نوک جوک

کھوتے اور گینڈے کی کہانی

20171024230126_IMG_0928ایک دفعہ کا ذکر ہے، کھوتا اور گینڈا ایک گھر میں رہنے لگے۔ لوگوں نے باتیں بنائیں تو کھوتے نے اپنی شناخت مٹانے کے لیے رنگ روغن کرا لیا اور خود کو زیبرا کہلوانے لگا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اسے کھوتا ہی کہتے۔
اب ہوا یوں کہ کھوتا روزانہ وزن ڈھوتا اور گینڈا شام ڈھلے تھوڑا بہت گھاس پھونس دے کر اس کا پیٹ بھر دیتا۔ کچھ وقت گزرا تو گینڈے کو محسوس ہوا گھر بیٹھے بیٹھے اس کا وزن بڑھنے لگا ہے۔ لہذا اس نے ورزش کرنے کا سوچنا شروع کر دیا۔ اب روز روز ورزش کے لیے کون گھر سے باہر نکلے، گینڈے نے گھر میں ہی چہل قدمی شروع کر دی۔ کبھی کبھار دل کرتا تو اچھل پھاند بھی کر لیتا۔
گینڈے کی ان حرکتوں سے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ جب اچھلتا، گھر میں بڑا سا ٹویا پڑ جاتا۔ کھوتے کو باہر سے مٹی لا لا کر یہ ٹوئے بھرنے پڑتے۔ لوگ باتیں بناتے تو کھوتا کہتا، "میں ٹوئے بھرنے کی جنگ میں گینڈے کے ساتھ ہوں۔ میں اپنے گھر میں پڑنے والے ٹوئے بھر رہا ہوں، لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟” لوگ کہتے کہ بھائی جان! کھوتے اور گینڈے کے ایک گھر میں رہنے کی تک ہی نہیں بنتی۔ لیکن کھوتا ان کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔
ایک دن گینڈے کو کچھ زیادہ ہی ورزش آئی ہوئی تھی۔ اس نے اچھل اچھل کر گھر اتھل پتھل کر دیا۔ اتنے گہرے گڑھے بن گئے کہ کھوتا ان کو بھرتے بھرتے خود دھنس گیا۔ جب دھنسے ہوئے کھوتے نے مدد کے لیے گینڈے کی طرف دیکھا تو اس نے کہا، "ڈو مور!”


Filed under: شوخیاں Tagged: Humour, Pak US relations

انصاف اور پلاٹ

14 اکتوبر 17 کے روزنامہ دی نیوز میں  خبر چھپی ہے جس کا عنوان ہے اپنے کیس کے خود ہی منصف۔ خبر کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبران کے لیے اسلام آباد میں ایک ہاؤسنگ اسکیم بنائی جا رہی ہے۔ اور سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ ہدایات دے رکھی ہیں کہ اسکیم کے لیے نہ صرف زمین خریدی جائے بلکہ حکومت ہی وہاں ترقیاتی کام بھی کرائے۔ واضح رہے کہ کسی نجی اسکیم کے لیے زمین کی خریداری حکومت کا کام نہیں۔
ویب سائٹ پاکستان 24 ڈاٹ ٹی وی بھی اس بارے میں خبر دے چکی ہے۔ 11 اگست 17 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق وکیل چاہتے ہیں کہ پلاٹ کا رقبہ ایک کنال سے کسی صورت کم نہ ہو۔ اب اسلام آباد میں ہزاروں وکیلوں کے لیے ہزاروں کنال جگہ کہاں سے آئے؟ خبر کے مطابق عدالت عالیہ نے زمین ڈھونڈنے کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہی ڈالی ہے۔ حکومت نے رہائشی اسکیم کےلیے جو جگہ تجویز کی وہاں پہلے ہی لوگ رہائش پذیر ہیں (دی نیوز کے مطابق یہ تعداد بارہ ہزار ہے)۔ خبر کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار یہ کیس سن رہے تھے اور ججوں نے کھل کر سرکاری افسران پر وکیلوں کے لیے زمین حاصل کرنے کا دباؤ ڈالا۔ مجوزہ زمینوں کے مالکان بھی کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ ایک متاثرہ زمین مالک نے کھڑے ہو کر کہا، وکیلوں کے پلاٹوں کے لیے ہم اپنے گھر کیوں گرانے دیں؟ اس دن تو ججز نے خاموش رہ کر یہ بات سن لی لیکن اگلے روز پولیس اہلکاروں نے متاثرہ زمین مالکان کو عدالت کی عمارت میں داخل ہونے سے ہی روک دیا۔ خبر کے مطابق، کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے سرکاری اہلکاروں سے کہا، اگر زمین حاصل کرنے میں تاخیر کی گئی تو سرکاری اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔
اندازہ کریں۔ وکیلوں کی زمین کے لیے سرکاری اہلکاروں کو توہین عدالت کی کارروائی کی دھمکی دی گئی۔ وکیلوں کا خیال کیا گیا، ان کی وجہ سے جو بارہ ہزار افراد اپنے ٹھکانوں سے بے دخل ہوں گے، ان کا کیا ہو گا؟
چند ہزار وکیلوں کےلیے ہزاروں افراد کی چھت چھیننے کے اس منصوبے میں عدالت کی کیا دلچسپی ہے، اور کیا مفاد ہے؟
دی نیوز کی خبر کہتی ہے وکیلوں کی اس ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ کے لیے اپلائی کرنے والوں میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے پچیس جج صاحبان شامل ہیں۔
دی نیوز کی خبر کے مطابق ایک ایسے جج صاحب بھی یہ کیس سنتے رہے جنہوں نے مجوزہ اسکیم میں پلاٹ کے لیے اپلائی بھی کر رکھا تھا۔ گویا خود ہی مدعی، خود ہی منصف۔ دی نیوز نے خبر میں سپریم کورٹ کے ہی ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی فیصلے سے جج کو معمولی سا مالی فائدہ بھی ہو تو وہ جج نااہل ہو گا۔ چاہے یہ ثابت نہ بھی ہو کہ فیصلہ مالی فائدے کی وجہ سے دیا گیا۔
انصاف فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی عدالت حکومت کو ایک ایسا کام کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے جو حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ حکومت سرکاری منصوبوں کےلیے تو زمین حاصل کر سکتی ہے لیکن نجی منصوبے کے لیے ایسا کرنے کا کیوں کہا جا رہا ہے؟ اور سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسکیم کےلیے مجوزہ زمین میں پہلے سے رہائش پذیر بارہ ہزار لوگ انصاف کے لیے کہاں جائیں گے؟


Filed under: ادھراُدھرسے Tagged: Bar Association, Housing Scheme, Islamabad, Judge, Plot, Supreme Court

سہمی سہمی ایک تصویر

IMG_20171012_203920جس وقت ہم نے حجام کے آگے سر تسلیم خم کیا، اس وقت دکان میں رکھے ٹی وی پر ڈرامہ چل رہا تھا۔ زلف تراش کی نظریں اور ہمارے کان ڈرامے پر تھے۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ گھر میں نئی آنے والی بہو ملازماؤں کے ساتھ بدسلوکی کرتی ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھ رہی تھی، حجام کا انہماک بھی بڑھ رہا تھا (ڈرامے میں)۔ ڈرامے کے معاملات میں تیزی آئی تو ہمارے سر پر چلتی قینچی کی ‘کھچ کھچ’ بھی تیز ہوتی گئی۔
گویا پہلے قینچی کی تال کچھ یوں تھی۔۔۔ کھچ کھچ کھڑچ، کھچ کھچ کھڑچ۔ کھڑچ کی آواز تب آتی جب قینچی ہمارے بالوں کی کسی لٹ پر حملہ آور ہوتی اور اسے کاٹ پھینکتی۔ بعد میں تال یوں ہوتی گئی۔۔۔ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ۔ سین جذباتی ہو جاتا تو قینچی کی لے یوں ہوتی۔۔۔ کھچ کھچا کھچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچا کھڑچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچ کھچ کھچ۔۔۔ ڈرامے کے مرکزی کردار کو غصہ آتا تو قینچی کہتی۔۔۔ کھڑچ کھڑچ کھڑچ کھچ۔
یعنی کہیں تو قینچی ہوا میں غیر موجود بالوں پر بھی تلوار کی طرح پھر گئی اور کہیں ہمارے کان کاٹتے کاٹتے رہ گئی۔
جب کہانی عین کلائیمکس پر پہنچ گئی تو حجام نے ہاتھ میں موجود قینچی چھوڑ کر استرا پکڑ لیا۔ ہماری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ قلمیں تراشنے کو اٹھنے والا استرا کہیں سر ہی قلم نہ کر دے، اس فکر میں ڈرامہ لکھنے والے بنانے والے اور چلانے والے کو خوب کوسا۔ جس وقت گھبرا کر ہم نے آنکھیں بند کیں اس وقت سامنے شیشے میں اپنے جیسا ایک ہیولا خزاں رسیدہ زرد پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
جب ڈرامہ ختم ہوا اور اشتہار شروع ہوئے تو ہم نے آنکھیں کھولیں۔ اعضاء تو سب سلامت تھے، البتہ بالوں کی سفیدی مزید بڑھ چکی تھی۔ اب ہمارا مطالبہ ہے حجام کی دکان میں ٹی وی پر پابندی لگا دی جائے۔ بلکہ ووٹ بھی اسی سیاسی جماعت کو دیں گے جو ہمارے مطالبے کو قانون بنائے گی۔
قصہ سنانے کا مقصد یہ تھا کہ تصویر میں جو ہم گھبرائے گھبرائے نظر آتے ہیں، اس کی وجہ کچھ اور نہ سمجھی جائے۔


