عثمان جَگت پوری

افسانہ کیا ہے۔۔۔؟

افسانہ کیا ہے

افسانہ اردو ادب میں انگریزی اور فرانسیسی ادب سے آیا جو اب مختلف ادوار طے کرتا ہوا آج جدید شکل میں ہمارے سامنے ہے ۔افسانہ فارسی کا لفظ ہے لغوی اعتبارسے  جس کا مطلب جھوٹی کہانی ہے  ۔ لیکن ادبی اصطلاح میں افسانہ زندگی کے کسی ایک واقعے یا پہلو کی وہ خلّاقانہ اور فنی پیش کش ہے جو عموماً کہانی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ ایسی تحریر جس میں اختصار اور ایجاز بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ وحدتِ تاثر اس کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔ ناول زندگی کا کل اور افسانہ زندگی کا ایک جز پیش کرتا ہے۔ جبکہ ناول اور افسانے میں طوالت بھی ایک بنیادی فرق بھی ہے۔ اسی لیے  وقت کی پیش بندی کا  خیال رکھتے ہوئے افسانے کی یہ تعریف بھی  کی گئی  ہے کہ افسانہ وہ نثری صنف ہے جس کے مطالعہ پر کم سے کم آدھا گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ صرف  ہو

افسانہ کا دوسری ادبی اصناف سے فرق

فکشن  کا بنیادی جزو   کہانی ہے لہذا فکشن کے زمرے میں آنے والی ہر تخلیق میں کہانی ایک بنیادی عنصر  تصور  ہو گی  ۔داستان، ناول، ڈرامہ اور افسانہ بنیادی طور پر کہانی ہونے کے باوجود تکنیک کے اصول و قواعد کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔داستان میں تخیل اور تصور کی رنگینی، ڈرامے میں کوئی نہ کوئی کش مکش، ناول میں زندگی کی وسعت اور گہرائی مگر موضوعاتی   اکائی اور  وحددتِ  تاثر  یہ امتیازی اور انفرادی خصوصیت ہے جو افسانے میں پائی جاتی ہے۔

اردو افسانے کی امتیازی خصوصیات

محدودیت :افسانہ نگار انسانی زندگی کے صرف ایک گوشے کی جھلک دکھاتا ہے۔ اس کی توجہ زندگی کے صرف ایک پہلو پر مرکوز رہتی ہے۔ وہ اس ایک پہلو مختلف گوشوں کی وضاحت کر کے کہانی مکمل کرتا ہے لیکن یہ سب گوشے ایک جمالیاتی توازن کے ساتھ آپس میں مربوط ہونے چاہئیں تاکہ افسانے میں تاثر کی وحدت قائم رہے۔ اگر افسانہ نگار افسانے میں زندگی کے ایک سے زیادہ پہلووں کو دکھانے کی کوشش کرے گا تو اس سے نہ صرف وحدت تاثر مجروح ہو گی بلکہ پلاٹ میں کئی قسم کی فنی خرابیاں بھی پیدا ہو جائیں گی۔

اختصار :اختصار افسانے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ افسانہ نگار کو اس اختصار میں جامعیت پیدا کرنے کے لئے اشارے اور کنائے کی زبان استعمال کرنی پڑتی ہے۔ ان اشاروں پر غور کرنے سے زندگی کے مسائل پر سوچ بچار کرنے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے۔

وحدتِ  زمان و مکان :اتحاد زمان و مکاں بھی مختصر افسانے کی بنیادی خصوصیت ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ افسانے کے واقعات اور وقت میں مطابقت ہو۔ واقعات اور وقت میں عدم مطابقت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ افسانہ تضاد کاشکار ہوجائے گا۔

وحدتِ کردار: عمل کی مطابقت بھی افسانے کی ایک بہت بڑی خوبی ہے۔ ایک ہی کردار سے مختلف موقعوں پر متضاد قسم کے اعمال کا ظاہر ہونا بھی خلاف فطرت ہے۔ ایک ایسا کردار جس کی فطرت نیکی ہے، ایک وقت میں رحمدل اور دوسرے وقت میں ظالم نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح  بدفطرت  اور گھٹیا قسم کے کردار سے ایک وقت میں برائی اور دوسرے وقت میں نیکی ظاہر نہیں ہوسکتی ۔ گویا افسانے کے کرداروں کے افعال میں ان کی فطرت کے مطابق یکسانیت ہونی  چاہئے۔

موضوع کی عمدگی :افسانہ نگار کو موضود کے انتخاب میں بڑی احتیاط سے کام لینا  چاہئے۔ افسانے کا موضوع نیچرل، زندہ اور جاندار ہونا چاہئے تاکہ افسانہ نگار کو کہانی کے پلاٹ میں گردو پیش کے احوال اور معاشرتی مسائل کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کا موقع مل سکے۔

دلچسپی کا عنصر: دلچسپی ایک کامیاب افسانے کی بنیادی خصوصیت ہے۔ اگر افسانے کے موضوع اور پلاٹ کی دلچسپی کے ساتھ اسلوب بیان بھی موثر اور دلچسپ ہو تو کہانی کے اخلاقی اور تعمیری پہلو میں بھی شروع سے آخر تک ایک خاص قسم کی دلکشی قائم رہتی ہے۔

مربوط انداز :افسانے کی ایک نمایاں خصوصیت ربط ہے۔ افسانے کے واقعات کا آپس میں زنجیر کی کڑیوں کی طرح مربوط اور منسلک ہونا ضروری ہے۔ یہ ربط بڑے فطری انداز میں نمایاں ہونا  چاہئے۔

مشاہدہ :  مشاہدے کی گہرائی، انسانی نفسیات کا عمیق مطالعہ اور حقائق اشیاءمیں اتر جانے والی نگاہ نیز متوازن اور مرتب انداز فکر، افسانہ نگار کا قیمتی سرمایہ ہے۔

نظم و ضبط :افسانے کے پلاٹ میں نظم و ضبط اور موزوں ترتیب کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر افسانے کے واقعات اور کرداروں میں ایک متوازن ربط موجود ہو تو اسے منظم پلاٹ کہا جائے گا۔ کہانی کے واقعات اگر ربط اور ترتیب سے خالی ہوں تو ایسے پلاٹ کو غیر منظم پلاٹ کہا جائے گا۔ اگر افسانے میں ایک مرکزی کہانی کے ساتھ چند اور قصے بھی ایک خاص توازن اور ترتیب کے ساتھ مربوط ہوں تو اس قسم کے پلاٹ کو مرکب پلاٹ کہیں گے۔

کردارنگاری :ایک کامیاب افسانے میں کردار نگاری کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ افسانے کے کرداروں کو ہمارے گردوپیش چلتے پھرتے انسانوں کی خصوصیات اور اخلاق و عادات کا حامل ہونا چاہئے۔ اگر کردار مصنوعی ہوں گے تو قاری کو متاثر نہیں کرسکیں  گے۔ ایک کردار کو  بلاوجہ مثالی کردار دکھانا اور دوسرے کو بلا سبب اخلاق کی پستیوں میں دھکیل دینا بھی افسانے کی ایک بہت بڑی خامی ہے۔ جس طرح عام انسان عادات و اطوار میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اسی طرح افسانے کے کرداروں میں بھی یکسانیت نہیں ہونی  چاہئے۔ مثال کے طور پر ناپختہ نوجوانوں، پختہ کار اور جہاندیدہ بوڑھوں، عورتوں اور بچوں میں ان کی فطرت اور نفسیات کے اعتبار سے فرق دکھانا چاہئے۔

افسانے کا مثالی کردار بڑا معیاری اور عام انسانوں سے بلند ہونا چاہئے لیکن اسے اس قسم کے غیر فطری اور ماورائی اوصاف سے بھی متصف نہیں دکھانا چاہئے کہ وہ ایک مافوق الفطرت انسان بن کر رہ جائے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افسانے کی کامیابی کا  دارو مدار بالعموم مثالی کرداروں کی کامیاب کردار نگاری پر ہوتا ہے مگر چند ایسے ذیلی کردار جو افسانے کو اختتام تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں ان کی اہمیت بھی اپنی جگہ کچھ کم نہیں۔

منظر کشی :حالات و اقعات کی کامیاب منظر کشی افسانے کی بہت بڑی خصوصیت ہے۔ افسانہ نگار کو چاہئے کہ یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے افسانے کا پلاٹ مقامی ماحول سے مرتب کرے تاکہ واقعات کی تصویر کشی میں اس سے کوئی فروگزاشت نہ ہوجائے۔ بعض اوقات افسانے میں غیر ملکی ماحول کی عکاسی کرنا پڑتی ہے۔ اس مقصد کے لئے افسانہ نگار کو متعلقہ ملک کے باشندوں کی معاشرت، عادات و خصائل اور جغرافیائی ماحول سے پوری طرح باخبر ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس غرض کے لئے دوسرے ملکوں کی تہذیب و معاشرت اور جغرافیائی حالات کا مطالعہ از بس لازم ہے۔ اس سلسلے میں غیر ممالک کے لوگوں سے میل جول کے مواقع پیدا کرتے رہنا بھی مفید ہوسکتا ہے۔

مقصدیت :ادب برائے زندگی کے مصداق افسانے کا مقصد بہر صورت تعمیری ہونا چاہئے۔ اچھا فنکار وہ ہے جو اپنے قلم کو مقدس امانت سمجھے، اسے صحت مند معاشرتی اصلاح کے لئے وقف رکھے، اور موقع بموقع ملک کے سیاسی، سماجی، اخلاقی، معاشی اور تعلیمی مسائل پر رائے زنی کرتا رہے۔

