مسلمان نما مرتدین اور زنادقہ کا علمی احتساب

اُنہوں کچھ دیدا ہے (کیوں وہ کانا ہے؟)

اُنہوں کچھ دیدا ہے (کیوں وہ کانا ہے؟)مصنف:  مرتضیٰ مہر 

اس سے پہلے کی گئی پوسٹ میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں ( پچھلی پوسٹ کو پڑھنے کے لئے  یہاں کلک کریں)  کہ مرزا بشیر الدین بیان کرتا ہے کہ غیر محرم عورتوں کو دیکھ کر مرزا اپنی آنکھیں خوابیدہ کر لیا کرتا تھا اب اس بیان کی تکذیب بھی مرزا بشیر الدین کی ہی زبان سے ملاحظہ کر لیں ۔
مرزا غلام قادیانی عورتوں کو دیکھتے وقت آنکھیں خوابیدہ کر لیا کرتا تھا بالکل جھوٹ ہے جو لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ایجاد کیا گیا ہے اور یہ جھوٹ کیوں ایجاد کیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ
مرزا غلام قادیان کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی ۔ایک دفعہ اُس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں مرزا بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کاکام کرتے تھے وہاں ایک کونے میں کھُرا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے وہاں اپنے کپڑے اُتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی ۔ مرزا غلام قادیان اپنے کام تحریر میں مصروف رہے (یا مصروف رہنے کی ایکٹنگ کرتے رہے) اور کچھ خیال نہ کیا (میں نہیں مانتا) کہ وہ کیا کرتی ہے ۔ جب وہ نہا چکی تو ایک خادمہ اتفاقاً آ نکلی ۔اُس نے اُس نیم دیوانی کوملامت کی کہ مرزا کے کمرے میں اور موجودگی کے وقت تو نے یہ کیا حرکت کی تو اُس نے ہنس کر جواب دیا ۔ اُنہوں کچھ دیدا ہے (ذکر حبیب ص 38)
(یعنی اسے کون سا نظر آتا ہے یعنی دیوانی مرزا غلام قادیانی کو کانا سمجھتی تھی) مرزا غلام قادیانی کو کچھ دیدا تھا یا نہیں مرزا کی ہی زبان سے سن لیں۔
’’اُس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اُس سے پہلے نکلے گی اور وہ اُس کے بعد نکلے گا ۔ اُس کا سر اُس دُختر کے پیروں سے ملا ہوا ہوگا ۔ یعنی دُختر معمولی طریق سے پیدا ہوگی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر اور اُس کے پیروں کے بعد بلاتوقف اُس پسر کا سر نکلے گا ۔(جیسا کہ میری ولادت اور میری توام ہمشیرہ کی اسی طرح ظہور میں آئی)۔(خزائن ج 15ص 482-83)

اب آپ خود غور کریں کہ جو شخص اپنی پیدائش کا آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکتا ہے کیا اُس کے بارے میں کوئی یہ رائے قائم کر سکتا ہے ’’کہ انہوں کجھ دیدا ہے؟‘‘اور حیرت تو یہ ہے کہ حافظہ بھی کمال کا ہے میسح جی اپنے الہام تو بھول جاتے تھے لیکن اپنی پیدائش کے منظر اور طریقے کو نہیں بھولے ۔اب آتے ہیں اس طرف کہ مرزا غلام قادیانی غیر محرم عورتوں کو دیکھ کر آنکھیں خوابیدہ کر لیتا تھا حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں خوابیدہ مرزا نہیں کرتا تھا بلکہ وہ قدرتی طور پر خوابیدہ آنکھیں رکھتا تھا اور ان خوابیدہ آنکھوں سے صاف صاف دیکھنے میں وہ پوری طرح طاق تھا ۔

اور چونکہ مرزا قادیانی کی آنکھیں بھینگی بھی تھیں جن سے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے کہ شاید کوئی کتاب پڑھ رہا ہے یا کوئی اور کام کر رہا ہے لیکن اُس کا دھیان کسی اور طرف ہوتا تھا جیسا کہ مرزا بشیر الدین کہتا ہے کہ ’’لوگ خیال کرتے کہ آپ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر آپ کا دھیان کسی اور کی طرف ہوتا ۔‘‘(سیرت المہدی حصہ سوم روایت نمبر 53)
اب سمجھ آئی آپ کو کہ ننگی عورت نہا رہی تھی اور مرزا نے اُس کی طرف کچھ خیال کیوں نہیں کیا ؟ کیونکہ وہ بھینگا تھا اور اُسے اُس پر براہ راست نظر ڈالنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ ٹیڑھی آنکھوں سے سیدھا دیکھ سکتا تھا ۔

مرزا غلام قادیانی کی خوابیدہ آنکھوں والے جھوٹ کی تکذیب بھی مرزا بشیرالدین کی ہی زبان سے سن لیں ’’آپ کی یہی عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں ۔ ‘‘ ( سیرت المہدی حصہ دوم روایت نمبر 403ص 77)
ایک دفعہ حضرت صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور آنکھیں ذرا کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اُس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہو گئیں ۔ (سیرت المہدی حصہ دوم روایت نمبر 404ص 77)
اُمید ہے کہ اب آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ مرزا کو کچھ دیدا ہے کا جھوٹ قادیانیوں نے کیوں ایجاد کیا تھا ۔ ؟

نام نہاد قادیانی خلیفہ کی نام نہاد مسیح قادیانی کی صریح خلاف ورزی

نام نہاد قادیانی خلیفہ کی نام نہاد مسیح قادیانی کی صریح خلاف ورزی 
مصنف : مرتضیٰ مہر
بہت ہے جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ( خزائن ج 19 ص 12)
مرزا بشیر احمد ایم اے بے پردہ عورتوں سے ملنے جلنے کے متعلق سوال کے جواب میں کہتا ہے کہ:
’’ایک اصولی بات اس خط میں موجود زمانہ میں بے پردہ عورتوں سے ملنے جلنے کے متعلق بھی پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس زمانہ میں بے پردہ عورتیں کثرت کے ساتھ باہر پھرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ اور جن سے نظر کو مطلقاً بچانا قریباً قریباً محال ہے اور بعض صورتوں میں بے پردہ عورتوں کے ساتھ انسان کو ملاقات بھی کرنی پڑ جاتی ہے اس کے متعلق (نام نہاد) حضرت مسیح موعود نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ :
ایسی غیر محرم عورتوں کے سامنے آتے ہوئے انسان کو یہ احتیاط کر لینی کافی ہے کہ کھول کر نظر نہ ڈالے اور اپنی آنکھوں کو خوابیدہ رکھے اور یہ نہیں کہ ان کے سامنے بالکل ہی نہ آئے ۔ (اگر اُن کے سامنے آنا پڑے تو نظر اُٹھا کر نہ دیکھے بلکہ نظر خوابیدہ رکھے)۔ کیونکہ بعض عورتوں میں یہ بھی ایک حالات کی مجبوری ہے ہاں آدمی کو چاہیے کہ خدا سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ہر قسم کے فتنے سے محفوظ رکھے ۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں بچپن میں دیکھتا تھا کہ جب (نام نہاد) حضرت مسیح موعود گھر میں کسی ایسی عورت کے ساتھ بات کرنے لگتے تھے جو غیر محرم ہوتی تھی اور وہ آپ سے پردہ نہیں کرتی تھی تو آپ کی آنکھیں قریباً بند سی ہوتی تھیں ۔‘‘(سیرت المہدی حصہ دوم ص 405روایت نمبر 442)
یہ جاننے کے لئے کہ کیا قادیانی مرزا غلام قادیانی کی اس تعلیم پر عمل کرتے ہیں سرچ کی تو مجھے قادیانیوں کے نام نہاد خلیفہ کی ہی کئی تصاویر میسر آ گئیں ۔ جن میں وہ بے پردہ عورتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لوفراور بے غیرت مرد کی طرح دیکھ رہے ہیں کچھ تصویریں  مندرجہ ذیل ہیں ۔





















اب آپ خود بتائیں کہ کیا مرزا مسرور کی یہ بے حیائی مرزا غلام قادیانی کی تعلیم کے خلاف نہیں ہے؟
مزید حیرت میں مبتلا ہونے کے لئے مرزا بشیر الدین محمود کا یہ بیان ملاحظہ فرمائیں جو اوپر والی روایت کا ہی حصہ ہے ۔
’’اور مجھے یاد ہے کہ میں اس زمانہ میں دل میں تعجب کیا کرتا تھا کہ حضرت صاحب اس طرح آنکھوں کو بند کیوں رکھتے ہیں ۔ لیکن بڑے ہو کر سمجھ آئی کہ دراصل وہ اسی حکمت سے تھا۔‘‘(حوالہ ایضاً)
اور اس روایت کے سمجھ آنے کے بعد مرزا محمود کا شوق بھی دیکھ لیں۔’’جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا واپسی پر جب ہم فرانس آئے،تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی ’’عریانی‘‘ سے نظر آ سکے ۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے ،جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا اوپیرا سینما کو کہتے ہیں ،(مرزا غلام قادیانی خود بھی تھیٹر جایا کرتے تھے اور اُس کے مرید بھی (ذکر حبیب ص 18) چودھری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے ،میری نظر چونکہ کمزور ہے اسلئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا (مرزا بھی ننگی عورتوں کو دیکھ کر بعد میں اندھا بننے کی ایکٹنگ کیا کرتا تھا (ذکر حبیب ص 38) تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ ’’سینکڑوں عورتیں‘‘ بیٹھی ہیں میں نے چودھری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں اُنہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے کہ وہ ننگی معلوم ہوتی ہیں ۔(سبحان اللہ یہ نظر کی کمزوری ہے جو لباس کے آڑ پاڑ دیکھ سکتی ہے اگر نظر مضبوط ہوتی تو شاید آنکھوں سے ہی سوراخ کر دیتے) تو یہ بھی ایک لباس ہے اسی طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے گاؤن ہوتے ہیں نام تو اس کا بھی لباس ہے مگر اس میں سے جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے ۔ (خطبات محمود ج 1ص226،اخبار الفضل قادیان 24جنوری 1934 ؁،تاریخ محمودیت ص 67)
نوٹ فرما لیں کہ مرزا غلام قادیانی نے ایسے یہودی صفت علماء کی مثال گدھے سے دی ہے جو کتابوں سے لدا ہوا ہو ۔ظاہر ہے کہ عوام کو کتابوں سے کچھ سروکار نہیں ۔(خزائن ج 17ص330)

تو ثابت ہوا مرزا مسرور سانپ ہیں !








قادیانیوں کے حقوق !


قادیانیوں کے حقوق !
مصنف : گھمنام
اب بات قادیانیوں کے حقوق کی ہی چل پڑی ہے تو کیوں نہ حقوق کو ڈسکسس کیا جائے !
١٩٧٤ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تحریک ختم نبوت کو دبانے کی کوشش کی تھی لیکن ناکامی ہوئی جس کے بعد قومی اسمبلی کو خصوصی کیمٹی کا درجہ دیا اور اس مسئلہ پر بحث شروع کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، ان کا بیان ہوا، مولانا مفتی محمود مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر علماء کرام نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹارنی جنرل یحٰیی بختیار کے ذریعہ جرح کی۔ مرزا ناصر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ "مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں. "قومی اسمبلی میں ہونے والی پوری جرح جو کہ تین ہزار پیجز پر مشتمل ہے جسکو پی پی پی کی پچھلی حکومت نے قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کے حکم سے عوام تک رسائی کے لئے پبلش کرنے حکم جاری کیا تھا .
امتناعِ قادیانیت آرڈیننس ... !١٩٨٤ء میں جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ پر جنرل ضیاءالحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا. جن حقوق کو لے کر حقوق حقوق کا شور مچایا جاتا ہے تھوڑی نظر کرم اس حقوق کی طرف دیکھ لیں اور فیصلہ کریں کیا یہ مرزائیوں کے حقوق ہیں ؟
پاکستان آئین کی شق :298Bکے مطابق قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا ... !آرڈیننس بنام:”قادیانی گروپ ‘لاہوری گروپ اور اَحمدیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیاں (امتناع وتعزیر)آرڈیننس1984ئ”کے ذریعے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان (ایکٹ : 45بابت 1860ئ’باب:15) میں دفعہ:298B اور 298Cکی ترمیم واضافہ (298.B)بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لیے مخصوص القاب،اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال.(١). قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جوخود کو”احمد ی”یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جوالفاظ کے ذریعے،خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔(الف) حضرت محمدۖ کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمؤ منین’ خلیفتہ المسلمین’صحابی یارضی اللہ عنہ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔(ب) حضرت محمدۖ کی کسی زوجہ مطہرّہ کے علاوہ کسی ذات کو اُم المؤمنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔ (ج) حضرت محمدۖ کے خاندان (اہلِ بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل ِ بیت کے طورپر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔ (د) اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد”کے طورپر منسوب کرے یاموسوم کرے یا پکارے تو اُسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔(٢). قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کاکوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لیے بلانے کے طریقے یاصورت کو اذان کے طورپر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال ہوسکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستو جب بھی ہوگا۔

پاکستان آئین کی شق : 298C کے مطابق قادیانیوں مذہب کی تبلیغ یا تشہیر روک دیا گیا ." قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے قادیانی گروپ یالاہوری گروپ (جوخود کو اَحمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کاکوئی شخص جوبلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے۔ کسی ایک قسم کی سزائے قیداِتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے."

اب سوال یہ ہے کہ ایک اسلامی ملک میں مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد ایک ایسے گروہ اور جماعت کو غیر مسلم قرار دیا گیا جو نہ صرف اسلامی تعلیمات کو منسخ کر کے پیش کر رہیں ہیں بلکہ اسلام کی اصل روح کو بھی نقصان پہنچانے میں پیش پیش ہیں.سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان آئین کی شق : 298B اور 298C کے مطابق قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکنا کیا قادیانیوں کے حقوق ہیں ؟کیا نبی صلی الله علیہ وسلم کے خلیفہ راشدین کہ ہم پلہ مرزا غلام احمد کی نبوت کے دکانداروں کھڑا کرناپاکستان کے مسلمانوں سے انصاف ہے ؟سوال یہ بھی مرزا غلام احمد قادیانیوں کی بیوی کو اُم المؤمنین کا درجہ دینا کیا قادیانیوں کا حق ہے ؟ مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کو صحابی کا درجہ دینا کیا قادیانیوں کا حق ہے ؟

اس سب کے موازنے کے بعد مرزائی اپنی مرزائیت کو کو اسلام کہتے ہیں تو پھر پاکستان کے مسلمان کون ہیں ؟سوال یہ بھی ہے کہ قرآن کے مطابق جو مسلمان کسی ایک نبی کا انکار کرے تو وہ مسلمان نہیں تو قادیانیوں کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہے اور پاکستان کے مسلمان اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو کیا مرزائیوں کی ڈاکٹرائن جس کو یہ اسلام بنا کر پیش کرتے ہیں کے مطابق جو مسلمان مرزا کو نہیں مانتا کیا وہ مسلمان ہے ؟اگر آپ کو لگتا ہے یہ مرزائیوں کے حقوق ہیں اور یہ ان کا حق تو پھر آپ اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ دو ، اگر آپ کو لگتا یہ ریاست کا کام نہیں ہے تو پھر بتائے مسلمان معاشرے کے مسلمان ملک میں کذابوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ، اور یہ بھی بتائے کہ مسلمان کا اسلام پر اور اسلام کا ایک مسلمان پر کیا حقوق ہیں .ایک طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اعلان جہاد کرنا ریاست کا کام ہے ، ریاست کی سر پرستی میں ہی جہاد کیا جا سکتا اور دوسری طرف کہتے کذابوں کا معاملہ علما سے ہے ریاست سے نہیں ،

قادیانیت اور پاکستان کی اعلى عدالتوں کے فیصلے

قادیانیت اور پاکستان کی اعلى عدالتوں کے فیصلے.
مصنف : حافظ عبيدالله=============
قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے اور امتناع قاديانيت آرڈیننس کے اسلامی احکام کے عين مطابق ہونے کے بارے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اعلى عدالتوں کے فیصلے .
-------------------------------------------------------------------------------------
مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمة الله عليه نے مورخہ 21 جون 1932 کو پنڈت جواہر لال نہرو کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں قادیانیوں کے بارے میں تاریخ ساز جملہ لکھا تھا کہ : "وہ اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں" ...
(کچھ پرانے خط، حصه اول ، مرتبه جواهر لعل نهرو، مترجم : عبدالمجيد الحريرى، مكتبه جامعه دهلى، صفحه 293).

جہاں تک مرزا قادیانی اور اسکے ماننے والوں کے بارے میں شرعى فتووں کا تعلق ہے تو نہ صرف بر صغیر بلکہ ساری امت اسلامیہ کے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور ان کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی اسکے کفریہ عقائد کے خلاف اس وقت کے علماء کرام نے متفقہ فتوے جاری کردیے تھے ... جہاں تک قانون کا تعلق ہے تو پاکستان بننے سے پہلے 1935 میں مقدمہ بہاولپور کے نام سے مشہور کیس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ... پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے پاکستان میں اپنے کفریہ عقائد کو اسلام بنا کر پیش کرنا شروع کیا اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنا شروع کیا، چنانچہ ان کی ارتدادى سرگرمیوں کو قانونی طریقے سے روکنے کے لیے مسلمانان پاکستان کی طرف سے یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ شرعى طور پر تو قادیانی غیر مسلم ہیں ہی، انھیں قانونی طور پر بھی غیر مسلم قرار دیا جائے تاکہ ان کی ارتدادى سرگرمیوں کو روکا جائے ..چنانچہ کئی سالوں پر محیط تحاریک اور ہزاروں مسلمانوں کے خون کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد آخر کار 1974 میں آخر کار یہ مطالبہ منظور ہوا اور آئینی و قانونی طور پر بھی مرزا قادیانی اور اسکے ماننے والوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ... اس کے لیے اس وقت کی قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی کا درجہ دیا گیا اور مرزائیوں کے دونوں گروہوں قادیانی و لاہوری کو اپنا موقف پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا ، اسکے بعد قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر یہ رائے دی کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں جس کی بنا پر پاکستان کے آئین میں یہ بات ڈال دی گئی . قومی اسمبلی کی اس کاروائی کی تفصیلی رپورٹ منظر عام پر آ چکی ہے ...اور شائع بھی ہو چکی ہے .

لیکن قادیانی سازشیں ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لیتیں، وہ گاہے بگاہے مسلمانوں کی غیرت کا امتحان لیتے رہتے ہیں کہ کہیں وہ سو تو نہیں گئی؟ اسی سلسلے کی ایک کڑی پچھلے دنوں ایک نوجوان اداکار حمزه عباسى کی طرف سے ایک چینل پر چھوڑا گیا یہ شوشہ ہے کہ کیا ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی کو غیر مسلم قرار دے سکے؟ اگرچہ اس بچے کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ایک اسلامی ریاست کو تو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اسلام ترک کرکے مرتد ہونے والے کو قتل کرے ، اور ظاہر ہے کہ اسے مرتد قرار ریاست ہی دے گی ...اس بچے کو دیا گیا سکرپٹ دینے والوں کو اسے یہ بتانا چاہئے تھا کہ بیٹا آئین پاکستان میں لکھا ہے کہ پاکستان کا صدر صرف ایک مسلمان ہو سکتا ہے ... تو تم سے سوال ہو سکتا ہے کہ کیا ریاست کو مسلمان کی تعریف کرنے کا اخیتار بھی ہے یا نہیں؟ آئین میں غیر مسلموں کے حقوق کا بھی ذکر ہے تو یہ کون بتائے گا کہ غیر مسلم کون ہے؟ ..

اس بچے نے دوسرے دن ایک ویڈیو جاری کی جس میں اپنے پہلے سوال سے دست بردار ہوتے ہوے دوسرا سوال داغا کہ "کیا قادیانیوں کے حقوق کے لئے بات کرنا جرم ہے"؟ اس بچے کو کوئی بتائے کہ کیا اس ملک میں مسلمان اکثریت کو اسکے سارے حقوق مل گئے ہیں جو اسے قادیانیوں کی فکر ستا رہی ہے؟ پھر قادیانیوں کے کون سے حقوق ہیں جو انھیں نہیں مل رہے؟ اگر حقوق سے مراد یہ ہے کہ انھیں مسلمانوں والے حقوق دیے جائیں، انھیں اپنے کفریہ عقائد کی کھلی تبلیغ کی اجازت دی جائے، انھیں اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی اجازت دی جائے، انھیں مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کی اجازت ہو تو یہ حقوق انکے سرے سے ہے ہی نہیں کیونکہ آئین میں کسی بھی غیر مسلم کو یہ حقوق نہیں دیے گئے ، پھر وہ کون سے حقوق ہیں جن کی فکر ان "رمضانی میڈیائی علماء" کو کھائے جا رہی ہے؟ .اگر انھیں اس بات کا افسوس ہوتا ہے کہ فلاں جگہ ایک قادیانی کو قتل کر دیا گیا ، تو قتل تو اس ملک میں دوسرے بھی ہوتے ہیں، بلکہ دوسرے زیادہ ہوتے ہیں، پھر قادیانی کے قتل کو مذہبی بنانا کہاں کا انصاف ہے؟ کسی دینی جماعت نے کبھی بھی قادیانیوں یا کسی دوسری اقلیت کو قتل کرنے کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کی اور نہ اسے درست سمجھتی ہے، اگر ایسا ہوتا تو آج قادیانوں کے گڑھ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا ، وہاں جلاؤ گھیراؤ کا سماں ہوتا ... لیکن ایسا نہیں ہے ..قادیانی اس ملک میں رہ رہے ہیں، ان کے بڑے بڑے کاروبار ہیں، شیزان جیسی کمپنی ہے، ذائقہ گھی ہے، شوگر ملز ہیں...نہ جانے وہ کونسا حق ہے جو یہ "پیڈ میڈیا" والے انھیں دلانا چاہتے ہیں؟ معاف کیجیے گا اگر آپ انھیں "مسلم" ہونے کا حق دلانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی خام خیالی ہے...یہ کوئی سیاست کا بازار نہیں کہ آپ جس کی چاہے پگڑی اچھالو .. یہ غیرت مسلم کا مسئله ہے ، اس کے لیے ہزاروں ختم نبوت کے پروانوں نے اپنی جانیں دی ہیں، یہ حرمت رسول صلى الله عليه وسلم اور آپ صلى الله عليه وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کی بات ہے ... جس کے سامنے آپ کے ٹی وی چینل کی حیثیت کچھ بھی نہیں .. اس لیے یہ "ٹیسٹر" پھینکنا بند کرو بلکہ رمضان نشریات کے نام پر بے حیائی پھیلانا بند کرو ، اداکاروں کو "علماء" بنا کر پیش کرنا بند کرو ورنہ یہ نہ ہو کہ کل کو تمہیں کسی کے حقوق بھول کر اپنے حقوق کی دھائی دینی پڑے ...

حمزہ عباسی! قادیانیوں کے بارے میں علماء امت کے فتوے تم جانتے ہو، آئین پاکستان کیا کہتا ہے یہ بھی تمہیں علم ہے، آؤ اب میں تمہیں بتاؤں کہ اس ملک کی اعلى عدالتوں نے کیا فیصلے دیے ... کیا پارلیمنٹ، علماء اور عدلیہ سب غلط تھے؟؟ کیا رابطہ عالم اسلامی مسلم ملکوں کی تنظیم غلط تھی جس نے پاکستانی کی اسمبلی کے فیصلے سے پہلے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا؟ ...کیا ساری دنیا کے مسلمان غلط ہیں ؟ خدا کے لیے اپنے ایمان کو یوں نہ فروخت کرو ، قیامت کے دن خاتم النبيين صلى الله عليه وسلم کے سامنے کیا جواب دوگے؟ اگر انہوں نے پوچھ لیا ..حمزہ! تم تو میرے چچا کی اولاد سے تھے ، تم نے یہ نہ سوچا کہ ایک ایسا شخص جس نے اپنے بارے میں کہا کہ "میں محمد رسول الله ہوں" جس نے یہ بکواس کی کہ "جس نے میرے اور محمد مصطفى کے درمیان فرق کیا اس نے مجھے پہچانا ہی نہیں" جس نے یہ کہا کہ "میری صورت میں محمد رسول الله دوبارہ دنیا میں آئے ہیں" ، تم ایسے شخص کو نبی اور مجدد ماننے والوں کے حقوق کی بات کرتے رہے؟ تو کیا جواب دوگے؟؟ سوچو .... یاد رکھو حمزہ عباسی! قادیانیوں کے نزدیک تو تم مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرکے پہلے ہی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو ...وہ تمہیں مسلمان نہیں سمجھتے کیونکہ تم ان کے مطابق الله کے ایک نبی کے منکر ہو ...پھر تم انکے لیے اپنے ایمان کو کیوں خطرے میں ڈال رہے ہو؟ ....آؤ تم قادیانیوں کے جن حقوق کی بات کرنا چاہتے ہو ان کے بارے میں پاکستان کے اعلى عدالتوں کے فیصلے پڑھ لو .

وفاقی شرعى عدالت
26 اپریل 1984 کو صدر پاکستان جنرل محمد ضياء الحق مرحوم نے وہ آرڈیننس جاری کیا جسے "امتناع قاديانيت" آرڈیننس کہا جاتا ہے، جس کے تحت مرزائیوں کے ہر دو گروپ لاہوری و قادیانی کو ان کی خلاف اسلام سرگرمیوں سے روک دیا گیا ، اس آرڈیننس کے تحت مجموعہ تعزیرات پاکستان ایکٹ نمبر 45 ، 1860 میں باب پندرہ میں دفعه 298 اے کے بعد دو نئی دفعات 298 بى اور 298 سى کا اضافہ ہوا .
مرزائیوں کے دونوں گروپوں قادیانی اور لاہوری نے اس آرڈیننس کو فورى طور پر وفاقى شرعى عدالت میں چیلنج کر دیا اور اس آرڈیننس کو قرآن وسنت کی تعلیمات اور ان کے بنیادی حقوق کے منافی قرار دینے کی درخواست کی ، شرعى عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے چیف جسٹس جناب فخر عالم کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت کی ، بنچ جسٹس آفتاب احمد، جسٹس فخر عالم، جسٹس چودھری صدیق، جسٹس مولانا غلام محمد، جسٹس مولانا عبدالقدوس ہاشمی پر مشتمل تھا، اس کیس کی سماعت 15 جولائى 1984 سے 12 اگست 1984 تک مسلسل جاری رہی.. آخر کار مورخہ 28 اکتوبر 1984 کو فیصلہ آیا اور فیصلے میں بنچ نے متفقہ طور پر مرزائیوں کی اپیل خارج کردی اور "امتناع قاديانيت آرڈیننس" کو قرآن وسنت کے مطابق قرار دے دیا ... اس کیس کا نمبر ہے : شريعت پٹیشن نمبر 2/ ايل اور 18 / آئى 1984 .. درخوست دہندگان مجيب الرحمن و کیپٹن عبدالواجد (ریٹائرڈ) ودیگر بنام وفاقی حکومت و بنام اٹارنی جنرل آف پاکستان .

سپریم کورٹ آف پاکستان (شرعى اپیلٹ بنچ)
قادیانیوں نے وفاقی شرعى عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی اور اسے كالعدم قرار دینے کی درخوست دائر کردی، سپریم کورٹ کے شريعت اپلٹ بنچ نے جسٹس محمد افضل ظلہ کی سربراہی میں اس اپیل کی سماعت کی، بنچ کے دیگر ممبران میں جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس شفيع الرحمن ، جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری، جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی شامل تھے، سماعت کے لیے جونہی کوئی تاریخ نکلتی قادیانی درخوست دے کر سماعت رکوادیتے، اڑھائی سال تک اسی طرح چلتا رہا، بالآخر 10 جنورى 1988 اس کیس کی راولپنڈی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، قادیانیوں نے کیس کو غیر ضروری طوالت دینے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے اور بالآخر اپنی اپیل واپس لینے کی درخواست دائر کردی ، ان کی واپسی اپیلوں کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچوں جج صاحبان نے مورخہ 11 جنورى 1988 کو متفقہ فیصلہ تحریر فرمایا ، فیصلہ بنچ کے سربراہ جسٹس محمد افضل ظلہ نے تحریر فرمایا (جو بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی بنے) اور باقی جج صاحبان نے ان کے فیصلے سے اتفاق کیا، فیصلے میں سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ نے وفاقی شرعى عدالت کے فیصلے کو بحال رکھا ... کیس کا نمبر ہے شرعى مرافعه نمبر 24 و 25 / 1984 .

سپریم کورٹ آف پاکستان 1993
مرزائیوں کے دونوں گروہوں (قادیانی /لاہوری) کی طرف سے امتناع قاديانيت قانون کے خلاف کی گئی متعدد اپیلوں پر فیصلہ دیتے ہوے سپریم کورٹ آف پاکستان نے مورخہ 3 جولائي 1993 کو ایک بار پھر یہ تاریخ ساز فیصلہ دیا کہ مرزائیوں کی طرف سے کی گئی تمام اپیلیں خارج کی جاتی ہیں ..اور یہ قرار دیا کہ قادیانی غیر مسلم ہونے کی حيثيت سے اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے .. یہ بنچ ان پانچ معزز ججوں پر مشتمل تھا ، جسٹس شفيع الرحمن (سربراه)، جسٹس عبدالقدير چوہدری، جسٹس محمد افضل لون، جسٹس ولی محمد اور جسٹس سلیم اختر.. ان پانچ میں سے چار ججوں نے متفقہ طور پر قادیانی موقف کو یکسر مسترد کردیا اور جسٹس عبدالقدير چوہدری صاحب کے لکھے فیصلے سے کلی اتفاق کیا، تاہم ایک جج جسٹس شفيع الرحمن نے جو کہ اس بنچ کے سربراہ بھی تھے اپنے اختلافی نوٹ میں جزوی طور پر امتناع قاديانيت آرڈیننس کی بعض شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیا (لیکن اسلامی احکامات کے خلاف قرار نہیں دیا) .

