عثمان عزیز

جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ اور عمران خاں

جوڈیشل کمیشن جوڈ یشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد میڈیا اور نون لیگ کے سپورٹر اور کچھ فیس بک کے تجزیہ نگار اس بات کا ڈھونڈرا پیٹ رہے ہیں کے عمران خان کی مقبولیت کا گراف کم ہو گا، خان صا حب کے سپورٹر کو ملا ہوں، ان کی رائے سنی ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں عمران خان کی مقبولیت کو اور ان کی جما عت کو اور ان کی سیاسی پارٹی کو اس نا م نہاد کمیشن کی رپورٹ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ عمران خان کا گراف اوپر ہی جا ئے گا جہاں ماڈل ٹاؤن کے چودہ شہداء کا انصاف نہ ملے اور قاتل خود ہی منصف، وکیل اور تفتیش کرنے والے ہوں وہاں اگر فارم چودہ کے حوالے سے ایسی رپورٹ یی رپورٹ کی توقع تھی۔خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہالنت اور لا قانونیت

جب انسانی معاشرہ ارتقائی مراحل میں تها تو کسی قسم کا قانون، ضابطہ اور اصول موجود نہ تها اسلئے ہر طرف من مانی کی سی فضا تهی. شعور تو دور کی بات لوگ اس لفظ سے بهی نا آ شنا تهے. غلط کو درست اور درست کو غلط سمجھا جاتا تها۔ مگر مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ ذہنی بالیدگی ہوئی. انسان شعور کی منازل طے کرنے لگا. معاشرے میں استحکام اور توازن قائم کرنے کے لئے اصول اور قوانین وضع کئے گئے. انسانیت نے ان اصولوں اور قوانین کو زندگی کا حصہ بنا لیا۔
کی تمیز مقرر کرد گئی اور پرامن بقائے باہمی کے لئے ایک دوسرے کا احترام کرنے لگے۔ مگر شومئ قسمت ہمارے معاشرے میں آج بهی جنگل کا قانون نافذ ہے اور جهالت کوٹ کوٹ کر بهری ہے. جو ہمارے زوال کی سب بڑی وجہ ہے۔ کل کا واقعہ بهی ہماری جهالت اور لاقانونیت کا ثبوت ہے.
قانون کا تقاضا ہے کہ ملزم کو جرم ثابت ہونے سے پہلے مجرم نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی ماورائے عدالت سزا دی جاسکتی ہے.
مگر مسیحی میاں بیوی کو بهٹی میں پھینک کر زندہ جلا دیا گیا اسلئے کہ ان پر یہ الزام تها انہوں نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی۔ چاہئے تو یہ تها کہ عدالتوں کا رخ کیا جاتا یا پهر عدالتوں کو بهی جلا دیا جاتا.
میرے نزدیک جنگل کا قانون نافذ کردیا جائے. یعنی نہ تو کوئی قانون نہ ہی کوئی ضابطہ. سب اپنی مرضی کریں. قاتل کو خود قتل کریں، چور کے ہاتھ خود کاٹیں.گستاخ مذہب کو بهی خود پهانسی دیں. کسی سے عدل و انصاف کی توقع نہ رکهیں.اور براہ مہربانی پرامن بقائے باہمی اور ترقی یافتہ پاکستان کے حصول کا خواب، خواب ہی رہنے دیں۔۔۔۔۔۔.
ماورائے عدالت مارے جانے والے عیسائی جوڑے کی تصویر اور جلنے کے بعد بچ جانے والی ہڈیاں ہیں۔۔
 

حضرت امام حسین علیہ السلام

10 محرم الحرام 61 ھجری یوم شہادت نواسہ رسول ﷺ جگر گوشہ بتول رضی اللہ عنہا لخت جگر
      حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ
محرم الحرام میں امام عالی مقام سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ خانوادۃ نبوت اور اپنے اصحآب کے ساتھ میدان کربلا میں اللہ کے دین کی سربلندی اور ظالمانہ، فاسقانہ اور آمرانہ نظام کے خلاف جہاد کا علم بلند کرنے کے لیۓ جمع ہوۓ۔ مستورات مقدسہ اور سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر باقی سب مقدس نفوس جام شہادت نوش فرما گۓ۔ یہ تاریخ انسانیت کی ایک بہت بڑی قربانی ہے جو ماہ محرم الحرام میں پیش آئی اور اللہ تعالی نے اسے امت مسلمہ کے لۓ تا ابد اسلام کے شعائر میں داخل فرما دیا۔

واہگہ بارڈر

شاہی باغ سے امرود توڑنے پر اور ایک بلی کے شاہی مور کہا جانے پر نواز شریف نے کئی سپاہیوں کو معطل و فارغ کردیا۔ لیکن آج سینکڑو خاندان سانحہ واہگہ بارڈر میں اجڑ گئے، گود ویران ہو گئیں، بچے یتیم ہو گئے، سہاگ اجڑ گئے۔ سو کے قریب اپاہج ہوگئے اپنے جسم کے بچے کچے حصے لے کر، جبکہ دعوہ یہ ہے کہ پیشگی اطلاع تھی حکومت پنجاب کو، اور دھماکہ انڈیا کے ساتھ تجارت میں استعمال ہونے والے ٹرکوں کی آڑ میں کیا گیا ، جس کے مناسب چیکنگ کا اس انڈین نواز گورنمنٹ کو کوئی طریقہ کار نہیں۔ تو اس غفلت و لاپرواہی پر کیا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف معطل یا فارغ ہوں گے؟؟ یہ ایک سوال ہے ان نام نہاد جمہوریت کے چیمپینز اور حواریوں کے لئے۔ اگر جواب نہیں ہے۔ تو میں پوچھتا ہوں یہ کون سی جمہوریت و طرز حکمرانی ہے جس میں انسانی جانوں کی قیمت ایک شاہی مور اور شاپی امرود کے برابر بھی نہیں۔ آج وہ انسان نشانے بننے غم نہ کرو اگر ایسا ہی رہا تو یہ آگ ایک ایک دن ہمارے، تمہارے گھر کو بھی لپیٹ میں لے گی۔ یہ اللہ کا قانون ہے ظلم کا ساتھ دینے والا ظالم سے بڑا سزا وار ہے اس کے ہاں۔

خرابی کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔!!!!

working women issumes,  problems facing by womenآج کل مملکت خداد پاکستان میں  مواد کی کمی نہیں ہے ۔ اتنے مسائل ہے کہ آپ کس کس عنوان پر قلم اٹھائے گے۔ آپ لکھتے لکھتے تھک جائیں گے لیکن مسائل میں کمی نہیں آئے گی ۔ میں بھی آج جب لکھنے بیٹھا تو بہت سے عنوانات تھے لکھوں تو کس پر لکھوں ۔۔۔ آزادی مارچ کی بات کرو یا عوامی جمہوری انقلاب کی، لوڈ شیڈنگ کے مسائل کی بات کرو یا بلوچ قوم کے احساس محرومی کی ، ریلوے  کی  زبوں حالی کی بات کرو ، پی آئی اے کی لاجواب سروس کی بات کرو۔ میں شکریہ ادا کرتا ہوں مملکت خداد پاکستان کے حکمرانوں کا جو عنوانات کی کمی ہونے ہی نہیں دیتے ۔  اپنے  افعال اور کردار کی وجہ سے  ایسا کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں جو   ہم جیسے  اناڑی لکھاریوں کے ہاتھ آ جاتا ہےپھر اس پر اپنے قلم کا ر غصہ  جھاڑنے لگ جاتے ہیں۔سو ان پر تو بحث ہوتی ہی رہے گی لیکن آج   میں ایک سماجی مسئلہ کو زیر بحث لاتا ہوں شاید میری اس کاوش سے کسی حد تک  یہ معاشرتی برائی ختم ہو سکے۔

