اسریٰ غوری

صفیں ترتیب دی جارہی ہیں – اسریٰ غوری

س نے ان سے غموں سے نجات اور خوشیوں کے حصول کا طریقہ پوچھا :
وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر قدرے سخت آواز میں بولے :
دنیا بہت تیزی سے اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے اب خوشیاں اور غم اپنی ذات سے نہیں بلکہ رب کی رضا سے جوڑ دینے کا وقت ہے ۔
خود کو مضبوط کیجیے اور تیاری کیجیے آنے والے کٹھن وقت کی کہ اب مہلت بہت کم ہے ۔
صفیں ترتیب دی جارہی ہیں بس دو ہی گروہ ہوں گے
حق اور باطل
سیاہ اور سفید
سچائی اور جھوٹ
اپنی ذات کی خاطر دشمنیوں ناراضگیوں کے وقت گزر چکے
اب دشمنیاں اور دوستیاں ذاتیات سے نکل کر صرف اور صرف رب کی خاطر ہونگی
جو رب کا دوست وہی اپکا دوست
جو رب کا دشمن وہی اپ کا دشمن
بس یہی اک پیمانہ رکھیے کہ جس نے یہ پیمانہ رکھا وہی کامیاب قرار پائے گا ۔
مگر اس سارے عمل کے لیے خود اپنا مجاہدہ بہت ضروری ہے خالص کیجیے خود کو رب کی خاطر
انتہائی کٹھن ہے مگر ان مومنین کے لیے ہر گز نہیں کہ جو رب سے محبت کرتے۔ہیں انہیں ہر صورت اس ایک ہی گروہ میں شامل ہونا ہے ۔
اب دوسر کوئی گروہ نہیں سوائے رب کے دشمن کے ۔۔۔۔
فیصلہ کیجیے اپ کس گروہ میں ہیں اور جس گروہ میں ہیں ان سے جڑ جائیں ۔
بنیان مرصوص بن جائیں
اپنی قوت اور طاقت کو یکجا کیجیے ۔
والذین آمنو اشد حب للہ ۔۔ کی عملی تصویر بن جائیے
راہ نجات بس قرآن ہی ہے اس کو پھیلائیں ۔۔
رب سے صرف اپنا تعلق ہی نہیں بلکہ اس پورے گروہ ایمان کا تعلق بڑھانے کی فکر کیجیے ۔
جو دور ہیں انہیں محبتوں سے قریب کیجیے
اپنے ہتھیار تیار رکھیے
اپنا کام اج اور ابھی سے شروع کیجیے
آپ کے ذمہ جو کام رب نے لگایا اس میں جت جائیں کہ ہر ہر صلاحیت کا جواب مانگا جایے گا ۔
لمحہ بھی ضائع کرنے کا وقت نہیں ۔۔۔
آنے والا وقت آپ کی سوچ سے بڑھ کر صبر آزما اور ازمائیشوں کا دور ہے ۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: تم سب کرسکتے ہو، یہ مگر نہیں، کبھی نہیں – حافظ یوسف سراج
انکے لہجے میں جھلکتی فکر اور تشویش انکے اک اک لفظ کے سچا ہونے کی گواہ تھی ۔
اس نے آسمان کی جانب دیکھا اور اللہ سے سرگوشی کی ۔۔
یاربی گواہ رہنا ۔۔۔
میری محبتیں بھی تیری کی خاطر میری دشمنی بھی تیری کی خاطر ۔۔۔
مجھے اپنے ایمان کے گروہ میں شامل رکھنا
مجھے مضبوط رکھنا
مجھ سے وہ کام لے لینا جو تو اپنے محبوب بندوں سے چاہتا ہے ۔
جواب دیجیے آپ تیار ہیں اس سب کے لیے
اس کی خاموشی کو سن کر ان کی آواز گونجی ۔
اسکی آواز حلق ہی میں دب گئی تھی
آنکھوں سے بہتے اشکوں نے مگر جھک کر اس رب کے سامنے حامی بھر لی تھی۔

ترکی کی تاریخ کا نیا باب – اسری غوری

15 جولائی 2016ء کی رات ترک صدر طیب اردگان نے دنیا کی تاریخ میں ایک اور نیا باب درج کر ڈالا، ایک ایسا باب کے جس نے کروڑوں دلوں میں اس کی محبت کو مزید گہرا کردیا. یہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا. آج سے ٹھیک ایک برس پہلے اسی رات ترکی کی تاریخ میں ایک اور فوجی بغاوت نے سر اٹھایا تھا، مگر اسے بہادر اور جی دار ترک عوام نے اپنے قائد کی ایک صدا پر لبیک کہتے ہوئے راتوں رات کچل ڈالا تھا. اس سال اسی فتح کی یاد منائی گئی، اور ترک عوام شہدائے ترکی کو شاندار ترین خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایسے سامنے آئے کہ ایک بار پھر پوری ترک قوم متحد نظر آئی.

مگر فتح کی یہ یاد کسی کانسرٹ کو سجا کر یا کہیں فائرنگ کا غل غپاڑہ مچا کر اور ناچ گا کر نہیں منائی گئی، بلکہ صدر اردگان نے ایک انوکھے انداز میں اس فتح کو منانے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ پورے ترکی میں 86000 مساجد، اسکول، یونورسٹیز اور دفاتر سب میں بیک وقت درود پڑھا جائے گا. اس کے لیے ایک باقاعدہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں خود صدر اردگان نے اللہ اکبر لاالہ الا اللہ سے آغاز کیا اور پھر اجتماعی درود شروع ہوا، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ترکی میں درود کی بلند صدائیں گونجنے لگیں، لاکھوں عاشقان رسول ﷺ سڑکوں پر دیوانہ وار درود پڑھ رہے تھے،
اور پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ
سپر پاور ہے صرف ایک اللہ
سپر پاور ہے صرف ایک اللہ
اور ہمارا رہبر و قائد محمد رسول اللہ
استنبول کی سڑکیں عوام سے بھر گئیں
شہداۓ اسلام کو سلام
شہداۓ ترکی کو سلام
ترک صدر اردگان کو سلام

آہ! کیا منظر ہوگا ان عاشقان کے ساتھ آسمان کے اوپر بھی فرشتوں کے جھرمٹ کے جھرمٹ درود کے صدائیں لگاتے اپنے آقا کو خوشخبری سنانے دوڑے ہوں گے.
یا رسول اللہ مبروک، یا رسول اللہ مبروک
آپ کے امتی، اس امت کے وارث نے آج پورے ملک میں آپ کے لیے درود ﷺ کی محفل سجائی۔
یا رسول اللہ مبروووک۔
اور پھر میرے آقا نے بھی تب اپنے اس امتی کی کامیابی کے لیے رب کے حضور دعا کی ہوگی.

یہ بھی پڑھیں: میں قاسم پاشا کا ہوں – سعود عثمانی
بخدا میں اپنی برستی بند آنکھوں سے ترکی کے ان تمام تاریخی مقامات اور یادگاروں کو درود ﷺ کی ان صداؤں کے ساتھ جھومتا دیکھ رہی ہوں جن کو امت کے میر جعفروں اور میر صادقوں نے دشمنان خدا کے ساتھ مل کر اسلام کا نام تک کھرچ ڈالا تھا. آج جب درود کی صداؤں نے پھر سے اک بار ان میں اسلام کی روح پھونکی تو کیسے سرور میں ہوں گے وہ در و دیوار۔
اے کاش کہ میں بھی اس وقت وہاں موجود ہوتی اور ایسی پاک اور بابرکت محفل کا حصہ بنتی کہ آقا کے حضور کچھ پیش کرنے کو ہی مل جاتا۔

بس دو دہائی پہلے ہی کی تو بات ہے کہ ترکی کمال اتاترک کے چڑھائے رنگوں میں رنگا ایک ایسا ملک تھا جسے تمام غیر مسلم ممالک میں الگ سے پہچاننا دشوار لگتا تھا.
مگر آج امت کے اس بیٹے نے جس طرح سے ترکی کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلایا، وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔

اے اردگان!
اے میرے آقا کے امتی اردگان!
تم اس امت کے زخم زخم جسم کی ڈوبتی سانسوں کی آخری امید کی کرن ہو .
رب تمھاری حفاظت کرے کہ تم دشمن کی آنکھوں کھٹکتا ہوا واحد کانٹا ہو۔
رب تمھیں اس امت کے ماتھے کا جھومر بنائے۔
رب تمھارے اخلاص میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین

آؤ رمضان کی برکتیں سمیٹیں

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔
پہلی بات یہ یاد رکھیں روزہ صرف منہ بند کر دینے اور کھانا پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں۔ روزہ  تو نام ہے صبر کا برداشت کا۔
بھوک اور پیاس تو اس سب میں ایک حصہ ہے اس عبادت کا۔
ہم افطار سے کچھ لمحے پہلے اپنا میٹر تھوڑا خراب کیے ہوتے ہیں۔ ذرا ذرا بات پر لڑنے لگ جاتے ہیں اور افطار کے بعد کہتے ہیں یار روزہ لگ گیا تھا۔
کتنی عجب بات ہے نا روزہ برداشت کا نام ہے برداشت ہم کرتے نہیں،
روزہ نام ہے برائی سے خود کو روکنے کا ہم خود کو روکتے نہیں،
روزہ نام ہے گناہوں سے بچنے کا اور ہم روزے میں لڑائی کرکے، گالم گلوج کرکے خود کو گناہ سے بچاتے نہیں۔
لہذا روزے میں پیٹ کو قابو میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا غصے پر بھی قابو رکھیں، خود کو برائی سے روکیں، لڑائی جھگڑے سے دور رکھیں، گناہوں سے بچائیں۔
کوئی زیادتی کرلے کہہ دیں بھائی میرا روزہ ہے اللہ فیصلہ کرئے گا۔

افطار کے بعد پورا خود کو دن نیکیاں کمانے اور گناہوں سے بچانے کے بعد ایک نیا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔ جی ہاں دجالی میڈیا کا پیدا کردیا امتحان۔
مجھے یاد ہے وہ زمانہ دیکھا ہے رمضان سے دو چار دن پہلے ٹی وی باندھ کر گھروں میں چارپائی کے نیچے رکھ دیا جاتا تھا
ٹی وی کا اینٹینا اتار لیا جاتا ہے۔ مگر اب دور بدل چکا۔ میڈیا نے اللہ سے رو رو کر مانگنے کے مہینے کو اپنے شو کا پاس حاصل کرنے کا مہینہ بنادیا۔ آج کا مسلمان اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کے بجائے انعامی شو کے پاس حاصل کرنے کی جستجو میں لگا نظر آتا ہے۔
ایک تلخ حقیقت ہے ہمارے مسلمان ایسے شوز دیکھتے ہیں تب ہی اربوں کے اشتہاریات اور انعامات ایسے شوز کےلیے مختلف برانڈ دیتے ہیں۔ یقین کریں ہم ایسے شوز دیکھنا اور ان میں شرکت کرنا چھوڑ دیں میڈیا کی یہ عمارت زمین بوس ہوجائے گی۔ میڈیا انڈرسٹری کا اصول ہے پبلک جو چیز زیادہ دیکھنا پسند کرئے اس پر خرچ کرو اس کا دام لگاؤ۔

سو میرے بھائیوں!
چلیں اس رمضان ایک عہد کرتے ہیں خود کو کھانے پینے کے ساتھ ساتھ برائی، فحش گوہی، لڑائی جھگڑے، بےایمانی، دھوکے بازی سے روکنا ہے۔ اور نیکیاں کرنی ہیں نیک بننا ہے اور نیکی کو پھیلانا ہے۔
رنگ برنگے انعامی شوز دیکھنے اور ان میں شرکت کےلیے بھاگ دوڑ کرنے کے بجائے اپنا وقت کارآمد بنانا ہے۔
دین ٹی وی چینلز پر بیٹھے اداکاروں سے نہیں سیکھنا۔ پورا سال ناچ گانے کرنے والے اور کرنے والیاں رمضان میں ہمیں دین سیکھانے نکل پڑتے ہیں۔

مگر اس کا متبادل کیا ہوگا اگر ٹی وی نہ دیکھی جائے ٹیلی ویژن پر چلنے والے “اسلامی شوز” نہ دیکھیں جائیں تو پھر کیسے دین کو سمجھا جائے؟
لیں آپ کو اس کا سب سے بہترین طریقہ بتاتے ہیں۔
آپ کا تعلق جس مسلک سے ہے اس مسلک کے علماءکرام کی تفسیرِ قرآن مجید حاصل کریں۔ پورا رمضان اگر آپ نے ایک سپارہ بھی تفسیر و ترجمہ کے ساتھ غور و فکر کرکے رمضان المبارک میں سمجھ لیا تو سمجھ لیں آپ نے بہت کچھ سیکھ لیا۔ یقیناً پڑھنے سمجھنے کے دوران بڑی تعداد میں سوالات بھی پیدا ہوں گے۔ ان سوالات کو نوٹ کیجیئے اور ظہر کی نماز کے بعد مسجد کے خطیب صاحب یا کسی جان پہچان والے مفتی صاحب یا عالم دین صاحب سے کریں۔
یقین کریں یہ علماءکرام ایسے لوگ ہیں آپ کے سوال کرنے پر نہ ماتھے پر بل لائیں گے نہ ایکسٹرا کلاس کی فیس لیں گے۔
میں پچھلے ایک سال سے اسی ترتیب پر چل رہا ہوں اگرچہ رفتار کم ہے مگر میں نے اب تک قرآن کریم  کی پہلی دو سورۃ کو سمجھا۔ ایک ایک آیت کے نزول کی واقعات اور اس کی گہرائی کو جانا۔
اللہ کی رحمتیں ہوں حضرت سید ابو الاعلی مودودی ؒ پر جن کی انتہائی سادہ فہم میں لکھی تفسیر قرآن مجید نے مجھ سے جیسے جاہل کو اللہ کا پیغام سمجھنے میں رہنمائی کی۔
آپ بھی سید مودودیؒ کی لکھی ہوئی تفسیر “تفہیم القرآن” کو کھولی۔ انشاءاللہ آپ کو اللہ کا پیغام سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
ذرا سوچیں قرآن جس کا ایک حرف پڑھنے پر دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اسی قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے پر کیا کچھ لکھ دیا جاتا ہوگا۔

چلتے چلتے ایک آخری بات کرتا بتاتا ہوں۔
میں نے ایک بار استاد محترم سے پوچھا تھا کیا نشانی ہے میری رمضان کی تیس دن کی مشقت سے اللہ تبارک و تعالی راضی ہوگے۔ مجھ سے استاد محترم نے کہا رمضان کے بعد بھی تو خود کو برائی سے روک رہا ہو نیکی کرنے کو دل مچل رہا ہو، تجھے رمضان کے بعد بھی باقی گیارہ ماہ مال، جان، زرق میں برکت محسوس ہوتی ہو سمجھ لے اللہ تجھ سے راضی ہوچکا۔
تو میرے بھائیوں نیکیوں کا مہینہ سر پر ہے۔ جنت ہمیں پکار رہی ہے۔ چلیں اس ماہ اللہ کو راضی کریں۔ کتنے ہی ایسے جو پچھے رمضان میں ہمارے ساتھ تھے مگر وہ اب دنیا سے جاچکے، کون جانتا ہے ہم میں سے کسے پھر رمضان نصیب ہو۔

