نیرنگ خیال

آزادی مبارک

"صرف مشترکہ کوششوں اور مقدر پر یقین کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔"(محمد علی جناح)
 میں جانتا ہوں کہ آپ سب کو  لفظ آزادی کے مفہوم کی تجدید کی ضرورت  نہیں ہے ۔ میں اسی خوش گمانی کو قائم رکھنا چاہتا ہوں کہ  تمام افرادِ پاکستان آزادی کے تصور اور اس کی قدر و قیمت سے بخوبی آشنا ہیں۔ مگر کیا کروں کہ میرے سامنے جب سماجی، معاشرتی اور سیاسی واقعات آتے ہیں تو میں یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ لفظ آزادی کے معانی اور قدروقیمت کا تو ذکر ہی کیا، شاید ابھی تک میرے ملک کے لوگ اس لفظ سے ہی آشنا نہیں۔ ہمارے  گزرے ستر برس اس بات کے  غماز ہیں کہ ہم نے اپنے لیڈر کے آخری الفاظ کو بھی سنجیدہ نہیں لیا۔ ان ستر برس کی داستاں یہ بتاتی ہے کہ ہم نے مشترکہ کوشش اور مقدر پر یقین تو کیا کرنا تھا، ہم نے خواب دیکھنے ہی چھوڑ دیے۔ ہماری گفتگو زبانی جمع خرچ تک محدود ہوتی چلی گئی اور عملی طور پر ہر آنے والا دن ہمارے لئے بےیقینی کا سورج لایا،  جس کی شامیں یاس و ناامیدی کی شفق لیے ہیں۔ ہر سال ہم بحثیت قوم اس دن ارادے تو باندھتے ہیں۔ خود سے وعدے بھی کرتے ہیں۔ اور ایسا نہیں کہ ان میں صداقت نہیں ہوتی۔ مگر گزرتے دن ان وعدوں پر وقت کی دھول ڈال دیتے ہیں اور یوں یہ سب طاق نسیاں میں دھرا رہ جاتا ہے۔ اگلے سال ان وعدوں اور ارادوں کو اٹھا کر جھاڑا جاتا ہے۔ انہی وعدوں ارادوں کی نئے لفظوں نئے لہجوں سے آرائش کی جاتی ہے۔
 میں مایوسی نہیں لکھنا چاہتا۔ میں قنوطیت کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتا   لیکن ذرا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کہ کیا واقعی سچ میں آپ نے کبھی اس معاشرے کی فکر کی ہے؟ ایسا کوئی کام کیا ہے جو معاشرے میں بہتری لانے کا سبب ہو۔  کبھی کسی غمگیں کے آنسو پونجھے ہو؟ کبھی کسی بھوکے کے منہ میں نوالا ڈالا ہو۔ یوں ہی کبھی آپ کسی انجان جنازے میں شامل ہوگئے ہوں۔ کبھی آپ نے سڑک کنارے کسی چھوٹے سے بچے کو ہاتھ میں غبارے و کھلونے لیے بیٹھا دیکھ کر اپنی سواری روکی ہو۔ اور اس سے پوچھا ہو کہ ہاں بیٹا! تم بیچنے لائے ہو تو ایک طرف اداس کیوں بیٹھے ہو۔ غربت اپنی جگہ، مگر ایسی اداسی نے کیوں آن گھیرا ہے؟ یوں چپ چاپ کیوں بیٹھے ہو؟کبھی یوں ہی بے سبب کسی ہسپتال میں جا کر آپ نے موت سے لڑتے ہوئے مریضوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی ہو یا پھر تھیلیسما کے مریض بچوں کے پاس جا کر کوئی دن گزارا ہو؟
ہاں میں جانتا ہوں کہ آپ   سب ایک اچھی زندگی کے خواہاں ہیں۔ ایک ایسی زندگی جس میں آپ کی ، آپ کے   بچوں کی اور  گھر والوں کی ہر خوشی شامل ہو۔ مگر بدقسمتی سے مجھے اس اچھی زندگی کی تعریف میں ملک کا نام نظر نہیں آتا۔ مجھے اس اچھی زندگی کی تعریف میں وہ اداس چہرے کہیں نظر نہیں آتے جو دن بھر کسی غیبی مدد کی آس لئے رات کے بوجھل قدموں تلے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ مجھے اس تصور آزادی میں آپ کی  سیاسی آزادی نظر نہیں آتی۔ مجھے اس تصور آزادی میں آپ کی  اخلاقی آزادی نظر نہیں آتی۔ آپ کی سمت دوسرے متعین کرتے ہیں۔ آپ کا معیارِ سچ جھوٹ کی تکرار ہے۔  ہاں میں جانتا ہوں کہ آپ دن میں دس اچھی پوسٹس بھی شئیر کرتے ہیں۔ حوصلہ بڑھانے والی ویڈیوز اور تصاویر  بہت خوشی سے سب کو دکھاتے ہیں۔ احادیث اور قرآنی آیات آگے بڑھانے میں بھی آپ کا  دامن تنگ نہیں۔ اور یوم آزادی پر تو جھنڈے بھی پہنے پھرتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد اور پاکستان کا مطلب کیا کہ نعرے بھی بخوشی لگا لیتے ہیں۔
مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ گزشتہ عرصہ  سے،  میں محض  بکواس پڑھ اور سن رہا ہوں۔ ایک دوسرے کے لیے جو زبان استعمال کی جا رہی ہے اس کو کسی بھی طرح سے اشرافیہ کی زبان نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایک دوسرے کے لیے زہر اگلا جا رہا ہے۔فضا نفرت سے تعفن زدہ ہے۔ رویوں نے اظہار کو مسموم کر رکھا ہے۔ ایسے میں اچھے کام، اچھے رویے اور اچھے لوگ خلائی مخلوق محسوس ہونے  لگے ہیں۔ کس کو سراہا جائے۔ کس کی تعریف کی جائے۔ کس کو مثال بنا کر پیش کیا جائے۔ معاشرے سے زندہ مثالیں ڈھونڈے نہیں ملتیں۔ اور اگر بدقسمتی سے کوئی اچھا شخص زندہ ہی ہے تو اس کے مرنے کا انتظار جاری ہے تاکہ بعد از مرگ اس کی تعریف کی جا سکے، اس کو سراہا جا سکے۔ اس ریا کے تماشے میں وہی افضل ہے جو ننگا ہے۔
مجھے مسائل کا حل پیش نہیں کرنا۔ دانشور چلا چلا کر اپنے گلے چھیل چکے ہیں۔ مجھے تم سے یہ نہیں کہنا خدارا محبتوں کو فروغ دو، کیوں کہ  کسی چیز کی ترغیب دینا اس کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔میں کیا کہوں، کیا لکھوں، کیا سمجھاؤں کہ میں خود اسی تعفن زدہ معاشرے کا جزو ہوں جس کے سوچ وخیالات نے اس فضا کو خوشگوار بنانے میں ابھی تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ 
میں ناامیدی کی ناؤ میں  دہشت و خوف کے منجدھار میں پھنسی، نفرتوں کے بیج بوتی، محبتوں کے جنازے اٹھاتی، تشدد کے پھل کاٹتی اور زہر کے دریا بہاتی   قوم کو ملک کی سترھویں سالگرہ پر مبارک دیتا ہوں۔ اور اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اب غیب سے اسباب پیدا کر۔ اب اس رات کی سحر کر۔ اب بےیقینی کے سائے اٹھا دے مولا۔  اس گمان و یاس کی دھند سے امید کا سورج طلوع کر۔ ہم پر اپنی پہچان آسان کر دے۔ آمین یا رب العالمین  

اشعار کی فکاہیہ تشریح

جون کے دو اشعار کی تشریح، ایک دوست کی فرمائش پر۔۔۔۔
آپ مجھ کو بہت پسند آئیںآپ میری قمیص سیجیے گاکہتے ہیں کہ چھپ کر محبت کرنا عورت کا کام ہے۔ مرد کو ببانگ دہل یہ کالک منہ پر ملنی چاہیے۔ یہاں پر شاعر نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ کوچہ جاناں میں جب رسوا و ذلیلہونے کے بعد دامن تار تار ہوگیا تو شاعر پھر بھی اپنی روش سے باز نہ آیا اور کہاکہ یہ جو مار کھاتے کھاتے میری قمیص پھٹ گئی ہے۔ اب یہ آپ کو ہی سینی پڑے گی۔ ایسا اعلی" پروپوز "کرنے کا اندازاور ایسی ڈھٹائی تو کبھی کسی فلم میں بھی نہیں دیکھا۔ کیا کہنے۔ شاعر چھا گیا ہے۔
مجھ سے میری کمائی کا سرِ شامپائی پائی حساب لیجیے گاشاعر نے اسی موضوع یعنی اپنے "پروپوزل" میں مزید کشش پیدا کرنے کی خاطر دلربا کو لالچ دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں جو بھی کما کر لاؤں گا ایک اچھے اور فرماں بردار شوہر کی طرحاس کا حساب پیش کروں گا۔ لیکن یہاں جس طرح شاعر کی بیویات کے موضوع پر کم علمی کھل کر سامنے آئی ہے وہیں یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ شاعر مزدور آدمی ہے۔ اور دیہاڑی دارہے۔ اگر تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھتا تو مہینے کی بات کرتا۔ شام کی نہیں۔ اس سے قبل کے کوئی دریدہ دہن شاعر کو "دکاندار" کہہ کر ہمیں خاموش کروانے کی کوشش کرے ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر شاعر "سیلف ایمپلائیڈ" ہوتا تو اس کی توجہ اپنی دکانداری میں ہوتی یوں کوچہ جاناں میں رسوا نہ ہو رہا ہوتا۔اشعار کی فکاہیہ تشریحاز قلم نیرنگ خیال28 جنوری 2016

باکمال بزرگ - قسط ہفتم - مؤتمن مؤرخ نیرنگ خیال

گزشتہ سے پیوستہ:

