نوک جوک

امریکا اتنا بھی جمہوری نہیں

melania and miraمیلانیا ٹرمپ سے تو آپ واقف ہی ہوں گے؟ وہی جو اپنے امریکی صدر کی زوجہ ہیں۔ اور اس مناسبت سے خاتون اول کہلاتی ہیں۔ امریکا میں ہی قومی سلامتی کی نائب مشیر ہیں میرا رکارڈل۔ تو ہوا یوں کہ میلانیا اور میرا صاحبہ میں کچھ ان بن ہو گئی۔ بات کچھ خاص نہ تھی۔ خاتون اول نے امریکا کا دورہ کرنا تھا۔ جہاز میں معمول سے زیادہ سیٹیں سیکیورٹی اسٹاف کے لیے مختص کر دی گئیں۔ کچھ نشستیں صحافیوں کو دی گئیں۔ جب کہ قومی سلامتی کی نائب مشیر اور ساتھی عہدے دار کے لیے کوئی سیٹ نہ چھوڑی گئی۔
اگر نشستیں نہ بچیں تو محکمہ خارجہ اور قومی سلامتی کے عہدے دار علیحدہ طیارے پر جاتے ہیں تاکہ پالیسی سطح کی مشاورت فراہم کر سکیں۔ تاہم یہاں میرا ریکارڈل ڈٹ گئیں۔ یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اس دورے کے لیے فراہم کردہ اپنے محکمے کے وسائل بھی استعمال نہ ہونے دیں گی۔اس کھٹ پٹ کے بعد میلانیا ٹرمپ افریقہ گئیں تو اپنے لباس کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنیں۔ پالیسی اسٹاف ساتھ ہو تو مشاورت فراہم کرتا رہتا ہے کہ کیا پہنا جائے، کیا کہا جائے۔ میلانیا نے ایک موقع پر سفید رنگ کا ہیلمٹ پہن لیا جو افریقہ میں نو آبادیاتی دور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس پر بہت تنقید ہوئی۔

melania helmet
کچھ غلط خبریں بھی پھیلیں، جیسا کہ کہا گیا خاتون اول کے اسٹاف نے ہوٹل میں دس ہزار ڈالر اڑا دیے۔ میلانیا اس سب کو میرا ریکارڈل کی شرارت سمجھتی رہیں۔
لہذا خاتون اول دورہ افریقہ سے واپس آئیں تو نائب مشیر قومی سلامتی کے خلاف زہر اپنی جڑ پکڑ چکا تھا۔ انہوں نے اپنے شوہر کو تو کہا ہی ہو گا کہ فارغ کرو اس کلموہی ریکارڈل کو۔ اخبارات بتا رہے ہیں کہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے بھی کہا گیا کہ میرا ریکارڈل کو ہٹا دیا جائے۔ تاہم انہوں نے یہ درخواست یا حکم رد کر دیا۔
اس ان بن کو مہینہ ہی گزرا ہو گا کہ خاتون اول نے بم پھوڑ دیا (ہمیں تو یہ حرکت بم پھوڑنے سے کم نہیں لگی)۔ رپورٹر حضرات کو میلانیا ٹرمپ کی ترجمان کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی، جس میں لکھا جملہ سبھی کو چونکا گیا؛ "خاتون اول کا دفتر سمجھتا ہے، میرا رکارڈل اس عزت کی حق دار نہیں رہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام دے سکیں۔”
یعنی سادہ الفاظ میں، ٹرمپ کی بیگم چاہتی ہیں کہ قومی سلامتی کی نائب مشیر کو فارغ کر دیا جائے۔
پہلے تو بات ڈھکی چھپی تھی، لیکن ای میل کے بعد کوٹھے جا چڑھی۔ ایک غلغلہ بلند ہو گیا۔ ای میل سے پیدا ہونے والے تنازع کے بعد غیرت مند میرا ریکارڈل نے یہ عہدہ چھوڑ دیا۔ وائٹ ہاؤس نے کہا، اب وہ امریکی انتظامیہ میں ہی ایک نئی حیثیت میں کام کریں گی۔ اس بات کی وضاحت تک نہ کی گئی کہ وہ نئی حیثیت کیا ہو گی۔ (جو ظاہر کرتا ہے فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا، یا میرا صاحبہ کو کھڈے لائن لگا دیا گیا)
امریکا کے انتظامی امور میں صدر کی بیگم کی اس قدر کھلم کھلا مداخلت، کم از کم ہم نے اس سے پہلے ایسا کوئی واقعہ دیکھا نہ سنا۔ اس سے تو تاثر ملتا ہے کہ امریکی صدر اور ان کی بیگم اعلیٰ عہدے داروں کو بھی ذاتی ملازم ہی سمجھتے ہیں۔ پسند نہ آیا تو فارغ کر دیا۔
یہاں پاکستان میں خاتون اول کے سابق شوہر کو ناکے پر روکنے والا ڈی پی او تبدیل ہوتا ہے تو شور مچ جاتا ہے۔ عدالت عظمیٰ جواب طلب کر لیتی ہے۔ صوبے کا وزیراعلیٰ اور آئی جی وضاحتیں پیش کرنے لگتے ہیں۔ وزیر کے کہنے پر مقدمات قائم نہ کرنے والا آئی جی اسلام آباد تبدیل ہوتا ہے تو عدالت نوٹس لیتی ہے اور انتظامیہ پیش ہو کر صفائیاں دیتی ہے۔ کوئی وزیر جو کہہ دے کہ ہم اگر آئی جی تک تبدیل نہیں کر سکتے تو الیکشن کرانے کی کیا ضرورت ہے، اس وزیر کی بھی پیشی ہو جاتی ہے۔
اور وہاں امریکا میں صدر کی بیوی سر عام کہہ دیتی ہے کہ وہ نائب مشیر قومی سلامتی کو خدمات سرانجام دینے کی حق دار نہیں سمجھتی اور کوئی طوفان نہیں ٹوٹتا۔ وہاں کی سپریم کورٹ تک نوٹس نہیں لیتی۔
اور پھر یہ سب کہنے والی میلانیا ٹرمپ خود کیا ہیں؟ ایک سابقہ ماڈل، امریکی صدر کی بیوی؟ اس کے علاوہ ان کی کیا قابلیت یا صلاحیت ہے؟ دوسری جانب میرا رکارڈل امریکا کے محکمہ خارجہ، دفاع اور کامرس میں کام کر چکی ہیں۔ پینٹاگون کی مشیر رہ چکی ہیں۔ بوئنگ کمپنی کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔ گویا نائب مشیر قومی سلامتی کا عہدہ پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا۔ اپنی محنت سے کمایا ہے۔ اور ان کے بارے میں امریکی صدر کی بیگم منہ اٹھا کر کہہ دیتی ہیں کہ میرا رکارڈل وائٹ ہاؤس میں کام کرنے کی حق دار نہیں۔
بھیا اُس جمہوریت سے تو یہ اپنی جمہوریت کہیں اچھی ہے۔ وہاں امریکا میں آپ نے دیکھ ہی لیا ہو گا کہ نا پسندیدہ سوال پوچھنے پر امریکی صدر کیسے صحافی کو جھاڑ پلاتا ہے۔ اس کے میڈیا چینل کو برا بھلا کہتا ہے، اس کے وائٹ ہاؤس داخلے پر بھی پابندی لگا دیتا ہے۔
گویا امریکی صدر یا ان کی بیگم کو جس نے انکار کیا، یا جس نے سوال کیا، اسے دیس نکالا ہی ملا۔
تو صاحب۔ جمہوریت جمہوریت کی گردان کرنے والے امریکا کے رویوں میں ہمیں تو قطعاً کوئی جمہوریت نظر نہ آئی۔ لہذا امریکی عہدے داروں کے لیے اپنا تو مشورہ مفت ہے۔ کام کرنا ہے تو صدر کی بیگم سے بنا کر رکھو۔

