اسد حبیب (آشنائی)

پی ایس ایل: طالبات کے لئے مفت ٹکٹیں، طلبا کا کیا قصور؟

مندرجہ ذیل اخباری تراشہ پڑھیں اور تبصروں میں اپنی رائے بتائیں کہ آخر کیا وجہ ہو گی کہ ایک ہزار طالبات کو مفت ٹکٹ دئے جائیں گے جبکہ طلبا یعنی مذکر طالب علم کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں۔ آُپ کے خیال میں اس دوراندیش عنایت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
  

پاس کر یا برداشت کر!

زندگی کی سڑک پر تقریبا ہر مسئلہ ایک سست رفتار ٹرک کی طرح ہوتا ہے۔۔۔اور اس کو خود پر اثر انداز ہونے سے بچانے کا طریقہ بھی یہی ہے۔۔۔۔
پاس کر یا برداشت کر!
محنت کریں نہیں تو صبر کریں۔ اپنے مسٰلے کی مشہوری یا صرف باتوں سے فرق نہیں پڑتا۔

بوڑھے بےوقوف شخص کی کہانی

یہ کہانی بہت پہلے چین کے ایک گاؤں کے رہنے والوں کے بارے میں ہے۔ یہ گاؤں چین کے ہزاروں فُٹ بلند پہاڑوں کے شمال میں واقع تھا۔ اور یہ پہاڑ کئی میل تک پھیلے ہوئے تھے۔  اس گاؤں میں ایک بوڑھا شخص رہتا تھا جسے سب لوگ بے وقوف کہہ کر بلایا کرتے تھے۔  بے وقوف بوڑھے کےگھر کے سامنے دو بہت بڑے بڑےپہاڑتھے ۔ پہاڑوں کے  پیچھے جنوب کی سمت ایک  دریابہتا  تھا جہاں سے وہ پانی لایا کرتا تھا۔  جب بھی اس شخص کو دریا کی طرف جانا ہوتا تو پہاڑوں کے کے گرد گھوم کر ایک بہت لمبا چکر کاٹ کر جانا پڑتا۔ اس طرح دریا  تک آنے جانے میں اس کو بہت لمبا فاصلہ طے کرنا پڑتا  اور دنوں کی مسافت طے کرنا پڑتی۔ بے وقوف اس لمبی مسافت سے بہت تنگ تھا۔ ایک دن اس نے اپنے سب گھر والوں بلایا اور ان کو جمع کر کے کہا:"فرض کرو اگر ہم سب مل کر پہاڑوں کو زمین کے برابر کر دیں تو یوں ہم جنوب کی طرف دریا تک ایک راستہ  بنا سکتے ہیں"  گھر والوں نےاس کی بات سنی تو راضی ہو گئے۔ صرف اس کی بیوی کو یہ بات پسند نہ آئی۔ اس کی بیوی نےناک بھوں  چڑھاتے ہوئے   کہا"اے لو جی! تم میں تو اتنی طاقت بھی نہیں ہے کہ تم ایک چھوٹی پہاڑی کو زمین کے برابر کر سکو، تم ان دو پہاڑوں کو کیسے برابر کر سکتے ہو؟ اور ہاں! اگر تم یہ کام شروع بھی کر دو تو پہاڑوں کی اتنی زیادہ مٹی اور پتھر پھینکو گے کہاں؟"
اس بوڑھے آدمی نے جواب دیا" ہم مٹی کو سمندر میں پھینک آیا کریں گے"اپنی بیوی کا جائز شک دور کرنے کے بعد وہ بوڑھا آدمی اپنے بیٹے اور پوتوں کے ساتھ اوزار لے کرپہاڑوں کی طرف نکل پڑا۔اور پھر کیا!  انہوں نے پتھر اور زمیں کھودنا شروع کر دی ۔ پھر  جب کھودتے کھودتے کافی زیادہ مقدار میں پتھر اور مٹی جمع ہو جاتی تو وبالٹیوں بھر بھر کر اپنی گدھا گاڑی میں لادتے اور سمندر کی طرھ لے جاتے اور پھینک آتے۔   یوں سست رفتاری کے باوجود انہوں نے اپنا کام جاری رکھا اور جُٹے رہے۔ ان کے پڑوس میں ایک لڑکا رہتا تھا جو عموما فارغ ہی رہا کرتا تھا اور کوئی کام بھی نہ کرتا تھا۔  اس نے جب بوڑھے آدمی اور اس کے گھر والوں کو اس طرح کام کرتے دیکھا تو وہ بھی ان کی مدد کرنے  نکل پڑا اور اس نے بھی اُن کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ یہ سب کام بہت سست رفتارتھا۔ ان سب کو مٹی اور پتھر کھودنے اور بھر بالٹیوں میں لےجا کر سمندر میں پھینکنے میں کئی مہینےگزر گئے ۔ مگر وہ اپنے کام میں لگے رہے۔دریا کے کنارے کے قریب ایک اور شخص رہا کرتا تھا جسے گاؤں والے  عقلمند کہا کرتے  تھے۔ عقلمند شخص نے ان لوگوں کو اس طرح کا کام کرتے دیکھا تو اسے اُن کی حرکتوں پر بہت تعجب ہوا۔ وہ ان کو کوششوں پرطنز کیا کرتا اور اس کی یہ خواہش تھی کہ بے وقوف بوڑھا اور اس کے گھر والے اس طرح کی حرکتوں سے باز رہیں ۔  ایک دن اس نے موقع پا کر بوڑھے شخص سے کہا"بہت پاگل پن ہو گیا! یہ کتنی بے وقوفانہ حرکت ہے! تم اتنے بوڑھے اور کمزور ہو، تم سب سے مل کر اتنے بڑے پہاڑ کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی برابر نہ ہو سکے گا۔  اور اتنے سارے پتھر وں اور مٹی کو تم کیسے ٹھکانے لگاؤ گے۔ اب اپنی بے وقوفی سے بار آجاؤ "بوڑھا بےوقوف اس کی بات سن کر ایک لمحے کو چپ ہو گیا۔ پھر اس نے ایک لمبے وقفے کے بعد کہا" تم کتنے  تنگ نظر ہو، تم سے تو میرے پڑوسیوں کا یہ بچہ زیادہ بہتر سمجھتا ہے کہ اس نے ایک بہتر انتخاب کیا، ہاں! تمہاری بات ٹھیک ہے کہ  میں بہت بوڑھا ہوں ، مجھ میں طاقت کم ہے اور میں اپنی زندگی میں یہ کام مکمل نہ کر پاؤں گا۔  ایک دن میں مربھی  جاؤں گا،۔مگر میں اپنے پیچھے اپنے بچے چھوڑ جاؤں گا ، اور اس طرح میرے بچے بھی بڑے ہو کر اپنی نسل چھوڑ جائیں گے۔ ہماری نسل ہمیشہ بڑھتی رہے گی۔  جبکہ یہ پہاڑ مزید بڑھنے سے قاصر ہیں ۔ نہ ہی یہ مزید پھیل سکتے ہیں۔  تو ایک نہ ایک دن  کیوں ہم ان کو ہموار  نہ کر سکیں گے۔ ایک نہ ایک دن ہم ضرور ان کو ہموار کر لیں گے۔" یہ سننے کے بعدعقلمند شخص خاموش ہو گیا اور اس نے بوڑھے شخص کو اپنا کام جاری رکھنے دیا۔  اور بوڑھا بےوقوف دوبارہ سے اپنے کام میں لگ گیا۔

