نظر سے قلم تک

جامعہ کراچی، ویلکم 2014


پہلے دن کی جھلکیاں۔۔۔۔۔۔۔
جامعہ کراچی میں ہوا نئے سال کا آغازتو نظرآئے ہرطرف نئے چہرے ۔۔۔

کچھ دوست جامعہ پہنچے اورسردی کی تھرتھراہٹ میں پی یوسف بھائی کی چائے۔۔۔ اتفاقاً کئی دوست ایک ساتھ ملے تو کیا سب نے بھرپور انجوئے ۔۔۔

عتیق بھائی نے اٹینڈ کیا ایل ایل بی کا اورینٹیشن۔۔۔ اوربنے ایک بار پھرسے اسٹوڈنٹ۔۔۔ جاب اوروکالت ایک ساتھ۔۔۔ واہ ماڑا واہ ۔۔۔

سب سے پہلے اسرار صاحب آفس کا فلو مارکرلرننگ پہنچے ۔۔۔ جبکہ میں اورولی ایک ساتھ جامعہ پہنچے۔۔۔ چند لمحوں بعد عتیق بھائی نے ہمیں جوائن کیا۔۔۔ احسن اعوان کو اچانک دیکھا تو مزہ دوبالا ہوگیا۔۔۔

ولی اوراسرارنے تو ہمیں چھوڑکر کیا نئے آنے والوں کو ویلکم ۔۔۔ اورلگائے ہرڈپارٹمنٹ کے چکر۔۔

فیض بھائی نے وعدے کے باوجود دی گولی اور لگے رہے اپنے کاموں میں مگن۔۔۔

خیرجناب ہماری تو ہوئی کئی اساتذہ اورپرانے دوستوں سے ملاقاتیں۔۔۔ پرجو نہیں تھے ان کا کیا شدت سے انتظار۔۔۔

پاکستان میں ترقی کا طوفان آجائے گا۔۔۔






وطن عزیز روز اول ہی سے انواع اقسام کے تجربات کی زد میں ہے۔ نظام حکومت کا تجربہ، نظام معیشت کا تجربہ، نظام تعلیم کا تجربہ، بعض من چلے تو قائد اعظم کے ایک قول کے حوالے سے یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان حاصل ہی تجربات کیلئے کیا گیا ہے۔ لہذا نت نئے تجربات میں کوئی حرج نہیں ، مگر جناب تجربہ یہ کہتا ہے کہ آئے دن کے تجربات ملک وقوم کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوئے۔ بلا شبہ ہمارے ملک کی تاریخ بہت زیادہ پرانی نہیں ہے مگر پھر جب ہم چین اور جاپان جیسی مملکتوں ہر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تاریخ بھی ہم سے کچھ قریب تر ہے اور دونوں ممالک آج دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کی حیثیت سے اپنا وجود جمائے ہوئے ہیں۔
کسی بھی ملک و قوم کی ترقی کا راز صرف تعلیم میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے کوئی قوم بغیرعلم اورجدید تعلیم کے ترقی نہیں کر سکتی۔ ہمارے ملک کی بد قسمتی ہے کہ روز اول سے لے کر اب تک تعلیمی شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا جس سے مشکلات بڑھتی چلی جا رہی ہیں، مسائل پنپ رہے ہیں اور ملک پر مختلف بحرانوں کا زور اسکی بنیادوں کو کمزور کرتا چلا جا رہا ہے ۔
ہم مسلمان ہیں اور ہمارا مذہب شروع ہی علم سے ہوتا ہے اورعلم حاصل کرنا فرض ہے مگر افسوس صد افسوس یہ ساری اچھی باتیں ہمارے بجائے یورپ نے اپنائیں اورآج دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا مجموعہ بن کر ابھرا۔ ہم تعلیم کی قدر کرنا شروع کر دیں تو یقیناً آج بھی کچھ نہیں بگڑا اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں ہمارا نام بھی شامل ہو سکتا ہے۔ گو کہ یہ کام مشکل ضرور مگر نا ممکن نہیں ہے،  بس ہمیں یہی کہہ کر کہ ۔۔۔ اب اس ملک کا کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔ مایوس ہونے کہ بجائے خود سے عمل کرنے اور بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔

میرے نزدیک تمام ذمہ داریاں حکومت پر ڈالنا بھی غلط ہو گا ۔ ہم خود کیا کر رہے ہیں یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا ہم بھی تعلیمی نظام کی شکل درست کرنے میں اپنا ذاتی کوئی کردار ادا کر رہے ہیں۔ خیر جناب آج بھی اگر حکومت و معاشرہ اپنی سابقہ روایات کو برقراررکھتا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہم کہ ہم مزید پشتی میں ڈھل جائیں گے۔

اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے موجودہ تعلیمی بجٹ سے نظام تعلیم میں بہتری یا تبدیلی آئے گی؟ چاہے ہمیں پیٹ ہر پتھر باندھنے پڑیں ہمیں ہر صورت تعلیمی بجٹ بڑھانا ہو گا۔ تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست کو چاہیئے کہ اپنے شہریوں کی یہ اہم ذمہ داری ایک باپ کی طرح اپنے سر لے اور ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کے ساتھ ساتھ کم ازکم گریجویشن تک مفت تعلیم فراہم کرے، طلبہ کیلئے مفت ٹرانسپورٹ اور ہر ممکن سہولیات کی فراہمی ممکن بنائے۔ ہمارے نظام میں یقیناً یہی دیواریں ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں اور جس دن ہم نے ان عوامل پرسنجیدگی سے عمل کیا تو پاکستان میں ترقی کا طوفان آجائے گا انشا اللہ۔

عمر کی دوسری سالگرہ۔۔۔



بائس دسمبر دوہزارتیرہ کو میرے بھتیجے عمر کی دوسری سالگرہ ہوئی تو گھر میں ہی تقریب کا اہتمام کر لیا گیا۔صرف ایک رات پہلےہی تقریب کا حتمی فیصلہ اور پھر رشتہ داروں کو دعوت آسان کام نہیں تھا،تاہم عمر کے دادا اور ہمارے پاپا جی نے پوری فیملی کے ساتھ مل کر تمام کام باخوبی انجام دئیے اور نئے گھر کی چھت کو مہمانوں کیلئے ایک ہی دن میں سجا دیا گیا۔



دونوں چھوٹو عمر اور عزیر بھی تقریب کی سجاوٹ میں پیچھے نہیں ہٹے ۔۔ اپنی مرضی سے مختلف چیزوں کی ترسیل کا سلسلہ رات تک جاری رکھا۔

 تقریب میں تمام قریبی رشتہ داروں نے شرکت کر کے عمر اورعزیر کو خوب سارے تحائف اور پیاردیا۔ کیک کٹا تو سارے بچوں نے برتھ ڈے بوائے کو گھیرے میں لے لیا اور تالیوں کی برسات کر دی۔


تقریب کے اختتام پرکھانے کا بھی بھرپوراہتمام کیا گیا تھا، تمام مہمانوں نے سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے لذیز کھانہ انجوائے کیا اور گلاب جامن سے منہ میٹھا کیا۔



اسکول کا ایک یادگار دن

اسکول کے دن بھی کیا ٹینشن فری ہوا کرتے تھے، ہمارے اسکول میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ تفریح اورغیر نصابی سرگرمیوں کے مواقع برستے رہتے تھے۔ اسکول میں طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگرکرنے اور مسائل کےحل کیلئے باقاعدہ انتخابات کے ذریعے بزم منتخب کی جاتی تھی جو اسکول کی نیم انتظامیہ کا درجہ رکھتی اور تمام طلبہ کیلئے نہایت دلچسپی کا باعث بنتی تھی۔

اسکول ہال میں طلبہ کا عوام کی طرح سے جمع ہونا، سیاستدانوں کی طرح امیدوار طلبہ کی دھواں دارتقاریراوران ہی کی طرح بلند و بالا دعوے، ہمدردوں کی امیدواروں کیلئے اپنی خدمات اور تقاریر کے دوران چیخ چیخ کر نعرے بازی، جناب تین سالوں تک انتخابی مہم کے ششکے اورمنتخب بزم کی خدمات دیکھ کرنویں جماعت میں مجھے بھی انتخابات میں حصہ لینے کی سوج گئی۔ یقیناً پختہ ارادہ تو نہیں تھا مگرکچھ دوستوں کے بھرپوراسرار پرآئندہ انتخابات کیلئے میں نے بھی اپنا نام درج کروا دیا۔۔۔ پھرہونا کیا تھا جناب۔۔۔ کچھ دوستوں کو جمع کرکے شروع کردی ہم نے بھی انتخابی مہم۔۔ اس سے پہلے کہ میں آگے چلوں۔۔۔ آپ سے انتخابات کے لئے کچھ شرائط بھی شئیر کرنا چاہوں گا۔ انتخابات میں

