نظر سے قلم تک

معذرت

بلاگ کے تمام قارئین، دوستوں اور تمام ہی ایسے خواتین و حضرات جو میرے بلاگز پڑھتے ہوئے مجھے برداشت کرتے ہیں، آپ سب ہی سےدل کی گہرائیوں سے معذرت کہ میں بلاگ لکھنے کے لئے بھی وقت نہیں نکال پا رہا ہوں ، مگر قصور اس میں میرا نہیں بلکہ مجبوری ہے اب آپ میڈیا کی جاب سے تو واقف ہونگے ہی کس قدر مصروف رکھتی ہے خبروں کی یہ دنیا اور وقت کی کیا اہمیت ہوتی ہے یہ تو صرف وہی جانتے ہونگے جو اسی پیشے سے وابستہ ہوں پھر بھی جناب میری بھرپور توجہ اس طرف مرکوز ہے اور اب کوئی ایسی منصوبہ بندی کرنے والا ہوں جس کی مدد سے پورے ماہ میں یکسوئی کہ ساتھ ذیادہ سے ذیادہ بلاگز لکھ سکوں اور اس طرح آپ سے رابطے میں رہنے کی کوشش کرسکوں۔

   

خوشگوار یادوں کی اک جھلک


اپنی اپنی مصروفیات میں مشغول عتیق بھائی، عمر بھائی،اسراراور میں کافی عرصے بعد پھر سے جامعہ میں ملاقات کرنے پہنچ ہی گئے۔۔ یقیناً بہت مزہ آیا اور وقت کیسےہوا کے جھونکے کی طرح گزرگیا محسوس بھی نہیں ہوا۔۔ جی تو چاہ رہا تھا اتنے اچھے موسم میں انہی تمام باتوں اور تفریح میں مزید وقت گزار دیں جو اس دن یونی لائف کی خوشگوار یادوں میں ہم کر رہے تھے۔ مگر جناب کیا کہہ سکتے ہیں اب ہماری دسترس میں کہاں۔۔۔ اب تو پیشہ وارانہ زندگی کی شروعات ہوئی ہے سب کی یقیناً ہم سب ہی اچھی جگہوں پر فائز ہیں الحمدللہ ۔۔۔ اس طرح ملنا اور پھر ساتھ گزرے بہترین لمحات پر تبصرے کرنے کا تو مزہ ہی کچھ اور ہے۔۔۔۔ مگر یہ تمام چیزیں بیکار ہیں اگر ساتھ میں گرما گرم چائے نہ ہو تو۔۔۔ کیوں اسرار ۔۔۔۔۔اورفرائز تو کمپلسری ہے ہی نا میرے بھائی۔۔۔۔
بیشک یونی کا ماحول ضرور بدلہ نظر آتا ہے، نئے چہرے نیا موسم اور نئے لوگ مگر اب بھی بہت کچھ ویسا ہی ہے جیسے صوفی۔۔۔۔ اس دن صوفی کے دھابے پر ہم نے اپنا رنگ جمایا ، ۔سب اپنے اپنے دفاترسے براہ راست صوفی کے دھابے پر ٹپکے۔۔۔ اور عتیق بھائی تو ٹپکتے کم ہیں انہیں ٹپکانا ذیادہ پڑتا ہے۔۔۔ حد ہے یار لے کر بھی آو چھوڑنے بھی جاو مگر آئندہ کبھی یہ بندہ چھوڑنے کا نہیں کہے گا اسکی مندرجہ ذیل دو اہم وجوہات ہیں۔۔۔اول: کہ اس دن بچارے پیار محبت میں لُٹ گئے جب انہوں نے اخلاقاً عمر بھائی اور مجھ سے کھانے پینے کا تقاضہ کیا۔۔۔ عمر بھائی تو  بس نہیں نہیں۔۔۔ شکریہ۔۔۔ میں نے کہاں معاف کرنا تھا مولانا کو۔۔۔  جتنا تنگ کرتا ہے یہ بندہ اس کا حساب بھی تو پورا کرنا تھا۔۔۔۔ پھر کیا ہوا یہ سمجھ گئے ہونگے آپ۔۔۔ عتیق بھائی اور عمر بھائی آپ ڈکار مت مارنا یار اب۔۔۔۔۔۔۔
دوم: بندہ چھوٹا موٹا نہیں رہا اب۔۔۔  موصوف کی کمپنی نے انہیں موٹر بائیک عنایت کر دی ہے جس پر ڈگمگاتے ہوئے  ایک دن ملاقات بھی ہوئی ان سے۔۔۔۔۔ 
خیر انشاءاللہ جلد پھر ملیں گے اور اس بارے میں سب دوستوں سے گزارش ہے کہ کوئی پروگرام سیٹ کرو یار۔۔۔ ہاں اگر جمعرات کا دن ہو تو۔۔۔۔۔ سمجھ تو گئے ہونگے
سب کوئی دن طے کر لیں اور ایک جگہ کا تعین کر کے لبیک کہیں ۔۔۔ خاص طور پر مزمل بھائی، فرحان اور وہ تمام دوست جو متاثرین تھے اوہ سوری سوری۔۔۔ جو متاثرین سے متاثر ہوئے وہ ضروووور اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔۔۔۔

