نوک جوک

لیڈر کی 12 خصوصیات

آپ کسی ادارے میں کام کر رہے ہیں، اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
ترقی کرنا چاہتے ہیں۔
تو اس کے لیے آپ کو ایک follower کے رول سے آگے بڑھ کر ایک leader کا رول اپنانا ہو گا۔
لیڈر بننے کے لیے آپ کو 12 خصوصیات اپنے اندر پیدا کرنا ہوں گی۔
1.لیڈر جو ہوتا ہے، وہ بہادر ہوتا ہے۔ مسائل سے گھبراتا نہیں ہے۔ اپنا حوصلہ قائم رکھتا ہے، اور اپنے ساتھ کام کرنے والوں کا حوصلہ بھی بڑھاتا ہے۔ فیصلے کرنے سے ڈرتا نہیں ہے۔
2.اچھا لیڈر اپنے کام کو اچھے سے جانتا ہے۔ جو کام کرتا ہے اس پر اسے مہارت ہوتی ہے۔
3.چوں کہ اچھا لیڈر اپنے کام کو جانتا ہے، اسی وجہ سے وہ پر اعتماد بھی ہوتا ہے۔
4.لیڈر کو خود پر قابو ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایک لیڈر نے اپنے ساتھ کام کرنے والے افراد کو لیڈ کرنا ہوتا ہے۔ تو ان پر قابو پانے سے پہلے وہ خود اپنے آپ پر قابو پانا سیکھتاہے۔
5.لیڈر انصاف کرتا ہے۔ جو اچھا کام کریں ان کی تعریف کرتا ہے۔ انہیں ترقی دیتا ہے۔ جو اچھا کام نہیں کرتے، انہیں سکھاتا ہے۔ اچھا کام کرنے کی جانب مائل کرتا ہے۔ اچھا لیڈر کسی سے ناانصافی نہیں کرتا۔ عہدے وغیرہ ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اہلیت کی بنیاد پر دیتا ہے۔
6.سوچ سمجھ کر فیصلے کرتا ہے۔ اور پھر اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔ جو لوگ کوئی فیصلہ کرنے کے بعد انہیں جلدی جلدی بدل لیتے ہیں اس کا مطلب ہے انہیں خود پر اور اپنے فیصلوں پر اعتماد نہیں ہے۔ جنہیں خود پر اعتماد ہی نہ ہو وہ لیڈر کیسے بن سکتے ہیں۔
7.اچھا لیڈر ٹھوس منصوبے بناتا ہے اور پھر ان پر عمل کرتا ہے۔ جو بندہ بھی تیر تکے سے کام چلائے وہ لیڈر نہیں ہو سکتا۔ بغیر منصوبہ بنائے کوئی کام شروع کرنا ایسا ہی ہے جیسے بغیر چپو کے کشتی چلائی جائے۔ اس پر آپ کا کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔ اور ایسی کشتی لہروں کی نذر ہو جاتی ہے۔
8.اچھا لیڈر کام کرنے کو ہر دم تیار رہتا ہے۔ اور کام کی مقدار سے گھبراتا نہیں۔کہ جی زیادہ کام ہے تو میں نے نہیں کرنا۔ کیوں کہ اس نے لوگوں سے بھی تو کام لینا ہوتا ہے۔ اگر وہ دیکھیں کہ ہمارا لیڈر خود تو کوئی کام کر نہیں رہا، ہمی سے کرائے جا رہا ہے، تو وہ بھی دل چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لیے ایک اچھا لیڈر اپنے ساتھ کام کرنے والوں سے زیادہ کام کرتا ہے۔
9.اچھا لیڈر خوش مزاج ہوتا ہے۔ اکھڑ نہیں ہوتا۔ کھڑوس نہیں ہوتا۔ اس کے اچھے مزاج کی وجہ سے اس کی عزت کی جاتی ہے۔
10.اچھا لیڈر دوسروں کے دکھ درد سمجھتا ہے۔ اسے خیال ہوتا ہے کہ دوسروں کے مسائل کیا ہیں۔ اور وہ جہاں تک ممکن ہو ، اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
11.اگر کام کرتے ہوئے لوگوں سے کوئی غلطی ہو جائے، یا کوئی کمی رہ جائے، تو اچھا لیڈر اس کی ذمہ داری لیتا ہے۔ وہ غلطی کا ملبہ کام کرنے والوں پر نہیں ڈالتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کے نیچے کام کرنے والے افراد معیاری کام نہیں کر سکے، تو اس کا قصور وار وہ خود ہے۔
ہاں اگر کوئی کام امید کے مطابق اچھا ہو جائے، تو وہ دل کھول کر کام کرنے والوں کو شاباش دیتا ہے۔
12.اچھا لیڈر ڈیڑھ اینٹ کی الگ سے مسجد نہیں بناتا، بلکہ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عادی ہوتا ہے۔

 آپ بھی اپنے اندر یہ 12خصوصیات پیدا کر لیں، تو آپ کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

آٹھ قدم بڑھائیں، امیر ہو جائیں

آپ بہت ساری دولت کمانا چاہتے ہیں نا۔۔۔ یقین کیجیے آپ کر سکتے ہیں۔
دولت کمانا تو میں نے اس لیے کہا کہ لوگوں کو یہ موضوع اچھا لگتا ہے۔۔
لیکن اس کے علاوہ بھی، آپ کچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں ، تو آپ کر سکتے ہیں۔۔
اس کے لیے کچھ زیادہ نہیں کرنا۔ بس آٹھ قدم بڑھانے ہیں۔
1.سب سے پہلے تو اپنی سوچ کو وسیع کر لیں۔ بہت سے لوگوں کے دل میں خیال آتا ہے کہ وہ بہت ساری دولت کمائیں، تو اگلے ہی لمحے وہ خودسے کہتے ہیں، چھوڑو یار، یہ کیسے ممکن ہے۔
اس سوچ سے چھٹکارا پائیں۔ اپنی امیجی نیشن کو پابند نہ کریں۔ خود سے کہیں کہ جو بھی آپ سوچ رہے ہیں وہ ممکن ہو سکتا ہے۔
2.اور یہی دوسرا سٹپ ہے۔ آپ جو کچھ سوچ سکتے ہیں وہ سوچیں۔ جب آپ کی سوچ کسی حد کی پابند نہیں رہے گی نا تو آپ کو لا تعداد آئیڈیاز آئیں گے۔
جو آئیڈیا آپ کو آئے، اسے یہ سوچ کر مسترد نہ کریں ۔۔ چھوڑو یار، میرے پاس تو اتنے وسائل ہی نہیں۔ سوچنے پر تو کچھ خرچ نہیں آتا نا۔ لہذا سوچتے ہوئے خود پر کوئی پابندی نہ لگائیں۔بس خیال رہے کہ آپ جو بھی آئیڈیا سوچ رہے ہیں، اس میں کسی کا نقصان تو نہیں ہے۔
3.اس کے بعد جس آئیڈیا پر آپ کا دل آ جائے، اسے سلیکٹ کر لیں۔
4.اس موقع تک آپ نے یہ فکر نہیں کرنی کہ جو بھی آپ سوچ رہے ہیں وہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔
بس جو خیال آپ کے ذہن میں آیا ہے، اس پر یقین رکھنا ہے۔ اور خود پر یقین رکھنا ہے۔
5.پانچویں سٹپ پر آپ نے سوچنا ہے کہ جو آئیڈیا آپ کے دل کو بھایا ہے اسے ڈو ایبل کیسے بنایا جائے۔ ممکن کیسے بنایا جائے۔
واضح رہے۔ میں نے آپ سے یہ نہیں کہا کہ جو آئیڈیا آپ کے ذہن میں آیا وہ ممکن بھی ہے یا نہیں۔
بلکہ میں نے آپ سے کہا۔۔جو آئیڈیا آپ کے ذہن میں آیا اسے ممکن کیسے بنانا ہے؟
مثلا آپ کے ذہن میں آئیڈیا آیا کہ ایک بہت بڑا جنرل اسٹور کھولا جائے۔ لیکن پیسے آپ کے پاس صرف ایک کھوکھا کھولنے کے ہیں۔
6.تو چھٹے سٹپ میں آپ نے اپنے آئیڈیا پر عمل کرنے کے لیے، اسے ڈو ایبل بنانے کے لیے پلان بنانا ہے۔
ہو سکتا ہے آپ سوچیں کہ ایک کھوکھا ہی کھول لیا جائے۔ لیکن جب آپ کے دل میں بڑا اسٹور کھولنے کی دھن سمائی ہو گی، تو پھر ایک روز آپ اس میں کامیاب ضرور ہوں گے۔
جب آپ کی سوچ پابند نہیں ہو گی، تو آپ کو آئیڈیاز آتے رہیں گے۔ آپ اپنے کھوکھے کو ہی وسعت دیتے رہیں گے۔ اور ایک دن بڑا اسٹور بنا لیں گے۔
بس آپ نے رکنا نہیں ہے۔ یہ نہیں سوچنا کہ بڑااسٹور کھولنا تو ممکن ہی نہیں۔ اپنی نظر بڑے گول کی طرف رکھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم لینا شروع کر دیں
7.اور یہی ساتواں سٹپ ہے۔ یعنی جو پلان بنایا ہے اس پر عمل شروع کر دیا جائے ۔
8.آٹھواں، اور آخری سٹپ یہ ہے کہ ایک بار یہ سات قدم بڑھا لیے، تو پھر رکنا نہیں ہے۔ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔ راستے میں کوئی ناکامی ملی تو دل نہیں چھوڑنا۔ خود سے یہ نہیں کہنا، چھوڑو یار، یہ تو ممکن ہی نہیں۔ سٹپ نمبر چار میں آپ سے کہا تھا نا کہ خود پر یقین رکھنا ہے۔ تو راستے میں رکاوٹیں آتی جائیں، اس کے باوجود خود پر یقین رکھیں۔ اور لگے رہیں۔۔
آپ جو بھی حاصل کرنا چاہیں، وہ حاصل کر سکتےہیں۔ بس یہ آٹھ قدم بڑھائیں، اور پھر رکنے کا نام نہ لیں۔

