نیرنگ خیال

خانہ پوری یا سیکیورٹی

کل ایک دفتری ساتھ تشریف نہیں لائے۔ یوں ہی باتوں باتوں میں ہم نے خیریت دریافت کی تو پتا چلا کہ بروز جمعہ   نصف شب کے قریب  جب وہ دفتر سے نکلے تو جین مندر کے پاس انہیں پولیس والوں نے روک لیا۔ اور کہا کہ موٹر سائیکل ایک طرف لگا دیں۔ انہوں نے کاغذات وغیرہ چیک کروائے تو پولیس والوں نے کہا کہ بھئی! کاغذات سے کوئی سروکار نہیں۔ موٹرسائیکل بند ہوگی۔ یہ صاحب بہت حیران ہوئے۔ ان کے علاوہ بھی وہاں کوئی دس پندرہ موٹرسائیکل سوار تھے۔ ان سب کو بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل تھانے میں بند ہوگی۔ اس کے بعد آپ اپنے گھروں کو جائیں۔ مزید کریدنے پر پتا چلا کہ ایسٹر کی وجہ سے دہشت گردی کا خطرہ ہے اور لاہور پولیس موٹرسائیکلیں بند کر رہی ہے۔ بیچاروں نے بہت عرض گزاری اور منت کی کہ بھئی رات کے اس پہر کدھر کو جائیں گے۔ لیکن پولیس والوں نے نہ سننی تھی نہ سنی۔فرماتے ہیں کہ آخر جب میں عرض گزاری ضرورت سے زیادہ بڑھی تو ایک پولیس والا تنگ آکر بولا کہ یار! ہمیں ڈیڑھ دو سو موٹر سائیکل بند کرنے کا حکم ملا ہے۔ اور وہ ہم نے ہر صورت بند کرنی ہے۔ اس بات پر  ایک دوسرے ساتھی کسی اور تہوار کا ذکر کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اُس رات میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اور جب میں پولیس وین میں بیٹھ کر تھانے اپنی موٹر سائیکل بند کروانے جا رہا تھا تو تھانے سے بار بار سپاہیوں کو فون آرہے تھے کہ ابھی تک صرف پندرہ موٹرسائیکلیں آئی ہیں۔ اور یہ فون پر جواب دے رہے تھے ۔۔۔ "سر جی! لے کے آندے پئے آں۔ رستے اچ ہے گے آں۔" ہمارے ملک کے حالات جیسے بھی ہیں یا ہوں گے، لیکن سیکیورٹی کے نام پر عوامی سیکیورٹی سے مذاق، خانہ پوری، اور عوام کو ذلیل کرنے کا یہ طریقہ  انتہائی قابل مذمت  اور شرمناک حد تک گھٹیا ہے۔ 

شکریہ

بڑے دنوں سے یہ بات میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی کہ جب سے لاہور آیا ہوں دوستوں کے ساتھ  مل بیٹھنے کا وقت ہی نہیں مل رہا۔ چارلس ہنسن کی نظم "آراؤنڈ دا کارنر" بھی یاد آرہی تھی۔ معمولاتِ زندگی میں اب وقت کیسے نکالا جائے۔ کیسے ملا جائے سب سے۔ پھر یہ سوچ کر دل بہلا لیتا کہ شاید اب  بالمشافہ ملاقاتوں کا زمانہ بھی اٹھنے والا ہے۔ کوئی دور تھا  ہر وقت ساتھ ہوتے تھے۔ دن رات ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ کر اکتائے رہتے تھے۔ اور اب مہینوں ملاقات ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ مہینوں کیا۔۔۔ کئی ایک  شکلیں تو  ذہن سے محو ہوئی جاتی ہیں۔ کیسا خوشنما دور تھا۔ کوئی فون کرتا تو کہتے ریسور رکھ۔ اور چند منٹ بعد اس کے گھر کے باہر کھڑے ہوتے۔ کیسا آسان تھا ملنا۔ یہ بھی خوف نہیں ہوتا تھا کہ اب بس وقت ختم ہونے والا ہے۔ اب اٹھ کر واپس بھی جانا ہے۔ کتنی ہی راتیں  یوں سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھے بیٹھے کاٹ دیا کرتے تھے۔ کیسا دلچسپ دور تھا۔
 آج جب فرقان مدتوں بعد ملنے آیا تو مجھے وہی دور دوبارہ یاد آگیا۔ کتنا مشکل ہے جب دیار غیر سے آدمی پلٹ کر آئے۔ اور پھر لاہور اس کا شہر بھی نہ ہو۔ اور وہ وقت نکال کر صرف اور صرف ملنے آئے۔ اپنے اس چند روزہ قیام میں ہمارے لیے وقت نکال کر لائے۔ بتلائے کہ نہیں دوست! ملاقاتوں کا دور ابھی گیا نہیں ہے۔ ابھی ہم ادھر ہی ہیں۔ ویسے ہی۔ کیا ہوا جو سنجیدگی نے ہمارے چہروں پر ڈیرہ جما لیا ہے۔ کیا ہوا جو مہینوں کے حساب سے ہم ایک دوسرے کو فون تک نہیں کرتے۔ مگر ہم ہیں۔ ادھر ہی اسی جگہ۔ ہوں گے جو وقت کی پکار پر تیز رفتار زندگی کے ساتھ آگے نکل گئے ہوں گے۔ مگر ہم پرانی قدروں   کے ہی گرویدہ  ہیں۔ ہمارے لیے آج بھی ملاقات کا مطلب جا کر ملنا ہی ہے۔ کچھ پل کچھ لمحے جو ساتھ گزر گئے۔ کتنی ہی انمٹ یادوں کا نشاں چھوڑ گئے۔ ذہن کے قبرستان سے   کیسے کیسے مناظر دوبارہ زندہ کر گئے۔ میں تمہاری ان محبتوں کے لیے بہت شکرگزار ہوں۔ سدا خوش رہو۔

عجب تعلق

کچھ تعلق بہت عجیب ہوتے ہیں۔ ان کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ یہ یوں ہی بن جاتے ہیں۔ ان کہے، ان سنے۔ ان کی اپنی ایک چاشنی ہوتی ہے۔ آپ سامنے والا کا نام نہیں جانتے۔ وہ آپ کا کام نہیں جانتا۔ لیکن اس کے باوجود ایک آشنائی کی صورت قائم رہتی ہے۔ ایسے تعلقات گفتگو کے متقاضی نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کے درمیان ایک لگا بندھا سا  رشتہ ہوتا ہے۔ بہت ہی عمومی سا۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے نام مجھے نہیں آتے۔ ان کو یقینی طور پر میرا نام نہیں آتا ہوگا۔ لیکن ہمارے درمیان ایک  ان کہا دوستانہ سا موجود ہے۔

 بچپن میں لائبریری کے لیے نکلا کرتا تھا۔چونکہ پیدل جانا ہوتا تھا تو شارٹ کٹ کے چکر میں   محلے کے بیچ سے گزرتی  گلیوں سے ہوتا لائبریری جاتا تھا۔ دو تین گلیاں گزرنے کے بعد ایک گھر کے باہرایک چھوٹا سا سٹال آتا تھا۔ اس سٹال پر ایک ہم عمر نے بسکٹ، ٹافیاں یا ضروریات زندگی کا کچھ سامان رکھا ہوتا تھا۔ میں اس دکان پر رکتا ،  رسیلی سپاری خریدتا  اور آگے لائبریری کی طرف نکل جاتا۔ شب و روز گزرتے چلے گئے۔ بڑا ہونے پر  بابا نے مجھے سائیکل دلا دی۔ یوں پیروں کی جگہ پیڈل نے لے لی۔ ۔ اُدھر  اس لڑکے نے اپنے گھر کی بیٹھک کو ہی دکان بنا لیا تھا۔  کچھ اور سامان بھی رکھ لیا تھا۔ میں جیسے ہی اس کی دکان کے سامنے پہنچتا، تو وہ بن کہے  ایک مخصوص رقم کی سپاری میرے سامنے دھر دیتا۔ ادھر میری مٹھی میں وہی رقم ہوتی جو میں نے اس کو دینی ہوتی تھی۔ میں کاؤنٹر پر رقم رکھ کر سپاری اٹھا کر آگے نکل پڑتا۔کالج کے بعد  صادق آباد چھوڑ دیا۔ وہ راستے، لائبریری سب کچھ پیچھے رہ گیا۔ لائبریری بند ہوگئی۔ کیسے اور کیوں بند ہوئی۔ یہ گفتگو  الگ سے طویل تحریر کی متقاضی ہے۔ تاہم ابھی کچھ دن قبل  گھر بیٹھا تھا کہ امی نے مجھے بازار سے کچھ لانے کا کہا۔ میں نے سوچا چلو پیدل ہی چلتے ہیں۔ بازار ان گلیوں سے بہت قریب تھا۔ اندازاً بھی پندرہ برس کے بعد میں انہی گلیوں سے گزرنے کا قصد کر رہا تھا۔  چلتے چلتے میں جب اس دکان کے سامنے پہنچا تو بےارادہ ہی رک گیا۔وہ چھوٹی سی دکان ایک جنرل سٹور بن چکی تھی۔  وہی لڑکا وہاں خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔ میری طرح وہ بھی موٹا ہو چکا تھا۔ عمرِ رواں کی دی ہوئی لکیریں اس کے ماتھے پر بھی ابھر آئی تھیں۔ مجھےدیکھ کر اس کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ ابھر آئی۔ وہ کاؤنٹر سے باہر نکلا۔ بڑی گرمجوشی سے گلے ملا۔ اور پہلی بار میں نے شاید اس کی آواز سنی تھی۔ "کہاں چلے گئے تھے تم"؟ بس فکر روزگار کھینچ کر لے گئی تھی۔ میں نے جواب دیا۔ "موٹے ہوگئے ہو۔ " اس نے ہنس کر کہا۔ اور پھر اپنی توند پر ہاتھ پھیر کر اور بھی ہنسنے لگا۔ "سپاری اب بھی کھاتے ہو؟" " نہیں۔ دو سال قبل چھوڑ دی تھی۔ اس وقت  سونف کھاؤں گا ۔" میں نے کہا۔ اس نے سونف مجھے پکڑا دی۔ میں نے روپے دینے کی کوشش کی تو کہنے لگا۔ رہنے دو۔ میں نے زبردستی ادائیگی کی۔دعائیہ کلمات کا تبادلہ کیا اور بازار کی طرف چل پڑا۔
اب مجھے یہ خیال آرہا  ہے کہ میرا تعلق بھی سال کے آخری دن سے ایسا ہی ہے۔ آخری دن آتا ہے۔ میں اپنی عمر کی الماری سے بارہ مہینے نکال کر سامنے رکھ دیتا ہوں۔ وہ بدلے میں چند لمحے، کچھ پل، خوشی غمی کے مجھے تھما دیتا ہے۔ میں کہتا رہ جاتا ہوں۔ مجھے یہ یادیں نہیں چاہییں۔ یہ چھبن یہ نادانی لے جاؤ۔ اگر تم پلٹ کو تو یہ فیصلہ میں بدلنا چاہتا ہوں۔ وہ  مسکرا دیتا ہے۔میرا کاندھا تھپکتا ہے۔ آنے والے کے استقبال کا کہتا ہے اور آگے نکل پڑتا ہے۔ میں کتنی دیر تک اسے جاتا ہی دیکھتا رہ جاتا ہوں۔ اور پھر ان یادوں کو سمیٹ کر حافظے کی دراز میں رکھ دیتا ہوں۔ کتنے سال ہیں جوآخری دن بھی  مجھ سے ملنے ہی نہیں آئے۔ ان   کی درازیں خالی پڑی ہیں۔پھر مدتوں بعد جب کوئی سال مجھ سے ملنے آیا تھا۔ تو میں بھی کتنے تپاک سے اسے ملا تھا۔ کہاں رہ گئے تھے تم۔ ایسا ہی کچھ سوا ل میرا بھی تھا۔ اس کا جواب یاد نہیں۔شاید وہ ہنس پڑا تھا۔ میرے بیوقوفانہ سوال پر۔ کسی کسی دراز میں اب   کہیں کوئی ایک واقعہ ہے۔ کہیں کسی خوشی کے استعارے بھی ہیں۔   اب یہ  درازیں بھرنے لگی ہیں۔ امسال  ان یادوں کی درازوں میں دوائیوں اور تشخیصی نسخوں کا بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔ سوال و جواب جو تشنہ تھے۔ ملاقاتیں جو ادھار تھیں۔ ارادے جو ادھورے رہ گئے ہیں۔ ان کہی باتیں جو کہیں دل  میں ہی رہ گئیں۔ اور کہی ہوئی جو بار سماعت ٹھہریں یا پھر شور میں سماعتوں تک نہ پہنچ سکیں۔ میں ان سب کو حیرت سے دیکھ رہا ہوں۔ کیا خبر کہ اگلے سال کی ادائیگی میں حیرت بھی ہوگی یا نہیں۔