آپکا ووٹ ۔۔۔ مزید رسوائی سے چھٹکارا



الیکشن قریب ہیں اب ووٹ سوچ سمجھ کر دینا بھائی ۔۔۔ پھر مت کہنا کے حکومت ہی سہی نہیں ہے یا ادارے ہی نا اہل ہیں ارے بھائی حکومت اور ادارے کوئی اوپر سے تھوڑی نا آ رہے ہیں ہم ہی تو چننے جا رہے ہیں انہیں۔۔۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے پہلی بار سیاست سے لطف اندوز ہو رہا ہوں واہ کیا مزہ آ رہا ہے کہ نگراں حکومت بھی بن گئی ، اسمبلیاں بھی قانون کے مطابق ختم ہو گئیں اور اب نگراں کابینہ بننے کے ساتھ ساتھ عام انتخابات کے لئے کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع ہوگئے ۔۔۔ ہر کام آئین کے مطابق ہو رہا ہے شکر ہے ۔۔۔ یقین نہیں ہوتا کہ یہ پاکستان ہی ہے؟؟ کیونکہ جس طرح کی افواہیں ہم اس سے قبل سن رہے تھے یا جو موجودہ حالات ہمارے سامنے ڈگمگا رہے تھے ان سے تو یہی امید تھی کے پھر سے آمریت ہو گی یا الیکشن ہونگے ہی نہیں مگر اب کم از کم انتخابات کا سماءتو ہے۔۔۔
حیرت ہو رہی ہے سیاستدانوں کو بدلہ دیکھ کر ۔۔۔ کس قدر عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لئے کچھ نا کچھ کرنا ہی پڑ رہا ہے ان سب کو۔۔۔ کتنی دشواری ہو رہی ہو گی نا۔۔۔ آخر پانچ سال بعد کام کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔ہماری عوام بھی تو بہت میٹھی ہے نا جو ان کی سوئیٹ سوئیٹ باتوں میں آ کر اپنا قیمتی ووٹ دیکر انہیں اپنے اوپر مسلط کرلیتی ہے۔۔۔ بھائی یہ دور بہت مختلف ہے یہاں تو امیدوار جیتنے کے لئے نت نئے ہتھکنڈے اپناتے نظر آ رہے ہیں۔۔۔۔ ذرا دیکھئے ایک بار جب انہیں منتخب ہونے کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک بار جب حکومت جا رہی ہوتی ہے۔۔۔۔ پورے پانچ سالہ ترقیاتی کاموں میں سے پچاس فیصد تو آخری دو مہینے کے لئے بچا کر رکھتے ہیں جناب۔۔۔ امیدوار ، پارٹیاں اور ہماری سیاست کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور عوام۔۔۔ وہیں کی وہیں۔۔۔۔ 



