چیک پوائنٹ

بکھرے موتی

حضرت ابو ہریره رضی الله عنه سے روایت ھے کہ رسول الله صلی الله علیه وآلہ وسلم نے ( ایک دن ھم لوگوں کو مخاطب کرتے ھوۓ) فرمایا.. کون ھے جو مجھ سے سیکھ لے یه چند خاص باتیں ، پھر خود ان پر عمل کرے یا دوسرے عمل کرنے والوں کو بتاۓ میں نے عرض کیا یا رسول الله صلی الله علیه وآلہ وسلم ...! میں حاضر ھوں تو آپ صلی الله علیه وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے لیا اور گن کر یی پانچ باتیں بتائیں...فرمایا 1:- جو چیزیں الله نے حرام قرار دی ھیں ان سے بچو اور ان سے پورا پورا پرہیز کرو ، اگر تم نے ایسا کیا تو تم بہت بڑے عبادت گزار ھو... 2:- جو تمھاری قسمت میں لکھا ھے اس پر راضی اور مطمعین ھو جاؤ، اگر تم ایسا کروگے تو بڑے بے نیاز اور دولتمند ھوجاؤگے.. 3:-اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، اگر تم ایسا کروگے تو تم مومن کامل ھوجاؤگے.. 4:- جو تم اپنے لیے چاھتے ھو اور پسند کرتے ھو وہی دوسرے کےلیے چاھو اور پسند کرو ، اگر تم ایسا کروگے تو حقیقی مسلم اور پورے پورے مسلمان ھو جاؤ گے.. 5:- زیاده مت ہنسا کرو کیونکہ زیاده ہنسنا دل.کو مرده کر دیتا ھے.. (مسند احمد ، جامع ترمذی بحوا لہ معارف الحدیث94 .. جلد 2)

ماں کی عظمت

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ایک شخص کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ ماں کو گالیاں دیتا ھے۔ آپ نے اس شخص کو بلوایا اور حکم دیا کہ پانی سے بھری ھو مشک لائی جائے ،، پھر وہ مشک اس کے پیٹ پر خوب کس کر بندھوا دی اور اس کو کہا کہ اسے اسی مشک کے ساتھ چلنا پھرنا بھی ھے اور کھانا پینا بھی ھے اور سونا جاگنا بھی ھے۔
ایک دن گزرا تو وہ بندہ بلبلاتا ھوا حاضر ھوا کہ اس کو معاف کر دیا جائے وہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ آپؓ نے پانی آدھا کر دیا مگر مشک بدستور اس کے پیٹ پر بندھی رھنے دی۔ مزید ایک دن کے بعد وہ بندہ ماں کو بھی سفارشی بنا کر ساتھ لے آیا کہ اس کو معاف کر دیا جائے اور اس مشک کو ھٹا دیا جائے وہ دو دن سے نہ تو سو سکا ھے اور نہ ھی ٹھیک سے کھا سکا ھے۔
آپ نے اس کی ماں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس نے تجھے پیٹ کے باھر نہیں بلکہ پیٹ کے اندر اتنے ھی وزن کے ساتھ 9 ماہ اٹھا کر رکھا ھے۔ نہ وہ ٹھیک سے سو سکتی تھی اور نہ ٹھیک سے کھا سکتی تھی ،پھر تو اسے موت کی سی اذیت دے کر پیدا ھوا اور 2 سال اس کا دودھ پیتا رھا ، اور جب اپنے پاؤں پر کھڑا ھوا تو اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کے لئے تیرے منہ سے گالیاں نکلتی ھیں ،، اگر آئندہ یہ شکایت موصول ھوئی تو تجھے نشانِ عبرت بنا دونگا۔
(فتاوی و اقضیتہ عمر ابن الخطاب)

میرا نام حمید گُل ہے اور میں کبھی اپنا بیان نہیں بدلتا

وجیہہ صورت اور اس صورت پر خوبصورت سدابہار مسکراہٹ، چمکتی دمکتی آنکھیں اور ان آنکھوں میں سجے پاکستان کے شاندار مستقبل کے سپنے،کھلا ہوا چہرہ ایسے جیسے موسم بہار میں گلاب  اور چوڑا سینہ جو اپنوں اور غیروں کی تنقید و تضحیق کے تیروں کی آماجگاہ بنا رہا۔کوئی بات کرتے تو واضع اور غیر مبہم اور اپنے موقف پر ایسے کھڑے ہوتے جیسے کوہِ ہمالیہ،زمّدار ایسے کے ضیا الحق کے مخالفت کے باوجود جنیجو کو انکے خلاف ہونے والی شازش کی اطلاع دی، خودّار ایسے کے بیٹی کی ٹرانسپورٹ کمپنی کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے سفارش تک نہ کی،ملنسار ایسے کے کچرا اُٹھاتے افغان بچوں سے گھل مل جاتے،سادہ ایسے کے عام سپاہیوں کے ساتھ کھانا کھاتے اور بہادر اتنے کے اکیلے بھارت کو تگنی کا ناچ نچاتے۔ نوّے کی دہائی کے بہترین منصوبہ ساز، ایک پیشہ ور فوجی اور جانباز سپہ سالار جو نہ کبھی ڈرا نہ کبھی بکا اور نہ جھکا۔ یہ تھے جنرل ریٹائرڈ حمید گّل جو ریٹائر ہونے کے باوجود کبھی ریٹائر نہ ہوئے انکو موت نے ہفتے کی رات ریٹائر کر دیا لیکن ان کے خیالات، نظریات اور افکار شائد کبھی بھی ریٹائر نہ ہو۔جنرل حمید گل جو اپنی زندگی میں ہی پاکستان سے محبت کا استعارہ بن چکے تھے 20 نومبر 1936 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔بنیادی تعلیم گاؤں کے ہی سکول میں حاصل کی اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔یوسف زئی قبیلے سے تعلق تھا جو سوات سے ہجرت کر کے پنجاب میں آباد ہوئے تھے۔اکتوبر 1956 میں اٹھارویں لانگ کورس کےزریعے پاک آرمی میں شمولیت اختیار کی۔1965 کی جنگ میں بطور کمانڈر حصّہ لیا-1968 میں کماند اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں رہے جبکہ 1972 سے 1976 تک بٹالین کمانڈر رہے۔1978 میں بہاولپور کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہے اور 1982 میں ملتاں ریجن کے کمانڈر۔بعدازاں 1987 میں  جرنل اختر عبدالرحمان کے بعد حمید گل کو آئی ایس آئی کا ڈئریکٹر بنایا گیا اور 1989 میں بطور کمانڈر ملتان ٹرانسفر ہوئے جہاں انہوں نے 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان آرمی کی سب سے بڑی مشقوں 'ضرب مومن'  کی کمانڈ کی۔1991 میں جنرل آصف نواز نے حمید گل کو بطور ڈرئیکٹر جنرل ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بیجھنا چاہا لیکن حمید گل نے یہ کہہ کر ریٹائرمنٹ کو فوقیت دی کے میں آرمی میں ٹینک چلانے آیا ہوں ٹینک بنانے نہیں اور یوں انکی 35 سالہ فوج زندگی کا اختتام ہوا۔

حمید گل ریٹائر ہونے کے باوجود کبھی بھی ریٹائر نا ہوئے، انڈین دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق وہ ریٹائر ہونے کے باوجود حاظر سروس جنرلوں سے زیادہ خطرناک تھے،کشمیر کے معاملے پر خالصتان تحریک کو ہوا دے کر حمید گل نے انڈیا کو ناکوں چنے چبوائے۔
حمید گل سچے پاکستانی کے ساتھ ساتھ اسلام کے بھی سپاہی تھے،ان کے خیال میں جمہوریت نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا اور نہ کچھ دے گی اس لیے اللہ کی زمین پر اللہ کا نطام ہونا چاہیے۔ اپنی افغان جہاد پالیسی پر وہ کبھی نادم نہ ہوئے بلکہ ہمیشہ دلائل کے ساتھ اپنے موقوف کا دفاع کیا۔افغان طالبان کے ساتھ اُن کے گہرے روابط تھے۔جہاد کو دہشتگردی سے تعبیر کرنے والوں کے وہ سخت مخالف تھے۔اپنے امریکہ مخالف نظریات کی وجہ سے وہ امریکہ کے لیے ناپسندیدہ شخصیت تھے اور اُن کے امریکہ داخلے پر پابندی تھی۔ امریکہ نے عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں انکا نام شامل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن چائنہ کی مداخلت کی وجہ سے ایسا نا ہو سکا۔
حمید گل کے بارے میں چند اخبارات نے اسطرح تجزیہ کیا ہے
حمید گل دنیا کے خطرناک ترین جنرلز میں سے ہیں (امریکی حکومت)
حمید گل دنیا کے پانچ بڑے دماغوں میں سے ہیں (سی ائی اے)
 حمید گل اکھنڈ بھارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے (انڈین ایکسپریس)
حمید گل کی پالیسوں کی وجہ سے را کے چیف نے گھٹنے ٹیک دیے تھے (بھارتی صحافی سوشانت سنگھ)
حمید گل ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بھارت کے لیے 'حاظر سروس' دشمن ثابت ہوئے۔()


