رائے نامہ

کراچی میں اسکول آف ٹوماری کے نام سے پاکستان کے اولین بین الاقوامی تعلیمی و ثقافتی فیسٹیول کا شاندار آغاز


کراچی میں اسکول آف ٹومارو کے نام سے بین الاقوامی تعلیمی و ثقافتی فیسٹیول کا  شاندار آغاز بیچ لگژری ہوٹل میں ہوا۔ بیکن  ہاؤسگروپ کی جانب سے منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول پاکستان   میں اپنی نوعیت کا یکتا  فیسٹیول ہے کہ جس میں پاکستان اور دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرین مستقبل میں اسکول اور تعلیمی کیسی ہو گی کے ساتھ موجودہ دور میں تعلیم و تدریس کے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے بحث مباحثہ کررہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ فیسٹول ایک عوامی ایونٹ ہے ۔فیسٹیول کا آغازمحترمہ نسرین قصوری چیئر پرسن بیکن ہاؤس اور جناب قاسم قصوری چیف ایکزیکٹیو بیکن ہاؤس کے  خطاب سے ہوا جس کے بعد  عوامی سیشن کا آغاز ہوا۔ فیسٹیول میں ایک وقت میں چار سیشنز جاری ہیں جن میں آرٹ  و کلچر، میڈیا و ٹیکنالوجی، ماحول، اسکول و سماج، عالمی سیاست و سلامتی کے تعلیم  پر اثرات، اور نجی و پبلک تعلیمی اداروں کی شراکت داری پر بات کی گئی۔

کانفرنس سے خطاب  کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز ہودبوئے کا کہنا تھا کہ ہر بچہ سائینسدان ہوتا ہے کیونکہ جستجو  ہر بچے میں ہوتی ہے۔ بیکن ہاؤس  کے اکیڈیمک ڈائریکٹر ڈاکٹر برگ کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں جستجو کا طریقہ کا یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔  ڈاکٹر عشرت حسین نے تعلیم اور امن کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسکول کو محفوظ بنانے کے لئے جو کچھ کر رہے ہیں اس عمل میں ہم نے یہ بات بالکل فراموش کی ہوئی ہے کہ اس کا بچوں کی نفسیات پر کیا اثر ہوتا ہے۔  دور مصائب میں تعلیم کے موضوع پر بات کرتے ہوئے  معروف ٹی وی اینکر سدرہ اقبال کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں ہتھیار جنگ کے لئے نہیں بلکہ جنگیں ہتھیاروں کے لئے تیار کی جاتی ہیں۔ سبل مفتی  کا روبوٹکس کی ورکشاپ  پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی آج کل کی اہم ضرورت ہے اور اس ساے کار نہیں کیا جا سکتا۔ بدر خوشنود جو کہ تیرہ سال سے کم عمر بچوں کو فیس بک استعمال کرنا چاہیئے یا نہیں  پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم اگر چند  احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے  ہوئے ہم اپنے بچوں کو آن لائن محفوظ بنا سکتے ہیں۔ محترمہ روحی حق کا کہنا تھا کہ کہانی سننا زبان سیکھنے  کا بہترین زریعہ ہیں چونکہ یہ دلچسپ ہوتی ہیں لہذا ان کی مدد سے بچوں کو کافی کچھ سکھایا   اور سمجھایا جا سکتا ہے۔ سینئر صحافی عامر احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تجسس اور جستجو ہی  آپ کو جغرافیہ ااور تاریخ کا اچھا طالب علم بنا سکتے ہیں اور تہذیب ثقافت کسی بھی قوم کا طرہ امتیاز ہے۔سندھ کے وزیر تعلیم  نثار کھوڑو بھی کانفرنس میں شریک تھے اور پرائیویٹ اسکولوں کی پاکستان میں  تعلیم کے حوالے سے ان کی خدمات پر بات کرتے ہوئے  انہوں نے کہا ، کہ پرائیویٹ اسکول  اس ملک میں معیاری تعلیم کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہیں اور یہ وقت کی ضرورت ہے کہ سرکاری اسکولوں کی تعلیم کو بہتربنانے کے لئے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں  کی شراکت داری کو عمل میں لا کر تعلیم کے کل معیار کو بہتر کیا جا سکے۔ فیسٹیول پر خطاب کرنے والے دیگر مقررین میں محترمہ لیلہ قصوری، مشہور ماہر ماحولیات افضل چوہدری،  ڈاکٹر راجر شینک،  ڈاکٹر ڈیوڈ کول،  معروف فنکار راشد رانا، ممبر قومی اسمبلی نفیسہ شاہ معروف سیاستدان و ٹی وی اینکر فواد چوہدری، انسانی حقوق کی اکٹوسٹ طاہرہ عبداللہ،     معروف ٹی وی اینکر شہزیب خانزادہ، اور بھارت کے معروف مزاحیہ فنکار سنجے راجورا، معروف اداکار عمیر رانا، اور نادیہ جمیل شامل تھے  جنہوں نے آنے والے دور میں تعلیم کی صورت حال پر دلچسپ گفتگو کی۔ کافرنس کے دوران ماروی مظہر نے ہیریٹیج اویرنس پروگرام کی ورکشاپ منعقد کی اور فل اسٹیم کے نام سے ایک نمائش بھی منعقد کی گئی کہ جس میں سائینس، ٹیکنالوجی، میڈیا اور ارٹ سے متعلق اشیا ء کی نمائش کی گئی۔   فیسٹیول میں کانفرنس کے ساتھ ساتھ بچوں اور فیملیز کے کے دلچسپ  ، بھرپور، اور توجہ طلب ایکٹیویٹیز اور نمائش بھی شامل تھی جس کو کراچی کے شہریوں کی جانب سے شاندار  رسپانس ملا   فیسٹیول میں کراچی بھر سے  اڑھائی لاکھ سے زائد لوگوں نے شرکت کی  ۔ یہ فیسٹیول اتوار کے روز بھی جاری رہے گا۔ 

ملک میں تعلیم کی حالت بد کی کہانی واسو کی زبانی


کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی یا معیار کا اندازہ اس ملک یا قوم کی تعلیم و صحت سے لایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کا معاملپ کچھ یوں ہے کہ یہاں انہی دو شعبہ جات کو بالکل بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ حد یہ ہے کہ تعلیم کے لئے آئین کی 25 اے شک تو موجود ہے جو ریاست کو اس چیز کی زمہ دار ٹھہراتی ہے کہ سولہ سال کی عمر تک کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرے۔ کتابی بات ہے بھائی ہم کیوں مانیں ہمارے ہاں رہاست ک چلانے والی سرکار غالباً صرف انہی قوانین میں دلچسپی رکھتی ہے کہ جن سے ان کی حکومت و طاقت کو دوام ملتا ہے باقی رہے نام مولا کا۔ ذیر نظر ویڈیو میں مقبول فنکار واسو ملک میں تعلیم کی حالت خستہ اپنے ہی انداز میں بیان کر رہے ہیں، سنیئے اور سوچیئے کہ ہمارے ساتھ سیاست کے نام پر کیا کیا شغل کھیلا جاتا ہے۔(function(d, s, id) { var js, fjs = d.getElementsByTagName(s)[0]; if (d.getElementById(id)) return; js = d.createElement(s); js.id = id; js.src = "//connect.facebook.net/en_GB/sdk.js#xfbml=1&version=v2.3"; fjs.parentNode.insertBefore(js, fjs);}(document, 'script', 'facebook-jssdk'));
Poetry by Wasu Khan
A humorous, yet eye-opening poetry by Wasu Khan on education-related issues in Pakistan.
Posted by Alif Ailaan on Friday, 16 October 2015

ہمارے نان سیکسی قسم کے انسانیت پر مظالم


ہیروشیما پر بم گرنا کوئی انسانیت پر ہوا اکیلا ظلم نہیں تھا، یہ جو ہم ہر روز دوسروں کا حق مارتے ہیں یہ بھی انسانیت پر ظلم ہے, چونکہ ہمارے کرتوت ایٹم بم جتنے سیکسی نہیں ہیں لہذا ان پر کیا سوچنا کیا سینہ کوبی کرنا۔ صبح سے جو 1945 میں گرے ایٹم بم اور ہیروشیما کی جو صف ہم نے بچھا رکھی ہے اس سے فرصت ملے تو سوچئے گا کہ کیا ہم نے اپنے حصے کی زمہ داری برائے انسانیت ادا کی یا سب ٹوپی ڈرامہ اور لفاظی ہی ہے۔

Zameen.com نے پراپرٹی سرچ ٹرینڈز ٹول متعارف کروا دیا



پاکستا ن کے سب سے بڑے پراپرٹی پورٹل Zameen.comنے اپنی ویب سائٹ پر ایک بالکل نیا اور منفرد فیچر’’پراپرٹی سرچ ٹرینڈ ز ٹول ‘‘ کے نام سے متعارف کروایا ہے  ۔ پراپرٹی سرچ ٹرینڈ ز ٹول کی مدد سے ویب سائٹ کے صارفیں یہ جان سکتے ہیں کہ کسی بھی  وقت  پراپرٹی کی سرچ کے حوالے سے ملک بھر میں کون سے علاقے مقبول ترین ہیں۔ اس ٹول میں یہ صلاحیت موجو دہے کہ وہ صارفین کو ملک کے مقاما ت میں جاری ٹرینڈز کے حوالے سے براہ راست‘ حقیقی معلومات مہیا کر سکے۔ اس سہولت کی بدولت صارفین یہ جان سکتے ہیں کہ رئیل اسٹیٹ میں مقبو ل ترین مقامات کون سے ہیں، علاوہ ازیں اس سہولت کی بدولت سرمایہ کاری کے فیصلوں میں بھی آسانی ہوگی ‘ کیونکہ صارفین کو پہلے سے علم ہوگا کہ کون سا مقام کس حد تک معروف ہے ۔ اس موقع پرZameen.comکے سی ای او ذیشان علی خان نے کہا کہ کسی بھی دوسرے کام کی طرح سے رئیل اسٹیٹ کے سیکٹر میں بھی کامیابی درست وقت پر درست فیصلے کرنے کی وجہ سے ملتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے صارفین کو بہترین خدمات فراہم کرتے ہیں اور پراپرٹی سرچ ٹرینڈز ٹول بھی ایسا ہی ایک اضافہ ہے، جس سے صارفین کو زمینی حقائق کے حوالے سے مکمل معلومات دن کے کسی بھی وقت حاصل ہو سکتی ہیں۔  ذیشان علی خان نے کہا کہ Zameen.comکو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ اُس نے اپنے صارفین اور اپنے شراکت داروں کو بہترین اور مکمل ایمانداری کے ساتھ مارکیٹ کی خبریں وغیرہ بر وقت پہنچائی ہیں۔ اس نو متعارف ٹول کا مقصد بھی اسی سمت میں ایک نیا اضافہ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ اپنے صارفین اور کلائنٹ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں تو  آپ کو اُن کے ساتھ معلوما ت کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنے پاس موجود بہترین‘ بروقت اور زیادہ سے زیادہ معلومات اپنے کلائنٹس کو دینی ہیں۔اس سے شراکت دار  آپ کے توسط سے اپنے لئے مفید فیصلے کریں گے ۔
Zameen.comپاکستان کا سب سے معروف اور کامیاب ترین پراپرٹی پورٹل ہے ۔ اسکے 12لاکھ سے زائد ماہانہ وزٹرز ہیں‘ 13لاکھ سے زائد پراپرٹی کی لسٹنگ ہیں‘ 7ہزار ایجنسیاں ہیں اور 5لاکھ کے لگ بھگ رجسٹرڈ ممبران ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا بے توقیر جھنڈ.

ریوٹرز پر چھپی خبر کا عکس 
کوئی تیسرا دن ہے کہ یار لوگوں کو سوشل میڈیا پر ایک تحقیق بار ہا شیئر کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کہ پچاس سالوں میں اسلام آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔
اب سمجھ نہیں آ رہی کہ اس پر کس قسم کا رد عمل ظاہر کروں، جس قسم کے اجڈ ہم پیدا کر رہے ہیں اس کو دیکھا جائے تو یہ کوئی خوشخبری نہیں ہے ویسے. جو کچھ ہم بنتے جا رہے ہیں اور جو کچھ ہم آنے والے نسل کو بنا رہے ہیں وہ کم از کم مسلمان نہیں ہے. ہاں تعداد میں زیادہ ہوں گے ہم( ابھی تو یہ بھی قابل بحث ہے کہ ہم کا استعمال بنتا بھی ہے بطور اشارہ یا نہیں) پچاس سال میں لیکن علم، عقل، فہم، ٹکنالوجی، تحقیق میں؟ 
وہ حدیث یاد آ رہی ہے کہ جس میں پیشن گوئی کی گئی تھی کہ مسلمان تعداد میں بہت زیادہ ہوں گے لیکن بے توقیر. یعنی 2070 میں ہم مزید بے توقیر ہو چکے ہوں گے. دنیا کا سب سے بڑا بے توقیر جھنڈ.

توقعات - افسانہ


افسانہ کو ڈاؤنلوڈ کرنے کا لنک مندرجہ زیل فارم کے بعد موجود ہے ڈاؤن لوڈ کر نے سے قبل مندرجہ ذیل فارم مکمل کر دیں تاکہ "سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے" شکریہ۔ 

Loading...
ڈاؤنلوڈ لنک

اب میرے کپڑوں پر خون دیکھ کر رونا مت ماں!!!

 مجھے  ڈر تھا کہ میری یونیفارم پر سیاہی دیکھ کر ماں ڈانٹے گی۔ اب میرے کپڑوں پر خون دیکھ کر رونا  مت ماں
شائد کہ جو میں لکھنے جا رہا ہوں سنکی پن اور مایوسی کی ایک قسم ہی ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ جو پھول کل پھولوں کے شہر میں روند دیئے گئے ان کو اب ہمارے ان کھوکھلے جملوں، ٹویٹر پر ایک سو جالیس خطوط کی دانشوری، اور فیس بک پر اپنی وال کالی کرنے حتا کہ ان موم بتیوں کی بھی متقاضی نہیں جو ان کی یاد میں روشن کی جا رہی ہیں، بلکہ ان معصوموں کو تو ان سطروں کی بھی اب ضرورت نہیں جو میں بلا سوچے سمجھے لکھ رہا ہوں۔
جو سانحہ کل ہو گیا اس پر کیا کیا جائے یہ سوچنے کی نہ تو ہمت ہے اور نہ ہی صلاحیت۔لیکن ایک بات حقیقت ہے کہ زندگی میں کنٹرول زیڈ کی سہولت نہیں ہوا کرتی۔ جو ہو چکا اس کو واپس جا کر بدلا نہیں جا سکتا ہاں آگے کی کہانی کو بہتر لکھا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے لئے یہ فیصلہ کر لینا پڑے گا کہ کون سگا ہے اور کون "ہمارا بھائی" عقل کے ان عناصر کو استعمال کرنا پڑے گا جو یہ سمجھا سکیں کہ اگر "یہ ہماری جنگ نہیں" تو پھر اس میں مر کیوں ہمارے بچے رہے ہیں۔مصیبت کو حل کرنے کا پہلا قدم مصیبت کو مصیبت سمجھنا ہوتا ہے، مصیبت کے ساتھ اگر رشتہ داری کرو تو گلے مصیبت ہی پڑتی ہے۔ تیس سال سے زائد عرصہ سے گلے پڑی اس مصیبت کا کیا کرنا ہے شائد اب طے کر لینا چاہیئے کیوں کہ تیزی سے پھیلتی بے حصی کے اس دور میں اور سنکی ہوتے معاشرے میں وہ دن دور نہیں کہ جب 140 لاشیں گرنے پر بھی کوئی رد عمل ہو۔شائد اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ یہ جھنڈ نما قوم کو بچانا اور بنانا ہے یا پھر "ہمارے بھائیوں" کا دفاع کرنا ہے؟ دنیا کی "نمبر ایک" خفیہ ایجنسی کو بھی شائد اب صحافیوں سیاست دانوں اور دیگر بلڈی سویلینز پر ہاتھ سیدھا کرنے کی بجائے اس کام پر کمر کسنی چاہیئے کہ جو اس کا کام ہے کہ جس کے کرنے پر اس پر فخر محسوس کیا جا سکے ویسے تو وہ اس ملک کی واحد اشرف المخلوقات ہیں کہ ہمیں ان پر فخر ہو کہ شرمندگی ان کو اس سے فرق نہیں پڑا کرتا۔

کشکول اور اسکا رساؤ


کشکول - تصویر بشکریہآج برادر عاصم اکرام کی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا، مجھے پڑھتے وقت بار بار 2011 کی فروری کی ایک سرد صبح یاد آ رہی تھی جب مصنف لندن سے آکسفورڈ کی ایک بس میں سوار تھا اسی بس میں کچھ اور پاکستانی بھی شامل تھے جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن سے آکسفورڈ جا رہے تھے۔

اپنا جانا بھی اسی کانفرنس میں تھا تو ان سے دعا سلام کی اور ان کے ساتھ زیر بحث موضوع کو جاری کیا کرتے کرتے بات غیرت، غلامی، اور مقروض ملک کی جانب جا نکلی۔ تب بحث کے دوران ایبٹ آباد سے آئے ایک بھاری بھرکم طالب علم نے کہا کہ
 میاں اگر صاحب لوگ پیسے دینے بند کر دیں تو چپل تک نہ رہے گی پیروں میں۔۔۔ 
اس وقت نہ جانے کس وجہ سے چپ رہا اور جواب نہ دیا لیکن آج تک سوچ رہا ہوں چپل تو پہلے بھی نہیں ہے پیروں میں۔ 
کئی بھوکے ننگے جموروں کی حالت دکھا کر ان کے نام پر پیسہ لیا جاتا ہے لیکن وہ پیسہ کشکول میں سے جاتا کہاں ہے یہ سمجھ نہیں آتی۔ میری اور مجھ جیسے جموروں کی تعلیم کے نام پر پیسے لئے جاتے ہیں لیکن اعلی تعلم کے لئے ہم جیسے جموروں کو قرض لینا پڑتا ہے زر اور زمین بیچنا پڑتی ہے۔ اور پھر امید کی جاتی ہے کہ تعلیم کے بعد جمورے کے گلے پڑی رسی کھل جاوے گی۔
لیکن رسی کھلتی نہیں تبدیل ضرور ہو جاتی ہے۔ جمورے اور مداری کے درمیان اتنا لمبا فاصلہ ہے کہ جمورا چاہ کر بھی پوری جان لگا کر بھی اس مقام تک نہیں پہنچ پاتا اور جب پہنچ جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب اس پر ایک اس سے بھی بڑا مداری براجمان ہوا چاہتا ہے اور اب اس کا جمورا بن کے تماشا دکھانا ہوگا۔ تماشہ کا طرز مختلف ہوجاتا ہے لیکن کشکول پھر آخر میں خالی ہو جاتا ہے۔۔۔
سارا قصور اس رساؤ کا ہے جو رقم کو کشکول سے بہا لے جاتی ہے، جب تک وہ نہ رکی جمورا جمورا ہی رہے گا پیروں میں جوتا نہ ہوگا اور تعلیم کچھ نہ کچھ بیچ کر ہی حاصل کرنا پڑے گی۔

ہمارے شوخے ہمسائے




بھارتی ایک بے جان مشین کو مریخ میں بھیج کر پھولے نہیں سما رہے۔ ہم ہر روز درجنوں انسانوں کو عالم ارواح میں بھیجتے ہیں لیکن کبھی غرور نہیں کیا۔بھارتی ایک بے جان مشین کو مریخ میں بھیج کر پھولے نہیں سما رہے۔ ہم ہر روز درجنوں انسانوں کو عالم ارواح میں بھیجتے ہیں لیکن کبھی غرور نہیں کیا
— Rai M. Azlan (@Mussanaf) September 24, 2014

قصور میرا بھی ہے شائد!


