نوائے نے

آپ کیوں لکھتے ہیں؟؟


مقصدیت ادیب کے لیے بنیادی تحریک بنتی ہے یا محض اپنے اندر چھپے متن کا وفور اسے مجبور کرتا ہے، کہ وہ لکھے اور اس پہ کوئی خاص رنگ نہ چھڑکے، اس کا بازو نہ مروڑے، یہ بحث پتا نہیں کب سے ہو رہی ہے اور امید ہے، جب تک لکھا جاتا رہے گا، یہ جاری رہے گی۔مجھے تو اس مختصر اظہاریے میں بلا کم و کاست اس حوالہ سے اپنا مشاہدہ اور نکتہ نظر بیان کرنا ہے۔
بچپن سے میں نے جو کچھ پڑھا، عمرو عیار سے لے کر ایکسٹو تک، نعیم اور عبداللہ کی تگ و تاز  سے لے کر راشد منہاس شہید کی قربانی تک، مسلکی لٹریچر سے سید مودودی تک، منڈیلا سے لے کر شیخ الحدیث ذکریا کی سوانح تک، البریلویہ سے لے کر بریلویوں کے جواب تک، خوابوں کی سائنسی حقیقت سے لے کر خواب دکھاتے شفیق الرحمان تک، کیمیا گر سے لے دریائے پیڈرا کے کنارے بیٹھ کر روتی دوشیزہ تک، توفیق رفعت سے لے کر ولی اور عباس تابش سے لے کر میر تک، خروج و ارجاء اور تسنن و تجدد سے تصوف اور طریقت تک۔اس سب میں چند ہی چیزیں مشترک تھیں ، جو ہر متن کی تہ میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتی تھیں ۔
1)تخلیقیت کی عطا شدہ صلاحیت کا اظہار۔مادہ خلق، جو القاء و الہام سے عبارت ہے ۔یہ سب کو عطا نہیں ہوتا، خواہ کوئی کسی نظریے سے کس قدر متاثر کیوں نہ ہو اور کسی منظر ، واقعے سے کسی مقدر اثر قبول کیوں نہ کرے۔ یہ جس کو ملتا ہے، وہی اس قابل ہوتا ہے ، کہ اسے چمکا لے ، اسے عدم سے وجود میں لانا میرے خیال میں کسی کے بس میں نہیں ۔ آپ شاعر، ادیب یا تخلیق کار ہیں یا نہیں ہیں ، درمیانی کوئی صورت نہیں ہوتی۔تو میرے خیال میں کوئی شخص تب ہی لکھ پاتا ہے، جب وہ اس مادہ سے کچھ نہ کچھ حصہ منطقہ غیب سے پاتا ہے ، جیسا کہ بہت سے ادباء و شعراء نے اس حوالہ سے اپنے تجربات اور خیالات کو پیش کیا ہے ۔ 
2)مقصدیت، یعنی کسی نظریے سے متاثر ہونا ۔جو حق سمجھنا، اس کی تبلیغ ۔ اس حوالے سے کس قدر لکھا گیا ہے ، ہم سب بخوبی واقف ہیں ۔ تمام مذہبی ، اصلاحی ، انقلابی لٹریچر اسی قبیل سے ہے۔ بلکہ وہ تمام لتریچر بھی ، جو یہ دعوا رکھتا ہے، کہ وہ محض تفریح کے لیے لکھا گیا ہے اور کسی خاص نظریہ کا پرچارک نہیں ہے ، وہ بھی کسی نہ کسی نظریہ حیات کے تابع ہی ہوتا ہے اور اس کا بے نظریہ بتایا جانا محض ایک غلط فہمی ہوتا ہے اور کچھ بھی نہیں ۔ سو ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کے دونوں مدارس فکر دراصل ایک نطریے کے پیروکار ہیں ۔ایک کے ہاں مقصدیت کسی مذہب، نظریہ اخلاق یا روحانی تجربہ و اظہار سے پھوٹتی ہے ، تو دوسرے کے ہاں زندگی کے مادی پہلو کو زیادہ اہمیت دینے کا نظریہ طاقتور ہوتا ہے۔ ویسے صرف شہرت کا حصول بھی ایک مقصد ہے اور ایک نظریہ حیات کے تابع ہے اور اس کے لیے لکھنے والے بھی کم نہیں ہیں۔
3)مالی یافت۔ایک وقت تھا، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا، کہ کوئی شخص اپنا لفط بیچ سکتا ہے۔ لفظ ایک اونچی علامت تھی میرے ذہن میں ، جس کی حرمت اور تحریک پہ جان دی جا سکتی ہے ۔ جو سامنے کی حقیقتوں سے ماورا ، اعلیٰ اورخالص و لطیف حقیقتوں کے در کھولتا ہے ۔پھر پتہ چلا کہ روٹی کے دولقمے بہت بڑی حقیقت ہیں، جو آنکھ بند کرنے پہ مجبور بھی کر سکتے ہیں ۔پھر سمجھ آئی ہے، کہ یہ تو پیشہ بھی ہے ، سو حق لکھ کر بیچا بھی سکتا ہے، گو کم ہی کا حق بکتا ہے ، زیادہ اس سے "حق" ہی وصول کرتے ہیں۔ خیر لکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتا ہے اور جب یہ ہوتا ہے، تو پھر بہت دفعہ قلم صرف وہ نہیں لکھتا، جو لکھنے والا کا ایمان و مقصد اور نظریہ ہوتا ہے ۔
4)معلوم انسانی مسائل، تعلقات، خدشات سے لے کر غیب کی پر کشش یا ڈرانے والے مظاہر کے درمیان پیش قدمی یا رجعت کا مسلسل سفر۔ لتریچر اسی سے عبارت ہے۔ 
تو کوئی کیوں لکھتا ہے ، مجھے لگتا ہے، کہ انہی مندرجہ بالا تحاریک کی انگیخت سے لکھا جاتا ہے۔اگر ہر تحریر کے پیچھے موجود مقاصد کی وین ڈایا گرام بنائی جائے ، تو ہر تحریر میں ان کی فیصد مختلف ہو گی، لیکن ہو گی یہی۔ یہ سب وجوہات بالعموم ان لوگوں کے لکھنے کی ہیں، کہ لکھنا جن کا مسئلہ ہے ۔
فلک شیر

2017... اہداف و عزائم

نئے سال کے موقع پر اکثر لوگ اپنی ذات اور زندگی کو بہتر ڈھنگ پہ لانے کے لیے خود سے کچھ وعدے کرتے ہیں اور کچھ اہداف متعین کرتے ہیں. یہ وعدے اور اہداف ذات، صحت، تعلقات، پیشہ ورانہ مہارت وغیرہ سے متعلق ہوتے ہیں.

یہ عمل کس حد تک مفید ہے، میرے خیال میں اس سوال کا جواب ان اہداف کا تعین کرنے والے شخص کی افتاد طبع میں چھپا ہوتا ہے ــــــــــ مستقل مزاجی سے کام کرنے والے لوگ اس سے یقیناً فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ اس صفت سے محروم لوگ کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھا پاتے.

بہر حال اس سال کے حوالے سے کچھ ارادے میں نے بھی باندھے ہیں اور اللہ تعالٰی کے فضل سے امید ہے کہ وہ اس کے لیے مدد فرمائیں گے ان شاءاللہ.

میں ان وعدوں اور اہداف کو کچھ حصوں میں تقسیم کر کے بیان کرنا چاہتا ہوں :

1)علمی و تعلیمی گوشہ:
ان شاءاللہ روزانہ قرآن مجید کے کم از کم تین رکوع ترجمہ کے ساتھ تلاوت کی کوشش... فجر کے بعد
ایک کتاب پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے... پانچ صفحات
ایک ہلکی پھلکی کتاب... ادب، سفرنامہ، سوانح.... دس صفحات
جو ڈگری جاری ہے.... اس کے لیے دو گھنٹے مطالعہ
لیپ ٹاپ کو صرف اس کی جگہ پر استعمال کرنا.... بستر پر نہیں... کیونکہ اس طرح یہ کتاب کی جگہ لے لیتا ہے اور وہ یہ ہے نہیں

تعلقات کا گوشہ :
ہفتہ میں ایک گھنٹہ نکال کر... اتوار مناسب دن ہے... خالہ، پھپھو، ماموں اور نانا نانی سے فون پر بات
نہ کہنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی ڈرل
بچوں کو اختتام ہفتہ بالضرور دو تین گھنٹے کے لیے آؤٹنگ پہ لے جانا
والدین کے ساتھ کم از کم آدھا گھنٹہ کی روزانہ نشست
مہینہ بھر میں کم از کم ایک دفعہ کسی اصلاحی مجلس میں شرکت

سوشل میڈیا :
فون سے ایک آدھ کے سوا تمام سوشل میڈیا ایس ان انسٹال کرنا... فیس بک لازمی طور پر... کیونکہ نارمل اور مفید زندگی گزارنے میں یہ بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے
آدھ ایک گھنٹہ لیپ ٹاپ پہ سوشل میڈیا کا استعمال محدود کرنا
سوشل میڈیا کے استعمال میں مقصدیت کو بہرحال مدنظر رکھنا

صحت :
ہفتہ میں کم از کم تین دن ایک گھنٹہ کی واک یا ورزش
پانی کافی مقدار میں پینا
چائے کی بجائے متبادل مشروبات... دودھ، قہوہ

اہداف:
عربی، فارسی اور انگریزی کی روایتی گرامر کو گہرائی سے سیکھنے کی کوشش
اپنی ڈگری ریسرچ کے لیے ایسا موضوع تلاش کرنا، جو واقعی کمیونٹی کے مسائل کا حل پیش کر سکے
اجتماعیت کی برکات کے حصول لیے کسی ایسی جماعت میں شمولیت، جو سلف کے فہم اسلام سے روشنی لیتی ہو اور عصر حاضر میں حکمت و بصیرت کے ساتھ انفرادی و اجتماعی اصلاح کے ذریعے انسانیت کی خیر کی متلاشی ہو
تین ماہ بعد اس کا فالو اپ

تو یہ تھے وہ اہداف، جو میں نے طے کیے ہیں اور توفیق تو اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے اور میں اسی پہ توکل کرتا ہوں اور مدد مانگتا ہوں

پاکستان، عرب اور ایران

زیر نظر واقعہ جناب مختار مسعود نے اپنی کتاب "لوح ایام" کے صفحہ انسٹھ اور ساٹھ پہ درج کیا ہے۔ کسی فرقہ وارانہ یا سیاسی مقصد کے لیے پوسٹ نہیں کیا جا رہا۔ رائے قائم کرنے کے لیے ذہن میں رہے کہ اس سے پہلے ایران بھی پینسٹھ کی جنگ میں ہماری مدد کر چکا تھا، البتہ شہنشاہ ایران کی امریکہ کے ساتھ محبت اور اندھی طاقت اور دولت کا خمار اس قدر بڑھ چکا تھا کہ ماڑے موٹے بھائی یا دوست اب اس کی ترجیح نہ رہے تھے۔گو کہ سعودی بھی امریکہ کے ساتھ تھے اور دولت بھی وہاں وافرآ رہی تھی یا کم از کم آنے والی تھی ، لیکن ان کا رویہ یکسر مختلف تھا، اسی کی نشاندہی اس واقعہ میں ہوتی ہے۔یہ تاریخی واقع ہماری خارجہ پالیسی کے سفر کی ایک جھلک  ہے ۔ تفصیلی تجزیے کے لیے بہرحال تصویر کو بڑے پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ فلک شیر
جناب مختار مسعود لکھتے ہیں:
"اکتوبر 1973ء میں تیل کا عالمی بحران آیا۔ قیمتوں میں جو مدت سے ایک ہی سطح پر ٹھہری ہوئی تھیں، یکایک پانچ گنا اضافہ ہو گیا۔ تیل درآمد کرنے والے ممالک زرمبادلہ کی کمی کا شکار ہو گئے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک دیکھتے ہی دیکھتے بے حدوحساب دولت کے مالک بن گئے۔ تیل درآمد کرنے والے تمام ممالک میں سوچ بچار کے لیے کمیٹیاں اور بھاگ دوڑ کے لیے وفود تشکیل دیے گئے میں بھی ایک پاکستانی وفد میں شامل ہو کر این آئی او سی (ایران کے تیل کی پیداوار کی سرکاری کمپنی) کے صدر دفتر پہنچ گیا۔ ہمیں تھوڑی سی دیر کے لیے خواہ مخواہ انتظار کرایا گیا، حالانکہ ملاقات کا وقت پہلے سے طے تھااور ہمارے وفد کے رئیس پاکستان کے وزیر پٹرولیم تھے۔ ہم چئیرمین کے کمرے میں پہنچے۔ انہوں نے اس بیزاری کے ساتھ ہمیں وصول کیا، جیسے وہ اہل سوال سے ملاقاتیں کر کے عاجز آ چکے ہوں۔
منوچہر اقبال کا نیلا سوٹ گھنے سفید لہریا بالوں کی شان دوبالا کر رہا تھا،مگر چوڑے چکلے سپاٹ چہرے کی خاموشی،آنکھیں چرانے کی کوشش اور ہاتھ ملانے کے میکانکی اندازنے ہمیں مایوس کیاصوفہ پر بیٹھنے کے بعد خاموشی کا ایک دور شروع ہوا۔صبرآزما اور تکلیف دہ۔یہ دور چند ثانیہ کا ہونے کے باوجود ہمیں بڑا طویل اور ناگوار لگا۔ہم اس خیال میں رہے کہ ھسبِ دستور منوچہر اقبال کچھ رسمی کلمات فارسی یا فرانسیسی میں کہیں گے، پھر سرکاری مترجم ان کا انگریزی میں ترجمہ کرے گا ، تب جا کر ہمارے وزیر کو لب کشائی کا موقع ملے گا۔مگر میزبان نے چپ کا روزہ رکھا ہوا تھا۔اسے اس کی پرواہ ہی نہ تھی کہ کون آیا ہے اور کیوں آیا ہے۔وہ اپنی ذات میں مگن اور خیالات میں گم تھا۔ہماری وہ حکمت عملی جو وفد نے رات گئے کراچی کے ہوائی اڈہ پر مڈوے ہوٹل کے وی آئی پی روم میں وضع کی تھی،اس میں ایسی غیر متوقع بے مروتی کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ہم نے طے کیا تھا کہ اگر بات چیت دفتر میں غیر رسمی انداز میں ہوئی تو ہمارے وزیر گفتگو میں مناسب وقت پر مطلب کی بات چھیڑ کر وفد کے ایک رکن کی طرف دیکھیں گے جو بات کو آگے بڑھائے گا۔اور اگر ملاقات کانفرنس روم میں مائیکروفون کے وسیلہ اور ٹیلیویژن کی روشنی میں ہوتی ہے تو ہمارے وفد کے قائد اپنی باری آنے پر ایک ٹائپ شدہ صفحہ کی وہ تقریر پڑھ دیں گے جو ایک رکن نے لکھ کر دی تھی اور جس کا دوبار ریہرسل بھی انہیں کرایا تھا۔
جب مہر خاموشی توڑنے پر منوچہر اقبال کو آمادہ نہ پایا تو میں نےآہستہ سے حیات محمد خاں شیر پاؤ سے کہا، آپ ہی گفتگو کا آغاز کریں۔انہوں نے بات شروع کرنے کی بجائے لکھی ہوئی تقریر جیب سے نکالی اور صوفہ پر بیٹھے بیٹھے اور دو لمبے آدمیوں کے درمیان بھنچے ہوئے اپنے منہ ہی منہ میں پڑھ دی۔ ا س کے بعد منوچہر نے دو جملے ادا کیےاور مترجم نے ایک سالم تقریر جھاڑ ڈالی۔جملہ غالباً یہ تھا کہ میری وہ تقریر جو میں آج کل تیل کے گاہکوں کے سامنے کرتا ہوں اسے دہرا دو۔لب لباب یہ تھا کہ یک اناروصدبیمار۔تیل خریدنے کے لیے اتنے وفود آ رہے ہیں کہ ہم ان سب سے مل بھی نہیں سکتے۔ (گویا یہ آپ پر کیا کم احسان ہے کہ ہم نے آپ کو شرفِ باریابی بخشا ہے )۔ہمیں تیل کا کوٹا مقرر کرنے میں دقت پیش آ رہی ہے۔(یعنی آپ برادری اور ہمسائیگی اور پسماندگی اور تیسری دنیا کی باتیں کر کے ہماری الجھن اور اپنی مشکلات میں کیوں اضافہ کر رہے ہیں)۔مسئلہ قیمت کا نہیں مقدار کا ہے۔گاہک ہر قیمت پر لینے کو تیار ہے۔(زر مبادلہ کا مسئلہ آپ کا اپنا مسئلہ ہے)۔بہرحال آپ اپنی ضروریات کے بارے میں یادداشت لکھ کر میرے عملہ کو دے دیں اور کوئی بات پوچھنا چاہیں تو وہ بھی ان سے پوچھ لیں۔وہ کمیٹی روم میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم اشارہسمجھ گئے اور اجازت چاہی۔ واپسی کے وقت میزبان نے وفد کے دو افراد سے ہاتھ ملایا۔وفد کے دوسرے اراکین نے اس حجر اسود کو دور سے ہی بوسہ دیا اور کمرے سے باہر نکل آئے ،جہاں حبس تھا نہ گھٹن اور نہ ہی خاموشی۔ اچھی خاصی چہل پہل تھی۔
ہم کمیٹی روم میں پہنچے تو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ہمارے سفارت خانہ کا ایک ترجمان کہنے لگا۔آپ کا دورہ بے حد کامیاب رہا۔ یہاں لوگ ہفتوں کے انتظار کے باوجود چئیرمین این آئی او سی تک نہیں پہنچ سکتے اور انہوں نے آپ کا بذات خود استقبال کیا اور جتنا وقت آپ کو دیا ہے اتنا پچھلے چھ ہفتہ میں کسی اور وفد کو نصیب نہیں ہوا۔ کسی نے طنزاً اور کسی نے مروت کے مارے اس سفارت کار کی ہاں میں ہاں ملائی اور دوسرے ہی دن تہران سے رخصت ہو گئے۔
اس دورے میں ہمارے وفد نے مشرقِ وسطٰی کے تیل برآمد کرنے والے تین چار ملکوں کا سفر کیا۔ ایک ملک کے بادشاہ نے وفد سے ملاقات کی اور کہا،آپ تیل اور اس کی قیمت کی فکر نہ کریں،بلکہ پاکستان کی فکر کریں جو بہت بیش قیمت ہے۔آپ اپنی ضروریات میرے وزیر تیل کو بتا دیںوہ پوری کر دی جائیں گی۔البتہ میرا پیغام وزیراعظم بوتو (بھٹو) تک پہنچا دیں کہ وہ پاکستان کی حفاظت کرنے کے فرض سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہ ہوں۔ یہ ملک اسلام دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور وہ اسے کمزور کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کریں گے"
(لوح ایام،مختار مسعود،صفحہ 59-61)  

