شہرِ خیال

موم کی گلیاں

ان دنوں شہد سے عشق سا ہوا ہے - اس کی افادیت قرآن کریم میں  اس کا ذکرحضوراکرم صلٰی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کا اسے پسند فرمانا مدنظررہتا ہے - شہد کے ساتھ شہد کی مکھیاں بھی یاد آئیں اور ان کے متعلق بانوقدسیہ کی کہانی موم کی گلیاں- 
شروع بہار کے دن تھے - سردیوں کی خُنکی اورٹھنڈ اب بھی صبح شام رینگتی ہوئی  کمروں میں آجاتی تھی-آتشدان روشن کرنا پڑتا اورگرم کپڑوں کا سہارالیا جاتا- پہاڑوں میں بہار کچھ اور ہی رنگ لاتی - فضا میں ننھا ننھا بور، نامعلوم سی خُوشبوئیں اور ہریالی کی بُوباس اُڑتی رہتی - بہار پہاڑوں پر بھرپُورزندگی کا پیام لے کرآتی ہے-برف کی سلیں پگھتی ہیں 
چشمے پُھوٹتے ہیں ، سردیوں کے سوئے جانوراپنی طویل نیند سے جاگتے ہیں تو خوابیدہ وادیاں جاگ اُٹھتی ہیں -مجھے پہاڑوں کی بہار سے اس لیے بھی زیادہ محبت ہے کہ یہاں انسانوں سے زیادہ جانوروں پہ بہارآتی ہے-اور زندگی کی گہماگہمی میں اضافہ ہوجاتاہے-
صبح میری آنکھ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کُھلی فضا میں خیروبرکت اور سکون وراحت کا ایسا شیرگرم پیالہ تھا کہ اترائی میں کُھلنے والی کھڑکی کھول کرکھڑا ہوگیا-صبح کی ہلکی دھوپ اخروٹ کے پتوں میں رینگ رہی تھی- اچانک میری نظرسامنے شہد کے چھتےپرپڑی-اگرمجھے شہد کی مکھیوں کا کچھ تجربہ نہ ہوتا توشاید میں پٹاخ سے کھڑکیاں بھیڑلیتا- لیکن آج میرے سامنے قدرت کی ایک مخلوق تھی جوصبح شام محنت کرتی ہے اورایسی منظم زندگی بسرکرتی ہے جہاں سوشلسٹ ، کمیونسٹ یا جمہوریت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا- یہاں کی ڈکٹیٹر ملکہ قدم قدم پرفرمان جاری کرتی ہے- لمحہ بہ لمحہ چھتے کی زندگی کو سنوارتی ہے - لیکن بڑے علم کے ساتھ ، نہایت انکساری کے ساتھ -اخروٹ کے پتوں میں ہولے ہولے بھنبھناتی تقریباَ ساٹھ ہزار کی آبادی محوِگردش تھی- کوئی سپاہی اس ٹریفک کے لیے مقررنہ تھا- پھربھی یہ جانیں اپنے اپنے کاموں میں بلا کی سرگرمی دکھا رہیںتھیں-سورج کی کرنیں تیکھی ہوچکیں تھیں اور اب چھتے کا رنگ قدرے سیاہی مائل نظرآرہا تھا  اورگھومتی ہوئی مکھیوں کے پرچمکنے لگے تھے-

میرا کراچی

سمندر کے کنارے بسا شہر جس کا ہرشخص سمندرسا جوش اورطاقت لیے نظرآتاہے محنتی اورجفا کش-  اس کا حُسن اس کے قدیم باشندے پارسی ، میمن ، کاٹھیاواڑی ، بوہری اور مچھیرے ہیں جن کے رنگ سے سانولا سلونا بانکا بنا- یہ پاکستان کا بڑا اور کماؤ پوت ہے ایک بڑے کنبے کو بسائے بیٹھا ہے آبادی کے اعتبار سے دنیا کا پانچواں بڑا شہر  ذمے داریاں اُٹھائے ہوئے ہے - اس نے حق ادا کیے لیکن اس کو مانگنے کی تہمت سہنی پڑی تو کبھی لسانی تعصب کا الزام برداشت کرنا پڑا اس کے باسیوں نے اس کے وقار کو مجروح کیا لیکن سمندرسے سینے میں چُھپا گیا ، دُکھ کو پی گیا یہ عبدل الستار ایدھی ہے یہ حرف شکایت سے نا آشنا ہے - قائد اعظم محمد علی جناح کا مسکن ہے بڑائی تو دکھائے گا -
یہ چھیپا کا دسترخوان ہے کھلانے والا ، یہ فاطمہ ثریا بجیا کا پاندان ہے مہکتا ہوا، یہ کوئٹہ عنابی ہوٹل کی مہکتی چائے کی پیالی سا گرم جوش ہے - اس کو جون کی تپتی دھوپ میں دیکھو تو پسینے سے شرابورکڑیل جوان ہے - میمن مسجد کی فجر کی اذان ہے،  یہ دسمبر کی راتوں میں خُشک میوے لیے گھنٹیوں کے سُربجاتا ہے - اس کی کئی ادائیں ہیں کئی روپ ہیں یہ تہذیب وتمدن سے آراستہ دلی اور لکھںؤ کا دبستان ہے -
میراکراچی جہاں آنکھ کھولی ، پہلا قدم اُٹھا ، جزدان لیے احتشام الحق تھانوی کی جامعہ مسجد پہنچا ،  بستہ گلے میں ڈالے قائد کے کے مزار کے منظر سے بسے اسکول کی راہ لی ، رنگوں کو سمیٹ کر اسکول آف آرٹس گیا ، گرم دوپہروں میں گھوما ، خُنک راتوں کو شہر میں دیرتک پھرتا رہا - یہ میرا کراچی ہے دنیا کا واحد شہر جسے میں اپنا کہہ سکتا ہوں جو میری راہ تکتا ہے ، میرے بھتیجے قاسم  کی طرح کہتا ہے "اچھا شام کو آجائیں" اب اسے کیسے بتایا جائے کہ  ہجرت کا موسم ابھی ختم نہیں ہوا -

تری یاد رُوئے مریم

دسمبر سرد ہوائیں اور یادیں لے کرآتاہے لیکن یاد وہ کریں جو بھولیں تو - ان دنوں میں علی الصبح  جب اندھیرا ہوتا ہےکام پہ نکلتا ہوں بہت کم لوگ اس وقت سڑکوں پہ ہوتے ہیں مجھے محسوس ہوتا ہے میرے ساتھ میری والدہ چلی آرہی ہیں بس اسٹاپ تک ویسے ہی جیسے میں ساتویں جماعت میں تھا اور اپنے بڑے بھائی کے میٹرک کرنے کے بعد دور دراز اسکول تنہا جانے لگا 11 سالہ بچہ سردیوں کی صبح اندھیرے میں گھر سے نکلتا تو امی ساتھ آتی بس اسٹاپ تک - 22 دسمبر امی کے دنیا سے جانے کا دن ہے لیکن ہماری زندگیوں سے جانے کا نہیں - ماں باپ دنیا سے چلے بھی جائیں تو اولاد کی زندگی میں ہمیشہ رہتے ہیں خون کی گردش کی طرح محسوس ہوتے ہیں ، موذن کی اذان میں سنائی دیتے ہیں ، میری لیے تو امی  نظرآنے کا بھی انتظام کرگئیں میری بڑی بہنوں کی صورت میں جن کی شفقت کے سائے مجھ سے کم ہمت کو گرم سرد سے بچائے رکھتے ہیں-  امی کو کبھی شوق اپنائے نہ دیکھا ، نہ  فون پہ لمبی گفتگوکا شوق ، نہ شاپنگ کا ، نہ ٹی وی ڈارموں کا اور نہ ہی آرام کا - گھر کی بڑی بیٹی تھیں تو گھریلو کام کم عمری سے سیکھے اورکیے اس کے علاوہ ایک ترکھان کی بیٹی ہونے کے باعث بہت سے مردوں والے کام بھی با آسانی کیے لکڑی کا کام ، بجلی کا ، پلستر اور دیگر مرمت کے کام - میرے والد کافی عرصے تک ملک سے باہر قومی ائیرلائین ہونے کے باعث مقیم رہے امی نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی وجہ بچت اور اپنے گھر کی تعمیر تھی جس کی نگرانی وہ خود کرتی رہیں چھوٹے ماموں کے ساتھ ملک کر-
امی شیرکی نظر سے دیکھنے کی قائل تھیں پٹائی کی ضرورت ہی نہ رہتی ہاں سونے کا نوالہ کھلانے کی بجائے سادہ کھانا خود بھی کھایا اور ہمیں بھی  اس عادی بنایا زبان کی چسکے غذا اور غیبت دونوں سے دور رہیں - محتلف مزاج کے اولاد کو پالنا اور ہم آھنگ اور یکجا رکھنا اُن کو بخوبی آتا، کبھی ایک سے دوسرے کی شکایت نہ سنی اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی مجھ سے روتو نے جب کچھ کہنا چاہا جواب  آیا " میں موجود ہوں اور دیکھ رہی ہوں کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گی خاطرجمع رکھو"
امی کو میک اپ کرتے نہ دیکھا ان کی سادگی ان کا وقار تھی - گہنے پاتے ،تیز رنگ کے ملبوسات ان کے مزاج سے مطابقت نہ رکھتے اور نہ ان کی وہ محتاج تھیں - امی شاید پیدائشی ماں تھیں ہماری ہی نہیں میاں جی ( ہمارے نانا) بے جی ( نانی) اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں ، نندوں اور دیوروں کی بھی - ان کو جہاں نرمی سے بات کہنی ہوتی وہ بھی جانتی جہاں سخت لہجہ اپنانا ہوتا وہ معلوم تھا ہمارے ساتھ چھوٹے ماموں کو بھی ڈانٹ پڑتی جو بی بی کہہ کے امی کے آگے پیچھے ہوتے
میرے نانا اور خالہ ماموں امی کواکثر بی بی کہہ کرپکارتے - امی  مجھ کمزور اور کم ہمت کو امریکہ بھیج کے میرے پیچھے دنیا سے گئیں میں ان کے آخری سفر کو نہ دیکھ سکا نہ اپنے والد کے - اللہ کی ذات بڑی دانائی اور حکمت والی ہے اُس نے مجھے امی کو اُس روپ میں کفن میں لپٹے ہوئے نہ دکھایا کہ مجھ سا کم ہمت کہاں تاب لاتا
تری یاد روئے مریم کہ مجھے اللہ کے گھرکی زیارت نصیب ہوئی تو روپ ساتھ بھیجا میری بڑی بہن کی صورت -
صاحبوں سچ کہوں تو میرے بڑے بہن بھائی ( ایک بھائی عمر میں چھوٹا لیکن عمل میں بڑاہی ہے)  مجھے ایک بچے کی طرح پال رہے ہیں یہ امی کی تربیت اور اللہ کا کرم ہے اس کی عطا ہے