شریف کون ہوتا ہے؟

برصغیر پر جب انگریز قابض تھا۔ تو وہاں ریڈیو اسٹیشن کا ڈول ڈالا گیا۔سید ذوالفقارعلی بخاری اس وقت ریڈیو سے وابستہ ہوئے۔ اور براڈکاسٹنگ میں بہت نام کمایا۔یہاں تک کہ پاکستان بننے کے بعد یہاں ریڈیو پاکستان کے ڈائیریکٹر جنرل تک ترقی پائی۔
یہ قصہ ذوالفقار بخاری صاحب کی سرگزشت سے لیا گیا ہے۔۔اور اس وقت کا ہے، جب دہلی ریڈیو اسٹیشن کے لیے موسیقار منتخب کیے جانے تھے۔
سید زوالفقار بخاری اپنی سرگزشت میں لکھتے ہیں۔ کہ ان کا خیال تھا۔۔ جب یہ شہرت ہو گی کہ دہلی میں ریڈیو اسٹیشن کھل رہا ہے اور موسیقاروں کو اجرت پر پروگرام ملیں گے، تو میرے دفتر کے سامنے گانے والوں اور گانے والیوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جائیں گے۔
مگر وہ دلی تھی۔
ہر طرف سے یہ جواب دیا گیا کہ تم کون ہوتے ہو ہمارا امتحان لینے والے۔
مجرے سے پہلے ہمارا گانا سننا چاہتے ہو تو کوٹھے پر آؤ۔
گانا پسند آئے تو استاد جی سے بات کرو، پھر جس دن کہو گے ڈولی میں بیٹھ کر تمہارے ہاں آ جائیں گے۔
گانے والیوں نے ضد دکھائی تو ریڈیو والوں کو ہار ماننا پڑی۔ فیصلہ ہوا کہ طوائفوں کے کوٹھے پر جا جا کر ان کا گانا سنا جائے۔ اور ان سے گفتگو کر کے فیس مقرر کی جائے۔
اب یہ خیال آیا کہ کسی نے طوائفوں کے کوٹھے پر جاتا دیکھ لیا تو؟
تب فیصلہ کیا گیا کہ رات کو چھپ چھپا کر جائیں گے۔
آخر ایک رات۔ بخاری صاحب، ریڈیو کے ہی ایک ساتھی، جن کا نام نیازی تھا، ساتھ لے کر ، اختری بائی، آگرے والی کے کوٹھے پر جا پہنچے۔
اختری نے پاندان کھولا، گلوریاں بنائیں، اور تھالی میں رکھ کر پیش کیں۔
نیازی نے زوالفقار بخاری کے کان میں کہا، دو روپے پان کی تھالی میں رکھ دو۔
ان کی جیب میں دس روپے کا نوٹ تھا، وہی رکھ دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ آٹھ روپے واپس نہیں ملنے والے۔
خیر، اختری بائی کا گانا سنا گیا۔
اس کے بعد انہوں نے اختری سےہی پوچھا۔۔ یہاں کوئی اور بھی گانے والی ہے۔اس نے کہا، ساتھ کے کوٹھے پر درگا بائی گاتی ہے۔ کہا اسے یہیں بلوا لو۔ اختری بولی، وہ یہاں کیوں آنے لگی، آپ ہی کو وہاں جانا ہو گا۔
انہوں نے اختری سے کہا، تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔وہ راضی ہوگئی۔
جب وہ چلنے لگی تو ایک سازندےنے کہا، چودھری کی بیٹی ہو، درگا کے استادوں کو نذر دینا ہو گی۔ دو چار روپے ساتھ رکھ لو۔
یہاں اختری نے ایک ایسا فقرہ کہا۔۔جو سننے والوں کے چودہ طبق روشن کر دے۔۔
اختری بولے، ارے واہ کیسی نذر۔ میں کون سے شریفوں کو کوٹھے پر لے جارہی ہوں۔
یہ فقرے سن کر ان کے چہرے تمتما اٹھے۔ اختری تیور بھانپ گئی۔ شرما کر وضاحت کی۔۔ برا نہ مانیے۔ ہمارے یہاں شریف ان کو کہتے ہیں جو دل بہلانے کےلیے گانا سننے آئیں۔ آپ تو کاروباری آدمی ہیں۔
اس کے بعد کیا ہوا۔۔یہ معاملہ بھی سننے والا ہے۔۔
بخاری صاحب نے اگلے روز دفتر میں جا کر بل پیش کر دیا، کہ دس روپے اختری کے ہاں پان کی تھالی میں رکھے اور دو روپے درگا کے ہاں۔
یہ بن گئے بارہ روپے۔۔ واپس دلوائے جائیں۔
اس بل کی داستان سارے دفتر والوں نے پڑھی۔ وہاں سے اخباروں تک پہنچ گئی۔ اور اخباروں سے زوالفقار بخاری صاحب کی اہلیہ تک۔
وہ ناراض ہو کر بچوں کو لے کر چلی گئیں۔
انہوں نے بخاری صاحب کے گھر والوں تک معاملہ پہنچایا۔ کہ جی وہ تو کوٹھے پر جاتے ہیں۔۔
یوں اچھی خاصی غلط فہمی پیدا ہو گئی۔

لگے رہو، کامیابی ملے گی

ایڈون سی بارنس ایک غریب سا آدمی تھا، لیکن تھامس ایڈیسن کا بزنس ایسو سی ایٹ ، یا پارٹنر بننا چاہتا تھا۔۔
جی، اسی تھامس ایڈیسن کا، جس نے لائٹ بلب سمیت دو ہزار سے زیادہ چیزیں ایجادکیں۔
اور جس وقت ایڈون کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی، اس وقت ان کے پاس کوئی وسائل نہ تھے۔
اتنی رقم بھی نہ تھی کہ ایڈیسن کے پاس جانے کے لیے ٹرین کی ٹکٹ خریدی جا سکتی۔
عام طور پر ہم لوگوں کو کوئی چیز مشکل لگے تو ہم کوشش ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
اکثر دل میں کوئی خواہش پیدا ہوتی ہے، تو خود سے کہتے ہیں۔۔چھوڑو یار، اپنے پاس تو اتنے وسائل ہی نہیں۔
یعنی وسائل پیدا کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، مشکل کام میں ہاتھ ہی نہیں ڈالتے۔
لیکن ایڈون سی بارنس نے ایسا نہ کیا۔ اس کے ذہن میں خواہش پیدا ہوئی تو اس نے پورا کرنے کی ٹھان لی۔
اس نے حساب لگایا کہ ٹرین سے تو وہ جا نہیں سکتا، اس لیے اس نے مال گاڑی سے سفر کیا اور ایڈیسن کے پاس جا پہنچا۔
ایڈیسن نے انٹرویو لیا، اور وہ ناکام ہو گیا۔
یہ وہ موقع ہوتا ہے جہاں اکثر لوگ ہمت ہار دیتےہیں۔ یعنی کوشش کی، پہلی ناکامی ملی اور کوشش ہی چھوڑ دی۔
لیکن بارنس نے ایسا نہ کیا۔ اس نے ایڈیسن سے کہا مجھے کوئی چھوٹی موٹی نوکری ہی دے دیں۔
لہذا بہت ہی معمولی سی تنخواہ پر اسے وہاں نوکری پر رکھ لیا گیا۔
دل میں ایڈیسن کا بزنس ایسوسی ایٹ بننے کی خواہش رکھے، وہ نوکری کرتا رہا۔
اس نے خود سے یہ نہیں کہا۔۔۔کیا فائدہ یار یہ سب کرنے کا۔ میرا خیال ہے میں کچھ اور کر لیتا ہوں۔
وہ لگا رہا، لگا رہا۔۔۔ یہاں تک کہ اسے ایک موقع مل گیا۔ اگرچہ وہ موقع یوں نہ ملا جیسا بارنس نے سوچا تھا۔
ہوایوں، کہ ایڈیسن نے ایک مشین بنائی، جس کا نام تھا ایڈیسن ڈکٹیٹنگ مشین۔
سیلز مین اس مشین کو بیچنے کے لیے زیادہ پرجوش نہ تھے۔ اس لیے انہوں نے زیادہ دلچسپی بھی نہ دکھائی۔
بارنس کو تو اسی قسم کے موقع کی تلاش تھی۔ اس نے ایڈیسن کو کہا کہ میں آپ کو یہ مشین بیچ کر دکھاؤں گا۔اور پھر اس نے وہ مشین اتنی کامیابی سے بیچی کہ ایڈیسن نے پورے ملک میں ڈکٹیٹنگ مشین کی ڈسٹری بیوشن کا کنٹریکٹ بارنس کو دے دیا۔ یہ معاملہ اس قدر کامیاب ہوا، کہ بعد میں سلوگن بن گیا۔۔ایڈیسن نے بنائی، بارنس نے لگائی۔
بارنس نے بہت زیادہ دولت توکمائی ہی۔ ساتھ ہی یہ بھی ثابت کر دیا، کہ آپ اپنا ایک گول سیٹ کریں، اور پھر مستقل مزاجی کے ساتھ ڈٹے رہیں۔ تو ایک نہ ایک دن کامیابی مل ہی جاتی ہے۔۔

