دیس کی بات (عتیق الرحمٰن)

سعد رفیق سے معذرت کے ساتھ


کسی یورپی ملک کا قصہ نہیں بلکہ یہ مکروہ کھیل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پوری دیدہ دلیری کے ساتھ کھیلا گیا اور کھیلا جارہا ہے ۔اس کہانی کا ہر لفظ ہماری بے حسی سے تعبیر ہے اور اس کو سن کر ، دیکھ کر ، سمجھ کر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے ۔ یہ دھرتی جو بے پناہ قربانیوں کے بعد اس لیے حاصل کی گئی تھی کہ یہاں اسلام کا بول بالا ہوگا مگر کون جانتا تھا کہ یہاں سب سے زیادہ مشکل میں ہی اسلام پسند طبقہ ہوگا ۔12 فروری 2014 ء کو بعض قومی اخبارات میں ایک خبر نظر سے گزری یہ خبر پڑھ کر میں ششدر رہ گیا ۔ اس ہولناک خبر کا خلاصہ یہ تھا پاکستان ریلوے کے ساتویں یونٹ پراکس میں باپردہ خواتین کے پردے پر ایم ڈی آفتاب اکبر کو اعتراض ہے مذکورہ ایم ڈٰ ی کے زبانی احکامات پر عمل در آمد نہ کرنے کی پاداش میں تین خواتین کو سخت عتاب کا نشانہ بنایا گیا ۔بہ طور اخبار نویس مجھے اس خبر پر سخت تشویس تھی اس کی ہولناکی کا اندازہ تھا اگر چہ یہ خبر پاکستان کی انتہائی معتبر نیوز ایجنسی نے جاری کی تھی ۔ لیکن اس کے باوجود اس کی تحقیق اس لیے ضروری تھی کہ وزارت ریلوے کا قلمدان خواجہ سعد رفیق کے پاس تھا جن کا تعلق اس خاندان سے تھا جس کی اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں میں دنگ تھا کہ خواجہ رفیق شہید کے بیٹے کی ناک تلے یہ شرمناک کھیل کیسے ممکن ہے ۔صحافت میں تحقیق ایک کھٹن مرحلہ ہے ہر لمحہ بدلتی صورتحال نے اخبار نویسوں کو اس قدر مصروف کردیا ہے کہ بسا اوقات تو خبر کا فالو اپ بھی دکھائی نہیں دیتا لیکن یہ اس قدر نازک مسئلہ تھا کہ میں نے انتہائی غیر جانبداری سے تمام حقائق کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور تقریباً پورے دو سال ایک ادارے کے معاملات پر نظر رکھے رہا ۔ دوران تحقیق ہولناک کرپشن سمیت کئی ایسے پہلو میرے سامنے عیاں ہوئے کہ میرے چودہ طبق روشن ہوگئے ۔ پاکستان ریلوے کے اس منافع بخش یونٹ کو ایک سازش کے ذریعے جس طرح تباہ کیا جارہا ہے ۔ اور سینکڑوں ملازمین سے رزق چھین کر پراکس کے اثاثوں کو لپیٹ کر اسے تالے لگانے کے جس منصوبے پر باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ کام ہورہا ہے اس پر آئندہ کسی کالم میں پوری تفصیل سے لکھوں گا۔ میری تحقیق سے کچھ مزید ہولنا ک حقیقتیں بھی سامنے آئیں ۔ فروری 2014ء میں آفتاب اکبر نامی شخص نے پراکس کے ایم ڈی کا چارج سنبھالتے ہی پردے کا مذاق اُڑایا اور زبانی احکامات جاری کیے کہ ہیڈ آفس کی باپردہ خواتین مجھے دکھائی نہ دیں ۔ان احکامات پر آفس کی تین باپردہ خواتین نے احتجاج کیا اور اسی دفتر کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل شکیل نامی شخص نے بھی ایسے احکامات کو غیر قانونی اور غیر شرعی قراردیا جس پر مذکورہ افسر نے حکمت عملی بدل دی اور اب ان خواتین اور ان کی حمایت کرنے والے افسر کی شامت آگئی ۔ ایک خاتون کو حیلے بہانے سے ملازمت سے ہی برطرف کردیا گیا ۔ باقی دونوں باپردہ خواتین کی ٹرانسفر ایسے مقامات پر کردی گئی جہاں انہیں پبلک ڈیلنگ کرنی تھی ۔آفتاب اکبر کی ٹرانفسر کے بعد یہ کھیل وقتی طور پر رک گیا اس دوران کئی ایم ڈی آئے اور ٹرانسفر ہوئے ان میں بعض افسران انتہائی نیکنیت اور ایماندار بھی تھے تاہم اسی دوران شکیل نامی ڈپٹی ڈائیریکٹر کوبھی ملازمت سے برخواست کردیا ۔اگست 2016ء میں آفتاب اکبر کو ایک بار پھر ایم ڈی پراکس تعینات کیا گیا اس نے اپنا مکروہ کھیل دوبارہ شروع کردیا ہے ۔ ایک طرف تو اس منافع بخش یونٹ کی تالہ بندی کی تمام تیاریاں آخری مراحل میں ہیں دوسری طرف راولپنڈی ریلوئے سٹیشن انکوائری اور بکنگ پرتعینات خواتین کو یونیفارم کے نام پر بے پردہ کردیا گیا ہے ۔ماضی میں صدائے احتجاج بلند کرنے والی باقی ماندہ دوخواتین کو ملازمت سے برخواست کرنے کیلئے بے جاتنگ کرنا شروع کردیا گیا ہے ۔میں اپنی اس ساری تحقیق کے بعد انتہائی حیران اور پریشان ہوں کہ اس دیس میں مادر پدر آزاد خواتین کیلئے تو آئے روز قانون سازی ہوتی ہے ۔ہمارے حکمرانوں ان کے حقوق کیلئے مرے جارہے ہیں لیکن اسلامی شعائر کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے کی خواہش مند خواتین کیلئے تو ملازمت کے مواقع تک ختم کیے جارہے ہیں ۔ دیگر اداروں میں بھی یقیناًباپردہ خواتین ایسے ہی مسائل کا شکار ہونگی مگر انتہائی معذرت کے ساتھ خواجہ سعد رفیق سے گزارش ہے کہ آپ کے زیر سایہ اداروں میں بھی اگر یہی سب کچھ ہونا ہے تو پھر ہم کسی اورسے کیا گلہ کریں ۔آزادی ٹرین پر دادیں سمیٹنے والے وزیر موصوف کا ش یہ جان لیتے کہ یہ آزادی اصل میں ہے کیا ؟ یہ آزادی مسلمانوں نے اس لیے حاصل کی تھی کہ وہ اسلامی اقدار کے مطابق آزادی سے اپنی زندگی بسر کرسکیں گے ۔وزیر موصوف کو اپنے نام کے حصے خواجہ اور رفیق کا بھر م ضرور رکھنا چاہیے ۔میں نے گزشتہ روز ایوان بالا اور زیریں میں بیٹھے علماء اور وفاق ہائے مدارس کے احباب سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں اور دیگر علمائے کرام سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کریں ۔

’’ نالا‘‘ (انشائی تحریر)


’’نالا‘‘کاایک مطلب گریہ و زاری ہے۔اس مطلب میں علامہ اقبال کے ہاں ’’نالا‘‘کابہت استعمال ہے۔اس نے مسلمانوں کی عظمت گزشتہ پر بہت نالا و فریاد کیاہے۔خاص طورپردورغلامی میں علامہ کاجنم اس کی خاص وجہ بنی۔اپنے کلام میں نالا کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جب تک تو دورجام مجھ تک پہنچاہے تب تک تو وہ محفل ہی برخواست ہو چکی ہے۔بانگ دراکی متعدد نظمیں انہوں نے مسلمانوں کی بدحالی پر نالا و فریاد کرتے ہوئے گریہ و زاری میں لکھی ہیں۔وہ امت مسلمہ کوایک گلستان سے تعبیر کرتے ہیں اور دورغلامی کواس گلستان میں خزاں کامصداق سمجھتے ہوئے خود کوایک بلبل قراردیتے ہیں جوہمہ وقت اس گلستان کی بربادی پر نالہ کناں ہے۔ اقبال نے اپنے نالے میں زوال کے بہت سارے تجزیے پیش کیے ہیں،دورغلامی کی بہت ساری وجوہات بیان کی ہیں اوراسی نالے کی آڑمیں وہ مسلمانوں کو درس عبرت بھی دے گئے۔بلبل کو ایک نغمہ اور خوشی کے گیت گانے والا پرندہ سمجھاجاتاہے لیکن اقبال کے ہاں یہ خوشی کے راگ الاپنے والا پنکھی اب ’’نالا ‘‘پر مجبور ہے اور ہمہ وقت امت کی حالت زار پرنوحہ کناں ہے ۔علامہ نے اس نالا کنائی پر فرزندان توحیدکو نیند سے بیدارکرنا چاہا ہے اور اس کے بعد امید کی کرن بھی دکھائی ہے کہ اگر اس نالا کی روشنی میں تجدیدسفرکیاجائے اور رکے اور تھمے ہوئے کاروان کو باردیگرجادہ پیماکیاجائے توکچھ بعید نہیں کہ عظمت گزشتہ ایک بارپھر امید بہارنومیں تبدیل ہوجائے اور بلبل کایہ نالا گلشن میں بادبہاری کا باب امید واکردے۔’’نالا‘‘ کے بعد نون غنہ کے اضافہ سے لفظ’’ نالاں‘‘ بھی بنایاجاسکتاہے۔’’نالاں‘‘کامطلب ناراض اور خفاہونا ہے۔شاعرہمیشہ اپنے محبوب سے ’’نالاں‘‘رہتاہے اور جب بھی محبوب سے ملاقات ہوتی ہے تو شکایات کے انبار لگادیتاہے۔عاشق کو کبھی کبھی محسوس ہوتاہے کہ اس کا محبوب بھی اس سے ’’نالاں‘‘ہے،تب وہ اپنے محبوب سے مزید نالاں ہوجاتاہے اور اسے کہتاہے کہ ہم نے تمہارے کتنے ناز نخرے اٹھائے اور تم پھر بھی نالاں ہو کہ ہم نے تمہاراحق ادانہیں کیا۔گویا’’نالا‘‘کے ساتھ نون غنہ کااضافہ شاعر اوراس کے محبوب کے لیے کوئی اچھاشگون ثابت نہیں ہوئے اور ’’نالاں‘‘کاہروقت’’نالا‘‘ان کے لیے روا ہوگیا۔محبت میں ’’نالاں ‘‘ہوجانا اس لیے بھی ضروری ہے محبت کے قابل صرف خدا کی ذات ہی ہے ،جب انسان کسی غیرخدا سے محبت کرے گاتو اس سے خداجیسی توقعات ہی لگابیٹھے گااورجب وہ توقعات پوری نہیں ہوں گی تو’’نالاں‘‘کاعمل شروع ہوجائے گا جس سے کل زمانے کا شعری ادب بھرا پڑاہے۔اگرچہ بعض لوگ تو خداسے بھی ’’نالاں‘‘نظر آتے ہیں اور اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ وہ خداکومحبوب کی بجائے اپنا عاشق سمجھ بیٹھتے ہیں اور عاشق کا کل تاریخی کردار’’نالاں‘‘سے ہی عبارت ہے۔’’نالا‘‘کاایک اور مطلب پانی کی گزرگاہ بھی ہے۔اس کے ساتھ سابقوں اور لاحقوں کے اضافے سے پانی کی گزرگاہ کی ہیئت اور کمیت میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔مثلاََ ’’نالا‘‘سے پہلے ’’پر‘‘لگادینے سے نالا اڑنے تو نہیں لگ لیکن یہ ’’پرنالا‘‘بن جاتاہے جس کا مطلب چھتوں پر لگاہواپانی کے اخراج کا راستہ ہے۔جب بھی چھت بنائی جاتی ہے تواس کابہاؤ پرنالے کی طرف رکھاجاتاہے تاکہ پانی دوڑتاہوا ڈھلوان کی طرف چلاجائے اور چھت سے خارج ہوجائے ۔اس فارمولے کے تحت پانی اسی طرح نیچے کی طرف چلاجاتاہے جس طرح بڑوں کاغصہ چھوٹوں کی طرف منتقل ہوجاتاہے۔اگر’’نالا‘‘پہاڑوں کے درمیان ہو تو اسے ’’پہاڑی نالا‘‘کہتے ہیں یا’’رودکوہی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہاڑی نالا دراصل پہاڑوں کی گریہ و زاری ہے ،اس لیے کہ ’’نالا‘‘کااصل مطلب تویہی ہے۔پہاڑ پر برف جمے یابارش ہو،دونوں صورتوں میں اس سے آنسوجیسے قطرے ٹپکتے ہیں جو گریہ کرتے ہوئے پہاڑی نالے میں بدل جاتے ہیں۔گویایہ بے جان مخلوق بھی اپنے خلاق کے سامنے گریہ شکراداکرتی ہے۔اگر پانی کی گزرگاہ کسی خوبصورت وادی سے ہو شاعر اورادیب لوگ اسے’’ندی نالے‘‘کانام دیتے ہیں اور مصورحضرات اپنی تصویروں میں جب کسی خوبصورت مقام کا نقشہ کھینچتے ہیں تواس میں بہتے پانی کا ’’ندی نالا‘‘ضرور دکھاتے ہیں۔ندی نالے کابہناخوشحالی اور تونگری کی نشاندہی کرتاہے جب کہ اگرندی نالے خشک ہوجائیں تویہ بری دنوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔اگر یہی پانی کی گزرگاہ کسی شہر کے اندر ہو اس پانی سے بدبو کے جھونکے برآمد ہو رہے ہوں تو اسے ’’گندانالا‘‘ کہتے ہیں جس میں سارے شہر کا استعمال شدہ پانی شہر سے باہر نکال دیاجاتاہے۔جب کبھی بارش ہوتی ہے تو اس ’’گندے نالے‘‘کا ظرف کم پڑ جاتاہے اور گنداپانی اسی طرح گھروں کے گٹروں سے ابلنے لگتاہے جس طرح دنیابھر کی غلاظت سے بھری تہذیبی یلغارگھروں میں گھس کر ہماری ثقافت کو بھی بدبوداربنانے میں لگی ہے،لیکن جس طرح بارش تھمتے ہی یہ مغلظ پانی اپنی اوقات میں لوٹ جاتاہے اسی طرح بہت جلد یہ آلودہ وبدیسی تہذیبی یلغاربھی اپنے نشیب کوسدھارچکے گی۔’’نالا‘‘کاایک اور مطلب ازاربندیاکمر بندبھی ہے۔یہ رسی کی طرح کی ایک پرتکلف ڈوری ہوتی ہے جسے پاجامہ یاسلوار کے نیفے میں پرو کر کمر سے باندھ دیاجاتا ہے اور اس طرح لباس کایہ حصہ جسم سے الگ نہیں ہوپاتا۔جب کبھی یہ کپڑااتارنامقصود ہوتو اس نالے کو ڈھیلا کر دیاجاتا ہے ۔جس صنم کی کمر بہت پتلی ہوتی ہے یاہوتی ہی نہیں توہمیں کیامعلوم کہ وہ نالا کہاں باندھتے ہوں گے۔ایک زمانے میں خواتین کے پراندے اور نالے بہت قسم کے سستے ،مہنگے،ریشمی،سوتی ،چم چم کرتے لش پشی اور ٹیپ ٹاپ والے دیدہ زیب اور نہ معلوم کیسے کیسے ہوا کرتے تھے۔اب پراندے تو دیہاتوں تک ہی محدود ہوگئے اور نالوں کے بارے میں ہماری معلومات محدودہیں۔نالا کو سلوار میں ڈالنے کے لیے ایک ’’نالہ پانی‘‘بنائی جاتی ہے جس کی دم سے نالا باندھ کر سلوار کے نیفے سے گزاراجاتاہے۔اس نالہ پانی کو ’’نالہ بندی‘‘یا’’کمربندی‘‘یا’’ازاربندی‘‘بھی کہتے ہیں بعض علاقوں کی مقامی زبان میں اس کو مختصراََ’’کلی‘‘بھی کہاجاتاہے۔بعض یارلوگ یہ کام اپنے قلم یا دانتوں کی صفائی والے برش سے بھی لے لیتے ہیں،جبکہ بازاروں میں رنگ برنگی ،مختلف دھاتوں اورخوشبودارلکڑی یا جانور یاپرندے کے کسی خوبصورت حصے سے بنی ’’نالہ پانیاں‘‘بھی دستیاب ہوتی ہیں،اس طرح کی نالہ پانیاں جہیز میں بھی دی جاتی ہیںیا پھر مہمان خانے کی دیوارپر آویزاں ہوتی ہیں۔بعض لوگ نالے کی جگہ الاسٹک بھی استعمال کرتے ہیں۔اس صورت میں نالاکھولنے یا باندھنے کے تکلف سے نجات مل جاتی ہے ۔عموماََ بچوں کے زیرجامہ میں الاسٹک ہی ڈال دیاجاتاہے ۔ہمارے ایک دوست کی شادی ہوئی اور جب وہ اپنے سسرال رہنے گئے تو انہیں شب باشی کے لیے سلوار تھما دی گئی۔وہ ان کے سسر حضورکی سلوار تھی۔واپس آکر انہوں نے ہمارے کان میں سرگوشی کی کہ اس سلوارمیں الاسٹک ڈلا ہواتھا،اس پر ہمارے صحبت کشت زعفران بن گئی۔اب یہ نہیں معلوم کہ وہ بزرگوارصرف رات کے زیرجامہ میں الاسٹک استعمال کرتے تھے یادن میں بھی ان کی یہی عادت تھی۔زیرجامہ کے نالے کو ڈیڑھ گرہ لگائی جاتی ہے تاکہ ایک پہلوکھینچ کر آسانی سے کھولا جاسکے۔لیکن اگر دو گرہیں لگ جائیں یا نالا کھولتے ہوئے اس کا ایک پہلو نیفے میں ہی داخل ہو جائے تو کوفت کاایک کوہ گراں آن گرتاہےْ پہلی صورت میں نالے کاکھلنا محال اور دوسری صورت میں نالے کی تلاش محال۔انگریزنے اس کا حل بیلٹ کی صورت میں نکال لیاہے۔ہم نے سنا ہے کہ دورجدیدمیں دلہن کی سہیلیاں اس کے نالے کو بہت ساری گرہیں لگادیتی ہیں،اس کا پس منظرتوسمجھ میں آجاتاہے لیکن اس بات میں کتنی صداقت ہے ؟؟اس پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریک حقوق نسواں سے خوف آتاہے۔دھوتی،چادریالنگی پہننے والے غم نالا گیری سے آزاد ہو جاتے ہیں اور وہ اپنی چادر کے ہی دو پلووں کو آپس میں جوڑ کر نالے کاکام نکال لیتے ہیں۔نالے کے ان تمام معانی کو سامنے رکھتے ہوئے ایک حکایت جنم لیتی ہے ،جس میں گریہ و زاری،پانی کی گزرگاہ،نالاں ہونااورزیرجامے کاازاربند سبھی شامل ہوجاتے ہیں۔قدیم زمانے کی بات ہے جب بسیں چلنا شروع ہوئی تھیں توایک خاتون خانہ نے شوہر کے کپڑے دھوئے لیکن سہواََنالا دھلنے سے رہ گیااور گندانالا ہی اس کی سلوار کے نیفے میں پرودیاگیا۔اس آدمی کو شہر کسی کام سے جانا تھا ،شام کوپلٹاتو وہ اپنی زوجہ سے نالاں تھا اور اس نے اپنانالا ان الفاظ میں بیان کیا کہ تمہاری وجہ سے مجھے دومیل پیدل چلنا پڑا ہے۔بیوی نے وجہ دریافت کی تو شوہر نے بتایا کہ ہمارے اڈے سے دومیل پہلے ہی بس کے لڑکے نے آواز لگا دی تھی کہ گندے نالے والے اتر جائیں۔