 

اوریا صاحب! کیا پنجابی ہونا قابل شرم ہے؟؟


کل ہمارے محترم شاہد اعوان صاحب نے اوریا مقبول جان صاحب کی ایک ویڈیو کی طرف توجہ دلائی، جس میں اوریا صاحب فرما رہے تھے کہ انہیں اپنے پنجابی ہونے پہ شرمندگی ہوتی ہے۔ویڈیو شئیر کرنے والے صاحب ایک لسانی جماعت کے ہمدرد تھے۔اس پہ جو پریشان سے خیالات پیش کیے ــــــــــــوہ  پیش خدمت ہیں:
جن صاحب نے یہ ویڈیو شئیر کی ہے،  اسی نسل کے سید مودودی کو بالآخر نظر آیا تھا کہ اسلام کے لیے کام کرنے کے لیے جو حرارت درکار ہے، آج وہ پنجاب اور لاہور کے سوا کہیں دستیاب نہیں اور اقبال جیسا نابغہ وہیں ہے ــــــــــــاور جس زمانے کی کہانی اوریا صاحب سنا رہے ہیں ، اس زمانے میں پنجاب میں مذہب اور دنیا کے ٹھیکیدار یہی گروہ تھے اور جن سپاہیوں نے اٹک سے چکوال اور رحیم یار خان تک انگریز کے جھنڈے تلے جان دی تھی ، انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ انگریز عادل حاکم ہے ـــــــــــــــروٹی سے مجبور وہ بے چارہ کسان زادہ اپنی ماں کی دعاؤں کے سائے میں انگریز بہادر کی فوج کی وردی پہن لیتا تھا ـــــــــــــــاسے گالی دینا مجھے اچھا نہیں لگتا ـــــــــــــآپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ سیاسی شعور ان میں نہیں تھا اتنا ـــــــــــلیکن آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہر دس بیس سال بعد کوئی افغانستان یا کسی اور خطے سے یہاں آن دھمکتا تھا ، کبھی سکھ آ جاتے تھے ــــــــــــتو اس کے لیے ہر کوئی حاکم ہوتا تھا ، مذہب اس سلسلہ میں کوئی بڑا معاملہ نہیں تھا ــــــــــــــیہ دین اسلام کی خاطر لڑی جانے والی جنگیں کم اور اقتدار کی کشمکش زیادہ ہوتی تھی ـــــــــــــــاسی کے تسلسل میں انگریزوں کے لڑنے ولے سپاہی کو دیکھیں۔
 جہاں تک مخدوموں ، ٹوانوں اور چودھریوں کی بات ہے ، ان کی صفائی دینے کی ضرورت ہمیں نہیں ہے اور نہ ہی انہیں ــــــــــــوہ آج بھی حاکم ہیں اور کل بھی تھے ـــــــــــان کی منزل کھوٹی کرنے کے لیے ہم جیسے کئی لہو میں نہا گئے، معاش کا چراغ گل کروایا ــــــــ بچوں کا مستقبل برباد کیا ـــــــصلاحیتیں برباد کیں ـــــــــخواب دیکھتے لوگ، آدرش کی خاطر سب کچھ تج دیتے لوگ ـــــــلیکن وہ آج بھی وہیں ہیں ــــــــــــآپ انہیں غدار کہیں یا بیسواؤں کی اولاد ، انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا ۔
یو پی سی پی کے علماء نے واقعی انگریز کے خلاف جنگ لڑی تھی ـــــــــــــــــاس میں البتہ کوئی شک نہیں ، لیکن اس کے بعد وہیں کے مدارس نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا، اور ملکہ عالیہ اور ریذیڈنٹ بہادر کی شان میں قصائد اور استقبالیے پیش کیے حالات سے مجبور ہو کر ـــــــــــــــہم انہیں گالی کیسے دے سکتے ہیں ، وہ بڑے لوگ تھے ، حالات سے مجبور ہو گئے۔
اوریا صاحب سے مجھے گلہ ہے کہ کسی خالص علمی اور عملی کام کی طرف یہ نوجوان طبقے، بالخصوص دینی رجحان رکھنے والوں کو موڑ نہیں سکے اور بس ایک جذباتیت سی جذباتیت ہے ـــــــــبظاہر سطحی سی۔
 خطے اپنا رنگ بدلتے ہیں ــــــــــــــــــپنجابی ہونے پہ شرم کیوں آتی ہے انہیں ــــــــــــــــــاپنی کمزوریوں کو مٹی کے سر نہیں ڈالنا چاہیے
فلک شیر

کیہ جاناں میں کون....

نہ میں صافی ، نہ میں صوفی..... نہ میں جاناں رفض  نصب نوں

نہ میں شامی ، نہ میں کوفی..... نہ میں جاناں قدر  کسب نوں

نہ میں سبق فقہ دا پڑھیا........ نہ میں سانگ مذہب دا بھریا

نہ میں جاناں شرق غرب نوں ..... نہ میں جاناں عجم عرب نوں

نہ میں جھوٹا ، نہ میں سچا ..... نہ میں پختہ، نہ میں کچا

چھمک نروئی ، نہ میں ڈچا..... نہ میں جاناں نام نسب نوں

بس ورد الف دا کیتی جاواں.... پچھے میم دے نیتی جاواں

نہ میں جاناں زیراں زبراں.... نہ میں جاناں ضم نصب نوں

فلک شیر
3 اکتوبر 2016
گیارہ بجے دن

کیا یہ صرف کارٹون ہیں؟؟

جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو اس کی خوراک دودھ ہوتا ہے... وہ بھی کوئی عام دودھ نہیں... ایسا مخصوص قسم کی کمپوزیشن والا ہلکا اور پتلا سا دودھ جو بچے کو انرجی تو دیتا ہے مگر اس کے معدے پر بوجھ نہیں بنتا.... جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے دودھ کی کمپوزیشن بھی بدلتی ہے... پھر آہستہ آہستہ آپ بچے کو ٹھوس غذا کی طرف لاتے ہو... پہلے بہت نرم، پھر ذرا سخت... غرض کم ازکم بچے کو اس دنیا میں موجود انواع و اقسام کے پکوان کھانے کے لئیے 4 یا 5 سال لگ جاتے ہیں... تب بھی ایک چیز پر غور کریں کہ بچہ ہر ذائقہ فورا ایکسپٹ نہیں کرتا... آہستہ آہستہ... وقت کے ساتھ ساتھ... اگر آپ بچے کو پیدائش پر ہی یا چلو ایک سال بعد کوئی انتہائی روغنی چیز مرچ مسالوں سے بھری ہوئی کوئی ایسی چیز کھلائیں گے، اور کھلاتے چلے جائیں گے تو کیا ہو گا؟ اول تو بچہ کھائے گا نہیں.... دوم، اگر کھائے گا بھی تو اس کا پیٹ خراب ہو جائے گا، طبیعت بگڑ جائے گی، معدے پر گراں گزرے گا... تین، ایسی صورت حال میں اس کی physical growth ہو پائے گی کیا؟ چار، چلو فرض کیا آپ کسی طرح قدرت کے قانون کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے اور آپ کو دو ڈھائی سالہ بچہ انتہائی آرام سے صبح دوپہر شام آپ کے ساتھ لاہوری کھابے اور حیدرآبادی بریانی کے ساتھ انصاف کرتا ہے، تو سوچیں اسے معدے کی بیماریاں کتنی چھوٹی عمر میں شروع ہو جائیں گی....
یہ سب باتیں اس لئیے لکھیں کیونکہ میں نا صرف ڈوریمون کے بلکہ اور بھی بہت سی (تقریبا 98%) کارٹون سیریز اور موویز کے خلاف ہوں... جب آپ کا بچہ کھانے کے معاملے میں ایک مخصوص عمر سے پہلے عام کھانے نہیں کھا سکتا، مرچ مسالے ایکسپٹ نہیں کرسکتا، جب آپ کو اس کی جسمانی غذا کے متعلق سٹیپ بائے سٹیپ ہی چلنا ہے، تو روحانی اور ذہنی کے نشونما اور غذا کے متعلق ہم یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں؟ کیا آپ اپنے 2، 3 سالہ بچے کو انگریزی کی abcd سکھائے بغیر، انگریزی پڑھنا سکھائے بغیر اسے شیکسپئیر پڑھا سکتے ہیں؟ سائنس کی بنیادی چیزیں سمجھائے بغیر اس کو physics کے بڑے اور پیچیدہ لاز سمجھا سکتے ہیں؟ نہیں.... تو پھر اس قسم کے کارٹونز کے ذریعے اپنے بچوں کو ذہنی کنفیوژن میں کیوں ڈال رہے ہیں؟ انٹرٹینمنٹ کے نام پر جو الم غلم ہم اپنے بچوں کو دیتے چلے جا رہے ہیں وہ ہمارے بچوں پر کیسا اثر ڈال رہا ہے ہم یہ کیوں نہیں سوچتے؟ کیا زبان سیکھنے کا کوئی اور طریقہ نہیں؟ کیا بہتر یہ نہیں کہ ایک مخصوص عمر میں پہنچنے کے بعد جب ماں باپ کو لگے کہ ہاں ہمارا بچہ اب اس قسم کی بات سمجھ سکتا ہے تب اس کو اس کے والدین جنسی تربیت دیں؟ ایک بات ذہن میں رکھیں، بچوں کے دماغوں کے "taste buds" نہیں ہوتے...جو بھی چیز آپ دکھائیں گے، وہ ہر چیز کو بڑے آرام سے ایکسپٹ کرتے جائیں گے.... اگر تشدد اور اس قسم کی خرافات دکھائیں گے تو بچے بےحس ہو جائیں گے... میں نہیں سمجھتی کے ایک مخصوص عمر سے پہلے، جب تک ماں باپ بچوں کو reality اور fantasy کا فرق نہ سمجھا دیں اور بچے اچھی طرح سمجھ نہ جائیں، بچوں کو ٹی وی کے سپرد کرنا چاہئیے...
اگر آپ انٹرٹینمنٹ کا بہانہ بنا کر اپنے بچوں کو ٹی وی، انٹر نیٹ اور کارٹونز کی آغوش میں چھوڑتے ہیں تو ایک بات یاد رکھیں یہ بچوں کے ساتھ کھلی دشمنی ہے... اس طرح بچے کے اندر کی پرتجسس روح کہیں سو جاتی ہے... بچوں کے لئیے یہ دنیا ایک عجوبہ ہے، روز نئی چیز ایکسپلور کرتے ہیں، دیکھتے ہیں، پرکھتے ہیں...ان کے لئیے "انٹرٹینمنٹ" کا انتظام پہلے سے موجود ہے، بس انہیں اپنے بڑوں کی رہنمائی چاہئیے...انہیں بے بی اسٹیپس لے لے کر ہی بڑھنے دیا جائے تو اچھا ہے...عقلمندی یہی ہے کہ ان کو معصوم ہی رہنے دیا جائے، بچے ہی رہنے دیا جائے... جس عمر میں آپ کے بچے کو راہ چلتے ہوئے کنارے پر لگے کسی ننھے سے پھول کو بیٹھ کر غور سے دیکھنا چاہئیے، یہ سوچنا اور پوچھناچاہئیے کہ وہ جو کل دیکھا تھا وہ لال تھا اور یہ پیلا ہے، کیوں؟ یہ پوچھناچاہئیے یہ یہاں کیسے کھڑا ہے؟ یہ پہلے تو نہیں تھا آج یہاں کدھر سے آگیا؟اس عمر میں آپ کے بچے "رومانس"، "ایکشن"، "تھرل"، "فیری ٹیل" نامی خرافات نا صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ سیکھ بھی رہے ہیں. ہم لوگوں میں یہ common sense کیوں نہیں ہے کہ اگر "رومانس" "سیکھنے" کے لئیے 2، 3 سال کی عمر ہی قدرت کو منظور ہوتی تو پھر بلوغت کی عمر ڈیڑھ سال ہوتی اور آپ اپنے 3،4 سالہ بچوں کی شادیاں کر رہے ہوتے.... (یہ نکتہ ان تمام لوگوں کے لئیے جو سمجھتے کہ وہ بچوں کو اس قسم کےکارٹونز سے "سیکھا" رہے ہیں اور "تربیت" دےرہے ہیں، میرا ان سے سوال ہے کہ کیا آپ اپنے بچے کو 2، 3 سال کی یا 6، 7 سال کی عمر میں کیمسٹری سکھانے کے لئیے اسے کسی انتہائی بڑی اور اچھی کیمسٹری لیب میں بند کر دیں گے؟ یہ جانتے ہوئے کہ وہاں کتنے خطرناک کیمیکلز بھرے پڑے ہیں، اور آپ کے بچے کو پریکاشنز پڑھنا تک نہیں آتیں؟). ہم سب جانتے ہیں اور مانتے ہیں کہ بچے وہی کرتے ہیں جو دیکھتے ہیں...
ایک بار سوچیں جب بچہ ٹام کو جیری پر تشدد کرتے دیکھتا ہے، دیکھتا ہے کہ ٹام نے ہتھوڑا اٹھایا اور جیری پر دے مارا، لیکن کچھ دیر بعد جیری بالکل ٹھیک ٹھاک شرارتیں کرتا پھر رہا ہے تو بچے کو اس مخصوص تشدد بھرے عمل کی سنگینی تو نہ سمجھ میں آئی نا... اب اگر خدانخواستہ کسی دن وہ اپنے کسی دوست یا چھوٹے بہن بھائی کے ساتھ "پریکٹیکل" کر بیٹھے تو کیا بنے گا؟ نقصان کا ذمےدار کون ہو گا؟ آپ نے تو سوچ لیا کہ بچہ کچھ غلط کرےگا تو سمجھا دیں گے، لیکن کبھی یہ سوچا کہ اگر موقع ہی نہ ملا سمجھانے کا تو؟ آپ کا بچہ دیکھتا ہے کہ سپر ہیرو کھڑکی سے چھلانگ لگاتا ہے اور ہوواوں میں اڑتا پھرتا ہے، کتنا فیسینیٹنگ ہےنا یہ، اب جب وہ خود اماں کا لال دوپٹہ باندھے کھڑکی سے چھلانگ لگائے گا تو کیا بنے گا؟ کبھی غور کیا آپ نے کہ ڈزنی فلموں میں اکثریت ایسی ہےکہ ماں پہلے سے مر چکی ہے... کیوں؟ یہ سوچا کیا؟ کیونکہ مائیں گھر کو گھر بنائے رکھتی ہیں، بچوں کو باہر نہیں دیکھنا پڑتا توجہ کے لئیے، محبت کے لئیے، خصوصا بیٹیوں کو، کیونکہ ان کی بہترین سہیلیاں مائیں ہوتی ہیں... مگر بچے یہ بات نہیں سمجھتے.... 16،17 سال کی ڈزنی پرنسز کو گھر سے پہلا قدم نکالتے ہی خوابوں کا شہزادہ مل جاتا ہے...
آپ کی بچیاں کیا سیکھ رہی ہے؟ یہی کہ یہ جو گھر میں ایک مما نامی عورت ہے یہ جو مجھے باہرنہیں جانے دیتی، گھر میں رہنے کی، اجنیبیوں سے نہ ملنے کی نہ بات کرنے کی تلقین کرتی ہے تو یہ بالکل رپنزل کی سوتیلی ماں جیسی ہے، اور وہ تو فلم کی ولن تھی، وہ تو ایک بری عورت تھی... جب بچی دیکھتی ہے کہ میری ماں مجھے یہ کہہ رہی ہے کہ بٹیا گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں ہاتھ بٹاو وغیرہ تو وہ عورت سنڈریلا کی سوتیلی ماں جیسی لگنے لگتی ہے... جب بچی کو ایک شخص کہتا ہے کہ آو تمہیں دنیا گھما کر لاوں تو وہ اسے فلین رائیڈر (tangled فلم کا ہیرو، ایک چور اچکا) لگنے لگتا ہے...بچے معاشرے میں خوبصورت نقاب کے پیچھے چھپے گھناونے چہروں اور ان کی آنکھوں میں موجود گندے عزائم کو نہیں جانتے، آپ تو جانتے ہیں نا!.... کیوں نہ اس سب خرافات کی بجائے بچوں کو creattive learning کی طرف لایا جائے؟
انہیں اچھی اور مثبت باتیں سکھائی جائیں، ایسا لٹریچر پڑھنے کی عادت ڈالی جائے جو ان کی معصومیت کو برقرار رکھے اور انہیں معاشرے کا اچھا انسان بننے میں مدد دے؟ کیوں نہ انہیں physical activities میں مشغول رکھا جائے؟ مجھے یقین ہے اس کا جواب ہوگا کہ ماں باپ کے پاس وقت نہیں ہے... وہ کیسے کریں یہ سب؟ تو جناب ایک آخری بات اس متعلق.... اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہے تو ایسی معصوم اور پاک روحوں کو وہیں رہنے دیں جہاں سے وہ آئے، دھرتی پر پہلے ہی بہت غلاظت ہے، مزید ڈھیر مت لگائیں، خود کو بھی پریشانی ہو گی اوردوسروں کو بھی......
وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صرف کارٹونز ہی کیوں؟ ایک مخصوص پروگرام ہی کیوں بین کیا جائے؟ صرف بچوں پر ہی کیوں پابندی لگے وغیرہ، ان سے میرا ایک سوال ہے کہ اگر خدانخواستہ آپ کے گھر آگ لگ جائے، آگ بجھانے والا عملہ آنے میں تاخیر سے کام لے، تو آپ کیا کریں گے؟ یقینا ایک بالٹی اٹھائیں گے پانی لیں گے اور آگ بجھانے کی کوشش شروع کر دیں گے.... اب اگر ایسا ہو کہ ایک مجمع جمع ہو جائے وہاں اور آپ پر لعن طعن شروع کر دے اور کہے کہ جی ہم تو تمہارے اس عمل کےبہت خلاف ہیں... یہ کیا کیا؟ اس دیوار پر کیوں ڈالا؟ اس پر کیوں نہیں ڈالا؟ باقی آگ دیکھائی نہیں دیتی کیا؟ صرف ایک بالٹی سے کیا ہوگا؟ وغیرہ وغیرہ تو کیسا لگے گا آپ کو؟ کیا آپ چھوڑ کر بیٹھ جائیں گے؟ یہ جانتے ہوئے کہ اس گھر کےاندر آپ کا خاندان آپ کے بیوی بچے والدین یا اور رشتہ دار موجود ہیں، آپ انہیں جلنے دیں گے؟ نہیں نا؟ تو پھر اس معاملے میں کیوں؟ ہماری approch یہ کیوں نہیں ہے کہ ہاں یہ پروگرام بھی بین ہونا چاہئیے اور اس کے ساتھ دوسرے بھی جن کے ذریعے سے ہماری اقدار متاثر ہو رہی ہیں.....
کارٹونز کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ننھے منے دماغوں پر بہت جلدی اثر انداز ہوتے ہیں، ناصرف یہ بلکہ بہت چھوٹی عمر سے بچے وہ سب سیکھنا شروع کرتے ہیں جو کہ ان کی معصومیت کو تباہ کر دیتا ہے، ان کے دماغوں کو ماووف کردیتا ہے، وہ روبوٹ بنتے جاتے ہیں... پاکستانی میڈیا کے دوسرے بہت سے پروگرامز بھی قابل مذمت ہیں.... بہت آہستہ آہستہ ہماری نسلوں کو تباہی کی طرف لایا گیا ہے.... آج سے 15، 20 سال پرانا پروگرام اٹھائیے اور آج کےپروگرام سے اس کا موازنہ کیجیے... آپ کے سامنے حقیقت خودبخود کھل جائے گی....میڈیا کا ترقی کرنا، نئی ٹیکنالوجیز کا آنا اور تباہ کن مواد اور خرافات کا ایک مثبت موضوع بن جانا یہ دونوں بہت مختلف چیزیں ہیں... اپنے گھروں میں دیکھیے، روایات اور اخلاقیات کس موڑ پر ہیں؟ کیا ویسی ہی ہیں جیسے آپ کے باپ دادا کے دور میں تھیں؟ خدارا اس گرتے چلے جانےکو "ترقی" اور "آگے بڑھنا" مت کہئیے گا.چلیں پرائم ٹائم ڈراموں کی بات کرتے ہیں کیونکہ قوم کی ماووں اور بیٹیوں کا یہ پسندیدہ پروگرام ہوتا ہے، اب سے تقریبا 5 سال قبل ڈراموں کا موضوع نوجوان نسل اور ان کے درمیان پلنے والی محبت تھی، جس کا دشمن پورا زمانہ ہوتا ہے، مگر ڈرامے کے اختتام پر وہ "محبت" حاصل ہو جاتی تھی کیونکہ وہ پریم پنچھی بالکل صحیح تھے اور پورا زمانہ غلط.... اب موضوع تھوڑا آگے بڑھ چکا ہے...اب موضوع شادی شدہ افراد ہیں... پرائم ٹائم کے ڈراموں کو اٹھا کر دیکھیں صرف... 90% ڈراموں کا موضوع شادی شدہ افراد کی، بچے ہو جانے کے باوجود، ناکام ازدواجی زندگی ہے.... طلاق کا ہونا تو ایک بہت عام سی بات دکھائی جاتی ہے، اور پھر اس کے بعد خاتون یا حضرت کی دوسری شادی... کیا دیکھ رہے ہیں ہم؟ کیا سیکھ رہے ہیں ہم؟ کیا سیکھا رہے ہیں ہم؟
اس قسم کے ڈرامے دیکھانے کے بعد ہم روتے ہیں کہ معاشرے میں طلاق کی شرح کیوں بڑھ گئی؟ ہم پریشان ہوتے ہیں کہ ہماری بچیاں اپنے گھروں میں "خوش" نہیں، گھر "بس" نہیں رہے..... ایک وقت تھا ماں باپ بچیوں کو سیکھاتے تھے کہ "اب تمہارا جنازہ ہی نکلنا چاہئیے اس گھر سے" اوپر سے دیکھیں تو یہ جملہ بہت سخت لگتا ہے، ایسے لگتا ہے ماں باپ کے سینے میں تب پتھر ہوتے تھے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تب دل ہوتے تھے، احساس ہوتے تھے، فہم ہوتا تھا اوراب بس پتھر، وہ بھی شاید عقلوں پر.... تب اس جملے سے مراد یہ ہوتی تھی کہ بٹیا نباھنا.... جیسے بھی حالات ہوں، رشتے نباھنا.... اور بچیاں نباہ کرتی تھیں... سب کچھ سہتی تھیں.... مگر "گھر" بنا لیتی تھیں.... 5 سال بعد، 10 یا 20 سال بعد وہی سسرال ان بچیوں کے گن گاتا تھا.... اور اب.... اب شادی کے پہلے ماہ ہی بات طلاق تک پہنچتی ہے....اور میں نے ایسا دیکھا ہے، یہ مبالغہ آرائی نہیں....
خیر موضوع سے بہت ہٹ گئے مگر خدارا کچھ خیال کریں.... اپنی اقدار کا، اپنی روایات کا، خود کو اور اپنے اہل و عیال کو اس دنیا اور ہمیشہ کی دنیا والی آگ سے بچا لیں.... کچھ وقت نکالیں.... اور غور سے دیکھیں، نوٹ کریں، آپ کے بچے، آپ کےگھر والے، کیا دیکھ رہے ہیں، کیا سیکھ رہے ہیں؟ کہیں وہ انجانے میں تباہی کے راہی تو نہیں بنتے جا رہے..... تباہی بھی وہ جو صرف ایک فرد نہیں پوری نسلوں کو نگلتی جا رہی ہے.