جماعت اسلامی کی پرامن تحریک اور مطالبات

جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے حوالے سے فیس بک کے مختلف سرگرم گروپوں میں سوال کیا تھا کہ کیا آپ کو جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے باعث کہیں ٹریفک جام کی پریشانی اٹھانی پڑی یا کہیں کسی ایمولینس کو پھنسا دیکھا
مجھے کسی نے یہ نہیں کہا کہ انہیں پریشانی ہوئی یا کہیں کسی ایمبولینس کو جماعت اسلامی کے احتجاج کے باعث پھنسا ہوا دیکھا۔
ریڈ زون جیسے حساس علاقے میں احتجاج ہونے کے باوجود سیکورٹی کی بھاری نفری بھی تعینات نہیں تھی۔ بلکہ گورنر ہاؤس کے باہر گھڑی وین لنچ وغیرہ کے اوقات میں جوانوں کو لے کر چلی بھی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ داخلی راستے پر کھڑی پولیس کی نفری بھی پرسکون نظر آتی رہی اور کھڑے ہوکر ڈیوٹی دینے کے بجائے پرسکون انداز میں ٹہل کر اور کرسیوں پر بیٹھ کر وقت گزارا جاتا رہا ۔ دو ٹریفک پولیس کے اہکار داخلے راستے پر کھڑے تھے جو عام طور پر بھی موجود رہتے ہیں۔ انہیں بھی کسی پریشانی کا سامنا نہ تھا۔ جبکہ شرکاء کی تلاشی کا فریضہ پولیس کے بجائے جماعت اسلامی کے کارکن سرانجام دے رہے تھے۔ یعنی واک تھرو گیٹ اور پولیس کو یہ کام کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔

احتجاج ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ لیکن جماعت اسلامی نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر مثال قائم کی کہ اپنے احتجاج سے کسی شہری کو پریشان نہ کیا، کسی مریض کو ایمولینس میں روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے مزید تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑا، امتحانات کے باعث طلبہ و طالبات کو بھی کسی مصیبت میں مبتلا نہ ہونا پڑا۔ احتجاج کی جگہ کے ساتھ ہی مارکیٹ موجود ہے شہر کی خواتین کو بھی تکلیف نہ ہوئی۔

اس کے ساتھ جماعت اسلامی نے اپنے احتجاج کو انا کا مسلہ بھی نہیں بنایا گورنر نے یقین دہانی کروائی پندرہ دن میں آپ کے مطالبات کو حل کیا جائے گا جماعت اسلامی بغیر کوئی سوال کیے اٹھ کھڑی ہوئی۔

ایسا بھی نہیں جماعت اسلامی منہ اٹھا کر کے-الیکڑک کے خلاف سڑکوں پر آ گی کہ بس آپ کام اچھا نہیں کررہے اس لیے ہم آپ کے خلاف احتجاج دھرنا کھیلے گے۔

جماعت اسلامی کہہ رہی ہے کہ یونٹ ریٹ جو وفاق نے رکھا ہوا ہے کے-الیکڑک بھی وہی رکھے، کے-الیکڑک کہتا ہے ہمیں line Loses ہوتا ہے تو بھائی پورا شہر میں شہری جتنی بجلی استعمال کرتے ہیں کے-الیکڑک تو اس سے کئی ارب زیادہ بل بنا کر شہریوں کو تھماتا ہے۔ کے-الیکڑک کا کہنا ہے بجلی چوری ہوتی ہے ایک پرائیویٹ ادارہ ہونے کے باوجود KESC پولیس کے-الیکڑک کے پاس ہے تو پکڑیں چوروں کو۔ لے کر جائیں عدالت۔
ایک علاقہ جتنی بجلی چوری کرتا ہے اس سے زیادہ بجلی چوری وہ ایک فیکٹری کرتی ہے جسے کے-الیکڑک کا عملہ خود کنکشن کرکے دیتا ہے اور کروڑوں کا بل بھیجنے کے بجائے وہ فیکٹری مالکان کے-الیکڑک کی منیجمنٹ کو چند لاکھ دے کر عوام کو چور کہتے ہیں۔ کے-الیکڑک اپنی صفوں میں موجود چور بھی پکڑے۔

نا جانے کراچی میں کون سے نایاب نسل کے میٹرز لگا رکھے ہیں جن کا پیسہ کراچی کے شہری سالوں سے دے رہے ہیں مگر اب تک ان کی قیمت وصول نہیں ہوئی۔ بل میں میٹر رینٹ کے نام پر جو اربوں روپے کراچی کے شہریوں سے لیے وہ واپس کیے جائیں۔

ملازمین کے نام پر 15 پیسہ فی یونٹ بھتہ لیا جارہا جماعت اسلامی وہ 35 ارب روپے واپس کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔
اس کے علاوہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور ڈبل بینک چارجز کی شکل میں 75 ارب وصول کیے وہ واپس کیا جائے۔

کراچی کا کوئی شہری نئے میٹرز سے مطمعین نہیں، جماعت اسلامی یہ مطالبہ بھی کررہی ہے کہ ان میٹرز کی رفتار کے بارے تحقیات کےلیے غیرجانبدار ادارہ بنایا جائے۔
جماعت اسلامی مطالبہ کررہی ہے کہ میٹر ریڈنگ کا سسٹم تبدیل کرکے میٹر ریڈنگ کی تصویر اور چوری کی صورت یا میٹر سے چھیڑ چھاڑ کی تصویر بل پر لگا کر دیں۔

پورے کراچی سے تانبے کے تار ہٹا کر سلور کے تار لگائے گے۔ اربوں روپے کا تانبا چوری کرکے کرپشن کی گی اس کا حساب مانگا جارہا ہے۔ آج شہر میں بجلی کے نظام کی حالت ان سلور کی تاروں کی وجہ سے یہ ہوچکی ہے کہ بارش کا پہلا قطرہ گرتا ہے یا 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے درجہ حرارت بڑھتا ہے تار گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

کے-الیکڑک عوامی شکایت کے ازالے میں ناکام ہوچکا ہے، ایک صارف جب کے-الیکڑک کے دفتر جاکر کہتا ہے اس نے نہ چوری کی ہے نہ ہی میٹر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے جو جرمانہ لگایا گیا وہ غلط ہے تو کے-الیکڑک کے افسران جواب دیتے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ بل بن چکا بل بھرنا ہوگا۔ پھر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا جاتا ہے چلیں آپ قسطیں کروا لیں۔
میرے محلے کا ایک شخص دو ماہ گاؤں گزار کر آیا گھر بند تھا کے-الیکڑک نے بجلی چوری کا الزام لگا کر پچاس ہزار روپے بھتے کی پرچی تھما دی جب وہ شخص کے-الیکڑک کے دفتر شکایت لے کر گیا اپنی فمیلی کی گاؤں جانے اور واپس آنے کے ٹکٹ بھی دیکھا دیے مگر کے-الیکڑک کے افسران نے وہی جواب دیا جو بیان کیا ہے اسی لیے جماعت اسلامی مطالبہ کر

گستاخانہ مواد کے خلاف حکومتی پیش رفت

مسلمان باعمل ہو یا بےعمل، نماز پڑھتا ہو یا نہ پڑھتا ہو، دیگر معاملات میں بھی جیسا ہو، اپنے نبی کریم ﷺ کی گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا۔ ہمیں کوئی ماں یا بہن کی گالی دے ہم سے برداشت نہیں ہوتی ہم مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں، گالی دینے والی کا چہرہ نوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر ایک گیا گزرا مسلمان بھی اپنے نبی ﷺ کی گستاخی کیسے برداشت کرسکتا ہے۔ کہ ایمان کی تکمیل ہی ممکن نہیں جب تک نبی کریم ﷺ جان و مال، عزت، اولاد سے بڑھ کر عزیز نہ ہوجائیں۔
الحمد سوشل پر ہزاروں مسلمانوں نے الحادیوں، قادیانیوں اور موم بتی مافیا کو بےنقاب کیا۔ ان کی باتوں کا منہ توڑ جواب دیا۔ ان کے خلاف قلمی جہاد کیا۔ گستاخوں کے خلاف سوشل میڈیا پر موثر احتجاج کیا اور بات عدالت پہنچی، ججز بھی آبدیدہ ہوئے سخت احکامات دے۔
وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ کی آنکھیں بھی گستاخانہ مواد دیکھ کر بھر آئیں۔
وزیراعظم نے سخت احکامت دے۔ روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت سے آگاہ کرنے کا حکم دیا۔
حکومت کی درخواست پر فیس بک انتظامیہ نے بھی مثبت جواب دیا اور ٹیم پاکستان بھیجنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
آج گستاخوں کے پیجز نام تبدیل کرنے لگے ہیں، آئی ڈیز ڈی ایکٹیویٹ ہونے لگی ہیں۔

گستاخوں کو پتا ہونا چاہئے یہاں ممتاز قادری، غازی علم دین اور عامر چیمہ بہت ہے۔ اسی لیے نہ قانون کے خلاف جاؤ نہ مسلمانوں کو قانون ہاتھ میں لینے دو۔

پاکستان زندہ باد۔

شرجیل قریشی

​”خواہش”

تحریر:قرةالعين
“آو بیٹا! چلیں۔۔۔انہوں نے سر پہ ہاتھ رکھا اور مسکرا کے عندیہ دیا

پہلے مجھے یقین نہیں آیاپھرمیں اٹھی۔۔ عبایا پہنا تیزی سےاسکارف اوڑھا اور تیز قدم اٹھاتی پیچھے چل پڑی مبادا کہیں دیر نہ ہوجائے۔

“تمہارے خواب پورے کروں۔۔۔؟یہی خواہش ہے ناں تمہاری۔” انہوں نے ذرا سا سر موڑ کر مجھے دیکھا۔

جج۔۔جی۔۔جی یہی خواہش ہے۔ مجھے پتہ تھا وہ کہاں لے جارہے ہیں مجھے۔ تبھی خوشی سےمجھ سے بولابھی نہیں گیا۔

تمہارے جیسی بہت سی بچیوں کا ہاتھ تھاما ہے۔۔ بہت سے دلوں کو جیتا ہے۔۔تم نے کئی بار دیکھا ہوگامجھے بزگوں سے دعائیں اور پیار لیتے۔۔ “انہوں نے اسفہامیہ مجھے دیکھا۔

“جی بہت بار” میں خواب کی سی کیفیت میں تھی۔

وہ کتنا اچھا چلتے ہیں۔۔۔ اللہ نے شخصیت بھی کتنی اچھی دی اور مسکراہٹ میں بھی کتنی جان ہے۔۔ ایک رعب اور دبدبہ ہے۔۔پر اتنے شفیق۔۔۔اتنے قلوب میں بسنے والے۔۔ میں ہر آن ان کی شخصیت کو جیسےدریافت کرتی جارہی تھی۔

میں نے تو خواب میں بھی نہیں دیکھا کہ یہ مجھے لینے آئیں گے۔۔اتنی اچانک۔

“کون سی جگہیں تمہارا خواب ہیں؟”

مم۔۔میری۔۔۔؟بہت سی جگہیں میرا خواب ہیں۔۔ لے جائیں گے آپ مجھے؟میں نے جلدی سے کہا۔۔ کہیں بات کا اختتام نہ ہوجائے۔

“ہاں ہاں بولو بیٹی۔۔۔ اسی لئے تو آیا ہوں۔” انہوں نے تسلی دی۔

مجھے جانا ہے۔۔فلسطین کی گلیوں میں دیواروں سے ہاتھ ملاتے بہت کچھ کہنا ہے۔۔نغمے سنانے ہیں۔،بیت المقدس کے غم سننے ہیں۔۔اور۔۔۔مصر جانا ہے مجھے اہرام مصر دیکھنا ہے۔۔ دریائے نیل کی لہروں سے باتیں کرنی ہیں جس نے قاہرہ یونیورسٹی کا اثاثہ دفن کر رکھا ہے اور ہاں ایک اور جگہ۔ استنبول۔۔۔جہاں خلافت کا سورج ڈوبا تھا پتہ ہے یہاں سے مجھے بہت لگاو ہے۔…مجھے آپکے شہر سے محبت ہے۔۔۔ مجھے استنبول میں ہی سمندر سب سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے۔مجھے استنبول مرکز یونیورسٹی میں عبایااورنقاب کے ساتھ گھومنا ہے۔۔۔ مجھے اس کی اونچی نیچی گلیوں میں بے خوف اور بلاوجہ پھرنا ہے۔۔

مجھے وہ جگہ دیکھنی ہے جہاں بیٹھ کر آپ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرتے ہیں۔۔۔اور پھر۔۔۔ سب سے تھک کر مجھے چھوڑ دیجئے گا۔۔۔اس در کے سامنے۔۔۔۔اس کالے غلاف کے سامنے۔۔۔وہی کالا غلاف جس کی کشش کو محسوس کرنا ہے جو کائنات کا مرکز ہے۔۔۔ مجھے اس پاک جگہ کو دیکھنا ہے جومجھ جیسی گناہگار کے لئےبھی ممنوع نہیں۔۔

“مجھے لے جائیں گے ناں؟” یہ سب کہتے کب میری آنکھیں بھیگ گئیں پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ وہ مجھے دیکھے جارہے تھے۔۔۔میرے سر پہ ہاتھ رکھا۔۔ آنسو پونچھے۔

میرے شوق کا عالم انہیں پریشان کر گیا۔۔ان کے قدم ذرا کو رکے  اور بولے۔۔۔۔۔” تمہارے خواب کو سلام۔۔جو مجھے استنبول سے یہاں لے آئے” ان کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔

آپ نہیں لے جائیں گے؟ مجھے مایوسی ہونے لگی۔۔

“آپ نے اس معذور لڑکی کا بھی تو خواب پورا کیا ناں۔۔ اور اس یتیم بچے کا بھی درد بانٹا۔۔ پھر میں کیوں نہیں؟ “ان کے لوٹ جانے کا خوف ہاوی ہونے لگا تو میں یاددہانی کروانے لگی۔۔

“تمہارا خواب پورا کر دیا تو کہیں خواہش ہی نہ مر جائے۔۔ ” ان کے قدموں کا رخ مڑا تو میرا دل ڈوبنے لگا۔۔

“خواب کی حقیقت ہی کیا ہے بھلا۔۔تم خواہش زندہ رکھنا۔۔میں آوں گا” انہوں نےعظیم قائد کی طرح ہاتھ ہلایا اور واپس استنبول کو مڑ گئے۔

جب کوئی نہیں بچے گا تو بچے گا پاکستان 

تحریر : ام یحی

خدارا چیف جسٹس صاحب لگا دیجئیے 62،63 آپ کا اس ملک پہ احسان ہو گا۔

اےپیاری قوم کیا آپ تیار ہو اس بات کے لئے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کو خالی کر دینا چاھئیے ۔

ہونا بھی یہ چاھئیے کہ 70 سال سے یہ پارلیمنٹ جن شیطانوں سے بھری ہوئی ہے اسے پاک کر کے شفاف الیکشن کا انعقاد ہونا چاھئیے جس میں ہر امیدوار کو الیکشن سے پہلے ہی 62،63 سے گزارا جائے جیسا کہ دنیا کے تمام جمہوری ممالک میں ہوتا ہے کہ امیدوار سچا اور امانتدار ہو گا ۔ہمیں تو قرآن نے چودہ سو سال پہلے “صادق و امین ” کا اصول دے دیا تھا ۔ آج سپریم کورٹ نے قوم کوواضح اشارہ دے دیا ہے کہ گر چاہتے ہو کہ ملک کے حالات بدلیں تو تمام شیطانی لیڈروں کو چھوڑ کر فقط ایک ربانی لیڈر سراج الحق کو چننا ہو گا۔

