نظر سے قلم تک

دنیا نیوز آفس


سالگرہ پر دنیا نیوز میں آفس کے ساتھیوں کے ساتھ لی گئی چند تصاویر۔۔۔ 






کشمیر اور سوات کی سیر

مارچ 2016 میں سماء کے ساتھی عرفان الحق کے ساتھ سیر کو نکلا.. کراچی سے اسلام آباد پہنچے... ایک دن قیام کے بعد کشمیر راولاکوٹ پہنچے.. جہاں موسم کی خرابی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بنجوسہ جھیل ہی جا سکے. تولی پیر مس ہو گیا... خیر کشمیر کشمیر ہے.. وہاں ٹھنڈے موسم میں خوب انجوائے کیا..

دو دن بعد راولپنڈی پہنچے. اور پھر سوات کا رخ کیا.. مینگورہ، مدین، بحرین، مالم جبہ کی سیر کی.. راستے بند ہونے کی وجہ سے کالام نہ جا سکے..

سوات سے دو دن بعد رخ کیا پشاور کا.. جہاں سے دوبارہ کراچی پہنچے.. ائیر پورٹ سے باہر آتے ہی کراچی کے روایتی گرم موسم نے ہمارا استقبال کیا.. بہت مختصر مگر اچھا ٹوور رہا...

کراچی پریس کلب میں...

چند دن قبل پریس کلب میں دوستوں کے ہمراہ لی گئی کچھ تصاویر...

عرفان الحق، فیصل خان، راجہ ثاقب، محمد فیضان، ذیشان علی اور فرحان نور

ڈریم ورلڈ

سماء کی جانب سے اسٹاف کیلئے پکنک کا اہتمام کیا گیا. مقام تھا ڈریم ورلڈ ریسورٹ... شدید گرمی کے باوجودہم نے کافی انجوائے کیا... اس دن کی خاص بات یہ بھی تھی کہ خیراللہ بھائی کا سماء میں آخری دن تھا... انکے ساتھ ساتھ پہلی بار سماء کے دیگر دوستوں کے ہمراہ تفریح کا پہلا موقع ملا...

میں کلام ہوں


آپ نے فلم آئی ایم کلام دیکھی ہے؟ یہ بھارتی فلم ہے، دوہزار گیارہ میں بنائی گئی یہ فلم ایک گھنٹہ چھبیس منٹ کے دورانئے پر مشتمل ہے۔ کچھ دن قبل اس مووی کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو اس نے دل جیت لیا۔ فلم کا مرکزی کردار ایک بچہ ہے جسے سب چھوٹو کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ بھارتی سابق صدرعبدالکلام سے انتہائی متاثر ہےاوراس نے اپنا نام بھی کلام رکھ لیا۔

یہ ایک موٹیویشنل مووی ہے۔ جو بتاتی ہے کے انسان کی کامیابی صرف قسمت پرہی منحصر نہیں بلکہ اپنی منزل کوپانے کیلئے کوشش، محنت، لگن اور دلچسپی بھی بہت ضروری ہے۔

چھوٹو ایک غریب گھرانے کا محنتی بچہ دکھایا گیا ہے، اسکی ماں اسے کچھ پیسے کمانے کی غرض سے راجھستان کے گاؤں میں دھابے پر کام کاج کیلئے چھوڑ جاتی ہے۔ چھوٹو کو اسکول جانے کا بہت شوق ہے مگروہ اپنی بد حالی اور غربت کے باعث پڑھنے سے محروم رہ گیا۔ چھوٹو ایک ذہین بچہ ہے، جو ہر چیز کو دیکھ کر کچھ بھی سیکھ جاتا ہے۔ دھابے کے مالک کی چائے علاقے کی مشہور چائے ہے جسے دھابے کا مالک ہی بناتا تھا۔ چھوٹو نے مالک کو ایک بار چائے بناتے دیکھا تو اس نے بھی ویسی ہی چائے بنا کر مالک کو پیش کر دی۔
چھوٹو کا سب سے اچھا دوست حویلی کے ڈھاکر کا چھوٹا بیٹا ہے۔ جسکی عالیشان عمارت میں رہائش ہے۔ بڑا کمرہ اور بہت سارے کھلونے کمرے میں موجود ہیں۔ چھوٹو کمرے میں چھپ چھپ کر اس سے ملنے جاتا اور انگریزی سیکھتا، کئی انگریزی کی کتابیں دھابے لے جاتا اوربرتن دھونے کے بعد انگریزی کے الفاظ یاد کرتا،  بدلے میں ڈھاکر کے بیٹے کو ہندی سکھاتا۔

دوسرے بچوں کی طرح اس کا دل بھی چاہتا تھا کہ وہ بھی اسکول جائے اور بڑا آدمی بنے، سابق بھارتی صدرعبدالکلام سے متاثر چھوٹو اپنا یہ شوق فلم کے آخر میں پورا کر ہی لیتا ہے۔ اور ڈھاکر اسے سچ بولنے کا انعام اسکول میں داخل کرا کردیتا ہے۔ اس مختصرفلم میں کئی مثبت پیغامات دینے کی کوشش کی گئی ہے۔  

سائیں کی جانب سے ناشتہ

آفس کے ساتھیوں کے ساتھ غیر رسمی ناشتہ

تصویر میں ارباب چانڈیو، فیصل خان، سعد بخاری، راشد عشرت، ذیشان علی، کامران الدین اور آپکا بھا ئی :-)

شکریہ سر!

