تمہی تو غم ہمارا ہو

اسفنج اور دل

آپ نے اسفنج (sponge) تو دیکھا ہو گا۔ اس کی خاصیت ہوتی ہے کہ اسے جس قسم کے بھی محلول میں ڈال دیں یہ اسے اپنے اندرجذب کر لیتا ہے۔  اور پھر جب اسے نچوڑا جاتا ہے تو جو کچھ اندر ہو ، وہ سب باہر نکال دیتا ہے۔ اگر صاف شفاف پانی  ہو گا تو صاف پانی ہی نچڑے گا۔ اور اگر گندہ اور بدبودار پانی ہو گا تو وہ گندہ ، بدبودار پانی ہی نکلے گا۔

انسان کا دل بھی ایک اسفنج کی مانند ہے۔ ہماری روز مرّہ زندگی میں یہ بہت کچھ اپنے اندر جذب کرتا چلا جاتا ہے۔ لیکن جب انسان کسی مشکل میں کسی آزمائش میں اور کسی فتنے میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کا دل نچڑتا ہے اور جو کچھ دل میں ہوتا ہے وہ نکل کر سامنے آ جاتا ہے۔ اگر دل نے حسد، بغض، نفرت  اور کینہ جیسی بیماریوں کو اپنے اندر جذب کیا ہو گا تو کسی فتنے کے موقع پر ،  ا ٓزمائش پڑے گی تو یہی کچھ باہر آئےگا۔ اور اگر دل نے آداب، اخلاق اور اللہ کے دین کے ساتھ اخلاص  کو جذب کیا ہو گا تو  آزمائش پڑنے پر یہی موتی سامنے آئیں گے۔

اپنے دلوں کو اللہ کی محبت سے مزین کیجیے تاکہ آپ آزمائشوں میں سرخرو ہو سکیں ۔۔۔۔


وطنیت کا گلوبل بت

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

علامہ اقبال نے صحیح کہا تھا کہ تازہ بتوں میں سے سب سے بڑا بت وطنیت کا ہے۔ بلکہ آج دنیا کا سب  سے بڑا بت اور سب سے زیادہ پوجا جانے والا بت یہی ہے۔ اسی لئے اس کو ’’گلوبل بت‘‘ کہا جائے تو بہتر ہو گا، کیونکہ اس سے پہلے دنیا میں جتنے بھی بت تھے ان کو صرف وہی بت پرست پوجتے تھے جو اس کے ماننے والے ہوتے تھے، لیکن وطنیت کے اس بت کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اسے صرف بت پرست ہی نہیں پوجتے بلکہ ہر مذہب کے ماننے والے اس کی پوجا کرتے ہیں، اس کی تعظیم کرتے ہیں اور اس پر اپنی جوان اولادوں کی بلیّ (قربانی) چڑھاتے ہیں۔

اس جدید بت کا عشق دیکھیے کہ اس نے ان کو بھی اپنا پجاری بنا لیا جو زبان سے لاالہٰ پڑھتے ہیں۔ جی ہاں! صرف ہندو، عیسائی اور بعدھ ہی اس کی پوجا نہیں کرتے بلکہ اس کو مقدس ماننے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو محمد ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ حیران ہوئیے اور ہوتے جائیے کہ صرف جاہل اور دین سے بے بہرا ہی اس کے پجاری نہیں بلکہ دین کا پہاڑ جیسا علم رکھنے والے، چہروں پر داڑھیاں سجائے بعض حضرات بھی اس بت کے مجاور بنے  ہوئے ہیں۔ ان کی شریعت نے اس بت کی  اطاعت کو فرض اور اس سے بغاوت کو حرام قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک جو اس بت کی شریعت (آئین) کو نہ مانے وہ ملت سے خارج اور جو اس کے سامنے سر جھکا دے پھر اس کو کئی عمل نقصان نہیں پہنچا سکتا، خواہ وہ کفر کرتا اور بکتا رہے۔

ان کے دلوں میں اس بت کی تعظیم اس درجہ ہے کہ اس کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو باغی کہہ کر بموں اور ٹینکوں سے تہس نہس کرنے کے فتوے دئیے جاتے ہیں ، اس کے آگے سجدہ نہ کرنے والوں کے لئے دنیا بھر میں نمرود کے آتش کدے تعمیر کیے گئے ہیں، جہاں ان باغیوں کے لئے آتش نمرود آج بھی اسی طرح بھڑک رہی ہے جیسے ان سے پہلے بتوں سے بغاوت کرنے والوں کے لئے بھڑکائی گئی تھی۔  اگر کچھ لوگ اس بت کو چھوڑ کر صرف اللہ کی حاکمیت کا مطالبہ کریں تو ان  کو ’’سوات‘‘ بنانے کے لئے اس بت کی محافظ مسلح افواج فوراً حرکت میں آتی ہیں۔

آج کی دنیا میں جو چاہے نمازیں پڑھے، حج کرے، روزے رکھے، درس و تدریس کرے، بڑے بڑے اجتماعات کرے، ہر چیز کی آزادی ہے۔ لیکن ہر شہری کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بت کی شریعت پر ایمان لائے۔ اگر کسی نے اس کا انکار کر دیا اور صرف اللہ کے نطام کا نعرہ لگایا تو ان کی نماز بھی نہیں  پڑھنے دی جائے گی ، نہ ان کے مدارس کو بخشا جائے گا، نہ وہ اجتماع کر سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس ’’دھرتی ماتا‘‘ پر جینے کا حق ہے۔

(مولانا عاصم عمر حفظہ اللہ کے مضمون سے اقتباس)


لکیروں میں بٹی امت

بھلا ایسا بھی ہوتا ہے کہ چند فرضی لکیریں اپنوں کو بیگانہ کر ڈالیں؟ لیکن کیا کریں جدید دنیا نے یہ انہونی بھی کر دکھائی۔۔۔۔

ذرا ایک لمحے کے لئے ایک مثال کو تصور میں لائیں۔ ایک طاقتور انسان ہے جس کا دشمن ایک لمبے عرصے سے اسے شکست دینے کے لئے کوشاں ہے لیکن کبھی شکست نہیں دے سکا بلکہ خود مار پر مار کھائے جا رہا ہے۔ دشمن نے ایک لمبی منصوبہ بندی کی اور اس کے بعد غفلت میں اس طاقت ور انسان کو زیر کر لیا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ اس طاقت ور انسان کو زیادہ دیر زیر نہیں رکھ سکتا کیوں کہ اس کے اعضاء بہت مضبوط ہیں اور وہ کسی پل بھی پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ اس خطرے سے نپٹنے کے لئے دشمن نے ایک انوکھی چال چلی اس نے اس طاقتور انسان کے جسم کے سارے اعضاء کے گرد لکیریں کھینچ دیں اور کہا کہ اب اس جسم کے ہر ہر عضو کی اپنی ایک آزاد حیثیت ہے۔ ایک عضو کا دوسرے عضو سے براہ راست تعلق ختم ہے۔ تمام عضو آپس میں تعامل کے لئے میرے بنائے گئے اصول و قوانین کی پابندی کریں گے۔ پھر وہ دشمن اس جسم کے ہر ہر عضو کو اپنی ہی ذات میں اس قدر گم کر دیتا ہے کہ ہر ہر عضو یہ گمان کرنے لگ جاتا ہے کہ وہ خود ہی پورا کا پورا جسم ہے اور جو تعامل وہ باقی اعضاء کے ساتھ کر رہا ہے وہ اصل میں دوسرے اجسام کے ساتھ کر رہا ہے۔ ہر عضو کو فکر ہے تو اپنے ہی چھوٹے حصوں کو متحد رکھنے کی کہ کہیں میرے اپنے چھوٹے چھوٹے حصے نہ کہہ د یں کہ اب میں بھی ایک علیحدہ جسم ہوں۔ پھر کبھی جسم کے کسی ایک حصے پر کوئی حملہ آور ہوتا ہے اور ہاتھ اورپاؤں سے کہا جاتا ہے کہ اپنے جسم کا دفاع کرو تو ہاتھ اور پاؤں کہتے ہیں کہ یہ بیرونی معاملہ ہے میرے لئے سب سے پہلے میرا جسم ہے ۔ مجھے اپنی پانچوں انگلیوں کو متحد رکھنے کی فکر ہے میں کسی اور کی لڑائی میں پڑ کے اپنے لئے مصیبت مول نہیں لے سکتا۔ تو کبھی دشمن ہاتھ سے کہتا ہے کہ اپنے ہی جسم کے کسی اور عضو کے خلاف جس نے میرے خلاف بغاوت کر دی ہے میری مدد کرو ورنہ تمہارا بھی اسی عضو جیسا حال کروں گا تو وہ جلدی سے اپنے ہی جسم کے خلاف اپنے دشمن کا ہاتھ بن جاتا ہے۔