یہ کامیابی نہ صرف سراج الحق کی کامیابی ہے نہ جماعت اسلامی کی دراصل یہ اسلام کی کامیابی ہے یہ اس بات کی کامیابی ہے کی دین اسلام ہی اصل ضابطہ حیات ہے یہ نعرہ تکبیر کی کامیابی ہے جو ہر مسلمان اور اسلام پسند کو مبارک ہو ۔

ترکی کے اردوگان ہوں ،مصر کے مرسی یا پاکستان کے سراج الحق وقت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسلم قوم کے اصل نجات دہندہ یہ اسلامی تحریکیں ہی ہیں ۔ باقی جو کچھ ہے مفاد پسند مغربی آلاکاروں کا ٹولا ہے۔ اور اس ٹولے سے نجات کے لئے ملک میں انتخابی اصطلاحات ضروری ہیں  دراصل معاشرے کے بالا دست طبقات کو موجودہ انتخابی نظام سے ہی فائدہ ہےلہذا وہی اس کے سب سے بڑے محافظ ہیں۔ لیکن اب الیکشن کو دولت بنانے کا کھیل نہیں بننے دیا جائے گا۔ جماعت اسلامی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ ملک میں انتخابی اصطلاحات کے لئے جدوجہد کرے گی ۔ اس جدوجہد میں اسے آپ کا ساتھ درکار ہے 

جماعت اسلامی ہی نہیں اب تو سپریم کورٹ کا بھی کہنا ہے کہ 

‏اے قوم تو دے مل کہ اگر ساتھ ہمارا 

ہم لوگ بدل سکتے ہیں حالات کا دھارا

اور یہ ہی بات کر گئے ہیں ن لیگ کے سعد رفیق بھی گو کہ اپنی ہی بات کی زد میں ہیں وہ خود بھی، کہتے ہیں ‏کرپشن فری پاکستان کی بات اگر سراج الحق  کرے تو ٹھیک  ہے باقی تو اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔

تو آئیے قدم بڑھائیے اور سراج الحق کے ساتھ قدم بقدم ہو جائیے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان میں  قرآن کے نظام عدل وانصاف کو نہیں روک سکے گی ۔۔۔ آج دیانتداری کی فتح کا دن ہے کل اسلامی پاکستان کی فتح کا دن ہو گا ۔ انشااللہ

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کرپشن فری تو جماعت اسلامی ہر دفعہ ثابت ہو جاتی ہے ۔لیکن 

عوام کو انتظار کس بات کا ہے جو جماعت کا ووٹ بنک نہیں بڑھ پاتا؟؟؟ 

 ان لوگوں کا خیال ہے کہ جب تک میڈیا جماعت اسلامی کے گن نہ گائے گا اس کو فل ٹائم کوریج نہ دے گااس کو نجات دہندہ بنا کر پیش نہ کرے جب تک عوام نہ مانے گی نہ سمجھے گی ؟

تو اے میری پیاری قوم یاد رکھنا 

دجالی میڈیا ہر گز ہرگز ایسا نہیں کرنے والا   تمھیں میڈیا سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنا ہونگے۔۔

تب ہی پاکستان امن و سلامتی کا گہوارہ بنے گا ۔

Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan at a Glance

Suhaib Ahmed Khan
After the creation of Pakistan on 14th August 1947, there was a need of a group, who can help students in their career and education. On the leadership of Zafarullah Khan and founder Syed Abul Aala Maududi, twenty five students, who were the first team of Islamic Movement on 23 December 1947, gathered at one place in Lahore and decided that would limit itself to the circle of students, where it is mandatory both for leadership and the workers to be full time students. Keeping in mind that we are in the state named as Islamic Republic of Pakistan, the vision which was decided was “To seek pleasure of Allah (SWT) by ordering human life in accordance with the teachings laid down by Allah and His Messenger Muhummad (PBUH)”. As evident in the vision, Islami Jamiat-e-Talaba seeks guidance from the Quran and Sunnah and apply all those in the practical lives for betterment of humanity and pleasure of almighty. Program of Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan is to introduce students to the teachings of Islam, organize them on a platform and develop their character according to Islamic principles. The program further includes solving the issues of students and striving for a model Islamic state. From there onwards the journey started with the dreams of Allama Muhammad Iqbal and on the sayings of Qauid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah.
Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan always has one point agenda and that is to help in education of the students, since its foundation. Therefore, Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan arranged many campaigns for the betterment of literacy in our society. The campaigns arranged from 1982-1996 were Save Education Campaign, Students’ Problems Campaign and Correction in Education Campaign. In 2001, Jamiat sponsored PHD scholar ship and 4 students were selected. In 2002, 82 free tuition centers were opened and 8,350 students got donations for education.
Students Donation Weeks has been organized numerous amount of times, where the funds are collected from shops and organizations and then they are used in students ‘admission fees, who cannot afford education. These funds are further used in educating poor and needy people.
In 2005, an earthquake came in Pakistan. People of Pakistan will never forget, because many people became homeless. At that time, when youth in those areas had no books, members of Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan came upfront and organized free study centers, along with relief operations.
Colleges and universities, have been at once, very productive for Islami Jamiat-e-Talaba. Most of the time, Jamiat used to win in elections of Students Union. The only reason behind was because of the character, which was promoted among the students. But then a time came that the peaceful environment turned into a havoc among other student federations and terrorists were forced to take out guns from the reign of Zia-ul-Haq. From their onwards, the work of Islami Jamiat-e-Talaba, especially in Karachi, is nothing less than a challenge, flavored with media propaganda.
Many students of Islami Jamiat-e-Talaba, specifically in Karachi, got martyred in the mission provided. Huge amount of members of Jamiat got martyred till now. Some popular names are Abdul Malik Shaheed (East Pakistan), Amir Saeed Shaheed, Saad bin Salah Shaheed, Farhan Asif Shaheed, Wasif Aziz Shaheed, Mohsin Akhter Shaheed and Awais Aqeel Shaheed etc.
Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan have been trend setters to other student federations. The Self Assessment Test, Book Fairs, Speech Competitions and sports activities are all creations of Jamiat.
Moreover, Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan raises issues, arranges media awareness protests and does whatever it can to keep moral and ethics in one circle. Some every-year examples are Haya Day, Teachers Day and self-finance issues etc. Haya Day is celebrated on 14th February. Islami Jamiat-e-Talaba tries its best to stop vulgarity and unethical relations among genders, which is against the practices of Islam. Gifts and flowers are gifted to teachers on Teachers Day, for educating their students and are trying their best to make their students the pride of nation. Not to forget, during the war in 1971, Islami Jamiat-e-Talaba has played a major role for the defense of the country in the form of Al-Badr and As-Shams.
Furthermore, this student federation has always felt the pain of Muslims in the country and also in other countries. It has raised voice against the torture of Burma people, Ikhwan-ul-Muslimun in Egypt and innocent people in Palestine, specifically Gaza. From Qadiani Movement to attack on civilians of Syria, Jamiat has been coming out for protests. Recently, Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan had arranged protests on the torture on innocent Syrian civilians in Halb.
After all, it is very important for people to know what Jamiat is upto since 2014. We all know the condition of Pakistan is not upto the standards and sense of patriotism has been looked down upon. For improvements, Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan launched campaigns named as, “Hum Zinda Qaum Hain”, “Umeed Bano Tameer Karo Sub Mil Kar Pakistan Ki”, “Hum Say Hai Pakistan” “Azm-e-Aalishan Hamara Pakistan” and now “Azm Hamara Pakistan”. For a healthy life, we should have a healthy environment. The campaigns that are promoted in the society are week of cleanliness in colleges and universities, sports, teachers’ week and parents’ week. The motive teachers’ week is to deliver the message that these are the precious people, who teach us how to write and read and these are the ones who make a student the stars of the country. Parents week are organized, where different awareness strategies were provided so that parents can be treated well in our society. Islami Jamiat-e-Talaba Pakistan felt that parents are not being treated the way they should be. The “Fakhr-e-Pakistan” award was given in Ijtima-e-Aam of Jamaat-e-Islami Paistan on 21st, 22nd and 23rd November, 2014. Muhammad Huzair Awan (IT Professional, Solution Associate, Technology Specialist), Mehraz Yawer and father of Arfa Karim came and were given Fakhr-e-Pakistan trophies. Talent Awards sessions were then organized all over Pakistan. Islami Jamiat-e-Talaba hopes that these students will change the turmoil in Pakistan.
Some views about Islami Jamiat-e-Talaba by some popular renowned people are as follows. Ahsan Iqbal (currently Minister of Planning, National reforms and Development) has said that Islami Jamiat-e-Talaba has given a big impact on the students. He further said that it has played a significant role in the war of 1971. Moreover, he said that Jamiat has contributed well in giving Islamic literature and using the modern technology as the source for students. Irfan Siddiqui (Special Assistant to Prime Minister) has said that Jamiat has played a unique and revolutionary role in our society. General Hameed Gul has said that Islami Jamiat-e-Talaba is the only student federation among others, which is ideological and management is good. He further said that, once students were impressed towards socialism, then Jamiat came forward and through the character and then those students were stopped from going outside by useful campaigns.
In 2013, huge amount of students came at Aero Club at the event known as Talent Expo Karachi, which provoked positive outcome in Karachi. Since then, along with Islami Jamiat-e-Talaba Karachi and Lahore, Talent Expos are arranged every year all over Pakistan, where students come with their projects related to engineering and arts. And now these educational and talent expos has been promoted to areas like Abbotabad, Bahawalpur, Sukkur and even in Gigit. The activities that are in the event are arts and engineering projects from different universities and colleges, Career Counseling Programs, Neelaam Ghar, Talent Tribute sessions, youth training workshops and biz ideas. Thousands of students participate and love the creative activities around. These activities has given a great positive media attention all over Pakistan.
Not to forget, some popular heart touching nasheeds of Jamiat can be heard anywhere on Internet by surfing. Some popular vocalists, since 23rd December 1947, are Saleem Naaz Barelvi, Noman Shah, Fahad Farooqi, Salman Tariq and Muneeb Zeeshan. These people really release these with their bottom of the hearts.
At last, from 25 people on foundation, the organization is spread all over the country and its strength has been grown up to 50,000. Students are continuously are coming. Long live Islami Jamiat-e-Talaba and long live Pakistan.

آؤ یہ راز کھولیں کیا جمعیت سے پایا

آؤ یہ راز کھولیں کیا جمعیت سے پایا
بے راہ روی سے جس نے جوش جواں بچایا

سوال ہوتا ہے #جمعیت کو کیوں سپورٹ کرتے ہو جواب دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ کردار گواہی دیتے ہیں۔
یہ جمعیت لاہور کے ناظم ہیں۔ یہ جمعیت کی ہی دی ہوئی تربیت ہے شرم، حیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی تکیمل ان کے عمل میں نظر آرہی ہے۔
یہ لوگ جمعیت سے فارغ ہوکر کی بھی سیاسی جماعت میں چلے جائیں ان کی ایمانتداری اور ایمانداری مثال ہوتی ہے کہ ایسے گوہر نایاب جمعیت ہی تیار کرسکتی ہے۔161223_114019_collage-1

جئے ہزاروں سال۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جمعیت

اگر آپ تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں تو یقیناً آپ اسد قیصر، محمود الرشید یا چوہدری اعجاز کی صاف ستھری سیاست پر فخر کرتے ہوں گے اسی طرح اگر آپ ن لیگ سے تعلق رکھتے ہیں تو ضرور جاوید ہاشمی، احسن اقبال جیسے صاف دامن لوگوں پر فخر کرتے ہوں گے۔
اگر آپ اپنے سرحدوں کے محافظوں سے محبت کرتے ہیں تو کرنل شیر خان شہید پر بھی فکر کرتے ہوں گے اور اگر آپ دنیا کو یہ کہتے ہیں ایٹم بم سے ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہوگیا ہے تو یقیناً آپ ڈاکٹر قدیر پر فخر کرتے ہیں۔
اگر آپ صحافت میں شرافت کی علامت سلیم صافی، مجیب الرحمان شامی یا اوریا مقبول کو پڑھتے اور سنتے ہیں، آپ یقیناً کشمیر میں جوانوں سے زیادہ توانا سید اسد گیلانی پر بھی فکر کرتے ہوں گے۔
ڈاکٹر اسرار احمد جیسے اسکالر ہوں یا ڈاکٹر مسعود محمود جیسے عالمی ایوارڈ یافتہ انجینئر آپ ضرور ان پر فخر کرتے ہوں گے۔
آپ عامر عبدالرحمن چیمہ کے نام سے بھی واقف ہوں گے جنہوں نے جرمنی میں رحمت دو عالمِ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخانہ کارٹون شائع کرنے والے والے اخبار کے ایڈیٹر پر حملہ کیا اور بدترین تشدد کے بعد آپ نے جام شہادت نوش کیا یقیناً آپ اس عاشق رسول پر فخر کرتے ہوں گے۔
آپ بنگال میں پاک فوج کے ساتھ مل کر لڑنےوالے البدر کے جوانوں پر بھی فخر کرتے ہوں گے، آپ کو بنگلہ دیش میں پاکستان زندہ باد کے جرم میں پھانسی پر جھولتے لاشوں پر بھی فخر ہوگا کہ جن کی پاکستان سے محبت کسی دلیل کی محتاج نہیں۔
دوستوں اگر یوں ہی فخرِ پاکستان کی فہرست بناتا جاؤں تو بات بہت لمبی ہوجائے گی۔
قصہ مختصر اگر آپ ان سب پر فخر کرتے ہیں ان کی تعریف کرتے ہیں ان سب لوگوں سے محبت کرتے ہیں تو سچی بات یہ ہے آپ اسلامی جمعیت طلبہ کی تعریف کرتے ہیں۔
یہ سب تحفے اسلامی جمعیت طلبہ نے اس ملک کو دے یقین جانیں آپ چند لمحوں کےلیے تعصب کی عینک اتار پھینکیں آپ کہہ اٹھیں گے جئے ہزاروں سال جمعیت۔۔۔۔۔۔
#شرجیل

#میری_جمعیت #شکریہ_جمعیتfb_img_1482474566247

“اے اضاخیل کی زمین گواہ رہنا”