آپ جنرل حمید گل کے نطریے سے اختلاف کر سکتے ہیں انکی زات سے اور خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اُنکی محب وطنی اور اسلام سے ولہانہ محبت میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ایک ایسا شخص جس سے اپ اختلاف کریں اور وہ شائستگی سے آپکے نقطہ نظر کو سنے اور پھر اختلاف رائے کو برداشت کرے،جس کے خمیر میں وطن کی محبت گوندھی ہوئی ہو اور جو پاکستان سے عشق کی مثال ہو اب وہ شخص ہم میں نہیں رہا۔۔

حمید گل کی وفات پر مختلف لوگوں کا مختلف ردعمل راہا ہے جس کا اظہار شوشل میڈیا سمیت پریس اور الیکڑانک میڈیا میں کیا گیا۔زیل میں حمید گل سے متعلق  کچھ منتخب کالم اور ویڈیوز کے لنکس ہیں۔

ٹی وی شو مزاق رات میں میں وفات سے کچھ ہی عرصہ پہلے کا انٹرویو۔

نہ میں ریٹائر ہوں نا میں ٹائرڈ ہوں، میں میدان جنگ میں کھڑا ہوںاے آر وائی نیوز میں ڈاکٹر دانش کو دیا گیا آخری انٹرویو
جمہوریت نے کچھ نہیں دیا، اللہ کی زمیں پر اللہ کا نظام ہونا چاہیے۔ 
حمید گل مرحوم کا اپنے بارے میں تعارفی کالم
لوگ مجھے حمید گل کے نام سے جانتے ہیں۔حامد میر کا حمید گل کی وفات پر کالم
جنرل حمید گل کی کچھ حسین یادیں۔جاوید چودھری کا حمید گل کی وفات پر کالم-
جنرل صاھب وہ پاکستان نہ دیکھ سکے۔ سلیم صحافی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
جنرل حمید گل-نزیر ناجی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
ایک جنرل ایک مدبر۔اوریا مقبول جان کا حمید گل کی وفات پر کالم-
گل صاھب۔ارشاد احمد عارف کا حمید گل کی وفات پر کالم-
خوابوں کا بنجارہ۔حفیظ للہ نیازی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
قوم چند بڑے لوگوں سے محروم۔  ہارون رشید کا حمید گل کی وفات پر کالم-
جرنل صاھب۔ انصار عباسی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
حمید گل اسلام کا سپاہی۔   عامر خاکوانی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
افغانستان سے جڑی کتاب کا ورق۔خورشید ندیم  کا حمید گل کی وفات پر کالم-
ایک نجیب آدمی۔  آصف محمود کا حمید گل کی وفات پر کالم-
جنرل حمید گل۔

اے ویلکم بیک پارٹی ٹو شیطان

رمضان آتا ہے تو شیطان جھکڑ دیا جاتا ہے اور ہم دل کھول کر اللہ کی عبادتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی تلاوت کر راہا ہوتا ہے تو کوئی نوافل کی آدائیگی میں مصروف نظر آتا ہے۔کوئی زکر کر راہا ہے تو کوئی اسلامی بیان یا نعتیں سن راہا ہوتا ہے 
غرض ہر کوئی کسی نہ کسی عبادت میں مصروف عمل ہوتا ہے۔ یہی حال ہمارے میڈیا کا ہوتا ہے کے ایک سے بڑھ کر ایک اسلامی پروگرام، دین کے مسائل پر مبنی گفتگو اور اسلامی معلوماتی شوز، ماڈلز اور اداکار سر پر ٹوپیاں رکھے روزے کی فضیلت بیان کر رہے ہوتے ہیں اور خواتین ایکٹریس سر پر دوپٹا اوڑھے شرم حیا کے بابت بیان کر رہی ہوتی ہیں۔۔ ہمارے معاشرے میں بھی کسی حد تک سدھار پیدا ہو جاتا ہے۔ جو سال بھر زکوۃ نہیں دیتے وہ زکوۃ کے ساتھ ساتھ صدقہ و خیرات کر راہے ہوتے ہیں۔مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کا احترام کرنے لگتے ہیں۔راستے میں کوئی مل جائے تو خوب خوش اخلاقی سے ملتے ہیں اور یہ بھی پوچھتے ہیں لازمی کے " بھیا روزے کیسے گزر رہے ہیں۔پیاس تو نہیں لگ رہی "۔۔۔اگر کوئی ساحل دروازے پر دستک دے تو حتی الا امکان یہی کوشش ہوتی ہے کے وہ خالی ہاتھ نا لوٹے۔۔ لیکن جوں ہی عید کا چاند نظر آیا یعنی چاند رات آن پہنچی تو بس پھر اللہ کی پناہ۔لگتا ہے رمضان میں شیطان نہیں یہ بندہ قید تھاجو رمضان کے ختم ہوتے ہی آزاد ہو گیا ہے۔

کوئی بجرنگی بھائی جان دیکھنے جا رہا ہے تو کوئی رقص کی محفل سجانے۔کوئی کانوں میں ہیڈ فون لگا کر میوزک پر دھمال ڈال رہا ہے تو کوئی در پر آئے ساحل کو جھڑک رہا ہے۔کوئی یتیم کا مال کھا رہا ہے تو کوئی پڑوسی کی جایئداد پر قبضے کا پلان بنا رہا ہے۔اور جوان جو آخری عشرے میں اعتکاف پیٹھے تھے وہ اب پارکوں ،بازاروں اور پبلک مقامات پر "انکھوں کی پیاس " بجھانے میں مصروف نظر آتے ہیں!! اور میڈیا میں میں شرم و حیا کا درس دینے والیاں نیم عریاں لباس میں ناچ ناچ کر چاند رات اور عید مبارک کہہ رہی ہوتی ہیں۔ وجہ؟ کیوں کے ہمارا لیڈر شیطان ہے۔ کیسے؟ یہ مثال ملاحظہ کریں جو میں نے کسی مولوی صاھب سے سنی تھی۔
"عموماً یہ ہوتا ہے کے اگر کوئی سیاسی لیڈر کسی کیس میں جیل کے اندر چلا جائے تو اُسکے سارے سیاسی حمایتی اور کارکنان بھی جیل کے سامنے پہنچ کر دھرنا دے دیتے ہیں اور تعرے بازی شروع ہو جاتی ہے کے جب تک ہمارے لیڈر کو نہیں چھوڑا جائے گا ہم دھرنا دے کر بیٹھیں رہیں گے اور بلا آخر ھکومت اُن کے لیڈر کو چھوڑ دیتی ہے اور وہ اُس کے گلے میں ہار ڈالتے ہیں ،پتیاں نچھاور کرتے ہیں اور راستے میں پھول بچھا کر ایک قافلے کی صورت میں اُسکا استقبال کرتے ہیں۔ بلکل یہی صورتحال ہماری بھی ہے۔ہم میں سے اکثر نے شیطان کو اپنا لیڈر بنایا ہوا ہے اور جب ہمارے لیڈر کو رمضان کے شروع میں اللہ تعالی قید کرتے ہیں تو ہم اُسکے چیلے اور کارکنان اللہ کی بارگاہ میں دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ہیں۔خوب عبادتیں کرتے ہیں ۔مساجد میں جگہ نہیں ملتی اور ہماری آہ و زاری اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ہمارا یہ دھرنا تب تک جاری رہتا ہے جب تک ہم اللہ سے اپنے لیڈر شیطان کو چُھڑوا نہ لیں۔جوں ہی چاند رات ہمارے لیڈر کو رہائی ملتی ہے ہم "دھرنا" ختم کر دیتے ہیں اور مساجد خالی ہو جاتی ہیں!!! صرف اسی پر بس نہیں جس طرح سیاسی لیڈر کو واپسی پر قافلے کی صورت میں پھولوں کے ہار ڈال کر واپس لا کر "ویلکم بیک پارٹی" دی جاتی ہے بلکل اُس طرح ہم اپنے لیڈر کو اللہ کی نافرمانیاں کر کر کے "ویلکم بیک پارٹی" دیتے ہیں!! ایسی ایک ویلکم بیک پارٹی اے آر وائی نیوز اور دوسرے چینلز نے بھی دی ہے۔اپ بھی دیکھیں۔ویلکم بیک ڈیر ڈیول۔