شدید حبس کے موسم میں جب سانس لینا بھی دشوار ہوا تھا اور جسم سے پسینہ یوں خارج ہوتا تھا جیسے حکومت کے پانی کی ترسیل کے پائپ ہوں۔ جن میں چھوٹے چھوٹے جابجا سوراخوں کے سبب اتنا پانی پائپ کے اندر نہیں ہوتا جتنا باہر کی سطح پر ہوتا ہے اور اسی سبب  رسنے کی جگہ کا اندازہ لگانا بھی ناممکن رہتا ہے۔ ہمارا جسم بھی جب "لوں لوں دے مڈھ لکھ لکھ چشمہ" کی صورت اختیار کر گیا تو دوستوں کے ساتھ طے پایا کہ چل کر ٹیوب ویل پر نیم تلے پانی میں بیٹھا جائے۔ ایک دوست نے حقہ اٹھا لیا اور دوسرے نے آموں کا تھیلا۔
آموں کا تھیلا ٹیوب ویل کے سامنے بنی حودی میں پھینک دیا گیا تاکہ آم ٹھنڈے پانی سے نہا کر ٹھنڈے ہو رہیں۔ قمیصیں اتار کر نیم کی ٹہنیوں کے ساتھ ٹانک دی گئیں اور شلواریں کو گھٹنوں تک چڑھا کر جانگیے  بنا لیا گیا۔ پانی میں نہاتے اچھلتے کودتے، آم کھاتے ہمیں احساس ہی نہیں ہوا کہ کب دونوں بزرگ اپنا حقہ اٹھائے ٹیوب ویل کے پاس ہی  پڑی چارپائی پر آبیٹھے۔ جب ہماری توجہ ان کی طرف گئی تو ہم نے حوض سے ہی ان کو بھی آم کھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے شفقت اور پیار سے انکار کیا۔ اور آپس میں باتیں کرنے لگے۔ 
کچھ دیر بعد ہمیں ان بزرگوں کا قہقہہ سنائی دیا۔ ہم سب نے پلٹ کر دیکھا تو وہ دونوں بےاختیار ہنس رہے تھے۔ ہم سب نے بزرگوں کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ اور ہنسنے کی وجہ پوچھنے لگے۔ بزرگ فرمانے لگے۔ تم لوگوں کو نہاتا اور اٹکھیلیاں کرتا  دیکھ کر ہمیں اپنا ایک واقعہ یاد آگیا تھا۔ سو اس کو یاد کر کے ہنس رہے تھے۔ ہم نے عرض کی کہ یوں بھی مدت بیتی آپ نے کوئی پرانا واقعہ نہیں سنایا لہذا ہم کو بھی یہ واقعہ سنایا جائے۔ اس پر بزرگ نے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور یوں گویا ہوئے۔
جس طرح آج تم لڑکے بالے یہاں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف ہو،اسی طرح یہ واقعہ بھی تب کا ہے جب ہم تمہاری عمر میں تھے۔ ہم چاروں،  میں، یہ (سامنے والے بزرگ کی طرف اشارہ کرکے)، زنگی اور فیضو(جسے ہم ڈھور کہا کرتے تھے) نہر سے نکلنے والے ایک چھوٹے کھال میں پاؤں ڈبوئے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ڈھور اپنے ابے کا حقہ چوری چھپے اٹھا لایا تھا  جب کہ زنگی کہیں سے کچھ مدک  چرا لایا تھا۔ مدک کو چلم پر دہکا کر حقے کے جو کش لگے تو   ملنگی ماحول بن گیا۔ جگہ ایسی چنی گئی جہاں سے ہم کسی کو نظر نہ آئیں لیکن کوئی بھی کھیتوں کا رخ کرے تو ہم باآسانی اسے دیکھ سکیں۔ طریقہ یہ طے پایا کہ ہر کوئی اپنے سامنے والی سمت کا خیال رکھے گا، تاکہ چاروں اطراف پر نظر رکھی جا سکے اور رنگے ہاتھوں پکڑے نہ جائیں۔ زمین و آسمان کی سمت کو ہم نے کاندھوں پر بیٹھے فرشتوں کے حوالے کر دیا کیوں کہ یہاں سے جو بھی آتا اس کو صرف وہی دیکھ پاتے۔ ہماری اتنی تاب کہاں تھی۔ چھوٹے چھوٹے قصوں سے شروع ہوئی یہ بیٹھک باقاعدہ بڑھک بازی تک جا پہنچی اور اب ہم چاروں مدک باز ایک جھوٹے قصوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
انہی بڑھک بازیوں میں سب کی توجہ اطراف سے بالکل ہٹ گئی اور ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ کب ڈھور کا باپ ہمارے سروں پر آن پہنچا۔ زمین تو پھٹی نہیں تھی ورنہ ہم لازمی باخبر ہوتے۔ شاید آسمان سے نازل ہوا  لیکن ان فرشتوں کا کیا کریں کہ یہ آج تک نہیں بتاتے وہ کہاں سے آیا تھا۔ بہرحال قصہ مختصر ہمیں ہوش تب آیا جب ڈھور کو چند گالیوں کے ساتھ اوپر تلے پانچ چھے اعلیٰ قسم کے تھپڑ پڑے۔ اُس دن ڈھور کو پتا نہیں کیا ہوا، وہ پہلے بھی ہمارے سامنے کئی بار پٹا تھا لیکن شاید آج اس کی انا آڑے آگئی اور وہ اپنے باپ سے الجھ پڑا اور کہتا اب میں یہاں نہیں رہوں گا، میں شہر چلا جاؤں گا۔ یہ دھمکی ڈھور پہلے بھی کئی بار اپنے باپ کو دے چکا تھا، مگر اس دن وہ  لاری  اڈےکی طرف چل پڑا۔ اس کا ابا اس کے پیچھے اور ہم اس کے ابے کے پیچھے پیچھے ہولئے۔ ہمیں یہ ڈر تھا کہ ڈھور  کا ابا کہیں لاٹھی سے اس کی ٹھکائی نہ شروع کر دے۔ جب اڈے پر پہنچے تو وہاں شہر جانے کے لئےلاری  تیار تھی۔ ڈھور ایک طرف ہو کر کھڑا ہوگیا۔ جب اس نے دیکھا کہ باپ پیچھے پیچھے آرہا ہے،  تو بس کے دروازے کے پاس کھڑا ہوگیا مگر بس میں سوار نہ ہوا۔ ڈھور کا ابا اس کے پیچھے پہنچا تو وہ جیبیں ٹٹولنے کی اداکاری کرنے لگا۔ ہم بھی پاس پہنچ چکے تھے۔ ڈھور کی نظر جب ہم پر پڑی تو اور بھی مچل اٹھا اور  اپنے باپ سے یوں مخاطب ہوا۔ڈھور: میں گھر کائی نہ ویساں (میں اب گھر نہیں جاؤں گا۔ )اس کا باپ بہت پرسکون انداز میں: کتھاں ویسیں؟ (کہاں جاؤں گے؟)ڈھورابرو اچکاتے ہوئے: شہر ویساں۔ (میں شہر جاؤں گا۔)ڈھور کا باپ اسی پرسکون انداز میں: پیسے ہن ؟ (پیسے ہیں تمہارے پاس)ڈھور سر نیچے جھکا کر: نہ سئیں، پیسے کائی نئیں (نہیں سائیں! پیسے نہیں ہیں۔ )اس کے باپ نے  جیب میں ہاتھ ڈال کر مڑے تڑے کچھ نوٹ نکالے اور اس کو تھما کر کہنے لگا۔ ایہو گھن پیسے، تے ترے  مہینے گھر کائی نئیں آونا ورنہ لتاں بھن ڈے ساں۔ (یہ لو پیسے، اور تین مہینے گھر نہیں آنا، ورنہ ٹانگیں توڑ دوں گا۔)

دوسرا رخ

پس منظر:میرے بھانجے خزیمہ (عمر تقریباً ایک سال) کی ہفتہ بھر کے لئے آمد۔ اس دوران زین العابدین اور عشبہ کی اس سے دوستی ہوگئی، اور تینوں بچے ملکر خوب کھیلتے تھے۔ ہفتہ بعد خزیمہ کی واپسی ہوگئی۔
منظر: میں، بیگم اور بچے بیٹھے ہیں۔ مکالمہ:بیگم: یہ خزیمہ ہمیں اداس کر کے چلا گیا ہے۔ زین العابدین: نہیں مما! وہ ہمیں اداس کر کے نہیں خوش کر کے گیا ہے۔
نیرنگ خیال#زینیات

آپ نے آکر پشیمان تمنا کر دیا

آپ نے آکر پشیمان تمنا کر دیا
پرانی بات ہے،  جب میری عمر کوئی دس سال کے قریب تھی۔ان دنوں    نیکی کا نشہ سا چڑھا رہتا تھا۔ یہ نیکی کا نشہ بھی عجیب تھا۔ فجر ہو کہ عشاء، کوشش ہوتی تھی کہ نماز مسجد میں پڑھی جائے اور اذان بھی خود دی جائے۔ کتنی ہی بار صرف اس لیے گھنٹہ پہلے مسجد پہنچ جاتا کہ اذان دوں گا۔ انہی دنوں مسجد میں ایک آدمی کا آنا شروع ہوا۔ اس کی شاید ایک آنکھ ضائع ہوچکی تھی۔ بہرحال اس کی آنکھ کے ساتھ کچھ مسئلہ تھا۔ اور مجھے اس سے بہت سارے مسائل تھے۔ ایک تو وہ مجھے  اذان نہیں دینے دیتا تھا۔ خود دیتا تھا۔ اور دوسرا جب نماز کے لیے صفیں باندھی جاتیں تو وہ ہم بچوں کو پچھلی صف میں کھڑا ہونے کا حکم دیتا۔ ہم جو اس مسجد کو اپنا سمجھا کرتے تھے۔ اس رویے سے بےحد شاکی تھے۔ اور دل ہی دل میں پیچ و تاب کھایا کرتے۔ پھر ایک دن کرنا یہ ہوا کہ امام صاحب کسی وجہ سے غائب تھے ، اور ان کے غائب ہونے کا ان موصوف نے فائدہ اٹھایا اور بھاگ کر امامت کی مسند پر جلوہ افروز ہوگئے۔ اس کے بعد تو یہ کھیل ہی بن گیا۔ امام صاحب کبھی نہ ہوتے یہ موصوف امامت کرواتے۔چونکہ یہ ہم بچوں کو شور کرنے پر ڈانٹتے اور نہ اذان دینے دیتے اور نہ ہی اگلی صف میں کھڑا ہونے دیتے تھے تو   وقت کے ساتھ  ہماری ان سے سرد جنگ بڑھتی چلی گئی۔ اچھا ایک دلچسپ بات جو میں نے نوٹ کی کہ جب موصوف امامت کرواتے تو رکوع و سجود میں جاتے وقت “اللہ اکبر” انتہائی گلوگیر سی آواز میں ادا کرتے گویا رو رہے ہیں۔
ایک دن ایسا ہوا کہ میں اذان دینے لگا تو اس شخص نے مجھے ہٹا دیا اور خود اذان دی۔ مجھے بہت برا لگا۔ تھوڑی دیر بعد جب جماعت کھڑی ہونے لگی تو  ہم سب بچوں کو پچھلی صف میں بھی کھڑا ہونے کا حکم دیا گیا۔امام صاحب موجود نہیں تھے تو یہ صاحب بھاگ کر امامت کروانے کو بھی کھڑے ہوگئے۔ یوں تو مجھے شرارتی ہونے کا ایسا کوئی دعویٰ نہیں اور میں بڑا سیدھا اور شریف سا بچہ ہوتا تھا ۔تاہم ، ایک تو وہ یک چشم گُل دوسرا  ہم بالکل اور تیسرا ان کی روتی ہوئی آواز۔ ہمارے ذہن میں شیطان کا مجسم ہوجانا  کچھ اچھنبے کی بات نہ تھی۔  اب جو رکوع میں جانے لگے تو میں نے انتہائی روتے انداز میں بہ آواز بلند “اللہ اکبر” کا نعرہ بلند کر دیا۔ میرے ساتھ صف میں موجود بچے “کھی کھی کھی” کرنے لگے۔ میں نے رکوع سے دائیں بائیں دیکھا اور انہیں بلند آواز میں ہنسنے سے منع کیا۔ پھر سجدے کی باری آئی تو پھر یہی حرکت۔ عصر کی جماعت تھی۔ دوسری رکعت تک پہنچتے پہنچتے تمام نمازی حضرات بھی مسکرانے اور ہنسنے لگے۔ مسجد میں دبی دبی ہنسی گونجنے لگی۔ تیسری رکعت تک تو ہم باقاعدہ کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور یوں ہی آوازیں لگانے لگے۔  ایسے بھی بچے نہیں تھے کہ یہ اندازہ نہ ہو کہ بعد از جماعت کیا ہوگا۔ سو تیسری رکعت سے جیسے ہی چوتھی کے لیے جماعت قیام میں کھڑی ہوئی۔ ہم تمام کے تمام بچے وہاں سے کھسک لیے اوراپنے اپنے  گھر آگئے۔ اس کے بعد کتنے ہی دن میں اس مسجد میں نہیں گیا۔ مسجد بدل لی۔ اور پھر کبھی جانا بھی ہوتا تو ابو کے ساتھ جاتا۔ یہ واقعہ میرے ذہن سے محو ہو ہی چلا تھا کہ ایف ایس سی کے دوران اسی مسجد میں جانا ہوا۔ جماعت کھڑی ہوچکی تھی۔ بھاگم بھاگ جو جماعت کے ساتھ ملا تو ایک مانوس سی روتی ہوئی آواز میں “اللہ اکبر”، “سمع اللہ لمن حمدہ” سنا۔ بےاختیار نماز میں ہی مسکراہٹ  نے آن گھیرا اور بقیہ نماز اسی واقعہ کی جزئیات یاد کرتے کرتے مکمل کی۔ چور آنکھوں سے حضرت کو دیکھا۔ اور پھر گھر آگیا۔ گھر والوں کو یہ قصہ سنایا۔ اور بہت لطف لیا۔
لاہور  کے ابتدائی قیام کے دوران ایک دن بابا نے بتایا کہ یار وہ فلاں شخص فوت ہوگیا ہے۔ میرے ذہن میں وہ آدمی موجود نہ تھا تو بابا نے نشانی کے طور پر بتایا کہ یار وہ کبھی کبھار امامت بھی کرواتا تھا ا وراذان بھی دے دیا  کرتا تھا۔ یہ سننا تھا کہ  سر شرمندگی سے جھک گیا۔ تو وہ یک چشم گُل گزر گیا۔ احساس ندامت نے آن گھیرا۔ پہلی بار  سوچ بیدار ہوئی ، اس سے معافی ہی مانگ لیتا۔ وہ بچپن کی نادانی سمجھ کر معاف کر دیتا۔ موقع گنوا دیا تو نے۔ دل نے بہت ملامت کی۔ اب آپ احباب اگر یہ سمجھیں کہ میں اس بات سے سدھر گیا اور جا کر اس کی قبر پر معافیاں مانگنے لگا تو آپ شدید غلط فہمی کا شکار ہیں۔ بس تبدیلی یہ آئی کہ جب میں کسی کو یہ واقعہ سناتا تو آخر میں ایک سنجیدہ سی شکل بنا کر یہ بھی کہتا ، یار، اور آج وہ زندہ ہوتے تو میں ان سے معافی مانگ لیتا۔ اگرچہ کبھی کبھار مجھے لگتا کہ اس شرارت پرمجھے  کوئی ندامت نہیں ہے۔
گزشتہ سال چھوٹی عید کی بات جب ہم سب عید نماز کے لیے مسجد پہنچے۔ بابا امام سے عید ملے بغیر مسجد سے نہیں نکلتے سو اس دن ہم ایک خلقت سے بغلگیر ہوتے ہیں۔ یہ بغل گیر ہونے کا عمل بھی ایسا ہوتا ہے کہ پتا نہیں چلتا کس کس سے عید مل لی ہے۔ سب سے ملتے ملتے جب  محراب تک پہنچے تو امام صاحب سے عید ملنے سے  پہلے مجھے ایک شخص بڑی گرمجوشی سے عید ملا۔ میں نے  بزرگ کو دیکھا تو ان کی آنکھ کو کوئی مسئلہ تھا۔ وہ بڑی گرمجوشی سے مجھے کہنے لگے۔ کیسے ہو؟ اسلام آباد ہی ہوتے ہو؟ میں ان سے کہا جی، ابھی چند دن قبل لاہور منتقل ہوا ہوں۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔ مسجد سے نکلتے ہی میرا اور بابا کا مکالمہ کچھ یو ں ہوا۔
میں: بابا! یہ شخص تو فوت ہو چکا تھا؟بابا: یہ کب کی بات ہے؟میں: آپ نے مجھے بتایا تھا۔بابا: تمہیں دھوکا ہوا ہے۔میں: میں اتنے عرصے سے ہر کسی کو کہہ رہا ہوں کہ یہ فوت ہوچکا ہے۔ اور اگر یہ زندہ ہوتا تو میں اس سے معافی مانگ لیتا۔بابا: عجیب آدمی ہو تم۔۔۔۔۔ (ہنستے ہوئے) ۔۔۔ پتا نہیں کس کی قبر میں کس کو لٹا رکھا ہے۔  چھوٹے بھائیوں کا ایک مشترکہ فلک شگاف قہقہہ۔اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ اب کسی کو واقعہ سناتے وقت کیسے کہوں گا، "یار! اگر آج وہ زندہ ہوتے تو میں ان سے معافی مانگ لیتا۔"

