لفظ بولتے ہیں

ایڈونچر۔ ناولٹ۔ حصہ آخری


ایڈونچر۔ ناولٹ۔ حصہ آخری
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بلوبھائی میرے تصورات کے بالکل برعکس شخصیت کے مالک نکلے
انتہائی پرخلوص اور مہذبانہ انداز سے ہمیں خوش آمدید کہا
شہلا کو بہن کہ کر مخاطب کیا
اور فورا ہی ناشتے کا انتظام کیا
اور کہا کہ آپ لوگ تسلی سے ناشتہ کرلیں
پھر ملاقات کرتے ہیں
ہم نے خوب ڈٹ کر ناشتہ کیا
شہلا تو ناشتہ کرتے ہی اونگھنے لگی ۔
میں نے اسے کہا کہ تم لیٹ جاؤ اور آرام کرلو
کمرے میں سونے کا بہترین انتظام تھا
میں نے سامان وغیرہ کمرے میں موجود الماری میں رکھا
اورخود ہی برتن اٹھا کر باہر لے آیا
مجھے برتن اٹھائے آتا دیکھ کر ایک بندہ فورا ہی آگیا
اور کہنے لگا
جناب آپ نےکیوں زیادتی کی۔ ہمیں حکم دیا ہوتا
میں نے برتن اسے دیے اور پوچھا
بلوبھائی کس طرف ہیں۔
وہ مجھے بلوبھائی کےپاس دوسرے کمرے لے گیا
بلوبھائی بہت خوش شکل اور بہت شائستہ انداز میں باتیں کرنے والی
شخصیت کے طور پر مجھے بہت اچھے لگے
بہت ساری باتیں ہوئیں
میں نے انہیں اپنے اور شہلا کے بارے میں سچ سچ بتا دیا
پتہ نہیں کیوں مجھے وہ بہت بااعتماد لگے
لیکن مجھے اس کا قطعا اندازہ نہیں تھا
کہ ان کے پاس بیٹھے ہوئے دیگر دوافراد بھی بہت غور سے میری باتیں سن رہے ہیں
اور آنے والے دنوں میں میرا یہ سچ میرے لئے بہت سی مشکلات کا سبب بننے والا ہے

بلو بھائی نے کہا
جمیل ۔۔۔ تم نے کوئی غلط کام نہیں کیا
اچھا اور مردوں والا کا م کیا ہے
اب کیا ارادہ ہے۔
میں نے کہا
جی ۔ فی الحال تو ادھر ہی رکیں گے۔
کہنے لگے
نہیں نہیں
یہاں ٹھہرنے کی جہاں تک بات ہے تو بسم اللہ ۔ جب تک جی چاہے
ٹھہرو۔
میں شہلا بہن کے حوالے سے کہ رہا تھا۔

میں نے حیران ہو کر پوچھا
میں سمجھا نہیں بلوبھائی

بھئی میرا مطلب تو بہت واضح ہے۔
اب شہلا بہن اور تمھاری شادی کا انتظام کب کرنا ہے۔

میں تو شرما ہی گیا
واقعی ۔۔۔۔۔ اس بھاگ دوڑ میں ۔۔ یہ بات تو میرے وہم و گمان میں نہ آئی

مجھے شرماتے دیکھ کربلو بھائی کہنے لگے
اچھا چلیں اس موضوع کو چھوڑیں اس پر بعد میں بات کریں گے۔
اپنے بارے میں مزید بتا ؤ ۔
میں نے بتایاکہ میٹرک کیاہوا ہے۔ مزید تعلیم کے بارے میں بھی خواہش تو ہے۔
لیکن اب دیکھتے ہیں کہ حالا ت کیارخ اختیار کرتے ہیں
میں نے جان بوجھ کر اسے گھرسے بھاگنے والی بات چھپا لی

بلوبھائی نے کہا کہ تعلیم تو بہت اچھی چیز ہے
لیکن آج کے دور میں کچھ اور بھی ضروری ہنر ہیں۔
تم ایک دودن رہو۔
پھر اس سلسلے میں آپ سے تفصیلی بات ہوگی۔
میں بھی یہی چا ہتا تھا کہ اکمل آجائے تو پھر آگے کا لائحہ عمل بناتے ہیں

میں کمرے آگیا ۔۔۔۔۔ کل سے جن حالا ت سے گذرا تھا۔ ذہنی اور جسمانی طور پر
بہت تھک چکا تھا
چنانچہ میں نے مناسب یہی سمجھا کہ
کچھ دیرسولیا جائے
سوکر اٹھا تو شام ہو چکی تھی
شہلا بھی جاگ رہی تھی
اور کافی فریش لگ رہی تھی
اٹیچ باتھ میں نہا کر جب میں باہر نکلا تو وہ اپنے بال سنوار رہی تھی
سادگی میں اس کا حسن اور بھی نکھرا نکھرا سا تھا

کہنے لگی پتہ نہیں پیچھے کیا حال ہوگا۔۔
مجھے تو یہ سب ایک خواب کی مانند لگ رہا ہے
تمھارا ملنا اور پھر اتنی جلدی حالات کے اندر اتنی بڑی تبدیلی ۔۔
جمیل میں سچ کہ رہی ہوں
میں خواب میں یہی کچھ دیکتھی رہی ہوں
اور جاگ کر بھی
پتہ نہیں اللہ کو میری کون سی با ت پسند آگئی کہ میں اس ماحول سے نکل آئی
جہاں میرا دل کبھی نہ لگا تھا
تم نہیں جانتے جمیل
میں کیسے اپنے آپ کو اس ماحول میں مقید محسوس کرتی تھی
پر مجھے کبھی یہ خیال نہ تھا کہ میں یوں وہاں سے نکل آؤں گی

یہ سب اللہ کا کرم تو ہے ہی
پر تیرا بھی بہت شکریہ

میں نے فورا ہی اسے ٹوک دیا
پگلی کیا کہ رہی ہو
اپنوں کا شکریہ ادا نہیں کیا جاتا

اور میں نے کیا ہی کیا ہے۔۔۔
سچی اگرتیرا ساتھ نہ ہوتا تو جمیل کبھی انتا توانا نہ ہوتا
تیری محبت نے تیرے پیار نے مجھے بہت طاقت دی ہے

بس دعا کرو۔۔۔
اللہ مزید پریشانیوں سے بچائے

پھر اس نے بلوبھائی کے بارے میں پوچھا تو میں نے اسے اپنی ملاقات کا
سب احوال بتایا

کہنے لگی
جمیل وہ ٹھیک کہ رہے ہیں۔۔
تم مجھ سے سال دو چھوٹے ہی ہوگے ۔ ۔۔ پر ہمیں جلد ازجلد شادی کرلینی چاہیے
یوں رہنا کسی طور مناسب نہیں

اور یہ تو میں جانتی ہوں، تم جانتے ہو یا اپنا رب جانتا ہے کہ ہماری محبت کتنی پاکیزہ ہے
لیکن یہ دنیا تو نہیں جانتی

میں نے اسے کہا کہ میں اکمل کا انتظار کررہاہوں وہ آجائے تو اس سلسلےمیں
اس سے بات کروں گا۔ وہ جیسے کہے گا کرلیں گے

میں باہر آیا تو بلوبھائی نہیں تھے ۔ پوچھا تو کہنے لگے
وہ کلاس میں ہیں
میں حیران رہ گیا
پتہ چلا کہ وہ شام کو روزانہ محلے کے نوجوان بچوں کو جوڈو کراٹے سکھاتے ہیں

میں بھی وہیںچلا گیا
مجھے دیکھتے ہی بلو بھائی نے باقی لڑکوں کو جو وہاں موجود تھے کہا

لوجی ہمارا نیا سٹوڈنٹ بھی آگیا

سب لڑکوں نے مجھے خوش آمدید کہا
میں تو بہت ہی خوش ہوا
اس دن بلوبھائی کے ساتھ پہلی کلاس میں بہت مزا آیا

بہت دیر تک وہیں رہے۔
پھر سب لڑکے چلے گئے تو بلوبھائی نے مجھے کہا کہ
آؤ ذرا باہر کا چکر لگا کے آتے ہیں
اور شہلا بہن کی فکر نہ کرو
وہ سمجھو اپنے بھائی کے گھر میں ہے

میں پھر بھی شہلا کو بتا کر باہر آگیا
بلوبھائی جہاں جہاں سے گذرے لوگ بہت عزت سے ملے
نئی نئی آبادی تھی
ابھی کئی پلاٹ خالی نظر آرہے تھے
وہ مجھے ایک مارکیٹ میں لے گئے
سب دوکان دار انہیں بلوبھائی ہی کہ کر مخاطب کر رہے تھے
میں یہ سب حیرت سے دیکھ رہا تھا

جب واپس مکان پر آئے تو بلوبھائی نے بتا یا کہ وہ حتی الوسع اس آبادی کے لوگوں کے
کام آتے ہیں۔
اور ہرکسی کی خوشی اور غم شریک ہوتے ہیں
خدا کا شکرہے کہ سب عزت کرتے ہیں

میں تو اندرہی اندر بلوبھائی کا گرویدہ ہو گیا۔۔۔

رات کو ہمارے کمرے میں ٹی وی بھی رکھوادیا گیا

دودن اسی طرح گذر گئے

اکمل نہ آیا ۔۔۔ نہ اس کی کوئی خیر خبر کا پتہ چلا
ہاں ان دودنوں میں میں باقاعدگی سے کلاسز لیتا رہا

باقی لوگوں سے بھی تعارف ہوا۔ ٹوٹل جو افراد اس مکان میں رہ رہے تھے انکی تعداد
سات تھی۔ ڈبل سٹوری مکان تھا۔
شاید جگہ کنال سے زیادہ تھی۔ چارکمرے نیچے اور تین کمرے اوپر تھے
بہت اچھا کھلا مکان تھا
نیچے ایک کمرا ہال نما تھا ۔۔۔ جہاں کلاس ہوتی تھی

بلوبھائی کے بارے میں زیادہ معلومات تو نہ ملیں ۔۔۔ وہ اپنے بارے میں کم ہی بولتا تھا

ہاں اسکی آمدن کا ایک ذریعہ جو مجھے ان دودنوں میں پتہ چلا وہ یہ تھا کہ پہلے دن جس مارکیٹ
میں لے گیا تھا۔ وہ اس کی ذاتی مارکیٹ تھی – جس سے کرایہ اسے مل رہا تھا

جب تین دن گذرگئے اور اکمل نہ آیا تو میں پریشان ہوگیا
بلوبھائی سے بات کی تو اس نے تسلی دی اور کہا ایک آدھ دن اور دیکھ لو
میرا رابطہ بھی نہیں ہو پا رہا ۔ شاکی استاد سے۔
نہ اس کا کوئی بندہ کئی دنوں سے ادھر آیا ہے۔

اگر مزید دودن تک آپ کا دوست نہیں آتا تو پھر لاہور جا کر پتہ کرلیں گے

دودن مزیدبھی گذر گئے اور اکمل نہ آیا ۔ میں نے بلوبھائی سے کہ کر لاہور کا پروگرام بنایا
بلوبھائی کہنے لگا ۔ ٹھیک ہے ۔ مجھے بھی چنددنوں کے لئے لاہور جانا ہے ۔ میرے ساتھ ہی چلنا

میں شہلا کے حوالے سے فکرمند تھا۔
لیکن بلوبھائی کے مکان پر اسے محفوظ بھی خیال کرتا تھا۔
چنانچہ میں دوسرے دن علی الصبح ہی بلوبھائی کے ساتھ لاہور روانہ ہو گیا
بلوبھائی نے احتیاطا میرے حلیے میں کافی تبدیلی کروادی تھی۔
سر پر بھی وگ اور چہرے پر ایک تل کا اضافہ ہو گیا تھا۔
بلوبھائی میک اپ کا ایکسپرٹ تھا۔ ۔
کچھ ٹپس اس نے مجھے بھی دیں۔۔۔
خیر ہم لاہور پہنچے تو بلوبھائی نےایک جگہ سے فون کرکے کچھ بندوں سے بات کی۔۔
پھر مجھے بتایا کہ استاد شاکی اور دیگر کئی لوگ جیل میں ہی بند ہیں۔۔۔
مجھے لگتا ہے یہ شہلا بہن کی ماں کی ہی کارستانی ہے۔۔۔

اب آپ کیا کرنا چاہو گے۔۔

میں نے کہا کہ آپ اپنا کام کریں ۔۔ میں اکمل کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں

اس نے کافی کچھ باتیں سمجھائیں ۔ ویسے میں اب بہت پر اعتماد تھا۔ جوڈو کراٹے کی ٹریننگ نے مجھے کافی حد تک اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت سے مالا مال کیا تھا۔پھر میرا حلیہ بھی بالکل مختلف تھا۔۔۔

چنانچہ میں بلو بھائی سے خدا حافظ کہ کر سب سے پہلے آغا جی کے ہوٹل کی طرف گیا۔۔۔
وہاں مجھے کسی نے بھی نہ پہچانا ۔۔ مجھے زبیر کی تلاش تھی ۔ زیبر بھی ہوٹل پر ملازم تھا۔ لیکن میرے ساتھ کافی مخلص تھا۔
وہ مجھے کھانا کھاتے ہوئے مل گیا۔۔۔ پہچان ہی نہ سکا۔۔۔
میں اسے احتیاط سے تعارف کروانے کے بعد ہوٹل سے باہر لے آیا۔۔
اس نے مجھے بتا یا کہ اکمل تو تمھارے جانے کے بعد دوسرے دن ہی چلا گیا تھا۔۔۔
آغاجی کو تم لوگوں کی وجہ سے کافی پریشانی ہوئی ۔۔۔ خصوصا تھانے میں ۔۔
پھر پولیس اکمل کے بھی پیچھے پڑ گئی ۔۔
کئی دفعہ اسکے پیچھے ہوٹل آئی ۔ چوری کے علاوہ بھی کوئی اور کیس لگتا تھا۔۔

کئی ملازموں سے بھی پوچھ گچھ کی۔۔۔۔
اس نے مجھ سے بھی کئی سوال کئے ۔۔ میں اسے ادھر ادھر کے جوابات سے ٹالتا رہا۔۔
پھر اسے خداحافظ کہ کر نکل آیا۔۔
ہوٹل سے مزید کچھ معلومات ملنے کا امکان نہ تھا۔۔۔
میں پھر استاد شاکی کے ڈیرے کی طرف چلا گیا۔۔۔
پہلے کافی دیر تک ادھر ادھر پھر کر تسلی کی کہ کہیں کوئی پولیس کا بندہ نہ ہو
پھر جب جا کر دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک اندر سے کوئی نہ نکلا۔۔

میں مایوس ہو کر پلٹنے ہی والا تھا کہ
اچانک شاہیہ آگیا ۔۔
مجھے دیکھ کر کافی حیران ہوا کہ میں کون ہوں اور کس سے ملنا ہے۔۔
میں سمجھ گیا کہ میرے تبدیل شدہ حلیے کی وجہ سے نہیں پہچان پایا ۔۔۔
پھرجب اسے بتایا کہ میں جمیل ہوں تو فورا ہی اندر لے گیا۔۔
کہنے لگا
استاد جمیل ۔۔۔ شکرکرو۔۔ تم یہاں سے نکل گئے۔۔
پولیس تو بالکل باؤلی ہوئی جارہی تھی۔۔ استاد شاکی اور دو اور بندے ابھی تک تھانے میں بند ہیں
تین دفعہ یہاں چھاپے مار چکی ہے۔۔
میں نے اس سے پوچھا کہ میرا ایک دوست اکمل بھی یہاں آیا تھا۔۔ تو اس نے بتایا کہ ہاں
وہ ادھر آیا تھا۔۔۔ پر ہم نے اسے فورا ہی بھگا دیا۔۔۔ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسے یہی مشورہ دیا کہ کہیں چھپ جائے ۔۔
میں تو اب بہت پریشان ہوگیا۔۔

یہ کیا ہورہا ہے؟ میں اکمل تک کیسے پہنچوں؟
میں نے بہرحال شاہیہ کو سمجھایا کہ اگر اکمل دوبارہ یہاں آئے یا اسکی ملاقات کہیں بھی اکمل سے ہو تو اسے بلوبھائی کا پتہ ضرور سمجھا دے۔۔

شاہیہ شاید بلوبھائی کے ڈیرے پر کبھی نہ گیا تھا۔ میں نے اسے سارا پتہ سمجھایا۔۔
اس نے وعدہ کیا کہ کوشش کرے گا ۔۔ کہ اکمل کو میرے پاس بھجوادے۔۔

پھر میں وہاں سے نکل آیا ۔۔۔ جی میں آئی ۔۔ شہلا کے مکان تک کا چکرلگا کر وہاں کے حالات کا بھی پتہ کیا
جائے۔۔پھر سوچا وہاں جانا خطرے سے خالی نہ ہوگا۔۔۔

کافی دیرتک ادھر ادھر پھرتا رہا۔۔ کچھ سمجھ نہ آرہا تھا۔۔۔ کبھی خیال آتا واپس بیگم کوٹ چلاجاؤں ۔۔
پھر سوچتا۔۔ ایک دن مزید لاہورمیں ٹھہر کر اکمل کا پتہ کروں ۔۔۔

آخرکار میں نے یہی مناسب جانا کہ رات لاہورمیں ٹھہر جاتا ہوں ۔۔ کل پھر شاہیہ سے مل کر اکمل کے بارے میں پتہ کروں گا۔۔۔
ورنہ کل واپس چلاجاؤں گا۔۔۔

رات گئے تک آوارہ گردی کرتا رہا۔۔
خیال یہی تھا کہ کہیں اکمل نطر آجائے گا۔۔
لیکن افسوس ۔۔۔ ایسا نہ ہوا

رات ایک ہوٹل میں گذاری ۔۔۔

دوسرے دن دوپہرکے وقت استاد شاکی کے ڈیرے پر پھر گیا۔۔۔

مقدرنے یاوری کی۔۔۔ اکمل بھی اسی وقت وہاں پہنچ گیا۔۔
خداکا شکراداکیا۔۔
اور فورا ہی وہاں سے بیگم کوٹ کا پروگرام بنایا۔۔
میں نے اکمل سے کہا

یہاں زیادہ رکنا بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔۔
اس نے گرچہ کافی حد تک حلیہ تبدیل کیا ہوا تھا۔۔ لیکن
پھر بھی احتیاط اچھی تھی۔

شاہیہ کا شکریہ ادا کرکے وہاں سے نکل آئے
میں نے راستے میں اکمل سے پوچھا کہ وہ کہاں غائب رہا
میں اس کے بارے میں کتنا پریشان تھا۔۔

اس نے بتایا کہ
کہ وہ میرے جانے کے بعد دوسرے دن ہی ہوٹل چھوڑکر استاد شاکی کے ڈیرے پر آیا تھا۔۔
لیکن وہاں پولیس دیکھ کر فورا ہی بھاگ آیا۔۔۔
دودن اس نے چھپ کر ہی گذارے پھر دوبارہ ڈیرے پر آیا تو شاہیہ سے پتہ چلا کہ حالا ت خراب ہیں
اسے بلوبھائی کے ڈیرے کا پتہ نہ تھا۔۔۔ اور پریشانی میں شاہیہ سے اس حوالے سے بات نہ کرسکا
ویسے اسے یقین تھا کہ میں بخیریت ہوں گا۔۔۔

میں نے اس سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہوا اور کیسے ہوا۔۔
اس کے پا س کافی معلومات تھیں ۔۔ اس کا رابطہ کئی لوگوں سے تھا۔۔
اس نے بتایا کہ
شہلا کی امی بہت بااثر لوگوں میں سے تھی۔۔ اور اس کی واقفیت شاید پولیس میں بھی بہت ہائی لیول پر تھی۔
اس نے پورے لاہور کی پولیس کو الرٹ کروا دیا۔۔۔

پولیس نے آغا جی کے ہوٹل پر بھی چھاپے مارے۔۔۔ کیوں کہ شہلا کے آدمی نے ہوٹل کے بارے میں پولیس کو بتا دیا تھا۔۔۔
اس نے یہ بھی بتا یا کہ
اگروہ دوسرے دن ہوٹل نہ چھوڑتا تو اس وقت تھانے میں بند ہوتا۔۔۔

یہ تو شکرکرو جمیل کہ میری واقفیت کام آگئی ۔۔ ٹھیک ہے واقفیت شریف لوگوں کے ساتھ نہین تھی ۔۔ لیکن ایسے وقت میں شریف لوگ کچھ نہ کر پاتے ۔۔۔
استاد شاکی جی دار بندہ ہے۔۔ بس ایک دفعہ اتفاق سے اس کے کام آیا تھا۔۔
اس کے علاوہ بھی چند ایک دوست ہیں۔۔ جنہوں نے مجھے لاہور میں اتنے دن چھپائے رکھا۔۔

اس نے ایک بندے کے ذریعے پتہ کروایا تھا کہ شہلا کے مکان کے سبھی ملازم بھی تھانے میں تھے۔۔۔
شہلا کی امی بہت غصے میں تھی۔۔ وہ ہر صورت میں شہلا کی برآمدگی چاہتی ہے۔۔
لیکن پولیس ابھی تک کچھ حاصل نہیں کر سکی ۔۔

ویسے تمھیں فکرکرنے کی ضرورت نہیں استاد شاکی کے بندے مرجائیں گے۔۔ لیکن تمھارا نہیں بتائیں گے
ویسے بھی پولیس نے کئی اور لوگوں کو بھی پکڑا ہوا ہے۔۔۔


اکمل کی باتوں سے میں اتنا پریشان تو نہ ہوا۔۔۔ لیکن پھر بھی ۔۔۔
یہ باتیں ایسی نہ تھیں کہ بندہ فکرمند نہ ہو۔۔۔

میں نے اکمل سے کہا
اب جلدی سے یہاں سے نکلو
اکمل پبلک ٹرانسپورٹ کے چکر میں تھا ۔۔ میں نے کہا چھوڑو
ٹیکسی پکڑتے ہیں ۔۔۔

چنانچہ ٹیکسی کے ذریعے بیگم کوٹ پہنچے ۔۔۔

میں نے ٹیکسی والے کو بہت پہلے ہی روک دیا۔۔۔
اور پھر پیدل ہی بلوبھائی کے مکان کی طرف گئے۔۔۔

اکمل کا مل جانا میرے لئے بہت حوصلہ افزاء بات تھی۔۔
میں واقعی بہت خوش خوش اس کے ساتھ چل رہا تھا
لیکن مجھے بالکل بھی اندازہ نہ تھا
کہ آگے میرے لئے کیسی خوفنا ک خبر منتظر ہے۔۔۔۔
میں اکمل کے ساتھ گویا اڑتا ہوا جا رہا تھا۔۔۔
جب بلو بھائی کے مکان پر پہنچے تو وہاں میں سب سے پہلے اپنے کمرے میں گیا
مجھے یقین تھا جب میں شہلا کو بتاؤں گا کہ میں اکمل کو لے آیا ہوں تو وہ بھی بہت
خوش ہوگی ۔
لیکن کمرا خالی تھا۔۔۔
میرا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔
میں نے شہلا کو آواز دی
شہلا ۔۔ شہلا
لیکن کوئی جواب نہ آیا
شہلا تو ہمیشہ کمرے تک ہی محدود رہی تھی۔
پھر وہ کدھر جاسکتی ہے
میں نے اس کے کمرے پر کافی بے ترتیبی دیکھی ۔۔۔

میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا
میں نے اکمل کو آواز دی

اکمل ۔۔ ادھر آؤ
میری آواز کے ارتعاش سے وہ بھی ایک پریشان ہو کر اندر آیا

کیا ہوا جمیل

اکمل اکمل ۔۔۔ شہلا ادھر نہیں ہے۔۔۔ وہ ادھر نہیں ہے۔۔
یہ دیکھو اس کا بستر خالی پڑا ہے۔۔

ارے یار ۔۔۔ ادھر ہی ہوگی۔۔

نہیں ہے نا ادھر ۔۔

میں نے واش روم بھی دیکھ لیا ۔۔۔

میں دل ڈوبنے لگا۔۔۔ سر چکرانے لگا۔۔۔
سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔ کیا ہو گیا ہے۔۔۔

اکمل سے کہا ۔۔۔
دیکھو ادھر باقی لوگوں سے پوچھو۔۔
وہ کہیں باہر تو نہیں گئی

نیچے والے حصے میں ہم ، ایک ملازم جو کھانا وغیرہ پکاتا تھا، اور
بلو بھائی رہتے تھے۔
اوپر والے پورشن میں چھ افراد رہائش پذیر تھے۔۔

ملازم نے بتایا کہ بی بی تو گھر سے باہر نہیں نکلی
وہ دوگھنٹے پہلے انہیں کھانا دے کر آیا تھا ۔۔۔۔
پھر تھوڑی دیر بعد انہوں نے برتن والپس کیے تھے۔۔

ویسے بھی کوئی جب باہر نکلتا ہے تو میری نظروں میں آئے بغیر ممکن نہیں
کیونکہ میں یا تو کچن میں ہوتا ہوں یا گیٹ کے ساتھ کمرے میں ۔۔۔

میں تو ہوش و حواس کھونے کے قریب ہی تھا۔۔۔

شہلا کی حفاظت میری ذمہ داری تھی۔۔۔ میں یہ ذمہ داری کیوں نہ نبھا سکا۔۔
میں اپنے آپ کو کوسنے لگا

اکمل مجھے حوصلہ دے رہا تھا۔۔
سا تھ ہی اس نے سب لوگوں کو ایک جگہ پر بلا لیا
اور ان سے پوچھنے لگا۔۔۔

سب نے کہا کہ انہیں نہیں پتہ ۔۔۔
ہمیں بلوبھائی نے سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ بہن کے کمرے کی طرف نہیں آنا
ویسے بھی ہم بوقت ضرورت ہی نیچے اترتے ہیں

ان میں سے تین افراد ایسے کمرے میں رہائش پذیرتھے جس کی کھڑکی سے پوری گلی کا منظر
نظر آتا تھا۔۔۔
ان کے بقول وہ ہمہ وقت کمرے میں رہے۔۔
آج صبح دس بجے کے بعد کوئی فرد مکان سے باہر نہیں گیا۔۔۔

یا اللہ یہ کیا ہورہا ہے۔۔
پھر شہلا کہاں غائب ہوگئی ۔۔۔

اکمل اور میں نے ایک دفعہ پھر کمرے کا باریک بینی سے جاہزہ لیا۔۔۔
بستر کی بے ترتیبی واضح طورپر بتارہی تھی کہ یہاں کچھ نہ کچھ ضرور ہوا ہے
اچانک ہی میری نظر بیڈ کے ساتھ ہی گرے ایک رومال پر پڑی ۔۔
یہ رومال نہ میرا تھا نہ شہلا کا ۔۔۔

میں نے اکمل کو رومال دکھایا۔۔۔
اس نے فورا ہی کہا

جمیل اس رومال کو بے ہوش کردینے والے کیمیکل میں بھگویا گیا ہے۔۔۔

وہ رومال پکڑ کر باہر آگیا اور اوپر جاکر باری باری سب سے پوچھا۔۔۔
کہ یہ رومال کس کا ہے۔۔۔

ان میں سے ایک بندے نے کہا کہ اس نے یہ رومال ۔۔۔ بلوبھائی کے
مہمان شوکی کے پاس دیکھا تھا۔۔۔
شوکی بلوبھائی کے پاس کسی حوالے سے آیا تھا۔۔۔
وہ بھی پولیس کو مطلوب تھا۔۔
پچھلے پندرہ بیس دنوں سے ادھر ہی ٹھہرا ہوا تھا۔۔۔
وہ سب سے آخروالے کمرے میں رہائش پذیر تھا۔۔۔
اس کمرے کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا سٹور بھی تھا جو اکثر بند ہی رہتا تھا۔۔۔

ہم دونوں شوکی کے کمرے میں گئے ۔ ۔۔ وہ وہاں لیٹا ہوا تھا۔۔۔
ہمیں دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا

اکمل نے رومال اس کے آگے لہراتے ہوئے پوچھا

کیا یہ رومال تمھارا ہے

ہاں ۔۔۔ میرا ہے ۔۔ یہ تمھیں کہاں سے مل گیا۔۔

میں تو بالکل ہی پاگل ہوگیا

میں نے اندھا دھند شوکی کی پٹائی شروع کردی

اتنے میں دوسرے افراد بھی آگئے ۔۔

شوکی بھی پہلے تو سمجھ ہی نہ پایا پھر وہ جوابی وار کرنے لگا۔۔۔

پیچھے سے اکمل نے اس کو زور سے کک ماری تو وہ اچھل کر دیوار کے ساتھ
جا لگا۔۔
لیکن فورا ہی سنبھل گیا ۔۔
پھراس نے اچانک ہی کہیں سے ایک چاقو نکال لیا ۔۔۔۔

اور کہنے لگا۔۔۔

ابے ۔۔۔ کنجری کے یار ۔۔
تو کیا سمجھتا ہے اپنے آپ کو۔۔۔

پھر اچھل کر آیا اور میرے اوپر چاقوکا وار کیا

میں پوری طرح ہوشیا ر تھا فوری ہی جھکائی دے ایک طرف سے نکل گیا
وہ اپنے ہی زور میں دروازے کے پاس جا گرا
اور چاقو اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔۔

اتنے میں اسے دیگر لوگوں نے اپنے حصار میں لے لیا
ایک بندے نے ہمارے اوپر پسٹل تان لی۔۔۔

ہالٹ۔۔۔۔ اگر کسی نے بھی ایک قدم آگے بڑھنے کی کوشش کی تو فائر کھول دوں گا۔۔

یہ ہمارے مہمان ہیں اور آپ بھی ۔۔۔

مجھے اچھا نہیں لگے گا آپ لوگوں پر گولی چلانا ۔۔۔
لیکن مجبورا ایسا کرنا پڑا تو گریز بھی نہیں کروں گا۔۔

آپ لوگ کیوں آپس میں لڑ رہے ہیں۔۔۔ کیا شہلابی بی والا مسئلہ ہی ہے

ہاں ۔۔
میں نے کہا
اس سے پوچھو۔۔
کدھر کیا ہے اسے اس نے ۔۔۔

مجھے یقین تھا شہلا کے غائب ہونے میں اسی کا ہاتھ ہے۔۔۔


ہاں ہاں ۔۔۔ میں نے ہی اسے سا تھ والے سٹور میں بند کیا ہے۔۔

اور تم اتنا کیوں مجنوں بن رہے ہو
کسی کوٹھے سے ہی لے کر آرہے ہو نا اسے۔۔۔
وہ کونسا نیک پروین ہے۔۔

اس کی بکواس نے پھر میرا مغز گھما دیا۔۔۔

میں اچھل کر اس کی طرف گیا اور اسے کک مارنے کی کوشش کی
لیکن مجھے تین بندوں نے قابو کرلیا

اسے بھی ایک بندے نے خاموش ہونے کا کہا
اور سختی سے ڈنٹا کہ وہ شہلا بی بی کے حوالے سے کوئی غلط بات نہ کرے

ایک بندہ اسے پکڑ کر دوسرے کمرے میں لے گیا۔۔۔

پھر ہم نے مل کر سٹور کو کھولا ۔۔ وہ ایک کونے میں شہلا بے ہوش پڑی تھی

ہم فورا ہی اسے آٹھاکر نیچے لے آئے

اور چارپائی پر لٹایا ۔۔۔

تقریبا ایک گھنٹے بعد اسے ہوش آگیا ۔۔

بہت بری طرح خوفزدہ تھی۔۔۔
اسے حوصلہ دیا۔۔۔

مجھے سامنے دیکھ وہ میرے ساتھ لپٹ گئ اور رونے لگی ۔۔

میں اسے تسلی دیتا رہا۔۔۔
پھرشوکی ایک ڈاکٹر لے آیا
اس نے چیک اپ کیا اور کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں
اعصابی سکون کے لئے کچھ ادویات دیں۔۔
اور آرام کا مشورہ دیا
شہلا دوائی لے کر لیٹ گئی
میں اس کے پاس ہی رہا ۔۔
جب وہ سوگئی تو اٹھ کر باہر آیا
اکمل بلوبھائی کے کمرے میں تھا۔
وہیں باقی لوگ بھی تھے

سب شرمندہ سے لگ رہے تھے
اور معذرت کررہے تھے۔۔
انہیں اندازہ نہ تھا کہ
بلوبھائی کا مہمان ایسی حرکت کر سکتا ہے

وہ اسے بھی اپنی کوتاہی کہ رہے تھے۔۔۔
انے کے تصور میں بھی نہ تھا کہ ایسابھی ہو سکتا ہے

میرا خون ابھی تک کھول رہا تھا۔۔۔
جی چاہ رہا تھا ۔۔ اس شخص کی بوٹی بوٹی کردوں۔۔۔

لیکن سب لوگ مجھے تحمل کا مشورہ دینے لگے

انہوں نے کہا بلوبھائی کو آنے دیں ۔۔۔ وہ جو فیصلہ کریں گے۔۔
میں اکمل کو ساتھ لے کر واپس کمرے میں آگیا ۔۔۔
وہ مجھے بار بار حوصلہ دینے لگا
لیکن مجھے کسی پل چین نہ آرہا تھا۔۔
اصل غصہ مجھے شہلا کی توہین کرنے پر آیا تھا۔۔۔
مجھے پتہ تھا اس کمینے رذیل کو خدا نے موقع ہی نہ دیا تھا کہ وہ کوئی مذموم
حرکت کرتا۔۔۔ لیکن پھر بھی مجھے بار بار ایک ہی خیال آرہا تھا کہ شہلا
اپنی توہین برداشت نہ کرپائے گی۔۔۔
ابھی تو دواؤں کے زیر اثر سور رہی تھی۔۔ لیکن وہ مجھ پر اعتما د کرکے
ایک گندگی سے نکلی تھی۔ اب پھر اسے گندگی کے طعنے ملے تو وہ تو
مر جائے گی۔۔
وہ ایک کنول کا پھول تھی۔۔۔
اس کی تازگی ، اس کی پاکیزگی کامیرا دل گواہ تھا۔ مجھے کسی اورگواہی کی
ضرورت نہ تھی ۔۔۔ میں اس بدمعاش کی مغلطات سن کر اپنی توہین محسوس کررہا تھا

تھوڑی دیر بعد ہم دونوں کو ہال میں بلایا گیا ۔۔وہاں شوکی کے علاوہ پانچ بندے موجود تھے
ان میں سے ایک آدمی نے جس کا نام توقیرتھا اور جو بلوبھائی کے بعد ایک قسم کا انچارج تھا
اس نے ہمیں کہ اس نے اپنے طورپر تحقیق کرلی ہے۔
وہ خبیث شوکی آپ کے آنے سے کچھ منٹ پہلے ہی شہلا بہن کو اوپر بے ہوش کرکے لے گیا۔
یقینا اس میں ہمارے ساتھیوں کی غفلت شامل ہے۔۔ لیکن وہ بھی اس وجہ سے مار کھاگئے کہ
وہ بلو بھائی کا مہمان تھا۔۔۔
ورنہ ایسا واقعہ نہ ہوتا۔۔۔
مجھے آپ لوگوں کے جذبات کا پوری طرح اندازہ ہے۔
میں نے ابھی اپنے ایک بندے کی ڈیوٹی لگا دی وہ شوکی کی نگرانی کررہا ہے۔۔
تاکہ بلوبھائی کے آنے کے بعد اس کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔۔۔
یہ تو آپ نے بھی اندازہ لگا لیا ہو گا کہ یہ سب واقعہ آپ کے یہاں پہنچنے سے چند منٹ پہلے ہی
وقوع پذیرہوا۔۔ ۔۔۔۔
ہم سب آپ کے سامنے شرمندہ ہیں۔۔۔ ۔۔
امید ہے آپ ہماری کوتاہی اورغفلت کو معاف کردیں گے۔۔۔
اور اگرآپ نے معاف نہ کیا تو بلوبھائی ہمیں زندہ نہ چھوڑے گا۔۔۔

میں نے باری باری سب کے چہروں کو غور سے دیکھا۔۔۔ ان کے اندر کی ندامت
ان کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔۔۔
کیا ان بدمعاش لوگوں میں بھی شرم وحیا ہوتی ہے؟
یہ سوال میرے اندر گونجا۔۔۔
یا میرے مالک یہ کیسا نظام ہے۔۔۔ وہاں ایک گندے ماحول میں شہلا جیسا پھول کھلتا ہے
تو یہاں شوکی جیسے رذیل لوگوں کے بیچ بلوبھائی ، توقیر ان جیسے لوگ بھی ہوتے ہیں
جو مہمان کی عزت کو اپنی عزت سمجھتے ہیں۔۔۔
میرا ذہن چکرانے لگا۔۔۔
میں کیا کروں ۔۔۔ میں کیا کروں۔۔۔
پھر میرے اندر ہی ایک اور آواز آئی ۔۔۔
خدا نے شہلا کی عزت محفوظ رکھی ہے۔۔ ۔۔ اس کی عزت اور حرمت کی خاطر ان سب کو معاف کردے

یہ خیال یا آواز گویا ۔۔۔ میرے اندر بازگشت کرنے لگی ۔۔
اکمل بھی خاموش تھا۔۔۔ اور میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔

میں نے بالاخر کہا
ٹھیک ہے۔۔۔ میں سب کو معاف کرتا ہوں ۔۔
آپ کو بھی اور شوکی کو بھی۔۔۔

باقی بلوبھائی آئیں گے تو ان کو بھی یہی کہوں گا۔۔۔
لیکن میں اب یہاں نہیں رکوں گا۔۔۔

بس اتنا کہ کر میں اٹھ آیا۔۔

کمرے میں آکر میں بہت دیر تک شہلا کو دیکھتا رہا۔۔۔
اس کے پھول جیسے چہرے پر اب جیسے مردنی سی چھائی تھی۔۔۔
میں بہت ٹوٹ کر رویا۔۔۔
لیکن یہ رونا۔۔۔۔۔ بے نام تھا۔۔۔ کہیں کہیں اندر یہ تسلی بھی در آتی تھی کہ
اللہ کریم سب کچھ بہتر کردے گا۔۔۔ کہیں اپنی کوتاہی کا احسا س ہوتا تھا، شہلا کی توہین
کا خیال آتا تھا۔۔۔ تو ہوک اٹھتی ۔۔۔
جی چاہتا تھا۔۔۔ شہلا کو ابھی لےجاؤں کہیں دور ۔۔ ۔۔ کسی پرسکون اور محفوظ وادی میں۔۔
جہاں بس میں ہوں اور شہلا ہو۔۔۔