کمال بمقالہ مہا کمال

ہفتہ پہلے مجھے کسی کام سے راولپنڈی جانا پڑا، میٹرو بس کا روٹ اور اس پر ہر دو منٹ بعد گزرتی بس وقعی میں ایک حسین نظارہ پیش کر رہی تھی۔ میں اسی نظارے میں محو تھا کہ اچانک نظر وہاں لٹکتی تاروں پر پڑھی جن سے پتنگ لٹک رہے تھے۔بجلی کے کھمبے لگتا تھا ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں یا غالباً ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی مبارکی دے رہے تھے۔ ساتھ ہی نیچے گندگی کے ڈھیر تھے جن کو غریب کے بچے الٹ پلٹ رہے تھے کے ہو سکتا ہے اس میں سے کوئی کام کی چیز یا کھانے کی ہی کوئی چیز مل جائے، ساتھ سڑک پر من چلے ون ویلنگ کر رہے تھے اور ہمیشہ کی طرح جاہل عوام بجائے کے پل سے سڑک کراس کریں پیدل ہی کراس کر رہے تھے۔
میاں صاحب سے عرض ہیکہ میٹرو آپ نے بنائی کمال کیا لیکن اگر آپ راولپنڈی کی صفائی ستھرائی کا بھی کوئی اچھا سا نظام بنا دیں تو یہ "مہا کمال " ہوگا۔نکاسی آب کے نظام کو اس قابل بنانا کے زیادہ سے زیادہ بارش کا بوجھ بھی برداشت کر سکے کونسا بڑی سائنس ہے؟ راولپنڈی کی کوئی میونسپل اٹھارٹی بھی ہے اگر وہ صفائی کا خیال نہیں رکھتی تو اٗس کو کوئی پوچھنے والا بھی ہے؟ بجلی کی لٹکتی تاریں جو آئے روز قیمتی جانوں کے نقصان کا باعث بنتی ہیں کیا اُن کو زیر زمین نہیں کیا جا سکتا؟ لاہور میں تو سنا ہے آپ نے استنبول کی کسی کمپنی سے معاہدہ کیا ہے صفائی اور نکاسی آب کا جدید نظام بنانے کے لیے کیا کوئی ایسا معاہدہ راولپنڈی شہر کے لیے بھی زیر غور ہے؟ اسی ناقص نظام کی وجہ سے جب کھبی بارش ہوتی ہے تو کھبی نالہ لئی قابو نہیں آ رہا ہوتا تو کھبی گٹر اُبل اُبل کر باہر آ رہے ہوتے ہیں اور اپکی شاندار گورننس کا رونا رو رہے ہوتے ہیں!!
۔ صفائی اور نقاسی آب کے ایک جدید اور بہترین نظام پر کتنے پیسے لگ سکتے ہیں؟ کم از کم اسلام آباد راولپنڈی کی میڑو کی بجٹ سے کم ہی لگیں گے تو پھر لگا کیوں نہیں دیتے؟ دس اور میٹرو بنا لیں آپ جب تک اپ صفائی کا کوئی معیاری نظام نہیں بناتے تب تک راولپنڈی شہر اسی طرح گندگی سے اٹا رہے گا اور پھر جب اس گندگی کی وجہ سے کوئی وبائی بیماری پھیلے گی جیسا کے ڈینگی تو پھر آپ "سپرے پمپ " لے کر ٹائروں میں گھسے ہوں گے ۔
سوشل میڈیا پر مسلم لیگی ٹیم نے بھی عجیب وطیرہ اپنا رکھا ہے۔لاہور یا پنڈی میں بارش کی وجہ سے اگر گلیاں تالاب کا منظر پیش کریں تو جھٹ سے یہ لنڈن یا نیو یارک کی پانی سے بھری گلیوں کی تصاویر لگا کر کہتے "دیکھو جی قدرتی آفات کا مقابلہ تو ترقی یافتہ لوگ بھی نہیں کر سکتے" ۔۔۔اللہ کے بندو وہاں گلیاں اور سڑکیں پانی سے تب بھرتی ہیں جب بہت غیر معمولی صورتحال ہو۔۔اِدھر تو ایک دن بارش ہو جائے تو لوگوں کو اپنے گھروں تک جانے کے لیے "میٹرو کشتیاں " استعمال کرنی پڑتی ہیں اور تین تین دن بارش ہونا معمول کی بات ہے۔۔ اسی پر بس نہیں بلکہ لیگی سوشل میڈیا ٹیم کا ایک اور کام یہ بھی ہے کے یہ سار دن شہباز شریف اور خٹک صاھب کا موازنہ کر رہے ہوتے ہیں۔ پشاور میں پڑے ہوئے گندگی کے ڈھیروں اور پانی سے بھری گلیوں کی تصاویر لگا کر کہتے ہیں کے دیکھو جی راولپنڈی اور لاہور پشاور سے تو بہتر ہیں نہ۔۔ مطلب آپ نے اپنا مقابلہ خٹک صاھب کے پشاور سے کرنا ہے جن کو حکومت میں آئے تین سال ہوئے ہیں اور خود آپ لاہور اور پنڈی میں پندرہ سال حکمران رہ چکے ہیں !!!
رہی یہ بات کے گورننس باقی صوبوں سے تو بہتر ہے تو یہ بات سو فصد درست ہے کے شہباز شریف کے مقابلے کی کوئی گورننس پاکستان کے کسی صوبے میں نہیں ہے لیکن حضرت آپ مجھے بتاؤ کیا شہباز شریف اسّی سالہ قائم علی شاہ سے اپنا موازنہ کریں گے جو اپنے وزن پر بنا سہارے کے "قائم" بھی نہیں رہ سکتے یا شہباز شریف اپنا موازنہ پرویز خٹک سے کریں گے جو اگر ڈانس کر رہے ہوں تو لگتا ہے کے تیز ہوا کے جھونکے کی وجہ سے ہل رہے ہوں!! جی نہیں کے شاہین کا مقابلہ کوّے سے نہیں ہو سکتا، اندھوں میں کانا راجہ بہت بن چکے ہیں آپ میاں صاھب ۔
 پس تحریر : عمران خان نے کل کہہ دینا ہے کے " پشاور میں صفائی اور نکاسی آب کی زمّداری میری نہیں وفاقی حکومت کی تھی"۔۔آپ خود سوچ لو آپ نے کیا کہنا ہے کیوں کے وفاق میں تو آپکے بڑے بھائی ہیں تو اپکو اُن کو زمّدار ٹھہرانے سے تو رہے