سپریم کورٹ آف پاکستان 1999
سپریم کورٹ کے 1993 کے فیصلے کے خلاف مرزائیوں نے نظر یعنی کی اپیل دائر کی، اس اپیل کی سماعت کے لیے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ بنایا گیا جو چیف جسٹس آف پاکستان سعيد الزمان صديقى ، جسٹس ارشاد حسن خان، جسٹس راجہ افراسیاب خان، جسٹس محمد بشیر جہانگیری اور جسٹس ناصر اسلم زاہد پر مشمتل تھا ، مورخہ 8 نومبر 1999 کو اس بنچ نے اپیل کنندگان کی طرف سے عدم پیروی اور ان کے وکلاء کی عدم حاضرى کی وجہ سے نظر ثانی کی یہ اپیل خارج کردی .
مختلف عدالتوں کے فیصلے
اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اعلى عدالتوں نے مختلف مواقع پر دیے گئے اپنے فیصلوں میں قادیانیوں کے کفر پر مہر ثبت کی .
لاہور ہائی کورٹ 1981
لاہور ہائی کورٹ 1982
لاہور ہائی کورٹ 1987
کوئٹہ ہائی کورٹ 1987
لاہور ہائی کورٹ 1991
لاہور ہائی کورٹ 1992
لاہور ہائی کورٹ 1994
مختلف سیشن کورٹس کے فیصلے اسکے علاوہ ہیں .

قادیانیوں کے بلا اجرت وکیلوں سے ہوشیار.. تصویر کا دوسرا رخ

قادیانیوں کے بلا اجرت وکیلوں سے ہوشیار.. تصویر کا دوسرا رخ
مصنف : حافظ عبيدالله=====================================
آج کل پھر وہی مردہ زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو 1974 میں ہمیشہ کی لئے منوں مٹی تلے دفنادیا گیا تھا، آئیے میں آپ کو ماضی میں لیے چلتا ہوں، سنہ 1839 يا 1840 میں ہندوستانی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے ایک گاؤں قادیان میں مرزا غلام مرتضى بیگ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام غلام احمد رکھا گیا، جو بعد میں مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے مشہور ہوا، مرزا قادیانی تقريباً 69 سال کی عمر پا کر 26 مئى 1908 کو لاہور میں بمرض هيضه اگلے جہاں چلا گیا، اس مرزا قادیانی نے پہلے تو تدریجی طور پر "مجدد" "امام مہدی" "مسیح موعود" ہونے کا دعوے کیے، اور بعد میں صریح طور پر اپنے آپ کو "نبی" اور "رسول" کہنے لگا، صرف یہی نہیں اسکا دعوا یہ تھا کہ وہ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کا دوسرا ظہور ہے، اور جس نے میرے اور حضرت محمد مصطفى صلى الله عليه وسلم کے درمیان فرق کیا اس نے مجھے پہچانا ہی نہیں، اس نے کہا کہ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے دو بار دنیا میں مبعوث ہونا تھا، ایک بار وہ مکہ و مدینہ کی سرزمین پر تشریف لائے، اور دوسری بار میری شکل میں قادیان میں ان کا ظہورہوا ...
(حوالے طلب کرنے پر پیش کیے جا سکتے ہیں)

مرزا قادیانی نے 1880 تا 1884 اپنی پہلی کتاب کے چار حصے شائع کیے جس کا نام اس نے "براهين احمديه" رکھا، اس کتاب میں اگرچہ اس نے صریح طورپر کوئی ایسی بات نہ لکھی جس پر بلا شک اس پر کفر کا فتویٰ لگے، لیکن ایسی گول مول باتیں اورایسے الہام لکھے جنہیں پڑھ کر اس وقت کے زیرک اور صاحب بصیرت علماء نے بھانپ لیا کہ یہ شخص کس چیز کی بنیاد رکھنے جا رہا ہے، اسی خطرےکو بھانپتے ہوے براہین احمدیہ کے شائع ہونے کے فورا بعد سنه 1301 هجرى میں لدھیانہ کے چند علماء نے مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ دے دیا، جبکہ کچھ دوسرے علماء نے براہین احمدیہ میں لکھی باتوں کو بے دینی اور لا مذہبیت تو کہا لیکن صریح کفر کا فتویٰ نہ دینے میں ہی احتیاط سمجھی.... لیکن جب مرزا قادیانی نے اپنی اگلی کتابیں فتح اسلام ، توضيح مرام اور ازاله اوهام وغيره لکھیں تو ان محتاط علماء کو بھی اپنی احتیاط ترک کرنی پڑی اور اہل حدیث عالم مولانا محمد حسين بٹالوی نے جو مرزا کے ہم مکتب بھی رہے تھے ایک استفتاء لکھ کر مختلف علاقوں کے مفتیان کے پاس بھیجا اور تمام علاقوں کے معروف مفتیان نے مرزا کی کفریہ تحریرات کی بناء پر متفقہ طور پر اسکےخلاف کفر کا فتویٰ دیا ...جو مولانا بٹالوی نے شائع کردیا، اسی طرح انہی دنوں لاہور کے ایک عالم مولانا غلام دستگیر قصوری نے بھی علماء حرمین اور دوسرے علماء سے مرزا کے خلاف کفر کا فتویٰ لیا جو بوجوہ شائع مولانا بٹالوی کے فتوے کے بعد ہو سکا ...

مورخہ 7 مئى سنہ 1907 كو خود مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کے لیے ایک اشتهار شائع کیا جس میں اس نے لکھا کہ :
"اگر تم اس گورنمنٹ (یعنی انگریز کی حکومت- ناقل) کے سایہ سے باہر نکل جاؤ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے گی، ہر اسلامی سلطنت تمہارے قتل کے لیے دانت پیس رہی ہے، کیونکہ انکی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو"
"تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو"
(مجموعه اشتهارات مرزا قادياني ، جلد 2 صفحه 709 جديد ایڈیشن)
یہ مرزا قادیانی کی طرف سے اس بات کی تائید ہے کے اسکی زندگی میں ہی تمام مسلمان اس بات پر متفق تھے کہ وہ اور اسکے ماننے والے کافر ہیں ...

لہذا یہ بات کہنا کہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت (قادیانی/ مرزائی) کو 1974 میں کافر قرار دیا گیا درست نہیں، شرعى و مذهبى طور پر کافر تو وہ اس وقت سے قرار دیے جاچکے تھے جب مرزا نے کفریہ دعوے کیے تھے، چونکہ پاکستان بننے کے بعد مرزا کی جماعت قادیان چھوڑ کر پاکستان میں آ گئی اور لوگوں کو دھوکہ دیتے چلے آ رہے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہیں تواس دھوکے کا سد باب کرنے کے لیے پاکستان کے مسلمانوں کی تحریک کے نتیجے میں انکا غیر مسلم ہونا پاکستان کے آئین میں بھی ڈال دیا گیا ... دوسرے لفظوں میں 1974 میں قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کو قانونی حيثيت بھی دے دی گئی جبکہ شرعى طور پر وہ پہلے ہی سے غیر مسلم تھے ...اور 1974 میں بھی یونہی یہ کام نہیں ہو گیا، بلکہ قادیانیوں کے اس وقت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنے دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا اور پاکستان کی اس وقت کی قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی کا درجہ دے کر سوال و جواب کی متعدد مجلسیں ہوئیں کیے گئے .... اور اسکے بعد اسمبلی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ ایسے عقائد رکھنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے اور یہ جو لوگوں سے کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یہ سراسر دھوکہ دیتے ہیں ..

آج اپنے آپ کو "سکالر" سمجھنے والے چند لوگ یہ سوال کرتےنظر آتے ہیں کہ کیا ریاست کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے؟ کچھ فیس بکی لکھاری اس پر مضمون لکھتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان کے قانون میں قادیانیوں کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں، یہ ان قادیانیوں کی وکالت کرتے ہیں جنہوں نے آج تک آئین پاکستان کو قبول نہیں کیا، جو آج بھی دھڑلے سے اپنے آپ کو مسلمان بلکہ "اصلی مسلمان" کہتے ہیں اور اپنے علاوہ دوسروں کو کافر کہتے ہیں... جی ہاں! حیران نہ ہوں ... شاید کوئی قادیانی یا قادیانی نواز کہے کہ "قادیانی تو کسی کو کافر نہیں کہتے" ... تو آنکھیں کھول کر یہ حوالے پڑھیں:

مرزا قادیانی پر ہونے والی نام نہاد وحی اور الہامات کو ایک مجموعه "تذكره" کی شکل میں شائع کیا گیا ہے، اس میں مرزا قادیانی کی یہ بات لکھی ہے:
"خدا تعالى نے میرے پرظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذه ہے"
(تذکرہ، صفحه 519 طبع چہارم)
غور کریں مرزا قادیانی اپنے خدا کی وحی بتا رہا ہے کہ جس نے بھی میرے دعووں کوقبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے... قادیانیوں کے بلا اجرت وکیل بھی سوچیں کیا وہ مرزا قادیانی کو "امام مہدی" "مسیح موعود" اور "نبی و رسول" مانتےہیں؟ اگر نہیں مانتے تو مرزا کے فتوے کے مطابق وہ مسلمان نہیں ہیں ..

ایک اور جگہ مرزا قادیانی نے لکھا:
"ان الہامات میں میری نسبت یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جوکچھ کہتا ہے اس پرایمان لاؤ، اور اس کا دشمن جہنمی ہے"
(رساله دعوت قوم ، مندرجه روحانى خزائن جلد 11 صفحه 62 حاشيه)
یعنی جو مرزا کی بات پر ایمان نہیں لاتا وہ جہنمی ہے.

اسی تذکرہ میں مرزا نے اپنےخدا کی ایک نام نہاد وحی یوں لکھی ہے:
"جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا، اور تیری بيعت میں داخل نہیں ہوگا، اور تیرا مخالف رہے گا،وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا ہے"
(تذكره ، صفحه 280 طبع چہارم)
لیجیے جو مرزا قادیانی کی پیروی نہ کرے اور اسکی بيعت میں داخل نہیں ہوا وہ خدا اوررسول کا نافرمان ٹھہرا .

آگے چلیں، مرزا نے اپنے مخالفین کے بارے میں لکھا :
"جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی، یہودی اور مشرک رکھا گیا"
(نزول المسيح ، مندرجه روحانى خزائن جلد 18 صفحه 382)
یعنی جو بھی مرزا کا مخالف ہے اور اسکے دعووں کو قبول نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں بلکہ یہودی ، عیسائی اور مشرک ٹھہرا .

مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کو گالیاں بھی دیں، ایک نمونہ پیش خدمت ہے:
"ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیرے ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں"
(نجم الهدى ، مندرجه روحانى خزائن جلد 14 صفحه 53)

اب قادیانیوں کے وکیل اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانیوں کے دوسرے نام نہاد خلیفے مرزا محمود کا یہ بیان پڑھیں:
"کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (یعنی اسکے مطابق مرزا قادیانی- ناقل) کی بيعت میں شامل نہیں ہوے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں"
(آئينه صداقت مصنفه مرزا بشير الدين محمود ، مندرجه انوار العلوم جلد 6 صفحه 110)

یہی مرزا محمود دوسری جگہ لکھتا ہے:
"ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں (یعنی غیر قادیانیوں - ناقل) کو مسلمان نہ سمجھیں، کیونکہ وہ ہمارے نزدیک خدا تعالى کے ایک نبی کے منکر ہیں"
(انوار خلافت مصنفه مرزا بشيرالدين محمود ، مندرجه انور العلوم جلد 3 صفحه 148)

وہ تمام اینکرز، وہ تمام فیس بکی علّامے، جو قادیانیوں کی وکالت کرتے نہیں تھکتے اپنے آپ سے پوچھیں کیا انہوں نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان کراسکی بيعت کی ہے؟ اگر نہیں کی تومرزا محمود کے فتوے کےمطابق وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں...کیا وہ مرزا قادیانی کو الله کا نبی مانتے ہیں؟ اگر نہیں تو وہ بقول مرزا محمود الله کے ایک نبی کے منکر ہوے اور کافر ٹھہرے ...
واضح رہے کہ مندرجہ بالا تمام تحریرات 1974سے بہت پہلے کی ہیں ... اب میرا سوال یہ ہے کہ 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے پر پیچ و تاب کھانے والے دانشور یہ بتا سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور اسکے بیٹے کو تمام مسلمانوں کو "کافر" اور "دائرۂ اسلام" سے خارج کرنے کا حق کس نے دیا تھا؟؟؟

بات سوچنے کی ہے... مرزا قادیانی کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں دونوں میں سے صرف ایک ہی مسلمان ہو سکتاہے، ذرا سوچیں... مسلمان ہونے کے لیے الله کے تمام انبیاء پر ایمان رکھنا ضروری ہے، مثال کے طورپر ایک آدمی کہے کہ میں کلمہ لا اله الا الله محمد رسول الله پڑھتا ہوں، نماز، روزہ، حج زکات بھی مانتا ہوں، الله کے تمام نبیوں کو بھی مانتا ہوں لیکن (مثال کے طور پر) حضرت عيسى عليه السلام کو الله کا نبی نہیں مانتا تو ایسا شخص کسی طرح مسلمان نہیں ہو سکتا ... کیونکہ اس نے الله کے ایک نبی کا انکار کیا ہے... اب غور کریں... اگر تو مرزا قادیانی الله کا نبی ہے (جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں) تواسکا انکار کرنے والے وہ تمام لوگ جنہوں نے اسے نبی نہیں مانا اوراسے جھوٹا اور کذاب سمجھتےہیں مسلمان نہیں رہ سکتے .... اور اگر وہ کذاب ہے اور دعوائے نبوت میں جھوٹا ہے تو اسے نبی ماننے والے مسلمان نہیں ہو سکتے ... یہ نہیں ہو سکتا کہ مرزا کو نبی ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں ہی مسلمان ٹھہریں .....

سب سے پہلے تو قادیانیوں کی وکالت کرنے والے اینکرز اور فیس بکی دانشور یہ فیصلہ کریں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں؟ مرزا قادیانی کو نبی مانے والوں میں یا اسے جھوٹااور کذاب سمجھنے والوں میں؟ ہمارا حسن ظن ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے ہونگے بلکہ جھوٹا ہی سمجھتے ہوں گے ... لہذا مرزا قادیانی اور اسکے بیٹے کے مندرجہ بالا فتووں کی رو سے وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ... اور یہ فتوے 1974 سے بہت پہلے کے ہیں .... اب ہونا تو یہ چاہیے کہ 1974 کو رونے کے بجائے پہلے قادیانی جماعت سے پوچھا جائے کہ انکے گرو مرزا قادیانی اور اور اسکی جماعت کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ تمام غیر قادیانیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کریں؟ جب یہ جواب مل جائے تو پھر 1974 پر آ جائیں ، اور سوال کریں، ہم بتائیں گے کہ انھیں کن وجوہات کی بناء پر غیر مسلم قرار دیا گیا ...

اب رہی بات قادیانیوں کے بنیادی حقوق کی... تو اگر ان حقوق سے مراد یہ ہے کہ قادیانیوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنے کفریہ عقائد کو اسلام بنا کر پیش کرتے رہیں، اور اپنے آپ کو "اصلی مسلمان" کہتے رہیں، تو معاف کیجیے گا یہ حق انھیں نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ سور کے گوشت پر "بکرے کے گوشت" کا لیبل لگا کر فروخت کرنا، یا کسی حرام مشروب پر "زم زم" کا لیبل لگا کر بیچنے کی اجازت کسی طرح نہیں دی جا سکتی .... اور اگر حقوق سے مراد وہ حقوق ہیں جو آئین پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کو حاصل ہیں تو وہ حقوق قادیانیوں کو ضرور ملنے چاہییں بشرطیکہ وہ دوسرے غیر مسلموں کی طرح ریاست کے آئین کو تسلیم کریں اور تسلیم کریں کہ وہ غیر مسلم ہیں .. ریاست کسی ایسے شہری کو اسکےحقوق دینے کی پابند نہیں جو ریاست کے دستور کو نہ مانتا ہو ... نیز ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو اپنے مذھب کی تبلیغ کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی .... چہ جائے کہ مرتدوں اور زندیقوں کو ایسی اجازت دیجائے.

قادیانی اور دوسرے کافروں میں فرق:
سب سے اہم بات یہ ذہن میں رہے کہ قادیانی اور دوسرے غیر مسلموں میں بہت بڑا فرق ہے، عیسائی، یہودی، سکھ یا ہندو اپنے آپ کو کبھی بھی مسلمان کہہ کر پیش نہیں کرتے، لہذا وہ عام کافر ہیں ... لیکن قادیانی یا تو مرتد ہونگے یا زندیق... جو اسلام ترک کرکے قادیانی ہوے وہ مرتد .. اور جو قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوے اور اپنے مذھب کو اسلام کہنے پر مصر ہیں اور ساتھ ہی قادیانی عقائد کو بھی گلے سے لگائے ہیں وہ زندیق ... اور اسلام میں "مرتد و زندیق" کے احکام عام کافروں سے الگ ہیں ... جن کےبیان کرنے کا یہ موقع نہیں .... لہذا یہ دلیلیں دینا کہ قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی آزادی دی جائے، انھیں بھی مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے ..یہ درست نہیں ... دنیا میں "جعل سازی" کی اجازت کوئی بھی قانون نہیں دیتا ... مثال کے طور پر کوکا کولا کمپنی کو پتہ چلے کہ کوئی اسکے نام سے جعلی مشروب بنا رہا ہے .. لیبل تو کوکا کولا ہے لیکن اندر جو چیز ہے وہ اصلی نہیں تو قانون ایسی جعل ساز فیکٹری کو بند کرنے کا پابندہے ....اگر دنیا کے ٹریڈ مارک کی اتنی اہمیت ہے تو کیا دین اس سے بھی گیا گذرا ہے کہ کوئی بی اپنے کفریہ عقائد کو "اصلی اسلام" بنا کر پیش کرے اور اسے کھلی اجازت دے دی جائے؟

آخری گذارش.
قادیانیوں سمیت کسی بھی غیر مسلم کو قتل کرنا یا قتل کی ترغیب دینا یا قانون اپنے ہاتھ میں لے کر انکے گھر جلانا، انھیں ہراساں کرنا ، کسی طرح بھی درست نہیں... اگر کسی نے کو جرم کیا ہے تو اسے سزا دینے کے اختیار صرف ریاست کو ہے ...

نوٹ: اس تحریر میں پیش کیے گئے قادیانی کتابوں کے ریفرنسس اور حوالوں کے ہم ذمے دار ہیں، اور طلب کرنے پر اصل کتابیں پیش کی جا سکتی ہیں...

پرویز ھود بھائی کا ایچ ای سی کو چونا

پرویز ھود بھائی کا ایچ ای سی کو چونا !
مصنف : گھمنام
پاکستان کے ہائرایجوکیشن کمیشن  (ایچ ای سی ) نے  پاکستانی یونیورسٹیوں میں تحقیق کے فروغ کے لئے (Tenure Track Statute (TTS کا نظام متعارف کروایا - اس نظام کے معیار پر پورا اترنے والے پروفیسرایک وفاقی وزیر سے زیادہ ماہانہ 400،000 روپے تک تنخواہ وصول کرسکتا ہے-  چونکہ یہ نظام قابل اور ہائی رینک اساتذہ کے لیے متعارف کروایا گیا لہذا اس نظام کے تحت اہل اساتذہ کے تحقیقی کام کا کم از کم پیمانہ مقرر کیا گیا کہ انھوں نے پچھلے پانچ سال میں کم از کم پانچ تحقیقی مقالے اپنی فیلڈ میں لکھے ہوں -

 پرویز ہود بھائی کی شہرت ایک سائنس دان کی ہے اور وہ ملک کی معروف یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے ہیں، آج کل ان کی شہرت استاد یا سائنس دان کے طور پر کم اور ہر طرح کے امور کے تجزیہ کار کی زیادہ ہے، اسی نسبت سے وہ اکثر ٹی وی چینلز پر پائے جاتے ہیں- 2009 میں انھوں نے  قائد اعظم  یونیورسٹی اسلام آباد کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی فائل ایچ ای سی کو بھجوا دی باوجود اس کے کہ وہ TTS کے کم ترین پیمانے پر پورا نہیں اترتے تھے۔ ہودبھائی نے نہ صرف نظام سے پورا فائدہ اٹھایا بلکہ وہ تنخواہ بھی وصول کی جس کے وہ حقدار نہیں تھے۔ جب ان کے ایک ساتھی استاد نےاعتراض کیا کہ وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے کیونکہ خود ان کی سی وی کے مطابق گزشتہ 5 سال میں صرف چار تحقیقی مقالےاپنی فلیڈ میں  لکھے تھے جبکہ ایچ ای سی کے  TTS کے حصول کا میعار پانچ تحقیقی مقالہ جات کا تھا،  توہود بھائی غصے میں آ کر فرمانے لگے اگر میں ایچ ای سی کے معیار پرپورا نہیں اترتا تو دوسرا کوئی پروفیسر بھی اس کا اہل نہیں ہو سکتا۔ مطلب صاف تھا کہ اگر میری ایپلیکیشن پر اعترا ض لگایا تو سب کا کام رکوا دوں گا-

(نیچے ہود بھائی کی اپنی ویب سائٹ پر موجود CV اورHEC کی ویب سائٹ پر موجود TTS پروفیسر کی اہلیت کے پیمانے سے یہ بات چیک کی جا سکتی ہے کہ 2009 میں ہود بھائی اس پیمانے پر پورے نہیں اترتے تھے )

بہرحال HEC کے آڈٹ میں اس فراڈ کی قلعی کھل گئی مگرتب تک موصوف ریٹائر ہو چکے تھے اور اب TTS کی بنیاد پر بھاری پنشن وصول کر رہے ہیں- ہماری معلومات کے مطابق HEC  نے قائداعظم یونیورسٹی سے یہ مطالبہ کیا کہ ان سے زائد تنخواہ اور پنشن واپس لی جائے مگر ہود بھائی نے اس عمل کو اپنے تعلقات سے رکوا دیا۔ ہمارا اعلی عدلیہ اور میڈیا کے نمائندوں سے یہ مطالبہ ہے کہ اس فراڈ کا نوٹس لیا جائے اور قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس قومی خزانے کو واپس دلوایا جائے۔ شکریہ!

------------------
ایچ ای سی کریٹیریا  کا لنک !
http://www.hec.gov.pk/InsideHEC/Divisions/QALI/QADivision/Documents/Criteria%20for%20Professor%20in%20all%20Disciplines.pdf

-------------------------------------------------------------------------
پرویز ھود بھائی کی سی وی کا لنک
http://eacpe.org/content/uploads/2014/02/PH-CV-2013.pdf

پرویز ھود بھائی کی سائنسی خذمات

پرویز ھود بھائی کی سائنسی خذمات !
مصنف : گھمنام
بچپن کا واقعہ یاد آتا ہے ہمارے ہمساۓ میں علی انکل کے گھر میں پیر صاحب آئے ہوئے تھے - انہوں نے اپنے دیگر ہمسایوں کو بھی گھر دعوت دی - گھر پہنچ کر دیکھا پیر صاحب صوفے پی براجمان ہیں اور ان کے گھر کے مرد زمین پہ بیٹھے ہوئے ہیں - پیر صاحب نے کچھ دیر گفتگو کی - اس کے بعد کھانے پینے کا انتظام تھا - ابھی کھانا پینا چل ہی رہا تھا کہ آذان ہو گئی - مرد حضرات نماز کے لئے چلے گئےمگر پیر صاحب وہیں کے وہیں بیٹھے رہے - ہم بھی اپنے گھر کی طرف چل دیے - بعد میں امی نے علی انکل کی بیوی سے پوچھا کہ آپ کے پیر صاحب مسجد کیوں نہیں گۓ - انھوں نے کہا کہ وہ یہاں نماز نہیں پڑہتے ان کی نماز مکے مدینے میں ہو جاتی ہے - علی انکل بھی پڑھے لکھے تھے اور آج ان کے بچے بھی پڑھ لکھ چکے ہیں مگر آج تک بے نمازی پیر کے مرید ہیں - خیر ا یسی اندھی عقید ت کا فائدہ صرف مذہبی طبقہ نہیں اٹھاتا - پاکستان کے ہر میدان میں ایسے بے کار اور ڈھونگی ماہر ہیں جولوگوں کی اندھی عقید ت پر چل رہے ہیں -

اب کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کشش ثقل لہروں ( gravitational waves) کی دریافت نے پوری دنیا کی توجه اپنی طرف مبذول کروائی - اب کیا تھا پاکستان میں مخصوص ناکارے سائنس دانوں کی چاندی ہو گئی - یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے عرصے سے اپنی فیلڈ میں بھی کوئی خاص کام نہیں کیا اور ان کابھی کشش ثقل لہروں سے دور دور دور تک کوئی تعلق نہیں - آج دوسروں کی دریافت پر پہ ایسے اچھل رہے ہیں جیسے انھوں نے ہی کوئی کمال کیا ہے - جی ہاں یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں تم نے موبائل ایجاد نہیں کیا تو استعمال کیوں کرتے ہو- مجھے پوچھنا یہ ہے کے جب انھوں نے یہ دریافت ہی نہیں کی تو اچانک سے یہ ماہر کیوں بن رہے ہیں؟ - کئی پاکستانیوں کا اس کام میں براہ راست تعلق رہا ہے - کئی اس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں - ان میں سے بہت سے لوگ آپ کو لیکچر دے سکتے ہیں - ملک میں نہ بھی ہوں تو ویڈیو کانفرنسنگ کے زریعے لیکچرہو سکتا تھا- مگر ہماری قوم کو ہر فیلڈ میں جیسے جاہلوں کو سننے کی عادت پڑھ گئی ہے .

پرویز ھود بھائی صاحب بھی آج کل تھوک کے حساب سے کشش ثقل لہروں پر لیکچر دے رہے ہیں - کچھ دن پہلے میرا ایک دوست ان کے لیکچر میں شریک تھا - لیکچر توکشش ثقل لہروں پرتھا مگر اس کے درمیان انھوں نے اپنا پرانا منجن بیچنا شروع کر دیا - پاکستانی تحقیق کے نام پہ دھوکا دیتے ہیں - ہماری مذہبی شدت پسندی ہمیں سائنس میں آگے بڑھنے نہیں دے گی- میرا دوست اپنے ارد گرد دیکھ رہا تھا کہ کتنے جو یہاں موجود ہیں اور کتنے اساتذہ جو دن رات تحقیق میں مصروف رہتے ہیں - مگر ھود بھائی کی عقیدت کا ایسا عالم ہے کہ کسی میں ہمّت نہیں ہوئی کہ پوچھے تم ہمیں طعنے دینے والے کون ہوتے ہو -اب تک فزکس کے پروفیسر ہو - آخری سائنسی مقالہ هود بھائی کا آٹھ سال پہلے چھپا تھا - ساری زندگی کشش ثقل لہروں پہ کام نہیں کیا - کسی دوسرے کے کام پہ جو تمہاری فیلڈ سے بھی نہیں ہے کیوں اس پر اتنا اچھل رہے ہو - دنیا میں جو شخص پانچ سال تک کوئی سائنسی کام نہ کرے اس کو نہ تو کوئی نوکری دیتا ہے نہ کوئی سائنس دان مانتا ہے - کوئی پوچھے ھود بھائی سے آج تک کتنے سٹوڈنٹ کی ریسرچ کو سپروائز کیا ہے ؟ جب ھود بھائی فزکس کا چیئرمین تھا تب تین سالوں میں پی ایچ ڈی کرنے والے سٹوڈنٹ تناسب 77 سٹوڈنٹ سے گر کر 13 سٹوڈنٹ پر آ گیا تھا ،یہ تعلیمی نظام کو تباہ کر رہا ہے قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کو اگر کسی سے تباہ کیا تو وہ جناب هود بھائی ہیں مگر پاکستان میں بس اندھوں کا راج ہے-

چلیں ماضی قریب کی بات نہ کریں ھود بھائی پورے کیریئر کو بھی دیکھ لیں - آپ دنیا میں تحقیق کا کوئی پیمانہ اٹھا لیں ھود بھائی قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ میں بھی ممتاز نظر نہیں آئے گا - مثلا دنیا میں تحقیق کا ایک پیمانہ ایچ انڈکس ہے - پرویز ھود بھائی کا ایچ انڈکس 16 ہے جبکہ فزکس ڈیپارٹمنٹ میں ایسے کئی اساتذہ ہیں جن کا ایچ انڈکس 20 سے زیادہ ہے - مگر آپ میں سے کوئی ان کا نام نہیں جانتا - یھاں یہ بھی واضح کر دوں ایچ انڈکس کا تعلق تحقیقی مقالوں کی تعداد سے نہیں بلکہ مجموعی تحقیق کے معیار سے ہے-

میں سمجھتا ہوں جیسے ہمارے بے عمل پیر اور جاہل علما دینی کے نام پر جہالت پھیلانے کی وجہ ہیں اسی طرح ہمارے یہ بے کار سائنس دان اس ملک میں سائنس کی ترقی کی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں - ان کی حرکتیں دیکھ کر نوجوانوں کو لگتا ہے لوگوں کے کاموں پہ بڑھکیں مارنے والے کو سائنس دان کہتے ہیں - یہ بے کار سائنس دان این جی او ہی چلا سکتا ہے پتا اس کو قائد اعظم یونیورسٹی میں کس نے لگا دیا تھا .

پرویز ھود بھائی جیک آف آل ٹریڈ !

پرویز ھود بھائی جیک آف آل ٹریڈ !مصنف : گھمنام اس میں کوئی شک نہیں ڈاکٹر پرویز ھود بھائی میں قابلیت ہے ،چونکہ انہوں نے MIT سے بی ایس سی، MS اور پی ایچ ڈی کی ہے ، یا یوں که لیجیے کہ ان میں قابلیت تھی ،مگر مسلمانوں کی نفرت میں اور دانشوری کے شوق میں ہی برباد کردی . ان کو کس بات سے نفرت ہے یہ تو ہود بھائی ہی جانیں لیکن مشہور فزکس کے پروفیسر ریاض الدین کہا کرتے تھے کہ ان سے ( یعنی ہودبھائی سے) ہمیں بڑی امیدیں تھی مگر اس شخص نے نادیدہ نفرت میں اپنا ٹیلنٹ ہی برباد کر دیا ،،،، انہیں صرف سیاست اور اسلام کے خلاف بات کرنے میں دلچسپی ہے یا پھر پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف ..