۔۔۔ چھٹی سے دسویں جماعت کے طلبہ حصہ لے سکتے ہیں۔
۔۔۔ امیدواروں کو اسکول کے بارے میں بنیادی چیزیں جاننا اورحاضری ضروری ہے
۔۔۔ بزم کیلئے صدرکاعہدہ دسویں جماعت کے طالب علم، جنرل سیکریٹری نویں جماعت، جوائنٹ سیکریٹری آٹھویں جماعت، فنانس سیکریٹری ساتویں جماعت جبکہ اسپورٹس سیکریٹری چھٹی جماعت کے طالب علم کیلئے ہوگا۔
۔۔۔ بزم کا دورانیہ ایک سال ہوگا، جسکے بعد نئے انتخابات ہونگے۔وغیرہ وغیرہ

میرے ساتھ میری جماعت کے تین اور امیدوارحافظ وقاص، مکرم بشیراورعلی احمد میدان میں اترے اس طرح جنرل سیکریٹری کے عہدے کیلئے کل چار امیدوار سامنے آئے، حافظ وقاص گزشتہ انتخابات میں بھی بزم کے رکن منتخب ہوچکے تھے۔

مہم کے باقاعدہ آغاز سے پہلے کچھ دوستوں کے ساتھ ملکرطلبہ کے مسائل پرغور کیا۔ تا کہ ان کے حل کیلئے منصوبہ بندی کی جائے اورانتخابی مہم کا حصہ بنایا جائے۔ خیر جناب انتخابی مہم کا آغاز ہو چکا تھا میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہر جماعت جا کر طلبہ سے ووٹ کی اپیل کی پہلے ہی دن مجھے طلبہ کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہو گئی، کئی طلبہ نے مجھ سے رابطہ کیا اوراپنی جماعت کی حمایت کا یقین دلایا۔

سب سے زیادہ فائدہ مجھے اپنی خطاطی سے ہوا جس کا بچپن سے بے حد شوق تھا۔ انتخابی مہم کیلئے خصوصی طور پر میں نے نئے برش اور مختلف رنگ خریدے۔ کئی چارٹ شیٹوں پر اپنے انتخابی نشان ٹیلیفون کو اجاگر کیا، بڑی تعداد میں پوسٹرز بنائے اور کئی بینرز لکھ کر اپنے ہمدردوں کے ساتھ اسکول میں آویزاں کئے، دلچسپ بات یہ تھی کہ اپنے شوق کی وجہ سے اسکول کے کسی بھی امیدوار سے زیادہ پبلسٹی میری تھی۔

جب اگلے دن اسمبلی ہوئی تو ہر طرف مرزا نادر بیگ اور آیا فون چھایا فون۔۔ ٹیلی فون ۔۔ ٹیلی فون ہرطالبعلم کی نگاہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ انہی دنوں مختلف پینل بن رہے تھے، میری کلاس ہورہی تھی اور کچھ طلبہ باہر کھڑے میرا انتظارکر رہے تھے۔ جیسے ہی کلاس ختم ہوئی تو دسویں جماعت کے صدارتی امیدوار آصف اقبال نے مجھ بلایا اور اپنے پینل میں شمولیت کی دعوت دی۔ آصف اقبال کا پینل بنام طارق بن زیاد اسکول میں بے حد مقبول تھا اسلئے مجھے خوشی ہوئی کہ انہوں نے خود سے شمولیت کی دعوت دی اب ہر کلاس کا ایک ایک مضبوط ترین امیدوار ہمارے پینل کا حصہ بن چکا، میری انتخابی مہم اجتماعی ہو گئی اب ہفتے کا دن انتخاب کا دن ہوگا۔۔ مقابلے کا دن ہوگا۔۔۔

اسکول میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی تھیں امیدوارہرطرف طلبہ سے ووٹ کی اپیل کرتے نظرآرہے تھے،چاردن قبل اسکول انتظامیہ نے کلاسز کے بعد طلبہ کو ہال میں جمع کیا جس میں ایڈمنسٹریٹر جناب فیض احمد فیض اور پرنسپل جناب محمد یاسین ظفر نے خصوصی طورپر شرکت کی۔ تمام امیدواروں کو طلبہ کے سامنے تقریر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا جس میں ہمارے پینل نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پینل نے اسکول کے مختلف مسائل کو اجاگر کیا اور ان کے حل کا یقین دلایا۔ ہرامیدوار کے آتے ہی طلبہ کا جوش قابل دید ہوتا اور ہال نعروں سے گونج اٹھتا۔ ہر امیدوار اپنی جیت کیلئے بھرپور مہم چلا رہا تھا۔ مگر پوری انتخابی مہم کے بعد سب سے بڑا پینل طارق بن زیاد ابھر کر سامنے آیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے الیکشن کا دن آ گیا۔۔ جیت کاعزم لئے اسکول پہنچا، کلاسز لیں اور پھر طلبہ پولنگ ہال میں پہنچنا شروع ہو گئے جہاں سرانور طلبہ کے نام اور کلاس کی تصدیق کے بعد انہیں بیلٹ پیپر فراہم کررہے تھے۔ تمام اساتذہ پولنگ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔ میں نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ انتخابی عمل صبح دس سے بارہ بجے تک جاری رہا

انتخابی عمل کے بعد صرف اساتذہ، امیدواراورہرامیدوار کے دو نمائندے اسکول ہال میں ووٹوں کی گنتی کیلئے موجود رہے۔ گنتی کا عمل شروع ہوا۔۔۔۔ پرنسپل نے بیلٹ باکس کھولا اور سب کے سامنے انتخابی نشان کی آواز لگا کربیلٹ پیپر دوسرے ٹیچر کے پاس جمع کراتے رہے۔ ہرتھوڑی دیربعد میرے انتخابی نشان کی آواز نہ صرف ہمارے لئے باعث اطمننان تھی بلکہ جیت کو قریب دیکھ کر بے حد خوشی بھی ہورہی تھی۔

گنتی کا سلسلہ اب ختم ہوا اورکچھ ٹیچرز نے ٹوٹل ووٹوں کی گنتی شروع کر دی۔۔ حافظ وقاص جو پہلے بھی منتخب ہو چکے تھے صرف چونتیس ووٹ لے سکے، علی احمد جو اس وقت بھی میرے بہت اچھے دوست ہیں انہوں نے چھتیس ووٹ حاصل کئے، مکرم بشیر جو جامعہ کراچی شام کی شفٹ کے طالب علم اور بہت اچھے دوست ہیں انہوں نے بانوے ووٹ حاصل کئے۔۔ اورجناب میں الحمدللہ ایک سوچھتیس ووٹ حاصل کرکے الیکشن جیتا اورجنرل سیکریٹری کے عہدے پرفائز ہوا۔ میرے ساتھ میرا پورا پینل بھی منتخب ہوا اور آصف اقبال بزم کے صدر منتخب ہوئے۔

صبح اسمبلی میں تمام جیتنے والوں کا استقبال ہار پہنا کر کیا گیا اور منتخب بزم کو اظہار خیال کا موقع فراہم کیا گیا جس کے بعد ایڈمنسٹریٹراسکول کی جانب سے بزم کوخصوصی بیج لگائے گئے۔ اسکول لائف میں اس عزت افزائی اورطلبہ کی ہمدردی نے یقیناً میرے دل جیت لئے میں آج بھی بے حد شکر گزار ہوں شہزاد، دانش، شہباز، عامر اور دیگر ساتھیوں کا۔ بے حد مشکور ہوں اس وقت کے اپنے تمام سنئیر اور جونئیرز کا۔ 

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں۔۔۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

ماہنامہ یوتھ ایکسپریس کا پہلا مجلہ شائع ہونے کی تقریب نو نومبر دوہزارنو کو جامعہ کراچی کے آڈیوویژل سینٹر میں منعقد ہوئی۔ یوتھ ایکسپریس پاکستان کی میٹنگز کے بعد یہ پہلی، اہم اور یادگار تقریب تھی۔ گزشتہ دنوں اقبال کا مندرجہ بالا شعرنظر سے گزرا تو کچھ پرانی یادیں تازہ ہو گئیں جسے سوچ کر یقیناً ہر ٹیم ممبرکے چہرے پرمیری طرح مسکراہٹ آجاتی ہوگی۔