افسانے کے مراحل اور اجزا: افسانے کے ظاہری اور معنوی خدوخال کی تریب، تشکیل اور تہذیب کے لئے افسانہ نگار کو بالعموم ذیل کے فکر مراحل میں سے گزرنا پڑتا ہے۔

موضوع کا انتخاب :زندگی ان گنت موضوعات میں بٹی ہوئی ہے اس لئے افسانے کے موضوعات بھی بے شمار ہیں۔ اگر افسانہ نگار کو قدرت کی طرف سے دل بیدار اور دیدئہ بینا عطا ہوا ہو تو موضوع کا انتخاب کوئی مشکل بات نہیں۔ یہ موضوع مناظر قدرت، جاندار اشیاہ، حیات انسانی کے مختلف جذباتی پہلووں، اس کی سماجی، سیاسی، اقتصادی اور تمدنی زندگی کے مختلف گوشوں سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ افسانہ نگار کو صرف وہی موضوع انتخاب کرنے چاہئیں جو اس کی افتاد طبع کے مطابق ہوں یا جن سے انہیں طبعی لگاو اور ذاتی دلچسپی ہو۔

عنوان :بعض اوقات افسانے کا عنوان ہیرو یا ہیروئن کے نام پر رکھا جاتا ہے۔ افسانے کے انجام کو بھی ایک حسین ترکیب کی صورت میں زیب عنوان بنالیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ افسانے کی سرخی قائم کرتے ہوئے موسم یا وقت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ کبھی پلاٹ کی مناسبت سے کسی شعر کے ایک مصرعے یا مصرعے کے ایک ٹکڑے کو بھی بطور عنوان کے لکھ دیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ افسانے کے مجموعی تاثر کو ذہن میں رکھ کر عنوان قائم کردیا جاتا ہے۔

تمہید :افسانے کے تمہیدی جملوں میں جادو کا اثر ہونا چاہئے تاکہ قاری ان ابتدائی جملوں سے پورے افسانے کے بارے میں ایک گہرا تاثر قبول کرے اور پورا افسانہ پڑھنے کے لئے مضطرب   ہوجائے۔ بعض اوقات افسانے کا آغاز کہانی کے کسی آخری یا درمیانی واقعہ سے کیا جاتا ہے۔ اس سے قاری میں تجسس کا جذبہ ابھرتا ہے۔ کسی مؤثر کردار کے تعارف سے بھی افسانے کا آغاز ہو سکتا ہے۔ کسی دلچسپ اور موثر مکالمے کو بھی افسانے کی تمہید بنایا جا سکتا ہے۔ ہر نوع افسانے کی تمہید ایسی موثر، جاندار اور مسحور کن ہونی چاہئے جسے پڑھ کر قاری کی آتش شوق بھڑک اٹھے۔

پلاٹ :افسانہ نگار خام مواد کو ترتیب دینے کے لئے واقعات کے ربط و تعلق کے مطابق کہانی کا جو ڈھانچہ تیار کرتا ہے اسے پلاٹ کہتے ہیں۔ افسانے کا پلاٹ ایسے احوال و واقعات اور تجربات سے مرتب کرنا چاہئے جو ہماری زندگی میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ زندگی کے روز مرہ واقعات میں کہانی کا چٹخارا اور جذباتی رنگ بھرنے کے لئے افسانہ نگاروں کو عبارت آرائی اور تصنع سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ ورنہ افسانے اور سپاٹ قسم کی واقعہ نگاری میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

مکالمے :افسانے کے مکالموں کا لب ولہجہ سادہ، فطری، برجستہ اور شگفتہ ہونا چاہئے۔ خوشی، غم، حیرت یا غیظ و غضب کے موقعوں پر لہجے کے آہنگ میں موقع و محل کے مطابق فرق کرنا لازم ہے۔ بچوں کا لہجہ معصوم اور سادہ، مردوں کا لہجہ موقع محل کے اعتبار سے جاندار، پختہ سنجیدہ اور بعض اوقات درشت، مگر تدبر آمیز، عورتوں کا لہجہ عام طور پر نرم و ملائم، اور شفقت آمیز ہونا چاہئے۔ افسانے میں باوقار سنجیدگی کی فضا کو قائم رکھنے کے لئے مکالموں میں تہذیب اور شائستگی کا پہلو نمایاں رکھنا چاہئے۔ کرداروں کا بازاری قسم کے متبذل اور غیر شریفانہ لب و لہجے سے مجتنب رہنا ضروری ہے۔ ایسی ظرافت جو ابتذال کی حدوں سے دور رہے، افسانے کو ناگوار قسم کی سنجیدگی سے محفوظ رکھتی ہے۔

کشمکش (Crisis) :افسانے میں ایک منزل ایسی بھی آتی ہے جب کہانی بعض پیچیدہ مسائل کے گرد گھومتی ہے۔ اس منزل میں افسانہ نگار کو کرداروں  کی سیرت کے صحیح خدوخال نمایاں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس پیچیدہ مقام کو افسانے کی اصطلاح میں کشمکش (Crisis) کہتے ہیں۔

نقطئہ عروج (Climax) :کشمکش کی منزل سے گزر کر کہانی کے واقعات نقطئہ عروج (Climax) کی فضا میں پہنچ جاتے ہیں اور قاری اس سوچ میں پڑ جاتا   ہے کہ نہ جانے اب کیا ہو گا۔ اس موقع پر انجام بالکل غیر یقینی سا ہوتا ہے، اس لئے وہ بڑی بیتابی سے کسی فیصلہ کن موڑ کا منتظر ہوتا ہے۔

اختتامِ افسانہ :افسانے کے اختتام پر کشمکش اور تصادم کی فضا آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے اور افسانہ قاری کے ذہن پر کوئی طربیہ، حزنیہ  یا حیران کن اضطرابی کیفیت چھوڑ کر اپنے انجام کو پہنچ جا ئے۔ افسانے کا انجام کچھ ایسا   فطری  انداز میں ہونا چاہئے کہ قارئین کے دل یہ محسوس کریں کہ کہانی کا یہ انجام بڑا مناسب اور برمحل ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور انجام ممکن ہی نہیں تھا۔

افسانہ کی اقسام : افسانہ نگار تو تخلیقی سطح پر افسانہ لکھ دیتا ہے ۔ لیکن بعد میں کسی نقاد کی جانب سے افسانہ کا تجزیہ ہی افسانہ کی قسم کا تعین کرتا ہے۔ چنانچہ   تنقید نگاروں نے افسانہ کی تین بنیادی قسمیں متعین کی ہیں ۔

تجریدی افسانہ (Abstract Story

علامتی  افسانہ    (Symbolic Story )

مختصر افسانہ  (Short Story)

 

یہ ساری تفصیل افسانہ کی فنی ساخت اور اجزائے  ترکیبی بیان کرنے کے لیے درج کی ہے تاکہ لکھاری اس صنف کے تمام تخلیقی مطالب سے آشنائی حاصل کر سکے   ناکہ  اسے لمبی چوڑی فنی مباحث میں الجھا کر اسے تخلیقی عمل سے دور  کیا جائے ۔لہذا  اس بحث کا اختتام محمد حسن عسکری صاحب کے اس حوصلہ   آفزاء  قول  سے کرتے ہیں ” تنقید نگاروں کے دو گروہ ب ہیں ۔ ایک وہ جو افسانے میں ‘کہانی’ کے ہونے کو لازم سمجھتا ہے اور دوسرا وہ جس نے افسانے کی تعریف فرانس کے مشہور افسانہ نگار کے افسانوں کو بنیاد بنا کر کی ہے اور جس کے تحت افسانہ وہ ہوتا ہے، جس میں کہانی کو بہت سلیقے سے لکھا جاتا ہے اور اختتام پر کہانی قاری کو حیرت زدہ کردیتی ہے۔  حالانکہ      افسانہ ایک ایسی عجیب و غریب چیز ہے جسے ادب کی ایک علیحدہ صنف تو مان لیا گیا ہے مگر اس کے بنیادی اصول ابھی تک طے نہیں ہوسکے، اسی لیے طرح طرح کے نظریات افسانہ نگاروں میں افسانے سے متعلق پائے جاتے ہیں۔ افسانے کا میدان اتنا وسیع ہے کہ افسانہ نگار کو تجربے کی پوری آزادی حاصل ہے۔ افسانہ نگار پر وہ پابندیاں عائد نہیں ہوتیں جو دوسری قسم کے لکھنے والوں پر عائد ہوتی ہیں اور میرے خیال میں یہ آزادی ہی اس صنف کی جان ہے”

ماخذ

محمد حسن عسکری صاحب کا مضمون “افسانے کی شعریات”، مکالمہ، ہم عصر اردو افسانہ نمبر۔1، کراچی

محمد احمد کا مضمون” اردو افسانے کا ارتقائی جائزہ”  اُردو محفل  فورم

ویکیپیڈیا   اور تعریف میلا  ڈاٹ کام

 

عثمان جَگت پوری(تعارف)

 croped 200x300

 

 

