نظر سے قلم تک

ملالہ یوسفزئی کے نام۔۔۔

کہوملالہ کیوں چپ ہو؟؟
کیوں اتنی گم سم سی ہو؟؟


امن ایوارڈ تو لیتی ہو
پھر کچھ کیوں نہ کہتی ہو؟؟
  خون مسلم بہتا ہے
خون مسلم رکھتی ہو؟؟
  جن کی گود میں بیٹھی ہو
ان سے کیوں نہ کہتی ہو؟؟

ایک ڈرون ذرا بھیجیں
اسرائیل کی جانب بھی۔۔۔
اس نے بھی تو غزہ میں
خون کی ہولی کھیلی ہے۔۔

کتنے پیارے بچوں کی
اس نے جان یوں لے لی ہے۔۔۔
 
اس پر بھی کچھ لکھوناں۔۔
اب کچھ کیوں نہ کہتی ہو؟؟؟


   کہوملالہ کیوں چپ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو ملالہ۔۔۔۔۔۔
Please Share

کراچی میں پارکنگ مافیا کا راج

 
ویسے تو کراچی میں پارکنگ مافیا پورے سال ہی شہریوں سے بھتہ وصول کرتا آ رہا ہے مگر رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں تو انکے بھتے کی رقم بھی آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہے۔ رمضان میں لوگوں کی بڑی تعداد عید کی خریداری کیلئے بازاروں کا رخ کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ مافیا اس مقدس ماہ کا بھرپور فائدہ اٹھا کر عام لوگوں کو لوٹتا آرہا ہے۔
اسے انتظامیہ کی غفلت کہیں یا پارکنگ مافیا کی بدمعاشی کہ شہر کے تقریباً تمام بڑے چھوٹے بازاروں، شاپنگ مالز اور اہم سڑکوں پر پارکنگ کے نام پر زبردستی روڈ بلاک کرکے ٹریفک معطل کیا جا رہا ہے۔ مافیا کی ہٹ دھرمی سے شہری براہ راست متاثر ہو رہے ہیں اورایسا لگتا ہے کہ پورا سال شہریوں کو بٹورنے والا یہ گروہ ساری آمدنی اسی ماہ مقدس میں کرلےگا۔ جی جناب موٹر سائیکل کیلئے صرف پانچ روپے سرکاری فیس کہ باوجود پارکنگ مافیا شہریوں سے پچیس روپے تک وصول کر رہا ہے۔میں یہ بات بھی ماننے سے قاصر ہوں کہ پولیس، ٹریفک پولیس، رینجرز یا انتظامیہ اس بات سے نا واقف ہو۔ ٹریفک پولیس ایسی موٹر سائیکلوں کو اٹھا کر ضرور لے جاتی ہے جو کم ازکم کسی ٹریفک جام کا باعث نہیں بنتی، مگر مجال ہے جو غیر قانونی پارکنگ ایریا سے کسی سواری کو ہاتھ تک لگائے، ٹریفک جام ہوتا ہے تو ہونے دیں سرکار۔۔۔۔ پارکنگ مافیا کی ملی بھگت سے ہفتہ تو مل رہا ہے ناں۔۔۔
یقیناً انتظامیہ اور ٹریفک پولیس اس غیر قانونی کام میں برابر کے شریک ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ پارکنگ کی اصل فیس کیا ہے اورپچیس پچیس روپے کیوں وصول کئے جا رہے ہیں۔ شہری زبردستی بھتہ بھی دیں، روزے کی حالت میں ٹریفک جام کا شکار بھی ہوں، ہزاروں لیٹر پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی بھی ضائع کریں اوراپنا قیمتی وقت بھی ٹریفک جام کی نذر کر دیں۔ کیونکہ میں خود ہرروز یہ تمام صورتحال بھگتتا ہوں اسلئے ذیادہ افسوس ہوتا ہے اس تمام تر صورتحال کو محسوس کرکے۔ کسی کو کیا خبر کہ اس میٹروپولیٹن شہر میں کس طرح ایمبولینس ٹریفک جام کا شکارہوتی ہے اورقیمتی جانیں دم توڑ دیتی ہیں۔ یہ کراچی ہے۔۔۔ یہاں ہر شخص پھنے خان بنا گھوم رہا ہے۔۔ اس شہر میں آُپ کسی سے اپنا حق نہیں مانگ سکتے۔۔۔ یہاں ہر چوہراہے، ہر گلی، ہر جگہ اورہر ادارے میں آُپکو بدمعاشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔ آپ کو اپنے جائز حق کیلئے لڑنا پڑے گا۔۔۔۔

گزشتہ ہفتےاسی بدمعاشی کا سامنا کرنا پڑا سماء ٹی وی کی ٹیم کو، رپورٹر علی حفیظ اور کیمرہ مین قاسم رئیس پر اسی پارکنگ مافیا کا تشدد، کیمرہ چھیننا اور ڈی وی ضبط کرنا۔ جی جناب۔۔۔ میڈیا پہلے بھی ایسے مافیا کی نشاندہی کرتا رہا ہے اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی بھی پھیلا رہا ہے کہ پارکنگ کی اصل فیس ہے کیا۔ اسی ذمہ داری کو نبھاتی سماء کی ٹیم نے پہلے زیب النساء اسٹریٹ پر اس گروہ کی نشاندہی کی تو انتظامیہ، پولیس اور رینجرز میں ہلچل مچ گئی، اگلے ہی دن کمشنر بھی نکلے، ایڈمنسٹریٹر بھی نکلے، سی پی ایل سی چیف بھی بازاروں میں دکھائی دیئے اور گورنر سندھ نے بھی نوٹس لیا۔ رینجرز کی جانب سے اسی دوران کئی پارکنگ مافیا کے کارندوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔۔

سماء کی اس مہم کا اگلا دن تھا حیدری اورناظم آباد کے بازار۔ ٹیم پہنچی سرینا اور بنائی پارکنگ مافیا کے کالے کرتوتوں کی فوٹیجز اور عکس بند کی غیرقانونی پارکنگ کی پرچیاں تو اسی مافیا کے کئی کارندے میدان میں آئے۔ ٹیم سے کیمرہ بھی چھینا، رپورٹر اور کیمرہ مین پر تشدد بھی کیا اور ڈی وی بھی لے کر بھاگ گئے۔ خبر نشر ہوئی تو انتظامیہ میں ہلچل تو ضرور مچی، پولیس نے غنڈوں کا سراغ لگا کر کیمرہ بھی واپس دلوا دیا مگر عوام آج بھی اس فوٹیج کو دیکھنے سے محروم ہیں جسے مافیا کے کارندے لے کر فرار ہوئے۔


بج گئے بارہ ۔۔۔ لگ گئی پابندی


حکومت سندھ نے کراچی اورسکھر میں تین روز کیلئے ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی کا اطلاق رات بارہ بجے سے ہو چکاہے، جو کہ بیس جولائی کی رات بارہ بجے تک جاری رہے گا۔ حکومت سندھ کے مطابق ڈبل سواری پر پابندی  کا فیصلہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یوم شہادت پرکسی نا خوشگوار واقعے کے پیش نظر کیا گیا ہے،تا ہم خواتین، بارہ سال سے کم عمر بچے، بزرگ، صحافی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی ایجنسیز کے اہلکار اس پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔

 سندھ حکومت کے مطابق پابندی پرسختی سے عمل تو کیا جائے گا مگرشہری کہتے ہیں اب پولیس اہلکاروں کو عید کے موقع پر لوگوں کو بٹورنے کا بہانا مل جائے گا۔

ہماری ایک اور افطار

Aftaar gathering at KU with Friends.بدھ کی شام ایک بار پھر عتیق بھائی، فرحان، جواد، اسرار اور میں افطار کیلئے جامعہ کراچی میں جمع ہوئے۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کیلاش فوٹوگرافی ساتھ ہو اور گیدرنگ کی تصاویر نہ ہوں۔۔ تو دوستو۔۔ گزشتہ روز لی گئیں چند تصاویر حاضر خدمت ہیں۔









غیررسمی دعوت افطار۔۔۔

Aftaar gathering at Karachi University.  جامعہ کراچی میں ہر سال کی طرح اس سال بھی دوستوں کے ساتھ روایتی افطار کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پرلی گئی تازہ تصاویر پیش خدمت ہیں۔ غیر رسمی افطار میں مجھ سمیت عتیق بھائی، فرحان، اسرار، جواد اور شاہ ولی شامل تھے۔



 