چہل قدمی کرتے کرتے میں مال روڈ کے اس مقام پر پہنچ چکا تھا کہ جہاں اب فیض احمد فیض انڈر پاس موجود ہے، ہم بھی ویسے عجیب لوگ ہیں ہر چند سال بعد جگہوں کے نام بدل دیتے ہیں اور اسی میں اطمینان تلاش کرتے ہیں ابھی چند سال پہلے تک ہی تو اس انڈر پاس کا نام مال روڈ انڈر پاس تھا اب یہ فیض صاحب کا ہوگیا۔ چلتے ہوئے جانا تو میں نے سیدھا میں میر پل کی جانب تھا مگر نہ جانے کن خیالات کے زیر اثر اور کس نیت کے ساتھ میں بائیں جانب مڑ گیا اور نہر کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔
اگست کی صبح جوبن پر آئے ساون بھادوں کی وجہ سے کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہوا کرتیں۔ بس آج کی صبح بھی اگست کی عام سی صبح تھی۔ صبح، شام، یا دن کا کوئی بھی حصہ اپنی ذات میں خاص یا عام تھوڑی ہوا کرتا ہے۔ ان اوقات میں ہو جانے والے واقعات بعد میں اس مخصوص دن کی وجہ شہرت بن جاتے ہیں اور شہرت کبھی بھی کسی چیز کو عام نہیں رہنے دیتے اسے خاص بنا دیا کرتی ہیں۔
انہی خیالات کو سوچتے سوچتے میں چلتا جا رہا تھا میرے دائیں ہاتھ نہر بہہ رہی تھی جس کی موجودگی موسم کی بد  مزاجی کو قابل برداشت بنا رہی تھی تو بائیں جانب ایچیسن کالج کی طویل دیوار تھی۔ میں انہی فلسفہ سے لبریز خیالات کے ساتھ چلتا جا رہا تھا لیکن ہر قدم کے بعد مجھ میں ایک تبدیلی سی رونما ہونے لگی۔ موسم تو اتنا گرم نہیں تھا لیکن مجھے پسینہ تیزی سے آ رہا تھا،  یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے خون ابلنے لگ گیا ہو. میری سانس پھول رہی تھی لیکن اس کی وجہ تھکاوٹ یا کوئی بیماری نہیں تھی بلکہ غصہ میرے مزاج پر حاوی ہو رہا تھا۔ ویسے تو غصہ اپنے آپ میں ایک بیماری ہے لیکن اس کا علاج اگر ہے تو بس یہ کہ اس کو قابو کیا جا سکے، لیکن انسان کتنی دیر اسے روک کے رکھ سکتا ہے کتنی دیر قابو کر سکتا ہے ایک نہ ایک دن اس ٰغصہ کا ایندھن اس قدر گرم ہو جاتا ہے کہ برداشت سمیت تمام بندشوں کو پگھلا کر اپنا راستہ بناتے  ہوئے باہر آ جایا کرتا ہے۔ آج شائد میری برداشت کے پگھلنے کا دن آ چکا تھا۔
 گزشتہ دو سال سے بار بار سنے جانے والے طعنے اور گالیاں دماغ میں گونجنے لگے. گونج اتنی زیادہ تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سر کسی بھی وقت پھٹ جائے گا. مجھے نہیں معلوم کہ کب چلتے چلتے میں فٹ پاتھ چھوڑ کر سڑک کے  درمیان چلنے لگا. جیسے جیسے میں چلتا جا رہا تھا اندر ابلنے والا لاوا اور گرم ہونے لگتا تھا،  اچانک سے لگا کہ اب آتش فشاں کے پھٹنے کا وقت ہو گیا ہے۔
بس پھر اچانک میرا منہ کھلا اور آتش فشاں پھٹ پڑا لاوے کہ جگہ میرے منہ سے میرے سیاسی قائدین کے حق میں اور اس سیاسی قائد کہ جس کے گھر کے پاس میں آ چکا تھا کے خلاف نعرے نکلنے لگے. مجھے کچھ یاد نہیں کہ میں نے کیا کچھ کہا مجھے بس اتنا پتہ تھا کہ گزشتہ دو سال سے میں نے کیا کچھ نہیں سنا اور وہ بھی صرف اپنی سیاسی وابستگی کی وجہ سے. میں مسلسل نعرے بازی کر رہا تھا کہ ایک ہاتھ میری گردن پر پڑا گرفت اور دباؤ ایسا تھا کہ میں توازن کھو بیٹھا۔
اور کچھ ہی دیر میں بارش شروع ہو گئی یہ بارش کوئی عام بارش نہیں تھی بلکہ لاتوں اور مکوں کا مینہ تھا جو برسنے لگا. میں جان بچانے کو بھاگتا تو پھر کسی نہ کسی کہ ہتھے چڑھ جاتا. یہ سب نوجوان اس قائد کے شیدائی تھے کہ جس کی گلی میں آ کر میں نے اس کے خلاف نعرے لگائے تھے. شائد میں نے نعروں کے معاملے میں واقعی زیادتی کر دی میں  ٹھہرا ایک پینڈو پٹواری لیکن ان پڑھے لکھے نوجوانوں کے جھرمٹ نے نہ تو میرے اکیلے ہونے کا لحاظ کیا، نہ میری عمر اور میری سفید ہوتی داڑھی کو کسی خاطر میں لائے،  میں جس کے ہاتھ لگا اس نے مال غنیمت جانا اور دو چار لگا کر ثواب دارین کے حصول کو یقینی بنایا۔
میں مسلسل جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس میں کچھ کامیابی تب ہوئی کہ جب کچھ لوگ بیچ بچاؤ کروانے پہنچے میڈیا کی وہاں موجود نفری بھی حرکت میں آ چکی تھی اور اس واقعے کی لاجواب تصاویر اور فوٹیج بنانے لگے. کسی طرح جان بچا کر میں وہاں سے نکلا اور اپنے گھر کی راہ لی درد سے اتنا برا حال تھا کہ کراہنے اور رونے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔
 دماغ مسلسل اس بات پر غور کر رہا تھا کہ اس سب میں کس کی کیا غلطی تھی. کیا یہ ہے وہ پڑھی لکھی جوان نسل کہ جس میں برداشت اور درگزر نام کو بھی نہیں ہے. شائد ان کا بھی قصور نہیں ہے قصور میرا ہے اور میری نسل کا ہے ہم نے سوائے اپنے وقتوں کا قصیدہ کہنے کے اور کوئی کام نہ کیا۔
 وہ اقدار جو ہمارے وقتوں یا پرانے وقتوں کو یادگار بناتی تھیں ہم اس نسل میں منتقل نہ کر پائے. کاش کہ ان کو پڑھانے لکھانے اچھے نمبر لینے کی دوڑ میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ  برداشت بھی سکھا دیتے کہ صبر اور برداشت کتنے شاندار وصف ہیں آج اگر یہ پود برداشت کے مادے سے لبریز ہوتی تو میرا گناہ نظر انداز ہو جاتا۔
گھر پہنچتے پہنچتے دل میں ایک اور بات آئی کہ جس سے میرے تھکے ہوئے گرد سے بھرے چہرے پرطنزیہ مسکراہٹ آ گئی. بات یہ تھی کہ یار یہ زندہ دلان لاہور تو بڑے ہی تھڑ دلے نکلے چار نعرے نہ برداشت کر سکے، یہ خیال آتے ہی میں نے سر کو۔ جھٹکا اور افسوس سے میرے منہ سے بس اتنا ہی نکلا کہ اس میں کچھ قصور میرا بھی ہے شائد۔ 

الوداع لندن چوتھا حصہ

نیچرل ہسٹری عجائب گھر، لندن گزشتہ اقساطکرام ویل گارڈن سے نکلنے کے بعد کچھ مزید چلنے پر نیچرل ہسٹری میوزیم نظر آیا اس کی طوالت دیکھ اور بھوک کی حالت دیکھ ہمت نہ ہوئی کہ اس کو اندر سے دیکھا جائے ویسے بھی مصنف کو اس بات کا بالکل کوئی شوق نہیں کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس کے بڑے کون سے والے بندر تھے۔ ویسے بھی مصنف کو اس نظریہ میں یقین نہیں کہ انسان ایک بندر تھا۔ خیر اب جب یہ لکھ رہا ہوں تو ڈائناسارس کے پاؤں کا نشان اور وہاں لگی تتلیوں کی نمائش نہ دیکھنے کا افسوس سا محسوس ہو رہا ہے۔
سائینس عجائب گھر
ہماری منزل تھی سائنس میوزیم کے پرانی چیزیں دیکھ لیں اب کچھ جدت دیکھی جاوے اندر گھستے ہی لگا کہ یہ میوزیم مسلم لیگ ق نے فنڈ کیا ہے۔ خیر اگر میٹرک کے بعد مزید سائنس پڑھی ہوتی تو اس عجائب گھر کی سیر کا کچھ زیادہ مزا آتا ورنہ ہم نے گاؤں سے بتیاں دیکھنے آئے پینڈو کی طرح یہاں گاڑیاں، جہاز، مشینیں، اور خلائی جہاز دیکھے اور اتنے ہی متاثر ہوئے کہ جتنا ایک دیہاتی بھائی بتیاں دیکھ کر ہوتا ہے۔ تھری ڈی پرنٹگ والا سیکشن آج کے دن کا سب سے بہترین تجربہ تھا اب ہمارے دماغ میں اس پرنٹر کے کارنامے دیکھ جتنے بھی خیالات اور منصوبے آئے وہ سب کے سب تخریبی نوعیت کے تھے۔ مزید اس قسم کے خیالات آنے سے پہلے ہم وہاں سے چل دیئے اور عجائب گھر سے باہر آ گئے۔


ایپل کے اولین کمپیوٹرز میں سے ایک

گئے وقتوں کی لندن ٹیکسی جس میں ڈرائیور کے علاوہ صرف دو ہی سواریوں کی اجازت ہوا کرتی تھی
ہماری اگلی منزل ایلبرٹ ہال تھی جس تک جانے کے چکر میں ہم دو بار راستہ بھولے اور وہاں موجود تمام سفارت خانے دیکھ بیٹھے۔ بنگلادیش کی سفارت خانے سے گزرتے وقت جب وہاں جانے کا اتفاق اور شیخ مجیب کا دروازے پر لگا خوفناک قسم کا پورٹریٹ یاد آیا وہیں ایک بنگالی بابو اپنی تصویر بنواتے نظر آئے۔ کسی کی سادگی کا مذاق کیا اڑانا مگر ایک انتہائی گاڑھے رنگ کے گرے میں براؤن مکس رنگ کا کوٹ اس کے نیچے گاڑھے عنابی رنگ کی قمیض جس میں کالے رنگ کی پھانٹ تھی اس پر نہ جانے کیا سوچ کر نیلی ٹائی لگا رکھی تھی۔ اس سے پہلے ہم ان کا توا لگاتے ہمیں پنجاب یونیورسٹی کے زمانے کا وہ ماک انٹرویو یاد آ گیا کہ جس میں ہم جامنی قمیض پر یخ ہرے رنگ کی ٹائی لگا کر گئے تھے۔
شاہی کالج برائے موسیقیپرنس ایلبرٹ ہال
ایلبرٹ ہال پہنچے اتنے بڑے ہال کو دیکھ کر سوچا کہ اگر یہاں نرگس اینڈ کمپنی کا ڈرامہ کرایا جائے تو خاصی کمائی ہو سکتی ہے مزید اس قسم کے خیالات آنے سے پہلے ہی یار لوگوں کی جگتیں ذہن میں آنے لگیں کہ انہوں نے کہنا ہے کہ لوگ گروپ دبئی کے کر جاتے تھے یہ لندن لے کر جاتا ہے۔ ہال کی باہر والی دیوار گھوم کر عقبی دروازے پر پہنچے تو کینزینگٹن گارڈنز اور اس میں واقع ایلبرٹ میموریل ہمارے سامنے تھا۔
پرنس ایلبرٹ میموریل
اس سونے سے بنے بیش قیمتی مجسمے اور ایک نہایت ہی شاندار کو میموریل دیکھ کر ایک خیال آیا کہ رن مریدی اتنی بھی بری چیز نہیں مانا کہ ملکہ وکٹوریہ کہ ڈاڈی طبیعت کی وجہ سے پورا دور وکٹورین کہلاتا ہے اور تاریخ میں پرنس ایلبرٹ کا نام خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس مرد مجاہد کو اپنی خاموشی اور ثابت قدمی کا کیا لاجواب بیش قیمتی تحفہ ملا کہ اس کی یاد میں ایسا میموریل بنایا گیا کہ جس میں ان تمام براعظموں سے لائی گئی دولت استعمال کی کہ جہاں جہاں تاج برطانیہ پہنچ چکا تھا۔ گورا صاحب کہ فراخدلی بھی پسند آئی کہ پرنس ایلبرٹ کے مجسمے کے چاروں جانب ان ممالک یا براعظموں کی یادگار میں بھی مجسمے بنا دیئے گئے کہ جنکی دولت نے یہ میموریل سپانسر کیا تھا۔ اس کی علاوہ جن چار ستونوں پر میموریل کو کون کھڑی ہے ان چار ستونوں کے ساتھ بھی چار چھوٹے مجسمے بنے ہوئے ہیں جو اس دور میں برطانیہ میں ہونے والی ترقی کو یاد کرتے ہیں ایک مجسمہ انجینرنگ کا ہے تو دوسرا تجارت کا، تیسرا زراعت کا تو چوتھا صنعت کی یادگارہے۔
ہندوستان والا کونا میوریل کا کچھ دیر طواف کرنے کے بعد کینزنگٹن گارڈن کے جاگنگ ٹریک پر چہل قدمی کرتے ہوئے باہر آگئے اور قریبی ٹیوب اسٹیشن ڈھونڈھنے لگے کہ اب مزید پیدل چلنے کی ہمت ختم ہوتی جا رہی تھی۔ چلتے چلتے ہائی اسٹریت کینزنگٹن پہنچے یہ علاقہ دیکھا بھالا سا تھا کہ یہاں ایک بار تحریک انصاف کے اسٹوڈنٹ ونگ کے زیر اہتمام عشائیہ میں مفتا توڑنے کا اتفاق ہوا تھا اس کے علاوہ بھی اس ہائی اسٹریٹ میں ایک بار خجل ہوئے تھے کہ جب کینزنگٹن محل دیکھنے کی کھرک ہوئی تھی اس بار معاملہ صرف ہائی اسٹریٹ کینزنگٹن کے انڈر گراؤنڈ اسٹیشن پہنچنے کا تھا۔ اب تک بھوک سے وہ حالت ہو چلی تھی کہ انتڑیوں کو جو کچھ آتا تھا وہ پڑھ کر اب اناللہ پڑھنے لگی تھیں اور جو چوہے دوڑا کرتے ہیں وہ بھی تھک ہار کر مر کھپ چکے تھے۔
چلو چلو کینزنگٹن گارڈن چلواسٹیشن پہنچے تو وہاں موجود ایک ہیلدی جوس شاپ سے ہیلدی ملک شیک لیا۔ اب یہ ہیلدی ملک شیک وہ ہوتا ہے کہ جس میں اضافی چینی شامل نہیں کی جاتی اور آپ کو پھل کی مٹھاس پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ اندر کچھ گیا تو جان میں جان آئی نائیٹس برج اسٹیشن کی ٹرین لی اور ایک بار پھر نائیٹس برج پہنچے۔ آج کے باقاعدہ پروگرام کی آخری منزل ہیرڈز تھا۔ ہیرڈز کی موجودہ ملکیت تو قطر کے شاہی خاندان کے پاس ہے لیکن اس سے پہلے اس کے مالک کا تعلق مصر سے تھا اور وہ انکل ڈوڈی الفراڈی کے ابا جی تھے جی وہی الٖفرڈی جو شہزادی ڈیانا کے ساتھ کار حادثہ میں مارے گئے۔ اب قطر کے شاہی خاندان کو کیوں بیچا گیا یہ تو پتا نہیں یکن یہ ضرور سن رکھا ہے کہ ان صاحب نے خود کبھی برطانیہ کی شہریت اختیار نہ کی۔ ویسے عجیب آدمی تھا ایک عرصے کے بعد تو شہریت لینا آپ کی مجبوری بن جاتی ہے میری بات پر یقین نہیں تو پوچھ لیں کسی ایم کیو ایم والے سے۔

لارڈ رابرٹ نيپيئر
ہیرڈز کا بیرونی منظرہیرڈز آنے کی واحد وجہ بس ایک مہر ہی لگانی تھی کہ ہاں بھائی لندن گیا تھا تو ہیرٹز بھی دیکھا۔ باقی اندر جا کر زیادہ تر طبیعت و کیفیت وہی رہی جو سیلفرجز میں تھی۔ اس کثیر منزلہ عمارت میں ایک منزل سے دوسری تک جانے کے لئے دو قسم کی خودکار سیڑھیاں موجود ہیں ایک سادہ اور ایک مصری طرز کی سیڑھیاں تو سادہ ہی تھیں لیکن ان کے ارد گرد کا ماحول ایسے ہی تھا کہ جیسے کسی فرعون کے دربار یا کسی مصری احرام کے اندر کا ہو۔ کتابوں کے سیکشن میں ایک عدد بک مارک پسند آ گیا اور اس کی قیمت بھی ایسی تھی کہ مصنف افورڈ کر سکتا تھا لہذا ہو خریدا جب رقم ادا کر دی تو کاؤنٹر پر کھڑے کیشیر نے بڑے ادب سے پوچھا کے کسی سیکشن کی جانب جانے کا راستہ سمجھنا چاہیں گے تب تو سر نفی میں ہلا دیا لیکن بعد میں راستہ بھول بیٹھے اور کافی دیر گمی ہوئی بھینس بنے گھومتے رہے۔ ارادہ تو تھا فوڈ سیکشن ڈھونڈھنے کا کہ جہاں کا بیف اپنے شہباز شریف صاحب کو بہت پسند ہے۔ خیر وہ تو نہ ملا قصائی کی دوکان مل گئی اور وہ بھی اچھا تجربہ تھا گاڑھے رنگوں کی ٹائلیں لگی دیواریں اور دائروی انداز میں لگے سبزی، پھل، گوشت، اور دیگر باورچی خانے کے سامان کے ٹھیلے کسی مخصوص یورپی اوپن مارکیٹ کا منظر پیش کر رہے تھے۔ 
ہیرڈز کی اس روز واحد سجی ہوئی کھڑکیباہر نکلنے کی راہ لی تو ایک مدھر سی آواز نے مصنف کو اپنی جانب متوجہ کیا ایک خاصی قبول صورت لڑکی نے ہم سے یہ جاننا چاہا کہ کیا ہم چاکلیٹ ٹرائی کرنا پسند کریں گے۔ اب ایک خوبصورت لڑکی ہمیں زہر بھی آفر کرے تو ہم انکار نہ کریں یہ تو پھر چاکلیٹ تھی مصنف کی صدا کی کمزوری۔ ہیرڈز کی چاکلیٹ بھی ایک ایسی چیز ہے جو آپ افورڈ کر سکتے ہو اور جو ہمیں ٹرائی کرائی گئی وہ تو باقعدہ ایک سوغات تھی۔ کافی کے بھنے ہوئے دانے پر چاکلیٹ کی کوٹنگ اور اس پر کیپاچینو فلیور کی چاکلیٹ ائیسنگ کی تہہ۔ چیز چونکہ اچھی تھی لہذا ایک ڈبہ خرید لیا لیکن بھلا ہو پی آئی اے کی فلائٹ کا گھر آ کر جب ڈبہ کھولا تو  کافی بین اوپر جب کہ چاکلیٹ ساری پیندے میں جا لگی تھی۔
ان گلیوں میں سے ایک جہاں جیک رپر اپنے فن کا مظاہرہ کیا کرتا تھا
واپس نائٹس برج اسٹیشن سے آلڈ گیٹ ایسٹ اسٹیشن کی ٹرین لی۔ آلڈ گیٹ اصل میں اولڈ گیٹ ہے لیکن قدمی انگریزی میں اولڈ اے سے لکھا جا تا تھا نہ کہ او سے اور پڑھا بھی آلد ہی جاتا تھا۔ یہ آلڈ گیٹ کے اسٹیشن سے چلتے ہوئے آپ وائٹ چیپل کے اسٹیشن کی جانب چلو تو آپ کو دنیا بدلتی ہوئی محسوس ہو گی آلڈ گیٹ کا علاقہ تو انگلستان لیکن جوں جوں آپ وائٹ چیپل میں چلتے جائیں آپ کو اپنا آپ بنگلا دیش کے کسی بازار میں محسوس ہو گا۔ یہ علاقہ وہ جگہ ہے کہ جہاں بنگلادیش کے بعد سب سے زیادہ بنگالی پائے جاتے ہیں جن میں سے اکثر تو نصف صدی سے یہاں آباد ہیں۔ برطانوی تاریخ کے سب سے قابل نفرت کردار جیک دا رپر بھی اپنی قتل و غارت و کاٹ پیٹ اسی علاقے میں کرتا تھا۔ اب بھی شام کو ایک گائڈ ٹور ہوتا ہے نو بجے کہ جس میں وہ تمام گلی کوچے اور علاقے دکھائے جاتے ہیں کہ جہاں جیک دا رپر نے خواتین کو قتل کیا۔ وہ گودام تو مل گیا تھا پولیس کو کہ جہاں جیک کٹے ہوئے اعضاء رکھا کرتا تھا لیکن جیک بذات خود کبھی قابو نہ آیا اور آج سوا سو سال بعد بھی ایک معمہ ہی ہے۔
یورپ کی سب سے بڑی مسجدیورپ کی سب سے بڑی فعال مسجد (فعال اس لئے کہ رقبے کے اعتبار سے اب بھی یورپ کی سب سے بڑی مسجد قرطبہ مسجد ہی ہے) وائٹ چیپل روڈ پر واقع ہے اور ایسٹ لنڈن ماسک کہلاتی ہے۔ میری منزل تھی مسجد کے عقب میں واقع طیب ریسوران جو کہ پاکستانی کھانوں کی وجہ سے کافی مشہور ہے اور اس علاقے میں واحد اتنا "آتھنٹک انڈین" ریستوران ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کھچا کھچ سے بھی زیادہ بھرا رہتا ہے۔ یہاں ہمارے ایک دوست جبران رفیق المعروف پردیسی بھائی نے ہماری دعوت کر رکھی تھی۔ چونکہ ڈنر ٹائم چل رہا تھا لہذا بکنگ ہونے کے باوجود ہمیں کافی دیر دروازے پر ہی انتظار کرنا پڑا اور وہیں پر پردیسی بھائی سے ملاقات ہوئی جو کہ وہاں بمعہ اہل و ایال موجود تھے یہ اہل و ایال کوئی زیادہ لمبا چوڑا نہیں بس اہلیہ تک ہی محیط ہے۔