میں نے تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے کیلئے اقبال کے اسی شعر کا انتخاب کیا تھا۔ اکثر ٹیم کے سامنے یہ شعر پڑھتا رہتا تھا سب سن سن کر اتنا تنگ ہوگئے تھے کہ میں صرف ۔۔ عقابی روح۔۔ ہی کہتا اور سب کی ہنسی پتہ نہیں کیوں شروع ہو جاتی تھی۔ نادر بھائی پھر شروع، بس کر دو یار، عقابی روح پھر بیدار ہو گئی وغیرہ وغیرہ یہ وہ الفاظ ہیں جو اکثر سننے کو ملتے تھے خیر ہم نے اس وقت کو بہت انجوئے کیا،دراصل میں اس شعرسے بےحد انسپائرتھا۔ مزید آگے چلیں تو اقبال کہتے ہیں

نہیں ترا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

اس تقریب میں ٹیم یوتھ ایکسپریس کا جوش قابل دید تھا۔ سلیم بھائی، عتیق بھائی، اسرار، جواد، احسن اعوان، عمربھائی، طلحہ شیخ، ظفر، ثنا جاوید، جبران عندلیب، ندا، منصور بھائی، عمارابن ضیاء، ماہین، عباد، عائشہ، بنش، ثویبہ قادری، میرباز،عاقب، سمیرہ، ثوبیہ، نعیمہ اور وہ تمام ممبرزجن کے نام یاد نہیں آرہے ہرایک نے تقریب کو شاندار بنانے کیلئے جان مار دی۔ ہررضا کار نے اپنے طور پر کام کو تقسیم کیا اوربخوبی نبھایا۔ مقررہ وقت پرمیگزین کی اشاعت یقینی بنانے کیلئے متحرک ممبرز نے امتحانات کے باوجود بے مثال محنت ولگن کا مظاہرہ کیا۔ تقریب کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا گیا جس کے بعد ہال میں موسیقی کی دھن پر سب نے کھڑے ہو کر قومی ترانہ پڑھا۔



جس طرح سے نو نومبر قریب آرہا تھا مجھ سمیت تمام رضا کاروں کا جذبہ بڑھتا جا رہا تھا۔ تقریب کی دعوت کیلئے کارڈز ڈیزائن کرنے کی ذمہ داری شاہ ولی کے ذمے تھی، ٹیم کی جانب سے کئی اساتذہ، مہمانان اورطلبہ کو پروگرام میں شرکت کی دعوت سلیم بھائی نے رضا کاروں کے ساتھ انجام دی۔ عباد اوردیگر ممبرز نے میگزین کے افتتاح کیلئے نہایت خوبصورت انتظامات کئے۔ عمارابن ضیاء، ماہین، ثناء اور ندا نے تقریب کی نظامت کے فرائض نہایت احسن اندازمیں ادا کئے۔جبران عندلیب اور میں نے ویڈیو فلم بنائی تھی جسے جیسے ہی پروجیکٹر کے ذریعے دکھایا گیا تو ہال تالیوں، شور اور سیٹیوں سے گونج اٹھا تھا۔ اس فلم میں تقریب سے قبل کے وہ تمام لمحات دکھائے گئے تھے جس میں ٹیم انتہائی محنت سے اپنا کام سر انجام دے رہی تھی۔

    
تقریب کے بعد پی جی گئے جہاں سب نےغیررسمی طور پرچائے پی اور پہلی نا قابل یقین کامیابی پر خوشی منائی۔ یہ یادگار تقریب ہمیشہ یاد رہے گی مگر اس کے بعد کامیابی کا سلسلہ رکا نہیں، یوتھ ایکسپریس نے یکے بعد دیگرے پروجیکٹ مکمل کرکے ثابت کیا کے نوجوان واقعی جب بیدار ہوجائیں تو اپنی منزل پا کر رہتے ہیں۔ وہ یادگاردورپھر کبھی واپس نہیں آسکتا مگربہت جلد پھرسے ایک نئےعزم کے ساتھ یوتھ ایکسپریس دوبارہ فعال ہوگی انشاء اللہ 
    

بلدیاتی انتخابات

اللہ اللہ کرکے کل ملک میں بلدیاتی انتخابات کی شروعات صوبہ بلوچستان سے ہونے جا رہی ہے۔۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو ٹالتی رہیں مگرسخت احکامات کے بعد مجبوراً صوبائی حکومتوں کو انتخابات کرانے ہی پڑ رہے ہیں۔ مجبوراً کا لفظ میں اسلئے استعمال کررہا ہوں کیوں کہ حکومت اب بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتی اگران پرعدالتوں کا پریشر نہ ہوتا تو اس بار بھی سابقہ ادوار کی طرح انتخابات نہیں ہو پاتے۔ اب جبکہ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کیلئے سندھ میں اٹھارہ جنوری جبکہ پنجاب میں تیس جنوری کی تاریخ دے چکا ہے مگران تاریخوں پراب تک عمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ سندھ میں پیپلز پارٹی نے  اٹھارہ جنوری کے بجائے مارچ تک مہلت مانگی ہے مگر الیکشن کمیشن نے اسے مسترد کر دیا۔ اس صورتحال میں امیدوار بھی پریشان، شہری بھی پریشان۔

جمہوریت کی حامی اور اسکے لئے قربانی کی دعوے دار سیاسی جماعتوں کے دور حکومت پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ انہوں نے اپنے دور میں جمہوریت کی بنیاد یعنی شہری حکومتوں کے نظام کو قائم نہیں کیا۔ گذشتہ دور حکومت میں پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاق،سندھ اور بلوچستان میں حکومت اوراکثریت کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ ہوسکے۔ اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ سندھ میں ہمیشہ انتخابات کا تقاضہ کرتی نظرآئی کئی، بار پیپلز پارٹی کی حکومت سے علیحدہ ہونے کی وجہ بھی انتخابات کا نہ ہونا بنی۔ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی حالت مختلف نہ تھی۔ کہیں بھی بلدیاتی انتخابات کو اہمیت نہیں دی گئی۔ جبکہ ملک بھر کی عوام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کے انکے کئی مسائل گھرکی دہلیز پر شہری حکومت کے ذریعے حل ہوتے رہے۔ پھر بھی ہر حکومت نے بلدیاتی انتخابات کواپنے اقتدار کی خاطر رد کیا۔ البتہ آمروں کے ادوار میں ہم نے شہری حکومت کے کے نظام کو دیکھا۔

جنرل مشرف کے دورمیں دو مرتبہ بلدیاتی انتخابات ہوئے، دوسرے شہروں کی طرح پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی شہریوں نے بلدیاتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پہلی مرتبہ جماعت اسلامی کےامیدوارنعمت اللہ خان نےکامیابی حاصل کر کےشہر کی نظامت سنبھالی جبکہ دوسری مرتبہ ایم کیوایم نے واضح اکثریت حاصل کی اور مصطفیٰ کمال شہرکے ناظم کے عہدے پرفائزہوئے۔

آج بلوچستان میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں، کئی امیدوار انتخابات سے پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب ہو گئے۔ خیر جناب اب دیکھنا یہ ہے کہ دیگر صوبوں میں انتخابات کب ہوتے ہیں۔ 

   

پاکستانی نیوز چینلز کی درجہ بندی


  پاکستانی نیوز چینلز کی ماہ اکتوبرکی درجہ بندی گراف کے ذریعے ملاحظہ فرمایئے، ماہ اکتوبر میں جیو نیوز پہلے، سماء ٹی وی دوسرے،ایکسپریس تیسرے،دنیا چوتھے جبکہ اے آر وائی پانچویں نمبر پر رہا۔



مسلم لیگ ن کی رکن سمیرا ملک نا اہل


سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کی سمیرا ملک کو نااہل قرار دے دیا ہے، نا اہلی کا فیصلہ سننے کے بعد سمیرا ملک کا ایک ہمدرد عدالت کے احاطہ میں بیہوش ہو گیا۔ بیہوش شخص کو عدالتی عملے اور پولیس نے اٹھا کر ہسپتال پہنچا دیا۔عدالت نے یکم مارچ 2008 کا سمیرا ملک کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن منسوخ کردیا۔ سمیرا ملک کے انتخابی حریف عمر اسلم نے 2008 میں ان کے انتخاب کو چیلنج کیاتھا،عدالت نے تمام ترنتائج کے ساتھ انھیں قومی اسمبلی کی رکنیت کیلئے نااہل قرار دے دیا۔ واضح رہے سمیرا ملک مسلم لیگ ق سے نواز لیگ میں شامل ہوئی تھیں وہ2008 کے انتخابات میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر حلقہ این اے 69 خوشاب کے ٹکٹ پرالیکشن جیت کررکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تا ہم مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار انہوں نے میاں نواز شریف سے رائیونڈ میں ملاقات کے دوران کیا تھا۔