تحریر: اسری غوری

اے اضاخیل کی زمین گواہ رہنا….
اس دھرتی کا نمک ہیں جو آج تیرے سینے پر اپنے رب کے آگے سربسجود ہیں…
تو گواہ رہنا یہ لاکھوں متوالے اس کے سواء کچھ اور نہین چاہتے کہ اس سرزمین پر بس اک اللہ کے کے نام کی سربلندی ہو….
تو گواہ رہنا یہ آج امت کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں اپنے گھروں سے حیا کر پیکر بن کر اسی عزم کو لیکر نکلی ہیں کہ وہ یہاں بے حیائی کا نہیں بلکہ حیا کا پرچار چاہتی ہیں…..
اے سرزمین اضاخیل تو گواہ رہنا…
یہ جو رب کے نام لیوا رب کے شیدائی ہیں انہوں نے آج پھر اک بار شیطان اور خاندان شیطان کی نیندیں حرام کردیں ہیں …
ابن شیطان میڈیا پر موت کا سا سناٹا طاری ہے …
جی وہی میڈیا جو کترینہ کے جوتے کی ہیل مڑنے کی بریکنگ نیوز بنانے والا
جی وہی میڈیا جو چار موم بتی آنٹیوں کے اٹھاے بینر کو زوم کرکے کے دکھا کر اک طوفان کھڑا کردیتا
ہاں جی وہی میڈیا جو لندن سے فحش خطابات کو بغیر کسی غیرت کی رکاوٹ کے براہ راست دکھاتا
جی ہاں وہی میڈیا جو جلسہ گاہوں میں خآَٰلی کرسیوں سے لیکر ناجتے گاتے مخلوط جسموں کی پل پل کی نمایش کرتا…
آج اسی میڈیا پر سوگ کا سا سماں ہے
مگر کیوں؟؟
جی ہاں سنیے…
میڈیا پر سوگ کا سماں اس لیے ہے کہ اس کی برسوں کی محنت پر ان سر پھرے جماعتیوں نے اک پل میں پانی پھیر دیا
میڈیا نے تو بڑے پاپڑ پیلے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس ملک میں لوگ اب بے غیرتی بے حیائی کو پسند کرتے ہیں اور اسی کی ڈیمانڈ کرتے ہیں
اور یہ کہ یہا ں اب سیکولرازم کا بول بالا ہونا چاہیے..
اور یہ کہ اب اسلام کو اٹھا کر طاقوں میں بند کردو کہ اب اسلام کو کوئی نہیں دیکھنا چاہتا….
تو بھایی جماعتیوں آپ نے تو انکی پکی پکائی اوندھے منہ انہی پر دے ماری تو انکا سوگ تو بنتا ہے نا
ان کے سوگ پر نا جانا کہ اس زمین کا زرہ زرہ تمہارا گواہ ہے ان شاءاللہ. ❤

” رحمت برس رہی ہے محمد کے شہر میں “

تحریر: اسری غوری
آپ آنے کی تیاریوں میں ہیں یا اس کے در پر آچکے ہیں
آپ رب کے گھر اس کو منانے کے لیے آنا چاہتے ہیں تو پھر یہ سوچ کر آئیں کہ رب صرف نوافل اور آپ کی ذاتی انفرادی عبادتوں سے ہی نہیں بلکہ اس کے گھر میں آئے ہزاروں لاکھوں بندوں کی پریشانیوں کو دور اور ان کی خدمت کرنے سے زیادہ راضی ہوگا ( ان شاءاللہ)
آپ کا پہلا پڑائو چاہے مدینہ منورہ ہے یا مکہ مکرمہ، کچھ اہم کام جو آپ نے کرنے ہیں۔
آپ مسجد الحرام میں داخل ہو رہے ہیں یا مسجد نبوی ﷺ میں، بہتر ہے کہ داخل ہوتے ہوئے اعتکاف کی نیت کرلیں. اور فورا ہی دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھیں اور پھر دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کریں
اخلاقی حوالے سے اپنی ذات کو وہاں موجود رحمٰن کے مہمانوں کے لیے باعث رحمت و محبت اور سکون بنائیں نہ کہ باعث پریشانی۔
سخت سے سخت صورتحال میں بھی تلخ لہجوں کو چھوڑ دیں، محبت بھرے لہجے اپنائیں.
آنے والوں کو اپنے پاس جگہ دینے کی کوشش کریں نہ کہ کسی کو آتا دیکھ کر جس جگہ بیٹھے ہیں، وہاں مزید چوڑے ہوجائیں۔
کوشش کریں کہ ہر نماز سے کچھ دیر پہلے اور نماز کے بعد زم زم کے کولر کے پاس جاکر بیٹھ جائیں، بزرگ خواتین دور دور سے پیدل چل کر مسجد پہنچتی ہیں، پیاس سے برا حال ہوتا ہے، واپسی میں اپنی بوتل بھر کر لے جانا چاہتی ہیں، مگر بڑھاپے کی وجہ سے جھک کر نہیں لے پاتیں، کولر کے سامنے بیٹھ کر انھیں پانی بھر بھر کردیجیے اور جتنی دیر یہ کام کرسکتے ہیں کیجیے، اس کے بدلے آپ کو ایک دعا ملے گی ’’اللہ رازیس‘‘ یعنی اللہ تم سے راضی ہو. آپ جس مقصد کے لیے گئی ہیں اس کے لیے وہ گواہی دے رہی ہیں، اس عمل کو چھوٹا نہ سمجھیے۔ اگر اندر جگہ نہ ملے تو باہر بھی پانی کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، وہاں کھڑی ہوجائیں اور آنے والوں کو پانی بھر بھر کر دیں۔ بعض لوگ پانی پی کر گلاس اوپر ہی پھینک جاتے ہیں، ان کو سمیٹ کر استعمال شدہ ہول میں ڈالیں۔
جب بھی ہوٹل سے مسجد اور مسجد سے ہوٹل جائیں، ارد گرد دیکھتے جائیں، جہاں کسی بزرگ خاتون کو چلنے میں مشکل ہو رہی ہو، اس کا ہاتھ تھامیے اور انھیں ان کی جگہ تک پہنچائیے۔
کوئی بھی پریشان نظر آئے اس سے ضرور پوچھیے اور اس کا مسئلہ حل کرنے کی پوری کوشش کییجیے۔
مسجد میں کچھ دیر پہلے چلی جائیں اور اپنے اردگرد دیکھیں، کسی بھی نشنیلیٹی کی موجود خواتین جن کو تلبیہ یا دوسرے ضروری اذکار نہیں آتے، سے سلام کرکے خود پڑھنا شروع کر دیں. وہ شوق سے آپ سے سیکھیں گی، انہیں تلبیہ سکھائیں، بار بار پڑھائیں اور یاد کروائیں. یہ دس سال پہلے والے حج میں بھی تجربہ ہوا تھا اور اب بھی کہ وہ بہت خوش ہوکر اپنی ساتھیوں کو بھی ساتھ بلا لیتی اور پھر یاد کرتی ہیں. کسی ایک کو بھی آپ نے تلبیہ یاد کروا دیا اور اس نے وہ تلبیہ حج میں پڑھا، آپ کے اس تلبیہ کو ہر پتھر ہرذرہ لیے ہوگا، اور یہ سب گواہ بن جائیں گے۔
روضہ رسولﷺ پر حاضری دیں اور ریاض الجنہ میں جائیں تو صرف اپنا نہ سوچیں کہ میں دس رکعت پڑھ لوں، دو ہی پڑھیں اور پھر آنے والی خواتین کو آسانی اور سہولت دے کر انھیں نوافل پڑھوائیں اور ان کے پیچھے کھڑے ہوکر انھیں آنے والے ریلے سے بچائیں، اس وقت لبوں پر درود کی کثرت رکھیں اور جتنا ممکن ہو وہاں دوسروں کی مدد کریں. جالیوں کے نزدیک جانے کی خواہش میں دوسروں کو دھکے دیتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ دربار رسالتﷺ ہے، آداب کا خیال رکھیں، یہاں اپنی آواز بھی دھیمی رکھیں اور کوشش کریں کہ اک لفظ بھی منہ سے نکلے نہ باتیں کریں اور نہ کسی سے جھگڑا کریں، دوسروں کو تکلیف سے بچانے کی خاطر دور سے بھی سلام پیش کریں گی تو وہ دربار رسالت ﷺ میں ضرور قبول ہوگا۔ ان شاءاللہ

مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھیں تو ان لوگوں کی لسٹ نکال لیں جنھوں نے دعائوں کا کہا، اور پھر ہر ایک کی بتائی ہوئی دعا مانگیں، نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان سب لوگوں کو یاد کریں جن سے آپ کی زندگی میں کبھی بھی کہیں بھی ملاقات ہوئی ہو، اچھا یا برا کوئی تعلق رہا ہو، کسی سے محبت ہو یا نفرت، سب کے لیے دعا مانگیں. یہ وہ در ہے جہاں نفرتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، سراپا محبت ہی محبت ہے اس لیے محبتوں کو اپنے اندر اتارتے رہیں.
اقامت اور نماز کے دوران چند لمحوں کا وقت ہوتا ہے، اس وقت کی دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس کا خاص دھیان رکھیں، جونہی اقامت کہی جائے، اپنی دعا تیار رکھیں اور سب سے پیاری دعا جو قبول ہوگئی تو ساری دعائیں مقبول. یا اللہ مجھے مستجاب الدعوہ بنا دے، میری ساری دعائیں قبول فرمالے. آمین
کسی چیز کو برا بھلا نہ کہیں، مدینے کے موسم سے کسی فرد تک، یہ ہمارے محبوب کا شہر ہے جن پر ہمارے ماں باپ قربان، ان کے شہر اور ان کی ہرچیز سے ہمیں محبت ہے، وہ تپتی ہوئی دھوپ ہو یا اس کے راستے اور گلیاں. جب بہت تپش ستائے تو یاد کیجیے گا کہ اس سے بڑھ کر دھوپ ہے، تپتا ہوا صحرا ہے اور جنگ تبوک کے لیے پکار لیا جاتا ہے. رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سمیت اسی تپتی دھوپ میں دشوار گزار گھاٹیوں اور راستوں پر چل کر ہی اس مدینہ کی بستی کو بچایا. اللہ ہمیں ہر اس عمل سے بچائے جو ریاکاری میں آتا ہو اور جو اللہ اور اس کے محبوب کی ناراضگی کا سبب بنے. آمین

حرمین میں جا کر تصویریں، ویڈیوز اور سیلفیاں بنانے میں اپنا وقت مت ضائع کیجیے، یہ کوئی عام جگہ نہیں، یہاں کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے اور آپ کی زندگی بنا سکتا ہے، اسے ایسے برباد مت کیجیے. جتنا ممکن ہو خود ان سب سے دور رکھیے. اس جگہ کی تصاویر اور ویڈیوز نیٹ پر بھری ہوئی ہیں، آپ اپنے ان لمحات میں جنت کی برکتیں سمیٹنے کی لگن لے کر جائیں۔ رب کا فرمان ہے کہ جس نے جس کی خواہش کی وہ وہی پائے گا، آپ اگر سیلفی کی خواہش لے کر گئیں تو وہی پائیں گی مگر پھر کچھ اور نہیں مل پائے گا. ان سیلفیوں کے لیے بہت ساری جگہیں موجود ہیں، خدارا یہ کام یہاں نہ کیجیے۔ اپنی خواہشات اور دعائوں میں دنیا کے ساتھ آخرت کاحصول لازمی رکھیں۔ جس جس نے سلام دیا، ان کے ناموں کی لسٹ اپنے کمرے میں بیٹھ کر بنائیں اور جب آنے لگیں اور انتظار کے وقت میں اک بار اس لسٹ کو نکال کر دیکھ لیں اور وہاں پہنچ کر نام لے کر سلام پیش کریں۔ اگلی بار دوسری لسٹ بنائیں اور اب ان کا سلام پیش کریں، جن کے نام یاد نہ رہیں ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ جس جس نے مجھے آپ کو سلام پیش کرنے کا کہا، ان سب کا سلام قبول کیجیے، ان شاءاللہ سب کا سلام پیش اور قبول ہوگا۔
کسی سے بحث مباحثہ نہ کیجیے، اگر کوئی روضہ کی جانب سجدہ کرتے ہوئے نظر آئے تو اسے محبت سے دوسری جانب موڑ دیجیے بس۔
لوگوں کو گائیڈ کیجیے کہ کیسے سلام پیش کرتے ہیں اور کہاں دعا کرتے ہیں۔
بزرگ خواتین کا ہاتھ پکڑ کر باہر تک لے کر آئیں۔
جب کوئی آپ کو دعا دے تو اسے بھی جواب میں دعا دیں. یہاں قدم قدم پر رحمتیں اور برکتیں برس رہی ہیں، نیکیوں کے سودے ہو رہے ہیں اور کون نہیں جانتا کہ رب کے کیے سودے سراسر نفع بخش ہی ہوا کرتے ہیں. یہ آپ پر منحصر ہے کہ اپنی جھولی میں کیا لے کر جاتے ہیں اور کیا سودا کرتے ہیں۔
رب آپ کی اور میری حاضری قبول فرمائے. آمین

جواب حاضر ہے

تحریر: اسری غوری

سوال تو اٹھتے ہی جواب کے لیے ہیں. میری اک تحریر ”ماما آپ کو ہم پر اعتبار نہیں“ پر محترم بھائی ہمایوں مجاہد تارڑ نے “بہن اسرٰی غوری سے ایک سوال” کے عنوان سے تحریر لکھی، اگرچہ اس میں ایک نہیں بہت سے سوالات تھے، مگر ایک دو بنیادی باتوں کا جواب عرض کیے دیتے ہیں.

محترم بھائی نے لکھا کہ” پوری تحریر ماں کی طرف سے مرضی مسلط کیے چلے جانے کی ایک روح فرسا داستان معلوم ہوتی ہے”
یہ اعتراض یا سوال اس وجہ سے درست نہیں کہ تسلط کی بات تب کہی جا سکتی تھی جب ماں اپنا فیصلہ سنا کر اگلی کوئی بات نہ سنتی مگر ماں نے تو وہ ساری رات اپنے بچوں کے ساتھ ڈسکشن میں گزاری (مختصر تحریر میں ظاہر ہے اس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا) جس کے نتیجے میں بچے اپنی ماں کی اس بات سے مطمئن ہو چکے تھے تو یہ مسلط کرنا نہ ہوا بلکہ اس میں ان کی مرضی شامل ہوگئی اور اچھے اور برے کی تمیز سے آگاہی بھی ہو گئی جو ایک ماں کی اولین ذمہ داری ہے.

ایک معاشرتی مسئلے یا ماحول کو کلاس روم یا جدید ایجوکیشن پر محمول کریں گے تو درست نتیجہ نہیں نکلے گا۔ معاشرے کی خرابی کے پیش نظر عملی تربیت اور اچھے برے کی تمیز اور اور فلسفہ تدریس و مونٹیسوری طریق میں فرق ہے۔ بطور مسلمان ہمیں تعلیم کے ساتھ تربیت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ یہ تو پھر ذرا مختلف بات ہے، اسلام نے تو سات سال میں بچوں کے بستر الگ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تو کیا اسلام کے بارے میں کہا جائے کہ اس نے نازیبا رویہ اختیار کیا یا انجانے خوف کا شکار ہو کر معصومیت پر ضرب لگائی، ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ تربیت کے پیش نظر رہنمائی کی گئی ہے۔ اور ذرا ذہن میں رکھیے کہ یہ ہدایت 14 سو سال پہلے کی ہے جب موجودہ خرافات کا انسانی ذہن نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

مذہبی جبر یا لٹھ برداری کا خوب کہا۔ ہمارے ہاں کسی معاملے میں مذہب بالخصوص دینی مدارس کو معاف کرنے کی روایت نہیں ہے، کھینچ تان کر بھی کوئی نہ کوئی نکتہ نکال لیا جاتا ہے، اور جبر کو لازمی نتیجے کے طور پر ساتھ شامل کر دیا جاتا ہے. نہیں معلوم کہ مغرب کس جبر کا شکار ہے جو ہم جنس پرستی سے ایک قدم آگے بڑھ کر جانوروں کے ساتھ رہنے کو بھی قانونی حیثیت دے رہا ہے. اور پھر خود پاکستان میں بھی دبی دبی آوازیں گاہے اٹھتی ہیں لیکن ان کا تعلق اہل مذہب سے تو نہیں ہوتا۔ فطرت اور دین کے خلاف تو اہل دنیا اور کالج یونیورسٹی والے ہی جاتے ہیں۔ جب آپ سنتے ہیں کہ یہاں بھی ہم جنس پرست کلب بن گئے ہیں ، امریکی سفارتخانے میں ان کے پروگرامات بھی ہو رہے ہیں، اور ان کےلیے قانونی تحفظ بھی مانگا جا رہا ہے، تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس دور میں عبدالقادر جیلانی پیدا ہوتے تو ضرور ان کی ماں اپنے لعل کو سینے سے ہی لگا کر رکھتی. ایسے ماحول میں جب اولاد وقت سے پہلے جن باتوں سے آگاہ ہو رہی ہے، اس میں یہ سب احتیاط لازم ہے. اچھی بری صحبت کے حوالے سے تلاش و تاکید اسی وجہ سے ہے.

