عرفانیات

برکت کیا ہے؟


برکت کو بیان نہیں، محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ آمدن و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اور بنا کسی ٹینشن کے اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں۔ پھر چاہے آپ کی آمدن ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔ اس کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سیٹھوں اور سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں روڈ کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وه دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے، اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم الله پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔ اس کیفیت میں جو قرار اور دلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وه کسی لکھ پتی کو میک ڈونلڈ اور کے ایف سی کے مہنگے برگر کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ الله تعالى آپ کو اور آپ کے گھر کے افراد کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے۔ انسان، اسپتال اور ڈاکٹروں کے چکروں سے بچا رہتا ہے۔ یوں اس کی آمدن پانی کی طرح بہہ جانے سے محفوظ ره جاتی ہے۔برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔ وه تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو الله تعالى نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔ وه اپنے دوستوں کی دیکھا دیکھی، آئے دن آپ سے نئی نئی فرمائشیں (مثلاً موبائل، کپڑے، جوتے وغیره) نہیں کرتی بلکہ قانع اور شاکر رہتی ہے۔برکت کا تعلق مادی ذرائع کے برعکس الله تعالى کی غیبی امداد سے ہے۔ ایسی غیبی امداد جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندراندر پوری ہوجائیں۔یہ تو تھی مال اور آمدن میں برکت۔ اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔ وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیاده اور نتیجہ خیز کام کر سكيں، آپ کا وقت ادھرادھر فضول چیزوں میں ضائع نہ ہو۔ اسی طرح عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نہ ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔کم کھانا، زیاده افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔ آپ کی کم محنت کا پھل زیاده آمدن یا پیداوار کی صورت میں نکلنا بھی برکت ہے۔یوں سمجھیں کہ برکت الله تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’سپيشل انعام‘‘ ہےبرکت کے حصول کا نہایت آسان طریقہ صدقہ کرنا ہے یا کسی یتیم کی کفالت کرنا ہے۔ آپ اپنے خاندان میں یا محلہ میں دیکھیں کوئی یتیم ہو، اس کو اپنا بیٹا یا بیٹی بنالیں، اس کی پرورش اسی طرح کریں جیسے اپنی سگی اولاد کی کی جاتی ہے پھر دیکھیں کس طرح برکت آپ کے گھر چھپر پھاڑ کر آتی ہے۔بھول جائیں کہ جس گھر میں لوگ دن چڑھے تک سوتے رہتے ہوں وہاں کبھی برکت آئے گی۔ کیوں کہ نبی كريم ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ میری امت کے لیے دن کے اولین حصے میں برکت رکھ دی گئی ہے۔ اسی طرح شوقیہ کتا پالنا، تصویریں اور میوزک بھی برکت کے اٹھ جانے کے اسباب میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ لباس اور جسم کی پاکی اور حلال ذریعہ آمدن برکت کے حصول کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی سودی اور ناجائز کاروبار میں ملوث ہو یا جسم اور کپڑوں کو ناپاک رکھتا ہو پھر برکت کا امیدوار بھی ہو تو اس کی ساده لوحی پر حیران ہی ہوا جا سکتا ہے۔
     SOURCE:دین و دانش

اللہ کا مقام اور شان

اللہ اپنی سلطنت، بادشاہت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ اللہ اپنی کائنات کا تمام ترسلسلہ بغیر کسی کی مدد، مشورے اور مداخلت کے اکیلا خود اپنی مرضی سے چلا رہا ہے۔ کوئی نبی، ولی، پیر ، پیغمبر، جن، فرشتہ، زندہ، مردہ، سائیں، قلندر، قطب، ابدال، گدی درگاہ آستانے والا، جادوگر، نجومی، عامل، بابا، چھوٹا،بڑا کبھی بھی اللہ کے نظام میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتا۔ تمام طاقت،اختیار،مِلک،قدرت،قبضہ،کنٹرول،فضل،برکت،رحمت،خیر بس صرف ایک اللہ کے مکمل اختیار میں ہے۔اللہ نے قرآن میں ایک سے زائد مرتبہ فرمایا ہے کہ اللہ کی صحیح معنوں میں قدر نہیں جانی گئی۔

بیماری

بہتر یہی ہے کہ باتوں کو برداشت کرنے کی عادت ڈالی جائے اور خاموش رہا جائے اور اس شخص کی نصیحت پر دھیان دیا جائے جس نے کہا تھا کہ ہر بات کو شدت سے محسوس کرنا بیماری کی علامت ہے۔

یقین کی ڈور

جس یقین کی ڈور اللہ کے ساتھ منسلک ہو اس یقین کو اگر انسان نہیں چھوڑتا تو اس ڈور کو اللہ بھی نہیں توڑتا ۔۔!