اس دن نہ بجلی کڑکی نہ بادل گرجے نہ آندھی آئی اور نہ ہی زور کی بارش ہوئی کسی بھی غیر متوقع موسمی تبدیلی کے بغیر ہمارے والدین کے گھر خاندان کی دوسری نسل کے پہلے فرزند ارجمند کی ولادت با سعادت ہوئی سعادت کے اس تسلسل کو جاری رکھنے کی خاطر ترچھی چارپائی کانفرنس میں ہمارا نام سعادت علی تجویز ہوا مگر جس گاؤں میں اعجاز بوولی، اکبر ٹگا، ندیم چپن، ساجد چُپ، نجی سنیاری اور بشیر کھچی جیسے نام ہو وہاں میرے نام کو پکارتے ہوئے پیش آنے والی دُشواری کو انہوں نے جلد بھانپ لیا اور میرا نام سعادت علی سے بدل کر عثمان رکھ دیا جسے ہم نے گاؤں کی مناسبت سے بعد میں عثمان جگت پوری کرلیا ابھی تک کاغذات نامزدگی تک میں وہی لکھا جا رہا ہے

اگر سرسید زندہ ہوتے یا مولانا حسین احمد مدنی کی سربراہی میں دارالعلوم دیوبند چل رہا ہوتا تو عین ممکن تھا کہ ہمیں وہاں حصول تعلیم کے لئے روانہ کر دیا جاتا خاندان کا پہلا سپوت ہونے کے ناطے ہمارے علاوہ سب کو ہماری تعلیم کی بہت فکر تھی سو ہمیں گاؤں کے کھوتی سکول میں ماسٹر منگو صاحب کی سرپرستی میں چھمکوں کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے کی خاطر چھوڑ دیا گیا  تعلیم تو جو ہم نے حاصل کرنی تھی وہ تو کرنی تھی مگر گندا رہنے میں بہت نام کمایا امی جان صبح پوری محبت اور محنت سے تیار کر کے بیجھتی اور میں کمال مہارت سے خود کو کپڑے سمیت گندا کر کے گھر پہنچاتا  انعام میں تھپڑ  گھونسے اور جوتیاں کھانے کو  ملتی مگر ہماری استقامت میں فرق نہ آیا سال گذرتے گئے زہانت کے باوجود ہمارے اندر تعلیم کے علاوہ ہر چیز سے کمال دلچسپی پیدا ہوئی گھر والوں کا خیال تھا کہ ہم والد صاحب اور چچا جان کی طرح گاؤں میں سب سے ذیادہ نمبر حاصل کر کے ان کی روائت کو قائم رکھیں گے مگر اس معاملے میں ہم نے انہیں بہت مایوس کیا

پڑھتے بہت تھے مگر زیادہ تر غیر نصابی کتابیں عشاق کے خطوط لکھ کر دینے میں خاص مہارت تھی اور کبھی کبھار تو سواری کا انتظام و انصرام بھی ہمارے ذمہ ہوتا تھا نہم تک کام چرپ زبانی سے چلتا رہا ہم اگلے سال کی آمد پر کمرہ بدل کر اچھے سے ڈیسک پر قبضہ جما ہی لیتے مگر جب میٹرک میں بورڈ کے امتحانات کی باری آیی تو اس زبان نے بھی ساتھ چھوڑ دیا سکول والوں نے ہمارا داخلہ بھیجنے سے معذرت کر لی اس دن کی والد صاحب کی پریشانی آج بھی یاد ہے تب غیرت نے جوش مارا گھر والوں کی منت سماجت کی کہ ایک موقع اور دیا جائے تاکہ ہم اپنی زہانت کا ثبوت دے سکیں مشورے سے یہ طے پایا کہ اسے نانا کے ہاں جو کہ خود بھی ریٹائرڈ ٹیچر تھے بھیج دیا جائے تاکہ وہاں رہ کر پرائیویٹ امتحان دے سکے سو ہم ہجرت کرکے ننھیال پہنچے یہ ہمارے چونکہ پہلی ہجرت تھی وہ بہت کُرلاپ ہوا مگر جانے والے کو جانا تھا.وہاں جا کر سب عیش و نشاط عنقا ہو گیے. نانا ابو نے مجھ پر خوب محنت کی اور وقتاً فوقتاً اپنی خُصے سے میری تواضع بھی کرتے رہے دوسری طرف جب بھی اماں جان سے بات ہوتی عہد لیتں کہ بیٹا فیل نہیں ہونا ورنہ تیرے ابا ساری عمر مجھے اتنا کوڑھ مغز فرزند جننے پر تانے مارتے رہیں گے بیٹا میرا سکون اور خاندان کی عزت اب تیرے ہاتھ میں ہے وہاں جا کر آوارہ گردی تو ختم ہو گی مگر یہ کتب بینی والی عادت پھر بھی نہ چھوٹی کیمسٹری کی کتاب کے نیچے جاسوسی ناول ہوتا اور ساری ساری رات جاگ کر سب کے سامنے پڑھنے کا ڈھونگ رچاتے نانا جان تہجد گذار تھے جب اٹھتے تو ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہمارے چہرے پر ایک معصوم سی مسکراہٹ اور دل میں ایک کمینی سی خوشی پیدا ہوتی لمبی سی آنگڑائی لے کر آنکھ بچا کر کتاب سرھانے کے نیچے چھپا کر سو جاتےریاضی کمزور تھی اس کے لیے ایک معلم ریاضی کا بندوبست کیا گیا جن کے بارے میں مشہور تھا کہ سونگھ کر بتا دیتے ہیں کہ سوال غلط ہے اور دوسرا انہیں خوشامد بڑی پسند تھی ریاضی اچھی پڑھاتے تھے. مگر ان کی دوسری عادت سے میں نے بہت فائدہ اٹھایا مجال ہے کبھی کسی سے میری شکایت کی ہو ان دنوں بسنت کا موسم تھا. صبح پیپر دے کر آتے پھر شام تک پتنگ بازی کرتے پیپر تو جیسے تیسے ختم ہو گئے. گھر والوں کے برعکس ریاضی اور انگلش کے علاوہ کسی مضمون سے پاس ہونے کی کچھ خاص امید نہیں تھی.

رزلٹ والے دن خوب گرمی تھی میں دوپہر کو سویا ہوا تھا کہ خالہ کے جھنجھوڑنے سے میری آنکھ کھلی تو پتا چلا آج پانچ سال ابا جان نے اپنے سسرال میں فون کر کے خبر دی ہے کہ    مبارک ہو

“منڈا پاس ہو گیا”

میڑک کرنے پر مجھ سے زیادہ گھر والوں کو خوشی ہوئی تھی کہ ان کی عزت کا جنازہ نکلنے سے بچ کیا مگر اس کارنامے سے میری قابلیت پر ان کا ایمان بحال نہ ہو سکا  لہذا نتیجہ آنے کے ایک ماہ بعد تک بھی کسی نے کالج میں داخلے کا نام تک نہ لیا. بہت کسمسائے التجائیں کیں مگر آنکھوں میں کالج کی حسین زندگی کے خواب ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گئے ہم یاس و حسرت کی وہ دیوار بنے رہ گئے جو خواہشات کی کائی سے تو آٹی تھی مگر بنیاد شکست خوردگی کا شکار تھی . اس حسین زندگی کی رعنائیوں کی چھن جانے کا بہت قلق تھا  کچھ دن بعد ناامید ہو کر ہم نے خود ہی کہنا شروع کر دیا کہ کالج کی پڑھائی میں کیا رکھا ہے مجھے کوئی ہنر سیکھنا ہے کسی ٹیکنیکل ادارے میں داخل کروا دیں قرعہ فال ستارہ کیمیکل کے نام نکلا جہاں 3 سال کی اپرنٹس شب کروائی جاتی تھی جس میں تعلیم کیساتھ ساتھ ماہوار وظیفہ بھی مکرر تھا.چونکہ ہم پیدا ہی قبول صورت ہوئے تھے اور اس کا ہمیں شروع ہی سے ادراک تھا لہٰذا کبھی بھی انتہائی ضرورت کے بغیر بچپن میں کوئی تصویر نہیں بنوائی. ہیت بھی عجیب سی تھی  کانگڑی بدن، چُنی آنکھیں، بدھے ہونٹ جمی ٹھوڑی، سانولی کم اسودی رنگت زیادہ، درمیانہ قد اور اس پر مستزاد ہمارے عجیب و غریب قسم کے بال جن میں سے مانگ نکالنا پتھریلی زمین میں نالہ کھودنے کے مترادف تھا اسی لیے تنگ آ کر ہم نے مانگ نکالنی ہی چھوڑ دی. بال روبہ فلک بناتے ہیں اور ابھی تک اسی روش پر قائم ہیں. بھلا روز اتنی مشقت کون کرے

نانا جی کیساتھ ہم ستارہ کیمیکلز پہنچے ایڈمن منیجر عباد علی صاحب کو پہلے تو میری شکل دیکھ کر یقین ہی نہیں آیا کہ میں اتنی کم سنی میں میڑک کی اعلی تعلیم حاصل کر چکا ہوں. تسلی تب ہوئی جب میں نے شرماتے ہوئے جیب سے میٹرک کی کڑکڑاتی سند نکال کر دکھائی جس کہ ایک طرف نگوڑا       ڈُپلیکیٹ لکھا ہوا تھا اگلے پانچ منٹ اسی کی وضاحت میں گذر گئےہم شروع ہی سے اعلی پائے کے مخبوط الحواس قسم کے انسان واقع ہوئے تھے بھیجو چینی لینے لے کر ہلدی آتے تھے

