نوک جوک

ایسی گرل فرینڈ کسی کی نہ ہو

اپنی زندگی کے آخری دن، اٹھارہ سالہ امریکی نوجوان کانریڈ رائے کو موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوا
"تم کر سکتے ہو، اس بارے میں سوچو مت، بس کر گزرو!”
یہ پیغام بھیجنے والی لڑکی کانریڈ کی سترہ سالہ دوست مشیل کارٹر تھی، اور کانریڈ کو خودکشی کی ترغیب دے رہی تھی۔ اگلے روز کانریڈ کی لاش اس کی گاڑی سے ملی۔ دم گھٹنے سے اس کی موت ہو چکی تھی۔

یہ واقعہ 2014 میں پیش آیا۔ اب مشیل پر مقدمہ چل رہا ہے کہ اس نے اپنے دوست کو خودکشی پر اکسایا۔ کانریڈ کے والدین میں علیحدگی ہو چکی تھی اور وہ 2012 میں بھی خودکشی کی کوشش کر چکا تھا۔
ایک روز اس نے اپنی دوست کو موبائل پر پیغام بھیجا، "مجھے اپنے ماضی پر افسوس ہے، میں اس وجہ سے پریشان رہتا ہوں۔”
مشیل کا جواب تھا، "خودکشی کر لو۔” اس پر کانریڈ نے لکھا، "کیا مجھے کر لینی چاہیے؟”
مشیل کارٹر صاحبہ تو پکی ہی ہو گئیں، اور ہر حال میں کانریڈ کو خودکشی کرانے پر تل گئیں۔ اسے خودکشی پر اکسانے، بلکہ مجبور کرنے لگیں۔
دونوں کے درمیان موبائل فون پیغامات پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کانریڈ مرنا نہیں چاہتا تھا، صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا، تاہم مشیل صاحبہ نے کہا اس سے تکلیف تو ختم نہیں ہو گی۔ بعد میں انہوں نے مشورہ دیا، انٹرنیٹ پر کاربن مونو آکسائیڈ پیدا کرنے کے طریقے دیکھو۔ کانریڈ نے انٹرنیٹ سرچ کے بعد بتایا، ایک جنریٹر سے یہ کام ہو سکتا ہے۔ (یعنی کسی بند جگہ پر جنریٹر چلایا جائے، جس سے کاربن مونو آکسائیڈ پیدا ہو گی اور اس کی جان لے لے گی)۔
بعد کے پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کانریڈ خودکشی کے بارے میں سنجیدہ نہ تھا (بس بات منہ سے نکال کر پھنس چکا تھا)، لیکن مشیل روز اس سے پوچھتی۔ کانریڈ پس و پیش سے کام لیتا تو مشیل کہتی، "لگتا ہے تم اس معاملے میں سنجیدہ نہیں، ہر روز تم کہتے ہو کہ آج (خودکشی) کروں گا لیکن پھر ٹال دیتے ہو۔ مجھے یقین ہے تم کوئی نہ کوئی بہانہ بناؤ گے۔”
پھر پوچھا، "کیا تم نے جنریٹر حاصل کر لیا؟”
کانریڈ نے کہا، "ابھی نہیں،” تو (چڑ کر) پوچھنے لگیں آخر کب لو گے؟ اور دیکھو کہیں پکڑے نہ جانا۔
اس مرحلے پر کانریڈ کو اپنے والدین کا خیال آیا، یا خودکشی سے بچنے کو کہنے لگا، ان کا کیا بنے گا؟ تو مشیل صاحبہ تسلیاں دیتے ہوئے کہنے لگیں، "انہیں دکھ تو ہو گا لیکن آخر کار وہ اسے تسلیم کر لیں گے۔ انسان کی زندگی میں وہ نقطہ (مقام) آتا ہے جب وہ خود بھی اپنی مدد نہیں کر سکتا۔ میرا خیال ہے تمہارے والدین کے علم میں ہو گا کہ تمہاری زندگی میں وہ نقطہ آ چکا ہے۔ ایک بار تم نے بتایا تھا کہ تماری والدہ نے تمہارے کمپیوٹر پر خودکشی سے متعلق مواد دیکھا تھا اور تمہیں کچھ نہ کہا تھا۔ میرا خیال ہے ان کے علم میں ہے کہ تم خودکشی کے بارے میں سوچ رہے ہو اور وہ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہیں۔”
پیغامات سے واضح پتہ چلتا ہے کانریڈ خودکشی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ایک مرحلے پر اس نے کہا، "میں کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔ جو کوئی بھی دروازہ کھولے گا، کاربن مونو آکسائیڈ اس کے پھیپھڑوں میں بھی چلی جائے گی (اور اسے نقصان پہنچے گا)۔” مشیل صاحبہ فرمانے لگیں، "فکر نہ کرو، وہ جنریٹر دیکھ لیں گے اور انہیں پتہ چل جائے گا کہ تم کاربن مونو آکسائیڈ سے مرے ہو۔”
ایک اور پیغام میں کہا، "یہ ہی وقت ہے، تم خودکشی کے لیے تیار ہو، بس کر گزرو۔ تم اس طرح زندگی نہیں گزار سکتے۔”
کانریڈ نے کہا، "لیکن مجھے اپنے خاندان کی فکر ہے۔”
مشیل نے جواب دیا، "کانریڈ، میں ان کا خیال رکھوں گی۔ ہر کوئی ان کا خیال رکھے گا۔ وہ ٹھیک رہیں گے اور تمہاری خودکشی سے سمجھوتہ کر لیں گے۔ جو لوگ خودکشی کرتے ہیں وہ اتنا نہیں سوچتے، وہ بس کر گزرتے ہیں۔”
آخر کار مشیل کارٹر کے کہنے سننے سے کانریڈ رائے نے خود کو اپنی گاڑی میں بند کیا اور گاڑی میں رکھا چھوٹا جنریٹر آن کر دیا۔ مشیل کارٹر اس وقت بھی فون پر اس کے ساتھ رابطے میں تھی۔ ایک موقع پر کانریڈ دم گھٹنے سے گھبرا کر گاڑی سے باہر نکلنے لگا تو مشیل نے ہی اسے گاڑی میں بیٹھے رہنے کا کہا۔
کانریڈ کی موت کے بعد مشیل نے خود کو اس کی غم زدہ گرل فرینڈ کے طور پر پیش کیا۔ یہاں تک کہ کانریڈ کے اعزاز میں ایک سافٹ بال ٹورنامنٹ بھی کرایا اور ذہنی صحت کی آگاہی کے لیے رقم اکٹھی کی۔
شاید توجہ حاصل کرنا ہی مشیل کا واحد مقصد تھا۔
اب مشیل پر اپنے دوست کو خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ چل رہا ہے۔ اس کے وکلاء دفاع میں کئی دلیلیں پیش کر رہے ہیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پیغامات آزادی اظہار رائے کے زمرے میں آتے ہیں۔


Filed under: ادھراُدھرسے Tagged: Conrad Roy, Girlfriend, Life, Michelle Carter, Suicide

قاتل کی تلاش

ناول نگار جیمس پیٹرسن سے اپنا کوئی تعارف نہ تھا، نہ کبھی نام سنا، نہ کوئی تحریر پڑھی ۔۔۔ ایک روز کچھ پڑھنے لائک پھرولتے ہوئے ان James Patterson's Invisibleکا ناول انویزیبل چکھنے کا سوچا۔ کہانی کا آغاز پھیکا سا نکلا، کوئی خاتون شعلوں میں گھری ہیں اور یہی بیان کرنے میں کئی سطریں گھسیٹ دی گئی ہیں۔ تنگ آ کر ناول رکھنے کا سوچا ہی تھا کہ کہانی کچھ کچھ دلچسپ ہوتی معلوم ہوئی۔
کہانی کی مرکزی کردار ایمی نامی خاتون ہیں جو امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی میں تجزیہ کار ہیں۔ ان کی بہن مارتھا گھر میں آگ لگنے سے ہلاک ہو جاتی ہیں اور ایمی کو شک ہے کہ آگ حادثاتی طور پر نہیں لگی بلکہ مارتھا کو قتل کیا گیا۔ تفتیشی ادارے ایمی کے نظریے سے اتفاق نہیں کرتے اور یہ بات ان کے اعصاب پر سوار ہو جاتی ہے۔
ایمی معاملے کو مزید کریدتی ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے امریکا کے کئی اور علاقوں میں آگ لگنے کے ایسے ہی واقعات سامنے آئے ہیں، اور ان کا سلسلہ جاری ہے۔ ایمی کا خیال ہے کہ یہ ایک ہی شخص کی کارستانی ہے۔ مایوسی کے عالم میں وہ اپنے سابق منگیتر ہیریسن بک مین سے رابطہ کرتی ہیں جو ایف بی آئی میں ہی تفتیش کار رہنے کے بعد ریٹائر ہو چکے ہیں۔ وہ قائل ہو جاتے ہیں کہ آگ لگنے کے چند مخصوص واقعات کے پیچھے ایک ہی شخص کا ہاتھ ہے۔
ہیریسن ایف بی آئی کے بڑوں کو تفتیش میں معاونت کے لیے قائل کر لیتے ہیں، لیکن سب سے پہلے انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ آگ کا لگنا حادثہ نہیں، واردات ہے۔ چونکہ کسی کو جرم کا شبہ نہ تھا، اس لیے مرنے والوں کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم تک نہ کیا گیا تھا۔ آخر پوسٹ مارٹم رپورٹ آ جاتی ہے اور تفتیشی ادارے بھی ایمی کے نظریے سے متفق ہو جاتے ہیں۔
اب قاتل کی تلاش شروع ہوتی ہے۔ وارداتوں کی تفصیلات سے کسی ترتیب کا پتہ چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تفتیشی ادارے آخر کار ایک پیٹرن تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ انہیں علم ہو جاتا کہ قاتل اگلی واردات کب اور کس شہر میں کرے گا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں علاقے کا علم نہیں ہو پاتا اور قاتل آزاد گھومتا پھرتا ہے۔
بڑے عرصے بعد ایک ایسا ناول پڑھنے کو ملا کہ جس کی کہانی اپنے ساتھ بہا لے گئی۔ کہانی کا انجام تو بہت ہی حیران کن ہے۔
سر ورق دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ناول جیمس پیٹرسن نے اکیلے نہیں لکھا بلکہ ڈیوڈ الیس بھی شریک لکھاری ہیں۔ دو ناول نگار مل کر ایک کہانی لکھیں، اس قسم کے تجربات سے پہلے واقفیت نہ تھی۔ میں اس اچھی کہانی کا تمام کریڈٹ جیمس صاحب کو دیے بیٹھا تھا جب ان ہی کا ایک اور ناول برن پڑھا۔ اس بار شریک لکھاری کوئی اور تھے، اور ناول پڑھنے کا بالکل بھی لطف نہ آیا۔ معلوم ہوتا ہے انویزیبل اگر اتنا اچھا ہے تو اس میں تمام کمال ڈیوڈ الیس کا ہے۔