جب سب کام اچھے ہو رہے ہیں تو شاید کہ انتخابات بھی اچھے ہو جائیں اورانتخابات اچھے ہو گئے تو نمائندے بھی اچھے آجائیں اگر اتنا سب ہو گیا تو حکومت بھی اچھی آئے گی اور کام بھی اچھے ہونگے ۔۔۔ لیکن ان سب کی پہلی سیڑھی صرف اور صرف ہمارا ووٹ ہے۔۔۔ بہت آسان کام ہے جو دوست ووٹ دینا نہیں چاہتے وہ ابھی سے ارادہ کر لیں کہ کسی مثبت کردار کے حامل شخص کو ووٹ دینگے۔۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔نہیں ہے کوئی ایسا شخص؟؟؟ آپ تو ہو نا؟؟؟ خود کھڑے ہو جاو۔۔۔ اب تو ویسے بھی ہر جماعت عام لوگوں سے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے درخوستیں طلب کر رہی ہے کر لو بھائی کیا پتہ تمہاری وجہ سے میرا بھلا ہو جائے ۔۔۔
سہی بات ہے دوستو۔۔۔ اس معاملے میں میری طرح سیلفش ہوجاو ۔۔۔۔ یہ ووٹ ہزار، دس ہزار یا لاکھ کا نہیں بلکہ میرے مستقبل کا ووٹ ہے ، میری خوشحالی اور ترقی کا ووٹ ہے، آنیوالے کل کا ووٹ ہے ۔۔ قوم کی اس قیمتی امانت کو انتہائی احتیاط سے استعمال کریں اور یہ سوچ کر کہ جنہیں الیکشن کے دن آپ ووٹ دینگے وہ قومی یا صوبائی اسمبلی میں ٹھیک طرح سے آپ کے مسائل کو اجاگر کر سکیں گے؟؟ آپ کے حلقے میں بہتر ترقیاتی کام کرواسکیں گے؟؟ موزوں امیدوار کا انتخاب بلا شبہ آپکے آئیندہ پانچ سالوں کو بہتر کر سکتا ہے۔۔۔ اسی لئے امیدوار کو انفرادی طور پر جانئے تا کہ آپکا کل مثبت تبدیلیوں میں نمایاں و تاباں نظر آئے۔۔۔

امید ہے مزید رسوائی ، غربت، تعلیم کے فقدان، دہشتگردی اور بیروزگاری جیسے بڑے مسائل سے چھٹکارا پانے اور بہتر مستقبل کی خاطر اس بار آپ ووٹ دینے کو اپنے اوپر لازم  کریں گے۔ خوشحال، بہتر اور مثبت پاکستان کے لئے اپنی دسترس میں رہتے ہوئے جستجو کریں گے۔ نا صرف اس سے آپ بہتر زندگی پا سکیں گے بلکہ آپکا درست انفرادی فیصلہ ملک کی تقدیر بدلنے میں معاون ثابت ہوگا اور یہ اقدام بلا شبہ حال کو بدلنے میں کامل کردار ادا کرے گا۔ 

سماء کے سماں میں ایک اور اضافہ


 طالب علمی کا سفرختم، پیشہ وارانہ زندگی کی کامیاب تکمیل کے لئے ذرائع ابلاغ کے کئی اداروں سے وابستگی رکھنے کے بعد میری پروفیشنل لائف کا سفراب باقاعدہ شروع ہونے جا رہا ہےاور۔ اس کا آغاز میں الیکٹرانک میڈیا میں قدم رکھ کہ کر رہا ہوں اوراسی فیلڈ میں کام کرنا میرا ہدف بھی تھا یوں "سماء ٹی وی" میں کل میرا پہلا دن ہوگا ۔

دوستو، زمانہ طالب علمی اورغیر نصابی سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے بعد میں اب پیشہ وارانہ زندگی میں قدم رکھ رہا ہوں، کچھ روز قبل اپنی سی وی مختلف ذرائع ابلاغ کے موثراداروں تک پہنچائی جس کے بعد کئی جگہوں پرانٹرویوزہوئے۔ الحمدللہ ایسے تمام ادارے جہاں جگہ موجود تھی ان تمام میں مجھے حصول روزگار کے لئے کام کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ جناب پھر ڈور میرے ہاتھ میں تھی ، انٹرویوز سے پہلے ہی میرا ارادہ سماء میں تھا یہی وجہ تھی کہ جب اپوائنٹمنٹ کے لئے کال آئی تو میں اسی وقت خوشی سے یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اب یہیں ارفع و بامقصد زندگی گزارنے کے لئے اپنے منصب پر فائز ہونگا۔