Pakistani hijab girl diriving, social evils of pakistanکچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میں شہر کے ایک بڑے چوراہے پر ٹریفک سگنل کے کھلنے کا انتظار کر رہا تھا میرے پیچھے ایک گاڑی آکر رک گئی گاڑی ایک خاتون ڈرائیو کر رہی تھیں جس   نے حجاب کر رکھا تھا . میرے برابر ہی موٹرسائیکل پر دو نوجوان بھی کھڑے تھے . ایک نے پیچھے مڑ کر خاتون کو دیکھا اس کے بعد اس نے اپنے آگے والے کو آہستہ سے کچھ کہا وہ بھی پیچھے کو گردن گھما کر دیکھنے لگا اور پھر دونوں آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے مسکرانے لگے ان کی نظروں کے تعاقب میں اردگرد موجود کچھ اور مرد حضرات بھی خاتون کو گہری نظروں سے گھورنے لگے . میری نظر اس خاتون کے چہرے کی جانب اٹھی تو میں نے واضح طور پر عورت کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ اور آنکھوں میں شدید کرب کی پرچھائیاں دیکھی .خود میری کیفیت یہ تھی کہ مجھے لگ رہا تھا جیسے کسی شرم حیا والی عورت کو بیچ بازار بے پردہ کر دیا گیا ہو . میری قوم کے سپوت کسی ضروری کام کی خاطر گھر سے نکلنے والی ایک شریف اور باپردہ خاتون کو نظروں ہی نظروں میں کچا چبا جانے کے انداز میں دیکھ رہے تھے . یہ واقعہ چند سیکنڈوں کا تھا مجھے لگا ان چند سیکنڈوں میں میری قوم کی تمام بہنوں بیٹیوں کے سروں سے میری قوم کے بیٹوں نے شرم و حیا کی چادر نوچ کر پھینک دی ہو . مجھے خرابی کی سمجھ نہیں آ رہی تھی خرابی اس خاتون کے گھر سے نکلنے میں تھی ؟ خرابی ایک عورت کے ڈرائیو کرنے میں تھی ؟ یا خرابی ہم سب کے ڈی این اے میں ہے جو شرم و حیا سے محروم ہوچکا ہے۔

