مذہب فلسفہ اور سائنس

قرآن تفصیلا لکل شیء (ہرچیزکی تفصیل)ہےاسکےبعدحدیث ضرورت ؟

اعتراض کے مختلف انداز :
1. قرآن ہی کافی ہے، حدیث کی کیا ضرورت ہے؟
2. قرآن میں وحی کی پیروی کرنے کا تذکرہ ہے اور وحی صرف قرآن ہے!
3. قرآن میں کل شیء (ہر چیز) کی تفصیل اور وضاحت ہے لہٰذا حدیث کی کیا ضرورت ہے؟
4. قرآن کی تفسیر کے لیے اگر حدیث کی ضرورت ہو تو پھر قرآن کو حدیث کا محتاج ماننا پڑے گا!
جواب:
کیا قرآن کریم تشریح طلب ہے؟
کئی مقامات پر قرآن مجید میں بظاہر یہ دعویٰ نظر آتا ہے کہ اس کی آیات کریمہ جو کہ سمجھنے کے لیے آسان اور معانی کے اعتبار سے واضح ہیں، خود اپنی ہی تشریح ہیں۔ لہٰذا اس کے لیے کسی بیرونی تفسیر کی حاجت نہیں ہے، لہٰذا پیغمبری تشریحات کو اتنی اہمیت کیوں دی جائے؟
موضوع کے اعتبار سے مشترک بہت سی آیات کریمہ کے یکجا مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم بنیادی طور پر دو قسم کے موضوعات سے تعرض کرتا ہے۔ ایک تو وہ جن کا تعلق سادہ حقائق اور ان کے عمومی بیانات سے ہے اور جس میں سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی گم گشتہ امتوں کے واقعات، بنی نوع آدم پر اللہ تعالٰی کے احسانات کا ذکر، زمینوں اور آسمانوں کی تخلیق، اللہ تعالٰی کی حکمت و قدرت کے کائناتی مظاہر، جنت کی نعمتوں، دوزخ کے عذاب اور دیگر ملتے جلتے مضامین بیان کئے گئے ہیں۔
موضوعات کی دوسری قسم میں شریعت کے قوانین اور علتیں، اسلامی قانون کے متفرق پہلو، نظریاتی معاملات کی تفاصیل، احکام کے مصالح اور حکمتیں اور اسی قسم کے علمی موضوعات شامل ہیں۔
پہلی قسم کے موضوعات جن کے لیے قرآن کریم میں “ذکر” ( نصیحت، موعظت، درس) کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے یقیناً سمجھنے میں اس قدر آسان اور عام فہم ہیں کہ کوئی ناخواندہ شخص بھی کسی دوسرے کی مدد کے بغیر ان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ قرآن کریم اسی قسم کے موضوعات کے بارے میں کہتا ہے۔وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴿القمر:٢٢﴾” اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کر دیا ہے، سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔” (۲۲ – ۵۴)
یہاں للذکر ( نصیحت حاصل کرنے کےلیے) کے الفاظ بڑھا کر قرآن کریم نے اس طرف اشارہ کر دیا ہے کہ قرآن مجید کا عام فہم ہونا پہلی قسم کے موضوعات سے تعلق رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر آیت کریمہ کا زور قرآن کریم سے سبق حاصل کرنے اور اسی مقصد کے لیے اس کے آسان اور عام فہم ہونے پر ہے۔
اس سے یہ مسئلہ قطعاً نہیں نکالا جا سکتا کہ قانونی نزاکتوں کے استنباط، اسلامی قوانین کی تشریحات اور نظریاتی مباحث پر بھی اس کے آسان اور عام فہم ہونے کا اسی طرح اطلاق ہوتا ہے۔ اگر اس قسم کے موضوعات کی تشریح اور تعبیر بھی ہرکس و ناکس کے لیے عام ہوتی خواہ اس کی علمی صلاحیت کتنی ہی کم کیوں نہ ہو، تو قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کتاب کی ” تعلیم” اور ” تفسیر” کے فرائض ہرگز تفویض نہ کرتا۔ ایسی آیات کریمہ کے حوالے سے، جو تشریح طلب ہیں خود قرآن کریم میں ارشاد ہے۔وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ ۖ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ ﴿العنکبوت:٤٣﴾” اور ہم ان قرآنی مثالوں کو لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور ان مثالوں کو بس علم والے ہی لوگ سمجھتے ہیں۔” (۴۳- ۲۹)
اس سے واضح ہوا کہ پہلی قسم کے موضوعات کے ” آسان اور عام فہم” ہونے کا مطلب ایک ایسے پیغمبر کی ضرورت کا انکار قطعاً نہیں ہے جو قرآن کریم کے قانونی معاملات اور علمی نتائج کی تشریح کر سکے۔

٭اعتراض ٭:
انکارِ حدیث کے لئے سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہ تلاش کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید میں ہر مسئلہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے، اس لئے حدیث کی ضرورت نہیں ۔اس کے ثبوت میں قرآن مجید کی صفت اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (النحل:۸۹) یعنی اس میں ہرچیز کوکھول کھول کربیان کردیا گیا ہے، سورۂ نحل میں ہے وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (النحل:۸۹) وَهُوَالَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا (الانعام:۱۱۴) اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا مَافَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام:۳۸) کہ ہم نے قرآن میں کسی بھی چیز کا حکم بیان کرنا نہیں چھوڑا ہے؛ لہٰذا جب قرآن کریم میں اس درجہ جامعیت ہے کہ ہرچیز کوبیان کردیا گیا تواب کسی دوسری دلیل کی کیا حاجت باقی رہ جاتی ہے جوحدیث کا سہارا لیا جائے؟۔

٭تبصرہ٭ :
قرآن کریم کی جامعیت کا دعویٰ:
آیت :”وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ”۔(النحل:۸۹)
ترجمہ: اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب اتاری جو ہر چیز کا کھلا بیان ہے ہدایت اوررحمت ہے اورماننے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔
قرآن کریم کی مذکورہ بالاآیت بتارہی ہیں کہ قرآن کریم نہایت جامع اور مکمل کتاب ہے اور اس میں ہر انسانی ضرورت کا پورا پورا حل موجود ہے،قرآن کریم کی جامعیت کا یہ دعویٰ کہاں تک حالات سے ہم آہنگ ہے؟اورزندگی کے تمام مسائل کیا اپنی پوری تفصیل کے ساتھ ہمیں اس میں ملتے ہیں یا نہیں؟ اس پر ذرا اور غور کیجئے، یہ حقیقت ہے اور اس کے تسلیم کرنے سے چارہ نہیں کہ بہت سے قرآنی احکام ایسے مجمل ہیں کہ جب تک اور کوئی ماخذ علم ان کی تفصیل نہ کرے ان کی عملی تشکیل نہیں ہوسکتی اور زندگی کے لا تعداد مسائل ایسے بھی ہیں جن کے متعلق واضح جزئی ہمیں قرآن کریم میں نہیں ملتی،پس قرآن کریم کی جامعیت کی تشریح ایسی ہونی چاہئے جس سے یہ دعویٰ واقعات سے ہم آہنگ بھی ہوسکے۔

٭قرآن کریم کی جامعیت کا صحیح مفہوم٭
آج تک کسی نے قرآن کریم کی جامعیت کا یہ مفہوم نہیں لیا کہ اس کی کسی آیت میں کوئی اجمال (Brevity) یا کسی بیان میں کوئی تقیید (Particularisation) نہیں ، اس نے ہر باب کی غیر متنا ہی جزئیات کا بھی احاطہ کرلیا ہے اور ہر حکم کی تمام حدود اور تفصیلات (Details) اس نے بیان کردی ہیں نہ یہ کسی کا دعویٰ ہے نہ اس کا کوئی قائل ہے،قرآن کریم کی جامعیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس میں تمام انسانی ضرورتوں کا حل ملتا ہے اور لا تعداد جزئیات کے احکام کے اصول وکلیات اورضوابط کی شکل میں اس میں موجود ہیں، علامہ شاطبیؒ (۷۹۰ ھ) لکھتے ہیں:
ترجمہ: قرآن مجید مختصر ہونے کے باوجود ایک جامع کتاب ہے اور یہ جامعیت تبھی درست ہوسکتی ہے کہ اس میں کلیات کا بیان ہو۔ (الموافقات:۳/۱۳۲)
پس جب قرآن پاک میں ایسے اصول و کلیات ہیں جن کے تحت لا تعداد جزئیات کا فیصلہ قرآن کریم کی جامعیت کی تصدیق کرے تو یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ ان مواقع پر قرآن کریم کی اصولی دعوت کیا ہے؟ وہ ان کلیات کی تفصیل کے لیے کس کی طرف رجوع کرنے کا کہتا ہے؟
قرآن کریم نے اپنے احکام وارشاد کے ساتھ ساتھ ایک عظیم شخصیت کا تعارف بھی کرایا ہے اوراس کو اپنے ساتھ لازم کیا ہے، قرآن کریم مسلمانوں کو اس کے عمل سے اسوۂ حسنہ کی دعوت دیتا ہے، یہ ایک ایسی اصل عظیم ہے جس کے تحت ہزاروں مجملات کی تفصیل اور لاکھوں جزئیات کا حل مل جاتا ہے،قرآن کریم کی اس دعوت کے تحت اس اسوہ حسنہ کی تعمیل عین قرآن پاک کی تعمیل شمار ہوگی،یہ کلیدی آیات ہیں جن کے تحت لا تعداد مسائل حل ہوجاتے ہیں.
چند آیات ملاحظہ کیجئے۔
(۱)”لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ”۔ )الاحزاب:۲۱)
ترجمہ: بے شک تمہارے لیے رسول اللہﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
(2)”یَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ”۔ (النساء:۵۹)
ترجمہ: اے ایمان والوحکم مانو اللہ کا اورحکم مانو(اس کے) رسول کا۔
(3)”مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ”۔ (النساء:۸۰)
ترجمہ: جو اللہ کے رسول کی اطاعت کرتا ہے پس بیشک وہ اللہ کی اطاعت کرچکا۔
یہاں رسول کی اطاعت صیغہ مضارع (Present) سے بیان فرمائی جو رہتی دنیا تک جاری رہے گی اوراللہ کے اطاعت کو ماضی (Past) سے تعبیر فرمایا کہ مومن ایمان لانے کے ساتھ ہی اسی اصول کو تسلیم کرچکا تھا کہ زندگی کی ہر ضرورت میں رسول کی اطاعت کی جائے گی اوراسی کے تحت وہ اطاعت رسول کررہا ہے، یہ وہ کلیدی آیات (Key Verses) ہیں جن کے تحت جمیع جزئیات حدیث آجاتی ہیں اورقرآن کریم جمیع تعلیمات رسول پر حاوی قرار پاتا ہے۔

٭اگر احادیث حجت نہیں ہیں تو مندرجہ ذیل سوالات کا جواب ہمیں کہاں سے ملے گا؟ ٭
٭ قرآن میں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نماز کی حالت میں کھڑے ہونے، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کا ذکر بھی قرآن میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نماز میں پہلے کھڑے ہوں یا پہلے رکوع کریں یا پہلے سجدہ کریں؟ لغت میں ’’رکوع‘‘ کا معنی ہے جھکنا، سوال یہ ہے کہ آگے جھکیں، یا دائیں جھکیں یا بائیں جھکیں؟ پھر رکوع کی حالت میں ہاتھ کہاں ہوں؟ اسی طرح سجدہ کیسے کریں؟ سجدہ ایک کریں یا دو کریں؟
٭ قرآن میں زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نہ دینے والوں کو سخت عذاب کی دھمکی بھی دی گئی ہے جس جس قسم کے لوگوں پر زکوٰۃ خرچ کرنی ہے، انھیں بھی بتا دیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ زکوٰۃ کم از کم کتنے مال پر فرض ہے؟ کتنے فیصد فرض ہے؟ اور کب کب فرض ہے؟
٭ قرآن میں جن جانوروں کو حرام اور جن کو حلال قرا ردیا گیا ہے، انکے علاوہ بقیہ جانور حلال ہیں یا حرام؟ مثلا کتا، بلی، گیڈر، بھیڑیا، چیتا، شیر، تیندوا، بندر، ریچھ، ہرن، چیتل، سانبھر، بارہ سنگھا، بھینسا، خرگوش، کوا، چیل، باز، شکرہ، کبوتر، مینا، فاختہ وغیرہ وغیرہ۔ قرآن کریم نے میتۃ یعنی از خود مر جانے والے جانور کوحرام قرار دیا ہے؟ سوال یہ ہے کہ مچھلی جب پانی سے باہر آتی ہے تو مر جاتی ہے، تو اس کا کیا حکم ہے۔ اس کی حلت کو قرآن سے ثابت فرمائیے یا مچھلی کھانا چھوڑیے ۔
٭ قرآن میں حکم ہے کہ مسلمان جنگ میں کفار کا جو مالِ غنیمت حاصل کریں، اس کے پانچ حصے کر کے ایک حصہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے نام پر الگ نکال دیا جائے جو یتیموں، مسکینوں اور حاجت مندوں وغیرہ میں بانٹ دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ باقی چار حصے کیا کیے جائیں؟ تمام مجاہدین پر برابر برابر بانٹ دیئے جائیں یا فرق کیا جائے؟ اگر ان سب کو برابر دیں تو کیوں دیں؟ اور اس کا ثبوت قرآن میں کہاں ہے؟ اور اگر فرق کریں تو کس حساب سے فرق کریں؟ قرآن سے اس کا حساب بتایے اور اگر سالار کی رائے پر چھوڑ دیں تو قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ سالار کی رائے پر چھوڑ دیں؟
٭ قرآن میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھوں کو کاٹ دو۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کاٹیں یا ایک ہاتھ؟ اور اگر ایک ہاتھ کاٹیں تو داہنا کاٹیں یا بایاں؟ پھر اسے کاٹیں تو کہاں سے کاٹیں؟
٭ قرآن میں یہ ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ سوال یہ ہے کہ جمعہ کے دن کب پکارا جائے؟ کس نماز کے لیے پکارا جائے؟ کن الفاظ کے ساتھ پکارا جائے؟ جس نماز کے لیے پکارا جائے، وہ نماز کیسے پڑھی جائے؟

اس طرح کے ہر شعبے اور موضوع پر سینکڑوں اٹھائے جاسکتے ہیں ، ان سوالات کو ایک بار غور سے پڑھ لیجئے اور بتائیے کہ اگر قرآن میں ساری تفصیلات موجود ہیں تو انکی تفصیلات کہاں ہیں ؟ قرآن کہتا ہے کہ﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَ‌سولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ (سورۃ الاحزاب 21) آپ بتائیے اس سلسلے میں ‘رسول اللہ ﷺ کا عمل کیا تھا؟ اور اس عمل کی تفصیلات کہاں سے ملیں گی؟ اگر قرآن میں ملیں گی تو کس سورہ، کس پارے، کس رکوع اور کن آیات میں؟ اور حال یہ ہے کہ جو مسائل پیش آتے ہیں،ان کے متعلق قرآن میں رسول اللہ ﷺ کا اُسوہ ملتا ہی نہیں۔ اور اگر کہیں ملتا بھی ہے تو آپ اسے ‘ایرانی سازش’ کہہ کر اس پر تقدس کا خول چڑھا کر لوگوں کو بیوقوف بنانے لگ جاتے ہیں ۔ اب آپ ہی بتائیے کہ اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی چاہنے والے بے چارے کریں تو کیا کریں؟

٭غلام احمد پرویز صاحب کا ایرانی سازش سے استفادہ ٭
پرویز صاحب چوری کی سزاؤں کے بارے میں سنت اور احادیث پر انحصار کرتے ہیں لیکن سنت کو ماخذ قانون بھی نہیں مانتے۔ملاحظہ فرمائیے لکھتے ہیں ”
” چوری کی سزا قطع ید ہے یہ زیادہ سے زیادہ سزا ہے جو قرآن نے متعین کی ہے کس قدر چوری اور کن حالات میں چوری کے جرم میں مجرم اس سزا کا مستحق ہوگا اور کن حالات میں اس سے کم سزا کا سزاوار ہوگا۔ اس کے متعلق فقہ اور روایات دونوں میں تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ روایات (مسلم اور بخاری) میں ہے کہ دینار سے کم کی چوری میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ فقہ میں اس کو نصاب کہتے ہیں بعض کے نزدیک نصاب ایک دینار ہے اور بعض کے نزدیک ربع (ایک چوتھائی) دینار ی یہ تو رہا مقدار کا سوال۔ اب لیجیے احوال و ظروف کو، فقہ کی رو سے چور کو اس تک قطع ید کی سزا نہیں دی جائے گی جب اس نے کسی محفوظ جگہ سے نہ چرایا ہو ‘‘۔ (قرآنی فیصلے ص ۱۶۶)
پھر اس کے بعد مال محفوظ کی تعریف میں ’’سارق کسے کہتے ہیں‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت نسائی کی ایک روایت اور روایت حضرت عمرؓ کا قول اور امام ابن حزم کا ایک قول بطور حجت پیش فرماتے اور نتیجہ یہ پیش فرماتے ہیں کہ: “پہاڑوں پر آوارہ چرنے پھرنے والے جانوروں میں سے اگر کوئی جانور لے جائے تو وہ چور نہیں ہوتا۔ بھوکا شخص باغ سے پھل توڑ کر کھالے تو وہ بھی چور نہیں ہوتا۔ قحط کے زمانے میں چوری کرنے والا بھی چور نہیں ہوتا۔ لہٰذا ان پر قطعِ ید کی حد جاری نہیں ہوگی۔ البتہ قاضی جرم کی نوعیت کے مطابق اسے سزا دے سکتا ہے”۔ (قرآنی فیصلے ص ۱۶۶)
جب احادیث پرویز صاحب کے موقف کی تائید میں ہوں تو ان کا استعمال ایمان کا تقاضہ بن جاتا ہے جب پرویز صاحب کے موقف کی تردید ہو رہی ہو تو احادیث کو عجمیوں کی اختراع اور ایرانی سازش قرار پاتی ہے۔

٭خلاصہ ٭:
قرآن کریم نے کچھ احکام نہایت وضاحت اورصراحت سے بیان کئے ہیں جیسے قانون وراثت، قانون شہادت، قانون حدود، ایمانیات اوراخلاقیات۔ مگر کچھ احکام ایسے بھی ہیں اور یہ بہت سے ہیں جنہیں قرآن کریم نے مجمل طور پر بیان کیا ہے،قرآن کریم میں ان کی پوری کیفیت ادا نہیں ملتی، پھر قرآن پاک میں کچھ ایسے اشارات ہیں جن کی تفصیل اس میں نہیں ہے اور پھر کچھ مشکلات ہیں جن کی وضاحت کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے اور پھر اصول قرآنی کی ایسی توسیعات بھی ہیں جن کی پوری جزئیات کا بیان یہاں نہیں ملتا اورنہ یہ عملاً ممکن ہے۔ انہی تفاصیل کے لیے قرآن کے ساتھ حضور ﷺ کو معلم بنا کے بھیجا گیا اور قرآن میں ہی کہا گیا کہ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَانُزِّلَ إِلَيْهِمْ (النحل:۴۴) یعنی ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن اتارا ہے تاکہ جومضامین لوگوں کے پاس بھیجے گئے ہیں، آپ ان کوکھول کرسمجھادیں۔
منكرين حديث اس آیت کا انکار کرتے ہوئے كتاب كو ہی مفصّل،مُبِين، مُبَيّن اور تبيان كہتے ہيں ۔ لیکن دوسری طرف اللہ تعالىٰ كى تبيين كے بعد خود تفسيريں بھی لكھتے ہیں ۔ ايك مقام اور دوسرے مقام كے درميان جو خلیج رہ جاتى ہے، اسے پُر كرنے كے لئے وہ اپنے ذہن و اجتہاد سے كام ليتے ہيں ، ربط ِمضامين اور استنباط ِنتائج ميں قرآنى آيات كو اپنے فہم اور سمجھ كے مطابق چلاتے ہيں ۔ انکا ہر فرقہ اسی بين، مفصل اور مبين قرآن كو كھینچ تان كركے اپنے ذہنى تصورات پرمنطبق كرنے كى كوشش كرتا ہے- كيا آج لاہور ہى ميں بلاغ القرآن والوں اور طلوعِ اسلام والوں كى يہى كيفيت نہيں ہے؟
يہ تو رہى منكرين حديث كے مختلف فرقوں كى كيفيت، خود پرويز صاحب كى كيفيت يہ ہے كہ وہ اس ميں مفصل ، مبين، مبين قرآن كى آيات كو فضاے دماغى ميں اُٹھنے والى ہر لہر كے ساتھ اپنے تازہ ترين ذ ہنى مزعومات پر كھینچ تان كے ذريعہ منطبق كرتے رہے ہيں – ان كے وسيع خار زار تضادات كى آخر اس كے سوا كيا وجہ ہوسكتى ہے؟اگر ان كے نزديك “اللہ كى تبیانا لکل شئی كے بعد، مزيد كسى تبيين كے كوئى معنى نہيں ہيں تو پهر ‘مفكر ِقرآن’ صاحب كى يہ ‘تفسير مطالب الفرقان‘، يہ ‘قرآنى فيصلے‘، يہ ‘قرآنى قوانين’، يہ ‘تبويب القرآن’، يہ ‘لغات القرآن‘، يہ’مفہوم القرآن‘ يہ سلسلہ ہائے ‘معارف القرآن‘ وغيرہ كتب ، اگر قتل اوقات (Time Killing) كى خاطر بهى نہيں تهى، تو پهر پيٹ كے جہنم كو ايندهن فراہم كرنے كى پيشہ وارانہ ضرورتوں ہى كا تقاضا تها؟
كتاب لے كر تشریح پیغمبر كو نہ لينا، نہ صرف يہ كہ تعليم بلا عمل، كتاب بلاپيغمبر اور قرآن بلا محمد كے نرالے مسلك كو اختيار كرنا ہے بلكہ اسى منصب ِرسالت كى تكذيب كرنا بهى ہے جس كا تقاضا ہى يہ ہے كہ رسول كتاب كى تشريح و تفسیر اورتبیین و توضيح كرے- اس كا انكار نفس رسالت ہى كا انكار ہے۔
ہم اس اعتراض کے جواب میں پہلے بھی تفصیلا ایک تحریر میں پیش کرچکے ہیں یہ لنک ملاحظہ کیجیے :