 کافی دیر انتظار کے بعد جب میز کرسی میسر آیا تو انتظار کا ایک اور دور شروع ہوا لگ یہ رہا تھا کہ رش زیادہ ہے اور باورچی کم اسی لئے گھنٹوں کھانے کا انتظار کرنا پڑا۔ کھانے کی میز ہر سب سے اہم موضوع تھا مصنف کی پاکستان واپسی، اس کے ممکنہ نتائج، اور کسی طرح سے واپسی کو روک کر برطانیہ میں ہی کہانی لمبی کرنے کا کوئی طریقہ نکالنا۔ اب ادب میں چپ کر کے سنتا رہا ورنہ پرندہ تو اڑنے کا ارادہ مہینوں پہلے ہی کر چکا تھا بس صحیح وقت ک منتظر تھا اور جب پرندہ اڑنے کا فیصلہ کر لے تو اسے روکا نہیں جا سکتا پھر چاہے وہ پرندہ مصنف ہی کیوں نہ ہو اور اسے اس بات سے ہی کیوں نہ ڈرایا جائے کہ "بھائی واپس جاؤ گے تو گھر والے پکڑ کر شادی کر دیں گے تمھاری"۔
وائٹ چیپل مارکیٹکھانے سے فارغ ہونے اور دوبارہ کبھی طیب نہ آنے کی متفقہ قرارداد منظور کرنے کے بعد ہم باہر نکلے اور وائٹ چیپل اسٹیشن پہنچے۔ اب تک یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ ہم سیون کنگز سے اپنا سامان لے کر پردیسی بھائی کے گھر پہنچیں اور ان کو مزید شرف میزبانی بخشیں۔ ویسے بھی گزشتہ رات جو پلنگ پر ملے ڈیڑھ فٹ میں گزاری تھی کافی تھکانے کو کافی تھی۔ رات کی آخری ٹرینوں سے اپنا سامان اٹھا پردیسی بھائی کے علاقے میں پہنچے۔ رات کی چائے پر گپوں کا ایک اور لائٹ لائٹ سا دور چلا اور اس کے بعد سو گئے تھکاوٹ کی وجہ سے نیند بھی ٹھیک ٹھاک آئی۔
نیو بری پارک اسٹیشن کو الوداع کہتے ہوئےلندن گردی کے آخری دن ارادہ تو تھا کہ صبح جلدی جاگ کر ساؤتھ بینک پر واک کی جائے اور لندن کی مشہور اوپن مارکیٹ اور ٹاٹ ماڈرن دیکھیں گے اور پھر وہیں سے وکٹوریہ کوچ اسٹیشن پہنچ جائیں گے لیکن تھکاوٹ اور اکتاہٹ نے مزید ہمت نہ ہونے دی۔ صبح ناشتے کے بعد پردیسی بھائی کے ساتھ ہی گھر سے نکلے ٹیوب اسٹیشن پر ان کو الوداع کہا اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا۔
نام میں کیا رکھا ہے۔۔۔ تایا شیکسپیئر کو سلام
جب بس اڈے پہنچا تو بس کے آنے میں ابھی کافی وقت تھا وہیں ایک بینچ پر بیٹھا لندن کے بارے میں سوچتا رہا۔ کہ کہاں میں اس شہر میں رہنے سے گھبراتا تھا اور کہاں میں اب اس شہر کے عشق میں مبتلا ہو چکا تھا۔ اپنے گھر اور پھر اس کے بعد اپنے ملک واپس جانے کی خوشی تو تھی لیکن ہلکا سا کرب بھی تھا لندن چھوڑنے کا۔ لندن جہاں سٹریس دیتا ہے اور توانائی نچوڑ لیتا ہے وہاں یہ آپ کو با ہمت بھی بنا دیتا ہے اور مضبوط بھی۔ زندگی میں اتنی تیزی لے آتا ہے کہ تیزی کا ڈر اتر جاتا ہے۔ چھوٹے موٹے مسائل کو انسان مسئلہ سمجھنا چھوڑ دیتا ہے اور ٹھنڈے دماغ سے ان کا حل نکال لیتا ہے۔ وہیں بس کے اڈے پر ایک فیصلہ کیا کہ پاکستان جانے کے لئے ہیتھرو ہوائی اڈے جانے کے لئے لندن آنا میرا لندن کا آخری دورہ نہیں ہوگا میں جب بھی موقع ملا لندن ضرور آؤں گا اور یہ جاننے کی کوشش کروں گا کہ لندن بارے یہ بات کس حد تک درست ہے کہ لندن ہمیشہ ہی ایک نئی جگہ ہوتا ہے۔۔۔London is always a changed place…


لگا تو تھا کہ فیصل آباد اور لاہور کے بعد شاید اب کسی اور شہر سے عشق و محبت نہ ہو گی لیکن لندن سے ہو گئی اور اس بینچ پر بیٹھے وقت کی طرح اب اس سب کو کی بورڈ بند کرتے ہوئے بھی دماغ میں احمد رشدی کی آواز گونج رہی ہے کہ سوچا تھا پیار نہ کریں گے۔۔۔۔

(ویسے تو اسی کو الوداع لندن کی آخری قسط ہونا چاہیے لیکن مصنف اپنی صوابدید استعمال کرتے ہوئے ایک اور قسط لکھے گا۔ اگلی اور آخری قسط میں ہیتھرو پہنچنے اور لندن و برطانیہ کو باقائدہ الوداع کہنے کا احوال لکھا جائے گا پڑھ کر ثواب دارین حاصل کریں شکریہ)۔

الوداع لندن حصہ سوئم

نیلسن کی بحری جہاز والی بوتل

حصہ اول۔۔۔۔ حصہ دوم۔۔۔۔

ڈی ایل آر کے ذریعے بنک کے اسٹیشن پہنچے، مجھے ایک عرصہ تک لگتا تھا کہ ٹیمز کے کنارے ہو گا یہ اسٹیشن شائد اس لئے بنک کہلاتا ہے کہ ہمشہ یہاں زیر زمین ہی آنا ہوا وہ تو بھلا ہو ہماری راستہ بھولنے کی عادت کا کہ ایک بار لیورپول اسٹریٹ کا اسٹیشن ڈھونڈھتے ہوئے بنک آف انگلینڈ پہنچ گئے اور ساتھ میں ہی بنک کا اسٹیشن دیکھ سمجھ آئی کہ یہ دریا والا نہیں ٹھبنٹو والا بنک ہے۔ بنک ڈی ایل آر سروس کا آخری اسٹیشن ہے یہاں سے وسطی لندن میں جانے کے لئے سینٹرل لائن پکڑی اور ہالبرن کے اسٹیشن پہنچے۔ ہالبرن سے ہماری منزل تھی برٹش میوزیم جس تک ہم نے پیدل سفر کیا اور راستے میں تن نئے عجوبے دیکھ کر سوچا کہ یقینا عجائب گھر سے بھاگے ہوئے قیدی ہیں۔


لندن کی المشہور لال بس کا نیا ماڈل

برٹش میوزیم پہنچ کر لگا کہ ساری دنیا ہی یہاں امڈ آئی ہے۔ مڈ ویک میں جانے اور رش کے کم ہونے کی امیدیں دروازے پر ہی دم توڑ گئیں جب درجنوں اسکولوں کے دورے وہاں پہنچتے ہوئے دیکھے ان میں سے ایک دورہ ہمسائہ ملک کے بھی ایک سکول سے تھا۔ پہلے سیکشن میں گھستے ہی گویا آنے کا مقصد پورا ہو گیا جب بی بی وینس کے مجسمے پر نظر پڑی (سنسر کے زیر اثر یہاں تصویر شامل نہیں کی جا رہی) وینس کا مجسمہ واقعی ایک زبردست چیز ہے اور اس زبردستی میں اس کی اصل "وجہ شہرت" کا عمل دخل کم ہی ہے کیوں کہ چہرے کے تاثرات زیادہ قابل دید ہیں (اس جملے کو مصنف کی صفائی نہ سمجھا جائے آئی مین اِٹ)۔


برٹش میوزیم کا صدر دروازہ
برٹش میوزیم کا اندرونی منظر
بی بی پیرس، اگر آپ نے ٹروئے فلم دیکھی ہے تو یہی وہ خاتون ہیںمصر اور یونان کے مجسموں کے بعد افریقہ اور شمالی امریکہ کے سیکشن میں پہنچے افریقہ کا سیکشن افریقہ جیسا رنگا رنگ تھا وہاں اصلحے سے بنے فن پارے کافی دلچسپ ہیں جب کہ شمالی امریکہ میں زمانہ بت پرستی کے بت دیکھ عجیب سا لگا کہ انسان کی عقل کیسے مان سکتی ہے کہ یہ بھدا سا پتھر کا ٹکڑا خدا یا اس کا عکس ہے۔
شمالی امریکی خدا
افریقی آرٹ وہیں ایک جگہ رش لگا دیکھا تو ادھر چل دیئے تو معلوم ہوا کہ یہ روسیٹا اسٹون ہے۔  یہ ایک قدیم مصری نوادرات میں سے ہے جو کی 1802 سے برٹش میوزیم میں ہے یہ 196 قبل مسیح میں مصر کے شہر ممفس میں بادشاہ پٹولمی پنجم میں جاری کیا تھا اس کے تین حصے ہیں پہلا حصہ قدیم مصری میں لکھا ہے، دوسرا حصہ ڈیموٹک طرز کی مصری میں اور آخری حصہ یونانی میں لکھا ہے اب مصنف ان تمام زبانوں سے نا بلد ہے لہذا ہمیں ککھ سمجھ نہیں آئی کہ اس پتھ پر کیا کچ مچولا لکھا ہوا ہے۔
روسیٹا کا پتھر
اشوریہ تہذب کے سیکشن میں پڑا ایگل پراٹیکٹو اسپرٹ کا مجسمہ



اگلے حصوں میں بیبالونیئن اور اشوریہ نوادرات موجود تھے وہاں ایک مجسمہ دیکھ مصنف کا ساڑھے آٹھ سونواں کرش ہوتے ہوتے رہ گیا۔ یہ عجائب گھر چونکہ کئی منزلہ ہے اور ہر منزل ایک علیحدہ تحریر کی متقاضی ہے لہذا سمری کی طرف آتے ہیں۔ بتوں اور نوادرات کے بعد جو سیکشن سب سے زیادہ دلچسپ لگا وہ تھا روپے و پیسے کا وہاں اپنا روپیہ ڈھونڈھنے میں دقت ہوئی کہ بیچارہ ہو ہی اتنا چھوٹا گیا ہے کہ کہاں ملتا اس رش میں۔ گھڑیوں کا سیکشن بھی لا جواب تھا اور بعض گھڑیاں دیکھ تو انسانی عقل کو کھڑے ہو کر شاباش دینے کو جی چاہا۔ برٹش میوزیم آنے کی سب سے بڑی وجہ تھی یہاں موجود مصری ممیاں دیکھنا۔ لیکن ان کو دیکھ کر سارا شوق چلا گیا اور ایک ہیبت سی طاری ہو گئی۔ ان اپنے وقت کے پھنے خانوں کو یہ حال ہو گیا میں تو پھر بالکل ہی مویا مکا انسان ہوں۔


جن کو تھا زباں پہ ناز چپ ہیں وہ زباں دراز

شیر کے شکار کا منظر
عجیب بات ہے 1988 میں یہ بچہ مجاہد تھا آج دہشتگرد ہے


سیانتی ہنونیا ٹیسناسا


جاپانی اور چینی سیکشن میں میرے حساب سے تو برائے نام ہی اشیا تھیں اور جدید پینٹنگز پر زیادہ زور تھا۔ انڈیا کا سیکشن بھرا پڑا تھا اور کیوں نہ ہوتا جو ہاتھ لگا گورا صاحب خالہ کا مال سمجھ تو لے گئے تھے ساتھ۔ آخر میں اسلامی سیکشن پہنچا جہاں کے گائیڈڈ ٹور میں شامل ہونا تھا ٹور کی وجہ سے ہمارے فون بند کروا دئے گئے لہذا اس سیکشن کی کوئی بھی تصویر مصنف نہ کھینچ سکا۔ ٹور بہت دلچسپ تھا اور گائیڈ کا شوق اس کی باتوں سے ظاہر ہو رہا تھا نام سے عیسائی معلوم ہوتے گائیڈ نے کیا با کمال عربی پڑھی اور اسکا ترجمہ انگریزی میں بتایا اس کے علاوہ اسلامی خطاطی کی تاریخ اور خطاطی پر ہی اتنا زور کیوں ایسے سمجھایا کہ غیر مسلموں کو بھی سمجھ آ گیا۔ اچھا تجربہ تھا یہ جہاں کچھ فن پارے سختی سے تصویر کشی سے پاک تھے وہیں چند میں نہ صرف تصویر کشی تھی بلکہ بغداد سے ملے واٹر کولر کے سٹینڈ میں تو باقاعدہ سنگ مرمر سے مجسمے بنے تھے۔ گائیڈ نے بتایا کہ شیعہ اسلام میں آپ کو اس قسم کی چیزیں مل جائیں گی لیکن اس میں بھی جو اشیا دینی استعمال کی ہیں ان میں تصویر نہیں ہوگی اب واٹر کولر چونکہ سیکولر چیز ہے لہذا اس کی خیر ہے دوسرا یہ جتنا قیمتی وزنی اور مہنگا ہے یہ بس امرا ہی افورڈ کر سکتے ہیں۔ اس سیکشن میں تام چینی کے برتن یا سرامکس پر بڑا زور تھا دلچسپ چیز تھی کہ کیسے چینیوں کی نقل میں ترکی میں انتہائی بھدے رنگوں اور نقوش کے ساتھ سرامکس بناتے بناتے اس فن میں ایسے مہارت حاصل کی کہ یورپ بھر کو بیچنے والے بن گئے۔ اس کے علاوہ اس سیکشن میں یہ بھی پتا چلا کہ کیسے عربی نے انگریزی فونٹس پر اپنا اثر چھوڑا اور کیسے بعض فونٹ لاطینی اور انگریزی کو عربوں کی طرح  گول گول لکھنے کے چکر میں وجود میں آئے۔

برٹش میوزیم کا عقبی دروازہ


ترقی پسندوں کی کتابوں کی دکان

عجائب گھر سے باہر آنے کے بعد ہماری اگلی منزل تھی کووینٹ گارڈن کی مارکیٹ اس تک بھی ہم نے پیدل مارچ کیا اور مڈ ویک میں لوکل مارکیٹ میں اتنا رش دیکھ حیران ہوئے۔ وہیں پر دنیا کا سب سے بڑا ایپل اسٹور بھی واقع ہے اسے دیکھنے چل دئے اب مصنف ایپل فین بوئے تو ہے نہیں لہذا وہاں جا کر خاصہ بور ہوا اور اتنی بڑی دکان میں چاروں جانب ایپل کی مصنوعات دیکھ کہ جن سے اپنا کوئی لینا دینا نہیں عجیب سا لگنے لگا اور ہم باہر یہ کہتے ہوئے آ گئے کہ اس سے زیادہ تو ریجنٹ اسٹریٹ والا ایپل اسٹور مزے کا تھا۔


معلق


دنیا کا سب سے بڑا ایپل اسٹور
ہم نے ناشتہ نہ کیا ہوا تھا تو ہلکی سی بھوک لگنے لگی اب ہیں تو ہم یل بللڑ سے ہی لہذا آئیس کریم کھا لی کہ چلو آگے جا کر کچھ اچھا کھا لیں گے۔ وہاں جو قریبی زیر زمین ٹرین اسٹیشن تھا وہ بند تھا لہذا دوسرا ڈھونڈھنے کے چکر میں مصنف سوہو کے علاقے میں پہنچ گیا یہ بھی لندن کا ایک مشہور اور رنگین علاقہ ہے ویسے ایسے علاقوں میں شام میں بھی گھومے جانے میں کوئی ہرج نہیں لیکن مصنف کا شرمیلا پن آڑے آ گیا اور سوہو کا نام ہی دیکھ ہم بھری دوپہر تیز تیز قدم اٹھا غالبا رسل اسکوئیر کے اسٹیشن پہنچے وہاں سے ٹرین لی اور نائٹس برج پہنچے۔ نائیٹس برج کے اسٹیشن کے پاس ہی دیگر بہت سے ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کا بھی ہائی کمیشن موجود ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارا مین روڈ پر نہیں ہے کہ ہمیں شرم آتی ہے پیچھے لے جا کر ایسے بنایا ہے کہ جی پی ایس بھی چکرا جائے اور شرفا کو راستہ بھلا دے۔ خیر ہماری منزل ہمارا ہائی کمیشن نہ تھا ویسے بھی مومن کو ایک بار کا تجربہ کافی ہونا چاہئے۔


مصنف لنچ فرماتے ہوئے

سوہو کا کوئی کونا
سڑک کے ساتھ ساتھ چل دیئے تو راستے میں ایک دکان ملی جسکا دعوی تھا کہ یہ نایاب کتب کی دکان ہے وہاں چند منٹ گزارنے کے بعد اندازہ ہو گیا کہ وہ دعوی مارکیٹنگ گمک نہیں تھا واقعی وہاں موجود کتب نقشے اور پرنٹس نایاب تھے۔ چلتے چلتے بائیں ہاتھ ویکٹوریہ اینڈ ایلبرٹ میوزیم آ گیا۔



ویکٹوریہ اینڈ ایلبرٹ میوزیم
ارادہ تو تھا اندر جانے کا لیکن کچھ بھوک لگ رہی تھی کچھ صبح سے اتنے آثار قدیمہ دیکھ لیے تھے کہ اپنا آپ آثار قدیمہ لگنے لگا۔ لہذا عمارت کو ہمیشہ کی طرح باہر سے دیکھا اس کی تصویر کھینچی اور آگے چل دئے۔ وکٹوریہ ایلبرٹ عجائب گھر کے بالکل سامنے کرامویل گارڈن تھا۔ کرامویل وہی شخصیت ہے کہ جسکو بادشاہ کا تختہ الٹنے اور سول ڈیکٹیٹرشپ نافذ کرنے کی پاداش میں قبر سے نکال کر پھانسی دی گئی اس کے بعد کسی کو ہمت نہ ہوئی اس ملک میں ایوب، یحیی، ضیا و مشرف بننے کی۔



کیمونزیم کے ہاتھوں مرنے والوں کی یادگار

 کرامویل کی شخصیت بھی عجیب ہے جو اس کی عزت کرتے ہیں وہ شدید عزت کرتے ہیں اور جو اس سے نفرت کرتے ہیں وہ شدید نفرت یہی وجہ ہے کہ کیمبرج میں موصوف کی قبر کہاں ہے صرف 4 لوگوں کو معلوم ہے۔ وہ اس لئے کہ اگر جگہ معلوم ہو جائے تو ان دو شدتوں کے تصادم کا خطرہ ہے۔ ایک اور دلچسپ بات لندن اور کرامویل کے حوالے سے یہ ہے کہ ہاؤس آف لارڈز میں جہاں اس کا مجسمہ موجود ہے سڑک کے پار واقع چرچ کی دیوار میں عین کرامویل کے مجسمے کے سامنے اس شاہی خاندان کے رکن کا چہرہ کندہ ہے کہ جس سے متھا لگا ہوا تھا۔ خیر اس گارڈن میں گئے ہم بھی یہی سمجھ کر تھے کہ کرامویل کی کوئی یادگار ہو گی لیکن وہ یادگار ان خواتین و حضرات اور پارلیمنٹ کے میمبران کی تھی جو روس اور دیگر مشرقی یورپ کے ممالک میں  کیمونزم کی ظالم لہر کے ہاتھوں مارے گئے۔جاری ہے۔۔۔

الوداع لندن حصہ دوم

(پہلا حصہ)ارادہ تو تھا کہ صبح جاگتے ہی باقی لندن فتح کرنے نکل کھڑے ہوں گے لیکن بیڑا غرق ہو اس سوشل میڈیا کی علت کا نقشہ دیکھنے کے لئے لیپ ٹاپ کھولا اور گھنٹوں سوشل میڈیا پر غارت کر دیئے. جب اس صبح 8 بجے کی سحر خیزی کی وجہ یاد آئی تو ایسا ہڑبڑا کر اٹھا کہ ناشتا کرنا بھی یاد نہیں رہا نقشہ اور نوٹس جیب میں رکھے اور نیوبری پارک اسٹیشن کی راہ لی وہاں سے سینٹرل لائن پر سٹریٹفرڈ اسٹیشن پہنچے۔