بلاعنوان

کچھ عرصہ قبل لاہور ایکسپو سینٹر میں ایک عالمی کتاب میلے کا انعقاد ہوا۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی سے راقم کو بھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا اور کافی سارے روپے ان کتابوں پر ضائع بھی کر بیٹھا۔ اللہ مجھے ہدایت دے۔ وہیں پر ان آنکھوں نے کچھ ایسے مناظر دیکھے کہ روح سرشار اور دل باغ باغ ہوگیا۔ داخل ہوا تو ہر طرف کتابیں ہی کتابیں اور ان کتابوں کے ساتھ سیلفیاں بناتے لوگ۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ ایک آدھی تصویر میں بھی کھینچوں گا مگر احساس ہوا کہ یہاں کتابوں کا نہیں سیلفیوں کا عالمی میلہ لگا ہے تو اپنے ارادے کو ترک کر دیا۔ دل کو تسلی دی کہ کسی نہ کسی کی سیلفی میں شاید پیچھے سے گزرتا ہوا یا کھڑا میں بھی آگیا ہوں گا۔ سو اب چنداں ضرورت نہیں رہی۔ خیر یہ قصہ نہ تو سیلفیوں کا ہے اور نہ ہی اس عالمی  میلے کی روداد لکھنا میرا  مقصد۔ہوا یوں جب میں اس کتاب میلے سے واپس جانے کو تھا تو جناب امیر نے اپنی آمد کی اطلاع دی۔ اور پھر ان کے ساتھ  کتب سٹالز کا طواف نئے سرے سے شروع کیا۔اس طواف کے دوران امیر صاحب ایک سٹال کے اندر گھس گئے۔ اور لگے کتابیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے۔ میں چونکہ پہلے ہی طواف کر چکا تھا اور اپنی دلچسپی کی کتب خرید چکا تھا اس لیے سٹال کے سامنے کھڑا  اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔ اسی اثناء میں اس سٹال پر ایک نازک اندام اپنی والدہ کے ہمراہ جلوہ افروز ہوئی۔ اور کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ سٹال پر سامنے ہی کشف المحجوب ایک مقدس کتاب کی طرح پلاسٹک کی تھیلی میں بند تھی۔ شاید صاحبِ سٹال کا خیال ہو کہ گھٹن کی وجہ سے یہ کتاب یہاں سے بھاگ نہ جائے۔ ورنہ باقی کتابوں کو اس طرح قید نہ کیا گیا تھا۔ کتاب پر واضح الفاظ میں "کشف المحجوب" لکھا نظر آرہا تھا۔ اور نیچے "حضرت علی ہجویری رحمتہ اللہ"  جگمگا رہا تھا۔ اس لڑکی نے کتاب کو اٹھایا  اور صاحب سٹال کی طرف کرتے ہوئے۔ کیا میں اس کو باہر نکال کر دیکھ سکتی ہوں۔ صاحبِ سٹال نے کمال فراخدلی سے کور سے باہر نکال کر محترمہ کے آگے کی۔ محترمہ نے اپنی والدہ سے کہا۔ "عجیب سا ہی نام ہے۔  " اور درمیان سے کھول کر دیکھنے لگی۔ اس کی والدہ نے جواباً کچھ کہا جو راقم کی سماعتوں کو سرفراز نہ کر سکا۔ بہرحال لڑکی نے بمشکل چند سیکنڈ کتاب دیکھی۔ اور پھرانتہائی حقارت بھرے انداز میں  کہا۔ "عجیب ہی کتاب لگ رہی  ہے۔" اورواپس رکھ کر  عہد حاضر کا ایک معروف تین کلوگرام وزنی ناول اٹھا لیا۔

عدم دلچسپی

منظر:میں دفترجانے کے لیے جوتے پہن رہا ہوں۔میرا بیٹا "محمد زین العابدین" صوفے پر بیٹھا اپنی نئی کھلونا کار کو انتہائی انہماک سے دیکھ رہا ہے۔
مکالمہ:میں: زین بیٹا! کیا  کر رہے ہو؟زین العابدین: صوفے سے اٹھ کر میرے پاس آتے ہوئے۔ پاپا! آپ کو پتا ہے؟میں: کیا بیٹے؟زین العابدین: ہم جو بھی چیز لیتے ہیں۔ وہ دو تین دن میں پرانی ہوجاتی ہے۔ مجھے اس  بات کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ سو وقتی طور پر میں فوری جواب نہ دے سکا۔ مجھے خاموش دیکھ کر زین العابدین نے اپنی گاڑی میرے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔ پاپا! میری ساری گاڑیاں پرانی ہوجاتی ہیں۔میں چاہتا ہوں  یہ کبھی پرانی نہ ہوں۔ 
22 جولائی 2017

سوشل میڈیائی لطائف اور ہم

ایک کام میں مصروف تھے کہ میز پر پڑا فون کپکپا اٹھا۔ اب معلوم نہیں کہ کپکپاہٹ سے خوف نمایاں تھا کہ یہ خوشی کی لہر تھی۔ فون اٹھایا تو دیکھا ایک دوست نے وٹس ایپ پر ایک لطیفہ بھیجا تھا۔ لطیفہ اچھا تھا۔ سو ہم نے جواباً "ہاہاہاہاہا" کا میسج اس کو بھیج دیا۔ تاکہ سند رہے لطیفہ وصول پایا ہے اور پڑھنے والے نے اس سے حظ بھی اٹھایا ہے۔ ابھی چند ثانیے ہی گزرے تھے کہ فون دوبارہ کپکپا اٹھا۔ دیکھا وہی لطیفہ کسی نے ایک وٹس ایپ گروپ میں شئیر کر رکھا تھا۔ مروتاً ایک دانت نکالتا ہوا شتونگڑہ وہاں رسید کیا ۔ ابھی فون واپس نہ رکھا تھا کہ ایک اور گروپ ٹمٹما اٹھا۔ دیکھا تو اس گروپ میں ایک حسین و مہ جبیں نے وہی لطیفہ پھینکا تھا۔ حسن کونظر انداز کرنا جتنی بڑی گستاخی ہے اس کے ہم ہرگز متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ سو فوراً سے پیشتر دو چار ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے شتونگڑے باقاعدہ اقتباس لے کر رسید کیے تاکہ کوئی اور بدمذاق یہ نہ سمجھے ہمیں اس کی بات پر ہنسی آئی ہے۔ ہنسی بہ حق دار رسید ۔کام سے فارغ ہو کر سوچا کہ کچھ دیر آستانہ فیس بک پر حاضری دے لی جاوے۔ ابھی اطلاعاتی صفحہ پر لوگوں کی کارستانیاں ابھرنی شروع ہوئی تھیں کہ ایک پرانا لطیفہ نئے سنجیدہ لطائف کے درمیان جگمگاتا نظر آیا۔ اس لطیفے سے جڑی کئی یادیں آگئیں۔ ہم نے بےاختیار ہو کر "ہاہاہا" کا شتونگڑہ رسید کیا۔ اور آگے کو چل دیے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہی لطیفہ ایک اور پرانے دوست نے بھی شیئر کر رکھا ہے۔ فوراً  لعن طعن کی۔"یہ کیا حرکت ہے؟ کبھی کوئی سنجیدہ بات بھی کر لیا کر۔ یہاں تم لوگوں نے تھیٹر لگایا ہوا۔ اور قبل مسیح کے لطائف سنا کر ہنسانے کی کوشش کرتے ہو۔"اس کو ڈانٹ پلا کر ایک فخر کا احساس جاگا۔ شرم آرہی ہوگی اب اسے۔ دل میں شرمندہ ہو رہا ہوگا۔ کہ واقعی کتنا پرانا لطیفہ شئیر کیا ہے۔ اپنے آپ کو داد دیتے ہوئے ذرا سا صفحہ آگے بڑھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ کسی انجان حسینہ نے ایک فیس بکی گروپ میں وہی لطیفہ تازہ تازہ ارسال فرمایا ہے۔ تصویریں دھوکا ہیں۔ ان پر اعتبار مت کیجیو۔ مگر ہائے۔۔۔۔ دل ہی تھا پگھل گیا۔ کئی الٹے سیدھے شتونگڑے بنائے۔ اور عرض کی۔" کیا کمال لطیفہ شریک کیا ہے۔ واہ واہ۔۔۔ بھئی لوگ بھی کیا سوچتے ہیں۔۔۔ ہاہاہاہا۔ آج ہی پڑھا۔ بلے بلے۔۔۔"داد و تحسین کے ڈونگرے برسا کر ابھی واپس بھی نہ پلٹے تھے کہ انہی موصوفہ نے ہمارے تبصرے پر ایک لال سرخ سہاگن قسم کا  "دل" ارسال کر دیا۔ بس بےارادہ ہی  آئندہ سے ہمیشہ اس حسینہ کے لطیفوں پر ہنسنے کا ارادہ فرما لیا تھا۔فیس بک سے فارغ ہو کر سوچا پیر ٹوئٹر شریف کے درشن کیے بھی مدتیں بیت گئی ہیں۔ وہاں قدم رکھا ہی تھا کہ ایک دوست نے وہی لطیفہ تصویری شکل میں لگا رکھا تھا۔ ہنہ۔ ہم نے ہنکارہ بھرا۔ نظرانداز کر کے آگے بڑھے تو پھر ایک حسینہ کی طرف سے وہی تصویر نظر آئی۔۔۔۔۔۔اطلاعاتی صفحہ وہیں ٹھہر گیا۔۔۔۔۔۔  و علی ہذا لقیاس