انقلاب،سنت رسولﷺاور ڈاکٹر طاہر القادری

Inqlab , Tahir ul Qadri, Green Revolution  آج کل ہرطرف انقلاب انقلاب کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ، آخر انقلاب ہے کیا ؟۔ انقلاب کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ "یہ نظام حکومت میں بنیادی تبدیلی لانے کی کوشش ہے" لیکن کامیاب انقلاب بنیادی تبدیلی لانے کی کوشش سے بڑھ کر ہے۔ وہ عملاً سارے نظام کو بدل ڈالتا ہے۔ یہ طاقت کے ذریعے اور تیزی سے اقتدار کے بنیادی ڈھانچہ اور سماج میں فوائد و وسائل کی تقسیم   کو   کو بدل دیتا ہے۔ مثلا تحریک اصلاحات، Reformation، انقلاب انگلستان، 1788، انقلاب امریکہ، 1776، انقلاب فرانس،، 1689، بالشویک انقلاب روس، 1917، انقلاب چین، 1949، انقلاب مصر 1950، انقلاب کیوبا، 1957، اور انقلاب عراق 1958، کے نتیجہ میں نہ صرف متعلقہ ملکوں کا نظام حکومت بدل گیا بلکہ دور رس سماجی، اقتصادی اور تہذیبی تبدیلیاں بھی واقع ہوئیں۔
 انسانی تاریخ میں متعدد انقلابات پیش آئے ہیں۔ وہ طریقۂ کار ، مدّت ، اور ترقی پسند نظریاتی اصول کے معاملے میں بہت مختلف ہیں۔ ان کے نتائج کی وجہ سے ثقافت ، معیشت اور سماجی سیاسی اداروں میں ترقیاتی تبدیلیاں ہوئیں
ہر انقلاب کے پسِ پشت کچھ عوامل کارفرما ہوتے ہیں جو عملی انقلاب کے رونما ہونے سے پہلے انقلابی گروہ یا طبقہ یا پارٹی کو اس کے لیے تیار کرتے ہیں۔پاکستا ن میں انقلاب کا نعرہ بلند کرنے والی ڈاکٹر طاہر القادری کی ذات اور جماعت ہے،ڈاکٹر صاحب کی پہچان ایک مفسر، ایک محدث ،ایک اسلامی سکالر کی ہےاس کے علاوہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ قانون دان بھی ہیں اور پنجاب یونیورسٹی میں قانون کے استاد بھی رہے ہیں۔ آج کل ان کے خلاف جو پروپیگنڈہ کیا جا رہا اس کی حقیت کیا ہے ، کوئی کہہ  رہا ہے کہ یہ انقلاب نہیں بلکہ انتشار ہے، کوئی کہتا ہے جمہوریت ڈی ریل ہو جائے  گی۔کوئی کہتا ہے یہ انقلاب نہیں بغاوت ہے،  کوئی کہتا ہے کہ وہ ایک اسلامی سکالر ہیں وہ لوگوں کو  اسں طرح سے  اکسا کر اسلام کی تعلیمات سے روگردانی کر رہے ہیں۔  ڈاکٹر طاہرالقادری  پوری دنیا میں اسلای سکالر کے نام سے جانے اور پہہچانے جاتے ہیں  ، اور ایک مذہبی سکالر کے طورپر اپنا ایک الگ تشخص رکھتے ہیں، نبی احمد مجتبی حضرت محمد مصطفی ؐ نے فرمایا مفہوم حدیث ''علماء میرے دین کے وارث ہیں''  ڈاکٹر طاہر القادری ایک مذہی عالم ہیں کیا ان کا انقلاب کا نعرہ سنت رسول کے عین مطابق ہے یا نہیں؟ کیوں کہ جب ڈاکٹر صاحب انقلاب کی بات کرتے ہیں ، تو ان کے اس عمل کو پیغمر انقلابؐ کےانقلاب کے پیرائے میں دیکھا جائے گا کیا یہ سنت رسول کے مطابق ہے یا نہیں؟
  انقلاب اور سنتِ رسول ﷺ
وہ توچالیس سال صادق و امین کے نام سے جانے جاتے تھے جب تک ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی تھی۔ آواز اٹھانے کی دیر تھی کہ لوگ دیوانہ بھی کہنے لگے، کوئی بولا کہ جادو گر ہیں، اور کوئی بولا کہ پیسے اور اقتدار کے لیئے ایسا کر رہے ہیں اور کوئی یہ کہتا ہوا نظر آیا کہ شہرت کی خاطر کر رہے ہیں۔آپ کا منشور توحید کے ساتھ ساتھ سب کی برابری اور سب کے حقوق کی پاسبانی تھا۔ غریب طبقہ نے حمایت شروع کی کہ انقلاب کی ضرورت مکہ کر سرداروں کو کہاں تھی !
اس انقلاب کے راستے میں سب سے پہلا خون عورت کا بہا۔ تیرہ سال آپ ﷺ صبر کے ساتھ برداشت کرتے رہے اور ان سب مظالم کے بعد بھی پر امن رہے یہاں تک کہ آپ کے شہر والوں نے آپ کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
کئی سال مدینہ پاک میں آپ ﷺ اپنے اصحاب کی تربیت کرتے رہے۔ جنگیں بھی ہوئیں اوربے شمار قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ آپ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا گیا۔ وہ احزاب میں تو آپ کے شہر مدینہ پر بھی حملہ آور ہوگئے۔کئی معاہدے بھی ہوئے اور کفار کی طرف سے خلاف ورزیاں بھی۔ان سب مصیبتوں کے بعد آخر کار آپ ﷺ اپنے شہر میں ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔وہ تو تمام جہانوں کے مالک کے محبوب ہیں۔ چاہتے تو ایک دعا سے معجزانہ طور پر سب کو مسلمان کر لیتے اور بغیر کسی قربانی کے ایک اشارے پر مکہ بھی فتح ہو کر قدموں میں گِھر جاتا۔ مگر آپ نے ایک عام انسان کا راستہ اپنایا اور اپنی پوری امت کو تعلیم دی کہ انقلاب کیسے آتے ہیں۔۔۔
   ڈاکٹر صاحب ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں،  ڈاکٹرصاحب نظام تبدیل کرنا چاہتے ہیں   ڈاکٹر صاحب کی خواہش ہے کہ پاکستان میں ماں، بہن، بیٹی کی عزت محفوظ ہو جائے،    ڈاکٹرصاحب چاہتے ہيں کہ یہاں دس سال کے معصوم بچوں کے بازو کٹنے بند ہو جائيں،  ڈاکٹرصاحب چاہتے ہیں کہ یہاں ایم پی اے تھانے پر حملہ کرے تو    ڈاکٹرصاحب اس پر قانون لاگو کروانا چاہتے ہیں،  ڈاکٹرصاحب صبح و شام پاکستان کی بیٹیوں بہنوں کی لٹتی ہوئي عزتیں بچانے کے لئیے اس نظام کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب یہ سب آپ چاہتے ہیں لیکن یہاں نوجوان، قوم کب چاہتی ہے کہ ان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہو جائيں۔ ایک اسلامی ملک میں بہنوں کی عزتیں تار تار ہوتی ہیں لیکن ہم بیٹھ کر مسواک کی لمبائي پر بحث کرتے ہیں، کیونکہ مسواک کرنا سنت ہے لیکن شائد بہن بیٹی کی عزت بچانا سنت نہيں ۔۔۔۔۔اسلامی ملک میں پچاس فیصد سے زائد لوگ رات کو بھوکے سوتے ہیں، لیکن ہميں اس سے کیا ہم تو سنت کے پیروکار ہیں، ہم تبلیغ کے پیروکار ہیں، ہم عاشق رسول ہیں، ہمیں عشق رسول میں رونا تو آتا ہے لیکن رسول اللہ کی امت کی بہنوں کی عزت لوٹے یا بوڑھے بھوکے سو جائيں، باپ کے سامنے اس کی بیٹی کو اغواء کر کے اپنی ہوس کا نشانہ بنا دیا جائے، ہم ان کی مدد نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔ ڈاکٹرصاحب آپ سے معذرت ہے
   یہ قوم، نوجوان، یہ مذھبی تنظیمیں، یہ سنتوں کے پیکر، یہ تبلیغ دین کے ٹھیکے دار پچھلے ساٹھ سال سے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتیں تار تار ہوتی دیکھ رہے ہیں، پاکستانیوں کو بھوکا مرتے دیکھ رہے ہیں، یہ پاکستان کو نیلام ہوتا دیکھ رہے ہیں، یہ ظالموں کو ظلم کرتا دیکھ رہے ہیں، یہ قاتلوں کو قتل کرتا دیکھ رہے ہیں، یہ ہوس کے پجاریوں کو قوم کی بیٹیوں کو ان کے بھائيوں کے سامنے عزت لوٹتا دیکھ رہے ہیں اور یہ دیکھتے رہیں گے۔ یہ اس نظام کے دیوانے ہیں، یہ نظام تبدیل نہیں کر سکتے۔۔۔۔ یہ قوم آپ کا ساتھ نہیں دے گی اور آئيندہ کے  لئے بھی پاکستان کو نیلام ہوتا دیکھتی رہے گي۔ عزتیں تار تار ہوتیں رہیں گی، یہ مسواک کرتے رہیں گے یا شلوار پائنچے پر بحث کرتے رہيں  گے۔ان کی سنتوں اور تبلیغ کے مطابق ظالم کے خلاف خاموش رہنا سنت ہے۔۔  ڈاکٹرصاحب ؛ وی آر ویری سوری۔۔۔۔۔ اس نظام کو بدلنا نہ تو سنت ہے، ہماری سنتوں میں ظالم کے خلاف آواز اٹھانا شامل نہیں۔

کیسے کہوں عید مبارک ۔۔۔۔ !


usman aziz column,
   غزہ ،لہولہو!!!!!
اک باراور یثرب سے فلسطین میں آ
دیکھ رہی ہے مسجد اقصی راستہ تیرا


معمول کا دن تھا، سحر ہونے کو تھی، سورج کی کرنیں ہر طرف اجالا کر نے میں مصروف تھی، رات کی تاریکی صبح کے اجالے میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔یکا یک آہ وبکا شروع ہو گئی کو ئی ادھر بھاگا ، کوئی ادھر ، کیا ہوا؟ یہ شور کیسا ؟ ہر طرف آہ وبکا کیوں ہے؟ جب زندگی پوری طرح بیدار ہوئی تو پتہ چلا غزہ پر اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر حملہ کر دیا۔جب زندگی بیدار ہوتی ہے تب درندوں نے زندگی کو سلانے کی کوشس شروع کر دی۔

