دل کا دریچہ

ہمارے غزائی جرائم

انسانی جسم، انسان کی غذا اور سوچ کا عکاس ہوتا ہے ۔ صحتمند جسم یقناً صحتمند غذا اور صحتمند سوچ کی علامت ہوتا ہے ۔ صحتمند غذا کی فراہمی ایک مکمل نظام کے تحت ہی ممکن ہوتی ہے۔ عقل رکھنے والی قوموں نے اپنے معاملات میں غذا کے معاملے پر بہت توجہ دی ہے اور تحقیق و جستجو کے ذریعے نئ جہتوں کو ڈھوند نکالا ہے۔
ایک وقت پر یہ سوچا گیا کہ شاید نوع انسانی گھی کی کمی کا شکار ہو جائے گی تو مصنوعی گھی ایجاد ہوا اور سمجھا گیا کہ یہ اصلی گھی کا متبال ہے۔ اصلی گھی میں تو انسانی ضروریات کے وہ اجزا بھی موجود تھے جس کا انسان کو ادراک بھی نہیں تھا مگر مصنوعی گھی صرف شکل میں گھی سے ملتا تھا پھر یہ حل ڈھونڈا گیا کہ اس مصنوعی گھی میں کچھ وٹامن ملا دئے جائیں ۔ ترقی یافتہ اقوام نے تو اس پر سختی سے عمل کروایا مگر ہم جیسے ممالک جہاں لالچ اور حوص کو صحت پر فوقیت حاصل تھی وہاں گورنمنٹ کے اہلکاروں نے زہریلے گھی کے ڈبوں کو ہی فیکٹریوں سے بطور رشوت قبول کیااور یوں یہ کھوکھلے گھی کے ڈبے عام گھروں میں پہنچ گئے ۔ قوم اس گھی کو کھاتی گئی اور ہر نئے دن کے ساتھ صحت سے دور ہوتی گئی ۔ اب ہر بندہ اگر اپنا وٹامن کا ٹیسٹ کروائے تو وہ ہر اس ضروری وٹامن کمی کا شکار ہوگا جس سے وہ صحت مند زندگی گزار سکتا ہے ۔
سبق یہ پڑھایا گیا کہ انسان ہزاروں سالوں سے جس غذا کے زریئے اس دنیا میں زندگی گذار رہا ہے وہ سب جدید تحقیق سے دور تھی اور بالکل بھی مناسب نہیں تھی ۔ 
گھی تو صرف ایک مثال ہے اگر ہم باقی غزاوں کی طرف دیکھیں تو وہاں بھی یہی حالت ہے ۔ بھائی اگر دودھ خراب نہیں ہو رہا ہے تو یہ اس کی خوبی نہیں بلکہ وہ تو دودہ ہی نہیں، دودہ کو ایک مدت کے بعد خراب ہونا ہے۔ یہی حالت مرغی،انڈہ،مچھلی اور تمام کھانے پینے کی اشیا کی ہے ۔

اب اگر آپ بازار سے ڈبل روٹی لینے جائیں اور اس پر لکھا ہو کہ اضافی وٹامن کے ساتھ تو سمجھ لیں کہ وہ بالکل خالی ہے وہ صرف پیٹ کی بھوک کو مٹا ئے گی لیکن آپکی غزائی ضرورت پورانہیں کر سکتی ہے۔ اور ساتھ میں کوئی طاقت کا شربت بھی لے لیں ۔

حکومتوں کے جرائم

اس تحریر میں حکومتوں کی غلطیوں ، کوتاہیوں، ناہلیوں اور بد انتظامیوں کو جرم اس لیے کہا گیا ہے کہ میرے دل کی عدالت اس سے کم پر متفق نہیں ہو سکتی ۔ ایک شخص کی غلطی کا اثر بہت چھوٹا ہوگا مگر حکومت جب غلطی کرے گی تو وہ لمحوں کی خطا اور صدیوں کی سزا بن جاتا ہےاور پوری قوم اس کو بھگت رہی ہوتی ہے ۔اس تحریر میں کسی ایک حکومت کا زکر نہیں ہےبلکہ اس میں سب حکومتوں کا اجتماعی قصور ہے لہٰذا سب حکومتیں اس کو دل پر لے سکتی ہیں۔اس مضمون پر کیے جانے والے تمام تبصرے کھلے دل سے قبول کئے جائیں گے ۔توانائ :۔توانائ موجودہ دور کی انتہائ اہم ضرورت ہے ۔ اس سے تمام کاروبارِزندگی چلتا ہے ۔ اور اسی سے غریب سے لے کر امیر کا چولہا جلتا ہے ۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ حکومتیں اس کی حساسیت کا بالکل بھی احساس نہیں کرپائیں اور اگر کچھ کوششیں کی بھی گئی ہیں تو بالکل بے اثر اور غیر سنجیدہ محسوس ہوتی ہیں ۔ توانائ کے اس بحران نے اس قوم کو گھٹنوں کے بل بٹھا دیا ہے ۔ قوم میں یقیناٴ وہ لوگ زیادہ تعداد میں ہیں جو دیہاتوں میں رہتے ہیں وہاں تو عجب حال ہے ۔محسوس یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے مفادات کو یہاں بھی قربان نہیں ہونے دے رہے اور نہ ہی کسی اور کو یہ کام کرنے دے رہے ہیں۔ حکومتوں کا یہ جرم میں تو بالکل بھی معاف نہیں کر سکتا اور میں ان مجرموں کا قدرت کے ہاتھوں انتقام کا منتظر رہوں گا ۔صحت:۔صحت کا شعبہ ایسا ہے کی اس پر انسانی زندگی کا دارومدار ہے اور اس میں کو تاہی یقیناً نوعِ انسانی سے غداری ہے۔ صرف دوا ساز کمپنیوں کے قیام سےمعیارِ صحت کو بلند نہیں کیا جا سکتا یا پھر زیادہ تعداد میں ہسپتال بنا کر ہی صحت کے شعبے میں کار کردگی نہیں بڑہائ جا ساکتی بلکہ اس میں عوام کی آگاہی بہت ضروری ہے۔ صحت مند غذا اور صحتمند طرزِ زندگی کا شعور بھی انتہائ اہم ہے ۔ اس معاملے میں حکومتوں کی کسی سنجیدہ کوشش کو مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔تمام بڑے ہسپتالوں کو صرف شہروں تک محدود کر دینا بھی جرمِ عظیم ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مصیبت زدہ عوام کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتاہےاور بندہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ جب اربابِ اقتدار سےقدرت اس کا حساب لے گی تو یہ کس جگہ چھپیں گے۔ پولیس:۔پولیس کا محکمہ کسی معاشرے میں امن وامان کی فراہمی اور جرائم کو روکنےمیں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرےمیں نہ جانے اس پر توجہ کیوں نہیں دی گئ۔ اس میں پولیس کے عملے کا معیار زندگی انتہائ افسوسناک ہے اور پولیس کا معاشرے میں جومقام ہے اس پر دل کڑہتا ہے ۔ یقیناً تعلیم یافتہ، تربیت یافتہ اور زہنی طور پر مطمئن پولیس ہی معاشرے میں امن قائم کر سکتی ہے۔ اس معاملےمیں حکومتوں کی ناکامی اس بات کی طرف دلیل کرتی ہے کہ اس میں حکومتیں عوام پراپنا اثر و رسوخ بر قرار رکھنے کیلئے اس جرم کا ارتکاب کرتی نظر آتی ہیں ۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جیسے عوم میں شعور بیدار ہوتا جائے گا تو کچھ عرصہ میں پولیس کی ذمہ داری عوام خود اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے اور یہ عمل یقیناً حکمرانوں کو سبق سکھائے گا۔ جب شاید ان کی اولادیں اس کا حساب دے رہی ہونگی۔تعلیم:۔تعلیم کے معاملے میں حکومتی غفلت نا قابلِ برداشت ہے ۔ جب میں شہری زندگی سے دور نکلتا ہوں تو ٹوٹے پھوٹے اسکول نظر آتے ہیں اور ان میں سفارش پر بھرتی ہونے والا غیر تربیت یافتہ اساتذہ ہمارے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتے نظر آتے ہیں ۔ کسی بھی چک میں ، گاوٴں میں یا پسماندہ علاقے میں جا کر دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ زندگی کتنی مشکل ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام نہ تو جدید علوم پر توجہ دیتا ہے اور نہ ہی معاشرے میں جینے کیلئے اخلاقی تربیت کر پاتا ہے اور ہم پڑھی لکھی، غیر تعلیم یافتہ اور غیر تربیت یافتہ نسل تیار کر رہے ہیں ۔ یہ وہ جرم جس کی سزا ہمارے حکومتی عہدے داروں کو ضرور ملنی چاہئے ۔
بنیادی جمہوری ادارے:۔بنیادی جمہوری ادارے عوام کو نچلی سطح پر سہولیات فراہم کرنے کا واحد بنیادی ذریعہ ہیں ۔ بدقسمتی سے ہماری جمہوریت کی دعویدار جماعتیں بھی اس نظام کو نافذ کرنے میں مخلص نہیں ہیں۔ ہر مسئلے کے حل کیلئے لوگ وزیراعظم، وزیر اعلٰی کی طرف دیکھتے ہیں تو مسائل کے انبار لگ جاتے ہیں اور گلی محلے میں عوام کی سننے والے کوئ بھی نہیں ۔ اس جرم کو بھی معاف نہیں کیا جاسکتا اس جرم سے عوام کے ہاتھوں میں سے اصل طاقت چھین لی گئ ہے اب عوام ایسی جمہوریت کا اچار ڈالیں جو ان کے محلے کی سڑکوں کی صفائ نہ کر سکے ، جہاں گٹر بھرکر لوگوں کے گھروں میں آجائیں اور محلے میں کوئ ڈسپنسری بھی کام نہ کر رہی ہو۔ اس جرم کی سزاکی لپیٹ میں حکومتیں جب بھی آئیں گی تو ان کو کوئ بھی رعایت نہیں دینی چاہیے۔ کاروبار پر قبضہ:۔تمام بڑے اور بنیادی کاروباروں پر سیاسی لوگوں کا قبضہ نظر آتا ہے ۔ یہ لوگ اپنے اقتدار کو اپنے کاروباروں کے پھیلانے میں استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔ کاروبار کرنا کوئ جرم نہیں مگر اس پر عام عوام کے دروازے بند کر دینا یقیناً ایک جرم ہے ۔ تمام  عوامی عہدوں پر فائز لوگ جب اپنے کاروبار کو پھیلانے کیلئے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہیں تو مساوی مسابقت کو نقصان پہنچتا ہے، معاشرے میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور سرمائے کا پھیلاوٴ محدود ہو جاتا ہے اور عمومی طور پر غربت بڑہ جاتی ہے ۔ ملک میں کاروباری حالات ٹھیک نہیں ہوتے لیکن چند وزیروں کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے۔
قانون قدرت ہے کہ ہر جرم کی سزامل کر رہتی ہے۔ جتنی دیر ہو رہی ہے اس میں یقیناً اتی ہی سختی ہوگی اور شاید قدرت ان کو سدھرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے ۔ کئ حکمرانوں کے نشان مٹ چکے ہیں اور باقیوں کے مٹنے والے ہیں اگر انہوں نے اپنے جرائم کی اصلاح نہ کی تو ان کی نسلیں انہی پولیس والوں ، انہی ڈاکٹروں اور انہی بے بس عوام کے ہتھے چڑہیں گے کیوںکہ اگرقرآن سچا ہے تو اس میں کہا گیا ہے کہ الللہ تعالٰی اپنے قوانین کو تبدیل نہیں کرتا ۔یقیناً قدرتی انتقام متحرک ہوگا اور مجرم لوگ پنے مفادات کےساتھ کہیں دفن ہو جائیں گے ۔