دہشت گردی کے ذمہ داران۔۔۔انتظامیہ اور حکمران


سول حکومت ہمہ قسم مسائل سے نمٹنے کی ذمہ دار ہے جب پاک فوج سے مل کر ایک پلان مرتب کرلیا گیاتو پھر اس میں کوتاہی تو انتظامیہ اور سویلین اداروں کی طرف سے ہی ہو تی ہے کہ وہ اس ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل در آمد نہیں کرتے ایسی کوتاہی قومی جرم قرار دی جانی چاہیے اور ذمہ دار خواہ وہ کسی بڑے سے بڑے حکومتی عہدہ پر ہی متمکن کیوں نہ ہوں سخت احتساب کے قابل ہیں تاکہ کوئٹہ جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔مگر ادھر سویلین حکمرانوں کو اپنے آپ کو پانامہ لیکس سے کلئیر کروانے کی دھن سوار ہے اس لیے انھیں کیا پرواہ ہے وہ تو سینکڑوں حفاظتی حصاروں میں مقید ہیں جہاں دہشت گردوں کی گرد بھی نہیں پہنچ سکتی مگر خدا تعالیٰ دیکھ رہے ہیں جو بڑے منصف اور پوری کائنات کے اصلی حکمران و بادشاہ ہیں اگر کسی دنیاوی 'بادشاہت 'کے دوران بیچارے غیر مسلح وکلاء،سول سوسائٹی کے افراد ،بچوں کے سکول و پارک ٹارگٹ ہوکر ہلاکتیں ،شہادتیں ہوتی رہیں تو ایسی سبھی دہشت گردانہ وارداتوں کے ذمہ دار حکمران ہی ہوتے ہیں کہ حضرت عمرؓنے فرمایہ تھا کہ اگر ایک کتا بھی دریا کے کنارے بھوکا مرگیا تو روز محشر میں ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاؤں گا۔خلفائے راشدین کے دور میں قحط پڑ گیا تو کھانے پینے کی اشیاء کی معمولی چوریوں پر قطع ید یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا معطل کرڈالی گئی اور حضرت علیؓ کا فرمان کہ"جو لوگ بھوکوں مرتے ہیں وہ غلہ گوداموں پرپل کیوں نہیں پڑتے"دہشت گردی کا اصل توڑ تو انتظامیہ اور پولیس کے ذمہ ہوتا ہے وہ آجکل عیدیاں بنانے کے غلیظ گھن چکروں میں مصروف ہیں اور ٹریفک پولیس نے تو ات مچائی ہوئی ہے ہر سواری خواہ وہ بار برادری کی ہو یا انسانی سفر والی روک کر عیدی مانگتے ہیں۔جو پہلے "نذرانہ"پیش کیا جاتا تھا جب وہی رقوم اب بھی دی جاتی ہیں تو ٹریفک والے لینے سے انکار کردیتے اور فرماتے ہیں کہ" اسیں بکرا نہیں لینااسی وی قربانی کرنی ایں"خدا کے بندوں سے کوئی یہ پوچھے کہ یہ حرام روزی سے خریدا گیابکرا ذبح ہوا تو یہ واقعی ثواب ہوگا ؟ یا اس طرح مزید گناہ گار قرار پائیں گے؟کہ "رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں" مگر صنعتکار حکمرانوں کے اس سیاہ دور میں رشوت ستانی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ صنعتکار حکمران اور ان کے عزیز و اقارب دوست احباب ،ان کی دیکھا دیکھی دیگروزراء و مقتدر شخصیات کروڑوں کا مال پانی بنا رہے ہیں اور بیرون ممالک پلازے فلیٹس خرید رہے ،پانامہ لیکس کی جگہ کسی اور جگہ لیکس میں مال دھڑا دھڑ جمع ہورہا ہو گا۔ اور چونکہ سبھی بڑی مقتدر سیاسی جماعتوں اور نام نہاد اپوزیشنی راہنماؤں کے ہاتھ اسی سرمایہ بناو مہم میں گرد آلود ہیں اس لیے احتساب تو کیا ہو گا ایک دوسرے کو بچانے کے لیے تگ ودو جاری ہے۔پورے ملک کا وڈیرہ انگریز کے ٹوڈی پالتوجاگیردار اور نو دولتیے سود خورسرمایہ دار طے کیے ہوئے ہیں کہ سبھی بڑی پارٹیوں کو بھاری چندہ لگا کر گھس جاناہے اوراہم عہدوں پر فائز ہو کرپارٹی کو اپنی من مرضی سے چلانا اور اس طرح مزید کروڑوں ڈالروں کا کاروبار چمکانا ہے۔اکا دکا کو چھوڑ کر سبھی بڑی پارٹیاں سیاست نہیں بلکہ امارت کے لیے کو شاں ہیں مال بناؤ اور بیرون ملک ڈمپ کردو یہی اصل پرو گرام ہے اچھا کھاؤ اچھا پہنو اچھا کماؤ یہی ماٹو بن چکا ہے غریب پس رہا ہے پچپن فیصد سے زائد کے گھروں میں دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ۔ 72فیصد افراد غربت کی لکیر کے نیچے گزر بسر کررہے ہیں ۔دنیا کے غلیظ ترین سودی نظام جس کے سبھی سویلین حکمران اور نام نہاد اپوزیشنی راہنمایان ہمیشہ ہی محافظ بنے رہتے ہیں اس نے امیرکو امیر تر اور غریب کو غریب تر کرڈالا ہے۔ اور محمدﷺ کا فرمان کہ سود سے غربت بڑھتی ہے بجا ہے ۔معاشی تفاوت کے بڑھنے سے طبقاتی کشمکش بڑھ جاتی ہے لو گ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں غریب خودکشیاں اور خود سوزیاں کرتے اور امیر خمر و شراب و کباب میں مشغول ہو کر غریبوں کی طرف توجہ ہی نہیں کر پاتے اسی سے دہشت گردی بھی فروغ پاتی ہے کہ غریبوں کو ایک "اچھا کاروبار" مل جاتا ہے کہ یہ کام کرو اور اتنا مال خواہ پہلے ہی وصول کرلو۔اگر ہم معاشی دہشت گردوںیعنی وڈیروں جاگیرداروں سود در سود وصول کرنیوالے صنعتکاروں کو بھی مکمل احتسابی عمل سے گزارتے رہیں گے تو دہشت گردی بھی فروغ نہ پاسکے گی معاشی ناہمواریوں کا خاتمہ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ میٹرو بس چلانا ۔کہ اگر ایسے اربوں روپے ہڑپ کر جانے والی اور کروڑوں کک بیکس وصول ہونے والی سکیمیں نہ بھی ہوں گی تو کیا پہلے لوگ سفر نہ کرتے تھے۔کیا وہ خود کو پر لگا کر آسمان میں اڑ کر دوسری جگہ پہنچتے تھے ؟ہر گز نہیں ۔مگر"ٹڈنہ پئیاں روٹیاں تے سبھے گلاں جھوٹیاں"کی طرح غربت مکاؤ سکیم چلانے کی جگہ حکمرانوں نے 69سال سے غریب مکاؤ مہم چلا رکھی ہے۔ ذراسوچئے کہ ایک نشہ آور چیزوں کا بھراٹرک کوئٹہ پشاور سے کیسے کراچی اور بیرون ملک ٹرانسفر ہو جاتاہے ۔بس ہر پولیس چوکی پر مال دیتے جاؤ اور گذرتے جاؤ۔کوئی پوچھ گچھ نہیں۔اسی طرح جن پولیس والوں کو کسی بھی جگہ کی حفاظت پر معمور کیا جاتا ہے وہ وہاں ڈیوٹیاں نہیں دیتے ،نزدیک بیٹھے گپیں ہانک رہے ہوں گے یا پھر چائے کی چسکیاں لگا رہے ہوں گے ۔جس نے بغیر چیکنگ گزرناہے مال لگائے اور گزر جائے وگرنہ وارداتیئے گذرہی نہیں سکتے۔آخر کوئٹہ ہسپتال کا حفاظتی عملہ کہاں تھا کہیں بھی نہیں تھا وہ ڈیوٹی کے بجائے کہیں سو رہے ہوں گے یا کاغذوں میں حاضر اور عملاً غیر حاضر ہوں گے۔تمام طبقات اور انتظامیہ کے کار پرداز سخت احتسابی شکنجے میں کسے جائیں معاشی نا ہمواری کا مکمل خاتمہ ہو۔معاشی دہشت گردوں کو بھی قرار واقعی سزائیں ملیں تو ہی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور بم دھماکے ختم ہو سکیں گے۔امریکی کی یاری جس نے سب کی مت ماری سے بھی چھٹکارا حاصل کریں تاکہ اس کے کردہ گناہوں کی سزاہم بے گناہوں کو نہ ملے۔تب جا کر پھر ضرب عضب ،نیشنل ایکشن پلان اور اس کے بعد ٹاسک فورس بنانے کی انشاء اللہ ضرورت ہی نہ پڑے گی عوام سکھ کا سانس لیں گے غربت مہنگائی بیروزگاری گہرے دفن اور اللہ کا کلمہ بلند ہو گا۔

جنرل راحیل شریف۔۔۔راست اقدام اٹھائیں



موجودہ دور کی پہلی ریاست پاکستان ہے جو ایک خالصاسلامی و انسانی فکر و نظر کی بناپر معرض وجود میں آئی ہے جبکہدوسری ریاست اسرائیل ہے(جوخالصتاً یہود کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے قائم ہوئی) یہی وجہ ہے کہ دنیائے افق پر ایک سخت کشمکش بپاہے ایک ارض پاکستان اسلام و مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مصروف عمل ہے جس کی بشارت نبی کریم ؐ نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہے کہ اس کے ایک حصے میں تکلیف و اذیت پہنچے تو دوسرا حصہ شدت الم سے تڑپ اٹھے کا مصداق ملک پاک ہے کہ دنیابھر میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں یا اسلامی تعلیمات پر حملہ ہوتاہے تو محبان اسلام پاکستانی فوج و قوم بے چین ہوجاتی ہے اور ان کی معاونت و مدد کے لئے پیش پیش رہتی ہے ۔چاہیے یہ پریشانی و دکھ کی کیفیت سے عراق و افغانستان دوچارہوں یا بورما،فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمان ہو ان کی ہمہ جہت استعانت کی ذمہ داری کا فریضہ بہادر و نڈر پاکستانی فوج اپنا قائدانہ کردار اداکرتی ہے۔ پاکستانی فوج نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جب مصروف عمل ہے اور ملک میں سخت گیر شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے ایکشن لے رہی ہے تو ایسے میں پاک آرمی کو بیرونی و اندرونی خلفشار سے دوچار کرنے کی سعی بے انتہاء شروع ہوچکی ہے ۔کب چاہیں گے یورپ و مغرب جو یہود و نصاریٰ کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں کہ پاکستان جو ایک ایٹمی طاقت ہے اور بہادر و شجاع اور جرأت مند جانثار رکھتی ہے جو کہ ہر آن اپنی جان کی قربانی پیش کرنے کے لئے تیار ہیں تو اسرائیل و امریکہ اور ان کے حواریوں کو یہ سب ایک آنکھ بھی نہیں بھاتیں جس کے لئے وہ انڈیا سے مل کر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کرانے کے ساتھ بلوچستان و کراچی میں را و موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹوں کے ذریعہ داخلی طور پر اس عظیم مملکت کو دولخت کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ ملک پاک میں بعض تنظیمیں ،جماعتیں اور شخصیات ملک پاک کی سالمیت کو نہ صرف سالمیت کو چیلنج کررہے ہیں بلکہ وہ شدومد کے ساتھ اس کے وجود کو تہہ وبالاکرنے کا بھی عزم کررہے ہیں۔جیسا کہ حال ہی میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے انڈیاکی حکومت و ایجنسی کو نمک حالی کا ثبوت دیتے ہوئے رذلیل کلمات کے ساتھ ایسی ہرزہسرائی کی جن کلمات کو یہاں نقل کرنا بھی غداری و دشمنی کا منہ بولتا ثبوت سمجھتاہوں۔اسی پر بس نہیں ہے بلکہ ایم کیو ایم کے قائد نے نیویارک میں بھی ایک پروگرام میں متنازعہ و خسیس کلمات کا استعمال ارض پاک کے خلاف استعمال کی ۔جس کے بعد اب لازمی و ضروری ہے کہ پاک فوج کے روح رواں ،مجاہد ملت ،محافظ پاکستان چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہاب بلاکسی تاخیر کے ان تمام قوتوں اور قیادتوں اور جماعتوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کا جلد سے جلد آغاز کریں جو ملک عظیم کو بیرونی و اندرونی سازشوں سے دوچار کرتے ہوئے اسے معاشی و معاشرتی ،شدت پسندی و دہشت گردی اور بدامنی و بے استقراری سے ہمکنار کرنے کے لئے مصروف عمل ہیں اس میں سیاسی و مذہبی ،لسانی و قومی جماعتیں اور تنظیمیں جمہوریت کے تحفظ کے نام پر ملک پاک کو مشکلات سے دوچار کررہے ہیں۔ دیس کی باتعتیق الرحمن0313-5265617atiqurrehman001@gmail.com

