منظر نامہ

جینیسس فریم ورک کا اردو ترجمہ (ورڈپریس سانچہ)۔۔

السلام علیکم

ایک بار پھر سے حسب وعدہ ورڈ پریس کے اردو سانچے کے ساتھ حاضر ہیں، آپ دیکھ رہے ہیں منظرنامہ، صبح کے گیارہ بجے چاہتے ہیں اور اگر وہ بجنا چاہتے ہیں تو بجنے دیں ہم کونسا روک سکتے ہیں۔ خیر جی، یہ ایک فریم ورک ہے (ورک فتح کے ساتھ نہ کہ کسرہ کے ساتھ کبھی آپ سمجھیں فرحان وِرک کے نام فریم ورک کر دیا)۔ یہ ایک سادہ سی انگریزی ورڈ پریس تھیم تھی جو کچھ اس شکل میں تھی:۔۔۔

GEN1

ہم اب اتنے بھی سادہ نہیں کہ رنگین ٹی وی کے اس دور میں بلیک اینڈ وائٹ تھیم بنا کے آپکو دے دیتے اس لئے ہم نے سوچا اس کی طبیعت میں تھوڑی شوخی شامل کر دی جائے اور اس کے بعد یہ کچھ اس شکل میں سامنے آئی:۔۔۔

genesis

یہ سانچہ ہم ایک عرصہ اپنے بلاگ پر استعمالتے رہے ہیں پھر ہم نے سانچہ تبدیل کیا تو سوچا یہ کیوں بے کار پڑی رہے آپ لوگ اس کو استعمالیں۔ کمپیوٹر، ٹیبلیٹ اور موبائل فون پر استعمال کی جا سکتی ہے یعنی یہ کہ یہ سانچہ بھی پچھلے سانچے کی طرح “ریسپانسو” ہے۔ اینڈرائیڈ کا ہمیں اندازہ نہیں جبکہ آئی پیڈ پر کچھ اس طرح دیکھی جا سکتی ہے:۔

10384732_885345254813309_7482154601213530904_n

پوسٹ مکمل نظر آتی تھیں ہم نے اس جو ایکخلاصے کے طور دکھانے کا بندو بست کیا ہے، سائیڈ بار آپکا جہاں دل چاہے دیکھ سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ سائیڈ پر ہو۔ایک کالم سے تین کالم تک کا لے آؤٹ سسٹم موجود ہے جو آپکو پسند ہو تھیم کی سیٹنگ سے لگا سکتے ہیں۔

اگر آپ سی ایس ایس سے کھیلنا جانتے ہیں تو تھیم کا رنگ بھی اپنی مرضی کا رکھ سکتے ہیں۔ کسی قسم کی شکایت یا پریشانی کی صورت میں یہاں اور یہاں رابطہ کر سکتے ہیں۔

ڈاؤن لوڈ کے لئے یہاں جائیں

The post جینیسس فریم ورک کا اردو ترجمہ (ورڈپریس سانچہ)۔۔ appeared first on منظرنامہ.

رمضان رفیق سے شناسائی

منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ” رمضان رفیق “ صاحب ۔ آپ بلاگ تو کافی پہلے سے لکھتے ہیں لیکن اردو بلاگنگ کی دنیا اور دیگر بلاگرز سے شناسائی اس سال ہی ہوئی ہے۔ اسی سلسلے میں منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی میں رمضان رفیق صاحب سے شناسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آپ ” تحریر سے تقریر تک “ کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں۔

خوش آمدید‏ !
کیسے مزاج ہیں ؟
‏‭@‬الحمدللہ‮ ‬،‮ ‬سب‮ ‬اچھا‮ ‬ہے۔‮
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@عام انسان ، عام سی قابلیت ، بس خواب دیکھنے کی بیماری ہے۔۔۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
‏‭@‬چیچہ‮ ‬وطنی‮ ‬،‮ ‬ضلع‮ ‬ساہیوال،‮ ‬پنجاب‮ ‬پاکستان‮ ‬اور‮ ‬اب‮ ‬کوپن‮ ‬ہیگن‮ ‬میں‮ ‬بستا‮ ‬ہوں
اپنی تعلیم، پیشہ  اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
‏‭@‬ایم‮ ‬ایس‮ ‬سی‮ ‬آنزز‮ ‬ایگریکلچر،‮ ‬ملازمت‮ ‬۔‮ ‬اورمحبت‮ ‬کرنے‮ ‬والےتین‮ ‬بھائی،‮ ‬ایک‮ ‬ماوں‮ ‬جیسی‮ ‬بہن،‮ ‬بہنوں‮ ‬جیسی‮ ‬ماں۔‮ ‬بھائیوں‮ ‬جیسے‮ ‬والد‮ ‬جو‮ ‬اب‮ ‬اس‮ ‬جہان‮ ‬میں‮ ‬نہیں‮ ‬بستے۔‮ ‬سب‮ ‬سے‮ ‬چھوٹا‮ ‬،‮ ‬لاڈلا‮ ‬وغیرہ‮
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
‏‭@‬بلاگ‮ ‬کا‮ ‬آغاز‮ ‬دسمبر‮ ‬دو‮ ‬ہزار‮ ‬گیارہ‮ ‬میں‮ ‬کیا،‮ ‬لکھنے‮ ‬کا‮ ‬شوق‮ ‬تھا،‮ ‬اس‮ ‬قابل‮ ‬نہیں‮ ‬تھا‮ ‬کہ‮ ‬ہاتھوں‮ ‬ہاتھ‮ ‬بکے‮ ‬اس‮ ‬لئے‮ ‬اپنا‮ ‬بلاگ‮ ‬بنا‮ ‬لیا‮
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
‏‭@‬کوئی‮ ‬مشکل‮ ‬نہیں‮ ‬آئی،‮ ‬سوچا‮ ‬اور‮ ‬ہو‮ ‬گیا‮
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
‏‭@‬بس‮  ‬یہ‮ ‬کہ‮ ‬ہم‮ ‬بھی‮ ‬پڑے‮ ‬ہیں‮ ‬راہوں‮ ‬میں
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
‏‭@‬ابھی‮ ‬کچھ‮ ‬دن‮ ‬پہلے‮ ‬بلاگرز‮ ‬کو‮ ‬تلاش‮ ‬کیا‮ ‬ہے،‮ ‬ابھی‮ ‬متاثر‮ ‬نہیں‮ ‬ہوا‮
لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@کوئی آٹھ دس سال ہو گئے ہوں گے
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
‏‭@‬بس‮ ‬کوئی‮ ‬خیال‮ ‬آئے‮ ‬تو‮ ‬اتنی‮ ‬ہی‮ ‬دیر‮ ‬لگتی‮ ‬ہے‮ ‬جتنی‮ ‬دیر‮ ‬میں‮ ‬وہ‮ ‬لکھا‮ ‬جائے۔‮
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
‏‭@‬ابھی‮ ‬فائدہ‮ ‬نہیں‮ ‬ہوا‮
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
‏‭@‬خیال‮ ‬میں‮ ‬کچھ‮ ‬دم‮ ‬ہو‮ ‬اور‮ ‬بس‮ ‬۔۔۔۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
‏‭@‬مجھ‮ ‬سے‮ ‬بڑا‮ ‬سوال‮ ‬ہے‮
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
‏‭@‬بس‮ ‬ایسے‮ ‬ہی‮ ‬جیسے‮ ‬انسان‮ ‬کے‮ ‬جسم‮ ‬کے‮ ‬حصے‮ ‬اس‮ ‬کے‮ ‬ساتھ‮ ‬ہوتے‮ ‬ہیں،‮ ‬نا‮ ‬محسوس‮ ‬ہوتے‮ ‬ہیں،‮ ‬نہ‮ ‬بتاتے‮ ‬ہیں‮ ‬ہیں۔۔۔ایسے‮ ‬ہی‮ ‬کسی‮ ‬غیر‮ ‬محسوس‮ ‬حصے‮ ‬کی‮ ‬طرح‮ ‬اردو‮ ‬میرے‮ ‬ساتھ‮ ‬ہے‮ ‮
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
‏‭@‬یہ‮ ‬جزو‮ ‬وقتی‮ ‬شوق‮ ‬ہے،‮ ‬چلتا‮ ‬رہے‮ ‬تو‮ ‬اچھا‮ ‬ہے۔۔۔

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ لگے‮ ‬رہو‮ ‬دوستو‮ ‬۔۔۔۔۔
بلاگنگ کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں ؟
‏‭

@‮ ‬ایگری‮ ‬ہنٹ‮ ‬ڈاٹ‮ ‬کام،‮ ‬فروٹ‮ ‬فار‮ ‬لائف،‮ ‬اور‮ ‬بے‮ ‬شمار‮ ‬۔۔۔۔۔

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@ ‬کافی‮ ‬کام‮ ‬ہیں‮ ‬جو‮ ‬کرنا‮ ‬چاہتا‮ ‬ہوں‮ ‬اور‮ ‬کافی‮ ‬کر‮ ‬رہا‮ ‬ہو‮ ‬ں۔‮ ‬ان‮ ‬خواہشوں‮ ‬کی‮ ‬فہرست‮ ‬اس‮ ‬بلاگ‮ ‬میں‮ ‬موجود‮ ‬ہے۔‮

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔‮ ‬کتاب‮ ‬؟
‏‭@‬کوئی‮ ‬بھی‮ ‬کتاب‮
2۔‮ ‬شعر‮ ‬؟
‏‭@‬شکوہ‮ ‬ظلمت‮ ‬شب‮ ‬سے‮ ‬کہیں‮ ‬بہتر‮ ‬تھا‮
اپنے حصے کی کوئی شمع ہی جلاتے جاتے
3۔‮ ‬رنگ‮ ‬؟
‏‭@‬آسمان‮ ‬کا‮     ‬رنگ‮
4۔‮ ‬موسم‮ ‬؟
‏‭@‬سب‮ ‬موسم‮ ‬جن‮ ‬میں‮ ‬سورج‮ ‬نکلا‮ ‬ہو‮
5۔‮ ‬ملک‮ ‬؟‮
‏‭@‬جہاں‮ ‬بسیرا‮ ‬ہو‮
6۔‮ ‬مصنف‮ ‬؟
‏‭@‬سب‮ ‬جن‮ ‬کو‮ ‬لکھنا‮ ‬آتا‮ ‬ہے‮
7۔‮ ‬گیت؟
‏‭@‬جو‮ ‬دل‮ ‬کو‮ ‬چھو‮ ‬جائے‮
8۔‮ ‬فلم‮ ‬؟

@ تھیوری‮ ‬آف‮ ‬ایوری‮ ‬تھنگ،‮ ‬کوچ‮ ‬کارٹر،‮ ‬دی‮ ‬ادر‮ ‬سائیڈ،‮ ‬مین‮ ‬آف‮ ‬آنر۔۔۔۔بے‮ ‬شمار‮

غلط /درست:

1۔‮ ‬مجھے‮ ‬بلاگنگ‮ ‬کرنا‮ ‬اچھا‮ ‬لگتا‮ ‬ہے‮ ‬۔
‏‭@‬درست‮
2۔‮ ‬مجھے‮ ‬اکثر‮ ‬اپنے‮ ‬کئے‮ ‬ہوئے‮ ‬پر‮ ‬افسوس‮ ‬ہوتا‮ ‬ہے؟
‏‭@‬غلط‮
3۔‮ ‬مجھے‮ ‬کتابیں‮ ‬پڑھنے‮ ‬کا‮ ‬بے‮ ‬حد‮ ‬شوق‮ ‬ہے‮ ‬؟
‏‭@‬اب‮ ‬نہیں‮
4۔‮ ‬مجھے‮ ‬سیر‮ ‬و‮ ‬تفریح‮ ‬کرنا‮ ‬اچھا‮ ‬لگتا‮ ‬ہے‮ ‬؟
‏‭@‬جی‮ ‬ہاں
5۔‮ ‬میں‮ ‬ایک‮ ‬اچھا‮ ‬دوست‮ ‬ہوں‮ ‬؟
‏‭@‬پتا‮ ‬نہیں‮
6۔‮ ‬مجھے‮ ‬جلد‮ ‬ہی‮ ‬غصہ‮ ‬آجاتا‮ ‬ہے‮ ‬؟
‏‭@‬شاید‮
7۔‮ ‬میں‮ ‬بہت‮ ‬شرمیلا‮ ‬ہوں‮ ‬؟
‏‭@‬کچھ‮ ‬معاملات‮ ‬میں‮
8۔‮ ‬مجھے‮ ‬زیادہ‮ ‬باتیں‮ ‬کرنا‮ ‬اچھا‮ ‬لگتا‮ ‬ہے‮ ‬؟
‏‭@‬نہیں‮

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
‏‭@‬میرا‮ ‬پیغام‮ ‬بھی‮ ‬محبت‮ ‬ہی‮ ‬ہے‮ ‬،‮ ‬جہاں‮ ‬تک‮ ‬پہنچے‮ ‬۔۔۔

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

The post رمضان رفیق سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

بلاگ اسپاٹ اردو تھیم، میکس میگ

اردو بلاگنگ کی دنیا میں اردو تھیم پر توجہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو بہت کم دی گئی ہے۔ ابتدائی دور میں کافی تھیم کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے لیکن وہ تھیم آج کے موجودہ دور کے مطابق کافی پرانی ہوچکی ہیں۔ اسی سلسلہ میں منظرنامہ کے ذریعے کوشش کی گئی ہے کہ موجودہ دور کے حساب سے انٹرنیٹ پر موجود ورڈپریس اور بلاگ اسپاٹ کی تھیم کو منظرنامہ پر جمع کیا جائے۔ اسی سلسلہ میں ورڈپریس کی ایک تھیم منظرنامہ پر پیش کردی گئی ہے اور آج بلاگ اسپاٹ کی ایک تھیم کو شامل کیا جارہا ہے۔ گوکہ یہ تھیم یا ٹیمپلیٹ 2013 کا ہے مگر موجودہ دور کے حساب سے ہے۔

خصوصیات:

یہ تھیم سادہ اور خوبصورت ہے جبکہ اس میں مصنف کے تعارف کے لیئے بھی ہر تحریر کے نیچے جگہ رکھی گئی ہے اس کے علاوہ اس تھیم میں اشتہارات دکھانے کے لیئے کافی جگہ موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ڈراپ ڈاؤن فلوٹنگ مینو بھی شامل ہے۔

استعمال کا طریقہ کار :

اس ٹیمپلیٹ کو اپنے  بلاگ پر لگا نے کے بعد آپ کو چند تبدیلیاں کرنا ضروری ہیں جیسے مینو بار میں اپنے بلاگ کے مینو ( Menu ) شامل کرنا ، تازہ تحاریر کے ٹِکر ( Ticker ) میں اپنے بلاگ کی تازہ تحاریر کے عنوانات اور لنکس شامل کرنا ، مصنف کا تعارف شامل کرنا   وغیرہ۔

یہ سب کام کرنے کے طریقے درج ذیل ہیں ۔

مینو بار میں ترمیم:

مینو ( Menu ) میں اپنے بلاگ کے لنکس شامل کرنے کے لیئے ٹیمپلیٹ میں یہ لائن تلاش کریں ۔ تلاش کرنے کا طریقہ اپنے کی بورڈ سے CTRL + F دبائیں اور مطلوبہ جملہ پیسٹ کردیں ۔

<div id='main-nav-wrapper'>

جب آپ کو یہ لائن مل جائے تو اس لائن کے نیچے مینو کوڈموجود ہوگا   اس کوڈ  میں آپ ترمیم کرتے جائیں اور اپنے بلاگ کے صفحات یا زمرہ جات کے ربط پیسٹ کرتے جائیں ۔ جب آپ مکمل کرلیں گے تو اس کے بعد ایک اور اسی طرح کے مینو اسی مینو کوڈ کے نیچے ہوں گے ان میں بھی آپ اسی طرح ترمیم کریں جس طرح ان سے اوپر کے مینو  کوڈمیں کی تھی۔ اوپر جو مینو کوڈ   موجود ہے وہ کمپیوٹر کے لیئے ہے جبکہ اس سے نیچے جو مینو کوڈ ہے وہ موبائل یا دیگر ڈیوائسس کے لیئے ہے ۔ اس کے علاوہ ایک مزید مینو میں ترمیم کے لیئے یہ کوڈ تلاش کریں اور ترمیم کرتے جائیں ۔

<iv id='header-info'> تحاریر کے ٹِکر میں ترمیم:

تحاریر کے ٹِکر ( Ticker ) میں ترمیم کرنے کے لیئے ٹیمپلیٹ میں یہ لائن تلاش کریں ۔

<div id='ticker'>

مطلوبہ لائن کے مل جانے پر آپ اپنے بلاگ کی تحاریر کے عنوانات اور ان کے ربط شامل کرتے جائیں ۔

مصنف کے تعارف میں ترمیم:

اس ٹیمپلیٹ میں مصنف کا تعارف بھی شامل کیا گیا ہے جوکہ ہر تحریر کے نیچے نظر آتا ہے اس میں ترمیم کے لیئے اس لائن کو ٹیمپلیٹ میں تلاش کریں ۔

<div id='author-desc'>

اب اس کے نیچے مصنف کا مختصر تعارف شامل کریں ۔اور مصنف کی تصویر بدلنے کے لیئے یہ لائن تلاش کریں ۔

<div id='author-image'>

اس کے نیچے تصویر کا ایچ ٹی ایم ایل کوڈ ہوگا اس میں مصنف کی تصویر کا ربط src میں شامل کردیں ۔

سوشل بٹن میں ترمیم:

سوشل بٹن میں ترمیم کے لیئے ٹیمپلیٹ میں یہ تلاش کریں۔

<div id='content-social'>

اب آپ سوشل بٹنز میں ترامیم کرتے جائیں ۔
اس تھیم کا بلاگ اسپاٹ کے لیئے 2013 میں انگریزی سے اردو ترجمہ کیا گیا تھا۔ منظرنامہ کی کوشش ہو گی کہ ہر ہفتہ کم از کم 2 تھیم کو منظرنامہ میں شامل کیا جائے تاکہ نئے آنے والے بلاگرز کو اپنے بلاگ کے لیئے تھیم تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تھیم ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیئے یہاں کلک کریں۔

The post بلاگ اسپاٹ اردو تھیم، میکس میگ appeared first on منظرنامہ.

ورڈ پریس اردو تھیم، نیلا گنبد

ورڈ پریس پر بلاگ بنانے کے بعد سب سے پہلی چیز جو ایک بلاگر خواہ وہ انگریزی ہو یا اردو یہ سوچتا ہے کہ تھیم کونسی استعمال کی جائے۔ بلاگر خواہ پرانا لکھنے والا ہی کیوں نہ ہو یہ ضرورچاہتا ہے کہ اس کا بلاگ دلکش اور خوبصورت ہو اور قارین کو پڑھتے ہوئے سہولت بھی ہو۔ وہ لوگ جو تھیم ڈیزائیننگ سے واقف ہیں یا ترجمہ کر لیتے ہیں ان کے لئے یہ مشکل نہیں کہ کسی بھی انگریزی تھیم کو اردو میں ٹرانسفر کر کے استعمال کریں اور اپنے بلاگ کو خوبصورت بنائیں جبکہ وہ جو ان کاموں سے واقف نہیں صرف اس لئے بھی بلاگ بنانے سے بیٹھے رہ جاتے ہیں کہ ان کو اچھی تھیم میسر نہیں ہوتی۔

ہم نے بھی کسی زمانے میں جب بلاگ شروع کیا تو کچھ تھیمز کا ترجمہ کیا تھا جن پر اگر سچ کہیں تو اب تک سانپ بن کر بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر فیس بک گروپ میں بات چیت کے دوران سوچا کہ جب میں خود استعمال نہیں کر رہا تو کسی اور کے کام آجائے گی اس لئے اس سلسلے کی پہلی اردو تھیم حاضر ہے۔ یہ ایک انگریزی تھیم کا ترجمہ ہے جسے اردو میں “نیلا گنبد” نام دیا گیا ہے۔ (میں نے)۔ اس تھیم میں مندرجہ ذیل خصوصیات موجود ہیں:۔

۔مکمل ریسپانسو لے آؤٹ ہے اس لئے یہ تھیم کمپیوٹر، موبائل یا ٹیبلٹ میں استعمال کی جا سکتی ہے

۔صفحہ اول پر پوسٹ کو مکمل یا ایک اقتباس کے طور پر دیکھایا جا سکتا ہے

۔جن پوسٹس کو آپ نمایاں کرنا چاہتے ہیں ان کو سلائیڈر یا ویسے ہی چار نمایاں پوسٹس کو صفحہ اول پر دکھا سکتے ہیں

۔متعدد رنگوں سے آراستہ کیا جا سکتا ہے، رنگ تبدیل کرنے کا آپشبن تھیم میں موجود ہے

۔وڈیو، گیلری، آڈیو وغیرہ کے لئے الگ پوسٹ کے فارمیٹ کی سہولت موجود ہے

اس کے علاوہ دوسرے آپشنز ہیں جن میں وجٹس ہیں جو کافی تعداد میں تھیم کے اپنے شامل ہیں۔ ایک نظر تھیم پر ڈالیں:۔

screenshot

اس سانچے کا بنیادی اردو ترجمہ مکمل ہے، پھر بھی کہیں کمی یا خامی ہو تو، تھیم کا نام عنوان میں لکھ کر یہاں مجھ سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

اگلا سانچہ انشاءاللہ اگلے ہفتے پوسٹ کیا جائے گا۔

The post ورڈ پریس اردو تھیم، نیلا گنبد appeared first on منظرنامہ.