کئی دفعہ سامنے پڑی چیز نہ دکھائی پڑتی سارا گھر چھان مارتےانہی حرکتوں کی وجہ سے بڑی دھلائی ہوئی کئی موقعوں پر مگر اس مرض نے ہمارے جان نہیں چھوڑی ابھی پچھلے سال کا واقعہ ہے کہ شادی کے بعد ہمیں بیگم کا پاسپورٹ بنانا تھا جس کے لیے ہمارے شناختی کارڈ کی بھی ضرورت تھی….. بٹوے سے ایک گلی سڑی کاپی برآمد ہوئی جس کی بنیاد پر شٹام لیا تھانے گمشدگی کی رپٹ لکھوائی بڑی بھاگ دوڑ گی سردی کی ٹھنڈی رات میں عشاء کے بعد شہر سے گاؤں کے سنسان راستے پر ٹھٹھرتے ہوئے دیوانہ وار موٹر سائیکل دوڑائی خود کو جوکھم میں ڈالا جب واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر بیٹھا کسی ممنوعہ چیز کی برآمدگی سے بچنے کے لیے اپنے بٹوے کا معائنہ کر رہا تھا تو کارڈز والی جیب کی دیوار سے لگا گمشدہ ہونے والا اصلی شناختی کارڈ برآمد ہوا. جب یہ واقعہ نئی نویلی دلہن کو سنایا تو تو پیچاری نیک پروین دھل کر رہ گئی. آنکھوں میں ہزاروں اندیشے بھر کر

بولی ۔۔۔۔۔ رب دا واسطہ

“میرے نال اینج نا کریوں”

 

میری شکل کے برعکس میٹرک کی ڈگری پر اعتماد کرتے ہوئے مجھے کام پر رکھ لیا گیا جب پہلی دفعہ فیکٹری میں داخل ہوا تو ممبرین پلانٹ پر میرا تعارف سپروائزر اعزاز صاحب سے کروایا گیااعزاز صاحب دبلے سے درمیانے قد اور پتلی مونچھوں کے ساتھ ایک متوازن شخصیت کے مالک تھےپہلے تو ہمیں گھور کر ایلین نما آنکھوں سے دیکھا پھر سوال کیا نام کیا ہے!

عثمان

اچھا……( مزید غور سے جائزہ لیتے ہوئے )

برداری کونسی ہے…..؟

وینس…!( تھوک نگلتے ہوئے )

اعزاز صاحب نے زور سے قہقہہ لگایا….

یار وہ تو “جانگلی” ہوتے ہیں اپنی برادری کی بارے میں اتنا انتہا پسندانہ تبصرہ میں نے پہلی بار سنا تھا جس پر خاصی مایوسی ہوئی .

مگر آنے والے سالوں میں ان سے مراسم بہت اچھے رہے. بڑے ہنس مکھ آدمی تھے کام کے دوران ایک حادثے کی وجہ سے ان کی دائیں آنکھ ضائع ہوگی اس لیے ہر وقت کالے شیشوں والی عینک لگائے رکھتے تھے. مگر کچھ حاسدین نہ یہ اڑا رکھی تھی کہ اس آنکھ سے وہ خوبصورت لڑکوں کو بری نظر سے دیکھتے تھے اس لیے اللہ نے سزا دی ہے

( استغفراللہ )مجھے پلانٹ کا دورا کروایا گیا اور بتایا گیا کہ کل ڈیوٹی پر یہاں آنا ہےویسے تو ستارہ میں کافی سارے کیمیکل تیار ہوتے تھے مگر مین پروڈکٹ کاسٹک سوڈا تھا باقی دوسری تمام اشیاء مثلا ہاڈرو کلورک اور سلفیورک ایسڈ وغیرہ بائی پروڈکٹس تھیں میری ڈیوٹی دوسری منزل پر موجود کاسٹک کے مرکزی پلانٹ ممبرین پر لگی جہاں بڑے بڑے کاسٹک سوڈا بنانے والے سیل رنگ برنگے مختلف گیسوں کے ناموں والے پائپ پلانٹ کے نیچے مکینکل ورکشاپ تھی ایک طرف بینچ دو کرسیاں اور ایک بوسیدہ سی ٹیبل پر لاگ شیٹیں رکھی ہوئی تھیں بتایا گیا یہ پلانٹ آفس ہے میں ہونقوں کی طرح حیرت کے سمندر میں غوطے کھائے جا رہا تھاگاؤں کے ایک سادہ پینڈو لڑکے کے لیے جس کی ڈگری عمر کے لحاظ سے ابھی تک مشکوک ہو یہ سب کُچھ اول النظر ناقابل فہم اور انتہائی عجیب و غریب تھا ڈیوٹی کے اختتام پر بیگ اُٹھایا اور حبیب صاحب کے ہمراہ ہوسٹل کی طرف روانہ ہوا ہاسٹل اس وقت زیادہ بڑا نہیں ہوتا تھا U شکل کی ایک منزلہ عمارت تھی داخل ہوتے ہی داہنی طرف ہال نما لمبا سا کمرہ اور بائیں طرف ٹی وی ہال تھا جس کے بازو میں ہاسٹل کا کچن تھا درمیان میں سرسبز گھاس پر مشتمل لان اور بیڈ منٹن کورٹ تھا…..

دوسرے کمروں میں پہلے سے ورکرز رہائش پذیر تھے چنانچہ اپنا سامان اس ہال نما کمرے میں پہنچایا جس کے بارے میں بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس کمرے کو “جنرل وارڈ” بھی کہتے ہیں  کُچھ دن بعد روم نمبر 6 میں جگہ خالی ہوئی تو میں وہاں منتقل ہو گیا فیکٹری میں کام کرنا اور ہوسٹل میں رہنا بڑے پر لطف تجربات تھے دونوں جگہ بہت اچھے دوست ملےاور بہت کُچھ سیکھنے کو ملا جیسے یہاں آ کر پتہ چلا کہ SHO کتنا وسیع المشرب مخفف ہے ہمارے نئے دوستوں میں رمضان عرف جانی کو سارے میس والے SHO پکارتے تھےاپنی حیرانی دور کرنے کیلئے جانی سے اس کا مطلب پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہاں اس کا مطلب “سینئر ہانڈی آپریٹر” ہے.

فیکٹری میں سارے پلانٹ اپریڑ کرنے کو تو اپرنٹس شب آئے تھے مگر فیکڑی والوں کے نزدیک باضابطہ ملازمین تھے سو تین سال میں مجال ہے ایک دفعہ بھی فیکٹری والوں نے کلاس لگانے کا تکلف کیا ہو مگر ماحول اور ساتھ کام کرنے والوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا سارے لوگ پڑھے لکھے تھے اور سیکھنے کے عمل میں بہت معاون ثابت ہوئے روانی سے اردو انگلش بولنا لمبی لمبی ریپوٹس لکھنا اور رات کی ڈیوٹی کے دوران تو اکثر شاہ جی کی بدولت کوئی نہ کوئی کتاب پڑھنے کو مل جاتی تھی. شاہ جی میرے روم میٹ تھے لیبارٹری اسسٹنٹ تھے مگر مطالعہ کے رسیا شاہکوٹ کی ایک پرائیوٹ لائبریری سے کتُب لے کر آتے ان کے توسط سے ہر وہ کتاب پڑھی جو انہوں نے پڑھی جن میں زیادہ تر ناول ہی ہوتے تھےہوسٹل رہ کر ہم نے گھر گرہستی والے سارے کام سیکھے جو اب تک بہت فائدہ مند ہیں ٹی وی روم میں سنوکر ٹیبل تھا جہاں فری سنوکر کھیل کھیل کر اتنے ماہر ہوگئے کہ ہوسٹل کے مھان کھلاڑیوں میں شمار ہونے لگا جس کا ایک نقصان یہ تھا کہ کوئی ہمارے ساتھ گیم ہی نہیں کھیلتا تھا یہاں بھی بے چارا جانی ہی کام آتا ٹی وی روم میں ایک دن بڑا غیر معمولی ہجوم دیکھا تب وہاں نئی نئی ڈش لگی تھی روس کا ایک جینل تھا جہاں فلم میں ایک لیڈی ڈاکڑ مریض پر ایک جادوئی صفوف چھڑکتی جس کے بعد مریض مضطرب ہو کر ڈاکٹر کی اشتہاء پوری کرنے لگ جاتا یہ سب دیکھ کر غیرت ایمانی نے جوش مارا مگر منع کرنے پر مشتعل ہجوم نے دھکے دے کر ٹی وی روم سے باہر نکال دیا گیا اگلے دن کسی مومن نے پرسائنل آفس میں شکایت کر دی انتظامیہ ریسیور اُٹھا کر لے گئی اور ہم جب تک ہوسٹل میں رہے لیڈی ڈاکڑ کے عاشقوں کی ملامت کا شکار رہے…..