یہ سٹریٹفرڈ وہی علاقہ ہے جہاں 2012 کے لندن اولمپکس کے مقابلے منعقد ہوئے اولمپک اسٹیڈیم اسٹیشن کے بالکل ساتھ ہی ہے۔ اس کے علاوہ ہم عامیوں میں یہاں کی خاص بات ہے سٹریٹفرڈ لائبریری جو کہ بقول ہمارے سابق روم میٹ "جمال دہلوی" (اصل نام راز رکھا جا رہا ہے) کے اس لائبریری میں پڑھ کر آج تک کوئی پاس نہیں ہو سکا۔ خیر اس بات کی تصدیق میں نہیں کر سکتا کیوں کہ میں نیوپورٹ سینٹرل لائبریری میں بیٹھ کر پڑھنے والا غریب آدمی کیا جانوں لندن کی لائبریریوں کی تاثیریں۔ خیر یہ اسٹیشن بھی کسی خاص جگہ سے کم نہیں اتنا بڑا ہے کہ اپنے اسلام آباد کے ہوائی اڈے کو شرما دے مصنف بذات خود دو ایک بار اس میں گم ہو چکا ہے اور عقل مت کھو چکا ہے کہ جانا کدر نو سی۔
ٹیولپ اسٹیرز، کوئین ہاؤس، گرین ایچ۔ لندن۔
اسٹریٹفرڈ سے جوبلی لائن پکڑی اور نارتھ گرین ایچ اسٹیشن پہنچے۔ اگر آپ کو ڈبلیو ڈبلیو ای کی ریسلنگ دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے تو جب لندن میں ڈبلیو ڈبلیو ای جس او ٹو ارینا میں ہوتی ہے وہ اسی اسٹیشن کے ساتھ واقع ہے۔ خیر او ٹو کی رونق شام میں ہوتی ہے لہذا ہم نے بس کے اڈے کی راہ لی اور ایک عدد بس مس کر دی اپنے سیانے پن میں کہ اس کا نمبر وہ نہیں جو نیٹ پر دیکھا تھا۔ خیر دس منٹ بعد اگلی بس آ گئی اور اس میں سوار ہو گئے۔ یہ بھی لندن کے کمالات میں سے ایک ہے کہ یہاں تقریبا دس منٹ بعد دن کے وقت بس مل جایا کرتی ہے جب کہ اپنے نیوپورٹ میں گھنٹے میں ایک بار ہی بس آتی ہے، چھوٹے شہروں میں زندگی پر سکون تو ہوتی ہے لیکن اس قسم کے چند مسائل ضرور رہتے ہیں کہ جیسے ٹرانسپورٹ وغیرہ۔
 ہماری منزل گرین ایچ کا علاقہ تھا ہمارا مرحوم دفتر بھی اسی علاقے کے مضافات میں واقع تھا۔ گرین ایچ دریا کے چینل کے کنارے واقع ہے اور تاریخی اعتبار سے بحریہ کے لئے کافی خدمات دے چکا ہے ان خدمات کا اعتراف یہاں آج بھی موجود نیوی کا وار کالج، اور یہاں موجود نیشنل میری ٹائم عجائب گھر کرتے ہیں۔
رائل گرین ایچ نیول کالج، لندن
گرین ایچ کے علاقے میں مصنف کتے کھسی کرتے ہوئےیہ تمام عمارات ساتھ ساتھ ہیں تو زیادہ خجل نہ ہونا پڑا اور کوئین ہاؤس کے سامنے ہم بس سے اتر آئے۔ کوئین ہاؤس میں گھسنے سے پہلے ہم نے نیوی کے کالج اور ہسپتال کی عمارت کا جائزہ لیا تو سمجھ میں آیا کہ جو دفتر کی کھڑکی سے دو عدد گمبد نما چیزیں نظر آتی تھیں وہ کیا بلا تھیں۔ اس ونڈو سائٹ سینگ سے فارغ ہو کر مصنف کوئین ہاؤس میں داخل ہوا۔
مصنف کوئین ہاؤس جاتے ہوئے۔ کوئین ہاؤس کے نام سے یہی لگتا ہے کہ ملکہ یہاں رہتی ہو گی لیکن اس قسم کے کوئی بھی اثرات نہ ملے ہاں البتہ کوئین کا بیڈ چیمبر ضرور تھا اور اس کی چھت پر پینٹنگ وہی والی تھی کہ جن کے بارے میں مصنف کہتا ہے کہ اگر یہ پاکستان میں ہوں اور ان میں جان ڈل جائے تو یہ سب حدود کے کیس میں دھر لئے جائیں گے۔ کوین ہاؤس ایک عجائب گھر ہے جہاں شاہی خاندان کے چند تاریخی افراد کے پینٹ شدہ پورٹریٹ پڑے ہیں انہی پورٹریٹس میں سے ایک کو دیکھ کر مصنف کو 848واں کرش ہو گیا وہ پورٹریٹ تھا لیڈی ہیملٹن کا۔

مصنف کا کرش نمبر 848
 اس کے علاوہ وہاں کا بگ روم خاصہ کھلا روشن لیکن اتنا ہی ڈپریسو معلوم ہوا ہاں البتہ بحریہ کے حوالے سے وہاں چند شاندار پینٹنگز موجود تھیں۔ مصنف کو فن مصوری کا زیادہ تو نہیں پتا بس ہمیں دو ہی طرح کی پینٹنگز اچھی لگتی ہیں ایک وہ کہ جس میں بارش ہو رہی ہو یا پھر وہ کہ جس میں پرانے وقتوں کا بحری جہاز ہو۔ یہاں مصنف کے مطلب کے کافی فن پارے موجود تھے۔ لیکن پورے کوئین ہاؤس میں سب سے خوبصورت شے وہاں کی ٹیولپ اسٹیئرز ہی لگیں یا پھر کنگز پریزنس چیمبر۔
کنگز پریزنس چیمبر

کوئین ۔۔۔۔ اللہ جانے کون سے والی
باہر نکلنے کے بعد کوئین ہاؤس کے ساتھ ہی واقع نیشنل میری ٹائم عجایب گھر پہنچے۔ کوئین ہاؤس اندر سے جتنا بے رونق اور ڈیپریسو لگا یہ عجائب گھر اتنا ہے جاندار تھا وجہ وہی تھی کہ اس میں چہل پہل تھی جس نے اس میں جان ڈال دی ورنہ عمارتیں تو سب اینٹ پتھر کی ہی ہوا کرتی ہیں۔ عجائب گھر میں بحریہ کے حوالے سے کئی شاندار نوادرات پڑے ہوئے ہیں اس کے علاوہ تاریخ اور بحریہ کے حوالے سے بہت ساری معلومات اس عجائب گھر سے مل جاتی ہیں۔ وہاں جا کر خاص کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے سیکشن میں جا کر اپنے میٹرک کے زمانے میں سکول کے "بیٹل آن دی بورڈ" مقابلے کے پہلے دن کی ہدایات یاد آ گئیں کہ جب اس کھیل کے منظم ہارون گیلانی صاحب نے کہا کہ "آج بھی دنیا پر وہی حکومت کرتا ہے جس کا سمندر پر کنٹرول مضبوط ہو"۔ اس بات کی صداقت کا اندازہ تب ہی ہو گیا تھا جب پاکستان اور انگلستان کے درمیان موجود سمندری راستے کی لمبائی چوڑائی ایک عدد گلوب میں دیکھی اور اپنے بڑوں کی نا اہلی پر رونا آیا کہ اتنی دور سے آنے والے کے ہاتھوں مات کھا بیٹھے۔ بات پھر سمندر پر گرفت کی ہے تب گورا صاحب کی تھی خیر اب بھی گورا صاحب کی ہی ہے۔
گورا صاحب نے کہاں سے کیا لوٹالو جی مصنف یہی سمجھتا تھا کہ برسٹل صرف اس شہر کا نام ہے جہاں اس کی یونیورسٹی ہے یہ تو اب پتا چلا کہ پیرس اور وینس کی طرح یہ بھی کسی بی بی کا نام ہے۔رائل براج
ایسٹ انڈیا کمپنی کے سیکشن میں جہاں کمپنی کی کامیابیوں اور کارناموں کی داستان رقم تھی وہاں حیرت انگیز اتفاق ایک جانی پہچانی شخصیت سے ملاقات کی صورت میں ہوا۔ وہ شخصیت تھی ٹیپو سلطان کی جو وہاں ایک مجسمے کی شکل میں اپنی کہانی کے ساتھ موجود ہے۔ انسان کو ویسے ہونا ایسا ہی چاہیے کہ دشمن بھی اس کی تعریف کریں یہاں ایک اور پرانی ٹیچر کی بات یاد آ گئی کہ "گھر والے تو آپ کی تعریف کرتے ہی ہیں کامیابی یہ ہے کہ باہر والے بھی آپ کی شرافت و لیاقت کی گواہی دیں۔" اب مصنف پر پہلی بات ہی صادق نہیں آتی کیا کسی باہر والے کو گواہ بنا مزید ذلیل ہونا۔
دی بگ میپ

رائل میری ٹائم میوزیم میں ٹیپو سلطان
اپنا چاچا ایڈمرل سر ویلیئم سڈنی سمتھ اور ہمنواء
اسی عجائب گھر میں ایک عدد لائبریری بھی واقع ہے۔ سائیرڈ لائبریری میں ایک لاکھ چھپی ہوئی کتب، 12 ہزار نایاب کتب، 80 ہزار نقشے و چارٹس، کے علاوہ 12 ہزار سے زائد لائنر میٹر کا سامان موجود تھا۔
ویلیم پنجم - یہ مجسمہ پہلے کنگ ویلیم اسٹریٹ سٹی آف لندن میں تھا 1936 میں گرین ایچ منتقل کیا گیا ادھر چاچے کو تنگ گلی میں گرمی لگتی تھی
عجائب گھر سے باہر نکلیں تو ساتھ ہی گرین ایچ پارک موجود ہے دن کے اس وقت پارک میں انسان کم اور کتے زیادہ پائے جاتے ہیں لہذا ہم نے پارک جانے سے گریز کی۔ ویسے یہ بھی عجیب لوگ ہیں اپنی اولاد سے زیادہ اپنے کتوں کی قدر کرتے ہیں جتنی خدمت اس بے زبان کی کرتے ہیں اتنی اپنے والدین کی کریں تو شائد اگلا جہاں کچھ آسان ہو جائے۔
گرین ایچ پارک کا صدر دروازہ
کٹی سارکمصنف کا تقریبا کرش نمبر 849یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات کا دلچسپ اشتہاریہاں سے اگلی منزل تھی کٹی سارک کا ڈی ایل آر اسٹیشن، ڈی ایل آر یعنی ڈاک لائین لائیٹ ریلوے، یہ لندن کی ٹرانسپورٹ میں ایک نیا اضافہ ہے جو کہ قدرے سست رفتار ہے ہئ لیکن گھاٹ کے ساتھ ساتھ اور زمین کے اوپر چلنے کی وجہ سے آپ کو بور نہیں کرتی کہ آپ کھڑکی سے باہر دیکھ کر وقت ماری کر سکتے ہو۔ مجھے اس اسٹیشن کی وجہ تسمیہ کا کچھ علم نہیں تھا اور اس کا اندازہ راستے میں ہوا جب مصنف کا سامنا کٹی سارک نامی بحری جہاز سے ہوا۔ یہ مصنف کی زندگی کا پہلا واقع تھا کہ جس میں اس نے بحری جہاز کو اتنے قریب سے دیکھا۔ مصنف کی حالت وہی تھی جو کسی بچے کو ہیلی کاپٹر ملنے پر ہوتی ہے۔ اسٹیشن کی جانب رواں دواں تھے کے مصنف کو کرش نمبر 849 ہو گیا اور اس بار اس کی وجہ پرنسس لوئیس کی پینٹنگ بنا۔ خیر ڈی ایل آر اسٹیشن پہنچے اور بینک کے اسٹیشن کی راہ لی تحریر طول پکڑ چکی ہے لہذا باقی آئندہ۔۔۔۔
امید کی جاتی ہے کہ مصنف کی اپنی بکواس اگر کم رہی تو اگلے حصے میں برٹش میوزیم، سائینس میوزیم، ہیرڈز، سیلون اسکوئیر، کینزنگٹن گارڈنز اور پردیسی بھائی سے ملاقات کا احوال لکھا جائے گا پڑھ کر ثواب دارین حاصل کریں شکریہ۔ 

الوداع لندن - حصہ اول

لندن کے تھکا دینے والے دن کے بعد شام کا ایک منظر (ریجنٹ پارک، لندن)۔
اب سے چند ماہ پہلے جب میری نوکری چلی گئی تھی تو زندگی اتنی ہی اندھیری معلوم ہوتی تھی کی جتنی کہ ایک کیمرہ پرنٹ والی فلم، اس شہر سے اور وہاں کے لوگوں سے دل ایسا برا ہوا کہ لوٹ کے بدھو لاہور کو آنے سے پہلے صبح کا بھولا نیوپورٹ واپس جا پہنچا کہ اس ملک میں قیام کی اپنی شام یہاں بسر کی جاوے۔ نیوپورٹ نے اس بار بھی کمال شفقت اور مہمان نوازی کی لیکن دل کے منہ کو لندن لگ چکا تھا سو واپس پاکستان جانے سے پہلے ایک بار اسے الوداع کہنا ضروری محسوس ہو رہا تھا۔ ویسے بھی مصنف نے آنے سے پہلے "تیری گلیوں میں نہ رکھیں گے قدم آج کے بعد" قسم کی کوئی حرکت نہیں کی تھی لہذا جون کے آخری ہفتے کی ایک صبح سویرے نیوپورٹ کے بس اڈے پر جا بیٹھے۔

 اس بار ارادہ تھا باقاعدہ آوارہ قسم کا سفر و تفریح کرنے کا لہذا اپنے چھوٹے سے بستے میں اپنی ڈائیری لیپ ٹاپ لندن کی زیروکٹوریہ کوچ اسٹیشن پر مختف زبانوں میں لکھا ہوا "لندن میں خوش آمدید"زمین ٹرین کا نقشہ پانی کی بوتل رکھی اب ہم میر کارواں تو ہیں نہیں کہ ہمیں نگاہ بلند اور سخن دلنواز جیسی چیزوں کی ضرورت پیش آتی ویسے بھی اللہ جانتا ہے ان الفاظ سے مراد کیا ہے یہ آج تک مصنف کے پلے نہ پڑی۔ بس کے آنے میں وقت تھا اور ہم بس اڈے کے اکلوتے بینچ پر بیٹھے فون میں اگلیاں دینے میں مشغول تھے کہ ایک بڑی عمر کی خاتون اپنے سامان کے ساتھ اسی جگہ آن کھڑی ہوئیں۔ ویسے تو ہم بلا کے بد تمیز و نا ہنجار ہیں لیکن نہ جانے کس وجہ سے بینچ سے اٹھک کھڑے ہوئے اور خاتون کو بیٹھنے کے لئے کہا۔ خاتون نے بیٹھتے ہی جو کہا اس کی کم از کم مجھے امید نہیں تھی کہ آج تک ہمارے گھر والوں نے کبھی ہمارے حسن سلوک کی تعریف نہ کی کجا کہ ایک پرائے ملک میں ایک انجان خاتون وہ بھی جنکا یہ اپنا ملک ہے ہمیں یہ کہتی کہ "دیٹس ویری جینٹلمین لائک، وی ڈونٹ ہیو مینی جینٹلمین لیفٹ دیز ڈیز"۔ اگر سمجھ نہیں آئی تو سر نہ کھپائیں اور نہ ہی ہم سے ترجمے کے لئے اسرار کریں کہ بس آ گئی ہے اور ہمیں پوری توجہ سے بس پکڑ لینے دیں۔ بس میں بیٹھنے کے بعد اور چاچے ڈرائیور کی رسمی باتیں اور اعلانات سننے کے بعد ہم نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا تاکہ جو فلمیں راستے کے لئے رکھی ہیں وہ دیکھی جا سکیں۔



نائیک ٹاؤن، آکسفورڈ اسٹریٹ۔ لندنانسان کے حق میں بہتر ہے کہ اس کو اس کے کئے کی سزا دنیا میں ہی مل جائے کہ جو دکھ تکلیف ہونی ہے وہ یہیں ہو جائے تاکہ اگلا جہاں آسان ہو۔ مجھے جو تکلیف ہوئی اس کا درد تو ہے لیکن ایک طرح کی خوشی بھی ہے کہ سزا اسی دنیا میں مل گئی۔ جو فلمیں میں نے راستے میں دیکھیں وہ اتنی بکواس تھیں کہ مجھے یہی لگا کہ میرے چند گناہوں کی سزا میری دیکھنے اور سننے کی حس پر طاری ہے۔ فلموں کا نام میں نہیں بتاؤں گا لیکن ساجد خان اس قسم کی فلم بنانے اور پھر اسے کامیڈی کہہ کر پرموٹ کرنے پر تمہیں "جنتا معاف نہیں کرے گی"۔
صبح قریب ساڑھے دس بجے بس لندن کے وکٹوریہ بس اڈے پر پہنچی بس سے نکلنے کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے کہ یا تو اس سامان سمیت کہ جس میں آدھا ہمارے سابق روم میٹ رحمت اللہ علیہ کا تھا لندن کھجل کیا جائے یا پھر مرحومہ 124 آلڈبرو روڈ چلا جائے کہ جہاں ہمارا ایام لندن میں قیام تھا اور اب بھی شب بسری کا وہیں ارادہ تھا۔ دوسری ترکیب خاصی منہ متھے لگتی معلوم ہوئی اور ہم چل دیئے وکٹوریہ کے ٹرین اسٹیشن کی جانب کے جس کے ساتھ ہی وکٹوریہ کا زیر زمین ریل کا اسٹیشن بھی تھا۔
وکٹوریہ انڈر گراؤنڈ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹائلوں نے بنا ملکہ وکٹوریہ المشہور گرینڈ ما آف یورپ کا عکس
 وکٹوریہ وہی اسٹیشن ہے کہ جہاں پر 'دل والے دلہنیا لے جائیں گے' کے لندن اسٹیشن والے سین فلم بند کئے گئے تھے۔ ویسےبرٹانیہ کو مجسمہ لفظ برطانیہ اسی کی تبدیل شدہ شکل ہےآج تک سمجھ نہ آیا کہ اس سین میں آس باس اتنا رش کیوں نہ تھا ورنہ مجھے تو وکٹوریہ کا اسٹیشن ہمیشہ ایسے ہی لگا کہ یا تو ساری دنیا لندن پہنچ رہی ہے یا پھر واپس جا رہی ہے۔ ہمیشہ یہ کہہ کر دل کو تسلی دی کہ میاں ہو سکتا ہے 1995 میں لندن کی آباد بہت ہی کم ہو۔ خیر ڈسٹرکٹ لائن کی ٹرین پکڑی اور راہ لی نیوبری پارک کی۔ اپنی سابقہ رہائش گاہ پہنچے سامان رکھا فاتحہ پڑھی اور لیپ ٹاپ کھول کر نقشوں اور جن جن جگہوں پر جانا تھا ان کے نوٹس بنانے لگے۔ انٹرنیٹ پر سارا لندن گھوم لینے کے بعد ہم نے اپنا فون ڈائیری قلم اور نقشہ سنبھالا اور چل دیئے لندن فتح کرنے۔
صبح سے چونکہ مصنف کا گزارہ پانی پر تھا تو لندن گردی کا آغاز سوچا کچھ کھا پی کر کیا جائے، یہاں میں ایک وضاحت کرنا چاہوں گا کہ اگر اس سفرنامے میں آپ سوچ رہے ہیں کہ لندن کی تاریخ اور وجہ تسمیہ کا ذکر ہوگا تو آپ سے گزارش ہے کہ وہ ابھی وکی پیڈیا پر پڑھ لیں۔ اور یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ اس میں آپ کو نہ تو بکنگم پیلس کے بارے میں پڑھنے کو ملے گا، نہ ٹاور آف لندن، نہ ونڈسر کاسل، نہ ٹیمز کے پل، اور نہ ہی لندن آئی ان کے بارے میں جاننے کے لئے آپ لندن پر بنی  کوئی دستاویزی فلم دیکھ لیں۔
کاٹھی رول کمپنی، لندن۔کاٹھی رول کمپنی، لندن۔نیوبری پارک سے سینٹرل لائن پکڑی اور آکسفورڈ سرکس کو چل دیئے آکسفورڈ سرکس اسٹیشن سے باہر نکلے تو سامنے نائیک ٹاؤن تھا، یہ لندن بلکہ برطانیہ میں نائیک کا سب سے بڑا فلیگ شپ اسٹور ہے ونڈو شاپنگ کرتے ہوئے اچانک انگلستان کی فٹبال کٹ پر نظر پڑی تو دل میں خیال آیا کہ امبرو اچھا خاصہ چل رہا تھا یہ نائیک کی کٹ انگلستان کی ٹیم کو راس نہ آئی۔ اس وقت آکسفورڈ اسٹریٹ کا جو عالم تھا اس سے یہی معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا میں بس ایک ہی کام ہے اور وہ ہے شاپنگ کرنا ہر کوئی یا تو کسی دکان میں داخل ہو رہا تھا یا پھر باہر آ رہا تھا جو سڑک پر چل پھر رہے تھے ان کے بھی ہاتھ میں رنگ برنگے "شاپر" تھے جو ان کی کارستانیوں کی داستان کہہ رہے تھے۔ لندن میں باقیوں کا تو پتہ نہیں لیکن میں کم از کم ان شاپنگ بیگوں سے لوگوں کی معاشی حالت کا اندازہ لگاتا ہوں اگر شاپنگ بیگ سیلفرجز کا ہے تو سمجھ لو کہ اگلا بندہ کافی سوکھا ہے، مارکس اینڈ سپینسرز کا بیگ ہائیر مڈل کلاس اور اگر پرائم مارک کا بیگ ہو تو سمجھ لیں کہ یہ بھی "قناعت پسند" ہے۔ 
خیر میرا لینا دینا خریداری سے بالکل نہیں ویسے بھی مصنف کے نزدیک شیو کرنے اور کپڑے استری کرنے کے بعد دنیا کا فضول ترین کا شاپنگ کرنا ہے۔ مصنف کی منزل تھی دی کاٹھی رول کمپنی کا سٹور جو کہ پولینڈ اسٹریٹ میں واقع ہے۔ گھر سے چلنے سے پہلے کاٹھی رول کمپنی کی ویب سائٹدیکھی تاکہ پتہ دیکھ اسے نقشے میں نوٹ کیا جاسکے۔ ویب سائٹ بہت ہی دلچسپ اور قبل دید ہے ایک لفظ میں اسے ونٹج کہا جا سکتا ہے۔ دکان بھی بڑی دلچسپ تھی جگہ جگہ لگے ہاتھ سے بنے فلمی پوسٹر دیواروں پر نارنجی رنگ، اور ٹین کی چھت سے ٹنگے بلب۔ خاصہ صاف ستھرا ماحول تھا جو کہ اکثر دیسی دکانوں پر دیکھنے کو نہیں ملتا مصنف نے بھی چکن تکہ انڈا رول خریدا اور پینے کو مصالحہ چائے لی اور لگ گئے پیٹ پوجا کرنے اور دن کا ایجنڈا دیکھنے۔
سیلفریجز کے مرکزی دروازے پر لگا مجسمہکھانے سے فارغ ہو کر سب سے پہلے مارلےبون چہل قدمی کا ارادہ تھا لیکن یہ پروگرام ٹکڑوں میں ہوا سب سے پہلے سیلفرجز اسٹور جا گھسے اب ایک تو وہاں سے لینا کچھ نہیں تھا دوسرا ویسے ہی اتنی مہنگی جگہ جا کر عجیب سی کیفیت ہوتی ہے کہ یا تو انسان کے پاس بہت سارے پیسے ہوں یا پھر بالکل ہی نہ ہوں یہ جو درمیان کی ملک شیک حالت ہے یہ بہت تنگ کرتی ہے۔ جس دروازے سے داخل ہوئے سامنے کاسمیٹنکس سیکشن تھا اب وہاں ہمارے مطلب کی کوئی چیز تو تھی نہیں لیکن پھر بھی مصنف خاصہ فریش فریش محسوس کرنے لگا اس سیکشن سے گزرنے کے بعد، تقریبا تمام تر سیکشن گھومے لیکن ککھ سمجھ نہ آئی کہ اس نظری خریداری کا حاصل کیا ہے جب اپنی غربت کا احساس شدت پکڑنے لگا ہم واپس باہر آکسفورڈ اسٹریٹ پر تھے۔سیلفریجز کے ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پڑا فٹ بال ورلڈ کپ کا ماڈلآکسفورڈ اسٹریٹ میں ہمارا استقبال اس گھوری نے کیا
اب ہماری اگلی منزل ریجنٹ اسٹریٹ پر واقع لندن کی سب سے بہترین کھلونوں کی دکان تھی۔ ہیملیز میں گھستے ہی لگا کہ یہ ایک الگ دنیا ہے چار منزلہ دکان جو طرح طرح کے کھلونوں سے بھری ہوئی تھی۔ یہ غالبا انگلستان کی قدیم ترین کھلونوں کی دکان ہے جو اب بھی فعال ہے اور یہ دکان اٹھارویں صدی سے موجود ہے اور اب باقاعدہ چین کی شکل میں ہر بڑے شہر میں موجود ہے۔
لیگو سے بنی شاہی فیملی مصنف کی شخصیت میں موجود بچوں والا پہلو ابھی زندہ ہے اس بات کا احساس اس دکان پر جا کر ہوا جب ہر  کھلونا ہماری توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ جہاں سوچا تھا کی صرف پانچ دس منٹ گزاروں گا وہیں تقریبان آدھ گھنٹا اسی دکان میں گھومتا رہا۔ وہاں سے نکلنے کے بعد اگلی منزل تھی واٹر اسٹون پکاڈلی تھی۔ واٹر سٹون کی یہ دوکان یورپ میں سب سے بڑی کتابوں کی دوکان ہے اپنے ہجم کے حساب سے تو سیلفریجز سے کچھ ہی چھوٹی ہے لیکن وہاں بس اکا دکا لوگ ہی تھے جبکہ سیلفریجز میں خاصی چہل پہل تھی۔ مجھے چار بجے سے پہلے ایک جگہ پہنچنا تھا اس کے لئے ہم صراط مستقیم پر چلتے ہوئے پکاڈلی سرکس پہنچے، یہ بھی ایک مشہور چوراہا ہے جو کہ لندن میں بنی تقریبا ہر فلم میں نظر آتا ہے۔