blood in gaza, street of gaza, khoon ke holi غزہ ایک مرتبہ پھر تاریخ کی بدترین جارحیت کا شکار ہے۔ تین یہودی لڑکوں کے مبینہ اغوا اور قتل کو اسرائیل نے حملے کا بہانہ بنایا۔ ان یہودی لڑکوں کے قتل کے جواب میں ایک فلسطینی نوعمر لڑکے کو اسرائیلی غنڈوں نے زندہ جلا دیا۔لیکن اس کے باوجود دہشت گرد اور غاصب اسرائیل نے پھر ایک بار غزہ کے بے گناہ اور محصور مسلمانوں کو اپنی بربریت اور سفاکیت کا نشانہ بنا دیا اور اس بار اسرائیلی دہشت گردی اس حد تک شدید ہے کہ مظلوم فلسطینی روزہ دار نہ سحری کھا سکے اور نہ انہیں افطار میسر ہے، بالکل اذان صبح سے پہلے یعنی سحری کے موقع پر ہی اسرائیلی بمباری سے کئی گھرانے اجڑ گئے اور اسرائیل اس حد تک قومی تعصب اور عداوت میں گھر گیا ہے کہ کمسن بچوں اور خواتین پر براہ راست حملے کرنا بھی اس کی نظر میں جنگی جرم شمار نہیں ہوتا ہے۔   انبیاءکی سرزمین فلسطین ایک بار پھر لہو لہان ہو گئی اور غزہ ایک خوفناک جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ایک ایسے وقت    میں جب خطۂ عرب انقلاب کی آگ میں جھلس رہا ہے اور دیگر بہت سے مسائل    منہ کھولے کھڑے ہیں،اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر بمباری شروع کر دی  اور  اپنی سفاکیت دنیا پر عیاں کر دی ہے۔kid killing, children killing in gaza, israel killing childrenگزشتہ چند د نوں کے دوران فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جس بڑے پیمانے پر فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور جس طرح ان کے گھروں، املاک اور جائیدادوں کو میزائل اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اور ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ آگیا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے لیے ہی نہیں پوری دنیا میں امن و امان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی بھی ہے۔ خطے کی تازہ صورت حال کے لیے ہم سب کو معلوم ہے کہ پوری طرح اسرائیل ذمہ دار ہے۔
 آج پھر سے فلسطین جا بجا رس رہا ہے ، سرخی ہے ، گرد ہے ، دہشت ہے ، آہ و بکا ہے ، ہم بچوں کو افطار کراتے ہیں ، وہ بچوں کو گود میں لیے بھاگتے پھرتے ہیں ، ہمارے بچے ہماری آغوش میں سکون ڈھونڈتے ہیں ، ان کے بچے اپنے بڑوں کو جاۓ پناہ ڈھونڈتے دیکھتے ہیں ، فرق ہے ، بہت فرق ہے ، ادھر معمول کا فرق ہے اودھر غضب کا فرق ہے ، فرق ہے ، بہت فرق ہے لیکن بلاخر تضاد ہے ، یہ فرق جب نیتوں پر پرکھا جاتا ہے تو تضاد ہی دیکھتا ہے ، کل بھی مظاہرے تھے ، آج بھی پیچ و تاب اور اضطراب ہے ، اس کے سوا اختیار کوئی نہیں ، اس کے سوا ہماری اوقات کوئی نہیں ، سارا سال فلسطین یاد نہیں آتا ، بیچارے فلسطینیوں کو اس ہی وقت ہمارے ترانے سننے کو ملتے ہیں ، جب اسرائیلی دہشت ان کو تاک تاک کر مار رہی ہوتی ہے ، عجیب محبت ہے ، انوکھی حب ہے ، نرالا التفات ہے ، لٹ جاؤ ، برباد ہو جاؤ ، زخموں سے چور ، ٹوٹ پھوٹ جاؤ ، پھر دیکھنا میں تمہارے قصیدے کتنے پڑھوں گا ، رو رو کر بین کروں گا ، سینہ کوبی کر کر کےچھاتی لال کروں گا ، چیخ چیخ کر آسمان سر اٹھا لوں گا ، جلسہ جلوس زمین اودھم مچا دوں گا ، بس شرط اتنی ہے ، تم جب برباد ہو چکو ، قبریں کھود چکو ، پھر میں لبیک لبیک کہوں گا.      کہاں ہے انسانیت کا دم بھرنے والی تنظیمیں، کہاں ہے امن کے دعویدار مغربی ممالک، کہاں ہے پوری دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا دعوی کرنے والے، کہاں ہے عالم اسلام کی نما ئندہ تنظیمیں، تما م  اسلامی دنیا اسرائیل کے اس ظلم وجبر پر  خاموش کیوں ہے ۔کیا ان کو  ما ووں، بہنوں، بیٹیوں کی آہ وبکا ،سکیاں چیخیں ، التجائیں اور پکار سنائی نہہں دیتی۔کب تک عالمی دنیا مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھے گی اور کب تک غزہ لہولہو رہےگا۔  جل جائے گا کھیت تو کس کا م کا پانی۔۔۔۔۔مل جل کر اس آگ کو بجھا کیوں نہیں دیتے   امن کے داعی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی بربادی اس کے مکینوں کی خاموشی میں مضمر ہوتی ہے۔ کتنے ہی ملک ایسے برباد ہوئے جنکے سیاستدانوں، شاعروں ، ادیبوں اور تاریخ سازوں کی حقائق سے چشم پوشی کی عادت ہوتی ہے. ان کی یک جہتی میں بٹوارے کی سازش ہوتی ہے . آپس کی مسلکی ، لسانی رنجشیں اور مفاد پرستی کی انتہا ہوتی ہے۔ یوں وہ اپنی اصل سے دور ہو جاتے ہیں۔ اپنے مقصد سے د ور اور انجام سے بے خبری ان کو اور انکے ملک کو مٹا دیتی ہے۔کتنا کچھ سامنے ہے قوموں کے بربا دہونے کے لیے . مٹ جانے کے لیے. مگر ہم سبق نہیں لیتے، ہم کبھی نہیں سنبھلتے اور اپنی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہیں۔   ٹیپو سلطان نے کہا تھا''گیڈرکی سو سالہ زندگی سے بہتر شیر کی ایک دن کی زندگی ہے''ضرورت اس امر کی ہے امت مسلمہ اپنا  فعال کردار ادا کرے، اور  عالمی دنیا میں اپنی آواز اور احتجاج کو  موثر بنائے، اور غزہ میں جاری اسرائیل کی سفاکیت، بربریت ، اور ظلم وجبر کی داستاں کو ختم کرانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔  
 مزید  بہت کچھ ، کئی نسلوں کی کسمپرسی ہے ، کئی سالوں تک کے دھکے ہیں ، اسرائیل کتنے مارے گا ؟ اور ہم خود ایک دوسرے سے الجھ کر کتنے مریں گے ، خوب معلوم ہے ،  آج جمعتہ الوداع ہے ، دعائیں ہوں گی ، رقت ہو گی ، منگتے جھولی پھیلا پھیلا دشمنوں کی بربادی کی دعا کریں گے ، لیکن ؟ کاش ، کوئی اس امت کے کان میں اتنا کہہ دے ، ترقی دشمن کے مرنے سے نہیں ، خود جی لینے کی امنگ ، پا لینے کے ہنر سے ملتی ہے ، خدا میرے گھر ، میرے وطن ، میری زمین کو امن انعام دے ، آمین   

   

