چراغ شب

سید مودودی کی فکر سے کھینچا تانی

آج کل ہر طرف بکھری دانشوری دیکھ کر تو لگتا ہے کہ بیچارے سید مودودی خود اپنے نظریے کو ہی صحیح طور سے نہ سمجھ پائے۔  اپنے نظریات کی ایسی ایسی وضاحتیں اور اطلاقات دیکھ کر حسرت سے سوچتے ہوں گے کہ  الہام اور  فہم کی اس منزل پر کیوں نہ پہنچ پائے۔ ساری عمر لگے رہے لیکن آج پانچ، چھ دہائیوں بعد کے دانشور جس رستے اور دہشت گردی کی بنیاد ان کی فکر کو قرار دے رہے ہیں، اس رستے پر چلنے والا کوئی فرد مولانا اپنی زندگی میں تیار نہ کر سکے، اس کے باوجود کہ لاکھوں افراد تک ان کی فکر پہنچی اور لوگ ان سے متاثر ہوئے۔ بس بیکار میں پرامن اور آئینی جدوجہد کرتے رہے۔

فکر مودودی کو دہشت گردی سے جوڑنا ایک ایسا بے سروپا الزام ہے جس کی کوئی دلیل مولانا مودودی کے نظریات ، لٹریچر  یا عملی جدوجہد، کہیں  سے بھی فراہم نہیں کی جا سکتی۔مولانا نے صرف ایک نظریہ ہی پیش نہیں کیا بلکہ اس کے نفاذ کے لیے عملی جدوجہد کی۔ اگرچہ اس الزام کا کوئی ثبوت ان کی تحاریر و تقاریر سے بھی پیش نہیں کیا جا سکتا لیکن پھر بھی لفظی دلائل سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے  کہ انہوں نے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے خود کس رستے کا انتخاب کیا۔ اگر کسی نظریہ اور اس کے عملی اطلاق میں کوئی اشکال درپیش ہو تو اس کی مستند ترین وضاحت اور تشریح خود صاحب فکر کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے۔ مولانا مودودی ‘اسلامی نظام کا غلبہ’ چاہتے تھے، 'اسلامی ریاست'  کا قیام اور 'کفریہ نظام' کا خاتمہ چاہتے تھے۔ اس نظریے اور اصطلاحات کی عملی مثالیں آج بعض دانشور  دہشت گردوں، داعش، طالبان وغیرہ کی شکل میں پیش کر رہے ہیں لیکن مولانا نے خود اپنی زندگی میں اپنے نظریے کی بالادستی کے  لیے کیا رستہ اختیار کیا اور اس فکر کی عملی تشریح کس طرح کی،   پرامن طریق کار کے علاوہ کسی بھی غیر آئینی یا متشدد رجحانات کی طرف جانے والے تمام تر رستوں کی بیخ کنی بالکل واضح انداز میں کس طرح کی۔ اس کے متعلق سب راویان خاموش ہیں۔ فکر مودودی سے کھینچا تانی کرنے والے سب ناقدین کا جائزہ لے لیں لیکن کوئی اس نکتہ پر بات نہیں کرتا کہ ان  کی فکر اور نظریات کو  متشدد اور دہشت گردی  کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے تو زندگی بھر وہ ان رجحانات کی مخالفت  کیوں کرتے رہے اور خود وہی رستہ اختیار کیوں نہیں کیا۔اس دانستہ پہلوتہی کو کیا کہا جائے؟
فکر مودودی کے عروج کا زمانہ پاکستان بننے کے بعد کی تین دہائیاں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی زمانہ ہے جس کو ہمارے وہی  مہربان لبرل ترین  پاکستان قرار دیتے ہیں جو آج فکر مودودی کا  تعلق دہشت گردی سے جوڑتے ہیں۔ یہ دوست بڑی حسرت سے ان دنوں کی تصاویر کے البم دکھاتے ہیں اور آنکھوں میں آنسو بھر کے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہماری تاریخ کا وہ دور واپس نہیں آ سکتا۔ مولانا مودودی کی فکر اگر تشدد  اور دہشت گردی کا رستہ دکھانے والی ہوتی اور ان کا نظریہ دہشت پسندی کے رجحانات رکھتا ہوتا تو یہ دور موزوں ترین وقت تھا جب ایسے 'متشدد' نظریے کے جبری اطلاق کے لیے بہت سے پرکشش مظاہر ہر طرف بکھرے پڑے تھے۔ آج دہشت گرد جن دلائل کی بنا پر اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، 50، 60 اور 70 کی دہائی میں تو ان سے کہیں بڑھ کر مضبوط اور واضح جواز میسر تھے ۔ اسلام مخالف نظریات باقاعدہ شعوری سطح پر موجود تھے۔  'کفریہ' نظام تعلیم موجود تھا۔ معاشرے میں مرد و زن کا آزادانہ اختلاط آج سے کہیں بڑھ کر تھا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم بھی 1974 میں قرار دیا جو اس سے پہلے ایک اسلام مخالف عامل کے طور پر موجود رہے ۔ اس سے پہلے اور بعد میں قادیانیوں کے ساتھ نظریاتی کشمکش کی پوری تاریخ موجود ہے۔قادیانی  مسئلہ لکھنے پر مولانا کو سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ لیکن اس پورے عمل میں کہیں بھی مولانا مودودی نے نظریاتی اور پرامن کاوشوں کے علاوہ کسی اور راستے کی طرف اشارہ نہیں کیا۔ یہ ایسا دور تھا جس میں سب سے بڑھ کر ایسے نظریے کا خالق خود عملی جدوجہد کے ساتھ میدان میں موجود تھا۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ ایسے 'آزاد خیال اور لبرل 'پاکستان میں بھی  مولانا مودودی کوئی باقاعدہ تنظیم تو دور کی بات، انفرادی سطح پر بھی کوئی گروہ یا جتھا تیار نہ کر سکے جو ایسے علانیہ شریعت مخالف اور 'کفریہ' مظاہر کی بیخ کنی کرنے کے لیے مسلح کاروائی کر سکتا۔ حتی کہ مولانا کے لٹریچر سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کی کثیر تعداد  جو اسلامی جمعیت طلبہ کی شکل میں تعلیمی اداروں کی یونین میں فعال کردار ادا کر رہے تھے، مولانا نے ان کے لیے کہیں اشارتا بھی ذکر نہیں کیا کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مسلح جدوجہد بھی ایک قابل قبول لائحہ عمل کے طور پر موجود ہے۔  پھر مولانا نے ستم یہ کیا کہ جو جماعت قائم کی اس کے بھی دستور میں لکھوا گئے کہ کوئی خفیہ اور غیر آئینی رستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ مولانا مودودی نے محض خلا میں معلق اصطلاحات ہی پیش نہیں کیں بلکہ  ان اصطلاحات  کے مکمل سیاق و سباق، ان سے منسلک مکمل نظام کا نہ صرف شعوری خاکہ پیش کیا بلکہ اپنے مجوزہ نظام تک پہنچنے کے لیے رستہ کا تعین بھی واضح انداز میں کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلح اور پرتشدد راستوں کی خرابیوں کو نہ صرف اپنی فکر سے واضح کیا بلکہ عملی طور پر سیاسی اور جمہوری رستے کا انتخاب کر کے اپنی ترجیحات کی مثال بھی قائم کر دی جس کے بعد کسی کے پاس یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ خواہ مخواہ کی کھینچا تانی سے فکر مودودی کے بطن سے دہشت گردی برآمد کرنے کی کوشش کرے۔

