عرفانیات

خواتین اور حضرات توجہ کریں۔۔۔

بناو سنگھار کا سامان تیار کرنے والی مشہور زمانہ کمپنی ریولان کے بانی چارلس ریوسن نے کہا تھا :

ہم فیکٹری میں کاسمیٹکس تیار کرتے ہیں، دکانوں میں آس فروخت کرتے ہیں۔

بدلہ لوٹ آیا

کل مورخہ ۱۴ مارچ کراچی سٹاک ایکسچینج میں تقریباً دو سال کے وقفے کے بعد بدلہ لوٹ آیا۔ سادہ الفاظ میں بدلہ بازار حصص میں رائج اس نظام کو کہتے ہیں جو لوگوں کو ادھا ر پر شیئرز خریدنے کا امکان فراہم کرتا ہے۔ یعنی کوئی شخص گھر سے مثلاً ایک لاکھ ر وپیہ اگر لے کر آیا ہے تو بدلے میں چار پانچ لاکھ روپے کے شیئرز خرید سکتا ہے۔یہ جو اضافی رقم اسے دستیاب ہوتی ہے اس پر اسے سود ادا کرنا ہوتا ہے۔بالکل جیسے بینک سے یا مہاجن سے ادھار لیتے وقت دینا ہوتا ہے۔یہ بدلہ وہی چیز ہے جسے بین الاقوامی منڈیوں میں Margin Tradingیا Leverage کہا جاتا ہے۔

بدلے پر کام کرنے والوں کا گمان یہ ہوتا ہے کہ اصل سرمائے سے زیادہ مالیت کے حصص خریدنے سے یہ ہو گا کہ جب اس شیئر کی قیمت اوپر جائے گی تو وہ زیادہ منافع کما سکیں گے۔ یعنی وہ اگر اپنے اصل ایک لاکھ روپے سے ہی کام کرتے تو دس روپے مالیت کے دس ہزار شیئرز ہی خرید سکتے تھے جن کے دام اگر بارہ روپے فی شیئر ہو جاتے تو ان کو صرف بیس ہزار روپے منافع ہوتا۔ لیکن بدلے کے ذریعے وہ مزید چار لاکھ کے یعنی اب کل پانچ لاکھ روپے کے پچاس ہزار شیئر ز خرید سکتے ہیں جن کا دام اگر دو روپے بڑھ جائے تو ان کو بیس ہزار کی بجائے ایک لاکھ کا منافع ہو گا۔

جو حقیقت وہ نظر انداز کر دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ ادھار لے کر خریدے گئے شیئرز کی مقدار بڑھا لینے سے اگر قیمت بڑھ جانے کی صورت میں منافع بڑھ جاتا ہے تو قیمت گھٹ جانے کی صورت میں نقصان بھی تو پانچ گنا زیادہ ہو جائے گا۔ یعنی اگر اپنے ایک لاکھ روپے کے اصل سرمائے سے کام کرتے تو دس ہزار شیئرزپر دو روپے کی کمی کی صورت میں نقصان بیس ہزار کا ہوتا اور وہ باقی اسی ہزار لے کر گھر لوٹ آتے۔ لیکن بدلے میں لیئے گئے پچاس ہزار شیئرز کی صورت میں بھاو دو روپے گھٹ جانے کی صورت میں نقصان ایک لاکھ کا ہوگا اور پھر منہ لٹکائے خالی ہاتھ گھر آئیں گے۔ اور جو قیمت اگر تین روپے گھٹ گئی تو گھر سے مزید پچاس ہزار روپے لا کر بھی دینے ہوں گے۔

کیا کہا؟ آپ تب نقصان پر اپنے شیئرز نہ بیچیں گے اور قیمت واپس بڑھنے کا انتظار کریں گے؟ ارئے جناب ادھاریئے کی انتظار کرنے کی سکت بہت ہی کم ہوتی ہے۔ بازار طویل مندے میں چلی جائے تو قیمت واپس آتے آتے ہی آتی ہے جبکہ اس دوران ہر کلیرنگ میں سود لگ لگ کر آپکی قیمت خرید اوپر ہی اوپر جاتی رہتی ہے۔

