نوک جوک

حضور والا! صحافی بھیجیے

انگریزی اخبار نے خبر اڑائی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت چین میں بوجھ ڈھونے والے چوپائے بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک تو چین میں مذکورہ چوپائے کی مانگ بہت ہے، کہ اس کا گوشت لاہوریوں کے ساتھ ساتھ چینیوں کو بھی مرغوب ہے۔ دوسرا اس کی کھال دواؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔ خواتین آرائش حسن کا جو سامان استعمال کرتی ہیں، اس میں بھی شوہروں کی کمائی کے ساتھ ساتھ متذکرہ چوپائے کی کھال استعمال کی جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت اس منصوبے سے بہت سا زر مبادلہ کمانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ چوپائے کی افزائش نسل کے لیے تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ تاہم عاجز کی رائے میں برآمد کرنے ہی ہیں تو صحافی کیے جائیں۔ ان کی افزائش نسل کی بھی ضرورت نہیں، پہلے ہی گنجائش سے بڑھ کر ہیں۔
صحافیوں کو بھی چونکہ فقط مشقت ہی کرنا ہوتی ہے، لہذا فہم و فراست سے فاصلہ رکھتے ہیں، حکم حاکم پر سر جھکائے بھاگتے رہتے ہیں، تھک جائیں تو ایک چابک پڑتے ہی پھر سرپٹ دوڑنے لگتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے۔ چین میں صحافیوں کی منڈی لگی ہو گی۔ خریداروں کا اژدھام ہو گا۔ ہر صحافی کے کان میں اس کا پرائس ٹیگ اور گلے میں پریس کارڈ لٹکا ہو گا۔ ارے یہ جھکی جھکی کمر والے صحافی کون ہیں؟ یہ نیوز روم کے کلرک ہیں۔ ایک کام کی زیادتی، دوسرا نامناسب دفتری فرنیچر۔۔۔ اس لیے ڈب کھڑبے ہو گئے ہیں، کمر اور گردن نوے درجے کا زاویہ بنانے لگے ہیں۔ یہ کھردری جلد والے صحافی کون ہیں؟ یہ رپورٹر ہیں، پریس ریلیز سے خبر بنانے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار فیلڈ رپورٹنگ بھی کر دیتے ہیں۔ اس لیے دھوپ میں سانولے اور کھردرے ہو گئے ہیں۔ یہ خوشبو دار اور ملائم صحافی کون ہیں؟ یہ اینکر ہیں۔ نہ بھئی، ایک تو یہ بہت زیادہ بول رہے ہیں، دوسرا بہت اونچا بول رہے ہیں، میں تو کبھی نہ خریدوں۔ یہ صحافی مجھے دیکھ دیکھ مسکرائے کیوں جا رہے ہیں؟ یہ کیمرہ مین ہیں، آپ فوٹو جینک ہیں نا، تو یہ من کی آنکھ سے آپ کی تصویر بنا رہے ہیں۔ یہ صحافی مجھے دیکھ کر قلم کیوں چلانے لگے ہیں؟ دراصل یہ کالم نگار ہیں، آپ کی تعریف میں کالم لکھ رہے ہیں۔ میری تعریف سے انہیں کیا ملے گا؟ لفافہ۔ اگر میں لفافہ نہ دوں تو؟ اگلا کالم آپ کی برائی میں ہو گا۔ ان صحافیوں نے ہاتھوں میں قینچیاں کیوں پکڑ رکھی ہیں؟ کیوں کہ یہ ایڈیٹر ہیں۔ لیکن یہ قینچیاں تو کند ہیں؟ آج کل استعمال نہیں ہوتیں نا، پہلے پہل خبر کو ایڈٹ کیا جاتا تھا، آج کل جیسی موصول ہو اگلے لمحے ویسی ہی نشر کر دی جاتی ہے۔
لہذا عاجز کی خیبر پختونخوا حکومت سے درخواست ہے، اپنے منصوبے میں ترمیم کرے۔ چین بھیجنے کے لیے بوجھ ڈھونے والے چوپائے کی بجائے صحافی ہر لحاظ سے بہتر رہیں گے۔
بے شک سال کے سال ان کی تنخواہ نہ بڑھائیے، بھلے مہینے کی پہلی کو ان کی مزدوری ادا نہ کیجیے، بلکہ کئی کئی مہینے نہ دیجیے، بیگار لیجیے، یہ سر جھکا کر کام کرتے چلے جائیں گے۔ افسران اور حالات کی مار سہتے سہتے ان کی کھال بھی سخت ہو چکی ہوتی ہے، وہ بھی کار آمد رہے گی۔
یہاں پہنچ کر عاجز کی رائے میں تعصب آیا چاہتا ہے (یا شاید عاجز کو ذاتی مفاد عزیز ہے)۔ چین کے لیے چھانٹی کرتے ہوئے نیوز روم میں کام کرنے والے صحافیوں کو ترجیح دی جائے۔ وقت پر آئیں گے، وقت ختم ہونے کے بعد بھی کام کرتے رہیں گے۔ اور دفتری اوقات کار میں پریس کلب کے بجائے دفتر میں ہی پائے جائیں گے۔ دوسروں کا کیا کرایا اپنی جان پر بھگتیں گے اور چوں تک نہ کریں گے۔
آخر میں رہ گئی بات دولتیاں مارنے کی، تو یہاں عاجز خاموش رہنا پسند کرے گا، کیوں کہ دولتیاں مارنے کا کام ارادتاً نہیں، عادتاً کیا جاتا ہے۔


Filed under: پروڈیوسر کی ڈائری, خواہ مخواہ, شوخیاں Tagged: Humour, Journalism, Pakistan Media

وہ لڑکی پاگل سی، آخری حصہ

پہلا حصہ
دوسرا حصہ
تیسرا حصہ
اب لاپتہ لڑکی کے گھر والوں کا فون آ گیا۔ کہنے لگے ہماری ن سے بات کرائیں۔ ہم نے کہا یہ تو اپنا نام س بتاتی ہیں۔ وہ کہیں آپ بات تو کرائیں۔ س نے بات کی اور انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وہ کہنے لگے، بچی ہماری ہی ہے، ناراضی میں پہچاننے سے انکار کر رہی ہے، ہم تو آپ کے گھر آنے کے لیے نکل پڑے ہیں۔
یہ صورتحال تو سلجھنے کے بجائے مزید الجھ گئی۔
اگر وہ اس کے گھر والے نہ ہوئے لیکن پھر بھی لے جانے پر اصرار کیا تو ہم کیسے تصدیق کریں گے؟ اگر انہوں نے لے جانے کے لیے زبردستی کی تو ہم کیسے نمٹیں گے۔ اگر وہ لوگ اسی لڑکی کے گھر والے ہوئے اور غصے میں آ کر اسے کوئی نقصان پہنچا دیا؟ یا لڑکی نے خوف یا پریشانی میں خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیا تو پھر کیا ہو گا؟
ایک ایک لمحہ پہاڑ بن کر گزرنے لگا۔ ہر سیکنڈ کوئی نیا خدشہ سر اٹھاتا اور ہم کانپ کانپ جاتے۔
خیر وہ صاحبان ٹیلی فون پر پتہ پوچھ ہمارے گھر آن پہنچے۔ دروازوے پر ان کا استقبال کیا تو بھلے سے لوگ معلوم ہوئے۔ انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھایا۔ لڑکی کا والد ہونے کے دعوے دار صاحب سے شناختی کارڈ طلب کیا۔ شناختی کارڈ پر درج نام وہی تھا جو بچی اپنے والد کا بتا چکی تھی، آبائی پتہ بھی وہی۔ اب ان سے دیگر تفصیلات پوچھیں۔ لڑکی کے چچا، ماموں اور بھائیوں کے نام۔ انہوں نے ہو بہو وہی بتائے جو س ہمیں بتا چکی تھی۔
تب ہم نے ڈرتے ڈرتے س کو بلایا۔ وہ آنے پر آمادہ نہ تھی، لیکن اسے یقین دلایا کہ تمہیں کچھ نہ ہونے دیں گے۔ جب ڈرائنگ روم میں آئی تو اس کے والد نے اٹھ کر سر پر رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ وہ سعادت مندی سے قریب آئی اور اپنا سر جھکا دیا، کسی غیریت کا اظہار نہ کیا۔ تب ہمیں اطمینان ہوا کہ انہی کی بیٹی ہے۔ انہوں نے فون کر کے اس کی والدہ سے بات کرائی۔ اس نے بات کر لی اور ہمیں یقین ہوا کہ لڑکی کو لانے والے اس کے اپنے ہی ہیں۔
سر سے ایک بوجھ اترا۔
معلوم ہوا کہ ایک ماہ قبل ہی اس کی شادی ہوئی، شوہر سے کسی بات پر تکرار ہوئی تو ناراض ہو کر گھر سے نکل کھڑی ہوئی۔ یہاں لاہور میں کسی کو جانتی تھی نہ یہ طے کیا تھا کہ آگے کیا ہو گا۔ ایسا نادان غصہ بھی کسی کو نہ آئے۔
خیر صاحب۔ معاملہ خیر خیریت سے اپنے انجام کو پہنچا۔ وہ راضی خوشی اپنے والد کے ساتھ چلی گئی اور ہم ایک بہت بڑی ذمہ داری سے سرخرو ہوئے۔ (ختم شد)