درج ذیل اقتباسات کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ اس شخص کی فکر پر دہشت گردی کی بنیاد ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
"اسلام میں ترتیب کار یہ ہے کہ پہلے ذہنوں کی اصلاح کا کام تعلیم و تلقین کر ذریعے سے کیا جائے تاکہ لوگوں کے خیالات تبدیل ہوں۔ پھر لوگوں کے اندر اسلامی اخلاق پیدا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا جائے۔ یہاں تک کہ محلے محلے، بستی بستی اور کوچے کوچے میں ایسے لوگ تیار ہو جائیں جو بدکرداروں کو عوام کی مدد سے دبائیں اور اپنے اپنے علاقوں کے باشندوں میں دین داری اور دیانت داری پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح ملک کے اندر ایک ایسی رائے عامہ پیدا ہو جائے گی جو برائیوں کو سر نہ اٹھانے دے گی""یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ ہم اس وقت جس مقام پر کھڑے ہیں،  اسی مقام سے ہمیں آگے چلنا ہو گا اور جس منزل تک ہم جانا چاہتے ہیں اسے واضح طور پر نگاہ کے سامنے رکھنا ہو گا تاکہ ہمارا ہر قدم اسی منزل کی طرف اٹھے۔ خواہ ہم پسند کریں یا نہ کریں نقطۂ آغاز تو لامحالہ یہی انتخابات ہوں گے کیوں کہ ہمارے ہاں اسی طریقے سے نظام حکومت تبدیل ہو سکتا ہے اور حکمرانوں کو بھی بدلا جا سکتا ہے۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس وقت ایسا موجود نہیں جس سے ہم پرامن طریقے سے نظام حکومت بدل سکیں اور حکومت چلانے والوں کا انتخاب کر سکیں۔اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے ہاں انتخابات میں دھونس، دھوکے، دھاندلی، علاقائی، مذہبی یا برادری کے تعصبات، جھوٹے پروپیگنڈے، گندگی اچھالنے، ضمیر خریدنے، جعلی ووٹ بھگتانے او بےایمانی  سے انتخابی نتائج بدلنے کے غلط طریقے استعمال نہ ہوں۔ انتخابات دیانت دارانہ ہوں۔ لوگوں کو اپنی آزاد مرضی سے اپنے نمایندے منتخب کرنے کا موقع دیا جائے۔ پارٹیاں اور اشخاص جو بھی انتخابات میں کھڑے ہوں وہ معقول طریقے سے لوگوں کے سامنے اپنے اصول، مقاصد اور پروگرام پیش کریں، اور یہ بات ان کی اپنی رائے پر چھوڑ دیں کہ وہ کسے پسند کرتے ہیں اور کسے پسند نہیں کرتے۔ ہو سکتا ہے کہ پہلے انتخاب میں ہم عوام کے طرز فکر اور معیار انتخاب بدلنے میں پوری طرح کامیاب نہ ہو سکیں۔ لیکن اگر انتخابی نظام درست رکھا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب نظام حکومت پورے کا پورا ایمان دار لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ اس کے بعد پھر ہم نظام انتخاب پر نظر ثانی کر سکتے ہیں اور اس مثالی نظام انتخاب کو ازسر نو قائم کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو اسلامی طریقے کے عین مطابق ہو۔ بہرحال آپ یک لخت جست لگا کر اپنی انتہائی منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔"(اقتباسات از انٹرویو سید ابو الاعلی مودودی برائے ریڈیو پاکستان، مارچ 1978۔ کتابی شکل میں 'نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نظام حکومت اور پاکستان میں اس کا نفاذ' کے نام سے دستیاب ہے)
"اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہےکہ انہیں  خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحہ کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی دراصل بےصبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک کے ذریعے سے  برپا ہوتا ہے۔" مکہ معظمہ میں عرب نوجوانوں سے خطاب
"اسلامی حکومت کسی معجزے کی شکل میں صادر نہیں ہوتی۔ اس کے پیدا ہونے کے لیے ناگزیر ہے کہ ابتدا میں ایک ایسی تحریک اٹھے جس کی بنیاد میں وہ نظریۂ حیات، وہ مقصد زندگی، وہ معیار اخلاق، وہ سیرت و کردار ہو جو اسلام کے مزاج سے مناسبت رکھتا ہے۔ اس کے لیڈر اور کارکن صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس خاص طرز کی انسانیت کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے مستعد ہوں۔ پھر وہ اپنی جدوجہد سے سوسائٹی میں اسی ذہنیت اور اسی اخلاقی روح کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ پھر اسی بنیاد پر تعلیم و تربیت کا ایک نیا نظام اٹھے جو اس مخصوص ٹائپ کے آدمی تیار کرے۔اس سے مسلم فلسفی، مسلم مورخ، مسلم ماہرین مالیات و معاشیات، مسلم ماہرین قانون، مسلم ماہرین سیاست غرض ہر شعبۂ علم و فن میں ایسے آدمی پیدا ہوں جو اپنی نظروفکر کے اعتبار سے مسلم ہوں۔ جن میں یہ قابلیت موجود ہو کہ افکار و نظریات کا ایک پورا نظام اور عملی زندگی کا ایک مکمل خاکہ اسلامی اصول پر مرتب کر سکیں اور جس میں اتنی طاقت ہو کہ دنیا کے ناخدا شناس آئمۂ فکر کے مقابلہ میں اپنی عقلی و ذہنی سیادت کا سکہ جما دیں۔" مسلم یونیورسٹی علیگڑھ میں 12 ستمبر 1940 کو پڑھا گیا مقالہ
مولانا مودودی نے اپنے تصور دین کے ابلاغ اور نفاذ کے لیے کس راستے کا انتخاب کیا، اس کا علم تو ان کی عملی جدوجہد کے مطالعے سے ہو سکتا ہے لیکن اس سے ہٹ کر بھی آپ نے ان کی درج بالا تحاریر و تقاریر میں جا بجا اس ابہام کی نفی دیکھی جس کا ایک خیالی تصور تخلیق کر کے ہمارے دانشور دکھانا چاہتے ہیں کہ فکر مودودی میں دہشت گردی کو ایک بیانیہ اور جواز فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن ایسی دانشوری کا کیا کیجیے جو محض چند الفاظ اور اصطلاحات  کو اپنے گورکھ دھندے کی بنیاد بناتی ہو،  صاحب فکر نے ان کی جو عملی تشریح کی ہو اس پر بات کرنے سے دانستہ گریز کرے ۔ اس کی دو ہی وجوہات سامنے آتی ہیں۔  اول یہ کہ دانش کی اس سطح پر ہمارے مہربان اس پورے معاملہ کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر دانستہ  علمی بددیانتی سے کام لیا جا رہا ہے۔ دانشوری کے کاروبار میں سب سے آسان کام ہی الفاظ کا گورکھ دھندا کرنا، ابہام پیدا کرنا اور گرد اڑانا ہے، تو اڑائیے جتنی اڑا سکتے ہیں لیکن خاطر جمع رکھیے۔ ایسے الزامات کے مقابلے میں مولانا مودودی کی زندگی بھر کی عملی جدوجہد ناقابل تردید گواہی کی صورت میں ہمیشہ موجود رہے گی۔

اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است

نعت رسول [صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]
------------------------------------
تھا سفر کٹھن، سو ترے سوا کوئی رہنما نہ مرا ہوامرے دشتِ جاں میں قدم قدم، ترا نقشِ پا ہے سجا ہوا
یوں تو لاکھ رنگ ہیں درد کے، جو کہ چار سو ہیں کِھلے ہوئےوہ کسک، وہ سوز کہاں کہ جو ترے غمزدوں کو عطا ہوا
تری خلوتوں کے جمال میں، تری جلوتوں کے جلال میںجو بھی عکس تیری ادا کا تھا وہ تھا آبِ زر میں ڈھلا ہوا
مجھے صرف تیرے ہی معجزوں کے طفیل تاب سخن ملیمیں وگرنہ دشتِ گماں میں تھا کہیں مثلِ خار پڑا ہوا
سرِ جلوہ گاہِ جمال سب مرے درجہ وار رقیب تھےکہیں یہ زمین بچھی ہوئی، کہیں آسماں تھا جھکا ہوا
یہ صہیبِ بسملِ آرزو، وہاں روزِ حشر ہو روبروتو رہِ خیال میں چار سو، ہو ترا ہی اسم کِھلا ہوا

یہ جھنڈا گردی


گویا یہ طے ہو چکا ہے کہ آپ کو ان دو حیثیتوں میں سے ایک تو طوعا یا کرھا اختیار کرنی ہی پڑے گی؟اگر آپ نے اپنی پروفائل تصویر پر مقتولین سے اظہار یکجہتی کے طور پر ان کا پرچم نہیں لگایا تو آپ دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔ اور اگر آپ نے ایسا کیا ہے تو آپ کو باقی پوری دنیا میں مسلمانوں کے بہتے لہو پر کوئی افسوس نہیں ہے۔یہ ہے سوشل میڈیا کی تازہ ترین جبری تقسیم اور ایک خودساختہ فرضی تاثر جس کی بنیاد پر ہوائی قلعے تعمیر کر کے سنگ باری شروع کر دی گئی ہے۔ جس کو اس حد تک مبالغہ آمیز بنایا گیا اور فیصلہ کن عامل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ اچھے خاصے سنجیدہ اور معقول لوگ اس رو میں بہتے چلے جا رہے ہیں۔