قصہ دوسرے لیپ ٹاپ کا

قصہ دوسرے لیپ ٹاپ کاباب از عینیت پسندیگزشتہ سے پیوستہ
ذرائع سے معلوم ہوا کہ نیا لیپ ٹاپ چند دن میں دے دیا جائے گا۔ دو دن بعد ہارڈ وئیر کے شعبے سے ایک لڑکا سیاہ رنگ کا شاپر سا  اٹھائے ہمارے میز تک آ پہنچا۔قریب آنے پر پتا چلا کہ یہ بیگ نما کوئی چیز ہے۔ غور کرنے پر غلط فہمی دور ہوگئی۔ یہ ایک بیگ ہی تھا۔  ہم نے ایک نظر بیگ پر ڈالی۔ایک دریدہ دہن بیگ۔ جس کی ایک سائیڈ لقوہ زدہ لگ رہی تھی۔ لانے والا  کانوں سے پکڑ کر اس کا منہ سیدھا اور بند کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔  قبل اس کے بیگ کی دریدہ دہنی دیکھ کر ہم منہ پھٹ اور گستاخ ہونے کا الزام لگاتے، ٹوٹی زپ دیکھ کر اس کی معذوری سمجھ میں آگئی۔"یہ کیا ہے؟"  ہم نے کھلے دہن سے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔"لیپ ٹاپ"۔ مختصر جواب ملا۔"کس کا ہے؟" ہم نے دوبارہ سوال کیا۔"اب تمہارا ہے۔" دوبارہ وہی جواب ملا۔ "پہلے کس کے پاس تھا۔ " ہم نے پھر پوچھا۔"اس بات کو چھوڑو۔ بہت سے لوگوں کے پاس رہا ہے۔" اسی روکھے انداز میں دوبارہ جواب دیا گیا۔  ہم خاموش ہوگئے۔ خود کو احساس ہوچلا  تھا کہ ہمارے سوالات  بکرا خریدنے  والے کے سوالات جیسے ہوگئے ہیں۔  ہم نے لیپ ٹاپ کو دیکھے بغیر کہا۔ "اس کو اٹھائیں گے کیسے۔ دہن بندی کا کچھ سبب ہو سکتا ہے؟ " "فی الوقت یہی بیگ ہے۔ گزارہ کرو۔" ٹکا سا جواب ملا۔سوئی دھاگہ مل جائے گا۔ ہم  شاید ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہ تھے۔ اب آنے والے کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔  یہ آئی ٹی فرم ہے۔ درزی کی دکان نہیں۔  ہم نے ہنکارہ بھرا۔ اور لیپ ٹاپ کا باہر نکال لیا۔ کئی ایک جگہ زخموں کے گھاؤ تھے ۔ کچھ پرانے مالکین کے دیے تحفے بھی تھے جو اس نے اپنے ماتھے پر تمغوں کی صورت سجا رکھے تھے۔  پاور کا بٹن دبانے پر پہلی بار ہی سکرین روشن ہوگئی۔ دل خوشی سے بھر گیا۔ ہم نے کی بورڈ کی ساری اکائیاں دبا دبا کر دیکھیں۔ سب ہی چلتی تھیں۔ ہم نے اس کے بنائے جانے کی تفصیلات دیکھیں  تو اس کو اپنے پرانے والے سے ایک سال کم عمر پایا۔ ابھی  جانچ پڑتال میں مصروف تھے کہ اس کا سی ڈی روم خود ہی باہر آگیا۔ ہم نے سی ڈی روم بند کرنے  کی بجائے اس لڑکے کو دیکھا جو ابھی تک ہمارے پاس کھڑ ا تھا۔ "یہ نئی سہولت ہے۔ سی ڈی روم کھولنا نہیں پڑے گا۔ "اس نے ہماری نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے کہا۔ "لیکن میں سی ڈی روم استعمال نہیں کرتا۔" ہم نے اپنے آپ کو پرسکون رکھتے ہوئے کہا۔"تو پھر اس کو بند کر دو۔" اس نے بےاعتنائی سے جواب دیا۔گھر جا کر چلایا تو نہ چلا۔ بہت کوشش کی۔ لیکن کوئی بات نہ بنی۔ ایسے ہی بیٹری باہر نکالی تو دیکھا کہ اندر ایک پٹی سے ابھری ہے۔ اس کو دبایا  تو وہ کھٹک کی آواز کے ساتھ ہی نیچے ہو گئی۔ اب بیٹری لگا کر چلایا تو چل پڑا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد اتنا گرم ہو گیا کہ سکرین پر درجہ حرارت کا اطلاع نامہ کھل گیا۔ اور ساتھ ہی خود بخود بند بھی ہوگیا۔ یہ سہولت مجھے پسند آئی کہ گرم ہوجائے تو خودبخود بند ہوجائے۔ ابھی اٹھا کر دوسرے کمرے میں رکھنے جا رہا تھا کہ کوئی وزنی چیز پاؤں پر گرنے سے چیخ اٹھا۔ بیٹری زمین پر پڑی منہ چڑا رہی تھی۔ اس کا لاک خراب تھا۔ اٹھا کر چلو تو نیچے گر جاتی تھی۔ اب روز کا تماشا ہوگیا۔ بیٹری نکالو۔ پٹی دباؤ۔ پھر چلاؤ۔ سکرین کی ہر زوایے پر ریزولیشن  (Resolution)مختلف تھی۔  کچھ جگہ بالکل سفید ہوجاتی تھی۔ اور کچھ جگہ پر کچھ رنگ کم اور کچھ زیادہ ہوجاتے تھے۔ رفتہ رفتہ اس پر بھی ہاتھ سیدھا ہوگیا۔ اب سکرین کھولتے ہی خوب بخود اس زوایے پر ہاتھ رک جاتے تھے۔ جس پر بہترین نظر آتا تھا۔ گرمی کا حل ایک عدد پنکھا لگا کر دور کر لیا گیا۔  سی ڈی روم والا معاملہ میرے لئے  کھیل سا بن گیا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی کہ اوسطاً میں ہر بیس سیکنڈ بعد خود ہی سی ڈی روم پر ہاتھ مار دیا کرتا تھا۔ چاہے کھلا ہو یا نہ۔  پہلے میں صرف اس کا فین پیڈ چھوڑ کر جانے لگا۔ پھر چارجر اور ماؤس بھی دفتر پڑا رہنے لگا۔ بیگ تو پہلے دن سے ہی میں ذاتی استعمال کر رہا تھا۔ دفتری بیگ وہی پڑا تھا۔ اور آخر آخر یہ صورتحال ہو گئی  کہ لیپ ٹاپ بھی وہیں پڑا رہنے لگا۔ میں البتہ گھر آجایا کرتا تھا۔  ایک دن ایک عمر اور عہدے میں بڑے ساتھی نے روک لیا۔ یہ اٹاری تمہاری ہے۔ اٹاری! ہم نے استفہامیہ انداز میں پوچھا۔ ہاں یہ۔ اس نے میرے  شاندار لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس نے اپنے گستاخ جملوں سے اس بےجان چیز کو جو ٹھیس پہنچائی تھی  مجھے سر تا پا سلگا گئی تھی۔ درجہ حرارت بلند ہونے پر ایک لمحہ مجھے خود پر بھی لیپ ٹاپ ہونے کا گمان گزرا۔ یہ ایک لیپ ٹاپ ہے۔ اٹاری نہیں۔ ہم نے غصے سے کہا۔ اوہ اچھا! معذرت۔ میں سمجھا لیپ ٹاپ ایسے ہوتے ہیں۔ اس نے اپنے والے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔نیا نو دن۔ پرانا سو دن۔ ہم نے استہزائیہ انداز میں کہا۔  دن اور سال کا فرق سمجھتے ہو۔ اس نے  بھی  زہریلی مسکراہٹ سے وار کیا۔ ہم بیٹھ گئے۔ بالکل اس امید وار کی طرح جس کو اپنی ہار کا یقین ہوجائے تو جیتنے والے کے حق میں نتائج سے پہلے ہی بیٹھ جاتا ہے۔ خیر آپ کو کیا مسئلہ ہے اس سے۔ ہم نے  اس کے سوال کی وجہ جاننے کی کوشش کرنے کی کوشش کی۔یہ یہاں کیوں چھوڑ جاتے ہو؟ اس نے پوچھا۔مرضی ہماری۔ ہم نے ابرو اچکاتے ہوئے جواب دیا۔تم اس کو یہاں چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ یہ کمپنی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کو تمہیں ساتھ گھر لے جانا ہوگا  اور اگلے دن لانا بھی ہوگا کہ  یہی اصول برائے شودران ہے۔  اس نے ہمیں سمجھاتے ہوئے کہا۔اس کی اس بات سے  بےاختیار ہمیں آغا گل کے افسانے کی ایک سطر یاد آگئی۔ "شاب جی! آپ بھی شودر ہیں کیا مسلمانوں کے؟" اور ایک مسکراہٹ ہمارے چہرے پر پھیل گئی۔ مسکرا کیوں رہے ہو۔ اس نے حیرانی سے پوچھا۔"ہم ہنس دیے ہم چپ رہے"، اب ہم اس کو کیا بتاتے، ہمارے دل پر کیا بیت گئی ہے۔ 

قصہ پہلے لیپ ٹاپ کا

قصہ پہلے لیپ ٹاپ کاباب از عینیت پسندی
حالات کی ضرورت  اور کمپنی کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ راوی کو ایک عدد لیپ ٹاپ سے نواز دینا چاہیے۔ یہ لیپ ٹاپ لے کر بھاگے گا نہیں۔ پورے گاؤں میں اعلان کروا دیا کہ کمپنی نے ہم پر اعتماد کی انتہا کر دی ہے۔ اب مجھے باقاعدہ ایک لیپ ٹاپ میسر ہوگا۔ ایک دو احباب نے حیرت سے پوچھا کہ تمہارے پاس تو ذاتی بھی ہے۔  میں نے تفاخر سے  کہا،  "اب دفتری بھی ہوگا"۔ چند ایک نے  مایوس کرنے یا نیچا دکھانے کی  غرض سے کہا کہ ان کے پاس تو پتا نہیں کتنے سالوں سے دفتری لیپ ٹاپ ہے۔ لیکن میں ایسی بے دست و پا کو کب خاطر میں لانے والا تھا۔ خدا خدا کر کے وہ دن آیا۔  مجھے لیپ ٹاپ دے دیا گیا۔ ایک بد ہئیت  سا بیگ  میری میز تک لایا گیا۔ ایسا ایک بیگ ہمارے گھر میں بھی تھا۔ امی اس میں گھر بھر کے  جوتے رکھا کرتی تھیں  مٹی سے بچے رہیں گے۔ "یہ کیا ہے؟" مین نے حیرت سے استفسار کیا۔"لیپ ٹاپ ہے۔ اس کی بیٹری بہت اچھی ہے۔" لانے والے نے ہماری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔ لیپ ٹاپ دیکھا۔ یہ والا ماڈل میں نے زندگی میں پہلی بار ہی دیکھا تھا۔ کتنا پرانا ہے۔ میں نے دوبارہ سوال کیا۔ "زیادہ سے زیادہ سات سال۔" جواب ملا۔"ہمم۔۔۔۔ سات سو بھی ہوتے تو ہم نے کیا کر لینا تھا۔ " میں نے  ایک گہرا سانس لیا۔چلایا۔ تو واقعی چلتا تھا۔ کچھ دن استعمال کرنے پر پتا چلا کہ واقعی صرف بیٹری بہتر ہے۔ کبھی سکرین چلتے چلتے بند ہوجاتی  تو کبھی لیپ ٹاپ خود بخود ری سٹارٹ ہو جاتا۔ کی بورڈ کے ایک دو بٹن چھوڑ کر باقی سارے کام کرتے تھے۔  کچھ زور سے چلتے۔ اور کچھ نرمی کی زبان سمجھتے تھے۔ مجموعی طور پر ایک بہترین چیز  تھی۔ میں  اس کو آن کر کے سامنے تو رکھ لیتا۔ لیکن کام اپنے دوسرے ڈیسک ٹاپ  کمپیوٹر پر ہی کیا کرتا تھا۔ وہ لیپ ٹاپ عجیب و غریب آوازیں بھی نکالا کرتا تھا۔ اٹھانے پر برا مناتا  اور کھڑ کھڑ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا۔  سوجاتا تو خراٹے لیتا۔ یہ بھی ضروری نہیں تھا کہ ہر بار  سونے کے بعد وہ اٹھ بھی جائے یعنی گہری نیند لینے کا عادی تھا۔ اکثر سکرین  تاریک ہی رہتی تھی۔ ایسی صورتوں میں پاور کا بٹن دبا کر ایک ری سٹارٹ دینا پڑتا۔ رفتہ رفتہ میرا  ہاتھ سیدھا ہو گیا۔ اب میں  تاریک سکرین پر ہی ری سٹارٹ کی کمانڈ دے دیا کرتا تھا۔ایک دن اس کے اندر سے کچھ عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں۔ ایسی آوازیں لڑائی جھگڑے والے گھروں سے عموماً آیا کرتی ہیں۔ لیکن کسی کمپیوٹر سے ایسی آوازیں سننے کا میرا  پہلا ہی تجربہ تھا۔  اس کے بعد سب کچھ خاموش ہوگیا۔ بہت ہاتھ پاؤں مارے۔ آوازیں دیں۔ لیکن لگتا تھا اس نے اس فانی دنیا سے فنا کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔ متعلقہ شعبے تک لے گیا۔ بہت دیر تک آئی سی یو میں رہا۔ پھر ایک نے آپریشن تھیٹر سے باہر آ کر افسردہ سی نظر مجھ پر ڈالی۔ میں نے اس کے چہرے پر لکھی مایوسی پڑھ لی تھی۔ کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہ تھی۔ میرے تمام سوالوں کا جواب اس کے چہرے پر تحریر تھا۔ دل بجھ گیا۔ اس لیپ ٹاپ سے مجھے انسیت سی ہو چلی تھی۔ "اس میں موجود ڈیٹا کا کیا ہوگا؟" میں نے  سوچوں کا رخ بدلنے کو بجھے دل سے سوال کیا۔" وہ آپ کو نئے والے میں منتقل کر دیا جائے گا۔ " ایک سرد جواب ملا۔ یہی ہوتا ہے۔ یہی دنیا کا اصول ہے۔ پرانی چیزیں پھینک دی جاتی ہیں۔ اور ان کی جگہ نئی لے لیتی ہیں۔ میں دنیا کی بےثباتی پر غور کرنے لگا۔ قبل اس کے میں فلسفی ہوجاتا۔ اور قنوطیت کی ساری حدیں پھلانگ جاتا۔ متعلقہ شعبے کے فرد نے میرے خیالات کا تسلسل توڑ دیا۔ "یہی چاہتے تھے نا تم! ایک نیا لیپ ٹاپ مل جائے۔ اس سے جان چھوٹ جائے۔ سمجھو جان چھوٹ گئی۔ اب جاؤ اور نئے کے لئے درخواست دے دو۔"  میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس شعبے سے نکل آیا۔ بوجھل دل سے یہ خبر اپنے افسران کو سنائی۔ اور دل کو تسلیاں دیتا ہوا واپس چلا آیا۔ 

ملک (ایک نابغہ شخصیت) پنجہ۔۔۔​ (قسط چہارم)