ہم زندہ قوم ہیں، آئیں پھر سے جیئں

ہم ایک زندہ قوم ہیں اور اس میں کوئ شک نہیں کہ زندہ قوم ہیں۔ ہم روز بیدار ہوتےہیں اور اپنی زندگی کے معاملات میں مگن رہتےے ہیں ۔ ہم ہر روز مشکل ترین حالات کا سامنا کرتے ہیں اور پھر ان سے گزر جاتے ہیں ۔ ہمیں ناکام ریاست قرار دینے کی تیاری کی جاتہ ہے مگر ہم پھر بھی چلتے رہتے ہیں ۔ ہمارے ملک کے کاروباری ادارے ترقی بھی کرتے ہیں اور آگے بھی بڑہتے ہیں ۔  ہم روز سڑکوں پر اندھا دھند گاڑی چلاتے ہیں اور پھر بھی اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں ۔پھر ہم مضطرب کیوں ہیں، کہیں ہم بہت بھولے ہیں اور کہیں ہم انتہائ چالاک ہیں ۔ کہیں ہم خشک سالی سے مر جاتے ہیں اور کہیں ہم پانی میں ڈوب کر مر جاتے ہیں ۔ کہیں سڑکوں پر خالی پیٹ کو بھرنے کیلے بھیک مانگ رہیے ہیں تو کہیں ہم کھا کھا کر مر رہے ہیں ۔ کہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم خدا اور اس کے رسول کے نائب ہیں تو کہیں ہم ہر کسی کو الللہ کا بندہ ماننے کو ہی تیار نہیں ۔
آئیں پھر سے جیئں ۔۔ ہم زندہ قوم ہیں
صبر سیکھ لیں۔۔ پودا لگا کر اس پودے کے بڑے ہونے کا انتظار کریں تا کہ پھل کھا سکیں ۔ سڑک پر سگنل بند ہونے پر سکون کے دو سانس لیں تاکہ زہنی اضطراب سے بچ جائیں ۔ راستے پر چلتے ہوئے رک کر دوسرے کو راستہ دے دیں ۔ آئیں ہم سب پر رحم کرنا سیکھ لیں تاکہ ہم پر رحم کیا جائے ۔ آئیں ظلم کرنے سے رک جائیں تاکہ ہم بھی زندگی میں سکون دیکھ سکیں ۔ زندگی کی دوڑ میں دو چار لمحے رک کر تنہائ میں بیٹھ کر اپنے رب سے سکون کی التجا کر لیں ۔ اور جب ہم یہ سمجھیں کہ ہم مشکل میں گھر گئے ہیں تو اپنی انا اور تکبر سے باہر آجائیں ۔ جب سمجھنے لگیں کہ اتنی محنت کے بعد بھی پیسے کم پڑتے ہیں تو کچھ اور بھی تو سوچیں کہ کہیں محنت ہی غلط سمت میں کر رہے ہیں ۔ سب کچھ کرنے کرنے کے بعد، صرف ایک بار دیوار سے ٹیک لگا کر سوچیں کہ آخر کس کیلئے ہم سب کچھ کر رہے ہیں ؟ اور اگر سکون نہیں مل رہا تو زرا راستہ تبدیل کر لیں  زرا سا صبر کرنا سیکھیں ۔ پودا لگا اس کیے بڑے ہونے کا انتظار تو کریں ۔۔

جشن آزادی مبارک 

گدھے کا گوشت، قدرت کا انتقام

معاشرے میں جس طرح کرپشن سرایت کر چکی ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ کبھی بھی ختم نہیں ہو گی۔ میں یہ سوچتا تھا کہ یہ نظام کیسے درست ہو گا اور یہ ظلم اور کرپشن کیسے ختم ہو گی لیکن  جب سے مجھے پتا چلا کہ گدھوں کا گوشت تمام اربابِ اختیار کے کھانوں میں پہنچ چکا ہے تو مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا ہے اوراب  میں پر سکون ہو گیا ہوں۔