یکے از خواجگان

شہرِ اقتدار سے شہر زندہ  دلان بسلسلہ روزگار منتقلی نے مجھے  شب کا مسافر بنا دیا تھا۔ اور اس شاہراہ پر میرے ساتھ بہت کم ہی مسافر تھے۔ یوں سمجھیے ،  راقم القصورہی ان اولیں لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ادارہ مذکورہ میں شب بیداری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اور سفرِ شب کے رموز و فوائد  آشکار کیے۔ طلب سچی اور راہ سیدھی ہو تو کارواں بنتے دیر کب لگتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان شب بیداری کے اس سفر میں ہمسفر بننے لگے۔ رات کو دن کا سماں رہنے لگا۔ انہی دنوں میری  ملاقات خواجہ صاحب سے ہوگئی۔" خواجہ" لفظ سے میری  عقیدت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔بزرگان دین کے ناموں کے ساتھ لگے اس لفظ نے  ذہن پر ایک ان دیکھی سی چادر تان رکھی تھی۔ پردہ تصور اس لفظ سے   ہمیشہ   سادگی و انکساری کا  پیکر ابھرتا۔ چشم تصور میں اس لفظ کے ساتھ ہی نیکی، انسانیت اور محبت کے ایک ایسے وجود کی تصویر ابھرتی، جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ لیکن بھلا ہو یکے بعد دیگرے ملنے والے خواجوں کا۔ جنہوں نے اس تصور کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ پہلے پہل تو ایک آدھے "خواجہ" کو اپنے خیالی تصور سے یکسر مخالف سمت میں پایا تو یہ کہہ کر دل کو تسلی دی  "پسر نوح بابداں بہ نشست خاندان نبوتش گم شد" ۔ لیکن بات جب ایک دو سے بڑھ چلی تو محسوس ہوا ،  جانے انجانے یہ عقیدت اس لفظ سے کم سے ہو چلی ہے۔چھوٹے قد، چھوٹے بالوں میں، چھوٹا  چہرہ لیے،چھوٹے سے  خواجہ صاحب کو جب راقم نےپہلی بار  دیکھا تو دل میں یہ خیال آیا کہ وہ "خواجہ" جن کا وجود آج کے گمراہ دور میں خیال ٹھہرا ہے؛ مجسم ہو کر ہمارے سامنے آگیا ہے۔پرانے چند ناخوشگوار واقعات کے سبب  عقیدت نے ہماری آنکھوں پر پٹی نہیں باندھی لیکن دل نے ایک تھپکی ضرور دی۔ مورکھ! دیکھ کیا رہا ہے۔ پائے لاگو کر لے۔ دل کو کسی طور سمجھا لیا۔ کہ چند دن، چند دن ۔ خواجہ صاحب سے کچھ دل کی باتیں کریں۔ مرشد کامل ہوا تو ہم نے پلہ کیوں چھوڑنا۔ ارادت مندوں میں تو زبردستی شامل ہوجائیں گے۔ ہائے۔۔۔۔ یہ گناہ گار ذہن اور معاشرے کا چلن۔ کیسے نیک نیک لوگوں کے بارے میں کیسے کیسے گمان ذہن  میں آجاتے ہیں۔خواجہ صاحب تشریف لاتے۔ ایک چادر میز کے کونے پر ٹکاتے۔ ایک ٹوپی بھی تھی شاید۔ جو کسی نے خواجہ صاحب کو بھلے وقتوں میں پہنا دی تھی اور خواجہ صاحب اس یاد کو سر پر سجائے رکھتے تھے۔ سیٹ پر تشریف رکھتے۔ ایک ادائے بےنیازانہ سے اپنے کام کا آغاز کرتے۔ ہم جیسے راندہ درگاہ قسم کے لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لیے ہیڈ فون لگا لیتے۔ کچھ منقبت وغیرہ سنتے ہوں گے۔ اللہ لوگوں کے بھید کون کھول پایا ہے۔ رات کا پہلا پہر ڈھلنے کے بعد تشریف لاتے۔ اور دوسرا پہر ڈھلنے سے قبل   غائب ہوجاتے۔ چادر بھی غائب ہوجاتی۔ کیا منظر ہوتا تھا۔ اللہ اللہ ۔ مدتوں  اسی کافرانہ گمان کا شکار رہے کہ کسی خالی کمرے میں جا کر چادر اوڑھ کر سوجاتے ہوں گے۔ یہ خیال ایسا کوئی ذاتی بھی نہ تھا۔ لوگ کہتے ہیں تو کیا بے سبب کہتے ہوں گے مصداق ہم نے اس پر کچھ کچھ یقین بھی کر لیا مگر بغیر تحقیق کیے ایسے کافرانہ خیالات رکھنا یقینی طور پر ایک قابل گرفت عمل ہے۔ اور راقم الحروف تو بزرگی کے منصب پر بھی  فائز نہیں تھا کہ یہی کہہ کر جان چھڑا لے خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔یوں تو خواجہ صاحب سے آتے جاتے ہم چونچیں لڑایا ہی کرتے تھے مگر جب وہ مصروف ہوں تو اس وقت ان کو چھیڑنے کا ایک الگ سے لطف ہوتا تھا۔ ایک دن جب خواجہ صاحب کام میں گھٹنوں گھٹنوں مصروف تھے راقم نے ہمت کر کےگفتگو کا آغاز کیا ا ور خواجہ صاحب سے ان کی دنیااور اس کے بعد پھر اس ادارے میں آمد کے متعلق سوال پوچھا۔ جواب میں خواجہ صاحب نے پنجابی ایک فصیح و بلیغ گالی سے نوازا۔ایسا نہیں کہ زندگی میں مجھے کسی نے گالی نہیں دی مگر مسئلہ یہ تھا کہ یہ کام بہت بےتکلف دوست ہی کیا کرتے  تھے۔ ٹھنڈے دل سے  جملے میں جب الفاظ و گالیوں کے تناسب پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ یہ گالیاں جملے میں اثر انگیزی کے لیے ٹانکی گئی ہیں۔ تاہم کچھ اس قدر زیادہ تعداد میں ٹانک دی گئی تھیں کہ اصل جملہ قریب غائب ہو چکا تھا اور صرف اثر انگیزی رہ گئی تھی۔ مجھے احمد اقبال صاحب کا جملہ بےاختیار یاد آگیا۔ کہ "اگر بھورے ماموں کی دھوتی کے سوراخوں کا رقبہ جمع کیا جائے تو دھوتی غائب ہوجاتی ہے۔" مختصر گفتگو فرماتے۔ مختصر سے مراد یہ ہے کہ جملہ تو کافی طویل ہوتا۔ تاہم اس میں اصل عبارت بےحد مختصر ہوا کرتی تھی۔   ہر قسم کے قومی نظریے کے مخالف تھے اور خود کو قوم پرست بھی سمجھتے تھے۔ یہ ایک عجیب تضاد تھا جس کا راز آج تک راقم پر نہیں کھلا۔ خود ہی نیشنلزم، کیپٹلزم  اور سوشلزم پر درس دیتے۔ خود ہی سوال کر کے جواب دیا کرتے تھے۔ اور پھر خود ہی ان نظریات کو رد کر کے کہہ دیا کرتے تھے کہ خطیب کیسا بیوقوف آدمی ہے۔ اور ہمارے پاس سوائے  ہاں میں ہاں ملانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔رفتہ رفتہ میں خواجہ صاحب کو اور خواجہ صاحب  مجھے سمجھنے لگے۔ایک دن جوش خطابت میں مسلم حملہ آوروں کو برا بھلاکہہ رہے تھے۔ دورانِ خطاب فرمانے لگے یار دیکھو ہمارے اسلاف کی معصومیت۔ اچھے بھلے اونچی ذات کے برہمن تھے۔ مسلم ہو کر شودر ہوگئے۔ ہم نے عرض کی حضور، آپ کے اسلاف کو بھی چاہیے تھا کہ بحث کرتے۔ کہتے ادھر سے مندر چھوڑیں گے تو ادھر پیری کی مسند پر بیٹھیں گے۔ سر جھٹک کر فرمانے لگے۔ اس وقت یہ راز کب کھولے تھے انہوں نے۔ یہ رمزیں تو کہیں بعد جا کر پتا چلیں۔ دھوکے سے لٹ گئے۔اس سے احباب اگر یہ اندازہ لگائیں کہ خواجہ صاحب پرانے مذہب کے لیے کوئی نرم جذبات رکھتے تھے تو آپ سراسر غلطی پر ہوں گے۔ مذہب و غیر مذہب الغرض تمام حلقوں کے لیے ان کا رویہ ایک ہی تھا۔ ایک دن عالم وجد میں راقم سے فرمانے لگے۔ بھلے مانس! زندگی میں کبھی کسی مولوی کی بات پر اعتبار نہ کرنا۔ عرض کی۔ سیدی! آپ کے بارے میں کیا حکم ہے۔ تو ایک عارفانہ ہنسی کے ساتھ بولے۔ خدا گواہ ہے کہ تم میری کسی بات کا یقین نہیں کرتے۔ راقم نے عقیدت میں اس بات سے بھی انکار نہ کیا۔لیکن مدعا عرض کیا کہ روحِ سوال یہ تھی "خودرافصیحت، دیگران رانصیحت"۔ تو ہنستے ہوئے کہنے لگے "ہرکس سلیقہ ای دارد" ۔ ہم کج فہم بھی ہنس پڑے۔ بھید نہ پا سکے۔خواجہ صاحب ہر اس بات کے خلاف تھے جو ایک عامی کےمعیارِ عقل و شعور   پر پوری اترتی تھی۔ پہلے پہل راقم کو خیال گزرا کہ شاید یہ مخالفت بہت زیادہ علم و عملیات کے سبب ہے۔ تاہم خواجہ صاحب نے اس خوش فہمی میں بھی زیادہ عرصہ نہ رہنے دیا۔ ایک دن گفتگو کے دوران ایک معروف کتاب پر بحث چھڑ گئی۔ لائبریری میں وہ الماری، جس میں کتاب دھری تھی،  اس کے سامنے سے راقم کا بارہا گزر ہوا تھا۔ ادھر خواجہ صاحب  کے ایک دوست نے وہ کتاب باقاعدہ پڑھ رکھی تھی۔ الغرض دونوں ان مسائل پر بہت دیر تک بات کرتے رہے جن کا اس مصنف کو کما حقہ ادراک نہ تھا۔  ایک دن فرمانے  لگے۔ مجھے دو قسم کے لوگ بہت برے لگتے ہیں۔ ایک وہ جو سرِورق دیکھ کر کتاب کے بارے میں ثقیل و طویل تبصرے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ  سوشل میڈیائی  جو قول کا ذائقہ چکھ کر کتاب کے بارے میں بےلاگ تبصرہ فرماتے ہیں۔ راقم نے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ درحقیقت آپ ایک ہی قسم کے لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ تو کہنے لگے۔ نہیں میاں! دو مختلف باتیں ہیں۔ تم کو غور و فکر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے کافی غور کیا مگر کوئی خاص فرق معلوم کرنے سے قاصر رہے۔ تادم است غم است۔مالِ دنیا کے مآل سے واقف تھے سو ظاہری ہیئت کی چنداں پرواہ نہ کیا کرتے۔ ایک جینز اور ٹی شرٹ جو میلی ہوتی تو الٹی کر کے پہن لیتے۔ فرماتے میاں ! مالِ دنیا چرک دست است۔ راقم نے عرض کی تو ساری میل ہاتھ پر ہی جمع رکھیں گے۔ کچھ اتار بھی پھینکیے۔ اس پر غصہ میں آگئے۔ بڑی دیر غصہ رہے۔ لیکن اگلے دن بھی اسی حلیے میں دیکھ کر عرض کی کل کے غصے کا کیا ہوا۔ فرمانے لگے کہ تمہارا غصہ ان بےجان چیزوں پر کیوں اتاروں۔ ان کو خود سے دور کیونکر کروں۔ شاعر آدمی تھے اور پیٹر تخلص کرتے تھے ۔ مخطوطات بھی زبانِ فرنگ ہی میں تھے۔ جن میں اکثریت بنیادی اخلاقیات کے لیے زہر قاتل تھے۔ خود فرماتے تھے کہ میری گزارشات  ناپختہ ذہن کے لیے موت ہیں  اور پختہ کے لیے مخطور۔ واللہ کیا کیا راز کھولا کرتے تھے۔ ایک دن راقم نے پوچھ ہی لیا کہ "پیٹر" ہی کیوں۔ کہنے لگے ایک تو اس سے "انٹیلکچوئل پُنے" کا گمان ہوتا ہے دوسرا اس لیے کہ دیار فرنگ کے بےشمار ناموں سے ہمارے ہاں یہی معروف ہے۔ توجیہ اچھی تھی راقم نے بھی اعتراض نہ کیا۔ خود اپنی جان سے ہاتھ دھونے  کا اندیشہ نہ ہوتا تو ان کا کوئی مخطوطہ  "فی سبیل اللہ فساد" کے لیے ضرور شریک کرتے۔ بلکہ تحریر کیا۔ ان کا تو ایک آدھا قول ہی ہمیں وجود سے عدم کی طرف منتقل کرنے کو کافی ہے۔ خواجہ صاحب کی ذات باکمال کے متعلق بالا گفتگو تو مشے نمونے از خروارے ہے۔  زندگی رہی تو خواجہ صاحب کی رمز بھری زندگی سے کچھ سنہرے واقعات عوام کی ہدایت اورعبرت کے لیے کبھی پیش کیے جائیں گے۔
نوٹ: اس خاکے کے تمام کردار تخیلاتی ہیں۔ کسی بھی قسم کی سو فیصد مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی۔

خانہ پوری یا سیکیورٹی

کل ایک دفتری ساتھ تشریف نہیں لائے۔ یوں ہی باتوں باتوں میں ہم نے خیریت دریافت کی تو پتا چلا کہ بروز جمعہ   نصف شب کے قریب  جب وہ دفتر سے نکلے تو جین مندر کے پاس انہیں پولیس والوں نے روک لیا۔ اور کہا کہ موٹر سائیکل ایک طرف لگا دیں۔ انہوں نے کاغذات وغیرہ چیک کروائے تو پولیس والوں نے کہا کہ بھئی! کاغذات سے کوئی سروکار نہیں۔ موٹرسائیکل بند ہوگی۔ یہ صاحب بہت حیران ہوئے۔ ان کے علاوہ بھی وہاں کوئی دس پندرہ موٹرسائیکل سوار تھے۔ ان سب کو بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل تھانے میں بند ہوگی۔ اس کے بعد آپ اپنے گھروں کو جائیں۔ مزید کریدنے پر پتا چلا کہ ایسٹر کی وجہ سے دہشت گردی کا خطرہ ہے اور لاہور پولیس موٹرسائیکلیں بند کر رہی ہے۔ بیچاروں نے بہت عرض گزاری اور منت کی کہ بھئی رات کے اس پہر کدھر کو جائیں گے۔ لیکن پولیس والوں نے نہ سننی تھی نہ سنی۔فرماتے ہیں کہ آخر جب میں عرض گزاری ضرورت سے زیادہ بڑھی تو ایک پولیس والا تنگ آکر بولا کہ یار! ہمیں ڈیڑھ دو سو موٹر سائیکل بند کرنے کا حکم ملا ہے۔ اور وہ ہم نے ہر صورت بند کرنی ہے۔ اس بات پر  ایک دوسرے ساتھی کسی اور تہوار کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اُس رات میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اور جب میں پولیس وین میں بیٹھ کر تھانے اپنی موٹر سائیکل بند کروانے جا رہا تھا تو تھانے سے بار بار سپاہیوں کو فون آرہے تھے کہ ابھی تک صرف پندرہ موٹرسائیکلیں آئی ہیں۔ اور یہ فون پر جواب دے رہے تھے ۔۔۔ "سر جی! لے کے آندے پئے آں۔ رستے اچ ہے گے آں۔" ہمارے ملک کے حالات جیسے بھی ہیں یا ہوں گے، لیکن سیکیورٹی کے نام پر عوامی سیکیورٹی سے مذاق، خانہ پوری، اور عوام کو ذلیل کرنے کا یہ طریقہ  انتہائی قابل مذمت  اور شرمناک حد تک گھٹیا ہے۔ 