بہرحال سارے فسانے کا جو حاصل تھا، وہ بات نظر سے نہ گزری کہ ماما اور بچوں کے درمیان کبھی کوئی کمیونیکیشن گیپ نہیں آیا تھا، وہ ہر موضوع پر ڈسکس کیا کرتے تھے اور جہاں اختلاف ہوتا تھا، وہاں کبھی ماما کی مانی جاتی اور کبھی بچوں کی. ماما کی یہی وہ قربت اور اعتماد تھا جس کی وجہ سے بچوں نے ماما سے اختلاف نہیں کیا

ماما آپ کو ہم پر اعتبار نہیں؟

تحریر: اسری غوری

یہ پچھلے سال کے رمضان کا آخری عشرہ تھا، شاید بائیسویں یا چوبیسویں شب.
چھوٹو تراویح کے بعد ہی سے رٹ لگانا شروع ہوگیا تھا، ماما آج ہمیں دوست نے گھر بلایا ہے، رات ہم اس کے گھر جائیں گے اور سحری کر کے آئیں گے.
چونکہ یہ معلوم تھا کہ ماما کبھی کسی کے گھر رات کو رکنے کی اجازت نہیں دیتیں سو ماما کی خاموشی کے باوجود بار بار یاد دہانی کروارہا تھا. جب اس کی ہر یاد دہانی کے جواب میں ماما خاموش رہیں تو بڑے صاحب ( بڑے بھائی ) بھی درمیان میں کود پڑے کہ ظاہر ہے انھں بھی ساتھ جانا تھا
سو ذرا زور دے کر کہا :
ماما آپ جواب کیوں نہیں دے رہیں؟
ماما نے اک نظر اس پر ڈالی جیسے خود سوال کر ڈالا ہو کہ کبھی اس طرح کہیں رات رکنے کی اجازت ملی ہے؟
بڑے صاحب نے اک لمحے کو نگاہیں ادھر ادھر کیں مگر پھر بولے :
آپ ہمیں کب تک بچہ بنا کر رکھیں گی ماما؟
ہمارے سارے دوست کئی کئی راتیں دوستوں کے گھروں پر رکتے ہیں کیا ان کی ماما نہیں ہوتیں؟
بچوں کے چہروں پر چھائی جھنجھلاہٹ اور دبے دبے غصے نے اک لمحے کو ماما کو پریشان سا کیا مگر پھر نرم لہجے میں کہا:
کیا کرنا ہے رات بھر اس دوست کے گھر؟ کیا شب بیداری ہوگی؟ عبادت ہوگی؟ رمضان کے آخری عشرے میں کیا اللہ کی تلاش ہوگی؟
چھوٹو کا جواب آیا :
نہیں ماما، ہم گیم کھیلیں گے مگر اور بھی تو بچے آ رہے ہیں نا گیم کھیلنے، سب نے وہاں سحری تک رہنا ہے.
ماما نے پیار سے جواب دیا:
دیکھو بیٹا ہر گھر کے الگ الگ طور طریقے ہوتے ہیں، لوگ تو بہت کچھ کرتے ہیں، ہم کسی کی برابری تو نہیں کر سکتے نا.
بڑے نے ماما کی بات کاٹ کر کہا ذرا تیز آواز میں کہا :
ماما آپ کو ہم پر اعتبار نہیں؟
ماما نے بڑی حوصلے اور ہمت جمع کر کے جواب دیا :
اپنی اولاد اور اپنی تربیت پر پورا اعتبار ہے بیٹا، مگر زمانے پر اعتبار نہیں. جس کے پاس تم لوگوں نے جانا ہے، اس کی تربیت میں نے نہیں کی.
مگر ماما کی اتنی بات سے بھلا کس نے مطمئن ہونا تھا.
چھوٹو پلٹ کر بولا :
آپ کب تک ہمیں ایسے دو سال کا بچہ بنا کر رکھیں گی.
ماما نے ہمیشہ بچوں کو اپنے نزدیک رکھا تھا. ان میں کبھی کوئی کمیونیکیشن گیپ نہیں آیا تھا اور بچے بھی ہمیشہ اس کی باتوں سے مطمئن ہو جایا کرتے تھے
مگر آج سوال پر سوال کا اٹھنا یہ بتا رہا تھا کہ اب صرف انکار ہی کافی نہیں تھا بلکہ بچوں کو اس انکار کی وجہ بتانا بھی ضروری ہوگیا تھا یعنی بچے بڑے ہو رہے تھے. اب ان کے سامنے وہ تمام باتیں بھی کھل کر ڈسکس کرنا ضروری ہوگیا تھا جن کی وجہ سے ماما اتنی محتاط رہتی تھیں.
ماما نے کہا اچھا آپ دونوں یہاں آئیں ذرا.
دونوں پاس آگئے مگر بیٹھا کوئی نہیں
ماما نے کھڑے کھڑے بڑے سے ہی سوال کیا.
آج امریکہ میں ایک بل پاس ہوا ہے، کیا آپ جانتے ہیں اس بل کے بارے میں؟
کچھ دیر تو بڑا سٹپٹایا کہ یہ کیسا سوال ہے جو اچانک آیا، مگر پھر جواب آیا :
“جی ماما ”
ماما کو اندازہ تو تھا کہ سارا دن ہی فیس بک پر یہ خبر چھائی ہوئی تھی، کیسے چھپی رہتی؟
اگلا سوال چودہ سالہ چھوٹو سے تھا
اور آپ کو بھی پتا ہے اس بل کے پاس ہونے کا؟ وہاں سے بھی جواب ہاں میں آیا.
کچھ لمحے خاموشی رہی. پھر ہمت جمع کر کے ماما نے اگلا سوال چھوٹو سے کیا
اس کا مطلب جانتے ہیں بیٹا؟
یہ ایک اور غیرمتوقع سوال تھا، مگر جواب بھی اتنا ہی غیرمتوقع آیا
جب چودہ سالہ چھوٹو نے چہرہ نیچے کیے صرف گردن اثبات میں ہلائی
اب آگے بات کرنا ماما کے حوصلے کا اک امتحان تھا کہ اپنی ہی اولاد سہی مگر یہ کوئی عام ٹاپک نہیں تھا کہ جس پر ماما بولنا شروع کردیتی اور دنیا بھر کی مثالیں سامنے رکھ کر سب سمجھا کر اٹھ کھڑی ہوتیں.
اس ٹاپک کو سمجھانے کے لیے ماما نے آج ہی دورہ قرآن میں پڑھائی گئی “سورہ الشعراء” کا سہارا لیا
چھوٹو تفہیم القرآن لے کر آئیں، ماما نے نگاہیں نیچے رکھے رکھے کہا.
سامنے دونوں ہی وہ بیٹے تھے، عمر کے ہر نئے موڑ پر اس نے جن کی رہنمائی کی خود تھی اور انہیں سب خود بتایا اور سمجھایا تھا. مگر اب وہ اپنی عمروں کے اس حصہ میں تھے جہاں انہیں صرف ڈھکے چھپے انداز میں نہیں بلکہ بات کھول کر سمجھانے کا وقت آچکا تھا۔
دونوں کو اس نے اپنے ارد گرد صوفے پر بٹھایا. خود سورہ الشعراء کی تلاوت کی اور پھر اس کی تفسیر بیان کرنی شروع کی
” یہ تھا وہ عمل جس کی وجہ سے اللہ نے اس قوم پر وہ عذاب نازل کیا جو دنیا میں کسی اور قوم پر نہیں نازل ہوا. دنیا کی ہر قوم ایک عذاب کی مستحق ہوئی مگر قوم لوط ایک ساتھ تین عذابوں کی
پوری کی پوری قوم اندھی کردی گئی
پھر آسمان سے پتھروں کی برسات جو کہ ہر ایک کے نام کے ساتھ مارے گئے کہ کون سا پتھر کس کو لگنا ہے
تیسرا عذاب کہ پوری بستی الٹ دی گئی
ویسے ہی جیسے جب آپ کسی چیز پر شدید غصہ ہوتے ہیں نا تو اسے صرف توڑ کر نہیں پھینک دیتے بلکہ چاہتے ہیں کہ اس کو چورا چورا بنا دیں، اس کو کچل دیں کہ صرف توڑ دینے سے آپ کا غصہ کم نہیں ہوتا.
اللہ بھی اس قوم پر ایسے ہی غضب ناک ہوا تھا
اور آج اس دنیا میں ایسا قانون پاس کیا جارہا ہے جس میں سیم سیکس کی شادی قانون بنادی گئی ہے، گویا اللہ کو چیلنج کیا جارہا ہے.
اور میرے بچو! یہ وبا صرف اسی معاشرے تک نہیں رکی ہوئی بلکہ اس نے ہمارے اچھے اچھے گھروں کے معصوم بچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے.
تمھاری تربیت میں نے کی اور اللہ کے بنائےاصولوں کے مطابق کرنے کی کوشش کی، نجانے کس حد تک اس میں کامیاب رہی ہوں. مگر جن کے پاس تم لوگوں نے جانا، ان کو تو میں جانتی تک نہیں مگر یہ جانتی ہوں کہ گھروں میں ماں باپ کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ ان کے بچوں نے رات بھر نیٹ پر کیا دیکھا؟ چھوٹے چھوٹے معصوم ذہن کو کیبل پر لگے چینل کیسے پراگندہ کرتے ہیں؟ اور کیسے ان کی معصومیت چھن جاتی ہے اور ماں باپ اس سب سے بے بخبر ہوتے ہیں.
میرے جگر کے ٹکڑو! تمہیں میڈیا نے نہیں پالا، تمہیں میں نے نبیوں کے قصے اور جنت کے مناظر دکھا کر اور جہنم کی ہولناکی بتا کر پالا ہے. میں نے تو تمہارے دو منٹ کمرے بند ہوجانے پر بھی فکر کی میں تمہیں کیسے اس بے رحم زمانے کے حوالے کردوں؟
کیسے اپنی برسوں کی کمائی کو لمحوں میں برباد ہوتا دیکھوں؟
عمر کے اس مرحلے میں جن حالات میں تم نے قدم رکھا ہے، وہ ہر قدم پر ایک آزمائش سے کم نہیں. ابھی تو سکول سے نکل کر کالج کا مرحلہ جانتے ہو کیسا کٹھن ہوگا؟ خود کو مضبوط رکھنا ہوگا، قرآن سے جڑنا ہوگا، اس کو چھوڑ دیا تو سمجھو شیطان ایسے تمہیں جھپٹ لے گا جیسے چیل کسی گوشت کے ٹکڑے پر جھپٹتی ہے
میرے بچو! میں کیسے اپنی کمائی کو کھلے آسمان تلے کسی شیطان کے جھپٹنے کے لیے چھوڑ دوں؟
میں تو آخری سانسوں تک تمہاری ایسے ہی حفاظت کروں گی جیسے مرغی ہلکی سی آہٹ پر اپنے چوزوں کو پروں میں چھپا کر کرتی ہے
ماما کی آواز اب آنسوئوں میں ڈوب کر بھرا چکی تھی
سحری کا وقت ہوچکا تھا
ماما کی گود میں سر رکھے دونوں کے چہروں پرکچھ دیر پہلے چھایا اضطراب اب اک گہرے سکون میں بدل چکا تھا اور ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ ماں کے فیصلے پر مطمئن ہوچکے تھے.
اس نے دونوں کے ماتھے چومے، ہمیشہ کی طرح اللہ کے چنے ہوئے بندوں میں شامل ہونے کی دعا کی اور اللہ کے حضور شکر بجا لانے اٹھ کھڑی ہوئی کہ آج پھر اس نے اسی کے پاک کلام کی مدد سے اپنے بچوں کو زندگی کی اک اور حقیقت سے آشنا کردیا تھا.
اپنے بچوں پر مرضی مسلط مت کیجیے بلکہ ان سے موضوعات اور ایشوز ڈسکس کیجیے. یقین کیجیے آپ کا بچہ وہ نہیں جو آپ گمان کیے بیٹھے ہیں. وہ اتنا باخبر ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے.
اسے آپ اللہ کے کلام کی روشنی میں ہر اک بات سے آگاہ کیجیے، اس سے پہلے کہ اسے کسی ایسی جگہ اور ایسے ماحول سے آگہی حاصل ہو جس کا خمیازہ وہ بھی اور آپ بھی زندگی بھر بھگتیں

بھری دنیا میں مجھ جیسے ہی کی تلاش کیوں آخر؟

تحریر: اسری غوری
” اسلامی سیکولرزم ” کا بیانیہ ۔۔ یہ اصطلاح پڑھتے ہی دماغ میں کسی محبت کے مارے کا اک قول جگمگا اٹھا کہ ” اس نے جاتے ہوئے پلٹ کر کہا تجھ جیسے لاکھوں ملیں گے، ہم نے کہا کہ آخر بھری دنیا میں مجھ جیسے ہی کی تلاش کیوں؟ ”
آج کل ہمارے ہاں اسلام کی نہیں بلکہ کسی اسلام جیسے کی تلاش زورو شور سے جاری و ساری دکھائی دیتی ہے۔ اس تلاش میں ہمارے بعض محترم دانشور حضرات مغرب کی ہر اترن کو ” اسلامی ” کا لاحقہ لگا کر مشرف بہ اسلام کرلینے پر بضد ہیں اور اس کی تبلیغ پر دہاڑی دار مزدور کی طرح ویسے ہی جتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے ایک زمانے میں بعض لوگ سوشلزم کو اسلامی لباس پہنانے پر مصر تھے۔ وقت نے مگر یہ ثابت کردیا کہ انھوں نے سوشلزم کو جو ” اسلامی ” لباس پہنانے کی کوشش کی تھی وہ کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔
گاہے حیرت ہوتی ہے کہ جب اسلام پسند نہیں تو پھر ” اسلام جیسا ہی کوئی ” کی کیوں تلاش ہے۔ صاف کھل کر اس سے اظہار برات کیوں نہیں کہ رب تعالیٰ نے تو صاف الفاظ میں آپشن دیا ہوا ہے ” لااکرہ فی الدین ”
ہمارے خیال میں ضرورت خارجی نہ ہوتی تو اظہار برات کیا، کوئی چولا پہننے یا سابقہ لاحقہ لگانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔ داخلی سے زیادہ یہ خارجی محرکات ہیں جن کی بنا پر نئے بیانیے اور نئی اصطلاحات کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ مغرب میں چونکہ مذہب چرچ اور کلیسا تک محدود ہے، اس لیے یہاں بھی ایسے معاشرے کی تشکیل کی کوشش کی جا رہی ہے جہاں مذہب کو فرد کا ذاتی فعل قرار دے کر اسے ہر مذبی پابندی سے آزاد کردیا جائے اور اس کا سکون اطمینان بس اسی میں ہو کہ مسائل حیات کے جھمیلوں سے دور رہ کر تسبیح پر “اللہ ہو” اور سبحان اللہ کی گردان کی جائے اور سمجھا جائے بس حق مذہب ادا کردیا گیا ۔ یعنی یہ اختیار بھی مغرب کی طرح انسان کو سونپ دیا جائے کہ خدا کا زندگی میں بس اتنا ہی دخل ہو جتنا وہ دینا چاہے اور جب دل کرے اور چاہے تو وہ بھی نہ ہو اور اسے زندگی سے مکمل طور نکال باہر کرے۔ ( نعوذ باللہ )
” احیائے اسلام ” کا خیال تو ان کے نزدیک قابل نفرین ہے کہ سیکولر طرز فکر سے اس کی کوئی نسبت نہیں مگر ” اسلامی سیکولرزم” شاید کوئی ایسی چیز ہے جو قابل قبول ہو سکتی ہے۔ شاید اسلام کی ایسی سیاسی و غیر سیاسی تقسیم مقصود ہے جو ان دائروں سے تجاوز نہ کرے جو سیکولرزم نے کھینچ رکھے ہیں۔ مذہب کو بخوشی یہ اجازت دینے کو تو تیار ہیں کہ وہ تہذیب مغرب کے ساتھ تنائو کو کم کرنے کے لیے بطور نسخہ آسودگی (فردی اسلام اور صوفی ازم ) استعمال ہو لیکن اسے یہ ہرگز برداشت نہیں کہ وہ حقیقی زندگی کے سماجی اور سیاسی حل کے لیے ایک نظام کے طور پر کام کرے۔ یعنی اسلام کو اس کی قوت متحرکہ سے محروم کردیا جائے۔ اور یہ وہ خواہش تھی جس نے مغرب کو مجبور کیا کہ وہ شرعی اسلام سے صوفیانہ اسلام کی ترکیب پیدا کرے۔
اصلا یہ اسلامی نظام کی راہ روکنے کی اسی مغربی واردات کا حصہ ہے جس میں “صوفیانہ اسلام ” سے لے کر ” اسلامی سوشلزم ” تک شامل ہیں اور اب اک اور نقب ” اسلامی سیکولرزم ” کے نام پر لگانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹ کر لاگو کرنا جائز ہے جبکہ خود اسلام بہ حیثیت ” الدین ” وجود کلی پر مصر ہے ؟ اور خود قرآن ایسا کرنے والوں کے لیے سخت سزا کی وعید کرتا ہے جو اس کی بعض باتوں کو مانیں اور بعض کو ماننے سے انکار کردیں ۔ یہود و نصاریٰ کے اس طرز عمل پر گرفت کرتے ہوئے قرآن ایسے لوگوں کو کافر ، فاسق ، اور ظالم قرار دیتا ہے ۔