سچی نفرت جھوٹی محبت سے بہتر ہے

لوگ آپ کی شخصیت میں موجود خامیوں کی وجہ سے آپ سے نفرت کریں یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی خوبیوں کوہ آپ کی شخصیت کا حصہ جان کر آپ سے محبت کریں جو حقیقتا آپ میں نہ ہوں۔  

اگلا قدم

علاقہ : آئی ایٹ مرکز، اسلام آباد
یہی کوئی دسمبر کی بات ہے۔ یوں تو سردی کا موسم شروع ہو چکا تھا مگر سردی برائے نام ہی تھی۔ فیض آباد والی اے ٹی ایم خراب ہونے کی وجہ سے میں پیدل آئی ایٹ مرکزپہنچ گیا۔ وہاں اے ٹی ایم میں ایک صاحب کیش نکلوا رہے تھے اور دوسرے جو شاید ان کے ساتھ ہی آئے تھے باہر ٹہل رہے تھے۔ قد ذرا مندرا(چھوٹا) تھا۔ بالوں پیچھے کی جانب کنگھی کئے ہوئے چمک رہے تھے، پینٹ زیب تن کئے ہوئے ، جسم پر تھوڑا بھرا بھرا سا گوشت تھا، دیکھنے میں ہی پتہ چل جاتا تھا کہ کھاتے پیتے آدمی ہیں۔  چند لمحوں میں ایک دبلا اور انتہائی عام آدمی مفلر میں منہ چھپائے ان کے پاس آیا اور مدد کی اپیل کی۔ وہ صاحب سوالیہ نظروں سے اپیل سنتے رہے۔ ان کی نظریں اپیل کی وضاحت چاہتی تھیں۔ کرنے والے نے بتایا کہ وہ کشمیر کا رہائشی ہے ، بیوی بیمار ہے، اس کے بعد اپنی کچھ معاشی مجبوریاں بتائیں جن کو بتاتے بتاتے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ رونا شروع ہو گیا۔صاحب کا دل شاید پسیج چکا تھا۔ انہوں نے دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا "وہ میری سفید رنگ کی پجارو کھڑی ہے، اس میں میرا ڈرائیور بھی بیٹھا ہوا ہے، وہاں چلے جاؤ ، میں آتا ہوں"۔ اس کے رخصت ہونے کے بعد خود کلامی کرتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوئے۔"اللہ! ہر بندہ ہی پریشان ہے! پتہ نہیں آج کل حالات کیسے ہو گئے ہیں۔ ہر بندہ پریشان ہے۔ جسے دیکھو مسائل میں گھرا ہوا ہے، کیوں جی کیا کہتے ہیں آپ؟  “ میری چند سیکنڈ کی محیط خاموشی کے بعد وہ دوبارہ مخاطب ہوئے "دیکھو جی! جب کوئی بندہ، خاص طور پر جب کوئی مرد کسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے ناں!  تو وہ اپنا اندر مار کے ایسا کرتا ہے، نجانے کیسے کیسے حالات ایک مرد کو بھی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیتے ہیں، کیوں جی؟"۔ ہمارا رسمی تعارف ہوا۔صاحب کوئی کاروبار کرتے تھے۔ کوئی چھوٹی سی کمپنی تھی جس میں سو دو سو خواتین کام کرتی تھیں ۔ تبادلہء خیال ہوا، پھر میں نے ان سے کہا کہ آپ اس آدمی کی مدد ضرور کریں۔ بے روزگار ہے، چند ہزار روپے کی مدد سے اس کے چند دن تو گزر جائیں گے مگر یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے۔ آپ اس کو روزگار فراہم کر سکیں تو بہترین حل ہوگا۔ اسے کسی کام پر رکھ لیں یا اپنی جان پہچان والے کے پاس رکھوا لیں، آپ کاروباری آدمی ہیں آپ کے لئے یہ مشکل کام نہیں ہے۔ خیر ان کو یہ ترکیب پسند نہ آئی اور وہ جواباً اپنے کاروباری مسائل اور ورکرز کی معاشی حالت پر مجھے بریفنگ دینے لگے۔ اتنے میں ان کے ساتھی کیش نکلوا چکے تھے اور ہماری منزلیں جدا ہو گئیں۔کسی سوالی کے مسائل کا مستقل  حل اگر ہماری تھوڑی سی کوششوں سے ہو سکتا ہو تو ہمیں ہمت کر کے ایک قدم اور آگے بڑھانا چاہیئے اور اس کے مسائل کے مستقل حل کا بندوبست کرنا چاہیئے۔ پائیدار ترقی صرف اسی صورت  میں ممکن ہے۔ ہر آدمی جو کام کر سکتا ہے اسے کام کرنا چاہیئے اور صاحب حیثیت لوگوں کو کام اور کام کرنے والوں کے درمیان حائل رکاوٹوں کا سد باب کرنے کی کوششیں کرنی چاہیئں۔ دگرگوں حالات پر کڑھتے رہنا مسائل کا حل نہیں ہوتا، بلکہ مسائل کا حل ایک قدم اور اٹھا کر اپنا حصہ، چاہے وہ کتنا ہی محدود کیوں نہ ہو، ڈال کر ہو سکتا ہے۔    دوسرا ہمارے معاشرے میں پیشہ ور بھکاریوں کی بھرمار ہے۔ اور لوگ ان کی مدد کرتے رہتے ہیں۔  اچھے بھلے لوگ (صحت کے اعتبار سے) محض بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی بر سرِ روزگار ہے مگر آمدن کم ہے جس کی وجہ سے اس کا گزارا مشکل سے ہوتا ہے تو ایسے لوگوں کی معاشی مدد تو سمجھ میں آتی ہے کہ کم از کم وہ ہاتھ پاؤں تو مار رہے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے بھیک مانگنے کو اپنا پیشہ بنا رکھا ہے ان کا کیا؟ کوئی اگر محنت یا کام کرنے سے عاری ہے تو ایسے لوگوں کی مدد کیوں کر کی جائے؟ کس جواز کے تحت؟ خاص طور پر بچے جن کو بچپن سے ہی اس کام پر لگا دیا جاتا ہے۔ کیا اس سے بہتر یہ نہیں ہے کہ جو پیسے ان کو بھیک میں دئے جاتے ہیں ان کے عوض ان کی چھوٹی موٹی خدمات حاصل کر کے بھیک کے بجائے مزدوری دے دی جائے۔ اس سے فائدہ تو ہو سکتا ہے۔ کم از کم جگہ صاف ہو سکتی ہے، راستے میں پڑے ہوئے  پتھر ہٹ سکتے ہیں۔ اگر اللہ نے آپ کو اتنی توفیق دی ہے کہ آپ کسی کی مدد کر سکتے ہیں تو ایک قدم اور آگے جائیں۔ ہاں اس سے آپ کےپانچ منٹ ضائع ضرور ہو سکتے ہیں ، مگر چند نہیں تو ایک دو لوگوں کی ایک دو مرتبہ بھیک مانگنے پر حوصلہ شکنی ضرور ہو گی اور محنت کر کے کمانے کی حوصلہ افزائی بھی۔