پہلا حصہ
دوسرا حصہ
تیسرا حصہ


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Suspense, Urdu

وہ لڑکی پاگل سی، حصہ سوئم

پہلا حصہ

دوسرا حصہ

گاڑی میں بیٹھ کر گھر کو روانہ ہوئے تو میں نے پوچھا، آپ کیا کرتی ہو؟ کہنے لگی پڑھتی ہوں۔ کس جماعت میں؟ بارہویں میں۔ کس جگہ؟ یہاں لاہور میں ہی۔ کس کالج میں؟ اقبال یونیورسٹی میں۔
ہیں! اول تو ملک میں اس نام کی کوئی یونیورسٹی نہیں۔ کیا وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کہنا چاہتی ہے؟
کہاں پر ہے یہ اقبال یونیورسٹی؟ مجھے معلوم نہیں میں تو صرف پرچے دینے آتی ہوں۔ لیکن جس جگہ سے اس کا تعلق ہے، وہاں کے لوگ تو پرچے دینے راولپنڈی جاتے ہیں؟ آپ کے مضامین کیا ہیں؟ ڈاکٹری۔
ہر بیان میں کھوٹ۔ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟
میں نے سخت لہجے میں پوچھ ہی لیا، کیا آپ گھر سے بھاگ کر آئی ہو؟
اس نے آہستہ سے جواب دیا نہیں۔
گھر میں کسی اور کا نمبر یاد ہے؟ جواب اس بات بھی نفی میں تھا۔
مزید سوالات سے معلوم ہوا کہ بڑے بھائی روزی کمانے سعودی عرب گئے ہیں۔ گھر میں ان کی والدہ اور چھوٹے بھائی ہوتے ہیں۔ گھر میں فون صرف اسی کے پاس تھا جو راستے میں کھو گیا۔ والد قصور میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں۔ اسے بس اپنے علاقے میں اپنے گھر کا راستہ معلوم ہے، باقی نہ اسے کسی کا نمبر معلوم ہے نہ ہی پتہ۔
میں نے یہ تجویز بھی دی کہ پولیس اسٹیشن جا کر یہ معاملہ رپورٹ کر دیا جائے۔ لیکن پولیس سے ہر شریف آدمی گھبراتا ہے، اس خیال کو بھی عملی جامہ نہ پہنایا۔
خیر صاحب۔ ان خاتون کو گھر لے آئے۔ یہاں انہوں نے برقع اتارا تو اندر سے ایک بچی برآمد ہوئی۔ عمر یہی کوئی پندرہ سولہ برس۔ اب ہم نے ان سے نام پوچھا۔ جواب ملا، س۔ والد، چچا، ماموں، بھائیوں وغیرہ کے نام دریافت کیے گئے۔ انٹرنیٹ پر وہاں کا نقشہ کھول کر ان کے گھر کا محل وقوع وغیرہ معلوم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فلاں مسجد کے قریب فلاں مارکیٹ ہے، اس مارکیٹ کے قریب ایک محلہ ہے۔ وہاں ان کا گھر ہے۔ ہمارے والد صاحب نے انٹر نیٹ پر ان کے علاقے کے کسی سرکاری دفتر کا نمبر تلاش کیا۔ وہاں کی میونسپلٹی کا نمبر ملا، فون کیا تو چوکیدار صاحب نے اٹھایا۔ مدعا بتایا تو انہوں نے مدد کا وعدہ کیا۔
غنیمت ہے کہ چھوٹے علاقوں میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ دس منٹ میں معلوم ہو گیا کہ فلاں صاحب کی صاحب زادی دوپہر سے لاپتہ ہیں۔ لیکن ان کا نام تو ن ہے۔ باقی تمام تفصیلات وہی۔ والد، چچا، ماموں، بھائیوں کے نام تک وہی، والد کی جائے سکونت بھی قصور۔ لیکن لاپتہ لڑکی کا نام ن، اور ہمارے پاس موجود لڑکی کا نام س۔
یا خدا یہ کیا معمہ ہے؟ (جاری ہے)

پہلا حصہ

دوسرا حصہ


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Story, Suspense, Urdu

وہ لڑکی پاگل سی، حصہ دوئم

پہلا حصہ
کہنے لگی، آپ آ رہے ہیں نا؟ اچھا۔ آپ نہیں آتے تو میں خود آ جاتی ہوں۔۔۔
اس نے بتایا تھا کہ والد قصور میں کوئی کاروبار کرتے ہیں۔ لیکن کہاں کرتے ہیں یہ نہیں معلوم۔ اور جب اس نے کہا میں خود آ جاتی ہوں تو مجھے مزید کھٹکا ہوا۔
فون بند کر کے کہنے لگی، ابو کو شور کی وجہ سے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی تھی، اس لیے ایسا کہہ دیا۔ وہ بس آنے ہی والے ہیں آپ بے شک چلے جائیں۔
میں اس کی طرف سے شک میں مبتلا ہو چکا تھا، اس لیے امی جان سے کہا آئیں گھر چلتے ہیں۔ لیکن وہ تنہا لڑکی کو یوں چھوڑ جانے پر آمادہ نہ تھیں۔ دوبارہ اسی نمبر پر فون ملایا، اب امی جان نے بات کی تو فون پر موجود شخص نے پھر یہی کہا کہ وہ تو اس لڑکی کو جانتا تک نہیں۔
معاملہ میں واضح طور پر کوئی گڑ بڑ تھی، لیکن میری سادہ والدہ کہنے لگیں، شاید یہ اپنے ابو کا نمبر بھی بھول گئی ہے، ہم اسے اپنے گھر لے چلتے ہیں۔ جب اسے نمبر یاد آئے گا تو رابطہ کر لے گی۔
ارے کیسے اسے گھر لے جائیں؟ شاید وہ لڑکی گھر سے بھاگ کر آئی تھی۔ شاید جس شخص کے کہنے پر وہ گھر سے بھاگی ہے اب وہ اسے اپنانے سے انکاری ہے۔ شاید یہ کوئی جرم کر کے فرار ہوئی ہو۔ آج کل تو دہشت گرد بھی خواتین کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اسے کسی سہولت کار نے وصول کرنا ہو لیکن ہمیں دیکھ کر سامنے نہ آ رہا ہو۔
دس قسم کے خدشے میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔
آخر کو میں نے تجویز دی کہ اسے واپسی کی بس پر بٹھا دیتے ہیں۔ یوں ہم پر کوئی ذمہ داری بھی نہ رہے گی۔ اب مسئلہ یہ ہوا کہ رات کے اس پہر لڑکی کے علاقے کو کوئی بس نہ جاتی تھی۔ لاری اڈے سے معلوم کیا، ایک بس نے رات ایک بجے روانہ ہونا تھا، جو صبح چھ بجے کے قریب منزل پر پہنچتی ۔ امی جان نے فیصلہ کیا کہ یہ لڑکی ہمارے ساتھ گھر چلے گی اور رات ایک بجے ہم اسے بس پر سوار کرا دیں گے۔
میں اس پریشانی میں مبتلا کہ اگر تو یہ لڑکی گھر سے بھاگی ہے، یا کسی واردات میں ملوث ہے تو اسے گھر لے جانے سے ہم کسی پریشانی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
گاڑی میں بیٹھ کر گھر کو روانہ ہوئے تو میں نے پوچھا۔۔۔

(جاری ہے)