چاروں موسم یکجا

یہ سال کا وہ وقت ہے جس میں گمان ہوتا ہے جیسے چاروں موسم اکٹھے آن موجود ہوئے ہیں۔ کبھی گرمی کا احساس ایسا ہوتا ہے کہ اے سی چلا دو۔ کبھی خنکی ایسی کہ لگے اب گیزر چلے۔ لان میں جا کر زرد پتے جو دیکھو ہر سُو تو جانو ارے یہ تو خزاں ہے۔ اور دن کے کسی حصے میں دل ایک عجیب خوشی اور قرار سے ہو جائے سرشار تو دِکھے یہی ہے بہار۔ یہی تو ہیں قدرت کے فنون لطیفہ۔

لان سے نظر آنے والا زرد پتوں والا درخت


اے اللہ۔۔۔

آج تو نے مجھے ساری دنیاوی نعمتیں عطا کی ہیں،ممکن ہے کل تو یہ سب واپس لے لے۔آج تو نے مجھے بھرپور قوت اور صحت عطا کی ہے،ممکن ہے کل میرا جسم بیماریوں سے لاغر ہو جائے۔آج تو نے مجھے بہترین تعلقات عطا کیے ہیں،ممکن ہے کل میرے رشتہ دار، دوست احباب، ملنے والے، چاہنے والے مجھے چھوڑ جاہیں۔ آج تو نے مجھے مال و دولت اور وسائل سے نوازا ہے،ممکن ہے کل میں بالکل محروم اور غیرمحفوظ ہوجاوں اورمصائب اور مشکلات میں ایسا ِگھر جاوں کہ لوگ میرا مذاق اڑائیں اور میری تذلیل کریں ۔۔۔ اس لیے تو مجھے توفیق دے کہ
اپنے سکھ اور خوشحالی کے نشے میں کسی کو نظر انداز نہ کروں اور اپنے عزیز و اقارب کی محبت کو اپنا حق نہ سمجھنے لگوں۔ موزوں حالات کے بل بوتے پر میں اپنی ذات کو ناقابل شکست نہ سمجھنے لگوں اور غلط فہمی کا شکار نہ ہو جاوں کہ مجھے کچھ بھی نہ ہو گا۔ جب سب کچھ موافقت میں ہو رہا ہو تو اسے میں اپنی اہلیت اورعقلمندی کا نتیجہ نہ سمجھوں اور نہ یہ سمجھنے لگوں اے اللہ کہ مجھے تیری ضرورت ہی نہیں۔ اور اگر حالات ناسازگار ہوں، سب تدبیریں الٹی ہو جائیں اور سب کچھ ِچھن جائے تو اسے تیری نا مہربانی سمجھنے کی غلطی ہر گز نہ کروں۔
    کیونکہ اے اللہ ! سب کچھ عطا کرنے میں اور واپس لینے میں بھی تیری حکمت پوشیدہ ہے، دونوں کے پس منظر میں تیرا کرم ہی کار فرما ہے۔ راستہ پھولوں سے سجا ہو یا کانٹوں سے بھرا ہو، میں اس پر چل کر تیری فرمانبرداری کا حق ادا کروں اور تیری رضا حاصل کر کے کامیابی کے ساتھ آخرت میں جا پہنچوں۔ آمین۔

