نقطہ

سینٹ پال سے عبداللہ بن سبا تک

اللہ کی مبغوض قوم سے اور آپ توقع بھی کیا کرسکتے ہیں،  عیسی علیہ السلام کو اپنے تئیں یہودیوں نے صلیب پر چڑھا دیا اور یہ گمان کر بیٹھے کہ انھوں نے دین عیسوی کا گلا گھونٹ دیا ہے، عیسی علیہ السلام کے بعد انکے بارہ حواریوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات کو بڑی جانفشانی کے ساتھ  کرہ ارض پر پھیلانا شروع کیا اور بڑی تیزی کیساتھ لوگ یہودیت کی فرسودہ روایات کو چھوڑ کر دین عیسوی کے حلقہ بگوش ہونے لگے،  اس زمانے کے کاہن (یہودی علماء)  یہ دیکھ کر پریشان ہوگئے کہ ہماری جاہ وجلال دین عیسوی کی وجہ سے خطرے میں پڑ گئی ہے،  اس کے سدباب کے لئے یہودیت سے ایک چوٹی کا زہین شخص "پولس"   ( سینٹ پال ) یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ یہودیت سے تائب ہوکر عیسائی بن رہا ہے اور اپنے اوپر عیسی علیہ السلام کے نزول کا قصہ سنا کر دوسرے حواریوں کی ہمدردیاں حاصل کرتا ہے اور ہمہ تن وہ عیسائیت کی تبلیغ میں مصروف ہوجاتا ہے اور اتنی جانفشانی دکھاتا ہے کہ باقی حواریوں کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے.
یہاں تک تو قصہ ٹھیک تھا لیکن اس نے دین عیسوی کے ساتھ وہ واردات کی کہ جس کی قیمت قیامت تک عیسائی چکا رہے ہیں، اس نے عیسی علیہ السلام کی الوہیت اور خدا کے بیٹا ہونے کے عقیدے کو رواج دیا کہ آج تک عیسائی یہ سمجھ نہیں پارہے کہ خدا تو تین ہیں لیکن تین ایک ہے.  پولس نے یونانی مشرکوں کو خوش کرنے کے لیے لاتعداد ایسے عقائد عیسائیت میں شامل کردیے کہ جسکا عیسائیت جیسے توحید کے مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا.

تاریخ کا ایک صفحہ الٹیے،  یہود مدینے میں کئی صدیوں سے اپنے نجات دہندہ نبی کی آمد کے منتظر تھے، لیکن جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو بجائے اس نبی کی پیروی کرنے کے الٹا یہود نے عصبیت کی بناء پر اس نبی کی مخالفت کرنی شروع کردی،  بہت ساری جنگیں قریش نے یہودیوں کی تحریک پر شروع کیں. جب اللہ نے اسلام کو قوت دی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو انکے اعمال کی سزا دی تو وہ انکے سینے میں چبھ کر رہ گئی،
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور تک کسی فتنہ کو سر اٹھانے کی جراءت نہ ہوئی ،  حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دور انکے حلم اور بردباری کی مثال آپ تھا،  اس موقعہ کو آئیڈیل جان کر یہود نے دین اسلام سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا،  عبداللہ بن سبا یہودی اسلام کا اعلان کرتا ہے لیکن درحقیقت وہ یہودی ہی رہتا ہے،  اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف سازشیں اس طرح بنی کہ جو بالآخر آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر منتہج ہوئیں.  عبداللہ بن سبا نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی الوہیت کا نعرہ بلند کیا اور بہت ساری خدائی صفات کا مظہر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو قرار دیا.....

  گو کہ یہ فتنہ اللہ کے اس وعدے کی وجہ سے امت میں پھیل نہیں سکا کہ جس میں اللہ تعالٰی نے قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی تھی. وگرنہ یہودیوں نے کوشش ضرور کی تھی....

آزمائش اور استقامت

الله تعالیٰ نے بنی نوح انسان کے لیے جو انبیائے کرام مبعوث فرمائے ہیں انکا کام لوگوں کی حق کی طرف رہنمائی تھا ـ ظاهر ہے اتنا کھٹن کام بغیر تکلیف اور مشقت کے کیسے پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے ـ کم وبیش ہر نبی کو اس کی امت کی طرف سے مصائب اور پریشانیوں کا کوہ گراں عبور کرنا پڑتا تھا تب جاکر کہیں کچھ لوگ انکی دعوت پر لبیک کہتے تھے ـ الله تعالی نے ان میں سے پانچ اولوالعزم پیغمبروں کا تذکرہ بطور خاص کیا ہے ـ جن میں حضرت نوح علیہ السلام حضرت ابراهیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام حضرت عیسی علیہ سلام اور جناب محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اسماء گرامی ہیں ـــ ان انبیاء کرام کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انکی آزمائشیں بہت ہی سخت تھیں ـ حضرت ابراهیم علیہ السلام کی آزمائشیں تو بہت زیادہ ہیں لیکن جس آزمائش پر آسمان کے فرشتے بھی رو پڑے تھے وہ آزمائش تھی اپنے محبوب لخت جگر سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنا کہ جس کو رب سے رو رو کر مانگا گیا تھا ـ لیکن قربان جاؤں خلیل الله کی وفا پر کہ اپنے رب کے حکم پر بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی ــ پھر رب نے صلہ بھی کیا خوب دیا فرمایا " انی جاعلک للناس اماما" آج یہودی بھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ ابراهیم ہمارا ہے عیسائی بھی ابراهیم علیہ السلام کواپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں وہ الگ بات ہے کہ قرآن ان کے اس دعوے کی واشگاف الفاظ میں تردید کرتا ہے ـ" ما کان ابراهیم یہودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما " اگر اپنے اسلاف کی بات کی جائے تو ان میں امام احمد بن حنبل رح کی آزمائش اور استقامت خلق قرآن کے مسئلے پر ہے شاید ہی اسکی نظیر مل سکے ـ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ امام صاحب کو قریبا اٹھائیس مہنیے تک قید میں رکھا گیا اور ایسی شدت کے کوڑے لگائے جاتے کہ اگر ویسا ایک کوڑا ہاتھی پر پڑتا تو چیخ مار کر بھاگتا مگر امام صاحب کی استقامت کو سلام ہےکہ جو کوڑے کھا کھا کر بے ہوش تو ہوجاتے مگر خلق قرآن کے عقیدے کا اقرار کرنا گوارا نہ کیا ـ حتی کہ امام بخاری رح کے استاد بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ " الله تعالی نے اس دین کے غلبہ اور حفاظت کا کام دو شخصوں سے لیا ہے کہ جن کا تیسرا ہمسر نظر نہیں آتا ـ ارتداد کے موقع پر صدیق اکبر رضی الله عنہ اور فتنہ خلق قرآن کے موقع پر احمد بن حنبل ــ امام صاحب کی حق گوئی اور استقامت کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ خلق قرآن کا فتنہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا دوسرا انکے جنازے کو دیکھ کر بیس ہزار غیر مسلم اسلام لے آئے تھے ـ روایات میں آتا ہے کہ قریبا آٹھ لاکھ لوگوں نے امام صاحب کی نماز جنازہ ادا کی ـ امام شافعی رح جیسے فقیہ نےانکی اس قمیص کو دھوکر پیا کہ جو کوڑے لگتے وقت امام صاحب کے جسم پر تھی ـ یہ ایک دو واقعات نمونے کے طور پر تھے ـ حق پر استقامت کا صلہ الله کی طرف سے ضرور داعیوں کو ملتا ہے ـ اور وہ لوگوں کی ھدایت کا زریعہ بنتے ہیں ـ ایک الله والے کا قول ہے کہ استقامت ہزار کرامتوں سے افضل ہے ـ ایک موقع پر الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے بھی اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان پر وہ آیت بھاری ہے کہ جس پر استقامت کا حکم دیا گیا ہے ـ الله تعالی ہم کو بھی حق پر استقامت نصیب فرمائے ـ آمین