پہلا حصہ


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Story, Suspense, Urdu

وہ لڑکی پاگل سی

لاہور کے لاری اڈے پر امی جان بس سے اتریں تو ان کے ساتھ برقعے میں لپٹی ایک لڑکی بھی تھی۔
بیٹا اس بچی کا موبائل فون کھو گیا ہے۔ اس کے والد اسے لینے آتے ہی ہوں گے، ہم تب تک اس کے ساتھ انتظار کر لیتے ہیں۔
امی جان نے بتایا اور ہم وہیں انتظار کرنے لگے۔
شام رات سے گلے مل رہی تھی۔  کچھ دیر گزری تو والدہ نے اپنا فون اسے دیا اور والد کو کال کرنے کا کہا۔ اس نے نمبر ملا کر فون کان سے لگایا، اور کہنے لگی، ابو فون نہیں اٹھا رہے۔
لڑکی نے بتایا کہ اس کے والد صاحب قصور ہوتے ہیں، وہیں سے لینے آ رہے ہیں، شاید رش کی وجہ سے دیر ہو رہی ہے۔
کچھ دیر بعد والدہ نے مجھے کہا تم اپنے فون سے کال کرو۔ امی جان کے فون سے ڈائل کیے گئے نمبروں کی فہرست دیکھی تو حیرت ہوئی۔ جو نمبر لڑکی نے ڈائل کیا وہ فہرست میں موجود نہ تھا۔
خیر اس سے پوچھ کر نمبر ملایا اور فون کان سے لگایا۔ تیسری ہی بیل پر کسی نے کال وصول کر لی۔ میں نے فون لڑکی کی طرف بڑھا دیا۔ وہ کچھ دیر گفتگو کرتی رہی اور کہنے لگی، ابو لینے کے لیے پہنچنے ہی والے ہیں آپ بے شک چلے جائیں۔
میری والدہ نے کہا کچھ دیر کی بات ہے تو ہم رک جاتے ہیں۔ آپ کے والد لینے آ گئے تبھی جائیں گے۔
اب اندھیرا چھا چکا تھا، کچھ دیر کا انتظار خاصا طول پکڑ گیا تو امی جان نے پھر اسے اپنے والد کو کال ملانے کا کہا۔ اس بار اس نے بات کر کے فون میری والدہ کی جانب بڑھا دیا۔ والدہ نے سوچا وہ راستہ سمجھنا چاہ رہے ہوں گے، اس لیے فون مجھے پکڑا دیا۔
میں نے پوچھا، آپ کس طرف سے آ رہے ہیں تاکہ آپ کو راستہ بتا سکوں۔ لیکن دوسری طرف کی بات سن کر چکرا گیا۔
وہ صاحب کہنے لگے، میں اس لڑکی کو نہیں جانتا، پتہ نہیں کیوں مجھے فون کر رہی ہے ۔
میں تو میں سناٹے میں آ گیا۔ سمجھ نہیں آئی کہ کیا کیا جائے۔ لڑکی کو بتایا کہ وہ صاحب تو یہ بات کہہ رہے ہیں۔ اس نے حیرت سے کہا، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں پھر بات کرتی ہوں۔ میں کھٹک چکا تھا، اب اس نے فون ملایا تو میں گفتگو سننے کو قریب ہو گیا۔

(جاری ہے)


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Story, Suspense, Urdu

سموسے اور شاباش

پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہوا تو اس ہنگام ہمارے ٹیلی وژن چینل نے بھی دھوم دھام سے ٹرانسمش کی۔ اسی کی شاباش دینے کوIMG_20170309_174251 ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ لہذا نیوز روم رنگ رنگ کی لڑیوں اور غباروں سے سجایا گیا۔ خبر کو تخلیقی اور تکنیکی اعتبار سے پیش کرنے والے سبھی افراد نے رونق بخشی۔
ادھر تقریب کی تیاریاں جاری تھیں، اُدھر احباب تصویریں لے رہے تھے۔ ندیم زعیم صاحب بھی بھاری بھرکم کیمرہ اٹھائے عکاسی کرتے پھرتے تھے۔ بھانت بھانت کے لوگ سہج کر سامنے کھڑے ہوتے، یہ کھٹ سے وہ لمحہ قید کر لیتے۔
پھر بیورو سے دوستوں کی آمد شروع ہوئی۔ خبروں کے لیے جن سے روز رابطہ رہتا ہے ان سے ملاقات کا بھی اہتمام ہوا۔
رفتہ رفتہ وسیع و عریض نیوز روم یوں بھر گیا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ تقریب شروع ہوئی تو ہمارا کام تب تک ختم نہ ہوا تھا۔ کچھ17203063_1279566465454224_6417838157242369501_n ہمی جانتے ہیں کس جی سے اپنی کرسی پر بیٹھے رہے۔ ساؤنڈ سسٹم سے اٹھنے والی ہر لے پر ہمارے قدم تھرکنے لگتے، اور دل تقریب میں شامل ہونے کو مچلنے لگتا۔
جیسے تیسے اپنے حصے کا کام نبیڑ کر ہم بھی میلہ دیکھنے والوں میں شامل ہوئے۔ کوئی تالیاں پیٹ رہا ہے، کوئی نعرے لگا کر
حوصلہ بڑھا رہا ہے، کوئی فقط مسکرا رہا ہے۔ سب نے مل کر کام کیا تھا، سبھی مل کر خوشیاں منا رہے تھے۔
تقریب کے بعد کھانے پینے کا انتظام تھا۔ یہاں پھر وسیع پیمانے پر سیلفیوں کا دور چلا۔ لیکن ہم نے اپنی توجہ سموسوں اور جلیبی سے بھٹکنے نہ دی۔ یہاں ہم نے شکم پروری اور بندگی کو عجب انداز میں یک جان کیا۔ بارگاہ ایزدی میں دعا کی، اے پروردگار، اگر آج ہم دو سموسے کھائیں تو ہماری تنخواہ میں دگنا اضافہ ہو، اور سموسے کے ساتھ جلیبی بھی کھا لیں تو تین گنا اضافہ ہو جائے۔ دعا کو قبولیت کا درجہ مل گیا تو اس مہینے کے آخر میں ہماری تنخواہ نو گنا اضافے کے ساتھ آنے والی ہے۔

تصویریں اور تبصرے

17191356_1306562746060095_2071706834847431284_n

یہ فہد حسین صاحب ہیں۔ ہمارے ادارے کے سربراہ ہیں اور ہمارے رہنما ہیں۔ پی ایس ایل پر خصوصی نشریات  کاخیال بھی انہی کا تھا، رہبری بھی انہوں نے ہی فرمائی اور پھر ہماراحوصلہ بڑھانے کو یہ تقریب بھی انہوں نے ہی سجائی۔

IMG_20170309_174622

تصویر میں دائیں ہاتھ اویس حمید صاحب ہیں۔ اوصاف حمیدہ کے مالک ہیں، جبھی یہ مسرور اور ان کے بائیں ہاتھ کھڑے عبدالستار ترین صاحب محتاط نظر آتے ہیں۔

IMG_20170309_170718
یہ عمر رحمان ہیں لیکن داڑھی کے سفید بال دیکھ کر لگتا ہے ہماری طرح یہ بھی عمر دراز ہو چکے ہیں۔ تقریب کے دوران یہ کام کر رہے تھے۔ اس میں ان کے کٹھور پن سے زیادہ نشریاتی مجبوریوں کا دخل تھا۔

IMG_20170309_170738
یہ ندیم جمال صاحب ہیں۔ نیوز کو قابو رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ یعنی ان کا عہدہ کنٹرولر نیوز کا ہے۔ اس وقت ان کے چہرے پر چھائی سنجیدگی دیکھ کر لگتا ہے کسی بیورو نے شکایت کی ہے، سر ہماری فلاں اسٹوری نہیں چلی۔

IMG_20170309_173619
دائیں ہاتھ شوکت علی ہیں بائیں ہاتھ رائے شاہنواز۔ نہ ان کی شوکت پر کسی کو شبہ ہے نہ اُن کی رائے پر کسی کو ابہام۔

IMG_20170309_180757
دائیں ہاتھ سجاد عبداللہ ہے۔ ان دنوں رات کی شفٹ میں ہوتا ہے۔ تقریب کی خوشیوں میں شرکت کرنے سر شام آیا۔ بے چارے کو ڈیوٹی کے دوران ‘مشکل’ ہوئی ہو گی۔ بائیں ہاتھ بٹ صاحب ہیں۔ سموسے کی پلیٹ چھوڑتے ہی نہ تھے۔ ہم نے کہا یوں تصویر اچھی نہ آئے گی، تب انہوں نے گھبرا کر پلیٹ رکھ دی۔ ان کے عقب میں مس ارم غنی ہیں۔ سوچ رہی ہیں اللہ نے کپ دیا ہے تو چائے بھی دے ہی دے گا۔

IMG_20170309_180350
دائیں ہاتھ موجود معصوم سا انسان عمر بلال ہے۔ یہ بائیں ہاتھ موجود فرخ جاوید کو پولکا آئس کریم سمجھ کر اس کے پیچھے پیچھے پھرتا رہا۔

IMG_20170309_175348

ان سب کے حصے کے سموسے جلیبیاں خاکسار کھا گیا ہے۔ اب یہ آسمان سے من و سلویٰ اترنے کا انتظار کر رہے ہیں۔