مچھر طبیعت لوگ

جب بھی سردیاں آنے والی ہوں، یا جانے والی ہوں۔۔۔ مچھر نامی مخلوق کا راج قائم ہوتا ہے۔ ذرا کھڑکی کھلی رہ گئی تو غول کا غول کمرے میں در آتا ہے۔ آپ سوتے ہیں تو یہ کان میں آ کر بھنبھناتا ہے، آپ کو غافل پا کر آپ کا خون چوستا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو خارش ہوتی ہے۔ آپ ہڑبڑا کر کھجاتے ہیں اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مچھر پلٹ پلٹ کر حملے کرتے ہیں اور آپ کی ساری رات کھجانے اور کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ صبح کسل مندی ہوتی ہے لیکن زندگی کے معمولات شروع کرتے ہی آپ مچھروں سے رات بھر کی لڑائی بھول جاتے ہیں۔
کبھی کبھی مچھروں سے جنگ کی بدمزگی آپ کے چہرے پر بھی دکھتی ہے اور کوئی پوچھ بیٹھتا ہے، "خیر ہے، مضمحل کیوں ہو؟” تو آپ کندھے اچکاتے ہیں اور لاپروائی سے جواب دیتے ہیں، "کچھ نہیں، رات مچھر بہت تھے۔”
بس اتنی سی اہمیت ہوتی ہے مچھر کی آپ کی زندگی میں۔
تو صاحب، یہ عاجز  حساب کتاب کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے، کہ اپنی زندگیوں میں بھی کچھ لوگوں کو مچھر جتنی ہی اہمیت دی جائے تو خاصا سکون رہے۔
یہ مچھر طبیعت کے لوگ بھی آپ کے کان میں بھنبھناتے ہیں، آپ کو غافل پا کر کاٹ کھاتے ہیں، لیکن ان کے معاملے میں آپ ہڑبڑا کر کروٹ بدلنے کے بجائے انہیں اہمیت دینے لگتے ہیں۔ ان کی بھنبھناہٹ کو اعصاب پر سوار کر لیتے ہیں۔ ہر وقت اسی بارے میں سوچتے ہیں، اندر ہی اندر کھولتے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے آپ زندگی کے ساتھ دوڑنے بھاگنے کے بجائے الگ بیٹھ کر کڑھتے ہیں، ان کے لگائے گئے زخموں کو سینت سینت کر رکھتے ہیں۔
حالانکہ مچھر کی طرح ایسے لوگ بھی صرف ایک تالی کی ہی مار ہوتے ہیں۔
بھئی نہ کریں نا ایسا!
جیسے مچھر کا کاٹنا اگلی صبح یاد تک نہیں رہتا ایسے ہی مچھر طبیعت لوگوں کی بھنبھناہٹ اور چبھن کو بھی بھول جائیے۔ کیا آپ مچھر کے بارے میں چند جملوں سے زیادہ کسی سے گفتگو کرتے ہیں؟ نہیں نا؟ تو مچھر جیسے لوگوں کو بھی ڈسکس نہ کیا کریں۔ یہ کاٹیں تو آپ بس کھجائیں اور کروٹ بدل کر زندگی کی گاڑی میں آگے بڑھ جائیں۔
مچھر کی طرح ان سے بچنے کی تدابیر بھی کر لیں۔ اپنی زندگی کے گرد جالی والا دروازہ لگائیں۔ جہاں سے مچھر کو تو رکاوٹ ہو لیکن تازہ ہوا کے آنے میں کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ خوشی کی خوشبو والی مچھر مار دوا کا چھڑکاؤ کریں۔ قہقہوں والا کوائل جلائیں اور مچھر جیسے لوگوں کو مار بھگائیں۔
ویسے تو مچھر جیسے لوگوں کو اتنی اہمیت دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن احتیاط بہتر ہے۔ یوں تو اکثر مچھر صرف کھجلی پیدا کرتے ہیں لیکن کچھ کچھ ملیریا اور ڈینگی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

دس سال پہلے کی ڈانٹ

بارہ برس قبل کا قصہ ہے۔ میں اور فرخ ایکسٹرنل کے سامنے خوف زدہ سے بیٹھے تھے۔ بی ایس کا فائنل تھیسس ہم دونوں نے مل کر ہی لکھا تھا۔ چلو لٹریچر ریویو وغیرہ کی حد تک تو پہلے سے دستیاب مواد سے استفادہ کیا۔ لیکن ریسرچ میں خوب جان ماری۔ ڈیٹا خود اکٹھا کیا، انٹرویوز خود کیے۔ دن بھر فرخ کی موٹرسائیکل پر خاک پھانکتے۔ شام میں ہوسٹل واپس آ کر جمع شدہ مواد کو تحریر کرتے۔ ایک ایک لفظ خود اپنے ہاتھ سے لکھا۔ تحقیقی تجزیے اور اختتامی نوٹ میں تو اس قدر عرق ریزی کی کہ ایک ایک کوما اور فل اسٹاپ تک ازبر ہو گیا۔
اس کے باوجود ایکسٹرنل سے خوف زدہ ہونے کی ایک وجہ ان کی مونچھیں تھیں، جو بہت گھنیری نہ تھیں، لیکن چہرے کو خاصا بارعب بنا رہی تھیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایکسٹرنل صاحب انگریزی میں سوال پوچھتے اور انگریزی میں ہی جواب کی توقع رکھتے۔ آہستہ آہستہ ہماری انگریزی کی گاڑی چل پڑی تو خود اعتمادی آتی گئی۔ ایک جگہ کسی سے منسوب بیان درج تھا۔ انہوں نے پوچھا، آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ فوراً جواب دیا، سر یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ فلاں صاحب کہہ رہے ہیں، سطر کے اسی حصے میں لکھا بھی ہے کہ یہ بیان فلاں صاحب کا ہے۔
اس جواب کے بعد تو گویا مہر لگ گئی کہ بچوں نے کاپی پیسٹ نہیں کیا، خود سے سارا کام کیا ہے، تبھی تو باریک نکات کا بھی تفصیلی جواب دے رہے ہیں۔ ممتحن صاحب کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ گئی اور ماحول کا تناؤ قریب قریب ختم ہو گیا۔
سلسلہ سوال و جواب کے بالکل آخر میں انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا، سچ سچ بتائیے، آپ دونوں میں سے کس نے کتنا کتنا کام کیا ہے؟ جواباً عرض کیا، سر! ریسرچ اور ڈیٹا کولیکشن تو دونوں نے مل کر کی، لیکن میری انگریزی چوں کہ نسبتاً بہتر ہے، لہذا تھیسس تحریر میں نے کیا۔
انہوں نے اسپاٹ انداز میں کہا، اپنی انگریزی اچھی ہونے کے بارے میں آپ کی رائے شدید غلط فہمی پر مبنی ہے۔
بہر حال۔ وہ ہمارے کام سے خوش تھے۔ ہمارے سپروائزر کو ہمارے بارے میں خوب اچھی رائے دی اور نمبر بھی اچھے دیے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ ممتحن اقبال انجم صاحب ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تشریف لائے تھے۔ غالباً کسی اخبار سے بھی وابستہ تھے۔
وقت گزرتا گیا، تعلیمی سیڑھی کا ایک درجہ اور عبور کرتے ہوئے ایم فل کا کورس ورک بھی مکمل کر لیا۔ میں اپنے دوست عمر بلال کے ایم فل کے پراجیکٹ میں معاونت کر رہا تھا۔ عمر ایسے لوگوں پر ڈاکومنٹری بنا رہا تھا جو انٹرنیٹ پر کسی اور شناخت سے اکاؤنٹ بناتے ہیں۔ ایک روز ہم پنجاب یونیورسٹی شعبہ ابلاغیات کی لائبریری میں انٹرویو ریکارڈ کر رہے تھے۔ ڈاکومنٹری انگریزی میں بننی تھی، اس لیے سوالات بھی انگریزی میں تھے۔ پہلا سوال تھا، آپ کب سے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں؟
تو میں نے انگریزی میں پوچھا
Since when are you using internet
جیسے ہی میں نے سوال پوچھا، ایک کونے سے گونج دار آواز آئی، انگریزی نہیں آتی تو انگریزی میں سوال کیوں کرتے ہو؟
حیرت سے آواز کی جانب دیکھا۔ کلین شیو صاحب، آنکھوں میں غصہ لیے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ ان سے وضاحت چاہی۔ کہنے لگے
Since when
کیا ہوتا ہے؟ انگریزی کی ٹانگ توڑ کر رکھ دی۔ انگریزی نہیں آتی تو کوئی ناول وغیرہ پڑھ لیا کرو۔ یونیورسٹی طالب علم ہو کر بھی اتنی بنیادی سی بات نہیں معلوم۔ غرض خوب کلاس کرنے کے بعد انہوں نے بتایا، سنس وین استعمال کرنا غلط ہے۔ یہ جملہ یوں بولا جائے تو درست ہو گا
For how long have you been using internet
ان سے تعارف چاہا تو معلوم ہوا اقبال انجم صاحب ہی ہیں۔ بس مونچھوں کی کمی ہے۔ انہیں یاد دلایا کہ آپ نے ہمارا زبانی امتحان (وائیوا) لیا تھا۔ اب انہیں بھی یاد آ گیا۔ یوں یہ معاملہ خوش گوار مسکراہٹوں کے ساتھ انجام کو پہنچا، اور ڈانٹ کی کوفت کچھ کم ہوئی۔
بس ہوا یہ، کہ عزیز دوست اب تک ہمیں اس ڈانٹ کے حوالے سے چھیڑتے ہیں۔ جہاں ہم کوئی جملہ انگریزی میں بول دیں، وہ کہتے ہیں
Since when have you started speaking English
اور ہم جھینپ جاتے ہیں۔
اس واقعے کے دس سال بعد انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے صفحہ اول پر چیف جسٹس صاحب کا بیان چھپا۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا تھا، پی ٹی آئی والوں نے کب سے بدمعاشی شروع کر دی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے اس کا ترجمہ کیا ہے
Since when has PTI started acting like thugs: CJP
یہ سرخی پڑھنے کے بعد سے سکتہ طاری ہے۔ دس برس قبل پیش آنے والا واقعہ تمام تر جزئیات کے ساتھ سامنے کھڑا ہے۔ ذہن سوال پوچھتا ہے کہ ہمیں دس سال پڑنے والی ڈانٹ غلط تھی، یا انگریزی اخبار کی یہ سرخی غلط ہے۔

Since When

پائیداری

چولہے میں آگ لگانے کے لیے آلہ نصب تھا۔ ہم بٹن دباتے تو چنگاری سی اٹھتی اور آگ جل جاتی۔ کچھ عرصہ استعمال کے بعد وہ آلہ خراب ہو گیا تو سیاسی باتیں کر کے چولہا دہکانے کی کوشش کرتے رہے۔ بات نہ بنتی تو ماچس استعمال کر لیتے۔
ایک روز جی میں آئی، ماچس کی تیلیاں جلانا اولڈ فیشنڈ سا لگتا ہے۔ بازار سے لائٹر خرید لاتے ہیں۔ وہاں دو اقسام میسر تھیں۔ ایک لائٹر تیل جلا کر آگ نکالتا تھا، دوسرے میں سیل ڈلتے، بٹن دبانے پر چنگاری سی چھوٹتی۔ دکان میں ہی ایک پستول نما چیز پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا یہ بھی لائٹر ہے۔ ٹریگر دبائیں تو پستول کے دہانے سے چنگاری نکلے گی اور چولہے میں آگ دہک اٹھے گی۔ اس میں سیل ڈلتا تھا نہ ہی تیل، گویا آگ کے معاملے میں خود کفیل تھا۔
دکاندار سے پوچھا، کیوں بھئی، کتنا عرصہ نکال جائے گا یہ لائٹر؟
کہنے لگا، سر ایسی چیزیں تو لائف لانگ ہوتی ہیں۔ تین سال تک تو کہیں نہیں جاتا