ماہم احمد

صور من حیات الصحابہ اور سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ

ہمارے ننھیال کے گاؤں کی چھوٹی سی مسجد میں ایک الماری تھی... ایک دن اس میں سے پرانے مذہبی مجلے اور رسالے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک عربی کتاب ہاتھ لگی.... عربی کی جو تھوڑی بہت شد بد تھی... اس کے سہارے پہلے چند صفحات پڑھنے کی کوشش کی... پتا چلا کہ کتاب اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سوانح پہ مشتمل ہے.... مسجد میں اکیلا بیٹھا تھا ــــــــ پہلا باب سعید بن عامر جمحی رضی اللہ عنہ کے تذکار پہ مشتمل تھا ــــــــ پتا نہیں کتنی دیر میں وہاں بیٹھا روتا رہا.... کیا آدمی تھے سعید.... کیا مشکل مثالیں چھوڑ گئے... ہم اکیسویں صدی کے خواہشات کے اسیر ردی لوگ اور کہاں یہ ہیرے موتی.....
پھر سوچا کہ اس کتاب کا ترجمہ کروں... دو تین اصحاب کے تذکار ترجمہ کیے.... پھر کسی نے بتایا کہ اس کا ترجمہ شیخ محمود احمد غضنفر مرحوم کر چکے ہیں.... بعد میں شیخ سے بھی تفصیلی ملاقاتیں رہیں.... مگر اس کتاب کی پہلی قراءت میرے لیے آج بھی سرمایہ ہے.... اور روز حشر بھی ان شاءاللہ ہو گی.....
سوچتا ہوں کہ صرف تبرکاً اس کا ترجمہ کروں..... واللہ الموفق

اب اس کے پہلے باب کا ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں :

حمص والوں کا وفد لوٹا تو امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے لیے ایک ہزار دینار کی تھیلی بھجوائی..... کیونکہ حمص والوں نے اپنے اس گورنر کے فقر کی داستان امیر المومنین کو سنا دی تھی..
سعید رضی اللہ عنہ کو یہ دینار پہنچے تو فرمایا... انا للہ و انا الیہ راجعون
اہلیہ نے پوچھا... کیا ہوا؟... کیا امیرالمومنین وفات پا گئے؟
سعید نے کہا.... اس سے بھی بڑا معاملہ درپیش ہے
دوبارہ سوال کیا.... کیا مسلمانوں پر کوئی بڑی مصیبت آ پڑی ہے؟
فرمایا.... اس سے بھی بڑی مصیبت آ پڑی ہے
پوچھنے لگیں.... اس سے بڑی کیا مصیبت ہے... ہوا کیا ہے؟
فرمانے لگے.... دنیا میرے گھر آ گھسی ہے کہ میری آخرت کو برباد کر دے.... اور ہمیں فتنہ میں مبتلا کر دے..
اہلیہ کو دیناروں کی خبر نہ تھی.... کہنے لگیں کی دنیا گھس آئی ہے تو نکال باہر کیجیے
سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا... کیا اس سلسلے میں میری مدد کرو گی؟
انہوں نے کہا.... جی ضرور
سعید رضی اللہ عنہ نے دیناروں کی تھیلی ان کے حوالے کی.... کہ اسے مسلمانوں کے فقراء میں تقسیم کر دیجیے

فلک شیر

ایلیا ــــــــــ ایلین


شاید پہلے آسمان کے آس پاس، بادلوں کے پرّوں کی اوٹ میں ایک چھوٹا جزیرہ ہے ، جہاں صرف دیوی دیوتا بستے ہیں۔ یہ دیوی دیوتا اس جزیرے میں سکون اور مسرت کے تمام لوازمات کے ساتھ مطمئن زندگی گزارتے ہیں ۔۔۔۔۔ انہیں ہر آزادی حاصل ہے ۔۔۔۔۔۔ ہاں ایک قید ہے، کہ زمین والوں سے تعلق قائم نہ کیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے آدم کو پابند کیا گیا تھا، کہ خوشہ گندم سے احتراز کرے گا۔

شاید اسی وجہ سے وہاں ایک تجسس ضرور ہے ، زمین کے بارے ، اس مٹی کی کشش کے بارے ۔ یہی وجہ ہے، کہ کبھی کبھارجزیرے کا کوئی باسی بغاوت پہ اتر آتا ہے اور زمین زادوں کے درمیان آ رہتا ہے۔ وہاں کی لذتیں چھوڑ کر یہاں کے آزار مول لے لیتا ہے۔صدیوں کا سیدھا راستہ چھوڑ چھاڑ کر جنگلوں صحراؤں کو جانے والی پگڈنڈی پہ آ نکلتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جیسے کوئی ستاروں کا سفر ترک کر کے ٹلہ جوگیاں کو جا نکلے اور جوگ لے لے ، کسی انگ بھبوت مسافر کے دامن سے لپٹ جائے یا گلیوں گلیوں گاتی بنجارن کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔عبادت کرواتے کرواتے شاید وہ تھک جاتے ہیں ، کہ اپنے ہی غلاموں کو معبود بنا لیتے ہیں ۔ شاید عقیدت اور خدائی کا سنگھاسن اب انہیں کانٹوں کا بستر لگنے لگتا ہے ، کہ خود زمین پہ اتر آتے ہیں ، کہ کوئی انہیں قدموں تلے روندے ، ان کی انا کو جھٹلائے، ان کی تذلیل کرے، ان کو چھوٹا کرے، ان کی کانٹ چھانٹ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبوبیت کا ہالہ انہیں محض حسین الجھن لگنے لگتا ہے ، سو وہ ہجر و فراق کے ہاتھوں سلجھنے کی خواہش لیے زمین زادوں کے پاس آ بیٹھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ سانپ اور خزانہ ۔۔۔۔ سوز اور ساز ۔۔۔۔۔۔۔۔ موت اور حیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درد
اوردوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف زمیں زادوں کے لیے لکھ دی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف زمیں زادوں کے لیے ۔

ایلیا انہی دیوتاؤں میں سے ایک تھا ۔۔۔۔۔ خود شکستگی پہ مائل ۔۔۔۔۔ آسمان کا مہاجر اور اسی سے جنگ پہ آمادہ ۔۔۔۔۔۔ اس جنگ کے لیے زمیں والوں کا لشکر ترتیب دیتا اور خیال ہی خیال میں صف آرائی کرواتا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ قائد لشکر کبھی میمنے سے آگے بڑھتا اور کبھی میسرے سے پلٹ کر مرکز میں بالوں کو لہراتا سب سے آگے دکھائی دیتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن پیچھے پلٹ کر دیکھتا، تو ایک سپاہی بھی نظر نہ آتا ۔

صاحبو! ایلیا وہ سورما تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو خود کو فتح کرنے کی جنگ میں اپنی شکست کا سامان کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ لحظہ لحظہ ۔۔۔۔۔ شعر شعر ۔۔۔۔عشق عشق ۔۔۔۔۔۔ نثر نثر ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر شہر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ملک ملک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آسمانی زمیں زاد ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایلیا!