Filed under: Uncategorized Tagged: Journalism, Life, Moments, PSL

معاذ مسکرائے

یہ محمد معاذ ہیں۔ ہمارے ٹیلی وژن چینل میں جو شعبہ نیوز رپورٹس تیار کرتا ہے، اس کے سربراہimg-20170302-wa0005 ہیں۔ کام سے شدید محبت کرتے ہیں۔ کام میں دیہان کا یہ عالم ہے کہ جب ہم نیوز روم میں کسی خیال پر گفتگو کر کے ان سے رجوع کرتے ہیں تو معاذ اسے پہلے ہی شروع کرا چکے ہوتے ہیں۔
انہیں کوئی کام کہہ دیا جائے تو پھر بے فکری ہو جاتی ہے، کیوں کہ وہ جان پر کھیل کر بھی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
بہت زیادہ کام کرنے کی وجہ سے اکثر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ مسکراہٹ چہرے سے غائب رہتی ہے۔ شام چار بجے دفتر میں ایک مجلس بلائی جاتی ہے جس میں دن بھر جلنے والی خبروں کا ذکر کیا جاتا ہے اور شام کے خبر ناموں کے لیے لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ اس میٹنگ سے قبل تو ان کی سنجیدگی سوا ہوتی ہے۔ سوچ کی شدت غلبہ پاتی ہے تو دونوں ہاتھوں سے اپنا ہی سر تھام لیتے ہیں۔ استغراق کا ایک عالم طاری ہوتا ہے۔ غیب سے جانے کیا کیا مضامین خیال میں آتے ہیں۔ جب تک مجلس کی کارروائی باضابطہ طور پر شروع نہ ہو یہ اسی کیفیت میں رہتے ہیں۔
ایسی ہی ایک میٹنگ میں ہمیں بھی شامل ہونے کی سعادت ملی۔ معاذ صاحب کو دونوں ہاتھوں سے سر تھامے دیکھا تو یہ لمحہ کیمرے کی آنکھ سے قید کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ ہمارا ارادہ بھانپ گئے یا ہماری سادگی پر پیار آ گیا۔۔۔ بے ساختہ تبسم فرمانے لگے۔ کچھ دیر میں تبسم مزید نمایاں ہو کر باقاعدہ قسم کی ہنسی میں ڈھل گیا۔ تصویر دیکھ کر اندازہ لگائیے کہ معاذ مسکراتے ہوئے بھی اچھے لگتے ہیں۔ اور انہیں رائے دیجیے کہ ہر وقت کی فکر اچھی بات نہیں۔
اللہ آپ کو یوں ہی ہنستا مسکراتا رکھے۔


Filed under: خواہ مخواہ, شوخیاں Tagged: Friendship, Life, Smile, Urdu

عشق کرنے کی حسرت

yadon-ki-barat-pdf-book-by-josh-malihabadi-in-urduکتاب ‘یادوں کی برات’ میں جوش ملیح آبادی کے اٹھارہ معاشقوں کا ذکر پڑھنے کے بعد ہم پر شدید قسم کا حسد طاری ہے۔ حسد کی ایک بات تو یہ کہ جوش صاحب کا کوئی ایک عشق بھی ناکام نہیں ہوا، دوسری یہ کہ اکثر اوقات انہیں پہل نہ کرنا پڑی بلکہ حسین عورتوں نے خود آگے بڑھ کر ان سے عشق کیا۔ اٹھارہ میں سے تین تو اپنی جان سے گزر گئیں۔ ایسا بھی ہوا کہ ریل میں سفر کرتے ہوئے آنکھ لڑی اور مسافت کے دوران ہی لطف کی کئی منزلیں طے ہو گئیں۔ وقت اور سرمائے کی فراوانی ایسی تھی کہ دوران سفر عشق ہوا، محبوبہ نے جس اسٹیشن پر اترنا تھا یہ بھی وہیں اتر گئے، وہیں ہوٹل میں کمرہ بھی کرائے پر لے لیا، مہینہ بھر قیام رہا، خلوت اور جلوت کا ساتھ رہا۔ پھر جب محبوبہ کے والد کو خبر ہو گئی تو یہ بھی اپنی دکان بڑھا گئے۔
یہ معاملہ بھی ہوا کہ ایک ساتھ دو سہیلیاں ان پر مر مٹیں، ایک نے حسد کے مارے دوسری کو کچھ کہا تو اس نے خود کشی کرنے کو سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ یہ اسے نکال کر اسپتال لے گئے تو وہاں کی ڈاکٹر ان پر فریفتہ ہو گئیں۔
ارے۔۔۔ جوش ملیح آبادی نہ ہوئے، مستنصر حسین تارڑ ہو گئے۔ ہم تو جلن کے مارے بل کھا رہے ہیں۔
ہائے کاش! ہم بھی ایسے خوش نصیب ہوتے۔ کوئی جمال ہم پر بھی جال پھینکتا، کوئی صیاد ہم پر بھی گھات لگاتا۔ ہم بھی گرفتار ہوتے، ہم بھی شکار ہوتے۔ کسی کافر زلف کا بادل ہماری تپتی جوانی کو بھی سایہ کرتا، ہماری تحریروں سے بھی کوئی رنگین و شاداب لمحے ٹپکتے۔ کوئی ہمیں مڑ مڑ کر دیکھتا اور ہم بے نیازی سے سر جھٹک کر آگے بڑھ جاتے۔ ہم آنکھ اٹھاتے اور بجلی لپلپا جاتی، نظروں کے تیر دلوں میں کھب جاتے۔
کبھی گھر واپسی پر ہماری شرٹ سے گز بھر لمبا سرمئی بال برآمد ہوتا، اور جینا وبال ہوتا۔ بیگم کرسی سے باندھ کر ہم پر وائپر برساتیں اور اُس کلموہی کا نام پوچھتیں۔ جواب میں
ہم چپ رہے، ہم ‘رو’ دیے، منظور تھا پردہ تیرا
کی تصویر بنے ہوتے۔
ذرا ہماری شرافت، احتیاط یا تخیل کا افلاس دیکھیے، معاشقوں کی خواہش میں بھی بیگم در آئی ہیں۔
اب یہ بیگم کے ذکر کا فیضان ہے، اپنی بے بسی و حسرت لکھ دینے کی کرامت ہے یا انگور کھٹے ہونے کی حکمت۔۔۔ دوبارہ سوچتے ہیں معاشقہ لڑانا سراسر گھاٹے کا سودا نظر آتا ہے۔ شاید اس کام کے لیے بے حسی، دلیری اور اخلاق باختگی درکار ہوتی ہو۔ ورنہ جس میل جول پر پکڑے جانے کا ہول رہے، وہ رشتہ ہی کیسا۔ جب کسی ایک سے وفاداری کا پیمان کر لیا تو کسی دوسرے سے تعلق داری کیوں کر؟
لہذا کچھ تو اقدار کا خیال، کچھ حوصلے کا کال، اور کچھ تیزی سے سفید ہوتے بالوں کا حال۔۔۔ ہم بخوشی اپنی حسرت سے دست بردار ہوتے ہیں۔


Filed under: کتابوں کی باتیں, خواہ مخواہ Tagged: Books, Josh Malihabadi, Love, Urdu, Yaadon Ki Baraat

سیٹھوں کے ملازم صحافی

پیارے صحافی بھائیو اور بہنو! خاکسار کے خیال میں آج کل صحافت ایک کاروبار ہے اور ہر بیوپار کی طرح اس کا بنیادی مقصد بھی پیسہ کمانا ہے۔ اس میڈیائی بازار میں خبر ایک پراڈکٹ ہے اور صحافی اسے لانے، بنانے اور پیش کرنے والا مزدور۔ آپ کی خبر بکے گی تو کاروبار چلے گا۔
جس سیٹھ کے ہاں آپ مزدوری کرتے ہیں، وہ صحافت کے علاوہ بھی کئی کاروبار کرتا ہے۔ اور میڈیائی کاروبار کرنے کا ایک مقصد اپنے ‘دیگر’ تجارتی مفادات کا تحفظ بھی ہوتا ہے۔ لہذا آپ کی صحافت بھی اسی سوداگری دائرہ کار میں رہے گی۔ آپ ہر وہ خبر چلانے میں آزاد ہوں گے جس سے سودا بھی بک جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
اسی دائرے میں گھومتے ہوئے آپ نے مزدوری کرنی ہے۔ قابل فروخت سچ کو سامنے لانا ہے، مظلوم کی ریٹنگ لانے والی فریاد نشر کرنی ہے، ظالم کا گریبان پکڑنا ہے، یا پھر اپنے گریبان میں جھانکنا ہے۔
سیٹھ کو آپ کی کتنی پروا ہے، جاننے کے لیے صحافی بھائی اور بہن خود سے یہ سوال کر سکتے ہیں۔
کیا کبھی آپ کے ادارے نے آپ کی پیشہ ورانہ تربیت کا اہتمام کیا؟
کیا آپ کا کوئی سروس اسٹرکچر بنایا گیا؟
کیا آپ کی کارکردگی جانچنے کا کوئی پیمانہ یا معیار مقرر کیا گیا ہے؟
کیا آپ کو معلوم ہے موجودہ عہدے پر کتنا عرصہ کام کریں گے تو آپ کی ترقی ہو گی؟
ترقی ہو گی بھی یا نہیں؟
تنخواہ کب اور کتنی بڑھائی جائے گی؟ بڑھائی بھی جائے گی یا نہیں؟
(بعض اداروں کے ملازم صحافی تو خود سے یہ سوال کریں، اس مہینے کی تنخواہ بھی ملے یا نہیں؟)
میرا گمان ہے کہ میڈیائی سیٹھ صاحبان جو دیگر کمپنیاں چلاتے ہیں ان میں شعبہ تحقیق و ترویج بنایا گیا ہو گا۔ جو نئے رجحانات پر نظر رکھتا ہو گا، متعلقہ مصنوعات میں بہتری کی تجاویز دیتا ہو گا۔ کیا ایسا کوئی شعبہ کسی میڈیا کے ادارے میں بھی ہے؟
اگر آپ نے اوپر درج کیے گئے اکثر سوالات کا جواب نہیں میں دیا ہے تو ممکنہ طور پر کہا جا سکتا ہے، سیٹھ صاحب کو آپ میں کوئی دلچسپی نہیں۔ آپ ایک آئٹم ہیں، اور آپ جیسی بے شمار آئٹمز مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
اس صورتحال میں کچھ میڈیا ہاؤس اچانک بہت سے ‘ملازمین’ کو نکال دیں تو دکھ ہوتا ہے، حیرت نہیں ہوتی۔ کیوں کہ مالکان کی ترجیح میں کارکن کہیں بھی نہیں ہے۔