پرانی موٹرسائیکل اور گندی گالیاں

زمانہ گزرا، ہم نے ایک عدد سیکنڈ ہینڈ موٹرسائیکل خریدی۔ ظاہری صورت تو بھلی ہی تھی، اور تکنیکی باریکیوں کا ہمیں علم نہ تھا۔ بیچنے والا بھی مستری تھا، سو ہمیں اطمینان تھا کہ اس نے ٹھیک حالت میں رکھی ہو گی۔ لہذا زیادہ چھان پٹک نہ کی اور سودا کر لیا۔ اب اگلے روز اسے کک مارتے ہیں تو وہ اسٹارٹ نہیں ہوتی۔ دوبارہ اسی عطار کے لونڈے کے پاس جا پہنچے جس سے یہ بیماری خریدی تھی۔
اسے بتایا کہ موٹرسائیکل تو اسٹارٹ ہو کے نہیں دے رہی۔
کہنے لگا، پا جی، اینوں اسٹارٹ کرن واسطے گالاں کڈنیاں پین گیاں (بھائی صاحب، اسے اسٹارٹ کرنے کےلیے گالیاں نکالنی پڑیں گی)
ہم سٹپٹائے، "بھیا گالیاں نکالنی تو ہمیں آتی ہی نہیں۔”
بولا، پا جی جدوں ککاں مارو گے اور اے اسٹارٹ نہیں ہووے گی تے گالاں کڈنیاں آپے ای آ جان گیاں (بھائی صاحب، جب آپ ککس ماریں گے اور موٹرسائیکل اسٹارٹ نہیں ہو گی تو آپ کو خود بخود گالیاں نکالنا آ جائےگا۔
مشورہ نا معقول تھا، پھر بھی ہم نے موٹرسائیکل کو کک ماری تو منہ سے نکلا، ہٹ نالائق! اسٹارٹ ہو جا۔
پا جی اے کی پے کردے او؟ مکینک نے حیرانی سے پوچھا۔ (بھائی صاحب، یہ کیا کر رہے ہیں)
تمہارے ہی کہنے پر موٹرسائیکل کو گالیاں نکال رہے ہیں۔
ناہنجار کہنے لگا، پا جی ایناں گالاں نال کم نہیں چلنا، اینوں گندیاں گالاں کڈو (ایسی گالیوں سے کام نہیں چلنا، گندی گالیاں نکالیں)
اب یہ نہیں کہ ہمیں گندی گالیاں آتی نہ تھیں، بس اس کے سامنے خفیف ہوئے جا رہے تھے۔
کک ماری اور دل کڑا کر کے بول دیا، نطفہ نا تحقیق! اسٹارٹ کیوں نہیں ہوتی۔
مکینک ہنس ہنس کو دوہرا ہو گیا۔ بولا، گالاں انگریزی اچ نہیں، پنجابی اچ کڈنیاں نیں (گالیاں انگریزی میں نہیں، پنجابی میں نکالنی ہیں)
اب ہماری ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ غصے سے موٹرسائیکل کو کک ماری تو بے ساختگی میں دانت پیس کر کہا، تیری پین دی سری۔
اور موٹرسائیکل اسٹارٹ ہو گئی
#ماخوذ

کیا خواب میں کانٹی نیوٹی جمپ ہوتے ہیں

Continuity jumpٹیلی وژن اور فلم کی اصطلاح ہے۔ عموماً کوئی بھی سین ایک ہی کیمرے سے شوٹ کیا جاتا ہے۔ تو وہ ایک کیمرہ سین کو مختلف زاویوں سے شوٹ کرتا ہے، بعد میں ایڈیٹنگ کرتے ہوئے ٹکڑے جوڑ لیے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کردار نے سبزہ زار میں داخل ہو کر بینچ پر بیٹھے کسی فرد سے وقت پوچھنا ہے۔ تو اس سین کو مختلف شاٹس میں فلمایا جائے گا۔ پہلے لانگ شاٹ میں کردار سبزہ زار میں داخل ہوتے دکھایا جائے گا۔ اس لانگ شاٹ سے جگہ کا تعین ہو جائے گا۔ پھر مڈ لانگ شاٹ میں اسے ایک بینچ کے قریب رکتا دکھایا جائے گا۔ مزید کلوز اپس میں اس کی گفتگو فلمائی جائے گی۔ جو فرد وقت بتا رہا ہے، ایک کلوز شاٹ اس کا بھی لیا جائے گا۔ یوں ایک چند سیکنڈ کے سین کو کئی زاویوں سے فلمایا جاتا ہے (اور کئی گھنٹے صرف کیے جاتے ہیں)۔
اب کانٹی نیوٹی جمپ یہ ہے لانگ شاٹ میں کردار نے جو کپڑے پہن رکھے ہوں، کلوز اپ میں وہ بدل جائیں۔ یا لانگ شاٹ میں وہ پسینے میں شرابور ہو اور جب کلوز اپ لیا جائے تب تک پسینہ سوکھ چکا ہو۔ یا لانگ شاٹ میں اس کے بال ایک طرز سے سنوارے گئے ہوں اور کلوز اپ میں مختلف طرز سے۔ یا ایک شاٹ میں کسی میز پر کتابیں پڑی ہیں تو دوسرے شاٹ میں اسی میز پر گلاس پڑا ہے۔ مختلف شاٹس میں ہر چیز کی ترتیب ایک سی ہونی چاہیے، ورنہ دیکھنے والے کو یہ فرق عجیب سا معلوم ہو گا اور کانٹی نیوٹی جمپ کہلائے گا۔
اب آتے ہیں اپنے موضوع کی جانب۔ کیا آپ جو خواب دیکھتے ہیں وہ ایک شاٹ میں ہوتے ہیں، یا فلم ٹیلی وژن کی طرح کٹ ٹو کٹ۔ اگر ابھی تک غور نہیں کیا تو کیجیے گا۔ مجھے تو جتنے خواب یاد ہیں وہ ایک شاٹ میں نہ تھے۔ لیکن حال ہی میں جو خواب دیکھا، اس میں تو کانٹی نیوٹی جمپ بھی تھے۔
خواب کچھ یوں تھا کہ گھر کے داخلی دروازے پر ایک گاڑی آ کر رکتی ہے۔ دروازے کے نیچے سے دکھتا ہے کہ وہ سفید رنگ کی ٹیوٹا کرولا ہے۔ پھر گھنٹی بجتی ہے۔ یہاں شاٹ ختم ہوتا ہے۔ اگلے شاٹ میں میں پورچ میں کھڑا ہوں، دروازہ کھلا ہے اور ایک دوست وہاں کھڑا ہے۔ (حالانکہ جب ٹیوٹا کرولا آ کر رکی تھی تو داخلی دروازہ بند تھا)
اب جو میں باہر نکلتا ہوں تو سفید ٹیوٹا کرولا کی جگہ سفید رنگ کی ہی سوزوکی بولان کھڑی ہے۔ یہاں خواب ختم ہو جاتا ہے۔
صاحب، اب بتائیے۔ ہے نا کانٹی نیوٹی جمپ؟
ایک شاٹ میں بند داخلی دروازے کا اگلے شاٹ میں کھلا ہونا تو چلو ہضم کر لیا جائے، لیکن ٹیوٹا کرولا کا سوزوکی بولان میں بدل جانا کیسے برداشت ہو؟
اب غور کیجیے گا، آپ جو خواب دیکھتے ہیں، کیا ان میں کانٹی نیوٹی جمپس ہوتے ہیں یا نہیں؟