ڈاکٹر جواد احمد خان سے شناسائی

منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ”ڈاکٹر جواد احمد خان “ صاحب ۔ آپ ” نشتر جراح “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔

خوش آمدید !

کیسے مزاج ہیں ؟

@الحمد اللہ ۔۔۔ اللہ کا بڑا کرم ہے۔

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@کہتے ہیں کہ آدمی کو اپنے اوسط درجے کے ہونے کا دیر سے پتا چلتا ہے مگر مجھے بہت پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا ۔ کچھ بھی خاص نہیں ہے وہی کہانی ہے جو سب کی ہے۔ کوئی تیر نہیں چلایا کوئی معرکہ سر نہیں کیا۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@ کراچی جائے پیدائش ہے۔ بچپن لڑکپن اور جوانی حیدرآباد میں گذری اور گذشتہ ۱۲ سال سے سعودی عرب میں مقیم ہوں۔

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@بہت سار ے انجینیئرز کے درمیان اکلوتا ڈاکٹر ہوں۔ والد اور تمام بھائی انجینیئرز ہیں۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@ آغاز ۲۰۱۰ میں ہوا تھا اس وقت تک میں انگریزی میں بلاگنگ کرتا تھا ۔ انگریزی بلاگنگ ابھی تک سیکیولر اور لبرلز کے ہاتھ میں ہے ۔ہر وقت بحث و مباحثہ رہا کرتا تھا ۔ ایک بار مباحثہ کے دوران ایک مشکل تبصرے کے جواب میں نیٹ کھنگالتے ہوئے مرحومہ عنیقہ ناز کا بلاگ نظر سے گذرا تو یہیں کا ہو گیا ۔ شروع میں سب سے بڑی مشکل اردو ٹائپنگ کی تھی جس کے لیے میں گوگل ٹرانسلٹریشن کا استعمال کیا کرتا تھا بعد میں ایم بلال ایم کا اردو انسٹالر نظر سے گذرا جس نے یہ مشکل آسان کردی۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@مشکل کام وہ ہوتا ہے جو آپ دوسرے کی مرضی سے کرتے ہیں۔ بلاگنگ کا شوق تھا ۔ کام کا معاملہ ” آم کے آم گھٹلیوں کے دام ” والا تھا لہذا بہت سارا قت تھا اس لیے نا مراحل کا پتا چلا اور نا ہی مشکلات کا۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@بلاگنگ کرنے کا مقصد اپنے آپ کو ہم خیال لوگوں سے ہم آہنگ کرنا تھا۔ انگریزی بلاگنگ میں چونکہ اجنبی تھا اس لیے اردو بلاگنگ کرتے ہوئے ایک خوشگوار تبدیلی کا احساس ہوا۔

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

@میں تقریباً تمام ہی بلاگرز سے بہت زیادہ متاثر ہوں جسکی وجہ محبت کا رشتہ اور انکے لکھنے کی اعلیٰ صلاحیتیں ہیں۔ ۔سلیم بھائی، یاسر خواہ مخواہ جاپانی، خاورکھوکھر،کاشف نصیر ، علی حسن، جعفرحسین ، عمر بنگش اور دوسرے تمام بلاگرز ہیں جو اچھا لکھتے ہیں۔ سب کے نام لینا بھی مشکل ہے۔ عمران مسعود اور راشد کامران کی زبان دانی سے متاثر ہوں۔ وقار اعظم سے خاص طور پر متاثر ہوں کیونکہ یہ بندہ دکھنے میں عام اور لا ابالی سا نظر آتا ہے مگر صلاحیتیں اور معلومات غضب کی ہیں۔ برادر فہد کیہر اور برادر عمران مسعود سے مجھے گلہ یہ ہے کہ انہوں نے روایتی بلاگنگ کو ہلکے پھلکے انداز میں لیا ہے۔ ۔ تقریباً تمام بلاگرز میں کوئی نا کوئی ایسی خوبی نظر آئی ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@ ۲۰۰۷ سے

آپ پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر بھی ہیں اس بارے میں بتائیں کہ اس جانب کیسے آنا ہوا ؟

@زبردستی لایا گیا ہوں جناب۔۔۔۔ میں تو آرمی میں جانا چاہتا تھا ۔ اباّ جان سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اسکا دماغ خراب ہوگیا ہے تو جناب گھر والوں کا نام روشن کرنے کے لیے ڈاکٹر بن گیا

کیا ڈاکٹری اور بلاگنگ ایک ساتھ آسانی سے کرلیتے ہیں ؟

@بلاگنگ میرے لیے آسان کام نہیں ہے اگر مجھے کلّی فراغت ہو تب بھی نہیں۔ جب تک تحریک نا ہو لکھ نہیں پاتا اور لکھنے میں بھی مجھے زیادہ کوفت الفاظ کے چناؤ اور سطروں کی آپس میں ہم آہنگی قائم کرنے میں ہوتی ہے۔ لکھنے کی صلاحیت نا ہونے کی وجہ سے لکھنا ایک بوجھ ہی محسوس ہوتا ہے۔

ڈاکٹر ہونے کے کوئی تین فوائد اور نقصانات بتائیں؟

@ ایک خاص قسم کا اسٹیٹس اور قبولیت حاصل ہوجاتی ہےاسکے علاوہ اسکا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ نقصانات میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ input بہت زیادہ ہے جبکہ out put بہت کم اور بہت دیر سے آتا ہے۔اتنی محنت اگر انسان کسی اور فیلڈ میں کرے تو بہت آگے چلا جاتا ہے۔

 

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

@ مجھے ان لوگوں پر رشک آتا ہے جو لکھتے ہیں تو لکھتے چلے جاتے ہیں۔ سنا ہے عنیقہ ناز مرحومہ آدھے گھنٹے میں بلاگ لکھ لیا کرتی تھیں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@جی ہاں بہت فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بلاگنگ ایک فلٹر کا کام کرتی ہے ۔ آپ کے اندر دلیل کی قوت ، مشاہدہ ، باریک بینی اور قوت محادثہ کو بڑھادیتی ہے اور آپ چیزوں کو سمجھنے کے لیے تمام تر جزیات کا خیال رکھنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔پھر آپ تجزیہ دلائل و رد کی ایک وسیع و عریض دنیا میں جا نکلتے ہیں۔ محبت کے رشتے قائم ہوجاتے ہیں۔ پرانے تعصبات ٹوٹتے ہیں اور نئے تعصبات قائم ہوجاتے ہیں۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@معیاری بلاگ کچھ نہیں ہوتا اصل بات ابلاغ کی اور اس ابلاغ کے لیے کیے جانے والی مشق کی ہے ۔ کسی کا ابلاغ ادبی ہوتا تو کسی کا میری طرح عامی ۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@ جی نہیں اردو کا یہ مقام تھا کہ یہ قومی زبان ہوتی تعلیمی اور دفتری زبان ہوتی ۔ ترقی اور ترویج کی مستحق تھی مگر کالے انگریز نے یہ سب کچھ ہونے نہیں دیا۔میرے نزدیک قوم کسی قوم کے زوال کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنی زبان اور اپنی تہذیب کو ترک کرتے ہوئے اغیا ر کی نقالی شروع کردیتی ہے۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@ زبان آپکی ذات کا ایک بہت بڑا حصہ ہوتی ہے اس لیے اس تعلق کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@ بالکل نہیں ۔۔۔بہت کچھ ہونا باقی ہے

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@ مستقبل انگریزی بلاگنگ کا نہیں بلکہ اردو بلاگنگ کا ہے ۔ اسکا اپنا ایک سحر ہے اپنی ایک کشش ہے۔ جس جس گھر میں نیٹ جائے گا وہاں وہاں اردو بلاگنگ جائے گی مگر اہستگی کے ساتھ

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@ آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ کسی تعریف کا محتاج نہیں محمد بلال خان، ایم بلال ایم یا دوسرے اگر ایک لفظ نا بھی لکھیں تب بھی انہوں نے اب تک جو کچھ کیا ہے اور جو کچھ آئندہ کریں گے اسے اردو زبان کا مورخ نظر انداز نہیں کرسکے گا

بلاگ اور کلینک کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟

@اچھی کتاب

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@دکھتی رگ پر ہاتھ رک دیا ہے آپ نے ۔۔۔۔ میں جو کچھ چاہتا ہوں وہ ٹائم مشین ایجاد ہوئے بغیر نہیں ہوسکتا۔

 

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

 

پسندیدہ:

 

1۔ کتاب ؟

@ Art of war, The Devil’s alternative, behold a pale horse,، علی پور کا ایلی ، پیار کا پہلا شہر ، راجہ گدھ ، اور بہت ساری کتابیں ۔ مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ میری پسندیدہ کتاب کونسی ہے

2۔ شعر ؟

@ مجھے منیر نیازی کی نظم ” ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ” بہت زیادہ پسند ہے۔ اس نظم میں ، میں ہوں۔

3۔ رنگ ؟

@ سیاہ

4۔ کھانا ؟

@ یہ سوال میری پول کھول سکتا ہے

5۔ موسم ؟

@ نم آلود جاڑا اور جاڑوں کی رات کہ جب سکوت ہر شئے پر محیط ہوجاتا ہے

6۔ ملک ؟

@ پاکستان ۔۔۔ اس جیسا ملک اللہ تعالیٰ نے دوسرا نہیں بنایا۔ اور ہم نے اسے برباد کردیا

7۔ مصنف ؟

@ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ

8۔ گیت؟

@ میں گانوں سے سخت پرہیز کرتا ہوں اس لیے نہیں کہ میرا تقویٰ بلند ہے بلکہ اس لیے کہ یہ مجھے اس دنیا میں لے جاتے ہیں جہاں میں جانا نہیں چاہتا۔

9۔ فلم ؟

@ I am a legend

 

غلط /درست:

 

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

@ درست / غلط

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@ درست

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

@ درست

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ غلط

5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟

@ درست

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@ غلط

7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟

@ درست

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@ غلط

 

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

@ صرف ایک تجویز کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اسے اسی وقت ترک کیجیئے گا کہ جب کوئی دوسرا یہ کام کرنے کے لیے تیار ہوجائے

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@ایک عام آدمی کوئی خاص بات کیسے کرسکتا ہے ۔ ہاں ایک بات جو میں نے سمجھی ہے وہ شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ تماشائی ہیں ہمیں تماشہ نہیں بننا چائیے۔

 

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@ میں آپکا اور منظر نامہ کا نہایت مشکور ہوں کہ مجھے انٹرویو کے قابل سمجھا۔

The post ڈاکٹر جواد احمد خان سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

راجا اسلام کے ساتھ مکالمہ

منظرنامہ کے قارئین کو ایک طویل عرصے بعد عمار ابنِ ضیا کی جانب سے آداب و تسلیمات!
اُمید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ میری واپسی منظرنامہ کے ایک نئے سلسلے کے ساتھ ہوئی ہے جس کا عنوان ہے ’’مکالمہ‘‘۔
جب ہم نے منظرنامہ کا آغاز کیا تو ہمارے ذہن میں سب سے پہلا سلسلہ ’’شناسائی‘‘ تھا اور اسی کی بنیاد پر ہم نے منظرنامہ کو آگے بڑھایا۔ اُس زمانے میں اکثر اُردو بلاگران ایک دوسرے سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ سلسلہ شناسائی کے تحت ہم نے بنیادی نوعیت کے سوالات ترتیب دیے جس سے کسی بلاگر کا ضروری تعارف اور پسند ناپسند سے واقفیت حاصل ہوسکے۔ ابتدا میں مختلف بلاگروں کے لحاظ سے سوالات میں مناسب تبدیلی کی جاتی تھی، لیکن بعدازاں ایک جیسے سوالات ہی دہرائے جانے لگے۔ سلسلہ شناسائی کے تحت ایک ای میل میں متعلقہ بلاگر کو تمام سوالات اکٹھے ارسال کردیے جاتے تھے اور وہ اُن کا جواب لکھ کر بھیج دیا کرتے۔
سلسلہ ’’مکالمہ‘‘ یوں سلسلہ ’’شناسائی‘‘ سے مختلف ہوگا کہ اس میں بلاگر سے براہِ راست سوال و جواب کیے جائیں گے اور یہ سوالات گھسے پٹے یا ایک جیسے نہیں ہوں گے بلکہ بلاگر کی شخصیت اور اُس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے متعلق ہوں گے۔ دوسرا بنیادی پہلو یہ کہ اس سلسلے میں صرف اُردو بلاگروں ہی سے نہیں، انگریزی بلاگرز سے بھی گفت گو ہوگی، بل کہ ایسے لوگوں سے بھی بات چیت شامل کی جائے گی جو بلاگر نہ ہوں لیکن آن لائن اُردو کمیونٹی میں ایک خاص مقام رکھتے ہوں یا کسی حیثیت میں اثر انداز ہوسکتے ہوں۔ یوں مجھے اُمید ہے کہ اُردو بلاگران مزید وسیع دھارے میں شامل ہوکر دیگر افراد اور بلاگروں کے نقطۂ نظر سے واقفیت حاصل کرسکیں گے، اُردو آن لائن کمیونٹی سے باہر کی دنیا کے خیالات جانیں گے اور مل جل کر کچھ اچھا کرنے کے قابل ہو پائیں گے۔
منظرنامہ کے اس نئے سلسلے میں ہمارے سب سے پہلے مہمان راجا اسلام ہیں۔

RajaIslam

راجا اسلام کراچی سے تعلق رکھنے والے فوٹو بلاگر ہیں، یعنی آپ تصویری بلاگ کرتے ہیں۔ آپ ۱۵ اگست ۱۹۸۱ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔والد صاحب کی پاکستانی بحریہ میں ملازمت کے باعث پیدائش کے بعد کچھ عرصہ بولیویا میں گزرا۔ وفاقی بورڈ کے تحت اسکول کے بعد ڈی جے کالج سے پری انجینئرنگ مضمون میں انٹرمیڈیٹ کیا۔ پھر دادابھائی انسٹی ٹیوٹ سے کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد ملازمت کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری شہید ذوالفقار علی بھٹو یونی ورسٹی سے حاصل کی۔ فی الحال ایک امریکی تکنیکی ادارے میں کنسلٹنٹ کی حیثیت سے گزشتہ آٹھ سال سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ بلاگ ایوارڈز ۲۰۱۰ء میں آپ کے بلاگ کو بہترین فوٹوبلاگ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
۲ اگست کو اُردو بلاگروں کی عید ملن میں راجا اسلام نے شرکت کی تو ہمیں اُن سے گفت گو کا موقع ملا۔ آپ بھی شریکِ گفت گو ہوجائیے۔
منظرنامہ: اُردو بلاگروں کی کسی محفل میں یہ آپ کی پہلی شرکت تھی۔ کیسا محسوس کیا آپ نے؟
راجا: بہت اچھا لگا۔ ایک مختلف نقطۂ نظر سے واقفیت ہوئی۔ میں جن بلاگروں سے ملتا رہا ہوں، وہ مختلف نقطۂ نظر کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ مختلف تھا اور زندگی میں مختلف ہونا چاہیے۔
منظرنامہ: بلاگنگ کی طرف کیسے آئے؟
راجا: جب آپ دن بھر انٹرنیٹ پر بیٹھے کام کر رہے ہوتے ہو ، پروگرامنگ کر رہے ہوتے ہو تو آپ کو ذہن تازہ کرنے کے لیے کچھ چاہیے ہوتا ہے۔ یوں میں نے بلاگ پڑھنا شروع کیے۔ ایک کراچی میٹ بلاگ مشہور تھا جہاں میں نے دیکھا کہ تصویریں کھینچ کر شایع کی جا رہی ہیں اور لوگ بڑی تعریفیں کر رہے ہیں۔ وہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ کوئی بڑا کمال تو نہیں کر رہے، یہ تو ہم بھی کرلیں۔ مجھے کبھی آرٹس یا تخلیقیت سے اتنی دل چسپی رہی نہیں اور شاید ابھی بھی نہ ہو، لیکن جب وہ دیکھا تو۔۔۔ تعریف انسان کو اچھی لگتی ہے، انسانی فطرت ہے یہ۔ میں نے سوچا، چلو ہم بھی تصویریں کھینچتے ہیں۔ پہلے میں نے لوگوں کی تصویریں نقل کرنا شروع کریں، پھر نقل کرتے کرتے آپ اپنا ایک انداز بنالیتے ہو۔ یوں فوٹو بلاگ بن گیا۔ کراچی اپنا شہر ہے اور اپنے شہر سے محبت ہوتی ہے، اُنسیت ہوتی ہے۔ لہٰذا شہر کی تصویریں کھینچنا شروع کیں اور کوشش کی کہ پاکستان کی نمائندگی کریں، دنیا کو بتائیں کہ پاکستان میں کچھ اچھا بھی ہے، بری چیزیں تو ہر جگہ ہی ہوتی ہیں۔
منظرنامہ: فوٹو بلاگ سے آپ کی زندگی میں تبدیلیاں آئیں؟
راجا: گھومنے کا شوق تو پہلے بھی تھا، تصویریں کھینچنا ایک بہانہ ہوتا ہے۔ جب کیمرا ملا تو ایک بہانہ مل گیا۔ اب لوگ پوچھتے ہیں کہ بھئی تھر کیا کرنے جا رہے ہو، تو اگر آپ کیمرے کے بغیر جاؤ اور کہو کہ میں گھومنے جا رہا ہوں تو لوگ کہیں گے کہ ابے پاگل ہے کیا جو تھر گھومنے جا رہا ہے، تھر میں کیا ہے؟ تو آپ بولتے ہو کہ تصویریں کھینچنے جا رہا ہوں۔ پھر لوگ سوچتے ہیں کہ ہاں، کوئی بات ہے۔
منظرنامہ: فوٹو بلاگ کے حوالے سے کس نے زیادہ متاثر کیا؟
راجا: فلکر پر امیر حمزہ ہوتے ہیں، اُس سے میری بات ہوئی۔ میں اُسے ایک طریقے سے اپنا استاد مانتا ہوں۔ اُس نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔ اُس سے میں نے سیکھا کہ آپ تصویریں کھینچنے کے لیے باہر کیسے نکلتے ہو، تصویریں کیسے کھینچتے ہو۔ اُس کا زیادہ ایکسپوزر تھا، اُس نے انٹرنیٹ پر آرٹیکل لکھے تھے، اُس نے میرے آرٹیکل شایع کروانے میں میری مدد کی، میں نے تھوڑا بہت لکھا، پھر صحیح کروایا، پھر اُس نے لکھا، میں نے اُسے تصویریں دیں، پھر میرا آرٹیکل شایع ہوا۔ ڈان کا ایک ریویو میگزین آیا کرتا تھا، اُس میں میرا پہلا آرٹیکل ۲۰۰۸ء میں شایع ہوا۔
منظرنامہ: پہلے آرٹیکل کی اشاعت پر کیا جذبات تھے اور کیا ملا تھا؟
راجا: پہلا چیک شاید دو ہزار روپے کا تھا۔ اُس زمانے میں وہ اچھا خاصا تھا۔ رقم سے بڑھ کر اس بات کی اہمیت تھی کہ ’ڈان‘ اخبار کا چیک ہے۔ میرے دوست نے ایک ہندوستانی فلم ڈائریکٹر کا بتایا کہ اُس نے اپنی پہلی فلم کا چیک اب تک کیش نہیں کروایا، تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں بھی اپنا چیک کیش نہیں کرواؤں گا۔ لیکن پھر ضرورت پڑی تو کیش کروالیا اور فوٹو کاپی کرواکر رکھ لی۔ پھر ایک لائن سمجھ آگئی کہ کس طرح کرنا ہے۔ جب پہلا کام شایع ہوا تو میں ہر ایک کو دکھاتا تھا کہ دیکھ تیرے بھائی کا کام شایع ہوا ہے۔ وہ ایک الگ احساس ہوتا ہے۔
منظرنامہ: اُس کے بعد کہاں کہاں مضامین شایع ہوئے؟
راجا: جب پہلا آرٹیکل شایع ہوگیا تو ایک لائن مل گئی۔ شایع ہونا شروع ہوا تو ہر جگہ ہی میرا کام شایع ہوگیا۔ یہاں تک کہ نیشنل جیوگرافک کی کتب کے لیے بھی میری ایک تصویری گیٹی کے ذریعے خریدی گئی۔ یہ میرا ایک خواب تھا کہ نیشنل جیوگرافک میں میرا کام شایع ہو۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف والوں نے بھی رابطہ کیا کہ آپ کی K2 کی ایک تصویر چھاپنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ چھاپ دو لیکن پیسے بھی دو۔ وہ کہنے لگے کہ بھئی ہم تو ڈبلیو ڈبلیو ایف ہیں، پیسے نہیں دیتے۔ بہ ہر حال، وہاں بھی شایع ہوئی۔ اب میرے پاس ایک بہت بڑا ڈبّا ہے ، اُس میں کافی سامان جمع ہے، اخبارات، میگزین، بروشر۔ اب وہ چیز ختم ہوگئی ہے کہ کچھ حاصل کرنا ہے کیوں کہ تقریباً سبھی کچھ حاصل کرلیا ہے۔ اب کوئی ہدف نہیں ہے، بس تصویریں کھینچتا ہوں۔
منظرنامہ: تصویریں چرائی بھی گئیں؟
راجا: جی ہاں، لوگوں نے تصویریں بھی چرائیں۔ مجھے بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے جب کوئی میری تصویریں چراتا ہے۔ پی آئی اے نے میری تصویر چرائی۔ میں فلائٹ میں بیٹھ کر سامنے دیکھ رہا ہوں تو مجھے اپنی کھینچی ہوئی تصویر نظر آئی۔ میں اُس کی تصویر کھینچنے لگا تو ایئرہوسٹس آگئی اور کہنے لگی کہ تصویر کھینچنا منع ہے، میں نے کہا کہ تصویر چرانا بھی منع ہے۔ غصہ بھی آتا ہے لیکن فخر بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس مقام پر پہنچے ہیں کہ لوگ آپ کے کام کو سراہ رہے ہیں۔
منظرنامہ: کوئی یادگار موقع؟
راجا: میں ۲۰۱۰ء میں بلاگ ایوارڈ جیتا تھا، وہ ایک خاص بات تھی۔ لیکن جو میرا سب سے اچھا تجربہ تھا وہ ایک آئی ٹی کانفرنس ہوئی تھی، جس میں شاید آپ بھی موجود تھے۔ حکومتِ سندھ کے تحت اُس وقت کے وزیر رضا ہارون نے بلاگروں کے لیے کانفرنس کا انعقاد کروایا تھا، اُس میں اُردشیر کاؤس جی بھی تھے، فاروق ستار بھی تھے۔ وہ میرے لیے بہت اچھی یادوں میں سے ہے۔ وہاں میں نے اپنے فوٹو بلاگ کی پریزنٹیشن دی اور لوگوں نے اُس کو بہت سراہا۔ میں اب بھی لوگوں کو بتاتا ہوں کہ وہ میرے لیے بہت اہم چیز تھی۔ میں ایک اچھا پبلک اسپیکر (عوامی مقرر) نہیں ہوں لیکن وہ شاید بہت اچھا ہوگیا تھا۔ جب میں اسٹیج سے اُترا تو لوگ مجھے اپنے وزیٹنگ کارڈ دے رہے ہیں، اخبار والے تھے، میرا انٹرویو چھپا۔ بہت اچھا لگا۔ جو چیزیں چاہیے تھیں، وہ حاصل کرلیں۔
منظرنامہ: کسی کمپنی نے اسپانسر بھی کیا؟
راجا: جی، میں جو موبائل استعمال کر رہا ہوں، یہ مجھے نوکیا نے دیا ہے۔ میں نے بہت سفر کیے اور اس موبائل سے تصویریں کھینچیں۔ میرا ارادہ تھا کہ میں پاکستان کی پہلی ایسی نمائش کروں جس میں صرف موبائل فون سے کھینچی ہوئی تصویریں ہوں۔ لیکن وہ ممکن نہیں ہوسکا کہ کوئی اسپانسر نہیں ملا۔
منظرنامہ: پروگرامنگ کس لینگویج میں کرتے ہیں؟
راجا: کچھ بھی دے دیں، کرلیں گے بھائی۔ میں نے ڈاٹ نیٹ پر بھی کی ہے، پی ایچ پی پر بھی کی ہے، کولڈ فیوژن پر، سی شارپ، اے ایس پی کلاسک، وغیرہ۔
منظرنامہ: سب سے زیادہ مزا کس پروگرامنگ لینگویج پر آتا ہے؟
راجا: سی شارپ اچھی ہے۔ جاوا سے شروع کیا تھا۔ جاوا پر کام کیا لیکن اُس کی ملازمت نہیں ملی تو پھر دوسری طرف رجوع کیا۔ ابھی مختلف کام آتا رہتا ہے۔ ابھی سی آر ایم کنسلٹنگ کا کام کرتا ہوں، سی آر ایم سوفٹ ویئر کی ایک قسم ہے۔
منظرنامہ: بقول آپ کے، جو آپ صبح سے شام تک انٹرنیٹ پر بیٹھے رہتے ہیں، تو پھر آپ کے اسمارٹ ہونے کا راز کیا ہے؟
راجا: (ہنستے ہوئے) ایک تو یہ قدرتی ہے۔ اس کے علاوہ میں نے تیراکی بہت کی ہے،کرکٹ ہر اتوار کو کھیلتا ہوں۔ آج صرف بارش کی پیشین گوئی کی وجہ سے کرکٹ کی چھٹی ہوگئی۔ کوئی جسمانی ورزش ضرور ہونی چاہیے۔
منظرنامہ: آپ فوٹوگرافی کے لیے ’کےٹو‘ بھی گئے تھے، اُس کے بارے میں کچھ بتائیں۔
راجا: میرا ارادہ تھا اور میں نے منت مانی تھی کہ میں شادی تب کروں گا جب ’کےٹو‘ سے ہوکر آجاؤں گا۔ یہ میں نے فیصلہ کیا ہوا تھا اور۔۔۔ میرے رشتے کی بات ایک جگہ چل رہی تھی، ہم گھر والے لڑکی دیکھنے گئے، لڑکی بھی پسند آئی۔ پھر وہ لوگ ہمارے گھر آ رہے تھے اور میں نے ’کےٹو‘ کے لیے خریداری کرنی تھی تو میں خریداری کرنے چلا گیا۔ یہ دیکھ کر لڑکی والوں نے منع کردیا کہ لگتا ہے لڑکے کو دل چسپی نہیں ہے اور وہ زبردستی کر رہا ہے۔ لیکن مجھے ’کےٹو‘ جانا تھا اور یہ میرا جنون تھا۔ تقریباً تین چار سال میں نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔ آخر ۲۰۱۰ء میں ہم لوگ گئے، ’کےٹو‘ پہنچے، تصویر کھینچی، بڑا اچھا رہا۔ پھر ہم لوگ پھنس گئے، وہ ایک لمبی کہانی ہے۔ ۲۰۱۰ء میں بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ جب سیلاب آ رہا تھا تو ہم وہاں اوپر تھے، برف باری ہو رہی تھی۔ چار دن ہم علی کیمپ میں پھنسے رہے۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ یہی سب سے بڑی مصیبت ہے اور اس سے نکل جائیں گے تو ہر مشکل آسان ہوجائے گی۔ جب ہم چار دن علی کیمپ میں گزارنے کے بعد شہر آئے تو بڑے خوش تھے کہ شکر ہے، اب تو گاڑی وغیرہ مل گئی ہے، پیدل نہیں چلنا پڑے گا۔ لیکن اصل کہانی وہاں سے شروع ہوئی پروازیں منسوخ ہوگئی تھیں، قراقرم ہائی وے پر جتنے پُل تھے وہ سب ٹوٹ گئے تھے، کوئی جانے کا راستہ نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے پہنچے۔