اسلام کا یہ زور تحکم اور اس امر کی پوری تاریخ اتنی واضح ہے کہ مغرب کے پڑھے لکھے دیانت دار اصحاب دانش بھی اسے تسلیم کرتے ہیں ۔
مثلا پروفیسر این لیمبٹن (Ann Lambton) اپنی قابل قدر تصنیف (
Author of State and Government in Medieval Islam)
میں لکھتی ہیں :
” شریعہ ، مغرب میں سمجھے جانے والوں معنوں میں کوئی قانون کی کتاب نہیں ۔ شریعہ دراصل مسلمانوں کے فرائض کا بیان ہے۔ نظری طور پر یہ انسانی زندگی کے سب ہی معاملات بشمول تجارت و حرفت کا احاطہ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی نظام کی بنیاد مہیا کرتی ہے ”
ریاست کی ماہیت بیان کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں :
“( اس نظام میں ) ریاست موجود ہے ۔ کسی اور جمعیت ( اور ادارے ) کی موجودگی جو اس کے برابر یا اسے برتر ہونے کی مدعی ہو، اس ریاست کو کسی طرح محدود نہیں کرتی ”
اسی حوالے سے ہیملٹن گب ( Hamilton Gibb) جب عہد جدید میں اسلامی ورثہ کی بات کرتا ہے تو اس کا بیان بھی بڑا اہم ہے ۔
” (مسلم) کمیونٹی اس اندھیاری دنیا میں خدائے برتر کی شہادت دینے کے لیے موجود ہے اور یہ حکومت کا فرض منصبی ہے کہ قانون کی تنفیذ کا کام انجام دے ”
کیا اس کا مطلب یہ نہیں بنتا کہ اسلام کی اساسی روح سے مغربی مفکرین اور صاحب دانش تو آگاہ ہیں مگر ہمارے بعض دانشور اس سے پہلوتہی کر رہے ہیں۔
یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسلام جیسی جامع اور مکمل چیز پاس ہونے کے باوجود اس میں پیوند کاری کرنے والے کیسے پیدا ہوجاتے ہیں ؟ یہاں پھر منبر و محراب سے لے کر مدرسہ و علمیت کے بانجھ پن کا بھی بھانڈا پھوٹتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اسلام کو جدید رنگ میں پیش کرنے میں ناکام رہے؟ جہاں تک عام آدمی کی بات ہے تو دراصل اسی کو مطمئن کرنے کے لیے یہ سب پاپڑ بیلے جارہے ہیں کہ اس کے اضطراب کو ختم کر دیا جائے جو بار بار اسے رب کی طرف پلٹنے پر مجبور کر دیتا ہے
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ” اسلام نہیں اسلام جیسا ہے ” کے جتنے بھی جدید سے جدید برانڈ مارکیٹ میں آئیں گے، ان کی کل زندگی بارش میں پیدا ہونے ان پتنگوں کی مانند ہوگی۔ پتنگے چند لمحوں کے لیے ایسے طوفان کی طرح اٹھتے دکھائی دیتے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سمجھ نہیں آتا اس افتاد سے کیسے جان چھڑائی جائے مگر ایسے میں کچھ عقل مند لوگ اپنے گھر کے دروازے کھڑکیاں بند کرلیتے ہیں اور جن روشنیوں پر وہ پروانے چمٹ چمٹ جانے کے لیے بیقرار ہوتے ہیں، وہی گل ہو کر ان کی موت کا پروانہ بن جاتی ہیں۔
ذرا پیچھے نگاہ دوڑا کر دیکھیے تو آپ کو ایک نہیں بلکہ بہت ایسے بیانیے ایک کے بعد ایک کر کے اپنے موجدین کے ہمراہ ایسی قبروں میں مدفون نظر آئیں گے جن پر کوئی پھول اور چادر تو درکنا کوئی کتبہ کا تختی بھی نہیں ملے گی اور ان کے مقابلے میں اسلام آج بھی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ یہ کہتا دکھائی دے گا کہ
“بھری دنیا میں مجھ جیسے ہی کی تلاش کیوں آخر ؟؟ “

خدارا قندیل کے گناہ مٹادیجیے

تحریر: اسری غوری
بلاگ پبلش کرنا تھا. قندیل بلوچ کی تصویر لگانے کے لیے گوگل سرچ کیا تو کئی بار آنکھیں اسکرین سے ہٹانی پڑیں اور کئی بار کی بورڈ کے ایروز کو تیزی سے نیچے کی جانب کھینچا مگر ہر آنے والی تصویر پچھلی کو مات دے رہی تھی. دفعتا خیال آیا کہ گناہگار تو ہم میں سے ہر ایک ہی ہے، ہر ایک کا اپنا الگ گناہ ہے، کوئی کسی کے ساتھ زیادتی کرجاتا ہے، کوئی کسی کا حق مار جاتا ہے غرض گناہ کی نوعیت تو بدل سکتی ہے مگر کوئی بھی یہاں فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا.
کچھ گناہ انفرادی اور چھپ کر ہوتے ہیں اور کچھ گناہ علی الاعلان کیے جاتے ہیں، اسی لیے ان دونوں کی سزا بھی مختلف ہے. چھپ کر کیے گئے گناہ کا عذاب اور وبال بس اسی پر ہوتا ہے جس نے کیا مگر علی الاعلان کیے جانے والے گناہ اپنے ساتھ نجانے کتنے ہی لوگوں کو اس گناہ میں شریک کرکے عذاب کا مستحق بناتے ہیں، جیسے صدقہ جاریہ ہوتا ویسے ہی گناہ جاریہ بھی ہوتا ہے اور اس کا عذاب آپ کے اعمال نامے میں ویسے ہی بڑھتا جیسے صدقہ جاریہ کا ثواب
یہ سب تمہید باندھنے کا بس ایک مقصد کہ قندیل بلوچ کیا تھی اور کیا نہیں؟ اس پر بہت بحث ہوچکی مگر وہ جو بھی تھی، یہ بھی ایک برہنہ سچ ہے کہ اسے ” قندیل” بنانے میں آپ کا ہی ہاتھ تھا
آج آپ مئومن مسلمان بن کر زمزم سے نہا کر قندیل کو جہنمی کہنے والے یاد کریں کہ
پاکستان انڈیا کرکٹ میچ کے دوران اس کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اک فحش ویڈیو کو دیکھنے اور شئیر کرنے اور اس پر کانوں سے دھواں نکال دینے والے کمنٹس کرنے والے سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کسی نہ کسی کے قندیل کے “غیرت مند بھائی ” ہی تھے
اگر وہ جہنمی تھی تو لاکھوں شئیر کرنے والے کیا ہیں؟
غرض میڈیا ہو یا عوام، ہر ایک نے اپنی اپنی ہوس زندہ اور مردہ قندیل کو نوچ نوچ کر پوری کی
میری گزارش بس اتنی ہے کہ اب وہ جاچکی ہے، اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے
مگر خدا کے لیے اس کی جتنی تصاویر اور ویڈیوز جن پیجزاور والز نے شئیر کی ہوئی ہیں، ان کو ڈیلیٹ کردیجیے
اس کے فیس بک پیجز کو بڑے بڑے بیجز رپورٹ کریں تاکہ وہ ان تمام مواد کے ساتھ بلاک ہوجائے
آپ کے موبائل فون میں، واٹس ایپ پر گروپس میں شئیر ہوتی اس کی فحش ویڈیوز کو ضائع کردیجیے
گوگل پر اس کی تصاویر ہٹانے کے لیے گوگل کو میل کیجیے
میری میڈیا سے بھی یہ درخواست ہے کہ اللہ کے واسطے قندیل کی لاش کو مزید نہ نوچیں اور اسے مستقبل میں بھی اپنی خواراک بنا نے کے لیے محفوظ کر کے رکھی جانی والی ایسی تمام ویڈیوز ضائع کردیں
اللہ کے واسطے اس کے ہر گناہ کے ثبوت مٹا دیجیے
آج آپ اس کے ثبوتوں کو مٹادیجیے، اللہ بہت رحیم ہے، کل وہ آپ کے گناہوں کو مٹادے گا

سلام ہے اے قائد! سلام ہے

تحریر : اسری غوری
وہ برسوں سے ماند پڑے قسطنطنیہ کے آسمان پر نیا چمکتا ہوا ستارہ،
لاکھوں کے مجمع کو اِک ماں کی طرح محبت سے مخاطب کرکے پکار رہا تھا
”اے میری پیاری قوم!
مجھے سب سے زیادہ محبوب!“

اور جواب میں وہاں موجود جم غفیر اسے یہ پیغام دے رہا تھا کہ وہ ان لاکھوں دلوں میں دھڑکن کی طرح دھڑک رہا ہے۔
اور وہ اپنی قوم کے سامنے اپنا مقصدِ حیات بیان کررہا تھا:
” اے میری قوم! زمین پر میرے مقصد کو طول نہ دو“

وہ ان سے سوال کررہا تھا:
” کیا ملک کے پرندے تمھیں کوئی خبر نہیں سناتے؟“
کون نہیں جانتا کہ بھلا پرندے کون سی خبریں سنایا کرتے ہیں!
پرندے تو طوفانوں کی آمد کی خبر ہی لایا کرتے ہیں۔
مگر ان طوفانوں کی آمد کی خبروں میں بھی وہ خوشخبریاں سنارہا تھا
”تمھارے شہیدوں کی قبروں سے بہارامڈ رہی ہے“
اس کا اِک اِک لفظ گویا سننے والوں کے دلوں میں پیوست ہوتا جارہا ہے۔

اپنی قوم کو محبوب قرار دیتا یہ ستارہ ایک اور سچائی بیان کرنے لگا تھا
”جب محبوب کا ساتھ ہو تو بے جان انسان سے بھی محبت پھوٹتی ہے،
اسی طرح جس طرح زندگی اور موت کے درمیان اک منفرد زندگی“

وہ ان کو ایقان کی گہرائیوں میں اُتار رہا تھا:
”میں تم سے مایوس ہرگز نہیں ہوں۔“

اور ساتھ اپنے خدشات کا اظہار کررہا تھا:
”لیکن اِک آنکھ ( دجالی آنکھ) ہے جو مجھے پریشان کررہی ہے۔“

مگر ساتھ ہی اس سے نمٹنے کا طریقہ سمجھارہا تھا:
”ہمیں پھر بھی یہاں محبتوں کے گیت گانے ہیں، ہمیں کوئی پروا نہیں کہ ہمارے مد مقابل کیا کرتے ہیں۔“

وہ اللہ کے قادر مطلق ہونے کا کھلم کھلا اظہار کررہا تھا اور بتا رہا تھا کہ اللہ کے اذن کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہے۔
” کیونکہ کچھ چیزیں آسمان (اللہ) کی طرف سے طے شدہ ہیں۔ “
وہ رب اعلیٰ کے بنائے گئے نظام کائنات کی حقیقتیں کھول رہا تھا۔
وہ پوچھ رہا تھا بتائو:
” کیا ہوتا ہے جب دن ڈھل جاتا ہے۔“
جواب بھی آپ ہی بتارہا تھا
” کوئی تو (اللہ) ہے نا جو اس رات کے گزرنے کا سبب پیدا کرتا ہے۔“

تو تم یاد رکھنا کہ راہ میں آنے والی ہر تاریک رات گزرنے والی ہے۔ وہ اس راہ میں اپنے کام آجانے (شہید ہوجانے) کے لیے بھی تیار کررہا تھا۔
”ممکن ہے اس راہ میں میں خاکستر (شہید) ہوجائوں لیکن میری خاک سے کامرانی کے قلعے تعمیر ہوں گے، کیونکہ ہر شکست کے بعد اک فتح ہے۔“

وہ بتا رہا تھا کہ کوئی بھی ہمیشگی کی زندگی ساتھ نہیں لاتا، مگر جس راہ پر وہ زندگی بھر چلتا ہے، اس کی خاک بھی بعد میں آنے والوں کے لیے مشعل راہ بن جاتی ہے۔

وہ کہہ رہا تھا کہ بس یاد رکھنا کہ وقتی شکست سے نہیں گھبرانا کہ فتح تمہاری منتظر ہوگی۔
اور اس فتح کی کنجی کا پتا دیتے ہوئے وہ اپنی قوم کی تربیت کر رہا تھا اور یہ تربیت کیا خوب ہے:
” تمہارے پاس ہر راز (کامیابی) تک پہنچنے کی کنجی (قرآن کریم) موجود ہے۔
وہ تمھارے دل کی آواز ہے۔
وہ تمہیں تمہارے ماضی ( خلافت عثمانیہ) کی جانب بلاتی ہے۔
میں کبھی تم لوگوں سے مایوس نہیں ہوا ہوں کیونکہ تمھارے دلوں میں جذبوں کا اک طوفان ہے۔

وہ کتنی محبت اور چاہ سے اپنی قوم کو بلارہا تھا:
”اے میری پیاری قوم
مجھے سب سے زیادہ محبوب
اے میری محبوب قوم“

اور ان کے سامنے بیٹھے ہوئے ہجوم میں مائیں، بہنیں اور بھائی بزبان حال وبزبان قال یہ گواہی دے رہے تھے کہ ہم آپ سے کبھی بے وفائی نہیں کریں گے۔