گوشہء صحافت سے


خبر ہے کہ "روہڑی میں 70 سالہ بوڑھے نے 11 سال کی معصوم بچی سے بیاہ رچالیا"کیااس خبر میں معصوم کا لفظ ایک فالتو اضافہ نہیں ہے؟  خبر پڑھ کرتو یہ لگتا ہے کہ صحافی صرف یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ گیارہ سالہ بچی معصوم تھی۔ اگر گیارہ سالہ بچی معصوم نہ ہو اور کوئی ستر سالہ بوڑھا اس سے شادی کر لے تو کیا یہ جرم نہ ہو گا؟ خیر خبر کی تفصیل کو مدِنظر رکھتے ہوئےایک بہتر سرخی یہ ہو سکتی ہے۔ "گیارہ سالہ بچی وٹے سٹے کے رواج کی بھینٹ چڑھ گئی"۔  خبر ہے کہ" شریعت کے نفاذ پربین الاقوامی تنظیموں  اور اداروں کابرونائی کے معاشی بائیکاٹ کا اعلان"سرخی سے یہ لگتا ہے کہ اگر کہیں شریعت آ گئی تو بہت سے بین الاقوامی ادارے اس ملک کا معاشی بائیکاٹ کر دیں گے۔ بین السطور ایک ڈر چھپا ہوا ہے۔ تفصیل میں صحافی صاحب دو اداروں کا ذکر فرماتے ہیں جن میں سے ایک خواتین کی بین القوامی تنظیم "فیمینسٹ" ہے اور دوسرا کاروباری معاونت فراہم کرنے والاگروپ "ورجن " ہے۔ فیمنسٹ نے اب تک صرف ایک مقامی ہوٹل میں اپنی ایک تقریب منسوخ کی ہے ۔ ان کو اصل میں  ان نئے قوانین کے بارے میں دکھ ہے جن کے مطابق ہمجنس لڑکوں اور لڑکیوں ٗگے اینڈ لیس بئینز" کا پتھر مار مار کر قلع قمع کر دیاجائے گا اور عورتوں کواپنا حمل ضائع کروانے پر سزا دی جائے گی۔ اکثر ایسی تنظیمیں عورتوں کے حقوق کے نام پر اسی طرح کے ڈرامے کرتی رہتی ہیں گو کہ یہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تنظیم ہو۔ اب رد عمل میں یہ تنظیم  ہم جنس پرستوں کی مدد سے سلطان برونائی کے اس اقدام کے خلاف مظاہرے کرے گی۔ ورجن گروپ کے سربراہ نے کہا ہے کہ آئندہ ان کی کمپنی کا کوئی ملازم یا گھر کا کوئی فرد برونائی کے سلطان کے ہوٹل میں قیام نہیں کرے گااور ، ان کا ادارہ  ایسے کسی بھی ادارے کے ساتھ کاروباری تعلق بھی نہیں رکھے گا جس کا حسن البولکیہ سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہوگا۔ یہ ہے جی عالمی اداروں کے معاشی بائیکاٹ کی تفصیل! یہ توصرف دو ادارے ہیں بلکہ ڈیڑھ۔ جبکہ سرخی سے یہ تاثر ملتا ہےجیسے بہت زیادہ اداروں نے اپنے کاروبار برونائی میں بند کر دئے ہوں ۔