ماڈل ٹاؤن واقعہ۔۔۔ ذمہ دار کون؟


ماڈل ٹاوٓن واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ شہریوں کی حفاظت کرنے والی نام نہاد پولیس نےتیرہ معصوموں کی جان لے لی۔ اورسینکڑوں ماوٓں بہنوں اور بچوں کو اسپتال پہنچا دیا۔ میڈیا کے اس جدید دور میں جھوٹ بولنا خاصا مشکل اور نا قابل یقین عمل ہے۔ میڈیا رات گئے سے ماڈل ٹاوٓن میں موجود منہاج القرآن سیکریٹریٹ پر موجود تھا، اور لمحہ بہ لمحہ عوام کو وہاں ہونے والے ظلم سے مطلع کررہا تھا۔ اسی دوران تمام فوٹیجز بھی منظر عام پرآرہی تھیں جس میں سب نے لاہور میں پولیس گردی کا افسوسناک واقعہ دیکھا۔ 
اس روزآفس پہنچا تولوگوں پر پولیس کا ظلم دیکھتے ہی جان چکا تھا کہ آج کی سب سے بڑی خبر یہی ہو گی۔ وہی ہوا۔۔ پولیس کا لاٹھی چارج، ڈنڈے، بندوقیں، فائرنگ، پتھراوٓ، شیلنگ اور پتہ نہیں کیا کیا۔ حالات مزید خراب ہوتے گئے اور کئی لوگوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہو گئیں۔ کتنے معصوم بری طرح تشدد سے شدید زخمی ہو گئے۔ بات بہت بڑھ چکی تھی۔ میڈیا سب کچھ دکھا رہا تھا، اسی دوران ڈاکٹرطاہرالقادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان ملک کے کئی شہروں میں پر امن دھرنے دے کر بیٹھ گئے اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتی کو دنیا بھر میں ریکارڈ کرایا۔ پورے دن کی لائیو کوریج میں کسی علاقے سے توڑ پھوڑ، جلاوٓ گھیراوٓ یا تشدد کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی تھی۔ 
اس پورے واقعے میں میڈیا پر نعرے لگاتا، ڈنڈے برساتا اور پولیس کو تشدد پر اکساتا ایک شخص نظر آیا۔ گلو بٹ نامی اس شخص کو مسلم لیگ ن کا اہم کارکن بتایا جا رہا ہے مگر ن لیگ اس سے انکاری ہے۔ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں میں نے اپنے تیئس سالہ لیگی دور میں کہیں اس شخص کو نہیں دیکھا نہ سنا، اسحاق ڈارکہتے ہیں میں کسی گلی یا الو بٹ کو نہیں جانتا۔گلو بٹ کوآپ نے ٹی وی اسکرین پر کس روپ میں دیکھا؟؟گاڑیوں کے شیشے توڑتے؟ ۔۔۔۔۔ پولیس کو تشدد پر اکساتے اور انکی قیادت کرتے؟ ۔۔۔۔ پیٹی بھائیوں کو کوکا کولا پلاتے یا پھر معصوموں کی جان لے کر اپنی فتح کا جشن مناتے؟ ۔۔۔ جی جناب۔۔ کئی فوٹیجز میں گلو بٹ اس افسوسناک واقعے پر ڈانس کرتا ہوا بھی نظر آیا۔ شدید دباوٓ پر پولیس نے اسے گرفتار کیا۔ اورگزشتہ روزجب عدالت میں پیشی کیلئے لایا گیا تو شہریوں اور وکلا نے گلو بٹ کی ٹھیک ٹھاک دھلائی کر دی۔ جس کے بعد اسے اسپتال لے جایا گیا۔ وکلا کے مطابق پولیس نے جو دفعات گلو بٹ پر لگائی ہیں اس پر وہ پیشی کے بعد ضمانت پر رہا ہو سکتا تھا۔    خیرجناب بات کسی طور بھی بیرئیر یا رکاوٹیں ہٹانے کی نہیں تھی، بات حکومتی کھلاہٹ کی تھی۔ تیئس جون کو ڈاکٹر طاہر القادری نے وطن واپس آنا ہے، پنجاب حکومت کو چند دن پہلے ہی ایسی کیا سوجی جو رکاوٹیں ہٹانے پر اتنا بڑا مسلہ کھڑا کر دیا، ملک پہلے ہی ہزار مسئلوں میں پھنسا ہوا ہے، وزیرستان میں فوج کا آپریشن ضرب عضب جاری ہے، ملک بھر میں سیکیورٹی کے مسائل ہیں، کراچی ایئرپورٹ پربڑے حملے میں کئی جانیں چلی گیئں اس وقت ہمیں رکاوٹیں ہٹانا یادآرہا ہے۔
ماڈل ٹاوٓن واقعے کے بعد میڈیا اور عام لوگوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ نا صرف عام شہریوں نے بلکہ ملک کی تمام چھوٹی بڑی جماعتوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ کئی جماعتوں اور اپوزیشن نے اسمبلیوں سے واک آوٹ کیا، متحدہ قومی موومنٹ نے ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا۔  میاں نواز شریف خاصے سنجیدہ اوربڑے سیاستدان ہیں، شہباز شریف کوملک بھرمیں اکثریت پسند کرتی ہے، مگر پنجاب حکومت کے اس اقدام سے نا صرف ان کی سیاسی ساکھ متاثر ہوئی ہے بلکہ لوگوں میں شدید غصہ اور اشتعال پایا جا رہا ہے۔ اور اس وقت طاہر القادری کو برا بھلا کہنے والے بھی پولیس گردی کے اس سنگین واقعے پر خوش نہیں ہیں۔

جب میں اٹھارہ سال کا ہو جاؤنگا۔۔۔


لاریب۔۔۔ میری پھوپھی کا بیٹا ۔۔۔ جو بچپن سے مجھے واسو کہتا آٰیا ہے اور میں بھی اسے واسو ہی کہتا ہوں۔ پتہ نہیں اس واسو کا مطلب کیا ہے پرہم دونوں ایک دوسرے کو آج تک اسی نام سے مخاطب کرتے ہیں۔ سترہ سالہ واسو کافی عرصے سے اٹھارہ سال کا ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔۔۔ کیوں؟ اس کا ذکر میں آگے چل کر کرونگا۔

قریب ہی رہائش پذیرہونے کی وجہ سے واسو بچپن سے ہی ہمارے ساتھ زیادہ رہا۔ اس کا بات کرنے کا اسٹائل بھی بڑا منفرد ہے، اور ہیئراسٹائل بھی۔۔ کبھی کھڑے بال، کبھی بیچ کی مانگ، کبھی چہرے پر بال تو کبھی گجنی چمکتی ہوئی ٹنڈ ۔۔۔۔ اسکا اندازہ آپکو اس سے مل کرہی ہوگا۔ واسو کا اہم شوق اورہابی کمپیوٹرہے۔ نہایت کم عمرمیں ہی کمپیوٹر میں کھوج اور نت نئے تجربات نے اسے آج بڑے کام کا انسان بنا دیا۔
کمپیوٹر کی ابتدائی تربیت اوراس کے شوق نےواسو کو پینٹیئم ون خریدنے پر مجبور کیا۔ گیم کھیلنے والی عمرمیں اس نے اپنے کمپیوٹر پر مختلف تجربات شروع کر دیئے۔ ونڈوزاڑانے کا پہلا تجربہ مجھے آج تک یاد ہے۔۔۔ جسکے بعد واسو کے والد نے مجھے ونڈوزانسٹالیشن کے لئے گھر بلایا۔۔ کچھ مصروفیت کی وجہ سے کچھ دن تاخیر ہوگئی۔۔ جب کچھ دن بعد انسٹالیشن کیلئے پہنچا تو معلوم ہوا ونڈوز انسٹال ہوچکی ہے۔ بارہ سالہ واسو خود ہی سی ڈی لاکرانسٹالیشن کرنے میں کامیاب تو ہوامگر ساتھ ہی میں یہ جان چکا تھا کہ اس برقی مشین میں اسکا اتنا شوق اورلگن اسے ضرور کسی منزل پرپہنچا دے گا۔

میں جب بھی واسو کے گھر جاتا وہ اسکول کے بعد مجھے صرف کمپیوٹرپرنظرآتا۔۔۔ نہ انٹرنیٹ، نہ ہائی فائی کمپیوٹر، نہ ہی مطلوبہ سافٹ وئیرز۔۔۔ بس جتنے بھی وسائل تھےاسی میں ہی اس نے اپنے شوق کو پورا کرنا شروع کردیا۔ ایک ہاتھ کی بورڈ پر اور دوسرے سے کھانا کھاتا واسو کبھی ڈوز میں گھستا، کبھی ریم اڑاتا، کبھی ہارڈ ڈرائیو خراب کرتا تو کبھی مدر بورڈ سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا۔ بار بارکمپیوٹر کو نقصان پہنچا کرہر بارانکل کی ڈانٹ سننے کیلئے تیاررہتا۔ مگر کمپوٹر سے عشق میں مبتلا اس انسان نے تجربات کرنے نہیں چھوڑے۔

کمپیوٹر سے اسکا رشتہ اتنا مضبوط رہا کہ کچھ ہی عرصے میں وہ خاندان کے ہرکمپیوٹر یوزر کی ضرورت بن گیا۔ ہارڈ وئیر کا مسئلہ ہو یا سافٹ وئیر، پروگرامنگ، نیٹ ورکنگ اور تھوڑی بہت گرافکس۔۔۔ ان سب پر مہارت اسے بچپن میں ہی منفرد کر چکی تھیں۔ اسے جہاں ہماری ضرورت پڑتی ہم قدم قدم رہنمائی تو کرتے مگر کئی چیزیں اس سے سیکھنے کو بھی ملتیں۔۔ آج بھی اسکے مشوروں کے بغیر میں کمپیوٹر کے کسی معاملے میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔

موصوف کو انٹرنیٹ کی سہولت ملی تو محترم ہماری جگہ گوگل کو ہی اپنا استاد بنا بیٹھے۔ اور ہمیں ہری جھنڈی دکھا دی۔۔۔ گوگل نے بھی اپنے اس ننھے شاگرد کو تکنیکی علم بخشنے کیلئے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔۔

کمپیوٹرکے معاملات میں ایسا گھسا کے نکلنے کا نام ہی نہیں لیتا۔۔۔ انکل ہوئے پریشان تو ایک دن بلا لیا اپنے کسی دوست کو کمپیوٹر میں پاسورڈ کی تنصیب کے لئے۔۔۔ واسو کوجب کمرے سے باہر کیا تو اسکا شک یقین میں بدل گیا کہ شاید مجھے پی سی سے محدود کیا جا رہا ہے۔۔۔ اس نے بغیر وقت ضائع کئے کچن کی جالی توڑی۔۔۔۔ کمرے میں جھانکا۔۔۔ انکل کے دوست کی انگلیوں سے پاسورڈ ذہن نشین کیا۔۔۔ اورانتظار کرتا رہا کے اس پاسورڈ کو اپلائی کرکے دیکھے کہ آیا وہ درست ہے یا نہیں۔۔۔ بس پھر کیا تھا۔۔۔ اگلے ہی دن کمپیوٹر کھولا۔۔۔ پاسورڈ ڈالا۔۔۔ اپنے استاد گوگل سے ملا اورآئندہ پاسورڈ توڑنے کی حکمت عملی کی کھوج شروع کردی۔۔  
Uncle Shock... Vasu Rocksss... :-P
کچھ سال بعد بڑے بھائی نے اسکی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اپنی کمپنی میں ٹرینی جاب کی آفر کر دی۔ واسو نے گلوبل ٹیکنالوجی میں جب بطور ٹرینی قدم رکھا تو انتطامیہ کچھ ہی دنوں میں اسکا کام دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب ہو یا اسکی نیٹ ورکنگ واسو پروجیکٹ کی تکمیل کا اب ایک کمپلیٹ پیکج بن چکا تھا۔


موصوف کو کئی جگہوں پرکیمروں میں خرابی کی شکایات پر اپنی کمپنی کی جانب سے بھیجا گیا۔۔  کیمرے ٹھیک ہوگئے۔۔۔ معاملات سلجھ گئے۔۔۔۔ کلائنٹس بھی مطمئین ہو گئے تو ان سے رہا نہیں گیا۔۔ اور کئی کلائنٹس نے واسو کو اپنی ہی کمپنی کے آئی ٹی اینڈ نیٹ ورکنگ ڈپارٹمنٹ میں چار گناہ زیادہ تنخواہ میں جاب آفرکرڈالی۔ واسو نے اپنی کمپنی میں کم تنخواہ کی وجہ بتا کراستعفیٰ دے دیا۔ پھرسائیٹ کےعلاقے میں واقع ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کی غرض سے جب اس نے ہاں کر دی اور سی وی ایچ آر بھیجی تو معلوم ہوا کہ عمراٹھارہ سال نہیں ہے اور کمپنی میں ملازمت کیلئے کم از کم عمر اٹھارہ سال درکار تھی۔۔۔

دوسری جانب گلوبل ٹیکنا لوجی میں اسکا استعفیٰ تومنظور نہیں ہوا تاہم واسو کی سیلری میں تین گناہ اضافہ ضرور ہو گیا۔

کئی ملٹی نیشنل کمپنیز کی ملازمت کم عمری کے باعث حاصل نہ کرپانے والا واسو آج بھی کہتا ہے کہ جب میں اٹھارہ سال کا ہو جاؤنگا۔۔۔

باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔۔۔

میرا چھوڑو دوست...


میرے ایک دوست ہیں جو چھوڑنے میں ماسٹر ہیں، حالانکہ ماسٹرز تو انہوں نے سیاسیات میں کیا ہے۔ جہاں لمبی لمبی پھینکنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی وہ وہاں بھی چھوڑتے ہیں۔ان کا نام میں صیغہ راز میں رکھوں گا۔ ورنہ خواہ مخواہ تفریح کے بجائے ناراض وراض ہو جائے گا۔

 میں ذاتی طور پر انکا بہت احترام کرتا ہوں بلکہ ان کی چھپی صلاحیتوں کو قدرکی نگاہ سے بھی دیکھتا ہوں، مگر بات وہی ہے نا کہ کچھ لوگوں کو ضرورت سے ذیادہ بولنے کی عادت ہوتی ہے اور یہی عادت کبھی کبھی زندگی میں مار کھانے پر مجبور بھی کر دیتی ہے۔

انہی کیلئے شاید سرعلی (لیکچرار شعبہ سیاسیات) ہمیشہ لیکچر کے دوران کہا کرتے تھے کہ "ضروری چیزکو چھوڑو نہیں،غیرضروری چیزکوچھیڑونہیں"۔

ایک بار میرے آفس کی لفٹ میں موصوف سے ملاقات ہوئی تو دریافت کیا کہ یہاں کیسے؟ جواب ملا یار شغل میں انٹرویو دینے آگیا تھا۔ میں نےکہا میں کچھ مدد کروں تو جواب ملا ابے دادا تیرا بھائی ملک کے سب سے بڑے میڈیا ادارے میں اپوائنٹ ہو چکا ہے۔ یہاں تو بس ایسے ہی۔۔۔۔۔ میں مسکرایا اور اپنی منزل چلا گیا۔ مگر اس خیال کے ساتھ کے اگر اتنے بڑے ادارے میں اپوائنٹ ہے بھی تو یہاں کیا اچار ڈالنے آیا ہے۔ خیر میں تو عادت سے واقف تھا ہی اپنے دوست کی۔ 

جناب بات صرف اتنی سی ہے کے بجتے تو ہم بھی کم نہیں مگر کم از کم اپنے معاملے میں تو انسان کو سنجیدہ رویہ اپنانا ہی چاہیئے۔ میرے دوست سے جب بھی ملاقات ہوئی ہمیشہ کیرئیر، بزنس، کام اور مستقبل کے بارے میں دلچسپ تبادلہ خیال ہوتا۔ وہ صاحب کبھی کسی نیوزپیپر میں لکھاری ہوتے تو کبھی معلوم پڑتا کے کسی چینل کے الیکشن سیل میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کبھی اپنا کاروبار شروع کر بیٹھے ہیں تو کبھی اسلام آباد میں کسی ادارے سے منسلک ہو گئے۔ کبھی نیوز اینکر کیلئے ڈن ہوئے تو چینل کی ٹیم ہی تبدیل ہوگئی۔ یہ سب تو ٹھیک تھا مگر پچھلے دنوں ہونے والی ایک ملاقات میں تو پتہ چلا بات پیمرا تک پہنچ چکی۔ موصوف کیلئے سرکاری ادارے سے منسلک ہونے میں حائل تمام تررکاوٹیں دور ہو چکی۔ وزیراعظم صاحب سے ملاقات بھی متوقع ہے۔ اوربہت کچھ بلاح بلاح بلاح۔۔۔۔ حقیقت اسکے بلکل برعکس تھی۔۔۔

سب سننے کے بعد میں نے آفر دی۔۔۔ کہا اب اپنی ایک سی وی مجھے سینڈ کر دینا۔۔۔  ہو سکتا ہے کوئی مناسب ملازمت مل جائے ۔۔۔ محترم کی جانب سے پھر ایک چونکا دینے والا سوال۔۔۔ اچھا، چل یہ بتا پوزیشن کیا ہو گی؟ ۔۔

اب میں آپکو حقیقت بتاتا ہوں۔۔ انکا یہی پوزیشن، پوسٹ، عہدہ اور اسٹیٹس والا سوال انہیں ہمیشہ لے ڈوبتا ہے۔ یہی سوال میرے دوست کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ ہم کچھ دوستوں کا تجزیہ ہے کے شاید ایسا وہ شارٹ کٹ مارنے کے چکر میں کرتا ہے۔ مگر میری سمجھ سے بالاتر ہے ایسا کونسا شارٹ کٹ ہے بھائی۔ سینکڑوں جامعات سے ہزاروں لوگ ماسٹرز کر کے نکل رہے ہیں ہر سال۔ کئی قابل بھی ہوتے ہیں مگر مطلوبہ اہلیت، تجربہ یا کام نہ آنے کی بنا پر مار کھا جاتے ہیں۔ تو بہتر یہ ہے کہ پوزیشن اور اسٹیٹس والا سوال کر کے گھر بیٹھ کر پوگو دیکھتے رہو یا کہیں کم اجرت یا مفت میں بھی کام کو سیکھ لو۔ یہی بات میرے دوست کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اور جس دن آ گئی تو یہ طے ہے کہ وہ ہم سب کو پیچھے چھوڑ دیگا۔ 

جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ میں اسکی اہلیت کی ہمیشہ تعریف کرتا ہوں۔ ایک بہترین سوچ، بہترین آئیڈیاز اور معلومات سے بھرا یہ انسان اگر خود میں تھوڑی سی مستقل مزاجی بھی پیدا کرلے تو یقینا اسے چھوڑنے اور پھینکنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔  

خیرجیسا بھی ہے ہمارا دوست ہے۔۔ ہماری دعائیں ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں۔  اب تو اس چھوڑو کو بھگتنا ہی پڑے گا۔ اسکی چھوڑیاں ہم سب دوستوں کیلئے تفریح کی بہترین شے ہیں۔ جسے یاد کرتے ہیں تو ہنسی کنٹرول ہی نہیں ہوپاتی، خیرکوئی بعید نہیں شاید اس کی واقعی وزیراعظم سے ملاقات ہو جائے۔ آہاں۔۔۔۔ ہنسنا منع ہے۔۔۔۔۔