کیامحمدؐکی اطاعت صرف عہدنبوت کےلوگوں کیلئےہی ضروری تھی؟

یہ شبہ حجیت حدیث کے منکر حلقوں کی جانب سے اکثر بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ مسلمانوں پر سردار اور حاکم تھے اس لیے مسلمانوں کو آپ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کا حکم دیا گیا لیکن پھر جب آپ ﷺ کا وصال ہو گیا تو آپ ﷺ کی ذاتی اطاعت لازمی نہ رہی بلکہ اب جو کوئی بھی سربراہ اور حاکم بنے گا وہ اسی اطاعت کا حقدار ہو گا اور مسلمانوں پر اس کی پیروی لازمی ہو گی۔

قرآن اس بارے میں کیا کہتا ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک محدود وقت اور مخصوص قوم کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئےتھے یاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تمام بنی توع انسان اور ہر زمانے کے لیے عام ہے آیئے اس سوال کا جواب خود قرآن کریم میں تلاش کریں ۔ چند آیا ت پیش ہیں :

قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ إِ نِّی رَسُوْلُ اللّٰہ إِلَیْکُمْ جَمِیْعاً (الاعراف :۱۵۸)
(اے محمد) کہہ دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ﴿سبا:٢٨﴾
اور (اے محمد) نہیں بھیجا ہم نے تم کو مگر تمام انسانوں کی طرف بشارت دینے والا متنبہ کرنے والا بنا کر۔

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ﴿الانبیاء:١٠٧﴾
” اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہاں کے لوگوں پر مہربانی کرنے کے لیے۔” (۱۰۷ – ۲)

تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ﴿الفرقان:١﴾
” بڑی عالیشان ذات ہے جس نے یہ فیصلہ کی کتاب اپنے بندہ خاص پر نازل فرمائی تاکہ وہ ( بندہ) تمام دنیا جہاں والوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔” (۱ -۲۵)

وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ شَهِيدًا ﴿النساء:٧٩﴾
” اور ہم نے آپ کو لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالٰی گواہ کافی ہیں۔” (۷۹ – ۴)۔

اور کل بنی نوع انسان کو اس طرح مخاطب کیا گیا ہے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِن رَّبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿النساء:١٧٠﴾
” اے تمام لوگو! تمہارے پاس (یہ) رسول (ﷺ) سچی بات لے کر تمہارے پروردگار کی طرف سے تشریف لائے ہیں سو تم یقین رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا اور اگر تم منکر رہے تو خدا تعالٰی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور اللہ تعالٰی پوری اطلاع رکھتے ہیں کامل حکمت والے ہیں۔” (۱۷۰ – ۴)

ان آیات کریمہ کے لیے کسی وضاحت و تفصیل کی ضرورت نہیں یہ خود تشریحی آیات اس امر پر ناطق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی مخصوص قوم کی طرف نہیں بلکہ تمام بنی نوع آدم کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی رسالت نہ تو کسی زمانے تک مخصوص ہے اور نہ کسی علاقے تک محدود۔قرآن کریم میں یہ بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی ذات اقدس پیغمبروں میں سب سے آخری ہے اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا پیغمبر آنے والا نہیں ہے۔
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿الاحزاب:٤٠﴾
“محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ﷺ ہیں سب نبیوں کے ختم پر ہیں۔ اور اللہ تعالٰی ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔” (۳۳-۴۰)
اس آیت کریمہ میں صاف بتلایا گیا ہے کہ پیغمبروں کے سلسلۃ الذھب میں رسول اکرم ﷺ آخری پیغمبر ہیں۔ سابقہ پیغمبر اکثر کسی خاص قوم اور خاص زمانے کے لیے مبعوث کئے گئے تھے۔ کیونکہ ان کے بعد دوسرے پیغمبر بھی آنے والے تھے لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی پیغمبر کو نہیں آنا تھا۔ لہٰذا آپ ﷺ کی رسالت و نبوت کی وسعت تمام زمانوں اور تمام اقوام تک ہے اور یہی بات خود آنحضرت ﷺ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔”بنی اسرائیل کی رہنمائی پیغمبر کیا کرتے تھے۔ جب کبھی کسی پیغمبر کا انتقال ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرا پیغمبر لے لیتا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے کافی تعداد میں ہوں گے۔( صحیح بخاری باب نمبر ۵۰ انبیاء، حدیث نمبر ۳۴۵۵)”
اس کے علاوہ اگر رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت کا دائرہ اثر اگلی نسلوں تک وسیع نہ ہوتا تو بعد کی نسلوں کے افراد پیغمبری رشد و ہدایت اور رہنمائی سے محروم رہ جاتے جبکہ سنت اللہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کسی شخص کو پیغمبرانہ رہنمائی سے محروم نہیں رکھتا۔ چنانچہ مندرجہ بالا آیات اور گفتگو کی روشنی میں اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا کہ نبی اکرم ﷺ تمام اقوام پر تا ابد تمام زمانوں کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

چند مزید نکات:

۱ ۔ جب کبھی اور جہاں کہیں بھی قرآن مجید نے آنحضرت ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے وہاں ہمیشہ “رسول کی اطاعت” کے الفاظ اختیار کئے گئے ہیں اور کسی بھی جگہ “سربراہ کی اطاعت” یا “بحیثیت ایک فرد کے محمد ﷺ” کی اطاعت کا ذکر نہیں ہے، یہ اسلوب واضح طور پر اس کی نشان دہی کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت بحیثیت پیغمبر لازمی ہے۔
۲ ۔ کم از کم ایک موقعے پر قرآن مجید نے غلط معنی نکالنے کے اس بعید ترین امکان کو بھی ختم کر دیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ ﴿النساء:٥٩﴾
“اے ایمان والو! تم اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو اور تم میں جو لوگ اہل حکومت ہیں ان کا بھی۔” (۴-۵۹)
یہاں “رسول کی اطاعت” سربراہوں اور حکام کی اطاعت سے علیحدہ اور ممتاز کر کے بیان کی گئی ہے جس کا مطلب یہی ہے کہ پیغمبر اور حاکم دونوں مناصب کا اطاعت ان کی مختلف حیثیات میں بجا لانا ضروری ہے۔
یہاں یہ بات اہم اور قابل توجہ ہے کہ جہاں تک آنحضرت ﷺ کا تعلق ہے آپ کی ذات اقدس میں یہ دونوں مناصب اور حیثیات جمع تھیں۔ آپ نہ صرف ایک پیغمبر تھے بلکہ مسلمانوں کے سربراہ اور حاکم بھی تھے۔ چنانچہ اگر “آنحضرت ﷺ کی اطاعت” کو صرف آپ ﷺ کی حیات طیبہ تک محدود کرنا ہی قرآن کریم کا مقصود ہوتا تو باسانی کہا جا سکتا تھا کہ “محمد کی اطاعت کرو” لیکن قرآن کریم نے ان الفاظ سے احتراز کر کے واضح طور پر آنحضرت ﷺ کی دو حیثیات و مناصب جدا جدا بیان کر دی ہیں اور ان دونوں کو امتیازی طور پر علیحدہ علیحدہ ذکر کر کے اس غلط فہمی کے بعید ترین امکان کو بھی ختم کر دیا ہے۔ چنانچہ اس طرح ان دونوں حیثیات کو آپس میں خلط ملط کرنے کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔
اس کے علاوہ اسی آیت میں ایک اور لطیف نکتہ بھی قابل توجہ ہے یہاں لفظ “رسول” کے لئے صیغہ واحد استعمال کیا گیا ہے جبکہ “تمہارے حاکموں” کے الفاظ میں صیغہ جمع میں ذکر کئے گئے ہیں۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ آخری رسول ہیں جن کے بعد کوئی نیا پیغمبر نہیں آئے گا لہٰذا آپ ﷺ کی اطاعت بحیثیت پیغمبر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے صرف آپ ہی کے لئے مخصوص و محدود رہے گی اور مستقبل میں کوئی شخص اس اطاعت میں آپ ﷺ کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا اس کے برعکس دوسری طرف سربراہوں اور حاکموں کی ایک بڑی تعداد ہو گی جو ایک کے بعد ایک دوسرے کی جگہ لیں گے۔اس قسم کی اطاعت صرف نزول وحی کے وقت کے حاکم تک مخصوص نہ رہے گی بلکہ اس کا دائرہ اثر بعد میں آنے والے تمام حاکموں تک پھیلتا جائے گا۔
۳ ۔ اللہ تعالٰی کی جانب سے بھیجا جانے والا پیغمبر جو رضائے الٰہی کا ترجمان بھی ہے ہمیشہ خدائی نگرانی میں رہتا ہے۔ پیغمبر کی جانب سے ادا کیا جانے والا کوئی فعل یا اس کا کوئی قول اگر رضائے الٰہی سے کلی طور پر مطابقت نہ رکھتا ہو تو اسے ہمیشہ اس بارے میں متنبہ کر دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ایسی کئی آیات موجود ہیں جن میں کئی ایسے معاملات پر اللہ تعالٰی کی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے جو رسول اللہ ﷺ نے انجام دیئے تھے یا آپ ﷺ کا ان کو انجام دینے کا ارادہ تھا چنانچہ آنحضرت ﷺ کا کوئی بھی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالٰی کی جانب سے جانچا نہ جا چکا ہو۔اس پس منظر میں اگر آپ ﷺ کی جانب سے کوئی کام انجام دیا جاتا ہے یا کوئی حکم صادر ہوتا ہے اور اس کی نامنظوری کے لئے کوئی وحی نازل نہیں ہوتی تو اس کا لازمی مفہوم یہ ہو گا کہ اللہ تعالٰی کی جانب سے اس کام یا حکم کو رضامندی حاصل ہے۔ لہٰذا اس کی روشنی میں یہ بات بالکل درست ہے کہ آنحضرت ﷺ کے تمام احکامات اور تمام افعال براہ راست یا بالواسطہ طور پر وحی پر مبنی ہیں۔یہ منصب آپ ﷺ کے بعد کسی سربراہ کو حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ وحی کا نزول آپ ﷺ پر ختم ہو چکا اور یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم نے پیغمبر کی اطاعت کو حکام کی اطاعت سے جدا اور ممتاز طور پر بیان کیا ہے۔
یہ وہ تین بڑی وجوہات ہیں جن کی موجودگی میں اس غلط فہمی کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ قرآن حکیم نے “رسول کی اطاعت” کی جو بار بار تاکید کی ہے اور اسے جس اہمیت کے ساتھ ذکر کیا ہے اس سے دراصل مراد سربراہ اور حکام وقت (اولی الامر) کی اطاعت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اطاعت کی اس کے علاوہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالٰی کی جانب سے رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی رضا مندی کے ترجمان تھے چنانچہ ” سنت” جو تمام تر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور افعال کے ذخیرے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے، اللہ اور کتاب اللہ پر ایمان رکھنے والے تمام مسلمانوں کے لئے واجب التعمیل اور حجت ثابت ہوتی ہے۔

عقلی دلائل :

اس سلسلے میں ایک اور نکتہ بھی قابل توجہ ہے۔ اللہ تعالٰی جل شانہ نے کوئی آسمانی کتاب کسی پیغمبر کے بغیر نازل نہیں فرمائی اور اللہ تعالٰی نے یہ بھی واضح فرما دیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کتاب کی “تعلیم اور تشریح” کے لیے بھیجے گئے ہیں۔قبل ازیں اس امر کا ثبوت بھی پیش کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بیان کردہ تشریحات اور تفصیلات سے قطع نظر کر کے کوئی شخص صرف فرض نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ بھی صحیح طور پر نہیں جان سکتا۔
یہ سب باتیں مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تشریحات محض عہد نبوت کے عربوں ہی کے لیے ضروری تھیں؟ جہاں تک عربی زبان کا تعلق ہے مکہ کے عرب ہم سے کہیں زیادہ اچھی طرح اس سے واقف تھے۔ وہ قرآن کریم کے اسلوب سے کہیں بہتر طور پر آشنا تھے۔ وہ نزول وحی کے مواقع پر خود موجود تھے اور گرد و پیش کے ان تمام حالات و واقعات اور پس و پیش منظر کا براہ راست مشاہدہ کرنے والے تھے جن میں قرآن کریم نازل ہوا۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیات کریمہ خود رسالت ماب نبی اکرم ﷺ کے زبان مبارک سے سنی تھیں اور ان تمام اجزا و عناصر کو بخوبی جانتے تھے جن کا جاننا وحی الہٰی کا صحیح اور درست مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے لیکن ان سب کے باوجود رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ تشریحات ان کے لیے ضروری بلکہ لازمی سمجھی گئیں اور ان کی تعمیل بھی ان پر واجب کی گئی۔
اگر یہ درست ہے اور بلاشبہ اس کے درست ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی عام آدمی بقائمی ہوش و حواس یہ سمجھ لے کہ موجودہ عہد کے ان لوگوں کے لیے جو مذکورہ تمام فوائد سے محروم بھی ہیں پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کی تشریحات کی کوکئی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ موازنہ کیا جائے تو ہمیں نہ تو عربی زبان و بیان پر ایسی قدرت حاصل ہے جو ان لوگوں کو تھی اور نہ ہی ہم قرآنی اسلوب سے اس درجہ آشنا ہیں جتنا وہ تھے۔ جن حالات و واقعات کے درمیان قرآن کریم نازل ہوا اور جس کے وہ عینی شاہد تھے، ہم تو ان سے بھی مکمل طور پر واقف نہیں ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود اگر انہیں قرآن کریم کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی تشریحات کی ضرورت تھی تو پھر ہمیں یقیناً کہیں زیادہ اس کی ضرورت ہے۔
اگر قرآن کریم کی حاکمیت کے لیے وقت اور زمانے کی کوئی حد آخر نہیں ہے اور اگر قرآن کریم آنے والے تمام زمانوں اور تمام نسلوں کے لیے واجب التعمیل ہے تو پھر آنحضرت ﷺ کی وہ حاکمیت جس کے لیے خود قرآن حکیم نے وقت کی کوئی حد متعین نہیں کی، قرآن کریم ہی کی طرح ہمیشہ
ہمیشہ مؤثر اور واجب العمل رہے گی۔ قرآن کریم نے جب یہ کہا تو محض مکہ اور مدینہ کے عربوں ہی کو نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو خطاب کر کے کہا تھا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ﴿محمد:٣٣﴾
“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔” (۴۷-۳۳)
اگر “اللہ تعالٰی کی اطاعت” ہمیشہ “رسول کی اطاعت” کے ساتھ ساتھ ذکر کی گئی ہے، جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں تو اب اس امر کی گنجائش نہیں ہے کہ ایک کو دوسرے سے علیحدہ کر دیا جائے۔ اگر ایک سے مراد تا ابد اور تمام زمانوں کے لیے اطاعت ہے تو پھر دوسرے کو مخصوص وقت کی کسی حد میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ ایک اور مقام پر قرآن کریم نے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کے مابین ایسی کسی تفریق سے اس طرح خبردار کیا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّـهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿النساء:١٥١﴾
“جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ تعالٰی کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور یوں چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان میں فرق رکھیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعضوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعضوں کے منکر ہیں اور یوں چاہتے ہیں کہ بین بین ایک راہ تجویز کریں، ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں اور کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔” (النساء : ۱۵۰-۱۵۱)
پس رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان کا لازمی جزو آپ ﷺ کی حاکمیت کی اطاعت ہے اور یہ جزو اصل سے کبھی جدا نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اسلام کے ابتدائی زمانے میں آنحضرت ﷺ کی حاکمیت ماننا اور بعد کے زمانوں میں اس سے انکار کرنا ایسا گمراہ کن نظریہ ہے جس کی اسلامی ماخذ سے کوئی مدد نہیں مل سکتی اور نہ عقل و منطق کی کسی بنیاد پر اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔
حیرت ہے جن خلفائے راشدین کو پرویز صاحب مرکز ان ملت قرار دے کر اللہ اور رسولؐ کی گدی پر براجمان کرکے انھیں یہ اعزاز عطا فرمارہے ہیں ان کو خود ساری عمر اس اعزازی مسند کی خبر تک نہیں ہوئی۔ یہ مرکز ملت (مثلا حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ ) خود عدالتوں میں حاضر ہوئے اور لطف کی بات یہ ہے کہ فیصلے بھی ان کے خلاف ہی ہوئے۔ انھیں اس بات کی سمجھ ہی نہ آئی کہ اللہ اور رسول تو ہم خود ہیں، ہماری اطاعت ہی اللہ اور رسول کی اطاعت ہے۔
غلام احمد پرویز صاحب کے مزعومہ مرکز ملت کے دلائل کا جائزہ ہم پہلے بھی ایک تحریر میں لے چکے ہیں۔ تحریر اس لنک سے ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
“خدا اور رسول یا مرکز ملت-قرآن کی روشنی میں “ٌ

کیاحضورﷺ کاہرعمل سنت اورواجب الاتباع ہے ؟

یہ بات مسلماتِ شریعت میں ہے کہ سنت واجب الاتباع صرف وہی اقوال و افعال رسول ہیں جو حضورﷺ نے رسول کی حیثیت سے کیے ہیں۔ شخصی حیثیت سے جو کچھ آپ نے فرمایا یا عملاً کیا ہے وہ واجب الاحترام تو ضرور ہے مگر واجب الاتباع نہیں ہے۔ شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں باب بیان اقسام علوم النبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عنوان سے اس پر مختصر مگر بڑی جامع بحث کی ہے۔ صحیح مسلم میں امام مسلم نے ایک پورا باب ہی اس اصول کی وضاحت میں مرتب کیا ہے اور اس کا عنوان یہ رکھا ہے: باب وجوب امتثال ما قالہ شرعاً دون ما ذکر صلی اللہ علیہ و سلم من معاش الدنیا علیٰ سبیل الرای (یعنی باب اس بیان میں کہ واجب صرف ان ارشادات کی پیروی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے شرعی حیثیت سے فرمائے ہیں نہ کہ ان باتوں کی جو دنیا کے معاملات میں آنحضور ﷺ نے اپنی رائے کے طور پر بیان فرمائی ہیں)
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کا جو حکم دیا ہے وہ آپ کے کسی ذاتی استحقاق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ آپؐ کو اس نے اپنا رسول بنایا ہے۔ اس لحاظ سے باعتبار نظریہ تو آپ کی شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت میں یقیناً فرق ہے۔ لیکن عملاً چونکہ ایک ہی ذات میں شخصی حیثیت اور پیغمبرانہ حیثیت دونوں جمع ہیں اور ہم کو آپ کی اطاعت کا مطلق حکم دیا گیا ہے، اس لیے ہم بطور خود یہ فیصلہ کر لینے کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم حضورؐ کی فلاں بات مانیں گے کیونکہ وہ بحیثیت رسولؐ آپ نے کی یا کہی ہے اور فلاں بات نہ مانیں گے کیونکہ وہ آپؐ کی شخصی حیثیت سے تعلق رکھتی ہے، یہ کام خود حضورؐ ہی کا تھا کہ شخصی نوعیت کے معاملات میں آپ نہ صرف لوگوں کو آزادی عطا فرماتے تھے بلکہ آزادی برتنے کی تربیت بھی دیتے تھے اور جو معاملات رسالت سے تعلق رکھتے تھے ان میں آپؐ بے چون و چرا اطاعت کراتے تھے۔ اس معاملہ میں ہم کو جو کچھ بھی آزادی حاصل ہے، وہ رسول پاکؐ کی دی ہوئی آزادی ہے جس کے اصول اور حدود حضورؐ نے خود بتا دیئے ہیں۔ یہ ہماری خود مختارانہ آزادی نہیں ہے۔
جو امور براہ راست دین اور شریعت سے تعلق رکھتے ہیں ان میں تو حضورؐ کے ارشادات کی اطاعت اور آپ کے عمل کی پیروی طابق الفعل بالفعل کرنی ضروری ہے۔ مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور طہارت وغیرہ مسائل۔ ان میں سے جو کچھ آپؐ نے حکم دیا ہے اور جس طرح خود عمل کر کے بتایا ہے اس کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرنی لازم ہے۔ جو معاملات بظاہر بالکل شخصی معاملات ہیں، مثلاً ایک انسان کا کھانا، پینا، کپڑے پہننا، نکاح کرنا، بیوی بچوں کے ساتھ رہنا، گھر کا کام کرنا، غسل اور طہارت اور رفع حاجت وغیرہ۔ وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات میں خالص نجی نوعیت کے معاملات نہیں ہیں بلکہ انہی میں شرعی حدود اور طریقوں اور آداب کی تعلیم بھی ساتھ ساتھ شامل ہے۔ مثلاً حضورؐ کے کھانے پینے کے معاملہ کو لیجیے۔ اس کا ایک پہلو تو یہ تھا کہ آپؐ وہی کھانے کھاتے تھے جیسے آپؐ کے عہد میں اہل عرب کے گھروں میں پکتے تھے اور ان کے انتخاب میں بھی آپؐ کے اپنے ذوق کا دخل تھا۔ دوسرا پہلو یہ تھا کہ اسی کھانے اور پہننے میں آپؐ اپنے عمل اور قول سے شریعت کے حدود اور اسلامی آداب کی تعلیم دیتے تھے۔
اب یہ بات خود حضورؐ ہی کے سکھائے ہوئے اصول شریعت سے ہم کو معلوم ہوتی ہے کہ ان میں سے پہلی چیز آپؐ کی شخصی حیثیت سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری چیز حیثیت نبویہ ہے۔ اس لیے کہ شریعت نے، جس کی تعلیم کے لیے آپؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور کیے گئے تھے، انسانی زندگی کے اس معاملہ کو اپنے دائرۂ عمل میں نہیں لیا ہے کہ لوگ اپنے کھانے کس طرح پکائیں۔ البتہ اس نے یہ چیز اپنے دائرۂ عمل میں لی ہے کہ کھانے کے معاملہ میں حرام اور حلال اور جائز اور ناجائز کے حدود متعین کرے اور لوگوں کو ان آداب کی تعلیم دے جو اہل ایمان کے اخلاق و تہذیب سے مناسبت رکھتے ہیں۔
اگر کوئی شخص نیک نیتی کے ساتھ حضورؐ کا اتباع کرنا چاہے اور اسی غرض سے آپؐ کی سنت کا مطالعہ کرے تو اس کے لیے یہ معلوم کرنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ کن امور میں آپ کا اتباع طابق الفعل بالفعل ہونا چاہیے اور کن امور میں آپ کے ارشادات اور اعمال سے اصول اخذ کر کے قوانین وضع کرنے چاہئیں اور کن امور میں آپ کی سنت سے اخلاق و حکمت اور خیر و صلاح کے عام اصول مستنبط کرنے چاہئیں۔