ہوش ربا قسم کی قیمتوں والے قلم

سامان برائے لترول
پکاڈلی سرکس کا گول چکر
مصف پکاڈلی سرکس میں
لندن میں واقع یورپ کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان

پکاڈلی سرکس سے ہم نے بیکرلولائن پکڑی اور بیکر اسٹریٹ پہنچے، بیکر اسٹریٹ لندن کا پہلا زیر زمین ٹیوب اسٹیشن تھا۔ بیکر اسٹریٹ شرلاک ہولمز کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے کیونکہ کہانی میں شرلاک کے گھر کا پتہ 221 بی بیکر اسٹریٹ ہے جو کہ دنیا کا سب سے مشہور پتہ ہے اسٹیشن سے باہر آتے ہی آپ کو سامنے شرلاک ہولمز کا ایک لمبا چوڑا مجسمہ دیکھنے کو ملے گا جس میں شرلاک مزے سے پائپ پیتے ہوئے آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہا ہے۔دی گریٹ ڈیٹیکٹیو
 ہماری منزل اس مجسمے سے کچھ آگے مادام تساوت کا عجائب گھرتھا جس کی سہہ پہر چار بجے والی اینٹری کی ٹکٹ ہم نےمادام تساؤت کا عجائب گھر، لندن۔
بک کر رکھی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ چار بجے یا اس کے بعد ٹکٹ سستی ہو جاتی ہے۔ 30 پاؤنڈ والی ٹکٹ 22 کی مل گئی تھی۔ یہ ایک دلچسپ تجربہ تھا بعض مجسمے بہت ہی شاندار بنے ہوئے تھے جبکہ وہ مجسمے جن کے پاس سب سے زیادہ رش تھا وہ مجھے بس خانہ پوری پروگرام ہی لگا یانی بالی وڈ سیکشن۔ کو مجسمہ مجھے سب سے زیادہ پسند آیا وہ پکاسو کا مجسمہ تھا۔ یہ عجائب گھر مختلف حصوں میں ہے سب سے پہلا حصہ مومی مجسموں کا ہے اگلے حصہ میں لندن کی تاریخ کی سیر کرائی جاتی ہے۔ لندن کی مشہور بلیک کیب کی شکل میں ٹرین بنی ہوتی ہے جو کہ لندن کی 400 سالہ تاریخ کے سفر پر لے جاتی ہے کہ ملکہ الزبتھ اول کے دور سے شروع ہوتا ہے لندن کا عظیم قحط، لندن کی آگ، عظیم جنگوں کے ادوار سے گزر کر آج کے لندن پر آ کر سفر ختم ہوتا ہے۔ اگلا حصہ اپنی طرف سے انہوں نے ڈراؤنہ بنایا ہوا تھا یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ اپنے لاہور کے سوزو واٹر پارک کا بھوت بنگلہ فرق صرف اتنا تھا کہ اس میں اچانک سے آ کر ڈرانے والے جیتے جاگتے انسان تھے۔ آخری حصہ مارول کامک کا ہے جس میں مارول کامک کے کرداروں کے مجسمے موجود ہیں اور ایک عدد فور ڈی فلم دکھائی جاتی ہے جس میں اسپائیڈر مین، وولورین، آئرن مین اور ہلک لندن کو ایک حملے سے بچاتے ہیں۔

اؤڈرے ہیپ برن کا مجسمہ جس کو مصنف بڑی دیر تک تاکتا رہا
سر ایلفرڈ ہچکاک بچے ڈراتے ہوئے
مصنف اپنے پسندیدہ بلے باز کے ساتھ
ویلز سے آیا ہوا مصنف پرنسس آف ویلز (لیڈی ڈیانا) کے ساتھ  یہ ایک عمدہ تجربہ تھا مادام تساؤت کا یہ عجائب گھر یقینا فلمی و شو بز شخصیات کے مجسموں کے لئے مشہور ہے لیکن یہ صرف اس تک ہی محدود نہیں سائینس، ادب، فن، میں کام کرنے والوں کے مجسموں کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی حکومتی تاریخ کے کرداروں کے بھی مجسمے موجود ہیں۔ ہاں رش اور رونق شوبز کھیل اور فلم وغیرہ کے مجسموں کے گرد ہوتی ہے لیکن اس عجائب گھر کی کاوش کہ جنہوں نے اہم کام کئے ان کو اپنے انداز میں خراج تحسین پیش کرنے کا انداز خاصہ قابل تحسین ہے۔ باقی چارلس ڈکنز، آسکر وائیلڈ، اور شیکسپیئر کے مجسمے دیکھ ایک احساس سا ہوا کہ اگر ان کا تعلق برطانیہ کی بجائے پاکستان سے ہوتا تو ان لوگوں کو پڑھنا یا یاد کرنا اتنا ہی آؤٹ آف فیشن ہوتا کہ جتنا اپنے وارث شاہ اور میاں محمد بخش وغیرہ کو۔



مصنف کو یہ گماں سا ہو گیا کہ آسکر وائیلڈ کی شکل مصنف جیسی ہے

میڈم ٹساؤٹ بقلم خود
پکاسو، میری رائے میں سب سے زبردست مجسمہ
کیونکہ مصنف خود بڑا فنکار ہے
واحد پاکستانی شخصیت کا مجسمہ۔۔۔ بیکاز آئی واز ریزڈ ایز جیالہ
مصنف اولین جیمز بانڈ شین کانری کے ساتھ
اب چونکہ شام ہو رہی تھی لہذا دن کی باقی کاروئیاں مکمل کرنی تھیں۔ اب اگلی منزل مارلے بون ہائی اسٹریٹ اور اس میں واقع مارے بون ھائی اسٹریٹڈانٹ بک شاپ تھی۔ مارلے بون کی ہائی اسٹریٹ تھی تو باقی ہائی اسٹریٹس جیسی لیکن لندن کے وسط میں اتنی خاموش اور پر سکون ہائی اسٹریٹ ایک دلچسپ چیز تھی لیکن حیران کن نہیں کہ جب تمام تر رش آکسفورڈ اسٹریٹ پر طاری ہو تو اس چھوٹی سی اسٹریٹ کو کون پوچھتا ہے۔ ڈانٹ بک ایک چھوٹی مگر قابل دید دکان تھی ویسے بھی اگر آپ مارلے بون کے علاقے میں گھوم رہے ہوں اور آپ نے اس دکان کو نہ دیکھا تو آپ کی مارلے بون کی آوارہ گردی نامکمل ہے۔ اس دکان میں کتب ممالک کے نام سے لگائی گئی ہیں۔ ہندوستانی لکھاریوں کی کتابوں کے مقابلے میں پاکستانی لکھاریوں کی کتابوں کی تعداد نہایت ہی کم تھی۔ تھوڑا عجیب لگا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں سے بے شمار کام انگریزی میں لکھا گیا ہے اور لوگ بھی اکثر گلا کرتے ہیں کہ انگریزی پر زور زیادہ ہے  مگر پھر بھی سارا خانہ کل ایک فٹ چوڑا تھا۔ ایک تھوڑی سی خوشی بھی ہوئی کہ وہاں موجود کتابوں میں سے اکثریت میں پڑھ چکا ہوں۔ جب وہاں سے باہر آنے کو مڑنے لگا تو دیکھا کہ پاکستان کے خانے کے عین سامنے اسرائیل کا خانہ تھا۔ مسکرا کر گردن جھٹکی اور اسے بھی یہودی سازش قرار دے کر باہر نکل آئے۔


ڈانٹ بک شاپ کا اندرونی منظر

دی گارڈن آف ریسٹ، مارلےبون، لندن۔

شام کے وقت پروگرام میں خاص طور پر ریجنٹ پارک شامل کیا تھا۔ وہاں جاتے ہی ایک احساس نے آ لیا کہ کون کہتا ہے ریجنٹ پارک میں لگے بل دار درخت کہ لندن میں بہت سٹریس ہے لندن تو بھائی خاصی پر سکون جگہ ہے۔ ایک جانب جھیل بہہ رہی تھی تو دوسری جانب گھاس پر لوگ دراز ہوئے پڑے تھے کوئی کتاب پڑھ رھا تھا تو کوئی ورزش کر رہا تھا کوئی بس یوں ہی لیٹا چل فرما رھا تھا۔ ریجنٹ پارک بھی لندن کے ان باغوں میں سے ہے کہ جن کو شاہی باغ کا درجہ حاصل ہے۔ اس باغ ہی میں ایک شاہی اوپن تھیٹر موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریجنٹ مسجد اور اسلامی سینٹر واقع ہے جو کہ لندن کی بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔  اسی پارک کی ایک جانب کوئین گارڈن ہے اب اسے کوئین گارڈن کیوں کہتے ہیں یہ تو پتہ نہیں لیکن اس میں پھول بوٹے کافی خوبصورت لگے ہوئے تھے۔ پارک سے واپس آنے کا سوچا تو پتہ چلا کہ ہم راستہ بھول چکے ہیں اوپر سے ایک سابق ہاؤس میٹ کا میسج آنے لگا کہ جو کھانے پر میرا انتظار کر رہا تھا اور میری وجہ سے اپنا ایک پروگرام کینسل کر چکا تھا۔ اور مجھے گھر جلدی بلانے کے لئے طرح طرح کی پر کشش آفرز کر رہا تھا کہ جس میں سے ایک یہ تھی کہ جلدی آ عامر بھائی "حلال ووڈکا" لے کر آئے ہیں۔ اب اس دعوت کی حقیقت کا تو ہمیں اندازہ تھا لیکن ویسے ایک خیال آیا کہ جہاں آلو کی بنی تمام حلال اشیاء چھک لی ہیں وہاں یہ بھی سہی۔


ریجنٹ پارک مسجد کا مینارگھر پہنچے تو پینے کو صرف چائے ملی اور دیکھنے کو چند سر درد افزا مہمان اور ان کی کاروباری گفتگو۔ کئی گھنٹوں بعد جب مہمان جا چکے تو پیزا آرڈر کیا گیا تب تک ہمارے سابق روم میٹ رحمت اللہ علیہ بھی اپنا سامان لینے پہنچ چکے تھے۔ کھانے کی میز پر بحث کا موضوع تھا منشیات۔ پارٹی ڈرگز کے استعمال اور ان کے نقائص پر سیر حاصل بحث ہوئی جو کہ مائکل جارڈن کے کھیل کے تجزیہ پر ختم ہوئی۔ دیر رات جب نشست برخاصت ہوئی تو مصنف اگلے دن کا پلان بناتے بناتے سو گیا۔ریجنٹ پارک جھیل، لندن۔
اگلے دن جب آنکھ کھلی تو ارادہ صبح ہی گھر سے نکل جانے کا تھا مگر وہ ارادہ ہی کیا جو وفا ہوا۔۔۔ (جاری ہے!)
اگلے حصہ میں گرینایچ کی آوارہ گردی، برٹش اور سائینس میوزیم ، کینزنگٹن گارڈن اور پردیسی بھائی سے ملاقات کا احوال ہو گا۔

ہم، ہمارے پیغامات اور یومِ ابا جی

کمرہ جماعت میں وہی ہڑبونگ تھی جو عام طور پر جماعت دہم میں استاد کی غیر موجودگی میں ہونی چاہیے تب ہی شاہد صاحب کمرے میں داخل ہوئے مصنف ایک عرصہ تک یہی سمجھتا رہا ہے ان کا نام شاد ہے جس کی وجہ یہ تھی کہ شاہد صاحب ان کے نام میں موجود ہ پر زبر کے استعمال کا اصرار کرتے تھے اور اکثر شاد ہی سنائی دیتا ہے. خیر کیا رکھا ہے اردو ب کے استاد کے نام میں زیادہ دلچسپ تو وہ نام ہوتا ہے جو ہم جیسے نا ہنجار شاگرد اپنے استادوں کو دے ڈالتے ہیں لہذا روایات کے زیر اثر ہم نے انکو متھن کا نام دے رکھا تھا جس کی وجہ ان کے ماتھے کی بے جا کشادگی اور ہر جگہ اس ماتھے کو لگا دینے کا ذوق تھا. یہ بات زمانہ اسکول بازی کے ان ایام کا ہے کہ جس میں علم مٹی کا تیل لینے چلا جاتا ہے اور ساری توانائیاں لک بن کے اس کام میں لگا دی جاتی ہیں کہ پانچ سالہ پیپرز کو رٹ لیا جائے علم و تعلیم کا کیا ہے ساری عمر ہوتی رہے گی میٹرک میں اچھے نمبر نہ آئے تو سکول کے نام کا کیا ہو گا اسکو چھوڑو وہ جو بینر پر ٹاپرز کا نام لکھ سکول کے باہر والی سڑک پر لگایا جاتا ہے اس کا کیا بنے گا،  اور سب سے اہم بات شریکہ برادری کیا کہے گی گر اچھے کالج میں داخلہ نہ ملا تو.
خیر اردو بے کا کوئی پاٹا پرانا پرچہ نکالا گیا اور اس میں دیے گئے سوال کے عین مطابق ہمسائے کے نام خط لکھنے کو کہا گیا تو ثاقب اسلم نے انتہائی معقول بات کہی کہ سر میں خط کیوں لکھوں دروازہ کھٹکھٹا کر بھی تو پیغام دے سکتا ہوں. سادہ بندہ تھا ثاقب بھی جو سر کی ایک کھولی کے بعد ہی اپنے دستے پر جھک گیا. ساری جماعت رٹا رٹایا کاغذ پر الٹ رہی تھی اور مصنف اپنے ایک دوست جسکا نام تو وقاص احمد تھا ہم نے ساتھ خان کا اضافہ کر رکھا تھا کہ مصنف کا نام اتنا لمبا اور اس کے جگری کا نام بس دو لفظی. خیر اس خوبصورت نام کے علاوہ ایک واحیات سا نام بھی تھا اس کا جس کا خوبصورت ترین ترجمہ لالی پاپ پڑتا ہے اور اس نام کی وجہ داخلے کے لیے لی گئی تصویر میں خان صاحب کی بنی ہوئی شکل تھی.
خیر اس وقت ہم دونوں کا موڈ نہیں تھا کہ بھی بور کام کرنے کا. وقاص اور مصنف ویسے ہی تمام اساتذہ میں بدنام تھے کہ یہ دونوں کاغذوں کا پلندہ بھر ڈالتے ہیں لیکن کام کی باتیں اس میں کم جبکہ فکشن لفاظی اور گپوں کی بھرمار ہوتی ہے. مصنف اکثر بچ نکلتا تھا لیکن وقاص پکڑا جاتا تھا جذباتی سا بندہ تھا ایک بار مطالعہ پاکستان کے لئے پارلیمنٹ کے کردار پر لکھے مضمون کے اختتام 'اور ان کو شرم بھی نہیں آتی' پر کر بیٹھا اور پکڑا گیا.
واپس آتے ہیں ہمسائے کے نام خط پر واپس کیا آنا ہے جتنی دیر آپ لوگ باتوں میں لگے ہوئے تھے ہم دو چیتوں نے خط لکھ بھی ڈالا. اب اس میں ہم دو شٹلیوں نے جو لکھا وہ ہمسائے کے نام خط سے زیادہ ہنسائی کے نام خط تھا خیر ہم نے شکائتیں وہی کی جو باقی جماعت نے کی کہ پڑھائی میں خلل آتا ہے وجہ البتہ ہم نے گھر سے آنے والی موسیقی کی آواز کی بجائے کھڑکی میں آنے والی کو گردان دیا. اب خط میں ہے کیا یہ تو عام طور پر اساتذہ نہیں پڑھتے سٹرکچر دیکھا جاتا ہے وہ پاس تو خط پاس. مصنف کی کاپی تو متھن صاحب نے پاس کر دی جب باری آئی وقاص کی تو ہماری کمپنی قسم کی دبی دبی ہنسی کو بھانپتے ہوئے حسن خالد نے سر سے کہا کہ سر اسکا پڑھ بھی لیں کہ اس میں ہے کیا. اگر حسن خالد صنف نازک ہوتا تو یقیناً محلے میں سیاپا کرانے والی مائی ہوتا. سر نے پڑھنا شروع کیا اور ہنسی کو قابو کرنے کی کوشش کرتے ہوئے غصہ ہونے لگے وقاص کی کاپی کے بعد دوبارہ میری کاپی دیکھی کہ ہو نہیں سکتا کہ جینگو نے نے جو کیا ہو وہ مینگو نے نہ کیا ہو.
قصہ مختصر کچھ دیر میں ہم دونوں پرنسپل صاحب کے دفتر میں پائے گئے. اصغر صاحب کی غضب ناک گھوریاں انجوائے فرما رہے تھے. اور دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ سر نے اپنے کیری ڈبے کا سارا غصہ ہم پر نکال دینا ہے آج جو کہ ہم شاگردوں سے زیادہ ناہنجار تھا. اکثر دیکھا ہے کہ اگر پرنسپل کسی کے والد کا واقف کار یا ہم جماعت ہو تو رعایت ملتی ہے اپنا کیس ہی عجیب تھا. اصغر صاحب نے چنگھاڑ کر کہا رائے، شاہد کا نمبر بتاؤ( یہاں شاہد سے مراد مصنف کے والد صاحب ہیں، ویسے یہ عجیب بات ہے سر مجھے یعنی اپنے شاگرد کو اسکے سر نیم سے بلاتے تھے اور اپنے ہم جماعت جو کہ ایک شاگرد کے والد بھی ہیں کو فرسٹ نیم سے بلاتے). بڑی ہی نازک صورتحال تھی لیکن سارے جہاں کی معصومیت چہرے پر یکجا کر کے کہا کہ سر نمبر مجھے یاد نہیں رہتے. سر نے اپنے کارڈ فولڈر سے والد صاحب کا وزیٹنگ کارڈ ڈھونڈ نمبر ملاتے ہوئے ایک بار ہم دونوں کی لٹکی گردنوں کو دیکھا اور فون واپس رکھ ایک ایک بید پر اکتفا کیا اور دفع ہو جانے کو کہا. اور جاتے جاتے اتنا کہہ گئے کہ بدمعاشو اچھا لکھ لیتے ہو اس کا کوئی اچھا استعمال بھی کر لینا کسی دن غلطی سے.
یہ واقع نہیں در اصل تمہید ہے، اس پورے واقعہ میں بات کام کی وہی تھی جو ثاقب اسلم نے کہی. کل پوری دنیا فادر ڈے منانے میں مشغول تھی. مصنف کو چونکہ اس قسم کے ایام سے کچھ الرجی سی ہے لہذا سوشل میڈیا کا چکر لگانے پر پتہ چلا کہ بھئی آج تو یوم ابا جی ہے. ساری ٹائم لائن موقع کی مناسبت سے سجی ہوئی تھی ایسے وقت میں اس کمینے دل میں ایک ہی بات آئی کہ یا میرے مالک گر یہ فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ نہ ہوتے تو ہمارے لئے دنیا کو یہ دکھانا کتنا مشکل ہو جاتا کہ ہم اپنے والدین سے کس قدر محبت کرتے ہیں.
اس سوشل میڈیا ای میل ایس ایم ایس اور ان جیسی دوسری چیزوں نے جہاں دور بیٹھوں کو قریب کر دیا ہے وہیں شاید قریب والوں کو دور کر دیا ہے. جو کام بقول ثاقب کے دروازہ کھٹکھٹا کے کیا جا سکتا ہے اس کے لیے خط لکھنے پڑتے ہیں اور وہ بھی ایسے کہ کل عالم پڑھ سکے.
کسی کے جذبات کی توہین مقصود نہیں لیکن کیا ہم لوگ روا روی میں کچھ زیادہ ہی آگے نہیں نکل گئے؟ عبادت کے لئے مشہور راتوں میں بھی اکثر دو نوافل زیادہ پڑھنے کی بجائے ہماری پہلی ترجیح سارا پیکج 'مجھے معاف کر دینا پلیز' کے پیغامات بھیجنا ہوتا ہے.
کہیں تو کچھ گڑبڑ ہے یا مصنف آج بھی جماعت دہم کا وہی شٹلی اسٹوڈنٹ ہے جو بدلتی دنیا کے تقاضے نہ سمجھ سکا.