لو کہہ دیا، مجھے تم سے نفرت ہے

اگر آپ ایک hard working انسان ہیں۔آپ کو محنت وغیرہ کرنے کا بہت شوق ہے۔تو براہ مہربانی، یہ تحریر نہ پڑھیں۔
کیوں کہ میں ان محنتی لوگوں سے بہت تنگ ہوں۔
بندہ صبح صبح دہی کھا کر دفتر جاتا ہے۔۔ تو وہاں جاتے ہی کام تو نہیں شروع کر دیتا نا۔ پہلے سارے دفتر والوں سے حال احوال لیتا ہے، گپ شپ لگاتا ہے، جو کولیگ موجود نہ ہو اس کی غیبت کرتا ہے۔پھر ناشتہ منگواتا ہے، ناشتہ کرتاہے۔۔ پھرجا کر موڈ بنے تو کام شروع کرتا ہے۔
لیکن یہ لوگ وقت پر دفتر پہنچتے ہی کام بھی شروع کر دیتے ہیں۔ کم بخت ناشتہ بھی گھر سے کر کے آتے ہیں۔تو غصہ نہ آئے تو اور کیا آئے۔
پھر اس قسم کے لوگ خواہ مخواہ کی اہمیت بھی پانے لگتے ہیں۔ ان کی محنت ہی ان کا تعارف بن جاتی ہے۔۔
ان سے ملیے، یہ فلاں صاحب ہیں، بہت محنتی انسان ہیں۔ان کی وجہ سے کمپنی کو بہت فائدہ ملا۔ فلاں پراجیکٹ میں انہوں نے فلاں فلاں کام کیا تھا۔
اور یہ عمیر ہیں۔۔بس، تعارف ختم۔بندے کو حسد نہ ہو تو اور کیا ہو؟
پھر، یہ محنتی لوگوں کی بڑی خوبی گنوائی جاتی ہے۔۔ کہ جی فلاں تو ملٹی ٹاسکنگ کرتا ہے۔ ایک وقت میں کئی کام کر لیتا ہے۔
بندہ پوچھے، ضرورت کیا ہے ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے کی؟
میں بھی تو ایک ساتھ تین کام کرتا ہوں۔۔۔ وقت ضائع کرتا ہوں، ویلا بیٹھا رہتا ہوں، اور جو کام مجھے دیا جاتا ہے اسے نامکمل بھی چھوڑ دیتا ہوں۔
اس کی ملٹی ٹاسکنگ واہ۔ میری ملٹی ٹاسکنگ آہ۔
یہ جفا کش قسم کے لوگ اصل میں اتنے کوڑھ مغر ہوتے ہیں، کہ انہیں یہ نہیں پتہ ہوتا۔۔نائن ٹو فائیو کا مطلب ہے۔۔نائن اے ایم،ٹوفائیو پی ایم۔۔
یہ لوگ نائن اے ایم سے لے کر فائیو اے ایم تک کام کرتے ہیں۔ اور اگلی صبح پھر نائن اے ایم پر دفتر آ جاتے ہیں۔
کوئی پوچھے کہ جی ٹائمنگز کیا ہیں آپ کی۔۔ جواب دیتے ہیں، flexible ہیں۔
اسی لیے میں ایسے لوگوں کے پاس تک نہیں بیٹھتا۔۔۔ پاس بیٹھوں تو میرا ضمیر جاگ جاتا ہے کہ وہ محنت کر رہا ہے، تو کیوں نہیں کر رہا۔ پھر بڑی محنت سے ضمیر کو تھپک تھپک کر سلانا پڑتا ہے۔
کبھی کبھار میں نے محنت کرنے کا ارادہ کیا۔۔ لیکن آپ کو معلوم ہے محنت کا کیا ریوارڈ ملتا ہے؟ آپ کو مزید کام دے دیا جاتا ہے۔
میں نے تو پھر توبہ کر لی۔
یہ محنتی لوگ نا، دفتر کے بعد گھر جا کر بھی ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہاں ان کے ساتھ صحیح ہوتی ہے۔۔
بیگم سے جا کر کہتےہیں، ہنی!آج بھی برتن میں ہی دھو دیتا ہوں۔You look tired۔
آگے سے ہنی انہیں جواب دیتی ہے۔ ہاں، دوپہر میں میری فرینڈز آ گئی تھیں نا، تو برتن تھوڑے زیادہ ہیں۔ میری تو دھونے کی ہمت ہی نہیں پڑی۔ تم نا برتن دھو کر ڈرائنگ روم بھی صاف کر دینا، بہت گندا ہو رہا ہے۔
ان کے چہرے پر تھکاوٹ دکھ رہی ہو گی۔۔ پھر بھی کام کرتے جائیں گے۔۔
بھائی! ایک چیز ہوتی ہے۔این اے پی۔۔NAP۔ اس کا باقاعدگی سے استعمال کرنا چاہیے۔
پوچھا جائے، سوئے تھے؟ جواب ملتا ہے، نہیں یار، باس نے اسائنمنٹ دی تھی نا، اسے ہی complete کرتا رہا۔
تب ہمیں بھی یاد آتا ہے، او تیرے کی، اسائنمنٹ تو مجھے بھی ملی ہوئی تھی۔
جب ہر کوئی ان ہارڈ ورکنگ لوگوں کی تعریف کرنے لگتا ہے نا۔۔ تب جا کر ان میں تھوڑی سی اکڑ بھی آ جاتی ہے۔ خود کو important فیل کرنے لگتے ہیں نا۔
کمپیوٹر پر کام کر رہے ہوں گے، تو ساتھ ہی سر بھی پکڑا ہو گا۔
بندہ ہم دردی میں ہی پوچھ لیتا ہے، کہ یار کیا حال ہیں۔ آگے سے اکھڑ سا جواب ہو گا۔۔
آپ کے سامنے ہی ہیں۔۔ لگے ہوئے ہیں۔۔
کیا مطلب ہے یار لگے ہوئے ہیں۔۔ آپ کوئی وال کلاک ہیں؟
ایسے لوگ زمانہ طالب علمی کے زمانے سے ٹینشن ہوتےہیں۔
ٹیچر سے کہیں گے۔۔I have a question۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب ہے۔۔میں ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔۔یہ اٹھارہ پوچھیں گے۔
بچے کو چوٹ لگتی ہے نا۔ وہ روتے ہوئے اماں ابا کے پاس آتا کہ چوٹ لگ گئی۔ اماں ابا چوٹ والی جگہ پر پپی کر کے کہتے ہیں۔۔اب ٹھیک ہو گئی۔ وہ کہتا ہے ہاں ٹھیک ہو گئی اور پھر سےکھیلنے لگتا ہے۔۔
یہ لوگ، اس چوٹ کا علاج کرنے کےلیے پانچ سالہ ایم بی بی ایس کورس میں داخلہ لے لیتے ہیں۔
بس اسی لیے مجھے یہ محنتی ۔۔ ہارڈ ورکنگ لوگ زہر لگتے ہیں۔ اپنی زندگی میں آسانی چاہتےہیں تو ان سے دور رہیں۔ بلکہ آپ کی فیس بک فرینڈز لسٹ میں بھی کوئی محنتی شخص موجود ہے، تو اسے اس پوسٹ میں ٹیگ کرنے کے بعد ان فرینڈ کر دیں۔
اور اسے ان فرینڈ کرتے ہوئے کہہ دیں، تمہاری دوستی ٹینشن کے سوا کچھ نہیں۔

ناکام لوگوں کی 13 عادات

آپ نے کوشش کی۔۔ اور ناکام ہو گئے۔۔ تو اس کی بھی ایک وجہ تھی۔
بلکہ ایک بھی نہیں۔۔ اس کی تیرہ وجوہات تھیں۔۔
جی۔آپ میں، اور شاندار کامیابی کے راستے میں تیرہ وجوہات کھڑی ہوتی ہیں۔
ناکامی کی وجہ نمبر ایک۔ ۔ سب سے پہلے تو ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا، کہ ہم کرنا کیا چاہتے ہیں۔ کوئی باقاعدہ مقصد نہیں ہوتا۔ لائی لگ ہوتے ہیں۔ جو دوسروں کو کرتے دیکھتے ہیں، خود بھی وہی کرنے لگتے ہیں۔ اور پھر جلد ہی دل چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمت ہار دیتے ہیں۔ چوں کہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ زندگی میں کرنا کیا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام دل سے نہیں کرتے۔
نمبر دو۔۔ لگن ہی نہیں ہوتی۔۔ نہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ نہ آگے بڑھنے کا سوچتے ہیں۔ آگے بڑھنے کی ایک قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ ناکام لوگ یہ قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اس لیے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
نمبر تین۔۔ مناسب معلومات نہیں ہوتیں۔ نہ انہیں حاصل کرتے ہیں۔ معلومات لے لیتے ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں استعمال کیسے کرنا ہے۔ اور کہاں کرنا ہے۔ یعنی جو بھی کام کرنا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا کہ یہ کام کیسے کیا جاتا ہے۔ اور پھر متعلقہ معلومات حاصل کرنے میں بھی سستی سے کام لیتے ہیں۔۔ بغیر کچھ پتہ کیے کام شروع کر دیتے ہیں۔ مشکل پڑتی ہے۔تو گھبرا جاتے ہیں اور کام چھوڑ دیتے ہیں۔
نمبر چار۔۔ جو کام کرنا ہو، اسے لگ کر نہیں کرتے۔ خود کو ایک ڈسپلن کا پابند نہیں بناتے۔ باقاعدگی سے کام نہیں کرتے، اور اگر ناکامی مل رہی ہو، تو بھی سمجھ نہیں پاتے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم دل لگا کر کام تو کر ہی نہیں رہے۔
نمبر پانچ۔۔ آج کا کام کل پر چھوڑ دیتے ہیں۔ دراصل ہم کوئی بھی کام شروع کرنے کے لیے درست وقت کا انتظار ہی کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ درست وقت کبھی نہیں آتا۔ آئیڈیاز بڑے بڑے سوچتے ہیں۔ لیکن ان پر عمل نہیں کرتے۔
ناکام ہونے کی وجہ نمبر چھ۔۔ کوئی کام شروع کر بھی دیں۔ تو بہت جلدی اکتا جاتے ہیں۔ کام شروع کرتےہیں، لیکن اسے مکمل نہیں کرتے۔ یاد رکھیں۔۔ناکامی کا دشمن نمبر ایک ہے۔۔ persistence۔ آپ persistent رہیں، یعنی لگے رہیں۔۔ کامیابی ضرور ملے گی۔
نمبر سات۔۔ ناکام لوگوں میں قوت فیصلہ نہیں ہوتی۔ جو کام یاب لوگ ہوتے ہیں، وہ بہت جلد کسی فیصلے پر پہنچ جاتے ہیں۔ اور پھر اگر وہ فیصلہ تبدیل کرنا ہی پڑے، تو اس میں جلد بازی نہیں کرتے۔ جو ناکام لوگ ہوتے ہیں۔ وہ کسی فیصلے پر پہنچنے میں تو بہت ہی زیادہ دیر لگاتے ہیں۔ لیکن اگر وہ فیصلہ تبدیل کرنا پڑ جائے۔۔تو اس میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔
نمبر آٹھ۔۔ ناکام ہونے والے لوگ، ضرورت سے زیادہ محتاط ہوتے ہیں۔ اتنی احتیاط کرتے ہیں، اتنی احتیاط کرتے ہیں، کہ کوئی چانس ہی نہیں لیتے۔کوئی قدم ہی نہیں اٹھاتے کہ کہیں گر نہ جائیں۔ لہذا انہیں وہی ملتا ہے جو دوسروں سے بچ جاتا ہے۔
ناکام ہونے کی نویں وجہ ہے، غلط شعبے کا انتخاب۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی کوئی کام شروع کر دیا جائے، تو پہلے پہل تو اس کی سمجھ نہیں آتی۔ جب سمجھ نہیں آتی تو کام سے ہی گھبراہٹ ہونے لگتی ہے۔ پھر، جو کام کرنے میں لطف نہیں آتا، وہ کام کرنے کا دل بھی نہیں کرتا۔ لہذا جو بھی لوگ غلط شعبے میں ٹانگ اڑا بیٹھتے ہیں، ناکام ہی ہوتے ہیں۔
ناکامی کی وجہ نمبر دس ہے، بے دلی: جو کام کرتےہیں، اس پر توجہ نہیں دیتے۔ توجہ نہیں دیتے تو آخر میں ناکامی ملتی ہے۔
ناکامی کی نمبر گیارہ۔۔ علم نہیں حاصل کرتے۔ جو کام کر رہے ہوں، اس کے بارے میں مزید سیکھنے اور مزید جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ معلوم نہیں کرتے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اسے کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟
نمبر بارہ۔ وسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی عادت نہیں ہوتی۔اپنی انا کے خول میں بند رہتے ہیں۔ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ سے بنائی رکھتے ہیں۔ اور ناکام ہو جاتے ہیں۔
نمبر تیرہ پر ہے ناکامی کی سب سے اہم وجہ۔ بددیانتی۔ جو کام بھی دیانت داری سے نہ کیا جائے، جی جان سے نہ کیا جائے، اس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں، اور اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تو اپنے گریبان میں جھانک کر بتائیں۔۔۔ان تیرہ عادتوں میں سے کون کون سی عادت آپ کے اندر موجود ہے۔
کامیابی چاہتے ہیں، تو ناکام لوگوں کی تیرہ عادتوں سے چھٹکارا پا لیں۔