عثمانی طرزِ تعمیر کا شاہکار امریکہ میں Diyanet Center of America

ان دنوں ترکی خبروں میں ہے ہم نے بھی 15 جولائی کو وہاں کی ناکام فوجی بغاوت اور ترک عوام کا جذبہ دیکھا طیب اردگان کی مقبولیت دیکھی - اگلے دن ایک ترک طعام گاہ میں دوپہر کا کھانے ایک دوست کے ساتھ گئے تو ان سے میری لینڈ میں واقع ترک مسجد جوعثمانی طرزِ طرزتعمیر کا نمونہ ہے کا ذکرسنا ارادہ ہوا کیا جائیں اور دیکھیں جو تصاویر میں اتنی شاندار ہے اصل میں کیا قابل دید ہوگی - ہم نے ورجینا میں ایک دوست مدثرمحمود سے رابطہ کیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا اُن کے مطابق ان کے گھر سے زیادہ دور نہیں لیکن وہ اب تک وہاں نہیں گئے لیکن ہم آجائیں تو مل کر چلیں تو ہم کو اور کیا چاہیے تھا اس سنہری پیش کش کو سن کر نیکی اور پوچھ پوچھ - یوں بھی ہم مجرد آدمی کون سا اجازتوں وضاحتوں منتوں اور پس وپیش کا معاملہ تھا لہذا جاب پہ بتایا کہ ہم کو ایک دن کی چھٹی درکار ہے جو منظور ہی تھی بس رسمی اطلاع دینی تھی -
 آن لائن واشنگٹن کے لیے بس کی بُکنگ کروائی اور جمعرات کی شام وہاں تھے ورجینا سے دوست صاحب لینے کےلیےآئے رات ان کے گھر قیام کیا صبح ناشتے اور گفتگو کا سلسلہ 10بجے تک چلا پھر روانہ ہوئے،یہ اسلامی مرکز 2003 میں قائم کیا گیا جس کے لیے ترک حکومت نے تعاون کیا اس میں گیسٹ ہاوس ، میوزم ، زمین دوز کار پارکنگ موجود ہے
  میری لینڈ کا فاصلہ  وہاں سے 35 - 40 میل ہے - اُس شاہراہ پہ پہنچے تو مدثرنے ہمیں ایڈرس پہ نظرڈالنے کا کہا تو میں سامنے دائیں جانب کچھ فاصلے پہ اس مسجسم حُسن کودیکھ رہا تھا --- سبحان اللہ-
یہ جولائی کی ایک دوپہر تھی شفاف آسمان تلے دمکتی ہوئی مسجد کی عمارت کسی پوسٹ کارڈ تصویر سی لگ رہی تھی -

مسجد میں داخل ہوتے ہیں صحن میں وضو کی چوکی تھی جس پہ فوارہ آویزاں تھا
      وہاں سے ہی مسجد سے تلاوت قرآن پاک کی آواز آرہی تھی لحنِ داؤدی میں سورہ کہف کی تلاوت ہورہی تھیمسجد کی آرائش اور فن خطاطی کو دیکھ کر مسجدںبوی ﷺ یاد آگئی - 
ایک پُروقارجواں سال قاری اور ان کے ساتھ دو اور افراد بیٹھے تھے - وقت پہ خطبہ ہوا پھر نماز اور اس کے بعد حالیہ فوجی بغاوت میں
شہید ہونے والے افراد کی غائبانہ نماز جنازہ اداکی گئی - اور وہ سب جو 15 جولائی کودیکھا سنا تھا اس کا ایک حصہ خود کو محسوس کیا -امام صاحب سے مصافحہ ومعانقہ پُرخلوص اور ان کی حسین شخصیت کے عین مطابق تھا - یہ ایک بہترین سفرتھا اور مسجد جانا اور نماز ادا کرنا یادگار رہا - اور یوں جو ہمیں استنبول جاکر صرف ائیرپورٹ سے دوسری پرواز کے انتظار میں شہر نہ دیکھنے خاص طورپر عثمانی طرزِ تعمیر ، نیلی مسجد اور دیگر عمارات کو دیکھنے نہ پانے کی کچھ تلافی ہوئی-





یقین اُسی در سے ملتا ہے


مجھے یقین تھا میں پھر بُلایا جاؤں گا
کہ یہ سوال بھی شامل میری دعاؤں میں تھا
یہ یقین بھی اُسی در سے ملتا ہے ، وہیں سے عطا ہوتاہے اور یوں میں پہلی حاضری (حج) کے چھ ماہ بعد پھر وہاں حاضرتھا یقین کی دولت سے مالامال ہونے 
اپنی روح کو سرشارکرنے اُس کے کرم کا شکریہ ادا کرنے - کراچی میں دودن کے قیام کے بعد عمرے کے دس دن کے قیام کے لیے میں اور میرا چھوٹا بھائی جمعرات کی صبح مدینہ منورہ روانہ ہوئے سینے میں آرام بچھا  - وہ مقدس شہر  آقاﷺ کا شہر ، شہرِجاں ، شہرِ قرار گنبدا خضرا کا حسین اور سہانا منظرسرشاری سی سرشاری تھی - ہوائیں مانوس تھیں ، لوگ آشنا سارے ، روح میں بسے منظر آنکھوں کے سامنے - وقت عصرکا اورحاضری کا نماز ادا کی جنت البقیع کی بیرونی دیوار سے فاتحہ پڑھی سلام پیش کیا اور خاتون جنت سیدہ بی بی رضی اللہ عنہا سے عرض کی آپ کی  سفارش درکار ہے - کرم کے جھونکے آئے اور ہم دونوں بھائی  مسجد نبوی میں ریاض الجنہ جا پہنچے یونہی اچانک بناء کوشش کے کہ سفارش ہی ایسی تھی یقین سا یقین تھا - دو نفل ادا کیے اور سلام کےلیے روضہء آقاﷺ پہ پلکیں جھکا دیں کہ ادب کا تقاضا اور مقام یہی ہے - آقاﷺ کے روضے کے سامنے جو کفیت ہوتی اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا - 
 میرے ماموں زاد بھائی کامران اور نعمان ریاض سے ہمیں ملنے دوسری صبح بروز جمعہ آپہنچے اور دو دن ہمارے ساتھ رہے - ہمارے پاس اب مدینہ منورہ میں دون تھے اچانک بخار نے آلیا ---- اب نہیں اس بار بخارسے نہیں گھبرانا چڑھتارہے اس کی کسے پرواہ -قیام کا آخری دن نیم غنودگی تھی بخارکی حدت میرے بھائی نے ماتھا چھوکرکہا میں مسجد جارہاہوں تہجد کے لیے تم آرام کرو----- نہیں میں چلتا ہوں آج ہی تو موقع ہے بیماری ہے ، بیچارگی کی اُوٹ ہے آج ہی تو عرض کا موقع ہے یہی تو کرم کی گذارش کے سنہرے پل ہیں چادر لپیٹی اور روضہ پاک پہ حاضرہوں تو التفات کا زیادہ مستحق بن سکتاہوں ، عرض کی آقاﷺ میں ناتواں ، کمزورہوں ، گناہ گارہوں ، شرمسارہوں ، بیمارہوں مجھے اللہ کے حضورآپ کی سفارش درکارہے آپ رحمت لعالمین ہیں - ندامت تھی ، نقاہت تھی ، ساتھ ہی اُمید بھی یقین بھی کرم ہوگا ---- آپ ﷺ کب کسی کوخالی بھیجتے ہیں - وہ حاضری وہ سلام بڑا پُرکیف رہا - یقین کی ، کرم کی دولت ملے تو جسم ہلکا پھلکا ہوجاتاہے - نماز فجرادا کی سلام وداع کیا گندخضرا کو - عمرے کی تیاری کے لیے جائے قیام پہنچے احرام باندھا میقات کی جانب چلے نوافل ادا کیے نیت کی - مکہ مکرمہ
پہنچے تو مغرب ہوچکی تھی سامان رکھ کے حرم شریف آئے ، نمازعشاء کے بعد عمرہ ادا کیا - وہ خانہ خدا جلوہ جاناں پھرسامنے اب پھر دل کو ، نگاہ سنبھالنا تھا کہ دوران طواف رُخ کعبہ شریف کی جانب نہیں کرتے ، طواف کیا تو میرے بھائی نے دیوارِ کعبہ کو چُھونے کا کہا ، ہم چل پڑھے ، قدم مطاف میں نہیں کہیں اور پڑرہےتھے ، پرکیسے لگتے ہیں معلوم ہوگیا - 
طواف کعبہ تھا ، بے خودی تھی ، اشکوں کی موج لگی تھی بہتے جاتے تھے یہ مقام ان کو پھرکہاں ملنا تھا - کرم مانگا ، سفارش مانگی تھی سب ملا اور یوں ملا کہ حیران کردیا - ایک سہانی صبح طواف کیا ، حطیم میں نوافل--- حطیم خانہ کعبہ کا حصہ اور میرا غلیظ وجود ایک جھرجھری آئی تھی کہ ایک باد سحرجھونکا سرگوشی کرتا ، تھپکتا گذرگیا - صفیں بننے لگیں نماز فجر کی ہم بھی کعبہ شریف کے قریب جابیٹھے لیکن --- اُٹھادیے گئے ملال آیا ہاں میں کہاں اوراللہ کہاں آپ کا یہ دربار میں کمی کم ذات کمینہ سرجھکا کے چل پڑے آجاؤ صف بن رہی ہے ساتھ کھڑے ہو، سامنے ملتزم تھا تیسری صف تھی امامت ڈاکٹر شیخ بلیل کررہے تھے
لہن تھا قرآن کریم کی تلاوت ، حلاوت ، شرینی ، سرشاری - نماز یوں بھی ادا ہوتی ہے؟ یہ قرب مجھے مل سکتا ہے اے اللہ میں یہاں ملتزم کے سامنے اتنا قریب ؟
لگا کوئی ہاتھ پکڑے کے نماز کے بعد ملتزم تک لے گیا ، میرے ہاتھ تھے؟ کعبے کا دروازہ میرے بھائی نے میراہاتھ اُونچا کیا کہ میں ملتزم کو چُھو سکوں ، کسی نے پیچھے سے دھکیلا سینہ دیوارکعبہ سے جالگا --------- سب اُڑچکا تھا سب غبار ہو گیا سب پیچھے رہ گیا ، میں تھا میرارب تھا - 
وہاں سے کب ہٹا کیسے ہٹا یادنہیں پھر وہی سرگوشی وہی ہوا کا جھونکا آیا دیکھ لو میں تم سے کتنا پیارکرتاہوں ------ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر یہ یقین دلایا مجھے میرے اللہ نے، یہ یقین کی  دولت لے کے میں آیا ہوں کہ --- اللہ ہم سے بہت پیارکرتاہے ، بہت پیار کرتا ہے --- مجھ سے آپ سے ، ہم سب سے ، میرے جیسے کم فہمی اور کورچشم کوپاس بُلا کے ، پاس بیٹھا کے بتاتا کہ میری سمجھ میں یوں ہی آناتھا اور سمجھ والوں کو آپ سے شکرگزاروں کو وہ آپ کے شہرمیں بیٹھے بٹھائے سمجھادیتاہے- 