چنانچہ اگر آپ نے دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ اس کے پس منظر، اسباب اور اس کے سدباب کے حوالے سے کوئی سوال اٹھایا ہے، کسی شبہ کا اظہار کر دیا ہے یا دوسروں کے نزدیک ناپسندیدہ حقائق پر بات کی ہے تو آپ یقینا قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بنا پر قابل گردن زدنی ٹھہریں گے۔ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست آپ کے نام کے ساتھ جاری کر دی جائے گی تاکہ عوام کے وسیع تر مفاد میں سند رہے اور بوقت ضرورت سب کے کام آ سکے ۔ دوسری طرف اگر آپ نے حالیہ سانحہ پر صرف دکھ کا اظہار کیا ہے اور کسی اگر مگر کے بغیر مذمتی بیان جاری کیا ہے تو آپ کو چن چن کر پرانے واقعات یاد دلائیں جائیں گے، آپ کی ماضی سرگرمیوں کی پوری تاریخ چھان ماری جائے گی، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جب دنیا میں فلاں اور فلاں کچھ ہو رہا تھا تو تم آئس کریم کھا رہے تھے یا چھٹیاں مناتے ہوئے سیلفیاں بنا رہے تھے۔
کیا اصحاب جبہ و دستار اور کیا حاملین پینٹ کوٹ، سب اپنی دوربینیں اور خوردبینیں لے کر سوشل میڈیا کے کونوں کھدروں اور مضافات تک میں دیوانہ وار گھوم رہے ہیں کہ کہاں کوئی بھولا بھٹکا اور اس سارے شورشرابے سے بےنیاز کوئی راہرو ملے اور یہ اپنے تمغوں میں ایک کا اضافہ کر سکیں۔یہ درحقیقت ہماری اسی فکری کوتاہ نظری کی توسیع اور اظہار ہے جس کے تحت ہم اپنے مخاطبین کو چند خود ساختہ سانچوں میں ہی رکھنے پر مصر ہیں۔ یہ تنگ نظر ملا کا خانہ ہے، یہ دہشت گرد کا خانہ ہے، یہ فلاں اور فلاں کا خانہ ہے۔ اپنی ہی بنائی ہوئی اس حدبندی کے ہم خود اس قدر اسیر ہو چکے ہیں کہ ہماری سوچ ان دائروں سے باہر نکل ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ ہمارے لیے لازم ٹھہرتا ہے کہ ہمارا واسطہ جس سے بھی پیش آئے، پہلے تو انہی القابات میں سے لازما کوئی ایک اس پر چسپاں کیا جائے، انہی خانوں میں سے کسی ایک میں اسے گھسیڑا جائے تاکہ پھر اسی سے متعلق پہلے سے تیار شدہ احکامات اور فتاوی کی پوٹلی کھولی جا سکے خواہ یہ سارا عمل کسی اور معاملے میں ہمارے ہی کسی موقف سے متصادم ہو۔ہماری وابستگیوں سے قطع نظر، ہماری سوچ اور فہم کے لیے اس نکتہ کا ادراک اور اس کا قابل قبول ہونا قریب قریب ناممکن ہے کہ نظریاتی اور تجزیاتی جہت اس کینوس سے وسیع تر اور مختلف  بھی ہو سکتی ہے جس پر ہم اپنی دانست میں دنیا بھر کا منظر نامہ سجائے یٹھے ہیں۔ چلیے، یہاں تک بھی الزام اپنی فکری کم نگاہی اور بنجرپن کے سر ڈال کر ہم بری ہو سکتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہماری فیس بکی  وحشت کو چین نہیں ملتا تو ضروری ہو جاتا ہےکہ کوئی خودساختہ محاذ تخلیق کیا جائے۔ اپنی مرضی سے ظالم اور مظلوم کے لیے کسوٹی بنائی جائے اور پھر زبردستی لوگوں کو اس طرف یا اس طرف کے مخمصے میں ڈال دیا جائے۔ اس کے لیے اکثر تجاہل عارفانہ سے کام لینا پڑتا ہے۔ جانتے بوجھتے ہوئے بھی انجان بننا پڑتا ہے۔ لوگوں کو الجھانے اور اصل نکتہ سے توجہ ہٹانے کے لیے جزوی اہمیت کے موضوعات کو شہ سرخیوں میں لانا پڑتا ہے۔ اتنی گرد اڑتی ہے تو تب کہیں جا کر اصل منظر دھندلایا جاتا ہے اور اپنی مرضی کی منظرکشی کا موقع ہاتھ آتا ہے۔  
یہ سب ہو کیا رہا ہے صاحب؟ کیا سوشل میڈیا کی اس مجازی دنیا کی علامات اور اشارے کنایےاس قدر فیصلہ کن ہو جائیں گے کہ لمحہ بھر میں ہم ان لوگوں پر کوئی نہ کوئی حکم لگا سکیں، جن سے زندگی بھر کبھی ملاقات نہیں ہوئی، جن کے ذہنی رجحان اور نظریات سے ہماری آگاہی بس چند تبصروں تک محدود ہے؟ دانشوری کی ایسی دکانداری کے دوران اگر آپ کسی ٹھوس مکالمے یا پیچيدہ حقائق کی گتھیاں سلجھنے کی توقع رکھتے ہیں تو انور مسعود صاحب نے ایسے حالات کے لیے ہی عرض کیا تھا۔۔۔
یہی انداز تجارت ہے تو کل کا تاجربرف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

پہلے اور دوسرے اور تیسرے کی موت

 یہ تب کی بات ہے جب میں مر چکا تھا۔درندے مجھے بھنبھوڑ رہے تھے لیکن میں الگ بیٹھا حیرانی سے اپنے لاشے کو دیکھ رہا تھا جو کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا اور شیطان میرے پہلو میں کھڑا قہقہے لگا رہا تھا۔ موت کا یہ تجربہ عجیب ہی تھا۔ ویسے تو موت سے میں کئی مرتبہ دوچار ہوا تھا لیکن  ایسی  بے اذیت موت مجھے پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔
 شیطان کو نظر انداز کرنے کے لیے میں  اپنی لاش کا جائزہ لینے لگا۔ میں نے شمار کیا۔ میری لاش کے  63ٹکڑے  ایک طرف پڑے تھے۔ بالکل تازہ۔۔  ابھی ابھی امام بارگاہ سے پہنچے ہوئے۔۔ ہر ٹکڑے پر میرے نام کی مہر لگی ہوئی۔ انہیں تو مردہ خانے میں بھی نہیں رکھا جا سکتا تھا۔۔۔۔اور دوسری طرف 132 ٹکڑے پڑے تھے۔ چھوٹے اور لاتعداد۔ سکول کے یونیفارم میں ملبوس۔۔ ۔ میں نے سوچا ظالموں نے میری ایک ہی لاش کے ٹکڑے بھی  الگ  الگ رکھے  ہیں۔ مجھے اس سوچ پر ہنسی سی آ گئی۔

میں نے ذہن کی تاریکیوں میں دور تک جھانکا اور زندگی کا کوئی حوالہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ٹھیک سےتو  یاد نہیں لیکن جب گدھ زندہ انسانوں کے اوپر منڈلانے لگے تھے، باغیچے کی بیلوں سے سانپ نکلنے لگے تھے، نامانوس ہریالی ہر طرف سر اٹھانے لگی تھی،  جب باہر سے آنے والے بستی کے لوگوں  کی زبانیں گنگ ہونے لگی تھیں، آنکھیں رہ رہ کر دور جنگلوں کی طرف اٹھنے لگی تھیں۔ رونق بڑھتی چلی جا رہی تھی۔  بستی میں تابوت بنانے والوں نے دکانیں کھول لی تھیں اور بستی کے بڑوں اور  محافظوں نے ان سے یارانے گانٹھ لیے تھے،  بے مقصد قہقہے اس بازار میں گونجنے لگے تھے۔  اس کے بعد سے سب کچھ بدل سا گیا تھا۔ بے معنی سے خدشات ہر آنکھ میں  جھلکنے لگے تھے۔ غیر محسوس آہٹیں ہر طرف سنائی دینے لگی تھیں۔ سوال کرنے پر پابندی لگا دی گئی ۔ پھولوں، رنگوں اور خوشبو کی کہانیاں اپنا دامن سمیٹ کر رخصت ہو گئيں۔