اتباع رسول کا صحیح مفہوم
اشکال :کیا آج کے ایٹمی دور میں جنگ کے اندر تیروں کا استعمال ہی ضروری ہے کیونکہ حضورﷺ نےجنگوں میں تیر استعمال کیے تھے ۔ اتباع کا یہ مفہوم “غیر فطری اور ناقابل عمل ہے ۔ یہ مفہوم اگر لیا جائے تو زندگی اجیرن ہو جائے گی۔
جواب:
اتباع سنت کے یہ معنی اہل علم نے کبھی نہیں لیے ہیں کہ ہم جہاد میں وہی اسلحے استعمال کریں جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں استعمال ہوتے تھے۔ بلکہ ہمیشہ اس کے معنی یہی سمجھے گئے ہیں کہ ہم جنگ میں ان مقاصد، ان اخلاقی اصولوں اور ان شرعی ضابطوں کو ملحوظ رکھیں جن کی ہدایت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول اور عمل سے دی ہے اور ان اغراض کے لیے لڑنے اور وہ کاروائیاں کرنے سے باز رہیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا ہے۔ اتنے بڑے بنیادی مسئلے کو بہت ہی سطحی انداز میں لے لینا غلط ہے۔

حدیث “تم اپنے دنیاوی معاملات بہتر جانتے ہو۔”سے ایک غلط استدلال:
مغرب سے مرعوب شدہ کچھ حلقوں کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حجیت و حاکمیت سے متعلق ایک اور نقطہ نظر پیش کیا جاتا رہا ہے اور وہ یہ کہ بلا شبہ تمام نسلوں اور تمام زمانوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حاکمیت قرآن مجید سے ثابت ہے لیکن اس حاکمیت کا دائرہ عمل صرف عقائد اور عبادات کے ساتھ مخصوص ہے۔ ان لوگوں کے نقطہ نظر کے مطابق کسی پیغمبر کا فرض منصبی صرف امت کے ایمان و عقائد کی درستگی اور اللہ تعالٰی کی عبادت کا طریقہ سکھلانے تک ہی محدود ہے اور جہاں تک روزمرہ کے دنیاوی معاملات کا تعلق ہے وہ اس حاکمیت کے ذیل میں نہیں آتے۔ ان دنیاوی معاملات میں، اس نقطہ نظر کے تحت، معاشی، معاشرتی اور سیاسی معاملات شامل ہیں جن کو ہر زمانے کے حالات کے مطابق اپنے طور پر طے کیا جانا چاہیے اور پیغمبری حاکمیت کا ان معاملات میں اطلاق نہیں ہوتا اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان معاملات میں کچھ ہدایات دی بھی ہیں تو وہ دراصل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شخصی آراء ہیں جو بطور پیغمبر نہیں دی گئیں لہٰذا امت کے لیے ان ہدایات کی پیروی واجب نہیں ہے۔اس نظرئيے میں وزن پیدا کرنے کے لیے عموماً ایک مخصوص حدیث سیاق و سباق سے جدا کر کے نقل کی جاتی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم سے فرمایا تھا:انتم اعلم بامور دنیاکم”تم اپنے دنیاوی معاملات بہتر جانتے ہو۔”
اس سے قبل کہ میں اس حدیث شریف کا مکمل متن پیش کروں اس نقطہ نظر کی بنیاد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ دراصل یہ نظریہ دین اسلام کی ساخت اور ڈھانچے کے متعلق ایک سنگین غلط فہمی پر مبنی ہے۔اور وہ غلط فہمی یہ ہے کہ دیگر تمام مذاہب کی طرح اسلام بھی کچھ عقائد اور کچھ رسومات کے مجموعے کا نام ہے اور انہیں تک محدود بھی ہے اور روز مرہ انسانی زندگی کے معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چند متعین نظریات مان لینے اور بعض مخصوص رسومات کی بجا آوری کے بعد ہر شخص آزاد ہے کہ وہ جس طرح چاہے اپنی زندگی گزارے۔ اس طرز زندگی کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس نقطہ نظر کے موید اور ترجمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حاکمیت محض چند عقائد اور عبادات تک ہی تسلیم کرتے ہیں۔
کوئی ایسا شخص جس نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہو، یہ بے بنیاد بات اس پر چسپاں نہیں کر سکتا کہ قرآن کی تعلیمات محض عبادات اور رسومات سے متعلق ہیں۔ قرآن کریم میں تو خرید، فروخت، قرض کے لین دین، گروی رکھنے، شراکت داری، تعزیری قوانین، وراثت، ازدواجی تعلقات، سیاسی معاملات، جنگ و امن کے مسائل اور بین الاقوامی تعلقات جیسے بیسیوں موضوعات پر خاص احکامات و فرامین موجود ہیں۔ اگر اسلامی تعلیمات محض عقائد اور رسومات کے پہلوؤں تک محدود ہوتیں تو ان احکامات و قوانین کی قرآن مجید میں موجودگی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
بالکل اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت بھی معاشی، معاشرتی، سیاسی اور قانونی معاملات پر اس تفصیل سے بحث کرتی ہے کہ بے شمار ضخیم کتب محض اس کی تدوین و ترتیب کے لئے لکھی گئی ہیں۔ پھر یہ کیسے خیال کیا جا سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان موضوعات میں بغیر کسی حاکمیت اور اختیار کے اس قدر تفصیل کے ساتھ دخل دیا ہو۔ ان موضوعات پر قرآن و سنت کے احکامات اس قدر قطعی، حاکمانہ اور ہدایتی نوعیت کے ہیں کہ ان کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ قانونی قوت سے محروم، محض شخصی نصائح کا مجموعہ ہیں۔
یہ بات اگرچہ فی نفسہ درست ہے کہ اس میدان میں جسے اسلامی اصطلاح میں “معاملات” کہا جاتا ہے قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیشتر مواقع پر لچکدار اور غیر جامد اصول پیش کئے ہیں اور اکثر تفصیلات کھلی چھوڑ دی ہیں تاکہ بدلتے ہوئے زمانوں میں ضروریات کے مطابق تبدیلی کی جا سکے۔ لیکن ایسا صرف اور صرف انہی اصولوں کے مطابق اور انہی کے اندر رہتے ہوئے کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ جن معاملات سے قرآن و سنت نے تعرض نہیں کیا وہ کھلے میدان ہیں جن میں مصلحتی ضروریات اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب قطعا نہیں ہے کہ قرآن و سنت کا حیات انسانی کی ایک ایسی اہم شاخ سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہے جو تاریخ عالم میں ہمیشہ بے سکونی اور انقلابات کا بنیادی سبب رہی ہے۔ جس کے بارے میں نام نہاد ” عقلیت پسندانہ نقطہ نظر” سدا باہمدگر متصادم رہے ہیں اور جو بالآخر شیطانی خواہشات کا شکار ہو کر دنیا کو تباہی کی طرف لے گئے ہیں۔

کھجور کے درختوں پر تابیر کا واقعہ:
اب ہم اس حدیث پاک کی طرف آتے ہیں جو عموماً اس گمراہ کن نقطہ نظر کی تائید میں پیش کی جاتی ہے۔ حدیث ملاحظہ فرمائیے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔
“موسیٰ بن طلحہ اپنے والد ( حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا! میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو کہ کھجور کے درختوں پر چڑھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کھجور کی تابیر کر رہے ہیں اور نر کھجور کے کچھ حصے کو مادہ کھجور کے کچھ حصے پر ڈال رہے ہیں۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرا تو گمان نہیں ہے کہ اس عمل سے کچھ فائدہ ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بعض لوگوں نے ان حضرات تک پہنچا دیا ( جو کہ تابیر کر رہے تھے) چنانچہ انہوں نے یہ عمل ترک کر دیا۔ بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو بتایا گیا ( کہ آپ کے اس ارشاد کی بناء پر انہوں نے تابیر ترک کر دی ہے) اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” اگر اس عمل سے انہیں فائدہ پہنچتا ہے تو ان کو چاہیے کہ وہ کرتے رہیں میں نے تو اپنے ایک گمان کا اظہار کیا تھا، میرے گمان پر مواخذہ نہ کیا کرو لیکن جب میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی بات بتاؤں تو اس پر ضرور عمل کرو کیونکہ میں اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔”
صحابی رسول حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مطابق آپ نے اس موقع پر یہ بھی ارشاد فرمایا!انتم اعلم بامور دنیاکم ” تم اپنے دنیاوی معاملات بہتر جانتے ہو۔”
مکمل سیاق و سباق اور متن کو دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل روشن ہو جاتی ہے کہ اس حدیث کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کھجور کے درختوں کی تابیر کے خلاف کوئی حتمی اور قطعی ممانعت نہیں دی تھی، یہاں جائز اور ناجائز کا کوئی سوال نہیں تھا۔ جو کچھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا وہ نہ تو کوئی حکم تھا نہ کوئی قانونی اور مذہبی ممانعت تھی اور نہ اس فعل کی کوئی اخلاقی مذمت۔ وہ تو حقیقتاً کوئی سوچا سمجھا تبصرہ بھی نہ تھابلکہ ایک سرسری انداز میں کہا ہوا ایک فقرہ تھا جو ایک عمومی اور فوری نوعیت کے اندازے پر مبنی تھا جیسا کہ آپ نے وضاحت فرما دی۔ ” میرا تو گمان نہیں ہے کہ اس عمل سے کچھ فائدہ ہو گا” کوئی شخص اس جملے کو کسی قانونی یا دینی تبصرے کا مفہوم نہیں دے سکتا اور یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ جملہ ان لوگوں سے نہیں فرمایا جو یہ عمل کر رہے تھے اور نہ ہی یہ پیغام ان تک پہنچانے کا حکم دیا بلکہ ان کو بعد میں دیگر لوگوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تبصرے کا علم ہوا۔
اگرچہ یہ تبصرہ باقاعدہ ممانعت کا حکم نہیں رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاک نفس اصحاب ہر بات میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دیوانہ وار اتباع کرنے کے عادی تھے اور صرف کسی قانونی پابندی کی وجہ سے نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے غیر معمولی اور بے پناہ الفت و تعلق کی بنا پر بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی کیا کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے تابیر کا یہ عمل بالکلیہ ترک کر دیا۔لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو معلوم ہوا کہ انہوں نے اس ارشاد کی بنا پر یہ عمل چھوڑ دیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غلط فہمی دور کرنے کے لئے بات کی وضاحت فرما دی۔اس وضاحت کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تمام حتمی اور قطعی بیانات ہی واجب التعمیل ہیں کیونکہ وہ آپ نے پیغمبرانہ حیثیت میں اللہ تعالٰی ہی کی جانب سے ارشاد فرمائے ہیں اور جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کسی ایسے لفظ کا تعلق ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کسی حتمی اور قطعی بیان کے طور پر نہیں، بلکہ محض ایک بشری گمان کے طور پر ارشاد فرمایا ہو، اگرچہ وہ بھی پوری تعظیم کا مستحق ہے، لیکن اس کو شریعت کا جز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا ہے روزمرہ معاملات میں جہاں شریعت نے براہ راست حکم جاری نہیں کیا وہاں لوگوں کے لئے ایک وسیع میدان چھوڑ دیا گیا ہے اور لوگوں کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہاں اپنی ضرورتوں اور مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے علم اور تجربے کی بنیاد پر معاملات چلائیں۔کسی بنجر اور بے نمو زمین کو کیسے زرخیز بنایا جا سکتا ہے؟ پودوں کی دیکھ بھال کس طرح کرنی چاہیے؟ دفاع کے مقاصد میں کون سے ہتھیار زیادہ کارآمد ہیں؟ سواری کے لئے کس قسم کے گھوڑے زیادہ موزوں ہوتے ہیں؟ کسی مخصوص بیماری کے لئے کون سی دوا زیادہ زود اثر ہے؟ یہ اور اس قسم کے تمام معاملات زندگی کے اس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شریعت نے کوئی مخصوص جواب نہیں دیا اور اس نوعیت کے معاملات انسانی تجسس پر چھوڑ دیئے ہیں جو کہ ایسے مسائل کے حل کے لئے کافی ہے۔ ” مباحات” کا یہی وہ میدان ہے جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے۔انتم اعلم بامور دنیاکم
اس میں وہ دنیاوی معاملات شامل نہیں ہیں جہاں قرآن مجید یا سنت نے مخصوص اور متعین اصول وضع کئے ہیں یا کوئی واضح حکم دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجور کے درختوں کے معاملہ کو ایک کھلا میدان قرار دیا وہیں اس کے متصل بعد یہ بھی ارشاد فرمایا “لیکن جب میں اللہ تعالٰی کی طرف سے کوئی بات بتاؤں تو اس پر ضرور عمل کرو۔”خود قرآن ہی اس بات پر شاہد ہے کہ دیوانی اور فوجداری قوانین، عائلی قوانین، معاشی قوانین اور اسی طرح اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کے متعلق احکام قوانین بیان کرنے کو دین اسلام نے اپنے دائرۂ عمل میں لیا ہے۔ ان امور کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایات کو رد کر دینے کے لیے مذکورہ بالا حدیث کو دلیل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔مذکورہ بالا تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسلامی قانون کا دوسرا سرچشمہ ہے، آنحضرت نے پیغمبرانہ حیثیت میں جو کچھ فرمایا یا عمل فرمایا وہ امت کے لئے واجب العمل ہے۔

 

محمدؐ خدا تو نہیں تھے کہ خدا کیطرح انکی پیروی کی جائے!

۔

اعتراض:
“اسلام ایک خدائی دین ہے۔ یہ اپنی سند خدا سے اور صرف خدا ہی سے لیتا ہے۔ اگر یہ اسلام کا صحیح تصور ہے تو اس سے لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ محمد رسول اللہ کے اقوال و افعال اور کردار کو خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کی سی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ ایک کامل انسان تھے۔ نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ جس عزت اور تکریم کے مستحق ہیں یا جس عزت و تکریم کا ہم ان کے لیے اظہار کرنا چاہتے ہیں، اس کے اظہار کی قوت و قابلیت وہ رکھتا ہے۔ لیکن با ایں ہمہ وہ خدا نہ تھے، نہ خدا سمجھے جا سکتے ہیں۔ دوسرے تمام رسولوں کی طرح وہ بھی انسان ہی ہیں.وہ ہماری طرح فانی تھے۔ وہ ایک نذیر تھے مگر یقیناً خدا نہ تھے ان کو بھی اسی طرح خدا کے احکام کی پیروی کرنی پڑتی تھی جس طرح ہمیں۔ وہ مسلمانوں کو اس سے زیادہ کوئی چیز نہ دے سکتے تھے جو خدا کی طرف سے بذریعۂ وحی ان کو دی گئی تھی”.

جواب :
اصل مسئلہ جس کی تحقیق اس مقام پر مطلوب تھی وہ یہ نہیں تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم معاذ اللہ خدا ہیں یا نہیں اور وہ انسان ہیں یا کچھ اور دین کے احکام میں سند مرجع خدا کا حکم ہے یا کسی اور کا ۔بلکہ تحقیق جس چیز کی کرنی چاہیے تھی وہ یہ تھی کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے کس کام کے لیے مقرر کیا ، دین میں ان کی حیثیت اور اختیارات کیا ہیں؟ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ وہ خدا نہیں ہیں، انسان ہی ہیں، مگر وہ ایسے انسان ہیں جن کو خدا نے اپنا نمائندۂ مجاز بنا کر بھیجا ہے۔ خدا کے احکام براہ راست ہمارے پاس نہیں آئے بلکہ ان کے واسطے سے آئے ہیں۔ وہ محض اس لیے مقرر نہیں کیے گئے کہ خدا کی کتاب کی آیات جو ان پر نازل ہوں، بس وہ پڑھ کر ہمیں سنا دیں بلکہ ان کے تقرر کا مقصد یہ ہے کہ وہ کتا ب کی تشریح کریں، اسکے احکامات کی وضاحت کریں ۔ ہم اس بات کی تحقیق کرتے ہیں کہ قرآن حضور ﷺ کو کس حیثیت سے پیش کرتا ہے ؟ قرآن میں اللہ تعالی نے حضور ﷺ کو کیا کیا اختیارات عنایت فرمائے ہیں ۔؟ اس سے واضح ہوجائے گا کہ کہ محمد رسول اللہ کے اقوال و افعال اور کردار کی دین میں کیا حیثیت ہے۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت شارح کتاب اللہ:
سورۂ النحل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“اور (اے نبی) یہ ذکر ہم نے تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے”۔ (النمل: ۴۴)
اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد یہ خدمت کی گئی تھی کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ جو احکام و ہدایات دے، ان کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم توضیح و تشریح فرمائیں۔ ایک موٹی سی عقل کا آدمی بھی کم از کم اتنی بات تو سمجھ سکتا ہے کہ کسی کتاب کی توضیح و تشریح محض اس کتاب کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے نہیں ہو جاتی بلکہ تشریح کرنے والا اس کے الفاظ سے زائد کچھ کہتا ہے تاکہ سننے والا کتاب کا مطلب پوری طرح سمجھ جائے اور اگر کتاب کی کوئی بات کسی عملی مسئلے سے متعلق ہو تو شارح عملی مظاہرہ کر کے بتاتا ہے کہ مصنف کا منشا اس طرح عمل کرنا ہے۔ یہ نہ ہو تو کتاب کے الفاظ کا مطلب و مدعا پوچھنے والے کو پھر کتاب کے الفاظ ہی سنا دینا کسی طفل مکتب کے نزدیک بھی تشریح و توضیح قرار نہیں پا سکتا۔
یہاں تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر کتاب نازل کرنے کا مقصد ہی یہ بیان کر رہا ہے کہ رسول اپنے قول اور عمل سے اس کا مطلب واضح کرے۔ پھر کس طرح یہ ممکن ہے کہ شارح قرآن کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے منصب کو رسالت کے منصب سے الگ قرار دیا جائے اور آپ کے پہنچائے ہوئے الفاظ قرآن کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شرح و تفسیر قبول کرنے سے انکار کر دیا جائے؟ کیا یہ انکار خود رسالت کا انکار نہ ہو گا۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت شارع:
سورۂ اعراف میں اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“وہ ان کو معروف کا حکم دیتا ہے اور منکر سے ان کو روکتا ہے اور ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ان پر ناپاک چیزوں کو حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور بندھن اتار دیتا ہے، جو ان پر چڑھے ہوئے تھے۔ (الاعراف: ۱۵۷)
اس آیت کے الفاظ اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو تشریعی اختیارات (Legislative Powers) عطا کیے ہیں۔ اللہ کی طرف سے امر و نہی اور تحلیل و تحریم صرف وہی نہیں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے بلکہ جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حرام یا حلال قرار دیا ہے اور جس چیز کا حضورﷺ نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے، وہ بھی اللہ کے دیئے ہوئے اختیارات سے ہے، اس لیے وہ بھی قانونِ خداوندی کا ایک حصہ ہے۔ یہی بات سورۂ حشر میں اسی صراحت کے ساتھ ارشاد ہوئی ہے:

“جو کچھ رسول تمہیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کر دے، اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو، اللہ سخت سزا دینے والا ہے”۔
ان دونوں آیتوں میں سے کسی کی یہ تاویل نہیں کی جا سکتی کہ ان میں قرآن کے امر و نہی اور قرآن کی تحلیل و تحریم کا ذکر ہے۔ یہ تاویل نہیں بلکہ اللہ کے کلام میں ترمیم ہو گی۔ اللہ نے تو یہاں امر و نہی اور تحلیل و تحریم کو رسول کا فعل قرار دیا ہے نہ کہ قرآن کا۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت پیشوا و نمونہ تقلید:
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران: ۳۱)” (اے نبی) کہو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ کہو کہ اطاعت کرو اللہ اور رسول کی، پھر اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا”۔
اور لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب: ۲۱)”تمہارے لیے اللہ کے رسول میں ایک تقلید ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا امیدوار ہو”۔
ان دونوں آیتوں میں خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو پیشوا مقرر کر رہا ہے، ان کی پیروی کا حکم دے رہا ہے، ان کی زندگی کو نمونۂ تقلید قرار دے رہا ہے اور صاف فرما رہا ہے کہ یہ روش اختیار نہ کرو گے تو مجھ سے کوئی امید نہ رکھو، میری محبت اس کے بغیر تمہیں حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے منہ موڑنا کفر ہے۔
اگر قرآن کے یہ الفاظ بالکل غیر مشتبہ طریقے سے آنحضور ﷺ کو مامور من اللہ رہنما و پیشوا قرار دے رہے ہیں۔ تو پھر آپ کی پیروی اور آپ کے نمونہ زندگی کی تقلید سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں یہ کہنا سراسر لغو ہے کہ اس سے مراد قرآن کی پیروی ہے۔ اگر یہ مراد ہوتی تو فاتبعو القرآن فرمایا جاتا نہ کہ فاتبعونی۔ اور اس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کو اسوۂ حسنہ کہنے کے تو کوئی معنی ہی نہ تھے۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت حاکم و فرمانروا
قرآن مجید اسی صراحت اور تکرار کے ساتھ بکثرت مقامات پر یہ بات بھی کہتا ہے کہ نبی ﷺ ، اللہ کی طرف سے مقرر کیے ہوئے حاکم و فرمانروا تھے اور آپ کو یہ منصب بھی رسول ہی کی حیثیت سے عطا ہوا تھا:
“ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا، مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے اذن سے۔ (النساء 64)”۔
جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی (النساء 80)”۔
” (اے نبی) یقیناً جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں وہ در حقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں (الفتح 10)”۔
“اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب کسی معاملہ کا فیصلہ اللہ اور اس کا رسول کر دے تو پھر ان کے لیے اپنے اس معاملہ میں خود کوئی فیصلہ کر لینے کا اختیار باقی رہ جائے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا (الاحزاب 36)”۔
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان نزاع ہو جائے تو اس کو پھیر دو اللہ اور رسول کی طرف اگر تم ایمان رکھتے ہو، اللہ اور روز آخر پر (النساء 59)
یہ آیت صاف بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔ اس سے بیعت در اصل اللہ سے بیعت ہے۔ اس کی اطاعت نہ کرنے کے معنی اللہ کی نافرمانی کے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی کا کوئی عمل بھی اللہ کے ہاں مقبول نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں اہل ایمان کو قطعاً یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جس معاملہ کا فیصلہ وہ کر چکا ہو، اس میں وہ خود کوئی فیصلہ کریں۔

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت قاضی:
قرآن میں ایک جگہ نہیں، بکثرت مقامات پر اللہ تعالیٰ اس امر کی تصریح فرماتا ہے کہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو قاضی مقرر کیا ہے، مثال کے طور پر چند آیات ملاحظہ ہوں:
“(اے نبی) ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اللہ کی دکھائی ہوئی روشنی میں فیصلہ کرو (النساء:105)”۔
“پس (اے نبی) تیرے رب کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہوں گے جب تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ تو کرے اس کی طرف سے اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے بسرو چشم قبول کر لیں (النساء:65)
یہ آیتیں اس امر میں بالکل صریح ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے جج تھے۔ دوسری آیت میں کہا گیا کہ رسول ﷺ کو جو شخص جج کی حیثیت سے تسلیم نہیں کرتا وہ مومن ہی نہیں ہے، حتیٰ کہ اگر رسول ﷺ کے دیے ہوئے فیصلے پر کوئی شخص اپنے دل میں بھی تنگی محسوس کرے تو اس کا ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ کیا دنیا کے کسی جج کی یہ حیثیت ہو سکتی ہے کہ اس کا فیصلہ اگر کوئی نہ مانے یا اس پر تنقید کرے یا اپنے دل میں بھی اسے غلط سمجھے تو اس کا ایمان سلب ہو جائے گا؟

رسول صلی اللہ علیہ و سلم بحیثیت معلم و مربی:
اس کتابِ پاک میں چار مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منصبِ رسالت کی یہ تفصیل بیان کی گئی ہے:
“اور یاد کرو جبکہ ابراہیم اور اسماعیل اس گھر (کعبہ) کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (انہوں نے دعا کی) ۔۔ اے ہمارے پروردگار، ان لوگوں میں خود انہی کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرما، جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے (البقرہ:129)”۔
“جس طرح ہم نے تمہارے اندر خود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تم کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے (البقرہ:151)”۔
“اللہ نے ایمان لانے والوں پر احسان فرمایا جبکہ ان کے اندر خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے (آل عمران:164)”۔
“وہی ہے جس نے امیوں کے درمیان خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے (الجمعہ:2)”۔
ان آیات میں بار بار جس بات کو بتاکید دہرایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو صرف آیات قرآن سنا دینے کے لیے نہیں بھیجا تھا بلکہ اس کے ساتھ بعثت کے تین مقصد اور بھی تھے۔1. ایک یہ کہ آپ لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیں۔2. دوسرے یہ کہ اس کتاب کے منشا کے مطابق کام کرنے کی حکمت سکھائیں۔3. اور تیسرے یہ کہ آپ افراد کا بھی اور ان کی اجتماعی ہئیت کا بھی تزکیہ کریں، یعنی اپنی تربیت سے ان کی انفرادی اور اجتماعی خرابیوں کو دور کریں اور ان کے اندر اچھے اوصاف اور بہتر نظام اجتماعی کو نشو و نما دیں۔ظاہر ہے کہ کتاب اور حکمت کی تعلیم صرف قرآن کے الفاظ سنادینے سے زائد ہی کوئی چیز تھی ورنہ اس کا الگ ذکر کرنا بے معنی تھا۔ اسی طرح افراد اور معاشرے کی تربیت کے لیے آپ جو تدابیر بھی اختیار فرماتے تھے، وہ بھی قرآن کے الفاظ پڑھ کر سنا دینے سے زائد ہی کچھ تھیں، ورنہ تربیت کی اس الگ خدمت کا ذکر کرنے کے کوئی معنی نہ تھے۔

کیا قرآن کی ان صاف اور مکرر تصریحات کے بعد اسی کتاب پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ یہ دونوں مناصب رسالت کے اجزاء نہ تھے؟ اگر نہیں کہہ سکتا تو بتایئے کہ قرآن کے الفاظ سنانے سے زائد جو باتیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے تعلیم کتاب و حکمت کے سلسلے میں فرمائیں اور اپنے قول و عمل سے افراد اور معاشرہ کی جو تربیت حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کی اسے من جانب اللہ ماننے اور سند تسلیم سے انکار خود رسالت کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟
معترض کا یہ جملہ لفظاً بالکل صحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم “مسلمانوں کو اس سے زیادہ کوئی چیز نہ دے سکتے تھے جو خدا کی طرف سے بذریعۂ وحی ان کو دی گئی تھی۔”کیونکہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فرمانروا، قاضی اور رہنما تھے تو یہ ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے فیصلے اور آپ کی تعلیمات و ہدایات اور آپ کے احکام من جانب اللہ تھے اور اس بنا پر لازماً وہ اسلام میں سند و حجت ہیں۔

سنت کے مآخذ قانون ہونے پر امت کا اجماع:
آپ اگر واقعی قرآن کو مانتے ہیں اور اس کتاب مقدس کا نام لے کر خود اپنے من گھڑت نظریات کے معتقد بنے ہوئے نہیں ہیں تو دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید صاف و صریح اور قطعاً غیر مشتبہ الفاظ میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا کی طرف سے مقر کیا ہوا معلم، مربی، پیشوا، رہنما، شارحِ کلام اللہ، شارع (Law Giver)، قاضی اور حاکم و فرمانروا قرار دے رہا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے یہ تمام مناصب اس کتاب پاک کی رو سے منصبِ رسالت کے اجزائے لاینفک ہیں۔ کلام الٰہی کی یہی تصریحات ہیں جن کی بنا پر صحابہ کرام کے دور سے لیکر آج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ مانا ہے کہ مذکورہ بالا تمام حیثیات میں حضورﷺ نے جو کام کیا ہے وہ قرآن کے بعد دوسرا مآخذ قانون (Source of Law) ہے جب تک کوئی شخص انتہائی بر خود غلط نہ ہو، وہ اس پندار میں مبتلا نہیں ہو سکتا کہ تمام دنیا کے مسلمان اور ہر زمانے کے سارے مسلمان قرآن پاک کی ان آیات کو سمجھنے میں غلطی کر گئے ہیں اور ٹھیک مطلب بس اس نے سمجھا ہے کہ حضور ﷺ صرف قرآن پڑھ کر سنا دینے کی حد تک رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھے۔ اور اس کے بعد آپ کی حیثیت ایک عام مسلمان کی تھی۔ آخر اس کے ہاتھ وہ کون سی نرالی لغت آ گئی ہے جس کی مدد سے قرآن کے الفاظ کا وہ مطلب اس نے سمجھا جو پوری امت کی سمجھ میں کبھی نہ آیا؟

قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ حضورﷺ پرقرآن کے علاوہ بھی وحی آئی؟

اعتراض:
“اگر فرض کر لیا جائے، جیسا کہ آپ فرماتے ہیں کہ حضورؐ جو کچھ کرتے تھے، وحی کی رو سے کرتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ خدا کو اپنی طرف سے بھیجی ہوئی ایک قسم کی وحی پر (نعوذ باللہ) تسلی نہ ہوئی، چنانچہ دوسری قسم کی وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ یہ دورنگی آخر کیوں؟ پہلے آنے والے نبیوں پر جب وحی نازل ہوئی تو اس میں نزول قرآن کی طرف اشارہ تھا۔ تو کیا اس اللہ کے لیے جو ہر چیز پر قادر ہے، یہ بڑا مشکل تھا کہ دوسری قسم کی وحی، جس کا آپ ذکر کرتے ہیں، اس کا قرآن میں اشارہ کر دیتا۔ مجھے تو قرآن میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی۔

تبصرہ :
آپ تو “دو رنگیِ وحی” پر ہی حیران ہیں، اگر آپ نے قرآن پڑھا ہوتا تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ کتاب “سہ رنگی” کا ذکر کرتی ہے جن میں سے صرف ایک “رنگ” کی وحی قرآن میں جمع کی گئی ہے۔
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن یكَلِّمَه اللَّهُ إِلَّا وَحْیا أَوْ مِن وَرَاء حِجَابٍ أَوْ یرْسِلَ رَسُولاً فَیوحِی بِإِذْنِهِ مَا یشَاء إِنَّهُ عَلِی حَكِیمٌ (الشورٰی:51)
“کسی بشر کے لیے یہ نہیں ہے کہ اللہ اس سے گفتگو کرے، مگر وحی کے طریقہ پر، یا پردے کے پیچھے سے، یا اس طرح کہ ایک پیغام بر بھیجے اور وہ اللہ کے اذن سے وحی کرے جو کچھ اللہ چاہتا ہو۔ وہ برتر اور حکیم ہے”
یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی بشر پر احکام و ہدایات نازل ہونے کی تین صورتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک براہِ راست وحی (یعنی القاء و الہام) دوسرے پردے کے پیچھے سے کلام، تیسرے اللہ کے پیغام بر (فرشتے) کے ذریعہ سے وحی۔ قرآن مجید میں جو وحیاں جمع کی گئی ہیں وہ ان میں سے صرف تیسری قسم کی ہیں۔ اس کی تصریح اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دی ہے۔
قُلْ مَن كَانَ عَدُوّاً لِّجِبْرِیلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللّهِ مُصَدِّقاً لِّمَا بَینَ یدَیهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِینَ (البقرۃ:97-98 )
“(اے نبیؐ) کہو جو کوئی دشمن ہو جبریل کا اس بنا پر کہ اس نے یہ قرآن نازل کیا ہے تیرے قلب پر اللہ کے اذن سے، تصدیق کرتا ہوا ان کتابوں کی جو اس کے آگے آئی ہوئی ہیں اور ہدایت و بشارت دیتا ہوا اہلِ ایمان کو۔ ۔ ۔ تو اللہ دشمن ہے ایسے کافروں کا”
وَإِنَّهُ لَتَنزِیلُ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِینُ۔عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِینَ (الشعراء 192-194)
“اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اسے لے کر روح الامین اترا ہے۔ تیرے قلب پر تا کہ تو متنبہ کرنے والوں میں سے ہو”
اس سے معلوم ہو گیا کہ قرآن صرف ایک قسم کی وحیوں پر مشتمل ہے۔ رسول کو ہدایات ملنے کی باقی دو صورتیں جن کا ذکر سورۂ الشورٰی والی آیت میں کیا گیا ہے وہ ان کے علاوہ ہیں۔

وحی کی دوسری قسم کا ثبوت قرآن کریم سے:
اگرچہ وحی کی یہ قسم قرآن پاک میں شامل نہیں ہے  لیکن قرآن کریم نہ صرف یہ کہ اکثر اس کا حوالہ دیتا ہے بلکہ اس کے مضامین کا انتساب بھی اللہ تعالی جل شانہ کی طرف کرتا ہے۔  وحی الٰہی محض قرآن کریم تک ختم نہیں ہو جاتی بلکہ وحی کی ایک دوسری قسم بھی ہے جو کلام پاک کا جزو نہ  ہونے کے باوجود وحی الٰہی ہے، ثبوت اس تحریر میں دیکھیے۔

اشکال:احادیث قرآن کیطرح لکھوائی نہیں گئی

اعتراض: “اگر وحی منزل من اللہ کی دو قسمیں تھیں۔ ایک وحیِ متلو یا وحیِ جلی اور دوسری وحیِ غیر متلو ، تو کیا یہ چیز رسول اللہ کے فریضۂ رسالت میں داخل نہ تھی کہ حضورؐ وحی کے اس دوسرے حصے کو بھی خود مرتب فرما کر محفوظ شکل میں امت کو دے کر جاتے جس طرح حضورؐ نے وحی کے پہلے حصے (قرآن) کو امت کو دیا تھا”۔
یہ اعتراض یوں بھی کیا جاتا ہے کہ
” اگر حدیث کا دین میں کوئی مقام ہوتا اور دینی معاملات میں اسے مستقل حجیت حاصل ہوتی تو پھر نبی اکرمﷺ اسی اہتمام کے ساتھ حدیث بھی لکھوا لیا کرتے جس اہتمام سے آپﷺ قرآن کی ہر آیت و سورہ لکھوا لیا کرتے تھے۔اب جس شئے کو قلم بند کر کے دوسروں تک پہنچانے کا باقاعدہ التزام نہیں کیا گیا اسے ہمیشہ کے لیے ایک واجب الاتباع قانون کا درجہ کیسے دیا جاسکتا ہے؟

تبصرہ :
منکرین حدیث یہ سوال عموماً بڑے زور و شور سے اٹھاتے ہیں اور اپنے خیال میں اسے بڑا لاجواب سمجھتے ہیں۔ ان کا تصور یہ ہے کہ قرآن چونکہ لکھوایا گیا تھا اس لیے وہ محفوظ ہے اور حدیث چونکہ حضورؐ نے خود لکھوا کر مرتب نہیں کی اس لیے وہ غیر محفوظ ہے۔
لطیفہ یہ ہے کہ تمام منکرین حدیث بار بار قرآن کے لکھے جانے اور حدیث کے نہ لکھے جانے پر اپنے دلائل کا دارومدار رکھتے ہیں، لیکن یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے زمانہ میں کاتبان وحی سے ہر نازل شدہ وحی لکھوا لیتے تھے اور اس تحریر سے نقل کر کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قرآن کو ایک مصحف کی شکل میں لکھا گیا اور بعد میں اسی کی نقلیں حضرت عثمان نے شائع کیں۔ یہ سب کچھ محض حدیث کی روایات ہی سے دنیا کو معلوم ہوا ہے۔ قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، نہ حدیث کی روایات کے سوا اس کی کوئی دوسرے شہادت دنیا میں کہیں موجود ہے۔ اب اگر حدیث کی روایات سرے سے قابل اعتماد ہی نہیں ہیں تو پھر کس دلیل سے آپ دنیا کو یہ یقین دلائیں گے کہ فی الواقع قرآن حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے زمانے میں لکھا گیا تھا؟
مزید یہی راوی جب یہ بیان کرتے ہیں کہ عہدِ صحابہ میں احادیث کی کتابت ہوتی تھی وہ آپ قبول نہیں کرتے ۔ کیا یہ منافقت بھی قرآن کے ساتھ محبت کی وجہ سے ہے؟