مجھے قدرت کی وہ سٹریٹجی سمجھ میں آگئ ہے جس سے وہ ان کرپٹ لوگوں کا خاتمہ کرے گی اور کرپٹ لوگوں کو اسی نظام کی چکی پیس سے دے گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سمجھدار کیلیے اشارہ ہے ۔

جب سے مجھے پتہ چلا ہے کی تقریباً ہرحکمران، وزیر اور اعلی عہدیدار تک گدھے کا گوشت پہنچ چکا ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ اب قدرت ان سے ان کے اعمال کا بدلہ لینے پر آچکی ہے۔ جب حکمران کرپٹ ہونگے تو وہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے اپنے ارد گرد کوئ نیک یا پارسا لوگ تو اکٹھے نہیں کرینگے نا ۔

اب اگر نا اہل اور کرپٹ پولیس والے بھرتی کر دئے جائیں گے تو وہی پولیس اہلکار ان کی حفاظت بھی کریں گے ۔ مگر نا اہل ہونے کی وجہ سے یقیناً انہی کی نا اہلی سے مارے جائیںگے ۔ جیسے کی کچھ دن پہلے ایک غیر متعلقہ شخس سینیٹ میں پہنچ گیا تھا ۔

اب اگر میں جعلی دوائ کی اجازت رشوت لے کر دے دونگا تو میرا بیٹا،بیٹی، بیوی اور میں خود بھی تو وہی دو کھاوں گا اور پھر اس ملاوٹ کے مزے لوں گا ۔ میرے جییسے بیوقوف شخص نہیں ہوگا جو یہ سمجھے کہ امپورٹڈ پیکنگ میں بکنے والی دوائ دراصل میرے محلے تیار کی گئ ہے ۔

بھائ کرپٹ لوگ کیسے کسی نیک اور پارسا کو ڈاکٹر لگا سکتے ہیں، اور وہ اپنے جیسے کسی کو ڈاکٹر لگا ئیں گے تو کسی ایک دن ان کو خود یا ان کی آل میں سے کسی کو اسی سے دوائ لینی ہے ۔
نااہل اور کرپٹ محکمہ صحت کے لوگوں کی وجہ سے اگر غیر صحتمند گوشت بازار میں دستیاب ہے تو یقیناًً ان ناہل لوگوں کا خاندان اور یہ خود بھی گدھے کا گوشت ہی کھا رہے ہوںگے۔ جیسے کہ قصابوں نے مانا کہ جو گوشت فوڈ انسپکٹر کے گھر میں گوشت جاتا تھا وہ بھی گدھے کا گوشت ہوتا تھا ۔

اگرارباب اختیار ایر لائین میں نااہل لوگ بھرتی کرینگے تو خود بھی ایک دن اسی نااہل بندے کے ہاتھوں قدرتی انتقام کا شکار ہونگے ۔
مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ اس تحریر سے ان لوگوں کو کوئ فرق نہیں پڑے گا جو اس کرپٹ نظام کا حصہ بن چکے ہیں وہ اب بھی کئ دلائل دیں گے اور اپنے آپ کو بالکل بے گناہ اور مجبور ثابت کرینگے مگر میں کیا کروں جب کہ مجھے نظر آرہاہے کہ قدرت تو انتقام لینے پر تیا ر کھڑی ہے۔ کبھی وہ گدھے کا گوشت کھلائے گی کبھی وہ جعلی دوائ دلوائے گی کبھی چھپکلی والا برگر کھلا دے گی کبھی ڈاکٹر سے غلط آپریشن کروا دے گی اور کبھی بچے کو نشے میں مبتلا کروا کر مستقبل تباہ کروا دےگی ۔ آئیں ہم مزے کرتے ہیں اور قدرت کے انتقام کا انتظار کرتے ہیں ۔

ہمارے کاروبارمیں جدت کیوں نہیں ؟

میں جب سے لاہور منتقل ہوا ہوں تو لاہور کے کھانوں کی بہت تعریف سنی ہے۔ اور کئ بار تجربہ بھی کیا اور اندازہ ہوا کہ لاہور کے کھانوں میں جو لزت اور زائقہ ہے وہ یقناً خاص ہے۔
اسی طرح کچھ دن پہلے ایک دوست کے ساتھ لاہور کا مشہور "ہریسہ" کھانے کا اتفاق ہوا ۔ میرا دوست مجھےجب اس دکان پر لے گیا تو اس نے بتایا کہ یہ ہریسہ دو نسلوں سے اسی دکان میں چل رہا ہے اور یہ اسی طرح مشہور ہےجیسے کئ سال پہلےمشہور تھا ۔ مجھے یہ سن کر خوشی ہوئ کہ ہمارے ہاں کئ کاروبار نسل در نسل چل رہے ہیں جو کہ ایک مثبت بات ہےاور اس روایت کو اور آگے بڑھنا چاہئے ۔
ہریسہ کی دکان میں پہنچ کر میں شدید کشمکش کا شکار ہو گیا ۔ دکان کی حالت کسی بھی طرح ایک کھانے کی جگہ نہیں لگ رہی تھی۔ یہ تو ایک انتہائ پرانی دکان تھی اور صفائ کا کوئ خاص انتظام نظر نہیں آرہا تھا۔ ہاتھ دھونے کی جگہ اتنی گندی تھی کہ ہاتھ دھونے کا دل نہیں کر رہا تھا ۔ بیٹھنے کیلیئے کرسیاں بھی صاف نہیں کی گئیں تھیں اور برتنوں کی صفائی دیکھ کر تو دل ویسے ہی بھر گیا ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ جس نسل نے دکان کا آغاز کیا تھا اس کے بعد کسی میں ترقی کا شعور نہیں آیا ۔
یہ سب دیکھنے کے بعد ایک بات سمجھ میں آگئی کہ اس جدت پسندی کے دورمیں ایسے کاروبار کتنا عرصہ تک زندہ رہ سکتے ہیں جب کہ ان کے پاس کسٹمر سروس کا کوئ تصور ہی نہیں ہے۔ ایسے کاروباری حضرات پر زمانے کی تبدیلی کے کوئ اثرات مرتب نہیں ہو تے ہیں۔
پھر میں نے سوچا کہ یہ صورتحال تو کئی جگہ موجود ہے ۔ جو سائیکل ہم نے بچپن میں دیکھی ہے اس میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئ اور نہ ہی کوئ اس میں اضافی سہولت مہیا کی گئ ہے ۔ جو موٹر سائیکل ہم نے کئی سالوں پہلے تیا ر کی تھی وہ اب بھی یہاں جوں کی توں بیچی جا رہی ہے۔ اس کے بر عکس کئ بیرونی ممالک اپنے گاہکوں کو مایئل کرنے کیلئے ہر سال نئے فیچرز کے ساتھ اپنی مصنوعات ہمارے ممالک میں بھیجتے ہیں اور ہمارے کاروباری اور صنعتکار صرف برا بھلا کہنےکے سے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ 
جو کاروبار بھی ہمارے معاشرے میں ترقی کرتے نظر آتے ہیں وہ سب کے سب وقت کی آواز کو سنتے ہیں اپنے مصنوعات میں جدت لاتے ہیں اور نئے تجربات کر کے کسٹمرز کو متوجہ کرتے ہیں اور یوں آگے بڑھتے ہیں ۔ 
چین کی مصنوعت کی بھر مار کے پیچھے ایک بہت بڑی پروڈکٹ ریسرچ نظر آتی ہے ۔ ایک ہیٹر کے ساتھ صرف ایک پنکھا لگانے سے ایک نئی پروڈکٹ بن جاتی ہے اور ایک مقابل کی کمپنی بند کی جا سکتی ہے۔ہم گیس ہیٹر بنانے والی فیکٹریاں چلاتے ہیں مگر پھر بھی جاپانی گیس ہیٹر کو ترجیح اس لیے دیتے ہیں کی انہوں نے وقت کے ساتھ اس میں بدلاو کیے اور اس کی افادیت میں اضافہ کیا۔ ہمارے بزرگ اب بھی موٹر سیائیکل کو "کک"مار مار کر بیزار آجاتے ہیں مگر ہماری موٹر سائیکل بنانے والی کمپنیا اس میں ایک عدد "سلف اسٹارٹر" لگانے کا تجربہ نہیں کر سکتی ہیں ۔ یہ "انوویشن " ہمارے معاشرے میں کب آئے گی۔ ہماری پچاس سالہ سائیکل کب بدلے گی، ہماری گاڑی عالمی معیار پر کب آئے گی، ہمارے پنکھے میں جدت کب آئے گی۔ ہم کب نیا ہیٹر ایجاد کریں گے۔ ہمارا UPS  کب توانائی بچانے والا بن سکے گا ؟
یہ سب سوچتے ہی ہریسہ سامنے آیا اور ہم نے اسے کھانا شروع کردیا اور پانی کی درخواست کی جو کہ ہریسہ ختم ہونے اور بل کی ادائیگی تک نہ دستیاب ہو سکا۔ ہم پانی کے بغیر پیٹ بھر کر اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر نکل پڑے۔