گزشتہ سے پیوستہ:پنجہ​پنجہ لڑانا ملک صاحب کا انوکھا شوق تھا۔ گاؤں کی زندگی میں ہم نے لوگوں کو کتے، مرغے اور پنجے لڑاتے دیکھا تھا لیکن وہ شہری بابو جو کتے اور مرغے پالنے اور پھر ان کو لڑانے کے شغل کو بار گردانتے ہیں، اپنی اس جبلت کی تسکین کے لیے پنجہ لڑا لیا کرتے تھے۔ ایسا نہیں کہ پنجہ لڑانے کے متعلق ہماری معلومات کم تھیں۔ بلکہ ہمارے ذہن میں پنجہ لڑانے کے تذکرے پر ایک مضبوط ہاتھ اور اس کے ساتھ جڑی ایک مضبوط کلائی رکھنے والا جوان آتا تھا۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے بلک صاحب ان دونوں سے محروم تھے۔ آپ کا استخوانی ہاتھ ایسا تھا کہ لوگ ہاتھ ملاتے وقت احتیاط کرتے تھے کہ ہاتھ ہی ہاتھ میں نہ رہ جائے۔ کلائی کیا تھی ایک ڈیڑھ انچ کی باریک ہڈی پرمضبوطی سے کھال منڈھی تھی۔ ملک صاحب کا یہ فرمانا تھا کہ بھئی ڈیل ڈول کچھ نہیں ہوتا۔ یہ دل ہوتا ہے جس سے پنجہ لڑایا جاتا ہے۔ اور قریب سبھی مقابلوں کا انجام بھی یہی ہوتا تھا۔ ملک صاحب کا دل جیت جاتا اور پنجہ ہار جاتا تھا۔ کچھ بےتکلف احباب ایسے موقعوں پر ملک صاحب کو پنجے لڑانے کا چھوڑ کر چونچیں لڑانے کے مشورے بھی دیا کرتے تھے۔ ملک صاحب کی اعلیٰ ظرفی تھی وہ کبھی ان باتوں پر توجہ نہ دیتے اور ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے تھے۔
(جاری ہے۔)

بیوقوف

اکثر ایک فقرہ سننے کو ملتا ہے۔ "ہمارے دادا /نانا بہت بیوقوف آدمی تھے۔ ان کی اتنی جائیداد تھی۔ لیکن انہوں نے شہر  سے ساری بیچ دی۔ اور صرف گاؤں والی رکھ لی۔" یا پھر  "اس وقت ان کو شہر میں اتنی جائیداد مل رہی تھی۔ لیکن انہوں نے گاؤں چھوڑنا گوارا نہ کیا۔ اس وقت آجاتے تو ہماری کروڑوں کی جائیداد ہوتی۔" اگراس وقت وہ دور اندیشی اور تھوڑی کاروبار کی فہم رکھتے۔ زمانے کے ساتھ بدلتے تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔ یہ رونا ہے شور کو چھوڑ کر سکون کو ترجیح دینے کا۔ اگر یہ بیوقوفی ہے تو عقلمندی کیا ہے؟  ہمارے پاس بچا ہی کیا ہے! مروت، مہمان نوازی، رواداری، عمومی معاملات میں برداشت اور وسیع القلبی جیسی چیزیں  تو پہلے ہی سے جاں بلب ہیں۔ لے دے کر ایک بزرگوں کے بارے میں زبان کھولتے وقت تھوڑی شرم و حیا بچی تھی۔ وہ بھی گئی۔ کسی کا داد ""معاملہ فہمی و دور اندیشی" سے عاری  تھا تو کسی کا نانا۔کمال ہے بھئی۔ وہ بزرگ جو سکون کے قائل تھے۔ وہ جو تمہاری طرح کاروباری ذہنیت کے مالک نہ تھے۔ جن کے نزدیک سکون قلب و ضروریات زندگی کا مطلب اپنے ارد گرد کاٹھ کباڑ جمع کرنا نہ تھا۔ بلکہ رشتے کے خلوص اور محبتوں سے حظ اٹھانا تھا۔ وہ بیوقوف ٹھہرے۔ اور تم ٹکے ٹکے کی خاطر  بکنے والے۔ آہ! لیکن کیا کریں۔ سچے تو تم بھی ہو۔ تمہارا دین دھرم ہی پیسہ ہے جس کو بزرگوں نے لات مار دی تھی۔ پھر جس کے دین دھرم پر لات ماری جائے۔ وہ واویلا نہ کرے تو کیا کرے۔ واقعی! ان کو اتنا دور اندیش تو ہونا ہی چاہیے تھا کہ دنیا میں جانے سے قبل ان کے لیے راحت جاں کا سبب کر جاتے جن کے دن رات اسی فکر میں غلطاں  گزرتے ہیں کہ سیڑھی پر قدم رکھے بغیر کیسے منزل تک پہنچا جائے۔ ترس آتا ہے تمہاری ذہانت کو دیکھ کر اور اسلاف کی بیوقوفی کو دیکھ کر۔ وہ بھی اپنی قبروں میں حیرت سے تکتے ہوں گے۔ یہ تربیت تو ہماری نہ تھی۔ یہ لہجہ تو ہماری شان نہ تھا۔ کیا خبر اپنی قبروں میں پڑے یہ سب "دانشمندی" دیکھ کر ایک بار پھر سے مر گئے ہوں۔ 

ملک (ایک نابغہ شخصیت) جم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔​ (قسط سوئم: حصہ دوم)

گزشتہ سے پیوستہجم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔حصہ دومہم جب بھی ملک صاحب کے ساتھ کہیں جاتے تو اکثر بہت چوکنا  ہو کر بیٹھا کرتے تھے۔ کیوں کہ ملک صاحب دائیں کا اشارہ کرکے ہمیشہ بائیں کا لفظ استعمال کرتے۔ جنوب کا کہہ کر شمال کی طرف مڑ جاتے۔  اللہ تعالی کی طرف سے جو جی پی ایس  ڈیوائس لگی ہوئی آئی تھی وہ شاید ہم سے ملاقات سے قبل کام چھوڑ چکی تھی۔ لہذا جب ملک صاحب دائیں اشارہ کر کے کہتے اس طرف  تو تمام رمز شناس بائیں جانب ہی دیکھا کرتے تھے۔ ہم نے ان کو واللہ کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا ورنہ یہاں ہم لازما بتاتے کہ ملک صاحب کا مغرب کس طرف بنتا ہے۔ ایک مرتبہ ہم نے یوں ہی ازراہ تفنن پوچھ لیا۔ ملک صاحب آج جمعہ کس طرف پڑھا ہے تو برجستہ فرمایا کہ جس طرف سب نے منہ کر کے پڑھا ہے۔ ایک دن ایک مشہور سڑ ک کے اوپر کھڑے ہو کر ہم سے ایک گھنٹہ بحث کی کہ یہ وہ والی سڑک نہیں ہے جو کہ ہے۔ بلکہ یہ وہ والی سڑک ہے جو یہ نہیں ہے۔ آخر جب ہم نے تھک کر یہ کہا کہ جو سڑک کنارے بورڈ ہے اس پر لکھا نام پڑھ لیں تو تنک کر بولے کہ ایسا بورڈ تو اس سڑک کے دوسرے سرے پر بھی لگا ہے اور وہاں پر بھی یہی نام لکھا ہے۔ ہم نے ہار مان لی۔ اس دلیل کے بعد تو ہمارے پاس منطقی استدلال کی بھی کوئی وجہ نہ رہی تھی۔ خیر تو میں بات کر رہا تھا کہ ہم ملک صاحب کی کار میں بیٹھے دفتر سے نکلے۔ ابھی کچھ فرلانگ ہی کار چلی ہوگی کہ راستے میں ایک مارکیٹ آگئی۔ راستے میں کوئی بھی مارکیٹ آجائے تو ملک صاحب کار روک لیا کرتے تھے۔ اتر کر اِدھر  اُدھر دیکھتے اور پھر آگے جایا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوران ڈرائیونگ اِدھر اُدھر دیکھنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن آج ملک صاحب نے نظریں سینکنے کی بجائے سامنے پھلوں کی دکان کا رخ کیا اور دو سیب خرید ڈالے۔ اس کے بعد گاڑی گھر کی طرف موڑ لی۔ گھر جا کر لباس تبدیل کیا۔ سیب  کا ملک شیک پیا۔ اس کے بعد کہا۔ اٹھو بھئی۔ جم جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ ہم جو سوچ رہے تھے کہ آج شاید ملک صاحب ٹال مٹول کے چکر میں ہیں۔ خوش ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن یہ خوشی بھی زیادہ دیر نہ رہی جب ملک صاحب نے جم کے سامنے پہنچ کر اندر جانے کی بجائے ساتھ چائے سگریٹ کے سٹال  کا رخ کر لیا۔ وہاں سے ایک بوتل منرل واٹر خریدی۔ ہمارے استفسار پر انہوں نے وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ میاں دوران ورزش ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے میں پانی کی بوتل ہمیشہ ساتھ رکھتا ہوں۔ اس سے ہمیں اتنا اندازہ تو بہرحال ہوگیا کہ ملک صاحب کم از کم اتنی ہل جل تو کر ہی لیتے ہیں کہ ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ ان کو لاحق ہے۔جم کے اندر داخل ہونے کا راستہ ایسا تھا جیسے غلطی سے بن گیا ہو۔ دو دکانوں کے بیچ ایک نہ نظر آنے والا راستہ نیچے کی طرف جا رہا تھا۔ اور اس راستے کی لمبائی چوڑائی کو دیکھ کر ہمیں ان جاسوسی فلموں کے مناظر یاد آگئے جس میں اس طرح کی تنگ و تاریک گلیوں میں جرم کے بازار گرم ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ ملک صاحب کی "شر""آفت" پر ہمیں کوئی شبہ نہ تھا لہذا پریشان ہونے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ دروازے سے گزرتے ہی خود کو ایک وسیع گودام نما ہال کے اندر کھڑے پایا جس میں ہر طرف جسمانی کسرت کی مشینیں  اور اوزار موجود تھے۔ ملک صاحب نے جاتے ہی  لگا تار دو چھلانگیں اس طرح ماریں کہ ہمیں جنگل کا وہ بادشاہ یاد آگیا جوکہا کرتا تھا۔ "کرنا میں نے کیا ہے۔ بس تم میری آنی جانی دیکھو"۔  اس کے بعد "PushUps"  لگانے شروع کر دیے۔ ملک صاحب کے پش اپس نکالنے کا انداز بہت حد تک تیراکی سے ملتا تھا۔ جس طرح ایک ماہر پیراک پیراکی کرتے ہوئے  بازو سے پانی ہٹا کر سر نیچے لے جاتا ہے۔ اور پھر اسی ترتیب سے واپس اوپر آ کر دوبارہ یہی عمل دہراتا ہے۔ ملک صاحب کے پش اپس نکالنے کا انداز بھی تقریبا سو نہیں تو ننانوے فیصد ایسا ہی تھا۔  البتہ اس میں فرق صرف یہ تھا کہ ملک صاحب کا صرف سر ہی نیچے آتا جاتا تھ جبکہ بقیہ جسم وہیں  کا وہیں جما رہتا تھا۔ اس کے بعد ملک صاحب نے  ایک ایک کلو کے باٹ اٹھا لیے۔ اور  بازوؤں کی مچھلیاں" پھڑکانے" لگے۔ اتنا  وزن اٹھاتے دیکھ کر تو سمندر کی مچھلیاں پھڑک جاتیں۔ "بائی سپ" کی خوب خبر لینے کے بعد ملک صاحب نے کاندھوں اور سینے کی  ورزش کی۔ کاندھوں والی ورزش تو کچھ ایسی تھی کہ جیسے پہلوان  اکھاڑے میں اترنے سے پہلے  ڈنڈ پیلتا ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس کے ڈنڈ  پیلنے کا درمیانی وقفہ ہموار ہوتا  جبکہ  ملک صاحب کے ڈنڈ پیلنے کے درمیانی وقفے کا اگر گراف بنایا جاتا تو شاید بلند فشار خون رکھنے والے مریض کی ای سی جی جیسا بنتا۔اس بےتحاشہ ورزش کے دوران انہوں نے آدھا لیٹر پانی کی بوتل بھی خالی کر دی۔ جم سے فارغ ہونے کے بعد ملک صاحب نے ہمیں بتایا کہ وہ روز اسی طرح کی ورزش کرتے ہیں۔ لیکن جب ہم نے پوچھا کہ اگر ہم بھی اسی طرح ورزش کریں تو کیا ہمارا جسم بھی اتنا ہی دبلا اور پلپلا ہو جائے گا تو مسکرا دیے۔ ہم نے جب اپنا وار خالی جاتے دیکھا تو کہا کہ کل ہم نے اپنے دو دوستوں کو جب آپ کی جسمانی کسرتوں کے بارے میں بتایا تو وہ یقین نہیں کر رہے تھے۔ اس پر ملک صاحب  نے  استعجابیہ    انداز میں پوچھا۔ اچھا کیا  وہ کیا کہہ رہے تھے؟ ملک صاحب کے اس انداز معصومیت پر ہمیں پورا واقعہ ان کے گوش گزار کرنا پڑا۔ہوا یوں کہ کل ہم دو دوستوں کے ساتھ تھے۔ باتوں باتوں میں کول مین اور آرنلڈ کا ذکر آگیا۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ باڈی بلڈر حضرات کا ذکر ہو اور ملک صاحب کا تذکرہ رہ جائے۔ سو ہم نے فوراً  کہا کہ باڈی بلڈنگ تو اپنے ملک صاحب بھی کرتے ہیں۔ اس پر بجائے وہ گستاخ یہ پوچھتے کہ کب سے کر رہے ہیں؟ اچھا! ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا کہ ملک روز ورزش کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ گفتگو کچھ یوں آگے بڑھی۔پہلا: "بکواس نہ کر! مذاق کر رہا ہے نا؟"دوسرا: "واقعی؟  انہیں  دیکھ کر لگتا نہیں کبھی جم کے باہر سے بھی گزرے ہیں۔"پہلا: "یہ بس ان کو بےعزت کرنے کے لیے ایسی ہانک رہا ہے۔"دوسرا: "مذاق برطرف۔ تمہاری  کیا دشمنی ہے جو ان کے بارے میں ایسی افواہیں اڑا رہے ہو؟"راقم: "بھئی! میں کیوں بےپر کی اڑاؤں گا۔ یہ بات درست ہے کہ ملک صاحب گزشتہ آٹھ برس سے کسرت کر رہے ہیں۔"پہلا: ہاتھ جھٹک کر۔ "ابے چل! ہمیں الو سمجھا ہے۔ یا ہم نے کبھی آٹھ برس تک لگاتار باڈی بلڈنگ کرنے والے دیکھے نہیں ہیں۔"دوسرا: "یار! دیکھ اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو میں سیدھا جا کر ملک صاحب کو کہہ دوں گا کہ آپ کے بارے میں اناپ شناپ بول رہا تھا۔"راقم: "حد ہوگئی یار! تم لوگ اب خود ہی ملک سے پوچھ لینا۔"ابھی ہم  مکالمہ سنا رہے تھے  کہ ملک صاحب نے ہاتھ اٹھا کر ہمیں بات کرنے سے روک دیا۔ فرمانے لگے۔ بس ! اب ان سے پنجہ لڑانا ہی پڑے گا۔ یہ لوگ ایسے نہیں مانیں گے۔
(جاری ہے۔)