کرکٹ کے سالانہ ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لیا ایک میچ میں کیپر کی غیر موجودگی کی وجہ سے ذمہ داری ملی ایسی کارکردگی دکھائی کہ اگر اکمل برادران وہ میچ دیکھ لیتے تو جل کر بھسم ہو جاتے مجال ہے ایک بھی کیچ پکڑا ہو الٹا گیند پکڑنے کے چکر میں وکٹ کے پیچھے “سنگسار” ہوتے رہے اس کے بعد اگلے سال جب کرکٹ ٹیم کیلئے اپنی خدمات پیش کی تو یہ کہہ کر منع کر دیا کہ آپ کرکٹ کی جان چھوڑیں

” گِیلی ڈنڈا کھیلا کریں ”

جاری ہے

وارث

baby

اسجد بڑی بے چینی کے ساتھ جنرل ہسپتال کی لیبارٹری کے سامنے چہل قدمی کر رہا تھا بینچ پر بیٹھی نادیہ کی نظریں اس کا تعاقب کرتی اور کبھی لیبارٹری کے دروازے کے طرف اُٹھ جاتی گول سپاٹ چہرے کے نقوش پریشانی کے سبب گہرے ہوتے جا رہے تھے. اپنے خفیف سے باہر نکلے پیٹ پر اندیشوں میں گھری ایک موہوم سی آس لگائے ہاتھ پھیر رہی تھی. اس کے اندر کی نادیہ سر جھکائے جھولی پھیلائے اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر خوشخبری ملنے کی دعا کر رہی تھی۔۔۔

نادیہ کی شادی کو تین سال ہو چکے تھے. ہر دفعہ جب کُچھ دن اوپر ہوتے تو وہ خاموشی سے اسجد کیساتھ ڈاکڑ کے پاس جانے کا کہتی کیونکہ کچھ نہ ہونے کی صورت میں اماں جی نظروں کا سامنا کرنے کی سکت اب اس میں نہیں تھی شادی کے آغاز ہی میں اماں ہر تیسرے دن بہو کو مخاطب کر کے کہتی

اری دلہن

خیر سے اسجد میری اکلوتی اولاد ہے

 اپنے پوتے پوتیاں کھلاؤ بڑی حسرت ہے مجھے جلدی سے ایک ننھا سا  لَلا  میری گود میں ڈال دے

اس خاندان کو وارث جن کر دے

وقت گذرتا گیا ان کا مطالبہ ذور پکڑتا گیا

لاڈ پیار کی جگہ اب جھنجلاہٹ صاف ظاہر ہونے لگی اُٹھتی بیٹھتی نادیہ کو باتیں سنانے لگیں  پوتا ان کی زد بن گیا تھا بارہا اسجد کی دوسری شادی کرنے کی دھمکی

بھی دے چکی تھیں وہ تو اسجد سائبان بن کر نادیہ کو اپنے سایہ عطف میں لے لیتا دیوار بن کر پھنکاریں مارتی اماں کے سامنے کھڑا ہو جاتا

اماں کیوں ہر وقت اس بے چاری کو کوستی رہتی ہو

جب نصیب میں ہوا اللہ تعالٰی  عطاء کر  دے گا  اولاد بھی

غصے کی شدت سے اماں جی کی آواز بلند  ہو کر اور کرخت ہو جاتی

وہ چنگھاڑتی ہوئی جواب دیتیں

کیسے ہو گئی اولاد اس کوکھ جلی کے ہوتے . اس کے نصیب میں اولاد ہے ہی نہیں ساری عمر یہ ایسے ہی رکھے رہے گی منحوس کہیں کی

ہائے

میرے بیٹے کی نسل ختم ہو گئ

ہائے

 اس کا نصیب جل گیا

پھر ڈھاڑیں مار مار کر رونے لگتی

اسجد ہر دفعہ یہ کہہ کر ماں کو تسلی دیتا کہ وہ دوسرے شادی کر لے گا

ماں کے آنسو خشک ہو جاتے، وہ تصور میں نئی بہو اور چھوٹے چھوٹے بچے صحن میں کلکاریاں بھرتے دیکھنے لگ جاتیں

سفید رنگ کا ایپرن پہنے لیبارٹری کے دروازے سے ہاتھ میں لفافہ پکڑے نرس باہر آئی

ہال وے میں کھڑی ہو اس نے نادیہ اسجد پکارا

اسجد دوڑ کر آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ سے لفافہ وصول کیا

نادیہ کا دل اپنی پوری قوت کیساتھ دھک دھک کر تھا

نادیہ کی طرف لفافہ بڑھاتے ہوئے اسجد نے کھول کر رپورٹ پڑھنے کا کہا

کانپتے ہاتھوں کیساتھ نادیہ نے لفافہ کھولا شروع سے آخر تک بے چین نظروں سے پازیٹو لکھا ہوا ڈھونڈنے لگی

مگر صفحہ پر لکھا نیگٹو بڑا ہوتے ہوتے صفحے کی سرحدوں کو پھلانگ کر اس کے سارے وجود پر چھا گیا

نادیہ کی حالت دیکھ کر اسجد کو رزلٹ کا اندازہ ہو گیا

اس نے نحیف آواز میں نادیہ کو یہ کہتے ہوئی تسلی دی کہ

“جو اللہ کو منظور”

دو موٹے آنسو نادیہ کی آنکھوں سے نکلے اور قطار بناتے ہوئے اس کے گالوں سے نیچے لڑھک گئے

نمناک آنکھوں اور مریل قدموں کیساتھ اسجد کا ہاتھ پکڑ کر وہ ہسپتال سے باہر نکل آئی

آج اس کا دل چاہ رہا تھا کہ گھر کی مسافت اس قدر طویل ہو جائے کہ ساری عمر وہ گھر نہ پہنچ پائے

کتنی بے بسی کا عالم ہوتا ہے جب آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کیا جائے جو آپ کے اختیار میں نا ہو   اور اس کے  فراہم نہ کر سکنے پر زندگی کا ہر سکھ دنیا کی ہر

خوشی آپ پر حرام کر دی جائے ایک عورت ماں ہو کر دوسرے عورت کے ماں نہ بن سکنے پر اس کا سہاگ اجاڑنے کے در پہ ہو جائے ،اس کا سکون غارت کر دے

صرف اس لیے کہ وہ اس خاندان کو “وارث” نہیں دے پا رہی

اس دفعہ والا رزلٹ بھی اماں جی سے پوشیدہ رکھا گیا. مگر پھر ایک دن انہوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ اگر چھ ماہ تک تم اگر امید سے نہ ہوئی تو دنیا کی کوئی طاقت

مجھے اسجد کی دوسری شادی کرنے سے نہیں روک سکتی

نادیہ کو اس دن اپنا وجود اس مشین کی طرح لگا جو لوگ اس لیے گھر لاتے ہیں کہ انہیں وارثوں کی صورت میں کھیلنے کے لیے کھلونے پیدا اس کا بس نہیں چل رہا تھا

ورنہ وہ اپنے وجود کا ایک حصہ کاٹ کر اسے بچے کی شکل دے کر اماں جی ہاتھ میں تھما کر ان کے سینے میں ٹھنڈ ڈال دے

چھ ماہ میں سے دن گھٹنے شروع ہو گئ

 ایک دن الماری میرے تہہ شدہ  دھلے کپڑے رکھتے وقت اس کی نظر کونے میں پڑی فائل پر پڑی بے  دھیانی سے صفحات کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی کہ

اچانک ایک ورق نیچے گرا ورق اٹھا کر دوبارہ فائل میں لگاتے ہوئے وہ ہسپتال کا

نام دیکھ کر چونکی

سیمن ٹیسٹ رپورٹ

نیچے اسجد کا نام اور رزلٹ دیکھ کر نادیہ چکرا گئی

قدم اتنے بوجھل ہوئے کہ دھرتی نے وزن اٹھانے سے انکار کر دیا دھم سے زمین پر جا گری اس کے ذہن میں آندھیاں چل رہی تھی اسے اپنی آنکھوں پر یقین

نہیں آ رہا تھا کہ اس سارے وقت میں اسکا کوئی قصور نہیں تھا. بلکہ سپرم کاونٹ انتہائی کم ہونے کی وجہ سے اسجد باپ بننے کے قابل نہیں

دکھ اس بات کا تھا کہ آخر مجھ سے یہ بات چھپائی کیوں

شاید شرمندگی کی وجہ سے آخر نامرد کہلوانا کسے اچھا لگتا ہے

اب اسے سمجھ آیا کہ وہ دوسری شادی کے لیے اماں کو ہمیشہ کیوں منع کر دیتے تھے

مگر کیا اگر  وہ مجھے بتا دیتے تو میں سرعام  ان کے سر میں خاک ڈال کر چلی جاتی

میری محبت سے ذیادہ تو انہیں اپنی نامردی کا راز افشاں ہونے کا ڈر تھا

 شادی کے بعد آج پہلی دفعہ اسے شوہر کی محبت میں جھوٹ کی ملاوٹ کا جان لیوا احساس ہوا. اسجد نے جانتے ہوئے بھی کہ میں بے قصور ہوں اماں جی کہ سامنے

حقیقت بیان کر کے میری جان بخشی کیوں نہیں کروائی کب سے وہ مجھے اس حال میں دیکھ رہے ہیں اپنے بظاہر شریف نظر آنے والے شوہر کے بارے میں اس کے

خیالات یکسر تبدیل ہونا شروع ہوگئے اب اس کے دل میں محبت کے علاوہ شاید کچھ اور بھی تھا جس کا اسے خود بھی علم نہیں تھا

نادیہ نے اسجد سے اس بارے میں بات نہ کرنے کا فیصلہ کیا

کچھ دنوں بعد اماں جی کی طرف سے حکم ملا کہ ایک بابا جی کے پاس دم کروانے چلنا ہے تیار ہو جاؤ

رکشہ ایک بوسیدہ عمارت کے سامنے رکا رکشہ والے نے پیچھے مڑ کر ایک ہوس بھری نظر نادیہ کے اوپر ڈالی اور بڑے ذومعنی انداز میں کہا

