اس طرف سے

فیس بک فرینڈ ریکوئسٹ کا معمہ


جس وقت میں نے انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کیا تو یہ وہ زمانہ تھا جب قلمی دوستی دم توڑ چکی تھی اور یاہو Yahoo اور ایم ایس ا ین MSNکے غپ خانے (چیٹ رومز chat rooms) آباد ہو چکے تھے- جی میل Gmail اور سوشل میڈیا بنانے والے شاید ابھی سوچنے کے قابل بھی نہ ہوئے تھے۔ .

پی ایچ ڈی 'کیوں' نہ کریں


 دنیا بھر میں پی ایچ ڈی PhD ایک معزز ڈگری سمجھی جاتی ہے- اکادیمیا Academia یعنی تعلیم سے منسلک شعبے میں یہ قابلیت کی معراج سمجھی جاتی ہے- معزز اس تناظر میں کہ یہ ایم بی بی ایس کیے بغیر واحد راستہ ہے جس کے آخیر میں آپ ڈاکٹر کہلانے لگتے ہیں اور معراج اس طرح کہ یہ آخری تعلیمی ڈگری ہے جو حاصل کی جاسکتی ہے- پی ایچ ڈی یعنی ڈاکٹریٹ آف فلاسفی دراصل ایک تحقیقی ڈگری ہے جو آپ کو تب ملتی ہے جب آپ کچھ نیا دنیا کے سامنے لائیں خواہ وہ انسانی زندگی کی بہتری سے متعلق ہو یا کسی مضمون بارے نئی منطق پیش کرے- .

مستقبل



اگر آپ یورپ یا کسی اور ایسے ملک جہاں انصاف اور عام آدمی کی قدر ہے میں رہ کر آئیں تو پاکستان آتے ہی ہر شخص کے انفرادی و اجتماعی افعال دیکھ کر سر پیٹنے کو دل کرتا ہے کہ آخر ہم کہاں جا رہے ہیں؟ پاکستان میں رہنے والے عام طور پر اس شے کو محسوس نہیں کرتے بلکہ کچھ لوگ تو ایسی باتوں کو پاکستان کے خلاف مغربی پراپگنڈہ تک کہہ دیتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس تقابل کرنے کو کوئی مقابل موجود ہو تو حقیقت آشکار ہو جاتی ہے- .

نیل کنٹھ کا حملہ


سب سے پہلے یہ جان لیں کہ نیل کنٹھ کوئی خطرناک خلائی مخلوق نہیں بلکہ ایک پرندے کا نام ہے جس کو انگریزی میں Roller کہتے ہیں اور یہ کوئی خوفناک یا سائنسی فکشن خیالی کہانی نہیں بلکہ معصوم سا حقیقی واقعہ ہے-
یوں تو برڈنگ یا پرندے بازی کے دو سال کے دوران ایسے ایسے واقعات پیش آئے کہ سنانے بیٹھوں تو ختم نہ ہوں لیکن چند ایک باتیں یادگار ہیں- .

حجاب کے پانچ رعائتی نمبر



 پنجاب حکومت نے حال ہی میں ایک تجویز پر غور کیا تھا کہ ایسی طالبات کو پانچ نمبر اضافی دیے جائیں جو حجاب پہنیں۔ مزید برآں ایسی طالبات کو حاضری میں بھی پانچ فیصد رعایت دی جائے- تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ سہولت ان کو دی جائے گی جو سارا سال حجاب پہنیں گی یا فقط امتحان والے روز پہن کر آئیں گی- سارا سال کے لیے گویا حاضری رجسٹر میں ایک خانہ حجاب کا بھی ڈالنا ہو گا- باقی امتحان والے دن حجاب پہننے سے مجھے وہ لڑکے یاد آگئے جو باریش پروفیسر صاحب سے اچھے نمبر لینے کے لیے باجماعت صف اول میں نماز ادا کرنا شروع کر دیتے تھے- ایک یاد میری ایک پولستانی استانی کی بھی ابھرتی ہے جس نے ایک بار کہا تھا جس دن ہمارا زبانی امتحان ہوا کرتا تھا تو ہم مختصر ترین سکرٹ پہن کر امتحان دینے جایا کرتے تھے۔ .