اب بتائیں کہ جب انسانی جسم کا ہر عضو ایک دوسرے پر انحصار کر رہا ہوتا ہے اور سب مل جل کر ایک ہی جسم کی صورت اختیار کر کے ہی زندہ رہ سکتے ہیں تو ایسی صورت میں جب جسم کے تمام اعضاء اپنے دوسرے اعضاء کی مدد سے اور ایک اکائی بن کر کام کرنے سے انکار کر دیں تو بتائیں کہ کیا کوئی بھی عضو ان میں سے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے؟ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے اور یہ ساری مثال ہی ایک غیر فطری عمل کی عکاسی کر رہی ہے۔

لیکن کیا کیا جائے کہ یہ غیر فطری عمل آج سے قریباً ایک صدی قبل وقوع پزیر ہو گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے اس امت کو بھی ایک جسم قرار دیا ہے، اور اغیار نے تیرہ سو سال سے بنےامت مسلم کےمضبوط اور طاقت ور جسم کے ہر عضو کے گرد سائس پیکو ، ریڈ کلف اور ڈیوڈرنٹ نامی پنسلوں سے لکیریں کھینچ ڈالیں اور کہہ دیا کہ اب ہر عضو آزاد ہے دوسرے عضو سے اگر پابند ہے تو میرے بنائے ہوئے اصولوں کا میرے بنائے ہوئے قانون کا میرے بنائے ہوئے ضوابط کا۔ اور ساتھ میں ’’مادر وطن‘‘، ’’پاک وطن‘‘ اور ’’پاک سر زمین‘‘ جیسے نعروں کا میٹھا نشہ پلا کر مدہوش کر دیا تاکہ یہ ہمیشہ کے لئے بھول جائیں کہ اصل میں انہوں نے کیا کھو دیا۔

کیسی عجیب منطق ہے کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے پر تو ہم سوگ مناتے ہیں لیکن جب یہ خطہ امت سے جدا ہو کر ’’پاکستان‘‘ کہلایا تو اس کا ہم جشن مناتے ہیں۔یعنی انگلی کٹنے کا تو دکھ ہے لیکن جو پورا کا پورا ہاتھ ہی جسم سے جدا ہو گیا اس کا کوئی دکھ ہی نہیں؟ اور نام دیتے ہیں اسے ’’جشن آزادی ‘‘ کا۔ آخر کس چیز سے آزادی؟ انگریز سے؟ وہ کب ملی؟ بس انہوں نے اپنی پالیسی بدلی اور تو کچھ نہیں ہوا۔ پہلے وہ براہ راست کالونیاں بنانے کی پالیسیاں اپناتے تھے لیکن پھر انہیں احساس ہوا کہ اس طرح بغاوتیں زیادہ اٹھتی ہیں اور ان کے اپنے وسائل بھی زیادہ خرچ ہوتے ہیں تو انہوں نے ایک ’’انڈائریکٹ‘‘ طریقہ کار اپنایا اور خود تو چلے گئے لیکن انڈے بچے دے گئے۔ تو کیا ہم پالیسی کی تبدیلی کا جشن مناتے ہیں کہ اغیار خود تو چلے گئے اور ہمیں اپنے انڈے بچوں کی غلامی میں ڈال گئے؟

اقبال نے اس وطنیت کے فتنے کو اُس دور میں ہی سمجھ لیا جب اس کا آغاز ہو رہا تھا اس لئے انہوں نے کہا:

اس دور میں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور ساقی نے بنا کی روشِ لطف و ستم اور مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے غارت گرِ کاشانہ دینِ نبوی ؍ﷺ ہے بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے نظارہ دیرینہ زمانے کو دکھا دے اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے

آج یہ امت جو قوم و وطن کی غیر فطری لکیروں میں بٹی ہوئی ہے اس بات کو نظر انداز کیے بیٹھی ہے کہ جس طرح جسم کے تمام اعضاء کی بقا ایک ہی جسم میں مربوط رہنے میں ہوتی ہے، اور اُس جسم سے آزادی میں فقط فنا ہے یہی معاملہ اس امت کا بھی ہے۔ مسلمانوں کی بقا اسی میں ہے کہ وہ دوبارہ سے امت کی طرف لوٹیں اور اغیار کی کھینچی لکیریں اپنے گرد سے مٹا ڈالیں۔ ورنہ اگر ہم اسی طرح اپنا الگ الگ راگ الاپتے رہے اور اس امت کی وحدت کے لئے اٹھے ہوئے نوجوان ، وہ مصطفوی جو وطنیت کے اس بت کو خاک میں ملانے نکلے ہیں، امت کی طرف سے مدد و نصرت کے فقدان کی وجہ سے ختم ہو گئے تو یاد رکھیں جنہوں نے کل آپ کولکیروں میں تقسیم کیا تھا انہوں نے اسی لیے کیا تھا کہ آپ کو بھوکے بھیڑیوں کی طرح چن چن کر نوچ کھائیں۔

تو آپ کا کیا ارادہ ہے؟ ’’وطن کی مٹی‘‘ اور ’’مادر وطن‘‘ کی خاطر فنا ہونے کا یا ایک اللہ، ایک رسول ، ایک کلمہ اور ایک کتاب کی وجہ سے ایک جھنڈے تلے ایک امت بننے کے خواب کی تکمیل کے لئے قربانیاں دینے کا؟


تھر کا بحران اور مسلم حکمران

پاکستان کی تاریخ یہاں کے حکمرانوں کی لوٹ مار اور اس لوٹ کے مال کی تقسیم میں  اختلافات کے باعث نام نہاد ’’سیادی محاذ آرائی‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ آپ کو تاریخ کے صفحوں پر یہ تو نظر آجائے گا کہ کون سا حکمران آیا اور کونسا گیا اور اس حکمران نے اپنے دورِ حکومت میں کیا کیا گل کھلائے  لیکن یہاں کی عوام پر کیا بیتی؟

