منظر نامہ

آل پاکستان رن مرید ایسوسی ایشن

holding-hand[1]

یہ سائنسی دور ہے اور  ہر چیز کو ماپنے کا پیمانہ بھی سائنسی ہے۔حتی کہ پیار کی پیمائش بھی  لو(love) کیلکولیٹرسے ہوتی  ہے۔مُحب اور محبوب کا نام  فیڈ کریں  تو کلیکولیٹر فٹ بتائے گا کہ  شرحِ پیار کتنی ہے۔؟۔سائنسی شرح نمو کم رہے توفہرست عاشقاں  سے مزیدنام  کیلکولیٹر میں فیڈ کرتے جائیں ۔حتی کہ معاملہ نوے ، پچانوے  تک نہ پہنچ جائے۔پھر زبردستی کے ’’تعلقات ‘‘استوارکر لیں۔ویسی بھی   ماڈرن عشق  بھی چائنا کے مال کی طرح  غیر معیاری اور ناقابل بھروسہ ہو چکاہے۔۔گئے وقتوں میں   عاشق  پھول کی پتی پتی توڑ کرhe love me and he love me not سے وفا  جانچتے تھے۔طلباکتابِ عشق  کا ورقہ ورقہ  تھل کےاحتسابِ عشق کرتے تھے  اور سہیلیاں آپسی پیار جانچنے کے لئے کانچ کی چوڑی سے جُوڑ نکالتی  تھیں۔  چوڑی  کو لعاب لگایا ۔ ماتھے کو چھوا، پھر  کہا پہلے تمہارا پیار نکالتی ہوں اور بعد میں اپنا۔سہیلی چوڑی ہتھیلی پر توڑتی جو تھوڑا بہت’’ست‘‘ہاتھ پرگر تا ۔وہ شدت عشق کا پیمانہ  ہوتا۔ اس دوران چوڑی سے ہتھیلی زخمی بھی ہو جاتی ۔  ’’محبتی‘‘جانتے تھے کہ  چوڑیاں سچ بولتی ہیں۔تو وہ وفا کی رفتار بڑھا دیتے  تھے۔پیمائش عشق کے کئی پیمانے  ہوتے تھے لیکن آزمائش  عشق کا ’’لو کیلکولیٹر‘‘ ایک ہی ہے ۔

شوہر(انجان  عورت سے):میری   بیوی نہیں مل رہی ۔آپ  تھوڑی دیر میرے پاس رُک سکتی ہیں ۔ ؟

عورت :  وہ کیوں۔ ؟

شوہر: میں جب بھی  کسی عورت سے بات کرتا ہوں  میری بیوی کہیں نہ کہیں سے ضرور آجا تی ہے۔

بیوی کے ساتھ شاپنگ پر جانے والے اکثر شوہر گم ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں شوہر انہیں دکان دکان ڈھونڈھتے ہیں اور بیویاں انہیں گلی گلی تلاشتی ہیں۔ میلاپ ہو ی ہی بیویاں  برہم ہوجاتی ہیں اور شوہر نرم ۔۔کہتے ہیں کہ غصہ آنا مرد کی نشانی ہے اور غصہ پی جانا شادی شدہ مرد کی نشانی ۔میرا دوست  شیخ مرید شادی شدہ ہے ۔ اسے بالکل غصہ نہیں آتا۔وہ ’’نرم دم گفتگو ہے اور نرم دم جستجو بھی‘‘ وہ نام کا بھی مرید ہے اور ۔رن مرید بھی بلکہ  کئی سال سے  گھر داماد ہونے کی وجہ سے وہ  سسرالی مرید بھی  ہے۔کھانے، پینے اور جینے کے لئے  وہ سسرال پر انحصار کرتا ہے۔وہاں  پل پل کے  وہ   ’’ پالتو‘‘ ہوچکا  ہے۔ساس ، سُسر اور سالے اسے کبھی ’’ سُسرائیل‘‘ نہیں لگے۔مرید نے بھی کبھی ڈبل سٹینڈرڈ نہیں رکھا۔وہ نصیبو کا نکاحیِ تابعدار ہے۔نصیبو بھی  اسے روزانہ خرچہ  دیتی ہے۔بعض  شوہروں کے بٹوئےپیاز کی طرح ہوتے ہیں  کھلتے ہیں آنسونکل آتے ہیں۔مرید کا بٹوا۔اندر سے تربوز جیسا رہتا ہے ۔وہ ہر بڑے فیصلے سے پہلے اپنے دل سے پوچھتا ہے۔ پھر دماغ سے۔۔ پھر یاروں دوستوں سے۔اور بہن بھائیوں سے مشورہ کرتا اور۔ والدین سے صلاح کرتا ہے  لیکن کرتا  وہ ہے جو نصیبو کہتی تھی۔

دوست : یار تمہیں برا نہیں لگتا کہ تم بیوی کے ساتھ مل کر کپڑے دھوتے ہو ۔ ؟
شوہر :  برا لگنے والی کونسی بات ہے ۔؟ وہ بھی  میرے ساتھ مل کر برتن دھوتی ہے۔

مرید رن مریدوں کا رول ماڈل ہے۔وہ کہتا ہے رن مریدی ایک کیفیت کانام ہے جو ہر شوہر پر طاری ہوتی ہے اور میں اس کیفیت میں مستقل  رہتا ہوں۔ ایسا  شوہر گھرمیں ’’آیا‘‘  بھی ہوتا ہے اور  آئے گئے کا ذمہ دار بھی ۔کپڑا۔لیڑا۔اور ہانڈی روٹی بھی اُس کے ذمہ ہوتی ہے۔ہر گھردار شوہر کی بیگم ۔ بے غم ہوتی ہے۔نصیبو  بھی پھُوڑ مغز نہیں  تھی لیکن اس نے کبھی  زبیدہ آپا بننے کی کوشش بھی نہیں کی۔مرید وہاں  بیوی بن کررہتا تھا ۔ شادی کے  بعداُس  کی’’ ڈولی‘‘ سسرال  میں جواُتر گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ  ’’اگرآپ بیڈ ٹی پینے کے شوقین  ہیں تو اپنابستر کچن میں لگائیں‘‘۔نصیبو کو بیڈ ٹی کا شوق تھا سو مریدکہاں سوئے گا آپ جانتے ہی ہیں۔پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر بڑا چرچہ  ہوا کہ ’’ بیوی اگر آپ سے تھکاوٹ کی شکایت کرے تو اس کے لئے ایک اور بیوی لے آئیں‘‘۔ نصیبو پیدائشی تھکن کا شکار تھی  لیکن مریدکسی  ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔وہ ان شوہروں سے خار کھاتا۔۔جو سمجھتے ہیں ’’  گھر کو جنت بنانے کااختیار بیوی کے پاس  ہوتا ہے۔اگر وہ میکے چلی جائے‘‘۔وہ کہتا ہے  آج کل بیوی پر رعب جھاڑنے کا دور نہیں ۔عزت و احترام سے پیش آئیں تو وہ بھی احترام کرتی ہیں ۔

شوہر: میں تم سے ناراض ہوں۔ تم وجہ نہیں پوچھو گی۔

بیوی  : نہیں میں تمہارے فیصلے کا احترام کرتی  ہوں۔

احترام آدمیت ہی ہر رن مرید کاسبق ہے ۔گئے دنوں میں شوہر  کی انا۔باقرخانی کی طرح خستہ   ہوتی تھی۔ فورا بکھر جاتی ۔تب  ہر جرم کی  سزا عورت کو ملتی  تھی۔ آج وہ سزا شوہر کو ملتی ہے یہ  معاشرہ  رن مریدوں  کا  ہو چکا  ہے۔ باقرخانی  شوہر۔اب میسو کی طرح Ignored  ہیں۔کہتے ہیں کہ  بیوی اگر بدمزاج ہو تو شوہر کی  زندگی  صدقہ جاریہ ہوتی ہے۔سقراط نے اس دنیا کو کئی نظرئیے دئیے۔اُس نے ملک  کی سب سے بد مزاج عورت کو تلاش کرکے شادی کی۔اس عورت نے سقراط سے ’’سوتیلے شوہر ‘‘والا سلوک کیا۔ سقراط نے  ایام کی تلخیِ کو ہنس کر پینے کی شعوری  کوشش کی ۔شائد وہ دنیا کا واحد شوہر تھا جس نے زہر کا پیالہ دو بار پیا ۔بلکہ بقول مشتاق احمد یوسفی کہ ’’وہ زہر دے کر مارتی تو دنیا کی نظر میں آجاتی ۔ انداز قتل تو دیکھو ۔ ہم سے شادی کر لی‘‘۔وہ(سقرا ط) پیکرِ صبر ۔رن مریدوں  کاجد امجد تھا۔ ضبطِ نفس کے کئی سنگ میل اس نے  عبور کئےتھے۔ کانٹوں کا بستراس نے خودچُنا تھا۔ نوشتہ دیوار خود لکھا تھا ۔وہ   جب تک زندہ رہا۔  زنداں میں رہا۔کیونکہ وہ صرف سوچتا تھا۔ اس کی بیوی بولتی تھی ۔

کال سینٹر  کے باہر کھڑے  آدمی اندر والے سے بولا:معاف کیجیے گا آپ  کافی دیر  سے فون ہاتھ میں لیے کھڑے ہیں اور بول نہیں رہے۔؟

دوسراشخص : میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں ۔

شادی کے بعد ہر شوہر کی زندگی میں  ڈسپلن آجاتا ہے۔ کھانا پینا، دفتر آنا جانا، کپڑے ٹائم پر استری ہوتے ہیں۔صحت بھی اچھی ۔کیونکہ بیگم ہر کام سختی سے وقت پر کرواتی ہے۔ بیوی پرست شوہروں کی یہ نسل ہر گھر میں پائی جاتی ہے۔مرید تو۔ نِرا ۔سقراطی تھا۔مسلسل زہر پینے والا۔وہ کشمیریوں کی طرح  صرف ظلم سہنے کے لئے پیدا ہواتھا۔اس کی حسِ آزادی سالوں پہلے دم توڑ چکی تھی۔آج کل وہ نئی تحریک کے لئے متحرک ہے۔’’آل پاکستان رن مرید ایسوسی ایشن‘‘۔مرید اس کا بانی چئیرمین ہے۔وہ ’’ کند ہم جنس با ہم جنس پرواز۔۔کبوتر با کبوتر، باز با باز‘‘۔ کا مطلب بخوبی سمجھتا ہے۔اسے ملک بھر سے کئی ہم جنس بھی مل گئے  ہیں۔نگوڑے نے  ممبر شپ کا ایک فارم مجھے بھی بھیج دیا ہے۔ نا ہنجار ۔! اللہ جانے کب مجھے سونگھ کرپتہ چلا گیا تھا۔ ۔ناٹھور۔مجھے کہتا ہے ایسویسی ایشن کا عہدہ بھی لے لو۔ میں توصرف  ممبر شپ ہی لے رہاہوں۔کیونکہ سائنس ترقی کر رہی ہے اور ۔ رن مریدی کی  پیمائش والا  کیلکولیٹر بن گیا توہر شوہر پکڑا جا ئے گا۔

نیا سلسلہ – منظرنامہ کے لیئے لکھیں

article

منظرنامہ پر ایک نئے سلسلہ کے ساتھ حاظر ہیں۔ یہ سلسلہ کچھ ایسا ہے کہ منظرنامہ کو اب مزید وسیع کیا جارہا ہے یعنی آپ کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع دیا جارہا ہے۔ آپ کسی بھی موضوع پر تحریر لکھیں اور ہمیں ارسال کردیں۔ اگر آپ کے پاس بلاگ نہیں ہے اور آپ اپنی تحاریر سوشل میڈیا پر لکھتے ہیں تو منظرنامہ آپ کو سہولت فراہم کررہا ہے کہ آپ منظرنامہ کے پلیٹ فارم کو استعمال کر کے اپنی تحاریر لکھیں اور انہیں محفوظ بنائیں۔ آپ کی تحاریر آپ کے اپنے نام کے ساتھ شائع ہوگی۔ اس کے علاوہ آپ کا تعارف بھی دکھایا جائے گا۔ اور سوشل نیٹ ورکس کے لنکس کے ساتھ اگر آپ اپنی ویب سائٹ/بلاگ کا لنک بھی شامل کرنا چاہیں تو وہ بھی تحاریر کے ساتھ دکھائے جائیں گے۔

تحاریر بھیجنے سے پہلے چند ضروری ہدایات پڑھ لیجیئے تاکہ ہر قسم کی غلط فہمی کو پہلے سے ہی دور کرلیا جائے۔

  • منظرنامہ پر تحاریر کسی بھی موضوع پر لکھی جاسکتی ہیں۔ موضوع کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
  • فرقہ ورانہ تحاریر شائع نہیں کی جائیں گی۔
  • پاکستان دشمن، اسلام دشمن اور کسی بھی مذہب کے خلاف تحاریر شائع نہیں کی جائیں گی۔
  • تحریر کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے یعنی سائنسی، سماجی، معاشرتی، ٹیکنالوجی، حالات حاضرہ، ملکی حالات، کھیل، ٹیوٹوریل، سیاسی وغیرہ وغیرہ۔
  • سیاسی تحریر اگر کسی ایک سیاسی جماعت کی مکمل حمایت یا مخالفت میں ہو تو اسے شائع نہیں کیا جائے گا۔
  • کوشش کریں کہ پہلے تحریر منظرنامہ پر شائع ہو اس کے بعد آپ اسے کسی بھی جگہ شائع کردیں۔
  • تحریر ارسال کرنے کے ساتھ ضروری ہے کہ آپ اپنا مختصر تعارف، ای میل ایڈریس، سوشل لنکس، ویب سائٹ بلاگ کا لنک بھی ارسال کریں۔
  • تحریر خالص اردو میں لکھیں یعنی رومن اردو میں نہ لکھیں۔ ایسی تحاریر قابل قبول نہیں ہوں گی۔
  • تحریر ورڈ فارمیٹ میں ہو یعنی .doc یا .docx میں ہو۔
  • اگر تحریر میں کوئی لنک شامل کرنا ہو تو اسے جس لفظ پر شامل کرنا ہو اس کے آگے لکھ کر بھیجیں۔
  • تحاریر میں اگر تصاویر شامل کرنی ہوں تو تصاویر کو ورڈ فائل میں شامل کرکے ارسال کریں۔

اگر آپ نے اوپر لکھی ہدایات پڑھ لی ہیں اور آپ تحریر بھیجنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کرکے تحاریر ارسال کرنے کی فارم کو بھریں اور ارسال کردیں۔

شکریہ

ثروت ع ج سے شناسائی

Manzarnamah_Shanasai

اگر آپ کو چودھویں صدی کے جہاں حیرت “انگلستان”کو دیکھنا ہو تو ثروت ع ج کا بلاگ آپ کی پہلی ترجیع ہوگا، جیفری چاوسرکی مشہور نظم کینٹر بری کہانیوں کا رواں ترجمہ تصاویر اور حوالہ جات کےساتھ ان کے بلاگ کو چار چاند لگاتا ہے لیکن ذرا ٹھہرئے نام سے دھوکہ مت کھائیے ثروت ع ج کسی مرد کا نہیں ایک “خاتون اردو بلاگر” کا نام ہے،کہتی ہیں مجھے بلاگز کے نام یاد رکھنے اور اس حوالے سے بلاگرز کی شناخت میں میں دشواری ہوتی ہے اسی لئے میں نے اپنے بلاگ کا نام اپنے ہی نام پہ رکھ لیا،بیک وقت اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹر کرنے والی “ثروت عبدالجبار”کو عربی پر بھی عبور حاصل ہے ،شاہینوں کے شعر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی ثروت آج کے منظرنامہ میں ہماری مہمان ہیں ان سے ہونے والی گفتگو نظرِ قارئین ہے

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@ اللہ کا کرم ہے

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ میرا نام ثروت  ع ج ہے۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@   جائے پیدائش: الخبر، سعودی عرب اور موجودہ رہائش:  سرگودھا ، پاکستان

اپنی تعلیم، پیشہ  اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ ابتدائی تعلیم الخبر کے پاکستانی کمیونٹی سکول اور کالج سے حاصل کی۔سرگودھا یونیورسٹی  سے ، اردو اور انگریزی ، دونوں میں ایم اے کیا۔    کئی بار تدریس کی طرف توجہ کی لیکن   مزاج اس طرف مائل نہیں رہا۔ کانٹینٹ رائٹنگ بھی آزمائی۔  اپنی مرضی اور ذہنی رحجان  کے مطابق   آزادانہ  تحقیق اور تحریر  مجھے نصیب رہی۔   میرا تعلق  زمیندار چوہدری خاندان سے ہے۔ دودھیال، ننھیال اور سسرال، ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے۔اپنے بھائی بہنوں کی بڑی بہن اور سسرال کی بڑی بہو ہونے کے  ناتے  زندگی بہت سی ذمہ داریوں اور  مصروفیات سے لبریز رہی ہے۔  چار بچے ہیں جو تعلیم کے مختلف مراحل میں ہیں۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@ فروری 2013،  خود اپنی سالگرہ پہ  ،اپنی تحریروں کے لئے  ایک بلاگ بنا کر  ایک مقصد کا تعین ، خود کو تحفہ کیا۔    تحریر کرنے کا رحجان  سکول کے زمانے سے ہی رہا۔بہت سی تحریریں، زیادہ تر مضامین اور چند افسانے ، یہاں وہاں مختلف کاغذوں پہ لکھے پڑے ہیں ۔    بلاگ بنانے سے پہلے بہت سے اردو اور انگریزی بلاگز  کو پڑھا کرتی تھی۔ اپنے بلاگ کا خیال  بہت بعد میں آیا۔

اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

@ چونکہ میرا بہت سا مطالعہ  زیادہ ترکتابوں سے باہر، انٹرنیٹ پہ، دیگر دنیاؤں کے لکھاریوں کی تحریروں پہ مشتمل رہا ، اِسی سبب بلاگ کا انتخاب کچھ ایسی تعجب کی بات نہیں۔ ایک بار، اخبار میں بھی کچھ مضامین چھپے لیکن   اخبار کی پہنچ، حتمی طور پہ ، بلاگ سے کم ہی ہوگی۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@ بلاگ کا آغاز ایک خاموش دن میں یونہی بیٹھے بیٹھے ، از خود ، ورڈ پریس پہ ہوا۔    مشکلات اگر کوئی آئی بھی تو گویا، مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آسان ہوگئیں. .. . . . شروع میں اردو تحریر کے فونٹس  چھوٹے ہونے کی بہت شکایات آتی تھیں،  پھر  ایک بھلے بھانجے نے  اس مشکل کا حل نکالا اور کوڈز  تلاش کردئیے۔  باقی کام خود ہی نمٹا لیا۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@   اس سوال کا پہلا حصہ   قدرے  پُراسرار ہے کہ  میں خود  بھی اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش میں ہوں کہ میں نے کیا سوچا تھا۔ اردو، انگلش اور  تصویری یا دیگر   بلاگنگ میں  کہکشاؤں جتنا فاصلہ  ہوگا۔ اور  ان تینوں دنیاؤں کا باہم کوئی رابطہ یا  نسبت تک نہیں۔ چنانچہ ایک غیر واضح  سا مقصد یہ بھی تھا کہ  کوئی  درمیان کی راہ ہو، اتفاقاََ  اردو، انگریزی اور عربی جاننے کے سبب  ترجمے کا لطف  حاصل  رہا تو بلاگ  کے لئے بھی یہی رنگا رنگی     ، برتری لے گئی۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتی ہیں ؟

@  بہت سے بلاگ  مقبول فہرست میں ہیں،   وہ بلاگز  زیادہ  دلچسپی حاصل کرتے ہیں جو  بے وجہ طوالت کا شکار نہ ہوں، موضوع  کارآمد اور متعلقہ ہو،  منفی جذبات کی نکاسی کے لئے  نہ بنائے گئے ہوں،  غیر مہذب الفاظ پہ مشتمل نہ ہوں  مبادا  کوئی لفظ  میری یادداشت میں  محفوظ رہ جائے، بلاگ کی ظاہری شکل  پڑھائی کے لئے  معاون اور آسان ہو،   جدت اور ندرت لئے ہوں جیسے سیاحت، نفسیات،  غذائیت،ادب، سادگی،  پکوان، سلائی  وغیرہ

آپ نے اپنے بلاگ کا نام ثروت  ع  ج     کیوں رکھا؟

@ میرے بلاگ کا نام، ثروت  ع  ج     ،   میرے نام پہ ہے . .. چونکہ ایک بلاگ  اپنے  لکھنے والے سے مخصوص ہوتا ہے اِس لئے اپنا نام رکھا، دوسری بات کہ میں خود  اکثر دیگر بلاگران  اور بلاگ کے نام گڈمڈ  کردیتی ہوں، چنانچہ  اپنے تئیں  اپنے قارئین کو  اِس سہولت   سے سرفراز کیا۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@  دیگر بلاگز کے مطالعے کے دوران اس لفظ سے  واقفیت ہوئی اور بعد ازاں ، معلوم ہوا کہ  دوسرے لوگوں کو  یہ لفظ سمجھانا ،  جوئے شِیر لانے  سے کہیں زیادہ  مشکل ہے۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزرتی ہیں یا لکھنے بیٹھتی ہیں اور لکھتی چلی جاتے ہیں ؟