Filed under: خواہ مخواہ, شوخیاں Tagged: Haircut

حادثہ ہو گیا

ایک سڑک سے بائیں ہاتھ دوسری سڑک کو مڑے تو پیچھے آنے والے موٹرسائیکل سوار نے بائیں جانب سے ہی اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی۔ ہماری گاڑی ابھی موڑ کاٹ ہی رہی تھی کہ وہ ہم سے آن ٹکرائے۔ ٹکر کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار، ان کی اہلیہ اور تین بچے گر گئے۔
ڈرائیونگ سیٹ پر اہلیہ تھیں، ابھی تربیتی لائسنس ملا تھا، اور گاڑی چلانے کی مشق جاری تھی۔ شاید موڑ کاٹنے کے بعد ان سے گاڑی بروقت سیدھی نہ ہوئی اور حادثہ پیش آیا،  یہ سوچ کر ہم نے موٹرسائیکل سوار، ان کے بچوں اور اہلیہ سے معذرت کی۔
وہ صاحب الجھنے لگے کہ اگر کوئی سنجیدہ نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔ ہم نے بارہا معذرت کی، لیکن وہ یہی کہتے گئے کہ آپ کی معذرت سے کیا ہوتا ہے، اگر کوئی نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔
اس منطق کا جواب ہمارے پاس نہ تھا۔ دل سے معذرت خواہ تھے، ان کو لگنے والی خراشوں پر رنجیدہ تھے، ان کا کوئی نقصان ہوا تھا تو بھرنے کو تیار تھے، معذرت کے سوا کچھ کر نہ سکتے تھے۔ ان سے عرض کی، بھیا جب ہماری معذرت آپ کو قبول نہیں تو ہمارے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کیجیے۔ ہمارا جرم ہے تو سزا دلوائیے۔
یہ سنتے ہی انہوں نے فون نکالا اور نمبر ٹٹولنے لگے۔ ساٹھ بڑبڑاتے جاتے، اس رپورٹر کا کیا نمبر تھا۔۔۔ میں نے سوچا شاید رپورٹر سے ون فائیو کا نمبر پوچھنے لگے ہیں۔ اتنی دیر میں کال مل گئی۔ کہنے لگے، میں فلاں جگہ کھڑا ہوں فوراً ڈی ایس این جی بھیجو (ڈی ایس این جی میڈیا کی اس گاڑی کو کہتے ہیں جو سیٹلائٹ سے منسلک ہو جاتی ہے۔ کسی مقام سے ٹیلی وژن نشریات براہ راست دکھانے کے لیے اس گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے)
جب ہم نے بات قانون کے ہاتھ سے نکل کر میڈیا کے ہاتھ میں جاتے دیکھی تو خاموش کھڑے ہو گئے اور معاملات تقدیر کے سپرد کر دیے۔ ابھی ٹی وی چینل کی گاڑی پہنچی نہ تھی کہ ان کی اہلیہ نے انہیں بات ختم کرنے پر قائل کر لیا۔ ہم نے ایک بار پھر معذرت کی، شکریہ ادا کیا اور گھر روانہ ہوئے۔ جلدی میں ان کا نام تک پوچھنا یاد نہ رہا۔ حادثے پر اب بھی افسوس ہے۔ اللہ انہیں اور اہل خانہ کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین


Filed under: یاد ماضی Tagged: Accident, Lahore, Pakistan

ہلیری کلنٹن کے ساتھ کیا ہوا

گہری سانس لو، اپنے پھیپھڑوں کو ہوا سے بھر لو، اس وقت صبر کرنا ہی مناسب ہے، بعد میں رو لینا۔
ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بننے کے بعد حلف اٹھا رہے تھے تو اس وقت ان سے مات کھانے والی ہلیری کلنٹن کے دل و دماغ میں انہی خیالات کی یلغار تھی۔
امریکا کی سابق وزیر خارجہ، اور صدارتی انتخاب ہارنے والی خاتون ہلیری کلنٹن کی نئی کتاب پڑھنا شروع کی ہے۔ ہلیری ایک مضبوط hillaryامیدوار تھیں، انتخابات میں ان کی شکست پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے کتاب کا نام رکھا گیا ہے
What happened
یعنی کہ کیا ہوا؟ کتاب کا آغاز حیریٹ ٹب مین کے ان جملوں سے ہوتا ہے
اگر تم تھک چکے ہو، چلتے رہو
اگر تم خوف زدہ ہو، چلتے رہو
اگر تم بھوکے ہو، چلتے رہو
اگر تم آزادی چاہتے ہو، چلتے رہو
پہلا باب ہی پڑھ پایا ہوں، اور ابھی تک تو یہی لگ رہا ہے کہ بی بی نے کتاب لکھ کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی ہے۔
تعارفی کلمات میں رقم طراز ہیں
یہ سب لکھنا آسان نہ تھا، میں جانتی تھی کہ کروڑوں لوگ مجھ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اور میں انہیں مایوس کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ لیکن میں نے کر دیا۔
ابتدائی کلمات میں ہی روس کی جانب بھی انگلیاں اٹھا دی ہیں۔ ڈائیریکٹر ایف بی آئی پر بھی مداخلت کا الزام لگایا۔ ای میلز لیک ہونے کی خبر کو اچھالنے پر میڈیا سے بھی شکوہ کیا۔
لکھا ہے، "مجھے یقین تھا کہ ٹرمپ ملک اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ وہ  بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھا چکا تھا۔ ہمارے ساتھ مذاق ہو چکا تھا۔ "

پس تحریر: فرصت اور شوق برقرار رہنے کی دعا کیجیے، باقی کتاب کا نچوڑ بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہلیری کلنٹن اس سے پہلے "سخت فیصلے” کے عنوان سے ایک کتاب لکھ چکی ہیں۔ اس میں پاکستان کے بارے میں  باب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔


Filed under: کتابوں کی باتیں Tagged: Book, Hillary Clinton, Review, Summary, Urdu, What Happened

کرنٹ افیئر پروگرام کا ‘پرومو’ بنانے کا فارمولا

اگر آپ کرنٹ افیئر، یعنی حالات حاضرہ پر مبنی پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں تو اس کی تشہیر کے لیے بھی آپ کو ایک ویڈیو بنانا ہو گی۔ اس تشہیری ویڈیو کو میڈیا کی زبان میں پرومو کہا جاتا ہے (جو پروموشن سے نکلا ہے)۔
تو ایسا پرومو بنانے کا بہت سادہ سا فارمولا ہے۔
سب سے پہلے پروگرام کے اینکر کو شہر کی سڑکوں پر گواچی گاں کی طرح پھرتے ہوئے دکھائیں۔
اسے شہر کی کسی تاریخی یا اہم عمارت میں داخل اور خارج ہوتے دکھائیں۔ یا اینکر کو کسی بہت ہی اونچی عمارت پر لے جائیں جہاں کھڑا ہو کر وہ شہر کو غور سے دیکھے (اور دل میں سوچے کہ کہیں شاٹ بنوانے کے بعد پروڈیوسر دھکا تو نہیں دے گا)۔
اینکر کو کسی لائبریری لے جائیں، یہاں وہ کتابوں سے بھری الماری سے سب سے موٹی کتاب نکالے اور یوں پڑھنے لگے جیسے سی ایس ایس کی تیاری کر رہا ہے۔
کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ اسے نوٹس لیتے ہوئے بھی دکھائیں۔
ایسا شاٹ بھی ضروری ہے جس میں اینکر اخبار پڑھے اور کسی اہم خبر کے گرد دائرہ لگائے۔
اس کے بعد کسی تاریک سے کمرے میں اینکر کو لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے ہوئے دکھائیں ۔۔۔ ٹائپنگ کرتی انگلیوں کے کلوز شاٹس بھی لیں۔
اگر آپ کا اینکر چشمہ پہنتا ہے تو یہ آپ کی خوش نصیبی ہے۔ چشمے کا کلوز اپ لیں، اینکر کو چشمہ اتارتے یا پہنتے دکھائیں۔ لیپ ٹاپ اسکرین کا عکس چشمے پر پڑ رہا ہو، یہ شاٹ تو مس کیا ہی نہیں جا سکتا۔
اینکر کو کوٹ پینٹ پہنا کر کیمرے کے سامنے تھوڑا ٹیڑھا کر کے کھڑا کر دیں۔ وہ اپنے بازو سمیٹ کر سینے پر باندھ لے (جیسے سردی لگنے پر کیا جاتا ہے) اور کیمرے کو غصے سے دیکھے۔
ایسا شاٹ ضرور لیں جس میں اینکر نے اپنی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھا ہو اور کچھ سوچ رہا ہو۔
اینکر فون کر رہا ہو، یا سن رہا ہو ۔۔۔ ایک آدھا ایسا شاٹ بھی لے چھوڑیں۔
پروگرام پروڈکشن سے متعلق بھی کچھ شاٹ لے لیں، جیسے کہ آڈیو کنسول پر جلتی بجھتی بتیاں، وڈیو مکسر پر بٹن دباتے ہاتھ ۔۔۔ ایسے شاٹ آپ کے پرومو میں ایک تکنیکی سا تاثر چھوڑ دیں گے۔
اب آپ کا پرومو تیار ہے، بس پس منظر میں اینکر کی آواز میں کچھ بے مقصد جملے بلوائیں۔ یہ جملے چاہے کسی کی سمجھ میں نہ آئیں لیکن اتنا ضرور پتہ چل جائے کہ آنے والے پروگرام میں اینکر نے کوئی بہت ہی کمال کر دینا ہے۔ اگر آپ کے اینکر پہلے ہی کوئی کمال وغیرہ کر چکے ہیں تو اس کا ذکر ضرور کریں ۔۔۔ اور یہ بھی کہ غیر جانبدارانہ تجزیہ تو صرف ہم ہی دے سکتے ہیں دوسرا کوئی نہیں، اور یہ کہ اپنے پروگرام میں جو آپ بتائیں گے وہ کوئی دوسرا تو بتا ہی نہیں سکتا۔
اب اس ملغوبے کو تیز آنچ پر پکائیں، یعنی تیز میوزک کے ساتھ جلدی جلدی ایڈٹ کریں اور ناظرین کے سامنے پیش کر دیں۔