روائیت شکن بیٹا




پاکستان کے مختلف علاقوں کے جہاں رَسم و رواج مختلف ہیں وہیں انکی سیاست کا انداز بھی مختلف ہے۔ لاہور جسے پاکستانی سیاست کا کعبہ کہا جاتا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ ہر بڑی اور کامیاب سیاسی تحریک کا خمیر لاہور سے اُٹھا۔ تحریک انصاف اورپاکستان عوامی تحریک نے وفاقی دارلحکومت کو یرغمال بنا کراور شاہراہ دستور پر طویل ترین دھرنے دے کرشایداس سیا سی تاریخ کو بدلنا چاہا لیکن نتیجہ یہی نکلا۔دھات کے تین پات۔ طویل ترین خواری تجربات کے بعد اب دونوں سیاسی کزنز نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ سیاسی تحریک کی کامیابی کا راز لاہور کی گلیوں میں دفن ہے۔ اورشاید یہی وجہ ہے کہ کل تک قومی اسمبلی اور وزیر اعظم ہاؤس پر چڑھ دوڑنے کے بیانات دینے والوں نے اب اپنی تحریکوں کو رُخ داتا کی نگری کی طرف موڑ دیا ہے۔لاہور کی سیاست کے اپنے رنگ ہیں اور ان رنگوں کی خوشنمائی عوامی خدمت میں پوشیدہ ہے۔ یوں تو لاہور کے کئی قابل قدر سیاسی کردار ہیں جنکی عظمت مُورخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ تاہم ان ناموں میں ایک بہت قدآور نام خواجہ رفیق شہید کا ہے جنکو لاہور کے لوگ انکی اسلام پسندی،دَرد مندی اور عوامی خدمت کی بنا پربُتوں کی طرح پوجھتے ہیں۔ انکے حوالے سے جب بھی لاہور جانا ہو، کسی عوامی محفل میں بیٹھیں، صحافی دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگائیں یا حلقہ ادب میں گفت و شنید ہو، ایسے واقعات سُننے کو ملتے ہیں کہ بسا اوقات وہ مافوق الفطرت کردار دیکھائی دیتے ہیں۔یار دوست کہتے ہیں کہ خواجہ رفیق سیاسی درویش تھے۔ حَرس اُن کو چُھوکے بھی نہ گذری تھی۔ ہر وقت دوسروں کی خدمت کے لیے کوشاں رہتے بلخصوص جب کوئی بے روزگار نوجوان ان تک پُہنچتاتو وہ اُس کو روزگار دلانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا کرتے ۔ سیاست کو کاروبار سمجھنے والے عناصر ہر دور میں موجود ہوتے ہیں جو اپنی چکنی چُپڑی باتوں سے سیاسی قائدین کو اپنے جال میں اُتارتے ہیں اور کرپشن کی ایک ایسی دلدل میں گھسیٹ دیتے ہیں جہان سے شاید وہ پوری کوشش کر کے بھی عمر بھر خلاسی حاصل نہیں کر پاتے۔خواجہ رفیق کو ایسے عناصر سے سخت نفرت تھی اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے انتہائی مفلوک الحالی میں وقت گُزارہ لیکن کرپشن کی سُنڈیوں اور سیاسی جی حضوروں کو کبھی اپنے قریب نہ پھٹکنے دیا۔ یہ سیاسی درویش اپنی آخری سانسوں تک اس پاک دھرتی پر اسلامی نظام کے حصول کے لیے جنگ لڑتا رہا۔وقت بدلا، اقدار بدلیں، سیاست دولت کی لونڈی بن گئی۔ پھر چشم فلک نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ عظمت کے اس عظیم مینار کا سپوت خواجہ سعد رفیق اس روش پر چل نکلا جس کو پاش پاش کرنے کے لیے خواجہ رفیق نے ساری عمر جدوجہد کی تھی ۔ یہ تبدیلی کیوں آئی؟ اسکے پس منظر کہانی کیا ہے ؟ اسکے درپردہ کون سے عناصر کار فرما ہیں اور اس بارے میں میں وثوق سے کچھ نہیں کہ سکتا لیکن قیاس کیا جاتا ہے کہ شاید حَرس، ہوس اور تمہ کی تند وتیز آندھیوں نے اس نوجوان کو ڈگمگا دیا ہو۔پاکستانی سیاست میں 1988کی دہائی کے بعد جس طرح پیسے کی شمولیت آئی شاید وہ بھی اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ رہی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس شخص کا باپ لوگوں کے باعزت روزگار کے لیے دَردَر دھکے کھاتا تھا اس کے بیٹے نے وفاقی وزیر ریلوے کا قلمدان سنبھالتے ہی سینکڑوں ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے ملازمت سے برخاست کروایا۔ ریلوئے کے سب سے منافع بخش یونٹ پاکستان ریلوئے ایڈوائیزی اینڈ کنسلٹینسی سروس میں ایک سازش کے تحت بدنام زمانہ افسرآفتاب اکبر کوبطور ایم ڈی تعینات کیا۔ زمینی حقائق یہ عیاں کرتے ہیں کہ وزیر موصوف اس منافع بخش یونٹ کو تالے لگانے کاپورا پورا پروگرام بنا چکے تھے۔ اس ادارے کے بے پناہ وسائل کو بے دری سے لوٹنے کا آغاز ہوا تا ہم خوش قسمتی سے ادارے کے ہی ایک ملازم نے آفتاب اکبر کے خلاف ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عدالت کے حکم پر اُسے چار ج چھوڑنا پڑا ۔ بعد میں آنے والے ایم ڈی صاحبان نے بھی اس کار خیر میں پورا پوراا حصہ ڈالا لیکن شاید اُنکی کارکردگی آفتاب اکبر کے عشرِعشیر بھی نہ تھی۔ چنانچہ ایک بار پھر پاکستان ریلوے ایڈوائیزی اینڈ کنسلٹینسی سروس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے دوبارہ آفتاب اکبر کو ایم ڈی تعینات کر دیا گیا۔آفتاب اکبر نے ایک مخصوص ٹولے کی بھرپور سرپرستی اور ادارے کے مفاد میں کام کرنے والے ملازمین کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ ادارے میں کام کرنے والی باپردہ خواتین کی زندگی بھی اجیرن بنا دی اوریہ سارے واقعات اسکے پہلے دور تعیناتی میں خبروں کا حصہ رہے۔ریلوئے میرج گارڈن کی تنزین وآرائش میں لوٹ مار، گارگو کے ٹھیکیدارکو سوا کروڑ کی غیر قانونی معافی، تین سو سے زائد دکانوں کی تعمیر کا مارکیٹ پرائس سے بھی بھی انتہائی مہنگے داموں دئیے جانے والا ٹھیکہ اور ایسی ہی بے شمار کرپشن کی کہانیاں زبان زد وعام ہیں۔ پاکستان ریلوئے ایڈوائیزی اینڈ کنسلٹینسی سروس کے ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے جس طرح ملازمت سے برخاست کیا جا رہا ہے اور من پسند ریلوئے افسران کو جس طرح یہاں تعینات کرکے ادارے کا بُھرکس نکالا جا رہا ہے اسکو دیکھتے ہوئے کوئی سطحی سوچ کا حامل شخص بھی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ پس پردہ عزائم کیا ہیں۔میں سوچ رہا ہوں کہ کل جب اقتدار کا سورج ڈھل جائے گا اور یہ واقعات تاریخ کا حصہ بن جائیں گے تو مورخ کو اس روائیت شکن بیٹے کی داستاں لکھتے ہوئے کس قدر تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ باپ جسے دنیاوی لالچ چھو کر بھی نہیں گُزرا اور بیٹا جس کا یہ اولین منشور بن گیا ہے کہ اس نے گھروں کے چولہے سرد کر نے کا ٹھیکہ لے لیاہو۔ باپ جسکی ساری عمر اسلام کی سربلندی کے لیے لڑتے ہوئے گزر گئی اور بیٹا جسکی وزارت میں باپردہ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع بھی ختم کیے جا رہے ہیں۔ باپ جو کرپٹ عناصر کو اپنے قریب نہیں بھٹکنے دیتا تھا اور بیٹا جسکے تمام بدنام افسران ناک کا بال ہیں۔ مورخ کو اس وزیر موصوف کا نام خواجہ رفیق کے ساتھ جوڑتے ہوئے سخت دقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شاید تاریخ اسے خواجہ سعد رفیق نہیں صرف سعد کے نام سے ہی جانے کیونکہ خواجہ رفیق کا نام اتنا معتبر ہے کہ وہ کسی ایسے نام کے ساتھ جوڑنا مورخ کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔اپنے والدین اور خاندان کی روائیات کو زندہ کھنے والے بیٹے تو تاریخ نے بہت دیکھے ہونگے لیکن اپنے باپ کی اچھی روایات توڑنے والا یہ روائیت شکن لاڈلا بیٹا شاید ایک ہی ہو۔

پاکستان زندہ باد



ملکی سیاسی جماعتوں میں ہر سیاسی جماعت کا اپنا وقار ہوتا ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت چاہے وہ کسی بھی پوزیشن میں کیوں نہ ہو کسی بھی طور پر پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی انتہائی اقدام نہیں اٹھا سکتی مگر آج یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے اپنے ہی لوگ دشمن کی بولیاں بول رہے ہیں اس کی بڑی وجہ ہماری ریاست کی سستی ہے جو کسی نہ کسی سیاسی مصلحت کی وجہ سے کوئی انتہائی اقدام نہیں کرتی بلکہ ایک اور ،ایک اور کے فارمولے پر عمل پیرا رہتی ہے کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں نجی ٹی وی چینلز کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور اس جیسے کئی دوسرے واقعات ایم کیو ایم کی تصویر کو واضح کرنے کیلئے کافی ہیں ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنویئر ڈاکٹر فاروق ستار نے اگرچہ یہ اعلان کیا ہے کہ اب ایم کیو ایم کے فیصلے ملک کے اندر سے ہوں گے اور وہ پاکستان مخالف نعروں میڈیا ہاؤسز پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور الطاف حسین کے بیان اور پالیسی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں لیکن ان کے مذکورہ اعلان مبہم اور رابطہ کمیٹی لندن کے ساتھ مشاورت اور ملی بھگت کا نتیجہ اور ڈرامہ ہے سیاسی و عسکری قیادت نے اعلان کیا ہے کہ معافی قبول نہیں ہے انہیں اپنے کہے ہوئے لفظوں کی قیمت چکانا پڑے گی جو کہ خوش آئیند بات ہے کیونکہ ماضی میں بھی جب بھی لطاف حسین کی طرف سے ایسی حرکت کی جاتی رہی ہے اس کے فورا بعد وہ معافی مانگ کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھنے لگتے ہیں بات قومی سلامتی اور پاکستان کے وقار کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ملکی سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے قومی مفاد کے منافی کام کرنے والے عناصر کی معافی قبول نہیں کرنی چاہے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو اس کی سزا دینی ہو گی الطاف حسین کی ہرزہ سرائی کے نتیجے میں جذبہ حب الوطنی کا ناصرف خون کیا گیا بلکہ عوامی جذبات کو شدید تکلیف پہنچائی گئی ہے آج یہ بات بھی سچ ہے کہ اگر حکومت نے الطاف حسین کے ماضی کے اشتعال انگیز رویوں پر ان کے خلاف کارروائی کی ہوتی تو یہ نوبت ہی نہ آتی کہ انہوں نے اعلانیہ پاکستان اور اس کی اہم شخصیات کے خلاف تقریر کی الطاف حسین کو اس ہرزہ سرائی کی اسی لئے ہمت ہوئی کہ انہوں نے سمجھا ماضی کی طرح اس بار بھی معافی مانگ کر معاملہ رفع دفع کر لوں گا پاکستان اس کی فوج اور اہم عسکری شخصیات کے خلاف زہر اگلنے والا کسی معافی کا مستحق نہیں اس کے خلاف قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہیے اور ایک ایسی مثال قائم ہونی چاہے جس کے بعد کسی کو ایسی جرات نہ ہو ۔دوسری طرف کرئے کوئی بھر ئے کوئی کے مصادق اس ہرزہ رسائی پر ایک بار پھر معافی تلافی کی باتیں شروع ہو گئی ہیں جو پاکستانی قوم کسی صورت قبول نہیں کریں گے آج جس طرح کے حالات ہیں اور ملک جس طرح کے کرائسس سے گزر رہا ہے اگر ہم نے ان باتوں کی معافی دے دی جن کا ڈائیریکٹ ہماری قومیت سے تعلق ہے تو پھر کل کلاں کو ہر کوئی اٹھ اٹھ کر ہمیں یوں ہی برا بھلا کہہ کر بعد ازاں معافی مانگ لے گا۔اس وقعے کے بعد عوامی رد عمل کو لہر اٹھی اس کو دیکھ کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن قیادت سے لاتعلقی ظاہر کی تاہم ایم کیو ایم کی ویب سائٹ کا اعلان بدستور یہ واضح کرتا ہے کہ الطاف حسین اب بھی ایم کیو ایم کے قائد ہیں انہوں نے پارٹی کے تمام اختیارات رابطہ کمیٹی کے سپرد کئے ہیں اور کارکنوں و ذمہ داران کو ہدایت کی ہے کہ وہ رابطہ کمیٹی کے ہاتھ مضبوط کریں دوسرے لفظوں میں اگرچہ پارٹی کے تمام اختیارات کو کراچی کی رابطہ کمیٹی کے سپرد کرنے یا نہ کرنے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ متحدہ کی قیادت تبدیل نہیں کی گئی عوام کی غیض و غضب سے پارٹی کو بچانے کیلئے ایک ڈرامہ رچایا گیا ہے چند دنوں یا ہفتوں کے بعد دوبارہ سب کچھ پرانی پوزیشن پر آجائے گا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے پاکستان مردہ باد کہا اس مملکت کو ناسور قرار دیا اور فوج کی اہم شخصیات کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ اب بھی ایم کیو ایم کا قائد ہے پاکستان کے عوام یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک غدار اس ملک کی ایک سیاسی پارٹی کی قیادت پر فائز رہے ڈاکٹر فاروق ستار کو بھی اس حوالے سے جواب دینا ہے کہ جس نے ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کی وہ ان کی پارٹی کا قائد کیسے ہو سکتا ہے اگر ایم کیو ایم اسے اب بھی اپنا قائد تسلیم کرتی ہے تو اس طرح اس کا اپنا کردار مشکوک اور سوالیہ نشان بنا چکی ہے ڈاکٹر فاروق ستار ابھی تک الطاف حسین کو قائد تسلیم کرتے ہیں جو فرد بھی الطاف حسین کو قائد تسلیم کرے گا پاکستان کے عوام اورمملکت کا قانون اسے قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے اس لئے ڈاکٹر فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ نئی قیادت کے بارے میں بلا تاخیر اعلان کریں اور اس بات کی پابندی ہونی چاہیے کہ الطاف حسین پارٹی کے قائد کی حیثیت سے پاکستان میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے انہیں اس کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی اگر ڈاکٹر فاروق ستار اور کراچی میں موجود ان کے ساتھی واقعی سچے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے عوام اور قانون کو دھوکہ نہیں دیا توانہیں جلد از جلد نئی قیادت کو سامنے لانا ہوگا دوسری صورت میں عوام ان کا اختساب کریں گے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے الطاف حسین کے خلاف برطانیہ کی حکومت سے رجوع کرکے درست اقدام کیا ہے جس کی تائید پوری قوم کرتی ہے اور اس بات کی امید رکھتی ہے کہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور کسی صورت ملک دشمن لوگوں کو ڈھیل نہیں دی جائے گی خواہ اس کیلئے کوئی سیاسی مصلحت ہی آڑے کیوں نہ آ جائے ۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس ہرز رسائی پر مکمل قانونی کاروائی کرئے اور جو سزا غدار وطن کے لئے آئین میں تجویز کردہ ہے اس کو الطاف حسین پر لاگو کرئے اور اگر ممکن ہو سکے تو انٹر پول کے ذریعے سے الطاف حسین کو پاکستان لایا جائے اور اس سے اس بات کی جواب طلبی کی جائے کہ جس ملک نے اسے نام ،اور مقام دیا کس طرح غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے اس نے اسے مردہ باد کہا کیونکہ یہ سرزمین ہماری دھرتی ماں ہے اور جس نے اس کو مردہ باد کہا اس نے ماں کو گالی دی اور جس نے اس گالی پر کوئی ری ایکشن نہیں دکھایا وہ بھی ملک سے مخلص نہیں آج ایک بات بڑی واضح ہو گئی کہ جس طرح پورے ملک سے الطاف حسین کے بیان پر رد عمل ہوا اس سے واضح ہوتا ہے کہ آج ہم ایک ہیں آج اگر ہم نے تفرقوں کو ختم کرنا ہے تو پھر سندھی ،پنجابی ،مہاجر کو چھوڑ کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانا ہو گا ۔

تبلیغی جماعت کو فرقہ بننے سے بچائیے

( علامہ سید سلمان حسینی ندوی دامت برکاتہم کا یہ مضمون افادہ عام کے لئے پیش کیا جارہاہے چونکہ ملک پاکستان کی دینی و سیاسی اور تبلیغی تحریک بھی اسی طرح کی صورتحال سیدوچار ہیں تو لازمی ہے کہ اس بدتر صورتحال سے نکلنے کے لئے سنجیدہ اہل علم و دانشور احباب کو اپنا کردار اداکرنا چاہیے۔عتیق الرحمن)