چونکہ موصوف MIT سے فارغ التحصیل ہیں اسلئے ابھی تک پاکستان میں ان کو سائنس کی توپ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ایم آئی ٹی کی چارم پہلے کچھ سال ہوتی ہے پھر آپ کو اپنی قابلیت کے جوہر میدان میں دکھانے ہوتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے سینتس برس اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں ملازمت کی اور سینتس برس میں صرف 36 سائنٹیفک آرٹیکل یا مضمین لکھے ہیں! اسکے علاوہ ساری زندگی میں چار کتابیں لکھی ہے ، لیکن ان میں صرف ایک ہے جو فزکس جوکہ انکا اپنا پیشہ ورانہ شعبہ ہے، سے متعلق ہے جو 1991 میں لکھی گئی ! جس کو بعد میں کتاب کہا گيا اسکا نام " Proceedings of the School on Fundamental Physics and Cosmology" دراصل یہ ایک کانفرنس پیپر تھا جس کو بعد از تدوین کتابی شکل دی گئی ہے ورنہ یہ کتاب بھی نہیں . بحثیت مصنف ھود بھائی نے اپنے پیشہ سے متعلق ایک کتاب بھی نہی لکھی. اور هود بھائی نے زیادہ سے زیادہ سائنٹیفک پیپر ہی لکھیں ، کوئی تھیسس ، یا کتاب یا کوئی ایسی ریسرچ کنڈکٹ نہیں کی جس سے پاکستان کی سائنس فیکلٹی کو فائدہ ہو.

وکیپیڈیا پر اگر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی پروفائل دیکھی جائے تو ایوارڈز میں بیکر (IEEE W.R.G. Baker Award ) ایوارڈ کا تذکرہ ہے جو ان کو 1968 میں دیا گیا. اسی طرح وکیپیڈیا پر آئی ای ای ای یعنی الیکٹریکل اور الیکٹرانکس انجینئرز کے انسٹی ٹیوٹ کی ایوارڈ لسٹ میں 1968 میں بیکر ایوارڈ وننر کی نام لسٹ میں پرویز ہود بھائی، جانی اینڈرسن، اور ہیری بی لی کا نام شامل ہے .

مگر جب ہم آئی ای ای ای کی آفیشل ویب سائٹ پر جاتے ہیں اور اس میں جانی اینڈرسن، اور ہیری بی . لی کو تو بیکر ایوارڈ ملنے کا ذکر ہے لیکن ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا نام شامل نہیں ، ثبوت کے لئے کمنٹس میں آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کی لسٹ پی ڈی ایف کی صورت میں دیکھیں . بیکر ایوارڈ فروری 2016 سے موقوف کر دیا گیا یعنی بند کر دیا گیا ہے . اب ہود بھائی صاحب خود ہی توثیق کر سکتے ہیں کہ ان کو 1968 میں آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ ملا تھا یا نہیں اگر ملا ہے تو ان کا نام آئی ای ای ای کی آفیشل ایوارڈ وصول کنندگان لسٹ میں کیوں نہیں ہے .یہی ایک معروف انٹرنیشنل ایوارڈ تھا جو موصوف کے حصہ میں آیا ،لیکن صرف وکیپیڈیا پر.

خیر ہمارے میڈیا پر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کبھی سینئر تجزیہ نگار ہوتے ہیں تو کبھی انسداد دھشتگردی کے ماہر... کبھی دفاعی تجزیہ نگار تو کبھی مذہبی اسکالر لیکن محترم کے پاس اپنی فیلڈ میں کام کرنے کا وقت نہیں ہے اور نہ اس ملک کے لئے !

آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ ملنے والوں کی آفیشل لسٹ ! اس  میں ھود بھائی  کا نام شامل نہیں جبکہ  جانی اینڈرسن، اور ہیری بی لی کا نام شامل ہے
http://www.ieee.org/about/awards/recognitions/baker_rl.pdf

--------------------------------------------------------------------------------
آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کی ڈائریکٹ لنک
http://www.ieee.org/about/awards/recognitions/baker.html

-----------------------------------------------------------------------------
پرویز ھود کی وکیپیڈیا پروفائل یہاں پر پرویز ھود کے  بیکر ایوارڈ کا ذکر ہے
https://en.wikipedia.org/wiki/Pervez_Hoodbhoy

---------------------------------------------------------------------------------

آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کی وکیپیڈیا لسٹ اس میں بھی پرویز ھود اور جانی اینڈرسن، اور ہیری بی لی کا نام شامل ہے. لیکن سوال یہ ہے کہ آفیشل لسٹ میں نام کیوں نہیں شامل
https://en.wikipedia.org/wiki/IEEE_W.R.G._Baker_Award

اس کی توثیق ھود بھائی خود ہی کر سکتے ہیں ، یہاں پھر سمجھا جائے کہ موصوف کو صرف وکیپیڈیا پر یہ ایوارڈ دیا گیا ہے .

خیر پرویز ہودبھائی 11 جولائی 1950 میں پیدا ہوۓ ! ابھی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی سائٹ پر ان کا کوانٹم کمپیوٹنگ پر لیکچر کا بلاگ پڑھ رہا تھا جو ھود بھائی 10 مارچ 2016 کو دیا تھا ، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے بلاگ میں بھی ھود بھائی کے آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کا سال بھی 1968 ہی لکھا ہوا تھا ،میں پہلے سمجھا کسی نے وکیپیڈیا پر غلط بیانی کی ہو گی ، مطلب ھود بھائی محض اٹھارہ سال کی عمر میں یہ ایوارڈ لیا ؟ جبکہ آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کی آفیشل لسٹ میں ان کا نام شامل نہیں ہے ! کیا یہ کوئی سائنسی معجزہ ہے. جبکہ موصوف نے پی ایچ ڈی 1978 میں کی ہے !

 انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی سائٹ کا لنک
http://itu.edu.pk/newsevents/quantum-computing

نوٹ : اگر اس آرٹیکل میں دی گئی انفارمیشن غلط ہوئی تو رجوع کر لیا جائے گا ! شکریہ !

جنسی تعلیم یعنی سیکس ایجوکیشن

جنسی تعلیم یعنی سیکس ایجوکیشن!
مصنف : گھمنام !
پاکستان  میں جنسی تعلیم کے حامی وہ لوگ ہیں جو قولا خود کو سیکولر کہتے ہیں لیکن عملا وہ محض  سیکس ورکرز سے زیادہ کچھ نہیں ہیں جن کا مقصد  اپنے قبحہ خانوں کی  سوسا ئٹی کے کلچر کو تجارتی مقاصد کے لئے  عام کرنا ہے۔ دوسری طرف طعنے بھی منٹو والے دیتے ہیں کہ ہماری حرکتیں  گندی نہیں تمہاری سوچ گندی ہے ۔ بنیادی طور پر یہ احساس کمتری کا شکار اور  ایک  ترسا ہوا طبقہ ہے جو مغرب کے لائف سٹائل کو  افورڈ تو  نہیں کرسکتا، لیکن اس لائف اسٹائل کے ان پہلوؤں کو اپنانے کا مشاق ہے جن کے اثرات سے خود مغرب کا خاندانی و معاشرتی نظام شدید مشکلات کا شکار ہے ـ یہ طبقہ اپنے تجارتی مقاصد کے حصول کے لئے پاکستانی معاشرے پر ایسا کلچر مسلط کرنا چاہتا جو یہاں کے معاشرتی ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا  ، مغرب میں اسکے ضمنی اثرات کیا ہیں ،اس سے نہ تو ان کو کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی  انہوں نے اسکے اثر کو کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس  انتظام کر رکھا ہے ؟ یہ طبقہ نہ  پاکستان میں انکی اقدامات کی سرے سے  ضرورت محسوس کرتا ہے نہ انکی غیر موجودگی سے انہیں کوئی فرق پڑتا ہے۔ انکو بس سیکس اور زنا کا مادف پدر آزاد ماحول چاہیے جس میں جنسی ضروریات بالکل اسی طرح کریں جس طرح جانور کرتے ہیں ـ

 حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو  پاکستان نہ فری سیکس سوسائٹی ہے نا ایک  ویلفیئر اسٹیٹ،  ایسی کوئی بھی ایجوکیشن پاکستانی بچوں کے لیے بالکل بھی موزوں نہیں ہے جس کے خود مغرب میں حد سے زیادہ منفی اثرات سامنے آئے ہیں، پاکستان اس کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔۔

سیکولر افراد کہتے ہیں کہ جنسی تعلیم کی مخالفت اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ مذہب اس سے روکتا ہے۔ اگر مذہب کو کچھ دیر سائیڈ پر رکھ دیں تو بھی اس کے منفی اثرات کنٹرول کرنے کا کوئی خاطر خواہ لائحہ عمل نہ تو حکومت کے پاس ہے نہ ہی  موم بتی مافیا کی  این جی اوز کے پاس۔ راقم الحروف نے ایک ایسے اسکول میں تعلیم حاصل کی جہاں جنسی تعلیم ایک زائد از نصاب کے طور رائج تھی۔ سال میں چھ کلاسز ہوتی تھیں۔ عملا تو یہ بھی ایک فری سیکس سوسائٹی ہے (اگرچہ سرعام اس کی اجازت ہے نہ حوصلہ افزائی ، حکومت، معاشرے اور خاندان کا خوف بھی موجود ہے مگر یہ سب رکاوٹ نہیں ہیں)، بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کلچر رواج پا رہا ہے، پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے اس کلچر کو فروغ دیا ہے، موبائل اور انٹرنیٹ نے نوجوان نسل کو اب وہ مواقع فراہم  کر دیے ہیں جس کا کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچا جا سکتا تھا۔ اب تو بچے چودہ سال کی عمر میں ہی اپنی جوانی کا جوش دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر عمل بھی کر گزرتے ہیں مگر اس کی وجہ سے بالخصوص لڑکیوں کےلیے بہت سی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔ مثال کے طور غیر محفوظ جنسی عمل کی وجہ سے نوجوان لڑکیوں کا حاملہ ہونا ، پھر اسقاط حمل کروانا ،یا پھر اسقاط حمل وقت پر نہ کروانے کی وجہ سے نو عمر ماں بن جانا وغیرہ وغیرہ، ہمیں جنسی تعلیم پر جو لیکچر دیے جاتے تھے، ان میں زیادہ تر انھی مسائل پر روشنی ڈالی جاتی تھی، اور یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ غیر محفوظ جنسی عمل کے بجائے حفاظتی طریقوں کا استعمال کرنا کتنا مفید ہے جس سے لڑکی کو اسقاط حمل جیسا عمل  نوعمری میں نہیں کروانا پڑے گا۔

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں شک کی بنیاد پر لڑکیاں قتل کر دی جاتی ہیں ، وہاں انھیں یہ راستہ دکھانا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر قتل نہ بھی ہوں تو عملا معاشرے میں ان کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے اور ان کی حیثیت ایک اچھوت جیسی ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی جلدی ماں بن جانا ایک نو عمر لڑکی کے لیے کتنا مشکل ہوتا ہے یہ ایک لڑکی ہی جان سکتی ہے، مگر مغرب میں نہ تو حکومتیں کرپٹ ہیں نہ وہاں کے سسٹم  اپنے لوگوں کو ذلیل و خوار کرتے  ہیں، اگر کوئی لڑکی نو عمری میں ماں بن جائے جو کہ اکثر ہوتا ہے تو اس کے لیے حکومت کی طرف ماہانہ خرچہ ، صحت کی نگہداشت اور دوسری بنیادی ضروریات کا پورا پورا خیال حکومت کی طرف  رکھا جاتا ہے، دوسری طرف  پاکستان میں تو ویسے ہی زندگی کے لالے پڑے ہوتے ہیں

ہماری اپنی کلاس میں وہ لو برڈ جو صرف پپی لو تک محدود تھے ان چھ کلاسز کے بعد اپنی حدود کراس کر گئے کیوں کہ لڑکوں نے اپنی گرل فرینڈز کو یہ  یقین دلا دیا تھا کہ ٹیچر کے بتائے ہوئے حفاظتی طریقے اختیار کرنے سے محفوظ سیکس ہوتا ہے اس لیے اب ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے. جب ایک دفعہ یہ ہچکچاہٹ ختم ہو جائے تو پھر یہ سلسلہ کہیں رکنے کا نام نہیں لیتا۔ اس دوران ہماری ایک اسکول فیلو حاملہ ہو گئی اور لڑکے نے شادی سے انکار کر دیا۔ اس طرح سنگل مادر سامنے آتی ہیں اور مغرب میں یہ رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ سنگل مادر سے پیدا ہونے والے بچے نہ صرف باپ کی شفقت سے ہمیشہ کے لیے محروم رہتے ہیں بلکہ انھیں کئی قسم کے نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے.

 اگر کچھ دیر کے لیے اس بحث سے مذہب اور معاشرے کو نکال دیں تو بھی کیا ہمارے جنس زدہ سیکولر افراد جو جنسی تعلیم اور فری سیکس سوسائٹی کے حامی ہیں تو کیا ان کے پاس اس تعلیم کے منفی اثرات سے بچائو کا کوئی ٹھوس پلان موجود ہے؟ کیا حکومت وقت ایسا ویلفیئرسسٹم متعارف کرواسکتی ہے جہاں سنگل مادر کو قتل کا خطرہ نہ ہو، جہاں اس کی زندگی حقارت سے اجیرن نہ بنا دی جائے اور جس کا ماہانہ خرچہ، صحت و تعلیم کی بنیادی ضرویات حکومت فراہم کرے۔

دیسی لبرلز اور سیکولرز سے گزارش ہے کہ اپنے پانچ منٹ کے مزے کی خاطر پورے معاشرے کو تباہ نہ کریں اور مذہب پر پھپتیاں کسنے کے بجائے پہلے اپنا حکومتی اور معاشرتی نظام دیکھ لیں !

آفس کی عورتیں !

آفس کی عورتیں !مصنف : گھمنام 
عورت ایسی مخلوق ہے کہ وہ گونگی بھی ہو تو بھی خاموش نہیں بیٹھ سکتی ! کسی نے کہا دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے ؟ توایک سیانے نے کہا ایک بند کمرے میں پچاس عورتیں ہیں اور خاموش بیٹھی ہیں ! خیر اگر آپ کے ساتھ آفس میں عورتیں کام کرتی ہیں تو روزانہ آپ کو دلچسب قسم کے تبصرے ،رونا دھونا اور لطیفے لائیو دیکھنے کو ملتے ہیں ! مرد کسی بھی آفس میں ہو وہ صرف دو ہی کام کرتا ہے ، یہاں تو وہ کچھ کام نہیں کرتا ، یا پھر وہ اپنے کام سے کام رکھتا ہوۓ کام کرتا ہے !

بہرحال ہمارے آفس میں کوئی تقریبا دو سو کے قریب سٹاف ہے ، تناسب کے لحظ سے اگر دیکھا جائے تو عورتوں کی تعداد زیادہ ہے ! تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے کوئی نہ کوئی عورت روزانہ روتی نظر آتی ہے ، اس کی وجہ ، کام کا پریشر، ایک دوسرے کے ساتھ نوک ٹوک ،اور خاندانی مسئلے مسائل ، سپروائزر کی طرف سے کام میں نقص نکالنا وغیرہ ہیں ! اور کبھی کبھی میں نے اپنی کو ورکر کو اس لئے بھی روتا دیکھا کہ وہ آج میک اپ کرنا بھول گئی ! خیر میک اپ سے یاد آیا ، میری ایک کوللیگ جیکلن نے مجھ سے پوچھا ، کیا کبھی تمہیں کسی چیز سے ڈر لگا ہے ؟ تو میں نے کہا آج تک تو نہیں لیکن جس دن تم کو میں نے میک اپ کے بنا دیکھ لیا اس وقت ہو سکتا مجھ پر خوف کی کفیت طاری ہو جائے بس اتنا کہنا تھا کہ وہ تین دن مجھ سے ناراض رہی !

بہرحال آفس میں کام کرنے والی عورتوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مصروف ہوتے ہوۓ بھی دوسروں کے بارے میں سرگوشیاں کرنا نہیں بھولتی !کان ان کے ہر وقت کھڑے رہتے ہیں کہ کون کس کے بارے میں کیا بات کر رہا ہے اس کی پوری خبر رکھتی ہیں. اور کسی نہ کسی طرح تمام خبریں اپنے سپروائزر تک پہنچا بھی دیتی ہیں. کسی بھی آفس میں خواتین کے دفتر کی میز بڑے ہی سلیقے کے ساتھ سجی ہوتی ہے جیسا کہ ،چار پانچ الگ سائز کے ٹیڈی بیر، رنگین پانی پینے والا کپ ، اور ایک دو مختلف سائز کے شیشے وغیرہ !اور اگر آپ کی سیٹ کے ساتھ ہی خواتین ورکر کی سیٹ ہو تو وہ ہر دو منٹ اور پچاس سیکنڈ کے بعد اپنے بال ضرور سنوار رہی ہوتی ہیں. لنچ ٹائم اور آفس سے چھٹی کرتے وقت دو کام کرنا یہ ہر گز نہیں بھولتی ایک منہ پر میک اپ پاؤڈر لگانا اور دوسرا ہاتھوں پر کریم ! اور میرے آفس میں کام کرنے والی خواتین کو جب بھی فارغ ٹائم ملتا ہے پتا نہیں کیوں باتھروم اور کسی دروازے کے ساتھ جھرمٹ میں گپے ہانکتی ہیں یہ میں آج تک سمجھ نہیں سکا !،یہ فارغ وقت میں گوسیپ سیٹ پر بیٹھ کر بھی ہو سکتی باتھروم کے پاس ہی کیوں ؟ ،

خاتون کوللیگ کی سب سے اچھی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اگر آپ نے لنچ نہیں کیا اور بھوک لگے تو کسی بھی خاتون کوللیگ سے بولے کہ مجھے بھوک لگی ہے تو فورا وہ آپ کو اپنے ڈیسک سے چپس، چاکلیٹ ، کینڈی وغیرہ نکال کردے دیتی ہے اگرچہ آپ کا تعلق و رویہ اس کے ساتھ اچھا ہو ! لیکن اس کا ایک نقصان یہ بھی کہ جب کبھی کوئی بھاری بھرکم پیکج ڈلیوری وغیرہ آئے گا تو مدد کے لئے سب سے پہلے آپ ہی کو قربانی کا بکرا بننا پڑہے گا ! نوجوان خاتون کو-سٹاف اور ادھیڑ عمر کی خاتون کو-سٹاف میں فرق یہ ہے کہ نوجوان کو- سٹاف آپ کے بہت سے کام میں مدد بھی کرواتی ہے ،لیکن ادھیڑ عمر خاتون سٹاف آپ کو لیکچر ہی دیتے نظر آئے گی. ہر آفس میں ایک ادھیڑ عمر خاتون ایسی ہوتی جو اماں کے کردار میں ہر وقت پیش پیش ہوتی ہیں ، ایسی کو-سٹاف سے بنا کر رکھیں ورنہ آپ کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے ! لیکن ایک بات یاد رہے نوجوان خاتون کو-ورکر اور ادھیڑ عمر خاتون ورکر کی عمر کا موازنہ ہر گز ان کے سامنے نہ کریں ! کیوں ہر خاتون ہمیشہ لڑکی ہی ہوتی ہے ! خیر اب تک کے لئے اتنا ہی !

اس پوسٹ کو مزاح سے زیادہ سمجھنے والے آنٹے اور آنٹیاں اپنی عقل کا استعمال کر کے پوسٹ کی مزاح کو مجروح نہ کریں ! شکریہ ،

ہم بس مولوی کی تو سنتے ہیں !

ہم بس مولوی کی تو سنتے ہیں !
مصنف گھمنام !  
ہم اتنے ننھے منے کاکے ہیں کہ ہم سوائے مولوی کسی کی نہیں سنتے ! جس کی وجہ سے آج ہم نہ ترقی کر پا رہے ہیں اور نہ ہی دنیا میں ہمارا مقام ہے ! ہم مولوی کی اتنے سنتے کہ مولوی صاحب مسجد کے آداب کے متعلق واعظ کر رہے ہوتے ہیں اور ہم گھسر پھسر میں مگن ہوتے ہیں ! اگر مولوی صاحب بے حیائی کے بارے میں لمبی لمبی ہانک رہیں ہوتے ہیں تو ہم چپکے سے فون پر گرل فرینڈ کو میسج ٹائپ کر رہے ہوتے ہیں،" جانو مسجد میں ہوں جمعہ پڑھنے آیا ہوں، فارغ ہو کر کال کرتا ہوں " مولوی کی ہم اتنا سنتے کہ مولوی صاحب روزانہ پانچ دفعہ اور جمعہ کو دس دفعہ یاد دلاتے ہیں کہ جماعت کھڑی ہونے سے پہلے اپنے اپنے فون بند کر دیں ! لیکن اس کے باوجود نماز کے دوران کسی کے موبائل کی رنگ ٹون سے منی بدنام ہو جاتی ہے !

دین کو کوزے میں بند کرنے والے مولوی کی امامت میں نماز پڑھتے ہوۓ بھی ان کی تاریں مولوی کی امامت سے مربوط ہونے کے بجائے دنیا کی چمک دمک اور محلے کی چمکیلہ کے ساتھ جوڑی ہوتی ہیں ! ہمارے لوگوں میں سے اکثر جن کی ابھی شادی بھی نہیں ہوتی انہوں نے بھی سوچ رکھا ہوتا کہ میرے بچے فلاں فلاں اسکول سے پڑھ کر ڈاکٹر اور انجنیئر بنے گے. لیکن ہم نے پڑھا لکھا مولوی بنا کر بچوں کی زندگی تباہ کرنی ہے کیا ؟ خیر ما شا الله ہمارے ڈاکٹر بھی مولوی سے اتنے متاثر ہیں کہ انہوں نے اپنی کلینک کے قریب والے میڈیکل سٹور والے کی فلاح و بھلائی اور اپنی اوپر کی کمائی کے لئے اپنے تمام مریضوں کو سختی انتباہ کرتا کہ دوائی صرف مولوی میڈیکل اسٹور سے ہی ملے گی !چونکہ ہم صرف مولوی کی تو سنتے ہیں ! باقی عصر حاضر کے پیشوں کے بارے میں کیا کہنا ! بس کچھ نہ کہنا ! چونکہ مولوی کی تو سنتے ہیں !

لیکن ہاں اب ماڈرن ٹیکنالوجی کا دور لہذا ہم کو اس مولوی نام بلا سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا ! مولوی کی سن سن کر پک چکے ہیں ! معاشرتی و معاشی ، ثقافتی و اقتصادی محور زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس میں تنزلی کی واحد وجہ مولوی کی سننا ہیں ! سود خوری سے حرام خوری تک، چوری سے ڈکیتی تک ! دو نمبری سے ملاوٹ تک یہ سب برائیاں ہم نے مسجد میں مولوی کی ان واعظوں سے سیکھی جس کو ہم ناک کے نتھنوں سے سنتے تھے ! چلو اب میری بہت سن لی ہے اب تمام سوشل  کے علما مدظلہ بنا وضو کے دین پر نظر ثانی کرو !

آزاد جنسی معاشرہ !

آزاد جنسی معاشرہ !مصنف : گھمنام 
آپ نے اکثر ہمارے دیسی لبرل کی زبان سے بھی آزاد جنسی معاشرہ کی اصطلاح سنی ہو گی ! اور اسی اصطلاح نے یوروپ اور دوسرے بہت سے ممالک کے فیملی سسٹم ، سماجی سسٹم کو بکھیر کر رکھ دیا ہے ! جس کی بدولت اب ایک اور سوسائٹی ابھر کر آ رہی جس کو اردو میں " انفرادیت" اور انگریزی اصطلاح میں ( individualist) کہتے ہیں ! اس اصطلاح کی جس خاص خصوصیت کو خوبصورت شرین الفاظ میں پریزنٹ کیا جاتا یا پروجیکٹ کیا جاتا ہے وہ ہے " انسان کا اپنی زندگی اور اپنی خواہشات کو اپنی مرضی اور مطابقت سے پورا کرنا " یعنی انفرادی طور پر آپ صرف اور صرف اپنے لئے سوچتے ہیں ! اس سوچ کی وجہ سے آج مغرب میں بہت سی شادیاں اس لئے ناکام ہو جاتی ہیں کیوں کہ وہ اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنا تو اپنا فطری حق سمجھتے ہیں لیکن اس کے علاوہ کسی قسم کے باہمی سمجھوتے یا خاندانی ذمداریوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں ! یہی وجہ ہے کہ یہ افراد اب ان ممالک کو بھی اپنی اصطلاحات میں ضم کرنا چاہتے ہیں جہاں فیملی سسٹم معاشرے میں ایک پرائمری بلاک کی حثیت رکھتا ہے !اس انفرادیت کے منفی اثرات میں سب خطرناک اثرات خودکشی کے خیالات، پاگل پن ، نفسیاتی امراض ، بے حسی ، وغیرہ وغیرہ ہیں ! میرے آفس میں میرا کوللیگ کچھ دن پہلے بتا رہا تھا کہ اس کا دوست اور اس کی گرل فرینڈ سات سال سے ایک ساتھ اکھٹے ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں . اور ان کی اس سال فروری میں شادی کرنے کا پلان تھا لیکن لڑکے نے اب شادی کرنے سے انکار کر دیا چونکہ اس کو اب کوئی اور سچا پیار مل گیا لہذا وہ اب شادی نہیں کر رہا ، اب اس کی سابقہ گرل فرینڈ خود کشی کرنا چاہتی ہے. انفرادیت میں انسان کے دماغ میں اپنے لئے ہی خاص پلان ہوتے ہیں اس کے سوا وہ اپنے ساتھ جوڑے کسی بھی رشتہ کے متعلق یا تو بہت ہی محدود انداز میں یا بلکل بھی پرواہ نہیں کرتا ! اس انفرادیت کی ایک اور مثال ہمارے آج کل کے نوجوانوں کے رول ماڈل بپاشا باسو اور جان ابراہم کے تعلق سے لی جا سکتی ہے ! آپ کو معلوم ہو گا یہ جوڑا دس سال تک بنا شادی کے ایک ساتھ ایک ہی گھر میں رہائش پذیر رہیں !میرے نقطہ نظر میں آزاد جنسی معاشرہ کی اصطلاح میں جو مجھےاصطلاح نظر آتی ہے وہ ہے "آزاد جنسی حشرات " خیر اس انفرادیت کو سہارا دینے کے لئے اور بہت سی خوبصورت اصطلاحات کے ساتھ فیملی سسٹم کو توڑا جاتا ہے ، جیسا کہ حقوق نسواں ، انفرادی آزادی ، اظہار آزادی رائے ،جنسی تعلیم کے پروگرام وغیرہ وغیرہ ہیں! بہرحال یہ یاد رہیں اسلام آپ کو اپنی پسند اور مرضی کا نکاح کرنے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن گلوریا جینس یا کسی پہاڑی مقام پر ڈیٹ مارنے کی نہیں ! ! باقی آپ کی مرضی ! اگر پھر بھی آپ کو یہ آزاد جنسی معاشرہ چاہیے تو ساتھ میں اپنے لئے ایک اولڈ ہاؤس بنوانا نہ بھولئے گا !

دشمن کا بچہ !ایک خط

دشمن کا بچہ !ایک خط !
مصنف : گھمنام !


بخدمت جناب ! میں تو بچہ ہوں مجھے نہیں پتا کہ میں آپ کا کیونکر دشمن بنا ! مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ آپ دوست ہوں یا دشمن کیوں کہ میں تو بچہ ہوں ! جناب والا میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ دشمن کا بچہ ہونے کے ناطے مجھے داخلہ فارم پر دشمن کا بچہ لکھنا ہو گا کہ نہیں ! کیوں کہ جو مجھے شناختی علامت اب ملی ہے ہو سکتا مجھے آئیندہ نادرا کے کارڈ ، پاسپورٹ وغیرہ پر بھی "دشمن کا بچہ" کے طور اپنی شناخی علامت لکھنی پڑھے! یور ڈیفنسی ایکسی لینسی اگر اپ جغرافیائی طور پر ایک لائن کھینچ دیتے تو مجھے یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی کہ آیا میں دشمن کے بچے کے زمرے میں آتا بھی ہوں کہ نہیں ! اس وقت میں ایسی الجھن کا شکار ہوں کہ میں کس کو دوست کا بچہ اور کس کو دشمن کا بچہ سمجھوں تاکہ میں اپنی سطح پر دوست بنا سکوں ، لہذا گزارش یہ کہ اگر آپ ایک ایسا ادارہ قائم کر دیں جہاں سے "دشمن کا بچہ ہونے " کا سرٹیفکیٹ بہ آسانی جاری ہو سکے ! تو میری ایک مشکل حل ہو سکتی ہے .

جناب والا میرے کچھ سوالات اور بھی ہیں جیسا کہ : دشمن کا بچہ ہونے کے ناطے میری فیس کتنی ہو گی ؟ کیا گورنمنٹ دشمن پبلک اسکول ہوں گے یا پھر آرمی دشمن پبلک اسکول ہوں گے؟ داخلہ میرٹ پر ہو گا یا پھر کسی دہشت گرد کی سفارش درکار ہو گی ؟ تعلیمی نصاب کیا ہو گا ؟ یا پھر پاکستان کے روایتی فرق کے ساتھ ہی مجھے پڑھایا جائے گا ؟ چونکہ نہ میں امیر کے زمرے میں آتا ہوں نہ کسی غریب کے-- میرا تو زمرہ ہی الگ " دشمن کا بچہ " اسلئے میں داخلہ لینے سے پہلے ان سوالات کے جوابات بمعہ پروسپکٹو چاہتا ہوں ! اس کے علاوہ میں یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ بہ حثیت دشمن کا بچہ میرا کیریئر کیا ہو گا ؟ کیا میں کسی گورنمنٹ کے ادارے میں کرپشن کرنے کا اہل ہوں گا ؟ یا پھر کسی پرائیویٹ ادارے میں فراڈ ، اثاثے باہر منتقل کر سکوں گا یا پھر صرف پاکستان میں ہی قبضہ وغیرہ کر سکوں گا ؟ یہ میں اسلئے پوچھ رہا ہوں کہ موجودہ تعلیم نظام سے فارغ التحصیل ملک دوست بچے جب سے پاکستان بنا ہے یہی کچھ تو کر رہے ہیں ! اور اگر کبھی یہ سب کچھ کرتے پکڑے جاؤ تو" دشمن کا بچہ" قرداد پاس کروانے کا اہل ہوں گا یا پھر دھرنا دینا ہو گا ؟ اگر عدالتی نظام میں ایک شق یہ بھی ڈال دی جائے کہ دشمن کے بچے کو الله ہی پوچھے گا تو میں بہت مشکور ہوں گا، کم از کم اس شق سے میں جس احساس کمتری کا شکار ہوں اس کا تھوڑا سا ازالہ ہو جائے گا !