مجھے نہ کھانے کا ہوش تھا نہ پینےکا۔۔

شام کو اکمل آیا اور اس نے مجھے کہا کہ آؤ ۔۔ بلوبھائی آگئے ہیں۔۔
بہت غصے میں ہیں ۔۔ اپنے آدمیوں سے شدید ناراض ہوئے ہیں۔۔۔ اور انہیں مارا ہے
لیکن میں نے انہیں پوری تفصیلات سے اور تمھارے معاف کردینی والی بات سے بھی آگاہ کیا ہے

وہ کہتا ہے۔۔ میں سب کی بوٹی بوٹی کردوں گا۔۔۔ انہوں نے شہلا بہن کی نہیں میری توہین کی ہے۔۔

بہرحال تم آؤ اور انہیں بتاؤ ۔ تمھارا کہناہی وہ مانیں گے۔۔۔

میں بہت بے دلی سے بلوبھائی کے پاس گیا ۔۔۔ وہ آئے اور مجھے گلے لگا لیا۔۔۔
میں نے پہلی بار اس کی آنکھ میں آنسو دیکھے۔۔۔
مجھے شدید حیرت ہوئی ۔۔
بہت دیر تک وہ کچھ نہ بول سکے ۔۔
نظر جھکائے۔۔۔ کھڑے رہے۔۔
پھر کہا
جمیل تو میرے چھوٹے بھائی کی مانند ہے۔۔
اور شہلامیری بہن کی طرح ۔۔
یہاں میرے ڈیرے پر ہر مہمان میری عزت ہوتا ہے۔۔۔
پر میرے ساتھیوں نے آج میرا سب مان توڑ دیا۔۔۔ہے۔۔

میں ان میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔
میں نے اسے فورا ہی ٹوک دیا

نہیں بلوبھائی ۔۔۔
جو ہوا ۔۔ سو ہوا۔۔۔ میں نے ان سب کو معاف کردیا ہے
تو بھی معاف کردے۔۔

بہت مشکلوں سے اسے ٹھنڈا کیا۔۔۔
ان لوگوں کا رویہ دیکھ کر میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوا۔۔

یہ لوگ بظاہر معاشرے کی نظروں میں برے ہیں۔۔۔ ان میں خامیاں بھی ہیں
لیکن ان کے اندر بھی دل ہے۔۔
ان کے بھی کچھ اصول ہیں۔۔۔
اگر ان کو درست رہنمائی ملے تو یہ بھی معاشرے کا مثبت کردار بن سکتے ہیں

آخرکوئی نہ کوئی وجہ ہوگی جس نے انہیں غلط کاموں کی طرف راغب کیا ہوگا۔۔۔
میں سوچتا جا رہا تھا۔۔۔۔

شہلا کو بہت رات گئے جاگ آئی ۔۔۔ میں نے زبردستی اسے دودھ پلایا اور کچھ کھانے کو دیا

وہ بہت دیر تک خاموش رہی۔۔ میں نے بھی اسے زیادہ نہ بلایا۔۔۔
پھردوبارہ اسے دوائی دی جس کے بعد وہ پھر سوگئی ۔۔۔
میں تو اس کے پاس بیٹھا ساری رات ہی جاگتا رہا۔۔۔

پتہ نہیں سوچیں کہاں سے کہاں لے جاتی رہیں۔۔۔
مجھے اپنے بچپن کی ایک بات باربار یا د آرہی تھی۔۔۔

ہمارے ہاں ہمارے ایک رشتہ دار دورپار کے گاؤں سے آئے ہوئے تھے
ان کی بچے میرے ہم عمر ہی تھے۔۔ کچھ اور کزن بھی آگئے تھے
ہم سب لوگ اپنے گھر کے کھلے صحن میں کھیل رہے تھے
کبھی کچھ کبھی کچھ
میرے ان رشتہ داروں کی ایک بچی بہت تیز طرار تھی۔۔۔
بہت بولتی تھی۔۔۔ تھی تو سانولی سی پر اچھی دکھتی تھی۔۔
اس نےکہا کہ دولہا دولہن کا کھیل کھیلتے ہیں
میں نے یہ کھیل پہلی دفعہ سنا اور پوچھا کہ کیسے کھیلتے ہیں
بچی کہنے لگی
اس میں ایک بچہ دولہا بنے گا۔۔۔ اور ایک بچی دولہن
اور دوسرے بچے ان کے رشتہ دار بنیں گے۔۔۔
پھر ان کی شادی ہوگی ۔۔۔
خوب ناچ ہوگا ۔۔ گانا ہوگا۔۔۔
بہت مزا آئے گا۔۔۔
سب بچے بہت ایکسائٹڈ ہوگئے۔۔۔
لیکن ۔۔۔


اب بچوں کا آپس میں فیصلہ نہ ہورتھا کہ کون دولہا بنے گا
کون دلہن
وہ بچی کہنے لگی ۔۔۔
جمیل دولہا بنے گا اور میں دولہن۔۔۔
میں نے تو فورا ہی انکار کردیا
اور کہا کہ مجھے اچھا نہیں لگتا۔۔۔
پتہ نہیں شاید شرما گیا تھا۔۔۔
لیکن سب بضد ہوگئے ۔۔۔
میں پھر بھی نہ مانا ۔۔
اس پر وہ اس بچی نے جو کہاتھا۔۔۔
وہ مجھے آج بھی یا د تھا

بہت منہ پھٹ سی بچی تھی۔۔۔
کہنے لگی ۔۔۔
چھوڑو اس کو۔۔۔
یہ شہزادہ ہے نا۔۔۔ کسی شہزادی کا دولہا بنے گا۔۔۔
میں تو کالی ہوں نا۔۔۔اس لئے میرا دولہا نہیں بن رہا
سب بچے ہنسنے لگے تھے۔۔۔
مجھے اس بچی کے الفاظ میں کچھ ایسا لگا کہ
میں نے اسے دیکھا ۔۔۔
اس کی آنکھوں میں کچھ عجیب رنگ اترا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جیسے پہاڑوں میں چشمے ہوتے ہیں۔۔۔
پتھروں سے پانی رستا ہے۔۔
لیکن کچھ چشمے ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے پانی باہر نہیں رس پاتا۔۔
بس پتھروں کو ہی گیلا کرتا رہتا ہے۔۔ اور پتھروں کا رنگ بدل جاتا ہے۔۔
اس بچی کی آنکھیں بھی ان پتھروں کی مانند تھیں۔۔

مجھ سے دیکھا نہ گیا۔۔
میں توکھیل چھوڑ کر بھاگ گیا۔۔۔

آج یہ بات سوچ کر مجھے ایسے لگا۔۔۔
وہ بچی یہ بات کیسے کہ گئی۔۔
پر شہلا کو دیکھ کر مجھے لگا وہ سچ ہی کہتی تھی
یہ واقعی شہزادی تھی۔۔۔
لیکن ۔۔۔ اپنے محل سے دور۔۔۔۔
میں بھی ایک شہزادہ ۔۔۔ لیکن
اپنی سلطنت سے دور۔۔۔
پھر مجھے گھر یا د آنے لگا۔۔۔
امی یاد آنےلگی ۔۔۔
وہ امی جو میری ایک ایک کروٹ سے جاگ اٹھتی تھی
وہ امی جومیرے ایک ایک سانس کے زیروبم سے آشنا تھی۔۔۔۔۔

اب پتہ نہیں کس حال میں ہوگی۔۔
میرا اندر ابلنے لگا ۔۔۔ کھولنے لگا۔۔۔
گھٹن ہونے لگی ۔۔۔
میں گھبرا کر باہر نکل آیا۔۔۔
اشک خود بخود ہی رستے رستے میرا چہرہ گیلا کرنے لگے۔۔۔
باہر صحن میں چاندنی پوری آب وتاب سے چہارسو
بکھری ہوئی تھی ۔۔۔
میں نے اوپر نظر اٹھائی۔۔۔
چاند۔۔۔
مکان کی چھت سے مجھے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔

یہ چاند تو میرا بہت پرانا آشنا تھا۔۔۔
کتنی دوستی تھی میری اس کے ساتھ۔۔
میرے گھرکی چھت پر روز اترتا تھا۔۔
مجھے کتنا اپنا اپنا سا لگتا تھا۔۔۔

میں بچپن میں سوچتا تھا۔۔۔
چاند میرا دوست ہے۔۔
روز میرے گھر کی چھت پر مجھ سے ملنے آتا ہے۔۔
میں بھی روز اسے ملنےجاتا تھا۔۔۔

آج چاند کو بہت دنوں بعد غور سے دیکھا تو ایسے لگا۔۔
وہ بھی گلہ کررہا ہو۔۔

یار کہاں گم ہوگئے ہو۔۔ جمیل
سب اپنوں کو بھول گئے ہو کیا؟


مجھے ایک بہت پرانی غزل یا د آگئی ۔۔۔

ہم تو ہیں پردیس میں لیکن دیس میں نکلا ہوگا چاند
اپنے گھرکی چھت پہ کتنا تنہا تنہا ہو گا چاند
جن آنکھوں میں کاجل بن کر تیرتی کالی راتیں ہوں
ان آنکھوں میں آنسوکا اک قطرہ  جیسا ہوگا چاند
چاند بنا ہر دن یوں بیتا جیسے یگ بیتے ہوں
میرے بنا کس حال میں ہوگا، کیسا ہو گا چاند

میں اور چاند بہت دیرتک ایک دوسرے کے سنگ روتے رہے
صبح کی اذان ہوئی تو وضو کرکے نماز پڑھی اور سجدے میں گرکر
اپنے اللہ سے بہت دعائیں مانگیں

جب شہلا نیند سے اٹھی تو کافی بہتر تھی۔۔

ناشتہ وغیرہ کیا ۔۔
میری توقعات کے برعکس شہلانارمل لگ رہی تھی
میری دعاؤں کا اثر تھا یا دوائی کا۔۔

مجھے تو بہت خوشی ہوئی ۔۔
میں نے اس سے ادھر ادھر کی باتیں کیں۔۔
پھر اسے کہا کہ ہم نے آج ہی یہاں سے نکل جانا ہے
اس پر وہ فورا ہی تیار ہوگئی
میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کیسا محسوس کررہی ہے
تو اس نے کہا کہ کمزوری تو محسوس ہورہی ہے
لیکن میں ٹھیک ہوں
میں نے اسے بتا یا کہ فی الحال میرے ذہن میں کچھ واضح نہیں
میں بس یہاں سے نکلنا چاہتا ہوں۔۔۔
کہاں جانا چاہتاہوں کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔

وہ کچھ سوچنے لگی ۔۔۔ اور کہا
میں سوتے میں ایک بہت اچھا خواب دیکھ رہی تھی
میں ایک باغ میں ہوں جہاں پھول اور تتلیاں ہیں
اور میں وہاں بہت خوش ہوں ۔۔۔
اور پھر میںنے یہ دیکھا کہ میں اور تم ایک ریلوے سٹیشن پر ہیں
اور اچانک ایک گاڑی آتی ہے ہم اس میں سوار ہوتے ہیں
وہ گاڑی راول پنڈی جا رہی ہوتی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔
بس آگے یاد نہیں آرہا ۔۔۔

میں ہنسنے لگا۔۔

اچھا۔۔۔ اس کا مطلب ہے تم تو کوئی پہنچی ہوئی شے ہو
تمھیں تو خواب میں سفر کے اشارے ملنا لگے ۔۔۔

خیرتم نے میری الجھن دور کردی ۔۔
ہم اللہ کا نام لے کر راولپنڈی ہی چلتے ہیں۔۔۔

وہاں کسی ہوٹل میں رہ لیں گے۔۔۔۔ وقتی طور پر۔۔

لیکن یہ ریل گاڑی سے تونہیں ۔۔۔ ہم یہاں سے
ویگن میں سفر کریں گے۔۔

وہ کہنے لگی ۔۔۔ نہیں جمیل ۔۔
ہم ریل گاڑی سے ہی چلیں گے۔۔۔

اس کی بات بھلا میں کیسے ٹال سکتا تھا۔۔
سو حامی بھرلی ۔۔۔

پھر بلوبھائی سے ملا ۔۔۔ اکمل بھی وہیں تھا۔۔
انہیں اپنے پروگرام کا بتایا۔۔
تو بلوبھائی ایک دم اچھل پڑا۔۔۔
اور کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا ۔۔
لگتاہے تم بہت ناراض ہو۔۔
میں نے اور اکمل نے اسے سمجھایا کہ اب یہاں رہنا
ممکن نہ ہوگا۔۔۔
بہت مشکلوں سے اسے راضی کیا۔۔

بعد میں اکمل سے علیحدگی میں بات کی
کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی چلے۔۔
اس نے کہا
جمیل ہم دوست ہیں ، رہیں گے
تم جانتے ہو ہم ایڈونچر کے چکرمیں گھر سے نکلے تھے
لیکن بھول بھلیوں میں گم ہوگئے ہیں
میں توایک نظریے کا قائل ہوں کہ پیسا ہے تو سب کچھ ہے
تم شہلا کے چکر میں پڑ کر اب کچھ بھول گئے ہو

مجھے پتہ ہے۔۔ اب اس حوالے سے بات کرنا وقت کا ضیاع ہی ہوگا

لیکن یہ بھی طے ہے کہ ان حالات میں میرا تمھارا ساتھ اب الجھنوں کا
باعث بنے گا۔۔۔
میں جس فیلڈ میں آگیا ہوں تم اس میں فٹ نہیں ہو
اور جس طرف تم چلے گئے ہو وہاں سے تمھاری واپسی مشکل ہے
بہتر یہی ہے کہ اب تم اکیلے ہی راولپنڈی جاؤ۔۔
ہاں اگرکہیں میری ضرورت پڑی تومجھے آواز دینا
میں ضرور پہنچوں گا۔۔

مجھے یہ سب اچھا تو نہ لگا۔۔ لیکن اکمل کی باتیں مبنی بر حقیقت تھیں
میں نے تھوڑی دیر غور کیا تو مجھے بھی یہی بہتر لگا کہ
میں اب اکمل سے الگ ہی ہو جاؤں ۔۔

بلوبھائی نے کہا کہ اگر آپ ریل سے جانا چاہتے ہیں تو میں اپنی گاڑی میں
آپ کو ریلوے سٹیشن تک چھوڑ آؤں گا۔۔۔

میں نے سب لوگوں کے نمبر اور پتے لئے
اکمل نے اپنے کچھ دوستوں کے نمبر اور پتے نوٹ کروائے کہ بوقت ضرورت
رابطہ ہوسکے۔۔
پھر ہم تیاری کرکے وہاں سے نکل آئے
میں نے اپنے چہرے میں میک اپ کے ذریعے کچھ تبدیلی کر تھی۔
شہلا نے نقاب اوڑھ لیا۔۔۔

بلوبھائی نے راولپنڈی کے ٹکٹ بھی لے دیے اور زبردستی کافی سارے پیسے بھی دیے

ہم اللہ کا نام لے کر ٹرین میں سوار ہو گئے۔۔

جس ڈبے میں جگہ ملی وہاں ہمارے سامنے پہلے ہی ایک فیملی کے لوگ براجمان تھے
گرچہ سفر تو لمبا نہ تھا ۔۔ لیکن برتھ بھی لے لی تھی۔۔ کہ شہلا اگر لیٹنا چاہے
جو فیملی ہمارے کیبن میں تھی۔۔۔ اس میں دوبچیاں ایک عورت اورایک بزرگ تھے

میں نے ایسے ہی سرسری نظر سے دیکھا۔۔۔

بچیوں کے چہرے پر مجھے کچھ انوکھا سا محسوس ہوا۔۔

لیکن ہم لوگ بیٹھ گئے ۔۔ شہلا کو میں نے کھڑکی کی طرف بٹھایا۔۔۔
بزرگ میرے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔۔۔

شہلا اس دوران حتی الوسع کافی محتاط رہی ۔۔۔
اور اپنے دھیان میں ہی بیٹھی رہی۔۔۔

جب ٹرین چلی تو ۔۔۔۔۔ میں نے شہلا سے پوچھا کہ اگروہ کہے تو
برتھ پر لیٹ جائے اس نے کہا
نہیں میں ادھر ہی ٹھیک ہوں۔۔۔

میں سوچنے لگا۔۔۔
صبح مجھے شہلا کہ رہی تھی کہ وہ خواب میں ٹرین میں سفر کر رہی تھی
اور اب پتہ نہیں کیوں مجھے یہ سفر بھی خواب لگنے لگا۔۔

یہ سفر جس کی کوئی واضح منزل میرے ذہن میں نہ تھی۔۔
راولپنڈی پہنچ کر کیا ہوگا۔۔۔ کیسے ہوگا
میں کچھ نہ جانتا تھا۔۔۔
لیکن اب میں اتنا پریشان نہ تھا۔۔
جیسے ہی گاڑی لاہور شہرسے نکل کر مضافات میں پہنچے تو شہلا کی آنکھیں بند ہونے لگیں
میں نے پوچھا نیند آرہی ہے ۔۔
کہنے لگی نہیں نیند تو نہیں بس ویسے ہی آنکھیں بوجھل ہورہی ہیں

ہماری باتیں شاید سامنے بیٹھی خاتوں نے سن لیں ۔۔
وہ کہنے لگی

بیٹا اگر کہوتو ہمارے پاس چائے ہے۔۔۔ وہ دے دوں

میں نے جھجھکتے ہوئے معذرت کی ۔۔

تو اس خاتوں اور اس کے ساتھی بزرگ نے کہا کہ
کوئی بات نہیں بیٹا پی لو۔۔۔ ہم ہمیشہ سفر میں زیادہ چائے یا قہوہ بنا کر لاتے ہیں
تاکہ اور لوگ بھی شریک ہوسکیں۔۔

شہلا نے شرگوشی میں کہا کہا واقعی اس کا چاہے پینے کو دل کررہاہے
میں نے خاتون سے کہا کہ چلیں آپ پلا دیں۔
گھرکی بنی چائے بہت مزے کی تھی۔۔
پھر آہستہ آہستہ تعارف ہوا۔۔
پتہ چلا کہ وہ لوگ راولپنڈی ہی کے ہیں لاہور میں اپنے ایک عزیز کے پاس آئے تھے
خاتوں ہمارے بارے میں کافی متجسس لگ رہی تھی۔۔
اس نے کافی سوال کیے ۔۔
میں نے انہیں کچھ سچ کچھ جھوٹ بتا یا
یہ میری کزن ہے۔۔ ہم لوگ راولپنڈی میں پڑھتے ہیں۔۔
یہاں اپنے گھر آئے تھے اب واپس راولپنڈی جا رہے ہیں
خاتون کہنے لگی۔۔
آپ لاہور میں رہتے ہو تو راولپنڈی میں کیوں پڑھتے ہو۔۔
میں تو پھنس ہی گیا۔۔
اس پر شہلا نے میری مدد کی
اور کہا کہ ہم لوگ میڈیکل کالج میں پڑھتے ہیں۔۔۔
لاہور میں داخلہ نہ مل سکا ۔۔
لیکن خاتون کچھ مطمئن نظر نہ آئی ۔۔
ایک بات میں نے محسوس کی کہ مجھے خاتون کے لہجے میں
شک کے بجائے صرف تجسس ہی نظر آیا۔۔
اور اس کے چہرے میں بھی کچھ خاص بات لگی ۔۔
کیا خاص بات تھی ۔۔
میں سمجھ نہ پا رہا تھا۔۔
پھر ہماری کافی باتیں ہوتی رہیں ۔۔۔ شہلا بھی وقتا فوقتا حصہ لیتی رہی ۔۔

اس دوران دونوں بچیاں زیادہ وقت خاموش رہیں
ان کی عمریں دس سے بارہ سالوں کے درمیان تھیں۔۔۔

پھر میں نے محسوس کیا ۔۔
شہلا اس خاتوں سے زیادہ باتیں کرنے لگی۔۔
اس سے فیملی کے حوالے سے سوال پوچھنے لگی۔۔

میں الجھن میں پڑ گیا۔۔۔
مجھے شہلا کو روکنا چاہیے ۔۔
زیادہ بے تکلفی ہمارا پول نہ کھول دے۔۔
لیکن میں شہلا کو با وجود خواہش کے نہ روک سکا۔۔

گاڑی جب لالہ موسی پہنچی تو وہاں کچھ دیر رکی
میں نے سوچا یہاں سے کچھ کھانے کےلئے لے لوں
شہلا سے بات کی تو اس نے کہا کہ اس کا کچھ کھانے کو دل نہیں کررہا

اس دوران خاتون نے شاید ہماری بات سنی ۔۔
اس نے اپنے سامان کی پٹاری کھولی اور کھانا اور فروٹ نکال لیا ۔۔

ہماری ضد کے باوجود اس نے ہمیں کھانے میں شریک کیا۔۔

گرچہ میں محتاط رہنا چاہتا تھا۔۔
لیکن پھر بھی مجھے کچھ ایسا لگ رہا تھا ۔۔۔ کہ
جو کچھ ہورہا ہے وہ سب ٹھیک ہورہا ہے۔۔

کھانے کے وقت شہلا نے جب نقاب اتارا تو خاتون اسے بہت غور سے دیکھنے لگی
اور کافی دیر تک دیکھتی رہی۔۔۔
اس کی آنکھوں عجیب سی چمک تھی۔۔۔

لیکن وہ بولی کچھ نہیں ۔۔

مجھے اس کا یوں شہلا کو دیکھنا۔۔۔
خطرے کی گھنٹی لگا۔۔۔

میں چوکنا ہوگیا۔۔۔

سچی بات تو یہ ہے کہ میں اب پہلے سے بہت زیادہ پراعتماد تھا

میں اگر اکیلے ہی شہلا کو لے کر راولپنڈی کی طرف چل پڑا تھا
تو یہ میرا اپنے رب اور اپنی ذات پر بھروسہ ہی تھا۔۔۔

میں ایک عام سا دیہاتی لڑکا نہ تھا۔۔۔ مجھے جہاں شہلا کی محبت نے
مضبوط کیا وہیں بلوبھائی کی ٹریننگ نے بھی مجھے سیلف ڈیفنس کے ساتھ
ساتھ ہر قسم کے حالا ت کا سامنا کرنے کا ہنر بھی سکھایا تھا۔۔۔

کھانا بھی اچھا تھا۔۔۔ اور ان لوگوں کا رویہ تو بہت ہی اچھا تھا۔۔۔

میں بہت سوچتا رہا کہ آخر کیا بات ہے جومجھے اس خاتوں، اسکی بچیوں کے
حوالے سے عجیب محسوس ہورہی ہے۔۔۔
چونکہ میں شہلا کے حوالے سے بہت خدشات رکھتا تھا۔۔۔
جن حالا ت سے اب تک گذرا تھا۔۔۔ ان کا منطقی نتیجہ یہی تھا کہ مجھے کسی پر
اعتماد نہیں کرنا۔۔۔
چنانچہ میری سوچ اسی حوالے سے محدود رہی۔۔۔

شہلا جس انداز سے اس خاتون سے باتیں کررہی تھی۔۔ وہ میرے لئے تشویشناک تھا
لیکن میں یوں سب کی موجودگی میں اسے روک کر یا ٹوک سب کے سامنے اپنے آپ کو
مشکوک نہیں بنا نا چاہتا تھا۔۔

کھانے کے بعد خاتون نے شہلا کے حوالے مزید باتیں شروع کردیں۔۔
اس کے ابو کیا کرتے ہیں۔۔۔
وہ کیا شروع سے ہی لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔۔

اس کاکوئی رشتہ دار راولپنڈی میں تو نہیں رہتا
وغیرہ وغیرہ

شہلا پتہ نہیں کیوں اس کی باتوں کا جواب دیے جارہی تھی۔۔

اس نے بتا یا کہ اس کی امی کا اسے کوئی پتہ نہیں کیوں کہ اس کے
ابو نے دوسری شادی کر لی ۔۔ اور اسکی امی کو پتہ نہیں طلاق دی تھی یا نہیں
وہ کچھ نہیں جانتی ۔۔۔
اس نے امی کو بہت چھوٹی عمر میں دیکھا تھا

اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کی ایک اور چھوٹی بہن بھی تھی ۔۔ لیکن وہ اسکی امی کے
پاس ہی رہ گئی ۔۔
اس کا اپنی امی سے کوئی رابطہ نہ تھا۔۔

میں شہلا کی باتیں سن کر حیران ہوتا رہا۔۔۔ وہ کیا کررہی ہے
کیوں ایسی باتیں کررہی ہے۔۔

گاڑی کسی جگہ رکی تو میں اسے اٹھا کر ایک طرف لے گیا۔۔
اور اسے کہا کہ وہ بے وقوفی کررہی ہے
تم خاموش بیٹھو اور اس عورت سے ایسی باتیں نہ کرو

لیکن اس نے کہا

جمیل
میں یہ سب باتیں جان بوجھ کر رہی ہوں۔۔۔
پتہ ہے کیوں ؟

مجھے ایسے لگتا ہے۔۔۔ یہ عورت میری کوئی رشتہ دار ہے
بلکہ ۔۔۔
بلکہ جمیل سچ پوچھو تو اس میں مجھے اپنی امی کی جھلک نظر آئی ہے

تم نے اسے اور اس کی بیٹیوں کو غور سے دیکھا ہے۔۔۔

کیا کچھ محسوس ہوا ہے۔۔۔

میرے ذہن میں ایک دم چھپاکا ہوا۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔

میں اچھل پڑا ۔۔۔

شہلا ۔۔۔ میں بہت دیر سے سوچ رہا تھا۔۔
مجھے ان لڑکیوں اور اس خاتون میں کچھ عجیب سا دکھ رہا تھا۔۔۔

اب میں سمجھ گیا وہ عجیب کیاہے۔۔۔

ان لڑکیوں کی شباہت شہلا سے مماثلت رکھتی تھی۔۔۔

میرے وجود میں ایک سنسنی دوڑ گئی ۔۔۔

کیا پتہ یہ شہلا کے ہی گھر والے والے ہوں۔۔۔۔

شہلا کے چہرے پر موجود چمک بھی بتا رہی تھی کہ وہ
بھی ایسا ہی سوچ رہی ہے۔۔

میں نے اس کے کندھے کو ہلکے سے تھپتھپایا۔۔
اسے حوصلہ دیا ۔۔۔
شہلا اللہ بہت رحیم و کریم ہے۔۔۔
وہ بہت بڑا مسب الا سباب ہے۔۔

تم حوصلہ رکھو۔۔۔
میرا مالک بہترہی کرے گا۔۔۔

لیکن مناسب یہی ہے کہ ابھی اس موضوع کو زیادہ نہ چھیڑا جائے
تم کسی طرح ان کا اعتماد حاصل کرو۔۔
یہ موضوع راولپنڈ ی میں کسی محفوظ جگہ پر بیٹھ کر چھیڑا جا سکتا ہے

شہلا میری بات کی تہ تک پہنچ گئی
ہاں جمیل تم ٹھیک کہ رہے ہو ۔۔
ہمیں ابھی محتاط ہی رہنا چاہیے۔۔
سفر میں اس حوالے زیادہ بات کرنا دوسروں لوگوں کو ہماری طرف متوجہ کرسکتا ہے

ا سکے بعد ہم واپس سیٹ پر آگئے

شہلا اور اس فیملی کی گفت وشنید ہوتی رہی ۔۔
میں نے بزرگ سے باتیں شروع کردیں۔۔
راولپنڈی پہنچتے پہنچتے۔۔ ہم کافی حد تک ۔۔۔
ایک دوسرے سے بے تکلف ہو چکے تھے۔۔


جب پنڈی سٹیشن پر اترے تو میں بہانہ تلاش کررہا تھا کہ کسی طرح ان کا پتہ لے لیا جائے

لیکن قدرت نے ایک موقع فراہم کردیا۔۔۔

اس خاتون نے شہلا سے پوچھا کہ تم لوگ کہاں ٹھہرے ہوئے ہو۔۔
تو اس نے کہا کہ ہوسٹل میں
اس پر اس خاتون نے اسے کہا کہ اگر تم اعتماد کرو۔۔۔ تو ہمارے ہاں آج رات کا کھانا کھا کر چلی جانا۔۔

شہلا نے میری طرف دیکھا۔۔۔
اور کچھ جھجھکی ۔
میں یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہتا تھا۔۔۔

میں نے فورا ہی کہا۔۔۔
کوئی بات نہیں شہلا ۔۔۔
آنٹی اتنے خلوص سے دعوت دے رہی ہیں تو ضرور ہمیں دعوت قبول کرلینی چاہیے

آنٹی نے بہت تشکر آمیز نظروں سے میری طرف دیکھا اورکہا

بیٹا ایسا کرو تم بھی آجاؤ۔۔۔

شاید تمھاری بغیر اسے دعوت قبول کرنا مشکل لگ رہا ہے۔۔۔

ہم لوگ ان کے سا تھ ہی ان کے گھر پہنچ گئے۔۔
ان کا گھرراولپنڈی شہر کے اندورنی آبادی میں واقع تھا۔۔
پرانا لیکن اچھا کھلا گھرتھا۔۔

شہلا بہت بے چین نظروں سے ، بہت پیاسی نظروں سے گھر کو دیکھ رہی تھی۔۔

اس کی بے چینی ، اس کا اضطراب مجھے بے کل کر رہا تھا۔۔۔

میں نے سرگوشی سے پوچھا ۔۔۔

شہلا کیا بات ہے۔۔۔
اس کی آنکھیں چھلکنے لگیں۔۔۔

جمیل ۔۔۔ میں دھوکہ نہیں کھا سکتی ۔۔۔
یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔
میرا ہی گھر ہے۔۔۔

پھروہ اندر کی طرف بھاگی ۔۔۔
اور آنٹی سے چپک گئی۔۔۔

امی ۔۔۔ امی۔۔۔

پھر وہ آنٹی کے قدموں میں گری اور بے ہوش ہوگئی۔۔

سب لوگ حیرت و استعجاب سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے



میرے لئے بھی یہ لمحات بالکل بے خودی کے تھے

مجھے اندازہ نہ تھا کہ شہلا اچانک ہی جذبات کی شدت کو چھولے گی

سوائے میرے اس گھرمیں کسی فرد کو پتہ نہ تھا کہ شہلا کو ہوا کیا؟

چند لمحوں بعد جب وہ حیرت و استعجاب سے باہر نکلے تو سب سے پہلے آنٹی نے
قدموں میں گری شہلا کو اٹھایا
میں بھی دوڑ کر آگے بڑھا۔۔

ہم نے مل کر شہلا کو ایک بیڈ پر لٹایا۔۔۔

میں نے انکل سے کہا
پلیز فورا کسی ڈاکٹر کو بلائیں۔۔۔

لڑکیوں سے کہا کہ وہ شہلا کے تلوے کو ملیں۔۔۔

عجیب سی کیفیت سے گذر رہا تھا میں ۔۔۔

خوشی اور اطمینان کی شرشاری میں پورا وجود گویا نہایا ہوا تھا۔۔۔

میں شہلا کی بے ہوشی سے پریشان تو ہو گیا ۔۔
لیکن جانتا تھا جذبات کی شدت کو سہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں

وہ لڑکی تو کن خوفناک حالا ت سے گذر کر آئی تھی۔۔۔
اس کی ہمت تھی وہ ابھی تک حوصلہ نہ ہاری تھی۔۔۔
پوری طرح سلامت تھی۔۔۔

میں نے آنٹی کو حوصلہ دیا۔۔۔

اتنے میں ڈاکٹر آگیا ۔۔۔ اس نے چیک اپ کیا۔۔۔

بلڈ پریشر بہت لو ہو گیا تھا۔۔۔
فوری طور ڈرپ لگائی گئی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد شہلا کی حالت سنبھلنا شروع ہوگئی۔۔۔

میرے دل میں دعاؤں کا ورد جاری تھا۔۔۔

یااللہ اس لڑکی نے بہت دکھ جھیلے ۔۔
اپنے حبیب کے صدقے اسے زندگی دے، ہمت دے۔۔
خوشیاں دے۔۔۔


کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے شہلا کی حالت تسلی بخش قرار دی۔۔۔

اس نے کسمکانا شروع کر دیا۔۔۔


میں باہر آگیا۔۔۔
تھوڑی بعد انکل اور آنٹی کو بھی بلا لیا۔۔۔

میں چاہتا تھا انہیں سچ سے آگاہ کردوں۔۔

شہلا کی طرف سے اطمینان ہو گیا ۔۔۔
وہ تھوڑی دیرکے لئے ہوش آئی ۔۔۔
اسے پانی پلایا گیا۔۔۔
لیکن ڈرپ میں ادویات کے زیر اثر پھر سو گئی۔۔

میں نے آنٹی اور انکل سے پوچھا

کیا آپ لوگ مجھے بتائیں گے۔۔۔
آپ کی کوئی بیٹی بچپن میں گم ہو گئی تھی
آنٹی کی تو چیخ نکل گئی۔۔
وہ ہچکیاں لے کر رونے لگی ۔۔۔

چھوڑو لمبی باتوں کو بیٹا جمیل۔۔
میرا دل پھٹ جائے گا۔۔۔

بس مجھے بتا ؤ ۔۔۔
شہلا نے اپنے والدین کے بارے میں جوبتایا تھا
وہ سب جھوٹ تھا نا؟

ہاں ۔۔۔ آنٹی اصل بات یہ ہے کہ وہ نہیں جانتی اس کے ماں بات کون ہیں

ہائے میری بیٹی ۔۔۔۔
آنٹی بھاگ کر شہلا کر طرف گئی اور بے اختیار اسے چومنا شروع کردیا۔۔

اس کی بہنوں کو جب چلا کہ شہلا ان کی بڑی بہن ہے۔۔ تو
وہ بے اختیار ہو گئیں ۔۔
انکل بھی شہلا کو دیکھے جارہے تھے اور روئے جارہے تھے
میں نے بہت مشکلوں سے انہیں سنبھالا۔

آنٹی پلیز۔۔۔ شہلا بہت تکلیف دہ حالات سے گذری ہے
اسے آرام کرنے دیں۔۔۔

کافی دیربعد جب سب لوگ کچھ پرسکون ہوئے ۔۔

میں نے انہیں تھوڑے بہت حالات بتائے
لیکن۔۔۔۔ میں نے شہلا کی بتائی ہوئی کہانی کو ہی استعمال کیا۔۔۔

انہیں یہی ظاہر کیا وہ کسی طرح ایک اچھی فیملی کے پاس پہنچ گئی تھی
جنہوں نے اسے پالا۔۔۔

پھر اپنے حوالے سے انہیں بتا یا ۔۔۔

لیکن انہیں ان باتوں کچھ زیادہ دلچسپی نہ تھی۔۔۔

وہ شہلا کو پاکر پھولے نہ سمائے جارہے تھے۔۔۔

آنے والے دن خوشیوں بھرے دن تھے۔۔

شہلا کا رنگ نکھرنے لگا۔۔
اس کے چہرے پر بکھرتے قہقہے دیکھ کر
میں خوشی سے سرشار ہو جاتا۔۔

میں ابھی ان کے گھر کے ایک فرد کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔۔
اور انہیں میری پورے حالا ت کا پتہ چل چکا تھا۔۔
میری اور شہلا کی محبت اور میرے گھرسے بھاگنے کا سب قصہ

آنٹی اور انکل نے مجھے کئی دفعہ سمجھایا کہ میں اب اپنے والدین کے پاس چلا
جاؤں۔۔۔
وہ کہ رہے تھے۔۔
بیٹا ہمیں اندازہ ہے کہ تمھارے والدین کس کرب سے گذر رہے ہوں گے۔۔۔

میں بھی اب یہی سوچ رہا تھا لیکن شرمندگی دامن پکڑ لیتی
کس منہ اپنے پیاروں کا سامنا کروں گا۔۔۔

آخر انکل اور آنٹی نے ایک دن کہا وہ پوری فیملی میرے ساتھ چلی گی۔۔
اور میرے گاؤں مجھے چھوڑ کر آئیں گے۔۔

ساتھ ہی وہ میرے اور شہلا کے حوالے سے بات کریں گے۔۔

آخر ایک دن ہم سب راولپنڈی سے چلے ۔۔۔
اور اپنے گاؤں پہنچ گئے۔۔

ان کیفیات کو رقم کرنا میرے بس میں نہیں ۔۔
جب مجھے ماں نے اپنے سامنے پایا ۔۔۔
وہ منظرالفاظ میں سمویا ہی نہیں جا سکتا ۔۔

بس محسوس کیا جا سکتا ہے۔۔۔

جذبات کے آگے الفاظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔

میں بھی کتنا بھولا تھا۔۔۔
جنت چھوڑ کے بھاگ نکلا ۔۔

لیکن نہیں شاید یہ تو آدم کی شرست میں ہے۔۔

اور میرے لئے تو یہ کتنی خوش قسمتی کی بات تھی۔۔
کہ شہلا کی صورت میں ایک تحفہ بھی مل گیا۔۔

ماں کی دعائیںتھیں۔ میرے رب کی رحمت تھی۔۔
میں راہ سے بھٹکا ضرور لیکن ۔۔۔
گم نہ ہوا۔۔۔

شہلا کے والدین نے میرے والدین کو راضی کر ہی لیا۔۔

لیکن میرے والدین کی خواہش کو بھی تسلیم کرلیا گیا۔۔

میں پہلے پڑھائی مکمل کروں گا۔۔۔ پھر۔۔۔ شادی ہو گی۔۔
شہلا تو بھی یہی چاہتی تھی۔۔ اسے بھی آگے پڑھنے کا شوق تھا۔۔۔
میں نے کالج میں داخلہ لے لیا ہے۔ اس دوران میں نے اکمل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن نہ ہوسکا۔ البتہ اس کا ایک پیغام ملا۔ کہ وہ جس راہ پر چل نکلا ہے وہاں سے واپسی اب ممکن نہیں