سوال تو میڈیا کے ساتھی مزدوروں سے کیا جانا چاہیے۔۔۔صحافی کا موبائل چھننے پر تو احتجاج کرتے ہیں، نوکری چھننے پر کیا کریں گے؟

پس تحریر: اپنے گریبان میں جھانکیں تو بعض اوقات چند کارکن صحافیوں کے رویوں پر بھی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔ انہیں بھی کسی نئے ادارے سے پیشکش ہو تو نوٹس دیے بغیر فوراً اڑان بھر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی کرے تو کیا کرے؟


Filed under: پروڈیوسر کی ڈائری, خواہ مخواہ Tagged: Jobs, Journalism, Media, Pakistan

کون خریدتا ہے یہ؟

لاہور میں نیلا گنبد سے نسبت روڈ کی طرف جائیں تو فٹ پاتھ کنارے برقی کاٹھ کباڑ فروخت ہوتا نظر آئے گا۔ ٹیلے فون ریسیور، موبائل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر کے اسپیکر، ہیڈ فون، ماؤس، گھڑیاں، عینکیں۔۔۔ لیکن سب کے سب ٹوٹے پھوٹے۔ ایک بھیڑ لگی ہوتی ہے، اکثر لوگوں کو کاٹھ کباڑ پھرولتے ہی دیکھا، کوئی چیز خریدتے کسی کو نہ دیکھا۔
کرچی کرچی اسکرین والی ٹیبلٹ اٹھا کر دکاندار سے پوچھا، کیوں صاحب! کتنے کا ہے؟
دو سو روپے کا۔ دکاندار نے جواب دیا۔
لیکن اسے کون خریدے گا؟ ہمارے سوال میں استعجاب تھا۔ دکاندار نے بتایا اسے کوئی موبائل فون مکینک لے جائے گا۔ وہاں ضروری مرمت کے بعد کہیں مہنگا فروخت کرے گا۔
ذرا آگے جائیں تو ٹھیک حالت میں بھی چیزیں فروخت ہوتی دکھائی دیں گی۔ ایک عام موبائل فون ہزار روپے تک میں ملے گا، ایک مشہور برانڈ کے اینڈرائڈ فون کی کاپی آٹھ ہزار روپے میں۔ لیپ ٹاپ کی قیمت سات ہزار سے لے کر دس ہزار روپے ہے۔ ذرا اور آگے جائیں تو موبائل فون کی بیٹریاں، چارجر، ائیر فونز ملیں گے۔ ان کی حالت مزید بہتر ہے، چیک کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ کارآمد ہیں تو خریدیے ورنہ چھوڑ دیجیے۔ ٹی وی کے ریموٹ بھی موجود ہیں، کوئی گارنٹی نہیں کہ چلیں یا نہ چلیں۔ گیمنگ کنسول بھی برائے فروخت تھا، قیمت فقط بارہ سو روپے۔
غرض ایک دنیا ہے۔ اور اس دنیا سے وابستہ کئی کہانیاں ہوں گی۔ یہاں بکنے والی ایک ایک چیز کسی وقت بہت چاؤ سے خریدی گئی ہو گی۔ کوئی اینڈرائڈ فون کسی نے عزیز دوست کو تحفے میں دیا ہو گا، ہو سکتا ہے اس اینڈرائڈ فون کی اسکرین بعد میں ٹوٹی ہو، تعلق میں دڑاڑیں پہلے پڑ گئی ہوں۔ کبھی اس ٹیلے فون کی گھنٹی بجتی ہو گی تو کسی کے دل کے تار بھی بج اٹھتے ہوں گے۔ یہ گیمنگ کنسول کسی نے امتحان میں اول آنے کے بعد پایا ہو گا۔ اس گھڑی نے بھی کسی کی زندگی کی اچھی گھڑیاں دیکھی ہوں گی۔ آج بے مول بکنے والی یہ چیزیں قوت گویائی پائیں تو احوال سنائیں، کبھی وہ بھی انمول تھیں، اور پھر وقت کی نذر ہو گئیں۔


Filed under: Uncategorized Tagged: E-Waste, Lahore, Pakistan

مقدس پانی کب ملے گا؟

صبح پانچ بجے سفر کا آغاز کیا تو اندازہ نہ تھا دھند یوں آن دبوچے گی۔ ٹھوکر نیاز بیگ لاہور سے موٹر وے کا راستہ پکڑا تو بادل سے آ گئے۔ سوچا کسی فیکٹری کا دھواں ہو گا۔ سر جھٹک کر آگے بڑھے تو پھر سب صاف۔ اس سے پہلے گھر سے نکلنے اور اسٹور سے خریداری کے بعد معمولی سا حادثہ کرا بیٹھے تھے۔ گاڑی میں چار پانچ نفوس بیٹھیں تو سردیوں میں شیشے دھندلا جاتے ہیں۔ پیچھے موجود کھمبا نظر ہی نہ آیا۔ تصادم کے بعد اتر کر دیکھا تو زیادہ نقصان نہ تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔
خالی ٹینکی کے باوجود اطمینان تھا کہ موٹر وے ٹال پلازے سے پہلے ایک پیٹرول پمپ ہے۔ لیکن دھند کا ایسا ہلہ آیا کہ پیٹرول پمپ نظر ہی نہ آیا۔ واپسی کی ٹھانی، دیگر سوار بھی متفق ہو گئے۔۔۔ لیکن یونہی، اپنے عذر کی سند کی خاطر، ٹال پلازے پر ٹوکن دینے والے صاحب سے پوچھ لیا۔ وہ کہنے لگے دھند تو بس یہیں تک ہے۔
ان کے کہے میں آ کر ہم نے بحر دھند میں گاڑی دوڑا دی۔ صاحب، دوڑائی کہاں، کچھ نظر آتا تو رفتار پر پاؤں رکھتے۔ سڑک پر کھنچی سفید لکیر کے سہارے چلنے لگے اور جو دعائیں یاد تھیں وہ پڑھنے لگے۔ کبھی کبھار کوئی بس بھی انتہائی تیز رفتاری سے گزری، کچھ دیر اس کی سرخ بتیوں کے پیچھے چلے، پھر اسے بھی کھو دیا۔ ٹی وی پر صفر حد نگاہ کی خبریں چلاتے تھے۔ دیکھ بھی لی۔
ساڑھے چھ بجے کے قریب کچھ کچھ اجالا ہوا، سات بجے تک دھند چھٹ چکی تھی، سہما سہما سورج جھانک رہا تھا، پوچھتا تھا اب تو کرنوں کا راستہ نہ روکو گے؟ ہم نے کہا بھیا ہم تو خود مسافر ہیں، کاتب تقدیر کے لکھے پر چلنے والے۔ ہاں تمہاری تصویر ضرور کھینچیں گے