اور یہ جو غیر متوقع مندے شیئر بازار میں آجاتے ہیں وہ تو پھر جان ہی لے کر جاتے ہیں۔ مثلاً جاپان کی سٹاک مارکیٹ کو دیکھیں۔ کس کو معلوم تھا کہ وہاں ایسا سونامی آئے گا جو معیشت کی چولیں ہلا کر رکھ دے گا؟ اب دیکھیئے جمعہ والے دن یعنی ۱۱ مارچ کو ٹوکیو سٹاک ایکسچینج کی Nikkei۲۲۵ انڈیکس ۱۰۲۵۴ پر بند ہوئی لیکن پھر اگلے ٹریڈنگ دن پیر کو چھ فیصد کی کمی کے بعد ۹۶۲۰ پر بند ہوئی۔ ایک ہی دن میں مارکیٹ کی کل مالیت میں ۲۸۶ ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ اور آج منگل کے دن یہ انڈیکس ایک ہزار سے بھی زائد پوائنٹس کی گراوٹ کے بعد مزیددس فیصد نیچے ۸۶۰۵ پر بند ہوئی۔ دن کے دوران مارکیٹ ۸۲۲۷ تک بھی آ گئی تھی۔ اب آپ بتایئے اس قسم کی صورتحال میں ادھار پر خریدے گئے حصص کو لے کر کوئی کب تک قیمتوں کی بحالی کا انتظار کر سکے گا؟
اس وقت پاکستان میں رات کے ساڑھے نو بجے ہیں۔ وال سٹریٹ میں ٹریڈنگ شروع ہوئےکوئی تین گھنٹے گزر چکے ہیں۔ ڈو جونز ۱۸۷ پوائنٹس اب تک کھو چکی ہے۔ابھی بازار کو ساڑھے تین گھنٹے اور چلنا ہے۔
اب ایک نظر اپنی مارکیٹ پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کی ۱۰۰ KSE انڈیکس آج ۲۱۶ پوائنٹس کی کمی کے بعد ۱۱۸۲۹ پر بند ہوئی ۔ دن کے دوران یہ ۱۲۰۰۰ سے بھی اوپر گئی تھی۔ آج ساڑھے پانچ ارب روپے سے زائد مالیت کے کوئی ساڑھے تیرہ کروڑ شیئرز کا کاروبار ہوا۔

اچھا ایک کام کرتے ہیں۔ کچھ پیپر ٹریڈنگ کرتے ہیں۔ یعنی اصل بازار میں اصل رقم لگائے بنا بس کاغذی طور پر کچھ کاروبار کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کی قومی فضائی کارپوریشن پی آئی اے کے کچھ شیئرز لیں گے اور پھر آنے والے دنوں میں اس شیئر کے اتار چڑھاو پر نگاہ رکھیں گے اور انشاء اللہ دیکھیں گے کہ ہمیں کیا نفع نقصان ہوتا ہے۔ اس سے ہم کو سٹاک مارکیٹ کے کاروبار کی بابت کچھ آگاہی ملے گی۔
پی آئی اے کا سمبل PIAAہے۔ آج اس کے تین لاکھ گیارہ ہزار حصص کا لین دین ہوا اور بند بھاو 2.93 رہا۔ ہم لکھ لیتے ہیں کہ آج ہم نے اس کارپوریشن کے 20000 شیئرز 2.85 پیسے فی شیئر کے حساب سے لیے جن کی مالیٹ پانچ پیسے کمیشن شامل کرنے کے بعد 58000 روپے بنی۔ اب دیکھتے ہیں ہماری اس سرمایہ کاری کا نتیجہ اگلے ۱۰۰ دنوں میں کیا رہتا ہے۔چلیں۔

افسوسناک

ہمارے ملک کی اکثریت جو بہتر سکولوں میں پڑھنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیا ان کے لیے بس یہی کچھ ہے:

مرد بڑے ظالم ہوتے ہیں

ساری زندگی عورت کو کنفیوژن میں ہی رکھتے ہیں۔کبھی تو اس کو لگتا ہے کہ میرا میاں بس مجھ کو ہی دل و جان سے چاہتا ہے اور کبھی اس کو یوں لگنے لگتا ہے کہ اس کا شوہر کسی دوسری عورت سے بھی محبت کرتا ہے۔آدمی کے طرز عمل کے مد و جزر عورت کے ان دو خیالات کا باعث بنتے ہیں۔وہ اندرونی طور پر اسی ادھیڑ بن میں سالہا سال گزار دیتی ہے۔

دو دوستوں کے درمیان امتحانات کی تیاری پر مکالمہ

طاہرہ: ارے ملیحہ تم نے فیس بک پر میری نئی تصویریں دیکھیں کیا؟

ملیحہ: طاہرہ یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو؟ امتحان سر پر ہیں۔ مجھے تو ان کی فکر کھائے جا رہی ہے۔میں تو فیس بک وغیرہ سب بھول گئی ہوں۔

طاہرہ: ارے ہاں۔ امتحانات تو واقعی قریب ہیں۔ مجھے بھی ان کا خیال ہے۔مگر اب شاید یہ تو میں نہیں کر سکتی کہ میں ان کی وجہ سے اپنی آنلائن زندگی ترک کر دوں۔