سوائے اس ملک کے دو لخت ہونے کے واقع کے آپ کو تاریخ میں عوام پر گزرنے والے حالات کی کوئی جھلک  نظر نہیں آئے گی۔ بس اتنا ہوتا ہے کہ جس طرح کسی ساقط پانی میں پتھر پھینکنے سے کچھ لہریں پیدا ہو جاتی ہیں، اسی طرح عوام پر گزرنے والے کسی سانحے سے تاریخ کے ان صفحوں پر کچھ عرصے کے لئے ہلچل مچتی ہےپھر کچھ وقت کے بعد پہلےہی کی طرح ہو جاتے ہیں۔ یہی ساقط پانی میں پتھر کی مثال آج کل تھر میں قحط سالی کا بحران ہے جس نے وقتی طور پر ملک کے سیاست دانوں ، تجزیہ نگاروں اور سماجی اداروں میں ہلچل پیدا کر دی ہے لیکن کچھ وقت کے بعد لوگ پھر سے بھول جائیں گے کہ عوام پر کیا گزری؟ کیوں گزری؟ اس کے محرکات کیا تھے؟ اور ان مسائل کا مستقل حل کیا ہے؟ اور اس وقتی کیفیت کے بعد یہی لوگ پھر سے اسی ’’سیاسی محاذ آرائی‘‘ کا پیچھا کرتے نظر آئیں گے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تین ماہ کے دورانیہ میں ۱۵۰ بچوں کی بھوک سے اموات واقع ہوئیں۔ آپ ذرا کچھ دیر کے لئے تصور کیجیے کہ آپ ۲ دن تک بھوکے رہے ہوں تو آپ کی کیا حالت ہو گی؟ دو دن بھوکا رہنے کا سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو تھر میں تو اتنی بڑی تعداد میں بچے بھوک کی شدت سے اپنی جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔  ایسے حالات میں حکمرانوں کا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟

پاکستانی حکمرانوں کارویہ ویسا ہی تھا جیسی کہ ان سے امید تھی۔ پوری ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ ایک بیان داغ دیا گیا کہ اس بار قحط سالی میں اموات پچھلی قحط سالی سے کم ہوئی ہیں۔ جیسے یہ کوئی حکومت کا بہت  بڑا کارنامہ ہو ۔ سند ھ کے وزیر خوراک کے اقوال زریں بھی سن لیں ، فرماتے ہیں کہ  گندم تھر بھیج دی گئی ہے متاثرین تک پہنچانا میری ذمہ داری نہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی تو شان ہی نرالی ہے۔ شاہ صاحب پورے کروفر کے ساتھ تھر کے صدر مقام  مٹھی بائی دورے کے لئے تشریف لائے تو سارے شہر کی صفائی کی گئی ، سڑکوں کو دھویا گیا ، شہر کو سجایا گیا تب آپ جناب نے ہسپتال کا دورہ فرمایا۔ اور پھر ان کی شان میں ظہرانہ دیا گیا اور وزیر اعلیٰ صاحب کی مرغن غزاؤں، قسم قسم کے کھانوں سے تواضع کی گئی۔ اور جناب جس شان سے تشریف لائے تھے اسی شان سے تشریف لے گئے۔ لوگ بھی بلا وجہ باشاہوں کے زمانے کو روتے ہیں کہ ان کی عیاشیاں بہت تھیں ، یہاں جمہوریت نے تو ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کو شاہ بنا دیا ہے۔

کچھ تجزیہ نگار وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے کہ جناب شہنشاہ محترم نےاپنی مصروفیات سے وقت نکال کر بذات خود تھر کا دورہ فرمایا۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ انہیں اب دورے کرنا اور بڑے بڑے بیان جاری کرنا یاد آگیا ہے تب کہاں تھے جب یہ بھوک سے مر رہے تھے؟ جب وؤٹ مانگنے ہوتے ہیں تو ناک کے بل بھی چل کر  دور دراز علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں اور اب جب یہاں بچے بھوک سے  مر رہے تھے تو ان کو اس کے تین مہینے بعد میڈیا کی اپنی ریٹنگ بڑھانے کی خاطر ہاہا کار کی وجہ سے ’’اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر ‘‘ دورہ کرنا پڑا۔

اسلا م کا نام لینے والوں کی تو ایک ایک جنبش کی خبر رکھنے کے لئے ملک کے طول و عرض میں ۲۶ خفیہ ادارے پھیلائے گئے ہیں اور پھر اب انہیں ایک ادارے کے تحت مربوط کیا گیا ہے کہ ان کی کوئی جنبش نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے لیکن اپنی بھوک سے مرتی بلکتی عوام کے بچوں کی قحط سے اموات کے تین ماہ بعد جا کر ان کے کان پر جوں رینگی۔

کہا ں تھے اس سانحے کے دوران ’’تبدیلی‘‘  کا نعرہ لگانے والےاور’’ اب نہیں تو کب ہم نہیں تو کون‘‘ کا راگ الاپنے والے؟ کوئی کہےگا کہ  ان کی حکومت تو کے پی کے میں ہے یہاں نہیں تو جناب پیر پگاڑہ اور امین فہیم کے ساتھ اسی تھر میں شاہ محمود قریشی کی بھی زمینیں اور ہزاروں کی تعداد میں مرید بستے ہیں۔ جب وؤٹ درکار تھے تو یہی تبدیلی کے نعرے لگانے والے اسی تھر میں بھاگے بھاگے بڑے بڑے جلسے کرنے تو پہنچ گئے لیکن جب ان کے اپنے یہی مرید بھوک سے مر رہے تھے تو انہوں نے دوسروں پر الزام تراشی کر کے اور اس سانحے کا ان کو ملزم ٹھہرا کر سمجھ لیا کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔

ادھر جمہوریت کے نام پر جہنم واصل ہونے والے بھٹو خاندان کے ’’انڈائریکٹ‘‘ سپوت  بلاول کے کارنامہ بھی سن لیں۔ جیسے جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہاتھا اسی طرح جب تھر میں بچے بھوک سے مر رہے تھے تو یہ ’’بانکا جیالا‘‘  پاس ہی  سندھ فیسٹول کے نام پر فحاشی اور عریانی کو سندھ کی ثقافت قرار دے کر اربوں روپے اڑا رہا تھا۔

ایک طرف یہ ’’حقیقی جمہوریت‘‘ کے نا  م لیوا ہیں اور دوسری طرف خلافت راشدہ کا دور ہے کہ حضرت عمر دریائے فرات کے کنارے ایک کتے کے بھی پیاسے مر جانے پر خود کو ذمہ دار تصور کرتے تھے  اور بھوک سے بلکتے بچوں کے لئے اناج اپنی کمر پر لاد کر فراہم کرتے تھے۔

لیکن کیا یہ مثالیں قرون اولیٰ کے ساتھ ختم ہو گئیں؟ کیا اب بھی کہیں ایسے حکمران موجود ہیں جو اپنی رعایا کا اتنا غم رکھتے ہوں؟ یقیناً اس جمہوریت کی کوکھ سے جو بھی حکمران طبقہ جنم لے گا وہ سو بار بھی پیدا ہو کر آجائے پھر یہی شگوفے چھوڑے گا جس کی مثالیں اوپر دی گئی ہیں۔  اگر حقیقت میں کوئی رعایا کا غم رکھ سکتا ہے تو وہی رکھ سکتا ہے جو خود کو اللہ  کا حقیقت میں خلیفہ سمجھتا ہو، جو خود کو  اپنے ایک ایک عمل کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہ مانتا ہو اور جسے اس بات کا یقین ہو کہ قیامت کے دن اس کے ہاتھ اوپر کھڑے ہونگے اور اس کا رخ جہنم کی جانب ہو گا اور اسے اس وقت تک خلاصی نہیں ملے گی جب تک کہ وہ اپنی رعیت کا جواب نہیں دے دیتا۔ ایسی مثال آپ کو کبھی جمہوریت سے نہیں مل سکتی ایسی مثال صرف اور صرف وہیں مل سکتی ہے جہاں حکومت اسلامی شریعت کے مطابق چل رہی ہو۔ اور ایسی مثال ۹۰ کی دہائی  میں تمام عالم نے امارت اسلامیہ افغانستان کی صورت میں اور امیر المومنین ملا محمد عمر  کی صورت میں دیکھی۔