@  اب تک میرے بلاگ کا زیادہ تر حصہ سلسلہ وار موضوعات  پر مشتمل رہا۔ یعنی وہ موضوعات جو ایک کے بعد دوسرے کی ترتیب میں تھے  چنانچہ  ایک ہی موضوع پہ باضابطہ  طریقے سے کام جاری رہا۔ کینٹربری کہانیوں کا سلسلہ پہلے ترجمے کے مرحلے سے گزرتا، پھر تصاویر  اور دیگر حوالہ جات کی تلاش اور پھر ٹائپنگ اور پبلشنگ۔  دیگر تحریروں کو ایک بار لکھ کر کچھ وقت بعد خود ہی تنقیدی نگاہ سے دیکھتی ہوں ، بہت ہی کانٹ چھانٹ کے بعد فائنل کرتی ہوں۔  آج کل قرآنِ پاک میں موجود کردار کی خصوصیات کا سلسلہ جاری ہے۔ اِس سلسلے نے کچھ زیادہ وقت لیا کیونکہ یہ موضوع بہت ہی احتیاط کا متقاضی ہے۔ چنانچہ اِسے پوری توجہ اور یکسوئی سے تحریر و ٹائپ کرتی ہوں۔  البتہ اردو پڑھنے والے  بہت سے قارئین اِس سلسلے  سے دور ہی بھاگتے ہیں (یہ میرا  باوثوق مشاہدہ ہے) جب کہ  غیر مسلم یا انگریزی قارئین کا رحجان  زیادہ ہے۔ اپنے تئیں ،  یہ سلسلہ بلاگ ٹریفک یا قارئین کی تعداد کو مدِ نظر رکھ  نہ شروع کیا گیا ہے اور نہ ہی اُس پہ منحصر ہے۔

کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ بلاگنگ کا فائدہ دو رُخا ہے،   پہلے درجے پہ بلاگ لکھنے والا، اپنے پاس جمع شدہ معلومات کو اپنے طور پہ ترتیب دیتا ہے، اِس میں خصوصیت کی بات یہ ہے کہ بلاگر اپنی معلومات کو اپنے تجربے اور اپنے نقطہء نظر کی آمیزش سے الگ رنگ میں پیش کرتا ہے۔ ہر لکھنے والا  ، ایک ہی طرح کی بات کو  منفرد انداز میں سامنے لاتا ہے جو قارئین  کو  ایک تنوع کا آپشن دیتی ہے۔  اس دوران  لکھنے والا  خود اپنی  صلاحیت اور معلومات  سے آگاہ ہوتا ہے۔  میں  کئی بار اپنے اندازِ تحریر اور موضوع  پہ  ایک  حیرت سے دوچار ہوئی۔

دوسرا فائدہ  جو بلاگ لکھنے والے کو حاصل ہوتا ہے کہ بلاگ کے ذریعے  ، زمان و مکان  کی حد سے باہر، بہت سے  دیگر بلاگران اور قارئین سے  تعلق قائم ہوتا ہے۔ اس طرح ایک ایسی کمیونٹی وجود میں آتی ہے جہاں بہت سے نئے افکار اور آراء سے آگاہی ہوتی ہے،  مثبت یا منفی تنقید کے ذریعے اصلاح اور  دفاع کا راستہ کھلتا ہے۔ بلاگ لکھنے والے کی ایک شناخت قائم ہوتی ہے جو کہ  پہلے درجے پہ  تحریر اور افکار پہ مبنی ہوتی ہے۔  اس کے علاوہ بلاگ لکھنے والا  اپنی مہارت کے شعبے کو قارئین اور فالوورز کے زاوئیے  سے جانچتا ہے اور اس بات کا بہتر فیصلہ کرپاتا ہے کہ   اُس کی صلاحیت   معاشرے کے لئے کس طرح فائدہ مند ہوسکتی ہے۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے؟

@میری نظر میں ایک معیاری بلاگ  کی بنیادی صفت  یہ ہے کہ پڑھنے  والا جب بھی اُس بلاگ کی کوئی پوسٹ پڑھے تو اُسے  اچھا احساس ہو، اُس کے علم میں اضافہ ہو، اُس کی زندگی میں بہتر تبدیلی آئے۔ دیگر خوبیاں  اُس بلاگ  کی جمالیاتی  خوبی ہوسکتی ہے کہ بلاگ دیکھنے میں خوبصورت، پڑھنے میں آسان  اور دلکش ہو۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@  یہ بہت بحث طلب موضوع ہے اور  چند سطور میں اس کا  احاطہ کرنا ناممکن  ہے۔ اِس میں تاریخ، معاشرت، لسانیات اور  اجتماعی قومی نفسیات   کے پہلوؤں کا جائزہ لینا  ہوگا۔  تاہم، مختصراََ اردو  کا موجودہ مقام ، یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ  زبان زمانے کی تلخ و سرد سہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@  اردو میری اولین زبان ہے چنانچہ  انگریزی مطالعے اور انگریزی سے ترجمے  کی مہارت کے باوجود ،  میں سمجھتی ہوں کہ اردو  ہی، میرے تخیل  اور    ما فی الضمیر  کے اظہار کا  بہتر حق ادا کرسکتی ہے۔

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@ کافی حد تک اطمئنان بخش ہے۔ تاہم  اس کام کو مزید  مربوط اور  منظم  انداز میں کرنا  چاہیئے۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتی ہیں؟

@ اللہ سےبہت بہتری اور بامقصد  تحریروں کی دعا ہے۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ ہر زبان کے بولنے والے اگرچہ اپنی طبعی عمر گزار کر دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن زبان اپنے دامن میں انمول چیزوں اور ادب کو ہمیشہ کے لئے سنبھال لیتی ہے اور ادب کا حصہ بن جانے والے شہہ پارے لازوال ہوجاتے ہیں۔  لہذٰا  اردو کی خدمت انجام دینے والے ہوں یا اردو بلاگرز، اردو کی تاریخ و ادب میں ایسا حصہ ڈالیں  جس پہ رہتی دنیا تک آنے والے اور پڑھنے والے   آفرین  و تحسین کریں اور وہی  صدقہء جاریہ کا کردار ادا کرے۔

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@ بلاگنگ کے علاوہ ، میری زندگی، مطالعہ و تحریر، سرگودھا رائٹرز کلب ،   گھر کی مصروفیات اور بچوں  سے دوستی پہ مشتمل ہے۔

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتی ہوں؟

@  زندگی کے مقاصد کی تلاش بھی زندگی کا ایک مقصد ہوتا ہے۔    ہر انسان کو  اس زندگی میں مختلف مقاصد اور صلاحیتیں ودیعت  کی گئی ہیں۔  میری خواہش ہے کہ میری زندگی   حکمت  اور موعظۃ الحسنہ   کے سنہری اصول پہ گامزن  رہتے ہوئے  علم سیکھنےمیں صَرف ہو ، اللہ تعالیٰ تمام سعی کو  قبول فرمائے،     آسانیاں نصیب فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

 

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

 

پسندیدہ:

 

1۔ کتاب ؟

@ ہر وہ کتاب جو زندگی کی حقیقت اور  اہمیت  کے دَر کھولے ، فکر و عمل کی راہیں سُجھاتی ہو اور بلاشبہ  ایسا کرنے والی سب کتابوں میں سرِ فہرست   “کتاب الفرقان” ہے۔

2۔ شعر ؟

@ تو بچا بچا کے نہ رکھ اِسے، کہ تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ

کہ شکستہ   ہو  تو  عزیز  تر  ہے،  نگاہِ  آئینہ ساز  میں

3۔ رنگ ؟

@ آسمانی، سفید

4۔ کھانا ؟

@ سادہ، لذیذ اور غذائیت  کے اعتبار سے تیار کردہ

5۔ موسم ؟

@  معتدل

6۔ ملک ؟

@ جہاں بھی   امن ہو، اور پاکستان

7۔ مصنف ؟

@ بہت سے

8۔ گیت؟

@ بہت سے

9۔ فلم ؟

@ تاریخی اور ڈاکیومنٹری

 

غلط /درست:

 

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

@ درست

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@ غلط

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

@ درست

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ بہت درست

5۔ میں ایک اچھی دوست ہوں ؟

@ درست

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@ غلط

7۔ میں بہت شرمیلی ہوں ؟

@ غلط

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ صرف  ہم خیال دوستوں سے

 

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@  انسان کی زندگی ایسی ہو کہ جانے کے بعد ہر سمت اچھی یادیں بکھری ہوں

ہر پاسے خشبوواں سن

بندہ سی ؟ کستوری سی؟

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گی؟

@ منظر نامہ بہت اچھا کام کررہا ہے ، جو بھی عزم کریں  پھر اُسے  جہاں تک ہو، اچھی طرح نبھائیں۔  جہاں ممکن ہو ، اچھی تبدیلیاں شامل کریں۔  منظرنامہ ٹیم کا شکریہ کہ انہوں نے مجھے انٹرویو کے لائق  گردانا اور پھر بہت عرصہ جوابات کا انتظار بھی کیا ۔

دعائیں

 

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

ملک انس اعوان سے شناسائی

Manzarnamah_Shanasai

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو کا مصداق چہرے پہ مسکراہٹ سجائے شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے ملک محمد انس اعوان کامسٹس یونیورسٹی اٹک میں زیرِ تعلیم ہیں، آپ “انس نامہ” کے نام سے بلاگ لکھتے ہیں ان سے ہونے والی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@الحمداللہ ! بخیر و عافیت شب و روز گزر رہے ہیں ۔

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@اپنے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں کہ نام انس اعوان ہے ایک معمولی سے گھرانے کا فرزند ہوں اور ایک معمولی سا یونیورسٹی کا طالب علم ہوں جو ہمیشہ غیر معمولی چیزوں کا مشتاق رہتا ہے ۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@میری پیدائش ہمارے آبائی ضلع سرگودھا میں ہوئی جبکہ رہائش شیخوپورہ میں ہے جبکہ بسلسلہ تعلیم فی الحال اٹک میں اٹکا ہواہوں گویا شمالی پنجاب اور وسطی پنجاب کے مابین اخوت و محبت کی مثال قائم کیے ہوئے ہوں ۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ایف ایس سی تک کی تعلیم شیخوپورہ سے ہی حاصل کی اور اب کامسیٹس یونیورسٹی سے (بی ایس سی ایس )BSCSکر رہا ہوں ۔بنیادی طور پر ایک درمیانے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں داد جان ایک سخن شناس اور علم دوست شخصیت تھے یہی وجہ ہے کہ والد محترم نے ایم سی ایس ،اور انسٹرومنٹ ڈپلومہ کر رکھا ہے جبکہ کسی زمانے میں ایل ایل بی کا تجربہ بھی کر چکے ہیں چناچہ زمینداری کی جانب زیادہ توجہ نہیں دی اور گزشتہ 25 سال سے شعبہ صنعت میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں ۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@بات کچھ اس طرح سے ہے کہ آج سے کچھ سال پہلے مجھے ایک تقریب کی شرکت کے لیے لائل پور (فیصل آباد) جانا پڑا ، میرے میزبان مجھے شام کو ایک صاحب کے پاس لے گئے جو آنکھوں پر عینک ٹکائے کمپوٹر کی سکرین میں محو تھے ۔ انہوں نے میری جانب دیکھا اور خلاف توقع انتہائی گرمجوشی اور گرم جوشی سے استقبال کیا اور بہت الفت اور محبت سے تعارف “لیا” اس کے بعد انہوں نے وہیں بیٹھے بیٹھے میرے اندر کچھ لکھنے کی ایسی آگ بھڑکا دی کہ بس جیسے ہی گھرپہنچا ایک عدد بلاگ داغ ڈالا اور بیٹھے بیٹھے ایک عدد تحریر بھی پوسٹ کر ڈالی۔ یہ آتشیں شخصیت کوئی اور نہیں محترم “سلیم ملک ” صاحب تھے۔۔۔! باکمال آدمی ہیں ،کھُلے ڈُلے اور بے باک ۔۔۔!

اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

@آزاد طبعیت کے مالک ہیں جبکہ ہر جگہ میڈیا میں کچھ “بُت” موجود ہیں جنہیں عام زبان میں پالیسی کہا جاتا ہے جسکی تعظیم ہم سے ہو نہیں پاتی اس لیے اپنی تحاریر کو بلاگ کی راہ دکھائی اور خوب درست دکھائی۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@سب سے پہلا اور بڑا مسئلہ بلاگ کے حوالے سے تکنیکی معلومات کا نہ ہونا تھا اور دوم اردو کیسے لکھی جائے اس سب کا کامل حل ہمیں محمد بلال صاحب کی ویب سائٹ ایم بلال ایم سے مل گیا ۔اللہ انہیں جزا خیر عطا فرمائے۔

کون سی ایسی بات ہو جس کو دیکھ کر بلاگ پڑھنے والا بلاگ لکھنے پر مجبور ہو جائے ؟

@آپ دل سے لکھیں ، دل کی بات باقی دل خوب سمجھتے ہیں ، اور جب کسی کو دل کا لکھا پڑھنے کو ملے تو وہ خوب دلچسپی سے پڑھتا ہے۔
نئے بلاگرز کے حوصلہ افزائی کے لیے کیا کیا جائے۔ جس سے ان کی دلچسپی بڑے اور وہ بلاگ کی طرف توجہ دیں ؟

@ نئے آنے والوں کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا جائے ، مکمل تکنیکی معاونت فراہم کی جائے اور اگر انکو اسلم فہیم اور مسظفے ملک جیسے اساتزہ مل جائیں تو انہیں اور کیا چایئے؟

آپ کے لکھنے پر کبھی آپ کے گھر والوں کو اعتراض نہیں ہوا کہ آپ کیوں لکھتے ہیں ؟

@ پہلے پہل کچھ معیوب سا لگتا تھا اور کچھ کچھ اعتراضات بھی لگتے رہے کہ ابھی 20 سال کے ہوئے نہیں اور لگے ہیں میاں احساسات سے کھیلنے لیکن خیر اس کا عمر سے کیا تعلق یہ تو اللہ کی دین ہے ۔اور میں اللہ کا شک گزار ہوں۔
ہر شخص کی بچپن میں مختلف خواہشات ہوتی ہیں کہ بڑے ہو کر یہ بننا ہے تو آپ نے اپنے بچپن میں ایسا کیا سوچا تھا ؟

@چھوٹے ہوتے تھے تو بڑے ہو کر بنے کو کئی خواب تھے، اب فقط یہی خواہش ہے کہ سعادت بھری زندگی اور شہادت کی موت عطا فرمائے۔ بس کچھ ایسا مرنا چاہتا ہوں کہ کچھ دیر اہل خیر میں میرا نام زندہ رہے۔ باقی تو ہر شے فانی ہے اور ہر چیز نے بلآخر فنا ہی ہونا ہے۔
اپنی کوئی ایسی خاص تحریر جو آپ کو پسند ہو ؟

@”قرض” کے نام سے بلاگ پر ایک چھوٹی سی تحریر موجود ہے وہی میری پسندیدہ ہے۔
ایک طالب علم کیلئے بلاگ لکھنا یقیناً مشکل ہوتا ہے تو آپ کس طرح اپنے وقت کو مینج کرتے ہیں کہ آپ کی تعلیم کا بھی حرج نہ ہو اور بلاگنگ بھی چلتی رہے ؟

@ ایک طالب علم کے لئے بلاگ کے لئے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے ، بس اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ شام کو کچھ وقت مختص کر لیا جائے اور باقائدگی سے کچھ نہ کچھ لکھتے رہا جائے۔ یا طبعیت کے مطابق مختلف موضوعات میں تحاریر شروع کر دی جایئں اور وقتاً فوقتاً انہیں مکمل کر دیا جائے۔ اس طرح وقت کی کافی بچت ہو جاتی ہے۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@کچھ خاص تو طے نہیں تھا بس ڈائری لکھنے کی عادت تھی مگر ڈائری رکھنا اور سنبھالنا اور اس میں سے کسی مواد کو مخصوص مواقع منتقل کرنا انتہائی مشکل کام تھا سو بلاگ کو اپنی پرسنل ڈائری بنا لیا اس طرح الفاظ میں اندر کی گھٹن کو خوشنما صورت میں محفوظ رکھنے کا فن بھی سیکھ لیا۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

@کسی ایک کا نام نہیں لکھ سکتا قریباً جو بھی سامنے آتا ہے پڑھ لیتا اور ان سے سیکھنے کی کو شش کرتا ہوں ۔

آپ نے اپنے بلاگ کا نام ۔۔۔۔انس نامہ۔۔۔۔۔ کیوں رکھا؟

@یوں ہی بیٹھے بیٹھے خیال آیا اور رکھ دیا ” انس نامہ” یعنی انس کا نامہ اعمال ۔۔۔!

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@یہ مصطفے ملک صاحب کا کمال تھا وگرنہ ہم کہاں اور بلاگ کہاں !

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

@جب بھی مجھے کچھ غیر معمولی محسوس ہوتا ہے چاہے وہ خوشی ہو یا غم اور چاہے اس کا سامنا مجھے دن میں دو تین بار ہی کیوں نہ کرنا پڑے اس کو الفاظ کے حوالے کر دیتا ہوں ۔سفر نامے کے اہم نکات موبائل میں پہلے سے محفوظ کر رکھتا ہوں تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں اور تحریر میں شامل کیے جا سکیں ۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@اپنے حوالے سے بات کروں تو میں نے غصے کو قابو کرنا اور احساسات کا مناسب اظہار کرنا بلاگ سے ہی سیکھا ہے ۔علاوہ ازیں سینئر بلاگرز کے مشاہدات سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور زندگی میں فیصلے کرنے میں آسانی واقع ہوتی ہے۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@بلاگ تو بلاگ ہوتا ہے ، بے لاگ ہوتا ہے۔ یہی اس کا معیار ہے ۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@اردو اپنے گھر میں ہی اجنبی ہو چلی ہے اور کتاب بینی کا رجحان بھی دم توڑتا ہوا محسوس ہو رہا ہے چناچہ بلاگنگ ایک بہترین متبادل ہے۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@بیان سے باہر ہے ! آپ نے انتہائی ذاتی سوال کر دیا ۔۔۔!(زور دار قہقہہ)

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@اردو کے لئے کہیں کہیں کام ہو ر ہا ہے ، ہوتا رہنا چاہیے ۔لیکن یہ کام اتنا زیادہ نہیں ہے جو اس کے مقابلے میں انگریزی کے سلسے میں کیا جا رہا ہے۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@کچھ زیادہ نہیں ، آپ جیسے دوست احباب سے دوستیاں بنیں گی اور میری دائری کے صفحات بھرتے چلے جائیں گے۔ہاں البتہ بلاگ اردو کتاب کا متبادل ضرور ثابت ہوں گے۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ اس کام کو جہاد سمجھ کر کیجئے کیونکہ کہ ہماری ثقافت اور روایات کا آخری محاز ہے۔

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@غیر نصابی مطالعہ،نصابی مطالعہ،آوارگی اور بہت کچھ ،،،!
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ۔۔!
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟

@اول قر آن مجید اور دوم تفہیم القرآن از سید ابو الاعلی مودودی ؒ

2۔ شعر ؟

@شعر غالب ؔ کا ہو یا جونؔ ایلیاء کا سب ہی اچھے لگتے ہیں ۔

3۔ رنگ ؟

@سیاہ

4۔ کھانا ؟

@بریانی اور کدو لیکن شرط یہ ہے کہ کھانا والدہ کے ہاتھ کا بنا ہوا ہو

5۔ موسم ؟

@موسم سرما

6۔ ملک ؟

@ترکی

7۔ مصنف ؟

@سید ابو الاعلی مودودی اور سید قطب ؒ

8۔ گیت؟

@گیت سے زیادہ شغف نہیں رکھتا مگر اقبالیات اور بغیر ترنم کے ترانے ،اردو اور عربی دونوں زبانوں میں شوق سے سنتا ہوں ۔

9۔ فلم ؟

@Chappie

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@مجھ سے عام سے کیا خاص بات برآمد ہو سکتی ہے!