RajaIslam at K2

منظرنامہ: سنا ہے کہ ’کےٹو‘ کے سفر میں آپ نہاری سے اُکتا گئے تھے؟
راجا: میں یہاں سے پیک کرواکر نہاری لے گیا تھا۔ میرے ساتھیوں کی فرمائش تھی کہ تم کراچی کے ہو تو وہاں کی نہاری لے کر آؤ۔ دس بارہ دن نہاری کھائی تو نفرت ہوگئی تھی نہاری سے۔ میرے ساتھ کراچی کا ایک لڑکا ضیغم تھا۔ میں اور وہ کیمپ میں لیٹے ہوتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ یار، پیزا کھانا ہے۔ جب ہم واپس پہنچے اور پیزا کھایا تو بڑا سکون ملا۔
منظرنامہ: کوئی ایسی سب سے یادگار تصویر جسے دیکھ کر فخر ہوتا ہو کہ یہ تصویر میں نے کھینچی تھی؟
راجا: ہر تصویر کے پیچھے کوئی کہانی ہوتی ہے۔ جب آپ اُسے دیکھتے ہو تو آپ کو وہ خاص وقت اور بات یاد آتی ہے۔ ’کےٹو‘ کی جو تصویر ہے، اُس کے بارے میں، میں کہہ سکتا ہوں کہ اُس کے پیچھے ایک بڑی محنت اور وقت لگا ہے۔
منظرنامہ: کبھی سوچا کہ پیشن (جنون) کو پروفیشن (پیشہ) بنالیں؟
راجا: کبھی نہیں۔ دیکھنے میں لگتا ہے کہ بڑا اچھا ہے، مزا آئے گا، لیکن میرا پروفیشن اچھا ہے، اُس میں پیسے بھی ہیں۔ فوٹوگرافی میں اتنے پیسے نہیں ہیں اور شوقیہ ایک کام کر رہے ہو تو مزا آتا ہے، اُس کو پیشہ بنالیں گے تو آپ کو ذمہ داری لگے گی،پھر وہ لطف نہیں رہے گا۔ اس لیے شوق کو صرف شوق رہنے دینا چاہیے۔
منظرنامہ: آپ کے خیال میں اُردو بلاگنگ اور انگریزی بلاگنگ میں زبان کے علاوہ کتنا فرق ہے اور کیا کبھی یہ ختم ہوسکے گا؟
راجا: میرا نہیں خیال۔ ہمارے ہاں روایت ایسی ہے کہ ہمیں بچپن سے پڑھایا گیا ہے کہ انگریزی پڑھنی ہے۔ یوں ہماری سوچ ایسی بن گئی ہے۔ سرسیّد سے اس کی تاریخ شروع ہوتی ہے اور اتنی طویل تاریخ کو آپ ختم نہیں کرسکتے۔ یہ فاصلے رہیں گے۔ یہ ایسا ہے جیسے ساتھ ساتھ دو پٹریاں ہوتی ہیں۔ساتھ ساتھ چلتی رہیں گی لیکن مل نہیں سکتیں۔
منظرنامہ: کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستانی میڈیا کو دوسرے ممالک کی طرح بلاگنگ کو فروغ دینا چاہیے؟ کیوں کہ دوسرے ممالک میں میڈیا بلاگروں سے رائے لینے کے لیے رابطہ کرتا ہے لیکن پاکستانی میڈیا میں بلاگروں کی نمائندگی نظر نہیں آتی۔
راجا: یہ بات تو ہے لیکن مجھے پاکستان میں ایسا مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا۔ ابھی وقت لگے گا۔ ابھی تک لوگوں کی یہی سوچ ہے کہ انٹرنیٹ پر لکھ رہا ہے، کچھ بھی اپنی مرضی سے لکھ دیا۔ ابھی اس میں سنجیدگی کا عنصر نہیں ہے۔
منظرنامہ: بہت شکریہ راجا کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے ہمیں وقت دیا۔
راجا: آپ کا بھی شکریہ۔

The post راجا اسلام کے ساتھ مکالمہ appeared first on منظرنامہ.

محمد اسلم فہیم سے شناسائی

منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ”محمد اسلم فہیم “ صاحب ۔ آپ ” حرفِ آرزو “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔

خوش آمدید !
کیسے مزاج ہیں ؟
@الحمدللہ ،اللہ کا احسان ہے۔
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@محمد اسلم فہیم نام ہے،چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں۔
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
@ضلع اٹک کے شہر فتح جنگ میں پیدا ہوا ،اور ابھی بھی یہیں رہائش ہے۔
اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@والدین قریبی دیہات سےبسلسلہ روزگار “ہجرت”کرکے یہاں شہر میں آباد ہوئے،والدِ محترم چونکہ ہومیوپیتھک معالج ہیں اس لئے ہومیوپیتھی مجھے ورثے میں ملی،گریجویشن کے ساتھ ساتھ DHMS کیااور آج کل یہیں فتح جنگ شہرمیں ہی کلینک کر رہا ہوں،
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@بلاگنگ سے میرا تعارف لگ بھگ کوئی ڈیڑھ سال قبل ہوا اور “سلیم بھائی”کی تحریریں پڑھنے کے بعداردو بلاگنگ سے متعارف ہوا،گزشتہ سال ورڈ پریس پر بلاگ بنایا لیکن مطمئن نہیں ہوا تو محترم مصطفٰی ملک اور دیگر دوستوں کے تعاون سے “بلاگر” پر منتقل ہو گیا ۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
@بس بلاگر پر بلاگ بنایااور لکھنا شروع کر دیا ہم تو مزے میں ہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی،مشکلات تو ان کیلئے تھیں جو ہمارے راستے کے کانٹے صاف کر گئے، خصوصاً میں شکر گزار ہوں برادر ایم بلال ایم کاجن کے اردو انسٹالر نے ہم جیسوں کو اردو لکھنے کے قابل بنا دیا۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@لکھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا لیکن آپ کہ سکتے ہیں کہ بلاگ بنانے میں بڑی حد تک اردو کا فروغ بھی پیشِ نظر تھا چونکہ جب میں نے کمپیوٹر خریدا تو میرے دوست نے جب مجھ سے سوال کیا تھا کہ کیسا کمپیوٹر خریدنا ہے تو میں نے اسے بتایا تھا کہ یار جس میں اردو بھی لکھی جاسکتی ہو :) (کیونکہ اس وقت تک میں کمپیوٹر کی الف بے سے بھی واقف نہیں تھا بلکہ یہ حقیقت ہے کہ میں نے کمپیوٹر آن تو کر لیا تھا لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اب یہ شٹ ڈاؤن کیسے ہوگا سو میں نے سوئچ آف کر دیا)۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@کوشش تو ہوتی ہر اچھی تحریر پڑھوں لیکن وقت ہمیشہ آڑے آتا ہے،محمد سلیم،مصطفٰی ملک،ڈفر جی،سکندر حیات بابا،کوثر بیگ،نورین تبسّم،یاسر جاپانی،اسرٰی غوری,بیاضِ افتخار میرے پسندیدہ بلاگز ہیں۔
لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@لاہور میں ایک میڈیا ورکشاپ میں شمولیّت کاموقع ملا تو وہاں زندگی میں پہلی بار لفظ بلاگ سنا لیکن ایک مدّت تک میں اسے ویب سائٹ کی ہی ایک قسم سمجھتا رہا۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@تحریرلکھنے کیلئے تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ذہن پر نازل ہو رہی ہو بس لکھنے بیٹھتا ہوں تو لکھتا چلا جاتا ہوں۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@جی بالکل بہت فائدہ ہوا اپنے آپ کو سمجھا ،ایک پہچان ملی لوگوں کی محبّت ملی اور بہت پیارے احباب بھی،یہ بلاگ کا فائدہ ہی تو ہے کہ آپ میرا انٹرویو کر رہے ہیں ورنہ مجھے کس نے منہ لگانا تھا :) ۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@جس کی تحریر دلوں کو چھولے ،اور جسے پڑھ کر لگے کہ گویا تم نے تو میرے دل کی بات کہ دی۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@میرا خیال ہے ہم ابھی اس مقام پر نہیں پہنچے ابھی بھی لوگ نہیں جانتے کہ ان پیج کے علاوہ بھی اردو لکھی جاسکتی ہے۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@ہندکو اگرچہ میری مادری زبان ہے لیکن اردو نے مجھے پہچان دی،رابطوں کو آسان بنایا۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@دیکھئے بہتری کی گنجائش تو ہر جگہ موجود رہتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ترقی کی رفتا ربہرحال تسلّی بخش ہے۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@بلاگنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سبب میں سمجھتا ہوں کہآئندہ پانچ سال اردو کے عروج کے سال ہوں گے۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@گروپ بندی ، لیگ پلنگ(leg pulling) اور اصلی نقلی کے چکروں سے نقل کر آئیے اپنی زبان اور اپنی ترقی کیلئے مل کر کام کریں اور اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے روشن نشانِ منزل چھوڑ جائیں۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@کلینک ۔۔۔۔۔۔ صبح سے شام تک مریضوں کے چہروں پرمسکراہٹ بکھیرنے کی سعی۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@کچھ ایسا کر گزروں کہ لوگوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑ جاؤں۔۔۔۔ رہی بات خواہش کی تو اللہ رب العزت نے وہ سب کچھ عطا کردیا جو میں نے خواہش کی

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟
@قرآن مجید۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے بعد ہر وہ کتاب جس کے لفظ بندے کو اپنی گرفت میں لے لیں۔
2۔ شعر ؟
@وقت آفاق کے جنگلوں کا جواں چیتا ہے
میری دنیاکے غزالوں کا لہو پیتا ہے
3۔ رنگ ؟
@نیلا
4۔ کھانا ؟
@دال چاول
5۔ موسم ؟
@گرمی کا کیونکہ اس میں آم ملتے ہیں اور عام ملتے ہیں
6۔ ملک ؟
@پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے نہیں کہ میں یہاں پیدا ہوا بلکہ اس لئے کہ اس کی نسبت مدینۃالنبیﷺ سے ہے ۔دنیا کے نقشے پر مدینہ طیبہ کے بعد اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی واحد مملکت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وسائل سے مالامال خوبصورت محل وقوع،ہر طرح کے موسم،گہرے سمندر ،خوبصورت نظارےاور سب سے بڑھ کر محنت کش لوگ جودنیاکی تعمیر کا ہنر رکھتے ہیں۔ کاش انہیں کوئی مخلص قیادت مل جاتی۔
7۔ مصنف ؟
@سید ابولاعلٰی مودودی شاعری میں علامہ اقبال،محسن نقوی اور پروین شاکر۔
8۔ گیت؟
@وہ گیت جو “میں”نے سنا نہیں۔
9۔ فلم ؟
@بہت دیکھیں لیکن کوئی خاص نہیں

غلط /درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@ہمیشہ
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@درست
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@درست
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@نہیں بلکہ میرے دوست بہت اچھے ہیں
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@یہی تو ایک بری عادت ہے
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@بالکل بھی نہیں
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@نہیں بلکہ مجھے زیادہ باتیں سننااچھا لگتا ہے
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@رب نے جو عطا کیا اس پر راضی ہو جائیے حقیقی خوشی کو پا لیں گے،

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@آپ کا شکریہ کہ جنہوں نے مجھے یہ اعزاز بخشا،مجھے اپنے آپ سے آگہی ملی۔

The post محمد اسلم فہیم سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

مصطفیٰ ملک سے شناسائی

منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ” مصطفیٰ ملک “ صاحب۔ آپ اپنا ذاتی بلاگ لکھنے کے ساتھ ساتھ گھریلو باغبانی کے موضوع پر بھی بلاگ لکھتے ہیں۔

خوش آمدید!