قیامت کی علامات کبریٰ

۱:۔ ظہورِ مہدی
قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سب سے پہلی علامت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور ہے، احادیث مبارکہ میں حضرت امام مہدی کا ذکر بڑی تفصیل سے آیا ہے کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان، حضرت سیّدہ فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوں گے، نام محمد، والد گرامی کا نام عبداللہ ہوگا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہت ہوگی، پیشانی کھلی اور ناک بلند ہوگی، زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے، پہلے ان کی حکومت عرب میں ہوگی پھر ساری دنیا میں پھیل جائے گی، سات سال حکومت کریں گے۔ مہدی عربی زبان میں ہدایت یافتہ کو کہتے ہیں، امام مہدی مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے، آخری زمانے میں جب مسلمان ہر طرف سے مغلوب ہوجائیں گے، مسلسل جنگیں ہوں گی، شام میں بھی عیسائیوں کی حکومت قائم ہوجائے گی، ہر جگہ کفار کے مظالم بڑھ جائیں گے، عرب میں بھی مسلمانوں کی باقاعدہ پُرشوکت حکومت نہیں رہے گی، خبیر کے قریب تک عیسائی پہنچ جائیں گے، اور اس جگہ تک ان کی حکومت قائم ہوجائے گی، بچے کھچے مسلمان مدینہ منورہ پہنچ جائیں گے، اس وقت حضرت امام مہدی مدینہ منورہ میں ہوں گے، لوگوں کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوگا کہ اب امام مہدی کو تلاش کرنا چاہئے، ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے ان کو امام بنالینا چاہئے، اس زمانے کے نیک لوگ، اولیاء اللہ اور اَبدال سب ہی امام مہدی کی تلاش میں ہوں گے، بعض جھوٹے مہدی بھی پیدا ہوجائیں گے، امام اس ڈر سے کہ لوگ انہیں حاکم اور امام نہ بنالیں، مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ آجائیں گے، اور بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے ہوں گے، حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان ہوں گے کہ پہچان لئے جائیں گے اور لوگ ان کو گھیر کر ان سے حاکم اور امام ہونے کی بیعت کرلیں گے، اسی بیعت کے دوران ایک آواز آسمان سے آئے گی جس کو تمام لوگ جو وہاں موجود ہوں گے سنیں گے، وہ آواز یہ ہوگی: ”یہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور حاکم بنائے ہوئے امام مہدی ہیں“ جب آپ کی بیعت کی شہرت ہوگی تو مدینہ منورہ کی فوجیں مکہ معظمہ مکرمہ میں جمع ہوجائیں گی، شام، عراق اور یمن کے اہل اللہ اور اَبدال سب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور بیعت کریں گے۔ ایک فوج حضرت امام مہدی سے لڑنے کے لئے آئے گی، جب وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جنگل میں پہنچے گی اور ایک پہاڑ کے نیچے ٹھہرے گی تو سوائے دو آدمیوں کے سب کے سب زمین میں دھنس جائیں گے، امام مہدی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہٴ مبارک کی زیارت کریں گے، پھر شام روانہ ہوں گے، دمشق پہنچ کر عیسائیوں سے ایک خونریز جنگ ہوگی جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوجائیں گے، بالآخر مسلمانوں کو فتح ہوگی، امام مہدی ملک کا انتظام سنبھال کر قسطنطنیہ فتح کرنے کے لئے عازمِ سفر ہوں گے۔ قسطنطنیہ فتح کرکے امام مہدی شام کے لئے روانہ ہوں گے، شام پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد دجال نکل پڑے گا، دجال شام اور عراق کے درمیان میں سے نکلے گا اور گھومتا گھماتا دمشق کے قریب پہنچ جائے گا، عصر کی نماز کے وقت لوگ نماز کی تیاری میں مصروف ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اُترتے ہوئے نظر آئیں گے، دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر بھاگے گا، بالآخر بابِ لُدّ پر پہنچ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا کام تمام کردیں گے، اس وقت رُوئے زمین پر کوئی کافر نہیں رہے گا، سب مسلمان ہوں گے، حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی عمر پینتالیس، اڑتالیس یا انچاس برس ہوگی کہ آپ کا انتقال ہوجائے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی نماز جنازہ پڑھائیں گے، بیت المقدس میں انتقال ہوگا اور وہیں دفن ہوں گے۔

۲:- خروجِ دجال
قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے دوسری علامت خروجِ دجال ہے، احادیث مبارکہ میں دجال کا ذکر بڑی وضاحت سے آیا ہے، ہر نبی دجال کے فتنے سے اپنی اُمت کو ڈراتا رہا ہے، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نشانیاں بھی بیان فرمائی ہیں، دجال کا ثبوت احادیث متواترہ اور اِجماعِ اُمت سے ہے۔ دجال کا لغوی معنی ہے: مکار، جھوٹا، حق اور باطل کو خلط ملط کرنے والا، اس معنی کے اعتبار سے ہر اس شخص کو جس میں یہ اوصاف ہوں دجال کہا جاسکتا ہے۔ یہاں دجال سے ایک خاص کافر مراد ہے، جس کا ذکر احادیث میں تواتر کے ساتھ موجود ہے، جو یہودی ہوگا، خدائی کا دعویٰ کرے گا، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک․ف․یعنی کافر لکھا ہوا ہوگا، دائیں آنکھ سے کانا ہوگا، دائیں آنکھ کی جگہ انگور کی طرح کا اُبھرا ہوا دانہ ہوگا، زمین پر اس کا قیام چالیس دن ہوگا، لیکن ان چالیس دنوں میں سے پہلا دن سال کے برابر، دوسرا دن مہینے کے برابر اور تیسرا دن ہفتے کے برابر ہوگا، باقی دن عم دنوں کی طرح ہوں گے، بندوں کے امتحان کے لئے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے مختلف خرقِ عادت اُمور اور شعبدے ظاہر فرمائیں گے، وہ لوگوں کو قتل کرکے زندہ کرے گا، وہ آسمان کو حکم کرے گا آسمان بارش برسائے گا، زمین کو حکم کرے گا زمین غلہ اُگائے گی، ایک ویرانے سے گزرے گا اور اسے کہے گا: اپنے خزانے نکال! وہ اپنے خزانے باہر نکالے گی، پھر وہ خزانے شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چلیں گے، آخر میں ایک شخص کو قتل کرے گا، پھر زندہ کرے گا، اس کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا تو نہیں کرسکے گا، دجال پوری زمین کا چکر لگائے گا، کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا جہاں دجال نہیں جائے گا، سوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے، کہ ان دو شہروں میں فرشتوں کے پہرے کی وجہ سے وہ داخل نہیں ہوسکے گا، دجال کا فتنہ تاریخ انسانیت کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ حضرت امام مہدی جب قسطنطنیہ کو فتح فرماکر شام تشریف لائیں گے، دمشق میں مقیم ہوں گے کہ شام اور عراق کے درمیان میں سے دجال نکلے گا، پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا، یہاں سے اصفہان پہنچے گا، اصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کے ساتھ ہوجائیں گے، پھر خدائی کا دعویٰ شروع کردے گا اور اپنے لشکر کے ساتھ زمین میں فساد مچاتا پھرے گا، بہت سے ملکوں سے ہوتا ہوا یمن تک پہنچے گا، بہت سے گمراہ لوگ اس کے ساتھ ہوجائیں گے، یہاں سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوگا، مکہ مکرمہ کے قریب آکر ٹھہرے گا، مکہ مکرمہ کے گرد فرشتوں کا حفاظتی پہرہ ہوگا، جس وجہ سے وہ مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہوسکے گا، پھر مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوگا یہاں بھی فرشتوں کا حفاظتی پہرہ ہوگا، دجال مدینہ منورہ میں بھی داخل نہ ہوسکے گا، اس وقت مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے کمزور ایمان والے گھبراکر مدینہ منورہ سے باہر نکل جائیں گے اور دجال کے فتنے میں پھنس جائیں گے۔ مدینہ منورہ میں ایک اللہ والے دجال سے مناظرہ کریں گے، دجال انہیں قتل کردے گا، پھر زندہ کرے گا، وہ کہیں گے اب تو تیرے دجال ہونے کا پکا یقین ہوگیا ہے، دجال انہیں دوبارہ قتل کرنا چاہے گا مگر نہیں کرسکے گا۔ یہاں سے دجال شام کے لئے روانہ ہوگا، دمشق کے قریب پہنچ جائے گا، یہاں حضرت امام مہدی پہلے سے موجود ہوں گے کہ اچانک آسمان سے حضرت عیسیٰ اُتریں گے، حضرت امام مہدی تمام انتظامات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے کرنا چاہیں گے وہ فرمائیں گے منتظم آپ ہی ہیں، میرا کام دجال کو قتل کرنا ہے، اگلی صبح حضرت عیسیٰ مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ دجال کے لشکر کی طرف پیش قدمی فرمائیں گے، گھوڑے پر سوار ہوں گے، نیزہ ان کے ہاتھ میں ہوگا، دجال کے لشکر پر حملہ کردیں گے، بہت گھمسان کی لرائی ہوگی، حضرت عیسیٰ کے سانس میں یہ تاثیر ہوگی کہ جہاں تک ان کی نگاہ جائے گی وہیں تک سانس پہنچے گا اور جس کافر کو آپ کے سانس کی ہوا لگے گی وہ اسی وقت مرجائے گا، دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھ کر بھاگنا شروع کردے گا، آپ اس کا پیچھا کریں گے ”بابِ لُدّ“ پر پہنچ کر دجال کو قتل کردیں گے۔