جب افغانستان میں طالبان نے حکومت سنبھالی تو  افغانستان میں  گندم کی پیداوار کم ہونے کے باعث یہ ایران اور پاکستان سے درآمد کی جا رہی تھی۔ امیر المومنین کو بتایا گیا کہ  ممالک کے درمیان تجارت سودی پیمانوں پر ہوتی ہے اس لئے جو اناج ہم خرید رہے ہیں یہ بھی سودی طریقہ کار پر خرید رہے ہیں۔ افغانستان میں اناج کی پیداوار بہت کم تھی  اس لئے اس تجارت سے نکلنا ممکن نہیں تھا تو امیر المومنین نے حکم جاری کیا کہ اگلے دس سال کے اندر افغانستان کو گندم کے معاملے میں خود کفیل ہونا چاہیے۔ پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ اپنی حکومت کے آخری تین سالوں میں افغانستان میں گندم کی پیداوار میں اس قدر اضافہ ہو گیا تھا کہ  یہ ہدف مقررہ مدت سے کہیں پہلے پورا ہوتا نظر آرہا تھا۔

یاد رہے کہ یہ اُ ن  طالبان کی بات کی جا رہی ہے کہ جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو بیت المال میں صرف تیس لاکھ ڈالر موجود تھے اس کا بھی ایک تہائی حصہ طالبان نے چیچنیا کے مجاہدین کو دے دیا۔ اور یہ وہی ملا عمر ہیں کہ عین اپنے دور امارت میں ان کا عام حالات میں بھی کھانا پینا افغانستان کے ایک عام آدمی کے کھانے پینے سے کم تر تھا۔

آج میڈیا چاہے اپنے جھوٹ کے ذریعے سے جتنا بھی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر لے اور طالبان کو جتنا بھی ظالم اور ان کے زمانے کو پتھر کا زمانہ کہہ لے لیکن  اس حقیقت سے دنیا  میں کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ تاریخ میں یہ واحد طالبان کا دور ہی تھا نہ اس سے پہلے کوئی تھا نہ اس کے بعد اب تک آیا کہ جب گندم کی کاشت میں اس قدر اضافہ ہوا اور پوست کی کاشت صرف امیر المومنین کے ایک حکم سے  بالکل ہی ختم ہو گئی۔

آج پاکستان کی عوام کو بھی آنکھیں کھولنے اور حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر انہوں نے اپنا  نظام انہی جمہوری شعبدہ بازوں کے ہاتھ میں دیے رکھا تو جو قحط سالی آج تھر میں ہے وہ  باقی کے ملک کا مقدر بھی بن سکتی ہے۔ اس خطے کے عوام کی فلاح صرف اور صرف اسلامی نظام میں موجود ہے اور دنیا کے کسی نظام میں نہیں۔

اس حقیقت کو ہم  جتنی جلدی سمجھ جائیں اتنا ہی ہمارے لئے بہتر ہو گا ورنہ پتا نہیں یہ جمہوری شعبدہ باز اس ملک کی عوام کو اپنی حرکتوں سے کس اندھی کھائی میں پھینک آئیں کہ جہاں سے نکلنا بھی ممکن نہ رہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ جلد اس خطے  میں اسلامی نظام کو غالب فرمائے اور اسلام کے غلبے کے اس فریضے کو ادا کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اصحاب کہف اور آج کے مسلم نوجوان

دور حاضر میں اسلام اور مغربی تہذیب کے درمیان معرکہ بپا ہے، اس میں ایمان پر جمے رہنے اور مغربی تہذیب کے خلاف معرکے میں صبر و استقامت کا مظاہرا کرنے کے لئے ہمیں سورۃ کہف سے بہت رہنمائی ملتی ہے۔

اس سورۃ کی فضیلت اس وجہ سے بھی ہے کہ حضرت ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ:

جس نے سورۃ کہف پڑھی اس طرح  پڑھی کہ جس طرح وہ نازل ہوئی اس کے بعد دجال ظاہر ہوا تو وہ اُس پر قابو نہ پا سکے گا یا اس کو قابو میں لانے کا کوئی راستہ اس کو نہ ملے گا۔

جس طرح دجال جیسے شدید فتنے سے بچاؤ اس سورۃ کی تلاوت میں پوشیدہ ہے تو آج کی اس مادی مغربی تہذیب سے بچاؤ کے لئے بھی اس سورۃ سے رہنمائی ملتی ہے کیوں کہ آج کے دور کے فتنوں ، تحریکوں، دعوتوں، فلسفوں اور فکری رجحانات کا دجال سے تعلق ظاہر ہے۔

دجال کی شخصیت کو اس کا نام ہی ظاہر کرتا ہے، دجل یعنی جھوٹ، فریب، ملمع سازی، اور فریب کاری کہ جن  سے دجال کام لے گا، وہی آج کی مغربی تہذیب اور اس کے پرستاروں میں بھی نظر آتی ہے چاہے وہ پرستار   نام نہاد مسلمان ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سورۃ کے مطالعے سے اور اس کے فہم سے آج کے نوجوانوں کو بھی نہ صرف فتنوں سے آگاہی ملتی ہے بلکہ ان کے خلاف ڈت جانے کا حوصلہ ، اور ایک نہ ایک دن ان کے ختم ہو جانے کا یقین بھی پیدا ہوتا ہے۔

سورۃ کہف میں سب  سے پہلے  اصحاب کہف کا ذکر ملتا ہے کہ جن کے دور میں شرک ایک دین بن چکا تھا، تو چند نوجوانوں نے  توحید کی صدا لگائی۔ ان کی یہ صدا اُس سوسائٹی میں  اور اس کے مروجہ آئین اور قانون کے خلاف ایک بغاوت سمجھی گئی۔ اس معاشرے اور حکومت کی رضامندی کے بغیر زندگی گزارنا آسان کام نہ تھا۔ اسباب کا فلسفہ، تہذیب و معاشرہ، اور زندگی کے حقائق سبھی انہیں سمجھا رہے تھے کہ وہ حکومت اور معاشرے کے سامنے ہتھیار ڈال دیں  اور اس شرکیہ  حکومت کی رٹ کو تسلیم کر لیں، اس لئے کہ کھانے کے بغیر پیٹ نہیں بھرتا اور کھانا حکومت کے جاری کردا کرنسی سے ملتا ہے۔ عزت اور نیک نامی صرف جاہ سے ملتی ہے اور جاہ سرکاری نوکری اور افسری کے بغیر ہاتھ نہیں آتی۔  عافیت ، سکون اور سلامتی صرف معاشرے کے مروجہ طریقہ کار پر چلنے  اور سوسائٹی کی موافقت و حمایت میں ہے اور یہ موافقت رائج الوقت عقیدہ کی پیروی کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ وہ مادی منطق اور فلسفہ ہے جو انسانی تجربہ و مشاہد پر مبنی ہے۔