کیسے مزاج ہیں ؟

@الحمد اللہ

اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@میرا پورا نام ملک غلام مصطفیٰ ہے اور مصطفیٰ ملک کے نام سے لکھتا ہوں،تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں ،والدین حیات نہیں ہیں۔

آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟

@فیصل آباد ہی میں پیدا ہوئے اور ابھی تک یہیں رہائش پذیر ہیں

اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟

@بس واجبی سے تعلیم ہے جسے عرف عام میں گریجوایشن کہتے ہیں،والدین1947ء اپنا سب کچھ لٹا کرلدھیانہ انڈیا سے ہجرت کر کے آئے اور یہاں فیصل آباد آ کر آباد ہوئے،محنت مزدوری کر کے اوررزق حلال کما کر ہمیں تعلیم دلوائی،کاروبار اور گھربار بنا کے دیئے، ہم اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اس ماحول میں آنکھ کھولی جب ابھی ہجرت کرکے آنے والوں کو اپنے دکھ نہیں بھولے تھے ، میری ماں وہ دکھ سناتے ہوئے رو پڑتی تھی،

ا س لئے اس پاک دھرتی سےمحبت گٹھی میں ملی ہے۔

اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟

@ 2000ء کے آغاز میں جب انٹرنیٹ ذرا عام ہوا تو ایک اخبار کے سنڈے میگرین میں بلاگنگ پر ایک آرٹیکل نظر سے گزرا تھا ،تب اردو لکھنا (کم از کم میرے لئے) اتنا آسان نہ تھا، کوشش کی مگر کوئی سرا ہاتھ نہ آ سکا کہ بلاگ لکھ سکوں۔لکھنے کا شوق تو تھا اور اخبارات میں کچھ نہ کچھ چھپ بھی جاتا تھا۔ ایک دن سرچ کرتے ایم بلال ایم تک جاپہنچے ، اس کے بلاگ پر ورڈ پریس میں بلاگ بنانے کا آسان طریقہ اپناتے ہوئے پہلا باقاعدہ بلاگ بنایا،لاہور میں ہونے والی بلاگرز کانفرنس میں بلاگراحباب سے ملاقاتیں ہوئیں تو دوستوں نے اسے بلاگ سپاٹ پر منتقل کرنے کا مشورہ دیا جس کے لئے شاکر عزیز اور ایم بلال ایم اور ڈاکٹر ساجدنے مدد کی اور الحمد اللہ تب سے باقاعدگی سے بلاگنگ جاری ہے۔

کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟

@جی میں نے پہلے بتایا ناں کہ شوق ہونے کے باوجود بلاگ نہ بن سکا کیونکہ کوئی راہنمائی نہیں کررہا تھا اور میں کمپیوٹر میں بالکل کورا تھا ، بہت سے مقامی احباب سے بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کچھ نہ بن سکا،بالآخر بلاگر احباب ہی کام آئے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر بہت پہلے پلیٹ فارم حاصل ہوجاتا تو بہت پہلے یہ سلسلہ جاری ہوسکتا تھا،ا الحمد اللہ اب میں نے اپنا دوسرا باغبانی بلاگ تقریباً از خود ہی تیار کیا ہے ،محترم نجیب عالم سے کچھ راہنمائی حاصل کی ہے۔

بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟

@نہیں جی ،پہلے تو صرف بلاگ لکھنے کا ہی سوچاتھا مگر اردو بلاگر کانفرنس کے بعد اب خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد کو اردو بلاگنگ کی طرف راغب کیا جائے اور اس کے لئے عملی کوشش بھی کررہا ہوں،دو تین افراد کو باقاعدہ اردوبلاگنگ شروع بھی کروائی ہے

کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟

@ایم بلال ایم نے پاک اردو انسٹالر بنا کر اردو بلاگنگ کو آسان بنایا،میں اس کا احسان مند ہوں ۔جعفر ، ڈفر، محمد سلیم،راجہ صاحب اٹلی والے،یاسر جاپانی،مصطفیٰ خاور،کاشف نصیر،خرم ابن شبیر،علی حسان، شعیب صفدر ،ریاض شاہد، بزرگوارم افتخار اجمل، نعیم سوات ،بہت سے نام ہیں۔ سبھی اپنے ہیں اور بہت اچھا لکھتے ہیں لیکن ڈفر کے بارے میں میری رائے ہے کہ اگر تھوڑا سا سیریس ہوکر لکھیں تو اردو کو ایک بڑا مزاح نگار مل سکتا ہے۔

لفظ “ بلاگ ” سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟

@میں نے بتایا ہے کہ بہت پہلے بلاگ پر ایک آرٹیکل پڑھا تھا مگر کمپیوٹر کے بارے میں مناسب معلومات نہ ہونے کے سبب بلاگ نہ لکھ سکا

آپ باغبانی کے موضوع پر بھی بلاگ لکھتے ہیں اس بارے میں کچھ بتائیں کہ باغبانی پر بلاگ لکھنے کا خیال کیسے آیا ؟

@مجھے پچپن سے باغبانی کا شوق ہے اور وقت کی کمی ،محدود وسائل اور کم جگہ کے باوجود اسے کسی نہ کسی طرح جاری رکھا ہوا ہے، میں اس کی معلومات کے لئےہمیشہ کسی نہ کسی معلوماتی کتاب یا لٹریچر کی تلاش میں رہا مگر اردو میں گھریلو باغبانی پر نہ ہونے کے برابر لکھا گیا ہے،یونی کوڈ میسر آنے کے بعد گوگل پر بےانتہا سرچ کرنے پر بھی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا، میں نے اپنے بلاگ”مصطفےٰ ملک کا بلاگ” پر اپنے ایک گھر میں موجود ایک پودے کے بارے میں ایک تحریر لکھی تھی ،جسے دوستوں نے بہت سراہا اور اس سلسلہ کو جاری رکھنے کو کہا تو میں نے سوچا کہ چلیں مجھے تو اردو میں معلومات نہیں مل سکی ،آنے والوں کے لئے تو کچھ نہ کچھ کر جائیں تو ستمبر 2013 میں اس بلاگ پر پہلی تحریر لکھی اور الحمد اللہ اسے میری توقع سے زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی اور صرف چار ماہ میں نو ہزار وزیٹرز اور پھرمنظر نامہ ایوارڈ سے بہت حوصلہ افزائی ہوئی ہے،اب انشا ء اللہ یہ سلسلہ جاری رکھوں گا۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو باغبانی کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے ؟

@جی،صرف چار ماہ میں اس بلاگ اور اس کے فیس بک پیج کو احباب نے جتنا پسند کیا ہے اور مجھے فالو اپ دیا ہے بلکہ احباب نے اسے صدقہ جاریہ قرار دیا ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے لوگ اس کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ اسی بلاگ سے متاثر ہوکر چند احباب نےباقاعدہ اسی موضوع پر لکھنا بھی شروع کیا ہے اور کچن گارڈننگ پر تربیتی ورکشاپس کا بھی آغاز ہے ۔دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو دان طبقہ نے اسے بارش کا پہلا قطرہ قرار دیا ہے اور مجھے بتایا ہے کہ اس بلاگ سے متاثر ہو کر انہوں نے دوبارہ باغبانی شروع کر دی ہے۔

اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟

@جی اس وقت مجھے تو لگتا ہوتا ہے کہ تحریر میرے اوپر حاوی ہوری ہے، اگر اس کو نہ لکھا تو مجھ سے ناراض ہو جائے گی،سو تحریر مکمل کر کے ہی اٹھتا ہوں۔

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

@جی ،میں تو سمجھتا ہوں مجھے نئی زندگی مل گئی ہے،اللہ پاک نے کتنے محبت والے بلاگرز احباب دیئے ہیں ،چاہنے والے،پڑھنے والے قاری عنائت کردیئے ہیں ،جو تحریر پڑھ کے حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں ،دعائیں بھی دیتے ہیں،اس سے بڑا اور فائدہ کیا ہو سکتا ہے۔

آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟

@پہلی بات ہے کہ آپ کابلاگ تھیم جاذب نظر ہونا چاہیئے ، جو پہلی نظر میں دیکھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کر لے ، پھر میعاری تحریر اور میعاری تحریر کا فیصلہ ہم نے نہیں قاری نے کرنا ہوتا ہے، اپنے قاری کے مزاج کو ذہن میں رکھتے ہوئے تعصبات سے ہٹ کر لکھیں تو تحریر میعاری ہوگی انشاء اللہ۔

آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟

@جی نہیں ،لیکن پھر بھی بہت کام ہورہا ہے ،ایم بلال ایم اورآپ جیسے نوجوان اور بلاگر احباب اس محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟

@”اب” اردو میرا عشق ہے

آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟

@الحمد اللہ ، بہت کام ہورہا ہے اور تا قیامت ہوتا رہے گا اور اب تو ماشاء اللہ اردو بلاگر بھی شامل ہو گئے ہیں اس کی ترقی کے لئے۔

آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟

@انشاء اللہ ، آنے والے وقت میں اردو بلاگربہت اعلیٰ مقام حاصل کریں گےکیونکہ پوری دنیا میں بلاگنگ کو اہمیت دی جارہی ہے

باقی ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم تو اپنی ہتھیلیوں کی اوٹ میں ایک دیا لے کے بیٹھے ہیں کہ بھجنے نہ پائے تاکہ آنے والے اس کی لو سے لو جلا سکیں،کام اب انہوں نے کرنا ہے۔ ہمارے جیسے تو شائد آنے والے پانچ سالوں میں اللہ کو پیارے ہو چکے ہوں گے

کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟

@اردو بلاگنگ کے لئےایم بلال ایم اور آپ احباب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں بلکہ سچ بات تو یہ ہے کہ اگر میں بلال تک نہ پہنچتا تو شائد بلاگر نہ بنتا۔

آپ کے کام کا اجر اللہ کریم آپ کو دیں گے،میرا تو اردو بلاگرز کے لئے یہی پیغام ہے کہ اردو ،پاکستان اور اسلام سے محبت آپ کی پہلی ترجیح ہونی چاہیئے اور لسانی،صوبائی ، نسلی،مذہبی اور سیاسی تعصبات سے بالا تر ہو کر لکھیں

بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟

@بس اب لکھنا لکھانا ہی رہ گیا ہے، ایک نیوز آرگنائزیشن سے وابستہ ہوں،چھوٹا سا کاروبار بھی ہے،

آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟

@اب تو جی زندگی ہی گزر گئی ،اب مقصد کیسا ؟

جی بس ،ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن ادھوری تعلیم کے پچھتاوے نے ساری عمر ستائے رکھا

 

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟

@محسن انسانیت ،شہاب نامہ

2۔ شعر ؟

@ وقت اور حالات کے مطابق شعروں کا انتخاب بھی بدلتا رہتا ہے،

آج کل یہ شعر بہت پسند ہے ، شاعر کے نام کا تو علم نہیں

اک تیرا ہجر ، جو بالوں میں سفیدی لایا

اک تیرا عشق ، جو سینے میں جواں رہتا ہے

یا پھر نصیر ترابی کا شعر ہے

عداوتیں تھیں ، تغافل تھا ، رنجشیں تھیں بہت

بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا ، بے وفائی نہ تھی

3۔ رنگ ؟

@جب پینٹ شرٹ پہنتے تھے تو ہمیشہ نیوی بلیو اور نیلگوں کو اولین ترجیح دی، ایک وقت آیاسالہاسال تک صرف سفید شلوار قمیض ہی پہنا ،اب بھی شلوارقمیض کے لئے آف وائٹ،سرمئی یا ہلکے رنگوں کا انتخاب کرتا ہوں

4۔ کھانا ؟

@دال چاول ،

5۔ موسم

@خزاں

6۔ ملک ؟

@پہلےپاکستان پھر اگر موقع ملےتو برطانیہ

7۔ مصنف ؟

@سید مودودی ؒ ،اشفاق احمد ،مستنصر حسین تارڑ،

8۔ گیت؟

@پنجابی لوک گیت ، کوئی بھی ہو ، بس ان سے مجھے ماں کی محبت جیسی خوشبو آتی ہے

پرانی بھارتی لوک گلورہ سریندر کور کا ایک پنجابی لوک گیت

“مائیں نی مائیں میرے گیتاں دے نیناں وچ برہوں دی رڑک پوے

ادھی ادھی راتیں اُٹھ رون موئے مِتراں نوں

مائیں سانوں نیند نہ پوے”

9۔ فلم ؟

@کالج دور میں ایک فلم دیکھی تھی “میرانام ہے محبت ”

غلط /درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔

@درست

2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟

@جی بعض اوقات

3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟

@الحمداللہ،درست

4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@درست

5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟

@سوفیصد درست

6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟

@تقریباً

7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟

@نہیں ایسی کوئی بات نہیں

8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟

@تقریباً

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟

@بلاشبہ آپ اردو کی بڑی خدمت کررہے ہیں اور اس سلسلہ کو جاری رکھیں لیکن کوشش کریں کہیں بھی کوئی تعصب پیدا نہ ہو ، صرف اور صرف اردو کی ترویج و ترقی اولین ترجیح رہے۔ دوسرا منظر نامہ ایوارڈ کو ہر حال میں جاری رکھیں،نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور صحت مند مقابلہ کا رجحان بھی موجود رہے گا۔

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟

@وہی جو بابا جی اشفاق احمد فرمایا کرتے تھے ناں۔۔۔۔۔۔ “اللہ تعالی ہم سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے”"

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ

@جی شکریہ تو آپ کا ہے جو مجھے اس قابل سمجھا۔

The post مصطفیٰ ملک سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

منظرنامہ ایوارڈز2013: نتائج

آخر کار منظرنامہ ایوارڈز 2013 کا سلسلہ بھی اللہ کے فضل و کرم سے اپنے اختتام کو پہنچا۔ گو کہ منظرنامہ ایوارڈز کا یہ سلسلہ تقریباً 3 سال بعد شروع کیا گیا اور یہ ہمارے لیئے بہت بڑا چیلنج تھا کہ اسے بخیروعافیت سے انجام تک پہنچایا جائے اور اللہ کے فضل و کرم اور آپ کے تعاون سے ہم اس میں کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ایوارڈز کے سلسلہ کو نامزدگیوں سے لیکر پھر ووٹنگ اور اب نتائج تک لاکر ختم کیا گیا ہے اس دوران ہم نے بہت کچھ سیکھا اور ہم سے غلطیاں بھی ہوئیں جن سے ہم نے آئندہ کے لیئے بہت کچھ سیکھا ہے اور منظرنامہ ایوارڈز 2014 میں ہم پوری کوشش کریں گے کہ ایوارڈز کا نظام نئے سرے سے ترتیب دیا جائے اور نئے دور کے حساب سے مختلف ایوارڈز رکھے جائیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہےکہ تمام مشکلات کے باوجود ایوارڈز کا سلسلہ اچھے انداز اور طریقے سے ختم ہورہا ہے۔

اس سال بھی 2009 کے ایوارڈز کی طرح ووٹنگ کے لیئے ستاروں کا نظام رکھا گیا۔ اور جس نے سب سے زیادہ ستارے حاصل کیئے ایوارڈ کا حق دار وہی ہے۔ منظرنامہ ایوارڈز 2013 کے نتائج یہ ہیں۔

سال 2013 کا بہترین بلاگ:

علی حسان کے بلاگ اس طرف سے کو 72 ستارے ملے ، عمر بنگش کے بلاگ صلۂ عمر کو 61 ستارے ملے اور ریاض شاہد کے بلاگ جریدہ کو 37 ستارے ملے۔

اس طرح سال 2013 کے بہترین بلاگ کا ایوارڈ علی حسان کو دیا جاتا ہے۔

<a href="http://www.manzarnamah.com/2014/01/awards13-result"><img src="http://dl.dropboxusercontent.com/u/30799381/best-blog-manzarnamah.jpg"></a>

سال 2013 کا فعال ترین بلاگ:

محمد سلیم کے بلاگ کو 219 ستارے ملے ، ابوشامل کے بلاگ کرک نامہ کو 183 ستارے ملے اور بنیاد پرست بلاگ کو 59 ستارے ملے۔

اس طرح سال 2013 کے فعال ترین بلاگ کا یوارڈ محمد سلیم کو دیا جاتا ہے۔

<a href="http://www.manzarnamah.com/2014/01/awards13-result"><img src="http://dl.dropboxusercontent.com/u/30799381/faaltareen-blog-manzarnamah.jpg"></a>

سال 2013 کا بہترین نیا بلاگ:

مصطفیٰ ملک کے بلاگ گھریلو باغبانی کو 324 ستارے ملے ، سکندر حیات کے بلاگ گستاخیاں کو 271 ستارے ملے اور عدیل کے بلاگ طِب گردیاں کو 55 ستارے ملے۔

اس طرح سال 2013 کے بہترین نئے بلاگ کا ایوارڈ مصطفیٰ ملک کو دیاجاتا ہے۔

<a href="http://www.manzarnamah.com/2014/01/awards13-result"><img src="http://dl.dropboxusercontent.com/u/30799381/best-new-blog-manzarnamah.jpg"></a>

اس کے ساتھ ہی منظرنامہ کی جانب سے ایک خاص ایوارڈ پاک اردو انسٹالر بنانے  پر م بلال م کو دیا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کا مقصد حوصلہ افزائی ہے۔

<a href="http://www.manzarnamah.com/2014/01/awards13-result"><img src="http://dl.dropboxusercontent.com/u/30799381/special-award-manzarnamah.jpg"></a>

منظرنامہ کی جانب سے تمام جیتنے والوں کو مبارک باد اور بلاگ پر بیج دکھانے کے لیئے کوڈ بھی ساتھ آپ کی آسانی کے لیئے دے دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی منظرنامہ انتظامیہ ایوارڈز کو بہتر طریقے سے انجام دینے اور آپ کے تعاون  کے لیئے آپ سب کا شکریہ ادا کرتی ہے۔

ہمیں امید ہے کہ آئندہ بھی آپ اسی طرح تعاون کرتے رہیں گے اور مزید سے مزید بہتر بنانے میں ہمارا ساتھ دیتےرہیں گے۔

The post منظرنامہ ایوارڈز2013: نتائج appeared first on منظرنامہ.

منظرنامہ ایوارڈز2013: ووٹنگ

منظرنامہ ایوارڈز 2013 کی ووٹنگ کا آغاز آج سے کردیا گیا ہے۔ آپ اپنے پسندیدہ بلاگر کو ووٹ کرسکتے ہیں۔ ووٹنگ کے لیئے ستاروں کا نظام منتخب کیا گیا ہے اس نظام کے ذریعے آپ بلاگر کو اپنی پسند کے مطابق ووٹ کرسکتے ہیں۔ جس بلاگ کو ہر زمرہ میں زیادہ ووٹ ملیں گے اسے ایوارڈ کا حق دار قرار دیا جائے گا۔ جو بلاگر ایوارڈ کے لیئے منتخب ہوئے ہیں وہ اپنے لیئے ووٹ مانگ سکتے ہیں۔ ووٹ کوئی بھی شخص کرسکتا ہے۔ ووٹنگ کے دوران دھاندلی اور فیک ووٹ سے بچنے کا پورا انتظام ہے لیکن ہمیں امید ہے آپ فیک ووٹ کروانے اور کرنے سے پرہیز کریں گے۔

سال 2013 کا بہترین بلاگ

بلاگ اس طرف سے کے لیئے ووٹنگ

بلاگ جریدہ کے لیئےووٹنگ

بلاگ صلۂ عمر کے لیئے ووٹنگ

سال 2013 کا فعال ترین بلاگ

محمد سلیم کے بلاگ کے لیئے ووٹنگ

بلاگ کرک نامہ کے لیئے ووٹنگ

بلاگ بنیاد پرست کے لیئے ووٹنگ

سال 2013 کا بہترین نیا بلاگ

بلاگ گھریلوباغبانی کے لیئے ووٹنگ

بلاگ گستاخیاں کے لیئے ووٹنگ

بلاگ طِب گردیاں کے لیئے ووٹنگ

منظرنامہ انتظامیہ آپ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتی ہے۔

ووٹنگ کرنے کی آخری تاریخ 26 دسمبر 2013 ہے۔

The post منظرنامہ ایوارڈز2013: ووٹنگ appeared first on منظرنامہ.

منظرنامہ ایوارڈز 2013: نامزدگیاں مکمل

منظرنامہ ایوارڈز 2013 کے لیئے نامزدگیاں مکمل ہوگئی ہیں۔ جیسا کہ پچھلی تحریر میں آپ کو اپنے پسندیدہ بلاگ کو نامزد کرنے کا کہا گیا تھا اس سلسلے میں ہمیں جو نامزدگیاں آپ کی جانب سے موصول ہوئیں ان کی ترتیب یہ ہے۔

سال 2013 کا بہترین بلاگ نمبر بلاگ مصنف موصول نامزدگیاں 1 اس طرف سے علی حسان 5 2 جریدہ ریاض شاہد 3 3 صلۂ عمر عمر بنگش 3 4 آدھا جھوٹ دوہرا حے 2 5 نون و القلم نعیم خان 2 6 خاور کھوکھر خاور کھوکھر 2 7 حال دل جعفر حسین 2 8 گھریلو باغبانی مصطفیٰ ملک 2 9 کائناتِ تخیل نورین تبسم 1 10 ہم اور ہماری دنیا راجہ افتخار 1 11 عام بندے کا حال دل یاسر جاپانی 1 12 آئی ٹی نامہ محمد زھیر چوھان 1 13 جوانی پِٹّے کا بلاگ کاشف علی 1 14 ماہانہ کمپیوٹنگ میگزین بلاگ 1 15 پاک گلیکسی فخر نوید 1 16 آوازِ دوست شاکر عزیز 1 17 ڈفرستان ڈفر 1 سال 2013 کا فعال ترین بلاگ نمبر بلاگ مصنف موصول نامزدگیاں 1 محمد سلیم کا بلاگ محمد سلیم 4 2 کرک نامہ فہد کیہر 3 3 بنیاد پرست بنیاد پرست 3 4 اس طرف سے علی حسان 4 5 وجدان عالم وجدان عالم 2 6 نون و القلم نعیم خان 2 7 حال دل جعفر حسین 2 8 ارتقاءِ حيات تحریم طارق 2 9 شمال مشرق سے وحید سلطان 1 10 بازیچہ اطفال کاشف نصیر 1 11 کائناتِ تخیل نورین تبسم 1 12 میراپاکستان میراپاکستان 1 13 گھریلو باغبانی مصطفیٰ ملک 1 14 شیخو بلاگ نجیب عالم 1 15 گستاخیاں سکندر حیات 1 16 نوک قلم اسریٰ غوری 1 سال 2013 کا بہترین نیا بلاگ نمبر بلاگ مصنف موصول نامزدگیاں 1 گھریلو باغبانی مصطفیٰ ملک 6 2 گستاخیاں سکندر حیات 2 3 طِب گردیاں عدیل 2 4 ساجد نامہ ساجد شیخ 1 5 بابا جی کی بوٹی فیصل کریم 1 6 آدھا جھوٹ دوہرا حے 1 7 جوانی پِٹّے کا بلاگ کاشف علی 1 8 کائناتِ تخیل نورین تبسم 1 9 اس طرف سے علی حسان 1 10 لوگ کہانی – عام لوگ، خاص کہانیاں مبشراکرم 1 11 نون و القلم نعیم خان 1 12 ارتقاءِ حيات تحریم طارق 1 13 عامریت عامر منیر 1 14 انتر منتر عمار ابن ضیاء 1 15 خاور ہاشمی خاور نعیم ہاشمی 1 16 آوارہ گرد کی ڈائری ابرار قریشی 1 17 پِھر پُھر عمران اسلم 1

اس طرح ہر زمرہ میں پہلے تین بلاگز کو فائنل ووٹنگ کے لیئے شامل کیاجائے گا۔ اور ہر ایوارڈ کے لیئے ووٹنگ کے ذریعے ایک بلاگ کو منتخب کیا جائے گا۔ فائنل ووٹنگ کا آغاز دو دن بعد کردیا جائے گا۔ ووٹ کرنے کے لیئے رجسٹر ہونا ضروری شرط ہے اس لیئے ان دو دن میں منظرنامہ پر رجسٹر ہوجائیں تاکہ ووٹ کرتے وقت کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ رجسٹر ہونے کے لیئے یہاں کلک کریں۔

نوٹ:-

فعال ترین بلاگ کے لیئے علی حسان کو چار بار نامزد کیا گیا ہے لیکن بہترین بلاگ میں 5 بار اس طرح انہیں سال 2013 کے بہترین بلاگ کی ووٹنگ کے لیئے شامل کیا گیا ہے جبکہ سال 2013 کے فعال بلاگ کی ووٹنگ میں نہیں۔

اپڈیٹ:-

ووٹ کے لیئے ستاروں کا نظام منتخب کیا گیا ہے اور رجسٹر ہونے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔

The post منظرنامہ ایوارڈز 2013: نامزدگیاں مکمل appeared first on منظرنامہ.