شکریہ

بڑے دنوں سے یہ بات میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی کہ جب سے لاہور آیا ہوں دوستوں کے ساتھ  مل بیٹھنے کا وقت ہی نہیں مل رہا۔ چارلس ہنسن کی نظم "آراؤنڈ دا کارنر" بھی یاد آرہی تھی۔ معمولاتِ زندگی میں اب وقت کیسے نکالا جائے۔ کیسے ملا جائے سب سے۔ پھر یہ سوچ کر دل بہلا لیتا کہ شاید اب  بالمشافہ ملاقاتوں کا زمانہ بھی اٹھنے والا ہے۔ کوئی دور تھا  ہر وقت ساتھ ہوتے تھے۔ دن رات ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ کر اکتائے رہتے تھے۔ اور اب مہینوں ملاقات ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ مہینوں کیا۔۔۔ کئی ایک  شکلیں تو  ذہن سے محو ہوئی جاتی ہیں۔ کیسا خوشنما دور تھا۔ کوئی فون کرتا تو کہتے ریسور رکھ۔ اور چند منٹ بعد اس کے گھر کے باہر کھڑے ہوتے۔ کیسا آسان تھا ملنا۔ یہ بھی خوف نہیں ہوتا تھا کہ اب بس وقت ختم ہونے والا ہے۔ اب اٹھ کر واپس بھی جانا ہے۔ کتنی ہی راتیں  یوں سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھے بیٹھے کاٹ دیا کرتے تھے۔ کیسا دلچسپ دور تھا۔
 آج جب فرقان مدتوں بعد ملنے آیا تو مجھے وہی دور دوبارہ یاد آگیا۔ کتنا مشکل ہے جب دیار غیر سے آدمی پلٹ کر آئے۔ اور پھر لاہور اس کا شہر بھی نہ ہو۔ اور وہ وقت نکال کر صرف اور صرف ملنے آئے۔ اپنے اس چند روزہ قیام میں ہمارے لیے وقت نکال کر لائے۔ بتلائے کہ نہیں دوست! ملاقاتوں کا دور ابھی گیا نہیں ہے۔ ابھی ہم ادھر ہی ہیں۔ ویسے ہی۔ کیا ہوا جو سنجیدگی نے ہمارے چہروں پر ڈیرہ جما لیا ہے۔ کیا ہوا جو مہینوں کے حساب سے ہم ایک دوسرے کو فون تک نہیں کرتے۔ مگر ہم ہیں۔ ادھر ہی اسی جگہ۔ ہوں گے جو وقت کی پکار پر تیز رفتار زندگی کے ساتھ آگے نکل گئے ہوں گے۔ مگر ہم پرانی قدروں   کے ہی گرویدہ  ہیں۔ ہمارے لیے آج بھی ملاقات کا مطلب جا کر ملنا ہی ہے۔ کچھ پل کچھ لمحے جو ساتھ گزر گئے۔ کتنی ہی انمٹ یادوں کا نشاں چھوڑ گئے۔ ذہن کے قبرستان سے   کیسے کیسے مناظر دوبارہ زندہ کر گئے۔ میں تمہاری ان محبتوں کے لیے بہت شکرگزار ہوں۔ سدا خوش رہو۔

عجب تعلق

کچھ تعلق بہت عجیب ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ یہ یوں ہی بن جاتے ہیں۔ ان کہے، ان سنے۔ ان کی اپنی ایک چاشنی ہوتی ہے۔ آپ سامنے والا کا نام نہیں جانتے۔ وہ آپ کا کام نہیں جانتا۔ لیکن اس کے باوجود ایک آشنائی کی صورت قائم رہتی ہے۔ ایسے تعلقات گفتگو کے متقاضی نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کے درمیان ایک لگا بندھا سا  رشتہ ہوتا ہے۔ بہت ہی عمومی سا۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے نام مجھے نہیں آتے۔ ان کو یقینی طور پر میرا نام نہیں آتا ہوگا۔ لیکن ہمارے درمیان ایک  ان کہا دوستانہ سا موجود ہے۔

 بچپن میں لائبریری کے لیے نکلا کرتا تھا۔چونکہ پیدل جانا ہوتا تھا تو شارٹ کٹ کے چکر میں   محلے کے بیچ سے گزرتی  گلیوں سے ہوتا لائبریری جاتا تھا۔ دو تین گلیاں گزرنے کے بعد ایک گھر کے باہرایک چھوٹا سا سٹال آتا تھا۔ اس سٹال پر ایک ہم عمر نے بسکٹ، ٹافیاں یا ضروریات زندگی کا کچھ سامان رکھا ہوتا تھا۔ میں اس دکان پر رکتا ،  رسیلی سپاری خریدتا  اور آگے لائبریری کی طرف نکل جاتا۔ شب و روز گزرتے چلے گئے۔ بڑا ہونے پر  بابا نے مجھے سائیکل دلا دی۔ یوں پیروں کی جگہ پیڈل نے لے لی۔ ۔ اُدھر  اس لڑکے نے اپنے گھر کی بیٹھک کو ہی دکان بنا لیا تھا۔  کچھ اور سامان بھی رکھ لیا تھا۔ میں جیسے ہی اس کی دکان کے سامنے پہنچتا، تو وہ بن کہے  ایک مخصوص رقم کی سپاری میرے سامنے دھر دیتا۔ ادھر میری مٹھی میں وہی رقم ہوتی جو میں نے اس کو دینی ہوتی تھی۔ میں کاؤنٹر پر رقم رکھ کر سپاری اٹھا کر آگے نکل پڑتا۔کالج کے بعد  صادق آباد چھوڑ دیا۔ وہ راستے، لائبریری سب کچھ پیچھے رہ گیا۔ لائبریری بند ہوگئی۔ کیسے اور کیوں بند ہوئی۔ یہ گفتگو  الگ سے طویل تحریر کی متقاضی ہے۔ تاہم ابھی کچھ دن قبل  گھر بیٹھا تھا کہ امی نے مجھے بازار سے کچھ لانے کا کہا۔ میں نے سوچا چلو پیدل ہی چلتے ہیں۔ بازار ان گلیوں سے بہت قریب تھا۔ اندازاً بھی پندرہ برس کے بعد میں انہی گلیوں سے گزرنے کا قصد کر رہا تھا۔  چلتے چلتے میں جب اس دکان کے سامنے پہنچا تو بےارادہ ہی رک گیا۔وہ چھوٹی سی دکان ایک جنرل سٹور بن چکی تھی۔  وہی لڑکا وہاں خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔ میری طرح وہ بھی موٹا ہو چکا تھا۔ عمرِ رواں کی دی ہوئی لکیریں اس کے ماتھے پر بھی ابھر آئی تھیں۔ مجھےدیکھ کر اس کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ ابھر آئی۔ وہ کاؤنٹر سے باہر نکلا۔ بڑی گرمجوشی سے گلے ملا۔ اور پہلی بار میں نے شاید اس کی آواز سنی تھی۔ "کہاں چلے گئے تھے تم"؟ بس فکر روزگار کھینچ کر لے گئی تھی۔ میں نے جواب دیا۔ "موٹے ہوگئے ہو۔ " اس نے ہنس کر کہا۔ اور پھر اپنی توند پر ہاتھ پھیر کر اور بھی ہنسنے لگا۔ "سپاری اب بھی کھاتے ہو؟" " نہیں۔ دو سال قبل چھوڑ دی تھی۔ اس وقت  سونف کھاؤں گا ۔" میں نے کہا۔ اس نے سونف مجھے پکڑا دی۔ میں نے روپے دینے کی کوشش کی تو کہنے لگا۔ رہنے دو۔ میں نے زبردستی ادائیگی کی۔دعائیہ کلمات کا تبادلہ کیا اور بازار کی طرف چل پڑا۔
اب مجھے یہ خیال آرہا  ہے کہ میرا تعلق بھی سال کے آخری دن سے ایسا ہی ہے۔ آخری دن آتا ہے۔ میں اپنی عمر کی الماری سے بارہ مہینے نکال کر سامنے رکھ دیتا ہوں۔ وہ بدلے میں چند لمحے، کچھ پل، خوشی غمی کے مجھے تھما دیتا ہے۔ میں کہتا رہ جاتا ہوں۔ مجھے یہ یادیں نہیں چاہییں۔ یہ چھبن یہ نادانی لے جاؤ۔ اگر تم پلٹ کو تو یہ فیصلہ میں بدلنا چاہتا ہوں۔ وہ  مسکرا دیتا ہے۔میرا کاندھا تھپکتا ہے۔ آنے والے کے استقبال کا کہتا ہے اور آگے نکل پڑتا ہے۔ میں کتنی دیر تک اسے جاتا ہی دیکھتا رہ جاتا ہوں۔ اور پھر ان یادوں کو سمیٹ کر حافظے کی دراز میں رکھ دیتا ہوں۔ کتنے سال ہیں جوآخری دن بھی  مجھ سے ملنے ہی نہیں آئے۔ ان   کی درازیں خالی پڑی ہیں۔پھر مدتوں بعد جب کوئی سال مجھ سے ملنے آیا تھا۔ تو میں بھی کتنے تپاک سے اسے ملا تھا۔ کہاں رہ گئے تھے تم۔ ایسا ہی کچھ سوا ل میرا بھی تھا۔ اس کا جواب یاد نہیں۔شاید وہ ہنس پڑا تھا۔ میرے بیوقوفانہ سوال پر۔ کسی کسی دراز میں اب   کہیں کوئی ایک واقعہ ہے۔ کہیں کسی خوشی کے استعارے بھی ہیں۔   اب یہ  درازیں بھرنے لگی ہیں۔ امسال  ان یادوں کی درازوں میں دوائیوں اور تشخیصی نسخوں کا بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔ سوال و جواب جو تشنہ تھے۔ ملاقاتیں جو ادھار تھیں۔ ارادے جو ادھورے رہ گئے ہیں۔ ان کہی باتیں جو کہیں دل  میں ہی رہ گئیں۔ اور کہی ہوئی جو بار سماعت ٹھہریں یا پھر شور میں سماعتوں تک نہ پہنچ سکیں۔ میں ان سب کو حیرت سے دیکھ رہا ہوں۔ کیا خبر کہ اگلے سال کی ادائیگی میں حیرت بھی ہوگی یا نہیں۔