کہانی ایک عید کی - منشی پریم چند

منشی پریم چند
رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی ہے۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پُرتبسم۔ درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھو کتنا پیارا ہے، گویا دنیا کو عید کی خوشی پر مبارک باد دے رہا ہو۔ گائوں میںکتنی چہل پہل ہے۔ عیدگاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں، سوئی دھاگہ لینے جارہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہوگئے ہیں اسے تیل اور پانی سے نرم کررہا ہے۔ جلدی جلدی بیلوں کو پانی دے دیں۔ عیدگاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہوجائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں رشتے، قرابت والوں سے ملنا ملانا۔ دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ بچے سب سے زیادہ خوش ہیں، کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک، کسی نے وہ بھی نہیں، لیکن عیدگاہ جانے کی خوشی ان کا حصہ ہے۔ روزے بڑے بوڑھوں کے لیے ہوں گے بچوں کے لیے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے رہتے تھے۔ آ ج وہ آہی گئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عیدگاہ کیوں نہیں چلتے۔انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ؟ سوّیوں کے لیے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں یا نہیں، انہیں کیا فکر۔ وہ کیا جانیں ابا جان کیوں بدحواس اس گائوں کے مہاجن (بڑا آدمی) چوہدری قاسم علی کے گھر دوڑے جارہے ہیں۔ ان کی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ بار بار جیب سے اپنا خزانہ نکال کر گنتے ہیں۔ انہی دو چار پیسوں میں دنیا کی ساری نعمتیں لائیں گے۔ کھلونے اور مٹھائیاں اور بگل اور خدا جانے کیا کیا۔اور سب سے زیادہ خوش ہے ’’حامد‘‘۔ وہ سات آٹھ سال کا غریب صورت بچہ ہے، جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہوگیا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مرگئی۔ کسی کو پتا نہ چلا کہ کیا بیماری ہے۔ کہتی کس سے؟ کون سننے والا تھا؟ دل پر جو کچھ گزرتی تھی، سہتی تھی، اور جب نہ سہا گیا دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں سوتا ہے اور اتنا ہی خوش ہے۔ اس کی دادی اسے کہتی ہے کہ اس کے ابا جان بڑی دور روپے کمانے گئے ہیں۔ بہت سی تھیلیاں لے کر آئیں گے، امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں۔ اس لیے حامد خوش ہے۔ امید تو بڑی چیز ہے۔ پھر بچوں کی امید… ان کا تخیْل (تصور)… تو رائی کے پربت بنالیتا ہے۔حامد کے پائوں میں جوتے نہیں ہیں۔ سر پر ایک پرانی ٹوپی ہے جس کا گوٹا سیاہ ہوگیا ہے۔ پھر بھی وہ خوش ہے۔ جب اس کے ابا جان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گی تب وہ دل کے ارمان نکالے گا۔ تب دیکھے گا محمود اور محسن، نوری اور سمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں۔ دنیا اپنی مصیبتوں کی ساری فوج لے کر آئے، اس کی ایک نگاہِ معصوم اسے پامال کرنے کے لیے کافی ہے۔حامد اندر جاکر امینہ سے کہتا ہے:’’تم ڈرنا نہیں اماں! میں گائوں والوں کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، بالکل نہ ڈرنا۔‘‘ لیکن امینہ کا دل نہیں مانتا۔گائوں کے بچے اپنے اپنے باپ کے ساتھ جارہے ہیں۔ حامد کیا اکیلا ہی جائے گا! اس بھیڑبھاڑ میں کہیں کھو جائے تو کیا ہوگا؟ نہیں امینہ اسے تنہا نہ جانے دے گی۔ ننھی سی جان تین کوس چلے گا پائوں میں چھالے نہ پڑجائیں گے!مگر وہ چلی جائے تو یہاں سوئیاں کون پکائے گا؟ بھوکا پیاسا دوپہر کو لوٹے گا، کیا اس وقت سوئیاں پکانے بیٹھے گی؟ رونا تو یہ ہے کہ امینہ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس دن فہیمن کے کپڑے سیے تھے، آٹھ آنے پیسے ملے تھے۔ اس اٹھنِّی (آدھا روپیہ) کو ایمان کی طرح بچاتی چلی آئی تھی… اس عید کے لیے۔ لیکن کل گھر میں آٹا نہ تھا اور گوَالَن (دودھ بیچنے والی)کے پیسے چڑھ گئے تھے۔ دینے پڑے۔ حامد کے لیے دو پیسے کا روز دودھ تو لینا ہی پڑتا ہے۔ اب کل آٹھ پیسے بچ رہے ہیں۔ تین پیسے حامد کی جیب میں اور پانچ امینہ کے بٹوے میں، یہی بساط ہے۔ اللہ ہی بیڑا پار کرے۔دھوبن، مِہتَرَانِی (بھنگن) اور نَائِن (نائی کی بیوی) سب ہی تو آئیں گی۔ سب کو سوئیاں چاہئیں۔ کس کس سے منہ چھپائے گی، اور منہ کیوں چھپائے؟ سال بھر کا تہوار ہے۔ زندگی خیریت سے رہے۔ ان کی تقدیر بھی تو اس کے ساتھ ہے۔ بچے کو خدا سلامت رکھے۔ یہ دن بھی یوں ہی کٹ جائیں گے۔گائوں سے لوگ چلے، اور بچوں کے ساتھ حامد بھی تھا۔ سب کے سب دوڑ کر آگے نکل جاتے۔ پھر کسی درخت کے نیچے کھڑے ہوکر ساتھ والوں کا انتظار کرتے۔ یہ لوگ کیوں اتنے آہستہ آہستہ چل رہے ہیں۔ شہر کا سَوَاد (آس پاس) شروع ہوگیا۔ سڑک کے دونوں اطراف امیروں کے باغ میں پختہ چہار دیواری بنی ہوئی ہے۔ درختوں میں آم لگے ہوئے ہیں۔ حامد نے کنکری اُٹھاکر ایک آم پر نشانہ لگایا۔ مالی اندر سے شور مچاتا ہوا باہر آیا۔ بچے وہاں سے ایک فَرلَانگ (220 گز کا فاصلہ) دوڑ کر چلے گئے۔ خوب ہنس رہے ہیں۔ مالی کو کیسا اُلّو بنایا! بڑی بڑی عمارتیں آنے لگیں۔’’یہ عدالت ہے۔‘‘’’یہ مدرسہ ہے۔‘‘’’اتنے بڑے مدرسے میں کتنے سارے لڑکے پڑھتے ہوں گے۔‘‘’’لڑکے نہیں ہیں جی۔ بڑے آدمی ہیں۔‘‘پھر آگے چلے۔ حلوائیوں کی دکانیں شروع ہوئیں۔ آج خوب سجی ہوئی تھیں۔’’اتنی مٹھائیاں کون کھاتا ہے؟‘‘’’دیکھو نا ایک ایک دکان پر منوں ہوں گی۔‘‘’’سنا ہے رات کو آدمی ہر ایک دکان پر جاتا ہے اور جتنا مال بچا ہوتا ہے وہ سب خرید لیتا ہے۔ اور سچ مچ کے روپے دیتا ہے۔ بالکل ایسے ہی چاندی کے روپے۔‘‘محمود کو یقین نہ آیا۔ ’’ایسے روپے جنات کو کہاں سے مل جائیں گے؟‘‘محسن: ’’جنات کو روپوں کی کیا کمی، جس خزانہ میں چاہیں چلے جائیں، کوئی انہیں دیکھ نہیں سکتا۔ لوہے کے دروازے تک نہیں روک سکتے۔‘‘’’جناب! آپ ہیں کس خیال میں؟ ہیرے جواہرات ان کے پاس رہتے ہیں۔ جس سے خوش ہوگئے اسے ٹوکروں جواہرات دے دیے۔ پانچ منٹ میں کہو ’’کابل‘‘ پہنچ جائیں۔‘‘حامد: ’’جنات بہت بڑے ہوتے ہوں گے؟‘‘محسن: ’’اور کیا، ایک ایک آسمان کے برابر ہوتا ہے۔ زمین پر کھڑا ہوجائے تو اس کا سر آسمان سے جالگے۔ مگر چاہے تو ایک لوٹے میں گھس جائے۔‘‘سمیع: ’’سنا ہے چوہدری صاحب کے قبضے میں بہت سے جنات ہیں۔ کوئی چیز چوری ہوجائے، چوہدری صاحب اس کا پتا بتادیں گے اور چور کا نام تک بتادیں گے۔ جمعراتی کا بچھڑا اس دن کھو گیا تھا۔ تین دن حیران ہوئے، کہیں نہیں ملا۔ تب جھک مارکر چوہدری کے پاس گئے۔ چوہدری نے کہا: مویشی خانہ میں ہے۔ اور وہیں ملا۔ جنات آکر انہیں خبریں دے جایا کرتے ہیں۔‘‘اب ہر ایک کی سمجھ میں آگیا کہ چوہدری قائم علی کے پاس اس قدر دولت ہے اور کیوں وہ قرب وجوار کے مَوَاضِعَات (کئی گائوں) کے مہاجن ہیں۔ جنات آکر انہیں روپے دے جاتے ہیں۔آگے چلیے… یہ پولیس لائن ہے۔ یہاں پولیس والے قواعد کرتے ہیں۔ رائٹ لپ، رائٹ لپ۔ پھام پھو، پھام پھو!بستی گھنی ہونے لگی۔ عیدگاہ جانے والوں کا مجمع نظر آنے لگا۔ ایک سے ایک زرق برق پوشاک پہنے ہوئے۔ کوئی تانگے پر سوار، کوئی موٹر سائیکل پر، چلتے تھے تو کپڑوں سے عطر کی خوشبو اڑتی تھی۔دَہقَانوں (کسانوں) کی یہ مختصر سی ٹولی اپنی بے سروسامانی سے بے حس اپنی خستہ حالی میں مگن، صابر و شاکر چلی جارہی تھی۔ جس چیز کی طرف تاکتے، تاکتے رہ جاتے… پیچھے سے گاڑی کے بار بار ہارن کی آواز ہونے پر بھی خبر نہ ہوتی۔ محسن تو موٹر کے نیچے جاتے جاتے بچا۔وہ عیدگاہ نظر آئی۔ جماعت شروع ہوگئی ہے۔ اوپر املی کے درختوں کا سایہ ہے۔ نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے جس پر جَاجَم (وہ چادر جو دری کے اوپر بچھاتے ہیں) بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسری، خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جاجم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں۔ جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی، یہاں کوئی رتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا، اسلام کی نگاہ میں سب انسان برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہوگئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے۔ لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں۔ ساتھ دو زانوں بیٹھ جاتے ہیں، اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہوجائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔کتنا پُراحترام، رعب انگیز نظارہ ہے، جس کی ہم آہنگی (ساتھ) اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔ گویا اُخوّت کا ایک رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کیے ہوئے ہے۔نماز ختم ہوگئی ہے۔ لوگ باہم گلے مل رہے ہیں۔ کچھ لوگ محتاجوں اور سائلوں کو خیرات کررہے ہیں جو آج یہاں ہزاروں جمع ہوگئے ہیں۔ دہقانیوں نے مٹھائی اور کھلونوں کی دکانوں پر یُورَش (دھاوا) کی۔ بوڑھے ان دل چسپیوں میں بچوں سے کم محظوظ نہیں ہیں۔ یہ دیکھو ’’ہِنڈَولَا‘‘ (جھولا) ہے۔ ایک پیسہ دے کر کبھی آسمان پر جاتے معلوم ہوںگے، کبھی زمین پر گرتے… یہ ’’چرخی‘‘ ہے۔ لکڑی کے گھوڑے، اونٹ، ہاتھی مَیخوں (کیلوں) کے لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک پیسہ دے کر بیٹھ جائو پچیس چکروں کا مزہ لو۔ محمود اور محسن ہنڈولے پر بیٹھے ہیں۔ نوری اور سمیع گھوڑوں پر۔ ان کے بزرگ اتنے ہی طفلانہ اشتیاق سے چرخی پر بیٹھے ہیں۔ حامد دور کھڑا ہے، تین ہی پیسے تو اس بے چارے کے پاس ہیں۔ ذرا سا چکر کھانے کے لیے وہ اپنے خزانے کا ثُلُث (تیسرا حصہ) نہیں صرف کرسکتا۔ محسن کا باپ اسے بار بار چرخی پر بلاتا ہے لیکن وہ راضی نہیں ہوتا۔ بوڑھے کہتے ہیں اس لڑکے میں ابھی سے اپنا پرایا آگیا۔ حامد سوچتا کیوں کسی کا احسان لوں۔ عسرت نے ضرورت سے زیادہ ذَکِیْ الحِس (بہت حساس) بنادیا ہے۔سب لوگ چرخی سے اترتے ہیں۔ کھلونوں کی خریداری شروع ہوتی ہے۔ سپاہی اور گجریا اور راجہ رانی اور وکیل اور دھوبی اور بِھشتی (پانی پلانے والا) اور سپاہی بے امتیاز ران سے ران ملائے بیٹھے ہیں۔ دھوبی راجا رانی کی بغل میں ہے اور بھشتی وکیل صاحب کی بغل میں۔ واہ کتنے خوب صورت، بولا ہی چاہتے ہیں۔محمود سپاہی پر لٹو ہوجاتا ہے۔ خاکی وردی اور لال پگڑی، کندھے پر بندوق، معلوم ہوتا ہے ابھی قواعد کے لیے چلا آرہا ہے۔ محسن کو بھشتی پسند آیا۔ کمر جھکی ہوئی ہے۔ اس پر مشک ہے۔ مشک کا دہانہ ایک ہاتھ سے پکڑا ہوا ہے۔ دوسرے ہاتھ میں رسّی ہے۔ کتنا بشاش چہرہ ہے۔ شاید کوئی گیت گارہا ہے۔ مشک سے پانی ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ نوری کو وکیل سے مناسبت ہے۔ کتنی عالمانہ صورت ہے۔ سیاہ چغہ، نیچے سفید اُچکن (شیروانی سے ملتا جُلتا لباس)… اُچکن کے سینہ کی جیب میں سنہری زنجیر، ایک ہاتھ میں قانون کی کوئی کتاب لیے ہوئے ہے۔ معلوم ہوتا ہے ابھی کسی عدالت سے جَرح (کسی حقیقت کو جاننے کے لیے سوالات کرنا) یا بحث کرکے چلے آرہے ہیں۔ یہ سب دو دو پیسے کے کھلونے ہیں۔حامد کے پاس کل تین پیسے ہیں۔ اگر دو کا ایک کھلونا لے لے تو کیا لے گا؟ نہیں نہیں کھلونا فضول ہے، کہیں ہاتھ سے گرپڑا تو… سارا چور چور ہوجائے۔ ذرا پانی پڑجائے تو… سارا رنگ دھل جائے۔ ان کھلونوں کو لے کر وہ کیا کرے گا؟ کس مصرف کے ہیں؟محسن کہتا ہے: ’’میرا بھشتی روز پانی دے جائے گا صبح و شام۔‘‘محمود: ’’اور میرا سپاہی گھر کا پہرہ دے گا۔ کوئی چور آئے تو فوراً بندوق سے فائر کردے گا۔‘‘نوری: ’’اور میرا وکیل روز مقدمے لڑے گا اور روز روپے لائے گا۔‘‘حامد کھلونوں کی مذمت کرتا ہے۔ مٹی ہی کے تو ہیں، گریں تو چکناچور ہوجائیں۔ لیکن ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ذرا دیر کے لیے انہیں ہاتھ میں لے سکتا۔یہ بِسَاطِی (چادر پر چیزیں رکھ کر بیچنے والا) کی دکان ہے۔ طرح طرح کی ضروری چیزیں ایک چادر پر بچھی ہوئی ہیں۔ گیند اور سیٹیاں اور بِگَل (منہ سے بجانے کا ایک باجا) اور بھونرے اور ربر کے کھلونے اور ہزاروں چیزیں۔ محسن ایک سیٹی لیتا ہے۔ محمود گیند۔ نوری ربر کا بَط (بطخ) جو چوں چوں کرتا ہے اور سمیع ایک خَنجَرِی (چھوٹی ڈفلی)۔حامد کھڑا ہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ جب اس کے رفیق کوئی چیز خرید لیتے ہیں تو وہ بڑے اشتیاق سے ایک بار اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے کے لیے لپکتا ہے۔ لیکن بچے اتنے دوست نواز نہیں ہوتے۔ خاص کر جب ابھی دل چسپی تازہ ہے۔ بے چارہ یوں مایوس ہوکر رہ جاتا ہے۔کھلونوں کے بعد مٹھائیوں کا نمبر آیا۔ کسی نے ریوڑیاں لی ہیں، کسی نے گلاب جامن، کسی نے سوہن حلوہ، مزے سے کھا رہے ہیں۔ حامد ان کی برادری سے خارج ہے۔ کم بخت کی جیب میں تین پیسے تو ہیں۔ کیوں نہیں کچھ لے کر کھاتا۔ حریص نگاہوں سے سب کی طرف دیکھتا ہے۔محسن نے کہا: ’’حامد یہ ریوڑی لے جا، کتنی خوشبودار ہیں۔‘‘ یہ محض شرارت ہے۔ محسن اتنا فیاض طبع نہ تھا پھر بھی وہ اس کے پاس گیا، محسن نے دو میں سے دو تین ریوڑیاں نکالیں۔ حامد کی طرف بڑھائیں، حامد نے ہاتھ پھیلایا۔ محسن نے ہاتھ کھینچ لیا اور ریوڑیاں اپنے منہ میں رکھ لیں۔ محمود اور نوری اور سمیع خوب شور مچا مچا کر ہنسنے لگے۔ حامد کھسیانا ہوگیا۔محسن نے کہا: ’’اچھا اب ضرور دیں گے۔ یہ لے جائو حامد اللہ کی قسم!‘‘حامد نے کہا: ’’رکھیے رکھیے… کیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟‘‘سمیع: ’’تین ہی تو پیسے ہیں، کیا کیا لو گے؟‘‘محمود: ’’تم اس سے مت بولو حامد۔ میرے پاس آئو۔ یہ گلاب جامن لے لو۔‘‘حامد: ’’مٹھائی کون سی بڑی نعمت ہے۔ کتاب میں اس کی برائیاں لکھی ہیں۔‘‘محسن: ’’لیکن جی میں کہہ رہے ہوں گے کہ کچھ مل جائے تو کھالیں، اپنے پیسے کیوں نہیں نکالتے؟‘‘محمود: ’’میں اس کی ہوشیاری سمجھتا ہوں۔ جب ہمارے سارے پیسے خرچ ہوجائیں گے تب یہ مٹھائی لے گا اور ہمیں چِڑَھا چِڑَھا کر کھائے گا۔‘‘حلوائیوں کی دکانوں کے آگے کچھ دکانیں لوہے کی چیزوں کی تھیں۔ کچھ گِلٹ (ظاہری خوبصورتی) اور ملمع کے زیورات کی۔ بچوں کے لیے یہاں دل چسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ حامد لوہے کی دکان پر اک لمحہ کے لیے رک گیا۔ دست پناہ رکھے ہوئے تھے۔ وہ دَست پَنَاہ (چمٹا) خریدے گا۔ اماں کے پاس دست پناہ نہیں ہے۔ توے سے روٹیاں اتارتی ہیں تو ہاتھ جل جاتا ہے۔ اگر وہ دست پناہ لے جاکر ماں کو دے دے تو وہ کتنی خوش ہوں گی۔ پھر ان کی انگلیاں کبھی نہ جلیں گی۔ گھر میں ایک کام کی چیز ہوجائے گی۔ کھلونوں سے کیا فائدہ۔ مفت کے پیسے خراب ہوتے ہیں۔ ذرا دیر ہی تو خوشی ہوتی ہے۔ پھر تو انہیں کوئی آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھتا، یا تو گھر پہنچتے پہنچتے ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہوجائیں گے یا چھوٹے بچے جو عیدگاہ نہیں جاسکے ہیں ضد کرکے لے لیںگے اور توڑ ڈالیں گے۔ دست پناہ کتنے فائدے کی چیز ہے…! روٹیاں توے سے اتارلو… چولہے میں سینک لو… کوئی آگ مانگنے آئے چولہے سے آگ نکال کر دے دو… اماں کو کہاں فرصت ہے کہ بازار آئیں، اور پھر اتنے پیسے کہاں ملتے ہیں۔ روز ہاتھ جلا لیتی ہیں۔اس کے ساتھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سبیل پر سب کے سب پانی پی رہے ہیں۔ کتنے لالچی ہیں۔ سب نے اتنی مٹھائیاں لیں۔ کسی نے مجھے ایک بھی نہ دی۔ اس پر کہتے ہیں میرے ساتھ کھیلو۔ میری تختی دھولائو۔ اب اگر میاں محسن نے کوئی کام کرنے کو کہا تو خوب خبر لوں گا۔ کھائیں مٹھائیاں۔ آپ منہ سڑے گا۔ پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی۔ آپ ہی چَٹَورِی زَبَان (لذیذ چیزیں کھانے کی عادت) ہوجائے گی۔ تب پیسے چرائیں گے اور مار کھائیں گے۔ میری زبان کیوں خراب ہوگی۔اس نے پھر سوچا: ’’اماں دست پناہ دیکھتے ہی دوڑ کر میرے ہاتھ سے لے لیں گی اور کہیں گی: میرا بیٹا اپنی ماں کے لیے دست پناہ لایا ہے۔ ہزاروں دعائیں دیں گی۔ پھر اسے پڑوسنوں کو دکھائیں گی۔ سارے گائوں میں واہ واہ مچ جائے گی۔ ان لوگوں کے کھلونوں پر کون انہیں دعائیں دے گا۔ بزرگوں کی دعائیں سیدھی خدا کی دَرگَاہ (دربار) میں پہنچتی ہیں اور فوراً قبول ہوتی ہیں۔ میرے پاس بہت سے پیسے نہیں ہیں جب ہی تو محسن اور محمود یوں مزاج دکھاتے ہیں۔ میں بھی ان کو مزاج دکھائوں گا۔ وہ کھلونے کھیلیں اور مٹھائیاں کھائیں۔ میں غریب سہی، کسی سے کچھ مانگنے تو نہیں جاتا۔ آخر ابا جان کبھی نہ کبھی تو آئیں گے ہی… پھر ان لوگوں سے پوچھوں گا کتنے کھلونے لوگے؟ ایک ایک کو ایک ٹوکری دوں گا اور دکھائوں گا کہ دوستوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ جتنے غریب لڑکے ہیں سب کو اچھے اچھے کرتے دلوا دوں گا اور کتابیں دے دوں گا۔ یہ نہیں کہ ایک پیسہ کی ریوڑیاں لیں تو چِڑَھا چِڑَھا کر کھانے لگے۔ دست پناہ دیکھ کر سب کے سب خوب ہنسیں گے۔ احمق تو ہیں ہی سب۔ اس نے دکان دار سے ڈرتے ڈرتے پوچھا: ’’یہ دست پناہ بیچو گے؟‘‘دکان دار نے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ کوئی آدمی نہ دیکھ کر کہا: ’’وہ تمہارے کام کا نہیں ہے؟‘‘’’بکائو ہے یا نہیں؟‘‘’’بکائو ہے جی! اور یہاں کیوں لادکر لائے ہیں۔‘‘’’تو بتلا تے کیوں نہیں، کتنے پیسے کا دو گے۔‘‘’’چھے پیسے لگیں گے!‘‘حامد کا دل بیٹھ گیا۔ کلیجہ مضبوط کرکے بولا: ’’تین پیسے لوگے؟‘‘اور آگے بڑھا کہ دُکان دار کی گُھرکِیَاں (ڈانٹ ڈپٹ) نہ سنے، مگر دکان دار نے گھرکیاں نہ دیں۔ دست پناہ اس کی طرف بڑھادیا اور پیسے لے لیے۔حامد نے دست پناہ کندھے پر رکھ لیا، گویا بندوق ہے اور شان سے اکڑتا ہوا اپنے رفیقوں کے پاس آیا۔محسن نے ہنستے ہوئے کہا: ’’یہ دست پناہ لایا ہے۔ احمق! اس کا کیا کرے گا؟‘‘حامد نے دست پناہ کو زمین پر ٹیک کر کہا: ’’ذرا اپنا بھشتی زمین پر گرادو۔ ساری پسلیاں چور چور ہوجائیں گی بچے کی۔‘‘محمود: ’’تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے؟‘‘حامد: ’’کھلونا کیوں نہیں ہے۔ ابھی کندھے پر رکھا بندوق ہوگیا۔ ہاتھ میں لے لیا تو فقیر کا چمٹا ہوگیا۔ چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑ لوں۔ ایک چمٹا جمادوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے… تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں اس کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ میرا بہادر شیر ہے یہ دست پناہ!‘‘سمیع متاثر ہوکر بولا: ’’میری خنجری سے بدلو گے؟ دو آنے کی ہے۔‘‘حامد نے خنجری کی طرف حقارت سے دیکھ کر کہا: ’’میرا دست پناہ چاہے تو تمہاری خنجری کا پیٹ پھاڑ ڈالے۔ بس ایک چمڑی کی جھلی لگا دی۔ ڈھب ڈھب بولنے لگی۔ ذرا سا پانی لگے تو ختم ہوجائے۔ میرا بہادر دست پناہ آگ میں، پانی میں، آندھی میں، طوفان میں برابر ڈٹا کھڑا رہے گا۔‘‘میلہ بہت دور پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ دس بج رہے تھے۔ گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ اب دست پناہ نہیں مل سکتا۔ اب کسی کے پاس پیسے بھی تو نہیں رہے۔ حامد ہے بڑا ہوشیار!اب دو فریق ہوگئے۔ محمود اور محسن اور نوری ایک طرف۔ حامد یکہ و تنہا (اکیلا) دوسری طرف۔ سمیع غیر جانب دار رہے گا۔ جس کی فتح دیکھے گا اس کی طرف جا ملے گا۔ مناظرہ شروع ہوگیا۔ آج حامد کی زبان بڑی صفائی سے چل رہی تھی۔ اتحادِ ثَلَاثَہ (تین) اس کے جارحانہ عمل سے پریشان ہورہا ہے۔ ثلاثہ کے پاس تعداد کی طاقت ہے۔ حامد کے پاس حق اور اخلاق کی۔ ایک طرف مٹی، ربر، لکڑی کی چیزیں ہیں۔ دوسری جانب اکیلا لوہا، جو اس وقت اپنے کو فولاد کہہ رہا ہے۔ وہ رُوئَیں تَن (جس کے جسم پر ہتھیار کا اثر نہ ہو) ہے۔ صف شکن ہے۔ اگر کہیں شیر کی آواز کان میں آجائے تو میاں بھشتی کے اوسان خطا ہوجائیں۔ میاں سپاہی مٹی کی بندوق چھوڑ کر بھاگیں… وکیل صاحب کا سارا قانون پیٹ میں سما جائے۔ چغے میں منہ چھپا کر زمین پر لیٹ جائیں… مگر بہادر، یہ رستم ہند لپک کر شیر کی گردن پر سوار ہوجائے گا اور اس کی آنکھیں نکال لے گا۔محسن نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہا: ’’اچھا تمہارا دست پناہ پانی تو نہیں بھر سکتا؟‘‘حامد نے دست پناہ کو سیدھا کرکے کہا: ’’یہ بھشتی کو ایک ڈانٹ بتائے گا تو وہ دوڑا ہوا پانی لاکر اس کے دروازے پر چھڑکنے لگے گا۔ جناب پھر اس سے چاہے گھڑے، مٹکے، کُونڈَے (آٹا گوندھنے کا برتن) بھر والو۔‘‘ محسن کا ناطقہ بند (بولنے کی ہمت نہ رہی) ہوگیا۔ نوری نے کمک پہنچائی:’’بَچَّا (حقارت کے طور پر بولتے ہیں) گرفتار ہوجائیں تو عدالت میں بندھے بندھے پھریں گے۔ تب تو ہمارے وکیل صاحب ہی پیروی کریں گے۔ بولیے جناب!‘‘حامد کے پاس اس وار کا دفعیہ اتنا آسان نہ تھا۔ دفعتاً اس نے ذرا مہلت پاجانے کے ارادے سے پوچھا:’’اسے پکڑنے کو کون آئے گا؟‘‘محمود نے کہا: ’’یہ سپاہی بندوق والا!‘‘حامد نے منہ چڑھا کر کہا: ’’یہ بے چارے اس رستم ہند کو پکڑیں گے؟ اچھا لائو ابھی ذرا مقابلہ ہوجائے۔ اس کی صورت دیکھتے ہی بچے کی ماں مر جائے گی۔ پکڑیں گے کیا بے چارے۔‘‘محسن نے تازہ دم ہوکر وار کیا: ’’تمہارے دست پناہ کا منہ روز آگ میں جلے گا۔‘‘حامد کے پاس جواب تیار تھا: ’’آگ میں بہادر کودتے ہیں جناب! تمہارے یہ وکیل اور سپاہی، بھشتی ڈرپوک ہیں۔ سب گھر میں گھس جائیں گے۔ آگ میں کودنا وہ کام ہے جو رستم ہی کرسکتا ہے۔‘‘نوری نے انتہائی جَودَت (ذہانت) سے کام لیا: ’’تمہارا دست پناہ باورچی خانہ میں زمین پر پڑا رہے گا۔ میرا وکیل شان سے میز کرسی لگا کر بیٹھے گا۔‘‘اس حملے نے مُردوں میں بھی جان ڈال دی۔ سمیع بھی جیت گیا۔ بے شک معرکے کی بات کہی، دست پناہ تو باورچی خانے میں پڑا رہے گا۔ حامد نے دھاندلی کی: ’’میرا دست پناہ باورچی خانے میں نہیں رہے گا۔ وکیل صاحب کی کرسی پر بیٹھے گا تو جاکر انہیں زمین پر پٹخ دے گا اور سارا قانون ان کے پیٹ میں ڈال دے گا۔‘‘اس جواب میں بالکل جان نہ تھی۔ بالکل بے تکی سی بات تھی، لیکن قانون پیٹ میں ڈالنے والی بات چھا گئی۔ ایسی چھا گئی کہ تینوں سْورمَا (دلیر) منہ تکتے رہ گئے۔ حامد نے میدان جیت لیا۔ گو ثلاثہ کے پاس ابھی گیند اور سیٹی اور بطخ ریزرو (Reserve) میں تھے مگر ان مشین گنوں کے سامنے ان پٹاخوں کو کون پوچھتا۔ دست پناہ رستم ہند ہے، اس میں کسی کو چوں چرا کی گنجائش نہیں۔فاتح کو مفتوحوں سے وقار اور خوشامد کا خَرَاج (ٹیکس) ملتا ہے۔ وہ حامد کو ملنے لگا، اوروں نے تین تین آنے خرچ کیے اور کوئی کام کی چیز نہ لے سکے۔ حامد نے تین ہی پیسوں میں رنگ جما لیا۔ کھلونوں کا کیا اعتبار، دو ایک دن میں ٹوٹ جائیں گے۔ حامد کا دست پناہ تو فاتح رہے گا ہمیشہ۔صلح کی شرطیں طے ہونے لگیں۔ محسن نے کہا: ’’ذرا اپنا چمٹا دو، ہم بھی دیکھیں۔ تم چاہو تو ہمارا وکیل دیکھو۔‘‘حامد کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ فَیّاض طَبع (مزاجاً سخی ہونا) فاتح ہے۔ دست پناہ باری باری سے محسن، محمود، نوری اور سمیع سب کے ہاتھوں میں گیا اور ان کے کھلونے باری باری سے حامد کے ہاتھ میں آئے۔کتنے خوبصورت کھلونے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے بولا ہی چاہتے ہیں، مگر ان کھلونوں کے لیے انہیں دعا کون دے گا؟ کون کون ان کھلونوں کو دیکھ کر خوش ہوگا جتنا اماں جان دست پناہ کو دیکھ کر ہوں گی۔ اسے اپنے طرزعمل پر مُطلَق (بالکل) پچھتاوا نہیں ہے۔ پھر اب تو دست پناہ رستم ہے اور سب کھلونوں کا بادشاہ۔راستے میں محمود نے ایک پیسے کی ککڑیاں لیں۔ اس میں حامد کو بھی خراج ملا، حالاں کہ وہ انکار کرتا رہا۔ محسن اور سمیع نے ایک ایک پیسے کے فالسے لیے ، حامد کو بھی خراج ملا۔ یہ رستم ہند کی برکت تھی۔ گیارہ بجتے بجتے سارے گائوں میں چہل پہل ہوگئی۔ میلے والے آگئے۔محسن کی چھوٹی بہن نے دوڑ کر بھشتی اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور مارے خوشی کے جو اچھلی تو میاں بھشتی نیچے آرہے اور عَالَمِ جَاوِدَانِی (آخرت) کو سدھارے۔ اس پر بھائی بہن میں مار پیٹ ہوئی۔ دونوں خوب روئے۔ ان کی اماں جان یہ کہرام سن کر اور بگڑیں۔ دونوں کو اوپر سے دو دو چانٹے اور رسید کیے۔میاں نوری کے وکیل کا حشر اس سے بھی بدتر ہوا۔ وکیل زمین پر یا طاق پر تو نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کی پوزیشن کا لحاظ تو کرنا ہی ہوگا۔ دیوار میں دو کھونٹیاں گاڑی گئیں۔ ان پر ایک چیڑ کا پرانا پٹرا رکھا گیا۔ پٹرے پر سرخ رنگ کا ایک چیتھڑا بچھا دیا گیا جو بمنزلہ قالین تھا۔وکیل صاحب عالم بالا پر جلوہ افروز ہوئے۔ یہیں سے قانونی بحث کریں گے۔ نوری ایک پنکھا لے کر جھلنے لگا۔ معلوم نہیں پنکھے کی ہوا سے یا پنکھے کی چوٹ سے وکیل صاحب عالم بالا سے دنیائے فانی میں آرہے اور ان کے جسد خاکی کے پرزے ہوگئے۔ پھر بڑے زور و شور کا ماتم ہوا اور وکیل صاحب کی میت پارسی دستور کے مطابق گھور پر پھینک دی گئی تاکہ بے کار نہ جاکر زَاغ و زَغَن (کوّا اور چیل) کے کام آجائے۔اب رہے میاں محمود کے سپاہی۔ محترم اور ذی رعب ہستی ہے۔ اپنے پیروں پر چلنے کی ذلت اسے گوارہ نہیں۔ محمود نے اپنا بکری کا بچہ پکڑا اور اس پر سپاہی کو سوار کیا۔ محمود کی بہن ایک ہاتھ سے سپاہی کو پکڑے ہوئے تھی اور محمود بکری کے بچہ کا کان پکڑ کر اسے دروازے پر چلا رہا تھا اور اس کے دونوں بھائی سپاہی کی طرف سے ’’چھونے والے واگتے لہو‘‘ پکارتے چلتے تھے۔ معلوم نہیں کیا ہوا میاں سپاہی اپنے گھوڑے کی پیٹھ سے گر پڑے اور اپنی بندوق لیے زمین پر آرہے۔ ایک ٹانگ مَضرُوب (ٹوٹ) ہوگئی۔ مگر کوئی مضائقہ نہیں۔ محمود ہوشیار ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر نگم اور بھاٹیا اس کی شاگردی کرسکتے ہیں اور یہ ٹوٹی ہوئی ٹانگ کو آناً فاناً جوڑ دے گا۔ صرف گُولَر (پیپل کے درخت کا پھل) کا دودھ چاہیے۔ گولر کا دودھ آتا ہے۔ ٹانگ جوڑی جاتی ہے۔ سپاہی جوں ہی کھڑا ہوتا ہے ٹانگ پھر الگ ہوجاتی ہے۔ عمل جراحی ناکام ہوجاتا ہے۔ تب محمود اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دیتا ہے۔ اب وہ آرام سے ایک جگہ بیٹھ سکتا تھا۔ اب وہ گوشہ میں بیٹھ کر بانس سے بنے چھپر کی آڑ میں شکار کھیلے گا۔اب میاں حامد کا قصہ سنیے۔ امینہ اس کی آواز سنتے ہی دوڑی اور اسے گود میں اٹھاکر پیار کرنے لگی۔ دفعتاً اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر وہ چونک پڑی۔’’یہ دست پناہ کہاں تھا بیٹا؟‘‘’’میں نے مول لیا ہے تین پیسے میں۔‘‘امینہ نے چھاتی پیٹ لی۔ ’’یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے کہ دوپہر ہوگئی۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا، لایا کیا… یہ دست پناہ… سارے میلے میں تجھے کوئی اور چیز ہی نہ ملی۔‘‘حامد نے خطا ورانہ انداز سے کہا: ’’تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں؟‘‘امینہ کا غصہ فوراً شفقت میں تبدیل ہوگیا اور شفقت بھی وہ جو پُر بیان ہوتی ہے اور اپنی ساری تاثیر لفظوں میں منتشر کردیتی ہے۔ یہ بے زبان شفقت تھی۔ درد اور التجا میں ڈوبی ہوئی۔اْف! کتنی نَفس کُشِی (نفسانی خواہش کُچلنا) ہے! کتنی جَاں سَوزی (جان جلانا) ہے! غریب نے اپنے طِفلَانَہ اِشتِیَاق (بچکانہ شوق) کو روکنے کے لیے کتنا ضبط کیا ہوگا! جب دوسرے بچے کھلونے لے رہے ہوں گے، مٹھائیاں کھا رہے ہوں گے… اس کا دل کتنا لہراتا ہوگا۔ اتنا ضبط اس سے ہوا کیوں کر! اپنی بوڑھی اماں کی یاد اسے وہاں بھی… میرا لال میری کتنی فکر کرتا ہے، اس کے دل میں ایک ایسا عُلوِی جذبہ (بلند حوصلہ) پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دنیا کی بادشاہت آجائے اور وہ اسے حامد کے اوپر نثار کردے، اور تب ایک بڑی دل چسپ بات ہوئی۔ بڑھیا امینہ ننھی سی امینہ بن گئی، وہ رونے لگی۔ دامن پھیلا کر حامد کو دعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔ حامد اس کا راز کیا سمجھتا، اور نہ شاید ہمارے بعض قارئین ہی سمجھ سکیں گے۔

