سائنسیات

سمارٹ فون:ماضی ،حال اور مستقبل

  اسمارٹ فون،کچھ ابتدائی باتیں:قسط1
یادش بخیر اگر ہم آج سے عشرہ ڈیڑھ سال پہلے کا تصور کریں تو اس وقت ملک عزیزمیں موبائل فون کو ایک لگژری اور صرف امراء کی عیاشی کی چیز سمجھا جاتا تھا ۔پھربہت سی خیر ملکی کمپنیاں موبائل سیکٹر میں سرمایہ کاری کیلئے آئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے موبائل فون لگژری کی بجائے عام ضرورت بن گیا۔اب ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں65 تا 70 فیصد آبادی کے پاس ایک عدد  فون موجود ہے۔بالکل یہی صورتحال آجکل سمارٹ فون یعنی ذہین فون کے حوالے سے درپیش ہے۔جو کہ ایک لگژری اور سٹیٹس سمبل سے بڑھ کر اب متوسط طبقے میں بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے،اور 3Gموبائل نیٹورک کے نیلامی اورشروع ہونے  (جس کی نیلامی اگلے برس متوقع ہے) کے بعد یہ بھی ہر خاص و عام کی ضرورت بن جائے  ہو گا اور تب سہی معنوں میں ایک ہمارے ملک مین ایک نئی انفارمیشن ایج کی شرعات ہونگی(کیونکہ موبائل سے وہ صارفین بھی انٹرنیٹ سے منسلک ہو سکیں گے جو بہتر طور پر کمپیوٹر استعمال نہیں کر سکتے)۔اسمارٹ فون:اگر ہم ذہین فون کی بات کریں تو بنیادی طور پر ایک موبائل  فون ہی ہوتا ہےجو کہ ایک موبائل آپریٹنگ سسٹم سے لیس،جدیداور ذیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت کے ساتھ ساتھ بیک وقت مختلف الاقسام موبائل نیٹ ورک کے(مثلاً 2G،3Gوغیرہ)ساتھ منسلک ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فیچر فون :نوکیا1100دنیا میں سب سے ذیادہ فروخت والاموبائل ہے ابتداء میں عام فیچر موبائل فون میں ذاتی ڈیجیٹل معاون(Personal Digital Assistant: PDA)کی خصوصیات کو یکجا کیا گیا۔اس کے بعد پورٹیبل میڈیا پلیئر کی خوبی کا اضافہ ہوا۔ بعد ازاں رفتہ فتہ کم صلاحیت کے ڈیجیٹل کیمرہ ، جیبی وڈیو ریکارڈر اور حتی' کہ دستی جی پی ایس نیویگٹر جیسی اضافی صلاحیتوں کو جمع کر کےایک کثیر المقاصد آلے یعنی ذہین فون کا نام دیا گیا۔جس میں نت نئے سینسرز کا اضافہ آئے دن جاری ہے۔

آجکل کے ذہین فونوں میں ہائی ریزولیشن سکرین، ڈیٹا کی تیز رفتار منتقلی کیلئے نئی جنریشن کے3Gو4G موبائل نیٹورک کے ساتھ  ساتھ  وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کی صلاحیت اور مکمل ویب براؤزر سےبھی لیس ہوتے ہیں،جو کہ موبائل کیلئے تیار ویب صفحات کے علاوہ  عام ویب پیج بھی دکھا سکتے ہیں۔براؤزنگ کے علاوہ موبائل سکرین پرآپ HDوڈیو اور آڈیوسے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔موجودہ چند سالوں میں تیز رفتار موبائل نیٹورک اور کثیر تعداد میں ٹھرڈ پارٹی موبائل اطلاقیوں(Apps) کی دستیابی سے ذہین فون کے استعمال میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
فیچر فون اور سمارٹ فون کا فرق:ذہین فون اور فیچر فون میں فرق بہت مبہم ہے اور ایسی کوئی  واضح و متفقہ  تعریف دستیاب نہیں جس کی بنیاد پر دونوں میں فرق کیا جا سکے۔لیکن ایک بنیادی و اہم فرق یہ ہے کہ: سمارٹ فون میں ٹھرڈ پارٹی اطلاقیوں کی تیاری کیلئے فون کے آپریٹنگ سسٹم اور ہارڈ ویئر  تک آسان  رسائی و ہم آہنگی کیلئے بہتر اور جدید اپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API)مہیا کیا جاتا ہے جبکہ فیچر فون عموماً ملکیتی فرم ویئر پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں ٹھرڈ پارٹی ایپ(APP) کو Java MEیا BREWجیسے پلیٹ فارم کے زریعےسپورٹ مہیا کی جاتی ہے۔
جدید تریں سمارٹ فون: ایپل :آئی فون 5S, سیمسنگ :گلیکسی S4،گوگل:نیکسس4ایک اور پیچیدگی جو فیچر فون اور ذہین فون میں فرق کرنے میں رکاوٹ ہے کہ: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید فیچر فون کی خصوصیات بھی ماضی میں ذہین فون کی  حیثیت سے فروخت کیے گئے موبائل فون سے ذیادہ ہو گئیں ہیں۔اس کے علاوہ موجودہ دور میں کچھ مینوفیکچرر اپنےجدید ذہین فون کیلئےسپرفون یا فیبلٹ کی اصطلاح بھی استعمال کرتے ہیں جو کہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان فون کی کمپیوٹنگ صلاحیت کم درجہ ٹیبلٹ پی سی کے جیسی ہے۔
(اسمارٹ فون سے متعلق  مزید معلومات اگلی تحریر میں ملاحضہ کریں۔) 