اُترو…..! بی بی جی

بابے گھوڑے شاہ کا ڈیرہ  آ گیا ہے

نادیہ کو گھوڑے شاہ سن کر کچھ عجیب سا لگا عمارت کے اندر داخل ہوتے ہی اغر بتیون کے تیز ،مہک  نادیہ کی نتھون سے ٹکرائی. اندر روشنی کی خاصی قلت تھی،

دونوں ایک طرف ہو کر خواتین کیساتھ بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگیں

بابا جی اگلی طرف ایک کمرے میں تشریف فرما تھے خلاف توقع ہر طرف عورتیں ہی عورتیں تھی گھنٹہ بھر بیٹھنے کے بعد بھی انہیں کوئی  مرد نہ دکھائی دیا،ضرورت

مند عورت کمرے سے باہر نکلتی تو اس کے

پیچھے دوسری اکیلی اندر داخل ہو جاتی

ساتھ ہی کھٹ سے دروازہ بند ہو جاتا

دو گھنٹے انتظار کے بعد اس کی بارے آئی اکیلی اندر جاتے ہوئے اس کا دل گھبرا رہا تھا مگر جیسے ہی ساس نے خونخوار نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس کے

قدم خود بخود دروازے کی طرف اٹھ گئے

کمرے کی فضا میں دھواں رچا ہوا تھا ہر طرف تیز مہک لمبے بال فربہ جسم سانولی رنگت کا تقریبا 40 سالہ شخص گلے میں تسبیاں ڈالے کچھ پڑھ رہا تھا

سلام کر کے نادیہ جیسے ہی بیٹھنے لگی بابا جی نے سر اٹھا کر غصُیلی نظر اس پر ڈالی

گرجدار آواز میں کہا گستاخ

دوپٹہ لے کر بیٹھی ہے

مجھ سے پردا ہے تیرا

چل اتار اسے

نادیہ نے جھٹ سے دوپٹہ اتار کر ایک طرف پھینک دیا

کچھ دیر خاموشی کے بعد اپنی خوبصورت گولائیوں پر بابا جی نظریں رینگتی محسوس ہو رہی تھیں، کھلے گلے والی قمیض میں گھوڑے شاہ کی نگاہیں بار بار اندر

کا منظر دیکھنے کو بیتاب ہو رہی تھیں

نادیہ کے لیے یہ سب ناقابل برداشت تھا. مگر رعب کی وجہ سے اس کی زبان تالو سے چمٹی ہوئی تھی اس کے جسمانی خدوخال کا بھرپور جائزہ لے کر گھوڑے

شاہ نے دوبارہ بولنا شروع کیا اب کی بار ان کی آواز میں قدرے نرماہٹ تھی

کتنے سال ہو گئے شادی کو

تتین سال جی

لہجے کی لکنت اس کے خوف کو واضح کر رہی تھی

بابا جی نے اپنی گھنی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

اچھااااا

شوہر ٹھیک ہے

جی

اور ساتھ ہی دل میں سوچا کہ اگر وہ نامراد اس قابل ہوتا تو تیرے ساتھ اس تعفن ذدہ کمرے میں کیا کر رہی ہوتی

شاہ جی نے مزید قریب ہو کر پیٹ سے قمیض اٹھانے کا کہا اور چراغ کا تیل اپنے ہاتھ کو لگا کر اس کے پیٹ پر پھیرنے لگے ساتھ ہی زیر لب کچھ پڑھنا شروع کر

دیا نادیہ کے گورے چٹے پیٹ پر بابا جی کی تیل آلود انگلیاں ارتعاش پیدا کر رہی تھیں اور اس عمل سے بابا جی کو حاصل ہونے والی جنسی لذت کو نادیہ نے بڑی

شدت سے محسوس کیا

یہ عمل ختم ہوا تو اس کے ہاتھ میں تعویز تھما دیا گیا حکم ملا اسے گلے میں ڈالنا ہے اور ایک ہفتہ بعد دوبارہ آنا ہے اور جلدی آنا ہے اگلی دفعہ عمل تھوڑا لمبا ہو گا

واپسی پر سارا راستہ اماں جی بابا جی کی کرامات اور تصرفات کے قصے سناتی رہیں مگر نادیہ کو اب بھی گھوڑے شاہ کے ہاتھ پیٹ پر حرکت کرتے محسوس ہو رہے تھے

اسے لگ رہا تھا کہ ابھی تک اس کا پیٹ ننگا ہ

کمرے میں ہونے والے واقعات کا نادیہ نے کسی سے ذکر نہ کیا مگر اس کے اندر ایک جنگ جاری تھی کیا اولاد حاصل کرنے کے لیے خود کو ایک غیر مرد کے حوالے

کرنا، اس کا چھونا پیٹ پر ہاتھ پھیرنا کیا یہ سب جائز ہے

مگر اولاد کی خواہش اور سہاگ بچانے کی فکر آہستہ آہستہ اس کے ضمیر پر غالب آنے لگی اس نہ فیصلہ کر لیا کہ وارث پیدا کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کر گذرے گی

ا گلے ہفتے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے کہے بغیر ہی دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھ دیا

بابے نے کچھ دیر دم پڑھنے کے بعد اسے لیٹ جانے کا حکم دیا. تعمیل میں ٹانگیں سیدی کر کے لیٹ گئی

نادیہ کی نظریں دھوئیں سے سیاہ چھت پر گڑھی ہوئی تھیں اتنی  بھیانک خاموشی کہ وہ خود اپنی سانسوں کی آواز سن رہی تھی

بابا جی نے حکم دیا کے قمیض اوپر اٹھاؤ چھاتی پر تعویز لکھنا ہے

نادیہ نے قمیض اوپر کر لی گول مٹول چھاتیاں دیکھ کر بابا جی نے دو تین دفعہ تھوک نِگلا اس کی آنکھوں میں شہوت کے انگارے دہک رہے تھے جن کی لپٹوں کو اس

نے بدن پر محسوس کیا اب نادیہ میں گھوڑے شاہ کی ہوسناک آنکھوں میں دیکھنے کی سکت باقی نہ رہی. شدت احساس گناہ کو دبانے کے لیے قمیض کھینچ کر منہ پر

ڈال کر ضمیر کی سسکیوں کا گلا گھونٹے لگ گئی خود کو گھوڑے شاہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا

گھوڑے شاہ کے ہاتھ ایسا حسن کا خزانہ بڑے دنوں بعد لگا تھا

تعویز اور دم کے بہانے اس نے اس تجوری کو جی بھر کر ٹٹولا مگر جب نادیہ کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ ہوئی تو اس نے وہ عمل بھی کر ڈالا جس کے وجہ س عورتوں

میں وہ صاحب کرامات بابا مشہور تھا

نادیہ مٹھیاں بھنچے لیٹی غدر کا شکار ہوتی رہی جب گھوڑے شاہ خزانہ لوٹ چکا تو اس نے آٹھ کر اپنی لاش کو  کپڑے پہنائے سارے بدن سے گھوڑے کی باس آ رہی تھی

سانس لینا دشوار ہو رہا تھا  گھوڑے شاہ نے نادیہ کی ساس کو اندر بلوا کر خوش خبری دی کہ عمل مکمل ہو گیا ہے

ان شاءاللہ جلدی خوشخبری ملے گے تب مجھے مت بھولیے گا

گھوڑے شاہ نے جب ساس کے سامنے نادیہ کو بیٹی کہہ کر صاحب اولاد ہونے کی دعا دی  تب اسے احساس ہوا کہ شفقت و پیار سے بھرا یہ لفظ کئی دفعہ کتنی بھیانک

گالی بن جاتا ہے

گھر پہنچ کر نادیہ نے غسل تو کر لیا مگر جو غلاظت اس کی روح کو لگ چکی تھی وہ نہ دھل سکی گھؤڑے شاہ کا عمل کارگر ثابت ہوا نادیہ ماں بن گئی سارے گھر

والے بہت خوش تھے. خاندان کو وارث مل گیا بظاہر نادیہ بھی خوش تھی مگر اندر ہی اندر یہ احساس گناہ اپنی پوری خباثت کیساتھ موجود تھا  اسے اطمینان تھا کہ اس

کی قربانی نے سہاگ بچا لیا

دو ماہ بعد جب وہ ساس کے ہمراہ گھوڑے شاہ کے پاس گئ تو بچے کو بابا جی کی گود میں بٹھاتے ہوئے بولی

سرکار یہ آپ ہی کی دین ہے

آیندہ مزید اولاد بھی آپ نے ہی دینی ہے

گھوڑے شاہ نے مکروہ مسکراہٹ کیسا تھ نادیہ کی طرف دیکھا

جو سر جھکائے سوچ رہی تھی کہ اس کا وجود کوڑا دان کی مانند ہے گھوڑے شاہ اس میں اپنی غلاظت انڈیلے اور میرے سسرال والوں کو ایک اور وارث مل جائے۔۔۔

ٹھیک ہی کیا میں نے یہ نیچ لوگ گھوڑے شاہ کے دیے  ہوئیے وارث پالنے لائق ہیں۔

پھرہو جائے ایک سیلفی ؟

selfi

ہاتھوں ميں لمبا سا پہاڑي کيکر کا ڈنڈا اٹھائے جس پر جا بجا کھونگياں ہوں آسمان کي طرف منہ کرکے ہوا ميں پتنگ کي ڈور تلاش کرتے سرپٹ دوڑتے ہوتے منچلو کے اس گروہ کو “چميڑو” کہتے ہيں جو اس بات سے بے خبر کہ کس سمت جا رہے ہيں پاؤں کہاں پڑھ رہا ہے ڈنڈا گما گما کر اس پر ڈور چميڑنے کے چکر گردو پيش سے بے اسي بے پروانہ پتنگ بن کر کبھي نالي مين گرتے ہيں تو کبھي کسي ديوار سے ٹکراتے ہيں…..
پھر مرور زمانہ اس منظر کو کچھ يوں بدلتا ہے کہ ڈنڈے کي جگہ ايک خوبصورت ديدہ زيب لوہے کي آہني چھڑي جس ايک سرے پر ذہين موبائل پکڑنے والا شکنجہ جبکہ دوسري طرف نيلے دانت ٹيکنالوجي سے ليس پلاسٹک کے کلِک ٹو کيپچر بٹن اور دھيان آسمان کي بجائے صرف اپنے تھوبڑے پر مزکور….
منہ کے مختلف محير العقول ذاويے بناتے ہوئے……

کڑيچ…… کڑيچ…… کڑيچ……

يہ ہے “چميڑو” کي جديد شکل جو اپنے ارتقائي منازل طے کرتي ہوئي اس دور ميں ہمارے سامنے اپني پوري رعنائي کيساتھ ہمارےدرميان موجود ہے….