عین ہی اسی طرح کی صورت حال ہمیں آج بھی نظر آتی ہے کہ جب اس مغربی تہذیب ، اس کے شرکیہ نظام اور اس کی معاشرتی گندگیوں کے خلاف علم بغاوت بلند ہوا تو یہی دلائل ، تجربات و مشاہدات آج کے ان باغی نوجوانوں کے سامنے بھی رکھے گئے، انہیں ان کے عزیزوں  اور دوستوں نے سمجھایا، آج کے اس رائج الوقت شرکیہ نظام سے بغاوت کا نقصان سمجھایا، مستقبل کی ایک بھیانک تصویر کشی کی اور جب یہ نوجوان پھر بھی اللہ کی مدد کے بھروسے پہ ڈٹے رہے تو  آج کی ان حکومتوں نے ان کو دبانے ، کمزور کرنے اور حوصلہ پست کرنے کےلئے دجل یعنی جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی سے کام لیا۔

وہ نوجوان جو اس دنیا سے شرک کا عالمی نظام ختم کرنا چاہتے ہیں وہ  کمزور اور مظلوم قوموں کو اس استعماریت سے نجات دلانا چاہتے ہیں اور دنیا کے وسائل کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں۔ جبکہ  لوٹ کھسوٹ کا یہ عالمی نظام ،کہ جو بینکاری اور اسٹاک ایکسچینج کے اعداد و شمار میں الجھا کر تمام وسائل سمیٹ رہا ہے اور جمہوریت کے نام پر افراد کو خالقِ کائنات اللہ سبحان وتعالیٰ کی غلامی سے نکال کر انسانوں کی ناقص اور نامکمل عقلوں، مشاہدوں اور تجربوں کی نظر کر رہا ہے۔  اس عالمی نظام  کے خاتمے کے لئے نکلنے والے دہشت گرد ، انتہا پسند اور بنیاد پرست ٹھہرے اور دنیا میں انسانوں کو غلام بنا کر ان کی تجارت کو باقاعدہ  ایک کاروبار  کی شکل دینے والے، دوسرے خطوں کے وسائل کو زبردستی یا دھوکہ دہی اور فریب سے لوٹنے والے  اور ان ہی استعماری طاقتوں کے غلام نام نہاد مسلم حکمران کہ جو اپنی مسلمان عوام کو ان کافروں اور ظالموں کی غلامی میں دینے اور اس ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والوں کو پوری طاقت اور وحشت سے کچلنے میں اپنے آقاؤں سے  بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے، سب مہذب، متمدن اور معاشرے کے صالح ترین افراد ٹھہرے۔

بھلا اس سے بھی بڑا دھوکہ ، فریب اور دجل کبھی تاریخ میں ہوا ہو گا؟

سورۃ کہف جس وقت نازل ہوئی تھی اس وقت مکہ کے مسلمان بھی معاشرے کے اندر اجنبیت اور آزمائشوں کا شکار تھے،  بلآکر نجات کی صورت پردہ غیب  سے ظاہر ہوئی اور یثرب (مدینہ ) کی صورت میں ایک محفوظ قلعہ و غار ان کو ملی ، جہاں سے انہوں نے نہ صرف عرب بلکہ وقت کی بڑی طاقتوں روم و فارس کو بھی السام کے سامنے جھکایا۔ بھلا اس سے بھی بڑا معجزہ  تاریخ کے افق پہ  ہوا ہو گا کہ وہ عرب مسلمان کہ جو مکہ میں اجنبیت اور ظلم و تشدد کا شکار تھے چند سالوں بعد روم و فارس جیسی طاقتوں سے نبرد آزما ہوئے اور ان کو شکست دے کر فاتح عالم ٹھہرے۔

اصحاب کہف جب اپنے موقف پہ ڈٹ گئے تو وہاں کی زمین ان کے لئے تنگ ہو گئی اور ظاہری مادی سہولیات سے بھرپور، پرسکون دنیاوی  زندگی لیکن آخرت کی بربادی و رسوائی  ایک طرف ان کی منتظر تھی  اور دوسری طرف مشکلات  و مصائب،  اجنبیت و بیچارگی کی عارضی   زندگی لیکن آخرت کی پرسکون اور ہمیشہ رہنے والی زندگی تھی۔ بلاشبہ اصحاب کہف نے عقلمندی کا   فیصلہ کیا اور اس فیصلے کے بعد انہوں نے اپنا شہر چھوڑ کر، تمدن کے تمام رنگینیوں اور شہر کی تمام دلچسپیوں سے منہ موڑ کر اور اسباب معیشت سے دست کش ہو کر نکل کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے اپنا محبوب اور باعزت گھرانہ چھوڑنا قبول کر لیا لیکن حق سے منہ موڑنا اور اس سے پیچھے ہٹنا قبول نہ کیا۔

بلاشبہ اصحاب کہف کے اس قرآنی قصے میں آج کے نوجوانوں کے لئے ایک بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ جب انسان اللہ کے پیغام کا داعی بن کر ، اسباب پر بھروسہ  چھوڑ کے اللہ کی رحمت کی امید میں صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔

آج بھی آپ کے سامنے ایسے نوجوان موجود ہیں کہ جنہوں نے اپنے وطن، اہل و عیال،  دوست احباب اور ہر لذت و اقتدار سے دوری اختیار کی لیکن انہوں نے اس جدید شرکیہ جمہوری نظام کے تلے رہنا ایک لمحہ کے لئے بھی گوارا نہ کیا ۔ انہوں نے نفس کے تقاضے سے زیادہ روح کے تقاضہ اور عقل کے مطالبے سے زیادہ ایمان کے مطالبے پر توجہ دی اور جسم و جان سے اپنے آپ کو آج کے  اس معرکہ حق و باطل میں کھپا دیا۔

بلاشبہ یہی اصحاب کہف کا راستہ ہے اور اصحاب کہف کی طرح ایمان، یقین،  معرفت  اور ذکر و دعا کی دولت سے،  اسباب و وسائل کی حامل اس جدید دجالی تہذیب کو شکست دینے کے لئے  نوجوان میدان عمل میں اترے۔

اصحاب کہف کی طرح آج کے یہ نوجوان بھی مسبب الاسباب ، اس کائنات کے خالف و مالک اللہ سبحان وتعالیٰ کی مدد کی امید پر ، اس کی نازل کردہ شریعت کو تمام نظاموں پر غالب کرنے کے لئے ہجرت کی راہوں میں اجنبیت کا شکار ہیں اور اس دین اسلام کے امتیازی وصف یعنی جہاد کو تھامے ہوئے ہیں، اور بلاشبہ اگر آج کے ان مجاہدین نے صبر و اسقامت سے یہ معرکہ لڑنا جاری رکھا تو اصحاب کہف کی طرح اور جن پر یہ سورۃ کہف نازل ہوئی یعنی ، نبی اکرمﷺ اور ان کے اصحاب کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی طرح ، فتح ان کا مقدر ہو گی اور اس جدید دجل و فریب پر مبنی شرکیہ نظام کی جگہ اللہ کی شریعت کا غلبہ ہو کر رہے گا۔ انشاءاللہ۔


آپ کونسا رستہ چنیں گے؟

اگر دنیاوی کامیابی کے لئے محنت شرط ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جنت بغیر اس کے حصول کی محنت کئے مل جائے؟ جس چیز کے حصول کی محنت کی جائے گی اسی کا پھل بھی ملے گا۔