Filed under: کتابوں کی باتیں Tagged: book review, Invisible, James Patterson

میلانیہ نے ٹرمپ کا ہاتھ کیوں جھٹکا

امریکی صدر اہل و عیال کے ہمراہ سعودی عرب سے اسرائیل پہنچے تو ایک واقعہ خلاف معمول ہوا۔ جہاز سے اترنے کے بعد سرخ قالین پر چلتے ہوئے ٹرمپ نے (اپنی) اہلیہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا اور انہوں نے بے نیازی سے جھٹک دیا۔ جیسے کہہ رہی ہوں چھڈ میری وینی نہ مروڑ، کچ دیاں ونگاں نہ تروڑ (چھوڑو، میرے کلائی نہ مروڑو، کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ جائیں گی)
اب خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے ۔۔۔ شاید یہ میلانیہ کی ادا ہی ٹھہری ہو، لیکن یہاں تو ترک تعلق کے فسانے گھڑ لیے گئے۔ بھئی ہو سکتا ہے خاتون اول وہاں سعودی عرب میں کوئی فر کوٹ خریدنے کو مچل گئی ہوں اور ٹرمپ نے ٹھینگا دکھا دیا ہو۔ شاید ٹرمپ نے کہا ہو، "بھلیے لوکے، گرمیوں میں فر کوٹ کون پہنتا ہے؟ اور میں نے کون سی لندن میں جائیدادیں بنائی ہیں جو تمہارے فر کوٹ پر پیسے اجاڑوں۔” میلانیہ نے جواب دیا ہو گا، "گرمیوں کی وجہ سے ہی تو پندرہ پرسنٹ سیل لگی ہوئی ہے۔”
امریکی صدر نے اپنی بیگم کو کہا ہو گا، "سادہ لوکے! ابھی ابھی تو سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے ہتھیار بیچے ہیں، ابھی بھی ہم نے ڈسکاؤنٹ پر ہی چیزیں لینی ہیں تو چار حرف اس تجارت پر۔ ویسے بھی میں تمہیں روسی ریچھ کی کھال کا کوٹ لے کر دوں گا، وہ زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔ اور وہاں سے میرا خاص دوست شاید مفت ہی بھجوا دے۔” میلانیہ شوہر کی باتوں میں تو آ گئی ہوں گی لیکن بات دل سے نکالی نہیں ہو گی۔ جہاز کے سفر میں اسی پر سوچتی رہی ہوں گی۔ یہ خیال بھی دل میں آیا ہو گا کہ صدر بننے کے بعد ٹرمپوا بدل سا گیا ہے۔ پہلے تو میں جو بات منہ سے نکالتی تھی وہ پوری کرتا تھا۔ اب تو جو بندہ اس کی بات پوری نہ کرے یہ اسے نوکری سے ہی نکال دیتا ہے۔
محبت وہی انداز پرانے مانگے، لیکن ٹرمپ تو گولیاں کرانے کے بہانے مانگے
اسرائیلی سرخ قالین پر چلتے ہوئے میلانیہ یہی کچھ سوچ رہی ہوں گی جب ٹرمپ نے تھامنے کو اپنا ہاتھ بڑھایا ہو گا۔ بس اسی لمحے خاتون اول کے دل میں میل سا آ گیا ہو گا، یا پھر اس تذبذب کا شکار ہو گئی ہوں کہ ہائے ربا، یوں سب کے سامنے بیوی کا ہاتھ کون تھامتا ہے، ٹرمپ کو تو ذرا لاج نہیں آتی۔

یہ بھی تو دیکھیں کہ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ تو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں لیکن میلانیہ چند قدم پیچھے ہیں۔ میں ترے سنگ کیسے چلوں ساجنا، تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا۔۔۔
چلیں بھیا، ہو جاتا ہے۔ کون سا گھر ہے جہاں میاں بیوی میں روٹھا راٹھی نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے باراک اوباما بھی نیلسن منڈیلا کی mandela-selfie_2761644bآخری رسومات پر ڈنمارک کی وزیراعظم کے ساتھ سیلفیاں لیتے دانت نکال رہے تھے اور ان کی بیگم منہ سجائے بیٹھی تھیں۔ اب صدارت کے بعد اسی بیگم کو نکڑ کی دکان سے روز دہی لا کر دیتے ہیں۔
تاہم ٹرمپ اور میلانیہ کا معاملہ کچھ زیادہ ہی گڑبڑ لگتا ہے۔ شاید جو دیوار ڈونلڈ ٹرمپ امریکا اور میکسیکو کے درمیان تعمیر کرنا چاہتے تھے وہ ان کے اور بیگم کے دلوں کے درمیان کھڑی ہو گئی ہے۔ اگر اسرائیل میں ہوا واقعہ اتفاق بھی قرار دے دیا جائے تو قریب قریب یہی معاملہ اٹلی میں بھی پیش آیا۔ دارلحکومت روم پہنچنے پر جیسے ہی دونوں جہاز کے دروازے پر آئے، ٹرمپ نے میلانیہ کا ہاتھ تھامنے کو اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، اور عین اسی لمحے ۔۔۔ عین اسی لمحے میلانیہ ہاتھ بڑھا کر اپنی الجھی لٹ سلجھانے لگیں۔

بھیا ٹرمپ، آپ ایک طاقت ور ملک کے صدر بے شک ہیں، لیکن گھر میں تو آپ صرف ایک شوہر ہی ہوں گے۔ لہذا اگلے چار سال خیریت سے گزارنے ہیں تو اپنے گھریلو معاملات ٹھیک کریں۔ بیگم کوئی امت مسلمہ تو ہے نہیں کہ اس کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کر لیں۔