کراچی کے چپے چپے پر اسٹریٹ کرائم


کیا کراچی میں بڑھتے اسٹریٹ کرائم کا کوئی حل موجود نہیں؟؟؟ کئی برسوں سے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بے حد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہاں کوئی نہیں جانتا کہ شہرکے کس چوراہے پرکوئی اجنبی ہتھیار نکال لے گا اور آپ کو قیمتی اشیاء سے محروم کر دیگا۔ جرائم پیشہ عناصر کی چھینا جھپٹی کے چکر میں شہریوں میں ایک عجیب سا خوف نظر آتا ہے، اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی وارداتوں نے شہرکی رونقیں ختم کرڈالی ۔ چند ہزارروپوں کے موبائل فون کے لئے جرائم پیشہ افراد کچھ ایسے معصوم شہریوں کی جان تک لے چکے ہیں جو موبائل یا انکی مطلوبہ چیز دینے میں بحث کرتے ہوں یا مسلح افراد کے سامنے سینہ تان کے کھڑے ہو جاتے ہوں۔ یہ ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔ اسٹریٹ کرائم میں ملوث افراد نے معصوم شہریوں کی زندگی سے کھیل کر اپنی ہوس مٹانے کا بہترین طریقہ ایجاد کیا ہے۔ ایک پستول میں چند گولیاں ڈال کر موٹر سائیکل پر سوار، آدھی رات کو سڑکوں پر دندناتے، سنسان محلوں، گلیوں، چوراہوں پراپنے شکارکو ڈھونڈتے نوجوان کس طرح سے کارروائی کر کے لوگوں کو انکی قیمتی اشیاء سے محروم کر دیتے ہیں۔۔  نا جانے چوری کے موبائل فونز کے پیسوں سے حاصل کی گئی رقم انہیں کس طرح ہضم ہو جاتی ہے ۔۔۔


گذشتہ روز رات آٹھ بجے کے قریب  بڑے بھائی گھر کے باہرگاڑی پرکورچڑھا رہے تھے کہ اچانک مسلح موٹرسائیکل سواردو نوجوانوں نے پستول کو نا صرف ان پررکھ دیا بلکہ اپنا مزید خوف بڑھانے کے لئے چیمبر بھی کھینچ ڈالا۔۔ تقریباً بائیس ہزارمالیت کے دوموبائل فون بھائی کے ہاتھوں سے گئے۔

چند دنوں قبل میرے آفس کے ساتھی اور سماء اسپورٹس رپورٹرسجاد بھائی سے آئی آئی چند ریگرروڈ پراسلحہ کے زورپرموبائل فون چھین لیا گیا۔ اسی طرح سماء کے ایک اور ساتھی فیصل کو جامعہ کلاتھ مارکیٹ کے قریب مسلح نوجوانوں نے روکا بہرحال فیصل کے پاس اتفاق سے موبائل فون موجود نہیں تھا۔ لٹیروں نے جیب میں موجود چند سو روپے بھی نہ چھوڑے۔

کچھ عرصہ قبل میرے دوستوں کے ساتھ بھی اسٹریٹ کرائم کے واقعات پیش آئے۔۔ عمربھائی سے گھر کے پاس ہی شام کے وقت مسلح افراد نے موبائل چھینا۔۔۔ سلیم بھائی اورجواد یوتھ ایکسپریس آفس گلشن اقبال سے کسی کام سے باہر نکلے تھے کہ مسلح افراد نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی، جس پرسلیم بھائی نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دے دیا، جبکہ جواد تکرار کر کے الحمدللہ صحیح سلامت بھاگ گیا۔ شاہ ولی کے ساتھ انوکھا واقعہ پیش آیا، محترم کچھ عرصہ قبل صبح سویرے یونیورسٹی آنے کیلئےگھرسے پوائنٹ کی جانب گامزن تھے کہ ایک پیدل چلتے مسلح شخص نے موبائل چھین لیا۔

تقریباً سات سال قبل شاہراہ فیصل سے واپسی پرعوامی مرکز کے سامنے میری موٹر سائیکل خراب ہو گئی، رات کے پہر میں اسے ٹھیک کرنے میں مگن تھا کے ایک موٹر سائیکل سوار مجھ سے کچھ فاصلے پررکے۔ دو نوجوانوں میں سے ایک اتر کر میری طرف آیا اور کہا کیا ہوا بائیک کو؟؟ میں کچھ بتاتا اس سے پہلے ہی پستول مجھ پر رکھ کر موبائل چھین لیا گیا۔ اورمیری بائیک کی چابی کو دورپھینک کر دونوں نوجوان بڑے آرام سے فرار بھی ہو گئے۔ واقعہ میرے ساتھ پہلی بار پیش آیا تھا، اس سے پہلے صرف اس طرح کی کارروائیوں کا سنا ہی تھا۔ خیر جی اس دن پتہ چلا کے موبائل سے ذیادہ ڈیٹا سے محروم ہونے کا افسوس ہوتا ہے۔۔۔

دوستوں کے یہ وہ واقعات ہیں جو میرے علم میں ہیں، شہر کراچی میں اور بھی ناجانے کتنے دوست لٹتے ہونگے۔ خوف کا سایہ اس شہر پر چھایہ ہوا ہے، کیا یہ ملک کوسب سے زیادہ ریونیوفراہم کرنے والے شہر میں رہنے کی سزا ہے جو اس شہر میں رہائش پذیرلوگوں کو ہر صورت جھیلنی ہے؟ ان وارداتوں کی وجہ سے کراچی کے شہری نہ ہی کوئی اچھا موبائل رکھ سکتے ہیں، نہ ہی ضرورت کے لئے لیپ ٹاپ۔۔  اسٹریٹ کرائم میں زیورات چھیننے کے واقعات کے بعد خواتین زیورات پہننے سے کتراتی نظر آتی ہیں۔ ایک وقت ایسا تھا جب شہر قائد کے شہری اپنی قیمتی اشیاء رکھنے میں کسی قسم کا خوف نہیں کرتے تھے، آزاد ملک میں آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ مگراب اپنوں نے ہی ہماری ضروریات وخواہشات پرچھرا گونپ ڈالا۔ ہمیں آزاد ملک میں قیدی بنا کر رکھ دیا۔

روزانہ کئی جرائم پیشہ عناصر کو پولیس گرفتار کر رہی ہے۔۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گرفتاری کے باوجود انکے خلاف ٹھوس کارروائی عمل میں کیوں نہیں لائی جاتی؟ کیا یہ بھی ہزاروں روپے رشوت دے کر چھوڑ دیئے جاتے ہیں؟ لا قانونیت کا راج اس شہر پر ڈگمگا رہا ہے۔ یقیناً ہمارا صرف پولیس کلچر تبدیل ہو جائے تو یہ اوراس طرح کے دوسرے بڑے مسائل علاقائی سطح پرہی حل ہوجائیں۔

جرائم کی یہ صورتحال لوگوں کی برداشت سے باہر ہو رہی ہے، لوگوں میں بھڑگتی چنگاری کسی بھی دن شعلہ بن کر ابھر سکتی ہے۔ شاید کے ایوانوں میں بیٹھے، پروٹوکول لئے گھومتے حکمرانوں کے لئے یہ چیونٹی جیسا مسلہ ہو۔۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ ایک عام شہری کے لئے اسٹریٹ کرائم نہ صرف پہاڑ جیسا مسلہ ہے بلکہ اس سے کئی معصوم شہری اپنی جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکمرانوں سے شہریوں کی اپیل ہے کہ علاقائی سطح پر پولیس کو اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے سلسلے میں فعال کیا جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کیا جائے اور وارداتوں میں ملوث افراد کی گرفتاری کے بعد رشوت لے کر چھوڑنے کے بجائے انہیں سخت سزا دی جائے تو یقیناً بہت جلد اسٹریٹ کرائم میں کمی آسکتی ہے۔