یہ  بھی پڑھیں: اینکروں کی اقسام


Filed under: پروڈیوسر کی ڈائری Tagged: Humour, Journalism, Media, Pakistan

گریٹر اقبال پارک کی سیر

ایک زمانہ تھا جب اقبال پارک گریٹر نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ اقبال پارک جانا ہو تو ویگن والے سے کہا جاتا تھا، بھائی یادگار پر اتار دینا۔ اور یہ 20170901155415_IMG_0539وہی جگہ ہے جہاں برسوں پہلے ایک یار عزیز نے راہ چلتے شخص سے پوچھا تھا، یادگار کتھے وے۔ اور اس نے مینار پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا، ایدھر ویخھو پائین۔ او کھڑی اے (ادھر دیکھیں بھائی جان، وہاں کھڑی ہے)
اب تو صاحب اس پارک کو وسعت دی جا چکی ہے۔ گاڑیوں کے لیے پارکنگ فراخ بھی ہے اور مفت بھی۔ مینار پاکستان، بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ۔۔۔ سبھی کو ایک احاطے میں سمو دیا گیا ہے۔ مینار پاکستان دیکھنے کے بعد ٹریفک میں سے بچتے بچاتے پھلانگے جھپٹتے سڑک نہیں پار کرنی پڑتی بلکہ خوبصورت روشوں سے ہوتے ہوئے پہنچا جا سکتا ہے۔
پارک خوبصورت تو ہے، لیکن اگر آپ نے میڈیا کے ڈرون کیمروں کے ذریعے اس کے مناظر دیکھ کر یہاں کا رخ کیا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھیے گا جو منظر ڈرون سے نظر آتا ہے وہ آپ زمین پر کھڑے ہو کر نہ دیکھ پائیں گے۔
مینار پاکستان کے اطراف کھدائی ہو چکی ہے، مشینری کھڑی ہے۔ ہمیں فکر ہوئی کہ یہاں سے کوئی انڈر پاس نکالنے کا تو منصوبہ نہیں۔ 20170901160607_IMG_0551ایک شخص دکھا، جو تھا تو سادہ کپڑوں میں لیکن انتظامیہ کا معلوم پڑتا تھا۔ اس نے کہا یہاں جھیل بنائی جائے گی۔ ویسے ایک جھیل پہلے بھی موجود ہے جس کی لہروں میں پاکستان کا پرچم لہراتا ہے۔
آپ مینار پاکستان کو دیکھ تو سکتے ہیں لیکن اس کے قریب نہیں جا سکتے۔ مینار پاکستان کے گرد لوہے کی باڑ لگا دی گئی ہے۔ اور یہ بندش آج سے نہیں کئی سال سے ہے۔ پہلے مینار کے چبوترے کے گرد خاردار تار لگائی گئی تھی۔ دل کے ساتھ ساتھ نظروں کو بھی بھلی نہیں لگتی تھی۔ اب مینار پاکستان کو ایک خوبصورت جنگلے میں مقید کر دیا گیا ہے۔
یہاں شاہی قلعے کے ساتھ ساتھ ہوائی قلعہ بھی موجود ہے۔ اس میں ہوا بھری ہوتی ہے اور بچے اچھلتے پھرتے ہیں۔ ہوائی قلعے کا رکھوالا 20170901165346_IMG_0638بھی ایک بچہ ہی ہے۔ اسے فی بچہ پچاس روپے دیجیے اور پھر اپنے شہزادے شہزادیوں کو اچھلنے کودنے کی اجازت ملے گی۔
صاحب، اگر ابھی تک آپ نے گریٹر اقبال پارک نہیں دیکھا تو پہلی فرصت میں یہاں آنے کا منصوبہ بنائیے، اچھا وقت گزرے گا۔


Filed under: خواہ مخواہ Tagged: Greater Iqbal Park, Lahore

یادگار دیکھنی ہے تو دور سے دیکھیں

آپ کے علم میں ہو گا 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ اس قرارداد کی یاد میں لاہور کے 20170901161849_IMG_0563اسی مقام پر ایک مینار تعمیر کیا گیا، جو مینار پاکستان کہلایا۔
اب آپ اپنے وطن کی یادگار دیکھنا چاہیں تو گریٹر اقبال پارک کا رخ کریں، یہاں آپ کو مینار پاکستان ایستادہ نظر آئے گا، لیکن آپ اس کے قریب نہ جا سکیں گے۔ مینار پاکستان کے گرد لوہے کی باڑ لگا دی گئی ہے۔ اور یہ بندش آج سے نہیں کئی سال سے ہے۔ پہلے مینار کے چبوترے کے گرد خاردار تار لگائی گئی تھی۔ دل کے ساتھ ساتھ نظروں کو بھی بھلی نہیں لگتی تھی۔ اب مینار پاکستان کو ایک خوبصورت جنگلے میں مقید کر دیا گیا ہے۔
کیسی بات ہے۔۔۔ قرار داد پاکستان کی یاد میں بنایا گیا مینار آج پاکستانیوں کے لیے ہی بند ہے۔ مینار پاکستان کی دیواروں پر قرار داد پاکستان کا متن بھی آویزاں ہے، اور سنا ہے اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی زبان میں بھی۔۔۔ اب کسی نے قرارداد پڑھنی ہے تو گھر سے پڑھ کر آئے۔
پاکستان اس لیے بنایا گیا تھا کہ مسلمانوں کو ہندوؤں سے خطرہ تھا، اور آج یاد گار پاکستان کو پاکستانیوں سے خطرہ ہے۔
اگر آپ اچھے وقتوں میں مینار کا قرب حاصل کر چکے ہیں تو خوش نصیب ہیں۔ اس میں نصب سنگ مرمر کی ٹھنڈک اپنے وجود میں جذب کی ہے تو بختاور ہیں، اس کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر تصویر بنوائی ہے تو اقبال مند ہیں۔ سنا ہے مینار کا نچلاحصہ پھول کی پتیوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ رکھتا ہو گا بھئی، اب یہ پھول ٹچ می ناٹ بن چکا ہے۔


Filed under: خواہ مخواہ Tagged: Lahore, Minar-e-Pakistan

نیشنل جیوگرافک میں پاکستانی ٹی وی کا صحافی

ایک دفعہ پاکستان کے ٹی وی نیوز چینلز میں کام کرنے والا صحافی نیشنل جیوگرافک میں بھرتی ہو گیا۔
وہاں جا کر اس نے وخت ڈال دیا۔ ہر وقت جلدی مچائے رکھتا۔ نہ ڈھنگ سے ایڈیٹنگ کرنے دیتا نہ کہانی کے ربط کا خیال رکھتا۔ بس جو فوٹیج جیسے ملتی اسے وہیں جوڑ جاڑ کر نشر کر دیتا۔ ایک کہانی چلنے کے دوران کوئی نئی آ جاتی تو پہلی روک کر دوسری چلا دیتا۔ نہ اسے کچھ سمجھ آتی نہ دیکھنے والوں کو۔ ہاتھی پر دستاویزی فلم چلی تو اس میں چوہوں کے شاٹ بھی لگے ہوئے تھے۔ افسروں نے پوچھا کہ یہ کیا؟ کہنے لگا فوٹیج آئی تھی میں نے سوچا اچھی ہے، ابھی نہ چلائی تو ضائع ہو جائے گی۔ ایک بار ہائی ریزولوشن فلم میں وٹس ایپ سے آئی فوٹیج ٹھوک دی۔ پوچھا گیا تو بتایا کہ نمائندے نے بھیجی تھی، کہیں تو استعمال کرنی تھی نا! افسر اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ ہر آئی ہوئی چیز چلانے والی نہیں ہوتی، تمہیں یہاں اس لیے نہیں رکھا کہ جو آئے چلا دو۔ بلکہ تمہارا کام چھانٹی کرنا ہے اور صرف بہترین چیز نشر کرنا ہے۔ لیکن خبری صحافی کو اپنے افسروں کی بات سمجھ نہ آتی۔
ایک بار شیر کی تصویر آئی۔ اس نے ‘بریکنگ نیوز’ چلا دی، یہ شیر شکار کرنے کا ‘سوچ’ رہا ہے۔ پوچھا گیا کہ بھئی آپ نے شیر سے ٹیلی پیتھی کب کی؟ اور اس میں بریکنگ نیوز کی کیا بات تھی؟ کہنے لگا اب تصویر آئی تھی تو کسی طرح تو چلانی تھی نا۔
ایک بار چیتوں پر دستاویزی فلم چل رہی تھی، چیتا اپنے شکار پر جھپٹنے کو تھا کہ ایک دم زیبروں کی فوٹیج چلنے لگی۔ پوچھا گیا تو کہا میں نے ایک وقت میں دو کہانیاں ‘بھگتا’ دیں، اچھا نہیں کیا؟ افسروں نے پھر سر پیٹ لیا۔ سمجھایا گیا کہ کہانی بھگتاتے نہیں، بتاتے ہیں۔ لیکن صحافی کو کچھ سمجھ نہ آئی۔
تنگ آ کر اسے فیلڈ میں بھیج دیا گیا۔ یہاں اس نے ہیڈ آفس والوں کے ساتھ ساتھ جنگل کے جانوروں کو بھی وخت ڈال دیا۔ وہ جوہڑ پر پانی پی رہے ہوتے تو انہیں کہتا ہاتھ اٹھا کر مظاہرہ کرو میں نے فوٹیج بنانی ہے۔
وٹس ایپ گروپ میں جو فوٹیج آتی وہ ہیڈ آفس بھیج دیتا اور اسے نشر کرنے کا مطالبہ کرتا۔ اپنی ہر فوٹیج کو ایکسکلوژو کہتا۔
اسے جو کام کرنے کو کہا جاتا وہ ٹوٹل پورا کر کے واپس آ جاتا۔ بندروں کی رپورٹ بنانے بھیجا جاتا تو چیونٹیوں کی فوٹیج بنا لاتا اور کہتا آج تو جنگل سے یہی کچھ ملا ہے۔ زرافے کی معدوم ہوتی نسل پر رپورٹ بنا کر لایا تو اس میں زرافے کا موقف ہی نہیں تھا۔
بعد میں تو فیلڈ میں جانا بالکل ہی چھوڑ دیا، کیمرہ مین خود ہی جا کر فوٹیج بنا لاتا۔
آخر کار اسے واپس نیوز چینل بھیج دیا گیا۔ یہاں آ کر وہ ‘فوری صحافت’ کا عملی مظاہرہ کرتا ہے، اور اب اس کی ‘ایڈیٹوریل ججمنٹ’ پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔


Filed under: پروڈیوسر کی ڈائری, شوخیاں Tagged: Journalism, Pakistan, Television

پرانا کچھوا نیا خرگوش

چڑیا گھر کی سیر کو گئے تو کچھوے سے ملاقات ہوئی۔ وہ اسی رفتار سے چل رہا تھا جس رفتار سے کئی سال سے ہماری تنخواہ چل رہی ہے۔۔۔ یعنی ایک ہی جگہ کھڑا تھا۔
ہم نے پوچھا، بھئی کہانی میں تو آپ مستقل مزاجی سے چلتے رہتے ہیں اور ریس جیت جاتے ہیں، یہاں خرگوش کی طرح لمبی تان کر کیوں سو رہے ہیں؟
کچھوا مایوسی سے بولا، بھائی عمیر! میں چلتا رہوں یا رک جاؤں۔۔۔ منزل مجھے ملنی ہے نہ ہی خرگوش کو۔
قریب کے پنجرے میں خرگوش بھی ہماری باتیں سن رہا تھا۔ کہنے لگا، منزل چاہے نہ ملے لیکن چھلانگیں وغیرہ لگانے سے بندے کی ٹور شور بن جاتی ہے۔
ساتھ والے پنجرے سے بندر بولا، چھلانگیں تو میں بھی بڑی بڑی لگاتا ہوں، میری ٹور کیوں نہیں بنتی؟
خرگوش نے کہا، جو ایک ہی جگہ کھڑا ہو کر چھلانگیں لگاتا رہے، اس کی ٹور نہیں بنتی۔۔۔ جو چھلانگ لگا کر آگے بڑھ جائے اس کی بن جاتی ہے۔


Filed under: مختصر ترین کہانیاں Tagged: Short-Story, Urdu

چلیے سازشی نظریات گھڑتے ہیں

بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں ‘ایک قوت’ فیصلہ کر چکی تھی کہ نواز شریف کو گھر بھیجنا ہے۔ سپریم کورٹ نے تو بس اس فیصلے پر اپنے دست خط کیے ہیں۔
پانامہ کیس اربوں روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا تھا، لیکن نواز شریف کو سزا چند لاکھ کے اثاثے چھپانے پر سنائی گئی ہے۔ یہ چند لاکھ بھی وہ ہیں جو وصول ہی نہیں کیے گئے۔
اثاثے کی تعریف بھی توجہ طلب ہے۔ اگر میں نے کسی کے لیے کچھ خدمات سرانجام دیں۔ اب اس فرد نے مجھے رقم کی ادائیگی کرنی ہے لیکن تاحال کی نہیں۔ تو کیا وہ رقم، جو ابھی ملی ہی نہیں، میرا اثاثہ ہے؟
کسی چیز کو چھپایا اس صورت جاتا ہے جب سامنے آنے سے نقصان ہو۔ نواز شریف دبئی کمپنی میں چیئرمینی تسلیم کر چکے تھے، تنخواہ وصولی بھی تسلیم کر لیتے تو کچھ پکڑ نہ ہوتی۔ لہذا غیر وصول شدہ آمدن ظاہر نہ کرنے میں غلطی تو ہو سکتی ہے، بدنیتی نہیں۔
اسی بات کو بطور ثبوت پیش کیا جا رہا ہے کہ چونکہ ‘ایک قوت’ ہر صورت نواز شریف کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کر چکی تھی لہذا سپریم کورٹ نے کمزور قانونی جواز تراشتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا۔
بات قرین قیاس تو لگتی ہے، لیکن یہ بھی سوچیے کہ نااہل قرار دینے کے لیے مضبوط جواز کے ہوتے ہوئے کمزور وجہ کیوں استعمال کی گئی؟ الزام منی لانڈرنگ کا تھا نااہل اس رقم پر کیا گیا جو وصول ہی نہیں کی۔ اگر عدالت کہتی کہ نواز شریف اور ان کے بچوں کے اثاثے آمدنی سے زیادہ ہیں، رقم کی ملک سے باہر منتقلی کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنے کے شواہد نہیں ملے، عدالت میں پیش کی گئی چند دستاویزات میں رد و بدل کیا گیا ۔۔۔ اس لیے آپ کو کرپشن، منی لانڈرنگ اور جعل سازی کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی جاتی ہے۔ سوچیے، اگر یہ فیصلہ ہوتا تو کون اس کا دفاع کر سکتا؟ عدالتی کارروائی پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ نواز شریف رقوم کی جائز طریقے سے منتقلی ثابت کرنے کے لیے قابل یقین منی ٹریل نہیں دے سکے۔ اس بنیاد پر نااہل قرار دیا جاتا تو فیصلے پر اٹھنے والی انگلیوں کی تعداد کہیں کم ہوتی۔ وزیر اعظم کرپشن پر نااہل ہوتے تو کون ‘ایک قوت’ کا نام لیتا؟
تو کہیں یہ سب ایک سازش تو نہیں؟ کمزور جواز پر نااہلی سے کیا درپردہ شریف خاندان کو فائدہ تو نہیں پہنچایا گیا؟ کرپشن پر گھر بھیجے جاتے تو سیاسی شہادت نہ ملتی، غیر وصول شدہ رقم پر گھر بھیجے گئے ہیں تو سیاسی شہادت کی ہمدردیاں بھی مل گئی ہیں۔
یا پھر سازش یہ ہے اس کی لپیٹ میں دیگر سیاست دانوں کو بھی لایا جائے گا؟
سوچ رہا ہوں کہ اگر سازش ہوئی ہے تو ن لیگیوں کے ساتھ ہوئی ہے یا انسافیوں کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے؟
سازش کرنی ہی تھی تو کئی گنا مضبوط جواز کے ہوتے ہوئے انتہائی کمزور وجہ کیوں تلاش کی گئی؟
اور وہ سازش بھی کیا سازش ہوئی جس کا سب کو پتہ چل جائے؟


Filed under: افلاطونیاں Tagged: Case, Conspiracy, Pakistan, Panama, Supreme Court, Verdict

پانامہ فیصلہ، جو میں نے سمجھا

سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ آئی وہ یہ ہے
نواز شریف دبئی میں ایک کمپنی کے چیئرمین تھے۔ چیئرمین کے طور پر ان کی (کاغذوں کی حد تک) کچھ تنخواہ مقرر تھی جو انہوں نے کبھی وصول نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے، چاہے نواز شریف نے تنخواہ وصول نہ کی ہو لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گئے گوشواروں میں غیر وصول شدہ تنخواہ کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ چونکہ نواز شریف نے ایسا نہیں کیا، لہذا وہ صادق اور امین بھی نہیں رہے، اور نااہل کیے جاتے ہیں۔
نواز شریف کو آئین پاکستان کی شق 62 (1) ف کے تحت نااہل کیا گیا ہے۔ اس شق کے مطابق کوئی بھی شخص صرف اسی صورت پارلیمنٹ کا ممبر بن سکتا ہے (یا رہ سکتا ہے) اگر وہ
عقل مند ہو، نیک ہو، فضول خرچ نہ ہو، صادق ہو اور امین ہو۔
فیصلہ پڑھنے کے بعد ایک بات سمجھنے سے قاصر ہوں۔ پانامہ کیس شروع ہی اس انکشاف کے بعد ہوا کہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی پانامہ میں آف شور کمپنیاں ہیں۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ اثاثے بنانے کے لیے رقوم کی منتقلی میں کرپشن کی گئی۔ نواز خاندان کا موقف تھا بیرون ملک اثاثے جائز آمدنی سے بنائے گئے۔
کیس سپریم کورٹ میں گیا تو نواز خاندان سے پوچھا گیا، گلف اسٹیل مل کیسے بنی؟ رقم جدہ، قطر اور برطانیہ کیسے پہنچی؟ نواز شریف کے بچے کم عمری میں لندن فلیٹس کے مالک کیسے بنے؟ برطانیہ میں کمپنیاں بنانے کے لیے رقم کہاں سے گئی اور کیسے گئی؟
سپریم کورٹ نواز خاندان کی وضاحت سے مطمئن نہ ہوئی تو انہی سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔ یہ ٹیم بھی اس نتیجے پر پہنچی کہ نواز شریف اور ان کے بچوں کے اثاثے ان کے وسائل سے بڑھ کر ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے یہ کھوج بھی لگایا کہ نواز شریف کی صاحب زادی مریم نواز ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کی مالکن تھیں لیکن دستاویزات میں جعل سازی کر کے انہیں صرف ٹرسٹی دکھایا گیا۔
یہ کیس کرپشن، منی لانڈرنگ، جعل سازی اور جھوٹ کا تھا۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے لندن کی جائیدادوں، آمدن سے زائد اثاثوں اور کرپشن کی تحقیقات کا حکم تو نیب کو دے دیا ہے۔ لیکن نواز شریف کو جس بات پر نااہل قرار دیا گیا ہے اس بات کا پورے فسانے میں کہیں ذکر ہی نہ تھا۔
یہ ایسے ہی ہے کہ کسی شخص نے مجھ سے قرض لے رکھا ہو، اور میں ان پیسوں کا (جو واجب الادا ہیں لیکن مجھے ملے نہیں) اپنے ٹیکس گوشواروں میں ذکر ہی نہ کروں۔
پانامہ کیس میں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کوئی قابل یقین منی ٹریل پیش نہیں کر سکے۔ لندن جائیدادیں کن ذرائع سے بنائی گئیں، اس کی بھی مناسب وضاحت نہ آئی۔ سپریم کورٹ میں ان کے پیش کردہ دلائل سن کر واضح محسوس ہوتا تھا کہ دال میں بہت زیادہ کالا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر تو کوئی فیصلہ دینے کے بجائے مزید تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، لیکن بظاہر ایک بہت ہی معمولی سی تکنیکی غلطی پر نواز شریف کو جھوٹا اور خائن قرار دیتے ہوئے گھر بھیج دیا ہے۔ اگر سپریم کورٹ اثاثوں پر وضاحت سے مطمئن نہ تھی تو اسی بنیاد پر نواز شریف کے خلاف فیصلہ دے سکتی تھی (جیسے 20 اپریل کو دو ججز نے دیا)۔
گویا نواز شریف نے اگر کچھ چھپایا ہے اس پر نااہل نہیں ہوئے، بلکہ جو کچھ بتایا ہے اس پر فارغ کر دیے گئے ہیں۔ گویا نواز شریف کرپٹ ہیں یا نہیں؟ اس کی تو تحقیقات ہوں گی، لیکن یہ طے ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں۔
مجھے اپنی قانون دانی اور انگریزی میں کمی کا اعتراف ہے، لہذا فیصلہ سمجھنے میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو رہنمائی فرمائیے گا۔