دعوت وتبلیغ تمام انبیاء و رسل کا مشترک اور سب سے اہم فریضہ رہا ہے ، ان کی دعوت توحیدخالص ، رسالت کی حقیقت اور آخرت پر ایما ن کی تھی ، یہ تین بنیادی نکات تھے ، ان کے بعد قانونی احکام حسب ضرورت الگ الگ تفصیلات کے ساتھ دیئے جاتے تھے، آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم عالمی اور دائمی نبی و رسول ہیں ، پوری انسانیت ان کی امت ہے ، دعوت کو قبو ل کرنے والے اور متبعین کے حلقہ میں داخل ہونے والے’’ امت اجابت‘‘ کہلاتے ہیں ، اور جن میں کام ہورہا ہے اور ہوتا رہنا ہے وہ’’ امت دعوت ‘‘کہلاتے ہیں ۔تیرہ سال مکہ مکرمہ میں حضورﷺ تمام حلقوں ، طبقوں ،قبیلوں اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو دعوت دیتے رہے ، جس کا طریقہ اس آیت کے مطابق تھا : (ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ہی أحسن)مدینہ منورہ ہجرت کے بعد جس نظام کی دعوت دی گئی تھی، اس کا قیام و نفاذ شروع کر دیا گیا ،جو ایک دستوری اور معاہداتی حکومت کی شکل میں قائم ہوا ، اس مرحلہ میں دعوت کے ساتھ فتوحات کا عمل بھی شروع ہوگیا ،جس کے نتیجہ میں دس سال میں دس لاکھ مربع میل کا علاقہ یعنی پورا جزیرۃ العرب اسلام کے زیر نگیں آگیا ، اور عالمی سطح پر اس مہم کو آگے بڑھانے کیلئے آخر میں لشکر اسامہ کو تیار کیا گیا،اور بتاکید اس کو روانہ کیا گیا،اور عہد صدیقی میں ا س کی روانگی عمل میں لائی گئی ، پھر خلفائے راشدین کے دور میں عالمی نظام بھی تبدیل کردیا گیا ، جسکی توسیع تین چار صدیوں تک ہوتی رہی۔
آخری نبوت نے سلسل�ۂ انبیاء پر مہر لگا دی ،اور اس کی پیشین گوئی بھی کردی کہ اب آئندہ صدیوں میں مجددین ، مصلحین اور داعی و مبلغین کارِ نبوت کی تجدید کرتے رہیں گے ۔
چودہ سو سا ل کے عرصہ میں جتنی تجدیدی و اصلاحی تحریکا ت اٹھیں ۔وہ سب دراصل نیابت نبوت کا کام کرتی رہیں ، لیکن جیسے سابقہ انبیاء کا ایک دور اور ایک علاقہ ہوتا تھا ،یہی صورت حال، علماء امت کی ،تاریخی ادوار اور بلاد و امصار میں رہی ، ان کے درمیان انبیاء کی طرح دعوت کی بنیادی باتیں مشترک تھیں ، لیکن تفصیلات اپنے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق تھیں ۔
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ اس حقیقت پر بڑا زور دیتے تھے، اور کسی جماعت یا تنظیم کے کام کو آخری مان لینے سے منع کرتے تھے ، اسی مقصد کے پیش نظر حضرت مولانا نے لکھنؤ کے تبلیغی مر کز میں ۴۰۔۵۰ کی دہائی میں تاریخ دعوت و عزیمت پر تقاریر کا سلسلہ شروع کیا ،جس کی پہلی جلد حضرت ابو بکر صدیقؓ سے مولانا جلا ل الدین رومی تک مجددین ومصلحین کے حالات اور کارناموں پر مشتمل ہے ، دوسر ی جلد امام ابن تیمیہ کے تجدیدی کارناموں ، تیسری ،حضرت مجدد الف ثانی کی تجدید ، چوتھی ،حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدید پر مشتمل ہے، اس کے بعد حضرت سید احمد شہیدکی مجددانہ اور مصلحانہ تحریک کا تذکرہ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔
تحریک شہیدین کے بعد ان کے خلفاء و اخلاف اور حضرت مولانا فضل رحمن گنج مرآدابادی ، حضرت مولانا سیدمحمد علی مونگیریؒ کی اصلاح وتجدید پر مشتمل کتا بیں تیار کی گئیں ، ان کے بعد چودہویں صدی کے ایک عظیم مجدد مولانا محمد الیاس صاحب ؒ اوراس صدی کے دیگرمصلحین مولانا عبد القادر رائے پوری ، مولانا محمد زکریا کاندھلوی ، مولانا محمدیوسف صاحب کاند ھلوی کے حالات وخدمات پر کتابیں لکھی یا لکھو ائی گئیں، اسی دور کے مصلحین میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ، حضرت مولانا حسین احمد مدنی وغیرہ حضرات کے حالات و خدمات اور اصلاحات پر کتابیں بھی شائع ہوتی رہیں ۔
یہ سارے حضرات قافلۂ مجددین اور مصلحین کے بڑے نمایاں افراد تھے ،جس کا دائرہ بر صغیر اور پوری دنیا کے مما لک میں سینکڑوں حضرات کی تجدیدی اور اصلاحی خدمات کی شکل میں پھیلا ہوا ہے ، ظاہر ہے کہ ان کے درمیان بنیادی حقائق کے اتفاق کے باوجود تجدید و اصلاح کے لائحۂ عمل اور طریقۂ کار میں امت کی ضرورتوں کے اعتبار سے بڑا فرق ہے ، اور وہ سب درحقیقت اسلام کے وسیع نظام کے مختلف شعبۂ جات کی نمائندگی کرتے ہیں ۔
حضرت مولانا محمدالیا س صاحب ؒ نے دینی غفلت ،جہالت اورا نتشار کے دور میں دینی مزاج ، عبادتوں کے اہتمام ،اوردین کی نصرت اور بنیادی ابتدائی دینی ضروریات کی عمومی نشرواشاعت کی جو تحریک شروع فر مائی ،اور جس میں گھر سے نکلنے اور امت میں بلا تفریق پھیلنے ، اورکلمہ طیبہ کی حقیقت کی دعوت دینے کے طریقہ کا ر نے اس کی توسیع اور عمومیت میں حیرت انگیز نتائج پیدا کئے،بنیادی طورپر وہ دین کی اسا سیات کی تحریک تھی، جس کو حضرت مولانا محمدالیاس ؒ ابجد ،اور الف ، باء ، تاء ، کی ابتدائی تعلیم سے تعبیر فرماتے تھے،(دیکھئے ملفوظات مولانا محمد الیاس ؒ صفحہ ۲۶)یعنی یہ دین کے مبادی اور ابتدائی مضامین کا نصاب تھا ، جس میں اصل زور مسائل پر نہیں فضائل پر تھا ، یہ تحریک ایک ترغیبی تحریک تھی ، جو پورے دینی نظام کو بتدریج برپا کرنے ، اور اس کے نفاذ کے لئے زمین تیار کرنے کی خاطر شروع کی گئی تھی ۔(دیکھئے ملفوظات مولانا الیاس ؒ ۔ص/۳۲اور۴۳)
اس بنیا دپر اس تحریک کے بانی نے طے کیا تھا کہ اس کے پلیٹ فارم سے مسا ئل نہیں چھیڑ ے جائیں گے ، ان کا فیصلہ علماء کریں گے، تحریک سے جڑنے والے پابندی سے علما ء کی خدمت میں حاضر ہوں گے ، ان کواگر وہ انبساط رکھتے ہوں ،کارگذاری سنادی جائے گی ، اور ان سے دعا لی جائے گی ، کوئی خرخشہ کسی جماعت ، تنظیم ،ادارہ ، حلقہ ،مسلک اور گروہ کا نہیں چھیڑا جائیگا ، اس حقیقت کو مولانا محمد یوسف صاحب ؒ بڑی قوت ،جوش و خروش ، اور شدید تاکید کے ساتھ’’ امت پنے ‘‘کے عنوان سے پیش کرتے تھے،ان کے نزدیک ’’ہم‘‘اور ’’وہ‘‘،’’اپنے ‘‘اور’’غیر‘‘کے الفاظ گوارا نہ تھے، وہ وحدتِ امت کے پرجوش اور پرزور داعی تھے ۔
بانی تحریک حضرت مولانا محمد الیاس ؒ نے اگرچہ اپنے بھتیجے ریحانۃ الہندمحدث جلیل حضرت مولانا محمدزکریا صاحب ؒ سے فضائل اعمال پر رسائل لکھوائے ، لیکن تحریک کے مقا صد ، اور اسلامی نظام کی تیار ی کے لئے یہ فرمایا کہ :
’’حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے بہت بڑ ا کام کیا ہے، میرا دل یہ چاہتا ہے کہ تعلیم تو ان کی ہو ،اور طریقۂ تبلیغ میرا ہو۔(۱)(ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحب صفحہ ۴۶)
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ حضرت شاہ ولی وللہ دہلوی کے بعد چودہویں صدی کے مجدد علوم اسلامیہ ہیں ، مولانا عبد الباری ندوی ؒ نے ان کو ’’جا مع المجددین ‘‘اپنے دور کے اعتبار سے برحق کہا اور لکھا ہے ،یہ ایک تاریخی غلطی ہوئی۔جس کے پیچھے بہت سے خارجی اسباب رہے ہیں۔کہ تبلیغی تحریک نے حضرت تھانوی کی کتابوں کو اپنے نصاب کا حصہ نہیں بنایا ، حا لانکہ فضائل کی تمہیدی ضرورت کے بعد نظام اسلا می کی ہمہ گیر ی ، عبادات ،معاشرت ،اخلاق ، معیشت ، سیا ست وانتظام کی تعلیم قرآن و سنت کی روشنی میں بے انتہا ضروری تھی ۔(۲)
حضرت مولانا الیا س صاحب ؒ کی وصیت کا یہ تقاضہ تھا کہ حضرت مولانا تھانویؒ ، حضرت مولانا احتشام الحسن کاندھلوی ؒ ، حضرت مولانا منظور نعمانیؒ ، اور حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ اورحضرت مولانا مفتی شفیع صاحب دیو بندیؒ کی کتابیں تبلیغی جماعت کے علمی نصاب کا حصہ ہو ں۔
اگر بان�ئ جماعت کی ہدایات پر عمل ہوتا تو جماعت علمی تنگ نظری ، فکری محدودیت ، اور ابتدائی تعلیم کے چو کھٹے میں بند نہ ہو کر،امت کے تمام طبقات کے لئے ایک جامع نظام کو لے کر چلتی ، اور اس شکل میں یہ تحریک چودھویں اور اب پندرھویں صدی کی سب سے جامع تحریک ہوتی، لیکن ۔۔۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ 
(۱)مولانا الیاس صاحب ؒ کا یہ ملفوظ ہے:’’میں سچ کہتاہوں کہ ابھی تک اصلی کام شروع نہیں ہوا،جس دن کام شروع ہو جائے گا(یعنی زندگی کے تمام شعبوں میں پورا دین آجائے گا)تو مسلمان سات سوبرس پہلے کی حالت کی طر ف لوٹ جائیں گے۔
اور اگر کام شروع نہ ہوا بلکہ اسی طرح رہا جس طرح پر اب تک ہے ،اور لوگوں نے اس کو منجملہ تحریکات کے ایک تحریک سمجھ لیا،اور کام کرنے والے اس میں بچل گئے(یعنی جمود کا شکار ہوگئے اور اصل مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کی)تو جو فتنے صدیوں میں آتے ہیں ،وہ مہینوں میں آجائیں گے ،اس لئے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘‘۔
(ملفوظات مولانا محمد الیاس صاحب۔ص/۴۳*ملفوظ/۳۸)
(۲)اسی وسیع مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے مولانا نے مجلس شوری کے بارے میں فرمایا تھا:کہ’’ میرے نزدیک کام کے چلنے کے لیے جو اس وقت ضرورت ہے،وہ مشائخ طریقت وعلماء شریعت اورماہرین سیاست کے چند ایسے حضرات کی جماعت کے مشوروں کے ماتحت ہونے کی ضرورت ہے،جو ایک نظم کے ساتھ حسبِ ضرورت مشاورت کا انعقاد خاطر خواہ مدام کرتے رہیں، اور عملی چیز یں سب اس کے ماتحت ہوں، سو ایک تو اول ایسی مجلس کے منعقد ہوجانے کی ضرورت ہے۔(ارشادات ومکتوبات:مرتب افتخار فریدی:ص/۱۴۵)
حضرت مولانا علی میاں صاحبؒ نے ۱۹۴۰ء ؁ سے تبلیغی جماعت سے تعلق قائم کیا ، اور وہ اس کے ترجمان صرف بر صغیرہی میں نہیں،عالم عربی میں بھی بن گئے ، عالم عربی میں کام کا صحیح معنی میں تعارف انہیں کے ذریعہ ہوا ، بلکہ کام کو بعض سخت بحرانوں اور حکومت کی بد گمانیوں سے نکالنے میں اللہ تعالیٰ نے ان سے خصوصی کام لیا ۔
لیکن ۱۹۴۷ ؁ء میں تقسیم ہندوستا ن کے بعد بدلے ہوئے حالات میں مولانا نے تبلیغی جماعت کو کافی نہیں سمجھا ، انہوں نے مجلس مشاورت ، پیام انسانیت ، دینی تعلیم ، قیام مکاتب ، اسلامی لٹریچر کی ضرورتوں کا نہ صرف شدت سے احساس کیا ، بلکہ ان میدانوں میں وہ پوری قوت سے قائدانہ کر دار کرتے رہے ،یہاں تک کہ ۱۹۷۰ ؁ء۔۱۹۷۱ء ؁میں مسلم مجلس کے سیاسی محاذ پر بھی انہوں نے اپنا پورا وزن ڈال دیا ۔
حضرت مولانا علی میاں ؒ کو تبلیغی جماعت سے ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ وہ ان پہلوؤں اور خاص طور پر دینی مکاتب کی طرف توجہ نہیں دیتے، یہاں تک کہ بعد کی دہائیوں میں مولانا تبلیغی جماعت کے جلسوں میں شر کت اور خطاب سے گریز کرنے لگے ، کہ وہ جن موضوعات پر زور دیتے تھے ، تبلیغی حلقہ ان کو ہضم نہیں کرپاتا تھا ، اور حضرت مولانا انعام الحسن ؒ سے شکا یت کرتے تھے ، اور مولانا انعام الحسن صاحب ؒ حضرت مولانا سے شکوہ کناں ہوتے تھے ، تفصیلات ’’کاروان زندگی‘‘اور دیگر کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
تبلیغی جماعت کی تحریک حضرت مولانا محمد یوسف صاحب ؒ کے دور میں ایک انقلا بی تحریک تھی ،اور اسکی وسعت افراد میں بھی ہورہی تھی،اور مضامین میں بھی ، پھر حضرت مولانا انعام الحسن صاحب ؒ کا دور جغرافیائی اور افرادی وسعت کے باوجو د علمی ٹھہراؤ کا تھا ، لیکن علماء اور دانشوروں میں ایک اعتبار تھا ، نظام امارت بھی مستحکم تھا ۔
ان کے بعدیہ امر واقعہ ہے کہ کوئی شخصیت بھی جماعت کی امارت کا استحقاق نہیں رکھتی تھی ، جس کا علاج شورائی نظام سے کیاگیا ، جس میں امارت کی بنیاد غائب تھی ، یہاں اگرچہ علمی و فکری و اختلاف تو پیدا نہیں ہوا، لیکن انتظامی امور میں اتفاق کی روح کا ایک حد تک فقدان ہوگیا ۔
امارت کی جگہ’’ ثلاثی مجلس شوریٰ‘‘ کے دو ارکان جب دنیا میں نہیں رہے ،تو اضطراری امارت کا دور شروع ہوگیا، علمی و فکر ی عمق ختم ہوگیا ، جغرافیائی اور افرادی وسعت پر اعتماد بڑھتا گیا اور صرف جماعت کے نظام پر اصرار اور دوسرے کاموں ، جماعتوں ، تنظیموں اور اصلاحی و تجدیدی کوششوں کا انکار علی الاعلان ہونے لگا ، جو ش و خروش میں اسلامی نظام کی وسعت اور ’’امت پنے ‘‘کی ضرورت کا احساس مدھم ہوتا چلا گیا ،بلکہ آگے چل کر اس کے خلاف محاذ بننے لگا ۔
یہ وہ صورت حال تھی جس پر جماعت کے تمام قدماء اور علما ء کو ہنگامی طور پر اور مکمل جائزہ لیکر ،اصلاح کا جرأ ت مندانہ قدم اٹھانا چاہئے تھا ، اور ملت کے بزرگ علماء کو بھی واضح موقف اختیار کرنا چاہئے تھا جو عملاً نہیں ہوسکا ۔
علمی وفکری جمود اور تاریخ دعوت و عزیمت سے عدم واقفیت یا اس کا عدم اعتراف اور تجدید و اصلاح کے مختلف ادوار اور ان کے محرکا ت و اسباب سے غفلت اور پہلو تہی اورمتفق علیہ امارت کے فقدان ،اور نظام شوریٰ سے عدم اتفاق نے ملت کے اس عظیم کام اورامت کی ایک عظیم تحریک کو ایسے دوراہہ پر لاکر کھڑا کردیا ہے کہ اب زو ال و انحطاط کی مہیب کھائیاں نظر آ رہی ہیں، اور ڈر یہ ہے کہ حضرت مولانا الیاس ؒ نے جس بات کا اندیشہ ظاہر کردیا تھا کہ بنیادی اصول کے اہتمام میں اگر خلل آئیگا جو جماعت ایک فرقہ بن جائیگی ، ایسا لگتا ہے کہ جماعت اسی رخ پر جارہی ہے ۔
اس تلخ تاریخی، اور واقعی حقیقت کو اگر بچشم سر دیکھنا ہے تو حضرت معین الدین چشتی ،حضرت نظام الدین اولیاء ، حضرت مجددسرہندی ، حضرت شاہ عبد القدوس گنگو ہی ، حضرت شاہ صابر پیراں کلیر،حضرت عبد الحق ردولوی ، اور کتنے نام لئے جائیں اپنے اپنے وقت کے مجددین و مصلحین کے مرا کز کا انجام دیکھ لیجئے اور یہ نہ سمجھئے کہ آپ کے لئے اللہ تعا لیٰ کی طرف سے کوئی پٹہ بقا ودوام کالکھ دیا گیاہے ۔
جن قدماء مبلغین نے اس کا م میں پچا س پچا س سال گزارے ہیں، ان سے دست بستہ گذارش ہے کہ مل کر بیٹھئے ، جلد اصلاح حال کی کو شش کیجئے اور اس عالمی تحریک کو ہر طرح کے نقصان سے بچائیے۔ 
والسلام:سیدسلمان حسینی ندوی
نوٹ:میری مولانا نو رالحسن راشد صاحب کاندھلوی سے درخواست ہے کہ وہ خاندان والاتبار سے سب زیادہ واقف ہیں ،اور ان کے پاس اس تحریک کے بزرگوں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے کہ وہ اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائیں ،اور مولانا عیسی منصوری صاحب سے بھی عرض گذار ہوں کہ ان کے پاس حضرت مولانا محمد یوسف صاحب کاندھلوی ؒ کی تقاریر اور ملفوظات کا بڑا ذخیرہ ہے ، وہ اس موضوع پر قلم اٹھائیں ۔اندر کے حضرات کی طرف سے تصحیھات و اصلاحات کی جو اہمیت ہے وہ باہر والے کے لقمہ کی ظاہر ہے کہ نہیں ہے۔ 