قرآن اور حدیث کے معاملے میں فرق:
اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہئے کہ قرآن کو جس وجہ سے لکھوایا گیا، وہ یہ تھی کہ اس کے الفاظ اور معنی دونوں من جانب اللہ تھے۔ اس کے الفاظ کی ترتیب ہی نہیں، اس کی آیتوں کی ترتیب اور سورتوں کی ترتیب بھی اللہ کی طرف سے تھی۔اس کے الفاظ کو دوسرے الفاظ سے بدلنا بھی جائز نہ تھا۔ اور وہ اس لئے نازل ہوا تھا کہ لوگ انہی الفاظ میں اسی ترتیب کے ساتھ اس کی تلاوت کریں۔ اس کے مقابل میں سنت کی نوعیت بالکل مختلف تھی ، وہ محض لفظی نہ تھی بلکہ عملی بھی تھی، اور جو لفظی تھی، اس کے الفاظ قرآن کے الفاظ کی طرح بذریعہ وحی نازل نہیں ہو ئے تھے بلکہ حضور نے اس کو اپنی زبان میں ادا کیا تھا۔ پھر اس کا ایک بڑا حصہ ایسا تھا جسے حضور کے ہمعصروں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا تھا۔ مثلاً یہ کہ حضور کے اخلاق ایسے تھے، حضور کی زندگی ایسی تھی، اور فلاں موقع پر حضورؐ نے یوں عمل کیا۔
حضورؐ کے اقوال و تقریریں نقل کرنے کے بارے میں بھی یہ پابندی نہ تھی کہ سننے والے انہیں لفظ بلفظ نقل کریں۔ بلکہ اہل زبان سامعین کے لئے یہ جائز تھا اور وہ اس پرقادر بھی تھے کہ آپ سے ایک بات سن کر معنی و مفہوم بدلے بغیر اسے اپنے الفاظ میں بیان کردیں۔ حضورؐ کے الفاظ کی تلاوت مقصود نہ تھی بلکہ اس تعلیم کی پیروی مقصود تھی جو آپ نے دی ہو۔ احادیث میں قرآن کی آیتوں اور سورتوں کی طرح یہ ترتیب محفوظ کرنا بھی ضروری نہ تھا کہ فلاں حدیث پہلے ہو اور فلاں اس کے بعد۔ اس بنا پراحادیث کے معاملے میں یہ بالکل کافی تھا کہ لوگ اسے یاد رکھیں اور دیانت کے ساتھ انہیں لوگوں تک پہنچائیں۔ ان کے معاملے میں کتابت کی وہ اہمیت نہ تھی جو قرآن کے معاملے میں تھی۔
دوسری بات جسے خوب سمجھ لینا چاہئے، یہ ہے کہ کسی چیز کے سند اور حجت ہونے کے لئے اس کا لکھا ہوا ہونا قطعاً ضروری نہیں ہے۔ اعتماد کی اصل بنیاد اس شخص یا ان اشخاص کا بھروسے کے قابل ہونا ہے جس کے یا جن کے ذریعہ سے کوئی بات دوسرے تک پہنچے، خواہ وہ مکتوب ہو یا غیر مکتوب۔ خود قرآن کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے لکھوا کر نہیں بھیجا بلکہ نبی کی زبان سے اس کو بندوں تک پہنچایا۔ اللہ نے پورا انحصار اس بات پر کیا کہ جو لوگ نبی کو سچا مانیں گے، وہ نبی کے اعتماد پر قرآن کو ہمار ا کلام مان لیں گے۔ نبی ﷺ نے بھی قرآن کی جتنی تبلیغ و اشاعت کی، زبانی ہی کی۔ آپ کے جو صحابہ مختلف علاقوں میں جاکر تبلیغ کرتے تھے، وہ قرآن کی سورتیں لکھی ہوئی نہ لے جاتے تھے۔ لکھی ہوئی آیات اور سورتیں تو اس تھیلے میںپڑی رہتی تھیں جس کے اندر آپ ﷺ انہیں کاتبانِ وحی سے لکھوا کر ڈال دیا کرتے تھے۔ باقی ساری تبلیغ و اشاعت زبان سے ہوتی تھی اور ایمان لانے والے اس ایک صحابی کے اعتماد پریہ بات تسلیم کرتے تھے کہ جو کچھ وہ سنا رہا ہے، وہ اللہ کا کلام ہے یارسول اللہ ﷺ کا جو حکم وہ پہنچا رہا ہے، وہ حضور ہی کا حکم ہے۔
تیسرا اہم نکتہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ لکھی ہوئی چیز بجائے خود کبھی قابل اعتماد نہیں ہوتی، جب تک کہ زندہ اور قابل اعتماد انسانوں کی شہادت اس کی توثیق نہ کرے۔ محض لکھی ہوئی کوئی چیز اگرہمیں ملے اور ہم اصل لکھنے والے کا خط نہ پہچانتے ہوں، یا لکھنے والا خود نہ بتائے کہ یہ اسی کی تحریر ہے ، یا ایسے شواہد موجود نہ ہوں جو اس امر کی تصدیق کردیں کہ یہ تحریر اسی کی ہے جس کی طرف منسوب کی گئی ہے تو ہمارے لئے محض وہ تحریر یقینی کیا معنی، ظنی حجت بھی نہیں ہوسکتی… یہ ایک اصولی حقیقت ہے جسے موجودہ زمانے کا قانونِ شہادت بھی تسلیم کرتاہے اور فاضل جج خود اپنی عدالت میں اس پر عمل فرماتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے محفوظ ہونے پر ہم جو یقین رکھتے ہیں، کیا اس کی بنیاد یہی ہے کہ وہ لکھاگیاتھا؟ کاتبین ِوحی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے صحیفے جو حضورؐ نے املا کرائے تھے، آج دنیا میں کہیں موجود نہیں۔ اگر موجود ہوتے تو بھی آج کون یہ تصدیق کرتا کہ یہ وہی صحیفے ہیںجو حضورؐ نے لکھوائے تھے۔ خود یہ بات بھی کہ حضور ؐاس قرآن کونزولِ وحی کے ساتھ ہی لکھوالیاکرتے تھے، زبانی روایات ہی سے معلوم ہوئی ہے، ورنہ اس کے جاننے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہ تھا۔ پس قرآن کے محفوظ ہونے پر ہمارے یقین کی اصل وجہ اس کا لکھا ہوا ہونا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ زندہ انسان زندہ انسانوں سے مسلسل اس کو سنتے اور آگے زندہ انسانوں تک اسے پہنچاتے چلے آرہے ہیں۔ لہٰذا یہ خیال ذہن سے نکال دینا چاہئے کہ کسی چیز کے محفوظ ہونے کی واحد سبیل اس کا لکھا ہوا ہونا ہے۔
کسی کا یہ کہنا کہ عہد ِنبوی کے رواجات، روایات، نظائر، فیصلوں، احکام اور ہدایات کا پورا ریکارڈ ہم کو ‘ایک کتاب’کی شکل میں مرتب شدہ ملنا چاہئے تھا، درحقیقت ایک خالص غیر عملی طرزِ فکر ہے اور وہی شخص یہ بات کہہ سکتا ہے جو خیالی دنیا میں رہتا ہو۔ آپ قدیم زمانے کے عرب کی حالت چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لئے آج اس زمانے کی حالت کو لے لیجئے جب کہ احوال و وقائع کو ریکارڈ کرنے کے لئے ذرائع بے حد ترقی کرچکے ہیں۔ فرض کرلیجئے کہ اس زمانے میں کوئی لیڈر ایسا موجود ہے جو ۲۳ سال تک شب و روز کی مصروف زندگی میں ایک عظیم الشان تحریک برپا کرتا ہے۔ ہزاروں افراد کو اپنی تعلیم و تربیت سے تیار کرتا ہے۔ ان سے کام لے کر ایک پورے ملک کی فطری، اخلاقی، تمدنی اور معاشی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے۔ اپنی قیادت و رہنمائی میں ایک نیا معاشرہ اور ایک نئی ریاست وجود میں لاتا ہے۔ اس معاشرے میں اس کی ذات ہروقت ایک مستقل نمونہ ہدایت بنی رہتی ہے۔ ہر حالت میں لوگ اس کو دیکھ دیکھ کر یہ سبق لیتے ہیں کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ ہر طرح کے لوگ شب و روز اُس سے ملتے رہتے ہیں اور وہ ان کو عقائد و افکار، سیرت و اخلاق، عبادات و معاملات، غرض ہر شعبۂ زندگی کے متعلق اُصولی ہدایات بھی دیتا ہے اور جزئی اَحکام بھی۔ پھر اپنی قائم کردہ ریاست کا فرمانروا، قاضی، شارع، مدبر اور سپہ سالار بھی تنہا وہی ہے۔ اور دس سال تک اس مملکت کے تمام شعبوں کو وہ خود اپنے اُصولوں پرقائم کرتا اور اپنی رہنمائی میں چلاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج اس زمانے میں یہ سارا کام کسی ایک ملک میں ہو تو اس کا ریکارڈ ‘ایک کتاب’کی شکل میں مرتب ہوسکتا ہے؟
کیا ہر وقت اس لیڈر کے ساتھ ٹیپ ریکارڈ لگا رہ سکتا ہے؟ کیا ہر آن فلم کی مشین اس کی شبانہ روز نقل و حرکت ثبت کرنے میں لگی رہ سکتی ہے؟ اور اگر یہ نہ ہوسکے تو کیا آپ کہیں گے کہ وہ ٹھپا جو اس لیڈر نے ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگی پر، پورے معاشرے کی ہیئت اور پوری ریاست کے نظام پر چھوڑا ہے، سرے سے کوئی شہادت ہی نہیں ہے جس کا اعتبار کیا جاسکے؟ کیا آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ اس لیڈر کی تقریر سننے والے، اس کی زندگی دیکھنے والے، اس سے ربط و تعلق رکھنے والے بے شمار افراد کی رپورٹیں سب کی سب ناقابل اعتماد ہیں، کیونکہ خود اس لیڈر کے سامنے وہ ‘ایک کتاب’ کی شکل میں مرتب نہیں کی گئیں اور لیڈر نے ان پر اپنے ہاتھ سے مہر تصدیق ثبت نہیں کی؟ کیا آپ فرمائیں گے کہ اس کے عدالتی فیصلے اور اس کے انتظامی احکام، اس کے قانونی فرامین، اس کے صلح و جنگ کے معاملات کے متعلق جتنا مواد بھی بہت سی مختلف صورتوں میں موجود ہے، اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ایک ‘جامع و مانع کتاب’کی شکل میں تو ہے ہی نہیں؟ ”(ترجمان القرآن: منصب ِرسالت نمبر ، ص۳۳، ۳۴،۱۶۳،۳۳۶ تا ۳۳۸)

لہٰذا تحریر پر جتنا زور یہ حضرات دیتے ہیں وہ بالکل غلط ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی سنتوں پر قائم کیا ہوا ایک پورا معاشرہ چھوڑا تھا جس کی زندگی کے ہر پہلو پر آپؐ کی تعلیم و ہدایات کا ٹھپہ لگا ہوا تھا۔ اس معاشرے میں آپؐ کی باتیں سنے ہوئے، آپؐ کے کام دیکھے ہوئے اور آپؐ کے زیر ہدایت تربیت پائے ہوئے ہزاروں لوگ موجود تھے۔ اس معاشرے نے بعد کی نسلوں تک وہ سارے نقوش منتقل کیے اور ان سے وہ نسلاً بعد نسل ہم کو پہنچے۔ دنیا کے کسی مسلَّم اصول شہادت کی رو سے بھی یہ شہادت رد نہیں کی جا سکتی۔ پھر یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ یہ نقوش کاغذ پر ثبت نہیں کیے گئے۔ انہیں ثبت کرنے کا سلسلہ حضورؐ کے زمانے میں شروع ہو چکا تھا۔ پہلی صدی ہجری میں اس کا خاص اہتمام کیا گیا اور دوسری صدی ہجری کے محدثین زندہ شہادتوں اور تحریری شہادتوں، دونوں کی مدد سے اس پورے نقشے کو ضبط تحریر میں لے آئے۔ہم پہلے اس پر ایک تبصرہ پیش کرچکے ہیں مزید تفصیل آگے ایک تحریر میں پیش کی جائے گی ۔
اس وضاحت کے بعد یہ بھی عرض ہے کہ آپ ذخیرئہ حدیث کو فن تاریخ کے معیار پر پورا اُترتا ہوا تسلیم نہیں کرتے، اس لئے آپ کو چیلنج ہے کہ آپ دنیا کے کسی اعلیٰ سے اعلیٰ معیارِ تاریخ کو معیارِ حدیث کے ہم پلہ ہی ثابت کردیجئے۔ صرف بڑا بول بول دینا کوئی کمال نہیں ہوتا!!

اشکال:حفاظتِ حدیث کی ذمہ داری اللہ نے نہیں اٹھائی۔!

اعتراض :

قرآن مجيد تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اسکی حفاظت کی ذمہ داری تو خود اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ليكن حديث رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى حفاظت كا ذمہ اللہ تعالى نے نہيں ليا ۔ اللہ تعالى نے فرمايا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ۔ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔( سورة الحجر15: آية 9)

تبصرہ :

سوال یہ ہے کہ قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری جو اللہ نے لے لی تھی، اس کو اللہ نے براہ راست عملی جامہ پہنایا، یا انسانوں کے ذریعہ سے اس کو عملی جامہ پہنوایا؟ ظاہر ہے آپ اس کا کوئی جواب اس کے سوا نہیں دے سکتے کہ اس حفاظت کے لیے انسان ہی ذریعہ بنائے گئے۔ اور عملاً یہ حفاظت اس طرح ہوئی کہ حضورؐ سے جو قرآن لوگوں کو ملا تھا اس کو اسی زمانہ میں ہزاروں آدمیوں نے لفظ بلفظ یاد کر لیا، پھر ہزاروں سے لاکھوں اور لاکھوں سے کروڑوں اس کو نسلاً بعد نسل لیتے اور یاد کرتے چلے گئے، حتی کہ یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں رہا کہ قرآن کا کوئی لفظ دنیا سے محو ہو جائے، یا اس میں کسی وقت کوئی رد و بدل ہو اور وہ فوراً نوٹس میں نہ آ جائے، یہ حفاظت کا غیر معمولی انتظام آج تک دنیا کی کسی دوسری کتاب کے لیے نہیں ہو سکا ہے اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کیا ہوا انتظام ہے۔
اب ملاحظہ فرمائیے کہ جس رسولؐ کو ہمیشہ کے لیے اور تمام دنیا کے لے رسول بنایا گیا تھا اور جس کے بعد نبوت کا دروازہ بند کر دینے کا بھی اعلان کر دیا گیا تھا، اس کے کارنامۂ حیات کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا محفوظ فرمایا کہ آج تک تاریخ انسانی میں گزرے ہوئے کسی نبی، کسی پیشوا، کسی لیڈر اور رہنما اور کسی بادشاہ یا فاتح کا کارنامہ اس طرح محفوظ نہیں رہا ہے اور یہ حفاظت بھی انہیں ذرائع سے ہوئی ہے جن ذرائع سے قرآن کی حفاظت ہوئی ہے، ختم نبوت کا اعلان بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کیے ہوئے آخری رسولؐ کی رہنمائی اور اس کے نقوش قدم کو قیامت تک زندہ رکھنے کی ذمہ داری لے لی ہے تاکہ اس کی زندگی ہمیشہ انسان کی رہنمائی کرتی رہے اور اس کے بعد کسی نئے رسول کے آنے کی ضرورت باقی نہ رہے۔
اب آپ خود دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے فی الواقع جریدۂ عالم پر ان نقوش کو کیسا ثبت کیا ہے کہ آج تک کوئی طاقت انہیں مٹا نہیں سکتی۔ کیا آپ کو نظر نہیں آتا کہ یہ وضو، یہ پنچ وقتہ نماز، یہ اذان، یہ مساجد کی با جماعت نماز، یہ عیدین کی نماز، یہ حج کے مناسک، یہ بقر عید کی قربانی، یہ زکوٰۃ کی شرحیں، یہ ختنہ، یہ نکاح و طلاق و وراثت کے قاعدے، یہ حرام و حلال کے ضابطے اور اسلامی تہذیب و تمدن کے دوسرے بہت سے اصول اور طور طریقے جس روز نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے شروع کیے اسی روز سے وہ مسلم معاشرے میں ٹھیک اسی طرح رائج ہو گئے جس طرح قرآن کی آیتیں زبانوں پر چڑھ گئیں اور پھر ہزاروں سے لاکھوں اور لاکھوں سے کروڑوں مسلمان دنیا کے ہر گوشے میں نسلاً بعد نسل ان کی اسی طرح پیروی کرتے چلے آ رہے ہیں جس طرح ان کی ایک نسل سے دوسری نسل قرآن لیتی چلی آ رہی ہے۔ ہماری تہذیب کا بنیادی ڈھانچہ رسول پاک کی جن سنتوں پر قائم ہے، ان کے صحیح ہونے کا ثبوت بعینہٖ وہی ہے جو قرآن پاک کے محفوظ ہونے کا ثبوت ہے۔ اس کو جو شخص چیلنج کرتا ہے وہ دراصل قرآن کی صحت کو چیلنج کرنے کا راستہ اسلام کے دشمنوں کو دکھاتا ہے۔
پھر دیکھیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی اور آپ کے عہد کی سوسائٹی کا کیسا مفصل نقشہ، کیسی جزئی تفصیلات کے ساتھ، کیسے مستند ریکارڈ کی صورت میں آج ہم کو مل رہا ہے۔ ایک ایک واقعہ اور ایک ایک قول و فعل کی سند موجود ہے، جس کو جانچ کر ہر وقت معلوم کیا جا سکتا ہے کہ روایت کہاں تک قابل اعتماد ہے۔ صرف ایک انسان کے حالات معلوم کرنے کی خاطر اس دَور کے کم و بیش 6 لاکھ انسانوں کے حالات مرتب کر دیئے گئے تاکہ ہر وہ شخص جس نے کوئی روایت اس انسان عظیمؐ کا نام لے کر بیان کی ہے اس کی شخصیت کو پرکھ کر رائے قائم کی جا سکے کہ ہم اس کے بیان پر کہاں تک بھروسہ کر سکتے ہیں۔ تاریخی تنقید کا ایک وسیع علم انتہائی باریک بینی کے ساتھ صرف اس مقصد کے لیے مدون ہو گیا کہ اس ایک فرد فرید کی طرف جو بات بھی منسوب ہو، اسے ہر پہلو سے جانچ پڑتال کر کے صحت کا اطمینان کر لیا جائے۔ کیا دنیا کی پوری تاریخ میں کوئی اور مثال بھی ایسی ملتی ہے کسی ایک شخص کے حالات محفوظ کرنے کے لیے انسانی ہاتھوں سے یہ اہتمام عمل میں آیا ہو؟ اگر نہیں ملتی اور نہیں مل سکتی، تو کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ اس اہتمام کے پیچھے بھی وہی خدائی تدبیر کارفرما ہے جو قرآن کی حفاظت میں کارفرما رہی ہے؟

احادیث کے محفوظ رہنے کی اصل علت:

یہ اس معاملے کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ صحابہ کے لیے خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث کو ٹھیک ٹھیک یاد رکھنے اور انہیں صحیح صحیح بیان کرنے کے کچھ مزید محرکات بھی تھے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
1.صحابہ سچے دل سے آپ کو خدا کا نبی اور دنیا کا سب سے بڑا انسان سمجھتے تھے۔ ان کے دلوں پر آپﷺ کی شخصیت کا بڑا گہرا اثر تھا۔ ان کے لیے آپ کی بات اور آپ کے واقعات و حالات کی حیثیت عام انسانی وقائع جیسی نہ تھی کہ وہ ان کو اپنے معمولی حافظے کے حوالے کر دیتے۔ ان کے لیے تو ایک ایک لمحہ جو انہوں نے آپﷺ کی معیت میں گزارا، ان کی زندگی کا سب سے زیادہ قیمتی لمحہ تھا اور اس کی یاد کو وہ اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے تھے۔
2. وہ آپ کی ایک ایک تقریر، ایک ایک گفتگو اور آپ کی زندگی کے ایک ایک عمل سے وہ علم حاصل کر رہے تھے جو انہیں اس سے پہلے کبھی حاصل نہ ہوا تھا۔ وہ خود جانتے تھے کہ ہم اس سے پہلے سخت جاہل اور گمراہ تھے اور یہ پاکیزہ ترین انسان اب ہم کو صحیح علم دے رہا ہے اور مہذب انسان کی طرح جینا سکھا رہا ہے۔ اس لیے وہ پوری توجہ کے ساتھ ہر بات سنتے اور ہر فعل کو دیکھتے تھے، کیونکہ انہیں اپنی زندگی میں عملاً اسی کا نقش پیوست کرنا تھا، اسی کی نقل اتارنی تھی اور اسی کی راہنمائی میں کام کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس شعور و احساس کے ساتھ آدمی جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اسے یاد رکھنے میں وہ اتنا سہل انگار نہیں ہو سکتا جتنا وہ کسی میلے یا کسی بازار میں سنی اور دیکھی ہوئی باتیں یاد رکھنے میں ہو سکتا ہے۔
3. وہ قرآن کی رو سے بھی یہ جانتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بار بار متنبہ کرنے سے بھی ان کو شدت کے ساتھ اس بات کا احساس تھا کہ خدا کے نبی پر افترا کرنا بہت بڑا گناہ ہے جس کی سزا ابدی جہنم ہو گی۔ اس بنا پر وہ حضور ﷺ کی طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے میں سخت محتاط تھے۔ صحابہ کرام میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی صحابی نے اپنی کسی ذاتی غرض سے یا اپنا کوئی کام نکالنے کے لیے حضورﷺ کے نام سے کبھی ناجائز فائدہ اٹھایا ہو، حتیٰ کہ ان کے درمیان جب اختلافات برپا ہوئے اور دو خونریز لڑائیاں تک ہو گئیں، اس وقت بھی فریقین میں سے کسی ایک شخص نے بھی کوئی حدیث گھڑ کر دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کی۔ اس قسم کی حدیثیں بعد کے ناخدا ترس لوگوں نے تو ضرور تصنیف کیں جنہوں بعد میں علیحدہ کرلیا گیا مگر صحابہ کے واقعات میں اس کی مثال ناپید ہے۔
4.وہ اپنے اوپر اس بات کی بہت بڑی ذمہ داری محسوس کرتے تھے کہ بعد کے آنے والوں کو حضورﷺ کے حالات اور آپ کی ہدایات و تعلیمات بالکل صحیح صورت میں پہنچائیں اور اس میں کسی قسم کا مبالغہ یا آمیزش نہ کریں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ دین تھا اور اس میں اپنی طرف سے تغیر کر دینا کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ ایک عظیم خیانت تھا۔ اسی وجہ سے صحابہ کے حالات میں اس قسم کے بکثرت واقعات ملتے ہیں کہ حدیث بیان کرتے ہوئے وہ کانپ جاتے تھے، ان کے چہرے کا رنگ اڑ جاتا تھا، جہاں ذرہ برابر بھی خدشہ ہوتا تھا کہ شاید حضور ﷺ کے الفاظ کچھ اور ہوں وہاں بات نقل کر کے “اؤ کما قال” کہہ دیتے تھے تا کہ سننے والا ان کے الفاظ کو بعینہٖ حضور ﷺ کے الفاظ نہ سمجھ لے۔
5. اکابر صحابہ خاص طور پر عام صحابیوں کو احادیث روایت کرنے میں احتیاط کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ اس معاملے میں سہل نگاری برتنے سے شدت کے ساتھ روکتے تھے اور بعض اوقات ان سے حضور ﷺ کا کوئی ارشاد سن کر شہادت طلب کرتے تھے تا کہ یہ اطمینان ہو جائے کہ دوسروں نے بھی یہ بات سنی ہے۔ اسی اطمینان کے لیے صحابیوں نے ایک دوسرے کے حافظے کا امتحان بھی لیا ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ حضرت عائشہ کو حج کے موقع پر حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے ایک حدیث پہنچی۔ دوسرے سال حج میں اُم المومنین نے پھر اسی حدیث کو دریافت کرنے کے لیے ان کے پاس آدمی بھیجا۔ دونوں مرتبہ حضرت عبد اللہ کے بیان میں ایک حرف کا فرق بھی نہ تھا۔ اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا: “واقعی عبد اللہ کو بات ٹھیک یاد ہے”۔ (بخاری و مسلم)
6. حضور ﷺ کی ہدایات و تعلیمات کا بہت بڑا حصہ وہ تھا جس کی حیثیت محض زبانی روایات ہی کی نہ تھی بلکہ صحابہ کے معاشرے میں، ان کی شخصی زندگیوں میں، ان کے گھروں میں، ان کی معیشت اور حکومت اور عدالت میں اس کا پورا ٹھپہ لگا ہوا تھا جس کے آثار و نقوش ہر طرف لوگوں کو چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ ایسی ایک چیز کے متعلق کوئی شخص حافظے کی غلطی، یا اپنے ذاتی خیالات و تعصبات کی بنا پر کوئی نرالی بات لا کر پیش کرتا بھی تو وہ چل کہاں سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نرالی حدیث آئی بھی ہے تو وہ الگ پہچان لی گئی ہے اور محدثین نے اس کی نشاندہی کر دی ہے کہ اس خاص راوی کے سوا یہ بات کسی اور نے بیان نہیں کی ہے، یا اس پر عمل درآمد کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