نوحہ

بنسری توڑ دی گڈریے نےاور چپکے سے شہر جا کرکارخانے میں نوکری کر لی
کچھ احباب نے مجھ سے پوچھا کہ اسلم کولسری نے یہاں ایسی کیا بات کی ہے کہ آپ نے اس کو اپنا صفحے کی تفصیلات میں رکھا ہوا ہے۔ ایک آدھے سے بڑھ  کر بات جب چند لوگوں نے کی تو میں نے سوچا کہ اپنے تئیں اس کی تھوڑی سی وضاحت کر دی جائے۔ یوں تو خاکم بدہن کسی قابل نہیں اور پھر" المعانی فی البطن الشاعر" کہہ کر بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ لیکن جو میں سمجھتا ہوں۔ اس کو کہنے میں کیا ہرج ہے، اساتذہ موجود ہیں۔ کہیں کوئی کمی کوتاہی ہوئی تو وہ نشاندہی کر کے اور درستی فرما کر سرفراز فرمائیں گے۔
یہ جس کا عنوان نوحہ ہے۔ حقیقت میں نوحہ ہی ہے۔ یہ سادگی سے تصنع کی طرف منتقلی کا نوحہ ہے۔ آزادی سے غلامی کی طرف جانے کا نوحہ ہے۔ نخلستان چھوڑ کر سراب کے پیچھے بھاگنے کا نوحہ ہے۔ مضبوط اقدار سے فرار کا نوحہ ہے۔ الغرض ایک مکمل معاشرے کا دوسرے معاشرے میں ڈھل جانے کا نوحہ ہے۔شاعر کو بہت سہولت حاصل ہوتی ہے۔ وہ بہت کم الفاظ میں بہت زیادہ کیفیات، رشتے اور وقت بلکہ صدیوں کا سفر سمیٹ جاتا ہے۔
انسان اصل میں کسی چیز کو جب توڑتا ہے تو وہ اس وقت،  جب وہ اس کے لیے بیکار ہوجاتی ہے۔ یہ ایک عام رویہ میرے مشاہدے میں ہے کہ ہم کسی چیز کو بیکار ہونے کے بعد اس کو اکثر یوں نہیں پھینک دیتے۔ بلکہ اس کو توڑ دیتے ہیں۔ کاغذ ہے تو اس کو پھینکنے سے پہلے پھاڑ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کوئی کسی چھڑی کو پھینکتا ہے تو اس کو بھی پھینکنے سے پہلے توڑنا نہیں بھولتا۔ بانسری جو کہ ایک روایتی ثقافت کی امین ہے۔ اس سے کئی داستانیں منسوب ہیں۔ کئی قصے جڑے ہیں۔ کتنی ہیروں کے دلوں کے تار اس کی دھن سے کبھی چھڑا کرتے تھے۔ وہ اب متروک ٹھہری ہے۔ اب اس کی سریلی دھن کہیں سننے کو نہیں ملتی۔ اب قدم بانسری کی آواز سن کر رکتےنہیں ہیں۔ اب رات کے سناٹے میں کبھی کوئی سریلی دھنیں نہیں بکھیرتا ہے۔ گڈریا  سادگی کی علامت ہے۔ قناعت کی علامت ہے۔ تصنع سے پاک ہے۔ وہ اپنے دل کی دھڑکن، اپنی باتیں سروں کی صورت ہوا میں بکھیر دیتا ہے۔ سماعتیں ان سروں سے لطف لیتی ہیں۔ جتنی سندر بات اس کے من میں ہوتی ہے۔ اتنا سندر سر اس کی بانسری سے پھوٹتا ہے۔ لے پہچاننے والے جانتے ہیں کہ خوشی اور غم کے سر سب کیسے اس بانسری سے جنم لے کر ہوا میں بکھرتے چلے جاتے تھے۔ اور یہی سے اس نوحے کا ذکر ہوتا ہے جو کہ اوپر بیان ہوا ہے۔ اب ان سروں کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ بانسری جس سے دل کی دھنیں ہوا میں بکھرتی تھیں۔ جن میں ایک تال میل ہوتا تھا۔ وہ ٹوٹ گئی ہے۔ بلکہ توڑ دی گئی ہے۔ وہ گڈریا جو کہ سادگی کی علامت تھا۔ جس میں تصنع نام کو نہ تھا۔ وہ بھی "چپکے" سے اس جگہ سے ہٹ گیا ہے۔ اس کوبھی چھپنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ کس سے چھپنے کی۔ اس معاشرے کی بدلتی قدروں نے اس کو احساس دلایا ہے کہ یہ اب دنیا تیری نہیں ہے۔ اگر جینا ہے رہنا ہے تو ان دھنوں کو  مشینوں کے شور سے بدلنا ہوگا۔ اس آزادی کو ساہوکار کے پاس گروی رکھنا ہوگا۔ اب سُر کی جگہ شور سننا ہوگا۔ اب دل کی آواز مشینوں کی آواز میں کہیں دب جائے گی۔ اب ہوا اس موسقیت سے محروم ہوجائے گی۔ اور یہی تو نوحہ ہے۔ جہاں بےساختگی چھین لی جائے۔ جہاں زمانے میں کامیابی کا تناسب تصنع و بناوٹ ہوجائے۔ رشتے کمزور ہو کر قریب المرگ ہوجائیں۔ چوپالین سنسان اور اقدار بےآبرو ہوجائے۔ تو پھر ایسے میں شام کے ڈھلتے سایوں میں گڈریے اپنے ریوڑ چھوڑ کر بانسری توڑ کر کارخانوں کے شور میں نہ دب جائیں تو کیا کریں۔ پورا معاشرہ اپنی مضبوط بنیادیں چھوڑ کر ریت پر بنی عمارتوں میں منتقل ہوجائے تو اس کو نوحہ نہ کہیں تو کیا کہیں۔ 

ملک (ایک نابغہ شخصیت) جم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔​ (قسط سوئم: حصہ اول)

گذشتہ سے پیوستہجم۔۔۔۔ ورزش گاہ۔۔۔حصہ اوّل​
رفتہ رفتہ ہم ملک صاحب سے اورملک صاحب ہم پر کھلتے چلے گئے۔ ہم ان کی مجلس میں بیٹھتے لیکن زبان نہ کھولتے، کیوں کہ ہمارے پیش نظر علم حاصل کرنا ہوتا تھا۔ ملک صاحب اپنی ترنگ میں اس دن کے کھیل پر روشنی ڈالا کرتے تھے۔ اب قبل اس کے کوئی گستاخ پوچھے کہ "اس دن کے کھیل" سے کیا مراد ہے؟ تو ہم خود ہی بتلائے دیتے ہیں کہ ملک صاحب ہمہ کھیل قسم کے کھلاڑی تھے۔ لہذا جو کھیل ایک بار کھیلتے کئی دن تک اس کی دوبارہ باری نہ آتی۔ لیکن سبحان اللہ ذرا دسترس ملاحظہ کیجیے کہ مہارت میں کوئی فرق نہ آتا۔ سوائے کسرت کے جو باقاعدگی سے فرمایا کرتے تھے۔ ان کا خود فرمانا تھا کہ باڈی بلڈنگ میری سرشت میں شامل ہے۔ میں چاہ کر بھی اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔ یوں تو ہم زندگی میں بہت کم ہی گستاخی پر مائل ہوئے ہیں، اور اگر کبھی ہوئے بھی ہیں تو کوشش ہمیشہ یہی کہ ہے کہ جوان کو پیر کا استاد نہ کیا جائے۔ بڑے بوڑھے ہمیں باادب بانصیب کہہ کر بہت سے کاموں سے روک گئے ہیں۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس دن ہماری زبان لڑکھڑا ہی گئی۔ وجہ اس کی یہ نہ تھی کہ ہمیں کسی کے باڈی بلڈر ہونے پر اعتراض تھا۔ بلکہ ملک صاحب کا ڈیل ڈول ہمارے لیے حیرانی کا باعث تھا۔ کیوں کہ ملک صاحب ایک اوسط مقامی آدمی جتنی طوالت رکھتے تھے۔ جسم چھریرا، بازو اتنے سیدھے اور دبلے تھے کہ کسی بھی حسینہ کو ان پر رشک ہو سکتا تھا۔ چھاتی اتنی تھی کہ صاف پتا چل جاتا تھا کہ چھاتی ہے۔ لیکن کمر کے بارے میں وہی زبان زد عام بات کہ سنتے ہیں کہ تمہاری بھی کمر ہے کہاں کدھر ہے۔ " کیا آپ واقعی باڈی بلڈنگ کرتے ہیں؟ ""کرتا کیا مطلب؟ بھائی میرا جم جائے بنا گزاراہ نہیں۔" ملک صاحب نے ہم کو یوں گھورا جیسے ہمارے سر پر سینگ اگ آئے ہوں۔"نہیں !جم جانا اور بات ہے اور ورزش کرنا دوسری بات"۔ ہم نے اپنی بے تکی بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ملک صاحب کچھ دیر تو ہم کو گھورتے رہے کہ شاید ہم ان سے یہ تمام باتیں ازراہِ تفنن کر رہے ہیں۔ اور ابھی ہم طالبان کی طرح اعلان کر دیں کہ "میں مذاق کر رہا تھا۔ وگرنہ کول مین کے بعد دنیا میں کوئی باڈی بلڈر آیا ہے تو وہ ملک صاحب ہیں۔" لیکن جب ہم نے اپنا انداز نہ بدلا اور سوالیہ نگاہوں سے ملک صاحب کو جوابی گھورنا جاری رکھا۔ تو انہوں نے ایک لمبا سانس کھینچا۔ ایسا سانس وہ عموماً تب کھینچا کرتے تھے جب انہوں نے اپنی ذات کے ان رازوں سے پردہ اٹھانا ہوتا تھا جو عام طور پر لوگوں کو معلوم ہی ہوتے تھے۔"میں گزشتہ آٹھ برس سے باڈی بلڈنگ کر رہا ہوں۔ جم میں ہر آدمی مجھے دیکھ کر رشک کرتا ہے۔ خاص طور پر جب میں بائی سپ اور سینے کی ورزش کرتا ہوں تو کچھ لوگوں کی آنکھیں تو پھٹنے والی ہوجاتی ہیں۔ ایک دن بائی سپ ٹرائی سپ اور سینہ کی ورزش کرتا ہوں۔ اگلے دن پیٹ اور کاندھوں کی اور اگلے دن۔۔۔۔۔ " ملک صاحب نے فخریہ انداز میں ہماری معلومات میں شدید قسم کا اضافہ کرتے ہوئے ہمیں مکمل شیڈول سے بھی آگاہی دی۔ہم نے حیرت سے ان کے بائی سپ کو دیکھا جو سائز میں کسی حسینہ کے بائی سپ جتنا تھا، اور پھر ان کے سینے کو دیکھا جو کسی بھی حسینہ جیسا نہ تھا۔ کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا۔ مگر پھر بند کر لیا۔​تمہیں یقین نہیں آرہا۔ چلو آج میرے ساتھ جم چلنا۔ تمہیں اپنے کمالات دکھائیں گے۔ اور شام کو ہم ملک صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی میں بیٹھے جم کی طرف روانہ ہوئے۔
(جاری ہے)

افسانچہ

دوستوں کی مجلس میں وہ اکیلا ہی خاموش بت بنا بیٹھا تھا۔ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ لیکن وہ خالی خالی نگاہوں سے سب کو گھور رہا تھا۔ پیشانی پر سلوٹیں بہت گہری تھیں اور آنکھوں کے گرد حلقے بہت گہرے نظر آرہے تھے۔بار بار گردن کو دائیں بائیں ہلاتا جیسے درد کی وجہ سے پٹھوں کو آرام دینے کی کوشش کر رہا ہو۔ آنکھوں کی سرخی سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گزشتہ کئی دن سے سو نہیں پایا۔  کافی دیر گزرنے کے بعد بھی جب برخلافِ طبیعت اس کی طرف سے کچھ جملہ کسی بھی موضوع پر سننے کو نہ ملا تو احباب اپنی گفتگو ترک کر کے اس کی طرف متوجہ ہوئے۔  کیا مسئلہ ہے تجھے؟ پہلے نے ایک گہری نگاہ اس کے سراپے پر ڈال کر پوچھا۔یہ تیری آنکھوں کے گرد حلقے اتنے گہرے کیوں ہیں؟ کس کا غم سوہان روح بنا ہے؟ دوسرے نے سوال اٹھایا۔بول بھی!  کیا زبان گروی رکھ دی ہے؟ تیسرے نے جملہ چست کیا۔خدا کے واسطے! اب یہ نہ کہہ دینا کہ تجھے اس عمر میں عشق ہوگیا ہے کسی مٹیار سے، جب تیرا ایک پاؤں قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے۔ ایک نے جھلا کر کہا۔پھر سب چپ ہوگئے۔ اس نے سب پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔ اور پھر آہستہ سے بولا۔میں آجکل نائٹ شفٹ کر رہا ہوں۔ 