الحمدللہ دوران انٹرویو جو بھی سوالات یا پریکٹیکل ٹیسٹ ہوئے ان میں انتظامیہ کو مطمیئن کیا۔ آپ سب ہی دوستوں اور والدین کی دعاوں کے نتیجے میں محض دو گھنٹوں میں ہی کال موصول ہوئی اورمیری خوشی کا عالم قابل دید تھا۔ میں سماء ٹی وی میں بحثیت "جونئیراسائنمنٹ ایڈیٹر" اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کرنے جا رہا ہوں امید ہے آپ سب میری کامیابی کے لئے دعا کریں گے۔
تمام ایسے ادارے جہاں اس سے قبل میری وابستگی تھی وہ اس وقت مجھے غیرمعمولی یاد آ رہے ہیں جامعہ کراچی، اور پھر شعبہ سیاسیات جس کی بدولت میں یہاں تک پہنچا، میں اپنے تمام اساتذہ کا مشکور ہوں جو آج تک کسی بھی معاملے میں میری بحثیت طالب علم معاونت کرتے ہیں، یوتھ ایکسپریس پاکستان جہاں سے میگزین کی کامیاب اشاعت کے ساتھ ہی میں نے میڈیا میں پہلا قدم رکھا، نیوز ون سے میں نے الیکٹرانک میڈیا کی بنیاد سیکھی اور وہاں ایسوسی ایٹ پروڈیوسر کام کرتے ہوئے تمام ٹیکنیکل چیزوں کو سیکھنے کی کوشش کی، اور پھررمادا پلازہ "برائٹ لموزین" جہاں بڑی بڑی کمپنیز کے ساتھ کام کرکےخوداعتمادی میں اضافہ کیا۔اورآخر میں پاکستان پریس انٹرنیشنل جہاں بہت مختصر مگراہم وقت گزارکرذرائع ابلاغ کی باریکیوں کوسمجھا۔
اور اب کل سے سماء جہاں مجھے یقین ہے کہ بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا اور پہلے سے موجود عملہ میری ہرسطح پرراہنمائی کرے گا۔
میں اپنے ان تمام دوستوں عزیزو اقارب کا نہایت مشکور ہوں جنہوں نے مجھے ہمیشہ دعاوں میں یاد رکھا۔

حادثہ





کل ایک ایسا عجیب حادثہ پیش آیا کہ الفاظ نہیں بیان کرنے کو۔ اور شاید یہ مندرجہ بالا تصاویر دیکھ کر آپ بھی کھوج لگانے کی کوشش کر چکے ہونگے کےیہ کیسا حادثہ رونما ہوا ہے، تو جناب کل ناظم آباد سے حسن اسکوائر کی جانب جا رہا تھا لیاقت آباد کے پاس عین انڈر پاس کے قریب مجھ سے آگے دو گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، بعدمیں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک صاحب دوران ڈرائیونگ فون پر بات کر رہے تھے جس کے نتیجے میں ایک صاحب کی نکسیر سے بے تحاشہ خون بہا, اتنا کہ انکا لباس بھی اس میں رنگ گیا اللہ انہیں صحت دے۔ میں انکے بالکل پیچھے تھا اللہ کا شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور میں بھی اپنی بائیک کو وقت پر کنٹرول کرنے میں کامیاب رہا۔
 حادثے کے بعد افرا تفری تو مچ گئی ٹریفک جام ہو گیا اور بیچ میں گاڑیاں پھنس گئیں پھر بھی کچھ لوگ ہارن بجاتے رہے اور تھوری سی جگہ سے نکلنے کی کوشش کرتے رہے کیا ہی خوب ہوتا کہ وہ بھی اپنی سواریوں سے اتر کر ہماری طرح پھنسی گاڑیوں کو روڈ سے ٹھکانے لگانے کی کوشش کرتے اس طرح ٹریفک میں روانی بھی آجاتی اور راستہ بھی بحال ہو جاتا مگر نہیں صاحب ہمارا شمار تو اس قوم میں ہوتا ہے نا جو دو منٹ سگنل پر بھی کھڑی نہیں ہو سکتی۔۔
خیر آگے چلتے ہیں۔۔۔ اوپر کی تصویر کوغور سے دیکھا آپ نے؟؟؟ ایسا لگتا ہے جیسے کسی میدان میں حادثے کا مقابلہ دیکھنے تماشائی آئے ہیں۔۔۔ یقین کیجئے ہم کچھ لوگ گاڑیوں کو سائیڈ پر لگانے اور گاڑی والے صاحب کو ایمبولینس میں بٹھانے میں اتنا مگن تھے کے کسی کو دیکھنے کا خیال نہیں آیا۔ وہاں لوگوں کی ضرورت تھی گاڑیوں کو ہٹانے میں اور لوگوں کی بڑی تعداد دونوں پلوں کے اطراف تماشہ دیکھ رہی تھی۔ یقیناً بڑا احساس ہوا اس وقت کے یہاں تو ہر ایک کو صرف اپنی پڑی ہے۔انکا یہ عمل محض شرف انسانی کے منافی نہیں تھا؟؟