میں پاک فوج کو سلام پیش کیوں نہ کروں

ہم نے جب سے پشاور کا سانحہ دیکھا ہے تو ہم سب غم میں ڈوبے ہوئے ہے ۔ میں نے اس واقعے کے بعد لوگوں کے خیالات بدلتے دیکھے ہیں ۔ لوگ اب اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گرد عناصر کو اب مکمل طور پر صاف کر دینا چاہئے۔ ہمیشہ کی طرح سیاست دانوں کی نااہلیت ثابت ہو گئ ہے۔جو رپورٹ میں نے سوشل میڈیا پر دیکھی ہے اور جس میں خیبر پختونخواہ حکومت کو یہ بتایا گیا تھا کہ پشاور کے سکول پر حملے کی منصوبہ بندی ہوگئی ہے تو یقیناٴ حکومت خیبر پختونخواہ سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے کیا کیااورمرکزی حکومت اتنے عرصے تک دہشتگردوں کو سزائیں کیوں نہیں دلوا سکیں۔ لیکن قوم کے پاس اب بھی ایک امید کی کرن ہے اور وہ ہے افواج پاکستان۔اس سانحے کے بعد پاک فوج نے جس رد عمل کا اظہار کیا ہے وہ یقینی طور پر متوقع تھا۔ فوج نے کاروائیاں تیز کر دیں اور لگتا ہے کہ کئ پیچیدہ معاملات پر واضع اور کھلے موقف کا اظہار کیا جا رہا ہے۔فوجی عدالتوں کا قیام بھی اسی ردعمل کے طور پر سامنےآرہاہے ۔ مجھے نہیں پتا جمہوریت کے دعوے دار اس کو کیوں قبول کر رہے ہیں اور شاید ان کے اسے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ اگر جمہوری حکومتیں انصاف کے نظام کی درستگی کی کوششیں کرتی نظر آتیں تو اس متوازی نظام کی ضرورت نہ ہوتی اور عوام کو بالعموم سستااور فوری انصاف مل رہا ہوتا۔ عوامی جمہوری حکومتیں پچھلے سات سال میں عوام کو جس جمہوری نظام کو نافز کرنے کی نوید سنا رہی ہے اس جمہوری نظام میں آج تک کبھی بھی سارے سیاسی رہنما اس طرح اکٹھے نہیں بیٹھ سکے۔ ان سب کو یہ توفیق نہیں ملی کہ یہ اکٹھے ہو جائیں اور پاکستان میں نظام انصاف کی اصلاح کیلے کوئ طرقہ کار وضع کر سکیں، کوئ بل منظور کر سکیں یا کوئ آرڈیننس ہی لے آئیں ۔یہ سب جانتے ہیں کہ اگر عام عدلیہ مضبوط ہوتی ہے تو ان کے جاتی امرا، بنی گالا اور کلفٹن کے محلات محفوظ نہ رہیں گے۔ یہ سب جمہوریت کے دعویدار اب فوجی عدالتی نظام کو نافز کرنا چاہتے ہیں کی ان سیاسی جدوجہد جاری رہ سکے۔ اور وہ عوام کے سامنے سرخرو ہو سکیں ۔ 
پاک فوج کی واضع وابستگی نے یہ بات بھی ثابت کر دی ہے کہ افواج کو کام کروانا آتا ہے اور اگر ان کو کام کروانا آتا ہے تو ہمارے سیاسی رہنما کب سیکھیں گے کہ عوام کو بھی تیز رفتار انصاف چاہئے اور وہ برسوں تک تھانے اور کچہری کا چکر نہیں لگا سکتے ۔ اگر موجودہ جمہوری نظام بنیادی انصاف فراہم نہیں کر سکتا تو میں کیوں جمہوریت کی تمنا کروں اور کیوں اپنے سیاسی رہنماوں کےمفادات کا تحفظ کروں۔

ہر چیز زہر سے نہیں مرتی کبھی گڑ بھی استعمال کریں

میرا تعلق ایک دیہات سے ہے اور میرا بچپن گاوٴں میں گزرا۔ گاوٴں کی پسماندگی کی حالت یہ تھی کہ میں پانچویں جماعت میں پڑہتا تھا جب ہمارے گاوٴں میں بجلی آئی تھی۔ گاوٴں کی زندگی میں کیڑے مکوڑوں، زیریلے سانپوں اور تمام پالتو جانوروں کو اپنے ماحول کا حصہ دیکھا اور اس سے کوئی ڈر یا خوف نہیں محسوس کیا۔ گھر کے کمروں کے چھت کچے تھے اور لکڑی کے شہتیروں سے بنے ہوئے تھے۔ گھر کی چھت میں چڑیوں کے گھونسلے ایک عام سی بات تھی اور وہ چڑیاں اس ماحول کا حصہ لگتی تھیں  اور اگر کبھی زیادہ تنگ کرتی تھیں تو کچھ روٹی کے ٹکڑے نیچے پھینک دیے جاتے اور وہ ان کو اٹھا کر خاموش ہوجاتیں۔ ان چڑیوں کے انڈوں کی تلاش میں کبھی کبھار سانپ بھی آجاتے تھےچڑیاں ایک دم مخصوص آواز میں مدد کو پکارتیں تو ہماری دادی اماں اچانک سے اٹھتی تھیں اور ایک مخصوص ڈنڈا اٹھاتیں، جس کے سرے پر ایک مخصوص لوہے کا ٹکڑا لگا ہوتا تھا  اور وہ سانپ کے پیٹ میں گھونپتی تھیں اور سانپ کو زمیں پر اتار کر مار دیتی تھیں۔ یوں چڑیوں کا شور ختم ہو جاتا، گویا قدرت خود ہی الارم کا کام کرتی تھی اور انسان چڑیوں کو اور چڑیاں انسان کو بچاتی تھیں۔
یہ سب یاد آگیا، کیونکہ میرا بیٹا چیونٹیوں کو مارنے کیلیے ایک زہریلا سپرے اٹھا لایا تو میں نے اسے فوراً روکااور اپنی دادی اماں کا طریقہ کار بتایا۔ ہم نے دیکھا تھا کہ جب کبھی چیونٹیاں نکل آتی تھیں تو دادی اماں فوراً چیونٹیوں کے بل کے نزدیک آٹے کی مٹھی ڈال دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ ان چیونٹیوں کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا اگر ہم ان کی بھوک نہ مٹائیں اور چیونٹیاں آٹا اٹھانے کے چکر میں تنگ نہیں کرتی تھیں اور واپس بل میں گھس جاتی تھیں ۔ یہ ہے وہ قدرت کے ساتھ انسان کا تعلق جس کی وجہ سے انسان نے لاکھوں سال بغیر کسی پیسٹیسائیڈ Pesticide ، بغیر کسی Antiseptic ، اینٹی بائیوٹیک Antibiotic اور بغیر کسی بوٹی مار سپرے کے گزارے ہیں ۔ اب جب میں ہر جگہ جراثیم کش صابون اور جراثیم کش سپرے کے اشتہار دیکھتا ہوں تو میں محسوس کرتا ہوں کہ اب انسان نے قدرت کے خلاف جنگ شروع کر دی ہے اور قدرت کے یہی کارندےاس کے دشمن ہو گئے ہیں اور اب یہ دکھا یا جاتا ہے کہ جراثیم دن بدن طاقتور ہو رہے ہیں ۔کبھی مچھر انسان کے قابو سے باہر ہو جاتا ہے تو کبھی کوئی اور قدرت کا کارندہ انسان کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔اور انسان پہلے سے طاقتور زہر کی ایجاد شروع کر دیتا ہے۔اب مجھے یہی دشمنی انسان کے خون میں سرایت کرتی نظر آتی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے  کہ جو دین ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے انتہائی محبت کے ساتھ پھیلایا تھا اور لوگوں کو محبت کی زبان سے قائل کیا تھا اسی نبی کریم ﷺ کے ماننے والے دین میں اختلاف پرجان سے مارنے کو عین دین سمجھتے ہیں ۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کوئی رد عمل ظاہرنہیں ہوگا ؟