ٹیم یوتھ ایکسپریس کی ایک اور کاوش، ایچ بی ایس اسکول۔۔۔

الحمدللہ یوتھ ایکسپریس پاکستان نے ایچ بی ایس اسکول کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ نارتھ کراچی میں فورکے چورنگی سے متصل چار سو گز پر قائم اسکول میں ایک سو بیس بچے میٹرک تک تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی مفت حاصل کررہے ہیں۔ کئی بچے حفظ قرآن بھی کر رہے ہیں۔ ٹیم یوتھ ایکسپریس اسکول میں معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔ یہاں نا صرف مفت تعلیم دی جا رہی ہے بلکہ یونیفارم، کتابیں اور بیگ بھی فراہم کئے جا رہے ہیں۔
یوتھ ایکسپریس پاکستان ان تمام لوگوں کا نہایت مشکور ہے جن کے تعاون سے تعلیم سے محروم بچے عصری و دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے تمام معاون، اساتذہ اور دیگر حضرات کے تعاون سے الحمدللہ اسکول میں مزید کمروں کے قیام کیلئے تیزی سے کام جاری ہے۔ ان تین نئی جماعتوں سے یقیناً نئے مزید بچوں کو موقع ملے گا کے وہ بھی اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔اس وقت اسکول میں رضا کار اساتذہ کی ضرورت ہے، تمام رضا کاروں کو یوتھ ایکسپریس ویلفئیرآرگنائزیشن اور ایچ بی ایس اسکول کی جانب سے سرٹیفیکیٹس اور ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ اس بہترین کام میں رضا کارانہ طور پر کام کے خواہشمند ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
فیس بک پر ایچ بی ایس اسکول کا پیج لائیک کرنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔

فیس بک پر یوتھ ایکسپریس پاکستان کا پیج لائیک کرنے کیلئے یہاں کلک کیجئے۔
https://www.facebook.com/yeppakistan

آپ اگر صحافی بننا چاہتے ہیں۔۔۔

جناب جاوید چوہدری کا کالمایکسپریس نیوز 
آپ اگر صحافت کے طالب علم ہیں‘ آپ ماس کمیونیکیشن میں بی اے یا ایم اے کر رہے ہیں تو پھر آپ کو ڈگری لینے سے پہلے پانچ کام ضرور کرنے چاہئیں‘ یہ کام آپ کی روٹین ہونے چاہئیں بالکل اسی طرح جس طرح ٹوتھ پیسٹ‘ ناشتہ‘ جرابیں اور کنگھی آپ کا معمول ہیں‘ ان پانچ کاموں میں سے پہلا کام مطالعہ ہے‘ آپ مطالعے کو اس طرح عادت بنالیں جس طرح ناشتہ آپ کی عادت ہے‘ آپ تین قسم کی سیاسی کتابوں کا مطالعہ کریں‘ ایک‘ تازہ ترین سیاسی کتب‘ یہ کتابیں بین الاقوامی سیاستدانوں‘ لیڈروں اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی بائیو گرافی بھی ہو سکتی ہیں اور ان کے مضامین کا مجموعہ بھی۔ مثلاً آج کل رابرٹ گیٹس کی کتاب ’’ڈیوٹی‘‘ بہت مقبول ہے‘ اس سے قبل بل کلنٹن کی کتاب مائی لائف اور جارج بش کی کتاب ’’Decision Points‘‘ بہت مشہور ہوئی‘ آپ ان کتب کا مطالعہ کریں۔ دو‘ آپ ان کتب کا مطالعہ کریں جو آپ کی پیدائش اور آپ کی پرائمری تعلیم کے دوران مارکیٹ میں آئی تھیں‘ یہ کتابیں بھی سیاسی‘ جغرافیائی اور آپ بیتیوں پر مشتمل ہونی چاہئیں‘ آپ مشہور صحافیوں کی آپ بیتیاں بھی ضرور پڑھیں اور ادیبوں‘ شاعروں اور سماجی کارکنوں کی بائیوگرافیز بھی۔ تین‘ آپ اپنی پیدائش سے 20 سال قبل لکھی جانے والی کتابیں پڑھیں‘یہ کتابیں آپ کے علم میں اضافہ کریں گی‘ آپ اگر فکشن یا ادب کو پسند کرتے ہیں تو آپ دس بیس فیصد ادبی کتابیں بھی پڑھیں‘ آپ روز کم از کم دو اخبارات کا مطالعہ ضرور کریں‘ آپ کے پاس ایک ہینڈ سائز ڈائری ہونی چاہیے‘ آپ کو کتابوں اور اخبارات میں سے جواچھی چیزملے‘ آپ اسے فوراً ڈائری میں لکھ لیں اور آپ کو جب بھی وقت ملے آپ ڈائری نکالیں اور اپنے نوٹس پڑھنا شروع کر دیں‘ اس سے آپ کا دماغ معلومات کا خزانہ بنتا چلا جائے گا‘ آپ دماغی طور پر اپنے کلاس فیلوز سے آگے ہوں گے۔دوسرا کام‘ آپ تین صحافی منتخب کریں‘ ایک اردو صحافی ہونا چاہیے‘دوسرا انگریزی اور تیسرے کا تعلق بین الاقوامی میڈیا سے ہونا چاہیے‘ آپ ان کی تمام تحریریں‘ خبریں اور تجزیے پڑھ جائیں‘ آپ لائبریریوں میں جا کر ان کی پرانی تحریریں نکالیں اور گھول کر پی جائیں‘ آپ ان کی شخصیت‘ ان کے کام کرنے کے طریقے‘ ان کی فیملی لائف اور زندگی کے بارے میں ان کی  فلاسفی تک پڑھ لیں‘ آپ جب انھیں پوری طرح جان  لیں تو آپ ان سے ملاقات کریں‘ آپ ان کے شاگرد‘ برخوردار بلکہ خادم بن جائیں‘ آپ کی یہ پریکٹس آپ کو صحافی بنا جائے گی‘ میں نے طالب علمی کے دور میں تین صحافیوں کی ’’ہٹ لسٹ‘‘ بنائی تھی‘ عطاء الحق قاسمی‘ خالد حسن (مرحوم) اور آرٹ بک والڈ۔ میں ان کو ان سے زیادہ جانتا تھا‘ میں جب ان تینوں کا حافظ ہو گیا تو میں نے ان سے ملاقات کے لیے صرف پانچ پانچ منٹ مانگے‘ میں 1997ء میں عطاء الحق صاحب سے ملا‘ میں تین بجے ان کے کمرے میں داخل ہوا اور رات گیارہ بجے باہر نکلا‘ یہ ملاقات عمربھر کی دوستی بن گئی‘ خالدحسن صاحب گورا ٹائپ انسان تھے‘ یہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے باذوق اور ذہین شخص کے ساتھی رہے تھے‘ یہ آسانی سے متاثر نہیں ہو سکتے تھے‘ میں انھیں 2001ء میں واشنگٹن میں ملا‘ میں نے ان کے موبائل پر پیغام چھوڑا ’’آپ مجھے پانچ منٹ دیں‘ آپ میرے ساتھ پانچ گھنٹے بیٹھے رہیں گے‘‘ خالد صاحب کا فون آ گیا‘ ملاقات طے ہوئی اور خالد صاحب اس کے بعد مجھے پانچ دن ملتے رہے‘مجھے ان کی وہ تحریریں بھی یاد تھیں جنھیں وہ خود بھی بھول چکے تھے‘ یہ دوستی ان کے آخری وقت تک جاری رہی اور آرٹ بک والڈ کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ میں نے بڑی مشکل سے ان سے ملاقات کا وقت لیا‘ ملاقات شروع ہوئی اور پھر چلتی رہی‘ میں پاکستان سے جب بھی ان سے رابطہ کرتا تھا تو وہ مجھے ’’رنگ بیک‘‘ کرتے تھے‘ وہ پاکستان آنا چاہتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت نہیں دی‘ میں نے ان سے سیکھا’’ دنیا کے تمام ہنر ’’ٹیم ورک‘‘ ہوتے ہیں‘ آپ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتے جب تک آپ ٹیم بنانے کی صلاحیت پیدا نہیں کرتے‘‘ وہ کہتے تھے ’’میں نوجوان بھرتی کرتا ہوں‘ یہ نوجوان مجھ سے سیکھتے ہیں اور میں بعد ازاں انھیں مارکیٹ کے حوالے کر دیتا ہوں‘ یہ لوگ میری طرف سے صحافت کے لیے تحفہ ہوتے ہیں‘‘ آپ بھی تین صحافیوں کی ’’ہٹ لسٹ‘‘ بنائیں‘ انھیں فالو کریں اور یہ لوگ آپ کو صحافی بنا دیں گے۔