چیک پوائنٹ

آدمی نامہ اور دوسری نظمیں۔

آدمی نامہ اور دوسری نظمیں۔
ظہیر کاشمیری کی یہ کتاب انکی پانچ طویل نظموں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ہرگز ایسی نہیں ہے کے اس کو پڑھا جائے، ایک نظم گل رخ کی سمجھ آتی ہے تھوڑی بہت مگر وہ بھی گزارے لائق اور قدرے مضحکہ خیز ہے۔ اْوپر سے ہر نظم کے ساتھ اسکی تعریفوں پر مبنی تجزیاتی مضمون شامل کیا گیا ہے۔ اگر وہ تجزیہ پہلے پڑھا جائے تو آپ کا فوری دل کرے گا کے نظم بھی پڑھی جائے لیکن جب نظم پڑھتے ہیں تو بے اختیار تجزیہ کرنے والوں پر دو حرف بھیجنے کو دل کرتا ہے۔اس کتاب سے پرہیز ہی بہتر ہے۔

پاکستان اے گولڈ مائن آف ٹوئنٹی فرسٹ سینچری۔

پاکستان اے گولڈ مائن آف ٹوئنٹی فرسٹ سینچری۔۔یہ پہلی کتاب ہے جو میں نے آدھی پڑھ کے چھوڑ دی، نام سے پتا چلتا ہے کے لکھاری اس کتاب میں پاکستان کے جغرفیائی حدود یا صنعتی ترقی یا افرادی قوت کو موضوع بحث بنا کر پاکستان کی علاقائی یا عالمی افادیت و اہمیت پر سیر حاصل تبصرہ کریں گئے، تاہم پہلے دو صفحے پڑھ کر ہی احساس ہوتا ہے کو موصوف کو "میں میں " کی بیماری لگی ہوئی ہے،۔۔گیار صفحوں کا تعارف، جو مجھے لگا کے موصوف نے خود ہی تھرڈ پرسن میں اپنے لیے لکھا، آپ کو بور کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایسے تعریفوں کے پل باندھے گئے ہیں کے لگتا ہے کے شاہ کا کوئی مصاھب دربار میں کھڑا قصیدہ گوئی کر راہا ہے۔
خیر دو چار صفحے اور پڑھے تو پتا چلا کے یہ کتاب تو موصوف نے اپنے لیے لکھی کے میں کیا ہوں اور میں کیا تھا،، بیچ میں مفت میں اسلام اور پاکستان کا تڑکہ لگایا محض سستی شہرت کے لیے ۔
انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے "کلک بیٹ" یعنی کسی خبر کو ایسی سرخی (heading) دینا کے صارف سسپنس یا دھوکہ کھا کر اْس پر کلک کرے ۔ بلکل اسی طرح موصوف نے کتاب کا نام رکھا "پاکستان اس صدی کی ایک سونے کی کان" اور کتاب کے اندر اپنے حالات اور دنیا کے حالات اور اپنی کمپنی کے حالات اور خاندان کے حالات کی دھیمی آنچ پر "ہم، میں، میری کمپنی، میرے خیالات، میری کامیابی، کامیابی کا راز، خواب، امید وغیرہ" کی کھچڑی بنا کے رکھ دی۔۔ جس نے پڑھنی ہے پڑھے جس نے کھانی ہے کھائے۔


بیگمات کے آنسو۔

بیگمات کے آنسو /begmaat k ansooبیگمات کے آنسو آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عیال اور رشتہ داروں پر بیتے کرب ناک و عبرت ناک حالات کا افسانوی مجموعہ ہے۔ خواجہ حسن نظامی نے انتہائی سادہ اور روز مرہ کی بول چال میں یہ حالات و واقعات قلمبند کیے ہیں جس سے بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کے وہ افسانہ نہیں بلکہ آنکھوں دیکھی حقیقت جو وہ اپنے کسی بے تکلف دوست کو سنا رہے ہیں۔
شہزادوں، شہزادیوں اور اْنکے والدین پر تو غدر 1957 میں قیامت صغری بیتی ہے، کہاں وہ نرم و نازک اندام کلیاں جنہوں نے کبھی غیر مرد سے بات تک نہ کی تھی، کبھی گھر سے باہر نا نکلی تھی، کبھی بے پردہ نہ ہوئی تھی، جن کو محل کے اندر ہی دنیا کی ہر آسائش و سہولت میسر تھی، جنکی خدمت کے لیے خادمائیں، کنیزیں ہمہ وقت تیار رہتی تھیں، جو غریبوں میں ہیرے و جوہرات تقسیم کرتیں تھی، جن کے در سے مساکین کو کھانا جاتا تھا، جن کو صبح ہلکے سروں میں گانا بجا کر جگایا جاتا تھا اور جو چھپر کھٹ میں سویا کرتی تھیں، سیج پر انگڑائیاں لیتی تھیں، طشت چوقی استعمال کرتی تھیں، باغ کی سیر کرے کے جی بہلاتی تھیں، اْن پر یہ وقت آیا کے گھر سے بے گھر ہوئیں، در بدر ہوئیں، محل سے نکل کر جھونپڑی میں پہنچیں، پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے نوکرانی بنیں، بھیک مانگی اور کئی تو بھوک کی وجہ سے ہی اجل کو پیاری ہوئیں، جو غیر مرد سے کلام نہ کرتی تھیں اْنکی ردائیں کھینچی گئیں، جو اْنکے وفادار تھے چھوڑ کر بھاگ گئے اور جو گھر کے مرد تھے اٌنکے سامنے زبح کیے گئے، اْنکے لخت جگر اْنکے سامنے گولیوں سے چھلنی کیے گئے اور وہ اپنے لعل سے لپٹ کر رو بھی نہ سکتی تھیں،،،غرض بادشاہ غلام بن گئے اور اْنکی ملکہ نوکرانیاں بن گئی اور اْنکی شہزادیاں مامائیں بن گئیں اور اْنکے گھر و محل تباہ و برباد ہوگئے اور وہ جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے لگے۔ وہ اللہ سے زبان حال سے گلے شکوے کرتیں تھی کے مالک ہم تو ہندوستان کی زمین کے مالک تھے اور اب ہمیں دو گز زمین کیوں نہیں ملتی، ہم تو لوگوں کو دیتے تھے تو نے ہمیں بکھاری کیوں بنا دیا، ایسا کون سا بڑا گناہ کر دیا ہم نے کے ہمارے لیے یہ زمین تنگ ہوگئی اور ہماری رعایہ ہم سے برگشتہ ہو گئی اور ہم زلیل و خوار ہو گئے اور مرنے کے لیے زہر بھی میسر نہیں، ہم تیمور کی اولاد میں سے ہیں ، تیری رھمت کے چرچے ہر سو ہیں تو پھر ہم سے اتنی لاپرواہی کیوں، دلی شہر کے کوّے تو پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں لیکن ہندوستان ایسے ملک کے مالک بھوکے سوتے ہیں۔ کیا ہم تیرے بندوں میں شامل نہیں ہیں؟؟
یہ افسانے زوال بیان کرتے ہیں بادشاہ وقت اور اْنکے خاندان کا کے شائد کوئی پڑھے تو عبرت پکڑے،، ایک چھوٹا سا اقتباس حاضر خدمت ہے۔
"تقدیر ان کو ٹھوکریں کھلاتی ہے جو تاج وروں کو ٹھوکریں مارتے تھے۔قسمت نے ان کو بے بس کر دیا جو بے کسوں کے کام آتے تھے۔ ہم چنگیز کی نسل سے جسکی تلوار سے زمین کانپتی تھی۔ ہم تیمور کی اولاد ہیں جو ملکوں کا اور شہر یاروں کا شاہ تھا۔ہم شاہجاں کے گھر والے ہیں جس نے ایک قبر پر جواہر نگار بہار دکھا دی اور دنیا میں بے نظیر مسجد دہلی کے اندر بنا دی۔ ہم ہندوستان کے شہنشاہ کے کنبے میں ہیں۔ ہم عزت والے تھے اور زمین میں ہمیں کیوں ٹھکانا نہیں ملتا، وہ کیوں سر کشی کرتی ہے۔ آج ہم پر مصیبت ہے آج ہم پر آسمان روتا ہے" ۔

بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی بیٹی کلثوم زمانی بیگم کا ظاہری حلیہ غدر میں ایسا ہوا کے کسی نے پوچھا کے 'تم کس پنتھ کے فقیر ہو؟"۔۔۔۔۔۔!! زخمی دل سے وہ گویا ہوئیں
" ہم مظلوم شاہ گرو کے چیلے ہیں- وہی ہمارا باپ تھا وہی ہمارا گرو۔ پاپی لوگوں نے اس کا گھر بار چھین لیا اور ہم کو اْس سے جدا کر کے جنگلوں میں نکال دیا۔ اب وہ ہماری صورت کو ترستا ہے اور ہم اس کے درشنوں بغیر بے چین ہیں"۔

اْونچے مکاں تھے جن کے بڑے            آج وہ تنگ گور میں ہیں پڑے
عطر مٹی کا جو نہ ملتے تھے              نہ کھبی دھوپ میں نکلتے تھے
گردش چرخ سے ہلاک ہوئے              استخواں تک بھی ان کے خاک ہوئے
زات معبود جادوانی ہے                 
 باقی جو کچھ کہ ہے وہ فانی ہے             