نوٹ: پتا نہیں اس کو افسانچہ بھی کہنا چاہیے کہ نہیں۔۔۔ خیر جو بھی ہے۔ 

افسانچہ

دوستوں کی مجلس میں وہ اکیلا ہی خاموش بت بنا بیٹھا تھا۔ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ لیکن وہ خالی خالی نگاہوں سے سب کو گھور رہا تھا۔ پیشانی پر سلوٹیں بہت گہری تھیں اور آنکھوں کے گرد حلقے بہت گہرے نظر آرہے تھے۔بار بار گردن کو دائیں بائیں ہلاتا جیسے درد کی وجہ سے پٹھوں کو آرام دینے کی کوشش کر رہا ہو۔ آنکھوں کی سرخی سے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گزشتہ کئی دن سے سو نہیں پایا۔  کافی دیر گزرنے کے بعد بھی جب برخلافِ طبیعت اس کی طرف سے کچھ جملہ کسی بھی موضوع پر سننے کو نہ ملا تو احباب اپنی گفتگو ترک کر کے اس کی طرف متوجہ ہوئے۔  کیا مسئلہ ہے تجھے؟ پہلے نے ایک گہری نگاہ اس کے سراپے پر ڈال کر پوچھا۔یہ تیری آنکھوں کے گرد حلقے اتنے گہرے کیوں ہیں؟ کس کا غم سوہان روح بنا ہے؟ دوسرے نے سوال اٹھایا۔بول بھی!  کیا زبان گروی رکھ دی ہے؟ تیسرے نے جملہ چست کیا۔خدا کے واسطے! اب یہ نہ کہہ دینا کہ تجھے اس عمر میں عشق ہوگیا ہے کسی مٹیار سے، جب تیرا ایک پاؤں قبر میں اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے۔ ایک نے جھلا کر کہا۔پھر سب چپ ہوگئے۔ اس نے سب پر ایک گہری نگاہ ڈالی۔ اور پھر آہستہ سے بولا۔میں آجکل نائٹ شفٹ کر رہا ہوں۔ 

نوٹ: پتا نہیں اس کو افسانچہ بھی کہنا چاہیے کہ نہیں۔۔۔ خیر جو بھی ہے۔ 

ایک عادت

کہتے سنتے آئے ہیں کہ پرانی عادتیں بھی پاؤں کی زنجیر ہوتی ہیں۔ انسان ان سے جان چھڑانے کی جتنی بھی کوشش کرے، صورت حال "چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی" والی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریٹائر بزرگ  گھر کے اندر اور بےروزگار نوجوان گھر کے  باہر ہر کسی کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ خیر ہمارا  بزرگ افراد اور بےروزگار نوجوان، دونوں سے بیک وقت محاذ آرائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بلکہ شام کی مصروفیات پر گفتگو کا ارادہ ہے جن کے بارے میں ہم ہمیشہ سے ایک احساس کمتری کا شکار رہے ہیں۔ یہ احساس کمتری اور بھی بڑھ جاتا جب ہم لوگوں کو نصف نصف شب سردیوں کے چاند کی مانند آوارہ پھرتے دیکھتے۔اب  اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ گرمیوں کا چاند کیا آوارہ نہیں ہوتا۔ تو بھئی! ایک تو سردیوں کا چاند ذرا شاعرانہ سی اصطلاح ہے۔ اور بلاوجہ ایک رومانویت کا احساس ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف گرمیوں کا چاند ہم چولستانیوں کو چولستان کے گرمی یاد دلاتا ہے۔ اور جو گرمی وہاں پڑتی ہے اس میں تو چاند کی مت ماری گئی ہوتی ہے۔ رومانویت کا پہلو کیا خاک نکلے گا۔ بہرحال ہمیں  ماں باپ نے سرکس کے شیر کی طرح ایسا سدھایا کہ جس عمر میں ہمارے ہم عمر شب خون مارنے کے منصوبے بنایا کرتے تھے ہم اپنے بستر میں لیٹے خوداحتسابی جیسے قبل مسیح کے بیکار شغل سے دل بہلایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے شام کی بجائے صبح کی آوارہ گردی کو اپنا شعار بنایا۔ یہ الگ بات ہے کہ صبح  وقت ہمارا سامنا کبھی بھی کسی حسین و مہ جبیں سے نہ ہوا۔ اور اگر کبھی کوئی نظر آئی بھی ہوگی تو یقینی طور پر ایسی ہوگی کہ ہم کو صبح کا منظر ہی زیادہ بھلا معلوم ہوا ہوگا۔  یوں بھی بقول شفیق الرحمٰن عشق اتارنے کا مجرب نسخہ یہ ہے کہ لڑکی صبح کو دکھائی جائے۔  ہماری  خود ساختہ نیکی اور شرافت کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی  ہو سکتی ہے۔ یہ وجہ  ہمیں خود ابھی ابھی یہ  سطور  لکھتے ہوئے معلوم ہوئی ہے۔قصہ مختصر بچپن میں   گھر سے زیادہ دور تک جانےکی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی۔ مغرب کے بعد ماں کی بڑی سخت تاکید ہوا کرتی تھی کہ اگر باہر نکلنا بھی ہے تو گھر سے دور نہیں جانا۔ چھوٹے ہوتے ہم اس کو ماں کا پیار سمجھتے تھے۔ پھر پتا چلا کہ ماں  نفسیات داں ہے۔ اس  کو ڈر ہے مغرب کے بعد لوگ ہمیں1 دیکھ کر ڈر نہ جائیں سو احتیاطً اپنے پاس رہنے کا کہا کرتی تھی مبادا  لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے بچے کی نفسیات پر برا اثر نہ پڑے۔صبح کو آج تک ہم سے کوئی نہیں ڈرا۔ یہ ہمارا ذاتی تجربہ ہے۔  لیکن آج جب ہم مدتوں گھر کا رخ نہیں کرتے۔ تو کبھی گلی کوچوں سے گزرتے کسی دروازے  سے جھانکتی ماں کو دیکھتے ہیں۔ جو گلی میں کھیلتے اپنے بچے کو کہہ رہی ہوتی ہے کہ "مغرب ہوگئی۔ اب اندر آجاؤ۔" توماں کے بعد ہمارا خیال چوہدری کی طرف جاتا ہے۔ چوہدری بھی  آج بھی دن چڑھے دس بجے سے پہلے  اور غروب آفتاب کے بعد گھر سے باہر  نہیں   نکلتا۔ اگر کبھی دوستوں کے اصرار پر گھر سے نکلنا پڑ ہی جائے تو اپنے گھر کے سامنے بنے پارک سے آگے نہیں جاتا۔ہم چونکہ اپنی اس کمی کا علی الاعلان اعتراف کر چکے تھے اور تجدید بھی کرتے رہتے ہیں سو احباب نے ہمیں ہماری اس کمی سمیت قبول کر لیا ہے۔ بلکہ ہماری  اس خامی میں بہتری لانے کی  کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف   چوہدری صاحب اس بات کو ماننے سے بھی انکاری تھے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ دو لوگو ں کا آپ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ایک وہ جو نہر کے دوسرے کنارے کھڑا ہو کر آپ کو گالی دے دے۔ دوسرا وہ جو منہ پر مکر جائے۔ چانچہ جب  بارہا بار  ثبوت فراہم کرنے کے بعد بھی چوہدری  کا کوا سفید ہی رہا تو احباب نے الجھنا چھوڑ دیا۔ ایک دن کچھ دفتری مصروفیات کے سبب تاخیر ہوگئی۔ واپسی پر  عشاء  کے قریب   ہم  چوہدری کے گھر کے باہر سے گزرے۔ لیکن انہی عادات کے سبب ان کے آرام میں مخل ہونا مناسب نہ سمجھا۔ اگلے دن باتوں باتوں میں چوہدری کو بتایاکہ کل اس طرح تمہارے گھر کے پاس سے گزرے تو چوہدری نے فوراً کہا۔ عجیب آدمی ہو تم۔ آجاتے۔ گھر کے باہر بیٹھ کر خوب گپیں مارتے۔ ہم دل ہی دل میں اپنے  گزشتہ شب کے  فیصلے کو خوب داد دی۔   رمضان میں افطاری پر احباب بلا لیں تو اس کے گھر کے گرد پانچ سو میٹر کے دائر میں ہوٹل  ہو تو ٹھیک ورنہ کوئی حیلہ بہانا کر کے ٹرخا دیا کرتا۔ اب اگر ہم یہ بات کہیں کہ جیسی شکل ہماری بچپن میں تھی ویسی چوہدری کی اب  ہے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ اس پر کبھی کوئی مولوی جیسا مزاج شناس یہ کہہ دیتا کہ اس کو ماں نہیں بھابھی کی طرف سے اجازت نہیں ہے تو چوہدری یوں شرما جاتا تھا جیسے کسی کنواری لڑکی کو اس کی سہیلیاں سہاگ کا جوڑا دکھا کر چھیڑ رہی ہوں۔ لیکن جو بات سمجھ سے بالاتر تھی وہ یہ کہ  سب کو بہلا کر کسی ایک دوست کے ساتھ خفیہ افطاری اپنے گھر کے سامنے بنے ہوٹل میں کر لیا کرتا  اور بعد میں چوپال میں دوستوں کو تصاویر دکھا کر کہتا۔ دیکھو! تم ناحق مجھ پر الزام لگاتے ہو۔ کل بھی افطاری باہر کی تھی۔ اکثر احباب اس مخصوص ہوٹل کےمیز و کرسیاں اور  ٹشو پیپر پر بنے مونو گرام تک  پہچانتے تھے۔ اس ضمن میں کئی سوالات بھی اٹھائے جا چکے تھے۔ کہ صرف کسی ایک دوست کے ساتھ ہی کیوں جایا جاتا ہے؟ شہر اقتدار میں  ہوٹل ختم ہوگئے ہیں؟ کسی اور جگہ افطاری نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟ لیکن پہلی بات یہ کہ چوہدری ان سب کو بیک جنبش لب ایک فلسفیانہ جملہ ادا کر کے ختم کردیتا کہ انسان اس دنیا میں سب کو خوش نہیں کر سکتا۔میں سونے کا بھی بن جاؤں تو بھی تمہارے اعتراضات ایسے ہی رہیں گے۔اور دوسری یہ کہ ہم بھی اپنی آئندہ زندگی کے کسی رمضان میں اس عزت کے حقدار ٹھہریں گے۔اب تو فہرست میں ہمارا نمبر بھی آیا ہی چاہتا ہوگا۔  یہ ایک ایسی سوچ ہے جو ہمیں چوہدری کے بارے میں کسی بھی قسم کے بیان جاری کرنے سے روک دیتی ہے۔ 

ملک (ایک نابغہ شخصیت) ہونا آشنا ہمارا۔۔۔ اپنی بسیار خور طبع سے​ (قسط دوم)

گزشتہ سے پیوستہہونا آشنا ہمارا۔۔۔ اپنی بسیار خور طبع سے​یہ ایک روشن صبح تھی۔ ہمارے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آج قدرت ہم پر ہماری ہی بسیار خوری کا راز آشکار کر دے گی۔ عرفانِ ذات کا یہ مرحلہ اس قدر آسانی سے طے پا جائے گا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوگی۔ بے شک کاررواں کے درمیان آپ کی ذات کی کسی خامی کا یوں بیان کردینا کہ ماسوائے آپ کے کسی اور کو اس کی ہوا تک نہ لگے کسی ولی کامل ہی کا کام ہے۔ جمعہ کا مبارک دن اس کام کے لیے یوں بھی مناسب ہی تھا۔  ہم رند سرشت لہو و لعب میں ڈوبے دنیاوی وسائل کی فکر میں کھوئے تھے کہ ہمارے کانوں میں ملک صاحب کی شگفتہ آواز  نے رس گھول دیا۔" آپ نے نماز جمعہ کے بعد کھانے کا کچھ مناسب انتظام کیا ہے؟" یہ ان بھلے دنوں کی یاد ہے جب ملک صاحب ہمیں اور ہم ان کو آپ آپ کر کے پکارا کرتے تھے۔"جی! ابھی تک کچھ نہیں۔ آج کام کچھ زیادہ ہے۔ میں جمعہ پڑھ کر واپس آجاؤں گا۔" ہم نے تفصیلی جواب دینا ضروری خیال کرتے ہوئے کہا۔"اوہ اچھا! ایسا ہے کہ میں جمعہ کے بعد کچھ احباب کے ساتھ باہر کھانا کھانے جاؤں گا۔ اگر آپ کچھ منگوانا چاہیں تو میں بخوشی لے آؤں گا۔" ملک صاحب نے ہم کو معلومات دینے  کے ساتھ ساتھ اپنی مہربان صفت سے بھی آشنا کرواتے ہوئے کہا۔"زبردست! " ہمارے دل نے خوشی سے قلابازی لگائی۔ "آپ کھانا کھانے کدھر جا رہے ہیں؟ " ہماری بھوک صرف کھانے پر جانے کا نام سن کر چمک اٹھی تھی۔"ہم سب کا پراٹھا رول کھانے کا  ارادہ ہے۔" ملک صاحب نے اپنے اور اپنے غائبانہ احباب کے منصوبے سے آگاہی دی۔ہمیں بےاختیار لاہور یاد آگیا۔ لبرٹی کے مشہور پراٹھا رول۔ منہ میں پانی بھر آیا۔ فوراً جی میں آیا کہ کہیں تین پراٹھے رول میرے لیے بھی لے آئیے گا، لیکن ملک صاحب کی کرینہ کپور جیسی صحت دیکھ کر ہمیں خیال آیا کہ کہیں یہ تین پراٹھا رول کو خود پر طنز نہ سمجھ لیں اور وہاں پر کوئی پانچ چھے پراٹھے رول کھا کر ادھ  موئے ہو جائیں، تو کیوں نہ صرف دو ہی کہہ دیا جائے۔ سو دل پر پتھر رکھ کر کہا کہ "دو پراٹھا رول میرے لیے بھی لے آئیے گا۔""دو!" ملک صاحب نے زیر لب دہرایا۔ اور پھر ہمارے جثے پر نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ "آپ کے لیے دو زیادہ ہوجائیں گے۔ ایک جمبو رول لے آؤں گا۔ آپ کو اندازہ نہیں ہے وہ کتنا بڑا ہوتا ہے۔ میرے جیسا بسیار خور بھی بمشکل ایک ہی کھا پاتا ہے۔ "ملک صاحب کا اپنی ذات کے لیے بسیار خور کالفظ استعمال کرنا دیکھ کر ایک بار تو ہمارا دل بھر آیا۔ عین ممکن تھا کہ ہم اٹھ کر کسی قریبی ستون سے لپٹ جاتے اور دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیتے ۔ بہرحال  کسی طرح ہم نے اپنے دل پر قابو پا ہی  لیا۔"ٹھیک ہے جیسے آپ کو مناسب لگے۔" ہم نے شکرگزار انداز میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔جمعہ کی نماز کے بعد ہم دوبارہ آ کر کام میں جٹ گئے۔ لیکن ہائے یہ اشتہا۔ بار بار ذہن میں پراٹھے رول گھومنے لگیں۔  جوں جوں ہماری اشتہا بڑھتی گئی وقت کی نبض اور سست چلنے لگی۔ ہم بے چینی سے   اٹھ کر دوسرے کمروں کا چکر لگاتے اور کبھی واپس آ کر کام میں دھیان لگانے کی کوشش کرنے لگتے۔ وقت دیکھا تو چار بجنے والے  تھے۔ آخر   مایوس ہو کر ہم نے  جب اپنے پیٹ کا آخری تسلی دے دی کہ اب شام کو ہوٹل واپس جا کر کھانا ملے گا تو ملک صاحب کی آمد ہوگئی۔ اپنی مخصوص شگفتہ مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے کہا کہ آئیں چلیں کیفے چلتے ہیں۔ یہ ملک صاحب کا بڑا پن تھا۔ اگرچہ وہ کھانا کھا آئے تھے لیکن مروت میں ہمارے ساتھ بیٹھنے پر بھی ازخود  رضامند  تھے کہ کہیں ہم بوریت کا شکار نہ ہوجائیں۔  کیفے میں کرسی سنبھالتے ہی ہم نے بےچینی سے لفافہ کھولا جس میں ایک بوتل اور ایک جمبو سائز پراٹھا رول ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ لیکن لفافہ کھلنے پر ہمارے ارمانوں پر یوں اوس پڑ گئی ۔   کریم رول کے سائز کا کچھ ایک ریپر میں لپٹا تھا اور اس کے ساتھ ایک  چھوٹی سی کیچپ کی پڑیا اور ایک بوتل۔ ہم نے جمبو سائز پراٹھا رول اٹھایا  جائزہ لیا اور پھر اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔ شاید ہمارے ہاتھ کچھ بڑے ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے یہ پراٹھا رول چھوٹا لگ رہا ہے۔ لیکن جب کوئی بھی چیز ایسی نہ ملی جس پر الزام دھرا جائے تو ہم نے ملک صاحب کی طرف دیکھا۔ جو چہرے پر ایک سنجیدگی سجائے  ہمیں یوں دیکھ رہے تھے گویا ہم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔  "آپ نے جمبو سائز کا فرمایا تھا۔ " آخر ہم سے ضبط نہ ہو سکا۔"جی یہی تو جمبو سائز ہے۔ اففف ! ایک کھا لے آدمی تو پھٹنے والا ہو جاتا ہے۔" ملک صاحب ہماری دلی کیفیات سے بےخبر اپنا تجربہ بیان کر رہے تھے اور ہم دل ہی دل میں خود کو موٹو، پیٹو اور پتا نہیں کن کن القابات سے نواز رہے تھے ۔