کمیت اور وزن:(انفوگرافک)

کمیت اور وزن:(انفوگرافک)
کمیت (Mass)اور وزن(Wieght) کوہم  اگرچہ روزمرہ زندگی میں ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔مگر فزکس میں یہ ایک دوسرے سے بہت مختلف مقداریں ہیں۔ ذیل میں انکا  ایک انفوگراف کےذریعے موازنہ پیش کیا گیا ہے، چونکہ یہ میرا پہلا انفوگراف ہے اس لئے یہ انفوگراف کی بجائےٹیکسو گراف ذیادہ لگ رہا ہے،مگرپھر بھی پیش خدمت ہے۔
(انفوگراف:  انفوگراف کے ذریعے مختلف الاقسام گراف اور تصاویر کے ذریعے معلومات کو کم سے کم الفاظ استعمال کرتے ہوئے قارئین تک پہنچایا جاتا ہے۔)
 

ایٹم کا ابتدائی تصور

ایٹم کا ابتدائی تصور:(قسط    :4)یونانی فلاسفروں کے نزدیک ایک اور اہم سوال ،مادے کی انتہائی مختصر سطح پر تقسیمدرتقسیم سے متعلق تھا۔اگر ایک پتھر کے دو ٹکڑے کیے جائیں یا پھر کوٹ کر پاؤڈر بھی بنا دیا جائے تو ہر ٹکڑا پھر بھی پتھر ہی ہو گا، حتی کہ اسے مزید تقسیم در تقسیم کیا جائے۔کیا مادے کی یہ تقسیم در تقسیم لا محدود حد تک جاری رہے گی؟یا بلاآخر ایک بنیادی ذرے تک پہنچ کر رک جائے گی۔اس سوال کے جواب میںIonian Leucippus (دورزمانہ450قبلمسیح) نے سب سے پہلے قدرتی طور پہ ذہن میں آنے والا خیال بیان کیا  کہ مادے کا ہر ٹکڑا چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اسے مزید چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔حتٰی کہ ایک ایسے ٹکڑے تک پہنچ جائیں جو کہ اتنا باریک ہو گا کہ اسے مزید چھوٹے ٹکڑے میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔دیموکیریٹس (Democitus)نے انہی خطوط پر سوچنا جاری رکھا،اور اس نے آخری ناقابل ِتقسیم زرے کو اٹاموس(atomos)کا نام دیا ،جسکا مطلب ناقابل تقسیم کے ہیں اور اسی سے ہی آج کا لفظ ایٹم اخذ کیا گیا ہے۔یہ اعتقاد کہ مادہ ایسےانتہائی باریک ذرات سے مل کر بنا ہے ،جو کہ مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا،اٹامزم (Atomism)کہلاتا ہے۔ایٹم کا بنیادی خاکہاس  نظریہ میں ڈیموکریٹس نے کہا کہ ہر عنصر کے ایٹم مختلف سائز اور ساخت رکھتے ہیں؛اسی انفرادیت کے باعث مختلف عناصر  ایک دوسرے سے  مختلف خصوصیات رکھتے ہیں۔مختلف طرح کے اشیاء جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں یا ہمارے زیر استعمال ہیں مختلف عناصر کے ایٹموں کا آمیزہ ہوتی ہیں،اوراس آمیزے کے اجزائے ترکیبی بدل کر کسی ایک چیز کودوسری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ یہ سب تصورات آج ہمیں بہت جدید محسوس ہوتے ہیں۔دیموکیرٹس کے پاس اپنے نظریات کی تائید کیلئے کوئی بھی تجربہ نہیں موجود تھا۔(یونانی فلسفی تجربات کی بجائے ،نتائج کو پہلے سےبیان شدہ اصولوں سے اخذ کیا کرتے تھے۔)لیکن دوسرے فلسفیوں اور خاص کر ارسطو کویہ نظریہ کہ: مادہ کا ایک ایسا ٹکڑا جو کہ مزید چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم نا کیا جاسکے،خلاف ِقیاس لگا کہ انھوں نے اسے قبول نہیں کیا۔اس لئے ایٹمی تصور دیمرقس کی دو ہزار سال بعد تک غیر معروف رہا اور اس پر کبھی کبھار ہی بحث کی گئی۔مگر یونانی فلسفی ایپقرس نے اپنے ایٹمی تصور کو اپنے افکار اور تعلیمات کا حصہ بنایا، آئندہ دور میں بہت سے اس کے معتقدین نے اس نظریئے کو زندہ رکھا۔انہی میں سے ایک معتقدرومی شاعر لوکرٹس قارسبھی شامل  تھا  جس نے 'اشیاء کی حقیقت 'نامی ایک منطوم نظم لکھی ،جس میں شاعری کے ذریعے ایٹم کے تصور کو سکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔اس لیے اگرچہ اہل یونان تو نے دیمرقس اور ایپیقرس کے فلسفیانہ اقوال ہی یاد رکھے ،لوکرٹسکی نظم ادب میں زندہ رہی اور اپنے ساتھ ایٹم کے  تصور کو اپنے ساتھ جدید دور تک لے آئی۔جہاںاسی تصور کو نئے سائنسی طریقہ کارکے ذریعے متعارف کرایاگیاپھر اس نظریہ کو آخرکافتح نصیب ہوئی، اور آج ہم بہتر طور پر ایٹم سے واقف ہیں، جن کا تفصیلی ذکر اگلے ابواب میں آئے گا۔

اہل یونان کے عناصر:

