سعادت مند

دانت کا درد اور بکائن کا درخت

اسلام آباد کا سیکٹر ایف-۱۱۔ میں مہر علی شاہ روڈ1 سے سلمان مارکیٹ کو جانے والی ڈھلوان سڑک پر مُڑتا ہوں۔ اس سڑک پر کچھ دور آگے جا کر دائیں جانب درختوں میں گھِرا ہوا ایک چھوٹا سا مزار آتا ہے، جو سڑک کی ڈھلوان سطح سے کچھ بلندی پر واقع ہے۔ آس پاس موجود عظیم الشان مکانات اور ایک خوبصورت سے پارک کی موجودگی میں اس مزار کو دیکھے بغیر گزر جانا کافی آسان ہے۔ مزار کے احاطے میں بکائن کا وہ خاص درخت موجود ہے جسے میں دیکھنے آیا ہوں۔ کہتے ہیں کہ بکائن کے اس درخت میں کیل ٹھونکنے سے آپ کے دانت کا درد دور ہو جاتا ہے۔

میں مزار کی چار دیواری میں داخل ہوتا ہوں تو سامنے ایک جوان پودوں کو پانی دیتا اور فرش کو دھوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مزار کی فضا میں کافی ٹھہراؤ ہے، جو شاید سبزے کی فراوانی کا نتیجہ ہے۔ نزدیک ہی ایک سائبان ہے جس کے نیچے نماز ادا کرنے کے کے لیے صفیں بچھی ہیں۔ ان صفوں میں سے ایک کے اوپر قمیض اور پتلون میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا ہے۔ وہ متجسس نگاہوں سے میرا جائزہ لیتا ہے، لیکن میں اس جوان کی جانب بڑھتا ہوں اور اسے سلام کرتا ہوں۔ وہ میرے سلام کا خندہ پیشانی سے جواب دیتا ہے۔ ہم دونوں مصافحہ کرتے ہیں۔

میں اس سے بکائن کے درخت کے بارے میں پوچھتا ہوں۔ ”جی، کیا آپ کیل لائے ہیں؟“ وہ جواباً پوچھتا ہے۔ میں مسکرا کر نفی میں سر ہلاتا ہوں، ”میں نے اس درخت کا تذکرہ سنا ہے، صرف دیکھنے کے لیے آیا ہوں۔“ وہ ایک حجرہ نما عمارت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ درخت اس حجرے کے ساتھ موجود ہے۔ میں اس سمت بڑھتا ہوں اور حجرے کے سامنے سے گزر کر بکائن کے درخت کے قریب آ جاتا ہوں۔

وہاں پر دو درخت موجود ہیں، اور دونوں کے تنے کچھ غیر فطری انداز میں کچی زمین میں دھنسے ہوئے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اضافی مٹی کی وجہ سے زمین کی سطح بلند ہو گئی ہے، البتہ یہ معلوم کرنا کچھ دشوار ہے کہ زمین کی اس بلند سطح میں انسانی ہاتھوں کا کتنا حصہ ہے۔ ان درختوں میں سے ایک بکائن کا ہے، جبکہ دوسرے درخت کو میں پہچاننے سے قاصر رہتا ہوں۔ دونوں درختوں کے تنوں پر سینکڑوں کیلیں موجود ہیں جو مختلف لوگوں نے اپنے اپنے دانتوں کے درد کو دور کرنے کے لیے ٹھونکی ہیں۔ بکائن کا درخت زیادہ بلند ہے اور نسبتاً چوڑا تنا رکھتا ہے۔ اس کے اندر ٹھونکی گئی کیلوں کی تعداد بھی دوسرے درخت کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔

میں مُڑ کر اس جوان کو پکارتا ہوں اور درخت کی تصویر اتارنے کی بابت اجازت طلب کرتا ہوں۔ اجازت مل جاتی ہے۔ میں اپنے موبائل فون کے کیمرے سے چند تصاویر اتار لیتا ہوں۔

بکائن کا درخت جس میں کیلیں ٹھونکی گئی ہیں۔ بکائن کا درخت

میں ایک قدم آگے بڑھ کر درخت کے تنے میں ٹھونکی گئی بے شمار کیلوں کا جائزہ لیتا ہوں۔ پرانی اور نئی، زنگ آلود اور چمکدار۔ کچھ دور سے دیکھیں تو یہ تمام کیلیں درخت کے تنے کو ایک بے چین سا ٹیکسچر عطا کرتی محسوس ہوتی ہیں، جبکہ نزدیک سے ان کیلوں کا تاثر کافی سنسنی خیز ہے۔