img_20170128_065904

کھیوڑہ میں نمک کی کانیں ہماری منزل تھیں۔ نو ساڑھے نو بجے کے آس پاس وہاں پہنچے تو پارکنگ میں ہم سے پہلے صرف ایک ہی گاڑی موجود تھی۔ نمک کی کان میں نمک ہو کر نکلے تو گھڑی شاید ساڑھے گیارہ بجا رہی تھی۔ اس وقت غول کے غول بڑھے چلے آ رہے تھے۔ ہم نے جلدی پہنچنے پر خود کو داد دی، ہجوم میں تو ڈھنگ سے کچھ نہ دیکھا جاتا۔ ایک عزیز چوآ سیدن شاہ میں رہتے ہیں۔ ان سے رابطہ ہوا تو کہنے لگے، آپ ہم سے فقط اٹھارہ کلومیٹر دور ہیں، یہاں کا چکر بھی لگا لیں۔ کچھ ان کی تکلیف کا خیال، کچھ واپس جانے کی جلدی، ان سے معذرت کر لی لیکن پارکنگ سے نکلنے تک نیت بدل چکی تھی۔۔۔ صرف اٹھارہ کلومیٹر، ارے یہ تو کچھ بھی نہیں، پھر کٹاس کا مندر بھی تو قریب ہی ہے، لگے ہاتھوں وہ بھی دیکھتے چلیں گے۔
گاڑی اس راہ پر ڈالی تو معلوم ہوا پہاڑی راستوں پر اٹھارہ کلو میٹر بھی پچاس کلومیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔ نہ جانے کتنے وقت کے بعد چوآ سیدن شاہ پہنچے تو واپس جانے کی فکر اس سے بھی سوا ہو چکی تھی۔ عزیز خاطر مدارت میں زحمت کریں گے، ہمیں بھی مزید دیر ہو گی، یہی سوچ کر بوجھل دل کے ساتھ انہیں ملے بغیر آگے چلے گئے۔
کٹاس مندر پہنچے تو ایک بورڈ پر نظر پڑی۔ لکھا تھا آب شفاء۔ بریکٹ میں درج تھا مقدس پانی۔ پڑھتے ہی تمام روحانی و جسمانی عارضے یاد آ گئے۔

vlcsnap-2017-02-09-06h50m19s64

سیراب ہونے کو نلکوں تک پہنچے تو ایک اور تختی لگی تھی، لکھا تھا اس فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح وزیراعظم نے اب سے دو ہفتے قبل کیا۔ مقدس پانی کی فلٹریشن۔۔۔ ارے بابا پاکیزگی کو تطہیر کی کیا ضرورت؟

img_20170128_134217
ہم نے بے تابی سے ٹونٹی کھولی لیکن ہوا کے سوا کچھ نہ نکلا۔ وہاں لگی تمام ٹونٹیاں آزما لیں لیکن انہوں نے بھی ہماری پیاس بجھانے سے انکار کر دیا۔
ایک اور جنگلے پر بھی لکھا تھا۔۔۔ یہ وزیراعظم کی جانب سے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے۔ وہ جنگلہ بھی اندر سے خالی تھا۔
کٹاس مندر کے داخلی دروازے پر ایک صاحب نام وغیرہ درج کرتے ہیں۔ وہی یہ ترغیب بھی دیتے ہیں کہ ویسے تو تمام مندروں کو تالا لگا ہے۔۔ لیکن اگر آپ کوئی گائیڈ لینے اور اسے رقم دینے پر آمادہ ہیں تو وہ تمام مندروں کے دروازے آپ کے لیے کھول دے گا۔ ہم نے شکیل نامی ایک شخص کو رہنما مقرر کیا۔ وہ جس مندر میں بھی لے کر گیا وہ اس سے پہلے کسی گائیڈ نے کھول رکھا تھا اور تمام مندر سیاحوں سے بھرے ہوئے تھے۔
واپسی پر ہم نے داخلی دروازے پر بیٹھے شخص سے پوچھا، کیوں حضرت، مقدس پانی کب جاری کریں گے؟ بے نیازی سے کندھے اچکا کر کہنے لگے، بہت جلد۔

پوسٹ اسکرپٹ: اسی کہانی کو ویڈیو میں بھی بیان کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں


Filed under: خواہ مخواہ Tagged: Katas Temple, Pakistan, travelogue

دو منٹ میں مسئلہ حل کریں

زندگی میں آنے والے ذاتی، کاروباری یا سماجی مسائل سے ہم سبھی پریشان ہوتے ہیں اور انہیں فوری طور پر حل کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اس بارے میں پڑھتے ہوئے ایک انتہائی دلچسپ چیز معلوم ہوئی۔
آپ نے کوئی بھی مسئلہ حل کرنا ہے تو گھبراہٹ یا پریشانی کے بجائے، ایک چیلنج سمجھ کر اس پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ مسئلے کے حل کا تمام دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ ردعمل کیا دیتے ہیں۔
سب سے پہلے ایسا کریں کہ خود پر قابو پائیں ۔۔۔ اپنے آپ کو یقین دلائیں آپ اسے حل کر لیں گے
پھر یوں کریں کہ مسئلے کو مسئلہ نہ کہیں ۔۔ پرابلم نہ کہیں۔۔۔ برابلم ایک منفی لفظ ہے۔۔۔ پریشان کر دیتا ہے
اسے ایک سچوئیشن کہہ لیں ۔۔۔ صورتحال کہہ لیں۔۔۔ یہ غیر جانب دار لفظ ہے ۔
بلکہ زیادہ بہتر ہے۔۔۔ اپنے مسئلے کو چیلنج کہیں۔۔۔ یہ مثبت لفظ ہے۔۔۔ حوصلہ دیتا ہے
اس سے بھی زیادہ بہتر ہے آپ اپنے مسئلے کو موقع قرار دے دیں۔۔۔ یوں یہ ایک چیلنج بن جائے گا
مثلاً
اگر کہا جائے ۔۔۔ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔ اب گزارا نہیں ہوتا
تو یہ ایک منفی جملہ ہے۔۔۔ آپ کو پریشان تو کرتا ہی ہے، یہ تاثر بھی دیتا ہے کہ آپ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔
اس کی جگہ اگر یوں کہا جائے۔۔۔ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، اب مجھے اپنی آمدنی بڑھانا ہو گی
یہ جملہ آپ کو حوصلہ بھی دیتا ہے، اور آمدنی بڑھانے کےلیے کچھ کرنے پر موٹی ویٹ بھی کرتا ہے
یاد رکھیں۔ دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل موجود نہ ہو۔ اور حل کا تمام دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ رد عمل کیا دیتے ہیں۔