آسٹريلينز کو انگريزي زبان کا عرب کہہ ليں کيونکہ يہ بھي جملوں کي ادائيگي ميں اختصار سے بہت زيادہ کام ليتے ہيں اور يہ ان کي ايک فطري عادت اور خوابي ہے جو بعض اوقات انگلش زبان ميں نئے الفاظ ميں اضافہ کا سبب بنتي ہے…..

2002 کے اوائل ميں Nathan Hope کيساتھ پارٹي سے گھر واپس ہوئے حادثہ پيش آيا اس کے منہ اور باقي جسم پر کافي ساري چوٹيں آئيں. اس حادثے کے دوران اپنے زخمي ہو جانے والے نچلے ہونٹ کي تصاوير پوسٹ کرتے ہوئے وہ کيپشن ميں يہ جملہ لکھتا ہے.

“And sorry about the focus, it was a selfie”

اس جملے کہ صورت ميں اپني خود کي تصاوير لينے کے عمل کو سيلفي کہا گيا 2008 تک يہ لفظ کافي حد تک مقبول ہو چکا مگر جب 2009 ميں فيسبک نے مائي سپيس کي ٹريفک کو ٹيک اُوور کيا تو اس کي مقبوليت اور بڑھي مگر 2110 ميں ايپل آئي فون کے اندر سامنے والا کيمرہ متعارف کروانے کے بعد سيلفي کي مقبوليت ميں بے پناہ اضافہ ہوا…….
2011 ميں انسٹاگرام ايپلي کيشن جو کہ بنايي ہي تصاوير کي شيئرنگ کے ليے گئي تھي سيلفي کو بام عروج تک پہنچا ديا. جہاں اب روزانہ لاکھوں کے حساب سے سيلفياں پوسٹ کي جاتي ہيں…..

چنانچہ 2013 ميں لفظ سيلفي کو نہ صرف آکسفورڈ ڈکشنري ميں شامل کر ليا گيا بلکہ اسے ورڈ آف دي ائير بھي قرار ديا گيا……

ہماري نئي پُونگ نے جس دور ميں آنکھ کھولي ہے اسے بجا طور پر “ايج آف سيلفي” کہا جا سکتا ہے مگر پرانے زمانے ميں جب ہم اپنا بچپن گزار رہے تھے اس قسم کے خرافات کو بزرگ بہت ناپسند کرتے تھے ہماري ناني مرحوم( اللہ تعال?ي حق مغفرت کرے) کُچھ لمحوں سے زيادہ شيشہ ميں خود نمائي پر برہم ہو جايا کرتي تھي کہ نگوڑے تيري گردن ٹيڑھي ہو جائے گي………. زاويے بدل بدل کر مت خود کو آئينے ميں ديکھا کر……
ذرا تصور کريں کہ نواسے کو سيلفي سٹک پکڑ کر گردن موڑ موڑ کر سيلفياں بناتا ديکھ کر ان کي کيا حالت ہوتي……

ہمارے نزديک نہ تو سيلفي اور نہ ہي سيلفي سٹک يہ دونوں ہر بندے کے کام کي چيزيں نہيں مثلاً اگر آپ ہماري طرح بے تحاشا موٹے ہيں جہازي توند کے مالک ہيں تو پھر آپ کو اپنے تھوبڑے کے علاوہ جسم کے کسي اور حصے کي نمائش سے دلچسپي نہيں ہوتي تو پر دور سے سلفي لينے کے ليے سيلفي سٹک آپ کے کس کام کي…..؟

اور اگر آپ اپني خوبصورتي سے مطمئن نہيں تو بھي سيلفي والے گلي سے گذر نے سے آپ کو کوئي دلچسپي نہي ہوگي….

سيلفي کي دريافت ہم تک پہنچنے کے بعد اپنے لنگوٹيے ڈاکٹر پستول کو اپنے ساتھ سيلفي بنانے کا کہا بتھيرا منع کيا کہ پستول ايک طرف رکھ ديں……
ہم دونوں صرف اپني سيلفي بناتے ہيں مگر پستول کے بغير تو ان کے ليے سانس لينا مشکل ہے…..
پھر کيا تھا چارو ناچار پستول کو اپنے تھوبڑوں کے درميان رکھ کر سيلفي بنائي گئي اور ان کي اجازت سے پوسٹ کر دي گئي جو بعد ميں ہمارے ليے درد سر بن گئي ڈاکڑ صاحب ہر پانچ منٹ بعد کال کر کے يہ سوال دہرائيں کہ لائک کتنے ہوئے کمنٹ کتنے آئے…..؟
تنگ آ کر ميں نے بھيا آپ خود ہي تشريف لا کر ملاحظہ فرما ليجئيے…..
لائکوں کي تعداد اور کمنٹس ديکھ کر تو ان کا دماغ ہي گھوم گيا پستول نکال کر مجھ پر تان لي ابھي اس منحوس سيلفي کو ڈيلٹ کرو…….

ميں نے کانپتے ہاتھوں تے آگے بڑھ کر سيلفي ڈيلٹ کي اور جان کي امان پائي…..

اصل ميں ڈاکٹر صاحب کا غصہ بجا تھا کيونکہ لوگوں نے اپنے تاثرات ميں پستول کي خوبصورتي کي تعريف کي اور ڈاکڑ کو انتہائي واہيات قرار ديا تھا…..
وہ پہلا دن تھا جب ڈاکٹر کو اپنے پستول سے حسد ہوا اور سيلفي سے مستقل نفرت ہوگئي……

تب سے سيلفي ان کے نزديک ايک قبيح اور ناقابل معافي جرم ہے…….

اب سيلفي کا نام آتے ہين کي زبان پر سيلفي کي شان مين پنجابي کي مشہور زمانہ گاليوں کي گردان جاري ہو جاتي ہے…..

ہروں کي بہ نسبت ديہات ابھي بھي اپني روايتي اور فطرت سے قريب زندگي کي وجہ سے سيلفي کي يلغار سے محفوظ ہيں سيلفي سٹک کو دور کي بات بزرگ اب بھي “کھونڈي” صرف شادي بياہ يا کسي کے گھر مہمان جانے کي صورت ميں ہي استعمال کرتے ہيں ورنہ بانس کا ڈنڈا جس کے ايک سرے پر لوہے کا سَم ہوتا ہے…..
اس نسبت سے بابا صديق سيلفي سٹک کو امرود توڑنے والا ڈنڈا کہتا ہے…..
لوگ تو ايک طرف ديہات کے کتے بھي اس عفريت کو ناپسند کرتے ہيں….
سيلفي سٹک سميت کسي کتے کے پاس سيلفي بنانے کي کوشش کريں آپ کو ايک سيلفي کيساتھ ناف 14 ٹيکے لگوانے کا عليحدہ کشت مفت ميں اٹھانا پڑے گا….
وہ کيا ہے نہ کتوں کو آپ فوٹو گرافر کم اور حملہ آور زيادہ لگتے ہيں…..

سيلفي قيد کرتے ہوئے منہ کے جو مختلف زاويے بنائے جاتے ہيں اور جن جگہوں پر سيلفي لي جاتي يہي اس کي اقسام کي درجہ بندي کا پيمانہ ہيں… جن سے سيلفي کي بہت سي قسميں وجود ميں آ چکي ہيں جن ميں سے ايک “ڈَک فيس” سيلفي ہے جس ميں اپنے ہونٹوں کو درميان سے خَم دے مخالف سمتوں ميں اوپر اٹھا کر بطخ کي چونچ کي طرح بنا کر.
…………………….. کڑيچ………………………………

ليجئيے ڈک فيس سيلفي تيار ہے….

انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور بھي سيلفي بنانے سے خاص دلچسپي رکھتے ہيں جن ميں سے اونٹ اور بلي سر فہرست ہيں…..