لو جی میں ٹیگا گیا

 اپنے عمار ابن ضیا کو لگا کہ اُردو بلاگنگ میں جو ایک روایت ٹیگ کی ہوا کرتی تھی وہ کافی عرصے سے دم توڑتی محسوس ہورہی ہے۔ لہذا انہوں نے نئے سال کے اس موقعہ پر اس روایت کو زندہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے بلاگ پر سات سوالات دیئےاور جن چار بلاگران کو ٹیگ کیا ان میں میرا نام بھی شامل کر دیا۔ ذیل میں ہیں ان کے سوالات اور میرے جواب:  2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟ ۔2012 کاایک خاص ٹارگٹ: طبیعت کے لاابالی پن کو ذرا لگام دینا۔ ۔ 2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟ ۔ سٹاک مارکیٹ کے ٹرن اراونڈ کا۔   ۔ 2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟- پہلے سے کہیں زیادہ خود آگاہی، اپنی خامیوں کا عمیق ادراک،پہلی بار۔   ۔ 2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟- مختلف اضطراری فیصلوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والا کڑمس۔  ۔ 2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟ - بذریعہ بحرین سعودی عرب جانا۔  ۔ سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟ - بہت پرامید-  ۔ کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟- سپوکن عربی 
اور اب میں انہی سوالات کے ساتھ ٹیگ کر رہا ہوں مندرجہ ذیل ساتھیوں کو: خاور کھوکھر، عنیقہ ناز، شاکر عزیز اور خرم شہزاد خرم 
اس التماس کے ساتھ کہ براہ کرم مطلوبہ پیش رفت کریں۔ شکریہ

پیسہ۔۔۔کتنا آخر؟


ہماری زندگی کا وقت محدود ہے۔ اس محدود وقت کو لا محدود پیسہ کمانے کے لیے لگا چھوڑنا یہ کیسی بات ہے؟ اور اتنا زیادہ پیسہ کمانا جتنا ہم خرچ بھی نہ کر سکیں، اس کا فائد ہ؟  آپکا پیسہ تو وہی ہے نا جس کو آپ خرچ کر سکیں۔  خوش انسان تو وہ ہوتا ہے جس کی خواہشات اور ضرورتیں محدود  ہوئیں نہ کہ وہ جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پیسہ ہو۔ 
اور یہ بھی کیسی بات ہے کہ ان لوگوں کے لیے کمائے چلے جاو جن کے ساتھ گزارنے کے لیے آپ کے پاس وقت ہی نہیں کیونکہ سارا وقت تو آپ اور زیادہ کمانے کے چکر میں رہتے ہو۔ جوانی میں آپ اپنی صحت سے بے پرواہ ہو کر روپے کے تعاقب میں صحت گنوا دیتے ہو۔ بوڑھے ہو کر اس روپے سے صحت واپس خریدنے کی کوشش کرتے ہو۔ لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔   

دل پسند بادام پتیسہ یا dilpasand badam patisa

   co.ccیہ دیکھ کر آج دکھ کے مارے ہنسی نکل گئی کہ گوگل نے
ڈومین کو ڈی انڈیکس کر دیا ہوا ہے۔ یعنی مفت کے مزے لوٹنے والے کو کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی امتیازی سلوک سے دوچار ہونا ہی پڑتا ہے۔ حد ہے بھئی۔ حالانکہ والوں نے اپنی سائٹ پر لکھ رکھا ہے کہco.cc free domain name works exactly like a .com
اب کیا ہو گا؟co.ccمطلب اب یہ ہوا کہ یہ والا بلاگ اور دیگر تمام بلاگ جو
پر چل رہے ہیں وہ گوگل سرچ کے نتائج میں نظر نہیں آ پائیں گے۔ گویا اگر ہم چاہیں کہ ہمارا لکھا مواد گوگل پر سرچ کرنے والوں کو نظر آ ئے تو ہمیں اپنا بلاگ کسی سچ مچ کے ڈومین پر لے جانا ہو گا۔
لیکن تب بھی کیا ہو گا؟
تب ہمارا اردو بلاگ گوگل پر انڈیکس تو ہو جائے گا لیکن سرچ میں جب تک لوگ اردو میں اپنا مطلوبہ لفظ یا فقرہ نہیں لکھیں گے وہ کسی اردو بلاگ تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ لوگ اردو میں سرچ کرتے وقت رومن اردو کا استعمال ہی کرتے ہیں حالانکہ وہ اردو میں لکھی تحریر کے متلاشی ہوتے ہیں۔ جب تک لوگ دلپسند بادام پستہ کی بجائے گوگل میں
dilpasand badam pista لکھتے رہیں گے وہ ان انگریزی بلاگز پر ہی جا پہنچتے رہیں گے جہاں مضامین میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہوں گے۔اردو کے کسی بلاگ پر چاہے پتیسے کے بارے میں کیسا ہی بہترین مواد کیوں نہ پڑا ہو، سرچ کی ورڈز انگریزی میں ہونے کی وجہ  سے بیچارہ اردو بلاگ سرچ انجن کی ٹریفک سے محروم ہی رہے گا۔
لیکن پھر بھی۔۔۔بات یہ کہ آپکا بلاگ یا سائٹ گوگل سے ڈی انڈیکس کر دیا جانا بہر حال ایک تشویشناک بات ہے۔ مانا کہ لوگ فی الحال گوگل میں سرچ کے لیے اردو نہیں لکھ رہے لیکن پھر بھی یہ بات ناقابل قبول ہے کہ آپکا بلاگ گوگل سے منقطع ہی کر دیا جائے۔ اسی لیے ورڈ پریس کو بادل نخواستہ الوداع کہتے ہوئے اس بلاگ کو اس کے سابقہ ڈومین سے اب یہاں بلاگ سپاٹ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