منظرنامہ ایوارڈز 2013: آغاز و نامزدگیاں

ایک طویل عرصہ بعد یعنی 2009 کے بعد اور منظرنامہ کے دوبارہ فعال ہونے کے بعد اس سال یعنی 2013 کو گزشتہ سال 2008 اور 2009 کی طرح منظرنامہ ایوارڈز کا آغاز کیا جارہا ہے۔ منظرنامہ انتظامیہ کی کوشش ہوگی کہ ایوارڈز کا سلسلہ ہر سال جاری رکھا جائے اور اس میں مزید بہتری کی گنجائش پیدا کی جائے۔ منظرنامہ ایوارڈز کا فارمیٹ گزشتہ سال کے ایوارڈز جیسا ہی ہوگا۔ اگر آپ بھول چکے ہیں تو ہم پہلے یاد کروادیتے ہیں :)۔

منظرنامہ ایوارڈز 2013 کا آغاز اس تحریر کے شائع ہونے کے ساتھ ہی کردیا گیا ہے۔ طریقہ کار کچھ اس طرح ہے کہ آپ سال 2013 میں اردو بلاگنگ میں ہونے والی تمام سرگرمیوں پر نظر ڈالیں اور جو بلاگ آپ کی نظر میں منظرنامہ ایوارڈز کے نیچے دیئے گئے زمرہ میں پورا اترتے ہوں انہیں نامزد کردیں۔ منظرنامہ انتظامیہ کا فیصلہ ہے کہ اس سال بھی ایوارڈز صرف 3 ہی رکھے جائیں اور وہ ایوارڈز یہ ہوں گے۔اس کے علاوہ ایک سپیشل ایوارڈز بھی شامل ہوگا۔

1۔ سال 2013 کا بہترین بلاگ

2۔ سال 2013 کا فعال ترین بلاگ

3۔سال 2013 کا بہترین نیا بلاگ

آپ زیادہ سے زیادہ فی ایوارڈ تین نام نامزد کرسکتے ہیں۔ آپ کی جانب سے جو نام زیادہ نامزد ہوں گے تو ان کو ووٹنگ کے لیئے منتخب کیا جائے گا اور زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے بلاگر کو ایوارڈ کا حق دار قرار دیا جائے گا۔

یہ منظرنامہ ایوارڈز 2013 کا پہلا مرحلہ ہے اس کے بعد ووٹنگ کا آغاز کیا جائے گا۔

تو جلدی کریں اور اپنے پسندیدہ اردو بلاگرز کے نام نامزد کریں۔

نامزدگیاں جمع کروانے کی آخری تاریخ 10 دسمبر 2013 ہے۔

نامزدگیاں جمع کروانے کے لیئے یہاں کلک کریں۔

ہمیں امید ہے کہ آپ کا بھرپور تعاون ہمارے ساتھ شامل رہے گا اور آپ منظرنامہ ایوارڈز 2013 کا کامیاب بنانے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں گے۔

اپڈیٹ:

نامزدگیاں جمع کروانے کی آخری تاریخ 7 دسمبر 2013 سے بڑھا کر 10 دسمبر 2013 کردی گئی ہے۔

The post منظرنامہ ایوارڈز 2013: آغاز و نامزدگیاں appeared first on منظرنامہ.

وحید سلطان سے شناسائی

 منظرنامہ کے سلسلہ شناسائی کے آج کے مہمان ہیں اردو بلاگر ” وحید سلطان “ ۔ آپ ” شمال مشرق سے “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ ان سے شناسائی کا آغاز کرتے ہیں۔ خوش آمدید ! کیسے مزاج ہیں ؟ @الحمدُللہ ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @ نام وحید سلطان ہے اور بچپن سے آج تک اسی نام سے پکارا جارہا ہوں، اور ایک غیرسرکاری ادارے میں نوکری کررہا ہوں۔ آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟ @میری جائے پیدائش تو خانیوال ہے۔ والد صاحب سرکاری ملازم تھے جس کی وجہ سے بہت پہلے خانیوال سے ہجرت کرکے اسلام آباد شفٹ ہونا پڑا۔ جبکہ میں پچھلے آٹھ سال سے بسلسلہ روزگار لہور میں مقیم ہوں اور اب تو خود بھی تھوڑا بہت لہوری بن گیا ہوں۔ اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @بڑی زِگ زیگ تعلیم ہے میری، پہلے جینیٹک انجنیئرنگ(پلانٹس) میں ایم فِل کیا، اُس کے بعد سائیکالوجی میں ماسٹرز کیا اور پھرڈیفنس اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز میں کچھ ماہ لگانے کے بعد اُسےخیرباد کہہ کر نوکری میں پناہ ڈھونڈی۔ان دنوں پرائیویٹ ادارے کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ میں بطور پراجیکٹ ڈویلپمنٹ مینیجر کام کررہا ہوں۔ فیملی میں امّی،ایک بڑے بھائی ، بھابھی، اُن کے دو بچّے ۔ اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟ @ میں گوگل پر ایک دن “اِن پیج” ڈھونڈ تھا جس کی فائل کرپٹ ہوچکی تھی، تو گوگل نے مجھے “ایم بلال ایم” کے بلاگ کا راستہ دکھلا دیا جہاں اپنی طرز کی علیحدہ ہی دنیا آباد تھی۔ انگلش زبان میں میں نے دو چار دفعہ جینیٹکس اور سائیکالوجی پر لکھا تھا لیکن وہ سلسلہ جاری نہ رکھ سکا۔ اردو بلاگنگ نومبر دوہزار بارہ میں شروع کی۔ کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟ @پہلے مرحلے میں تو “H”کی جگہ”ح” اور “S” کی جگہ”س”لگانا سیکھا۔۔۔ اس کے بعد لکھ کے پوسٹ کرنا۔ پہلے پہل انگریزی کیلئے بنے سانچوں پر گزارا تھا لیکن بعد میں اسے بھی اردو کردیا۔ ایک دو بار البتّہ ڈفر صاحب نے بھی رہنمائی کی۔۔۔۔اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا۔ بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟ @میرا بلاگ بنیادی طور پر ڈائری بلاگ ہے جس میں اپنے روزمرّہ کے مشاہدات اور واقعات لکھتا ہوں، اور یہی میرا مقصد بھی تھا۔اردو بلاگنگ کے فروغ کیلئے تو کوئی ٹیکنیکل بندہ ہی کچھ کرسکتا ہے۔ ہاں البتہ انٹرنیٹ پر اردوالفاظ بڑھانے کی حد تک اردو بلاگنگ کو فروغ بھی دے رہے ہیں۔ کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟ @میں اردو بلاگنگ میں ہر بندے سے متاثر ہوں جیسے ڈفر صاحب کی بے باکی سے، جعفرحسین صاحب کی لفّاظی سے، علی حسان صاحب کے جملہ بنانے کےانداز سے، افتخار اجمل صاحب کا اپنے تجربات بیان کرنے کا انداز، بلال محمود صاحب کی پختگیِ تحریر، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سلسلہ بہت آگے تک چلتا ہے۔ میں ہر وہ تحریر پڑھتا ہوں جو بلاگر ز کی اپنی تخلیق ہوتی ہے، اور کئی کئی بار پڑھتا ہوں۔ لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟ @ دوہزار سات میں، ایک غیر ملکی اخبار کےبلاگ پیج سے۔ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟ @عام طور پر ایک ہی نشست میں، کیونکہ ایک بار جو خیالات کا تسلسل ٹوٹ جائے وہ بعد میں میّسر نہیں ہوتا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ @مجھےبلاگ کی صورت میں غبارِ دِل نکالنے کا ایک پلیٹ فام ملا ہوا ہے جو کافی سے بھی بہت زیادہ ہے، جبکہ بونس میں کئی نئے نئے خیالات رکھنے والے دوستوں سے سلام دُعا ہوگئی۔ آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟ @بلاگنگ کبھی بھی غیر معیاری نہیں ہوتی کیونکہ جو بلاگ ایک بندے کی نظر میں غیرمعیاری ہے، ہوسکتا ہے تین لوگ اسے پسند کررہے ہوں۔ میری نظر میں ہروہ بلاگ جو کاپی پیسٹ سے پاک ہو معیاری بلاگ ہے۔ آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟ @اردو کو جو مقام ملنا تھا وہ مِل چکا، اب اردو زبان مسلسل پیچیدگیوں کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ جن کی قومی زبان اردو تھی وہ ذہنی غلامی میں اس قدر دھنس گئے ہیں کہ اردو کو “اُرنگلش”بنا بیٹھے ہیں۔ویسےآپس کی بات ہے کہ اگر کوئی شخص گفتگو کے دوران چار پانچ انگریزی الفاظ نہ کہہ سکے، ہم اُسے پڑھا لکھا ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟ @اردو کے ساتھ میرا وہی تعلق ہے جو اسلام آباد کا پاکستان کے ساتھ، اور لہور کا تختِ لہور کے ساتھ۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟ @جو لوگ اسے بے لوث ہوکر فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں، اُن کے خلوص پر تو شک نہیں کیا جاسکتا لیکن وہ ہیں تھوڑے۔ اور جو پروفیشنل انداز میں خدمت کرنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، وہ فروغ دینے کی بجائے اس کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔چند ماہ پہلے ملک کے ایک معروف اخبار میں چھپنے والا کالم جس میں رومن رسم الخط کی وکالت کی گئی تھی، اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ بہرحال، اردو کی جڑوں میں بڑے بڑے نامیوں نے اپنا پسینہ بہایا ہے اس لئے “جیسی ہے، جہاں ہے”تو رہے گی ہی۔ آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟ @اردو بلاگرز کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کرجائے گی، اسی دوران ہوسکتا ہے ایک آدھ کانفرنس اور بھی ہوجائے۔ جبکہ میں اپنی روائتی غیرمستقل مزاجی کے سبب اپنے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟ @ جی بالکل “اردو کی خدمت کرنے کا اجر اللہ تعالیٰ کی ذات دے گی، کیونکہ برصغیر میں اس زبان نے اسلام کی بہت خدمت کی ہے”۔ بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ @فوٹوگرافی، پینٹنگ، پارک میں بیٹھ کر(دوسروں کے)بچّوں کو کھیلتے ہوئے دیکھنا۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟ @مقصدِ زندگی تو اتنے ہیں کہ زندگی ہی مقصدوں میں پھنسی پڑی ہے۔ البتہ خواہش ہے کہ پنتالیس سال کی عمر میں ریٹائر ہو کر اپنا بڑھاپا سانتیاگو میں گزاروں۔ اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔  پسندیدہ:  1۔ کتاب ؟ @شہاب نامہ – قدرت اللہ شہاب 2۔ شعر ؟ @اے طائرِ لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی – جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی۔ 3۔ رنگ ؟ @کالا اور آسمانی نیلا۔ 4۔ کھانا ؟ @بھنڈی۔ 5۔ موسم ؟ @خزاں 6۔ ملک ؟ @چلِّی 7۔ مصنف ؟ @پطرس بخاری، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد اور منٹو 8۔ گیت؟ @جو نہ مِل سکے وہی بے وفا – نُور جہاں 9۔ فلم ؟ @ Cast Away غلط /درست: 1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔ @درست 2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ @درست 3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟ @غلط 4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @غلط 5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟ @غلط 6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟ @غلط 7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟ @درست 8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @غلط منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟ @ جو سلسلے ہیں اُنہیں جاری رہنا چاہیئے، مزید ایک ایسا سالنامہ مرتب کیا جائے جس میں تمام اردو بلاگرز کی اُس سال لکھی جانے والی ساری تحریریں شامل ہوں۔ آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟ @حقیقت پسندی میں گزری ایک دن کی زندگی، سو سال کی خوابی زندگی سے بہتر ہے۔ اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ @آپ کا بھی بہت بہت شکریہ۔


DefSemiHidden="true" DefQFormat="false" DefPriority="99"
LatentStyleCount="267">
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Normal"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="heading 1"/>


















UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Title"/>

UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Subtitle"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Strong"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Emphasis"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Table Grid"/>

UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="No Spacing"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Shading"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light List"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Grid"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Dark List"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Shading"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful List"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Grid"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Shading Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light List Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Grid Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 1 Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 2 Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 1 Accent 1"/>

UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="List Paragraph"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Quote"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Intense Quote"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 2 Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 1 Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 2 Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 3 Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Dark List Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Shading Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful List Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Grid Accent 1"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Shading Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light List Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Grid Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 1 Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 2 Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 1 Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 2 Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 1 Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 2 Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 3 Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Dark List Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Shading Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful List Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Grid Accent 2"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Shading Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light List Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Grid Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 1 Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 2 Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 1 Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 2 Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 1 Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 2 Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 3 Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Dark List Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Shading Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful List Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Grid Accent 3"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Shading Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light List Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Grid Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 1 Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 2 Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 1 Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 2 Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 1 Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 2 Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 3 Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Dark List Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Shading Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful List Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Grid Accent 4"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Shading Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light List Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Grid Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 1 Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 2 Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 1 Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 2 Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 1 Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 2 Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 3 Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Dark List Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Shading Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful List Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Grid Accent 5"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Shading Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light List Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Light Grid Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 1 Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Shading 2 Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 1 Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium List 2 Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 1 Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 2 Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Medium Grid 3 Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Dark List Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Shading Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful List Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" Name="Colorful Grid Accent 6"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Subtle Emphasis"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Intense Emphasis"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Subtle Reference"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Intense Reference"/>
UnhideWhenUsed="false" QFormat="true" Name="Book Title"/>



/* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-priority:99; mso-style-qformat:yes; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt; mso-para-margin-top:0in; mso-para-margin-right:0in; mso-para-margin-bottom:10.0pt; mso-para-margin-left:0in; line-height:115%; mso-pagination:widow-orphan; font-size:11.0pt; font-family:"Calibri","sans-serif"; mso-ascii-font-family:Calibri; mso-ascii-theme-font:minor-latin; mso-fareast-font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-theme-font:minor-fareast; mso-hansi-font-family:Calibri; mso-hansi-theme-font:minor-latin; mso-bidi-font-family:Arial; mso-bidi-theme-font:minor-bidi;}