لیلتہ الجائزہ اور چاند رات

ہمارے ہاں بلخصوص پچھلے کچھ سالوں میں چاند رات کو بطور فیشن بنایا جانے لگا ہے۔خواتین ھر صورت چاند رات کو ہی گھر سے نکل کر شاپنگ کریں گی اور نوجوان طبقہ ون ویلنگ اور اسطرح کی دوسری خرافات میں مصروف نظر آئے گا۔اول زکر یعنی چاند رات کے دن خواتین کی شاپنگ میں بظاہر کوئی شرعی قید نہیں ہے لیکن اس میں کچھ قباحتیں ضرور ہیں مثلاً عموماً چاند رات والے دن بازاروں میں اتنا رش ہوتا ہے کے تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی اور چونکہ زیادہ تر بازار میں مرد حضرات اور خواتین اکھٹی ہوتی ہیں اس لیے خوب بے پردگی کا اندیشہ ہے حتی کے با پردہ خواتین بھی رش اور ہجوم میں دھکے کھا کر اپنی عزت نفس کو مجروع کرنے کا سامان پیدا کرتی ہیں۔ نیا نیا نوجوان طبقہ بازار میں چاند رات کو جاتا اسی لیے ہے کے اپنی انکھوں کی پیاس بجھا سکے اور اگر ممکن ہو تو دھکم پیل کا فائدہ اُٹھا کر نوجوان لڑکیوں کو چھو بھی جا سکے (میں اس بات کا خود گواہ ہوں کے لڑکے باقاعدہ ٹولی بنا کر اور پلاننگ کر کے جاتے ہیں)۔۔
بعض خواتین تو اپنے ہاتھوں پر مہندی لگوانے کے لیے یا چوڑیان پہنے کے لیے اپنے ھاتھ نامحرم کے ہاتھ میں دینے سے بھی گریز نہیں کرتی شائد انہوں نے یہ حدیث مبارکہ نہیں پڑھی۔۔معقل بن یسار سے روایت ہیکہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کے
تم میں سے کسی کا سر لوہے کے کیل سے پھاڑ دیا جانا،یہ اس کے لیے کسی غیر محرم عورت (یا مرد) کو چھونے سے بہتر ہے  (متفق علیہ)دوسری قباحت یہ ہے کے چاند رات والے دن عام طور پر دس روپے والی چیز پچاس روپے کی بِک رہی ہوتی ہے اور چونکہ یہ چاند رات کی شاپنگ فیشن بن چکا اس لیے سفید پوش خوتین بھی آتی ہیں اور اپنے میاں کی آدھی تنخواہ لٹانے کے بعد گھر جاتے ہوئے حکومت اور تاجروں کو 'کوسنے' دے رہی ہوتی ہیں ۔
اب آ جاتے ہیں تیسری اور سب سے بڑی قباحت کی طرف اور وہ ہے لیلتہ الجائزہ کی نا قدری!! ہم میں سے ہر ایک رمضان میں نیک اعمال کرتا ہے۔وہ آدمی بھی جو سارا سال منافع خوری کرتا ہے وہ آدمی بھی جو سارا سال غریبوں کا حق دبا کر بیٹھا رہتا ہے وہ آدمی بھی جو سودی کاربار کرتا ہے اور وہ آدمی بھی جو یتیموں کا مال کھاتا ہے اس مبارک مہینے میں کوشش کرتا ہے کے اپنی غلطیوں پر نادم ہو کراللہ کو رازی کر لوں، ہر کوئی غیبت ،جھوٹ، چوری اور ہر برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور ہر اچھائی کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن آخر میں جب ان ساری نیکیوں کا صلہ لینے کا وقت آتا ہے تو یہ چاند رات کی خرافات میں کھویا ہوتا ہے،،اس کو پتہ ہی نہیں ہوتا کے آج کی رات اللہ کی طرف سے مغفرت کا پروانہ ملنا ہے اور اگر رمضان میں کوئی نیک عمل نہ کر سکا تھا تو اس رات کو ندامت کے آنسو بہانے سے اللہ کی رحمت و مغفرت پا سکتا ہے۔ لیکن کیا کریں چاند رات کی خوشی میں لیلتہ الجائزہ چھپ جاتی ہے جس کو حدیث مبارکہ میں "انعام کی رات" کہا گیا ہے یعنی اس رات اللہ اپنے بندوں کو انعام و اکرام سے نوازتے ہیں۔
احادیث میں اس رات کی فضیلت بیان کی گئی جسکا مفہوم ہیکہ " رمضان کی ہر رات میں اتنے لوگ کو جہنم کی آزادی کا پروانہ ملتا ہے جتنا کے قبیلہ بنو بکر کی بکریوں کے اوپر بال ہوتے ہیں اور رمضان کی آخری رات (یعنی لیلتہ الجائزہ) میں تمام رمضان سے بھی زیادہ لوگوں کو جہنم سے چھٹکارا ملتا ہے"۔۔
ایک اور حدیث میں حضرت امامہ سے مروی ہیکہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا،
جو شخص عید الااضحیٰ اور عید الفطر کی راتوں میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت کرتا ہے اُسکا دل (قیامت کے ہولناک اور وحشت ناک) دن بھی نا مرے گا جس دن لوگوں کے دل (دہشت و گھبراہٹ کی وجہ سے) مردہ ہو جائیں گے (ابن ماجہ،کتاب صیام،بات فیمن قام فی لیلتہ العیدین 1782)اب یہ ہم پر منحصر  ہے کے ہم چاند رات کی خوشی میں اس خوشی کو بھول جائیں جو ہمیں ہمارا رب رمضان کے انعام میں دینا چاہتا ہے یا چاہیں تو اس رات کو عبادت کر کے اپنے لیے سامانِ آخرت کے ساتھ ساتھ  روحانی خوشی کا بھی اہتمام کر لیں!