Filed under: افلاطونیاں Tagged: Decision, Panama, Supreme Court, Urdu

ایسی گرل فرینڈ کسی کی نہ ہو

اپنی زندگی کے آخری دن، اٹھارہ سالہ امریکی نوجوان کانریڈ رائے کو موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوا
"تم کر سکتے ہو، اس بارے میں سوچو مت، بس کر گزرو!”
یہ پیغام بھیجنے والی لڑکی کانریڈ کی سترہ سالہ دوست مشیل کارٹر تھی، اور کانریڈ کو خودکشی کی ترغیب دے رہی تھی۔ اگلے روز کانریڈ کی لاش اس کی گاڑی سے ملی۔ دم گھٹنے سے اس کی موت ہو چکی تھی۔

یہ واقعہ 2014 میں پیش آیا۔ اب مشیل پر مقدمہ چل رہا ہے کہ اس نے اپنے دوست کو خودکشی پر اکسایا۔ کانریڈ کے والدین میں علیحدگی ہو چکی تھی اور وہ 2012 میں بھی خودکشی کی کوشش کر چکا تھا۔
ایک روز اس نے اپنی دوست کو موبائل پر پیغام بھیجا، "مجھے اپنے ماضی پر افسوس ہے، میں اس وجہ سے پریشان رہتا ہوں۔”
مشیل کا جواب تھا، "خودکشی کر لو۔” اس پر کانریڈ نے لکھا، "کیا مجھے کر لینی چاہیے؟”
مشیل کارٹر صاحبہ تو پکی ہی ہو گئیں، اور ہر حال میں کانریڈ کو خودکشی کرانے پر تل گئیں۔ اسے خودکشی پر اکسانے، بلکہ مجبور کرنے لگیں۔
دونوں کے درمیان موبائل فون پیغامات پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کانریڈ مرنا نہیں چاہتا تھا، صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا، تاہم مشیل صاحبہ نے کہا اس سے تکلیف تو ختم نہیں ہو گی۔ بعد میں انہوں نے مشورہ دیا، انٹرنیٹ پر کاربن مونو آکسائیڈ پیدا کرنے کے طریقے دیکھو۔ کانریڈ نے انٹرنیٹ سرچ کے بعد بتایا، ایک جنریٹر سے یہ کام ہو سکتا ہے۔ (یعنی کسی بند جگہ پر جنریٹر چلایا جائے، جس سے کاربن مونو آکسائیڈ پیدا ہو گی اور اس کی جان لے لے گی)۔
بعد کے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کانریڈ خودکشی کے بارے میں سنجیدہ نہ تھا (بس بات منہ سے نکال کر پھنس چکا تھا)، لیکن مشیل روز اس سے پوچھتی۔ کانریڈ پس و پیش سے کام لیتا تو مشیل کہتی، "لگتا ہے تم اس معاملے میں سنجیدہ نہیں، ہر روز تم کہتے ہو کہ آج (خودکشی) کروں گا لیکن پھر ٹال دیتے ہو۔ مجھے یقین ہے تم کوئی نہ کوئی بہانہ بناؤ گے۔”
پھر پوچھا، "کیا تم نے جنریٹر حاصل کر لیا؟”
کانریڈ نے کہا، "ابھی نہیں،” تو (چڑ کر) پوچھنے لگیں آخر کب لو گے؟ اور دیکھو کہیں پکڑے نہ جانا۔
اس مرحلے پر کانریڈ کو اپنے والدین کا خیال آیا، یا خودکشی سے بچنے کو کہنے لگا، ان کا کیا بنے گا؟ تو مشیل صاحبہ تسلیاں دیتے ہوئے کہنے لگیں، "انہیں دکھ تو ہو گا لیکن آخر کار وہ اسے تسلیم کر لیں گے۔ انسان کی زندگی میں وہ نقطہ (مقام) آتا ہے جب وہ خود بھی اپنی مدد نہیں کر سکتا۔ میرا خیال ہے تمہارے والدین کے علم میں ہو گا کہ تمہاری زندگی میں وہ نقطہ آ چکا ہے۔ ایک بار تم نے بتایا تھا کہ تماری والدہ نے تمہارے کمپیوٹر پر خودکشی سے متعلق مواد دیکھا تھا اور تمہیں کچھ نہ کہا تھا۔ میرا خیال ہے ان کے علم میں ہے کہ تم خودکشی کے بارے میں سوچ رہے ہو اور وہ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہیں۔”
پیغامات سے واضح پتہ چلتا ہے کانریڈ خودکشی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ایک مرحلے پر اس نے کہا، "میں کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔ جو کوئی بھی دروازہ کھولے گا، کاربن مونو آکسائیڈ اس کے پھیپھڑوں میں بھی چلی جائے گی (اور اسے نقصان پہنچے گا)۔” مشیل صاحبہ فرمانے لگیں، "فکر نہ کرو، وہ جنریٹر دیکھ لیں گے اور انہیں پتہ چل جائے گا کہ تم کاربن مونو آکسائیڈ سے مرے ہو۔”
ایک اور پیغام میں کہا، "یہ ہی وقت ہے، تم خودکشی کے لیے تیار ہو، بس کر گزرو۔ تم اس طرح زندگی نہیں گزار سکتے۔”
کانریڈ نے کہا، "لیکن مجھے اپنے خاندان کی فکر ہے۔”
مشیل نے جواب دیا، "کانریڈ، میں ان کا خیال رکھوں گی۔ ہر کوئی ان کا خیال رکھے گا۔ وہ ٹھیک رہیں گے اور تمہاری خودکشی سے سمجھوتہ کر لیں گے۔ جو لوگ خودکشی کرتے ہیں وہ اتنا نہیں سوچتے، وہ بس کر گزرتے ہیں۔”
آخر کار مشیل کارٹر کے کہنے سننے سے کانریڈ رائے نے خود کو اپنی گاڑی میں بند کیا اور گاڑی میں رکھا چھوٹا جنریٹر آن کر دیا۔ مشیل کارٹر اس وقت بھی فون پر اس کے ساتھ رابطے میں تھی۔ ایک موقع پر کانریڈ دم گھٹنے سے گھبرا کر گاڑی سے باہر نکلنے لگا تو مشیل نے ہی اسے گاڑی میں بیٹھے رہنے کا کہا۔
کانریڈ کی موت کے بعد مشیل نے خود کو اس کی غم زدہ گرل فرینڈ کے طور پر پیش کیا۔ یہاں تک کہ کانریڈ کے اعزاز میں ایک سافٹ بال ٹورنامنٹ بھی کرایا اور ذہنی صحت کی آگاہی کے لیے رقم اکٹھی کی۔
شاید توجہ حاصل کرنا ہی مشیل کا واحد مقصد تھا۔
اب مشیل پر اپنے دوست کو خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ چل رہا ہے۔ اس کے وکلاء دفاع میں کئی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پیغامات آزادی اظہار رائے کے زمرے میں آتے ہیں۔


Filed under: ادھراُدھرسے Tagged: Conrad Roy, Girlfriend, Life, Michelle Carter, Suicide