مسلم لیگ ن کو کیوں ووٹ دیا جائے؟

انتخابات 2018 میں مسلم لیگ ن بھی عوام کے ووٹوں کی طلب گار ہے۔ مگر کیوں؟ صاحب، کچھ کیا ہوتا تو ووٹ مانگنے ہی نہ پڑتے۔ عوام کارکردگی دیکھ کر دیوانہ وار شیر پر ٹھپے لگاتے چلے جاتے۔
آخر آپ میں کچھ کمی تو ہے جو لوگ تحریک انصاف کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ ہاں ہاں، کہہ دیجیے تحریک انصاف کے درجات کی بلندی میں کچھ خلائی ہاتھوں اور امپائروں نے بھی کام کیا۔ لیکن مسلم لیگ ن نے پانچ سال حکمرانی کی ہے۔ جواب دہی تو بنتی ہے۔
سب سے پہلے تو بات کرپشن الزامات کی۔ حضرت، آپ عوامی نمائندے تھے، بے حساب دولت کا حساب تو دینا ہی ہے۔ نوازشریف تو عدالتوں کے سامنے پیش ہوتے رہے، آپ کے صاحب زادے کیوں پیش نہ ہوئے؟ آپ کے سمدھی اور ملک کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیوں عدالتوں سے چھپتے پھرے؟
آپ اپنے دور حکومت میں ایک بھی ایسا اسپتال کیوں نہ بنوا سکے جہاں آپ کی اہلیہ اور اسحاق ڈار کا علاج ہو سکتا؟ چلیے اسپتال نہ بنائے، یہ بتا دیں کہ اپنی حکومت میں کون کون سے ادارے پروان چڑھائے؟ کیا پی آئی اے خسارے سے نکل کر منافع دینے لگ پڑی؟ کیا اسٹیل مل اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی؟ اگر خسارے میں چلنے والے ادارے منفعت بخش نہ ہوئے تو پانچ سال آپ کیا جھک مارتے رہے؟ اور آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں کہ بجلی آ گئی، لیکن کیا یہ خالص بجلی ہے یا اس کے آس پاس قرضے گردش میں ہیں؟
جو ادارے موجود تھے، ان میں آپ نے کیا اصلاحات کیں؟ کیا پولیس سیاسی اثرات سے آزاد ہو گئی؟ عوام کو تحفظ مل گیا؟ کیا آج کسی بے اختیار پر کوئی با اختیار ظلم کرے تو انصاف لے پائے گا؟ کیا سرکاری دفاتر میں کام سفارش کے بغیر کیا جانے لگا ہے؟ کیا بھرتیاں میرٹ پر ہونے لگی ہیں؟
کام چھوڑیں، یہ بتائیں کیا علاج معالجہ سفارش کے بغیر ہونے لگ پڑا ہے؟ کوئی بیمار پڑے تو سرکاری تیماردار شفا بانٹے گا یا نجی اسپتال کا رستہ دکھائے گا؟ کیا سرکاری اسکولوں کی حالت میں بہتری آئی؟ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، لوگ اپنے جگر گوشوں کو سرکاری درس گاہ بھیجنا پسند کرتے ہیں یا نجی اسکول سے تعلیم دلواتے ہیں۔
آپ دانش اسکولوں کا ذکر کریں گے۔ لیکن یہ تو فرمائیے کہ پہلے سے بنے اسکولوں کو بہتر بنانے کے بجائے ان کے متوازی نئے اسکول بنانے کی کیا تک ہے؟ اور یہ متوازی نظام قائم کرنے کا شوق تو آپ کو ہر شعبے میں ہے۔ جو پولیس پہلے سے موجود ہے اس کی استعداد میں اضافہ کرنے کے بجائے ڈولفن فورس کھڑی کر دی جائے گی۔ پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کرنے کے بجائے کئی گنا مہنگی میٹرو بس اور اورنج ٹرین لے آئیں گے۔ خدا کے بندو، جہاں کم خرچے میں زیادہ بسیں زیادہ روٹس پر چلائی جا سکتی ہیں، وہاں ہزاروں گنا مہنگی بس صرف ایک روٹ پر چلانے کی کیا تک ہے؟
آپ دوسرے صوبوں میں جاتے ہیں تو وہاں اپنی ترقی کی مثال دینے کےلیے لاہور کے علاوہ بھی کوئی شہر ہے کیا؟ اور لاہور میں بھی یہ حالت ان آنکھوں نے دیکھی، ٹھیک حالت میں موجود مرکزی شاہراہ پر تارکول کی ایک اور تہہ ڈال دی گئی، اور ارد گرد کی ٹوٹی گلیوں میں گٹر ابلے پڑتے ہیں۔ سڑکیں بناتے بناتے درخت کاٹ ڈالے۔ ماحول جائے بھاڑ میں۔ آپ اور آپ کے بچوں نے کون سا پاکستان میں رہنا ہے۔ اگر یہ آپ کا وژن ہے تو سلام ہے ایسی بصیرت کو۔
ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ تو لگاتے ہیں، یہ بتائیے آپ نے پارلیمنٹ کو کتنی عزت دی؟ اپنے دور میں پارلیمنٹ کے کتنے اجلاسوں میں شرکت کی؟
آپ کو عمران خان کے مقابلے میں تہذیب یافتہ ہونے کا دعویٰ ہے؟ تو یہ عابد شیر علی، طلال چودھری، دانیال عزیز تہذیب کے آسمان پر کیسے کیسے چاند چڑھاتے ہیں؟ آپ ان کی غیر اخلاقی باتوں پر سرزنش نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے آپ ناشائستگی کی حمایت کرتے ہیں۔ یوں آپ کی اخلاقی برتری کا جواز بھی ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں۔
حضرت، خلائی مخلوق کی ریشہ دوانیاں اپنی جگہ، لیکن یہ خلائی مخلوق ادارہ جاتی اصلاحات، اور بصیرت افروز فیصلوں سے تو نہیں روکتی۔ تو بتائیے پھر، کیوں ووٹ دیا جائے مسلم لیگ ن کو؟

عمران خان کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

صاحب، مان لیا نواز شریف اور آصف زرداری کرپٹ ہیں۔ عمران خان ان کے مقابلے میں دودھ کے دھلے ہیں۔ کیا ہوا جو کرپشن الزامات میں گندھے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملا لیا۔ الیکٹ ایبل نہ ہو تو بندہ کس کے کندھے پر چڑھ کر اقتدار کی کرسی تک پہنچے؟ جب خان خود کوئی کرپشن نہیں کرتا تو انہیں بھی نہ کرنے دے گا۔
کیا کہا؟ عمران خان نے اسٹیٹس کو کے خلاف کھڑے ہونے کا نعرہ دیا تھا؟ جی کیا کیجیے۔ خالی خولی نعروں سے تو نہیں ملتی نا وزارت عظمیٰ۔ اقتدار کے مرکز پر قبضہ کیے بغیر تبدیلی بھی تو ممکن نہیں۔ جب طاقت مل گئی تو معاملات اسٹیٹس کو کے مطابق نہیں، اس کے خلاف چلائے جائیں گے۔
اب آپ سوال کریں گے کہ عمران خان نے دوران سفر سمجھوتہ کر لیا، منزل پر پہنچ کر مزید سمجھوتے کیوں نہ کرے گا؟ اس استدلال کا جواب یہ ہو سکتا ہے۔۔۔ منزل پر پہنچنے کے بعد خان کو سمجھوتے کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔ اچھا! اس دلیل کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی کارکردگی دیکھ لی جائے۔ کیا تحریک انصاف نے صوبے کی حکومت ملنے کے بعد امور بالکل میرٹ پر چلائے؟ کیا معاملات بہتر ہوئے؟ ٹھیکے من پسند افراد کے بجائے قابل افراد کو دیے گئے؟ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، اسپتال اور ڈیم بن گئے؟ احتساب کمیشن بنا کر کرپشن ختم کر دی گئی یا احتساب کمیشن ہی ختم کر دیا گیا؟
اگر تو جواب ان تمام سوالوں کا ہاں میں ہے تو جان لیجیے، عمران خان سمجھوتے کر کے اقتدار پر قابض ہو گیا تو مزید سمجھوتے ہر گز نہ کرے گا۔
چلیے اقتدار مل گیا، تو اسٹیبلشمنٹ سے معاملات کیا ہوں گے؟ جس امپائر کی انگلی پکڑ کر دھرنا دیا، طاہر القادری کو کزن بنایا، جس خلائی مخلوق کے کہنے میں آ کر سینیٹ الیکشن میں پیپلزپارٹی سے ہاتھ ملایا، کیا اس سے یکسر منہ موڑ لیں گے؟ اجی کیوں نہیں؟ جب نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہوتے ہوئے اسی سے سینگ پھنسا سکتے ہیں تو عمران خان کیوں نہیں؟ خواہش یہ خوب ہے، لیکن صاحب! نوازشریف نے بھی برسوں لیے اپنی اس غلطی کا اعتراف کرنے میں اور پھر اسے درست کرنے میں۔
ماضی اور حال کی راکھ کریدیں تو کیا عمران خان کبھی تاریخ کی درست سمت میں کھڑے نظر آئے؟ مشرف کی حمایت کرنا ہو، صرف سنی سنائی بات پر پینتیس پنکچر جیسا الزام لگانا ہو، طالبان کی درندگی کی مذمت کرنے کے بجائے اسے امریکی ایماء پر فوجی آپریشن کا ردعمل قرار دینا ہو، صوبے کی رقم سے سمیع الحق کے مدرسے کو نوازنا ہو، کیا کہیں عمران خان ایک روشن خیال اور مدبر رہنما کے طور پر سامنے آئے؟ اور یہ تو ابھی ابھی کی بات ہے، جب مسلم لیگ ن کے خلاف توہین کارڈ کھیلنے کی گنگا بہنے لگی تو عمران خان نے خوب خوب ہاتھ دھوئے۔ عمران خان نے 2013 کے الیکشن کے بعد دھاندلی دھاندلی کا شور مچایا، لیکن کیا پارلیمنٹ میں رہتے ہوئے آئندہ دھاندلی روکنے کا کوئی لائحہ عمل بنایا؟ ان کی تو اپنی پارٹی میں ہوئے انتخابات پر سوال اٹھے۔ جسٹس (ر) وجیہ الدین نے تحقیقات کے بعد کچھ سفارشات تیار کیں۔ کیا عمران خان نے ان سفارشات پر عمل کیا یا جسٹس (ر) وجیہ الدین سے راہیں جدا کر لیں؟ دھاندلی کے ملزموں کو نکال باہر کیا یا دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کو؟ (وہ تو کہتے ہیں نا کہ پارٹی کا سربراہ کرپٹ نہ ہو تو اپنے نیچے ہونے والی کرپشن برداشت نہیں کرتا)
چلیے عمران خان صاحب نے قانون سازی میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی، کہ پارلیمنٹ ہی نہ گئے (تو نواز شریف کون سا پارلیمنٹ جاتے تھے)۔ قانون پر عمل کرنے کے حوالے سے بھی عمران خان کا ریکارڈ دیکھ لیجیے۔ دارلحکومت پر دھاوا، پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ۔ پھر ان مقدمات سے فرار۔ سال ہا سال تک عدالتوں میں پیش ہی نہ ہونا۔ حکومت کے نمائندوں سے ملنے میں منہ بنانا، ‘ان’ سے ملاقات کا بلاوا آنا تو باچھیں کھل جانا۔۔۔کیا عمران خان ایک قانون پسند شہری کے طور پر سامنے آئے؟ اجی انہیں تو عدالت سے جھوٹا اور خائن قرار دیے گئے شخص کی دوری منظور نہیں۔ بغل میں لیے پھرتے ہیں (ہو سکتا ہے کہ مجبوری ہو، یا پھر بغل میں لیے پھرنے کا عمل دوسرے فرد کی جانب سے ہو۔ حسن ظن رکھنا چاہیے)
حاصل کلام یہ کہ عمران خان کو ووٹ ضرور دیجیے، کہ اپنی پسند کا امیدوار چننا آپ کا حق ہے۔ لیکن دوسروں کے مقابلے میں انہیں پاک، پارسا اور پوتر ثابت کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ جب حقائق کے حمام پر نظر پڑتی ہے تو دیگر جماعتوں کے سربراہوں کی طرح، تحریک انصاف والے بھی اتنے ہی بے لباس نظر آتے ہیں۔