بچپن کے روزے ہم اور پکوڑے۔

اپنے پہلے روزے کی تو صیح طرح یاد نہیںکے یاداشت بہت کمزور ہے اتنی کمزور کے صبح کھانے میں کیا کھایا دن تک بھول جاتا ہے، تاہم پہلے پہلے روزوں کی یاد  زہن کے کسی گوشے میں محفوظ ہے۔یہ تو یاد نہیں کے کتنی عمر میں پہلا روزہ رکھا تھا لیکن  وہ ساری شرارتیں جو ہم روزہ رکھ کر عموماً کرتے تھے  ابھی بھی ازبر ہیں۔خاندان میں قدرے اسلامی ماحول تھا کے رمضان میں نمارز روزے کا شوق دلایا جاتا تھا ۔سحری کرنے کے بعد سو جاتے تو جب اٹھتے تو پیاس کی شدت سے بر ا حال ہوتا  اور اُسی وقت ہم مصمّم ارادہ کرتے کے کچھ بھی ہو جائے آج کے بعد سحری کے وقت نہیں سونا لیکن اگلے دن پھر سوئے ہوتے اور جاگ کر پھر  نہ سونے کا "مصمّم " ارادہ کرتے۔دن سارا دوستوں سے گپّیں لگانے میں گزر جاتا۔۔" اوئے تیرے کتنے روزے ہوگئے؟  چھ! اور کتنے کھائے تو نے؟ ( باوجود اسکے ہم کو پتہ ہوتا کے اگر کل دس روزے ہو گئے ہیں تو چھ اس نے رکھے ہیں تو چار کھائے ہو گے لیکن اسکو شرمندہ کرنے کے لیے لازمی پوچھتے کے کتنے کھائے تو نے؟)یار چار کھائے صرف ابھی تک تو۔او نہیں نہیں میں پوچھ راہا ہوں کے جو چھ رکھے ہیں اس میں سے چھپ چھپ کر کتنے کتنے کھائے ہیں تو نے ؟تیری طرح تھوڑی ہوں کے روزے چھپ کے کھاؤں!ہاں ہاں میری طرح نہیں ہے تب ہی تو پوچھ راہا ہوں کے بتا کتنے کھائے ہیں چھپ کے؟ تجھے پتا ہے میں تیر ی باتیں کسی کو نہیں بتاتا۔۔یار مجھے روزہ لگا ہوا ہے تنگ نہ کر۔۔یار بتا دے نہ کتنے کھائے ہیں تو نے(چھپ کے)؟ تیرے پیسے لگتے ہیں بتاتے ہوئے! میں کسی کو نہیں بتاؤں گا نہ۔جا جا کے سب کو بتا دے میں نے چار روزے کھائے ہیں،،جا کے مسجد میں بھی اعلان کردیو!ہاہا ہا،مجھے پتہ تھا کے تو چھ روزے پورے نہیں رکھ سکتا چار چھپ کے کھا گیا ہو گا!!! میں کہہ راہا ہوں کے کل دس میں سے میں نے چھ رکھے ہیں اور چار کھائے ہیں،چھپ کر ایک بھی نہیں کھایا!! اچھا اچھا ، پتہ نہیں کیوں مجھے یقین نہیں آرہا،،،بہرحال میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں مسجد تو بھی آ جا کبھی مسجد کا منہ بھی دیکھ لیا کر۔خالی بھوکے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا،،(میں نے کسی مولوی کی طرح اسکو نصیحت کی)۔۔تو زیادہ حاجی نہ بن جانتا ہوں میں تجھے بھی ، تو وہی ہے نہ۔۔۔(اسکے بعد اس نے میرے کچھ خواص گنوائے جو یہاں زکر کرنا مناسب نہیں)حد ہو گئی یا ر نیکی کا تو زمانہ نہیں۔مسجد کی طرف بلاؤ تو آگے سے الزام تراشیاں شروع  کر دی۔۔(یہ کہہ کر ہم مسجد کی  طرف چل دیے کے اسی میں اپنی بھلائی تھی!)مسجد میں پہنچ کر کر دوستوں سے اسطرح کی باتیں ہوتی تھیں کے تو نے کتنے سپارے پڑھ لیے،،ابھی تک صرف سات؟؟؟ ہم تو ایک قران ختم کر چکے ہیں ، تیری پڑھنے کی سپیڈ  بہت سلو ھے یار۔۔یار تو مجھے دو سپارے پڑھ دے نہ پلیز۔۔نہیں اوئے ابھی  تو خود بہت سارے پڑھنے ہیں،،یار تیری سپیڈ بہت فاسٹ ہے پڑھ دے نہ تیرے کونسے پیسے لگنے ہیں!کمال ہے، اگر ہماری سپیڈ فاسٹ ہے قران پڑھنے کی تو کیا اسکا یہ مطلب کے ہم پورے گاؤں والوں کو پڑھ کر دیں!!نہیں یار میں نے کب کہا کے سارے گاؤں والوں کو پڑھ کے دے؟ مجھے صرف دو سپارے پڑھ دے بس۔۔
 تو کھبی میرے کام نہیں آیا۔اور مجھے پتہ ہے جو تیری سپیڈ ہے قران پڑھنے کی، ایک رکوع پڑھتا ہے اور ایک شارٹ کر جاتا ہے  جانتا ہوں  میں سب!!! اتنی سپیڈ تو ایک حافط قران کی نہیں ہوتی جو تیری ہے!!لاحول والا ۔‌۔ نیکی کا زمانہ ہی نہیں۔۔قران مجید  پڑھنے کی تلقین کرو تو آگے سے الزام تراشیاں شروع کر دیتے ہیں۔۔(یہ کہہ کر ہم مسجد سے گھر کی  طرف چل دیے کے اسی میں اپنی بھلائی تھی!)گھر میں پہنچتے تو افطاری کی تیاری ہو رہی  ہوتی۔عصر سے مغرب کا وقت شدید صبرو تحمل کا متقاضی ہوتا۔خیر اللہ اللہ کر کے جب ازان ہوتی تو جان میں جان آتی،سب سے پہلے تو پکوڑں کی شامت آتی،پکوڑوں کی ایسی شامت آتی کے افطاری  میں پیٹھے اپنے سے کسی پڑے کی ڈانٹ سنی پڑھتی۔۔"پہلی دفہ پکوڑے دیکھے ہیں کیا؟؟، اگر بھولے سے کسی نے تمہیں افطاری پر بلا لیا تو وہاں بھی اسی طرح نام روشن کرو گے کیا؟؟ وغیرہ وغیرہ"۔۔اتنی ڈانٹ سننے کے بعد ہم یہ عزم مصمّم کرتے کے آج کے بعد کبھی پکوڑوں کی طرف لپکیں گے نہیں (کم از کم کسی کے سامنے تو بلکل نہیں)۔۔لیکن اس عزم مصمّم کا بھی وہی حال ہوتا جس کا زکر میں اوپر کر چکا ہوں۔ہمارے چھوٹے بھائی ہم سے بھی زیادہ پکوڑوں کے بارے میں "کائیاں" واقع ہوئے تھے۔جب پکوڑے بنتے تو وہ اُس وقت ہی وہاں طواف کی مانند چکر لگانے شروع کر دیتے  نتیجہ یہ نکلتا کے افطاری سے پہلے ہی چھوٹے میاں کے پاس ایک عدد پلیٹ پکوڑوں کی جمع ہو چکی ہوتی،اسی پر بس نہیں وہ درانِ افطاری بھی اسٹاک کرنے کی نیت سے پلیٹ پاس رکھتے یا حسب ضرورت اپنے بائیں  طرف والی جیب استعمال کرتے اور اسی مقصد کے لیے کے وہ باقی لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہیں ہمیشہ کونے میں بیٹھنے کو ترجیع دیتے۔کھانا کھانے کے بعد وہ ہمیں اور دوسرے بہن  بھائیوں کو دکھا دکھا بلکہ  جلا جلا کے پکوڑے کھاتے  اور کبھی کبھار جب پیٹ بھر جاتا تو کمال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ادھ پکوڑا ہماری طرف بھی اچھال دیتے کے "ہمارے ساتھ رہو گے تو عیش کرو گے"۔۔ موصوف کا یہ سلوک صرف پکوڑوں کیساتھ نہیں تھا بلکہ وہ  "آموں" کے ساتھ بھی یہ حسنِ سلوک روا رکھتے تھے،ایک دفہ مجھے یا د ہے وہ تین آموں سمیت الماری سے بر آمد ہوئے تھے!!بات پکوڑوں کی نکلی ہے تو دور تلک جائے گی،پکوڑوں سے میں اپنی پرانی اور خاندانی دشمنی دو ہزار پندرہ میں بھی ختم نہیں کر پایا۔افطاری کا اہتمام چونکہ ساتھ مسجد میں ہو رہا ہے اور انتظامیہ میں بھی اپنے ہی بندے ہیں تو ہم بھی  اُدھر ہی افطاری کرتے ہیں، اجتماہی افطاری میں یہ قباحت ہوتی ہے کے ایک پلیٹ میں دو بندوں کو شریک ہونا پڑھتا ہے، خیر ہم کو کیا جتنے بندے مرضی شریک ہوں لیکن مصیبت تب پڑھتی ہیکہ ایک پلیٹ میں محض تین پکوڑے رکھے ہیں اور بندے دو ہیں!! مولانا صاھب اجتماہی دعا بھی کراتے ہیں اور ہم جب دعا کیلیے ہاتھ بلند کرتے ہیں تو  دونوں ہاتھوں کا مناسب فاصلہ رکھتے ہیں تا کہ پکوڑوں کی پلیٹ واضع  نظر آئے اور ساتھ ہی دل سے دعا نکلتی ہے "یا اللہ اِن تین پکوڑوں میں سے کم ازکم دو میرے حق میں قبول فرما اور اگر تینوں میرے حق میں قبول ہو جائیں تو تیرے خزانے میں کیا کمی ہے یا رب "۔۔۔ساتھ ہی ہم پلان بھی بناتے کے سب سے پہلے ایک پکوڑا لینا ہے، پھر ایک دم دوسرا اٹھا لینا ہے اور اگر اتنی دیر تک تیسرا بچ گیا تو اسکو بھی فوری سے بیشتر  'روانہ پیٹ براستہ حلق" کریں گے۔۔بعض اوقات صورتحال اس قدر مایوس کن ہوتی ہے کے پلیٹ میں ایک پکوڑا ہوتا ہے اور دو بندے ،اس پر طرفہ تماشا یہ کے فریق مخالف بھی "پکوڑا پسند" واقع ہوا ہو۔ایسی صورتحال میں ہماری منصوبہ بندی کچھ اسطرح ہوتی ہے کہ پہلی باری کھجور اٹھاتے ہیں تا کے یہ بندہ یہ نہ سمجے کے ہم نے کھبی زندگی میں پکوڑے نہیں دیکھے اور دوسری باری میں پکوڑا اٹھا لیں گے آرام سے۔لیکن ہماری تدبیریں اس وقت الٹ ہو گئی جب فریق مخالف نے پہلی ہی بار پکوڑا اٹھا لیا اور  ہم منہ دیکھتے رہ گئے۔یہ بات ہم پر گراں گزری اور ہم نے ڈپریشن میں آ کر دو گلاس پانی پی لیا جس کا فوری نقصان یہ ہوا کے ہم پکوڑے کے بعد بریانی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے کیوں کے دو گلاس پانی پینے کے بعد پیٹ میں بریانی کی جگہ ہی نہیں بچی تھی ۔۔


خیر بات کہاں سے کہاں چلی گئی، میں بات کر راہا تھا بچپن کے رمضان کی اور اس سے جڑی یادوں کی۔ شروع کے روزں میں ایک مسلئہ  یہ بھی ہوتا کے جوں ہی ہمیں پیاس لگتی تو شیطاں بصورت نفس  آتا اور ہم سے کچھ یوں مخاطب ہوتا۔۔دیکھ بندے  تو نے صبح کی نماز نہیں پڑھی ہے، تو پھر تیرے روزے کا فائدہ؟۔اللہ کو تیرے بھوکے پیاسے رہنے سے کچھ نہیں غرض! اب تو روزہ رکھ یا نا رکھ ایک ہی بات ہے، جب نماز نہیں پڑھی تو روزہ قبول نہیں اور جب روزہ قبول نہیں تو مفت میں بھوکا پیاسا رہنے کا فائدہ؟؟؟؟جس دن میں نے نماز نا پڑھی ہوتی اور پیاس شدید ہوتی اس دن نفس کی یہ دلیل کاریگر ثابت ہو جاتی اور میں روزہ توڑ دیتا،اب میں روزہ کیسے توڑتا یہ بھی ایک الگ کہانی ہے۔ جب روزہ توڑنا مقصود ہوتا تو میں پانی کا گلاس لبا لب بھرتا اور غٹا غٹ پی جاتا اور پھر  ایک زور دار  تمانچہ اپنی پیشانی پر رسید کرتا اور با آواز بلند کہتا "اوہ شیٹ"۔۔۔۔تا کہ سارے بہن بھائی سن لیں کے میرا روزہ غلطی سے ٹوٹ گیا ہے پانی پینے سے۔میرا چہرہ غمزدہ دیکھ کر سارے تسلیاں دیتے کے "کوئی بات نہیں  بیٹا اللہ اجر دے گا-اللہ کو تو سب پتہ ہے نہ ۔اپ نے تھوڑا ہی کوئی جان بوجھ کر روزہ توڑ ا ہے ۔۔کل پھر رکھ لینا اور بس "۔اور میں دل ہی دل میں کہتا کے یہی تو مسلئہ ہے کے "اللہ کو تو سب پتہ ہے "۔۔۔۔!!!بچپن کی شرارتیں جو رمضان میں کی ایک ایک کر کے یاد آ رہی ہیں اگر یوں ہی لکھتا رہا تو بات طول پکڑ جائے گی!بس اتناہی کہوں گا کہ۔۔۔"یاد ماضی خوشگوار ہے یا رب۔۔چھین نہ لینا مجھ سے حافظہ میرا۔۔ 

جناب جاوید چودھری صاحب ! دوسروں کو نصیحت ،خود میاں فصیحت !