The post وحید سلطان سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

ریاض شاہد سے شناسائی

آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ” ریاض شاہد “ صاحب۔ آپ ” جریدہ “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ خوش آمدید ! کیسے مزاج ہیں ؟ مزاج بخیر ہیں۔ اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟ میرا نام ریاض شاہد ہے والد صاحب قبلہ نے اپنی جوانی کے دنوں میں فلمی ڈائیریکٹر ریاض شاہد اور نیلو کے شاہ ایرن کے اعزاز میں رقص سے حکومت کو انکار اور ان کی حب الوطنی پر مبنی مشہور فلمیں غرناطہ ، یہ امن اور زرقا وغیرہ سے متاثر ہو کر رکھا تھا ۔ آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟ سنٹرل پنجاب کے شہر پاکپتن کے ایک نواحی گاوں میں جنم لیاتھا اور ابھی بسلسلہ روزگار کوئٹہ میں ہوں۔ اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @میری تعلیم ایک طرح سے ٹیڑھی لکیر کی طرح چلتی رہی کیونکہ ابا جان بسلسلہ ملازمت اور پھر میں خانہ بدوشی کی زندگی گذارتے رہے ۔ تعلیم کے نام پر دیپال ور کے قریب ایک سرحدی قصبے سے پرائمری ، پانچویں گریڈ کے بعد ایک وہیں دینی مدرسے میں تین چار کی دینی تعلیم ، ائر فورس سے الیکٹرانکس میں ایک عدد ڈپلومہ، بی اے اور آئی ٹی میں ایک عدد ایم بی اے ہے ۔ والد صاحب شعبہ تعلیم میں معلم تھے ، اُس وقت دل میں تھا کہ میں بھی تعلیم کے شعبے میں پروفیسر بنوں گا لیکن میٹرک کے بعد کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایئر فورس میں بطور ٹیکنیشن شامل ہو گیا ۔ کوئی چھ برس وہاں رہنے کے بعد ایک دوسری پر کشش ملازمت مل گئی تو اسے خیرباد کہ دیا لیکن ائر فورس کے ادارے اور افراد نے جس لگن ، محنت اور محبت سے تربیت و رگڑا دیا وہ بعد میں کہیں نظر نہیں آئی ۔ تو اس کے چھوڑنے کا قلق و کسک ابھی تک دل میں موجود ہے اور میں اس ادارے کا مشکور بھی ہوں خصوصا میتھ کے انسٹرکٹر ونگ کمانڈر طارق کا کہ ان کی سی سادگی ، دیانت داری ، وعدے کی پاسداری، وقار ، پروفیشنل ازم اور محنت کرنے والا بعد کی زندگی میں نظر نہیں آیا۔ میری یادوں میں وہ لمحہ ابھی تک تازہ ہے جب آخری دن بیلٹ اتارتے ، اس پر لگے شاہین ،صحرا ست کہ دریا ست ، تہ بال و پر ما ست کے نشان کو بصد حسرت الوداع کہا تھا ۔ آباو اجداد قیام پاکستان سے ایک دو برس پہلے ہی مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آ گئے تھے ۔ہوا یوں کہ ددھیال کے بزرگوں کا وہاں ایک انگریز پادری سے کسی دینی مسئلے جھگڑا ہو گیا تو سب گاوں والوں نے مل کر اس پادری کی پٹائی کی ۔ انگریز سرکار کو خبر ہوئی تو بطور سزا پورا گاوں جلا کر سب کو دربدر کر دیا گیا۔ وہ تلاش معاش میں مشرقی پنجاب سے چلے تو دریائے ستلج کے ساتھ ساتھ نیچے کی جانب چلتے چلے گئے ۔ راستے میں ہر مقام پر دو چار گھرانے کسی نہ کسی جگہ اور گاوں پڑاو ڈالتے گئے ۔یوں باقی لوگ رزق کی تلاش میں چلتے چلتے ریاست بہالپور ، محراب پور اور قیام پاکستان کے بعد بدین تک جا پہنچے ۔ ننھیال والے بھی ددھیال کےقریبی رشتہ دار تھے لیکن امرتسر کے نواح میں ایک گاوں میں صدیوں سے مقیم تھے کہ انگریز سرکار کو موجودہ امرتسر ائر پورٹ بنانے کی سوجھی تو ان کی زرعی زمین کو بحق سرکار معمولی رقم پر ایکوائر کر لیا ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی نانا لیز کی رقم کی وصولی کے سلسلے میں ایک دو سال جاتے رہے لیکن بعد میں کشمیر کی جنگ وغیرہ کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا۔ تو یوں قیام پاکستان سے ایک برس قبل یہ گھرانا بھی پتوکی کے قریب ایک گاوں آن پہنچا ۔وہاں ایک ہندو ساہوکار سیٹھ اس زمانے میں کاشت کاروں میں زمینیں معمولی معاوضے پر تقسیم کر رہا تھا تو انہیں بھی کچھتحوڑی بہت زمین مل گئی اور وہ یہیں جم گئے ۔ ان کی پنجابی میں امرتسر کا لہجہ اور کلچر جھلکتا تھا تو ددھیال کے لہجے میں ساہیوالی لہجہ جو جھنگ اور ملتانی لہجے سے قریب ہے ۔ ابھی زیادہ برادری لاہور اور کراچی کے شہروں میں آباد ہے ۔ ویسے اہلیہ اہل زبان ہیں جن کے آباو اجداد نے شاہجہان پور لکھنو سے ہجرت کی تھی۔ اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟ @2000 ء میں شوقیہ کمپوٹر پروگرامنگ شروع کی تو اردو سوفٹویئر کی تیاری کے سلسلے میں نیٹ پر اردو سے متعلق مواد بھی آگاہی ہوئی ۔ پہلے پہل اجمل بھوپال اور خاور کے بلاگ سے آشنائی ہوئی ۔ ویسے بھی اردو سے لگاو بچپن سے تھا تو دو ہزار چھ میں ایک بلاگ بنایا لیکن ایک تو عدیم الفرصتی اور دوسرا سلو نیٹ سپیڈ اس میں حائل رہا ۔ پھر دو ہزار نو میں جب کسی قدر فرصت اور براڈ بینڈ نیٹ میسر ہوا تو اپنا بلاگ ورڈ پریس پر بنایا جو اب ایم بلال ایم کی مہربانی سے اپنے آزاد ڈومین پر چل رہا ہے ۔ ایم بلال ایم کی خدمات کو اردو بلاگنگ کے فروغ میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟ @اُس وقت تو دوسروں کی نقل میں صرف بلاگران میں شمولیت کا شوق تھا بلکہ جب بلاگ بنایا تو پتہ نہیں تھا کہ کیا لکھنا ہے اور قارئین کیا پڑھنا چاہتے ہیں بعد میں آہستہ آہستہ چلتے گئے بس ۔ کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟ @میں سمجھتا ہوں کہ تمام بلاگرز کا اپنا اپنا انداز ہے ۔ جیسے گلدستے کے ہر پھول کی علیحدہ مہک ، رنگ اور بو باس ہوتی ہے اسی طرح ہر بلاگر اپنے مزاج ، تعلیمی اور سماجی پس منظر کے مطابق لکھتا ہے تو اس لحاظ سے میں سب بلاگرز کی قدر کرتا ہوں ، دوستی کا خواہش مند رہتا اور سب کی تحاریر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں البتہ عنیقہ ناز مرحومہ (خدا انہیں جنت نصیب کرے ) عمر بنگش ، علی حسان ، ِ جعفر ، زُہیر چوہان ، ابرارا قریشی ، افتخار راجہ ، جاوید گوندل ، جوانی پٹا ، ساجد نامہ ، شاکر عزیز ، شعیب صفدر ، عدنان مسعود ، عامر(گوجرانوالوی ) ، وحید سلطان ، عمران اسلم ، ایم بلال ایم ، منیر عباسی اور یاسر جاپانی زیادہ پسند ہیں ۔ لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟ @سن دوہزار ایک میں۔ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟ @میں چونکہ کسی خاص تنظیم یا فلسفے سے وابستہ نہیں ہوں بلکہ صرف شوق کے لیئے لکھتا ہوں تو اس لیئے لکھنے کی تحریک ذرا اسی وقت ہوتی ہے جب فرصت میسر ہو ۔ پہلے بنیادی خیال دفتر ی اوقات میں ذہن میں آنے پر موبائل میں محفوظ کر لیتا ہوں اور بعد میں اگر طبیعت مائل ہو تو پوسٹ لکھ لیتا ہوں ۔ پوسٹ لکھنے میں تین چار گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں کہ لکھنا ، حوالے چیک کرنا اور تدوین وقت مانگتی ہے ۔ ویسے چونکہ میں بلاگ پوسٹ لکھنے اور شائع کرنے میں جلد باز ہوں ، بس کاتا اور لے دوڑی کا شکار رہتا ہوں تو تحریر میں خامیاں اور املاء کی غلطیاں بے شمار ہوتی ہیں جن پر بعد میں افسوس بھی ہوتا ہے ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ @مجھے اپنے آپ کو جاننے کا موقعہ ملا ہے کہ جب تک آپ کے خیالات چیلنج نہیں ہوتے آپ اپنے سچ کو آخری سچ سمجھتے ہیں ۔ بلاگنگ کی دنیا میں اس دور میں جب بحث و مباحثہ زیادہ ہوتا تھا تو اس وقت زیادہ سیکھنے کا موقعہ ملا البتہ اب دوست بشمول میرے بحث و مباحثہ سے پرہیز کرتے ہیں کہ آخر میں بحث معقولیت سے اتر کر ذاتی سطح پر اتر آتی ہے جو کہ کچھ اچھی علامت نہیں ہے ۔ ۔ دوسرا فائدہ ہوا کہ نئے دوست میسر آئے جن سے غائبانہ تعارف تو برسوں سے ہوتا ہے لیکن جب عملی زندگی میں ملنے کا بھی اتفاق ہوتا ہے تو کوئی حجاب محسوس نہیں ہوتا ۔ آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟ @میرے خیال میں معیاری بلاگ وہ ہوتا ہے جس سے پڑھنے والے کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی یا تحرک پیدا ہو اگر تحریر محض آپ کے منفی جذباتی ابال کا اخراج ہے ، اس سے آگے اور زیادہ کچھ نہیں ، مطالعے پر مبنی یا اس میں زبان کی چاشنی نہیں تو اس سے بہتر ہے کہ کچھ نہ لکھا جائے ۔ ایک اچھی تحریر کی عمر زیادہ ہونی چاہئیے تاکہ کچھ عرصہ بعد بھی کوئی اسے پڑھے تو اس کی تازگی برقرار ہو ۔ طعنو ں سے آج تک بشمول میرے کوئی نہیں سُدھرا تو ضروری ہے کہ لکھتے وقت قاری کی وہ عزت ذہن میں رکھی جائے جس کا وہ مستحق ہے کیونکہ بلاگ کو ہر ذہنی سطح کا قاری پڑھتا ہے ۔ آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟ @اس لحاظ سے تو مقام ملا کہ اس زبان کو طورخم کے پٹھان سے لے کے ٹھٹھہ کا سندھی تک سمجھتا اور بولتا ہے لیکن زبان کی پالیٹکس اور معاشی مفاد کی سیاست نے اسے پنپنے نہیں دیا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اردو زبان کی عملی حیثیت اب تقریبا ختم ہو چکی ہے اور ایک دو نسلوں کے بعد یہ ایک بولی کی سطح پر آ جائے گی بلکہ آ چکی ہے کیونکہ اگر کوئی زبان کسی ملک کی معیشت اور افراد کو سائینس ، ٹیکنالوجی ، شعر و ادب اور عملی زندگی میں موجودہ مسائل کے حل کے فلسفہ کے ذریعے سیراب نہیں کر رہی وہ زوال پذیر ہے ۔ جیسے پنجابی اور فارسی زبان کے ساتھ پنجاب میں ہوا ۔ اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟ @محبت کا۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟ @ مجھے نہیں پتہ کہ کون کتنا کام کر رہا ہے ۔ ابھی تک ایک ڈھنگ کی اردو سے اردو برقی لغت تو ہم بنا نہیں سکے ۔ البتہ بلاگنگ سے وابستہ حضرات قابل تعریف ہیں کہ بغیر کسی معاوضے کے اپنی بساط بھر کوشش میں مصروف ہیں ۔ آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟ @ میں اگرچہ قنوطیت پسند نہیں ہوں لیکن کہوں گا کہ اردو بلاگنگ وہیں کی وہیں کھڑی ہے ۔ کچھ عرصہ کوئی صاحب آ کر محفل کو گرماتے ہیں اور اس کے بعد چلے جاتے ہیں ۔ ان کے بعد کچھ اور نئے آ جاتے ہیں اور پھر مایوس ہو کر یا معاش کی جکڑ بندیوں کی وجہ سے اس ذہنی عیاشی سے توبہ کر لیتے ہیں ۔ پہلے بھی چند گنے چُنے لوگ تھے اور اب بھی اتنے ہی ہیں ۔ اردو بلاگنگ کو انگریزی اور مائکرو بلاگنگ سے سخت مقابلہ درپیش ہے جس میں بلاگرز کے لیئے فوری شہرت اور کسی حد تک پیسہ بھی ہے اگر سنجیدگی سے مسلسل کوشش نہ کی گئی تو اردو بلاگنگ اسی طرح چلتی رہے گی ۔ شوقیہ لکھنے والا سنجیدہ فیڈ بیک چاہتا ہے اگر وہ بھی اسے نہیں ملے گی تو پھر وہ اسے ایک بے فائدہ کام سمجھ کر الگ ہو جاتا ہے ۔ کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟ @ پیغام تو عظیم لیڈر دیتے ہیں ویسے بھی سارا میڈیا پیغامات سے بھرا پڑا ہے بس یہی کہوں گا کہ کوئی کوشش بھی چھوٹی نہیں ہوتی اور ہر کام کا معاوضہ زندگی میں فورا نہیں ملا کرتا ۔ قدرت ادھار بالکل نہیں رکھتی اور کسی نہ کسی مناسب وقت پہ حق ادا کر دیتی ہے ۔ بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ @ کتب بینی ، کمپیوٹر پروگرامنگ ، جاگنگ اور سونا۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟ @ مقصد تو اس وقت سمجھ آتا ہے نا جب انسان کی سوچ پیٹ کی سطح سے بلند ہو سکے فی الحال مجھ میں اتنی توفیق پیدا نہیں ہوئی کہ اس سے بلند ہو سکوں ۔ خواہش یہی ہے کہ زندگی میں توازن حاصل ہو جائے ، وہ کیا دعا ہے ربنا اتنا فی الدنیا ۔۔۔۔۔  اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔  پسندیدہ:  1۔ کتاب ؟ @ یوسفی کی آب گم 2۔ شعر ؟ @ میرے بلاگ کی ٹیگ لائن داغ دہلوی کا شعر ۔ کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے ، مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے 3۔ رنگ ؟ @ کریم کلر یا آف وائٹ 4۔ کھانا ؟ @ بریانی ، بینگن کا بھرتہ ، آلو گوشت کا سالن( شوربے والا) اور مونگ کی گھلی ہوئی دال بمعہ لسی 5۔ موسم ؟ @ سرد 6۔ ملک ؟ @ جرمنی 7۔ مصنف ؟ @ مشتاق احمد یوسفی ، عصمت چغتائی ، مستنصر حسین تارڑ ،اور علی عباس جلال پوری 8۔ گیت؟ @ اردو ۔ آ لوٹ کے آ جا میرے میت ، پنجابی ۔ میری چُنی دیاں ریشمی تنداں ، انگلش ۔ بونی ایم بینڈ کا اٹس ہالی ہالی ڈے 9۔ فلم ؟ @ پنجابی ہیر رانجھا ، اردو شری چار سو بیس اور انگریزی فلم El Cid جس میں چالز ہیسٹن اور صوفیہ لورین ہیرو ہیروئن تھے ۔  غلط /درست:  1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔ @ درست 2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ @ نغلط 3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟ @ درست 4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @ درست 5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟ @ نہیں (مگر صرف اہل دل کا ) 6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟ @ نہیں 7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟ @ ہاں 8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @ نہیں ( مگر ہم مزاج افراد کے ساتھ)  منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟ @ بلاگرز کے مقابلے منعقد کیئے بغیر منظر نامہ کا کوئی مقصد نہیں ہے چاہے اس کا انعام محض ایک عدد بیج ہی کیوں نہ ہو ۔ آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟ @ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ  اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ @ شکریہ کہ آپ نے عنایت کی ۔

The post ریاض شاہد سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

عمران اقبال سے شناسائی

 آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ” عمران اقبال “ صاحب۔ آپ ” عمرانیات “ کے عنوان سے اردو بلاگ لکھتے ہیں۔ خوش آمدید ! کیسے مزاج ہیں ؟ @ الحمدللہ۔۔۔ اللہ کا بڑا کرم اور احسان ہے۔۔۔ اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @ ایک عام سا انسان۔۔۔ اس سے بھی زیادہ اللہ کا عام بندہ۔۔۔ جس پر اللہ کا خاص فضل و کرم ہے۔۔۔ الحمدللہ آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟ @ جائے پیدائش تو لاہور کی ہے۔۔۔ موجودہ رہائش عرصہ 24 سال سے عجمان، متحدہ عرب امارات ہے۔۔۔ اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @ تعلیم: تعلیم کے بارے تو کچھ نا ہی پوچھیں۔۔۔ تعلیم سے انتہائی اختلاف کے باوجود، بی بی اے کیا اور پھر ایم بی اے بھی 90 فیصد ہو ہی گیا جو کچھ مجبوریوں کے باعث ادھورا چھوڑنا پڑا۔۔۔ پیشہ: عرصہ 10 سال سے مختلف آئل اینڈ گیس کمپنیوں میں کام کرتا رہا ہوں۔۔۔ فی الحال ناروے کی ایک کمپنی میں پرچیزنگ اور لوجیسٹک ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہوں۔۔۔ خاندانی پس منظر: والدین پیشہِ تعلیم و تدریس سے منسلک رہے۔۔۔ والد صاحب تو اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ والدہِ محترمہ اپنی صحت کی وجہ سے ریٹائرمنٹ لے چکی ہیں۔۔۔ ایک بھائی اور دو بہنوں کا اکلوتا بڑا بھائی ہوں۔۔۔ اور ایک ننھی پری کا والدِ ماجد ہوں۔۔۔ اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟ @ اردو بلاگنگ 2010 میں شروع کی۔۔۔ آئی فون میں کسی اللہ کے بندے کی بنائی ہوئی “اردو سیارہ” نام کی ایپلیکشن ڈاون لوڈ کی تو معلوم ہوا کہ بلاگنگ اردو میں بھی ہو رہی ہے۔۔۔ ورنہ اس سے پہلے کچھ بھی علم نہیں تھا۔۔۔ سانحہِ سیالکوٹ نے کافی پریشان کیا۔۔۔ اور جی چاہتا تھا کہ اپنے دل کی بھڑاس کہیں تو نکالوں۔۔۔ اسی تکلیف نے ورڈ پریس پر بلاگ بنانے اور لکھنے پر مجبور کیا۔ کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟ @ الحمدللہ مجھے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔۔۔ ایک لکھاری کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے “حوصلہ افزائی” کی۔۔۔ جو مجھے شروع سے ہی میسر رہی۔۔۔ اردو لکھنا مشکل لگتا تھا تو گوگل ٹرانسلیشن کی مدد لی۔۔۔ پھر نیٹ سے پرانی نسل کا اردو کی بورڈ انسٹال کیا جو بعد بھی بلال محمود صاحب کے پاک انسٹالر سے اپ ڈیٹ کر دیا۔۔۔ وہ وقت اور آج، اب اردو لکھنا آسان تر ہو گیا ہے۔۔۔ بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟ @ بلاگنگ شروع کرتےہوئے دماغ میں ایسا کچھ نہیں تھا۔۔۔ صرف اپنے دل کے احوال صفحہ پر اتارنا چاہتا تھا۔۔۔ یہ ادراک بعد میں ہوا کہ دل کابوجھ اتارنے کے لیے لکھنا سب سے آسان اور کارآمد مشغلہ ہے۔۔۔ اردو بلاگنگ کے فروغ کے لیے اب تک تو میں کچھ نہیں کر پایا۔۔۔ لیکن اگر موقع ملا اس کارخیر میں حصہ لینا میرے لیے فخر کا باعث ہو گا۔۔۔ کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟ @ بہت سے بلاگرز ایسے ہیں، جن کو پڑھ کر ہی لکھنا سیکھا۔۔۔ مرحومہ عنیقہ ناز کا شدید نقاد ہونے کے باوجود میں ان کی تحاریر کو بہت پسند کرتا تھا۔۔۔ اللہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔ جعفر حسین، یاسر خوامخواہ جاپانی، کاشف نصیر، وقار اعظم ، محمد سلیم صاحب اور انکل ٹام کو بہت پڑھا اور سراہا ہے۔۔۔ آجکل عمر بنگش صاحب کی تحاریر کو پڑھنے اور سر دھننے میں مصروف ہوں۔۔۔ کئی بار تنقید بھی کرتا ہوں اور کئی بار تعریف کے لیے لفظ ہی ڈھونڈتا رہ جاتا ہوں۔۔۔ میں ببانگِ دہل یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر عمر بنگش کو صحیح رہنمائی مل گئی تو وہ آج کےمنٹو ہیں۔۔۔ ایک بلاگر جو اپنے ٹیلنٹ کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے، وہ ڈفر ہے۔۔۔ اگر وہ “سنجیدگی “سے “مزاح ” لکھنا شروع کر دے تو بہت کامیاب ہوگا۔۔۔ لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟ @ بلاگ سے شناسائی تو کافی پرانی ہے۔۔۔ کچھ انگریزی بلاگز کو کافی عرصہ پڑھتا رہا ہوں۔۔۔ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟ @ میری تحاریر جو قاری پڑھتے ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اب میں زیادہ تر “اپنی ڈائری” کے طور پر لکھتا ہوں۔۔۔ اپنی زندگی کے محسوسات اور جذبات لکھتا ہوں۔۔۔ اس لیے پہلے کی نسبت کم لکھتا ہوں۔۔۔ اور جب لکھتا ہوں تو ایک ہی نشست میں لکھتا جاتا ہوں اور اسی نشست میں پوسٹ بھی کر دیتا ہوں۔۔۔ میری ایک ہی تحریر (عجب چیز ہے لذتِ آشنائی) ایسی ہے جو میں نے مختلف اوقات میں مکمل کی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ @بلاگنگ سے مجھے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اپنے دل و دماغ کا غبار میں آسانی سے اپنے بلاگ پر منتقل کر دیتا ہوں۔۔۔ باوجود یہ کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ میرے پیغام کو اس طرح سمجھ نہیں پاتے جیسا میں سمجھانا یا کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ مزید یہ کہ بلاگنگ کی وجہ سے میں کئی اچھے دوستوں سے مل سکا ہوں۔۔۔ یقین جانئیے، اردو بلاگرز بڑے اچھے لوگ ہیں۔۔۔ آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟ @ میں تو آج تک لفظ “بلاگ” کا اصل معنی ہی سمجھ نہیں پایا۔۔۔ معیاری بلاگ کے بارے صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں، کہ جہاں قاری ، بلاگر کے تجربے سے کچھ نیا سیکھ سکے یا اپنی معلومات میں اضافہ کر سکے۔۔۔ آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟ @اگر آپ کے سوال کا مطلب “اردو بلاگنگ کامقام” ہے تو اردو بلاگرز کی اکثریت اس وقت کنفیوز ہے کہ کیا لکھیں جو قاری شوق سے پڑھ سکیں۔۔۔ اگر آپ غور کیجیے تو اس وقت اردو بلاگنگ کےپڑھنے والوں کی اکثریت صرف دو تین بلاگرز کو ہی پڑھ رہی ہے۔۔۔ اور وہ بلاگز بھی ایسے ہیں جو چار پانچ سال پرانے ہیں۔۔۔ بدقسمتی سے نئے بلاگرز اپنی وہ “فین فالوونگ” نہیں بنا پائے۔۔۔ جو بننی چاہیے تھی۔۔۔ جب ان کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تو جو حضرات “کامیاب” بلاگرز ہیں، وہ اُن کا ہاتھ نہیں تھامتے۔۔۔ ایمانداری سے کہوں تو اردو بلاگنگ کو دوام بخشنے میں جن چند حضرات کا ہاتھ ہے۔۔۔ اس کے زوال میں بھی انہیں حضرات کا قصور ہے۔۔۔ میری اس بات کو سمجھنے والے سمجھ جائیں گے۔۔۔ مزید کہنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟ @ اردو سے میرے تعلق کو اگر کوئی نام دیا جائے۔۔۔ تو وہ “ضرورتِ زندگی ” ہے۔۔۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟ @جی نہیں۔۔۔ بلکل بھی نہیں۔۔۔ پہلی بات تو یہ کہ اردو بلاگنگ کے لیے کام ہو کہاں رہا ہے۔۔۔ اگر آپ بلال محمود صاحب کے “انسٹالر” اور “بلاگنگ مینوئل” کی کاوش کو علیحدہ رکھ دیں۔۔۔ تو کام ہو کہاں رہا ہے۔۔۔ اگر فیس بک پر مختلف صفحات اردو میں بنانے کو “کام” کہتے ہیں تو معذرت سے کہوں گا کہ یہ کام کوئی کام نہیں۔۔۔ ماضی کے بارے میں اتنا علم نہیں۔۔۔ لیکن مختلف کتابوں کو اردو ٹائپ کرنے کا ایک پروجیکٹ شروع ہواتھا کبھی۔۔۔ وہ ایک “کام کا کام” کہا جا سکتا تھا۔۔۔ آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟ @ کہیں بھی نہیں۔۔۔ اردو بلاگرز کی کوانٹیٹی (تعداد) بڑھ جائے گی اور کوالٹی تیزی سے گر جائے گی۔۔۔ ویسے ہو تو یہ اب بھی رہا ہے۔۔۔ کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟ @ کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں کو میں سلام اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔۔۔ جن میں بلال محمود صاحب سرِ فہرست ہیں۔۔۔ محدود زرائع کے باوجود بلال نے اردو کی انتہائی کارآمد خدمت کی ہے۔۔۔ بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ @ بلاگ کے علاوہ بہت سے مصروفیات ایسی ہیں، جو ہو سکتی تھیں لیکن اب نہیں ہیں۔۔۔ آفس۔۔۔ گھر۔۔۔ اور پھر آفس۔۔۔ یہی روزانہ کا معمول ہے۔۔۔ دوسری مصروفیات پالنے کا وقت ہی میسر نہیں رہا۔۔۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟ @ زندگی کے بہت سے مقاصد ہیں۔۔۔ جن میں ایک مقصد ‘واقعی اچھی تحریر” لکھنا ہے۔۔۔ اور معاشی حالات نے اجازت دی تو متحدہ عرب امارات میں امریکی سپانسرڈ “اردو بلاگرز کانفرنس” منعقد کروانا ہے۔۔۔  اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔   پسندیدہ:  1۔ کتاب ؟ @ بہت سی ہیں۔۔۔ جن میں راجہ گدھ، علی پور کا ایلی، الکھ نگری ، شہاب نامہ اور مفتیانے شامل ہیں۔۔۔ 2۔ شعر ؟ @ پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ ہے تیرا کرم۔۔۔ مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا۔۔۔ 3۔ رنگ ؟ @ سفید، کالا اور ہلکا نیلا 4۔ کھانا ؟ @ چکن اچاری، حلیم، نہاری، پائے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ 5۔ موسم ؟ @ گرم علاقے میں رہنے کی وجہ سے موسمِ سرما۔۔۔ 6۔ ملک ؟ @ متحدہ عرب امارات 7۔ مصنف ؟ @ ممتاز مفتی 8۔ گیت؟ @ فیض احمد فیض کا لکھا ہوا اور ٹینا ثانی کی آواز میں۔۔۔ “دشتِ تنہائی” 9۔ فلم ؟ @ A Walk to Remember  غلط /درست:  1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔ @ درست 2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ @ درست 3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟ @ درست 4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @ غلط 5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟ @ یہ تو میرے دوست ہی بتا سکتے ہیں کہ میں اچھا دوست ہوں یا نہیں۔۔۔ ویسے میں اچھا دوست بننے کی کوشش ضرور کر رہا ہوں۔۔۔ 6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟ @ غلط 7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟ @ غلط 8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @ درست اور غلط۔۔۔ ماحول اور ساتھ پر انحصار کرتا ہے۔۔۔  منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟ @ اچھا قدم ہے۔۔۔ مزید ورائٹی لائیں۔۔۔ یعنی انٹرویوز کے علاوہ تحریری مقابلے اور ایوارڈ زوغیرہ  آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟ @ زیادہ سے زیادہ پڑھیں تاکہ اچھا لکھ سکیں۔۔۔  اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ @ بہت شکریہ