(غزہ ،لہولہو۔!!!!۔۔۔ ) Ghaza ، laho laho


usman aziz column,
   غزہ ،لہولہو!!!!!
اک باراور یثرب سے فلسطین میں آ
دیکھ رہی ہے مسجد اقصی راستہ تیرا
معمول کا دن تھا، سحر ہونے کو تھی، سورج کی کرنیں ہر طرف اجالا کر نے میں مصروف تھی، رات کی تاریکی صبح کے اجالے میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔یکا یک آہ وبکا شروع ہو گئی کو ئی ادھر بھاگا ، کوئی ادھر ، کیا ہوا؟ یہ شور کیسا ؟ ہر طرف آہ وبکا کیوں ہے؟ جب زندگی پوری طرح بیدار ہوئی تو پتہ چلا غزہ پر اسرائیل نے نہتے فلسطینیوں پر حملہ کر دیا۔جب زندگی بیدار ہوتی ہے تب درندوں نے زندگی کو سلانے کی کوشس شروع کر دی۔


blood in gaza, street of gaza, khoon ke holi غزہ ایک مرتبہ پھر تاریخ کی بدترین جارحیت کا شکار ہے۔ تین یہودی لڑکوں کے مبینہ اغوا اور قتل کو اسرائیل نے حملے کا بہانہ بنایا۔ ان یہودی لڑکوں کے قتل کے جواب میں ایک فلسطینی نوعمر لڑکے کو اسرائیلی غنڈوں نے زندہ جلا دیا۔لیکن اس کے باوجود دہشت گرد اور غاصب اسرائیل نے پھر ایک بار غزہ کے بے گناہ اور محصور مسلمانوں کو اپنی بربریت اور سفاکیت کا نشانہ بنا دیا اور اس بار اسرائیلی دہشت گردی اس حد تک شدید ہے کہ مظلوم فلسطینی روزہ دار نہ سحری کھا سکے اور نہ انہیں افطار میسر ہے، بالکل اذان صبح سے پہلے یعنی سحری کے موقع پر ہی اسرائیلی بمباری سے کئی گھرانے اجڑ گئے اور اسرائیل اس حد تک قومی تعصب اور عداوت میں گھر گیا ہے کہ کمسن بچوں اور خواتین پر براہ راست حملے کرنا بھی اس کی نظر میں جنگی جرم شمار نہیں ہوتا ہے۔   انبیاءکی سرزمین فلسطین ایک بار پھر لہو لہان ہو گئی اور غزہ ایک خوفناک جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ایک ایسے وقت    میں جب خطۂ عرب انقلاب کی آگ میں جھلس رہا ہے اور دیگر بہت سے مسائل    منہ کھولے کھڑے ہیں،اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر بمباری شروع کر دی  اور  اپنی سفاکیت دنیا پر عیاں کر دی ہے۔kid killing, children killing in gaza, israel killing childrenگزشتہ چند د نوں کے دوران فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں جس بڑے پیمانے پر فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور جس طرح ان کے گھروں، املاک اور جائیدادوں کو میزائل اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، اس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اور ایک بار پھر دنیا کے سامنے یہ آگیا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے لیے ہی نہیں پوری دنیا میں امن و امان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی بھی ہے۔ خطے کی تازہ صورت حال کے لیے ہم سب کو معلوم ہے کہ پوری طرح اسرائیل ذمہ دار ہے۔
 آج پھر سے فلسطین جا بجا رس رہا ہے ، سرخی ہے ، گرد ہے ، دہشت ہے ، آہ و بکا ہے ، ہم بچوں کو افطار کراتے ہیں ، وہ بچوں کو گود میں لیے بھاگتے پھرتے ہیں ، ہمارے بچے ہماری آغوش میں سکون ڈھونڈتے ہیں ، ان کے بچے اپنے بڑوں کو جاۓ پناہ ڈھونڈتے دیکھتے ہیں ، فرق ہے ، بہت فرق ہے ، ادھر معمول کا فرق ہے اودھر غضب کا فرق ہے ، فرق ہے ، بہت فرق ہے لیکن بلاخر تضاد ہے ، یہ فرق جب نیتوں پر پرکھا جاتا ہے تو تضاد ہی دیکھتا ہے ، کل بھی مظاہرے تھے ، آج بھی پیچ و تاب اور اضطراب ہے ، اس کے سوا اختیار کوئی نہیں ، اس کے سوا ہماری اوقات کوئی نہیں ، سارا سال فلسطین یاد نہیں آتا ، بیچارے فلسطینیوں کو اس ہی وقت ہمارے ترانے سننے کو ملتے ہیں ، جب اسرائیلی دہشت ان کو تاک تاک کر مار رہی ہوتی ہے ، عجیب محبت ہے ، انوکھی حب ہے ، نرالا التفات ہے ، لٹ جاؤ ، برباد ہو جاؤ ، زخموں سے چور ، ٹوٹ پھوٹ جاؤ ، پھر دیکھنا میں تمہارے قصیدے کتنے پڑھوں گا ، رو رو کر بین کروں گا ، سینہ کوبی کر کر کےچھاتی لال کروں گا ، چیخ چیخ کر آسمان سر اٹھا لوں گا ، جلسہ جلوس زمین اودھم مچا دوں گا ، بس شرط اتنی ہے ، تم جب برباد ہو چکو ، قبریں کھود چکو ، پھر میں لبیک لبیک کہوں گا.      کہاں ہے انسانیت کا دم بھرنے والی تنظیمیں، کہاں ہے امن کے دعویدار مغربی ممالک، کہاں ہے پوری دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا دعوی کرنے والے، کہاں ہے عالم اسلام کی نما ئندہ تنظیمیں، تما م  اسلامی دنیا اسرائیل کے اس ظلم وجبر پر  خاموش کیوں ہے ۔کیا ان کو  ما ووں، بہنوں، بیٹیوں کی آہ وبکا ،سکیاں چیخیں ، التجائیں اور پکار سنائی نہہں دیتی۔کب تک عالمی دنیا مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھے گی اور کب تک غزہ لہولہو رہےگا۔  جل جائے گا کھیت تو کس کا م کا پانی۔۔۔۔۔مل جل کر اس آگ کو بجھا کیوں نہیں دیتے   امن کے داعی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی بربادی اس کے مکینوں کی خاموشی میں مضمر ہوتی ہے۔ کتنے ہی ملک ایسے برباد ہوئے جنکے سیاستدانوں، شاعروں ، ادیبوں اور تاریخ سازوں کی حقائق سے چشم پوشی کی عادت ہوتی ہے. ان کی یک جہتی میں بٹوارے کی سازش ہوتی ہے . آپس کی مسلکی ، لسانی رنجشیں اور مفاد پرستی کی انتہا ہوتی ہے۔ یوں وہ اپنی اصل سے دور ہو جاتے ہیں۔ اپنے مقصد سے د ور اور انجام سے بے خبری ان کو اور انکے ملک کو مٹا دیتی ہے۔کتنا کچھ سامنے ہے قوموں کے بربا دہونے کے لیے . مٹ جانے کے لیے. مگر ہم سبق نہیں لیتے، ہم کبھی نہیں سنبھلتے اور اپنی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہیں۔   ٹیپو سلطان نے کہا تھا''گیڈرکی سو سالہ زندگی سے بہتر شیر کی ایک دن کی زندگی ہے''ضرورت اس امر کی ہے امت مسلمہ اپنا  فعال کردار ادا کرے، اور  عالمی دنیا میں اپنی آواز اور احتجاج کو  موثر بنائے، اور غزہ میں جاری اسرائیل کی سفاکیت، بربریت ، اور ظلم وجبر کی داستاں کو ختم کرانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔  
 مزید  بہت کچھ ، کئی نسلوں کی کسمپرسی ہے ، کئی سالوں تک کے دھکے ہیں ، اسرائیل کتنے مارے گا ؟ اور ہم خود ایک دوسرے سے الجھ کر کتنے مریں گے ، خوب معلوم ہے ،  آج جمعتہ الوداع ہے ، دعائیں ہوں گی ، رقت ہو گی ، منگتے جھولی پھیلا پھیلا دشمنوں کی بربادی کی دعا کریں گے ، لیکن ؟ کاش ، کوئی اس امت کے کان میں اتنا کہہ دے ، ترقی دشمن کے مرنے سے نہیں ، خود جی لینے کی امنگ ، پا لینے کے ہنر سے ملتی ہے ، خدا میرے گھر ، میرے وطن ، میری زمین کو امن انعام دے ، آمین   