دو قسم کے انصاف

انصاف کی ستم ظریفی دیکھیے۔ عمران خان نے اپنے سیاسی کزن طاہر القادری کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کی تو ایک پولیس افسر عصمت اللہ پر حملہ کیا گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ عمران خان اس حملے کے ملزم ٹھہرے۔ ان پر عدالت میں کیس چلانے کی کوشش کی گئی اور وہ قریب ساڑھے تین سال تک عدالت میں پیش ہی نہ ہوئے۔
آخر کار جب پیش ہوئے تو انہیں مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ بری کرنے کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ عدالت نے کہا، ملزم کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ اور یہ ثابت بھی نہیں ہوتا کہ عمران خان نے لوگوں کو پولیس افسر پر حملے کے لیے اکسایا ہو۔ حالانکہ تقاریر میں وہ انتظامیہ کے افسران کو کھلے عام دھمکیاں دے چکے تھے۔ اور جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہ ہونا بھی سمجھ نہیں آتا۔
643963-chiefjustice-1386709229-458-640x480خیر، ایک افسوس ناک واقعہ 2007 کو بھی پیش آیا تھا۔ اْس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے تو پولیس اہلکاروں نے ان سے بدسلوکی کی۔ اس دوران افتخار چودھری کو بالوں سے کھینچا گیا۔ واقعے کو گیارہ سال گزرنے کے بعد سزائیں دی گئیں۔ سابق آئی جی اسلام آباد افتخار احمد کو پندرہ روز کے لیے جیل بھیجا گیا۔ حاضر سروس ڈی ایس پی رخسار مہدی، ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی، نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر، چار پولیس اہلکاروں کو ایک ایک ماہ کےلیے قید کر لیاگیا۔ سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری ایم علی کو عدالت برخاست ہونے تک علامتی سزا سنائی گئی۔
فیصلہ آتے ہی بدسلوکی کے مجرموں کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

بد بو کی جنگ

جنگ عظیم دوئم کا قصہ ہے۔ فرانسیسی مزاحمت کار جرمن قبضے کے خلاف برسر پیکار تھے۔ ایسے میں امریکا نے انہیں انوکھا ہتھار فراہم کیا۔ یہ بارود نہیں، بد بو پھینکتا تھا۔ مزاحمت کار چوری چھپے کسی جرمن افسر پر بد بو کی پھوار پھینک دیتا۔ مقصد یہ تھا کہ جرمن افسر سبکی محسوس کریں اور یوں قابض فوجوں کا حوصلہ پست کیا جائے۔
تاہم ہتھیار کا استعمال کچھ دیر ہی چلا۔ وجہ یہ تھی کہ جرمن افسر پر بد بو پھینکے والا مزاحمت کار خود بھی اسی سڑانڈ میں نہا جاتا۔ تقریباً دو ہفتے بعد اس متعفن اسلحے کا استعمال ترک کر دیا گیا۔
کہنے کی بات یہ ہے کہ تعفن کی جنگ میں نقصان دونوں فریقوں کا ہوتا ہے۔ مخالف پر گندگی پھینکیں گے تو بد بو کی لپٹیں آپ سے بھی اٹھیں گی۔

صرف ایک شرط پر

ریڈرز ڈائجسٹ پر ایک کہانی پڑھی جس نے دل پر دستک دی۔ آپ بھی پڑھیے
پیٹر اپنی بیوی میری آن سے بہت محبت کرتا تھا۔ 1972 میں انہوں نے جرمنی میں بس نما گاڑی خریدی اور سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ دونوں محبت کی سرمستی میں گھومتے پھرے۔ کچھ سال جنوبی افریقہ قیام کیا اور پھر آسٹریلیا آن بسے۔ اس دوران ان کی بس نما گاڑی بھی ان کے ساتھ ساتھ رہی۔

img542-what-was-then-rhodesia-on-our-wedding-day
آسٹریلیا بسنے کے بعد خاندان میں دو بیٹیوں کا اضافہ ہوا۔ پیٹر اور میری آن نے پیار سے اپنی گاڑی کا نام شوئن رکھا۔ شوئن جرمن زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ‘اچھا’
شوئن پر انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ آسٹریلیا بھر کے سفر کیے اور خوبصورت یادیں اکٹھی کیں۔
2009 میں پیٹر کی بیگم میری آن چل بسیں۔ پیٹر ریٹائر بھی ہو چکے تھے اور بوڑھے بھی۔ اس وقت انہوں نے شوئن کو فروخت کرنے کا سوچا۔
جب پیٹر شوئن فروخت کرنے کا سوچ رہے تھے، ایلسی اور ڈومینیک شادی کے بندھن میں بندھے تھے اور گھومنے پھرنے میں زندگی بتانا چاہتے تھے۔ ایلسی کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ اس کے پاس ایک ‘خوشیوں بھری بس’ ہو جس پر سوار ہو کر وہ نئی دنیاوّں کی سیر کرے۔ آن لائن اشتہار دیکھتے ہوئے اسے شوئن کے بارے میں معلوم ہوا اور دونوں کا اس گاڑی پر دل آگیا۔
وہ شوئن کو دیکھنے پیٹر کے گھر گئے۔ اسے اپنے شوق کے بارے میں بتایا اور شوئن کو بھی دیکھا۔ شوئن انہیں پسند تو بہت آئی لیکن اس کی قیمت 39 ہزار ڈالر تھی، جسے ادا کرنا جوڑے کے بس میں نہ تھا۔
دکھی دل کے ساتھ ایلسی اور ڈومینیک لوٹ آئے۔
کچھ دن بعد ایلسی کو پیٹر کی کال آئی۔ اس نے شوئن پر ایک اور نظر ڈالنے کی درخواست کی۔
پیٹر نے انہیں بتایا کہ دو خریدار شوئن کو منہ مانگی قیمت پر خریدنا چاہتے ہیں، لیکن یہ خریدار بس اشیاء جمع کرنے کے شوقین ہیں۔ وہ شوئن کا خیال تو رکھیں گے لیکن شوئن کو ایک سجاوٹ کی چیز کے طور پر کھڑا کیے رکھیں گے۔ وہ کسی شیڈ یا گیراج میں پڑی رہے گی۔
پیٹر نے ان سے پوچھا، وہ شوئن کی کیا قیمت دے سکتے ہیں؟
ڈومینیک نے کہا، وہ تو بمشکل آدھی رقم دے پائیں گے۔
پیٹر نے بھیگی آواز میں کہا، مجھے یہ پیشکش قبول ہے، لیکن صرف ایک شرط پر۔ آپ وعدہ کریں کہ مہم جوئی پر نکلیں گے۔ اور جب آپ کے بچے ہو جائیں گے تو اپنی مہمات پر انہیں بھی ساتھ لے جایا کریں گے۔
اب شوئن آسٹریلیا میں گھومتی پھرتی ہے اور ایلسی اور ڈومینیک کے لیے خوبصورت یادیں تخلیق کرتی ہے

yorke-p-campfire-2-700

ساحل سمندر پر چائنہ کٹنگ

IMG_20180114_175656.jpg

عمیر محمود کراچی کے ساحل سمندر پر غروب آفتاب کا منظر دیکھنے گئے۔ سورج کو اٹکھیلیاں کرتی موجوں میں ڈبکیاں لگاتے دیکھا تو مچل گئے۔ فیصلہ کر لیا یہیں چائنہ کٹکنگ کر کے کنال دو کنال کی جھونپڑی ڈال لیں گے۔ بلکہ آنے جانے والوں سے بھتہ بھی وصولا کریں گے۔ یہاں ٹھکانہ ہو گیا تو روز نیم دراز ہو کر سورج کو ابھرتے اور ڈوبتے دیکھا کریں گے۔ پھر خیال آیا، کراچی کے اس علاقے میں دیکھنے کا پانی تو دستیاب ہے، پینے کا پانی ٹینکر سے ڈلوانا پڑتا ہے۔ چلُو بھر پانی کے لیے ہر مہینے ہمارا بارہ پندرہ ہزار اٹھ جایا کرے گا۔ فوراً چائنہ کٹنگ کے ارادے سے باز آئے۔ نائن زیرو کی طرف منہ کر کے توبہ استغفار بھی پڑھی۔ اپنی یادوں کی الماری میں یہ منظر رکھنے کے لیے سورج کو مٹھی میں بھرنا چاہا، وہ ساحلی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل کر سمندر میں گر گیا۔