یادرفتگان


آج سے 30سال قبل جب میں نے صحافت کے طالب علم کی حیثیت سے آغاز کیا تو میری معاونت میرے انتہائی مخلص دوست ملک محمد سلیم (مرحوم) چیف ایڈیٹر کالا چٹا اور محمد اسماعیل خان شہیدِصحافت نے کی اور مجھے پشاور لے کر گئے ۔ہمارے ساتھ اٹک کے سینئر صحافی چیف ایڈیٹر اسلوب اور نمائندہ جنگ اکبر یوسف زئی بھی تھے اُس وقت محمد اسماعیل خان پی پی آئی نیوز ایجنسی پشاور کے بیوروچیف تھے جبکہ آج کل نیوز ون چینل کے ڈائریکٹر محسن رضا خان اُس وقت نوائے وقت پشاور کے بیورو چیف تھے۔مجھے روزنامہ انقلاب کی نمائندگی دلائی اور اٹک پریس کلب جن کے ممبران کی تعداد اُس وقت صرف 12تھی مجھے اورندیم رضاخان جو آج کل پریس کلب اٹک کے چیئرمین ہیں کو پریس کلب کی ممبر شب دی گئی اُس وقت کل تعد اد ممبران پریس کلب کی چودہ(14) ہو گئی۔وقت گزر گیا اور حالات میں اُتار چڑھاؤ آتا گیاملک محمد سلیم اٹک سے ماہنامہ کا لا چٹا کی اشاعت شروع کی تو انہوں نے مجھے ڈپٹی ایڈیٹر اور ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر ذمہ داریاں دیں ہماری معاونت اور رہنمائی تحسین حسین (مرحوم) کرتے رہے۔آج ملک محمد سلیم ، محمد اسماعیل خان اور تحسین حسین اور "خدارا مجھے صحافی نہ کہیے "لکھنے والے سینئر صحافی محمد یحیٰ بٹ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن اُن کی یادیں اور اُن کی رہنمائی آج بھی موجود ہے ۔ ملک محمد سلیم دوستوں کے دوست تھے وفاقی وزیر مملکت شیخ آفتا ب احمد کے دیرینہ ساتھی تھے دوستوں کے سامنے حق کی بات کہہ دیتے بلکہ دوست کی غیر موجودگی میں دوستوں کا دفاع کرتے۔ محمد اسماعیل خان کو اسلا م آباد میں شہید کر دیا گیا اور آج تک قاتلوں کا سراغ نہ ملا جن کا ہمیں افسوس ہے۔
مئی 2013میں ملک محمد سلیم اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے جبکہ انسانیت کی خدمت کرنے والے تحسین حسین ایڈیٹر اٹک بھی انتقال کر گئے اور یحیٰ بٹ بھی اچانک دنیا سے رخصت ہو گئے جن کی یادوں کو ہم کبھی نہیں بھلا سکتے اٹک کے سینئر صحافی اور نمائندہ جنگ اکبر یوسف زئی آجکل علیل ہیں اور راولپنڈی میں مقیم ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو صحت عطا کرے بلکہ ہم سب کے درینہ سا تھی ماہ نا مہ عظیم انسا ن اور ماہنامہ مفہوم کے ایڈیٹر محمدنعیم بھی اچانک انتقال کر گئے ان تمام مر حومین کو اللہ تعا لیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے ۔ملک محمد سلیم کے انتقال کر جانے کے بعد کا لا چٹا کی اشاعت نہ ہو سکی لیکن آج اُن کے چھوٹے بھائی ملک محمد ندیم نے جب مجھے فون کر کے بتایا کہ کا لا چٹا کی اشاعت کا دوبارہ آغاز کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اطمینان ہوا کہ ملک محمد سلیم تو واپس نہیں آسکتے لیکن اُن کی یادیں زندہ رہیں گی۔میں خود بھی اس طرح صحافت کو وقت نہیں دے پا رہا لیکن پھر بھی لکھنے کا شوق اور دوستوں کی یادیں مجھے مجبور کرتی ہیں کہ میں بھی اپنا کردار ادا کرتا رہوں اور انشاء اللہ میں کوشش کرتا رہوں گا ۔اس موقع پر میں اپنے دوستوں معروف کالم نگار شہزاد حسین بھٹی اور اقبال زرقاش کا بھی شکریہ ادا کروں گا اور سینئر صحافی محمدارشادکا جو میری حوصلہ افزائی کرتے رہے اور اُن تمام دوستوں اور احباب کا جو میرا حوصلہ بڑھاتے رہتے ہیں۔

کر پشن کی حکمرانی!


پانامہ لیکس کے پنڈورا باکس کو کھلے ساڑھے چا ر ماہ سے زیادہ عرصہ بیت گیااور چار سو سے زائد پاکستانی افراد کے بیرونی ملک اربوں ڈالرز دفنا ڈالنے سے ان کا آج تک بال تک بھی بیکا نہیں ہوا اور شاید عوام کی نظر میں مستقبل قریب میں بھی نہ ہو سکے ۔اپوزیشنی صفوں میں بھی وکی لیکس ،پانامہ لیکس ٹائپ لیکسوں میں اربوں جمع کروانے والے لوگ بھی موجو د ہیں سرے محل ہمارا نہیں پھر ملکیت بن گیا اور بیچ کھایا یوں قصہ تمام ہوا ۔سوئس اکاؤنٹس کی بھاری رقوم بھی الم غلم ہوگئیں۔وزرائے اعظم گیلانی و راجہ اشرف اربوں ڈکار گئے کوئی کچھ بھی نہ کرسکا ۔نیب لاکھ کہیں کہ ہے مگر نہیں ہے۔بڑے مجرموں کے خلاف نہ کچھ کرتی ہے اور نہ کرنے دیتی ہے اس طرح ایک نیا این آر او ہی ہوئی نہ!ایسے مگر مچھوں پر اگر وہ ہاتھ ڈالتی توسرکاری خزانہ ہڑپ کر جانے والے یوں نہ دندناتے پھر رہے ہوتے۔ضیاء الحق سے ملاقاتوں میں اسے قائل کیا گیا کہ بھٹو کی ملوں کو قومیانے والی پالیسی ذاتی عناد پر مشتمل انتقامی کاروائی تھی مجھ گناہ گار اور قومی اتحاد کے راہنماؤں کی مسلسل گزارشات سے اتفاق فاؤنڈری سمیت دیگر ملیں بھی اصل مالکان کو مل گئیں۔شریف خاندان کے نوجوانوں نے آگے بڑھ کر ضیاء الحق کو شیشے میں اتار لیا خصوصاً ضیاء دور کے ریفرنڈم میں جس میں صرف یہ سوال تھا کہ کیا آپ اس ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر میں صدر رہوں گا۔اس طرح کون احمق نفی میں جواب دے سکتا تھا۔مسٹر نواز شریف نے ضیاء کے دور ہ پر پورے لاہور میں بینروں کی اتنی بہتات کر ڈالی کہ مال روڈ پر درختوں کی جگہ صرف بینر نظر آتے تھے جس میں "مرد مومن مرد حق ضیاء الحق ضیاء الحق " اور ساتھؓ بڑا فوٹو ضیا ء الحق کااور چھوٹا اپنا چھپایا ہوا تھا جس پر ضیاء نے کہا کہ اس نوجوان کو میری بھی عمر لگ جائے۔ضیاء دور میں جعلی مجلس شوریٰ بھی نامزد ہوئی جس کے خلاف پریس کانفرنس کرنے پر راقم الحروف کو 9ماہ شاہی قلعہ میں آمرانہ تشدد سہنا پڑا۔شوریٰ کے ممبران کو اپنا کلہ مضبوط گاڑنے کے لیے اربوں کے فنڈز دیے گئے ۔اور کرپشن کی انتہا کرڈالی گئی نئے نو دولتیے سود خور سرمایہ دار پیدا ہو گئے اس میں کوئی شک نہیں کہ ضیاء الحق کی آمریت نے روس کا گرم پانیوں تک پہنچے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا مگرا سی دور میں کلاشنکوف کلچر متعارف ہوا ۔لاکھوں افغانی آج تک پاکستانی معیشت پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ضیاء لحق کے طیارے کو حادثہ پیش آنے کے بعد لا محالہ پیپلز پارٹی نے بذریعہ الیکشن اقتدار میں پہنچنا تھا۔جس پر پوار ملک بھٹو اور اینٹی بھٹو دھڑوں میں بٹ گیا بعد میں وہی شریف خاندان جو مل قومیانے پر گھریلو اخراجات چلانے کے لیے میاں اظہر سے رقوم لیتا رہا تھا وہ حکمران بن کر کھربوں میں کھیلنے لگا اور آج ان کے شہزاد گان کھربوں ڈالر بیرون ملک پانامہ لیکس میں دفنائے بیٹھے ہیں ۔الیکشنی انتخابی فارم پر کرتے وقت ہر امیدوار کو اپنی اور اپنی بیوی اور بیٹے بیٹیوں کی جائدادوں ملکیتوں کی تفصیلات (منقولہ و غیر منقولہ) درج کرنا ہوتی ہیں۔مگر میاں صاحب نے اس خانہ میں بچوں کی جائداد خواہ وہ اندرون ملک تھی یا بیرون کا ذکر تک نہیں کیا۔جو کہ حقائق چھپانے اور جھوٹ بولنے کے مترادف ہے جب کہ ہر امیدوار فارم پر ایک حلفیہ بیان بھی درج کرتا ہے کہ اس نے کچھہ چھپایا نہیں ہے۔اآئین کی دفعہ,63 62کے مطابق کوئی جھوٹا فریبی فراڈی شخص ممبر اسمبلی نہ ہی بن سکتاہے اور نہ ہی بطور ممبر برقرار رہ سکتا ہے۔اس لیے نا اہلی کی جو تلوار اپوزیشن نے پانامہ لیکس کے ذریعے وزیر اعظم کی گردن پر رکھ دی ہے وہ صحیح ہے اور اس کی تیز دھار کسی وقت بھی اپنا کام دکھا سکتی ہے میاں صاحب کے والد بزرگوارسے بھلے وقتوں میں خاصی دعا سلام رہی وہ مل چھن جانے کا رونا رویا کرتے تھے اور پی این اے والے77کے جلسوں میں ملیں واپس کرنے کے وعدے کرچکے تھے اس لیے اس بنا پر میاں صاحب کو احسن مشورہ دینااپنا فریضہ سمجھتے ہوئے گذارش کرتا ہوں کہ وہ خود ہی یہ بہانہ کرکے کہ چونکہ میرے بچوں کا نام پانامہ لیکس میں آگیا ہے اس لیے میں جب تک اس کی تحقیقات وغیرہ مکمل نہیں ہو جاتی وزیر اعظم کے عہدہ سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔اگر آپ ان الزامات سے کلئیر ہو جائیں تو دوبارہ وزیر اعظم بننے سے کون روک سکتا ہے ؟کیا اسپکیر قومی اسمبلی دوبارہ منتخب ہو کر اسپیکر شپ نہیں کر رہے ؟اگر اسی طرح الزامات کے گھنے سائے تلے بطور وزیر اعظم برقرار رہے تو اخلاقی پوزیشن تو متاثر ہوگی ہی قانونی کلہاڑا بھی کسی وقت چل سکتا ہے اسطرح منقولہ و غیر منقولہ جائداد بھی ضبط ہو گی جو خاندانی وقار اور عزت پر سیاہ دھبہ ہو گاعزت بچانے کا تو طریقہ یہی ہے کہ ذرا وزیر اعظم کی سیٹ سے آنکھ مچولی کھیل لیں کسی اعتمادی شخصیت کو نامزد کردیں تو فوت ہوجانے والے بھائی کی بیوی سے نکاح کر لینے کی طرح گھر کی بھاوج گھر ہی میں رہ جائے گی اور کچھ بھی نہ بگڑے گا۔پھر اپوزیشن بھی زرداری ،گیلانی راجہ رینٹل کے کیسوں کی طرح سب کچھ بھول جائے گی ٹیمپو ٹوٹ جائے گا اور سمجھیں معافی تلافی ہو ہی جائے گی۔نیب والے دوسرا طریقہ اختیار کرتے اور چار سو پانامہ لیکسی ملزمان کی گردنوں کے گردآہنی زنجیریں ڈالتے تو مال بھی دھڑا دھڑ سرکاری خزانے میں آنے لگ جاتا اور دیگر کرپشنی ناسوروں کو بھی دھڑ کا لگا رہتا۔مگر ایسا کیوں نہ ہو سکا صرف نیب والے ہی بتا سکتے ہیں مجھے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ عباسی نے راولپنڈی میں ایس ایچ او کو دھمکا کر زبردستی ملزم چھڑوا لیے اوربہاولنگر میں نشے میں دُھت ٹُن ٹولے کوچیکنگ سٹاف کی سڑک پر موجود چوکی پر روکنے کی کوشش پر اسلحہ سے فائرنگ کرکے جواب ملا اور مقدمہ اندراج پر حکومتی ایم این اے کی شکایت پر ڈی پی او شارق کمال کو ضلع بدر نہیں بلکہ صوبہ بدر ہونا پڑاتو دیگر سرکاری ملازم خواہ وہ نیب والے ہی کیوں نہ ہوں ایسی بلاؤں اور کرپشنی مگر مچھوں کو چھونے سے بھی ڈرتے ہوں گے کہ ملازمت تو آخر سبھی کو پیاری ہوتی ہے کہ اس سے فارغ ہوجانے پر کون بیوی بچوں کو بھوکوں مار سکتا ہے؟پولیس اور نیب والے ملزمان پر ہاتھ نہ ڈالیں تو جلسہ جلوس دھرنوں سے شریفوں کا کیا بگڑے گا؟ کہ بیورو کریسی اور سرکاری ملازمین بھی پی پی اور ن لیگی ادوار میں ہی بھرتی کیے گئے ہیں اس لیے وہ ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے شرماتے اور پھر گھبراتے بھی ہیں۔ویسے کئی ایس ایچ او بہت دلیر اور غیرت مند ہوتے ہیں کسی دیہاتی تھانہ کوٹ سبزل یا مروٹ کو ان چار سو "کرپشن بہادروں" کا کیس برائے تفتیش بھیج دیا جاتا تو انہوں نے ہفتہ دو کے اندر ہی سارا مال بھی برآمد کر لینا تھااور اپنی بقیہ زندگی کے لیے کھلی دال روٹی بنا لینی تھی جب ان بہادر کرپشنی پہلوانوں کو 'مَنجی'لگایا جاتا،اس چھتر سے پریڈ ہوتی جس پر لکھا ہوتا ہے"آجا میرے بالما تیرا انتظار ہے "بازو اوپر کو باندھ کر رت جگے دیے جاتے۔ مرغا بنا کر اوپر بھرا ہوا پانی کا گھڑارکھا جاتا تو خزانے میں اتنا مال جمع ہو جاتا کہ آئندہ شاید قرض ہی نہ لینے پڑتے۔عوام کہتے ہیں کہ پانامہ لیکس سے توجہ ہٹانے کے لیے دہشت گردوں نے بھی انہی دنوں کوئٹہ جیسی مکروہ واردات کرڈالی اور مودی نے بھی دوستی نبھاتے ہوئے کشمیریوں کا قتل عام شروع کردیا ۔اپوزیشن الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرچکی وہاں کچھ بھی فیصلہ ہو سپریم کورٹ سٹے آرڈر جاری کرسکتی ہے اور" Status Quo "جاری رہا توکیس کو لمبا کرنا وکلاء کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اپوزیشن کے پاس صرف جلد سماعت کا آپشن ہے اور نون لیگیوں کے پاس فیصلہ خلاف ہوتے محسوس کرکے حملہ کرکے ڈرا ڈالنے کا آپشن ہی باقی رہ جائے گاجیسے ایم کیو ایم نے 11مئی کے واقعہ پرسندھ ہائیکورٹ کا گھیراؤ کرکے کاروائی ختم کرواڈالی تھی۔اور اب تونام نہاد قائد نے پاکستان مردہ باد تک کے نعرے لگا ڈالے ہیں اور یہی بنگلہ بدھو شیخ مجیب نے کیا تھا۔ساری قوم کی امیدیں خدائی امداد کی ہی آرزو مند ہیں کہ جب غریب بستیوں سے قافلے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے تحریک کی صورت میں نکلیں اور سبھی کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے سارا مال برآمد ہو گا اور غداران ملت بھی کیفر کردار تک پہنچیں گے تبھی ملک اسلامی فلاحی مملکت بن سکے گا۔