وہ یہ سب دیکھ کر، اور تمام سازشوں کو روند کر غرور نہیں تھا، بلکہ وہ کہہ رہا تھا:

”میں تمام تعریفیں رب کے لیے خالص کرتا ہوں۔
میں حمد بیان کرتا ہوں اس رب کی جس نے اس دور میں ہمیں اپنے مقصد کے لیے چنا۔
جس نے ہمیں حوصلہ اور جوش عطا کیا، جس نے ہمیں صبر کی تعلیم دی۔ مزاحمت کا حوصلہ بخشا۔
تعریف اس کے لیے جس نے ہمیں خوبصورت اقتدار بخشا، جس نے ہمارے دلوں میں محبت بھر دی ہے۔
اس ملت اور ملک کی خدمت کا موقع اور جذبہ دیا ہے۔
میں اس اللہ تعالیٰ کی جانب ان تمام تعریفوں کا رخ موڑتا ہوں۔
یہ جو کچھ میں نے بیان کیا وہ اس وجہ سے کہ ہمیں اس سے محبت کرنا چاہیے۔
اسی طرح ہم سب دوستوں کو سجدہ کرنا چاہیے۔
اور ہم سب کو اس کی پیروی کرنی چاہیے۔
جو موجود ہیں، وہ بھی جو اس ہال میں ہیں اور وہ بھی جو باہر سڑکوں پر بیٹھے ہیں
تاکہ دل کی گہرائیوں سے اس کی حمد بیان ہوجائے۔“

اس کی زباں سے ادا کیا گیا اک اک لفظ اپنی سچائی کی گواہی دے رہا تھا اور بلا تفریق مرد و زن لاکھوں حاضرین کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔ ان میں بوڑھے اس چمکتے ستارے میں اپنے تڑپتے ماضی کی جھلک پاکر اشک بہارہے ہیں تو جوان بھی ہیں۔ اک نیا حوصلہ اور اک جنوں ہے جو ان کے رخساروں پر عیاں ہورہا ہے۔

اسکارف والی خواتین اگر نم دیدہ ہیں تو اسکرٹ اور بلائوز میں بغیر اسکارف کے کھلے بالوں والی بھی اپنی قوم سے مخلص اس مردِ دانا کی باتیں سن کر اپنے آنسوئوں پر قابو نہیں رکھ پارہی تھیں۔

بہت خوبصورتی سے یہ چمکتا دلوں میں دھڑکتا ستارہ اپنی اور اپنی محبوب قوم کی تمام تر کامیابیوں کو رب کی جانب موڑ دیتا ہے۔
اورفضا رب کی بڑائی سے گونج اٹھتی ہے۔
وہ اپنی جذبات سے لبریز قوم کی تربیت کر رہا ہے۔
اسے اس کے حقیقی مرکز (اللہ) کا واشگاف الفاظ میں پتا دے رہا ہے، اور اپنے اور اس قوم کے چنے جانے پر اپنے رب اعلیٰ کا شکر گزار ہو رہا ہے
وہ محبتوں کے اس سیل رواں کو اللہ رحمت قرار دے رہا ہے
وہ اپنے رب اعلیٰ کی وحدانیت کا پرچار کر رہا ہے
وہ موجود اور غائب سب کو پکار کر کہہ رہا ہے:
جس رب اعلیٰ نے تمہیں یہ سب عطا کیا، اس کو سجدہ کرو

بہتے آنسو بتا رہے ہیں کہ اس کے سچے ہونے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں۔
اس کی آواز میں سچائی کی گونج ، اور لہجے کی دھمک حاضرین کے دلوں میں پیوست ہوتی محسوس ہوئی ہے۔
جو اس کے سامنے ہال میں موجود ہیں وہی نہیں بلکہ میلوں تک سڑکوں پر بیٹھے وہ سارے عشاق ایسے ہی اس کے کہے کو سچا مان رہے ہیں، اس پر اپنے یقین کے اشک ثبت کررہے ہیں
اور وہی کیا، ہزاروں میل دور بیٹھی گھنٹوں سے اپنی اسکرین پر آنکھیں جمائے
ہتھیلیوں سے اپنے اشکوں کو صاف کرتی یہ اسریٰ
ہاں میں بھی تمھارے اِک اِک حرف کی سچائی اور تمھارے جذبوں کی گواہ ہوں
میری دعائیں تمھارے ساتھ ہیں
تم صرف قسطنطنیہ کے آسمان کا چمکتا ستارہ نہیں
بلکہ تم ملت اسلامیہ کے ماتھے کا وہ جھومر ہو
جسے برسوں سے تلاشا جارہا ہے
خدا تمہیں سلامت رکھے
میرا رب تمہیں اپنی پناہوں میں رکھے
تم اس ملت اسلامیہ کے آنگن میں چاند بن کر چمکو
تم سچے اور حقیقی قائد ہو اور قائد کواپنی قوم کی تربیت کرنا ہوتی ہے
سلام ہے اے قائد! آپ نے اپنی قوم کی کیا ہی خوب تربیت کی ہے
اس قوم کو مبارک ہو کہ …
اسے ایسا قائد نصیب ہوا جو صدیوں میں پیدا ہوا کرتا ہے
یہ بڑے نصیبے کی بات ہے
بخدا! یہ بڑے نصیبے کی بات ہے۔
(طیب اردگان کا وہ خطاب جس سے متاثر ہوکر یہ تحریر لکھی گئی)

“لہو الحدیث”

تحریر : اسریٰ غوری

دورِ محمد ﷺ ہے عالم یہ ہے کہ جواک بار کلام الہٰی سن لیتا ہے پھر چاہے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے پلٹتا ہی نہیں یہ وہ وقت تھا جب جہالت کےگھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی انسانیت غفلت کی ایک بڑی نیند لینے کے بعد جاگ رہی ہے اور میرے محبوب نبی اکرم {صہ}اس سوئی ہوئی انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکالنے کے لیے دن رات تگ و دو میں سر گرداں ہیں مگر دوسری طرف جہالت کے ٹھیکدار جن کو یہ بیداری کسی طور پر پسند نہ تھی اور اس کے سدباب کے لئے سردار شیاطین سر جوڑ کے بیٹھے ہیں کیا کیا جائے کہ ان کے کانوں میں یہ کلام جانے سے روکا جاسکے ہر فرد ہی اس میں اپنا حصہ ڈالتا ایسا ہی ایک شخص جس کا نام نضر بن حارث تھا وہ تاجر تھاجو ایران سے واپسی پر اہل فارس کی داستانیں اور کسریٰ کے قصے خرید کر لاتا تھا اور کفار کو سنایا کرتا تھا کہ محمدۖ تم کو عاد و ثمود کے قصے سناتے ہیں۔ میں تم کو رستم اور اسفند یار کے قصے سناتا ہوں اور کفار وہ قصے سنا کرتے تھے۔ایک اور شخص گانے بجانے والی کنیزوں کو اس غرض کے لیے خرید کر لاتا تھا کہ جب رسولۖ اللہ ﷺ قرآن سناتے تھے تو وہ ان کنیزوں کو گانے بجانے پر لگا دیتا تا کہ لوگ قرآن نہ سنیں اس طرح وہ لوگوں کی توجہ کو اصل دعوت کی طرف سے ہٹا دیتا اس کی اس سازش کو رب نےنا صرف یہ کہ بے نقاب کیا
بلکہ ایسے لوگوں کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ۔
اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے (۵) جو کلام دلفریب(۶) خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر (۷) بھٹکادے اور اسے راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑادے (۸)۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے (۹)
(لقمان )
زمانہ بدلا شیطان کی چالیں بدلیں ہاں مگر طریقہ واردات آج بھی وہی ہے کل لہو الحدیث میں قصے اور لونڈیاں لائی جاتی تھیں تو آج لہوالحدیث میں لونڈے لپاڑے اودھم دھاڑ مچاتے اور سارا سال اسلام کو اپنے گلے میں ڈالا گیا طوق سمجھ کر اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتی نظرآتی ماڈل اس مہینے میں دوپٹے سر پر جمائے جھوم جھوم کر اسی اسلام کے منجن کو بیجتی نظر آتیں ہیں اور اس قوم کو دین سکھاتی نظر آتی ہیں ۔
یہ جو آپ کے اطراف میں ماحول نطر آرہا ہے کیا آپ کا خیال ہے کہ یہ ایسے ہی اچانک کسی خود رو پودے کی طرح باہر نکل آیا ہے ؟؟
اگر آپ کا یہ خیال ہے تو بلکل غلط خیال ہے کیونکہ یہ باقائدہ پلاننگ کیساتھ کیا جارہا ہے
رمضان کی آمد سے پہلے بھی فتنہ انگیزیاں کچھ کم نہیں تھیں مگر ماہ مبارک کی آمد کے ساتھ تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے شیطان اپنے جن چیلوں کو گیارہ مہینے تربیت یافتہ کرنے کے بعد جو ذمہ داری ان کو سونپ کر گیا وہ جس جانفشانی ان شگردان ابلیس نے انجام دی ہے اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ قید سے رہائی پاتے ہی سب سے پہلے شیطان نے ان کو سینے سے لگا کر داد دینی ہے کہ ایسا کام تو میں بھی گیارہ مہینے نہیں کرپاتا جو تم اس ایک مہینے میں کرجاتے ہو ۔۔
معاملہ قادیانیوں کے کافر قرار دینے کے سوال کا ہو یا ۔۔ غلیظ زبان استعمال کرنے والی کسی عورت کو اسی زبان میں جواب میں ملنے پر دہائیاں دینے کا ہو یا کسی فاحشہ عورت کی سیلفیاں ہوں۔۔۔
یا پورے کے پورے ماہ مبارک ہی کو اغوا کرلینے کا ہو جس نے ہر چیز کو پراگندہ کردیا کہ جس ماہ مبارک میں رب نے حلال کو بھی اپنے لیے حرام کرلینے کا حکم دیا تا کہ تم رب کو اپنے قریب محسوس کرسکو اس کی قربت پا سکو اس کی رحمتوں کی طلب کرو
ایک زمانہ تھا کہ رمضان کی آمد کیساتھ ہی دلوں میں یہ بات راسخ ہوجاتی تھی کہ اب شیاطین جکڑے گئے اور اب نیک کاموں اور رحمتوں کا مہینہ ہے کیا بڑے اور کیا بچے ہر اک ہی اس بات پر ایمان لا کر خود کو بھی برائیوں سے بچانے اور نیکیوں کے لئے تیار رہنے پر آمادہ کرلیا کرتا تھا ۔۔
خود ٹی وی نشریات میں سے بھی گانے بجانے نکال دیئے جاتے تھے اس کے باوجود بھی گھروں میں رمضان کا مہنیہ ٹی وی تقریبا بند ہی کر دیا جاتا تھا۔
پھر ماحول بدلا اور نیا زمانہ نئی شامیں ہی نہیں بلکہ نئی راتیں نئی صبح بھی لیکر آیا اور وہ بھی ایسی طوفانی کہ اس نے سب کچھ تہس نہس کرڈالا یہاں تک کہ اس نے سب بڑی جو ضرب لگایی وہ یہ تھی کہ ہم سے ہمارے رب کو ہی چھین لیا ۔
وہ مہینہ جو گناہوں سے پاک کرنے کا باعث بنایا رب نے جس میں نامراد رہ جانے والوں کے لیئے روح امین ( جبریل ؐ ) کی زباں سے بدعا کروائی اور رحمت اللعالمین ﷺ کی زباں سے آمین کہلاوائی ” فرمایا
جبریل نے مجھ سے کہا
” جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور پھر بھی اپنی بخشش نہ کرواسکے وہ برباد ہوجائے ”
اے محمد ﷺ آپ کہیں آمین ، تو میں نے کہا آمین
زرا تصور کیجیے کہ جس مہینے کو گناہوں کا کفارہ بنا دیا گیا تھا اسی مہینے میں گناہوں کی ایسی کثرت کھلے عام اس کے احکامات کی نافرمانی کیا اس رب کو چیلینج کرنا نہیں ؟؟؟
اس میں رب نے ایسے اوقات سے نوازا جن میں دعاوں کی قبولیت کی خوشخبری دی گئی اور اللہ سے قربت کی ساعتیں قرار پائیں “سحر و افطار” ان اوقات کے بارے میں نبیﷺ کی کتنی ہی احادیثیں ہیں جو ان کی فضیلت و اہمیت بیان کرتی ہیں ۔۔۔۔
خاص انہی اوقات کو نشانہ بنایا گیا اور انہی اوقات میں شیطان کے چیلوں نے یوں نقب لگوائی کہ وہ سحر اور افطار کے اوقات جورب کے سامنے گریہ وزاری میں گزرا کرتے تھے اب وہ شاگردان شیطان کے کھیل تماشوں کی بھینٹ چڑھادیئے گئے
میرے رب نے کہا مجھ سے مانگو کہ اس نے سیل لگا دی آؤ مجھ سے مانگو میں ایک کیساتھ ستر دونگا اور دیکھو میں تمہاری عزت نفس کو مجروع بھی نہیں ہونے دونگا کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوگی کہ تم نے مجھ سے کچھ مانگا ۔۔ کہ اس کے ہاں تو وہ عبادت جو تنہائی میں کی جائے سب سے افضل ٹھہرا کرتی ہے
جن دلوں میں کبھی نیکیوں اور رحمتوں کی بہاریں سمیٹنے کی طلب ہوا کرتی تھی اب ان کی جگہ گاڑی، موٹر سائیکل ،فردوس کی لان سے لیکر کیو موبائل کی ہوس نے لے لی
اور اس قوم کی اجتماعی عزت نفس کو یوں کچلا جارہا ہے کہ رمضان کے پاک مہینے میں سرعام اک مداری ایک لڑکی سے کہتا
” ٹھمکے لگاؤ گی تو دونگا ”
اور یہ تماشہ پھر ایسا چلا کہ ہر ایک نے اپنی دوکان سجا لی سب سے آگے میں کی دوڑ میں ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر خود کو بے غیرت ثابت کرنے پر تلا نظر آتا ہے ۔۔

ماہ رمضان آخری عشرہ میں قدم رکھ چکا ہے وہ عشرہ کے جس میں اللہ نے ہزار مہینوں سے بڑھ کر وہ رات رکھ دی اور حکم دیا کہ اسے تلاش کرو اور اپنے رب کا قرب پانے کے لیئے معتکف ہوجاو تاکہ تماہری اس تلاش کے نتییجے میں تمہیں وہ سب عطا کر دیا جائے کہ جس کی خواہش میں تم در بدر پھرتے ہو اور وہ بھی جو اصل کامیابی ہے یعنی اسکی مغفرت ۔۔۔۔۔ اللہ منتظر ہے کیا ہم بھی تیار ہیں ؟؟؟
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم سنبھل جائیں اور توبہ کرلیں اور خود کو اس ” لہوالحدیث ” کے فتنہ میں غرق ہونے سے بچالیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اسی کھیل تماشے میں پڑے رہ جائیں اور جبریل کی زباں سے کی گئی بدعا اور آقا ﷺ کی زباں سے کہی آمین کی ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے ۔۔۔۔۔
وقت بہت کم مگر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔۔۔!!