پاکستان میں3G کا مستقبل اورمواقع

ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں 3G موبائیل ٹیکنالوجی کی دستیابی شروع ہو چکی ہے اور اب ہم اپنے موبائیل فون پر   صرف انٹرنیٹ ہی نہیں بلکہ تیز انٹرنیٹ استعمال کر سکتے ہیں ۔ گو کہ ابھی تک اس سروس کی دستیابی بہت وسیع پیمانے پر نہیں ہوئی ہے مگر اب متعارف ہو چکی ہے تو آہستہ آہستہ پھیلنا شروع ہو جائے گی۔ 
اب ہمیں اس بات پر سوچنا ہے کہ اس سے کیا فائیدہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ کئی لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کی عوام میں اس کی مقبولیت زیادہ نہیں ہوگی اور اس کا کوئی مناسب کاروبار میں استعمال نہیں ہو سکتا ۔ میری رائے میں جتنا بڑا یہ ملک ہے اور جس قدر تیزی سے موبائیل کا پھیلاوُ پاکستان میں ہوا ہے 3G کے پھیلاوُ کی رفتار اس سے کافی زیادہ  تیز ہوگی۔ ہمارے ملک میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اور یہ سب رابطہ رکھنا چاہتے ہیں  انٹرنیٹ کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو صرف مناسب سروسز کی فراہمی ضروری ہے جو ان لوگوں کی ضروریات کو پورا کرسکے
بدقسمتی سے ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کا سارا کاروبار کراچی، لاہور ، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں ہی ہوتا ہے اور باقی دور دراز کے علاقوں کو ہم نے کبھی بھی وہ اہمیت نہیں دی تو ہماری سوچ محدود ہو کر رہ جاتی ہے ۔ 
انٹرنیٹ کی مقبولیت اب پاکستان کے ہر شہر اور گاوُں میں ہو چکی ہے اور اس کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔ اور جیسے کہ ابھی بھی انٹرنیٹ پر صرف ایک بڑی کمپنی کی اجارہ داری قائم ہے اور اسی وجہ سے اپنے گاہکوں کو تسلی بخش معیار مہیا نہیں کر سکی ہے اور جو WiMax (وائی میکس) کمپنیاں بھی آئی وہ اپنی سہولیات کو چند بڑے شہروں سے آگے نہیں لے کر جاسکے اور جہاں پر ان کے سروس دستیاب ہے وہاں بھی اکثریت مطمعن بالکل نہیں ہے اور انترنیٹ کا سنجیدہ کسٹمرز ہمیشہ پریشان ہی رہتے ہے جو کہ مجبورہیں کہ غیر تسلی بخش سروس استعمال کریں ۔ وہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی مناسب سروس دستیاب ہو تو اس سے استفادہ کر سکیں اسی وجہ سے تمام اٹرنیٹ سروس پروائڈرز ابھی تک گاہکوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی آفرز ہی دیتے رہتے ہیں ۔
موبائیل کمپنیوں کا نیٹ ورک اب بہت وسیع ہو گیا ہے اور ان کا ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک بھی کافی مضبوط ہے اور اگر یہ اپنی 3G سروس کو با قاعدہ انٹرنیٹ سروس کے طور پر علیحدہ متعارف کروائیں تو یہ بہت زیادہ مقبولیت حاصل کرلیں گے اور اگر معیار کو بہتر رکھا جائے اور کسٹمر کا اطمینان حاصل کیا جائے تو شاید بہت جلد موجودہ انٹرنیٹ سروس پروائیڈر کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں ۔
اس سارے منصوبے میں فتح اس کی ہو گے جو
  •  اپنی سروس کو جلد سے جلد دور دراز کے علاقوں میں مہیا کرے گا
  •  اپنی سروس کے معیار کو کبھی گرنے نہیں دے گا
  • اور مناسب پیکج لائے گا ۔
 یقیناً یہ کام مشکل ہے مگر نا ممکن بالکل بھی نہیں ۔ اور یقیناً نت نئے تجربات سے ہی سیکھا جئے گا اور وہی فائدے میں رہے گا جو یہ تجربات کرتا رہے گا اور تجربات کا حوصلہ رکھے گا ۔