سفال گر

سفال گرسفال گر ایک شاندار ناول ہے، یہ کہانی ہے محبت اور پروفیشن میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے کی! احمد ابراہیم کو یا ہالی ووڈ کا ایڈم گرانٹ بننا تھا یا پرنیاں کا گرانٹ، وہ گو مگو میں رہا اور سوچا کے فلحال ہالی ووڈ میں نام بنا لوں پھر پرنیاں کہیں بھاگھی تو نہیں جا رہی نہ،،، بس ایک یہی غلطی تھی جس کا خمیازہ وہ ساری زندگی بھگتا رہا، نہ ہی وہ ہالی ووڈ سٹار بن سکا اور نہ ہی پرنیاں
کو پا سکا
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
ناول ایک انتہائی منفرد انداز میں آگے بڑھتا ہے اور ایک لمحے کے لیے بھی قاری کو بور نہیں ہونے دیتا، دو مختلف کہانیاں ایک ہی وقت میں چل رہی ہوتی ہیں، آگے جا کر وہ ایک مرکزی کہانی بن کر ایک دم سے سامنے آ جاتی ہے، یہ اسلوب میں نے جاسوسی ناولوں کے علاوہ خال ہی دیکھا ہے۔ ایک ایک کردار پر ، اسکے حلیے، بود و باش اور الفاظ کے انتخاب پر بہت زیادہ محنت کی گئی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک، پرنیاں ، البا،صوفیہ، ابرائیم، ایڈم گرانٹ،آئزک اور اسکی بیوی اور اسکا گونگا بیٹا، عمر اور۔۔۔۔ حکیم بیگم جو کے ایک اناڑی کمہارنی ہے، سب سے زیادہ دلچسب کردار ہے، سیدھی سادھی، سچی،بے لوث، خوش اخلاق، مہمان نواز اور غمزدہ، رب پر بے پناہ یقین رکھنے والی دیہاتی عورت جس کے پنچابی زبان میں ادا کیے گئے الفاظ سیدھے قاری کے دل میں جاگز یں ہوتے ہیں۔



شہاب نامہ


شہاب نامہ کا نام بچپن سے سنتے آئے تھے، آج پڑھ کے بھی دیکھ لی۔ جیسا سنا تھا اْس سے بڑھ کر پایا۔قدرت اللہ شہاب کا طرز تحریر انتہائی منفرد اور آسان ہے، ہم تو یا خدا پڑھ کر اْن کے دیوانے ہوئے تھے۔ مشکل سے مشکل بات آسانی سے بیان کرتے ہیں۔جموں میں پلیگ کے دوران لوگ چوہوں سے بھاگتے ہیں جبکہ موصوف چوہوں کو دموں سے پکڑ کے اِدھر اْدھر اْچھالتے ہیں، لوگ طاعون زدہ کے پاس تک نہیں پٹھکتے اور یہ موصوف صادقہ بیگم کے ارد گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔ بچپن میں سکول سے بھاگتے ہیں، گھر جھوٹ بولتےہیں، کتابوں کے رسیا ہیں اور دادی سے کہانیاں سنتے ہیں اور مزار سے پیسے چراتے ہیں۔ غرض قدرت اللہ کا بچپن ایک روایتی بچے کا بچپن ہے۔لڑکپن میں ایک محبت کرتے ہیں گویا لڑکپن بھی روایتی ہے! البتہ جوانی سے زندگی کا رخ متعین ہوتا ہے کے آئی سی ایس میں شامل ہو جاتے ہیں۔
شروع سے ہی یہ کتاب آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور تب تک نہیں چھوڑتی جب تک آپ اسے ختم نہ کر دیں، بلکہ میں تو کتاب ختم ہونے کے بعد تادم تحریر شہاب نامہ کے سحر میں گرفتار ہوں۔
جوں جوں آپ پڑھتے جاتے ہیں توں توں دلچسبی میں اضافہ در اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، ایک سے بڑھ کر ایک حیرت انگیز واقعہ ہر دوسرے صفحے پر آپکی راہ دیکھ راہا ہوتا ہے چاہے وہ سول لائنز کی ویران کوٹھی ہو یا مہاراجہ کشمیر سے ملاقات، مقدس مٹکا ہو یا درود شریف کی برکت، کشمیر میں اپنے افسروں سے تلخ کلامی ہو یا ریل گاڑی میں راشٹریہ سوایم سیوک سنگ کے کر کرتا دھرتا اندر کمار سے ملاقات، نندہ بس سروس ہو یا اورنگ آباد، ڈپٹی کمیشنر کی ڈائری ہو یا "یا خدا" کی کہانی، چندراواتی کی محبت ہو یا ہندو بنیے کی مکاری، اقتدار کی غلام گردشیں ہوں یا صاحبان اقتدار کی عیاریاں، نوکر شاہی کی چلاکیاں ہوں یا پاکستانی فوج کی مکّاریاں، دشمنوں کی سازش ہو یا دوستوں کی چشم پوشیاں، ممالک کے آپسی تعلقات ہوں یا داخلی بحران، صدور، وزرائے اعظم کے واقعات ہوں یا آپ بیتیاں ، جاگیر کے کاروباری ہوں یا مزہب کے بیوپاری یہ کتاب آپ کو ہر ایک کے اندر چھپے شخص سے واقف کراتی ہے، ہر پردے کو چاق کرتی ہے ہر کردار کو سامنے لاتی ہے۔
شہاب نامہ پڑھ کر ہمیں خوشی بھی ہوتی ہے اور غم بھی، یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہنساتی بھی ہے اور رولاتی بھی ، پاکستان بننے کو یہ واقعاتی طور سے بھی دکھلاتی ہے اور نطریاتی طور پر بھی، اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرتی ہے۔ میرا خیال جس نے یہ کتاب نہیں پڑھی اردو ادب میں اْس نے کچھ بھی نہیں پڑھا۔


جج یا جرنیلاں دے چمچے ؟

اے نان نے کْلچے نے؟
اے جج نے کہ چمچے نے؟

گٹر توں نکلے نے یا اْتوں لاتھے نے؟
اے سارے اْلو دے پٹھے نے

اے جیڑا ثاقب نثار اے۔
اے اندروں چودھری نثار اے۔

اے چیف جسٹس نہیں۔
اے تے "جیپ" جسٹس اے۔

اْتوں اے ملک دا وفادار اے۔
تے تھلوں اے پکا حوالدار اے۔

اے لْچے نے کہ لفنگے نے؟
سارے ہی فوجی پتنگے نے

اے نان نے کہ کْلچے نے؟
اے جج نے کہ چمچے نے۔

اے پکوان نے کہ پتاشے نے؟
اے کٹ پتلی تماشے نے۔

اے جرنیلاں دے وفادار نے۔
انہاں دے کردار بدبودار نے۔

اے لوکاں دیاں عزتاں اچھالدے نے۔
اپنیاں چوریاں چھپاندے نے۔

اے بہتیاں جْگتاں مار دے نے۔
اے جج نے کہ میراثی نے؟

اے مٹکے نے کہ کوزے نے؟
اے جج نے کہ فوجی چوزے نے؟

اے نان نے کہ کلچے نے؟
اے جج نے کہ خاکی چمچے نے۔

(ایم ایس

<div dir="rtl" style="text-align:

اور اوکھے لوگ میں ممتاز مفتی نے 22 لوگوں کے بارے میں لکھا ہے جو زندگی کے مختلف مہہ و سال میں اْنکے قریب رہے، شروع میں پروین الطاف نے جو ممتاز مفتی کا تعارف لکھا ہے وہ ممتاز کی شخصیت کے مختلف مگر دلچسب پہلو سامنے لایا ہے،، ان 22 لوگوں میں تقریباً سارے ہی ادیب یا صحافی لوگ ہیں، اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور احمد بشیر کا دلچسب خاکہ کھنچا گیا ہے، قدرت اللہ شہاب پر لکھی گئی تحریر پڑھ کر آپ چونک پڑتے ہیں اور آپ میں بھی قردت اللہ شہاب کے بارے میں جاننے کا تجسس پیدا ہوتا ہے۔۔ تقریباً سبھی لوگوں کے بارے میں ممتاز نے لکھا ہے کہ وہ اْوپر سے کچھ نطر آتے ہیں اور اندر سے کچھ،، مثلاً اشفاق احمد کے بارے میں لکھتے ہیں کے یہ خاموش خاموش اور کتابوں میں گھرا رہتا ہے لیکن اوپن تھیٹر پہنچ کر اْسکا ڈارمے باز باہر نکل کر رنگ رلیاں مناتا ہے۔
ممتاز مفتی کے بقول ہر شخص کے اندر ایک سئور تھوتھنی لیے کھڑا ہوتا ہے لیکن یہ حرکت میں تب آتا ہے جب ماحول اسکے لیے سازگار ہو۔ کتاب میں کچھ ایسے لوگوں کا زکر بھی ہے جن کا نام شائد آپ نے آج سے پہلے نا سنا ہو مثلاً عزیز ملک،ثاقبہ رحیم الدین، فکر تونسوی اور پرتو راہیلہ وغیرہ۔ لازمی نہیں ہیکہ جن شخصیات کے بارے میں ممتاز مفتی نے لکھا ہے وہ ادب میں اعلی مقام پر فائز ہوں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ممتاز مفتی نے قریب سے دیکھا اور پرکھا ہے۔
aur okhay log/اور اوکھے لوگاور اوکھے لوگ/aur okhay log

مارچ 2018، میرا انتخاب

ذکر اتنا کیا تیرا ہم نےقابل ذکر ہوگئے ہم بھی(نامعلوم)تمھارے سرد رویے کی بھینٹ چڑھتے ہوئےجھجھک رہا ہے مرا عشق جڑ پکڑتے ہوئے(عمار اعظم عمار)تیرے فراق میں مجھ پر جو سانحے گذرے
اگر وہ دن پہ گذرتے تو رات ھو جاتی...!(نامعلوم)الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں 
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا(مومن خان مومن)یا تیرا تذکرہ کرے ہر شخص
یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے(نامعلوم)