مذمت یوں نہیں ہوگی


ہم اس دور میں ہیں جہاں خبربریکنگ نیوزہوتی ہے ، تماشا ہوتی ہے ، تصویر اور فلم کی شکل میں ہوتی ہے - بُرائی  ، فحش بات ، گالم گلوچ ، تشدد کو دکھا کر پھیلا کر بلکہ دہرا دہرا کر اس کی مذمت کا نام دیا جارہاہے - امریکی نومسلم دانشورشیخ حمزہ یوسف  کہتے ہیں "اُمت مسلمہ کو جب کوئی بُری بات معلوم ہوتی ہے ، کسی فتنے اور شرکا پتہ چلتا ہے تو اس کو پھیلانے میں جوش وخروش سے حصہ لیا جاتاہے یہ اندرکا شرہوتاہے جو دراصل مذمت کے نام پہ عام کیا جاتاہے"-مجھے اس بات کو سمجھنے کے لیے سوشل میڈیا ، ٹی وی اور اپنا گریبان دیکھنا پڑا، اپنی اور اپنے دوستوں کی  فیس بُک کی ٹائم لائین  پہ نظرکرنی پڑی سب سامنے آگیا- کبھی قابل اعتراض اشتہار کو پایا مذمت کے نام پہ اور تو اب مولویوں کی گالیوں سے مزین وڈیو موجودہے - کبھی جنید جمشید کی زبان کی لغزش کو عام کرکے گستاخ گستاخ کہا ہے - بُرائی کو بدی کو جُزئیات کے ساتھ بیان کرکے تصویری شکل میں فلم کی صورت  دکھا دکھا کراس پہ برہمی ظاہرکی جارہی ہے -سوشل میڈیا پہ حق گوئی کے نام پہ بیباک تبصرے اور شرمناک جملے صرف نوجوان نسل ہی نہیں پکی عمر کے جہاندیدہ بُڈھے بھی پیش کرتے ہیں - ہم انسانوں سے نہیں شرماتے فحش کلامی اوربُری بات کہتے ہوئے اس کو دُہراتے ہوئے تو اللہ سے کیا شرم کریں - منافقت نہیں کرتے یہ کہہ کر اس کی کو آرڑ بنا کر بدزبانی کرلیتے ہیں وہ لطیفے اور بہیودہ جملے سوشل میڈیا پہ لکھ دیتے ہیں جو کسی بھی محفل کے آداب اور اخلاق کے منافی ہوں - ابلاغ اورآزائ اظہار کے کا نام پہ ہم مغرب کی تلقید کرنا چاہتے ہیں جو کہ ان معاشروں کو بھی اخلاقی طورپہ نقصان دے رہے ہیں ان میں تو پھر قانون کا احترام ہے ، کچھ قواعد وضوابط ہیں ہم تو ان کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اللہ کے قانون کو جانتے ہیں ، مانتے نہیں سمجھتے نہیں - نئی لہر جو چلی ہے اس  میں  اب  اخلاق واقدار کا زوال اب سماجی  مسئلہ ہے  کسی نوجوان کی سوچ ، مولوی کی زبان پہ اعتراض کیوں سند قبولیت تو ہم اسے عام کرکے بخش رہے ہیں وہ وہ بات شائع کررہے ہیں کہہ رہے ہیں جو کبھی قابل بیان نہیں تھی وہ اب ہماری روزمرہ تماش بینی ، خبررسانی اور سماجی زندگی کا حصہ بن رہی ہیں -  سوچنا ہوگا رُکنا ہوگا ورنہ یہ طوفان بدتمیزی سب کچھ بہا لے جائے گا اور نہ اخلاق وکرداراور نہ ایمان محفوظ رہے گا ہمیں دانستہ اور نادانستہ طورپہ بُرائی کو عام کرنے کا حصہ نہ بننے کا ارداہ کرنا ہوگا- اپنی زبان کی حفاظت کرنے ہوگی مذمت گالیاں دے کر یا سنواکر نہیں ہوسکتی اس کے بہت سے مناسب طریقے ہیں - آقاﷺ کا فرمان ہے
 "مومن نہ تو طعن کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا، نہ وہ فحش گو ہوتا ہے اور نہ زبان دراز"
(رواہ الترمذي: ۱۹۷۷، والبھقي في شعب الاإیمان: ۵۱۵۰، ۵۱۴۹)
دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے اور شر سے محفوظ فرمائے -

بھلا بلاگر

 ایک  بھلا سا لڑکا بڑی مصعوم صورت والا آپ سے ملے گا آپ خوش ہوں گے اس کی خوش اخلاقی سے ، اس کی سادگی سے اورسب سے بڑھ کرکم گوئی سے آپ کو ہلاشیری ملے گی اس کو ایک سادہ سابندہ جان کرکچھ رُعب اورعلمیت جھاڑنے کی مواقع نظرآنے لگیں گے آپ اگربلاگر ہیں تو مزید اس کو متاثرکرنے لگیں گے آپ اس کے کوائف اور ملازمت کے بارے جاننا نہیں چاہیں گے اس کو فہدکہیر کے دفتر کا کوئی چھوٹا سمجھیں ، اس کو چائے کا کہیں یہ مسکراکر حکم بجالائے گا اور پھر ہمہ تن گوش آپ کی گفتگو سننے لگے گا- آپ فہد کہیر کے کرک نامہ کی باتیں کریں اُرود زبان کی ترقی میں اپنا کردار بیان کریں یا اپنے اوصاف اور اپنے بلاگ کی مقبولیت کی باتیں کریں اس کو خاموش ہی پائیں گے 
کچھ ملاقاتوں پر معلوم ہوگا یہ ایک بلاگر اور کرک نامہ میں فہدکہیر کے ساتھ ہیں 
یہ بھلا لڑکا اب آپ کو بلا نظرآنے لگے گا اس کی ذہانت اس کے بلاگ پہ اس کی تحریریوں میں جھلکے گی ، اس کی مختصر اورمفید تحریریں آپ باربارپڑھنا چاہیں گے  اس کے ماحیولیات وسماجیات پر کام بھی آپ کو نظرآنے لگیں گے - اب اگرآپ سیدھے سادے اپنی نمائشی ذہانت اور شیخی خوریوں کو خیرباد کہیں اور اصل شخصیت پہ آجائیں تو اس کے دوستوں میں شامل ہوجائیں ورنہ چلتے پھرتے نظرآئیں کیونکہ یہ آپ کو علم تک نہیں ہونے دے گا کہ آپ صرف اس کے شناساؤں میں سے توہیں دوستوں میں سے نہیں لہذا اس بھلے بلاگر کو پہچان لیں اس کی خاموشی اور سادگی کی قدرکریں کیونکہ  یہ ذہین بھی ہے بلا کا اور حساس بھی - 


ایک بچے کی کہانی

بہت سال پہلے کا قصہ  ہے ایک پانچ سالہ موٹے ، سانولے ، غبی اورپیٹو بچے کوکھانے پینے اورمحلے میں گھر گھرگھومنے کی سوائے کوئی کام نہ تھا صبح بیدار ہوتا تو اماں سے سوجی کا حلوہ کھانے کا تقاضا ہوتا جو پوراکیا جاتا باقاعدگی سے ماں نے روز اہتمام سے دوسرے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے بعد یہ ایک کام کواپنا ذمہ بنالیا یوں بچے کو روز سوجی کا لذیذحلوہ مل جاتا دوپہر تک وہ جی بھرکے کھاتا، ایک متوسط گھرانے میں یہ بچہ ضدی اورپیٹ پوجا کے سواء کچھ نہ جانتا اور چھوٹا ہونے کا بھرپورفائدہ اُٹھاتا رات کو بن مکھن --- یہ فرمائش ایسی ہوتی کہ کبھی پوری ہوتی کبھی ٹال دی جاتی لیکن اسے ضدکا ہنرآتا لہذا گھرکی چوکھٹ پہ لیٹ جاتا بطوراحتجاج ایسے میں پڑوس میں رہنے والے چچا اس کا یہ چسکہ پورا کرتے - لیکن صاحبو سیرپہ سوا سیر ہوتا ہے اس بچے نے اپنی حکومت میں پاکستانی حکمرانوں کی طرح بادشاہی اور مطلق العنانی چاہی کرپشن ، ہٹ دھرمی ، من مانی اور اپنے ہی پیٹ کو آگے رکھا پر اللہ نے اس پہ ایک شہزادہ لابیٹھایا ، اس سے پانچ سال بعد اس  دنیا میں آیا ، موٹو کو کوئی فکرنہ تھی ناہی اتنی عقل کے اب بادشاہی کادورختم ، ہسپتال میں بھائی کو دیکھنے گیا تو وہ انڈا کھاکرشہزادے کو نظرانداز کرکے فاتح سمجھ بیٹھا خود کو اجی ہوگا کوئی ہمارے اقتدار کو اس سے کیا خطرہ اپنی دھن میں لوٹ آیا ، محلے کے گھروں کا گشت کیا کہیں سے لڈو ، ٹافی ، اورکہیں سے بسٹک کھاکے کو موجیں مارتا رہا   محلے کے کئی گھرانوں میں کھانے اور اپنی مصومیت کے باعث ہردلعزیز بن چکا تھا لہذا کوئی فکردامن گیر نہ ہوئی - کچھ دن بعد شہزادہ گھر آگیا اس غبی نے کوئی توجہ نہ دی اپنی دنیا میں مست رہا پھر دن سرکنے لگے کانوں میں شہزادے کے حسن کے چرچے سنائی دینے لگے گھر میں تو سب ٹھیک رہا محلے میں شہزادے کو بناء کوشش کے مقبولیت حاصل ہونے لگی ، موٹو ٹھٹکا ہتھیار پھینک دیئے ، فرمائشیں موقوف اور دل میں شہزادے سے بیر پال لیا ، گورا ہے ہنہہ ہوگا، خوبصورت ہے ہوتا رہے ہم کو کیا موٹو جلنے لگا 
شہزادے کو مکمل نظرانداز کرتا لیکن وہ شہزادہ بھی بانکا تھا سرخ وسفید چمکتا دمکتا قدرت نے اُس کو موٹو سے بلکل مختلف صلاحیتیں عطا کی حُسن میں تو یوسف ثانی تھا ہی اطاعت وفرمانبرداری ، صبروسکون کا پیکربھی یہی اس کو محلے کا بے تاج بادشاہ بناگیا، موٹو نے کونا پکڑلیا پہلے گھرگھُسنا تھا بلکل ہی کام سے گیا - اس کو اب شہزادے سی کوئی قلبی لگاؤ نہ ہوسکا جلن بھی کسک سی رہی دھمیی سی انتقام سے خالی ، مارکٹائی کے بغیر - ڈرپوک اور بزدل تھا کندھے ڈھونڈتا تھا بڑے بھائی کا دامن پکڑے بہت سال گذارے پھر اُس نے عاجز آکے موٹو کے غبنی پن اورحماقتوں سے چڑکرجان چڑائی کسی حدتک -
اب موٹو تھا گھرمیں اور سامنے چمکتا چاند سا شہزادہ کہا جائے کیونکر نظرانداز کرے دل کڑا کرکے اُسے قریب جاکے دیکھا --- یہ کون ہے---- میرا بھائی---
شریکا ، غصہ ، حسد ، برادران یوسف کا سا ملال سب اُڑن چھو ---- یہ میرا بھائی ہے --- میرا چھوٹا بھائی اتا حسین اتنا سمجھداراتنا ذہین بس موٹو نے اس پہ تسلط جمالیا اب یہ اس کا بھائی تھا اس کا علاقہ ہاں بھئی کرو اس کی تعریف گاؤ اس کے حسن کے گیت سب میں  میرا حصہ ہے کیونکہ یہ میرا ہے -
 یوں موٹو نے پہلی بار اپنی عقل سے کام لیا اور باقی عمر اپنی چھوٹے بھائی عقل سے -اب سنتے وہ شہزادہ اُس موٹوکی عینک ، لاٹھی ، ڈکشنری ، encyclopedia ، اُس کا فخر اور اُس کے خوابوں کا امین ہے-

