محمد بلال سندیسی

راولپنڈی ریلوے اسٹیشن اور ایک روپیہ کی اہمیت

پچھلے دنوں کی بات ہے کہ ہم چھ افراد کے گروپ کی صورت میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکسلا سے یونیورسٹی کی بس میں ٹیکسلا سے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن کیلئے روانہ ہوئے۔ رش زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ طلباء کھڑے ہو کر سفر کر رہے تھے۔ ان میں سے دو طلباء نے شرارت کی، اور ٹریفک پولیس کو کال کر کے بتایا کہ ہماری بس میں مقررہ تعداد سے زیادہ طلباء سوار ہیں۔ پھر کیا ہونا تھا؟ سنگجانی ٹول پلازہ پر بس کو روک لیا گیا۔ مختصراً یہ کہ طلباء کے اس شغل میں ہم ٹرین کے وقت سے صرف چھ منٹ لیٹ ہو گئے۔ میری سوچ کے مطابق ٹرین کو ابھی پلیٹ فارم پر موجود ہونا چاہئے تھا۔ میری اس سوچ کی وجہ یہ تھی کہ مجھے ٹرین پر سفر کئے کم از کم سات سال ہو چکے تھے۔ جب پلیٹ فارم پر پہنچے تو ٹرین پلیٹ فارم سے جا چکی تھی اور خالی پلیٹ فارم ہمارا منہ چڑا رہا تھا۔ بہت افسوس ہوا کہ ٹرین نکل گئی لیکن اس بات کی خوشی بھی ہوئی کہ ریل گاڑیوں نے وقت پر چلنا شروع کر دیا ہے۔ Click on image to enlargeہم اسی وقت اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ کے پاس گئے اور اپنا مسئلہ ان کے سامنے رکھا۔ انہوں نے ہم سے اظہار ہمدردی تو کیا لیکن ساتھ ہی سارے اصول ہمارے گوش گزار کر دیئے۔ پاکستان ریلوے کے اصول کے مطابق اگر آپ ٹرین کے وقت سے تین گھنٹے کے اندر اندر درخواست لکھ کر دے دیں تو آپ کو کرائے کا پچاس فی صد واپس ہو سکتا ہے۔ بادل نخواستہ آدھے پر گزارہ کرتے ہوئے ان سے مکمل طریقہ کار پوچھا ۔ TCR آفس (جس کو ہم جان بوجھ کر "ٹکر آفس" پڑھتے رہے) میں درخواست جمع کروائی، اور اپنے ٹکٹ کینسل کروائے۔ تاہم سفر کو جاری رکھنے کیلئے رات ساڑھے بارہ بجے کے ٹکٹ لے لئے۔سفر سے واپس آ کر ڈی سی او آفس میں اپنے آدھےکرائے کی واپسی کیلئے درخواست جمع کروائی۔ انہوں نے ہمیں دو ہفتہ کا وقت دیا۔ دو ہفتہ کے بعد جب میں دوبارہ دفتر میں گیا تو وہ میری ہی درخواست اپنے سامنے رکھے بیٹھے تھے۔ میرے استفسار پر کہنے لگے کہ کل تک آپ کی رقم مل جائے گی۔ میں نے سوچا کہ ایک دن کی بجائے پورے ایک ہفتہ بعد دوبارہ آنا چاہئے۔ ایک ہفتہ بعد جب دوبارہ گیا تو انہوں نے مجھے درخواست پر ایک روپیہ کا رسیدی ٹکٹ لگا کر اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ کے پاس جانے کا کہا۔ جب میں نے ریلوے اسٹیشن کے پوسٹ آفس  میں جا کر پانچ روپے دے کر رسیدی ٹکٹ دینے کا کہا تو وہ صاحب کہنے لگے کہ مجھے صرف ایک روپیہ چاہئے، جبکہ میرے پاس ایک روپے کا سِکّہ موجود نہیں تھا۔ اس وقت مجھے ایک روپے کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ جب ایک دکاندار کو جا کر پانچ روپے کی ریزگاری دینے کا کہا تو وہ بھی مجھ پر ہنسنے لگا۔ میں نے جواباً اس کو یہ کہا کہ آج مجھے اس ایک روپیہ کی قدر محسوس ہوئی ہے۔ اس نے بھی میری اس بات سے اتفاق کیا۔رسیدی ٹکٹ لے کر اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا ، درخواست پر دستخط اور مہر لگوائی۔ وہاں سے نکل کر پلیٹ فارم ٹکٹ آفس سے اپنی رقم حاصل کی۔ ایک بات بتاؤں؟ ہمارے ٹکٹوں کی رقم 2042 روپے تھی ، جس کا نصف 1021 روپے بنتے ہیں۔ انہوں نے مجھے 1020 روپے دیئے لیکن ایک روپیہ نہیں دیا۔اس تمام بھاگ دوڑ کے دوران میں نے ایک بات کو نوٹ کیا کہ ریلوے کا نظام کافی بہتر ہو چکا ہے۔ تقریباً تمام ملازمین وقت پر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ایک ملازم کام میں دلچسپی نہ لے رہا ہو تو دوسرے ساتھی اس کو ٹوکتے ہیں اور کام وقت پر کر کے دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ سمیت تمام افسران کام وقت پر نہ کرنے یا مسافر کو پریشانی اٹھانے کی صورت میں معذرت اور ہمدردی کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔ بہرحال یہ میرا تجزیہ ہے، آپ کا تجربہ اور تجزیہ مجھ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ریلوے ملازمین تو اپنا کام دلجمعی سے سر انجام دے رہے ہیں لیکن اس پیچیدہ اور فرسودہ نظام کو آسان بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایک دفتر میں پیشی سے ہی آپ کا کام ہو جائے، اور مختلف دفتروں کے چکر لگانے کی ضرورت نہ پڑے۔کچھ فرصت ملی تو ٹکٹ کی واپسی کا طریقہ کار بھی آپ کو بتاؤں گا انشاءاللہ