بابی یار Babi Yar

؀
وہی مکان، وہی گلیاں مگر وہ لوگ نہیں،
یہی مراد تو ہے بستیاں اجڑنے سے۔
انسان کا بھی عجیب معاملہ ہے۔ پیدا ہوتا ہے تو وہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بعد کی زندگی میں اپنے گمان کے مطابق کامیابی حاصل کرنے کے لیے سالہا سال چیزوں کے حصول اور کاموں کی تکمیل کی خاطر اندھا دھند بھا گتا رہتا ہے، اس بات سے بے خبر کہ اس دوران زندگی گزرتی جا رہی ہے۔
پھر ایک دن غیر متوقع طور پر موت کا فرشتہ مقرر کیے ہوئے وقت سے نہ ایک سیکنڈ پہلے نہ ایک لمحہ بعد جان نکال لینے کے لیے آ پہنچتا ہے۔موت سے اس اپنے شب و روز میں مگن انسان کی یہ دنیا والی زندگی اختتام پذیر ہو جاتی ہے اور پھر وہ ایک اور ہی جہاں میں جا پہنچتا ہے جو اس دنیا ہیں رہتے ہوئے اس کی آنکھ سے اوجھل تھا اور جہاں اب اسے دائمی طور پر رہنا ہے۔
بعض اوقات موت اجتماعی طور پر آن دبوچتی ہے۔ مثال کے طور پر جیسا کہ ستمبر ۱۹۴۱ میں یوکرین کے مقام پر ہوا۔ دوسری جنگ عظیم جاری تھی۔ ہٹلر کی نازی افواج ۱۹ ستمبر ۱۹۴۱ کو یوکرین کے دارلحکومت کیف (Kiev) پر قابض ہو چکی تھیں۔ ۲۶ ستمبر کو جرمن فوج کی طرف سے کیف کے یہو دیوں کے لیے شہر بھر میں ایک اعلانیہ چسپاں کیا گیا جس میں تمام یہودیوں کو کہا گیا کہ ۲۹ ستمبر کو وہ سب اپنا سامان، قیمتی اشیاء، نقدی، دستاویزات ہمراہ لیے،گرم کپڑے پہنے صبح آٹھ بجے شہر میں واقع یہودیوں کے قبرستان کے قریب جمع ہو جائیں۔ نہ پہنچنے والوں کو گولی سے اڑا دیا جائے گا۔
نازیوں کو امید تھی کہ کوئی پانچ چھ ہزار یہودی اس دن وہاں اکٹھے ہو جائیں گے لیکن وہاں تو تیس ہزار سے زیادہ یہودی۔۔۔آدمی، عورتیں، جوان، بوڑھے،بچے۔۔۔ اپنے مال و متاع سمیت آن پہنچے۔ دراصل نازیوں نے اس قدر مہارت اور چالاکی سے سارا منصوبہ ترتیب دیا تھا کہ یہودی آخر وقت تک یہی سمجھتے رہے کہ ان کو وہاں اس لیے اکٹھا کیا جا رہا ہے تا کہ ان سب کی کسی اور علاقے میں نقل مکانی کی جائے جہاں وہ اکٹھے مل کر آباد ہو سکیں۔سب یہودی اسی گمان میں رہے کہ جلد ہی ان کو ریل گاڑیوں میں سوار کر دیا جائے گا۔