یہ محض 100 روپے نہیں، بڑی حوصلہ افزائی ہے۔  بیحد شکریہ سر!

بیورو چیف سماء کراچی محترم اسلم بھائی کے ساتھ۔

سانحہ پشاور

پشاور کا آرمی پبلک اسکول، جہاں بزدل دہشتگردوں نے اپنی مذموم کارروائی میں سینکڑوں بچوں کو ہمشہ کی نیند سلا دیا۔ واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ میرے پاس نا وہ زبان ہے، نا ہی وہ الفاظ جن سے مذمت کر سکوں بس واقعے سے دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ملک میں تمام حلقوں نے اس کی مذمت اوردہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم کیا۔ قومی سیاسی قیادت سر جوڑ کر بیٹھی اور مسلے کے حل کیلئے عملاً اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ پھانسی پر سے پابندی ہٹا لی گئی اوردہشتگردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کو سزا دیئے جانے کے تمام اقدامات بھی مکمل کر لئے گئے، پھانسی گھاٹ کو چمکانا اور رسیوں کے انتظامات مکمل ہوئے اور پھانسی کی سزا پانے والے ڈاکٹرعثمان اورارشد محمود کوفیصل آباد کی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ پشاور کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔۔۔ یہ کہہ رہی ہے ہماری سیاسی قیادت۔۔۔۔ عمران خان نے دھرنا ختم کیا اوروہ بھی ایک میز پر مخالفین کے سامنے آ کربیٹھ گئے۔ خیرایسے موقع پر کپتان کا فیصلہ انتہائی مثبت ہے۔ پشاور سانحے کے بعد ملکی سیاسی قیادت ایک ہو گئی۔۔

واقعے کے بعد قوم واقعی قوم بن کرسامنے آئی۔ مختلف تنظیمیں تو ایسے مواقعوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا ہی دیتی ہیں مگر ان تمام کے ساتھ اس بار کچھ الگ ہوا۔۔۔ کچھ نیا ہوا۔۔۔ پشاور واقعے پر قوم سوگ میں ڈوب گئی۔۔۔۔ قوم آنسوؤں سے روتی نظر آئی۔۔ اس بھانک واقعے پر میں نے گھر گھر میں دہشتگردوں کیخلاف غصہ اوراشتعال دیکھا۔۔۔ گلی گلی بچوں، بڑوں، خواتین، بوڑھوں اور جوانوں کو سڑکوں پر نکلا دیکھا۔۔۔ یہ لوگ کسی تنظیم کے کہنے پر نہیں نکلے تھے۔۔۔ یہ لوگ کوئی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت نہیں نکلے تھے۔۔۔ یہ نا ہی کسی پوسٹر، بینر یا سائن بورڈ کو پڑھ کر باہر نکلے۔۔۔۔ یہ عام شہری اپنے پیارے بچوں کو لیکر سڑکوں، چوہراہوں محلوں میں چراغ لئے ان بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنے نکلے جو بے چارے حصول علم کیلئے اسکول میں کلاسز لے رہے تھے اور دہشتگردوں نے ان بہادر بچوں کو نشانہ بنایا۔۔۔ شمعیں روشن کرتے یہ عام لوگ دہشتگردوں کو بتانے نکلے کے ہم تمہاری کسی بزدلانہ کارروائی سے نہیں ڈرتے اور اب تم ہمارا نشانہ ہو گے۔۔ تم نے ہمارے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو نہیں چھوڑا ہم تمہیں نہیں چھوڑینگے۔۔۔۔ ہم تم سے مقابلہ ضرور کرینگے مگر تمہاری عورتوں اور تمہارے معصوم بچوں کو ہاتھ تک نہیں لگائیںگے۔ یہی ہمارا مذہب سکھاتا ہے۔۔۔ یہی ہمارے نبی نے ہمیں سکھایا۔۔

اسکول پر حملے کا واقعہ بہت بڑا واقعہ ہے۔۔ بے حد افسوسناک واقعہ ہے۔۔۔ اس واقعے نے ملک و قوم کا بہت بڑا نقصان کیا جس کا ازالہ ہم ساری زندگی نہیں کر سکتے۔۔ پوری قوم سوگوار آنسؤوں سے رو رہی ہے۔۔ پوری دنیا میں اس درد ناک واقعے کی مذمت کی گئی۔ مگراس افسوس ناک واقعے کے بعد پہلی بار میں نے اپنی قوم کوجاگے ہوئےدیکھا۔ میں نے پہلی بار قوم کو متحد دیکھا۔۔۔ میری اللہ سے دعا ہے کے ہماری قوم کسی حادثے کے بغیر بھی ایسے ہی متحد رہے۔۔  یقین کیجئے پہلی بار احساس ہو رہا ہے کہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ حادثہ تو بہت بڑا ہوا مگر قوم کے متحد ہونے سے پہلی بار تھوڑی سی آزادی بھی محسوس ہو رہی ہے۔ پہلے صرف فوج دہشتگردوں سے مقابلہ کر رہی تھی۔۔ اس حادثے کے بعد میں نے پہلی بار بچے بچے کو دہشتگردوں سے لڑتے دیکھا۔۔ انکے خلاف آواز اٹھاتے دیکھا۔۔ میں نے پہلی بار تاجروں کو خود سے کاروبار بند کرتے دیکھا۔۔ میں نے قوم کو ایسے سوگ مناتے دیکھا جیسے انکے اپنے گھر میں جنازہ اٹھا ہو۔۔۔ جیسے انکے اپنے بچوں کا قتل ہوا ہو۔۔ 