میرا آڈیو ڈرامہ اور اے دل ہے مشکل فلم میں شاعری


جب میں ماس کمیونیکشن میں ماسٹرز کر رہا تھا تو تب میں نے اور میرے چند دوستوں نے ملکر ایک آڈیو ڈرامہ بنایا تھا جس کو تحریر میں نے کیا تھا- بعد میں ہم نے تین چار کلاسوں میں ڈرامے کو پیش کیا اور اس پر لوگوں کے تاثرات و تنقید سنی اور حتی المقدور جواب دینے کی کوشش کی- اب تنقید تو ایسے ہی تھے کہ آپ کچھ پڑھے بغیر کسی کتاب پر تبصرہ سن کر اس پر تنقید کرنا چالو ہو جائیں کہ آدھے سے زیادہ لوگوں نے کبھی زندگی میں آڈیو یا صوتی ڈرامہ سنا ہی نہیں تھا کجا اس کی تکنیکی خامیاں پکڑنا لیکن آفرین ہے کہ نوے فیصد لوگوں نے کھل کر تنقید کی –

.

بنکنگ ایوارڈ اور میرا تجربہ


کل اتفاق سے نظر پڑی تو دیکھا کہ یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ United bank limited المعروف یو بی ایل UBL کو سال کا بہترین بنک کا انعام دیا گیا ہے – یہ دیکھ کر مجھے انعام لینے والوں کی بجائے دینے والوں کی عقل پر افسوس ہوا کہ ایک بے سرا گویا گا رہا تھا تو ہال سے تنقید سن کر جھجکا تو آواز آئی کہ سوہنڑیاں تو لگا رے اسی تے اس نوں لبھدے پئے آن جس نے تینوں سدیا سی (جناب آپ لگے رہیں کام پر ہم تو اس کو ڈھونڈ رہے ہیں جو آپ کو یہاں لایا تھا)- تو ایسے ہی یو بی ایل کی بجائے ہمیں اسٹیٹ بنک کی سمجھ بوجھ (جو کہ بوجھ کم اور بوجھ یعنی وزن زیادہ مناسب ہے) پر جو تھوڑا بہت باقی بچا تھا وہ ایمان بھی جاتا رہا۔ .

گزشتہ سال دیکھی گئیں اچھی فلمیں


فلمیں دیکھنا اور بے شمار دیکھنا ہمارا مشغلہ رہا ہے اور ہم نے سوچا کیوں نہ پچھلے سال دیکھی گئیں اچھی فلموں بارے آپ لوگوں سے شئیر کیا جائے تو پیش خدمت ہیں پچھلے سال کی وہ فلمیں جو مجھے اچھی لگیں.

2016 میں پڑھی گئیں کتب



سب سے پہلے تو میں یہ بات واضح کرنا چاہوں گا کہ یہ سراسر میری ذاتی پسند و ناپسند پر مشتمل فہرست ہے کہ اللہ نے انسان ایسی شے بنائی ہے جو ایک سے دوسری نہیں ملتی- ایک ہی شے بیک وقت ایک شخص کو انتہائی حسین جبکہ دوسرے کو بدصورت لگ رہی ہوتی ہے تو اس لیے بے باک رائے دینے کے لیے معذرت قبول کیجیے کہ جو دل کو لگا وہی لکھ دیا۔
.