تنخواہوں میں کٹوتیاں اور برطرفیاں، اس صحافت کا کیا بنے گا؟

پاکستانی صحافت پر ایسا دور آیا کہ اپنے ساتھ تنخواہوں میں کٹوتی، بے روز گاری اور بے زاری بھی لایا۔
معاملہ یوں کہ صحافی کئی کئی سال تک ایک ہی تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔ میڈیا مالکان تنخواہوں میں سالانہ اضافے پر یقین نہیں رکھتے۔ عہدہ بڑھانے کا تو تصور ہی نہیں۔ لیکن اب تو ایک نیا کام ہوا۔ میڈیا مالکان نے معاشی مسائل کا رونا روتے ہوئے صحافیوں کی تنخواہیں کم کر دیں۔ اندازہ لگائیں، کہ ایک شخص، جس نے اپنی عمر صحافت کو دی۔۔ اس کے گرد مہنگائی کا مینار بلند ہوتا گیا اور وہ سالوں تک ایک مخصوص تنخواہ پر گزارا کرتا رہا، وہ بھی کبھی وقت پر مل گئی، کبھی نہ ملی۔ بجائے اس کی تنخواہ بڑھنے کے، الٹا کم ہو گئی۔
تو میڈیا کو درپیش ان مشکلات کے پیش نظر اب سوچا جا رہا ہے کہ جیسے کارپوریٹ اداروں میں ہر سال تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا ہے، اسی طرح، صحافیوں کے لیے بھی ہر سال تنخواہوں میں کٹ لگایا جائے گا۔
یہ سالانہ کٹ دس، پندرہ یا بیس فیصد ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر میڈیا میڈیا مالک نے کوئی نیا کاروبار شروع کرنا ہو گا، یا اس کے بیوی نے نئی گاڑی لینا ہو گی، یا اس کے بیٹے نے میڈیا اسٹڈیز پڑھنے بیرون ملک جانا ہو گا، تو بطور بونس صحافیوں کی تنخواہ سے مزید رقم کاٹ لی جائے گی۔
اس کے بعد سے صحافی آپ میں اس قسم کی باتیں کیا کریں گے
آپ کی تنخواہ کیا ہے آج کل؟
میں جی پانچ لاکھ پر آیا تھا، آج کل ماشاءاللہ بیس ہزار روپے ہے۔
جب تنخواہ کٹتے کٹتے بالکل صفر رہ جائے گی، تو اگلے مہینے اپنے پلے سے پیسے دے کر نوکری کرنا ہو گی۔
لوگ ایک دوسرے سے حسد کریں گے۔
فلاں تو تیس ہزار روپے دے کر نوکری کر رہا ہے، میرے سے صرف پانچ ہزار لیتے ہیں۔ حالانکہ کام میں اس سے زیادہ کرتا ہوں۔
کارپوریٹ اداروں میں ہر سال تنخواہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ عہدہ بھی بڑھایا جاتا ہے۔ میڈیا میں بھی یہی اصول اپناتے ہوئے ہر سال عہدہ کم کیا جائے گا۔
پہلے کوئی ایسوسی ایٹ پروڈیوسر بھرتی ہوتا تھا اور ترقی پاتے پاتے ایگزیکٹو پروڈیوسر بھی بن جاتا تھا۔
اب یہ وقت بھی آئے گا کہ ایگزیکٹو پروڈیوسر ہر سال ڈیموٹ ہو ہو کر اے پی بن جائے گا۔
لوگ پوچھا کریں گے، ماشاءاللہ سے کیا ہیں آج کل۔
جواب ملے گا، خیر سے ایسوسی ایٹ پروڈیوسر ہوں۔ اگلے سال انشاءاللہ سیکیورٹی گارڈ کے درجے پر تنزلی پا جاوں گا۔

کام کیسے مکمل کریں

آپ نے کوئی کام کرنا ہے، لیکن وہ مکمل نہیں ہو پا رہا۔ یا کام اتنا زیادہ ہے کہ اسے شروع کرنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی۔ تو یہ پوسٹ آپ کے لیے ہے۔
کوئی بھی بڑا یا چھوٹا کام کیسے مکمل کرنا ہے۔ اس کے لیے ایک پلان بنا لیں۔
اس پلان یا منصوبے میں طے کر لیں۔۔ کہ یہ کام میں اتنے وقت میں ضرور مکمل کر لوں گا
اور یہ منصوبہ خالی ذہن میں ہی نہیں بنانا۔ قلم لے کر کاغذ پر لکھ لینا ہے۔
پلان بنانے سے کیا ہوتا ہے۔ آپ کے سامنے ایک خاکہ واضح ہو جاتا ہے۔
آپ کی سستی بھی ختم ہوتی ہے۔ آپ کے سامنے ایک ڈیڈ لائن آ جاتی ہے، اور آپ کام شروع کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
تو سب سے پہلے تو آپ لکھیں گے کہ میں یہ کام فلاں تاریخ تک مکمل کر لوں گا۔
پھر اس کام کو چھوٹے چھوٹے سٹپس میں توڑیں۔ اور اس کے لیے بھی کوئی وقت مقرر کر دیں۔ یعنی کام کا فلاں حصہ فلاں دن تک مکمل ہو گا۔ اس کے بعد یہ کام شروع ہو گا جو اس تاریخ تک مکمل ہو گا۔ یہ سارے سٹپس بھی کاغذ پر یا کمپیوٹر پر لکھ لیں۔ زبانی جمع خرچ نہیں کرنا۔ جو سوچنا ہے، اسے باقاعدہ لکھ بھی لینا ہے۔
اب آپ کے پاس ایک لسٹ بن گئی ہو گی۔ بس اب کام شروع کر دیں۔ کام کا جو جو حصہ مکمل ہوتا جائے، اس پر ٹک لگا دیں، یا کراس کر دیں۔ یہ کرنے سے آپ کو احساس ہونا شروع گا کہ آپ اپنے کام کو مکمل کرتے جا رہے ہیں۔ آپ کو یہ بھی محسوس ہو گا کہ یہ کام اتنا بھی مشکل یا ناممکن نہیں تھا۔ نا مکمل کام کی وجہ سے جو ایک پریشر ہوتا ہے، وہ بھی آپ پر سے ہٹنا شروع ہو جائے گا۔
لسٹ بنانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ پھر آپ کا دماغ کام کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اور آپ کو آئیڈیاز آتے رہتے ہیں۔
خیال رہے، کہ ایک وقت میں ایک ہی کام کرنا ہے۔ ایک وقت میں زیادہ کام شروع کر دیا تو کوئی بھی مکمل نہ ہو پائے گا اور مایوسی الگ ہو گی۔
ایک اصول ہے، اسے 10/90 کا اصول کہتے ہیں۔ اس کے مطابق اگر کام کے شروع میں آپ دس فیصد وقت منصوبہ بندی کو دے دیں، تو کام کرنے کے دوران آپ کا نوے فیصد وقت بچ جائے گا۔
آپ سوچنے پر ایک منٹ لگائیں گے، تو کرنے پر دس منٹ بچائیں گے
تو کوئی بھی مشکل کام مکمل کرنا اتنا بھی مشکل نہیں۔ سب سے پہلے ارادہ کرنا ہے، پھر منصوبہ بنانا ہے۔۔ نہ صرف بنانا ہے بلکہ لکھ لینا ہے، پھر خود کو ایک ڈیڈ لائن دینی ہے اور اس ڈیڈ لائن پر عمل کرنا ہے۔

او کچھ نہیں ہوتا

او کچھ نہیں ہوتا!
یہ جو جملہ ہے نا، بڑے عجیب انداز سے ہمارے مزاج کا حصہ ہے۔ کہیں تو ہم بہت ہی گھمبر بات کو، او کچھ نہیں ہوتا، کہہ کر ٹال جاتے ہیں۔ اور کہیں بہت ہی معمولی سی بات پر بھی یہ جادوئی جملہ نہیں بولتے۔
آپ کے ہاں مہمان آئے ہیں۔۔۔ انہیں شوگر ہے ۔۔۔ آپ انہیں شربت، کولڈ ڈرنک یا جوس پیش کرتے ہیں
وہ کہیں گے۔۔۔ آئی ایم ساری مجھے شوگر ہے
تو اکثر لوگوں کا یہ جواب ہوتا ہے
او ایک گلاس سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ او پی جائیں، شوگر ووگر کچھ نہیں کہتی۔ یعنی اگلے بندے کی صحت اور زندگی داؤ پر ہے، پھر بھی انہیں کہا جاتا ہے، او کچھ نہیں ہوتا۔
شدید گرمی ہے ، آپ کو چائے پیش کی جاتی ہے ، اور آپ انکار کرتے ہیں
تو کہا جاتا ہے
او کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ گرمیوں میں تو چائے فائدہ دیتی ہے
مطلب۔۔۔ کیا فائدہ دیتی ہے گرمیوں میں چائے؟
جوتوں کی دکان پر۔۔۔۔ آپ جوتا پسند کرتے ہیں، لیکن وہ تنگ ہے اور دکاندار کے پاس بڑے سائز کا جوتا نہیں ہے
تو وہ کہے گا
او کچھ نہیں ہوتا سر۔۔۔ پہننے کے بعد ٹھیک ہو جائے گا
بندہ پوچھے، جو پہننے سے پہلے ٹھیک نہیں، وہ بعد میں ٹھیک کیسے ہو گا؟
آپ کا دوست ون وے کی خلاف ورزی کرتا ہے، اور آپ اسے ٹوکتے ہیں، تو جواب ملتا ہے
او کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ چند سو میٹر کی تو بات ہے
یعنی دو تین سو میٹر تک ون وے کی خلاف ورزی کوئی بات ہی نہیں؟
دکان دار آپ کو گلا ہوا پھل دیتا ہے، اور آپ اس سے پوچھتے ہیں
تو جواب ملتا ہے۔۔۔ او اتنے سے گلے ہوئے پھل سے تو کچھ فرق نہیں پڑتا
کوئی آپ کی گاڑی کو ٹکر مار کر کہہ رہا ہوتا ہے، او اتنی سی رگڑ لگی ہے، اس سے تو کوئی فرق نہیں پڑتا
دوسری جانب ایسی بہت سی باتیں ہیں، جن سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا، جن پرہمیں او کچھ نہیں ہوتا کہہ کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔ ان پر ہم اٹک جاتے ہیں۔ پھڈا ڈال دیتے ہیں۔
مثلاً، وہ میرے پاس سے گزرتے ہوئے کھنکارا کیوں؟
اس نے مجھے پہلے سلام کیوں نہیں کیا؟
اس نے مجھے راستہ کیوں نہیں دیا؟
وہ مجھے دیکھ کر ہنسا کیوں؟
اس نے مجھے دیکھ کر منہ کیوں بنایا؟
اس نے فلاں بات فلاں کو بتائی مجھے کیوں نہیں بتائی؟
اس نے فلاں کی سالگرہ پر تو دو پونڈ کا کیک دیا تھا، میری سالگرہ پر صرف ایک پونڈ کا کیک لایا ہے۔
غرض، بہت سی باتیں ہی، جو بہت ہی معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں، ان پر بھی یہی جادوئی جملہ بولیے۔۔۔ اور آگے بڑھ جائیے۔ آپ کی زندگی سکون میں آ جائے گی۔

کامیابی کےلیےکرنےوالےسات کام

میرے پڑوسی کا بیٹا کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر رہا ہے، میں نے بھی یہی کرنا ہے۔
میرے کزن نے ایم بی اے کیا، میں بھی کر لیتا ہوں۔
میرے دوست کو بینک میں نوکری مل گئی، مجھے بھی مل جاتی تو اچھا ہوتا۔
دوسروں نے جو کچھ حاصل کیا، کیا آپ اسے ہی کامیابی سمجھتے ہیں؟ تو بھائی۔۔ نہ کریں۔
کامیابی کے لیے کرنے والے سات کاموں میں سے پہلا یہ ہے کہ
1۔ آپ کامیاب ہیں یا ناکام۔۔ اس کا تعین کسی دوسرے کو نہ کرنے دیں۔ مثلا کوئی شخص دولت اور شہرت کو ہی کامیابی
سمجھتا ہے۔۔ اور آپ کے پاس یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔۔ تو ضروری نہیں کہ آپ ایک ناکام انسان ہیں۔
دوسرا جو کچھ حاصل کر چکا۔ آپ کے لیے کامیابی کا معیار وہی نہیں ہونا چاہیے۔ کامیابی کی اپنی ڈیفی نیشن بنائیں۔ جس چیز کو آپ اہم سمجھتے ہیں، اس پر کام کریں۔ دوسروں کے کہنے پر چلیں گے تو کبھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکیں گے۔