ملیحہ: ٹھیک ہے۔ ہر ایک کی اپنی اپنی سوچ ہے۔ میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ اگر میں کچھ عرصے کے لیے اپنی ذہنی تفریح کی کچھ چیزوں کو خیر باد کہہ دوں تو اس کا ثمر مجھے امتحا نات میں اچھی پوزیشن کی صورت میں مل سکتا ہے۔

طاہرہ: یہ بات تو ہے۔ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہم امتحا نات کی تیاری اپنی دیگر سرگرمیوں کو جاری رکھ کر ساتھ ساتھ بھی کر سکتے ہیں۔

ملیحہ: لیکن دیکھو کسی بھی کام کے اعلی نتائج کے لیے ہمیں اس کام کو وقت دینا پڑتا ہے۔ اور یہ تو بالکل سادہ سی بات ہے کہ جتنا گڑ ڈالو گے اتنا میٹھا ہو گا۔ جس چیز کو ہم جتنی زیادہ توجہ دیں گے، جتنا زیادہ وقت دیں گے اس کا نتیجہ اتنا ہی زبردست ہو گا۔

طاہرہ: اس میں تو کوئی شک نہیں۔ امتحان میں فیل تو میں بھی نہیں ہونا چاہتی۔

ملیحہ: اور میں محض پاس ہی نہیں ہونا چاہتی بلکہ کوئی پوزیشن بھی لینا چاہتی ہوں۔

طاہرہ: اچھا مجھے یہ بتاو تم امتحانات کی بہتر تیاری کے لیے کیا اقدامات کرتی ہو؟

ملیحہ: ایک چیز تو یہ ہے کہ میں سمجھتی ہوں کہ جو کتاب وغیرہ ہم بالکل صبح کے وقت پڑھتے ہیں وہ ہمیں بہتر طور پر یاد رہتی ہے اور اس وقت ذہنی قوت عروج پر ہوتی ہے۔ اس لیے میں فجر کی نماز پڑھ کر سوتی نہیں بلکہ اپنا مطالعہ شروع کر دیتی ہوں۔

طاہرہ: یہ تو زبردست بات ہے۔ لیکن مجھ سے تو اتنی صبح اٹھا ہی نہیں جاتا۔

ملیحہ: اور میں یہ بھی کرتی ہوں کہ جو صبح پڑھنا شروع کرتی ہوں تو پھر پڑھتی ہی نہیں چلی جاتی۔ کچھ وقت کے بعد کتاب رکھ کر پھر باقی وقت ذہنی طور پر اس تمام کو دہراتی ہوں جو پڑھا ہوتا ہے۔ جو کچھ سمجھ میں آیا ہوتا ہے اس پر غور کرتی ہوں۔

طاہرہ: بہت خوب۔ لیکن میں تو رات کو ہی پڑھ سکتی ہوں۔ شام کو کھانے سے فارغ ہو کر ٹی وی دیکھتی ہوں۔ اس کے بعد جب تک نیند نہ آئےپڑھتی رہتی ہوں۔

ملیحہ: میں بھی رات کو پڑھتی ہوں لیکن پھر صبح بھی جلدی اٹھ جاتی ہوں۔ اور ایک اور بات یہ ہے کہ میں امتحان کی تیاری کے دنوں میں فون پر سہیلیوں کے ساتھ بات چیت سے گریز کرتی ہوں۔

طاہرہ: ایسا کیوں؟

ملیحہ: پتا ہے کیا، فون پر گپ شپ سے اتنا زیادہ وقت ضائع ہو جاتا ہے جس کا کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا۔

طاہرہ: پھر تو ہمیں یہ بات چیت بھی یہیں ختم کر کے امتحانات کی تیاری کرنی چاہیے۔ اللہ حافظ۔

ملیحہ: اللہ حافظ۔

پنڈی ایگزٹ

یوں تو مری و گلیات میں کرنے کا نیا تو کچھ نہیں ہوتا کہ ہر بار پہلے والی سرگرمیاں، پہلے والے مناظر ہی دہرانے کو ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اس جگہ کی کچھ کشش ضرور ہے۔ اور لاہور سے جاتے آتے ہوئے موٹر وے پہ بھی کچھ خاص کرنے کو نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ آپ ڈیش بورڈ پہ بدلتے اعداد و شمار سے محظوظ ہوتے رہیں ۔۔۔۳۳۰۰ آرپی ایم پہ گاڑی کی رفتار ۱۲۰ کلومیٹرفی گھنٹہ ہوتی ہے، گاڑی کی رفتار ۱۰۰ ہو تو انجن کی رفتار ۲۷۰۰ ہو جاتی ہے اور ۱۴۰ کی غیر قانونی رفتار کے لئے پورے ۴۰۰۰ چکر فی منٹ درکار ہوتے ہیں۔ لاہور سے فُل کرایا گیا فیول ٹینک جب گیج پہ نصف ظاہر ہونے لگےتو جان لینا ہے کہ بھیرہ قیام و طعام آ نے کو ہے، آپ بیٹھے انجن کے صوتی مدوجذر سے محظوظ ہوتے رہیں وغیرہ وغیرہ۔