آخر میں ضرور مبارکباد پیش کرونگابہترین سروس فراہم کرنے پر چھیپا ایمبولینس سروس کو جو ایک منٹ سے بھی پہلے موقع پر موجود تھی۔ بہت اعلیٰ جناب۔۔۔

کمپیوٹر: دوران استعمال آنکھوں کے درد کا علاج


پورے دن کا زیادہ تر وقت کمپیوٹر کو استعمال کرنے سے آنکھوں میں شدید تکلیف اور مختلف امراض کے لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہےمگر اب اس کا بے حد آسان حل تلاش کر لیا گیا ہے۔امریکی ریاست ٹیکساس کی یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق کمپیوٹر کے استعمال کے دوران ہر 20منٹ بعد 20فٹ فاصلے پر رکھی کسی چیز پر نگا ہیں مرکوز رکھنے سے آنکھوں کی تکلیف سے بچا جا سکتا ہے۔ کمپیوٹر اسکرین پر مسلسل نظریں جمے رہنے سے آنکھیں خشک ہو کر بوجھل ہو جاتی ہیں جس سے انتہائی تھکن کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔سائنسدانوں نے مزید واضح کیا کہ آنکھوں کی پلکیں جھپکاتے رہنے اور 20فٹ فاصلے پر رکھی اشیا کی طرف دیکھنے سے اس تکلیف سے بچا جا سکتا ہے۔ بس 20-20-20کے نہایت آسان فارمولے پر عمل کرنا ہو گا یعنی20منٹ بعد 20فٹ دور20سیکنڈتک دیکھیں ۔

نبیل گبول ایم کیو ایم میں۔۔۔


متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر دیگر پارٹی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت نے لیاری کو نظر انداز کیا ہے۔ آج کی پیپلز پارٹی محترمہ بینظیر   بھٹو شہید کی پارٹی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے مجھے پریشانیوں ومشکلات میں کبھی اکیلا نہیں  چھوڑا بلکہ ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا ہے اور ہمیشہ مجھ سے محبت و شفقت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ایک سال سے پیپلز پارٹی چھوڑنے کا سوچ رہا تھا کیونکہ پیپلز پارٹی میں رہ کر عوام کی خدمت نہیں کر سکتا تھا۔ نبیل گبول نے کہا کہ ایم کیو ایم میں صرف اردو سپیکنگ یا کوئی ایک قوم نہیں، بلکہ ہر زبان اور رنگ و نسل کے لوگ موجود ہیں۔ ایم کیو ایم ایک قومی جماعت ہے۔ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے ساتھ مل کر کراچی میں امن و امان قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرونگا اور یہی میرا مشن ہے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ میں ایم کیو ایم اور دیگر قومیتوں کے درمیان دوریاں ختم کروں گا۔