قاتل کی تلاش

ناول نگار جیمس پیٹرسن سے اپنا کوئی تعارف نہ تھا، نہ کبھی نام سنا، نہ کوئی تحریر پڑھی ۔۔۔ ایک روز کچھ پڑھنے لائک پھرولتے ہوئے ان James Patterson's Invisibleکا ناول انویزیبل چکھنے کا سوچا۔ کہانی کا آغاز پھیکا سا نکلا، کوئی خاتون شعلوں میں گھری ہیں اور یہی بیان کرنے میں کئی سطریں گھسیٹ دی گئی ہیں۔ تنگ آ کر ناول رکھنے کا سوچا ہی تھا کہ کہانی کچھ کچھ دلچسپ ہوتی معلوم ہوئی۔
کہانی کی مرکزی کردار ایمی نامی خاتون ہیں جو امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی میں تجزیہ کار ہیں۔ ان کی بہن مارتھا گھر میں آگ لگنے سے ہلاک ہو جاتی ہیں اور ایمی کو شک ہے کہ آگ حادثاتی طور پر نہیں لگی بلکہ مارتھا کو قتل کیا گیا۔ تفتیشی ادارے ایمی کے نظریے سے اتفاق نہیں کرتے اور یہ بات ان کے اعصاب پر سوار ہو جاتی ہے۔
ایمی معاملے کو مزید کریدتی ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے امریکا کے کئی اور علاقوں میں آگ لگنے کے ایسے ہی واقعات سامنے آئے ہیں، اور ان کا سلسلہ جاری ہے۔ ایمی کا خیال ہے کہ یہ ایک ہی شخص کی کارستانی ہے۔ مایوسی کے عالم میں وہ اپنے سابق منگیتر ہیریسن بک مین سے رابطہ کرتی ہیں جو ایف بی آئی میں ہی تفتیش کار رہنے کے بعد ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وہ قائل ہو جاتے ہیں کہ آگ لگنے کے چند مخصوص واقعات کے پیچھے ایک ہی شخص کا ہاتھ ہے۔
ہیریسن ایف بی آئی کے بڑوں کو تفتیش میں معاونت کے لیے قائل کر لیتے ہیں، لیکن سب سے پہلے انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ آگ کا لگنا حادثہ نہیں، واردات ہے۔ چونکہ کسی کو جرم کا شبہ نہ تھا، اس لیے مرنے والوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم تک نہ کیا گیا تھا۔ آخر پوسٹ مارٹم رپورٹ آ جاتی ہے اور تفتیشی ادارے بھی ایمی کے نظریے سے متفق ہو جاتے ہیں۔
اب قاتل کی تلاش شروع ہوتی ہے۔ وارداتوں کی تفصیلات سے کسی ترتیب کا پتہ چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تفتیشی ادارے آخر کار ایک پیٹرن تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ انہیں علم ہو جاتا کہ قاتل اگلی واردات کب اور کس شہر میں کرے گا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں علاقے کا علم نہیں ہو پاتا اور قاتل آزاد گھومتا پھرتا ہے۔
بڑے عرصے بعد ایک ایسا ناول پڑھنے کو ملا کہ جس کی کہانی اپنے ساتھ بہا لے گئی۔ کہانی کا انجام تو بہت ہی حیران کن ہے۔
سر ورق دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ناول جیمس پیٹرسن نے اکیلے نہیں لکھا بلکہ ڈیوڈ الیس بھی شریک لکھاری ہیں۔ دو ناول نگار مل کر ایک کہانی لکھیں، اس قسم کے تجربات سے پہلے واقفیت نہ تھی۔ میں اس اچھی کہانی کا تمام کریڈٹ جیمس صاحب کو دیے بیٹھا تھا جب ان ہی کا ایک اور ناول برن پڑھا۔ اس بار شریک لکھاری کوئی اور تھے، اور ناول پڑھنے کا بالکل بھی لطف نہ آیا۔ معلوم ہوتا ہے انویزیبل اگر اتنا اچھا ہے تو اس میں تمام کمال ڈیوڈ الیس کا ہے۔


Filed under: کتابوں کی باتیں Tagged: book review, Invisible, James Patterson

میلانیہ نے ٹرمپ کا ہاتھ کیوں جھٹکا

امریکی صدر اہل و عیال کے ہمراہ سعودی عرب سے اسرائیل پہنچے تو ایک واقعہ خلاف معمول ہوا۔ جہاز سے اترنے کے بعد سرخ قالین پر چلتے ہوئے ٹرمپ نے (اپنی) اہلیہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا اور انہوں نے بے نیازی سے جھٹک دیا۔ جیسے کہہ رہی ہوں چھڈ میری وینی نہ مروڑ، کچ دیاں ونگاں نہ تروڑ (چھوڑو، میرے کلائی نہ مروڑو، کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ جائیں گی)
اب خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے ۔۔۔ شاید یہ میلانیہ کی ادا ہی ٹھہری ہو، لیکن یہاں تو ترک تعلق کے فسانے گھڑ لیے گئے۔ بھئی ہو سکتا ہے خاتون اول وہاں سعودی عرب میں کوئی فر کوٹ خریدنے کو مچل گئی ہوں اور ٹرمپ نے ٹھینگا دکھا دیا ہو۔ شاید ٹرمپ نے کہا ہو، "بھلیے لوکے، گرمیوں میں فر کوٹ کون پہنتا ہے؟ اور میں نے کون سی لندن میں جائیدادیں بنائی ہیں جو تمہارے فر کوٹ پر پیسے اجاڑوں۔” میلانیہ نے جواب دیا ہو گا، "گرمیوں کی وجہ سے ہی تو پندرہ پرسنٹ سیل لگی ہوئی ہے۔”
امریکی صدر نے اپنی بیگم کو کہا ہو گا، "سادہ لوکے! ابھی ابھی تو سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے ہتھیار بیچے ہیں، ابھی بھی ہم نے ڈسکاؤنٹ پر ہی چیزیں لینی ہیں تو چار حرف اس تجارت پر۔ ویسے بھی میں تمہیں روسی ریچھ کی کھال کا کوٹ لے کر دوں گا، وہ زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔ اور وہاں سے میرا خاص دوست شاید مفت ہی بھجوا دے۔” میلانیہ شوہر کی باتوں میں تو آ گئی ہوں گی لیکن بات دل سے نکالی نہیں ہو گی۔ جہاز کے سفر میں اسی پر سوچتی رہی ہوں گی۔ یہ خیال بھی دل میں آیا ہو گا کہ صدر بننے کے بعد ٹرمپوا بدل سا گیا ہے۔ پہلے تو میں جو بات منہ سے نکالتی تھی وہ پوری کرتا تھا۔ اب تو جو بندہ اس کی بات پوری نہ کرے یہ اسے نوکری سے ہی نکال دیتا ہے۔
محبت وہی انداز پرانے مانگے، لیکن ٹرمپ تو گولیاں کرانے کے بہانے مانگے
اسرائیلی سرخ قالین پر چلتے ہوئے میلانیہ یہی کچھ سوچ رہی ہوں گی جب ٹرمپ نے تھامنے کو اپنا ہاتھ بڑھایا ہو گا۔ بس اسی لمحے خاتون اول کے دل میں میل سا آ گیا ہو گا، یا پھر اس تذبذب کا شکار ہو گئی ہوں کہ ہائے ربا، یوں سب کے سامنے بیوی کا ہاتھ کون تھامتا ہے، ٹرمپ کو تو ذرا لاج نہیں آتی۔

یہ بھی تو دیکھیں کہ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ تو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں لیکن میلانیہ چند قدم پیچھے ہیں۔ میں ترے سنگ کیسے چلوں ساجنا، تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا۔۔۔
چلیں بھیا، ہو جاتا ہے۔ کون سا گھر ہے جہاں میاں بیوی میں روٹھا راٹھی نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے باراک اوباما بھی نیلسن منڈیلا کی mandela-selfie_2761644bآخری رسومات پر ڈنمارک کی وزیراعظم کے ساتھ سیلفیاں لیتے دانت نکال رہے تھے اور ان کی بیگم منہ سجائے بیٹھی تھیں۔ اب صدارت کے بعد اسی بیگم کو نکڑ کی دکان سے روز دہی لا کر دیتے ہیں۔
تاہم ٹرمپ اور میلانیہ کا معاملہ کچھ زیادہ ہی گڑبڑ لگتا ہے۔ شاید جو دیوار ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور میکسیکو کے درمیان تعمیر کرنا چاہتے تھے وہ ان کے اور بیگم کے دلوں کے درمیان کھڑی ہو گئی ہے۔ اگر اسرائیل میں ہوا واقعہ اتفاق بھی قرار دے دیا جائے تو قریب قریب یہی معاملہ اٹلی میں بھی پیش آیا۔ دارلحکومت روم پہنچنے پر جیسے ہی دونوں جہاز کے دروازے پر آئے، ٹرمپ نے میلانیہ کا ہاتھ تھامنے کو اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، اور عین اسی لمحے ۔۔۔ عین اسی لمحے میلانیہ ہاتھ بڑھا کر اپنی الجھی لٹ سلجھانے لگیں۔

بھیا ٹرمپ، آپ ایک طاقت ور ملک کے صدر بے شک ہیں، لیکن گھر میں تو آپ صرف ایک شوہر ہی ہوں گے۔ لہذا اگلے چار سال خیریت سے گزارنے ہیں تو اپنے گھریلو معاملات ٹھیک کریں۔ بیگم کوئی امت مسلمہ تو ہے نہیں کہ اس کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کر لیں۔