ایڈونچر ۔ ناولٹ۔ حصہ دوم


آنے والے دنوں میں شہلا کے مکان پرمیرا آنا جانا لگا رہا۔۔۔
اب ہماری بے تکلفی بہت بڑھ چکی تھی۔۔۔
ایک ملاقات میں مجھے شہلا نے اپنی کہانی بھی سنائی
وہ جس خاتون کو امی کہتی تھی ۔۔ وہ اس کی حقیقی ماں نہ تھی۔۔۔
نہ وہ اپنی حقیقی ماں کے بارے میں کچھ جانتی تھی۔۔۔
لیکن اتنا وہ جانتی تھی کہ وہ اس گلی سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔۔۔
نہ وہ اس ماحول میں خوش تھی۔۔
وہ اس ماحول سے نکلنا چاہتی تھی۔۔۔۔
میں اور اکمل اس سلسلے میں اکثر بات کرتے رہتے ۔۔۔

ہمیں اب آغاجی روز کے روز کچھ نہ نقد پیسے بھی دیتے تھے۔۔۔
تنخواہ کی بابت نہ ہم نے پوچھا نہ انہوں نے کوئی بات کی۔۔
ہاں اکمل اب کمیشن پر کام کرنے لگ گیا۔۔۔
وہ کچھ اور کام کی بھی باتیں کرتا تھا۔۔۔ جو وہ ساتھ ساتھ ہی کررہاتھا۔۔
اس نے کبھی اس کی تفصیل نہ بتائی لیکن اس کے پاس پیسے کافی ہوتے تھے۔۔

مجھے تو شہلا کے علاوہ کچھ سوجھتا نہ تھا۔۔۔
لیکن آہستہ آہستہ میں نے محسوس کیا ۔۔ شہلا کی امی کا رویہ اب بدلنے لگا تھا۔۔
ایک دفعہ مجھے کہنے لگی
جمیل بیٹے ۔۔۔
بہت مفت کی توڑ لیں۔۔۔
یہاں خالی جیب آنے والوں کی عزت نہیں ہوتی۔۔۔
تم شہلا کو پسند کرتے ہو تو
اس کے لئے کوئی تحفہ لاؤ۔۔ سونے کی چوڑیا ں بنوا کر لاؤ۔۔۔
اور میرے لئے بھی سونے کی انگوٹھی ۔۔۔

میں نے اکمل سے بات کی ۔۔
وہ ہنسنے لگا۔۔

پھربولا ۔۔
وہ بوڑھی حرافہ اپنی اصلیت پر آرہی ہے۔۔۔
اب تجھے عشق مہنگا پڑے گا۔۔۔بچے

میں تو سنجیدہ تھا۔۔۔۔ کہ کسی طرح بھی ہو۔۔
شہلا کے لئے چوڑیا ں ضرور بنواؤں گا۔۔
لیکن اکمل نے جب حساب لگا کر پیسے بتائے تو
میرے حواس گم ہوگئے۔۔
اتنے پیسے ۔۔۔؟
یہ تو ممکن ہی نہیں۔۔۔

میں شہلا کے پاس گیا تو اسے ساری بات بتا دی۔۔
وہ بھی پریشان ہوگئی ۔۔
کہنے لگی مجھے چوڑیوں کی ضرورت نہیں پر امی مجھ پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ
میں تمھیں کہوں۔۔
ہماری ملاقات تبھی جاری رہے گی جب تم یہ کرو گے۔۔ورنہ میرے لئے بھی
مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔۔
اب تو میں اور پریشان ہوگیا۔۔۔
ہرروز اکمل کو کہتا ۔۔۔ وہ پہلے تو ٹالتا رہا۔۔۔
پھر اس نے کہا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ میں کچھ نہ کچھ کرتا ہوں۔۔۔
چند دن بعد ہی وہ چوڑیا ں ۔۔۔ نیکلس اور کچھ زیور لے آیا۔۔
میں نے بہت پوچھا یہ سب کیسے آیا ۔۔
لیکن اس نے بتا کر نہ دیا ۔۔
کہا
بس آم کھاؤ۔۔۔ پیڑ نہ گنو۔۔
میں سب زیور لے کر جب شہلا کے مکان پر گیا تو
سب کچھ اس کے سامنے رکھ دیا۔۔۔
اس نے کہا۔۔۔ یہ مجھے نہ دو۔۔ یہ سب امی کو دو۔۔
وہ امی کو اندر بلانے گئی۔۔۔۔
اتنے میں اتنے ایک میں سوٹڈ بوٹد نوجوان اندر آیا۔۔
مجھے دیکھ کر کافی گھورتا رہا۔۔
بولا کچھ نہیں۔۔۔
جب شہلا اور اس کی امی آئیں تو وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
شہلا کی امی بھی اسے دیکھ کر گویا نہال ہو گئیں۔۔۔
اور اپنے بندوں کو آوازیں دینے لگیں۔۔۔
کسی کو کچھ لانےکو کہا کسی کو کچھ۔۔۔
ایسے میں ، میں اسے بھول چکا تھا۔۔۔
پھر شہلا نے امی کو میری طرف متوجہ کیا اور بتا یا کہ میں کیا لایا ہوں۔۔۔
وہ دیکتھی رہی۔۔۔اس کی آنکھوں کی چمک سے میں نے اندازہ لگایا۔۔
وہ خوش ہے۔۔
پھر اس نے وہ ڈبے اس نوجوان کی طرف بڑھائے
" چوہدری صاحب۔۔۔۔
یہ زیور اپنی شہلا کے لئے آئے ہیں۔۔۔ یہ جمیل لایا ہے۔۔۔
چوہدری صاحب نے کھاجانے والی نظروں سے مجھے دیکھا

اور
اونہ کہ کر اٹھ گیا ۔۔۔
شہلا کی امی بھی اٹھ گئی اور اس کی خوشامد یں کرنے لگی ۔۔۔
شہلا نے مجھے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔
پھر میرے کانوں میں کہا کہ یہاں سے اب جلدی سے چلے جاؤ

میرا دل تو نہ مان رہا تھا۔۔۔
پر شہلا کا کہنا کیسے ٹالتا ۔۔

میرا ذہن الجھ رہا تھا۔۔۔۔
یہ چوہدری کون ہے؟
اس کی اتنی آؤ بھگت کیوں رہی ہے؟
اور شہلا نے مجھے جانے کا کیوں کہا؟

میں اکمل سے سب کچھ شیئر کرنے کا پروگرام بناکر شہلا کے مکان سے
واپس آگیا ۔۔۔۔۔ لیکن واپسی پر ایک بہت ہی پریشان کن خبر میری منتظر تھی

کاؤئنٹر پر بیٹھے کلرک نے مجھے دیکھتے ہی اپنے پاس بلا لیا۔۔
اور رازداری سے بتایا کہ پولیس آج اکمل کو ہوٹل کے باہر سے پکڑ کر لے گئی ہے

میرا تو یہ خبر سنتے ہی خون خشک ہوگیا۔۔۔

مگر کیوں ۔۔۔ اکمل نے کیا کیا تھا؟

پتہ نہیں ۔۔۔ مختلف باتیں سننے میں آرہی ہیں۔۔۔
لیکن پچھلی گلی والے ہوٹل میں دودن پہلے ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ایک فیملی کے
سونے کے زیورات چوری ہو گئے تھے۔۔۔
وہاں سے سٹاف کے کچھ لوگ تو پولیس اسی دن پکڑکر لے گئی تھی۔۔۔
شاید اسی سلسلے میں اکمل کو بھی لے گئی ہو۔۔۔
ویسے بھی اکمل اس ہوٹل والوں کے لئے وقتافوقتا کام کرتا تھا۔۔۔

میں بڑی مشکل سے اپنے کمرے میں آیا ۔۔۔
سر چکرا رہا تھا۔۔۔۔ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔۔۔
یہ کیا ہو گیا ہے۔۔۔
اب پولیس کہیں مجھے بھی نہ پکڑ لے۔۔۔۔
جی میں آئی شہلا کے پاس چلاجاؤں ۔۔۔
اسے ساری بات بتا کر اس سے مشورہ یا مد د لوں
پھر سوچا
اسے کیوں پریشان کروں ۔۔۔ وہ لڑکی ہے کیا کرسکے گی

یا اللہ پھر کیا کروں؟
ڈربھی لگ رہا تھا۔۔۔۔
کبھی خیال آتا ۔۔۔ فورا یہاں‌ سے بھاگ جاؤں
پھر سوچتا۔۔
اکمل میرا دوست ہے اسے مصیبت میں چھوڑ کرنہیں بھاگنا چاہیے۔۔

اسکو میری مدد کی ضرورت ہے۔۔۔۔
ہاں مجھے اسکی کسی بھی طرح مدد کرنی چاہیے۔۔۔
میں نےاللہ سے دعا کی کہ مجھے اور میرے دوست کو اس پریشانی سے نجات دلا
پھر میرے ذہن میں آیا
کیوں نہ آغا جی سے بات کروں۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔
ہمت کرکے اٹھا اور آغا کے پاس چلا گیا۔۔
انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا
" آؤ جمیل بیٹے ۔۔۔۔
اکمل کے بارے میں بات کرنے آئے ہو"
میں نے اثبات میں سر ہلا یا۔۔
میرے چہرے پر موجود پریشانی کو شاید وہ دیکھتے ہی سمجھ گئے تھے
مجھے حوصلہ دینے لگے ۔۔
میں تو ان کی شفیق باتوں کو سنتے ہی دھاڑیں مارمارکر رونے لگا۔۔۔
وہ بھی پریشان ہوگئے۔۔
باہر سے بھی لڑکے آگئے ۔۔
آغا جی نے سب کو فورا ہی واپس بھیج دیا۔۔
اور مجھے بہت دیر تک پیار کرتے رہے۔۔

جب میں پرسکون ہوا تو کہنے لگے
" جمیل بیٹے ۔۔۔ تو بھی میرے بیٹے کی ہی طرح ہے۔۔۔پر سچ تو یہ ہے کہ
تجھ میں اور اکمل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔۔
میں کاروبار میں اتنا مصروف ہوتا ہوں کہ تم لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے کوئی قدم نہ اٹھا سکا۔۔۔
اکمل بہت ہوشیار ہے۔۔۔ ۔۔۔ اس کی حرکتیں مجھ سے چھپی نہ تھیں ۔۔۔
وہ دیگر ہوٹلزکے لئے بھی کام کرتا تھا۔۔ میں نے منع نہ کیا کیونکہ اس کے آنے کے
بعد ہمارے ہوٹل کے کمرے سب سے پہلے ہی بک ہو جاتے تھے۔۔۔
یقینا ہمارے بزنس کی بہتری میں اس کا کردار بھی تھا۔۔
یہی وجہ تھی کہ میں اس کی کئی باتوں کو نظر انداز کرتا رہا۔۔۔
لیکن مجھے علم نہ تھا کہ وہ کسی چوری جیسے جرم میں بھی شامل ہو سکتا ہے
خیر۔۔۔ میں دیکھتا ہوں
آج ہی میں تھانے جاتا ہوں۔۔۔
سنا ہے انہوں نے ساتھ والے ہوٹل کے کئی سٹاف کے لوگوں کو بھی تھانے میں شک کی بنیا د پر بند کیا ہوا ہے۔۔۔۔ میرے کئی واقف تو ہیں۔۔
تم پریشان نہ ہو۔۔۔"

میرے تو سر سے گویا کسی نے بھاری پتھر ہٹادیا ہو۔۔۔
ان کے کمرے سے نکلا تو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا۔۔۔

اور سیدھا اپنی رہائش پر آکر لیٹ گیا۔۔۔

سوچتا رہا۔۔۔ یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔؟
پھر ایک دم ہی ایک خیال ذہن میں آیا تو

تو جیسےپورےجسم میں سرسراہٹ دوڑ گئی یوں جیسے کرنٹ لگا ہو۔۔۔۔

میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔ پورا وجود تھرتھر کانپ رہا تھا۔۔۔۔
توکیا وہ۔۔۔۔۔ زیور ۔۔۔
جو میں شہلا کے لئے لے گیاتھا۔۔۔
وہ اکمل نے چوری کیے تھے؟
یہ وہ خیال تھا جس نے میرے وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا

ہاں ایسا ہی ہوگا۔۔۔
بھلا اتنے قیمی زیورات اکمل کہاں سے خرید سکتا تھا۔۔۔۔
تو وہ میری وجہ سے پکڑا گیا۔۔۔
میری آنکھیں برسنے لگیں۔۔۔
یااللہ میرے دوست کو بچالے۔۔۔ اس نے یہ جرم میری وجہ سے کیا ہے
یا اللہ اسے بچالے۔۔۔
میں رہا تھا ور دعائیں مانگ رہا تھا۔۔۔۔

رات کے دس بجے ایک سٹاف کا لڑکا آیا تو اس نے لائٹ جلائی
مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔
جمیل تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔۔
آج ڈیوٹی پر نہیں گئے ۔۔۔
تمھاری طیعت تو ٹھیک ہے۔۔
اس نے تو سوالات کی بھرمارکردی۔۔۔
پھر خود ہی کہنے لگا۔۔۔
اچھا چھپ کر بیٹھے ہو۔۔۔
تمھارا دوست جوپولیس پکڑکر لے گئی ہے۔۔۔۔۔
پھروہ استہزائیہ ہنسی ہنسنے لگا۔۔۔
میں تو اس کی باتیں سنتا رہا
کچھ بھی نہ بولا
بولتا بھی کیا۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا
میں باہر آگیا ۔۔۔۔۔۔۔
کاؤنٹر پر بیٹھے لڑکے سے معذرت کی ۔۔۔ آج میں ڈیوٹی پر جو لیٹ آیا
اس نے خوش دلی سے کہا
کوئی بات نہیں۔۔۔۔مجھے تمھاری پریشانی کا اندازہ ہے۔۔۔
جاؤ پہلے کھانا وغیرہ کھالو۔۔۔ پھر آجانا
پر میرا تو کچھ کھانے کو بھی جی نہیں تھا۔۔۔
بس اسی کے پاس بیٹھا رہا۔۔۔
گاہک آتے رہے ۔۔۔ جی بہلا رہا
رات کے تقریبا ساڑھے گیارہ بجے آغا جی آئے تو میں دوڑ کر ان کے پاس گیا
وہ مجھے ساتھ لیتے ہوئے اپنے آفس میں چل دیے
پھر انہوں نے مجھے بتا یا کہ وہ تھانے گئے تھے۔۔۔
تھانے والے تو ہتھے سے ہی اکھڑے ہوئے تھے۔۔۔
جس فیملی کے زیورات چوری ہوئے ہیں وہ کافی تگڑی پارٹی ہے۔۔۔
اور وہ تھانے والوں کو پریشرائز کررہے ہیں۔۔۔
میرے پاس اکمل کےلئے بہت مضبوط پوائنٹ یہی تھا کہ وہ میرے ہاں ملازم ہے
وہ تو اس ہوٹل کا ملازم ہی نہیں ۔۔۔
لیکن شاید اس ہوٹل کے کسی ملازم نے اسے چوری والے دن اس ہوٹل میں دیکھا تھا۔۔
تھانیدار کو کچھ پیسے دینے پڑیں گے۔۔۔
امید ہے کل تک وہ اکمل کو چھوڑ دیں گے۔۔۔
کیونکہ ان کے پاس اکمل کے حوالے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ۔۔۔

میں ان کا شکریہ ادا کرکے باہرآگیا۔۔۔۔

اورواپس کمرے میں آکر میں آکر اللہ کے آگے سجدے میں جھک گیا۔۔۔
دوسرے دن میں دن میں صبح ہی اٹھ گیا۔۔۔
بہت دنوں کے بعد فجر کی نماز پڑھی۔۔۔
آخری نماز داتا دربار میں پڑھی تھی۔۔۔۔
نماز کے بعد بہت دیر تک دعائیں مانگتا رہا۔۔۔
دل کو کافی سکون ملا
آغا جی کی رہائش ہوٹل کے قریب ہی تھی وہ۔۔۔
اکثر صبح لیٹ ہی آتے تھے۔۔۔
میں اس لئے پھر چارپائی پر لیٹ گیا۔۔۔
اور سوگیا ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا وجہ تھی۔۔۔۔ شاید آغا جی کی تسلی اور اللہ سے دعا کے
بعد میں بہت پرسکون ہو گیا تھا۔۔ میں بہت دیر تک سوتا رہا۔۔۔
شاید دن کے بارہ بجے ہوں گے کہ مجھے کسی نے جگایا۔۔۔
ہوٹل کا ہی ایک ملازم تھا۔۔
اس نے کہا
مجھے آغا جی بلا رہے ہیں۔۔
میں نے جلدی سے ہاتھ منہ دھویا۔۔
اور آغا جی کے آفس پہنچ گیا۔۔۔
وہاں اکمل بھی موجود تھا۔۔۔
اسے دیکھ کر تو مجھے ایسے لگا۔۔۔۔
جیسے وہ صدیوں بعد ملا ہو۔۔۔ سچی بہت خوشی ہوئی
میں نے اسے بہت دیر تک اپنے سینے سے لگائے رکھا۔۔

آنسو اسکی پشت کو گیلا کرتے رہے۔۔۔
آغا جی یہ سب دیکھ کر مسکراتے رہے۔۔۔

پھر کہا
جمیل تمھارا دوست اب تو میں لے آیا ہوں۔۔۔
اسے سمجھا دے۔۔۔ ۔۔۔ یہ کام میں دوبارہ نہیں کروں گا۔۔۔
اور ہاں ۔۔۔
اب میں تم لوگوں کے بارے میں مکمل معلومات کےلئے جلد ہی کسی کو
آپ کے دیے گئے پتے پر بھی بھیجتا ہوں۔۔۔
ابھی جاؤ۔۔۔ اور اسکی ٹکور شکور کرو۔۔
پولیس نے "پیار" تو کیا ہوگا۔۔۔۔۔

میں اکمل کو لے کر کمرے میں آگیا ۔۔۔
میرا خیال تھا۔۔۔ اکمل کی نظروں میں شرمندگی ہوگی۔۔
اور وہ مجھے اس بات کی وضاحت کرے گا۔۔۔ کہ یہ کام اس نے میری وجہ سے کیا

پر اکمل کا لہجہ تو اب کچھ اور ہی تھا۔۔۔
مجھے کہنے لگا
" اور سناؤ سجنو۔۔۔۔ تمھاری محبوبہ کا کیا حال ہے؟"

میں تو حیران رہ گیا۔۔۔۔
اور اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔
مجھے اکمل کے اندر کچھ عجیب سا لگا۔۔۔
وہ اب لڑکا نہیں ۔۔۔۔
ایک میچور نوجوان دکھنے لگا۔۔۔
اسکے چہرے پر بھی عجیب ہی بے حسی دکھائی دے رہی تھی۔۔

ویسے شاید یہ پہلے کئی دن سے میں دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس کے انداز بدل رہے تھے۔۔۔
پر آج تو مجھے کچھ زیادہ ہی محسوس ہوا۔۔
مجھے اپنی طرف اتنی غور سے دیکھنے پر بولا

کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔کیا میرے سینگ نکل آئے ہیں۔۔۔

میں ہنس پڑا

سینگ تو نہیں ۔۔۔ پر کچھ عجیب تو ہے۔۔۔۔

ارے چھوڑو یار۔۔۔۔
کچھ عجیب نہیں۔۔۔
تو بتا نا۔۔۔
تیری محبت کا کیا حال ہے۔۔۔ چکر لگاتے رہتے ہو

ہاں ۔۔۔ میں پرسوں گیا تھا۔۔۔
پھر مجھے ایک دم خیال آیا۔۔۔۔۔
اررے میں نے تو اکمل سے بہت سی باتیں شیئر کرنی تھیں۔۔۔
پھر میں نے اسے ساری بات بتائی ۔۔۔
خاص طور پر چوہدری کے حوالے سے۔۔۔

وہ سنتا رہا۔۔۔
کہنے لگا۔۔۔ تمھیں میں نے اب تک تو نہ روکا پر اب تمھیں یہی کہوں گا ۔۔ کہ چھوڑ دے۔۔ اس لڑکی کا خیال۔۔۔
وہ لالچی لوگ ہیں۔۔۔۔ ۔۔۔ پہلے پیسے اکٹھے کر ۔۔۔پھر عشق کرنا۔۔۔
تو سادہ ہے۔۔۔ اب چالاکی سیکھ۔۔ ورنہ ۔۔۔۔

ورنہ کیا۔۔۔۔؟ میں نے بے تابی سے پوچھا۔۔

ارے پگلے یہ لاہور ہے۔۔۔ لوگ یہاں بندے بیچ دیتے ہیں۔۔۔۔
تو اب گاؤں میں نہیں ہے۔۔۔
اچھا خیر۔۔۔ تجھے میں سب کچھ سکھا دوں گا۔۔۔

پھر اس نے اپنی قمیص اتاری تو اس کے جسم پر نیل دیکھ کر میں تو پریشان ہوگیا۔۔

وہ مجھے پریشان دیکھ کر ہنسنے لگا ۔۔
پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ یہ تو ابتدا ہے یار۔۔۔۔

وہ شاید راستے سے کچھ دوائیاں اور لوشن سے لے کر آیا تھا۔۔
میں اسکی کافی دیر تک مالش کرتا رہا۔۔۔
جب وہ سو گیا تو میں باہر کاؤنٹر پر آگیا ۔۔۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دن کے تین بجے میں واپس کمرے میں گیا۔۔
میں نے سوچا کہ جمیل کو بھی جگا دوں
اس نے کھانا بھی کھانا ہو گا
اور شاید دوائی بھی لینی ہو

جمیل کو بڑی مشکل سے جگایا۔۔۔
اور اسے کھانے کے بعد دوائی وغیرہ دی

وہ کچھ تھکن، درد کے ساتھ ساتھ عنودگی محسو س کر رہا تھا
شاید دوائیوں کا اثرتھا۔۔۔
وہ پھر سے سو گیا۔۔۔
میں بھی اس کے پا س ہی لیٹ گیا۔۔۔

ذہن میں مختلف سوچیں گردش کررہی تھیں۔۔۔
اکمل کا تھانے جانا اور واپس آنا
ایک بہت ہی پریشان کن واقعہ تھا۔۔
میں اس بارے میں بہت غور کرتا رہا۔۔۔
مجھ لگ رہا تھا۔۔۔ اب ہمارا یہاں رہنا کافی خطرناک ہے۔۔۔
لیکن یہ بات اکمل سے کرنا ضروری تھا۔۔۔
ابھی تو اس کی طبیعت سبھلنا ضروری تھا۔۔۔

پھر میں نے سوچا ۔۔
آج مجھے شہلا کے ہاں بھی جانا چاہیے
دودن سے نہ گیا تھا۔۔۔
وہ تو بہت پریشان ہوگی۔۔
اکمل مجھے اسے بھول جانے کا کہ رہا تھا۔۔۔
ناممکن۔۔۔
یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔
میرے لئے اکمل کا یہ مشورہ قابل قبول نہ تھا۔۔۔

پانج بجے کا وقت ہوگا کہ ہوٹل کا ایک ملازم مجھے بلانے آیا
کوئی بندہ تم سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔۔
میں حیران ہوگیا
میرا یہاں کوئی جاننے والا نہ تھا۔۔۔۔
پھرکون ملنے آگیا۔۔۔۔۔
اکمل کی طرف دیکھا تو وہ بے ہوش سویا ہوا تھا۔۔۔۔
خیر۔۔۔ باہر کاؤنٹر پر آیا۔۔۔
تو وہاں ایک آدمی کھڑا تھا۔۔۔۔ اسے میں نے اکثر شہلا کے مکان پر دیکھا تھا۔۔۔
وہ بھی مجھے دیکھتے ہی پہچان گیا۔۔۔

فورا ہی میرے پاس آیا اور مجھے بازو سے پکڑ کر ایک طرف لے گیا۔۔۔
پھر جیب سے ایک لفافہ نکال کر مجھے دیا

یہ شہلا بی بی نے آپ کے لئے دیا ہے۔۔۔

میں چکرا سا گیا۔۔۔
ٹھیک ہے میں نے شہلا کو اپنے ہوٹل کا پتہ سچ بتا یا تھا۔۔۔ اسے میں نے اپنے سارے
حالا ت سچ سچ بتائے تھے۔۔۔ پر اسے منع بھی کیا تھا کہ یہ بات کسی اور سے نہ کرے
آج اس بندے کو اپنے ہوٹل میں دیکھ کر میرا پریشان ہونا فطری تھا۔۔۔

میں نے اس کو ادھر ہی ایک صوفے پر بٹھایا۔۔۔ اور خود کمرے میں آگیا
لفافے کو کھولا تو ایک خط نکلا

میرے پیارے جمیل

تم دودن سے نہیں آرہے تھے۔ میں بہت پریشان تھی۔۔۔ ادھر حالا ت بہت گمبھیر ہو گئے
ہیں۔ اس دن جو بندہ تمھیں ہمارے مکان پر ملا تھا۔۔۔ اس کا نام فواد چوہدری ہے۔ بہت
مالدار ہے۔۔ وہ کافی عرصہ سے میرے پیچھے پڑا ہے ۔۔کہ مجھ سے شادی کرے گا۔۔
مجھے وہ بالکل پسند نہیں ۔پھر امی بھی میرے جیسی سونے کی چڑیا کو کب ہاتھ سے
جانے دیتی ہے۔۔ وہ اس سے مال تو بٹورتی رہی ۔۔ پر شادی کی بات پر ٹرخاتی رہی ۔

جب سے تم آئے ہو۔۔ امی کچھ پریشان ہے۔۔ وہ تمھاری لئے میری آنکھوں میں پائی جانے والی سچی محبت کو جانتی ہے۔ پر اس کا خیال تھا تم کسی غریب خاندان کے ہو
اسی لئے تمھیں زیور لانے کا بولا۔ اس کا خیال تھا۔ تم زیور تو کجا۔۔۔ اب شاید ہمارے
مکان پر بھی نہ آؤ۔۔۔
جب تم زیور لے آئے تو اتفاق سے اسی دن چوہدری فواد بھی آگیا۔۔۔ اب وہ اور بھی زور
دینے لگا۔۔۔ امی کی سوچ بھی بدل گئی ہے۔۔۔ وہ بہت سا مال لے کر مجھے بیچنا چاہتی ہے۔وہ اب مجھے مجبور کر رہی ہے کہ میں چوہدری سے شادی کرلوں۔۔۔
میرا دل اس گندے ماحول سے تنگ آچکا ہے۔۔۔ میں نے زندگی میں پہلی اور آخری بار تم سے محبت کی ہے۔۔۔ خدا کے لئے مجھے اس ماحول سے نکالو۔۔۔
میں ہرطرح کے حالات میں جی لوں گی۔۔۔ تم جہاں لے جاؤ گے۔۔چلوں گی تمھارے سنگ۔ اب میں مزید یہاں نہیں رہ سکتی
جمیل وقت بہت کم ہے۔۔۔ بلکہ وقت ہے ہی نہیں۔۔۔ میں نے فیصلہ کر لیا ۔۔۔
میں آج ہی یہاں سے بھاگنا چاہتی ہوں۔۔۔ میں روز پہلا گانا گا کر ساڑھے گیارہ بجے
نیچے آتی ہوں ۔۔ اس وقت سب لوگ اوپر محفل میں ہوتے ہیں۔۔۔۔ بس یہی وقت مناسب ہے کہ میں گھر سے نکل چلوں۔۔۔
تم ساڑھے گیارہ بجے گلی کی نکڑ پر پہنچ جانا۔۔۔۔
اب اپناجواب فورا اس بندے کے ہاتھ بھیج دو۔۔۔
پلیز جمیل مجھے مایوس نہ کر نا۔۔۔۔

صرف تمھاری
شہلا

میں سن ہو کر رہ گیا۔۔۔
میں نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھاحالات مجھے اس موڑ پر لے آئیں گے۔۔۔۔
میں نے اکمل کو جگایا اور اسے سارے حالات بتائے۔۔۔
وہ بہت اطمینان سے ساری بات سنتا رہا۔۔۔
اور خط بھی پڑھا۔۔۔

تم کیا چاہتے ہو؟ اس نے مجھ سے پوچھا۔۔
میں شہلاکے بغیراب زندگی کا تصوربھی نہیں کرسکتا ۔۔۔میرا لہجہ اٹل تھا

اکمل نے پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔۔
اور کہا
یار جمیل ۔۔۔ تیرے ساتھ یاری تو بچپن کی ہے نا۔۔۔۔ ۔۔ یہ یاری مرتے دم تک چلے گی
یہی ہم دونوں کا وعدہ ہے۔۔۔
تو فکرنہ کر۔۔۔ تیرا یہ دوست اب ۔۔۔۔ بہت کچھ سیکھ گیا ہے۔۔۔
گرچہ میں لڑکیوں سے محبت وحبت کے چکرسے تمھیں دور ہی رکھنا چاہتا تھا
پر کیا کریں ۔۔۔۔ تو ۔۔۔ کچھ زیادہ ہی انوالو ہو گیا ہے۔۔۔

ایسا ہے کہ تو اس بندے کو واپسی جواب میں لکھ دے کہ تو رات ساڑھے گیارہ سے
پہلے گلی کی نکڑ پہ پہنچ جائے گا۔۔۔۔ ۔۔۔

جا اس کو فارغ کر ۔۔۔پھر میں کچھ پلان بناتا ہوں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔

میں اکمل کے گلے لگ کر بے اختیار اسے چومنے لگا۔۔۔
اس نے زبردستی مجھے پیچھے ہٹا یا۔۔۔
یار کچھ تو خیال کر ۔۔۔ میں پولیس کی مار کھا کر آیا ہوں۔۔۔
تیری اٹکھیلیاں میرے لئے تکلیف دہ ہیں۔۔۔

میں نے فوری جواب لکھا اور اسے لفافے میں بند کرکے اس بندے کے حوالے کیا۔۔۔
جو شہلا کے پاس سے آیا تھا۔۔۔
اسے ساتھ میں کچھ پیسے بھی دیے ۔۔۔ اور وہ چلا گیا۔۔۔
میں دوبارہ اکمل کے پاس آیا ۔۔۔
وہ اپنے بیگ میں سے کچھ کا غذ نکال رہا تھا۔۔۔۔
پھر اس نے اس میں سے دوتین ٹیلی فون نمبر نوٹ کیے ۔۔۔

اور کہا چلوباہر چلتے ہیں ۔۔۔

باہر آکر اس نے ایک پی سی او سے کچھ ٹیلی فون کالیں کیں

پھر واپس ہوٹل آگئے ۔۔۔ اس نے کہا
تمھارا کام بن گیاہے۔۔۔

وہ کیسے ؟
کہنے لگا ۔۔
تم آج شہلا کو لے اس ایڈریس پر چلے جانا ۔۔۔ اپنے دوست شاکی کا ڈیرہ ہے
وہاں وہ تمھیں ایک رات کے لئے جگہ دیں گے۔۔۔
پھر صبح سویرے وہاں سے تمھیں اور شہلا کو ٹیکسی کردیں گے۔۔۔
اور تمھیں شاہدرہ سے آگے شیخوپورہ روڈ پر ایک علاقے بیگم کوٹ میں جانا ہو گا۔۔
وہاں کا مکمل ایڈریس تمھیں شاکی سمجھادے گا۔۔۔۔۔
تم وہاں تسلی سے دودن رہو۔۔۔ میں بھی تمھارے پاس پہنچ جاؤں گا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہاں رہنا ہمارے لئے ویسے بھی خطرناک ہے۔۔۔ تھانے میں نام آگیا ہے۔۔
اور آغا جی بھی کہ رہے تھے کہ وہ ہمارے گاؤں سے ہمارا پتہ کروائیں گے۔۔
اس سے پہلے کہ حالات زیادہ خراب ہوں ۔۔
یہاں سے نکل جانا ٹھیک رہے گا۔۔۔

تو بے فکر ہوکر بیگم کوٹ چلا جا۔۔۔۔۔
اور وہاں رہ۔۔۔
اور خبردار جو شہلا کے حوالے سے کوئی کمزوری دکھائی ۔۔۔
کہنا کہ تمھاری بیوی ہے۔۔۔۔۔
لیکن نہیں یار۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں چلے گا۔۔۔۔
اچھا۔۔۔۔۔
ایسا کر سچ ہی بول دینا ۔۔۔۔
پر راستے میں اگر کوئی پوچھے تو بیوی بولنا۔۔۔
اس نے مجھے اور بھی کچھ باتیں بتائیں۔۔۔۔

میں نے اسے کہا کہ کیا میں آغا جی سے مل کر انہیں بتادوں کہ میں جارہا ہوں۔۔۔

اکمل تو ہنس ہنس کر دوہرا ہو گیا۔۔

ارے بدھو۔۔۔ ۔۔۔۔
یار تو بھی کمال ہے۔۔۔۔
بالکل نہیں‌بتا نا۔۔۔۔

پر یار وہ تو بہت اچھے ہیں ۔۔۔ سچی بہت اچھے ہیں مجھے اپنے اپنے سے لگے ہیں
انہوں نے ہم پر بہت احسان کیا ہے۔۔

چھوڑو یار یہ اپنا۔۔۔پرایا ۔۔۔
اور احسان وحسان۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوتا یہ سب کچھ۔۔
سب مطلب کے بندے ہوتے ہیں جانی۔۔۔ مطلب کے

تو ٹھوکر کھائے گا تو سیکھ جائے گا۔۔۔۔ کوئی کسی کا نہیں ۔۔۔
ہم جو اتنے مخلص ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے سے کوئی لالچ نہیں
جس دن لالچ ہمارے بیچ آگیا۔۔۔ اس دن تم دیکھنا ۔۔۔
اور یہ آغاجی اور باقی لوگ۔۔۔
یہ شہری لوگ ہیں ۔۔۔۔ یہ مطلب کے وقت بچے کو باپ اور باپ کو چچا بنالیتے ہیں۔۔

سیکھ جاؤ گے جلدی سیکھ جاؤ گے۔۔۔

میں الجھن میں پڑ گیا۔۔۔
دل تو کہ رہا تھا کہ آغاجی ایسے نہیں ہیں ۔۔۔ لیکن اکمل کی باتیں بھی ٹھیک ہی لگ رہی تھیں۔۔۔

مجھے الجھن میں دیکھ کر اکمل نے میری پیٹھ تھپتھائی ۔۔۔اور کہا

چھوڑدو سب سوچوں کو۔۔۔ بس اب تیاری کرو۔۔۔
اور یہ بات کسی کو بھی نہیں بتانی ۔۔۔
پھر اس نے بیگ میں سے کچھ پیسے نکالے۔۔۔ اور مجھے دیے
کہ رکھ لو۔۔۔

پھر کہا کہ تم یہاں سے خالی ہاتھ ہی جانا۔۔۔ تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔۔
میں بھی موقع دیکھ کر کل تک نکل جاؤں گا۔۔
ہاں تیرے پاس شاید دو دن بعد آؤں ۔۔۔ کچھ کام بھی ہے اور کچھ حالات کا جائزہ بھی لوں گا۔۔۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اس دن سورج ڈوبنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔
میں نےکئی بار باہر نکل کر چکرلگائے۔۔۔
باہرفاروق کے پاس بھی کھڑا رہا۔۔
پھر دوتین بار کاؤنٹر پر بھی آیا۔۔

لیکن وقت تو گذر ہی نہیں رہا تھا۔۔۔

اکمل تو پھرسے لیٹ گیا ۔۔۔۔
اس کی دوائیوں میں کچھ خواب آورچیز ہوگی۔۔۔ کہ وہ باربار سو جاتا تھا۔۔

میں جو یوں باربار ادھر ادھر آرہاتھا تو کاؤنٹر پر بیٹھے میرے ساتھی ملازم نے
مجھے بلا لیا۔۔۔

جمیل کیا بات ہے؟
کیوں باربار اندر باہر آ جارہے ہو؟
کسی نے آنا ہے کیا؟

نہیں تو۔۔۔۔ بس ویسے ہی۔۔۔ میں گڑبڑا سا گیا۔۔۔

اچھا۔۔۔؟ لگتا ہے کچھ مسئلہ ہے تمھارے ساتھ۔۔۔۔
اور وہ بندہ کون تھا۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے آیا تھا۔۔۔
تمھارا تو ادھر کوئی جاننے والا کبھی نہیں آیا

سچی بات ہے میں تو گھبرا گیا۔۔۔
کہیں اسے پتہ نہ چل جائے۔۔۔ ۔۔۔ ورنہ اکمل بہت ناراض ہوگا۔۔

میں نے اسے کچھ باتیں بناکر مطمئن تو کرنے کی کوشش کی۔۔
لیکن مجھے لگا نہیں کہ وہ مطمئن ہوا ہوگا۔۔۔

بلکہ میری باتوں کے دوران وہ مجھےبہت عجیب نظروں سے دیکھتا رہا۔۔۔

وہ توشکرہے کہ اس کی ڈیوٹی رات آٹھ بجے ختم ہو جانی تھی۔۔۔

میں اب محتاط ہو گیا ۔۔۔اور اندر اپنے رہانشی کمرے میں چلا گیا۔۔۔

اکمل حسب سابق سویاہوا ہی تھا۔۔۔
اسے سوتا دیکھتا رہا۔۔۔
اور سوچتا رہا۔۔۔
یہ میرا دوست اکمل بھی کیا چیز ہے؟

میں جو کل اس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔کہ
یہ کچھ عجیب سا ہو گیا ہے۔۔۔
تو وہ اتنا غلط بھی نہیں ۔۔۔ تھا۔۔
اس کے تعلقات تو اب وسیع ہو گئے تھے۔۔
پر میرے لئے تو یہ بہت فائدہ مند ہیں
میں سوچنے لگا۔۔۔
اگرمیں اکیلا ہوتا تو شاید شہلا کو کبھی کہیں نہ لے جا سکتا ۔۔

اور اب ۔۔؟
میں آنے والے حالا ت کے بارے میں سوچتے ہی الجھن میں پڑ گیا۔۔۔
میں اس کے ساتھ کسی اجنبی جگہ پر کیسے رہوں گا۔۔
پھر اسے سا تھ لے کر کیسے بیگم کوٹ تک جاؤں گا۔؟