سب کا ایک سوال پیارے پیارے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں نے کیا کیا تھا۔۔۔ آخر ان کا قصور کیا تھا۔۔۔ کون سا مذہب ایسی گھناؤنے عمل کی اجازت دیتا ہے۔۔۔ ملک کے ہر طبقہ فکر کے علماءکرام نے سانحہ پشاورکی سراسر مذمت کی ہے۔ خود پھانسی پانے والے ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود نے تختہ دار پرندامت کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں سے معافی مانگی۔ دونوں کے آخری الفاظ تھے کہ کسی مسلمان کو قتل نہیں کرنا چاہیئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوں۔

اب عدالتیں بھی لگ رہی ہیں، پھانسی بھی دی جا رہی ہے، قومی قیادت بھی ایک ہو گئی اور قوم بھی متحد ہو گئی۔۔۔ مگران سب کیلئے حادثہ بہت بڑا ہوا۔۔۔ تبدیلی دھرنے سے آئی یا سانحہ پشاور سے۔۔۔ مگر واقعی تبدیلی آنہیں رہی۔۔۔ تبدیلی آگئی ہے۔۔۔

کیا دھرنے ہی ہرمسلے کا علاج ہیں؟


مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جب حکومت کوئی اقدام کرتی ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں کرا پاتی۔ کیا یہ کام بھی عوام خود کریں۔ جس چیز پر احتجاج اور دھرنے ہونگے، کیا حکومت کے لئے وہی مسلہ اہمیت اختیار کرے گا۔ کیا دیگر مسائل کو حل کرانا خودعوام کی ذمہ داری ہے۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی اور وزیراعظم کے اعلان کے بعد گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم تو کردی گئیں، مگر پیٹرول کی فراہمی جاری ہے یا نہیں؟ عوام تک پیٹرول کی رسائی ممکن ہو پارہی ہے یا نہیں۔۔۔ اس معاملے سے سب بے خبر ہیں۔۔

ذرائع ابلاغ گزشتہ رات سے چیخ رہا ہے کہ پیٹرول پمپس مالکان اپنی من مانی کر رہے ہیں اور پمپس یا تو بند کر دیئے گئے ہیں یا پھر پیٹرول فراہم نہیں کیا جا رہا۔۔ میں خود گزشتہ رات اور آج دوپہر بھی کئی پمپس بند دیکھ چکا ہوں۔ ماضی میں اس حوالے سے اکثر علاقوں میں چھاپہ مار ٹیمیں دیکھنے کو ملتی تھیں جو قیمتوں میں کمی کے اطلاق کو یقینی بناتی تھیں مگر اب وہ بھی غائب۔ گزشتہ رات بھی وہی ہوا جو آپ پہلے سے جانتے تھے، میں جانتا تھا اور سب جانتے تھے۔۔ مگراس معاملے سے اگر کوئی نا واقف تھا تو وہ صرف حکومت اورانتظامیہ۔۔۔۔ بارہ بجے۔۔ پمپس بند۔۔

ملک میں بد عنوانی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اس دوڑ میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ نجی ادارے بھی پیچھے نہیں۔ قیمتوں میں اضافے پر پیٹرول کی فراہمی میں ذرہ برابر خلل نہیں آتا اورسستے داموں میں خریدے گئے پیٹرول کو ہنسی خوشی مہنگا بیچا جاتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ قیمتوں میں کمی پرپیٹرول پمپ مالکان اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے اورپیٹرول کی فراہمی بند کر کے شہریوں کو پریشان کیا جاتا ہے۔ 

انتظامیہ، حکومت اوروزیراعظم سے میری عرض یہی ہے کہ اگر عوام نے آپکو اقتدار دیا ہے، اختیار دیا ہے تو خدارا اس اختیار کا درست استعمال کرتے ہوئے ایسے منافع خوروں کیخلاف سخت کارروائی کریں۔ شہر میں پیٹرول فراہم نہ کرنے والے صرف دو چار پمپس کو جرمانہ کرکے کچھ دن بند کر دیا جاتا تو شہریوں کو مشکلات نہ بھگتنی پڑتی۔ مگر شاید حکومت کو صرف دھرنوں کا انتظار رہتا ہے۔