۳:- نزولِ حضرت عیسیٰ
قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے تیسری علامت حضرت عیسیٰ کا آسمانوں سے نازل ہونا اور دجال کو قتل کرنا ہے، نزولِ عیسیٰ کا عقیدہ قرآن کریم، احادث متواترہ اور اجماع اُمت سے ثابت ہے، اس کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا فرض ہے، اور مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے، اس عقیدے کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ آسمانوں سے حضرت عیسیٰ کے نازل ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ جب حضرت امام مہدی مدینہ منورہ سے ہوکر دمشق پہنچ چکے ہوں گے اور دجال بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے دھتکارا ہوا دمشق کے قریب پہنچ گیا ہوگا، امام مہدی اور یہودیوں کے درمیان جنگیں زوروں پر ہوں گی کہ ایک دن عصر کی نماز کا وقت ہوگا، اَذانِ عصر ہوچکی ہوگی، لوگ نماز کی تیاری میں مشغول ہوں گے کہ اچانک حضرت عیسیٰ دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان س اُترتے ہوئے نظر آئیں گے، سر نیچے کریں گے تو پانی کے قطرے گریں گے، سر اُونچا کریں گے تو چمک دار موتیوں کی طرح دانے گریں گے، دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی جانب کے سفید رنگ کے مینار پر اُتریں گے، وہاں سے سیڑھی کے ذریعے نیچے اُتریں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام عدل و انصاف قائم کریں گے، عیسائیوں کی صلیب توڑ دیں گے، (صلیب توڑنے کا مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں کے عقیدہٴ صلیب کو غلط قرار دیں گے) خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو ختم کردیں گے، یہودیوں اور دجال کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ یہودی ختم ہوجائیں گے، جس کافر کو ان کا سانس پہنچے گا وہ وہیں مرجائے گا، ”بابِ لُدّ“ پر دجال کو قتل کریں گے، مال کی اتنی فراوانی ہوجائے گی کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔ حضرت اِمام مہدی کی وفات کے بعد تمام انتظام حضرت عیسیٰ سنبھالیں گے، آسمانوں سے اُترنے کے بعد بھی حضرت عیسیٰ نبی ہی ہوں گے، کیونکہ نبی منصب نبوت سے کبھی معزول نہیں ہوتا، لیکن اس وقت اُمت محمدیہ کے تابع مجدد اور عادل حکمران کی حیثیت میں ہوں گے، دجال کو قتل کرنے کے بعد حضرت عیسیٰ مسلمانوں کے احوال کی اصلاح فرمائیں گے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں کوہِ طور پر لے جائیں گے، چالیس یا پینتالیس برس کے بعد ان کی وفات ہوگی، اس دوران نکاح بھی کریں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی، مدینہ منورہ میں انتقال ہوگا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہٴ مبارک میں دفن ہوں گے، آپ کے بعد قحطان قبیلے کے ایک شخص جہجاہ حاکم بنیں گے، ان کے بعد کئی نیک و عادل حکمران آئیں گے، پھر آہستہ آہستہ نیکی کم ہونا شروع ہوجائے گی اور بُرائی بڑھنے لگے گی۔

۴:- یاجوج ماجوج
امام مہدی کے انتقال کے بعد تمام انتظامات حضرت عیسیٰ کے ہاتھ میں ہوں گے اور نہایت سکون و آرام سے زندگی بسر ہو رہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ پر وحی نازل فرمائیں گے کہ میں ایک ایسی قوم نکالنے والا ہوں جس کے ساتھ کسی کو مقابلے کی طاقت نہیں ہے، آپ میرے بندوں کو کوہِ طور پر لے جائیں، اس قوم سے یاجوج ماجوج کی قوم مراد ہے۔ یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے، یہ قوم یافث بن نوح کی اولاد میں سے ہے، شمال کی طرف بحر منجمد سے آگے یہ قوم آباد ہے، ان کی طرف جانے والا راستہ پہاڑوں کے درمیان ہے، جس کو حضرت ذوالقرنین نے تانبا پگھلاکر لوہے کے تختے جوڑ کر بند کردیا تھا، بڑی طاقت ور قوم ہے دو پہاڑوں کے درمیان نہایت مستحکم آہنی دیوار کے پیچھے بند ہے، قیامت کے قریب وہ دیوار ٹوٹ کر گر پڑے گی اور یہ قوم باہر نکل آئے گی اور ہر طرف پھیل جائے گی اور فساد برپا کرے گی۔ یاجوج ماجوج آہنی دیوار ٹوٹنے کے بعد ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے، جب ان کی پہلی جماعت بحیرہٴ طبریہ پر سے گزرے گی تو اس کا سارا پانی پی جائے گی، جب دوسری جماعت گزریے گی تو وہ کہے گی: ”یہاں کبھی پانی تھا“ یاجوج ماجوج کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور مسلمان بڑی تکلیف میں ہوں گے، کھانے کی قلّت کا یہ عالم ہوگا کہ بیل کا سر سو دینار سے بھی قیمتی اور بہتر سمجھا جائے گا، حضرت عیسیٰ یاجوج ماجوج کے لئے بددُعا کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک بیماری پیدا کردیں گے جس سے سارے مرجائیں گے، اور زمین بدبودار تعفن سے بھر جائے گی، حضرت عیسیٰ کی دُعا سے اللہ تعالیٰ بڑی بڑی گردنوں والے پرندے بھیجیں گے جو ان کو اُٹھاکر جہاں اللہ تعالیٰ چاہیں گے پھینک دیں گے، پھر موسلا دھار بارش ہوگی جو ہر جگہ ہوگی کوئی مکان یا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہوگا جہاں پر یہ بارش نہ پہنچے، وہ بارش پوری زمین دھوکر صاف و شفاف کردے گی اور بدبو ختم ہوجائے گی۔

۵:- سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ایک بڑی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے، قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں اس کا ذکر موجود ہے۔ دُھویں کے ظاہر ہونے اور زمین دھنس جانے کے واقعے کے بعد ذوالحجہ کے مہینے میں دسویں ذوالحجہ کے بعد اچانک ایک رات بہت لمبی ہوگی کہ مسافروں کے دل گھبراکر بے قرار ہوجائیں گے، بچے سو سو کر اُکتا جائیں گے، جانور باہر کھیتوں میں جانے کے لئے چلانے لگیں گے، تمام لوگ ڈر اور گھبراہٹ سے بے قرار ہوجائیں گے، جب تین راتوں کے برابر وہ رات ہوچکے گی تو سورج ہلکی سی روشنی کے ساتھ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور سورج کی حالت ایسی ہوگی جیسے اس کو گہن لگا ہوتا ہے، اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور کسی کا ایمان یا گناہوں سے توبہ قبول نہ ہوگی، سورج آہستہ آہستہ اُونچا ہوتا جائے گا، جب اتنا اُونچا ہوجائے گا جتنا دوپہر سے کچھ پہلے ہوتا ہے تو واپس مغرب کی طرف غروب ہونا شروع ہوجائے گا اور معمول کے مطابق غروب ہوجائے گا، پھر حسب معمول طلوع و غروب ہوتا رہے گا۔ مغرب سے سورج طلوع ہونے واقعے کے ایک سو بیس سال بعد قیامت کے لئے صور پھونکا جائے گا۔

۶:- صفا پہاڑی سے جانور کا نکلنا
قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک بڑی علامت دابة الارض کا زمین سے نکلنا ہے، اس کا ذکر قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ میں موجود ہے۔ مغرب سے سورج طلوع ہونے کے واقعے کے کچھ ہی روز بعد مکہ مکرمہ میں واقع پہاڑ صفا پھٹے گا اور اس سے ایک عجیب و غریب جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا، اور بڑی تیزی کے ساتھ ساری زمین میں پھر جائے گا، اس کے پاس حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہوگا، ایمان والوں کی پیشانی پر حضرت موسیٰ کے عصا سے ایک نورانی لکیر کھینچ دے گا، جس سے ان کا سارا چہرہ روشن ہوجائے گا، اور کافروں کی ناک یا گردن پر حضرت سلیمان کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگادے گا، جس سے اس کا سارا چہرہ میلا ہوجائے گا، لوگوں کے مجمع میں ایمان والوں کو کہے گا: یہ ایمان دار ہے، اور کافر کے بارے میں کہے گا کہ: یہ کافر ہے، اس کے بعد وہ غائب ہوجائے گا۔