بکائن کے درخت میں ٹھونکی گئی کیلوں کا قریب سا جائزہ۔ کیلوں کا قریب سے جائزہ

مجھے بکائن کے اس درخت پر ترس آتا ہے۔

کچھ کیلوں کے ساتھ ایک یا دو روپوں کے سکے بھی ٹھونکے گئے نظر آتے ہیں۔ میں حیران بھی ہوتا ہوں اور کسی حد تک محظوظ بھی۔

بکائن کے درخت میں کیلوں کے ساتھ ٹھونکے جانے والے ایک اور دو روپوں کے سکے ایک اور دو روپوں کے سکے

میں واپس اس جوان کے پاس آتا ہوں۔ ”یہ کن کا مزار ہے؟“

وہ حجرے کی جانب اشارہ کرتا ہے، ”شاہ فقیر پراچہ صاحب۔“ پھر حجرے کے پہلو میں ایک اور کمرے کے متعلق بتاتا ہے کہ وہاں اس مزار پر ڈیوٹی کرنے والے ایک مجاور کی بھی لحد ہے۔ وہ نام بھی بتاتا ہے لیکن میں بھول جاتا ہوں۔

میں اس سے کیلوں کے متعلق پوچھتا ہوں۔

”جی۔ شاہ صاحب سبق پڑھاتے ہیں۔۔۔“ وہ دو اذکار اور ان کی گنتی بتلاتا ہے، ”۔۔۔ اِس سبق کو پڑھ کر آپ کیل کو اُس دانت سے چُھوتے ہیں جس میں درد ہو۔ اگر ایک سے زیادہ میں درد ہے تو باری باری ان دانتوں کے ساتھ کیل کو چُھوتے ہیں، اور پھر درخت میں ٹھونک دیتے ہیں۔“

میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کرنے سے دانت کا درد کیونکر رفع ہو سکتا ہے، لیکن میں سر ہلاتا ہوں۔

جوان مجھے پانی پلانے کی پیشکش کرتا ہے۔ میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ”آپ کتنے عرصے سے یہاں پر ہیں؟“

”میں تو ایک اور جگہ کام کرتا ہوں۔ یہاں پر کبھی کبھار ڈیوٹی کرنے آ جاتا ہوں، پودوں کو پانی دے دیا، تھوڑی صفائی کر دی۔“ وہ ایک لمحے کے لیے رکتا ہے۔ ”مجھے پتہ نہیں ہے کہ تصویر اتارنے کی اجازت ہوتی ہے یا نہیں، لیکن میں نے کہا چلو آپ آئے ہیں تو اتار لیں۔“ وہ غالباً مزار کے مستقل مجاور کی تلاش میں دوسری جانب دیکھتا ہے۔

میں حجرے کی طرف دوبارہ بڑھتا ہوں جہاں صاحبِ مزار کی لحد ہے، اور پھر ایک اور تصویر بنا لیتا ہوں۔

شاہ فقیر پراچہ کی لحد۔ شاہ فقیر پراچہ کی لحد۔ بکائن کا درخت اس حجرے کی بائیں جانب ہے۔

یکا یک فضا میں تیزی سے بولی گئی پنجابی گونجتی ہے۔ عبارت میری سمجھ میں نہیں آتی، لیکن میں آواز کی جانب سر گھماتا ہوں اور نماز کی صفوں پر کھڑے ایک بوڑھے، با ریش شخص کو دیکھتا ہوں جو غالباً مزار کا مستقل مجاور ہے اور میری ہی جانب دیکھ رہا ہے۔ میں فیصلہ کرنے میں ناکام رہتا ہوں کہ آیا میری موجودگی اسے ناگوار گزری ہے، یا وہ جوان کو کسی بات پر سرزنش کر رہا ہے۔ جوان پودوں کو پانی ڈالنے میں مگن ہے اور مُڑے بغیر اُس بوڑھے شخص کی بات کا پنجابی ہی میں مختصر سا جواب دیتا ہے۔ میں ایک بار پھر پنجابی سمجھنے میں ناکام رہتا ہوں، سو ایک نظر بوڑھے مجاور اور قمیض پتلون میں ملبوس شخص پر ڈال کر جوان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اور مزار کی چار دیواری سے باہر آ جاتا ہوں۔

کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کرتے ہیں۔ بکائن کا یہ درخت کتنا پرانا ہے؟ کس نے لگایا؟ اس کے ساتھ لگا دوسرا درخت کونسا ہے؟ دانت کے درد کو دور کرنے کے لیے درخت کے تنے میں کیل ٹھونکنے کی روایت کا آغاز کب ہوا؟ چند کیلوں کے ساتھ ایک یا دو روپے کا سکہ بھی کیوں ہے؟ اوسطاً کتنے لوگ ہوں گے جو مہینے میں اس درخت کے اندر کیل ٹھونکنے آتے ہوں گے؟ کیا صاحبِ مزار کا آشیانہ یہی تھا؟ ان کی وفات کب ہوئی؟

میں سوچتا ہوں کہ شاید ان سوالوں کے جوابات اس جوان کی بجائے بوڑھے مجاور کے پاس ہوں۔ اور پھر میں سوچتا ہوں کہ شاید مجھے اس بوڑھے مجاور کے ساتھ بھی کچھ گفتگو کرنی چاہیے تھی، لیکن شاید وہ گفتگو کچھ خاص خوشگوار ثابت نہ ہوتی۔۔۔

میں اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہوں اور واپس مہر علی شاہ روڈ کی جانب بڑھ جاتا ہوں۔

  1. جس کا پرانا نام ”حمزہ روڈ“ تھا۔ 

مِنی فلکس

مِنی فلکس ایک ہلکا پھلکا اور آزاد مصدر فِیڈ ریڈر ہے۔ دیگر فِیڈ ریڈرز کے برعکس اس کے اندر سوشل میڈیا ہے اور نہ ہی فولڈرز۔ بلکہ اس کے اندر تو تلاش کی سہولت بھی نہیں ہے۔

کچھ لوگوں کے نزدیک ایسے فیچرز کی عدم دستیابی قابلِ قبول نہیں ہو گی۔ لیکن کچھ اور لوگوں کے لیے یہی عدم دستیابی سب سے بڑا فیچر ہو گا۔ میرا شمار آخرالذکر لوگوں میں ہوتا ہے۔

گوگل ریڈر کے بند ہو جانے کے بعد میں نے کوما فِیڈ کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ یہ بھی ایک خفیف اور آزاد مصدر فِیڈ ریڈر ہے، لیکن مِنی فلکس جیسا پھر بھی نہیں ہے۔ کوما فِیڈ کے ساتھ مجھے کوئی پریشانی تو نہ تھی، لیکن میں اسے اپنے ذاتی سَرور پر ہوسٹ کرنے کی بجائے اس کی ہوسٹِڈ سروس استعمال کر رہا تھا۔ کوما فِیڈ کو خود ہوسٹ کرنے کے لیے ریڈ ہیٹ کا اوپن شِفٹ پلیٹ فارم ایک کافی اچھی جگہ ہے، اور میں نے وہاں اپنا اکاؤنٹ بھی بنایا، لیکن میرے استعمال میں لِنوڈ کا ایک وی-پی-ایس پہلے سے ہی ہے (جو انتہائی شاندار ہے!)، سو میری ترجیح یہی تھی کہ کوئی ایسا فِیڈ ریڈر مل سکے جسے میں اپنے لِنوڈ پر بآسانی چلا سکوں۔ اس تلاش کے دوران ٹائنی ٹائنی آر-ایس-ایس پر بڑے اچھے تبصرے پڑھنے کو ملے، لیکن نجانے کیوں یہ مجھے کچھ خاص پسند نہیں آیا۔ پھر ایک دن میں گِٹ ہب پر آوارہ گردی کر رہا تھا کہ مِنی فلکس کے بارے میں معلوم ہوا۔

مِنی فلکس کا سکرین شاٹ

مِنی فلکس کا انٹرفیس بہت سادہ سا ہے، لیکن مطالعے کے لیے کافی سہل ہے، اور بڑی اور چھوٹی تمام سکرینز پر خوبصورت نظر آتا ہے۔ اس کے مختصر سے فیچرز میں ایک فیچر یہ بھی ہے کہ یہ مضامین کے مکمل متن کو ڈاؤنلوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو ایسی فیڈز کے لیے مفید ہے جو مضامین کا صرف خلاصہ پیش کرتی ہیں۔ فولڈرز تو ہیں ہی نہیں، اور مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ میں نے فولڈرز کی کمی محسوس نہیں کی۔ ایک اور حیرت ناک بات میرے لیے یہ بھی تھی کہ اس کی انسٹالیشن بہت آسان تھی: محض ایک git clone اور پھر ویب سَرور کی ضروری کنفگریشن، اور مِنی فلکس رواں دواں۔ (جو لوگ ذاتی طور پر اسے ہوسٹ نہیں کر سکتے یا نہیں کرنا چاہتے، ان کے لیے صرف ایک مرتبہ قابلِ ادا فیس کے عوض ایک ہوسٹِڈ سروس بھی موجود ہے۔) اور چونکہ یہ ایک چھوٹا اور ہلکا پھلکا سا سوفٹویئر ہے، تو اس کی رفتار بھی انتہائی تیز ہے۔