عمران خان دھاندلی کی تحقیقات کیلئے چودہ ماہ چیختے رہے مگراس وقت کسی کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی لانگ مارچ اور دھرنے کے بعد اب سب کہتے ہیں کہ ہم نے چھ میں سے ساڑھے پانچ مطالبات مان لیئے۔ اسلیئے کہتے ہیں آج کا کام کل پر مت چھوڑو۔۔۔ درست وقت پر درست فیصلہ کرلینا چاہیئے۔۔ بیشک یہ چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں مگر عوام میں یہ مسائل شعلہ بن کر ابھر رہے ہیں۔

پیٹرول سستا۔۔ اب توعوام کا سوچ لو


چلو جی عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ۔۔۔ یوں پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان کر دیا گیا۔۔۔ اس اقدام سے عوام میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔۔ شہری کہتے ہیں عالمی مارکیٹ میں تیل کی ریکارڈ کمی پر ریلیف براہ راست عوام تک منتقل کرنا خوش آئند ہے۔

وزیراعظم کے اعلان کے بعد وزات خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دیدی۔۔ جس کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے 66 پیسے ، ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 12 پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 4.1 روپے کمی اور ہائی اوکٹین کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر کمی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یکم دسمبر سے پیٹرول 84 روپے 53 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 94 روپے 9 پیسے، لائٹ ڈیزل 77روپے 98 پیسے، ہائی اوکٹین 106روپے27 پیسے اور مٹی کاتیل 83 روپے 18 پیسے فی لیٹر میں ملے گا۔
ملک بھر میں سیاسی ہلچل مچی ہے۔ دارالحکومت میں تحریک انصاف دھرنا دیئے بیٹھی ہے اور پورے ملک میں بڑے بڑے جلسے کئے جا رہے ہیں۔ محسوس یہ ہو رہا ہے جیسے انتخابات 2018 میں نہیں بلکہ 2015 میں ہونے والے ہیں۔۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ دھرنے والوں کے پریشر کی وجہ سے حکومت پیٹرول کا ریلیف عوام تک پہنچا رہی ہے۔ عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر دھرنا نہ ہوتا تو حکومت کبھی بھی پیٹرول سستا نہ کرتی۔
خیر جناب پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نواز شریف کی وجہ سے ہو یا عمران خان کی۔۔۔۔ عوام کو اس کا ریلیف ملنا خوش آئند ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اشیاء خوردونوش سمیت تمام چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹرز کے کرائے بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ حکومت مہنگائی کو ٹھکانے لگانے اورمنافع خوروں کی کمرتوڑنے میں کامیاب ہوپاتی ہے یا نہیں۔ کیونکہ یکم نومبر کو بھی پیٹرول کی قیمتوں میں واضح کمی کے بعد مہنگائی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ 

سیاستدانوں کی جمہوریت۔۔۔ عوام کس کے ساتھ ہیں؟

ہمیں سیاسیات میں جمہوریت کے معنی عوام کی حکمرانی پڑھائے گئے۔ ہم نے پڑھا کہ جمہوری نظام کا مطلب عوام کی حکمرانی ہوتا ہے۔ ہم نے یہ بھی پڑھا کہ جمہوریت ہی وہ نظام ہے جس میں کوئی بادشاہ نہیں ہوتا بلکہ عوام ہی بادشاہ ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ دنیا کے اکثریتی ترقی یافتہ ممالک میں بھی جمہوری نظام ہی رائج ہے۔ بطورسیاسیات کے طالبعلم تو ہم نے سب پڑھا مگر جب کتابوں سے ہٹ کر ملکی نظام کو جانچنے کی کوشش کی تو جمہوریت کے نام کے سوا سب کچھ برعکس نظر آیا۔ ہم نام نہاد جمہوری نظام میں تو رہتے ہیں۔۔۔ مگر ہم حقیقی طور پرجمہوریت سے بہت دور ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کا مطلب محض انتخابات ہونے اور اس کے نتیجے میں ایک نمائندہ حکومت کا قیام ہے۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ جمہوری کلچرمیں بروقت انتخابات کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں عدلیہ اور ذرائع ابلاغ مکمل آزاد ہوتے ہیں، کسی کواپنی بات کرنے سے نہیں روکا جاتا، ملکی تمام ادارے سیاسی مداخلت سے پاک ہوتے ہیں، غیر جانبدارانصاف کی فراہمی ممکن ہوتی ہے، اقتدار پر قابض لوگوں کی نگرانی کی جاتی ہے،جہاں حکمران خود بھی قانون کی پاسداری کے پابند ہوتے ہیں، اگر وہ محسوس کریں کہ عوامی رائے ان کے خلاف ہو چکی ہےتو نئے انتخابات کا اعلان کریں اور کسی بھی مخالف کی جیت کے نتیجے میں اسے قبول کریں۔
اس وقت ملک کے موجودہ حالات کافی کشیدہ ہیں۔ ملک میں سیاسی بحران ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان اورغربت میں پسی عوام سڑکوں پر ہے۔۔ ملک کا دارالخلافہ میدان جنگ بنا ہوا ہے۔۔ مظاہرین ریڈ زون میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔۔ چینی صدر اپنا دورہ پاکستان سیکیورٹی کلئیرنس نہ ملنے کے باعث منسوخ کر چکے ہیں، جس سے تقریباً بتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی تعطل کا شکار ہو گئی۔
گزشتہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انتخابات کیلئے جلسے جلوس کئے گئے ۔۔ ملک بھر کے عوام نے عمران خان کی آوز پر لبیک کہا۔۔۔ ورنہ تحریک انصاف صرف ایک شخص کی جماعت سے مشہور تھی۔ خیرجناب انتخابات کیلئے نگراں حکومت کا قیام تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے کیا گیا اور اسی طرح الیکشن کمیشن کا بھی۔۔۔۔ انتخابات بھی آگئے۔۔۔ اور جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کی زیر سرپرستی قائم ہونے والے الیکشن کمیشن کو ایک کامیابی ضرور ملی۔۔ وہ یہ کہ انتخابات میں تقریباً ساٹھ فیصد عوام کا نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔ جو اس سے قبل انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب تقریباً پینتیس سے چالیس فیصد ہوتا تھا۔