ہم کب ہم کب پہچانیں گے

فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ الْقُرْآن.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم کا خلق قرآن ہی تو ہے۔‘‘
(صحيح، مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، 1 / 512، الرقم : 746) 
یہ حدیث ہم نے کئی بارپڑھی سنی ہوگی لیکن ----- اس پر غورکرنے یا حضوراکرمﷺ سے محبت کا دعٰوی کرنے عید میلاد النبی ﷺ منانے والے اور اس
کی مخالفت میں ایک دوسرے کو سرے سے مسلمان نہ ماننے والے دونوں فریقین 
اپنی ساری توانائیاں اور محنت ایک دوسرے کی مخالفت میں سرف تو کرسکتے ہیں لیکن عمل کرنے ، اعتدال ، درگزر اور خلوص کو نہیں اپنائیں گے - ڈھونڈ ڈھونڈ کر مخالف نکتے یہ ثابت کریں  گے کہ ہم ہیں سچے مسلمان - کسی نے شرک اور بدعت کا شور برپا کررکھا ہے تو کسی نے محبت رسول ﷺ کو صرف جشن منانے اورایک رسم  نبھانا ہی سمجھ لیا ہے - ہم نے کبھی قرآن کریم کو سمجھنے کی ضرورت نہیں سمجھی اسے ثواب کی خاطرپڑھا ہے عمل کے لیے نہیں اسی طرح حضوراکرمﷺ کی ذات اقدس کو آپ کی سیرت کو عقیدت کی نظرسے تو دیکھا ہے محبت کا دعویٰ بھی کیا لیکن اس کو اپنانے کی کوشش نہیں کی - آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حلم، بردباری، تحمل، عفو و درگزر اور صبر و استقلال کی تعلیم دی۔ ان رویوں سے انفرادی و اجتماعی سطح پر سوسائٹی میں تحمل و برداشت جنم لیتا ہے۔ اسی تحمل و برداشت کے ذریعے سوسائٹی کے اندر اعتدال و توازن قائم ہوتا  ہے۔ یہ رویہ انسانوں اور معاشروں کو پرامن بناتا اور انتہا پسندی سے روکتا ہے۔ ایسا معاشرہ ہی عالم انسانیت کے لئے خیر اور فلاح کا باعث ہوتا ہے ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ میں سب سے اعلیٰ ترین پہلو ایک طرف حلم، تحمل، عفو و درگزر اختیار کرنا ہے اور آج ہم میں یہی نہیں - ہم عید میلاد النبی صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ایسے ہی مناتے رہیں گے اور یوں ہی اس کی مخالفت کرتے رہیں گے کیونکہ ہم اسی طرح خود کو مسلمان ثابت کرسکتے ہیں-آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  اَللّٰهُمَّ اهْدِ قَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَايَعْلَمُوْن.باری تعالیٰ میری قوم کو ہدایت دے یہ مجھے پہنچانتے نہیں ہیں۔(صحيح مسلم، 4 : 2006، الرقم : 2599)ہم کب پہچانیں گے اپنے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو-

( اس تحریرمیں چند سطوراور احادیث  ماہنامہ منہاج القرآن کے ایک مضمون سے لی گئی ہیں)

ان پڑھ

میں خود کوعلم دوست اورکتاب خواں سمجھتارہا ، مجھے یہ گمان رہا کہ کتاب سے میری محبت گہری ہے اورمیں علم کے حصول کے لیے کوشاں ہوں ، لاتعداد کتابوں کا مطالعہ کیا ہے - شاعری کی لطافتوں سے واقف ہوں جدید اورقدیم شعراء کا کلام پڑھا اور بہت سی غزلیں ، نظمیں اوراشعار ازبر ہیں اوراشعارکی تشریح اور ان کے پیچیدہ مضامین اورتشبہات کی تشریح باآسانی کرسکتاہوں - نثرکو سمجھتاہوں اورکلاسیکی نثرسے لے کرموجودہ دورکی ادیبوں کی تصانیف پہ سیرِ حاصل بحث مجھے بھاتی ہے میں نثر کے مختلف اسلوب سے واقفیت کا دعویدارہوں کسی نثرپارے کا ایک جملہ پڑھ کے بناء دیکھے ادیب کا نام جان لیتاہوں - کتاب کا مطالعہ میرے روزمرہ معمولات کا حصہ ہے روزانہ بس میں سفرکرتے ہوئے ، شام کو گھرآکرضرورکتاب پڑھتاہوں - کتاب پڑھے بغیرمجھے نہیں یاد میرا کوئی عام یا خاص دن گذراہو- اپنے ذوق مطالعہ کی تسکین کی خاطراپنی عادت کوقائم رکھنے کے لیے- کتاب بہترین دوست ہے وغیرہ وغیرہ میرے نوک زبان پہ ایسے جملے ہوتے ہیں ، اپنی کتابوں سے محبت کا دعویدار بھی اور ایک وسیع کلیکشن رکھتاہوں اپنے بُک ریک کو دیکھ پُھولے نہیں سماتا - 
فارسی اس لیے سیکھنے میں دلچسپی ہے کہ حافظ کا دیوان اس زبان میں ہے وہ پڑھ سکوں ، ترکی ، فرانسیسی اور روسی زبانوں کو سیکھنے کے لیے دل ٹرپتا رہا کہ کیسا علمی وادبی خزانہ ان زبانوں کی کتابوں میں ہے اس پہ دسترس پالوں - 
کیسی کیسی لگن اورچاہ ہے میں میرے دل ان کتابوں کو پڑھنے کی اسی پڑھنے کی چاہ میں ایک دن مجھ پہ آشکارہوا وہ بھید کُھلا دنگ رہ گیا -- میں --- میں ---میں
"ان پڑھ " ہوں --- عمر کہ اس حصے میں اس بات کا معلوم ہونا کسی طوفان سے کم تو نہیں نظریں جھکی جاتی ہیں کسی کو یہ معلوم ہوگیا تو؟ شرمندگی کی لہر اُٹھی تو پسینہ پُھوٹ بہا - 
کتاب سامنے موجود سمجھ نہیں سکتا ندامت سی ندامت ہے - ساری کتابیں پڑھ لیں سمجھ لیں لیکن ایک یہ کتاب ہی نہ سمجھی حروف پہ انگلیاں پھیریں لفظ پہچانے مگر معنی نہیں جانے ، نہیں سمجھے ، ایصالِ ثواب کےلیے اسے اُٹھایا ، رمضان میں اس کو باعث اجروثواب پایا لیکن ------ سمجھا نہیں اس کتاب کو چوما ، ماتھے سے لگایا جُزدان میں سجایا سمجھا نہیں - یہ جو دین ودنیا کی بھلائی سے لبریز ہے جس کاحرف حرف اُجالا اس سے اپنے تاریک دل ودماغ کو روشن کرنے کا خیال تک نہیں آیا - کلام الہی کو ہی نہیں سمجھا ، سمجھ کرپڑھا نہیں تو مجھ سے بڑھ کرجاہل اور ان پڑھ کون ہوگا -


وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ (سورة القمر)
اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے-
میں سمجھنے کی کوشش میں ہوں ندامت سے شرمسارہوں اور میں ان پڑھ اس کی رحمت کا طالب ہوں اورحصول علم کے لیے اس کی کتاب کو سمجھنے کےلیے اس کے آگے دعاگو ہوں 
وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا (سورۃ طٰہ)
اور دعا کیجئے کہ (اے پروردگار) میرے علم میں اور اضافہ فرما۔



روشنی کا سفر

(حصہ اول)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا -(احزاب - الآية 43)

(وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔ اور خدا مومنوں پر مہربان ہے)
سب کام اُس کی رضا سے ہوتے ہیں وہی خیال کو دل میں لاتااورخواہش بناتاہے اورپھرحرفِ دعاکی صورت لبوں سے اداہونے پرقبولیت کی سندبھی عطا فرماتاہے - مجھے الفاظ میں کیفیت کو بیان کرنا ہے اُس کفیت کو جو مجھ پہ اب تک طاری ہے اوراحباب کی فرمائش پراسے لکھنا ہے اور اس سے بڑھ کر مجھے اس تحریرکو اللہ تعالٰی کے شکرکےلیے ایک چھوٹی سے کوشش کی صورت پیش کرنا اور اُس کے اُن بندوں کاشکریہ اداکرنا ہے جنھوں سے اس عظیم سفرکومیرے لیے اللہ کے حکم سے آسان بنایا اور وسیلہ بنے کاروانِ حراگولڈن ٹریول  کے منوراحمدصاحب ، عمران سرور ، اویس احمد اورمحمداحسان شیخ اور دیگراحباب نے ہمیں ہر شکایت اور تکلیف سے بچائے رکھا اور یکسو ہوکر اس فرض کی بجاآواری کو سہل بنایا- میری خواہش عمرہ کرنے کی تھی لیکن بعض وجوہات کی وجہ سے التواء کا شکارہوتی رہی لیکن جب نیت حج بیت اللہ کی ہوئی تو آسانیاں اللہ تعالٰی نے یوں عطافرمائیں  کہ یقین مشکل ہوگا لگا ایک خواب ہے- مجھ پر وہ مہربان ہے اتنا مہربان اس کا اندازہ ہونے لگا - جب میں یہ سنتاتھا کہ حج کا بُلواآتاہے تو سوچتا تھا اللہ کے مقرب بڑے متقی لوگوں کو اللہ یہ سعادت نصیب فرماتاہوگا اُن کو جن کے اعمال مقبول ہوں گے جو کسی طورپرتو اُس کے مقرب ہوتے ہوں گے ، مجھے ان میں اپنا آپ نظرنہیں آتا- پھرخیال آیا وہاں جیب کترے بھی تو بُلائے جاتے ہیں  ، گناہ گاروں کو وہ وہاں بُلاکرموقع دیتاہے توبہ کا ، استغفارکا اور اپنی راہ پہ چلنے کا سنبھلنے کا - مجھے اپنی گناہوں کی گٹھری کو سرپہ رکھ کے ، ندامت کے ساتھ یہ سفرکرنا تھا اور میں نے کیا - مجھے مدینہ منورہ میں اپنے غلیظ وجود کو اُن کے قدموں میں رکھنا تھا جن کے اللہ تعالٰی نے فرمایا
( وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ)
مجھے اُن کی سفارش درکارتھی میں سیاہ رو اللہ کے سامنے کیسے جاتا ,میرے لیے رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کے شہرکا سفروہاں کی حاضری پہلے منظورہوگیا مجھے مدینے کی فضاؤں نے شفابخشی میری کوڑھ زدہ روح وجسم کو اُن ہواؤں نے چھو کر شفایاب کیا ، میں محمدمصطفٰی صلی اللہ علیہ آولہٰ وسلم کے شہرمیں تھا اس شہرکی فضا اتنی معطرہے اس قدر سکون آوار ہے گرم ہوابھی یہاں کی جسم کوراحت بخشتی ہے - یہ میرے آقا محمدمصطفٰی صلی اللہ علیہ آولہٰ وسلم کا شہرہے جہاں سے کوئی خالی نہیں آتا وہ سخی ایسے ہیں کہ روح کو سیراب کردیتے سکون کوقرار سے دل کو مالامال کرتے ہیں - اس شہرنے مجھے رنج والم سے آزاد کیا یہاں آکراحساس ہوا ہم پہ اللہ کا کتنا کرم ہے کہ اُس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا - اپنے حبیب محمدمصطفٰی صلی اللہ علیہ آولہٰ وسلم کا اُمتی ہونے کا شرف عطاکیا -مدینے کا مزاج دھیما ہے ، میٹھا ہے اتنا قرار کے میری ساری محرومیاں ، شکایتیں مٹ گئیں- مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کا سفرتھا ایسے مجھے وہ تمام باتیں یاد آئیں جوسنی تھیں جومجھے سفرِ حج سے قبل اس کی مشکلات کا کافی احباب نے بتایاتھا اور تکالیف کا ذکرکیا تھا - میں اللہ کے گھرکے جانب سرجھکائے چلا ابیار علی میقات تھا جہاں سے عمرے کے نوافل اورنیت کرنی تھی - دو سفید چادروں نے مجھ سے فیشن کونشس کواپنے وجود پہ ڈالتے ہی حیران  کردیا یہ احرام دنیا کا بہترین اور قیمتی لباس بن گیا یہ اللہ کا برینڈنیم لباس ہے اس سے بڑھ کرکون سا برینڈ ہوگا - احرام جسم کو ہی نہیں ڈھانپتا روح کو بھی ستردیتاہے ، چھپالیتاہے سارے عیب سارے گناہ یہ کفن سا لباس - مجھ پرلازم ہوا اس کی پاکیزگی کو قائم رکھنا تاعمر کہ یہ جسم سے اُترا بھی تو روح سے پیوست رہے گا ، دعاکی تھی مولا مجھے اس کی توفیق عطا فرمانا مجھے اس کو دغاوں سے بچائے رکھنا اور استقامت عطافرمانا یہ آپ کے کرم سے ہی ممکن ہوگا-
(جاری ہے)

خزانے پہ سانپ


آج میرے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی نے ایک ایسی بات کی جس پر حیرانگی کے ساتھ تفکر کے در بھی وا ہوگئے - وہ ایک کتاب لے کرآئے اور کہا کسی کو چاہیے تو وہ یہ کتاب لے لے ، میں سمجھا  مستعار ہے  پوچھنے پرمعلوم ہوا کہ نہیں کتاب آپ رکھیں پڑھیں اور مناسب سمجھیں تو کسی اور کو دے دیں - مجھے پوچھنا پڑا  آپ خود کیوں نہیں رکھ لیتے یہ کتاب اپنے پاس آپ کی کُتب کے ذخیرے میں اضافہ ہوگا ، جواب ملا کتابیں پڑھنے کے لیے ہوتی ہیں  جمع کرکے رکھنے کے لیے نہیں میں نے پڑھ لی تو اب اس کا حق کسی اور پرہے کہ وہ اسے پڑھ سکے -میں سوچنے لگا جو میں نے کتابیں جمع کرکے رکھیں ان پر کس کس کا حق ہوگا اورمیرے جیسے کتنے ہیں جو کتابیں جمع کرکے ان پہ پُھولے نہیں سماتے اور اس علم کی دولت پر سانپ بن کے بیٹھے ہیں اور جانتے تک نہیں کہ علم بانٹنے کے لیے ہے پڑھ بُک شیلف میں سجانے کے لیے نہیں- یہ کون سخی ہیں جو جمع کرکے نہیں رکھتے پڑھا اور آگے بڑھا دیا کتاب کی خوشبو کے یہ سفیر بڑے دل والے ہیں- بزُعم خود علم دوست ،کتابوں کے شیدائی اور قدردان سمجھتے ہوئے ہم حق تلفی کے مرتکب تو نہیں ہورہے؟ 

ایک عام آدمی



ایک عام آدمی پرلکھنا مشکل ترین کام ہے ایسے عام آدمی پرجس نے کبھی خود کو خاص نہ سمجھا اور نا ہی خاص مراعات وسہولیات اپنے لیے چاہیں - پنجاب کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے گھرکے پہلے بیٹے نے والدہ کے لیے بہت اہم ہوتے ہوئے بھی خود کو نازنخروں اورضدوں سے دور رکھا - والدہ کا معمول گھر کے سامنے واقع مسجد کا جھاڑولگانا اور شام کو وہاں روشنی کے لیے چراغ جلانا تھا توبناء کسے کے کہے نماز پنج وقتہ کو ابتدائی عمر  سے اپنالیا - ایک کسان گھرانے کے اس بیٹے نے تعلیم کا شوق نجانے کہاں سے پایا اور اس کے لیے والد کے ساتھ فصلوں کے دیکھ بھال کے ساتھ تعلیم کو جاری رکھنے کی درخواست بھی کی اور سخت مشقت کے ساتھ تعلیم حاصل کی-  جس گھرانے کے لوگوں کا شہر سے دور کا واسطہ نہیں تھا نا کوئی رشتہ دار شہر میں رہتا تھا وہاں کے فرد کا کراچی جیسے شہر میں آجانا ایک بچپن کے گاؤں کے دوست کی ٹیلرنگ شاپ پہ رات کو سونے کی جگہ پا کے اپنی جدوجہد کا آغاز - کراچی سے بڑے شہر میں گاؤں کا آدمی جسے اللہ پربھروسہ تھا قومی ہوائی ادارے میں ملازمت حاصل کرلیتاہے - زندگی کا محورگھرمسجد اور ملازمت  بنے - صبر ، استقامت ، شکر ، اطاعت اور اخلاق اُن کی ذات کا حصہ تا عمررہے   کہ  مذہب اُن کے لیے صرف عبادات تک ہی محدود نہ تھا - نرم خُو سے شخص کو شریک سفر ملی تو ایسی کے جس کی ذات میں شکرگذاری ،خدمت اور کفایت شعاری بھری ہوئی تھی اس عام سے شخص نے مجازی خدا بن کے حکمرانی نہ کی کھانے میں عیب نہ نکالا گھر میں اُونچی آواز میں بات نہ کی  بیوی نے اس کی نوبت بھی کبھی آنے نہ دی - سب کی ضرورتوں کا بھرپورخیال رکھا کس کو کیا پسند ہے اور اُس کےلیے کیا لینا ہے شاپنگ کرنا اوربھی صرف دوسروں کے لیے اُن کو بڑا پسند رہا کسی کو فرمائش کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی سوائے ایک انوکھے لاڈلے بیٹے کے جس کو بازار جاکرچیزیں دیکھ کر مانگنے کی عادت تھی جس سے عاجزرہے "گھرسے بتاکرچلاکروجو چاہیے ملے گا باہر آکر یہ مت کیا کرو" - اولاد سے سختی صرف تعلیم کے معاملے میں برتی وگرنہ شفقت پدری سے مالا مال رکھا - غصہ آتا ہوگا لیکن دبانے اور اس کا اظہار نہ کرنے کا ہُنر آتا تھا - گلہ شکایت کرتے تو بھی اُنھیں خاص مانا جاتا وہ بھی عادت میں شامل نہیں تھا- ملازمت کے دوران بیرون ملک جانے کا اتفاق ہوا تو اپنی محنت اور لگن سے ادارے کی ترقی میں اپنا کرادر ادا کیا جب اکثرساتھیوں نے سنہرے موقع سے فائدہ اُٹھا کر وہیں رہائش اختیار کرکے ملازمت کو خیرباد کہا تولوگوں کے کہنے پربھی نہ رُکے کہ"مجھے جتنے عرصے کے لیے بھیجا گیا تھا وہ ختم ہوا اب یہاں رہنے اور اپنے ادارے کو اس ملک میں رہنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتا نہ میں ترک وطن کرسکتاہوں "- اس بیرون ملک قیام کے دوران اپنی پوسٹنگ میں دو عہدوں پرکام کیا مینجر پاکستان سے آ نہ سکا تو اسٹنٹ مینجر اور مینجر کی ذمہ داریاں نبھالیں کسی کو کچھ کہے بناء اور تنخواہ ایک کی پائی وہ بھی کم والی یعنی اسٹنٹ مینجر کی جس کا علم اکاؤنٹنٹ کو تھا اوروہ اُن کی بلڈنگ میں رہائش پذیرتھا  اُس نے ایک بے تکلف محفل کہا آپ عادتیں اپنے ماتحتوں کے ساتھ ادارے کی بھی بگاڑرہے ہیں کم  تخواہ پہ گذرا کیوں مینجر کی تنخواہ مانگیں تو جواب دیا "میری ضرورت کے لیے کافی ہے جو مجھے مل رہا ہے  وہ رقم ادارے کے کام آرہی ہے تو یہ اچھا ہے "- ماتحتوں پر افسری کا دبدبہ نہ رکھا اُن کے حصے کا کام باخوشی کیاجو شکر گذار ہوکے اس کا ذکرآج بھی سرِ راہ مل جائیں تو کرتے ہیں - تقریبوں میں ، دفتر میں ، گھر پہ ، خاندان میں کہیں بھی خاص مراعات کاتقاضا نہ کرنے والے عام سے انسان کے بارے میں کیا خصوصیت بیان کی جائے جبکہ وہ خود تاعمر مہمان خصوصی نہ بنا ہٹوبچو، باداب باملحاظہ کی صدا سننے کی تمنا نہ کی ، ناک منہ نا چڑھایا ، گھر پہ بادشاہ سلامت  نہ بنے ، تام جھام ، مرغن پکوان ، ہوٹلوں کی لذیذ کھانے ، مہنگے لباس سے گریز کیا ، اب سادہ سے آدمی کے بارے کیا یاد کرکے لکھا جائے کہ 12 اگست اُن کا یوم وفات ہے تو کہاں سے کوئی ایسا واقعہ یاد کیا جائے جہاں وہ خاص الخاص رہے - ایک عام سے آدمی نے نہ ملک وقوم کی خدمت کا دعویٰ کیا ، نہ علمیت ودانشوری سے محفل کو گرمایا - تنقید ی تجزیے نہ کرنے والے ، ملک وقوم ، گھر، خاندان اور اولاد پہ اپنے احسان جتانے والے کب خاص ہوئے ہیں کیونکر ان کو محض فرائض کی ادائیگی پہ خراج تحسین سے نوازا گیا ہے کب ان کو کسی گنتی شمار میں لایاجائے - جنھیں تعلقات کے  کام نکلوانے سے دورکا واسطہ نہ ہو اور اللہ توکل کی بُکل مار کے زندگی بسر کی ہو ان سرآنکھوں پہ بیٹھنے کی تمنا نہ رہی ہو اب ان کے لیے کیا کہا جائے- ہر اولاد کے لیے والدین خاص ہوتے ہیں میرے لیے بھی میرے والدصاحب خاص ہیں لیکن  میری خواہش  اور  دُعا ہے کہ ہمیشہ مسجد میں پہلے صف میں سرجھکا کر بیٹھنے والے میرے عاجز وسادہ دل والد کو  اللہ تعالٰی  اپنے قُرب سے نوازے، ان کو وہاں خاص مقام عطا فرمائے-