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

@کسی خاص موضوع پر باقائدگی سے قریباً زبردستی بلاگز لکھوائے جائیں ۔ایک ہی موضوع پر جب مختلف افراد لکھتے ہیں تو کئی پہلو منظم ترین انداز سے آشکار ہوتے ہیں ۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@آپ کا بھی شکریہ

جاوید گوندل سے شناسائی

Manzarnamah_Shanasai

تین نسلوں سے امریکہ و یورپ میں مقیم جاوید گوندل اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ:

جٹ قبیلے کی شاخ “گوندل” سے تعلق ہے ۔ آبائی طور پہ زمیندار ہیں۔ ملک و قوم سے محبت بھی آبائی طور پہ حصے میں آئی ہے۔ تین نسلوں سے یوروپ اور امریکہ میں مقیم ہوں۔ ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوا جبکہ آبائی ضلع گجرات ہے۔ موجودہ رہائش بارسیلونا، اسپین۔ اور آجکل ایک بزنس پراجیکٹ کے سلسلے میں شمالی یوروپ اسکینڈے نیوبا اور سنٹرل یوروپ کے ممالک میں زیادہ وقت گزار رہا ہوں جبکہ کاروبار یعنی بزنس مین۔ پیشے کے لحاظ سے جدید ٹیکنالوجیز کے بارے برآمد درآمد میں بزنس کرتاہوں۔ کچھ عرصے سے نئے طرح کے بزنس کے لئیے نئے رستے دریافت کرنے کی کوشش میں ہوں۔ کہتے ہیں میں اور میرے آباء و اجدادنے جاگتی آنکھوں سے ایک خواب مسلسل دیکھا ہے کہ پاکستان اور پاکستان کے عوام دنیا میں ممتاز ہوں۔ اس خواب مسلسل کی ہم نے قیمت بارہا چکائی ہے مگر خواب کے مقصد کے سامنے ایسی قیمت معمولی بات ہے۔ میں اور میری اہلیہ یہ خواب اپنی اگلی نسل کو منتقل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

اردو کو اپنا عشق قرار دینے والے جاودید گوندل بے لاگ کے عنوان سے اپنا بلاگ لکھتے ہیں
اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

میں شروع سے یورپ میں مقیم ہوں۔ میرے طالب علمی دور میں اخبارات اور رسائل تک رسائی ویسے ہی یورپ میں اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھی۔ انٹرنیٹ عام ہونے سے اخبارات اور رسائل کے انٹرنیٹ ایڈیشنز تک رسائی عام ہوئی ہے۔

کچھ اخبارات اور میگزین میں کچھ مضامین چھپے۔ کچھ لوگوں نے اجازت سے چھاپے۔ جبکہ زیادہ تر نے چھاپے مارے۔

اخبارات اور رسائل کی اپنی کمرشل اور ادارہ جاتی پالیسیز ہیں چند ایک لوگوں نے لکھنے کی فرمائش کی مگر میں اپنے مزاج کا بندہ ہوں اخبار یا رسائل کی پالیسی کا پابند نہیں ہوسکتا۔

اردو بلاگنگ کی طرف کیسے آئے؟

یہ تو اب یاد نہیں مگر موجودہ بلاگ “بے لاگ” سے پہلے کچھ فورمز پہ دیگر زبانوں میں لکھنے کی کوشش کی۔ ویب سائٹ بھی بنائی ۔ اسپانوی میں بلاگنگ کی۔ چھوٹی عمر سے اردو میں بھی کوشش کی۔ بہت سے ناموں سے لکھا۔ ۔ یہ وہ دور تھا ۔ جب اردو بلاگنگ کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ انٹرنیٹ کی رفتار بہت آہستہ ہوا کرتی تھی۔ الفاظ بلاک کی صورت میں اترے تھے اور کہیں جاکر لفظ بنتے۔ اردو کی بلاگنگ بہت بعد میں شروع ہوئی۔ اور شروع میں یہ نہائت دقت آمیز کام تھا۔ جو بہت وقت مانگتا تھا۔ اور فرصت میرے لئیے ہمیشہ مسئلہ رہی ہے۔
کیا سوچ کر بلاگ لکھنا شروع کیا ؟

بس دیانتداری سے اپنا معافی الضمیر سب کے سامنے رکھناہے۔ اپنے حصے کی شمع جلانا اور اردو کی ترقی و ترویج میں اپنا سا حصہ ڈالنا ہے۔

البتہ اردو زبان کے بارے انتہائی سنجیدگی سے اپنی حد تک اپنے خیالات اورمعلومات کو دوسروں تک اردو میں منتقل کرنا فرض سمجھتا ہوں۔

علم اور قلم اللہ کی عطا ہے اور مثبت لکھنا اسکا صدقہ ہے۔
ساتھی بلاگرز کے بارے میں آپ کی رائے ؟

میرے لئیے سبھی اردو بلاگرز قابل احترام ہیں ۔ اور جوں موقع ملتا ہے۔ انھیں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ بہت سے نہائت معتبر نام ہیں جو بہت اچھا لکھتے ہیں۔

نام اس لئیے نہیں گردانوں گاکہ اگر نادانستگی میں بھول چوک کی وجہ سے کوئی نام رہ گیا تو کسی کے دل میں کوئی ممکنہ بات جائے یا دل دکھے تو مجھے یوں اچھا محسوس نہیں ہوگا۔

آپ کے بلاگ کا نام ” بے لاگ ” کیوں ہے ؟

اپنے منہ اپنی تعریف مناسب نہیں لگتی مگر اب چونکہ آپ نے پوچھ لیا ہے تو مختصراً بیان کردیتا ہوں۔

“بے لاگ” لفظ میری زندگی کی عکاسی ہے۔ مجھے منافقت سے چڑ ہے۔ خوشامد اور چاپلوسی جو ہمارے سرکاری مزاج کا حصہ ہے اس کے سخت خلاف ہوں۔اصولوں پہ مفاہمت میرے لئیے ناممکن ہے۔

میٹنگز میں مختلف الخیا ل شخصیات سے ملاقات رہتی۔ جن میں سیاسی لوگ۔ اعلی حکومتی عہدیدار اور دیگر۔ بھی شامل ہوتے۔ ان میٹنگز میں ملکی و قومی مفاد میں بے دھڑک بات کرنے پہ بے لاگ دفاع۔ کرنے والے کی شہرت کی وجہ سے۔

ملک و قوم سے محبت مجھے ورثے ملی ہے۔ اور شاید میری دیانتداری کی وجہ سے۔ ملک و قوم سے محبت کرنے والے مجھے اپنا ترجمان مقرر کر دیتے۔ میں بھرپور کوشش سے بہتر طریقے سے یہ حق ادا کرنے کی کوشش کرتا۔

اور مجھے تسلیم ہے کہ اس سے میں نے کچھ نقصانات بھی اٹھائے مگر یہ ثانوی قسم کے مضمرات تو ہوتے ہیں۔ ایسے کاموں میں یوں تو ہوتا ہے۔ مگر اللہ کا شکر ہے مجھے کسی قسم کا کبھی پچھتاوا نہیں ہوا۔ بلکہ اللہ کا احسان سمجھتا ہوں کہ اسے نے ہر قسم کے دباؤ یا لالچ کے سامنے مجھے سرخرُو رکھا ہے۔ اور یوں بہت سے نہائت اچھے لوگ بھی دوست بنے۔جو میرے لئیے قیمتی سرمایہ ہیں۔

اس لئیے مجھے میرے جاننے والے ۔ میرے شناسا۔ میرے دوست۔ بغیر کسی جھجھک یا مصلحت اور بغیر کسی لگی لپٹی کے بات کہنے پہ مجھے بے لاگ۔ بے دھڑک اور حق پہ ڈٹ جانے والا مانتے ہیں۔

نیز کچھ اور بھی ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے یہ لفظ “بے لاگ” کو اپنایا۔

الحمد اللہ اسی مناسبت سے اپنے بلاگ کا موضوع “بے لاگ” رکھا۔ اور میری رائے میں راست گوئی اور حق سچ بیان کرنے اور لکھنے کی ہمارے معاشرے میں اشد ضرورت ہے۔

 

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کیا کرتے ہیں ؟

عام طور پہ ایک ہی نشست میں لکھتا ہوں۔ الحمد اللہ مختلف اور متنوع موضوعات پہ میرے لئیے لکھنا کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ صرف ایک بار “دسمبر دے دکھ” لکھتے ہوئے چند بار ٹھٹکا۔ ٹہرا۔ رکا۔ پھر آگے بڑھا ۔ کیونکہ اس میں جب ماضی کی کچھ یادوں کو یاد کیا تو یادوں کا ایک سیل رواں تھا جو اُمڈ آیا اور مجھے رک رک کر اسکے سامنے بند باندھنا دشوار ہو رہا تھا۔ اسلئے اسے ایک ہی دن میں مگر چند گھنٹوں میں جا کر مکمل لکھ پایا۔
معیاری بلاگ کیسا ہونا چاہئے ؟

معیاری بلاگ کی تعریف بہت وسیع ہےمختصراً بلاگ جس موضوع پہ بھی ہو بلاگ اس موضوع سے انصاف کرتا نظر آئے۔
نئے بلاگرز کے لئے ہدایات ؟

جو لوگ دلچسپی رکھتے ہوں اور انکی رائے میں لکھنے کا اسلوب جھلکتا ہو یا سوشل میڈیا پہ بات کہنے کا عمدہ انداز اپناتے ہوں ۔ انہیں بلاگ بنانے کی طرف راغب کیا جاسکتا ہے۔ اور اس بارے انھیں بلاگ لکھنے کی دعوت دے کر ان کی رہنمائی کی جانی چاہئیے۔

اور نئے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر وہ اپنی ذات اور اردگرد سے ہٹ کر دیگر جن بھی موضوعات پہ لکھیں انھیں ان موضوعات بارے مکمل معلومات ہونی چاہئیے اور انہیں اس بارے باقاعدہ معلومات اکھٹی کر کے پھر لکھنا چاہیے۔ مطالعہ کو عادت بنائیں۔ ڈال رہے ہیں۔ قارئین اکرام بلاگز کا رخ کرتے ہیں۔اپنے علم اور قلم کا صدقہ جاری رکھیں۔ آپ قومی ضمیر کی تعمیر میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
اردو کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟

اردو کو وہ مقام ابھی نہیں ملا جس کی اردو مستحق ہے البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لوگ اردو کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ اور اردو زبان اپنانے میں اور اس کی ترقی میں اضافہ ہورہا ہے۔ مگر اردو جس مقام کی مستحق ہے وہ مقام ابھی تک اسے نہیں ملا۔

جب تک اردو کا پاکستان میں سرکاری طور پہ ہر سطح پہ مکمل نفاذ نہیں ہوتا ۔ اور اس بارے آئین پاکستان اور اعلی عدلیہ کے حالیہ فیصلوں کی روح کے عین مطابق عمل نہیں کیا جاتا۔ تب تک پاکستان اور پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلنا ناممکن ہے۔

اس کے لئیے اعلی تعلیم کے حصول کے لئیے۔ مقابلے کے امتحانات کے لئیے۔ سرکاری انتظامیہ کے لئیے۔ کارِ سرکار کا سارا کاروبار مملکت کے لئیے۔ صدر۔ وزیر اعظم۔ وزراء کے خطابات۔ مقننہ اور قانون سازی کے لئیے نیز ہر سطح کے لئیے اردو کو فی الفور لازمی قرار دیا جائے۔ جو لوگ اردو کی اس وجہ سے مخالفت کرتے ہیں کہ اردو اعلی سطح پہ ذریعہ تعلیم بنانے سے تعلیمی معیار گر جائے گا اور انگریزی اپنانے سے تعلیمی معیار بڑھے گا ۔ وہ نہائت بودی دلیل دیتے ہیں ۔ دنیا میں ہم سے نہائت چھوٹے اور ہم سے بہت بڑے ممالک موجود ہیں وہ آغاز سے اختتام تک اپنی زبانوں میں تعلیم دیتے ہیں ۔ اور اپنی زبانوں کے فروغ کے لئیے کوشاں رہتے ہیں۔

یہ کاروباری مسابقت کا دور ہے۔ آپ اپنی زبان اردو کو لازمی قرار دیں۔ پھر دیکھیں کہ دنیا بھر کے ناشران آپ کی زبان اردو میں کتابیں ۔ سوفٹ وئیر ز ۔ کمپیوٹرز پروگرامز ۔ مصنوعات کے ہدایت نامے۔ نیز ہر وہ چیز جو دنیا کے دیگر ممالک میں آپ کو انکی اپنی قومی زبانوں میں ملتی ہے آپ کو بھی ملے گی۔

ہمارے ارباب اختیار کو یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ پاکستان بیس کروڑ افراد کی آبادی کا ایک اہم ملک ہے۔ جسے کسی بھی طور نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔حکمروان و ارباب ِ اختیار محض ایک دفعہ قومی بصیرت سے کام لیتے ہوئے ملک میں اردو ہر سطح پہ فوری نفاذ کا فیصلہ کر لیں۔ تو دنیا کے دیگر ادارے و ممالک آپ سے آپ کی زبان مین بات کرنے پہ مجبور ہونگے۔

میری رائے میں انگریزی پاکستان میں صرف سرکاری زبان ہی نہیں بلکہ انگریزی سے نابلد پاکستانی پچانوے فیصد آبادی کا مستقل طور پہ استحصال کرنے کا ایک ذرئیعہ ہے۔ انگریزی زبان پاکستان میں “انگریزی کلب” کا طریقہ واردات ہے ۔ جس سے مذکورہ کلب نے پاکستان کے عوام کو حقیقی معنوں میں غلام بنا رلھا ہے۔

ایک آزادی ہمیں انیس سو سنتالیس میں ملی تھی ۔ اردو کا مکمل نفاذ پاکستان کی آزادی کی تکمیل اور حقیقی آزادی ہوگی۔

تصور کیا جاسکتا ہے جب محض انگریزی میں لکھنے پڑھنے اور بولنے کی حد تک واجبی شْد بْد کو ہی اہلیت مان کر ملک و قوم کا انتظام انصرام ایسے ہاتھوں میں پکڑا دیا جاتا ہے ۔ جو عام طور پہ عوام سے رعایا کا سلوک کرتے ہیں ۔ اردو کے عام نفاذ کے بعد “انگریزی کلب ” کا امتیاز ختم ہوجائے گا اور اہلیت کی بناء پہ جس میں پاکستان کے نچلے اور درمیانے طبقے سے عام پاکستانی کاروبارِ ریاست کو چلائیں گے۔ تو انہیں انگریزی جاننے کی بجائے مسائل کے ادراک اور حل پہ توجہ دینی ہوگی تو خود بخود ہی اہلیت اور صلاحیت اپنی جگہ بنائے گی ۔ اور ہم دنیا میں باعزت ملک اور قوم کے طور اپنی جگہ بنا سکیں ۔

پاکستان کی ترقی کا راز ۔ اردو کا فوری نفاذ۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@اردو کے ساتھ تعلق بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ اردو ایک عشق۔ ایک محبت کی ماند ہے اور عشق و محبت کو بیان کرنا کے اہل حب کے لئیے کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@ اردو کے لئیے ذاتی طور پہ کوشش کرنے والوں اور اردو زبان کے لئیے “تحریک اردوپاکستان ” نامی تحریک اور دیگر سبھی ادارے اور لوگوں کا میں ذاتی پہ مشکور ہوں اور میری رائے میں کام تب ہوتا ہے جب کام کرنے والوں کو کام کرنے کے لئیے مناسب ماحول اور معیاری سہولیات مہیاء کی جاتی ہیں۔ جب کہ پاکستان میں آئین پاکستان کی رٌو سے اور اعلی عدلیہ کے حالیہ فیصلوں کے بعد اردو کے فوری نفاذ کی بجائے الٹا عدلیہ احکامات کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور اردو کے لئیے جو لوگ مثلا ََ “تحریک اردو پاکستان” اپنے وسائل سے اردو کے نفاذ کے لئیے کوشاں ہیں ۔ الٹا ان کے اس نیک مقصد میں روڑے اٹکائے جارہے۔ اس لئیے پوری قوم کو چاہیئے کہ اپنی آزادی ۔ ترقی اور خوداری کے لئیے “تحریک اردو پاکستان ” کا ساتھ دیں۔

امیری رائے میں جب تک حکمران سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اردو کا فوری نفاذ نہیں کرتے تب تک اردو کے بارے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@میری رائے میں بلاگنگ پھلے پھولے گی۔ گو کہ سوشل میڈیا ۔ ننھی بلاگنگ یعنی مائکرو بلاگنگ ۔کے لئیے ایک اہم ذرئعیہ بن کر سامنے آیا ہے۔ مگر اردو بلاگنگ کا مستقبل روشن ہے کیونکہ سنجیدہ بات سے دیرپا طور پہ ا ستفادہ کرنا سوشل میڈیا پہ ننھی بلاگنگ کے ذرئعیے ممکن نہیں۔ اس لئیے آخر کار مختلف موضوعات سے استفادہ کرنے کے لئیے قارئین اکرام بلاگز کا رخ کرتے ہیں۔
ہر شخص کی بچپن میں مختلف خواہشات ہوتی ہیں کہ بڑے ہو کر یہ بننا ہے تو آپ نے اپنے بچپن میں ایسا کیا سوچا تھا ؟

اللہ کا شکر ہے کہ شائد ہی کوئی ایسی خواہش ایسی ہوگی جو پوری نہ ہوئی ہو۔ اور اللہ نے اپنے انعامات کی بارش کر رکھی ہے۔ جس کا میں اپنے آپ کو اہل ثابت کرنے کی جستجو کرتا ہوں مگر کر نہیں پاتا۔ جو کچھ چاہا اللہ نے عطا کیا ۔ البتہ زندگی کے چھوٹے موٹے مسائل تو زندگی کی چاشنی ہیں جو ساتھ چلتے رہتے ہیں۔
کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

شاید آپ کو تعجب ہوگا کہ میں نے اپنی ذات کے لئیے ۔ اپنی ذات کے حوالے سے زندگی کے معاملات کا کوئی خاص تردد نہیں کیا۔ میرا اٹھنا بیٹھنا اور کچھ کرنا اوروں کے لئیے ہوتا ہے۔ جس میں اپنے بچوں سے شروع ہو کر ایک جہاں آتاہے۔ میں ہر قسم کے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہوں اور ہر ماحول کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ مگر اپنی ذاتی زندگی میں سادگی کو پسند کرتا ہوں۔ اس لئیے میری خواہشیں اپنی ذات کے حوالے سے نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

البتہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے لئیے ایک خوہش ہمیشہ دل میں رہتی ہے کہ اللہ پاکستان کو اور اسکے عوام کو باعزت اقوام میں شامل کر اور ان کے مسائل ختم کر۔
مطالعہ تو کرتے ہوں گے ؟ پسندیدہ کتاب ؟

مسلمان کی حیثیت سے قرآن کریم اور مولانا شبلی نغمانی کی سیرۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس کے علاوہ میں نے اردو اور دیگر زبانوں میں ہزاروں کتابوں کا مطالعہ کیا ہے ۔ درجنوں ہونگی جواپنے وقت پہ اچھی لگیں ۔ ویسے سلجھے موضوعات مجھے راغب کرتے ہیں۔

پسندیدہ شعر ؟

بہت سے ہیں ۔ جو اچھے لگتے ہیں۔

اسپین میرا اقامتی ملک ہے ۔ میں اسپین سے بھی بہت محبت کرتا ہوں۔تاریخی پس منظر میں یہ شعر دل میں کسک پیدا کرتا ہے۔

اب فرشتوں کے سوا کوئی نہ آتا ہوگا

کون دیتا ہے خرابے میں اذاں دیکھ آئیں

مدتوں بعد مہاجر کی طرح آئے ہیں

رؤٹھ جائے نہ کھنڈر ۔ آؤ میاں دیکھ آئیں

رنگ ؟

سبھی

کھانا ؟

کوئی سا بھی مگر عمدہ بنا ہو۔

موسم ؟

سارے ہی موسم اچھے لگتے ہیں ۔ مگر موسم ِ گرمااس لئیے کہ شاید میرے مشاغل کا ذیادہ تعلق موسم گرما کے ساتھ ہے۔

ملک ؟

پاکستان اور اسپین دونوں۔

مصنف ؟

ہر اچھی تصنیف کا مصنف اچھا لگتا ہے اور بہت سے ہیں

گیت؟

گیت سے دلچسپی نہیں ۔

فلم ؟

کم دیکھتا ہوں۔ مائیکل جپسن کی “بریو ہرٹ”

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

ہر اْس نیکی کرنے کا موقع مت ضائع جانے دیں جو آپ کے بس میں ہو اور جس کے کرنے سے دل مطمئین ہو۔

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

تجویز کی بجائے تعریف کرنا پسند کرونگا ۔ کیونکہ ایسے کسی فوروم کو فعال رکھنا بہت وقت مانگتا ہے اور دقت آمیز ہوتا ہے۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

مجھے احساس ہے کہ آپ کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی ۔ اس کے لئیے میں آپ سے معذرت خواہ ہوں ۔ مصطفی ملک صاحب آپکا بہت شکریہ

25 اپریل تا 1 مئی: اس ہفتہ کی بہترین تحریر – افتخار اجمل بھوپال

Manzarnamah_BestBlog-520x245

ٹوٹل: 26 | ستارے: 4

رواں ہفتے کی بہترین تحریر اس بار افتخار اجمل بھوپال صاحب نے جیتی ہے،، تحریر کا کچھ حصہ  یہاں شائع کیا جا رہا ہے باقی ان کے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں۔ کیمرہ مین کے بغیر، وجدان عالم، منظرنامہ، ملتان۔

بات ہے سمجھ کی

یہ سطور میرے ایک دوست نے بھیجیں ہیں ۔ یہ اُن کے ایک واقفِ کار کی خود نوشت آپ بیتی ہے ۔ سوچا کہ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں

پچھلے دنوں اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک دوست کے ساتھ ایک کیفے جانے کا اتفاق ہوا ۔ کچھ کھانے کا مُوڈ نہیں تھا تو بس دو فریش لائم منگوا لئے
ایک سیون اَپ کین کی قیمت 50 روپے ہے ۔ ایک لیموں کی قمیت اگر مہنگا بھی ہو تو 5 روپے ہے ۔ سٹرا شاید 2 روپے میں پڑتا ہو گا ۔ ٹوٹل ملا کر 109 روپے بنتے ہیں ۔ بل آیا تو مجھ سے پہلے میرے دوست نے بل دیکھے بغیر ویٹر کو اپنا ویزا کارڈ تھما دیا ۔ میرا دوست واش روم گیا ۔ اتنے میں ویٹر کارڈ اور پرچی واپس لے آیا ۔ میں نے بل اٹھا کر دیکھا تو تفصیل یوں تھی
فریش لائم -/1200 ۔ جی ایس ٹی -/204 ۔ ٹوٹل -/1404
اس بل کو دیکھ کر نہ مجھے کوئی حیرت ہوئی اور نہ میرے دوست نے ایسا محسوس کیا
ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جہاں ہم بے دریخ پیسے خرچ کرتے ہیں
تین سال کی وارنٹی والا کوٹ دس ہزار میں خرید کر اگلے سال دو اور لیں گے
سال میں چار جوڑے جوتوں کے لیں گے
ہوٹلنگ پر ہزاروں روپے برباد کریں گے
انٹرنیٹ، تھری جی، موبائل سیٹس، ٹائی، شرٹس، گھڑیاں، پین، لائٹرز، گیجٹس، لیپ ٹاپس اور پتہ نہیں کیا کیا
لیکن ہم خرچ کرتے رہتے ہیں ۔ جب کماتے ہیں تو خرچ کرنے کے لئے ہی کماتے ہیں
لیکن کبھی غور کریں کہ فریش لائم کے یہ 1404 روپے کسی کی زندگی میں کتنے اہم ہیں