عام انتخابات ہوئے اور پولنگ کے دوران ہی کچھ حلقوں میں تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کو دھاندلی کی شکایات موصول ہونا شروع ہو گئیں۔ الیکشن کی رات کو ہی غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن واضح برتری کے ساتھ کامیاب ہو گئی۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے انتخابات کو متنازع قرار دے دیا۔
تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی تقریباً چونتیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں واضح برتری پراپنی حکومت تشکیل دی۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک انصاف ن لیگ کے بعد ووٹنگ کے تناسب سے ملک کی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری۔ پی ٹی آئی نے جیتی ہوئی نشستوں کو قبول کر کے اسمبلیوں میں حلف تو لیا مگر ابتدا سے ہی پی ٹی آئی کے امیدوار عدالتوں، الیکشن ٹریبونلز اور الیکشن کمیشن سے دھاندلی کے معاملے پر قانونی طور پر رجوع کرتے نظر آئے۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی اور کئی دوسری جماعتوں نے بھی انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کیں جو صرف میڈیا کی حد تک گردش کرتی نظر آئیں۔
عمران خان نے نتائج پرتحفظات کا اظہارکرتے ہوئے حکومت سے دھاندلی کی غیرجانب دارانہ تحقیقات اور چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کر دیا۔ یہ مطالبہ اتنا شدت اختیار کر جائے گا کسی کو اسکا علم نہیں تھا، حکومت کی جانب سے کپتان کے مطالبات کو زیادہ توجہ نہ مل سکی اور ن لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی قانون نہیں کہ حلقے دوبارہ کھول دیئے جائیں، یہ غیر آئینی مطالبہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ مطالبات کے حق میں ہمیں عمران خان کی اپیل پر مختلف شہروں میں چھوٹے موٹے احتجاج بھی نظر آئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں نواز شریف ایک بڑی جماعت کے لیڈر اور بڑے سیاستدان ہیں۔ مگر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ماضی میں انکی انہی غلطیوں کی وجہ سے انکی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائی۔ میرا بھی زاتی خیال یہی ہے کہ الیکشن کے روز سے ہی اگر انتخابات میں کسی بڑی سیاسی جماعت کو کوئی تحفظات تھے بھی تو حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اسکی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔۔  میاں صاحب نے سب کچھ کیا اور عمران خان کے چھ میں سے ساڑھے پانچ مطالبات بھی مان لئے مگرجب پانی سر سے اونچا ہو گیا۔۔۔ یہی مطالبات پہلے مان لیتے تو چھٹے مطالبے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ خیر جناب عمران خان نے چودہ اگست کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کا اعلان کر دیا اوراپنی جماعت کے کارکنوں کو علاقے کی سطح پرمتحرک ہونے کی ہدایت کر دی۔ یہ مارچ حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کیلئے ترتیب دیا گیا تھا۔ کپتان کی منزل وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ اورانتخابات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات تھی۔
ادھر پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کینیڈا سے وطن واپسی کا اعلان کر رکھا تھا،پنجاب حکومت کو نہ جانے کیا سوجی۔۔۔۔ راتوں رات ماڈل ٹاؤن میں قادری صاحب کی رہائشگاہ منہاج القرآن سیکریٹریٹ پر لگی رکاوٹیں ہٹانے کا کام شروع کر دیا۔ جی جناب سترہ جون ہی ن لیگی پنجاب حکومت کا وہ سیاہ دن تھا جب پنجاب پولیس نے پی اے ٹی کے سینکڑوں کارکنان کو موت کی نیند سلا دیا۔۔۔ کتنوں کے زخم آج تک تازہ ہیں۔۔۔ پنجاب پولیس کی کارکنان کے ساتھ جھڑپوں کو پوری دنیا میں دیکھا گیا۔ یہی وہ دن تھا جب پاکستان کی تاریخ میں گلو بٹ بھی منظر عام پرآیا۔ گاڑیاں توڑتا۔۔ پولیس کی قیادت کرتا۔۔۔ معصوموں کو تشدد کا نشانہ بنا کر جشن مناتا اور کوکا کولا پیتا یہی وہ شخص تھا جو پولیس کو اکساتا نظر آیا۔ بعد میں گلو بٹ ن لیگ کا کارکن ثابت ہوا۔