ہم اب آتے ہیں تیسرے کام کی طرف۔ صحافت کے چار بنیادی شعبے ہیں‘ ایڈیٹنگ‘ رپورٹنگ‘ رائیٹنگ اور شوٹنگ‘ صحافت کے باقی تمام شعبے ان چار شعبوں کی اولاد ہیں‘ آپ ان میں سے کسی ایک شعبے کا انتخاب کریں اور تعلیم کے دوران یہ کام سیکھنا شروع کر دیں‘ آپ کسی ’’ورکنگ جرنلسٹ‘‘ کا چھوٹا بن جائیں‘ آپ روز چند گھنٹوں کے لیے ’’استاد‘‘ کے پاس جائیں اور اس کا ہاتھ بٹائیں‘ یہ فری سروس آپ کو ڈگری سے قبل ہنر اور مہارت بھی دے گی اور کام کرنے کا گُر بھی سکھائے گی‘ یہ آپ میں مستقل مزاجی کی عادت بھی ڈال دے گی‘ میں یونیورسٹی کے دور میں بہاولپور کے ایک سینئر صحافی سے ایڈیٹنگ سیکھتا تھا‘ وہ مجھ سے روزانہ تین خبریں ایڈٹ کرواتا تھا‘ ان تین خبروں کے عوض میں اسے ہفتے میں دو بار رات کے تین بجے گھر چھوڑ کر آتا تھا‘ یہ مشکل ترین مرحلہ ہوتا تھا کیونکہ وہ نشے میں دھت ہوتا تھا اور وہ اپنے گھر کے بجائے کسی دوسرے گھر میں گھسنا چاہتا تھا اور میری ذمے داری ہوتی تھی میں اسے اسی کے گھر چھوڑ کر آؤں اور میں یہ فرض پوری ایمانداری سے ادا کرتا رہا‘ اس مشقت کا یہ فائدہ ہوا میں جب یونیورسٹی سے نکلا تو ڈگری کے ساتھ ساتھ مجھے خبر ایڈٹ کرنا بھی آتا تھا جب کہ میرے باقی کلاس فیلوز اس معاملے میں بالکل کورے تھے لہٰذا وہ اس کورے پن کی وجہ سے صحافت کی پرخار وادی میں ٹھہر نہ سکے۔چوتھا کام‘ صحافت کانٹیکیٹ یا رابطوں کا شعبہ ہے‘ اس پیشے میں سماجی رابطے سٹیئرنگ کی حیثیت رکھتے ہیں‘ آپ اگر رابطے نہیں بنا سکتے تو آپ کے صحافی بننے کے چانس کم ہو جاتے ہیں چنانچہ آپ طالب علمی کے زمانے سے سماجی رابطے بڑھانا شروع کردیں‘ آپ مقامی سیاستدانوں سے ملیں‘ ان سے سیاست اور پارلیمنٹ کے بارے میں پوچھیں‘ آپ تھانے جائیں اور تھانے کے عملے سے قانونی معلومات حاصل کریں‘ آپ کے علاقے کا ایس ایچ او کوئی بڑا مجرم پکڑ لے تو آپ اس سے ملیں اور اس کی تعریف کریں‘ وہ آپ کو اپنی کامیابی کی چند ایسی چیزیں بتائے گا جو آپ نے اخبارات میں بھی نہیں پڑھی ہوں گی‘ آپ اس ایس ایچ او سے رابطہ استوار کر لیں‘ آپ اپنے ضلع کے ایس پی یا ایس ایس پی سے بھی ملاقات کریں‘ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے بھی ملیں‘ آپ علاقے کے تمام سرکاری دفتروں میں جائیں‘ افسروں سے ملاقات کریں اور ان سے محکمے کا ’’پروسیجر‘‘ پوچھیں‘ آپ کے گھر بجلی‘ گیس‘ ٹیلی فون‘ سیوریج اور واٹر سپلائی ہو گی مگر آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا ہو گا‘ آپ کے گھر پانی کہاں سے آتا ہے‘ سیوریج کی لائنیں آخر میں کہاں جاتی ہیں‘ ٹیلی فون کا نیشنل نیٹ ورک کہاں ہے‘ گیس کہاں سے چلتی ہے اور کہاں پہنچتی ہے اور بجلی کی مین ٹرانسمشن لائین کس کو کہتے ہیں‘ فیڈر کیا ہوتا ہے اور ٹرانسفارمر کیا کام کرتا ہے‘ آپ طالب علمی کے زمانے میں ان محکموں کے دفاتر جائیں‘ان سے بنیادی معلومات حاصل کریں اور خدانخواستہ اگرملک کے کسی حصے کی ٹرانسمیشن لائین میں فالٹ آ جائے تو آپ واپڈا کے مقامی ملازمین کے پاس جائیں اور ان سے اس فالٹ کے بارے میں پوچھیں‘ آپ پوسٹ مارٹم ہوتے ہوئے دیکھیں‘ فوجی ٹینک میں بیٹھ کر اس کا معائنہ کریں اور محکمہ انہار کے نظام کو سمجھنے کی کوشش کریں‘ یہ معلومات اور یہ رابطے آپ کی عملی زندگی میں بہت کام آئیں گے۔اور پانچواں کام۔ صحافت صرف پیشہ نہیں یہ جنون ہے‘ آپ اسے جب تک جنون نہیں سمجھیں گے‘ آپ اس میں کامیاب نہیں ہو ں گے‘ آپ اس پیشے کو مشرقی عورت کا نکاح سمجھیں‘ آپ اگر اس میں ایک بار آ گئے تو پھر آپ جان لیں اب یہاں سے آپ کی نعش ہی جانی چاہیے‘ ڈولی نہیں‘ آپ اگر مستقل مزاج نہیں ہیں‘ آپ روٹین کو  فالو نہیں کر سکتے‘ آپ نوکریاں یا کام چھوڑنے کے عادی ہیں یا پھر آپ تیزی سے ترقی کرنا چاہتے ہیں تو پھر صحافت آپ کا پیشہ نہیں ہو سکتا‘ یہ ہلکی آنچ پر پکنے والی ڈش ہے‘ یہ برگر یا سینڈوچ نہیں کہ آپ اسے اٹھا کر منہ میں ڈال لیں گے‘ آپ اگر صحافی بننا چاہتے ہیں تو پھر صبر‘ مستقل مزاجی اور صحافت کا جنون آپ کی شخصیت کا حصہ ہونا چاہیے بالکل خشونت سنگھ کی طرح۔ خشونت سنگھ برصغیر کے عظیم صحافی تھے‘ ان کا 20 مارچ 2014ء کو 99 سال کی عمر میں انتقال ہوا‘ یہ پوری زندگی رات آٹھ بجے ڈنر کرتے تھے‘ دس بجے سو جاتے تھے اور صبح چار بجے اٹھتے تھے‘ خشونت سنگھ کی اس روٹین نے انھیں35 کتابوں کا مصنف اور برصغیر کا سب سے بڑا صحافی بنایا‘ آپ بھی خشونت سنگھ بن سکتے ہیں لیکن آپ کو اس کے لیے خشونت سنگھ کا ڈسپلن اپنانا ہوگا‘ آپ اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر آپ صحافی ضرور بن سکتے ہیں لیکن اچھے صحافی نہیں۔