جناب والا اگر " دشمن کا بچہ " کے لئے ایک گنجائش یہ بھی پیدا کر دی جائے جیسا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن ، بلدیہ فیکٹری ، سانحہ قصور اور اس جیسے ملتے جلتے سانحہ مجھ سے سرزد ہو جائیں تو جے آئی ٹی یا پھر کسی کمیشن سے زیادہ کوئی کاروائی نہیں ہو گی. اور ہو سکے تو میری تعلیم کے ساتھ "دشمن کا بچہ استشنیٰ " متعارف کروا دی جائے تو میری تعلیم مکمل ہو جائے گی !

نہ میں سندھی نہ میں بلوچی ،
نہ میں پنجابی نہ میں پٹھان
دشمن کا بچہ ہے میری پیچان

فقط دشمن کا بچہ

مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں کے لئے ، انبیاء کی مثالیں دینا اور اس کا پوسٹ مارٹم

مرزا قادیانی کے جھوٹے الہاموں کے لئے ، انبیاء کی مثالیں دینا اور اس کا پوسٹ مارٹم
مصنف : محمّد احمد
قارئین محترم! اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیاء میں سے اگر کوئی نبی کبھی بھول گیا تو اللہ تعالی نے اسے کبھی بھی غلطی پر نہیں رہنے دیا اور کسی نہ کسی طریقے سے جلد از جلد اسے یاد دہانی فرمادی یا اصلاح فرمادی ، یہ بات خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی تسلیم ہے چنانچہ اس نے صاف طور پر لکھا ہے: ۔

 ’’ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے‘‘  (رخ جلد 19صفحہ 133)
اور اس کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود نے لکھا: ۔

 ’’خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا‘‘  (آئینہ صداقت، انوار العلوم جلد 6صفحہ 124)
 اور یہ بات بھی ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے بارے میں یہ لکھا ہے : ۔

’’ان اللہ لا یترکنی  علی خطأ طرفۃ عین‘‘  اللہ مجھے ایک لمحے کے بھی غلطی پر نہیں رہنے دیتا ۔ (نور الحق،  رح جلد 8صفحہ 272)

 یعنی مرز اکے مطابق اگر اس سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کا خدا فوراً اس کی اصلاح کردیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ یہ غلطی تھی اسے ٹھیک کرلو ۔ اب اگر تو ثابت ہوجائے کہ مرزا غلام احمد سے فلاں غلطی ہوئی ، اس نے فلاں بات غلط لکھی، اپنی (خودساختہ) وحی اور الہام کی ایک تشریح کی لیکن وہ غلط نکلی اور یہ بھی ثابت ہوجائے کہ مرزا اس دنیا سے چلا گیا لیکن اسے اس کی غلطی کا پتہ ہی نہ چلا تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہوگی کہ مرزا غلام احمد اللہ کا نبی نہیں تھا ، اگر ہوتا تو یہ نا ممکن تھا کہ اس کی موت ہوجاتی اور اللہ اسے اس کی غلطی کے بارے میں نہ بتاتا کیونکہ بقول مرزا محمود  ’’خدا اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا‘‘ ۔


یہ دوتین باتیں اگر آپ ہمیشہ ذہن میں رکھیں گے تو میں جس مرزائی فریب کا ذکر کرنے جارہاہوں آپ کبھی بھی اس سے دھوکہ نہیں کھائیں گے ،  وہ فریب یہ ہے کہ مرزائی مربیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ جب بھی تم مرزا غلام احمد کا دفاع کرنے میں نا کام ہوجاؤ ، اس کی کتابوں میں لکھے جھوٹوں کو سچ ثابت نہ کرسکو، اس کی پیش گوئیوں کو سچا ثابت نہ کرسکو ، تو ایک دم یہ کرو کہ اللہ کے نبیوں اور خاص طور پر آنحضرت صلى الله عليه وسلم پر اعتراضات شروع کردو اور کہنا شروع کردو کہ اے مولویو! تم جو اعتراض مرزا غلام احمد پر کرتے ہو وہ تو دوسرے نبیوں پر بھی ہوتے ہیں ، اور شور مچانا شروع کردو کہ یہ مولوی توہین انبیاء کرتے ہیں ، نعرے لگاؤ کہ مسلمانو! نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر اعتراض کرکے دکھاؤ وغیرہ ، یعنی مرزا ئی مربیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جو عیب مرزا غلام احمد میں ثابت ہوتا ہے اسے کسی طرح اللہ کے نبیوں میں بھی ثابت کیا جائے ، اس کی چند مثالیں پیش کرتا ہوں تاکہ آپ کو اچھی طرح اس مرزائی فریب کی سمجھ آجائے ۔ مثلاً جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ اسے اس کے خدا نے الہام کیا تھاکہ ’’ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں‘‘ (الہام مرزا بتاریخ 14 جنوری 1906، تذکرۃ، صفحہ 503 طبع چہارم)  لیکن مرزا تو لاہور میں مرا اس طرح یہ الہام جھوٹا ہوا ، اس کے جواب میں مرزائی مربی بڑے زور وشور سے آپ کو لعن طعن کرے گا اور کہے گا کہ تم مولوی یہودی ہو ، تم پوری بات پیش نہیں کرتے ، اس الہام کی تشریح تو خود مرزا قادیانی نے کردی تھی کہ مکہ میں مرنے سے مراد مکی فتح اور مدینہ میں مرنے سے مراد مدنی فتح ہے، یعنی مجھے فتح حاصل ہوگی (یہ الگ بات ہے کہ موت کا مطلب فتح کس لغت میں ہے؟)  تو جب ہمارے حضرت جی نے اپنے الہام کی خود تشریح کردی تو تم کون ہوتے ہواعتراض کرنے والے ؟ جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ انہیں چاند، سورج اور گیارہ ستارے سجدہ کررہے ہیں ، اس کی تعبیر یہ تھی کہ چاند سورج سے مراد ان کے والدین اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی تھے ، اس لئے جس کا خواب ہو یا جس کا الہام ہو جو تعبیر اور تشریح وہ بتائے وہی قابل قبو ل ہوگی ۔


لیکن دوستو! یہی مربی اس وقت اپنا بیان بدل لیں گے جب اگلا آدمی یہ پوچھے کہ مرزا غلام احمد نے کہا کہ اسے الہام ہوا تھا  ’’بکر وثیب‘‘  اور اس کی تشریح خود مرزا نے یوں کی کہ  ’’خدا تعالی کا ارادہ ہے کہ وہ  2 عورتیں میرے نکا ح میں لائے گا ، ایک بکر ہوگی (یعنی کنواری ہوگی) اور دوسری بیوہ ، چنانچہ یہ الہام جو بکر (یعنی کنواری) کے متعلق تھا وہ پورا ہوگیا (نصرت جہاں کی صورت میں)  اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے‘‘  اب مرزائی مربی سے پوچھیں کہ یہاں آپ کے حضرت جی نے خود اپنے الہام کی تشریح بھی کردی ، تو اب بتاؤ کہ مرزا کے نکاح میں اس کی موت تک کون سی بیوہ آئی؟؟ تو یہاں مربی یہ نہیں کہے گا کہ تشریح تو وہی قابل قبول ہوگی جو مرزا نے کردی کیونکہ اس سے مرزا جھوٹا ہوتا ہے ، بلکہ یہا ں وہ دوسری چال چلے گا ، کہے گا کہ ’’مرزا قادیانی سے اس الہام کو سمجھنے میں غلطی ہوگئی ، اس الہام کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کا نکاح دو عورتوں کے ساتھ ہوگا جن میں سے ایک کنواری اور ایک بیوہ ہوگی ،بلکہ اس الہام کی تشریح یہ تھی کہ صرف ایک عورت یعنی نصرت جہاں کے ساتھ جب نکاح ہوگا تو اس وقت وہ کنواری ہوگی اورپھر وہی نصرت جہاں ایک وقت بیوہ ہوجائے گی ، مرزا قادیانی نے یہاں اجتہادی غلطی کردی ، اور نبیوں سے کبھی اجتہادی غلطی ہوجا تی ہے ‘‘،  دوستو! غورکیا آپ نے؟ الہام تھا مرزا کا ، تشریح کی مرزا نے،  اس نے تو مرتے دم تک اپنی اس تشریح کو غلط نہیں کہا، نہ ہی اس نے یہ کہا کہ ہاں اس سے یہ الہام سمجھنے میں غلطی ہو گئی تھی ، نہ ہی اسے اس کے خدا نے اس غلطی پر مطلع کیا ، اور خود اس کے اقرار کے مطابق انبیاء تو غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے ، بقول مرزا محمود، اللہ اپنے نبی کو اس کی وفات تک غلطی پر نہیں رکھتا ، اور بقول مرزا قادیانی اللہ اسے ایک لمحے کے لئے بھی غلطی پر نہیں چھوڑتا، نیز مرزا نے صاف طور پر کہا تھا : ۔

’’کسی الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہَم آپ بیان کرے ، اور ملہَم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی کیونکہ ملہَم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ سے خاص طاقت پاکر اس کے معنیٰ کرتا ہے‘‘۔  (مجموعہ اشتہارات، جلد1 ، صفحہ 122)    
پھر ایک جگہ مرزا نے لکھاتھا:۔


’’ملہَم سے زیادہ کوئی الہام کے معنیٰ نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے‘‘۔  (تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ 22 صفحہ 438)
 تو سوال یہ ہے کہ مرزا اپنے اس الہام کو اپنی سچائی کی نشانی کے طورپر شائع کرتا رہا ، اور وہ یہی لکھتا رہا کہ  2 عورتیں آئیں گی ، جن میں سے کنواری تو آچکی ، اب بیوہ کا انتظار ہے ، اس نے ہرگز یہ نہ لکھا کہ ان دو عورتوں سے مراد ایک ہی عورت یعنی نصرت جہاں بیگم ہے ، مرزا اس دنیا سے چلا گیا ، اس کے بعد اس کے مریدوں کو اس الہام کی ٹھیک تشریح سمجھ آئی اور انہوں نے اعلان کردیا کہ ہمارے نبی کو اس الہام کو سمجھنے میں غلطی لگی تھی ، اب ہمیں یہ سمجھ آیا ہے ۔ ہے ناں نادانوں کا ٹولہ؟ جو لوگ خود اپنے نبی کو جھوٹا ثابت کرتے ہوں ان سے بڑھ کر احمق بھلا کون ہوگا؟ ۔


 اب آگے چلیے ! یہاں مرزائی مربی دو تین مثالیں بھی دیتے ہیں ، کہتے ہیں کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے خواب دیکھاکہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ مبارک پر رکھ دی گئیں ، لیکن آپ صلى الله عليه وسلم کی زندگی میں ایسا نہ ہوا بلکہ آپ کے وصال کے بعد صحابہؓ اور آپ کے غلاموں کے ہاتھوں فتوحات ہوئیں،  تو کیا نعوذ باللہ تم آنحضرت صلى الله عليه وسلم  پر بھی یہی اعتراض کروگے کہ آپ کا خواب جھوٹا ہوا؟، اسی طرح دیکھو آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے خواب دیکھا جس میں مجھے ایک سرزمین دکھائی گئی جہاں کھجور کے درخت تھے اور مجھے بتایاگیا کہ آپ کی ہجرت اس مقام کی طرف ہوگی ، میرا خیال اس طرف گیا کہ یہ یمامہ ہے لیکن در حقیقت وہ  یثرب یعنی مدینہ تھا  اب کرو اعتراض نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر انہوں نے مدینہ کو غلطی سے یمامہ سمجھ لیا ، اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام سے اللہ نے وعدہ کیا تھا کہ میں تیرے ’’اھل‘‘ کو غرق ہونے سے بچالوں گا ، جب ان کا بیٹا غرق ہونے لگا تو انہوں نے دعا کی اے اللہ میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے ہے اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ آپ میرے اہل کو بچائیں گے ، تواللہ نے آپ کو تنبیہ کردی کہ اے نوح! تیرا بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں ، تیرے اہل وہ ہیں جو مومن ہیں ، یعنی اللہ نے بتادیا کہ میں نے جن اہل کو بچانے کا وعدہ کیا تھا اس سے مراد ظاہری اہل نہیں بلکہ روحانی اہل ہیں ، تو کرو اعتراض حضرت نوح عليه السلام پر انہوں نے اہل کا مطلب غلط سمجھا ۔


دوستو! اس دھوکے کا مختصر جواب یہی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ہرگز کوئی غلطی نہیں کی تھی ، اللہ نے ان سے ان کے اہل کو بچانے کا وعدہ فرمایا تھا اور وہا ں اللہ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اس سے مراد روحانی اہل ہیں ، اور بیٹا یقینی طور پر اہل میں داخل ہے ، حضرت نوح علیہ السلام نے اسی بناپر دعا فرمائی ، اللہ نے ان کی دعا کے بعد اسی وقت وضاحت فرمادی کہ میری مراد اہل سے ظاہری والا اہل نہیں بلکہ روحانی اہل ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کو پتہ چل گیا ، یعنی اللہ اپنے نبی کو غلطی پر نہیں رکھتا ، یہی ہم پہلے ثابت کرآئے ہیں ، اسی طرح زمین کے خزانوں کی کنجیاں آپ صلى الله عليه وسلم  کے دست اقدس میں رکھے جانے والا خواب بھی سمجھیں ، پہلی بات یہ کہ وہ خواب تھا ، اور نبی کے خواب دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کی تعبیر بالکل اسی خواب کی طرح ظاہری ہوتی ہے کہ ویسا ہی ہوگا جیسا خواب میں نظر آیا ، اور دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو خواب تعبیر طلب ہوتے ہیں جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کا سورج ، چاند اور ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ کرنے کا خواب اس کی تعبیر ظاہری نہ تھی ، یہ بات مرزا نے بھی لکھی ہے ، مرزا کا ایک مرید مولوی عبدالکریم بیمار تھا ، مرزا نے خواب دیکھا کہ وہ ٹھیک ہوگیا ہے ، لیکن حقیقت میں وہ ٹھیک نہ ہوا بلکہ مرگیا ، کسی نے اعتراض کیا کہ مرزا جی! آپ کا خواب جھوٹا ہوگیا تو مرزا نے لکھا:۔


 ’’ہاں ایک خواب میں ان کو دیکھا تھا کہ گویا وہ صحت یاب ہیں مگر خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور تعبیر کی کتابوں کو دیکھ لو خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت، اور کبھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے ، اور کئی مرتبہ خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اس کی تعبیر زیادت عمر ہوتی ہے ‘‘۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ جلد 22صفحہ 459-458)

 اب مرزائی مربی سے پوچھیں کہ مرزا نے جب مولوی عبدالکریم کے صحت یاب ہونے کا خواب دیکھا تمہارے عقیدے کے مطابق وہ نبی تھا کہ نہیں؟ اور وہ لکھتا ہے کہ خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں ، ثابت ہوا کہ نبی کے ایسے خواب بھی ہوتے ہیں جن کی تعبیر ظاہری خواب کے مطابق نہیں ہوتی ، مثال ہم حضرت یوسف علیہ السلام کی دے چکے ہیں ، اور زمین کے خزانوں والے خواب کی تعبیر دوسری احادیث میں خود نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے  بیان فرمادی ہے جن کے اندر یہ خبر دی کہ میرے صحابہ یا میری امت کے لوگ قیصر وکسریٰ  کے ملک فتح کریں گے اور ان کے خزانوں پر اِن کا قبضہ ہوگا ، مثال کے طور پر صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے ، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: مسلمانوں یا مومنوں کی ایک جماعت ضرور بالضرور کسریٰ کے اس خزانے کو فتح کرے گی جو قصر ابیض میں ہے (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2919) ، اسی طرح مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے فرمایا کہ : جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ ہوگا (یعنی اس کے بعد ایران کے کسی بادشاہ کا لقب کسریٰ نہ ہوگا) اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا (یعنی روم کے کسی بادشاہ کا لقب قیصر نہ ہوگا)  اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد(صلى الله عليه وسلم) کی جان ہے تم لوگ ان دونوں (یعنی قیصر وکسریٰ) کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کروگے ۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 7184) ، تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم  نے اپنے صحابہ اور اپنی امت کو فتوحات کی خوشخبری سناکر اپنے اس خواب کی تعبیر بیان فرمادی کہ میرے ہاتھ میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں رکھے جانے کا مطلب ہے کہ میری امت کا ان پر قبضہ ہوگا ۔


 اب آئیے آنحضرت صلى الله عليه وسلم  کے اس خواب کی طرف جس میں آپ کو وہ سرزمین دکھا ئی گئی جہاں آپ کی ہجرت ہوناتھی ، یاد رکھیں خواب میں آپ کو صرف ایک سرزمین دکھائی گئی تھی ، اس کا نام نہیں بتایا گیا تھا ، اس سرزمین پر کھجوروں کے باغات تھے ، اور جیسے مدینہ (یثرب) میں کھجوروں کے باغات تھے بالکل اسی طرح یمامہ میں بھی تھے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے کہ اس سرزمین کو دیکھ کر میرا خیال یمامہ کی طرف گیا تھا ، جی ہاں یہی لفظ ہیں ’’میرا خیال اس طرف گیا تھا‘‘ نہ تو نبی کریم  صلى الله عليه وسلم نے اس خواب کی کسی کے سامنے اس وقت تعبیر بیان فرمائی کہ اس کی تشریح یہ ہے کہ ہماری ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی اور نہ ہی نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کوئی اشتہار نکالا اور پیش گوئی شائع کردی کہ مجھے میرے خدا نے خبر دی ہے کہ تمہاری ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی (جیسے مرزا قادیانی کیا کرتا تھا)، اور اس کا تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم  نے ہجرت مدینہ کی طرف ہی فرمائی تھی نہ کہ یمامہ کی طرف ، تو اگر آپ غلط سمجھتے تو ضرور پہلے یمامہ جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا ، اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم  نے بالکل ٹھیک جگہ ہجرت فرمائی، اس حدیث شریف میں تو صرف خیال جانے کی بات ہے ۔ اور آخری بات وہی کہ اگر بالفرض آپ کا خیال یمامہ کیطرف جانا یہ آپ کی اجتہادی غلطی تھی تو اللہ نے اس خیال کی اصلاح فرمادی اور آپ نے ہجرت مدینہ کی طرف فرمائی ، کیونکہ انبیاء غلطی پر قائم نہیں رکھے جاتے ، لیکن جھوٹے  مدعی نبوت وہ ہوتے ہیں جو پوری زندگی اشتہار نکالتے ہیں کہ میرا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ ہوکر رہے گا ، یہ ایسی بات ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی ، لیکن وہ مرجاتے ہیں ایسا نہیں ہوتا اور نہ ہی اللہ انہیں بتاتا ہے کہ مرزا جی! نکاح تو کینسل ہوچکا  یا آخرت میں ہوگا، جھوٹے وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے انہیں الہام میں بتایا ہے کہ قادیان کے میاں منظور محمدلدھیانوی جن کی بیوی کا نام محمدی بیگم ہے ان کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے نو نام ہیں ، لیکن وہ لڑکا غائب ہوجاتا ہے ، اور بعد میں مرزا کے مرید بتاتے ہیں کہ وہ لڑکا تو مرزا بشیر الدین محمود تھا ، مرزا جی کو غلطی لگی تھی ، اور میاں منظور محمد لدھیانوی سے مراد خود مرزا جی تھے اور محمدی بیگم سے مراد ہماری اماں جان نصرت جہاں بیگم تھیں لیکن ٹیچی (مرزا کے ایک فرشتہ کا نام) نے آنے میں دیر کردی اور مرزا جی دنیا سے چلے گئے

کیا حضرت ابراہیم نے تین جھوٹ بولے؟ ایک مرزائی دھوکے کا پوسٹ مارٹم

کیا حضرت ابراہیم نے تین جھوٹ بولے؟ ایک مرزائی  دھوکے کا پوسٹ مارٹم

مصنف حمزہ اعوان
قادیانی عموماً مرزا قادیانی کے جھوٹوں سے جان چھڑوانے کے لیے ایک حدیث نقل کرتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں کہ اس حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ سے جھوٹ منصوب ہیں اور اسکی صحت صحیح ہے۔ پس مرزا صاحب نے بھی کوئی جھوٹ نہیں بولا، اگر مرزا صاحب کو جھوٹا کہو گے تو انبیاء کو بھی جھوٹا کہنا پڑھے گا جو کہ ممکن نہیں۔یہ حدیث  مسلم شریف اور بخاری شریف میں تفصیل سے بھی موجود ہے یہاں مختصر والی نقل کر رہا ہوںقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " لم يكذب إبراهيم إلا في ثلاث كذبات : ثنتين منهن في ذات الله قوله ( إني سقيم ) وقوله ( بل فعله كبيرهم هذا ) وقال : بينا هو ذات يوم وسارة إذ أتى على جبار من الجبابرة فقيل له : إن ههنا رجلا معه امرأة من أحسن الناس فأرسل إليه فسأله عنها : من هذه ؟ قال : أختي فأتى سارة فقال لها : إن هذا الجبار إن يعلم أنك امرأتي يغلبني عليك فإن سألك فأخبريه أنك أختي فإنك أختي في الإسلام ليس على وجه الأرض مؤمن غيري وغيرك فأرسل إليها فأتي بها قام إبراهيم يصلي فلما دخلت عليه ذهب يتناولها بيده . فأخذ - ويروى فغط - حتى ركض برجله فقال : ادعي الله لي ولا أضرك فدعت الله فأطلق ثم تناولها الثانية فأخذ مثلها أو أشد فقال : ادعي الله لي ولا أضرك فدعت الله فأطلق فدعا بعض حجبته فقال : إنك لم تأتني بإنسان إنما أتيتني بشيطان فأخدمها هاجر فأتته وهو قائم يصلي فأومأ بيده مهيم ؟ قالت : رد الله كيد الكافر في نحره وأخدم هاجر " قال أبو هريرة : تلك أمكم يا بني ماء السماء (حدیث نمبر 75 باب نمبر 42 کتاب النکاح بخاری)

 پوسٹ مارٹم

جو جھوٹ ہم مرزا قادیانی کے پیش کرتے ہیں وہ واقعتاً جھوٹ ہوتے ہیں جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا کلام تو توریہ اور تعریض کے طور پر ہے وہ حقیقت میں جھوٹ ہے ہی نہیں سمجھنے والوں کی غلطی ہے ورنہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو کلام کیا ہے وہ مبنی پر حقیقت ہے۔ مرزا قادیانی نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نسبت اس راویت کی رو سے جھوٹ کا الزام لگانے والوں کو خبیث شیطان پلید مادہ والاکہا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’ حضرت ابراہیم کی نسبت یہ تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بد گمانی ہے اس کی وجہ ان کی دروغ گوئی ہے تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس کا پلید مادہ اور خمیر ہے ۔‘‘(آئینہ کمالات اسلام ص۵۹۸روحانی خزائن ج۵ص۵۹۸)
 اصل مغالطہ اس حدیث میں‌استعمال کئے جانے والے لفظ‌’کذب‘ سے پیدا ہوا ہے۔ اس لفظ کی لغوی تحقیق پیش خدمت ہے۔

1) کذب کے معنی ترغیب دلانا بھی مستعمل ہے، کذبتہ نفسہ کے معنی ہیں:‌اس کے دل نے اسے ترغیب دلائی۔

2) کذب، وجوب کے معنی میں آتا ہے:قال الجوھری:‌کذب قد یکون بمعنی وجب وقال الفراء کذب علیک ای وجب علیک (نھایہ ابن اثیر: 12/4) .. [النھایۃ فی غریب الاثر لابن الاثیر 282/4ْْ]۔  جوہری اور فراء کہتے ہیں:‌کذب معنی وجب پر ہے۔

3) کذب، لزم کے معنی میں آتا ہے۔ کذب علیکم الحج و العمرۃ۔ تم پر حج اور عمرہ لازم ہو گیا ہے۔ [النھایۃ فی غریب الاثر لابن الاثیر 282/4ْْ]
4) غلطی یا خطا کے معنی میں‌بھی یہی لفظ‌کذب استعمال ہوتا ہے۔ حدیث‌میں‌ہے:‌کذب ابو محمد [ابو داؤد: برقم 425]  یعنی ابو محمد نے غلطی کی۔ ذو الرمہ شاعر نے کہا: ما فی سمعہ کذب۔ اس کے سماع میں غلطی نہیں. [النھایۃ: 282/4]


اسی طرح امام راغب نے مفردات القرآن  288/2 میں فرمایا، اور دیگر کتب لغات میں بھی اسی قسم کی تفصیل موجود ہے۔ مثلاً دیکھئے: لسان العرب :  708/1،الفائق للزمخشری: 250/3، القاموس المحیط: 166،تاج العروس: 897/1 ۔یہ لغوی تحقیق یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ جس ایک لفظ کی بنیاد پر انبیاء،احادیث، ائمہ حدیث اور راویان حدیث پر جو گند مچایا جا رہا ہے وہ انتہائی کمزور دلیل ہے۔


ایک بات زہئن میں رہے یہ واقعات قرآن میں موجود ہیں اور پھر اگر ہم حدیث کے الفاظ کی بحث میں دیکھیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جن واقعات پر لفظ کذب کا اطلاق کیا گیا ہے، وہ توریہ اور تعریض کی شرط پر پورا اترتے ہیں نا کہ جھوٹ کی۔

تعریض اور توریہ کیا ہے؟
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے نہایت عمدہ وضاحت کی ہے کہ سچ اور جھوٹ کی تشخیص میں نفس الامر اور متکلم کے قصد اور ارادہ کو بھی دخل ہے۔ اس لحاظ سے اس کی تین صورتیں ہوں گی۔

1)متکلم صحیح اور واقعہ کے مطابق کہے اور مخاطب کو وہی سمجھانا چاہے جو فی الحقیقت ہے۔ یہ دونوں لحاظ (واقعہ اور ارادہ) سے سچ ہے۔

2)متکلم خلاف واقعہ کہے اور مخاطب کو اپنے مقصد سے آگاہ نہ کرنا چاہے بلکہ ایک تیسری صورت پیدا کر دے جو نہ صحیح ہو اور نہ ہی متکلم کا مطلب اور مراد ہو۔ یہ واقعہ اور ارادہ دونوں لحاظ سے جھوٹ ہوگا۔

3)لیکن اگر متکلم صحیح اور نفس الامر کے مطابق گفتگو کرے لیکن مخاطب کو اندھیرے میں رکھنا چاہے اور اپنے مقصد کو اس پر ظاہر نہ ہونے دے اسے تعریض اور توریہ کہا جاتا ہے۔ یہ ”متکلم کے لحاظ سے صدق ہے اور تفہیم کے لحاظ سے کذب ہے۔“صدق اور کذب میں جس طرح واقعے کو دخل ہے، اسی طرح ارادے کو بھی دخل ہے۔ صدق اور کذب کا معنی سمجھ لینے کے بعد ایک تیسری چیز بھی ذہن میں آ جانی چاہئے۔ جب متکلم خبر واقع اور مخبر عنہ کے مطابق دے، لیکن اس واقع اور حقیقت کو مخاطب سے مخفی رکھنا چاہے، تو اسے تعریض یا توریہ کہتے ہیں۔ یہ حقیقت میں سچ ہوتا ہے لیکن ایک لحاظ سے اسے جھوٹ بھی کہا جا سکتا ہے۔امام راغب رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔"تعریض ایسی گفتگو ہوتی ہے، جس کے ہر دو پہلو ہوتے ہیں۔ من وجہ صدق اور من وجہ کذب۔ جیسے فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء سے واضح ہے۔"[مفردات القرآن : 85/2]



اور یہی تعریض یا توریہ بہت سی جگہوں پر ثابت ہے۔ مثلاً سفر ہجرت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا جاتا کہ تمہارے ساتھ کون ہیں تو فرماتے: رجل یھدینی السبیل، کہ میرے رہبر ہیں۔ یہ مکمل صدق بھی نہیں کہ مخاطب اس سے دنیاوی رہبر سمجھتا تھا۔ اور مکمل جھوٹ بھی نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہرحال دینی لحاظ سے تو رہبر ہی ہیں۔قرآن سے بھی اس کی مثال پیش ہے کہ اللہ تعالی ٰ نے منافقین کے تذکرہ میں فرمایا:إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ (المنافقون۱)جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ الله کے رسول ہیں اور الله جانتا ہے کہ بے شک آپ اس کے رسول ہیں اور الله گواہی دیتا ہے کہ بے شک منافق جھوٹے ہیں. یہاں منافقین کی صحیح بات کی بھی تصدیق نہیں فرمائی ، اس لئے کہ یہ ان کے ضمیر کی آواز نہیں، بلکہ ضمیر کی آواز اس کے خلاف ہے۔ اگرچہ ان کی بات درحقیقت سچ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن ان کا ضمیر اس حقیقت کو قبول کرنے میں مانع ہے، لہٰذا فقط غلط ارادے کی بنیاد پر ان کی مکمل بات ہی کی تغلیط کر دی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ فقط حقیقت واقعہ کی اہمیت نہیں، بلکہ اس پر متکلم کا ارادہ بھی جھوٹ کا اطلاق کرنے کے لئے ازحد ضروری ہے۔