جانا کراچی اور دیکھنا جیو کا دفتر

IMG-20180123-WA0023.jpgمحمد جنید دو کام کرتے ہیں۔ ایک تو جیو پر خبریں پڑھتے ہیں۔ اور جب خبریں نہیں پڑھ رہے ہوتے تو دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ فلاں کیسے چلتا ہے، کیسے بولتا ہے، کیسے اٹھتا بیٹھتا ہے، کیسا دکھتا ہے، کیا پہنتا ہے؛ جنید کوئی نہ کوئی سقم یا عیب دریافت کر ہی لیتے ہیں۔ ویسے مہربان آدمی ہیں۔ دوسروں کے غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہماری شادی پر بھی تشریف لائے تھے۔ اور ہمیں ایسا موقع دینے پر تاحال تیار نہیں۔ ہماری دوستی کا بار اپنے نازک کندھوں پر اٹھا رکھا ہے، اس لیے ہم بھی ان کی خامیاں نظر انداز کر کے انہیں عزیز مانتے ہیں۔ (واضح رہے، لفظ ‘بار’ کا استعمال ہم نے اپنی شخصیت کے لیے کیا ہے، جسامت کے لیے نہیں)
ہم کراچی گئے تو انہوں نے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ ملنے پہنچے تو معلوم ہوا دفتر والوں نے انہیں کرسی سے باندھ کر منہ پر ٹیپ چپکا رکھی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ محمد جنید بہت زیادہ بولتے ہیں، اور جو بولتے ہیں وہ تنقید پر مبنی ہوتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ کمپیوٹر سافٹ ویئر سے بھی چھیڑ چھاڑ کر دیتے ہیں۔ لہذا دفتر والوں نے یہی حل سوچا ہے کہ خبریں پڑھوانے کے بعد ان کے منہ پر ٹیپ لگا کر کرسی سے باندھ دیا جائے۔

خیر ہماری منت سماجت پر ان کی بندشیں ختم کی گئیں۔ انہوں نے آزاد ہوتے ہی ہاتھ میں جھاڑو تھام لیا اور کہا، اسٹوڈیو کی صفائی ٹھیک نہیں۔ دس منٹ بعد دائیں کونے میں جمع کوڑا بائیں کونے میں سمیٹ دیا اور فاتحانہ انداز میں کہنے لگے، اسے کہتے ہیں صفائی۔
اسی دوران جیو کے وجیہ اینکر وجیہ ثانی بھی آن پہنچے۔ ایک مشہور بلاگر اور نام نہاد صحافی کو اپنے درمیان پا کر انہوں نے ہمارے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک جانب جنید اور دوسری جانب وجیہ صاحب کھڑے ہوئے۔ دو اسمارٹ لوگوں کی خاطر ہم نے بھی سانس کھینچ کر پیٹ سمیٹ لیا اور تصویر بنوائی۔

IMG-20180123-WA0013.jpg
اس کے بعد ہم شاہزیب خانزادہ صاحب اور ان کی ٹیم سے ملے۔ اور انہیں اچھا پروگرام کرنے کے لیے مفید ٹپس دیں۔

IMG-20180123-WA0016.jpg

جیو والے تو اتنے متاثر ہوئے کہ ہمیں اینکر رکھنے کی ضد کرنے لگے۔ آزمائشی طور پر وہاں بٹھا بھی دیا جہاں کئی مایہ ناز اینکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
جیو والوں کی منت سماجت پر ہم دو سو روپے فی خبر نامہ کے عوض خبریں پڑھنے پر راضی ہو گئے۔ لیکن اتنی دیر میں تمام عملہ ہماری قابلیت اور لیاقت سے واقف ہو چکا تھا۔ جیو والوں نے حساب لگایا کہ ہمیں دو سو روپے دے کر خبریں پڑھوائی جائیں اور اس کے بعد عملے اور ناظرین کے لیے پیناڈول کا بندوبست بھی کیا جائے تو ایک بلیٹن دو کروڑ روپے کا پڑے گا۔ لہذا بہت اچھی سی چائے پلا کر ہمیں رخصت کر دیا گیا۔
جاتے جاتے ہم نے دیکھا، جنید کو دوبارہ کرسی سے باندھا جا رہا تھا۔

عمران خان کو ذاتی خوشی کیوں نہ ملی؟

"کچھ سالوں کے سوا، میں ساری زندگی ذاتی خوشی سے محروم رہا۔ اپنے خیر خواہوں اور چاہنے والوں سے صرف ایک بات کی درخواست 26220141_1961832510499819_3736019385328739801_nہے، دعا کریں مجھے ذاتی خوشی مل جائے۔”
عمران خان کی یہ ٹویٹ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہی ہے۔ میں انہیں زندگی کے کئی حوالوں سے کامیاب سمجھتا ہوں۔ اور میرا خیال تھا کہ کامیابی ہی خوشی لاتی ہے۔ عمران خان ایک کامیاب کھلاڑی رہے، شوکت خانم اسپتال جیسا شاندار منصوبہ کامیابی سے شروع کیا، تکمیل تک پہنچایا اور اسے کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ سیاست میں طویل جدوجہد کی اور پھر خیبر پختونخوا حکومت کی صورت (جزوی ہی سہی) کامیابی حاصل کی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے پانچ سال میں یقیناً کئی ایسے منصوبے ہوں گے جو کامیاب ہوئے ہوں گے یا کامیابی کے مراحل میں ہوں گے۔
لوک حکمت میں ایک بات مشہور ہے، کہ خوشی بانٹنے سے ملتی ہے۔ یعنی اگر آپ دوسروں کی خوشیوں کا سامان کریں گے تو آپ کو ذاتی خوشی ملے گی۔ اس میزان پر بھی عمران خان کا پلڑا بھاری ہے۔ ان کے اسپتال سے کتنے لوگوں کو شفا یاب ہونے کی خوشی ملی۔ کھیلوں میں ان کی فتح نے تو پورے پاکستان کو خوشیاں دیں۔ ان کی سیاسی کامیابیاں بھی ان کے چاہنے والوں کے لیے خوشیوں کا باعث بنیں۔ پانامہ پیپرز میں نواز شریف کا نام آنے کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی اور منصب سے ہٹا کر ہی دم لیا۔ یہ بات بھی بہت سے لوگوں کی خوشی کا باعث بنی۔ گویا عمران خان خوشیاں بھی بانٹتے رہے ہیں اور اس کے باوجود ذاتی خوشی سے محروم ہیں۔
لوک حکمت کے تحت ہی یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ جس نے حرام مال کمایا اسے کبھی سکھ نصیب نہیں ہوتا۔ حلال کمائی کی مد میں تو عمران خان عدالت عالیہ سے سند حاصل کر چکے ہیں۔
تو گویا لوک حکمت کو جھٹلا دیا جائے؟
کامیابی کے عمومی حوالوں سے بھی عمران خان کامران ہیں۔ انہیں پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اسلام آباد میں ان کی بہت ہی وسیع رہائش گاہ ہے۔ ایسی رہائش گاہ جو جمالیاتی ذوق نہ رکھنے والے شخص کو بھی متاثر کرے۔ جس کے گرد جنگل ہو۔ جس کے برآمدے سے راول جھیل نظر آتی ہو۔ اس کے علاوہ لاہور میں بھی اپنا گھر رکھتے ہیں۔ بیرون ملک سفر پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ جب چاہیں جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ذاتی زندگی میں خوشی نہیں ملی؟
ان کی ذاتی زندگی کے جتنے حوالے سامنے آئے، اس میں وہ کوئی بہت مشکل انسان نظر نہیں آتے۔ جو مل جاتا ہے پہن لیتے ہیں، جیسا مل جاتا ہے کھا لیتے ہیں۔ جب وہ (غالباً اپنی پیرنی کے کہنے پر) پہاڑی علاقوں میں بسیرا کیے ہوئے تھے، اس وقت ان کے کئی میڈیا انٹرویوز ہوئے۔ سبھی میں وہ ایک ہی ٹریک سوٹ پہنے نظر آتے۔ گویا لباس تبدیل کرنے کی بھی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ ایسے انسان کو درویش منش کہا جاتا ہے۔ اور درویش تو خوش رہتے ہیں۔
کیا عمران خان اس وجہ سے ناخوش ہیں کہ ان کی شادیاں ناکام ہوئیں؟ کیا اس کی وجہ دوسرا فریق تھا یا عمران خان خود؟ سیاسی جلسوں میں عمران خان اپنی بداخلاقی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ کیا وہ یہی بداخلاقی ذاتی زندگی میں تو روا نہیں رکھتے۔ اگر ایسا ہی ہے تو شادیوں میں ناکامی کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ ویسے تو لوک حکمت میں اخلاق سے بات کرنے کو احسن کہا گیا ہے، اور خوش اخلاق لوگوں کو عموماً خوش ہی دیکھا گیا ہے۔ خوش اخلاقی کے ساتھ ساتھ بااخلاق ہونے کو بھی افضل سمجھا جاتا ہے۔ ذاتی زندگی گناہوں سے آلودہ نہ ہو تو بھی ذاتی خوشی حاصل رہتی ہے۔ غالب امکان ہے گناہوں کے معاملے میں عمران خان کا دامن خشک ہی ملے گا۔
عمران خان صاحب! ذاتی زندگی میں خوشی آپ کو اپنی ذات کے آس پاس ہی ملے گی۔ اسے تلاش کیجیے۔ اگر وہ آپ سے دور ہے تو اس کی وجوہات بھی خود میں ہی کھوجیے۔ خود سے سوال کیجیے، آپ کا جواب ہی آپ کو ذاتی خوشی کے قریب لے جائے گا۔
عمومی حوالوں سے کامیاب زندگی گزارنے والا شخص اس عمر میں کتنے دکھ سے کہہ رہا ہے کہ کچھ سالوں کے سوا اسے کبھی ذاتی خوشی نہیں ملی۔ عمران خان کا یہ جملہ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہا ہے۔ دعا ہے اللہ جی ان کا دامن خوشیوں سے بھر دیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی شادی کی اندرونی کہانی