باتیں تو پریشان کن تھیں۔۔۔ پر یہ سوچ ہمت بندھاتی تھی کہ شہلا کو
اس ماحول سے نکالنا ہے ، بلکہ شہلا کو نہیں اپنی محبت کو۔۔۔
ہاں ۔۔۔ اس کو مجھ پرمان ہے۔۔۔ میری محبت پر اعتماد ہے
سو مجھے اس اعتماد پر پورا اترنا ہے۔۔۔

میں نے غور کیا ۔۔۔ اب میری سوچ بھی بہتر ہوتی جا رہی تھی
اب مجھ میں بھی ہمت آتی جا رہی تھی۔۔
لاہور مجھے بھی بدل رہا تھا۔۔۔
اب آنے والے وقت اور کتنا بدلے گا۔۔۔؟

میں خود ہی مسکرانے لگا۔۔۔

اچانک ہی اکمل کی آواز آئی۔۔۔

میرامجنوں ۔۔۔ کیا سوچ کے مسکرا رہا ہے؟

وہ۔۔ وہ مم میں۔۔۔۔ تم جاگ گئے ہو اکمل

چلو اچھا ہوا۔۔۔ میں نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو آٹھ سے اوپر رہے تھے۔۔
آج میری ویسے بھی چھٹی تھی ۔۔۔ اور اکمل تو تھا ہی چھٹیوں پر

ہم نے کچھ دیرباتیں کیں۔۔۔
پھر کھانے کے لئے اوپر گئے ۔۔۔ کھانا وغیرہ کھاتے کھاتے اور باتیں کرتے
رات کے دس بج گئے۔۔۔۔
میں نے اکمل سے کہا مجھے اب چلنا چاہیے ۔۔
وہ کہنے لگا
ہاں ٹھیک ۔۔۔ کچھ پہلے ہی پہنچ جاؤ۔۔۔
لیکن وہاں اپنے آپ کو مشکوک نہ بنانا۔۔۔ نہ کسی کی نظروں میں آنا
شہلا کو ساتھ لے کر فورا ہی رکشہ پر دیے گئے پتے پر پہنچ جانا۔۔۔

میں اللہ کا نام لے کر ہوٹل سے نکل آیا۔۔۔
اور طے شدہ مقام پر گیارہ بجے کے لگ بھگ پہنچ گیا۔۔۔
اب مجھے شہلا کا انتظار تھا۔۔۔
پونے بارہ بجے کے لگ بھگ ایک سیاہ چادر میں ملبوس شہلا میرے پاس پہنچ گئی
اس نے مجھے دیکتھے ہی کہا۔۔
جلدی سے یہاں سے نکلو۔۔۔
میں نےاکمل کی ہدائت کے مطابق باہرروڈ پر آکر ایک رکشہ کیا
اور اسے ایڈریس بتا یا۔۔۔۔
دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
کبھی ایسے حالا ت سے پہلے گذرا ہی نہ تھا۔۔۔۔
راستے بھر کوئی بات نہ ہوئی ۔۔۔
شہلا بھی بالکل چپ بیٹھی رہی ۔۔۔
لیکن گھبرائی ہوئی اور بے چین سی محسوس ہورہی تھی
مجھے تو اکمل نے منع کیا تھا کہ راستے میں حتی الوسع خاموش ہی رہنا

کافی دیرکے بعد ہم اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے
ایک بہت پرانے مکانوں پر مشتمل آبادی تھی۔۔۔
ہمیں رکشے والے ایک گلی کے موڑ پر اتارا اور کہا۔۔۔
"صاحب یہی جگہ ہے نا؟"
میں تو پہلی دفعہ آیا تھا پر اسے بول دیا کہ ٹھیک ہے۔۔۔
پیسے دے کر اسے فارغ کیا ۔۔۔

پھر آگے بڑھے ۔۔۔ مجھے اکمل نے مکان کی ایک نشانی بتائی تھی۔۔۔
میں نے جلدہی وہ مکان دیکھ لیا۔۔۔
گھنٹی بجائی تو اندر سے ایک بدمعاش قسم کا بندہ باہر آیا۔۔۔
میں ایک دفعہ تو اسے دیکھ کرہی بدحواس ہو گیا۔۔۔
لیکن اس نے مجھے غور سے دیکھا پھر میرے پیچھے کھڑی شہلا کی طرف دیکھا
اور کہا
آپ اکمل کے دوست ہو نا۔۔۔
میں نے فورا ہی کہا
جی ۔۔ہاں
کہنے لگا۔۔۔
اندر آجائیں ۔۔۔ ہم آپ کا ہی انتظارکررہے تھے۔۔
یہ کہتے ہی اس نے دروازہ کھول دیا۔۔
اندر آتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک کھلا صحن ہے۔۔۔ جسکے صرف ایک
طرف تین کمرے سے بنے تھے۔۔۔
صحن میں ایک طرف شاید باتھ روم بنا ہوا تھا۔۔۔
وہ مجھے کہنے لگا۔۔
بہن جی کو ۔۔۔ سامنے والے کمرے میں بھیج دیں۔۔۔
ادھر کوئی نہیں اور آپ ادھر آجائیں۔۔۔
پہلے استاد شاکی کو سلام دعاکرلیں۔۔۔

شہلا کچھ جھجک سی رہی تھی۔۔
میں نے اس آدمی سے کہا
آپ ایک منٹ رکیں۔۔۔
میں انہیں کمرے میں چھوڑ آؤں۔۔
پھر شہلا کے ساتھ اندر کمرے میں گیا۔۔
ایک سادہ سا کمرہ تھا۔۔۔لیکن کافی کھلا تھا۔۔
اس میں نیچے زمیں پر ہی گدے اور چادریں بچھی ہوئی تھیں۔۔۔
ایک طرف ٹیبل پر پانی کا جگ اور گلاس تھے ۔۔۔ ساتھ ہی دو تین کرسیاں پڑی تھیں
کمرے میں ایک ٹیوب جل رہی تھی جس سے کافی روشنی آرہی تھی۔۔
ایک طر ف کچھ خالی ڈبے سے پڑے تھے۔۔۔ اور ایک الماری تھی جو بند تھی۔۔۔
میں نے شہلا کو کہا۔۔
یہ میرے دوست اکمل کے جاننے والے ہیں
تم بے فکر ہو کے ادھر بیٹھو یا لیٹ جاؤ
میں استاد شاکی سے مل کر آتا ہوں

پتہ نہیں یہ شہلا کی قربت کا اثر تھا کہ کیا تھا
میں کافی پر اعتماد انداز سے بول بھی رہا تھا۔۔۔ اور مجھے اپنے اندر
کافی توانائی بھی محسوس ہورہی تھی۔۔۔
شہلا میرے کہنے پر ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
میں باہر نکل آیا۔۔

پھر ساتھ والے کمرے گیا تو وہاں چار آدمی اور بھی موجود تھے
سب نے اٹھ کر مجھے خوش آمدید کہا اور بہت عزت سے ملے

ان میں ایک بڑی بڑی مونچھوں والا جو شکل سے کافی خطرناک دکھ رہا تھا۔۔۔
اس کا تعارف شاکی استاد کے طور پر کروایا گیا۔۔۔
انہوں نے مجھ سےپوچھا کہ کیا میں آسانی سے پہنچ گیا۔۔کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی
میں نے انہیں بتا یا کہ نہیں اکمل نے سب سمجھا دیا تھا۔۔۔
پھر استاد شاکی نے اکمل کے بارے میں پوچھا۔۔۔
اس کی طبیعت کیسی ہے؟
میں نے خیریت بتائی تو کہنے لگا
یار بہت دلیر اور سمجھدار آدمی ہے۔۔۔
میری اس سے پہلے بھی ایک دو دفعہ ملاقات ہوئی ۔ پھر اتفاق سے جیل میں بھی ایک رات اکٹھے گذاری۔ میں بھی کل ہی اپنی سسرال سے واپس آیا ہوں۔ اور ہنسنے لگا۔۔۔۔
اس کے ساتھی بھی اس کے سا تھ ہنس رہے تھے۔۔۔
مجھے کافی الجھن ہونے لگی ۔۔
مجھے اکمل نے بتا یا تو تھا۔۔۔
اور یہ بھی یقین دلا یا تھا۔۔۔ کہ
یہ لوگ قابل اعتما د ہیں اور پورا تعاون کریں گے۔۔۔
پھربھی میں بے چینی محسوس کر رہا تھا۔۔۔
انہوں نے مجھ سے کھانے کا پوچھا۔۔۔
میں تو کھا چکا تھا۔۔۔ پر شہلا کا مجھے پتہ نہ تھا۔۔۔
میں نے پھربھی انہیں منع کردیا کہ ہم کھانا کھا چکےہیں۔۔۔
انہوں نے بہت ضد کی ۔۔ پھر ان کے کہنے پر میں نے چائے کا کہ دیا۔۔۔
اور کہا کہ اگر برا نہ منائیں تو میں ادھر دوسرے میں کمرے میں ہی چائے پیوں گا۔۔
استاد شاکی نے کہا
کوئی مسئلہ نہیں سوہنیو۔۔
جیسے آپ چاہیں۔۔۔
اگر موڈ بنے تو ایک بازی تاش کی لگانے آجانا ۔۔
ورنہ سونا ہے تو سو جاؤ۔۔
میں واپس شہلا کے پاس آگیا۔۔۔

اس نے چادر اتار دی تھی اور جو ایک طرف رکھی تھی
اور نیچے گدے پر بیٹھی تھی
اس کے پاس ایک چھوٹا سا بیگ بھی تھا ۔۔۔ اور ایک پرس بھی وہ اس نے پاس ہی رکھا تھا۔ میں بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔
اور اسے دیکھ کر مسکرایا۔۔۔۔
وہ خاموش رہی۔۔
کچھ بات نہ سوجھ رہی تھی۔۔۔
اتنے میںدروازہ کھٹکا۔۔۔
میں اٹھ کر گیا تو باہر وہی بندہ کھڑا تھا جس سے سب سے پہلے ملاقات ہوئی تھی
اس کا نام ہاشو پتہ چلا تھا۔۔۔
اس نے چائے کی کیتلی اور دو کپ مجھے دیے ۔۔۔
میں چائے لے کر شہلا کے پاس آیا
اور اس سے پوچھا۔۔
کیا تم نے کھانا کھا لیا تھا۔۔۔
اس نے اثبات میں گردن ہلائی
میں اسے چائے دی۔۔
اور خود بھی ڈال کر پینے لگا۔۔۔
چائے پی کر ۔۔۔۔ شہلا بھی کچھ بہتر ہوگئی۔۔

کہنے لگی۔۔۔
یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ اور کہاں لے آئے ہو۔۔؟

بتایا تو ہے ۔۔۔ اکمل کے دوست ہیں ۔۔۔ اور اسی کے بقول قابل اعتما د ہیں
پھر میں نے اسے سارا پروگرام بتا یا۔۔۔

وہ کچھ مطمئن ہوئی ۔۔۔ پھر کہنے لگی ۔۔
اچھا ہوتا ہم رات کو ہی نکل جاتے ۔۔۔
میں نے اسے تسلی دی۔۔
اللہ بہتر کرے گا۔۔۔
تم فکر نہ کرو۔۔۔

وہ مسکرائی اور کہا۔۔۔
جب تم ساتھ ہو نا جمیل ۔۔ تو مجھے کچھ بھی فکر نہیں۔۔۔
پر تم اسے نہیں جانتے ۔۔۔ جسے میں امی کہتی رہی ہوں۔۔
وہ بہت تیز اور بہت چالا ک ہے۔۔۔
اس کے تعلقات بھی بہت وسیع ہیں۔۔۔
اسے جب پتہ چلے گا تو وہ ۔۔۔ سارے شہر کی پولیس کو ہلا دے گی۔۔
مجھے بس اسی سے ڈر ہے۔۔۔

اس کی بات سن کر میں بھی پریشان ہوگیا۔۔۔
لیکن اس کا اظہار نہ کیا۔۔۔
اسے کہا۔۔

جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔۔
بس اب تم ساری باتیں چھوڑو ۔۔۔ اور سوجاؤ۔۔

اس نے کہا۔۔
جمیل میں یہ کچھ زیور اور پیسے ساتھ لائی ہوں۔۔۔
انہیں سنبھال لو۔۔۔

میں نےاس کا بیگ ایک گدے کے نیچے کر دیا۔۔۔

اور شہلا کے قریب ہی لیٹ گیا۔۔۔

سا تھ والے کمرے سے باتوں اور قہقہوں کی آواز آرہی تھی۔۔۔
میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیںبہت دیرتک آنکھیں بند کیے لیٹا رہا۔۔۔
اور سوچتا رہا۔۔۔۔
آنے والے حالات کے بارے میں ۔۔۔
نیند آنکھوں سے کوسوں دورتھی۔۔۔
اچانک پیاس محسوس ہوئی تو اٹھا۔۔
اور اٹھ کر پانی پیا۔۔۔
شہلا بالکل بچوں کی سی نیند سورہی تھی۔۔ بے سدھ۔۔
اس کے چہرے پر بچوں جیسی سادگی اور اطمینان تھا۔۔۔
اس وقت شہلا مجھے اتنی پیاری لگ رہی تھی۔۔۔ گویا اس سے پہلے میں نے کبھی
ایسا حسین چہرہ نہ دیکھا ہو۔۔۔

میں سوچنے لگا۔۔۔
مجھے ہر حال میں شہلا کو لاہور سے نکال کر لے جانا ہے۔۔۔
پھر خیال آیا کہ اب تک تو اس کی امی کو سب پتہ چل گیا ہوگا۔۔۔
یقینا اس نے پولیس کو بھی اطلاع کر دی ہوگی۔۔۔
کہیں ایسا نہ ہو۔۔
پولیس یہاں تک آجائے۔۔۔
یہ سوچ آتے ہی میں پریشان ہو گیا۔۔۔
مجھے صبح کا انتظار نہیں کر نا چاہیے۔۔۔ ابھی پولیس شاید اتنی متحرک نہ ہوئی ہو
بہتر ہوگا میں جلدی سے لاہور شہرسے باہر نکل جاؤں۔۔
یہ خیال آتے ہی میری بے چینی بڑھ گئی۔۔۔
اور میں اٹھ کر ٹہلنے لگا۔۔۔
ساتھ والے کمرے سے شاکی لوگوں کی آوازیں ابھی تک آرہی تھیں
میں ان کے پاس چلا گیا۔۔۔
مجھے دیکتھے ہی وہ سب میری طرف متوجہ ہوگئے
ان کے سامنے تاش بکھری ہوئی تھی۔۔۔
شاکی نے مجھ سے پوچھا۔۔
کیوں سوہنیو۔۔ خیرتو ہے؟
کیا تاش کی بازی کا موڈ بن گیا ہے۔۔۔
میں نے انہیں بتا یا کہ میرے ساتھ میری کزن ہے۔۔۔
مجھے خطرہ ہے کہ کہیں پولیس ہمارے پیچھے نہ آجائے
اس لئے میں چاہ رہا تھا کہ میں رات کو ہی یہاں سے نکل جاؤں۔۔۔

شاکی استاد نے میری پیٹھ تھپتھپائی
کیوں فکرکرتے ہو ۔۔۔ جگر
تم اب شاکی کے ڈیرے پر ہو۔۔ میری ذمہ داری میں ہو۔۔۔
پولیس کا خیال چھوڑو۔۔
اول تووہ یہاں آئیں گے نہیں بالفرض آبھی گئے تو ان سے نبٹنا ہمارا روز کا کام ہے

پھربھی ۔۔ میں یہاں سے جلد ازجلد نکل کر بیگم کوٹ جانا چاہتا ہوں۔۔۔۔

شاکی استاد کہنے لگا۔۔۔
میں نے اپنے ایک بندے سے شام کو ہی بات کرلی تھی ۔۔ وہ آپ لوگوں کو کل صبح
بیگم کوٹ لے جائے گا۔۔۔
بہرحال تم کہتے ہو۔۔ تو ایسا ہے کہ میں اسے ابھی بلا لیتا ہوں۔۔۔
ویسے بھی رات کے ڈھائی بج رہے ہیں ۔۔۔
تیار ہوتے اور نکلتے تین بج جائیں گے۔۔۔

میں نے کہا
ہاں میں یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ ہم ابھی روانہ ہوجائیں

ٹھیک ہے۔۔ شاکی استاد بولا
جیسے تم چاہتے ہو۔۔ ویسے ہی ہو جائےگا۔۔
پھر ہاشو کو کہاکہ جاؤ اور ناظم کو بلا کر لاؤ۔۔
بلکہ اسے کہوکہ اپنی گاڑی لیتا آئے۔۔۔

ہاشواٹھ کر باہر نکل گیا۔۔۔

پھر شاکی استاد مجھے پتہ سمجھانے لگا۔۔۔
اس نے مجھے ایک دو نشانیاں بتائیں اور کہا
ناظم ہمارے اس ڈیرے پرپہلے بھی جا چکا ہے۔۔
لیکن احتیاطا وہ تمھیں کچھ پہلے اتار دے گا۔۔۔
آپ لوگ پیدل ہی ڈیرے تک چلے جانا۔۔۔
وہاں بلوبھائی ہوگا۔۔ اسے میں فون کر چکا ہوں ۔۔۔
تم وہاں جتنے دن چاہو رہو۔۔۔
بالکل محفوط جگہ ہے۔۔۔

میں شکریہ اداکرکے اپنے کمرے میں آگیا۔۔۔
شہلا اسی اطمینان سے سورہی تھی۔۔۔
یوں لگتا تھا۔۔۔ شاید کئی دن کی جاگی ہوئی تھی۔۔۔

جی تو نہ چاہا کہ اسے جگاؤں پر مجبوری تھی۔۔
اسے جگا یا تو پہلے تو کسمکائی پھرآنکھیں کھولیں تو
مجھے دیکھتی رہی ۔۔۔ خالی خالی آنکھوں سے۔۔۔
پھر ایک دم اٹھ کر چونک سی گئی ۔۔

میں بھی محویت اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
چند لمحوں بعد اسے احسا س ہوا کہ وہ کہاں ہے تو مسکرائی اور پوچھا
اتنی اچھی نیند میں تھی۔۔۔ کیوں‌جگا دیا؟
میں نے اسے سب بات بتائی تو کہنے لگی
تمھاری سوچ بالکل ٹھیک ہے۔۔
ہمیں جلدی نکل جانا چاہیے۔۔۔
پتہ مجھے پہلے ہی تمھیں کہنا چاہیے تھا کہ جلدی نکل جائیں۔۔۔۔
پھروقفے سے بولی۔۔۔ شاید تمھیں ساتھ دیکھ سب کچھ ذہن سے محو ہوگیا۔۔
ا سکی جلترنگ جیسی ہنسی زندگی کی بھرپوررمق تھی۔۔۔
لگتاہی نہیں تھا۔۔ وہ اپنے گھرسے دورایک بدمعاش کے ڈیرے پر ہے۔۔۔
کیا محبت ایسا ہی پرسکون احساس ہے کہ جب
محبت کرنے والے ایک دوجے کے پاس ہوں تو
کسی بات کی پریشانی نہیں رہتی ۔۔۔
انسان اپنے آپ کو بہت خوش بہت محفوظ سمجھتا ہے۔۔۔
ہاں جن سے اپنائیت کا تعلق ہو۔۔ ان کے پاس رہ کر سکون ہی سکون ملتا ہے۔۔
اورانسان اپنے کو کتنا مضبوط، کتنا توانا محسوس کرنے لگتا ہے۔۔۔
گویا۔۔۔ دینا کی ہر چیزسے ٹکرا جائے گا اور سب کچھ پاش پاش کردے گا۔۔۔

میں نے اسے کہا ۔۔ جلدی سے تیار ہوجاؤ

پھر اس جلدی سے اپنا سامان سنبھالا
اور کمرے میں پڑے جگ کے پانی سے ہی منہ پر چھینٹے مارکر منہ صاف کیا۔۔

اب ہم انتظار کرنے لگے ۔۔۔۔کہ کب ہاشوآئے
اور ہم یہاں سے کوچ کریں
کافی دیرگذر گئی لیکن ہاشو نہ پلٹا
میں شاکی استاد کے پاس گیا۔۔۔
وہ بھی کہنے لگا کہ ہاشوکو اتنی دیرنہیں لگانی چاہیے تھی۔۔۔

پھر اس نے ایک اور ساتھی سے کہا کہ وہ جائے اور پتہ کرے
ہاشو کو کیا ہواہے؟ ہاشو اور ناظم کو جلدی بلاؤ

میں اسے کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔
دل میں کچھ ہورہا تھا۔۔۔

تھوڑی دیربعد ہاشو آگیا ۔۔۔
اس کے چہرے پر سراسیمگی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔

پولیس شاید ادھر ہی آرہی ہے۔۔۔ وہ کہنے لگا۔۔۔
میں جب ناظم کی طرف جارہا تھا۔۔۔
تو میں نےکچھ پولیس والوں کو آگے تیسری گلی میں جاتے دیکھا۔۔۔
وہاں شاہیے کا ڈیرہ ہے۔۔۔ مجھے شک ہوا تو میں ایک دیوار کی آڑ لے کر انہیں
دیکھنے لگا۔۔۔۔
وہ واقعی شاہیے کے ڈیرے پر ہی گئے ۔۔۔
میں چھپا رہا کیوں مجھے وہیںسے آگے ۔۔۔ ناظم کو بلانے جانا تھا۔۔۔

پولیس والے کافی دیر تک اندر رہے ۔۔۔پھر میں دوسری گلی سے ناظم کے پاس گیا
اس نے کہا کہ اب وہ باہر نہیں نکل سکتا ۔۔۔
استا د شاکی کو کہ دینا کہ مہمانوں کو جلدی سے آگے پیچھے کردے۔۔۔
حالا ت دیکھ کر کرکچھ کیا جاسکتا ہے
ایڈونچر۔ ناولٹاز ایم نور آسیحصہ دوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گذشتہ سے پیوستہ
میرے دل کی ڈھرکن دھک دھک کرنے لگی ۔۔۔
لیکن میں نےاپنے آپ کو حوصلہ دیا۔۔۔

استا د شاکی نے فورا ہی مجھے کہا کہ اپنی کزن کو لے کر باہر آؤ
پھر اس نے مجھے کہا آپ کو ہم فورا ہی دوسری جگہ شفٹ کرتے ہیں
پولیس کو نبٹ لیں پھر آگے کی سوچتے ہیں
پھر اس نے مجھے اور شہلا کو پچھلی دیوار سے دوسر ی گلی میں اترنے کا کہا
میں نے شہلا کو سہارا دے کر دیوار پر چڑھایا۔۔۔ دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی
پھر خود دوسری طرف چھلانگ لگا کر شہلا کو نیچے اتارا۔۔
استاد شاکی کا ایک بندہ ساتھ تھا وہ ہمیں ایک اور گھرمیں لے گئے۔۔۔
یہ ایک بیٹھک نما کمرہ تھا جس میں صرف صوفے وغیرہ پڑے تھے
اس نے ہمیں اس کمرے میں بند کیا اور باہرکنڈی یا شاید تالا لگا دیا۔۔۔

حالا ت کافی خطرناک رخ اختیار کرتے جارہے تھے۔۔۔
میں گرچہ بہت پریشان تھا۔ لیکن باربار دل کو تسلی دے رہاتھا کہ
مجھے شہلا کی خاطر اپنے آپ کو مضبوط رکھنا ہے۔۔۔

ہمیں اس کمرے میں تقریبا ایک گھنٹہ سے زائد وقت گذرا ہو گا کہ اچانک باہر
دروازہ کا کنڈہ کھولنے کی آواز آئی۔۔۔ میں چوکنا ہوگیا اور فورا ہی اٹھ کر دروازے کے ساتھ ہو گیا۔
اندرداخل ہونے والا استاد شاکی کا بندہ تھا۔
اس نے کہا
حالات ہمارے ہاتھ سے نکل گئے۔ پولیس والے بہت بپھرے ہوئے ہیں ۔ وہ استاد شاکی کو پکڑ کر لے گئے ہیں۔
اور ان کے دو ساتھی ابھی ہمارے ڈیرے پر ہی ہیں۔
میں بہت مشکل سے بچ بچا کے آیا ہوں
آپ جیسے بھی ہو ۔ یہاں سے نکل جائیں۔ اور بیگم کوٹ پہنچنے کی کوشش کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ پولیس یہاں تک پہنچ جائے ۔
میں نے گھڑی دیکھی ساڑھے چار سے اوپر کا ٹائم تھا۔
میں اس آدمی کا شکریہ ادا کیا ۔
اس نے ہمیں راستہ سمجھایا اور کہا کہ آپ تھوڑا سا حلیہ بدل لیں
پھراس نے مجھے اپنی ٹوپی دی ایک چادر بھی دی۔ میں نے چادر اوڑھ لی۔
شہلا نے بھی اپنے جسم کو مکمل ڈھانپ لیا
اور ہم اللہ کا نام لے اس کمرے سے باہر نکل آئے
حیرت انگیز بات تھی۔ میں اب نہ تو اتنا پریشان ہو رہا تھا۔ نہ میرے دل کی ڈھرکن بے ترتیب تھی
بلکہ میں اپنے بہت توانائی محسوس کر رہا تھا۔
شہلا کی موجودگی، اور اس کی حفاظت کے خیال نے مجھے بہت حوصلہ اور ہمت دی تھی
ہم مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے ایک روڈ پر آگئے ۔
صبح کی ہلکی روشنی چارسوپھیلی ہوئی تھی۔ میں نے ایک رکشے والے کو روکا اور اسے
بادامی باغ چلنے کو کہا۔
راستے میں مجھے شہلا کہنے لگی ۔ ہمیں بادامی باغ جانے کے بجائے کوئی ٹیکسی پکڑ کر
سیدھا بیگم کوٹ چلنا چاہیے ۔ کہیں پولیس بادامی باغ اڈے پر نہ ہو۔
میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ میرے خیال میں بس وغیرہ میں جانا زیادہ مناسب ہوگا
میں رکشے والے سے پوچھا کہ ہمیں شیخوپورہ جانے والی گاڑی کہاں سے ملے گی۔
کہنے لگا
آپ نے شیخوپورہ جانا ہے۔
ہاں ۔ میں نے جان بوجھ کر بیگم کوٹ نہ بتایا۔
اس نے کہا کہ میں آپ کو ایک ویگن کےاڈے پر لے چلتا ہوں
وہاں سے آپ کو فورا گاڑی مل جائے گی
میں نے اسے کہا ٹھیک ہے
رکشہ والے نے ٹھیک کہا تھا۔ ہمیں ایک ویگن مل گئی ۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے بیگم کوٹ
جانا ہے تو اس نے کہا کہ ہم راستے کی سواریاں نہیں بٹھاتے ۔
میں نے اسے کہا کہ آپ بے شک ہم کرایہ پورا لے لو
اس پر فورا ہی راضی ہوگیا۔
ویگن میں بیٹھے تو شہلا میرے ساتھ ہی بیٹھی ۔
ہمارے آگے ایک آدمی نے ہمیں ویگن میں سوار ہوتے وقت بہت غور سے دیکھا۔
میں نے زیادہ خیال نہ کیا۔
لیکن جب راستے میں دوتین باراس آدمی نے مڑکر شہلا کو دیکھا اور پھر مجھے بھی دیکھا تو
مجھے الجھن ہونے لگی ۔
لیکن میں خاموش رہا۔ شہلا بھی خاموش ہی تھی۔
اس کی دھیان کسی طرف نہ تھا۔
میں نے جب کنڈکٹر کو دوبارہ یا د دہانی کرائی کہ مجھے بیگم کوٹ اتارنا ہے۔ تو وہ بندہ پیچھے مڑا
اور کہنے لگا۔
آپ لوگ بیگم کوٹ جارہے ہو۔
مجھے اس کا یہ سوال پوچھنا بہت برا لگا۔ لیکن میں نے تحمل سے کام لیتے ہوئے کہا
جی نہیں ۔ ہمیں جانا تو شیخوپورہ ہے۔ لیکن بیگم کوٹ میں کچھ کام ہے ۔
پھروہ کہنے لگا
آپ شیخوپورہ کے رہنے والے ہو۔
مجھے اب غصہ آنے لگا ۔ ساتھ ہی ٹینشن بھی ہورہی تھی۔
کچھ اور سواریاں بھی بھی ہماری طرف متوجہ ہو گئی تھیں
میں دل میں سوچا مجھے حوصلے سے کام لینا ہے
اور اپنے آواز اور لہجے سے کسی کمزوری کا احسا س نہیں ہونے دینا
چنانچہ میں نے جواب دیا
جی نہیں ہم شیخوپورہ کے نہیں ہیں۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور پوچھتا میں نے کنڈکٹر سے کہا
بھائی صاحب ادھرویگن میں پانی آپ نے رکھا ہوا ہے۔
تو اس کہا۔ جی نہیں
ایک سواری نے پیچھے سے مجھے کہا کہ میرے پاس ہے
میں نے اس سے پانی لے پیا۔
اتنے میں ویگن شاید شاہدرہ کے علاقے مین پہنچ گئی تھی کیوں کہ کنڈکٹر
نے ڈرائیور سے کہا
استادجی دوسواریاں دی جگہ ہے۔ شاہدرے توں ویکھ لیناں
یہاں ایک دومنٹ کے لئے ویگن رکی ۔
میرے دل میں خوف تھا کہ کہیں ویگن کو پولیس چیک نہ کررہی ہو
لیکن خدا کا شکرہے یہاں تک تو سفر بخیریت گذرا تھا۔
یہاں سے دوسواریاں اور ویگن میں سوار ہوئیں
اور پھر گاڑی چل پڑی ۔
جب کنڈکٹر نے بیگم کوٹ سٹا پ پر گاڑی رکوائی اور ہم اتررہے تھے تو
وہی آگے بیٹھا ہوا بندہ ہمیں پھر غور سے دیکھنے لگا
میں نے پرواہ نہ کی اور گاڑی سے اتر آیا
یہاں سے آگے میں بتائی گئی تفصیلات کے مطابق ایک محلے میں پہنچ گیا
لیکن مکان کو کافی دیرتلاش کرنے کے باوجود مکان نہ ملا
میں اب کے بار کچھ پریشان ہوا
سورج نکل آیا تھا۔
اور لوگ آجارہے تھے۔ میں احتیاطا کسی سے پوچھنا نہ چاہ رہا تھا
لیکن جب دوچار گلیاں پھر چکے تو شہلا بھی گھبرا گئی ۔
کہنے لگی
جمیل کیا گھما رہےہو۔ کدھر رہ گیاوہ مکان ؟
میں نے اسے بتا یا کہ میں مکان کو تلا ش کررہا ہوں اس کی یہ نشانی ہے
لیکن ایسا مکان مل نہیں رہا۔
شہلا نے کہا
ایسا کرو ۔ وہ سامنے جنرل سٹور سے پوچھ لو
میں جھجھک رہا تھا۔
بہرحال میں سٹور والے کے پا س چلا گیا اور اس سے مکان کے بارے میں پوچھا
اس نے ایک دوسوال مکان کے حوالے سے کیے اور پھر حیران ہو کر مجھے کہنے لگا
آپ بلو بھائی کے مکان کی بات تو نہیں کررہے ۔
میں نے خوشی سے کہا
ہاں ہاں اسی کی بات کررہا ہوں
وہ فورا ہی دوکان سے باہر نکل آیا ۔
اور مجھے کہا کہ آپ بلوبھائی کے مہمان ہیں تو آئیں پیچھے آجائیں
میں آپ کو خود ادھر چھوڑ کر آتا ہوں
میں شہلا کو بھی اشارہ کیا
وہ ہمیں نزدیک ہی ایک گلی میں ایک مکان میں لے گیا ۔ خود ہی بیل بجائی
اور جب اندر سے بندہ نکلا تو اسے بتایا کہ جی یہ بلوبھائی کے مہمان ہیں

میں اس کے رویے پر حیران تو ہوا۔
میرا تو یہی خیال تھا
کہ بلوبھائی کوئی بدمعاش ٹائپ ہی آدمی ہوگا۔ لیکن اس بندے کے
انداز سے مجھے لگا کہ شاید معاملہ کچھ اور ہو
خیر ہم مکان میں پہنچ گئے
اور ہماری آؤ بھگت جس انداز کی گئی وہ ہم دونوں کےلئے
حیران کن تھی

ایڈونچر۔ ناولٹ حصہ اول

ایڈونچرناولٹ از ایم نور آسیحصہ اول٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پتہ نہیں رات کا کون سا پہرتھا۔۔۔
اچانک ہی میری آنکھ کھل گئی ۔۔۔
چند لمحے تو پتہ ہی نہ چلا کہ میں کہاں ہوں۔۔۔
پھر
بے اختیار میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
ابھی آنکھیں پوری نہ کھلیں تھیں۔۔
ذہن بھی سن سا تھا۔۔۔
خیال آیا اٹھ کر پانی پی لوں۔۔۔
اماں نے جگ بھر کر ساتھ ہی میز پر رکھا ہوگا۔۔
نیم وا آنکھوں سے ۔۔۔
ہاتھ دائیں طرف بڑھا یا۔۔۔
تو ایک دم جھٹکا لگا۔۔۔۔
میرے ہاتھ کسی سخت چیز سے ٹکرائے ۔۔۔
آنکھیں پوری کھل گئیں۔۔۔

یا مظہرالعجائب یہ کیا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔ ایک بہت کھلے صحن میں ۔۔۔۔
چاروں اور ہلکی چاندنی کی روشنی۔۔۔
بالکل نئی اور انوکھی جگہ۔۔۔
کچھ یاد نہ آیا ۔۔۔۔ یہ میں کہاں ہوں؟
آنکھیں تو کھل گئی تھیں۔۔۔ لیکن ذہن ابھی نیم خوابیدہ سا تھا۔۔۔۔۔

پھر اچانک ہی چند لمحے پہلے ٹوٹے ہوئے خواب کا منظر ذہن میں ابھرا۔۔۔
امی میرے پیچھے دوڑ رہی ہیں۔۔۔ انکی اشکوں سےبرستی آنکھوں میں
ایک التجا تھی۔۔۔ اور وہ روتے روتے کہ رہی تھیں
" جمیل بیٹے کیوں مجھ سے دور بھاگ رہے ہو۔۔۔ جمیل بیٹے رکو۔۔"
اور میں بھاگ رہا ہوں۔۔۔۔بھاگ رہا ہوں۔۔۔۔
پھر اچانک ہی کہیں ٹھوکر لگی۔۔۔
زور سے گرا۔۔۔۔۔
تو آنکھ کھل گئی۔۔۔۔

اس کے ساتھ ہی فلیش بیک کے ساتھ ساری باتیں یاد آگئیں۔۔۔۔

یہ تو داتا دربار ہے ۔۔۔ جہاں میں سویا ہوں کھلے صحن کے ایک کونے میں
ایک ستون کے قریب۔۔
میرے ساتھ ہی میرا دوست
اکمل بھی سویا ہوا ہے۔۔۔۔
پھر
پتہ نہیں کیوں امی کا روتا چہرہ سامنے آنے لگا۔۔۔۔
اور آنسو میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ برسنے لگے۔۔۔
یوں جیسے ساون کی جھڑی سی لگ گئی ہو۔۔٭٭٭٭٭٭٭٭میں شروع سے بہت لاڈلا تھا ۔۔۔
گھر میں سب ہی تو پیار کرنے والے تھے۔۔۔
کیا بہنیں کیا بھائی ۔۔
کیاامی کیا ابو ۔۔۔ خالائیں، پھوپھیاں ، چچا اور ماموں۔۔
پھر انکے بیٹے اور بیٹیاں۔۔
اتنا لمبا چوڑا خاندان
اتنی محبتیں اور اتنی توجہ ملی۔۔۔ کہ
میں تو بچپن ہی سے ضدی اور خود سرہو گیا تھا۔۔۔
لیکن کہانیاں پڑھنے کا شوق بہت شروع سے تھا۔
میری فرمائش پوری کرنا گویا ایک اہم کا م تھا سو
سو گھرمیں کہانیاں اور رسائل ۔۔
میرے ذوق کی تسکین کرتے تھے
یہ بھی نہ تھا کہ بس کہانیاں ہی پڑھنا میرا مشغلہ تھا ۔۔
میں اپنی پڑھائی میں بہت تیز تھا۔۔۔
ہمیشہ فرسٹ آتا۔۔۔
میرا ایک بہت پیارا پیارا دوست تھا اکمل ۔۔۔
یہ اکمل میرا کلاس فیلو بھی تھا، محلے دار بھی تھا۔۔۔
اور میرا ہم ذوق بھی۔۔
اسے بھی کہانیاں اور رسالے پڑھنے کی لت تھی۔۔۔
ذرا سا بڑے ہوئے تو کسی نے جاسوسی ٹائپ رسالے پکڑا دیے
پھر کیا تھا۔۔۔
ساری کہانیاں پھینک دیں اور صرف جاسوسی رسالے اور عمران سیریز کی
طرف دھیان ہوگیا۔۔۔
ان جاسوسی کہانیوں کا ہر ہیرو گویا میں خود ہی ہوتا۔۔۔
اور اکمل کے ساتھ جب بھی ملاقات ہوتی تو
انہی کرداروں کے بارے میں بات ہوتی ۔۔۔
یہ جاسوسی کردار گویا ذہن پر سوار ہوگئے۔۔
سوتے جاگتے انہی کرداروں میں گھومتے رہتے۔۔۔

ماں کو مجھ سے بے انتہا محبت تھی۔۔۔ بے انتہا
میں بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا بھی تھا۔۔۔ اور شاید بہت پیارا بھی

لیکن کم عمری میں انسانی ذہن محبت کو پہچانتا تو ہے شاید اس کی قدر نہیں کر پاتا
ماں کی محبت تو اولاد کی سانس میں مہکتی ہے، خون میں دوڑتی ہے۔
احسا س میں جھلکتی ہے۔۔۔ لیکن
اولاد کو اس کی قدر تب ہوتی ہے ۔۔۔ جب یہ محبت سانسوں سے اپنی مہک اڑا لے جائے
جب خون میں اسکی روانی تھم جائے۔۔۔