موسم گل اور اردو زبان پر بہار۔۔۔۔

بہاولپور کی اردو کانفرنس پر رضا علی عابدی صاحب کا کالم شیئرکررہا ہوں، کالم آج جنگ اخبار نے شائع کیا۔
اب کے شہر بہاول پور میں بیک وقت دو بہاریں آئیں، ایک پھولوں پر اور دوسری اردو زبان پر۔ صحرائے چولستان سے لگے لگے جنوبی پنجاب کے اس شہر میں عجیب واقعہ ہوا۔ وہاں اردو زبان کے نام پر ایک عالمی اجتماع ہوا۔ تقریباً دس ملکوں کے کوئی پچاس دانشور اکٹھے ہوئے۔ سب نے ایک ہی معاملے پر غور کیا’’اردو زبان کو کیوں کر فروغ دیا جائے؟‘‘ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ معاشرے میں اس زبان کو اس کا جائز مقام کیسے دلایا جائے۔ اس زبان کو جو کہنے کو کسی کی بھی نہیں لیکن درحقیقت ہر ایک کی ہے، اسے معاشرے کی مشترک زبان کیوں نہ سمجھا جائے۔ سیدھے سادے الفاظ میں یہ کہ جو بات عرصہ ہوا طے ہو چکی اس بات کو سیاست کے شور میں دبنے نہ دیا جائے اور اردو کو مملکت پاکستان کی قومی زبان تسلیم کیا جائے۔ بہاول پور کی اسلامیہ یونیورسٹی اور فلاحی ادارے وسیب کے اشتراک سے بلائی جانے والی اس عالمی اردو کانفرنس میں تین دن تک زبان کے مختلف پہلوئوں پر بات ہوتی رہی۔ کبھی کسی عزم کا اعلان ہوا کبھی کسی منصوبے کا، کبھی زبان کو درپیش مسائل حل کرنے پر گفتگو ہوئی اور کبھی علاقائی زبانوں کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا۔ بہاول پور شہر اس خطّے میں واقع ہے جو سرائیکی زبان کا علاقہ کہلاتا ہے لیکن علاقے کے سرکردہ دانشوروں نے کھل کر کہا کہ قومی زبان کے نام پر اردو کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی دوسری زبان کو نہیں، خاص طور پر سرائیکی سرزمین کے اعلیٰ دانشور نصراللہ خان ناصر نے زور دے کر کہا کہ اگرچہ سرائیکی زبان سے ان کا گہرا جذباتی رشتہ ہے لیکن اردو ایک قومی اثاثہ ہے۔ مختلف قراردادیں پیش کر کے اسے اس کے مقام سے اتارا نہیں جا سکتا۔ اردو سرحدوں سے ماورا ہے۔ یہ بات بھارت کے مفکرین زبیر رضوی اور ڈاکٹر علی جاوید نے یوں بھی کہی کہ یہ زبان دو پڑوسی ملکوں کو ایک ڈور سے باندھتی ہے۔ اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے اساتذہ، شعراء اور ادباء نے کہا کہ ملک کے تمام صوبوں کو یکجا کرنے کی غیرمعمولی قوّت اسی زبان ’’اردو‘‘ میں ہے۔
بہاول پور کی اس عالمی اردو کانفرنس کو اس کے مندوبین کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا جن میں دور حاضر کے بڑے افسانہ نگار انتظار حسین، نسائی شاعری کی علم بردار کشور ناہید، سرکردہ ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید، ڈاکٹر انوار احمد، تبسم کاشمیری، آصف فرخی، یوسف خشک شامل ہیں۔ کانفرنس میں وفاقی جامعہ اردو کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال بھی شریک تھے جن کا اس بات پر اصرار تھا کہ اردو جیسی توانا زبان کا درجہ گھٹایا نہیں جا سکتا۔ کانفرنس میں شرکت کے لئے ترکی سے پروفیسر درمش، مصر سے ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم السید آئے تھے جو جامعہ الازہر میں لڑکیوں کو اردو پڑھاتے ہیں۔ ان کے ہمراہ قاہرہ سے ڈاکٹر احمد ماضی بھی آئے تھے جو اسی جامعہ میں لڑکوں کو اردو کی تعلیم دیتے ہیں۔ ان دونوں نے شکایت کی کہ الازہر میں اردو کی تعلیم کیلئے پاکستان سے ہمیشہ ایک استاد آیا کرتا تھا اب کچھ عرصے سے یہ سلسلہ بند ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ اس میں قصور اردو زبان کا نہیں، سیاست دان کا ہے۔ انہی سیاستدانوں نے قومی زبان کے ادارے مقتدرہ کا برا حال کیا ہے جس کے سابق سربراہ ڈاکٹر انوار احمد نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور اردو کے فروغ کیلئے اپنے تجربے کی بنا پر مختلف تجاویز پیش کیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مختار نے اس کانفرنس کے سلسلے میں غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا اور جامعہ کے مہمان خانے مندوبین کیلئے کھول دیئے۔ اردو کے سرکردہ استاد ڈاکٹر نجیب جمال اس پوری کانفرنس کی منصوبہ بندی میں پیش پیش تھے۔ وہی اجلاس کی نظامت کا فرض انجام دیتے رہے جس کی انہوں نے بجا طور پر داد پائی۔
اس تاریخی مباحثے اور مذاکرے کا ایک رخ اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض اوقات یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ یہ اردو کانفرنس ہے یا ایم اے اردو کا کلاس روم۔ اساتذہ نے بارہا کانفرنس کے شرکاء کو اعلیٰ جماعتوں کے طلبہ تصوّر کیا اور ان کے ساتھ وہی سلوک بھی کیا۔ کتنے ہی مقالے جواب مضمون تھے جن میں علم تو کوٹ کوٹ کر بھرا تھا لیکن سوال یہ تھا کہ اردو غزل کدھر جا رہی ہے؟ کیا یہ واقعی ہمارا مسئلہ ہے؟ اردو کی شکل بگڑ رہی ہے۔ الفاظ وہی ہیں مگر مفہوم مسخ ہوتا جا رہا ہے۔آج کا میڈیا اس زبان کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگا ہے، اس پر انگریزی کی یلغار ہو رہی ہے۔ تلفّظ بگڑ رہا ہے، یہاں تک کہ نئی نسل کا خط خراب ہو گیا ہے۔ اردو نثر پیچھے جا رہی ہے اور شعر گوئی مرض کی شکل اختیار کر چلی ہے۔ اردو جماعتوں اور اساتذہ کی حالت خراب ہے۔ اردو کی درسی کتب اتنی ناقص ہیں کہ انہیں دیکھ کر شرم آتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اردو میں بچّوں کا ادب نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ لوگ بچّوں کے لئے بہت لکھتے، ناشر چھاپتے ہیں، کتب فروش فروخت نہیں کرتے اور والدین خرید کر بچّوں کو دیتے نہیں۔ خود بچّوں کی ترجیحات میں کتاب نیچے چلی گئی ہے اور برگر اوپر آ گیا ہے۔ ایسے کتنے ہی گمبھیر معاملات تھے جن پر بات ہونی تھی مگر نہیں ہوئی۔البتہ کانفرنس کے خاتمے کے بعد ایک یادگار مشاعرہ ہوا جو صحیح معنوں میں بین الاقوامی تھا۔ خوب اشعار پڑھے گئے اور سر دھنے گئے۔ وائس چانسلر صاحب کے بقول وہ اتنے سرشار ہوئے کہ صبح پانچ بجے تک نیند نہیں آئی۔
آخر میں ایک ضروری بات۔ اس طرح کی کانفرنسوں کے پیچھے کچھ خاموش رضاکار بھی ہوتے ہیں جو پس منظر میں رہ کر انتھک محنت کرتے ہیں، وہ خود بھی سامنے نہیں آتے، نہ ان کے ناموں کی تشہیر ہوتی ہے اور نہ ان کی مشقت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ بہاول پور کی اس عالمی اردو کانفرنس کی دوڑ دھوپ میں اگر علی معین، اسلم ادیب اور مسعود صابر شریک نہ ہوتے تو کانفرنس رہی ایک طرف،اس کے خواب سے بھی ہم سب کی آنکھیں محروم رہتیں۔ اس کانفرنس نے جہاں اور بہت سے کام کئے، ہماری آنکھیں بھی کھولیں۔

صحافیوں کو ہتھیاررکھنے کی اجازت کی تجویز


رپورٹ:بی بی سی اردو ڈاٹ کام
اشاعت:جمعرات 3 اپريل

وزارت اطلاعات و نشریات نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ صحافیوں اور صحافتی کارکنوں کے لیے تمام صوبوں میں خصوصی ہاٹ لائنوں کے قیام پر اگلے ہفتے سے کام شروع ہو جائے گا۔

کمیٹی نے حکومت کو صحافیوں کو ذاتی تحفظ کے لیے ہلکے ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے پر غور کرنے کا بھی کہا ہے۔

ہاٹ لائنوں پر صحافی اور میڈیا کے کارکن کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری طور پر فون کر کے اطلاع دے سکیں گے۔

اطلاعات و نشریات کے متعلق پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو چیئرپرسن ماروی میمن کی صدارت میں ہوا۔

کمیٹی نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایت کی کہ وہ خصوصی ہاٹ لائنوں کے قیام کے لیے فوری اقدامات کریں اور اس بارے میں کمیٹی کو آگاہ کریں۔

کمیٹی نے حکومت کو تمام میڈیا ہاؤسز پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے اور اسکینرز لگانے کی بھی ہدایت کی ہے۔


وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے شرکا کو بتایا کہ حکومت میڈیا کے اداروں اور صحافیوں اور صحافتی کارکنوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں اخباروں کے مالکان کی تنظیم اے پی این ایس اور پریس کلبوں سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے لاہور میں صحافی اور ادیب رضا رومی پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی اور ہدایت کے باوجود پنجاب پولیس کے کسی افسر کے شرکت نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے آئی جی پولیس پنجاب کو رضا رومی پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں اب تک ہونے والی پیش رفت کی خفیہ رپورٹ 24 گھنٹوں میں کمیٹی کو بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔

اجلاس کے بعد جاری کی جانے والی کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے ہلاک اور زخمی ہونے والے صحافیوں کے ورثا کو تمام صوبوں میں معاوضے کی یکساں ادائیگی کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے اور صحافیوں کے قتل کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک سپیشل پراسیکیوٹر مقرر کیے جائیں گے۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا کے اداروں اور صحافیوں کے خلاف شدت پسندوں کے دھمکی آمیز بیانات اور فہرستوں کو حکومت سنجیدگی سے لے کیونکہ کمیٹی کے بقول دہشت گرد ان فہرستوں کے مطابق کارروائیاں کررہے ہیں اور ان فہرستوں میں جن صحافیوں اور صحافتی اداروں کے نام ہیں، انہیں دھمکیاں بھی ملی ہیں۔


کمیٹی نے کہا ہے کہ صحافیوں اور صحافتی اداروں پر حملوں کے تمام واقعات کی تحقیقات اگلے تین ماہ میں مکمل کی جائیں۔ میڈیا پر ہونے والے ہر حملے کی جامع تحقیقات کی جائیں اور ماہانہ بنیادوں پر اس کی رپورٹ پارلیمان میں پیش کی جائے۔ کمیٹی نے سپیکر کو یہ سفارش بھی کی ہے کہ ان واقعات کی تحقیقات کی تفصیلات متاثرہ خاندانوں کی اجازت سے منظر عام پر لائی جائیں، ملوث گروہوں، ان کے سرغنوں اور جنگجوؤں کے نام بھی سامنے لائے جائیں اور ایسے کسی گروہ کا نام چھپایا نہ جائے۔


کمیٹی نے اپنی سفارشات میں ریاست اور میڈیا کے مالکان پر زور دیا ہے کہ وہ ہلاک اور زخمی ہونے والے صحافیوں کے ورثا کی مالی مدد، علاج و معالجے کے اخراجات اور ان کے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری لینے اور اس کے لیے واضح نظام کا تعین کرنے بھی زور دیا ہے۔

اجلاس میں شریک تجزیہ کار اور ٹی وی اینکرپرسن ڈاکٹر معید پیرزادہ نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں صحافیوں اور صحافتی کارکنوں کے لیے ہاٹ لائنوں کا قیام انہیں لاحق خطروں کا موثر حل نہیں ہے۔

'پاکستان میں اتنے زیادہ حملے ہو رہے ہیں، اتنی زیادہ دہشت گردی ہے اور اتنی زیادہ پولیس اہم شخصیات کے ذاتی تحفظ پر مامور ہیں۔ کئی وزرا اور اہم شخصیات کی حفاظت پر سو سو اہلکار تعینات ہیں تو اگر میڈیا کے لوگ بھی اس میں شامل ہو جائیں گے تو یہ تو نظام ہی نہیں چل پائے گا۔'

انھوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے پولیس کے مجموعی حفاظتی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ہوشیار۔۔۔