عبدللہ

عبدللہ مجھے میرے دوست ہانی نے ریکمنڈ کیا تھا،، ساتھ ساتھ حماد بھی پڑھ راہا تھا اور جواد بھائی نے بھی تعریف کی تھی تو میں نے پڑھ لیا، بس پڑھا کیا گزارا جیسے تیسے کر کے۔ شروع شروع میں تو مجھے لگا کے میں یہ مکمل نہ کر پاؤں گا پر پھر جی پر پھتر رکھ کے پڑھ ہی لیا۔نا جانے کیوں مجے ہاشم ندیم کے لکھنے کا سٹائل انتہائی بچگانہ یا "ایم میچیور" لگا ،، ایسا محسوس ہوتا تھا کے بس الفاظ کی گھمن گھیری ہے اور ایک نارمل سی بات کو بھی ضخیم لفظوں میں چھپا کر بامعنی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پورے ناول میں بمشکل تین یا چار دفعہ کچھ سسبپنس پیدا ہوا وہ بھی تھوڑی دیر کے لیے۔ عبدللہ ایک لڑکی کا عاشق ہو جاتا ہے اور وہ لڑکی کسی دوسرے عبد للہ کی اور پھر مصنف اّس لڑکی کو پانے کے لیے ایک سفر کرتا ہے جس مین اٌسے پراسرار قوتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،،، اور آخر میں تھوڑا سا جزباتی ڈرامہ کر کے وہ لڑکی پھی مل ہی جاتی ہے اْسے۔۔۔مصنف درمیان میں ایک عام سے بات کو لے کر تین صفحے لکھ دیتا ہے محسوس ہوتا بس صفحوں کی تعداد بڑھانی ہے۔لوگ کہتے ہیں کے یہ عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر تھا، کمال ہے مجھے تو پورے ناول میں یہ بات محسوس نہیں ہوئی۔ (ایک دفہ پڑھتے پڑھتے میں نے اس ناول کو زور سے اپنی میز پر پٹخ دیا تھا کے کیا فضول وقت ضائع کر راہا ہوں میں)۔


آگے سمندر ہے

شروع سے لے کر آخر تک اس ناول نے مجھے اپنے سحر میں لیے رکھا ہے،  جواد(مصنف) ایک ایسا شخص ہے جو ہجرت کر کے پاکستان آتا ہے اور  وہاں مجو بھائی اْسکی مدد کرتے ہیں۔
آگئے سمندر ہے- aagy smundar haسارے ناول میں جواد کو ماضی کی یادیں ستاتی رہتی ہیں، یادوں کی ایسی تان بان ہے کے ایک یاد دوسری یاد میں مکس ہو جاتی ہے اور پھر ایک یاد سے دوسری یاد اور پھر دوسری سے تیسری یوں یادوں کی ایک لڑی شروع ہو جاتی ہے جو ایک گلی سے  نکل دوسری گلی، اس نگر سے ہوتی ہوئی اْس نگر ، کریہ کریہ گھومتی قرطبہ پہنچتی ہے، واہان سے غرناطہ، واہاں سے اشبیلہ، واہاں سے بغداد اور چل سو چل۔۔۔ مانسرور چھیل،میتھرا نگری اور پھر کتنے ہی کردار ، ابن حبیب، عبدللہ، گنیش، مہاراج گورو شمبھو، نریندر۔۔۔۔پھوپھی امان، بڑی بھابی، چھوٹی ماں، خیرل بھائی، شنکر، چھوٹے میاں۔۔۔۔بشو بھائی، باجی اختری، توصیف، مرزا صاھب، رفیق صاھب، اقن میاں، اچھی بی۔۔۔اور عشرت اور میمونہ بھی۔۔۔   غرض جواد ماضی میں رہنے والا ایسا آدمی ہوتا ہے جو بظاہر اپنے نجی ماضی کی یادیں پورے جہاں کی یادوں سے خلط ملط کر بیٹھتا ہے، ایک سفر کرتا ہے وہ بھی ادھورا اور پھر وہ سفر آخر تک ناگ بن کر ڈھستا رہتا ہے، کراچی جس شہر میں وہ آباد ہے وہ دن بدن اجڑتا جا رہا ہے، لاشیں گر رہی ہیں ،
 گولیاں چل رہی ہیں، بینک لوٹے جا رہے ہیں، اور موت رقص کر رہی ہے اور ہاں لیکن مشاعرے ہیں کے رکنے کا نام نہیں لیتے اور مجو بھائی ہیں کے محفل سے باز نہیں آتے،،،،،،، ایک گولی جواد کی نطر ہوتی ہے تو ایک بم مجو بھائی کے نام!!!  اوم تت ست!!

گوگل ایڈورڈز کیا ہے اور کیسے ہم آن لائن اشتہار دے سکتے ہیں، قدم بہ قدم۔

 اشتہارات آمدنی کا ایک بہت بڑا زریعہ ہیں۔ چاہے وہ  اخبارات و رسائل ہوں یا ٹیلی ویثرن اور ریڈیو۔تاہم ایک بہت بڑے  Paradigm Shift کے نتیجے میں لوگ ان زرئع ابلاغ کا استعمال کم کرنے لگے ہیں ، اب بھی گو یہ سارے ابلاغ پہلے کی طرح موجود  ہیں تاہم اب یہ اپنی خدمات  (Services)  مہیا کرنے کے لیے کسی نہ کسی طور پر انٹرنیٹ کے محتاج ہیں۔روایتی  بمقابلہ انٹرنیٹ اشتہارات۔(Traditional Vs Digital Marketing)انٹرنیٹ  پر اشتہارات کے زریعے آپ اپنی بات زیادہ بہتر طریقے سے ، زیادہ   (Targeted Audience)  تک  پہنچا سکتے ہیں وہ بھی ٹیلی ویثرن وغیرہ سے کم خرچ پر۔مثال کے طور پر اگر آپ ایک انٹرنیٹ سروس پروائڈر (Internet Service Provider) ہیں اور آپ چاہتے  ہیں کے آپکی انٹرنیٹ سروس زیادہ سے زیادہ لوگ استعمال کریں تو آپ ٹیلی ویثرن پر اشتہار دیتے ہیں، آپکا اشتہار کروڑں لوگ دیکھیں گئے چاہے وہ دیہات میں رہتے ہوں (جہاں آپکی سروس کی پہنچ ہی نہیں ) یا شہر میں یا  وہ لوگ بھی دیکھیں گئے جو انٹرنیٹ کی الف ب سے بھی واقف نہیں  ہیں۔ لیکن آپ سے پیسے پورے وصول کیے جائیں گے (Of course)۔ دوسری طرف اگر آپ اپنے اشتہارات کے لیے انٹرنیٹ کی میڈیم استعمال کرتے ہیں  مثال کے طور پر یوٹیوب پر جو ہوم سکرین پر اشتہار آتا ہے۔اب کروڑں لوگ یا اس بھی زیادہ (جتنے پیسے اتنی زیادہ آڈینس) آپکا اشتہار دیکھیں گئے، اور یقناً سب کے سب انٹرنیٹ کے زریعے ہی آپکا اشتہار دیکھ رہے ہیں تو مطلب وہ انٹرنیٹ استعمال بھی کر رہے چاہے سمارٹ فون سے ہو یا کمپیوٹر سے، تو وہ لازمی طور پر آپ کے "انٹرنیٹ پروائیڈنگ سروسز"  میں دلچسبی لیں گے۔اب آپ کا اشتہار صرف اْنہی لوگوں تک پہنچا ہے جن کو آپ دیکھانا چاہتے تھے اور وہ بھی کم پیسوں میں بنسبت ٹیلی ویژن کے۔مزید آپ یہ بھی فکس کر سکتے ہیں کے آپکی (Audience) کی جنس، براؤزنگ ڈیوائس  اور عمر کیا ہوگی مثلاً ہو سکتا ہے آپ اپنی اکیڈمی میں داخلے کے لیے اشتہار دینا چاہ رہے ہوں تو اس صورت میں آپ چاہیں گے کے آپکا اشتہار صرف  15 سے 30 سال کی  عمر والے جوان ہی دیکھ سکیں، اور وہ بھی آپکی اکیڈمی کے اردگرد تیس کلو میڑ کے رہائشی۔آن لائن اشتہارت دینے والے مشہور  نیٹ ورکس۔انٹرنیٹ پر اشتہار آپ  کسی بھی ویب سائٹ  (جسکی قابل زکر ٹریفک ہو )  پر دے سکتے ہیں تاہم اس صورت میں Audience /Viewers پر آپکا زیادہ کنٹرول نہیں ہو گا۔اس لیے بہتر ہے کے کسی ایسی کمپنی کا انتخاب کیا جائے جسکا اشتہارات کااپنا نیٹ ورک ہو اور اپنی ہی (Janine Audience)  ہو۔ایسی کمپنیوں میں گوگل سرفہرست ہے جس کا ایڈ ورڈ  (AdWords)پروگرام زبان زدو عام ہے،بینگ ،ڈیلی موشن، فیس بک، ٹویٹر اور یاہو بھی اپنی (Janine Audience) کے ساتھ ایڈورٹائزنگ نیٹورک رکھتی ہیں۔یہ بھی پڑہیں: ۔گوگل ایڈ سینس (AdSense) اور گوگل ایڈ ورڈز (AdWords) میں کیا فرق ہے؟گوگل اشتہار کے کتنے پیسے وصول کرتا ہے؟اس بات کا جواب اس بات پر منحصر ہے کے آپ کے اشتہار کی نو عیت کیا ہے، مثلاً اگر آپ  اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک بڑھانے کے لیے اشتہار دیتے ہیں اور آپکی ویب سائٹ یا بلاگ   "آن لائن کمائی کے طریقوں" سے متعلقہ ہے تو جان لیں کے اس طرح کے بے شمار بلاگ موجود ہیں، اور جو کی ورڈز آپ استعمال کریں گے ان میں سے اکثر دوسرے بلاگ بھی استعمال  کر رہے ہوں گے تو یوں آپ کا دوسرے بلاگز کے ساتھ مقابلہ (Competition) سخت ہو گا اور آپ کو نسبتاً  ایک اشتہار کے لیے زیادہ  pay کرنا ہو گا۔لیکن اگر آپ کا بلاگ  لائف سٹائل، صحت سے متعلقہ مسائل، شجر کاری وغیرہ سے متعلق ہے تو  آپ کو نسبتاً کم pay کرنا پڑے گا کیونکہ ایسے موضوعاتی بلاگز کی تعداد کم ہے نتیجتاً گوگل کے پاس ایسے کی ورڈز پر اشتہار دینے کے لیے محدود آپشن ہوں گے اور یوں آپ فائدے میں رہیں گے۔اشتہارات کا خرچ آپکی لوکیشن پر بھی منحصر ہے، ہو سکتا ہے آپ ایسے علاقے میں بلاگنگ کر رہے ہوں جہاں بلاگز بہت کم ہیں، اور آپ نے ٹارگٹ لوکیشن بھی لوکل رکھی ہو تو پھر آپ کو کم  pay  کرنا پڑے گا۔ نیز یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کے آپ کا اشتہار آڈیو ہے، ویڈیو ہے یا صرف حرفی (text only)۔مہنگے ترین کی ورڈز اور کاسٹ پر کلک۔یاد رہے اگر آپ نے گوگل  سرچ پر اشتہار دیا ہے تو گوگل تب آپ سے پیسے وصول کرے گا جب آپ کے دیے گئے اشتہارات پر کوئی کلک کرے گا،صرف ویو  کرنے سے آپ سے پیسے وصول نہیں کیے جائیں گئے۔ جب کوئی  یوزر آپ کے اشتہار پر کلک کرتا ہے تو اس کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں کاسٹ پر کلک (Cost per Click) یا  CPC  کہتے ہیں۔آجکل عموماً ایک CPC پر ایک سے دو امریکی ڈالر خرچ آتا ہے، پاکستان میں اس سے بھی کم خرچ آتا ہے (وجوہات اوپر لکھی ہیں)۔سب سے مہنگے کی ورڈز  کی کیٹگریز میں وکالت یا وکیل (Lawyer) آتا ہے جس کا  CPC  تقریباً 54 ڈالر ہے، اس کے بعد بلترتیب انشورنس، تجارت، کسینو (CASINO)، کاروباری خدمات اور ڈگریز  ، بینکنگ ، اْدھار (Loan)،کاروباری سافٹ ویرز،آن لائن گیمبلینگ  اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ  وغیرہ آتا ہے، بینگ (Bing) جو کے مائیکروسافٹ کا سرچ انجن ہے اور گوگل کا سب سے بڑا حریف ہے وہ  وکالت یا وکیل (Lawyer) کی کیٹگری میں CPC  پر 100 ڈالر سے زائد چارج کرتا ہے۔گوگل  کے زریعے اشتہارات دینے کا طریقہ کار۔ گوگل پر اشتہار دینے کے لیے آپکو ایڈورڈز کا اکاؤنٹ بنانا  پڑے گا، اس کے لیے آپ کے پاس جی میل کی آئی ڈی ہونی چاہیے۔ ایڈورڑ زکی ویب سائٹ پر جا کر سائن اپ کریں جہاں  آپکو اپنی ای میل آئی ڈی کے ساتھ ساتھ لوکیشن، کرنسی اور ٹائم کی سیٹنگ کرنی پڑے گی۔
جب آپ سائن اپ ہو جائیں گے تو گوگل آپکو ایڈ ورڈ زکے ڈیش بورڈ میں       Redirect  کر دے گا اور ساتھ ہی آپکی مدد کے لیے ایک Tour Application بھی شروع ہو جائے گی جو انٹرفیس کو سمجھنے میں آپکی مدد کرے گی۔