Filed under: افلاطونیاں Tagged: Happiness, Imran Khan, marriage, Tweet

ایک بٹ کی مدح میں

media-20171220تصویر میں بائیں ہاتھ قیصر بٹ صاحب ہیں (دائیں ہاتھ خاکسار خود ہے)۔ چینل میں ہماری بھرتی کے بعد پہلا ڈی جی پی آر کارڈ انہوں نے ہی بنوایا تھا۔ ارے بھائی ہم کہاں جھنجھٹ پالتے ہیں پاسپورٹ سائز تصویر رکھنے کا، متعلقہ دستاویز، ان کی فوٹو کاپیز، حکام کی تصدیق، شعبہ ہیومن ریسورس کی مہر۔۔۔ کون کرائے یہ سب۔ پھر ان چیزوں کو پہنچانا الگ قضیہ۔ ان الجھنوں کا حل قیصر بٹ صاحب ہیں۔ آپ کو بس تصویر اپنی کھنچوانی ہے، دستاویز یہ آپ کو کہہ کہہ منگوا چھوڑیں گے، باقی کے بکھیڑے یہ خود سمیٹیں گے۔ کارڈ بن گیا تو ڈی جی پی آر کے دفتر سے وصول کر کے آپ تک پہنچائیں گے اور پھر ریلوے کارڈ بنوانے پر اصرار ہو گا۔ فائدے آپ کے ہیں، ہلکان یہ ہوں گے۔
الغرض، ساتھیوں کی خدمت میں خوش رہتے ہیں۔ ان کی پریشانی میں پریشان ہوتے ہیں۔ جب تک ہماری شادی نہ ہوئی تھی، یہ فکر مند رہتے۔ نہ جانے کس خدشے پر کئی بار ہمیں ان حکیموں کے رابطہ نمبر بھی دیے جن سے استفادہ کر چکے تھے۔ شادی کے بعد ہمیں یہ فکر دامن گیر ہو گئی کہ ہمیں باپ بنانے کے چکر میں خود حاملہ نہ ہو جائیں۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی مدد کے لیے ہر حد کو جائیں گے۔ اور کسی صلے کی تمنا نہ رکھیں گے. شاید دوستوں کی دعاؤں کا اثر ہے کہ ہم سے دس سال زیادہ عمر کے ہونے کے باوجود کم عمر نظر آتے ہیں۔ ان کے سر کے بال جب کہ ہمارے صرف اعمال سیاہ ہیں۔ اب اپنی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے قیصر بٹ صاحب پریس کلب الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ دلوں پر تو پہلے ہی ان کا راج ہے، انشاءاللہ دوستوں کی محبت ووٹ بن کر بٹ صاحب کے نام سے بکسے بھر دے گی۔ ووٹ اور اسپورٹ سبھی قیصر بٹ کے نام


Filed under: خاکے Tagged: Election, Lahore Press Club

کھوتے اور گینڈے کی کہانی

20171024230126_IMG_0928ایک دفعہ کا ذکر ہے، کھوتا اور گینڈا ایک گھر میں رہنے لگے۔ لوگوں نے باتیں بنائیں تو کھوتے نے اپنی شناخت مٹانے کے لیے رنگ روغن کرا لیا اور خود کو زیبرا کہلوانے لگا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اسے کھوتا ہی کہتے۔
اب ہوا یوں کہ کھوتا روزانہ وزن ڈھوتا اور گینڈا شام ڈھلے تھوڑا بہت گھاس پھونس دے کر اس کا پیٹ بھر دیتا۔ کچھ وقت گزرا تو گینڈے کو محسوس ہوا گھر بیٹھے بیٹھے اس کا وزن بڑھنے لگا ہے۔ لہذا اس نے ورزش کرنے کا سوچنا شروع کر دیا۔ اب روز روز ورزش کے لیے کون گھر سے باہر نکلے، گینڈے نے گھر میں ہی چہل قدمی شروع کر دی۔ کبھی کبھار دل کرتا تو اچھل پھاند بھی کر لیتا۔
گینڈے کی ان حرکتوں سے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ جب اچھلتا، گھر میں بڑا سا ٹویا پڑ جاتا۔ کھوتے کو باہر سے مٹی لا لا کر یہ ٹوئے بھرنے پڑتے۔ لوگ باتیں بناتے تو کھوتا کہتا، "میں ٹوئے بھرنے کی جنگ میں گینڈے کے ساتھ ہوں۔ میں اپنے گھر میں پڑنے والے ٹوئے بھر رہا ہوں، لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟” لوگ کہتے کہ بھائی جان! کھوتے اور گینڈے کے ایک گھر میں رہنے کی تک ہی نہیں بنتی۔ لیکن کھوتا ان کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔
ایک دن گینڈے کو کچھ زیادہ ہی ورزش آئی ہوئی تھی۔ اس نے اچھل اچھل کر گھر اتھل پتھل کر دیا۔ اتنے گہرے گڑھے بن گئے کہ کھوتا ان کو بھرتے بھرتے خود دھنس گیا۔ جب دھنسے ہوئے کھوتے نے مدد کے لیے گینڈے کی طرف دیکھا تو اس نے کہا، "ڈو مور!”


Filed under: شوخیاں Tagged: Humour, Pak US relations

انصاف اور پلاٹ

14 اکتوبر 17 کے روزنامہ دی نیوز میں  خبر چھپی ہے جس کا عنوان ہے اپنے کیس کے خود ہی منصف۔ خبر کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبران کے لیے اسلام آباد میں ایک ہاؤسنگ اسکیم بنائی جا رہی ہے۔ اور سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ ہدایات دے رکھی ہیں کہ اسکیم کے لیے نہ صرف زمین خریدی جائے بلکہ حکومت ہی وہاں ترقیاتی کام بھی کرائے۔ واضح رہے کہ کسی نجی اسکیم کے لیے زمین کی خریداری حکومت کا کام نہیں۔
ویب سائٹ پاکستان 24 ڈاٹ ٹی وی بھی اس بارے میں خبر دے چکی ہے۔ 11 اگست 17 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق وکیل چاہتے ہیں کہ پلاٹ کا رقبہ ایک کنال سے کسی صورت کم نہ ہو۔ اب اسلام آباد میں ہزاروں وکیلوں کے لیے ہزاروں کنال جگہ کہاں سے آئے؟ خبر کے مطابق عدالت عالیہ نے زمین ڈھونڈنے کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہی ڈالی ہے۔ حکومت نے رہائشی اسکیم کےلیے جو جگہ تجویز کی وہاں پہلے ہی لوگ رہائش پذیر ہیں (دی نیوز کے مطابق یہ تعداد بارہ ہزار ہے)۔ خبر کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار یہ کیس سن رہے تھے اور ججوں نے کھل کر سرکاری افسران پر وکیلوں کے لیے زمین حاصل کرنے کا دباؤ ڈالا۔ مجوزہ زمینوں کے مالکان بھی کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ ایک متاثرہ زمین مالک نے کھڑے ہو کر کہا، وکیلوں کے پلاٹوں کے لیے ہم اپنے گھر کیوں گرانے دیں؟ اس دن تو ججز نے خاموش رہ کر یہ بات سن لی لیکن اگلے روز پولیس اہلکاروں نے متاثرہ زمین مالکان کو عدالت کی عمارت میں داخل ہونے سے ہی روک دیا۔ خبر کے مطابق، کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے سرکاری اہلکاروں سے کہا، اگر زمین حاصل کرنے میں تاخیر کی گئی تو سرکاری اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔
اندازہ کریں۔ وکیلوں کی زمین کے لیے سرکاری اہلکاروں کو توہین عدالت کی کارروائی کی دھمکی دی گئی۔ وکیلوں کا خیال کیا گیا، ان کی وجہ سے جو بارہ ہزار افراد اپنے ٹھکانوں سے بے دخل ہوں گے، ان کا کیا ہو گا؟
چند ہزار وکیلوں کےلیے ہزاروں افراد کی چھت چھیننے کے اس منصوبے میں عدالت کی کیا دلچسپی ہے، اور کیا مفاد ہے؟
دی نیوز کی خبر کہتی ہے وکیلوں کی اس ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ کے لیے اپلائی کرنے والوں میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے پچیس جج صاحبان شامل ہیں۔
دی نیوز کی خبر کے مطابق ایک ایسے جج صاحب بھی یہ کیس سنتے رہے جنہوں نے مجوزہ اسکیم میں پلاٹ کے لیے اپلائی بھی کر رکھا تھا۔ گویا خود ہی مدعی، خود ہی منصف۔ دی نیوز نے خبر میں سپریم کورٹ کے ہی ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی فیصلے سے جج کو معمولی سا مالی فائدہ بھی ہو تو وہ جج نااہل ہو گا۔ چاہے یہ ثابت نہ بھی ہو کہ فیصلہ مالی فائدے کی وجہ سے دیا گیا۔
انصاف فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی عدالت حکومت کو ایک ایسا کام کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے جو حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ حکومت سرکاری منصوبوں کےلیے تو زمین حاصل کر سکتی ہے لیکن نجی منصوبے کے لیے ایسا کرنے کا کیوں کہا جا رہا ہے؟ اور سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسکیم کےلیے مجوزہ زمین میں پہلے سے رہائش پذیر بارہ ہزار لوگ انصاف کے لیے کہاں جائیں گے؟