اتنا توکرسکتا ہوں




میرا تعلق ایسے گھرانے سے ہے جس کی کئی نسلیں مغربی پنجاب میں آباد چلی آرہی ہیں لہذا مجھے قیامِ پاکستان  کے وقت ہجرت کرکے آنے والوں کے مصائب مشکلات اور قربانیوں کے واقعات اپنے بزرگوں سے سننے کو نہیں ملے مجھے یہ سب کتابوں اور ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا  میں اس عظیم ہجرت کے ورثے سے محروم ہوں اور اکثرسوچتارہا میرے بڑوں نے اس ملک کے لیےقربانیاں نہیں دیں ان کو یہ مملکتِ خداد گھربیٹھے مل گئی - وطن کی محبت کے بارے میں مشکوک ہوں کیا مجھے اس سبزہلالی پرچم سے ایسا والہانہ لگاو ہے جیسا اس کا حق ہے - میں کس طرح اس ملک کے لیے جذباتی ہوسکتاہوں - مجھے اسکول ، کالج  میں اپنے ہم جماعتوں اور دوستوں سے ان کے بڑوں کی قربانیوں کا سن کر اپنا آپ کمترلگتا رہا- جشن آزادی جوش وخروش سے منایا کیونکہ میرے بچپن کا دور ایک ڈکٹیٹرکا دورتھا لباس قومی تھا، اسکول کا یونیفارم شلوارقمیض تھا ، ٹی وی پرملی نغمے تھے ، جوش وجذبے تھے ، 14 اگست کی تقریبات تھیں ، پرچم کشائی کا اہتمام تھا، ملک سے محبت کا اسلام کے ساتھ بول بالا تھا میں اس سے متاثررہا لیکن  مجھے بعد میں تجزیہ نگاروں ، اخبارات اور دیگرمعتبر ذرائع سے معلوم ہوا وہ آرائیں جرنیل تو ملک سے اسلام سے محبت کا ڈرامہ کرتا رہا اس نے مجھے نئی راہ دکھائی کیا پاکستان سے محبت کا ڈرامہ کیا جاسکتا ہے؟ جیسے کہ پہلے بیان کرچکا ہوں میرے بزرگوں نے پاکستان ہجرت نہیں کی تھی تو مجھے اپنے جذبات اور اس ملک سے محبت کا اظہار با آواز بلند کرتے جھجک رہی ،  اس پر ستم یہ کہ میں کچھ عرصے  سے بیرون ملک مقیم ہو ں چاہے یہ قیام عارضی ہی سہی اور چاہے پاکستان کی چاہ دل کو گرماتی رہے اس کے موسم یاد آتے رہے مجھےان پہ کچھ شک ساہے ، میں نیٹ کے محب وطن کا طعنہ سن کرسسک نہیں سکتا ،   تو یہ راہ بہتر ہے میں  پاکستان سے محبت کی کسک کو ڈرامے میں ڈھال لوں ، جب کوئی اس کے خلاف بات کرے ، اس پہ تنقید کرے تو سلگتا نہ رہوں، بے چین نہ ہوں بلکہ محبت کا نغمہ الاپ لوں زیرِ لب ہی سہی - کسی کو پاکستان پرلعن طعن کرتے دیکھ کر اس کا حق مان لوں اس پر آنکھیں نم نہ کروں ، دل کو دلاسہ دینا سیکھوں کہ اس کہنے والے کا حق اس ملک پرزیادہ ہے ، میں اس پاک دیس کے کونے کونے سے محبت کروں ،اس کے بارے میں مثبت سوچوں تو کیا کمال ہے ؟ مجھے اس کا روشن رُخ ہی نظرآتا   رہے تو اپنی کم عقلی جانوں کہ مجھے میں حقائق کی سمجھ نہیں ، اس ملک سے اُمیدیں وابستہ کروں تو کیا بڑی بات ہے کون سا اس طرح میرا حق ثابت ہوگا ، پاکستان سے محبت کرنے کا مجھے اختیار میری ندامت نہیں دیتی میں نےمیرےبڑوں نےمیرےبڑوں نے کیا ہی کیا ہے ملک کے لیے - چودہ اگست پہ  خوشی کا مجھے حق ہی کہاں ہے ، میرے بڑے بزرگ بھی ہجرت کرکے آتے تو میں بھیایک سانس میں دس گالیاں اس ملک کو دیتا ، دوقومی نظریے کو دھڑلے سے غلطی کہتا تو خود کو سچا پاکستانی سمجھتا اب تو صرف یہی ہےکہسینے پر پرچم کا بیج لگا لوں سر کو جھکالوں - اپنے دل کی ہوک پہ پرچم کے بیج کو آویزاں کرسکتاہوںمیں انصار  کا بچہ اتنا سا ڈارمہ  تو کرسکتاہوں 

خون کا عطیہ بہترین تحفہ



ہمارے ہاں 80- 90 فیصد افراد اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو ضرورت پڑنے پرخون دیتے ہیں اور 10-20 فیصد پیشہ ورخون دینے والے بیچتے ہیں - خون کا عطیہ دینے والے والوں کی تعداد نا ہونے کے برابرہے اس کا ثبوت حالیہ رپورٹ اور خبرہے کہ کراچی کے بلڈ بینک میں خون کی قلت ہے جس کی وجہ سے مریضوں جن میں  ہیموفیلیا اوربلخصوص تھیلسمیا کے مریض بچوں کو خون فراہم نہیں ہورہا ، تھیلسمیا خون کی کمی کی مورثی بیماری ہے جس میں مبتلا بچوں کو باقاعدگی سے خون لگتاہے اور ان کے والدین کویہ خون خریدنا پڑتاہے کیونکہ وجہ وہی ہے خون کے عطیات دینے کا ہمارے ہاں رجحان ہی نہیں- دنیا بھر خون کی عطیات دینے اور اس سلسلے میں آگہی کا کام ہورہاہے اور لوگ اس کارِ خیر اورانسانی حق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک فرض کی طرح خون کا عطیات دیتے ہیں -ایک خون دینے والے فرد سے تین مریضوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے جو اس میں شامل چاراجزاءخون کے سرخ خلیات (packed cells)پلیٹیلیٹس Plateletsپلازما Plasmaفیکٹرز (factor concentartes) مثلا فیکٹر VIII، فیکٹر IX وغیرہمکمل خون کی منتقلی کا تصور تقریبا ختم ہو چکا ہے۔ اب مریض کو خون کا وہ جُز دیا جاتا ہےجس کی اُسےضرورت ہو۔ بہت کم ہی  مریض کو مکمل خون لگایا جاتا ہے۔ ہر انسان کے بدن میں تین بوتل اضافی خون کا ذخیرہ ہوتا ہے، ہر تندرست فرد ، ہر تیسرے مہینے خون کی ایک بوتل عطیہ میں دے سکتا ہے۔ جس سے اس کی صحت پر مزید بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا کولیسٹرول بھی قابو میں رہتا ہے ۔ تین ماہ کے اندر ہی نیا خون ذخیرے میں آ جاتا ہے ، اس سلسلے میں ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ نیا خون بننے کے ساتھ ساتھ بدن میں قوت مدافعت کے عمل کو بھی تحریک ملتی ہے۔ مشاہدہ ہے کہ جو صحت مند افراد ہر تیسرے ماہ خون کا عطیہ دیتے ہیں وہ نہ تو موٹاپے میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ ان کو جلد کوئی اور بیماری لاحق ہوتی ہے۔ لیکن انتقال خون سے پہلے خون کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔ 14جون کو ساری دنیا میں بلڈ ڈونرز یعنی خون کا عطیہ دینے والوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ 1868 میں آسٹریا کے ڈاکٹر کارل لینڈ شٹائنر کے یوم پیدائش کے موقع پر اس دن کا اجراء کیا گیا تھا جنہوں نے خون کو چار گروپوں میں تقسیم کرنے کے صلے میں نوبل انعام دیا گیا تھا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خون کا عطیہ خود بھی دیں اور اس کارِ خیر کی ترغیب دینے کا سماجی اور انسانی فرض بھی ادا کریں - سب سے بہتر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اپنے سالگرہ والے دن بہترین تحفہ خون کے عطیے کی صورت میں دیں - اسی طرح اپنی زندگی کے اہم ایام کی تاریخوں پر اس عمل کو دہرائیں ، خون کا عطیہ دینے کے لیے اپنے دوستوں اور دیگراحباب کو اس جانب مائل کریں اور ان کے ساتھ مل کر   خون کے عطیات دیں -مقامِ فکر یہ ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے بارے میں یہ خبرکہ بلڈ بینک خون کی قلت کا شکار ہیں تو دیگر چھوٹے شہروں کا کیا حال ہوگا جہاں طبی سہولیات کا فقدان بھی ہے  اور دیگر بہت سے مسائل کے ساتھ خون کی عطیات دینے والے افراد بھی کم آبادی کے باعث کم ہیںسیاستدانوں اور حکمرانوں کے رویوں اور بے حسی کی شکایت کرتے ہم عوام بھی ان کی تلقید کرتے جاتےہیں اپنے فرائض اور سماجی ذمہ داروں کو بُھولتے جارہے ہیں - خودغرضی اور نفسانفسی میں دوسروں کے لیے ہمدردی کے جذبے سے محروم ، درختوں کی کمی ، اخلاقی اقدارکے زوال سے دوچار  ، مثبت رویوں  کی کمی اورسماجی ذمہ داریوں سے غافل انفرادی اور اجتماعی طورپر دیوالیہ اور بےحس تو نہیں ہورہے؟ 