میں بھی تو اتنی محبتیں سمیٹ رہاتھا کہ محبت کی قدر ہی بھول گیا۔۔۔

میٹرک کرلیا توگھروالوں نے کہا اب یہاں اس قصبے میں تو مزید پڑھائی ممکن نہیں
اسے کیوں نہ بڑے ماموں کے ہاں پشاور بھیج دیں۔۔۔

یہ باتیں میرے کانوں میں پڑیں تو میں چوکنا ہوگیا۔۔۔۔

اکمل سے بات کی تووہ کہنے لگا
"کبھی پشاور نہ جانا۔۔۔ تمھیں میری قسم۔۔۔
تم نے وہ ناول پڑھا ہے نا جس دودوست ایڈونچر کی خاطر گھر بار چھوڑ دیتے ہیں"

"ہاں ہاں۔۔ کیوں نہیں ۔۔۔۔ وہ حامد اور واجد۔۔۔
واہ کیا دوستی تھی یار انکی۔۔۔ اور کیا حیرت انگیز ایڈونچر تھا ان کا۔۔۔
سچی مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے۔۔۔ وہ حامد میں تھا۔۔۔"

اکمل تو اچھل ہی پڑا ۔۔۔

" سوفی صد اور واجد میں۔۔۔۔"

ہم دونوں کے مشترکہ قہقہے نے تو گویا درودیوار ہلا دیے۔۔۔

پھر ہم دونوں نے یہ ناول پھر سے پڑھا۔۔۔
اور اس ناول کی ہر بات کو ایک دوسرے سے شیئر کیا۔۔۔

یہ ناول دوبارہ پڑھ کر باربار ایک ہی خیال ذہن میں گونجتا تھا۔۔۔
کاش  حامد اور واجد کی جگہ ہم ہوتے۔۔۔اکمل کے ساتھ میرایارانہ تو اتنا پکا تھا۔۔۔ کہ گویا یک جان دو قالب ہوں
گھروالے سبہی جانتے تھے۔۔۔کہ اکمل میں میری جان ہے تو مجھ میں اکمل کی

اکمل ایک نسبتا غریب گھر سے تعلق رکھتا تھا۔
پڑھائی میں بھی درمیانہ سا تھا ۔۔۔
لیکن ویسے بہت پھرتیلا اور ہوشیار تھا۔۔

وہ کئی دفعہ شہر بھی جا چکا تھا۔۔۔
اور کئی فلمیں بھی اس نے دیکھ رکھی تھیں۔۔۔
یہ الگ بات کہ اس نے کرائے اور فلموں کےلئے پیسے مجھ سے لئے تھے

اب جناب ادھر میرے گھر میں یہ کچھڑی اب بہت زور شور سے پک رہی تھی
کہ مجھے پشاور اپنے ماموں کے ہاں بھیجا جائے
امی اس کے حق میں نہ تھیں ۔۔۔ کہ انہیں اپنے لاڈلے کی جدائی گوارا نہ تھی
پھر ایک اور بات جو وہ باربار کہتیں
میرے لاڈلے جمیل نے تو کبھی اپنے ہاتھ سے نوالا توڑ کرنہیں کھایا ۔۔۔ تو
وہاں ممانی اس کی خدمت کر سکے گی؟ وہ تو طبیعت کی بھی بڑی تیز ہے۔۔۔

ہاں یہ بات تو میں بھی جانتا تھا۔۔۔ ممانی تو ممانی بڑے ماموں بھی ذرا سخت مزاج کے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں نہ بڑے ماموں کو پسند کرتا تھا نہ ممانی کو

اندر ہی اندر میں ذہن بنا چکا تھا۔۔ میں نے پشاور نہیں جانا۔۔۔ چاہے جو بھی ہو جائے

میرے خوابوں کا شہر لاہور تھا۔۔۔

لاہور جہاں حامد اور واجد رہتے تھے۔۔۔۔۔ وہی ناول کے مرکزی کردار

پھر رہی سہی کسر اکمل کی قسم نے پوری کردی ۔۔۔

اب میں نے پوری سنجیدگی سے اکمل سے یہ بات کرنی شروع کردی کہ
ہم کیوں نہ لاہور جائیں۔۔۔
گھرسے بھاگ کر ۔۔۔
اور ایڈونچر سے لطف اندوز ہوں
اس کچی عمر میں ایڈونچر کے نام پرہی خون میں سنسنی سی دوڑنے لگتی تھی
اکمل تو پہلے ہی ذہن بنائے بیٹھا تھا۔۔۔

سو اب ہم نے تفصیلات طے کر نا شروع کردیں

اکمل نے کہا۔۔
سب سے پہلے پیسوں کا بندوبست کرنا ہے۔۔۔
میں نے اپنی بچت اس کے پاس جمع کروا دی جو کہ
کل مبلغ 3000 روپے تھی
اکمل کے پاس بھی 500 روپے تھے یوں کل رقم 3500 روپے ہوگئی۔۔
مزید پیسے جمع کرنے کا مشورہ اکمل کا ہی تھا
وہ تجربہ کار تھا۔۔
اس نے کہا۔۔۔ ہمیں کم ازکم پانچ ہزار روپے لے کر گھر سے نکلنا چاہیے ۔۔۔

کپڑوں کے چار پانچ جوڑے ۔۔۔
زیادہ سامان اس نے منع کیا۔۔۔

ہم روزانہ سارا دن یہی پروگرام بناتے رہتے ۔۔
اکمل کا ایک رشتہ دار فوجی لاہور میں تعینات تھا۔۔۔
وہ چھٹی آیا تو اکمل نے اس سے مفید معلومات لیں

اب اکمل کے گھر کی بات بھی سن لیجیئے

اکمل کے دو بھائی اور بھی تھے ۔۔۔ دونوں بڑے۔۔
ماں فوت ہو چکی تھی ۔۔
باپ ایک چھوٹا سا زمیندار تھا۔۔
بھائی بھی باپ کے ساتھ ہی کام کرتے تھے۔۔۔

اکمل کو اس کا ابو مزید پڑھا نا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن ان کے مالی حالات اس کی اجازت نہ
دیتے تھے۔۔
چنانچہ اکمل کی قسمت کا فیصلہ بھی تقریبا آخری مراحل میں تھا۔۔۔
اسے اس کے ایک دور کے رشتہ دار نے کراچی کی کسی فیکٹری میں ملازمت دلوانے کا وعدہ کیا ہوا تھا۔۔۔
اس نے اگلے ماہ چھٹی آنا تھا۔۔۔ اور اکمل کو ساتھ لے جانا تھا۔۔۔۔

نہ اکمل کراچی جانے اور فیکٹری میں کام کرنے کے حق میں تھا
نہ میں پشاور جاکر ممانی کی کڑوی باتیں سننا چاہتا تھا۔۔۔
سو دونوں
کا خواب ایک ہی تھا۔۔

شہرلاہور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
لاہور کا نام آتے ہی۔۔۔ ہمارے ذہنوں میں ناول کےکردار
گھومنے لگتے ۔۔۔

ہمارے گھر سے بھاگنے اور لاہور جانے کی تیاریاں عروج پر تھیں
میں نےآج تک کبھی گھروالوں کی اجازت کے بغیر اپنے قصبے سے باہر قدم نہیں نکالا تھا۔ یہ بھی نہیں تھا کہ کبھی دوسرے علاقے میں نہیں گیا۔۔
میں نے اپنے والدین یا بڑے بھائیوں کے ساتھ مختلف شہر دیکھے لیکن کبھی اپنی تنہا سفرنہیں کیا تھا۔۔۔
اکمل نے مجھے بتا یا کہ ہمارے قصبے سے صبح سویرے ساڑھے پانچ بجے ایک گاڑی سیالکوٹ تک جاتی ہے۔۔۔ہم اس پر صبح سویرے نکل جائیں گے۔۔۔
صبح کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔۔۔کیونکہ اندھیرا ہوگا۔۔۔

لیکن میرے ساتھ ایک مسئلہ تھا۔۔۔
میں گھروالوں کے اٹھانے کے باوجود صبح آٹھ بجے سے پہلے نہ اٹھتا تھا۔۔۔

اب اتنے سویرے مجھے اٹھائے گا کون؟
امی جان تو پانچ بجے سے بھی پہلے اٹھ جاتی تھیں۔۔تہجد پڑھتی تھیں۔۔۔

ایک سکیم زہن میں آئی۔۔
میں نے امی سے کہا۔۔۔ امی جی ۔۔میں کل سے صبح کی نماز پڑھوں گا۔۔ آپ مجھے جلدی اٹھا دیا کریں ۔۔
امی تو وارے وارے گئی۔۔
دودن تو میں واقعی نماز پڑھتا رہا۔۔۔
پھر تیسرے دن اکمل اور میں نے لاہور نکل جانا تھا۔۔۔

جس دن ہم نے لاہور کے لئے نکلنا تھا۔۔۔ اس رات مجھے نیند ہی نہیں آرہی تھی
دل میں کچھ ہورہا تھا۔۔۔
کبھی کبھی خیال آتا ۔۔۔ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے۔۔۔کوئی انجانا سا خوف ذہن کو جکڑ لیتا پھر ایڈونچر کا خیال آتا تو خوف جھٹک دیتا۔۔۔

اسی کش مکش پتہ نہیں رات کب نیند آئی ۔۔۔
صبح جب امی نے جگایا تو
میں بہت دیرتک امی کو دیکھتا رہا۔۔۔
امی پریشان ہوگئیں ۔۔
" کیا ہوا ہے میرے لال کو۔۔ کیوں ایسے دیکھ رہے ہو۔۔۔"
'بس ویسے ہی ۔۔۔ آج آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں"
امی ہنس پڑی
بولی کچھ نہیں بس مجھے گلے سے لگا لیا۔۔۔اور بہت دیرتک لگائے رکھا
مجھے نظر تو نہیں آرہا تھا ۔۔پر امی کے ہلتے وجود سے لگتا تھا۔۔۔وہ رورہی ہیں۔۔۔
یہ ہنستے ہنستے رونا۔۔۔ بھی کیا عجب ہوتا ہے
پھراچانک ہی
میری بھی آنکھیں چھلکنے کو آگئیں۔۔۔
بہت مشکل سے اپنے آنسوؤں کو روکا۔۔۔

پھر جب گھرسے نکلنے لگا تو دل چاہا ۔۔۔۔
ایک بارمڑکر پھراپنی امی کو دیکھ لوں۔۔۔
لیکن
ڈرگیا ۔۔۔ کہیں امی میرے آنکھوں کے کٹورے میں
چھلکتے آنسو نہ دیکھ لیں۔۔۔

جب میرے قدم بس اڈے کی طرف بڑھ رہے تھے تو مجھے
ایسے لگا۔۔۔
میری بائیں طرف سینے میں
ایک ٹیس سی اٹھی ہے۔۔۔

پھرایک ہلکے درد کی لہر پورے وجود میں پھیل گئی
میرے قدم ڈگمگانے لگے۔۔۔
آنکھوں کے آگے باربار ایک ہی چہرہ آرہا تھا
امی کا چہرہ۔۔۔
بہت ممکن تھا کہ واپس گھر کی طرف پلٹ جاتا۔۔۔
اچانک دوسری گلی سے اکمل آتا ہوا دکھائی دیا ۔۔
اس کے ہاتھ میں بیگ تھا۔۔ اس میں میرے اور اسکے کپڑے تھے۔۔

وہ ایک دم میرے قریب آیا ۔۔۔ اور مجھے بازؤں سے کھینچتے ہوئے کہنے لگا
" شاباش میرے دوست
میں سوچ رہاتھا کہیں تم ہمت نہ ہار جاؤ
تم تو شیر نکلے شیر۔۔۔ چل اب جلدی چل کہیں بس نہ نکل جائے
اڈے پر بس نکلنےکے لئے تیار تھی۔۔
ابھی ہلکا اندھیرا تھا۔۔۔ ہم دونوں بس میں بیٹھ گئے
چند ایک سواریاں بیٹھی تھیں ۔۔۔ کسی نے ہماری طرف توجہ نہ دی
بس کے چلنے تک میرا دل زور زور سے دھڑکتا رہا۔۔۔

جب بس نے دھیرے دھیرے چلنا شروع کیا
تو گویا میرے وجود میں سے خون کنچھنا شروع ہوگیا۔۔
میرا دل ڈوبنے لگا۔۔۔
اکمل نے میری طرف دیکھا تو
پریشان ہوگیا ۔۔۔
کیوں جمیل کیا ہوا ہے۔۔
مجھ سے بولا ہی نہ گیا۔۔۔
اس نے فورا ہی بیگ سے ایک بسکٹ کا پیکٹ نکالا
اور میری طرف بڑھایا۔۔
میں اپنے اندر اتنی کمزوری محسوس کررہا تھا گویا کسی نے جان نکال دی ہو
اکمل نے زبردستی میرے منہ میں بسکٹ ڈالا
اور مجھے حوصلہ دینے لگا۔۔۔
کافی دیر بعد میری حالت سنبھلی

راستے میں کیا ہوتا رہا ۔۔۔ میری دل چسپی بالکل نہ تھی
حالانکہ مجھے اتنا شوق تھا۔۔۔
گاڑی میں سفر کرنے کا۔۔
اور راستے میں آنے والی ہر چیز کو دیکھنے کا۔۔۔

کب سیالکوٹ آگیا مجھے پتہ ہی نہ چلا۔ وہاں ایک ہوٹل سے ناشتہ کیا
سیالکوٹ سے ہم نے دوسری گاڑی پکڑی اور دن کے تقریبا دوبجے ہم لاہور پہنچ گئے
لاہور پہنچتے ہی میری طبیعت ہشاش بشاش ہو گئی۔۔
ہم بہت دیر تک مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں بیٹھے رہے۔۔۔ وہاں سے ہم نے کچھ فروٹ بھی لیا۔ ناشتہ لیٹ کیا تھا ۔۔۔ سو بھوک ہی نہ تھی۔۔۔ پھر اکمل مجھے بادشاہی مسجد لے گیا۔ پھر ہم پیدل ہی گھومتے گھومتے انارکلی پہنچ گئے۔۔۔
ہم اتنے خوش تھے کہ تھکن ہی محسوس نہیں ہورہی تھی۔۔
شام کے سات بجے تو مجھے بھوک نے ستا نا شروع کردیا ۔۔
ایک جگہ ہوٹل دیکھا تو میں نے اکمل سے کہا
مجھے سخت بھوک لگی ہے۔۔۔ کھانا کھاتے ہیں
اکمل بھی شاید بھوک محسوس کررہا تھا ۔۔
ہم ہوٹل میں چلے گئے ۔۔
اکمل نے ایک پلیٹ چنے کا آرڈر دیا۔۔
کہنے لگا۔۔۔ بچت کرنی ہے۔۔
خیر ہم دونوں نے ڈٹ کر کھایا۔۔۔
چنے بہت مزیدار تھے۔۔
جب بل آیا تو 100 روپے۔۔
اکمل تو حیران ہوگیا۔۔
میں نے پہلے ریٹ پوچھا تھا ۔۔۔
وہ کہ رہاتھا فی پلیٹ 35 روپے۔۔۔ پھر اتنا بل
اکمل بیرے سے جھگڑنے لگا۔۔۔
بیرے نے کہا۔۔۔ میں نے تو سنگل پلیٹ کا ریٹ بتا یا تھا۔۔
آپ نے فل پلیٹ لی ہے۔۔۔ اور نان اس کے علاوہ تھے۔۔ سلاد کے بھی پیسے ہیں
اکمل بحث کرتا رہا ۔۔
مجھے پتہ نہیں کیوں ڈر لگ رہا تھا۔۔
میں بار بار اکمل کو منع کر رہا تھا۔۔
لیکن وہ باز نہ آیا ۔۔
آخر بڑی مشکل سے اس نے 80 روپے دیے۔۔
اور ساتھ میں بہت گالیاں بھی۔۔
ہم باہر نکل آئے ۔۔۔
کہنے لگا۔۔۔
یہاں بہت فراڈ کرتے ہیں۔۔۔
ہمیں یہاں کھانا نہیں کھانا چاہیے تھا۔۔۔

میرا لاہور سے یہ پہلا تعارف تھا۔۔۔
پھر ہم پیدل چلتے ہوئے۔۔۔ داتا دربار چلے گئے۔۔
وہاں لنگر بٹ رہا تھا۔۔۔
اکمل مجھے غصہ ہونے لگا ۔۔۔
تمھیں بہت بھوک لگ رہی تھی نا۔۔۔
خواہ مخواہ اسی روپے ضائع کروادیے۔۔
یہاں مفت کھانا مل جاتا۔۔۔
میں روہانسا ہوگیا" تو مجھے کیا پتہ تھا یار"
" اچھا اچھا خیر۔۔ چھوڑو ان باتوں کو۔۔۔
اب خرچہ بچانا ہے۔۔۔ رات داتا دربار پر ہی گذاریں گے۔۔۔"

" وہ کیسے ؟"
بس تم دیکھتے جاؤ۔۔
اس نے ایک ستون کے ساتھ ہی جگہ منتخب کی ۔۔۔
میرے کیڑے نکال کر مجھے دیے
اور کہا ان کو سر کے نیچے رکھو اور سو جاؤ
میری تو بہت عجیب کیفیت تھی
یہ فرش پر میں بھلا کیسے سوؤں گا۔۔۔
میں تو ڈرتا تھا کہیں کوئی سانپ ، کیڑا مجھے کاٹ نہ لے
اکمل نے لا پرواہی سے کہا
فکر نہ کر
ادھر داتا دربار میں سانپ اور کیڑے مکوڑے بندوں کو نہیں کاٹتے
تم بس آنکھیں بند کرو اور سوجاؤ
نیند تو واقعی زوروں کی آرہی تھی۔۔
لیکن یہاں تو حالت ہی عجیب تھی
کوئی ادھر آرہا ہے تو کوئی ادھر سے جارہا ہے۔۔
آوازیں ، شور
میں لیٹ گیا۔۔۔
تھکاوٹ بھی بہت زیادہ محسوس ہورہی تھی۔۔۔
صبح سے اب تک کا سفر ایک خواب لگ رہا تھا۔۔۔
کبھی بہن کا چہرہ ، کبھی بھائی کا چہرہ، کبھی امی کا چہرہ
کبھی ابو کا چہرہ سامنے آتے جارہے تھے۔۔۔
اور میری آنکھیں بھیگتی جارہی تھیں۔۔۔
جی چاہ رہا تھا۔۔۔
امی کو بولوں ۔۔
امی جی میری ٹانگیں تو دبا دیں۔۔۔۔۔
امی جی ۔۔۔ میرا سر تو دبا دیں۔۔۔
میں بہت تھک گیا ہوں۔۔۔
پھرروتے روتے میں سوگیا۔۔۔
پتہ نہیں رات کا کون سا پہرتھا۔۔۔
اچانک ہی میری آنکھ کھل گئی ۔۔۔
تھوڑی دیر کے بعد جب ذہن سے نیند کا غبار اترا تو آہستہ آہستہ
یاد آگیا۔۔
یہ تو داتا دربار ہے ۔۔۔ جہاں میں سویا ہوں کھلے صحن کے ایک کونے میں
ایک ستون کے قریب۔۔
میرے ساتھ ہی میرا دوست
اکمل بھی سویا ہوا ہے۔۔۔۔
پھر
پتہ نہیں کیوں امی کا روتا چہرہ سامنے آنے لگا۔۔۔۔
اور آنسو میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ برسنے لگے۔۔۔
یوں جیسے ساون کی جھڑی سی لگ گئی ہو۔۔

میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو ایسے لگا گویا
میرا جسم اکڑ گیا ہو۔۔۔
فرش پر پتہ نہیں کیسے نیند آگئی ۔۔۔
بہت مشکلوں سے اٹھا ۔۔
ہلکا ہلکا چلا۔۔۔ خون کی روانی تیز ہوئی تو
جسم کی اکڑاہٹ کم ہوئی
ایک دھیمی سی نورانی روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی
ایسے میں داتا دربار اور اسکے ساتھ ملحقہ مسجد نے کا منظر
مسحور کردینے والا تھا۔۔
اکمل تو گھوڑے بیچ کر سویا ہوا تھا ۔۔
میں نے اپنے کپڑے اس کے سر کے نیچے دبائے اور وضو کی جگہ تلاش کرنے
لگا۔۔
وضوکرنے کے بعد میں مسجد میں چلا گیا۔۔۔
اور سجدے میں گر کر بہت رویا ۔۔
بہت ہی رویا۔۔
پتہ نہیں کتنا ٹائم گذر گیا۔۔۔
پھر اذان ہونے لگی ۔۔۔
تو آنکھیں صاف کیں۔۔۔ اور نماز باجماعت اداکی۔۔۔
اتنا سکون ملا۔۔۔

نماز سے فارغ ہوکر باہر صحن میں آیا تو اکمل جاگ چکا تھا۔۔
اور مجھے تلاش کررہا تھا۔۔۔
داتا صاحب کے مزار پر فاتحہ خوانی کی۔۔
اور باہر آگئے۔۔
ناشتہ کیا ۔۔ چائے پی۔۔
تو اکمل کہنے لگا۔۔۔
آج سے ایڈونچر شروع۔۔
آج ہم سب سے پہلے اپنے لئے کوئی نوکری تلاش کریں گے۔۔۔
جیسے کہ واجد اور حامد ۔۔۔
میں اپنے جسم میں ایک نئی امنگ اور ترنگ محسوس کرنے لگا
ہم نے پیدل ہی چلنا شروع کر دیا۔۔۔
اکمل اس معاملے میں بہت کنجوسی کر رہا تھا۔۔
کہنے لگا ۔۔
پہلے ہی اخراجات توقع سے زیادہ ہو گئے ہیں۔۔۔
اب کھانا صرف داتا دربار پرہی ہوگا۔۔
اورکرایہ بچانے کے لئے پیدل چلا جائے گا۔۔۔
میں اگرچہ نازک مزاج تو تھا۔۔
لیکن دیہاتی ہونے کی وجہ سے پیدل چلنے سے نہ گھبراتا تھا۔۔
پھر یہاں تو معاملہ ایڈونچر کا تھا۔۔
خوابوں کے شہر لاہور کا تھا۔۔۔
سو پیدل چلنا برا نہ لگا۔۔۔
اکمل نے راستے میں چلتے چلتے کئی جگہوں پر بات کی۔۔
ایک دو ہوٹل والوں سے، ایک دودیگر دوکان داروں سے۔۔۔
لیکن
مایوسی ہوئی ۔۔
سب سے پہلا سوال یہی ہو تا تھا۔۔۔ کون ہو،،
کہاں سے آئے ہو۔۔
گھرسے بھاگے ہوئے تو نہیں ہو۔۔۔
یا پھر
اپنے کسی بڑے کے ساتھ آؤ۔۔۔
وغیرہ

ہم چلتے چلتے یادگار چوک پہنچے پھر وہاں سے مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں
بیٹھ کر ارد گرد کا نظارہ کرنے لگے
مجھے صبح صبح مینارپاکستان
شاندار دِکھ رہاتھا۔۔ کیا تمکنت تھی کیا شان تھی۔۔
چارسو سر سبز میدان ۔۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا۔۔۔
بہت دیر تک ۔۔۔
ارد گرد کی فضا میں کھویا رہا۔۔
اکمل بھی خاموش تھا۔۔
لیکن تھا گہری سوچ میں۔۔۔
کافی دیر بعد اکمل کہنے لگا
یار جمیل میں سوچ رہا تھا۔۔۔
نوکری کے بغیر کے ہمارا لاہور میں ٹھہرنا بہت مشکل ہو جائے گا
ہمیں جیسے بھی ہو اپنے لئے نوکری اور رہائش کا بندوبست ہر صورت میں
کرنا پڑے گا۔۔
اس کے لئے میں کوئی متاثر کن کہانی سوچ رہا تھا۔۔۔
لو تم بھی سنو اور بتاؤ کیسی رہے گی۔۔

اس نے جھوٹ موٹ کی جو کہانی گھڑی اس کے مطابق اس کے گھروالے
ایک حادثے میں فوت ہوگئے ہیں۔۔۔ اور اسکی چھوٹی چھوٹی تین بہنیں ہیں
جنہیں پالنے کی تمام تر ذمہ داری اب اسی کے سر ہے کہ سارے رشتہ دار اب
پیچھے ہٹ گئے ہیں ۔۔ وہ اپنے اس غریب دوست کے ساتھ لاہور نوکری کی تلاش میں
مارا مارا پھر رہا ہے۔۔۔۔
میں جھوٹ کا قائل تو نہ تھا۔۔ پر اب مجبوری تھی۔۔
اس کہانی کو مزید بہتر بنایا۔۔۔
اکمل بہت ہوشیار بھی تھا اور خود اعتماد بھی
اسے بولنے پر بھی عبور تھا۔۔
اس ایک دفعہ پھر مکمل کہانی مجھے بہت دردناک انداز میں سنائی
ساتھ میں بوقت ضرورت وہ آنکھ میں آنسو بھی بھر لاتا تھا۔۔۔
میں ہنس ہنس کر دہرا ہو گیا۔۔۔
اکمل کہنے لگا۔۔۔
یار دیکھنا ۔۔۔
میں کبھی نہ کبھی فلموں میں کام کروں گا۔۔۔ اداکاری تو میں کرہی لیتا ہوں
بس ذرا شکل سے مار کھا نے کا خطرہ ہے۔۔۔
کاش میں تیرے جیسا پرکشش چہرے ، اور مسحورکردینے والی آنکھوں کا مالک ہوتا

سچ ہی تو کہ رہا تھا وہ۔۔۔
مجھے خدا نے بہت پیار بنایا تھا۔۔۔
تبھی تو ہمارے گا ؤں کی کئی لڑکیاں آتے جاتے میرے ساتھ
بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتی تھیں
پر میں تو شرماتا ہی رہتا تھا۔۔۔
اور لڑکیوں سے بات کرنے کی تو مجھ ہمت ہی نہ تھی۔۔

ہم اس کے بعد سارا دن لاہور شہر کی پیدل خاک چھانتے رہے۔۔
تقریبا عصر کا وقت تھا۔۔۔ہم پرانی انارکلی میں گھوم رہےتھے

ابھی تک ہم نے بے شمار جگہوں پر کوشش کی ۔۔ لیکن کہیں کوئی نوکری کا
آسرا نہ ملا۔۔۔
اچانک اکمل مجھے کہنے لگا۔۔
وہ سامنے جوبندہ ٹیبل رکھ کر بیٹھا ہے۔۔ آؤ آج اس نے بات کرکے آخری کوشش کرتے
ہیں۔۔
بندہ کافی باتونی نکلا ۔۔۔ اور اس نے اکمل سے بہت سی باتیں کیں
لیکن اکمل جو کہ دن میں پندرہ بیس مرتبہ اپنی گھڑی ہوئی کہانی دہرا چکا تھا۔۔
بہت اعتماد سے اس کی باتوں کا جواب دیتا رہا۔۔
وہ آدمی کہنے لگا
میں بھی ایک ہوٹل کا ملازم ہوں
ہمارا ہوٹل اندر کی طرف ہے۔۔۔
تم اس ہوٹل کے مالک سے ملو۔۔۔
وہ اچھا آدمی ہے۔۔۔ شاید تمھارا کام بن جائے۔۔
پھر اس نے ایک لڑکے کو آواز دی اور کہا
ناصر۔۔۔ ان لوگوں کو آغاجی کے پاس لے جاؤ
لڑکا ہمیں چھوٹی سی دوتین گلیوں سے گھماکر
ایک ہوٹل میں لے گیا۔۔۔ وہاں ایک کمرے میں ایک بزرگ بیٹھے تھے
جو ٹیلی فون پرکسی سے بات کررہے تھے ۔۔
ہمیں اس نے سامنے لگی کرسیوں پر بیٹھنے کو کہا اور خود کھڑا رہا
جب وہ بزرگ فون سے فارغ ہوئے تو بہت ادب سے کہنے لگا
"آغا جی۔۔۔ یہ لوگ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔ باہر سے فاروق نے بھیجے ہیں"
آغاجی نے بہت غور سے ہمیں دیکھا اور اسے کہا
"ٹھیک ہے۔۔"
وہ لڑکا اجازت لے کر باہر چلا گیا۔۔
مجھے آغا جی کا چہرہ بہت اچھا لگا۔۔۔
بہت شفیق سا۔۔
انہوں نے ہم سے پوچھا کہ ہم کون ہیں اور انہیں کیوں ملنا چاہتے ہیں
بس جی پھر تو اکمل نے
کہانی شروع کردی ۔۔ ساتھ ساتھ آنسو بھی بہانے لگا۔۔۔
سچی بات ہے۔۔
اکمل کی باتیں سن کرمیں بھی متاثر ہوگیا تھا۔۔۔
اور مجھے بھی رونا آرہاتھا۔۔۔
حالانکہ مجھے پتہ تھا۔۔۔ یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔
آغا جی بہت صبر سے اکمل کی باتیں سنتے رہے۔۔
پھر انہوں نے تفصیل سے بہت پوچھا۔۔
ہمارے باپ کا نام ، گاؤں کا نام، تعلیم
اور بہت کچھ۔۔۔
اکمل کچھ سچ کچھ جھوٹ بتا تا رہا۔۔۔
اس دوران آغا جی نے ہمارے لئے چائے اور بسکٹ بھی منگوائے۔۔
اکمل نے مجھے کان میں کہا" یہ بسکٹ ڈٹ کر کھاؤ۔۔سمجھو رات کا کھانا ہے"

آخرکار آغا جی نے ہمیں کہا
"بچو۔۔ ۔۔ میں تمھاری ساری باتوں کو سوفی صد سچ نہیں سمجھتا ۔۔۔
لیکن ایک وجہ سے میں تم لوگوں کو یہاں اس ہوٹل میں آزمائشی مدت کے لئے ملازمت
دے رہا ہوں۔۔ اور وہ وجہ یہ ہے کہ کہیں تم ۔۔
غلط لوگوں کے ہتھے نہ چڑھ جاؤ۔۔۔ میں بھی بچوں‌والا ہوں۔۔۔
لیکن میں تمھاری باتوں کی تصدیق کرواؤں گا۔۔۔"
ہم تو خوشی سے پھول گئے۔۔

مجھے انہوں نے ہوٹل کے اندر ہی کاؤنٹر پر زمہ داری دی۔۔اورکہا
کل سے تم کاؤنٹر کلرک سے کام سیکھو۔۔اور اکمل کو کہا کہ تم ناصر کے ساتھ
باہر کے گاہک ادھر لاؤ گے۔۔ اس سلسلے میں ناصر تمھیں سارا کا م سمجھا دے گا
اور ہاں ذہن میں‌رکھنا۔۔۔
میں ابھی تم لوگوں کو کوئی تنخواہ نہیں دوں گا ۔۔۔
کھا نا اور دیگر ملازمین کے ساتھ مشرکہ رہائش البتہ مل جائے گی۔۔۔
ابھی دوہفتے کام کرو ۔۔۔ پھر دیکھتے ہیں ۔۔ کیا ہو سکتا ہے۔۔

اکمل نے فوری ہی ہر بات پر آمین کہ دیا۔۔۔
لیکن اس نے کہا ۔۔۔ ہمیں رہائش آج سے ہی دے دیں۔۔
کیونکہ ہمارے پاس ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلے ایک گھنٹے میں ہم ایک بڑے کمرے میں موجود چارپائیوں پر لیٹے ہوئے تھے
اور حامد اور واجد والے ناول کے بارے میں باتیں کررہے تھے۔۔۔
کھانا وغیرہ کھانے کے بعد ہم فارغ تھے۔۔
اکمل کہنے لگا۔۔۔ آج لاہور کی رنگینیاں دیکھتے ہیں۔۔۔
رات کو لاہور ایک اور انداز سے جاگتا ہے۔۔۔
میں نے اپنے عزیزسے کچھ معلومات لی تھیں۔۔ سو اب کچھ انجوائے کرتے ہیں۔ اب کھانے پینے اور رہائش کی تو فکر ختم ہوگئی۔۔ ۔۔ اب ایڈونچر شروع۔۔۔

کپڑوں کے نئے جوڑے پہن کر تیاری کرکے ہم ہوٹل سے باہر نکل آئے۔۔
باہرجگمگا تی روشنیاں میرے لئے ایک نیا اور خوش کن نظارہ تھا
ہم پیدل ہی چل رہے تھے۔۔۔
سچی بہت مزا آرہا تھا۔۔۔ اس وقت نہ گھر یا د تھا، نہ اس کے مکین
سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
اکمل گنگتا تا جا رہا تھا۔۔۔
راستے میں ایک جگہ سینما آیا ۔۔۔ وہاں کافی دیرگھومتے رہے۔۔
لیکن اکمل کہنے لگا ۔۔۔
آج فلم نہیں دیکھیں گے۔۔۔
آج کچھ اور ہی دیکھیں گے۔۔۔
میں نے حیرانی سے پوچھا
اور ہی کیا؟
کہنے لگا۔۔
بس تم چلتے رہو۔۔۔
راستے میں ایک جگہ قلفی کھائی ۔۔۔
بہت ٹیسٹی۔۔۔
طیبعت میں جولانی در آئی
چلتے چلتے ایک ایسی بستی میں پہنچے جہاں کا نظارہ
بالکل مختلف لگا۔۔۔
پرانے مکان ، دو منزلہ ، سہ منزلہ ،
چھوٹی چھوٹی گلیاں، گلیوں میں دوکانیں،
اور دوکانوں پر آلات موسیقی ،
یہ کونسی جگہ ہے۔۔۔
میں نے اکمل سے پوچھا۔۔۔
اکمل کچھ نہیں بولا ۔۔۔
بس مسکراتا رہا۔۔۔
میں بہت غور سے ارد گرد دیکھ رہا تھا۔۔۔ کچھ انوکھا سا لگ رہا تھا۔۔۔
پھر اچانک ہی
میرے دائیں طرف ایک مکان کے دروازے کا ایک پٹ کھلا،،،

میں نے دیکھا ۔۔۔ایک حسین چہرہ۔۔۔باہر جھانک رہاتھا
پھر اسکی دلنواز آنکھیں میری طرف آئیں
اور گویا میرے چہرے سے چپک گئیں

اور میرا دل
میرا دل تودھڑکنا بھول گیا۔۔۔۔
پاؤں چلنا بھول گئے۔۔۔
ایک چاند چہرے اور ستارہ آنکھوں والی لڑکی
مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں تو مبہوت ہوگیا
پھروہ دھیمے سی مسکرائی اور مجھے
ہاتھ سے اشارہ دے کراپنے طرف بلایا۔۔۔
اکمل شاید آگے نکل گیا تھا۔۔۔
مجھے تو ایسے لگا۔۔۔
اس پوری کائنات میں صر ف میں ہوں اور
میرے سامنے ایک حسین چہرہ ہے۔۔۔
اور بس ۔۔۔ اور کچھ بھی نہیں۔۔۔

چہرہ میرا تھا نگاہیں اس کی
خامشی میں بھی باتیں اس کی
میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اس کی

میں گنگ کھڑا تھا
لڑکی نے پھر اشارے سے مجھے اپنی طرف بلایا ۔۔
میں جیسے سحرزدہ ہوکر اس کی طرف چل پڑا۔۔
جیسے ہی اسکے قریب پہنچا تو وہ بولی
" کیوں جی سوہنیو
کدھر جانا ہے۔۔۔"
مجھے جھٹکا لگا۔۔۔
اورمیں گویا ہوش میں آگیا۔۔
" وہ ۔۔وہ مم مم میں ۔۔۔تو۔۔۔ وہ مم میرا دوست۔۔۔"
میری زبان لڑکھڑانے لگی۔۔
وہ مہ جمال ہنس پڑی ۔۔
اور ایک طرف دیکھا۔۔
" لوجی ۔۔ آپ کا دوست وہی تو نہیں۔۔جو ادھر ہی آرہا ہے۔۔"
میں نےپلٹ کر دیکھا
اکمل ہماری طرف ہی آرہا تھا۔۔
قریب پہنچ کروہ کبھی مجھے کبھی اس حسینہ کو دیکھنے لگا۔۔
لڑکی بولی
" آؤ اندر آجاؤ"
پھراس نے پیچھے ہٹ کر دروازہ پورا کھول دیا۔۔۔
میںتو سوچے سمجھے بغیر ہی اندر چلا گیا ۔۔۔
اکمل بھی پیچھے پیچھے اندر آگیا۔۔
ایک سادہ سا کمرہ تھا۔ ۔۔ جس میں کچھ کرسیا ں اور ایک دو ٹیبل تھے
اس لڑکی نے مجھے اور اکمل کو اشارے سے کرسی پربیٹھنے کو کہا
ہم بیٹھ گئے
" کون ہو۔۔ اور اس گلی میں کیسے پھر رہے ہو"
لڑکی نے پوچھا
مجھے لڑکی کی بے باکی حیران کئے جارہی تھی
ایک دم خیال آیا۔۔
اس کے گھروالے کہاں ہیں۔۔۔۔ یہ تو گھروالوں سے ڈر بھی نہیں رہی
اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا
اکمل بول اٹھا
" ہم یہاں گانا سننے آئے ہیں"
لڑکی کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔۔۔
ایسے لگا۔۔۔جلترنگ بج اٹھاہو۔۔

" ذرا پھرسے تو کہو۔ کس لئے آئے ہو"
وہ جلترنگ بجاتی رہی۔۔
اکمل نے کہا
"بتا یا تو ہے۔۔۔ گانا سننے آئے ہیں"
اب کے بار لڑکی سنجیدہ ہوئی
" تم لوگ بہت سادہ اور بھولے لگتے ہو۔۔ پہلی دفعہ اس گلی میں آئے ہو۔۔
یہاں گانا سننا تم لوگوں کے بس کی بات نہیں ۔۔۔۔۔نہ تمھاری عمر ہے۔۔
اس گلی میں آنے کی ۔۔"