ڈیش بورڈ میں سب سے پہلے  آپ نے اپنے اکاؤنٹ کی ضروری سیٹنگز چیک کرنی ہیں  مثلاً  پیمنٹ  کا طریقہ کار ، ایڈرس وغیرہ ،اور پھراْس کے بعد آپکو اشتہار دینے کے لیے ایک مہم (Campaign) شروع کرنی ہے۔ اس کے لیے آپ بائیں جانب بنے کمپین کے بٹن کو کللک کریں گے تو آپ کے سامنے مختلف آپشن آجائیں گے کے آپ کس طرح کا ایڈ(Add) دینا چاہتے ہیں، کیا  آپ گوگل کی سرچ پر ٹیکسٹ کی صورت میں اپنا اشتہار دینا چاہتے ہیں یا کسی بھی ویب سائٹ پر، کیا آپ ویڈیو اشتہار دینا چاہتے ہیں یا آڈیو۔ان سب میں اپنی مرضی کا آپشن  آپ نے منتخب کر لینا ہے۔
اس کے فوراً نیچے کمپین کا  مقصد منتخب کرنا ہوتا ہے، جیسے آپ یہ اشتہار کیوں دینا چاہتے ہیں، ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھانے کے لیے یا اپنی مختلف اشیاء (Products) فروخت کرنے کے لیے یا اپنے استعمال کندگان (Customer) کی تعداد بڑھانے کے لیے۔ اپنی مرضی کا آپشن منتخب کریں۔
اگر آپ اپنی پروڈکٹس  فروخت کرنے والا آپشن منتخب کرتے ہیں تو  نیچے ایک اور آپشن آتا ہے کے آپ اپنے مقصد تک کیسے پہنچنا چاہتے ہیں، فون کالز کے زریعے، ویب سائٹ وزیٹس کے زریعے، ایپس ڈاؤنلوڈز کے زریعے۔ اگر آپ ویب سائٹ پر ٹریفک بڑھانے والا آپشن منتخب کرتے ہیں (جو میں نے کیا ہے سکرین شارٹس میں) تو آپ سے آپکی ویب سائٹ کا پتہ پوچھا جائے گا پہلے مرحلے میں، جیسے تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ویب سائٹ یا بلاگ کا ایڈریس لکھ کر (Save and Continue) کا بٹن کلک کر دیں۔اس کے بعد  آپکو چار سٹیپ مکمل  کرنے ہیں (جیسے تصویر میں دکھایا گیا ہے)1۔کمپین سیٹنگز۔(Campaign Settings)اس میں اپنی کمپین کا نام، نیٹور ک کی ٹائپ (صرف گوگل پر اشتہار دکھانا چا رہے ہیں یا اسکی پارٹنر سائٹس پر  بھی) ،  کس جگہ (Location) پر اشتہار دکھانا چاہ رہے ہیں، کس شہر میں وغیرہ، اشتہار کس زبان میں دکھانا چاہ رہے ہیں، انگریزی یا کوئی اور زبان (اردو زبان کی سہولت بھی موجود ہے) وغیرہ منتخب کرتے ہیں۔کمپین سیٹنگز میں آپ  یہ بھی منتخب کرتے ہیں کے آپ کا دن کا اوسط  خرچ (Budget) کتنا  ہو گا،  آپ کے اشتہار کتنے دنوں کے لیے ہیں یعنی کب شروع ہوں گے اور کب ختم ہو ں گئے۔نیز اگر آپ اپنے اشتہارات کے  ساتھ فون کالز کا آپشن دینا چاہیں، یا اپنے بلاگ /ویب سائٹس کے کسی صفحے (Page) کا لنک دینا چاہیں تو وہ سیٹنگرز بھی یہی پر ہو گی (جیسے تصویر میں دکھایا گیا ہے) ۔تمام تر سیٹنگز کر کے اپ (Save and Continue)  پر کلک کر کے دوسرے سٹیپ پر چلے جائیں۔2۔سیٹ اپ ایڈ گروپس۔(Set Up Adds Groups)اس میں آپ اشتہارات کا ایک گروپ بناتے ہیں ، مثلاً اگر  آپ نے ویڈیو ایڈ الگ سے بنایا ہوا ہے اور ٹیکسٹ یا انیمیٹڈ (Animated) الگ سے لیکن سارے ایڈز ہیں آپکی ایک سائٹ کے متعلق تو  آپ ان سب کو آسان طریقے سے   Manage کرنے کے لیے ایک گروپ میں آرگنائز کر سکتے ہیں۔ پھر نیچے اس گروپ کے متعلق کی ورڈز (Keywords) لکھیں۔ جیسے اگر آپکی ویب سائٹ بلاگنگ سے متعلق ہے تو آپ اس طرح کے  کی ورڈز لکھ سکتے ہیں جیسے  "بلاگ کیا ہے"، اردو بلاگنگ"، بلاگ سپاٹ پر اردو بلاگ بنانا" وغیرہ غیرہ۔ اگر آپکو کی ورڈز کی صیح سمجھ نہیں آرہی  یا آپ جاننا چاہتے ہیں کے لوگ گوگل میں بلاگنگ کے متعلق کیا ڈھونڈتے ہیں تو آپ دائیں جانب دیے ہوئے باکس میں متعلقہ عنوان لکھیں تو گوگل خود آپ کو بتائے گا کے لوگ آجکل اس عنوان کے متعلق کیا سرچ کرتے ہیں۔ پھر  آپ ان  کی ورڈز کو اپنے گروپس والے حصّے میں لکھ سکتے ہیں۔یہ سیٹنگز کرنے کے بعد آپ (Save and Continue)  کا بٹن دبا کر اگلے سٹیپ پر آجائیں۔3۔کریئٹ ایڈز ۔(Create Ads)یہاں پر آپکو اپنے ایڈز کی سیٹنگ کرنی ہے کے وہ گوگل سرچ پر کیسا دکھے گا۔ سب سے پہلے فائنل یو آر ایل میں آپ نے اپنے بلاگ یا ویب سائٹ کا یو آر ایل لکھنا ہے جہاں پر یوزرز ایڈ کو کلک کرنے کے بعد جائیں گئے۔اس کے بعد دو ہیڈنگز لکھنی ہیں جو آپ کے اشتہار کے نیچے نظر آئیں گی۔ اور آخر میں آپ نے اپنے بلاگ کی 80 حروف پر مشتمل ڈسکریپشن لکھنی ہے۔ دائیں طرف اشتہار کا (Preview) آپکو نظر آئے گا۔ یاد رہے ہیڈنگز اور  اور ڈسکریپشن لکھتے وقت آپکو  تخلیقی(Creative) ہونا پڑے گا کیوں کم الفاظ میں آپ نے اپنے کسٹمرز یا ریڈرز کو اپنے بلاگ/ویب سائٹ کی طرف مائل (attract) کرنا ہے۔سو  بی اینوویٹیوہیر  پلیز۔یہ سیٹنگز کر کے آپ (Save and Continue) کا بٹن پر کلک کر کے آخری اور فائنل سٹیپ پر آجائیں۔4۔ریویو (Review)۔یہ آخری سٹیپ ہے، اس میں آپ نے اپنی تمام سیٹنگز کو احتیاط کے ساتھ چیک کرنا ہے اور اگر مناسب لگے تو ان میں تبدیلی کرنی ہے۔ یہاں پر اشتہار دینے کے متعلق گوگل پالیسی بھی دکھائی جائے  گی جس سے اپنے نے چارو ناچار متفق (Agree) ہونا ہے۔ مزید آپکو مبارکبادی پیغام بھی دیا جائے گا۔اس کے بعد آپ اپنے ڈیش بورڈ پر جا کر اپنے اشتہار کی مزید تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔اگر آپ نے اپنے اکاؤنٹ کی  Payments وغیرہ کی معلومات داخل کر دی ہیں تو فوراً ہی  اشتہار فعال (Active) ہو جائے گا۔ ڈیش بورڈ میں آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کے کون، کس علاقے سے اور کس وقت ، کس ڈیوائس سے آپ کے اشتہار پر کلک کر راہا ہے، مزید آپ کلک کرنے والوں کی عمر ، زبان ، جنس اور رجحانات کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔کسی بھی وقت اگر آپ نے اپنے اشتہار کو  غیر فعال (Inactive/Pause) کرنا ہے تو وہ  بھی ڈیش بورڈ سے ہی ہو گا، اور اپنی موجودہ کمپین میں اگر آپ نے کسی قسم کی تبدیلی کرنی ہے تو وہ بھی کی جاسکتی ہے، غرض تمام تر مواد ڈیش بورڈ میں آپکی دسترس میں ہوتا ہے اور آپ موقع کی مناسب سے اْس میں تبدیلی بھی کر سکتے ہیں۔