جامعہ کراچی میں یوم آزادی


تیرہ اگست کو جشن آزادی کی مناسبت سے جامعہ کراچی میں ہر سال کی طرح اس سال بھی تقریبات کا اہتمام کیا گیا،یونیورسٹی میں ''ریلی'' کی مرکزی تقریب جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے منعقد کی گئی تھی جس میں وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹرقیصرخان،اساتذہ اورمختلف شعبہ جات کے طلبہ وطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ریلی کی تقریب کے علاوہ ہمیشہ کی طرح مختلف تنظیموں کی جانب سے کیک کا اہتمام کیا گیا، آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، اسلامی جمعیت طلبہ، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور دیگر کی جانب سے کیک کاٹے گئے۔

نہایت خوشگوار موسم میں اس سال جامعہ میں جشن آزادی کی تقریبات منائی گئی، جسے طلبہ وطالبات نے بھرپور انجوئے کیا، میں بھی بوندا باندی سے لطف اندوز ہوتا کچھ پاس آوٹ اسٹوڈنٹس کے بلاوے پر جامعہ پہنچا۔ ایک ایک کر کے تمام دوست اچانک جمع ہو گئے، خوبصورت موسم میں پی جی پر یوسف بھائی کی چائے سے لطف اندوز ہوئے، پوپو نے''ہوم میڈ اسپیشل یوم آزادی'' کیک بھی کھلایا جو بےحد لذیذ تھا، ہماری ہم جماعت کی چند ماہ کی بیٹی حوریہ سے ملاقات ہوئی ما شاءاللہ بہت پیاری ہے۔

ولی کی شیروانی اس دن کی مناسبت سے بہت اعلیٰ تھی جو یقیناً سب کو پسند آئی ہو گی، ماجد اور افی بھائی نے یونی پہنچ کر مزہ دوبالا کر دیا تھا۔ عتیق بھائی نے اس دن آرام سے بیٹھ کر،ہڑاہڑی نا مچا کر سب کو حیران کردیا، عمر بھائی اور اسرار محفل ادھوری چھوڑ کر آفس چلے گئےتھے۔ گذشتہ سالوں اسی دن کی مناسبت سے ہونے والی یوتھ ایکسپریس پاکستان کی تقریب مجھے بہت یاد آئی۔

خیریار بہت مزہ آیا، دوستوں کے ساتھ گزراوقت ویسے بھی قیمتی ہوتا ہے۔۔ اچھی بات یہ تھی کہ عام طور پر سب اپنے اپنے دفتری امور کے بہانے بناتے ہیں اور یونی میں ایک ساتھ جمع نہیں ہوتے، اس بار اچانک سب کا جمع ہونا کسی سرپرائز سے کم نہیں تھا۔


  

نوجوانوں کی جشن آزادی۔۔۔

ملک بھر میں پاکستان کا 66 واں یوم آزادی نہایت جوش و جذبے سے منایا گیا۔ اہم عمارتوں پر چراغاں کیا گیا، لوگوں نے اپنے گھروں اورمختلف سواریوں پر پاکستانی جھنڈے کوآویزاں کیا۔ سرکاری و نجی اداروں کی جانب سے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ذریعے قوم کو جشن آزادی کی مبارکباد پیش کی گئی۔ اسی طرح تمام چینلز پر 14 اگست کے حوالے سے مختلف پروگرامز اور ملی نغمے نشر کئے گئے۔ کئی چینلز نے اپنے مخصوص ’’لوگو‘‘ کو 13 اگست کی شب سے ہی پاکستانی جھنڈے کے سبز رنگ سے منسوب کر دیا تھا۔ بیشک اس بار گذشتہ سالوں کی طرح جھنڈوں کے اسٹالز کم نظر آئے تا ہم بچوں اور بڑوں نے جشن آزادی کے بیج اپنے لباس پر آویزاں کر کے وطن سے محبت کا ثبوت دیا، بچوں نے ہمیشہ کی طرح گھروں پر جھنڈیاں لگانے کا بھرپور اہتمام کیا۔
 یہاں تک تو سب بہت اچھا تھا مگر جناب 13 اگست کی رات  تقریباًایک بجے آفس سے فارغ ہو کر نکلا تو کچھ منچلے نوجوانوں کو دیکھ کر حیرت ذدہ ہو گیا، موٹر سائیکلوں سے سائیلنسر نکال کرسڑکوں پر ادھر سے ادھر شور شرابا کرتے یہ نوجوان ملک کی آزادی کا جشن منا رہے تھے یا ڈبل سواری سے پابندی ختم ہونے کا جشن،شارع فیصل پر اس رات میرا سفر کرنا دشوار ہو گیا۔ ایک موٹر سائیکل پر چار،چار نوجوان انتہائی تیز رفتاربائیک چلانے کا مظاہرہ کر کے دوسروں کو پریشان کرتے رہے، کچھ جوان کے بچے ایسے بھی تھے جو ہاتھوں کو کمر سے باندھے، بائیک کولیٹ کر چلاتے اپنے کرتب دکھاتے رہے، ارد گرد تمام لوگ یہ مناظر دیکھ کر نا صرف حیرت زدہ ہوتے رہے بلکہ ان کے پاس سے تیز رفتار اور الٹی سیدھی آنے والی یکے بعد دیگرے موٹر سائیکلوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہے، میں ایسے نوجوانوں کو دیکھ کر انکے بچنے کی دعا ہی کرتا رہا نا جانے اس طرح کے خطروں سے سرشار شوق پورا کر کے انہیں کیا ملتا ہے، یقیناً انکے اہل خانہ بھی انہیں اس طرح تیز رفتار بائیک چلانے سے روکتے ہونگے۔ خیر جناب 13 اگست کی رات کے اس سفر میں ایک اور دلچسپ شے پیٹرول پمپس پر بھرپور رش تھا۔ نوجوان اپنی موٹر سائیکلیں لئے شاہراہ کے تمام پمپس پر مکھیوں کی طرح چھائے ہوئے تھے، جیسے پیٹرول مفت مل رہا ہو۔ اس رات اگرمیری سواری میں بھی پیٹرول ختم ہو جاتا تو شاید صبح ہی گھر پہنچتا۔ مجھے بڑے ہی مزے کی بات تو یہ لگی کےجب ہر سگنل پر موٹر سائیکلوں کا ہجوم دیکھتا ہوں، کچھ منچلے اپنے دوستوں کا انتظار کرتے نظر آئے اور کچھ اپنی موٹر سائیکلوں کو اسٹینڈ پر کھڑا کر کے چمکاتے، حقیقت ہے۔۔۔  کچھ نوجوانوں کو اپنے سے ذیادہ موٹر سائیکلوں سے پیار ہے یہی وجہ ہے کہ وہ انہیں دلہن بنا کر رکھتے ہیں۔


اس پورے سفر میں اس رات میرے ساتھ سماء کے ٹکرآپریٹرذیشان بھائی موجود تھے، ہم دونوں ہی نوجوانوں کے اس جشن پرتبصرہ کرتے رہے۔۔۔۔ خیر جناب جو دیکھا وہ قلم کی نظر کیا اب فیصلہ ایسے نوجوانوں کوخود کرنا ہو گا کہ آزادی کا جشن منانے کا درست طریقہ کونسا ہے۔

عید مبارک۔۔۔



عید کی خریداری، پورے پاکستان کی طرح کراچی میں بھی جوش وخروش۔۔۔۔ بازاروں میں بے انتہا رش۔۔۔۔۔۔۔ کراچی ۔۔۔ ایک ایسا شہر جہاں روزانہ درجنوں لوگوں کی ہلاکت کے با وجود لوگوں میں کوئی خوف و خطر نظر نہیں آتا،شاپنگ مالزاورمارکیٹوں میں رونقیں بحال ہیں۔۔ جہاںخواتین کی بڑی تعداد مختلف رنگوں اور نئے نئے ڈیزائنز کے ملبوسات کی خریداری میں مگن ہے، وہیں لڑکیوں نے مہندی لگوانے کیلئے بیوٹی پارلرز کا رخ کر رکھا ہے۔

لوگ عید کی خریداری میں مصروف تو ہیں مگر انکا شکوہ ہے کہ اس سال مہنگائی نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئے۔ تاجر ذیادہ منافع حاصل کر کے عید سے پہلے عید مناتے نظر آ رہے ہیں۔۔  تا ہم ان مشکل حالات میں بھی لوگوں کیلئےعید کا اہتمام کرنا مجبوری ہے۔ مہنگائی کے باعث کئی لوگ لنڈا بازار کا بھی رخ کر رہے ہیں مگر وہاں بھی صورتحال مختلف نہیں۔۔ مہنگائی کے ستائے لوگ کہتے ہیں کہ یہاں بھی قیمتیں ہماری پہنچ سے باہر ہیں۔۔۔۔

