاور Tatto کے ساتھ ایک کم قیمت ورژنSenceبھی پیش کیا۔ساتھ ہی پام نے ایک نیا آپریٹنگ سسٹم Web OSاپنے ناکام پام اوایس کی جگہ پیس کیا۔اگرچہ قابل ذکر کامیابی تو حاصل نہ کر سکا ، مگر کمپیوٹر سے منسلک کامیاب صنعتی ادارے ایچ پی کو یہ بہت دلچسب لگا اور اس نے پام کو خرید لیا  اور بعد ازاں hp Web-OSکے نام سے جاری کیا مگر یہ کامیابی نہ حاصل کر سکا۔ ایپل کی جانب سے آئی فون3GSکی آمد ہوئی جو 16 اور32جی بی کی میموری کیساتھ دستیاب تھا۔
نوکیا: نئے تجربات
نوکیا:این 900
اسی دوران نوکیا کی جانب سے ایک اور دلچسب قدم اٹھایا گیا جب اس نے سمبین کی بجائے  لینکس سے اخذ کردہ Maemo OSپر مشتمل موبائل  N900 پیش کیا ۔جو کہ اپنی زیادہ قیمت اور مشکل انٹرفیس کی وجہ سے مقبولیت نہ پا سکا۔ ساتھ ہی نوکیا  نے N800اور N810کے نام سے ٹیبلٹ بھی فروخت کیں۔سونی ایریکسن کی جانب سے Xperia X10اینڈرائڈ ذہین فون مارکیٹ میں متعارف ہوا۔سیمسنگ جو ابھی تک پوری قوت سے ذہین فون سے میدان میں نہیں اترا تھا،موبائل مارکیٹ میں بدلتے رجحانات کا اداراک کرنے ہوئے اپنے ملیکتی Touch-wiz انٹرفیس کیساتھ نئے اینڈرائڈ او ایس سے مزین اپنی بے حد کامیاب گلیکسی لائن کا پہلا  اینڈرائڈ فون  i7500پیش کیا۔ 2010 میں سیمسنگ نےاگرچہ  ذہین فون کیلئے اپنا تیار کردہ باڈااو ایس (Bada OS)لانچ کیا مگر کمپنی نے اپنے اینڈرائڈ کے اعلی معیار فون کی تیاری میں بھی پیش قدمی بھی جاری رکھی۔ دوسری طرف HTCنے بھی اب اپنی ساری توجہ اینڈرائڈ  پرصرف کرنی شروع کیں ،اورگوگل کے برانڈ سے فروخت ہونے والے ذہین فون Nexus Oneکے ساتھDesireلائن کے موبائل تیار کیے۔یوں ونڈوز موبائل کو اپنے دیرینہ رفیق سے محرومی پرسخت مشکل  کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا  مائیکروسافٹ نےمقابلے میں رہنے کیلئےدوبارہ  نئے انداز میں ذہین فون کے میدان میں اترنےکی تیاری شروع کر دی۔