میں نے اپنی گزشتہ اموات  کا حساب یاد کرنے کی کوشش کی۔ یہ میری پرانی بری عادت تھی۔۔  ہر موت کے بعد  حساب لگانا اورپرانے  اعداد و شمار کا میں شامل کرنا۔۔۔
ایک دفعہ 127 یا شاید 129۔۔ لیکن کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ تب تو مجھے ٹھیک سے شمار بھی نہیں کیا گیا تھا۔۔ کیونکہ وہ والی موت متنازعہ ٹھہری تھی۔ تب  میرا نام مسیحی  اور بھنگی تھا  اور بستی کے بڑے  طے نہیں کر پائے تھے کہ یہ والی موت مردہ خانے کے حساب میں لکھی جائے یا نہیں۔۔
پھر ایک دفعہ 69 یا 80۔۔ اتنا حساب یاد رکھنا بھی تو آسان نہیں ہے۔۔ لیکن اتنا یاد ہے کہ تب تابوت ایجاد نہیں ہوا تھا اور لاشہ بھی مختصر تھا سو میرے  سب ٹکڑے کھردری چارپائیوں پر بکھیر دیے گئے تھے۔ تب مجھے بھی زیادہ فکر نہیں ہوئی تھی کیونکہ بڑوں  نےکہا تھا کہ یہاں والی  موت اتنی تکلیف دہ نہیں ہوتی۔

درندوں کے شوروغل نے پھر مجھے اپنے لاشے کی طرف متوجہ کر دیا۔ شیطان اب اپنے چہرے پر ایک دلآویز مسکراہٹ سجائے کھڑا تھا۔میں یاد کر رہا تھا کہ سب کچھ کیسے بدل گیا۔۔  عجیب کایا کلپ تھی۔انسانوں کی شکلیں دیکھتے دیکھتے  بدلنے لگی تھیں۔ بستی والوں نے گھروں میں بھیڑئیے پالنا شروع کر دیے تھے۔  شامیں زیادہ گہری ، خاموش اور اندھیری ہونے لگیں۔ راتوں کا سناٹامہیب  تر ہو چلا تھا۔
میں اپنی سوچ میں گم تھا اور شیطان اب ٹکٹکی باندھے میری طرف دیکھے جا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک معنی خیز زہریلی اٹھکیلی تھی تھا۔مجھے گمان گزرا کہ یہ سب کچھ پہلے سے جانتا ہے۔
"تم یہ سب جانتے ہو نا!" میں نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا"سوچ کا سفر جاری رکھو"اپنی ہنسی روکتے ہوئے  میرا سوال نظر انداز کر کے اس نے میرا شانہ تھپتھپایا۔
دفعتا میرے ذہن میں خیال آیا اور میں نے ہڑبڑا کر  کہا "نہیں، نہیں" "مجھے تو ابھی واپس پہنچنا ہے، کئی اور موتیں میری منتظر ہیں  جنہیں مجھے گلے لگانا ہے۔۔ اور میرے بغیر تو وہ سب لاوارث ٹھہریں گی۔"پھر شیطان کو قہقہے لگاتا چھوڑ کر میں تو کاروبار حیات (یا موت) کی طرف واپس چل پڑا۔
اب جو پلٹ کے آئی ہے اس دم رخ حیات سےکوئی نقاب کھینچ لے، مجھ میں تو حوصلہ نہیں۔۔۔


عشق تمام مصطفی - صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نہیں بھائی، یہاں نہیں۔۔۔ اب آ گئے ہیں تو اپنی ساری عقل و دانش، دلیل، منطق اس گھر سے باہر رکھ آئیے۔۔ حرم نبوی کی زیارت کی سعادت نصیب  ہوئی تو ریاض الجنۃ میں حاضری کے لیے لائن میں لگ گئے۔ اس دفعہ ریاض الجنۃ کے زائرین کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک گروہ ریاض الجنۃ میں موجود ہوتا تھا اور قریب ہر آدھے گھنٹے بعد انہیں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جالیوں والی سمت سے رخصت کر کے ریاض الجنۃ کو خالی کرا لیا جاتا تھا۔ دوسرا گروہ ریاض الجنۃ سے متصل بنائی گئی انتطار گاہ میں موجود رہتا اور ریاض الجنۃ کے خالی ہونے کے بعد اس گروہ کو وہاں داخلے کی اجازت ملتی۔ اس انتظار گاہ کے بعد مسجد نبوی کا ہال اور باقی تمام حصہ تھا۔ تیسرے گروہ کے لوگ مسجد میں سے اکٹھے ہو کر انتظار گاہ کی دیوار کے ساتھ جمع ہو جاتے تھے۔ اور جب انتظار گاہ میں موجود لوگ ریاض الجنۃ میں چلے جاتے تو اس تیسرے گروہ کو انتظار گاہ میں جانے کے لیے دیوار ہٹا دی جاتی تاکہ وہ ریاض الجنۃ میں جانے کے لیے انتظار گاہ میں اپنی باری کا انتظار کریں۔
یعنی تین گروہ اس ترتیب سے موجود رہتے تھے۔ 1- ریاض الجنۃ 2- انتظار گاہ 3-مسجد کے ہال میں سے انتظارگاہ کے باہر اکٹھے ہونے والے
ہم ابھی تیسرے گروہ میں شامل تھے یعنی انتظار گاہ میں جانے والے ہجوم میں کھڑے تھے۔ یہ مقام ہی ایسا ہے کہ گردوپیش سے فرد بے نیاز سا ہو جاتا ہے۔ آگے سے آگے بڑھنے کی تڑپ اسے چین نہیں لینے دیتی۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ بس کسی نہ کسی طرح دیگر تمام لوگ اس کے راستے سے ہٹ جائیں۔۔ نہ شرطے روکنے والے ہوں اور نہ اس کی پسند کی جگہ منتخب کرنے میں دیگر زائرین مزاحم ہوں۔
خیر ہم دس بارہ پاکستانی وہاں اکٹھے بےصبری سے انتظار کر رہے تھے کہ کب انتظار گاہ خالی ہو اور ہم وہاں پہنچ کر ریاض الجنۃ میں داخلے کی راہ دیکھ سکیں۔ انتظار گاہ میں موجود لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ذوق و شوق چھپائے نہیں چھپتا تھا۔ ایک پاکستانی صاحب بھی ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔ ہم پاکستانیوں کو دیکھ کر ہماری طرف چلے آئے اور بات چیت شروع کر دی۔ وہ انتظار گاہ میں تھے اور ہم مسجد کے ہال میں اور درمیان میں عارضی دیوار تھی۔ وہاں کی فضا میں ذاتی تعارف کا ہوش کہاں ہوتا ہے۔ بس گفتگو اور سوچ کا ہر حوالہ اسی ہستی کے گرد گھومتا ہے جس کی محبت میں لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ انہوں نے بھی ریاض الجنۃ کے حوالے سے گفتگو شروع کر دی لیکن کچھ مختلف خیالات کا اظہار کیا۔  کچھ تاریخی حوالہ جات وغیرہ کا ذکر کیا۔ خیر ان کی تمام گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ یہ جو لوگ گھنٹوں ریاض الجنۃ میں جانے کے لیے لائن میں لگے رہتے ہیں۔ بہتر ہے کہ اس وقت کومسجد نبوی میں کہیں بھی نوافل اور تلاوت میں استعمال کر لیں۔ پھر انہوں نے ریاض الجنۃ کی موجودہ حدبندی کے اوپر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ ان کے خیال میں ریاض الجنۃ میں منبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں طرف کی جگہ شامل ہے۔ اس وقت ہم ایسے مقام پر موجود تھے کہ ان سے بحث مباحثہ بھی نہیں چاہتے تھے اور اپنی توجہ بھی بس ریاض الجنۃ اور روضۂ رسول کی طرف مبذول رکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ہم نے تو خطرے کی گھنٹی سنتے ہی بات سنی ان سنی کی اور نظرانداز کر کے مسجد نبوی کی چھت اور ستونوں پر کنندہ قرآنی خطاطی کے شہ پاروں کو دیکھنے لگے۔ لیکن ان صاحب کو بہرحال اپنی پسند کے کچھ سامعین مل ہی گئے۔ وہ خاصی دیر ان سے مصروف رہے۔ آنا جانا بھی لگا رہا۔ کبھی انتظار گاہ میں ایک طرف جا کر بیٹھ جاتے، کبھی واپس آ کر پھر گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیتے۔ یونہی پندرہ بیس منٹ گزر گئے۔اسی دوران ریاض الجنۃ کی طرف سے شور اٹھا اور ہلچل مچ گئی۔ ریاض الجنۃ میں جانے کے لیے دیوار ہٹا دی گئی تھی اور اب انتظار گاہ میں موجود لوگوں کے داخلے کی باری تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے زور لگا رہے تھے۔ شرطے بار بار لوگوں سے خاموش رہنے اور آرام سے داخل ہونے کی اپیل کر رہے تھے مگر لوگ اس موقع پر کچھ بھی سننے کے لیے تیارنہیں تھے۔ ہم نے ان صاحب کے بارے میں سوچا کہ وہ تو اس موقع پر بڑی پیچ تاب کھا رہے ہونگے اور کہیں آرام سے بیٹھے تلاوت و اذکار میں مشغول ہوں گے۔  اتنے میں نظر پڑی تو کیا دیکھتے ہیں کہ دستی سامان سنبھالتے ہوئے وہی صاحب ریاض الجنۃ میں داخل ہونے والوں کے پیچھے دیوانہ وار بھاگے جا رہے ہیں اور ان کی ساری عقل و دانش، دلائل اور تاریخی حوالے پیچھے دم سادھے انہیں حیرت سے تک رہے ہیں۔
کیا مدینے کے گلی کوچوں میں عقل پھرتی ہے گماں ہوتی ہوئی