آج بارش میں ایک جگہ انتظار کرتے ہوئے درخت کے نیچے خاتون نظر آئیں ۔ ہم کہتے ہیں یہ ایک بھکاری ہے ۔ بھیک مانگنا ان کا پیشہ ہے
غور کریں تو یہ ماں ہے ۔ ستر سالہ بوڑھی ماں ۔ جھریوں سے بھرا چہره سفید بال ایک چادر میں سردی اور بارش سے بچنے کی کوشش میں جانے کس مجبوری اور کس آس میں یہاں بیٹھی انسانیت کا ماتم منا رہی تھی
کبھی اپنی ماں کی مجبوری کا تصور کیجئے اور پھر اپنے دل کو ٹٹولئے کہ کیا یہ ایک بھکاری ہے؟
میں اظہار سے قاصر ہوں کہ میں اس وقت کس کیفیت کا شکار ہوں ۔ میں نے ان اماں جی کو ایک نوٹ تھمایا ۔ بڑی حسرت اور کرب سے کہنے لگیں ”بیٹا اس کا کھلا ہوتا تو یہاں بیٹھ کر کیا کرتی“۔
میں نے کہا ”ماں جی بس رکھ لیں“۔ جانے کتنی بار انہوں بے یقینی سے مجھے دیکھا ۔ پھر ایک نگاہ نوٹ پر ڈالی ایک مجھ پر ڈالی اور ایک آسمان پر ڈالی ۔ اس ایک نگاہ میں خوشی، طمانیت، دعا، شکر اور پتہ نہیں کیا کیا تھا ۔ اس نگاہ نے مجھے جتنی خوشی دی میں بیان کرنے سے قاصر ہوں ۔ اس ایک نگاہ نے مجھے اور ماں جی کو بیک وقت اپنے رب کے حضور جھکا دیا

بقیہ تحریر یہاں پڑھیں

25 اپریل تا 1 مئی: اس ہفتہ کی بہترین تحریر – ووٹنگ

Manzarnamah_BestBlog-520x245

منظرنامہ کے سلسلہ اس ہفتہ کی بہترین تحریر میں پہلا ہفتہ مکمل ہوچکا ہے اور نتیجہ کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ اب وقت ہے دوسرے ہفتہ کی ووٹنگ کا یعنی 25 اپریل 2016 تا 1 مئی 2016 تک کی تحاریر کی ووٹنگ۔ اس سلسلہ میں نیچے دی گئی فہرست میں اپنی پسند کی تحریر کو آپ ووٹ دے سکتے ہیں۔

نمبر تحریر مصنف ووٹ 1 کچھ لکھیے! شاکر عزیز (آواز دوست) 2 پاک سرزمین کا جلسہ کاشف نصیر 3 حالتِ اسم – الفاظ کے ذریعے رفع، نصب اور جر کی پہچان وجدان عالم 4 میرا اردو بلاگ …امیدیں توقعات اور چیلنجز صفی الدین اعوان 5 ویل منیجڈ معاشرہ۔۔۔ مگر کیسے؟؟ اسریٰ غوری 6 غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا افتخار راجہ 7 بات ہے سمجھ کی افتخار اجمل بھوپال 8 پھول اور سجاوٹی پودے نعیم خان 9 اینڈرائیڈ ایپلی کیشنز اور پلے سٹور جلد کروم او ایس پر بھی دستیاب ہونگے محمد زہیر چوہان 10 ایک سال کے دوران ایپل نے 6 ارب ڈالر کی واچز فروخت کیں محمد زہیر چوہان 11 (مرد و عورت کے مصافحے کی بحث اور غامدی صاحب کے شاگرد (حصہ اول شمس الدین امجد 12 غامدی صاحب کے افکار پر تنقید اور شاگرد – اصل مسئلہ کیا ہے؟ حصہ دوم شمس الدین امجد 13 قانون کون سکھائے گا ؟ صفی الدین اعوان 14 تبدیلی کی سرشت اور فتویٰ جدید ساجد قلم 15 بیٹی عمران اقبال 16 شیطانيت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندہ کرلوں اسریٰ غوری 17 اندلس میں آخری اسلامی حصار – غرناطہ وجدان عالم 18 نیم سرکاری افسر ابرار قریشی 19 شہر نہ چھوڑے افتخار اجمل بھوپال 20 قرآن تک رسائی۔۔۔ وجدان عالم 21 مالک پر پابندی کاشف نصیر 22 اول المسلمین – جلا وطن – 18 عمر احمد بنگش 23 عدلیہ اور وکیل صفی الدین اعوان 24 معافی اے اھل شام معافی فیض اللہ خان 25 اسلام اور غیر مسلم کی تعزیت فضل ہادی حسن 26 پانامہ کا ہنگامہ – لاسٹ لاف جعفر 27 ویری اسپیشل پرسنز العمروف وی آئی پی الغیر معروف ذہنی معذور علی حسان

ووٹ کے لیئے آپ کے پاس وقت 4 دن تک کا ہے یعنی 7 مئی 2016 تک، اس کے بعد ووٹنگ بند کرکے بہترین تحریر کا اعلان کیا جائے گا۔

18 تا 24 اپریل: اس ہفتہ کی بہترین تحریر – از عمر احمد بنگش

Manzarnamah_BestBlog-520x245

سلسلہ اس ہفتہ کی بہترین تحریر برائے 18 تا 24 اپریل کے لیئے کی گئی ووٹنگ میں عمر احمد بنگش کی جانب سے ترجمہ کی گئی تحریر ” اول المسلمین – جلا وطن – 17 ” جو کہ انگریزی کتاب ” دی فرسٹ مسلم ” کے ایک حصہ کا اردو ترجمہ ہے نے زیادہ ووٹ حاصل کیئے. 8 افراد نے ووٹ دیئے اور 4.6 ستارے حاصل کیئے.

کل ووٹ: 42 | فاتح تحریر ووٹ: 8 | فاتح تحریر ستارے: 4.6

تحریر کا کچھ حصہ آپ نیچے منظرنامہ پر پڑھ سکتے ہیں جبکہ باقی تحریر آپ عمر احمد بنگش کے بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں.

سیاسی طور پر کسی بھی بالغ نظر، سیانے آدمی سے پوچھ لیں۔ وہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ ایک منجھا ہوا سیاسی رہنما جب اندرون ملک دباؤ کا شکار ہو جائے تو مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کرتا ہے۔ یہ ایسی حکمت عملی ہے جو تاریخ میں تقریباً ہر اہم موڑ پر غالباً ہر سیاستدان نے ہی استعمال کی ہے۔ محمد صلعم نے اسی طور کو اپنا لیا۔ اگرچہ وہ مدینہ کے اندر مخالفین کو کامیابی کے ساتھ دھول چٹا رہے تھے مگر کلی طور پر یہ ضروری تھا کہ اپنا حلقہ اختیار اور اثر بڑھانے کے لیے مدینہ سے باہر بھی کاروائیاں عمل میں لائیں۔ چنانچہ، مکہ کے تجارتی قافلوں کو ہراساں کرنے میں تیزی لائی گئی۔ یہ حربہ اس قدر کامیاب ہوا کہ بالآخر قریش روایتی شمال سے جنوب میں سیدھے خط پر واقع تجارتی راہداری کو ترک کر کے نجد کے لق و دق اجاڑ اور جنوبی عراق میں واقع نسبتاً طویل اور مہنگے روٹ کو استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جلد ہی، یہ راستہ بھی غیر محفوظ ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر، اسی راہداری پر زید کی سربراہی میں کی جانے والی ایک چھاپہ مار کاروائی کے نتیجے میں ایک بڑا قافلہ لوٹ لیا گیا۔ اس قافلے کو نجد کے میدانوں میں جا لیا گیا اور خاصا مال ہاتھ آیا۔ تجار اور حفاظتی دستوں کو اپنی جان بچانے کے لیے لدے ہوئے اونٹ اجاڑ میں چھوڑ کر بھاگتے ہی بنی۔

حسان بن ثابت نامی شاعر نے اس واقعے کو خاصے پر جوش انداز میں بیان کیا ہے۔ مکہ کے لوگوں کو مخاطب کر کے، تجارت اور ان کے نام کو یوں تہل ترغہ ہونے پر طنز کا نشانہ بنایا۔ نہایت پر شوق انداز میں لکھا، ‘دمشق کی انہار کو الوداع کہو، بھول جاؤ۔۔۔ کہ ان راستوں پر اب تمہارے لیے خار ہے’۔ ابن ثابت آج کے کسی بھی شاعر کے مقابلے میں زیادہ مصروف رہا کرتے تھے۔ ان کی مصروفیت میں صرف اور صرف ہم سر شاعروں کی ہجو لکھنا نہیں تھی جنہیں آپ صلعم کی شدید مخالفت اور توہین پر قتل کر دیا گیا تھا بلکہ کئی دوسری اصناف پر بھی طبع آزمائی کرنی پڑ رہی تھی۔ حالات اس قدر تیزی سے بدل رہے تھے کہ ہر نئے دن کے ساتھ کچھ نہ کچھ تازہ تخلیق کرنا پڑتا۔ بعض اوقات، ابن ثابت جیسے شعراء کے لیے یہ خاصا مشکل بھی ہو جاتا تھا۔ مثلاً، کیا ہوا کہ مومنین کا ایک ٹولہ شمال میں خیبر کے نخلستان میں چھاپہ مار کاروائی کے لیے روانہ کیا گیا۔ یہ فوجی ٹکڑی کامیابی کے ساتھ اپنے ہدف پر پہنچ گئی اور مطلوبہ شخص کو نیند میں قتل بھی کر دیا مگر اس ایک شخص خاصا اوتاولا ہو رہا تھا۔ وہ فرط جوش سے پیچھے ہٹا اور پتھروں سے نیچے لڑھک گیا، جس کے شور سے ارد گرد لوگ جاگ گئے۔ حملہ آوروں کو جان بچا کر نکاسی کے لیے کھودے گئے گندے پانی کے ایک تالاب میں پناہ لینی پڑ ی۔ اگرچہ گڑھے میں خاصی بد بو تھی لیکن انہیں جان کے لالے پڑے ہوئے تھے تو وہیں دبک کر بیٹھے رہے۔ بہر حال، کئی گھنٹے چھپے رہنے کے بعد انہیں فرار کا راستہ مل ہی گیا اور وہ بچ نکلے۔ اگرچہ، یہ واقعہ کسی طور پر بہادری کو ظاہر نہیں کرتا مگر ابن ثابت نے پھر بھی اس کو کچھ یوں سمیٹا کہ، ‘رات میں دبے پاؤں سفر کرتے، ننگی تلواریں تھامے یہ لوگ، شیر کی طرح بہادر اور جنگل کے باسی، کوئی آفت ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے’۔ اس طرح کی شاعری، بالخصوص وہ جس میں واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، یقیناً احد کی لڑائی کے بعد مومنین کے ہو رہے پست حوصلے بلند کرنے کے کام آتی تھی ۔ یہ اس وقت کی ضرورت بھی تھی، لیکن یہی تخلیقات محمد صلعم کے مخالفین کو طیش دلانے کا موجب بھی بن گئی۔ چنانچہ، مکہ کے سردار ابو سفیان نے اب کی بار اتحادیوں کو ساتھ ملا کر خاصی بڑی فوج تشکیل دینے کا ارادہ کیا ۔ اس فوج میں قریش کے دیرینہ اتحادی نجد کے بدو غطفان اور خیبر کے یہودی قبائل کثیر تعداد میں شریک تھے۔ بنو نضیر کے کئی لوگ اب خیبر میں جا بسے تھے اور وہ ابھی تک مدینہ سے بے دخلی پر تلملائے بیٹھے تھے اور محمد صلعم سے اپنی املاک اور جائیداد ضبط کرنے کا حساب چکتا کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ، 627ء کے اوائل میں ابو سفیان نے مدینہ پر چڑھائی کا عندیہ دے دیا۔ اس دفعہ، اس لشکر کا ارادہ مدینہ کے مضافات تک محدود رہنے کا نہیں ، بلکہ وہ ایک ہی بار اس نخلستان کے اندر گھس کر محمد صلعم کی ابھرتی ہوئی طاقت کا ہمیشہ کے لیے قصہ تمام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن، اتنے بڑے لشکر کو صحرا میں نقل و حرکت میں خاصا وقت لگ رہا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حملے کی خبر محمد صلعم تک بہت پہلے ہی پہنچ گئی اور انہیں پوری تیاری کا موقع مل گیا۔ پہلے تو انہوں نے مدینہ کے گرد و نواح میں موسم بہار کی فصل کو وقت سے پہلے ہی کاٹنے کا حکم دیا کہ جب قریش کا لشکر یہاں پہنچے تو گھوڑوں اور اونٹوں کے لیے چارا نا پید ہو۔ پھر، اگلا فرمان نخلستان کے گرد ایک گہری خندق کھودنے کا جاری ہوا۔ مدینہ کے ارد گرد مغرب، جنوب اور مشرق کی جانب جمے ہوئے لاوے کے میدانوں کی وجہ سے گھوڑوں اور زرہ پوشوں کا گزر ناممکن نہیں تھا۔ لیکن شمال کی جانب واقع مرکزی راستہ کھلا تھا اور یہاں سے ابو سفیان کے لشکر کے گھڑ سوار اور پیدل فوج آسانی سے اندر گھس سکتی تھی۔ اس کافوری حل یہ نکالا گیا کہ مدینہ کی ساری آبادی بشمول عورتوں اور بچوں کو کدالیں تھما کر اس راستے کو کھودنے کے کام پر لگا دیا گیا۔ کھدنے والی خندق اتنی گہری اور چوڑی تھی کہ کوئی بھی گھڑ سوار کود کر اسے پار نہیں کر سکتا تھا۔ بلکہ، دوسری طرف کناروں اور گہرائی میں تیز دھار چوب دار لکڑیاں نصب کر دی گئیں تا کہ ایسی کوئی بھی کوشش واقعی ناکام رہے۔ آبادی میں سے ہر دس افراد کے ذمے ساٹھ فٹ کھدائی کا کام لگایا گیا اور یوں چھ دن کے اندر ہی خندق تیار ہو گئی۔ جب یہ ہو چکا تو مدینہ میں شمال کی جانب سے داخل ہونے والا راستہ اب ایک گہری کھائی کا منظر پیش کر رہا تھا اور کھدائی کے دوران نکلنے والی مٹی کے تودے اور بڑے پتھروں کو اندر کی طرف ڈھیر لگا کر دفاعی فصیل اور چوکیاں بنا دی گئی تھیں۔ ابو سفیان اور ان کے لشکر کو اس طرح کی تیاری کی ہر گز توقع نہیں تھی۔ خندق کھودنے کا یہ تصور، جسے عام طور پر ‘بے عزت’ اور ‘غیر عرب’ خیال کیا جاتا تھا، فارس میں استعمال ہونے والی ‘فرسودہ’ اور ‘پاجی’ ترکیب تھی۔ ایسے حربوں کو وہیں رہنا چاہیے تھے۔ چنانچہ، قریش کے فوجی جھنجھلاہٹ میں تیر برساتے اور ساتھ با آواز بلند لعن طعن اور طنزیہ جملے کستے ۔ کہا جاتا، یہ کس طرح کے ڈرپوک اور خائف جنگجو ہیں جو دھول کے ڈھیر کے پیچھے چھپ کر بیٹھے ہیں؟ یہ ڈھیر عورتوں اور بچوں نے جمع کیا ہے؟ مکہ کے لشکر میں ایک شاعر نے وہیں بیٹھے بٹھائے اشعار جڑ دیے کہ، ‘لیکن یہ خندق جس پر ان کا انحصار ہے۔۔۔ ہم ان کو پھر بھی مٹا دیں گے ۔۔۔ ہم سے ڈر کر انہیں دیکھو تو ۔۔۔ کیسے، اس کے پیچھے دبک کر بیٹھے ہیں’۔۔۔۔۔۔۔۔ مزید پڑھنے کے یہاں کلک کریں۔

فخر نوید سے شناسائی

Manzarnamah_Shanasai

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے فخر نوید ” پاک گلیکسی”  کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی،معاشرتی مسائل اور آئی سے متعلقہ ویڈیو ٹیوٹوریلز ان کے بلاگ کا موضوع ہیں ،فخر نوید لکھنے کے علاوہ ویڈیو بلاگنگ کو بھی ابلاغ کااہم ذریعہ سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کے “شناسائی” میں ہم نے محترم فخر نوید صاحب کی ویڈیو بھی شامل کی ہے

ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@ابھی تک تو اللہ کا بہت کرم و نوازش ہے اور مستقبل میں بھی اسی کرم و نوازشات کا سوالی ہوں۔

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@اپنے بارے میں بتانا ہی تو سب سے مشکل کام ہوتا ہے ۔ بہر حال جناب تمام طبقات سے جڑا ہوا ایسا شخص ہوں جسے کسی قسم کا یہ احساس نہیں ہے کہ کاش ۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@گوجرانوالہ کی تحصیل نوشہرہ ورکاں کے نواحی گاوں ودہاون جائے پیدائش ہے اور موجود رہائش گوجرانوالہ شہر میں ہے۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ مڈل تک تعلیم نوشہرہ ورکاں کے ایک نجی سکول سے حاصل کی اس کے بعد میٹرک گوجرانوالہ کے ایک نمایاں نجی سکول جدید دستگیر آئیڈیل ہائی سکول سے کیا۔ ایف ایس سی فیڈرل سائنس کالج گوجرانوالہ سے کی۔ اس کے بعد گھروالوں کے کہنے پر بی ایس سی فزکس ڈبل میتھ کو پڑھنے کی کوشش کی چونکہ میری ضد تھی کمپیوٹر سائنس کی تو اسی ضد میں کوئی پانچ سال گنوانے کے بعد مشرف صاحب کی شرط بی اے نے سمجھایا کے چلو بی کام ہی کر لو کبھی الیکشن ہی نا لڑنا پڑ جاوے۔ اس کے بعد ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن مکمل کیا اور اسی میں آگے پی ایچ ڈی کو منزل سمجھ کر مسافر بنے ہیں۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@2003 میں سکالر شپ ملا تو ایک عدد کمپیوٹر خریدا جس کا استعمال گانوں اور موویز کے علاوہ گیمز کھیلنے تک محدود تھا پھر انٹرنیٹ کنکشن استعمال شروع ہوا تو نوجوانوں کی طرح یاہو کرتے کرتے ہم شاعری کے پیچھے پیچھے اردو یونیکوڈ کو ڈھونڈتے اردو ویب پر آ پہنچے اس کے بعد 2008 میں اپنی ڈومین pakgalaxy.com سے باقاعدہ اپنا بلاگ لکھنا شروع کیا جس میں ورڈپریس ، ہوسٹنگ سرورز کے علاوہ معاشرتی مسائل پر لکھنا شروع کیا۔

اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

@اخبارات میں سے خبریں اور جناح اخبار میں کام کیالیکن نہ ہونے کے برابر ، اس کے بعد ایک الیکڑانک میڈیا سے بھی کچھ عرصہ وابستہ رہا۔ کچھ وقت کی کمی اور روزگار کی تلاش نے سمجھایا کہ بس انٹرنیٹ پر ہی دل کی بھڑاس نکالی جاوے۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@میں نے ویب ڈیزائننگ سیکھی اور سرورز کو استعمال کرنا سیکھا۔ جس کی وجہ سے مجھے اس بلاگنگ کی دنیا میں زیادہ مشکل محسوس نہیں ہوئی۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@سچ کہوں تو نہ اس وقت خود کو بلاگر سمجھا تھا نہ اب سمجھتا ہوں۔ بس یہ تھا جو سیکھا وہ لکھ دیا جو دیکھا لکھ دیا۔ کوشش یہی تھی زیادہ سے زیادہ مواد اردو زبان میں ہو کوئی سرچ انجن پر اردو میں تلاش کرے تو اسے مواد ملے۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

@وہ بلاگر ہی کیا جس سے متاثر نہ ہوا ہو بندہ۔ سب ہی بہت شاندار لکھتے ہیں۔ خاور صاحب کی سادہ زبان اور ان کے کردار کافی متاثر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جناب محمد سلیم کی تحاریر ترجمہ شدہ و دیگر ۔۔۔۔۔

آپ نے اپنے بلاگ کا نام پاک گلیکسی کیوں رکھا؟

@میں چونکہ پاک گلیکسی کے نام سے مختلف کام کر رہا ہوں جس وجہ سے بلاگ کو بھی پاک گلیکسی کے نام سے ہی جوڑا ہوا ہے۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@لفظ بلاگ سے شناسائی تو 2006 سے ہی اردو ویب سے ہی ہو گئی تھی۔ جب میں نے بلاگسپاٹ پر ایک حقہ پانی کے نام سے بلاگ بنایا تھا لیکن اسے زیادہ فعال نہ کر سکا۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