تاجر بیشک اپنا منافع رکھیں۔۔ مگر جائز۔۔۔۔ ہمیں اپنی عید اور خریداری کے ساتھ ایسے سفید پوش لوگوں کوہرگز نذرانداز نہیں کرنا چاہیئے جو نئے کپڑوں کی خریداری تو دورسحروافطار بھی بڑی مشکل سے کر پائے۔۔۔ جو میڈیا پر دوسرے بچوں کی خریداری کے پیکجز اور رپورٹ دیکھ کر خوش تو بہت ہوتے ہیں مگراس مہنگائی میں خریداری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔۔ اور ایسے سفید پوش لوگ جو منہ سے مانگ بھی نہیں سکتے وہ ہم سب کے آس پاس ہو سکتے ہیں۔۔ ملنے جلنے والے رشتہ دار ہو سکتے ہیں۔۔۔ ہمارے پڑوسی ہو سکتے ہیں۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مانگنے والے بھکاریوں کی جگہ مستحق افراد تک خود پہچان کر انکی ضرورتوں کو پورا کریں۔۔ یقیناً کسی کی عید کر کے اپنی عید منانے کا لطف ہی الگ ہوگا۔۔۔

‘‘مداری‘‘ پر عامر لیاقت کا شدید احتجاج

  
ڈاکٹر ضیاءالدین خان نے ''مداری'' کےٹائیٹل سے جیو ٹی وی اور''امان رمضان'' ٹرانسمیشن کے میزبان ڈاکٹرعامر لیاقت حسین پر آج کے امت اخبار میں ایک کالم لکھا ہے ، اس کالم کی وجہ سے عامر لیاقت حسین شدید غصے میں نظر آئے۔۔۔ اس کالم میں ایسا کیا لکھا تھا جس کے باعث عامر لیاقت صاحب نے 14 سال بعد کسی کا جواب دیا۔۔ یہ آپ خود ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔




بے ہنگم ڈرائیونگ۔۔ ناقص منصوبہ بندی۔۔۔ رمضان آگئے۔۔ ٹریفک جام

رمضان المبارک کی آمد آمد۔ شہر کراچی میں غیر معمولی گہما گہمی۔۔ بازاروں میں رش ۔۔۔ اسی کے ساتھ جگہ جگہ ٹریفک جام کا سلسلہ شروع۔۔۔  اہلکار ٹریفک جام پر قابو پانے میں ناکام۔۔ سڑکوں پر بس ڈرائیورز بے ہنگم طریقے سے ڈرائیونگ کررہے ہیں اور اپنی مرضی سے جگہ جگہ بسوں کو روک کر ٹریفک کی روانی متاثر کررہے ہیں۔۔۔ بسوں کی اوور لوڈنگ کی وجہ سے کئی حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں جبکہ ٹریفک اہلکاروں کی رشوت خوری کی وجہ سے ڈرائیورز بغیر کسی چالان کے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔۔۔

غیر قانونی پارکنگ بھی ٹریفک جام کی ایک اہم وجہ ہے، سونے پر سہاگہ ہماری ٹریفک پولیس کی نرالی منطق۔۔ جن شاہراہوں پر ٹریفک جام کا خدشہ رہتا ہے وہاں کے بجائے ایسی جگہوں سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو اٹھانا ترجیح دی جاتی ہے جو بیشک ’’نو پارکنگ‘‘ ایریا میں تو کھڑی ہوتی ہیں، مگرٹریفک جام کا باعث کسی صورت نہیں بنتیں۔۔۔ ایسی جگہوں سے گاڑیوں کو اٹھا کر مختلف چوکیوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔۔ پھربات دوبارہ رشوت تک آکر ٹک جاتی ہے۔۔۔ لفٹنگ چارجز کے نام پرپیسے وصول کئے جاتے ہیں۔۔۔ یا پھر چالان سے تھوڑا کم ذیادہ کر کے مک مکا کر لیا جاتا ہے۔۔۔ بچارہ موٹر سائیکل سوار جو پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ میں پھنسا مہنگا پیٹرول حاصل کر کے اپنی منزل تک پہنچتا ہے، اسے بائیک حاصل کرنے کیلئے بھی دشواری کرنی پڑتی ہے۔۔۔ اور رکشہ کا سہارا لے کر پولیس چوکی تک پہنچنا پڑتا ہے۔۔۔

میٹروپولیٹن شہر میں خصوصاً دفتری اوقات میں ٹریفک گھنٹوں تک جام رہنا معمول بن گیا ہے، ناقص منصوبہ بندی کے باعث ماہ رمضان میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے اثار ابھی سے نمایاں ہیں۔

بجٹ یا ٹیکسوں کا جن؟؟؟



وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے کیا خوب بجٹ پیش کیا گیا ہے، کیا یہ بجٹ ن لیگ کے منشور کی عکاسی کر رہا ہے؟؟ اسکا جواب تو غربت کے پہاڑ کے نیچے دبی عوام ہی دے سکتی ہے، جب بھی بجٹ پیش ہونے جا رہا ہوتا ہے تو ہر طرف بحث و مباحثے کی شروعات ہو جاتی ہے اور یہ اخذ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جناب آئندہ بجٹ سے عام عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔ کچھ لوگوں سے بجٹ کے حوالے سے میری بات چیت ہوئی تو انکا خیال تھا کہ یہ ہرگز عوامی بجٹ نہیں ہے، اس سے عوام کو شدید مشکلات پیش آئیں گی۔ کوئی جی ایس ٹی کے نفاذ پر برسا تو کوئی دیگر نئے ٹیکسوں کے اعلان پر۔

اب وہ تمام خواتین بھی ہوشیار ہو جائیں جنہیں بیوٹی پارلر جانے کا بے حد شوق ہے، جو ہر شادی، تقاریب، پارٹیوں وغیرہ میں سجنے سنورنے بیوٹی پارلر پہنچ جاتی ہیں، کیونکہ اس بجٹ میں بیوٹی پارلرز پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔۔۔۔ اب تو دلہن بننا بھی مہنگا پڑ گیا۔۔۔۔ مگر جناب رکئے رکئے۔۔۔  جہاں بیوٹی پارلرز پر ٹیکس عائد کیا گیا ہے وہیں کاسمیٹکس کی اشیا پر کوئی نئے ٹیکس نہ لگا کر ڈار صاحب نے خواتین کو خوشخبری بھی دی ہے۔

کئی لوگوں کے خیال میں بجلی، تعلیم اورصحت کے حوالے سے بجٹ کو بہتر قرار دیا گیا مگر پھر سب کی سوئی جی ایس ٹی کے نام پر رک گئی۔۔ ایک فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ پر نہ صرف عوام بلکہ اکثر سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور عدلیہ کے علاوہ خود ن لیگ کے کچھ ارکان نے اختلاف کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا مگر پھر بھی اسحاق ڈار صاحب نے کل اپنے خطاب میں واضح کر دیا کہ جی ایس ٹی سترہ فیصد ہی رہے گا اسے ہر گز کم نہیں کیا جائےگا انہوں نے قرضوں کی ادائیگی کیلئے آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینے کا بھی کہا۔ یقیناً ایک فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ سے ہر چیزمہنگی ہو جائے گی اور اسکا منفی اثر براہ راست عوام پر پڑے گا۔ یکم جولائی سے نافذ ہونے والے ایک فیصد جی ایس ٹی کو تاجروں نے بیوروکریسی کی خواہشات کی تکمیل قرار دیا ہے۔ بیشک ملکی معیشت انتہائی خراب ہے مگر پھر بھی ن لیگ کو چاہیئے کہ جی ایس ٹی کے ذریعے قومی خزانہ بھرنے کے بجائے اسکا کوئی متبادل تلاش کیا جائے ، اس نقطے پر ضرور تھوڑا اور ہوم ورکرنے کی ضرورت ہے۔