 قدیم انسان (قسط:3)ذکر  اہل یونان کے عناصر اربعہ کا(آگ،ہوا،مٹی اور پانی):600 قبل مسیح سے دانشور اور فطین یونانی فلسفیوں نے اپنی ذہانت نظام ِکائنات اور اس کو بنانے والے مختلف مادوں کی ساخت کو جاننے میں صرف کی۔یونانی فلسفی نئی ٹیکنالوجیاور عملی ترقی کی نسبت 'کیوں' کے سوال میں گرے رہے۔مختصراً یہی وہ پہلی قوم تھی جنھوں نے اس بات پر بحث کی جسے ہم 'کیمیائی نظریہ' سے جانتے ہیں۔ایسی نظریا ت کی ابتداء تھیلس (Thales)سے ہوئی،اس سے پہلے بھی بہت سے یونانی گزر چکے تھے اور یونانیوں سے پہلے اور اقوام بھی،یقیناً انھوں نے بھی مادے کی تبدیلی کے متعلق غور و فکر کے بعد نتائج اخذ کیے ہونگے ،مگر بد قسمتی تاریخ کے اوراق سےان کےکام کا کوئی بھی حصہ ہم تک نہیں پہنچ سکا ہے۔تھیلس ایک یونانی فلسفی تھا ،جسکے ذہن میں غالباً یہ سوال پیدا ہو گا کہ:اگر ایک چیز کسی دوسری چیز میں تبدیل ہو سکتی ہے ،مثلاًایک نیلگوں چٹان کو تانبے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے،تو پھر اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟کیا وہ درحقیقت ایک چٹان ہے یا تانبہ؟یا یہ دونوں بلکل کوئی اور چیز نہ ہوں؟اگر کوئی بھی چیز کسی دوسری چیز میں ڈھل سکتی ہے(شاید ایک سے زیادہ مختلف مراحل میں)تو پھر کیوں نہ یہ سبھی اشیاء ایک اصل (عنصر)شے1کی مختلف صورتگری نہ ہوں؟تھیلس کے نزدیک آخری سوال کا جواب اثبات میں تھا ،کیونکہ ہماری کائنات میں ایک بنیادی ہم آہنگی اور نظم وضبط پایا جاتاہے۔یوں باقی یہی رہ جاتا ہے کہ تلاش کیا جائے کہ وہ بنیادی مادہ،شے یا عنصر کیا ہو سکتا ہے۔تھیلس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ بنیادی مادہ پانی ہو سکتا ہے،کیونکہ یہ زمین میں سب سے زیادہ مقدار میں نظر آتا ہے۔اس نے خشکی کے انتہائی بڑے حصے کو گھیرا ہوا ہے؛یہ کرہ ہوائی میں بھی بخارات کی شکل میں موجود ہوتا ہے؛یہی ٹھوس زمین میں بھی رس کر نچلی تہوں تک چلا جاتا ہے؛اس کے بغیر زندگی ناممکن ہے۔اسی نے پہلے پہل یہ تصور دیا کہ زمین ایک چپٹے دائرے کی طرح ہے،جسکے اوپر ایک نیم کروی آسمان ہے،جو کی پانی کے لامحدور ذخیرے پر تیر رہی ہے۔تھیلس کا یہ فیصلہ کہ ہر طرح کا مادہ ایک ہی عنصر سے ملکر بنا ہے،فلسفیوں نے تسلیم کر لیا ،مگر یہ کہ وہ بنیادی عنصر پانی ہے ،اس کو نظر انداز کر دیا گیا۔تھیلس کے ایک صدی بعد ہی فلکیاتی مشاہدات سے آہستہ آہستہ یہ اخذ کیا گیا کہ آسمان نیم کروی کی بجائے مکمل کرہ ہے،جبکہ زمین خود بھی ایک کروی جسم ہے جو کہ آسمان کے کھوکھلے کرہ کے مرکز میں معلق ہے۔لیکن اہل یونان کے نزدیک مکمل خلاء کا تصور نہیں تھا؛ اس لئے ان کے خیال میں زمین و آسمان کے بیچوں بیچ صرف خالی جگہ نہ تھی۔کیونکہ اس دور میں زمین سے بلند ترین جگہ تک جہان بھی انسان پہنچا ہوا موجود تھی اس لیے قرین قیاس محسوس کیا گیا کہ ہوا نے آسمان تازمین تمام جگہ کو ہوا نے گھیرا ہوا ہے۔اس طرح کی سوچ اور خیالات سے ،ایک یونانی فلسفی ایناگزمینس نے تقریباً 570 قبل مسیح میں یہ کہا کہ ہوا ہی کائنات کی بنیادی یا اصل عنصر ہے ۔اس نے یہ محسوس کیا کہ زمین کے مرکز کے قریب ہوا بہت ذیادہ دباؤ کی بنا پر انتہائی کثیف ہو کر سخت مادوں مثلاً مٹی اور پانی جیسے اشیاءمیں بدل گئی تھی۔ جیسا کہ ذیل کے تصویری خاکے میں دکھایا گیا ہے۔ارسطو کے عناصر اربعہ اور آسمانی عناصربمع علامات