جذبوں کی سوداگری

پھر یوں ہوا کہ ہر طرف کھیل کے میدان سج گئے، رنگ، قہقہے اور روشنیاں بکھرنے لگیں، میں نے بھی دنیا بھر کے کھلاڑیوں کی شان میں قصیدے پڑھے اور ان کے ملکوں کے جھنڈے اٹھائے۔ ان کے لیے نعرے لگائے اور تالیاں پیٹیں۔
کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ کھیل کی کوئی سرحد نہیں ہوتی

پھر دنیا بھر کے فنکار اپنا اپنا فن لے کر آئے۔ آواز اور تصویر کے جادو اپنا رنگ دکھانے لگے۔ میں نے ان کا بھرپور استقبال کیا اور ان کے ہر ایکٹ پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے، مشرق و مغرب سے آنے والی دھنوں پر رقص کیا اور تال سے تال ملائی۔
کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ فن اور فنکار کا کوئی مذہب اور کوئی ملک نہیں ہوتا۔

پھر دنیا بھر کے ادیبوں اور شاعروں کے نام میرے سامنے رکھے گئے۔ میں نے یورپ، جرمنی، روس، لاطینی امریکہ، فرانس کے لکھاریوں کی تخلیقات کو اپنی زبان میں منتقل کیا اور ان کی نظمیں اور کہانیاں پڑھ پڑھ کر سنائیں۔ عالمی ادبی کانفرنسیں منعقد کیں اور ان میں شرکت لیے دنیا بھر کی خاک چھانی۔ میں نے ہزاروں میل دور مرنے والے قلمکاوں کا سوگ منایا۔
کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ زبان، اظہار اور ادب کو کسی سرحد کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔

اب مجھ پر ایک سرشاری کی کیفیت طاری ہو گئی۔ میں نے سوچا یہ کیسے عجیب اور عظیم لوگ ہیں۔ جن کی بدولت ہمیشہ کا ایک خواب حقیقت بننے والا ہے اور یہ دنیا ایک مثالی جگہ بننے کے لیے تیار ہے کیونکہ اب ہر جذبے نے عالمگیر حیثییت حاصل کر لی ہے اور سرحدوں کی قید ختم ہو چکی ہے۔

پھر ایک دن غزہ میں بیسیوں معصوم بچوں اور عورتوں کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا۔ ان کی کٹی پھٹی لاشوں کے عکس پہنچے تو میں تیار ہوا کہ اب مجھے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے بلایا جائے گا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ خون اور درد تو اپنی سرحد عبور نہیں کر سکتے اور ان بچوں اور عورتوں کی آنکھوں میں منجمند ہو جانے والا کرب اب باؤنڈری لائن کے اس پار نہیں آ سکتا۔ اور جذبہ صرف وہی عالمگیر بن سکتا ہے جسے ہم اذن عطا کریں گے۔

میں نے فلسطینی بچے کے لیے نظم لکھنا چاہی لیکن انہوں نے کہا کہ ادب کو متنازعہ معاملات میں نہیں گھسیٹا جا سکتا۔

میں نے احتجاج کے لیے نکلنا چاہا تو انہوں نے کہا کہ کھیل، فن اور ادب کی حیثییت مختلف ہے۔ یہ ایک پرتشدد معاملہ ہے اور اس کو عالمگیر بننے کی اجازت ہم نہیں دے سکتے۔

آخر میں نے سب سے چھپ کر ایک دعا مانگی اور ہواؤں کو امین بنا کر اسے فلسطین کی طرف روانہ کر دیا۔

چائے کی پیالی میں طوفان

اب بات 'رمضان بمقابلہ رمدان' اور 'خدا حافظ بمقابلہ اللہ حافظ' کی دانشوری کے سالانہ دورے پر ہی آ ٹھہری ہے تو ہمارے لیے ان تمام دانشور حضرات کی پاکستانیت اور پاکستانی ثقافت اور روایات سے وابستگی قابل رشک ہے جو اس رواج پر فکرمند اور بے چین ہوئے پھرتے ہیں لیکن حیرت کا مقام یہ ہے کہ اپنے جذبات کے اظہار کے لیے یہ تمام اہل علم حضرات و خواتین اپنی ہی قومی زبان کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے اور قومیت کا رونا رونے کے لیے ایک غیرملکی زبان کو منتخب کیا جاتا ہے۔ [ویسے مزے کی بات یہ کہ جس زبان میں یہ سب واویلا کیا جاتا ہے خوداس زبان والے بھی رمضان کو 'رمدان' ہی لکھتے ہیں۔]

یہ خوب رہی صاحب، آپ خود اپنی تمام تر افلاطونیت انگریزی میں جھاڑیں اور نزلہ گرے ان پر جو محض چند الفاظ کو عربی تلفظ سے ادا کر رہے ہیں۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں!!

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تو اپنے گردو پیش میں کوئی فرد ایسا نہیں پایا جو رمضان کو 'رمدان' کہنے پر اصرار کر رہا ہو اور اپنے موقف پر اتنی سختی سے ڈٹا ہوا ہو کہ پاکستانی ثقافت، روایات، خواتین کے حقوق اور تمام تر ترقی خطرے میں پڑ گئی ہو۔ یہ محض رائی کو پہاڑ بنانے والی بات ہے۔ ایسے سب مضامین کا جائزہ لیں تو صرف رمضان میں ہی اس موضوع پر دانشوری بیدار ہوتی ہے، اس بے مقصد بحث کو ہوا بنا کر پیش کرتی ہے اور باقی سارا سال محو خواب رہتی ہے۔

جب ہمارے ہاں ابو کو پاپا، پوپس، ڈیڈی اور ڈیڈز بنا دیا گیا اور امی ماما اور مومز بن گئیں، تب تو کسی نے ایسی دہائیاں نہیں دیں۔ اور نہ ہی اس وقت یہ بین ڈالے جاتے ہیں جب ہمارے بچے بچے کی زبان پر شکتی، دھیرج، رام، شانتی، وشواس جیسے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں، ہمارے نوجوان روزمرہ گفتگو میں بھی لہجہ بدل بدل کر ہندی فلموں کے مکالموں کی نقل اتارتے ہیں اور ہماری خواتین ماتھے پر بندیا لگا، ویسا لباس پہن کر حقیقی زندگی میں سٹار پلس کے ڈراموں کی نقالی کرتی ہیں۔ یہ چیخ پکار اس وقت بھی سامنے نہیں آتی جب ستمبر کو سیپٹیمبر کہا جاتا ہے۔ آپ کم سے کم اتنی برداشت تو پیدا کر لیں جتنا مظاہرہ اس طبقے نے کیا ہے جس پر آپ تنقید کے تیر برسانے میں مصروف ہیں۔

پھر عوام الناس کی پذیرائی حاصل کرنے کے لیے اپنے الفاظ میں جذباتیت شامل کی جاتی ہے اور مذہب کا رونا رویا جاتا ہے کہ پاکستان میں تو اسلام عرب دنیا سے نہیں بلکہ وسط ایشیائی ریاستوں کے رستے پہنچا ہے اور یہ کہ اللہ حافظ کہنے سے غیرمسلموں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔ پھر آنکھوں میں آنسو بھر کے پوچھا جاتا ہے کہ اب 'رمدان' اور 'اللہ حافظ' کے رواج پا جانے کے بعد اگلا مرحلہ کیا خواتین کی ڈرائیونگ اور ووٹ ڈالنے پر پابندی کا ہو گا؟ اور کیا اب ہمیں گھروں کو خیرباد کہہ کر صحراؤں میں خیمے لگانے ہوں گے اور اونٹ کی سواری کرنا پڑے گی؟؟