شرارتیں

شرارتوں کو عموماً  بچوں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ بھی تو کہا جاتا ہے کہ ہر آدمی کے اندر ایک بچہ چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اس لئے ہر آدمی کبھی بھی شرارت کر سکتا ہے۔ویسے شرارت کا مآخذ کیا ہوتا ہے؟ شرارت دماغ میں کہاں  سےپیدا ہوتی ہے؟ سب کچھ ایک دم ٹھیک روانی میں چل رہا ہوتا ہے۔ یکایک ذہن میں ایک خیال آتا ہے اور جی کو شرارت کرنے پر ابھارتا ہے، اور پھر۔۔۔بس! شرارت سرزد ہو جاتی ہے۔ ذہن کے کس حصے میں شرارت کے خیالات ابھرتے ہیں؟اگر شرارت آئی ہو تو ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیئے؟ اسے روکا کیسے جائے؟ اگر آپ کو ان سوالات میں سے کسی کے بارے میں کچھ پتہ ہو تو تبصرے والے خانے میں ضرور بتایئے گا۔میرا خیال ہے کہ شرارت صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ جانور بھی کبھی کبھی شرارت کرتے ہیں۔ بندر کا انسانوں کو دیکھ کر ان جیسی حرکات کرنا، ان کی نقلیں اتارنا، یہ بھی تو شرارت ہے۔ اور ابھی جب میں لائبریری کی طرف آ رہا تھا۔ درخت پر بیٹھی ہوئی ایک چڑیا میرا انتظار کر رہی تھی۔عین اس وقت جب میں درخت کے نیچے سے گزر رہا تھا، اس نے شرارت کر ڈالی۔وہ تو بھلا ہو کہ میں اس کی شرارت کی زد میں نہیں آیا، بال بال بچت ہو گئی۔ ورنہ شرمندگی ہوتی۔ اس کے علاوہ بھی کئی کوّں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اسی تاک میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کوئی نیچے سے گزرے اور وہ شرارت کر دیں۔میرے دماغ کا وہ حصہ جہاں شرارتی خیالات جنم لیتے ہیں کبھی کبھی کافی سرگرم ہو جاتا ہے۔ اب دیکھیں ناں! میں نے یونہی اوپر والے پہرے میں شرارتاً بی چڑیا کا ذکر چھیڑ دیا۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ جب میں درخت کے نیچے سے گزر رہا تھا عین اسی وقت چڑیا کو ضرورت درپیش آئی ہو اور اس کا یہ فعل ارادتاً ہر گز نہ ہو۔ویسے یہ ایک قسم کا ذاتی عمل ہے اور اس قدر بے باکی سے اس پر بات کرنا شاید مناسب نہیں ہے۔چلیں قصہ جب شرارتوں کا چھڑ چکا تو آج میں آپ کو اپنی ایک شرارت سناتا ہوں۔ہمارے ہاسٹل کے باہر ایک سیکیورٹی گارڈ بیٹھتا ہے۔ ہر وقت چاک و چوبند! اوپر سے آڈر ہے کہ جب بھی کوئی بندہ اندر داخل ہو گا تو کارڈ دکھا کر آئے گا۔ اب دو تین سال سے دو تین آدمیوں کی ہی بدل بدل کر ڈیوٹی لگتی ہے، ہاسٹل میں رہنے والے لوگ بھی تھوڑے سے ہی ہیں۔ ایسے میں ان کو ہمارے اور ہمیں ان کے چہرے اچھی طرح یاد ہو چکے تھے۔ وہ اکثر اندر آتے ہوئے ہمیں پہچان لیتے تھےکہ سٹوڈنٹ لوگ ہیں، ذرا بغل کی دکان تک کچھ خریداری کرنے گئے ہوں گے، اس لئے اکثر کارڈ چیک نہیں کرتے تھے۔ اب مجھے شبہ سا ہونے لگا کہ یہاں کی سیکیورٹی جتنی سخت نظر آتی ہے اتنی ہے نہیں۔میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ سیکیورٹی گارڈ سست ہو گیا ہے ۔کسی دن کوئی چپکے سے اس گیٹ سے گزر جائے گا اور اسے پتہ بھی نہیں چلے گا۔ کیوں نہ ایک تجربہ ہی کر کے دیکھ لیا جائے؟ لو جی!تبھی ایک دن دکان سے واپس آتے ہوئے  میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم داخل ہو جاؤ میں ذرا ٹھہر کر آتا ہوں۔میرے پاس ایک مفلر تھا جو میں نے اپنے منہ پر اس طرح لپیٹ لیا کہ چہرہ نظر نہ آئے۔ دھیرے دھیرے پیدل چلتا گیا ۔ گیٹ کے قریب جا کر اندر کی طرف دوڑ لگا دی۔ گارڈ کو جیسے ایک جھٹکا سا لگا جیسے کہیں یک دم آگ بھڑک اٹھی ہو۔ فوراً آواز دینے لگا۔ "اوئے اوئے! ادھر آؤ!"۔ میں نے مفلر اتار کر بے اختیار ہنسنا شروع کر دیا۔ میرا خیال غلط تھا۔ وہ گارڈ واقعی چاک و چوبند تھا۔خیر میں اس کے پاس گیا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا مگر مجھے برابر ہنسی آئے جا رہی تھی۔ وہ غصے سے ہانپتا ہوا کہہ رہا تھا" بہت تیز بنتے ہو! ایک دفعہ رپورٹ کروں گا ناں تمہاری ساری ہنسی نکل جائے گی، کیا نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"۔ خیر بے عزتی شروع ہوئی تو ہنسی خودبخود رک گئی۔ کچھ دیر بعد میں گارڈ سے معذرت کر کے واپس جا رہا تھا۔شاید آپ کو یہ قصہ شرارت سے زیادہ بے وقوفی لگے۔ بہرحال! اسے کافی دیر گزر چکی ہے۔آج بھی جب اس بارے سوچتا ہون تو خود پر بہت ہنسی آتی ہے۔کہ کیسے مین اس طرح کی حرکت کر بیٹھا تھا؟ پتہ نہیں ایسی شرارت کہاں سے ذہن میں آئی اور کیوں آئی؟ویسے ہلکی پھلکی شرارتیں اچھی ہوتی ہیں جب تک کسی دوسرے کو ان سے نقصان نہ پہنچے۔اور ہاں کبھی کبھی انسان اپنی ہی شرارتوں کی زد میں آجاتا ہے اور خود کو بھی نقصان ہو سکتا ہے۔ اب ٹھہرئیے جی! ایسے کہاں چلے؟ چلتے چلتے اپنا بھی کوئی قصہ یاد ہو تو شئیر کرتے جائیں۔ 