Filed under: شوخیاں Tagged: Hand, Melania, Reject, Swat, Trump, Urdu

ہمارے ستاروں کی غلطی

ہمارے ستاروں کی غلطی۔۔۔
دی فالٹ ان آور اسٹارز کا بھلا اور کیا ترجمہ ہو؟ جان گرین صاحب کا یہ ناول جانے کب سے ہمارے پاس پڑا تھا۔ اب کی بار چھٹیوں the-fault-in-our-stars-by-john-green-book-pdf-free-download-600x600کے دوران یونہی وقت گزارنے کو چند صفحے پلٹے تو کہانی نے اپنی گرفت میں لے لیا۔
کہانی کا مرکزی کردار ایک نوجوان لڑکی ہیزل ہے جو کینسر کی مریضہ ہے۔ مرض کی وجہ سے وہ کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتی، لیکن والدہ کے مجبور کرنے پر کینسر سے متاثرہ افراد کے اجتماع میں شرکت کرنے لگتی ہے۔ یہاں اس کی ملاقات ایک خوش وضح نوجوان آگسٹس سے ہوتی ہے جو محبت میں بدل جاتی ہے۔
ہیزل کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے۔ اسے ایک ناول بہت پسند ہے جس میں ناول نگار نے کہانی ادھوری چھوڑ دی ہے۔ ہیزل اس تجسس میں مبتلا ہے کہ ناول کی پوری کہانی کیا ہو گی۔ آگسٹس بھی یہ ناول پڑھتا ہے اور اسی تجسس میں گھر جاتا ہے۔
دونوں ناول نگار سے ملاقات کا فیصلہ کرتے ہیں تاکہ اس سے مکمل کہانی سن سکیں۔
واضح کرتے چلیں کہ ہمیں صرف ایسی کہانی پسند آتی ہے جس میں تجسس ہو۔ جہاں کہانی میں غم، مار دھاڑ، یا رومانس داخل ہوجائے، وہاں ہماری پڑھنے کی تحریک ختم ہو جاتی ہے۔ اس اصول کے تحت ہمیں ناول فوراً ہی چھوڑ دینا چاہیے تھا، کیوں کہ متذکرہ ناول میں غم بھی ہے اور رومانس بھی، پھر بھی نہ جانے کیوں آخر تک پڑھتے چلے گئے۔
اف، کس قدر خوف ناک مرض ہے کینسر۔ یقینی موت اور ہر روز اس کا اذیت ناک انتظار۔ کہانی میں سے کہیں کہیں امید بھی جھلکتی لیکن بجھی بجھی، پژمردہ۔ بطور قاری ہمیں ان کرداروں سے ہمدردی ہو گئی۔ ہم ان کی زندگی کے لیے کسی معجزے کی دعا کرنے لگے۔ کچھ انہونی ہو جائے اور کسی سطر میں اس موذی بیماری کا علاج دریافت ہو جائے۔ ناول پڑھ کر معلوم ہوا، معجزے حقیقی زندگی میں تو ہوتے نہیں، کہانی کی زندگی میں بھی مشکل ہیں۔
یہ اور بات کہ کہانی کی بنت اس کمال کی تھی کہ رکھنے کو بھی جی نہ چاہے۔ ناول کا انجام اس قدر یقینی لیکن پھر بھی کسی ناقابل یقین واقعے کے انتظار میں پڑھتے چلے گئے۔ شاندار مکالمے، البتہ نوجوان کردار انہیں ادا کرتے ہوئے غیر حقیقی معلوم ہوتے۔ شاید بیماری وقت سے پہلے ہی سمجھ دار بنا دیتی ہے۔
اگر آپ بھی امید اور ناامیدی کے درمیان تنی ہوئی رسی پر چلنا چاہتے ہیں تو یہ ناول پڑھ ڈالیے۔ آخری صفحے تک پہنچتے پہنچتے آپ پہلے سے زیادہ حساس ہو چکے ہوں گے۔


Filed under: کتابوں کی باتیں Tagged: book review, The Fault in our stars, Urdu

بعد میں دیکھی جائے گی

دفتری ساتھی کو پیٹ میں درد کی شکایت ہوئی۔ بہت دیر تک تو معلوم ہی نہ ہونے دیا۔ جب ہم نے چہرے کی رنگت متغیر دیکھی تو پوچھا کیا معاملہ ہے؟ دل میں سوچا، ہو نہ ہو اس کی وجہ وہ ناشتہ ہے جو صبح نیازی صاحب لائے تھے اور ان صاحب نے اس سے خوب انصاف کیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ درد بھی بڑھتا گیا۔ ہم نے انہیں دفتر سے چھٹی لے کر ڈاکٹر کے ہاں جانے کی تجویز دی، وہ آمادہ نہ ہوئے۔ شاید انہیں خدشہ تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں کام زیادہ بہتر طریقے سے ہو جائے گا۔
بہرحال، کچھ ہمارے سمجھانے اور کچھ تکلیف کے بڑھ جانے پر وہ دفتر سے چھٹی لینے اور ڈاکٹر کے ہاں جانے پر رضامند ہو گئے۔
شام میں ہم نے خیریت دریافت کرنے کو فون کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر نے درد کش انجیکشن لگا دیا تھا اور اب افاقہ ہے۔ ہم نے پوچھا وجہ کی تشخیص ہوئی؟ کہنے لگے ڈاکٹر کے خیال میں گردوں میں پتھری ہے، اسی اندیشے کی جانچ کے لیے کچھ ٹیسٹ تجویز کیے ہیں۔
ہم نے سوچا کہ وہ ڈاکٹر کے پاس گئی تھے، تو تجویز کردہ ٹیسٹ بھی کروا ہی لیے ہوں گے۔ اس خیال سے پوچھا کہ رپورٹ کب آئے گی۔ فرمایا، میں نے چھٹیوں پر جانا ہے، واپسی پر ٹیسٹ کراؤں گا۔۔۔
آپ کی اطلاع کے لیے بتاتے چلیں کہ انہوں نے چھٹیوں پر دس روز بعد جانا تھا، یعنی ٹیسٹ کا معاملہ پندرہ بیس روز کے التواء میں ڈال دیا۔ اور یہ بھی کون جانے کے بعد میں لیبارٹری کا رخ کیا ہی جائے گا۔
اگر تو سوچا جائے کہ وہ اخراجات بچانا چاہتے ہوں گے، تو یہ بات بھی ہضم نہیں ہوتی۔ ایک تو یہ کہ صحت سے متعلق ایک حد تک اخراجات دفتر کی جانب سے ادا کر دیے جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ بروقت تشخیص پر اٹھنے والی لاگت، تاخیر سے ہونے والے علاج کے خرچ سے بہرحال کم ہی ہوتی ہے۔
بات بتانے کا مقصد یہ کہ ہمارے سمیت بہت سے لوگ علاج معالجے کے معاملے میں ایسی ہی کوتاہی برتتے ہیں۔ کچھ نہیں ہوتا، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا، بعد میں دیکھی جائے گی ۔۔۔ ایسے ہی جملوں سے خود کو تسلی دیتے رہتے ہیں اور معاملہ بگڑتا جاتا ہے۔
ہم نے یہ تحریر اپنے دفتری ساتھی کو قائل کرنے کے لیے لکھی، لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ جب تک اسے ایک لاکھ بار شیئر نہیں کیا جائے گا وہ ڈاکٹر کے تجویز کردہ ٹیسٹ نہیں کرائیں گے۔


Filed under: خواہ مخواہ Tagged: Health, Urdu

حضور والا! صحافی بھیجیے

انگریزی اخبار نے خبر اڑائی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت چین میں بوجھ ڈھونے والے چوپائے بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک تو چین میں مذکورہ چوپائے کی مانگ بہت ہے، کہ اس کا گوشت لاہوریوں کے ساتھ ساتھ چینیوں کو بھی مرغوب ہے۔ دوسرا اس کی کھال دواؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔ خواتین آرائش حسن کا جو سامان استعمال کرتی ہیں، اس میں بھی شوہروں کی کمائی کے ساتھ ساتھ متذکرہ چوپائے کی کھال استعمال کی جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت اس منصوبے سے بہت سا زر مبادلہ کمانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ چوپائے کی افزائش نسل کے لیے تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ تاہم عاجز کی رائے میں برآمد کرنے ہی ہیں تو صحافی کیے جائیں۔ ان کی افزائش نسل کی بھی ضرورت نہیں، پہلے ہی گنجائش سے بڑھ کر ہیں۔
صحافیوں کو بھی چونکہ فقط مشقت ہی کرنا ہوتی ہے، لہذا فہم و فراست سے فاصلہ رکھتے ہیں، حکم حاکم پر سر جھکائے بھاگتے رہتے ہیں، تھک جائیں تو ایک چابک پڑتے ہی پھر سرپٹ دوڑنے لگتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے۔ چین میں صحافیوں کی منڈی لگی ہو گی۔ خریداروں کا اژدھام ہو گا۔ ہر صحافی کے کان میں اس کا پرائس ٹیگ اور گلے میں پریس کارڈ لٹکا ہو گا۔ ارے یہ جھکی جھکی کمر والے صحافی کون ہیں؟ یہ نیوز روم کے کلرک ہیں۔ ایک کام کی زیادتی، دوسرا نامناسب دفتری فرنیچر۔۔۔ اس لیے ڈب کھڑبے ہو گئے ہیں، کمر اور گردن نوے درجے کا زاویہ بنانے لگے ہیں۔ یہ کھردری جلد والے صحافی کون ہیں؟ یہ رپورٹر ہیں، پریس ریلیز سے خبر بنانے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار فیلڈ رپورٹنگ بھی کر دیتے ہیں۔ اس لیے دھوپ میں سانولے اور کھردرے ہو گئے ہیں۔ یہ خوشبو دار اور ملائم صحافی کون ہیں؟ یہ اینکر ہیں۔ نہ بھئی، ایک تو یہ بہت زیادہ بول رہے ہیں، دوسرا بہت اونچا بول رہے ہیں، میں تو کبھی نہ خریدوں۔ یہ صحافی مجھے دیکھ دیکھ مسکرائے کیوں جا رہے ہیں؟ یہ کیمرہ مین ہیں، آپ فوٹو جینک ہیں نا، تو یہ من کی آنکھ سے آپ کی تصویر بنا رہے ہیں۔ یہ صحافی مجھے دیکھ کر قلم کیوں چلانے لگے ہیں؟ دراصل یہ کالم نگار ہیں، آپ کی تعریف میں کالم لکھ رہے ہیں۔ میری تعریف سے انہیں کیا ملے گا؟ لفافہ۔ اگر میں لفافہ نہ دوں تو؟ اگلا کالم آپ کی برائی میں ہو گا۔ ان صحافیوں نے ہاتھوں میں قینچیاں کیوں پکڑ رکھی ہیں؟ کیوں کہ یہ ایڈیٹر ہیں۔ لیکن یہ قینچیاں تو کند ہیں؟ آج کل استعمال نہیں ہوتیں نا، پہلے پہل خبر کو ایڈٹ کیا جاتا تھا، آج کل جیسی موصول ہو اگلے لمحے ویسی ہی نشر کر دی جاتی ہے۔
لہذا عاجز کی خیبر پختونخوا حکومت سے درخواست ہے، اپنے منصوبے میں ترمیم کرے۔ چین بھیجنے کے لیے بوجھ ڈھونے والے چوپائے کی بجائے صحافی ہر لحاظ سے بہتر رہیں گے۔
بے شک سال کے سال ان کی تنخواہ نہ بڑھائیے، بھلے مہینے کی پہلی کو ان کی مزدوری ادا نہ کیجیے، بلکہ کئی کئی مہینے نہ دیجیے، بیگار لیجیے، یہ سر جھکا کر کام کرتے چلے جائیں گے۔ افسران اور حالات کی مار سہتے سہتے ان کی کھال بھی سخت ہو چکی ہوتی ہے، وہ بھی کار آمد رہے گی۔
یہاں پہنچ کر عاجز کی رائے میں تعصب آیا چاہتا ہے (یا شاید عاجز کو ذاتی مفاد عزیز ہے)۔ چین کے لیے چھانٹی کرتے ہوئے نیوز روم میں کام کرنے والے صحافیوں کو ترجیح دی جائے۔ وقت پر آئیں گے، وقت ختم ہونے کے بعد بھی کام کرتے رہیں گے۔ اور دفتری اوقات کار میں پریس کلب کے بجائے دفتر میں ہی پائے جائیں گے۔ دوسروں کا کیا کرایا اپنی جان پر بھگتیں گے اور چوں تک نہ کریں گے۔
آخر میں رہ گئی بات دولتیاں مارنے کی، تو یہاں عاجز خاموش رہنا پسند کرے گا، کیوں کہ دولتیاں مارنے کا کام ارادتاً نہیں، عادتاً کیا جاتا ہے۔