جاوید چودھری ضلع گجرات کے ایک گاؤں میں 1968 کو پیدا ہوئے۔ ابتدا میں تعلیم کی طرف رغبت کم تھی لیکن پھر چودھری صاھب نے محنت کا راز جانا اور اتنی محنت کی کے 1991 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ماس کمیونیکشن میں گولڈ میڈل حاصل  کیا۔ کولمبیا یونیورسٹی اور جونزہوپ کنز یونیورسٹی امریکہ سے میڈیا مینجمنٹ کے کورسز کیے اور واپس آ کر عملی صحافت میں حصّہ لینا شروع کیا۔ پہلے روزنامہ امت اور روزنامہ خبریں میں کالم لکھے اور پھر 1997 میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوئے اور 2006 تک جنگ کے ادارتی صفحے پر آپکے کالم جگمگاتے رہے۔ 2006 میں جنگ کو چھوڑ کر ایکسپریس میڈیا گروپ سے وابستہ ہوئے اور تا حال وابستہ ہیں۔بلا شبہ جاوید چودھری ہی وہ کالم نگار ہیں جو پاکستان میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ان کے کالم معلوماتی او لکھنے کا انداز ایسا خوبصورت کے ایک دفہ پڑھنے والا آپکےکالم کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔یہ تقریباً دنیا کے ہر قابل زکر ملک اور شہر کی سیر کر چکے ہیں اور وہاں اپنے تجربات اور مشاہدات سے اپنے قارئین کو باخبر رکھتے ہیں۔ آپ ہمیشہ اپنے کالموں میں یہ درس دیتے آئے ہیں کہ بات دلییل سے کی جانی چاہیے اور اگر کوئی دوسرا اپکو قائل کر لے تو بلا تردّد اُسکی بات مان لینی چاہیے ۔جاوید چودھری کو 1997 اور 1998 میں اے پی این ایس کی طرف سے بہترین کالم نگار کا ایواڈ دیا گیا۔1998 میں ہی گورنمنٹ کی جانب سے انکو "ایکسیلینسی ایواڈ" سے نوزا گیا۔ حکیم محمد سعید شہید کی یاد میں انکا کالم "شہید مدینہ" بہت مقبول ہوا.انکا کالم زیرو پوائنٹ پاکستان میں سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ 2008 میں جاوید چودھری نے الیکڑانک میڈیا میں قدم رکھا اور پرنٹ میڈیا کی طرح یہاں بھی کامیابی نے قدم چومے۔انکا پروگرام 'کل تک'  پاکستان کے پہلے تین مشہور ترین پروگراموں میں شامل ہوتا ہے۔جاوید چودھری کی رائے پچھلے بیس سالوں میں پاکستان کی کی عوام کی رائے سازی میں سب سے نماہاں کردار ادا کرتی آئی  ہے۔ بلاشبہ پاکستانی صحافت کا زکر جاوید چودھری کے زکر کے بغیر نامکمل ہوگا2008 میں جاوید چودھری نے الیکڑانک میڈیا میں قدم رکھا اور پرنٹ میڈیا کی طرح یہاں بھی کامیابی نے قدم چومے۔انکا پروگرام 'کل تک'  پاکستان کے پہلے تین مشہور ترین پروگراموں میں شامل ہوتا ہے۔جاوید چودھری کی رائے پچھلے بیس سالوں میں پاکستان کی کی عوام کی رائے سازی میں سب سے نماہاں کردار ادا کرتی آئی  ہے۔ بلاشبہ پاکستانی صحافت کا زکر جاوید چودھری کے زکر کے بغیر نامکمل ہوگا۔
پیچھلے دنوں جاوید چودھری نے ایک کالم لکھا "دو اسلام" جس میں انہوں نے ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کی آن کتابوں کا حوالہ دیا جن کتابوں سے خود غلام جیلانی برق نے اپنے اپکو علحیدہ کر دیا تھا۔بظا ہر تو اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی لیکن شائد ریکاڈ کی درستگی کے لیے اوریا مقبول جان نے جوابی کالم لکھا جس میں اس بات کی اصلاح کی گئی کہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے جن خیالات کو بنیاد بنا کر جاوید چودھری صاھب نے کالم لکھا ہے اُن خیالات سے خود غلام جیلانی برق مرحوم تائب ہو چکے تھے۔ بس پھر کیا تھا جاوید چودھری صاھب تحقیر پر اُتر آئے اور بجائے تحقیق سے جواب دینے کے طنزیہ لہجے میں لکھا کہ "چونکہ میرے دوست پر کشف ہوتے ہیں اس لیے وہ علامہ اقبال کی روح سے بھی رابطہ کریں ہو سکتا ہے وہ بھی  'سارے جہاں سے اچھا ہے ہندوستاں ہمارا ' جیسے ترانے پر کف افسوس مل رہے ہوں،اپ اپنی روحانی طاقت سے قائداعظم سے بھی ربطہ کر کے گوادر کاشغر روٹ پر ہمیں انکی آرا سے بھی با خبر کر دیں"۔ساتھ ہی جاوید چودھری صاھب نے اوریا مقبول جان کو چیلنج بھی کر دیا کہ آپ غلام جیلانی برق کی کسی بھی تحریر سے یہ ثابت کر دیں کہ  وہ اپنی کتابوں "دو اسلام " اور "دو قران" پر نادم تھے۔جواب میں اوریا مقبول جان نے "فضائے بدر پیدا کر" کے نام سے کالم لکھا اور شائستگی سے جاوید چوھری کے چیلنچ کو قبول کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کے غلام جیلانی برق نا صرف اپنی کتابوں "دو اسلام" اور "دو قران" پر نادم تھے بلکہ انہوں نے ایک خط کے زریعے پبلشرز کو مزید ان کتابوں کو چھاپنے سے بھی منع کر دیا تھا اور ساتھ ہی بطور ثبوت اوریا مقبول جان نے وہ خط اپنے فیس بک پیج پر اپلوڈ بھی کر دیا۔

جواب میں جاوید چودھری نے کام لکھا "میں نادم ہوں" جس میں آخری پیراگراف میں اپنی شکست تو تسلیم کر لی لیکن اس سے پہلے کے پانچ پیراگراف میں اپنے ہی بنائے گے اصولوں کو ایک طرف رکھ کے اوریا مقبول جان کی زات  کی خوب تحقیر کی کبھی ڈی ایم جی گروپ میں شامل ہونے کا طعنہ دیا تو کبھی "صوفی بیروکریٹ " ہونے کا۔ کبھی ٹائی کوٹ اور پتلون پہنے کا تو کبھی سگار پینے کا۔غرض یہ کالم تنقید برائے تنقید ،حسد ، بغض اور جلن سے بھرا پڑا ہے۔چودھری صاھب نے ایک پیمانہ مقرر کر دیا ہے کہ اگر مجھ سے مکالمہ کرنا ہے تو اپکو خود فرشتہ  ہونا چاہیے نہ آپ سگار پیتے ہوں، نہ پتلون اور ٹائی کوٹ پہنتے ہوں اور نہ ہی آپ کبھی ٹیلی ویژن پر آئے ہوں اور نہ ہی کبھی آپ گورنمنٹ ملازم رہے ہوں وغیرہ وغیرہ۔
جناب جاوید چودھری صاھب !آپ میرے فیورٹ کالم نگار ہیں ۔میں شروع دن سے اپکو پڑتا آیا ہوں،میں نے اپنے بلاگ کا نام  " چیک پوائنٹ" بھی آپکے کالم "زیرو پوائنٹ " سے متاثر ہو کر رکھا تھا۔ آپکے کالم میں اتنی معلومات ہوتی ہیں جو بعض اوقات ایک پوری کتاب میں نہیں ہوتی۔ آپ شائد وہ واحد کالم نگار ہیں جو بیک وقت سوشل، الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا پر مقبول ہیں۔ لیکن یہ کیا کیا آپ نے!!پچھلے بیس برس آپ جو برداشت اور دوسرے کی بات کا دلیل سے جواب  دینے کا سبق ہمیں اپنے کالموں ، ٹاک شوز،کتابوں اور لیکچرز میں دیتے آئے ہیں وقت آنے پر آپ نے خود بھی وہ سبق بھلا دیا!!  دوسروں کو نصیحت ،خود میاں فصیحت