قصہ دوسرے لیپ ٹاپ کا

قصہ دوسرے لیپ ٹاپ کاباب از عینیت پسندیگزشتہ سے پیوستہ
ذرائع سے معلوم ہوا کہ نیا لیپ ٹاپ چند دن میں دے دیا جائے گا۔ دو دن بعد ہارڈ وئیر کے شعبے سے ایک لڑکا سیاہ رنگ کا شاپر سا  اٹھائے ہمارے میز تک آ پہنچا۔قریب آنے پر پتا چلا کہ یہ بیگ نما کوئی چیز ہے۔ غور کرنے پر غلط فہمی دور ہوگئی۔ یہ ایک بیگ ہی تھا۔  ہم نے ایک نظر بیگ پر ڈالی۔ایک دریدہ دہن بیگ۔ جس کی ایک سائیڈ لقوہ زدہ لگ رہی تھی۔ لانے والا  کانوں سے پکڑ کر اس کا منہ سیدھا اور بند کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔  قبل اس کے بیگ کی دریدہ دہنی دیکھ کر ہم منہ پھٹ اور گستاخ ہونے کا الزام لگاتے، ٹوٹی زپ دیکھ کر اس کی معذوری سمجھ میں آگئی۔"یہ کیا ہے؟"  ہم نے کھلے دہن سے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔"لیپ ٹاپ"۔ مختصر جواب ملا۔"کس کا ہے؟" ہم نے دوبارہ سوال کیا۔"اب تمہارا ہے۔" دوبارہ وہی جواب ملا۔ "پہلے کس کے پاس تھا۔ " ہم نے پھر پوچھا۔"اس بات کو چھوڑو۔ بہت سے لوگوں کے پاس رہا ہے۔" اسی روکھے انداز میں دوبارہ جواب دیا گیا۔  ہم خاموش ہوگئے۔ خود کو احساس ہوچلا  تھا کہ ہمارے سوالات  بکرا خریدنے  والے کے سوالات جیسے ہوگئے ہیں۔  ہم نے لیپ ٹاپ کو دیکھے بغیر کہا۔ "اس کو اٹھائیں گے کیسے۔ دہن بندی کا کچھ سبب ہو سکتا ہے؟ " "فی الوقت یہی بیگ ہے۔ گزارہ کرو۔" ٹکا سا جواب ملا۔سوئی دھاگہ مل جائے گا۔ ہم  شاید ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ تھے۔ اب آنے والے کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔  یہ آئی ٹی فرم ہے۔ درزی کی دکان نہیں۔  ہم نے ہنکارہ بھرا۔ اور لیپ ٹاپ کا باہر نکال لیا۔ کئی ایک جگہ زخموں کے گھاؤ تھے ۔ کچھ پرانے مالکین کے دیے تحفے بھی تھے جو اس نے اپنے ماتھے پر تمغوں کی صورت سجا رکھے تھے۔  پاور کا بٹن دبانے پر پہلی بار ہی سکرین روشن ہوگئی۔ دل خوشی سے بھر گیا۔ ہم نے کی بورڈ کی ساری اکائیاں دبا دبا کر دیکھیں۔ سب ہی چلتی تھیں۔ ہم نے اس کے بنائے جانے کی تفصیلات دیکھیں  تو اس کو اپنے پرانے والے سے ایک سال کم عمر پایا۔ ابھی  جانچ پڑتال میں مصروف تھے کہ اس کا سی ڈی روم خود ہی باہر آگیا۔ ہم نے سی ڈی روم بند کرنے  کی بجائے اس لڑکے کو دیکھا جو ابھی تک ہمارے پاس کھڑ ا تھا۔ "یہ نئی سہولت ہے۔ سی ڈی روم کھولنا نہیں پڑے گا۔ "اس نے ہماری نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے کہا۔ "لیکن میں سی ڈی روم استعمال نہیں کرتا۔" ہم نے اپنے آپ کو پرسکون رکھتے ہوئے کہا۔"تو پھر اس کو بند کر دو۔" اس نے بےاعتنائی سے جواب دیا۔گھر جا کر چلایا تو نہ چلا۔ بہت کوشش کی۔ لیکن کوئی بات نہ بنی۔ ایسے ہی بیٹری باہر نکالی تو دیکھا کہ اندر ایک پٹی سے ابھری ہے۔ اس کو دبایا  تو وہ کھٹک کی آواز کے ساتھ ہی نیچے ہو گئی۔ اب بیٹری لگا کر چلایا تو چل پڑا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد اتنا گرم ہو گیا کہ سکرین پر درجہ حرارت کا اطلاع نامہ کھل گیا۔ اور ساتھ ہی خود بخود بند بھی ہوگیا۔ یہ سہولت مجھے پسند آئی کہ گرم ہوجائے تو خودبخود بند ہوجائے۔ ابھی اٹھا کر دوسرے کمرے میں رکھنے جا رہا تھا کہ کوئی وزنی چیز پاؤں پر گرنے سے چیخ اٹھا۔ بیٹری زمین پر پڑی منہ چڑا رہی تھی۔ اس کا لاک خراب تھا۔ اٹھا کر چلو تو نیچے گر جاتی تھی۔ اب روز کا تماشا ہوگیا۔ بیٹری نکالو۔ پٹی دباؤ۔ پھر چلاؤ۔ سکرین کی ہر زوایے پر ریزولیشن  (Resolution)مختلف تھی۔  کچھ جگہ بالکل سفید ہوجاتی تھی۔ اور کچھ جگہ پر کچھ رنگ کم اور کچھ زیادہ ہوجاتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس پر بھی ہاتھ سیدھا ہوگیا۔ اب سکرین کھولتے ہی خوب بخود اس زوایے پر ہاتھ رک جاتے تھے۔ جس پر بہترین نظر آتا تھا۔ گرمی کا حل ایک عدد پنکھا لگا کر دور کر لیا گیا۔  سی ڈی روم والا معاملہ میرے لئے  کھیل سا بن گیا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی کہ اوسطاً میں ہر بیس سیکنڈ بعد خود ہی سی ڈی روم پر ہاتھ مار دیا کرتا تھا۔ چاہے کھلا ہو یا نہ۔  پہلے میں صرف اس کا فین پیڈ چھوڑ کر جانے لگا۔ پھر چارجر اور ماؤس بھی دفتر پڑا رہنے لگا۔ بیگ تو پہلے دن سے ہی میں ذاتی استعمال کر رہا تھا۔ دفتری بیگ وہی پڑا تھا۔ اور آخر آخر یہ صورتحال ہو گئی  کہ لیپ ٹاپ بھی وہیں پڑا رہنے لگا۔ میں البتہ گھر آجایا کرتا تھا۔  ایک دن ایک عمر اور عہدے میں بڑے ساتھی نے روک لیا۔ یہ اٹاری تمہاری ہے۔ اٹاری! ہم نے استفہامیہ انداز میں پوچھا۔ ہاں یہ۔ اس نے میرے  شاندار لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس نے اپنے گستاخ جملوں سے اس بےجان چیز کو جو ٹھیس پہنچائی تھی  مجھے سر تا پا سلگا گئی تھی۔ درجہ حرارت بلند ہونے پر ایک لمحہ مجھے خود پر بھی لیپ ٹاپ ہونے کا گمان گزرا۔ یہ ایک لیپ ٹاپ ہے۔ اٹاری نہیں۔ ہم نے غصے سے کہا۔ اوہ اچھا! معذرت۔ میں سمجھا لیپ ٹاپ ایسے ہوتے ہیں۔ اس نے اپنے والے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔نیا نو دن۔ پرانا سو دن۔ ہم نے استہزائیہ انداز میں کہا۔  دن اور سال کا فرق سمجھتے ہو۔ اس نے  بھی  زہریلی مسکراہٹ سے وار کیا۔ ہم بیٹھ گئے۔ بالکل اس امید وار کی طرح جس کو اپنی ہار کا یقین ہوجائے تو جیتنے والے کے حق میں نتائج سے پہلے ہی بیٹھ جاتا ہے۔ خیر آپ کو کیا مسئلہ ہے اس سے۔ ہم نے  اس کے سوال کی وجہ جاننے کی کوشش کرنے کی کوشش کی۔یہ یہاں کیوں چھوڑ جاتے ہو؟ اس نے پوچھا۔مرضی ہماری۔ ہم نے ابرو اچکاتے ہوئے جواب دیا۔تم اس کو یہاں چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ یہ کمپنی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کو تمہیں ساتھ گھر لے جانا ہوگا  اور اگلے دن لانا بھی ہوگا کہ  یہی اصول برائے شودران ہے۔  اس نے ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا۔اس کی اس بات سے  بےاختیار ہمیں آغا گل کے افسانے کی ایک سطر یاد آگئی۔ "شاب جی! آپ بھی شودر ہیں کیا مسلمانوں کے؟" اور ایک مسکراہٹ ہمارے چہرے پر پھیل گئی۔ مسکرا کیوں رہے ہو۔ اس نے حیرانی سے پوچھا۔"ہم ہنس دیے ہم چپ رہے"، اب ہم اس کو کیا بتاتے، ہمارے دل پر کیا بیت گئی ہے۔ 

قصہ پہلے لیپ ٹاپ کا

قصہ پہلے لیپ ٹاپ کاباب از عینیت پسندی
حالات کی ضرورت  اور کمپنی کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ راوی کو ایک عدد لیپ ٹاپ سے نواز دینا چاہیے۔ یہ لیپ ٹاپ لے کر بھاگے گا نہیں۔ پورے گاؤں میں اعلان کروا دیا کہ کمپنی نے ہم پر اعتماد کی انتہا کر دی ہے۔ اب مجھے باقاعدہ ایک لیپ ٹاپ میسر ہوگا۔ ایک دو احباب نے حیرت سے پوچھا کہ تمہارے پاس تو ذاتی بھی ہے۔  میں نے تفاخر سے  کہا،  "اب دفتری بھی ہوگا"۔ چند ایک نے  مایوس کرنے یا نیچا دکھانے کی  غرض سے کہا کہ ان کے پاس تو پتا نہیں کتنے سالوں سے دفتری لیپ ٹاپ ہے۔ لیکن میں ایسی بے دست و پا کو کب خاطر میں لانے والا تھا۔ خدا خدا کر کے وہ دن آیا۔  مجھے لیپ ٹاپ دے دیا گیا۔ ایک بد ہئیت  سا بیگ  میری میز تک لایا گیا۔ ایسا ایک بیگ ہمارے گھر میں بھی تھا۔ امی اس میں گھر بھر کے  جوتے رکھا کرتی تھیں  مٹی سے بچے رہیں گے۔ "یہ کیا ہے؟" مین نے حیرت سے استفسار کیا۔"لیپ ٹاپ ہے۔ اس کی بیٹری بہت اچھی ہے۔" لانے والے نے ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ لیپ ٹاپ دیکھا۔ یہ والا ماڈل میں نے زندگی میں پہلی بار ہی دیکھا تھا۔ کتنا پرانا ہے۔ میں نے دوبارہ سوال کیا۔ "زیادہ سے زیادہ سات سال۔" جواب ملا۔"ہمم۔۔۔۔ سات سو بھی ہوتے تو ہم نے کیا کر لینا تھا۔ " میں نے  ایک گہرا سانس لیا۔چلایا۔ تو واقعی چلتا تھا۔ کچھ دن استعمال کرنے پر پتا چلا کہ واقعی صرف بیٹری بہتر ہے۔ کبھی سکرین چلتے چلتے بند ہوجاتی  تو کبھی لیپ ٹاپ خود بخود ری سٹارٹ ہو جاتا۔ کی بورڈ کے ایک دو بٹن چھوڑ کر باقی سارے کام کرتے تھے۔  کچھ زور سے چلتے۔ اور کچھ نرمی کی زبان سمجھتے تھے۔ مجموعی طور پر ایک بہترین چیز  تھی۔ میں  اس کو آن کر کے سامنے تو رکھ لیتا۔ لیکن کام اپنے دوسرے ڈیسک ٹاپ  کمپیوٹر پر ہی کیا کرتا تھا۔ وہ لیپ ٹاپ عجیب و غریب آوازیں بھی نکالا کرتا تھا۔ اٹھانے پر برا مناتا  اور کھڑ کھڑ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا۔  سوجاتا تو خراٹے لیتا۔ یہ بھی ضروری نہیں تھا کہ ہر بار  سونے کے بعد وہ اٹھ بھی جائے یعنی گہری نیند لینے کا عادی تھا۔ اکثر سکرین  تاریک ہی رہتی تھی۔ ایسی صورتوں میں پاور کا بٹن دبا کر ایک ری سٹارٹ دینا پڑتا۔ رفتہ رفتہ میرا  ہاتھ سیدھا ہو گیا۔ اب میں  تاریک سکرین پر ہی ری سٹارٹ کی کمانڈ دے دیا کرتا تھا۔ایک دن اس کے اندر سے کچھ عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں۔ ایسی آوازیں لڑائی جھگڑے والے گھروں سے عموماً آیا کرتی ہیں۔ لیکن کسی کمپیوٹر سے ایسی آوازیں سننے کا میرا  پہلا ہی تجربہ تھا۔  اس کے بعد سب کچھ خاموش ہوگیا۔ بہت ہاتھ پاؤں مارے۔ آوازیں دیں۔ لیکن لگتا تھا اس نے اس فانی دنیا سے فنا کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ متعلقہ شعبے تک لے گیا۔ بہت دیر تک آئی سی یو میں رہا۔ پھر ایک نے آپریشن تھیٹر سے باہر آ کر افسردہ سی نظر مجھ پر ڈالی۔ میں نے اس کے چہرے پر لکھی مایوسی پڑھ لی تھی۔ کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہ تھی۔ میرے تمام سوالوں کا جواب اس کے چہرے پر تحریر تھا۔ دل بجھ گیا۔ اس لیپ ٹاپ سے مجھے انسیت سی ہو چلی تھی۔ "اس میں موجود ڈیٹا کا کیا ہوگا؟" میں نے  سوچوں کا رخ بدلنے کو بجھے دل سے سوال کیا۔" وہ آپ کو نئے والے میں منتقل کر دیا جائے گا۔ " ایک سرد جواب ملا۔ یہی ہوتا ہے۔ یہی دنیا کا اصول ہے۔ پرانی چیزیں پھینک دی جاتی ہیں۔ اور ان کی جگہ نئی لے لیتی ہیں۔ میں دنیا کی بےثباتی پر غور کرنے لگا۔ قبل اس کے میں فلسفی ہوجاتا۔ اور قنوطیت کی ساری حدیں پھلانگ جاتا۔ متعلقہ شعبے کے فرد نے میرے خیالات کا تسلسل توڑ دیا۔ "یہی چاہتے تھے نا تم! ایک نیا لیپ ٹاپ مل جائے۔ اس سے جان چھوٹ جائے۔ سمجھو جان چھوٹ گئی۔ اب جاؤ اور نئے کے لئے درخواست دے دو۔"  میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس شعبے سے نکل آیا۔ بوجھل دل سے یہ خبر اپنے افسران کو سنائی۔ اور دل کو تسلیاں دیتا ہوا واپس چلا آیا۔ 

ملک (ایک نابغہ شخصیت) پنجہ۔۔۔​ (قسط چہارم)

گزشتہ سے پیوستہ:پنجہ​پنجہ لڑانا ملک صاحب کا انوکھا شوق تھا۔ گاؤں کی زندگی میں ہم نے لوگوں کو کتے، مرغے اور پنجے لڑاتے دیکھا تھا لیکن وہ شہری بابو جو کتے اور مرغے پالنے اور پھر ان کو لڑانے کے شغل کو بار گردانتے ہیں، اپنی اس جبلت کی تسکین کے لیے پنجہ لڑا لیا کرتے تھے۔ ایسا نہیں کہ پنجہ لڑانے کے متعلق ہماری معلومات کم تھیں۔ بلکہ ہمارے ذہن میں پنجہ لڑانے کے تذکرے پر ایک مضبوط ہاتھ اور اس کے ساتھ جڑی ایک مضبوط کلائی رکھنے والا جوان آتا تھا۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے بلک صاحب ان دونوں سے محروم تھے۔ آپ کا استخوانی ہاتھ ایسا تھا کہ لوگ ہاتھ ملاتے وقت احتیاط کرتے تھے کہ ہاتھ ہی ہاتھ میں نہ رہ جائے۔ کلائی کیا تھی ایک ڈیڑھ انچ کی باریک ہڈی پرمضبوطی سے کھال منڈھی تھی۔ ملک صاحب کا یہ فرمانا تھا کہ بھئی ڈیل ڈول کچھ نہیں ہوتا۔ یہ دل ہوتا ہے جس سے پنجہ لڑایا جاتا ہے۔ اور قریب سبھی مقابلوں کا انجام بھی یہی ہوتا تھا۔ ملک صاحب کا دل جیت جاتا اور پنجہ ہار جاتا تھا۔ کچھ بےتکلف احباب ایسے موقعوں پر ملک صاحب کو پنجے لڑانے کا چھوڑ کر چونچیں لڑانے کے مشورے بھی دیا کرتے تھے۔ ملک صاحب کی اعلیٰ ظرفی تھی وہ کبھی ان باتوں پر توجہ نہ دیتے اور ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے تھے۔
(جاری ہے۔)