Filed under: کامیابی Tagged: Life, Problem-solving, Self Help

میرا پنیر کہاں گیا

ایک جگہ پر چار لوگ رہتے تھے، ان میں سے دو چوہے تھے۔۔اور دو انہی جتنے چھوٹے چھوٹے انسان ۔۔چوہوں کے نام تھے سنف اور سکری اورانسانوں کے نام تھے ہیم اور ہاء۔۔۔
چاروں روزانہ اپنے کھانے کے لیے پنیر تلاش کرتے
چوہے چونکہ بے عقل تھے، اس لیے انہیں جس قسم کا پنیر مل جاتا وہ کھا لیتے
انسان چونکہ عقل مند تھے، انہیں ایک خاص قسم کے پنیر کی تلاش تھی۔ ان کا خیال تھا وہ خاص پنیر ملا تو ہی انہیں خوشی ملے گی۔
سنف اور سکری منہ اٹھا کر چل پڑتے۔ کہیں پنیر مل جاتا اور کہیں ناکامی ملتی۔
ہیم اور ہا خاص قسم کا پنیر تلاش کرنے کے منصوبے بناتے رہتے اور ناکامی پر بہت اداس ہو جاتے
آخر ایک دن چاروں کو ایک جگہ ملی۔۔۔ جہاں پنیر کا خزانہ پڑا تھا
اب چاروں روزانہ یہاں آتے اور جی بھر کر پنیر کھاتے
ہیم اور ہا آہستہ آہستہ سست پڑتے گئے۔ وہ آرام سے اٹھتے، تیار ہوتے اور پنیر کے خزانے پر آتے۔ ان کا خیال تھا کہ پنیر کا یہ خزانہ ہمیشہ یہاں رہے گا۔ وہ سمجھتے تھے پنیر حاصل کرنے کے لیے ان کی کوشش کا صلہ انہیں مل گیا ہے اور اب ان کی زندگی میں سکون ہی سکون ہے۔
ایک دن وہ پہنچے تو معلوم ہوا پنیر کا خزانہ ختم ہو چکا تھا۔ چوہوں نے پہلے ہی اس صورتحال کا اندازہ کر لیا تھا کہ پنیر ختم ہو رہا ہے۔ لہذا انہوں نے خزانہ خالی دیکھا تو پروا نہ کی اورمزید پنیر کی تلاش میں دوڑ پڑے۔
انہوں نے زیادہ نہیں سوچا۔ انہیں معلوم ہو گیا کہ خزانے کی صورتحال بدل چکی ہے، لہذا انہیں بھی بدلنا ہو گا۔
لیکن انسانوں کو بہت رنج ہوا۔ ہیم چلایا۔۔۔ میرا پنیر کہاں گیا؟
وہ دونوں بہت دکھی تھے۔ انہیں زندگی کی خوشی کے لیے پنیر چاہیے تھا جو اب وہاں نہ رہا تھا۔ پنیر بہت اہم تھا۔ انہوں نے وہیں تلاش کرنا شروع کر دیا کہ شاید اچانک کہیں سے پنیر انہیں مل جائے گا۔ انہیں یقین نہ آتا تھا کہ ان کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اگلے دن وہ پھر اسی جگہ آئے لیکن پنیر نہ ملا۔
ہیم اور ہاء تو بیٹھ کر پنیر حاصل کرنے کی طریقے سوچ رہے تھے۔ چوہے دوڑ دھوپ کر کے مزید پنیر تلاش کر رہے تھے۔ اور ایک دن انہیں پنیر کا ایک اور خزانہ مل گیا۔
دوسری طرف ۔۔ہیم اور ہاء بیٹھ کر سوچتے سوچتے تنگ آ چکے تھے لیکن پنیر ملتا ہی نہ تھا۔ ایک دن ہاء نے کہا آؤ یہاں سے کہیں اور چلتے ہیں اور پنیر تلاش کرتے ہیں۔
ہیم نے کہا، نہیں یہاں ہم محفوظ ہیں۔ اگر ہم باہر نکلے اور وہاں پنیر نہ ملا تو پھر کیا ہو گا؟
لہذا وہ وہیں بیٹھے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ پنیر مل جائے گا۔
آخر ایک دن ہاء نے کہہ دیا کہ وہ پنیر کی تلاش میں نکل رہا ہے۔ ہیم نے اس کا ساتھ نہ دیا اور وہیں بیٹھا رہا۔
یوں ہاء اکیلے ہی نکل کھڑا ہوا۔ کئی جگہ اسے ناکامی ہوئی۔ کئی جگہ اسے پرانا باسی پنیر ملا۔ لیکن وہ تلاش میں لگا رہا۔
ایک بار اسے اچھا پنیر ملا تو وہ ہیم کے لیے بھی لے کر گیا۔ لیکن ہیم نے کہا اسے خزانے والا پنیر ہی چاہیے۔
ہاء نے خود سے سوچا، جب آپ اپنی سوچ بدلتے ہیں، تبھی اپنا عمل بدلتے ہیں
چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کا علم ہو جائے تو بندہ بڑی تبدیلی کےلیے تیار ہو جاتا ہے
ہاء کوشش کرتا رہا کرتا رہا۔۔ اور آخر کار وہ پنیر کے ایک خزانے تک پہنچ گیا۔ یہاں پہنچ کر اس نے خود سے کہا
تبدیلی تو آتی ہے۔۔۔ پنیر ایک سا نہیں رہتا
ہمیں تبدیلی کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔۔۔
اور خود کو تبدیل ہونے کےلیے تیار رکھنا چاہیے
اور تبدیلی کا مزا لینا چاہیے
اب وہ پنیر کے نئے خزانے میں مزے کر رہا ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ خزانے سے باہر نکل کر مزید خزانوں کی تلاش بھی کرتا ہے
یہ کہانی میں نے آپ کو سپنسر جانسن کی کتاب
Who moved my cheese
سے سنائی ہے۔کہانی سے سبق ملتا ہے کہ تبدیلی آ کر رہنی ہے۔ انسان کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور تبدیلی سے پریشان ہونے کے بجائے اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔


Filed under: کامیابی, کتابوں کی باتیں Tagged: book summary, Life, Motivation, Self Help, Who Moved My Cheese

مشکل کا حل کیسے نکالیں؟

دراصل مشکل اتنی اہم نہیں ہوتی، جتنا اہم ہمارا ردعمل ہوتا ہے۔
اس بات کو مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔
ٹونی رابنز ایک امریکی بزنس مین ہیں، اور سیلف ہیلپ پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ جب وہ گیارہ سال کے تھے تو ان کے گھر کے حالات کچھ ٹھیک نہ تھے۔ ان کے والد بے روز گار تھے ۔۔۔ والد اور والدہ میں لڑائی بھی رہتی۔
ایسے میں ایک تہوار کے موقع پر چند اجنبی لوگوں نے ان کے گھر کھانا بھیجا۔
ٹونی رابنز کے والد نے کہا ۔۔۔ اچھا، تو اب ہمیں خیرات بھیجی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے مجھے ناکارہ شخص سمجھا جاتا ہے۔ اس بات پر جھگڑ کر وہ گھر سے باہر چلے گئے
ٹونی رابنز کا ردعمل کچھ مختلف تھا۔۔۔
ٹونی نے سوچھا۔۔ چلو آج ہمارے ہاں کچھ کھانے کو تو آیا، میں خوب پیٹ بھر کے کھاؤں گا۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ دنیا میں سبھی لوگ برے نہیں ہوتے، بلکہ خیال کرنے والے لوگ بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے گھروں میں کھانا پہنچاتے ہیں۔
وہ کھانا بھجوائے جانے سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے خود سے وعدہ کر لیا۔۔۔ وہ ہر سال رقم بچائے گا، اور خاص تہوار پر دو خاندانوں کو کھانا کھلائے گا۔ جب وہ سترہ سال کا ہوا، تو اس نے دو خاندانوں کے ہاں کھانا بھیجا۔ اس سے اگلے سال چار خاندانوں میں ۔۔۔ رفتہ رفتہ یہ سلسلہ بڑھا تو اس نے اپنے جاننے والوں کو بھی شامل کر لیا اور ایک فاؤنڈیشن بنائی۔
آج یہ فاؤنڈیشن بیس لاکھ افراد کو کھانا فراہم کرتی ہے۔
آپ نے دیکھا ۔۔۔ ایک ہی صورتحال پر دو افراد نے بالکل مختلف رد عمل دیا۔
ایک فرد نے غصہ کیا دوسرے نے شکر کیا۔
ایک شخص نے کھانا ملنے کو بھی رکاوٹ اور مشکل سمجھا۔ اور جھگڑ کر گھر سے چلا گیا۔ غصے نے نہ تو اس کا پیٹ بھرا نہ ہی کسی دوسرے کا کچھ فائدہ کیا۔
دوسرے فرد نے اسی صورتحال میں خود کے لیے اور دوسروں کے لیے اچھا سوچا۔ آج وہ بیس لاکھ افراد کا فائدہ کر رہا ہے۔
لہذا ثابت ہوا۔۔ یہ ہماری مرضی ہوتی ہے کہ ایک ہی جیسی صورتحال میں مایوس ہو کر بیٹھ جائیں یا اپنے لیے امید اور عزم کا دیا روشن کر لیں۔
مشکل اہم نہیں ہوتی۔۔۔ ہمارا ردعمل اہم ہوتا ہے


Filed under: کامیابی Tagged: Life, Problem-solving, Urdu

بھورے کوٹ کی سیاہ کہانی

2003 میں لاہور وارد ہوئے تو والد صاحب نے جیکٹ نما کوٹ ہمراہ کیا۔ خاکی سے رنگ کی یہ جیکٹ خاصی کارآمد تھی۔ کئی برس تک ہمیں سردی سے بچاتی رہی۔ جیکٹ بدلنے میں وسائل سے زیادہ خواہش کی کمی آڑے آتی۔ بھلا ایک کار آمد جیکٹ کے ہوتے ہوئے دوسری کیوں خریدی جائے۔
بر سر روزگار ہوئے تو بھی سردیوں میں اسی جیکٹ کا آسرا رہا۔ یہ اور بات کہ گزرتے ماہ و سال اپنے نشان اس پر چھوڑتے جا رہے تھے ۔۔۔ پھر بھی اسے پہن کر عافیت کا احساس ہوتا۔ جیکٹ کی یکسانیت پر یار دوست شاید پہلے بھی طعنے دیتے رہے ہوں، اب ان پر غور کرنا شروع کیا۔
یوں سردیوں کے مقابلے کے لیے ایک سیاہ رنگ کا کوٹ خریدا گیا۔ خاص بات یہ تھی کہ اس کے دو حصے تھے۔ زپ کے ذریعے علیحدہ ہو جاتے۔ اس سے اگلی سردیوں نے ہماری الماری میں ایک سیاہی مائل سرمئی رنگ کے کوٹ کا اضافہ دیکھا۔ اسی برس تقریباً اسی رنگ کی لیکن وضع قطع میں مختلف جیکٹ خریدی گئی۔ اس بندوبست کے بعد ہم کوٹ/جیکٹ بدل بدل کر دفتر جانے لگے۔ نسبتاً کم سردی کے لیے ایک سیاہ اور ایک سیاہی مائل سرمئی اپر بھی لیا گیا۔

384682_2572328838377_1483986149_n img_20160127_232345 img_20151228_161145 img_20151216_162609 my-picture me