ایلیا اس جزیرے میں مضطرب تھا ۔۔۔۔۔ سو امروہہ میں آن اترا ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں جی نہ لگا ، تو کراچی کو آ نکلا ۔۔۔۔۔۔۔ ہر حسین چہرہ ،خیال، شعر، نظریہ اور مجلس دیکھتے ہی اس کے اندر کا دیوتا جاگ اٹھتا اور وہ چہار سمت چھائی منافقت کے عین درمیان ہُو حق پہ اترآتا۔پھر وہ اگر مگر، کھلے چھپے، چونکہ چنانچہ اور تقدیس و تقیہ کا سہارا کسی صورت نہ لیتا تھا ۔اظہار سے اسے مطلب تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اظہارِ ادراک سے ۔۔۔۔۔۔۔ تفہیم اور استقرار و قیام اس مضطرب روح کا مسئلہ تھا ہی نہیں ۔وہ سمجھانے نہیں اترا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہی سمجھے جانے ۔ ترس کھانا اسے پسند تھا اور نہ ہی ترس کھایا جانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت تو کھلی کھلی ، نفرت تو بے طرح ۔
طے شدہ پیمانوں پہ پورا اترنے کا اسے کوئی شوق نہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک کے بعد ایک سے الجھتا رہا ۔۔۔۔۔۔ الجھ الجھ کر وہ ریشم کے اس گولے کی طرح ہو گیا، جس میں سے سرا تلاش کرنا ممکن نہیں رہتا ۔اگلے زمانوں میں پچھلے زمانوں کا آدمی ۔۔۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے زمانوں میں اگلے زمانوں کا آدمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ابھی طے ہونا باقی ہے ۔فلک شیر



Dead Poets Society -------------- مجلسِ شعرائے رفتہ (ایک فلم پہ تاثرات)

Dead Poets Society ----------مجلسِ شعرائے رفتہ
عزیزم عبدالسمیع ہمارے ارشد تلامذہ میں سے ہیں۔ سوال سے اُن کی محبت نے ان کے علم و معلومات کو یک رُخا نہیں رہنے دیا ۔علم کے تمام مصادر ومخارج تک رسائی کی وہ پیہم کوشش میں رہتے ہیں ۔ آج کل انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور میں زیرِ تعلیم ہیں ۔ دو ایک روز قبل انہوں نے ایک فلم دیکھنے کی طرف توجہ دلائی اور ساتھ ہی یہ بھی ، کہ اس پہ کچھ تبصرہ بھی کروں۔ فلم کا نام “Dead Poets Society”ہے اور 1989ءمیں بنی تھی۔  فلم دیکھنا ایک مشکل کام ہے، یعنی اڑھائی تین گھنٹے جم کر بیٹھنا اور اس دوران فوکس ایک جگہ رکھنا ---الا یہ کہ کہانی اتنی جاندار اور موضوع اتنا لگ ہو،کہ آپکو باندھ لے اور ہلنے نہ دے۔ خیر -- یہ فلم ہم نے دیکھ ہی ڈالی اور ایک دفعہ ایک صفحہ لکھ لیا تھا، کہ بجلی چلی گئی اور لکھا ہوا ضائع ہو گیا ۔ عبدالسمیع سے معذرت کی ،لیکن آج دوبارہ موقع ملنے پر کچھ لکھا ہی گیا--اور وہ پیش خدمت ہے۔
فلم کے انگریزی نام کا ترجمہ ہم نے 'مجلسِ شعرائے رفتہ'کیا ہے –جو تاثر نام سے قائم ہوتا ہے، کہانی اس سے کچھ مختلف ہے ۔مرکزی موضوع، ذیلی موضوعات، پبلک سکول کی روایتی فضا،جانداراداکاری، دیکھے بھالے کردار اور فلم سے لا شعوری طور پر سیکھی گئی چیزیں ---سب مل کر اسے  ایک قابلِ دید پیکج بناتے ہیں۔
یہ ایک امریکی پبلک سکول کی کہانی ہے—جو 'کیریر بوائز' تیار کرتا ہے اور اسی کی شہرت بھی رکھتا ہے۔والدین بھی اس پہ اسی وجہ سے فریفتہ ہیں اور انتظامیہ بھی اپنی اسی کامیابی پہ شاداں ہے۔سکول کا ماحول؛ روایتی نظم و ضبط—گاہے روح کو بوجھل کر دینے والے نظم و ضبط، سخت گیر نظام الاوقات،کلاسیکی تصور تعلیم   اور 'طے شدہ منازل کے حصول کے لیےطے شدہ ڈرلز ' کا مجموعہ ہے۔ اساتذہ اور طلباء کے درمیان 'خوف سے پھوٹنے والا احترام' زیادہ اور 'محبت سے جنم لینے والا اتباع'کم دکھائی دیتا ہے۔یہ منظرنامہ وہاں دہائیوں سے جاری ہے-- اس کی چھاپ بڑی گہری ہے –اور اسی کو ہی اس ادارے کی کامیابی کی کنجی بھی سمجھا جاتا ہے۔ایسے میں وہاں کیٹنگ نامی ،انگریزی کے ایک استاد وارد ہوتے ہیں ،جو اسی کالج کے پڑھے ہوئے اور کافی ذہین واقع ہوئے ہیں۔بچوں کو پڑھانے سکھانے کے لیے وہ غیر روایتی طریقے استعمال کرتے ہیں ۔ شاعری اور ادب کی وہ تعریفیں، جو نقاد لوگ اپنی موٹی موٹی کتابوں میں لکھ گئے ہیں –اُن کی بجائے وہ شعر وادب کو ایک زندہ، لطف اٹھانے کی چیزاور زندگی بدلنے والے مواد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ 'لفظ 'ان کے نزدیک محض امتحان میں کامیابی کا 'کھل جا سم سم'نہیں—یہ ایک زندہ تر چیز ہے، جو اثر پذیری میں کسی بھی اور زندہ چیز سے کم نہیں ہے -- یہ منزل بھی ہے اور نشانِ منزل بھی ۔
کیٹنگ اپنے طلباکو "Capri Diem"یعنی "حال کو گرفت میں لاؤ"کا درس دیتے ہیں—اپنے خوابوں کی قدر کرنے اور اُن کے لیے جینے کا درس دیتے ہیں۔ظاہر ہے، ایسی کوئی بھی سرگرمی ایک جامد روایات کے ادارے کے حکامِ بالا کو کسی طرح نہ بھائے گا –یہی کچھ کیٹنگ صاحب کے ساتھ ہوا ،انہیں ڈھکے چھپے الفاظ میں 'سمجھایا 'جانے لگا۔
اپنے زمانہ طالب علمی میں کیٹنگ نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر 'Dead Poets Society' بنائی تھی۔اس سوسائٹی کے ارکان شعرائے قدیم اور ادبائے سلف کے نثر اور نظم پارے جنگلوں ویرانوں میں جا کر پڑھتے اور اس سے زندگی، حرارت،یقین اور خوداعتمادی اخذ کرتے۔کیٹنگ نے اپنے طلباء کو اس سوسائٹی کو ازسرِ نو زندہ کرنے کا کہا۔طلباء کا ایک گروپ ، جو کیٹنگ کے پیغام سے متاثر تھے،وہ ایساکر گزرتا ہے۔یہ تجربہ اُن بچوں میں زدگی کو مختلف زاویہ نظر سے دیکھنے کی صلاحیت اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔کہانی اپنے اختتام کی طرف بڑھتی ہے –انہی بچوں میں سے ایک اداکاری کا بے حد شائق ہوتاہے ،لیکن اس کے والد اسے اپنی طے شدہ منزل کی طرف جانے کے لیے ہانکتے رہتے ہیں۔وہ بچہ پڑھائی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے –لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے اس خواب کی تکمیل بھی چاہتا ہے۔بالآخر اسے ایک ڈرامے میں مرکزی کردار نبھانے کا موقع مل جاتا ہے—جسے وہ انتہائی کامیابی سے نبھاتا ہے—لیکن اس کے والد عین اس کی پرفارمنس کے دوران اسی تھئیٹر میں آ ن پہنچتے ہیں اور اسے  گھر واپس لے جاتے ہیں۔بے بسی،غصے،خود کو نہ سمجھے جانے کے کرب اور اسی قبیل کے دیگر جذبات کے زیرِ اثر وہ بچہ اسی رات خود کُشی کر لیتا ہے –اس اکلوتے بھائی کی خود کُشی سکول میں بھونچال لے آتا ہے۔انتطامیہ کو موقع مل جاتا ہے اور وہ ڈیڈ پوئیٹس سوسائٹی کے ارکان کو ڈرا دھمکا کر کیٹنگ کے خلاف بیان لے لیتی ہے اور یوں کیٹنگ کو کالج سے نکال  دیا جاتا ہے۔
کالج سے نکلتے ہوئے پرنسپل کے چیخنے چلانے کے باوجود بچے کیٹنگ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے بنچوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسے "O Captain , May Captain"کہہ کر رُخصت کرتے ہیں۔
یہ تو تھی مختصر کہانی –اس پہ کچھ تاثرات بھی دیکھ لیجیے:
٭کوئی بھی نثر پارہ، شعر،کہانی یا ڈرامہ –مکمل سچ یا پورا جھوٹ نہیں ہوتا۔سو کسی بھی چیز کاتاثر قبول کرنے اور اس سے نتائج  اخذ کرنے کے دوران اس بات کو شعور ی سطح پہ رکھنا لازم ہے۔
٭ ہر پچھلی نسل اپنے خوف تو اگلی نسل کو زبردستی ہدیہ کرتی ہے –مگر ساتھ ہی ساتھ امید اورخواب کے وہ روزن دیکھنے سے اس سے بھی زیاددہ سختی سے روکتی ہے ،جنہیں وہ بھی دیکھنا چاہتے تھے ،لیکن روک دیے گیے۔ بچوں کو ان کےعصر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور  اسلاف کی روایات سے آشنائی دےکر ایک کامیاب اور متوازن شخصیت کی تعمیر ایک مشکل کام ہے۔کسی نسل کی کامیابی اسی میں ہے، کہ وہ اپنے سے اگلی نسل کے ہاتھ پاؤں باندھنے اور مادر پدر آزاد چھوڑنے کے درمیان کا راستہ اختیار کرے۔یہ رستہ مشقت،قربانی اور پیہم جہد کا راستہ ہے—اسی لیے ہر نسل اسے اگلی نسل کے لیے چھوڑ دیتی ہے—بالعموم ۔
٭ادنیٰ استاد طالب علم کے پاس پہلے سے موجود علم و عمل کو بھی برباد کردیتا ہے—اوسط استاد طالب علم کو محض امتحان کے لیے تیار کرتا ہے –جب  کہ اعلیٰ استا د اسے زندگی کے لیے تیار کرتا ہے،اُسے زندہ کر دیتاہے،زاویہ ہائے نظر تبدیل کرتاہے—خوابوں کے لیے مسلسل جہد کا درس نہیں دیتا –اُس کے لیے اس کی شخصیت کو ڈھال دیتا ہے ، تبدیل کر دیتا ہے—اسے خبر بھی نہیں ہوتی اور وہ کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے –کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے۔
٭اُستاد کو یہ شرف تو بہرحال حاصل ہے،کہ کسی بھی قوم کی آئندہ نسل کی تعمیر کی اولین ذمہ داری ، اسی کے سپرد رہے گی۔اُسے انسانی وسائل ،خام مال کی شکل میں ہر سال وافر مہیا کیے جاتے ہیں—اب یہ اس پہ ہے،کہ  وہ اُن کو کیسے برتتا ہے اور کس حد تک زندہ،متحرک،صاحبانِ علم و عمل اور اپنے زمانے سے بھی آگے بڑھ کر آئندہ زمانوں کے چیلنجز سے نپٹنے کے قابل انسان تعمیر کرتا ہے۔ وہ وسائل کی کمی کا بہانہ بنا سکتا ہے—زمانے کی ناقدری اور دنیاوی مال و متاع سے کمتر حصے کا گلہ کر سکتا ہے –لیکن وہ اس حقیقت اور عظیم حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا—کہ زمانہ ہر برس اپنے جگر کے ٹکڑے اس کے دامن میں لا ڈالتا ہے –جس سے قیمتی متاع بہرحال کوئی اور نہیں ہوتی—تو اب وہ ادنیٰ رہتا ہے—اوسط بنتا ہے—یا اعلیٰ دائرہ میں داخل ہو کر میلہ لوٹ لیتا ہے—اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی—یہ چوائس بہرحال اُسی کی ہے ۔
٭والدین اور اساتذہ کو بچے کے سامنے کیریر کا بُت اتنا بڑا کر کے نہیں دکھانا چاہیے، کہ بچے میں موجود متنوع صلاحیتیں –جو خدا نے یقینا اسے برتنے کے لیے نوازی ہیں –اُن کا قتلِ عام ہو جائے ۔
اور آخر میں یہ کہ –اگر آپ اس فلم کا ملخص مُرشد اقبالؒ کے الفاظ میں سننا چاہیں –تو وہ کچھ یوں ہے:
عاقبت منزلِ ما، وادی خاموشان استحالیہ غلغلہ در گنبد افلاک انداز
آخر ہماری منزل ایک شہرِ خاموشاں ہے ---------تو آج آسمانوں کے اس گنبد تلے جتنا غوغا کر سکتے ہو، کر لوفلک شیر 

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ــــــــــــ بہزاد لکھنوی



اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائےمنزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے، کشتی کا خدا خود حافظ ہےمشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے
اے شمع! قسم پروانوں کی، اتنا تو مری خاطر کرنااس وقت بھڑک کر گُل ہونا جب بانیِ محفل آ جائے
اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوںاس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تم پہ مرا دل آ جائے
اے راہبرِ کامل! چلنے کو تیار تو ہوں بس یاد رہےاس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے
اس عشق میں جاں کو کھونا ہے، ماتم کرنا ہے، رونا ہےمیں جانتا ہوں جو ہونا ہے، پر کیا کروں جب دل آ جائے
ہاں یاد مجھے تم کر لینا، آواز مجھے تم دے لینااس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے
اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشمِ کرم، ہونے دے ستم بالائے ستممیں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم، مشکل پسِ مشکل آ جائے
اے برقِ تجلّی کیا تُو نے مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے؟میں طُور نہیں جو جل جاؤں، جو چاہے مقابل آ جائے
اے دل کی لگی! چل یونھی سہی، چلتا تو ہوں ان کی محفل میںاس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے
بہزاد لکھنوی

عشق اور محبت میں فرق

عرض کچھ یوں ہے، کہ زندگی، انسان ، خدا ، زمانے اور کائنات کے باہم تعلق کی مانند محبّت بھی ایسا اسرار ہے، جسے علم کی ہر شاخ کے لوگوں نے مخصوص تناظر میں دیکھا اور جانا ہے............
اہلِ شریعت (اسلامی) کے ہاں اصل متون میں محبّت لفظ ملتا ہے.........عشق نہیں.......اور اُس کا مفہوم کامل اطاعت اور خود سپُردگی کاہے........
اہلِ طریقت یعنی راہِ سلُوک کے مسافر،جو دنیا کے ہر کلچر اور مذہب کے ماننے والے ہوتے ہیں ..........اُن کے ہاں عشق کا لفظ زیادہ مستعمل ہے....اور ظاہر ہے کہ ایشیائی زبانوں میں..........
تیسری طرف اگر اِن دونوں الفاظ کا اہلِ سُخن یعنی شعراء کے ہاں استعمال دیکھا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ اِن کا استعمال اساتذہ تک کے ہاں قریب قریب ایک ہی معنی میں ہوتا چلا آیا ہے...........فراق کا شعر دیکھیے:ترکِ محبّت کرنے والو، کون بڑا جگ جیت لیا​عشق سے پہلے کے دن سوچو، کون ایسا سُکھ ہوتا تھا​
اس کی یہ تقسیم میرے انتہائی محدودعلم کے مطابق اقبال سے زیادہ واضح ہونا شروع ہوئی، اور میرے خیال میں کچھ زیادہ لمبا چلی نہیں..........کیونکہ اہلِ طریقت محبّت کے مدارج گنواتے ہیں، جومحبّت سے چلتے چلتے خُلّت (مقامِ ابراہیمیّ)تک جاتے ہیں اور اقبال اس فلسفہ حیات سے ایک حد تک متاثر بھی تھے......البتہ باقی ادبی روایات اور تحاریک نے اِس کا کوئی لمبا چوڑا اثر قبول نہیں کیا...........​
اگر ہم محبّت کو زمین اور عشق کو آسمان سے جوڑیں، تو معاملہ پھر بھی نہیں سلجھتا..........​
اگر ہم محبّت کو محض کارِ طفلاں قرار دیں...........اور عشق کو اِس سے بے حد آگے کی چیز قرار دیں، تو میری دانست میں معاملہ پھر بھی کچھ زیادہ آگے نہیں بڑھتا........کیونکہ حدیثِ پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم میں خود آنجناب اپنی محبّت کو ایمان کے اہم ترین متقاضیات میں سے قرار دیتے ہیں..........آپ صرف اِسی ایک مثال سے معاملے کو سمجھ سکتے ہیں،کہ محبّت اور عشق میں کوئی میلوں کی تفاوت ہر گز نہیں............آج بھی اہل عرب اعلیٰ ترین محبّت یعنی کسی دوسرے سے محض خدا کے لیے محبت کا اظہار ’’انی احبک فی اللہ‘‘ کہہ کر کرتے ہیں.............اور یہی جذبہ برصغیر پاک و ہند میں عشق کے نام سے زیادہ معروف ہے............​
سراج اورنگ آبادی کا شعر ہے، کہ​وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی، لیا درس نسخہ عشق کا​کہ کتاب عقل کی طاق میں ، جیوں دھری تھی تیوں دھری رہی​
سو اگر لامحالہ یہ تقسیم ضروری ہو، تو یوں کہہ لیتے ہیں کہ محبّت ’’شعور و حواس کے ساتھ کسی ذات کے ساتھ وابستگی ‘‘...................جب کہ عشق ’’عقل کی کتاب طاق میں رکھ کر اُس ذات سے وابستگی‘‘.........اسی کو شاید مغربی علماء crimson loveبھی کہتے ہیں.........اور اِس کے ساتھ دیگر platonic lovesکے حقدار تو متعدد ہوتے ہیں............اعزہ و اقارب وغیرہ وغیرہ​
اور اردو ادب میں ذرا اس اعلیٰ ترین وابستگی اور کامل ترین اطاعت و تسلیم کا نمونہ یہ شعر دیکھیے .........شاید یہی عشق ہے:​دور بیٹھا غبارِ میر اُس سے​عشق بن یہ ادب نہیں آتا​
اب اگر یہ بات چل ہی نکلی ہے، تو اِس موضوع کے میرے چند انتہائی پسندیدہ اشعار بھی سنتے جائیے:​اختر الایمان کا شعر ہے...........الوہی عشق کی طرف بہت عمدہ اشارہ ہے:​
بِنائے عشق ترا حُسن ہی نہیں اے جان​وہ ایک شعلہ جو عریاں نہیں ہے،وہ بھی ہے​
اور رئیس فروغ کا یہ شعر:​عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے​ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے​
اور آخر میں اطہر نفیس کا یہ شعر غالباً محبّت سے عشق کا سفر بیان کرتا ہے:​عشق فسانہ تھا جب تک، اپنے بھی بہت افسانے تھے​عشق صداقت ہوتے ہوتے کتنا کم احوال ہوا​