تمہارے جمہوری پانچ سال میری نظر میں۔۔۔


حکومت کے پانچ سال پورے اور آج رات بارہ بجے اسمبلیاں ختم ہونے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو گیا،ہر طرف اب انتخابات کی صدا گونج رہی ہے، ذرائع ابلاغ تو آئندہ کچھ روز میں اس قدر مصروف ہونے والا ہے جتنا انتخاب لڑنے والے بھی نہیں ہونگے، سیاستدانوں کے تمام کارنامے عوام تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی تو میڈیا کی ہوتی ہےنا۔۔۔
اس بار ایک اعلیٰ کام یہ ہوا کہ موجودہ حکومت نے چلتے چلتے پانچ سال بھی پورے کر ہی لئے، ملکی تاریخ میں یہ انتہائی اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے پہلے یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ جناب کبھی جمہوری حکومت کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی ، اس سے قبل ق لیگ کی حکومت نے بھی پانچ سال پورے کئے مگر کچھ حلقہ احباب اس بات کو اس لئے تسلیم نہیں کرتے کیونکہ اس دور میں صدر "پرویز مشرف" تھے اور کہا جاتا ہے کہ ایک آمر نے وہ حکومت اپنی مرضی سے قائم کی تھی۔ خیر جناب اب تو کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اس دور میں بھی کوئی آمر تھا۔اب تو جمہوری دور تھا نا ؟۔ میں شدومد سے اس چیز کو سراہتا ہوں کے جناب پاکستان کی تاریخ بدل گئی اور ایک اچھا کام ہوا، بغیر کسی فوجی رکاوٹ کے آزادانہ عوامی حکومت نے اپنی مقررہ مدت پوری کی مگر جس حال میں اس حکومت نے ملک کو چھوڑا ہے اس کی بھی میں شدید مذمت کرتا ہوں۔یقیناً بہت بڑے چیلنجز کا سامنا رہا، بیشک دہشت گردی ، جرائم اور بہت سے بڑے مسائل اس حکومت کو ورثے میں ملے تھے مگر واضح ہو گیا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر کے جو کرپشن کا تحفہ عوام کو دیا وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، محض آٹھ ماہ میں آٹھ سو اَسی ارب روپے کا مالی خسارہ ہوا، کون ہے اس کا ذمہ دار، میں یا آپ تو اس پیسے کی رکھوالی نہیں کر رہے تھے؟ دل جلتا ہے جب اس طرح کی رپورٹس منظرعام پر آئیں اور سیاستدان پھر بھی شرمندگی کے بجائے ٹھاٹ سے دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے جتنے کام کئے کسی نے نہیں کئے،،، ارے چھوڑئے جناب آپ کیا کام کرینگے  اور یوں کہیئے کہ آپ نے جتنی کرپشن کی ، جتنی جیبیں بھریں وہ پانچ سال میں کسی نے نہیں بھری ہونگی۔
ایک عام شہری کی حیثیت سے میں یہ سوال پوچھنے کی گستاخی کرتا ہوں کہ کس کا پیسہ تھا جو آپ نے اپنی مرضی سے لُٹا دیا، بجلی بند،اشیاء خوردنوش بند، سی این جی بند، سگنل بند، موبائل بند، توانائی کا بحران ، تعلیم کا بحران، یہ بحران وہ بحران، ادھر کرپشن اُدھر کرپشن، یہ جعلی ڈگریاں یہ ڈاکٹرز کی ہڑتال  ، مزدوروں کی خود کشیاں تو کبھی بچوں کی فروخت، تاجروں کا قتل تو کبھی بھتہ خوری، کون تھا آخر ان تمام چیزوں کو پروان چڑھا کر اپنے مزے لُوٹنے میں مگن؟؟ جناب اعلیٰ یہ میرا پیسہ تھا یہ اس عام عوام کا پیسہ تھا جس کے پاس کھانے کو پیسہ نہیں مگر اس نے آپ کو ٹیکس دیا، ایک صابن سے لیکر  گاڑی بھی خریدی تو ٹیکس دیا اپنا پیٹ کاٹ کر اپنی بھلائی کے لئے آپکو پیسہ دیا، کیا آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح اپنی لیڈرشپ کو منوایا کیا آپ کبھی بغیر تصاویر کھچوانے کی غرض سے کسی کا حال پوچھنے راتوں کو نکلےِ؟؟ کیا آپ نے کبھی اس چیز کا خیال کیا کہ کوئی آج بھوکا تو نہیں سو گیا؟؟؟ نہیں، ہر گز نہیں۔۔۔ 