@بلاگ پر تحریر لکھتے ہوئے اس وقت دماغ میں جو کیٹرا زیادہ تنگ کر رہا ہوتا ہے اسے الفاظ دے کر نکال باہر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور پھر روانی میں لکھتا جاتا ہوں۔

آپ کے لکھنے پر کبھی آپ کے گھر والوں کو اعتراض نہیں ہوا کہ آپ کیوں لکھتے ہیں ؟

@میں نے جب لکھنا شروع کیا اس وقت تک گھر والوں کو معلوم ہی نہیں تھا اور جو معلوم تھا وہ میں نے کبی لکھا نہیں

ہر شخص کی بچپن میں مختلف خواہشات ہوتی ہیں کہ بڑے ہو کر یہ بننا ہے تو آپ نے اپنے بچپن میں ایسا کیا سوچا تھا ؟

@بچپن سے کوئی خاص ٹارگٹ نہیں سوچا تھا بس ہوا جدھر لے گئی وہاں پہنچ گئے ۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@بلاگنگ سے مجھے یہ فائدہ ہوا۔ کہ اتنے اچھے اخلاق و کردار کے مالک اشخاص کی رفاقت میسر آئی اس سے بڑھ کر کوئی مالی منفعت نظر میں نہیں رہی۔

اپنی کوئی ایسی خاص تحریر جو آپ کو پسند ہو ؟

@اپنی تو ہر چیز و تحریر ہر کسی کو پسند ہوتی ہے۔ مذہب اسلام اور انسانیت میں تقابل پسند ہے

کون سی ایسی بات ہو جس کو دیکھ کر بلاگ پڑھنے والا بلاگ لکھنے پر مجبور ہو جائے ؟

@سیدھی سچی اور آسان الفاظ میں موثر لکھی گئی بات کو پڑھ کر جو بلاگنگ نہیں کر رہے وہ بھی خود اعتمادی میں اضافہ محسوس کریں گے اور لکھنے کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔

آپ لکھنے کے علاوہ کبھی کبھار ویڈیو بلاگنگ بھی کرتے ہیں آپ کا یہ تجربہ کیسا رہا ؟

@ویڈیو بلاگنگ ہو یا آڈیو بلاگنگ اس سے آپ کے محسوسات اور جذبات کا اظہار زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ جو کہ الفاظ سے نہیں نمایاں ہو سکتا۔

نئے بلاگرز کے حوصلہ افزائی کے لیے کیا کیا جائے۔ جس سے ان کی دلچسپی بڑھے اور وہ بلاگ کی طرف توجہ دیں ؟

نئے بلاگرز کے پاس اگر وقت ہو تو اپنے اردو گرد موجود ہونیوالے واقعات کا مشاہدہ کریں اور اس کا تجزیہ لکھ دیں۔ باقی وقت سب سکھا دیتا ہے ۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@معیاری بلاگ کی کوئی خاص سکیل تو ہے نہیں جانچنے کی کیونکہ بلاگ پر ہر ایک رنگ و نسل اور موضوعات ہیں۔ میرے خیال سے تو ہر بلاگ ہی اپنا ثانی ہے۔ کوئی اس سے نہ کم ہے نہ زیادہ ۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@بلاگنگ اور انٹرنیٹ کے لحاظ سے اردو پر ابھی بہت کام کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اور انٹرنیٹ پر آج اردو زبان جس مقام پر ہے وہ بہت تیزی سے ترقی کر کے یہاں پہنچی ہے ہمارے اور اردو کے خیرخواہوں نے فی سبیل اللہ نئی ٹیکنالوجی کی مناسبت سے جو کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں۔ انہیں کسی طرح فراموش نہ کیا جا سکتا ہے نہ کیا جاوے گا۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@کچھ تو میرا مزاج بھی عاشقانہ سا ہے اور دوسرا اردو زبان بھی زیادہ عاشقانہ ہی ہوئی ہے۔

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@جیسا کہ پہلے بیان کر چکا ہوں۔ بہت کام کرنے کو باقی ہے وقت و حالات کے ساتھ مگر اب تک جو کام ہوا ہے وہ حال و مستقبل کی مناسبت سے اپنی بہترین رفتار سے جاری و ساری ہے۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@یہاں ٹیکنالوجی روز بروز ترقی کرتی ہوئی نئی چیزوں کو لار ہی ہے۔ اور ہو سکتا ہے اگلے سال تک ہی اردو بلاگنگ و بلاگنگ کا رجحان تبدیل ہو جائے مگر اس اردو بلاگنگ کی روح کسی اور جسم میں جاکر بھی اپنی شناخت کو نہیں کھوئے گی۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@اردو بلاگرز کے نام پیغام یہی ہے کہ ہمیں اختلافات تو ہو سکتے ہیں مگر کسی سے ذاتی عداوت نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہو گی۔اور یہی ہمارا پیار بھرا بندھن ہمیں ایک خاندان بنائے ہوئے ہے۔

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@بلاگنگ کے علاوہ ہلہ گلہ دوستوں کے ساتھ ۔۔ جس میں کھانے پینے کا معاملہ زیادہ ہوتا ہے۔گوجرانوالہ کے ہونے کا اثر

اس کے علاوہ ڈیوٹی وقت کے علاوہ ویب ڈیزائننگ اور سرور مینجمنٹ کا کام کر کے یا فلمیں دیکھنا

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@زندگی کا مقصد- زندگی شادی سے پہلے تک تو زندگی ہوتی ہے اپنی پھر زندگی ہو جاتی ہے بیگم و بچوں کی نذر اور مقصد بھی بچوں کے بہتر مستقبل اور وہ سب دینے کی جس کی کمی خود محسوس کی ہو۔

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

@ منٹو نامہ – زاویہ

2۔ شعر ؟

@عرفی تو میندیش زغوگائے رقیباں ۔۔۔۔ آواز سگاں کم نہ کنند رزق گدارا

3۔ رنگ ؟

@ پسندیدہ رنگوں میں ہلکے رنگ ۔۔۔ تفصیل بیان کی تو عاشقانہ رگ نہ پھڑک اٹھے

4۔ کھانا ؟

@ کھانے میں باربی کیو ۔۔۔ یا سبزیاں

5۔ موسم ؟

@ سردیوں میں دھند والا

6۔ ملک ؟

@ جب قدرت نے ہی میرے لئے پاکستان پسند فرمایا تو مجھے بھی پاکستان ہی پسند ہے۔

7۔ مصنف ؟

@ اشفاق احمد

8۔ گیت؟

@ آج پرانی راہوں سے کوئی مجھے آواز نہ دے

9۔ فلم ؟

@ مجھے ہالی ووڈ فلمیں پسند ہیں۔ ایسی تمام فلمیں جن میں ہسٹری ۔ ایکشن اور سسپنس ہو۔
کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا  ۠اور تم سب اللہ کی رسی (کتاب اللہ ) کو مضبوطی سے تھا م لو اور فرقہ فرقہ نہ ہوجاؤ ۔

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

@منظر نامہ کا آغاز اور اس پر کام اس طرح نہیں ہے جس طرح ہم اسے لے کر جزباتی ہیں۔ اردو و اردو بلاگنگ سے متعلق تمام کام اسی کے تحت کئے جائیں تا کہ اسے ہم ایسا پلیٹ فارم کہہ سکیں جو ہمارے دماغ و جذبات کو تسکین بخش سکے۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@آپ سب دوستوں کا بھی شکریہ

ویڈیو:

18 تا 24 اپریل: اس ہفتہ کی بہترین تحریر – ووٹنگ

Manzarnamah_BestBlog-520x245

منظرنامہ پر نیا سلسلہ اس ہفتہ کی بہترین تحریر کا آغاز کیا گیا تھا لیکن کچھ ذاتی مسائل کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوگئی ہے۔ سلسلہ کا آغاز اب 18 اپریل 2016 سے کیا گیا ہے۔ پہلے طریقہ کچھ اس طرح رکھا گیا تھا کہ آپ کو کہا گیا کہ اپنی پسند کی تحاریر جو اس ہفتے میں لکھی گئی ہوں کو ہمیں ارسال کردیں لیکن اب یہ طریقہ تبدیل کرکے منظرنامہ خود اس ہفتے میں لکھی ہوئی تحاریر کو جمع کرکے آپ کو ووٹنگ کا اختیار دے رہا ہے اور پھر زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی تحریر کو ہفتے کی بہترین تحریر قرار دیا جائے گا۔

نیچے دی گئی فہرست میں آپ اپنی پسند کی تحاریر کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ ووٹنگ اسٹار ریٹنگ رکھی گئی ہے تاکہ آپ اپنی پسند کے مطابق ووٹ دیں۔

نمبر تحریر مصنف ووٹ 1 فیس بک سے پیسے کمانے کے انتہائی آسان طریقے نجیب عالم 2 قدرت، معاشرہ اور جنسی تفریق عمیر ملک 3 کیا جماعت اسلامی فرشتوں کی جماعت ہے؟  اسریٰ غوری 4 خواہش اور محنت  افتخار اجمل بھوپال 5 ایلیا ــــــــــ ایلین فلک شیر 6 پی سی ایا کی سپانسرشپ حاصل کریں عامر شہزاد 7 لذت آموز خرم ابن شبیر 8 حقیقی ٹام اور جیری  افتخار اجمل بھوپال 9 اول المسلمین – جلا وطن – 17  عمر احمد بنگش 10 امی کو زندہ اور صحت مند رکھو لبنیٰ مرزا 11 بگ بینگ: ایک نقطۂ نظر مجیب الحق حقّی 12 فارَینزِک افتخار اجمل بھوپال

ووٹ کے لیئے آپ کے پاس وقت 6 دن تک کا ہے یعنی 30 اپریل 2016 تک، اس کے بعد ووٹنگ بند کرکے بہترین تحریر کا اعلان کیا جائے گا۔

کوثر بیگ سے شناسائی

Manzarnamah_Shanasai

حیدرآباد دکن کے روایتی گھرانے میں آنکھ کھولنے والی کوثر بیگ تخیلات کی دنیاکے عنوان سے خوبصورت حیدآبادی لہجے کی اردو میں بلاگ لکھتی ہیں،اردو سے محبت انہیں ورثے میں ملی جس کا اظہار ان کی تحریروں سے ہوتا ہے،ان کے لکھنے کے خواب کو ان کے بیٹوں نےبلاگ کی شکل میں حقیقت کا روپ بخشا،کوثر بیگ آج کل اپنی فیملی کے ہمراہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں مقیم ہیں ان سے ہونے والی گفتگو نظرِ قارئین ہے۔

خوش آمدید !

شکریہ

کیسے مزاج ہیں ؟

@ حسبِ حال بحال

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@اللہ کی بندی ہوں جس کو اللہ نے بہت ساری نعمتیں ، ہرطرح کے رشتے اور دوست عطا کئےہیں ۔خود ساختہ قید کو پسند کرتی ہوں اللہ سے امید کرتی ہوں کے دنیا سے پردہ کرنے تک اس قید میں مقید رہوں ۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@ حیدرآباد دکن مقیم جدہ سعودی عربیہ
اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ تعلیم کچھ بھی نہیں مگر میری محنت جستجو نے میری گود میں تعلیم کی پرورش کی ہے ۔ میرے دادا حیدرآباد کے مشہور مشائخ مانے جاتے تھے جن کو بحرالعلوم کا خطاب دیا گیا تھا ۔آپ عثمانیہ یونیور سٹی کےدینیات کے وائس چانسلر تھے
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@ اپنی تسلی کے لئے کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی تھی اور وہ غائب ہو جاتا بہت کوفت ہوتی جس کا پتہ بچوں کو بھی تھا ایک دن بیٹے نے بلاگ بنا کر دیا ایک دو پوسٹ کے بعد بالکل پلٹ کر نہ دیکھاکیونکہ وہ اردو میں نہیں تھا پھر بیٹے نے ایک اور بلاگ بنا کر دیا ایک دو بلاگرز سے میل اور فون پر بات بھی کی مگر کوئی خاص مدد نہیں ملی تو اس نے خود ڈھونڈ ڈھانڈ کر اردو ڈالی بہت سارا سجایا پھر مجھے کیسے پوسٹ کرنا ہیں کہاں لکھنا ہے سمجھایا ۔۔ پہلا کب بنایا تھا تو یاد نہیں دوسرا دس ستمبردو ہزار سات کو بنایا گیا تھا ۔
اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

@ اخبار اور رسائل میں ہماری خود کی مرضی کافی نہیں ہوتی نہ ہی میرا رابطہ باہر کی دنیا سے ممکن تھا پھرمیں تو بس ایسے ویسے ہی لکھتی ہوں معیاری کہاں ہوتا ہے میں اپنی دل کی باتیں اپنے تجربات و خیالات کو ضبط قلم کرتی ہوں مجھ جیسی من موجی کا اخبار میں کیا کام

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@ ہر نیا کام آغاز میں دشوار ہی لگتا ہے پھر آہستہ آہستہ آہی جاتا ہے ۔اردو انسٹال کرنے اور دوسروں کے بلاگ پر کیسے جانا راستہ نظر نہیں آیا پھر سب بلاگرز تک رسائی ہو ہی گئی ۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@ بیٹے نے سمجھایا تھا کہ( فورم پر میرا سب سے پہلے ایک بلاگ اورتھا ) فورم کا بلاگ ایک کنواں ہے اور یہ بلاگ ایک سمندر ہے وہاں بس مخضوص لوگ ہی دیکھ پاتے تھے مگر یہاں ساری دنیا سے اگر چاہے تو دیکھ سکتے ہیں ۔پھر میں یہاں کی ہو رہی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھ سکیں
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتی ہیں ؟
@دراصل مجھے پڑھتے رہنے کا جنون ہے سب ہی اچھے لگتے ہیں ۔

آپ نے اپنے بلاگ کا نام “تخیلات کی دنیا ” کیوں رکھا؟

@ تخیلات کی دنیا ۔۔ بہت کم وقت میں بہت زیادہ غور کرنے کے بعد یہ نام رکھا کیونکہ ہر تحریر سے پہلے سوچنے کا عمل آتا ہے میرے بلاگ میں میری یادیں ہیں، میری معلومات ہیں ،میری سرگز شت و باتیں ہیں جو تخیل سے منسلک ہوتی ہیں ۔
لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@ نیٹ سے جب ملاقات ہوئی تو بے کاری میں کچھ بھی اردو کے ساتھ لکھ کر سرچ کرتی اور کوئی بلاگ سامنے آجاتا اور پڑھ لیتی سلیم صاحب کا بلاگ تو میرے میاں کے میل پر با قاعدہ آتا جسے وہ مجھ سے پڑھواتے تھے ۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزرتی ہیں یا لکھنے بیٹھتی ہیں اور لکھتی چلی جاتے ہیں ؟

@ دماغ میں کوئی بات ہو فرصت بھی ہو تو بس لکھ دیتی ہوں اور پوسٹ کردیتی ہوں کوئی کوئی تحریر کچھ معلومات چاہتی ہیں جیسے کوئی دینی مضمون ہوتو پھر ایک نظر دیکھ لیتی ہوں نہیں تو لکھنے کے بعد بھی پھر پڑھنا نہیں ہوتا اگر ایسا کروں تو بدلتے بدلتے مضمون کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے اس لئے فوراً پوسٹ کردیتی ہوں
کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ ہاں جب دیکھتی ہوں کہ آج میرا بلاگ اتنے لوگوں نے پڑھا بھلے ہی کمنٹ نہ کیا ہو مگر لگتا ہے کہ دل کی بات کسی سے شیئر کرلی اور دل ہلکا ہلکا سا محسوس ہوتا ہے ااور سوچتی ہوں اپنی بات یا تجربہ سے دوسروں کا کچھ فائدہ ہوجائے۔بہت سارے اچھے اچھے ہستیوں سے قلمی ملاقات اور بات چیت ہوئی ہے یہ ہی فائدہ ہے ایک پردیس میں رہنے والی گھریلو خاتون کو اور کیا چاہے۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@ جس سے معلومات میں اضافہ ہو یا پھر دلچسپ ہو۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@ میں سمجھتی ہوں کہ اردو نے اپنی پیدائش کے ساتھ ہی اپنا مقام بنا لیا تھا جس کو مٹانے کی کوشش چلتی رہتی ہے مگر اردو کے چاہنے والے اس کو زندہ رکھنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہتے ہیں ۔آپ دیکھیں دنیا کے کسی بھی ملک میں اردو بولنے والے کچھ تو موجود رہتے ہی ہیں یہ ہی اس کی بقا کی نشانی ہے ۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@ اردو میری مادری زبان ہے میں اسے جنون کی حد تک پسند کرتی ہوں اس کی تر قی کی ہمشہ خواہش مند رہونگی ۔میری اردو ، پیاری اردو ، ،میری اچھی اردو
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@ کام تو ہو رہا ہے مگر ہمارے بچپن میں اردو جتنی عام تھی اگر ویسی ہو تو اطمنان کیا جاسکتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تقسیم ہند کے بعد اردو کے ساتھ ہندوستان میں سوتیلا سلوک ہوا، کیونکہ بٹوارے کے بعد اردو کو پاکستان کی زبان قرار دے دیا گیا۔یہ انڈیا کے لئے ہے مگر پاکستان میں تو یہ بہت مضبوطی سے قدم جمائے محسوس ہوئی

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتی ہیں؟

@ ہر پل رنگ بدلتی دنیا ہے یہ ،آج کی بات کل نہیں ٹیکنالوجی ترقی کی طرف گامزان ہے بلاگنگ کی دنیا خوب ترقی کریگی مگر میں اس دوڑ میں شاید بھاگتی ہی رہ جاؤں یا ہوسکتا ہے رہو ں ہی نہیں، اگر رہی تو کوشش کا دامن چھوڑنے والی نہیں ویسے ان سالوں میں لکھنے کے معاملے میں خود کو پراعتماد محسوس کررہی ہوں ون اردو فورم ،بلاگ نے مجھے قلم پکڑنا تو سیکھا دیا ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ آپ سب کو بس یہ ہی کہنا چا ہتی ہوں کہ الگ الگ اردو کی خدمت کریں یا مل کر اردو کے لئے کام کریں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں چاہے ایک لفظی ہی کیوں نہ ہو ۔
بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@ گھر کے پکوان صفائی مہمانداری اور دوسرے کاموں سے فرصت پر فیس بک یا پھر دو تین فورمز ہیں ۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتی ہوں؟

@ عورت کی زندگی کا مقصد وہ نہیں طے کرتی اس کے سرپرست کرتے ہیں ۔جب تک والدین زندہ تھے ان سے ملنے کی خواہش ہردم دل میں رہتی تھی اب چاہتی ہوں کہ اپنے ذمہ دایوں سے سبکدوش ہوکر ایمان پر دم نکل جائے ۔
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟

@ قرآن

2۔ شعر ؟

@ آئینہ رو کے سامنے بن کے آئینہ

حیرانیوں کا ایک تماشہ کریں گے ہم

3۔ رنگ ؟

@ سبز

4۔ کھانا ؟

@ دال قیمہ اور چاول ،مل کر کھانا

5۔ موسم ؟

@ گرمی سے پہلے موتیا بہار کا موسم

6۔ ملک ؟

@ مدینہ کی پرنور زمین

7۔ مصنف ؟

@ امام غزالی

8۔ گیت؟

@ کوئی ایک نہیں بتا سکتی

9۔ فلم ؟

@ مغل اعظم یا شرابی
غلط /درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

@ جی درست

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@ نہیں ایسا بہت کم ہوتا ہے

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

@ درست

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ درست

5۔ میں ایک اچھی دوست ہوں ؟

@ہوسکتا ہے

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@ جی ہاں مگر اسی رفتار سے چلے بھی جاتا ہے

7۔ میں بہت شرمیلی ہوں ؟

@ شاید

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ درست
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@ فرائض اور حقوق کی ادائیگی خود پر لازم کرلیں

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گی؟

@ آپ لوگ ہی بہتر جانتے ہیں ۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@ ارے نہیں بھئی میں ہی لیٹ ہوگئی ان سوالات کے آتے ہی مصروفیت بھی بھاگے چلے آ ئی ،سوری جواب دیتے دیتے تاخیر ہوگئی ۔مجھے اس قابل سمجھا جس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں ۔اللہ آپ سب پڑھنے والوں اور محمد اسلم فہیم بھائی کو سدا شاد و آباد رکھے۔

منظرنامہ – نیا انداز

سال 2013 کے بعد سے منظرنامہ کی پوشاک اب تک 3 مرتبہ تبدیل کی گئی ہے۔ پہلی بار بلاگ اسپاٹ کی تھیم لگائی گئی تھی پھر منظرنامہ کو بلاگ اسپاٹ سے ورڈپریس پر منتقل کیا گیا تو جو تھیم بلاگ اسپاٹ پر تھی ویسی ہی ورڈپریس کے لیئے تلاش کرکے اس تھیم کا اردو ترجمہ کرکے اسے منظرنامہ پر لگایا گیا جوکہ کافی عرصہ لگی رہی پھر ایک مزید تھیم کا اردو ترجمہ کرکے لگایا گیا جوکہ موجودہ دور کے مطابق تھی تو وہ بھی کافی عرصہ لگی رہی اور اب ایک نئی تھیم 2016 کے مطابق جدید سہولیات کے ساتھ لگائی جارہی ہے جوکہ منظرنامہ کے لیئے بہترین ہے۔