Filed under: پروڈیوسر کی ڈائری, خواہ مخواہ, شوخیاں Tagged: Humour, Journalism, Pakistan Media

وہ لڑکی پاگل سی، آخری حصہ

پہلا حصہ
دوسرا حصہ
تیسرا حصہ
اب لاپتہ لڑکی کے گھر والوں کا فون آ گیا۔ کہنے لگے ہماری ن سے بات کرائیں۔ ہم نے کہا یہ تو اپنا نام س بتاتی ہیں۔ وہ کہیں آپ بات تو کرائیں۔ س نے بات کی اور انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وہ کہنے لگے، بچی ہماری ہی ہے، ناراضی میں پہچاننے سے انکار کر رہی ہے، ہم تو آپ کے گھر آنے کے لیے نکل پڑے ہیں۔
یہ صورتحال تو سلجھنے کے بجائے مزید الجھ گئی۔
اگر وہ اس کے گھر والے نہ ہوئے لیکن پھر بھی لے جانے پر اصرار کیا تو ہم کیسے تصدیق کریں گے؟ اگر انہوں نے لے جانے کے لیے زبردستی کی تو ہم کیسے نمٹیں گے۔ اگر وہ لوگ اسی لڑکی کے گھر والے ہوئے اور غصے میں آ کر اسے کوئی نقصان پہنچا دیا؟ یا لڑکی نے خوف یا پریشانی میں خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا لیا تو پھر کیا ہو گا؟
ایک ایک لمحہ پہاڑ بن کر گزرنے لگا۔ ہر سیکنڈ کوئی نیا خدشہ سر اٹھاتا اور ہم کانپ کانپ جاتے۔
خیر وہ صاحبان ٹیلی فون پر پتہ پوچھ ہمارے گھر آن پہنچے۔ دروازوے پر ان کا استقبال کیا تو بھلے سے لوگ معلوم ہوئے۔ انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھایا۔ لڑکی کا والد ہونے کے دعوے دار صاحب سے شناختی کارڈ طلب کیا۔ شناختی کارڈ پر درج نام وہی تھا جو بچی اپنے والد کا بتا چکی تھی، آبائی پتہ بھی وہی۔ اب ان سے دیگر تفصیلات پوچھیں۔ لڑکی کے چچا، ماموں اور بھائیوں کے نام۔ انہوں نے ہو بہو وہی بتائے جو س ہمیں بتا چکی تھی۔
تب ہم نے ڈرتے ڈرتے س کو بلایا۔ وہ آنے پر آمادہ نہ تھی، لیکن اسے یقین دلایا کہ تمہیں کچھ نہ ہونے دیں گے۔ جب ڈرائنگ روم میں آئی تو اس کے والد نے اٹھ کر سر پر رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ وہ سعادت مندی سے قریب آئی اور اپنا سر جھکا دیا، کسی غیریت کا اظہار نہ کیا۔ تب ہمیں اطمینان ہوا کہ انہی کی بیٹی ہے۔ انہوں نے فون کر کے اس کی والدہ سے بات کرائی۔ اس نے بات کر لی اور ہمیں یقین ہوا کہ لڑکی کو لانے والے اس کے اپنے ہی ہیں۔
سر سے ایک بوجھ اترا۔
معلوم ہوا کہ ایک ماہ قبل ہی اس کی شادی ہوئی، شوہر سے کسی بات پر تکرار ہوئی تو ناراض ہو کر گھر سے نکل کھڑی ہوئی۔ یہاں لاہور میں کسی کو جانتی تھی نہ یہ طے کیا تھا کہ آگے کیا ہو گا۔ ایسا نادان غصہ بھی کسی کو نہ آئے۔
خیر صاحب۔ معاملہ خیر خیریت سے اپنے انجام کو پہنچا۔ وہ راضی خوشی اپنے والد کے ساتھ چلی گئی اور ہم ایک بہت بڑی ذمہ داری سے سرخرو ہوئے۔ (ختم شد)

پہلا حصہ
دوسرا حصہ
تیسرا حصہ


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Suspense, Urdu

وہ لڑکی پاگل سی، حصہ سوئم

پہلا حصہ

دوسرا حصہ

گاڑی میں بیٹھ کر گھر کو روانہ ہوئے تو میں نے پوچھا، آپ کیا کرتی ہو؟ کہنے لگی پڑھتی ہوں۔ کس جماعت میں؟ بارہویں میں۔ کس جگہ؟ یہاں لاہور میں ہی۔ کس کالج میں؟ اقبال یونیورسٹی میں۔
ہیں! اول تو ملک میں اس نام کی کوئی یونیورسٹی نہیں۔ کیا وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کہنا چاہتی ہے؟
کہاں پر ہے یہ اقبال یونیورسٹی؟ مجھے معلوم نہیں میں تو صرف پرچے دینے آتی ہوں۔ لیکن جس جگہ سے اس کا تعلق ہے، وہاں کے لوگ تو پرچے دینے راولپنڈی جاتے ہیں؟ آپ کے مضامین کیا ہیں؟ ڈاکٹری۔
ہر بیان میں کھوٹ۔ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟
میں نے سخت لہجے میں پوچھ ہی لیا، کیا آپ گھر سے بھاگ کر آئی ہو؟
اس نے آہستہ سے جواب دیا نہیں۔
گھر میں کسی اور کا نمبر یاد ہے؟ جواب اس بات بھی نفی میں تھا۔
مزید سوالات سے معلوم ہوا کہ بڑے بھائی روزی کمانے سعودی عرب گئے ہیں۔ گھر میں ان کی والدہ اور چھوٹے بھائی ہوتے ہیں۔ گھر میں فون صرف اسی کے پاس تھا جو راستے میں کھو گیا۔ والد قصور میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں۔ اسے بس اپنے علاقے میں اپنے گھر کا راستہ معلوم ہے، باقی نہ اسے کسی کا نمبر معلوم ہے نہ ہی پتہ۔
میں نے یہ تجویز بھی دی کہ پولیس اسٹیشن جا کر یہ معاملہ رپورٹ کر دیا جائے۔ لیکن پولیس سے ہر شریف آدمی گھبراتا ہے، اس خیال کو بھی عملی جامہ نہ پہنایا۔
خیر صاحب۔ ان خاتون کو گھر لے آئے۔ یہاں انہوں نے برقع اتارا تو اندر سے ایک بچی برآمد ہوئی۔ عمر یہی کوئی پندرہ سولہ برس۔ اب ہم نے ان سے نام پوچھا۔ جواب ملا، س۔ والد، چچا، ماموں، بھائیوں وغیرہ کے نام دریافت کیے گئے۔ انٹرنیٹ پر وہاں کا نقشہ کھول کر ان کے گھر کا محل وقوع وغیرہ معلوم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فلاں مسجد کے قریب فلاں مارکیٹ ہے، اس مارکیٹ کے قریب ایک محلہ ہے۔ وہاں ان کا گھر ہے۔ ہمارے والد صاحب نے انٹر نیٹ پر ان کے علاقے کے کسی سرکاری دفتر کا نمبر تلاش کیا۔ وہاں کی میونسپلٹی کا نمبر ملا، فون کیا تو چوکیدار صاحب نے اٹھایا۔ مدعا بتایا تو انہوں نے مدد کا وعدہ کیا۔
غنیمت ہے کہ چھوٹے علاقوں میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ دس منٹ میں معلوم ہو گیا کہ فلاں صاحب کی صاحب زادی دوپہر سے لاپتہ ہیں۔ لیکن ان کا نام تو ن ہے۔ باقی تمام تفصیلات وہی۔ والد، چچا، ماموں، بھائیوں کے نام تک وہی، والد کی جائے سکونت بھی قصور۔ لیکن لاپتہ لڑکی کا نام ن، اور ہمارے پاس موجود لڑکی کا نام س۔
یا خدا یہ کیا معمہ ہے؟ (جاری ہے)