۷:- ٹھنڈی ہوا کا چلنا اور تمام مسلمانوں کا وفات پاجانا
جانور والے واقعے کے کچھ ہی روز بعد جنوب کی طرف سے ایک ٹھنڈی اور نہایت فرحت بخش ہوا چلے گی، جس سے تمام مسلمانوں کی بغل میں کچھ نکل آئے گا، جس سے وہ سب مرجائیں گے، حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان کسی غار میں چھپا ہوا ہوگا اس کو بھی یہ ہوا پہنچے گی اور وہ وہیں مرجائے گا، اب رُوئے زمین پر کوئی مسلمان نہیں ہوگا، سب کافر ہوں گے اور شرار الناس یعنی بُرے لوگ رہ جائیں گے۔
۸:-حبشیوں کی حکومت اور بیت اللہ کا شہید ہونا
جب سارے مسلمان مرجائیں گے اور رُوئے زمین پر صرف کافر رہ جائیں گے اس وقت ساری دُنیا میں حبشیوں کا غلبہ ہوجائے گا اور انہی کی حکومت ہوگی، قرآنِ کریم دلوں اور کاغذوں سے اُٹھالیا جائے گا، حج بند ہوجائے گا، دلوں سے خوفِ خدا اور شرم و حیا بالکل اُٹھ جائے گی، لوگ برسر عام بے حیائی کریں گے، بیت اللہ شریف کو شہید کردیا جائے گا، حبشہ کا رہنے والا چھوٹی پنڈلیوں والا ایک شخص بیت اللہ شریف کو گرائے گا۔

۹:- آگ کا لوگوں کو ملک شام کی طرف ہانکنا
قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے آخری علامت آگ کا نکلنا ہے، قیامت کا صور پھونکے جانے سے پہلے زمین پر بت پرستی اور کفر پھیل جائے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کے شام میں جمع ہونے کے اسباب پیدا ہوں گے، شام میں حالات اچھے ہوں گے، لوگ وہاں کا رخ کریں گے، پھر یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ارضِ محشر یعنی شام کی طرف ہانکے گی، جب سب لوگ ملک شام میں پہنچ جائیں گے تو یہ آگ غائب ہوجائے گی، اس کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، لوگ مزے سے زندگی بسر کر رہے ہوں گے، کچھ عرصہ اسی حالت میں گزرے گا کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے گی۔

۱۰:- صور پھونکا جانا اور قیامت کا قائم ہونا
ان تمام علامات کے واقع ہوجانے کے بعد عیش و آرام کا زمانہ آئے گا، محرم کی دس تاریخ اور جمعہ کا دن ہوگا، لوگ اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوں گے کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے گی، دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، اس کو سمیٹ نہ سکیں گے اور نہ ہی خرید و فروخت کرسکیں گے کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنی اُونٹنی کا دُودھ لے کر جائے گا اور اسے پی نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص اپنے پانی والے حوض کی مرمت کر رہا ہوگا اور اس سے پانی نہیں پی سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی، ایک شخص نے نوالہ منہ کی طرف اُٹھایا ہوگا اسے منہ میں ڈال نہیں سکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ قیامت حضرت اسرافیل کے صور پھونکنے سے برپا ہوگی جس کی آواز پہلے ہلکی اور پھر اس قدر ہیبت ناک ہوگی کہ اس سے سب جاندار مرجائیں گے، زمین و آسمان پھٹ جائیں گے، ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر فنا ہوجائے گی، چالیس سال بعد دوبارہ حضرت اسرافیل صور پھونکیں گے جس سے سب زندہ ہوکر میدانِ محشر میں جمع ہونا شروع ہوجائیں گے۔
(صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم ۔ ابن ماجہ ۔ ترمذی شریف ۔ سنن نسائی۔ ابو داؤد وغیرہ )

کرسمس یا مسلمانوں کا سردرد

فتوؤں کی برسات !

پاکستان میں ایک ھی چیز تو سستی رہ گئ ھے مگر لوگ ھیں کہ اس پر بھی معترض ھیں، لگتا ھے سستی چیز لوگوں کو اچھی نہیں لگتی، لہذا وہ اعتراض کر کے اسے بھی مہنگا کرا کے چھوڑیں گے- وہ سستی چیز جو آپ کو نہ صرف ھر مسجد بلکہ چائے کے کھوکھے سے بھی مل جائے گی،، ایزی لؤڈ کی طرح ایزی فتوی جہاں سے مرضی ھے لؤڈ کروا لو، خاص مواقع پر فتوؤں کی یہ بوندا باندی باقاعدہ موسلا دھار بارش کی شکل اختیار کر لیتی ھے ! کرسمس چونکہ ھر سال آتی ھے،اس لئے مسلمانوں کو ھر سال مشقت میں ڈالتی ھے،یہ بھی یہودیوں کی سازش لگتی ھے جو مسلمانوں کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ھاتھ سے جانے نہیں دیتے ! جونہی کرسمس آتی ھے عیسائ لوگ تو خریداری کی لسٹیں بنانا شروع کر دیتے ھیں اور مسلمان اپنی پرانی کتابیں جو نئے پرنٹ میں دستیاب ھیں ان پر سے سال بھر کی دھول جھاڑنا شروع کر دیتے ھیں اور یوں دھڑا دھڑ فتوؤں کی پوسٹیں سوشل میڈیا پر آنا شروع ھو جاتی ھیں،، ھوشیار باش،،جس کسی نے میری کرسمس کہا، اس کا ایمان چلا جائے گا،، کیونکہ اس کا مطلب ھے،" خدا نے بیٹا جنا " مگر بار بار کے مطالبے پر ایسی کوئی ڈکشنری نہیں بتاتا جس میں مَیری کرسمس کا مطلب " خدا نے بیٹا جنا " بتایا گیا ھو،، سنجیدہ مضمون شروع کرنے میں ابھی دو چار منٹ کی دیر ھے ،اس لیئے اتنی دیر میں پِڑ جمانے کے لئے ایک واقعہ سن لیجئے تا کہ وقت گزر جائے،، فتوؤں کے لئے استعمال کی جانے والی کتابیں اور فتوے دینے والی شخصیات،، اس زمانے کے ھیں جب ھمارا طوطی پوری دنیا میں بولتا تھا، سارا افریقہ ،آدھا یورپ، سنٹرل ایشیا، برصغیر،روس چین تک ھماری حکومت تھی،، اور ھمارا دماغ آسمان پر تھا،، بقول کسے خدا جب حسن دیتا ھے نزاکت آ ھی جاتی ھے،، اقتدار انسان کے فتوؤں میں سے جھلکتا ھے،، ھماری عدالتوں کے فیصلے ھماری بےبسی کی منہ بولتی تصویر ھوتے ھیں،امریکی عدالتوں کے فیصلے ان کی دنیاوی عظمت کی رعونت کا شاھکار ھوتے ھیں،، نیویارک کی عدالت انہیں یہ حق دیتی ھے کہ وہ اپنا مجرم جس ملک،جس جگہ،جہاں پایا جائے چاھے کوئی بھی ذریعہ اختیار کرنا پڑے اسے لا کر ھماری عدالت میں پیش کیا جائے،دیگر ممالک کے قوانین اور کنوینشنل معاھدے جائیں باڑ میں،معاہدوں کی پابندی کمزور قومیں کرتی ھیں،معاہدے ان کمزور قوموں کو جھکڑنے کے لئے مکڑی کے جالے کا کام کرتے ھیں اور بس ! یہ رعونت کبھی ھم میں بھی تھی،، ھم گستاخی کا جواب لکھ کر نہیں دیتے تھے اگلے ملک کے دارلخلافے پر قبضہ کر کے اسے سامنے بٹھا کر دیتے تھے، ھمارے فقہاء اپنے فتوؤں میں لکھا کرتے تھے،غیر مسلم ذمی کے ساتھ کھانا ،ھماری عظمت کے خلاف ھے، ان کے تہواروں پر مبارکباد نہ دی جائے، ان کے ساتھ زیادہ اٹھنا بیٹھنا نہ رکھا جائے، وغیرہ وغیرہ،، جس زعم میں ھم یہ سب کچھ کہتے اور کرتے تھے وہ کب کا خاک میں مل چکا ھے ! مگر بھلا ھو ھمارے علماء کا کہ کم از کم انہوں نے اس زمانے کے فتوے بچا لیئے ھیں،، اور وقتاً فوقتاً ان کو چلا کر دیکھ لیتے ھیں کہ اسٹارٹ بھی ھوتے ھیں یا نہیں،، اگر کسی نے وہ فتوے تفصیل سے دیکھنے ھوں تو عکاظ والوں کی سائٹ پر دیکھ لیں،، پڑھ کر رونگھٹے کھڑے ھوتے ھیں کہ کس قدر رعونت تھی ھم لوگوں میں،، اور یہی وجہ ھے کہ کفر اور کافر باقی ھیں،، ورنہ جتنا طویل اقتدار اللہ پاک نے ھمیں دنیا پر دیا تھا،اگر ھم اسے دعوت کی ذھنیت کے ساتھ استعمال کرتے تو ھندوستان سے اسپین تک سب مسلمان ھی مسلمان ھوتے !! اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا تھا،بد ترین تکبر مفلس کا تکبر ھے،کیونکہ امیر کے پاس تو عذر ھو سکتا ھے کہ دنیا نے اسے تکبر میں مبتلا کر دیا ھے، مفلس کو بد ھضمی کس چیز کی ھوئی ھے؟ جب ھم تین بر اعظموں کے بلاشرکتِ غیرے مالک تھے اور مالی طور پر بھی دنیا کے خزانوں کے مالک تھے،نیز عمل کے میدان بھی بہترین انسان تھے، اس وقت کی زبان اور اس زبان کا اثر بھی الگ تھا،، آج جب ھم ھر لحاظ سے قعرِ مذلت میں گرے ھوئے،بھیک پر جینے والے بے عمل مسلمان ھیں ،، تو بھی ھمارے الفاظ اور فتوے بے شک وھی ھوں،، ان کے ریفریسز بھی وھی ھوں،مگر ان کا اثر وہ نہ ھے نہ ھو سکتا ھے، الٹا دنیا ھم پر ھنستی ھے،، پرویز مشرف کی مثال آپ کے سامنے ھے، کل تک اس کا فرمایا ھوا قانون ھوتا تھا، آج وھی پرویز مشرف ھے، قد بھی ویسا ھے وزن بھی بڑھ گیا ھے مگر آج اس کا فرمایا ھوا فریاد لگتا ھے اور لوگ ھنستے ھیں،،بدلا کیا ھے ؟ حیثیت اور مقام بدلا ھے تو ھر چیز بدل کر رہ گئ ھے،، جب آپ مشرق کی طرف منہ کر کے لوکیشن سمجھا رھے ھوں اور سننے والا مغرب کی طرف منہ کر کے رائٹ لیفٹ کا تعین کر رھا ھو تو وھی ھوتا ھے جو آج ھمارے فتوؤں کے ساتھ ھو رھا ھے ! تحریک پاکستان اپنے جوبن پر تھی، لاھور کی مال روڈ پر روزانہ جلوس نکلتے جو پاکستان کے حق میں اور ھندوستان کی تقسیم کے مطالبے میں نعرے لگاتے ھوئے پنجاب اسمبلی اور گورنر ھاؤس پر جا کر ختم ھوتے ،، ایک دن صبح 8 بجے کے قریب ایک پرجوش جلوس گورنر ھاؤس کے سامنے نعرہ زن تھا،، بٹ کے رھے گا ھندوستان، لے کے رھیں گے پاکستان ،، ھم کیا چاھتے ھیں آزادی، حق ھمارا آزادی،،ایک بھنگن جو گورنر ھاؤس کے باھر سڑک پر جھاڑو دے رھی تھی اس کے ساتھ ایک 6 یا 7 سال کا بیٹا بھی تھا جو اس کی قمیص کا کونا پکڑے ھوئے تھا ،، اس نے ماں سے پنجابی میں پوچھا " اماں ایہہ کی منگدے نے ؟ ( امی یہ لوگ کیا مانگ رھے ھیں؟ ) بھنگن نے جھاڑو کو گورنر ھاؤس کی دیوار کے ساتھ ٹیکا، ایک ادا کے ساتھ اپنے سر پر دوپٹہ درست کیا اور خود کو مکہ برطانیہ کا ھم مذھب ھونے کے ناطے ملکہ برطانیہ ھی سمجھتے ھوئے گویا ھوئی" پُت ایہہ ساڈے کولوں آزادی پئے منگدے نے:" بیٹا یہ ھم ( بھنگن اور ملکہ ) سے آزادی مانگ رھے ھیں ! بس جناب ھم میں اور ھمارے اسلاف میں صرف مذھب کے نام کا اشتراک ھے،باقی کوئی چیز مشترک نہیں ھے، مقام بھنگن والا مگر مزاج  ملکہ برطانیہ والا ھے،اور عیسائی ھم سے مبارک باد لے کر عزت پانا چاھتے ھیں جو کہ ھم ان کو دینا نہیں چاھتے،، یہ فتاوی کس حد تک دین کی روح کے مطابق ھیں اس پہ میں تفصیلی بات کرنا چاھتا ھوں ! جن آیات کو کاٹ کر فتوؤں کا روپ دیا گیا ھے ان کا بیک گراؤنڈ دیکھنا بھی ضروری ھے، ان شاء اللہ حقیقت مبرھن ھو جائے گی کہ ان فتاوی میں اسلام کا حقیقی اور دعوت روپ نہیں پیش کیا گیا ،،بلکہ ان کے اندر ملوکیت اور بادشاھی بولتی ھے !