بیوقوف

اکثر ایک فقرہ سننے کو ملتا ہے۔ "ہمارے دادا /نانا بہت بیوقوف آدمی تھے۔ ان کی اتنی جائیداد تھی۔ لیکن انہوں نے شہر  سے ساری بیچ دی۔ اور صرف گاؤں والی رکھ لی۔" یا پھر  "اس وقت ان کو شہر میں اتنی جائیداد مل رہی تھی۔ لیکن انہوں نے گاؤں چھوڑنا گوارا نہ کیا۔ اس وقت آجاتے تو ہماری کروڑوں کی جائیداد ہوتی۔" اگراس وقت وہ دور اندیشی اور تھوڑی کاروبار کی فہم رکھتے۔ زمانے کے ساتھ بدلتے تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔ یہ رونا ہے شور کو چھوڑ کر سکون کو ترجیح دینے کا۔ اگر یہ بیوقوفی ہے تو عقلمندی کیا ہے؟  ہمارے پاس بچا ہی کیا ہے! مروت، مہمان نوازی، رواداری، عمومی معاملات میں برداشت اور وسیع القلبی جیسی چیزیں  تو پہلے ہی سے جاں بلب ہیں۔ لے دے کر ایک بزرگوں کے بارے میں زبان کھولتے وقت تھوڑی شرم و حیا بچی تھی۔ وہ بھی گئی۔ کسی کا داد ""معاملہ فہمی و دور اندیشی" سے عاری  تھا تو کسی کا نانا۔کمال ہے بھئی۔ وہ بزرگ جو سکون کے قائل تھے۔ وہ جو تمہاری طرح کاروباری ذہنیت کے مالک نہ تھے۔ جن کے نزدیک سکون قلب و ضروریات زندگی کا مطلب اپنے ارد گرد کاٹھ کباڑ جمع کرنا نہ تھا۔ بلکہ رشتے کے خلوص اور محبتوں سے حظ اٹھانا تھا۔ وہ بیوقوف ٹھہرے۔ اور تم ٹکے ٹکے کی خاطر  بکنے والے۔ آہ! لیکن کیا کریں۔ سچے تو تم بھی ہو۔ تمہارا دین دھرم ہی پیسہ ہے جس کو بزرگوں نے لات مار دی تھی۔ پھر جس کے دین دھرم پر لات ماری جائے۔ وہ واویلا نہ کرے تو کیا کرے۔ واقعی! ان کو اتنا دور اندیش تو ہونا ہی چاہیے تھا کہ دنیا میں جانے سے قبل ان کے لیے راحت جاں کا سبب کر جاتے جن کے دن رات اسی فکر میں غلطاں  گزرتے ہیں کہ سیڑھی پر قدم رکھے بغیر کیسے منزل تک پہنچا جائے۔ ترس آتا ہے تمہاری ذہانت کو دیکھ کر اور اسلاف کی بیوقوفی کو دیکھ کر۔ وہ بھی اپنی قبروں میں حیرت سے تکتے ہوں گے۔ یہ تربیت تو ہماری نہ تھی۔ یہ لہجہ تو ہماری شان نہ تھا۔ کیا خبر اپنی قبروں میں پڑے یہ سب "دانشمندی" دیکھ کر ایک بار پھر سے مر گئے ہوں۔ 

ملک (ایک نابغہ شخصیت) جم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔​ (قسط سوئم: حصہ دوم)

گزشتہ سے پیوستہجم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔حصہ دومہم جب بھی ملک صاحب کے ساتھ کہیں جاتے تو اکثر بہت چوکنا  ہو کر بیٹھا کرتے تھے۔ کیوں کہ ملک صاحب دائیں کا اشارہ کرکے ہمیشہ بائیں کا لفظ استعمال کرتے۔ جنوب کا کہہ کر شمال کی طرف مڑ جاتے۔  اللہ تعالی کی طرف سے جو جی پی ایس  ڈیوائس لگی ہوئی آئی تھی وہ شاید ہم سے ملاقات سے قبل کام چھوڑ چکی تھی۔ لہذا جب ملک صاحب دائیں اشارہ کر کے کہتے اس طرف  تو تمام رمز شناس بائیں جانب ہی دیکھا کرتے تھے۔ ہم نے ان کو واللہ کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا ورنہ یہاں ہم لازما بتاتے کہ ملک صاحب کا مغرب کس طرف بنتا ہے۔ ایک مرتبہ ہم نے یوں ہی ازراہ تفنن پوچھ لیا۔ ملک صاحب آج جمعہ کس طرف پڑھا ہے تو برجستہ فرمایا کہ جس طرف سب نے منہ کر کے پڑھا ہے۔ ایک دن ایک مشہور سڑ ک کے اوپر کھڑے ہو کر ہم سے ایک گھنٹہ بحث کی کہ یہ وہ والی سڑک نہیں ہے جو کہ ہے۔ بلکہ یہ وہ والی سڑک ہے جو یہ نہیں ہے۔ آخر جب ہم نے تھک کر یہ کہا کہ جو سڑک کنارے بورڈ ہے اس پر لکھا نام پڑھ لیں تو تنک کر بولے کہ ایسا بورڈ تو اس سڑک کے دوسرے سرے پر بھی لگا ہے اور وہاں پر بھی یہی نام لکھا ہے۔ ہم نے ہار مان لی۔ اس دلیل کے بعد تو ہمارے پاس منطقی استدلال کی بھی کوئی وجہ نہ رہی تھی۔ خیر تو میں بات کر رہا تھا کہ ہم ملک صاحب کی کار میں بیٹھے دفتر سے نکلے۔ ابھی کچھ فرلانگ ہی کار چلی ہوگی کہ راستے میں ایک مارکیٹ آگئی۔ راستے میں کوئی بھی مارکیٹ آجائے تو ملک صاحب کار روک لیا کرتے تھے۔ اتر کر اِدھر  اُدھر دیکھتے اور پھر آگے جایا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوران ڈرائیونگ اِدھر اُدھر دیکھنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن آج ملک صاحب نے نظریں سینکنے کی بجائے سامنے پھلوں کی دکان کا رخ کیا اور دو سیب خرید ڈالے۔ اس کے بعد گاڑی گھر کی طرف موڑ لی۔ گھر جا کر لباس تبدیل کیا۔ سیب  کا ملک شیک پیا۔ اس کے بعد کہا۔ اٹھو بھئی۔ جم جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ ہم جو سوچ رہے تھے کہ آج شاید ملک صاحب ٹال مٹول کے چکر میں ہیں۔ خوش ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن یہ خوشی بھی زیادہ دیر نہ رہی جب ملک صاحب نے جم کے سامنے پہنچ کر اندر جانے کی بجائے ساتھ چائے سگریٹ کے سٹال  کا رخ کر لیا۔ وہاں سے ایک بوتل منرل واٹر خریدی۔ ہمارے استفسار پر انہوں نے وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میاں دوران ورزش ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے میں پانی کی بوتل ہمیشہ ساتھ رکھتا ہوں۔ اس سے ہمیں اتنا اندازہ تو بہرحال ہوگیا کہ ملک صاحب کم از کم اتنی ہل جل تو کر ہی لیتے ہیں کہ ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ ان کو لاحق ہے۔جم کے اندر داخل ہونے کا راستہ ایسا تھا جیسے غلطی سے بن گیا ہو۔ دو دکانوں کے بیچ ایک نہ نظر آنے والا راستہ نیچے کی طرف جا رہا تھا۔ اور اس راستے کی لمبائی چوڑائی کو دیکھ کر ہمیں ان جاسوسی فلموں کے مناظر یاد آگئے جس میں اس طرح کی تنگ و تاریک گلیوں میں جرم کے بازار گرم ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ ملک صاحب کی "شر""آفت" پر ہمیں کوئی شبہ نہ تھا لہذا پریشان ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ دروازے سے گزرتے ہی خود کو ایک وسیع گودام نما ہال کے اندر کھڑے پایا جس میں ہر طرف جسمانی کسرت کی مشینیں  اور اوزار موجود تھے۔ ملک صاحب نے جاتے ہی  لگا تار دو چھلانگیں اس طرح ماریں کہ ہمیں جنگل کا وہ بادشاہ یاد آگیا جوکہا کرتا تھا۔ "کرنا میں نے کیا ہے۔ بس تم میری آنی جانی دیکھو"۔  اس کے بعد "PushUps"  لگانے شروع کر دیے۔ ملک صاحب کے پش اپس نکالنے کا انداز بہت حد تک تیراکی سے ملتا تھا۔ جس طرح ایک ماہر پیراک پیراکی کرتے ہوئے  بازو سے پانی ہٹا کر سر نیچے لے جاتا ہے۔ اور پھر اسی ترتیب سے واپس اوپر آ کر دوبارہ یہی عمل دہراتا ہے۔ ملک صاحب کے پش اپس نکالنے کا انداز بھی تقریبا سو نہیں تو ننانوے فیصد ایسا ہی تھا۔  البتہ اس میں فرق صرف یہ تھا کہ ملک صاحب کا صرف سر ہی نیچے آتا جاتا تھ جبکہ بقیہ جسم وہیں  کا وہیں جما رہتا تھا۔ اس کے بعد ملک صاحب نے  ایک ایک کلو کے باٹ اٹھا لیے۔ اور  بازوؤں کی مچھلیاں" پھڑکانے" لگے۔ اتنا  وزن اٹھاتے دیکھ کر تو سمندر کی مچھلیاں پھڑک جاتیں۔ "بائی سپ" کی خوب خبر لینے کے بعد ملک صاحب نے کاندھوں اور سینے کی  ورزش کی۔ کاندھوں والی ورزش تو کچھ ایسی تھی کہ جیسے پہلوان  اکھاڑے میں اترنے سے پہلے  ڈنڈ پیلتا ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس کے ڈنڈ  پیلنے کا درمیانی وقفہ ہموار ہوتا  جبکہ  ملک صاحب کے ڈنڈ پیلنے کے درمیانی وقفے کا اگر گراف بنایا جاتا تو شاید بلند فشار خون رکھنے والے مریض کی ای سی جی جیسا بنتا۔اس بےتحاشہ ورزش کے دوران انہوں نے آدھا لیٹر پانی کی بوتل بھی خالی کر دی۔ جم سے فارغ ہونے کے بعد ملک صاحب نے ہمیں بتایا کہ وہ روز اسی طرح کی ورزش کرتے ہیں۔ لیکن جب ہم نے پوچھا کہ اگر ہم بھی اسی طرح ورزش کریں تو کیا ہمارا جسم بھی اتنا ہی دبلا اور پلپلا ہو جائے گا تو مسکرا دیے۔ ہم نے جب اپنا وار خالی جاتے دیکھا تو کہا کہ کل ہم نے اپنے دو دوستوں کو جب آپ کی جسمانی کسرتوں کے بارے میں بتایا تو وہ یقین نہیں کر رہے تھے۔ اس پر ملک صاحب  نے  استعجابیہ    انداز میں پوچھا۔ اچھا کیا  وہ کیا کہہ رہے تھے؟ ملک صاحب کے اس انداز معصومیت پر ہمیں پورا واقعہ ان کے گوش گزار کرنا پڑا۔ہوا یوں کہ کل ہم دو دوستوں کے ساتھ تھے۔ باتوں باتوں میں کول مین اور آرنلڈ کا ذکر آگیا۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ باڈی بلڈر حضرات کا ذکر ہو اور ملک صاحب کا تذکرہ رہ جائے۔ سو ہم نے فوراً  کہا کہ باڈی بلڈنگ تو اپنے ملک صاحب بھی کرتے ہیں۔ اس پر بجائے وہ گستاخ یہ پوچھتے کہ کب سے کر رہے ہیں؟ اچھا! ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ ملک روز ورزش کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ گفتگو کچھ یوں آگے بڑھی۔پہلا: "بکواس نہ کر! مذاق کر رہا ہے نا؟"دوسرا: "واقعی؟  انہیں  دیکھ کر لگتا نہیں کبھی جم کے باہر سے بھی گزرے ہیں۔"پہلا: "یہ بس ان کو بےعزت کرنے کے لیے ایسی ہانک رہا ہے۔"دوسرا: "مذاق برطرف۔ تمہاری  کیا دشمنی ہے جو ان کے بارے میں ایسی افواہیں اڑا رہے ہو؟"راقم: "بھئی! میں کیوں بےپر کی اڑاؤں گا۔ یہ بات درست ہے کہ ملک صاحب گزشتہ آٹھ برس سے کسرت کر رہے ہیں۔"پہلا: ہاتھ جھٹک کر۔ "ابے چل! ہمیں الو سمجھا ہے۔ یا ہم نے کبھی آٹھ برس تک لگاتار باڈی بلڈنگ کرنے والے دیکھے نہیں ہیں۔"دوسرا: "یار! دیکھ اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو میں سیدھا جا کر ملک صاحب کو کہہ دوں گا کہ آپ کے بارے میں اناپ شناپ بول رہا تھا۔"راقم: "حد ہوگئی یار! تم لوگ اب خود ہی ملک سے پوچھ لینا۔"ابھی ہم  مکالمہ سنا رہے تھے  کہ ملک صاحب نے ہاتھ اٹھا کر ہمیں بات کرنے سے روک دیا۔ فرمانے لگے۔ بس ! اب ان سے پنجہ لڑانا ہی پڑے گا۔ یہ لوگ ایسے نہیں مانیں گے۔
(جاری ہے۔)