فلک شیر

ــــــــــــــــــــــمندرجہ بالا تحریر ایک فورم پہ اسی موضوع کی بحث میں ایک نشست میں لکھا گیاــــــــــــــــــــــــــ​​​

عامر مرزا ــــــــ عمل مرزا

ایک خوبصورت آدمی کے سینے میں دل بھی خوبصورت ہو اور اسے مامور بھی خوبصورتی کی تخلیق پہ کر دیا جائے ــــــــ ساتھ ہی اسے یہ لگے کہ میرے ذمے دوسروں میں چھپی خوبصورتی اجاگر کرنا بھی ہے ـــــــ تو آپ اس شخص کو بلا جھجک عامر مرزا کہہ سکتے ہیں۔
موصوف ہمارے محترم زبیر مرزا بھائی کے برادر خورد ہیں ـــــــــ مگر ان کا کہنا ہے اور شاید بجا بھی، کہ لگتے یہ بڑے ہیں ۔ کلے ٹھلے کے بلند قامت آدمی ہیں اور چاروں کھونٹ کھلے بھی۔ کسی مضمون میں بند نہیں ، جس طرف چل پڑو، آپ کو اکثر ایک متوازن رائے کے ساتھ پہلے سے ہی اس میدان میں موجود ملیں گے۔ پیشہ ور ڈیزائنر ہیں اور اس ڈسپلن کی تدریس کراچی کی معروف ترین سرکاری اور نجی جامعات (یقین کیجیے، اردو میں یونیورسٹی کو جامعہ کہتے ہیں)  میں پڑھا رہے ہیں اور انتظامی ذمہ داریاں ھبی ادا کرتے رہے ہیں ، بلکہ ان کے بقول تو بھگتاتے رہے ہیں ـــــــــ کیونکہ ان کا ماننا ہے، کہ تدریس ہی وہ عمل ہے، جس سے اپنے نظریات اور آئیڈیلز کی تکمیل کے سفر کے لیے وہ ایندھن پاتے ہیں اور دوسروں میں اسے منتقل بھی کرتے ہیں ۔ 

"عمل"  کے نام سے ایک خواب آگے بڑھا رہے ہیں ـــــــــ اور خواب وہی ہے ، انسنی معاشروں میں خیر بانٹنے، عدل اور توازن کے قیام اور استقرار کا خواب ـــــــ آسانیاں بانٹنے اور خیر کی چابی بننے کے اس سفر میں ان کی پچھلی اور آئندہ نسل، دونوں ان کے شریک کار ہیں ۔ اس سلسلہ میں ہم ان کے لیے دعا گو ہیں ۔

عرصے سے کراچی میں مقیم ہیں ، گو کہ ہمارے گرائیں ہیں اور پنڈوری نام کے گاؤں سے متعلق ہیں ، جو ہمارے گاؤں کے قریب ہی ہے۔ اس دفعہ چند روز کے لیے گاؤں آئے، تو تین دنوں میں ان سے دو تفصلی ملاقاتیں ہوئیں ــــــــ سماج، مذہب، ایوولیوشن سے ریولولیوشن، تدریس، جمالیات، سماجی انصاف، سیاست ، مشترکات، مختلفات، پیرنٹنگ، دیسی ولائتی ــــ سب پہ بات ہوئی ــــــــ آوارہ گردی بھی کی تھوڑی سی ــــ شہر سے دور ایک ہوٹل پہ چائے در چائے ـــــــــــ امرتیاں بھی کھائیں ـــــرات ٹھنڈ میں موٹر سائیکل پہ سواری کا ایڈونچر بھی رہاـــــــ کتاب کا تحفہ بھی وصولا ــــــ کچھ چیزیں مستقبل کے لیے سوچیں بھی مل کر "حیطہ عمل " میں لانے کی ــــــ مختصر یہ کہ ایک خواب دیکھنے والا آدمی دوسرے آدرش وادی سے ملے، تو جیسے مناظر دیکھنے کو اور باتیں سننے کو مل سکتی ہیں ، وہ ان صحبتوں میں بھی تھیں۔ 
جلال اور جمال کا مظہر عامر مرزا ہمیں اپنا اسیر کر گئے، امید ہے آئندہ بھی شفقت جاری رکھیں گے ۔

وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

ایک قریبی عزیز فوج میں ڈاکٹر تھے ـــــــ اور جماعت اسلامی کے رکن بھی ـــــ انتہائی متقی اور بھلے آدمی ـــــــ نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پہ حملہ کیا ـــ تو وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے امریکہ کی مدد اور تعاون کے فیصلہ سے دلبرداشتہ ہوئے اور افواج سے استعفا دے دیا ـــــــــــ بعد ازاں غالباً وہ اسی جذبہ کے تحت ایسے لوگوں کے قریب ہوتے گئے ، جو شریعت اسلامی کی عملی تنفیذ و قیام کے داعی تھے ــــــ اور اس سلسلہ میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں افواج سے برسر پیکار تھے ـــــــــ اسی شک میں ایک دن ڈاکٹر صاحب اور ان کے بڑے بیٹے کو خفیہ اداروں نے اٹھا لیا ـــــــــ بہت کوششوں کے باوجود ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی ــــــــــــ آج قید ہی میں انہوں نے جاں جانِ آفریں کے سپرد کی ـــــــــ اللہ اکبرسمجھ نہیں آتی ــــــــ اس بیوہ کا سامنا کیسے کروں گا ــــــــــ اسے یہ کیسے سمجھا پاؤں گا ، کہ ان کے خاوند کے قاتل کون ہیں !1) وہ سب علماء، سکالرز اور دانشور ، جنہوں نے اپنے کچے پکے نظریات کو جذبات کو تڑکا لگا کر نوجوانوں کے سامنے پیش کیا اور پھر اس کے لیے جان قربان کرنے کا درس دیا ۔2) وہ شخصیات اورادارے ، جنہوں نے قلیل المدت فوائد کے لیے طویل المدت خطرات مول لیے اور وہ زہر ہماری رگوں میں انڈیلا، جس کا تریاق خود ان کے پاس بھی نہ تھا3) وہ جنرل یا سویلین حکمران ، جو اقتدار کی طوالت کے لیے غیر ملکیوں کے مفادات کے سامنے سر جھکا کر اپنے ہمسایہ ممالک سے متعلق پالیسیاں ان کے احکام کے مطابق ترتیب دیتے رہے ہیں 4) وہ اسلامی جماعات ، جو اپنے سیاسی چہروں کو صرف اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں ور یوں مخلص نوجوانوں کو خود سے متنفر ہو کر عسکریت کے دامن میں پناہ لینے کا سبب بنتی رہی ہیں ۔میں تو بچپن سے پاک فوج میں جانے کے لیے ترسا کرتا تھا ـــــــــــــــ حتی کہ انٹرمیڈیٹ کے بعد تحریری امتحان پاس کیا، لیکن میڈیکل ٹیسٹ میں آگے نہ جا سکا ــــــ اس پر میں اس قدر افسردہ ہوا، کہ اس کے بعد کبھی دل سے کسی کام کے لیے کوشش ہی نہ کی ، اس روز میں فورٹریس سے یادگار پیدل واپس آیا تھا ـــــ افواج پاکستان میرا رومانس تھا ـــــــ اور مذہبی طبقات سے قربت بھی ہمیشہ سے رہی تھی۔
دل دکھی ہے ــــــــ بہت دکھی ہے ــــــــــــــ ان مراحل سے کتنے گزرے، کتنے گزر ررہے ہیں اور کتنے ابھی گزریں گے ـــــــــــــ کون اس کا ذمہ دار ہے ـــــــــ کون اس کا بوجھ روز قیامت اپنے کندھوں پہ اٹھائے گا ـــــــــــ علماء، سیاستدان، جنرل یا ہم سب؟

ارشادات غامدیہ ـــــــــــــــــــایک جائزہ

ارشادات غامدیہ ـــــــــــــــــــایک جائزہجناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اس ویڈیو میں "اسلامی دہشت گردی"سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ، اس پہ 
اس طالب علم نے چند سطریں لکھیں ہیں ، جو پیش خدمت ہیں۔
غامدی صاحب فرما رہے ہیں ، کہ مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردیکے جو واقعات سامنے آ رہے ہیں ، یہ فکری گمراہی 
کا نتیجہ ہیں اور اس کی وجہ مدارس اور مذہبی شخصیات کی طرف سے سکھائی پڑھائی جانے والی چار باتیں ہیں :
1)دنیا بھر میں جہاں شرک اور ارتداد ہے، اس کی سزا قتل ہےــــــــــــ اور اس سزا کا نفاذ ہمارے ذمہ ہے
2)حکومت کا حق صرف مسلمانوں کو ہے ـــــــــــاور غیر مسلموں کی کوئی بھی حکومت جائز حکومت نہیں ہے ــــــــہمیں جب بھی موقع ملے گا، ہم اسے ان سے چھین لیں گے
3)نیشن سٹیٹس (پاکستان ، سعودی عرب، ترکی ،انڈونیشیا وغیرہ) کفریہ ریاستیں ہیں ۔ ان کو شرعی بنیاد فراہم نہیں ہے
4)خلافت اسلامیہ کا قیام فرض ہے اور مسلمانوں کی الگ الگ ریاستیں اور حکومتیں مطلوب و مستحسن نہیں ہیں ۔
اب ذرا نمبر وار ان پہ مختصر ترین الفاظ میں تبصرہ ہو جائے۔
1)غامدی صاحب کو یہ کس نے کہہ دیا، کہ ہر مدرسہ یا مذہبی مفکر کھلے یا چھپے یہ سکھاتا ہے ، کہ دنیا میں جہاں کہیں ، 
شرک یا بالخصوص ارتداد ہے ، اس کی سزا موت ہے اور اس سزا کے نفاز کا ذمہ دار وہ مدرسہ یا عالم ہے ۔ اس سلسلہ میں 
غامدی صاحب کی لاعلمی بتاتی ہے، کہ ان کے "جوابی بیانیے"میں کتنی جان ہے اور اس کی علمی و فکری حیثیت کیا ہے۔
2) غامدی صاحب کو اہل اسلام کے اس خیال، کہ حکومت مسلمانوں کا حق ہے، پہ تو شدید اعتراض ہے ــــــــلیکن اسی کرہ 
ارضی کے لمحہ موجود کے "اصلی تے وڈے حاکم"کی اسی خواہش ــــــــبلکہ پرزور اور پر اصرار خواہش تو نظر نہ آتی 
ہوگی ـــــــــــ وہ اصلی حاکم ، جو اپنی اس خواہش کو فرمان امروز کا درجہ دیتے ہیں اور اس کے رستے میں آنے والے ہر 
کہ و مہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے اور پتھر کے دور تک پہنچا دینے کا کھلے عام اعلان فرماتے ہیں ۔ اور ان کی اس 
خواہش کے سامنے صرف مسلم ہی نہیں ، جو کوئی بھی کھرا ہونے کا خوہاں ہے یا رہا ہے ، اس سے ان کا رویہ اور سلوک 
یہی رہا ہے ۔ غامدی صاحب سیاسی مسائل ، معاشی بدمعاشیوں اور اپنے کلچر کو دوسروں کے گلے میں زبردستی منڈھنے 
سمیت بہت سی وجوہات میں سے ایک یاد رکھتے اور پورے وثوق سے بیان بھی فرماتے ہیں ــــــــــــــــــاور باقی سب ؟؟؟
3)یہ کہنا ، کہ نیشن سٹیٹس پہ تمام مدارس اور مذہبی زعماء کا یہی نکتہ نظر ہے ــــــــــــــایک گمراہ کن سویپنگ سٹیٹمنٹ 
ہے ــــــــــــ اب آتے ہیں اس طرف، کہ خلافت کے اس تصور سے کسی کو کیا مسئلہ ہے ــــــــــــــــتو بھائی نیٹو نامی اتحاد 
بنانے والوں سے بھی کبھی آپ نے پوچھا، کہ تمہارے منہ میں کتنے دانت ہیں ــــــــــــــــ کس کے خلاف اتنی تیاریاں ہیں 
ـــــــــــــ کیوں تمہارا سکہ ایک اور سرحدیں معدوم ہیں ؟
غامدی صاحب! سر ریت میں دینے سے طوفان گزر نہیں جاتے ــــــــــــــ مغرب کو خوش کرنے کی دھن میں ہم کہاں تک 
چلے جائیں ـــــــــــوہ کریں ، تو "معاشی ناہمواریوں کا حل تلاش کرنے کی کوشش"اور ہم کریں ۔ تو "خلافت اسلامیہ "کا 
ہوا!!!
اب یہ بھی سن لیں ، کہ مسلم ممالک کی اکثریت ، بشمول علماء و مذہبی قیادت ـــــــــیہ بات بخوبی سمجھتی ہے، کہ مسلم 
زمینیں محفوظ رہنی چاہییں ـــــــــوہاں کسی قسم کی عسکریت ان سرزمینوں کو کمزور کرنے کا سبب بنے گی۔ شیخ اسامہؒ 
کے دنیا کے مختلف علاقوں کی جہادی قیادتوں کو ایسے اشارے ملتے رہے، جن میں قاعدہ تنظیم کی مسلم سر زمینوں میں 
عسکری کارروائیاں کرنے کی غلطی سے اجتناب کا مشورہ تھا۔ تو بھائی! یہ پاکستان، مصر، ترکی، انڈونیشیا اہل اسلام کی 
سرزمینیں ہیں ـــــــــــ ان کا تحفظ ہمارے ذمے ہے ــــــاللہ نے توفیق دی، تو مل جل کر بھی بسر کریں گے ــــــــــابھی انہیں 
کفر کی سرزمینیں کہنا بعض لوگوں کے شذوذ میں شامل ہے ـــــــــــالبتہ ان سرزمینوں میں اہل ہوا کے بنائے ہوئے ایسے 
قوانین، جو شرع اللہ سے ٹکراتے ہیں ، اس کے لیے آئینی اور پرامن جدوجہد پہ تمام مذہبی حلقوں کا یقین اور عمل ہے۔ ایسے 
میں آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں، کہ نیشن سٹیٹس سے متعلق تمام اہل اسلام پر تشدد رویہ پالتے ہیں ؟؟
4)خلافت اسلامیہ سے متعلق کچھ بات تو اوپری پوائینٹ میں ہو گئی ـــــــــ کچھ یہاں
اسلامی حکومت کیسے قائم ہو ــــــــــــیہ ایک سوال ہے، جس کا جواب مختلف اہل علم نے اپنی تحاریر اور امت کے جید 
لوگوں نے انفرادی اور اجتماعی عمل سے مختلف صدیوں میں دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ کہنا، کہ یہ قطعاً مطلوب نہیں ہے 
ــــــــــــایک جھوٹ ہے ــــــ اور یہ کہنا، کہ اس سے کم تر ایک لمحے کے لیے بھی قابل برداشت نہیں ـــــــــــــایک جذباتی 
بیان
غامدی صاحب کے اس سارے جوابی بیانیے اور نظام فکر کی جو بنیاد ، یہ فقیر قلم کار سمجھ پایا ہے، وہ یہی ہے ، کہ اسلام 
، بلکہ کوئی بھی مذہب "فرد" کا مسئلہ ہے، ریاست کا نہیں ــــــــــــــ تو اس بات کو چھپانے کی آپ کو کیا ضرورت 
ہےـــــــــــــــدوسری طرف آپ کے مسلم بھائیوں کا یہ خیال ہے، کہ یہ فرد کا بھی معاملہ ہے اور ریاست کا بھی !!!
آپ سے ویسے یہ سوال ہےــــــــــــکہ مسلمانوں کو جوابی بیانیے کی نصیحت فرماتے ہوئے آپ کو کبھی خیال آیا، کہ اپنی 
دانشورانہ صلاحیتوں سے "مغرب کے نیک لوگوں"کو ان کی "نیکیوں"سے باز رہنے کا بھی کوئی حل اور طریقہ سمجھا دیں

والی اللہ المشتکی
فلک شیر

بدلتی ہوئی دنیا میں مسجد کا کردار ــــــــــــــــــــچند معروضات (قسط دوم)