فقہ اور دین !

پہلے فقہ اور دین کو لے لیجئے- دین تو دین ھے جو ھمارے فقہاء کے زمانے سے پہلے مکمل ھو گیا تھا،، الیوم اکملت لکم دینکم، اسکی دلیل ھےقرآن حکیم نے دین میں تفقہ کا حکم دیا ھے،، تفقہ کی تعریف ھے،" معرفۃ المعلوم " جو چیز پہلے سے آپ کو معلوم ھے اس کی مزید تشریح کچھ اس طرح کی جائے کہ خود معلوم اپنا وجود برقرار رکھے،ایسا نہ ھو کہ معرفت کے نام پر خود معلوم کی جان نکل جائے،،یہ معرفت دیکھنے والے کے مائنڈ سیٹ کے مطابق ھوتی ھے، اور مائنڈ سیٹ ماحول بناتا ھے،سوسائیٹی مولڈز دا مین" آپ کے سامنے ایک معلوم چیز ھے مثلاً آپ کا اپنا چہرہ ھی ھے،اسے آپ نارمل ھاتھ پھیر کر اتنا نہیں جان سکتے جتنا نارمل شیشے میں دیکھ کر جان سکتے ھیں،، اور نارمل شیشے میں اتنی تفصیل نہیں جان سکتے جتنی میگنفائنگ گلاس یعنی عدسے والے شیشے میں جان سکتے ھیں،، مگر شیشے کو ھی منہ کہہ دینا ایسا ھی ھے جیسا فقہ کو دین کہہ دینا،، دین ایک معلوم وجود ھے، جس میں مختلف اجزاء ھیں ،ان اجزاء کی اپنی معرفت ھے،دین ایک بدن ھے اور فقہ ایک لباس بدن کا تعلق اپنی ذات کے ساتھ ھے جبکہ لباس کا تعلق موسم اور سماج کے ساتھ ھے،، ھم یورپ میں سرد کپڑے صرف اس لئے نہیں پہن سکتے کہ مشرق وسطی کے ھمارے اسلاف کندورہ دھوتی پہنتے تھے،، ماحول ،علاقہ اور سماجی مزاج جسے عرف کہتے ھیں بدلنے سے فقہی فتوی تبدیل ھو جاتا ھے ، یوں اماموں کے ایک ھی مسئلے میں مختلف قول ملتے ھیں،، بعض دفعہ وہ ایک بات کو حرام کہتے ھیں اور سال بعد اسے حلال کہہ دیتے ھیں،فتوے میں یہ تغیر معرفت میں فرق کی وجہ سے ھوا ھے ! فقہ المقاصد ! شریعت جو حکم دیتی ھے اس کے پیچھے کوئی مقصد ھوتا ھے،، اس مقصد کا حصول اھم تر ھے اس کے حصول کے طریقے یا ذرائع سے، بعض دفعہ معلوم ذریعہ مقصد کے حصول کی بجائے مقصد کی بربادی کا ذریعہ بن جاتا ھے،اس وقت ذریعے کو چھوڑ کر مقصد کو بچایا جاتا ھے، مثلاً سزاؤں یا حدود کا قائم کرنا اس مقصد سے ھوتا ھے کہ بندے کو اللہ کا تابع فرمان رکھا جائے اور اسے گناہ سے بچایا جائے،، مگر ایک وقت آتا ھے کہ سزا کا نفاذ اس بندے کو اللہ کا تابعدار بنانے کی بجائے اللہ کا باغی بنا دیتا ھے، اس صورت میں سزا کو روک دیا جائے گا،، کیونکہ سزا فی ذاتہ مقصود نہ تھی اور نہ سزا کے نفاذ سے اللہ کا بھلا مقصود تھا،مگر جس کا بھلا مقصود تھا اس کو دوا ری ایکشن کر رھی ھے تو اسے وہ دوا نہیں دی جائے گی،، مگر اس کے لئے وہ ھمت چاھئے جو نبیﷺ نے اپنے صحابہؓ میں پیدا کی تھی نہ کہ وہ حالت جو ھماری ملوکیت نے پیدا کر دی تھی،، عمر فاروقؓ نے جب دیکھا کہ سرحدی علاقوں میں لوگوں کا سامنے کے کافر علاقوں میں اس طرح کا آنا جانا اور میل جول ھے کہ سزا کے نفاذ کے بعد مجرم سرحد پار جا کر کافر ھو جاتا ھے تو انہوں نے دینی حمیت کی کمزوری کی بنیاد پر سرحدی علاقوں میں حدود کے نفاذ کو روک دیا تھا کہ اس طرح بندہ فاسق سہی مگر مسلمان تو رھے گا جبکہ سزا اس کو کافر بنا دے گی ! یہی معاملہ فوج کے ساتھ تھا،کہ فوج میں سزا کے نفاذ کے بعد بندہ سامنے کے دشمن سے جا کر مل گیا کیونکہ وہ باقاعدہ تربیت یافتہ ڈسپلن والی فوج نہ تھی،عام لوگ تھے جو جذبہ جہاد یا غنیمت کی لالچ میں آتے تھے، جب کسی معاملے میں چوری ثابت ھونے پر اسے ھاتھ کٹنے کا خدشہ لاحق ھوا تو وہ دشمن سے جا ملا،،اس کے بعد فوج میں حدود کا نفاذ روک دیا گیا،، یہی معاملہ ھاتھ کاٹنے کی سزا کے ساتھ کیا گیا،جب حالات لوگوں کی مرضی اور ارادے پر غالب آگئے اور لوگ قحط سالی کی وجہ سے چوری کرنے پر مجبور ھو گئے تو عمر فاروقؓ نے ھاتھ کاٹنے کی سزا معطل کر دی،، اللہ پاک لنجوں کی امت پیدا نہیں کرنا چاھتا،بلکہ روکنا چاھتا ھے،مگر جب رکنا محال ھو گیا ھے تو اب ھاتھ کاٹنا روکنا پڑے گا،، یہ ان لوگوں کے لئے سوچ کا مقام ھے جن کا اسلام سزاؤں سے شروع ھو کر سزاؤں پر ختم ھو جاتا ھے ! اللہ پاک نے سورہ توبہ میں جہاں زکوہ کے مصارف بیان کیئے ھیں آیت نمبر 60 میں وھاں زکوۃ کی ایک مد تألیفِ قلب رکھی ھے،کہ اگر ایک شخص اسلام کی طرف مائل ھے اور امید ھے کہ حسنِ سلوک اسے دین کے قریب کر دے گا تو اسے زکوۃ دی جا سکتی ھے،اللہ کے رسولﷺ نے پوری وادی میں پھیلی ھوئی بکریوں کا ریوڑ جو بیت المال کا تھا،ایک کافر سردار کو بخش دیا،،اب وہ سردار نہ صرف خود مسلمان ھو گیا بلکہ جس رستے سے گزرتا دھائیاں دیتا ھوا گزرتا کہ لوگو جلدی کرو اللہ کی اسم محمدﷺ تو اتنے کھلے دل والے ھیں کہ دینے پہ آتے ھیں تو اپنے فقر کا خیال بھی نہیں کرتے ! مگر پھر وقت آیا کہ عمر فاروقؓ کے دربار میں کچھ لوگ تالیفِ قلب کا حصہ وصول کرنے آئے تو آپ نے فرمایا" اب ھمیں تمیاری تالیف سے اللہ نے بے نیاز کر دیا ھے' تمہارے لئے اب ھمارے پاس کچھ نہین ھے،، گویا انہوں نے اسے ایک وقتی حکم سمجھا جسے ویسا وقت آنے پر دوبارہ اختیار کیا جا سکتا ھے ! کیا اس سے حضرت عمرؓ نے دین تبدیل کر دیا تھا ؟ حالانکہ یہ قرآن کا حکم تھا اور نبیﷺ نے عمل کر کے اس کو سنت بنا دیا تھا ،مگر عمرؓ چونکہ فقہ المقاصد کے علم کے امام تھے لہذا وہ اس کی غرض و غایت اور مقصد سے آگاہ تھے ! عراق کے دورے کے دوران آپ کو بتایا گیا کہ عراق کے گورنر نہ صرف ذمیوں کو اسلام کی تبلیغ نہیں کرتے بلکہ ذمیوں کے مسلمان ھونے کی حوصلہ شکنی کرتے ھیں، بلکہ وہ کہتے ھیں کہ تم جزیئے سے بچنے کے لئے مسلمان ھوتے ھو،لہذا مسلمان ھونے کے باوجود نو مسلم ذمیوں سے جزیہ وصول کرتے ھیں،، آپ نے گورنر کو حاضر کیا اور سبب پوچھا،، انہوں نے جواب دیا کہ جناب اگر یہ سارے مسلمان ھو گئے تو نظام حکومت چلانے کے لئے مال کہاں سے آئے گا؟ آپ نے فرمایا اللہ پاک نے ھمیں دین پہنچانے کے لئے چنا ھے، ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے نہیں،، اور گورنر کو معزول کر کے نومسلم ذمیوں کے ٹیکس معاف کر دیئے اور غیر مسلم بوڑھے ذمیوں کے لئے الاؤنس مقرر کر دیا ! اسی قسم کی سوچ نے ھمارے فقہا سے وہ فتوے دلائے ھیں جن میں غیر مسلموں کی تذلیل ھے ،مثلاً ان کی مجالس مین نہ بیٹھا جائے، انہیں نہ تہنیت دی جائے نہ تعزیت کی جائے،، ان کے ساتھ نہ کھانا نہ کھایا جائے، ایسے جہاز مین سفر نہ کیا جائے جو نصرانیوں کا ھو ،کیونکہ اس سے ان کی آمدن بڑھتی ھے،، یہ رعونت کی سوچ ھے اور اس کے لئے کم سے کم جو لفظ ھے وہ اپارتھیڈ یا نسل پرستی ھے ! جبکہ اللہ کا حکم اور نبیﷺ کا طریقہ اس سے ٹھیک 180 ڈگری مختلف ھے ! آیات کی مِس کوٹیشن ! اپنے فتوؤں میں غیر مسلموں سے عدم تعلقات اور ان کو مبارکباد دینے یا تعزیت کرنے سے روکنے کے لئے جن آیات کو دلیل بنایا جاتا ھے وہ اسلام کے ساتھ خود قرآن کے ساتھ بھی زیادتی ھے ! ھر سورت کا ایک یا ایک سے زیادہ مخاطب ھوتا ھے،وہ سورت اسی سے متعلق رکھ کر ھی سمجھی جا سکتی ھے،، ایک خط ھے جو کوئی بندہ اپنی بیوی کو لکھتا ھے جس میں وہ اپنی بیوی کو طلاق دیتا ھے،،وہ خط اس کی ماں کو سنا کر اس کو طلاق نہیں دی جا سکتی اس کی مخاطب اس کی بیوی ھے،،( ایک ماسٹر صاحب نے بچوں کو مائی بیسٹ فرینڈ مضمون یاد کرایا،،مگر امتحان میں "مائی فادر "مضمون آ گیا،،بچوں نے ماسٹر سے گلہ کیا کہ یہ تو ھمارے ساتھ زیادتی ھو گئ ھے ! ماسٹر جی نے تسلی دی کہ بس جہاں جہاں فرینڈ یاد کیا ھے وھاں فادر لکھ دو مضمون بن جائے گا ،، ایک بچے نے لکھا،، آئی ھیو مینی فادرز بٹ مسٹر ندیم از مائی بیسٹ فادر ) تو جناب یہی کچھ فتوے میں بھی کر دیا جاتا ھے ! سورہ الممتحنہ کی جس آیت کو اس مقصد کے لئے چنا جاتا ھے وہ خاص ھے مکے والوں کے ساتھ،،کیونکہ ایک صاحبؓ بلتعہ ابن ابی حاطب نے مکہ پر لشکر کشی کی خبر لکھ کر مکہ بھیج دی تھی جو اللہ پاک نے نبیﷺ کو بتا کر رکوا دی تھی اور خط برامد ھو گیا تھا،،اس وقعے کے بیک گرؤنڈ میں مکی مسلمانوں کو سمجھایا جا رھا ھے کہ اللہ پاک تمہیں ان سے قلبی تعلق سے کیوں روکتا ھے ،، اللہ پاک نے صاف طور پر فرما دیا ھے کہ یہ ممانعت جو کہ اصلاً قلبی تعلق کی ممانعت ھے نہ کہ سماجی روزمرہ امور کی صرف ان لوگوں پر لاگو ھوتی ھے جنہوں نے تم سے قتال کیا اور تمہیں گھروں سے اپنی اولادوں رشتے داروں سے نکال باھر کیا اور تمہارے خلاف دوسروں سے جتھے بندی کی ! اسی سورہ کی آیت نمبر 8 میں واضح کر دیا،لا ینہاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین و لم یخرجوکم من دیارکم،ان تبروھم و تقسطوا الیھم، ان اللہ یحب المقسطین !( الممتحنہ8) نہیں روکتا اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے اور انصاف کرنے سے جنہوں نے نہیں قتال کیا تم سے دین میں اور نہیں نکالا تمہیں گھروں سے ، اللہ تو انصاف( مقسطین ) کرنے والوں کو پسند کرتا ھے ( پھر کیسے روک سکتا ھے ) یہاں اقساط کا حکم سب سے اھم ھے،،میل جول میں اقساط کا مطلب ھے،وہ تمہارے یہاں آئیں تو تم ان کے گھر وزٹ کرو،،وہ تمہارے یہاں پیدائش کی مبارک اور تحفہ دیں تو تم ان کے یہاں مبارک اور تحفہ دو ،وہ سلام کریں تو ان کے الفاظ سے بڑھ کر اچھے الفاظ کا انتخاب کرو ورنہ ویسے الفاظ ھی لوٹا دو،وہ تمہارے گھر سالن دیں تو تم ان کے گھر پکا ھوا بھیجو ! اب اس معاملے میں نبیﷺ کا تعامل دیکھ لیجئے اور پر عکاظ والوں کی فقہ علی مذاھب الاربعہ کے فتوے پڑھ لیجئے فرق آپ کو صاف نظر آ جائے گا ! 1- حضرت عائشہؓ بخاری میں روایت کرتی ھیں کہ نبیﷺ سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ ھمارے پاس گوشت لے کر آتے ھیں( ظاھر ھے مدینے سے باھر کے لوگ ھوںگے جن کے ایمان کا بھی ابھی علم نہیں ھو گا ) جن کے بارے میں ھمیں نہیں معلوم کہ انہوں نے اس پر اللہ کا نام بھی لیا ھو گا یا نہیں ! آپﷺ نے فرمایا " سمۜوا اللہ علیہ و کلوُ،، تم اس پر اللہ کا نام لے لو اور کھا لو ! ابن حزم نے اس سے اصول اخذ کیا ھے کہ " ما غابَ عنا لا نسئل عنہ،،جو چیز ھم سے چھپی ھوئی ھے ھم اس کے بارے میں نہیں پوچھیں گے ! 2- اللہ کے رسول ﷺ نے ایک یہودی کی دعوت قبول فرمائی اور اس سے یہ نہ پوچھا کہ یہ حلال ھے یا حرام یا یہ کہ کیا اس کے برتن پاک صاف ھیں یا نہیں ؟ آپ ﷺ اور اصحاب کے پاس کافروں کے تیار کردہ کپڑے اور برتن لائے جاتے جنہیں آپﷺ بے تکلفی سے استعمال فرماتے،، مشرکین کے چھوڑے ھوئے مشکیزے سے منہ لگا کر آپﷺ نے پانی پیا،، آپ کے گھر میں یہودی جوان آنے والے وفود کے استقبال اور روٹی پانی پر معمور تھا،جس کے بیمار ھو جانے پر آپ اس کے گھر گئے اور تیمارداری کی،موت کے آثار اس کے چہرے پر دیکھ کر آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی جسے اس نے قبول کیا اور کلمہ شہادت و رسالت کی گواھی کے ساتھ ھی اس کی روح مسافر ھو گئ،آپ نے صحابہؓ سے فرمایا اپنے بھائی کو غسل دو اور دفن کے لئے تیار کرو !