ن لیگ کی حکومت کو چند ماہ ہی گزرے تھے کے اسے ایک سے بڑھ کر ایک مسلے میں گھرنا پڑا۔ اس میں کچھ مسلے ایسے بھی شامل تھے جو انہوں نے خود ساختہ غلطیوں سے اپنے سر لئے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد کچھ حلقوں کا کہنا تھا کہ اب انکے قائد کینیڈا سے وطن واپس نہیں آئینگے مگر جناب انہوں نے بھی اپنے اعلان کو واپس نہیں لیا اور چند دنوں بعد ہی پاکستان پہنچ گئے۔ قادری صاحب کی آمد کیا ہوئی پاکستان کی تمام ہی بڑی چھوٹی سیاسی جماعتوں کا رش منہاج القرآن سیکریٹریٹ پر لگا رہا۔ پیپلز پارٹی کے سوا ہم نے تمام جماعتوں کو وہاں پایا۔ نا صرف یہ۔۔ بلکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بلائی گئی اے پی سی میں بھی سب نے شرکت کی۔
پاکستان عوامی تحریک نے اپنے مطالبات پیش کر دیے جس میں سب سے بڑا مطالبہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مستعفی ہونے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر کا تھا۔ مطالبات کے حق میں ملک بھر میں چھوٹے موٹے احتجاج بھی دیکھنے میں آئے تا ہم دس اگست کو طاہرالقادری نے یوم شہدا منانے کا اعلان کر دیا۔ اور یوم شہدا کے دن ہی انہوں نے اسلام آباد میں انقلاب مارچ کا اعلان کیا۔ 
گیارہ اگست کے بعد ہی مختلف شہروں سے پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے قافلے انقلاب اور آزادی مارچ کیلئے اسلام آباد کیلے روانہ ہونا شروع ہو گئے۔ پندرہ اور سولہ اگست کو اسلام آباد کی شاہراہ دستور مظاہرین سے بھر گئی۔ شرکاء کا سب سے اہم مطالبہ وزیراعظم نوز شریف کا استعفیٰ ۔۔ بات ریڈ زون تک پہنچی۔۔ پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔۔ پارلیمنٹ کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔۔ پی ٹی وی پر بھی حملہ کیا گیا۔ استعفیٰ کے مطالبہ اب تک پورا نہیں ہوا۔۔۔ عمران خان نے ملک میں سول نافرمانی کا اعلان بھی کر دیا۔۔  اب لگتا ایسا ہے کہ حکومت بہت صبر کر چکی۔۔  دھرنا تو جاری ہے۔ مگر کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔۔۔ پی ٹی آئی کے اعظم سواتی جو گرفتار کارکنوں کی ضمانت کیلئے پہنچے تو آئی جی اسلام آباد نے انہیں بھی گرفتار کر لیا۔ اب بھی کریک ڈاؤن جاری ہے ۔۔۔ اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی۔۔ گھیراؤ ۔۔ گلو، بلو، پومی بٹ کے بعد تحریک انصاف کے دھرنے میں نغمے بجانے والا ڈی جے بٹ بھی سامنے آگیا۔ کپتان کو دھرنے میں ہی موجود خاتوں کی جانب سے شادی کی پیشکش بھی ہوگئی۔ میڈیا میں ان رہنے کی شوقین اداکارہ میرا بھی عمران کوشادی کی آفردینے میں پیچھے نہیں ہٹیں۔۔ پر کپتان نے صاف صاف کہہ دیا پہلے نیا پاکستان۔۔ بعد میں شادی۔
۔ کئی دن سے میڈیا پر بھی دھرنوں کا غلبہ ہے۔ حکومت کی جانب سے پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں کی تصاویر بھی آج کل اخبارات کی زینت بنی ہوئی ہے۔۔ بندہ پہچانیں ۔۔ مدد کریں اور ایک لاکھ انعام گھرلے جائیں۔۔  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام سیاستدانوں نے جمہوریت کیلئے دھواں دار تقریریں کیں مگر لوگ تو کہتے ہیں کہ ہمیں جمہوریت سے نہیں دو وقت کی روٹی سے مطلب ہے۔۔۔ حکمران اپنی بد عنوانیاں چھپانے اور اقتدار پر قابض رہنے کیلئے جمہوریت کا درس دے رہے ہیں۔ جمہوریت کہتی کیا ہے اس پر تو وہ خود عمل نہیں کرتے۔