اپنی حسرتوں پر...

گانے کے بول تو یہ کہتے ہیں کہ حسرتوں پر اور ان حسرتوں پر کہ جن کے پورے ہونے کی امید باقی نہ رہے آنسو بہا کر سو جانا چاہیے. مگر ہم تو وہ قوم ہیں جو پہلے ہی سوئی پڑی ہے یہ جاگتی ہے کبھی کبھی مگر رونے کی بجائے کوسنے دینے لگتی ہے. ویسے جو ہم دیتے ہیں اس کے سامنے کوسنے ایک رائی معلوم ہوتا ہے. خیر قصہ مختصر پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ جنون انا للہ وانا الیہ راجیون ہو چکا ہے، اور امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی مجاہدین وطن واپس بذریعہ ہوائی جہاز آئیں گے ویسی کرتوت انکی پجی ٹوٹی کشتی میں آنے والی ہے.
دیگر امور کی طرح کھیل اور خاص کر کرکٹ بھی کاز اینڈ ایفیکٹ کی کھیل ہے لیکن ہم اس بات کو کبھی بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے کہ ہماری ہار جو کہ ایفیکٹ ہے اس کا کاز ہماری خالص قسم کی ناقص کارکردگی تھی نہ کہ کسی کی سازش، اور کم از کم کھیل میں حق و باطل کی جنگ والا سلسلہ تو کبھی بھی نہیں ہوتا. ہاں یہ ضرور ہے کہ پاکستان کی جیت کے لئے جو دعائیں یا اوراد ہم کرتے ہیں انکا ثواب ہمیں ضرور مل جاتا ہے. ویسے بھی ہماری عبادات کی ساری دوڑ ثواب اور دعا کی معراج پاکستانی کرکٹ ٹیم کی فتح تک ہے. بات صحیح ہے یا غلط مگر اپنا زاتی تجربہ برا رہا لہذا ہم بھی دم کٹی لومڑی کی سی باتیں کرنے لگے. 2003 کے ورلڈ کپ میں جب ہماری ٹیم انتہائی شان سے باہر ہوئی تو اس کھیل سے دل اٹھ سا گیا کہ ورلڈ کپ اور ہمارے میٹرک کے امتحانات ایک ساتھ شروع ہوئے اکثر سوچا کرتا ہوں کہ اس خلوص نیت سے امتحانات کے لئے دعا مانگی ہوتی تو شائد 700 کا ہندسہ چھو ہی لیتے. خیر زندگی میں ناکامیاں تو چلتی ہورہی ہیں اور انکو تھوپنے کو ہمیں کسی نہ کسی کا سر مل ہی جاتا ہے. پاکستان میچ ہارا، ہمارے کھلاڑی میچ کے بعد نہا دھو روٹی کھا کچھا پہن لمبی تان کر سو رہے ہوں گے، مگر قوم کا سہ روزہ ماتم جاری و ساری ہے. کھیل کی شکست کھیل کے میدان تک ختم نہیں ہوتی زاریاں تک بھی پہنچ جاتی ہے. ہمارا ہر معاملے کی طرح کھیل پر غم و غصہ بھی فضول نوعیت کا ہے. زاتی خیال ہے کہ میچ کا سوگ گھنٹے بھر سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر ہمارا رد عمل شدید نوعیت کا ہوتا ہے اس پر ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ کرکٹ قوم کا رومان ہے اور اسی وجہ سے ہمارے موڈ پر گہرا اثر کرتا ہے اسی لیے ہم آپے سے باہر ہو جاتے ہیں جبکہ حقیقت کا رونا یہاں بھی وہی ہے کہ ہم زہنی طور پر نہ انفرادی سطح پر اتنے عاقل و بالغ ہوئے ہیں اور نہ ہی معاشرتی سطح پر کہ ایسے موقعوں پر وہ رویہ اختیار کریں جو مثالی بھی ہو اور میانہ رو بھی. لیکن ہمارا کیس رہا مختلف ہم نے کرنا ہوتا ہے احتجاج ہر کام میں اور دکھانا ہوتا ہے شدید رد عمل. ہم. بھی بیان دے دیتے ہیں کہ ایسی کرکٹ ٹیم کو ٹماٹر مارنے چاہیے مگر کیا یہ ٹماٹروں کی بے توقیری و بے حرمتی نہ ہوگی کہ وہ ایسی نکمی ٹیم کو مارے جائیں.  دکھ کا اظہار کرنا غصہ آنا دونوں انسانی حقوق اور فطرت کا حصہ ہیں مگر دونوں کا اظہار انسان کو انسان ثابت کرتا ہے با شعور ثابت کرتا ہے. ہم حسرتوں پر آنسو بہا کر سونے کی بجائے کوسنے دینے پر اتر آتے ہیں کہ آنسو بہانا کمزوری کی علامت ہے اب بندہ بٹھا ان بہادر سیانوں کو لے نیویں تھاں پر اور پوچھے کے گالی دینے میں کیا بہادری ہے؟ کھیل ہے اسکو اتنا بھی حواس پر طاری نہ کریں حواس کو دیگر منہ متھے لگتے سر سواد کے کاموں کے لیے بچا کر رکھیں. 