لیکن دوسری طرف ہراکلیٹس(قریباً 550 قبل مسیح میں) کا خیال اس سے مختلف تھا۔اگر یہ "تغیر"(Change)ہی کائنات کا بنیادی وصف ہے تو وہی چیز کائنات کی اصل عنصر ہونے کے لائق ہے جو سب سے ذیادہ تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتاہے۔اس کے نزدیک ہمیشہ تغیر و تبدیلی سے گزرنے والا یہ عنصر آگ ہو سکتی تھی۔اور آگ سے ہونے والی تبدیلیاں ہی اٹل اور ہمیشگی ہوتی تھیں2۔
ایناگزمینس کے دور میں فارس نے آیونا کے ساحل کو فتح کر لیا تھا۔جب آیونیوں کی مزاحمت ختم ہوئی تو اہل فارس نے سخت رویہ اپنایا ۔اور یہاں سائنسی سرپرستی کی رویت ختم ہو گئی ۔تاہم مغربی علاقوں کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین اپنے ساتھ یہ روایت بھی دوسرے علاقوں میں لے گئے۔فیثاغورس جو کہ آیونہ کے جزیرے ساموس میں پیدا ہوا تھا ،529 قبل مسیح میں نقل مکانی کرکے جنوبی اٹلی چلا گیا ،جہاں اس کی تعلیمات سے بہت ذیادہ دانشوروں پر اثر انداذ ہوئیں۔عناصر اربعہ: اس کے معتقدین میں سب میں سے نمایاں یونانی فلسفی ایپڈکولس (490تا 430 قبل مسیح) سسلی کا رہائشی  ایپڈکولس (490تا 430 قبل مسیح) تھا۔اس نے بھی اپنی توجہ کائنات کے اصل عنصر کی تلاش پر مرکوز رکھی ۔لیکن اصل اور بنیادی عنصر کا چناؤ بہت مشکل معلوم ہوا۔اس لئے اس نے ایک درمیانی راستہ چنا جائے۔کیا لازم ہے کہکائنات کی اصل صرف ایک واحد عنصر ہی کیوں ہے؟کیوں نہ ان کی تعداد ایک سے ذیادہ ہو۔اس نے کائنات کی اصل اور بنیادی عناصر کو چار قرار دیا۔ان میں ہرات کی "آگ"،اینگزیمس کا عنصر "ہوا"،تھیلس کا عنصر " پانی "اور چوتھا عنصر اس کا اپنا تجویز کردہ عنصر"مٹی" تھا۔ چار بنیادی عناصر کا یہ نظریہ عظیم ترین یونانی فلسفی ارسطو (384تا 322 قبل مسیح)نے بھی درست تسلیم کیا تھا۔ارسطو نہ ان عناصر کو صرف مختلف اشیاء کا نام نہیں سمجھا۔بلکہ اس کے نزدیک وہ "شے "جسے ہم پانی کے نام سے جانتے اور چھو کر محسوس کر سکتے ہیں حقیقی "عنصر پانی "کی قریب ترین شکل ہے۔ارسطو کے نقطہ نظر کے مطابق:ایک عنصر دو مخالف جوڑواں خصوصیات مثلاًگرم اور ٹھنڈا،گیلا اور خشک کا مجموعہ ہوتا ہے۔اس کے مطابق ایک خصوصیت کسی اور طرح سے نہیں مل سکتی تھیں۔اس لئے صرف چار جوڑے رہ گئے ۔گرم اور خشک ،آگ؛گرم اور گیلی ،ہوا؛ٹھنڈی اور خشک ،مٹی اور ٹھنڈا اور گیلا پانی بنتا تھا۔اس کے علاوہ اس نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور کہا،ہر عنصر کی جدا گانہ خصوصیات ہیں۔اس وجہ سے مٹی نیچے بیٹھتی ہے اور آگ اوپر اٹھتی ہے۔تاہم ،آسمانی اجسام کی خصوصیات زمینی اجسام سے بہت مختلف تھیں۔اوپر یا نیچے حرکت کرنے کے بجائے وہ زمین کے گرد دائروں میں تیرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اس لئے ارسطو نے یہ کہا کہ آسمانی اجسام ایک پانچویں عنصر "ایتھر"سے بنے ہیں(یونانی میں ایتھر کا مطلب چمکنا ہے ،یہ نام آسمانی اجسام کے روشنی کی وجہ سے دیا گیا)۔علاوہ ازیں آسمانی اجسام میں کوئی تبدیلی نہیں آتی،ارسطو نے کہا کہ ایتھر مکمل،خالص،بے عیب اور زمین پر موجود چار ناخالص عناصر سے بہت مختلف ہے۔چاربنیادی عناصر کا یہ نظریہ دو ہزار سال تک اہل علم میں رائج رہا۔آج اگرچہ سائنسی حلقوں میں سے ختم، اور غلط قرار دیا جا چکا ہے۔پھر بھی ہمارے ہاں علم جعفر اور پر اسرار علوم کے ماہرین میں اسی طرح زندہ ہے جیسے دوہزار سال پہلے تھا۔
1عنصر یا Element کے ماخذ کا صحیح اندازہ نہیں لیکن یہ جدید کیمیاء میں بہت کثرت سے استعمال ہو رہا ہے ۔اگرچہ یہ لفظ یونانیوں نے استعمال نہیں کیا مگر اسے استعمال کیے بغیر یا حوالہ دیے بغیر اہل یونان کے نظریات کو بیان کرنا ممکن نہیں۔
2 اگرچہ آج ہمیں یہ قدیم نظریات بہت طفلانہ محسوس ہوتے ہیں اس کے باوجوداہل یونان کے یہ اندازے بہت ذبردست تھے ۔فرض کریں اگر ہم چارون عناصر "ہوا"،"پانی"،"مٹی"اور "آگ" کی جگہ "گیس"،"مائع"،"ٹھوس"اور"توانائی"کی متبادل اصطلاحات استعمال کریں ۔تو یہ حقیقت ہے کہ گیسیں کو اگر بھینچا اور ٹھندا کیا جائے تو وہ پہلے مائع اور مزید ٹھنڈاکرنے پر ٹھوس حالت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔یہ وہی صورتحال ہے جسکا تصور ایناگزمینسنے دیا تھا۔اور ہراکلیٹسکے آگ کے متعلق خیالات ہمارے آج کے دور میں توانائی کے متعلق خیالات کہ ؛توانائی نہ صرف کیمیائی تبدیلیوں کی عامل (Agent)ہے بلکہ نتیجتاً بھی توانائی میں ہی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔

دھاتیں دریافت تا استعمال

قدیم انسان (قسط : 2) دھاتیں دریافت تا استعمالپتھروں کےدور کے بعد انسان نے نسبتاً خام اشیاء کا استعمال سیکھنا شروع کیا۔لیکن اِن نئی اشیاء کی مفید خصوصیات جاننے کے لیے انسان کو مشکل اور کھٹن مراحل کے ساتھ سخت تحقیقی عمل سے گزرنا پڑا۔آج ہم ان نئی اشیاء کو دھاتوں (Metals)کے نام سے جانتے ہیں۔Metalsممکنہ پر یونانی زبان سے اخذ کردہ ہے ،جسکے معنی تلاش کے ہیں۔پہلی دریافت ہونے والی دھاتیں جو کہ خام ڈھلوں کی صورت میں دریافت ہوئیں ، لازمی طور پر سونے یا تانبے کے ٹکڑے تھے۔کیونکہ یہ ان چند دھاتوں میں سے ہیں جو کبھی کبھار خالص حالت میں بھی مل جاتی ہیں۔سونے کا سنہرا اور تانبے کا سرخی مائل چمکدار  رنگ آنکھوں کو بہت جاذب اور بھلا لگا ہو گا،جو کہ بلا شبہ پتھروں کے  پھیکے رنگوں سے بہت بہتر تھا۔تاہم دھاتیں انسان کو جس بھی حالت میں ملیں، انکا استعما ل  پہلے پہل رنگدار قیمتی  پتھروں اور سیپ کے موتیوں کے ساتھ بطورِ زیور کیا گیاہو گا۔دوسری خصوصیات کے ساتھ دھاتو ں میں ایک اضافی صفت یہ بھی تھی کہ دھاتیں لوچدار(Malleable)ہوتی ہیں یعنی کوٹنے پر یہ بغیر ٹوٹے، ہموار ہو جاتی ہیں۔جبکہ پتھر ،مٹی اور لکڑی وغیرہ  باریک ذروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔یہ خاصیت اتفاقا ً انسان کے علم میں آئی ہو گی۔ مگر اس جان لینے کے بعدانسان نے کوٹ کر دھاتوں کو پیچیدہ اور خوبصورت اشکال میں ڈھالنا شروع کر دیا۔تانبے کا دور
تانبے پر کام کرنے والے کاریگروں کو جلد  ہی یہ مشاہدہ ہوا ہوگا کہ تانبے کو آسانی سے تیز دھار بنایا جا سکتا ہے؛ اور اسکی دھار ان مواقع پر بھی قائم رہتی ہے جہاں پتھروں کی نوک ٹوٹ جاتی ہے۔مزید یہ کہ کند ہونے کی صورت میں اسے آسانی سے دوبارہ تیز دھار بنایا جا سکتا ہے۔لیکن اس دور میں تانبے کی کمیابی ہی آلات و زیورات میں اسکے وسیع استعمال میں حائل تھی۔تاہم یہ دریافت ہونے کے بعد کہ لازم نہیں تانبہ ہمیشہ خالص حالت میں ملے، اسے پتھروں(کچ دھات) سے بھی کشید کیا جا سکتا ہے؛ اسکی پیداوار بڑھنے لگی۔مگر یہ دریافت کہاں ، کب اور کیسے ہوئی ؟ اس حقیقت سے ہم ابھی تک ناواقف ہیں۔لیکن اندازہ ہے کہ کسی ایسے جنگل میں جہاں نیلگوں چٹانیں ہوں۔ جب حادثاتی طور پر آگ لگنے سے درجہءحرارت بہت بڑھ گیا ہو گا ،تو پھروہاں نیلگوں کچ دھات سے تانبہ کشید ہوا ہو گا، اوریوں آگ کے بعد بچ جانے والی راکھ سے تانبے کی چمکدار گولیاں ملیں ہونگی۔لیکن ایسا بہت دفعہ ہونے  کے بعد ہی کسی کے ذہن میں آیا ہو گا کہ اگر موزوں نیلی چٹانیں جمع کر کےانھیں بہت ذیادہ گرم کیا جائے تو خالص تانبہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔یہ طریقہ 400قبل  ِ مسیح میں دریافت ہو گیا تھااوریہ دریافت  مغربی مصر یا  بابل میں سے کسی جگہ ہوئی یا پھر دونوں جگہوں پر انفرادی طور پر۔تانبے اور کانسی کے دور کے ہتھیار(facrsndetails)اس بات سے قطع نظر کہ تانبہ کہاں دریافت ہوا ،تانبے کی پیدوار اتنی ہو گئی کہ زیورات کے علاوہ اب مختلف آلات بنانے کیلئے اسکا استعمال ہونے لگا۔مثلا ً مصر میں ایک 3020قبلِ مسیح کے مقبرے سے تانبے سے بنا ایک برتن دریافت ہوا ہے۔3000 قبل مسیح تک تانبے کی سخت بھرتیں بھی تیار کی جانے لگی تھیں،جو کی اکٹھے تانبے اورقلعی کی کچ دھاتوں کی کشید سے حاصل ہوئیں۔تانبے اور قلعی کی بھرت کو کانسی کہا جاتا ہے۔(بھرت مختلف دھاتوں کے آمیزے کو کہا جاتا ہے)اس کے بعد 2000قبل ِ مسیح تک کانسی سے بنے جنگی ہتھیاراور زرہ بکتر عام استعمال ہونے لگے۔مصر میں کانسی سے بنی اشیاء ایک فرعون کے مقبرے سے دریافت ہوئیں ہیں جو کہ 3000قبل مسیح  میں حکومت کر رہا تھا۔کانسی کے دور کا سب سے قابلِ ذکر واقعہ ٹروجان کی جنگ تھی؛ جس میں کانسی  کے زرہ بکتروں میں ملبوس افواج کانسی کے ہتھیاروں سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہویئں۔اس دور میں کوئی بھی فوج کانسی کے ہتھیاروں کا بغیر دھاتی اسلحہ کے مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔یعنی تب کانسی کے کاریگر آج کے دور میں نیوکلیائی سائنسدانوں جیسی اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ دھاتوں سے متعلق کام کرنے والےکاریگر  اور تاجر،طاقتور طبقہ میں شمار ہوتے تھے۔لوہے کا دور: 
اس کے بعد ایک انسانی تہذیب نئے دور میں داخل ہوئی اورکانسی کے دور کے انسان نے ایک نئی دھات دریافت کر لی،یہ نئی دھات لوہا تھی۔لیکن تب لوہا بہت قلیل مقدار میں دستیاب تھا،اسلئے یہ بہت قیمتی اور اسلحہ بنانے کےلئے ناکافی تھا۔لوہے  کی کمیابی کی وجہ یہ تھی کہ یہ خالص حالت میں صرف مختلف جگہوں پر پھیلے شہابِ ثاقب کے ٹکڑوں سے ملتا تھا جو کہ بہت کم مقدار میں تھےاور نہ ہی اس وقت لوہے کو کچ دھات سے کشید کرنے کا کوئی طریقہ موجود تھا۔ مشکل یہ تھی کہ لوہا،تانبے کی نسبت اپنی کچ دھات سے  زیادہ مظبوطی سے جڑا ہوتا ہے۔اس لئے لوہے کو کچ دھات سے کشید کرنے کیلئے تانبے کی نسبت ذیادہ مقدار میں حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔یوں لوہے کی کچ دھات سے کشید کیلئے لکڑیوں کی آگ ناکافی تھی۔جبکہ ہوا کی بہترین متواتر فراہمی پرجلتے کوئلے سے  حاصل شدہ انتہائی  درجہ ء حرارت پر ہی لوہے کی کچ دھات سے کشید ممکن تھی۔سب سے پہلے لوئے کو Asia Minnorمیں 1500قبل مسیح میں کامیابی سے کشید کیا گیا۔ہٹی پہلی قوم تھے جنھوں نے لوہے کی دھات کاری میں مہارت حاصل کی ۔انھوں نے لوہے کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا اور اس سے مختلف اوزار و ہتھیار تیار کیے۔1200 قبل مسیح میں Asia Minnor کے بادشاہ کے اپنے گورنر کو لکھے خطوں میں لوہے کی پیداوار کے حوالہ جات ملتے ہیں۔لوہا خالص حالت میں بہت زیادہ سخت نہیں ہوتا۔لیکن دھاتی کشید کے دوران یہ کوئلے کی اتنی مقدار جذب کر لیتا ہے کہ لوہے اور کوئلے کی بھرت بن سکے جس کو ہم سٹیل کہتے ہیں ۔سٹیل سختی اور مظبوطی میں بہترین قسم کی کانسی سے ذیادہ بہتر ہوتا ہےاور اس کی دھار لمبے عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔سٹیل سازی کے ہنر نے میٹلرجی(دھاتوں کے کشید کے علم)کی ترقی و ارتقاء میں اہم کردار ادا کیا۔لوہے کے ہتھیاروں سے لیس فوج کانسی سے مسلح فوج کو باآسانی شکست دے سکتی تھی۔یوں اس دور کو ہم  لوہے کا دور کہتے ہیں۔اسی عرصے میں کانسی سے مسلح اہل یونان کو لوہے سے لیس کم تر فوج سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔لوہے کے ہتھیاروں سے بھاری طور پر مسلح افواج شام کی تھیں ،جنھوں نے اپنے لئے بہت بڑی سلطنت فتح کی۔