2۔ دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش چھوڑ دیں
جو دوسروں سے ہٹ کر کچھ کرے، وہی کامیاب ہوتا ہے۔ جس کا آئیڈیا سب سے الگ ہو، وہی سب کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ لیکن ہم کیا کرتے ہیں، دوسروں کو خوش کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ جو دوسرے کرتے ہیں ہم بھی وہی کرتے ہیں تاکہ وہ ہمیں ری جیکٹ نہ کر دیں۔ مسترد نہ کر دیں۔ ہمارا مذاق نہ اڑائیں۔ بھائی، اگر دوسروں کی مرضی پر چلیں گے تو پھنس جائیں گے۔ آپ کی اپنی شناخت ختم ہو جائے گی۔
لہذا دوسروں کی منظوری لینا چھوڑ دیں۔ جیسے آپ ہیں، ویسے ہی رہیں۔

3۔ دوسرے جو کچھ کر رہے ہیں، آپ اس سے ہٹ کر کچھ کریں
سادہ سی بات ہے، جو دوسرے کر رہے ہیں، آپ بھی وہی کریں گے تو آپ کو بھی وہی ملے گا جو دوسروں کو مل رہا ہے۔
پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنا ہے تو مخالف سمت سے آنے والی ہوا کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ لہذا آپ
• وہ کریں جو اکثر لوگ نہیں کرتے۔
• وہ کریں جو اکثر لوگوں کو دیوانہ پن لگے
• وہ کہئے جو اکثر لوگوں کو سمجھ نہ آئے
• ایسی چیزوں پر یقین رکھئے جنہیں لوگ نا معقول اور فضول سمجھتے ہیں
گاڑیاں بنانے والے ہنری فورڈ نے کہا تھا، اگر میں لوگوں سے پوچھتا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ تو ان کا جواب ہوتا، ہمیں زیادہ تیز دوڑنے والے گھوڑے چاہییں۔ اگر ہنری فورڈ لوگوں کی باتیں سنتے تو آج فورڈ موٹرز کے چرچے نہ ہوتے۔
لہذا آپ وہ کریں جو کبھی کسی نے نہ کیا ہو۔
4۔ جو کر رہے ہیں۔ وہ کرتے رہیں۔
پہلے فیصلہ کریں کہ آپ ایسا کیا کریں گے جو آپ کی زندگی بدل دے۔ فیصلہ کرنے کے بعد وہ کام شروع کر دیں، اور کرتے چلے جائیں۔ یہ نہ ہو کہ کچھ عرصے بعد بددل ہو کر آپ وہ کام چھوڑ دیں۔
اگر آپ کے پاس ذہانت ہے، ہنر ہے، لیکن استقامت نہیں، تو کوئی فائدہ نہیں۔
یعنی آپ بہت تعلیم یافتہ ہیں، ذہین ہیں، کوئی کام بہت ہی اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں۔ لیکن شروع کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد چھوڑ دیتے ہیں، تو آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔
صرف ثابت قدمی اور تسلسل ہی کامیابی ہے۔
لہذا آپ جو بھی ہدف حاصل کرنے کا سوچیں، اپنے لیے جو بھی ٹارگٹ طے کریں۔۔۔ پھر ٹھان لیں کہ آپ وہ حاصل کریں گے چاہے حالات کچھ بھی ہوں۔
شاندار کامیابی زبردست پابندی مانگتی ہے۔
5۔ سیکھنے اور کرنے پر زیادہ وقت لگائیں
جتنا آپ سیکھیں گے، اتنا ہی کامیابی آپ کے قریب آ جائے گی۔
آپ نئی چیزیں سیکھیں، پھر جو سیکھا ہو اسے عملی طور پر استعمال میں لائیں۔
جو لیڈر ہوتا ہے، وہ ریڈر ہوتا ہے۔ یعنی آگے وہی جاتا ہے جو مستقل بنیادوں پر کچھ نہ کچھ نیا سیکھتا رہتا ہے۔
آپ نے بھی کامیابی کا سفر جاری رکھنا ہے تو سیکھنے کا عمل بھی جاری رکھیں۔
کوئی نئی چیز سیکھیں۔ یا جو کام آپ کو پہلے سے آتا ہے اس میں مزید مہارت حاصل کریں۔
پہلے آپ سیکھتے ہیں، پھر آپ کامیاب ہوتے ہیں۔
6. خود پر سرمایہ کاری کریں
خود پر سرمایہ کاری سے مراد ہے۔۔ اپنے آپ کو بہتر بنائیں۔ چاہے وہ لباس ہو، صحت ہو، یا تعلیم ہو۔
کوئی نیا ہنر سیکھیں۔ کسی نئی چیز کے بارے میں جانیں۔
خود پر سرمایہ لگائیں گے تو کامیابی ملے گی۔ کامیابی ملے گی تو پیسہ آئے گا، اور یہ پیسہ آپ دوبارہ سے خود پر لگا سکیں گے۔
7۔ تحفظ کے بجائے آزادی تلاش کریں
کامیابی کا آخری پیمانہ دولت نہیں ۔۔۔ آزادی ہے۔
یعنی آپ کے پاس بہت زیادہ دولت ہے لیکن آپ اپنی مرضی کے مطابق اپنا وقت نہیں گزار سکتے۔ اپنی مرضی کے لوگوں کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتے۔ جو کرنا چاہتے وہ نہیں کر سکتے، تو ایسی دولت کا کیا فائدہ؟
لہذا جتنے آپ ازاد ہیں، اتنے ہی آپ کامیاب ہیں۔
اچھا، جو لوگ تحفظ پسند کرتے ہیں، وہ بھی کچھ غلط نہیں۔ ایک محفوظ نوکری کسے اچھی نہیں لگتی۔ لیکن اس صورت ہم نے اپنا تحفظ اپنے ایمپلائر کے ہاتھوں میں دے رکھا ہوتا ہے۔۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ آپ کو آزادی ملتی ہے یا تحفظ۔ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں مل سکتیں۔
اگر آپ شاندار کامیابی چاہتے ہیں تو آپ کو شاندار انتخاب کرنے ہونگے
فیصلہ کریں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں
جو کرنا چاہتے ہیں اسے کرتے رہیں یہاں تک کہ وہ کام آپ کی عادت کا حصہ بن جائے

عمر بلال کی سال گرہ

امریکا پلٹ صحافی عمر بلال کی سالگرہ یوں تو سات دسمبر کو ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تقریبات سارا سال ہی جاری رہتی ہیں۔IMG-20181208-WA0017
ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سات دن تک جشن منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام شہروں کے ساتھ ساتھ نیویارک، لندن، ٹوکیو، مشرق وسطیٰ اور آسٹریلیا میں بھی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔
اس موقع پر سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے اور قومی پرچم سرنگوں رکھا جاتا ہے۔
عمر بلال کی بڑھتی عمر کی وجہ سے بہت زیادہ موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے موم کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ فوری طور پر موم دوسرے ممالک سے درآمد کرتا پڑتا ہے، جس کے بعد ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر بھی خطرناک حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اور موم بتیاں جلانے سے دنیا بھر میں آکسیجن کی قلت اور دھویں کی زیادتی ہو جاتی ہے۔
کروڑوں کی تعداد میں کیک ہلال کیے جاتے ہیں۔ بیکریاں ڈبل شفٹوں میں کام کرتی ہیں لیکن پھر بھی مانگ پوری کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ کیک کی تیاری میں استعمال ہونے والی چینی سے تمام شوگر ملوں کا اسٹاک ختم ہو جاتا ہے اور وہ گنا مالکان سے مزید گنا منہ مانگے داموں خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں کسانوں پر بھی خوش حالی آ جاتی ہے۔
سال گرہ پر بین الاقوامی صحافیوں کرسٹینا امان پور، اینڈرسن کوپر اور دیگر نے واٹس ایپ پر مبارک باد کے ویڈیو پیغام بھیجے۔ اوپرا ون فری نے اپنا ایک شو عمر بلال کے نام کیا۔ بین الاقوامی برطانوی نشریاتی ادارے کے صحافی عماد خالق نے بھی تقریب میں شرکت کی.
عمر بلال کی عمر گزرتی جا رہی ہے اور اس ویڈیو کی ریکارڈنگ تک وہ کنوارے ہی ہیں۔ اس غم میں کئی دوست دبلے ہو
چکے ہیں۔۔ اس خدشے کے باعث کہ کہیں عمر بلال شادی کر ہی نہ لیں، کئی خواتین نے ہاتھوں کی چوڑیاں توڑ کر ان کا شیشہ پیس کر کھا لیا ہے۔ کئی نے زہر کھایا اور کئی کودنے کے لیے بلند عمارتوں پر چڑھ گئیں۔
اس پر مسرت موقع پر محکمہ ڈاک نے دو روپے کا یادگاری سکہ جاری کیا۔ قومی اسمبلی میں قرار داد پیش کی گئی کہ اسٹیٹ بینک سو روپے کے نوٹ پر بھی عمر بلال کی تصویر چھاپے۔
عمر بلال چونکہ اس جماعت کے حامی ہیں جو ووٹوں کے بجائے بوٹوں سے اقتدار میں آئی۔ لہزا ان کی سالگرہ کی خوشی میں راولپنڈی صدر کے قریب اور اسلام آباد آب پارہ مارکیٹ کے قریب اکیس اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ ان کی طویل عمر کے لیے شاہراہ دستور کی ایک عمارت میں انصاف نامی دیوی کو قربان کر کے صدقہ دیا گیا۔ حکومت نے قیدیوں کی سزا میں کمی کا اعلان کیا اور قذافی اسٹیڈیم لاہور میں عمر بلال کے نام سے ایک انکوژر بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اچھی عادت کیسے اپنائیں؟

کسی بھی بری عادت سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو اس کا بہت ہی سادہ سا طریقہ ہے۔۔۔ آپ اچھی عادتیں اپنا لیں۔ لیکن وہ کرنا کیسے ہے؟
اچھی عادت اپنانے کے تین مراحل ہیں۔
سب سے پہلے فیصلہ کریں کہ کس چیز کی عادت ڈالنی ہے؟ روزانہ ورزش کرنے کی عادت ڈالنی ہے، روزانہ ایک مخصوص وقت تک کچھ لکھنے پڑھنے کی عادت ڈالنی ہے، اپنا کام وقت پر کرنے کی عادت ڈالنی ہے۔۔۔ یعنی سب سے پہلے تو طے کر لیں کہ آپ کس اچھی چیز کی عادت ڈالنا چاہتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا مرحلہ آتا ہے خود میں نظم و ضبط پیدا کرنے کا۔ ڈسپلن پیدا کرنے کا۔ آپ نے خود کو ایک ڈسپلن کا پابند کرنا ہے کہ آپ جس بھی اچھی چیز کی عادت ڈالنا چاہ رہے ہیں ایک ڈسپلن کے تحت روز اس کی مشق کریں۔ آپ نے ورزش کرنے کی ٹھانی ہے تو روزانہ ایک مخصوص وقت پر ورزش ضرور کریں چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ اس موقع پر سستی نہیں کرنی۔ نہ ہی بہانے بنانے ہیں۔
تیسرا مرحلہ ہے: ڈٹے رہیں۔ جو بھی ارادہ کیا ہے، اسے ضرور پورا کریں۔ یقین کیجیے، آپ مستقل مزاجی کے ساتھ کچھ بھی کرتے رہیں گے تو وہ عادت آپ کے مزاج اور آپ کی شخصیت کا حصہ بن جائے گی۔
ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ خود میں جو بھی عادت ڈالنا چاہ رہے ہیں، تصور کیجیے اس عادت کے فوائد آپ کو حاصل ہو بھی چکے۔ یعنی اگر آپ ورزش کرنے کی عادت ڈالنا چاہ رہے ہیں تو تصور کیجیے کہ روزانہ کی ورزش کے بعد آپ بہترین صحت کے مالک بن چکے ہیں۔ یہ تصور آپ کو موٹی ویٹ کرتا رہے گا۔
آپ کسی بھی کام کے ماہر ہونا چاہتے ہیں، کوئی بھی صلاحیت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں، آپ میں وہ مہارت حاصل کرنے کی، وہ صلاحیت حاصل کرنے کی قابلیت موجود ہے۔ بس آپ کو خود میں عادت ڈالنی ہے، مشق کرنے کی اور بار بار کرنے کی۔ آپ نے یہ کر لیا تو آپ کو کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مینڈک کھائیں