مِنی فلکس یقیناً ہر شخص کے لیے تو موزوں نہیں ہے، لیکن اگر آپ مِنملزم اور فیڈ ریڈرز کے شیدائی ہیں، تو آپ کو اسے آزمانا ضرور چاہیے۔

سائنس اور شاعری

کل شام میں مشہورِ زمانہ”طبیعیات پر فائنمن کے لیکچرز“ کے آنلائن ایڈیشن کا سرسری سا جائزہ لے رہا تھا جب ایک حاشیے پر نظر پڑی:

”ستارے اور زمین ایک ہی جیسے جواہر سے مل کر بنے ہیں۔“ لیکچرز دینے کے لیے میں عموماً اسی قسم کے ایک چھوٹے سے موضوع کا انتخاب کرتا ہوں۔ شاعر حضرات کہتے ہیں کہ سائنس ستاروں سے ان کی خوبصورتی چِھین کر انہیں محض گیس کے گولے قرار دیتی ہے۔ کوئی بھی چیز ”محض“ نہیں ہوتی۔ صحرانی رات میں ستارے مجھے بھی نظر آتے ہیں، اور میں انہیں محسوس بھی کرتا ہوں۔ لیکن کیا مجھے کم یا زیادہ نظر آتا ہے؟ آسمانوں کی وسعت میرے تخیل کو جِلا بخشتی ہے—زمین پر رہتے ہوئے میری چھوٹی سی آنکھ ستاروں کی دس لاکھ سال پرانی روشنی کو دیکھ سکتی ہے، ایک ایسے وسیع نقش کو، جس کا میں ایک حصہ ہوں۔ ممکن ہے کہ میرے وجود کے اجزاء بھی کسی گمشدہ ستارے سے پُھوٹے ہوں، بالکل ایسے ہی جیسے وہاں ایک اور ستارہ اپنے اجزاء کو خارج کر رہا ہے۔ یا جیسے میں ان ستاروں کو پالومار کی عظیم آنکھ سے دیکھتا ہوں، کسی ایسے نقطۂ آغاز سے دور بھاگتے ہوئے جہاں شاید وہ کبھی باہم موجود تھے۔ آخر اس سب کا سلسلہ کیا ہے، اس کے معانی کیا ہیں، اس کی وجہ کیا ہے۔ کسی پراسرار معمے کے بارے میں کچھ جان لینے سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا، کہ حقیقت ماضی کے تمام فنکاروں کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ شاندار ہوتی ہے! آج کے شعراء اس حقیقت کے بارے میں کچھ کہتے کیوں نہیں؟ یہ کیسے شعراء ہیں جو مشتری کو انسان کے روپ میں تو پیش کر سکتے ہیں، لیکن اگر وہ خلاء میں گھومتا ہوا میتھین اور ایمونیا کا عظیم کرہ ہو تو خاموش رہتے ہیں؟

میں اس قابل تو نہیں ہوں کہ سائنس یا شاعری پر کوئی تبصرہ کر سکوں، لیکن رچرڈ فائنمن کے درج بالا الفاظ پڑھنے کے بعد میں ان کا پکا پکا مرید بن چکا ہوں۔ امید ہے کہ ۲۰۱۴ میں بالآخر فائنمن کی کچھ کتابوں کا مطالعہ ممکن ہو سکے گا۔

نیا بلاگ

فیس بُک، ٹوئٹر، ٹمبلر، انسٹاگرام، بلاگ۔ ان میں سے ایک باقی سب سے کچھ مختلف ہے۔ اُس کی نشاندہی کریں۔

بلکہ نہیں، ان میں سے اُس کی نشاندہی کریں جس کی کچھ افراد کے بقول موت واقع ہو چکی ہے۔

جیسن کوٹکی ایک نامی گرامی بلاگر ہیں، اور انہوں نے حال ہی میں کچھ یوں لکھا:

پچھلے چند سالوں میں بلاگ کا کہیں انتقال ہو چکا ہے۔ ۲۰۱۴ میں لوگ اس بات کا بالآخر ادراک کر سکیں گے۔ بلاگز یقیناً ابھی بھی اپنا وجود رکھتے ہیں، اور بہتیرے ایسے بھی ہیں جو انتہائی شاندار ہیں اور اگلے کئی سالوں تک اپنے وجود اور اپنی عمدگی کو برقرار رکھیں گے۔ لیکن بلاگز کا وہ لا محدود مقصد، یعنی معلومات کی ترویج اور اشاعت، جسے وہ پچھلی پوری دہائی سے انتہائی خوبی سے سر انجام دے رہے تھے، اب میڈیا کی ان متنوع اشکال کے سپرد ہو چکا ہے جو بلاگز سے مماثلت رکھنے کے باوجود بھی بلاگز قطعاً نہیں ہیں۔

بلاگنگ کی بجائے لوگ اب ٹمبلر پر پوسٹ کر رہے ہیں، ٹویٹ کر رہے ہیں، اپنے بورڈ پر چیزیں پِن کر رہے ہیں، ریڈِّٹ پر پوسٹ کر رہے ہیں، سنیپ چیٹنگ کر رہے ہیں، فیس بُک سٹیٹس اپڈیٹ کر رہے ہیں، انسٹاگرام استعمال کر رہے ہیں، اور میڈیم پر شائع کر رہے ہیں۔ ۱۹۹۷ میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے نوجوانوں نے آنلائن ڈائریوں کو تخلیق کیا، اور ۲۰۰۴ میں بلاگ بادشاہ تھا۔ آج نوجوانوں کی جانب سے (انسٹاگرام یا سنیپ چیٹ استعمال کرنے کے مقابلے میں) ایک بلاگ شروع کرنے کا اتنا ہی امکان ہے جتنا ان کے موسیقی کی سی ڈی خریدنے کا۔ بلاگز تو اب کئی بچوں کے چالیس سالہ والدین ہی کے قابل رہ گئے ہیں۔

کوٹکی کی پوسٹ پر ایک زیرک تبصرہ کرتے ہوئے جان سکالزی نے کہا:

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جن لوگوں کو بلاگز کی ضرورت ہے یا ان میں دلچسپی رکھتے ہیں، اُن کے لیے بلاگ فائدہ مند نہیں ہو سکتا — بالکل ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگ، جو لمبی پوسٹس لکھنا چاہتے ہیں، اپنے ذاتی برینڈ کے لیے ایک مستقل جگہ کے متمنی ہیں، اور (اہم بات) اپنی آنلائن موجودگی پر کہیں زیادہ مضبوط اختیار کے خواہشمند ہیں، ان کے لیے بلاگز کا کوئی حتمی متبادل موجود نہیں ہے۔

سو روایتی بلاگنگ کی کشش معدوم ضرور ہو رہی ہے، لیکن ابھی بھی یہ کوئی بیکار شے ہرگز نہیں ہے؛ اور یوں میرا بھی نیا بلاگ حاضر ہے۔1

ویسے میرے ذاتی خیال میں فیس بُک اور ٹوئٹر، اور دیگر سوشل میڈیا، بلاگنگ کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ سہولت ہیں۔ خاص طور پر ٹوئٹر تو مجھے (اپنے دیگر فوائد کے علاوہ) لوگوں کے ہجوم کی تیار کردہ، دلچسپ بلاگ پوسٹس کی ایک عظیم فیڈ بھی لگتا ہے۔ ہاں البتہ ایک مخصوص فیڈ ریڈر میں اپنے پسندیدہ بلاگز کی ”پوسٹ گردانی“ کرنے کا لطف ہی اور ہوتا ہے۔ (جی ہاں، میں ابھی تک گوگل ریڈر کے بند کرنے پر گوگل سے سخت ناراض ہوں۔ وہ تو بھلا ہو کوما فیڈ کا جس کی شکل میں ایک اچھا فیڈ ریڈر دستیاب ہے۔)

بہرحال، بلاگنگ کی رحلت سے قطع نظر، یہ میرا نیا بلاگ ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اس کا سفر کیسا گزرتا ہے۔

  1. میرا پرانا، ذاتی بلاگ—جہاں میں نے تقریباً آٹھ سال تک بلاگنگ کی اور اُس آزادی کا بھی تجربہ کیا جو اپنا بلاگ ہوسٹ کرنے اور پھر اس پر تحریریں لکھنے سے ملتی ہے—اب موجود تو ہے، لیکن ریٹائر ہو گیا ہے۔ نئے موضوعات پر لکھنے کے لیے مجھے مناسب یہی لگا کہ ایک نئے بلاگ کی شروعات کی جائے۔