پہچان

سٹوڈنٹ باڈی کےایک انٹرویو میں مجھ سے پوچھ لیا گیا کہ آپ اپنےاصلی نام سے بلاگنگ کیوں نہیں کرتے؟میں نے ٹال مٹول کردی۔ میری ذاتی زندگی میں بھی بہت محدود لوگ جانتے ہیں کہ میں اسد حبیب ہوں۔جو جانتے ہیں وہ بھی اکثر یہی سوال کرتے ہیں۔ ان کو بھی میں ٹال مٹول دیتا ہوں۔ اب ہر کسی کو تو بندہ نہیں ناٹال سکتا۔ ویسے بھی عامر پرویز تو میرے بھائیوں جیسا ہے۔ اس کو تو میں ہر گز نہیں ٹال سکتا۔ بالکل بھی نہیں۔ہوا کچھ یوں کہ ایک دن عامر سے بات چیت کے دوران میں نے اسے اپنے بلاگ کا بتایا۔ بتایا ناں کہ میرے لئے بھائیوں کی طرح ہے۔ اسے بہت خوشی ہوئی۔اس بے چارے نے جاکرمیری پبلسٹی کرنا شروع کر دی۔ اب وہ جس کو بھی میرا اصلی نام بتاتا اور بلاگ کا لنک دیتا۔ بلاگ کھولنے پر وہ اسد حبیب کا نام پڑھ کر عامر کو کوستا کہ "یہ تو کوئی اسد حبیب ہے، یہ وہ بندہ نہیں ہے جو تم ہمیں بتا رہے ہو"۔ تو عامر بے چارے کو پشیمانی ہوتی۔تو جناب! عامر پر شک کرنے والو!  کچھ شرم کرو۔ کس پر جھوٹ کا الزام لگا رہے ہو؟وہ درست کہتا ہے۔ یہ بلاگ جس "اسد حبیب" کا ہے ، اصل میں وہ "سرمد بن سعید " ہی ہے۔جی ہاں! میں تصدیق کئے دیتا ہوں کہ میں وہی سرمد بن سعید ہوں  جس نے پانچ سال "واپڈا کیڈٹ کالج تربیلا" میں تعلیم حاصل کی، جس کا تعلق ضلع ساہیوال کے شہر چیچہ وطنی سے ہے اور اب "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجنئیرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز"(PIEAS) سے الیکٹریکل انجینئر نگ کے آخری سیمسٹر میں ہے۔
لو بھئی عامر! اب بھی اگر کوئی نہ مانے ناں، تو پھر۔۔۔۔۔۔۔ لا لینا چھتر اور ہو جانا شروع!

عزت

پاسپورٹ آفس میں ٹوکن کے حصول کے لئے مردوں کی ایک لمبی لائن میں لگی ہوئی تھی۔ ذرا بائیں طرف  عورتوں کی لائن تھی۔  عورتیں اپنی لائن سے کوائف کا اندراج کرواتیں اور مردوں سے ڈِیل کرنے والے آپریٹر سے ٹوکن کا پرنٹ وصول کرتیں۔ اسی وجہ سے یہاں مردوں کی لائن میں کچھ زیادہ رش تھا۔ایک صاحب  جو ابھی ابھی اپنی بیٹی کے ساتھ پاسپورٹ آفس داخل ہوئے تھے، لائن میں لگنے کی بجائے سیدھا اپنی بیٹی کو مردوں کی لائن والے آپریٹر کے پاس لے آئے ۔ وہ  قطار کا اصول توڑکر اپنی بیٹی کو جلد ٹوکن دلوانے میں مصروف تھے کہ عورتوں کی لائن میں لگی ایک آنٹی نے بھانپ لیا۔ فوراً ان کی بیٹی کے پاس آئیں اور اسے اونچی آواز میں لائن میں لگنے کو کہا۔ ان آنٹی کی بدولت پاسپورٹ آفس میں سب کو صاحب کی چالاکی کا علم ہو چکا تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی بیٹی عورتوں کی لائن کے آخر میں جا کر کھڑی ہو گئی۔تھوڑی دیر بعد جب سب لوگ دوبارہ اپنے اپنے دھیان میں لگ گئے اورسوشل ورکر آنٹی بھی کسی اور طرف متوجہ ہو گئیں تو صاحب نے بڑی چالاکی سے دوبارہ اپنی بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اسے مردوں والی لائن کے آپریٹر کے پاس لے گئے۔ اور پرنٹ وصول کرنے والی عورتوں کی آڑ میں اپنی بیٹی کے کوائف کا اندراج بھی مردوں والے آپریٹر سے کروا کر ٹوکن وصول کر لیا۔ یہ سب اتنی خاموشی سے ہوا کہ کسی کو پتہ ہی نہ چلا۔ مگر انور یہ سب دیکھ رہا تھا۔ صاحب بیٹی کے ساتھ ٹوکن لئے واپس مڑے تو ان  کی بے شرمی پر انور انہیں شرم کے مارے اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکا۔ "جناب! انسان کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے"۔
مگر عزت کی پروا کسے تھی۔ صاحب کو تو ٹوکن چاہیئے تھا جو انہیں مل چکا تھا۔ اسی لئے وہ طنزیہ انداز میں انور کو "اچھا جی !" کہہ کر خوشی خوشی اپنی را ہ چل دئے۔

خواتین کا عالمی دن: چند مطالبے

آج خواتین کا عالمی دن ہے۔میرے خیال میں اس دن پاکستان کی خواتین کو درج ذیل مطالبات  ضرورکرنے چاہیئں۔1.      تمام خواتین کے لئے علیحدہ سے تعلیمی ادارے ہوں جہاں ان کو رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان دوسرے فرائض کے بارے میں بھی تربیت دی جائے جس کی ان کو گھریلو زندگی میں ضرورت ہوتی ہے۔مثلاً بچوں کی درست پرورش، ایک خوشگوار گھریلو ماحول کی تشکیل، اپنی سوتن اور ساس کے ساتھ حسنِ سلوک وغیرہ۔2.      ٹیلی ویژن پر پیش کئے جانے والے ایسے ڈراموں کی حوصلہ شکنی کی جائے جن کی وجہ سے خواتین میں ایسے اخلاق پیدا ہوں جن کی وجہ سےمعاشرہ ان کو قبول نہ کر سکے۔ 3.       ایسے عناصر (میڈیا اور فلم انڈسٹری) کی بھرپور حوصلہ شکنی اور ان کے خلاف اقدامات ، جو کہ پاکستان میں خواتین کے معروف کلچر کے برعکس خواتین کی جسمانی برہنگی کے فروغ میں مصروف ہیں۔ 4.      شادی کے لئے معاشرے میں رائج جہیز کی رسم کی حوصلہ شکنی کے لئے اقدامات کئے جائیں جس کی وجہ سے کئی لڑکیوں کو بر وقت مناسب جیون ساتھی ملنا دشوار ہو جاتا ہے۔ 5.      تعلیمی اداروں میں خواتین کے لئے خواتین ہی معلم ہوں تا کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو روزگار میسر آ سکے، زیادہ سے زیادہ خواتین علم کی روشنی سے فیض یاب ہوں سکیں اور خواتین  اپنے مسائل بے فکری اور نڈر پن کے ساتھ اپنے ہم جنسوں سے ڈسکس کر سکیں۔6.      خواتین میں شعور پیدا کیا جائے تا کہ مرد کے لئے ایک سے زیادہ شادیاں کرنا آسان ہو اور زیادہ سے زیادہ خواتین کی کفالت ہو سکے۔اس کے علاوہ بھی کچھ چیزیں ذہن میں تھیں۔ مگر وقت کی قلت ہے۔والسلام