جب لاد چلے گا بنجا را


شہباز شریف بہت دبنگ شہرت رکھنے والی شخصیت ہیں معمولی غلطی پرکسی کمشنر ڈی آئی جی ڈی سی او ایس پی کو معطل کرڈالنااور انھیں صوبہ بدر کرواناان کے کار ہائے نمایاں میں شامل ہیں۔ہسپتالوں میں اصلاحات اور غریب مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی جیسے وعدے وعید بھی فرماتے رہتے ہیں۔چو نکہ آج کل چل چلاؤ کا دورشروع ہے اس لیے بیورو کریسی بھی ان کے احکامات پر کان دھرتی نظر نہیں آتی ۔جن سپیشلسٹ ڈاکٹروں نے حج عمرے کرنے ،اے سی گاڑیاں لینے،اعلیٰ فرنیچر سجوانے اور پھر اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادیوں کے مکمل انتظامات کے وعدوں پر مخصوص کمپنیوں کی تیار کردہ ادویات لکھنے کے معاہدے کر رکھے ہیں وہ کیسے باز رہ سکتے ہیں انہوں نے تو ہر قیمت پر ان مخصوص ادویات کی فروختگی کروانے کا کوٹہ پورا کرنا ہے تاکہ ان کی مطلوبہ ڈھیروں رقوم اور کمپنیوں سے اس کا "معاوضہ"جلدوصول ہو۔ انھیں اس کام سے کوئی طاقت منع کرنے والی ہے ہی نہیں کہ انہوں نے ایسے کئی چیف منسٹر اور بیورو کریسی کے کرپٹ افسران بھگتائے ہوئے ہیں۔حکومت نے مریضوں کو ریلیف تو کیا دینا تھی الٹا ادویات کی قیمتوں میں 300گنا اضافہ کرڈالا ہے مگر اس پر بھی ڈرگ مافیا اور ادویات ساز کمپنیوں کا پیٹ نہیں بھرا نھوں نے کوئی دو درجن انتہائی ضروری ادویات بازاروں سے گم کر رکھی ہیں یعنی اپنے کارخانوں کے خفیہ خانوں وگوداموں میں ڈَمپ کرکے ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہیں۔ جو کہ اسلام کی رو سے بھی انتہائی کریہہ عمل ہے ان ادویات میں جان بچانے والی ادویات زیادہ ہیں غالباً اٹھارہ ادویات جن میں8انجکشن اور10گو لیاں ہیں جو کہ شو گر ،امراض قلب ،بلڈ پر یشر اور ٹی بی سے متعلقہ ہیں۔ساری دنیا جانتی ہے کہ ان بیماریوں کے مریض کو ایک دو خوراک بھی نہ مل سکیں تواس کی فوتیدگی کے بہت امکانات ہوتے ہیں۔اب مریض غریب ہو یا امیر اس نے توان مخصوص بیماریوں کی خوراک ہر قیمت پر لینی ہوتی ہے اب مریضوں کے لواحقین دوکانوں پر دھکے کھاتے پھر رہے ہیں اور ادویات ہیں کہ گدھے کے سر کے سینگوں کی طرح گم ہیں مگر تلاش بسیار کے بعد تین چار گناہ بلیک قیمتوں پر دستیاب ہونا ممکن ہے۔اس طرح اربوں کی فالتو کمائیاں متعلقہ پولیس،بیورو کریٹ ممبران اسمبلی وزراء مل جل کر غڑپ کر رہے ہیں ۔اگر کسی غیرت مند پولیس آفیسر نے ذخیرہ اندوزوں پر ہاتھ ڈال لیا تو اس کابھی وہی حشر ہو گاجیسے کہ ضلع بہاولنگر کے ڈی پی او کی طرف سے رات گئے شرابی مقتدر ٹولے کو پکڑنے پر صوبہ بدری کا خمیازا بھگتنا پڑاتھا۔غریب مریض لٹ رہا ہے اور حکومت کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی طرح تماشائی بنی ہوئی ہے۔عوام کا درست مطالبہ ہے کہ جتنے مریض ان دوائیوں کے فراہم نہ ہونے سے اللہ کو پیارے ہو گئے اتنے ڈرگ مافیا افراد بھی چوکوں پر لگے تختہ دار پر لٹکنے چاہیں کہ یہی انصاف کے تقاضے ہیں۔کیا ذخیرہ اندوزی کرنے والی کمپنیوں کو جھٹکا نہیں دیا جا سکتا؟ ہر گز نہیں چونکہ 95فیصد ادویات ساز کمپنیوں کے مالک مرکز و تینوں صوبوں کے وزیر سفیر ممبران اسمبلی یا ان کے رشتہ دارہیں۔ خصوصاً غریب مریض ن لیگ پی پی پی اور تحریک انصاف کے راہنماؤں کو جھولیاں بھر بھر کر بد دعائیں دے رہے ہیں کہ ان سبھی سے خدائے عزو جل اقتداری کرسیاں چھین کرکسی اللہ کے بندے کے حوالے کردے ۔پاکستان میں ادویات کی قیمتیں بڑھادی گئی ہیں مگر ہمسایہ ملک انڈیا میں ہماری سابقہ قیمتوں سے بھی تین گنا کم قیمت پر زرعی و انسانی ادویات بک رہی ہیں جب کہ خام مال دونوں ممالک انھی بیرونی ملکوں سے درآمد کرتے ہیں۔اب یہ درمیانی کھربوں کی رقوم کس طرح حکمران ،وزارت صحت،کرپٹ بیورو کریسی اور ڈرگ مافیا بندر بانٹ کر کے ہضم کر رہا ہے یہ راز کون کیسے اور کس طرح کھلے۔بہتر تو یہی ہے کہ سپریم کورٹ سویو موٹو لے کر دونوں ملکوں کی زرعی و انسانی ادویات کی قیمتوں کا موازنہ فرمالے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ اور پاکستانیوں کو سابقہ قیمتوں سے ایک تہائی پر ادویات مہیا ہو سکیں۔مقتدر پارٹیوں کو فرصت کہاں انھیں اپنی پڑی ہوئی ہے ضروری ادویات کے بغیر کتنے ہی غریبوں کے قبرستانی ویزے لگ جائیں انھیں اس سے کیا لینا دینا۔کوئی پانامہ لیکس ، کوئی وکی لیکس اورسوئس اکاؤنٹس سے کلئیر ننس چاہتا ہے کوئی دوسرے کوہٹاکر خود اقتداری کرسی پر براجمان ہو کر اپنا سکہ چلانا چاہتے ہیں۔غریب مریضوں کی آہیں و سسکیاں عرش خداوندی تک پہنچ رہی ہیں ۔کہیں ایسا نہ ہو جائے جیسے غریب معصوم نابالغ بچیوں کی رات کے پچھلے پہر کی چیخوں نے سمندر کے کنارے بنی عیاشیانہ آماجگاہوں کو سونامی طوفان سے چند سال قبل سمندر برد کرڈالا تھا ۔مقتدر لوگو! خدا کے قہر کو دعوت نہ دو ڈرگ مافیا کی گردنیں مروڑو جان بچانے والی ادویات جلد بازاروں میں مہیا کرو کہ سلامتی اسی میں ہے وگرنہ؂ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لاد چلے گا بنجا را

کامیابی کے حصول تک


پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جبکہ اس سلسلے میں یہ بات خوش آئیند ہے کہ تمام ادارے ایک جان ہو کر اس فلسفے پر عمل پیرا ہیں کہ کسی بھی طرح ملک سے یہ لعنت (دہشت گردی) کو ختم کر کے دم لیں گے اس بات کی قوی امید ہے کہ جس طرح ہمارے سیاسی ،مذہبی اور فوجی ادارے ایک بیج پر ہیں وہ دن دور نہیں جب ہم بھی سری لنکا اور دیگر دہشت گردی سے متاثر ہوانے والے ممالک کی طرح اس عفریت سے نجات پا لیں گے اس مشن کی کامیابی کے لئے ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہر صورت یقینی بنایا جائے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے ماضی کی نسبت آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمہ کے لئے متعلقہ اداروں کے باہمی رابطوں کو مزید بہتر بنایا جائے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ماضی میں میں بنائے گئے قوانین مزید سخت کیے جانے چاہیں کمزور قوانین کی وجہ سے وہ لوگ جو ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں بڑی آسانی سے عدالتوں سے بری ہوتے رہے ہیں چونکہ عدالتوں نے تو فیصلہ قوانین کے مطابق کرنا ہوتا ہے اس لئے ایسے دہشت گرد بڑی آسانی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انٹیلی جنس اداروں کو مزید مربوط اور اختیارات دیے جائیں اور سیکورٹی فورسز ملک بھر میں کہیں بھی بغیر اجازت کے چھاپے مار سکیں سرچ آپریشن کے دوران زیر حراست ملزمان کو فورسسز کی حراست میں رکھنے کے قانون میں توسیع کی جائے مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ تربیت کی بدولت فاٹا اور دیگر بندوبستی علاقوں میں جہاں ہر طرف آگ و خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی وہاں دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے اب وہاں امن کی فضا قائم ہے جو خدا کے فضل سے ہمیشہ قائم رہے گی جو دہشت گرد بچ گئے ہیں وہ اپنے تحفظ کے لئے ٹھکانے ڈھونڈ رہے ہیںیہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ داخلی سلامتی کی صورتحال بہتر اور مضبوط بنانے کیلئے سول آرمڈ فورسز کے 29 نئے ونگز بنانے کا فیصلہ کیا گیاہے جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کیلئے جنرل (ر) ناصر جنجوعہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کی فنڈنگ کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت اقدامات کرنے کیلئے کوششوں کو تیز اور بہتر کیا جائے صوبوں کی مشاورت اور نیشنل ایکشن پلان پر مربوط اور تیز عملدرآمد کیلئے بین الصوبائی اجلاس بلایا جائے جس میں تمام اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوں تاکہ سب کا فوکس ایک ہی پوائنٹ (دہشتگردی )کا خاتمہ ہواور دہشتگردی کے خلاف کوششوں کو تیز کرنے کیلئے صوبوں کو مزید فنڈز فراہم کئے جائیں ملک کو بدامنی سے پاک کرنے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کو نتیجہ خیز بنانے کے سلسلے میں فیصلے یقیناًبے حد مفید اور کارآمد ہوں گے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں سست روی کی جو شکایت پاک فوج کی طرف سے کی گئی اسے سیاسی اور قومی حلقوں نے بھی شدت سے نوٹ کیا گیا ہے ۔کالعدم تنظیموں کے نام بدل کر کام کرنے کی شکایت نئی نہیں اس ضمن میں فیصلے پر موثر انداز میں اور سختی سے عمل ہونا چاہیے جس تنظیم کو خلاف قانون قرار دے کر کالعدم قرار دیا گیا ہے کسی بھی دوسرے نام سے اس کے وجود میں آنے اور متحرک ہونے کا کوئی بھی جواز نہیں مسئلہ تنظیم کے نام کا نہیں بلکہ متعلقہ شخصیات کا ہے شخصیات اگر وہی ہوں تو تنظیموں کے نام کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس معاملے میں حکومت کو بہت احتیاط غور و فکر اور سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ان تمام باتوں پر عملد رامد بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا لین شاید ہم وہ قوم بن چکے ہیں جو پہلے ہونے دو پھر دیکھیں گے والی کہاوت پر عمل کرتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ان ماؤں بہنوں ،بیٹیوں سے نہیں پوچھتے جن کے بھائی ،بچے صبح کر گھروں سے نکلے تو ضرور تھے مگر شام کو خود واپس نہ آ سکے بلکہ ان کی میتوں کو کندھوں پر اٹھا کے لایا گیا تھا سانحہ کوئٹہ سے بڑکر اور کوئی ظلم کیا ہو گا جہاں ایک ماں کا کہنا تھا کہ حکومت کیا جانے کے ایک بیٹے کو کیسے پال کر جوان کیا جاتا ہے ہمارے دکھ کو کوئی نہیں سمجھتا آج ہمیں اگر تحفظ چاہے تو ہمیں وہ سب اقدامات کرنے ہوں گے جو ماضی میں ہم کسی نہ کسی سیاسی مصلحت کی وجہ سے پس پشت ڈالتے آئے ہیں تبھی اس ملک کے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکتا ہے آج اگر حکومت دیر کرتی ہے تو پھر شاید بہت دیر ہو جائے گی اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عفریت کو جڑ سے اکھاڑا جائے اور اس کے لئے کسی سیاسی مصلحت کا شکار نہ بنا جائے بلکہ سامنے پاکستان کی بقاء عزت سلامتی اور ترقی کو رکھا جائے تب ہم اس ملک کو ایک محفوظ اور بہتر مستقبل دے سکتے ہیں ورنہ تو ایسی پالیسیاں ماضی میں بھی بنتی رہی ہیں اور ایسے آپریشن ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں ہمیں اپنی مسلح افواج پر ہمیشہ سے ہی فخر رہا ہے اور ہونا بھی چاہیے آج پوری قوم آرمی چیف سے اس بات کی امید رکھتی ہے کہ ان کے دلیرانہ فیصلوں کی بدولت جس طرح فاٹا میں ضرب عضب کامیاب ہوا ہے اسی طرح پورے ملک میں ہونے والے کومبنگ آپریشنوں کو کامیاب بنایا جائے گا اس سلسلے میں پورے ملک کے عوام خاص طور پر نوجوان انکے ساتھ ہیں جو ہر قربانی دینے کو تیار ہیں اور جو جدو جہد شروع کی گئی ہے وہ تب ہی کامیاب ہو سکتی ہے اگر سے کامیابی کے حصول تک جاری رکھا جائے

موت کے پروانے


فلاں فرقہ کافر ہے اس کے بندے بچ کر نہ جانے پائیں 144کی خلاف ورزی کرنے والوں کو فوری گولی مارنے کا حکم،جالو جالو آگن جالو، جو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی ۔ایسے اشتعال انگیز نعرے عرصہ قبل سنائی دیتے تھے۔ بھتہ خور مافیا دندناتاپھر رہا ہے ،عید قربان پر جانور کی کھال نہ دینے والے کو اس کی اپنی کھال اتار ڈالنے کی دھمکی، زکوۃ،صدقات،چندہ ہمارے علاوہ کسی کو دیا تو جان کی خیر نہیں، اصل شناختی کارڈ جمع کرواؤ جلسے میں حاضر ہو گے تو واپس ملے گا وگرنہ نہیں ۔مل والے منہ مانگا بھتہ نہ دیں تو سینکڑوں مزدوروں سمیت پوری مل جل چکی۔بوری بندلاشوں کے تحفے گھروں میں بھجوانے والے ،راء کے ایجنٹ کا کردار ادا کرنا اورپاکستان دشمن ایجنسیوں سے امداد لینا، بھارت کے فوجی ٹریننگ کیمپوں میں اپنے کارکن تربیت کے لیے بھیجنا،بھارت پہنچ کر"لیڈر "کی تقریر کہ بھارت ،پاکستان اور بنگلہ دیش دوبارہ مل جائیں کہ 47کی تقسیم ایک غلطی تھی ۔پاکستانی جھنڈا جلا ڈالنا کیا حب الوطنی کے زمرے میں آتا ہے؟گھریلوٹی وی بیچو اور کلاشن کوف خریدو،قائد کا جو غدارہے وہ موت کا حقدار ہے، افواج سیکورٹی،ودیگر فورسز کے خلاف توہین آمیز اور اشتعال انگیز بیانات،بارودی جیکٹیں پہن کر دھماکوں سے سینکڑوں افرادکی شہادتیں ،مساجد مدارس پیران عظام کے مزارات پر خود کش حملے، کراچی میں تقریباً دو درجن سال قبل فسطائیوں کی صفائی مہم میں حصہ لینے والے سبھی پولیس افسران کا قتل ،فوجی ٹرکوں پر فائرنگ کرکے پاک فوج کے جوانوں کی شہادتیں،آرمی پبلک سکول پشاور میں داخل ہوکر سینکڑوں بے قصور معصوم بچے بچیوں کی وحشیانہ ہلاکتیں، تیس سالوں سے زائد کراچی دہشت گردوں کی راجدھانی بنا ہوا ،ہر طرف انتظامیہ کی ٹک ٹک دیدم والی کیفیت۔12مئی 2007کو عدلیہ بحالی تحریک کے دوران پورے کراچی کو کنٹینروں کے ذریعے سیل کرڈالنا،سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار چوہدری کو کراچی ائیر پورٹ پر محصور کرنا، سارا دن خوفناک قتل و غارت گری کے ذریعے پچاس سے زائد ہلاکتیں اور1200سے زائد افراد کو شدید زخمی کرڈالنا جس میں درجن سے زائد وکلاء شہید اور کئی زندہ جلاڈالے گئے اسی روز شام کو ڈکٹیٹر اعظم مشرف کا خطاب دونوں ہاتھوں کے مکے لہرا کر اعلان کہ دیکھا ہماری طاقت اور اس ظلم و بر بریت پرفسطائی فخریہ فقرے چست کرکے عوام کودھمکانہ ۔سارا دن ٹی وی چینل پرندوں کی شکار کی طرح فسطائی طاقت کے دہشت گردوں کی طرف سے فائرنگ کا شکار ہونے والے افراد دکھائے جاتے رہے۔ آج تک ان قاتلوں میں سے کسی کا گرفتار نہ ہونا دنیا کی تاریخ کا ایک اچنبھا ترین وقوعہ ہے ۔وسیم اختر نے 11مئی کو ہی مقامی ٹی وی چینل پر دھمکی دے ڈالی تھی کہ چیف صاحب نہ آئیں وگرنہ اچھا نہیں ہو گا۔اقبال کاظمی ایڈووکیٹ کے سندھ ہائیکورٹ کوتوجہ دلانے،عدلیہ کا سویو موٹو لینے پر اسے اور اس کی بیوی کو اغوا کر کے درگت بناڈالی گئی، بعد میں سندھ ہائیکورٹ کا گھیراؤ کیا حتیٰ کہ جج صاحبان تک بھی شام تک باہر نہ نکل سکے ۔ہائیکورٹ نے مقدمہ چلانا بند کردیا اور نو سال سے دوبار ہ کوئی عدالت قاتلوں کو نتھ تو کیا ڈالتی مقدمہ ہی نہیں چلایا جاسکا۔دیگردہشت گردوں کے خلاف عدالتوں میں گواہی دینے کو کوئی تیار نہیں ہوتا ،آئین انتظامیہ ااور حفاظتی ادارے سبھی مفلوج ہو چکے ،شہیدوں کے خاندان کے سپوت افواج پاکستان کے سربراہ کی طرف سے ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں ۔پاک فوج کے جواں شہادتیں پارہے ہیں کراچی جو معاشی ہب ہے اسے مفلوج رکھنے والوں کے خلاف کاروائی اور تحقیقات کا طریق جدید ترین طرز پر اپنانا ہوگا۔ فسطائی دہشت گردوں کا صفایا نہ کرڈالا گیا توبنگلہ بدھو مجیب کی مکتی باہنی کی طرح خطرناک ملک دشمن واردتیں ہوسکتی ہیں۔ حکیم سعید ،صلاح الدین کے قاتل کہاں ہیں ہر الیکشن کے بعد اقتدار کے لالچی حکمران صرف اپنی اکثریت بنانے کے لیے اورفسطائی جماعتوں کے ووٹ کے حصول کے لیے رعائتیں دیتے چلے آرہے ہیں مگر اب پانی سر سے گزر چکا۔آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہو گا ۔دہشت گرد خواہ وہ معاشی دہشت گرد ہی کیوں نہ ہو ،یا سیاسی جماعتوں کا پروردہ اس کی قطعاً رعایت نہ کی جائے ۔ راکے رکن ہندو بنیے بارڈرکراس کرکے کیا وارداتیں کریں گے یہیں ہمارے وطن ہی میں ان کے پروردہ تنخواہ دارزیادہ دہشت گردانہ سرگرمیاں کرتے ہیں۔کوئٹہ کے وکلاء کی ہلاکتٰن نیا واقعہ سہی مگر اس کے تانے بانے لازماً انھی را کے ایجنٹوں سے ملے ہوئے ہوں گے۔۔خالص سیاسی سوچ رکھنے والے افراد پی ٹی آئی ایم کیو ایم ،ن لیگ یا کسی دوسری جماعت کے ہوں ان کی عزت وقار مجروح نہ ہو نے پائے مگر سیاست کا لبادہ اوڑھے فسطائی دہشت گرد سب سے خطرناک اژ دھے ہیں کہ ان کی انتطامیہ سے گٹھ جوڑ کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے ٹٹ پونجیے بڑی سے بڑی واردات کرڈالتے ہیں کہ انھیں سیاسی سرپرست اپنی آغوش میں لے کر پرورش کرتے ہیں اس لیے کسی قانون عدلیہ کا انھیں قطعاً خوف نہیں رہتا اسی لیے سیاسی دہشت گردوں،وڈیروں،جاگیرداروں نودولتیے سود خور صنعتکاروں سبھی نے اپنے مسلح ونگز بنا رکھے ہیں اوراب سبھی طریق آزمائے جا چکے۔ملٹری ونگز نام نہاد کمانڈرز اور ان کے راہنماؤں کے خلاف فوری تحقیقات اور فوری فیصلے غیرجانبدار فوجی عدالتیں ہی کرسکتی ہیں کہ اسی طرح ان کاقلع قمع ہو کر ملک فلاحی مملکت بن سکے گا۔عوام سابقہ فوجی آمریتوں کو بھول کر موجودہ افواج کی طرف سے ملکی سا لمیت ، عوام کی جان و مال کاتحفظ کرنے ،فسطائیوں سے جان چھڑانے پر ڈھیروں دعائیں دیں گے ۔