کیو موبائل کا اشتہار، اوریا مقبول جان کی تنقید اور بعض احباب کا رویہ

تحریر : شمس الدین امجد

سید منورحسن صاحب زمانہ طالب علمی میں کمیونسٹ طلبہ تنظیم این ایس ایف سے وابستہ تھے۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ اچھا زمانہ تھا این ایس ایف میں تھے تو جمعیت والوں سے ایک میز پر آمنے سامنے بحث ہوتی تھی اور وہیں سے اٹھ کر ساتھ چائے پینے چلے جاتے تھے۔ جمعیت میں آئے تو سائیڈ بدل گئی، معمول مگر وہی رہا۔ انھی دنوں کا ایک واقعہ سنایا کہ ایک کمیونسٹ دوست نے اپنی شادی میں مدعو کیا تو جمعیت کے احباب کے ہمراہ وہاں چلے گئے۔ نکاح ہونے لگا تو از راہ مذاق اس دوست سے سرگوشیوں میں کہا کہ بھائی صاحب اللہ رسول پر یقین نہیں رکھتے، اسلام کو مانتے نہیں تو یہ نکاح کیسا؟ کھل کر کہیں کہ میں اس فرسودگی پر یقین نہیں رکھتا، بس آج سے میں یہ اور لڑکی ایک ساتھ رہیں گے، نکاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب دوست کی حالت دیکھنے والی تھی، شرمندگی سے ہاتھ باندھے کہتے منور بھائی جانے دیں، سب کے سامنے تو ایسے نہ کریں۔ پھر فرمایا کہ اسے اسلامی کہیں یا معاشرتی، یہ روایات اتنی مظبوط ہیں کہ کوئی ملحد اور دہریہ بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ پاکستانی معاشرہ ذہنی طور پر انتہائی مذہبی ہے، عمل میں نستبا سیکولر ہے مگر انتہائی سیکولرزم یا دہریت کی صورت میں بھی اس میں گناہ اور بخشش کا احساس لاشعور میں موجود رہتا ہے۔ فرد کی زندگی کے بعض سیکولر مظاہر سے یہاں کمیونسٹوں اور سیکولر لابی نے دھوکہ کھایا ہے۔ ان کی مذہب اور معاشرت پر بےجا تنقید فرد کی مذہبی ذہنیت اور اس کے ردعمل میں اضافہ کرتی ہے، یہی ان فکروں کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔
کیو موبائل کے اشتہار پر اوریا مقبول جان کے ردعمل سے بعض احباب ان کے خلاف میدان میں آئے ہیں، سیکولر سوچ کے حاملین کا ردعمل تو بنتا ہے، ایک اوریا صاحب کیا، وہ تو ہر عمل اور ردعمل پر شاکی نظر آتے ہیں۔ مگر ہمارے ایک دوست نے شہری و قبائلی زندگی میں فرق بتا کر فحاشی و عریانی کی کوئی متعین تعریف نہ ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے حالانکہ اسلام اور مسلم معاشرے میں تو اس کی تعریف متعین ہے اور مرد و عورت کے لباس اور نظر اور دونوں کے باہمی تعلق کے حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں۔ معاشرے میں کوئی ان پر عمل نہ بھی کرتا ہو مگر دل میں کہیں نافرمانی کا احساس موجود رہتا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس سے ہمارے احباب پہلوتہی کر رہے ہیں۔
اوریا صاحب پر ایک دلچسپ اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ انھیں شہر میں آ کر فحاشی و عریانی کا اپنا تصور بدل لینا چاہیے تھا۔ گویا اگر کسی دوست کے شہر میں آنے سے اس کے دیہاتی فحاشی و عریانی کے تصور میں کوئی فرق آ گیا ہے تو دوسرے کو بھی لازما ایسا کرنا چاہیے، یہ تنوع کے ان کے اپنے بنیادی اصول کے تو خلاف ہے ہی مگر اسلامی تعلیمات اور احکامات کے بھی بالکل منافی ہے جو شہر و دیہات دونوں کے لیے یکساں ہیں۔ گاہے معاشرت بھی مذہب کا حصہ نظر آتی ہے تو چیزیں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔ شریعت کا اصل حکم تو ستر ڈھانپنا، عورت کےلیے سینے پر اوڑھنی ڈالنا اور مرد و عورت دونوں کا نظر نیچے رکھنا ہے، اب کہیں شٹل کاک برقع مروج ہے اور کہیں دوسرا، اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ شہر و دیہات کی تفریق سے تصور میں کوئی فرق آیا ہے، درست نہیں ہے، بلکہ مروج میں بھی کہیں کمی کوتاہی ہوگی تو ایک احساس باقی رہے گا کہ اسے دور ہونا چاہیے۔
اوریا صاحب نے اس ایشو پر اپنے پروگرام میں بات کی تو ان کے مخالفین میدان میں آ گئے ہیں ورنہ اس پر بات تو سوشل میڈیا پر کئی دنوں سے ہو رہی تھی، پوسٹس ، ڈیزائنز اور ٹوئٹر پر بحث کی صورت میں، اگر کسی کی نظر سے وہ نہیں گزری تو اس کا یہ مطلب کیسے ہوا کہ اس پر کوئی بات یا بےچینی نہیں تھی۔ ہمارے ہاں چونکہ سیکولر لابی اوریا صاحب کے بولڈ مئوقف کی وجہ سے ان پر خاص طور پر مہربان ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی اور شعائر اسلام کے بارے میں ایک واہیات بکنے والے کی حمایت میں بھی صرف اوریا صاحب کی مخالفت کی وجہ سے کھڑی ہو جاتی ہے۔ دلیل کا معیار اگر اوریا صاحب کی حمایت یا مخالفت ہے تو اس سے تو خود دلیل بھی کہیں شرما جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ اوریا صاحب نے معاشرے کی واضح اکثریت کے جذبات کی ترجمانی کی۔ میرے جیسا دیہاتی آدمی جسے اب لاہور میں 17 سال ہونے کو ہیں، وہ اب بھی انھی خیالات کا حامل ہے جو اوریا صاحب نے بیان کیے ہیں، اور جس پر اعتراض وارد ہوا ہے۔ شہر میں آنے یا ایسی فحاشی دیکھنے یا اس میں مبتلا ہونے سے معیار کیونکر اور کیسے بدل جائے گا۔ کوئی اگر مغرب میں ہے اور غسل آفتابی کا لباس پہنے کسی خاتون کو دیکھنے سے بالفرض اگر اس کے جذبات برانگیختہ نہیں ہوتے تو وہاں بسنے والے ایک مسلمان کے لیے کیسے جواز تلاش کیا جا سکتا ہے اور فحاشی کی تعریف کیسے بدلی جا سکتی ہے کہ اکثریت اسے برا نہیں سمجھ رہی تو تم بھی نہ سمجھو۔ خود یہاں پاکستان میں بھی ایک طبقے کےلیے تو زنا بھی فحاشی کے زمرے میں نہیں آتا، شراب بھی اس کے لیے حلال ہے اور وہ عملا ایسے مادر پدر آزاد معاشرے کےلیے کوشاں بھی ہیں کہ جہاں شباب اور شراب پر کوئی قدغن نہ ہو تو کیا اس طبقے کی یہ رائے قبول کر لی جائے کہ اسے برا نہیں لگتا تو مروج ہو جائے۔
سیکولر اور کمیونسٹ مخصوص مردانہ معاشرے یا مخصوص مردانہ ذہنیت کا طعنہ دیتے ہیں مگر کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ایک لڑکی کو جب مطلوبہ آزادی ملتی ہے تو وہ ایک سے زیادہ جگہوں پر انھی آزادی دلانے کے دعویدار مردوں کے استحصال کا شکار ہوتی ہے، ہوس کا نشانہ بنتی ہے۔ اپنے آپ کو ثابت کروانا اگر کسی مرد کی ہوس کا شکار ہو کر خودکشی پر مجبور ہونا ہو تو اس سے گھر میں رہنا بھلا نہیں ہے۔ اشتہار کرکٹ سے متعلق ہے تو کیا ملتان کی خاتون کرکٹر یاد نہ رکھی جائے جس نے کرکٹ میں خواتین کے استحصال کی بات کی، سلیکشن کےلیے خود مقامی ایسوسی ایشن کے صدر اور سلیکٹر کی دست درازی کا شکار ہوئی، مزید کئی لڑکیوں کے بارے میں بتایا اور کہیں شنوائی نہ ہونے پر خودکشی پر مجبور ہو گئی۔ خیال رہے کہ بالعموم ان معاملات و اداروں میں لڑکی ہوس کا نشانہ انھی سیکولر خیالات کے حاملین کے ہاتھوں بنتی ہے، پاکستان چھوڑیے خود یورپ و امریکہ کے بارے میں چشم کشا رپورٹس دیکھ لیجیے جہاں کے بارے میں سیکولرز کا خیال ہے کہ آزادی دینے اور جنس کی فراوانی سے وہاں جنسی حوالے سے طبیعتوں میں ٹھہرائو پیدا ہو گیا ہے، وہاں عورت کس قدر جنسی استحصال اور دست درازیوں کا شکار ہے۔
اس طرح کے معاملات سے جو معاشرتی خرابیاں جنم لیتی ہیں ، وہ کیا سیکولر اور کیا مذہب پسند، دونوں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، سیکولر کا مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسے خرابی سمجھتا ہی نہیں بلکہ اس کا حتمی ہدف ہی عورت تک پہنچنے کی ایسی آزادی کا حصول ہے جہاں آزادانہ طور پر محفلیں سجائی جا سکیں اور عورت سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔ مذہب پسند فرد اور معاشرے کا معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے، اور وہ اس کےلیے اسلامی تعلیمات و احکامات کی پابندی کو ضروری خیال کرتا ہے۔ اور یہ وہ بنیادی فرق ہے جسے اوریا صاحب جیسے حضرات معاشرے کی نمائندگی کرتے ہوئے برقرار رکھنا چاہتے ہیں کہ گناہ اور کمی کوتاہی اپنی جگہ اور اس کی کسی بھی وقت اصلاح ہو سکتی ہے مگر کم ازم کم اسلامی احکام تو بطور اصول واضح اور سامنے رہنے چاہییں۔ سیکولر لابی اور ‘معتدل’ احباب کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ردعمل اور متشدد سوچ کا رونا روتے ہیں لیکن اپنے طور پر وہ خود کئی گنا زیادہ متشدد سوچ کے حامل نظر آتے ہیں جو کسی شخص کے بارے میں سانچہ پہلے بناتی ہے اور پھر اسے اس میں فٹ کرکے اصول و احکام کے بارے میں بھی فیصلہ سنا دیتی ہے۔

” نام تو ان کا بھی حمزہ ہی تھا “

ابھی اسلام مغلوب تھا اور ہر جانب سے اس پر نشتر زنی کی جارہی تھی، ۔۔۔
طعنہ یہ دیا جاتا تھا کہ بس کمزور اور پسے ہوئے لوگ ہی اس کے دامن میں پناہ لے رہے ہیں
اور ابھی تو کوئی کھل کر اپنے اسلام کو ظاہر کرتا تو زیر عتاب آجاتا تھا ۔۔۔۔۔
ایسا ہی ایک موقع تھا جب کعبہ میں داخلے پر ابوجہل مسلمانوں سے جھگڑتا اور کافروں کو پکار پکار کر بلاتا ہے۔ گنتی کے چند مسلمانوں پر کافرغالب ہوجاتے ہیں
اسی اثنا میں دور سے کہیں سفر سے ایک قوی نواجوان (جن کا پورے مکہ میں ایک رعب و دبدبہ ہے ) لوٹتے اور سرپٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے وہ جھگڑنے والوں کے درمیان پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔
نگاہ ڈالتے ہیں تو ہر مسلمان کے جسم کے کسی نہ کسی حصہ سے خون بہہ رہا ہے ۔۔۔۔
ان کو درمیان میں پاکر ایک دم سناٹا چھا جاتا ہے کہ ان کی دہشت ہی ایسی ہے ۔۔۔
سوال کرتے ہیں : کیا معاملہ ہوا ؟
ایک زخمی صحابی بتانے لگتے ہیں کہ ہم کعبہ میں جا رہے تھے تو اس نے ہمیں روکا ۔۔۔
اسے درمیان میں کاٹ کر ابو جہل چیختا ہے یہ ” محمد ” کے ساتھی ہیں اور محمد جھوٹا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دم کمان گھومتی ہے اور ابو جہل کا سرپھاڑ ڈالتی ہے ۔۔۔۔
اور فضا گونج اٹھتی ہے
’’ میں بھی محمد ؐکے دین پر ہوں، وہی کہتا ہوں جو وہ کہتا ہے اگر تجھ میں کچھ ہمت ہے تو آ میرے سامنے کچھ بول ۔۔۔۔!!
فضا اس بازگشت کو لیئے
” آج سے میں محمد کا ساتھی ہوں ”
آسماں سے جا ٹکراتی ہے پھر لوٹ کر آتی ہے اور سارے مکہ میں ایک شور بپا کردیتی ہے کہ اہل مکہ کا پہلا قوی اور جی دار بہادر آدمی
اسلام قبول کرنے کا یوں کھلم کھلا اعتراف کر رہا ہے ۔۔۔۔
دو شخصیات کی آمد نے اسلام کوجو قوت اور طاقت بخشی وہ تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی،
پہلا نام تو یہی اعلان کرنے والے حضور نبی کریم ﷺ کے چچا جناب سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے امیرالمئومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

آج بھی سامنے ایک نیا موڑ ہے جہاں خاتم النبیین ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے حق میں نئی بحث کا آغاز ہوا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔
کاش صاحب نے اس ہستی کے بارے میں پڑھاہوتا کہ جن کے اسم گرامی پر اس کا نام رکھا گیاتو یقینا معاملہ اس کے الٹ ہوتا ۔۔۔۔
مگر اس سارے ماحول کے پیرائے میں یہ صورتحال طمانیت کا احساس لائی کہ ۔۔۔
بیانیوں کی جنگ ہو یا شان رسالت ﷺ کا معاملہ ۔۔۔۔
اس ملک کو سیکولو بنانے کی سازش ہو یا ختم نبوت ﷺ اور ناموس رسالت ﷺ پر مغرب کا دبائو۔
جب جب لوگ اپنے کھیل تماشوں میں مگن ہونے لگتے ہیں اور دین کو بے سہارا ہونے کا خدشہ لاحق ہونے لگتا ہے تو ۔۔۔۔
عین اسی لمحے اللہ کہیں نہ کہیں کوئی ابو جہل کھڑا کر دیتا ہے۔۔۔۔
اور پھر دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے کہ یہ شکیرا کے دیوانے ۔۔۔
رات رات بھر کترینہ کی فلمیں دیکھنے والے ۔۔۔۔
شاہ رخ خان کا ہیئر سٹائل اپنانے والے ۔۔۔
گجنی کی محبت میں اپنے سروں پر آڑے ترچھے بلیڈ پھروانے والے ۔۔۔۔۔
اپنے رسول ﷺ کا نام آتے ہی کیسے بیدار ہوتے ہیں اور کیسے اپنے دین کا اپنے مذہب کا دفاع کرتے ہیں ۔۔۔۔
اور یہ لمحہ واقعی قابل دید ہوتا ہے جب ملک کو سیکولرلبرل بنانے کے خواہش مند اپنی محنت کو ضائع جاتا دیکھ کر اپنی انگلیاں دانتوں سے کاٹنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔۔۔
بس کہنے کی بات یہ کہ ہر دور کے ابو جہل نے منہ کی کھائی اور یہ اللہ کی تدبیر کہ اس نے کس سے کیا کام لیا ۔۔۔۔۔
واہ رے مولا تیریاں تدبیراں تو ای جانے ۔۔۔۔

Pages