اب آجایئےموبائل فون استعمال کرنے والوں پر، موبائل فون صارفین پر تو ٹیکس کا جن لگایا گیا ہے، ودہولڈنگ ٹیکس کو 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے یہ 5 فیصد اضافہ بھی یکم جولائی سے نافذالعمل ہو گا جس کے بعد عوام 100 روپے کے ریچارج کے بعد صرف 58 روپے حاصل کرینگے۔۔۔ ارے ڈار صاحب۔۔ سر اسکی بھی کیا ضرورت تھی۔۔۔ دس بیس روپے چھوڑ دیتے جناب۔۔۔ یقیناً نوجوانوں کی تعداد موبائل استعمال کرنے والوں میں سر فہرست ہے مگر آج یہ ہر شخص، ہر عمر اور ہرشعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے لازمی ہو گیا ہے۔ آج ماضی کی طرح کوئی کسی سے یہ نہیں پوچھتا کہ ’’تمہارے پاس موبائل ہے بھی کہ نہیں‘‘ بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ’’موبائل نمبر کیا ہے‘‘ کسی دفتری فارم کو پُر کرنا ہو یا پھر انٹرنیٹ پر مختلف اکاؤنٹ بنانا ہو، ہر جگہ موبائل فون کا خانہ درج ہوتا ہے، پاکستان خصوصاً کراچی میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد کوئی والدین ایسے نہیں جو اپنے بچوں کو موبائل فون کے بغیر باہر بھیجیں، یہی وہ ذریعہ ہے جس کی بدولت رابطے میں رہا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے ٹیلی کام کے شعبے میں بہت کم وقت میں بے انتہا ترقی کی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان میں اس شعبے پر سرمایہ کاری کی اور لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کیا۔ مگر اس ترقی کی رفتار سے کہیں زیادہ ہماری حکومتوں نے اسی شعبے پر ٹیکس کی بھرمار کر کے عوام کو مشکلات میں ڈھال دیا۔ حیرت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں جہاں ہر شعبہ مہنگائی کی طرف گامزن تھا وہیں ٹیلی کام اور آئی ٹی کا شعبہ ایسا تھا جو صارفین کے اختیار میں تھا۔ مگر اب اس غیر معمولی اضافے سے پاکستان میں موجود ٹیلی کام کمپنیز شدید پریشان ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ 

نئی حکومت سے عوام کی امید

 پاکستان کی مظلوم اور بے پناہ سنگین مسائل میں گھری عوام  گذشتہ دورکو صرف تبدیلی کی امید کےلئےبرداشت کرتی رہی۔ اب انتخابات میں مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت ملی ہے اور ممکنہ طور پر نواز شریف ملک کے نئے وزیر اعظم ہو سکتے ہیں،انہیں اورانکی نئی حکومت کو اب واقع پاکستان کو تبدیل کرنا چاہیئے اور روایتی حکومتوں کا گلا گھونٹتے ہوئے پاکستان میں مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ، بیروزگاری، امن و امان، تعلیم ، صحت اوربدعنوانی جیسے سنگین مسائل پر قابو پانے کیلئے ابھی سے اقدامات کرنے چاہیئے اور ایک مثالی حکومت بن کر ابھرنا چاہیئے۔اگر اس بار بھی گذشتہ ادوار کی طرح عوام کے مسائل حل نہ کئے گئے تو شاید عوام آئندہ انتخابات میں ووٹ دینے بھی نہ نکلیں۔ اور اس طرح نوجوانوں اور خصوصاً میڈیا کی اس محنت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جو اس بارانہوں نےعوام میں شعور اجاگر کیا اورووٹنگ ٹرن آؤٹ بڑھانے میں موثر کردار ادا کیا۔

الیکشن ہوا ختم



تو بھئی ۔۔۔ الیکشن ہوا ختم ۔۔۔۔ اوراسطرح ملک میں بننے جا رہی ہے نئی حکومت جس کہ ممکنہ وزیر اعظم پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف ہو سکتے ہیں۔۔۔ میرا آج کا بلاگ کوئی فارمل تحریر پر مبنی نہیں ہو گا ۔۔ بے فکر رہیں۔۔۔۔ مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ آپ انتخابات کے نتائج کو بے چینی سے جاننے کے لئے نیوز، تبصرے، تجزیئےاور سیاسی شخصیات کی گفتگو سن سن کر پہلے ہی بور ہو گئے ہونگے۔۔۔۔

امید ہے آپ سب نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا ہوگا اوراپنی مرضی کے امیدوار یا پارٹی کو ووٹ دیکر اپنا قومی فریضہ ادا کیا ہوگا۔۔۔ کئی لوگوں کی خواہشات کے مطابق انکے امیدوار جیت گئے ہونگے۔۔۔ اورکئی کے ہارے بھی ہونگے۔۔۔۔ مگراس میں حوصلے پست کرنے والی بات نہیں جناب۔۔۔۔ جنکو آپ نے ووٹ دیا اور اگر وہ ہار بھی گئے ہوں تو مایوس ہو کر یہ مت سوچئے گا کہ اگلی بار ووٹ نہیں دینگے۔۔۔ ووٹ ضرور دیں ہر حال میں دیں۔۔۔۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ملک کے کئی علاقوں میں انتخابات میں دھاندلی کی بھی شکایات موصول ہوئی ہیں۔۔۔۔ مگر عوام انتہائی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے ذیادہ ٹرن آؤٹ دیکر اس الیکشن کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا الیکشن بنا دیا۔۔۔

خیر جناب آپ سنایئے کیسے گزرے یہ الیکشن ۔۔۔کئی لوگوں نے اس بار پہلی بار ووٹ کاسٹ کیا ہوگا۔۔۔ سوشل نیٹ ورکس پر مزے مزے کے اسٹیٹس اور انگوٹھے پر لگی سیاہی کے نشان کو کچھ دوستوں نے تصاویر لے کر اپنی پروفائلز کی زینت بنایا۔۔۔۔ اس بار جو بھی ہوا۔۔۔ جتنی بھی دھاندلی ہوئی۔۔۔ مگر سب سے اچھی بات یہ تھی کہ نوجوانوں میں ایک الگ جوش نظر آ رہا تھا۔۔۔


دوستو۔۔۔۔ میں آپ تمام سے پہلے ہی ووٹ کاسٹ کرنے کی اپیل کرتا رہا۔۔۔ اور یہ سلسلہ میں نے موبائل پر پیغامات، بلاگز اور کالز کے ذریعے اپنی حیثیت کے مطابق انجام دیا۔۔۔۔ مگر ایک خیال دل میں ہی دہ گیا کہ میں خود ووٹ نہیں دے سکا اس بار ۔۔۔ یقیناً دل بہت چاہا مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میڈیا کا سب سے بڑا ایونٹ بھی الیکشن کو کہا جائے تو غلط نہ ہو گا جس میں تمام ملازمین کی چھٹیاں پہلے ہی منسوخ ہو جاتی ہیں اور عام روٹین سے ذیادہ وقت بھی درکار ہوتا ہے۔۔۔۔ جبھی تو انتہائی محنت کے بعد آپ تک نشریات پہنچ پاتی ہے۔۔۔ الیکشن کے دن مجھے 6 بجے آفس پہنچنا تھا جسکے حصول کے لئے 5 بجے کے بعد دفتری گاڑی میں روانہ ہوا۔۔۔ سیٹ پر بیٹھنے کی دیر تھی ۔۔۔ مصروفیت ایسی شروع ہوئی کہ وقت کا بھی پتہ نہیں چلا۔۔۔۔۔۔ یقین جانیئے آفس میں پہلی مرتبہ اتنی تیزی دیکھی۔۔۔ ایسے مناظر کے ہر شخص اپنے کام میں مشغول نظر آ رہا تھا۔۔۔ شاید اس دن کسی کو اپنے کمپیوٹر کی اسکرین سے نظریں ہٹانے کی بھی فرصت نہیں ملی ہوگی۔۔۔ اور یہ حقیقت ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اس دن سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ہی ہماری ناشتے اور پھر لنچ سے خاطر تواضع بھی کی گئی۔۔۔

آخر میں آپ سے الیکشن کا نتیجہ بھی شئیر کرنا چاہونگا۔۔۔۔ 

الیکشن کمیشن نے تازہ ترین پارٹی فہرست جاری کر دی ہے، قومی اسمبلی کے 272 میں سے 244 نشستوں کے سرکاری نتائج کا اعلان کیا گیا ہے جسکے مطابق مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کی 123 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پرہے،پیپلز پارٹی 31 کے ساتھ دوسرے اور تحریک انصاف 26 سیٹوں کےساتھ تیسرے نمبر پرہے۔۔۔۔ ایم کیو ایم 18 ،جے یو ائی ف 10، فنکشنل لیگ 4 اورجماعت اسلامی نے 3 نشستیں لیں جبکہ پختونخوا عوامی پارٹی نے 2، نیشنل پارٹی نے 2 اور مسلم لیگ ق نے 2 نشستیں لیں۔  