گوگل ایڈ سینس اور گوگل ایڈورڈز میں کیا فرق ہے؟

جب بات آن لائن اشتہارات کی آتی ہے تو ہم گوگل کا رخ کرتے ہیں، گوگل ایڈسینس اور گوگل ایڈ ورڈز  دونوں اشتہارات کی مَد میں گوگل  کی اختراعات Innovations/Terminologies))  ہیں۔دونوں میں ایک سطری فرق یہ   ہے کہ گوگل ایڈ ورڈز میں آپ گوگل کو pay  کرتے ہیں جبکہ ایڈ سینس میں گوگل آپکو  pay  کرتا ہے۔گوگل ایڈ ورڈز ایک ایسی سروس ہے جس کے زریعے آپ اپنے اشتہارات گوگل ویب سائٹس (مثلاً  گوگل سرچ، یوٹیوب،گوگل میپس وغیرہ)  اور گوگل  سرچ پارٹنر ویب سائٹس(مثلاً  واشنگٹن پوسٹ، نیو یارک ٹائمز، ایمازون،ask.com, AOL.com ، وغیرہ)  یا  ڈسپلے نیٹورکس(وہ تمام سائٹس جو پبلیشرز ہیں) پر دکھاتے ہیں۔گوگل  ایڈورڈز کے لیے آپ کو اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے اور جو اشتہار آپ نے دینا ہے وہاں Submit ہوتا ہے۔یہ آپکی مرضی ہوتی ہے کے آپ اشتہار صرف گوگل کی سائٹس پر دکھانا چاہتے ہیں یا اسکی پارٹنر ویب سائٹس پر بھی۔مثلاً اگر آپ چاہتے ہیں کے آن لائن سٹور سے لوگ اشیاء (Products)  خریدیں تو آپ گوگل ایڈورڈز کے زریعے ایک ایسا اشتہار دیں گے جو لوگوں کی توجہ آپ کے سٹور طرف مائل کرے گا یا آپ اپنی پروڈکٹ کے فوائد بھی گنوا سکتے ہیں تا کے زیادہ سے سے زیادہ لوگ یہ  پروڈکٹ خرید یں  اور آپکی خواہش ہو گی کے یہ اشتہار گوگل کے ساتھ ساتھ ایمازون کے سٹور پر بھی نظر آئے۔گوگل اپنے ایڈورڈز کے نیٹورک کے ساتھ انٹرنیٹ کے نوے فیصد (90 %) حصّے تک رسائی رکھتا ہے۔یہ بھی پڑہیں:۔ گوگل ایڈورڈز(AdWords) کیا ہے اور کیسے ہم آن لائن اشتہار دے سکتے ہیں، قدم بہ قدم۔گوگل ایڈ سینس ایک ایسی سروس ہے جس کے زریعے آپ گوگل کے اشتہارات (جو مختلف یوزرز نے ایڈورڈز کے زریعے گوگل کو  Submit  کیے ہوتے ہیں) اپنے بلاگ یا ویب سائٹ پر دکھاتے ہیں اور اسکے بدلے گوگل آپ کو payment  کرتا ہے۔گوگل ایڈسینس کا الگ اور خود مختار (Independent) اکاؤنٹ ہوتا ہے گو کے ایڈورڈز اور ایڈ سینس میں اکاؤنٹ بنانے کے لیے ایک ہی جی میل آئی ڈی کافی ہے تاہم گوگل ان دو اکاؤنٹس کا الگ الگ  آرگنائز کرتا ہے ، دونوں کے payments  آپشن بھی مختلف ہوتے ہیں ۔یاد رہے آپ گوگل ایڈورڈز کی payment  بزریعہ ایڈسینس  نہیں کر سکتے ۔جو بلاگر اپنی ویب سائٹ پر گوگل کے اشتہارات دکھاتا ہے اْسے پبلیشر (Publisher) کہتے ہیں۔اس وقت انٹرنیٹ پر بیس ملین سے زیادہ ویب سائٹس گوگل ایڈسینس پروگرام استعمال کر رہی ہیں۔  پبلیشر بنے کے لیے آپ کو چند مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جیسے آپکی ویب سائٹ تین ماہ یا اس سے زیادہ پرانی ہو،پاکستان اور انڈیا میں یہ مدت چھ ماہ ہے، آپکی ویب سائٹ  پر مواد (Content)  چوری شدہ  یا کاپی رائیٹ پروٹیکٹڈ نہ ہو وغیرہ وغیرہ۔