ہمارے پہناووں پر اتری دھنک سے حاسدین کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے۔ انہوں نے اپنی جلن پر ہمارے کوٹوں کی تضحیک کا مرہم رکھنا شروع کر دیا۔ سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو ان کم نظروں کو سیاہ کوٹ/اپر، سیاہی مائل سرمئی کوٹ/اپر، اور سیاہی مائل سرمئی جیکٹ میں فرق ہی معلوم نہ ہوتا۔ ہر برس یہی طعنہ ملتا کہ آپ تو کئی دہائیوں سے ایک ہی کوٹ پہنے پھرتے ہیں۔ ہم نے ان کا منہ بند کرنے کو ایک آدھ اپر سبز رنگ کا بھی لیا لیکن کہنے سننے والوں کی دیکھنے کی صلاحیت پر پٹی پڑ چکی تھی۔
کئی بار تہیہ کیا کہ کھلتا ہوا رنگ لیں گے لیکن بالوں میں اتری چاندی سے میچ نہ کرتا، سو باز رہے۔ اب کی بار سرمئی مائل سیاہ کوٹ خریدتے خریدتے ایک بھورے کوٹ پر نظر پڑی۔ فوراً دل میں اتر گیا۔ اسے گھر لے آئے لیکن پہننے کو من نہ کرتا۔ مذاق اڑانے والے ہمیں جو مرضی کہیں، لیکن نئے کوٹ کو کچھ کہتے۔۔۔ گوارا نہ تھا۔
چنانچہ پرانے کوٹوں کو ڈرائی کلین کیا (جھاڑ لیا) اور پہنے پھرے۔ رفتہ رفتہ گرد و غبار کی تہہ انبار بنتی گئی اور معاملہ ڈرائی کلین سے بھی سوا ہو گیا۔ ایک روز بھورا کوٹ نکال ہی لیا۔ ستائشی نظروں سے استقبال ہوا۔ کہیں سے تمسخر کے تیر برسے نہ استہزا کے پتھر ۔۔۔ ہم چوڑے ہوتے گئے۔

img_20170105_095519
آخر ایک خیر خواہ آن ٹکرائے۔ کوٹ کی تعریف کی، ہم مزید پھولے ۔۔۔ رازدارانہ انداز میں کہنے لگے آپ کو مزید کوٹ چاہییں تو انار کلی لیے چلتا ہوں۔ ایک دوست کے پاس مال آیا ہے، آپ کے کوٹ کی طرح وہ بھی وول کے کوٹ ہیں۔ آپ کے کوٹ کی تو اتنی گریس نہیں نا۔۔۔ وہ بڑے گریس فل ہیں۔ میرے ساتھ چلیے گا، سستے دلوا دوں گا۔


Filed under: یاد ماضی Tagged: Coats, Humour, Life, Urdu

ایمپرا الیکشن، چند گزارشات

ٹی وی پروڈیوسرز کی تنظیم ایمپرا کے الیکشن ہونے کو آئے ہیں۔ ہر جانب سے ووٹ اسپورٹ ۔۔۔ قول و قرار ۔۔۔ عہد و پیماں ۔۔۔ التجاؤں صداؤں ۔۔۔ کا شور ہے۔
ووٹ مانگنے والوں سے گزارش ہے کہ کیوں نہ آپ ایک ایجنڈا بنا لیں۔ بتائیں کہ آپ کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ کیوں کر آپ کو ووٹ دیا جائے اور دوسرے امیدوار کو نہ دیا جائے۔
ایجنڈے میں صرف دعوے ہی نہ ہوں بلکہ ان کو پورا کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا، اس کی تفصیل بھی ہو۔ پچھلے سال فتح پانے والوں نے سال بھر کیا کار ہائے نمایاں سر انجام دیے، اس کی تصریح بھی کر دی جائے۔ نجی محفلوں میں اگر کوئی الزام لگائے جا رہے ہیں تو ان کا ذکر بھی علی الاعلان ہو، تاکہ ملزم کو وضاحت کا موقع ملے۔
خاکسار کی گزارش یہ ہے کہ یہ ووٹ کسی دھڑے بندی، دوستی، یا دباؤ میں مانگا جائے، نہ ہی دیا جائے۔
ہر امیدوار اپنی سوچ، لائحہ عمل کو وضاحت سے بیان کرے۔ تاکہ ووٹر عقل سے فیصلہ کرے، نہ کہ جذبات سے۔
گزارش یہ بھی ہے کہ ان انتخابات کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ نظریاتی اختلاف کو نہ صرف تسلیم کیا جائے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔
اگر آپ کا کوئی دوست آپ کے مخالف دھڑے کو ووٹ ڈالنے جا رہا ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اس کی پسند آپ کی دوستی کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہیے۔
اب تک تو سوشل میڈیا پر یار دوست کسی کی اسپورٹ کا اعلان کر رہے ہیں۔ ان سے کہنا یہ ہے کہ وہ اپنے امیدوار کو اسپورٹ کرنے کی وجہ بھی بتائیں تاکہ جو اسے نہیں جانتا وہ بھی اپنا ذہن بنا سکے۔
کسی امیدوار کو منتخب کرنے کےلیے معیار کیا ہونا چاہیے؟
کیا اس کا ذاتی حوالے سے اچھا ہونا ہی کافی ہے، یا اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ منتخب ہونے کے بعد وہ کرے گا کیا؟


Filed under: پروڈیوسر کی ڈائری, خواہ مخواہ Tagged: Election, EMPRA, Urdu

بارہ عادتیں جو کامیاب بنائیں

سیانے کہتے ہیں کامیاب ہونا مشکل نہیں ہے، بس اپنے اندر کامیاب لوگوں والی عادتیں پیدا کرنا ہوں گی۔ سیانوں کی یہ بات ہم تک انٹرنیٹ کے ذریعے پہنچی، اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ہم نے کامیاب لوگوں کی عادتوں کا کھوج لگایا۔
معلوم ہوا، کہ کامیاب لوگ اپنا (1) ہدف مقرر کرتے ہیں۔
(2) کامیاب لوگوں کی سوچ واضح ہوتی ہے۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے خیالات کو ایک واضح سمت دینے کے لیے وہ اپنے اہداف ایک کاغذ پر (یا کمپیوٹر پر) لکھ لیتے ہیں۔ منصوبے پر عمل سے پہلے وہ لکھ کر اس کی جزئیات پر خوب غور کرتے ہیں۔ یعنی کے منصوبہ کیا ہے، کیا ہدف حاصل کرے گا اور یہ اہداف حاصل کرنے کے لیے کیا اقدامات کرنا ہوں گے۔
(3) کامیاب لوگ نتائج حاصل کرتے ہیں
وہ صرف سوچنے تک ہی محدود نہیں رہتے۔۔۔بلکہ اپنی سوچ پر عمل بھی کرتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے لکھ لیا ہوتا ہے کہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے انہوں نے کون کون سے قدم اٹھانا ہیں، تو اس کے مطابق وہ روزانہ کی بنیاد پر بھی اپنے لیے اہداف مقرر کرتے ہیں اور پھر انہیں پورا کرتے ہیں۔۔۔ نتائج حاصل کرتے ہیں
(4) کامیاب لوگ مسلسل کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے ہیں
(5) وہ اپنے وقت کا بہترین استعمال کرتےہیں
(6) کامیاب لوگ اپنی ترجیحات طے کرتےہیں۔ ترجیحات طے کرنے سے وہ اپنا وقت فالتو کاموں میں ضائع کرنے سے بچ جاتے ہیں
(7) کامیاب لوگ فیصلے کرتے ہیں اور پھر ان پر عمل کرتے ہیں
(8) آج کا کام کل پر نہیں چھوڑتے۔ کوئی کام شروع کرتے ہوئے کسی خوف کا شکار نہیں ہوتے۔
(9) وہ لوگوں سے اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔ لوگوں سے اچھا برتاؤ آپ میں تحمل پیدا کرتا ہے، دوسروں کو سمجھنے اور ان سے سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
(10) کامیاب لوگ اپنی صحت کا خیال رکھتے ہیں
متوازن غذا کھاتے ہیں۔ باقائدگی سے ورزش کرتے ہیں، اور خود کو بھرپور آرام بھی دیتے ہیں۔
(11) وہ ایمان دار ہوتے ہیں ۔۔ اور
(12) وہ ڈسپلن کی پابندی کرتے ہیں
یہ بارہ کی بارہ عادتیں آپ بھی اپنے اندر پیدا کر سکتے ہیں۔ تو ابھی سے فیصلہ کیجیے۔۔۔ ایک لامحدود مستقبل آپ کا انتظار کر رہا ہے

نوٹ: ہم سیلف ہیلپ پر پڑھتے تو تھے ہی، اب اسے بلاگ پر شیئر کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ بلکہ بات کو زیادہ واضح کرنے کی خاطر ویڈیوز بھی بنائی ہیں اور یو ٹیوب پر ایک چینل بھی لانچ کیا ہے۔ (لنک یہ ہے۔۔۔پسند آئے تو سبسکرائب کریں، دوسروں کو بھی اس کا لنک بھیجیں)

کامیاب لوگوں کی 12 عادتیں اس ویڈیو میں بیان کی گئی ہیں


Filed under: کامیابی Tagged: Habits, Motivation, Self Help, Success, Urdu

Pages