   

( رمضان،رحمان اور شیطان) Ramzan , Rehman And Sheetan








 رمضان،رحمان اور شیطان)) 
رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے  ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک  ہی وہ مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم  کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان کا لفظ ”رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔انسان کائنات میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی کام کرتا ہے اس کی غرض و غایت اور مقصد ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہےقرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہےیا أیّھاالّذین آمنوا کتب علیکم الصّیام کما کتب علی الّذین من قبلکم لعلّکم تتّقون اے صاحبان ایمان تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوں پر لکھے گئے تھے . شاید تم اس طرح متّقی بن جاؤ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : اے لوگو! خدا کا مہینہ تمھارے پاس آیا هے .وہ مہینہ جو تمام مہینوں پر فضیلت رکھتا هے ، جس کے دن بہترین دن   جس کی راتیں بہترین راتیں اور جس کی گھڑیاں سب سے بہترین گھڑیاں ہیںدنیا کی فضا چونکہ عموماً معصیت اور گناہ کی فضا ہے ، دوسری طرف نفس و شیطان بھی اس کوشش اور سعی میں رہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمان راہِ راست سے ہٹ جائے، اس لئے عام طور پر مسلمان اس فضا سے متاثر ہوکر نفس و شیطان کے بہکاوے میں آجاتا ہے، اور اس سے گناہوں اور معصیتوں کا صدور ہو جاتا ہے، بلاشبہ ضابطہ اور اصول کا تقاضا تو یہی تھا کہ جب: ”وھدیناہ النجدین“ ...ہم نے اس کو دونوں راستوں کی نشاندہی کردی...کے ذریعہ اس پر طاعت و معصیت اور نیکی و گناہ کی حقیقت واضح ہوچکی تھی تو مرتکبِ معصیت کو اپنے کئے کی سزا ملنی چاہئے تھی، مگر رحمتِ الٰہی اور شفقتِ خداوندی نے اس کو گوارہ نہ ہوا کہ اس بھولے بھالے مسلمان کو اس کے کئے کی خود سزا ملے، اس لئے رحمتِ الٰہی کا تقاضا ہوا کہ ا س کو اپنے گناہوں اور معصیتوں کی معافی تلافی کا موقع ملنا چاہئے، تاکہ وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اتار کر جنت کا مستحق اور جہنم سے بچ سکے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مسلمانوں کے لئے رمضان اور روزے مقرر فرمائے، بلاشبہ رمضان اور اس کی عبادات اسی رحمت و مغفرت الٰہیہ کے حصول اور گناہوں کے بوجھ کو ہلکا کرنے کا بہترین سامان ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہےعن ابی ہریرة  قال: قال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ”اعطیت امتی خمس خصال فی رمضان لم تعطہن امة قبلہم، خلوف فم الصائم اطیب عنداللّٰہ من ریح المسک، وتستغفرلہم الحیتان حتی یفطروا، ویزین اللّٰہ عزوجل کل یوم جنتہ، ثم یقول: یوشک عبادی الصالحون ان یلقوا عنہم المؤئنةا ویصیروا الیک، وتصفد فیہ مردة الشیاطین ،فلایخلصوا فیہ الی ماکانوا یخلصون الیہ فی غیرہ، ویغفرلہم فی آخر لیلة، قیل یا رسول اللّٰہ! اہی لیلة القدر؟ قال :” لا ! ولکن العامل انما یوفّٰی اجرہ اذا قضیٰ عملہ۔“
(الترغیب والترہیب ص:۵۵،ج:۲، مسند احمد، ص:۲۹۲، ج:۲۔ترجمہ:”حضرت ابو ہریرہ  نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ میری امت کو رمضان شریف کے بارہ میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی گئیں ہیں، جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں؟۱:․․․ یہ کہ ان کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے،۲:․․․ یہ کہ ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں، ۳:․․․ یہ کہ جنت ہر روز ان کے لئے آراستہ کی جاتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے...دنیا کی...مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آویں،۴:․․․ یہ کہ اس میں سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ا ن برائیوں تک نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں، ۵:․․․ یہ کہ رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے، صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ شبِ مغفرت، شب ِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں! بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم کرنے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہےاس اعتبار سے بلاشبہ رمضان المبارک اور اس کی عبادات، مسلمانوں کے سال بھر کے گناہوں اور گناہوں کے بوجھ کو مٹانے، ختم کرنے اور ان کو اپنے سرسے اتار پھینکنے کی ایک بہترین شکل ہے۔ رمضان اور مضان کی عبادات ،بلکہ اس کی ساعتوں کی برکات سے انسان کے گناہوں کی غلاظت کا کس طرح صفایا ہوتا ہے؟ اس کی ایک جھلک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں ملاحظہ ہو عن ابی ہریرة  قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم: من صام رمضان ایماناً واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ، ومن قام رمضان ایماناََ واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ، ومن قام لیلة القدر ایماناً واحتساباً غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔“ (مشکوٰة، ص:۱۷۳)ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرة رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو شخص ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو شخص ا یمان اور اخلاص کے ساتھ رمضان میں عبادت کرے، اس کے گزشتہ معاصی معاف کردیئے جاتے ہیں، اسی طرح جو شخص شب ِ قدر میں ایمان و اخلاص سے شب ِ قدر میں عبادت میں مشغول رہے ،اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔  گویا رمضان اور اس کی عبادات، انسان کے سال بھر کے، بلکہ زندگی بھر کے تمام گناہوں کے بوجھ سے چھٹکارے کا سبب ہے، دوسرے الفاظ میں ایک ایسا مسلمان جو نفس و شیطان کے بہکاوے میں آگیا تھا اور معصیت و گناہ کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کرچکا تھا، اس کو دعوت دی جارہی ہے کہ: ”باز آ، باز آ، ہر آنچہ ہستی باز آ“ مایوسی کی ضرورت نہیں ،دریائے رحمت جوش میں ہے، اس میں غوطہ لگاکر اپنے گناہوں کی غلاظت صاف کرکے دوبارہ محبوبِ بار گاہ الٰہی بن جایئے! چلتی ہو ئی گاڑی کو جب روکتے ہیں تو وہ فورا نہیں رک جاتیً   بلکہ اس کی رفتار آہستہ آہستہ سست ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ رک جا تی ہے یہی وہ قانون یے جس کو انرشیا کا قانون کیتے ہیں . اور اس قانون کا موجب نیوٹن نا می ساینس دان تھا اس کے مطابق"ایک جسم ریسٹ کی حالت کو اور موشن کی حالت کو اس وقت تک برقرار رکھتا ہے جب تک اس پر کو ئی بیرونی فورس عمل نہ کرے۔"اسی طرح سال کے گیارہ ماہ شیطان کی کمپنی میں انجوائے کرنے کے بعد جب رمضان میں شیطان کو بند کر دیا جاتا ہے تو ہمارا نفس شیطان کی کمپنی کو مِس کرتا ہے اور اس عارضی جدائی کا غم غلط کرنے کے لیے ہمیں رمضان میں بھی گناہوں اور معصیت کے کاموں کی طرف رغبت دلاتا رہتا ہے.رمضان وہ فورس ہے جس کے ذریعے ہم اپنے نفس پر قابو پا کر شیطان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔رمضان کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ رمضان کے اس تربیتی پروگرام کو رمضان کے بعد بھی فالو کرتے رہیں تاکہ اگلے برس جب رمضان آئے تو ہمارا نفس اتنا تربیت یافتہ ہو چکا ہو کہ وہ  گاڑی کی طرح گناہوں سے نہ رکے بلکہ بلب کی طرح فیوز ہو کر فوراً گناہوں سے رک جایا کرے. (انشاءاللہ)
   