پچھلے سال سکول کی گرمیوں کی چھٹیوں میں نتھیاگلی جانے کا پروگرام بنا۔ اس دفعہ پہلے ایک رات راولپنڈی میں رکنا تھا۔ 29 جولائی کو لاہور سے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہمیشہ کی طرح بھیرہ سروس ایریا سے پیٹرول ٹینک پھر سے فل کروایا۔ پھر جب سالٹ رینج کے پہاڑی سلسلے میں داخل ہوئے تو وہاں بارش ملی۔ اس سے پہلے اس جگہ اتنے خوبصورت مناظر دیکھنے کو نہیں ملے تھے۔ بادل بہت نیچے آئے ہوئے تھے۔ بارش بھی خاصی تیز تھی۔

اسلام آباد ٹال پلازہ میں E Toll کی سکرین پر لکھا آیا کہ 235 روپے منہا کیے گئے ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جب فروری میں مری جاتے ہوے یہاں سے گزرے تھے تو شاید کچھ کم رقم چارج ہوئی تھی۔ راولپنڈی میں قیام قاسم مارکیٹ کے قریب تھا جہاں ہم سہ پہر کےوقت پہنچ گئے۔

اس سے پہلے موٹر وے سے ہمیشہ سیدھے کشمیر ہائی وے کو چلے جایا کرتے تھے۔ یہ پہلی بار تھی کہ موٹر وے کے بعد راولپنڈی جانا تھا۔ میرا خیال تھا کہ موٹر وے سے آنے والوں کے لیے جیسے جی ٹی روڈ انٹر چینج پر بائیں کو ایک سڑک ٹیکسلا، واہ، پشاور جانے والوں کے لیے بنی ہوئی ہے اسی طرح راولپنڈی جانے والوں کے لیے بھی کوئی ایسا ہی مخرج ہو گا ۔

لیکن مجھے ایسی کوئی سڑک نظر نہیں آئی۔ اب یا تو میں وہی پشاور والی ایگزٹ سے ٹیکسلا، واہ کی طرف مڑ جا تا اور پھر کسی U ٹرن سے گھوم کر اپنا رخ پنڈی کی جانب کرتا۔ یا پھر یہ سمجھ میں آئی کہ میں گوٖلڑہ چوک کی جانب چلتا رہوں اور وہاں سے دائیں مڑ کر گولڑہ روڈ سے جی ٹی روڈ پر جا ملوں۔ میں نے یہ دوسرا والا آپشن ہی اپنایا۔

مجھے لگتا تھا کہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ راولپنڈی جیسے مین شہر کے لیے جی ٹی روڈ انٹر چینج پر کوئی ایگزٹ نہ ہو۔ یقیناً ہو گی لیکن مجھے نظر نہیں آئی ہو گی۔ لیکن پنڈی پہنچ کر دریافت کرنے پر یہی بتایا گیا کہ واقعی ایسی کوئی ایگزٹ نہیں ہے اور لوگ بائیں کو جا کر یو ٹرن لے کر ہی راولپنڈی کو آتے ہیں۔ یہ بات تب بھی مجھے انتہا ئی نا قابل یقین سی لگی۔

میں حیران ہوں کیا واقعی موٹر وے کے اختتام پر دائیں جانب پنڈی کو جانے کے لیے کوئی ایگزٹ نہیں ہے؟

ہاں یہ وہی دسمبر تھا۔۔۔

”دیکھو یہ جو دسمبر ابھی گزرا ہے نا یہ وہی دسمبر تھا جس کا تمہیں انتظار تھا۔اوریہ وہی سردیاں ہیں جن کا ذکر کر کے تم اتنا کچھ کہتے تھے۔