آپ نے ٹیکس مانگا ہم نے دیا آپ نے ووٹ مانگاہم نے دیا۔ اس غریب عوام نے کبھی آپکو ووٹ دیا تو کبھی اُنہیں ووٹ دیا، اپنے اچھے مستقبل کے لئے کبھی ادھرتو کبھی اُدھر ووٹ دیا مگر کیا آپ سب ہی ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے تھے؟؟ سو میں سےچند فیصد ایسے حکمران ہونگے جنہیں انکے حلقے کی عوام نے پسند کیا جنہوں نے واقعی اس ووٹ کا احساس کیا اسکی قدر کی ان لوگوں کا خیال کیا جن کی وجہ سے اس عہدے کو پایا۔
آپ کے جھوٹ توبہ توبہ۔۔۔ کس قدر عوام کے ساتھ دھوکے بازی کی گئی ان پانچ سالوں میں ہم سب نے دیکھ لیا روٹی ، کپڑا اور مکان تو ہمارے لئے ایک خواب ہی رہ گیا۔ آپ نے پھر بھی بڑی ہمت کےساتھ ایک بار پھر منشور کو جاری کر کے انہی سطروں کو اخبارات کی ہیڈ لا ئینزبنا دیا۔ایک بار پھر دھوکہ ایک بار پھر جھوٹ ۔۔سلام ہے تجھ کو میرے ملک کے حکمراں سلام ہے۔۔۔ اور سلام ہے ایسے ووٹرز جو ان تمام چیزوں کے بعد بھی مجھے سو فیصد یقین ہے کے انہی کو دوبارہ اسمبلیوں میں پہنچائیں گے۔۔ 
ٹھیک کہا تھا محترمہ بینظیر بھٹو نےکہ "جمہوریت بہترین انتقام ہے"۔اور ان کے بعد محترم حکمرانوں آپ نے اس بات کو ٹھیک نبھایا ہے، بہترین تشریح کر  کے عملی طور پر اس ملک کی عوام اور ووٹرز کو دکھایا ہے، اوردنیا بھر میں  رائج بہترین نظام جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں آج میری غریب عوام کو برا لگنے لگا ہے کیوں نا لگے برا، عوام کو صرف دو وقت کی روٹی ، اپنا جسم ڈھانپنے کے لئے کپڑا اور رہنے کے لئے ایک مکان چاہئے جناب جسے آپ نے اپنا منشور بنا کے پیش تو کر دیا مگر معذرت کے ساتھ آج ہم بہت افسردہ ہیں، ملک کو اپنی  آنکھوں سے ڈوبتا دیکھ کر ہم اپنے ووٹ دینے پربے حد شرمندہ ہیں۔ ہمیں جمہوریت نہیں خوشحالی چاہیے اب ہمیں روٹی چاہیے امن چاہئےجناب۔
معذرت کے ساتھ تمام ووٹرز سے کہوں گا کے خدارا اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں۔ خصوصاً نوجوانوں تم سے کہوں گا تم تو معمار ہو مستبل کے تم تو آنے والا کل ہو کم از کم اب تو ہوش کے ناخن لو۔ ایسے انسان کو ووٹ دو جس نے کچھ کر کے دکھایا ہو، ایسی جماعت کا ساتھ دو جس میں لیڈر شپ کی صلاحیت ہو، جو کرپٹ ہونہ بدعنوان، جو تمہیں اسمبلیوں میں بھیجے جس کو تمہاری اور تمہارے ووٹ کی قدرواحساس کے ساتھ تمہاری مشکلات کا اندازہ بھی ہو، جو سچا پیار کرنے والا ہو ملک و قوم کا، جو اقتدار سے نہیں بلکہ اپنی دسترس سے جو ہو سکا تمہارے لئے بہتر کرنے کا خواہا ہو۔ آنکھیں کھولو اب بھی وقت ہے ۔ اپنا ووٹ ضرور ڈالنے جاو ان لوگوں کی باتوں پر مت جاو جو یہ کہہ کر اپنے ملک کی اس اہم ذمہ داری سے دور ہو جائیں کے "یار کونسا فئیر الیکشن ہوگا" نا ہو فئیر الیکشن مگر اپنی ذمہ داری ضرور پوری کر لو میرے ایک ووٹ سے شاید تبدیلی نہ آئے مگر ہم سب کا ووٹ اس ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے اب۔۔۔۔۔۔۔۔

Pages