میرا تو دل ٹوٹ گیا۔۔۔
سچ تو یہ ہے۔ یہ پری چہرہ لڑکی پہلی ہی نظر میں میرے دل میں کھب گئی تھی۔
مجھے اتنا اچھا لگ رہا تھا۔۔ اس کا ہنسنا۔۔ باتیں کرنا۔۔۔
ساتھ ہی ساتھ ڈر بھی رہا تھا۔۔۔کہیں اس کے گھر والے نہ آجائیں۔۔

لڑکی شاید میری کیفیت کو محسو س کرگئی۔۔
کہنے لگی
" لیکن میں اس کے لئے(اس نے میری طرف اشارہ کیا) آج تم دونوں کی یہ خواہش
ضرور پوری کروں گی۔۔"
پھروہ مجھے کہنے لگی۔۔۔
کیا نام ہے تمھارا۔۔
" جج جی جمیل۔۔۔۔" میں اٹک کر بولا
" صرف جمیل۔۔۔۔ نہیں نہیں ۔۔ حسین وجمیل۔۔اور تمھاری آنکھیں ۔۔
للہ قیامت ہیں قیامت ۔۔"
وہ کس بے باکی سے بولے جارہی تھی۔۔ مجھے اتنی شرم آئی۔۔
یہ اکمل بھی کیا سوچے گا۔۔۔ ؟ میں خواہ مخواہ گھبرا رہا تھا۔۔
لیکن دل ہی دل میں خوش بھی بہت ہورہا تھا۔۔۔

اچانک ہی کہیں اندر سے آواز آئی
"شہلا بیٹی ۔۔۔ آجاؤ۔۔آپ کا کھانا لگ چکا ہے" آواز کسی عورت کی لگتی تھی
میں تو ڈر ہی گیا۔۔
جی چاہا۔۔۔ فورا باہر بھاگوں ۔۔
لیکن اکمل بیٹھا رہا۔۔ میں بھی کسمکا کر رہ گیا۔۔۔

لڑکی نے اس عورت کی بات سنی ان سنی کردی
کہنے لگی" آپ نے لوگوں نےکھانا کھایا ہے"
جی ہم تو کھانا کھا چکے ہیں۔۔اکمل ہی بولا
اچھا ٹھیک ہے تم لوگ ادھر بیٹھو میں چائے بجھواتی ہوں۔۔۔

اتنے میں آواز پھرآئی
"شہلا بٹیا ۔۔۔ آجاؤ جانی۔۔۔ کھانا ٹھنڈا ہو رہاہے۔۔۔۔"
اس سے پہلے شہلا کچھ جواب دیتی ایک اڈھیرعمر کی عورت کمرے میں آگئی
شہلا ایک دم اٹھی
"جی امی ۔۔۔ میں آتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک ہی وہ عورت ہم دونوں کو دیکھ کر گویا لال پیلی ہو گئی
" یہ کون ہیں ؟"
اس نے درشت لہجے میں شہلا سے پوچھا
" یہ دو۔۔ سادہ لوگ۔۔۔ گانا سننے آئے ہیں امی جی۔۔۔"
وہ کھکھلا کر ہنسنے لگی۔۔
عورت کے چہرے کے تاثرات اچانک بدل گئے۔۔
"اچھا ۔۔۔ ۔۔۔۔" اس نے لفظ اچھا کو کافی کھینچ کر بولا
" ہاں امی جی۔۔۔ پر ہمیں یہ جمیل بہت اچھا لگا ہے۔۔۔ ویسے تو ہم انہیں شاید اندر بھی نہ
آنے دیتے ۔۔ بس اس کی آنکھیں ہمیں اپنی طرف کھینچنے لگیں"

ہائے اللہ ۔۔۔ کتنی بے شرم ہے یہ شہلا ۔۔۔
میں تو لال ٹماٹر ہوگیا۔۔۔۔۔ آنکھیں اٹھ ہی نہ رہی ۔۔تھی۔۔۔
دل اتنے زور سے دھک دھک کرنے لگا۔۔۔

"ہاں ۔۔۔ کہتی تو تم سچ ہو۔۔۔ ۔۔۔ " عورت بولی
" امی جی یہ لوگ کھانا کھا چکے ہیں۔۔۔ انہیں چائے پلائیں ۔۔۔ میں اتنی دیر میں کھانا کھا لیتی ہو" شہلا نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔
اور پھر دونوں باہر نکل گئیں۔۔۔

اچانک ہی اکمل اٹھا اور مجھے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر گھمانے لگا
" بلے او جمیل ۔۔۔۔۔۔تو تو چھاگیا میرے یار۔۔"
وہ خوشی سے مجھے اورگھمانے لگا۔۔۔

" او چھوڑو ۔۔ چھوڑومجھے۔۔۔" میں نے کہا۔۔
" یار آج تونے وہ کمال دکھا ہے کہ بس لڈیاں ڈالنے کو دل کررہا ہے۔۔۔
آج سمجھو ۔۔۔ ہم وہ کچھ دیکھیں گے جو اس سے پہلے کہانیوں میں پڑھا اور فلموں میں
دیکھا ہے"
میں حیرت سے اسے تک رہا تھا۔۔
میں اسے کیا بتا تا۔۔
میرے اندر کیا ہورہا ہے۔۔۔
جذبات کی ایک پھوارپورے جسم کو سرشار کررہی تھی۔۔۔
لڑکیاں تو گاؤں میں بھی بہت تھیں
پر شہلاجیسی کوئی نہ تھی۔۔۔
پھران کی باتیں بھی تو ایسی نہ ہوتی تھیں ۔۔
شہلا تو میرے حسن کی ، میری آنکھوں کی کتنی تعریفیں کر رہی تھی
مجھے لگ رہا تھا ۔۔
میں ہواؤں میں اڑرہاہوں۔۔

اتنے میں ایک درمیانی عمر کا مرد اندر آیا ۔۔
اس کےہاتھ میں ٹرے کے اندر چائے اور دیگر لوازمات تھے
اس نے خاموشی سے وہ ٹرے ہمارے سامنے ٹیبل پر رکھی
اور چلاگیا۔۔۔

اکمل اور میں چائے اور بسکٹ کے ساتھ انصاف کرنے لگے۔۔۔
ایک کافی کھلے کمرے میں محفل سجی تھی۔۔۔
ایک طرف سفید چاندنیاں بچھی تھیں۔۔۔ جہاں مختلف سازندے اپنے اپنے
ساز لے کر بیٹھے تھے۔۔۔
انہی کے قریب ہی شہلا کی امی اور دو اور لڑکیا ں بیٹھی تھی۔۔۔
کافی سارے مرد سامنے گاؤ تکیوں کے سہارے موجود تھے۔۔
ہمیں بھی ایک کونے میں بیٹھنے کو کہا گیا تھا۔۔۔

اس پوری بزم میں سب سے عجیب وغریب چیزیں میں اور اکمل ہی لگ رہے تھے۔۔
کچھ دیربعد جب شہلا پوری سج دھج کے ساتھ آئی تو
اس کے حسن کی تاب لانا کارے دارد نہ تھا۔۔۔
اس نے جھک کر سلام کیا۔۔۔
اور پروین شاکرکی ایک غزل گانی شروع کی ۔۔


اپنی رسوائی، تیرے نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

شام بھی ہوگئ،دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری
بھولنے والے، میں ‌کب تک ترا رستہ دیکھوں

رات کا سماں، روشنیوں کی جھل مل، شہلا کا حسن،
اور اس کی مدھر آواز ۔۔۔۔۔
میں تو کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گیا۔۔۔

کانوں میں شہلا کی آواز رس گھول رہی تھی

کاش صندل سے مری مانگ اجالے آ کر
اتنے غیروں میں‌ وہی ہاتھ جو اپنا دیکھوں

تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جانِ حیات
جانے کیوں تیرے لیئے دل کو دھڑکتا دیکھوں


سب ضدیں اس کی میں پوری کروں، ہر بات سنوں
ایک بچے کی طرح سے اسے ہنستا دیکھوں

کئی سال پہلے میں اپنے گھروالوں کے ساتھ مری گیا تھا۔۔۔
سردیوں کا موسم تھا۔۔۔ مری میں ہر سو بادل چھائے تھے۔۔۔
بادل کیا چھائے تھے۔۔بادل زمین پر اتر آئے تھے۔۔ برف کے گالے۔۔
ہر سو یوں تیر رہے تھے گویا۔۔۔۔ کسی بچے نے ہوا میں بلبلے چھوڑ دیے ہوں
میں نے اپنی زندگی کا ایک انوکھا تجربہ مری میں کیا تھا کہ
بادلوں کو چھوا بھی تھا اور بادلوں کو محسوس بھی کیا تھا۔۔

بادلوں کے آوارہ ٹکرے جب میرے چہرے سے ٹکراتے تو انکی نرماہٹ بھی بھلی لگتی
اور ٹھنڈک سے انکے چھونے کا احسا س ہوتا۔۔۔
آج شہلا کی آواز میرے لئے
انہی بادلوں کی صورت تھی۔۔
میری سماعتوں پر دھیرے دھیرے اتر رہی تھی
میں گویا اسکی آواز کو چھو بھی سکتا تھا۔۔۔ محسوس بھی کر سکتا تھا۔۔۔۔

مجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اسی رت میں مہکتا دیکھوں

پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائے
پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں

میں نے جس لمحے کو پوجا ہے، اسے بس اک بار
خواب بن کر تری آنکھوں میں اترتا دیکھوں

ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے
تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

میں جس کیفیت سے گذر رہا تھا اسے بیان کرنا شاید الفاظ ساتھ نہ دے سکیں
بس میں تھا۔۔۔ شہلا کی آواز تھی ۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔

پتہ نہیں وہ کب تک گاتی رہی ۔۔۔
پتہ نہیں کسی اور نے بھی گایا۔۔۔
مجھے کچھ یا د نہیں۔۔۔
بس میں تو کسی اور ہی دنیا میں کھویا ہواتھا۔۔۔

ہوش اس وقت آیا جب اکمل مجھے کھینچتا ہوا۔۔۔ مکان سے باہر لے آیا۔۔
گلی میں پہنچ کر میں چونک گیا۔۔
اکمل کدھر جارہے ہو۔۔۔
میں نے اس سے پوچھا۔۔
ہوش میں آؤمیرے دوست آؤ
اور ٹائم دیکھو ۔۔ رات کےدو بج چکے ہیں۔۔۔
واقعی ۔۔؟

ہم نے گلی سے باہر آکر ایک رکشہ پکڑا ۔۔
اور سیدھا ہوٹل آگئے ۔۔۔
میں تو ڈر رہا تھا کہ شاید آغا جی ناراض ہوں گے۔۔
اتنی رات گئے تک کہاں تھے؟
لیکن ہوٹل میں سب ہی جاگ رہے تھے۔۔ اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے
ہم چپکے سے سٹاف کے رہاہشی کمرے کی طرف آئے اور آکر چارپائیوں پر لیٹ گئے

اکمل تو شاید سر رکھتے ہی نیند کی وادیوں میں پہنچ گیا۔۔۔
لیکن میں بہت دیر تک جا گتا رہا۔۔
ذہن میں شہلا سے ملاقات اور پھر بزم غزل کی فلم چلتی رہی
کانوں میں اسی کی آواز بار بار سنائی دیتی ۔۔
لگتا کوئی خواب دیکھا ہے۔۔۔
پھر اسی کشمکش میں سچ مچ خواب کی وادیوں میں گم ہوگیا۔۔۔
دوسرےروز بہت دیرتک سوئے رہے کوئی جگانے والا ہی تھا۔۔
شاید دن گیارہ بجے کا ٹائم تھا۔۔
کہ مجھے جاگ آئی ۔۔۔
اکمل ابھی تک سویا ہوا تھا۔۔
میں ہاتھ منہ دھوکر آیا تو اسے جگایا۔۔۔
اور پھر دونوں باہر کاؤئنٹر آگئے ۔۔
کاؤنٹر پر موجود لڑکے نے خوش دلی سے ہمیں بلایا اور اپنے ساتھ ہی بٹھا لیا
اور بتا یا کہ آغا جی نے مجھے آپ کے بارے میں بتا دیا ہے
آج سے آپ کی ڈیوٹی شروع
پھر ہمیں وہ کام سمجھانے لگا۔۔
مجھے آج اس کے ساتھ ہی کاؤنٹر پر کام کرنا تھا۔۔۔
اکمل کو کہا گیا کہ وہ فاروق سے مل لے ۔۔
اس نے باہر سے لوگوں کو ہوٹل میں لانا ہے۔۔
ہم سارا دن اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہے۔۔
دن کو تو خاص کام نہیں تھا لیکن میں کام سمجھتا رہا۔۔
رجسٹر میں اندراج کیسے کرنا ہے۔
کون کون سے کمرے کے کیا کیا ریٹس ہیں۔۔۔
کیسے ڈیل کرنا ہے۔۔
وغیرہ وغیرہ
شام کو کام میں تیزی آگئی ۔۔
اور رات گئے تک ہم کاؤنٹر پر ہی کام کرتے رہے۔۔
اس دوران کھانا وغیرہ بھی کھایا اور کچھ دیر ریسٹ بھی کی۔۔
اکمل بھی وقتا فوقتا آتا رہا۔۔۔
کام کے رش میں بھی میرے ذہن شہلا کا تصور بار بار آتا رہا۔۔
لیکن ہوٹل کا کام دیکھ کر لگتا تھا۔۔
یہاں تو شاید ساری رات ہی جاگنا پڑے گا۔۔
جیسے جیسے رات ہوتی گئی۔۔
لوگ کا آنا بڑھ گیا۔۔۔
رات کے بارہ بجے میری حالت غیر ہونا شروع ہوگئی
سچی بات تو یہ ہے کہ
کبھی کام تو کجا ۔۔۔
اپنے ہاتھ سے پانی نہ پیا تھا۔۔
اور یہاں سارا دن لوگوں سے جھک جھک

اچانک آغاجی آگئے ۔۔
مجھے کام کرتے دیکھتے رہے۔۔
پھر کہنے لگے ۔۔
تم بہت تھک گئے ہو۔۔
چلو جا کے سو جاؤ۔۔۔۔۔

میں نے شکرکیا ۔۔۔ اور
فورا ہی کاؤنٹر چھوڑ دیا۔۔۔
کمرے میں آکر لیٹا تو۔۔۔۔۔۔
شہلا پھرسے میرے ذہن میں در آئی۔۔
جی چاہا۔۔
ابھی بھاگ کر جاؤں اور اس کے پا س پہنچ جاؤں۔۔۔
لیکن اجنبی راستوں کی مجھے پہچان نہ تھی۔۔
اکمل شاید ابھی تک نہ لوٹا تھا۔۔۔
جی بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔
لیکن کچھ نہ کر سکتا تھا۔۔۔
آنے والے تین چاردن اسی مصروفیت میں ہی گذرے ۔۔۔۔
میرے لئے اب اپنے آپ پر قابورکھنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔
میں نے اکمل کو کہ دیا۔۔۔
"میں شہلا سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔لیکن اس ہوٹل میں کام کرتے ہوئے تو اب یہ ممکن
نہیں رہا ۔ رات کو بارہ ایک بجے تک فارغ ہوتے ہیں۔۔۔
ایسے میں شہلا سے ملن کیسے ممکن ہو۔۔"

اکمل بہت دیرتک میری صورت دیکھتا رہا۔۔
پھر کہنے لگا
"یارجمیل میں تیری حالت کو سمجھتا ہوں۔۔۔ لیکن تو حالات کو نہیں سمجھتا
ابھی اس ہوٹل کا ہمیں بہت سہارا ہے۔۔
اب میں اس کام کو چھوڑنا عقلمندی نہیں سمجھتا ۔۔۔
تو کچھ دن صبر کر۔۔۔
شہلا کی بھی حالت تجھ سے مختلف نہ ہوگی ۔۔۔۔ میں جانتا۔۔۔ ہوں"

"سچی۔۔؟
تمھیں کیسے پتہ "۔۔ میں نے حیرانی سے پوچھا۔۔

"یار اسکی آنکھوں تیرے لئے محبت کی جھلک میں نے دیکھ لی تھی۔۔"

"اکمل خدا کے لئے ۔۔۔ مجھے شہلا کے پاس لے چل ۔۔۔"
میں روہانسا ہورہا تھا۔۔۔

اکمل سوچ میں پڑ گیا ۔۔ پھر کہنے لگا
"ایسا ہے۔۔
کل میں عصر کے وقت تجھے لے کے وہاں جاؤں گا۔۔
پر اس کے لئے آغا جی سے کچھ جھوٹ بولنا پڑے گا۔۔"

"بس یار جو بھی کر ۔۔ ۔۔ مجھے اس سے ایک بار ملا دے۔۔"
میری حالت دیدنی تھی
شہلا میرے خیالوں پر چھاگئی تھی۔۔۔
خوابوں میں خواب اس کے یادوں میں یا د اس کی

اسی شام ہم نے آغا جی سے بات کی۔۔
اکمل نے کہا
"آغا جی ہم پچھلے تین چار دنوں سے یہاں کام کررہے ہیں
آپ بے شک ہربندے سے پوچھ لیں ۔۔۔ ہم پوری محنت سے کام کر تے ہیں۔۔"

آغا جی مسکرائے اور کہا
"بیٹے میں یہ کاروبار چلا رہا ہوں ۔۔۔ ہرآدمی کی مکمل رپورٹ میرے پاس روز آتی ہےمیں اب تک تم دونوں کے کام سے مطمئن ہوں۔۔۔
خصوصا تمھارے کام سے۔۔۔
تم بہت اچھے طریقے سے گاہکوں اس ہوٹل کی طر ف راغب کرتے ہو۔۔۔

بہرحال اب بتاؤ کس کا م سے آئے ہو۔۔؟"

اکمل نے کہا" آغا جی۔۔ میں ہر قسم کی سختی میں کام کرسکتا ہوں ۔۔ پر میرا یہ دوست
بہت نازک مزاج ہے۔۔۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم کچھ وقت سیروتفریح کر لیا کریں۔۔۔
اس کی صحت متاثر ہورہی ہے۔۔۔
میں چاہتاہوں آپ ہمیں ایک شفٹ میں کام دے دیں۔۔ یعنی شام آٹھ بجے سے رات گئے تک
آغا جی سوچ میں پڑ گئے ۔۔۔
دیکھو بچو۔۔۔ میں ہمیشہ اپنے ملازموں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں۔۔ یہی وجہ ہے کہ
سب لوگ میرے سا تھ خوش ہیں۔۔ لیکن کام کے حوالے سے میرے اصول بہت سخت ہیں ۔ تم دونوں کو ہفتے میں ایک چھٹی ہوگی۔۔۔
ہاں جمیل کے لئے یہ رعائت ہوگی کہ وہ شام کو سات بجے ڈیوٹی پر آجایا کرے۔۔
لیکن تم نہیں۔۔۔
اکمل نے بہرحال منت ترلےکرکے ۔۔۔ آغا جی سے یہ منوا لیا کہ ہفتے میں دودن ہم
شام آٹھے بجے سے کام کریں گے۔۔۔ اور چھٹی بھی ایک دن ہوگی۔۔۔

دوسرے دن ہم نے عصر کے وقت شہلا کے پاس جانے کا پروگرام بنایا

وہ دن اور رات کیسے گذری ۔۔۔
یہ وہی جان سکتا ہے جو میرے جیسے حالا ت سے گذرا ہو
بس یہی کہ سکتا ہوں۔۔۔۔۔
ایک ایک سیکنڈ میرے لئے بھاری تھا۔۔۔
دوسرے دن جب ہم شہلا کے مکان پر پہنچے تو دروازہ بند تھا۔۔۔
کھٹکھٹانے کے با وجود کوئی نہ آیا۔۔۔۔
تو اکمل مجھے وہیں رکنے کا کہ کر مکان کی پچھلی طرف نکل گیا۔۔۔
کافی دیربعد دروازہ کھلا ۔۔۔۔۔
اور مجھے اندر بلالیا گیا۔۔۔
اکمل واپس نہ آیا تھا۔۔۔۔ کچھ دیرمجھے اوپر والے حصے میں بلایا گیا۔۔۔
وہاں ۔۔۔
شہلا اور اکمل موجود تھے۔۔۔
شہلا مجھے دیکھ کر اور میں شہلا کو دیکھ کر کن کیفیات سے گذرے
جذبات کا اظہار کیسے ہوا۔۔۔ وہ سب خواب کی مانند تھا۔۔
شہلا اور میں بہت دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔۔۔
گرچہ میں کم ہی بولا شہلا ہی بولتی رہی۔۔۔
اکمل اس دوران کسی اور کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔
پھرشہلا کی امی بھی آگئی۔۔۔
اس نے مجھ سے کافی سوالات کیے۔۔۔
اسے خصوصی طور پر اس بات میں زیادہ دل چسپی تھی کہ میرا ابوکون ہے۔۔
ان کے مالی حالا ت کیسے ہیں۔۔۔۔
یہ باتیں تو میں نے سچ ہی بتائیں۔۔۔۔
میرے ابو اپنے علاقے کے دوتین بڑے زمین داروں میں سے تھے۔۔۔
لیکن ایک جھوٹ میں نے بولا ۔۔۔
میں نے انہیں بتا یا کہ میں یہاں کالج میں پڑھتا ہوں ۔۔۔ اور ہوسٹل میں رہتا ہوں۔۔
یہ جھوٹ مجھے اکمل نے سکھایا تھا۔۔۔
دوچاردن ہوٹل کے کاؤنٹر پر کام کرنے سے ، لوگوں کو ڈیل کرنے سے
میں بھی اب اعتماد سے جھوٹ بولنا سیکھ ہی گیا تھا۔۔۔
ہماری بہت خدمت ہوئی ۔۔۔
شہلا کی امی کا رویہ بھی بہت اچھا تھا۔۔۔
اور شہلا تو مجھ دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہو رہی تھی۔۔۔
باربار وعدہ لے رہی تھی ۔۔۔
کہ میں ہرروز اسے ملنے آؤں گا۔۔۔
اب کچھ کچھ میں سمجھ گیا۔۔۔
شہلا کون ہے۔۔۔ اور یہ گلی کن شریفوں کی ہے۔۔۔
لیکن یہ سمجھنے کے باوجود شہلا کے بارے میں جذبات میں ،
کچھ کمی نہ آئی ۔۔۔ بلکہ سچ پوچھیے تو آج کی ملاقات نے
آتش شوق کو کچھ تیز کردیا۔۔۔

رات آٹھ کے لگ بھگ واپسی ہوئی ۔۔۔
تو ایسے لگا۔۔۔
میرا وجود۔۔شہلا کے گھرمیں ہی رہ گیا ہے۔۔۔
وہ بھی بہت دورتک مجھے دیکھتی رہی

بیگم ورژن 1۔0۔1


بیگم ورژن 1۔0۔1- ٹیکنکل سپورٹ
محترم جناب ٹیکنیکل ایکسپرٹ صاحب
آج سے کچھ عرصہ پہلے میں نے گرل فرینڈ ورژن 0۔7 کو اپ گریڈ کروا کر بیگم ورژن 1۔0۔1 لیا تھا۔لیکن کچھ عرصہ بعد ہی پراگروم نے unexpected error دینا کرنی شروع کردیں۔ اور ہر سال ایک عدد نیا سوفٹ ویر بے بی کیوٹ جنریٹ کرنا شروع کردیا۔ اسکے ساتھ بیگم 1۔0۔1 نامی اس پروگرام نے مزید کئ سوفٹ ویرخود بخود انسٹال کرلیے جیسے سالا 420، ساس 302 وغیرہ اور ہر پروگرام کی بہت کڑی نگرانی کا فریضہ بھی سرانجام دینا شروع کردیا ۔ جیسے دفتر1۔9، تاش2۔3، ہوٹل 5۔1، پارک6۔7، اور سرکاری دورہ8۔1ان پروگرام کی موجودگی میں جو سب سے بڑی مشکل پیش آرہی ہے وہ یہ کہ موجود ہ سوفٹ ویر گرل فرینڈ وژن 7۔1 کو بالکل ایکسپٹ نہیں کر رہا۔ بلکہ ہر دفعہ لاگ ان ہونے پر سوفٹ ویر تمام ایسسیریز کو سکین کرتا ہے۔ اگر کہیں کوئی فائل جسکی ایکسٹیشن بال، لپ سٹک یا خوشبو ہو تو پوراسسٹم ہینگ ہو جاتا ہے اور پورے سسٹم کو نئے سرے سے ری سٹارٹ کرنا پڑتا ہے۔مجھے اپنی پسندیدہ اپلی کیشن کو چلاتے وقت یہ بالکل پسند نہیں کہ بیک گراؤنڈمیں بیگم وژن 1۔0۔1 نظر آئے ۔میں دوبارہ گرل فرینڈ وژن 7۔0 میں جانا چاہتا ہوں آپ سے اس سلسلے میں ٹیکنیکل مدد درکار ہے۔۔آپ کا مخلصایک پریشان حال استعمال کنندہ 
محترم جناب استعمال کنندہ صاحب
مردوں کی طرف سے ہماری کمپنی کو آنے والی یہ بہت عام سی شکایات ہیںاسکی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے یوزز اس پروگرام کے ساتھ دیے گئے مینئول کا بالکل مطالعہ نہیں کرتے ۔ حالانکہ وہاں تمام وضاحت کر دی گئی ہے
بہت سارے لوگ گرل فرینڈ وژن کو اس لئے بیگم وژن میں اپ گریڈ کرواتے ہیں کہ انکے خیال میں یہ بھی یوٹیلیٹیز اور انٹرٹینمنٹ پروگرام ہےحالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ پروگرام ان انسٹال کرنا یا واپس پچھلے وژن میں جاناانتہائی مشکل بلکہ بعض حالات میں ناممکن ہے۔ اس پروگرام کو ڈیلیٹ بھی نہیں کیا جا سکتا-۔ یہ پروگرام خوبصورت سیکریٹری کے کسی وژن کو سپورٹ نہیں کرتا۔ہم آ پ کو یہی سجیسٹ کر یں گے کہ آپ اپنے موجودہ پروگرام کو نہ تبدیل کریںاور پروگرام کو ایرر سے بچانے کے لئے " یس ڈیر" بیک گراؤنڈ انسٹال کرلیں
سسٹم ہینگ ہونے کی صورت میں مندرجہ کمانڈ دیںC://Sorry I apologiesبیگم ورژن 1۔0۔1 بہت اعلی پروگرام ہے۔ تاہم اسکی مینٹی نینس پر بہت خرچہ ہے۔ اسکے ساتھ کئی اورسپورٹ پروگرام بھی آتے ہیں جیسے سویپ اینڈ کلین 2۔2، کک 3۔2، بل پیمنٹ 5۔3 وغیرہ۔تاہم ضروری ہے کہ آپ اس پروگرام اور اسکے سپورٹ پروگرام کو احتیاط سے استعمال کریں بد احتیاطی کی صورت میں بہت شدید قسم کا وائرس پروگرام حملہ آور ہو سکتا ہے۔ جس کے لیے آپ کو انٹی وائر س پرگروم لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے ہم آپ کو ڈنر7۔4، ڈائمنڈ سیٹ 11-7 ، اور گل دستہ 8۔9 ایدوائز کریں گے۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہومنجانبٹیکنیکل ٹیم

(ماخوذ)

دو ٹانگوں والے کتے اور اخلاقی انقلاب


دو ٹانگوں والے کتے اور اخلاقی انقلاب

بچیاں سکول جانے لگیں تو میں نے کہا
" بیٹے ۔ سکول جاتے ہوئے ۔ دھیان رکھنا۔ راستے میں آوارہ کتے ہوتے ہیں "بڑی بیٹی نے مجھے مسکرا کر دیکھا اور کہا" ابو ۔ آٌپ تو جانتے ہیں یہ کینٹ کا علاقہ ہے۔ یہاں آوارہ کتے نہیں ہوتے"" میں ان کتوں کی بات نہیں کر رہا بیٹے ۔ میں دوٹانگوں والے کتوں کی بات کررہا ہوں"" دو ٹانگوں والے کتے" میری بیٹی چلتے چلتے ایک دم رک گئی اور حیرت سے مجھے دیکھنے لگی" جی بیٹا"وہ کچھ دیر سوچتی رہی پھر جھینپ کر بولی " جی ابو! وہ تو ہوتے ہیں"" بس بیٹا ۔ ایسے کتے بھونکتے رہتے ہیں ۔ ان کی طرف دھیان نہ دینا"یہ باتیں ویگن میں بیٹھا ایک بزرگ اپنے ساتھی کے ساتھ کر رہا تھا۔دراصل بات کچھ شروع ایسے ہوئی کہ ایک سواری کنڈکٹر سے الجھ پڑی ۔ بات کرائے کی تھی۔ سواری کا موقف تھا کہ کرایہ کم بنتا ہے لیکن کنڈکٹر یہ بات سننے کو تیا ر نہ تھا۔ یوں باتوں باتوں میں ایک صاحب کہنے لگے " یہ اسلام آباد ہے یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا یہ حال ہے تو باقی شہروں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے حمکران آنے چاہیں  جو پبلک ٹرانسپورٹ مکمل مفت فراہم کریں ۔ فری ٹرانسپورٹ ہوگی تو ہمارے کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں "ان کی اس تجویز پر کچھ لوگ مسکرا پڑے کچھ نے تائید کی ۔ایسے میں وہ بزرگ بہت نفیس اور دھیمے لہجے میں بولے" سچ پوچھیں ۔ تو ہمارے ملک کو کسی معاشی انقلاب کی ضرورت نہیں ۔ صرف اخلاقی انقلاب کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں اخلاقی قدریں ناپید ہو چکی ہیں ۔ میرے نزدیک ہمارے بہت سارے مسائل کی جڑ ہمارے اند ر اخلاقیات کی کمی ہے۔اگر ہم پیار سے بولنا سیکھ لیں ۔ اگر ہم شکریہ ادا کرنا سیکھ لیں ۔ اگر ہم عزت دینا سیکھ لیں ۔ جن سے ہم پیار کرتے ہیں ا ن سے پیار کا اظہار سیکھ لیں تو ہماری زندگی گل وگلزار بن سکتی ہے"ایک صاحب بڑی خبیث سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے" بزرگو! پیار کا اظہار کیسے سیکھیں۔ اور پیار کا اظہار کس سے کریں"" ہر اس رشتے سے پیار کا اظہار کریں ۔ جس سے آپ کا پرخلوص رشتہ ہے۔ مثلا اپنی ماں سے ۔ اسے بتائیں ۔ اسے اپنے رویے سے ، اپنے افعال سے یہ باور کرائیں کہ آپ اس سے کتنا پیار کرتے ہیں ۔ اپنی ماں کو بولیں ۔ ماں آپ دنیا کی خوبصورت ترین عورت ہیں ۔ آپ میری کائنات کا ایسا قیمتی اثاثہ ہیں جس کے آگے سب چیزیں ہیچ ہیں ۔ اپنی ماں ، اپنی بہن ، اپنی بیوی ، اپنے بھائی ، اپنے دوست کی ہر اچھی بات کو سراہیں ۔ شکریہ ادا کریں ۔ مناسب مواقع پر تحائف دیں ۔ اور اس کے ساتھ اپنے خالق کے بھی شکر گذار بنیں ۔ یقین کریں آپ کی زندگی میں اتنی خوبصورتی ، اتنی طمانیت ، اتنی خوشی در آئے گی کہ آپ اپنے آپ کو خوش قسمت ترین افراد میں شمار کریں گے" بزرگ کی گفتگو جاری تھی۔ کہ میرا سٹا پ آگیا ۔۔ میں ویگن سے اترتے ہوئے سوچ رہا تھا۔ میں اس بزرگ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے اتنی خوبصورت اور قیمتی گفتگو سے میری سوچ کو جلا بخشی ۔مجھے سوچتے دیکھ کر کنڈکٹر زور سے بولا" رستہ چھوڑو ۔ کیا دیوار بن کے کھڑے ہو گئے ہو۔ "ایک دم میرا مغز گھوم گیا۔ میں ابھی منہ سے کچھ " ارشاد" کرنے ہی والا کہ ۔۔۔۔یاد آیا ہمیں اخلاقی انقلاب کی ضرورت ہے


قصہ قیس سے ملاقات اور پلاٹ کی بکنگ کا

قصہ قیس سے ملاقات اور پلاٹ کی بکنگ کا  بہت عرصہ سے یہ شعر سن رکھا تھا قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دوخوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دوسو قیس کی تنہائی کا تصور ہمیں بھی جذباتی کرتا تھا کہ چلیں مل لیں اک بار۔ دیکھ لیں کس حال میں ہے۔ ایک دو دفعہ اسی خیال سے گھر سے نکل بھی پڑے تھے لیکن رستے میں بھوک اور پیا س نے ستایا تو پلٹ آئے ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب عمر کی ابتدائی سیڑھیوں پر تھے۔  پھر کچھ اور لوگوں سے پتہ چلا کہ جنگل میں صرف قیس نہیں کچھ جانور بھی ہوتے ہیں ۔  خوف محسو س ہوا ۔ ایسا نہ ہو قیس کے بجائے کسی لگڑ بھگے سے واسطہ پڑ جائے ۔ بچپن میں تو سوچ بھی خام تھی ۔ سو قیس سے ملاقات ایک خواہش تک محد ود رہی ۔ پھر وقت کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی گئی اور قیس سے ملنے کی خواہش بھی کہیں خواہشوں کے انبار تلے دب گئی ۔یہ آج سے کچھ دن پہلے کی با ت ہے ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی اور بہت عرصہ بعد ہوئی سو ساری مصروفیات چھوڑ کر چند دن اس کی معیت میں گذارے کہ اے داغ کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنابہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سےچونکہ بچپن ایک ایسے علاقے میں گذرا ہے جہاں جنگل ، پہاڑ ، جھیلیں ، چھرنے ہمارے ہم راز رہے ہیں ۔ سو پروگرام بنا کہ کسی جنگل میں ایک دن گذارا جائے ۔ جنگل ایک الگ دنیا ہے ۔ اور اس کا ایک الگ ہی جادو ہے ۔ جس کو جنگل کا سحر جکڑ لیتا ہےوہ قیس بن جاتا ہے۔ ہم بھی شاید اندر سے قیس ہی ہوں بس جنگل سے دور ہونے کی وجہ سے اظہار نہ ہوسکا ہوجنگل کا ذکر آیا تو اچانک اسی پرانی خواہش نے ایک دم سے انگڑائی لی کہ قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دواب کی بار خواہش کا بازو پکڑا اور اسے خواہشوں کی گٹھری سے باہر کھینچا ۔ جھاڑ پونچھ کر ساتھ لئے جنگل  کو نکل پڑے۔جنگل کا حسن انسان کو اپنی طرف بلاتا نہیں مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتا ہے۔خاموشی کا سحر سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اور فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آپ کے سامنےرقصاں  ہوتی ہے۔ فطرت کا بیلے ڈانس جس نے دیکھ لیا ، اسی کا ہو گیا۔ہم اسی سحر میں گرفتا ر جنگل کی پگڈیوں پر جسیے تیرتے ہوئے جار تھے کہ اچانک ایک طرف سے کچھ آوازیں آنا شروع ہوگئیں ۔ یہ آوازیں جنگل کی سحر انگیز خاموشی میں جیسے ہل چل مچانے لگیں ۔ ہم ابھی الجھن میں ہی تھے کہ کیا کریں ۔ ایک دم سے پنٹ شرٹ میں ملبوس ایک نوجوان سامنے آگیا ۔میں نے بے اختیار پوچھا آپ کہیں قیس تو نہیں ہومسکرا کر بولا بالکل درست پہچانا آپ نے۔ میں قیس ہی ہوں یقین کریں دل کی دھک دھک نے ہمارے وجود میں دھما چوکڑی مچا دی تو بالاخر آج ہماری ملاقات قیس سے ہوہی گئی۔کچھ دیر بعد ہم ایک عارضی رہائش گا ہ میں موجود تھے جہاں ہماری خدمت میں ڈیو  پیش کی گئی ۔گپ شپ بھی ساتھ چلتی رہی ۔ اتنی دیر میں کھانا آگیا ۔کھانے میں بریانی۔ چکن فرائی ، سویٹ ڈش سمیت کافی لوازمات موجود تھے۔ آپ کو حیرت ہورہی ہوگی نا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے ۔مجھے بھی ہورہی تھی لیکن کھانے کے وقت میں فضول باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتا ۔کھانے سے فراغت کے بعد میں نے قیس پوچھامیاں یہ سب کیا ہے؟ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ آپ کے حالا ت کافی خراب ہوں گے۔ اور آپ کی شکل کسی لگڑبھگے جسی ہو چکی ہوگی۔ کپڑے پھٹ چکے ہو ں گے بلکہ کپڑوں کی جگہ درختوں کے پتوں نے لے لی ہو گی۔لیکن آپ تو ماشاء اللہ پپو پپو سے لگ رہے ہوسوٹ بھی ایک دم نیا ہے۔اور ۔۔ اور قیس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے مزید بولنے سے روک دیا۔دیکھوبھیا۔ آپ بھی انہی لوگوں کی طرح سوچ رہے ہوجویہاں پہلے آچکے ہیں ۔دراصل یہ سب اس شاعر کا کیا دھرا ہے جس نے کہا تھاقیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دوخوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دوبس لوگ جوق درجوق جنگل کی طرف آنا شروع ہوگئے ۔پہلے پہل تو مجھے بہت غصہ آیا ۔ یہ سب کیوں ادھر آرہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں بھی بہت کچھ سیکھ گیا ۔آبادی بڑھتی گئی اور ساتھ میں سہولیات بھی آتی گئیں ۔میں نے آج سے کچھ سال پہلے " قیس ہاوسنگ سوسائٹی" کی بنیاد رکھی ۔ اب تک اس کے سات فیز کامیابی سے  مکمل  ہوچکے ہیں ۔ اوراس جگہ پر ہم آٹھویں فیز کی پلاننگ کر رہے ہیں ۔آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو فیز آٹھ میں  اپنی مرضی کا پلاٹ آسان اقساط پر مل جائے گا۔ دوستو ! میں نے تو اسی وقت دس مرلہ کا ایک کارنر پلاٹ  بک کروا لیا ہے۔آپ میں سے کوئی دل چسپی رکھتا ہو۔ تو مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے۔  پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیا د پر محدود پلاٹ باقی ہیں