 

( نکتہ چینی اور طاہر القادری ) Criticism and Tahir ul Qadri

usman aziz  
  


crticism by usman aziz ایک دفعہ کا ذکر ہے  ایک مصور نے ایک خوبصورت سی تصویر بنائی اور اس کو شہر کے مرکزی چوک پر رکھ دیا اور اس کے اوپریہ لکھ دیا کے ’’اگر اس  تصویر میں کو ئی غلطی ہو تو اس کے نشان دہی کر دی جائے ‘‘صبح  جا کر وہ اپنی تصویر کو دیکھتا ہے تو حیران اور  پریشان ہو جاتا ہے کوئی ایسی جگہ   تصویر میں، ایسی نہیں ہوتی جہاں پر نشان نہ لگا ہوا ہو ۔وہ اسی طرح کی حالت دیکھتا ہےاپنے اس فن پارے کی جس کو اس نے  بڑی مخنت سے تخلیق کیا ہوتا ہےتو بہت  افسردہ ہوتا ہے   اسی پریشانی کی حالت میں اور دلبرداشتہ ہو کر، ٹوٹے ہوئے دل سے تھکے ہارے ہوئے قدموں کے ساتھ واپس اپنی منزل کی  طرف جا   رہا  ہوتا ہے تو ایک بابا جی اس کو  رستے میں دیکھتے  ہیں اور پو چھتے ہیں اے  ا بن آدم کیا بات ہے  بہت پریشان نظرآ رہے ہوں اگر مجھے اپنا ہمدرد سمجھو تو اپنے دل کی بات  کہہ دو اس بات پر مصورنے  پورا ماجرا بتا دیا  تو بابا جی ہسنے لگے اور کہا کے اے آدم کے  بیٹے اس طرح کی  دوبارہ ایک تصویر بنا ؤ اور دوبارہ اس چوک  پر رکھ دو اور اس  پر یہ لکھ دو کے ’’اگراس میں کوئی  غلطی ہو تو اس کو ٹھیک کر د یں ‘‘جب  مصور اگلے دن جاتا ہے اور دیکھتا ہے اپنی تصویر کو حیران رہ جاتا ہے تصویر کے اپر ایک بھی نشان نہیں تھا وہ بابا جی کے پاس جاتا ہے اور پوچھتا ہے یہ ماجرا کیا ہے بابا جی کہتے ہیں اے ا بن آدم لوگ تنقید آسانی سے کر لاتے ہیں لیکن اصلاح کرنا ان کے لیے سب سے مشکل کام ہوتا ہے    ۔تنقید کرنا دنیا کا سب سے  آسان کام ہےلیکن غلطیوں کو درست ہر کوئی نہیں کر سکتا۔                                                                                                                              میں جب اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو  مجھے ہر طرف نکتہ چینی ہی نظر  اتی ہے .  ادھر والےادھر والوں پر  ادھر والے ادھر والون پر، مشرق والے مغرپ والوںپر،مغرپ والے مش ق والوں پر، افسران ملازمیں پر، ملازمیں افسران پر،طالبعلم اساتذہ پراور زساتذہ طالبعلمون پر ، الغرض زندکی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں رہنے والے ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہ کر رہے ہو۔اگر میں مللکی سیاست کی بات کرون تو حکمران اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لینے ہیں اور اپوزیشن والے حکمرانون کو ، ایک تماشہ سا لگا ہوا یے ، عوام پاکستان کو بے وقوف بنا یا جا رہا ہے ایک دوسرے کے ساتھ باریاں طے کر رکھی ہے پہلے میں بے وقوف بناتا ہوں پھر آپ بنانا                                                                                                                    ایسا  کیوںہو رہا ہےمین سوچتا ہوں تو مجھے بچپن کی سنی ہویی کہانی یاد آتی کیوں کہ تنقید کرناآسان اور اصلاح کرنا  مشکل ہے۔پھرمیں یہ سوچتا ہوں کیا آج کل کے زمانے میں ہر ایک تنقید  یا نکتہ چینی ہی کررہایے یاکوئی اصلاح بھی کر رہا بچپنن کی اس کہانی کے بابا جی کی طرح تو مجھے مملکت خداد پاکستان میں ایک ہی بابا جی نظر آتے ہیں جو نتقید کا شکار ہیں ، ملک پاکستان مین پسنے والا ہر شخص ان پر نکتہ چینی کرنا ثواپ کا کام سمجھتاہے وہ بابا جی مجھے طاہر القادری کی صورت میں نظر آرہے ہییں کیوں کہ وہ واحد شخصیت ہے جو عوام پاکستان کے مسائل کو نہ صرف اجاگر کر رہی یے بلکہ اس کا حل بھی پیش کر رہی ہے ان کے علاوہ تو ہر کویئ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہاہے کوئی حلقوں کی سیاست سے با ہر نہں آرہا تو کوئی میثاق جمہوریت کے نام پر عوام پاکستان کے ساتھ مذاق کر رہا ہے ۔                                                                                                                                                                   یہ میر ی ذاتی رائے ہے آپ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا آج کے دور کا بابا جی کون ہے۔  انتظار ہی کیا جا سکتا ہے تب تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                                                                                                                          ۔

           

Independance day ( آزادی کا دن)