Filed under: ادھراُدھرسے Tagged: Bar Association, Housing Scheme, Islamabad, Judge, Plot, Supreme Court

سہمی سہمی ایک تصویر

IMG_20171012_203920جس وقت ہم نے حجام کے آگے سر تسلیم خم کیا، اس وقت دکان میں رکھے ٹی وی پر ڈرامہ چل رہا تھا۔ زلف تراش کی نظریں اور ہمارے کان ڈرامے پر تھے۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ گھر میں نئی آنے والی بہو ملازماؤں کے ساتھ بدسلوکی کرتی ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھ رہی تھی، حجام کا انہماک بھی بڑھ رہا تھا (ڈرامے میں)۔ ڈرامے کے معاملات میں تیزی آئی تو ہمارے سر پر چلتی قینچی کی ‘کھچ کھچ’ بھی تیز ہوتی گئی۔
گویا پہلے قینچی کی تال کچھ یوں تھی۔۔۔ کھچ کھچ کھڑچ، کھچ کھچ کھڑچ۔ کھڑچ کی آواز تب آتی جب قینچی ہمارے بالوں کی کسی لٹ پر حملہ آور ہوتی اور اسے کاٹ پھینکتی۔ بعد میں تال یوں ہوتی گئی۔۔۔ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ۔ سین جذباتی ہو جاتا تو قینچی کی لے یوں ہوتی۔۔۔ کھچ کھچا کھچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچا کھڑچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچ کھچ کھچ۔۔۔ ڈرامے کے مرکزی کردار کو غصہ آتا تو قینچی کہتی۔۔۔ کھڑچ کھڑچ کھڑچ کھچ۔
یعنی کہیں تو قینچی ہوا میں غیر موجود بالوں پر بھی تلوار کی طرح پھر گئی اور کہیں ہمارے کان کاٹتے کاٹتے رہ گئی۔
جب کہانی عین کلائیمکس پر پہنچ گئی تو حجام نے ہاتھ میں موجود قینچی چھوڑ کر استرا پکڑ لیا۔ ہماری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ قلمیں تراشنے کو اٹھنے والا استرا کہیں سر ہی قلم نہ کر دے، اس فکر میں ڈرامہ لکھنے والے بنانے والے اور چلانے والے کو خوب کوسا۔ جس وقت گھبرا کر ہم نے آنکھیں بند کیں اس وقت سامنے شیشے میں اپنے جیسا ایک ہیولا خزاں رسیدہ زرد پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
جب ڈرامہ ختم ہوا اور اشتہار شروع ہوئے تو ہم نے آنکھیں کھولیں۔ اعضاء تو سب سلامت تھے، البتہ بالوں کی سفیدی مزید بڑھ چکی تھی۔ اب ہمارا مطالبہ ہے حجام کی دکان میں ٹی وی پر پابندی لگا دی جائے۔ بلکہ ووٹ بھی اسی سیاسی جماعت کو دیں گے جو ہمارے مطالبے کو قانون بنائے گی۔
قصہ سنانے کا مقصد یہ تھا کہ تصویر میں جو ہم گھبرائے گھبرائے نظر آتے ہیں، اس کی وجہ کچھ اور نہ سمجھی جائے۔


Filed under: خواہ مخواہ, شوخیاں Tagged: Haircut

حادثہ ہو گیا

ایک سڑک سے بائیں ہاتھ دوسری سڑک کو مڑے تو پیچھے آنے والے موٹرسائیکل سوار نے بائیں جانب سے ہی اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی۔ ہماری گاڑی ابھی موڑ کاٹ ہی رہی تھی کہ وہ ہم سے آن ٹکرائے۔ ٹکر کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار، ان کی اہلیہ اور تین بچے گر گئے۔
ڈرائیونگ سیٹ پر اہلیہ تھیں، ابھی تربیتی لائسنس ملا تھا، اور گاڑی چلانے کی مشق جاری تھی۔ شاید موڑ کاٹنے کے بعد ان سے گاڑی بروقت سیدھی نہ ہوئی اور حادثہ پیش آیا،  یہ سوچ کر ہم نے موٹرسائیکل سوار، ان کے بچوں اور اہلیہ سے معذرت کی۔
وہ صاحب الجھنے لگے کہ اگر کوئی سنجیدہ نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔ ہم نے بارہا معذرت کی، لیکن وہ یہی کہتے گئے کہ آپ کی معذرت سے کیا ہوتا ہے، اگر کوئی نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔
اس منطق کا جواب ہمارے پاس نہ تھا۔ دل سے معذرت خواہ تھے، ان کو لگنے والی خراشوں پر رنجیدہ تھے، ان کا کوئی نقصان ہوا تھا تو بھرنے کو تیار تھے، معذرت کے سوا کچھ کر نہ سکتے تھے۔ ان سے عرض کی، بھیا جب ہماری معذرت آپ کو قبول نہیں تو ہمارے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کیجیے۔ ہمارا جرم ہے تو سزا دلوائیے۔
یہ سنتے ہی انہوں نے فون نکالا اور نمبر ٹٹولنے لگے۔ ساٹھ بڑبڑاتے جاتے، اس رپورٹر کا کیا نمبر تھا۔۔۔ میں نے سوچا شاید رپورٹر سے ون فائیو کا نمبر پوچھنے لگے ہیں۔ اتنی دیر میں کال مل گئی۔ کہنے لگے، میں فلاں جگہ کھڑا ہوں فوراً ڈی ایس این جی بھیجو (ڈی ایس این جی میڈیا کی اس گاڑی کو کہتے ہیں جو سیٹلائٹ سے منسلک ہو جاتی ہے۔ کسی مقام سے ٹیلی وژن نشریات براہ راست دکھانے کے لیے اس گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے)
جب ہم نے بات قانون کے ہاتھ سے نکل کر میڈیا کے ہاتھ میں جاتے دیکھی تو خاموش کھڑے ہو گئے اور معاملات تقدیر کے سپرد کر دیے۔ ابھی ٹی وی چینل کی گاڑی پہنچی نہ تھی کہ ان کی اہلیہ نے انہیں بات ختم کرنے پر قائل کر لیا۔ ہم نے ایک بار پھر معذرت کی، شکریہ ادا کیا اور گھر روانہ ہوئے۔ جلدی میں ان کا نام تک پوچھنا یاد نہ رہا۔ حادثے پر اب بھی افسوس ہے۔ اللہ انہیں اور اہل خانہ کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین


Filed under: یاد ماضی Tagged: Accident, Lahore, Pakistan

ہلیری کلنٹن کے ساتھ کیا ہوا

گہری سانس لو، اپنے پھیپھڑوں کو ہوا سے بھر لو، اس وقت صبر کرنا ہی مناسب ہے، بعد میں رو لینا۔
ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بننے کے بعد حلف اٹھا رہے تھے تو اس وقت ان سے مات کھانے والی ہلیری کلنٹن کے دل و دماغ میں انہی خیالات کی یلغار تھی۔
امریکا کی سابق وزیر خارجہ، اور صدارتی انتخاب ہارنے والی خاتون ہلیری کلنٹن کی نئی کتاب پڑھنا شروع کی ہے۔ ہلیری ایک مضبوط hillaryامیدوار تھیں، انتخابات میں ان کی شکست پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے کتاب کا نام رکھا گیا ہے
What happened
یعنی کہ کیا ہوا؟ کتاب کا آغاز حیریٹ ٹب مین کے ان جملوں سے ہوتا ہے
اگر تم تھک چکے ہو، چلتے رہو
اگر تم خوف زدہ ہو، چلتے رہو
اگر تم بھوکے ہو، چلتے رہو
اگر تم آزادی چاہتے ہو، چلتے رہو
پہلا باب ہی پڑھ پایا ہوں، اور ابھی تک تو یہی لگ رہا ہے کہ بی بی نے کتاب لکھ کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی ہے۔
تعارفی کلمات میں رقم طراز ہیں
یہ سب لکھنا آسان نہ تھا، میں جانتی تھی کہ کروڑوں لوگ مجھ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اور میں انہیں مایوس کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ لیکن میں نے کر دیا۔
ابتدائی کلمات میں ہی روس کی جانب بھی انگلیاں اٹھا دی ہیں۔ ڈائیریکٹر ایف بی آئی پر بھی مداخلت کا الزام لگایا۔ ای میلز لیک ہونے کی خبر کو اچھالنے پر میڈیا سے بھی شکوہ کیا۔
لکھا ہے، "مجھے یقین تھا کہ ٹرمپ ملک اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ وہ  بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھا چکا تھا۔ ہمارے ساتھ مذاق ہو چکا تھا۔ "

پس تحریر: فرصت اور شوق برقرار رہنے کی دعا کیجیے، باقی کتاب کا نچوڑ بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہلیری کلنٹن اس سے پہلے "سخت فیصلے” کے عنوان سے ایک کتاب لکھ چکی ہیں۔ اس میں پاکستان کے بارے میں  باب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔


Filed under: کتابوں کی باتیں Tagged: Book, Hillary Clinton, Review, Summary, Urdu, What Happened

Pages