علم کیمیاء کا آغاذ: اہل ِ یونان کے عروج سے پہلے عملی کیمیاء کے بہت سے فنون عملی اور تکنیکی لحاظ سے پختگی حاصل کر چکے تھے؛بالعموم اہل مصر مذہبی اور تہذیبی رسم و رواج کے تحت لاشوں کو حنوط کرنے کے لیے نت نئے کیمیائی مرکبات وضع کر چکے تھے۔ساتھ ہی مصری نہ صرف دھاتوں کی کشید میں مہارت رکھتے تھےبلکہ معدنیات،پھلوں کے رس اور جڑی بوٹیوں کے ملاپ سے رنگدار مادوں کی تیاری کے علاوہ خوشبویات کی تیاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔کیمیاء کے ماخذ کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ لفظ 'خم' سے اخذ کردہ ہے جو مصری اپنے ملک کیلئے استعمال کرتے تھے؛ اسلئے کیمیاء کو ہم اہل مصر کا علم بھی کہہ سکتے ہیں۔ایک اور روایت میں کیمیاء لاطینی لفظ خمس(Khums)سے اخذ کیا گیا ہے ،جسکا مطلب "پودوں کے رس نکالنے" کا علم ہے۔اگر ہم 'رس' سے مراد پگلی ہوئی دھات لیں تو کیمیاء کو دھاتیں کشید کرنے کا علم بھی کہا جا سکتا ہے۔(اسکے علاوہ ایک تیسری روایت یہ ہے کہ کیمیاء عربی لفظ 'الکیمی' سے اخذ کردہ ہے جسکے معنی راکھ کے ہیں۔مصنف)تاہم کیمیاء یا کیمسٹری کا ماخذ کوئی بھی ہو، آجکل یہ علم کیمیاء کیلئے مستعمل ہے۔