سمارٹ فون: ماضی ،حال اور مستقبل 3



نئی صدی ،نئی پیش رفت: قسط 3 اکیسوی صدی کے آغاذ میں ترقی یافتہ ممالک میں  سمارٹ فون کے اسمتعال میں تیزی آئی، اور مختلف نئے تازہ دم کھلاڑی بھی میدان میں آئے انہیں میں سے پہلا پہش رفت اور مشہور و معروف موبائل ساز اداروں جاپان کے   سونی اورس ویڈن کے ایریکسن نے مشترکہ طور پر سونی ایریکسن کی بنیاد  2001 میں رکھی اور سمبین پر مشتمل فون P800پیش کیا۔اسی اثناء میں  نوکیا نے تیسری نسل کے کمیونیکیٹر9210کو متعارف کرایا جودوسروں جدتوں کے علاوہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے  کہ  کلر ڈسپلے کا حامل پہلا سمارٹ فون تھا اور ساتھ ہی اس میں GEOS کی بجائے سمبئین (Symbian)آپریٹنگ سسٹم کو استعمال کیا گیا۔ یوں ابتداء ہی سے آنے والے عشرے میں سمبئین اور نوکیا کو ذہین فون کے میدان میں حکمرانی حاصل ہوئی جو آئندہ عشرے تک جاری رہی۔اگرچہ اس دوران جنوبی کورین کمپنی  سیمسنگ  SPH-i500(پام او ایس) ،Segem  اور مٹرولاکی جانب سے ذہین فون تیار کرنے کی رفتار میں خ خاصی تیزی آچکی تھی ۔مگر 2002میں مزید دونئے اداروں کی آمد سے  ذہین فون کی دوڑ صحیح رفتارسے شروع ہوتی ہے۔ مذکورہ اداروں میں پہلے فریق کینیڈ ین کمپنی ریسرچ ان موشن(RIM)نے پوری قوت سےبلیک بیری 5810کے نام سےQwertyکی بورڈ سے آراستہ ذہین فون سے اس میدان میں قدم رکھا تو دوسری طرف تائیوان کے ادارے ہائی ٹیک کارپوریشن بمعروف HTC(جو کے پہلے بھی دوسرے اداوں کیلئے  موبائل تیار کر رہا تھا)اپنے برانڈ نیم کے ساتھ مارکیٹ میں Canaryذہین فون کی صورت میں قدم رکھےاوردونوں اداروں نے اعلی معیار کے سمارٹ فون متعارف کرانے میں اپنی منفرد شناخت بنائی۔ اینڈرائڈ کے بیج: 2003میں ہی ایک اور تبدیلی کی جانب پیش قدمی شروع ہوئی جو اس وقت دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی، لیکن بعد میں اس نے سمارٹ فون انڈسٹری کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ اینڈی روبن (ایپل کے ایک سابقہ ملازم)نے اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم لینکس کے کرنل پر مشتمل  ایک نئے موبائل آپریٹنگ سسٹم کی تیاری کیلئے  اینڈرائڈ انکارپوریشن کی بنیاد رکھی،جسے بعد ازاں اگلے سال گوگل نے خرید لیا اور یہ آخر کار موجودہ دور کا کامیاب ترین آپریٹنگ سسٹم بنا۔اسی سال نوکیا کی جانب سے  6600 نامی کامیاب سمبئین ذہین فون متعارف کرایاگیا جسے پوری دنیا میں مقبولیت حاصل ہوئی۔
نوکیاکا سنہرا دور: نوکیا کمیونیکیٹر:  9500 2004 اور اگلے تین برس نوکیا نے نئے ڈیزائن متعارف کرائے ،مگر اسی دوران امریکہ اور کنیڈا کی مارکیٹ میں بلیک بیری کی حکمرانی رہی، خاص کر کاروباری طبقہ کیلئے خاص ایپس اور Qwerty کی بورڈ بلیک بیری کی پہچان بنے۔اسی سال نوکیا کمیونیکیٹر سریز کاآخری ماڈل  9500 اور اسکا ساتھ کم فیچر 9300 متعارف کرایا گیا ۔9500 نوکیا کا پہلا کیمرہ اور وائی فائی سے مزین کمپنی کا ذہین فون تھا۔
2005 مین  نوکیا نے دو نئی سیریز متعارف کرائیں،پہلی N سیریز جو کہ ملٹی میڈیا سروسز یعنی میوزک پلے بیک ، ذبردست کیمرے اور  WLAN کنیکٹوٹی کی وجہ سے مشہور ہوئی اور دوسری الیک بیری کے مقابلے میںQwertyسیریزجو  Eبزنس صارفین کے لئے  کی پیڈ کیساتھ وائرلیس نیٹ ورک   سے منسلک ہونے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
نوکیا۔ این سیریز کے چند مشہور ماڈلنوکیا 7710ٹچ سکرین2006 میں نوکیا کا پہلا ٹچ سکرین اسمارت فون  7710 پیش کیا گیا مگر یہ کامیاب نہ ہو سکا،جس پر نوکیا نے ٹچ سکرین موبائل کے  نئے ماڈلز کی تیاری مؤخر کر کی اپنی توجہ EاورN سیریز کےکامیاب موبائل پر مرکوزکر لی۔لیکن ان کامیاب ماڈلز میں  ٹچ انٹرفیس کے علاوہ ہر خوبی موجود تھی، یوں  کسی نئے ادارے کیلئے ٹچ سکرین ہی ایک واحد راستہ تھا جس سے  نوکیا کی اجارہ داری کو چیلنج کیا جا سکتا تھا۔