سوجی ملک سینٹر

رواں ہفتے  کی مصروفیت میں نیشنل بک فائونڈیشن کی طرف سے منعقد کردہ بک فئیر اور اکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی طرف سے منعقد کردہ لٹریچر فیسٹیول  میں شرکت شامل رہی،انکا احوال پھر سہی لیکن سب سے اہم مصروفیت حسن ابدال میں بھائی جان کی دستار بندی کے موقعے پر ہونے والی ختم بخاری شریف کی بابرکت محفل میں شرکت تھی۔صبح ساڑھے اٹھ بجے اسلام آباد سے روانگی ہوئی تو امید تھی کے دس بجے پہنچ جائیں گے لیکن "امید بر نہیں آئی" اور ہم تین مختلف گاڑیاں  بدلنے کے باوجود گیارہ بجےحسن ابدال پہنچے۔ منڈی موڑ سے آگے ایک چھکڑا  سی بس میں بیٹھ گئے اور نتیجے میں اتنے "جھولے اور جھٹکے" کھائے  کے بے ساختہ ہمیں مرزا  مرحوم کی سائیکل یاد آگئی! بس فرق یہ تھا کے مرزا کی سائیکل پر صرف مرزا ہی تخت مشق بنے ہوئے تھے جبکہ اس بس میں تو پورے کے پورے چالیس سوار "اوپر نیچے" ہو کر سیٹ سٹینڈ کا سماں پیدا کر رہے تھے۔ آخر کو جب حسن ابدال قریب آیا تو کنڈ یکٹرنے کہا کدھر اترنا ھے؟ ایبٹ آباد موڑ یا آگے؟"جی نہیں، ہم نے سوجی  ملک سینٹر اترنا ہے"۔۔میں نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔ہیں؟ کنڈیکٹر بھونکچا رہ گیا۔۔ "یہ کونسی جگہ ہے"،، "ہم نے فوجی ملک سٹاپ اترنا ہے"پیچھے سے والد صاحب نے تصیح کی ۔ خیر جب ہم سٹاپ پر اترے تو اگلا کام 'مرکز حافظ الحدیث' کو ڈھونڈنا تھا جس میں ہم کو ایک گھنٹہ اور لگنا تھا لیکن بھلا ہو کزن کا وہ راستہ دکھانے والے فرشتے کی طرح نمودا ہوئے اور راستہ دکھا کر فرشتے کی طرح ہی غائب بھی ہو گئے۔مرکز درخواستی پہنچے توگندم کے لہلاتے کھیتوں نے نے ہمارا استقبال کیا،غالباً وہ کھیت ہوا کی وجہ سے رقص کناں تھے لیکن ہمیں یہی لگا کے گندم کی بالیاں ہمیں دیکھ کر خوشی سے شاداں ہیں۔جلسہ کی کاروئی جاری تھی اور مولانا الیاس گھمن بھی تشریف لا چکے تھے جنہوں نے بعد میں اپنی تقریر کے دوران بتایا کے وہ پرسوں کراچی تھے پھر کال حیدرآباد میں تھے اور شام کو سکھر میں تھے صبح پھر کراچی تھے اور ابھی دن کو وہ اِدھر اسلام آباد میں ہیں اور شام کو ملتان میں ہوں گے ،مطلب وہ مولانا نہ ہوئے جہاز ہوئے!درمیان میں وفاقی وزیر سردار یوسف نے بھی اپنا دیدار کرایا ،وہ قراقلی ٹوپی پہنے "قلی" لگ رہے تھے،بعد ازاں انہوں نے اپنی وزارت کی "نہ کردگی" پر روشنی بھی ڈالی۔ سب سے آخر میں حضرت عبدللہ درخواستی کے جانشین حضرت فداللہ درخواستی نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا پرتاثیر درس دیا۔پھر بمطابق دستور فضلاءکرام کی دستار بندی کی گئ اور پھر حسب توقع کھانا کھلنے کا علان کیا گیا جس کا   ہم انتطار کر رہے تھے!ہم چونکہ خوّاص میں شامل تھے اسلیئے عوام سے علیحدہ کر کے ایک اور جگہ لے جائے گے جہاں دسترخان بے چینی سے ہمارا انتطار کر راہا تھا۔ اور اپکو تو پتہ ھے ھم زیادہ دیر کسی کو انتطار نہیں کرواتے،سو جھٹ آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے اور اشارے کا انتطار کرنے لگے کے کب باقی مہمان بھی کھانا شروع کریں اور ہم بھی موقع سے فائدہ اٹھا سکیں، یقیں جانیں یہ انتظاراس انتظار سے بھی مشکل اور سخت جان ہوتا ہے جو محبوب اپنی روٹھی محبوبہ کے لیے کسی پارک میں کرتا ہے!خیر دسترخوان پر ہماری خوب تواضع کی گئی جسکا ہم نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اتناکھایا کہ اخر میں اٹھا نہیں جاراہا تھا،جب سب اٹھ گئے تو چاروناچار ہم بھی اپنے دوست کے سہارے اٹھ کھڑے ہوئے  کیونکہ دسترخوان پر یبٹھے رہنے کا مطلب تھا کہ ابھی ہم اور بھی کھائیں گے! ہمارے روم میٹ کی حالت تو ہم سے بھی پتلی تھی وہ موصوف کھانا کھا کے جیسے کے تیسے اٹھ تو گئے لیکن چل نہیں سکتے تھے تو ہال میں جا کر  لیٹ گئے، ہم نے موقع کو غنیمت جانا اور جلدی سے موبائل نکال کرتصویر کھنچا ہی چاہتے تھے کے وہ ہماری چلاکی کو بھانپ گئے اور  بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اٹھ بیٹھے کیوں کے یہ عزت کا مسلئہ تھا اور میں نے تصویر فیس بک پر اپلوڈ کر دینی تھی۔اب جب واپسی کا قصد کیا تو فیصلہ ہوا کے "کھایا پیا" ہضم کرنے کے لیے کم ازکم ایک کلو میٹر پیدل چلنا چاہیے،سو ہم نے مرکز درخواستی سے فوجی ملک سٹاپ اور پھر وہاں سے ایبٹ آباد موڑ تک پیدل چل کے اپنے "واک دوست" ہونے کا ثبوت دیا۔ آتے ہوئے بس میں سفرکا جو تجربہ ہوا تھا اس کی روشنی میں ہم نے واپسی کے لیے ویگن کا انتخاب کیا اور پرسکون سفر کر کے اسلام آباد پہنچے۔فوجی ملک سٹاب سے پیدل چلتے وقت دیوار پر لکھا شعر میں ہمارے زہن کے کسی گوشے میں محفوظ رہ گیا،گو کے اس تحریر سے اسکا خاص تعلق تو نہیں پھر بھی آپ پڑہیے ،سر دھنیے اور ہو سکے تو عمل بھی کیجیے۔
شریک حیات چننا ہو تو 'اصل' کو دیکھتے ہیں۔کتا بھی پالنا ہو تو 'نسل' کو دیکھتے ہیں-

Cover Letter Writing Techniques.

Do you thing it is difficult to write a cover letter? no way !just read this article and become an expert at writing a cover latter and send it with your resume






Cover letter is usually attached with Resume to illustrate some details and your interest in particular job.Your cover letter may make difference between getting chance of interview and having your resume rejected.In this letter You mention that how you are eligible for this job and from where you come to know about this job. You write you experience and summarize  how your qualification matches the job applied for  and how you can use your skills in the favor of company or organization that is offering job. You also mention why you are applying for this job and why you are preferring this organization. CV is a formal way but in cover latter you give personal touch in order to inspire the Manager. Most employer give more attention to your CV if it is attached with a Cover letter.

A General Survey about Cover Letter. A survey in US employer reveals facts about cover letter as following .
  • 42.9% wanted candidates to submit a cover letter for each position.  
  • 29.8% felt that they were not important ("I don't have the time to read them anyway")
  •  27.4% had no preference 
What should be the length of your Cover letter? In the same survey above it is found that:
  • 19% of employers preferred a full page
  • 46% preferred half a page
  •  11% had no preference
  •  24% felt the shorter the better!
  • Tip:Your Cover Letter should not be long more then one page,four  paragraphs are enough,if it exceeds it mean you are writing essay instead of cover letter!
The advantages of a well-written Cover Letter.
  • It conveys a very good first impression.
  • It may stop your mail from being binned or deleted.
  • It demonstrates your intention in a succinct manner.
  • Its size and quality reflects upon the sender.
  • It shows that the sender has not mailed flippantly.
Types of Cover letter
  1. Application Letter (which responds to a known job)
  2. Prospecting Letter(Which inquires about Possible positions)
  3. Networking Letter(Which requests information and assistance in you job search)
Which ever the letter type is you should specifically write your letter and elaborate your skills according to the particular job so don't copy!
Cover Latter Format
  • Contact Section.When You are writing cover letter the first section of cover latter should include your contact information on how employer can contact your.If you know the employer contact information write it otherwise leave it.
    Your contact information.NameAddressCity, State, Zip CodePhoneEmail
    date
    Employer Contact information.(if you have)NameTitleCompanyAddressCity,State,Zip Code
    What if you send an email cover letter? when you are sending cover latter through email then include your contact information in you email signature (bottom)
    Email Signature. Name last NameAddress(Optional)Email PhoneLinked in Profile (Optional)  
  • Salutation SectionIt is considered important to include salutation at the beginning of your cover latter so don't miss it!
    if you have a contact person name then chose one of the following salutation...