پہلا حصہ

دوسرا حصہ


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Story, Suspense, Urdu

وہ لڑکی پاگل سی، حصہ دوئم

پہلا حصہ
کہنے لگی، آپ آ رہے ہیں نا؟ اچھا۔ آپ نہیں آتے تو میں خود آ جاتی ہوں۔۔۔
اس نے بتایا تھا کہ والد قصور میں کوئی کاروبار کرتے ہیں۔ لیکن کہاں کرتے ہیں یہ نہیں معلوم۔ اور جب اس نے کہا میں خود آ جاتی ہوں تو مجھے مزید کھٹکا ہوا۔
فون بند کر کے کہنے لگی، ابو کو شور کی وجہ سے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی تھی، اس لیے ایسا کہہ دیا۔ وہ بس آنے ہی والے ہیں آپ بے شک چلے جائیں۔
میں اس کی طرف سے شک میں مبتلا ہو چکا تھا، اس لیے امی جان سے کہا آئیں گھر چلتے ہیں۔ لیکن وہ تنہا لڑکی کو یوں چھوڑ جانے پر آمادہ نہ تھیں۔ دوبارہ اسی نمبر پر فون ملایا، اب امی جان نے بات کی تو فون پر موجود شخص نے پھر یہی کہا کہ وہ تو اس لڑکی کو جانتا تک نہیں۔
معاملہ میں واضح طور پر کوئی گڑ بڑ تھی، لیکن میری سادہ والدہ کہنے لگیں، شاید یہ اپنے ابو کا نمبر بھی بھول گئی ہے، ہم اسے اپنے گھر لے چلتے ہیں۔ جب اسے نمبر یاد آئے گا تو رابطہ کر لے گی۔
ارے کیسے اسے گھر لے جائیں؟ شاید وہ لڑکی گھر سے بھاگ کر آئی تھی۔ شاید جس شخص کے کہنے پر وہ گھر سے بھاگی ہے اب وہ اسے اپنانے سے انکاری ہے۔ شاید یہ کوئی جرم کر کے فرار ہوئی ہو۔ آج کل تو دہشت گرد بھی خواتین کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اسے کسی سہولت کار نے وصول کرنا ہو لیکن ہمیں دیکھ کر سامنے نہ آ رہا ہو۔
دس قسم کے خدشے میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے۔
آخر کو میں نے تجویز دی کہ اسے واپسی کی بس پر بٹھا دیتے ہیں۔ یوں ہم پر کوئی ذمہ داری بھی نہ رہے گی۔ اب مسئلہ یہ ہوا کہ رات کے اس پہر لڑکی کے علاقے کو کوئی بس نہ جاتی تھی۔ لاری اڈے سے معلوم کیا، ایک بس نے رات ایک بجے روانہ ہونا تھا، جو صبح چھ بجے کے قریب منزل پر پہنچتی ۔ امی جان نے فیصلہ کیا کہ یہ لڑکی ہمارے ساتھ گھر چلے گی اور رات ایک بجے ہم اسے بس پر سوار کرا دیں گے۔
میں اس پریشانی میں مبتلا کہ اگر تو یہ لڑکی گھر سے بھاگی ہے، یا کسی واردات میں ملوث ہے تو اسے گھر لے جانے سے ہم کسی پریشانی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
گاڑی میں بیٹھ کر گھر کو روانہ ہوئے تو میں نے پوچھا۔۔۔

(جاری ہے)

پہلا حصہ


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Story, Suspense, Urdu

وہ لڑکی پاگل سی

لاہور کے لاری اڈے پر امی جان بس سے اتریں تو ان کے ساتھ برقعے میں لپٹی ایک لڑکی بھی تھی۔
بیٹا اس بچی کا موبائل فون کھو گیا ہے۔ اس کے والد اسے لینے آتے ہی ہوں گے، ہم تب تک اس کے ساتھ انتظار کر لیتے ہیں۔
امی جان نے بتایا اور ہم وہیں انتظار کرنے لگے۔
شام رات سے گلے مل رہی تھی۔  کچھ دیر گزری تو والدہ نے اپنا فون اسے دیا اور والد کو کال کرنے کا کہا۔ اس نے نمبر ملا کر فون کان سے لگایا، اور کہنے لگی، ابو فون نہیں اٹھا رہے۔
لڑکی نے بتایا کہ اس کے والد صاحب قصور ہوتے ہیں، وہیں سے لینے آ رہے ہیں، شاید رش کی وجہ سے دیر ہو رہی ہے۔
کچھ دیر بعد والدہ نے مجھے کہا تم اپنے فون سے کال کرو۔ امی جان کے فون سے ڈائل کیے گئے نمبروں کی فہرست دیکھی تو حیرت ہوئی۔ جو نمبر لڑکی نے ڈائل کیا وہ فہرست میں موجود نہ تھا۔
خیر اس سے پوچھ کر نمبر ملایا اور فون کان سے لگایا۔ تیسری ہی بیل پر کسی نے کال وصول کر لی۔ میں نے فون لڑکی کی طرف بڑھا دیا۔ وہ کچھ دیر گفتگو کرتی رہی اور کہنے لگی، ابو لینے کے لیے پہنچنے ہی والے ہیں آپ بے شک چلے جائیں۔
میری والدہ نے کہا کچھ دیر کی بات ہے تو ہم رک جاتے ہیں۔ آپ کے والد لینے آ گئے تبھی جائیں گے۔
اب اندھیرا چھا چکا تھا، کچھ دیر کا انتظار خاصا طول پکڑ گیا تو امی جان نے پھر اسے اپنے والد کو کال ملانے کا کہا۔ اس بار اس نے بات کر کے فون میری والدہ کی جانب بڑھا دیا۔ والدہ نے سوچا وہ راستہ سمجھنا چاہ رہے ہوں گے، اس لیے فون مجھے پکڑا دیا۔
میں نے پوچھا، آپ کس طرف سے آ رہے ہیں تاکہ آپ کو راستہ بتا سکوں۔ لیکن دوسری طرف کی بات سن کر چکرا گیا۔
وہ صاحب کہنے لگے، میں اس لڑکی کو نہیں جانتا، پتہ نہیں کیوں مجھے فون کر رہی ہے ۔
میں تو میں سناٹے میں آ گیا۔ سمجھ نہیں آئی کہ کیا کیا جائے۔ لڑکی کو بتایا کہ وہ صاحب تو یہ بات کہہ رہے ہیں۔ اس نے حیرت سے کہا، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں پھر بات کرتی ہوں۔ میں کھٹک چکا تھا، اب اس نے فون ملایا تو میں گفتگو سننے کو قریب ہو گیا۔

(جاری ہے)


Filed under: یاد ماضی Tagged: Girl, Short-Story, Story, Suspense, Urdu

سموسے اور شاباش

پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہوا تو اس ہنگام ہمارے ٹیلی وژن چینل نے بھی دھوم دھام سے ٹرانسمش کی۔ اسی کی شاباش دینے کوIMG_20170309_174251 ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ لہذا نیوز روم رنگ رنگ کی لڑیوں اور غباروں سے سجایا گیا۔ خبر کو تخلیقی اور تکنیکی اعتبار سے پیش کرنے والے سبھی افراد نے رونق بخشی۔
ادھر تقریب کی تیاریاں جاری تھیں، اُدھر احباب تصویریں لے رہے تھے۔ ندیم زعیم صاحب بھی بھاری بھرکم کیمرہ اٹھائے عکاسی کرتے پھرتے تھے۔ بھانت بھانت کے لوگ سہج کر سامنے کھڑے ہوتے، یہ کھٹ سے وہ لمحہ قید کر لیتے۔
پھر بیورو سے دوستوں کی آمد شروع ہوئی۔ خبروں کے لیے جن سے روز رابطہ رہتا ہے ان سے ملاقات کا بھی اہتمام ہوا۔
رفتہ رفتہ وسیع و عریض نیوز روم یوں بھر گیا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ تقریب شروع ہوئی تو ہمارا کام تب تک ختم نہ ہوا تھا۔ کچھ17203063_1279566465454224_6417838157242369501_n ہمی جانتے ہیں کس جی سے اپنی کرسی پر بیٹھے رہے۔ ساؤنڈ سسٹم سے اٹھنے والی ہر لے پر ہمارے قدم تھرکنے لگتے، اور دل تقریب میں شامل ہونے کو مچلنے لگتا۔
جیسے تیسے اپنے حصے کا کام نبیڑ کر ہم بھی میلہ دیکھنے والوں میں شامل ہوئے۔ کوئی تالیاں پیٹ رہا ہے، کوئی نعرے لگا کر
حوصلہ بڑھا رہا ہے، کوئی فقط مسکرا رہا ہے۔ سب نے مل کر کام کیا تھا، سبھی مل کر خوشیاں منا رہے تھے۔
تقریب کے بعد کھانے پینے کا انتظام تھا۔ یہاں پھر وسیع پیمانے پر سیلفیوں کا دور چلا۔ لیکن ہم نے اپنی توجہ سموسوں اور جلیبی سے بھٹکنے نہ دی۔ یہاں ہم نے شکم پروری اور بندگی کو عجب انداز میں یک جان کیا۔ بارگاہ ایزدی میں دعا کی، اے پروردگار، اگر آج ہم دو سموسے کھائیں تو ہماری تنخواہ میں دگنا اضافہ ہو، اور سموسے کے ساتھ جلیبی بھی کھا لیں تو تین گنا اضافہ ہو جائے۔ دعا کو قبولیت کا درجہ مل گیا تو اس مہینے کے آخر میں ہماری تنخواہ نو گنا اضافے کے ساتھ آنے والی ہے۔