تم کتنے سالوں سے ہر سال یہی کہتے ہو کہ بس ذرا موسم بدل لینے دو، یہ گرمیاں یہ حبس جا لینے دو، سردیاں آ لینے دو بس پھر دیکھنا۔۔۔جتنے رکے پڑے کام ہیں، میں سارے کے سارے ختم کر دوں گا۔
مگر دیکھ لو، آج تک ایسا کچھ ہو نہیں سکا۔ سردیاں ہر سال آتی ہیں اور آ کر گزر جاتی ہیں۔ تم ہر سال کہتے ہو بس دسمبر آ لینے دو ذرا، سردی ذرا صحیح سے شروع ہو لینے دو، میں اگلا سال چڑھنے نہیں دوں گا۔ یکم جنوری سے پہلے پہلے سب التوا میں پڑئےکام، ہاں ہاں سب کے سب تم دیکھنا، میں انشاءاللہ اب کے نمٹا دوں گا۔
لیکن ہوتا کیا ہے۔۔۔گرمیوں میں تمہیں گرمی تنگ کرتی ہے۔بس اے سی کی ہوا دل کو بھاتی ہے۔سردیوں میں تمہیں سردی ستاتی ہے، گرم لحاف سے نکلنے کا تمہارا دل ہی نہیں کرتا۔خزاں میں ناسٹیلجیا تمہارےدل میں گھر کر لیتا ہے اور بہار میں رومانس تمہارے جسم و جاں میں رواں دواں ہو جاتا ہے۔ اور یوں سارا سال تم یہی انتظار کرتے رہتے ہو کہ موسم ذرا معتدل ہو جا ئے تو بس پھر ایک ساتھ ہی سارے کر دیے جانے کے منتظر کام میں سرانجام دے ڈالوں گا۔
میں تمہیں سچ بتاوں یہ محض خود فریبی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔تمہیں یاد ہو گا چند سال پہلے جب تمہارے ایک کزن کی وفات ہوئی تھی تو تم تھوڑا ساچونکے تھے۔کیونکہ وہ عمر میں تم سے کوئی زیادہ بڑا نہیں تھا۔تمہارے ایج گروپ کا ہی تھا۔ تب تم تھوڑا ڈرے تھے کہ ایک دن اچانک تم بھی اسی طرح اس دنیا کی زندگی کو خیر باد کہہ دو گے اور تمہیں آخرت اور اس دنیا سے متعلقہ پینڈنگ کام کرنے کا موقعہ ہی نہیں ملے گا۔ تب تم نے اپنےآپ سے کہا تھا کہ یہ سب کام تم کو اب فوراً نمٹا دینے چاہییں۔لیکن تب بھی تم نے ڈیڈ لائن اپنے آپ کو جو دی تھی وہ اُس سال کے دسمبر ہی کی تھی۔
دیکھو میں تو تمہیں یہی کہوں گی کہ تم دائمی سستی اور بے عملی کی یہ روش اب ترک کر ڈالو۔ اب کچھ کر ڈالو۔ یہ جو تمہارے سالہا سال سے التوا میں پڑے کام ہیں یقین کرو یہ کوئی بہت زیادہ وقت طلب نہیں ہیں۔ کچھ تو بالکل ہی چند گھنٹوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جانے والے ہیں۔ اگر تم آج سے ان کاموں کو ایک ایک کر کے کرنا شروع کر ڈالو تو سچی بات ہے ایک آدھ ہفتے میں یہ سب اختتام پذیر ہو جائیں گے۔ تمہا رے اندر کا ایک بوجھ، ایک احساس جرم ختم ہو جا ے گا۔تم خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرو گے۔
میری مانو۔۔۔پروگرام اور شیڈول بنانے ترک کر دو۔ جو کرنا ہے وہ کرنا شروع کر دو۔آگے تمہاری مرضی۔“

کوئی دس دن بعد...

کوئی دس دن بعد اپنے بلاگستان پر نظر ڈالنے کا موقعہ ملا۔ بہت کچھ پڑھنے کو اکٹھا ہو چکا ہے۔ بچوں کی سردیوں کی چھٹیاں اس بار یو اے ای میں گزارنے کا قصد کیا۔ وہاں ا نٹر نیٹ سے گریزاں ہی رہا۔ اب بیٹھ کر آرام سے بلاگران کے لکھے سے لطف اندوز ہوں گا انشاء اللہ۔
2011 کی آمد آمد ہے۔ اس کے آغاز سے ہی کچھ ریزولوشنز بنائی جائیں گی۔ اپنے آپ سے بہت سے عہدو پیمان ہوں گے۔ صدیوں پرانی عادات سے نجات حاصل کرنے کے منصوبے بنیں گے۔ روز مرہ زندگی کے لیے نئے لائحہ عمل ترتیب دیئے جائیں گے۔ لیکن ہو گا کیا۔۔۔
ابھی جنوری بھی ختم نہیں ہوا ہو گا اور زندگی عین اسی روش پر رواں دواں ہو چکی ہو گی جس پر ہمیشہ سے تھی۔ یعنی نتیجہ صفر ہی رہے گا۔ ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟

ہر خاتون...