ملک (ایک نابغہ شخصیت)

ملک (ایک نابغہ شخصیت)تعارف:====السلام علیکم! "ہمارا نام لے کر" آپ ہی ہیں؟وعلیکم السلام! جی میں ہی ہوں۔ ہم نے حیرانی سے اس نوجوان کو دیکھا جو ہماری میز کے پاس کھڑا  ہمارے علاوہ ہر طرف دیکھ رہا تھا۔ملک : "میرا نام ملک ہے۔" آنے والے نے  ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا۔راقم: "اوہ! آپ ہیں۔ کیسے ہیں آپ؟"  کل آپ کا تذکرہ ہوا تھا۔  ہم نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ کھڑے ہو کرمصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ انہوں نے بھی ایک استخوانی پنجہ آگے بڑھا دیا۔   یہ ہماری ملک صاحب سے پہلی ملاقات تھی۔ملک کے لفظ سے ہمیں ہمیشہ ایک واقعہ یاد آ جاتا ہے۔ کالج کا پہلا دن تھا ۔ کلاس میں مستقبل کے سب مہندسین ایک دوسرے کو اجنبی اجنبی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ہر مدرس آتا کلاس سے اپنا تعارف کرواتا۔ طلباء کا تعارف سنتا۔ یوں یہ تعارفی دن اپنے اختتام کی طرف گامزن تھا کہ اردو کے پروفیسر صاحب کی کلاس میں آمد ہوئی۔ انہوں نے اپنا تعارف کروایا  اور اس کے بعد تمام لڑکوں سے کہا کہ باری باری اپنا تعارف کرواتے جائیں۔ ایک لڑکے نے کھڑے  ہو کر اپنا نام "ملک" کے لاحقے کے ساتھ بتایا۔ تو پروفیسر صاحب فوراً اس کی طرف منہ کر کے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں بولے۔ "پتر! ملک کوئی ذات نئیں ہندی، سیدھی طرح  دس، تیلی ایں کہ اعوان ایں؟"۔ اس پر پوری کلاس میں ایک فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا۔یہاں بطور سند یہ بتانا چاہوں گا کہ راقم نے ملک صاحب سے کبھی یہ سوال نہیں کیا  ۔ یوں بھی "اعوان" گیارھویں صدی میں وجود میں آئے تھے۔ اس سے قبل  یہ کیا  کہلاتے تھے۔ اس پر مؤرخ خاموش ہے۔ اور جب مؤرخ خاموش ہوجائے تو دورِ جدید کے فتنہ سازوں کو ایسے نکات پر بحث نہیں کرنی چاہیے جن کے جوابات کے لیے  ان لوگوں سے تصدیق درکار ہو جو کسی بھی تصدیق و تردید  سے قبل  عیسیٰ سے مسیحائی چاہیں۔
ہمہ جہت شخصیت:=========یوں تو ہم نے شاید ہی کبھی زندگی میں جسمانی کھیلوں کے میدان میں کوئی کارہائے نمایاں سرانجام دیا ہو، لیکن خدا  گواہ ہے کہ ہم ان لوگوں کا دل سے احترام کرتے ہیں جو ایسے کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کام پر اکساتے ہیں۔ زندگی بھر ہم نے جس کو بھی دیکھا کسی ایک ہی کھیل میں مستعد پایا۔ جو  کوئی کرکٹ کا کھلاڑی ہے تو اس کا علم  و عمل بھی کرکٹ کی حد تک ہی محدود ہے۔ فٹ بال کا کھلاڑی یا شوقین کسی اور کھیل کے بارے میں معلومات رکھنا اپنی ہتک سمجھتا  ہے تو ٹینس کا کھلاڑی ٹینس کو دنیا کا سب سے مشکل کھیل سمجھتا ہے۔ جسمانی کسرت کے شوقین لوگوں کے آگے اس سے بڑھ کر اور کوئی چیز ہی نہیں اور باقی سب  کو وہ وقت کا ضیاع گردانتے ہیں۔  ہمارا بھی اول دن سے اس بات پر پختہ یقین تھا کہ کھلاڑی وہی ہے جو کسی ایک کھیل پر مکمل دسترس رکھتا ہے لیکن انسانوں  کے  غوروفکر اور تدبر کی صلاحیت کو جلا بخشنے کے لیے قدرت اپنے کرشمے دکھاتی رہتی ہے۔ اگر یہ نہ ہوں تو انسان کی سوچ میں یکسانیت آجائے۔ ہمارے اس خیال سے بھی شاید قدرت کو اختلاف تھا سو وسائل ایسے پیدا ہوئے کہ ہماری ملاقات ملک صاحب سے ہوگئی۔  صرف ملک صاحب کی  ذات بابرکات  سے ہی بےشمار کرامات منسوب نہ تھیں بلکہ زیادہ تر لوگوں کا فرمانا تھا کہ وہ خود ایک معجز نما ہیں۔لیکن ان کے ذات نے ہمیں کن کن پہلوؤں سے متاثر کیا وہ ہم یقینی طور پر بیان کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔ بلاشبہ آج اگر  ہم کھیلوں کے بغیر ایک صحتمند زندگی گزار رہے ہیں تو یہ ملک صاحب ہی کی نظر کرم کی کرامت ہے۔"انسان بھی عجیب چیز ہے۔ جن خوبیوں  کو وہ خود اپنے اندر دیکھنا چاہتا ہے وہی کسی غیر میں نظر آ جائیں تو مرید ہو جاتا ہے۔  " ملک صاحب نے آئینے کے سامنے بیٹھے عکس کو گھورتے ہوئے کہا۔ ہم نے ایک نظر آئینے پر اور دوسری ملک صاحب پر ڈالی۔ "بے شک پس آئینہ ایسی ہی شخصیت ہے کہ مرید ہوا جائے"۔ ہم نے تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے اضافہ کیا۔
(جاری ہے)

کاہلی پر اشعار

اس موضوع میں کاہلی پر اشعار پیش کیے جائیں گے۔ تمام آلکسیوں سے حسب توفیق حصہ ملانے کی درخواست ہے۔۔۔۔
پہلے پہل کاہلی کا تذکرہ اساتذہ کی زباں سے۔۔۔
میر تقی میر۔۔۔ موضوع کے لحاظ سے تھکی تھکی میر نہ پڑھا جائے۔۔۔ اپنی مثنوی شکار نامہ میں فرماتے ہیں۔۔۔۔میری بھی خاطر نشاں کچھ تو کیا چاہیےمیؔر نہیں پیر تم کاہلی اللہ رے(مثنوی)
اس کے بعد غالب کا ذکر ہی بنتا ہے۔۔۔۔ او ریہ ممکن نہیں کہ غالب نے کاہلی کا ذکر نہ کیا ہو۔۔۔کیا ہے ترکِ دنیا کاہلی سےہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سے
پر افشاں ہوگئے شعلے ہزاروںرہے ہم داغ اپنی کاہلی سے(غیر مطبوعہ)
اب جو اسماعیل میرٹھی نے کاہلی کی یوں تعریفیں دیکھیں۔ تو پتا نہیں پرانے بزرگوں کی طرح کیا سوجھی۔ فورا پکارے۔۔۔۔کرو گے بھلا کاہلی تم کہاں تکاٹھو سونے والو کہ میں آرہی ہوںصبح کی آمد (نظم)
اسماعیل میرٹھی کی پکار انور شعور پر کافی گراں گزری۔ پہلے پہل تو انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونسی ہوں گی۔ مگر آخر بےبس ہو کر اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہنے لگے۔کہاں تک کاہلی کے طعن سنتاتھکن سے چور ہو کر گر پڑا ہوںغزل
انور شعور بلاشبہ ان چند زیرک شعرا میں سے تھے جو جانتے تھے کہ کاہلی اور آلکسی ایک بار امانت ہے۔ اور کس و ناکس اس کا بار نہیں اٹھا سکتا۔ اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کسی اور ترنگ میں کہا کہتساہل ایک مشکل لفظ ہے اس لفظ کےمعنیکتابوں میں کہاں ڈھونڈوں کسی سے پوچھ لوں گا میں
عہد حاضر کے محققین کیسے اس موضوع سے آنکھیں پھیر سکتے تھے۔ سو احمد جاوید صاحب نے بھی فی زمانہ رائج کاہلی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہوہ کاہلی ہے کہ دل کی طرف سے غافل ہیںخود اپنے گھر کا بھی ہم سے نہ انتظام ہوا
مزاحیہ شاعر اس قیمتی موضوع کو کیسے خالی جانے دے سکتے تھے۔ سو احمق پھپھوندی نے بھی اندرونی کاہلی اور خون کی گردش کے حسین تضاد پر روشنی ڈالی۔۔۔۔ (شاید شاعر کہنا چاہتا ہے کہ آلکسی کا خون بھی منجمد ہونا چاہیے۔ واللہ اعلم)نکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتا
یوں تو یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ ہر شاعر کو اس پر لازماً شعر کیا پورا پورا دیوان کہنا چاہیے۔ تاہم اکثریت ایسی آلکس تھی / ہے کہ انہوں نے اس پر بھی شعر نہ کہا۔ اب یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں کہ بوجہ سستی۔