اس تھیم کے صفحہ اول میں سیکشن موجود ہیں جوکہ منظرنامہ کے مختلف زمرہ جات کے لیئے مدد گار ہیں۔ پہلا حصہ تازہ تحاریر کا ہے جس میں ایک خوبصورت انداز میں تازہ تحاریر نمایاں ہیں پھر شناسائی اور دیگر سلسلہ جات موجود ہیں۔ تھیم کے رنگ سادہ ہی رکھے گئے ہیں تاکہ آنکھوں کو درد نہ پہنچائیں اور تحریر پڑھنے میں بھی لطف آئے۔

تھیم کے علاوہ منظرنامہ کی ہوسٹنگ کو بھی اپگریڈ کیا گیا ہے۔ ہوسٹنگ کے لیئے پاکستانی کمپنی Resell.net کا شکریہ جنہوں نے منظرنامہ کے لئے اپنی ہوسٹنگ اسپانسر کی ہے۔ اس کے علاوہ ڈومین کی ذمہ داری اردو بلاگر مصطفیٰ خاور صاحب نے لے رکھی ہے اور وہ اسے نبھا بھی رہے ہیں ان کا بھی شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔

تھیم، ہوسٹنگ اور ڈومین کے بعد اینڈرائیڈ ایپ بھی منظرنامہ کے لیئے تیار کیا گیا ہے تاکہ منظرنامہ جدید دور کے مطابق ہر جگہ نمایاں رہے اور قارئین کے لیئے کسی طرح کی پریشانی نہ ہو آسانی سے وہ منظرنامہ تک رسائی حاصل کرسکیں۔

اینڈرائیڈ ایپ آپ یہاں کلک کرکے گوگل پلے اسٹور سے باآسانی ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ تھیم کے متعلق اگر آپ کوئی رائے دینا چاہیں تو نیچے تبصرہ کرکے دے سکتے ہیں۔

 

سلسلہ اس ہفتے کی بہترین تحریر

Manzarnamah_BestBlog-520x245

السلام علیکم

منظر نامہ کو فعال کرنے کے جوکام آغاز ہو چکے ہیں، اس کا پہلا حصہ سلسلہ شناسائی کی پھر سے آمد ہے، محترم مصطفیٰ ملک اور ڈاکٹر اسلم فہیم صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اس کام کو کرنے کی ہامی بھری اور آغاز کر دیا۔ کچھ دوست شاید آسمان سے غیبی مدد کے امیدوار ہیں کہ وہ آئے تو وہ پھر کام آغاز کریں گے۔

محترم بلال صاحب سے گفتگو کے بعد ہم نے ہفتے کی بہترین تحریر کو منتخب کرنے اور اس کو شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بلال صاحب اس کی تکنیکی سائیڈ پر مدد کریں گے ، آیا کہ لوگوں کو ووٹ کا حق دیا جائے یا سٹار ریٹنگ کا سلسلہ بنایا جائے۔ سال کا بہترین بلاگ ، مہینے کا بہترین بلاگ طرز کا سلسلہ بھی پھر سے آغاز کیا جا سکتا ہے۔ موضوعاتی مقابلہ جات کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن ابھی ہفتے کی بہترین تحریر سے سلسلہ کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

اپنی تحریر منظرنامہ تک پہنچانے کے لیئے یہاں کلک کرکے فارم بھر کر ارسال کردیں۔

شکریہ

ڈاکٹر محمد نور آسی سے شناسائی

Manzarnamah_Shanasai

منظر نامہ کے سلسلہ شناسائی میں آج کے ہمارے مہمان ہیں ڈاکٹر محمد نور آسی ۔ڈاکٹر محمد نور آسی کا تعلق ضلع خوشاب سے ہے ،گزشتہ دو دہایوں سے بسلسلہ روزگار اسلام آباد میں مقیم ہیں ،سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ ہومیوپیتھی سے شغف رکھتے ہیں ۔آپ “لفظ بولتے ہیں” کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے

ڈاکٹر صاحب خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@الحمدللہ ۔ شکرہے رب کریم کا

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ ایک سادہ مزاج سیلف میڈ آدمی ہوں ۔ ابھی کالج میں پڑ ھ رہا تھا کہ والد صاحب فوت ہوگئے ۔ تب سے اب تک زندگی رقص میں ہے۔ غم عشق سے غم روزگارتک ایک لمبا سفر ہے جوا بھی تک جاری ہے۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@ جائے پیدائش ضلع خوشاب ہے۔ اور پچھلی دو دہائیوں سے اسلام آباد میں مقیم ہوں ۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ تعلیم ایم بی اے۔ ایم اے۔ ڈی ایچ ایم ایس ۔ دیہاتی پس منظر ۔ والد صاحب بارانی علاقے کی دھر تی پر محنت کرتے فوت ہوئے۔ میرے والد صاحب نے ساری زندگی دوسروں کے لئے گذاری ۔ گھر میں بہت کم وقت دے پاتے تھے۔ گو الحمد للہ میں شروع سے سکول میں ٹا پ کرتا آیا لیکن کبھی میری تعلیم کے حوالے سے میری والد صاحب نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی۔ ۔ شب وروز لڑائیوں ، جھگڑوں کے فیصلے ، صلح صفائیاں ۔ رشتوں کے تنازعے حل کرتے گذار دی۔ جب والد صاحب فوت ہوئے تو میں نے اپنے گھر والوں سے زیادہ ارد گرد کے کئی دیہاتوں کے لوگوں کو روتے دیکھا۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@ مجھے لکھنے کا شوق تو بہت شروع سے تھا۔ کئی رسائل میں لکھتا رہا ہوں ۔ شاعری کے جراثیم بھی تھے۔ کالج میں تھا تو ایک دفعہ احمد ندیم قاسمی کی زیرصدارت ایک مشاعرے میں پہلی دفعہ کلام پڑھا۔ پذیرائی نے حوصلہ بڑھا یا ۔ کچھ عرصہ خوب شاعری کی لیکن پھر حالات نے کچھ ایسے بھنور میں پھینکا کہ سب کچھ بھول جا نا پڑا ۔ غالبا 2007 کی بات ہے کہ انٹر نیٹ پر گھومتے گھامتے Pak.net پر جا نکلے اور وہاں ماحول ساز گا ر پا کر پھر سے کچھ لکھنا شروع کیا۔ وہیں سے بلاگنک کے بارے میں پتہ چلا ۔ اور پہلا بلاگ 2008 میں بنا یا جو ہومیوپیتھی کے حوالے سے تھا۔ یہ بلاگ ابھی تک جاری و ساری ہے۔

اخبارات اور رسائل کی موجودگی میں آپ نے لکھنے کیلئے بلاگ ہی کو کیوں منتخب کیا؟

@ بلاگنگ دراصل بہت سہولت فراہم کرتی ہے۔ قارئین تک آسان رسائی، لکھنے کی آزادی، اور فوری اشاعت وغیرہ

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@ میں ابھی تک کمپیوٹر کے حوالے بہت کم معلومات رکھتا ہوں ۔ سو بلاگنگ کے ابتدائی دنوں میں گوگل سے مد د لے کر آہستہ آہستہ کا م کر تا رہا ۔ میرا پہلا بلا گ ہو میو پیتھی پر تھا۔ اور اس وقت یعنی 2008 میں انٹر نیٹ پر اردو میں ہومیو پیتھی پر مواد نہ ہونے کے برابر تھا۔ میں نےانگلش ، اردو دونوں زبانوں میں بلاگنگ کی۔ اور کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ افراد تک رسائی حاصل کروں ۔ ایڈ سینس کے ذریعے کمائی بھی کی ۔ گرچہ میرا مقصد کبھی کمائی نہ تھا۔ پھر کچھ لوگو ں کے کہنے پر آکر SEOکو سیکھنے کی کوشش کی۔ نیم حکیم کے مصداق ایڈ سنس والوں نے بلاک کردیا۔ لیکن بلاگ پھر بھی جاری رہا ۔ اور ابھی تک ہے۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@بلاگ لکھتے ہوئے میری سوچ یہ تھی کہ جو کچھ میں جانتا ہوں ۔ مجھے اس کو شیئر کرنا چاہیے۔ کیوں کہ میرا یقین اور میرا تجربہ ہے کہ علم بانٹنے سے علم بڑھتا ہے۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

@اس وقت انٹر نیٹ پر کافی لوگ بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔ میں جب بھی وقت ہو تو بلاگ واکنگ کرتا ہوں۔ اور زیادہ تر میری دل چسپی ہلکی پھلکی تحریریں پڑھنے تک ہے۔ بہت زیادہ فلسفانیہ بلاگ میں نہیں پڑھتا ۔

آپ نے اپنے بلاگ کا نام لفظ بولتے ہیں کیوں رکھا؟

@ اس لئے کہ واقعی لفظ بولتے ہیں ۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@اس کی تفصیل میں میں اوپر دے چکا ہوں۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

@ میں کوئی لکھاری نہیں۔ بس کبھی کچھ تحریک ہوئی تو لکھ لیا۔ عموما جب لکھتا ہوں تو بس لکھتا چلا جاتا ہوں۔ نہیں لکھتا تو کئی ماہ گذر جاتے ہیں۔ ہاں ذہن میں کچھ باتیں سٹور ہوتی رہتی ہیں۔ اور اچانک ہی کبھی لکھنے پہ موڈ بن جاتا ہے تو لکھ لیتے ہیں۔یہ معاملہ ” لفظ بولتے ہیں ” کے حوالے سے ہے۔ تاہم ہومیوپیتھی بلاگ پر میں جب لکھتا ہوں تو پہلے کافی پڑھتا ہوں۔ تحقیق کرتا ہوں ۔ پھر لکھتا ہوں

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ مجھے بلاگنگ سے بہت فوائد حاصل ہوئے ۔ جیسا کہ میں نے اوپر کہیں لکھا ہے کہ میں نے کبھی پیسے کمانے کی خاطر بلاگنگ نہیں کی۔ لیکن اس کے باوجود میں نے بلاگنگ سے کمائی بھی کی۔ بہت سارے اچھے اچھے دوست بھی بنائے۔ اپنی کلینک کی مارکیٹنگ بھی کی۔ کئی پراڈکٹس بھی سیل کیں۔ اور کررہا ہوں۔ ہومیو پیتھی کے حوالے سے میرے علم میں بہت اضافہ ہوا۔ کیوں کہ کچھ لکھنے کے پہلے کافی پڑھنا پڑتا ہے۔ ریسرچ کرنی پڑتی ہے۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@ میری نظر میں معیاری بلاگ وہ ہے جو کسی مقصد کے پیش نظر لکھا جائے۔ بلاگ میں لکھنے والا پوری تحقیق کے بعد لکھے اور جس موضوع پر لکھے اس سے انصاف کی کوشش کرے۔ تحریر میں بے شک ادبی رنگ نہ ہو۔ تقیل الفاظ کی بھر مار نہ ہو ۔ عام فہم اور جامع تحریر ہو

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@ چھوڑیں جناب ۔ اردو تو بے چاری رل رہی ہے۔ میں یہاں ایک وفاقی وزارت میں جاب کرتا ہوں ۔ اردو کو سپریم کورٹ نے سرکاری زبان کے طور پر رائج کے باقاعدہ احکامات جاری کر دیے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی اردو لکھتا ہے تو جس تضحیک کا سامنا اسے کرنا پڑتا ہے آپ تصور نہیں کر سکتے ۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@ اردو سے میرا تعلق تب سے ہے جب میں نے پہلی مرتبہ ” ا” لکھنا سیکھا ۔ اب اتنا پرانا تعلق اپنی بیوی سے بھی نہیں ( مسکراہٹ) ۔ یوں کہں کہ بچپن کی محبت ہے۔

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@ کام ہو رہا ہے؟ کہاں ؟

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@ اردو بلاگنگ ماشاءاللہ بہت مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ لوگ کتاب سے تو دور ہوگئے ہیں ۔ لیکن بلاگنگ اردو کی ترویج میں بہت زبردست کردار ادا کر رہی ہے۔ میرے خیال میں آنے والے دنوں میں اردو بلاگنگ کو بہت عروج حاصل ہوگا۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ اردو پاکستان کے کونے کونے میں بسنے والوں کے لئے ایک زنجیر کی طرح ہے۔ سو اردو سے وابستہ رہیے۔ اسے فروغ دیجیے اور اس کو ترویج دینے والوں کا ساتھ دیجیئے

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@ جاب اور شام کے اوقات میں کلینک

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@ زندگی کا مقصد لوگوں کے لئے آسانیاں پید اکر نا۔الحمدللہ ، بہت ساری خواہشات اللہ کریم نے پوری کی ہیں ۔ایک خواہش جو ابھی تک ادھوری ہے وہ اپنی والدین کے لئے کوئی ایسا کام جو صدقہ جاریہ ہو۔ کئی پراجیکٹ ذہن میں ہیں ۔ مجھے اپنے رب سے قوی امید ہے کہ انشاء اللہ میں اس میں کا میاب رہوں گا۔
اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:
1۔ کتاب ؟

@قرآن مجید تو ہمارے ہدائت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے ۔ میں Occult Science میں دل چسپی رکھتا ہوں۔ اس حوالے سے کچھ بکس زیر مطالعہ ہیں ۔ مزید ہومیوپتھی سے متعلقہ کتابیں ، شاعری زیرمطالعہ رہتی ہیں کسی ایک کا نام لکھنا مشکل ہے۔

2۔ شعر ؟

@ اچھے اشعار میری کمزوری ہیں۔ بے شمار اشعار یاداشت میں محفوظ ہیں ۔ ابھی فوری طورپر یہ شعر سن لیں

بات پہنچی ہماری غیروں تک

مشورہ کر لیا تھا اپنوں سے

3۔ رنگ ؟

@ سفید

4۔ کھانا ؟

@ سادہ کھانا۔ میں ہوٹل کے کھانے سے احتراز کرتا ہوں ۔ گھر میں جو پکا ہوشوق سے کھا تا ہوں

5۔ موسم ؟

@ رم جھم ساون ، بہار

6۔ ملک ؟

@پاکستان

7۔ مصنف ؟

@کتابیں کافی پڑھی ہیں۔ بہت سارے مصنف ہیں۔ سعادت حسن منٹو سے لے کر محی الدین نواب تک

8۔ گیت؟

@مجھے غزلیں زیادہ اچھی لگتی ہیں ۔ گیت موڈ اور موسم کے مطابق

9۔ فلم ؟

@ بہت کم فلمیں دیکھتا ہوں ۔
غلط /درست:
1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

@ درست

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@غلط

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

@درست

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ففٹی ففٹی

5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟

@درست

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@ ففٹی ففٹی

7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟

@غلط

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@غلط
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں۔ دوسروں سے دھوکہ کھالیں ۔ خود کسی کو دھوکہ نہ دیں۔ دکھ بھری باتوں پر مسکرانا سیکھ لیں ۔ لوگوں کا شکریہ ادا کرنا سیکھ لیں۔ انکساری کو اپنا لیں۔ زندگی بہت آسان ہو جائے گی

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

@ فوری طور پر یہ سب سے اہم ہے کہ منظر نامہ متحرک ہو۔ وہاں کچھ ایسی ایکٹویز شروع کی جائیں کہ لوگ منظر نامہ باقاعدہ وزٹ کریں۔ موضوعاتی بلاگز شروع کروائے جائیں ۔ اور اگر ممکن ہو تو ہر ہفتے، ہر ماہ کے بہترین بلاگز کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ ہر پندرہ دن کے بعد کسی ایک بلاگ کے حوالے سے ایک ہفتہ مختص کیا جائے ۔ اور اس بلاگ کی تحاریر پر سب بلاگر اپنی رائے دیں۔ اس کو بہتر بنانے کی تجاویز دیں۔ اس طرح کچھ ماہ میں بہت سارے لوگوں کے بلاگز میں بہتری آئے گی۔

یہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر بلاگر کوئی ایک بلاگ وزٹ کرے اور اس پر اپنا تجزیہ تحریر کرے۔

یہ بھی ایک تجویز ہے کہ اردو بلاگنگ کے لئے کام کرنے والے کے کام کو سراہا جائے ۔ ہر ماہ مختلف کیٹگری میں کچھ انعامات کا سلسلہ رکھا جائے وغیرہ

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@ آپ کا بھی بہت شکریہ

اجمل ملک سے شناسائی

Manzarnamah_Shanasai

منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں جناب ”اجمل ملک “ صاحب آپ سینئر صحافی ہیں اور فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ایکسپریس نیوز سے وابستہ ہیں اور اردو بلاگنگ بھی کرتے ہیں۔ بلاگ یہاں کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@ الحمد اللہ ۔ اللہ تعالی کے اتنے احسانات ہیں کہ شمار نہیں لا سکتا ۔

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ میں انتہائی سادہ انسان ہوں۔والدین اور بیوی بچوں سے محبت کرتا ہوں۔محنتی ہوں۔رزق حلال کھاتاہوں۔ جھوٹ سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں ۔پکا مسلمان ہوں۔پاکستان کو اللہ تعالی کا تحفہ سمجھتا ہوں۔وطن سے محبت میرا ایمان ہے۔ میں زمانے کے لبوں پر خوشی دیکھنے چاہتا ہوں۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@ مقام پیدائش اور مقام رہائش دونوں فیصل آباد ہیں۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@پاکستان سٹیڈیز میں ایم ایس سی کی ہے اور ایم اے انگلش کیا ہے۔ میرا پیشہ صحافت ہے اس شعبہ میں اس لئے آیا ہوں کہ میرا رزق یہاں لکھا تھا۔آج کل ایکسپریس نیوز فیصل آباد کا بیورو چیف ہوں۔ لیکن میرا خاندانی پیشہ تجارت ہے ۔ فیصل آباد چونکہ لان اور لٹھے کا شہر ہے۔اس لئے ہم بھی کپڑے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@ شائد 2014 رخصت ہو رہا تھا جب اردو بلاگرز کے’’باغبان‘‘۔مصطفی ملک صاحب جو’’گھریلو باغبانی‘‘کےعنوان سے ’’بلاگ بانی‘‘ کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھےمشور ہ دیا کہ میں لکھنا شروع کروں۔اس سےقبل روزنامہ ایکسپریس کےرنگین صفحات پرمیرے کئی آرٹیکلز چھپ چکے تھے۔وہ سارے آرٹیکلز سماجی مسائل سے متعلق تھے۔زمین پہلے سے ہموارتھی اس میں بلاگنگ کا بیج بویا گیا تو پنیری پھوٹ پڑی ۔ میرے ویب پیج کے باغبان بھی مصطفی ملک صاحب ہی ہیں۔ الف ب انہی سےسیکھی ہے۔مجھے لگتا ہے میں ’’پ‘‘تک پہنچ گیا ہوں۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@ مرحلہ ایک ہی تھا کہ بلاگ کا صفحہ کس طرح بنانا ہے۔ فونٹ کیساہوگا۔ لے آوٹ کیسا منتخب کرنا ہے۔اکاونٹ کیسے بننا ہے۔ بس زینے پر پہلا قدم رکھا توشعور کے کئی بند دریچے کھلے۔دوسرا قدم خودبخوداٹھ گیا ۔ لیکن ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@ سچ تو یہ ہے کہ فروغِ اردوکی طرف تب رتی برابر بھی دھیان نہیں تھا۔ذہن پر بلاگ لکھنے کی ایسی مستی چھائی تھی جیسی کسی بچے کومن پسند کھلولنے ملنے پر چھا جاتی ہے۔ جب لکھنا شروع کیا تو شدت سے احساس ہو ا کہ مجھے پڑھنا چاہیے۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

@ مصطفی خاور، یاسر خواہ مخواہ جاپانی۔عمیر محمود۔ڈفرستان اور مصطفی ملک۔ وغیرہ کو پڑھتا ہوں۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@ پہلی بار روزنامہ دنیا میں پڑھا تھا ۔رنگین صفحات پر مختلف شخصیات کے بلاگز مختلف ناموں کے ساتھ چھپتے تھے۔یوں سمجھیئے کہ اخبار بینی نے مجھے بلاگ سے آشنا کیا۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

@ سوال سے بھی لگتا ہے اور میرا ذاتی مشاہدہ بھی یہی ہے کہ لکھنے بیٹھنے اور لکھتے ہی چلے جانادو الگ الگ کیفیات ہے۔لکھا تو بہت کچھ جا سکتا ہے لیکن لکھتے ہی چلے جانا شائد کوئی ماورائی علم ہے۔یہ ایسی کیفیت ہے جس میں الفاظ من و سلویٰ کی طرح اُتر تے ہیں۔ اور میں تو بنی اسرائیل سے نہیں ہوں۔اس لئے وقفے وقفے سے لکھتا ہوں۔حتی کہ اقتباس مستعار لیتا ہوں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@ بلاگنگ سے اچھا خاصا فائدہ ہوا بھی ہے اور انشا اللہ ہوتا بھی رہے گا۔ علم میرے نزدیک ایک خزانہ ہے اور میں خزانے کی تلاش میں رہتا ہوں۔