یہ ہے وہ اصل غبار جو چند الفاظ کی ادائيگی اور تلفظ پر اعتراض کی آڑ میں نکالا جا رہا ہے۔

اتنے بھولے آپ بھی نہیں صاحب۔ آپ بھی خوب جانتے ہیں جس طرح یہاں انگریزی کی تدریس وسیع پیمانے پر کی جاتی ہے اور انگریزی تلفظ یا تحریر و تقریر میں انگریزی کے استعمال پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا اسی طرح یہاں لاتعداد لوگ ابتدائی قرآنی تعلیم بھی مدارس میں یا گھروں میں اساتذہ سے حاصل کرتے ہیں اور جب بچہ قاعدہ کا پہلا صفحہ اور حروف کے مخارج سیکھتا ہےتو سب سے زیادہ وقت 'ض' کی صحیح ادائیگی کی مشق پر ہی صرف ہوتا ہے۔ اس لیے یہ تلفظ یہاں کے معاشرے کے لیے بالکل اجنبی بھی نہیں ہے جیسا کہ آپ ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والے یہ افراد بھی ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔ غیرمسلموں کے حقوق پورا کرنے کے لیے بھی خدا حافظ کہنا ضروری نہیں بلکہ اس شعور کی ضرورت ہے جو انسان کو بطور انسان پہچان سکے۔ اللہ حافظ کہنے والے بھی وہی لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ چنانچہ آپ اطمینان رکھیے اور چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش نہ کیجیے۔ آپ جیسے دانشور ہر سال رمضان کے موقع پر ہی اس مسئلے کو اٹھاتے ہیں اور بعد میں جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں۔ بھئی آخر ایک گرما گرم موضوع ہے تو اس پر حصہ ڈالے بغیر کیسے رہا جا سکتا ہے۔

زبان کا ارتقاء ایک خودکار عمل ہے اور اس میں حصہ عوام ہی ڈالتے ہیں۔ انگریزی ہو یا ترکی، ہندی ہو یا عربی، کوئی لفظ اگر معاشرہ قبول کر لے تو آپ کا رونا دھونا اسے روک نہیں سکتا اور اگر کوئی لفظ معاشرے کے مزاج کے خلاف ہو تو آپ لاکھ کوشش کر لیں اس کو روزمرہ کا حصہ نہیں بنا سکتے۔ جیسے کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے متعلقہ اصطلاحات اور آلات کے لیے ہمارے ہاں اردو میں بھی انگریزی الفاظ ہی بولے اور لکھے جاتے ہیں اور کسی کے ماتھے پر بل نہیں پڑتا۔ اور حیرت ہے کہ اس پر تو آپ بھی مطمئن نظر آتے ہیں۔

آخر میں عرض کریں کہ زبان خواہ انگریزی ہو، ہندی یا عربی ہو، عوام الناس کے لیے سب ہی غیرملکی زبانیں ہیں۔ آپ اپنی ہی دانشوری کے خود پیروکار بنیے اور تمام کے بارے میں یکساں رویہ اپنائیے۔ یہ فکر نہ کیجیے کہ کون رمضان یا رمدان کہہ رہا ہے۔ کون خدا حافظ کہہ رہا ہے اور کون اللہ حافظ۔۔ یہ فیصلہ آپ عوام الناس پر چھوڑ دیجیے اور اگر تلقین اور نصیحت مطلوب ہے تو تلفظ سے بڑھ کر روزے کے مقصد اور روح کو اپنا موضوع بنائیے۔

پاکستانی ثقافت اور روایات کو خطرہ رمدان اور اللہ حافظ کہنے سے نہیں ہے بلکہ اس لمحے سے ہے جب یہاں اولڈ ہومز کی ضرورت محسوس ہونے لگے ۔ اور جب کوئی بچہ یہ سوال کرے کہ سات پھیرے لیے بغیر یہ شادی کس طرح مکمل ہو گئی؟

معاف رکھیے ہمیں اپنی دانشوری سے۔۔۔

ماہ صیام

آگیا آخر وہ ماہ حامل صد احتراممضطرب تھے جسکے استقبال کو سب خاص و عام
ہر زباں باندھے ہوئے احرام ورد و ذکر ہےہر دل بیدار کو بس عاقبت کی فکر ہے
تیرگی گویا مقید ہے حصار نور میںروشنی ہی روشنی ہے اب شبِ دیجور میں
ساحل رحمت پہ وہ دیکھو قطار اندر قطارسب گدایان کرم ہیں اب سراپا انتظار
مردہ روحیں کِھل اٹھیں پاکیزہ ہر دل ہو گیاسچ ہے شیطاں آج پابند سلاسل ہو گیا
ذوق استغفار ہے ہر قلب پر چھایا ہواسارا عالم اس گھڑی ہے وجد میں آیا ہوا
سب بلائیں دوڑتی ہیں منہ چھپانے کے لئےرحمتیں بے تاب ہیں عالم پہ چھانے کے لئے
اے مسلمانو، اٹھو، وقت صلائے عام ہےوائے صد افسوس اس پر اب بھی جو ناکام ہے

جان کی امان پائیں تو عرض کریں

جان کی امان پائیں تو کچھ عرض کریں حضور
آپ کی دانشوری کی دکان تو خوب چمک گئی لیکن اس کی قیمت ایسی لاکھوں آنکھوں کو ادا کرنی پڑی ہے جن میں اب بےنام ویرانی کے سوا کچھ نہیں بچا۔ نہ کوئی خواب، نہ کوئی تمنا۔۔ بس بنجر خواہشوں کا ایک صحرا۔۔۔ 
کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں کرتا لیکن آخر کیا کریں۔۔ جب یہ پتہ چلے کہ مہاجرین چندہ جمع کر رہے ہیں ۔۔ اپنے پیاروں کے علاج معالجہ کے لیے نہیں بلکہ بےگھر ہونے والوں کے قبرستان کی جگہ خریدنے کی غرض سے، کیونکہ مرنے والوں کو دفن کرنا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے، تو اندر کی تمام تلخیاں اور اضطراب الفاظ میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس حالت میں گھر چھوڑنے کا دکھ آپ کی دانشوری کیا جانے صاحب۔ جب بھیڑ بکریوں کی طرح مریضوں اور ضعیفوں کو لا کر سانپوں اور موذی جانوروں کے بسیروں پر لگے خیموں میں ڈال دیا جائے، خواتین اور بچے گھنٹوں پیدل چل کر کہیں سستانے کے قابل ہو سکیں اور لوگ موت کا انتظار کرنے لگیں تو ہمیں لب کشائی کی اجازت پھر بھی نہیں ملے گی؟۔
یہاں لاہور جیسے شہر میں دن دیہاڑے تمام ذرائع ابلاغ کے سامنے آپ کے شیر سپاہیوں کی فائرنگ سے ہی دس افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور آپ ہمیں یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ جس علاقے میں صحافیوں کا داخلہ ممنوع ہے اور فائرنگ کی بجائے گولہ باری ہو رہی ہے وہاں بم اور میزائل بھی صرف پتہ پوچھ کر اور اس کی تصدیق کرنے کے بعد ہی پھٹتے ہیں۔ واہ صاحب، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔۔

اور گستاخی معاف، اگر آپ آپریشن کی مخالفت کو دہشت گردی کی حمایت تصور کرتے ہیں تو اس دانشوری کے گاہک کہیں اور تلاش کریں۔۔ ورنہ پوری دنیا میں قانون بنوا دیں کہ کہیں بھی دشمن کے ساتھ مذاکرات کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کاروائی کی زد میں آنے والے بے گناہوں کو انسان گردانا جائے گا۔ ذرا اور ہمت کریں تو یہ رہنما اصول امریکہ بہادر کے کان میں بھی پھونک دیں ورنہ اعلی حضرت گاہے مذاکرات اور پرامن انخلاء کے عشق میں مرے جاتے ہیں۔۔ کبھی قطر میں دفتر کھلواتے ہیں تو کبھی افغانوں کا منت ترلا کرتے ہیں۔