قطر کے اونٹ تو اس معاملے ميں سب سے آگے ہيں جو سيلفي کے دوران مسکراتے بھي ہيں…..
مگر دھيان رہے ايسي ہي کوشش برازيل کي کيٹي نے بھي ايک اونٹ کيساتھ کي تھي…. سيلفي تو بن گئي مگر اونٹ مسکرانے کي بجائے کيٹي کا بازو منہ ميں ڈال کر چبانے ميں مصروف تھا جبکہ کيٹي ہوا ميں جھولتے ہوئے مدد کے ليے چلا رہي تھي…………

تو کيا خيال ہے ڈاکٹر صاحب ہو جايے ايک سيلفي……… ؟
وہ بھي پستول کيساتھ……؟

واڈھی

wadhi

انتساب: بچپن کے دوست حسین بخش کے نام جو ہمیشہ قمیض کی قید سے آزاد رہا

زمین کے سینے پر قطار در قطار پورے جوبن کے ساتھ تن کر آسمان کی طرف سر بڑھائے ہوا کے دوش پر لہلاتے رقص کرتے اپنی سرسراہٹ سے خوشی کا پرلطف گیت گنگناتے ہوئے گندم کی یہ فصل جھلسا دینے والی گرمی میں بھی کسان کو تپش سے بے نیاز کر دیتی ہے. ساری محنتوں کی وصولی کا وقت آن پہنچا کُچھ ہی دنوں میں خوشوں اور گندم کی بالیوں سے موتیوں جیسے دانے نکل کر آنگن میں ڈھیر کی صورت سارا صحن پر کئے ہونگے. دانوں کی خوشبو میں کسان کے پسینے کی بو گرمی اورحبس باہم مل کر عجب مہک پیدا کریں گے جس کو سونگھنے کے لیے کسان کے نتھنے سارا سال انتظار کرتے ہیں

ایسا ملک جہاں گندم کے دانے بنیادی خوراک ہوںان کا حصول آمدن اور خوراک کا ذریعہ ہو وہاں یہ والہانہ محبت ایک قدرتی امر ہے صرف کسان ہی نہیں بلکہ دیہات میں یہ فصل سب کی مشترکہ ہوتی ہے. گاؤں کے چاروں طرف پھیلے یہ گندم کے کھیت اور ان کے درمیان بسنے والے انسان خاندان کے مختلف افراد کی طرح اپنی مخصوص ذمہ داریوں کیساتھ گندم کی بجائی سے کٹائی تک بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک ہوتے ہیں. نائی. میراثی، لوہار، ترکھان، کمہار پانی لگانے والے کٹائی کرنے والے مسجد کا مولوی حتی کے پیر صاحب تک اس فصل میں اپنے حصہ کے حصول کے خواہش مند ہوتے ہیں. زمیندار کے کھیت اس اجتماعی ماں کی طرح ہوتے ہیں جسے سب کا پیٹ بھرنا ہے. سب کو کھانے کے لیے دانے فراہم کرنے ہیں کہنے کو پیدا تو ہم ایک زمیندار گھرانے میں ہوئے مگر پرورش اس غیر زمیندارنہ انداز سے ہوئی کہ بدقسمتی سے ہمارا شمار ان زمیندار فرزندوں میں ہوتا ہے جو اپنے آباء اور ان کے پیشہ و پیشانی دونوں پر کلنک ہیں بھلا وہ بھی کوئی زمیندار ہوا جسے درانتی بھی ٹھیک سے پکڑنی نہ آئے….؟

یہ نہیں کہ ہم نے کوشش نہی کی بارہا فصلوں میں جا جا کر ملازموں کا ہاتھ بٹایا گٹھے بندھوائے چارہ کاٹنے میں مدد کی ہلکا پھلکا ہاتھ بھی چلاتے تھے چارہ بھی کاٹ لیتے تھے مگر ہمیں کیا پتا تھا کہ سر سبز چارہ کاٹنے اور خشک پکی ہوئی گندم  کاٹنے میں کیا فرق ہوتا ہے

بچپن کا واقعہ ہے تب ہم شاید آٹھویں جماعت میں تھے گندم کی فصل پکی واڈھیاں شروع ہو گئیں.

ایک دن ہم بھی پرجوش انداز میں اسلو ( اسلم مسلی کا عرف) کے سر پر کھڑے ہو گئے

لاؤ درانتی ادھر دو میں بھی گندم کاٹوں گا

اسلو نے کُچھ دیر پس و پیش کے بعد درانتی میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے متنبہ کیا

چوہدری اے شریف ترکھان دی داتری اے لنگارے لا دے گی

(یہ شریف لوہار کی درانتی ہے آپ کو زخمی کر دے گی )

مگر ہم نے سنی ان سنی کر دی درانتی تھام کر بیٹھ گئے… .. لگے گندم کاٹنے

رعب جمانے کی خاطر تیز تیز درانتی چلانے لگے ایک ہاتھ سے چند تنوں کو اکٹھا پکڑتے اور دوسرے ہاتھ سے درانتی چلا کر انہیں زمین سے جدا کر دیتے. چونکہ فصل پک کر خشک ہو چکی ہوتی ہے اس لئے  کٹنے کیساتھ ایک مخصوص آواز پیدا ہوتی سرر سرر سرر

اس صوتی آہنگ کے محسور کن احساس تلے تیزی سے درانتی چلا رہے تھے کہ اچانک تنے کا وہ حصہ جو زمین کے ساتھ رہ جاتا ہے علاقہ غیر میں چبھا دھیان اس طرف گیا ہاتھ ہنوز تیز تیز چل رہے تھے سو بے دھیانی میں اپنے ہی دوسرے ہاتھ پر درانتی چلا دی انگوٹھے کے اوپر والی جلد کو شریف ترکھان کی ظالم درانتی گہرائی تک کاٹ چکی تھی سفید گوشت نظر آ رہا تھا. درانتی کے منہ سے لہو ٹپک رہا تھا. درد سے ہماری جان نکل رہی تھی. اسلو دوڑ کر پاس  آیا اس  کے چہرے پر واضح تشویش تھی

خون روکنے کے لیے زخم کو اوپر سے دبا کر چیرے کو ملا دیا. پورا وجود درد سے لرز اٹھا

سارا ہاتھ لہو لہان ہو رہا تھا

بولا بھی تھا تجھے چوہدری

یہ تیرے بس کی بات نہیں داتری بہت تیز ہے. تیری اس حرکت کی وجہ سے اب سب گھر والوں سے باری باری ڈانٹ کھانی پڑے گی. چل آ تجھے دوائی لگاؤ مجھے ساتھ لے کر ایک طرف چل دیا. کچھ دور جا کر مجھے کہا اپنے زخم خوردہ ہاتھ کو زار بند کھول کر اب حار کے پھوارے میں غسل دو فوراً لہو نکلنا بند ہوجائے گا اور زخم بھی جلدی ٹھیک ہو جائے گاہمیں تو سن کی ہی جرجری آ گئی

نہ بھئ ی یہ غلیظ عمل ہم سے نہ ہو پائے گا. یہ کہہ کر ہم ڈیرے کی طرف چل دئیے ہاتھ دھو پر اوپر کپڑا باندھ لیا. وہ دن ہے اور آج کا دن ہے درانتی پکڑنے کے فن سے محرومی کے کوسنے سن کر صبر کر لیا مگر کبھی کٹائی کے جوہر دکھانے کی کوشش نہی کی واڈی کے وقت گاؤن میں بڑی چہل پہل ہوتی ہے. شریف ترکھان کی بھٹی دن رات چلتی ہے پھاکادھڑا دھڑ درانتیاں تیز کرتا ہے. صدیق جولاہا اپنے سات لڑکوں اور ان کے بچوں کی فوج کے ساتھایک دن میں کئی کئی ایکڑ گندم کاٹتے ہی چاچی مینہ پِڑوں میں پھر پھر کر سِٹے جمع کرتی ہے غیر کاشتکار طبقہ ان دنوں کو غنیمت جان کر سال بھر کے دانے کمانے میں لگ جاتا ہے

بعض علاقوں میں واڈھی بڑی دھوم دھام سے شروع ہوتی ہے. ڈھول کی تھاپ پر لوک گیت گاتے رقص کرتے ہوئے خوشی سے نہال واڈے جھوم جھوم کر گندم کاٹتے ہیں خوشی کہ یہ لمحات بڑے دلکش ہوتے ہیں جب کڑکڑاتی دھوپ میں ہر آسائش سے دور آپ محنت کش کے چہرے پر زندگی سے بھرپور مسکرائٹ دیکھیں بات بر بات قہقہے اس سمے یہ کھلیان شاید دنیا کے سب سے زیادہ خوشحال خطے بن جاتے ہیں کُچھ دنوں کے لیے گاؤں کی واحد کرنسی گندم کے دانے بن جاتے ہیں. ہر لین دین انہی سے ہوتا ہے. ضرورت سے زائد گندم فروخت کر کے لوگ اپنی دوسری ضروریات کی اشیاء خرید لیتے ہیں

واڈھی ہی کے  دنوں میں ایک شام حسین بخش نے ہمیں بڑی عیاشی کروائی چَھبو بٹ کے دکان کے سامنے لگے پھٹے پر ہم نے پیپسی آئس کریم نمکو قلفیاں بڑے مزے لے لے کر کھائیں. ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اس ظالم نے فوجی ثناءاللہ کی گندم چوری کی ہے. رات کو وی شکایت لگانے گھر آ گیا حسین بخش نے ساتھ ہمیں بھی نامزد کر دیا بڑی دھلائی ہوئی اگلے دن حسین بخش کو روک کر پوچھا ظالم یہ تو نے کیا کیا مجھے تو یہ تک نہیں پتا تھا کہ یہ پیسے چوری کی گندم کے ہیں  جواب ملا

رات پیپسی تو بڑے مزے لے لے کر پی رہے تھے اب مار کیا میں اکیلا کھاؤ…..؟