ہر خاتون توقع رکھتی ہے کہ اس کی بیٹی اس آدمی سے بہتر آدمی سے شادی کرے گی جس سے کہ خود اس نے کی اور ساتھ میں یہ یقین بھی رکھتی ہے کہ اس کے بیٹے کو بیوی اس عورت سے بہتر مل ہی نہیں سکتی جو برخوردار کے باپ کو ملی تھی۔

سیارہ میں شمولیت دوبارہ

فری ہاسٹنگ پر منتقل ہونے کے چند روز بعد ایک دن جو اپنے بلاگ کا دیدار کرنے کی خواہش کی تو سب ندارد پایا۔ دل میں فوراْ یہ خیال کوندا کہ لو بھئ یہ وہ گھڑی آن ہی پہنچی جس کے لیے سب خیر خواہوں نے تاکید کی تھی کہ بیک اپ لینے میں کبھی سستی نہ کرنا۔ میں بھا گا بھاگا عثمان اور یاسر کے بلاگز پر پہنچا تو وہاں سب خیریت پائی۔ تب جانا کہ مسئلہ اکراس دی بورڈ نہیں ہے بلکہ صرف میرے بلاگ کے ساتھ ہی ہے۔

پھر جیسا کہ انسانی ذہن کی روش ہے، طرح طرح کے خیالات و خدشات دل میں امنڈنے لگے۔ کوشش کر کے ان کی بریک لگائی کہ بھا ئی تھوڑا رک کے دیکھ تو لو کہ صورتحال واقعی اتنی گھمبیر ہے بھی یا نہیں جتنی کہ دکھائی دے رہی ہے۔تب دل کو یہ سوچ کر قدرے قرار ہوا کہ گاہے بگاہے تو پیڈ ہاسٹنگ سروس بھی تھوڑی دیر کے لیے ڈاون ہو جاتی ہے۔ سو ہو سکتا ہے یہ اسی قسم کی چیز ہو۔

ایسا ہی تھا۔ کچھ دیر کے بعد بلاگ ٹھیک ٹھیک چلنا شروع ہو گیا۔ اوسان بحال ہوئے تو فوراْ Byethost والوں سے دل ہی دل میں ان ناشائستہ خیالات کی معذرت کی جو ان کی بابت ذہن میں آ گئے تھے۔

اور آج ورڈ پریس کے ڈیش بورڈ پر ورژن 3.0.2 کی دستیابی کا مژدو سنایا جا رہا تھا۔ جب آٹو میٹک اپگریڈ کی کوشش کی تو کامیابی نہ ہوئی۔ حیرت ہوئی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ wp-content میں جا کر upgrades نامی ڈائریکٹری کو ڈیلیٹ بھی کر کے دیکھ لیا مگر کچھ نہ ہوا۔ لیکن پھر جب تمام پلگ انز کو deactivate کر کے ورڈ پریس اپگریڈ کرنے کی کوشش کی تو الحمدو للہ پلک جھپکتے میں ہو گیا۔

گویا پیڈ ہاسٹنگ سے فری ہاسٹنگ پر منتقلی کے بعد جملہ معاملات خوش اسلوبی سے سرانجام پا رہے ہیں۔ بس ایک کام ہے جو کہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور ہو ہے سیارہ میں بلاگ کی نئے ڈومین کے ساتھ شمولیت۔ ان کو ایک ایمیل کی تھی کہ براہ کرم بلاگ کے یو آر ایل اور فیڈ ایڈریس میں ترمیم کر لیں۔ اس کے علاوہ سیارہ میں شمولیت کا form بھی از سر نو submit کروایا تھا لیکن تا حال شنوائی نہیں ہوئی۔ چلو، دنیا امید پر قائم ہے۔

اردو کے سب رنگ نے ترمیم کی درخواست پر انتہائی جلدی عملدرآمد کر دیا تھا اور اردو بلاگز پر بھی اس ڈومین کی تحاریر نظر آ نا شروع ہو گئی ہیں۔ ان دونوں کا میں ممنون ہوں۔

فری ہاسٹنگ پر ورڈپریس۔۔۔کیونکر؟

دیکھیئے میں ورڈ پریس پر ہی رہنا چاہتا ہوں مگر paid hosting پر نہیں۔۔۔اب فری ہاسٹنگ پر۔


لیکن ابھی تک سننے میں تو یہی آیا ہے کہ فری ہاسٹنگ والے کسی نہ کسی شکل میں کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی گڑ بڑ کر ہی دیتے ہیں جس کا نتیجہ بعض صورتوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنے بلاگ سے ہی ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ بلاگران نے فری ہاسٹنگ پر اپنا بلاگ ورڈ پریس پر چلایا ہوا ہے اور بظاہر سب ٹھیک ٹھاک ہی چل رہا ہے۔