آئیے ، تھوڑے سے شرو ع کریں: قدم اٹھانے والے سے آسمان والے کا دعوا ہے ـــــــــــــکہ رستے ہم سجھائیں گے ــــــاور آسان بھی کریں گے۔ طریقِ نبویﷺ کی پیروی کےساتھ ــــــــتخلیقیقت اور فطرت سلیم اس سلسلہ میں آپ کی انتہائی  مددگار ہوں گی۔سوچیے ــــــــــــــاوپر کے نکات اور ہماری ذمہ داریوں کے بارے میں خوب سوچیے ـــــــرستے رزق میں ملیں گے اور چلنا آسان تر ہو گا۔یہاں ہم  ایسے چند اقدامات کا تذکرہ کریں گےـــــــ جو اس سلسلہ میں اہل مسجد کو اپنا کردار ادا کرنے میں تیار کریں گے اور مواقع پیدا کریں گے۔ان میں سے کچھ چیزیں مختلف اہل علم نے اپنے مقالہ جات اور نصائح میں ذکر کی ہیں ــــــاور ـــــکچھ ہم عرض کر رہے ہیں ۔·       مسجد اللہ کا گھر ــــــاس کے کلام کی تدریس و تشہیر کا مرکزــــــاوپر سے دیکھ کر پڑھنا، حفظ کا اہتمام ــــترجمہ کی تدریس و تفہیم (مکمل نہیں ـــــتو منتخب نصاب کی)ـــــ حفظ و تفسیر اور ترجمہ و معلومات کے مقابلہ جات ــــیہ سب مسجد کا طرہ امتیاز ہونا چاہیے ـــــــاہل مسجد کو سوچنا چاہیے ، کہ لوگ اپنے نونہالوں کو اوپر بیان کیے گئے کاموں کے لیے مسجد میں بھیجنے کے بجائے "قاری صاحب" سے گھر ہی میں کیوں پڑھوانے لگے ؟
کیا اس محرومی ـــــــــظاہر ہے کمیونٹی کی ــــــکا کوئی تجزیہ اور تدارک ـــــاہل مسجد نے فرمانے کی کوشش کی؟ـــــــــــــــــــنہیں کی، تو یہ کرنے کا وقت ہے ـــــاور مسجد کے ذمہ اہم ترین کاموں میں سے سر فہرست بھی۔اس میں ناکامی سے آپ نہ صرف اپنے ہاتھ سے ایک مؤثر ترین ہتھیار خود ہی نیچے رکھ دیں گے ـــــ بلکہ قرآن کو خدانخواستہ "ٹیوشن"لی گئی کتب میں سے ایک کا درجہ نوجوان کے ذہن میں بٹھا دیں گے ــــاوور ظاہر ہے ، اس کا کوئی سدباب کل آپ نہ کر پائیں گے، جب وہ نوجوان معاشرے کے عملی دھاروں میں سے کسی ایک میں کچھ کر گزرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔قرآن سے محبت پیدا کرنا مسجد کا ایک بنیادی وظیفہ ہے ــــــــکیونکہ معلومات کے اس سیلاب میں اگر آپ نوجوان کو "الکتاب"سے آشنا نہ کروائیں گے ـــــتو کل اس سے توقعات باندھنا ایک لایعنی امر ہو گا ـــــاسلاف اسی لیے تو  فرمایا کرتے تھے :"تم اپنے بچوں کو قرآن سکھا دوــــــــــــــــــقرآن انہیں سب کچھ سکھا دے گا"ایک زندہ کتاب سے ایک زندہ ترتعلق ــــــــــــــــــــــ اے اہل مسجد !!ایک زندہ تر تعلق!!تو اے میرے عزیز اہل مسجد!چند بنیادی چیزوں پہ نظر دوڑا لیں ؟1.     مساجد میں متعین قراء کرام اور ائمہ حضرات کا طالب علموں سے تعلق خوف کا ہے یا محبت کا ــــــ یا ان دونوں کے درمیان درمیان کسی جذبے کا ــــــــــ یا پھر خدا نہ کرے ــــــوہی جو ـــــایک "استاد" کا کسی "چھوٹے"سے ہوتا ہے ۔2.     قرآنی عربی پڑھانے کے لیے ہماری مہارت اور طریقہ کار ــــــــــــ آج کے طالب علم کے دیگر زبانیں سیکھنے کے طریقہ سے کچھ میل کھاتا ہے؟ اگر نہیں ، تو کیا ہمیں اس سلسلہ میں لسانی مہارتوں اور دیگر معاونات کا استعمال کرنے کی طرف کچھ توجہ کرنے کی ضرورت ہے؟3.     ایک عجمی کے دل میں قرآن کی محبت کیسے پیدا کی جائے ـــــــــــــــشاید مضامین قرآن کی دلچسپ طریقہ سے پیش کاری (متعدد تحریری ،زبانی اور تکنیکی ذرائع سے)اس کا ایک ذریعہ ہےـــــــــــتو اس کی طرف کچھ توجہ کی جائے۔دیگر اہل علم سے اس ضمن میں تفصیل سے کلام کی درخواست کر رہا ہوں ۔4.     اوامر و نواہی کی تلخیص کر کے ابتدائی عمر ہی میں ذہن نشین اور بڑھتی عمر کے ساتھ دل نشین کروانے کی کوشش کی جائے۔یہ محض چند نکات برائے انگیخت ہیں ـــــــــــتاکہ اس سلسلہ میں دیگر اہل علم اپنے تجربات اور علم کی روشنی میں عملی اقدامات و تجاویز سامنے لائیں۔·       خطباتِ جمعہ اور وعظ و تذکیر کے لیے مقرر کیے گئے حضرات محض "بولنے"کی صلاحیت سے آگے بڑھ کر قیادت کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں ــــــــــــــاس سلسلہ میں اہل مساجد کو انتخاب خوب سوچ سمجھ کر فرمانا چاہیے۔ بہت سی جگہوں پہ دیکھا گیا ہے ، کہ خطیب کے انتخاب میں جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ، وہ خطابت کا جوہر ہوتا ہے ـــــــــــــــــشک نہیں، کہ یہ بھی اہم ہے، لیکن بات یہ ہے کہ اہم تر چیز تدین، علمی رسوخ ، قدیم و جدید پہ کسی حد تک یکساں نظر، فی زمانہ الحاد و تشکیک کے فتنوں سے نمٹنے اور ان کی ناکہ بندی کی استعداد، دین کو بطور ایک کُل عوام کو سمجھانے اور عمل کے ڈھانچے میں ڈھالنے کی جہد و صلاحیت ـــــآپ کا کہنا بجاــــکہ ایسے افراد کہاں سے لائے جائیں ـــــتو ہم اوپر عرض کر چکے ہیں ، کہ جب ہم اہل مسجد کو مخاطب کرتے ہیں ـــــتو اس میں کچھ دیگر گروہ اور افراد بھی آ تے ہیں ــــــجو یقیناً اس سب کو کرنے کی خاطر خواہ صلاحیت رکھتے ہیں ــــــدعا ہے، کہ خواہش بھی پیدا ہو جائے ۔·       دینی اجتماعات (محافل قراءت،مجالسِ نعت نبویﷺ، دروس قرآن و حدیث، تفہیم مسائل )کے انعقاد کے سلسلہ میں بے شک مساجد ایک اہم مرکز ہیں ــــــاور کسی نہ کسی شکل میں اپنا کردار ادا بھی کرتی ہیں ۔ کوشش البتہ یہاں بھی ہونا چاہیے، کہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایسے غیر روایتی پروگرام بھی ترتیب دیے جائیں، جو اپنی شباہت و ترتیب میں بے شک خالصتاً مذہبی نہ ہوں ــــــــــکتب کی نمائش اس کی ایک مثال ہے، جو مسجد کے روایتی تصور سے آگے بڑھ کر نمازی کے علاوہ "کتاب دوست"حلقوں کو آپ کے قریب کرنے میں معاون ہو سکتی ہے ۔ ذرا ذہن پہ زور دیجیے ــــــــــــــــیہیں بیٹھے بیٹھے ایسے کتنے ہی اجتماعات کے خاکے آپ کے ذہن میں ابھرنے لگے ہیں ۔·       خواتین ـــــــــمعاشرے کا وہ محترم طبقہ ہیں ، جو "ہمسایوں"اور سات سمندر پار کے"محسنوں"کے ثقافت اور آزادی کے نام پہ پھینکے گئے دل کش جال کی اسیرہو چکی ہیں ــــــــــــگو میں انہیں اس سلسلے کا اولین مجرم نہیں ٹھہراتا ـــــــتو اے میرے محترم اہل مسجد!
ان کی اس قید سے رہائی کا کل سامان جو ہم کر چکے ہیں ـــــوہ کیا ہے؟ سالانہ بنیادوں پہ رمضان کے چند دروس ــــــــمیلاد کی مروجہ محافلــــــنصیحت کے لیے چھپنے والے  چند مجلاتــــبس ـــــــبس؟؟ذرا دل تھام کر مجھے جواب دیجیے ـــــــجن  گودوں میں "مسلم"اور"مسلمین"کی پرورش ہو رہی ہوـــــاُن کو اس بے خدا تہذیب اور طرزِ حیات سے خبردار کر  کے راہِ حق کا مسافر بننے پہ قائل کرنے کے لیے اتنا کچھ کافی ہے؟؟یقیناً نہیں ــــــــــــــتو چلیے اتنے سے شروع کرتے ہیں 1.     خواتین کی صحت کے حوالہ سے ہلکے پھلکے معلوماتی طبی پروگرامات اور کیمپس2.     بچیوں ، بالخصوص نوعمر سکول کالج جانے والی بچیوں کے لیے ذہنی پختگی کا سامان ـــــــ مختصر قرآنی دورہ جات، فقہ و حدیث اور خواتین کے مخصوص مسائل کے حوالہ سے ان کی رہنمائی ،زناو نکاح کے فرق اور اس طرف رغبت دلانے والے عوامل کے نعم البدل کی فراہمی ــــــــــــ کرنے کے بنیادی کام ہیں ــــــــــکچھ اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے اہل مسجد کو ایک سے ایک نئے ڈھنگ اور معاشرے کو مقبول ایسے انداز اختیار کرنے کی بھی، جو شرع سے ٹکراتے نہ ہوں ۔3.     معاشرہ کو درکار مختلف پیشوں میں جن خواتین کی ضرورت ہے ــــــــــــــــوہ مطیع اور مسلم خواتین ہوں ، اس کا بندوبست میڈیا اور جدید تعلیم کے مراکز تو ہر گز نہ کریں گے ــــــــیہ تو ہے ہی اہل مسجد کا "مسئلہ"!! تو کیا وہ اپنی بچیوں کو خود سے دنیاوی تعلیم کے ان شعبوں میں آگے بڑھانے کے لیے کچھ کدوکاوش فرماتے ہیں ـــــــــــــــــ اگر جواب نہیں میں ہے، تو اہل مسجد کو اب جاگ جانا چاہیے ۔4.     "ماں " بننے کی سعادت حاصل کرنا بچیوں کے لیے نیا تجربہ ہوتا ہے ـــــــــــ اس حوالہ سے انہیں جدید خاندانی مسائل ، اسلام کو عورت سے مطلوب رویوں اور عام روزمرہ کے گھریلو کام کاج کو منظم انداز میں کرنے سمیٹنے کے حوالہ سے تربیت ــــــــــــــــــ کچھ توجہ اس طرف بھی دی جا سکتی ہے۔
اسی طرح مسجد اور معاشرے کے دیگر طبقات کے حوالہ سے مزید معروضات رفتہ رفتہ ہم یہاں پیش کرتے رہیں گے ان شاءاللہ

بدلتی ہوئی دنیا میں مسجد کا کردار ــــــــــــــــــــچند معروضات (قسط اوّل)



مسجد قرون اولیٰ میں  :طلوع اسلام کے بعد مسلمانوں کے قدم جس جس زمین پہ بھی پڑے، وہاں انہوں نے سب سے پہلے جو عمارت کھڑی کی ، وہ ان کی سجدہ گاہ تھی۔ مسلم اورسجدہ میں جو تعلق  ہے ، اس سے کوئی ذی شعور غافل و جاہل نہیں ہے۔   مسجدکو اِس سے پہلے لوگوں کی عبادت گاہوں سے یہ امتیاز حاصل ہوا، کہ اُن کے برعکس یہ ایک  زندہ عمارت تھی ، معاشرے کے سینے میں دھڑکتی ہوئی   ـــــــــ صاف خون سے پورے جسم کو سیراب کرتی اور آلودہ کو صفائی کے لیے واپس کھینچتی ۔یہی وجہ ہے، کہ محسن انسانیت ، سید وُلد آدم ؑ سیدنا حضرت محمد ﷺاس چیز کا ازحد التزام فرماتے ، کہ جہاں جہاں مسلمان موجود ہوں، وہاں مسجد تعمیر ہو اور سب وہاں نماز کے لیے وقت مقررہ پہ آ موجود ہوں ــــــچھوٹے بڑے،امیر غریب، مالک اورملازم، کسان اور سپاہی، غلام اور آقا،دور والے اور قریب والے ، مسافر اور مقیم، مصروف اور فارغ ــــــــــــ سب  ــــــ سب کلمہ گو کسی تفریق، رعایت اور سستی کے بغیر آوازہ صلاۃ اور ندائے فلاح بلند ہوتے ہی حاضر ہو جائیں ۔ اس امر سے سستی جناب پیغمبرﷺ کو کسی قیمت پہ گوارا نہ تھیــــــ وہ صحابی تو آپ کو یاد ہی ہوں گے، جنہوں نے بڑھاپے، نابینا پن، بے سہارا ہونے ،رستے کی وحشت،دوری اور سواری نہ ہونے کے متعدد عذر باری باری پیش کیے ـــــــــــــــ لیکن جواب میں حکم ملا، کہ اذان سنتے ہو، تو مسجد میں حاضر ہونا ہو گا ۔ اور پھر جناب رحمت عالم ﷺ کا نماز باجماعت کے لیے نہ آنے والوں کے گھروں کو جلانے تک کا ارادہ ظاہر فرمانا ـــــــ یہ سب سمجھنے، جاننے اور عمل کے لیے بہت کافی ہے ۔لیکن نماز اور مسجد کے ان فضائل و فرائض کا علم ہونے کے باوجود خالی صفیں اور اِن کے گرداگرد بسنے والے مسلمانوں کا کسی خاص قلبی تعلق کا عدم اظہار بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے، جن کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔
بدلے ہوئے حالات اور ان کا تقاضا:            پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی بعثت کو پندرہ سو برس ہونے کو آئے ہیں ۔ ان بے شمار بیتے شب وروز میں اہل اسلام نے عروج و زوال کی کیا کیا منازل نہیں دیکھ لیں ۔ عرب سے چین ، افریقہ سے یورپ تک ان کے بیٹے توحید کا پیغام اور عدل کی داستانیں چھوڑ آئے ۔ پھر وہ وقت بھی انہوں نے دیکھا، کہ الٰہی شرائع کی جو تنفیذ اُن حضرات کے ہاتھ چہار دانگ عالم میں ہوئی، وہ اپنے ہی گھروں تک میں اجنبی ہو کر رہ گئی ۔ آج کا عالم اسلام اس سلسلہ کی کس سٹیج پہ ہے، آپ اس سے واقف ہیں ۔ایسا کیوں ہے ــــــــ یہ ایک ملین ڈالر سوال ہے!! اس سوال کے بے شمار جوابات اور اپنے جوابات کے حق میں بیسیوں دلائل ہر گروہ، جماعت اور پارٹی کے پاس ہیں ـــــــــ اور بدقسمتی سے اپنی ان توجیہات کی نشرو اشاعت  بھی ان کے نزدیک افضل ترین اعمال میں  شمار  ہوتی ہے ۔ ایسے میں بہت سے اہل علم نے اس اہم موضوع پہ اپنے فکر وتخیل کے گھوڑے دوڑائے اور رشحات قلم ہمارے سامنے رکھے ہیں۔ اس اجتماعی زوال کا حل کیا ہوــــــــــ اس پر اگر غور کیا جاے، تو ایک بنیادی وجہ  ــــــــ مسجد کا کردار "متحرک" سے "غیر فعال" اور "زندہ" سے "نیم مردہ"   ہو جانا بھی  ہے ۔  آج کا مسلمان،  سائنسی ترقی کی بدولت مغرب سے مرعوب ہے ـــــ اور ایجادات سے مستفید ہونا چاہتا ہے ــــــ اس سے وہ کسی قیمت پہ ہاتھ نہیں دھونا چاہتا، خواہ اس استفادے کا ایک نتیجہ اُسے آیات و روایات سے دور کر دینا ــــاور  دوسرا مادیت پرستی کے اندھے کنویں میں گرا دینا ہی کیوں نہ ہو ۔آج کا مسلم نوجوان اپنے معاشرے میںـــــ"روحانی تسکین"کے اتنے مہیا کنندگان و دعویداران ـــــــموجود پاتا ہے ، کہ اُسے اس ضمن میں کسی "کمی" کا احساس ہی نہیں ہونے پاتا۔ ہیرو ورشپ کی حس کی تسکین کے لیے بھیــــ جسٹن بیبر، لائنل میسی اور پال واکر ـــــــ آ موجود ہوتے ہیں ۔ "انسانیت" اور "رواداری"کی مثالیںـــــــــــاُسے بالی ووڈ سے بکثرت مل جاتی ہیں ۔ایام منانے کی باری آئے توــــــــ اس سلسلہ میں فراوانی ہی فراوانی ہے ۔نسبتیں ، سلسلے اور زنجیریں کبھی باعثِ  فخر ہوتی تھیں ــــــــ اب "آزادی" ــــــــ "جیسے چاہے جینے "ــــــــــــاور "کھل کر جینے " کا دور ہے ۔
لیکن اے میرے محترم اسلام پسند بھائی!کیا یہ سب طعنے دے کر ـــــــــــاہل مسجد ـــــــــــــاس آہوئے حرم کو سُوئے حرم  واپسی پہ مجبور یا قائل کر سکتے ہیں !؟
مسجد کا جدید کردار!؟            یہ ہماری بدقسمتی ہے ، کہ آج ہم اہل مذہب کی اصطلاح اُن مسلمانوں کے لیے کر رہے ہیں ، جو عبادات کے نظام کی کسی نہ کسی حد تک پیروی کرتے ہیں ، مگر یہ حالات کا جبر ہے ، سوا س کے سوا چارہ نہیں ۔تو اہل مذہب نے ان حالات میں ـــــــــــجب کہ ایک وسیع تر کشمکش بے شمار محاذوں پہ جاری ہے§       اپنی تیاری کے لیے کیا سامان اور ہتھیا رجمع کیے ہوئے ہیں ؟§       اپنے انسانی وسائل (مربی ، ائمہ ،خطباء،منتظمین)کہاں سے لیے  ہیں اور اُن کی تربیت ــــ کہاں ، کیا اور کیسےـــــــ کی ہے؟§       ائمہ مساجد اور قراء وخطباءکو روایتی اسلوب سے ہٹ کر اور چلاؤ کام سے آگے نکل کر معاشرے میں اثرپذیر ہونے کی کس قدر مہارت،آزادی اور تربیت دی  ہے؟§       مسجد اور کمیونٹی کے درمیان تعلق صرف عبادت گاہ کا متعین  کیاہے ـــــــــــــــیاــــــــــــــــایک زندہ مرکزاور اس کے گرد گھومتے سیاروں کا؟§       دین کے بنیادی متون ـــــــــــقرآن وفرامین پیغمبرﷺ ـــــــضروری فقہیات اور منتخب فکری و تکنیکی اسباق  کوـــــــاپنی کمیونٹی کے چھوٹے بڑوں  اور مردوزن تک ایک یا دوسرے طریقے /رستے سے پہنچانے/سکھانے /عامل بنانے کے لیے کیا شعوری اور دلی کوششیں کی ہیں؟§        معاشرہ اگر لفظ "اسلام" کی "بیان شدہ تشریحات"سے خوف/ہچکچاہٹ میں مبتلا ہے ــــــــتو جن ناموں /اصطلاحات سے وہ مانوس ہےــــــــــاُنہیں استعمال کرنے کے مواقع سےفائدہ اٹھایا ہے؟§        شریعت کی بیان کردہ اصطلاحـــــ"علم"ــــــ کو اس کے اصل اور وسیع تر مفہوم ــــــیعنی ـــــفلاحِ دارین ــــ کے تناظر میں اپنی کمیونٹی کا حال اور مستقبل بنانے کے لیے کیا کوششیں کی ہیں؟
کیا یہ سب کچھ اہل مسجد کے بھی ذمہ ہے؟"دین سراسر خیرخواہی ہے " ــــــ اس فرمانِ پیغمبرﷺ کی سمجھ جن کو آ جائے ـــــــوہ گوشہ عافیت میں بیٹھ کر اردگرد پھیلی آگ کا تماشادیکھ ہی نہیں سکتے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا  ـــــــــــکہ اپنے جیسے انسانوں کو پروانوں کی مانند "شمعِ تہذیب"کی لو کا رزق ہوتے دیکھیں ـــــاور پھر دامنِ عافیت سمیٹ کر ایک محدود سے "روحانی تجربے  "تک خود کو محدود کر لیں ۔ اُن کے سامنے صرف اپنی فلاح کے لیے بھاگ دوڑ کرنا نہیں رہتا ـــــــــ انہیں سامنے اپنے اہل و عیال نظر آتے ہیں ــــــجنہیں اُس آگ سے بچانے کا حکم آسمان سے نازل ہو اہے ــــــجو ہر سالم و کامل کو مکسور و منشور کر دے گی ــــــجس کی ایک لپٹ اور بھبک ہی تکلیف کا ایسا باب کھول دے گی، کہ جس کا مداوا آسمان اور زمین میں کسی سے نہ ہو گا ۔ایسے حضرات و خواتین اہل و عیال کے بعد اعزہ و اقارب ، اہل محلہ اور اپنی بساط کے مطابق اگلے بڑے دائروں میں کام کے رستے تلاش کرتے ہیں اور آگے بڑھنے کے سوا اُن کو کچھ سوجھتا ہی نہیں ۔اب ایسے حالات میں ، کہ جب مسلم عوام بالعموم اور مسلم شباب بالخصوص اپنے "عبد"کے سٹیٹس اور "امت" کے تصور سے زیادہ مانوس نہیں ہیں ـــــــــــــکیا یہ اہل مسجد ـــــاور اُن تمام اربابِ حل و عقد (مقتدر علماء، زعمائے مدارس،جدید و قدیم پہ دسترس رکھنے والے اہل علم ، حکومتی عہدیداران، دینی جماعات ،طلباء تنظیمات)،جو مسجد اور اہل مسجد کے لیے آئیڈیل، شعوری لائحہ عمل اور لاشعوری رہنمائی ـــکا انتظام کرتے ہیں ــــــ کے ذمہ نہیں ہے، کہ اس سلسلہ میں اپنا کرنے کا کام پہچانیں ۔ اگر  کفر و عصیان سائنسی انداز میں آپ کی نئی نسل پہ حملہ آور ہے ـــــــــتو آپ بھی اس سلسلہ میں کچھ وقت سوچنے کے لیے نکالیں ـــــــــــخالی برا بھلا کہنے سے تو کچھ نہ ہو گا۔اور یہ کام آپ نہ کریں گے، تو کون کرے گا؟ـــــــــآسمان سے وحی کا سلسلہ منقطع ہوا ہے ، نصرت کا نہیں ــــــــــــــــشرط نیک نیتی ،علمی پختگی،داعیانہ بصیرت اور استقامت کے ساتھ اس میدان میں اترنا ہے ۔ (جاری ہے)