احادیث کی صحت کا ایک لطیف اشارہ اور ثبوت:

ان سب کے علاوہ ایک نہایت اہم بات اور بھی ہے جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو عربی زبان جانتے ہیں اور جنہوں نے محض سرسری طور پر کبھی کبھار متفرق احادیث کا مطالعہ نہیں کر لیا ہے بلکہ گہری نگاہ سے حدیث کی پوری پوری کتابوں کو، یا کم از کم ایک ہی کتاب (مثلاً بخاری یا مسلم) کو از اول تا آخر پڑھا ہے۔ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علی و سلم کی اپنی ایک خاص زبان اور آپ کا اپنا ایک مخصوص اندازِ بیان ہے جو تمام صحیح احادیث میں بالکل یکسانیت اور یک رنگی کے ساتھ نظر آتا ہے۔ قرآن کی طرح آپ کا لٹریچر اور اسٹائل اپنی ایسی انفرادیت رکھتا ہے کہ اس کی نقل کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔ اس میں آپ کی شخصیت بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اس میں آپ ﷺ کا بلند منصب و مقام جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے آدمی کا دل یہ گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ باتیں محمد رسول اللہ کے سوا کوئی دوسرا شخص کہہ نہیں سکتا۔ جن لوگوں نے کثرت سے احادیث کو پڑھ کر حضور ﷺ کی زبان اور طرزِ بیان کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے، وہ حدیث کی سند کو دیکھے بغیر محض متن کو پڑھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے یا موضوع، کیونکہ موضوع کی زبان ہی بتا دیتی ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان نہیں ہے حتیٰ کہ صحیح احادیث تک میں روایت باللفظ اور روایت بالمعنی کا فرق صاف محسوس ہو جاتا ہے، کیونکہ جہاں راوی نے حضور کے بات کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، وہاں آپﷺ کے اسٹائل سے واقفیت رکھنے والا یہ بات پا لیتا ہے کہ یہ خیال اور بیان تو حضور ﷺ ہی کا ہے لیکن زبان میں فرق ہے۔ یہ انفرادی خصوصیت احادیث میں کبھی نہ پائی جا سکتی اگر بہت سے کمزور حافظوں نے ان کو غلط طریقوں سے نقل کیا ہوتا اور بہت سے ذہنوں کی کارفرمائی نے ان کو اپنے اپنے خیالات و تعصبات کے مطابق توڑا مروڑا ہوتا۔ کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ بہت سے ذہن مل کر ایک یک رنگ لٹریچر اور ایک انفرادی اسٹائل پیدا کر سکتے ہیں؟
اور یہ معاملہ صرف زبان و ادب کی حد تک ہی نہیں ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر دیکھیے تو نظر آتا ہے کہ طہارت جسم و لباس سے لے کر صلح و جنگ اور بین الاقوامی معاملات تک زندگی کے تمام شعبوں اور ایمان و اخلاق سے لے کر علامات قیامت اور احوال آخرت تک تمام فکری اور اعتقادی مسائل میں صحیح احادیث ایک ایسا نظام فکر و عمل پیش کرتی ہیں جو اول سے آخر تک اپنا ایک ہی مزاج رکھتا ہے اور جس کے تمام اجزا میں پورا پورا منطقی ربط ہے۔ ایسا مربوط اور ہم رنگ نظام اور اتنا مکمل وحدانی نظام لازماً ایک ہی فکر سے بن سکتا ہے، بہت سے مختلف ذہن مل کر اسے نہیں بنا سکتے۔ یہ ایک اور اہم ذریعہ ہے جس سے موضوع احادیث ہی نہیں مشکوک احادیث تک پہچانی جاتی ہیں۔ سند کو دیکھنے سے پہلے ایک بصیرت رکھنے والا آدمی اس طرح کی کسی حدیث کے مضمون ہی کو دیکھ کر یہ بات صاف محسوس کر لیتا ہے کہ صحیح احادیث اور قرآن مجید نے مل کر اسلام کا جو نظام فکر اور نظام حیات بنایا ہے اس کے اندر یہ مضمون کسی طرح ٹھیک نہیں بیٹھتا کیونکہ اس کا مزاج پورے نظام کے مزاج سے مختلف نظر آتا ہے۔

آخری بات:

كسى چيز كى تكميل سے مراد یہ ہوتا ہے كہ اب اس ميں مزيد اضافے ، رد وبدل يا تغيير كى ضرورت نہيں رہی۔ مكمل سے يہ بھی مراد ہوتا ہے كہ اب اس چيز ميں كوئى كمى باقى نہيں ، مكمل سے مراد نقائص وعيوب سے خالى ہونا بھی ہوتا ہے ، اس تمہيد کے بعد كلام الہی كى اس آيت مباركہ پر غور كيجيے:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ ٌ (سورة المائدة )
آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے ۔
اب اگر آخری نبی کی طرف سے کی گئی كلام الہی كى تشريح اور بيان ہی محفوظ نہيں تو اسلام كے مكمل ہونے كا كيا مطلب ہے؟ اگر قرآن كريم كى تشريح ہی تحريف و تغيير سے محفوظ نہيں تو دين اسلام مكمل كيسے ہوا؟ اللہ كى نعمت تمام كيسے ہوئى اور آخر ايسے تغيير و تحريف كے خطرے سے دوچار اسلام كو اللہ تعالى نے ہمارے ليے بطور دين پسند كيسے كر ليا ؟ ( ورضيت لكم الاسلام دينا ) ۔ اللہ نے اپنے كلام ميں دين اسلام كو مكمل دين كہا ہے اور كتاب اللہ كا حرف حرف سچا ہے۔ اسکے آخری نبی کا دین اور شریعت محفوظ ہے اور قیامت تک کے لیے محفوظ رہے گی۔ ومن أصدق من الله قيلا !!

امام بخاری اور چھے لاکھ احادیث کا فسانہ

علم حدیث پر منکرین حدیث نے یہ اعتراض بھی بڑی شدومد سے اٹھایا ہے کہ محدثین کے پاس اتنی تعداد میں احادیث کہاں سےآ گئیں؟انہوں نے اس ذخیرے میں سے نوے فیصد ریجیکٹ کردیں۔ اس طرح وہ نہایت مہیب اور مدہش اعدادو شمار پیش کر کے قارئین کرام کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان میں سے 95% موضوع اور جعلی احادیث تھیں۔ملاحظہ کیجیے :
“ضمناً یہ بھی دیکھیے کہ ان حضرات کو کس قدر احادیث ملیں اور ان میں سے انھوں نے کتنی احادیث کو منتخب کر کے اپنے مجموعہ میں داخل کیا۔
1.امام بخاری چھ لاکھ میں سے مکررات نکال کر صرف ۲۷۶۲ ۔
2.امام مسلم تین لاکھ میں سے صرف ۴۲۴۸ ۔
3.ابو داؤد پانچ لاکھ میں سے ۴۸۰۰۔
4.ابن ماجہ چار لاکھ سے صرف ۴۰۰۰۔
5.نسائی دو لاکھ میں سے صرف ۴۳۲۱
(مقام حدیث ، ص ۲۵)
امام بخاریؒ کے بارے میں طلوع اسلام کا مؤقف ہے: ’’انھوں نے شہر اور قریہ بہ قریہ پھر کر چھ لاکھ کے قریب احادیث جمع کیں ان میں سے انھوں نے اپنے معیار کے مطابق صرف ۷۲۰۰ احادیث کو صحیح پایا اور انھیں اپنی کتاب میں درج کرلیا باقی پانچ لاکھ ترانوے ہزار کو مسترد کر دیا‘‘۔ [مقام حدیث، ص۲۲]
اس استدلال سے وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ:
’’ذرا سوچیے کہ اگر امام بخاری پانچ لاکھ چورانوے ہزار احادیث کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ وہ ان کی دانست میں رسولؐ اللہ کی نہیں ہوسکتیں اور اس سے وہ منکر حدیث نہیں قرار پاتے تو اگر آج کوئی شخص ایک حدیث کے متعلق کہتا ہے کہ اس کی بصیرت قرآن کی رو سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہوسکتی تو وہ کافر اور خارج از اسلام کس طرح قرار پا سکتا ہے؟ وہ درحقیقت ایک جامع حدیث کے شاہد یا راوی کی روایت کے صحیح ہونے سے انکار کرتا ہے۔ ارشاد نبوی سے انکار نہیں کرتا‘‘۔ [مقام حدیث، ص۵۶]

مغالطے کی حقیقت:

1.محدثین کی اصطلاح میں اگر ایک متن حدیث متعدد سندوں سے آیا ہے تو یہ متن اپنی ہر سند کے لحاظ سے ایک حدیث شمار ہوتا ہے۔ مثلاً رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات فرمائی جو پانچ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ نے سنی، ہر صحابی نے اپنے پانچ شاگردوں کو وہ بات سنائی اس طرح تابعین تک اسکی پچیس اسناد بن گئیں اب اگر تابعی راوی اپنے دس شاگردوں کو روایت بیان کرے تو اس طرح اس حدیث کی دو سو پچاس اسناد بن گئیں۔ اس طرح امام بخاری کے زمانہ تک پہنچتے پہنچتے احادیث کا یہ ذخیر ہ کئی لاکھ حدیثوں کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ مثلاً مشہور حدیث «إنما الأعمال بالنيات» سات سو سندوں سے مروی ہے یعنی ایک حدیث کے سینکڑوں توابع و شواہد ہیں۔ فن حدیث میں یہ ایک حدیث نہیں بلکہ سات سو حدیثیں شمار ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب امام بخاری  کی ایک ہی حدیث کی سندیں سینکڑوں تک پہنچتی ہیں توباقی روایات کے توابع و شواہد کی تعداد کہاں تک پہنچے گی۔ اس کا اندازہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ (تلقیح ابن جوزی، مقدمہ ابن صلاح، صفحہ ۱۱)
2۔ محدثین’حدیث’ کا وسیع مفہوم لیتے ہوئے اس کا اطلاق صحابہ اور تابعین کے آثار و اقوال پر بھی کردیتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ امام بخاری  نے ایک لاکھ میں سے خالص مرفوع احادیث یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین اور اُسوہٴ حسنہ پر مشتمل روایات کوچھانٹ لیا۔ظاہر ہے کہ امام محترم کا یہ طرزِ عمل اُمت ِاسلامیہ پر ایک بہت بڑا احسان ہے نہ کہ حدیث کے بارے میں وسوسہ اندازی کا موجب۔
3۔امام بخاری کا طریقہ یہ تھا کہ جتنی سندوں سے کوئی واقعہ انہیں پہنچا تھا انہیں وہ اپنی شرائطِ صحت (یعنی سند کی صحت نہ کہ اصل واقعہ کی صحت) کے مطابق جانچتے تھے اور ان میں سے جس سند یا جن سندوں کو وہ سب سے زیادہ معتبر سمجھتے تھے ان کا انتخاب کر لیتے تھے مگر انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ جو حدیثیں انہوں نے منتخب کی ہیں بس وہی صحیح ہیں اور باقی تمام روایات غیر صحیح ہیں ۔ ان کا اپنا قول یہ ہے کہ “میں نے اپنی کتاب میں کوئی ایسی حدیث داخل نہیں کی ہے جو صحیح نہ ہو، مگر بہت سی صحیح حدیثیں چھوڑ دی ہیں تا کہ کتاب طویل نہ ہو جائے۔ (تاریخ بغداد، ج 2 ص 8 – 9، تہذیب النووی ج 1، ص 74، طبقات السبکی ج 2 ص 7) بلکہ ایک اور موقع پر وہ اس کی تصریح بھی کرتے ہیں کہ “میں نے جو صحیح حدیثیں چھوڑ دی ہیں وہ میری منتخب کردہ حدیثوں سے زیادہ ہیں۔” اور یہ کہ “مجھے ایک لاکھ صحیح حدیثیں یاد ہیں۔” (شروط الائمۃ الخمسہ، ص 49 ) قریب قریب یہی بات امام مسلم نے بھی کہی ہے۔ ان کا قول ہے “میں نے اپنی کتاب میں جو روایتیں جمع کی ہیں ان کو میں صحاح کہتا ہوں مگر یہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ جو روایت میں نے لی ہے وہ ضعیف ہے۔” (توجیہ النظر، ص 91 )
اس ساری تفصیل سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ایک لاکھ کے عدد کو ہوا بنا کرپیش کرنا کس قدر مغالطہ انگیز ہے۔

احادیث کی عددی کثرت کے اسباب:

سنن اور احادیث میں جو فرق ہے وہ ہم پہلے واضح کرچکے ہیں۔ سنن کا تعلق صرف رسول اللہﷺ کی ایک ذات سے ہے۔ جب کہ احادیث کا تعلق بیشمار صحابہ اور تابعین کے اقوال وافعال سے بھی ہے۔ لہٰذا احادیث کی تعداد سنن رسول ﷺ سے کئی گناہ زیادہ ہونا لازمی امر ہے۔جس کی مثال ہم پہلے پیش کر چکے ہیں کہ:”انَّمَا الاَ عمَالُ بالنَّیَّات”ایک سنت قولی ہے۔ جب کہ احادیث کے لحاظ سے اس کا شمار سات سو (700) ہے۔ اس لحاظ سے بھی احادیث کی تعداد سنن سے بیسیوں گنا بڑھ جاتی ہے۔صحابہ آپ کو جیسے نماز پڑھتے دیکھتے ویسے ہی پڑھ لیتے۔یاجووفودباہر سے مدینہ آتے۔ آپ انھیں چند دن اپنے پاس ٹھہرا کر، جاتے وقت یہ وصیت کرتے کہ”صَلُّوا کَمَا رَأَیُتُمُونِی أُّصَلَّی [ترجمہ:” نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ صحیح البخاری: کتاب الاذان: باب الاذان للمسافرین اذا کانوا جماعۃ[ یا آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا خُذُوا عَنِّی مَنَاسِکَکُم۔[ ترجمہ:” مجھ سے حج کے ارکان کی ادائیگی کے طریقے سیکھ لو۔سنن الکبریٰ للبیھقی۔ کتاب الحج: باب الایضاع فی وادی محسر (5:125) ، الحدیث]
پھر جب صحابہؓ نے نماز،حج،روزہ،زکوٰۃ اور دوسرے احکام کے کوائف و تفصیلات کو روایت و کتابت کرنا شروع کیا تو انھیں چھوٹے چھوٹے ارشادات سے دفتر کے دفتر تیار ہوگئے۔

احادیث کی اصل تعداد:

جسے عرف عام میں حدیث کہا جاتا ہے ان کی مجموعی تعداد ۲۰ ہزار سے متجاوز نہیں, پھر بے شمار ایسی حادیث ہیں جو مختلف مجموعوں میں مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں۔ اس طرح ان کی اصل تعدادنصف سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ چنانچہ حاکم کی تحقیق کے مطابق صحاح ستہ کے علاوہ مسند احمد بن حنبل سمیت صحیح احادیث کی تعداد دس ہزار سے زیادہ نہیں۔ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں: ’’اعلیٰ درجہ کی حدیثوں کی تعداد دس ہزار تک نہیں پہنچ پاتی‘‘۔ [توجیہہ النظر بحوالہ تدوین]

سنت کی ضرورت کیوں ؟ کیا کتاب اللہ کا قانون نامکمل ہے

اعتراض :
سنت کی ضرورت ہی کیوں ؟ کیا کتاب اللہ کا قانون (نعوذ باللہ) نامکمل تھا اور جو کچھ حضور ﷺ نے عملاً کیا اس سے اس قانون کی تکمیل ہوئی۔کیا آپ قرآن کریم سے کوئی ایسی پیش (مثال ) فرمائیں گے جس سے معلوم ہو کہ قرآن کا قانون نامکمل ہے”۔
جواب:
یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے جو علم قانون کے ایک مسلم قاعدے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آپ کو لاحق ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں یہ قاعدہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ قانون سازی کا اختیار اعلیٰ جس کو حاصل ہو وہ اگر ایک مجمل حکم دے کر یا ایک عمل کا حکم دے کر، یا ایک اصول طے کر کے اپنے ماتحت کسی شخص یا ادارے کو اس کی تفصیلات کے بارے میں قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے اختیارات تفویض کر دے تو اس کے مرتب کردہ قواعد و ضوابط قانون سے الگ کوئی جز نہیں ہوتے بلکہ اسی قانون کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ قانون ساز کا اپنا منشا یہ ہوتا ہے کہ جس عمل کا حکم بھی میں نے دیا ہے، ذیلی قواعد بنا کر اس پر عمل درآمد کا طریقہ مقرر کر دیا جاۓ، جو اصول اس نے طے کیا ہے اس کی مطابق مفصل قوانین بنائے جائیں اور جو مجمل ہدایت اس نے دی ہے اس کے منشا کو تفصیلی شکل میں واضح کر دیا جائے۔ اسی غرض کے لیے وہ خود اپنے ماتحت شخص یا اشخاص یا اداروں کو قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا مجاز کرتا ہے۔یہ ذیلی قواعد بلاشبہ اصل ابتدائی قانون کے ساتھ مل کر اس کی تشکیل و تکمیل کرتے ہیں۔ مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ قانون ساز نے غلطی سے ناقص قانون بنایا تھا اور کسی دوسرے نے آ کر اس کا نقص دور کیا بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ قانون ساز نے اپنے قانون کا بنیادی حصہ خود بیان کیا اور تفصیلی حصہ اپنے مقرر کیے ہوۓ ایک شخص یا ادارے کے ذریعے سے مرتب کرا دیا۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریعی کام کی نوعیت:
اللہ تعالیٰ نے اپنی قانون سازی میں یہی قاعدہ استعمال فرمایا ہے۔ اس نے قرآن میں مجمل احکام اور ہدایات دے کر، یا کچھ اصول بیان کر کے، یا اپنی پسندو ناپسند کا اظہار کر کے یہ کام اپنے رسول ﷺ کے سپرد کیا کہ وہ نہ صرف لفظی طور پر اس قانون کی تفصیلی شکل مرتب کریں بلکہ عملاً اسے برت کر اور اس کے مطابق کام کر کے بھی دکھا دیں۔ یہ تفویضِ اختیارات کا فرمان خود قانون کے متن (یعنی قرآن مجید) میں موجود ہے۔
“اور (اے نبی) ہم نے یہ ذکر تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کر دو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔(النمل:44)
اس صریح فرمانِ تفویض کے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قولی اور عملی بیان، قرآن کے قانون سے الگ کوئی چیز ہے۔ یہ درحقیقت قرآن ہی کی رو سے اس کے قانون کا ایک حصہ ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کے معنی خود قرآن کو اور خدا کے پروانۂ تفویض جو چیلنج کرنے کے ہیں۔

اس تشریعی کام کی چند مثالیں:
1. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ وہ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ واللہ یحب المطھرین (التوبہ:10) اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت کی کہ اپنے لباس کو پاک رکھیں۔ وثیابک فطھر (المدثر:4) حضور ﷺ نے اس منشا پر عمل درآمد کے لیے استنجا اور طہارتِ جسم و لباس کے متعلق مفصل ہدایات دیں اور ان پر خود عمل کر کے بتایا۔

2. قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اگر تم کو جنابت لاحق ہو گئی تو پاک ہوۓ بغیر نماز نہ پڑھو (النساء:43، المائدہ:6)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ جنابت سے کیا مراد ہے۔ اس کا اطلاق کن حالتوں پر ہوتا ہے اور کن حالتوں پر نہیں ہوتا اور اس سے پاک ہونے کا طریقہ کیا ہے۔

3. قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنا منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھولو، سر پر مسح کرو اور پاؤں دھوؤ، یا ان پر مسح کرو (المائدہ:6) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ منہ دھونے کے حکم میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے۔ کان سر کا ایک حصہ ہیں اور سر کے ساتھ ان پر بھی مسح کرنا چاہئیے۔ پاؤں میں موزے ہوں تو مسح کیا جائے اور موزے نہ ہوں تو ان کو دھونا چاہیے۔ اس کے ساتھ آپ نے تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ وضو کن حالات میں ٹوٹ جاتا ہے اور کن حالات میں باقی رہتا ہے۔

4. قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزہ رکھنے والا رات کو اس وقت تک کھا پی سکتا ہے جب تک فجر کے وقت کالا تاگا سفید تاگے سے ممیز نہ ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اس سے مراد تاریکیِ شب کے مقابلہ میں سپید ۂ صبح کا نمایاں ہونا ہے۔

5. قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اشیاء کے حرام اور بعض کے حلال ہونے کی تصریح کرنے کے بعد باقی اشیاء کے متعلق یہ عام ہدایت فرمائی کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کی گئی ہیں (المائدہ:4) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول اور عمل سے اس کی تفصیل بتائی کہ پاک چیزیں کیا ہیں جنہیں ہم کھاسکتے ہیں اور ناپاک چیزیں کون سی ہیں جن سے ہم کو بچنا چاہیے۔

6. قرآن میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کا قانون بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میت کی نرینہ اولاد کوئی نہ ہو اور ایک لڑکی ہو تو وہ نصف ترکہ پائے گی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زائد لڑکیاں ہوں تو ان کو ترکے کا دو تہائی حصہ ملے گا (النساء:11)۔ اس میں یہ بات واضح نہ تھی کہ اگر دو لڑکیاں ہوں تو وہ کتنا حصہ پائیں گی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے توضیح فرمائی کہ دو لڑکیوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا دو سے زائد لڑکیوں کا مقرر کیا گیا ہے۔

7. قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا (النساء:23)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پھوپھی، بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔

8. قرآن مردوں کو اجازت دیتا ہے کہ دو دو، تین تین ، چار چار عورتوں سے نکاح کر لیں (النساء:3) یہ الفاظ اس معاملہ میں قطعاً واضح نہیں ہیں کہ ایک مرد بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ حکم کے اس منشاء کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی اور جن لوگوں کے نکاح میں چار سے زائد بیویاں تھیں ان کو آپ نے حکم دیا کہ زائد بیویوں کو طلاق دے دیں۔

9. قرآن حج کی فرضیت کا عام حکم دیتا ہے اور یہ صراحت نہیں کرتا کہ اس فریضہ کو انجام دینے کے لیے آیا ہر مسلمان کو ہر سال حج کرنا چاہیے یا عمر میں ایک بار کافی ہے، یا ایک سے زیادہ مرتبہ جانا چاہیے (آل عمران:97)۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی تشریح ہے جس سے ہم کو معلوم ہوا کہ عمر میں صرف ایک مرتبہ حج کر کے آدمی فریضۂ حج سے سبکدوش ہو جاتا ہے۔

10. قرآن سونے اور چاندی کے جمع کرنے پر سخت وعید فرماتا ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت 34 کے الفاظ ملاحظہ فرما لیجئے۔ اس کے عموم میں اتنی گنجائش بھی نظر نہیں آتی کہ آپ روز مرہ کے خرچ سے زائد پیسہ بھی اپنے پاس رکھ سکیں، یا آپ کے گھر کی خواتین کے پاس سونے یا چاندی کا ایک تار بھی زیور کے طور پر رہ سکے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں جنہوں نے بتایا کہ سونے اور چاندی کا نصاب کیا ہے اور بقدر نصاب یا اس سے زیادہ سونا چاندی رکھنے والا آدمی اگر اس پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کر دے تو وہ قرآن مجید کی اس وعید کا مستحق نہیں رہتا۔

ان چند مثالوں سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ تشریعی اختیارات کو استعمال کر کے قرآن کے احکام و ہدایات اور اشارات و مضمرات کی کس طرح شرح و تفسیر فرمائی ہے۔ یہ چیز چونکہ خود قرآن میں دئیے ہوئے فرمانِ تفویض پر مبنی تھی اس لیے یہ قرآن سے الگ کوئی مستقل بالذات نہیں ہے بلکہ قرآن کے قانون ہی کا ایک حصہ ہے۔

کیا سنت بھی قرآن کی طرح اختلافات سے پاک ہے؟

۔

بلاشبہ سنت کی تحقیق اور اس کے تعین میں بہت سے اختلافات ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایسے ہی اختلافات قرآن کے بہت سے احکام و اشارات کے معنی متعین کرنے میں بھی ہوئے ہیں اور ہو سکتے ہیں۔ ایسے اختلافات اگر قرآن کو چھوڑ دینے کے لیے دلیل نہیں بن سکتے تو سنت کو چھوڑ دینے کے لیے انہیں کیسے دلیل بنایا جا سکتا ہے؟ یہ اصول پہلے بھی مانا گیا ہے اور آج بھی اسے ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ جو شخص بھی کسی چیز کے حکمِ قرآن یا حکمِ سنت ہونے کا دعویٰ کرے وہ اپنے قول کی دلیل دے۔ اس کا قول اگر وزنی ہو گا تو امت کے اہلِ علم سے، یا کم از کم ان کے کسی بڑے گروہ سے اپنا سکہ منوا لے گا اور جو بات دلیل کے اعتبار سے بے وزن ہو گی وہ بہرحال نہ چل سکے گی۔ یہی اصول ہے جس کی بنا پر دنیا کے مختلف حصوں میں کروڑوں مسلمان کسی ایک مذہب فقہی پر مجتمع ہوئے ہیں اور ان کی بڑی بڑی آبادیوں نے احکام قرآنی کی کسی تفسیر و تعبیر اور سننِ ثابتہ کے کسی مجموعہ پر اپنی اجتماعی زندگی کے نظام کو قائم کیا ہے”۔ (ترجمان القرآن، جنوری 58ء، صفحہ 219)
اگر مختلف فیہ، سنت کا بجائے خود مرجع و سند (Authority) ہونا نہیں ہے بلکہ اختلاف جو کچھ بھی واقع ہوتا ہے اور ہوا ہے وہ اس امر میں ہے کہ کسی خاص مسئلے میں جس چیز کے سنت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہو وہ فی الوقت سنتِ ثابتہ ہے یا نہیں، تو ایسا ہی اختلاف قرآن کی آیات کا مفہوم و منشا متعین کرنے میں بھی واقع ہوتا ہے۔ ہر صاحبِ علم یہ بحث اٹھا سکتا ہے کہ جو حکم کسی مسئلے میں قرآن سے نکالا جا رہا ہے وہ در حقیقت اس سے نکلتا ہے یا نہیں۔ جب خود منکرین حدیث نے بھی قرآن مجید میں اختلافِ تفسیر و تعبیر کا ذکر کیا ہے اور اس اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود وہ بجائے خود قرآن کو مرجع و سند مانتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اسی طرح الگ الگ مسائل کے متعلق سنتوں کے ثبوت و تحقیق میں اختلاف کی گنجائش ہونے کے باوجود فی نفسہ “سنت” کو مرجع و سند تسلیم کرنے میں انہیں کیوں تامل ہے۔
یہ بات ایک فاضل قانون دان سے مخفی نہیں رہ سکتی کہ قرآن کے کسی حکم کی مختلف ممکن تعبیرات میں سے جس شخص، ادارے یا عدالت نے تفسیر و تعبیر کے معروف علمی طریقے استعمال کرنے کے بعد بالآخر جس تعبیر کو حکم کا اصل منشا قرار دیا ہو، اس کے علم اور دائرۂ کار کی حد تک وہی حکمِ خدا ہے۔ اگرچہ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ حقیقت میں بھی وہی حکمِ خدا ہے۔ بالکل اسی طرح سنت کی تحقیق کے علمی ذرائع استعمال کر لے۔ کسی مسئلے میں جو سنت بھی ایک فقیہ، یا لیجسلیچر، یا عدالت کے نزدیک ثابت ہو جائے وہی اس کے لیے حکمِ رسول ہے۔ اگرچہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حقیقت میں رسول کا حکم وہی ہے۔ ان دونوں صورتوں میں یہ امر تو ضرور مختلف فیہ رہتا ہے کہ میرے نزدیک خدا یا رسول کا حکم کیا ہے اور آپ کے نزدیک کیا، لیکن جب تک میں اور آپ خدا اور رسول کو آخری سند (Final Authority) مان رہے ہیں، ہمارے درمیان یہ امر مختلف فیہ نہیں ہو سکتا کہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم بجائے خود ہمارے لیے قانونِ واجب الاتباع ہے”۔ (ترجمان القرآن، دسمبر 58ء، صفحہ 162)
“سنتوں کا معتدبِہ حصہ فقہاء اور محدثین کے درمیان متفق علیہ ہے اور ایک حصے میں اختلافات ہیں، بعض لوگوں نے کسی چیز کو سنت مانا ہے اور بعض نے اسے نہیں مانا۔ مگر اس طرح کے تمام اختلافات میں صدیوں اہل علم کے درمیان بحثیں جاری رہی ہیں اور نہایت تفصیل کے ساتھ ہر نقطۂ نظر کا استدلال اور وہ بنیادی مواد جس پر یہ استدلال مبنی ہے، فقہ اور حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ آج کسی صاحبِ علم کے لیے بھی یہ مشکل نہیں ہے کہ کسی چیز کے سنت ہونے یا نہ ہونے کے متعلق خود تحقیق سے رائے قائم کر سکے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ سنت کے نام سے متوحش ہونے کی کسی کے لیے بھی کوئی معقول وجہ ہو سکتی ہے۔ البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اس شعبۂ علم سے واقف نہیں ہے۔ اور جنہیں بس دور ہی سے حدیثوں میں اختلافات کا ذکر سن کر گھبراہٹ لاحق ہو گئی ہے”۔ (ترجمان القرآن، دسمبر 58ء، صفحہ 169)
اس آسمان کے نیچے دنیا میں وہ کیا چیز ایسی ہے جو انسانی زندگی کے معاملات و مسائل سے بحث کرتی ہو اور اس میں انسانی ذہن اختلاف کی گنجائش نہ پا سکیں؟ آپ قرآن کے متعلق اس سے زیادہ کوئی دعویٰ نہیں کر سکتے کہ اس کا متن متفق علیہ ہے اور اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ فلاں فقرہ قرآن کی آیت ہے۔ لیکن کیا آپ اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ آیات قرآنی کا منشا سمجھنے اور ان سے احکام اخذ کرنے میں بے شمار اختلافات ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں؟ اگر ایک آئین کی اصل غرض الفاظ بیان کرنا نہیں بلکہ احکام بیان کرنا ہے تو اس غرض کے لحاظ سے الفاظ میں اتفاق کا کیا فائدہ ہوا جبکہ احکام اخذ کرنے میں اختلاف ہے، رہا ہے اور ہمیشہ ہو سکتا ہے؟ اس لیے یا تو اس نقطۂ نظر میں تبدیلی کرنی ہو گی کہ “آئین کی بنیاد صرف وہی چیز بن سکتی ہے جس میں اختلاف نہ ہو سکے”۔ یا پھر قرآن کو بھی اساس آئین ماننے سے انکار کرنا ہو گا۔ درَحقیقت اس شرط کے ساتھ تو دنیا میں سرے سے کوئی آئین ہو ہی نہیں سکتا۔ جن سلطنتوں کا کوئی مکتوب آئین سرے سے ہے ہی نہیں (مثلاً برطانیہ) ان کے نظام کا تو خیر خدا ہی حافظ ہے، مگر جن کے ہاں ایک مکتوب آئین موجود ہے، ان کے ہاں بھی صرف آئین کی عبارات ہی متفق علیہ ہیں۔ تعبیرات ان میں سے کسی کی متفق علیہ ہوں تو براہِ کرم اس کی نشاندہی فرمائیں۔

بنیادی حقیقتیں:
1. سنتوں کا بہت بڑا حصہ امت میں متفق علیہ ہے۔ اسلامی نظام حیات کا بنیادی ڈھانچہ جن سنتوں سے بنتا ہے وہ تو قریب قریب سب ہی متفق علیہ ہیں۔ ان کے علاوہ اصول اور کلیات شریعت جن سنتوں پر مبنی ہیں، ان میں بھی زیادہ تر اتفاق ہے۔ اختلاف اکثر و بیشتر ان سنتوں میں ہے جن سے جزئی احکام نکلتے ہیں اور وہ بھی سب مختلف فیہ نہیں ہیں بلکہ ان کا بھی ایک اچھا خاصہ حصہ ایسا ہے جن پر علمائے امت کے درمیان اتفاق پایا جاتا ہے۔ صرف یہ بات کہ ان اختلافی مسائل کو بحثوں اور مناظروں میں زیادہ اچھالا گیا ہے، یہ فیصلہ کر دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ “سنت” پوری کی پوری مختلف فیہ ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی سنتوں کے بڑے حصے کو متفق علیہ قرار دینے میں مانع نہیں ہے کہ چند چھوٹے چھوٹے خبطی اور زیادہ تر بے علم گروہوں نے کبھی کہیں اور کبھی کہیں اٹھ کر متفق علیہ چیزوں کو بھی اختلافی بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایسے گروہوں نے ایک سنت ہی پر ہاتھ صاف نہیں کیا ہے بلکہ ان میں سے بعض تحریف قرآن تک کے مدعی ہوئے ہیں۔ مگر اس قسم کے چند سرپھرے اور کم سواد لوگوں کا وجود امت مسلمہ کے بحیثیت مجموعی اتفاق کو باطل نہیں کر سکتا۔ ایسے دو چار سو یا دو چار ہزار آدمیوں کو آخر یہ اجازت کیوں دی جائے کہ پورے ملک کے لیے جو آئین بن رہا ہو اس میں سے ایک ایسی چیز کو خارج کر دینے کے لیے کھڑے ہو جائیں جسے قرآن کے بعد ساری امت اسلامی قانون کی دوسری بنیاد مانتی ہے اور ہمیشہ سے مانتی رہی ہے۔

2. جزئی احکام سے متعلق جن سنتوں میں اختلاف ہے ان کی نوعیت بھی یہ نہیں ہے کہ فرد فرد ان میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتا ہو بلکہ “دنیا کے مختلف حصوں میں کروڑوں مسلمان کسی ایک مذہب فقہی پر مجتمع ہو گئے ہیں اور ان کی بڑی بڑی آبادیوں نے احکام قرآنی کی کسی ایک تعبیر و تفسیر اور سننِ ثابتہ کے کسی ایک مجموعہ پر اپنی اجتماعی زندگی کے نظام کو قائم کر لیا ہے”۔ مثال کے طور پر اپنے اسی ملک، پاکستان کو لے لیجیے قانون کے معاملہ میں اس ملک کی پوری مسلم آبادی صرف تین بڑے بڑے گروہوں پر مشتمل ہے۔ ایک حنفی، دوسرے شیعہ، تیسرے اہلِ حدیث۔ ان میں سے ہر ایک گروہ احکام قرآن کی ایک تعبیر اور سنن ثابتہ کے ایک مجموعہ کو مانتا ہے۔ کیا جمہوری اصول پر ہم آئین کے مسئلے کو اس طرح با آسانی حل نہیں کر سکتے کہ شخصی قانون (پرسنل لاء) کی حد تک ہر ایک گروہ کے لیے احکامِ قرآن کی وہی تعبیر اور سنن ثابتہ کا وہی مجموعہ معتبر ہو، جسے وہ مانتا ہے اور ملکی قانون (پبلک لاء) اس تعبیرِ قرآن اور ان سننِ ثابتہ کے مطابق ہو جس پر اکثریت اتفاق کرے؟

اعتراض :سنت محفوظ ہے تو نماز اور اذان، نکاح اور طلاق اور وراثت وغیرہ میں تمام امت متفق کیوں نہیں ہے؟”

جواب
نماز اور اذان اور نکاح و طلاق اور وراثت وغیرہ امور کے متعلق جتنی چیزوں پر امت میں اتفاق ہے ان کو ایک طرف جمع کر لیجیئے اور دوسری طرف وہ چیزیں نوٹ کر لیجئے جن میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ اتفاق کس قدر زیادہ ہے اور اختلاف کس قدر کم۔ بنیادی امور قریب قریب سب متفق علیہ ہیں اور اختلاف زیادہ تر جزئیات میں ہے لیکن چونکہ بحث اتفاقی امور میں نہیں بلکہ ہمیشہ اختلافی امور میں ہوتی ہے، اس لیے بحثوں نے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے جس کی وجہ سے کم علم لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہوتی ہے کہ امت میں کوئی چیز بھی متفق علیہ نہیں ہے۔
مثال کے طور پر نماز ہی کو لے لیجیئے۔ تمام دنیا کے مسلمان ان امور پر پوری طرح متفق ہیں کہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ اس کے اوقات یہ ہیں۔ اس کے لیے جسم اور لباس پاک ہونا چاہیے۔ اس کے لیے با وضو ہونا چاہیے۔ اس کو قبلہ رُخ پڑھنا چاہیے۔ اس میں قیام اور رکوع اور سجدہ اور قعود اس ترتیب سے ہونا چاہیے۔ ہر وقت کی اتنی اتنی رکعتیں فرض ہیں۔ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ سے ہونی چاہیے۔ نماز میں بحالت قیام فلاں چیزیں بحالت رکوع فلاں، بحالت سجود فلاں اور بحالتِ قعود فلاں چیزیں پڑھنی چاہیں۔ غرض یہ کہ بحیثیت مجموعی نماز کا پورا بنیادی ڈھانچہ متفق علیہ ہے۔ اختلاف صرف اس طرح کے معاملات میں ہے کہ ہاتھ باندھا جائے یا چھوڑا جائے، باندھا جائے تو سینے پر یا ناف پر، امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں، سورۂ فاتحہ کے بعد آمین زور سے کہی جائے یا آہستہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کرنا صحیح ہو گا کہ نماز کے معاملہ میں امت سرے سے کسی متفق علیہ طریقہ پر ہے ہی نہیں؟ اذان میں اس کے سوا کوئی اختلاف نہیں کہ شیعہ حی علیٰ خیر العمل کہتے ہیں اور سُنّی نہیں کہتے۔ باقی اذان کے تمام کلمات اور متعلقہ مسائل بالکل متفق علیہ ہیں۔ کیا اس ذرا سے اختلاف کو اس بات کی دلیل بنایا جا سکتا ہے کہ اذان بجائے خود مختلف فیہ ہے؟
قرآن سے ایک مثال حاضر ہے۔ قرآن کی آیتِ تیمم میں یہ فرمایا گیا ہے کہ فامسحوا بوجوھکم و ایدیکم منہ (المائدہ:7) ” اس مٹی سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔”اب دیکھۓ۔ ایک شخص “ہاتھ ” سے مراد پہنچے تک لیتا ہے اور اسی پر مسح کرتا ہے۔ دوسرا کہنی تک لیتا ہے اور وہاں تک ہاتھ پھیرتا ہے اور تیسرا خیال کرتا ہے کہ لفظ ہاتھ کا اطلاق تو شانے تک پورے ہاتھ پر ہوتا ہے اس لیے وہ مسح میں اس بھی شامل کر لیتا ہے۔ بتایئے اس اختلاف کی گنجائش قرآن کے الفاظ میں ہے یا نہیں؟ پھر کیا یہ اختلاف معصیت کا موجب ہو جاتا؟

کیا سنت نے اختلافات بڑھائے ہیں ؟
منکرینِ حدیث کچھ عقل سے کام لیتے تو وہ خود دیکھ سکتے تھے کہ سنت نے اختلافات کے دائرے کو بہت محدود کر دیا ہے۔ ورنہ اگر سنت نہ ہوتی تو قرآن مجید سے احکام اخذ کرنے میں اتنے اختلافات ہوتے کہ دو مسلمان بھی مل کر کوئی اجتماعی عمل نہ کر سکتے۔ مثلاً قرآن بار بار صلوٰۃ کا حکم دیتا ہے۔ اگر سنت اس کی شکل اور طریقہ مقرر نہ کر دیتی تو لوگ ہر گز یہ طے نہ کر سکتے کہ اس حکم کی تعمیل کیسے کریں۔ قرآن زکوٰۃ کا حکم دیتا ہے۔ اگر سنت نے اس کی تشریح نہ کر دی ہوتی تو کبھی اس امر میں اتفاق نہ ہو سکتا کہ یہ فریضہ کس طرح بجا لایا جائے۔ ایسا ہی معاملہ قرآن کی اکثر و بیشتر ہدایات و احکام کا ہے کہ خدا کی طرف سے ایک بااختیار معلم (صلی اللہ علیہ و سلم) نے ان پر عمل درآمد کی شکل بتا کر اور عملاً دکھا کر اختلافات کا سد باب کر دیا ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتی اور امت صرف قرآن کو لے کر لغت کی مدد سے کوئی نظام زندگی بنانا چاہتی تو بنیادی امور میں بھی اس حد تک اتفاق رائے حاصل نہ ہو سکتا کہ کوئی مشترک تمدن بن جاتا۔ یہ سنت ہی کا طفیل ہے کہ تمام امکانی اختلافات سمٹ کر دنیائے اسلام میں آج صرف آٹھ فرقے پائے جاتے ہیں۔ اور ان میں بھی بڑے فرقے صرف پانچ ہیں جن کے اندر کروڑوں مسلمان ایک ایک فقہ پر مجتمع ہو گئے ہیں۔ اسی اجتماع کی بدولت ان کا ایک نظام زندگی بن اور چل رہا ہے لیکن منکرین حدیث سنت کے خلاف جو کھیل کھیل رہے ہیں اس میں اگر وہ کامیاب ہو جائیں تو اس کا نتیجہ یہ نہیں ہو گا کہ قرآن کی تفسیر و تعبیر پر سب متفق ہو جائیں گے۔ بلکہ یہ ہو گا کہ جن امور میں آج اتفاق ہے وہ سب بھی اختلافی بن کر رہ جائیں گے۔