اگر آپ آج کا کام کل پر چھوڑنے کے عادی ہیں، اور اپنی اس عادت سے تنگ بھی ہیں، اور اس سے پیچھا بھی چھڑانا چاہتے ہیں۔۔۔ تو مینڈک کھائیں۔
مینڈک کھانے کا کانسیپٹ یہ ہے کہ اگر آپ کو روزانہ صبح صبح ایک زندہ مینڈک کھانا پڑے، تو باقی سارا دن آپ کو یہ سکون رہے گا کہ صبح جو کچھ ہوا، اس سے زیادہ برا پورے دن میں مزید کچھ نہیں ہو سکتا۔
اور یہ مینڈک کیا ہے؟ یہ آپ کا وہ اہم کام ہے جو کرنا ضروری ہے لیکن کئی دن سے یہ کام آپ ٹالتے جا رہے ہیں۔
برائن ٹریسی صاحب نے کتاب لکھی ہے
Eat that frog
اس میں وہ کہتے ہیں۔ مینڈک کھانے کا پہلا اصول یہ ہے، کہ اگر آپ نے دو مینڈک کھانے ہیں تو سب سے زیادہ بدصورت مینڈک سب سے پہلے کھائیں۔ یعنی اگر آپ کے سامنے کرنے کو دو کام ہیں، تو سب سے مشکل کام سب سے پہلے کر لیں۔ خود کو ڈسپلن کریں۔ کام شروع کریں، اور جب تک وہ پہلا کام ختم نہ ہو جائے، کسی دوسرے کام کو ہاتھ نہ ڈالیں۔
مینڈک کھانے کا دوسرا اصول یہ ہے۔۔۔ کہ اگر مینڈک کھانا ہی ہے تو اس کے سامنے بیٹھ کر دیر تک اسے دیکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ یعنی دیر تک بیٹھ کر دیکھیں نہیں، کھا جائیں۔۔ کام کو رکھ کر بیٹھیں نہیں۔۔ کر جائیں۔
اچھی کارکردگی یعنی پرفارمنس اور پروڈکٹیویٹی کی کنجی ہی یہ ہے کہ سب سے اہم کام سب سے پہلے ختم کریں۔
کامیاب لوگ تو کرتے ہی یہی ہیں۔۔ وہ سب سے اہم کام سب سے پہلے شروع کرتے ہیں، اور پھر جب تک وہ کام ختم نہ ہو جائے، اپنی توجہ ادھر ادھر نہیں کرتے۔ کام ختم کر کے ہی اٹھتے ہیں۔ اور اس بات کا بھی خیال رہے، کہ آنیاں جانیاں دکھانے اور کام کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ سرگرمی دکھانے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے کارکردگی بھی دکھائی ہے۔ بہت سی باتیں کر لیں۔ میٹنگز کر لیں، منصوبے بنا لیے۔۔ لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کیا تو پھر کوئی فائدہ نہیں۔
تو کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ اہم کام کو ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی عادت اپنائیں۔
جب آپ اپنا اہم کام ختم کر لیتے ہیں تو اس کی خوشی ہی الگ ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے آپ نے دنیا فتح کر لی ہے۔ آپ کو اپنا آپ اچھا لگنے لگتا ہے۔ خود میں توانائی آ جاتی ہے۔ مکمل ہونے والا کام جتنا اہم ہو گا، اتنی ہی آپ خوشی محسوس کریں گے۔
ایک دفعہ آپ نے خود میں ڈسپلن پیدا کر لیا۔ تو پھر اہم کام کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنا اور لٹکائے بغیر بروقت ختم کرنا بھی آپ کی عادت بن جائے گی۔
لیکن یاد رہے۔۔۔ یہ عادت ایک دم سے نہیں بن جانی۔ اس کے لیے مسلسل مشق کی ضرورت ہے

چینی چھوڑنے کا دکھ

آپ کے ارد گرد ایسے لوگ ضرور ہوں گے، جو چائے میں چینی نہیں لیتے
میں ایسے نام نہاد، کھوٹے نفیس لوگوں سے بہت تنگ ہوں۔ کیوں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پھیکی چائے پی کر آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟
دیکھیں۔ چینی کے بغیر چائے ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر انسان۔ لیکن کچھ لوگ پھیکی، بلکہ کڑوی چائے پی پی کر خود کو سوفیسٹی کیٹڈ سمجھنے لگتے ہیں، اور جو ایسا نہ کرے، اسے خود سے کم تر سمجھتے ہیں۔ ان میں خواہ مخواہ کا احساس برتری کمپلیکس آ جاتا ہے۔ یوں برتاؤ  کرنے لگتے ہیں جیسے وہ بڑی توپ چیز ہیں۔ کسی محفل میں ان سے پوچھا جائے، کہ کتنی شکر لیں گے، تو سر جھٹک کر انگریزی میں جواب دیتے ہیں
No sugar please.
رفتہ رفتہ ان کا یہ کمپلیکس اتنا بڑھ جاتا ہے کہ کافی بھی بلیک پینے لگتے ہیں۔ یعنی چینی کے ساتھ ساتھ دودھ بھی چھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے لوگ دوسروں کو مجبور تو نہیں کرتے کہ وہ بھی چینی نہ لیا کریں، لیکن ایسی باتیں ضرور کرتے ہیں، یو نو! میں نے جب سے شوگر چھوڑی ہے، میری لائف ہی بدل گئی ہے۔ بندہ پوچھے، چائے میں چینی نہیں تو لائف کا اچار ڈالنا ہے۔
جس طرح یہ خود کو کیری کرتے ہیں، چینی لینے والا بندہ بے چارہ خود کو کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ اور پھر وہ دن آ جاتا ہے جب اچھی خاصی چینی والی چائے پینے والا انسان، خود بھی چینی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔
کسی دوسرے کا کیا کہیں، خود اپنے ساتھ یہی کہانی ہوئی۔ اپنے حلقہ احباب میں ایک دو ایسے حضرات دیکھے جو چائے میں چینی نہیں لیتے تھے اور اس بات پر بڑا فخر وغیرہ بھی کرتے تھے۔ تو ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا، یار یہ کڑوا کسیلا مائع کیسے پی لیتے ہو۔ وہ کندھے اچکا کر بولے۔۔۔ بس ہفتے دو ہفتے میں عادت ہو جاتی ہے۔
تو ہم ان کی باتوں میں آ گئے۔ گھر والوں کو کہہ دیا کہ آج کے بعد سے ہماری چائے میں چینی نہ ڈالی جائے۔ وہ بھی ایسے ظالم کہ جھٹ سے مان گئے۔
پہلے یہ حال تھا کہ دن میں کم از کم نو کپ چائے پیتے تھے۔ ہر کپ میں دو چمچ چینی ڈالتے۔ یوں ایک دن میں صرف چائے کے مد میں اٹھارہ چمچ چینی ہو جاتی۔ اور چائے کے ساتھ جو دیگر لوازمات ہوتے ہیں مثلا کیک رس، بسکٹ، مٹھائی ۔۔۔ وہ اس کے علاوہ۔
اب چینی چھوٹی تو لگ پتہ گیا۔ پہلا ہفتہ تو ہم نے یہ سوچ کر کڑوے گھونٹ بھرے کہ ہفتے دو ہفتے میں عادت ہو جائے گی۔ جب دوسرے ہفتے کے بعد بھی کڑوی چائے دل کو نہ بھائی تو ترغیب دینے والوں سے پوچھا۔۔۔ بھیا دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں، میٹھی چائے کی بہت یاد آتی ہے۔ وہ ظالم کہنے لگے، بس چالیس دنوں میں عادت ہو جائے گی۔ چالیس دنوں بعد پوچھا، کہنے لگے، دو مہینے بعد عادت ہو جائے گی۔
اب ہم کڑوی چائے پیتے ہیں، اور اس کی کڑواہٹ مارنے کو ساتھ میں آٹھ دس کیک رس کھاتے ہیں ۔۔۔ مزا پھر بھی نہیں آتا ۔۔۔ اور نام نہاد نفیس لوگوں کو جھولی اٹھا اٹھا کر دعائیں دیتے ہیں۔

علاج

کہاں مصروف ہو آج کل؟
بس یار کیا بتاؤں
ارے ہاں، تم تو ماہر نفسیات کے پاس جا رہے تھے نا، کیا تشخیص کی اس نے
کچھ نہیں، بس کہتا ہے میں بہت زیادہ workaholic ہوں۔
وہ کیا ہوتا ہے؟
جسے کام کا بہت شوق ہو۔
پھر کیا علاج ہے مرض کا
علاج تو اس نے نہیں بتایا، لیکن ماہر نفسیات کی فیس بھرنے کے لیے آج کل دو نوکریاں کر رہا ہوں

#منقول

پاکستانی میڈیا میں روبوٹ اینکر کے 12 فوائد

 