تصویریں اور تبصرے

17191356_1306562746060095_2071706834847431284_n

یہ فہد حسین صاحب ہیں۔ ہمارے ادارے کے سربراہ ہیں اور ہمارے رہنما ہیں۔ پی ایس ایل پر خصوصی نشریات  کاخیال بھی انہی کا تھا، رہبری بھی انہوں نے ہی فرمائی اور پھر ہماراحوصلہ بڑھانے کو یہ تقریب بھی انہوں نے ہی سجائی۔

IMG_20170309_174622

تصویر میں دائیں ہاتھ اویس حمید صاحب ہیں۔ اوصاف حمیدہ کے مالک ہیں، جبھی یہ مسرور اور ان کے بائیں ہاتھ کھڑے عبدالستار ترین صاحب محتاط نظر آتے ہیں۔

IMG_20170309_170718
یہ عمر رحمان ہیں لیکن داڑھی کے سفید بال دیکھ کر لگتا ہے ہماری طرح یہ بھی عمر دراز ہو چکے ہیں۔ تقریب کے دوران یہ کام کر رہے تھے۔ اس میں ان کے کٹھور پن سے زیادہ نشریاتی مجبوریوں کا دخل تھا۔

IMG_20170309_170738
یہ ندیم جمال صاحب ہیں۔ نیوز کو قابو رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔ یعنی ان کا عہدہ کنٹرولر نیوز کا ہے۔ اس وقت ان کے چہرے پر چھائی سنجیدگی دیکھ کر لگتا ہے کسی بیورو نے شکایت کی ہے، سر ہماری فلاں اسٹوری نہیں چلی۔

IMG_20170309_173619
دائیں ہاتھ شوکت علی ہیں بائیں ہاتھ رائے شاہنواز۔ نہ ان کی شوکت پر کسی کو شبہ ہے نہ اُن کی رائے پر کسی کو ابہام۔

IMG_20170309_180757
دائیں ہاتھ سجاد عبداللہ ہے۔ ان دنوں رات کی شفٹ میں ہوتا ہے۔ تقریب کی خوشیوں میں شرکت کرنے سر شام آیا۔ بے چارے کو ڈیوٹی کے دوران ‘مشکل’ ہوئی ہو گی۔ بائیں ہاتھ بٹ صاحب ہیں۔ سموسے کی پلیٹ چھوڑتے ہی نہ تھے۔ ہم نے کہا یوں تصویر اچھی نہ آئے گی، تب انہوں نے گھبرا کر پلیٹ رکھ دی۔ ان کے عقب میں مس ارم غنی ہیں۔ سوچ رہی ہیں اللہ نے کپ دیا ہے تو چائے بھی دے ہی دے گا۔

IMG_20170309_180350
دائیں ہاتھ موجود معصوم سا انسان عمر بلال ہے۔ یہ بائیں ہاتھ موجود فرخ جاوید کو پولکا آئس کریم سمجھ کر اس کے پیچھے پیچھے پھرتا رہا۔

IMG_20170309_175348

ان سب کے حصے کے سموسے جلیبیاں خاکسار کھا گیا ہے۔ اب یہ آسمان سے من و سلویٰ اترنے کا انتظار کر رہے ہیں۔


Filed under: Uncategorized Tagged: Journalism, Life, Moments, PSL

معاذ مسکرائے

یہ محمد معاذ ہیں۔ ہمارے ٹیلی وژن چینل میں جو شعبہ نیوز رپورٹس تیار کرتا ہے، اس کے سربراہimg-20170302-wa0005 ہیں۔ کام سے شدید محبت کرتے ہیں۔ کام میں دیہان کا یہ عالم ہے کہ جب ہم نیوز روم میں کسی خیال پر گفتگو کر کے ان سے رجوع کرتے ہیں تو معاذ اسے پہلے ہی شروع کرا چکے ہوتے ہیں۔
انہیں کوئی کام کہہ دیا جائے تو پھر بے فکری ہو جاتی ہے، کیوں کہ وہ جان پر کھیل کر بھی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
بہت زیادہ کام کرنے کی وجہ سے اکثر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ مسکراہٹ چہرے سے غائب رہتی ہے۔ شام چار بجے دفتر میں ایک مجلس بلائی جاتی ہے جس میں دن بھر جلنے والی خبروں کا ذکر کیا جاتا ہے اور شام کے خبر ناموں کے لیے لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ اس میٹنگ سے قبل تو ان کی سنجیدگی سوا ہوتی ہے۔ سوچ کی شدت غلبہ پاتی ہے تو دونوں ہاتھوں سے اپنا ہی سر تھام لیتے ہیں۔ استغراق کا ایک عالم طاری ہوتا ہے۔ غیب سے جانے کیا کیا مضامین خیال میں آتے ہیں۔ جب تک مجلس کی کارروائی باضابطہ طور پر شروع نہ ہو یہ اسی کیفیت میں رہتے ہیں۔
ایسی ہی ایک میٹنگ میں ہمیں بھی شامل ہونے کی سعادت ملی۔ معاذ صاحب کو دونوں ہاتھوں سے سر تھامے دیکھا تو یہ لمحہ کیمرے کی آنکھ سے قید کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ ہمارا ارادہ بھانپ گئے یا ہماری سادگی پر پیار آ گیا۔۔۔ بے ساختہ تبسم فرمانے لگے۔ کچھ دیر میں تبسم مزید نمایاں ہو کر باقاعدہ قسم کی ہنسی میں ڈھل گیا۔ تصویر دیکھ کر اندازہ لگائیے کہ معاذ مسکراتے ہوئے بھی اچھے لگتے ہیں۔ اور انہیں رائے دیجیے کہ ہر وقت کی فکر اچھی بات نہیں۔
اللہ آپ کو یوں ہی ہنستا مسکراتا رکھے۔


Filed under: خواہ مخواہ, شوخیاں Tagged: Friendship, Life, Smile, Urdu

عشق کرنے کی حسرت

yadon-ki-barat-pdf-book-by-josh-malihabadi-in-urduکتاب ‘یادوں کی برات’ میں جوش ملیح آبادی کے اٹھارہ معاشقوں کا ذکر پڑھنے کے بعد ہم پر شدید قسم کا حسد طاری ہے۔ حسد کی ایک بات تو یہ کہ جوش صاحب کا کوئی ایک عشق بھی ناکام نہیں ہوا، دوسری یہ کہ اکثر اوقات انہیں پہل نہ کرنا پڑی بلکہ حسین عورتوں نے خود آگے بڑھ کر ان سے عشق کیا۔ اٹھارہ میں سے تین تو اپنی جان سے گزر گئیں۔ ایسا بھی ہوا کہ ریل میں سفر کرتے ہوئے آنکھ لڑی اور مسافت کے دوران ہی لطف کی کئی منزلیں طے ہو گئیں۔ وقت اور سرمائے کی فراوانی ایسی تھی کہ دوران سفر عشق ہوا، محبوبہ نے جس اسٹیشن پر اترنا تھا یہ بھی وہیں اتر گئے، وہیں ہوٹل میں کمرہ بھی کرائے پر لے لیا، مہینہ بھر قیام رہا، خلوت اور جلوت کا ساتھ رہا۔ پھر جب محبوبہ کے والد کو خبر ہو گئی تو یہ بھی اپنی دکان بڑھا گئے۔
یہ معاملہ بھی ہوا کہ ایک ساتھ دو سہیلیاں ان پر مر مٹیں، ایک نے حسد کے مارے دوسری کو کچھ کہا تو اس نے خود کشی کرنے کو سمندر میں چھلانگ لگا دی۔ یہ اسے نکال کر اسپتال لے گئے تو وہاں کی ڈاکٹر ان پر فریفتہ ہو گئیں۔
ارے۔۔۔ جوش ملیح آبادی نہ ہوئے، مستنصر حسین تارڑ ہو گئے۔ ہم تو جلن کے مارے بل کھا رہے ہیں۔
ہائے کاش! ہم بھی ایسے خوش نصیب ہوتے۔ کوئی جمال ہم پر بھی جال پھینکتا، کوئی صیاد ہم پر بھی گھات لگاتا۔ ہم بھی گرفتار ہوتے، ہم بھی شکار ہوتے۔ کسی کافر زلف کا بادل ہماری تپتی جوانی کو بھی سایہ کرتا، ہماری تحریروں سے بھی کوئی رنگین و شاداب لمحے ٹپکتے۔ کوئی ہمیں مڑ مڑ کر دیکھتا اور ہم بے نیازی سے سر جھٹک کر آگے بڑھ جاتے۔ ہم آنکھ اٹھاتے اور بجلی لپلپا جاتی، نظروں کے تیر دلوں میں کھب جاتے۔
کبھی گھر واپسی پر ہماری شرٹ سے گز بھر لمبا سرمئی بال برآمد ہوتا، اور جینا وبال ہوتا۔ بیگم کرسی سے باندھ کر ہم پر وائپر برساتیں اور اُس کلموہی کا نام پوچھتیں۔ جواب میں
ہم چپ رہے، ہم ‘رو’ دیے، منظور تھا پردہ تیرا
کی تصویر بنے ہوتے۔
ذرا ہماری شرافت، احتیاط یا تخیل کا افلاس دیکھیے، معاشقوں کی خواہش میں بھی بیگم در آئی ہیں۔
اب یہ بیگم کے ذکر کا فیضان ہے، اپنی بے بسی و حسرت لکھ دینے کی کرامت ہے یا انگور کھٹے ہونے کی حکمت۔۔۔ دوبارہ سوچتے ہیں معاشقہ لڑانا سراسر گھاٹے کا سودا نظر آتا ہے۔ شاید اس کام کے لیے بے حسی، دلیری اور اخلاق باختگی درکار ہوتی ہو۔ ورنہ جس میل جول پر پکڑے جانے کا ہول رہے، وہ رشتہ ہی کیسا۔ جب کسی ایک سے وفاداری کا پیمان کر لیا تو کسی دوسرے سے تعلق داری کیوں کر؟
لہذا کچھ تو اقدار کا خیال، کچھ حوصلے کا کال، اور کچھ تیزی سے سفید ہوتے بالوں کا حال۔۔۔ ہم بخوشی اپنی حسرت سے دست بردار ہوتے ہیں۔