مسئلہ کیا ہے



مسئلہ کیا ہے
قومی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسے امراض کی وجہ بھی پینے کا آلودہ پانی ہے۔قومی تحقیقاتی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پینے کا 82 فیصد پانی انسانی صحت کیلئے غیر محفوظ ہے۔ واٹر ریسرچ کونسل کی رپورٹ کی مطابق ملک کے 23 بڑے شہروں میں پینے کے پانی میں بیکٹیریا، آرسینک، مٹی اور فضلے کی آمیزش پائی گئی ہے۔ پاکستان میڈیکل ہیلتھ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں 90 فیصد بیماریوں کی وجہ پینے کا پانی ہے، جس کے باعث سالانہ 11 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ میں جب یہ پڑھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں یہ کہاں کی بات ہورہی ہے ؟ میرا بنیادی مسئلہ تو سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کچھ اور ہی بیان ہورہا ہے جو کہ کسی ماڈل گرل کی رہائی ہے اور کسی مولوی کی کچھائی ہے - میں ان پراتنا کچھ پڑھ ،سن چکا ہوں کے مجھے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوچکا ہے - مجھےمعلومات کے ساتھ اس بارے میں تشویش لاحق ہے لہذا پینے کا صاف پانی میسر ہے یا نہیں اس پر غورکرنا ضروری نہیں کیونکہاس کا سیدھا حل ہے صاف پانی میسر نہیں تو کوک پیپسی پی لیں اس میں اتنا پریشان ہونے اور فکرمند ہونے والی کیا بات ہے -مجھے اپنے سماجی حقوق کا احساس ہے ذمہ داریاں مجھ سے بے ضرر شہری کی بھلا کیا ہوسکتی ہیں - ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی اس میں اضافے کا ذمہ دار میں کیسے ہوسکتا ہوں؟ میں تو اپنے گھرکا کچرا باہرپھینک دیتا ہوں جس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ کچراچننے والے بچوں کا روزگار لگا رہتا ہے دوسرا کتے اور بلی اور مکھیاں رزق حاصل کرلیتے ہیں - جو لوگ آلودہ پانی پی رہے وہ  بھی پریشان نہ ہوں بیماری کی صورت میں ڈاکٹر ہیں ان سے رجوع کریں -

پہلا روزہ


ہمارے بچپن کے دور میں بچے بڑوں کے ساتھ اپنے شوق سے نمازپڑھنے چلے جاتے تھے ، تروایح مکمل نہ بھی پڑھیں لیکن مسجد باقاعدہ جاتے پوراماہِ رمضان - موضوعات اس ماہ میں کھانے پینے کی اشیاء نہیں بلکہ اپنے دوستوں میں روزوں کی تعداد ہوا کرتی-روزہ رکھنا ایک عزاز سمجھا جاتا اور دوستوں اور محلے میں معتبر ہوجانے کی علامت اس کو شمار کیا جاتا لہذا روزے رکھنے کا شوق نہایت کم عمری سے  پروان چڑھتا اوربڑھتاگھرمیں بڑے بہن بھائیوں کو دیکھ کر بھی اس صف میں شامل ہونے کی کوشش ہوتی- افطار میں ایک غیرمعمولی کشش محسوس ہوتی اور ماہ رمضان رونقوں کا مہینہ ہوتا ہرجانب خوب چہل پہل ہوتی -مجھے اپنے پہلے روزے کے نام پرفقط ایک فوٹوگراف یادہے جو اس موقع پہ قریبی اسٹوڈیو سے بنوائی گئی تھی جس میں میرے ساتھ میرا چھوٹاسابھائی ہے- مجھےاس تحریرکے لیے محمداسد کے حکم پرلکھنے کو کچھ یاد نہیں تھا اپنے پہلے روزےکے حوالے سے کچھ بچپن کے رمضان یاد تھے لیکن پہلا روزہ نہیں کچھ واقعات خودسے وابستہ والدہ سے کئی بارسنے جن میں ایک یہ ہے کہ جب مجھ سے کوئی پوچھتا کہ "روزہ رکھاہے" تو میں جواب دیتا"جی رکھا ہے ڈبے میں شام کو کھولوں گا" - سحری کے وقت کبھی بیدار نہیں ہواتھا لہذا صرف افطار دیکھا تھا اور روزہ رکھنا کھانے کی اشیاء کو ڈبے میں رکھ کرشام کو کھولنا سمجھتاتھا - پھر وقت کے ساتھ یہ تو سمجھ آگئی کہ روزہ ڈبے میں نہیں رکھا جاتا تو اصرارشروع کہ روزہ رکھنا ہے اس کی وجہ بیان کرچکا ہوں - مجھے آج اپنی بڑی بہن سے اپنے پہلے روزے کا پوچھنا پڑا تفصیل سے اس تحریرکے لیے - پہلا روزہ سات سال کیعمرمیں جمعۃ المبارک کا رکھا چونکہ مجھ بھوک برداشت کرنے کی اضافی صلاحیت ہے لہذا والدہ کو اس کا یقین تھا کہ روزہ توڑوں گا نہیں اور بھوک کے باعث کھانے کا تقاضا بھی نہیں کروں گا - سحری پہلی باردیکھی تھی لہذا رات کے اس پہر جو کھلایا کھالیا جو ہدایات دی گئی ان پہ سرہلادیا-دن بھر میری والدہ کو صرف ایک خطرہ لاحق تھا مجھ سے وہ تھا ٹافیاں کھانے کا چسکہ جو ہم ایک ساتھ تین چار منہ میں ڈال لیتے تھے اور میری والدہ اس حرکت سے انتہائی عاجزتھیں لہذا بڑے بہن بھائیوں کو ہمیں  سارادن بہلانے اور ٹافیوں سے دوررکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی- شام کو ہماری فرمائش پہ روایتی لباس کی بجائے والد صاحب کا ولایت سے بھیجا بدیسی لباس پہنایا گیا ہماری خواہش تو چھوٹے بھائی والی نیکربنیان پہننے کی تھی لیکن یاد دلاگیا کہ آپ کی روزہ کشائی ہے لہذا کچھ تو خیال رکھاجائے سمیت شرم وحیا یوں بھی نیکرکا سائز دیکھ کرہم نے اسے چھوٹے بھائی کے لیے ہی مناسب جانا- سُرمہ دُنبالے دار لگایاگیا خُوب جماکے بال سنوارے گئے تو ہم نے ٹوپی پہننے سے بھی انکار کردیا - ہار پھول پہنا کے چھوٹے ماموں کے ساتھ فوٹواسٹوڈیو یادگاری تصویربنوانے چھوٹے بھائی کو بھی ایک ہارپہنا کے ساتھ روانہ کیا گیا- مہمان نہیں بُلوائے گئے کیونکہ افطار پارٹی کا رواج نہیں تھا - افطار سے قبل مٹھائی اور سامان افطار محلے کے گھروں میں ہم اپنے بڑے بہن بھائیوں کے ہمراہ بانٹنے گئے اور کچھ نقد رقم وصول کی انعام کے طورپرمحلے کے گھروں سے -افطار میں ٹافیاں ہمارے اصرارکے باوجود نہیں رکھی گئیں لیکن مٹھائی خاص طورپرہماری پسندکی منگوائی گئی جو کہ اس افطار کا اہتمام تھی - اس کے بعد روزے معمول کے مطابق  رکھنے شروع کردیے اسی سال سے - جب تک میری والدہ حیات رہیں ماہِ رمضان میں میری کم ہوتی خوارک کے باعث جو اب تک ویسے ہی ہے انھیں یہ  فکرلاحق ہوجاتی یہ لڑکا نہیں بچے گا ہرروز ٹٹول کردیکھاکرتی - بچپن ماؤں کے ساتھ ہوتاہے لیکن جن کی مائیں  دنیا سے رُخصت ہوجاتی ہیں وہ اُسی روز بوڑھے ہوجاتے ہیں  چاہیے وہ عمرکے  کسی بھی حصے  میں ہوں کیونکہ پھرکوئی اُن کے بچپن کے واقعات نہیں دہراتا -
یہ گھمن صاحب کا شروع کیا سلسلہ ہے جس میں محمداسداسلم نے مجھے شامل ہونے کو کہا میں اس فرمائشی پروگرام کو مزید آگے بڑھاتاہوں ہوں اور 
فلک شیر
نیرنگ خیال
ابوشامل
حسان خان
سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے پہلے روزے کا احوال تحریرکریں

اعتراف

اعتراف مشکل ہوتا ہےاور اس کا اظہار اس سے بھی کٹھن لیکن آج بہت سی آسانیوں ، سہولیات اور جون کے اس گرم دن میں اپنے خنک کمرے میں بیٹھ کر مجھے یہ مشکل کام کرنا پڑا اپنے ماتھے سے ندامت کا پسینہ خشک کرتے ہوئے جو نجانے کیسے پھوٹ پڑا - پاکستان سے باہر بیٹھ کر اس کے لیے فکرمند ہوتاہوں ، وہاں لوڈ شیڈنگ سے ساری رات بے حال اور بے چین ہوکر صبح کام پرجانے والے اپنے دوستوں کی تکلیف سے بے نیاز صحت ، صفائی کے جیسی بنیادی سہولیات کے فقدان سے پریشان اپنے محلے میں کچرے کے ڈھیروں سے اُٹھتے تعفن کو برداشت کرنے والے پاکستان میں رہنے والوں کو میں ماحولیاتی آلودگی پر لیکچردے سکتا ہوں ، شجرکاری کی ترغیب دیتا ہوں ، ان کو بے عملی اور غفلت پر سرزنش کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتا آج انھیں  کن کن مصائب سے گذرنا ہے ، بس میں لٹک کر سفرکرکے گھرجانا ہے یا ٹریفک جام میں طویل انتظارکی کوفت اورشورمیں اپنی ہمت کو  کس طرح قائم رکھنا ہے میں اس کا اندازہ نہیں کرسکتا - ان کے روزمرہ مصائب اور تکالیف کاکیونکر احساس کرسکتا ہوں اپنے لیے فرار کی راہ چُن کر کس منہ سے خود کو محب وطن پاکستانی کہوں لیکن میری منافت مجھے شہہ دیتی میں ایک ترقی یافتہ ملک میں بیٹھ کر کسی سیاستدان کی طرح بیانات دے کر حقِ وطن ادا کرلیتاہوں -مجھے صبر اور استقامت کا درس دےکر اپنے اخلاص کا سکہ جمانا آگیا ہے - اپنے ملک میں رہ کراُلجھتے ، روتے ، حالات سے لڑتے اپنے دوستوں پرمجھے یہ ثابت کرنا ضروری ہوجاتا ہے ان مشکلات میں ان کے ساتھ ہوں یہ الگ بات ہے کہ یہ ساتھ میں ائیرکڈیشن میں  بیٹھ کر ان دھوپ میں جلتے ہوئے بجلی نہ ہونے  والوں کا اسی انداز میں دے سکتاہوں-میں اعتراف کرسکتاہوں لیکن معاف کیجیئے گا پاکستان آکر آپ کے ساتھ ان کٹھن حالات میں رہ نہیں سکتا -