آئی کلاوڈ(iCloud) ہیک اور احتیاطی تدابیر

انٹرنیٹ سروس کا کوئی نہ کوئی واقعہ دنیا میں گردش کرتا رہتا ہے ۔ جیسے جیسے انٹرنیت کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ پر نت نئی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں تو ایسے ہی انٹرنیٹ پر ہیکنگ کے واقعات میں روز ہروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ابھی اطلاعات آرہی ہیں کہ کچھ دنیا کے مشہور فلمی ستاروں کی تصاویر ایپل کے آئی کلاوڈ سروس سے چوری ہو گئی ہیں ۔ جو کہ ایک انتہائی تشویشناک واقعہ ہے ۔ کیونکہ اس دور میں ہم سب ہی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی ذاتی تصاویر نہ صرف انٹریٹ کے ذریعے بھیجتے اور وصول کرتے رہتے ہیں بلکہ اٹرنیٹ کی مختلف کلاوڈ سروسز پر محفوظ بھی کرتے رہتے ہیں اور یہ اب وقت کی ضرورت بھی بن گئی ہے ۔ تصاویر کے علاوہ  ہم بہت اہم دستاویزات بھی انٹرنیٹ پر محفوظ کرتے ہیں جن کے اندر بہت اہم کاروباری اور ذاتی معلومات بھی ہو سکتی ہیں جیسے کہ اب بہت سارے موبائیل فون ہماری طبی (میڈیکل) معلومات بھی محفوظ کرتے ہیں ۔ 
تو وقت کے ساتھ انٹرنیٹ کلاوڈسروس کی سیکیورٹی کی اہمیت کا احساس بھی بڑھتا جا رہاہے ۔ اور کلاوڈ سے ڈاٹا چوری ہونے والے واقعات سے یقیناً کلاوڈ سروسز پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔
تازہ واقعہ میں ایپل کمپنی کا کہناہے کہ ہمارا نظام درست کام کر رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ کسی نے پاسورڈ کوڈ چوری کر لیا ہو اور پھر اسے استعمال کر کے تصاویر اور دوسرا ڈیٹا چوری کر لیا ہو۔ وجہ کوئی بھی ہو اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے پاسورڈز کو محفوظ رکھیں ۔ 
حقیقت یہ ہے کہ پاسورڈ کئی طرح سے چوری ہو سکتا ہے ۔ بڑی وجہ آجکل وی پی این (VPN) سروسز بھی ہو سکتی ہیں جن کے زریعے تمام ڈاٹا کسی ایک نامعلوم کمپنی کے کمپیوٹرز سے ہو کر گزرتا ہےجس کے بارے میں ہمیں کوئی پتہ نہیں ہوتا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہیں غیر محفوظ مفت کا انٹرنیٹ وائی فائی (WiFi)استعمال کر لیا ہو اور وہ دراصل کسی ہیکر نےمعلومات چوری کرنے کیلئے اپنا جال پھیلا رکھا ہو ۔ ایک اور اہم وجہ جو سمجھ میں آسکتی ہے وہ سی سی ٹی وی (CCTV)کیمرہ ہیں جو کی سیکیورٹی کے نام پر ہر جگہ لگے ہوئے ہیں اور جب کوئی بھی کیمرہ کے سامنے موبائیل کا پاسورڈ ڈالے گا تو کیمرہ پر اس کی ریکارڈنگ ہو جائے گی اور اسے دیکھ کر پاسورڈ معلوم کیا جا سکتا ہے ۔ کوئ ایسی ایپ بھی ہمارا ڈاٹا چوری کرسکتی ہے جو کہ ہمارے موبایئل پر موجود ہو اور ہمیں احساس بھی نہ ہو ۔ 
اب ہمیں یہ بھی احساس ہو رہاہے کہ شاید انٹرنیٹ پر معلومات کو محفوظ رکھنے کیلئے پاسورڈ کوئی قابل بھروسہ طریقہ نہیں ہے اور وقت کے ساتھ نئے طریقے بھی دریافت کرنے ہونگے اور اس وقت تک ہمیں جس حد تک ممکن ہو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہونگی تاکہ محفوظ رہیں۔

انقلاب چاہئے یا اخوت ؟

ایک زمانےسے سن رہا ہوں کہ انقلاب آ رہا ہے ۔ میں نے بھی باقی لوگوں کے ساتھ انقلاب کی آس لگا رکھی ہے۔ اور ذہن میں یہ بٹھا دیا ہے کہ بہت سارے مختلف کام انقلاب کی آمد تک ممکن ہی نہیں ۔اور انقلاب کیسے آئے گا جبکہ انقلاب کی تمام تر کوششیں کچھ اپنوں کی نادانیوں اور کچھ اغیار کی سازشوں کی وجہ سے ناکام ہو گئ ہیں۔ ہر وہ قوت یا تحریک جو انقلاب کا نعرہ لگا کر آگے آئی اسے ناکامی کا سامنا ہوا۔ پھر انقلاب کیسے آئے۔ایک بات جو ہمیں اپنے پیارے نبئ رحمت صل اللہ علیہ وصلم کی حیاتِ طیبہ سے ملی وہ ہے بے داغ ماضی اور نظریہ پر مضبوط ایمان ۔ اگر ماضی بے داغ ہے اور نظریہ پر پختہ یقین ہے تو وہ بندہ ضرور انقلاب لے آئے گا ۔ کیونکہ ایسے رہنما پر عوام کو یقین ہو گا اور اغیار کی سازش اس رہنما پر چل نہیں سکے گی ۔اب پھر انقلاب کیسے آئے؟ سوال وہیں پر موجود ہے اور جب تک انقلاب نہیں آجاتا تو ہم اسی طرح ظلم کرتے رہیں اور ظلم برداشت کرتے رہیں ؟ اور اگر اس سفر میں کئی صدیاں گزر جائیں تو ہم عام عوام اپنا ضمیر،دین،ایمان اور اخلاص بیچتے رہیں ؟ اور سب سے بڑی بات غریب عوام کی بے چارگی اور سسکیاں ایسےہی دیکھتے رہیں اور سسکتے رہیں؟ پھر کچھ یوں ہوا کہ ایک دن ایک افطار کا دعوت نامہ ملا ۔ اور ایک دوست کے اصرارپر وہاں چلا گیا ۔
جب کارروائ شروع ہوئ تو خیال آیا کہ یہ کیا کہانی ہے۔۔ ایک  شخص ڈاکٹرامجد ثاقب ،چودہ سال پہلے ایک کام شروع کرتا ہے اور اس نے پانچ لاکھ سے زائد افراد کواپناروزگار چلانے کیلئے نو ارب روپے سے زائد بلا سودقرضے دے دئے ہیں ؟ یہ کیا ہے؟ جب اس معاشرے میں لوگ بھیک تو دیتے ہیں مگر مزدوری پوری نہیں دیتے ۔ جب ناکام زندگی کے طعنے تو دیتے ہیں مگر کوئی اپنے پاوں پر کھڑا نہیں کر سکتا۔ اور حیرت کی بات۔۔۔ ان قرض لینے والوں میں تقریبا سو فیصد لوگوں نے واپس بھی کر دئے ہیں ۔۔ میں کیسے مان لوں؟ مجھے تو یہی سمجھایا گیا ہے کہ سودی نظام کی جکڑ سے چھٹکارہ نا ممکن ہے اور یہاں ہم نے تو یہی سبق سیکھا ہے کی جب کوئ پیسے لے لیتا ہے تو واپسی بہت مشکل ہوتی ہے ۔ بلا سود قرضہ تو اس قوم کا خواب ہی بن کر رہ گیاہے۔ مگر یہ کام اخوت فا ونڈیشن کی ٹیم نے کر دکھایا ۔
مگر پتہ چل گیا کی یہی انقلاب ہے جو پانچ لاکھ گھرانوں کی زندگیوں میں آگیا ہے  اور پانچ لاکھ خود مختار لوگ اور کئ لوگوں کو خودمختار بنانے کیلیے تیار ہیں اسطرح اور نہ جانے کتنے اور لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب آیا چاہتا ہے۔ مجھےتو اپنے سوال کا جوب مل گیا ۔۔۔ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ انقلاب لانا چاہتا ہے تو وہ صرف کام شروع کردے وہ کوئ اخوت بنا لےیا کسی اخوت کا حصہ بن جائے اور اس معاشرے میں رہتے ہوئے انقلاب لانا شروع کردے۔اخوت کی مثال نے عملاً یہ ثابت کر دیا کہ انقلاب فقط سیاسی تبدیلی کا نام نہیں ہے سماج میں ہمہ جہت تبدیلی کیلیے ضروری ہے کہ ہر شخص جہاں تک ممکن ہو انصاف کے انقلاب کیلیےانصاف لینے میں لوگوں کی مدد شروع کردے، تعلیم میں انقلاب کیلیے لوگوں کو تعلیم دینا شروع کر دے، صحت کے انقلاب کیلیے لوگوں کو صحت کی سہولتیں دینا شروع کردے تو وہ انقلاب کے سفر پر گامزن تو ہو جائے گا ورنہ اقتدار کی تلاش میں تو کبھی سفر شروع ہی نہیں ہوگا۔ یقیناً معزز ہیں وہ لوگ جو انقلاب کے سفر پر گامزن ہیں۔   