The post عمران اقبال سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

نجیب عالم سے شناسائی

آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں اردو بلاگر جناب ” نجیب عالم “ صاحب ۔ آپ پیشہ کے لحاظ سے صحافی بھی ہیں اور اردو بلاگنگ بھی کرتے ہیں۔ آپ ” پردیسی“ کے نام سے بلاگ لکھتے ہیں۔ خوش آمدید ! کیسے مزاج ہیں ؟ @ الحمدللہ اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @ سادہ سا بندہ ہوں جی ۔۔ نام نجیب عالم ، پردیسی ، ناجی اور شیخو سے نام سے بھی جانا جاتا ہوں۔ پیشہ ۔۔ بہت سے کام کئے۔۔آج کل جو ہے وہ صحافت اور ویب ڈویلپنگ ۔۔۔ حالانکہ دونوں شعبوں کا آپس میں کوئی میل نہیں مگر روٹی روزی کے چکر میں دونوں کر رہا ہوں۔ آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟ @ لاہور اور موجودہ رہائش بھی لاہور ہی میں ہے۔ اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @ بی اے ، پیشہ ، صحافت اور ویب ڈویلپنگ سفید پوش بندے ہیں جی۔ اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟ @ دو ہزار پانچ ۔۔۔ اردو محفل سے اس طرف بلاگنگ کی دنیا میں آیا ۔ بلاگنگ کی دنیا میں پردیسی بلاگ کے نام سے سب سے پہلے اردو یونیکوڈ قرآن پاک کے ترجمے کا آغاز کیا ۔۔۔ سا تھ ہی چولیں مارنے اور دل کی بھڑاس نکالنے لئے ایک عدد شیخو بلاگ کے نام سے اپنے دوسرے بلاگ کا آغاز بھی کیا۔ کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟ @ ویب کی زبان سے واقفیت کی بنا پر مجھے کوئی خاص مشکلات پیش نہیں آئیں ۔شروع میں لوگوں کو مفت بلاگ ،اردو کی مفت ویب سائٹ اور ورڈ پریس کے بے شمار سانچے ڈھال کر دئے ۔ بعد آزاں اسی کو کاروبار بھی بنایا اور الحمدللہ اس سے لا کھوں کمائے ۔۔۔ اور تاحال یہ سفر جاری و ساری ہے۔اب تو اسی کو ہم نے اپنا پیشہ بھی بنا لیا ہے۔ بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟ @ بلاگنگ شروع کرتے وقت صرف یہ سوچا تھا کہ اسلامی تعلیمات خصوصاً قرآن کی تعلیمات کو یونیکوڈ یعنی تحریری اردو میں زیادہ سے زیادہ عام کرنا ہے۔مگر بعد میں دنیا کے جھمیلوں اور ویب کی دنیا میں پیسہ کمانے کی خاطر ایسے راغب ہوئے کہ پردیسی بلاگ کا مشن ادھورا رہ گیا اور اب تک ادھورا ہے۔ کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟ @ پرانے بلاگرز سے ۔۔۔اور زیادہ تر انہیں کو میں اب تک پڑھتا بھی ہوں کیونکہ ان کی تحریروں میں جان ہے ، تجربہ ہے ایک سوچ ہوتی ہے جو سیدھے راستے کا پتہ دیتی ہے۔ ۔اب تو ماشااللہ نئے اور کچھ نوجوان بلاگرز بھی بڑی کمال کی تحریریں لکھ رہئے ہیں ۔ پرانے بلاگرز میں سے زکریا اجمل ،نبیل نقوی،جہانزیب اشرف،قدیر ملتان والے،شاکر عزیز،افتخار اجمل بھوپال،افضل صاحب میرا پاکستان والے،خاور کھوکھر،راجا افتخار خان،شعیب صفدر ، منیر احمد طاہر اور بد تمیز قابل ذکر ہیں ۔ درمیانی مدت اور آجکل کے نئے بلاگرز میں سب ہی اچھے ہیں ان کا اگر میں فرداً فرداً نام لوں تو میری یاداشت سے بہت سارے نام رہ جائیں گے جس سے آپ جیسا کوئی شہزادہ ناراض ہو سکتا ہے۔ لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟ @ دوہزار تین اور چار کے درمیان ۔۔۔ زکریا اجمل کے ویب لاگ کو پڑھنے کے بعد۔ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟ @ کوئی خاص مر حلہ نہیں ۔۔۔ بس جس واقعہ یاسوچ پر لکھنا ہو تو بے دھڑک لکھ دیتا ہوں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ @ مجھے تو جو فائدہ ہوا ہے وہ زیادہ تر مالی ہے۔۔۔ اب لوگوں کو میری تحریروں سےکہاں تک یا کیا فائدہ ہوا ہے وہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔ آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟ @ جس پر آپ اپنی سوچ کا کھلے دل سے اظہار کریں ۔۔۔چاہے اس سوچ یعنی تحریر پر کوئی تبصرہ ملے یا نہ ملے۔ باقی اگر آپ معیاری بلاگ میں کسی قسم کے فیچر یا خوبصورتی کی بابت پو چھ رہے ہیں تو میری نظر میں ایک معیاری بلاگ میں اس کی کو ئی اہمیت نہیں ہے۔ آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟ @ جی ہاں ،،، بہت زیادہ ۔۔۔ مگر ابھی اردو نے انٹرنیٹ پر بہت سی ترقی کی منازل طے کرنی ہیں ۔۔۔ یہاں میں اردو کی ترقی میں مین کردار ادا کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ جن میں اردو لائف کے شیخ امجد ، زکریا اجمل،نبیل نقوی،قدیر ملتانی، جہانزیب اشرف،امانت علی گوہر ۔۔ جس نے سب سے پہلے انپیج ٹو یونکوڈ اور یونیکوڈ ٹو انپیج کنورٹر بنایا ۔شارق مستقیم ۔۔۔ جس نے ونڈو ۹۸ اور ونڈو ایکس پی کے لئے سب سے پہلا اردو انسٹالر بنایا ۔۔ شارق مستقیم کی بدقسمتی اور ہماری ناالی کہ ہم اس کی صحیح تشہیر نہ کر سکے ۔ اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟ @ بہت زیادہ ۔۔۔ میں خود کو ویب کی دنیا میں سب سے پہلے اردو ویب سائٹ بنانے والا بھی کہتا ہوں ۔۔۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ میں نے شروع میں تو مفت کام کیا مگر بعد آزاں میں نے اسے اپنا کاروبار بنایا ۔ جس کی وجہ سے میں نے اردو کی دنیا میں کبھی کوئی کریڈٹ نہیں لیا۔ اور نہ ہی لینا چاہتا ہوں کیونکہ میرا کریڈٹ وہ پیسہ تھا جو میں نے کمایا یا کما رہا ہوں۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟ @ جی بالکل اطمینان بخش ہے۔ آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟ @ اس میں پروفیشنل ازم آ جائے گا ۔۔ سچے بلاگرز صرف نام کے رہ جائیں گے۔ کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟ @ اردو کی خدمت انجام دینے والوں کو بس اتنا کہوں گا کہ اردو کے لئے نیک نیتی سے کام کریں چاہے وہ کام پیسے لے کر کریں۔ اردو بلاگرز کے لئے اتنا کہوں گا کہ جو آپ سوچتے ہیں وہ لکھیں اور کھل کر لکھیں ۔۔ اگر ڈر کر لکھنا ہے تو بلاگنگ چھوڑ کر فیس بک پر چیٹ کریں۔ بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ @ بیوی کی خدمت کرنا۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟ @ زندگی کا مقصد ۔۔۔ سیدھے راستے پر چلنا ۔۔ مگر بار بار بھٹک جاتا ہوں ۔۔۔ الحمدللہ کوئی خواہش نہیں ۔۔جو جو خواہش کی اللہ تعالیِ نے اسے پورا کر دیا ۔ اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔  پسندیدہ:  1۔ کتاب ؟ @ قرآن ۔۔ مگر نا اہل ہوں ،، کم پڑھتا ہوں 2۔ شعر ؟ @ احساس کے انداز بدل جاتے ہیں ورنہ آنچل بھی اک تار سے بنتا ہے کفن بھی 3۔ رنگ ؟ @ سفید 4۔ کھانا ؟ @ سب کھا لیتا ہوں 5۔ موسم ؟ @ بہار 6۔ ملک ؟ @ پاکستان 7۔ مصنف ؟ @ سعادت حسن منٹو 8۔ گیت؟ @ موڈ اور موسم کے لحاظ سے سنتا ہوں 9۔ فلم ؟ @ امراوّ جان ادا  غلط /درست:  1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔ @ درست 2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ @ غلط 3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟ @ غلط 4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @ درست 5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟ @ درست 6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟ @ غلط 7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟ @ غلط 8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @ غلط  منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟ @ انٹرویو سیکشن کو اگر ویڈیو نہیں تو آڈیو میں بھی ہونا چاہئے ۔ آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟ @ آپس میں بھائی چارے سے رہو اور پاکستان سے محبت کرو ۔ اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ @ آ پ کا بھی شکریہ۔

The post نجیب عالم سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

یاسر "خوامخواہ جاپانی" سے شناسائی

منظرنامہ کے آج کے مہمان اردو بلاگر جناب یاسر ” خوامخواہ جاپانی “ ہیں ۔ آپ ہیں تو پاکستانی لیکن جاپان میں رہنے اور جاپانی شہریت کی وجہ سے خوامخواہ جاپانی ہیں :) ۔ آپ ” عام بندے کا حال “ کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں ۔ خوش آمدید !
کیسے مزاج ہیں ؟
@الحمد اللہ ، کُلُ بندہ خوش باش
اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@جی، میں خوامخواہ جاپانی ہوں
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
@کے پی کے ، کے ضلع ایبٹ آباد میں کاشت کیاگیا ہوں اور اس وقت جاپان میں خودرو جھاڑیوں کیطرح “پل” رہا ہوں۔
اپنی تعلیم، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
@تعلیم میٹرک پاس (سچی مچی پاس کی تھی فیل نہیں ہوا تھا)
خاندانی پس منظر ۔۔۔۔۔پاکستان کے ہزاروں لاکھوں پسماندہ خاندانوں کیطرح “پس ماندہ” ہی ہے۔ یعنی “ترکاری ” ہے تو “آٹا”نہیں ، “آٹا” حاضر تو “ترکاری ” غائب، اب تو خبر آئی ہے صدر “ترکاری” بھی توپوں کی سلامی میں رخصت ہوئے ہیں۔
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
@اردو بلاگ تو کافی عرصے سے پڑھ رہا تھا۔بس ایک دن “جعفر ” اور “عمر بنگش” کا بلاگ پڑھ رہا تھا ،کہ دماغ خراب ہو گیا ہو اور بلاگنگ شروع کر دی۔یعنی “قصور ” ان دونوں کا ہے۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
@ کوئی مشکل پیش نہیں آئی ، بلاگ سپاٹ پر بلاگ بنایا۔ اور م بلال م کے بلاگ سے فونٹ اور کی بورڈ ڈاؤنلوڈ کر کے لکھنا شروع کردیا۔
پھر شاید پڑھنے والوں کو “مشکلات” کا سامنا کرنا پڑا تو “خدائی فوجدار” مولوی “وقار اعظم” کو کانوں سے پکڑ لیا۔ بیچارا ابھی بھی بھگت رہا ہے۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
@کچھ نہیں سوچا تھا۔ کوئی مقصد بھی نہیں تھا اور نہ ہی ہے۔بس موڈ خراب ہوتا ہے تو یعنی “مغلظات” سے پرہیز کرنے کیلئے “بکواسیات” لکھ دیتے ہیں۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟
@مجھے کیا اتنا “کمزور ” سمجھ رکھا ہے کہ ایسا سوال کر رہے ہیں؟ میں متاثرین میں نہیں ہوتا۔ تمام میرا بلاگ پڑھنے والے بلاگرز “متاثرین” ہیں علاج معالجہ اپنے پیسے سے کروائیں۔ سب بلاگ دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔۔شرط صرف اتنی ہے کہ کاپی پیسٹ نہ ہو۔
لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
@ہیں؟۔۔۔۔۔ جب سے ہوم پیج یا سائیٹ کو بلاگ کہا جانا شروع ہوا۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟
@ایک بار “ورڈ ” پر لکھتا ہوں ، اور پھر بلاگ پر پیسٹ کر دیتا ہوں۔۔قسطوں میں بہت کم لکھتا ہوں۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
@ جی بہت فائدہ ہوا۔۔سوچوں کے انتشار سے جان چھوٹی! بلاگ لکھنے والے دوست ملے ، اور مجھے انتہائی عزیز بھی ہیں،مجھے ایسا لگتا ہے، کہ یہ سب میری “زندگی” کا حصہ ہیں۔ میں “دل” کی باتیں ان سے کر لیتا ہوں۔ ان کے سامنے اپنے آپ کو “بنا سجا” کر رکھنے کی ضرورت نہیں۔ الٹا سیدھا لکھنے کی باوجود یہ سب میری دل کی باتیں سمجھتے ہیں۔۔اس سےبڑا مفاد دنیا میں کچھ ہے؟
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
@”من” سے لکھی تحاریر جس بلاگ پر ملے۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
@جی کیوں نہیں! میں اردو میں بلاگنگ کرتا ہوں۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟
@میری شہریت جاپانی ہے، جاپانی زبان میری “گھریلو” ضرورت ہے۔ اور “اردو” میری “قومی” زبان ہے۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
@جاری رہنے والا “کام” اطمینان بخش ہوجائے تو “دلچسپ” نہیں رہتا۔ ابھی تو “گلابی” انگریزوں سے “رومن اردو” بھی چھڑوانی ہے۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟
@ گالی گلوچ ،لعنت ملامت ، سے ترقی کرکے ، اغوا برائے تاوان ، لات مکا، قتل و غارت ،خودکش حملے ، کرتے ہوتے دیکھ رہا ہوں۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
@ اپنے “شوق” کیلئے “جستجو” جاری رکھئے، آپ نے یہ شوق نہ پالا تو کوئی اور پال لے گا۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
@روٹی روزی کمانا اور کھانا، “دوڑ” لگانے کا شوق ان چند سالوں میں عروج پر ہے۔دیکھئے کب اکتاتے ہیں۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟
@زندگی کا مقصد ابھی تک سمجھ نہیں آیا۔خواہش۔۔۔۔۔۔۔یہاں پر نہیں بتا سکتا۔ڈفر سے پوچھ لیں۔

اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔

پسندیدہ:

1۔ کتاب ؟
@الکیمسٹ (راجہ جی اٹلی والی سرکار کو جو پسند ہے وہی والی)
2۔ شعر ؟
@انداز جوانی ہے زرا جھوم کے چلتے ہیں  لوگ سمجھتے ہیں”روشن خیال” بنتے ہیں
3۔ رنگ ؟
@سفید
4۔ کھانا ؟
@زیتون کے تیل میں لہسن اور نمک میں بھونا ہوا بکرے کا گوشت
5۔ موسم ؟
@سرما
6۔ ملک ؟
@نیوزی لینڈ
7۔ مصنف ؟
@ابو اعلی مودودی
8۔ گیت؟
@ٹووینکل ٹووینکل لٹل سٹار
9۔ فلم ؟
@گاڈ فادر

غلط /درست:

1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
@درست
2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
@غلط(اب پچھتائے کا ہوت)
3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
@غلط
4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@درست
5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟
@غلط
6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
@غلط
7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟
@درست(سچی مچی)
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
@غلط

منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟
@یہ منظر نامہ ہے کیا؟

آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
@خوش رہنے کیلئے “وجوہات” تلاش کرتے رہا کریں رونے کیلئے تو “جینا” ہی کافی ہوتا ہے

اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@جی کوئی بات نہیں۔ میں اچھا بندہ ہوں احسان کر ہی دیتا ہوں۔

The post یاسر "خوامخواہ جاپانی" سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