سو وہ لوگ جو اپنی فری ہاسٹنگ سے مطمئن ہیں براہ کرم راہنما ئی فرمائیں کہ کونسی فری ہاسٹنگ سروس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ عین نوازش ہو گی۔
wordpress.org سے ہٹ کر wordpress.pk کو دیکھا ہے لیکن اس میں تھیم میں ترمیم کرنا یا خود سے پلگ انز شامل کرنا ممکن نہیں۔ یہی حال wordpress.com کا ہے۔ اس میں تو پلگ انز کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پوسٹ ایڈیٹر میں تو چلو نستعلیق فونٹ کسی طور کر ہی لیں، کمنٹ باکس کا فونٹ کلی طور پر ناقابل ترمیم اور بنا ترمیم قطعئ طور پر ناقابل قبول ہے۔ Blogger.com میں تھیم تو ایڈٹ ہو سکتی ہے مگر کمنٹ باکس میں فونٹ سائز اور فونٹ ٹائپ تبدیل کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ یا ہے؟


تو پھر جناب ہے کوئی فری ہاسٹنگ جس پر اپنے پیارے ورڈ پریس پر ہی طبع آزمائی جاری رکھی جا سکے؟

ذہین عورتیں

مردوں سے برابری کا مطالبہ صرف وہ عورتیں کرتی ہیں جو اپنے آپ کو ذہین سمجھتی ہیں۔جو عورتیں حقیقت میں ذہین ہوتی ہیں وہ ایسا نہیں کرتیں۔

رمضان کے بعد

ستائیسویں روزے کے بعد عموما ً رمضان کے لیے ہمارا ولولہ ماند پڑ جاتا ہے۔ شاید ایک تو یہ خیال ہوتا ہے کہ بس اب تو روزے ختم ہی سمجھو اور دوسرا دھیان سارا عید کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو آخری دو یا تین روزے ہوتے ہیں وہ بھی رمضان کا اسی طرح حصہ ہوتے ہے جیسے کہ پہلے والے باقی روزے۔

اور یہ بھی توجہ طلب بات ہے کہ انتیسویں رات بھی آخری عشرے کی طاق رات ہوتی ہے باقی چار طاق راتوں کی طرح۔ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلتہ قدر کی رات آخری پانچ طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں پانچوں طاق راتوں کی اہمیت برابر ہے۔ رمضان کی انتیسویں رات بھی وہ رات ہو سکتی ہے جو کہ لیلتہ القدر ہو۔

رمضان کے بابرکت مہینے میں جو ہماری ایک تقویٰ والی، اللہ کی اطاعت والی ایک کیفیت بن جاتی ہے رمضان کے عین اختتام پر چاند رات کو بازاروں میں اس کا بالکل الٹ منظر پیش کیا جاتا ہے۔ عید کی شاپنگ کے نام پر ایک عجب ہنگامہ برپا ہوتا ہے۔ اگر صرف خریداری کی ہی بات ہو تو چیزیں تو رمضان سے پہلے والے مہینے میں بھی خرید لی جا سکتی ہیں۔ خیر۔

اس دفعہ تو ویسے بھی دل یہی چاہتا ہے کہ عید سادگی سے ہی منائی جائے۔ سیلاب کے مارے لاتعداد لوگوں کی لاچاری کو روزانہ دیکھ کر دل ملول تو ہوتا ہی ہے نا۔ عید پر ہمیں اللہ کا تہہ دل سے ممنون ہونا چاہیے کہ اس نے ہم میں سے بہت سوں کو سیلاب کی اس آفت سے اپنی امان میں رکھا، عافیت سے روزے رکھنے کی توفیق دی اور عید کا دن دکھایا۔ رمضان سے کوئی دو ہفتے پہلے جو 152 افراد جہاز کے حادثے میں لقمہ اجل بن گئے تھے وہ نہ یہ رمضان دیکھ سکے نہ یہ عید۔ اللہ ان سب کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

رمضان کے بعد دو بہت ثواب کے کام ہیں جو توجہ طلب ہیں. ان میں سے ایک تو کرنا لازم ہے اور دوسرا نفلی عبادت کے زمرے میں آتا ہے ۔ لازم تو ہے فطرانے کی ادائیگی۔ اس کو صدقہ الفطر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا درست اور بر وقت اہتمام کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

دوسرا کام ہے شوال کے چھ روزے رکھنا۔ ان کا بہت ثواب ہے۔ یکم شوال کو عید ہوتی ہے۔ اس دن کو چھوڑ کر شوال کے باقی دنوں میں ہر سال یہ چھ روزے رکھ کرخوش نصیب لوگ گناہوں کی مغفرت کے ایک بڑے موقعے سے فائدہ اٹھا تے ہیں۔