نیویں لوک نے جنے ـــــــــــــــــــــپنجابی غزل

پنجابی غزل

نیویں لوک نیں۔۔ جنے سارے اُچے کوٹھے ۔۔۔۔ پائی جاندے

اندروں اندری ۔۔لُٹ کے حاکمباہرو باہر ۔۔ ۔۔ گھلائی جاندے

کُھلیاں کرن نوں ۔۔محلاں اپنیاںساڈی ڈھاری۔۔ ڈھائی جاندے

کُرسی خاطر ۔۔مرگئے جیہڑےاوہ وی شہید ۔۔کہوائی جاندے

آپ نے سُندے۔۔ آنند بھیرویںسانوں بِین ۔۔۔۔ سُنائی جاندے

فلک شیر​

قصہ حاجی محمد ڈوگر کا (قسط دوم)

قصہ حاجی محمد  ڈوگر کا (قسط  دوم)
 چوپالوں، بیٹھکوں، ڈیروں اور اوطاقوں کے رزق میں ازل سے "قصہ"لکھ دیا گیا تھا۔قصہ، جس میں بات سے بات نکلتی ہے اور انسانی زندگیوں کے ایسے ایسے گوشے سامنے آتے ہیں ،کہ کسی کتاب میں  کہاں لکھے ہوں گے۔فی زمانہ بدلتے حالات،مقامات اور وسائل نے قصہ خوانی کے رنگ ڈھنگ اور انداز بدل کر رکھ دیے ہیں ۔ یہ قصہ جو میں بطور راوی آپ کی خدمت میں پیش کرنے جا رہا ہوں، یہ ایک استاد  اور شاگرد کی کہانی ہے ، واقعہ پہلی قسط "قصہ حاجی محمد ڈوگر ـــــ قسط اول"میں مذکور سیکرٹری بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور،حاجی محمد ڈوگر سے متعلق ہے، آئیے اُنہی کی زبانی سنتے ہیں :
"یہ آج سے کتنے ہی برس پہلے کی بات ہے، میں بھر پور زندگی گزار رہا تھا اور کسی قسم کی پریشانی مجھے لاحق نہ تھی۔ میٹھے پھلوں کے طباق کی طرح زندگی نے اپنی تمام مٹھاس میرے سامنے لا ڈھیر کی تھی۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ میں سوشل سرکلز میں ایک باہمت، توانا اور مستعد آدمی کے طور پر  بھی جانا جاتا تھا۔
ایک دن میں سو کر اٹھا، تو مجھے محسوس ہوا ، کہ میری آواز ٹھیک سے نہیں نکل رہی اور گلے میں کوئی مسئلہ ہے ۔ معمولی دوا دارُو کے بعد جب فرق نہ پڑا، تو مجھے پریشانی  لاحق ہوئی ۔ویسے ہی بیماری سے بندہ پریشان ہوتا ہےاور استاذ کے لیے تو اُس کا گلا خاص طور پر اہم ترین چیزوں میں سے ایک ہوتا ہے۔بہرحال میں ایک اچھے ہسپتال میں چلا گیا اور اپنا چیک اپ کروایا۔ڈاکٹروں نے تفصیلی معائنے کے بعد کچھ ٹیسٹ تجویز کیے، جو میں نے اچھی لیبارٹری سے کروا لیے۔ آواز تھی، کہ بیٹھتی ہی چلی جارہی تھی۔ اگلے دن جب ان ٹیسٹوں کی رپورٹ آئی، تو میری تو دنیا ایک دم اندھیر ہو گئی ۔ مجھےبتایا گیا، کہ مجھے گلے کا کینسر ہو گیا ہے۔ اس موذی مرض کا تو نام ہی مریض کو ختم کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے ۔ مجھے لگا، اب میرا کچھ نہیں ہونے والا اور میرا معاملہ ختم ہونے والا ہے۔
ڈاکٹروں نے مجھے ہسپتال میں داخل کر لیا اور یوں میں اپنی بھری پری دنیا سے اٹھ کر اسپتال کے بستر پہ ہمہ دم کم ہوتی آواز اور گلے کے کینسر کے ساتھ آن پڑا تھا۔ جیسے کوئی فوجی اباؤٹ ٹرن ہو لے اچانک، ایسے ہی ایک ایک سو اسی درجے کا موڑ آ گیا تھا میری زندگی میں ۔ چند دن ایسے ہی اسپتال میں پڑا رہا ، میرے اعصاب آہستہ آہستہ جواب دیتے جا رہے تھے۔دوسری یا تیسری رات میں بستر میں پڑا سوچ رہا تھا، کہ یہ کیا ہو گیا میرے ساتھ۔ آخرکس گناہ کی سزا مل رہی ہے مجھے!
جونہی یہ سوچ میرے ذہن میں آئی، میں سنجیدگی سے اس طرف سوچنے لگا، کہ زندگی میں مجھ سے آخر کون سی ایسی بڑی غلطی سرزد ہو ئی ہے، جس کا بدلہ مجھے اس ناگہانی آفت کی صورت میں دیکھنا پڑ  رہا ہے۔سوچتے سوچتے میرے ذہن میں ایک بجلی سی کوندی  اور میں نے خود کو لگی ڈرپس وغیرہ اتار کر ایک طرف کر دیں اور باہر کی سمت لپکا۔ تھوڑی ہی دیر میں ، میں اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا اور میری گاڑی شہر کے ایک معروف رہائشی علاقے کی سمت رواں دواں تھی۔
آپ سوچ رہے ہوں گے، کہ اسپتال سے فرار کا یہ واقعہ کسی فلم میں تو ہو سکتا ہے، حقیقت میں نہیں ۔ لیکن یہ حقیقت تھی، کہ بستر پہ لیٹے لیٹے مجھے اپنے  دورِ طالبعلمی کے ایام یاد آ گئے تھے ، جب میں پاکستان کی مشہور ترین جامعہ میں زیرِ تعلیم اور ایک طلباء تنظیم سے منسلک تھا۔ جوانی دیوانی کا دور دورہ  تھا اور رستے میں آنےوالی ہر چیز کوروند کر رکھ دینے کا جذبہ عروج پہ۔ ایسے میں طرہ یہ کہ جس طلباء تنظیم سے میں نے تعلق جوڑا تھا، اس کے متعلقین اپنے جوش و جذبے اور ولولہ انگیز مہما ت کے لیے معرف و مقبول تھے اور کسی حد تک اب بھی ہیں ۔
انہی ایام کے دوران ایک دن میں یونیورسٹی آیا، تو مجھے پتہ چلا، کہ میری تنظیم کے لوگوں کی کچھ اساتذہ سے تلخ کلامی ہوئی ہے اور ایک استاذ ،قریشی صاحب(فرضی نام) نے ہماری تنظیم کے مقامی ذمہ دار کو برا بھلا بھی کہا ہے اور شاید ایک آدھ گالی وغیرہ بھی دی ہے۔ یہ سُن کر میرا خون کھولنے لگا اور میں نے دیوانگی میں آؤ دیکھا نہ تاؤ اور  قریشی صاحب کو ڈھونڈنے لگا ـــــــــــــ کہ  انہوں نے میری تنظیم کے ذمہ دار کو برا بھلا کیسے کہہ ڈالا ۔ میرے ساتھیوں نے مجھے روکنے اور ٹھنڈا کرنے کی بھر پور کوشش کی ، لیکن مجھ پہ تو تنظیمی بھوت سوار تھا، میں کہاں رکنے والا تھا ۔ آخر جب قریشی صاحب مجھے مل گئے، تو میں نے کچھ سوچے سمجھے بغیر انہیں ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ قریشی صاحب تو جیسے زمین میں گڑ گئے ، کہ ایک طالب علم نے ان پہ ہاتھ ہی اٹھا دیا تھا، وہ بھی سب کے سامنے ۔اُن کا سارا مان، وقار اور عزت خاک ہی میں تو مل گئی تھی۔ قریشی صاحب کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ، اور مجھے انہوں نے صرف ایک جملہ ہی کہنے پہ اکتفا کیا:میرا کوئی بیٹا نہیں ہے ـــــــــــــــــــــــ اگر ہوتا، تو تم سے بدلہ لیتا
یاد رہے، کہ پروفیسر موصوف کی کوئی نرینہ اولاد نہٰن تھی، صرف بیٹیا ں ہی بیٹیاں تھیں۔ یہ واقعہ ہوا، وقت گزرا اور میرے سمیت دیگر لوگ بھی بھول بھال گئے ۔ لیکن آج بستر پہ لیٹے جب میں نے اپنی زندگی کی پچھلی  فلم چلائی، تاکہ اپنی غلطیاں ڈھونڈ سکوں، تو مجھے قریشی صاحب اور ان کے ساتھ کی گئی اپنی زیادتی یاد آ گئی۔ اور یہ تو اب آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں، کہ میری گاڑی کا رُخ انہی کی رہائش کی طرف تھا، کہ اُن سے تہِ دل سے معافی مانگ سکوں، شاید اسی سے میں کینسر جیسے موذی  مرض کے چنگل سے چھوٹ پاؤں۔ کیونکہ مسلمان یونے کی حیثیت سے ہمارا ایمان ہے، کہ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں ہماری پکڑ کر لیتا ہے اور مقصد ہمارے لیے آخرت میں آسانی کرنا ہوتا ہے اور حقوق العباد تو اس سلسلہ میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔
خیر ، میں  پروفیسر صاحب کی اس رہائش پہ پہنچا، جس کا مجھے آج سے کئی برس قبل تک پتہ تھا۔ سامنے وہ گھر آ یا، میں نے دروازے کی گھنٹی بجائی اور ایک صاحب باہر نکلے ۔ میں نے اُن سے قریشی صاحب سے متعلق پوچھا، انہوں نے مجھے جو جواب دیا، وہ جواب ایسا تھا، کہ میں بس گرنے ہی والا تھا ۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے ، کہ اس  نے مجھے کئی برس قبل قریشی صاحب کے اس دنیا سے چلے جانے کا بتایا تھا۔ میرا دل میرے بس میں نہ تھا۔ میں سوچ رہا تھا، کہ یہی سہارا تھا، اب قریشی صاحب کو کہاں سے ڈھونڈوں ، کہاں جاؤں، کیا کروں۔
تب مجھے ایک خیال آیا اور میں نے ان صاحب سے پوچھا، کہ ان کی بیٹیا ں بھی تو تھیں ، وہ کیا ہوئیں؟
انہوں نے  کہا، کہ وہ شادی شدہ ہیں اور ان میں سے ایک اسی گھر میں مقیم ہیں اور وہ اس خاتون کے خاوند ہیں۔ اس پر میری کچھ ڈھارس بندھی اور میں نے اُن صاحب سے درخواست کی، مجھے اُس محتر م خاتون سے ملوا دیں، کہ کچھ ضروری بات کرنا ہے ۔ وہ تھوڑے ہچکچائے، لیکن پھر تیار ہو گئے ۔ کچھ ہی لمحوں بعد ہم اندرونی نشست گاہ میں تھے ۔ وہ خاتون تشریف لائیں ، ان کے خاوند بھی وہیں بیٹھ گئے ۔ میں نے انہیں ساری کہانی سنائی ، اس واقعے سے لے کر آج رات تک کی ساری کہانی۔ اور پھر اُن سے کہا،کہ قریشی صاحب تو اس دنیا سے چلے گئے ، اب آپ ہی ان کی وارث ہیں۔ میں آپ سے معافی کا خواستگار ہوں ۔وہ خاتون اس عظیم آدمی کی بیٹی تھی، اُس نے کہا:
جو ہونا تھا، وہ تو ہو گیا، ابو بھی چلے گئے ، آپ اب بیمار ہیں ، میں آپ کو اُن کی طرف سے معاف کرتی ہوں
یہ سُن کر مجھے لگا، کہ میرے سینے کا بوجھ اتر گیا ہے، کچھ دیر میں وہاں رہا اور پھر اپنی گاڑی میں واپس اسپتال چلا آیا۔ ڈاکٹر اور نرسیں حیران تھیں ، کہ میں کہاں چلا گیا تھا ور خود ہی واپس بھی آ گیا ہوں ۔ میں نے انہیں کسی طرح مطمئن کر دیا۔میں خود کو روحانی طور پر بہتر محسوس کر رہا تھا۔
اگلا دن چڑھا، ڈاکٹروں نے دوپہر کو میرے کچھ اور ٹیسٹ لیے ۔ دوست احباب آئے اور دن یونہی گزر گیا ۔ رات گزری اور اگلا دن آن پہنچا۔ اس دوپہر کو ان ٹیسٹوں کی رپورٹ آئی، ڈاکٹر تقریباً دوڑتا ہوا میرے پاس آیا اور کہنے لگا، کہ آپ کی تو رپورٹس بالکل کلئیر آئی ہیں ۔ میری آواز بھی اس دن پہلے سے کچھ بہتر تھی۔ یہ سُن کر مجھے لگا، میں دنیا میں واپس آ گیا ہوں ۔ بہر حال اگلے چند دنوں  میں مزید ٹیسٹ ہوئے ، جو بالکل کلئیر تھے ۔ میری آواز معجزانہ طور پہ بالکل ٹھیک ہو گئی، پہلے کی طرح کڑک دار۔
اس واقعے نے میرا ایمان اُستاد اور شاگرد کے رشتے پہ ایسا قائم کیا ہے، کہ میں جہاں بھی جاتا ہوں، یہ بات سُنا کر بچوں اور بچیوں  کو بتاتا  ہوں  کہ ماں باپ اور اساتذہ کے سامنے ہاتھ تو بہت دور کی بات ہے ، آنکھ  اور خیال بھی بلند نہیں کرنا۔ ان کی اطاعت و عزت اور مان کر چلنے میں دنیا آخرت کی کامیابیاں تمہارے پاؤں چومیں گی۔اُن کے دامن سے چمٹے رہنے میں خیر ہی خیر ہے ۔اُن کے جوتے سیدھے کرنے والے بادشاہی کرتے ہیں ۔ہماری اسلامی روایات ہمیں یہی درس دیتی ہیں "
قصے کی روایت میری (فلک شیر) ہے ۔ دس ایک برس پہلے سنا تھا، شاید حافظہ کی کمزوری کے سبب کہیں کہیں واقعات تھوڑے بہت آگے پیچھے ہو گئے ہوں،لیکن سپرٹ  اور کردار وہی ہیں ، بعینہ ۔
حاجی صاحب کا قصہ آپ نے پڑھ لیا ، امید ہے آپ اسے آگے شئیر بھی کریں گے اور بچوں بچیوں کو خاص طور پہ پڑھوائیں گے ، شاید کسی دل میں یہ بھولا ہوا قصہ تازہ ہو جائے ۔