بے شرم


"بس سامنے والی پان شاپ کے پاس مجھے اتار دیجئے۔ سر آپ کا بہت بہت شکریہ، آپ نے مجھے لفٹ دی"
" شکریے کی کوئی بات نہیں یار! اس کار میں چار لوگ سفر کر سکتے ہیں، ویسے بھی اگر ہم انسان ایک دوسرے کے کام نہیں آئیں گے تو اورکون آئے گا؟"
پان شاپ آ چکی تھی۔  گاڑی کی بریک لگتے ہی  اس نے ایک مرتبہ بھر انور کا شکریہ ادا کیا اور اتر کر اپنی راہ چل دیا ۔ انور  نے گھر جانے کے لئے کار مسعود روڈ پر ڈال دی۔مسعود روڈ یہاں سے برکت کالونی جانے کے لئے استعمال ہوتا تھا اور راستے میں برکت مارکیٹ بھی آتی تھی۔ وہیں روڈ کے کنارے اسے دو خواتین ایک بچے سمیت پیدل چلتی نظر آئیں۔ ایک نے بچہ اٹھایا ہوا تھا اور دوسری ،جو عمر میں اس سے کافی بڑی معلوم ہوتی تھی ،نے ایک بھاری بھرکم بیگ۔ انور نے ان کے نزدیک جا کر کار کی رفتار آہستہ کر دی اور شیشہ نیچے سرکاتے ہوئے بولا " اگر آپ کو برکت کالونی جانا ہے تو میں آپ کو چھوڑ دوں گا، میں بھی وہیں جا رہا ہوں"۔ بچہ اُٹھائے ہوئےکم عمرخاتون بولی" تمہیں شرم نہیں آتی؟ لیڈیز سے ایسے بات کرتے ہیں؟ تمہارے گھر میں ......."۔
اتنا سن کر بے شرم انور نے کار کا شیشہ چڑھالیا اور سیدھا اپنے گھر کے سامنے جا کر ہی بریک لگائی۔  

اشتہار برائے خالی چھت

اسلام علیکم!اسلام آباد کے G-8 یا G-7/2 سیکٹر میں رہائش کے لئے کسی مکان کی چھت کرائے پر درکار ہے۔ چھت پر کمرہ نہ بھی ہو تو خیر ہے کم از کم ایک عدد واش روم موجود ہو۔ کرائے پر دینے والے خواہشمند حضرات ذیل میں دئے گئے اشتہار کے نمبر پر رابطہ کر لیں۔شکریہ۔

Assalam Alikum!
A roof top is required at rent for residential purposes in G-8 or G-7/2 Islamabad. People interested to provide roof on rent may contact in accordance with following advertisement.

20 روپے کی مزدوری

مقام : واہ کینٹیہ تصویر یہاں سے لی گئی ہے۔اور اس کاتحریر کے مضمون سے کوئی تعلق نہیںسخت گرمی کے بعد دوپہر ڈھل چکی تھی ۔ شام ہونے کو ہی تھی اورمیں چند دوستوں کے ہمراہ مارکیٹ  میں لان نما گراؤنڈ میں آئس کریم کے مزے لے رہا تھا۔ گرمیوں میں آئس کریم کھا نے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ اسی دوران ایک چھوٹا سا بچہ (عمر تقریباً دس سال ہو گی) ایک ہاتھ پیٹ پر رکھے اور دوسرا بھیک کے لئے پھیلائے سامنے آ کھڑا ہوا۔ میں جان چکا تھا بھکاری ہے، پھر بھی پوچھا کہ کیا بات ہے؟ کہنے لگا بھوک لگی ہے دس روپے دے دو۔ عمر کم تھی، چہرے پر معصومیت بھی نظر آ رہی تھی۔  سوال دس روپےکا تھا، میرے ہاتھ میں پچاس روپے کی آئس کریم تھی جو میں بغیر ضرورت محض مزے کے لئے کھا رہا تھا۔ جیب میں دس روپے بھی موجود تھے۔ ایسے میں اس بچے کو خالی ہاتھ دھتکارنا  نہیں چاہتا تھا۔ میں نے پھر پوچھا ! ٹھیک ہے تمہیں بھوک لگی ہے مگر میں تمہیں دس روپے مفت میں کیوں دے دوں؟مجھےاس بچے میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لیتے ہوئے دیکھ کر میرے دوست بھی میری طرف متوجہ ہو گئے۔  بچے نے رونی سی صورت بنا کر کہا "دس روپے دے دو کچھ کھا لوں گا"۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی" مفت میں کیوں دے دوں؟ تم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟"۔ بچے نے مزید رونی صورت بنا لی۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ پیشہ ور بھکاری ہے مگر میں اسے دس روپے دینا چاہتا تھا۔ مگر کس جواز کے تحت؟؟؟ لان کے کنارے پر ایک بڑا کوڑا دان بھی رونی سی صورت بنائے پڑا ہوا تھا اور مختلف قسم کے کاغذ اس کے  باوجو د لان میں بکھرے پڑے تھے۔ میں نے اس بچے سے کہا کہ میں تمہیں دس نہیں بیس روپے دوں گا مگر شرط یہ ہے کہ  لان میں بکھرے یہ کاغذ تم اٹھا کر اس کچرا دان میں پھینک دو۔ بیس روپے کا سن کر وہ خوش ہو گیا! جلدی جلدی تھوڑے بہت کاغذ اٹھائے اور کچرا دان میں پھینک دئے۔ مجھے جواز مل چکا تھا۔ میں نے اسے اس کی مزدوری دے دی۔ اور جاتے ہوئے کہا کہ یہ بھیک نہیں ہے ، تم ان پیسوں کے مستحق تھے آئیندہ بھی کوشش کرو کہ محنت کر کے پیسے مانگنا۔ پتہ نہیں میرے الفاظ اس کے کانوں میں پڑے یا محض ہوا  میں ہی تحلیل ہو گئے۔ وہ اچھلتا کُودتا بیس روپے کی خوشی میں آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد اپنی ہی عمر کے ایک اور لڑکے ، جو شاید اس کا بھائی تھا ، کے ساتھ نمودار ہوا۔ اس کو بھی بھیک چاہیئے تھی۔ میں نے اپنا مطالبہ دہرایا۔ وہ بچہ بھی چہرے پر معصومیت لئے ہوئے تھا مگر میری آفرشاید اسے پسند نہ آئی۔ میں اسے بھیک نہیں مزدوری دینا چاہتا تھا مگر وہ بھیک لینا چاہتا تھا۔  ہم دونوں ہی ضدی تھے اس لئے متفق نہ ہو سکے اور وہ دونوں بھائی کچھ دور بیٹھی ہوئی فیملی کی طرف جا نکلے۔ میری بے وقوفیوں، بھکاریوں کی اداکاریوں اور پاکستان کی حالتِ زار کا رونا رونے کے بعدچند منٹوں بعد ہماری محفل بھی اختتام کو پہنچی۔