اب مہینہ ہونے کو آگیا۔۔  دونوں جماعتوں سے حکومت، اپوزیشن اور کئی سیاستدانوں کے مذاکرات بھی ناکام ہوئے اورمعاملات بھی وہیں کے وہیں ہیں، ملک کا معاشی پہیہ جام ہے۔ ملک میں سیلاب نےخطر ناک تباہی اورسیکڑوں جانیں لے لی۔ اسلام آباد میں مارچ کے شرکا میں عورتیں، بچے اور بوڑھے بھی موجود ہیں۔ عمران خان، طاہرالقادری اور نواز شریف کا غیر سنجیدہ رویہ ملک کو کسی اور جانب لئے جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کا مذاق بنا ہوا ہے۔ حکمران اور سیاستدان یاد رکھیں عام عوام کو جمہوریت نہیں صرف دووقت کی روٹی چاہیئے۔۔۔ مہنگائی، بیروزگاری، جہالت نہیں خوشحالی، روزگار اور تعلیم چاہیئے۔۔۔ عوام کو انصاف، امن اور سکون چاہیئے۔۔۔ نیا، پرانا، پاکستان نہیں۔۔ تیزی سے ترقی کرتا پاکستان چاہیئے۔۔۔ آزادی یا انقلاب نہیں۔۔۔ روٹی، کپڑا، مکان، بجلی، پانی، گیس، سی این جی، منصفانہ، غیرطبقاطی نظام چاہیئے جناب۔۔۔ اب یہ والا پاکستان چاہے نوازشریف بنائیں، عمران بنائیں  یا قادری۔۔۔ عوام انہی کے ساتھ ہیں۔ 

انقلاب، آزادی کس کیلئے؟


کراچی کے مشہور جوڑیا بازار میں بڑی تعداد میں محنت کش اپنی روزی کیلئے مزدوری کررہے ہیں۔۔ وہاں پہنچا تو میں نے سوچا کہ آج کل دھرنے، انقلاب اور مارچ کے حوالے سے کیوں نا ان سے بات کی جائے، کیا خان صاحب اور طاہرالقادری واقعی ان کی زندگی میں انقلاب لا سکتے ہیں۔۔۔

غربت سے تنگ آئے محنت کش کہتے ہیں کہ ہمیں ان دھرنوں یا حکومت کے آنےجانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ ہم روز اسی طرح محنت کرکے کماتے ہیں، روز کھاتے ہیں۔۔۔ ایک اور مزدور سے بات ہوئی تو اس کا کہنا تھا کہ ہم اللہ کے آسرے پر صبح سویرے بازار میں آکر بیٹھ جاتے ہیں تاہم کبھی کام ملتا ہے کبھی ایسے ہی خوار ہو کرگھر چلے جاتے ہیں۔۔
ایک مزدور سے سوال کیا کہ عمران خان اور طاہرالقادری کیلئے کوئی پیغام۔۔۔ تو اس کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو ہدایت دے، مارچ اور دھرنے اب ختم ہونے چاہیئے اس سے کاروبار متاثر ہورہا ہے جو ہماری مزدوری پر اثرانداز ہوتا ہے۔

گدھا گاڑی پر سوار ایک اور مزدور دھرنوں سے پر امید نظر آیا ۔۔ اس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کئی دنوں سے غریب عوام اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیئے بیٹھی ہے۔۔ غریبوں کے لئے نئی قیادت کام کرے گی۔

ملالہ یوسفزئی کے نام۔۔۔

کہوملالہ کیوں چپ ہو؟؟
کیوں اتنی گم سم سی ہو؟؟


امن ایوارڈ تو لیتی ہو
پھر کچھ کیوں نہ کہتی ہو؟؟
  خون مسلم بہتا ہے
خون مسلم رکھتی ہو؟؟
  جن کی گود میں بیٹھی ہو
ان سے کیوں نہ کہتی ہو؟؟

ایک ڈرون ذرا بھیجیں
اسرائیل کی جانب بھی۔۔۔
اس نے بھی تو غزہ میں
خون کی ہولی کھیلی ہے۔۔

کتنے پیارے بچوں کی
اس نے جان یوں لے لی ہے۔۔۔
 
اس پر بھی کچھ لکھوناں۔۔
اب کچھ کیوں نہ کہتی ہو؟؟؟


   کہوملالہ کیوں چپ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو ملالہ۔۔۔۔۔۔
Please Share