سمارٹ فون ، ماضی حال اور مستقبل :2

تاریخی پس منظر: (قسط: 2)IBM: Simon 1994اگرچہ سمارٹ فون کا تصور 1973 میں دیا گیا مگر پہلا ذہین فون تقریباً 20 سال بعد IBM کی طرف سے متعارف کرایا گیااور کسی موبائل کیلئے ذہین فون کی اصطلاح پہلی دفعہ 1997 میں استعمال ہوئی۔ اب ہم تفصیل سے ان تمام عرصہ سے تاحال ذہین فون کے ارتقاء کا جائزہ لیں گے۔
1973 میں ٹھیوڈور جارج ٹیڈ(Theodore George Ted Paraskevakos) نے ڈیٹا پروسیسر ، بصری ڈسپلے اورٹیلیفون کو یکجا طور پر ایک آلے میں سمولینے کے تصور کو پیٹنت کرایا ،جو کہ بینکنگ کے مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اس  پیٹنٹ کے20 برس  بعد 1992میں IBMنے Codexکمپیوٹر نمائش میں Simonنامی فون متعارف کرایا جس میں موبائل کے ساتھ PDAکو یکجا کیا گیا۔لیکن مارکیٹ میں Simon کے نئے اور بہتر ورژن کی آمد اگست 1994 میں ہوئی۔فون کال کے علاوہ اس موبائل کی ٹچ سکرین سےای میل پیغاما ت بھی بھیجے اور وصول کیے جا سکتے تھے۔نوکیا کی آمد: Nokia: Communicator 9000اس کے بعد فن لینڈ کی مشہور زمانہ کمپنی نوکیا نے اپنی کمیونیکیٹر سیریز کا پہلا موبائل1996 میںNokia 9000کمیونیکیٹر متعارف کرایا۔یہ ہتھیلی میں سمانے جا والے کمپیوٹر (Palm Computer)کی طرز کا آلہ تھا جس میں موبائل کےساتھ HPکے PDAکو یکجا کیا گیا۔بلیک اینڈوائیٹ سکرین،397گرام وزن،انٹل کے پرانے 24میگاہرٹز، 386پروسیسر سے لیس یہ فون صرف GSMنیٹورک پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ساتھ ہی Geos V3.0آپریٹنگ سسٹم کی وجہ سے ای میل اور ٹیکسٹ براؤزنگ بھی کی جا سکتی تھی۔اگرچہ اس میں ٹچ کی بجائے Qwertyکلیدی تختے کا استعال کیا گیا، یہ وقت کا مقبول ترین موبائل  ثابت ہوااوراسی سے ہی  نوکیا کو "وفادار"صارفین بھی ملے جو کہ صرف نوکیا کی مصنوعات کو ترجیح دیتےہیں۔اور اب اسمارٹ فون: Ericson: GS 800لیکن نوکیا یا IBMکسی نے بھی اپنے فون کو سمارٹ فون نہیں کیا بلکہ یہ اصطلاح سویڈش کمپنی ایریکسن نے 1997میں اپنے موبائلGS  800 کے آزمائشی نمونے(Prototype)کیلئے استعمال کی ،یہ موبائل بھی نوکیا 9000 کی طرح فولڈایبل ڈیزائن پر مشتمل اور دو سکرینوں سے مزین تھا جن میں سے مین سکرین  ٹچ سکرین تھی۔لیکن HTC(جو تبOEMکی حثیت سے صرف الیکٹرانک مصنوعات دوسرے اداروں کیلئے تیار کرتا تھا)کا تیار کردہ ابتدائی نمونہ کبھی فروخت کیلئے نہیں پیش کیا جا سکا۔ اگلے سال میں نوکیا نے اپنے قدم اعلٰی معیار (High End/Flagship)ذہین موبائل فون کے میدان میں مظبوط کیے اور اگلی نسل کا کمیونیکیٹر 9110 مارکیٹ میں پیش کیا ۔جو253گرام وزن کے ساتھ نہ صرف اپنے پیش رو سے ہلکاتھابلکہ اسکا حجم بھی بہت کم تھا۔ ساتھ ہی اس میں 33میگا ہرٹز پرAMDکا  486 آرکیٹیکچرپر مشتمل پروسیسر نصب تھا۔1999اور 2000 میں ایریکسن نے مارکیٹ میںR380 فون متعارف کرایا،جونہ صرف سمارٹ فون کے  نام پیش کیا گیا پہلا موبائل تھا، بلکہ موبائل آپریٹنگ سسٹم سے لیس پہلا ذہین فون بھی  تھا۔اسے اپنے مظبوط ڈیزائن اور ٹچ سکرین کی وجہ سے مشہور ہوا۔
Qualcom: PDQ 800قوالقوم(Qualcom)جسے آجکل موبائل پروسیسر بنانے والا سب سے بڑے ادارے کی حیثیت حاصل ہے، کی جانب سےبھی جون 1999میں PDQ 800ذہین فون پیش کیا گیا۔ یہ Palm OS پر مشتمل پہلا ذہین فون تھا۔ 
صدی کے آخری سال میں ذہین فون کی ترقی میں قدرے تیزی آئی اور جاپانی کمپنی مسٹوبشی نےمائیکرسافٹ کے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم پر مشتملTrium Mondo نامی فون متعارف کرایا،جو کہ حقیقتاً ایک بلیک اینڈ وائیٹ سکرین اورNEC  کے 166 میگاہرٹز پر مشتمل پاکٹ پیسہ پراضافی  جی ایس ایم ماڈیول نصب کر کے تیار کیا گیا۔اسی سال مٹرولا کا A6188کے نام سے لینکس سے اخذ کردہ آپریٹنگ سسٹم سے لیس ذہین فون بہت مقبول ہوا ۔Mitsobushi : Trium
(2000 سے آگے سمارٹ فون کے ارتقاء کا سفر اگلی قسط میں ملاحضہ کریں۔)

Pages