خدا کرے میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
 
پاکستان کا قیام جمعہ کے دن، شب نزول قرآن مجید کے مہینے میں ہوا جب شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں.پاکستان کے قیام میں اللہ کی خاص رحمت شامل ہے. انشاءاللہ پاکستان قیامت تک زندہ و آباد اور قائم و دائم رہے گا. کوئی طاغوتی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی. دشمن کی کوئی چال کوئی حربہ پاک سر زمین کو نقصان نہیں پہنچا سکتا. ہم کل بھی آزاد تھے آج بھی آزاد ہیں اور اپنے رب کی عطا سے کل بھی آزاد ہونگے. آج ہم اس پاک سر زمین کے مرغزاروں، ریگزاروں، آباد قصبوں اور شہروں میں آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں. یہاں کی سر سبز و شاداب وادیاں ہمیں زندگی کے جبر سے بے خبر کئے ہوئے ہیں. اس کے دامن میں جاری دریا اور اس کی تہوں میں چھپے خزانے ہماری توانائیوں کے جواب میں اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہیں. یہاں کے پہاڑوں کی بلندیاں اور سمندر کی وسعتیں ہماری ہمتوں کی آزمائش کے لئے محو انتظار ہیں. اس خطہ ارضی کے دامن میں قدرت کے ان گنت عطیات پوشیدہ ہیں. لیکن افسوس ہماری تمام تر توانائیاں سہل انگاری کی نظر ہو گئیں، ہماری خوابیدہ صلاحیتں کسی معجزہ کے ظہور کا انتظار کر رہیں ہیں. لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سہل انگاری اور معجزوں کے تصور سے باہر نکلیں اور اپنے ان دشمنوں کو پہچانیں جنہوں نے ہمیں 67 برس تک قیام پاکستان کے اصل مقصد سے دور رکھا ہوا ہے.پاکستان ہمارے پاس اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک امانت ہے. یہ امانت ان شہداء کی ہے جن کا گرم لہو پاکستان کی بنیادوں میں شامل ہے. یہ امانت ہے ہماری آئندہ نسلوں کی جنہیں کل اس کا پاسبان بننا ہے. پاکستان ایک حقیت ہے یہ عطیہ خداوندی ہے ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیئے. آپ اپنے آپ پر غور کریں اور سوچیں کیا ہم اس عطیہ کی قدر کر رہے ہیں یا اس کا مذاق اڑا رہے ہیں. ہم جشن آزادی کیسے مناتے ہیں؟ کون سی ایسی غیر اخلاقی حرکت ہے جو ہم نہیں کرتے اگر آج ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں. آج اگر پاکستان ڈوب رہا ہے اور باطل اس قوم کی تباہی و بربادی پر ہنس رہا ہے تو اس کی وجہ ہمارے اعمال ہیں. 14 اگست کے دن سائیلنسر فری موٹر سائیکلوں کا بے ہنگم شور کانوں کے پردے پھاڑ دیتا ہے، نوجوان راہ چلتی لڑکیوں اور عورتوں کے سروں سے دوپٹے کھینچ کر لے جاتے ہیں. مادر پدر آزادی کے متوالے ایک پہیئے پر موٹر سائیکل چلا کر ماؤں کی گود ویران کر جاتے ہیں. بیہودہSMS کے ذریعے پاکستان کے وجود کا مذاق آڑایا جاتا ہے. باقی کسر یوم آزادی پر منائی جانے والی Special Nightsپوری کر دیتی ہیں. جب رات کے اندھیرے میں پاکستان کی عزت اور غیرت کے سودے ہوتے ہیں، شراب کو حلال کیا جاتا ہے اور آزادی کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے. کیا یہ سب باتیں اللہ تعالٰٰی کو پسند آئیں گی ان حالات میں ہم پر عذاب نہیں نازل ہوں گے تو کیا اللہ کی رحمت ہو گی
 ١٤اگست کا دن قریب ہے اب سے ٹھیک 67 سال قبل 14 اگست ہی کے دن برصغیر پاک و ہند کے مسلمان بےتحاشہ قربانیاں دے کر آلام و مصائب کے دریاؤں کو عبور کر کے ظلم و ستم کو برداشت کرکے آزادی کی نعمت سے ھمکنار ہوئے. آزادی یوں ہی نہیں مل جاتی آزادی بہت قیمت مانگتی ہے. تازیخ اٹھا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے ہر دور میں انسان نے اس کی قیمت ادا کی ہے. دنیا کے نقشے پر آزاد ممالک کا نام بے پایاں کٹھنائیوں ، قربانیوں اور دکھوں کے بعد تحریر ہوا ہے. الجزائر کے لوگ اس وقت تک منزل آزادی سے ہمکنار نہیں ہوئے جب تک بن نیلا کے بدن پر زخموں کے ستر نشان ثبت نہیں ہوئے. انڈونیشیا کی عوام کے لیے غلامی کی سیاہ رات اس وقت تک نیں بدلی جب تک انہوں نے اپنے زخمی ہاتھوں سے اپنے لہو کے چراغ نہیں جلائے اور پاکستان اس وقت تک نقشہ عالم پر نہیں ابھرا جب تک شہروں ، بستیوں ، گلیوں اور بازاروں میں خون کی ہولی نہیں کھیلی گئی. آزادی اللہ تعالٰی کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے. آزادی جنت جبکہ غلامی دوزخ ہے. کھلی فضاءوں میں سانس لینا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے. آزادی سے قبل دو سو سال تک مسلمان انگریز کے محکوم رہے انگریزوں نے ان سے آزادی کی دولت چھین کر ان کو اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا. انگریز نے اپنے دورحکومت میں مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے اور ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور ان کو اپنے بے پناہ ظلم و تشدد کا جس طرح نشانہ بنایا وہ ہر تاریخی شعور رکھنے والے شخص سے پوشیدہ نہیں.بہرحال مسلمان 14 اگست 1947 کو انگریز کی غلامی سے آزاد ہوئے. ان کو یہ آزادی بہت آسانی سے نہیں ملی ان کو یہ آزادی کیسے ملی اس کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر قائم کیا گیا اور برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں نے اس کی تعمیر و تشکیل کے لیے بیش بہا قربانیاں دیں ، در حقیقت پاکستان اسلام اور مسلم قومیت کی بنا پر معرض وجود میں آیا. جیسا کہ مولانا محمد علی جالندھری نے 8 مارچ 1944 ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طلباء و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہے کہ مسلم لیگ کو قائداعظم محمد علی جناح جیسا زیرک ، عقیل و فہیم ، راست باز ، نیک و کار ، بااصول ، محنتی ، مخلص، مستعد قائد نصیب ہوا ، جس نے اپنے ناخن تدبیر سے الجھے ہوئے مسائل کو سلجھا دیا. مسلم لیگ کی اس لحاظ سے بھی بہت بڑی کامیابی تھی کہ علمائے کرام کی بہت بڑی جماعت نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا بلکہ قائداعظم کے ساتھ شانہ بشانہ چلے. پاکستان محمد علی جناح کی شب و روز کی کوششوں اور ان کی مساعی جمیلہ سے معرض وجود میں آیا.
اونچا رہے یہ نشاں ہمارایہ چاند اور یہ تارہ