آن لائن کمائی کے تین بہترین اور مشہور طریقے۔

موجودہ دور میں  ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا شہکار انٹرنیٹ ہے۔انٹرنیٹ کے بغیر جینے کا تصور محال ہے۔ہمارے اِرد گرد اتنے وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ کی موجودگی نے  کمائی کے بے شمار مواقع میسر کیے ہیں۔اس تحریر میں  انٹرنیٹ سے کمائی کے تیں بہترین طریقوں سے آپکو آگاہ کیا جائے گا۔1۔ویڈیو پبلشنگ۔ (Video Publishig)ویڈیو پبلشنگ آنلائن کمائی کا سب سے  موئثر زریعہ ہے،روزانہ مختلف ویڈیو سائٹس پر  ہزاروں کی تعداد میں ویڈوز شیئر ہوتی ہیں۔یہاں ہم کمائی کے لیے مشہور  ویڈیو سائٹس کا زکر  کریں گے، اور وہ دو ویب سائٹس ہیں یوٹیوب اور ڈیلی موشن۔یوٹیوب اپنے پارٹنر  پروگرام کے تحت  آپکی اپلوڈ کی ہوئی ویڈیوز پر اشتہارات دکھاتا اور پھر اپنی کمائی کا کچھ حصّہ آپکو دیتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کو گوگل پر اکاؤنٹ  بنانا پڑتا ہے۔ اس کے لیے گوگل کی کسی بھی سروس کا اکاؤنٹ چل جائے گا جیسے جی میل ۔ پھر یوٹیوب پر جا کر  آپکو اپنا چینل بنانا ہے۔چینل بن جانے کے بعد آپ نے اس پر ویڈیوز اپلوڈ کرنی  ہیں۔ یہ ویڈیوز کسی بھی کیٹگری سے متعلق ہو سکتی ہیں لیکن یاد رہے ویڈیوز آپکی اپنی بنائی ہوئی ہونی چاہئے ،  آپ ٹیچنگ،  صحت، فیشن، ٹیوٹورئلز، بلاگنگ، ٹیکنالوجی یا کسی بھی دوسرے موضوع کو لے کر ویڈیو بنا سکتے ہیں۔ بس ویڈیو منفرد (Unique and Creative)  ہونی چائے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسکو دیکھیں۔ جتنے زیادہ  ویوز (Views) آئیں گے اتنا ہی آپکی کمائی کا چانس بھی زیادہ ہوگا-جب آپکے چینل پر ویوز آنے لگے تو پھر اگلا مرحلہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام کے لیے اپلائی کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے پہلے آپکا ایڈ سینس (adsense) کا اکاؤنٹ ہونا چاہیے کیوں کے Payments   ایڈ سینس کے زریعے ہی کی جاتی ہے۔یوٹیوب پارٹنر پروگرام کے تحت  چینل کم از کم ایکسال پرانا ہونا چاہئے اور اس کو کم از کم  چار ہزار گھنٹے تک ویورز نے دیکھا ہو، نیز  چینل کے سبرسکرائبرز کی تعدا بھی ایک ہزار سے اْوپر ہونی چاہے۔ڈیلی موشن بھی یوٹیوب کی طرح مشہور ویڈیو سرفنگ سائٹ ہے،  یہاں اکاؤنٹ بنانا نسبتاً   زیادہ آسان ہے تاہم ویورز یوٹیوب کی نسبت کم ملتے ہیں۔اکاؤنٹ بنا کر آپکو پارٹرپروگرام کے لیے اپلائی کرنا پڑتا ہے اور اگلے چند گھنٹوں میں آپکا  اکاؤنٹ اپرو ہو جاتا ہے۔2۔بلاگنگ۔(Blogging)بلاگنگ  آن لائن کمائی کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا زریعہ ہے۔اگر آپ میں لکھنے کی تھوڑی سی بھی صلاحیت ہے تو آپ اپنا بلاگ بنا کر اْس سے لاکھوں کما سکتے ہیں، بظاہر یہ مشکل کام لگتا ہے لیکن اگر محنت اور لگن کے ساتھ کام کیا جائے تو کوئی شک نہیں کے آپ چھ ماہ کے اندر اندر اپنے بلاگ یا ویب سائٹ سے  اچھا خاصا کما سکتے ہیں۔ بلاگنگ کے تو ویسے کافی زیادہ پلیٹ فارم ہیں لیکن ہم فلحال دو مشہور پلیٹ فارم کا زکر کریں گے جہاں آپ فری میں بلاگ بنا کر آن لائن کمائی کر سکتے ہیں۔اور وہ ہیں بلاگر اور ورڈ پریس۔بلاگر گوگل کا بلاگنگ پلیٹ فارم ہے جہاں آپ آسانی کے ساتھ مفت میں بلاگ بنا سکتے ہیں۔ اسکی خاص بات سادہ، آسان اور عام فہم یوزر انٹرفیس ہے ۔آ پ صرف ماؤس کے زریعے کلک کر کے ایک اچھا بلاگ بنا سکتے ہیں۔بلاگ بنانے کے بعد آپ نے پندرہ سے بیس پوسٹس کرنی ہیں جو کہیں سے کاپی شدہ نہ ہوں  اور مارکیٹنگ کر کے اپنی    Readership or viewership  بڑھانی ہے۔ آپکے بلاگ کو چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جائے گا تو آپ گوگل ایڈ سینس کے لیے اپلائی کرسکتے ہیں۔ اب آپکے بلاگ پر  گوگل کے اشتہارات نطر آئیں گے اور آپ کو اسکے مقابلے میں   Payment کی جائے گی۔Payment کے لیے مختلف زریعے استعمال کیے جاتے ہیں جیسے paypasl, payisa وغیرہ۔بلاگنگ کا سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا پلیٹ فارم ورڈ پریس ہے۔ یہ بلاگر کی نسبت زیادہ پیچیدہ (Complex) اور زیادہ ایڈانس ہے ۔ورڈ پریس اپنے استعمال کندگان (Users) کو بلاگ تھیم پر زیادہ کنٹرول دیتا ہے۔ آپ اپنا مفت بلاگ بھی بنا سکتے ہیں اور اپنے لیے ڈومین  ورڈپریس سے خرید سکتے ہیں۔ورڈپریس پر تقریباً 75 ملین ویب سائٹس بنی ہوئی ہیں۔ 3۔فری لانسنگ۔(Freelancing)آن لائن کمائی کا ایک اور مشہور زریعہ فری لانسنگ ہے۔آپ کے پاس کوئی بھی صلاحیت ہے جو آپ سمجھتے ہیں کے آپ فروخت(Sell) کر سکتے ہیں جیسے ویب سائٹ ڈویلپمنٹ، ویب ڈیزائنگ، لوگو ڈیزائنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ ،کمپوزیشن، آڑٹیکل رائٹنگ،سمارٹ فون اپلیکشن ڈیولپمنٹ وغیرہ تو اس سے آپ باآسانی آن لائن کمائی کر سکتے ہیں۔اس کے لیے آپکو فری لانسنگ ویب سائٹس پر ایک اکاؤنٹ بنانا   پڑے گا۔اور وہاں پر موجود کسی بھی آفر پر جو آپ کر سکتے ہیں بولی لگانی پڑے گی کے یہ کام میں اتنے پیسوں میں اتنے دنوں کے اندر کر دوں گا ۔ اسکے بعد ایمپلائر اگر آپکو کام دیتا ہے تو آپکو وہ کام متعین وقت کے اندر کر کے دینا ہوتا ہے ورنہ آپکی شہرت (Online Reputation) خراب ہو سکتی ہے اور مستقبل میں آپ کو کام ملنے کا چانس کم ہوگا۔اگر کوئی بھی ایمپلائر (Employer)آپکے کام سے خوش نہیں ہے تو وہ (Bad Review) بھی  دے سکتا ہے جس سے آپکی پروفائل ڈاؤن ہو گی اور کوئی دوسرا یمپلائر آپکو کام دینے میں ہچکچائے گا۔اس   لحاظ سے  آپ کو کام دینے والا بیک وقت آپکا ایمپلائر بھی ہوتا ہے اور آپکا کسٹمر (Customer)بھی۔ فری لانسنگ ویب سائٹس  آپکے اور کسٹمر کے درمیان ربطے کا زریعہ ہیں اور ایک (Facilitator & Regulator)  کا کردار ادا کرتی ہیں۔اس کے لیے جو رقم کسٹمر آپکو دیتا ہے اُسکا  کمیشن یہ ویب سائٹس لیتی ہیں بقیہ رقم بعزریہ بینک اکاؤنٹ ، پے پال  اکاؤنٹ  وغیرہ آپکو  ٹرانسفر  کر دی جاتی ہے۔ مشہور اور قابل بھروسہ فری لانسنگ ویب سائٹس میں  O DESK,Freelance,Fiver,Elance اور  99 Design  شامل ہیں۔

فروری 2018- میرا انتخاب

                                       
                                            اِک  وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی۔                                            اِک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے اْبھرنے نہ دیا۔                                                                 (آزد گلاٹھی )                                          ان ہی پتھروں پر اگر چل کر آسکو تو آو۔                                          مرے  گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے۔                                                            (مصطفی زیدی)                                         تسکین محبت کے فقط دو ہی طریقے تھے                                           یا دل نہ بنا ہوتا، یا تم نہ بنے ہوتے.                                                             (نامعلوم)                                   جو دو اِجازت تو تم سے ایک بات پوچھیں۔                                 جو سیکھا تھا ہم سے، وہ عشق اب کس سے کرتے ہو۔                                                            (نامعلوم)                                  یہ عشق نہیں ہے آساں، بس اتنا سمجھ لیجیئے۔                                             اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔                                                      (جگر مراد آبادی)

انٹرنیٹ کا آدمی

پہلی دفہ میں انٹرویو دینے ایف الیون گیا اور انٹرن شپ کے لیے سلیکٹ ہو گیا تو کافی پرجوش تھا کے خوب محنت کر کے سیکھوں گا لیکن مسلسل چھ گھنٹے بنا انٹرنیٹ کنیکشن والے کمپیوٹر  کے سامنے بیٹھنا گویا چھ گھنتے ایک ٹانگ پر کھڑا رہنے کے مترادف تھا جو ظاہر سی بات ہے میں نہیں کر سکتا تھا سو تیسرے دن ہی انٹرن شپ چھوڑ دی۔کچھ دنوں بعد کمپنی کے مینجر کی زاتی دلچسبی کی وجہ سے پھر انٹرن شپ شروع کر دی اور اس بار ایک ہفتہ تک کام کیا پھر چھوڑ دیا۔کچھ ماہ پہلے پھر ایک مینجمنٹ کمپنی میں انٹرویو دیا سلیکٹ ہوا تو سوچا کچھ بھی ہو اس بار دل لگا کر سیکھوں گا لیکن بمشکل ایک ماہ ہی کام کر پایا تھا کے جی اچاٹ ہو گیا اور میں استفیٰ دے کر گھر بیٹھ گیا،اب کی بار میں پشاور میں ٹریننگ کے لیے سلیکٹ ہوا ہوں اور قوی امید و ارادہ ہے کے اس بار بھاگوں گا نہیں۔اب آتے ہیں اس بات کی طرف کے میں چاہنے کے باوجود کیوں مستقل مزاجی سے روزگار کے ان بہترین مواقوں سے فائدہ نا اُٹھا سکا۔اس کی وجہ تھی انٹرنیٹ!! کیسے ؟پرایمبری سے لے کر میٹرک تک انٹرنیٹ سے تعلق استوار نہیں ہوا تھا تو کتابوں کا شوقین تھا اتنا شوق کے سکول کی لائبریری سے کتابیں چوری کر کے بھی پڑھیں(کتابیں پڑنے کے بعد واپس کر دی تھی)،کالج کے زمانے میں گو فرصت نہیں ملتی تھی لیکن پھر بھی کتابوں سے تعلق قائم رہا۔یونیورسٹی  میں مگر آیا تو انٹرنیٹ کی ایسی لت پڑی کے بس خرید کر جو کتابیں رکھی تھی آج چار سال کے بعد بھی اُن کو نہیں پڑھ سکا اور وہ میرے سرہانے کے اوپر رکھی میرا منہ چڑھا رہی ہوتی ہیں،انٹرنیٹ نے صرف کتابوں سے تعلق کو ختم نہیں کرایا بلکہ میں انٹرنیٹ کی وجہ سے اپنے کالج اور سکول کے تمام دوستوں سے کٹ کر رہ گیا اور شنید ہے کے ڈگری کے خاتمے پر یونیورسٹی کے دوست بھی بھولی بسری یاد بن کر رہ جائیں گے.انٹرنیٹ جسکا بنیادی آییڈیا leonard Kleinrock نے 1961 میں دیا تھا اور 1991 میں جسکی باقاعدہ پیدائش ہوئی تھی اب ٹیکنالوجی کی ماں بن چکا ہے۔دنیا کا تقریباً ہر دوسرا آدمی انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو راہا ہے، اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے ولے لوگوں کی تعداد تین ارب آٹھارا کروڑ سے زائد ہے جبکہ ویب سائٹس کی تعداد بھی ایک ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ممالک میں چین سرفہرست ہے جہاں سات کروڑ سے زائد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، امریکہ اٹھائیس کروڑ اور انڈیا پچیس کروڑ استعمال کندگان کے ساتھ بلترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔مسلمان ممالک میں نائجیریا سات کروڑ کے ساتھ آٹھویں جبکہ انڈونیشیا اور مصر پانج پانج کروڑ کے ساتھ تیرویں اور چودھویں نمبر پر ہیں۔پاکستان ڈھائی کروڑ انٹرنیٹ استعمال کند گان کے ساتھ آٹھائسویں نمبر پر ہے۔