مجھے کیسا میڈیا چاہیے؟

خدا خدا کرکے وہ وقت آگیا ہے جب ہم اس پر بحث کر رہے ہیں کہ اس وقت ہمارا آزاد میڈیا ہماری ضرورت پوری کر رہا ہے یا نہیں ۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ میڈیا کے ذریعے معا شرے میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یہ تبدیلی مثبت بھی ہو سکتی ہے اور منفی بھی۔ شاید ہمیں ابھی مثبت اور منفی کا ہی نہیں پتا ۔جب سے ہمارا میڈیا آزاد ہوا ہے تو ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ یہ ہوتی ہے آزادی۔ اگر یہ آزادی ہے تو پھر ہم اس آزادی سے دور ہی بہتر تھے ۔ہم نے سیکھا کہ بریکنگ نیوزہی سب کچھ ہوتی ہے اور ہر لمحہ بریکنگ نیوز کا ہوتا یے۔ ہم نے سیکھا کہ گلا پھاڑ کر اور چیخ چیخ کر اگر خبریں پڑہی جائیں تو وہ بہت موثر ثابت ہوتی ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ انسان کے مردہ جسم کے ٹکڑے دکھانے زیا دہ خوف پیدا ہوتا ہے۔ ہم نے میڈیا کے ذریعے جانا کہ ہمارا ملک تو تباہ ہو چکا ہے اور یہ جو ہم ہر روز دفاتر اور دکانوں اور کاروباری اداروں میں کام کاج پر جاتے ہیں یہ سب جھوٹ ہے۔ اور یہ ہمارے بازاروں اور مساجد کی رونق بھی ایک دھوکا ہے۔ہم نے سیکھا کہ صرف سڑک پر ٹائر جلانے سے سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں ۔ اور رمضان میں سحر و افطارکے بعد نماز پڑہنے اور روزہ رکھنے سے زیادہ اہم کام رمضان کے اسلامی پروگرام دیکھنا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ پڑوسی ملک کا سارا کلچر ہمیں اپنا لینا چاہیے اور ہماری کوئی شناخت نہیں رہی۔ ہم نے دنیا کہ تمام بڑے میڈیا کے اداروں کو سمجھایا کہ ایسے ہوتے ہیں ٹالک شوز اور اس جاہلانا طریقے سے قوموں کے بڑے بڑے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ مجھے سکھایا گیا کہ دنیا کی تمام مصائب ابھی ہیں اور اس سے پہلے ہزاروں سالوں سے دنیا میں سکھ ہی سکھ تھےاور ان مصائب کا کوئی حل نہیں ہو سکتا۔ ہماری قوم بھی فارغ ہی تھی اور کوئ کام تھا ہی نہیں کرنے کو، سو بزرگ خبروں کے پروگرام پر لگ گئے، خواتین فیشن شوز  اور ڈراموں میں مصروف ہوگئیں اور ہر بندے کا علیحدہ ٹیلی وژن سیٹ ہو گیا۔ بموں کی جھوٹی اطلاعات پر ہی آدھے دن بریکنگ نیوز چلتی رہی۔ قوم کی تربیت کرنے والا کوئی بھی فارغ نہیں رہا۔ یوں قوم نے سب کچھ سیکھنے کے باوجو کچھ بھی نہیں سیکھا۔ قوم کو نہیں پتا کہ استاد کی قدر کیا ہوتی ہے ۔ قوم یہ سیکھنے سے قاصر رہی کہ جب مصیبت آجائے تو خودکشی کرنے کے بجائے واستعينوا بالصبر والصلاة (ترجمہ:مصیبت میں صبر اور نماز سے مدد لو) کی طرف رجوع کرنا چائیے ۔ قوم بیچاری کو کوئی بھی یہ نہ سکھا سکا کہ سڑک پر کار، سائیکل اور موٹر سائیکل کیسے چلاتے ہیں ۔ ٹریفک کے سگنل پر رکنا کیوں ضروری ہے۔ قوم کو پتا ہی نہیں چلا کہ بچوں کی اخلاقی تربیت کیسے کریں ۔ میاں اور بیوی کے باہمی حقوق و فرائض کیا ہوتے ہیں ۔خواتیں کی عزت اور حرمت کی باتیں کر کے خواتیں کو شو پیس کے طورپر دکھایا گیا۔ ہمیں یہ سکھانے والا کوئ بھی نہیں رہا کہ آج کے دور میں کروڑوں کے بیڈروم میں خوش اور پر اعتماد زندگی کیسے گزاریں۔ ہمیں کم از کم اخلاقیات تو اس میڈیا نے اپنی جھوٹی ریٹنگ کے چکر میں بلکل بھی نہیں سکھائیں ۔  ساس اور بہو کو نہیں سکھایا گیا کہ ایک دوسرے کے ساتھ پر سکون زندگی کیسے گزاریں بلکہ پڑوسی ملک کے گھریلو سازشوں سے بھر پور ڈرامے دیکھنے کو ملے۔ ہم یہ سیکھ ہی نہیں سکے کہ ستاروں کی چال پر چلنے کے بجائے وَأنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى  (ترجمہ:انسان کواس کی محنت کے سوا کچھ نہیں ملتا)پر توجہ دینا ضروری ہے۔   ہمیں کوئی تو سکھاتا کہ ترقی کی منازل طے کرنے کیلیئے کردار ایک برانڈ کی سی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمیں کسی نے نہیں سکھایا کہ جو عورت گھر کے کام کاج کرتی ہے اور ہزاروں لاکھوں روپے کی سروسز مہیا کرتی ہے وہ بھی ورکنگ وومین ہے۔ کاش ایسا میڈیا مل جائے جو کم از کم کچھ بنیادی چیزیں ہی سکھا دے ہمیں۔کیا اب ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں کیسا میڈیا چاہیے ؟

موبائل فون کا استعمال اور ہماری صحت پر اثرات

آج کے دور میں کون ہے جو موبائل فون کے استعمال سے واقف نہیں ہے۔ یہ چھوٹا سا آلہ ہماری زندگیوں میں یوں آگیا جیسے کہ اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن ہی نہیں۔ لیکن اس ننہے آلے کے ہماری صحت پر بھی بہت سے اثرات ہیں ۔ جیسے ہر شے کے مثبط اور منفی اثرات ہوتے ہیں اور ہمیں کوئ بھی ٹیکنا لوجی استعمال کرتے ہوئے اس کے دونوں اثرات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے تا کہ ہر آنے والی نئ ٹیکنا لوجی کے مثبت اثرات سے استفادہ حاصل کریں اور اس کے منفی اثرات سے بچتے رہیں۔موبائل فون جس طرح کام کرتا ہے اس میں ریڈیا ئ شعا عیں خارج ہوتی ہیں ۔ ان کو سمجھنے کیلیے اتنا ہی کافی ہے کہ آ پکے مائیکر ویو اون سے بھی وہی ریڈیائ شعاعیں خارج ھوتی ہیں جو کہ آپ کے کھانے کو فوری طور پر گرم کر سکتی ہیں ۔اب اس بات کا اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ  جب آپ موئیل کو کان پر لگاتے ہوئے بات کر ریے ہوتے تو یہ شعاعیں آپ کے ماغ کو کتنا گرم کر دیتی ہونگی۔اگر آپ سامنے والی جیب میں موبائیل رکھتے ہیں تو سمجھ لیں کہ اس کےدل پر اثرات ضروری ہیں۔ اگر آپ کسی موبائل کمپنی کے ٹاور کے نزدیک رہتے ہیں جو کہ اتنی طاقت خارج کرتا ہے جس سے سینکڑوں موبائل فون کو سہولت فراہم کی جا سکتی ہے تو آپ اپنے دماغ کے درجہ حرارت کا اندازہ خود ہی کیجے۔ آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ ہر وقت غصہ کیوں آیا رہتا یے۔ بیگم اور بچوں سے کیوں معمولی باتوں پر گرما گرمی ہو جاتی ہے اور پر سکون نیند کیوں غائب ہو گئ ہے۔ یا داشت کیوں کم ہو ری ہے۔ شوگر کا مرض کیوں جلدی ہو رہایے ۔ وہ بچے جو ابھی اس دنیا میں آنے والے ہیں اور ابھی تک رحم مادر میں ہیں ان کی زہنی نشو نما پر یہ مائیکرو ویو اون کیسے اثر انداز ہوتا ہوگا ۔اب اس سارے علم سے نفع کیسے حاصل کیا جائے ؟
۔ تار والا ہینڈ فری استعمال کیا جائے
۔ بچوں کو تو کان کے نزدیک فون کرنا سخت منع ہونا چاہیے
۔ سپیکر فون کا استعمال بھی ٹھیک ہے
۔ سوتے وقت فون کو تیکئے کے نچے نہ رکھیں۔
۔ حاملہ خواتین اور بچوں کو فون سے دور رکھیں
۔ فون کا نشہ کم کرنے کی کوشش کریں۔ ذہن کو پر سکون رکھنےکیلئے عبادات کا سہارا لیا جائے(یہ مضمون مختلف ذرائع سے حاصل کی گئ تحقیق کو اکٹھاکرکے لکھا گیا ہےاس کا مقصد صرف احباب کوایک اور پہلو سے آگاہ کرنا ہےجو کہ دنیا میں زیربحث ہے)    