دنیا میں کسی بھی کام کا پھل محنت کئے بغیر نہیں حاصل ہوتا۔ انسان کے کھانے کو ہی دیکھیں۔ یہ کتنے مرحلوں پر محیط ہے۔ اس کے پیچھے کتنی محنت لگتی ہے۔ پہلے اس کی کاشت  کی جاتی ہے جہ کہ خود کئی مشکل مراحل کا مجموعہ ہے، پھر اس کی کٹائی کی جاتی ہے، پھر منڈی لا کر بیچا جاتا ہے، پھر اسے محفوظ کیا جاتا ہے، پھر گاہک بازار جا کار اسے خریدتا ہے اور گھر لاتا ہے، پھر اسے گھر میں پکایا جاتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے تمام معاملات ہیں۔

اسی حقیقت کو قرآن عظیم یوں بیان کرتا ہے:

وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے ۔ [سورۃ النجم آیۃ ۳۹]

محنت کے بغیر تو ایک ہی چیز حاصل ہو تی ہے۔۔۔۔ اور وہ ہے بربادی اور خسارہ۔ کسان اگر فصل کی طرف رغبت نہیں کرے گا اور گھر بیٹھا آرام کرتا رہے گا تو فصل برباد ہو جائے گی۔ بیوپاری اپنا سامان منڈی میں لا کر نہیں بیچے گا تو اس کا سامان نہیں بکے گا اور خراب ہو جائے گا۔ دکاندار دکان پر نہ آئے گا تو اس کا سامان خراب ہو جائے گا۔ خریدار مشقت کر کے پیسا نہیں کمائے گا اور پھر دکان پر جا کار خریداری نہیں کرے گا تو اس کے گھر راشن ہنیں آئے گا۔ بر بادی کا راستہ آسان ہوتا ہے اور کامیابیوں کا راستہ مشکل۔ تبھی تو ہر شخص کامیاب نہیں ہوتا۔

پس یہ کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ جہاں پوری زندگی بھر کی فلاح یا خسارہ کا سوال ہو وہاں کامیابی بغیر محنت گھر بیٹھے حاصل ہو جائے گی۔  بلکہ اشارہ تو یہ ملتا ہے کہ کیونکہ معاملہ سب سے سنگین ہے اس لئے اس میں محنت و قربانی بھی سب سے زیادہ ہی لگے گی۔  محنت سے جی چرانے اور اپنے آپ کو جھوٹے دلاسے دینے سے ایک ہی چیز حاصل ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ کی بربادی و خسارہ۔

اگر دنیا کمانے کے لئے محنت کریں گے تو دنیا ملے گی، اگر جنت کمانے کے لئے کریں گے تو جنت۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ساری زندگی دنیا کے حصول میں کھپا دیں اور پھر یہ توقع کر کے بیٹھ جائیں کے آخرت میں آپ کو جنت مل جائے گی۔ صرف اس لئے کہ آپ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور آپ کے والدین نے آپ کا نام مسلمانوں والا رکھ دیا؟ بیری کا بیج بو کر یہ توقع رکھی جائے کہ آم ملیں گے اسے حماقت ہی کہا جا سکتا ہے اور کچھ نہیں۔

تو آپ کا کیا ارادہ ہے؟

آپ ہمیشہ کی آسانیوں کا مشکل، دشوار گزار اور مصائب والا  رستہ اختیار کریں گے یا پھر آگ ، ہمیشہ کے عذاب، ذلت اور رسوائی حاصل کرنے کا آسان، سہل اور دنیاوی فوائد والا رستہ؟


وقت نہیں ملتا۔۔۔

اگر آپ یہ پوسٹ پڑھ رہے ہیں تو آپ دنیا کے ان بہت کم لوگوں میں شامل ہیں جن کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ فیس بک پر کسی تصویر کو ”لائک” یا ٹوئٹر پر کسی ”ٹویٹ” کو ”ری ٹویٹ” کرنے کی بجائے یا اسکے ساتھ ساتھ کسی سنجیدہ موضوع پر کوئی تحریر پڑھ سکیں۔ ورنہ زیادہ تر لوگوں کو تو وقت ہی نہیں ملتا۔

ہم نےپچھلی پوسٹ میں ذکر کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اہل حق کو پہچاننا مشکل ہے اس لئے وہ حق کا ساتھ نہیں دیتے۔ لیکن اگر اہل حق کی پہچان کروا بھی دی جائے تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔تب بھی بہت سے لو گ ایسے ہوں گے جو کہیں گے کہ

” ٹھیک ہے اہل حق کون ہیں سمجھ آگئی اللہ ان کو کامیابی دے۔ لیکن بھائی میں اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتا کیوں کہ ‘وقت نہیں ملتا’ ۔ مصروفیت اتنی ہے کہ نہ تو ٹھیک سے سو سکتا ہوں نہ ٹھیک سے کھا سکتا ہوں ۔ یہ مرحلہ گزر جائے پھر انشاءاللہ ضرور وقت دوں گا”

لیکن آخر یہ مرحلہ ہے کیا؟ آپ عمر کے کسی بھی حصے میں موجود کسی شخص سے پوچھ کر دیکھ لیں سب کی زبان پر یہی ایک شکوہ ہو گا، ”وقت نہیں ملتا”۔

کسی طالب علم سے بات کریں تو اسے اپنی پڑھائی سے فرصت نہیں۔کسی کے پیپر سر پر ہوں گے کسی کی ”اسائنمنٹ ” ہو گی کوئی ”کوئز” کے لئے پریشان ہوگا۔ دین کے لئے وقت نکالنے کی بات کریں گے تو جواب ملے گا کہ ابھی تو پڑھائی سے فرصت نہیں ملتی ذرا اپنی پڑھائی مکمل کر لوں پھر ضرور وقت دوں گا۔

طالب علمی کے زمانے کے بعد پھر نوکری لگ جاتی ہے تب یہی سوال دہرائیں گے تو پھر ویسا ہی جواب ملے گا کہ ابھی تو نوکری لگی ہے، ابھی آغاز ہے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ جتنے پیسے دیتے ہیں اتنے نکلوا بھی لیتے ہیں۔ ابھی تو بالکل بھی وقت نہیں ملتا بس ذرا منیجر لیو ل تک پہنچ جاؤں پھر ضرور وقت دوں گا۔

اسی طرح زندگی کے ادوار گزرتے رہتے ہیں اور انسان دنیا کی مصروفیات میں اور سے اور پھنستا چلا جاتا ہے، نوکری کے بعد شادی، پھر بچے، پھر بچوں کی تعلیم پھر ان کی شادی۔ انہیں سب مصروفیتوں میں پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ اس سارے دور کے اندر اسے کھیلنے کا وقت مل جائے گا، ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گھنٹوں کرکٹ کے میچ دیکھنے کا وقت مل جائے گا، سوشل میڈیا میں ”لائکس” کا اور ”ری ٹویٹس” کا وقت مل جائے گا ، ہر نئی آنے والی ہندی و انگریزی فلم دیکھنے کا وقت مل جائے گا ، حتی کہ دوستوں کے ساتھ رات رات بھر بیٹھ کر گپیں ہانکنیں کا بھی وقت مل جائے گا، اگر نہیں ملے گا تو اس کام کے لئے وقت نہیں ملے گا جس کے لئے اللہ نے زمین پر بھیجا۔۔

ذرا کچھ وقت کے لئے اپنے دماغ سے تمام مصروفیات، کام ، باتیں، ہر چیز نکال کر ذہن کو بالکل خالی کر لیں اور پھر دنیا میں ہونے والے ان واقعات پر غور کریں۔