بھٹکے ہوئے کیوں؟

بھٹکے ہوئے کیوں؟چند دن پہلے کی بات ہے۔ ایک محترمہ مجھ سے ملنے آئیں ۔ ایک اچھےتعلیمی ادارے کی سربراہ ہیں اور کافی معروف شخصیت ہیں ۔ اب اتفاق کی بات کہ میرے پاس کچھ اورلوگ موجود تھے اور میں نے ان کے لئےکھانا منگوایا ہوا تھا۔ وہ محترمہ کہنے لگیں کہ وہ جلدی میں ہیں ۔ انہیں دو تین اہم باتیں کرنی ہیں ۔ میں نے اخلاقا انہیں بات کرنے کا موقع دیا ۔ اور ساتھ ہی کھانے کی بھی دعوت دی ۔ جو انہوں نے قبول نہیں کی اور کہنے لگیں کہ وہ بس دومنٹ اپنی بات کہ کر رخصت ہوتی ہیں ۔ میں نے مہمانوں سے معذرت کی کہ ذرا انتظار کریں میں ان کی بات سن لوں پھر کھانا کھاتے ہیں ۔ اب یہ تما م صورت حال ان محترمہ کے سامنے تھی  ۔ کہنے لگیں مجھے احسا س ہے کہ اپ کا کھانا لگا ہوا ہے۔ میں زیادہ ٹائم نہیں لیتی بس مختصر سی بات کرنی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کم وبیش آدھا گھنٹہ گفتگو کی ۔ پھر بھی ان کی تسلی نہ ہوئی کہنے لگیں مجھ جلدی نہ ہوتی تو بات مکمل کرتی ۔ خیر پھر سہی۔ میرےمہمان یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ ان کی گفتگو سوانے اپنی تعریف اور کچھ معاملات پر اپنی خواہشات کے مطابق پیش رفت کی فرمائش کے علاوہ کچھ بھی نہ تھی۔ کیا یہ ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ ہونے کی اہل ہیں ؟میں خاموش رہا ۔ لیکن میرے ذہن میں کچھ سوال ضرور تھے۔یہ سوالا ت کئی دن سے میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔آج اس واقعے کو ابتدا بنا کرمیں کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ میرے نقطہ نظر سے سب سے اہم شعبہ جو ہمارے ملک میں سب سے زیادہ تباہ کن حالات کا شکار ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔ ہمارے ملک میں  ایک استاد ، ایک مدرس اور روحانی باپ کی تباہی کی بنیاد لارڈ میکالے نے رکھی اور ہمارے معاشرے نے اسے حسب توفیق پروان چڑھایا ۔ تعلیمی نظام میں سب سے مشکل کا م ایک بچے کی ابتدائی تعلیم و تربیت کر نا ہے۔ ایک پرائمری ٹیچر اہم ترین کردار کا حامل ہوتا ہے۔ میرے ذاتی خیال میں ایک پرائمری آستاد کے انتخاب کا طریقہ کار ایسا وضع کرنا چاہیے کہ صرف وہ لوگ پرائمری استاد منتخب ہوں جو کم ازکم مندرجہ ذیل خوبیوں کے مالک ہوں اس کے کردار میں مضبوطی ہو۔ وہ اخلاقیات ، اقدار کے حوالے سے نہ صرف بہترین علم رکھتے ہوں بلکہ خود اس کا عملی نمونہ ہوں ۔ وہ بچے کی ذہنی ، نفسیاتی سطح کو سمجھتے ہوں ، بچے کے اندر مثبت سوچ پیدا کرنے، اسے خود اعتمادی سے بات کرنے ، اپنی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، اپنے جذبات کو بیان کرنے اور مختلف اشیاء ، واقعات کو اپنی ذہنی سطح کے مطابق تجزیہ کرنے کی صلاحیت سکھانے کے اہل ہوں ۔انہیں کسی بھی سکول میں معلم  بنانے سے پہلے ایک سخت تربیتی پروگرام سے گذارا جائے ۔ پرائمری استاد کی تنخواہ سب سے زیادہ ہو ۔ کم ازکم 22 گریڈ کے افسر کے برابر ہو ۔ اسکی کارگردگی کو جانچنے کا معیار انتہائی سخت ہو ۔ پرائمری سطح کے استاد کو معاشرے کا ایک معزز رکن کا درجہ حاصل ہو۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ ہم جب ایک بچے کو بہتر ابتدا نہیں دیتے تو پھر اس سے معاشرہ کا ایک بہتر فرد ہونے کی توقع نہیں رکھ سکتے ۔ جس بچے کی ابتدائی تعلیم اچھے اساتذہ کے زیرنگرانی ہوگی وہ یقینا بڑے ہوکر ایک بہتر شہری ثابت ہو گا۔ ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں استاد کی اہلیت کا کوئی معیار نہیں ۔ جو کچھ نہیں کر سکتا کسی سکول میں استاد بن کر ہماری آنے والی نسل کو تباہ کرتا ہے۔مجھے ایک صاحب بات بتا رہے تھے کہ وہ جاپان میں ایک کورس کرنے گئے ۔ وہاں ان کی ایک جاپانی خاندان سے ملاقات ہوئی اور ان کے گھر دوچار دفعہ آنا ہوا ۔ ایک دن وہ جاپانی کے گھر اس سے ملنے کے لئے گئے تو ان کا چھوٹا بیٹا باہر آیا ۔ انہوں نے پوچھا کہ ابو کدھر ہیں تو بچے نے کہا کہ وہ مارکیٹ گئے ہیں ۔ پاکستانی نے بچے سے کہا سچ کہ رہے ہونا۔ کہیں وہ گھرپر ہی ہوں اور تم جھوٹ بولنے کا کہ دیا ہو۔ ( وہ دراصل بچے کے ساتھ مذاق کرنا چاہ رہے تھے) بچہ چپ ہو گیا ۔ کچھ جواب نہ دیا ۔ اچانک دروازے کے پیچھے سے اس کی ماں آگئی اور اس نے کہا کہ آپ نے میرے اور میرے بچے کے ساتھ ظلم کیا ہے۔ میرے بچے کو پتہ ہی نہیں کہ جھوٹ کیا ہو تا ہے؟ اب وہ مجھ سے جھوٹ کا مطلب پوچھے گا؟ خیر یہ تو ایک بات ہے جوممکن ہے  زیب داستان  ہو۔ لیکن یہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ پر ہے کہ جاپان میں بچے کی ابتدائی تعلیم کا معیار بہت اعلی ہے ۔ وہاں بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی پڑھائی کے علاوہ کچھ ایسی تربیت دی جاتی ہے جو ان کے لئے ساری زندگی  مشعل راہ ہوتی ہے۔بات ایک پرنسپل صاحبہ سے شروع ہوئی اور کہاں چلی گئی۔ دراصل ہم سب کے رویے ہماری تربیت اور ہماری تعلیم کی عکاسی کرتے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے کے لوگ بچے کی گفتگو ، نشستن و برخواستن سے اندازہ لگاتے تھے کہ بچہ کسی اچھے خاندان کا ہے۔ اچھا خون ہے۔عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں اب خاندان کی روایات دم توڑ چکی ہیں ۔ اور رہی اساتذہ کی تو ہمارے اساتذہ بچے کو پڑھا نہیں رہے بلکہ انہیں ایک جنس سمجھتے ہیں جو ان کی کمائی کا ذریعہ ہے۔ ہمارے سامنے اصحاب صفہ سے لے کر جامعہ الاظہر تک کی مثالیں موجود ہیں ۔میں سوچتا ہوں قوموں کو صدیاں گذر جاتی ہیں کوئی راستہ نہیں ملتا ہمارے پاس راستہ بھی ہے۔ ہمارے پاس قرآن اور حدیث کی صورت میں ہر مسئلے کا حل  بھی موجودہے ۔ ہم کیوں بھٹکے ہوئے ہیں؟ 

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

دنیا کا سب سے بہتریں جوڑا

آپ عنوان دیکھ کر چونکے ہوں گےشاید کہ کسی میاں بیوی کے جوڑے کی بات ہوگی
لیکن میں تو ایک اور ہی جوڑے کی بات کررہا ہوں
جی ہاں ۔۔ آنسو اور مسکراہٹ دنیا کا بہترین جوڑا ہےمگر آنسو کے ساتھ مسکراہٹ کا تصور کچھ عجیب سا ہےبہت منفرد سا ہے
عام زندگی میں تو آنسو جب آتے ہیں تو مسکراہٹ کو غائب کردیتے ہیں اورمسکراہٹ چھلکتے آنسووں کو روک دیتی ہے
لیکن آپ نے کبھی وہ منظر دیکھا ہے جب آپ چھلکتے آنسووں کے ساتھ مسکراتے ہیںوہ منظر ، وہ لمحہ دنیا کا خوبصورت ترین منظر ، یادگارترین لمحہ ہوتا ہےآنسو اور مسکراہٹ کا بہترین امتزاج ، بہتر ین جوڑا
ایسے لمحے بہت کم ، بہت ہی شاذ ہو تے ہیں مگر بہت قیمتی ہو تے ہیں 
کیا آپ ایسے کسی لمحے سے واقف ہیں۔۔۔؟

ماں کی یا د کے 36 آنسو

ماں کی یا د کے 36 آنسو ............. ڈاکٹر نورًآج میں آپ سے اپنے آنسو شیئر کرنا چاہتا ہوں

یہ آنسو میری ماں کی یا د کے آنسو ہیں
میں نے یہ اشعار اپنی ماں کی یا د میں لکھے ہیں۔
اور بہتے آنسووں کے ساتھ لکھےہیں ۔
یہ اشعار ان تمام بھائیوں ، بہنوں ، دوستوں کے نام جن کی مائیں
اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔
یقینا میرے آنسوان سب کو رلا دیں گے۔ جن کے غم میرے جیسے ہیں۔
یہ 36 مصرعے نہیں ، 36 آنسوہیں


بہت چھوٹا سا تھا جب میں، میری دنیا بھی چھوٹی تھی
میری ہستی کا کل سا ما ں ، تیری آغوش ہو تی تھی
تیرے سینے سے لگ کرمیں ہر اک غم بھول جا تا تھا
تیرے چہرے کو تک کرمیرے دل کی پیاس بجھتی تھی
تیری دنیا فقط میں تھا ، میری دنیا فقط تو تھی
میں تجھ کو دیکھ جیتا تھا، تو مجھ کو دیکھ جیتی تھی

تیرے وہ پھول سے بازو، مجھے خوابوں میں لے جاتے
تیرے چہرے پہ بکھرے نور سے ہو تی سحر میری
میں بھوکا ہوں کہ پیاسا ہوں، میں خوش ہوں یا کہ افسردہ
فقط اک تیری ہستی تھی، جسے سب تھی خبر میری
تیرا چہرہ جو ہوجاتا، اگر اک پل کہیں اوجھل
تو ہرآہٹ پہ چونک اٹھتی تھی یہ بے چیں نظر میری

تیرا رس گھولتا لہجہ ، میری تسکین کا ساماں
تیرا دستِ مسیحائی ، میرے ہر درد کا درماں
میرے پہلے قدم کی لرزشوں سے سیدھا چلنےتک
تیری چاہت بھری نظریں ہراک حرکت پہ تھیں درباں
بلائیں دور رہتی تھیں، ہمیشہ سوقدم مجھ سے
دعائے نیم شب سے میرے رستے روشن و تاباں

میں گھر سے جب نکلتا تھا، دعائیں ساتھ چلتی تھیں
جھلستی دھوپ میں ، ٹھنڈی ہوائیں ساتھ چلتی تھیں
کبھی پر پیچ رستوں پر قدم نہ ڈگمگائے تھے
ہمشہ ذکر کرتی وہ ، نگاہیں ساتھ چلتی تھیں
میرے حصے کے زخموں سے بدن چھلنی رہا تیرا
مجھے حلقے میں ڈالے، تیری بانہیں ساتھ چلتی تھیں

مگراب کسیے بتلاوں کہ وہ ہستی نہیں باقی
نہ وہ دست دعا باقی ، نہ وہ پاکیزہ صورت ہے
یہ آنسواب مقدر ہیں کہ ان کو پونچھنے والے
مشفق ہا تھ ہیں تیرے ، نہ چادر کی حرارت ہے
زمانے بھر کے غم ہیں اور اکیلا تیرا بیٹا ہے
مجھے تیری دعاوں کی بہت اب تو ضرورت ہے

میرے مولا، میری اک التجا ہے تیری رحمت سے
تیرے گلشن میں ہر سوپیارہی کے پھول کھل جائیں
ہے دنیا جب تلک باقی ، سدا مائیں رہیں زندہ
لگے جو زخم دل پر ہیں تو شاید یوں وہ سل جائیں
مجھے تسلیم ہے کہ موت بر حق ہے، مگر مالک
سبھی بیٹوں کی عمریں ، کاش ان ماوں کو مل جائیں

سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں۔



انسان ازل سے بہتری کی تلاش میں ہے


خوب سے خوب تر کی چاہ میں رہتا ہے۔







اس خوب سے خوب تر کی تلاش میں انسان جہاں


ترقی کی منازل طے کرتا رہا وہیں ہوس کی بیماری بھی


اسے لاحق ہوئی۔


ہوس نے انسانوں کو انسانوں کا دشمن بنا یا۔


ہوس نے منافقت، جھوٹ، بے وفائی سکھائی


ایک انسان کو دوسرے انسان پر فضیلت کی بنیاد


معاشی و معاشرتی حیثیت پر رکھی اور پھر


ہر اس فعل کو جائز قرار دے ڈالا جس سے ا س کی


معاشی و معاشرتی حیثیت کو تقویت پہچتی ہو


لالچ نے جب دلوں میں گھر کیا تو محبت، خلوص


وفا رخصت ہوئی ۔


انسان انسان کا دشمن بنا۔


آج کا انسان اور آج سے ہزاروں سال پہلے کا انسان


ایک جیسا ہی ہے۔


کچھ فرق نہیں۔


نام ، مقام، اور ظاہری اطوار بدل گئے ہیں لیکن


لالچ نے جو اصول اس وقت وضع کیے تھے


وہی آج تک چل رہے ہیں۔


وہی خواب جو آج سے لاکھوں سال پہلے کے انسان نے


دیکھے ہوں گے وہی آج کے انسان کے ہیں


کیا ہمیں صرف سر چھپانے کو ٹھکانہ، تن پر پہننے کو کپڑا


اور پیٹ کا دوزخ بھرنے کو خوراک ہی چاہیےنا۔


لیکن ہم جب تک بھوکے رہتے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ہمیں کچھ اور نہیں صرف


کھانا چاہیے ہوتا ہے۔


جب پیٹ بھرتا ہے تو پھر ہمیں سردی گرمی سے بچنے کے لئے


ٹھکانہ چاہیے ہوتا ہے۔


جب ٹھکانہ مل جاتا ہے تو ہمین نفسانی خواہشیں ستانے لگتی ہیں


پھر جب یہ بھوک بھی مٹ جائے تو معاشرے میں اپنی ناک اونچی رکھنے


کی فکر دامن گیر ہو جا تی ہے۔


جب معاشرے میں جھوٹی عزت ، شان و شوکت قائم ہو جاتی ہے۔


ہم پلٹ کر دیکھتے ہیں تو احسا س ہو تا ہے۔


ہمارا دامن تو خالی ہے۔ ہم جو عزت کمائی وہ دوسروں کی پگڑی اچھال کر کمائی،


ہم نے دولت کمائی تو ہماری کم اور دوسروں کی زیادہ ہے


وہی دولت جس کو حاصل کرنے میں ہم اپنا ایمان بیچا، ضمیر کا سودا کیا


اپنے رب کو ناراض کیا۔ وہ دولت تو ہماری نہ نکلی ۔


پھر انسان جب اپنے اندر کی آواز سنتا ہے تو وقت بہت آگے نکل چکا ہوتا ہے


کچھ تو سنبھل جاتے ہیں۔ اپنی دولت ، اپنا سب کچھ معاشرے کو


لوٹانے کی ٹھان لیتے ہیں لیکن


کچھ اندر کی آواز کو دبا کر


مزید دولت کی ہوس میں پڑ جا تے ہیں۔


غریب جو صدیوں سے


تن کے کپڑوں


کی خاطر


تو کبھی


چار نوالوں کی خاطر


بکتا آیا ہے۔


وہ خاک نشیں زرق خا ک ہی ہوتا ہے۔


اس کے خواب کبھی پورے نہ ہوئے


ان کو کبھی تعبیر نہ ملی


کوئی انقلاب کے نعرے لگاتا ہے


تو کوئی انصاف کی آواز بلند کرتا ہے


کوئی مساوات کا درس دیتا ہے


تو ہر خوشہ گندم کو جلانے کی بات کرتا ہے


کیاکسی نے کبھی سوچا


جس نے کائنات بنائی


اس نے اس پر رہنے کے


اس کو برتنے کے


اس پر بسنے والوں کے


ساتھ برتاؤکے


اصول ازل سے وضع کر دیے ہیں


جس کی زمین ہے، وہ جب چاہے زمین کھینچ لے


جس کا دیا ہوا سب کھاتے ہیں وہ جب چاہیے واپس لے لے


سانسوں کی میعاد بخشنے والے کو ہی اختیار ہے


وہ زندگی کے کس موڑ پر شام کردے۔


دل کو بنانے والا ہی دلوں کے بھید بہتر جانتا ہے۔


دلوں کی بستیوں میں جب اس کے خالق کا نعرہ


گونجتا ہے تو دل آبا د ہوتا ہے۔


ہمیں خواب دکھانے والے کتنے جھوٹے ہیں ۔


سب جھوٹے خواب دکھاتے ہیں۔

Part-1ایک سیاہ رات کی کہانی







Part-1ایک سیاہ رات کی کہانی



وہ ایک سیاہ اندھیر ی رات تھی۔
وہ سب دوست گاوں کے چوپال پر بیٹھے ہوئے تھے۔
گپوں میں جنوں بھوتوں کا ذکر نکل آیا۔
اسد کہنے لگا۔
میرے دادا جی بتاتے تھے کہ گاوں سے باہر پانی والی بھن (تالاب نما جگہ جہاں بارش کا پانی اکٹھا ہو جائے) کے پاس جنوں کا ڈیرہ ہے ۔ وہ ایک رات کو بہت دیرسے وہاں سے گذرے تو وہاں ڈھول بجانے کی آوازیں آرہی تھی۔ شاید کسی جن کی شادی تھی۔ دادا بہت مشکل سے جان بچاکر آئےتھے۔
شہباز بولا
بکواس ۔ میں کئی مرتبہ وہاں گیا ۔ وہاں کچھ بھی نہیں ۔ یہ محض گھڑی ہوئی بات ہے-
اسد بولا۔
تم دن کے وقت جاتے ہو۔ دن کو سب ہی لوگ جاتے ہیں۔ جن تو وہاں رات کو ہوتے ہیں۔
اکرم بھی نے ہاں میں ہاں ملائی
شہباز ٹھیک کہتاہے۔ جن تو وہاں رات کو ہی ہو تے ہیں۔ دن کو وہ جگہ خالی کر دیتے ہیں ۔
اسد اپنی بات پر اڑا رہا۔اتنے میں تنویر بولا۔
یارو کیوں بحث کرتے ہو۔ یہ جن ون سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ کیا آپ میں سے کسی کا جن سے سامنا ہوا ہے۔؟

اس کا جواب تو نفی میں تھا- لیکن شہباز کب ہار ماننے والا تھا۔

اگر ایسی بات ہے۔ تو پھر آپ لوگ ابھی وہاں بھن پر جائیں اور وہاں چکر لگا کر آئیں- تو میں آپ کی بات مان لوں گا۔
اسد اور تنویر نے کہا-لو جی۔ یہ کونسی بڑی بات ہے۔ لیکن اگر ہم وہاں سے چکر لگا آجائیں تو تمھیں500 روپے دینا ہوں گے۔شہباز نے کہاڈن۔۔۔۔لیکن اس بات کا یقین کیسے کیا جائےگا کہ آپ لوگ بھن پر گئے ہیں یا نہیں۔۔اکرام نے تجویز پیش کیاس کا بھی حل ہے۔ ہم ایک لکڑی کا ڈنڈا ان کو دیتے ہیں - یہ وہاں بھن کے شمال میں بیس قدم کے فاصلے یہ ڈنڈا زمین میں گاڑ کر آئیں گے۔ ہم صبح سویرے سب جاکر چیک کریںگے۔ اگر ڈنڈا گڑا ہوا پایا گیا تو اسد اور تنویر شرط جیت جائیں گے۔
فیصلہ ہو گیا۔اسد اور تنویرکو لکڑی کا ایک ڈنڈا جس پر مخصوص نشانی لگی ہوئی تھی۔ دے دیا گیا۔ اوروہ اپنی مہم پر روانہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک گھنٹے میں واپس آجائیں گے۔
لیکن ایک کے بجائے دوگھنٹے گذر گئے اسد اور تنویر واپس نہ آئے
……………………………………….
لیکن ایک کے بجائے دوگھنٹے گذر گئے اسد اور تنویر واپس نہ آئے
شہباز پریشان ہو گیا۔یار یہ لوگ تو واپس نہیں آئے۔ کہیں جنوں کے ہتھے نہ چڑھ گئے ہوں۔اکرم کو بھی یقین تھا کہ بھن کے پاس جن ہیں۔وہ بھی خوفزدہ آواز میں بولا۔ہاں یا ر۔ پتہ نہیں ان کے ساتھ کیا ہو ا ہو گا۔۔پھر سوچ کر بولا۔ہم آدھا گھنٹہ اور انتظار کرتے ہیں پھرکچھ اور سوچتے ہیں۔
آدھا گھنٹہ بھی گذر گیا ۔ مگراسد اور تنویر واپس نہ آئے۔
اب تو اکرم اور شہباز ایک دوسرے پرالزام لگانے لگے۔یہ تم کہاتھا، نہیں یہ تم نے کہاتھا۔
بہرحال بہت سی بحث کے بعد فیصلہ ہو ا کہ دونوں مل کر جاتے ہیں اور گاوں سے باہر تک اسد اور تنویر کو دیکتھے ہیں شاید وہ آرہے ہوں۔وہ گاوں سے ذرا باہر تک گئے تو خوف نے ان کے قدم روک دیے۔
واپسی پر شہباز کا بڑا بھائی انہیں ڈھونڈتا ہوا مل گیا۔تم لوگ کہاں گئے تھے -اب شہباز نے ڈرتے ڈرتے ساری بات بتا دی۔شہباز کے بھائی نے کہا۔آپ لوگوں نے بہت برا کیا۔ پتہ نہیں وہ لوگ اب زندہ بھی ہوں گے یا نہیں- بہرحال میں ابو سے بات کرتاہوں۔

تھوڑی دیر بعدپندرہ بیس بندوں کا قافلہ ہاتھوں میں لالٹینیں، لاٹھیاں، کلہاڑیاں وغیرہ اٹھانے گاوں سے باہر بھن کی طرف روانہ ہوگیا۔شہباز اور تنویر کے گھر کہرام مچا ہوا تھا۔ گاوں کی عورتیں اکٹھی تھیں اور مختلف تبصرے کررہی تھیں۔
گاوں کے مسجد کے امام کو بلا لیا گیا تھا۔
اور قرانی آیا ت کا ورد جاری تھا۔
ادھر قافلہ جوں جوں بھن کے قریب پہنچ رہا تھا۔ لوگوں کے اندر بے چینی ، تجسس، اور ایک نامعلوم خوف بڑھتا جا رہا تھا۔جیسے وہ لوگ بھن کے پاس پہنچے ۔
انہیں دور ہی سے دو افراد ساتھ ساتھ زمین پر گرے ہوئے نظر آئے۔
وہ اسد اور تنویر ہی تھے۔ لیکن دونوں بے ہوش تھے۔
لوگوں کی نظریں خوف سے ان کا طواف کر رہی تھیں-

…………………………………………………………………..

وہ اسد اور تنویر ہی تھے۔ لیکن دونوں بے ہوش تھے۔
لوگوں کی نظریں خوف سے ان کا طواف کر رہی تھیں-شاید وہ آس پاس کہیں جن کی موجودگی کے آثار تلاش کررہے تھے۔
کسی کی ہمت نہ ہورہی تھی کہ وہ لڑکوں کے پاس جائے۔
اچانک چچا سلطان کا بیٹا کاشف جو چند دن پہلے ہی شہر سے آیا تھا۔ وہ آگے بڑھا اور ایک لڑکے کو سیدھا کیا۔ وہ تنویر تھا ۔ اس نے اسکی نبض چیک کی۔ دل پر ہاتھ رکھا۔ اور زور سے کہا۔
یہ صرف بے ہوش ہے۔ اسے اٹھا لیں۔
گاوں والے اپنے ساتھ ایک چارپا ئی بھی لائے تھے ۔ فورا ہی تنویر کو اٹھا کر چارپا ئی پر ڈال دیا گیا۔ لیکن سب بہت خوفزدہ سے انداز میں کام کر رہے تھے۔ کچھ لوگ کلمہ کا ورد کررہے تھے۔
اب کاشف اسد کی طرف بڑھا۔
وہ تھوڑا آگے تھا۔ اس کو سیدھا کیا اور اٹھانے کی کوشش کی۔
لیکن کاشف کو ایسے لگا جیسے پیچھے سے کسی نے اسد کو پکڑا ہو ا ہو۔۔
خوف کی ایک سرد لہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاشف کے جسم سے سرسراتی ہوئی گذری۔۔
گرچہ لالٹینوں کی روشنی تھی مگروہ لوگ پیچھے ذرا فاصلے پر تھے۔ ویسے بھی روشنی صرف ایک رخ یعنی سامنے سے تھی۔
پیچھے کی طرف تو کچھ بھی نظرنہیں آتا تھا۔
کاشف پہلی مرتبہ خوف زدہ ہوا۔
لیکن ہمت کرکے اس نے اسد کو پھر اٹھانے کی کوشش کی ۔۔۔
اسے پھر ایسے لگا جیسے کسی نے اسد کو پیچھے سے پکڑ رکھا ہو۔۔
وہ اپنی خوف کی کیفیت کا اظہار نہیں کر نا چاہتا تھا۔
اسے پتہ تھا۔یہ دیہاتی لوگ توہم پر ست ہیں۔۔یہ اور بھی خوف زدہ ہو جائیں گے۔۔اس کا ذہن بہت تیزی سے سوچ رہا تھا۔۔۔اسکے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔۔۔

…………………………………………………….

اس کا ذہن بہت تیزی سے سوچ رہا تھا۔۔۔اسکے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔۔۔
اس نے ایک بند ے کو لالٹین قریب لانے کو کہا۔۔
پھر لالٹین اسکے کے ہاتھ سے لے کر اسد کے پیچھے لے گیا۔۔۔
چند لمحے بعدہی وہ سب معمہ حل ہو گیا ۔۔
اوہ۔۔۔تو یہ بات ہے۔۔
آدھے گھنٹہ بعد وہ سب اسد کے گھر میں بیٹھے ہو ئے ۔۔ تھے۔
اسد اور تنویر کو ہوش آگیا تھا۔ ۔۔
پہلے تو وہ بہت خوف زدہ تھے۔ بلکہ جب اسد کو ہوش آیا تو اس نے با قاعدہ دوڑنے کی کوشش کی۔۔
اور چیخنے لگا۔۔ جن نے مجھے پکڑ لیا ہے۔۔۔جن نے مجھے پکڑ لیا ہے۔۔۔
مولوی صاحب نے سورہ یٰسین پڑھ کر دم کی۔۔۔لوگوں نے حوصلہ دیا۔۔
اسکی ماں آب زم زم لے آئی۔۔
اور کچھ دیر بعد وہ پرسکون ہوا۔۔۔
رات تو تقریبا گذر ہی چکی تھی۔۔۔
اسد کے باپ نے اپنے گھر میں سب افراد کو
چائے پلائی ۔۔۔موسم اتنا سردتو نہیں تھا۔ ۔مگر رات نے خنکی بڑھا دی تھی
چائے کا دور ختم ہو نے کے باوجود
لوگ اسد کے پاس موجود تھے۔۔۔سبھی کو تجسس تھا۔۔اسد اور تنویر کے ساتھ ہوا کیا تھا۔۔۔
وہ کیسے بے ہوش ہوئے۔۔
کیا انہوں نے جن دیکھے۔۔
یہ اور اس ملتے جلتے سوالوں نے سب لوگوں کو وہاں روک رکھا ۔۔
یہ اس چھوٹے سے دیہات کیبریکنگ نیوز تھی۔۔ بلکہ بریکنگ سٹوری تھی۔۔۔جو شاید اگلے کئی ہفتے زیربحث آنی تھی۔۔اس سٹوری کے اصل کردار ان کے سامنے تھے۔وہ ان کے منہ سے ۔۔۔۔سنسی خیزانکشافات سننے کے انتظار میں تھے۔

جاری ہے ۔۔۔ پارٹ ٹو………………………………………………….

Part-2ایک سیاہ رات کی کہانی



Part-2ایک سیاہ رات کی کہانی 


اس سٹوری کے اصل کردار ان کے سامنے تھے۔
وہ ان کے منہ سے ۔۔۔۔

سنسی خیزانکشافات سننے کے انتظار میں تھے۔۔

بالاخر مولوی صاحب بولے۔۔ 
فجر کی نماز میں تھوڑا سا وقت ہے۔۔
یہ سب لوگ۔۔
اسد اور تنویر کے منہ سے واقعات کی تفصیل سننا چاہتے ہیں۔۔

اگر اسد بیٹا اب بہتر محسوس کررہا ہے تو
ساری بات بتائے تاکہ لوگ گھر جائیں اور نماز کی تیاری کریں

اسد سے پہلے تنویر بولا
جی مولوی صاحب
میں بتاتاہوں۔۔


ہم لوگ جب اکرم اور شہباز کو بتا کر نکلے تو ہمارے ذہن خوف سے خالی تھے۔
ہم بہت پر اعتماد انداز سے بھن پر پہنچ گئے۔۔۔
وہاں پہنچے تو ایک ہولناک۔۔خاموشی کا سحر
ہرسو طاری تھا۔۔
بھن کے ساتھ ہی واقع پہاڑی بہت بڑی ،
اپنے حجم سے بہت بڑی لگ رہی تھی۔۔
پھر ہوا چلنے لگی۔۔


سرسراتی ہوا۔۔
پھراچانک ہمیں ایسا لگا ۔۔۔
جیسے کچھ آوازیں آ رہی ہوں۔۔۔۔

جیسے کوئی بول رہا ہو-۔۔

پتہ نہیں کیوں ہمیں کچھ کچھ خوف محسوس ہوا۔۔

لیکن اسد نے بھن سے بیس قدم گن کر ڈنڈے کو زمین میں ایک پتھر لے کر دبا نا شروع کیا ۔۔۔

میں بھی اسد کے پاس ہی تھا۔۔

ہر سوگھپ اندھیرا۔۔۔

ہوا چل رہی تھی۔۔ اور
پتہ نہیں کیوں ایسے لگ رہا تھا۔۔ جیسے کوئی بول رہا ہے۔۔
کچھ کہ رہا ہے۔۔

میں نےاسد کو کہا ۔۔۔
جلدی کرو ۔۔ مجھے خوف محسو س ہو رہا ہے۔۔

اسد بولا۔۔۔
ہاں یا ر ۔۔۔ کچھ ایسا ہی مجھے بھی لگ رہا ہے۔۔۔

میں ڈنڈے کو زمیں میں گاڑ رہاہوں ۔۔۔ لیکن بہت مشکل ہورہی ہے۔
کچھ نظرہی نہیں آ رہا۔۔

میں نے کہا
زور زور سے پتھر کو ڈنڈے کے سر پر مارو۔۔۔

پھراسد نے ایسے ہی کیا۔۔

اور بولا
چلواب بھاگو یہاں سے

جیسے ہی میں نےقدم اٹھایا۔۔
اسد چیخا۔۔

تنویر۔۔۔ تنویر۔۔

مجھے کسی نے پیچھے سے پکڑ لیا ہے۔۔

مجھے جن نے پکڑ لیا ہے۔۔

مجھے۔۔۔مجھ۔۔۔

اور پھروہ خاموش ہوگیا۔۔

مجھے ایسے لگا۔۔

میرے پاوں کسی نے زمین سے باندھ دیے ہوں۔۔

اور پھر ۔۔

شاید میں بھی خوف سے بے ہو ش ہوگیا۔۔

………………………………..