کرسمس مبارک !

اب آئیے اس مسئلے کی طرف جس کی وجہ سے یہ ساری تمہید باندھی گئ ھے، کیا کرسمس مبارک کہا جا سکتا ھے ؟ جی بالکل کہا جا سکتا ھے، اللہ پاک نے سورہ النساء کی آیت 86 میں اس کی باقاعدہ اجازت دی ھے، اور لفظ ( گریٹننگ ) استعمال فرمایا ھے جو کہ عموماً مبارک باد ھی کے معنوں میں استعمال ھوتا ھے, سلام استعمال نہیں فرمایا،جب تمہیں تحیہ ( تہنیت ) پیش کی جائے تو اس سے بہتر الفاظ کے ساتھ جواب دو ورنہ انہی الفاظ کو پلٹا دو ! ( النساء86 ) مگر ھم ماشاء اللہ ایسی کھلے دل والی قوم ھین کہ جو کتاب اللہ پاک نے پوری نوع انسانیت کی ھدایت اور راھنمائی کے لئے بھیجی ھے ھم اسی پر اس طرح قبضہ جمائے بیٹھے ھیں کہ پڑھنے دینا تو دور کی بات ھاتھ تک نہیں لگانے دیتے،حالانکہ اللہ کے رسولﷺ نے قیصر کو قرآن ھی لکھ کر بھیجا تھا اور چھونے سے منع نہیں کیا تھا ،،جس کتاب کی صرف 450 آیتیں ھمارے لئے اور باقی سارا قرآن پوری انسانیت کے لئے تھا،،450 والے باقی کی 5786 آیات پر بھی قبضہ جما کر بیٹھ گئے ھیں،جو غیر مسلم کو اپنے ساتھ کھانا نہیں کھانے دیتے وہ کتاب کو ھاتھ لگانے دیتے ھیں،؟؟ دلیل یہ دی جاتی ھے کہ عیسائی یہ دن اس لیئے مناتے ھیں کہ اس دن خدا کا بیٹا پیدا ھوا،، ھم ان کو مبارک کیسے دے سکتے ھیں،؟ میں عرض کرتا ھوں کہ اس دن کوئی پیدا تو ھوا ھے ناں ؟ آپ انہیں اللہ کا رسول سمجھ کر مبارک دیں کہ پرافیٹ عیسی کی پیدائش مبارک ھو،، وہ ان کو جو مرضی ھے سمجھتے رھیں،،اب ان کے خدا سمجھنے کی وجہ سے کیا عیسی علیہ السلام کو نبی ماننا بھی چھوڑ دیں گے ؟ کیا ایسا ممکن ھے کہ وہ خدا سمجھتے رھیں اور ھم نبی سمجھ کر خوش ھو لیں،، جی ایسا بالکل ممکن ھے، قرآن حکیم میں ایک سورت ھے الصآفآت اس کی آیت نمبر 125 میں حضرت الیاس اپنی قوم کو کہہ رھے ھیں کہ تم بعل کو پکارتے ھو بچے مانگنے کے لئے اور احسن الخالقین کو بھول جاتے ھو،، یہ بعل نام کا بت تھا جس پر چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے اور بیٹے مانگے جاتے تھے،لنگ پوجا ٹائپ کی عبادات کی جاتی تھیں،، الغرض اس بت کی وجہ سے شوھر کو بھی " بعــل " مجازی خدا یعنی بیٹے دینے والا کہا جانے لگا ! اب یہی بعل کا لفظ حضرت سارا اپنے شوھر ابو الانبیاء حجرت ابراھیم کے لئے استعمال کرتی ھیں،، سورہ ھود کی آیت 72 میں وہ فرماتی ھیں کہ" اءلدُ و انا عجوزٓ و ھٰذا "بــعـــــلی "شیخاً ؟ کیا میں اب جنوں گی جبکہ میرا بعل بوڑھا پھونس ھو گیا ھے ؟ یہاں بعل شوھر کے معنوں میں استعمال ھوا ھے نہ کہ بت کے معنوں میں،، اسی طرح عیسی علیہ السلام کو وہ جو مرضی ھے سمجھیں ھم انہیں اللہ کا رسول سمجھ کر ان کی پیدائش کی مبارک دے سکتے ھیں ! یہ پاکستان میں کسی کا مسئلہ ھے ھی نہیں،،یہ تو مسئلہ ھے ان ممالک کا جہاں مختلف مذاھب کے حامل لوگ ایک ھی دفتر میں کام کرتے ھیں،، جہاں افسر عیسائی ھے اور عملہ مسلمان، ھندو اور سکھ اور عیسائیوں پر مشتمل ھے،جن کو سارا دن ساتھ کام کرنا ھے،جہاں مسلمان عید کی مبارک وصول کرتا ھے اور اپنے بچے کی پیدائش پر ٹافیاں بانٹتا ھے وہ ان سے ٹافیاں لینے اور مبارک دینے سے کیسے کترا سکتا ھے ؟ پھر 90٪ عیسائی ملحد ھو چکے ھیں ان کے صرف نام ھی عیسائی ھیں ورنہ وہ عیسی علیہ السلام کو خدا نہیں سمجھتے،، وہ خدا کو بھی خدا نہیں سمجھتے،کرسمس مذھبی سے زیادہ ،سوشل تہوار ھے جس میں وہ بچوں کے ساتھ 20 دن چھٹیاں گزارتے ھیں،شاپنگ کرتے ھیں اور بس،، یہ عید کی مبارک کے بدلے مبارک ھے اور بس،، مگر ھماری نفسیات کا کوئی کیا کرے ؟ یو ٹی ایس کیرئیر کمپنی نے پاکستان سے ایک اکاؤنٹینٹ منگایا،،جوان لاھور سے تعلق رکھتا تھا، کمپنی امریکہ کی ھے اور سنٹرل اے سی کی دنیا کی قدیم ترین کمپنی ھے،، انچارج سارے امریکن انگریز ھیں،، آفس بوائے دو دن کی میڈیکل چھٹی پر تھا، مسٹر ولیم نے کہا کہ دو دن ھیں تو آپس میں ڈیوٹی بانٹ کے دو دن گزار لو، انڈیا والوں نے تو صاف کر دیا اگلے دن باری آئی پاکستانی جوان کی اور اس نے حمام صاف کرنے سے صاف انکار کر دیا،شکایت مینیجر کے پاس گئ تو اس نے اس سے پوچھا کہ کیا وجہ ھے کہ دوسروں نے تو اپنی باری کر لی مگر آپ انکار کر رھے ھیں،، اس پر اس جوان کے منہ سے بیساختہ نکلا " سر دِس اِز کریسچینز جاب" بس مینیجر تو غصے سے کرسی سے کھڑا ھو گیا اس نے پی آر او کو بلایا کینسیلیشن پیپر تیار کروا کے دستخط کیئے اور کہا کہ اس کو پہلی دستیاب فلائٹ سے بحفاظت پاکستان پہنچا دو