آپ کی دانشوری کی خدمت میں یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ ہجرت کی آزمائش کے دوسری طرف مواخات کا مضبوط سہارا اور مہاجرین کے ساتھ انصار کی اصطلاح بھی وجود میں آئی۔ لیکن یہاں اگر گرتے پڑتے لاکھوں بے گھر لوگوں تک کوئی پہنچتا ہے تو لے دے کے وہی آپ کے زیرعتاب، دینی جماعتوں کے تحت چلنے والی غیرسرکاری تنظیمیں جبکہ دن رات چیختی چنگھاڑتی دانش کو اس کاروبار میں خسارہ ہی خسارہ نظر آتا ہے۔ جی جی، سب جانتے ہیں ہم۔۔ بس ذرا فلم کا سیٹ مکمل ہو جائے اور کیمرہ فلیش وہاں پہنچ جائے، ان مظلوموں کے سب سے بڑے خیرخواہ بن کر آپ ہی کھڑے ہوں گے۔

اور یہ جو آپ نے خوب کہی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لوگوں کو کچھ قربانی تو دینی ہو گی تو سہو یہ ہوا کہ آپ نے الفاظ کی ترتیب میں ملحوظ نہیں رکھا کہ "کچھ" کی جگہ قربانی کی بجائے لوگوں سے پہلے بنتی تھی۔ اصل میں تو تمام تر قربانی کچھ لوگوں کو ہی دینی ہو گی جو کہ دے بھی رہے ہیں۔ رہی حکومت اور آپ کی دانشوری تو اس کی بھی سنتے چلیں کہ دو بڑے صوبوں میں ان لوگوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اس محیر العقول فیصلے پر تمام تر موسمی عقل و دانش دم سادھے اور ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔
سلام ہو گیا حضور
چلتے ہیں۔۔۔

معاف کیجیے صاحب




معاف کیجیے گا صاحب، لیکن ہمارے معاشرے کی روایت یہی ہے۔۔۔۔  زندہ شخص کو یہاں پہچان ملنا ناممکن ہے جناب۔۔

دل ایسا دکھا ہے کہ کئی برس بعد قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔۔

کسی شخص کو ایک انسان کے طور پر پہچاننا ہم نے سیکھا ہی کب ہے۔۔ ہم نے تو مختلف خانے بنا کر ہر کسی کو کسی ایک ہی خانے میں مقید کر رکھا ہے اور بحیثیت مجموعی انسانی اوصاف کی بنا پر شناخت کے تو ہم قائل ہی نہیں ہیں۔ ہمارے لیے کوئی کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہے، کوئی کسی خاص مسلک کا نمائندہ ہے، کوئی کسی مخصوص نظریے کا علمبردار ہے، بس اگر نہیں ہے تو اس معاشرے کا ایک فرد اور ایک انسان نہیں ہے۔

اپنی تمام تر وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھیں تو یہ ہم نے کیسا معاشرہ تشکیل دیا ہے۔۔۔ کیسے کیسے ہیرے اور قیمتی افراد ہمارے درمیان وقت گزارتے ہیں لیکن ہم اپنی اپنی انا کی تسکین میں مصروف لوگ کسی کو کوئی مقام دینے کے لیے کہاں تیار ہوتے ہیں۔۔ پھر جب کوئی رخصت ہو جاتا ہے تو سب کہنے لگتے ہیں کہ شہادت اس کے ماتھے پر لکھی ہوئی تھی اور اس جیسے دلیر اور بہادر سے یہی توقع کی جا سکتی تھی۔۔ ہاں یہ سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں تھا تو  پھر اس کی زندگی میں ان سب آنکھوں سے پنہاں کیوں رہا جو بظاہر گوشت پوست کے پردے چیر کر نیتوں کے حال تک جاننے کا دعوی رکھتی ہیں۔ یا معاشرے کے ہم جیسے بزرجمہروں کے قبضۂ ادراک میں کیوں نہیں آ سکا جن کی بصیرت پوری دنیا کے حالات اور مسائل کا احاطہ کیے رکھتی ہے۔

نصر اللہ شجیع کے مزاج، کردار کی بلندی اور اعلی اخلاق کے لاتعداد گواہ مل جائیں گے۔ تیس سال کی عمر میں سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر ببنے والا وہ شخص اگر ایک ماہر تعلیم، مہربان اور قابل استاد، بہترین منتظم، اپنے ذمہ داری پوری کرنے کے لیے جان تک دینے کا جذبہ رکھنے والا، ایک مثالی سیاسی کارکن اور معاشرے کا خیرخواہ اور بہترین اثاثہ تھا تو معاشرے پر یہ سب انکشافات اس کے جانے کے بعد ہی کیوں ہوئے ہیں۔ کیا اس کی اچھائی سے صرف ایک جماعت ہی مستفید ہو رہی تھی۔ کیا اس معاشرے میں مجموعی طور پر اچھائی کے فروغ میں اس کا کوئی حصہ  نہیں تھا۔ یا کسی کو انسانی اور معاشرتی سطح پر قدر اور خراج تحسین کا مستحق صرف اس کے رخصت ہونے کے بعد ہی ٹھہرایا جا سکتا ہے۔۔۔
یا خدا، زندوں کی بھی قدر کرنے اور ان کے اعلی اوصاف کا اعتراف کرنے کی توفیق عطا فرما

اس تلخ نوائی پر معذرت خواہ ہیں صاحب لیکن دل بہت دکھا ہوا ہے

یورپ یورپ۔۔۔

یہ نظم ایک شاعر کا احساس ہے۔ ویسے تو یہ نبی کریم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے وقت تخلیق کی گئی تھی لیکن امریکہ میں اسلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی حالیہ متنازعہ فلم منظر عام پر آنے کے بعد یہ  احساس تازہ ہو جاتا ہے۔ شاعر کا نام کوشش کے باوجود نہیں مل سکا۔ ضروری نہیں کہ آپ اس خیال سے مکمل اتفاق رکھتے ہوں۔
یورپ یورپ
نفرت کی دیوار ذرا نیچی تھی شایداور اس چھوٹی سی دیوار کو دیوانوں نے پھاند لیا تھاسر میں سودا لے کرکتنے پاگلاس کی بنیادوں کو توڑ رہے تھےکتنے سوچنے، لکھنے والےاس کی اینٹوں سے اپنا سر پھوڑ رہے تھےپہلے یہ دیوار ذرا نیچی تھیلیکناب کے اینٹ جو تم نے رکھیخوب رکھی ہےآج ہمارے اور تمہارے قد سے اونچی یہ دیواربلندی چوم رہی ہےنفرت کی دیوی نشے میں جھوم رہی ہےدیوانوں کی امیدیں تو توڑ رہی ہیںپھر بھی سارے پاگل، دیوارنے اپنا سر پھوڑ رہے ہیںاس دیوار کو توڑ رہے ہیںلیکن اب کے یہ دیوار بہت اونچی ہےکاش کہ تم نے اپنا قد بھی ناپا ہوتا

'وہ سلوک جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔۔۔'

ابھی تو اہل ملتان انضمام کی ریٹائرمنٹ کا سوگ ہی نہیں منا پائے تھے کہ انہیں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا صدمہ بھی سہنا پڑ گیا ہے۔

فیض صاحب نے کہا تھا
ہم نے دل میں سجا لیے گلشن
جب بہاروں نے بے رخی کی ہے

ویسے تو کرکٹ میں فیض صاحب کا حوالہ آسانی سے ہضم ہونے والی بات نہیں ہے لیکن ملتان والوں کا المیہ یہ ہے کہ یہ چونکہ مخلوط میراتھن، ورائٹی اینڈ فیشن شوز کی برکات اور ایوان صدر، گورنر ہاؤس، وزیر اعلی ہاؤس وغیرہ کی قربت کے فیض سے سینکڑوں میل ادھر ہیں، اس لیے چارو ناچار زندگی میں کچھ رنگ بھرنے کے لیے انہیں روزمرہ کے معمولی واقعات پر ہی گزارا کرنا پڑتا ہے اور انہی سے خوشیاں کشید کرنا پڑتی ہیں۔

ملتان والوں کی انہی محرومیوں کا اظہار تھا کہ چند برس پہلے کچہری فلائی اوور اپنی تعمیر کے کچھ عرصہ بعد تک غیر علانیہ طور پر ایک فیملی پکنک پوائنٹ کا مقام اختیار کیے رہا۔ مجھے یاد ہے کہ شام ہوتے ہی یہاں لوگ اپنے بال بچوں سمیت اکٹھے ہونا شروع ہو جاتے اور پل کی چڑھائیوں اور اترائیوں پر میلہ سا لگ جاتا۔
اسی طرح شاید یہ محلہ کڑی مصری کے انضمام سے نسبت کا اظہار ہے کہ ملتان میں ہونے والا ہر کرکٹ میچ اپنے انعقاد کے دس روز قبل ہی سےدفتروں اور تعلیمی اداروں وغیرہ میں موضوع بحث بن جاتا ہے اور عینی شاہدین کی پراسرار داستان گوئی اسے ملتان اور قرب و جوار میں ہفتہ عشرہ بعد تک گفتگو کا مرکز بنائے رکھتی ہے۔