کہیں دہشت گردوں کے ہمدرد حکومت میں بھی تو نہیں ۔۔۔؟



ایک برس بیت گیا ۔ سال گزشتہ کا وہ دن میری زندگی کے تلخ ترین دنوں میں سے ایک ہے ۔ حبیب قریشی کی کال تھی آواز آنسوؤں میں رندھی ہوئی بے ربط سے جملے کہ وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ کے ڈیرے پر خود کش حملہ ہوا ہے ۔میں دیوانوں کی طرح کرنل (ر) شجاع خانزادہ کے قریبی رفقاء ملک انصار ،توقیر قریشی ، ازہیر عباس ،طارق دین اور نہ جانے کس کس کا نمبر ملارہا تھا کوئی تو ہو جو میرے دوست کی خیریت کی خبر دے مگر کوئی بھی وثوق سے کچھ کہنے کے قابل نہیں تھا۔میں اور ارم شہزاد افراتفری کے عالم میں اسلام آباد سے چھچھ روانہ ہوئے ۔ امیدوں اور اندیشوں میں گھرا یہ سفر کتنا کھٹن تھا یہ ہم ہی جانتے ہیں ۔ گاڑی موٹروے پر فراٹے بھر رہی تھی اور میں اپنے ایک پیارے دوست ڈی ایس پی شوکت شاہ کا نمبر بار بار ملا رہا تھا ۔ہر بار جب موبائل بند ملتا تو عجیب سی بے چینی ہوتی ۔ میرا خیال تھا کہ شوکت شاہ درست اطلاع دے گا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اندوہناک حادثہ ہمارے اس دوست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔چھچھ پہنچے تو ایک عجیب سی سوگواری نے ہمارا استقبا ل کیا یوں دکھائی دیتا تھا جیسے کسی مصور نے دکھ ہر چہرے پر نقش کردیا ہو ۔ شادی خان میں توکہرام مچا ہوا تھا ۔ شجاع خانزادہ جس وسیع بر آمدے میں بیٹھ کر عوام الناس سے ملاقات کیا کرتے تھے وہ زمین بوس ہو چکا تھا امدادی ٹیمیں ناکافی وسائل کے ساتھ اس ملبے کے نیچے دبی لاشیں نکالنے کی کوششوں میں مصروف عمل تھی دھماکہ کس قدر شدید ہوگا اس کا اندازہ تباہی کے یہ مناظر دیکھ کر بہ خوبی ہورہا تھا اب تو امید نے بھی سانس لینا چھوڑ دیا تھا ۔کرنل (ر) شجاع خانزادہ کے فرزند جہانگیر خانزادہ کے گلے لگا تو ضبط کے بندھن ٹو ٹ گئے پُھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے آنکھوں کے سامنے جیسے یادوں کی ایک فلم سی چل رہی تھی ۔سب یاد آرہا تھا کہ وہ کس طرح میرا خیال رکھتے تھے ایک انمول دوست تھے میری خوشیوں پر سب سے زیادہ خوش ہونے والے اور میرے دکھ پر مجھ سے زیادہ رنجیدہ ہوجانے والے ۔ ہروقت میری فکر کرتے ان کی محبت اور راہنمائی ہمیشہ میرے ساتھ رہی ۔میں نے اپنی پوری زندگی میں ان سے زیادہ سچا اور کھرا انسان نہیں دیکھا مصلحت ان کو چھو کر بھی نہیں گزری تھی سیدھی بات کرتے چاہے اس کیلئے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔ مشرف دور حکومت میں پنجاب کابینہ کا حصہ تھے ۔ بلوچستان میں اکبر بگٹی کیخلاف اپریشن پر بلبلا اُٹھے اور اس وقت جب صدر مشرف کے سامنے کسی کو دم مارنے کی جرأت نہیں تھی پنجاب کے اس وزیر کے احتجاج نے سب کو چونکا دیا ۔بات احتجاج اور بیانات تک نہ رکی بلکہ انہوں نے قومی اخبارات میں کالم لکھا جس میں واشگاف الفاظ میں بگٹی کے قتل کو بلوچستان میں پاکستان سے محبت کرنے والی سب سے مضبوط آواز کا قتل قرار دیا ۔دھرتی ماں کی حفاظت کا حلف اُٹھا یا تو پھر اس کا حق ادا کردیا ان کے فوجی کیریئر کا ہر باب ان کی شجاعت اور کامیابیوں سے رقم ہے ۔ افغان وار میں ان کا قابل تحسین کردار ہمیشہ ان کی عظمت کی داستان سناتا رہے گا ۔ آئی ایس آئی کو دنیا کی بہترین ایجنسی بنانے والے افسران کی جب بھی فہرست مرتب ہوگی اس عظیم سپاہی کا نام ہمیشہ سر فہرست رہے گا۔ جب فوج سے ریٹائر منٹ کے بعد سیاست میں آئے تو یہاں بھی ان کی قابل قدر خدمات تاریخ کا سنہری حصہ ہیں ۔عوامی خدمت کا جذبہ تو انہیں ورثے میں ملا تھا ۔اور انہوں نے اپنے حلقہ کے عوام کی جو بھر پور خدمت کی اسے یاد کرکے آج بھی اہلیان چھچھ آبدیدہ ہو جاتے ہیں ۔لیکن وطن عزیز میں امن کی بہار لانے کیلئے وہ دہشت گردوں کے مقابلہ میں جس طرح سینہ سپر ہوئے اور وطن دشمنوں کی جس طرح کمر توڑی اس سے سیاست دانوں کے قد میں بھی اضافے کا موجب بنے ۔ وطن عزیزمیں دشمن ملک کی ایجنسیوں کی کٹھ پُتلی بن کر دہشت پھیلانے والوں کیلئے شجاع خانزادہ دہشت بن گئے تھے اور انہوں نے ان دہشت گردوں کے قلع قمع کرنے کیلئے دن رات ایک کردیے ۔خطرات سے بے پرواہ اس فوجی کا ایک ہی عزم تھا کہ میری قوم سکون کی زندگی گزارے اور دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جائے ۔فضاء میں بارود اور خون کی بُورچ بس گئی تھی ہم کئی گھنٹوں سے ملبے کے اس ڈھیر کے سامنے کھڑے تھے لگ بھگ ساڑھے چار بجے کے قریب امدادی ٹیموں کے ایک رکن نے اشارہ کیا ۔ میں اورجہانگیر خانزادہ دوڑتے ہوئے اس حصے تک پہنچے جہاں سیمنٹ کی ایک سل کاٹ کر لاش نکالی گئی تھی ۔ پہلی نظر پڑتے ہی جیسے کسی نے دل کو مُٹھی میں بھینچ لیا ہو ۔ خاک اور خون میں لتھڑا یہ چہرہ میرے شجاع خانزدہ کا تھا ان کی وہ مخصوص مسکراہٹ جو ان کی شخصیت کا خاصہ تھی موت بھی ان سے نہ چھین سکی تھی ان کی مسکراہٹ جیسے مکروہ دہشت گردوں کا منہ چڑھارہی ہو کہ تم ہم سے جیت نہیں سکتے دھماکے میں ایسا بارود استعمال کیا گیا تھا ۔جس سے چہرہ پھول گیا تھا اور رنگت سرمئی ہوگئی تھی ۔ جہانگیر خانزادہ نے اپنا بازو میرے کندھے پر رکھا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی سی گری اسی اثناء میں سہراب خانزادہ کو بھی بلایا گیا جو ’’ یہ بابا ہیں ‘‘ ’’یہ بابا ہیں‘‘ کی چیخ مار کر بلک بلک کر روپڑا کسی نے میرے ہاتھ میں سفید چادر تھمائی اور میں نے اپنے پیارے دوست کی لاش کو ڈھانپ دیا ۔ جہانگیز خانزادہ نے لمحوں میں اپنے آپ کو سنبھالا اس کی ہمت ، استقامت اور صبر نے میری نظروں میں اس کا قد اور بڑا کردیا وہ وطن کی حرمت پر جان نچھاور کرنے والے فوجی کا بیٹا تھا اور اپنے بابا کا مشن اسے پورا کرنا تھا یہ استقامت اور صبر اس کیلئے بہت ضروری تھا ۔رات گئے اپنے عزیز دوست کو لحد میں اُتارتے وقت سب ہی جذباتی تھے مگر حبیب قریشی کے آنسو روکے نہ رکتے تھے ۔اسے یقیناًیاد آرہا ہوگا ایک بار کسی وجہ سے اس کی کرنل (ر) شجاع خانزادہ سے ناراضگی ہوگئی ۔کرنل شجاع منانے اس کے گھر گئے اور پیار بھری خفگی سے کہا کہ حبیب تمہارا میرا رشتہ ایسے نہیں ٹوٹ سکتا یہ قبر تک کی دوستی ہے یا تم مجھے قبر میں اُتاروگے یا میں تمہیں اور آج وہ لمحہ آگیا تھا ۔کرنل (ر) شجاع خانزادہ شہید کو خاک کفن اوڑھے آج ایک سال ہوگیا ہے ۔ لیکن آج بھی کچھ سوال ہمارا منہ چڑھارہے ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف مردانہ وار لڑنے والے اس مجاہد کو مناسب سیکورٹی کیوں نہ دی گئی ؟چھچھ کے لوگ آج بھی استفسار کرتے ہیں کہ اسحادثے کے بعد آٹک پولیس میں بڑے پیمانوں پر اُکھاڑ بچھاڑ کا کیا مقصد تھا کہیں تفتیش کے نام پر صرف خانہ پری تو نہیں کی گئی ؟۔کرنل شہید کا فرزندجہانگیر خانزادہ اب رکن صوبائی اسمبلی ہے ایک سال گزرنے کے باوجود اس کو باپ کی وزارت کیوں نہ دی گئی کہیں حکومت کے اندر بھی ان دہشت گردوں کے ہمدرد تو نہیں جو دلیر باپ کے بیٹے سے بھی خوف زدہ ہیں اور اس کا راستہ روکنا چاہتے ہیں .