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں گزشتہ دنوں لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ یوں تو ہر کچھ عرصہ کے بعد لاہور کا چکر لگتا رہتا تھا اور ہے۔ لیکن اس بار پنجاب یونیورسٹی جانا تھا۔ میں جامعہ پنجاب کا طالبعلم تو کبھی نہیں رہا لیکن لاہور شہر کے اندر بسے اس شہر سے ہمیشہ سے ایک عقیدت رہی ہے۔ درمیان سے بہتی نہر کے ایک طرف تو جامعہ کے شعبہ جات ہیں۔ جبکہ دوسرے کنارے کے ساتھ ساتھ ہاسٹلز کی ایک قطار ہے۔ ان ہاسٹلز کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے بنے میدان تھے۔ ان میدانوں کے ایک سرے پر کچھ تعمیر کا کام ہو رہا تھا۔  میں پہلی نگاہ میں یہ سمجھا کہ جامعہ کی طرف کوئی سپورٹس کمپلیکس بنانے کا ارادہ ہوگا  جس کی تکمیل کے لیے یہ کام کیا جا رہا ہے۔ لیکن جب ان پر میں نے شادی ہال کے جگمگاتے بورڈز دیکھے تو مجھے شدید دکھ اور کرب کا سامنا کرنا پڑا۔ تو اب جامعہ اپنی آمدن کے لیے شادی ہال چلائے گی۔ ایک طرف طلباء کو تعلیم دے گی اور دوسری طرف کاروبار چمکایا جائے گا۔ بلاشبہ لاہور جیسے شہر میں بڑا شادی ہال بنانا  ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ لیکن کیا اب پنجاب حکومت اس قدر تنگدست ہوچکی ہے کہ جامعہ کو اپنے خرچے پورے کرنے کے لیے کاروبار چلانے پڑیں گے۔ غیر سرکاری تعلیمی اداروں نے تو پہلے ہی  تعلیم کو کاروبار بنا کر دیوالیہ نکال دیا ہے۔ ان کے لیے طالبعلم ایک صارف ہے۔ اور استاد ایک کاروبار بڑھانے والا سیلز مین۔لاہور کے اکھڑی سڑکیں، نئے نئے نقشے یقینی طور پر ظاہری ترقی کی علامت ہیں۔ لیکن وہ قوم جس کے حکمران دلالی کو اپنی وراثت اور لوٹ کھسوٹ کو اپنا فرض سمجھتے ہوں۔ وہ قوم جو ہر آنے والے لٹیرے کو رہنما سمجھ کر خود کی ہی نیلامی میں شریک ہوتی ہو۔ اس قوم کو کیا  کھلی سڑکیں ، بڑی کاریں اور ظاہری چمک دمک  کی ضرورت ہے یا تعلیم اور شعور کی۔ یقینی طور پر شعور کی۔ من حیث القوم بنا کسی علمی مقام تک پہنچے اور شعور کی بنیادی منازل طے کیے بغیر ایسی ترقی کا خواب بھی ذہنی عیاشی کے علاوہ کچھ نہیں۔  ایسی علم گاہوں کی شدید کمی ہے جو قوم کی ذہنی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ جن کی مدد سے نوجوان طبقہ  اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنے لیے نئے آسمان پیدا کر سکے۔  سڑکوں او رظاہری شان و شوکت پر اربوں روپیہ لگانے والوں کے پاس کیا اس قدر رقم بھی نہیں کہ صوبے کی سب سے بڑی جامعہ کے اخراجات  ہی پورے کر دیے جائیں۔ طلباء کے کھیلوں کے میدان پر بنائے گئے ان شادی ہالوں کی جگہ ان کے لیے  ذہنی بالیدگی کی فضا قائم کی جاتی۔میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا آج اگر میں اٹھارہ برس کا ایک لڑکا ہوتا جو جامعہ داخلے کے لیے آتا۔ اور جامعہ کو اس قسم کے کاروبار کرتے دیکھتا۔ تو شاید میں اپنے گاؤں واپس  لوٹ جاتا۔ وہ رقم جو میں نے اپنی تعلیم پر خرچ کرنی تھی۔ وہ میں اسی  طرز کے کسی بڑے پلاٹ پر تنبو قناطیں کھڑی کرنے پر لگا دیتا۔ چھوٹے پیمانے سے شروع کرتا۔ اور شاید کامیاب بھی رہتا۔لیکن جب میں اپنے گردونواح پر نظر ڈالتا ہوں۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ سب سے آہستہ رفتار والی لائن میں جانے پر بھی پیچھے سے کوئی گاڑی والا آپ کو بار بار لائٹس مارتا ہے۔ جب کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں کا شیشہ نیچے ہوتا ہے۔ اور ان کے اندر سے ایک جوس کا ڈبہ یا کوئی   خالی بوتل اور بسکٹوں کو خالی ڈبہ باہر اچھال کر شیشہ واپس اوپر کر لیا جاتا ہے۔ جب پولیس والا کمتر کا چالان اور ظاہری شان رکھنے والے کو جانے دیتا ہے۔ جب سفارشی عہدے پر ہوتا ہے۔ اور علم اپنی علمیت کا بوجھ اٹھائے در در کے چکر لگاتا ہے۔ تو پھر میں سوچنے لگتا ہوں کہ جامعہ کا فیصلہ درست ہے۔ اس ذہنی بدکار اور بیکار قوم کو تعلیم اور کھیلوں کے میدان کی نہیں شادی ہالوں کی ہی ضرورت ہے۔ 

ایک صبح


یہ مارگلہ ہلز کے دامن سے چوٹی کی طرف جاتا  وہ راستہ تھا، جہاں لوگ شاذ ہی قدم رکھتے ہیں۔ فطرت اپنے اصل حسن کے ساتھ موجود تھی۔  پگڈنڈی  تھی کہ  خیابان کی تفسیر تھی۔ دونوں اطراف سے درختوں نے راستے کو یوں ڈھک رکھا تھا کہ ہلکی بارش کی رسائی زمین تک ناممکن سی ہوگئی تھی۔ بل کھاتا چڑھائی چڑھتا یہ راستہ تھکا دینے والا تھا۔ لیکن جتنا وجود تھکتا تھا ذہن پر جمی گرد اتنی ہی دھلتی چلی جا رہی تھی۔ تازہ ہوا پھیپھڑوں میں اتری تھی کہ ایک بار  نظام تنفس بھی پریشان ہوگیا۔ آج کوئی مٹی کوئی گرد نہیں۔ جسم میں ایک تازگی کی لہر سے دوڑ گئی۔ اسی جوش کے زیر اثر جو میں نے تیز رفتاری دکھانے کی کوشش کی تو پاؤں کے نیچے آنے والے خزاں رسیدہ پتوں نے اس مملکت کے عام آدمی سے زیادہ شور مچا دیا تھا۔ وہ اتنی زور سے چلائے تھے کہ ایک بار تو میں نے بھی رک  کر دیکھا ، پتے ہی ہیں نا۔
کتنی بھلی لگتی ہے فطرت کی خاموشی۔کبھی  پرندوں کا چہچہانا اس خاموشی کو توڑتا تھا۔ تو کبھی کسی بھولے بھٹکے چوپائے کی  چلنے سے جھاڑیاں شور مچاتی تھیں  جیسے کسی نے انہیں  بےسبب کچی نیند سے بیدار کر دیا ہو۔ یہ خاموشی فراواں کلام کرتی ہے۔ سماعتوں کو وہ لفظ سناتی ہے جو روزمرہ کی گفتگو سے متروک ہوچکے ہیں۔ وہ خیال، وہ جذبے وہ چاہتیں جو دم توڑ چکی ہیں ان کو زندہ کرتی ہے۔
اوپر پہنچا تو ایک خوبصورت نظارہ منتظر تھا۔ نیچے عمیق وادی میں بےرحم شہر اقتدار پھیلا تھا۔ بلند و بالا عمارات چھوٹی ہو کر نشان سا رہ گئی تھیں۔  دور کہیں راول جھیل کا پانی ایک بڑے تالاب کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ اور مشرق سے نکلتا انڈے کی زردی جیسا سورج مجھے ناصر کاظمی کےاشعار یاد دلا رہا تھا۔ ایسے موسم میں یہ ہلکی ہلکی بارش کسی معصوم بچے کے لمس جیسی لگ رہی تھی۔ گزری رات کے سائے سمٹ چکے تھے۔  روز مرہ کی فکریں، پریشانیاں جھنجھٹ سب نیچے رہ گیا تھا۔  اوپر اگر کوئی چیز تھی تو وہ حسن تھا خالق کا۔ مالک کا۔

سامنے دھری (دوئم) از قلم نیرنگ خیال

گزشتہ سے پیوستہ:
غائب دماغی بھی" سامنے دھری "والی قبیل سے  ہی تعلق رکھتی ہے بلکہ یوں کہنامناسب ہے، "سامنے دھری "والے مقولے کی عملی شکل  غائب دماغی ہے۔ انسان جہاں موجود ہوتا ہے۔ وہاں موجود نہیں ہوتا۔ اور وہاں موجو د ہوتا ہے جہاں اسے موجود نہیں ہونا چاہیے۔ اس سے کبھی    بہت سنجیدہ صورتحال جنم لیتی ہے تو کبھی بہت ہی مضحکہ خیز حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ غائب دماغی میں اگر ایک سے زیادہ شخص  شامل ہوجائیں تو صورتحال عموماً بہت ہی عجیب ہو جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جس میں ہم دو افراد بیک وقت خود کو پروفیسر کے درجے پر فائز کر بیٹھے تھے۔  آخری لمحے  تک ہمیں یہ اندازہ نہیں ہوا کہ ہم  نے اصل میں کدھر جانا تھا اور ہم کدھر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بہاولپور سے ہماری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ ہمارا ننھیال، وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں سب کا جمع ہونا، گپ بازی، کھیل  کود، الغرض کیا کیا  ہے جو  ہمیں اس شہر کی سرحد کو چھوتے ہی یاد آجاتا ہے۔  لیکن اس بار ہم   اپنے ننھیال  نہیں جا رہے تھے۔   اہلیہ کو اس کے میکے چھوڑنے کے بعد آزادی کا جو احساس کسی بھی مرد میں جاگتا ہےاس کا ادراک کوئی شادی شدہ مرد ہی کر سکتا ہے۔  شہرِ سسرال سے نکلتے  آدھی چیزیں تو بندے کو ویسے ہی بھول جاتی ہیں۔ اور باقی آدھی وہ دانستہ بھلا دیتا ہے۔ ہماری بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی۔ وہاں سے نکلے اور بہاولپور میں اپنے ایک قدیم    دوست کو فون کیا۔راقم: کدھر ہے بھئی؟دوست: بہاولپور میں ہوں۔راقم:  میں آرہا ہوں۔دوست: بھابھی اور بچے بھی ساتھ ہیں؟راقم:  ایک فلک شگاف قہقہے کے ساتھ:نہیں۔ اکیلا ہی ہوں۔دوست: آجا جلدی سے ۔ سیدھا میرے دفتر آجائیں۔  زور کی بھوک لگی ہے۔اس کے دفتر پہنچتے ہی ملنے سے بھی قبل ہم نے بھوک کا نعرہ مستانہ بلند کر دیا۔ دوست نے کمال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ بتا کھانا کہاں کھائے گا۔ ہم  ابھی اس کی فیاضانہ پیشکش پر غور ہی فرما رہے تھے کہ اس نے خود ہی ہماری مشکل آسان کر دی۔ فورسیزن کا پیزا بہت اچھا ہے۔ چل وہ کھاتے ہیں۔ مجھے بھی فور سیزن کھانا کھائے کافی عرصہ گزر چکا تھا لہذا کسی بھی قسم کے اختلاف پیدا نہیں ہوا۔ ہم دونوں گاڑی میں بیٹھے اور فور سیزن کی طرف چل نکلے۔پارکنگ میں گاڑی لگانے کے بعد ہم دونوں باتوں میں مگن اتر کر اندر کی طرف چل پڑے۔ داخلی دروازے  سے گزرتے ہی مجھے اجنبیت کا احساس سا ہوا۔چند سالوں ہوٹل کتنا بدل گیا ہے۔ داخلی راہداری تو بالکل ہی بدل ڈالی ہے۔ میں نے دوست کو کہا۔وہ بھی حیران سی نظروں سے ہال پر نظر ڈالتے ہوئے کہنے لگا کہ ہاں یار!  اندرسے  بھی بالکل بدل گیا ہے۔  ہال کی تقسیم بھی کر دی  گئی ہے۔ میں چند مہینے قبل آیا تھا۔ بڑی جلد ہی ان لوگوں نے نقشہ بدل ڈالا۔بیرے نے ایک میز تک ہماری رہنمائی کی۔ اور مینو کارڈ ہمارے سامنے دھر دیا۔یار یہ دیوار پر جو بڑا سا لاتسکہ لکھا ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ میں نے اس کی توجہ ایک دیوار کی طرف کروائی۔یہ تو مجھے علم نہیں۔ بڑا عجیب سا لفظ ہے۔ اس نے کاندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔ہم دونوں مینو دیکھنے میں مصروف ہوگئے۔ کون سا پیزا آرڈر کریں۔ یہ چکن تکہ یا پھر باربی کیو؟  دوست نے پوچھا۔میرا خیال ہے کہ لاتسکہ سپیشل منگوایا جائے۔ باقی سب تو  پہلے بھی کھائے ہوئے ہیں۔  کچھ نیا ذائقہ بھی ہوجائے۔ میں نے کہا۔پیزا آرڈر کرنے کے بعد ہم دونوں دوبارہ خوش گپیوں میں مصروف ہوگئے۔ پرانے دنوں کی باتوں اور یادوں نے ہمیں ارد گرد کے ماحول سے یکسر لاتعلق کر دیا تھا۔  کھانے کے دوران میں نے غور کیا تو نیپکن اور ٹشو پر بھی لاتسکہ لکھا ہوا تھا۔ یاحیرت یہ کیا ماجرا ہے۔کھانے کے بعد جب بل آیا تو اس پر بھی لاتسکہ لکھا ہوا تھا۔ ہم نے ایکدوسرے کو دیکھا۔ دوست کہنے لگا کہ یار انہوں نے تو بل تک کی پرنٹنگ بدل دی ہے۔ حد ہے۔بل کی ادائیگی کے بعد اپنے تئیں جب ہم فور سیزن ہوٹل سے باہر نکل کر کار کی طرف بڑھے  تو مجھے ساتھ والے ہوٹل کے اوپر فور سیزن کا  بورڈ نظر آیا تو بےاختیار میرے سے نکلا۔ "اوئے فورسیزن کا بورڈ اُدھر کیوں لگا ہے؟"اس پر ہم نے دونوں نے اکھٹے پلٹ کر دیکھا۔ جس ہوٹل سے ہم کھانا کھا کر نکلے تھے۔ اس پر لاتسکہ کا بورڈ جگمگا رہا تھا۔ 