بابا اشفاق احمد اور میں


کچھ مصنف ایسے ہوتے ہیں ان کی تحریر کو پہلی بار پڑھتے ہی   قاری کا ان سے قلبی رشتہ بن جاتا ہے - ایساہی قلبی رشتہ میرا بابا(اشفاق احمد) سےان کا افسانہ گڈریا پڑھتے ہی بن گیا جس وقت میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا ان کے افسانوں کا مجموعہ اُجلے پھول مجھے اسکول کے رستے میں قائم کتابوں کی دوکان دانش کدہ جو کہ راشد منہاس روڈپرہے وہاں سے ملا چونکہ اُس عمرمیں ماہانہ جیب خرچ ملنے لگا تھا لہذا اُس میں یہ کتاب باآسانی خریدلیکیوں خریدی معلوم نہیں شاید اُس کے سرِورق پربنے سفید اور پیلے پھول اچھے لگے یا مصنف کا نام مانوس تھا ، یا ٹی وی کے طویل دوارنیے کے ڈراموں کے حوالے سے شاید بابا کا ایک ڈرامہ ننگے پاؤں کچھ کچھ سمجھ میں آیا تھا یا توتا کہانی کے کسی کھیل نے متاثرکیا تھا، ماما سیمی کے مکالمے ذہن میں تھےیا کچھ اور یقین سے نہیں کہہ سکتا - گھر میں نسیم حجازی اور ابن صفی کی کتابیں موجود تھی لیکن افسانوی ادب کی کوئی کتاب نہیں تھی - اُجلے پھول میں پہلی ہی کہانی گڈریا پڑھی اور باربار پڑھی اور کافی عرصے تک اُس میں سے کچھ اور نہیں پڑھا - اس کے بعدبابا کے ڈرامے دیکھنے کا شوق ہوا اس سے قبل جو ڈرامے دیکھے تھے بس یونہی دیکھے تھے اُس وقت کوئی چوائس نہیں تھی اور تمام گھروالے ٹی وی ڈرامے دیکھا کرتے تھے - بابا کے جملے بڑے بھاتے تھے اُن کے کردار خود سے ہم کلام ہوتے تھے - وقت کے ساتھ بابا کی ذات میرے لیے گھر والوں سی ہوگئی اُن کا لکھا مجھے اپنے ارگرد رچا بسا نظرآیا - وہ دور میری خاموشی ،  تنہائی اور اُداسی  کا دورتھا اسکول میں دوست نہیں تھے جو ہم جماعت تھے ان کی باتوں میں دلچسپی نہیں تھی لہذا بابا کی ایک بعد ایک کتاب پڑھتا گیا - میٹرک کے بعد بانو آپا کو پڑھا تو بابا سے قربت اور محبت مزید بڑھی اب ان کی کتابیں پڑھتا ان کے گھر جا نکلتا داستان سرائے کے کھلے دروازے سے ہوتا اندر جا پہنچتا یہاں ٹی وی دیکھتے اثیربھائی ( باباکے چھوٹےصاحبزادے) ملتے آگے انیس اور انیق بھائی گفتگو کرتے نظرآتے ان کے ساتھ ممتاز مفتی تکیے سے ٹیک لگائے نیم دارز ہوتے- بانوآپا کھانے کا اہتمام کرنے میں مصروف ہوتیں ، میں بابا کو کھوجتا ان کے کمرے میں جا نکلتا جہاں ہوئے مطالعے میں مصروف ہوتے میں گھر کے ایک فرد کی طرح بے تکلف وہاں ایک کرسی پہ بیٹھ کراُن کی کتاب پڑھتا- یہ اکثرہوا اب بھی یہی محسوس ہوتا ہے میں نے بابا کی ہرکتاب ان کی یا بانوآپا کی موجودگی کومحسوس کرکے پڑھی ہے -مجھے بابا کی کتابیں نجانے کہاں کہاں سے ملتی رہیں لیاقت آباد کے ایک بُک اسٹال سے 1995 میں اُن کی پنجابی نظموں کی کتاب مل جاتی جو کہ نایاب ہے -کراچی میں فرئیرہال کے کُتب بازار میں بابا کے جاری کردہ رسالے داستان گو کا جنوری 1960 کا ایڈیشن پُرانی کتابوں میں مل جاتاہے تو لاہورمیں سنگ میل کے دفتر سے توتاکہانی یہ کہہ کردی جاتی یہ ہمارے پاس آخری کاپی تھی اور ساتھ ہی سیون اَپ کی بوتل پلائی جاتی تو میں جان لیتا ہوں میرا رشتہ بابا سے خاص    ہے اور اسے سب محسوس کرلیتے ہیں ویسے ہی جیسے میرے والد نے 7ستمبر 2004 میںپاکستان سے فون کرکے بتایا تھا " اوجہڑا بابا سی نا اشفاق احمد او آج فوت ہوگیا اے" مجھے اطلاع میرے والد نے فون پہ یوں دی جیسے کسی عزیزکی وفات کی خبرہو ویسے ہی جیسے انھوں نے فون پرمیری والدہ کے انتقال کی خبردی تھی - میں اپنے والدین کے سفرآخرت کے مراحل میں شریک نہیں ہوسکا ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی وہ اُن کی تدفین کا مرحلہ نہیں دیکھا لہذا مجھے وہ ہمیشہ اسی دنیا میں محسو س ہوتے ہیں میں کبھی یہ نہیں محسوس کرتا اُن کا انتقال ہوگیا ہے- میں یہاں ہوں تو لگتا ہے وہ پاکستان میں ہیں اور وہاں جاکے محسوس ہوتے وہ امریکہ گئے ہیں - یہی احساسات میرے بابا کے لیے ہیں  ہمیشہ ایسا ہی لگتا ہے وہ اسی دنیا میں موجود ہیں -ان کی کتابیں پڑھوں تو وہ مسکراتے ہوئے ساتھ آبیٹھتے ہیں - دلچسپ بات یہ ہے اُن کی کتابیں میں اُردومیں پڑھتا ہوں لیکن وہ گفتگو مجھ سے پنجابی میں کرتے ہیں میرے والدین کی طرح - "کاہنوں جان کھپانا ایں نکیاں نکیاں گلاں توں اللہ خیرکرے دا"یہ کہہ کرمسکراتے ہوئے میرے پاس سے کوئی کتاب اُٹھا کردیکھنے لگتے ہیں - 

ایک خبرہی توہے



جب کسی بچے کی علاج نہ ہونے کے سبب انتقال کی خبرپڑھنے سننے کو ملتی ہے ذرا سا ضمیرسراُٹھاتاہے پھرہم حکومت کوکوسنے دےکراسے خاموش کرادیتے ہیں - حالانکہ ان معصوموں کو جنھیں علاج کی سہولت نہیں مل پاتی ان کی موت کے ذمہ دار ہم بھی ہوتے ہیں ہم جن کو ان کی مدد کی توفیق نہیں -ہمارے اردگرد بے بس اورلاچار افراد سرجھکائے نم آنکھوں سے زندہ لاشیں بنے پھرتے ہیں ، دفاترمیں ، مساجد میں اورہمارے گھریلو ملازمین میں جو ہم سے کبھی اپنے بچوں کی بیماری کا ذکرکرتے ہیں تو ہم پیزا آرڈرکرتے ہوئے ، ٹی وی پردلچسپ پروگرام دیکھتے ، اپنی وش لسٹ میں نئے سیل فون کا اضافہ کرتے ہوئے ان کی بات پر اول تو توجہ ہی نہیں دیتے اور جوذرا سن لیں تو ان کی بہانے بازی سمجھتے ہیں- فی زمانہ ہمارے اپنے بڑے مسائل ہیں جن میں جدید انٹرٹیمنٹ آلات کا حصول اور رات کے لیے فاسٹ فوڈ کا انتخاب سرفہرست ہیں-پاکستان میں بچوں کو علاج کی مفت سہولیات، سرکاری ہسپتالوں اور پرائیوٹ پریکٹس کرنے والے معالجوں کا حال جاننے کے لئے کسی اعداد شمار کی ضرورت نہیں یہ خبریں بن کے سامنے آجاتے ہیں بے کسوں اور ناداروں کا حال بیان کرنے - ہم حکومت سے کس قسم کی توقع رکھتے ہیں جب ہم خود کسی کی مدد کرنے سے کتراتے ہیں اور ایک معیارِ زندگی اور رویہ اپنے لیے پسند کرتے ہیں تو دوسرا دیگر اپنے سے کم آمدنی والے لوگوں کے لیے - ہم تعلقات اور مفاد ات میں گھرے مجبور لوگ ہیں اور ایسے ہی مجبور سرکار اور سرکارے نمائندے ، سیاست دان اور ارباب اختیار- یقین جانیں وہ بھی ہماری طرح اپنی ذات کے حصارمیںگرفتار ہیں ان کے ہاتھ میں بھی کچھ نہیں وہ کسی کی دادرسی نہیں کرسکتے فرق صرف اتنا ہے ان کا رویہ واضح ہوجاتاہے اور ہماری منافقت اور بے حسی پوشیدہ رہتی ہے - ہمارے لیے ہرموت ایک خبرسے بڑھ کرنہیں ہوتیہم آسائشات ، خواہشات اور خودنمائی کی دوڑکے گھوڑے ہیں سرپٹ بھاگتے جنھیں پیچھے رہ جانے، گرجانے والے، زخمی ہونے والوں سے کوئی سروکارنہیں ہوتا ہم رُکیں گے تب جب خود گریں گے -ہمیں تو مذہب ہمدردی ، بھائی چارے اور شفقت اور دوسروں کے درد کا مدوا کرنے کی تلقین کرتا ہے تو یہ کسی اور کے لیے ہوتاہماری ذات پہ اس کا اطلاق نہیں ہوتا- میں دیکھ کر  حیران ہوتا ہوں امریکی معاشرے میں جم اوکانر جیسے افراد کو    جواسکول  میتھ کا ٹیچر ہے اور بچوں کے ہسپتال میں بطور والنتئیر کام کرتا ہے اور ناصرف بلامعافاضہ خدمات سرانجام دیتا ہے بلکہ سب سے زیادہ یہاں خون کا عطیہ بھی دیتا لیکن اس کی خبر اس کے طالب علموں اور اسکول کے عملے کو نہیں ہوتی جب اچانک  اس ہسپتال اس کا ایک شاگرد جاتاہے تو وہاں اپنے اسکول کا بتانے پر لوگ اسسے جم اوکانرکا پوچھتے ہیں "تم اُسے جانتے ہوگے" طالب حیران ہوتا ہے یہاں لوگ کیونکر اُس کے میتھ کے سخت گیر اُستاد کوجانتے ہیں جم اسکول میں اُصول ضوابط والا سخت اُستاد ہے جو تعلیم میں "فن" کو نہیں مانتا اور اپنے طالب علموں کو سختی سے توجہ علم کی جانب مرکوز رکھنے کیتلقین کرنے والا جم سونے کا دل رکھتاہے اور اپنا وقت معصوم بچوں کے لیے وقف کرتا ہے - یہ ترقی یافتہ معاشرے کا فرد ہے جس سے ہم بے انتہا متاثرہیں جن کی زبان ، ٹیکنالوجی ، فیشن ، موسیقی ، آرٹ اور اندازِ زیست ہمں بھاتا ہے ہم اس معاشرے میں ڈانلڈ ٹرمپ کی دولت کوتو دیکھتے ہیں لیکن جم اوکانر سے لوگ ہماری توجہ نہیں پاتے کیونکہ وہ انسانی ہمدردی کا بے شمار جذبہ تو رکھتے ہیں بے تحاشا دولت نہیں - ہمیں انسان سے اشرف المخلوقات بنانے اور اپنی ذات کے حصار سے باہر نکالنے والی کوئی صداسنائی نہیں دیتی خواہ وہ پانچ وقت فلاح کا بلوا ہو یاکسی معصوم کی علاج نہ ہونے      کے سبب موت کی خبر-

Pages