ہارٹ بلیڈ اور مستقبل کا انٹرنیٹ

ویسے تو ہم آئے روز ہی کوئ نیا وائرس سنتے رہتے ہیں جو کہ کمپیوٹر سسٹم کو نقصان پہنچا تا رہتا ہے ۔ پہلے تو یہ وائرسز صرف یوزرز کو تنگ کرنے کا بہانا ہوتے تھے مگر اب ان وائرسزکے مقاصد بہت وسیع ہو گئے ہیں۔ ایک تو شریر بچے سیکھنے اور تجربات کرنے کیلیے سافٹ ویئر بناتے ہیں جو کہ لوگوں کو تنگ کرتے ہیں ،کہانی یہاں ختم نہیں ہو جاتی ۔مگر اب لوگ انٹرنیٹ سے ترسیل کیے جانے والے مواد پر نظر رکھتے ہیں۔ اس میں کریڈٹ کارڈ کی معلومات ہوتی ہیں اور ہیکرز ان کریڈٹ کارڈز کو استعمال کر کے مالی نقصان پہنچاتے ہیں ۔ بنک اکاونٹ کی معلومات بھی انٹرنیٹ پر منتقل ہو رہی ہوتی ہیں اور ہیکرز ان معلومات سے ان کھاتوں تک رسائ  حاصل کر کے خود مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔  موجودہ دورمیں جاسوسی کیلیے بھی ہیکنگ کو استعمال کیا جاتا یے ۔ اس مقصد کے حصول کیلیے ایسے سافٹ ویر تیار کیے جاتے ہیں جس میں چور دروازے رکھ دیے جاتے ہیں ۔ اسطرح سافٹ ویر بنانے والا غیر محسوس طریقے سے اپنے شکار کے کمپیوٹر سے معلومات چوری کرتا رہتا ہے ۔ یہ معلومات فوجی بھی ہو سکتی ہیں اور تجارتی بھی۔ یہ کسی دہشتےگردی کے منصوبے کو بے نقاب بھی کر سکتے ہیں کسی ملک کے انتہائ خفیہ منصوبے کو منظر عام پر لا سکتے ہیں اور کسی بڑے کاروباری ادارے کی مستقبل کی منصوبہ بندی کو بھی چوری کر سکتے ہیں۔ایک اور بڑی خطرناک صورتحال اس وقت پیش آسکتی ہے جب سافٹ ویر کے اندر کوئ ایسا  نقص رہ جائے جو ہر کسی کی نظروں سے اوجھل رہے اور کوئ اس نقص کو استعمال کر کے دنیا میں کمپیو ٹراور اس سافٹ ویئر کو استعمال کرنے والوں کو نقصان پہنچا ئے یا ان کی معلومات کو چوری کرے۔ اس بار کچھ ایسا ہی ہوا ہے ۔  ہم جو بھی  مواد انٹر نیٹ پر ترسیل کرتے ہیں وہ سادہ الفاظ میں ہوتا ہے جوکہ کوئ بہی پڑھ سکتا ہے ۔ اس مسئلے کے حل کیلیے ایس ۔ایس ۔ایل ۔(SSL)  نامی ٹیکنا لوجی ایجاد کی گئ تھی جس سے ترسیلی مواد کواسطرح توڑ موڑ (Encrypt) دیا جاتا یےکہ صرف موصول کنندہ ہی پڑھ سکتا ہے  ۔ مگر ہمیں کیا پتا تھا کہ اس میں ہی نقص نکل آئے گا اور کوئ بھی اس ترسیلی مواد کو پڑھ سکتا ہے اگر اسکو اس نقص کا پتہ چل جائے ۔ اب آپ سوچیں کہ تمام مالیاتی ادارے، ای میل فراہم کنندگان ،اور بہت سے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اس ٹیکنا لوجی کو استعمال کرتے ہیں اور یہ سوچ کر بیٹھے ہوئے ہیں کہ ہمارا مواد محفوظ ہے  جوکہ حقیقت میں نہیں ہے۔ اور کوئ پتا نہیں کہ اس مواد کو کس کس نے پڑھا ہوا ہے اور کب سے کام ہو رہا ہے۔یہ بہی ہو سکتا ہے کہ ہمارے پا س ورڈز (خفیہ کوڈز) کسی ہیکر کے پاس ہوں اور وہ مستقبل میں کبھی بھی اس کو استعمال کرلے ۔یقیناٴ یہ ایک خوفناک صورتحال ہے مگر اس سے زیادہ خوفناک یہ ہے کہ اس نقص کا علم جس ادارے کو تھا اس نے اس پر کوئ کاروائ نہیں کی ۔ میڈیا کے ذرائع کے مطابق اس اداے کا نا م ہے این۔ایس۔اے ۔ (.N.S.A) نیشنل سیکیورٹی ایجنسی۔  اس صورتحال میں تو پھر کوئ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا جب وہ ادارے جو کہ سیکیورٹی کے ذمہ دار ہیں وہ ہی اس طرح کے خطرات سے نہیں آگاہ نہیں کرتے تو مستقبل کے خطرات سب کو نظر آرہے ہیں۔اس ساری صورتحال میں دیکھنا یہ ہے کہ انٹرنیٹ کا مستقبل کیسا ہوگا ؟ کیا ہم اس نظام پر اعتبار کرسکتے ہیں جس میں ہماری ساری معلومات ای میل فراہم کنندہ کے پاس ہوں اور وہ غیر محفوز بھی ہو۔ یا ہمارے بنک کا انٹرنیٹ سسٹم ہی ہیک ہوا ہو یا وہ کوئ ایسا سافٹ ویئر استعمال کر رہے ہوں جو کہ غیر محفوظ ہو۔

Increase Browsing Speed with Firefox

Here's something for broadband people that will really speed Firefox up:

  1. Type "about:config" into the address bar and hit return. Scroll down and look for the following entries:
    network.http.pipelining network.http.proxy.pipelining network.http.pipelining.maxrequests
    Normally the browser will make one request to a web page at a time. When you enable pipelining it will make several at once, which really speeds up page loading.
  2. Alter the entries as follows:
    Set "network.http.pipelining" to "true"
    Set "network.http.proxy.pipelining" to "true"
    Set "network.http.pipelining.maxrequests" to some number like 30. This means it will make 30 requests at once.
  3. Lastly right-click anywhere and select New-> Integer. Name it "nglayout.initialpaint.delay" and set its value to "0". This value is the amount of time the browser waits before it acts on information it recieves.
    If you're using a broadband connection you'll load pages MUCH faster now!
    This works for DSL as well, I use it and it works.
    Hope this helps a bit.