جاتےرمضان میں کچھ باتیں

آئیے ایک تجربہ کریں
مجھے کچھ دن پہلے ایک میل ملی جس میں لکھا تھا کہ آپ ایک پرسکون جگہ پر بیٹھ جائیں۔ پھر تصور کریں کہ اللہ آپ سے فرما رہا ہے مانگو مجھ سے کیا مانگنا ہے، میں تمہیں دوں گا ۔ سو آپ ان تمام چیزوں کا سوچیں جو آپ اس دنیا اور آخرت میں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ان میں سے اپنی پسندیدہ ترین کچھ چیزوں کا انتخاب کر لیں۔ پھر آخری عشرے کی تمام راتوں میں آپ تسلسل، یکسوئی اور یقین کے ساتھ اللہ سے وہ چیزیں مانگیں۔ اس طرح لازم ہے کہ آپ کی دعا لیلتہ القدر میں آ جائے گی۔ انشاءاللہ۔
اور جو دعا اللہ کے حضور لیلتہ القدر میں پہنچے اس کی قبولیت کے امکانات تو پھر آپ سمجھ ہی سکتے ہیں۔
سو یہ کر دیکھیں۔
اعتکاف بیٹھیں
اعتکاف بیٹھنا ایک زبردست کام ہے جس کے بہت سے روحانی فوا ئد ہیں۔ ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں جو یکسوئی اعتکاف کی حالت میں میسر آسکتی ہے وہ ویسے عام حالات میں ملنا مشکل ہوتی ہے۔
اعتکاف کے اختتام پر خاموشی سے گھر لوٹ آنا ہی ٹھیک ہے۔ یہ جو لوگ ہار وغیرہ لے کر اعتکاف سے فارغ ہونے والے کو ایک جشن کی سی کیفیت میں لینے مسجد پہنچے ہوتے ہیں اس قسم کے سلسلے سے گریز ہی کرنا چاہیے۔
جنید جمشید
اس رمضان میں ٹی وی ون چینل سے ہر شام سات بجے جنید جمشید کے درس سننے کا موقعہ ملا۔ بہت کچھ کام کی باتیں بتاتا ہے یہ آدمی۔ اسے اللہ کی باتیں اتنے موثر انداز میں بتاتے دیکھ کر میں تو اکثر یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ اللہ کی شان ہے کہ ایک ایسا نوجوان جو ناچنے گانے میں مگن اپنی زندگی بِتا رہا تھا اسے اللہ نے کیسی ہدایت سے نوازا کہ آج وہی شخص لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف بلا رہا ہے۔ اکثر جنید خود بھی اپنے لہو و لعب اور گمراہی کے شب و روز کا ذکر کرتا ہے جب وہ بتاتا ہے کہ اتنا بڑا انقلاب کیسے اللہ نے اس کی زندگی میں برپا کیا۔

جنید انتہائی سادہ اور سلیس انداز میں اپنے سننے والوں کو اللہ سے تعلق جوڑنے اور اس کی اطاعت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہو سکے تو آپ بھی سنیں اسے۔
قرآن تیز تیز پڑھنا
رمضان میں بہت سا قرآن سننے کو مل جاتا ہے ہر رات تراویح کی صورت میں۔ قرآن پڑھنے کا جو ایک بنیادی سلیقہ ہے وہ یہ ہے کہ اس عظیم کلام کو ٹھیر ٹھیر کر اطمینان سے پڑھا جائے۔ اگر تیز پڑھنا بھی ہو تو ایک خاص حد سے زیادہ تیز نہ پڑھا جائے اور اس پاک کلام کا ادب ہمیشہ ملحوظ خاطر رہے۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مساجد میں تراویح پڑھانے والے قاری صاحبان اس بات کا خیال بالکل نہیں رکھتے اور انتہائی تیز رفتاری سے قرآن پڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس بات کو تراویح پڑھنے والے لوگ نوٹ کر رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اس خرابی کا ذکر بھی کرتے ہیں لیکن امام صاحب کو اس روش کو چھوڑنے کا نہیں کہتے۔

پھر وہ جوقرآن کو ایک، دو یا تین راتوں میں ختم کرنےکے پروگرام منعقد کیے جا رہے ہوتے ہیں ان میں اللہ کے کلام کو تیز رفتاری سے پڑھنے کے اپنے ہی بنائے ہوئے ریکارڈ توڑے جا رہے ہوتے ہیں۔ اور اوپر سے گمان کیا جا رہا ہوتا ہے کہ یہ سلسلے انتہا ئی روح پرورہیں۔

اگر کوئی پوچھنے کی کوشش کرے کہ یہ والی سیٹنگ اور سلسلے کدھر سے آپ نے لیے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو رمضان میں باجماعت قیام اللیل صرف تین رات کیا تھا اور اس کے بعد صحابہ اکرام اپنے طور پر گھروں میں یا مسجد میں یہ نماز پڑھتے رہے تو کہا جاتا ہے کہ جی مسلمان صدیوں سے یہ نماز یونہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں۔

آپ کہیں اچھا جی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے تو جو ثابت ۔۔۔۔تو جواب ملتا ہے
” بس چُپ۔ جس بات کا پتا نہ ہو وہ نہیں پوچھتے۔“

Pages