میرا ماننا ہے کہ ادب صرف بے ادبوں کے لئے تخلیق کیا جاتا ہے۔مجھ سے بڑا بے ادب کوئی نہیں۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@ کسی بھی تحریرسے کوئی ایک جملہ یا ایک لفظ بھی دماغ میں فٹ ہوجائے دماغی لغت میں نیا اضافہ ہو جائے تو میں اس تحریر کو معیاری مانتا ہوں خواہ وہ بلاگ ہی کیوں نہ ہو۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کے بعد اردو شائد سرکاری زبان تو بن جائے لیکن زمانے میں دھوم مچانے کی گنجائش پھر بھی باقی رہے گی۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@ اردو میری دوسری محبت ہے۔ پہلی محبت پنجابی ہے۔کیونکہ میری اماں پنجابی ہیں۔یوں میرا۔اور۔اردو کا تعلق گلابی اردو ۔والا ہے۔لیکن میری اصلاح کا سارا ذمہ اردو نے اٹھا رکھا ہے۔

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@ ہاں اگر ترویج اردوسے مراد ۔اخبارات ۔رسائل اور ٹی وی چینلز ہیں توحالات حوصلہ افزا ہیں ۔لیکن زبان کوقوم پرستی کی بنیاد ہونا چاہیے۔جیسے بنگالیوں اور جرمن کی زبان ہے۔شائد اردو کی ترویج کے لئے ہمیں بنگالیوں جیسازبان پرست بننا پڑےگا۔وہی صورتحال اطمینان بخش ہوسکتی ہے۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@خود کو تو وہاں دیکھتا ہوں جس کا تذکرہ فیض صاحب نے کیا تھا ’’مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں۔‘‘لیکن دعا ہے کہ اردو۔اردو بلاگرز سے منسوب ہو جائے ۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ دکنی اردو کو سکنی اردو میں شامل کرلیا جائے تو مزہ آجائے۔

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@ پیشہ وارانہ مصروفیات کی وجہ سے میں غیرسماجی ہوں۔شائد کئی سال سے میں نے شام بھی نہیں دیکھی۔دوسری مصروفیات تو سر شام شرو ع ہوتی ہیں اور میری تو پہلی مصروفیت کی رات کی آخری پہر ختم ہوتی ہے۔ نئی مصروفیت کا تو مستقبل میں بھی امکان نہیں ۔

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@ زندگی کا مقصدتو حضرتِ اقبال نے فرما دیا۔ ’’اوروں کے کام آنا ‘‘۔ خواہش یہ ہے کہ دین سے رشتہ مضبوط ہو جائے۔

 

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

@ ویسے قرآن کریم دنیا کی سب سے اچھی کتا ب ہے ۔اگر اسے اردو ترجمہ اور تفیسر کےساتھ پڑھاجائے۔اردو ادب میں’’راجہ گدھ ‘‘پسند ہے۔انگلش میں رابرٹ براوننگ اور کِیٹس کی نظمیں اچھی لگتی ہیں۔

2۔ شعر ؟

@ سینکڑوں شعر جو حسب حال یاد آجائے۔ابھی تو مجھے استاد مومن خان مومن کا شعر یاد آرہا ہے۔ ۔

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

3۔ رنگ ؟

@ محبوب کا

4۔ کھانا ؟

@ سادہ غذا۔ جو بھی مل جائے خصوصا سبزیاں۔

5۔ موسم ؟

@ خزاں

6۔ ملک ؟

@ دل دل پاکستان ۔

7۔ مصنف ؟

@ بانو قدسیہ ، اشفاق احمدکرشن چندر۔منٹو ۔ویسے ہم عہد یوسفی میں زندہ ہیں۔

8۔ گیت؟

@میرے کان بہت سُریلے ہیں ۔مجھے خیال کی گائیکی اورسرگم بہت پسند ہے۔موسیقی ایسی ہونی چاہیے جسے سن کر باقاعدہ محسوس ہو کہ روح کو غذا ملی ہے۔فیض صاحب کا کلام ’’مجھ سے پہلی سی محبت ‘‘جب بھی سنوں مزا آتا ہے۔ٹھمری میں ’’یاد پیا کی آئے‘‘ جبکہ میڈم اقبال بانو نے کیا کمال کا راگ پیلو میں گایا ہے۔’’الفت کی نئی منزل کو چلا ‘‘۔مجھے تو بہت پسند ہے۔

9۔ فلم ؟

@God must be crazy

غلط /درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

@ درست

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@ درست

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

@ درست

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ درست

5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟

@ نہیں

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@ غلط

7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟

@ غلط

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ غلط۔ مجھے زیادہ باتیں سننا اچھا لگتا ہے

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے ۔

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

@اردو کی ترقی کے لئے کوشش جاری رکھیں۔

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@ آپ کا بھی بہت بہت شکریہ

منظرنامہ اینڈرائیڈ ایپ

Manzarnamah_Others

آج سے 8 سال پہلے جب عمار اور ماوراء نے منظرنامہ کا آغاز کیا تھا تو شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ منظرنامہ باقاعدہ طور پر طویل عرصہ تک اردو بلاگنگ کی دنیا میں اردو بلاگنگ کی خدمت انجام دیتا رہے گا۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا منظرنامہ پرمختلف سلسلہ بھی جاری رہے اور کامیاب بھی رہے اور آج کے اس جدید دور میں جب تقریبا ہر خاص اور عام کے پاس ایک عدد موبائل ضرور موجود رہتا ہے اور پاکستان میں تھری جی آنے کی وجہ سے انٹرنیٹ تک رسائی مزید آسان ہوگئی ہے تو ایسے دور میں بہت ضروری تھا کہ منظرنامہ کو بھی جدید دور کے مطابق ڈھال دیا جائے اسی سلسلہ میں سب سے ضروری ایک اینڈرائیڈ ایپ تھا اور آج وہ دن ہے جب منظرنامہ کے باقاعدہ اینڈرائیڈ ایپ کو گوگل پلے پر شائع کردیا گیا ہے۔

اس ایپ کے ذریعے آپ نہایت ہی آسانی کے ساتھ منظرنامہ کی تازہ تحاریر کو اپنے موبائل یا اینڈرائیڈ ٹیبلٹ میں پڑھ سکتے ہیں اس کے علاوہ اب تک منظرنامہ پر سلسلہ شناسائی کے تحت جتنے بھی انٹرویو ہوچکے ہیں وہ بھی آسانی سے تلاش کرکے پڑھ سکتے ہیں۔ ایپ کا ڈیزائن جدید دور کے مطابق اور سادگی کو دیکھتے ہوئے بنایا گیا ہے تاکہ آپ کو کوئی مشکل پیش نہ آئے اس کے علاوہ ایپ کو نستعلیق فونٹ میں بنایا گیا ہے جس سے آپ اردو کو اصل انداز میں لطف کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔

منظرنامہ ایپ کو آپ گوگل پلے سے ڈاونلوڈ کرسکتے ہیں یا نیچے دیا گئے لنک پر کلک کرکے بھی ڈاونلوڈ کرسکتے ہیں۔

گوگل پلے لنک

منظرنامہ ایپ میں مزید فیچر وقت کے ساتھ ساتھ شامل کیئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی منظرنامہ ایپ کے بیٹا ٹیسٹرز کا بھی شکریہ جن کی مدد سے ایپ کو مختلف فون اور ٹیبلٹ پر ٹیسٹ کیا گیا۔

اردو بلاگنگ سلسلہ میرا پہلا روزہ

اردو بلاگستان کی ایک پرانی روایت اس رمضان اردو بلاگر شعیب صفدر صاحب کی وجہ سے پھر سے تازہ ہوچکی ہے۔ دراصل کچھ عرصہ پہلے جب فیس بک پاکستان میں مقبول نہ تھی تو اردو بلاگرز ایک موضوع کا آغاز کرکے اس پر مختلف بلاگرز کو ٹیگ کر کے لکھنے کی دعوت دیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ کافی خوبصورتی کے ساتھ جاری رہتا تھا اور وسیع تر ہوتا جاتا تھا۔ مگر پھر فیس بک کا دور آیا جس کے شکار اردو بلاگرز بری طرح ہوگئے اور کئی پرانی روایات آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئیں یہاں تک کہ  جو بلاگرز ایک ماہ میں 4 یا کبھی کبھی 6 تحاریر بھی لکھا کرتے تھے وہ اب 4 یا 6 ماہ میں 2 سے 3 تحاریر پر آگئے۔ گوکہ فیس بک کی وجہ سے اردو بلاگرز کی آواز اب بہت لوگوں تک پہنچ چکی ہے اور بے شمار نئے اردو بلاگرز کا اضافہ بھی ہوا ہے لیکن فیس بک نے اردو بلاگستان کو نقصان یہ دیا کہ اردو بلاگرز بلاگ کے بجائے فیس بک پر ہی اپنی رائے دینے لگ گئے اور بلاگ سے دور ہوتے چلے گئے ایسے میں اردو بلاگستان میں اس رمضان پرانی روایت کا آغاز ایک خوش آئند بات ہے جس کی وجہ شعیب صفدر اور ان کی بلاگ تحریر چڑی روزے سے روزے تک ہے۔

یہ سلسلہ تو چل پڑا اور اس کا آغاز بھی شاندار طرح سے ہوچکا اور کئی بلاگرز اپنی تحاریر لکھ چکے اس موضوع پر لیکن اگر یہ تحاریر ایک جگہ جمع ہوجائیں تو دیگر قارئین اور بلاگرز کے لیئے پڑھنے میں آسانی ہوگی۔ اس سلسلہ میں نورین تبسم صاحبہ نے فیس بک پر ہی ایک ایونٹ بناکر تحاریر جمع کرنے کا کام کیا ہے جو کہ اچھا قدم ہے مگر یہاں مسئلہ یہ درپیش ہے کہ فیس بک مستقل آپ کی تحاریر یا ایونٹ کو محفوظ نہیں بناتا اسی لیئے منظرنامہ کا یہ خیال ہے کہ اس موضوع اور آئندہ بھی ایسے موضوعات پر لکھی گئی تحاریر کو ایک جگہ منظرنامہ پر جمع کردیا جائے تاکہ دیگر بلاگستان کے بلاگرز کو آسانی ہو۔ اسی خیال کے تحت یہاں نیچے تمام تحاریر کے ربط دیئے جائیں گے تاکہ پڑھنے والوں کو آسانی رہے۔ اس سلسلہ میں نورین تبسم صاحبہ کا شکریہ کہ انہوں نے اب تک کی تحاریر کو جمع کر رکھا ہے۔ اگر آپ کی تحریر کا ربط نیچے موجود فہرست میں نہیں ہے تو جلد اس فہرست میں شامل کرنے کے لیئے فیس بک پر رابطہ کریں۔

تحریر: چڑی روزے سے روزے تک

مصنف: شعیب صفدر گھمن

تحریر: ہم نے روزہ رکھا

مصنفہ: کوثر بیگ

تحریر: روزہ خور کا پہلا روزہ

مصنف: نجیب عالم

تحریر: چڑی روزہ۔۔۔۔عیدی۔۔۔۔وغیرہ۔۔۔

مصنف: رمضان رفیق

تحریر: پہلا روزہ، کچھ یادیں

مصنف: راجہ افتخار خان

تحریر: 32 برس پہلے کا روزہ

مصنف: محمد اسلم فہیم

تحریر: بچپن کا رمضان

مصنف: مصطفٰی ملک

تحریر: محبت اب نہیں ہو گی

مصنفہ: نورین تبسم

تحریر: چھتیس برس پہلے کے روزے

مصنف: افضل جاوید

تحریر: کچے پکے روزے

مصنفہ: کائنات بشیر

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: مرزا زبیر

تحریر: میرا پہلا روزہ

مصنف: محمد اسد

تحریر: میرا پہلا روزہ

مصنفہ: اسرٰی غوری

تحریر: بانگ دے، روجی ماتی۔۔۔۔ میرا پہلا روزہ۔۔۔۔

مصنف: نعیم اللہ خان

تحریر: بچپن کا روزہ

مصنف: محمد علم اللہ

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: ڈاکٹر محمد نور آسی

تحریر: ہمارے بچپن کے روزے

مصنف: محمد سلیم

تحریر: پہلا روزہ

مصنفہ: عفت ملک

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: یاسر جاپانی

تحریر: بیس سال گزر گئے

مصنف: کاشف نصیر

تحریر: میرا پہلا روزہ ؟

مصنف: وجدان عالم

تحریر: کیسا تھا میرا پہلا روزہ (خدارا نہ ٹیگو کہ مجھے نہیں یاد!)

مصنف: سیف اویس مختار

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: جواد احمد خان

تحریر: پہلا روزہ

مصنف: مبشر سلیم

The post اردو بلاگنگ سلسلہ میرا پہلا روزہ appeared first on منظرنامہ.

مبشر اکرم سے شناسائی

منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ”مبشر اکرم “ صاحب ۔ آپ ” لوگ کہانی – عام لوگ، خاص کہانیاں“ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ آپ بلاگ تو لکھتے ہی ہیں لیکن سوشل میڈیا پر بھی کافی فعال ہیں۔

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

شکر الحمداللہ۔ عموما خوش رہتا ہوں۔

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

اپنے بارے میں بات کرنا ہمیشہ ہی سے مشکل محسوس ہوتا ہے۔ لہذا، میری اس مشکل کا ادراک و احترام کیجیے اور کچھ آسانی فراہم ہو تو مضائقہ نہیں۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

میں قصبہ ملکوال، جو ان دنوں ضلع گجرات کا حصہ تھا، میں پیدا ہوا۔ ملکوال آجکل ضلع منڈی بہاؤالدین کی تحصیل ہے۔ پنجاب میں تین اضلاع کے سنگم پر واقع ہے۔ ایک جانب جہلم، دوسری طرف سرگودھا اور خود اپنے ضلع کا آخری قصبہ۔ میں 1993 سے اسلام آباد میں ہوں۔ روشن مستقبل کی خاطر آیا تھا۔ کچھ حاصل کرلیا، کچھ باقی ہے۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

زندگی کا ایک لمبا عرصہ مسلسل کوشش میں گزارا، میرے دوست۔ میٹرک تک کی تعلیم میری باقاعدہ تعلیم ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے لئے خاندان میں عمومی معاشی سہولت اور ذرائع نہ تھے۔ ایف اے اور بی اے پرائیویٹلی کیا۔ اور پھر زندگی کی مصروفیات کہ بس چلتی ہی چلی گئیں، چلاتی ہی چلی گئیں۔ والد صاحب اپنے دور اور وقت کے ملکوال میں نہایت سرگرم رکن اور آفس بئیرر تھے۔ ضلع گجرات کے نائب صدر رہے، اور پھر جنرل ضیاءالحق کے دور میں اسکی بھاری قیمت بھی چکائی۔ سنہء1979 سے ہی مارشل لاء حکومت کی بدولت معیشت و معاشرت گنوائی اور بس اسکے بعد سارا گھرانا ہی کوشش میں مبتلا رہا، میرے سمیت۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

میں کوئی باقاعدہ بلاگر نہیں۔ خیالات جب اپنا دائرہ مکمل کرتے ہیں تو ذہن پر بوجھ بناتے ہیں۔ اسی بوجھ کو اتارنے کےلیے کچھ لکھ دیتا ہوں۔ پھر کچھ یہ کہ زندگی کے مراحل میں تھوڑا سیکھا تو سوچا کہ جو ٹھوکریں میرے مقدروں میں رہیں، اور آئیں، ان ٹھوکروں کو دوسروں سے شئیر کرلیا جائے تو شاید چند ایک کا بھلا ہوتا ہو۔ آغاز کوئی دو تین سال قبل کیا تھا، اپنے لکھنے کا۔ بس سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

کوئی مرحلہ طے نہ کیا، میرے دوست۔ ایویں میں کیا کہنا، بھلا۔ اور کوئی مشکل نہ پیش آئی۔ لکھنا، میرے نزدیک، پڑھنے سے مشروط ہے۔ نہ پڑھنے والا، لکھ بھی نہیں سکتا۔ یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ پڑھتا رہتا ہوں، تو جیسا کہ کہا، جب خیال کا دائرہ مکمل ہو جاتا ہے تو سائیڈ پر نوٹس لکھ کر، ایک تحریر آپ جیسے دوستوں کے حوالے کر دیتا ہوں۔ پھر تحریر جانے، یار جانیں!

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

سچ تو یہی ہے کہ اپنے خیال کے وزن کو اتارنے کےلیے لکھنا شروع کیا۔ ابھی بھی اکثریتی عمل اسی وزن کا محتاج ہوتا ہے۔ اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا، اور پھر سے سچ کہ زندگی کی مصروفیات اور مسلسل محنت کے عمل میں ایسا الجھا کہ اردو زبان یا بلاگنگ کو مجھ جیسے کیا فروغ دیں گے بھلا، جو صرف اردو ٹائپ کرسکتے ہیں۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

کوئی خاص نہیں۔ پھر سے سچ کہوں گا کہ میں کوئی باقاعدہ بلاگر نہیں، مگر اچھی تحریر جو لطف دیتی ہے، لازمی پڑھتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر کچھ وقت “ضائع” کرتا ہوں تو آس پاس سے

لِنکس میری جانب آتے رہتے ہیں۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اردو بلاگرز کا کوئی گروپ بھی ہے، اور ابھی بھی یہ معلوم نہیں کہ اگر ان بلاگرز کی تحاریر مسلسل پڑھنا ہوں تو اسکا کیا طریقہ واردات ہے۔ مدد کیجیے، بلکہ میری اس سلسلہ میں۔

منظرنامہ: اردو بلاگرز کی تحاریر کے سلسلے میں اردو سیارہ، بلاگستان فیڈز یا پھر اردو سورس کی جانب سے اس سلسلے میں بنایا گیا اینڈرائیڈ ایپ استعمال کریں۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

پرانی ہے، کافی پرانی کہ جب یہ شروع شروع میں “آئی لاگ” اور پھر “ویب لاگ” کے نام سے جانا جاتا تھا۔

آپ سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو رہتے ہیں، سوشل میڈیا کے استعمال کا تجربہ کیسا رہا ہے ؟

مِکس پلیٹ ہی ہے جناب۔ لوگ سوشل میڈیا پر عموما یہ تاثر لیے پھرتے ہیں کہ سوشل میڈیا ہینڈل یا آئی ڈی کے پیچھے کوئی انسان نہیں، بلکہ کوئی مشین بیٹھی/بیٹھا ہے۔ جانے بغیر رائے قائم کرتے ہیں، اور اس پر پھر مصر بھی ہوجاتے ہیں۔ اکثریتی لوگوں کو فوری جذبات کی تیزابیت کا شکار ہی پایا اور اس تیزابیت میں خود جلنے کے ساتھ ساتھ ایسے ہمراہی، دوسروں کو بھی جلانا عین عبادت گردانتے ہیں۔ میں کہتا ہی رہتا ہوں کہ یارو، دھیرج بھی نیکی کی ہی ایک شکل ہے۔ مگر کم ہی سنتے ہیں۔ بہرحال، اسی سوشل میڈیا کے طفیل، کئی اچھے دوست بھی ملے اور اس میڈیم کی طالبعلمی کا بھی اپنا ہی ایک مزہ ہے۔

کیا آپ کو سوشل میڈیا پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟

جی، تقریبا ہر روز ہی۔ پڑھنے والے لوگ کم ہیں، لکھنے والے زیادہ۔ پڑھائی اور لکھائی ایک متناسب توازن میں ہوں تو ہی بہتر ذہن سازی ہوتی ہے۔ ذہن سازی بہتر نہ ہوتو، زبان سازی بھی کبھی بہتر نہیں ہوسکتی۔ لوگ دو تین ہزار روپے میں چکن کڑاہی کھا کر قومی فریضہ پورا کرتے ہیں گویا، مگر کتاب اور موسیقی مفت میں ہی ڈاؤن لوڈ کرنے کے چکروں میں ہوتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی غیرمتناسب اور غیر مناسب مشکلات کا سامنا کرتا ہی رہتا ہوں۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

بالکل ایسا نہیں ہوتا کہ بیٹھا اور لکھنا شروع کیا، اور لکھتا ہی چلا گیا۔ سوچ ایک بیانیاتی زاویہ تشکیل دیتی ہے کہ جس کے آس پاس خیال کی لڑی پروئی جاتی ہے اور بمانند ایک دائرہ یہ اپنے اوریجن سے جب آن ملتی ہے تو مضمون کی روح جنم لیتی ہے، میرے دوست۔ بغیر پڑھے، لکھنے والے بغیر سوچے لکھتا ہے۔ بقول، مرزا اطہر بیگ صاحب کے کہ (ماخوذ): گویا ایک گھسیٹا کاری کا عمل ہے۔ اور میں اپنے آپ کو گھسیٹا کار کے طور پر کبھی بھی نہیں دیکھنا چاہوں گا۔

نیز یہ بھی کہ، بات کچھ فلسفیانہ ہے، اپنے خیال کو پوری صداقت سے تولتا ہوں اور پھر اپنے تئیں اسے پبلک سفئیر کا حصہ بنانے کا سوچتا ہوں۔ اگر کسی خیال کی بابت میں خود مطمئن نہ ہوں تو کبھی نہیں لکھتا۔ میرے نزدیک ذہن کی زمین پر اترنے والا خیال، امانت ہوتا ہے۔ جس کو پوری کوشش سے ایک پیرائے میں اپنے ماحول، معاشرت اور اس کائنات کے حوالے کر دینا چاہیے کہ جس میں آپ، مجھ اور ہم جیسے کروڑوں اربوں زندہ ہیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

میں بلاگنگ فائدہ کے لیے کرتا ہی نہیں۔ ویسے بھی باقاعدہ بلاگر ہوں بھی نہیں۔ فائدہ کےلیے سوچا بھی نہیں کبھی۔ شاید سوچوں بھی نہیں کبھی۔ فائدہ کے لیے ایک مستعد دماغ اور محنت کرنے والے ہاتھ موجود ہیں۔ وہی کافی ہیں۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

اسکا فیصلہ پڑھنے والے کرتے ہیں۔ لوگ جان جاتے ہیں کہ کہانی کاری اور ایک خیال کی کمیونیکیشن میں کیا فرق ہے۔ وہ لوگ جو کہانی کاری میں خوش ہوتے ہیں، اور بدقسمتی سے ایسے اکثریت میں ہیں، وہ کہانی سننے کی لذت سے آگے بڑھ ہی نہیں پاتے اور کہانیوں کے گرداب میں ہی اپنی ذات اور خیالات سمیت چکر کھاتے رہتے ہیں۔ یہ ذہنی بھنور ہوتا ہے، مگر زیادہ تر اسی میں راضی رہتے ہیں۔ خیال پڑھنے اور اسکی کمیونیکیشن کے عمل سے لطف اٹھانے والے آپکو کم ملیں گے، مگر ذہنی اور ظرفی طور پر مضبوط، سیکھنے اور سکھانے کے عمل پر یقین کرنے، اور رکھنے والے ہونگے۔ کہانی کاری میں آپکو گھسیٹا کاری کا عمل بھی زیادہ ملے گا، لہذا آپکو قوموں کی خیالی تاریخ میں کالم نگار کم ہی زندہ ملیں گے، جبکہ خیال کی ترسیل کرنے والے صدیوں زندہ رہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ معیار، ویسے بھی کم لوگوں کو راس آتا ہے کہ یہ کہانی کاری کی اس لذت سے محروم ہوتا ہے جس کی اکثریت عادی، بدقسمتی سے، ہوچکی ہے ہمارے معاشرے میں۔ گھسیٹا کاری کر پڑھ کر اپنی آراء بنانے والوں پر ترس آتا ہے، بخدا۔ رائے قائم رکنے کےلیے خیال کا پیرائے میں ہونا لازم ہوتا ہے اور خیالات کی پیرائیگی کیا ہے؟ اسکا جواب آپکو معاشرے میں کتب بین اور فنون لطیفہ سے لطف اٹھانے والوں کی تعداد دیکھ مل جائے گا۔

ہم، ہمارا معاشرہ جہاں ہیں، وہیں کیوں ہیں؟ اسکی وجوہات ہیں جناب۔ یہ حادثہ نہیں۔

مختصر سوال کے طویل جواب کی معذرت، بہرحال۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

جی، بالکل ملا۔ میں خواہمخواہی ماتم کے حق میں نہ تھا، نہ ہوں، نہ ہونگا۔ زبان اپنا مقام خود بناتی ہے۔ اردو زبان اپنی فطر ت میں “انکلوسِو” ہے اور جو چیز بھی اپنی فطرت میں انکلوسو ہو، انسان، کمیونیٹیز، معاشرے، ملک وغیرہ، وہ اپنا مقام اپنے گزرے کل سے بہتر ہی بناتی ہے۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

لطف اٹھاتا ہوں۔ بس ٹائپنگ انگلش زبان سے مشکل ہے!