(ذہن نشین کر لیجئے کہ ان تین واقعات(جن کا مذکورہ حدیث میں ذکر ہوا) میں سے دو تو خود قرآن ہی میں موجود ہیں اور ایک حدیث میں۔ اب یہاں بھی معترضین حدیث کا تضاد ، کج فکری اور تعصب کھل کر سامنے آ جاتا ہے کہ ایک ہی واقعہ اگر قرآن میں ہو تو اس کی تو ڈھیروں تاویلات کر کے اس کو "درست" بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اور وہی واقعہ حدیث میں ہو تو اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے۔)


پہلا واقعہ: بت شکنی

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب قوم کو بت پوجتے دیکھا، تو فرمایا:ان بتوں کے ساتھ تم نے کیا تماشا بنا رکھا ہے،پھر پوری صراحت سے حلفی اعلان فرمایا: تمہاری غیر حاضری میں یقینا تمہارے ان بتوں کا تیا پانچہ کر کے رہوں گا۔غور فرمائیے، اس اعلان اور حلفی بیان کے بعد جھوٹ بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قوم اپنے مشاغل کے لئے چلی گئی، ان کی غیر موجودگی میں پورے اطمینان سے بڑے بت کے سوا باقی بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا، واپسی پر جب بت خانہ ویران پایا تو کہرام مچ گیا، بڑے حزن و ملال سے قوم کے چودھریوں نے کہا: کسی بڑے ظالم نے ہمارے بتوں کا یہ برا حال کیا ہے۔بات ڈھکی چھپی نہ تھی، حلفی اعلان ان کے کانوں میں تھا، فوراً حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملزم قرار دیا گیا۔ ایک ابراہیم نامی نوجوان کو ہم نے سنا تھا وہ ان کو برا بھلا کہتا تھا۔اسی وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلانے کا فیصلہ ہوا کہ اسے کھلی عدالت میں پیش کر کے اس کے خلاف شہادت قائم کرو۔اس قدر کھلے اور پیش افتادہ واقعات میں نہ جھوٹ کی گنجائش ہے نہ انکار کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم کی بے وقوفی کو نمایاں کرنے کے لیے جواب میں تعریض کی صورت اختیار کی، کھلا اقرار نہیں کیا، اس لیے کہ واقعہ تو معلوم ہی تھا، فرمایا۔ اس بڑے بت نے ہی یہ کیا ہے۔اور انہوں نے سر نیچا کئے ندامت سے اقرار کیا، تم جانتے ہو یہ تو بول نہیں سکتے۔ اصل مقصد یہی تھا کہ ان کی زبان سے ان کے دین کی کمزوری ظاہر ہو جائے، ورنہ دونوں فریق جانتے تھے کہ جسے بولنے کی ہمت نہیں، اسے توڑنے کی قدرت کہاں سے ہوگی۔


یہ واقعہ سورہ الانبیاء آیت 52 سے لے کر 66 تک بیان ہوا۔ یاد کرو وہ موقع جبکہ اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ "یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو؟" انہوں نے جواب دیا "ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے" اس(حضرت ابراہیم علیہ السلام) نے کہا "تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے؟" انہوں نے کہا "کیا تو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کر رہا ہے یا مذاق کرتا ہے؟" اس (حضرت ابراہیم علیہ السلام) نے جواب دیا "نہیں، بلکہ فی الواقع تمہارا رب وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا رب اور اُن کا پیدا کرنے والا ہے اِس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں، اور خدا کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں ضرور تمہارے بتوں کی خبر لوں گا"چنانچہ اس(حضرت ابراہیم علیہ السلام) نے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور صرف ان کے بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں۔(اُنہوں نے آ کر بتوں کا یہ حال دیکھا تو) کہنے لگے "ہمارے خداؤں کا یہ حال کس نے کر دیا؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ"(بعض لوگ) بولے "ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سُنا تھا جس کا نام ابراہیمؑ ہے"انہوں نے کہا "تو پکڑ لاؤ اُسے سب کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں (اُس کی کیسی خبر لی جاتی ہے)"(ابراہیم علیہ السلام کے آنے پر) اُنہوں نے پوچھا "کیوں ابراہیمؑ، تو نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟"اُس(حضرت ابراہیم علیہ السلام) نے جواب دیا "بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس سردار نے کیا ہے، اِن ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں"یہ سُن کر وہ لوگ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور (اپنے دلوں میں) کہنے لگے "واقعی تم خود ہی ظالم ہو" مگر پھر اُن کی مت پلٹ گئی اور بولے "تُو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں"ابراہیمؑ نے کہا "پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُن چیزوں کو پوج رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان۔(النساء 52-66) بہرحال، اس واقعے میں آیت نمبر 63 میں حضرت ابراہیم کا یہ جملہ کہ یہ کیا دھرا اس بڑے بت کا ہے، یہ وہ جملہ ہے کہ جس پر احادیث میں لفظ کذب کا اطلاق کیا گیا ہے، جس کا درست مفہوم تعریض یا توریہ کے ساتھ ادا کیا جا سکتا ہے۔ اور ہر شخص یہاں دیکھ سکتا ہے کہ بظاہر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خلاف واقعہ بات ہی کہی ہے۔ بتوں کو توڑا تو خود ہی تھا، جیسا کہ آیت 58 سے ظاہر ہے، لیکن الزام بڑے بت پر لگا دیا، جیسا کہ آیت 63 سے ظاہر ہے، اگرچہ ان کی نیت فقط سمجھانے کی تھی۔ لہٰذا اسے خلاف واقعہ بات کہئے، تعریض کا نام دیجئے یا توریہ کہہ لیں۔ اگر آپ حدیث میں لفظ کذب سے جھوٹ مراد لیتے ہیں تو پھر یہ جھوٹ تو خود قرآن سے ثابت ہے۔ لہٰذا حدیث لکھ کر نعوذباللہ اور استغفراللہ کی گردان کرنے والوں کو آیت 21:63 لکھ کر بھی یہی گردان کرنی چاہئے۔ اور اگر آپ ہماری طرح یہاں توریہ یا تعریض مراد لیتے ہیں تو فبہا، کیونکہ اس طرح قرآن و حدیث دونوں کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام پر کوئی آنچ نہیں آتی۔


دوسرا واقعہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی علالت

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا کہ میں بیمار ہوں، زیر بحث حدیث میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس پر کذب کا اطلاق کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ بھی خود قرآن ہی سے ثابت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ لوگ کسی تہوار یا اجتماعی کام کے لیے جانا چاہتے تھے، ان کی خواہش تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے ہمراہ چلیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے اپنے حلفی بیان کے مطابق بتوں کو توڑنے کا پروگرام موجود تھا۔ ستاروں پر نگاہ ڈال کر فرمایا: فَقَالَ اِنِّیۡ سَقِیۡمٌ (الصافات: 89) میں بیمار ہوں۔ قوم چھوڑ کر چلی گئی تو اسی بیمار ابراہیم نے پورے بت خانہ کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ اب یہاں سقیم کے اظہار میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توریہ سے کام لیا۔ یہ ابہام اور تعریض تھی جو بالکل سچائی اور حقیقت پر مبنی تھی، مگر قوم نے اسے واقعی اہم بیماری سمجھا۔ انہیں حق ہے کہ اس من وجہ صداقت کو کذب سے تعبیر کریں۔ اس لئے تعریض اور توریہ کو من وجہ کذب کہا جا سکتا ہے۔اب خود سوچئے ایسا مریض جو قوم کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہی پورے بت خانہ کا صفایا کر سکتا ہے، سینکڑوں مصنوعی خداؤں کو چند گھڑیوں میں پیوند خاک کر سکتا ہے، اس کی بیماری کی کمیت اور کیفیت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ یہ تعریض ہی کے پیمانہ سے ناپی جا سکتی ہے، جس کا اندازہ دوست اور دشمن اپنے نقطہ نظر سے لگا سکیں۔ حدیث پر ہمہ وقت تنقید و تبرا کے لئے تیار، الزامات و اتہامات کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے والے، آخر خود قرآن کو اسی نظر سے کیوں نہیں دیکھتے؟ دیانت کا تقاضا تو یہ ہے کہ حدیث کے اقتباسات لے کر جس نہج پر تنقید کی جاتی ہے، قرآن سے وہی چیز ثابت ہو جائے تو قرآن کو بھی لپیٹ میں لے لیا جائے اور یا پھر اللہ سے ڈر جائیں اور حدیث پر غیر ضروری اور نامناسب شکوک و شبہات پید اکرنے سے باز آ جائیں۔


تیسرا واقعہ:‌ بیوی یا بہن

 تیسرے توریہ کے متعلق حدیث‌ اپنی وضاحت آپ کرتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ میں نے ظالم کے پاس تمہیں‌اپنی بہن کہا ہے، تم میری تکذیب نہ کرنا ، کیونکہ دین کے لحاظ‌سے تم میری بہن ہو اور اس سرزمین میں‌تمہارے سوا کسی سے میرا یہ دینی رشتہ نہیں ہے۔س تعریض کی حقیقت، ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ سے خود ظاہر فرما دی کہ اس سے دینی اخوت مراد ہے ، گو کہ ظالم اس سے بظاہر نسبی اخوت سمجھے گا۔ اس تعریض‌ سے یہی مغالطہ مقصود ہے۔ تاکہ عصمت بھی محفوظ رہے اور شر بھی نہ پہنچ سکے۔ایسے حالات میں‌ تو اگر عصمت کی حفاظت اور حدود اللہ کے احترام کے لئے اگر واضح‌ جھوٹ بھی بولا جائے تو اس میں‌ کچھ حرج نہیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعریض کی راہ اختیار فرمائی، جو درحقیقت صحیح ہے اور اس کی سچائی معلوم۔علامہ حافظ‌ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:اس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ کے سامنے حقیقت کھول دی، ظالم کو مغالطہ میں‌رکھا ۔ تعریض کا یہی مطلب ہے۔


قادیانیوں کے معروف مفسر قرآن مرزائی صلاح الدین سورۃ النساء کی آیت کی تفسیر میں لکھتیں ہیں کہ: ایسے طرز کلام کو انگریزی میں (Irony) اور عربی میں تعریض کہتے ہیں اس میں معانی ظاہری الفاظ کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ بخاری و مسلم میں یہ حدیث درج ہے لم یکذب ابراھیم النبی قط الاثلاث کذبات کہ ابراہیم نے صرف تین دفعہ جھوٹ بولا ہے ان باتوں کو محض ظاہری شکل و صورت کی مشابہت کی وجہ سے کذب کیا گیا ہے ورنہ دراصل وہ معاریض کلام ہیں۔ اس حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضور کا نفس اور حضور کی تعلیم اس قدر پاک تھی کہ حضور نے توریہ کو بھی کذب کا نام دیا ہے۔ (ترجمہ و تفسیر قرآن ص۱۵۵۱، ج۳ طبعہ اسلام آباد ۱۹۸۱ء مؤلفہ صلاح الدین قادیانی)

 جس حدیث سے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی فضیلت اور ان کی سچائی نظر آتی ہے، اسی سے ہمارے ان بھائیوں کو توہین و تنقیص کا پہلو ملتا ہے۔اس حدیث‌سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح‌ ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زندگی بھر کبھی توریہ یا تعریض تک نہیں کی ماسوائے ان تین مقامات کے کہ جہاں انہوں نے دعوت و تبلیغ کی خاطر یا عصمت کی حفاظت کی خاطر توریہ کیا۔ ڈیڑھ صد سال سے بھی زائد عرصہ کی زندگی میں‌ فقط تین ناگزیر مقامات کے علاوہ کبھی بھی خلاف واقعہ بات کا نہ کہنا بجائے خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہت بڑی فضیلت اور ان کی سچائی کا ثبوت ہے۔اس حدیث‌میں‌دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جھوٹ بولنے کی نفی کی گئی ہے نا کہ اسے ثابت کیا گیا ہے۔ علماء کی اصطلاح میں‌اس طرز کلام کو تاکید المدح بما یشبہ الذم کہتے ہیں۔ یعنی مدح میں‌اس طرح‌تاکیدی حکم لگانا کہ بظاہر اس میں‌مذمت کا پہلو نکلتا ہو۔ س حدیث کا یہی مطلب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نہایت راست باز تھے۔پس ثابت ہوا کہ اگر وہ جھوٹے ہوتے تو ان تین مقامات پر بھی واضح جھوٹ بولتے، لیکن انہوں نے سنگین ترین مقامات پر بھی فقط توریہ سے کام لیا، لہٰذا ثابت ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔


اب آئیں مرزا قادیانی کے ایک جھوٹ پہ۔

یہ اسوقت کی بات ہے جب برصغیر میں طاعون کی وبا پھٹی ہوئی تھی...مرزا صاحب اپنے مریدوں کو ایک عام ہدایت کی غرض سے ایک اشتہار شائع کیا۔ اسمیں مرزا صاحب جن کا دعوی تھا کے وہ سلطان القلم ہے، وہ جب کوئی عبارت لکھتے ہیں تو انھیں اندر سے تربیت دی جاتی ہے، لکھتے ہے۔

"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہیے بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں ورنہ وہ خدا سے لڑائی کرنے والے ٹھہریں گے" (ریویو آف ریلیجینز ستمبر 1907 صفحہ365)
کیا کوئی قادیانی اس بات کو حدیث رسول ﷺ سے ثابت کر سکتا ہے؟

اور بھی بہت سے ریفرنس دیے جا سکتا جہاں مرزا نے حدیث پر جھوٹ بولے بلکہ جھوٹی حدیثیں بھی پیش کی ،
 
حدیث رسول ﷺ کا مفہوم ہے جس نے مجھ پرجھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ قادیانی حضرات اپنا محاسبہ خود کر لیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور نزول من السماء پر اجماع امت کا ثبوت . حصہ دوم

   حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور نزول من السماء  پر اجماع امت کا ثبوت . حصہ دوم
مصنف : محمّد احمد
==============================================

ایک مرزائی آرٹیکل میں "انصر رضا" نامی ایک مربی نے یہ دعوى کیا تھا کہ "مسلمان جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کے زندہ ہونے اور قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہونے کا عقیدہ اجماعی عقیدہ ہے، یہ بات غلط ہے" .... ہم نے اسکے جواب کی پہلی قسط میں یہ ثابت کیا تھا کہ ان تین زمانوں میں جن کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کے بہترین زمانے فرمایا ہے کسی ایک صحابی، کسی ایک تابعى يا كسى ایک تبع تابعى کا ہرگز وہ عقیدہ نہیں تھا جو مرزا قادیانی نے 1891 کے بعد ایجاد کیا اور جس پر جماعت مرزائيه آج قائم ہے ...اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مرزائی مربی انصر رضا ہمارے اس استدلال کو توڑتے اور ان تين بہترین زمانوں میں سے کوئی شخصیت پیش کرتے جس سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو کہ انکا عقیدہ تھا کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی ہے اور اب انہوں نے نہیں نازل ہونا بلکہ انکے ایک مثیل نے آنا ہے جس کا نام غلام احمد بن چراغ بی بی ہے" ... لیکن انصر رضا جانتے ہیں کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں اس لیے اب وہ اپنی من گھڑت کہانیوں کو "قرآن وحديث" کا نام دے کر دھوکہ دہی میں مصروف ہیں، اور انھیں علم ہے کہ انکے پاؤں ریت کی چٹان پر ہیں جو پانی کے ایک ہی ریلے  سے ختم ہو جاتی ہے تو لوگوں کو "قرآن وحديث" کا نام لے کر دھوکہ دیتے ہیں، جبکہ انکا قرآن تو بقول مرزا قاديانى 1857 عيسوى میں اٹھا لیا گیا تھا (ازاله اوهام ، رخ 3 ص 490)، اور پھر انکا قرآن تو وہ ہے جو مرزا قادیانی پر دوبارہ نازل ہوا تھا (كلمة الفصل ، مرزا بشير احمد ايم اے ، جسے مرزائی قمر الاسلام کہتےہیں ، صفحه 173 مندرجه ريويو آف ريليجنز مارچ اپریل 1915)، تو مرزائی قرآن وہ ہے جو مرزا قادیانی پر دوبارہ اترا، نہ وہ جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر نازل ہوا کیونکہ اسکی حفاظت کا ذمہ تو اللہ نے لیا ہے اور وہ قیامت تک وہی رہے گا ان شاء الله، وهى قرآن مرزا کے پیدا ہونے سے پہلے تیرہ صدیوں میں امت مسلمہ میں موجود رہا ، بلکہ مرزا قادیانی بھی اپنی زندگی کے تقريباً 50 سال اسی قرآن سے دلیلیں دیا کرتا تھا اور مزے کی بات حضرت عيسى عليه السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ نازل ہونے کو بھی اسی قرآن سے ثابت کیا کرتا تھا (دیکھیں: مرزا كى اولين كتاب جو اسکے دعوے کے مطابق اس نے تجدید دین کی خاطر لکھی تھی، براهين احمديه حصه چہارم، رخ 1 ص 593 اور رخ 1 صفحات 602 تا 603)، اس کتاب میں مرزا نے قرآن كريم کی دو آیات سے حضرت عيسى عليه السلام کا زندہ ہونا اور دوبارہ تشریف لانا ثابت کیا، اور مرزا نے حقيقة الوحى میں خود اقرار کیا کہ اس نے براہین احمدیہ میں یہ لکھا تھا کہ "مسیح بن مریم آسمان سے نازل ہوگا" (رخ 22 ص 152 تا 153، نیز دیکھیں اعجاز احمدى رخ 19 ص 113)... تو ثابت ہوا کہ جب مرزا نے براہین احمدیہ لکھی تو اس وقت اسکا قرآن اور تھا ، اور وہ اپنے آپ کو "مجدد" بھی سمجھتا تھا .. لیکن جب مرزا نے اپنا من گھڑت عقیدہ اپنایا تو اسکا قرآن بدل گیا تھا.



مرزائی مربی نے ایک بات گول کردی ...

 ہم نے سوال کیا تھا کہ مرزائی اپنا پورا عقیدہ کہیں سے ثابت کریں ، قرآن وحديث كا نام لے کر دھوکے دیتے ہیں لیکن کیا کسی آیت یا کسی صحیح یا ضعیف حدیث یا کسی صحابی کے قول یا مرزا قادیانی کے پیدا ہونے سے پہلے کسی محدث، مفسر، مجدد سے ہی ثابت کرسکتے ہیں  کہ "حضرت عيسى عليه السلام کو دشمنوں نے گرفتار کرکے دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا، آپ کے جسم مبارک کو زخمی کیا، اسکے اندر کیل لگائے ، یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہوگئے، وہ لوگ آپ کو مردہ سمجھ کر چلے گئے، آپ صلیب سے زندہ اترے، اور پھر کشمیر چلے گئے اور آپ کی موت وہاں ہوئی اور آپ کی قبر سری نگر میں ہے، اور جو احادیث متواترہ میں "عيسى بن مريم" کے نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے اس سے مراد چراغ بی بی کا بیٹا غلام احمد ہے"،


 یہ ہے مکمل مرزائی عقیدہ، اب اگر مرزائی مربی واقعی قرآن وحديث کے علاوہ کسی اور دلیل کو نہیں مانتا تو اسکا فرض تھا کہ اپنا یہ مکمل عقیدہ قرآن وحديث سے ثابت کرے ... لیکن قیامت آ سکتی ہے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ مرزائی جانتے ہیں کہ انکا یہ عقیدہ من گھڑت اور فرضی ہے قرآن وحديث میں کہیں بھی اسکا کوئی ثبوت نہیں، لہذا حسب عادت مرزائی مربی "وفات مسيح" کی طرف چلے گئے جبکہ موضوع سخن "اجماع امت" تھا ... اسی سے انصر رضا کی بے بسی ظاہر ہوتی ہے .



مرزائی مربی  نے لکھا ہے : رسول کریم ﷺ کے بعد صحابہ کرام ؓ  سے بڑھ کر کسی کو قرآن کریم کا فہم نہیں؟ یہ اصول کہاں سے لے لیا جناب نے ؟ گھر بیٹھ کر خودی اصول بنا رہے ہیں.


جواب : در اصل مرزائی مربی پوری زندگی اس میں گذار دیتے ہیں کہ قرآن وحديث میں تحریف معنوى کیسے کرنی ہے، زیادہ سے زیادہ پاکٹ بک پر عبور حاصل کرتے ہیں، لیکن اپنے گرو مرزا قادیانی کی کتابیں نہیں پڑھتے، اب اگر مربی جی نے مرزا قادیانی کی کتاب "بركات الدعاء" پڑھی ہوتی تو وہ یہ چیلنج نہ کرتے، اس کتاب میں مرزا قادیانی نے اپنے مطابق قرآن كريم کی تفسیر کے "معيار" نمبر وار لکھے ہیں، ان میں "تفسير القرآن بالقرآن" اور "تفسير القرآن بالحديث" کے بعد تیسرے نمبر پر لکھا ہے "تيسرا معيار صحابه کی تفسیر ہے، اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابه رضي الله عنهم آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالى کا ان پر بڑا فضل تھا، اور نصرت الہی ان کی قوت مدرکہ تھی، کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا" (بركات الدعاء ، رخ 6 ص 188)، کہیے مربی جی؟ ہم نے تو یہ اصول مرزا قادیانی سے لیا ہے یعنی کہ آپ کے گھر سے ..اپنے گھر کی خبر آپ کو نہیں اور جگتیں ہم پر کرتے ہیں؟ .


اب سنیں! ہم نے آپ کو یہ چیلنج کیا تھا کہ کسی ایک صحابی، کسی ایک تابعى يا كسى ایک تبع تابعى سے یہ ثابت کردیں کہ اس نے کہا ہو کہ "حضرت عيسى عليه السلام کو دشمنوں نے گرفتار کرکے دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا، آپ کے جسم مبارک کو زخمی کیا، اسکے اندر کیل لگائے ، یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہوگئے، وہ لوگ آپ کو مردہ سمجھ کر چلے گئے، آپ صلیب سے زندہ اترے، اور پھر کشمیر چلے گئے اور آپ کی موت وہاں ہوئی اور آپ کی قبر سری نگر میں ہے، اور جو احادیث متواترہ میں "عيسى بن مريم" کے نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے اس سے مراد چراغ بی بی کا بیٹا غلام احمد ہے" آپ نے بات کو گول کردیا، اگر کوئی حوالہ ہے تو پیش کردیں اگر نہیں تو لکھ دیں کہ خير القرون میں کسی ایک ہستی سے بھی بسند صحیح یہ عقیدہ ثابت نہیں ، بات ختم ہو جاتی، ہم خير القرون سے آگے چلتے اور مرزا قادیانی کی پیدائش تک امت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ثابت کرتے لیکن آپ کو تو اتنا بھی یاد نہ رہا کہ آپ نے اپنے آرٹیکل میں "اجماع امت" کوموضوع بنايا تھا نہ کہ "قرآن وحديث" کو ...کسی نے خوب کہا ہے کہ "جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا' .


ارے جناب اگر آپ کے نزدیک فہم صحابہ کی کوئی حيثيت نہیں تو پھر آپ نے "اجماع امت" کا موضوع شروع کیوں کیا؟ ظاہر ہے امت میں تو سب سے پہلے نمبر پر صحابہ ہی آتے ہیں ، اس امت کے بہترین لوگ وہی ہیں .


تو جناب انصر رضا! موضوع آپ نے شروع کیا تھا کہ "حضرت عيسى عليه السلام کے رفع ونزول جسمانى کا عقیدہ امت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ہے یا نہیں" اور اب آپ یہاں سے جان چھڑا کر "قرآن وحديث" کا نام لے کر چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ... کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ پہلے "امت" کے اجماع پر بات کر لیتے .


بہرحال ہم پھر بھی آپ کی چند باتوں پر مختصر تبصرہ کر دیتے ہیں .



آپ نے صحیح بخاری سے "الخيط الابيض من الخيط الاسود" سے متعلق روایت پیش کرکے یونہی زحمت کی ہے، کیا اس حدیث میں یہ ہے کہ فلاں صحابی نے اس آیت کی یہ تفسیر لوگوں کو سکھلائی؟ ارے صاحب! ہماری  بات یہ  ہو رہی ہے کہ اگر کسی صحابی سے بسند معتبرو متصل  کسی آیت کی تفسیر منقول ہو یعنی انہوں نے یہ فرمایا ہو کہ فلاں آیت کی تفسیر یہ ہے تو وہ تفسیر چودہ سو سال بعد آنے والوں کی تفسیر سے بہرحال بہتر ہوگی .. کیونکہ اگر بالفرض بتقاضائے بشریت صحابہ کرام نے کبھی کسی آیت آیت کا مفہوم ٹھیک نہ سمجھا تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم موجود تھے انہوں نے اصلاح فرمادی، جیسا کہ ان صحابی کی بھی اصلاح فرمادی گئی ہوگی  کہ آپ نے دھاگے سمجھ لیے جبکہ اس سے مراد افق کی روشنی ہے ... لیکن ایک آدمی چودہ صدیوں کے بعد اٹھے اور کہے کہ مجھ سے پہلے چودہ سو سال میں  کسی نے قرآن كريم صحیح سمجھا ہی نہیں میں اب تمہیں صحیح قرآن سمجھاؤں گا تو ایسے شخص کے بارے میں فرمائیں کیا خیال ہے؟ یہ ہے ہمارا موضوع سخن .



آگے مربی جی لکھتے ہیں : اعتراض کرنے والے کو معلوم ہے کہ قرآن اور حدیث صحیح سے اس کے پاس کوئی دلیل اپنے دعویٰ پر نہیں ہے اس لیے بات کا رخ دوسری طرف کرنا چاہا ہے ، چلیں اس بات تک تو مان لیا کہ تابعین نے صحابہ سے علم حاصل کیا ہو گا لیکن کیا پہلی تین صدیوں کے تمام فرد صحابہ کرام  سے تعلیم یافتہ تھے ؟ صرف قیاس بازی پر عقائد کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی ، باقی رہا یہ مطالبہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے بعد کا سب ذکر کسی صحابی یا تابعی کے قول سے دکھایا جائے یہ مطالبہ تو تب قبول ہوگا جب مطالبہ کی بنیاد قرآن اور حدیث صحیح سے ثابت کی جائے ، کسی صحابی یا تابعی کے بیان کو قرآن نے کبھی حجت قرار نہیں دیا ۔ اگر صحابی اور تابعی کے بیان کو قرآن سے حجت ثابت کر کے یہ مطالبہ کیا جائے تو اللہ کے فضل سے ہم قرآن سے ہی نصِ صریح کے ساتھ اس کا جواب جانتے ہیں اور بیان بھی کریں گے۔



جواب : مربی جی آپ نے ہم سے "قرآن وحديث" سے دلیل مانگی ہی کب تھی؟ آپ نے تو "اجماع امت" کو موضوع بنايا تھا ، پھر مربی کو معلوم ہے کہ وه اس قرآن كريم سے جو حضرت محمد صلى الله عليه وسلم پر نازل ہوا اور جو 1857 تک مسلمانوں میں مسلسل چلا آ رہا تھا  اور پھر بقول مرزا قادیانی اٹھا لیا تھا گیا ، اس سے تا قیامت اپنا عقیدہ ثابت نہیں کر سکتے  کہ "حضرت عيسى عليه السلام کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا گیا، زخمی کیا گیا، پھر آپ کشمیر چلے گئے اور آپ کی موت وہاں ہوئی، اور سری نگر میں آپ کی قبر ہے ، اور جس مسیح بن مریم کا ذکر احادیث میں ہے اس سے مراد غلام احمد بن چراغ بی بی ہے" ، مربی جی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کسی صحيح تو كيا ضعيف حدیث میں بھی یہ اشارہ تک نہیں کہ "غلام احمد بن چراغ بی بی" مسیح موعود ہے، اس لیے وہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق الٹا مسلمانوں سے مطلبہ کرتا ہے، ارے مربی جی! نئی چیز آپ نے ایجاد کی ہے، مسلمان تو اسی عقیدے پر قائم ہیں جو مرزا کے پیدا ہونے سے پہلے سے چلا آ رہا تھا اور جس پر مرزا بھی اپنی عمر کے 50 سال کے لگ بھگ قائم رہا  ... دلیل آپ نے دینی ہے اپنے پورے عقیدے پر .. ہم نے تو صرف آپ کا یہ دعوى غلط ثابت کرنا تھا کہ "حضرت عيسى عليه السلام کا  رفع ونزول جسمانى امت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ نہیں"  اور ہم نے سب سے پہلے "خير القرون" کو لیا تھا ... اور الحمد لله آپ ان "خير القرون" سے کوئی ایک ہستی ایسی پیش نہ کرسکے جسکا عقیدہ آپ والا ہو ... اس طرح آپ نے تسلیم کر لیا کہ زمانہ صحابه وتابعين وتبع تابعين میں وہ عقیدہ کسی کا نہ تھا جو مرزائی عقیدہ ہے (یعنی صلیب پر ڈالے جانے، وہاں سے کشمیر جانے، وہاں قبر ہونے، عيسى بن مريم سے مراد غلام احمد بن چراغ بی بی ہونے کا عقیدہ) اگر ہے تو پیش کریں .