Filed under: کتابوں کی باتیں, خواہ مخواہ Tagged: Books, Josh Malihabadi, Love, Urdu, Yaadon Ki Baraat

سیٹھوں کے ملازم صحافی

پیارے صحافی بھائیو اور بہنو! خاکسار کے خیال میں آج کل صحافت ایک کاروبار ہے اور ہر بیوپار کی طرح اس کا بنیادی مقصد بھی پیسہ کمانا ہے۔ اس میڈیائی بازار میں خبر ایک پراڈکٹ ہے اور صحافی اسے لانے، بنانے اور پیش کرنے والا مزدور۔ آپ کی خبر بکے گی تو کاروبار چلے گا۔
جس سیٹھ کے ہاں آپ مزدوری کرتے ہیں، وہ صحافت کے علاوہ بھی کئی کاروبار کرتا ہے۔ اور میڈیائی کاروبار کرنے کا ایک مقصد اپنے ‘دیگر’ تجارتی مفادات کا تحفظ بھی ہوتا ہے۔ لہذا آپ کی صحافت بھی اسی سوداگری دائرہ کار میں رہے گی۔ آپ ہر وہ خبر چلانے میں آزاد ہوں گے جس سے سودا بھی بک جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
اسی دائرے میں گھومتے ہوئے آپ نے مزدوری کرنی ہے۔ قابل فروخت سچ کو سامنے لانا ہے، مظلوم کی ریٹنگ لانے والی فریاد نشر کرنی ہے، ظالم کا گریبان پکڑنا ہے، یا پھر اپنے گریبان میں جھانکنا ہے۔
سیٹھ کو آپ کی کتنی پروا ہے، جاننے کے لیے صحافی بھائی اور بہن خود سے یہ سوال کر سکتے ہیں۔
کیا کبھی آپ کے ادارے نے آپ کی پیشہ ورانہ تربیت کا اہتمام کیا؟
کیا آپ کا کوئی سروس اسٹرکچر بنایا گیا؟
کیا آپ کی کارکردگی جانچنے کا کوئی پیمانہ یا معیار مقرر کیا گیا ہے؟
کیا آپ کو معلوم ہے موجودہ عہدے پر کتنا عرصہ کام کریں گے تو آپ کی ترقی ہو گی؟
ترقی ہو گی بھی یا نہیں؟
تنخواہ کب اور کتنی بڑھائی جائے گی؟ بڑھائی بھی جائے گی یا نہیں؟
(بعض اداروں کے ملازم صحافی تو خود سے یہ سوال کریں، اس مہینے کی تنخواہ بھی ملے یا نہیں؟)
میرا گمان ہے کہ میڈیائی سیٹھ صاحبان جو دیگر کمپنیاں چلاتے ہیں ان میں شعبہ تحقیق و ترویج بنایا گیا ہو گا۔ جو نئے رجحانات پر نظر رکھتا ہو گا، متعلقہ مصنوعات میں بہتری کی تجاویز دیتا ہو گا۔ کیا ایسا کوئی شعبہ کسی میڈیا کے ادارے میں بھی ہے؟
اگر آپ نے اوپر درج کیے گئے اکثر سوالات کا جواب نہیں میں دیا ہے تو ممکنہ طور پر کہا جا سکتا ہے، سیٹھ صاحب کو آپ میں کوئی دلچسپی نہیں۔ آپ ایک آئٹم ہیں، اور آپ جیسی بے شمار آئٹمز مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔
اس صورتحال میں کچھ میڈیا ہاؤس اچانک بہت سے ‘ملازمین’ کو نکال دیں تو دکھ ہوتا ہے، حیرت نہیں ہوتی۔ کیوں کہ مالکان کی ترجیح میں کارکن کہیں بھی نہیں ہے۔

سوال تو میڈیا کے ساتھی مزدوروں سے کیا جانا چاہیے۔۔۔صحافی کا موبائل چھننے پر تو احتجاج کرتے ہیں، نوکری چھننے پر کیا کریں گے؟

پس تحریر: اپنے گریبان میں جھانکیں تو بعض اوقات چند کارکن صحافیوں کے رویوں پر بھی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔ انہیں بھی کسی نئے ادارے سے پیشکش ہو تو نوٹس دیے بغیر فوراً اڑان بھر لیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی کرے تو کیا کرے؟


Filed under: پروڈیوسر کی ڈائری, خواہ مخواہ Tagged: Jobs, Journalism, Media, Pakistan

کون خریدتا ہے یہ؟

لاہور میں نیلا گنبد سے نسبت روڈ کی طرف جائیں تو فٹ پاتھ کنارے برقی کاٹھ کباڑ فروخت ہوتا نظر آئے گا۔ ٹیلے فون ریسیور، موبائل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر کے اسپیکر، ہیڈ فون، ماؤس، گھڑیاں، عینکیں۔۔۔ لیکن سب کے سب ٹوٹے پھوٹے۔ ایک بھیڑ لگی ہوتی ہے، اکثر لوگوں کو کاٹھ کباڑ پھرولتے ہی دیکھا، کوئی چیز خریدتے کسی کو نہ دیکھا۔
کرچی کرچی اسکرین والی ٹیبلٹ اٹھا کر دکاندار سے پوچھا، کیوں صاحب! کتنے کا ہے؟
دو سو روپے کا۔ دکاندار نے جواب دیا۔
لیکن اسے کون خریدے گا؟ ہمارے سوال میں استعجاب تھا۔ دکاندار نے بتایا اسے کوئی موبائل فون مکینک لے جائے گا۔ وہاں ضروری مرمت کے بعد کہیں مہنگا فروخت کرے گا۔
ذرا آگے جائیں تو ٹھیک حالت میں بھی چیزیں فروخت ہوتی دکھائی دیں گی۔ ایک عام موبائل فون ہزار روپے تک میں ملے گا، ایک مشہور برانڈ کے اینڈرائڈ فون کی کاپی آٹھ ہزار روپے میں۔ لیپ ٹاپ کی قیمت سات ہزار سے لے کر دس ہزار روپے ہے۔ ذرا اور آگے جائیں تو موبائل فون کی بیٹریاں، چارجر، ائیر فونز ملیں گے۔ ان کی حالت مزید بہتر ہے، چیک کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ کارآمد ہیں تو خریدیے ورنہ چھوڑ دیجیے۔ ٹی وی کے ریموٹ بھی موجود ہیں، کوئی گارنٹی نہیں کہ چلیں یا نہ چلیں۔ گیمنگ کنسول بھی برائے فروخت تھا، قیمت فقط بارہ سو روپے۔
غرض ایک دنیا ہے۔ اور اس دنیا سے وابستہ کئی کہانیاں ہوں گی۔ یہاں بکنے والی ایک ایک چیز کسی وقت بہت چاؤ سے خریدی گئی ہو گی۔ کوئی اینڈرائڈ فون کسی نے عزیز دوست کو تحفے میں دیا ہو گا، ہو سکتا ہے اس اینڈرائڈ فون کی اسکرین بعد میں ٹوٹی ہو، تعلق میں دڑاڑیں پہلے پڑ گئی ہوں۔ کبھی اس ٹیلے فون کی گھنٹی بجتی ہو گی تو کسی کے دل کے تار بھی بج اٹھتے ہوں گے۔ یہ گیمنگ کنسول کسی نے امتحان میں اول آنے کے بعد پایا ہو گا۔ اس گھڑی نے بھی کسی کی زندگی کی اچھی گھڑیاں دیکھی ہوں گی۔ آج بے مول بکنے والی یہ چیزیں قوت گویائی پائیں تو احوال سنائیں، کبھی وہ بھی انمول تھیں، اور پھر وقت کی نذر ہو گئیں۔