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

کام شاید اس معیار اور مقدار کا نہیں ہو پا رہا۔ مگر یاد رکھیے کہ زبانیں معاشروں کی میراث و ذمہ داری ہوتی ہیں، سرکار اور حکومتوں کی نہیں۔ بیس کروڑ کی آبادی میں ایک کتاب کا ایڈیشن اگر صرف ایک ہزار چھپے، اور وہ بھی کبھی بِک نہ پائے تو یہ ایک بھدا تبصرہ ہے، معاشرے اور معاشرت پر۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

آج سے مقدار میں بہتر، معیار پر کچھ تحفظات ہیں۔ لکھنے والا اگر پڑھنے سے رشتہ نہ رکھے تو معیار نیچے آتا ہے۔ بس یہی اک خیال ہے جو پریشان کرتا ہے۔ کہانی کاری شاید زیادہ ہو کہ زیادہ بِکتی ہے، خیالات کی ترسیل کچھ مشکل دکھائی دے رہی ہے، جناب۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

چار درخواستیں ہیں، دوست:

پڑھو

پڑھو

پڑھو

پھر لکھو

مگر صرف کہانی ہی نہیں۔ خیال بھی۔

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

فکر روزگار کے علاوہ، مطالعہ، موسیقی، محفل یاراں۔ ذہن کے ساتھ ساتھ وجود کی ورزش پر بھی یقین رکھتا ہوں۔ لہذا اس طرف بھی رجحان ہے۔

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

آہ۔ زندگی کا مقصد!

نوجوانی میں میں نے اپنے آبائی گھر میں اپنے کمرے کی اندرونی دہلیز پر لکھ رکھا تھا کہ میں اک دن دنیا بدلوں گا۔ پھر دنیا نے میری ہنسی اڑائی اور مجھے بدل ڈالا۔ شروع میں مزاحمت کی، اب نہیں کرتا۔ اب زندگی جیتا ہوں، زندگی کے ساتھ جی کر۔ کوئی بڑا مقصد نہیں اور نہ ہی میں کسی بڑے مقصد کے حق میں ہوں۔ چھوٹے چھوٹے ہونے والے کام اور انہی کاموں میں سے اپنے لیے مقصدیت تلاش کرتا ہوں۔ اسی میں بہت خوش ہوں اور اسی میں بہت خوش رہوں گا۔ آپ سب کو بھی یہی درخواست ہے کہ اپنی ذات کے محدود دائرے میں اپنے “ایمبیشن” اور اپنی “کیپیسیٹی” کے درمیانی فرق و فاصلے کو اپنے “ٹیلنٹ” کے دھاگے سے باندھیں اور اس معاملے میں اپنی ذات و زندگی کی خودشناسی کے عمل سے لازمی گزریں، اور یہاں پھر مطالعہ کی اہمیت آتی ہے، جو کہ اس مقدار میں نہیں، جس میں اپنے معاشرے میں ہونا چاہیے۔ جو لوگ اپنے ایمبیشن اور اپنی کیپیسیٹی کے درمیانی فرق اور فاصلے کو مناسب ٹیلنٹ کے دھاگے سے باہمی نہیں باندھ سکتے، وہ مسلسل ردعمل کا شکار رہتے ہیں، اورایک شکایتی زندگی بسر کرتے ہیں۔ آس پاس دیکھیے، کافی تسلی ہوگی آپکو کہ جس مقدار میں لوگ معاشرے، ملک وغیرہ سے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

جوناتھن لِونگسٹن کی ہے: سی گل۔ بہت ہی مختصر مگر پراثر کتاب ہے۔ روٹین کے فریم ورک کے شکنجے کو توڑنے کے حوالے سے یہ تحریر انسانی ذات پر لگے کافی قفل چیلنج کرتی ہے۔

2۔ شعر ؟

میں شعر کا کبھی آدمی رہا ہی نہیں۔ سنہء1993 میں پرائیویٹ بی اے کی تیاری کرتے ہوئے میرے کزن، سہیل بٹ نے ملکوال میں ایک شعر سنایا تھا، سچ ہے کہ بس وہی یاد ہے:

ہر شخص اپنے وقت کا سقراط ہے یہاں

پیتا نہیں مگر زہر کا پیالہ کوئی

3۔ رنگ ؟

میرون، ابھی اسکی اردو کیا ہے، معلوم نہیں۔

4۔ کھانا ؟

دال مونگ اور دھلی ہوئی مَصر اور ابلے چاول، ساتھ میں پودینے اور اناردانہ کی چٹنی۔ اور کیا ہی عمدہ کہ یہ میری ماں کے ہاتھ سے بنے ہوں، کیا ہی عمدہ!

5۔ موسم ؟

ہر موسم کے اوائل اور اواخر، کہ ان میں ان موسموں کا تعارف ہوتا ہے اور شدت نہیں۔ کبھی تھا، میں اب شدت کا بندہ رہا ہی نہیں۔

6۔ ملک ؟

چھوٹے ملک مجھے فیسی-نیٹ کرتے ہیں۔ لٹویا، چیک ریپبلک، لتھوینیا، لیگزمبرگ، تائیوان، منگولیا وغیرہ۔ پاکستان کی پیدائش ہے، اسکی معاشرت کو جانتا ہوں، لہذا اس سے پیار ہے اور فیسی-نیشن بھی۔ اس ملک کو پراپر دیکھنے کےلیے اک زندگی بھی کافی نہیں۔

7۔ مصنف ؟

خوشونت سنگھ کی بڑی گہری چھاپ ہے میری ذات پر۔ ان سے سنہء 2001 کے فروری میں ملاقات بھی ہوئی، نئی دہلی میں۔ زندگی اور بعداززندگی کے معاملات میں وہ بہت کلئیر خیالات کے مالک تھے۔ کم ہی ہوتے ہیں لوگ ایسے۔

8۔ گیت؟

امریکی کنٹری موسیقی بہت بھاتی ہے۔ ساتھ میں راک میوزک بھی۔ پاکستانی راک، دنیا کے بہترین راکس میں سے ہے، مگر معاشرتی سوچ ہی ایسی کہ موسیقی اور فنون لطیفہ حرام سمجھے جاتے ہیں، تو لہذا یہ لعل بھی گندی گدڑی میں ہی ہے ابھی تک۔

یہ کہنے کا مقام تو نہیں، مگر فنون لطیفہ کے بغیر انسانوں اور معاشروں میں لطافت آ ہی نہیں سکتی۔ اور جو انسان اور معاشرے لطافت کے بغیر جیتے ہوں، وہ اپنے خیالات اور شخصیات میں نرمی نہیں، سختی لیے پھرتے ہیں، مختلف نظریات کے اوپر۔ پھر یہ بھی کہ مختلف نظریات اختلافات کی بنیاد پر وجود میں آتے ہیں، اپنے ہاں کے مذہبی فرقوں کو ہی دیکھ لیجیے، جبکہ فنون لطیفہ ایک سانجھ اور ہم آہنگی کا پیغام لیے ہوتے ہیں۔ کسی بھی محفل موسیقی یا تھئیٹریکل پرفارمنس میں آپکو کوئی پرواہ نہیں ہوتی کے آپکے اطراف کے لوگ کس نظریہ سے ہیں، مگر مختلف اختلافی نظریات کی تشریح والے مواقع پر مخالف الخیال لوگوں کا داخلہ سختی سے ممنوع ہوتا ہے۔

اور جب لوگ ملیں گے نہیں، تو دوست، جڑیں گے کیسے؟

9۔ فلم ؟

مولا جٹ۔ یہ فلم مجھے یاد دلاتی ہے کہ سینما کے ذریعے سے کسی بھی معاشرے اور معاشرت کا ، تشدد کو گلوریفائی کرکے، کیسے تیا پانچہ کیا جاسکتا ہے۔

غلط /درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

یہ غلط اور درست کے درمیان کے ہی معاملہ ہے، جناب۔

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

ہیں؟ بالکل نہیں۔ کبھی ہوتا ہو۔ اب نہیں۔

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

بے حد سے بھی زیادہ۔

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

بالکل اچھا لگتا ہے، جناب۔

5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟

یہ بات آپ میرے دوستوں سے پوچھیں۔

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

بالکل نہیں۔ غصہ آتا ہے، قابو کرنا جانتا ہوں۔ مگر بندہ بشر ہوں، کبھی کبھار، مگر بہت ہی کم، لڑھکتا ہوں۔

7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟

بہت تو نہیں، مگر شاید کسی حد تک۔

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

محفل پر منحصر ہے، جناب۔

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

لوگوں کو، اور خود کو، مارجن دیا کریں۔ اس دنیا میں کوئی بھی مکمل نہیں، آپکے میرے سمیت۔ لہذا بہتری کی کوشش کیا کریں جو بھی آپکی ذات آپکو اس محدود دائرے میں کرنے کی اجازت دیتی ہو۔ آسانی سے جیا کریں، اور دوسروں کوبھی آسانی سے جینے دیا کریں۔

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

جی، آپکا شکریہ کہ مجھ سست الوجود سے اتنا کچھ لکھوا لیا۔ جیتے رہیں، جناب۔

The post مبشر اکرم سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

بلاگ اسپاٹ اردو تھیم، بیس بارہ

السلام علیکم!

حسب وعدہ بلاگ اسپاٹ کے ایک نئے سانچہ کے ساتھ حاضر ہیں۔ دراصل یہ تھیم/سانچہ حقیقت میں تو ورڈپریس کا ہے لیکن اسے بلاگ اسپاٹ کے لیئے بھی بنایا گیا ہے۔ تھیم سادہ اور خوبصورت ہے جو کہ ذاتی بلاگ کے لیئے بہترین ہے۔

اس کی چند خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • ورڈپریس Twenty Twelve تھیم کا بلاگ اسپاٹ ورژن
  • سادہ اور بہترین
  • موضوعاتی، ذاتی اور نارمل بلاگ بلاگز کے لیئے بہترین
  • 2 کالم ایک سائیڈ بار
  • سفید بیک گراؤنڈ
  • مینو اور لوگو کے لیئے واضح جگہ
  • تحاریر کے ساتھ فیچر امیج کے فنکشن کے ساتھ
تھیم ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیئے یہاں کلک کریں۔

The post بلاگ اسپاٹ اردو تھیم، بیس بارہ appeared first on منظرنامہ.

نعیم خان سے شناسائی

السلام علیکم!

منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ”نعیم خان “ صاحب ۔ آپ ” نون و القلم “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@الحمداللہ ، اللہ کا کرم ہے۔

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@ اپنے بارے میں کیا بتاوں، کچھ خاص نہیں بس عام سا انسان ہوں۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@میرا تعلق ضلع سوات سے ہے۔ پیدائش مینگورہ (سوات) کی ہے اور روزگار کے سلسلے میں پشاور میں مقیم ہوں۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@گریجویشن جہانزیب کالج سیدوشریف سوات سے کی، پبلک سیکٹر میں ملازمت ہے۔ پختون ہوں اور سوات کے “خواجگان” فیملی سے تعلق ہے۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@2013 میں لاہور میں پہلی اُردو بلاگرز کانفرنس میں شرکت کی ۔ وہاں سے سینئر اُردو بلاگرز سے متاثر ہوکر بلاگنگ کا شوق ہوا۔ 2013 ہی سے بلاگنگ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@خوش قسمتی سے کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر سے تھوڑی بہت واقفیت کی وجہ سے آسانی سے بلاگ بھی بن گیا اور ایم بلال ایم بھائی کے “پاک اُردو انسٹالر” کی مدد سے کمپیوٹر میں اُردو لکھنا شروع کیا اور دیگر سینئر اُردو بلاگر زدوست احباب کی رہنمائی نے اُردوبلاگنگ بہت آسان بنا دی۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@اپنی آواز کو لوگوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ انٹر نیٹ پر اُردو کی ترویج بھی ایک مقصد ہے اور کوشش ہے کہ انٹر نیٹ کی دنیا میں اُردو کو بھی وہ مقام حاصل ہو جو آج کل انگریزی سمیت دیگر زبانوں کو حاصل ہے اور اس ضمن میں ہمارے اُردو بلاگرز دوست بہت محنت کررہے ہیں۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

@اچھی تحریر جہاں بھی مل جائے شوق سے پڑھ لیتا ہوں۔ پسندیدہ اُردو بلاگرز کی لسٹ تو کافی لمبی ہے، ریاض شاہد، ایم بلال ایم ، مصطفی ملک ، منصور مکرم، سکندر حیات بابا، کاشف نصیر، خرم ابن شبیر، ابوشامل، محمد زہیر چوھان، ڈاکٹر راجہ افتخار، افتخار اجمل بھوپال صاحب، علی حسان، شاکر عزیز، شعیب صفدر، نجیب عالم، یاسر بھائی(جاپان)، نورین تبسم اور کوثربیگ صاحبہ کی تحاریر کو پہلی فرصت میں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@تقریباً 2009 کے آس پاس

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

@جب دل چاہتاہے لکھنے بیٹھ جاتا ہوں، بس کچھ اُٹ پٹانگ لکھ لیتا ہوں اور پوسٹ کردیتا ہوں۔ باقاعدہ پلاننگ نہیں کرتا جیسے شعراء حضرات پر اشعار کی آمد ہوتی ہے تقریباً وہی صورتحال میری بھی ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@بالکل ، سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوا ہے کہ مجھے بہت ہی اچھے اور محترم دوست ملے ہیں، جن کی رہنمائی سے مجھ میں بھی مثبت لکھنے کا شوق پیدا ہوا ہے اور اپنے احساسات کو الفاظ میں ڈال کر بیان کرنے کا تھوڑا بہت سلیقہ آیا ہے۔ جو میری نظر میں سب سے بڑا فائدہ ہے۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@اپنے اردگرد کے حالات و محسوسات کو تحریر، تصاویر، صوتی یا بصری انداز کے ایسے پیراہن میں مثبت طریقے سےپوری سچائی کے ساتھ پیش کرنا ہے کہ قارئین/سامعین/ناظرین آخرتک دلچسپی سے پڑھتے جائیں۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@بالکل اُردو جس طرح سے انٹر نیٹ پر مقبول ہوتی جارہی ہے اور جیسے ہمارے سینئر اُردو بلاگرز اُردو کی ترویج و ترقی کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیں اور جس طرح سے بین الاقوامی سطح پر اُردو کو اپنایا جارہا ہے میرے خیال میں اُردو اپنا مقام حاصل کررہی ہے۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@اُردو زبان سے محبت بچپن ہی سےہے۔ ابو جان کو ہمیشہ پڑھتے لکھتے دیکھا، امی بھی ناخواندہ ہونے کے باوجودپشتو اور اُردو کتابیں شوق سے پڑھتی تھی، اُن کی دیکھا دیکھی ہم لوگوں میں بھی پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ بچپن میں عمران سیریز، عمرعیار اور ایسی چھوٹی چھوٹی کہانیاں شوق سے پڑھتے تھے پھر لڑکپن میں نسیم حجازی، الطاف حسن قریشی ، مستنصر حسین تارڑ، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کی تحاریر ،ناول ، سفرنامے وغیرہ فارغ وقت میں پڑھنے لگے۔ سکول میں اُردو سپیکر دوستوں کی سنگت ملی، پھر سکول ہی میں محترم اُستاد جناب محمد اسلام علوی صاحب نے میری اُردو تحریر و تقریر میں گرائمر ، تلفظ، ادائیگی اوراظہار پر بھرپور توجہ دی کیونکہ پختون ہونے کے ناطے اُردو کا صحیح تلفظ و ادائیگی ہمارے لئے مشکل ہوتی ہے۔ یہی سے اُردو زبان سے محبت اور پیار بڑھتا گیا ۔

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@جی بالکل

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@میرے خیال میں جس شوق سے لوگ اُردو بلاگ لکھنے کی طرف مائل ہورہے ہیں اور انٹرنیٹ پر اُردو کی ترویج ہورہی ہے انشاء اللہ کچھ عرصہ بعد اُردو بلاگرز کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہوجائے گی۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@”اُردو زبان کی ترویج و ترقی کیلئے آپ کی محنت ہمارے لئے اور نئے لکھنے پڑھنے والوں کیلئے ایک نعمت ہے۔اُردو زبان کی تاریخ میں آپ لوگوں کی خدمات کو سنہرے حروف میں یاد کیا جائے گا۔ اسی طرح سے کام کرتے رہئے اور ہمارے لئے اور آنے والی نسلوں کیلئے آسانیاں پیدا کرتے جائے۔”

بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟

@ملازمت اور فیملی کے بعد باغبانی، سیر وسیاحت

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@ ایک اچھا اور مثبت شہری بننا۔ الحمداللہ جتنا چاہا اللہ تعالیٰ نے دیا، خواہش ہے کہ بچوں کی اچھی اور اعلیٰ تعلیم و تربیت کرسکوں۔

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

@بہت ساری ہیں۔

2۔ شعر ؟

@اس معاملے میں بہت بدذوق ہوں۔ بہت سارے اشعار ہیں مگرجو دل کو چھولے وہ پڑھ لیتا ہوں، مگر یاد نہیں رہتا۔

3۔ رنگ ؟

@دھنک رنگ

4۔ کھانا ؟

@جو دیکھنے کے ساتھ کھانے میں بھی لذیذ ہو۔ تھوڑا مگر اچھا۔

5۔ موسم ؟

@چاروں موسم

6۔ ملک ؟

@پاکستان (ابھی دوسرے ممالک نہیں دیکھے)

7۔ مصنف ؟

@بہت سارے ہیں، کسی ایک پر فیصلہ نہیں کرسکتا۔

8۔ گیت؟

@موسیقی زیادہ نہیں سنتالیکن “ایوری نائٹ ان مائی ڈریمز، آئی سی یوآئی فیل یو ” اچھا لگتا ہے۔

9۔ فلم ؟

@چلڈرن آف ہیون (ایرانی فلم)

غلط /درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

@درست

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@غلط

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

@درست

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@درست

5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟

@پتہ نہیں

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@غلط

7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟

@غلط

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@غلط

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@کوشش کریں کہ دوسروں کے لئے آسانیاں پیداکریں

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

@بہت اچھی کاوش ہے ، بہت سارے لوگوں سے شناسائی ہوئی ہے۔اگر تحریر کے ساتھ ساتھ تصویر بھی لگائی جائے تو بہت بہترہوگا۔

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@میں آپ کا بہت مشکور ہوں اور میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں بھی منظر نامہ کا حصہ بن سکوں۔

The post نعیم خان سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

Pages