بکھرے موتی

حضرت ابو ہریره رضی الله عنه سے روایت ھے کہ رسول الله صلی الله علیه وآلہ وسلم نے ( ایک دن ھم لوگوں کو مخاطب کرتے ھوۓ) فرمایا.. کون ھے جو مجھ سے سیکھ لے یه چند خاص باتیں ، پھر خود ان پر عمل کرے یا دوسرے عمل کرنے والوں کو بتاۓ میں نے عرض کیا یا رسول الله صلی الله علیه وآلہ وسلم ...! میں حاضر ھوں تو آپ صلی الله علیه وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے لیا اور گن کر یی پانچ باتیں بتائیں...فرمایا 1:- جو چیزیں الله نے حرام قرار دی ھیں ان سے بچو اور ان سے پورا پورا پرہیز کرو ، اگر تم نے ایسا کیا تو تم بہت بڑے عبادت گزار ھو... 2:- جو تمھاری قسمت میں لکھا ھے اس پر راضی اور مطمعین ھو جاؤ، اگر تم ایسا کروگے تو بڑے بے نیاز اور دولتمند ھوجاؤگے.. 3:-اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، اگر تم ایسا کروگے تو تم مومن کامل ھوجاؤگے.. 4:- جو تم اپنے لیے چاھتے ھو اور پسند کرتے ھو وہی دوسرے کےلیے چاھو اور پسند کرو ، اگر تم ایسا کروگے تو حقیقی مسلم اور پورے پورے مسلمان ھو جاؤ گے.. 5:- زیاده مت ہنسا کرو کیونکہ زیاده ہنسنا دل.کو مرده کر دیتا ھے.. (مسند احمد ، جامع ترمذی بحوا لہ معارف الحدیث94 .. جلد 2)

ماں کی عظمت

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ایک شخص کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ ماں کو گالیاں دیتا ھے۔ آپ نے اس شخص کو بلوایا اور حکم دیا کہ پانی سے بھری ھو مشک لائی جائے ،، پھر وہ مشک اس کے پیٹ پر خوب کس کر بندھوا دی اور اس کو کہا کہ اسے اسی مشک کے ساتھ چلنا پھرنا بھی ھے اور کھانا پینا بھی ھے اور سونا جاگنا بھی ھے۔
ایک دن گزرا تو وہ بندہ بلبلاتا ھوا حاضر ھوا کہ اس کو معاف کر دیا جائے وہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گا۔ آپؓ نے پانی آدھا کر دیا مگر مشک بدستور اس کے پیٹ پر بندھی رھنے دی۔ مزید ایک دن کے بعد وہ بندہ ماں کو بھی سفارشی بنا کر ساتھ لے آیا کہ اس کو معاف کر دیا جائے اور اس مشک کو ھٹا دیا جائے وہ دو دن سے نہ تو سو سکا ھے اور نہ ھی ٹھیک سے کھا سکا ھے۔
آپ نے اس کی ماں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس نے تجھے پیٹ کے باھر نہیں بلکہ پیٹ کے اندر اتنے ھی وزن کے ساتھ 9 ماہ اٹھا کر رکھا ھے۔ نہ وہ ٹھیک سے سو سکتی تھی اور نہ ٹھیک سے کھا سکتی تھی ،پھر تو اسے موت کی سی اذیت دے کر پیدا ھوا اور 2 سال اس کا دودھ پیتا رھا ، اور جب اپنے پاؤں پر کھڑا ھوا تو اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کے لئے تیرے منہ سے گالیاں نکلتی ھیں ،، اگر آئندہ یہ شکایت موصول ھوئی تو تجھے نشانِ عبرت بنا دونگا۔
(فتاوی و اقضیتہ عمر ابن الخطاب)

میرا نام حمید گُل ہے اور میں کبھی اپنا بیان نہیں بدلتا

وجیہہ صورت اور اس صورت پر خوبصورت سدابہار مسکراہٹ، چمکتی دمکتی آنکھیں اور ان آنکھوں میں سجے پاکستان کے شاندار مستقبل کے سپنے،کھلا ہوا چہرہ ایسے جیسے موسم بہار میں گلاب  اور چوڑا سینہ جو اپنوں اور غیروں کی تنقید و تضحیق کے تیروں کی آماجگاہ بنا رہا۔کوئی بات کرتے تو واضع اور غیر مبہم اور اپنے موقف پر ایسے کھڑے ہوتے جیسے کوہِ ہمالیہ،زمّدار ایسے کے ضیا الحق کے مخالفت کے باوجود جنیجو کو انکے خلاف ہونے والی شازش کی اطلاع دی، خودّار ایسے کے بیٹی کی ٹرانسپورٹ کمپنی کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے سفارش تک نہ کی،ملنسار ایسے کے کچرا اُٹھاتے افغان بچوں سے گھل مل جاتے،سادہ ایسے کے عام سپاہیوں کے ساتھ کھانا کھاتے اور بہادر اتنے کے اکیلے بھارت کو تگنی کا ناچ نچاتے۔ نوّے کی دہائی کے بہترین منصوبہ ساز، ایک پیشہ ور فوجی اور جانباز سپہ سالار جو نہ کبھی ڈرا نہ کبھی بکا اور نہ جھکا۔ یہ تھے جنرل ریٹائرڈ حمید گّل جو ریٹائر ہونے کے باوجود کبھی ریٹائر نہ ہوئے انکو موت نے ہفتے کی رات ریٹائر کر دیا لیکن ان کے خیالات، نظریات اور افکار شائد کبھی بھی ریٹائر نہ ہو۔جنرل حمید گل جو اپنی زندگی میں ہی پاکستان سے محبت کا استعارہ بن چکے تھے 20 نومبر 1936 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔بنیادی تعلیم گاؤں کے ہی سکول میں حاصل کی اور پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔یوسف زئی قبیلے سے تعلق تھا جو سوات سے ہجرت کر کے پنجاب میں آباد ہوئے تھے۔اکتوبر 1956 میں اٹھارویں لانگ کورس کےزریعے پاک آرمی میں شمولیت اختیار کی۔1965 کی جنگ میں بطور کمانڈر حصّہ لیا-1968 میں کماند اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں رہے جبکہ 1972 سے 1976 تک بٹالین کمانڈر رہے۔1978 میں بہاولپور کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہے اور 1982 میں ملتاں ریجن کے کمانڈر۔بعدازاں 1987 میں  جرنل اختر عبدالرحمان کے بعد حمید گل کو آئی ایس آئی کا ڈئریکٹر بنایا گیا اور 1989 میں بطور کمانڈر ملتان ٹرانسفر ہوئے جہاں انہوں نے 1971 کی جنگ کے بعد پاکستان آرمی کی سب سے بڑی مشقوں 'ضرب مومن'  کی کمانڈ کی۔1991 میں جنرل آصف نواز نے حمید گل کو بطور ڈرئیکٹر جنرل ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بیجھنا چاہا لیکن حمید گل نے یہ کہہ کر ریٹائرمنٹ کو فوقیت دی کے میں آرمی میں ٹینک چلانے آیا ہوں ٹینک بنانے نہیں اور یوں انکی 35 سالہ فوج زندگی کا اختتام ہوا۔