شاہ جی

یہ ان بھلے دنوں کی بات ہے جب مولوی نے شہر اقتدار میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ دفتر میں مولوی کی نشست ملک صاحب  اور چوہدری کے ساتھ تھی۔   شاہ جی ان کے بالکل عقب والی کرسی پر  سویا کرتے تھے اور جب کبھی جاگ رہے ہوتے تو فرماتے تھے کہ یہ لوگ میرے عقب میں بیٹھتے ہیں۔ بات ان کی یوں بھی درست تھی کہ شاہ جی خود تو کم ہی بیٹھا کرتے تھے۔ زیادہ تر میز کو تکیہ بنائے فون کو کسی حسینہ کا ہاتھ سمجھ کر تھامے محو استراحت ہوتے تھے۔  آخر ہم سے رہا نہ گیا اور شاہ جی سے ایک دن پوچھ ہی بیٹھے کہ فون کو اتنی محبت سے پکڑ کر کیوں سوتے ہیں۔ کیا کسی کے لوٹ آنے کا امکان باقی ہے۔ اس پر شاہ جی نے صرف ہنسنے پر اکتفا کیا۔ یوں بھی ہمارے درمیان ایسی کوئی بےتکلفی نہ تھی کہ شاہ جی ہماری اس بات کا جواب دیتے یا جواباً ہم پر کوئی فقرہ کستے۔ اب یہ سوال اس لیے نہیں پوچھتے کہ بےتکلفی کے سبب شاہ جی اصل بات ہی نہ بتا دیں۔ پہلی چند ملاقاتوں میں ہم شاہ جی کو مکہ پلٹ حاجی سمجھتے رہے۔ وجہ  یہ  کہ  ہم نے  اتنا منڈھا ہوا سر حاجیوں اور عمرہ کر کے پلٹنے والوں کا ہی دیکھا تھا۔ لیکن  مہینوں بعد بھی بالوں کی طوالت میں اضافہ نہ ہوا تو ہم سمجھ گئے کہ یہ حاجی پلٹ   حلیہ ڈھونگ ہے۔ درحقیقت شاہ جی ایک پلٹے ہوئے حاجی تھے جس کا ادراک ہمیں   مدت کی آشنائی کے بعد ہوا۔ شاہ جی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کی عادات کا  تذکرہ ہو تو سامع  فوراً کہتا ہے کہ بالکل ایسا ہی ایک دوست میرا بھی ہے۔  یہی وجہ تھی کہ جب  شاہ جی سے  تعارف ہوا تو ہم نے بھی یہی کہا کہ شاہ جی آپ جیسا ایک دوست ہمارا  بھی ہے۔شاہ جی  کے قدوقامت  کی مثال عمران سیریز کے "جوانا" سے دی جا سکتی ہے۔ لحیم شحیم، جتنا لمبا، اتنا چوڑا۔ ایک دن اپنی دونو ں کلائیوں کو اکھٹا جوڑ کر فرمانے لگے آج میں نے ایک لڑکی  دیکھی  جس کی کمر قریباً  میری ان کلائیوں جتنی ہوگی۔ اس پر مولوی نے برجستہ کہا۔ شاہ جی مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ کو موٹی عورتیں پسند ہیں۔مولوی کا   فرمانا اپنی جگہ بالکل بجا تھا ۔ شاہ جی کی کلائی کی گولائی ایک عام آدمی کی ران جتنی تھی۔ اس پر دونوں کلائیاں ملا لی جائیں تو   کمر کسی پنجابی ہیروئن ہی کی بنتی ہے۔  ہمارے ذہن میں مشہور زمانہ گانے کے بول رقص کرنے لگے۔ پٹ 28 کڑی دا، 87 ویٹ کڑی دا۔ مردوں سے بات کرتے وقت چشمہ اتار دیا کرتے تھے۔ اور صنف مخالف سے بات کرتے وقت چشمہ اتار کر شیشے صاف کر کے دوبارہ لگا لیتے تھے۔ پتا نہیں اس میں کیا رمز تھی۔  ہاں یہ بات ہمیں ضرور معلوم تھی کہ بغیر چشمے کے شاہ جی  کوئی ساڑھے تین سینٹی میٹر تک دیکھ لیتے ہیں۔ پاس کھڑا دوست ان کو دکھائی نہیں دیتا تھا لیکن ہمالہ  پر کھڑے ہو کر کراچی ساحل پر  پھرتی لڑکیاں   دیکھ لیا کرتے تھے۔  ان کی اس دوربیں نگاہ اور حرکات کے سبب ہمیں  محسوس ہوتا کہ شفیق الرحمن کا کردار "شیطان" تحاریر کی دنیا سے نکل کر مجسم ہوگیا ہے۔ایک دن   ہم، مولوی اور شاہ جی جب جمعہ نماز کے لیے نکلے تو راہ میں شاہ جی کو پتا نہیں کیا سوجھی۔ مولوی کو چھیڑتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر یہ بڑا ساکھمبا آپ کے سر پر گر پڑے تو آپ اور  چھوٹے ہو کرکوہ قاف سے درآمد شدہ لگیں گے۔ اس پر ہم نے کہا کہ اگر یہی کھمبا آپ کے سر پر گر پڑے تو آپ چھوٹے ہو کر   عام انسان لگیں گے۔   شاہ جی نے  مسکراتے ہوئے  دستِ شفقت راقم کے کاندھے پر رکھا، جس کا اثر راقم  الحروف نے ایڑی تک محسوس کیا۔شاہ جی کے قدو قامت کا اندازہ ان کے چہرے مہرے سے نہیں ہو پاتا تھا۔ اور اس کا وہ بہت ناجائز فائدہ بھی اٹھاتے تھے۔ ایک دن مجلسِ یاراں میں اپنی دلیری کا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہنے لگے۔میں شمالی علاقہ جات سے واپس آرہا تھا۔  راستے میں ایک موٹر سائیکل والے نے انتہائی فضول انداز میں بائیک سڑک پر لہرایا جس کی وجہ سے گاڑی نے ہلکی سی تھپکی اس  موٹر سائیکل کو دے دی۔ میں نے دیکھا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے تو نہ گاڑی آہستہ کرنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی رکا۔ لیکن اس موٹر سائیکل سوار نے دیکھا کہ ایک "لڑکا بالا" گاڑی اڑائے لے جا رہا ہے سو فوراً  گاڑی کے پیچھے اپنا موٹر سائیکل لگا لیا۔شاہ جی کے منہ سے اپنے لیے "لڑکا بالا" کے الفاظ سن کر تمام سامعین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لیکن شاہ جی نے سب  کو نظرانداز کر کے اپنی بات جاری رکھی۔ لڑائی بھڑائی سے میں یوں بھاگتا ہوں جیسے سپین میں لوگ بھینسے کے آگے بھاگتے ہیں۔اب میں سوچ رہا تھا کہ اس سے جان کیسے چھڑاؤں۔ خیر آگے  ایک ہوٹل پر جب میں نے گاڑی روکی تو وہ فوراً میرے دروازے والی طرف آگیا۔ میں سکون سے نیچے اتر کر جب اس کے سامنے کھڑا ہوا تو اس کے چہرے کی رنگت ہی بدل گئی۔ اس غریب کو ایسی ہی مایوسی ہوئی جیسی کسی لڑکی کا نمبر سمجھ کر ملانے والے آوارہ اور بدقماش لڑکے کو لڑکے کی آواز سننے پر ہوتی ہے۔ اور وہ گھبرا کر کہتا ہے۔ "جی فلاں سے بات ہو سکتی ہے۔"اس کا سر بمشکل میرے سینے تک پہنچ رہا تھا۔ میں نے پوچھا۔ "جی فرمائیے!" تو اس کی زبان بھی لڑکھڑا گئی اور کہنے لگا کہ "دیکھیے! ہمارا بھی سڑک پر حق ہے۔"  میں نے کہا تم اتنی دور مجھے بس یہی بات بتانے آئے ہو تو وہ بےچارہ دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ آخر میں نے اس کو ایک عدد ہلکا سا دھکا دیا اور اندر کی جانب چلا آیا۔  شاہ جی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس دن انہوں نے شکرانے کے کتنے نفل پڑھے تھے۔کھیلوں کے بےحد شوقین تھے۔  اکثر ان کا نعرہ ہوتا تھا ۔"کھیڈاں نہ کھیڈن دا ں گے۔۔۔۔ " بقیہ  احباب علم و عمل کی محاورہ فہمی پر چھوڑ رہا ہوں۔ کئی ایک تو دبے دبے لفظوں میں کہہ بھی دیتے کہ آپ تو کھیل لیتے ہیں۔  انہی دنوں میں شاہ جی کو فوس بال (گڈویوں والا فٹبال) کھیلنے کا شوق ہوگیا۔  عالم یہ تھا کہ شاہ جی کے ہاتھ بال آجاتی تو اتنی زور سے شاٹ مارتے کہ بال مخالف سمت کی دیوار سے ٹکرا کر اپنے ہی گول میں  جا چھپتی تھی۔ کئی بار تو گیند نے باہر آنے سے انکار کر دیا کہ جناب یہ آدمی بہت زور سے مارتا ہے۔ دیکھنے والوں کا یہ بھی فرمانا تھا کہ ایک آدھے فٹبالر کی ٹانگ توڑ دی ہے۔ اگر وہ راڈ سے بندھے نہ ہوتے تو یقیناً باہر آجاتے۔ اس پر ہمارا خیال یہ ہے کہ اگر ہو بندھے ہونے کی وجہ سے باہر نہیں آسکتے تھے تو دل میں گالیاں ضرور دیتے ہوں گے۔  اچھے کھلاڑی کو اپنا پارٹنر بناتے اور جیتنے کی صورت میں خود رقص ابلیسی فرماتے۔ایک دن مجھ گناہ گار سے فرمانے لگے کہ آئیں فوس بال کھیلتے ہیں۔ میں  ان کے ساتھ چل پڑا۔ جہاں شاہ جی ایک قدم اٹھاتے میں چار پانچ قدم اٹھاتا۔ لیکن بندہ بشر تھا۔ سو کوتاہی ہو گئی اور جب فوس بال کی میز تک پہنچا تو شاہ جی میرے سے ایک قدم آگے ہوگئے۔   وہاں پر ایک بہتر کھلاڑی پہلے سے کسی پارٹنر کی راہ تک رہا تھا۔ فوراً اس کے ساتھ ہاتھ ملا کر مجھے کہنے لگے۔ آپ نے دیر کر دی۔  محفل یاراں میں جب شاہ جی کی اس بےرخی کا تذکرہ کیا تو مولوی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔  ہم پریشان ہوگئے ۔ الہی خیر۔ اے مولوی! بتا تو سہی ماجرا کیا ہے۔ اے شخص تو رو کیوں رہا ہے۔ چشم فلک نے ایسا کون سا منظر دکھلا دیا  کہ آج سربزم تیری آنکھ چھلک گئی۔ اس پر وہ مرد بےقرار ، پیکر زہد و انکسار یوں گویا ہوا۔تمہارا یہ واقعہ سن کر مجھے ایک شام کا قصہ یاد آگیا ہے۔ ہاں وہ شام ہی تھی۔ عام سی شام تھی لیکن پھر ایسی بات ہوئی کہ وہ شام بہت خاص بن گئی۔ آہ! اس کو یاد کر کر کے میرا کلیجہ چھلنی ہوا جاتا ہے۔ سنو اے نادان دوستو! تمہیں میں اپنی سادگی اور شاہ جی کی چالاکی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔  یہ شخص جسے دنیا شاہ جی کے نام سے جانتی ہے میرے پاس آیا۔ میں ایک دفتری  کام میں  غرق تھا۔ اس پر آدھے سامعین کی آنکھوں میں حیرت عود کر آئی۔ مولوی نے مجلسی حیرانی کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے بات جاری رکھی۔  اس نے مجھے کہا کہ آؤ نیچے جا کر فوس بال کھیلتے ہیں۔ میں اس قدر مصروف تھا کہ میں نے اسے اشارے سے منع کیا۔   لیکن اس نے میرے اشارے کو ایک طرف کرتے ہوئے کہا کہ خبردار! دفتر میں اس قسم کے اشارے کرنا اخلاقی گراوٹ کی نشانی ہے۔ میں خود بھی سوچ میں پڑ گیا کہ میں نے اشارہ کیا کیا ہے۔ اس نے  جب مجھے تذبذب کے عالم میں دیکھا تو کہنے لگا کہ آئیں۔ فوس بال کھیلنے سے طبیعت تروتازہ ہوجائے گی۔واپس آکر کام کر لیجیے گا۔ میں جو کافی دیر سے دفتری الجھن کا سرا ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا مجھے اس کی بات میں صداقت نظر آئی۔ میں اس کے ساتھ کھیلنے کی جگہ تک جا پہنچا۔ وہاں پہلے ہی  دو ٹیمیں آپس میں کھیل رہی تھیں۔ ہم ان کا کھیل دیکھنے لگے۔ باتوں باتوں میں شاہ جی نے تگڑی والی ٹیم کو چیلنچ مار دیا۔ اور کہنے لگے کہ اگر خدانخواستہ تم لوگ اس  ٹیم سے جیت گئے تو پھر ہم دیکھنا تمہارا کیا حشر کریں گے۔ میں شاہ جی کے اس چیلنچ پر حیران ہو رہا تھا کہ میری کھیلنے کی صلاحیت جاننے کے باوجود وہ اس ٹیم کو چیلنج کیسے دے رہے ہیں۔ اتنی دیر میں ایک اور اچھا کھلاڑی  وہاں آن پہنچا۔ تگڑی ٹیم کے جیتنے کے بعد جب میں نے شاہ جی کے ساتھ میز سنبھالنے کی کوشش کی تو یہ مجھے کہنے لگے کہ مولوی۔ یار ذرا چیلنج لگا ہوا ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں اس اچھے کھلاڑی کے ساتھ کھیل لوں۔ شاہ  جی اس حرکت کا تگڑی ٹیم کو بھی اتنا دکھ ہوا کہ وہ اسی دکھ میں ہار گئے۔مولوی کا واقعہ ختم ہونے پر ہم نے دیکھا کہ وہاں اور بہت سارے لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں۔پس منظر میں چلتی موسیقی کسی فلمی تھیم کی طرح ماحول پر اثرانداز ہورہی تھی۔ایک ہم ہی نہیںجسے دیکھو یہاںوہی آنکھ ہے نمایک طرف سے ہلکی سی آواز آئی۔ ٹیبل ٹینس پر میرے ساتھ بھی یہی ہوا  جبکہ دوسری جانب سے یہی صدا بلئیرڈ کے نام سے سنائی دی اور پھر باقی آوازیں ہچکیوں میں دب گئیں۔   "؏ - بجھتا کہاں بھڑک گیا رونے سے سوز غم"  سب کے چہروں پر ایک ہی کہانی لکھی ہوئی تھی ۔ ادھر ہمارا وہ حال تھا کہ "میرا اس کا غم سانجھا تھا۔ میں اس کو کیسے بہلاتا"۔جبکہ  شاہ جی کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رقصاں تھی۔
نوٹ: اس خاکے کے تمام کردار تخیلاتی ہیں۔ کسی بھی قسم کی "سو فیصد" مشابہت محض اتفاقیہ ہوگی ۔

Pages