راجہ افتخار خان سے شناسائی

آج کے منظرنامہ کے مہمان ہیں جناب راجہ افتخار خان صاحب ۔آپ ڈاکٹر ہونےکے ساتھ ساتھ اردو بلاگر بھی ہیں اور ” ہم اور ہماری دنیا “ کے عنوان سے بلاگ لکھتے ہیں ۔ خوش آمدید ! وعلیکم خوش آمدید کہ جیسے میں آن لائن آیا ایسے ہی آپ بھی۔ کیسے مزاج ہیں ؟ @چنگے بھلےہیں جی، اللہ کا شکرہے، وہ اپنے بندوں کا بڑا خیال رکھتا ہے۔ اپنے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @یہ اس انٹرویو کا سب سے اوکھا سوال ہے۔  کہ اپنے بارے میں اب اپنے منہ کیا بتاؤں ، اپنی اچھائی بیان کروں گا تو اسے اپنے منہ میاں مٹھو بننا کہا جاوے گا اور اپنے بارے برا بولنا تو مجھے پسند ہے بھی نہیں، تو اس مناسب ہے کہ اس بارے  ہمارے احباب سے دریافت کیا جاوئے، مگر جو کچھ وہ بتلائیں گے اس پر اپنے مولانا اکبر الٰہ آبادی پہلے ہی روشنی ڈال گئے، کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کرگئے  بی  اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی مرگئے پیشے کےلحاظ سے ہومیوپیتھیک معالجات میں ڈاکٹر ہوں،  پاکستان میں کالج میں پڑھتا تھا، عرصہ سے ادھر اٹلی میں مقیم ہوں جانے کیوں، یہاں پرپہلے تو سیاحت کے پیشے کے ساتھ منسلک ہوگیا تھا، مگر اب پھر سے اسی پیشے کے ساتھ منسلک ہوں، ہومیوپیتھک میڈیسن اور ڈاکٹرز کے اسپیشلائزیشن اسکول میں پڑھاتا بھی ہوں،  اطالوی زبان کی تعلیم بھی بہت عرصے سے غیر ملکیوں کو دے رہا ہوں۔ مزید کچھ نہیں کہوں گا۔ آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟ @میری جائے پیدائش ضلع جہلم میں میں جہلم اور منگلا کے بیچ میں دریائے جہلم کے کنارے ایک چھوٹا ساگاؤں ہے، اب وہاں بندے جینز پہنے پھرتے ہیں، بلکہ کوئی کوئی بی بی بھی آپ کو نظر آجاوے گی، پس اسے گاؤں کہنا ظلم الکبیر ہے مگر ہے گاؤں ہی۔ اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @اپنی تعلیم کی کیفیت بہت پیچیدہ ہے، اگر کوئی سمجھ لے تو، ہومیوپیتھیک میڈیسن میں ڈاکٹر بنےاور پھر ایک جاپانی انسٹیوٹ سے کمرکی  ریہبیلیٹیشن  میں ڈپلومہ کیا، فیر اٹلی آگئے، ادھر ایک ماسٹر کیا بزنس ایڈمنسٹریشن اور ٹورزم منجمینٹ میں،  پھر ہسٹری اور مونومنٹنس کا ایک کلچرل کورس جسکادورانیہ ایک برس تھا کیا۔ ہیں جی مجھے تاریخ بہت پسند ہے، ثابت ہوا۔ بس اپنی تاریخ پیدائش یاد نہیں رہتی۔ اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟ @میں اردو بلاگنگ کی طرف نہیں آیا بلکہ اردو بلاگنگ میری طرف آئی تھی۔ لکھنا پڑھنا اپنی پرانی لت ہے، تو اردو لائیف کے اردو پیڈ میں لکھ کر اور ادھر سے کاپی پیسٹ کرکے پہلا اردو بلاگ شروع کیا تھا ، تین مگرمچھ اور آنسو دوہزار چار کے شروع میں، بس تب کوئی دس کے قریب بلاگرز تھے، اور یہ  کہ یونیکوڈ  کوئی بھی نہیں لکھتا تھا۔ سوائے چند ایک سائیٹس کے اور بیس کے قریب بندوں کے۔ کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟ @کچھ بھی تو نہیں صرف پڑھنے والے نہیں تھے، شروع میں نستعلیق نیٹ پر تھا نہیں تو جنتا چیں چیں کرتی تھی۔ بس لکھنے کا مسئلہ، کہیں لکھو فیر کاپی پیسٹ کرو، پھر کوئی نہ کوئی کٹا کھل جانا کہ لائنیں مکس ہورہی ہیں، لفظ پھنس رہے، بہت برس تو ہجے ہی سہی نہیں ہورہے تھے، ہیں جی اور اب تو جنتا گرافکس کے مسائل میں الجھی ہوئی ہوی ہے، خوبصورتی پسند ہے ہیں جی، تب صرف لکھنا ہی بڑی بات تھی  یونی کوڈ میں، نہیں تو جنگ جیسی سائیٹس تصویری اردو سے کام چلاتیں تھیں اور لوگ پوچھتے تھےکہ آپ کرکیسے لیتے ہو  اب سانوں کی پتا۔ بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟ @جی شروع میں تو بہت کام ہوا، میں آئی ٹی ایکسپرٹ نہیں ہوں مگر کتنے بندوں کو ترغیب دی، کسی کو فونٹ اور کسی کو اردو سپورٹ انسٹال کرکے دینا، یہ بھی ایک پور ی سائنس تھی تب، اب اللہ بھلا کرے م  بلال م  میاں کا، جو کام کسی ادارےنے کرنا تھا وہ اس بندے نے اردو کےلئے کردیا۔ کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟ @میں متاثرین میں سے نہیں ہوں، بلکہ محبین میں سے ہوں، بہت سے بلاگرز سےمحبت کا رشتہ ہے، جن میں، یاسر خوامخواہ جاپانی، خاور کھوکھر، م بلال م ، علی حسان، عمیر ملک،  افتخار اجمل بھوپال، محمد قدیر،  نجیب صاحب،  مولوی محمد سعد،  جاوید گوندل، شعیب صفدر، محمد یاسر علی اور دیگر بہت سے  قدیم و جدید احباب شامل ہیں سب کے نام گنوانا  طوالت کے باعث مناسب نہیں،   البتہ ان حضرات سے براہ راست یا بلواسطہ میری  ملاقات یا بات چیت ہوئی۔ لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟ @اچھے سے تو یاد نہیں مگر شاید دوہزار دو یا تین کی بات ہے، تب پہلے بلاگ اٹالین زبان میں لکھنا شروع کیا تھا۔ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟ @نہ جی یہ کوئی ڈاکٹری کا مقالہ تو ہے نہیں، بس بیٹھے  اور ہو گئے شروع، میں تو غلطیاں بھی  نہیں نکالتا، نو ایڈیٹنگ، نہیں تو فیر فرق کیا رہا بلاگ میں اور رسالے میں،  بلاگ ایک فطری روانی کی  جبکہ رسالہ ایک مرحلہ وار عمل  کی پیداوار ہوتا ہے ، موضوع ہوسکتا ہے دونوں کا ایک ہی ہو۔ اسی لئے تو آپ کو میرے بلاگ پر اسپیلنگ کی غلطیاں، ٹائپنگ مسٹیکس، اور دیگر کھچ خانیاں ملیں گی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ @معاشی فائدے کا تو سوچا کبھی نہیں البتہ یہ جو اوپر مذکور بندے ہیں یہ  بلاگ سے ہی کمائے ہیں۔ آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟ @معیاری بلاگ  وہ ہوتا ہے جو بے لاگ ہو، بغیر لگی لپٹی کے اور بغیر ایڈیٹنگ کے، بس دل کی بات کرے بھلے اپنے دل کی کرے اور دوسروں کے دل ساڑے۔    بھلے اگلے کہہ  اٹھیں   ع   چمن  سے آرہی ہے بوئے کباب ،                    پر کرے دل  کی بات۔ آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟ @ہاں  تو اور کیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، ساٹھ سو برس کسی زبان کےلئے بہت تھوڑا عرصہ ہوتا ہے، الحمدللہ اردو نے آج جتنے دل جیتے ہیں،  وہ کہنے کو کافی ہیں کہ اردو ہی یہ کام کرسکتی تھی،  آج پوری دنیا میں اردو بولی جاتی ہے اور میرا نہیں خیال دنیا کا کوئی ایسا ملک ہو جہاں پر یہ باقاعدہ پڑھی نہ جاتی ہو۔ پھر اردو اور اردو دانوں کی آپس میں محبت کیا کہنے۔  میں تو گھومنے پھرنے والا بندہ ہوں، کہہ سکتا ہوں بقول شاعر اور جس شہر میں اردو کا چلن ہوگا وہاں کا ہر باشندہ شریفانہ ملے گا اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟ @کچھ یوں کہ میری مادری زبان پنجابی ہے،  اب بھی ساری گالیاں اور لطیفے پنجابی میں ہی چلتے ہیں، بنیادی  تعلیم اردو میں اور ہومیوپیتھک میڈیسن  انگریزی میں پڑھی،  پھر اسپرانتو سیکھی، اور یونانی  و جرمن  و عربی سیکھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اطالوی سیکھ بیٹھے، پر اب بھی پڑھنے اور لکھنے کی زبان اردو ہی ہے، پہلے اردو میں لکھ کر پھر کسی زبان میں  ،    اب البتہ  یہ ہے کہ  کچھ وقت سے نوٹس وغیرہ اٹالین میں لکھنے لکھوانے  ہوتے ہیں تو بس اردو میں لکھنے پڑھنے کا  کام کچھ کم ہویا ہوا ہے۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟ @چونکہ پاکستان سے باہر ہوں عرصہ تو مجھے صحیح طور پر علم نہیں کہ پاکستان میں ان پندرہ برس میں کیا ہوا اردو کےلئے میری، اردو ابھی تک وہی انی سو پچانوے والی ہے، بغیر انگریزی کے،  جیسے برطانیہ والوں کی پنجابی انیسو ستر  والی۔ آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟ @اپنے آپ کو ہنوز زمین پر دیکھنے کا خواہش مند ہوں، اللہ نے چاہا تو،   اور اٹلی میں ہی ہوں گا،  اور اردو بلاگنگ کو پروفیشنل میڈیا کی مت مارتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔   اردو کا مستقبل روشن اور اردو بلاگز کا روشن تر، اب چونکہ پاکستان میں انٹرنیٹ عام بندے کی دسترس میں آیا ہے تو آپ دیکھئے گا کہ آنے والے برسوں میں اردو بلاگنگ کو بہت سے م بلال م ملیں گے۔ کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟ @پیغام  ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے،   اردو خود ہی محبت ہے اور اس سے محبت کرنے والوں کو مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، ویسے بھی میں ایک عام سا بندہ ہوں کسی کو بھلا کیا مشورہ دے سکتا ہوں  ہاں اردو کی خدمت کرنے والے اور اردو بلاگز اگر کوئی صلاح مجھے دینا چاہئے تو میری  خوش نصیبی ہوگی۔ بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ @بلاگ میری مصروفیات میں آخری کام ہے، جب تپا ہوا ہوں تو لکھتا ہوں، ملازمت ہے،  وہ کرتا ہوں،  اس کےلئے چونکہ پڑھنا پڑھتا تو پڑھنا بھی بہت پڑتا ہے۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟ @درد دل کے واسطے پیدا کیا تھا انساں کو     والی بات نہیں ہے، آج تک خود سمجھ نہیں آئی کہ کیا چاہتاہوں، اور زندگی کا مقصد کیا ہے، کماؤ، کھاؤ، گھر والوں کو کھلاؤ، دنگے فساد  سہو اور کرو، یہ غیبتیں اور چغل خوریاں جہان بھر کی، جانے زندگی کا مقصد کیا ہے، مگر پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش اپلائیڈالٹرنیٹیو میڈیسن میں ، دیکھو فیر پوری ہوتی ہےکہ نہیں۔ اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔ پسندیدہ: 1۔ کتاب ؟ @ الکیمسٹ پاؤلو کوئلہو کی 2۔ شعر ؟ @چمن ہے مقتل نغمہ اب اور کیا کہئے ہر طرف اک سکوت کا عالم ہے جسے نوا کہئے اسیر بند زمانہ ہوں اے صاحبان چمن گلوں کو میری طرف سے بہت دعا کہئے 3۔ رنگ ؟ @نیلا اور سفید ،   ایک وقت میں میرے سارے کپڑے نیلے یا سفید ہوا کرتے تھے یابھی سفید اور نیلے اور یاپھر نیلے اور سفید ہیں جی 4۔ کھانا ؟ @اس بارے میں کنفیوژن کا شکار ہوں شدید، کنفوشس سے بھی بڑھ کر، صرف کھانے کو کھالیتا ہوں جو بھی مل جاوے بس اس میں مرچیں نہ ہوں اور سمندری مخلوق نہ ہو۔ 5۔ موسم ؟ @گرما، اٹلی میں جب آپ کاچھا اور بنیان پہن کا پورا شہر گھوم سکتے ہیں اور پورا اٹلی دیکھ سکتے ہیں، پاکستان میں بہار کا جب پھول میرے گھر میں کھلے ہوتے ہیں تو۔ 6۔ ملک ؟ @اگر پسندیدہ ملک پوچھو گے تو پاکستانی ہونے کے باوجود پاکستان نہیں کہہ سکتا کہ ادھر پاکستانی ہوتے ہیں، اٹلی میں رہنے کے باوجو ادھر اٹالین کی وجہ سے دل نہیں لگتا، برازیل میرا پسندیدہ ملک ہے،   کیوں چونکہ آپ نے پوچھا نہیں تو میں نے بتایا نہیں۔ 7۔ مصنف ؟ @اردو میں پطرس بخاری، مستنصر حسین تارڑ ، برگیڈئر شفیق الرحمان ، ابن انشاء ، نسیم حجازی اور بہت سے،  انٹرنیشنل لٹریچر میں  پاؤلو کوئلہو کی ساری کلیکشن اٹالین اور انگریزی کی میرے پاس ہے،   انگریزی میں ادب میں نے پڑھا ہی نہیں اور صرف میڈیسن کی ریسرچ دیکھتا ہوں اور میڈیکل انگلش ہی مجھےآتی ہے۔ 8۔ گیت؟ @منی بیگم کی غزل بوتل کھلی ہے رقص میں جام شراب ہے۔   ویسے میں موسقی سنتا نہیں ہوں۔ 9۔ فلم ؟ @گو میں زیادہ فلمیں نہیں دیکھتا مگر دو فلمیں تاریخ موضوعات کی جب بھی ملیں دیکھ لوں گا پھر سے، ایک ہے گلیڈی ایٹر اور دوسری کنگڈم آف ہیون، جو کروسیڈز کے نام سے بھی ریلیز ہوئی۔ غلط /درست: 1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔ @درست 2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ @غلط 3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟ @درست 4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @بہت درست 5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟ @درست 6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟ @درست 7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟ @غلط 8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @اگلے بندے پر منحصر ہے۔ منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟ @چونکہ مجھے اردو بلاگنگ کا چچاجان کہا جاسکتا ہے بابا جی چھڈ دو تو، لہذا اگلی بار میرا انٹرویو پہلی فرصت میں کیا جاوے۔ آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟ @پیغام ہے میرا محبت جہاں تک پہنچے، بس محبت کیجئے اپنے آپ سے، اپنے عزیزواقارب سے، آپ اردگرد سے،  اپنے ماحول سے، اپنی گلی  اپنےمحلے سے۔ (محلے والیوں کا آپ کے دماغ میں خود ہی آرہا، میں نئیں کہہ ریا) اپنے یاردودستوں سے اور اپنے شہدے و سڑیل رشتہ داروں سے بھی، ملک زبان  دنیا  سے، مطلب اپنی ہرچیز سے پیار کرو اور اسکا خیال رکھو جسے آپ میری یا ہماری کہہ سکو۔  ہیں جی اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ @آپ کا وی شکریہ، ہیں جی

The post راجہ افتخار خان سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

کاشف نصیر سے شناسائی

 منظرنامہ کے محترم قارئین، اس بار جس شخصیت سے ہمیں شناسائی کا موقعہ ملے گا ان کا نام ہے کاشف نصیر، اپنے منفرد خیالات، منفرد باتوں اور تحقیقی مضامین کی وجہ سے جانے جاتے ہیں مزید یہ کیا کیا کرتے ہیں یہی جاننے کے لیئے سلسلہ شناسائی میں پیش ہے کاشف نصیر سے شناسائی۔ تو آئیں ان کے بارے میں وقت ضائع کیئے بغیر جانتے ہیں۔ خوش آمدید ! کیسے مزاج ہیں ؟ @ اللہ کا شکر ہے۔ آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟ @ کراچی میں پیدا ہوا اور تادم تحریر یہیں آباد ہوں۔ اپنی تعلیم اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟ @ جامعہ کراچی سے “ایم اے ابلاغ عامہ”، اور جامعہ اردو سے “ایم بی اے” کیا ہے۔ مستقبل قریب میں ایم ایس (ابلاغ عامہ) کا ارادہ ہے۔ متوسط اور سفید پوش ہاشمی گھرانے سے تعلق ہے۔ آباو اجداد سترہویں صدی عیسویں میں وسطی ایشیائی ریاست ازبکستان سے ہجرت کرکےبھارتی ریاست بہار (ضلع سیوان) میں آباد ہوئے۔ اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟ @ کسی زمانے میں اردو ویکیپڈیا پر دلچسپی ہوا کرتی تھی، ویکیپڈیا پر لکھتے لکھتے بلاگنگ کا خیال پیدا ہوا اور اس طرف نکل آیا۔ کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟ @ بلاگنگ کا آغاز ورڈ پریس سے کیا تھا لیکن وہاں تھیم اوررسم الخط کا مسئلہ رہتا تھا۔ پھر جب ایک فری ڈومین” ڈاٹ کو ڈٹ سی سی” کے نام سے آیا تو رسم الخط اور تھیم کے مسائل سے نجات کےلئے وہاں منتقل ہوگیا لیکن بات پھر بھی نہ بنی۔تین سال قبل اپنا ڈومین اور ہوسٹنگ خریدی اور اب وہی مستقل ٹھکانہ ہے۔ ان تمام مراحل میں قلم کارواں والے وقار اعظم کی تکنیکی مدد ہر وقت میرے ساتھ رہی ہے۔ بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟ @ مقصد تو صرف بلاگ لکھنا تھا، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، فطری طو ر پر یہ خواہش بھی پیدا ہوئی کہ جس پلیٹ فارم کو میں استعمال کررہا ہوں، وہ ترقی کرے۔ اس لئے جب کبھی بھی اردو بلاگنگ کے فروغ کے لئے کوئی تحریک چلتی ہے تو ساتھ دینے کا دل کرتا ہے۔ کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتے ہیں ؟ @ خاور کھوکھر، فہد کیہر اور کئی دوسرے بلاگرز نے متاثر کیا۔عنیقہ ناز، جعفر حسین، ڈفر، عمران اقبال، علی حسان، یاسر خوامخواہ، افتخار اجمل صاحب اور ریاض شاہد وغیرہ کو پڑھنے میں لطف آتا ہے۔ بلاگنگ کے ابتدائی دنوں میں عثمان (کینیڈاوالے) کو دلچسپی سے پڑھتا ہے لیکن اب وہ نہیں لکھتے۔ لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟ @ شاید 2004 میں۔ اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتے ہیں یا لکھنے بیٹھتے ہیں اور لکھتے چلے جاتے ہیں ؟ @ میرا نظریہ ہے کہ تخلیق کا ہر عمل آمد پر منحصر کرتا ہے، بعض اوقات آپ پورے اہتمام کے ساتھ کسی موضوع پر لکھنے بیٹھتے ہیں لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود قلم(کیبورڈ :) ) آپکا ساتھ نہیں دیتا۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ بغیر کسی منصوبہ بندی سے لکھنا شروع کرتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں ایک بہترین بلاگ وجود میں آجاتا ہے۔ بہرحال کچھ مضامین پر منصوبہ بندی ضروری ہوتی، خاص طور پر تحقیقی مضامین پر۔ میں نے حالیہ عام انتخابات کے دوران بیس سے زائدسیاسی مضامین لکھے اور یہ سب کچھ پیشگی منصوبہ بندی کے نتیجے میں ہی ممکن ہوا۔ یہ منصوبہ بندی شماریات کے اصولوں کے مطابق تھی، یعنی پہلے ڈیٹا کلیکشن، پھر ڈیٹا پریزینٹیشن اور آخر میں بحث ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ @ میں لکھنا چاہتا ہوں اور بلاگ مجھے اسکی آسان اور آزاد سہولت فراہم کرتا،مجھے اس سے زیادہ اور کیا چاہئے۔ آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟ @ ایسا بلاگ جو آسان اور پیشہ وارانہ زبان میں مسائل اٹھائے اورانکے حل پر بحث کرے ۔ ہمارے یہاں بہت سے معیاری بلاگ ہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ نوے فیصد بلاگرز میری طرح صرف شوقیہ ہیں۔ پرفیکشن کے لئے ضروری ہے کے ہم اردو بلاگنگ میں پروفیشنلزام کو فروغ دیں۔ آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟ @ میرے خیال سے نہیں ملا اور اسکی وجہ ہم خود ہیں۔ہمارا عجیب مسئلہ ہے کہ ہم انگریزی لکھ نہیں سکتے لیکن ہمیں اردو لکھنے میں شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اکثر لوگ فخر سے بتاتے ہیں کہ انہیں اردو لکھنا نہیں آتی ۔ بے شک حکومت یا ریاستی ادادروں کا بھی قصور ہےلیکن سب سے زیادہ قصور ان لوگوں کا ہے اردو زبان کے چاچے مامے بنے پھرتے ہیں، میرا اشارہ ہمارے نام نہاد ادبی طبقہ کی طرف ہے۔ اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گے ؟ @ اردو کے ساتھ میرا تعلق وہی ہے جو مادری اور قومی زبان کے ساتھ کسی بھی نارمل شخص کا ہونا چاہیے۔ آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟ @ بالکل نہیں ہے، اردو کے ساتھ پہلی بیوی جیسا سلوک ہورہا ہے۔کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ یہ زبان لوگوں کی مجبوری بن کر رہ گئی ہے ورنہ انہیں اس زبان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جو حال طاہر شاہ نے انگریزی کے ساتھ کیا ہے، ہمارے مین اسٹریم کے گلوکار اردو کے ساتھ اس سے برا حال کرتے ہیں لیکن انہیں کچھ نہیں کہا جاتا۔ نیوز چینلز پر بھی زبان کا معیار گرتا جارہا اور ڈراموں میں الفاظ کی ادائیگی، لہجے اور تلفط کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ دوسری طرف جن اداروں کو اردو کی ترقی کا کام سونپا گیا ہے وہ لمبی تان کر سو رہے ہیں۔ آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتے ہیں؟ @ مستقبل میں میرا ارادہ اردو بلاگنگ کو ہی مستقل پروفیشن بنانا ہے۔ یقینی طور پر اس مقصد کے لئے مجھے وقت نکالنا پڑے گا ، اپنی خامیوں کی اصلاح کرنی ہوگی۔ میرے خیال سے اگر آپکا شوق اور پروفیشن ایک جگہ جمع ہوجائے تو مثبت نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ اردو بلاگنگ کا مستقبل روشن ہے، میرا خیال ہے کہ اگر اردو بلاگرز کوشش کریں تو آئندہ پانچ سالوں میں ہم انگریزی بلاگرز سے زیادہ موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔ کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟ @ آپ ایک قومی مقصد کے لئے کام کررہے ہیں، میری دعا ہے کہ اللہ آپکو کامیاب کرے۔ بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟ @ بلاگ اور سوشل میڈیا کی مصروفیت کے علاوہ ایک نجی کمپنی میں سپلائے چین کے شعبے کے ساتھ منسلک ہوں۔ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتے ہوں؟ @ “زندگی کا مقصد؟” اس سوال کے جواب پر بحث میری اکثر تحاریر میں موجود ہے۔ بہت سی خواہشات ایسی ہیں جنکی تکمیل کی آس لگائے بیٹھا ہوں۔ بقول مززا صاحب کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ اب کچھ سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔ پسندیدہ: 1۔ کتاب ؟ @ غبار خاطر 2۔ شعر ؟ @  نقش فریادی ہے کسی شوخ تحریر کا کاغذی ہے ہر پیرہن ، ہر پیکر تصویر کا 3۔ رنگ ؟ @ سفید 4۔ کھانا ؟ @ چندکھجور اور ایک گلاس دودھ 5۔ موسم ؟ @ برسات 6۔ ملک ؟ @ ترکی 7۔ مصنف ؟ @ مولانا ابولکلام آزاد 8۔ گیت؟ @ اے جذبہ دل گر میں چاہوں 9۔ فلم ؟ @ کوئی نہیں غلط /درست: 1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔ @ درست 2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟ @ درست 3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟ @ درست 4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @ درست 5۔ میں ایک اچھا دوست ہوں ؟ @ غلط (معلوم نہیں) 6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟ @ غلط 7۔ میں بہت شرمیلا ہوں ؟ @ غلط 8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟ @ نہیں(معلوم نہیں) منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گے ؟ @ منظر نامہ قابل لوگ چلارہے ہیں، انہیں مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔ آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟ @ کوئی نہیں اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ @ بہت شکریہ، جوابات کے لئے طویل انتظار کرانے پر معذرت۔

The post کاشف نصیر سے شناسائی appeared first on منظرنامہ.

Pages