تو جناب سندھ اسمبلی میں موٹر وہیکل ترمیمی بل دوہزار چودہ منظور کرلیا گیا ہے۔۔۔ اب اسکول بس کو راستہ نہ دینے والے بھی ہوشیار ہو جائیں کیوں کے اگر ایسا کیا تو ان پرایک ہزارروپے جرمانہ کیا جائے گا۔۔ بغیر ہیلمیٹ موٹر سائیکل چلانے پر ایک سو پچاس روپے جرمانہ ہوگا۔۔ سیاہ شیشوں والی گاڑیوں کے مالکان کو بھی ایک ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔۔ بل کے مطابق بس ڈرائیوروں اور کنڈیکٹرز کی بھی خیر نہیں اور چھتوں پرمسافر بٹھانے اور اوور لوڈنگ پر ایک ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔۔ غلط موڑ کاٹنے اور ڈرائیونگ لائسنس کے نہ ہونے پربھی پانچ پانچ سو روپے جرمانہ ہوگا۔ ماضی میں بھی ٹریفک پولیس کی رشوت پر کئی بلاگز لکھے۔۔۔ میرے مطابق ان جرمانوں یا چالانوں پرعمل سے زیادہ رشوت خوری کا بازار مزید گرم ہوگا۔۔ جب ٹریفک اہلکاروں پرلوگوں کی تڑیاں اور وزیروں کی کال بھی کام نہیں دکھائے گی تو ایک ہزار کی جگہ سو دو سو سے بھی کام چل ہی جائے گا۔۔۔

اب لائسنس بنوانے کیلئےدفاتر میں لوگوں کا رش تو لگے گا مگرایک بل اس پربھی تومنظورہوتا کہ لائسنس کے اجراء میں میرٹ کو بھی ملحوظ خاطررکھا جائے گا اور رشوت سے بچا جائے گا۔۔۔ کیونکہ رشوت یا بروکرز سے حاصل کردہ ایسا اوریجنل لائسنس کس کام کا۔ پھرتوایک موٹرسائیکل سوارٹرک ڈرائیور بھی بن سکتا ہے اور رکشہ چلانے والا ٹریکٹر بھی چلا سکتا ہے۔ خیر بلوں کی منظوریاں اپنی جگہ یہاں توقوائد بھی پہلے سے موجود ہیں، ضابطے بھی موجود ہیں مگرعمل کہاں؟؟ 

لیاری، بموں، راکٹوں اور گولیوں کی تھرتھراہٹ۔۔۔


گو کہ پورے ملک میں دہشت گردی جاری ہے تاہم پیشہ وارانہ صحافتی زندگی میں لیاری کے مناظر،خبروں اور لوگوں کی پکار نے بلاگ لکھنے پر مجبور کر دیا۔

کراچی کا علاقہ لیاری۔۔۔ جہاں کشیدہ صورتحال اور خوف کے باعث یہاں کے رہائشی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ یہاں نہ قاتل کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی مقتول کا کیس کسی عدالت میں چلتا ہے۔ جب، جسے، جہاں چاہا مار دیا یہاں کوئی پوچنے والا نہیں۔ گینگ وار کے مختلف گروہوں کی جرائم پیشہ کارروائیوں اور آپس کے جھگڑوں نے پورے علاقے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کے یہاں کے لوگ بھی انسان ہیں۔۔ یہاں تک کے آپس کے جھگڑوں میں مگن گروپس بھی اس بات سے غافل ہیں کہ انکی گولیوں، بموں اور راکٹوں کے آزادانہ استعمال نے کتنے معصوموں کی جانیں لے لیں۔۔۔

  میڈیا میں زیر بحث رہنے والا لیاری کبھی باکسنگ اور فٹبال جیسے کھیلوں کے مرکز سے پہچانا جاتا تھا۔ فٹبال اور باکسنگ کے کھیلوں میں بڑے بڑے کھلاڑٰی اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ تا ہم اب ایسا نہیں۔۔۔ اب لیاری بموں، راکٹوں اور گولیوں کی تھرتھراہٹ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کھیلوں کے میدان ویران ہو چکےہیں اور گینگسٹر اور جرائم پیشہ عناصر کے مختلف گروہ اپنی کارروائیوں میں سرگرم ہیں۔



لیاری میں پولیس، رینجرزاور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکام کارروائیاں تو جاری ہیں مگر وہ بھی کسی کام کی نہیں۔ یہاں قانون کے رکھوالوں سے زیادہ طاقتور گینگ وار گروپس ہیں۔ جدید اسلحے سے لیس۔۔۔ اور خطرناک بارودی مواد کے حامل یہ گروپس لیاری میں آگ اور خون کا کھیل کھیل رہے ہیں۔۔۔ علاقے میں جگہ جگہ ان کے مورچوں نے وہاں کی معصوم عوام کی زندگی خطرے میں ڈال کر رکھ دی۔۔ 

نہ رہائشیوں کا کوئی قصور ۔۔ نہ کسی سے کوئی دشمنی۔۔۔ پھر بھی روزانہ کتنے گھرانے اپنی ماں، بہن، بیٹے، بھائیوں اور بچوں کی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ شاید انکا غم میں اور آپ نہیں سمجھ سکتے ۔۔۔ رہائشی لاشوں اور جنازوں کو اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں اور چیخیں مار مار کر ظالموں سے کہہ رہے ہیں کہ خدا کے واسطے لڑائی بند کردو۔ معصوم لوگ انصاف کیلئے حکومت کو پکار رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کسی گروپ سے کوئی سروکار نہیں۔۔۔ ہمیں تو بس لیاری میں امن چاہیئے۔۔ ہمیں سکون چاہیئے۔۔۔۔ 
لیاری پر قبضے کی اس جنگ نے لوگوں سے جینے کا حق بھی چھین کر رکھ دیا۔۔۔۔ جو لڑ رہے ہیں وہ لڑتے جا رہے ہیں۔۔۔  جو مررہے ہیں وہ مرتے جا رہے ہیں۔۔۔۔ لوگ چیونٹیوں کی طرح اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ یہاں نہ کوئی ریاست ہے نہ حکومت، نہ قانون، نہ رکھوالے۔ یہاں لوگوں کی زندگیاں بندوق کی نوک پررکھی ہیں۔ لیاری میں امن کیلئے ہم صرف دعا اورامید ہی کر سکتے ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ لیاری میں امن اور سلامتی دے آمین۔

ایشیاء کپ، پاکستان فائنل میں۔۔۔


ایشیا کپ کے حالیہ میچز میں پاکستان نے اعصاب شکن میچز جیت کر قوم کے دل جیت لئے۔ خاص طور پر شاہد آفریدی کافی عرصے بعد پرفارم کرتے نظر آئے۔ بوم بوم آفریدی نے میچز کا پانسہ پلٹنے اور ٹیم کو کامیاب کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پرلالا نے تینوں طرز کی کرکٹ میں چار سو چھبیس چھکے لگائے جبکہ ون ڈے کرکٹ میں تین سو تینتیس چھکے مارے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں سوشل میڈیا پربوم بوم آفریدی، چھا گیا لالا اور لو یوآفریدی جیسے پیغامات کا راج ہے۔

بھارت سے میچ ہوا تو پوری قوم کی نظریں صرف ٹی وی اسکرین پر تھیں، ایشیا کپ کے اس اہم ترین معرکے میں پاکستان اور بھارت کا میچ آخر میں اس قدر دلچسپ ہو گیا کے نظریں ہٹانا مشکل ہو گیا۔ آخر کار میچ میں کامیابی پاکستان کے پاس آئی اور پھر پوری قوم نے بھارت سے جیت کا جشن ایسے منایا جیسے ایشیا ء کپ کا فائنل جیتا ہو۔

بنگلہ دیش کو عام طور پر آسان حریف سمجھا جاتا ہے مگر کبھی کبھار یہی خوش فہمی ہلک میں بھی اٹک جاتی ہے جیسا کہ گزشتہ روز ہونے والے میچ میں ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بنگالیوں نے کل کا میچ جیتنے کیلئے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی بلکہ ہوم گراؤند میں ایک جادوگر بابا بھی بنگال کا جادو کرتا نظر آٰیا۔۔ مگر پاکستانی بلے بازوں کا ایسا جادو چلا کہ تین سو ستائس رنز کا مشکل ہدف بھی پورا ہوا اورشاہینوں نے فتح اپنے نام کی۔

آج بیشک بھارت نے افغانستان کے آسان ہدف کو پورا کر کے فتح تو اپنے نام کر لی مگر اب بھارتی سورما بوریا بستر باندھ کر وطن واپس روانہ ہونگے۔

بنگلہ دیش میں ہونے والا ایشیاء کپ اپنے آخری مراحل میں ہے، پاکستان اور سری لنکا فائنل میچ بروز ہفتہ کھیل رہے ہیں۔ سری لنکا آسان حریف نہیں۔۔ اب دیکھنا ہوگا کہ پاکستانی شاہین اس اہم ترین معرکے میں ایشیا کپ کا ٹائٹل ایک بار پھر سے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔۔ ہماری اور قوم کی دعائیں ٹیم کے ساتھ ہیں۔
ایشیا کپ کے بعد ٹی ٹوئینٹی کرکٹ ورلڈ کپ کا بھی آغاز ہو رہا ہے ایسے وقت میں ایشیا کپ میں اگر ہماری جیت ہوتی ہے تو ورلڈ کپ میں شاہینوں کے حوصلے بلند ہونگے اور انشاء اللہ ٹی ٹوئینٹی بھی ہمارے نام ہو گا۔

مصوری کا دوبارہ آغاز۔۔۔


بچپن میں مصوری کے شوق نے گھر کی کئی دیواریں مختلف تصاویر سے بھروا دیں تھی۔ میں نے ایک کمرے کو مختلف تجربات کے لئے مختص کر لیا تھا جہاں دیوار کا کوئی حصہ خطاطی سے خالی نہیں بچا تھا۔ یقیناً میرے اسکول کے دوست یہ سب جانتے ہونگے اور میرے کمرے سے بھی واقف ہونگے، خاص طور پر دانش اور شہباز۔