:۔ بیسویں صدی کے آغاز تک امت مسلمہ دنیا کی ایک سپر پاور تھی جسے جنگ عظیم میں توڑ کر چھوٹےچھوٹے چھپن ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔

:۔ بیت المقدس جو مسلمانوں کا قبلہ اول تھا وہ مسلمانوں سے چھین لیا گیا اور مسلمانوں کو ان کے اپنے علاقوں سے ہی بے دخل کر دیا گیا۔

:۔ کفار نے ، ملٹی نیشنل کمپنیوں،کنٹریکٹس، سفارت کاری، اور دوسرے بہت سے حیلوں بہانوں سے مسلمانوں کے اجتماعی وسائل پر قبضہ کیا۔

:۔ سپین، مشرقی ترکستان، شیشان، کشمیر اور فلسطین سمیت بہت سے مسلم خطوں کو مسلمانوں سے طاقت کے زور پر چھین لیا گیا۔

:۔ بھارت، کشمیر، فلسطین، برما ، چین حتی کہ بنگلہ دیش اور مصر میں بھی مسلمانوں کو صرف ان کے اسلام کی وجہ سے ہزاروں کی تعدادمیں قتل کر دیا گیا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

:۔ پوری دنیا میں نبی اکرم ﷺ کی توہین کی گئی ، ان کے خاکے بنائے گئے، قرآن مجید کے اوراق کی بے حرمتی کی گئی ان کو گٹروں میں بہایا گیا، ان کو جلایا گیا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

ان واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے آپ سے چند سوالات کریں

:۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اوپر جو واقعات بیان کیے گئے ہیں ان سے متعلق بحثیت مسلمان آپ کا بھی کچھ فرض بنتا ہے؟

:۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی ذمہ داریوں کا دائرہ کار آپ کی اپنی ذات ، یا آپ کے خاندان یا آپ کے ملک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ساری مسلم امت کے ساتھ ہے؟

:۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات اور زمین پر اپنا خلیفہ کیوں بنایا اور اس کا مطلب کیا ہے؟

:۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضی سے گزارنی چاہیے؟

:۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ آج اس دنیا میں جو بھی کام کر رہے ہیں اور جو کچھ بھی نہیں کر رہے اس سب کے متعلق قیامت کے دن آپ سے پوچھا جائے گا اور اسی کی بنیاد پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہو گا؟

:۔ کیا آپ نے کبھی قرآن و حدیث کو پڑھ کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ اللہ نے آپ کو کیوں پیدا کیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ آپ سے کیا مطالبہ کرتے ہیں؟

یہ چند بہت ہی بنیادی سوالات ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے ہم میں سے زیادہ تر اپنے آپ سےایسے سوال پوچھتے تک نہیں ہیں وہ ان باتوں پر سوچنا ہی نہیں چاہتے۔ لیکن آج جب یہ سوال آپ کے سامنے آگئے ہیں تو اپنے آپ سے پوچھیں اور دیکھیں کہ آپ کو کیا جواب ملتا ہے۔ اگر تو ان سوالات میں زیادہ تر کا جواب آپ کو نہ میں ملتا ہے تو ذرا سوچیے کہ اس زندگی میں اور کسی جانور کی زندگی میں کیا فرق ہے؟ ایک جانور بھی بچپن ماں باپ کے تحفظ میں ان کی تربیت میں گزارتا ہے، وہ بھی بڑا ہو کر رزق کی تلاش میں نکلتا ہے، وہ بھی اپنی شریک حیات تلا ش کرتا ہے، وہ بھی اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے ان کے لئے رزق لے کر آتا ہے ان کے لئے گھر کا انتظام کرتا ہے اور انہیں پال پوس کر بڑا کرتا ہے؟ تو اگر انسان کی زندگی کا بھی یہی مقصد ہے تو کیا فرق ہے انسان اور جانور میں؟ کیوں کہا گیا ہے اسے اشرف المخلوقات۔ صرف اس لئے کہ جانور اپنی فطرت کے تحت یہ کام کرتا ہے اور انسان اپنی مرضی سے؟ یہ چیز تو انسان کی اشرف المخلوقات کی بجائے جانور سے بھی گرا دیتی ہے کیونکہ جانور کے پاس تو فیصلے کی طاقت ہی نہیں اور انسان کے پاس فیصلے کی طاقت ہے اور پھر بھی وہ ایسی حقیر زندگی کا فیصلہ کرتا ہے؟

آپ کے پاس کیا گارنٹی ہے کہ جو زندگی آپ گزار رہے ہیں اسی میں اگر موت آگئی تو آپ قیامت کے روز بچ جائیں گے اور جنت میں چلے جائیں گے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں بارہا فرماتے ہیں کہ ایسے ہی جنت میں نہیں چلے جاؤ گے۔ ایک موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا ان لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ایسے ہی جنت میں چلے جائیں گے جبکہ میں نے انہیں ابھی تک آزمایا ہی نہیں؟ اور ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسے ہی جنت میں چلے جائیں گے جبکہ ان پر وہ کچھ ابھی تک گزرا ہی نہیں جو ان سے پہلے والے لوگوں پر گزرا تھا۔

سوچیں اگر جو زندگی آپ گزار رہے ہیں اس کے نتیجے میں آپ جہنم میں چلے جاتے ہیں تو کیا ہو گا؟ آج آپ کی ایک انگلی کو آگ تو کیا کوئی گرم چیز ہی لگ جائے تو آپ تکلیف سے بلک اٹھتے ہیں تو وہ تو جہنم کی آگ ہے جس میں پورا کا پورا انسان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جلتا رہے گا؟ کیا آپ کو اس جہنم کی آگ سے ڈر نہیں لگتا؟ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ کیسا حوصلہ ہے ان لوگوں کا کہ انہیں جہنم کی آگ سے ڈر نہیں لگتا۔ اور اگر واقعی میں آپ کو جہنم کی آگ سے ڈر لگتا ہے تو سوچیں کہ آپ آج جو زندگی گزار رہے ہیں کیا وہ جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے کافی ہے؟

ذرا سوچیں اور آج فیصلہ کر لیں کہ آپ اپنا مزید وقت لغویات میں ضائع نہیں کریں گے بلکہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی رضا کے حصول کے لئے وقف کریں گے چاہے اس کے لئے آپ کو اپنے دنیاوی کاموں کے وقت کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

اپنے آپ کو پہچانیں، اپنی قدر کو پہچانیں، اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو سمجھیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ آپ سے کیا مطالبہ کر رہے ہیں پھر دیکھیں کہ حق اصل میں ہے کیا اور اہل حق کون لوگ ہیں۔

جب ان سب سوالوں کے جواب آپ کو مل جائیں تو پھر اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوارنے کے لئے اور اہل حق کا ساتھ دینے کے لئے نکل کھڑے ہوں۔ یاد رکھیں زندگی کے بڑے فیصلے، ایسے جو پوری زندگی بدل دینے کے قابل ہوں، پیچھے کھڑے ہو کر دیکھیں گے تو پہاڑ جیسے بڑے نظر آئیں گے اور آپ کو اپنی ہمت جواب دیتی محسوس ہو گی لیکن یقین کریں کہ جو فیصلے پہاڑ جیسے بڑے نظر آتے ہیں ان پر عمل کرنے کے لئے آپ کو صرف پہلا قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہےباقی آپ کے رستے خود بخود آسان ہو جاتے ہیں۔ بس آپ کو وہ پہلا قدم ہی اٹھانا ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کے وقت میں برکت عطا فرمائے اور آپ کے لئے خلوص نیت کے ساتھ حق کی جانب پہلا قدم اٹھانا سہل بنا دے۔ آمین