آلودگی پیما پتنگ

اگر میں آپ سے پوچھوں کہ کبھی آپ کو پتنگ اُڑانے کا اتفاق ہوا ہے تو بہت کم لوگ ہوں گے جن کا جواب 'نہیں' ہو گا۔اور اگر  سوال یوں ہو کہ آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جو کسی نہ کسی طرح بھی پتنگ بازی سے منسلک رہے ہیں تو تقریبا سبھی ہاتھ کھڑے ہوں گے۔ کچھ پکّے پتنگ بازوں کے اور کچھ میرے جیسے کَنّی بازوں کے۔ خیر چھوڑئیے جی !ہم تو ہر بسنت میں پتنگ اُڑاتے اور کنّیاں دیتے ہی رہ گئے اوراس شعبے میں بھی بازی لے  گیا ہمارا ہمسائیہ “چین” جو کبھی چین سے بیٹھا ہی نہیں۔ لوگوں کو دن میں بھی تارے نظر آتے ہیں مگر بیجنگ میں رہنے والے ہمارے چینی بھائیوں کو رات میں بھی آسمان پر تارے نظر نہیں آتے۔ جی نہیں! اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں بلکہ مکمل تحریر پڑھنے کے لئے کلک کریں!۔

وزیر اعظم کے کاروباری قرضے

میرے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ مرد کو کچھ آئے نہ آئے دو کام ضرور آنے چاہیئیں۔ لڑنا کیسے ہے؟ اور کمانا کیسے ہے؟ جدید دور میں روزگار اور انصاف ہی وہ ضروریات ہیں جن کے حصول کے لئے آج کا انسان پوری زندگی تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ روزگار کے بغیر امن، تخلیق، ترقی ، معاشرے میں مثبت کردار سب خواب ہیں۔

وزیرِ اعظم بزنس لون سکیم کا آغاز ہو چکا ہے اور لوگوں کو مچھلی پکڑنا سکھانے کے بجائے  وقت کو دھکا لگا دیا گیا ہے۔اوپر زرد دائرے میں کہے گئے سروس چارجز کو میں سود کہنے کی جسارت کر سکتا ہوں؟

فرار



                    

چار سال بعدتعلیم مکمل کر کے ولایت سے آئے ہوئے اسے دو دن ہی گزرے تھے۔ اس کا باپ کھیتوں میں فصل دیکھنے گیا ہوا تھا اور وہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا۔ ماں پیار سے بار بار ہاتھ پھیر کر اس کا سر سہلا رہی تھی  اور اسےبتا رہی تھی کہ جب وہ ولایت میں  تھا تو اس کے باپ کو ٹی۔بی ہو گیا تھا۔ اور اس نے پورے آٹھ مہینے شہر والے ڈاکٹر کی دوائی کھائی تھی۔ اس کا ٹی ۔بی تو ٹھیک ہو گیا مگر صحت  اچھی طرح بحال نہ ہو سکی۔ جس کی وجہ سے وہ کھیتی باڑی کے قابل نہ رہا اور اس نے اپنی زمین ٹھیکے پر چڑھا دی۔یہ سن کر اس پر چند لمحوں کے لئے سکتہ طاری ہو گیا۔ "ٹی بی؟مگر تو نے مجھے پہلے کیوں نی بتایا""پتر! میں نے سوچا کہ تو ولایت میں ہے، خوامخواہ پریشان ہو گا اور تیری پڑھائی پر اثر پڑے گا"۔وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔اس بار اس کے لہجے میں ذرا سختی تھی۔"مگر اماں تجھے ایک مرتبہ مجھے بتا تو دینا چاہیئے تھاناں!"بیٹھتے ہی ماں کے چہرے پر اس کی نظر پڑی تو  اسے سراپا پیار نظر آیا۔  اپنے لہجے کی سختی پر شرمندگی ہوئی تو وہ اپنی ماں سے لپٹ گیا۔ چار سال سے  منتظر آنکھیں برس پڑیں اور کافی دیر تک برستی رہیں۔ جب آنسوؤں کی بارش تھمی تو ماں نے  شفقت سے اس کے گالوں پر اپنا ہاتھ پھیرا۔اسے اپنے نرم گالوں پر  کھردری ہڈیوں کی کھرچ ناگوار گزری تو اس نے ماں کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا" ماں! تیرے ہاتھوں کو کیا ہوا ہے؟"۔ ماں اپنے میلے دوپٹے کے پلّو سے آنکھیں پونچھتی ہوئی اُٹھ گئی۔" کچھ نہیں پُتّر! تیرا ابا آنے ولا ہے ، میں ہانڈی چڑھا کر آتی ہوں"۔