تاریخِ کیمیاء

قسط  1             باب اول                قدیم انسان
پتھر کا دور
پتھر کے دور کے اوزار
قدیم انسانی تہذیب کی ابتداء میں قدیم انسان نے دستیاب اشیاء کو ان کی قدرتی حالت میں ہی بطورِ اوزار استعمال کرنا شروع کیا ؛ جس حالت میں اسی آسانی سے میسر ہوتی تھیں۔مثلاٗ درختوں کی مضبوط شاخیں دوسری اشیاء کو توڑنے کے کام آتیں اور شاید اس دور کا انسان پتھروں کو میزائل کے طور پر استعمال کرتا ہو گا۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کا پہیہ بھی رواں ہوا ، انسان نے چٹانوں کو تیز دھار اور نوکیلا بنانا ، اور پھر انہیں لکڑی کے دستوں میں ٹھونک کر بہتر اوزار بنانا سیکھ لیا ۔ ان اوزاوں سے انسانی مشاہدے میں آیا کہ پتھر اور لکڑ دونوں علیحدہ خصوصیات برقرار رکھتے ہیں - لکڑ ،لکڑ رہتی ہے اور پتھر ، پتھر۔تاہم اشیاء کی بنیادی ساخت تبدیل ہونے کا پہلا مشاہدہ تب ہوا ہو گا جب یقینا ٗ بادل چمکنے سے انسان آگ  سے روشناس ہوا۔ آگ سے درختوں کی مضبوط لکڑ کو بےکار اور نرم راکھ میں بدل گئی اپنی پہلی حالت سے یکسر مختلف۔ اسی طرح کے اور مشاہدات جیسے کہ گوشت پڑے پڑے گل کر بدبو دار ہو جاتا ہے اور کچھ دن میں پھلوں کا رس کھٹا اور بدزائقہ ہو جاتا ہےانسان کے علم میں رہے ہونگے۔
مختلف مادوں میں ہونے والی یہی تبدیلیاں ایک نئے سائنسی علم کی بنیاد بنیں جسے آج ہم کیمیاء کے نام سے جانتے ہیں؛ بعد میں ہمیں پتا چلا کہ ایسی تبدیلیاں اشیاء کی بنیادی مادوں اور ساخت میں تبدیلی سے رونما ہوتی ہیں ۔ کسی چیز کے بنیادی ڈھانچے اور ساخت میں تبدیلی کو ہم کیمیائی تبدیلی کہتے ہیں۔
کیمیائی تعاملات کا انسانی فائدے کیلئے استعمال تب شروع ہوا جب انسان نے آگ جلانا اور اسے برقرار رکھنا سیکھ لیا ( یقینا  ٗ آجکل آگ لگانا کوئی مشکل کام نہیں رہا ) ۔ اس کے بعد انسان عملی طور پر ایک " کیمیاء دان" بن گیا۔ ایسے طریقے وضع کر لئے جن کے زریعے حرارت پیدا کر کے لکڑ یا دوسرے آتش گیر مادوں کو ہوا سے تعامل کرا کے روشنی، حرارت کے ساتھ دھواں، راکھ اور بخارات حاصل ہوتے ۔ لکڑی کے چھوٹے ٹکڑے اور برادہ تیار کیا جاتا اور پھر رگڑ سے چنگاری پیدا کر کے آگ جلا لی جاتی۔ حاصل ہونے والی حرارت کھانا پکانے ( کیمیائی تعامل) کیلئے استعمال کی جاتی؛ جبکہ کھانا پکانے سے  غذا کا رنگ ، ساخت اور زائقہ تبدیل ہو جاتا۔  آگ سے اینٹیں پکائی جانے لگیں،  پھر آہستہ آہستہ نرتن سازی اور شیشہ سازی کا آغاز شروع ہوا۔ 
اْس دور میں عام اور آسانی سے دستیاب اشیاء انسان کے زیرِ استعمال تھیں مثلا ٗ پتھر ، لکڑ ، کھالیں اور ہڈیاں وغیرہ ۔ ان سب میں سے پتھر سب سے زیادہ پائیدار، سخت اور دیرپا تھے ۔ اسی لئے آثارِ قدیمہ میں آج بھی ہم پتھر آسانی سےدیکھ سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس دور کو پتھر کا دور کہا جاتا ہے۔
قدیم انسانی آبادی مصور کی آنکھ سےانسان پتھر کے ہی دور میں تھا کہ  800  سال قبلِ مسیح میں دنیا کے کچھ خطے جو آج مشرقِ و سطا  کے نام سے موسوم ہیں،دنیا کو انقلابی تبدیلیوں سے روشناس کیا۔انسان جو دوسرے جانوروں کی طرح شکار پر گزر بسر کرتا تھا ، اب اس نے غذا کیلئے دوسرے جانور پالنے شروع کیے اور اسطرح غذا کی متواتر فراہمی ہونے لگی۔ مختلف فصلوں کی کاشت سے غذائی اجناس کی مسلسل فراہمی مزید پائیدار ہو گئی۔ غذائی اجناس کی وافر فراہمی سے آبادی بڑھنے لگی۔ ذرعئی کاشت نے انسان کو ایک جگہ رہنے کا پابند کر دیا ۔ یوں مستقل آبادیاں بسنے لگیں اور شہر بننے کا عمل شروع ہوا۔ یہی انقلاب تہذیب ( Civilization ) کا آغاز تھا ( لفظ Civilization لاطینی زبان میں شہر کے لئے مستعمل ہے)۔
قدیم تہذیب کے پہلے چند ہزار سال پتھر اوزار اور آلات بنانے کیلئے بنیادی ضرورت تھا۔ پتھر کے استعمال کے نئے نئے طریقے وضع کیے جا چکے تھے۔ یہ دور " نیا زمانہِ پتھر " ( Neolithic Age ) کہلایا جو پتھروں کی نفیس پالش کیلئے مشہور ہے۔اسی دور میں برتن سازی کی صنعت میں جدت آئی۔ آہستہ آہستہ ترقی کے اثرات وسطی ایشیائی مرکز سے دور دراز پھیلنے لگے۔ تاہم انسانی تہذیب مشرقِ و سطا خصوصاً قدیم مصر اور Sumeria  (موجودہ عراق )میں ترقی کی نئی منازل طے کرتی رہی۔
 آئزک ایسیموف کی کتاب " A Short History of Chemistry" سے اخذ کردہ۔