Filed under: Uncategorized Tagged: E-Waste, Lahore, Pakistan

مقدس پانی کب ملے گا؟

صبح پانچ بجے سفر کا آغاز کیا تو اندازہ نہ تھا دھند یوں آن دبوچے گی۔ ٹھوکر نیاز بیگ لاہور سے موٹر وے کا راستہ پکڑا تو بادل سے آ گئے۔ سوچا کسی فیکٹری کا دھواں ہو گا۔ سر جھٹک کر آگے بڑھے تو پھر سب صاف۔ اس سے پہلے گھر سے نکلنے اور اسٹور سے خریداری کے بعد معمولی سا حادثہ کرا بیٹھے تھے۔ گاڑی میں چار پانچ نفوس بیٹھیں تو سردیوں میں شیشے دھندلا جاتے ہیں۔ پیچھے موجود کھمبا نظر ہی نہ آیا۔ تصادم کے بعد اتر کر دیکھا تو زیادہ نقصان نہ تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔
خالی ٹینکی کے باوجود اطمینان تھا کہ موٹر وے ٹال پلازے سے پہلے ایک پیٹرول پمپ ہے۔ لیکن دھند کا ایسا ہلہ آیا کہ پیٹرول پمپ نظر ہی نہ آیا۔ واپسی کی ٹھانی، دیگر سوار بھی متفق ہو گئے۔۔۔ لیکن یونہی، اپنے عذر کی سند کی خاطر، ٹال پلازے پر ٹوکن دینے والے صاحب سے پوچھ لیا۔ وہ کہنے لگے دھند تو بس یہیں تک ہے۔
ان کے کہے میں آ کر ہم نے بحر دھند میں گاڑی دوڑا دی۔ صاحب، دوڑائی کہاں، کچھ نظر آتا تو رفتار پر پاؤں رکھتے۔ سڑک پر کھنچی سفید لکیر کے سہارے چلنے لگے اور جو دعائیں یاد تھیں وہ پڑھنے لگے۔ کبھی کبھار کوئی بس بھی انتہائی تیز رفتاری سے گزری، کچھ دیر اس کی سرخ بتیوں کے پیچھے چلے، پھر اسے بھی کھو دیا۔ ٹی وی پر صفر حد نگاہ کی خبریں چلاتے تھے۔ دیکھ بھی لی۔
ساڑھے چھ بجے کے قریب کچھ کچھ اجالا ہوا، سات بجے تک دھند چھٹ چکی تھی، سہما سہما سورج جھانک رہا تھا، پوچھتا تھا اب تو کرنوں کا راستہ نہ روکو گے؟ ہم نے کہا بھیا ہم تو خود مسافر ہیں، کاتب تقدیر کے لکھے پر چلنے والے۔ ہاں تمہاری تصویر ضرور کھینچیں گے

img_20170128_065904

کھیوڑہ میں نمک کی کانیں ہماری منزل تھیں۔ نو ساڑھے نو بجے کے آس پاس وہاں پہنچے تو پارکنگ میں ہم سے پہلے صرف ایک ہی گاڑی موجود تھی۔ نمک کی کان میں نمک ہو کر نکلے تو گھڑی شاید ساڑھے گیارہ بجا رہی تھی۔ اس وقت غول کے غول بڑھے چلے آ رہے تھے۔ ہم نے جلدی پہنچنے پر خود کو داد دی، ہجوم میں تو ڈھنگ سے کچھ نہ دیکھا جاتا۔ ایک عزیز چوآ سیدن شاہ میں رہتے ہیں۔ ان سے رابطہ ہوا تو کہنے لگے، آپ ہم سے فقط اٹھارہ کلومیٹر دور ہیں، یہاں کا چکر بھی لگا لیں۔ کچھ ان کی تکلیف کا خیال، کچھ واپس جانے کی جلدی، ان سے معذرت کر لی لیکن پارکنگ سے نکلنے تک نیت بدل چکی تھی۔۔۔ صرف اٹھارہ کلومیٹر، ارے یہ تو کچھ بھی نہیں، پھر کٹاس کا مندر بھی تو قریب ہی ہے، لگے ہاتھوں وہ بھی دیکھتے چلیں گے۔
گاڑی اس راہ پر ڈالی تو معلوم ہوا پہاڑی راستوں پر اٹھارہ کلو میٹر بھی پچاس کلومیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔ نہ جانے کتنے وقت کے بعد چوآ سیدن شاہ پہنچے تو واپس جانے کی فکر اس سے بھی سوا ہو چکی تھی۔ عزیز خاطر مدارت میں زحمت کریں گے، ہمیں بھی مزید دیر ہو گی، یہی سوچ کر بوجھل دل کے ساتھ انہیں ملے بغیر آگے چلے گئے۔
کٹاس مندر پہنچے تو ایک بورڈ پر نظر پڑی۔ لکھا تھا آب شفاء۔ بریکٹ میں درج تھا مقدس پانی۔ پڑھتے ہی تمام روحانی و جسمانی عارضے یاد آ گئے۔

vlcsnap-2017-02-09-06h50m19s64

سیراب ہونے کو نلکوں تک پہنچے تو ایک اور تختی لگی تھی، لکھا تھا اس فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح وزیراعظم نے اب سے دو ہفتے قبل کیا۔ مقدس پانی کی فلٹریشن۔۔۔ ارے بابا پاکیزگی کو تطہیر کی کیا ضرورت؟

img_20170128_134217
ہم نے بے تابی سے ٹونٹی کھولی لیکن ہوا کے سوا کچھ نہ نکلا۔ وہاں لگی تمام ٹونٹیاں آزما لیں لیکن انہوں نے بھی ہماری پیاس بجھانے سے انکار کر دیا۔
ایک اور جنگلے پر بھی لکھا تھا۔۔۔ یہ وزیراعظم کی جانب سے تحفے کے طور پر دیا گیا ہے۔ وہ جنگلہ بھی اندر سے خالی تھا۔
کٹاس مندر کے داخلی دروازے پر ایک صاحب نام وغیرہ درج کرتے ہیں۔ وہی یہ ترغیب بھی دیتے ہیں کہ ویسے تو تمام مندروں کو تالا لگا ہے۔۔ لیکن اگر آپ کوئی گائیڈ لینے اور اسے رقم دینے پر آمادہ ہیں تو وہ تمام مندروں کے دروازے آپ کے لیے کھول دے گا۔ ہم نے شکیل نامی ایک شخص کو رہنما مقرر کیا۔ وہ جس مندر میں بھی لے کر گیا وہ اس سے پہلے کسی گائیڈ نے کھول رکھا تھا اور تمام مندر سیاحوں سے بھرے ہوئے تھے۔
واپسی پر ہم نے داخلی دروازے پر بیٹھے شخص سے پوچھا، کیوں حضرت، مقدس پانی کب جاری کریں گے؟ بے نیازی سے کندھے اچکا کر کہنے لگے، بہت جلد۔

پوسٹ اسکرپٹ: اسی کہانی کو ویڈیو میں بھی بیان کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں


Filed under: خواہ مخواہ Tagged: Katas Temple, Pakistan, travelogue

دو منٹ میں مسئلہ حل کریں

زندگی میں آنے والے ذاتی، کاروباری یا سماجی مسائل سے ہم سبھی پریشان ہوتے ہیں اور انہیں فوری طور پر حل کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اس بارے میں پڑھتے ہوئے ایک انتہائی دلچسپ چیز معلوم ہوئی۔
آپ نے کوئی بھی مسئلہ حل کرنا ہے تو گھبراہٹ یا پریشانی کے بجائے، ایک چیلنج سمجھ کر اس پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ مسئلے کے حل کا تمام دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ ردعمل کیا دیتے ہیں۔
سب سے پہلے ایسا کریں کہ خود پر قابو پائیں ۔۔۔ اپنے آپ کو یقین دلائیں آپ اسے حل کر لیں گے
پھر یوں کریں کہ مسئلے کو مسئلہ نہ کہیں ۔۔ پرابلم نہ کہیں۔۔۔ برابلم ایک منفی لفظ ہے۔۔۔ پریشان کر دیتا ہے
اسے ایک سچوئیشن کہہ لیں ۔۔۔ صورتحال کہہ لیں۔۔۔ یہ غیر جانب دار لفظ ہے ۔
بلکہ زیادہ بہتر ہے۔۔۔ اپنے مسئلے کو چیلنج کہیں۔۔۔ یہ مثبت لفظ ہے۔۔۔ حوصلہ دیتا ہے
اس سے بھی زیادہ بہتر ہے آپ اپنے مسئلے کو موقع قرار دے دیں۔۔۔ یوں یہ ایک چیلنج بن جائے گا
مثلاً
اگر کہا جائے ۔۔۔ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔ اب گزارا نہیں ہوتا
تو یہ ایک منفی جملہ ہے۔۔۔ آپ کو پریشان تو کرتا ہی ہے، یہ تاثر بھی دیتا ہے کہ آپ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔
اس کی جگہ اگر یوں کہا جائے۔۔۔ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، اب مجھے اپنی آمدنی بڑھانا ہو گی
یہ جملہ آپ کو حوصلہ بھی دیتا ہے، اور آمدنی بڑھانے کےلیے کچھ کرنے پر موٹی ویٹ بھی کرتا ہے
یاد رکھیں۔ دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل موجود نہ ہو۔ اور حل کا تمام دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ رد عمل کیا دیتے ہیں۔


Filed under: کامیابی Tagged: Life, Problem-solving, Self Help

Pages