ڈرائیونگ: ایک سیکنڈ فارمولہ

ایک سیکنڈ فارمولہ کیا ہے؟ اس تحریر میں ہم ڈرائیونگ کے ایک سیکنڈ فارمولے کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایک سیکنڈ فارمولہ یہ ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران آپ کی نظر اپنے سامنے کی سڑک پر ہونی چاہئے۔ اس کے علاوہ آپ نے جہاں بھی دیکھنا ہو، اس کا دورانیہ ایک سیکنڈ سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔آپ درمیان کے آئینے پر نظر ڈالنا چاہتے ہیں، اطراف کے آئینے سے پیچھے کی گاڑیوں کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں، ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے شخص کی طرف دیکھنا چاہتے ہیں،تو ایک سیکنڈ سے زیادہ وقت نہ لگائیں۔ 

سِول نافرمانی

سول نافرمانی اتنی سیدھی سادھی چیز نہیں ہے۔ ہماری عوام کو معلوم ہی نہیں کہ سول نافرمانی میں مکمل طور پر حکومت کی بغاوت کی جاتی ہے، صرف ٹیکس نہ دے کر پُرامن سول نافرمانی۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی۔

روشنی کے مینار

عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ، خلیفۂ وقت سلیمان بن عبدالملک کے چچا زاد بھائی تھے اور اس کے پیشرو ولید بن عبدالملک کے زمانے میں مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔ اپنی جوانی اور عہدِ اَمارت میں وہ ایک صاحبِ ذوق، امیرانہ مزاج اور نفیس طبع نوجوان تھے۔ جس راستے سے گزرتے تھے، دیر تک اس کی مہک بتلاتی تھی کہ اِدھر سے عمر گزرے ہیں۔ ان کی چال مشہور اور نوجوانوں کا فیشن تھی۔ سوائے طبیعت کی سلامتی، حق پسندی اور فطری نیک مزاجی کے اُن میں کوئی ایسی علامت نہ تھی، جس سے ثابت ہو کہ وہ تاریخِ اسلام کا نہایت اہم کام انجام دینے والے ہیں۔لیکن ان کی ذات سر تا پا اسلام کا اعجاز تھی۔مسندِ خلافت پر قدم رکھتے ہی ان کی زندگی بدل گئی۔ پہلا کام جو کیا ، وہ سخت،ظالم اور خدا نا ترس عُمّالِ حکومت کی معزولی تھا۔ ان کے سامنے شاہی تزک و احتشام کا جو سامان پیش کیا گیا، اس کو بیت المال میں داخل کر دیا۔ غلاموں اور باندیوں کو تحقیق کے بعد اُن کے خاندانوں اور شہروں کو واپس کر دیا۔ مظالم کا تصفیہ کیا اور اپنی مجلس کو جس نے قیصر و کسرٰی کے دربار کی حیثیت اختیار کر لی تھی، سُنّت اور خلافتِ راشدہ کے نمونے پر سادہ اور سنت کے مطابق بنایا۔ اپنی جاگیر مسلمانوں کو واپس کر دی۔ یہاں تک کہ بیوی کا زیور بھی بیت المال میں داخل کر دیا۔

اِسلام اور وطن


وطن سے محبت رکھنا اور اس کی عزت کے لئے مرنا مسلمانوں کے لئے جزوِ ایمان ہے، مگر وطنیت اس وقت اسلام سے ٹکراتی ہے جب یہ ایک سیاسی تصور کی حیثیت سے کام کرتی ہے اور انسانی اجتماعیت کا اصول ہونے کا دعوٰی کرتی ہے اور وہ بھی اس مطالبے کے ساتھ کہ اسلام پیچھے ہٹ کر محض ایک انفرادی رائے کی حیثیت سے پس منظر میں چلا جائے اور قومی زندگی میں ایک عامل کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔( تقریر و فرموداتِ اقبال ۔ صفحہ 141)

انعام بھی، سزا بھی


کسی شخص نے ہارون الرشید کے دربار میں ایک حیرت انگیز کرتب دکھانے کی اجازت چاہی۔ اجازت مل گئی تو دربار میں حاضر ہو کر فرش کے بیچوں بیچ ایک سوئی کھڑی کر دی اور کچھ فاصلے پر کئی سوئیاں ہاتھ میں لے کر کھڑا ہو گیا۔ پھر اس نے ایک سوئی اٹھائی اور فرش پر کھڑی ہوئی سوئی کا نشانہ لیا۔حاضرین کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی ، جب انھوں نے دیکھا کہ یہ دوسری سوئی کے ناکے میں داخل ہو کر پار ہوچکی ہے۔ اس طرح اس نے تقریبًا دس سے زائد سوئیاں پھینکیں، اور سب کی سب پہلی سوئی کے ناکے سے پار ہو گئیں۔ہارون الرشید نے جب یہ حیرت انگیز کمال دیکھا تو حکم دیا:- "اس شخص کو دس دینار انعام میں دیئے جائیں اور دس کوڑے لگائیں جائیں"۔ حاضرین نے اس عجیب و غریب انعام کی وجہ پوچھی تو ہارون الرشید نے کہا:- "دس دینار اس شخص کی ذہانت اور نشانے کی سچائی کا انعام ہے اور دس کوڑے اس بات کی سزا ہیں کہ اس نے اپنی خداداد صلاحیتیں اور قیمتی وقت ایک ایسے کام میں صرف کیا، جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں"۔(از: اسلام اور جدت پسندی، صفحہ نمبر 47)

آغاز ہے بسم اللہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیمتعریف اللہ سبحانہٗ وتعالٰی کی، درود حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم پر، اور سلام ہو اللہ کے تمام بندوں کو۔.میں اپنے اس بلاگ کا آغاز کر رہا ہوں۔ اللہ سے دعا ہے کہ میں اس کو جاری رکھ سکوں