عنوانِ کلام


اللہ کا نام لے کر آغازِ کلام تو لکھ دیا ہے لیکن عنوانِ بلاگ کےلئے کوئی نام ابھی تک جچ نہیں رہا ہے، احسن یہی ہے کہ سب سے پہلے بلاگ کیلئے بہتر نام سوچا جائے اور یہی ہمارے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔
ابھی یہ سطور لکھنے تک کیونکہ بلاگ صرف میرے ہی زیرِمطالعہ ہے اس لئےبتاتا چلوں کہ اب تک دو دفعہ عنوان کی تبدیلی عمل میں آ چکی ہے۔ پہلا عنوان " sciurdu " تھا؛ جو کہ سائنس اردو کی تلخیص تھا لیکن پھر یہ ترک کر دیا کہ یہ عنوان میں انگریزی زبان کا اثر زیادہ لگ رہا ہے ۔اس کے بعد "صد رنگ" رکھا لیکن یہ ایک اردو ڈائجسٹ "سب رنگ" سے بہت ملتا جلتا لگ رہا تھا اور ساتھ ہی عنوان سے بلاگ کا موضوع گرافکس کی اشارہ کرتا محسوس ہوا اس لئے یہ نام بھی ترک کر کے مزید بہتر عنوان کی تلاش شروع کر دی۔
آخرکار بہت سے نام زیرِبحث رہے اور ایک نام ذہن میں سیاسیات کی طرح " سائنسیات " آ  گیا ۔ گوگل سے سائنسیات لکھ کر کھوج کی تو لفظ کئی جگہ مستعمل تھا سو بلاگ کیلئے یہی نام کنفرم کر لیا اور آپ تک یہی نام پہنچے گا-
سائنس کی اصطلاع آجکل بیت وسیع ہو چکی ہے،اس لئے کوشش رہے گی کہ آپ کو نہ صرف قدرتی سائنسیات( Natural Sciences) بلکہ سماجی سائنسیات ( Social Sciences) پر تحاریر پیش کر سکوں اور اس کے ساتھ ساتھ میرے تجربات و احساسات بھی آپ تک اسی صفحے کے زریعے پہنچتے رہیں گے۔

آغازِکلام

 آغازِکلامسب سے پہلے خدا  کا شکر ہے کہ اس نے زندگی جیسی نعمت عطا کی، عقل و فہم سے نوازہ، اور آپ سے مخاطب ہونے کی توفیق دی۔
آج سے اپنے بلاگ کا باقاعدہ آغاز کرنے لگا ہوں جس کے لیے جناب "م بلال م" اور اس کے علاوہ جناب "محمد شاکر عزیز" کا بھی بہت احسان مند ہوں، کہ جن کی وجہ اردو بلاگ لکھنے کی ترغیب ملی۔ جو لوگ اردو میں بلاگ لکھنا چاہتے ہیں وہ اس کتاب "اردو اور بلاگ" کا مطالعہ ضرور کریں۔جس سے نہ صرف آپکو بلاگنگ کے متعلق معلومات ملیں گی بلکہ اردو بلاگ لکھنے کیلیے مکمل معلومات بھی با آسانی حاصل کرسکیں گے۔


اردو زبان میں آئی ٹی اور ٹیکنالوجی پر تو بہت سے اردو بلاگ نظر سے گزرے ہیں مگر کوئی بلاگ بنیادی سائنسی علوم حیاتیات، طبعیات، کیمیا، ریاضی پر معلومات اوردلچسب اور آسان فہم مضامین کے حوالے سے ابھی تک نظر میں نہیں آیا ہے۔اور تو اور خود کمپیوٹر سائنس کے بنیادی موضوعات ( کمپیوٹر پروگرامنگ، ڈیجیٹل لاجک وغیرہ ) پر بھی اردو میں معلومات کا یہی عالم ہے۔ اسی لیے میں اپنے بلاگ کے زریعے سے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ 

پہلی تحریر کے لیے کچھ خاص اور منفرد پیش نہیں کر رہا ہوں، لیکن امید ہے کہ آئندہ تحریروں میں آپکو پختگی اور جدت دونوں خصوصیات یکجا میسر ہوں۔ اپنی آراء اور مشوروں سے ضرور نوازیے گا-
 پہلی تحریر پڑہنے کا شکریہ ۔۔۔

Pages