لالہ جی کا تھڑا


کچھ لالہ جی کے بارے میں:لالہ جی پُورا دن اپنے گھر کے باہر بنے ہوئے اونچے سے تھڑے پر دو خالی کرسیوں سمیت بیٹھے رہتے تھے ۔ گلی سے گزرنے والے ہر شخص پر ان کی نظر ہوتی تھی۔ جب کوئی نیا آدمی گلی سے گزرتا اورسنسان گلی میں لالہ جی کے سامنے دو خالی کرسیاں دیکھتا تو از راہِ ہمدردی لمحہ بھر کو ان کے ساتھ بیٹھنے کے لئے رک جاتا۔ بس یہیں سے اس کی اور لالہ جی کی دوستی کا آغاز ہوتا۔ لالہ جی کا تھڑا وہ محفل تھی جہاں لوگ صرف  آتے اپنی مرضی سے تھے۔ لالہ جی کی باتیں ہی ایسی ہوتیں کہ ہر نیا آنے والا ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ اِ دھر کی بات اُدھر کرنےاور بات سے بات نکالنے کا فن تو کوئی ان سے سیکھے۔ ویسے بھی وہ  نہایت پیار ، مروت اور مٹھاس بھری باتیں کرتے۔ دو سُنتے اور دو سُناتے، سناتے بھی ایسی کہ سننے والا عش عش کر اُٹھتا۔ کوئی مائی کا لعل ایسا نہ تھا جو محض ایک مرتبہ ان کے تھڑے پر آیا ہو۔ لالہ جی باتیں  اتنی پُر کشش ہوتی تھیں کہ اُسے دوبارہ آنا ہی پڑتا تھا ۔ جب کوئی بار بار ان کے پاس آنا شروع کر دیتا تو لالہ جی کا سُننے کا دورانیہ کم ہونے لگتا اور سنانے کا زیادہ۔ اور چلتے چلتے ایسا وقت بھی آتا کہ سُننے والا صبح سے لے کر شام تک بُت بنا ان کی باتیں سُنتا رہتا اور وہ سناتے رہتے۔ دھیرے دھیرےسننے والا بھی عجیب و غریب  کیفیات سے گزرنے لگتا۔ مثلاً پہلے پہل ان کی باتیں سُن کر منہ سے بے اختیار نکلتا "واہ واہ"  پھر مکمل تحریر پڑھیے

ذمہ دار کون؟

بات ہےگورنمنٹ ہائی سکول میانہ گوندل کے نویں کلاس کے رزلٹ کی۔ 116 میں سے صرف تقریباً 20 لوگ پاس۔ذمہ دار کون؟ یکم ستمبر 2013 کونو منتخب ہیڈ ماسٹر ذالفقار رانجھا صاحب نے اسی عنوان کو اپنی تقریر کا موضوع بنا لیا۔شروعات تو رانجھا صاحب نے اپنے تعارف سے ہی کی۔ پھر آئے اصلی عنوان کی طرف اور کیچڑ اچھالا  منظور صاحب پر۔ یہ کہتے ہوئے کہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام۔خیر بات تو نا مناسب ہی تھی۔دوسرے شکار کا رانجھا صاحب نے نام تو نہیں لیا لیکن بس نام ہی نہیں لیا۔ پی ٹی صاحب (اللہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے) سے کلاس ٹیچر بنا دیا پی ٹی صاحب کو۔خیر ہیڈ ماسڑنے ٍٍٍٍ"مار نہیں پیار"، "کلاس میں بیٹھ کے ٹیچرز کا مسیج کرنا"،"موبائل فون کے استعمال پر پابندی"،"لڑائی کرنے والوں کے لیے سزائیں" اور سر فضل صاحب کے سنہری دور کو بھی اپنی گفتگو کا حصہ بنایا۔ہیڈ ماسٹر کا خطاب سکول کو بہتری کی طرف لانے والے ان کی جذبے کی عکاسی کر رہا تھا۔ لیکن سابقہ ہیڈ ماسڑ  (منظور صاحب) کے دور میں سکول جو ایک نا خوشگوار واقعہ سے گزرا ہے۔ کیا وہ اس کے ذمہ دار ہیں؟۔اگر ماضی پہ نگاہ ڈالی جائے تو کریڈٹ ساراٹیچرز کو جاتا ہے نہ کہ ہیڈ ماسٹر کو۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ اس سکول کو پہلے کی طرح ہی چمکتا دمکتا رکھے اور آنے والی نسلیں پہلے کی طرح ہی فیض یاب ہوتی رہیں۔
مہمان لکھاری :طارق علی

محبت کیا ہے؟؟

چراغ تلے اندھیراپہلا: یار مُحبت کیا ہوتی ہے؟دوسرا : کُچھ بھی نہیں!تیسرا: نہیں یار !محبت ہوتی ہے۔دوسرا: یاریہ مُحبت ، عشق سب کتابی باتیں ہیں۔ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔تیسرا: میں اس سے اتفاق نہیں کرتا!پہلا: یار جو کہتے ہیں، کچھ نہ کچھ تو گا۔دوسرا: ہاں ہے! لڑکپن میں فطری تبدیلیوں کے سبب مخالف جنس کے لئے جو کشش پیدا ہوتی ہے،  اس کو ایک میٹھا اور سہانا سا فرضی رُوپ دے دیا ہے۔ باقی سب قصے کہانیاں! میں تمہارے لئے آسمان سے تارے اور فلاں فلاں، سب  گھڑی ہوئی باتیں! اچھا یہ بتاؤ،ہماری کلاس میں سب لڑکوں کو چنبیلی ہی کیوں اچھی لگتی ہے، کلّو کیوں نہیں؟ ہر کوئی کہتا ہے کہ مجھے چنبیلی پسند ہے جبکہ کلّو کا کوئی عاشق نہیں۔ بلکہ اس کا تو ہر وقت مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ ظاہری سی بات ہے کہ ہر شخص  خوبصورتی کو پسند کرتا ہے ۔تیسرا: جو تُم کہہ رہے ہو ، وہ محبت نہیں ہے۔                   دوسرا: اچھا! تو تمہارے خیال میں مُحبت کیا ہے؟تیسرا: میرے نزدیک اشفاق احمد کی بات سو فیصد درست ہے۔  " محبوب وہ ہوتا ہے جس کامکمل تحریر پڑھیے

Pages