میرے دوستوں کو مجھ سے بچاؤ


آپ نے کئی بار پڑھا ہو گا کہ مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ- اس میں مضمون نگار یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ تو معصوم، عیبوں سے پاک، دودھ سے دھلا کوئی فرشتہ نما انسان ہے لیکن کسی خرکار گروہ یعنی اپنے دوستوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے اور جو خطا کے پتلے کیا خطا کی مشینیں ہیں اور جن کی کوئی دماغی کل پرزہ ٹھیک کام نہیں کرتا اور جن کا واحد مقصد اس کی زندگی تباہ کرنا ہے- .

پی آئی اے- جان سے جائیے


جب چھوٹے تھے تو کئی عجیب کھیل کھیلا کرتے تھے جس میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کسی کو کہتے بولے "پی ائی اے" اور جواباً تھپڑ مار کر کہتے کہ "تھپڑ کھائیے"۔ تب اچھے وقت تھے معاملہ فقط تھپڑ تک محدود تھا کہ وقت کے ساتھ ترقی کرتے کرتے اب "پی آئی اے" بولنے پر جواب آتا ہے "جان سے جائیے"۔ .

عرب بہار کی شام


 اپنی دانست میں تو ہم سال کا آخری بلاگ لکھ چکے تھے لیکن اسی دوران دو ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم ایک آدھ بلاگ اور لکھ دیں جس میں ایک حلب کی خانہ جنگی اور دوسرا پی آئی اے کے کارنامے ہیں۔ تو قارئین کی آسانی کے لیے شام جنگ کا آسان زبان میں احوال لکھنے کی کوشش ہے-.

فیس بک پر دانشور بننے کا آسان طریقہ


ہماری قوم جیسے بھیڑ چال کی عادی ہے تو جب کوئی ایک شخص کریانے کی دکان کھولتا ہے تو چند ہی دنوں میں اس سے اردگرد کئی کریانے کی دکانیں مزید کھل جاتی ہیں، ایک بندہ بس میں معجون اور چورن بیچنا شروع کرتا ہے تو ساری قوم ہاتھ میں بکسا پکڑے معجون بیچنا چالو کر دیتی ہے، ایک لڑکا ڈاکٹر بنتا ہے تو پیچھے لائن لگ جاتی، ایک ون ویلینگ کرتا ہے تو باقی قوم ایک کیا آدھ ویلنگ کرنے پر تل جاتی ہے ایسے ہی آج کل قوم کو جس چیز کا دورہ پڑا ہے وہ ہے فیس بکی دانشور بننے کا۔ .

پاکستان میں تعلیمی ریسرچ


پچھلے دنوں ایک پروفیسر صاحب کا اخباری مضمون پڑھنے کو ملا جس میں انہوں نے پاکستان میں تعلیمی اداروں میں تحقیق یعنی ریسرچ کے زوال و زبوں حالی کو موضوع بحث بنایا۔ چونکہ ہم خود اب پی ایچ ڈی کر چکے ہیں اور ملکی اور غیر ملکی دونوں نطاموں کی خاک چھان چکے ہیں (ویسے تو چاٹ چکے بھی ٹھیک ہیں) تو اس موضوع پر بھلا کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنی ماہرانہ رائے دینے سے باز رہیں۔ .

سٹاک ہوم تک دو بحری سفر


پوچھا گیا کہ کیا سوئیڈن چلیں گے؟ میں نے جواباً پوچھا کون کون جا رہا ہے؟ پتہ چلا کہ تین چار لوگ اور دلچسپی ظاہر کرچکے ہیں۔ بس جہاں پاکستانی جمع ہوئے وہاں میں نے ہتھیار ڈالے۔ .

قمر وزیر کی مس عافیہ سے محبت


پیش لفظ: اس کہانی کے تمام کردار و واقعات فرضی ہیں کسی بھی قسم کی مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ اور اگر قمر وزیر خود یہ اردو بلاگ پڑھ لے جو کہ مشکل ہے اور سمجھ لے کہ اس کے بارے لکھا گیا ہے جو کہ ناممکن ہے تو میں اس کو کہنا چاہتا ہوں کہ بھائی ایک تو یہ میں نے لکھا نہیں ، دوسرا یہ جھوٹ ہے ، تیسرا جانے دے ناں دوست نہیں پھر۔۔۔۔ .