Filed under: شوخیاں Tagged: Hand, Melania, Reject, Swat, Trump, Urdu

ہمارے ستاروں کی غلطی

ہمارے ستاروں کی غلطی۔۔۔
دی فالٹ ان آور اسٹارز کا بھلا اور کیا ترجمہ ہو؟ جان گرین صاحب کا یہ ناول جانے کب سے ہمارے پاس پڑا تھا۔ اب کی بار چھٹیوں the-fault-in-our-stars-by-john-green-book-pdf-free-download-600x600کے دوران یونہی وقت گزارنے کو چند صفحے پلٹے تو کہانی نے اپنی گرفت میں لے لیا۔
کہانی کا مرکزی کردار ایک نوجوان لڑکی ہیزل ہے جو کینسر کی مریضہ ہے۔ مرض کی وجہ سے وہ کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتی، لیکن والدہ کے مجبور کرنے پر کینسر سے متاثرہ افراد کے اجتماع میں شرکت کرنے لگتی ہے۔ یہاں اس کی ملاقات ایک خوش وضح نوجوان آگسٹس سے ہوتی ہے جو محبت میں بدل جاتی ہے۔
ہیزل کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے۔ اسے ایک ناول بہت پسند ہے جس میں ناول نگار نے کہانی ادھوری چھوڑ دی ہے۔ ہیزل اس تجسس میں مبتلا ہے کہ ناول کی پوری کہانی کیا ہو گی۔ آگسٹس بھی یہ ناول پڑھتا ہے اور اسی تجسس میں گھر جاتا ہے۔
دونوں ناول نگار سے ملاقات کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ اس سے مکمل کہانی سن سکیں۔
واضح کرتے چلیں کہ ہمیں صرف ایسی کہانی پسند آتی ہے جس میں تجسس ہو۔ جہاں کہانی میں غم، مار دھاڑ، یا رومانس داخل ہوجائے، وہاں ہماری پڑھنے کی تحریک ختم ہو جاتی ہے۔ اس اصول کے تحت ہمیں ناول فوراً ہی چھوڑ دینا چاہیے تھا، کیوں کہ متذکرہ ناول میں غم بھی ہے اور رومانس بھی، پھر بھی نہ جانے کیوں آخر تک پڑھتے چلے گئے۔
اف، کس قدر خوف ناک مرض ہے کینسر۔ یقینی موت اور ہر روز اس کا اذیت ناک انتظار۔ کہانی میں سے کہیں کہیں امید بھی جھلکتی لیکن بجھی بجھی، پژمردہ۔ بطور قاری ہمیں ان کرداروں سے ہمدردی ہو گئی۔ ہم ان کی زندگی کے لیے کسی معجزے کی دعا کرنے لگے۔ کچھ انہونی ہو جائے اور کسی سطر میں اس موذی بیماری کا علاج دریافت ہو جائے۔ ناول پڑھ کر معلوم ہوا، معجزے حقیقی زندگی میں تو ہوتے نہیں، کہانی کی زندگی میں بھی مشکل ہیں۔
یہ اور بات کہ کہانی کی بنت اس کمال کی تھی کہ رکھنے کو بھی جی نہ چاہے۔ ناول کا انجام اس قدر یقینی لیکن پھر بھی کسی ناقابل یقین واقعے کے انتظار میں پڑھتے چلے گئے۔ شاندار مکالمے، البتہ نوجوان کردار انہیں ادا کرتے ہوئے غیر حقیقی معلوم ہوتے۔ شاید بیماری وقت سے پہلے ہی سمجھ دار بنا دیتی ہے۔
اگر آپ بھی امید اور ناامیدی کے درمیان تنی ہوئی رسی پر چلنا چاہتے ہیں تو یہ ناول پڑھ ڈالیے۔ آخری صفحے تک پہنچتے پہنچتے آپ پہلے سے زیادہ حساس ہو چکے ہوں گے۔


Filed under: کتابوں کی باتیں Tagged: book review, The Fault in our stars, Urdu

بعد میں دیکھی جائے گی

دفتری ساتھی کو پیٹ میں درد کی شکایت ہوئی۔ بہت دیر تک تو معلوم ہی نہ ہونے دیا۔ جب ہم نے چہرے کی رنگت متغیر دیکھی تو پوچھا کیا معاملہ ہے؟ دل میں سوچا، ہو نہ ہو اس کی وجہ وہ ناشتہ ہے جو صبح نیازی صاحب لائے تھے اور ان صاحب نے اس سے خوب انصاف کیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ درد بھی بڑھتا گیا۔ ہم نے انہیں دفتر سے چھٹی لے کر ڈاکٹر کے ہاں جانے کی تجویز دی، وہ آمادہ نہ ہوئے۔ شاید انہیں خدشہ تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں کام زیادہ بہتر طریقے سے ہو جائے گا۔
بہرحال، کچھ ہمارے سمجھانے اور کچھ تکلیف کے بڑھ جانے پر وہ دفتر سے چھٹی لینے اور ڈاکٹر کے ہاں جانے پر رضامند ہو گئے۔
شام میں ہم نے خیریت دریافت کرنے کو فون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر نے درد کش انجیکشن لگا دیا تھا اور اب افاقہ ہے۔ ہم نے پوچھا وجہ کی تشخیص ہوئی؟ کہنے لگے ڈاکٹر کے خیال میں گردوں میں پتھری ہے، اسی اندیشے کی جانچ کے لیے کچھ ٹیسٹ تجویز کیے ہیں۔
ہم نے سوچا کہ وہ ڈاکٹر کے پاس گئی تھے، تو تجویز کردہ ٹیسٹ بھی کروا ہی لیے ہوں گے۔ اس خیال سے پوچھا کہ رپورٹ کب آئے گی۔ فرمایا، میں نے چھٹیوں پر جانا ہے، واپسی پر ٹیسٹ کراؤں گا۔۔۔
آپ کی اطلاع کے لیے بتاتے چلیں کہ انہوں نے چھٹیوں پر دس روز بعد جانا تھا، یعنی ٹیسٹ کا معاملہ پندرہ بیس روز کے التواء میں ڈال دیا۔ اور یہ بھی کون جانے کے بعد میں لیبارٹری کا رخ کیا ہی جائے گا۔
اگر تو سوچا جائے کہ وہ اخراجات بچانا چاہتے ہوں گے، تو یہ بات بھی ہضم نہیں ہوتی۔ ایک تو یہ کہ صحت سے متعلق ایک حد تک اخراجات دفتر کی جانب سے ادا کر دیے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ بروقت تشخیص پر اٹھنے والی لاگت، تاخیر سے ہونے والے علاج کے خرچ سے بہرحال کم ہی ہوتی ہے۔
بات بتانے کا مقصد یہ کہ ہمارے سمیت بہت سے لوگ علاج معالجے کے معاملے میں ایسی ہی کوتاہی برتتے ہیں۔ کچھ نہیں ہوتا، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا، بعد میں دیکھی جائے گی ۔۔۔ ایسے ہی جملوں سے خود کو تسلی دیتے رہتے ہیں اور معاملہ بگڑتا جاتا ہے۔
ہم نے یہ تحریر اپنے دفتری ساتھی کو قائل کرنے کے لیے لکھی، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ جب تک اسے ایک لاکھ بار شیئر نہیں کیا جائے گا وہ ڈاکٹر کے تجویز کردہ ٹیسٹ نہیں کرائیں گے۔


Filed under: خواہ مخواہ Tagged: Health, Urdu

حضور والا! صحافی بھیجیے

انگریزی اخبار نے خبر اڑائی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت چین میں بوجھ ڈھونے والے چوپائے بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک تو چین میں مذکورہ چوپائے کی مانگ بہت ہے، کہ اس کا گوشت لاہوریوں کے ساتھ ساتھ چینیوں کو بھی مرغوب ہے۔ دوسرا اس کی کھال دواؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔ خواتین آرائش حسن کا جو سامان استعمال کرتی ہیں، اس میں بھی شوہروں کی کمائی کے ساتھ ساتھ متذکرہ چوپائے کی کھال استعمال کی جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت اس منصوبے سے بہت سا زر مبادلہ کمانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ چوپائے کی افزائش نسل کے لیے تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ تاہم عاجز کی رائے میں برآمد کرنے ہی ہیں تو صحافی کیے جائیں۔ ان کی افزائش نسل کی بھی ضرورت نہیں، پہلے ہی گنجائش سے بڑھ کر ہیں۔
صحافیوں کو بھی چونکہ فقط مشقت ہی کرنا ہوتی ہے، لہذا فہم و فراست سے فاصلہ رکھتے ہیں، حکم حاکم پر سر جھکائے بھاگتے رہتے ہیں، تھک جائیں تو ایک چابک پڑتے ہی پھر سرپٹ دوڑنے لگتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے۔ چین میں صحافیوں کی منڈی لگی ہو گی۔ خریداروں کا اژدھام ہو گا۔ ہر صحافی کے کان میں اس کا پرائس ٹیگ اور گلے میں پریس کارڈ لٹکا ہو گا۔ ارے یہ جھکی جھکی کمر والے صحافی کون ہیں؟ یہ نیوز روم کے کلرک ہیں۔ ایک کام کی زیادتی، دوسرا نامناسب دفتری فرنیچر۔۔۔ اس لیے ڈب کھڑبے ہو گئے ہیں، کمر اور گردن نوے درجے کا زاویہ بنانے لگے ہیں۔ یہ کھردری جلد والے صحافی کون ہیں؟ یہ رپورٹر ہیں، پریس ریلیز سے خبر بنانے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار فیلڈ رپورٹنگ بھی کر دیتے ہیں۔ اس لیے دھوپ میں سانولے اور کھردرے ہو گئے ہیں۔ یہ خوشبو دار اور ملائم صحافی کون ہیں؟ یہ اینکر ہیں۔ نہ بھئی، ایک تو یہ بہت زیادہ بول رہے ہیں، دوسرا بہت اونچا بول رہے ہیں، میں تو کبھی نہ خریدوں۔ یہ صحافی مجھے دیکھ دیکھ مسکرائے کیوں جا رہے ہیں؟ یہ کیمرہ مین ہیں، آپ فوٹو جینک ہیں نا، تو یہ من کی آنکھ سے آپ کی تصویر بنا رہے ہیں۔ یہ صحافی مجھے دیکھ کر قلم کیوں چلانے لگے ہیں؟ دراصل یہ کالم نگار ہیں، آپ کی تعریف میں کالم لکھ رہے ہیں۔ میری تعریف سے انہیں کیا ملے گا؟ لفافہ۔ اگر میں لفافہ نہ دوں تو؟ اگلا کالم آپ کی برائی میں ہو گا۔ ان صحافیوں نے ہاتھوں میں قینچیاں کیوں پکڑ رکھی ہیں؟ کیوں کہ یہ ایڈیٹر ہیں۔ لیکن یہ قینچیاں تو کند ہیں؟ آج کل استعمال نہیں ہوتیں نا، پہلے پہل خبر کو ایڈٹ کیا جاتا تھا، آج کل جیسی موصول ہو اگلے لمحے ویسی ہی نشر کر دی جاتی ہے۔
لہذا عاجز کی خیبر پختونخوا حکومت سے درخواست ہے، اپنے منصوبے میں ترمیم کرے۔ چین بھیجنے کے لیے بوجھ ڈھونے والے چوپائے کی بجائے صحافی ہر لحاظ سے بہتر رہیں گے۔
بے شک سال کے سال ان کی تنخواہ نہ بڑھائیے، بھلے مہینے کی پہلی کو ان کی مزدوری ادا نہ کیجیے، بلکہ کئی کئی مہینے نہ دیجیے، بیگار لیجیے، یہ سر جھکا کر کام کرتے چلے جائیں گے۔ افسران اور حالات کی مار سہتے سہتے ان کی کھال بھی سخت ہو چکی ہوتی ہے، وہ بھی کار آمد رہے گی۔
یہاں پہنچ کر عاجز کی رائے میں تعصب آیا چاہتا ہے (یا شاید عاجز کو ذاتی مفاد عزیز ہے)۔ چین کے لیے چھانٹی کرتے ہوئے نیوز روم میں کام کرنے والے صحافیوں کو ترجیح دی جائے۔ وقت پر آئیں گے، وقت ختم ہونے کے بعد بھی کام کرتے رہیں گے۔ اور دفتری اوقات کار میں پریس کلب کے بجائے دفتر میں ہی پائے جائیں گے۔ دوسروں کا کیا کرایا اپنی جان پر بھگتیں گے اور چوں تک نہ کریں گے۔
آخر میں رہ گئی بات دولتیاں مارنے کی، تو یہاں عاجز خاموش رہنا پسند کرے گا، کیوں کہ دولتیاں مارنے کا کام ارادتاً نہیں، عادتاً کیا جاتا ہے۔