آپ نے پھر یہاں یہ راگ الاپا ہے جس کا خلاصہ یہ  کہ "بنياد قرآن وحديث کو بنایاجائے نہ کہ صحابہ و تابعين کی تفسیر کو" تو مربی جی! پھر آپ نے "اجماع امت" کا رونا کیوں رونا شروع کیا؟ کیا "اجماع امت" قرآن وحديث ہے؟ آپ کے آرٹیکل کا عنوان کیا تھا؟ ذرا ایک بار پھر پڑھ لیں ..چلیں اب  ہم تو یہی پوچھتے  ہیں کہ  آپ کس قرآن كو بنياد بنانا چاہتے ہیں؟ 1857 سے پہلے والے کو یا اس کو جو قادیان میں دوبارہ نازل ہوا؟ آپ کس قرآن کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں؟ اس کو جو براہین احمدیہ لکھتے وقت مرزا قادیانی کے سامنے تھا یا اس کو جو 1891 کے بعد مرزا نے سمجھا؟ آپ کس قرآن کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں؟ جو صحابہ کرام و تابعين وتبع تابعين نے سمجھا، جو کہ اس امت کے بہترین زمانے ہیں یا چودہ صدیوں بعد آنے والوں نے سمجھا؟ آپ کس قرآن کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں؟ اس کو جو مرزا قادیانی سے پہلے ہونے والے "مجددین" نے سمجھا جن کے بارے میں مرزا نے لکھا کہ "مجددوں پر ایمان لانا فرض ہے" (شهادة القرآن، رخ 6 ص 344)، یا اس قرآن کو جس میں "يوم الدين" سے مراد "مسیح موعود کا زمانہ" لکھا ہے؟ اور "بالآخرة" سے مراد "بعد میں آنے والی وحی" لکھا ہے؟.. آپ کس قرآن كو معيار بنانا چاہتے ہیں؟ اس قرآن کو جسے مرزا کے مطابق ہر زمانے میں "ائمہ و اکابر نے تحریف معنوی سے محفوظ رکھا جنہیں الله نے ہر صدی میں فہم قرآن عطا فرمايا تھا" (ايام الصلح ، رخ 14 ص 288) یا اس قرآن کو معيار بنانا چاہتے ہیں جس كى تفسير میں معجزات كا انكار ، حضرت نوح عليه السلام کی 950 سال عمر کا انکار، "احمد" سے مراد غلام احمد جیسی تحریفات کی گئیں؟ .. آپ لکھ دیں ہم اسی قرآن پر آ جاتے ہیں ... تاکہ آپ کی یہ خواہش بھی پوری کردی جائے .


اب آ جائیں حدیث کی طرف... آپ کس حدیث کو معيار بنانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ نے حضرت محمد صلى الله عليه وسلم سے بلا واسطہ کوئی حدیث سنی ہے؟ یا آپ محدثین کی کتابوں میں موجود احادیث کو معيار بنائیں گے؟ آپ ان احادیث کو معيار بنائیں گے جو سند مرفوع متصل صحيح کے ساتھ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہیں یا ان احادیث کو جو مرزا قادیانی کے بقول "احادیث صحیحہ" ہیں لیکن انکا وجود کسی حدیث کی کتاب میں نہیں ؟ آپ کن احادیث کو معيار بنائیں گے؟ جو محدثین نے بسند صحیح نقل کی ہیں؟ یا ان کو جو مرزا قادیانی کی نام نہاد "وحی" کے معارض نہ ہوں؟ ..کیا آپ کے نزدیک کسی حدیث کو لینے یا ترک کرنے کا معيار مرزا قادیانی کی بات ہے یا کچھ اور؟ کیونکہ مرزا قادیانی نے تو یہ دعوى کیا ہے کہ "میرے خدا نے مجھے بتلا دیا ہے کہ کون سی حدیث صحیح ہے اور کون سی ضعیف" (اربعين نمبر 4 ، رخ 17 ص 454) ، تو آپ کے نزدیک حدیث کی قبولیت کا معيار کیا ہے؟ ہاں یہ مت کہنا کہ "جو حدیث قرآن کے خلاف ہو وہ ہم نہیں مانتے" کیونکہ آپ کو پہلے یہ بتانا ہوگا کہ ایک حدیث آپ کی تفسیر کے مطابق قرآن کے خلاف لگتی ہے، لیکن ہماری تفسیر کے مطابق وہ قرآن کے خلاف نہیں تو قرآن کی تفسیر کس کی ٹھیک کس کی غلط؟ اسکا کیا معيار ہوگا؟ جب تک یہ معيار قائم نہیں ہوتا بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچے گی ..آپ اپنی تفسیر کو ٹھیک کہتے رہیں گے اور ہم مرزا سے پہلے تیرہ صدیوں میں گذرے ائمہ و اکابر اور مجددین امت کی تشریح و تفسیر کو درست کہتے رہیں گے ... فیصلہ کیسے ہو؟


الغرض! آپ کا نہ قرآن مسلمانوں والا ہے اور نہ حدیث اور نہ اصول حدیث .. پھر نہ جانے آپ کیوں "قرآن وحديث" کا نام لے کر دھوکہ دیتے ہیں؟


ہم نے سوال کیا تھا کہ:   اگر یہ ثابت نہ ہو سکے تو کسی صحابی ، تابعى يا تبع تابعى سے یہ قول ہی بسند متصل اور صحیح ثابت کیا جائے کہ انہوں نے فرمایا ہو کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی ہے ، انکا رفع الى السماء نہیں ہوا ، اور انہوں نے قیامت سے پہلے نازل نہیں ہونا" ... هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين .


اسکے جواب میں مربی جی لکھتے ہیں: آپ صحابی کی بات کرتے ہو ہم قرآن سے ہی دکھا دیتے ہیں ، اب دیکھو اللہ فرماتا ہے ۔
إِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَىٰٓ إِنِّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَجَاعِلُ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوكَ فَوْقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۖ ثُمَّ إِلَىَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ( سورۃ آل عمران آیت 55 )
ترجمہ : جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ! یقیناً میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں اور تجھے ان لوگوں سے پاک کرنےوالا ہوں جو کافر ہوئے، اور ان لوگوں کو جنہوں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیا ہے قیامت کے دن تک غالب رکھنے والا ہوں۔ پھر میری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے جس کے بعد میں تمہارے درمیان اُن باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

اس آیت میں متوفیک کا ترجمہ تجھے وفات دینے والا ہوں صحیح بخاری کتاب التفسیر سے ثابت ہے جہاں حضرت ابن عباس کا یہ قول ( متوفیک ممیتک ) درج ہے ۔
اب اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے وفات کے بعد رفع کا وعدہ فرمایا تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ، اور رفع سے یہاں مراد درجات اور روح کا رفع ہے جیسا کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے حق میں  وَرَفَعْنَٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا ( اور ہم نے اس کا ایک بلند مقام کی طرف رفع کیا تھا ) سورۃ مریم آیت 57 میں آیا ہے ۔
اور سورۃ المائدۃ میں یہ آیات موجود ہیں ۔

وَإِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ءَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُۥ فَقَدْ عَلِمْتَهُۥ ۚ تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَآ أَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ [116]مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَآ أَمَرْتَنِى بِهِۦٓ أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدٌ[117]



جواب :مربی جی! تو کیا آپ تسلیم کر چکے کہ صحابه ، تابعين اور تبع تابعين کے زمانے میں کوئی ایک ہستی بھی آپ کے من گھڑت عقیدے جیسا عقیدہ نہیں رکھتی تھی؟ لکھ دیں ، پھر  ہمارا سوال تھا کہ  ثابت کیا جائے کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی ہے ، انکا رفع الى السماء نہیں ہوا ، اور انہوں نے قیامت سے پہلے نازل نہیں ہونا"، اور مربی جی وہی پاکٹ بک کے اقتباسات اپنی من گھڑت "تشریحات" کے ساتھ لکھ رہے ہیں .. اور مزے کی بات وہ خود صحیح بخاری سے حضرت عبدالله بن عباس رضي الله عنه کی تفسیر اپنے حق میں پیش کر رہے ہیں جبکہ پہلے خود صحابی کی تفسیر کو قابل اعتماد نہ سمجھنے پر دلیلیں اسی صحیح بخاری سے دے چکے ہیں..ظاہر ہے دروغ گو ر حافظہ نہ باشد،   مربی جی ان آیات میں یہ کہاں لکھا ہے کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی (زمانہ ماضی میں) اور ان کا رفع الى السماء نہیں ہوا، اور انہوں نے قیامت سے پہلے نہیں آنا"؟؟ ہمارا سوال تو یہ تھا ..آپ نے حسب عادت اپنی رام کہانی لکھنی شروع کردی؟؟


اب ہم مختصر طور پر آپ کی "دھوکے بازیوں" پر بات کرتے ہیں .. آپ نے "متوفيك" کا ترجمه کیا "وفات دینے والا ہوں" ، یعنی "مستقبل" میں ... اس سے یہ کیسے ثابت ہوگیا ہے کہ "وفات ہو چکی" ماضی میں؟  (اگر اس کا مفھوم وہی لیا جائے جو آپ لے رہے ہیں)، جبکہ سوال غور سے پڑھیں اس میں کیا ہے ..


آپ نے حضرت ابن عباس رضي الله عنهما سے "مميتك" کا حوالہ دیا تو کیا آپ حضرت عبدالله بن عباس رضي الله عنه پر فیصلہ قبول کرتے ہیں؟ جو عقیدہ انکا ہوگا ہم وہی تسلیم کرلیں گے، واضح اور صاف جواب دیں .. ہم حضرت عبدالله بن عباس رضي الله عنهما کا اپنا مکمل عقیدہ بسند صحیح ثابت کریں گے ...آپ کو قبول ہوگا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اگر ہاں تو لکھ دیں ..تاکہ ہم پیش کریں ..آپ کو بھی علم ہے کہ حضرت ابن عباس رضي الله عنه "رفع" کے بعد "موت" کے قائل ہیں ..


اب ذرا یہ فرما دیں کہ کیا "متوفيك" كا معنى "لعنتى اور ذليل موت سے بچانا" کرنا ٹھیک ہے یا غلط؟ (سراج منير ، رخ 12 ص 23) نيز "متوفيك" كا معنى "میں تجھے پوری نعمت دونگا" کرنا کسی کے قرآن سے جاہل ہونے کی دلیل ہے یا نہیں؟ (براهين احمديه ، رخ 1 ص 620)، نیز یہ بھی فرما دیں کہ لفظ "موت" بے ہوشی اور نیند کے لیے بھی آتا ہے یا نہیں " (ازاله اوهام ، رخ 3 ص 620)، آپ کے جواب کا منتظر ہیں تاکہ ہم مفصل جواب عرض کریں .



آپ نے ایک دھوکہ یہ دیا ہے کہ :

" اب اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے وفات کے بعد رفع کا وعدہ فرمایا تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے"

آپ بتائیں کہ آپ کو "عربی" کے کس لفظ سے یہ معلوم ہوا کہ " الله  نے وفات کے بعد رفع كا وعده فرمایا تھا" یہ "بعد" کس لفظ کا مفہوم ہے ؟ ذرا وضاحت فرما دیں، اگر میں کہوں کہ "واقيموا الصلاة وآتوا الزكاة" کا یہ مطلب ہے کہ پہلے نماز قائم کرو اسکے بعد زکات دو، اگر زکات نماز پڑھنے سے پہلے دے دی تو ادا نہ ہوگی تو کیا یہ ٹھیک ہوگا؟ یا اگر میں کہوں کہ "ومن يطع الله والرسول فألئك مع الذين انعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين" کا مفہوم یہ ہے کہ جو الله و رسول کی اطاعت کریگا وہ پہلے نبی بنے گا پھر اسکے بعد وہ صدیق بنے گا پھر اس کے بعد وہ شہید بنے گا پھر اس کے بعد آخر میں صالحین میں شمار ہوگا" تو کیا یہ مفہوم آپ کو قبول ہوگا؟ .. جواب کا انتظار ہے .


مربی جی! کیا یہ آیت نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ کو نہیں سکھائی تھی؟ اس کی تفسیر اپنے شاگردوں کو نہیں بتائی ہوگی؟ پھر کیا وجہ ہے کہ خود نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنی متواتر احادیث میں الله کی قسم اٹھا کر فرماتے ہیں کہ "مریم کے بیٹے عيسى" نے نازل ہونا ہے، اور پھر صحیح مرفوع متصل احاديث میں "آسمان سے نازل" ہونے کا بھی ذکر ہے (دلیل میرے ذمے) ، کیا معاذ الله نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امت کو "شبہے" میں ڈال دیا کہ قرآن تو بقول مرزائی مربی اعلان کرتا ہے کہ "حضرت عيسى بن مريم فوت ہو چکے" اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم الله کی قسم کے ساتھ "والذي نفسى بيده" کے الفاظ کے ساتھ فرماتے ہیں "مريم کے بیٹے عيسى" نے تو نازل ہونا ہے؟؟ اور پھر صحابہ کرام میں سے کوئی ایک فرد آپ صلى الله عليه وسلم سے یہ سوال نہیں کرتا کہ اے الله کے رسول! قرآن كى تيس آيات جن کو مردہ ثابت کر رہی ہے وہ کیسے نازل ہونگے؟ اور نہ ہی کوئی صحابی یہ کہتا ہے کہ "نزول عيسى بن مريم سے مراد ہے کہ انکا ایک مثیل آئے گا جو مغل برلاس ہوگا اور جس کا نام غلام احمد اور ماں کا نام چراغ بی بی ہوگا"؟؟  مربی جی آپ کی دلیل سے تو یہ لگتا ہے کہ اس آیت کا صحیح مفہوم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو بھی نہ بتایا گیا اور نہ ہی آپ نے اپنے صحابہ کو بتایا اور خاص طور پر وہ تیس کے قریب صحابہ جو "نزول عيسى بن مريم" کی روایات نقل کرتے ہیں انھیں نہ سمجھ آیا ؟ کیا آپ یہی کہنا چاہتے ہیں؟ اور پھر مرزا قادیانی کو بھی اپنی عمر کے 52 سال یہ مفھوم نہ سمجھ آیا جو آج انصر رضا بتا رہے ہیں؟



پھر مربی جی سورة المائده کی آیات نقل کرکے لکھتے ہیں:

 " ان آیات سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی گمراہی سے لاعلمی کا اعتراف کریں گے ، اگر انہی کو واپس آنا ہوتا تو وہ اپنی قوم کی گمراہی کے بارے میں یہ جواب نہیں دے سکتے ، اب بے شک ہمارے مخالف آیت میں موجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیان کو عالمِ برزخ  کا بیان کہیں یا آئندہ قیامت کا ، دونوں صورتوں میں فتح ہماری ہے "

مربی جی!

ذرا ان آیات میں وہ عربی لفظ لکھ دیں جس کا ترجمہ ہے کہ "حضرت عيسى عليه السلام اپنی قوم کی گمراہی سے لا علمى کا اعتراف کریں گے"؟ اس آیت میں علم یا لا علمى کا سوال ہی نہیں، سوال یہ ہوگا کہ "اے عيسى کیا آپ نے لوگوں  سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے سوا معبود بناؤ؟" (یہ سوال نہیں کہ آپ کو اپنی قوم کے گمراہ ہونے کا علم ہے یا نہیں)، اور حضرت عيسى عليه السلام فرمائیں گے کہ "میں نے انھیں ایسا نہیں کہا تھا، بلکہ میں نے تو انھیں یہی کہا تھا کہ اس الله کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے" ... مربی جی! اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ قرآن كريم میں اپنی طرف سے اضافے نہ کرو، اس آیت میں سوال "قول" کے بارے میں ہے اور جواب بھی "قول کی نفی" ہے .. لیکن ہم مربی جی سے کچھ اور پوچھتے ہیں .. آپ کے استدلال سے یہ خلاصہ نکلتا ہے کہ حضرت عيسى عليه السلام فرمائیں گے کہ "جب تک میں زندہ تھا عیسائی گمراہ نہیں ہوے تھے" ، اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ عیسائی حضرت عيسى عليه السلام کی زندگی میں ہی گمراہ ہو گئے تھے تو نعوذ بالله عيسى عليه السلام جھوٹ بولیں گے ... تو اب آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ عيسائى کب گمراہ ہووے ... مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ واقعه صليب کے وقت "حضرت عيسى عليه السلام کی عمر 33 سال اور چھ مہینے تھی" (تحفه گولڑویہ، رخ 17 ص 311)، اور مرزا قادیانی نے حضرت عيسى عليه السلام کی عمر کے بارے میں ایک جگہ لکھا کہ "احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے" (مسيح ہندستان میں ، رخ 15 ص 55، اب انصر رضا ہماری مدد کردیں کہ یہ ایک سو پچیس سال مسیح کی عمر ہوئی ہے والی معتبر حدیث کس کتاب میں ہے؟) ، بہرحال ثابت ہوا کہ واقعه صليب کے بعد حضرت عيسى عليه السلام تقريباً 91 سال زندہ رہے ... اب مرزا کی یہ تحریر پڑھیں "انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گذرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی، یعنی حضرت عيسى خدا بنائے گئے" (چشمہ معرفت ، رخ 23 ص 266) ، واضح رہے کہ عیسائیت کی تاریخ سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ پولس وہ شخص تھا جس نے یہ غلط عقائد ایجاد کیے .. اور یہ واقعه صليب کے 91 سال بعد کی بات نہیں بلکہ بہت پہلے کی بات ہے .. یعنی بقول مرزا قادیانی حضرت عيسى عليه السلام ابھی کشمیر میں زندہ تھے کہ عیسائی بگڑ گئے ... تو انصر رضا بتائیں کہ حضرت عيسى عليه السلام کیسے دعوا کریں گے کہ "جب تک میں زندہ تھا اس وقت تو وہ نہیں بگڑے تھے"؟؟؟


چونکہ سر دست ہمارا موضوع "امت اسلاميه كا اجماعى عقيده" ہے اس لیے ہم اسی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں، اس لیے ہم نے مختصر طور پر انصر رضا کی پیش کردہ آیات پر چند سوالات کیے ہیں ، مزید تفصیل وقت آنے پر عرض کریں گے .



مرزائی مربی کی بے بسی :

آگے لکھتے ہیں :

" پھر اعتراض کرنے والے نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام  کے اقوال درج کیے ہیں اور ان سے غلط استدلال کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ، پہلا حوالہ یہ درج کیا ہے :

’’ایک دفعہ ہم دلی میں گئے تھے ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہاکہ تم نے تیرہ سو (1300) برس سے یہ نسخہ استعمال کیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدفون اورحضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر پر بٹھایا یہ نسخہ تمہارے لئے مفید ہوا یا مضر اس سوال کا جواب تم خود ہی سوچ لو ، ایک لاکھ کے قریب لوگ اسلام سے مرتد ہوگئے ہیں‘‘۔ (ملفوظات، جلد 5، صفحہ 579)

اس سے معترض نے استدلال کرنا چاہا ہے کہ دیکھو مرزا صاحب مان رہے ہیں کہ مسلمانوں کا یہی عقیدہ 1300 برس سے چلا آرہا تھا ، یہاں ہم پوری عبارت سیاق و سباق کے ساتھ نقل کر دیتے ہیں تاکہ پڑھنے والوں کو پوری بات نظر آجائے ۔


اس صفحہ پر یہ لکھا ہے کہ : " مگر اب دوسرا نسخہ ہم تم کو بتاتے ہیں وہ استعمال کر کے دیکھو اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ( جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور رسول کریم ﷺ نے فعلی شہادت دی ) وفات شدہ مان لو۔'' (ملفوظات، جلد 5، صفحہ 579)
معترض نے تو اجماع امت ثابت کرنا تھا وہ بھی نہ کر پایا اور جو استدلال کرنے چلا تھا وہ بھی عبارت میں موجود ہی نہیں اس لیے ہر حوالہ کے ساتھ اپنا تبصرہ ، عنوان اور حاشیہ لگا کر پورا زور لگایا ہے مگر افسوس کہ ان کی کوئی تدبیر بھی کامیاب نہیں ہوئی ۔



جواب: مربی جی یہ "سیاق و سباق" والا نسخہ پاکٹ بک والے نے جو لکھا ہے وہ آپ کو نہیں بچا سکتا .. اتنی لمبی چوڑی تحریر سے آپ نے ہماری تردید کہاں کی؟ کیا مرزا نے یہ نہیں کہا تھا کہ:

 " ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہاکہ تم نے تیرہ سو (1300) برس سے یہ نسخہ استعمال کیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدفون اورحضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر پر بٹھایا"


 آپ کو یہ بتانا تھا کہ یہ تیرہ سو برس سے کس نے یہ نسخہ استعمال کیا؟ اور کیا واقعی تیرہ سو سال مسلمان یہ نسخہ استعمال کرتے رہے؟ ، اب اگر چمگاڈر کو سورج کی روشنی میں نظر نہیں آتا تو اس میں سورج کا کیا قصور؟ مرزا کہتا ہے کہ "تیرہ سو برس سے یہ نسخہ مسلمان استعمال کرتے رہے" اور مربی کہتا ہے کہ یہ الفاظ مرزا کی عبارت میں موجود نہیں ... ہاں اگر انصر رضا لکھ دے کہ مرزا نے یہ بات غلط کہی ہے تو ہم آئندہ یہ حوالہ پیش نہیں کریں گے .


...

رفع ونزول عيسى بن مريم عليهما السلام اور امت اسلاميه و قاديانى عقيده میں فرق

رفع ونزول عيسى بن مريم عليهما السلام اور امت اسلاميه و قاديانى عقيده میں فرق مصنف : محمد احمد
امت اسلامیہ کا عقیدہ کیا ہے؟ امت مسلمہ کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کواس وقت زندہ سلامت آسمان پر اٹھالیا جب آپ کے دشمن اور مخالفین آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے ،  دشمن آپ کی ذات اقدس تک پہنچ ہی نہ سکے بلکہ اس سے پہلے ہی آپ کا رفع الی السماء ہوگیا ، اور پھر اللہ تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ وہی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام قرب قیامت یہود کو اپنے ہاتھ سے مزہ چکھانے نیز آپ کے ماننے والے (عیسائی) جو آپ کے رفع کے بعد گمراہ ہو کر شرک میں پڑ گئے ان کے مشرکانہ عقائد کا بھی ابطال فرمانے کیے لئے دوبارہ آسمان سے نازل ہوں ، اسے عام اصطلاح میں رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام کہا جاتا ہے ، لہذا یاد رکھیں موضوع ’’حیات ووفات عیسیٰ علیہ السلام‘‘  نہیں بلکہ ’’ رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام ہے‘‘  قرآن وکریم اور احادیث صحیحہ میں یہی الفاظ (رفع ونزول) وارد ہوئے ہیں ، حیات ووفات عیسیٰ یا صرف وفات عیسیٰ کے الفاظ مرزائی گورکھ دھندہ ہیں ۔ 
مکمل قادیانی عقیدہ کیا ہے؟ قادیانی کبھی بھی اپنا پورا عقیدہ بیان نہیں کرتے ، بلکہ صرف وفات عیسیٰ پر زور دیتے ہیں، پورا قادیانی عقیدہ یہ ہے :۔ 
’’اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو ان کے دشمنوں نے گرفتار کیا اور دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈال دیا، آپ کے جسم اطہر میں میخیں لگائیں ، مارا پیٹا یہاں تک کہ وہ شدت تکلیف سے بے ہوش ہوگئے اور وہ لوگ انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے (یعنی قادیانی اور یہودی وعیسائی عقیدے میں صرف یہ فرق ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب پر ہی جان دیدی اور آپ کی موت ہوگئی ، جبکہ قادیانی کہتے ہیں کہ صلیب پر آپ کو ڈالا تو ضرور گیا اور آپ کو مارا پیٹا بھی گیا لیکن صلیب پر آپ کی موت واقع نہ ہوئی بلکہ آپ مردہ سا ہوگئے، یعنی یہودی وعیسائی اور قادیانی عقیدہ میں صرف ’’سا‘‘ کا فرق ہے)، اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر 33 سال کے لگ بھگ تھی ، چونکہ آپ صرف بے ہوش ہوئے تھے لہذا اپنے زخموں کا علاج کرنے کے بعد آپ وہاں سے کسی طرح نکل کر ہزاروں کلو میٹر کا سفر کرکے کشمیر چلے آئے اور وہاں مزید تقریباً 87 سال زندہ رہنے کے بعد آپ کی وفات ہوئی اور آپ کی قبر سری نگر کے محلہ خان یار میں ہے ۔ چونکہ اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں لہذا اب وہ دوبارہ نہیں آسکتے ، دوسری طرف وہ احادیث نبویہ بھی صحیح ہیں جن کے اندر آنحضرت e نے یہ خبر دی ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، لیکن ان احادیث میں جن عیسیٰ بن مریم کے نزول کی خبر دی گئی ہے اس سے مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام مراد نہیں بلکہ امت محمدیہ میں سے ان کا ایک مثیل یا ایسا شخص جس کے اندر ان کی صفات ہوں گی مراد ہے جوکہ اس امت میں پیدا ہونا تھا اور اس کا صفاتی نام عیسیٰ بن مریم رکھا گیا ہے ۔ اور وہ شخص مرزا غلام احمد ہے جس کی ماں کا نام چراغ بی بی اور باپ کا نام غلام مرتضیٰ ہے‘‘ ۔ (یہ خلاصہ ہم نے مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کی کتابوں اور تحریروں سے لیا ہے، طلب کرنے پر حوالے پیش کیے جاسکتے ہیں)۔  

ہم نے بارہا قادیانیوں سے یہ مطالبہ کیاکہ اپنا یہ پورا عقیدہ ترتیب کے ساتھ قرآن کریم سے ثابت کردیں ، اگر قرآن سے ثابت نہیں کرسکتے تو احادیث صحیحہ سے ثابت کرو، اگر وہاں سے نہیں تو کسی صحابی کے قول سے ہی ثابت کردو، اگر یہ بھی ممکن نہیں تو مرزا قادیانی سے پہلے گذرے کسی مفسر، محدث یا مجدد سے ہی ثابت کردو ۔ اور ثابت کیا کرنا ہے؟ یاد رکھیں ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا گیا اور انہیں مارا پیٹا گیااور اذیت دی گئی ۔ اس کے بعد وہ کشمیر چلے گئے ۔ ان کی قبر سری نگر کشمیر میں ہے ۔ احادیث میں کسی مثیل مسیح کے نزول کی خبر دی گئی ہے ۔ اور وہ مثیل مرزا غلام احمد قادیانی بن چراغ بی بی ہے ۔


دعوائے نبوت کی طرح دعوائے مسیحیت میں بھی مرزا قادیانی کی قلابازیاںدوستو! جس طرح مرزا قادیانی پوری زندگی اپنے دعوائے نبوت میں باربار اپنے بیان بدلتا رہا ، کبھی یہ اعلان کرتا رہا کہ میں مدعی نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں، کبھی یہ کہتا کہ نبی سے مراد ہے محدّث لہذا جہاں جہاں میں نے اپنے لئے نبی کا لفظ لکھا ہے اسے کاٹ کر محدّث لکھ لیا جائے، کبھی کہتا کہ میرے نبی ہونے کا مطلب ہے ایک پہلو سے نبی ایک پہلو سے امتی، کبھی کہتا کہ میں کامل نہیں بلکہ ناقص نبی ہوں، کبھی کہتا کہ میں ظلی بروزی نبی ہوں، کبھی یہ بیان جاری کیا کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور جس کی وحی میں اللہ کی طرف سے امر اور نہی ہوں وہ صاحب شریعت ہوتا ہے (یعنی میں صاحب شریعت نبی ہوں) ، الغرض مرزا قادیانی اپنی موت کے دن تک اپنے دعوائے نبوت میں حسب ضرورت رنگ بدلتا رہا ،بالکل اسی طرح کی قلابازیاں وہ اپنے دعوائے مسیحیت میں بھی لگاتا رہا ، مرزا کی تحریروں سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں :۔ 
مجھے کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں :’’اس عاجز نے جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کربیٹھے ہیں‘‘۔ (ازالہ اوہام حصہ اول، رخ 3 ، صفحہ 192)

میرا دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں :’’میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیشگوئیاں ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا‘‘۔ (تحفہ گولڑویہ، رخ 17، صفحہ 295)

مسیح موعود ہزار ششم (چھٹے ہزار) میں مبعوث ہوگا :’’ اور اب یہ ثابت ہوا کہ تکمیل اشاعت ہزار ششم میں ہوگی اس لئے نتیجہ یہ نکلا کہ مسیح موعود ہزار ششم میں مبعوث ہوگا‘‘۔  (تحفہ گولڑویہ، رخ 17، صفحہ 261 حاشیہ)

نبیوں کی پیش گوئیوں کے مطابق یہ موعود ساتویں ہزار میں ظاہر ہوا ہے :’’لوگوں نے خدا کے اس موعود کو ماننے سے انکار کیا ہے جو تمام نبیوں کی پیش گوئیوں کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوا ہے‘‘۔ (دافع البلائ، رخ 18، صفحہ 232) 

میرے بعد دس ہزار سے بہی زیادہ مسیح  آسکتے ہیں :’’اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں ہے کہ مسیحیت کا میرے وجود پر خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال واقبال کے ساتھ بھی آوے اور ممکن ہے اول وہ دمشق میں ہی نازل ہو‘‘۔   (ازالہ اوہام حصہ اول ، رخ 3، صفحہ 251)

میرے بعد کسی مسیح کے قدم رکھنے کی بھی جگہ نہیں :’’فلیس لمسیح من دوني موضع قدم بعد زماني‘‘ پس میرے سوا کسی مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔  (خطبہ الہامیہ، رخ 16، صفحہ 243)’’اور ایسا ہی آخری مسیح آنحضرت صلى الله عليه وسلم  سے چودہویں صدی میں ظاہر ہوا‘‘۔ (لیکچر سیالکوٹ، رخ 20، صفحہ 215)

اب اس سوال کا جواب مرزا قادیانی کا کوئی پیروکار ہی دے سکتا ہے کہ اگر مرزا کے بعد دس ہزار سے زیادہ مسیح آسکتے ہیں تو پھر مرزا کے بعد کسی مسیح کے قدم رکھنے کی جگہ کیوں نہیں؟ اور اگر آخری مسیح چودہویںصدی میں آچکا تو پھر وہ دس ہزار مسیح کیسے آسکتے ہیں؟۔

قرآن کریم سے حضرت مسیحؑ  کا دوبارہ آنا ثابت ہے :’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ۔ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے ۔ اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعد دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا ۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم، رخ 1 صفحہ 593 ، حاشیہ)

قرآن میں حضرت مسیحؑ کے دوبارہ آنے کا ذکر نہیں: ’’ قرآن شریف میں مسیح بن مریم کے  دوبارہ آنے  کا تو کہیں ذکر نہیں‘‘ (ایام الصلح، رخ 14، صفحات 392 و393) 

آنے والا مسیح نبی نہیں ہوگا :’’آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید ومولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی ‘‘ (توضیح مرام ، رخ 3، صفحہ 59)’’وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں ہوگا ‘‘ (ازالہ اوہام ، رخ 3، صفحہ 249)

آنے والا مسیح نبی ہوگا :’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ چلتا ہے اس کا انہی حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا اور امتی بھی‘‘۔  (حقیقۃ الوحی، رخ 22، صفحہ 31) 

حضرت مسیح علیہ السلام امت محمدیہ میں داخل ہیں: ’’یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اِس امت کے شمار میں ہی آگئے ہیں‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم، رخ 3، صفحہ 436)’’یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلى الله عليه وسلم  کی امت میں داخل ہے ‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، رخ 21، صفحہ 300) 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امتی قرار دینا کفر ہے: ’’حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک کفر ہے‘‘۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، رخ 21 ، صفحہ 364)


مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی ساری زندگی، کبھی میں ہوں!  اور کبھی میں نہیں ہوں !   کبھی اقرار !  اور کبھی انکار !  اس طرح خود سے لڑتا رہا !