جب تک حقیقت ان پر کھلی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔جب ان کو مشین گنز چلنے کی ترتراہٹ سنائی دینی شروع ہوئی تو تب کسی کے لیے بھی جان بچا کر فرار ہونا ممکن نہیں رہا تھا۔انتہائی منظم طریقے سے تمام یہودیوں سے ان کا سامان لے لیا گیا اور ان کا تمام لباس اتروا لیا گیا۔پھر دس دس یہودیوں کو فوجی بابی یار کی طرف ہانک کر لے جاتے جہاں ان کو گولیوں سے اڑا دیا جاتا۔بابی یار کیف میں واقع ایک گھاٹی کا نام ہے جو تقریباً ۱۵۰ میٹر لمبی، ۳۰ میٹر چوڑی اور ۱۵ میٹر گہری ہے۔دو دن میں ۳۳۷۷۱ یہودی گولیاں مار کر ختم کر دیے گئے اور بابی یار میں ان کی لاشوں کے انبار لگا دیے گئے۔
اور رہا انفرادی موت کا سلسلہ تو وہ تو ہمارے ارد گرد چلتا ہی رہتا ہے۔ انسان اپنے خاندان والوں کو اور دوست احباب کو فوت ہوتے دیکھتا تو ہے لیکن کسی نہ کسی طرح اپنے لیے اس کے دل میں یہی گمان رہتا ہے کہ یہ تو دوسرے لوگ ہیں جو فوت ہوتے ہیں، میں نے تو ابھی زندہ ہی رہنا ہے۔میں تو ابھی صحتمند ہوں،میرے تو بہت سے منصوبے ابھی ایسے ہیں جن کو میں نے پورا کرنا ہے، میں تو ایک اہم انسان ہوں۔۔۔یہ گھر یا یہ ادارہ میں ہی تو چلا رہا ہوں۔میں ابھی فوت نہیں ہوسکتا۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موت بہت ہی چپکے سے آ جاتی ہے۔ضروری نہیں کہ کوئی بیمار ہی ہو یا بدحال ہو تو ہی مرتا ہے۔ موت ایسے میں بھی آن دبوچتی ہے جب آپ باتیں کر رہے ہوں، پانی پی رہے ہوں، ہنس رہے ہوں:


موت کے ساتھ ہی توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور اعمال کا سلسلہ موقوف ہو جاتا ہے۔یہ جو وقت ہمیں ملا ہوا ہوتا ہے یہ بس ایک مہلت ہی ہے۔سٹیو جابز کا یہ کہا Your time is limited بہت قابل غور ہے۔ لیکن جیتے جی ہمیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ نہ ہی یہ بات یقین میں آ تی ہے کہ زندگی میں جو کچھ ہم کر رہے ہیں، موت کے بعد اس سب کے لیے ہمیں اپنے خالق کے ہاں جواب دہ ہونا ہے اور پھر سزا اور جزا کا سلسلہ ہے۔ہمارا دل یہ مان کے ہی نہیں دیتا کہ دنیا کا یہ سلسلہ عارضی ہے۔۔۔