حمید گل ریٹائر ہونے کے باوجود کبھی بھی ریٹائر نا ہوئے، انڈین دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق وہ ریٹائر ہونے کے باوجود حاظر سروس جنرلوں سے زیادہ خطرناک تھے،کشمیر کے معاملے پر خالصتان تحریک کو ہوا دے کر حمید گل نے انڈیا کو ناکوں چنے چبوائے۔
حمید گل سچے پاکستانی کے ساتھ ساتھ اسلام کے بھی سپاہی تھے،ان کے خیال میں جمہوریت نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا اور نہ کچھ دے گی اس لیے اللہ کی زمین پر اللہ کا نطام ہونا چاہیے۔ اپنی افغان جہاد پالیسی پر وہ کبھی نادم نہ ہوئے بلکہ ہمیشہ دلائل کے ساتھ اپنے موقوف کا دفاع کیا۔افغان طالبان کے ساتھ اُن کے گہرے روابط تھے۔جہاد کو دہشتگردی سے تعبیر کرنے والوں کے وہ سخت مخالف تھے۔اپنے امریکہ مخالف نظریات کی وجہ سے وہ امریکہ کے لیے ناپسندیدہ شخصیت تھے اور اُن کے امریکہ داخلے پر پابندی تھی۔ امریکہ نے عالمی دہشتگردوں کی فہرست میں انکا نام شامل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن چائنہ کی مداخلت کی وجہ سے ایسا نا ہو سکا۔
حمید گل کے بارے میں چند اخبارات نے اسطرح تجزیہ کیا ہے
حمید گل دنیا کے خطرناک ترین جنرلز میں سے ہیں (امریکی حکومت)
حمید گل دنیا کے پانچ بڑے دماغوں میں سے ہیں (سی ائی اے)
 حمید گل اکھنڈ بھارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے (انڈین ایکسپریس)
حمید گل کی پالیسوں کی وجہ سے را کے چیف نے گھٹنے ٹیک دیے تھے (بھارتی صحافی سوشانت سنگھ)
حمید گل ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بھارت کے لیے 'حاظر سروس' دشمن ثابت ہوئے۔()


آپ جنرل حمید گل کے نطریے سے اختلاف کر سکتے ہیں انکی زات سے اور خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اُنکی محب وطنی اور اسلام سے ولہانہ محبت میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ایک ایسا شخص جس سے اپ اختلاف کریں اور وہ شائستگی سے آپکے نقطہ نظر کو سنے اور پھر اختلاف رائے کو برداشت کرے،جس کے خمیر میں وطن کی محبت گوندھی ہوئی ہو اور جو پاکستان سے عشق کی مثال ہو اب وہ شخص ہم میں نہیں رہا۔۔

حمید گل کی وفات پر مختلف لوگوں کا مختلف ردعمل راہا ہے جس کا اظہار شوشل میڈیا سمیت پریس اور الیکڑانک میڈیا میں کیا گیا۔زیل میں حمید گل سے متعلق  کچھ منتخب کالم اور ویڈیوز کے لنکس ہیں۔

ٹی وی شو مزاق رات میں میں وفات سے کچھ ہی عرصہ پہلے کا انٹرویو۔

نہ میں ریٹائر ہوں نا میں ٹائرڈ ہوں، میں میدان جنگ میں کھڑا ہوںاے آر وائی نیوز میں ڈاکٹر دانش کو دیا گیا آخری انٹرویو
جمہوریت نے کچھ نہیں دیا، اللہ کی زمیں پر اللہ کا نظام ہونا چاہیے۔ 
حمید گل مرحوم کا اپنے بارے میں تعارفی کالم
لوگ مجھے حمید گل کے نام سے جانتے ہیں۔حامد میر کا حمید گل کی وفات پر کالم
جنرل حمید گل کی کچھ حسین یادیں۔جاوید چودھری کا حمید گل کی وفات پر کالم-
جنرل صاھب وہ پاکستان نہ دیکھ سکے۔ سلیم صحافی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
جنرل حمید گل-نزیر ناجی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
ایک جنرل ایک مدبر۔اوریا مقبول جان کا حمید گل کی وفات پر کالم-
گل صاھب۔ارشاد احمد عارف کا حمید گل کی وفات پر کالم-
خوابوں کا بنجارہ۔حفیظ للہ نیازی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
قوم چند بڑے لوگوں سے محروم۔  ہارون رشید کا حمید گل کی وفات پر کالم-
جرنل صاھب۔ انصار عباسی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
حمید گل اسلام کا سپاہی۔   عامر خاکوانی کا حمید گل کی وفات پر کالم-
افغانستان سے جڑی کتاب کا ورق۔خورشید ندیم  کا حمید گل کی وفات پر کالم-
ایک نجیب آدمی۔  آصف محمود کا حمید گل کی وفات پر کالم-
جنرل حمید گل۔

اے ویلکم بیک پارٹی ٹو شیطان

رمضان آتا ہے تو شیطان جھکڑ دیا جاتا ہے اور ہم دل کھول کر اللہ کی عبادتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی تلاوت کر راہا ہوتا ہے تو کوئی نوافل کی آدائیگی میں مصروف نظر آتا ہے۔کوئی زکر کر راہا ہے تو کوئی اسلامی بیان یا نعتیں سن راہا ہوتا ہے 
غرض ہر کوئی کسی نہ کسی عبادت میں مصروف عمل ہوتا ہے۔ یہی حال ہمارے میڈیا کا ہوتا ہے کے ایک سے بڑھ کر ایک اسلامی پروگرام، دین کے مسائل پر مبنی گفتگو اور اسلامی معلوماتی شوز، ماڈلز اور اداکار سر پر ٹوپیاں رکھے روزے کی فضیلت بیان کر رہے ہوتے ہیں اور خواتین ایکٹریس سر پر دوپٹا اوڑھے شرم حیا کے بابت بیان کر رہی ہوتی ہیں۔۔ ہمارے معاشرے میں بھی کسی حد تک سدھار پیدا ہو جاتا ہے۔ جو سال بھر زکوۃ نہیں دیتے وہ زکوۃ کے ساتھ ساتھ صدقہ و خیرات کر راہے ہوتے ہیں۔مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کا احترام کرنے لگتے ہیں۔راستے میں کوئی مل جائے تو خوب خوش اخلاقی سے ملتے ہیں اور یہ بھی پوچھتے ہیں لازمی کے " بھیا روزے کیسے گزر رہے ہیں۔پیاس تو نہیں لگ رہی "۔۔۔اگر کوئی ساحل دروازے پر دستک دے تو حتی الا امکان یہی کوشش ہوتی ہے کے وہ خالی ہاتھ نا لوٹے۔۔ لیکن جوں ہی عید کا چاند نظر آیا یعنی چاند رات آن پہنچی تو بس پھر اللہ کی پناہ۔لگتا ہے رمضان میں شیطان نہیں یہ بندہ قید تھاجو رمضان کے ختم ہوتے ہی آزاد ہو گیا ہے۔

کوئی بجرنگی بھائی جان دیکھنے جا رہا ہے تو کوئی رقص کی محفل سجانے۔کوئی کانوں میں ہیڈ فون لگا کر میوزک پر دھمال ڈال رہا ہے تو کوئی در پر آئے ساحل کو جھڑک رہا ہے۔کوئی یتیم کا مال کھا رہا ہے تو کوئی پڑوسی کی جایئداد پر قبضے کا پلان بنا رہا ہے۔اور جوان جو آخری عشرے میں اعتکاف پیٹھے تھے وہ اب پارکوں ،بازاروں اور پبلک مقامات پر "انکھوں کی پیاس " بجھانے میں مصروف نظر آتے ہیں!! اور میڈیا میں میں شرم و حیا کا درس دینے والیاں نیم عریاں لباس میں ناچ ناچ کر چاند رات اور عید مبارک کہہ رہی ہوتی ہیں۔ وجہ؟ کیوں کے ہمارا لیڈر شیطان ہے۔ کیسے؟ یہ مثال ملاحظہ کریں جو میں نے کسی مولوی صاھب سے سنی تھی۔
"عموماً یہ ہوتا ہے کے اگر کوئی سیاسی لیڈر کسی کیس میں جیل کے اندر چلا جائے تو اُسکے سارے سیاسی حمایتی اور کارکنان بھی جیل کے سامنے پہنچ کر دھرنا دے دیتے ہیں اور تعرے بازی شروع ہو جاتی ہے کے جب تک ہمارے لیڈر کو نہیں چھوڑا جائے گا ہم دھرنا دے کر بیٹھیں رہیں گے اور بلا آخر ھکومت اُن کے لیڈر کو چھوڑ دیتی ہے اور وہ اُس کے گلے میں ہار ڈالتے ہیں ،پتیاں نچھاور کرتے ہیں اور راستے میں پھول بچھا کر ایک قافلے کی صورت میں اُسکا استقبال کرتے ہیں۔ بلکل یہی صورتحال ہماری بھی ہے۔ہم میں سے اکثر نے شیطان کو اپنا لیڈر بنایا ہوا ہے اور جب ہمارے لیڈر کو رمضان کے شروع میں اللہ تعالی قید کرتے ہیں تو ہم اُسکے چیلے اور کارکنان اللہ کی بارگاہ میں دھرنا دے کر بیٹھ جاتے ہیں۔خوب عبادتیں کرتے ہیں ۔مساجد میں جگہ نہیں ملتی اور ہماری آہ و زاری اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ہمارا یہ دھرنا تب تک جاری رہتا ہے جب تک ہم اللہ سے اپنے لیڈر شیطان کو چُھڑوا نہ لیں۔جوں ہی چاند رات ہمارے لیڈر کو رہائی ملتی ہے ہم "دھرنا" ختم کر دیتے ہیں اور مساجد خالی ہو جاتی ہیں!!! صرف اسی پر بس نہیں جس طرح سیاسی لیڈر کو واپسی پر قافلے کی صورت میں پھولوں کے ہار ڈال کر واپس لا کر "ویلکم بیک پارٹی" دی جاتی ہے بلکل اُس طرح ہم اپنے لیڈر کو اللہ کی نافرمانیاں کر کر کے "ویلکم بیک پارٹی" دیتے ہیں!! ایسی ایک ویلکم بیک پارٹی اے آر وائی نیوز اور دوسرے چینلز نے بھی دی ہے۔اپ بھی دیکھیں۔ویلکم بیک ڈیر ڈیول۔

Pages