نوحہ

بنسری توڑ دی گڈریے نےاور چپکے سے شہر جا کرکارخانے میں نوکری کر لی
کچھ احباب نے مجھ سے پوچھا کہ اسلم کولسری نے یہاں ایسی کیا بات کی ہے کہ آپ نے اس کو اپنا صفحے کی تفصیلات میں رکھا ہوا ہے۔ ایک آدھے سے بڑھ  کر بات جب چند لوگوں نے کی تو میں نے سوچا کہ اپنے تئیں اس کی تھوڑی سی وضاحت کر دی جائے۔ یوں تو خاکم بدہن کسی قابل نہیں اور پھر" المعانی فی البطن الشاعر" کہہ کر بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ لیکن جو میں سمجھتا ہوں۔ اس کو کہنے میں کیا ہرج ہے، اساتذہ موجود ہیں۔ کہیں کوئی کمی کوتاہی ہوئی تو وہ نشاندہی کر کے اور درستی فرما کر سرفراز فرمائیں گے۔
یہ جس کا عنوان نوحہ ہے۔ حقیقت میں نوحہ ہی ہے۔ یہ سادگی سے تصنع کی طرف منتقلی کا نوحہ ہے۔ آزادی سے غلامی کی طرف جانے کا نوحہ ہے۔ نخلستان چھوڑ کر سراب کے پیچھے بھاگنے کا نوحہ ہے۔ مضبوط اقدار سے فرار کا نوحہ ہے۔ الغرض ایک مکمل معاشرے کا دوسرے معاشرے میں ڈھل جانے کا نوحہ ہے۔شاعر کو بہت سہولت حاصل ہوتی ہے۔ وہ بہت کم الفاظ میں بہت زیادہ کیفیات، رشتے اور وقت بلکہ صدیوں کا سفر سمیٹ جاتا ہے۔
انسان اصل میں کسی چیز کو جب توڑتا ہے تو وہ اس وقت،  جب وہ اس کے لیے بیکار ہوجاتی ہے۔ یہ ایک عام رویہ میرے مشاہدے میں ہے کہ ہم کسی چیز کو بیکار ہونے کے بعد اس کو اکثر یوں نہیں پھینک دیتے۔ بلکہ اس کو توڑ دیتے ہیں۔ کاغذ ہے تو اس کو پھینکنے سے پہلے پھاڑ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی کسی چھڑی کو پھینکتا ہے تو اس کو بھی پھینکنے سے پہلے توڑنا نہیں بھولتا۔ بانسری جو کہ ایک روایتی ثقافت کی امین ہے۔ اس سے کئی داستانیں منسوب ہیں۔ کئی قصے جڑے ہیں۔ کتنی ہیروں کے دلوں کے تار اس کی دھن سے کبھی چھڑا کرتے تھے۔ وہ اب متروک ٹھہری ہے۔ اب اس کی سریلی دھن کہیں سننے کو نہیں ملتی۔ اب قدم بانسری کی آواز سن کر رکتےنہیں ہیں۔ اب رات کے سناٹے میں کبھی کوئی سریلی دھنیں نہیں بکھیرتا ہے۔ گڈریا  سادگی کی علامت ہے۔ قناعت کی علامت ہے۔ تصنع سے پاک ہے۔ وہ اپنے دل کی دھڑکن، اپنی باتیں سروں کی صورت ہوا میں بکھیر دیتا ہے۔ سماعتیں ان سروں سے لطف لیتی ہیں۔ جتنی سندر بات اس کے من میں ہوتی ہے۔ اتنا سندر سر اس کی بانسری سے پھوٹتا ہے۔ لے پہچاننے والے جانتے ہیں کہ خوشی اور غم کے سر سب کیسے اس بانسری سے جنم لے کر ہوا میں بکھرتے چلے جاتے تھے۔ اور یہی سے اس نوحے کا ذکر ہوتا ہے جو کہ اوپر بیان ہوا ہے۔ اب ان سروں کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ بانسری جس سے دل کی دھنیں ہوا میں بکھرتی تھیں۔ جن میں ایک تال میل ہوتا تھا۔ وہ ٹوٹ گئی ہے۔ بلکہ توڑ دی گئی ہے۔ وہ گڈریا جو کہ سادگی کی علامت تھا۔ جس میں تصنع نام کو نہ تھا۔ وہ بھی "چپکے" سے اس جگہ سے ہٹ گیا ہے۔ اس کوبھی چھپنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ کس سے چھپنے کی۔ اس معاشرے کی بدلتی قدروں نے اس کو احساس دلایا ہے کہ یہ اب دنیا تیری نہیں ہے۔ اگر جینا ہے رہنا ہے تو ان دھنوں کو  مشینوں کے شور سے بدلنا ہوگا۔ اس آزادی کو ساہوکار کے پاس گروی رکھنا ہوگا۔ اب سُر کی جگہ شور سننا ہوگا۔ اب دل کی آواز مشینوں کی آواز میں کہیں دب جائے گی۔ اب ہوا اس موسقیت سے محروم ہوجائے گی۔ اور یہی تو نوحہ ہے۔ جہاں بےساختگی چھین لی جائے۔ جہاں زمانے میں کامیابی کا تناسب تصنع و بناوٹ ہوجائے۔ رشتے کمزور ہو کر قریب المرگ ہوجائیں۔ چوپالین سنسان اور اقدار بےآبرو ہوجائے۔ تو پھر ایسے میں شام کے ڈھلتے سایوں میں گڈریے اپنے ریوڑ چھوڑ کر بانسری توڑ کر کارخانوں کے شور میں نہ دب جائیں تو کیا کریں۔ پورا معاشرہ اپنی مضبوط بنیادیں چھوڑ کر ریت پر بنی عمارتوں میں منتقل ہوجائے تو اس کو نوحہ نہ کہیں تو کیا کہیں۔ 

ملک (ایک نابغہ شخصیت) جم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔​ (قسط سوئم: حصہ اول)

گذشتہ سے پیوستہجم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔حصہ اوّل​
رفتہ رفتہ ہم ملک صاحب سے اورملک صاحب ہم پر کھلتے چلے گئے۔ ہم ان کی مجلس میں بیٹھتے لیکن زبان نہ کھولتے، کیوں کہ ہمارے پیش نظر علم حاصل کرنا ہوتا تھا۔ ملک صاحب اپنی ترنگ میں اس دن کے کھیل پر روشنی ڈالا کرتے تھے۔ اب قبل اس کے کوئی گستاخ پوچھے کہ "اس دن کے کھیل" سے کیا مراد ہے؟ تو ہم خود ہی بتلائے دیتے ہیں کہ ملک صاحب ہمہ کھیل قسم کے کھلاڑی تھے۔ لہذا جو کھیل ایک بار کھیلتے کئی دن تک اس کی دوبارہ باری نہ آتی۔ لیکن سبحان اللہ ذرا دسترس ملاحظہ کیجیے کہ مہارت میں کوئی فرق نہ آتا۔ سوائے کسرت کے جو باقاعدگی سے فرمایا کرتے تھے۔ ان کا خود فرمانا تھا کہ باڈی بلڈنگ میری سرشت میں شامل ہے۔ میں چاہ کر بھی اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔ یوں تو ہم زندگی میں بہت کم ہی گستاخی پر مائل ہوئے ہیں، اور اگر کبھی ہوئے بھی ہیں تو کوشش ہمیشہ یہی کہ ہے کہ جوان کو پیر کا استاد نہ کیا جائے۔ بڑے بوڑھے ہمیں باادب بانصیب کہہ کر بہت سے کاموں سے روک گئے ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس دن ہماری زبان لڑکھڑا ہی گئی۔ وجہ اس کی یہ نہ تھی کہ ہمیں کسی کے باڈی بلڈر ہونے پر اعتراض تھا۔ بلکہ ملک صاحب کا ڈیل ڈول ہمارے لیے حیرانی کا باعث تھا۔ کیوں کہ ملک صاحب ایک اوسط مقامی آدمی جتنی طوالت رکھتے تھے۔ جسم چھریرا، بازو اتنے سیدھے اور دبلے تھے کہ کسی بھی حسینہ کو ان پر رشک ہو سکتا تھا۔ چھاتی اتنی تھی کہ صاف پتا چل جاتا تھا کہ چھاتی ہے۔ لیکن کمر کے بارے میں وہی زبان زد عام بات کہ سنتے ہیں کہ تمہاری بھی کمر ہے کہاں کدھر ہے۔ " کیا آپ واقعی باڈی بلڈنگ کرتے ہیں؟ ""کرتا کیا مطلب؟ بھائی میرا جم جائے بنا گزاراہ نہیں۔" ملک صاحب نے ہم کو یوں گھورا جیسے ہمارے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔"نہیں !جم جانا اور بات ہے اور ورزش کرنا دوسری بات"۔ ہم نے اپنی بے تکی بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ملک صاحب کچھ دیر تو ہم کو گھورتے رہے کہ شاید ہم ان سے یہ تمام باتیں ازراہِ تفنن کر رہے ہیں۔ اور ابھی ہم طالبان کی طرح اعلان کر دیں کہ "میں مذاق کر رہا تھا۔ وگرنہ کول مین کے بعد دنیا میں کوئی باڈی بلڈر آیا ہے تو وہ ملک صاحب ہیں۔" لیکن جب ہم نے اپنا انداز نہ بدلا اور سوالیہ نگاہوں سے ملک صاحب کو جوابی گھورنا جاری رکھا۔ تو انہوں نے ایک لمبا سانس کھینچا۔ ایسا سانس وہ عموماً تب کھینچا کرتے تھے جب انہوں نے اپنی ذات کے ان رازوں سے پردہ اٹھانا ہوتا تھا جو عام طور پر لوگوں کو معلوم ہی ہوتے تھے۔"میں گزشتہ آٹھ برس سے باڈی بلڈنگ کر رہا ہوں۔ جم میں ہر آدمی مجھے دیکھ کر رشک کرتا ہے۔ خاص طور پر جب میں بائی سپ اور سینے کی ورزش کرتا ہوں تو کچھ لوگوں کی آنکھیں تو پھٹنے والی ہوجاتی ہیں۔ ایک دن بائی سپ ٹرائی سپ اور سینہ کی ورزش کرتا ہوں۔ اگلے دن پیٹ اور کاندھوں کی اور اگلے دن۔۔۔۔۔ " ملک صاحب نے فخریہ انداز میں ہماری معلومات میں شدید قسم کا اضافہ کرتے ہوئے ہمیں مکمل شیڈول سے بھی آگاہی دی۔ہم نے حیرت سے ان کے بائی سپ کو دیکھا جو سائز میں کسی حسینہ کے بائی سپ جتنا تھا، اور پھر ان کے سینے کو دیکھا جو کسی بھی حسینہ جیسا نہ تھا۔ کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا۔ مگر پھر بند کر لیا۔​تمہیں یقین نہیں آرہا۔ چلو آج میرے ساتھ جم چلنا۔ تمہیں اپنے کمالات دکھائیں گے۔ اور شام کو ہم ملک صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی میں بیٹھے جم کی طرف روانہ ہوئے۔
(جاری ہے)

افسانچہ

دوستوں کی مجلس میں وہ اکیلا ہی خاموش بت بنا بیٹھا تھا۔ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ لیکن وہ خالی خالی نگاہوں سے سب کو گھور رہا تھا۔ پیشانی پر سلوٹیں بہت گہری تھیں اور آنکھوں کے گرد حلقے بہت گہرے نظر آرہے تھے۔بار بار گردن کو دائیں بائیں ہلاتا جیسے درد کی وجہ سے پٹھوں کو آرام دینے کی کوشش کر رہا ہو۔ آنکھوں کی سرخی سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گزشتہ کئی دن سے سو نہیں پایا۔  کافی دیر گزرنے کے بعد بھی جب برخلافِ طبیعت اس کی طرف سے کچھ جملہ کسی بھی موضوع پر سننے کو نہ ملا تو احباب اپنی گفتگو ترک کر کے اس کی طرف متوجہ ہوئے۔  کیا مسئلہ ہے تجھے؟ پہلے نے ایک گہری نگاہ اس کے سراپے پر ڈال کر پوچھا۔یہ تیری آنکھوں کے گرد حلقے اتنے گہرے کیوں ہیں؟ کس کا غم سوہان روح بنا ہے؟ دوسرے نے سوال اٹھایا۔بول بھی!  کیا زبان گروی رکھ دی ہے؟ تیسرے نے جملہ چست کیا۔خدا کے واسطے! اب یہ نہ کہہ دینا کہ تجھے اس عمر میں عشق ہوگیا ہے کسی مٹیار سے، جب تیرا ایک پاؤں قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے۔ ایک نے جھلا کر کہا۔پھر سب چپ ہوگئے۔ اس نے سب پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔ اور پھر آہستہ سے بولا۔میں آجکل نائٹ شفٹ کر رہا ہوں۔ 

نوٹ: پتا نہیں اس کو افسانچہ بھی کہنا چاہیے کہ نہیں۔۔۔ خیر جو بھی ہے۔ 

Pages