؀
وہ وقت،وہ محفلیں،وہ شگوفتہ مزاج لوگ
موج زمانہ لے گئی جانے کہاں کہاں

زندگی

مڑے ہوئے پتوں پہ
بوندوں کی کھنک۔۔۔
زیروبم،
لاجونتی،
مدھ بھری،
ارغوانی زندگی۔

زندگی۔۔۔
تتلی،
ترنگ،
سوہنی
سہانی زندگی۔

ہوا مارنا

کسی کا حق مارنا، کسی کے پیسے مارنا وغیرہ جیسی غلط کاریاں تو آپ سنتے ہی رہتے ہیں ۔آج میں آپکی توجہ ایک اور اہم معاشرتی مسئلے کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ وہ ہے ہوا مارنا۔ آپ اپنی گاڑی کسی سروس سٹیشن پر لے کر جاتے ہیں کہ اس کی دحلائی ستھرائی کروا لیں تو وہ لوگ کاروائی کا آغاز ہوا مارنے سے کرتے ہیں۔

گاڑی کے چاروں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک صاحب ایک پائپ پکڑ کر اس میں سے نکلتی تیز رفتار ہوا گاڑی کے فرش اور تمام کونوں کھدروں میں مارنا شروع کر دیتے ہیں۔اب اپنے گمان کے مطابق تو وہ گاڑی کی صفائی کر رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں جو ہو رہا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ گاڑی کے فلور میٹس پر پڑی تمام گرد و دیگر گند بلا اڑ اڑ کر ڈیش بورڈ اور اطراف میں جا بکھرتا ہے۔ اس عمل سے گاڑی کا اندر صاف ہونے کی بجائے اور گندا ہو جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ وہ لوگ ہوا مارنے کی بجائے ویکیوم کلینر کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟ ویکیوم کلینر گند بلا کو دور دور تک اڑانے کی بجائے اپنے اندر کھینچ لے گا جو کہ گاڑی کے اندر کی صفائی کا ایک زیادہ منطقی طریقہ ہے۔ اور یہ بھی نہیں کہ ویکیوم کلینر خریدنے کے لیے کوئی لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں۔ نہ ہی یہ ہے کہ ویکیوم کلینر ایسے مقاصد کے لیے کسی بھی سروس سٹیشن پر استعمال نہیں ہو رہے۔ دبئی میں دیرہ کے علاقے میں ایک دفعہ میں نے دیکھا تھا کہ وہ لوگ گاڑی کے اندر ہوا نہیں مار رہے تھے۔ ویکیوم کلینر استعمال کر رہے تھے۔

اب سروس سٹیشنز کی بات ہو رہی ہے تو ان سے متعلق ایک اور رونا بھی رو ہی لیا جائے: گاڑی کے پچھلے شیشے کو سردیوں میں دھندلا جانے سے بچانے کے لیئے ڈی فراسٹر لگا ہوتا ہے جس کو ہم ڈیش بورڈ میں لگے ایک بٹن سے آن آف کر لیتے ہیں۔ لیکن یہ کارآمد سسٹم بہت جلد کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اس کا سہرا بھی سروس سٹیشن والوں کے سر ہے۔ان کے بے خبر لڑکے بالے صفائی کے زعم میں پچھلے شیشے کے اندر کی طرف اس قدر زور سے دبا دبا کر کپڑا لگاتے ہیں کہ وہاں لگی ڈی فراسٹر کی سٹرائپس ان کے دباو کی تاب نہیں لا سکتیں اور کہیں نہ کہیں سے کٹ جاتی ہیں۔اب یا تو گاڑی بنانے والے ان سٹرائپس کو شیشے کے اندر یا باہر لگانے کی بجائے شیشے کے درمیان میں لگاتے جہاں کوئی چیز ان سے مس نہ ہوتی۔ لیکن ایسا کرنا گاڑی کی قیمت میں اضافے کا باعث بنتا۔ یا پھر یہ ہے کہ سروس سٹیشن والے ہی کچھ احساس اور درد مندی اس سلسلے میں پیدا کر لیتے۔

لیکن چونکہ یہ دوسرا امکان پہلے والے سے بھی زیادہ کم ہے اس لیے یہی کیا جا سکتا ہے کہ سروس سٹیشن والوں کو کہہ دیا جائے کہ بھائی پچھلا شیشہ اندر سے صاف نہ کرنا۔ لیکن آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ آپ ان کی جتنی بھی منت سماجت کر لیں اس سلسلے میں، آپ کو تو وہ لڑکے کہہ دیں گے کہ اچھا جی نہیں کرتے لیکن جیسے ہی آپ کا دھیان ادھر ادھر ہوا، وہ لوگ عادت سے مجبور ہو کر اندر سے شیشے کی رگڑائی کر ہی ڈالیں گے۔ اب اس کا کیا کیا جائے،جبکہ منقطع شدہ ڈی فراسٹر کی مرمت بھی عام حالات میں آسان نہیں۔