امریکی صدارتی الیکشن


امریکی الیکشن کی آمد آمد ہے تو ایک جیسے وہ ہمارے ہر معاملے میں پنگے بازی کرتے ہیں تو وہ ہمارے بلاگ کی مہمان نوازی سے کیوں محروم رہیں دوسرا ہمارا کچھ اچھا لکھنے کو دل بھی نہیں چاہ رہا ان دنوں اس لیے امریکی الیکشن کا جائزہ ہی پیش خدمت ہے۔ .

ایک انٹرویو جو نوکری نہ ہونے کے لیے دیا گیا


ایک بار پہلے بھی مجھے پاکستان سے محبت کا مروڑ اٹھا اور میں نے سوچا کہ میرا فرض بنتا ہے کہ قوم کی خدمت کی جائے اور جو پڑھا لکھا ہے وہ ملک کو لوٹایا جائے اور تب کی بات یاد کر کے نئے مروڑ کو دبانے کی کوشش کرتا ہوں۔ .

کراچی کی نا سیر


کراچی ہوائی اڈے پر اترا تو لینے آئے میزبان سے تصدیق چاہی کہ کراچی ہی آیا ہوں کہیں جہاز واپس ملتان تو نہیں لے گیا-جواب نفی میں ملا لیکن دل کو تسلی نہ ہوئی گرمی اور تپش ان کی بات کی تردید کرتی تھی۔ تمام دن کا پروگرام شام تک منسوخ کر کے گھر بیٹھے رہے اور ان کے پی ٹی سی ایل سمارٹ ٹی وی PTCL smart TV کی تعریفیں سنتے سنتے فٹ بال کا ایک بور سا میچ دیکھنے لگے- .

میٹرو میٹرو کردی نی میں



پڑھنے سے پہلے نوٹ فرما لیں یہ سیاسی نہیں معاشرتی بلاگ ہے کہ معاشرتی سائنس میں ہم پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔

جس نے ملتان میٹرو کا نقشہ بنایا ہے اس سے بڑا عملی مذاق یعنی پریکٹیل جوک کرنے والا شخص مجھے آج تک نہیں ملا۔ جس کسی کو زیگ زیگ Zig Zag کا مطلب نہیں آتا وہ میٹرو متاثرہ بوسن روڈ پر گاڑی چلا کر دیکھ لے- بل کھاتی سڑک جو پہاڑی علاقوں کی پگڈنڈی کا منظر پیش کرتی ہے کو مزید چار چاند اس کی چوڑا لگا دیتی ہے جو کہیں چالیس فٹ سے تجاوز کر جاتی ہے اور کہیں سکڑ کر دس فٹ سے بھی کم رہ جاتی ہے اور اس پر طرہ یہ ہے کہ دس فٹ کے متوازی مخالف سمت ٹریفک والی سڑک چالیس فٹ چوڑی ہے- لیکن یہاں پر بس نہیں بلکہ اس الٹی سیدھی لکیریں لگانے کا توڑ یہ نکالا گیا کہ کئی جگہوں پر اب سڑک تین رویہ ہے- دو جانے والے ایک آنے والا اور تینوں کے درمیان ڈیوائیڈر منہ چڑا رہا ہے- ادھر بعض جگہوں پر سروس روڈ اصل روڈ سے چوڑا ہے اور بعض جگہوں پر اس کا وجود ہی نہیں- بس ایک انجیرننگ کا شاہکار ہے جس دل کرتا ہے بندہ نقشہ نویس، نقشہ پاس کرنے والوں اور انجینیر صاحبان کے ہاتھ چومے- سنا ہے لاہوری میٹرو کے نتیجے میں درخت کٹنے پر رو رہے ہیں ان کو ملتان آکر ہنسنے کی دعوت ہماری طرف سے۔ .

Pages