    Salutation Example(If you know Name) Dear Mr. Last Name
    Dear Mr. Jone
    Dear Ms. Haven
    Dear Dr. Mark
    Dear Mr. M Shahid Yousaf


    Many organization do not publish the name of the person to contact ,in this case either leave the salutation or adopt one of the following way..

    Salutation Example(If You don' know the name)Dear hiring Manager Dear Human Resources Manager Dear Sir or Madam



    Tip:After including salutation following by a colon give a space(enter) and start you first paragraph like following...
                   Dear M.r Marks:                                                                                                (Space)                                                                                                                First line of your first paragraph...
  •  Body Section The body of the letter is the main part of your covering letter, It should be clear,precise and concise.Following is the possible structure of your cover letter .... First Paragraph. 
    • state the job you are applying for
    • How you come to about this job..(news paper/Personal reference etc) 
    Second Paragraph.
    • why you are interested in such kind of job...
    • why this company attracts you..
    Third Paragraph .
    • Summarize your strength and experience...
    • Relate your skills with the job requirements...
    Last Paragraph.
    • Mention the dates you would not be available (if any)...  
    • Thank the employer for his time and consideration... 

     Final Closing Section.If you start with name (e.g "Dear Smith") you should end with "Yours sincerely " but if you start with Dear Madam or Dear Sir then you should end with "Yours Faithfully"...
    What should be the opening line?Here is the preference of the University of Kent Students, You can chose either or write your own..
    • I am writing to apply for the post of .... in your company (5)..
    •  I am final year law student of..... in university of...(2)
    • Currently I am pursing a degree in....at the university of..(1)
    • My name is... and I am final year student at.. (4)
    • My name is... and I am writing in the response of your advertisement.. (2)
    • I am writing to inquire if you have any vacancies...(1)
    Tip: The first one is the best one and the last one is for "Application Covering letter"


    What should not be the opening line?dad
    Avoid this tone while writing first line of your cover letter!
    • Up until a little while ago I used to compete in British-Eventing competitions on my horse, from which I got a real kick.
    •  Like one of your coffees, I am designed to be opened, savored and enjoyed
    •  Here are my qualifications for you to overlook
    •  If called to interview I would like to discuss the salary, pensions and sickness benefits
    • I am applying for the post of obstacle assistant (for optical assistant post)

    References:http://www.resumesplanet.com, http://careers.theguardian.com,             http://www.wikihow.com
    well that is all about cover letter .Have you still questions in your mind ? don't hesitate, Drop your questions and comments about Covering letter, It will be pleasure for me to serve YOU 

اے شیخ الاسلام آپ کب سمجھیں گے !

یہ سولہ اگست کی صبح تھی میں حسب معمول جاگ کر فجر کی نماز کے لئے مسجد گیا اور وہاں ایک لمبی لائن دیکھ کر دنگ رہ گیا .مجھے سمجھ نہ لگی کے یہ کون لوگ ہیں .ظاہری شکل و صورت میں خانہ بدوش لگ رہے تھے ،قریب جانے پر پتا چلا کے یہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکن ہیں !!
یہ انقلابی ٹولہ دھرنے میں آیا تھا اور اب یہ لوگ قطار میں لگ کر مسجد کی بیت الخلا میں جانے کے لئے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں .اتنی لمی قطار یوٹیلٹی سٹور کے سامنے چینی لینے والوں کی نہیں ہوتی جتنی ان انقلابیوں کی بیت الخلا میں جانے کے لئے لگی ہوئی تھی .
یہ لوگ صبح سے شام تک قطار میں لگے رہتے ،جو صبح آتا اسکی بری دوپہر تک آ جاتی .بیت الخلا سے فارغ ہونے کے بعد یہ لوگ قریبی ہوٹل میں کھانا کھاتے اور پھر دوبارہ آ کر قطار میں لگ جاتے کیوں کے جتنی دیر میں دوبارہ باری آنی ہوتی اتنی دیر میں دوبارہ رفع حاجت کی ضرورت بھی محسوس ہونے لگتی..سو یہ لوگ سمجدار تھے قطار میں لگتے ،فارغ ہو کر کھانا کھاتے اور پھر آ کر قطار میں لگ جاتے ..
یہ حال تو مرد حضرات کا تھا خواتین کی حالت سے بھی زیادہ پتلی تھی وہ بیچاری مساجد میں مردوں کے ساتھ قطار میں تو نہ لگتی لکین مجبور ہو کر اهل محلہ کے دروازے کھٹکھٹاتی!!!!!
ایک صاھب ہمارے کوارٹر میں بھی آے ،رفع حاجت کے بعد ہمیں ڈھیروں دعاؤں سے نواز کر چلتے بنے ،تھوڑی دیر بعد پھر واپس آے ایک اور حاجت مند کو لے کر ،پھر دعائیں دی اور چلتے بنے ،پھر لوٹ آے لکین اب کی بار انکے ساتھ تین نوجوان لڑکیاں بھی تھی !! کہنے لگے "یہ میری بیٹیاں ہیں بس آخری بار ہے اب دوبارہ نہیں آئیں گے "...
وہ تو بھلا ہو امام صاھب کا جنہوں نے خواتین کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے مدرسے کے گیٹ کھول دیے تا کہ انقلاب کی آرزو میں سر بازار پھرتی ان انقلابی خواتین کو سر چھپانے کی جگہ مل سکے ،محلے کے ایک اور صاھب نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھر کی ایک بیت الخلا کا دروازہ خواتین کے لئے کھول دیا جس پر خواتین نے سکھ کا سانس لیا .
یہ میں نے اپ کے سامنے انقلابی مرد و خواتین کی ایک آنکھوں دیکھی مشکل بیان کی ہے ان بے چاروں نے ماڈل ٹاون سے ڈی چوک تک ایسی بیسوں مشکلات اور پرشانیاں دیکھی ہیں جو یہ لوگ خود سے بھی بیان کرتے ہوئے شرما جائیں .یہ لوگ لوٹنے پوٹتے ،مصیبتوں کے پہاڑ جھیلتے ،بھوک پیاس کاٹتے ڈی چوک پنچے اور چونسٹھ دن انقلاب کی آرزو میں صبر و استقامت کی چٹانیں بن کر پارلیمنٹ کے سامنے خیمہ زن رہے .یہ انقلاب کے متمنی وہاں بارش میں بھی بیٹھے رہے اور دھوپ میں بھی ،یہ وہاں بدبو اور تعفن میں بھی بیٹھے رہے ،یہ وہاں اپنے گھر بار اور مال مویشی ،نوکری اور کاروبار چھوڑ کر بھی بیٹھے رہے ..
شیخ الاسلام اپنے بلٹ پروف کنٹینر سے نکلتے ،اپنی جھلک دکھلاتے ،ہاتھ ہلاتے ،ناک پر رومال رکھ کر ایک عدد تقریر جھاڑتے اور پھر واپس کنٹینر میں چلے جاتے ..شیخ الاسلام نے کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش نہ کی کے میرے جانثاروں اور مریدوں پر کیا بیت رہی ہے .مجھے دیکھ کر جن میں بجلی سی کوند جاتی ہے ،میرے ہاتھ ہلتے دیکھ کر جو فرط جذبات سے مغللوب ہو کر نعرے لگانے لگتے ہیں ،میرے ایک اشارے پر جو اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہیں آخر کیا وجہ ہے کے جب میں کنٹینر میں واپس جاتا ہوں تو یہ کھلے چہرے مرجھا جاتے ہیں
آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں شیخ الاسلام نے دھرنا ختم کر کے واپس جانے کا علان کر دیا ہے .آج اخبارات کی شہ سرخیوں میں ایک منظر ہے ،خواتین کا منظر ! لیکن اب کی بار حوا کی بیٹیاں قطار میں لگ کر واش روم جانے کا انتظار نہیں کر رہی بلکے ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہی ہیں ..ان کی سسکیوں اور آہوں میں شیخ الاسلام کی آواز گونج رہی ہے  
ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے ،انقلاب آ گیا ہے ،پاکستان عوام بیدار ہو چکی ہے ،تاجدار مدینہ کے نعلین پاک کی قسم میں نے کوئی ڈھیل نہیں کی ..خدا کی قسم ..
وہی نعرے ،وہی پرانے وعدے ،وہی قلابازیاں ،وہی فریب کاریاں ،وہی جھوٹی تسلیاں !!اے شیخ الاسلام اپ کب سمجھیں گے ؟؟؟؟؟
                                                                                           

کچھ میرے بارے میں ..

میرا نام ایم شاہد یوسف ہے اور ایبٹ  آباد کا رہنے والا ہوں ،،پچلھے چند سالوں سے اسلام آباد میں رہائش پزیر ہوں اور وقافی  جامعہ میں کمپیوٹر سائنس کا طالب علم ہوں




 .  
نہیں بھائی یہ میری نہیں انڈر ٹیکر کی تصویر ہے  !