چین نے حال ہی میں ایک روبوٹک اینکر سے خبریں پڑھوائی ہیں۔ بنانے والوں نے اس میں آرٹی فیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ویسے تو ذہانت اپنے ہاں کے اینکرز کی بھی مصنوعی ہی ہے اور اکثر تو خبریں بھی روبوٹ کی طرح پڑھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ چینی روبوٹک اینکر پاکستانی مارکیٹ میں آ گیا تو اس کے کئی دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
سب سے پہلے تو پاکستانی نیوز پروڈیوسرز کے سر کے درد ختم ہو جائیں گے۔ یہ سر درد دو وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک تو اپنے اینکروں کی پڑھی خبریں سن کر ہوتا ہے، دوسرا جب یہ خبریں سننے کے بعد پروڈیوسر اپنا سر زور زور سے دیوار سے مارتا ہے اور نوبت مرہم پٹی تک جا پہنچتی ہے (پروڈیوسر کی) تو بھی درد ہوتا ہے۔ روبوٹک اینکر آنے کے بعد یہ سر دردی ختم ہو جائے گی۔
فائدہ نمبر دو: روبوٹک اینکر میں مصنوعی ذہانت تو بھری ہے ہی، اسے گوگل سے بھی منسلک کر دیا جائے گا۔ لہذا وہ گوگل کی مدد سے مشکل الفاظ کا درست تلفظ خود ہی معلوم کر لیا کرے گا۔ (فی الحال اینکر حضرات پروڈیوسر سے تلفظ پوچھتے ہیں جس غریب کو خود بھی نہیں پتہ ہوتا)
فائدہ نمبر تین: روبوٹک اینکر چوں کہ انٹرنیٹ سے منسلک رہا کرے گا، اس لیے ہمارے اینکروں کی طرح اخبار نہ بھی پڑھے پھر بھی خبروں سے با علم رہے گا۔
فائدہ نمبر چار: روبوٹک اینکر کو یہ شکایات بھی پیدا نہ ہوں گی کہ فلاں اینکر سے تو اتنی خبریں پڑھوائی ہیں اور مجھ سے اتنی کم پڑھوائی ہیں۔
فائدہ نمبر پانچ، چھ اور سات
خبریں پڑھتے ہوئے کبھی اس کا گلا خراب نہیں ہوا کرے گا
خبریں پڑھنے سے پہلے کبھی اس کا موڈ خراب نہیں ہوا کرے گا
دفتر آنے سے پہلے کبھی اس کی طبیعت خراب نہیں ہوا کرے گی
فائدہ نمبر آٹھ اور نو: بریکنگ نیوز زور زور سے پڑھنے کے باوجود روبوٹک اینکر کا سانس نہیں پھولا کرے گا۔ اور نشریات کا دورانیہ بڑھ بھی گیا تو اسے قدرت کی طرف سے بلاوا نہیں آیا کرے گا۔
فائدہ نمبر 10: روبوٹک اینکر کی پروگرامنگ میں یہ بات شامل ہو گی کہ کس خبر کے بعد اسمائل دینی ہے اور کس کے بعد سنجیدہ رہنا ہے۔ لہذا وہ ہلکی پھلکی خبریں پڑھتے ہوئے چہرے پر ہلکی پھلکی مسکراہٹ لائے گا، اور جنازے کی خبر پڑھتے ہوئے قطعی دانت نہیں نکالے گا۔
فائدہ نمبر 11: انسانی اینکروں کے برعکس، روبوٹک اینکر رپورٹر سے یہ نہیں پوچھا کرے گا۔ جی قاسم، کیا تفصیلات ہیں آپ کے پاس؟ اس کے بجائے وہ کوئی ڈھنگ کے سوال کیا کرے گا۔
فائدہ نمبر12: روبوٹک اینکر تنخواہوں سے بے نیاز ہوں گے۔ اور اگر ادارے نے کبھی کسی سال تنخواہیں بڑھانے کا ارادہ کر ہی لیا تو اینکرز کے حصے کی اضافی تنخواہ بھی پروڈیوسر کو دے دی جائے گی۔

 

امریکا اتنا بھی جمہوری نہیں

melania and miraمیلانیا ٹرمپ سے تو آپ واقف ہی ہوں گے؟ وہی جو اپنے امریکی صدر کی زوجہ ہیں۔ اور اس مناسبت سے خاتون اول کہلاتی ہیں۔ امریکا میں ہی قومی سلامتی کی نائب مشیر ہیں میرا رکارڈل۔ تو ہوا یوں کہ میلانیا اور میرا صاحبہ میں کچھ ان بن ہو گئی۔ بات کچھ خاص نہ تھی۔ خاتون اول نے امریکا کا دورہ کرنا تھا۔ جہاز میں معمول سے زیادہ سیٹیں سیکیورٹی اسٹاف کے لیے مختص کر دی گئیں۔ کچھ نشستیں صحافیوں کو دی گئیں۔ جب کہ قومی سلامتی کی نائب مشیر اور ساتھی عہدے دار کے لیے کوئی سیٹ نہ چھوڑی گئی۔
اگر نشستیں نہ بچیں تو محکمہ خارجہ اور قومی سلامتی کے عہدے دار علیحدہ طیارے پر جاتے ہیں تاکہ پالیسی سطح کی مشاورت فراہم کر سکیں۔ تاہم یہاں میرا ریکارڈل ڈٹ گئیں۔ یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اس دورے کے لیے فراہم کردہ اپنے محکمے کے وسائل بھی استعمال نہ ہونے دیں گی۔اس کھٹ پٹ کے بعد میلانیا ٹرمپ افریقہ گئیں تو اپنے لباس کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنیں۔ پالیسی اسٹاف ساتھ ہو تو مشاورت فراہم کرتا رہتا ہے کہ کیا پہنا جائے، کیا کہا جائے۔ میلانیا نے ایک موقع پر سفید رنگ کا ہیلمٹ پہن لیا جو افریقہ میں نو آبادیاتی دور کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس پر بہت تنقید ہوئی۔

melania helmet
کچھ غلط خبریں بھی پھیلیں، جیسا کہ کہا گیا خاتون اول کے اسٹاف نے ہوٹل میں دس ہزار ڈالر اڑا دیے۔ میلانیا اس سب کو میرا ریکارڈل کی شرارت سمجھتی رہیں۔
لہذا خاتون اول دورہ افریقہ سے واپس آئیں تو نائب مشیر قومی سلامتی کے خلاف زہر اپنی جڑ پکڑ چکا تھا۔ انہوں نے اپنے شوہر کو تو کہا ہی ہو گا کہ فارغ کرو اس کلموہی ریکارڈل کو۔ اخبارات بتا رہے ہیں کہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن سے بھی کہا گیا کہ میرا ریکارڈل کو ہٹا دیا جائے۔ تاہم انہوں نے یہ درخواست یا حکم رد کر دیا۔
اس ان بن کو مہینہ ہی گزرا ہو گا کہ خاتون اول نے بم پھوڑ دیا (ہمیں تو یہ حرکت بم پھوڑنے سے کم نہیں لگی)۔ رپورٹر حضرات کو میلانیا ٹرمپ کی ترجمان کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی، جس میں لکھا جملہ سبھی کو چونکا گیا؛ "خاتون اول کا دفتر سمجھتا ہے، میرا رکارڈل اس عزت کی حق دار نہیں رہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام دے سکیں۔”
یعنی سادہ الفاظ میں، ٹرمپ کی بیگم چاہتی ہیں کہ قومی سلامتی کی نائب مشیر کو فارغ کر دیا جائے۔
پہلے تو بات ڈھکی چھپی تھی، لیکن ای میل کے بعد کوٹھے جا چڑھی۔ ایک غلغلہ بلند ہو گیا۔ ای میل سے پیدا ہونے والے تنازع کے بعد غیرت مند میرا ریکارڈل نے یہ عہدہ چھوڑ دیا۔ وائٹ ہاؤس نے کہا، اب وہ امریکی انتظامیہ میں ہی ایک نئی حیثیت میں کام کریں گی۔ اس بات کی وضاحت تک نہ کی گئی کہ وہ نئی حیثیت کیا ہو گی۔ (جو ظاہر کرتا ہے فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا، یا میرا صاحبہ کو کھڈے لائن لگا دیا گیا)
امریکا کے انتظامی امور میں صدر کی بیگم کی اس قدر کھلم کھلا مداخلت، کم از کم ہم نے اس سے پہلے ایسا کوئی واقعہ دیکھا نہ سنا۔ اس سے تو تاثر ملتا ہے کہ امریکی صدر اور ان کی بیگم اعلیٰ عہدے داروں کو بھی ذاتی ملازم ہی سمجھتے ہیں۔ پسند نہ آیا تو فارغ کر دیا۔
یہاں پاکستان میں خاتون اول کے سابق شوہر کو ناکے پر روکنے والا ڈی پی او تبدیل ہوتا ہے تو شور مچ جاتا ہے۔ عدالت عظمیٰ جواب طلب کر لیتی ہے۔ صوبے کا وزیراعلیٰ اور آئی جی وضاحتیں پیش کرنے لگتے ہیں۔ وزیر کے کہنے پر مقدمات قائم نہ کرنے والا آئی جی اسلام آباد تبدیل ہوتا ہے تو عدالت نوٹس لیتی ہے اور انتظامیہ پیش ہو کر صفائیاں دیتی ہے۔ کوئی وزیر جو کہہ دے کہ ہم اگر آئی جی تک تبدیل نہیں کر سکتے تو الیکشن کرانے کی کیا ضرورت ہے، اس وزیر کی بھی پیشی ہو جاتی ہے۔
اور وہاں امریکا میں صدر کی بیوی سر عام کہہ دیتی ہے کہ وہ نائب مشیر قومی سلامتی کو خدمات سرانجام دینے کی حق دار نہیں سمجھتی اور کوئی طوفان نہیں ٹوٹتا۔ وہاں کی سپریم کورٹ تک نوٹس نہیں لیتی۔
اور پھر یہ سب کہنے والی میلانیا ٹرمپ خود کیا ہیں؟ ایک سابقہ ماڈل، امریکی صدر کی بیوی؟ اس کے علاوہ ان کی کیا قابلیت یا صلاحیت ہے؟ دوسری جانب میرا رکارڈل امریکا کے محکمہ خارجہ، دفاع اور کامرس میں کام کر چکی ہیں۔ پینٹاگون کی مشیر رہ چکی ہیں۔ بوئنگ کمپنی کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔ گویا نائب مشیر قومی سلامتی کا عہدہ پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملا۔ اپنی محنت سے کمایا ہے۔ اور ان کے بارے میں امریکی صدر کی بیگم منہ اٹھا کر کہہ دیتی ہیں کہ میرا رکارڈل وائٹ ہاؤس میں کام کرنے کی حق دار نہیں۔
بھیا اُس جمہوریت سے تو یہ اپنی جمہوریت کہیں اچھی ہے۔ وہاں امریکا میں آپ نے دیکھ ہی لیا ہو گا کہ نا پسندیدہ سوال پوچھنے پر امریکی صدر کیسے صحافی کو جھاڑ پلاتا ہے۔ اس کے میڈیا چینل کو برا بھلا کہتا ہے، اس کے وائٹ ہاؤس داخلے پر بھی پابندی لگا دیتا ہے۔
گویا امریکی صدر یا ان کی بیگم کو جس نے انکار کیا، یا جس نے سوال کیا، اسے دیس نکالا ہی ملا۔
تو صاحب۔ جمہوریت جمہوریت کی گردان کرنے والے امریکا کے رویوں میں ہمیں تو قطعاً کوئی جمہوریت نظر نہ آئی۔ لہذا امریکی عہدے داروں کے لیے اپنا تو مشورہ مفت ہے۔ کام کرنا ہے تو صدر کی بیگم سے بنا کر رکھو۔