خطاطی کے لئے نہ ہی کسی سے باقاعدہ تربیت حاصل کی اور نہ ہی کسی ادارے میں داخلہ لیا، اخبارات کی شہہ سرخیوں کو کچے قلم کی مدد سے بنانے کی کوشش کرتا رہتا تھا ۔ کئی بار خط بنانے سے ایک دو بار اس جیسا بنتا تو خوشی سے پھولے نہیں سماتا تھا، کرتے کرتے کچھ بہتر لکھنے لگا تو لوگوں نے رائٹنگ کو پسند کرنا شروع کر دیا۔ اسکول میں کسی پروگرام کے پوسٹرز ہوں یا کسی دوست کی کوئی ہیڈنگ ہر چیز کو مکمل کرنا میری ذمہ داری ہو چکی تھی۔ ڈرائینگ کے مضمون میں ہمیشہ اول نمبر ہی رہا بلکہ امتحانات میں شدت سے انتظار کرتا تھا۔ جب ہی جان لیا تھا کہ شوق، لگن اور دلچسپی کسی بھی کام میں کامیابی دلوا سکتے ہیں۔

خطاطی کیلئے اسکول میں مقابلہ ہوا تو اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ کینسر سوسائٹی کے زیر اہتمام تمباکو نوشی کے حوالے سے آرٹس کونسل میں مصوری کے مقابلے ہوئے تو اس میں بھی پیچھے نہیں رہا اور کیش انعامات کے ساتھ سرٹیفیکیٹس بھی حاصل کئے۔


کالج لائف میں موبی لنک میں ملازمت بھی کرتا رہا تو اس دوران اپنا شوق وقت کی قلت کے باعث ختم کر دیا۔ اب کچھ وقت ملا تو ایک بار پھر مصوری کا آغاز کیا۔ اس بار فرق یہ ہے کہ اس سے قبل کبھی بھی کینوس پر کام نہیں کیا تھا۔ بہت سے بینرز بنائے، بورڈز پر بھی تصاویر بنائیں مگر کینوس پر پہلا تجربہ تھا۔ اس پر کام کرنے سے قبل کچھ دوستوں سے مشورے کئے تو آسانی ہوتی گئی۔ یہاں تک کے مٹیریل خریدنے کیلئے نظر برادرز بھی سامنے آیا تو مشرق سینٹر اور کریم آباد بھی۔ کچھ دوست مصروف تھے مگر پھر بھی مشورے دیتے رہے۔ شاہ سلمان اور فرحان بھائی سے ملاقات کے بعد کسی قسم کی کنفیوژن نہیں رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد پہلی کیلی گرافی کو کینوس پر اتارا۔

دونوں پینٹنگز پر آپ سب کی بھرپور پذیرائی سے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔ اور اب اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا اور پینٹنگز پر اپنے مفید مشورے یا پھر اصلاح کیلئے تنقید ضرور کیجئے گا۔ اور اگر کچھ اچھا کام کر جاؤں تو کم از کم ایک کمنٹ کر کے داد سے بھی نوازیئے گا۔۔۔

انعم جاوید، شاہ ولی، شاہ سلمان، فرحان بھائی، مہوش میمن، جواد، مریم، اور ایس ایس آپ سب کا شکریہ۔     

 

انیس فروری پرمبارکباد کا تانتا۔۔۔ آپ سب کا شکریہ

 بہت بہت شکریہ میرے تمام دوستوں کا۔ آپ تمام نے نا صرف میری سالگرہ کے دن کو یاد رکھا بلکہ آپکے دعاؤں بھرے پیغامات بھی موصول ہوتے رہے۔ فیس بک کی وال سجانے میں بھی آپ نے کوئی کثر نہیں چھوڑی جو کہ میرے لئے کسی سرپرائز سے کم نہیں۔

آج کے دن کچھ دوستوں نے جامعہ بلایا تو وہاں کچھ تصاویر بھی محفوظ کیں اور فیس بک پر لگانے کے بعد اس پر سب کے مزے مزے کے پیغامات نے موڈ اور بھی اچھا کر دیا۔

آج کی تازہ تصاویر بلاگ پر بھی آویزاں کر رہا ہوں۔ دعاؤں میں یاد رکھیئے گا۔   










یہ دن پاکستان میں کب آئے گا؟



کرپشن کسی بھی ملک میں نا صرف ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ ملک کو دیمک کی طرح چاٹنے کا کام بھی انجام دے سکتی ہے۔ دنیا بھرمیں پاکستان بھی بد عنوانی کے معاملے میں پیچھے نہیں ہے۔ ملک میں کرپشن نے ایسے زبردست طریقے سے اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں کہ چاہ کر بھی کوئی اسے ختم نہ کر سکا۔ بلکہ میں اگر یہ کہوں کہ آدھی بھی نہ کر سکا تو غلط نہ ہوگا۔

مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے بد عنوانی پر کئے گئے سروے کے مطابق پاکستان کا نمبر بھارت سے بھی پہلے آتا ہے، پھر بھی پڑوسی ملک میں بھی کرپشن کم نہیں۔ بھارت میں کچھ عرصہ پہلے اسی بد عنوانی کو ختم کرنے کا نعرہ لئے ایک سیاسی جماعت ابھری۔ عام آدمی پارٹی کے نام سے وجود پانے والی پارٹی نے کچھ علاقوں میں جہاں کامیابی حاصل کی وہیں بدعنوانی کے باعث پارٹی کے وزیراعلیٰ نے دو روز قبل استعفیٰ دے دیا اور کابینہ تحلیل کر دی۔

عام آدمی پارٹی کی جانب سے کرپشن سے متعلق ۔۔۔ جن لوک پال بل ۔۔۔ اسمبلی میں پیش کیا جانے لگا تو کانگریس اور بی جے پی نے بل کو پیش نہیں ہونے دیا۔۔  اروند کجروال کے مطابق بد عنوانی سے متعلق اس بل سے بی جے پی اور کانگریس خوفزدہ ہیں اسلئے بل کو اسمبلی میں پیش نہیں ہونے دیا گیا ورنہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا پچھلے دس سال کا احتساب ہوتا تو دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہو جاتا اور کرپشن عوام کے سامنے آجاتی۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما اور وزیراعلیٰ اروند کجروال نے اسی وقت کابینہ کا اجلاس طلب کیا اوراپنا استعفیٰ پیش کر دیا اور کابینہ تحلیل کرکے نئے انتخابات کا مطالبہ کردیا۔ پوری کابینہ نے بھی استعفیٰ پیش کیا۔ عام آدمی پارٹی کی اس خبر نے نا صرف بھارت بلکہ عالمی میڈیا کو بھی متاثرکیا۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان میں بھی تو کرپشن بھارت سے زیادہ ہے۔ یہاں کے سرکاری اداروں میں کونسا کام ہے جو رشوت کے بغیر ہو جاتا ہے؟ ۔۔  ملک میں موجود کرپشن کو تمام جماعتیں اور خصوصاً حکمران ایسے بھول کر بھیٹھے ہیں جیسے یہاں گڈ گورننس چل رہی ہو۔ ملک چلانے والے حکمران ہوں یا بڑی بڑی سیاسی جماعتیں ان سب کی توجہ اس اہم ترین مسلے کی طلب گار ہیں، اور لوگ یہاں بھی کسی ایسے لیڈر کا انتظار کر رہے ہیں جو شہریوں کو بد عنوانی سے نجات دلا سکے۔


قانون کے رکھوالے یا جرائم پیشہ عناصر؟؟؟




کئی بارشہر کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کو رشوت لیتے دیکھا۔ صبح سویرے شارع فیصل سے گزرا تو ایک سگنل پر کھڑے چند اہلکار اپنی اپنی موٹر سائیکلوں پر شہریوں کو روکتے اور چند سیکنڈ سے بھی کم وقت میں مزے سے ہاتھ میں لال نیلے نوٹ لے کر دوسرے شکار کی جانب گامزن ہوتے دکھائی دیئے۔۔۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ موبائل سے انکی فوٹیج بناؤں اور عوام کے سامنے لاؤں مگر پھر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ الیکٹرانک میڈٰیا پر بے شمار خبروں میں ہم نے اس قسم کی فوٹیجز دیکھی تو اس پر کیا ایکشن لیا گیا۔۔۔ کتنے پروگرامز صرف اسی مسلے پر نشر کئے گئے ان اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔۔۔


جناب پولیس کا رشوت لینے والا سین تو سب نے ہی دیکھا ہے مگر۔۔۔ کیا گزشتہ روز لاہور اور پھر کراچی میں دو ایسے واقعات رونما نہیں ہوئے جس میں پولیس نے شہریوں کے ساتھ لوٹ مار کی وارداتیں کی۔۔۔ اور پھر پولیس نے ہی اپنے پیٹی بھائیوں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کیا۔۔۔ جی ہاں یہ بھی سچ ہے جناب کل کی دو بریکنگ نیوز میں یہ واقعات بھی شامل تھے۔۔۔۔

ایک دوست سے اسکے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سنا تھا جس کے مطابق باقاعدہ یونیفارم میں ملبوس اور اس پر ایک اور رنگ کی شرٹ پہنے پولیس اہلکارنے دوست کو سرکاری اسلحہ کے  زور پرہی لوٹ لیا اور موبائل فون اور قیمتی اشیا سے محروم کر دیا ۔۔۔ اس قسم کے بڑھتے واقعات کے بعد جرائم پیشہ عناصر تو دور کی بات اب توشہریوں کو انہی کے رکھوالوں سے ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے۔۔۔۔ شہریوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔۔۔

Pages