پاکستانی ٹیم کے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ ابھی تو سیریز دو دو سے برابر ہوئی ہے اور فتح حاصل کرنے کا ایک موقع تو ان کے پاس موجود ہے۔ تاہم اگر صفر پر آؤٹ ہونے والے شاہد آفریدی اہل ملتان کے المیہ سے آگاہ ہوتے با کم از کم انہوں نے ابن انشاء کی 'اردو کی آخری کتاب' سے "سکندر اعظم" والا باب پڑھ رکھا ہوتا تو آفریدی کو یہ تو پتہ ہوتا کہ مدمقابل باؤلر سے انہیں کیا سلوک کرنا ہے۔۔۔ ۔۔ '(ظاہر ہے) وہی سلوک جو بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ‍ کرتے ہیں'

"عزیز ہموطنو، شاعر اصل میں کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔"

چھٹی جماعت میں ہمیں اردو ماسٹر عبدالرزاق پڑھایا کرتے تھے۔ حصہ نظم پڑھاتے ہوئے وہ پہلے شعر کے مشکل الفاظ کے معنی اور نثری ترتیب بتاتے اور پھر آستین چڑھاتے ہوئے کہتے، " دیکھو بھئی، شاعر اصل میں کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔" اور اس فقرے میں سارا زور 'اصل میں' پر ہوتا۔ پھر ماسٹر جی تو کمال جوش و خروش سے شعر کا اصل مطلب سمجھانے میں اور ہم اس بات پر غوروخوض میں مصروف ہو جاتے کہ اصل بات صرف ماسٹر جی کی سمجھ‍ میں ہی کبوں آتی ہے۔ یہ بات تو ہم پر اب جا کر کھلی ہے کہ بات چھٹی جماعت کی ہو با پاکستان کے چھٹے عشرے کی، اصل بات صرف ماسٹر کی سمجھ‍ میں ہی آتی ہے۔ اور ماسٹر خواہ جماعت کا ہو یا قوم کا اس کی ساری عمر تو نالائق طالب علموں کو سمجھانے میں صرف ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے عوام بھی ہماری طرح نالائق طالب علم ثابت ہوئے ہیں۔ بارہا مختلف ماسٹر انہیں سمجھانے کی کوشش کر چکے ہیں کہ " عزیز ہموطنو، بات اصل میں یہ ہے کہ ۔۔۔۔" لیکن عوام ہیں کہ سمجھ‍ کر ہی نہیں دے رہے۔ اور اب تو ستم یہ ہے کہ مشاعرہ باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ صدر مشاعرہ جناب مشرف دہلوی (جنہیں پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں خالد مقبول صاحب تو سند تصوف عطا کر چکے ہیں) طرح مصرع پھینک چکے ہیں اور کئی احباب تو باقاعدہ شریک مشاعرہ ہو چکے ہیں جیسے بی بی، مولانا فضل الرحمان، چوہدری شجاعت، بھائی لوگ وغیرہ۔ ہمارے بے مثال نوجوان شاعر شاہین عباس نے مولانا کی اٹھکیلیوں اور بی بی کے ناز نخروں سے بہت پہلے کہا تھا جھونکا تھا گریز کے نشے میں
دیوار گرا گیا ہماری ۔۔۔!! لیکن یہاں تو جھونکوں بلکہ بگولوں کو یہ خبر تک نہیں کہ وہ گریز کے نشے میں دیوار تو کیا سارے کا سارا قصر امید ہی زمیں بوس کبے جا رہے ہیں۔ پر بات تو پھر عوام کی ناسمجھی اور بدذوقی پر اٹکی ہوئی ہے۔ صدر مشاعرہ کا طرح مصرع اصحاب ق کے پلے نہیں پڑ رہا، بی بی کی آزاد نظم ان کے اپنے کارکنان کی کوتاہ نظری کی نذر ہو رہی ہے اور مولانا کے مصرعوں کا وزن ایم ایم اے اور اے پی ڈی ایم کے قائدین کے قبضہ گرفت سے نکلا جا رہا ہے۔ ادھر چوہدری شجاعت ہیں کہ ہر مصرع پر بڑی جان لیوا قسم کی فی البدیہہ گرہ لگائے جا رہے ہیں اور سامعین کی داد سمیٹ رہے ہیں۔ ایوان صدر سے جاری ہونے والے مفاہمتی آرڈینینس، بی بی کے روٹی کپڑے اور مکان کی نشاۃ ثانیہ اور مولانا کی خود سپردگیوں کو دیکھ‍ کر نہ جانے مجھے ماسٹر عبدالرزاق کیوں بہت یاد آئے اور میرا جی چاہا کہ میں ان سے جا کر پوچھوں، 'ماسٹر جی، آخر شاعر اصل میں کہنا کیا چاہتا ہے۔۔۔۔'

کراچی کے سیاسی کارکن کا المیہ




کراچی کے سیاسی کارکن جو کبھی جلسے جلوسوں کی تیاری میں مصروف نظر آتے تھے۔ یہاں سے وہاں ٹینٹ لگاتے، دریاں بچھاتے، کرسیاں ترتیب دیتے اور ساؤنڈ سسٹم سیٹ کرتے پھرتے تھے، آج کل ان کا زیادہ وقت کفن اکٹھے کرنے، زخمیوں کو اٹھانے، لاشوں کو کندھا دینے اور ان کی شناخت کرنے میں گزرتا ہے۔
مرحوم احمد ندیم قاسمی کی دعا اپنی جگہ، لیکن 12 مئی اور 18 اکتوبر کے دن کم سے کم کراچی میں تو حیات جرم اور زندگی وبال بن گئی تھی۔ اور یہ زندگی محض سانس لینے والے جانداروں کی نسبت سے نہیں ہے بلکہ یہ ان کی بات ہے جن کے لیے اقبال نے کہا تھا کہ

خدائے زندہ زندوں کا خدا ہے

اب تو یہ کارکنان نعروں سے زیادہ گولیوں اور دھماکوں کی آواز کی شناخت کے عادی ہو گئے ہیں۔
جو نظریاتی کشمکش اور مزاحمت، سوچ اور سیاسی عمل میں نکھار پیدا کرتی تھی وہ تو کب کی اقتدار کے ایوانوں کو پیاری ہوئی۔ اب افتخار عارف لاکھ‍ کہتے رہیں کہ
دل نہیں ہو گا تو بیعت نہیں ہو گی ہم سے
لیکن یہاں کے پیران طریقت کے پاس تو ایسی ایسی کرامات موجود ہیں کہ ادھر نظر ملی، ادھر 'مری روح سے مری آنکھ‍ تک کسی روشنی میں نہا گئے'۔
تو ان حالات میں پروانہ وار قربانیاں دیتے ان کارکنان کے پاس روزانہ تازہ لاشیں اٹھانے کے سوا کیا چارہ رہا ہے، جنہیں ہر پل ساعت آئندہ کا خوف کھائے جا رہا ہے

عمر بھر کی کاہش بے غم کے خوگر
اس جہان بے بصر میں ہم کہاں تک
اپنے دل میں خاک ہوتی بستیوں کے دکھ‍ سمیٹیں
بین کرتی خواہشوں کی بھیڑ میں
روز اک تازہ لحد کی باس لے کر
کب تلک پھرتے رہیں گے دربدر
پیشتر اس سے کہ یہ ساری متاع بے ہنر
خاک میں مل جائے
ہم فرض کر لیں
یہ جہان بے بصر اک گلشن نوخیز ہے
اور اس کے طائران خوش نوا کی
رنگ برنگی بولیوں سے
لفظ کچھ‍ دامن میں چن کر
صفحہ خواب بشارت پر الٹ دیں ہم اگر
ڈھونڈ لیں پھر اس خزینہ گہر آباد سے
ایک حرف باریاب
اور پھر دست تمنا کے حوالے کر بھی دیں
ڈور یہ سانسوں کی تب شاید سلجھ‍ جائے مگر
موج فکر ساعت آئندہ ہم کو ایک پل بھی
چین لینے دے تو پھر۔۔۔