قصہ حاجی محمد ڈوگر کا ـــــــــــ قسط اول

قصہ حاجی محمد  ڈوگر کا ــــ(اول)
کوئی دس ایک برس ہوتے ہیں ۔  شیخوپورہ میں میرے ایک محترم بزرگ سکول چلاتے تھے۔ میں تازہ تازہ ایف ایس سی کے امتحانات سے فارغ ہوا تھااور ویہلا مصروف تھا۔ ایک دن انہوں نے مجھے سکول حاضر ہونے کا حکم دیا، جو میں نے آنکھیں بند کر کے قبول فرما لیا۔ چند ایک کلاسز انہوں نے میرے ذمہ لگا دیں، جن میں چند ایک ہی بچے پڑھنے والے تھے ۔ عموماً اس نواح میں بچے پڑھائی وغیرہ کو شغل میلے کے طور پر ہی ٹریٹ کرتے ہیں اور زیادہ تراپنی "سرداری"اور "ڈوگریت "کو  ہی مونچھوں کی طرح تیل وغیرہ لگا کر چمکاتے رہتے ہیں ۔ اس لیے کلاس میں زیادہ کام کاج ہوتا نہیں تھا۔
خیر،اسی اثناء میں ایک دن دفتر بیٹھے بیٹھے پتا چلا، کہ سکول کا لاہور بورڈ سے الحاق ہونا ہے اور اسی سلسلہ میں ایک آدھ روز میں کوئی چیکنگ ٹیم وارد ہونے والی ہے۔ میری جانے بلاـــــــــ کہ اس طرح کی ٹیموں سے کس طرح نپٹا جاتا ہے اور ان کے کیا کیا ناز نخرے اٹھانا ضروری ہوتا ہے ۔ مجھے یہ خبر بھی نہ تھی ،کہ اس سلسلہ میں کوئی "پری پول"قسم کی ملاقات میرے رشتے کے نانا جان لاہور تعلیمی بورڈ کے سیکرٹری صاحب سے فرما چکے ہیں ۔ اتنا البتہ مجھے پتا چل گیا  ،کہ لاہور بورڈ کے چئیرمین خواجہ ذکریا صاحب ہیں اور سیکرٹری صاحب کوئی حاجی محمد ڈوگر ہیں ۔ مجھے سمجھ آ گئی ، کہ برخوردار، یہ یقیناً وہی معاملہ ہے ، جس کا اشارہ مجھے ایک دن قبل نانا جان کا  معتمد شیخ انور دے چکا ہے ، یعنیڈوگر کو ملے ڈوگر ـــــــــــــکر کر لمبے ہاتھ
اگلا دن آیا، سکول پہنچنے پہ خبر ہوئی کہ ایک مفصل ضیافت کا انتظام فرمایا گیا ہے اور اسی سلسلہ میں شیخ انور صاحب بھر پور مصروف بھی پھر رہے ہیں ۔ میں نے حسب معمول اپنی کلاسز لیں ۔ سکول کے کلرک جناب بھٹی صاحب اپنے رجسٹر وغیرہ سیدھے پدھرے کر رہے تھے اور تما م عملہ گویا ایڑیو کے بل کھڑا مہمانوں کا انتظار کر رہا تھا۔میں دس ایک بجے کے قریب جب دفتر آیا، تو فون کی گھنٹی بجی ۔ دوسری طرف کوئی صاحب تھے ، جو اپنا تعارف اسی چیکنگ ٹیم کے نمائندے کے طور پہ کروا رہے تھے۔ان سے میرا مندرجہ ذیل مکالمہ ہوا ۔
نمائندہ : ہم مارکیٹ تک پہنچ گئے ہیں ۔ ہمیں رستہ نہیں مل رہا۔
فلک شیر: آپ مین گیٹ سے آگے آئیں، طوبیٰ مسجد سے دائیں ہو جائیں اور پھر بائیں ہو جائیں ، آگے ہمارا سکول ہے۔
نمائندہ:یار ہمیں سکول نہیں مل رہا، آپ لوگوں نے چیکنگ کروانی ہے یا نہیں ؟ جلدی سے کسی کو کمبوہ مارکیٹ بھیج دیں اور ہمیں ریسیو کریں ۔
فلک شیر: جناب میرے پاس کوئی اضافی بندہ نہیں ، کس کو بھیج دوں ، آپ کسی سے پوچھ لیں اور آ جائیں۔
(اس پر نمائندہ صاحب نے غصہ میں فون سیکرٹری لاہور بورڈ جناب حاجی محمد ڈوگر صاحب کو دیا، وہ غالباً کچھ غصہ میں گویا ہوئے)
حاجی صاحب: یار تمہیں پتہ ہے کچھ، تم لوگوں نے الحاق کروانا ہے یا نہیں؟
(اس پر میرا "جاٹ پن "جاگ اٹھا اور میں نے انہیں قومی و اخلاقی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے کہا )
فلک شیر: سر! آپ جس کام کے لیے نکلے ہیں ، یہ آپ کی ڈیوٹی ہے۔ آپ مجھ پہ احسان نہیں کر رہے۔ آپ کو پہنچنا ہے، رستہ پتا کریں اور آ جائیں ۔
اس کے ساتھ ہی فون بند ۔
تھوڑی ہی دیر میں کیا دیکھتا ہوں ، کہ مذکورہ ٹیم سرکاری گاڑی میں سکول کے مرکزی دروازے کے باہر کھڑی ہے اور زرخیز خاں خالص فوجی سلیوٹ مار کر انہیں ریسیو کر رہا ہے ۔ میرے رشتے کے محترم نانا جان نے باہر نکل کر ٹیم کا استقبال کیا اور انہیں دفتر میں لے آئے ۔ حاجی صاحب نے چھوٹتے ہی سوال کیا، کہ ان کا فون کس نے سنا تھا۔ یہ سنتے ہی میں باہر برآمدے کی طر ف کھسک لیا، کہ  بعض اوقات پسپائی ہی بہترین حکمت عملی ہوتی ہے  ۔
بہرحال تھوڑی دیر میں ٹیم نے سکول کا دورہ کیا، کاغذی کارروائی کی اور اس کے بعد پر تکلف کھانے سے دو دوہاتھ کیے، جس سے ہم اپنی روایتی جھجک کی وجہ سے محروم  رہے۔اب حاجی ڈوگر صاحب نے ظہر کی نماز ادا کرنا تھی، مجھے حکم ہوا کہ انتظام کروں ۔ میں حاجی صاحب کو لے کر پرنسپل آفس میں آ گیا، جہاں انہوں نے صبح کے فون والے واقعہ پہ کچھ خوشگوار جملے ارشاد فرمائے اور بات آئی گئی ہو گئی۔ نماز پڑھنے کے بعد انہوں نے ایک قصہ سنایا، جو مجھے آپ کو پیش کرنا تھا۔ لیکن تمہید کچھ طولانی ہو گئی اور قصہ رہ گیا۔ خیر اسے اگلی قسط تک اٹھا رکھتے ہیں ۔ اتنا ضرور بتا  دوں، کہ قصہ تب سے اب تک میرے دل پہ لکھا ہے اور شاید آپ کے بھی لکھا رہ جائے ـــــــــــــکہ بات ہی ایسی ہے

تصوف سے متعلق کچھ استفسارات ---------- جوابات درکار



بسم اللہ الرحمان الرحیم
السلام علیکم!
بندہ ایک عام مسلمان ہے، مدت العمر سے کچھ سوالات ذہن و قلب کو گھیرے رکھتے ہیں ،مختلف متون و شروح ان اشکالات کو رفع کرنے کے لیے پڑھنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔لیکن سچ جانیے، تو اطمینان قلبی نصیب نہیں ہو سکا۔ اس عدم اطمینان کی ایک وجہ تو مجھے معلوم ہے، وہ ہے گناہوں کا پہاڑ سا بوجھ اور دوسری یقیناً کم علمی ۔ بہر حال اس ضمن میں آپ کے درِ دولت سے امید ہے، کہ شافی و کافی جواب مرحمت فرمائیں گے۔
بعد اس مختصر تمہید کے، عرض ہے، کہ بندہ نے "قرآن و سنت کی اطاعت و فرماں برداری "اور "تمسک بالکتاب والسنۃ"کے علمی و فکری ماحول میں پرورش پائی ہے ۔گو کہ اب تک اپنی کوتاہ عملی اور اکثر اوقات سیہ کاریوں کے سبب آقا و مولا سیدنا محمدﷺ فداہ روحی و جسدی وابی وامی ،کے رستہ پہ چل نہیں پایا ہوں، لیکن آنے والے دنوں میں اللہ تعالیٰ سے امیدوار ہوں کہ وہ مجھے اس رستہ پہ چلا دے۔ وما ذالک علی اللہ بعزیز۔
چند سوالات ذیل میں درج ہوں اور اس امید ، بلکہ یقین کے ساتھ درج ہیں ، کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں ٹھیک ٹھیک جواب ارشاد فرمائیں گے اور حق کو حق لکھتے ہوئے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ رکھیں گے۔
1) احادیث میں مذکور "زہد"اور آج کل کے "تصوف"میں کیا باہم رشتہ ہے ۔ ایک ہی چیز ہیں ، ملتی جلتی ہیں ،یا ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ ہیں؟
2) سلاسل تصوف کا کوئی نقلی ثبوت؟
3) امہات الکتب میں اجمالاً یا صراحتاً تصوف کا کوئی تذکرہ یا اس کے جائز و مستحسن ہونے کا کوئی تذکرہ؟
4) صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین ؒیا تبع تابعینؒ کے ادوار میں تصوف کی اصطلاحات (قطب،غوث،ابدال،شیخ،تصور شیخ، فنا فی الشیخ،عالم ناسوت، عالم لاہوت ----- اور اسی نوع کی بے شمار دیگر اصطلاحات) کا کوئی تذکرہ یا وجود ؟
5) کیا بیعتِ تصوف ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے؟
6) اللہ کے نیک بندوں کی بےشمار کرامات ،جن کا تذکرہ کیا جاتا ہے،اِن کا عشر عشیر بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے متعلق نہیں ملتا، حالانکہ وہ امت کا افضل ترین گروہ تھے۔
7) فی زمانہ ایک عامی بیعت کرنے کے لیے کسی شیخ کا متلاشی ہو، تو وہ کیا شرائط تلاش کرے؟
8) کہا جاتا ہے، کہ تزکیہ نفس کے لیے تصوف کے کسی سلسلہ سے متعلق ہونا ضروری ہے، ہم جانتے ہیں، کہ اسماءو رجال کے فن کی کتب میں راویان ِ حدیث اور علاوہ ازیں چاروں ائمہ فقہ کے حالاتِ زندگی بھی درج ہیں ۔کیا وہ بھی کسی سلسلہ سے منسلک تھے، ایسا کسی کتاب میں درج ہے؟
9) دعاوی جو اہل تصوف اپنے سلاسل اور اوراد و اشغال کے نتیجے میں دیکھے جانے والے انوار و اسرارسے متعلق کیا کرتےہیں، ان کو پڑھ کر یہ خیال اس گناہگار کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے، کہ کسی صحابی سے بھی شائد ایک دفعہ بھی یہ منقول نہیں ۔جناب اس سلسلہ میں انصاف پر مبنی محاکمہ فرمائیں گے؟
10)تمام مسالک، جو اس وقت برصغیر پاک و ہند میں موجود ہیں، سوائے اہل الحدیث کے، سب کسی نہ کسی طرح تصوف کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور کسی نہ کسی حد تک بنظر استحسان دیکھتے ہیں ۔اسی طرح تقریباًتمام مسلم عسکری تنظیمات میں دیکھا گیا ہے، جو مختلف محاذوں پہ مسلمانوں کی سرزمینوں کی حفاظت یا آزادی کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔ اس بُعد پہ کچھ روشنی ڈالیں گے؟
11) اہلِ تصوف کے ہاں بالعموم یہ خیال پایا جاتا ہے، کہ "دنیا تو چھوڑ دی ہے، عقبٰی بھی چھوڑ دے"۔یعنی جزا و سزا کے خوف یا حرص سے اوپر اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ۔ جب کہ قرآن مجید میں کثرت سے اللہ تعالیٰ انذار و تبشیر سے کام لیتے ہیں اور اپنے انبیاء تک کو ان دونوں toolsکے مخاطب بناتے ہیں ۔
12)چند برس قبل مشرف حکومت نے "صوفی ازم"کے فروغ کے لیے تحریک شروع کی تھی، کیا اس کی وجہ یہ تو نہیں ، کہ یہ ایلگ دین ہے اور سب کو قابل قبول ہے، کہیں تصوف کے نام پہ، کہیں بھگتی کے نام پہ،کہیں زین ازم کے نام پہ؟
13)تین سال قبل کے ماہنامہ اجراء کراچی کی ایک اشاعت میں اسلامی تصوف کی جاپانی طریقت کے ساتھ تطبیق دی گئی تھی۔ دونوں میں حقیقتِ ازلی تک پہنچنے کی سات منازل مذکور تھیں۔ کیا ایسا تو نہیں کہ تصوف بذات خود "حقیقتِ ازلی"تک پہنچنے کی انسانی کوشش ہے اور جس خطہ ارض میں جو مذہب رائج ہوتا ہے، اس کی کچھ طیزیں یہ قبول کر لیتا ہے اور اپنی کچھ چیزیں اسے قبول کروا لیتا ہے؟
14)بالعموم دیکھا جائے ،تو مزارات ِ اولیاء کے گرد اس قدر غیر شرعی امور سرانجام پا ئے جاتے ہیں، کہ تقدس کا تصور ہی مشکل ہوتا ہے، اس کی وجہ کی طرف رہنمائی فرمائیں گے؟
15)اہل حدیث مکتبہ فکر تصوف کے قریب آنے کا بھی نہیں سوچتا، کیا آپ کے خیال میں وجہ ہٹ دھرمی ہے یا شرعی دلائل؟
آخر میں ایک بات ، کہ یہ تمام سوالات محض تحقیقِ حق کے لیے ہیں، قطعاً کسی مسلک یا سلسلہ کو نیچا ثابت کرنے کے لیے نہیں ۔ آپ سے درخواست ہے، کہ گناہگار کے لیے خاص دعا فرمائیں، کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کرے اور دنیا وآخرت میں ان کا ساتھ نصیب فرمائے ، جن سے وہ پاک ذات دنیاوی زندگی میں راضی ہے اور جن پر بعد از مرگ بھی انعام کرتی رہے گی۔ان سوالات کے جوابات کے بعد،اگر آپ اس سلسلہ میں کسی طرف مزید رہنمائی فرمانا چاہیں، تو بندہ شکرگزار ہو گا ۔
احقر العباد


فلک شیر چیمہumershabbir1982@gmail.com

Pages