اس بار ٹھپہ لگا کر دیکھ لو ۔۔۔

کیا آپ تیار ہیں ٹھپہ لگانے کے لئے؟ اگر نہیں تو 11 مئی قریب ہے ابھی سے اپنا مائنڈ بنا لیجئے، ورنہ بار بار یہ موقع نہیں ملے گا اور اگر آپ گھروں سے باہر نہ نکلے توپھر تیار ہو جائیں سابقہ پانچ سال دوبارہ گزارنے کے لئے، یقینا پھر سے وہی چہرے دیکھنے کو ملیں گے اور سب کے سب انہیں پانچ سال تک برا بھلا کہتے رہیں گے وہ بھی یہ سوچے بغیر کہ خود ووٹ ڈال کر اپنا فرض پورا کرنے کی زحمت تک نہیں کی تھی۔

پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں سے تقریباً آٹھ کروڑ افراد اس الیکشن میں ووٹ کے ذریعے حکمرانوں کو چنیں گے۔ یہ آٹھ کروڑ عوام ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ پچھلے انتخابات میں صرف اور صرف تیس سے چالیس فیصد ووٹرز نے ووٹ دے کر اپنی قومی ذمہ داری پوری کی ۔ اس بار تقریباً آٹھ کروڑ افراد ایسے ہیں جو پوری ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں مگر اس بار بھی تیس، چالیس یا پچاس فیصد لوگ نکلےتو کیا ہوگا؟ یعنی ان آٹھ کروڑ میں سے بھی تین یا چار کروڑ لوگ ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرینگے کیا بھائی؟ ہوتا تو یہی نظر آ رہا ہے۔۔۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا میں 94 فیصد لوگ ووٹ دیتے ہیں اور اس طرح آسٹریلیا دنیا کا نمبر ون ملک ہے جہاں تمام ووٹرز اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ اور حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں سیکنڈ لاسٹ نمبر پر آتا ہے اس معاملے میں۔

 ان اعداد و شمار کے بعد مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان تیس چالیس فیصد لوگوں میں سے بھی 80 فیصد لوگ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہونگے اورظاہر ہے وہ اپنی جماعت کوہی ووٹ دیتے ہیں۔ اب یہ کہا جائے کہ جس پارٹی کے کارکن ذیادہ ہونگے وہی جماعت حکومت بنائے گی تو غلط نہ ہو گا۔ تو میرے دوستو۔۔۔ عام عوام کہاں گئی؟؟؟؟ سو رہی ہے کیا؟؟؟ اگر ہاں تو اب بھی جاگ جاؤ ۔۔۔۔۔ جس دن تمہیں اس ووٹ کی قدر کا احساس ہو گیا خدا کی قسم اسکے بعد کبھی سو گے نہیں۔۔۔۔ تمہارے اس ووٹ کی مرہون منت ہی حکمران، حکمراں ہے، اس ووٹ سے ہی لیڈرز ہیں، اس سے ہی اسمبلیاں ہیں، اس سے ہی پارلیمنٹ ہے، قانون بھی اسی سے ہے احکامات بھی اسی سے۔۔۔۔۔۔ سب کچھ اسی سے ہو گا اسلئے اس بار تیس، چالیس کو 100 فیصد میں بدل دو جب عام عوام نکلے گی تو رہنما اور حکمران بھی عام ملیں گے پھرتمہارے کام بھی ہونگے، ملک خوشحال بھی ہوگا۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلے ووٹ دینے کا عہد کر لو اور پھر اپنے ضمیر کے مطابق ایسے فرد/ جماعت کو ووٹ دو جو تمہیں لگے کہ تمہارا اوراس ملک کا بھلا کر سکے، اس ملک کے بڑے بڑے مسائل سے ٹکرا سکے اور انہیں حل کر سکے۔۔۔۔۔ یقیناً ہم سب کا صرف ایک، صرف ایک ووٹ ملک میں مثبت تبدیلی کا سبب بنے گا۔۔۔ یقین نہ آئے تو کر کے دیکھ لو۔۔۔۔۔ ووٹ ڈال کر دیکھ لو۔۔۔۔۔۔ اپنی مرضی کے نشان پر ٹھپہ لگا کر دیکھ لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دہشتگردی کا بم اور انتخابات

کراچی میں جاری حالیہ دہشتگردی نے انتخابات کے ماحول کو خاصہ متاثر کیا ہے، کئی دنوں سے جاری بم دھماکوں نے سیاسی جماعتوں کے دفاتر اور انتخابی مہم پرانتہائی برے اثرات چھوڑے ہیں اب اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں نے پہلے ہی بڑے جلسے منعقد نہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، سب سے ذیادہ متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی اس دہشتگردی کی زد میں ہیں واضح رہے کہ ان تینوں جماعتوں کومتعدد بار دھمکیاں بھی مل چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ تقریباً تینوں ہی جماعتوں کی جانب سے اب تک بڑے جلسے، جلوس یا ریلیوں کا انعقاد نہیں کیا گیا۔ جلسے جلوس ایک جانب ، لیاری میں تو پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ پر بم دھماکہ دیکھنے میں آیا اور اسی ہفتے میں نا صرف کئی بڑے چھوٹے دھماکے کراچی کی نذر ہوئے بلکہ اس میں متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی بھی ہوئے۔  کل تین دھماکوں میں پچاس سے زائد افراد زخمی اور متعدد بے گناہ جاں بحق ہوئے۔۔۔

ملک میں پہلی بار لوگوں کو انتخابات سے کچھ توقعات نظر آ رہی ہیں تو اس وقت بھی امن و امان کی ناقص صورتحال الیکشن کے دن ووٹ ڈالنے والوں کے لئے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔۔ اس بار الیکشن کی گہما گہمی بھی نظر نہیں آرہی صرف پنجاب میں انتخابی مہم عروج پر ہے اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور مسلم لیگ ن کی پوری فیملی نواز شریف، شہباز شریف، کلثوم نواز، مریم نواز اور حمزہ شریف پنجاب کے مختلف علاقوں میں بڑے جلسے کر رہے ہیں اور اپنے علاقائی امیدواروں کو متعارف کرواتے ہوئے ووٹ کی اپیل کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں بھی عمران خان اور نواز شریف کے علاوہ مولانا فضل الرحمان جلسے کر رہے ہیں جبکہ باقی صوبوں کی صورتحال اس سے بلکل بر عکس ہے، سندھ اور بلوچستان میں انتخابی مہم نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر میں یہ کہوں کہ عام عوام اور ہمارے مستقبل کے معمار نوجوانوں کو اپنے حلقے کے امیدواروں کے نام تک نہیں معلوم ہونگے تو یہ غلط نہ ہو گا مگر اس میں غلطی ان کی نہیں ہے۔ اس بار نا کوئی کارنر میٹنگ دیکھنے میں آ رہی ہے اور نا ہی اشتہاری مہم۔ صرف ٹیلیویژن پر اشتہارات نظر آ رہے ہیں جس میں قائدین اپنی جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

کراچی میں یکم مئی کو پاکستان تحریک انصاف نے جلسہ کرنا تھا۔ یہ جلسہ مزار قائد کے سامنے واقع میدان میں ہونا تھا جس کی تشہیری مہم بھی شروع کی گئی تھی اور جگہ جگہ بینرز آویزاں کر دئے گئے تھے پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین، عمران خان اور شاہد آفریدی نے بھی اس جلسے میں شرکت کرنا تھی، مگر کل ہی یکم مئی کے جلسے کو بھی منسوخ کر دیا گیا، پی ٹی آئی کی قیادت نے یہ فیصلہ کراچی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا۔ اگر آج کی بات کروں تو ایم کیو ایم کا آج خواتین کا جلسہ جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں منعقد کیا گیا تھا پنڈال سج چکا تھا کرسیاں لگا دی گئیں تھی اور خواتین کی شرکت بھی شروع ہو گئی تھی مگر سیکیورٹی کی صورتحال اور دہشتگردی کی لہر نے رابطہ کمیٹی کو اسے ملتوی کرنے پر مجبور کیا اور پھر آج کے اس جلسے کو منسوخ کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ یہ دونوں جلسے اور دیگر جماعتوں کے جلسے محض اس لئے منسوخ یا ملتوی کئے گئے کہ عام لوگوں کی قیمتی جانوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جلسے جلوس اب نہیں ہونگے تو پھر کب ہونگے؟؟ انتخابات کے بعد؟؟ میں سمجھتا ہوں کہ ہر جماعت کو اپنے منشور کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا اختیار ہونا چاہیئے۔ ملک میں اتنی بری صورتحال ہے کے کچھ حلقے انتخابات سے محض13 دن قبل اس بات پر بھی تبصرے کررہے ہیں کہ اب بھی انتخابات ہونگے یا نہیں۔۔۔

Pages