زبان سنبھال کے


کچھ روز قبل ایک فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک کردار نے دنیا کے بارے میں ایک لفظ کہا یہاں وہ لفظ لکھنا خاصا غیر مناسب ہو جائے گا. لیکن کبھی کبھی لگتا ہے کہ دنیا واقعی وہ ہے جو موصوف نے کہا. اس میں رنگ بھی ہیں جو خوشی کو ظاہر کرتے ہیں، وہیں ظلم جبر دکھ و ماتم کی دھند اور کالے بادل بھی. کبھی کبھی اس دنیا کی یہ ڈائورسیٹی اتنی دلچسپ لگنے لگتی ہے اور کبھی ہم اسکو یکسر فراموش کر دیتے ہیں. لیکن ایک بات تمام شکوک و ابہام سے بالا ہے کہ یہ  سب اس خالق کی بے نیازی ہے کہ جس نے کیا کچھ نہیں عطا کیا اور کس کس کو کس کس شکل میں عطا کیا۔ اسی بے نیازی اور دنیا کی ڈائورسیٹی کا احساس اب ہو رہا ہے کہ جب ہفتہ بھر کی اکٹھی کی ہوئی اخباری خبریں رپورٹس اور ڈاکومنٹری دیکھ اپنے اتوار کا حق ادا کر چکے ہیں. ایک دلچسپ خبر نے سوچ کی سوئی گزشتہ کچھ واقعات سے جوڑی زیر لب ایک کمینی سی مسکراہٹ پھیل گئی اور ہم نے سوچا کیوں نہ یہ سب لکھ لیا جائے کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔

خبر یہ تھی کہ جرمنی میں اسکولوں کے نصاب میں اسلام سے متعلق مضمون کو شامل کیا گیا. اس مضمون کا مقصد اسلام کے  بارے میں بنیادی آگاہی حاصل کرنا ہے کہ جس کے نتیجے میں معاشرے میں سے بے چینی کو ختم کیا جا سکے جو باقی یورپ کی طرح جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے بڑھ رہی ہے. اس مضمون کی وجہ سے ممکن ہے کہ جرمن سمجھ جائیں کہ عام مسلمان بھی اتنا ہی معصوم ہوتا ہے کہ جتنا کوئی بھی اور عام آدمی. ہاں اپنے ہاں معصوم کی تعریف تھوڑی مختلف ہے کیونکہ ہم ہیں اسلام کی لیبارٹری اور ہم پر لازم ہے تجربے کرنا لہذا ابھی تجربات جاری ہیں کہ خود کش حملوں اور دہشت گردی میں مرنے والے عام افراد معصوم ہیں یا نہیں۔
بات کہیں اور نکل چلی ہے واپس آتا ہوں اپنی کمینی مسکراہٹ کی جانب. کچھ روز پہلے فیس بک پر ایک عدد تصویر دیکھنے کا موقع ملا. ویسے مصنف نے یہ موقع آپ کو بھی دیا ہے تحریر کے شروع میں وہ تصویر ڈال کر. تصویر شائع کرنے والے موصوف کا تبصرہ تھا کہ وہ یہ بورڈ اور ان پر لکھی عربی دیکھ حیران بلکہ شاک ہو گئے ہیں. اسلام آباد کے وسط میں واقع ایک پارک میں ایسی تختی انتہائی غیر مناسب ہے کہ یہاں بمشکل ہی کوئی عربی آتا ہو اور نہ ہی اسلام آباد میں کوئی عربی آباد ہیں۔
موصوف نے بات تو کافی پتے کی کردی لیکن ایک رولا مچ گیا. اصولی بات تو یہ ہے کہ تختی انگریزی میں بھی نہیں ہونی چاہئے ہاں اردو کے ساتھ پوٹھوہاری میں لکھ دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں. لیکن وہ جو عربی امداد اور انگریزی امداد ہم نے لے رکھی ہے اسکو حلال کیسے کیا جائے. بے چارے کو شاک میں دیکھ مجھے اتنی ہمدردی ہوئی کہ میں نے ایک لمحے کو فیصلہ کر لیا کہ اب سے نماز انگریزی میں پڑھا کروں گا کہ میں انگلستان  میں رہتا ہوں یہاں عربی آتے تو ہیں لیکن کوئی اتنی بڑی تعداد آباد نہیں ہے زیادہ تر انگریزی بولی جاتی ہے تو کیا ضرورت ہے ایک ایسی زبان سیکھنے کی جو کہ نہ تو یہاں بولی جاتی ہے کہ جہاں ہم رہ رہے ہیں اور نہ ہی وہاں کہ جس ملک سے میرا تعلق ہے. جذبات کے اس گندے نالے میں بہتے ہوئے آئندہ جمعہ 'سیون کنگز چرچ' میں ادا کرنے کا اردہ کرتے کرتے رہ گیا اور عقل کو ہاتھ مارنے کی سوچی۔
عام آدمی کا دکھ یہی ہوتا ہے کہ اسے دو شدتوں کے درمیان کھجل ہونا پڑتا ہے. اپنے ہاں دونوں شدتیں کافی متحرک ہیں ایک ہماری نسبت مشرق وسطیٰ اور عرب سے جوڑتی ہیں تو دوسری ہمیں جنوبی ایشیا کی جانب. ایک کا کہنا ہے کہ ثقافت، زبان، اطوار سب میں عربی جھلک ہونی چاہئے تو دوسری اسے اسلامائزیشن کا نام دیتی ہے. دونوں طرفین در حقیقت شدید خوف زدہ ہیں اور اس ڈالر و ریال کی لڑائی میں عام آدمی کو روز نئی کہانی سننے کو ملتی ہے۔
کوئی بھی زبان خواہ اس کا تعلق کسی بھی خطے سے ہو انتہائی خوبصورت اور اہم ہوتی ہے. زبان رابطے کا ذریعہ ہے نہ کہ تعصب کا. مگر ہمارے ہاں وہ جو اردو کے ساتھ ساتھ ہندی و دیگر جنوبی ایشیائی زبانوں  کی اہمیت اور اس میں لکھے ادب کی اہمیت کی بات کرتے ہیں( تصویر والے موصوف اردو سے ہندی اور ہندی سے اردو ٹائپنگ کے شاندار کاریگر ہیں. ) وہیں دوسری زبان سے خفگی کا اظہار بھی کرتے ہیں اور یہ خفگی عربی کے ساتھ ساتھ فارسی سے بھی ہے کہ ایران جنوبی ایشیا کا حصہ نہیں ہے۔  ہمارے ہاں خدا حافظ اور اللہ حافظ کہنے کی فضول بحث چھیڑ دی جاتی ہے. ویسے یہ سیکولر والا خدا غالباً فارسی کا لفظ ہے۔
ہمارے ہاں اس قسم کی بحث نے فائدہ تو کیا دینا عدم برداشت میں اضافہ کر دیا ہے. دایاں بازو تو ہمیشہ سے اپنی برداشت کی وجہ سے بدنام ہے لیکن حال اپنے کھبے پاسے کا بھی وہ ہے کہ جیڑا پنو لال اے جی. نتیجہ اس بحث کا یہ ہے کہ:

اب بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ۔وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ۔جیسے میں نے پہلے کہا کہ زبان ایک اہم اور شاندار چیز ہے اس کے پیچھے ماضی و ثقافت کے انتہائی گہرے رنگ ہوتے ہیں. لیکن ہمارے ہاں زبان غیر کا نام دے کر دوسری زبان سے نفرت کروائی جاتی ہے یا پھر گنواروں کی زبان کہہ کر مادری زبان کو فراموش کرنے کی روش عام ہے. عربی بڑی حد تک زبانِ غیر ہے لیکن جس ہستی کی وجہ سے میرا تعلق اس زبان سے جڑا وہ ہستی کسی صورت غیر نہیں. یہ اس ہستی کی زبان ہے کہ جس کی وجہ سے میرا وجود ہے.  کم فہمی و لا علمی کہہ لیں کہ اس ہستی کی شان کے متقاضی محبت کیسے کی جاتی ہے نہیں جانتا لیکن اتنا پتہ ہے کہ ادب ضروری ہے محبت کے لئے لہذا اسی ادب کے نام پر اس زبانِ غیر سے محبت ہے۔
اپنی اپنی سوچ و حیرت و شاک اپنی جگہ لیکن ایک زبان سے صرف اس بات پر متنفر ہونا کہ یہ کسی اور خطے کی زبان ہے یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے. ہم بڑے شوق سے انگریزی سیکھتے ہیں کہ کاروبار کی زبان ہے، چینی زبان سیکھتے ہیں کہ اسکی بھی معاشی اہمیت ہے، جرمن،  فرانسیسی، اطالوی، اور دیگر زبانیں سیکھتے ہیں کہ انتہائی خوبصورت زبانیں ہیں،  باذوق لوگوں کی زبانیں ہیں،  یا پھر جن ممالک میں بولی جاتی ہیں وہاں نوکری حاصل کرنے کے لئے بڑی حد تک لازمی ہیں. اب اس تناظر میں اگر کوئی عربی اپنی معلومات میں اضافے کے لئے سیکھتا ہے تو وہ اسلامائزیشن یا عربنائزیشن کیونکر؟ کیا ہم نے گلوبلازیشن کے نام پر امیرکنائزیشن کو قبول نہیں کیا؟ ( برطانیہ کو بھی گلوبلازیشن سے یہی شکایت ہے ویسے)۔
ایک بورڈ پر لکھی عربی ہم سے ہضم نہ ہوئی جبکہ اسی ملک کی اشرافیہ اس بات کو ہضم کئے ہوئے ہے کہ اسی ملک کی آبادی کی ایک بڑی تعداد عربی تو کیا کوئی بھی زبان لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتی. گزارش سارے اس رونے کی یہ ہے کہ جناب اپنے اپنے حصے آئے ڈالر و ریال خوب حلال کیجئے لیکن کسی منہ متھے لگتی منطق کے ساتھ اور تھوڑی سی زبان سنبھال کے۔

ٹوکا اور گجنی


جوں جوں ویزا ختم ہونے اور ملک واپس جانے کا وقت قریب  آتا جا رہا ہے، ویسے ویسے ہمیں ہوش آ رہا ہے کہ سی وی بھاری کر لی جائے. اسی لیے آج کل عوامی لیکچرز، اپنی فیلڈ سے متعلق کتب و جرائد،  کے ساتھ ساتھ قلیل مدتی کورسز پر بھی زور ہے. یہ سب اس لیے کہ واپس جا کر کہانی سنا کر ہم اپنا کام نکال اور کچھ پیسے بنا سکیں. اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ مصنف کا عملی سیاست میں آنے کا ارادہ ہے. ویسے بھی اپنی دال سیاست میں زیادہ نہیں گلنی کہ اپنا نام شاہد پر ختم ہوتا ہے۔

ان قلیل مدتی کورسز میں آج کل کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ایک آن لائن پروگرام کے تحت 'اسلامی ممالک میں آئینی ارتقاء' نامی کورس پڑھنے کا موقع ملا. کورس ہے تو اپنی فیلڈ یعنی مارکیٹنگ سے دور لیکن بلا کا دلچسپ ہے معلومات میں کافی اضافہ اور اس چیز کو سمجھنے میں خاصی مدت ملی کہ کیسے ہم مسلمانوں نے اسلام کو اپنا الو سیدھا کرنے کا آلہ بنا دیا ہے. خیر ہفتہ کے روز لیکچر میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے معاشیات کا تذکرہ تھا. اب اتنے فنانشل اعداد اورمعاشی گردکمے دیکھ دو ہستیوں کی یاد آئی... ٹوکا اور گجنی۔
پنجاب یونیورسٹی کے پہلے سیمسٹر میں مصنف کو اپنی تقریباً جوانی کا پہلا عشق ہوا۔ یہ عشق فنانس نامی مضمون کے ساتھ ہوا۔ اور یہ تھا بھی کسی ہندی فلم کا سا ہی کہ جس میں غریب مسکین ہیرو کھجل خراب ہوتا رہتا ہے لیکن ہیروئین اسے جوتی پر بھی نہیں لکھتی۔ بس عشق پروان چڑھا اور جاتے جاتے اس محبت کی ایک نشانی چھوڑ گیا اور وہ پہلے سمسٹر کی نشانی آخری تک ہمارے ساتھ رہی۔ ویسے بھی محبت کی کچھ نشانیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ایدھی کا جھولا بھی کسی کام نہیں آ سکتا۔
اگلے سیمسٹر میں فنانس ایک نئی شکل میں سامنے آئی اس بار اسکو پڑھانے کا کام حافظ عبدالرشید کے پاس تھی. موصوف کو کورس اور نمبر 'ٹکنے' میں محارت کی وجہ سے 'ٹوکا' کہا جاتا تھا. یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ 'ایل پی سی گروپ' نے انکی  خدمات کے بدلے ان کو 'موجو جوجو' کا خطاب دیا۔ سر کلاس میں آکر ایسے پڑھاتے کہ سمجھو کوئی بھونچال آگیا ہو. یار لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ تیز اس لیے پڑھاتے تھے کہ وہ سوال رٹ کر آتے تھے اور جلدی اس بات کی ہوتی کہ کہیں بھول نہ جائے.
  پورے سیمسٹر میں جو بات سمجھ آئی وہ یہ تھی کہ 'اسے اپنے کیلکولیٹر کی میموری بنا کر رکھ لیں'۔ خیر یہ سوال تحقیق طلب ہے کہ ھونکوں کی طرح پورا سیمیسٹر ہر لیکچر سر پر سے گزارنے اور 'استاد محترم' کا مذاق اڑانے کے علاوہ کچھ نہ کرنے پر بھی ستر نمبر کیسے آ گئے؟
اگلے سیمسٹر میں ہم پر ظہیر احمد بٹ صاحب نازل ہوئے۔ ویسے تو انکی شخصیت ایک پورے بلاگ کی متقاضی ہے لیکن یہ کہہ دیتا ہوں کہ موجودہ سمیت کئی وزراء و مشیر خزانہ بٹ صاحب کے شاگرد یا ہم جماعت ہیں. بٹ صاحب نے جو پڑھایا وہ ایسا اعلی تھا کہ ٹوکا صاحب کی قدر ہونے لگی۔ گجنی بٹ صاحب کا نام بالکل بھی نہیں تھا. کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو چاہ کر بھی آپ برا نہیں کہہ سکتے انکی عزت خود بخود کرنے لگتے ہو اور لا شعوری طور پر ایک انس سا محسوس کرنے لگتے ہو ظہیر احمد بٹ صاحب بھی ایسی ہی شخصیت ہیں۔
گجنی نام تھا ہمارے مینیجیریئل اکنامکس کے پروفیسر کا. موصوف کا حافظہ ایسا باکمال تھا کہ لطیفوں والے پروفیسر کیا بیچتے ہیں۔ ان کی اسی شارٹ ٹرم میموری کی وجہ سے پورا ہیلی کالج ان کو گجنی کے نام سے یاد کرتا ہے۔ اپنے مضمون میں سے ہی لفظ ڈھونڈ کر جغتیں کرنے کا فن بھی جانتے تھے۔ انکی یاداشت کا فائدہ ہم نے ایسے اٹھانا کہ اگر ہماری حرکتوں کی وجہ سے ہمیں کلاس بدر کر دیا گیا تو ہم دس منٹ بعد خود ہی واپس آ گئے۔ اور گجنی صاحب نے اتنا ہی کہا کہ پانی پی آئی ہو تو اب ٹائلٹ کی بریک نہ مانگنے لگ جانا کسی مارجنل کرو کے بچے۔ ان صاحب کا بھی مزاق خوب اڑایا لیکن آخری لیکچر کے روز کچھ ایسا ہوا کہ اب بھی لکھتے وقت دل میں ٹیس سی اٹھتی ہے۔
کلاس سے جاتے جاتے جیب سے اپنا فون نکال کہنے لگے کہ میں آپ سب لوگوں کی فوٹو کھینچ لوں؟ آخر میں بھی تو آپ کا استاد ہوں. یہ کہتے وقت انکی آنکھوں میں وہ نمی تھی کہ جس کو انسان بڑی مشکل سے روکتا ہے۔ یہ منظر کچھ ایسا تھا کہ آج تک بھول نہ سکا۔ اس مضمون کی سمجھ نہ آنے اور کم نمبروں کے آنے کے دکھ سے زیادہ گجنی صاحب کا مذاق بنانے کی پشیمانی ہے۔ ویسے یہ بھی نا ہنجاری کی حد ہے کہ مجھے انکا اصل نام بھی یاد نہیں۔
آج جب ان اعداد اور معاشی جدولوں سے نبرد آزما ہوں تو سوچ رہا ہوں کہ تب اگر مزاق اڑانے کی ہمت کے ساتھ  تھوڑی اور ہمت کی ہوتی تو آج ان چیزوں کو سمجھنا شائد آسان ہوتا۔ وہ ہمت تھی یہ کہنے کی کہ جناب مجھے سمجھ نہیں آ رہا میری اس معاملے میں مدد کر دیں مجھے حل رٹنے کی بجائے مسئلے کی جڑ شناسی سکھا دیں۔ لیکن کبھی یہ ہمت نہ ہوئی۔
اسکی بڑی وجہ شاید انا ہے کہ اگر مصنف یہ درخواست کر دے تو یار لوگ باتیں سنائیں گے اور کند ذہنی کا تعنہ دیں گے یہ بھی ممکن ہے کہ استاد صاحب جواب میں جغت مار اگلی بار ہمت کرنے سے توبہ کروا دیں۔ نتیجہ وہی رٹا پروگرام اور مضمون کی روح جاننے کی دوڑ صرف امتحان کے نتائج تک۔
  استاد کا رتبہ واقعی بلند ہوتا ہے لیکن ہم اسے اتنا بلند بنا دیتے ہیں کہ ان سے کام کی بات کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور آگے پیچھے انکے نام بگاڑنے میں ہم سب سے آگے۔
ہم سب کی تعلیمی زندگی میں ٹوکا اور گجنی جیسے لوگ آتے ہیں۔ ہم ان کی قدر اس لئے نہیں کرتے کہ ہماری نظر میں وہ اپنا کام درست طریقہ سے کرنا نہیں جانتے۔ لیکن کیا مجھ جیسے طلبہ نے کوشش کی انکو ایک موقع دینے کی کہ لو بھائی مجھے سمجھا دو بہتر طریقے سے۔ ہر عمل کا رد عمل بھی ہوتا ہے اگر ہمارا اپنا عمل دیہاڑی ٹپانا ہی ہو تو رد عمل بھی ایسا ہی ہوگا نتیجہ یہی ہوگا کہ کچھ سال میں اچھا خاصہ پر عزم استاد بننے کی بجائے گجنی یا ٹوکا تیار ہو جاتا ہے۔

نئے سال کی شان میں۔


چند دن پہلے نئے سال کی شان میں کچھ شاعری پڑھنے کا موقع ملا ویسے تو مجھے اس نئے سال کے جشن کے خیال سے ہی کوفت ہوتی ہے لیکن اس پر لکھوں گا تو مڈل کلاسی سوچ کا تعنہ ملے گا لہزا مصنف بغیر لکھے ہی "ہن آرام ای" میں ہے۔ جو شاعری اچھی لگی وہ یہاں شامل کر رہا ہوں۔ مشہور ہم مصنف ہیں لیکن لکھنے کے چور ہیں وہ بھی بلا کے سست والے لہذا اپنی اواز میں رکارڈ شدہ ساؤنڈ کلاؤڈ سن کر ثوابِ دارین حاصل کریں اور شعر گوئی کی اس زلت پر ماتم۔ شکریہ۔اگر مصنف کی آواز سننے کے بعد آپ کو کچھ پو جاتا ہے تو ادارہ زمہدار نہ ہوگا اپنی جیب اور موبائل فون کی خود حفاظت کریں۔قسم سے مصنف اس ریکارڈنگ کے دوران ٹن بالکل نہیں تھا تھکا ہوا اور نیند میں ضرور تھا۔اے نئے سال تیرا جشن منائیں کیسے - شبیر نازش  اب کے سال کچھ ایسا کرنا - اختر ملک
سال کی آخری نظم - اعتبار ساجد پرانے سال نئے سال میں گزارتا ہوں - ناصر علی
نئے سال پرانے خواب - پروین شاکر 
نیا سال - فیض احمد فیض نئے سال کی شام وہ واحد موقع ہوتا ہے جن مجھے ٖیض صاحب کی کوئی نظم منہ متھے لگتی معلوم ہوتی ہے ورنہ یار لوگ جانتے ہیں کہ مصنف نے اکثر اس بات پر پھینٹی کھائی ہے کہ مصنف کو فیض ہمیشہ اوور ریٹڈ شاعر صاحب ہی لگا۔

Pages