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء اور نزول من السماء پر اجماع امت کا ثبوت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے  رفع الی السماء اور نزول من السماء  پر اجماع امت کا ثبوت 
مصنف : محمد احمد
 الله تعالى نے اپنی کتاب قرآن كريم اپنے نبی محمد صلى الله عليه وسلم پر نازل فرمائی اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے الله کی کتاب صحابہ کرام رضي الله عنهم کو سکھلائی، لہذا قرآن كريم فہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے بعد آپ کے  صحابہ کریم رضي الله عنهم سے بڑھ کر کسی کو نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ بارگاہ نبوت کے اولین اور بلا واسطہ شاگرد ہیں .. 
 پھر صحابہ کریم رضي الله عنهم سے یہی علم و حکمت کا خزانہ تابعين عظام نے اور ان سے تبع تابعين نے حاصل کیا، نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہی تین زمانوں کو اپنی امت کے بہترین زمانے قرار دیا ہے ... لہذا قرآن كريم کی تفسیر و تشریح اور نبى كريم صلى الله عليه وسلم کے فرامین کی جو تشریح صحابہ کرام، تابعين عظام اور تبع تابعين نے فرمائی اسکے مقابلے میں چودہ سو سال بعد والوں کی نئی ایجاد کردہ تفسیرو تشریح کی کوئی حيثيت نہیں، ہمارا دنیائے قادیانیت کو  چیلنج ہے کہ ان تینوں بہترین زمانوں یعنی صحابه ، تابعين اور تبع تابعين کے زمانے میں سے کسی ایک صحابی، کسی ایک تابعى يا تبع تابعى سے بسند صحیح یہ ثابت کیا جائے کہ اس نے یہ کہا ہو کہ "وہ حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام  جنہیں بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا انھیں دشمنوں نے پکڑ کر چوروں کے ساتھ صلیب پر ڈالا تھا، آپ کو زخمی کیا تھا اور پھر آپ کو مردہ سمجھ کر چھوڑ کر چلے گئے، اسکے بعد آپ کشمیر گئے اور وہاں آپ کی موت ہوئی اور آپ کی قبر سری نگر میں ہے، اور احادیث میں جن عيسى بن مريم عليهما السلام کے آسمان سے نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے اس سے مراد انکا ایک مثیل ہے جس کا نام غلام احمد بن چراغ بی بی ہے" ... 
 اگر یہ ثابت نہ ہو سکے تو کسی صحابی ، تابعى يا تبع تابعى سے یہ قول ہی بسند متصل اور صحیح ثابت کیا جائے کہ انہوں نے فرمایا ہو کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی ہے ، انکا رفع الى السماء نہیں ہوا ، اور انہوں نے قیامت سے پہلے نازل نہیں ہونا" ... هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين . 

 دوستو! یہ اس امت کے بہترین زمانے ہیں، قرآن كريم بھی موجود تھا اور احادیث نبویہ بھی، وہ لوگ بھی عرب تھے ، عربی زبان میں کس لفظ کا کیا مطلب ہوتا ہے انھیں خوب معلوم تھا .. لیکن اسکے با وجود اگر انکے اندر کوئی ایک بھی  یہ عقیدہ نہیں رکھتا تھا کہ "حضرت عيسى بن مريم عليهما السلام کی موت ہو چکی ہے اور انکا رفع الى السماء نہیں ہوا اور ان کا نازل ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے نہیں" تو یہ خير القرون كا اجماع ہی ہے ... 

 آئیے اب ہم سب سے پہلے رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اجماع امت کے چند حوالے پیش کرتے ہیں  :

علم کلام کے مشہور امام ابو الحسن الاشعریؒ (وفات 324ھ) لکھتے ہیں :۔’’وأجمعت الأمۃ علی أن اللہ عزوجل رفع عیسیٰ الی السماء‘‘ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا ۔ (الابانۃ فی اصول الدیانۃ، صفحہ 35 ، طبع دار ابن زیدون ۔ بیروت)
نوٹ: امام ابوالحسن اشعرى تیسری اور چوتھی صدی میں گذرے ہیں .. 

  امام ابومحمد عبدالحق بن عطیہ اندلسیؒ (وفات541ھ) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:۔ ’’وأجمعت الأمۃ علی ما تضمنہ الحدیث المتواتر من أن عیسیٰ علیہ السلام فی السماء حي وأنہ ینزل فی آخر الزمان‘‘ اور امت کا اس بات پراجماع ہے جو احادیث متواترہ میں وراد ہوئی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں نازل ہوں گے ۔(المحرر الوجیز فی تفسیر کتاب العزیز ، جلد 2 صفحہ 237 ، طبع وزارۃ الاوقاف قطر)
نوٹ: یہ امام ابن عطيه اندلسى چوتھی اور پانحویں صدی ہجری میں گزرے ہیں ... اور یہ لکھ رہے ہیں کہ امت کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت عيسى عليه السلام آسمان میں زندہ ہیں اور آخری زمانے میں آپ نازل ہونگے .. 

 شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (وفات 852ھ) رقمطراز ہیں :۔’’وأما رفع عیسیٰ فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی أنہ رُفع ببدنہ حیاً، وانما اختلفوا ہل مات قبل أن یُرفع أو نام فرُفع‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بارے میں محدثین ومفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ کو جسم سمیت زندہ اٹھا لیاگیا ، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ کیا رفع سے پہلے (کچھ دیر کے لئے ۔ناقل) آپ کو موت دی گئی تھی یا آپ کو نیند کی حالت میں اٹھا یا گیا (لیکن جسم سمیت زندہ اٹھائے جانے پر بہرحال اتفاق ہے)۔ (تلخیص الحبیر، جلد 3 ، صفحہ 431، طبع مؤسسۃ قرطبہ)
           شیخ الاسلام  ابن تیمیہ ؒ (وفات 728ھ) نے بھی امام ابوالحسن الاشعریؒ کی یہ بات نقل کی ہے، لکھتے ہیں :۔ ’’وأجمعت الأمۃ علی أن اللہ عزوجل رفع عیسیٰ الیہ الی السمائ‘‘ امت کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لیا ۔(بیان تلبیس الجہمیۃ، جلد 4، صفحہ 457، طبع سعودیہ)
واضح رہے کہ یہ وہی امام تیمیہؒ ہیں جن کے بارے میں مرزا قادیانی نے جھوٹ لکھا ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل ہیں ، مرزا کے اس جھوٹ پر ہم پھر کبھی بات کریں گے ۔

 مشہور مفسر علامہ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادیؒ (وفات 1270 ھ) آیت خاتم النبیین کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔ ’’ولا یقدح فی ذلک ما اجمعت الأمۃ علیہ واشتہرت فیہ الأخبار ولعلہا بلغت مبلغ التواتر المعنوی ونطق بہ الکتاب علی قول ووجب الایمان بہ وأکفر منکرہ کالفلاسفۃ من نزول عیسیٰ علیہ السلام آخر الزمان لأنہ کان نبیاً قبل تحلی بل تحلی نبینا صلى الله عليه وسلم  بالنبوۃ فی ہذہ النشأۃ …‘‘ (آنحضرتe کے آخری نبی ہونے پر) اس بات سے اعتراض نہیں وارد ہوسکتا جس پر امت کا اجماع ہے اور جس کے بارے میں بہت سی احادیث وارد ہیں جو متواتر معنوی کے درجہ کو پہنچتی ہیں اور ایک قول کے مطابق اللہ کی کتاب نے بھی یہ بیان کیا ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے ، اور اس کے منکر کو کافر کہا گیا ہے جیسا کہ فلاسفہ (وہ عقیدہ یہ ہے کہ ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آخری زمانہ میں نازل ہونا ہے (ان کے نازل ہونے سے اعتراض اس لئے نہیں ہوسکتا کہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آپe سے پہلے کے نبی ہیں ۔ (تفسیر روح المعانی، جلد 22، صفحہ 34، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

شیخ محمد بن احمد السفارینی رحمۃ اللہ علیہ (وفات 1188ھ) اپنی مشہور کتاب عقیدہ سفارینیہ میں لکھتے ہیں:۔’’ومنہا ای من علامات الساعۃ العظمیٰ العلامۃ الثالثۃ أن ینزل من السماء السید المسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ونزولہ ثابت بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ‘‘ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے تیسری نشانی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوںگے اور آپ کا نزول کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔
  اور پھر اجماع امت کا بیان کرتے ہوئے لکھا:۔  ’’وأما الاجماع فقداجمعت الامۃ علی نزولہ ولم یخالف فیہ أحد من أہل الشریعۃ ، وانما انکر ذلک الفلاسفۃ والملاحدۃ ممن لا یُعتد بخلافہ وقد انعقد اجماع الامۃ علی أنہ ینزل ‘‘ جہاں تک اجماع کا تعلق ہے تو امت کاآپ کے نزول پر اجماع ہے اور اہل شریعت میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا سوائے فلسفیوں اور ملحدین کے جن کے اختلاف کی کوئی وقعت نہیں کیونکہ امت کا اس پر اجماع ہے کہ آپ نازل ہوں گے ۔ (لوامع الانوار البہیۃ  المعروف بہ عقیدہ سفارینیہ ، جلد 2 ، صفحہ 94، طبع دمشق)


 مرزا قادیانی کا اقرار  یہ تو تھے چند حوالہ جات امت اسلامیہ کے چند معروف اور قابل قدر اکابرین کے جن میں تیسری صدی ہجری کے اہل سنت کے امام ابوالحسن اشعریؒ بھی ہیں، اور حافظ ابن حجر عسقلانیؒ جیسے بھی ہیں جومرزائی جماعت کے نزدیک بھی اپنے زمانے کے مجدد تھے ، اب آئیے مرزا قادیانی کا اقرار بھی ملاحظہ فرمائیں جس میں وہ صاف طور پر تسلیم کرتا ہے کہ اس سے پہلے تیرہ صدیوں میں امت کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں ، چنانچہ اس نے کہا :۔’’ایک دفعہ ہم دلی میں گئے تھے ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہاکہ تم نے تیرہ سو (1300) برس سے یہ نسخہ استعمال کیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدفون اورحضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر پر بٹھایا یہ نسخہ تمہارے لئے مفید ہوا یا مضر اس سوال کا جواب تم خود ہی سوچ لو ، ایک لاکھ کے قریب لوگ اسلام سے مرتد ہوگئے ہیں‘‘۔(ملفوظات، جلد 5، صفحہ 579)

 ہمارا مقصد اس حوالے سے صرف یہ ثابت کرنا ہے کہ مرزا قادیانی نے صاف اقرار کیا کہ اس سے پہلے 1300 سالوں سے مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آرہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں ، لیکن یہاں اس بات کی طرف اشارہ بھی ضروری ہے کہ مرزا قادیانی نے حسب عادت یہاں بھی انتہائی بے شرمی کے ساتھ جھوٹ بولا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے کاعقیدہ رکھنے کی وجہ سے ایک لاکھ مسلمان مرتد ہوگئے ، شاید اس کا اشارہ ان لوگوں کی طرف ہو جو مرزائی ہوکر اور مرزا کو مسیح مان کر مرتد ہوگئے ورنہ امت اسلامیہ کی تاریخ گواہ ہے اور جیساکہ مرزا نے بھی کہا کہ اس سے تیرہ سوسال پہلے سے مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آرہا ہے لیکن ان تیرہ صدیوں میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی کہ صرف یہ عقیدہ رکھنے کی وجہ سے لوگ مرتد ہوگئے ہوں ، مرزا قادیانی کی اپنی ایک خود ساختہ منطق ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانا جائے تو اس کامطلب ہے کہ انہیں خدا مان لیا گیا جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

 مرزا قادیانی نے صراحت کے ساتھ ایک جگہ لکھا:۔’’سو واضح ہو کہ اس امر سے دُنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیشگوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اِس پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رُو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا اور یہ پیشگوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے‘‘۔ (شہادۃ القرآن، رخ 6، صفحہ 298)
 پھر اسی کتاب میں تھوڑا آگے جاکر مرزا قادیانی نے یہ الفاظ لکھے :۔            ’’واضح ہوکہ مسیح موعود کے بارے میں جو احادیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف ائمہ حدیث نے چند روایتوں کی بناء پر لکھا ہو وبس بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آتی ہے گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کوابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے ‘‘۔ (شہادۃ القرآن، رخ 6 ، صفحہ 304)

 مرز ا قادیانی صاف لفظوں میں اقرار کر رہا ہے کہ حضرت مسیح بن مریم علیہماالسلام کے نزول کے بارے میں احادیث میں جو خبر دی گئی ہے وہ ابتداء سے مسلمانوں کے اندر عقیدہ کے طور پر چلی آرہی ہے اور تمام مسلمانوں کا اس پراتفاق ہے ، اگرچہ مرزا نے یہاں بھی’’مسیح موعود‘‘ کا لفظ لکھ کر ڈنڈی ماری ہے کیونکہ احادیث میں کسی’’ مسیح موعود‘‘ کا ذکر نہیں بلکہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نام مذکور ہے اور انہی کے نزول کا عقیدہ ابتداء سے مسلمانوں میں چلا آرہا ہے ۔

وفات مسیح کا راز اورمرزاقادیانی کا دعویٰ ایک طرف مرزا قادیانی نے اپنے سے پہلے لوگوں کے نام لے کر یہ دعویٰ کیا کہ فلاں فلاں بھی وفاتِ مسیح علیہ السلام کے قائل تھے (آج بھی مرزا کے پیروکار یہی جھوٹ بولتے ہیں) ، لیکن دوسری طرف مرزا قادیانی نے  نے یہ بیان بھی جاری کیا:۔
’’یااخوان ہذا الأمر الذی اخفاہ اللہ من أعین القرون الأولیٰ ، وجلیٰ تفاصیلہ فی وقتنا ہذا یخفی ما یشاء ویبدی‘‘ اے بھائیو! یہ معاملہ (یعنی وفات مسیح کا راز۔ناقل) وہ ہے جو اللہ نے پہلے زمانوں کی آنکھوں سے چھپائے رکھا اور اس کی تفاصیل اب ظاہر ہوئی ہیں ، وہ جو چاہتا ہے اسے مخفی رکھتا ہے اور جو چاہتا ہے اسے ظاہر کرتا ہے۔  (آئینہ کمالات اسلام، رخ 5، صفحہ 426)

 اسی کتاب میں ایک اور جگہ یوں لکھا:۔’’وبقی ہذا الخبر مکتوماً مستوراً کالحبّ فی السنبلۃ قرناً بعدقرن، حتی جاء زماننا ہذا…‘‘  اور یہ خبر (یعنی یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے۔ناقل) زمانہ در زمانہ اسی طرح پوشیدہ اور چھپی رہی جیسے دانہ اپنے خوشے میں چھپا ہوتاہے یہاں تک کہ ہمارا زمانہ آگیا ۔  (آئینہ کمالات اسلام، رخ 5 ، صفحہ552)
 اگلے صفحے پر صاف لکھا :۔ ’’ فکشف اللہ الحقیقۃ علینا لتکون النار برداً وسلاماً‘‘  پس اللہ نے ہم پر حقیقت کھولی تاکہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجائے ۔ (آئینہ کمالات اسلام، رخ 5، صفحہ 553)

 اب اگر تو واقعی مرزا سے پہلے گذرے وہ لوگ جن کامرزا اور اسکے پیروکار نام لیتے ہیں  وفات مسیح کے قائل تھے تو مرزا کا یہ بیان جھوٹ ثابت ہوا کہ یہ راز اس سے پہلے کسی پر نہیں کھولا گیا ، اور اگر یہ راز مرزا سے پہلے مخفی اور مستور تھا تو پھر مرزا کا یہ دعویٰ کہ فلاں فلاں وفات مسیح کا قائل تھا جھوٹ ہوا ۔
الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں                اپنے ہی  دام  میں  خود  صیاد آگیا

حیات عیسی علیہ السلام از رؤے کتب مرزا غلام احمد



حیات عیسی علیہ السلام از رؤے کتب مرزا غلام احمد

مصنف : حمزہ اعوان


بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ و نسلی علی رسولہ الکریم

احمدی دوستو! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب اور آپ کے احباب اس بات پر بضد ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں لیکن آپ یہ بات جان کر حیران ہوں گے کہ مرزا صاحب نے کل زندگی 69 سال 4 ماہ 25 دن پائی ہے اور 57 سال 4 ماہ 25 دن تک یہی کہتے رہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور مرنے سے 12 سال پہلے 1896ء کو اپنا عقیدہ بدلہ اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔ انہیں زندہ آسمانوں پر ماننا شرک عظیم ہے اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مرزا صاحب نے کتاب البریہ میں لکھا ہے کہ میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی ہے(کتاب البریہ صفحہ 159، مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177) اور وفات 26 مئی 1908 میں ہوئی(ملفوظات جلد 10 صفحہ 459) حساب لگائیں 69 سال 4 ماہ 25 دن بنتے ہیں۔

آیت قرآنی اور تفسیر الہامی اول

مرزا صاحب نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے:”ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے۔ اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اسؔ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں۔(براہین احمدیہ جلد1 صفحہ 499، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593 از مرزا غلام احمد صاحب)

مندرجہ بالا عبارت میں خاص طور پر لائق توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیت قطعی الثبوت ہے اور مرزا صاحب نے ”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے“ کہہ کر اس کی الہام تفسیر کی ہے۔ وہ بھی ان کے نزدیک قطعی ہے کہ یہ آیت حضرت عیسی علیہ السلام کی ظاہری و جسمانی آمد کی پیشگوئی ہے۔ پس قرآن مجید کی آیت اور مرزا صاحب کی الہامی تفسیر دونوں مل کر حضرت عیسی علیہ السلام کی ظاہری اور جسمانی آمد ثانی کو قطعی بنا دیتے ہیں، جس کے بعد مرزا صاحب کے ماننے والوں کے لئے کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔

آیت قرآنی اور تفسیر الہامی دوم

اس الہامی کتاب براہین احمدیہ میں بڑے زور دار دعویٰ کے ساتھ اپنے الہام سے ثابت کیا کہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں، دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، ملاحظہ فرمایں:” عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَ عَلَیْكُمْ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا۔خدائے تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے۔ تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور اور اس کی آنکھیں ہوگیا سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا۔ اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کردے گا۔“(براہین احمدیہ صفحہ 505،506 روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 601، 602 از مرزا صاحب)

نوٹ: مرزا صاحب کے الہامات کا مجموعہ ”تذکرہ“ میں فاضل مرتب نے زِیر بحث الہام”عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَ عَلَیْكُمْ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَافِرِينَ حَصِيرًا“ پہ حسب ذیل نوٹ لکھا ہے:

”حضرت اقدس نے اس الہام کو اربعین نمبر 2 کے نمبر 5 پر اور اس کے علاوہ کئی مقامات پر بھی بحوالہ براہین احمدیہ ان یرحمکم درج فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”علی“ کا لفظ سہو کتابت ہے۔(تذکرہ طبع دوم صفحہ 82، طبع سوم79-80، طبع چہارم صفحہ 63 از مرزا صاحب)

نوٹ: مرزا صاحب نے اربعین نمبر 2 میں براہین احمدیہ میں درج شدہ الہامات کی فہرست دی ہے ھو الذی اور عسی ربکم والی آیات کو مرزا صاحب نے اپنے الہامات قرار دیا ہے۔(اربعین جلد 2 صفحہ9، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 321،352)

یہاں کس قدر وضاحت سے مرزا صاحب نے حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ ہونے،رفع آسمانی اور آمد ثانی کے عقیدے کو تسلیم کیا ہے۔ اور 12 سال بعد تک اسی عقیدے پر جمے رہے۔ ہمیشہ مسیح موعود ہونے کا انکار کیا اور مثیل مسیح کہلاتے رہے۔

اپنی کتاب ازالہ اوہام میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:” اے برادران دین وعلمائے شرع متین!آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سُنیں کہ اس عاجزنے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے مُنہ سے سُنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پُرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پاکر براھین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کر دیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا میں نے یہ دعویٰ ہرگزنہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاّب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور اخلاق وغیرہ کے خدائے تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔“(ازالہ اوہام اول صفحہ 190، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 192 از مرزا صاحب)

قارئین کرام: مسیح موعود بننے سے انکار اور مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ الہامی ہے جیسا مرزا صاحب کی اپنی تحریروں سے ثابت ہے۔ اب حیرانی والی بات ہے کہ مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کے الہامات سے اپنا یی دعوی ثابت کیا کہ مسیح موعود نہیں ہوں،مسیح زندہ ہیں، دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اور دوسری طرف یہ بھی براہین احمدیہ کے الہامات سے ہی ثابت ہے کہا کہ میں ہی مسیح موعود ہوں اور عیسی علیہ السلام مسیح موعود نہیں وہ فوت ہو چکے ہیں، آگے حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا صاحب اعجاز احمدی کے شروع میں لکھتے ہیں:”وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اِس بات کا دعویٰ ہے کہ مَیں عالم الغیب ہوں جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تُو مسیح موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہوگیا ہے تب تک مَیں اسی عقیدہ پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اِسی وجہ سے کمال سادگی سے مَیں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا ہے۔ جب خدا نے مجھ پر اصل حقیقت کھول دی تو مَیں اس عقیدہ سے باز آگیا۔ مَیں نے بجز کمال یقین کے جو میرے دِل پر محیط ہوگیا اور مجھے نُور سے بھر دیا اُس رسمیؔ عقیدہ کو نہ چھوڑا حالانکہ اسی براہین میں میرانام عیسیٰ رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تُو ہی کسر صلیب کرے گا۔ اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اِس آیت کا مصداق ہے کہ 3 3 ۱؂ تا ہم یہ الہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمت عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا اور اسی وجہ سے باوجودیکہ مَیں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھا مگر پھر بھی مَیں نے بوجہ اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی مگر مَیں نے اس رسمی عقیدہ کو براہین میں لکھ دیا۔ مَیں خود تعجب کرتا ہوں کہ مَیں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی کیونکر اسی کتاب میں رسمی عقیدہ لکھ دیا۔ پھر مَیں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بیخبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدّو مدّ سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور مَیں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اِس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ پس جب اِس بارہ میں انتہا تک خدا کی وحی پہنچی اور مجھے حکم ہوا کہ فاصدع بما تؤمر یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سُنا دے اور بہت سے نشان مجھے دیئے گئے اور میرے دل میں روزِ روشن کی طرح یقین بٹھا دیا گیاتب مَیں نے یہ پیغام لوگوں کو سُنا دیا۔“(اعجاز احمدی صفحہ 9 روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 113 از مرزا صاحب)

مرزا صاحب نے ایک قرآنی اور الہامی آیت سے یہ ثابت کیا ہے کہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں، دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور پھر 12 سال بعد اسی قرآنی اور الہامی آیت سے ثابت کر رہے ہیں کہ مسیح موعود میں ہوں عیسی ابن مریم انتقال فرما چکے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ میں نے براہین احمدیہ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔ حالانکہ مرزصاحب نے قرآن کی آیت کی الہامی تفسیر کرتے ہوئے بڑے زور دار دعوے سے ثابت کیا کہ عیسی علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں دوبارہ تشریف لائے گے۔

احمدی دوستو! کیا قرآن شریف میں رسمی عقائد درج ہیں اور مرزا صاحب کو رسمی الہام ہوتے تھے؟،،،،،انا للہ و انا الیہ رجعون۔

احمدی دوستو! جب مرزا صاحب کی طرف اللہ تعالی کے کیے ہوئے الہام اور قرآن شریف کی آیت کا مفہوم مرزا صاحب غلط بیان کر رہے تھے تو اللہ نے کیوں نہیں فرمایا۔ مرزا صاحب کیا کر رہے ہو کیا آپ کو الہام اور قرآن شریف کی آیت کا مفہوم نہیں سمجھ میں آیا، یا خواب دیکھ رہے ہو۔ عیسی علیہ السلام تو مر گئے ہیں اور جس مسیح موعود نے آنا ہے وہ تم ہو اور تم ہی لکھ رہے ہو کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ کیا اللہ کو دوبارہ 12 سال بعد یاد آیا یا علم ہوا کہ مرزا صاحب نے اپنی گردن پر چھری پھیر دی ہے۔ کیا اللہ تعالی کو نعوذ باللہ نیند آگئی تھی؟ کیا یہ اصلاح و تجدید دین ہو رہی ہے؟ انا للہ و انا الیہ رجعون۔

اور پھر لطف یہ کہ جب حیات عیسی علیہ السلام کا عقیدہ بدلہ تو مرزا صاحب نے اپنی کتاب ست بچن میں لکھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے 120 برس کی عمر پائی۔(ست بچن صفحہ176، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 302 از مرزا صاحب)

پھر پانچ ماہ بعد مرزا صاحب نے اپنی کتاب تریاق القلوب میں لکھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے 125 سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔(تریاق القلوب صفحہ 371، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 499 از مرزا صاحب)

پھر چار سال بعد مرزا صاحب نے اپنی کتاب تذکرۃ الشہادتین میں لکھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام 153 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔(تذکرۃالشہادتین صفحہ 29، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 29 از مرزا صاحب)۔

اسی طرح قبر کے بارے میں مرزا صاحب نے ازالہ اوہام میں لکھا کہ مسیح کی قبر ان کے اپنے وطن گلیل میں ہے۔(ازالہ اوہام دوم صفحہ 473، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 353)

پھر کچھ سال بعد مرزا صاحب نے اتمام الحجہ میں لکھا مسیح کی قبر بیت المقدس، طرابلس یا بلاد شام٭ میں ہے۔(اتمام الحجہ صفحہ 24، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 296 از مرزا صاحب)

پھر کچھ سال بعد مرزا صاحب نے اپنی کتاب کشتی نوح میں لکھا کہ مسیح کی قبر کشمیر سری نگر محلّہ خان یار میں ہے۔(کشتی نوح صفحہ 18، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ16 از مرزا صاحب)

اگرچہ مرزا صاحب کا قبر مسیح کا مسئلہ پھر مشتبہ ہوا اور مرنے سے 11 دن پہلے لکھا کہ ایک بزرگ کی روایت سے مسیح کی قبر مدینہ کے قریب ہے۔(چشمہ معرفت صفحہ 251، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 261 از مرزا صاحب)

لیکن احمدی احباب کشمیر والی قبر ہی مسیح کی قبر بتلاتے ہیں جس کا قبر ہونا کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہر گز ثابت نہیں۔

مرزا صاحب نے ابن مریم بننے کی غرض سے 1896ء کو اپنا عقیدہ بدلا بحوالہ(اعجاز احمدی صفحہ 9، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 113 از مرزا صاحب) اور 1908ء تک زندہ رہے۔ یعنی 12 سال تک اللہ کی طرف سے الہام ہوتے رہے یعنی اللہ مرزا صاحب سے مزاق کرتے رہے اور یہ صحیح خبر ایک بھی الہام میں نہ دی گئی؟ نعوذ باللہ! اصل میں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔

احمدی دوستو! مرزا صاحب نے سرمہ چشم آریہ کے آخر میں ایک اشتہار دیا ہے جس میں فرماتے ہیں کہ” کتاب براہین احمدیہ جس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے مؤلف(مرزا صاحب) نے ملہم و مامور(یعنی اللہ کے حکم سے)ہوکر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے۔“(سرمہ چشم آریہ اشتہار صفحہ 270 کے بعد، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 318 کے بعد)

آئینہ کمالات اسلام میں مرزا صاحب لکھتے ہیں” اِس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ رُوح القدس(جبرائیل علیہ السلام) کی قدسیّت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلا فصل ملہم کے تمام قُویٰ(یعنی بدن کے تمام اعضاء) میں کام کرتی رہتی ہے۔“(آئینہ کمالات اسلام صفحہ 93، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 93 از مرزا صاحب)

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روح القدس کی قدسیت نے مرزا صاحب کے ہاتھ کو کیوں نہ پکڑا اور قلم کیوں نہیں توڑ دی، روح القدس کی قدسیت نے کیوں نہیں شور مچایا، کیوں نہیں چیخی چلائی کہ مرزا صاحب کیوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔ عیسی علیہ السلام کو مرے ہوئے تقریباً دو ہزار سال ہو گئے ہیں اور تم لکھ رہے ہو کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور لکھ بھی ایسی کتاب میں رہے ہو جو اصلاح و تجدید کے لئے لکھی جا رہی ہے۔ مرزا صاحب کیا تمہاری مَت ماری ہے۔ تمہیں نہیں پتہ کہ عیسی علیہ السلام کو زندہ ماننا شرک ہے۔

احمدی دوستو! مرزا صاحب نے براہین احمدیہ جلد 1 میں لکھا ہے کہ:”ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براھین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا چونکہ یہ مخالفین پر فتح عظیم“ہے۔(براہین احمدیہ جلد 1 صفحہ62، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 62)

احمدی دوستو! صدہا فتور اور فساد میں سے سب سے بڑا فتور اور فساد تمھارے نزدیک حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر ماننا پر ماننا اور انکا دوبارہ دنیا میں آنا ہے۔ صدہا فتور اور فساد کی اصلاح تو مرزا صاحب سے کیا ہو گی، حیات مسیح علیہ السلام کو براہین احمدیہ میں مرزا صاحب نے تسلیم کرکے اپنے پاؤں کاٹ دیئے۔ مرزا صاحب کا یہ کہنا کی مخالفوں پر فتح عظیم ہے، یہ مرزا صاحب کی خوش فہمی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ مخالفوں کی فتح عظیم ہے نہ کہ مرزا صاحب کی مسیح و موعودیت اور مہدی معودیت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کہ واسطے تیز سے تیز تر کلہاڑا ہے۔