گاڑی تیز چلانا

مجھے وہ لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے جو گاڑی تیز چلاتے ہیں۔ اسی لیے میں ان کو اوورٹیک کر لیتا ہوں۔

بری لت

یہ بھی ایک عجیب مصیبت ہوتی ہے بعض لوگوں کے ساتھ۔کسی کے گھر جو جاتے ہیں مہمان بن کر تو وہاں جا کر میز بان کو کہہ کر ٹی وی پر اپنی پسند کا چینل ٹیون کروا لیتے ہیں اور پھر گھنٹوں بیٹھ کر اپنے من چاہے ڈرامے دیکھتے رہتے ہیں۔ میز بان بیچارہ ساتھ میں مفت میں ٹنگا رہتا ہے۔ سوچتا رہتا ہے کہ بھئ آپ میرے گھر مجھ سے ملنے، مجھ سے باتیں کرنے کے لیے آئے تھے یا اپنے گھر کے ٹی وی بینی کے معمولات پورے کرنے؟ یہ میرا گھر ہے یا تھیٹر ہے؟وغیرہ۔

اور پھر کچھ مہمان تو آپ کو کہہ کر اپنے چینل ٹیون کروا لیتے ہیں لیکن کچھ لوگ ایک قدم آگے ہوتے ہیں۔ وہ آپ سے پوچھے بغیر، آپ کو بتائے بغیر سیدھا ریموٹ پکڑتے ہیں اور آپ کے ٹی وی پر اپنی پسند کے چینل ٹیون کر کے دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ کمال ہے نا۔

یہ کئی طرح سے ایک نامناسب حرکت ہے۔ ایک تو میزبان اوراسکے اہل خانہ شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور یہ کہ مہمان کا مطمع نظر ٹی وی تھا نہ کہ ان سے ملنا۔ دوسرا میزبان اس بات سے بھی خفت محسوس کرتا ہے کہ جو چینل ہم لوگ نہیں دیکھتے وہ ہمارے ہی گھر میں بیٹھ کر دھونس سے ہم پر ٹھونسے جا رہے ہیں۔بھئی اگر آپ ہمارے گھر آ ہی گئے ہو تو اپنی ٹی وی کی لت کو کچھ دیر کے لیے خیر باد کہہ دو اور ہم سے بات وات کر لو۔عجب بدتہذیبی ہے :(

ARIEL کا اشتہار

پاکستان بھر کی عورتوں کا اعتماد......ایریئل......

میرے ہس بینڈ کو کھانے کی بالکل تمیز نہیں۔ جانوروں کی طرح کھاتے ہیں۔ پھر ہاتھ بھی شرٹ سے صاف کرتے ہیں۔ ان کی ایک ہی شرٹ ہے۔میں روز دھو کر سوتی تھی۔

ایک دن ان کے دوست نے ان پر پان کی پیک پھینک دی۔ پہلے تو میں نے ان کو مارا۔ پھر میرے ابو نے ایریئل کا کہا۔

اب میں ایریئل ان کی پاکٹ میں ہی ڈال دیتی ہوں۔ جہاں داغ لگے وہیں بیٹھ کر دھو لیتے ہیں۔ مجھے اب اپنے ہس بینڈ اتنے پسند ہیں کہ میں کسی اور کے بارے میں سوچنا پسند بھی نہیں کروں گی :grin:

دیکھ کبیرا رویا

عنیقہ نے اپنی ایک پوسٹ میں پاکستان کے مایہ ناز لیڈران اور قائدین کی زندہ مذاق کی صنف کے لیے جو لازوال خدمات ہیں ان سے متعلق کچھ ویڈیوز لگائی ہیں جن کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا ہے۔ اسی قبیل کی دو اور ویڈیوز پیش خدمت ہیں۔ آخر تک دیکھیے گا:



Pages