مجھے ایسے لگا۔۔
میرے پاوں کسی نے زمین سے باندھ دیے ہوں۔۔
اور پھر ۔۔
شاید میں بھی خوف سے بے ہو ش ہوگیا۔۔۔


اب آگے کی کہانی بلکہ اصل کہانی میں سناتا ہوں۔۔۔ 
اچانک چچا سلطان کا بیٹا کاشف بولا۔۔۔

تم۔۔۔
تنویر، اسد کے ساتھ تقریبا سب ہی لوگ چونک کر بولے۔۔۔
مگر تم تو ہمارے ساتھ ہی وہاں گئے تھے۔۔

جی ہاں ۔۔۔۔ 
میں آپ لوگوں کے ساتھ ہی گیا تھا۔۔۔
اور ایک لمحے کو تو ۔۔۔۔ سچی بات ہے۔۔۔ میں بھی بہت ڈر گیا تھا۔۔۔

مگرپھر اللہ نے مجھے ہمت دی۔۔۔

اور میں بات کی تہ تک پہنچ گیا۔۔۔

کاشف نے بہت پرسکون انداز میں جواب دیا۔۔

اب لوگ کاشف کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔

سب کی آنکھیں ۔۔

تجسس سے جیسے پھٹ رہی تھیں۔۔۔

--
کاشف دھیما سا مسکرایا۔۔۔ اور کہا۔۔


آپ سب لوگوں کے سامنے میں پہلے تنویر کو جو کہ اسد سے چند قدم پہلے گرا ہوا تھا۔۔ چیک کیا ۔۔ اور آپ لوگوں کو اٹھا نے کا کہا۔۔

پھر

جب میں نےاسد کو اٹھانے کی کوشش کی تو مجھے ایسے لگا

جیسے اسے پیچھے سے کسی نے پکڑا ہوا ہو۔۔

میں لالٹین منگوائی اور جب دیکھا۔۔

تو

اسد کی قمیص ڈنڈے کے ساتھ ہی زمیں میں گڑی ہوئی ۔۔

دراصل اندھیرے میں اسے پتہ نہ چلا۔۔ہوگا۔۔

یوں جب اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو اسے لگا کہ

اسے کسی نے پکڑ لیا۔۔۔

حالانکہ ایسی کوئی بات نہ تھی۔۔

یہ ذہن میں جاگزیں خوف تھا ۔۔۔

جس نے انہیں بے ہوش کردیا۔۔۔۔

سب حیرت سے منہ پھاڑے کاشف کو دیکھے جارہے تھے۔۔۔

-----------------------------------------

THE END

فرشتہ

آج صبح اچانک ہی آنکھ کھل گئی ۔ وقت دیکھا تو ابھی رات کے ساڑھے تین بجے تھے۔ حیرت سی ہوئی کہ ایسے کبھی پہلے نہیں ہوا۔ ہمیشہ موبائل کے الارم بجنے سے آنکھ کھلتی تھی۔ دوبارہ سونے کی کوشش کی لیکن نیند کوسوں دور بھاگ گئی۔ ایسے ہی سوچنے لگا ۔ اتنی جلدی آنکھ کھلنے کا سسب کیا ہے؟ کیا خواب میں کچھ ایسا دیکھ لیا۔ ذہن پہ زور دینے پر بھی کوئی خواب یا خواب سے متعلقہ کوئی منظر ذہن میں نہ آیا۔ بس الجھن سی ہونے لگی۔
کروٹ پہ کروٹ لیتا رہا نہ نیند آئی نہ بے چینی اور الجھن ختم ہوئی ۔ اتنے میں اذان کی آواز آئی ۔ سوچا جاگ تو رہا ہوں نماز پڑھ لوں۔ پلنک سے اٹھا اور جوتے پہن کر واش روم گیا ۔ وضو کرکے باہر نکلا تو بیگم بھی جاگتی نظر آئی۔
اس نے حیرت، غصے اور الجھن بھری نظروں سے مجھے دیکھا
میں نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا اور کمرے سے باہر نکلنے لگا تو پیچھے سے بیگم نے پوچھا
کہاں چلے
نماز کے لئے مسجد جا رہا ہوں۔
میں نے پلٹ کر جواب دیا۔
اور اسے حیرت اور الجھن میں ہی چھوڑ کر باہر آگیا۔
جب میں مسجد سے نماز پڑھ کر باہر نکلا تو محلے کے ایک صاحب نے سلام کیا اور حال احوال پوچھا ۔
میں نے اپنی خیریت سے آگاہ کرنے کے بعد اخلاقا اس سے خیریت دریافت کی تو اس نے بتا یا کہ اس کی بیگم پچھلے کئی دن سے ہسپتا ل میں داخل ہیں اور ڈاکٹر نے آپریشن کی تاریخ دی ہوئی ہے لیکن اس کی بیگم کے خون کا گروپ او نیگیٹو ہے ۔ جو کہ ایک کم باب گروپ ہے۔ ڈاکٹر ز نے کہا ہے کہ آپ کم از کم چھ بوتل او نیگیٹو گروپ کا انتظام کرلیں۔ ورنہ آپریشن مقررہ تاریخ کو نہ ہو سکے گا۔ اس نے اپنی سی پوری کوشش کر لی لیکن انتظام نہ ہو سکا۔ ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ وہ دو بوتل اس گروپ کے خون کی دے سکتے ہیں لیکن اس کے لئے اسے آٹھ بوتل کسی دوسرے گروپ کے خون کی دینی ہوں گی۔
وہ اسی پریشانی میں تھا اور اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ۔
مجھے چند سال پہلے کا ایک منظر یا د آگیا۔
میں بھی اسی کی طرح پریشان ایک مشہور ہسپتال کے سامنے کھڑا اور تقریبا اسی طرح کی پریشانی سے دوچار تھا۔ تب ایک نوجوان نے مجھے سلام کیا اور کہا
سر آپ یہاں ؟ خیریت تو ہے۔
میں نے اسے جب بتایا کہ میری والدہ اسی ہسپتال میں ہیں اور انہیں فوری طور پر خون کی ضرورت ہے تو اس نوجوان نے میں مجھے کہا
اگرتو ایک بوتل چاہیے تو میں ابھی حاضر ہوں سر ورنہ مجھے صرف ایک گھنٹہ دیں ۔ میں اپنے سب دوستوں کو بلا لیتاہوں۔
میں نے اس دن پہلی بار ایک فرشتے کو انسانی شکل میں دیکھا تھا۔
مجھے سوچوں میں گم دیکھ کر وہ صاحب بولے
لگتا ہے آپ خود کسی پریشانی میں ہیں
نہیں نہیں۔ الحمدللہ ایسی بات نہیں ۔
آپ صرف یہ بتائیں کہ آپ کی بیگم کس ہسپتال میں ہیں۔ وارڈ اور بیڈ نمبر کیا ہے ۔
آپ کے لئے خون کا انتظام ہو جائے گا۔
وہ ایک دم سے جھٹکا کھا کر رک گیا۔
سچ کہ رہے ہیں آپ ؟
میں نے اسے مکمل تفصیل سے بتا یا کہ میں اس کے لئے کیسے خون کا انتظام کر سکتا ہوں اور یہ کا م میرے لئے کوئی مشکل نہیں ۔ تو اس کی آنکھیں بے اختیار نم ہو گئیں۔
اور اس نے ایک مجھے گلے لگا لیا۔
اور کہا
قسم کھا کر کہ رہاہوں ۔ میں نے آج زندگی میں پہلی بار ایک فرشتے کو انسانی شکل میں دیکھا ہے۔
میں چپ تھا ۔ لیکن مجھے صبح سویرے آنکھ کھلنے کی وجہ سمجھ میں آگئیRelated

میرا قصور کیا ہے؟

میرا قصور کیا ہے؟؟؟ آج صبح بیگم کو اٹھایا اور اس سے پوچھا جان! واک کیلئے میرے ساتھ چلو گی؟ بیگم نے نیم غنودگی میں جواب دیا " کیا مطلب؟ تمھارا خیال ہے میں موٹی ہو گئی ہوں؟" نہیں ، نہیں۔۔ واک صحت کے لئے اچھی ہے" بیگم: اوہ۔۔۔ اس کا مطلب ہے میں بیمار ہوں میں: قطعا نہیں۔۔ میری جان اگر تم واک پہ نہیں جانا چاہتی تو کوئی بات نہیں۔ بیگم: تو تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ میں سست ہوں۔ ہیں؟ میں: بالکل نہیں ۔ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔ تم بلاوجہ الجھ رہی ہو بیگم: واہ واہ۔۔۔ ۔۔تو گویا میں لڑاکا بیوی ہوں۔بس لڑنے کا بہانہ ڈھوندتی ہوں ۔ ہیں نا؟ میں: اچھا چھوڑو۔ بہتر یہی ہے کہ میں بھی واک پہ نہ جاؤں بیگم: ہوں ں ں ۔۔۔ تو یوں کہو نا ۔ تم خود واک پہ جانا نہیں چاہ رہے۔ پھر مجھے کیوں الزام دے رہے ہو میں: اچھا بابا۔ تم پھر آرام سے سوتی رہو۔ میں واک پہ جا رہا ہوں بیگم: روہانسے انداز میں ۔ تم ہمیشہ اکیلے ہی ہر جگہ جاتے ہو۔ تم تو چاہتے ہی یہی ہو میں: افوہ۔۔۔ میر ا تو دم گھٹنے لگا ہے صبح صبح ۔ بیمگم: دیکھا؟ میں ٹھیک کہتی ہوں ۔ تم خود غرض ہو۔ صرف اپنی فکر رہتی ہے۔ میری صحت کا تمھیں ذرا خیال نہیں ای ای ای ای ۔۔۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ میں ابھی تک ٹی وی روم میں بیٹھا ہوں ۔ سوچ رہا ہوں ۔ واک پہ جاؤں کہ نہ جاؤں ویسے بائی داوے آپ بتائیے ۔۔۔ مجھ سے کیا اور کہاں غلطی ہوئی ہے؟

ہم سفر

اس دن صبح سے ہی ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے اور موسم بہت دلفریب ہورہا تھا۔ ایسے میں سفر کا مزہ اور دوبالا ہو جاتا ہے لیکن میرے لئے وہ شخص بہت الجھن کا باعث بن رہا تھا۔ میں نے اپنے ایک عزیز کو ملنے کے لئے لاہور جانا تھا۔ اسلام آباد سے ایک معروف کمپنی کی بس میں سوار ہوا تو موسم کے منا سبت سے ایک دھن خود بخود میرے ہونٹوں پر تھرکنے لگی ۔ بہت خوشگوار موڈ کے ساتھ جب اپنی سیٹ پر بیٹھا تو کچھ ہی دیر بعد جو صاحب میرے ساتھ آکر بیٹھے وہی میرے لئے کوفت اور الجھن کا سبب بن گئے۔جھٹ سے آتے ہی فرمانے لگے " آپ کہاں جارہے ہیں" نہ سلام نہ دعا ۔ مجھے نجانے کیوں ایک دم غصہ آگیا ۔ "ظاہر ہے بس لاہور جارہی ہے تو میں پشاور جانے سے تو رہا۔ لاہور ہی جارہا ہوں" " گڈ۔ اس کا مطلب ہے آپ کے ساتھ سفر کافی اچھا گذرے گا۔ " "کیا مطلب؟ " " سادہ سی بات ہے۔ آپ بہت خوش مزاج لگ رہے ہیں سو آپ کے ساتھ اگلے کچھ گھنٹے بات چیت کرکے مزا آئے گا" میں تو تلملا کر رہ گیا۔ اِدھر اُدھر دیکھا کہ کوئی واقف کار نظر آئے تو سیٹ بدل لوں ۔ لیکن سب چہرے اجنبی تھے۔ بس ہوسٹس سے مد د لینے کا خیال آیا پھر اپنی فطری روادری اور جھجھک آڑے آگئی ۔ سو چپ ہی رہا۔ میں دراصل دوران سفر خاموش رہنا ہی پسند کرتا ہوں ۔ جو صاحب میرے ہم سفر بنے پہلے فقرے سے ہی مجھے اچھے نہ لگے ۔ اور وہ تھے کہ مسلسل سوال کیے جارہے تھے۔ اچھا آپ کہاں سے ہیں۔ کیا کرتے ہیں۔ لاہور کیوں جارہے ہیں۔ ؟ میں مختصر جواب دیتا رہا ۔ اور رواداری میں جب یہی سوال ان سے پوچھے توگویا وہ جیسے انتظار میں تھے ۔ اپنے حوالے سے جو گفتگو شروع کی تو لاہور جا کر دم لیا۔ وہ صاحب دراصل بہت بڑے بزنس مین تھے ۔ اور ان کا بزنس پاکستا ن کے کئی شہروں میں پھیلا ہوا تھا۔ ان کے بزنس میں گاڑیوں کے سپیئر پارٹس سے لے کر لیپ ٹاپ تک شامل تھے ۔ کئی شہروں میں ان کے ذاتی محل نما گھر تھے۔ میں تو حیرت اور مرعوبیت کی کیفیت میں ان کی گفتگو سنتا رہا اور سوچتا رہا کہ کسی کے بارے میں بھی فوری رائے نہیں قائم کرنی چاہیے ۔ اس کی گفتگو اس کے بزنس، دولت ، محلوں، گاڑیوں اور رنگ برنگی محفلوں کے گرد گھومتی رہی۔ اور میں اس کی گفتگو کے دوران ایک تصوراتی دنیا میں اس کے ساتھ قدم بہ قد م چلتا رہا۔ یہاں تک کہ لاہور آگیا۔ ۔۔۔۔۔۔ وہ ایک دم اٹھ کر نیچے اترا اور پھر غائب ہو گیا ۔ میں نے اسے آگے پیچھے بہت دیکھا لیکن وہ نہ ملا ۔ حالانکہ میں تو سوچ رہا تھا کہ وہ مجھے اپنا محل دیکھنے کی دعوت دے گا۔ خیر میں باہر آکر داتا دربار جانے والی ویگن میں بیٹھا ۔ یہ میرا معمول تھا ۔ جب بھی لاہور آ تا سب سے پہلے داتا حاضری لگواتا ۔ راستے میں مجھے ایک دفعہ شک ہوا کہ ایک گذرتی ویگن میں وہی میرا ہم سفر بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن میں نے اسے ایک وہم سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ داتا دربار پہنچا تو نماز کا ٹائم ہو چکا تھا۔ نماز ادا کی اور باہر نکلنے لگا تو اچانک میری نظر ایک طر ف بیٹھے ایک بندے پر پڑی جو ایک شاپنگ بیگ پکڑے اس میں سے لنگر کے چاول ہاتھ سے کھا رہا تھا۔ ۔۔ یہ بندہ وہی میرا ارب پتی ہم سفر تھا

زندگی

زندگی بہت مختصر ہے یہ فقرہ تو ہم دن میں شاید کئی بار سنتے ہیں ۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا ۔ مختصر کیوں ، کیسے؟ اگر کسی کی عمراللہ کریم نے 50 سال لکھی ہے ، 70 سال لکھی ہے یا 100 سال- تو وہ دنیا میں اتنے ہی سال گذار کر جائے گا۔ پھر مختصر کیوں ہے زندگی ؟ میں کوئی مذہبی سکالر نہیں ۔ لیکن ایک بات جو اپنی کم علمی کے اعتراف کے باوجود جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم جب اپنی گذشتہ زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے گذارے گئے دس ، بیس ، تیس سال تو گویا کل کی بات ہے۔ یوں گذرے گئے جیسے اک لمحہ گذرا ہو۔ اسی سے قیاس کرکے جب یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ جب نزع کا عالم ہو گا تو ممکن ہے اس وقت ہمیں یہی محسوس ہو کہ ہماری 60، 70 زندگی یوں پلک چھپکتے گذر گئی کہ پتہ بھی نہ چلا۔ تو پھر شاید اسی لئے کہتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے۔ ہاں سچ ہی تو کہتے ہیں۔ ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کیجئے ۔ وہ پہلا دن جب آپ اسکول گئے۔ کل کی بات لگتی ہے نا۔ بے شک سر کے بال سفید ہوگئے یا سفیدی کی جانب سرک رہے ہیں لیکن محسوس ہوتا ہے ابھی تو ہم جوان ہیں۔ کوئی انکل بولے یا آنٹی تو حیرت سی ہوتی ہے۔ ہوتی ہے نا؟ اصل میں یہ زندگی کیا ، دنیا کی ہر چیز ہی گویا دھوکہ ہے۔ جیسے دن ، مہینے، سال ہمیں دھوکہ دیتے ہیں ، دنیا میں ہر چیز ویسے ہی نظر کا دھوکہ ہی ہے۔ جو بات کل ناممکن تھی آج ہمارے لئے ایک عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے۔ ذرا سوچیئے ۔۔۔ کیا کچھ سال پہلے تک کوئی سوچ سکتا تھا کہ اپنے گھر میں بیٹھے ، بناکسی تار، کسی ظاہری وسیلے کے ہزاروں میل دور بسنے والوں سے نہ صرف بات کی جا سکتی ہے بلکہ ا ن کو دیکھا بھی سکتا ہے۔ سچ پوچھیئے تو اگر کوئی سو سال پہلے کا فرد آج اگر زندہ ہو جائے تو شاید یہ سب کچھ دیکھ کر حیرت سے دوبارہ مرجائے۔ یہ سب کیا ہے؟ کیونکر ہے؟ وہ کیا چیز ہے جو ہماری آواز کو ، تصویر کو ہزاروں میل دور ایک چھوٹی سی ڈیوائس یا موبائل فون تک پہنچادیتی ہے۔ سائنس کہتی ہے۔فضائے بسیط جو عام نظر کو خالی نظر آتی ہے ۔ یہ سب ایک مخصوص مادے سے بھری ہے۔ ہم جہاں بیٹھتے ہیں ، کھڑے ہوتے ہیں ۔ کچھ دیر تک اس فضا میں ہمارے چلے جانے کے باوجود ہمارا عکس موجود رہتا ہے۔ کیوں؟ ہماری آوازیں اسی کائنات کے کسی بڑے ڈیٹآ سٹوریج میں محفوظ ہو رہی ہیں۔ بلکہ جو کچھ اب تک کہا گیا، بولا گیا وہ لفظ ، وہ آوازیں اسی کائنات میں موجود اور محفوظ ہیں۔ ہم دھوکے پہ دھوکہ کھار ہے ہیں ۔ تو پھر اس زندگی کا کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ ایسا کریں نا کہ جو محفوظ ہو وہ باعث شرمندگی نہ ہو۔ زندگی دھوکہ سہی اس کا ماحصل دھوکہ نہیں ۔ ایک بہت چھوٹا سا لیکن بہت گہرا نقطہ ہے۔ دھوکہ کھانے والے جب جان بوجھ کر دھوکہ کھاتے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی مقصد ہوتا ہے۔ دھوکہ ہی کھانا ہے نا تو جان بوجھ کر کیوں نہ کھائیں۔ ایک دوست کے ساتھ کہیں جارہا تھا۔ راستے میں ایک ٹھیلے والے کے پاس پڑے پھل اچھے لگے تو رک گئے۔ ریٹ پوچھا تو میں نے بھاؤ تاؤ کرنے کی کوشش کی۔ مجھے دوست نے روک دیا ۔ کہا ۔" بس جو بھی بھاؤ لگائے اس سے پھل لے لو" میں نے ایسا ہی کیا لیکن پھر اس سے پوچھا کہ کیوں؟ کہنے لگا" اس ٹھیلے والے کے پاس کل سامان ہی ہزار پندرہ سو کا ہے۔ اس نے اسی سامان سے اپنے گھروالوں کے لئے کچھ روٹی کا بندوبست کرنا ہے۔ ہم اس سے بھی بھاؤ تاؤ کر کے خریدیں گے تو اس کو کیا بچے گا؟۔ ہم روزانہ کتنے خرچ کرتے ہیں کبھی حساب نہیں کیا۔ لیکن اس ٹھیلے والے سے دو دو روپے کے لئے کیوں بحث کرتے ہیں" کیوں؟ واقعی کیوں؟ کائنات کی ہر چیز دوسروں کےلئے ہے۔ یہ نکتہ جس جس کو سمجھ آیا وہ کامیاب ہوا۔لیکن زندگی میں کچھ کرنے کے لئے ، دوسروں کو کچھ دینے کے لئے بھی تو کسی مرشد، کسی استاد ، کسی بزرگ سے وابستگی ضروری ہے۔ بعض اوقات سامنے کی بات سمجھ نہیں آتی ۔ سینکڑوں کتابوں، ہزاروں فلسفوں کے بیچ الجھنے والے سادہ سی بات بھی نہیں سمجھ پاتے۔ بجلی کا کام کرنے والا بتا تا ہے ۔ صاحب بلب تب روشنی دیتا ہے جب وہ کسی تار سے وابستہ ہوتا ہے، تار کسی بورڈ سے جڑی ہوتی ہے۔ بورڈ کسی لائن سے اور لائن کسی گرڈ سٹیشن سے۔ سامنے کی ہی بات ہے۔ لیکن سمجھ بہت دیر میں کیوں آتی ہے۔ خود کو عقل کل سمجھنا ہی سب سے بڑی نادانی ہے۔ سرنڈر کرنا سیکھنا ہوتا ہے۔ تب کچھ ملتا ہے۔ صاحب جی ابلیس کی کہانی تو یاد ہے نا۔ سرنڈر کرنے سے انکار کیا۔ تو سب کچھ ضائع کر بیٹھا۔ کسی استاد ، کسی مرشد، کسی بزرگ کے آگے سرنڈر کرو۔جو آپ کی تاریں کسی بورڈ سے جوڑ دے۔ آپ کا رابطہ گرڈ اسٹیشن سے ہوگا تو کرنٹ آئے گا ۔ورنہ دھوکے پہ دھوکہ کھاؤ گے۔ گذرے پل اور آنے والے پل کے بیچ میں کچھ ایسا ہے جو ہم سمجھ نہیں پاتے۔ بس ذرا غور کرنے پڑتا ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھنا پڑتا ہے

پہلا روزہ

ہمیں نہ تو کسی نے مجبور کیا ، بہت ضد کی یا منت سماجت کی کہ خدا کے اپنے پہلے روزے کے بارے میں  اپنا ایک ادبی  شاہکار  اپنے "زورقلم اور زیادہ " والے قلم  سے  عنائت کریں  اور نہ ہی کسی نے ان باکس میں کوئی مسیج کیا نہ کسی نے ٹیک کیا۔  پھربھی پتہ نہیں کیوں ہم نے یہ تحریرلکھی ہے بلکہ اپنے ایک عدد بوسیدہ بلکہ خزان رسیدہ  بلاگ پر بھی ڈال دی ۔۔۔۔۔۔۔۔پہلاروزہ رکھے ویسے تو اب اتنے سال بیت گئے ہیں کہ بہت ساری تفصیلات ذہن میں نہیں تاہم ماہ رمضان سے جڑے اپنے بچپن کے کچھ ایسے واقعات ضرور یاد ہیں جو کل کی طرح تازہ لگتے ہیں۔  پہلا روزہ جب رکھا تو یہ یاد نہیں کہ کیا کھایا کیا پیا البتہ شام کو جو آؤ بھگت ہوئی وہ نہیں بھولتی ۔  گھروالوں کے علاوہ خصوصا خالہ ، پھوپھو اور کزن نے جو تحائف پھلوں اور دیگر کھانے کی اشیاء اور نقدی  کی صورت میں دیے تو  دل کرتا تھا اب روزانہ روزہ ہی رکھیں گے ۔ وہ تو امی آڑے آ جاتی کہ معصوم جان اور سخت گرمی ۔ بس ایک روزہ کافی ہے ۔ ہاں جس دن موسم ٹھیک ہو گا اس دن رکھ لینا ۔جمعے کا روزہ ضد کرکے رکھتے تھے۔ ایک دفعہ روزہ رکھنے کے بعد شام کو دوستوں کے ساتھ جھیل پر گئے وہاں کافی دیر کھیلتے رہے اور واپسی پر دوستوں کے ساتھ ٹافیاں کھالیں ۔ بالکل خیال نہ آیا کہ روزہ ہے۔ جب گھر آیا تو بڑی بہن نے پوچھا کہ ابھی تک روزہ قائم ہے یا کچھ کھا پی لیا تھا۔ ایک دم خیال آیا کہ ٹافی کھائی تھی۔ بس رو رو کر برا حال ہو گیا۔ میرا روزہ ٹوٹ گیا میرا روزہ ٹوٹ گیا۔ سب چپ کرواتے رہے بہلاتے رہے اور سمجھا تے رہے کہ بھول چوک کر کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا مگر میں ماننے کو تیار نہ تھا۔ ۔۔دکھ اور افسوس اتنا شدید تھا کہ  افطاری تک روتا ہی رہا ۔ماں جی کے ہاتھوں سے سحری میں  بنے پراٹھوں کی لذت دوپہر کو اور سوا ہوجاتی تھی اور جو مزہ دوپہر کو ان پراٹھوں کو کھا کر آتا تھا وہ ابھی تک بھول نہیں پایا۔ ماہ رمضان واقعی بہت رونقوں بھرا مہینہ ہوتا تھا۔ صبح سے شام تک ایک الگ ہی ماحول ہوتا تھا۔خصوصا تراویح ایک ایسی پرکشش عبادت لگتی تھی کہ رمضان کے بعد  بھی اس کا ذکر اپنے سکول کے دوستوں میں ہوتا رہتا کیونکہ تراویح میں شرارتیں بھی ہوتی تھی اور برزگوں سے ماربھی کھاتے تھے۔ تراویح پڑھنے کا انداز بھی مختلف تھا۔ جب امام تراویح کے لئے کھڑا ہوتا تو ہم سب بیٹھے رہتے جونہی امام رکوع پر جاتا سب بھاگ کر نیت کرتے اور رکعت میں شامل ہوتے ۔ محلے ، مسجد میں افطاری بھجوانا ایک معمول تھا اور یہ افطاری بہت شوق سے تقسیم کرنا اپنا مشعلہ تھا۔ کیوں کہ اکثر اس سامان میں سے کچھ نہ کچھ اڑا بھی لیا جاتا تھا۔ گڑ کا شربت اب تو معدوم ہو چکا ہے لیکن یہ شربت میرے بچپن میں بہت شوق سے پیا جاتا تھا۔ اس میں بادام ، خسخاش بھی پیس کر ملایا جاتا ۔ تو لذت اور بڑھ جاتی تھی۔افطاری میں نمک سے افطار کرنا باعث ثواب سمجھا جاتا تھا۔ بعد نمک کی جگہ کھجور نے لے لی۔تو یہ تھیں کچھ یا دیں کچھ باتیں

ہم سفر


اس دن صبح سے ہی ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے اور موسم بہت دلفریب ہورہا تھا۔ ایسے میں سفر کا مزہ اور دوبالا ہو جاتا ہے لیکن میرے لئے وہ شخص بہت الجھن کا باعث بن رہا تھا۔ میں نے اپنے ایک عزیز کو ملنے کے لئے لاہور جانا تھا۔ اسلام آباد سے ایک معروف کمپنی کی بس میں سوار ہوا تو موسم کی منا سبت سے ایک دھن خود بخود میرے ہونٹوں پر تھرکنے لگی ۔ بہت خوشگوار موڈ کے ساتھ جب اپنی سیٹ پر بیٹھا تو کچھ ہی دیر بعد جو صاحب میرے ساتھ آکر بیٹھے وہی میرے لئے کوفت اور الجھن کا سبب بن گئے۔جھٹ سے آتے ہی فرمانے لگے " آپ کہاں جارہے ہیں"نہ سلام نہ دعا  ۔ مجھے نجانے کیوں ایک دم غصہ آگیا ۔ "ظاہر ہے بس لاہور جارہی ہے تو میں پشاور جانے سے تو رہا۔ لاہور ہی جارہا ہوں"" گڈ۔ اس کا مطلب ہے آپ کے ساتھ سفر کافی اچھا گذرے گا۔ ""کیا مطلب؟ "" سادہ سی بات ہے۔ آپ بہت خوش مزاج لگ رہے ہیں سو آپ کے ساتھ اگلے کچھ گھنٹے بات چیت کرکے مزا آئے گا"میں تو تلملا کر رہ گیا۔ اِدھر اُدھر دیکھا کہ کوئی واقف کار نظر آئے تو سیٹ بدل لوں ۔ لیکن سب چہرے اجنبی تھے۔ بس ہوسٹس سے مد د لینے کا خیال آیا پھر اپنی فطری روادری اور جھجھک  آڑے آگئی ۔  سو چپ ہی رہا۔میں دراصل دوران سفر خاموش رہنا ہی  پسند کرتا ہوں ۔ جو صاحب میرے ہم سفر بنے پہلے فقرے سے ہی مجھے اچھے نہ لگے ۔ اور وہ تھے کہ مسلسل سوال کیے جارہے تھے۔اچھا آپ کہاں سے ہیں۔ کیا کرتے ہیں۔ لاہور کیوں جارہے ہیں۔ ؟میں مختصر جواب دیتا رہا ۔ اور رواداری میں جب یہی سوال ان سے  پوچھے توگویا وہ جیسے انتظار میں تھے ۔ اپنے حوالے سے جو گفتگو شروع کی تو لاہور جا کر دم لیا۔ وہ صاحب دراصل بہت بڑے بزنس مین تھے ۔ اور ان کا بزنس پاکستا ن کے کئی شہروں میں پھیلا ہوا تھا۔ ان کے بزنس میں گاڑیوں کے سپیئر پارٹس سے لے کر لیپ ٹاپ تک شامل تھے ۔ کئی شہروں میں ان کے ذاتی محل نما گھر تھے۔ میں تو حیرت اور مرعوبیت کی کیفیت میں ان کی گفتگو سنتا رہا اور سوچتا رہا کہ کسی کے بارے میں بھی فوری رائے نہیں قائم کرنی چاہیے ۔ اس کی گفتگو اس کے بزنس، دولت ، محلوں، گاڑیوں اور رنگ برنگی محفلوں  کے گرد گھومتی رہی۔ اور میں اس کی گفتگو کے دوران ایک تصوراتی دنیا میں اس کے ساتھ قدم بہ قد م چلتا رہا۔ یہاں تک کہ لاہور آگیا۔ ۔۔۔۔۔۔وہ ایک دم اٹھ کر نیچے اترا اور پھر غائب ہو گیا ۔ میں نے اسے آگے پیچھے بہت دیکھا لیکن وہ نہ ملا ۔ حالانکہ میں تو سوچ رہا تھا کہ وہ مجھے اپنا محل دیکھنے کی دعوت دے گا۔ خیر میں  باہر آکر داتا دربار جانے والی ویگن میں بیٹھا ۔ یہ میرا معمول تھا ۔ جب بھی لاہور آ تا سب سے پہلے داتا حاضری لگواتا ۔ راستے میں مجھے ایک دفعہ شک ہوا کہ ایک گذرتی ویگن میں وہی میرا ہم سفر بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن میں نے اسے ایک وہم سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ داتا دربار پہنچا تو نماز کا ٹائم ہو چکا تھا۔ نماز ادا کی اور باہر نکلنے لگا تو اچانک میری نظر ایک طر ف بیٹھے ایک بندے پر پڑی جو ایک شاپنگ بیگ پکڑے اس میں سے لنگر کے چاول ہاتھ سے کھا رہا تھا۔ ۔۔ یہ بندہ وہی میرا ارب پتی ہم سفر تھا

تکیہ کلام

تکیہ کلامیہ تکیہ کلام بھی کیا عجب چیز ہے۔ جس بندے سے چپک جائے پھر جان نہیں چھوڑتا۔ عمومی تکیہ کلام تو خیر پھربھی قابل برداشت ہوتے ہیں  جیسے " اور سنائیں" یا پھر " تو میں کہ رہا تھا"ٗ لیکن کچھ لوگوں کا تکیہ بہت الجھاؤ پیدا کرتا ہے۔ میرے ایک دوست ہیں جن کا تکیہ کلا م ہے " اچھا پھر کیا ہوا؟" ۔ اب آ پ کوئی بھی بات کریں اور وہ مکمل بھی ہوجائے تو موصوف ضرور بولیں گے اچھا پھر کیا ہوا۔ ایک دفعہ ان سے بات ہورہی تھی کہ اپنے فلاں کلاس فیلو کا انتقال ہو گیا ۔ حسب عادت بولے" پھر کیا ہوا" بھئی مرحوم کا جنازہ  ہوا اور میں جنازے میں شریک ہوا ۔ بولے اچھا پھر کیا ہوا؟"بس جنازے کے بعد میت کو قبرستان لے گئے اور دفنایا"اچھا پھر کیا ہوامیں بھنا کر رہ گیا۔ اب میں انہیں قبر کا احوال تو بتانے سے رہا۔ایک اور مہربان ہیں۔ جن کا تکیہ کلام ہے " بس مت پوچھو"جب  بھی ملتے ہیں بدحواسی چہرے پر ایسے جلوہ فرما ہوتی ہے۔  جیسے خواتین کے چہرے پہ میک اپحال پوچھو تو وہی جواببس مت پوچھو ۔ کئی دفعہ جھنجھلا کر اگر کہ کہ اچھا نہیں پوچھتے تو بنا پوچھے وہ رام لیلا چھیڑتے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔بیگم کی پنڈلی میں ہونے والی خارش سے لے کر دودھ پیتے منے کے منہ کے چھالوں تک ساری تفصیل بتاکر ہی دم لیں گے۔ اور آخر میں یہ ضرور فرمائیں گےبس مت پوچھوایک اور مہربان کا تکیہ کلا م کو بندے کو زچ کرکے رکھ دیتا ہےجی ہاں ان کا تکیہ کلام ہے " معاملہ اس سے بھی خراب ہوسکتا تھا"اب آپ ان سے دنیا جہاں کے کسی موضوع پر بات کرلیں۔ان کے مرغے کی ایک ٹانگ ہوگی۔کسی دوست نے بتایا کہ بیٹے کو بخار ہوگیا ہے۔ کسی دوائی سے اتر نہیں رہا تو بولے ۔ شکرکرو۔ معاملہ اس سے بھی خراب ہوسکتاتھا۔دوست چڑ کر بولا کیاخراب ہوسکتاتھا۔بھئی دیکھو نا۔ بخار کا کیا ہے اتر ہی جائے گا لیکن خدانخواستہ بچے کو ہیپاٹائٹس بھی تو ہوسکتا تھااب وہ مارنے کو ہی دوڑے۔ایک دوست کے بیٹے کا موٹر سے ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ۔وہاں گئے تو حسب عادت بول دیا کوئی بات نہیں۔ معاملہ اس بھی خراب ہوسکتا تھا۔وہ دوست تو خیر چپ رہے لیکن ان کی بیوی چٹخ کر بولیمیرے بیٹے کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور آپ بول رہے ہیں کہ معاملہ اس سے بھی خراب ہوسکتا تھا۔گڑبڑا کر بولے جی جی۔ میرا مطلب تھا کہ دونوں ٹانگیں بھی تو ٹوٹ سکتی تھیں نا۔پھر اس کے بعد حالات کیا بتائیں۔ ہم اس کی جگہ بھابی سے معافیاں مانگتے رہے۔اور پینے کو پانی بھی نہ ملاموصوف کئی مرتبہ مار کھا چکے ہیں لیکن مجال ہے جو اپنے تکیہ کلام سے پیچھے ہٹے ہوںہم نے کئی بار سوچا کہ کوئی ایسی صورت حال ہو کہ یہ صاحب اپنا فقرہ نہ بول پائیں ۔ لیکن انوکھی سے انوکھی صورت حال میں یہ موصوف اپنا راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔لیکن آخرِکا ایک دن ایک ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا کہ ہم دوستو﷽ں کا خیال ہوا کہ اس واقعے پر وہ اپنا تکیہ بھول جائیںگے ۔واقعہ کچھ یوں تھا کہ ہمارے محلے میں ایک صاحب عزیزالدین نامی رہتے تھے۔ جنہوں نے پچھلی عمر میں ایک نوجوان دوشیزہ سے شادی کی تھی۔ طبیعت کے انتہائی تیز اور شکی مزاج تھے۔ بازار میں پان کی دوکان تھی۔ دن میں دو سے تین بار گھر کا چکر لگاتے تھے۔ ان کی بیگم کافی کھلی ڈلی طبیعت کی تھیں۔ اورمحلے کے کئی افراد موقع پاکر ان کے گھرآیا جایا کرتے تھے۔ایک دن پہلے وہ اپنے معمول سے ہٹ کر گھر آئے تو کسی اجنبی کو اپنے بیوی کے پاس بیٹھے دیکھ کر شدید غصے میں آگئے اور گھرمیں پڑے پسٹل سے دونوں کو بھون ڈالا۔ بعد میں خود بھی خودکشی کرلی۔واقعہ اتنا اندوہناک تھا کہ اس پر سوائے افسوس کے اور کہا جا سکتا تھا۔ چنانچہ ہم نے یہ بات جب اپنے اسی دوست کو بتائی تویاحیرت۔۔۔ ٹھک سے بولےاوہ۔۔ معاملہ اس بھی خراب ہوسکتا تھا۔ہم ہکے بکے رہ گئے۔کیسے؟؟؟؟ان کا پورا گھر اجڑ گیا ۔ اب معاملہ اس سے زیادہ کیا خراب ہوسکتا تھا؟؟؟بہت پرسکون ہو کر بولےاچھا یہ بتاو۔ یہ واقعہ کب پیش آیا۔ہم نے کہا کہ کلبولے اگر عزیزالدین پرسوں اسی ٹائم پر گھر آجاتے تو یہ خاکسار زندہ آپ کے سامنے کھڑا نہ ہوتا۔اب بتاؤ معاملہ اس سے زیادہ خراب ہو سکتا تھا کہ نہیںہم تو گنگ ہو کر رہ گئے۔


محبت سب کے لئے

محبت سب کے لئے
میری یہ تحریر آج سے کچھ سال پہلے پاک نیٹ پہ شائع ہوئی ۔ اور اس کے بعد یہ مختلف فورمز اور پیجز پر کاپی پیسٹ ہوتی   رہی۔ آج اتفاق سے کسی نے فیس بک پہ پوسٹ کی  تو میں اسے محفوظ رکھنے کی خاطر اپنے بلاگ پر لگا یا ہے۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
ایک ٹیچر اپنی کلاس کے معصوم بچوں کو محبت اور نفرت کا فرق سمجھا نا چاہ رہی تھی ۔ اس نے بچوں کو ایک کھیل کے ذریعے یہ سبق سکھا نے کا فیصلہ کیا ۔ اور بہت سوچنے کے بعد اس نے بچوں کو کہا" بچو ہم ایک کھیل کھیلنے جا رہے ہیں ۔ جس کے آخر میں آپ کو ایک بہت شاندار سبق بھی حا صل ہو گا۔ کیا آپ سب یہ کھیل کھیلنے کیلئے تیار ہیں"بچوں نے یک زبان ہو کر کہا" جی ۔ بالکل"" تو بچو۔ آپ کو کرنا یہ ہے کہ کل جب آپ سکول آئیں تو اپنے ساتھ ایک شاپنگ بیگ میں اتنے ٹماٹر ڈال کرلائیں جتنے لوگوں سے آپ نفرت کرتے ہیں"ٹیچر نے کہاسب بچوں نے بڑے جوش و خروش سے ٹیچر سے وعدہ کیا کہ کل وہ ایسا ہی کریں گے۔چنانچہ دوسرے دن ہر بچے کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا۔ کسی میں ایک ٹماٹر ، کسی میں دو اور کسی میں پانچ ٹماٹرتھے۔ غرضیکہ ٹماٹڑوں کی تعداد ان لوگوں کی تعداد ظاہر کررہی تھی جتنے لوگوں سے وہ نفرت کرتے تھے۔اب ٹیچر نے سب بچوں سے کہا۔" بچو۔ آپ سب لوگ اپنے اپنے شاپنگ بیگز کوبند کرلیں اور ان کو ہر وقت اپنے پاس رکھنا ہے۔ چاہے آپ کلاس میں ہوں ، گھر میں ہوں، سورہے ہوں، کھانا کھا رہے ہوں۔ بس یہ شاپنگ بیگ آپ کے پاس رہے۔ اور ہاں یہ کھیل ایک ہفتہ کیلئے ہے۔ ایک ہفتے کے بعد اس کھیل کا اختتام ہوگا"سب بچوں نے کہا" جی ۔ ہم سمجھ گئے۔ یہ تو بڑا آسان سا کھیل ہے"لیکن یہ آسان کھیل بچوں کیلئے بہت مشکل ثابت ہوا۔ دوسرے ہی دن ٹماٹروں سے بد بو آنا شروع ہوگئ۔ مزید یہ کہ جن کے پاس زیادہ ٹماٹر تھے یعنی جو بچے زیادہ لوگوں سے نفرت کرتے تھے۔ ان کیلئے دہری مصیبت تھی۔ بدبو کے ساتھ وزن بھی اٹھانا، ہر وقت اپنے پاس رکھنا، ایک عذاب بن گیا ۔جلد ہی بچے تنگ آگئے۔ لیکن کھیل تو ایک ہفتے کا تھا۔تیسرے چوتھے دن ہی بچوں کی ہمت جواب دینے لگی۔ بد بو سے سب کا برا حال تھا۔ انہوں نے ٹیچر سے کہا" میڈم یہ کھیل جلدی ختم کریں ورنہ ہم بیمار ہو جائیں گے"ٹیچر نے جو بچوں کی پریشانی دیکھی تو کہا" ٹھیک کھیل آج ہی ختم کردیتے ہیں- آپ لوگ جلدی اپنے اپنے شاپنگ بیگ متعلقہ جگہ پر ڈال کر ، ہاتھ دھو کر آئیں – پھر اس کھیل کے بارے میں بات کرتے ہیں"بچے تو خوشی سے اچھل پڑے اور فورا باہر بھاگے۔ تھوڑی دیر جب سب بچے واپس کلاس میں آئے تو انکے چہروں پر تازگی کے ساتھ تجسس کے تاثرات موجود تھے اور وہ منتظر تھے کہ اس کھیل کا مقصد اور نتیجہ جان سکیں۔ٹیچر نے سب بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا" بچو۔ آپ نے دیکھا کہ آپ جتنے لوگوں سے نفرت کرتے تھے ۔ انکی علامت کے طور پر ٹماٹر ساتھ رکھنا کتنا مشکل اور تکلیف دہ کام تھا۔ہم جب کسی سے نفرت کرتے ہیں تو اس کا احساس ہمارے دل میں رہتا ہے۔یہ احساس، یہ سوچ دماغ میں رہتی ہے۔ اوریہ سوچ، یہ احساس ان ٹماٹروں کی طرح جب کئی دنوں تک پڑی رہتی ہے توبدبو پیدا کردیتی ہے، تعفن پھیلا دیتی ہے۔ ذرا سوچئے ہم کتنے مہینوں، سالوں سے یہ بدبو بھرا تعفن زدہ احساس اپنے دل میں رکھے ہوئے ہیں ۔ کیا ہمارا دل اس سے تنگ نہیں ہوتا؟اس گندگی سے ہمارا دل اور دماغ میلے نہیں ہو جاتے ۔؟اگر ہم اس بدبو اور گندگی کی جگہ محبت جیسا خوشبو انگیز احساس دل میں رکھیں تو ہمارا دل خوش نہیں ہوگا۔"بچوں کو اب احسا س ہو رہا تھا۔ کہ میڈم کتنی بڑی سچائی بیان کررہی ہیں۔تو بھائیو- بہنوکیا ہم نفرت نہیں چھوڑ سکتے ۔کیاہم اپنےدل و دماغ صاف نہیں رکھ سکتے ؟صرف ایک احساس ، ایک جذبہمحبت سب کیلئے

Pages