احمدی دوستو! مرزا صاحب طالب علمی کے زمانے کے بارے میں لکھتے ہیں:” اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے۔“( کتاب البریہ صفحہ 181، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 181)

مرزا صاحب کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھا ہے کہ” والد صاحب کا دستور تھا کہ سارا دن الگ بیٹھے پڑھتے رہتے تھے اور ان کے ارد گرد کتابوں کا ڈھیر لگا ہوتا تھا۔“(سیرۃ المہدی جلد اول صفحہ 218 از مرزا بشیر احمد)

مرزا صاحب فرماتے ہیں:” مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبّر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا اور بسا اوقات حضرت والد صاحب کو وہ کتابیں سنایا بھی کرتا تھا۔“(کتاب البریہ صفحہ 187، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 187)

مرزا صاحب 1884ء میں براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بعد نماز مغرب میرے پاس تشریف لائے۔ حضرت فاطمہ،حسن، حسین رضی اللہ عنہم بھی تھے اور رسول ﷺ بھی تھے۔”پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی۔ جس کی نسبت بتلایا گیا یہ تفسیر قرآن ہے جس کو علی رضی اللہ عنہ نے تالیف کیا ہے اور اب علی علی رضی اللہ عنہ وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے۔“(براہین احمدیہ صفحہ504، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 599)

احمدی دوستو! مرزا صاحب نے براہین احمدیہ مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593،601 پر لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام

زندہ ہیں اور دوبارہ تشریف لائیں گےجیسا میں پہلے بیان کر آیا ہوں۔ براہین مرزا صاحب نے 1884ء میں لکھی ہے۔ یہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ براہین میں حیات عیسی علیہ السلام کا مسئلہ لکھنے کے بعد مرزا صاحب 12 سال تک اسی عقیدہ پر جمے رہے۔ 12 سال بعد عقیدہ بدلا اور ازالہ اوہام دوم کے صفحہ 595، مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 423 پر لکھا ہے کہ قرآن شریف کی 30 آیتوں سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔(ازالہ اوہام صفحہ 598، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 423 از مرزا صاحب)

کیوں صاحب؟ مرزا صاحب مرزا صاحب اس قدر کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے کہ گویا دنیا میں نہیں تھے۔ خاص کر تدبر قرآن شریف اور تفسیروں کا اور احادیث شریف کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ کسی حدیث شریف یا قرآن شریف کی ایک آیت میں بھی یہ نہ تھا کہ عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں کہ مرزا صاحب نے براہین میں لکھا کہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں، دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اب 12 سال بعد 30 آیات سے ثابت کر رہے ہیں کہ عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں کیا یہ 30 آیات اس وقت نظر نہیں آئی تھیں۔ کیا تفسیرِ علی (رضی اللہ تعالی عنہ) جو مرزا صاحب کو براہین لکھنے سے 10 سال پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اللہ نے دی تھی، اس میں بھی یہ نہ لکھا تھا کہ عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ احمدی دوستو!! مرزا صاحب نے براہین احمدیہ اور تذکرہ میں لکھا ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف سے 20 برس پہلے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت ہوئی تو اس وقت میرے دائیں ہاتھ میں میری تالیف کردہ کتاب تھی۔ آپ نے دریافت فرمایا تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ عرض کیا یہ میری لکھی ہوئی کتاب ہے۔ فرمایا اس کا کیا نام ہے؟َ میں نے کہا قطبی یعنی قطب کے ستارے کی طرح مستحکم غیر متزلزل۔ آپ نے فرمایا مجھے دیں۔ میں نے آپ کو دیدی۔ فرمایا اس کے زریعہ اسلام زندہ ہو گا۔(براہین احمدیہ صفحہ 249، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 274،275 حاشیہ، تذکرہ طبع دوم صفحہ3،4 طبع سوم صفحہ 2 طبع چہارم صفحہ 1 تا 2 از مرزا صاحب)

احمدی دوستو! بقول مرزا صاحب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کتاب کے زریعہ اسلام جو مردہ ہو چکا ہے، زندہ ہو گا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا ہوتا تو یہ بھی فرمایا ہوتا کہ مرزا جو تم نے اس کتاب میں جو گند مارا ہے اسے درست کر کہ عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے اور ان کے ہاتھوں سے دین اسلام پوری دنیا میں پھیل جائے گا اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ عیسی علیہ السلام کے ذریعہ ظہور میں ائے گا۔ مرزا کیا تم کو اتنا علم نہیں کہ عیسی علیہ السلام کو مرے تو تقریباً دو ہزار سال ہو گئے ہیں اور تم نے لکھا ہے کہ وہ زندہ ہیں دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ مرزا یہ غلبہ دین تو تمھاری اس کتاب کے ذریعہ سے ہو گا نہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں سے۔ لہٰذا اس غلطی کو درست کرو۔

احمدی دوستو! قطب ستارے کی طرھ مستحکم غیر متزلزل(براہین احمدیہ) میں وہ زلزلہ آیا کہ وفات مسیح کی عمارت ایسے منہدم ہوئی کہ قیامت تک قائم نہیں ہو سکتی۔

احمدی دوستو! مرزا صاحب نے اپنی کتاب ازالہ اوہام صفحہ 323 تا 338 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 423 سے 438 میں لکھا ہے کہ 30 آیتیں قرآن شریف میں ہیں اور وہ تمام آیات بھی لکھی ہیں کہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ ایک آیت ہے شراب حرام ہے، سب مفسرین نے لکھا شراب حرام ہے۔ ایک آیت ہے چور کے ہاتھ کاٹو، سب مفسرین نے لکھا چور کے ہاتھ کاٹو۔ ایک آیت ہے زانی مرد ہو یا عورت اس کو سنگسار کر دو، سب مفسرین نے لکھا ہے زانی مرد ہو یا عورت اسے سنگسار کیا جائے۔ تعجب ہے تیس قرآنی آیتیں ہیں کہ عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں اور کسی مفسر نے یہ نہیں لکھا کہ عیسی علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ منہ مانگا انعام دوں گا اگر آپ مرزا صاحب سے پہلے 1 صدیوں کے کسی مفسر، مجدد کی چھوٹی بڑی ترجمہ و تفسیر سے یہ دکھا دیں کہ اس نے لکھا ہو کہ اس آیت سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔

احمدی دوستو! مرزا صاحب نے محمدی بیگم کے ساتھ شادی کی پیشگوئی کی تھی۔ اس پر میرا ایک رسالہ آسمانی دلہن کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس میں اس پیشگوئی کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔ آپ اس کا مطالعہ کریں میں یہاں صرف ایک حوالہ پیش کرتا ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے۔

عن عبد الله بن عمرو قا ل قا ل رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عيسى بن مريم إلى الأرض فيتزوج ويولد له ويمكث خمسا وأربعين سنة ثم يموت فيدفن معي في قبري فأقوم أنا وعيسى بن مريم في قبر واحد بين أبي بكر وعمر . رواه ابن الجوزي في كتاب الوفاء .

حضرت عبداللہ ابن عمرو کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ۔ " حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم زمین پر اتریں گے تو وہ نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی دنیا میں ان کی مدت قیام پینتالیس برس ہوگی پھر ان کی وفات ہو جائے گی اور وہ میری قبر یعنی میرے مقبرہ میں میرے پاس دفن کئے جائیں گے ( چنانچہ قیامت کے دن ) میں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں ایک مقبرہ سے ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے درمیان اٹھیں گے اس روایت کو ابن جوزی نے کتب الوفا میں نقل کیا ہے ۔(مشکوۃشریف صفحہ نمبر 491باب نزول عیسی علیہ السلام)

حدیث مذکورہ بالہ سے صاف واضح ہے کہ عیسی ابن مریم علیہ السلام زمین پر اتر کر نکاح کریں گے چونکہ مرزا صاحب مسیحیت سے پہلے نکاح کر چکے تھے اور اس سے اولاد بھی تھی۔ اس لئے مرزا صاحب نے حدیث ہذا کا یہ مطلب ظاہر کیا کہ اس نکاح سے جو مسیح موعود کی علامت ہے محمدی بیگم کا میرے ساتھ نکاح ہونا ہے۔

چنانچہ مرزا صاحب کے الفاظ ہیں:” اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ۔ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مرا وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“( انجام آتھم روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 337 از مرزا صاحب)

احمدی دوستو! ساری باتیں چھوڑو، مرزا صاحب کی شادی محمدی بیگم کے ساتھ نہ ہونے سے ثابت ہو گیا کہ عیسی ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں اور مرزا صاحب کا دعوی جھوٹا ہے۔ آپ حدیث شریف کے الفاظ پر غور فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عیسی علیہ السلام ہی کی شادی کا ذکر کیا کیونکہ جب عیسی علیہ السلام آسمان پر اٹھاے گئے تھے اس وقت آپ کنوارے تھے اور ابھی اپ کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ اس واسطے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عیسی علیہ السلام شادی کریں گے اور ان کے بچے بھی ہوں گے اور یہ مرزا صاحب بھی مانتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کی بیوی نہ تھی۔ ان کی شادی نہیں ہوئی تھی اور وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ وہ نامرد ہیجڑا تھے(بحر حال کنوارے دنیا سے رخصت ہوئے) تفصیل کے لیے دیکھو۔(نور القرآن صفحہ 73، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 448،449 از مرزا صاحب)

احمدی دوستو! کتاب ”عسل مصفی“ تالیف ابو العطا مرزا خدا بخش قادیانی احمدی یکے از کمترین خادمان مسیح موعود بماہ اپریل 1903ء مطابق غرہ ذی الحجہ 1318ھ میں لکھی گئی تھی۔ اس میں مجددین کی ایک فہرست دی ہے اس کا مطالعہ فرمائیں۔”اس باب میں کہ کون کون مجدد ہوئے ہیں ہم اوپر دکھلا چکے ہیں کہ ہر صدی کے سرے پر مجددوں کا آنا ضروری ہے کیونکہ ہر سو 100 سال کے بعد زمانہ کی حالت پلٹا کھاتی ہے اور دین اسلام میں ضعف آتا ہے۔ لہٰذا از بس ضروری ہے کہ اس ضعف اور کمزوری کے دور کرنے کے لئے کوئی شخص خدا تعالی کی طرف سے خاص تائید پا کر دنیا میں کھڑا ہو اور جس قدر اہل اسلام میں فتور برپا ہو گیا ہو اس کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ اور دین مردہ کو ازسر نو زندہ کرکے اس کو اپنی اصلی ہیئت میں دکھلا دے۔ چنانچہ اس غرض کے پورا کرنے کے لئے 13 صدیوں میں جس قدر مجدد اصحاب تسلیم کئے گئے ہیں ، جن میں سے بعض نے اپنی زبان سے دعویٰ مجددیت کا ہے اور بعض نے نہیں کیا صرف لوگوں نے ان کو اپنے اعتقاد اور علم سے مجدد تسلیم کر لیا ہے۔ ہم ان کی صدی وار نام لکھ دیتے ہیں۔ تاکہ جو لوگ ان کے اسمائے مبارک سے ناواقف اور نا آشنا ہیں اچھی طرح واقف ہو جائیں۔

پہلی صدی میں اصحاب ذیل مجدد تسلیم کئے گئے ہیں

(۱) عمر بن عبدالعزیز (۲) سالم (۳) قاسم (۴) مکحول

علاوہ ان کے اور بھی اس صدی کے مجدد مانے گئے ہیں۔۔۔۔۔

دوسری صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) امام محمد ادریس ابو عبداﷲ شافعی (۲) احمد بن محمد بن حنبل شیبانی (۳) یحیٰ بن عون غطفانی (۴) اشہب بن عبدالعزیز بن داؤد قیس (۵) ابو عمرو مالکی مصری (۶) خلیفہ مامون رشید بن ہارون (۷) قاضی حسن بن زیاد حنفی (۸) جنیدبن محمد بغدادی صوفی (۹) سہل بن ابی سہل بن ریحلہ الشافعی (۱۰) بقول امام شعرانی حارث بن اسعد محاسبی ابو عبداﷲ صوفی

تیسری صدی کے مجددین

(۱) قاضی احمد بن شریح بغدادی شافعی (۲) ابو الحسن اشعری متکلم شافعی (۳) ابو جعفر طحاوی ازدی حنفی (۴) احمد بن شعیب(۵) ابو عبدالرحمن نسائی (۶)خلیفہ مقتدر باﷲ عباسی (۷) حضرت شبلی صوفی(۸) عبیداﷲ بن حسین (۹) ابو الحسن کرخی وصوفی حنفی (۱۰) امام بقی بن مخلد قرطبی مجدد اندلس اہل حدیث ۔

چوتھی صدی کے مجددین

(۱) اما م ابوبکر باقلانی (۲) خلیفہ قادر باﷲ عباسی (۳) ابوحامداسفرانی (۴) حافظ ابو نعیم (۵) ابو بکر خوارزمی حنفی (۶) بقول شاہ ولی اﷲ ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ المعروف بالحاکم نیشاپوری (۷) اما م بیہقی (۸) حضرت ابو طالب ولی اﷲ صاحب قوت القلوب جوطبقہ صوفیاء سے ہیں (۹) حافظ احمد بن علی بن ثابت خطیب بغداد (۱۰) ابو اسحاق شیرازی (۱۱) ابراہیم بن علی بن یوسف فقیہ المحدث۔

پانچویں صدی کے مجدد اصحاب

(۱) محمد بن محمد ابو حامد امام غزالی (۲) بقول عینی و کرمانی حضرت راعونی حنفی (۳) خلیفہ مستظہر بالدین مقتدی باﷲ عباسی (۴) عبداﷲ محمد بن محمد انصاری ابو اسماعیل ہروی (۵) ابو طاہر سلفی (۶) محمدبن احمد ابوبکر شمس الدین سرخسی فقیہ حنفی۔

چھٹی صدی کے مجددین

(۱) محمد بن عبداﷲ فخرالدین رازی (۲) علی بن محمد (۳) عزالدین بن کثیر (۴) امام رافعی شافعی صاحب زبدہ شرح شفا(۵) یحیٰ بن حبش بن میرک حضرت شہاب الدین سہروردی شہید امام طریقت (۶) یحیٰ بن اشرف بن حسن محی الدین لوذی (۷) حافظ عبدالرحمن ابن جوزی۔

ساتویں صدی کے مجدد اصحاب

(۱) احمد بن عبدالحلیم نقی الدین ابن تیمیہ حنبلی (۲) تقی الدین ابن دقیق العید (۳) شاہ شرف الدین مخدوم بہائی سندی (۴) حضرت معین الدین چشتی (۵) حافظ ابن القیم جوزی شمس الدین محمد بن ابی بکر بن ایوب بن سعد بن القیم الجوزی ورعی دمشقی حنبلی (۶) عبداﷲ بن اسعد بن علی بن سلیمان بن خلاج ابو محمد عفیف الدین یافعی شافعی (۷) قاضی بدرالدین محمد بن عبداﷲ الشبلی حنفی دمشقی۔

آٹھویں صدی کے مجددین

(۱) حافظ علی بن حجر عسقلانی شافعی (۲) حافظ زین الدین عراقی شافعی (۳) صالح بن عمر بن ارسلان قاضی بلقینی (۴) علامہ ناصر الدین شازلی بن سنت میلی۔

نویں صدی کے مجدد اصحاب

(۱) عبدالرحمن کمال الدین شافعی معروف بہ امام جلال الدین سیوطی (۲) محمد بن عبدالرحمن سخاوی شافعی (۳) سید محمد جونپوری مہدی اور بقول بعض دسویں صدی کے مجدد ہیں ۔

دسویں صدی کے مجدد اصحاب یہ ہیں

(۱) ملا علی قاری (۲) محمد طاہر فتنی گجراتی ، محی الدین محی السنہ (۳) حضرت علی بن حسام الدین معروف بہ علی متقی ہندی مکی

گیارہویں صدی کے مجددین

(۱) عالم گیر بادشاہ غازی اورنگ زیب (۲) حضرت آدم بنوی صوفی (۳) شیخ احمد بن عبدالاحد بن زین العابدین فاروقی سرہندی معروف بامام ربانی مجدد الف ثانی

بارہویں صدی کے مجدد اصحاب ذیل ہیں

(۱) محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان نجدی (۲) مرز امظہر جان جاناں دہلوی (۳) سید عبدالقادر بن احمد بن عبدالقادر حسنی کوکیانی (۴) حضرت احمد شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی (۵) اما م شوکانی (۶) علامہ سیدمحمد بن اسما عیل امیر یمن (۷) محمد حیات بن ملازیہ سندھی مدنی۔

تیرھویں صدی کے مجددین

(۱) سید احمد بریلوی (۲) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (۳) مولوی محمد اسماعیل شہید دہلوی (۴) بعض کے نزدیک شاہ رفیع الدین صاحب بھی مجدد ہیں (۵) بعض نے شاہ عبدالقادر کو مجدد تسلیم کیا ہے ، ہم اس کا انکا ر نہیں کرسکتے کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں اطلاع نہ ملی ہو۔ وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد جو جامع و جمیع صفات انسان تھے، کوئی کامل انسان نہیں ہو سکتا تھا کہ شریعت اسلامی کے تمام محکمہ جات کی خدمات کو سر انجام دے سکتا۔ اس لئے ضروری بلکہ اشد ضروری تھا کہ شریعت حقہ اسلام کے ہر پہلو اور ہر محکمہ کے ضعف اور کمزوری کو دور کرنے کے لئے الگ الگ افراد اس خدمت پر مامور ہوتے اور مشاہدہ اور تجربہ گواہی دیتا ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے رہا۔ چنانچہ فہرست مجددین سے واضح ہوتا کہ کوئی مجدد فقہیہ ہے کوئی محدث، کوئی مفسر ہے، کوئی صوفی، کوئی متکلم ہے اور کوئی بادشاہ۔ الغرض جن کاموں کو ایک ذات جمیع صجات انسانی بہمہ حسن و خوبی سر انجام دیتی تھی اب مختلف زمانوں میں مختلف افراد مختلف پہلوؤں میں ان خدمات کو بجا لاتے رہے ہیں اور اس سے کوئی مسلمان انکار نہیں کر سکتا۔

جب یہ امر روز روشن کی طرح ظاہر ہو گیا کہ ہر صدی کے سر پر کسی مجدد کا آنا ضروری ہے تو اب کوئی وجہ نہیں کہ چودہویں صدی کے سر پر کوئی نہ آوے۔ مجدد کا آنا نہایت ضروری ہے۔ خاص کر ایسے پرقتن زمانہ میں جبکہ اسلام پر ہر پہلو اور ہر طرف سے مصائب کے پہاڑ کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔ اور اسلام ایسے نرغہ میں پھنس گیا ہو کہ جس سے جانبری نہایت مشکل ہو گئی ہو۔“(عسل مصفی 116-121از مرزا خدا بخش)

حمدی دوستو! عسل مصفی میں 83 مجددین کی فہرست دی گئی ہے اور ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ہم اس کا انکا ر نہیں کرسکتے کہ بعض ممالک میں بعض بزرگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجدد مانا گیا ہو اور ہمیں اطلاع نہ ملی ہو۔ احمدی دوستو یہ تو ظاہر ہے مجدد وہ ہو سکتا ہے جو اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ قرآن و حدیث کا علم رکھتا ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلی سے لے تیرہویں صدی تک تمھارے 83 مجدد ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چلا کہ عیسی علیہ السلام مر گئے ہیں۔ انہیں زندہ ماننا شرک ہے اور لوگوں کے واسطے سب سے بڑا فتنہ ہے اور پھر سب سے بڑا ظلم یہ کہ خود مرزا صاھب بھی 57 سال 4 ماہ 25 دن تک اس شرک میں مبتلا رہے اور یہی کہتے رہے کہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔

احمدی دوستو! مرزا صاحب نے ضمیمہ حقیقۃ الوحی الاستفتاء روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 660 پر سب سے بڑا فتنہ حیات مسیح علیہ السلام کو قرار دیا ہے بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ ماننا شرک عظیم کہا ہے۔ 13 صدیوں کہ کسی مجدد نے حیات مسیح علیہ السلام کے عقیدہ کی اصلاح کیوں نہیں کی۔ اس کئے 13 صدیوں کے سب مجدد حیات مسیح علیہ السلام کے عقیدہ کے قاہل تھے۔ کسی نے ہرگز نہیں کہا کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں بلکہ سب نے کہا عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اور انکا نزول ہو گا۔ اگر کسی نے کہا ہے کہ عیسی علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں تو حوالہ دو۔

آپ زرا سوچیں یہ ساری باتیں یہ نہیں بتاتی کہ یہ سارے کا سارا دجل ہے، فریب ہے، ہیرا پھیری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرزا صاحب پہلے ہی دن کہہ دیتے عیسی علیہ السلام تقریباً دو ہزار سال پہلے فوت ہو چکے بجائے اس کے ان کو اتنا عرصہ زندہ مانتے رہے اور اپنی کتابوں میں بھی لکھتے رہے۔ اللہ تعالی بھی نعوذباللہ خاموش رہے، کیا اللہ تعالی سے بھی نعوذباللہ غلطی ہو گئی تھی۔ اللہ تعالی نے کیوں نہ بتایا کہ غلام احمد کیا لکھ رہے ہو؟ مرزا صاحب کو الہام ہوتے رہے کہ عیسی علیہ السلام زندہ ہیں، آسمانوں سے اتریں گے اور کوئی بتانے والا نہ تجا کہ یہ الہام غلط ہے۔ روح القدس جبرائیل علیہ السلام بھی خاموش رہے۔ کثرت سے تفاسیر کا مطالعہ اور بالخصوص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تفسیر میں بھی یہ مسئلہ نہ ملا۔ تیرہ صدیوں کے مجددین میں سے کسی ایک کو بھی معلوم نہ ہوا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور وہ سب ان کو ذندہ مانتے رہے اور حیات و نزول مسیح علیہ السلام کے متعلق لکھتے رہے۔ جب ملہم من اللہ ہو کر لکھئ گئی کتاب براہین احمدیہ (قطبی) حضرت محمد عربی ﷺ کی بارگاہ میں پیش کی گئی تو آپ ﷺ بھی خاموش رہے۔ پھر عمر کے آخری حصہ میں تواتر سے ہونے والے الہامات نے مرزا صاحب پر یہ کھول دیا کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور مرزا صاحب خود مسیح موعود ہے۔ مگر یہ الہامات نہ تو حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر کے متعلق بتا سکے اور نہ ان کی قبر کے متعلق بتا سکے۔

احمدی دوستو! آدمی آلو خریدتا ہے تو اسے اچھی طرح دیکھتا ہے کہ کہیں یہ خراب یا کانا تو نہیں۔ کیا یہ انصاف کی بات ہے کہ جہاں ایمان کے سودے ہوں وہاں آنکھیں بند کرکے کسی کی ہر بات قبول کر لے۔ یہ تو جنت اور جہنم کا سوال ہے۔ اس قدر غفلت سے کام نہ لیں بلکہ سوچیں، سمجھیں اور اپنا عقیدہ وہی بنائیں جو تمام امت کا متفقہ طور پر چلا آ رہا ہے۔


شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میری بات

سلمان تاثیر اپنے غرور میں مارا گیا !

سلمان تاثیر اپنے غرور میں مارا گیا ! مصنف : گھمنام 

میں یہ بحث نہیں کرتا کہ سلمان تاثیر نے کتنی گستاخی کی، میں یہ بھی بحث نہیں کرتا کہ  اس کی سٹیٹمنٹ  گستاخی کے زمرے میں ہے یا نہیں. اس پہلے میں اس معاملے پر آگے لکھوں میرے کچھ سوالات ہیں ! 
پاکستان میں جب بھی کسی مسیح یا ہندو کو پاگل پن کا دورہ پڑھتا ہے تو وہ نبی صلی الله علیہ وسلم اور قرآن ک کی گستاخی کرنے کا کیوں مرتکب ہوتا ہے ؟
وہ پاگل مسیح یا ہندو اپنی کتابوں بائبل، بگوان گیتا کی گستاخی کیوں نہیں کرتا ؟  سڑکوں میں ننگا کیوں نہیں گھومتا . اس کے اپنے گھر والے اس سے محفوظ کیوں رہتے ہیں؟ 
جب بھی گستاخی کا کوئی کیس کسی تھانہ میں اندراج ہوتا تو این جی فورا اس کی بے گناہی کا راگ الاپنا کیوں شروع کر دیتی ہیں ؟
کیس کی انویسٹیگیشن شروع نہیں ہوتی تو کم عمری اور پاگل پن کے سرٹیفکیٹ سے بیک چینل کیوں ملک سے باہر بھگا دیا جاتا ہے ؟
پاکستان کے آئین کی شق نمبر :295 ،شق نمبر 295-A ، شق نمبر 295-B ، شق نمبر 295-C میں ایسی کون سی ترمیم  اس قانون کے خلاف بولنے والے چاہتے ہیں ؟
اب بات کرتے ہیں سلمان تاثیر پر ، یہ بات کسی سے ڈھکی چپھی نہیں ہے کہ سلمان تاثیر گورنر کے عہدے پر  ہر بات بڑی بے باکی ، گھمنڈی انداز میں کرتے تھے ،آئے دن گورنرپنجاب کا شریف برادارن سے سیاستی ٹاکڑا ہوتا رہتا تھا جس کی وجہ سے ان کی سیاسی سطح پر  واہ واہ بھی تھی اور شدید اختلاف رکھنے والے بھی .سیاستی گھرم جوشی اپنی جگہ لیکن جب بات آئی پاکستان کے مسلمانوں کے نمائندے ہونے کی تب ان کا انداز بیان میں شائستگی نہ آئی.بلکہ وہی دھمکی آمیز رویہ اپنایا،  پاکستان کی عوام تمام سیاست دانوں کی ہر قسم کی ناانصافیاں  برسوں سے برداشت کرتے آ رہے ہیں، اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ دینی لحاظ سے بھی ان حکمرانوں  کی ہر بکواس کو سر آنکھوں پر رکھیں گے. اگر سلمان تاثیرکو شق نمبر 295-C میں کوئی کالا قانون نظر آ رہا تھا تو اس کے متعلق اسمبلی میں قرارداد  پیش کیوں نہ کی ؟  
ممتاز قادری سلمان تاثیر کا گارڈ تھا. اور گارڈ قریب قریب ہوتے ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ سلمان تاثیر کو اس کے غرور نے مروایا ہے ، جب معاملہ دین کا ہو اور مسلمانوں کے آپ نمائندے طور پر ایسے  اونچےمنسب پر فائز ہو تو لفظوں کا استعمال اور زبان سنبھال کر عوام سے مخاطب ہونا چاہیے، رہی بات قانون کی تبدیلی کی تو اس کو ٹویٹر یا سوشل میڈیا پر نہیں  بلکہ ڈرافٹ کر پیش کیا جاتا ہے نہ کہ  بکواس کرکے .جب قانون کا حقیقی معنی میں اطلاق ہو تو کسی کو کوئی شوق نہیں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے.  ۔ یہاں پاکستان میں کیس چلتے نہیں  اور این جی او پہلے محترک ہو جاتی ہیں،جب قانون کو  رکھیل کی طرح استعمال کیا جا رہا ہو تو پھر اس کی  انفرادی اور اجتماعی حیثیت باقی نہیں رہتی ؟انہی وجوہات پر ممتاز قادری بننے میں کسی کو دیر نہیں لگتی. 
یہ بات تو میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ایک عام مسلمان چاہے وہ باعمل مسلمان نہ بھی ہو ، پانچ وقت نمازی نہ بھی ہو، قرآن و سنّت کی تعلیم سے واقف نہ بھی ہو ، لیکن نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے اس کا عشق اور محبّت لازوال ہو گی ، لیکن میں شرمندگی سے بتاتا چلوں ، ہمارے مسلمان حکمران ، ولی عہد ، شہزادے ، وزیر، وزیر مملکت ، آرمی ، سپاہ سالار ، آرمی چیف. سب کے سب اپنی غیرت کو مادیت،غلامی ،خوف، پاپندیوں ، عیش و عشرت ،دنیا پرستی ،ڈالر کی چمک ، میں دفن کر چکے ہوتے ہیں اور اُن کی محبت رسمی ہوگی اور بس ۔ 
اور وہ مسلمان جو اس قانون کی شق پڑھے بنا کالا قانون که رہے ان کے لئے میں یہ شق لکھ دیتا ، اور سوال کرتا اس میں کالا قانون ہے ؟
تعزیرات پاکستان میں ایک آئینی شق 295 سی (295-c)کو قانون توہین رسالت کہا جاتا ہے۔اس کے تحت "پیغمبر اسلام کے خلاف تضحیک آمیز جملے استعمال کرنا، خواہ الفاظ میں، خواہ بول کر، خواہ تحریری، خواہ ظاہری شباہت/پیشکش،یا انکے بارے میں غیر ایماندارنہ براہ راست یا بالواسطہ سٹیٹمنٹ دینا جس سے انکے بارے میں بُرا، خود غرض یا سخت تاثر پیدا ہو، یا انکو نقصان دینے والا تاثر ہو، یا انکے مقدس نام کے بارے میں شکوک و شبہات و تضحیک پیدا کرنا ، ان سب کی سزا عمر قید یا موت اور ساتھ میں جرمانہ بھی ہوگا۔
جو حکمران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کے لئے کھڑا نہیں ہو سکتا ، وہ ہمارا حاکم نہیں بن سکتا. آج ہم سیاست پرستی، شخصیت پرستی ، پارٹی پرستی کا شکار ہیں لیکن اسلام پرست نہیں . آج ہمارا ایک بھی حکمران اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہو کر یہ نہیں که سکتا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو ٹھیس پہنچائے گا وہ ہمارا کھلا دشمن ہے. لیکن جب کوئی جوشیلا نوجوان جوش میں خود سے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کو آج موجودہ ٹرم ٹیررازم ، انتہاپسندی ، مذہبی  جنونی، بنیاد پرست کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہیں . 

Pages