اہل حق کو پہچانیں

لوگ کہتے ہیں کہ آج اہل حق کو پہچاننا مشکل ہے۔میڈیا نے حق و باطل کا فرق دھندلا دیا ہے۔ لیکن قرآن و حدیث میں واضح نشانیں موجود ہیں۔ وہ نشانیاں کیا ہیں؟

آج پوری دنیا کے اندر حق و باطل کا معرکہ نئے سرے سے چھڑ چکا ہے۔ یہ معرکہ تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ ہے اور انشاءاللہ سب سے فیصلہ کن معرکہ بھی ۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ڈیڑھ ارب کے قریب مسلم آبادی ہونے کے باوجود آج تاریخ کے اس عظیم ترین معرکے میں اہل حق کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور امت مسلمہ کی اکثریت حق و باطل کے اس معرکے میں غیر جانبدار بن کر بیٹھی ہے۔ اس رویہ کی بنیادی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ حق واضح نہیں ہے، بہت سے لوگ حق پر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اصل میں حق پر کون ہے یہ پتہ نہیں چلتا۔ اس بات میں اس حد تک تو حقیقت ہے کہ آج سارا کا سارا میڈیا ہی دجال کا آلہ کار ہے اور اس کا مشن ہے کہ وہ حق اور باطل کے درمیان فرق کو دھندلا دے، اور لوگوں کے ذہنوں کو اس قدر الجھا دیا جائے کہ وہ کچھ بھی عمل کرنے کے قابل نہ رہیں۔ لیکن کفار اور ان کے آلہ کاروں کی ساری چالیں ایک طرف ، حق و باطل کے مابین فرق اس قدر واضح ہے کہ اگر انسان کا دل بیدار ہو تو مسلمان تو کیا کافر کو بھی حق اور باطل میں فرق صاف نظر آجائے گا۔

اگرچہ اہل حق کی نشاندہی کرنے کے لئے بہت سے منطقی دلائل دیے جا سکتے ہیں اور اس کو ثابت کرنے کے لئے بہت سے اعداد و شمار بھی پیش کیے جا سکتے ہیں لیکن جب بات حق اور باطل کی ہو تو اس فرق کو واضح کرتے وقت قرآن و حدیث سے استدلال نہ کرنا بذات خود گمراہی ہے۔ کیونکہ اہل حق کی گواہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بڑھ کر کون دے سکتاہے۔ اسی لئے ہم اس پوسٹ میں قرآن و حدیث اور صحابہ کے اقوال کی روشنی میں اہل حق کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

قرآن کریم

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں

وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی یہاں تک کہ ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو ۔(سورۃ البقرۃ، آیت ۱۲۰)

اس آیت کو پڑھ کر مندرجہ ذیل نقاط پر غور کریں۔

جب تک مسلمان اسلام پر قائم ہے یہودی اور عیسائی ان سے خوش کبھی نہیں ہو سکتےتو وہ نام نہاد مسلمان جن سے یہ یہودی اور عیسائی خوش ہیں انہیں اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیئے ۔

یہودی اور عیسائی مسلمان سے اس کے اسلام کی وجہ سے ناخوش ہیں تو جو جتنا اسلام پر کاربند ہو گا یہودی اور عیسائی اس سے اتنا زیادہ نا خوش ہوں گے۔

یہ نقاط اہل حق کو پہنچاننے کے لئے ایک بہت ہی سادہ سا فارمولا دیتے ہیں کہ اہل حق وہ ہیں جن سے یہود ی اور عیسائی سب سے زیادہ نا خوش ہیں

حدیث ِمبارکہ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ کَمَا بَدَأَ غَرِيبًا فَطُوبَی لِلْغُرَبَائِ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ابتدا میں اسلام اجنبی اور غیر معروف تھا اورعنقریب پھر یہ اجنبی اور غیر معروف ہو جائے گا پس اجنبی بن کر رہنے والوں کے لئے خوشخبری ہے۔ (صحیح مسلم، جلد اوّل، باب الایمان، حدیث ۳۷۲)

اس حدیث کی روشنی میں مندرجہ ذیل نقاط پر غور کریں

اسلام ابتداء میں غیر معروف اس لئے تھا کیونکہ تب مسلمان بہت کم تھے۔ دوبارہ غیر معروف تعداد کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ مسلمانوں نے اسلام پر عمل کرنا چھوڑ دیا اس لئےغیر معروف ہو گیا

جو جتنا اسلام پر کاربند ہے وہ اتنا ہی اجنبی اور غیر معروف ہے۔ مسلمان بحثیت مجموعی کافروں میں اجنبی ہیں ، خود مسلمانوں کے اندر نماز پڑھنے والے مسلمانوں کی کل تعداد میں غیر معروف ہیں۔ خود نماز پڑھنے والوں میں داڑھی رکھنے والے اجنبی اور غیر معروف ہیں اسی طرح جو جتنا اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہے اتنا وہ باقیوں میں اجنبی اور غیر معروف ہے۔

ان نقاط کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اہل حق وہ لوگ ہیں جو اپنے اسلام کی وجہ سے کافر تو کافر خود مسلمانوں میں بھی سب سے زیادہ اجنبی اور غیر معروف ہیں۔ کافر تو ان کے دشمن ہیں ہی ان کے اسلام پر شدت سے عمل پیرا ہونے کی وجہ سے خود مسلمان بھی ان کو اپنانے پر تیار نہیں۔

قولِ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا

’’جب حق و باطل میں فرق کرنا مشکل ہو جائے تویہ دیکھو کہ باطل کے تیروں کا رخ کس جانب ہے۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول کی روشنی میں دیکھیں تو اہل حق کو پہچاننا بہت آسان ہے۔ ویسے توپورا عالمِ اسلام ہی کفر و باطل کے تیروں کا شکار ہے لیکن ان سب میں اہل حق وہ لوگ ہیں جن کی طرف کافر و باطل کے تیروں، گولیوں ، بموں، توپوں اور میزائلوں کا رخ ہے، اور جو اصل میں کفر و باطل کے نشانے پر ہیں۔

اوپر بیان کیے گئے دلائل کی روشنی میں اہل حق کی مندرجہ ذیل نشانیاں سامنے آتی ہیں۔

وہ جن سے یہود و نصاریٰ سب سے زیادہ ناخوش ہیں اور جن کے وہ سب سے بڑے دشمن ہیں۔

وہ جن کی طرف کافر و باطل کے تیروں کا رخ ہے اور جو مستقل کافر و باطل کے نشانے پر ہیں۔>

وہ جو اپنے ایمان اور اسلام پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے کافر تو کافر خود مسلمانوں میں بھی اجنبی اور غیر معروف ہیں اور خود مسلمان بھی ان کو اپنانے کو تیار نہیں۔

یہ ہیں اہل حق کی نشانیاں۔ اس قدر واضح اور کھلی نشانیوں کے موجود ہونے کے بعد بھی کیا کوئی حیلہ باقی رہ جا تا ہے کہ اہل حق کو پہچاننا مشکل ہے؟

تو اے میرے بھائیو،

ان بہانوں کو چھوڑیں، حق کو پہچانیں، اہل حق کو پہچانیں اور اہل حق کی مدد اور نصرت کرنے کے لئے ا ن کے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہمیں حق کو پہچاننے اور اس کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