مچھر طبیعت لوگ

جب بھی سردیاں آنے والی ہوں، یا جانے والی ہوں۔۔۔ مچھر نامی مخلوق کا راج قائم ہوتا ہے۔ ذرا کھڑکی کھلی رہ گئی تو غول کا غول کمرے میں در آتا ہے۔ آپ سوتے ہیں تو یہ کان میں آ کر بھنبھناتا ہے، آپ کو غافل پا کر آپ کا خون چوستا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو خارش ہوتی ہے۔ آپ ہڑبڑا کر کھجاتے ہیں اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مچھر پلٹ پلٹ کر حملے کرتے ہیں اور آپ کی ساری رات کھجانے اور کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ صبح کسل مندی ہوتی ہے لیکن زندگی کے معمولات شروع کرتے ہی آپ مچھروں سے رات بھر کی لڑائی بھول جاتے ہیں۔
کبھی کبھی مچھروں سے جنگ کی بدمزگی آپ کے چہرے پر بھی دکھتی ہے اور کوئی پوچھ بیٹھتا ہے، "خیر ہے، مضمحل کیوں ہو؟” تو آپ کندھے اچکاتے ہیں اور لاپروائی سے جواب دیتے ہیں، "کچھ نہیں، رات مچھر بہت تھے۔”
بس اتنی سی اہمیت ہوتی ہے مچھر کی آپ کی زندگی میں۔
تو صاحب، یہ عاجز  حساب کتاب کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے، کہ اپنی زندگیوں میں بھی کچھ لوگوں کو مچھر جتنی ہی اہمیت دی جائے تو خاصا سکون رہے۔
یہ مچھر طبیعت کے لوگ بھی آپ کے کان میں بھنبھناتے ہیں، آپ کو غافل پا کر کاٹ کھاتے ہیں، لیکن ان کے معاملے میں آپ ہڑبڑا کر کروٹ بدلنے کے بجائے انہیں اہمیت دینے لگتے ہیں۔ ان کی بھنبھناہٹ کو اعصاب پر سوار کر لیتے ہیں۔ ہر وقت اسی بارے میں سوچتے ہیں، اندر ہی اندر کھولتے ہیں۔ ان لوگوں کی وجہ سے آپ زندگی کے ساتھ دوڑنے بھاگنے کے بجائے الگ بیٹھ کر کڑھتے ہیں، ان کے لگائے گئے زخموں کو سینت سینت کر رکھتے ہیں۔
حالانکہ مچھر کی طرح ایسے لوگ بھی صرف ایک تالی کی ہی مار ہوتے ہیں۔
بھئی نہ کریں نا ایسا!
جیسے مچھر کا کاٹنا اگلی صبح یاد تک نہیں رہتا ایسے ہی مچھر طبیعت لوگوں کی بھنبھناہٹ اور چبھن کو بھی بھول جائیے۔ کیا آپ مچھر کے بارے میں چند جملوں سے زیادہ کسی سے گفتگو کرتے ہیں؟ نہیں نا؟ تو مچھر جیسے لوگوں کو بھی ڈسکس نہ کیا کریں۔ یہ کاٹیں تو آپ بس کھجائیں اور کروٹ بدل کر زندگی کی گاڑی میں آگے بڑھ جائیں۔
مچھر کی طرح ان سے بچنے کی تدابیر بھی کر لیں۔ اپنی زندگی کے گرد جالی والا دروازہ لگائیں۔ جہاں سے مچھر کو تو رکاوٹ ہو لیکن تازہ ہوا کے آنے میں کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ خوشی کی خوشبو والی مچھر مار دوا کا چھڑکاؤ کریں۔ قہقہوں والا کوائل جلائیں اور مچھر جیسے لوگوں کو مار بھگائیں۔
ویسے تو مچھر جیسے لوگوں کو اتنی اہمیت دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن احتیاط بہتر ہے۔ یوں تو اکثر مچھر صرف کھجلی پیدا کرتے ہیں لیکن کچھ کچھ ملیریا اور ڈینگی کا سبب بھی بن جاتے ہیں۔

دس سال پہلے کی ڈانٹ

بارہ برس قبل کا قصہ ہے۔ میں اور فرخ ایکسٹرنل کے سامنے خوف زدہ سے بیٹھے تھے۔ بی ایس کا فائنل تھیسس ہم دونوں نے مل کر ہی لکھا تھا۔ چلو لٹریچر ریویو وغیرہ کی حد تک تو پہلے سے دستیاب مواد سے استفادہ کیا۔ لیکن ریسرچ میں خوب جان ماری۔ ڈیٹا خود اکٹھا کیا، انٹرویوز خود کیے۔ دن بھر فرخ کی موٹرسائیکل پر خاک پھانکتے۔ شام میں ہوسٹل واپس آ کر جمع شدہ مواد کو تحریر کرتے۔ ایک ایک لفظ خود اپنے ہاتھ سے لکھا۔ تحقیقی تجزیے اور اختتامی نوٹ میں تو اس قدر عرق ریزی کی کہ ایک ایک کوما اور فل اسٹاپ تک ازبر ہو گیا۔
اس کے باوجود ایکسٹرنل سے خوف زدہ ہونے کی ایک وجہ ان کی مونچھیں تھیں، جو بہت گھنیری نہ تھیں، لیکن چہرے کو خاصا بارعب بنا رہی تھیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایکسٹرنل صاحب انگریزی میں سوال پوچھتے اور انگریزی میں ہی جواب کی توقع رکھتے۔ آہستہ آہستہ ہماری انگریزی کی گاڑی چل پڑی تو خود اعتمادی آتی گئی۔ ایک جگہ کسی سے منسوب بیان درج تھا۔ انہوں نے پوچھا، آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ فوراً جواب دیا، سر یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ فلاں صاحب کہہ رہے ہیں، سطر کے اسی حصے میں لکھا بھی ہے کہ یہ بیان فلاں صاحب کا ہے۔
اس جواب کے بعد تو گویا مہر لگ گئی کہ بچوں نے کاپی پیسٹ نہیں کیا، خود سے سارا کام کیا ہے، تبھی تو باریک نکات کا بھی تفصیلی جواب دے رہے ہیں۔ ممتحن صاحب کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ گئی اور ماحول کا تناؤ قریب قریب ختم ہو گیا۔
سلسلہ سوال و جواب کے بالکل آخر میں انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا، سچ سچ بتائیے، آپ دونوں میں سے کس نے کتنا کتنا کام کیا ہے؟ جواباً عرض کیا، سر! ریسرچ اور ڈیٹا کولیکشن تو دونوں نے مل کر کی، لیکن میری انگریزی چوں کہ نسبتاً بہتر ہے، لہذا تھیسس تحریر میں نے کیا۔
انہوں نے اسپاٹ انداز میں کہا، اپنی انگریزی اچھی ہونے کے بارے میں آپ کی رائے شدید غلط فہمی پر مبنی ہے۔
بہر حال۔ وہ ہمارے کام سے خوش تھے۔ ہمارے سپروائزر کو ہمارے بارے میں خوب اچھی رائے دی اور نمبر بھی اچھے دیے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ ممتحن اقبال انجم صاحب ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تشریف لائے تھے۔ غالباً کسی اخبار سے بھی وابستہ تھے۔
وقت گزرتا گیا، تعلیمی سیڑھی کا ایک درجہ اور عبور کرتے ہوئے ایم فل کا کورس ورک بھی مکمل کر لیا۔ میں اپنے دوست عمر بلال کے ایم فل کے پراجیکٹ میں معاونت کر رہا تھا۔ عمر ایسے لوگوں پر ڈاکومنٹری بنا رہا تھا جو انٹرنیٹ پر کسی اور شناخت سے اکاؤنٹ بناتے ہیں۔ ایک روز ہم پنجاب یونیورسٹی شعبہ ابلاغیات کی لائبریری میں انٹرویو ریکارڈ کر رہے تھے۔ ڈاکومنٹری انگریزی میں بننی تھی، اس لیے سوالات بھی انگریزی میں تھے۔ پہلا سوال تھا، آپ کب سے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں؟
تو میں نے انگریزی میں پوچھا
Since when are you using internet
جیسے ہی میں نے سوال پوچھا، ایک کونے سے گونج دار آواز آئی، انگریزی نہیں آتی تو انگریزی میں سوال کیوں کرتے ہو؟
حیرت سے آواز کی جانب دیکھا۔ کلین شیو صاحب، آنکھوں میں غصہ لیے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ ان سے وضاحت چاہی۔ کہنے لگے
Since when
کیا ہوتا ہے؟ انگریزی کی ٹانگ توڑ کر رکھ دی۔ انگریزی نہیں آتی تو کوئی ناول وغیرہ پڑھ لیا کرو۔ یونیورسٹی طالب علم ہو کر بھی اتنی بنیادی سی بات نہیں معلوم۔ غرض خوب کلاس کرنے کے بعد انہوں نے بتایا، سنس وین استعمال کرنا غلط ہے۔ یہ جملہ یوں بولا جائے تو درست ہو گا
For how long have you been using internet
ان سے تعارف چاہا تو معلوم ہوا اقبال انجم صاحب ہی ہیں۔ بس مونچھوں کی کمی ہے۔ انہیں یاد دلایا کہ آپ نے ہمارا زبانی امتحان (وائیوا) لیا تھا۔ اب انہیں بھی یاد آ گیا۔ یوں یہ معاملہ خوش گوار مسکراہٹوں کے ساتھ انجام کو پہنچا، اور ڈانٹ کی کوفت کچھ کم ہوئی۔
بس ہوا یہ، کہ عزیز دوست اب تک ہمیں اس ڈانٹ کے حوالے سے چھیڑتے ہیں۔ جہاں ہم کوئی جملہ انگریزی میں بول دیں، وہ کہتے ہیں
Since when have you started speaking English
اور ہم جھینپ جاتے ہیں۔
اس واقعے کے دس سال بعد انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے صفحہ اول پر چیف جسٹس صاحب کا بیان چھپا۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا تھا، پی ٹی آئی والوں نے کب سے بدمعاشی شروع کر دی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے اس کا ترجمہ کیا ہے
Since when has PTI started acting like thugs: CJP
یہ سرخی پڑھنے کے بعد سے سکتہ طاری ہے۔ دس برس قبل پیش آنے والا واقعہ تمام تر جزئیات کے ساتھ سامنے کھڑا ہے۔ ذہن سوال پوچھتا ہے کہ ہمیں دس سال پڑنے والی ڈانٹ غلط تھی، یا انگریزی اخبار کی یہ سرخی غلط ہے۔

Since When

پائیداری

چولہے میں آگ لگانے کے لیے آلہ نصب تھا۔ ہم بٹن دباتے تو چنگاری سی اٹھتی اور آگ جل جاتی۔ کچھ عرصہ استعمال کے بعد وہ آلہ خراب ہو گیا تو سیاسی باتیں کر کے چولہا دہکانے کی کوشش کرتے رہے۔ بات نہ بنتی تو ماچس استعمال کر لیتے۔
ایک روز جی میں آئی، ماچس کی تیلیاں جلانا اولڈ فیشنڈ سا لگتا ہے۔ بازار سے لائٹر خرید لاتے ہیں۔ وہاں دو اقسام میسر تھیں۔ ایک لائٹر تیل جلا کر آگ نکالتا تھا، دوسرے میں سیل ڈلتے، بٹن دبانے پر چنگاری سی چھوٹتی۔ دکان میں ہی ایک پستول نما چیز پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا یہ بھی لائٹر ہے۔ ٹریگر دبائیں تو پستول کے دہانے سے چنگاری نکلے گی اور چولہے میں آگ دہک اٹھے گی۔ اس میں سیل ڈلتا تھا نہ ہی تیل، گویا آگ کے معاملے میں خود کفیل تھا۔
دکاندار سے پوچھا، کیوں بھئی، کتنا عرصہ نکال جائے گا یہ لائٹر؟
کہنے لگا، سر ایسی چیزیں تو لائف لانگ ہوتی ہیں۔ تین سال تک تو کہیں نہیں جاتا

Pages