بشکریہ قاری حنیف ڈار

خدا کا وجود

آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے؟ تو وہ جواب دیگا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے چھوٹے سرخ اجزاء ہوتے ہیں (ایک انچ کے سات ہزارویں حصے کے برابر) یہی سرخ ذرات خون کو سرخ کرنے کا سبب ہیں۔

’’درست، مگر یہ ذرات سرخ کیوں ہوتے ہیں؟ ‘‘

ان ذرات میں ایک خاص مادہ ہوتا ہے جس کا نام ہیموگلوبن (Haemoglobin) ہے‘ یہ مادہ جب پھیپھڑے میں آکسیجن جذب کرتا ہے تو گہرا سرخ ہوجاتا ہے ۔‘‘

’’ٹھیک ہے ۔ مگر ہیموگلوبن کے حامل سرخ ذرات کہاں سے آئے ؟‘‘

’’وہ آپ کی تلی میں بن کر تیار ہوتے ہیں۔‘‘
’’ڈاکٹر صاحب! جو کچھ آپ نے فرمایا وہ بہت عجیب ہے۔ مگر مجھے بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ خون‘ سرخ ذرات‘ تلی اور دوسری ہزاروں چیزیں اس طرح ایک کل کے اندر باہم مربوط ہیں‘ اور اس قدر صحت کے ساتھ اپنا اپنا عمل کررہی ہیں؟‘‘
’’یہ قدرت کا قانون ہے۔‘‘
’’وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قدرت کہتے ہیں؟‘‘
’’اس سے مراد (Blind interplay of physical and chemical forces) طبیعی اور کیمیائی طاقتوں کا اندھا عمل ہے ۔ ‘‘
’’مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں‘ جو انہیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اڑنے کے قابل ہوسکے ، ایک مچھلی تیر سکے، ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے۔‘‘
’’میرے دوست مجھ سے یہ نہ پوچھو، سائنس داں صرف یہ بتاسکتا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے ‘ وہ کیا ہے‘ اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے ۔‘‘
یہ مکالمہ اس بات کو بالکل واضح کردیتا ہے ہماری عقل بھی خدا کو ماننے پہ کیوں مجبور ہے۔ کیونکہ دراصل اسی ’’کیوں ‘‘ کی خلاء کر پُر کرنے کے لیے ہمیں چار و ناچار خدا کے وجود اور مذہب کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے ۔بگ بینگ نظریے کے مطابق کائنات ایک انفجار کے بعد وجود میں آئی اورپھر ایک طویل المیاد عمل کے بعد زمین میں مظاہر فطرت کا وجود ہوا۔مادہ پرست قوم اس پورے عمل کو اتفاق مانتی ہے ۔ سورج زمین سے نو کروڑ تیس لاکھ میل فاصلے پر ہے اگر یہ فاصلہ کم یا زیادہ مثلاً نصف ہی ہوجائے ساری زمین تباہ ہوجائیگی اور سب کچھ جل کر راکھ ہوجائیگا لیکن ہم جانتے ہیں کہ سورج زمین کی حیات کے لیے ناگزیر فاصلے پر ہی واقع ہے ۔ زمین ۲۳ درجے کا زاویہ بناتے ہوئے خلاء میں جھکی ہوئی ہے اور یہ جھکاؤ ہمیں موسم دیتا ہے ، اگر زمین اس طرح نہ جھکی ہوئی ہوتی تو ایسے اثرات واقع ہوتے جس کی وجہ سے زمین پر زندگی کا وجود ناممکن ہوجاتا ۔ اس عظیم انفجار کے بعد آخر کیوں سورج اسی فاصلے گیا جو ہمارے لیے ناگزیر تھا۔آخر کیوں زمین اسی درجے پہ جھکی کہ ہمارے لیے مطلوبہ موسم رہ سکیں۔؟ ان سب کو اتفاق ماننا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک فرش پہ موتیوں سے پاکستان لکھا ہوا ہو املے اور آپ یہ مان لیں کہ کسی نہ موتیوں کی لڑی ہوا میں اچھال کے پھینکی اور اتفاق سے یہ لفظ بن گیا۔ یا یہ کچھ ایسا ہی ہے کہ آپ سیاہی کی بوتل زور سے کسی کاغذ کے ڈھیرپر پھینکے اور آپ کے سامنے دیوانِ غالب یا شاعری کی ایک ضخیم کتاب آجائے۔ کیا ایک صاحب عقل ان سب کو ’’اتفاق‘‘ مان سکتا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ تو پھر یہ کائنات کا مربوط نظام کس طرح اتفاقاً وجود میں آسکتا ہے ؟ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ یہ ثبوت ہے اس ہستی کا جس نے یہ سارا نظام نظم و ضبط کے ساتھ قائم کیااور پھر ہمیں اس پر غور کرنے کی دعوت دی۔ انسان درحقیقت اتنا عاجز اور حقیر ہے کہ وہ اپنے عقل کے گھوڑوں کی رسائی بھلے چاند اور اجرام فلکی کے دیگر سیاروں تک کرلے لیکن سائنس کے ہر ایک شعبے میں اسے ایک نکتہ وہی آتا ہے جہاں اسے بھی ایمان بالغیب کو ایک معقول حقیقت ماننا ہی پڑتا ہے اور سارے کارخانہ کائنات کے پس پردہ ایک عظیم الشان ہستی کے وجود کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
( ماخوذ از: ’’مذہب اور جدید چیلنج ‘‘)

ضرورت ہے





ضرورت ہے کچھ ایسے بے فکرے دوستوں کی جنھیں گھر کی معاشی ضرورتوں کا خیال اور معاشرتی زمیداریوں کا کوئی احساس قطعا نہ ہوں .قوم کے درد میں مستغرق رہنے کے آزار میں مبتلا نہ ہوں .. اور روز ہم وطنوں کی گرنے والی لاشوں کے اسکور پر شرطیں لگانے کے شوقین ہوں .

ٹائم پاس کرنے پر یقین رکھتے ہوں. زندگی کا مقصد کیا ہے .ہمارے حال کی مستی اور بے فکری کا مستقبل کیا ہوگا .اسطرح کے سوالات کی فکر انگیزی کو حماقت انگیز سمجھتے ہوں .وفاداری کو پرانے زمانے کی بوسیدہ روایت اور حیا کو پتھر کے دور کا زیور سجھتے ہوں.. جدید دور کی بدلتی ہوئی قدروں سے ہم آہنگ ہوں .غیبت ان کا محبوب مشغلہ اور بہتان طرازی کے فن میں ماہر ہوں ..

کچھ سیاستدانوں کی کم عقلیت کے کارناموں اور نا اہلیت کی بنیاد پر سیاست کو گالی سمجھنا اور سیاستدانوں کو گالی دینا عین عبادت سمجھتے ہوں ..اور اگر خدا نخوستہ ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہوں تو ووٹ صرف اپنی ذات اور برادری کے ہی بندےکو دیتے ہوں .چاہے وہ ذات شریف منتخب ہونے کے بعد انہیں کم ذات کیا انسان کی ذات ہی نہ سمجھے اور بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کردے ..

ضرورت ہے کچھ ایسے دوستوں کی جوعشق مجازی (جو کے عشق خصوصی ہے آجکل) کے آگے زندگی کو اتنا حقیر سمجھتے ہوں کے اسے کسی لڑکی یا لڑکے کے چھوڑ جانے سے تباہ اور ختم کرنا باعث فخر سمجھتے ہوں ..اندھی تقلید کے حامل اور عقل سلیم سے محروم مجذوبوں کے سچے پیروکار ہوں ..کسی بھی بات کو سن کر بغیر تصدیق آگے بڑھانے والے اور کسی کو ازیت دے کر خوشی محسوس کرنے والے چابلوسی میں ماہر اور خوشامد کے فن سے پوری طرح واقف ہوں ..

بغیر مطلب کے نیکی کرنے کو خوامخوا توانائی کا زیاع سمجھتے ہوں .اور آج کل کے تونائی کی بحرانی کفیت میں کنڈے کی بجلی ان کے ضمیر کو کرنٹ نہ مارتی ہو ..

اگر آپ ان تمام باتوں پر پورا اترتے ہیں یا خدانخواستہ آپ کو لگتا ہے گویا میں آپ ہی کا ذکر کرتے ہووے آپ سے مخاطب تھا تو فورن رابطہ کیجیے ..تاکے ذلت کی پستیوں میں گرتی ہوئی قوم اور اس ملک کو مل کر ہم ایک دھکا اور دیں ...................

تحریر :سکندر حیات بابا