سود پرمبنی معیشت حرام کیوں؟

دنیاکے سبھی ممالک عمومی اور اسلامی ممالک خصوصی طور پرایک طویل مدت سے قعر مذلت میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔جس کی متعدد شکلیں اور صورتیں متعارف ہوچکی ہیں۔کہیں سیاسی و معاشرتی بدامنی و استحصال کی لعنت ہے تو کہیں کرپشن و لوٹ کھسوٹ کی ریل پیل ،کہیں ظلم و جور کا بازار گرم ہے تو کہیں عدل و مساوات کی کمیابی ،کہیں خودکشی و قتل و قتال اور قانون کو ہاتھوں میں لینے کی عادت تو کہیں دووقت پیٹ کی بھرتی کے لئے اپنی دوشیزاؤں کی فروخت بازاری،کہیں سیاست تو کہیں مذہب کے ٹھیکہ داروں نے انسانیت کی فکری و نظری آزادی کو سلب کررکھا ہے تو کہیں فوجی و جمہوری طاقتوں نے جبرواستبداد کا شکنجہ عوام پر کس لیا،کہیں دہشت گردی کے خونچکاں واقعات ہیں تو کہیں انسانوں کو تاابد غلام رکھنے کے لئے سیاسی و قومی،لسانی و مذہبی گروہوں میں بندربانٹ دیاگیا۔یہ سب تباہی و بربادی اور تقھقرو ھبوط صرف اس لئے ہے کہ ہم نے باوجود اپنے آپ کو اسلام جیسے آفاقی و عالمی تاامروز رہنے والے دین سے تعلق کا راگ الاپتے نہیں تھکتے مگر ہم اسی دین حق کی اساسی و بنیادی تعلیمات سے موانحراف برتتے ہیں۔انہیں امراض و بیماریوں کے ظہور و وجود میں آنے کا سبب خود باری تعلی نے یوں ذکر کردیا کہ جو لوگ میرے ذکر(قرآن )سے منحرف ہوں گے تو میں ان کی معیشت کو تنگ کردوں گا ۔ایسا کیوں نہ ہو کہ معاشرے نے اس قبیح فعل کو ببانگ دہل اور کھلی اعلانیہ بغاوت کے طور پر سود(ربا) کو اپنے اوپر حلال کرلیا جبکہ اسی سے متعلق اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ سود خور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے کمربستہ ہوجائیں۔ سود کیا ہے؟سود وزن کی جانے والی یا کسی بھی پیمانہ سے ناپی جانے والے ایک جنس کی چیزیں اور روپے وغیرہ میں دوآدمیوں کا اس طرح معاملہ کرنا کہ ایک کو عوض کچھ زائد لوٹایاجائے اسی کو انگریزی میںInterestکہتے ہیں۔اسی طرح بینک سے قرض لینے یا اس میں جمع شدہ مال پر پہلے سے طے شدہ منافع حاصل کرنا بھی سود ہے۔سود ی معیشت ایک ایسا مذل عمل ہے جو تمام پوری دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ فروغ پاتا جارہاہے۔سودی لین دین کی دلدل میں انسانیت کے سبھی طبقات دھنسے ہوئے ہیں۔اس سودکی نحوست و مضمرات سے تغافل کے نتیجہ میں معاشرے کے انفرادی و اجتماعی ادارے ذلت و پستی اور تنگی و بے سکونی سے دوچار ہیں۔معیشت کی گراوٹ و ناکامی کا سبب بھی سودی معاملات کا جاری رکھنا ہے کیوں کہ رب رحمن نے سود خوروں سے اپنی اور اپنے نبی ؐ کی طرف سے جنگ کا اعلان جو کردیا ہے۔ربا ایک ایسا لاعلاج مرض ہے جو مال و رزق میں تنگی کا باعث بنتاہے اور اسی کے ساتھ مال و دولت سے برکت بھی جاتی رہتی ہے۔تمام انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات میں سود و نفع خوری کی سخت حرمت کے احکام موجود ہیں۔بدقسمتی کی بات ہے کہ موجود ہ اسلامی ممالک کی معیشت و کاروبار کی بنیاد بھی اسی سودی نظام پر قائم ہے ۔اسی لئے لازمی ہے کہ اس اہم موضوع پر بات کی جائے اور کے نقصانات و مسائل سے ہر مسلمان و انسان کوباخبر ہونا چاہیے تاکہ وہ لین دین کے معاملہ میں سودکے اثرات و شروراور ضرر سے محفوظ رہ سکیں۔سود ی لین دین پر میثاق مدینہ کا ٹوٹنا:نبی اکرمؐ نے مکہ سے ہجرت مدینہ کی طرف کی اور وہاں پہنچ کر جن اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ان میں مسلمانوں کی حیثیت کو تسلیم کراتے ہوئے قبائل سے میثاق و معاہدہ کیا جو میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے ۔اس معاہدہ میں جس قدر شدید مؤقف سودی لین دین کے خاتمے سے متعلق مستقر ٹھہرایا گیا اس کی مثال نہیں ملتی چونکہ سود کی حرمت کا حکم سابقہ ادیان میں دیے جانے کے ساتھ اسلام میں بھی اس کو حرام قرار دیا گیا۔میثاق مدینہ کے تمام مندرجات میں لچک و روادری کی گنجائش رکھی گئی کہ اگر ایک فر دمعاہدہ کے بعد قتل یا چوری یا کوئی اور ظلم و زیادتی و دست درازی کا مرتکب ہوگا تو اس کی سزا صرف اس کو ہی دی جائے گی اور باقی قبیلہ کے افراد مامون و محفوظ ہوں گے۔سودی کاروبار یا تجارت کے متعلق سختی اور پوری قوت کے ساتھ بات طے کردی گئی کہ اگر کوئی بھی ربا(سود) کو اختیار کرے گا تو معاہدہ بلاتاخیر ختم کردیا جائے گا۔سودقرآن مجید کی روشنی میں:اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اور نبی اکرمؐ نے احادیث طیبہ میں سود کی حرمت کو مفصل انداز میں بیان کیا ہے.سورہ البقرہ کی آیت نمبر 275-279میں بیان کیا ہے کہ’’جولوگ سود کھاتے ہیں وہ قبروں سے اس طرح حواس باختہ اٹھیں گے جیسے کسی کو جن نے لپٹ لر دیوانہ بنادیا ہو۔یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا بیچنا بھی تو نفع کے لحاظ سے ویسا ہی ہے جیسے سودلینا حالانکہ سودے کو اللہ نے حال کیا ہے اور سود کو حرام تو جس شخص کے پاس اللہ کی نصیحت پہنچی اور وہ سود لینے سے باز آگیا تو جو پہلے ہوچکاوہ اس کا۔اور قیامت میں اس کا معاملہ اللہ کے سپرد اور جو پھر لینے لگا تو ایسے لوگ دوزخی ہیں کہ ہمیشہ دوزخ میں جلتے رہیں گے۔اللہ سود کو نابود یعنی بے برکت کرتااور خیرات کی برکت کو بڑھاتاہے اور اللہ کسی ناشکرے گناہگار کو دوست نہیں رکھتا۔جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہے ان کو ان کے کاموں کا صلہ اللہ کے ہاں ملے گااور قیامت کے دن ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے۔مومنواللہ سے ڈرو اور اگرایمان رکھتے ہوتوجتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔پھر اگر ایسا نہ کروگے تو تم اللہ اور اس کے رسول ؐ کی طرف سے اعلان جنگ سن لواور اگر توبہ کرلوگے اور سود چھوڑ دوگے تو تم کو اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور نہ تمہارا نقصان‘‘۔اور اسی طرح سورہ الروم کی آیت نمبر39 میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ’’اورجو سود تم دیتے ہولوگوں کے مال میں بڑھے تو اللہ کے نزدیک تو وہ بڑھتابھی نہیں اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اللہ کی رضا مندی طلب کرتے ہوئے تو وہ موجب برکت ہے اور ایسے ہی لوگ اپنے مال کو کئی گناکرنے والے ہیں‘‘۔اور سورہ آل عمران کی آیت (130-131) میں بھی بیان ہے کہ ’’اے ایمان والو!دوگناسودمت کھاؤ،اور اللہ سے ڈروتاکہ تم کو کامیابی حاصل ہو اور ڈرو اس آگ سے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘۔سود سنت نبوی کی روشنی میں:صحیح مسلم میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ’’نبی کریمؐ نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے والے،سودکے لین دین میں گواہ بننے والے،سودکے معاملہ کو لکھنے والے اور سود ی کارابار کے مشاہدہ کرنے والے پر اور یہ سب لعنت کے مستحق ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت سمرۃ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ ’’ رات میں نے خواب میں دیکھا دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے ایک مقدس جگہ کی طرف لے گئے حتی کہ ہم ایک خون کی نہر کے پاس پہنچے جس میں ایک آدمی ایک آدمی کھڑا تھا اور ایک آدمی مہر کے کنارے موجود تھااور اس کے سامنے پتھر موجود تھے ،جو شخص نہر میں موجود تھا وہ نہر سے نکلنے کی خاطر چلتا ہوا نہر کے کنارے کی طرف آتاتھا تو باہر موجود شخص اس کے چہرے پر پتھربرساتا تھا جس کے سبب وہ آدمی دوبارہ خون کی نہر میں چلا جاتا،اسی طرح جب بھی وہ باہر نکلنے کی سعی کرتا تو باہر موجود شخص اس پر پتھر برساتا جس سے نہر میں سے وہ آدمی نہیں نکل سکتاتھا۔تو میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ نہر میں موجود شخص (جس پر سنگ باری کی جارہی ہے )وہ سود خور ہے‘‘۔بخاری و مسلم دونوں میں وارد ہے کہ نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ سات قسم کے گناہوں سے بچوجوانسانوں کو ہلاک کرنے والے ہیں۔صحابہ نے استفسار کیا کہ وہ کون سے گناہ ہیں تو آپؐ نے فرمایاکہ’’ (۱)شرک کرنا(۲) جادوکرنا(۳)کسی شخص کو ناحق قتل کرنا(۴)سودکھانا(۵)کے کا مال ہرپنا(۶)میدان جنگ سے فرار ہونا(۷)پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا‘‘۔طبرانی میں روایت ہے کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ سود کے ۷۰ درجے ہیں جس میں ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں کے ساتھ زنا کرے‘‘۔امام احمد فرماتے ہیں کہ محبوبؐ نے فرمایا ہے کہ ’’ایک درہم سود کھانے کا گناہ چھتیس مرتبہ زناکرنے سے زیادہ ہے‘‘۔سود کی حرمت کا سبب:سود اس لئے حرام کیا گیا ہے کیوں کہ اس میں استحصال اور ظلم کا عنصر پایا جاتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کے ظلم کو حرام قرار دیا ہے اپنے بندوں پر۔اس کی حرمت کا سبب یہ بھی ہے کہ سودی لین دین کی خواہش رکھنے والے غبن(قبضہ و ارتکاز) کرتے ہیں لوگوں کے مال کو اور اس کے ساتھ وہ اپنے مال کی حفاظت کے ارادہ سے سود کا کاروبار کرتے ہیں ۔بہرحال سود ایک ایسا غلیظ جرم ہے جو اللہ تعالیٰ کے مرتب کردہ سنن و منہج سے ٹکراتاہے یعنی یہ فطرت انسانی کے ہی خلاف ہے کہ ایک انسان دوسروں کی کمائی بغیر محنت کے نفع حاصل کرکے گل چھڑے اوڑائے ۔سود کے نقصانات ملکی معاملات میں:سود ملکوں کے درمیان معاملات کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے اور یہ سیاسی غلبہ حاصل کرنے کا بھی بنیادی ہتھیار ہے۔جو شخص بحث و تمحیص اور تحقیق کا عادی ہے وہ یہ بآسانی جان سکتاہے کہ یہودی استعماری طاقتوں نے زمانہ قدیم اور جدید یعنی عصر حاضر میں کس طرح دولت کی گردش کو جامد کرکے اس کا تمام فائدہ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں ۔اسی ذریعہ سے ماضی میں برطانیہ اور فرانس نے شرق اوسط اور شرق اقصیٰ میں غلبہ حاصل کیا۔اس کے ساتھ استعماری قوتیں اسلامی ممالک میں تاجروں کے ذریعہ سے سود و نفع حاصل کرتی ہے کہ مشرقی ممالک سے سستے داموں اشیاء خرید کران کو واپس انہی کو مہنگے دام میں فروخت کرتے ہیں۔اسی طرح تیسرے طریقے میں بڑے منافع خوروں نے ایک سبیل یہ پیدا کی کہ بنکنگ کے نظام کو متعارف کروایا اور اس طرح سے غریب و کمزور ممالک کوبہت زیادہ سود پر قرضے جاری کرتے ہیں اوریہ ایک ایسا ظالمانہ طریقہ ہے استعمار کا کہ وہ سرمایہ داروں کے مال و متاع کابذریعہ سود تحفظ کرتے ہیں ۔ دعوتِ فکر:مندرجہ بالابحث سے معلوم ہواکہ سودی لین دین بہت بڑا ظالمانہ نظام ہے اور یہ ایک عذاب الیم ہے جو کہ مسلمانوں پر مسلط ہوچکا ہے استعمارو سرمایہ دار کی جانب سے کیوں کہ مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات سے دوری و پہلوتہی اختیار کی ہوئی ہے،تو ایسی صورتحال میں ممکن نہیں کہ اسلامی ممالک کے حالات بہتر ہوں یا وہ ترقی کی منازل طے کرسکیں الا یہ کے وہ اسلامی احکامات اور رجوع الی اللہ کریں۔اور اپنے مال و منال کو سود سے پاک کریں،یہ ذمہ داری تمام مسلمانوں پر انفرادی و اجتماعی دونوں اعتبار سے عائد ہوتی ہے۔یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ جس بھی سماج کو اللہ ہلاک و برباد کرنے کا ارادہ کرلیتے ہیں تو اس میں سود کو ظاہر کردیتے ہیں۔اور جس بھی قوم نے ایک بار سود کو اپنالیا وہ ہمیشہ کے لئے اس میں دھنس جاتے ہیں اور چاہ کر بھی اس سے چھٹکارا نہیں پاسکتے یہی صورت حال ہمارے اسلامی ممالک کی ہے۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الفور سودی کاروبار سے قطع تعلقی کا فیصلہ و اعلان کریں کیوں کہ جو مالی و اخلاقی اور اجتماعی و سماجی مسائل انہیں درپیش ہیں ان کے پس پردہ یہی سودی نظام معیشت کو اختیار کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ سود کو اختیار کرنے والوں پر ذلت و پستی اور عذاب مسلط کردتے ہیں۔قرآن حکیم میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’جو ہماری نصیحت(ذکرو قرآن)سے اعراض کرے گا ہم اس پر معاشی تنگی مسلط کردیں گے‘‘۔ تمام انسانوں پر فرض ہے کہ وہ سودی معاملات خواہ چھوٹی سطح پر ہوں یا بڑی سطح سے فی الفور تائب ہوکر کنارہ کشی اختیار کریں ۔معاشرے کے معاشی پریشانیوں سے نجات کے لئے قرض حسنہ،العفو،زکوٰۃ و صدقات کی ادائگی کو لازم پکڑیں اورکفایت شعاری وقناعت پسندی کوشعار بنالیں اور اسراف و تبزیراور تقتیر سے مجتنب ہوں۔

تحریر:عتیق الرحمنریسرچ سکالروحدانی نظام تعلیم فورم پاکستان

ہوسِ اقتدار، سازشیں اور احتجاجی تحریکیں


اقتدار کی ہوس ایک ایسی لعنت ہے جس نے حکمرانوں کے دلوں سے قناعت کی دلکشی چھین لی ہے۔ اُصول پرستی عملاً ختم ہو گئی ہے۔ ہمارے ملک کا ہر سیاستدان داؤ پر ہے اس کے سامنے ایثار اور قربانی کا کوئی جذبہ نہیں ہے۔ انسانیت سے محبت کا جذبہ ناپید ہو چکا ہوتا جا رہا ہے۔ اقتدار کی ہوس میں حکمران طبقہ سب کچھ کر گذرنے پر تُلا ہوا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ لے لیجئے وہاں بدنظمی اپنے کمال پر نظر آ رہی ہے۔ رشوت، اقربانوازی، فریب او ر بے ایمانی اس قدر عام ہے کہ خوف خُدا دلوں میں باقی نہیں رہا۔ الغرض ہمارے معاشرے کا ہر رُخ داغدار اور ہر انداز افسوس ناک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں بدکردار، چور، ڈاکو جن کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ خلق خُدا سراپا احتجاج ہے مگر ان کے کانوں پر جون تک نہیں رینگتی ۔ خوابِ خرگوش کے مزے لینے والے یہ حکمران فرعون کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑتے جا رہے ہیں۔ کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ انصاف کی مسند پر بیٹھے ہوئے قاضی آج خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ معاشرے کے ایسے بگڑے ہوئے خال و خط کسی نہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو ا کرتے ہیں۔آج ہمارے ملک کے حکمرانوں نے ملک کو کنگال کر کے رکھ دیا ہے۔ ملک سے دولت کو لوٹ کر بیرون ملک بنکوں میں اپنی ناجائز دولت کو چھپا یا جا رہا ہے۔ کہیں سرے محل ، کہیں آف شور کمپنیوں کے چرچے زبان و زد وعام ہیں۔ ہمارے ملکی ادارے نااہل کرپٹ لوگوں کے حصار میں ہیں۔ آج پانامہ لیکس کے ذریعے ہمیں ہمارے حکمرانوں کے بدنما داغ سے آلودہ چہرے دکھائے جا رہے ہیں جنکو ہم نے صادق اور امین بنا کر اقتدار پر بیٹھایا ہو اہے۔ دراصل یہی لوگ ملک کے سب سے بڑے ڈاکو اور لُٹیرے ہیں جو آج فرعون ثانی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ زمانہ قدیم میں جرائم پیشہ افراد، چوراور ڈاکو پہاڑوں اور جنگلوں میں رہا کرتے تھے۔ یہی جگہیں ان کے لیے محفوظ پناہ گاہیں تھیں مگر آج چور اور ڈاکوؤں نے ہمارے اقتدار کے ایوانوں میں پناہ گاہیں تلاش کر لی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کا محاسبہ نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کئی لبادے اوڑھ رکھے ہیں۔ یہ قوم کے مسیحا کے روپ میں وہ درندے چھپے بیٹھے ہیں جن کے ہاتھ خلق خدا کے خون سے رنگین ہیں ۔ کراچی کی صورت حال ہو یا ماڈل ٹاؤن کا واقعہ ان درندوں نے انسانیت کو شرما کر رکھ دیا ہے۔ جنگل کے قانون میں بھی مقافات عمل کا نظام رائج ہے جو جانور ظلم کرتا ہے اک نہ اک دن وہ بھی گرفت میں آجاتا ہے مگر ہمارے ہاں تو چودہ افراد کو لاہور میں دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا مگر آج تک وہی لوگ اقتدار پر بُرجمان ہیں جن پر قتل عام کا الزام ہے۔لاقانونیت کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ انصاف مانگنے والوں کو دیوارکے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔مظلوموں کی چیخ و پکار سننے والا کوئی نہیں۔حالانکہ انصاف بانٹنے والے تمام ادارے موجود ہیں مگر ایک مخصوص طبقہ ہر قسم کی قانونی گرفت سے ستر سال سے محفوظ نظر آ رہا ہے۔ قانون کی پاسداری صرف اورصرف غریب اور محکوم طبقہ تک ہی قائم ہے ۔ دوچارسوروپے رشوت لینے والا پکڑا جاتا ہے جبکہ اربوں کی کرپشن کرنے والا دولت کی چمک دکھا کر اقتدارکے ایوانوں میں پناہ لے کر تاحیات محفوظ رہتا ہے۔لوٹ مار،قتل و غارت گردی اک ہی راستہ باقی بچا ہے کہ عوام کو اب اس ظلم و بربریت کے خلاف سڑکوں پر نکلنا ہو گا۔ یہ گلہ سڑا بدبودار نظام اب مزید عوام کی سکت سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ اگست کا مہینہ ہماری تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسی مہینے میں پاک و ہند کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ وطن کا خواب پورا ہوتے دیکھا تھا۔ آج پھر یہ مہینہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ان ظالم حکمرانوں سے نجات دلا کر ملک میں حقیقی جمہوریت کا سورج طلوع ہونے کی بشارت دے رہا ہے۔ بشرطیکہ عوام اپنے حقوق کے لیے باہر نکلیں۔ْ؂ وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتاآج وقت ہے کہ عوام تحریک انصاف اورعوامی تحریک کے احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ان ظالم حکمرانوں کو اپنے اعمال کا ثمر چکھائیں جنہوں نے پاکستان میں ہر پیدا ہونے والے بچے کو بھی ایک لاکھ بیس ہزار کا مقروض بنا دیا ہے۔ لوٹ مار اور کرپشن مافیاء اک بار پھر سرجوڑ کر بیٹھ گیا ہے اور احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے گھناونی سازشوں میں مصروف ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق موجودہ حکمران اور مک مکا"دبئی والی سرکار" آج بھی ایک صضحہ پر نظر آ رہے ہیں اور احتجاجی تحریک کو ختم کرنے کے لیے گھناونی سازش ترتیب دی گئی ہے۔ جس کے مطابق احتجاج کے دوران خاص طور پر پنجاب میں مصنوعی سیلاب کی صورت حال پیدا کی جائے گی یعنی مختلف نہروں اورندی نالوں کے بند توڑ کرسیلابی پانی آبادیوں میں داخل کیا جائے گا اور اسطرح بڑی تعداد میں پنجاب کے بہت سے دیہات متاثر ہونگے اورسیلاب سے بھاری اموات کا بھی خطرہ مول لیا جائے گا اور اس طرح عوام کی توجہ احتجاج سے ہٹا کر مصنوعی سیلاب پر مرکوز کرکے احتجاجی تحریک کو ناکام بنانے کی گھناونی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے۔ اللہ کرے ایسانہ ہو۔ حکمرانوں کی تمام حفاظتی تدابیر ناکام ہوں اور میرے ملک کے عوام کو اللہ پاک سیلاب جیسی آفت سے محفوظ رکھے تاہم یہ گھناونی سازش تیار کی جار ہی ہے۔ خدشہ ہے کہ اس سلسلے میں حکمران اپنے ہمسایہ ملک کی بھی مدد حاصل کریں گے جو ہر سال پاکستان کی طرف اضافی پانی چھوڑ کر تباہی و بربادی کا ساماں پیدا کرتا رہتا ہے۔اب کی بار شریف مودی گٹھ جوڑ ملک کے لیے سیکورٹی رسک بن چکا ہے اور عوام ہر سازش سے آگا ہ ہیں لیکن بدقسمتی سے دور حاضر میں فساد اور شر اپنے کمال پر ہے۔ زندگی کی شاہراہ پر کانٹے پھول بنے ہوئے ہیں۔ دام خوشنما نظر آتے ہیں۔صیاّد مہربانوں کے روپ میں جلوہ گر ہیں۔ رہزن رہنما دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر سازشیں نوازشیں لگتی ہیں۔ گویا شیطانی قوت نے ہر بُری بات کو ہمارے لیے خوبصورت بنا رکھا ہے۔ ہر چمکتی شئے کو سونا سمجھ کر ہم دھوکے میں آ جاتے ہیں۔ ملک دشمن اندرونی و بیرونی قوتیں اس سادہ لوھی سے فائدہ اُٹھاتیں ہیں جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔ کشمیر جل رہا ہے اور ہمارے حکمران اپنے کاروبار اور دوستیاں نبھا رہے ہیں اور ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔ اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔

Pages