Filed under: پروڈیوسر کی ڈائری, خواہ مخواہ, شوخیاں Tagged: Humour, Journalism, Pakistan Media

وہ لڑکی پاگل سی، آخری حصہ

پہلا حصہ
دوسرا حصہ
تیسرا حصہ
اب لاپتہ لڑکی کے گھر والوں کا فون آ گیا۔ کہنے لگے ہماری ن سے بات کرائیں۔ ہم نے کہا یہ تو اپنا نام س بتاتی ہیں۔ وہ کہیں آپ بات تو کرائیں۔ س نے بات کی اور انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وہ کہنے لگے، بچی ہماری ہی ہے، ناراضی میں پہچاننے سے انکار کر رہی ہے، ہم تو آپ کے گھر آنے کے لیے نکل پڑے ہیں۔
یہ صورتحال تو سلجھنے کے بجائے مزید الجھ گئی۔
اگر وہ اس کے گھر والے نہ ہوئے لیکن پھر بھی لے جانے پر اصرار کیا تو ہم کیسے تصدیق کریں گے؟ اگر انہوں نے لے جانے کے لیے زبردستی کی تو ہم کیسے نمٹیں گے۔ اگر وہ لوگ اسی لڑکی کے گھر والے ہوئے اور غصے میں آ کر اسے کوئی نقصان پہنچا دیا؟ یا لڑکی نے خوف یا پریشانی میں خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیا تو پھر کیا ہو گا؟
ایک ایک لمحہ پہاڑ بن کر گزرنے لگا۔ ہر سیکنڈ کوئی نیا خدشہ سر اٹھاتا اور ہم کانپ کانپ جاتے۔
خیر وہ صاحبان ٹیلی فون پر پتہ پوچھ ہمارے گھر آن پہنچے۔ دروازوے پر ان کا استقبال کیا تو بھلے سے لوگ معلوم ہوئے۔ انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھایا۔ لڑکی کا والد ہونے کے دعوے دار صاحب سے شناختی کارڈ طلب کیا۔ شناختی کارڈ پر درج نام وہی تھا جو بچی اپنے والد کا بتا چکی تھی، آبائی پتہ بھی وہی۔ اب ان سے دیگر تفصیلات پوچھیں۔ لڑکی کے چچا، ماموں اور بھائیوں کے نام۔ انہوں نے ہو بہو وہی بتائے جو س ہمیں بتا چکی تھی۔
تب ہم نے ڈرتے ڈرتے س کو بلایا۔ وہ آنے پر آمادہ نہ تھی، لیکن اسے یقین دلایا کہ تمہیں کچھ نہ ہونے دیں گے۔ جب ڈرائنگ روم میں آئی تو اس کے والد نے اٹھ کر سر پر رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ وہ سعادت مندی سے قریب آئی اور اپنا سر جھکا دیا، کسی غیریت کا اظہار نہ کیا۔ تب ہمیں اطمینان ہوا کہ انہی کی بیٹی ہے۔ انہوں نے فون کر کے اس کی والدہ سے بات کرائی۔ اس نے بات کر لی اور ہمیں یقین ہوا کہ لڑکی کو لانے والے اس کے اپنے ہی ہیں۔
سر سے ایک بوجھ اترا۔
معلوم ہوا کہ ایک ماہ قبل ہی اس کی شادی ہوئی، شوہر سے کسی بات پر تکرار ہوئی تو ناراض ہو کر گھر سے نکل کھڑی ہوئی۔ یہاں لاہور میں کسی کو جانتی تھی نہ یہ طے کیا تھا کہ آگے کیا ہو گا۔ ایسا نادان غصہ بھی کسی کو نہ آئے۔
خیر صاحب۔ معاملہ خیر خیریت سے اپنے انجام کو پہنچا۔ وہ راضی خوشی اپنے والد کے ساتھ چلی گئی اور ہم ایک بہت بڑی ذمہ داری سے سرخرو ہوئے۔ (ختم شد)

پہلا حصہ
دوسرا حصہ
تیسرا حصہ


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Suspense, Urdu

وہ لڑکی پاگل سی، حصہ سوئم

پہلا حصہ

دوسرا حصہ

گاڑی میں بیٹھ کر گھر کو روانہ ہوئے تو میں نے پوچھا، آپ کیا کرتی ہو؟ کہنے لگی پڑھتی ہوں۔ کس جماعت میں؟ بارہویں میں۔ کس جگہ؟ یہاں لاہور میں ہی۔ کس کالج میں؟ اقبال یونیورسٹی میں۔
ہیں! اول تو ملک میں اس نام کی کوئی یونیورسٹی نہیں۔ کیا وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کہنا چاہتی ہے؟
کہاں پر ہے یہ اقبال یونیورسٹی؟ مجھے معلوم نہیں میں تو صرف پرچے دینے آتی ہوں۔ لیکن جس جگہ سے اس کا تعلق ہے، وہاں کے لوگ تو پرچے دینے راولپنڈی جاتے ہیں؟ آپ کے مضامین کیا ہیں؟ ڈاکٹری۔
ہر بیان میں کھوٹ۔ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟
میں نے سخت لہجے میں پوچھ ہی لیا، کیا آپ گھر سے بھاگ کر آئی ہو؟
اس نے آہستہ سے جواب دیا نہیں۔
گھر میں کسی اور کا نمبر یاد ہے؟ جواب اس بات بھی نفی میں تھا۔
مزید سوالات سے معلوم ہوا کہ بڑے بھائی روزی کمانے سعودی عرب گئے ہیں۔ گھر میں ان کی والدہ اور چھوٹے بھائی ہوتے ہیں۔ گھر میں فون صرف اسی کے پاس تھا جو راستے میں کھو گیا۔ والد قصور میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں۔ اسے بس اپنے علاقے میں اپنے گھر کا راستہ معلوم ہے، باقی نہ اسے کسی کا نمبر معلوم ہے نہ ہی پتہ۔
میں نے یہ تجویز بھی دی کہ پولیس اسٹیشن جا کر یہ معاملہ رپورٹ کر دیا جائے۔ لیکن پولیس سے ہر شریف آدمی گھبراتا ہے، اس خیال کو بھی عملی جامہ نہ پہنایا۔
خیر صاحب۔ ان خاتون کو گھر لے آئے۔ یہاں انہوں نے برقع اتارا تو اندر سے ایک بچی برآمد ہوئی۔ عمر یہی کوئی پندرہ سولہ برس۔ اب ہم نے ان سے نام پوچھا۔ جواب ملا، س۔ والد، چچا، ماموں، بھائیوں وغیرہ کے نام دریافت کیے گئے۔ انٹرنیٹ پر وہاں کا نقشہ کھول کر ان کے گھر کا محل وقوع وغیرہ معلوم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فلاں مسجد کے قریب فلاں مارکیٹ ہے، اس مارکیٹ کے قریب ایک محلہ ہے۔ وہاں ان کا گھر ہے۔ ہمارے والد صاحب نے انٹر نیٹ پر ان کے علاقے کے کسی سرکاری دفتر کا نمبر تلاش کیا۔ وہاں کی میونسپلٹی کا نمبر ملا، فون کیا تو چوکیدار صاحب نے اٹھایا۔ مدعا بتایا تو انہوں نے مدد کا وعدہ کیا۔
غنیمت ہے کہ چھوٹے علاقوں میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ دس منٹ میں معلوم ہو گیا کہ فلاں صاحب کی صاحب زادی دوپہر سے لاپتہ ہیں۔ لیکن ان کا نام تو ن ہے۔ باقی تمام تفصیلات وہی۔ والد، چچا، ماموں، بھائیوں کے نام تک وہی، والد کی جائے سکونت بھی قصور۔ لیکن لاپتہ لڑکی کا نام ن، اور ہمارے پاس موجود لڑکی کا نام س۔
یا خدا یہ کیا معمہ ہے؟ (جاری ہے)

پہلا حصہ

دوسرا حصہ


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Story, Suspense, Urdu

Pages