کراچی میں پارکنگ مافیا کا راج

 
ویسے تو کراچی میں پارکنگ مافیا پورے سال ہی شہریوں سے بھتہ وصول کرتا آ رہا ہے مگر رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں تو انکے بھتے کی رقم بھی آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہے۔ رمضان میں لوگوں کی بڑی تعداد عید کی خریداری کیلئے بازاروں کا رخ کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ مافیا اس مقدس ماہ کا بھرپور فائدہ اٹھا کر عام لوگوں کو لوٹتا آرہا ہے۔
اسے انتظامیہ کی غفلت کہیں یا پارکنگ مافیا کی بدمعاشی کہ شہر کے تقریباً تمام بڑے چھوٹے بازاروں، شاپنگ مالز اور اہم سڑکوں پر پارکنگ کے نام پر زبردستی روڈ بلاک کرکے ٹریفک معطل کیا جا رہا ہے۔ مافیا کی ہٹ دھرمی سے شہری براہ راست متاثر ہو رہے ہیں اورایسا لگتا ہے کہ پورا سال شہریوں کو بٹورنے والا یہ گروہ ساری آمدنی اسی ماہ مقدس میں کرلےگا۔ جی جناب موٹر سائیکل کیلئے صرف پانچ روپے سرکاری فیس کہ باوجود پارکنگ مافیا شہریوں سے پچیس روپے تک وصول کر رہا ہے۔میں یہ بات بھی ماننے سے قاصر ہوں کہ پولیس، ٹریفک پولیس، رینجرز یا انتظامیہ اس بات سے نا واقف ہو۔ ٹریفک پولیس ایسی موٹر سائیکلوں کو اٹھا کر ضرور لے جاتی ہے جو کم ازکم کسی ٹریفک جام کا باعث نہیں بنتی، مگر مجال ہے جو غیر قانونی پارکنگ ایریا سے کسی سواری کو ہاتھ تک لگائے، ٹریفک جام ہوتا ہے تو ہونے دیں سرکار۔۔۔۔ پارکنگ مافیا کی ملی بھگت سے ہفتہ تو مل رہا ہے ناں۔۔۔
یقیناً انتظامیہ اور ٹریفک پولیس اس غیر قانونی کام میں برابر کے شریک ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ پارکنگ کی اصل فیس کیا ہے اورپچیس پچیس روپے کیوں وصول کئے جا رہے ہیں۔ شہری زبردستی بھتہ بھی دیں، روزے کی حالت میں ٹریفک جام کا شکار بھی ہوں، ہزاروں لیٹر پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی بھی ضائع کریں اوراپنا قیمتی وقت بھی ٹریفک جام کی نذر کر دیں۔ کیونکہ میں خود ہرروز یہ تمام صورتحال بھگتتا ہوں اسلئے ذیادہ افسوس ہوتا ہے اس تمام تر صورتحال کو محسوس کرکے۔ کسی کو کیا خبر کہ اس میٹروپولیٹن شہر میں کس طرح ایمبولینس ٹریفک جام کا شکارہوتی ہے اورقیمتی جانیں دم توڑ دیتی ہیں۔ یہ کراچی ہے۔۔۔ یہاں ہر شخص پھنے خان بنا گھوم رہا ہے۔۔ اس شہر میں آُپ کسی سے اپنا حق نہیں مانگ سکتے۔۔۔ یہاں ہر چوہراہے، ہر گلی، ہر جگہ اورہر ادارے میں آُپکو بدمعاشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔ آپ کو اپنے جائز حق کیلئے لڑنا پڑے گا۔۔۔۔

گزشتہ ہفتےاسی بدمعاشی کا سامنا کرنا پڑا سماء ٹی وی کی ٹیم کو، رپورٹر علی حفیظ اور کیمرہ مین قاسم رئیس پر اسی پارکنگ مافیا کا تشدد، کیمرہ چھیننا اور ڈی وی ضبط کرنا۔ جی جناب۔۔۔ میڈیا پہلے بھی ایسے مافیا کی نشاندہی کرتا رہا ہے اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی بھی پھیلا رہا ہے کہ پارکنگ کی اصل فیس ہے کیا۔ اسی ذمہ داری کو نبھاتی سماء کی ٹیم نے پہلے زیب النساء اسٹریٹ پر اس گروہ کی نشاندہی کی تو انتظامیہ، پولیس اور رینجرز میں ہلچل مچ گئی، اگلے ہی دن کمشنر بھی نکلے، ایڈمنسٹریٹر بھی نکلے، سی پی ایل سی چیف بھی بازاروں میں دکھائی دیئے اور گورنر سندھ نے بھی نوٹس لیا۔ رینجرز کی جانب سے اسی دوران کئی پارکنگ مافیا کے کارندوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔۔

سماء کی اس مہم کا اگلا دن تھا حیدری اورناظم آباد کے بازار۔ ٹیم پہنچی سرینا اور بنائی پارکنگ مافیا کے کالے کرتوتوں کی فوٹیجز اور عکس بند کی غیرقانونی پارکنگ کی پرچیاں تو اسی مافیا کے کئی کارندے میدان میں آئے۔ ٹیم سے کیمرہ بھی چھینا، رپورٹر اور کیمرہ مین پر تشدد بھی کیا اور ڈی وی بھی لے کر بھاگ گئے۔ خبر نشر ہوئی تو انتظامیہ میں ہلچل تو ضرور مچی، پولیس نے غنڈوں کا سراغ لگا کر کیمرہ بھی واپس دلوا دیا مگر عوام آج بھی اس فوٹیج کو دیکھنے سے محروم ہیں جسے مافیا کے کارندے لے کر فرار ہوئے۔


بج گئے بارہ ۔۔۔ لگ گئی پابندی


حکومت سندھ نے کراچی اورسکھر میں تین روز کیلئے ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی کا اطلاق رات بارہ بجے سے ہو چکاہے، جو کہ بیس جولائی کی رات بارہ بجے تک جاری رہے گا۔ حکومت سندھ کے مطابق ڈبل سواری پر پابندی  کا فیصلہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یوم شہادت پرکسی نا خوشگوار واقعے کے پیش نظر کیا گیا ہے،تا ہم خواتین، بارہ سال سے کم عمر بچے، بزرگ، صحافی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے اہلکار اس پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔

 سندھ حکومت کے مطابق پابندی پرسختی سے عمل تو کیا جائے گا مگرشہری کہتے ہیں اب پولیس اہلکاروں کو عید کے موقع پر لوگوں کو بٹورنے کا بہانا مل جائے گا۔

Pages