سنت – چند بنیادی سوالات

چند بنیادی سوالات:
سنت سے کیا مراد ہے؟
سنت اور حدیث میں کیا فرق ہے؟
ماخذ دین سنت ہے یا حدیث؟
کتاب اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟
سنت کتنی محفوظ ہے؟
سنت کو پہلے دن سے قرآن کی طرح مرتب ومدون کیوں نہیں کیا گیا ؟

سنت:
سپریم لاء (Supreme Law) جو حاکمِ اعلیٰ (یعنی اللہ تعالیٰ) کی مرضی کی نمائندگی کرتا ہے محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے ہم کو دو شکلوں میں ملا ہے۔ ایک قرآن، جو لفظ بلفظ خداوندِ عالم کے احکام و ہدایات پر مشتمل ہے۔ دوسرے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا اسوۂ حسنہ، یا آپ ﷺ کی سنت، جو قرآن کے منشا کی توضیح و تشریح کرتی ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم خدا کے محض نامہ بر نہیں تھے کہ اس کی کتاب پہنچا دینے کے سوا ان کا کوئی کام نہ ہوتا۔ وہ اس کے مقرر کیے ہوئے رہنما، حاکم اور معلم بھی تھے۔ انﷺ کا کام یہ تھا کہ اپنے قول اور عمل سے قانون الٰہی کی تشریح کریں، اس کا صحیح منشا سمجھائیں، اس کے منشا کے مطابق افراد کی تربیت کریں، پھر تربیت یافتہ افراد کو ایک منظم جماعت کی شکل دے کر معاشرے کی اصلاح کی جدوجہد کریں، پھر اصلاح شدہ معاشرے کو ایک صالح و مصلح ریاست کی صورت دے کر یہ دکھا دیں کہ اسلام کے اصولوں پر ایک مکمل تہذیب کا نظام کس طرح قائم ہوتا ہے۔ آنحضرت کا یہ پورا کام، جو 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں آپ نے انجام دیا، وہ سنت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ کے قانون برتر کی تشکیل و تکمیل کرتی ہے اور اسی قانون برتر کا نام اسلامی اصطلاح میں شریعت ہے”۔ (ترجمان القرآن، جنوری 58ء، صفحہ 210-211)
“یہ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف قرآن پہنچا دینے پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک کی رہنمائی بھی کی تھی جس کے نتیجے میں ایک مسلم سوسائٹی پیدا ہوئی، ایک نیا نظامِ تہذیب و تمدن وجود میں آیا اور ایک ریاست قائم ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پہنچانے کے سوا یہ دوسرے کام جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے کیے یہ آخر کس حیثیت سے تھے؟ آیا یہ نبی کی حیثیت سے تھے جس میں آپ اسی طرح خدا کی مرضی کی نمائندگی کرتے تھے جس طرح کہ قرآن؟ یا آپ کی پیغمبرانہ حیثیت قرآن سنا دینے کے بعد ختم ہو جاتی تھی اور اس کے بعد آپ عام مسلمانوں کی طرح ایک مسلمان رہ جاتے تھے۔ جس کا قول و فعل اپنے اندر بجائے خود کوئی قانونی سند و حجت نہیں رکھتا؟ پہلی بات تسلیم کی جائے تو سنت کو قرآن کے ساتھ قانونی سند و حجت ملنے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔ البتہ دوسری صورت میں اسے قانون قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔
جہاں تک قرآن کا تعلق ہے وہ اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم صرف نامہ بر نہیں تھے بلکہ خدا کی طرف سے مقرر کیے ہوئے رہبر، حاکم اور معلم بھی تھے جن کی پیروی و اطاعت مسلمانوں پر لازم تھی اور جن کی زندگی کو تمام اہل ایمان کے لیے نمونہ قرار دیا گیا تھا، جہاں تک عقل کا تعلق ہے وہ بھی یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ ایک نبی صرف خدا کا کلام پڑھ کر سنا دینے کی حد تک تو نبی ہو اور اس کے بعد وہ محض ایک عام آدمی رہ جائے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ آغاز اسلام سے آج تک بالاتفاق ہر زمانے میں اور تمام دنیا میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو نمونۂ واجب الاتباع اور ان کے امر و نہی کو واجب الاطاعت مانتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئی غیر مسلم عالم بھی اس امرِ واقعی سے انکار نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ آنحضرت کی یہی حیثیت مانی ہے اور اسی بنا پر اسلام کے قانونی نظام میں سنت کو قرآن کے ساتھ دوسرا مآخذ قانون تسلیم کیا گیا ہے۔ اب کوئی شخص سنت کی اس قانونی حیثیت کو کیسے چیلنج کر سکتا ہے جب تک وہ صاف صاف یہ نہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم صرف تلاوتِ قرآن کی حد تک نبی تھے اور یہ کام کر دینے کے ساتھ ہی ان کی حیثیتِ نبوی ختم ہو جاتی تھی۔ پھر اگر وہ ایسا دعویٰ کرے بھی تو اسے بتانا ہو گا کہ یہ مرتبہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو بطور خود دے رہا ہے یا قرآن نے حضور ﷺ کو یہی مرتبہ دیا ہے؟ پہلی صورت میں اس کے قول کو اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ دوسری صورت میں اسے قرآن سے اپنے دعوے کا ثبوت پیش کرنا ہو گا”۔ (ترجمان القرآن، جنوری 58ء، صفحہ 216۔ 217)

سنت اور حدیث میں کیا فرق ہے؟
سلف صالحین کی اصطلاح میں سنت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول، فعل اور تقریر کو کہتے ہیں اور حدیث، اس سنت کی روایت کا نام ہے۔ پس سنت پہلے ہے اور حدیث بعد میں ہے۔ سنت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول، فعل اور تقریر ہے اور حدیث اس قول، فعل اور تقریر کے بیان کا نام ہے کہ جو صحابی کا ہوتا ہے۔
پس سنت مظروف ہے اور حدیث اس کا ظرف ہے۔ سنت مکین ہے اور حدیث اس کا مکان ہے ۔بعض اہل علم ‘ حدیث و سنت’کو ملا کر ایک اصطلاح کے طور پر استعمال کرتے ہیں بعض صرف حدیث یا صرف سنت کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح حدیث و سنت کو مترادف کے طورپراستعمال کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ،گو لغوی یا بعض فنون کے اعتبار سے اس میں کچھ تجاوز ہی کیوں نہ ہو کیوں کہ ہر زبان میں ایساہوتا ہے کہ کسی اہم مظہر یا جزو کو تغلیباً کل سے موسوم کر دیا جاتا ہے ۔

ماخذ دین سنت ہے یا حدیث؟
سلف صالحین کے نزدیک مصادر شریعت کتاب وسنت ہی ہیں نہ کہ کتاب وحدیث، اور ہمیشہ سے کتاب وسنت کی اصطلاح ہی مستعمل رہی ہے۔ کتاب سے مراد قرآن مجید ہے اور سنت سے مراد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول، فعل اور تقریر ہے۔
کتاب تو مابین الدفتین موجود ہے اور سنت کہاں ہے؟
یہ اہم سوال ہے کہ جس سے حدیث کی اہمیت کا پتہ ہے۔ سنت کا صرف اور صرف ایک ہی مصدر ہے اور وہ احادیث کی کتب ہیں۔جمہور اُمت کا موقف یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت جاننے کا ذریعہ وہ صحیح احادیث ہیں جو ثقہ راویوں سے مروی ہیں۔

سنت کی اہمیت:
سنت حکمت ( یعلمم الکتاب والحکمۃ ۔آل عمران:164) کی عملی شکل و صورت کا ہی نام ہے۔ چنانچہ قرآن و سنت کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں کو قطعی الثبوت کا درجہ حاصل ہے۔شاطبیؒ لکھتے ہیں :سنت کتاب اللہ کے احکام کے لئے بمنزلہ تفسیر اور شرح کے ہے۔ (الموافقات، ج/4،ص/10)
ڈاکٹر محمود احمد غازی بیان کرتے ہیں :’’اگر سنت نہ ہوتی تو قرآن مجید کے اصول صرف نظری بیانات اور خوشگوار اعلانات ہوتے جیسے توراۃ اور انجیل کے اعلانات محض لفظی بیانات ہوکر رہ گئے ہیں بقیہ مذہبی کتابوں میں بھی اچھے اخلاقی اصول بیان ہوئے ہیں لیکن عمل در آمد کا معاملہ صفر ہے۔ کیونکہ ان کے پیچھے کوئی عملی نمونہ نہیں ہے۔حالانکہ عملی نمونے بلاشبہ موجود تھے لیکن ان کے ماننے والوں نے ان عملی نمونوں کی تفصیلات باقی نہیں رکھیں۔ عدل و محبت، مساوات و تکریم انسانیت یہ سارے اعلانات جو قرآن میں کئے گئے ہیں ان کی عملی تشریح رسولؐ کی سنت کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے‘‘۔(محاضراتِ حدیث،ص/58)
حقیقتاً سنت کا تمام تر تعلق عملی زندگی سے ہے۔ اگر ہم سنت کو نکال دیں تو اگر چہ ہم دین کی باتوں سے واقف ہوں گے، لیکن ان کی عملی شکل سے اسی طرح بے خبرہوں گے جس طرح دورِ جاہلیت میں دین حنیفی کے پیروکار تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اے رب! ہم نہیں جانتے کہ تیری عبادت کس طرح کریں، ورنہ اسی طرح (عبادت) کرتے۔
پس قرآن مجید الفاظ ہیں اور سنت ان الفاظ کا معنی ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں لفظ اہم ہے اور سنت میں معنی۔ قرآن مجید میں لفظ کی حفاظت پر زور ہے اور سنت میں معنی کی۔ لفظ اور معنی کا تعلق لازم وملزوم کا ہے۔ جو لوگ سنت کا انکار کرتے ہیں، وہ صرف اللہ کے الفاظ کو قبول کرتے ہیں اور ان الفاظ سے اللہ کی مراد کو نکال کر اپنی مراد ڈال دیتے ہیں۔قادیانیت، رافضیت، باطنیت، خوارجیت، اعتزال وغیرہ جیسی جتنی فکری گمراہیاں ہیں، سب کی بنیاد قرآن مجید ہے۔ اور قرآن مجید اسی وقت گمراہی کی بنیاد بن جاتا ہے جب اس کے معنی یعنی سنت کا انکار کر دیا جائے اور پھر تو صرف الفاظ ہیں، اب آپ ان سے جو کھیل کھیلنا چاہیں، کھیل سکتے ہیں اور اسی لیے خود قرآن مجید نے کہا ہے کہ یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا۔

سنت کتنی محفوظ ہے؟
دوناقابل انکار تاریخی حقیقتیں :
1-آج تمام دنیا کے مسلمانوں میں عقائد اور طرزِ فکر، اخلاق اور اقدار (Values)، عبادات اور معاملات، نظریۂ حیات اور طریقِ حیات کے اعتبار سے جو گہری مماثلت پائی جاتی ہے، جس میں اختلاف کی بہ نسبت ہم آہنگی کا عنصر بہت زیادہ موجود ہے، جو ان کو تمام روئے زمین پر منتشر ہونے کے باوجود ایک امت بنائے رکھنے کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے، یہی امر اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اس معاشرے کو کسی ایک ہی سنت پر قائم کیا گیا تھا اور وہ سنت ان طویل صدیوں کے دوران میں مسلسل جاری ہے۔ یہ کوئی گم شدہ چیز نہیں ہے جسے تلاش کرنے کے لیے ہمیں اندھیرے میں ٹٹولنا پڑ رہا ہو۔
2- نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سے ہر زمانے میں مسلمان یہ معلوم کرنے کی پیہم کوشش کرتے رہے ہیں کہ سنتِ ثابتہ کیا ہے اور کیا نئی چیز ان کے نظامِ حیات میں کسی جعلی طریقہ سے داخل ہو رہی ہے۔ چونکہ سنت ان کے لیے قانون کی حیثیت رکھتی تھی، اسی پر ان کی عدالتوں میں فیصلے ہونے تھے اور ان کے گھروں سے لے کر حکومتوں تک کے معاملات چلنے تھے،اس لیے وہ اس کی تحقیق میں بے پروا اور لا ابالی نہیں ہو سکتے تھے۔۔ان سنتوں کا علم جو متفرق افراد کے پاس بکھرا ہوا تھا، امت نے اس کو جمع کرنے کا سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد فوراً ہی شروع کر دیا۔ کیونکہ خلفاء، حکام، قاضی، مفتی اور عوام سب اپنے اپنے دائرۂ کار میں پیش آنے والے مسائل کے متعلق کوئی فیصلہ یا عمل اپنی رائے اور استنباط کی بنا پر کرنے سے پہلے یہ معلوم کر لینا ضروری سمجھتے تھے کہ اس معاملہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی کوئی ہدایت تو موجود نہیں ہے۔ اسی ضرورت کی خاطر ہر اس شخص کی تلاش شروع ہوئی جس کے پاس سنت کا کوئی علم تھا اور ہر اس شخص نے جس کے پاس ایسا کوئی علم تھا، خود بھی اس کو دوسروں تک پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔ یہی روایت حدیث کا نقطۂ آغاز ہے اور 11ھ سے تیسری چوتھی صدی تک ان متفرق سنتوں کو فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ موضوعات گھڑنے والوں نے ان کے اندر آمیزش کی جتنی کوششیں بھی کیں وہ قریب قریب سب ناکام بنا دی گئیں کیونکہ جن سنتوں سے کوئی حل ثابت یا ساقط ہوتا تھا،جن کی بنا پر کوئی چیز حرام یا حلال ہوتی تھی، جس سے کوئی شخص سزا پا سکتا تھا یا کوئی ملزم بری ہو سکتا تھا، غرض یہ کہ جن سنتوں پر احکام اور قوانین کا مدار تھا، ان کے بارے میں حکومتیں اور عدالتیں اور افتاء کی مسندیں اتنی بے پرواہ نہیں ہو سکتی تھیں کہ یونہی اٹھ کر کوئی شخص قال النبی صلی اللہ علیہ و سلم کہہ دیتا۔ اسی لیے جو سنتیں احکام سے متعلق تھیں ان کے بارے میں پوری چھان بین کی گئی، سخت تنقید کی چھلنیوں سے ان کو چھانا گیا۔ روایت کے اصولوں پر بھی انہیں پرکھا گیا اور درایت کے اصولوں پر بھی اور وہ سارا مواد جمع کر دیا گیا، جس کی بنا پر کوئی روایت مانی گئی ہے یا رد کر دی گئی ہے، تاکہ بعد میں بھی ہر شخص اس کے رد و قبول کے متعلق تحقیقی رائے قائم کر سکے”۔ (ترجمان القرآن، دسمبر 58ء، صفحہ 168۔169)

سنت کو پہلے دن سے قرآن کی طرح مرتب کیوں نہیں کیا گیا ؟
کسی کا یہ کہنا کہ عہدِ نبوی کے رواجات، روایات، نظائر، فیصلوں، احکام اور ہدایات کا پورا ریکارڈ ہم کو پہلے دن سے “ایک کتاب” کی شکل میں مرتب شدہ ملنا چاہیے تھا، درحقیقت ایک خالص غیر عملی طرز فکر ہے اور وہی شخص یہ بات کہہ سکتا ہے جو خیالی دنیا میں رہتا ہو۔ آپ قدیم زمانے کے عرب کی حالت کو چھوڑ کر تھوڑی دیر کے لیے آج اس زمانے کی حالت کو لے لیجیے جب کہ احوال و وقائع کو ریکارڈ کرنے کے ذرائع بے حد ترقی کر چکے ہیں۔ فرض کر لیجیے کہ اس زمانے میں کوئی لیڈر ایسا موجود ہے جو 23 سال تک شب و روز کی مصروف زندگی میں ایک عظیم الشان تحریک برپا کرتا ہے۔ ہزاروں افراد کو اپنی تعلیم و تربیت سے تیار کرتا ہے۔ ان سے کام لے کر ایک پورے ملک کی فکری، اخلاقی، تمدنی اور معاشی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے۔ اپنی قیادت و رہنمائی میں ایک نیا معاشرہ اور ایک نئی ریاست وجود میں لاتا ہے۔ اس معاشرے میں اس کی ذات ہر وقت ایک مستقل نمونۂ ہدایت بنی رہتی ہے۔ ہر حالت میں لوگ اس کو دیکھ دیکھ کر یہ سبق لیتے ہیں کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے۔ ہر طرح کے لوگ شب و روز اس سے ملتے رہتے ہیں اور وہ ان کو عقائد و افکار، سیرت و اخلاق، عبادات و معاملات، غرض ہر شعبۂ زندگی کے متعلق اصولی ہدایات بھی دیتا ہے اور جزئی احکام بھی۔ پھر اپنی قائم کردہ ریاست کا فرمانروا، قاضی، شارع، مدبر اور سپہ سالار بھی تنہا وہی ہے اور دس سال تک اس مملکت کے تمام شعبوں کو وہ خود اپنے اصولوں پر قائم کرتا اور اپنی رہنمائی میں چلاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج اس زمانے میں بھی یہ سارا کام کسی ایک ملک میں ہو تو اس کا ریکارڈ “ایک کتاب” کی شکل میں مرتب ہو سکتا ہے؟ کیا ہر وقت اس لیڈر کے ساتھ ٹیپ ریکارڈ لگا رہ سکتا ہے؟ کیا ہر آن فلم کی مشین اس کی شبانہ روز نقل و حرکت ثبت کرنے میں لگی رہ سکتی ہے؟ اور اگر یہ نہ ہو سکے تو کیا آپ کہیں گے کہ وہ ٹھپا جو اس لیڈر نے ہزاروں لاکھوں افراد کی زندگی پر پورے معاشرے کی ہیئت اور پوری ریاست کے نظام پر چھوڑا ہے، سرے سے کوئی شہادت ہی نہیں ہے۔ جس کا اعتبار کیا جا سکے؟ کیا آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ اس لیڈر کی تقریریں سننے والے، اس کی زندگی دیکھنے والے، اس سے ربط و تعلق رکھنے والے بے شمار اشخاص کی رپورٹیں سب کی سب ناقابل اعتماد ہیں کیونکہ خود اس لیڈر کے سامنے وہ “ایک کتاب” کی شکل میں مرتب نہیں کی گئیں اور لیڈر نے ان پر اپنے ہاتھ سے مہر تصدیق ثبت نہیں کی؟ کیا آپ فرمائیں گے کہ اس کے عدالتی فیصلے، اس کے انتظامی احکام، اس کے قانونی فرامین، اس کے صلح و جنگ کے معاملات کے متعلق جتنا مواد بھی بہت سی مختلف صورتوں میں موجود ہے اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، کیونکہ وہ “ایک جامع و مانع کتاب” کی شکل میں تو ہے ہی نہیں؟
ان امور پر اگر بحث کی نیت سے نہیں بلکہ بات سمجھنے کی نیت سے غور کیا جائے تو ایک ذی فہم آدمی خود محسوس کر لے گا کہ یہ “ایک کتاب” کا مطالبہ کتنا مہمل ہے۔ اس طرح کی باتیں ایک کمرے میں بیٹھ کر چند نیم خواندہ اور فریب خوردہ عقیدت مندوں کے سامنے کر لی جائیں تو مضائقہ نہیں، مگر کھلے میدان میں پڑھے لکھے لوگوں کے سامنے ان کو چیلنج کے انداز میں پیش کرنا بڑی جسارت ہے۔
استفادہ تحریر: سنت کی آئینی حیثیت ، سید مودوی ، حدیث و سنت از حافظ زبیر

قدیم وجدید معتزلہ اورانکارِحدیث کے حربے

انکارِ سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اٹھا تھا اور اس کے اٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔
خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ سنت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا، اور اس کی راہ میں حضورؐ کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بنا پر انہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دو گونہ پالیسی اختیار کی۔
معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد او ر اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے، انہیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح انہیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ انہوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کی عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔
ان دونوں فتنوں کی غرض اور ان کی تکنیک مشترک تھی۔ ان کی غرض یہ تھی کہ قرآن کو اس کے لانے والے کی قولی و عملی تشریح و توضیح سے اور اس نظامِ فکر و عمل سے جو خدا کے پیغمبر نے اپنی راہنمائی میں قائم کر دیا تھا، الگ کر کے مجرد ایک کتاب کی حیثیت سے لے لیا جائے اور پھر اس کی من مانی تاویلات کر کے ایک دوسرا نظام بنا ڈالا جائے جس پر اسلام کا لیبل چسپاں ہو۔ اس غرض کے لیے جو تکنیک انہوں نے اختیار کی، اس کے دو حربے تھے۔ ایک یہ کہ احادیث کے بارے میں یہ شک دلوں میں ڈالا جائے کہ وہ فی الواقع حضورؐ کی ہیں بھی یا نہیں۔ دوسرے، یہ اصولی سوال اٹھایا جائے کہ کوئی قول یا فعل حضورؐ کا ہو بھی تو ہم اس کی اطاعت و اتباع کے پابند کب ہیں۔ ان کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم تک قرآن پہنچانے کے لیے مامور کیے گئے تھے، سو انہوں نے وہ پہنچا دیا۔ اس کے بعد محمدؐ بن عبد اللہ ویسے ہی ایک انسان تھے جیسے ہم ہیں۔ انہوں نے جو کہا اور کیا وہ ہمارے لیے حجت کیسے ہو سکتا ہے۔
یہ دونوں فتنے تھوڑی مدت چل کر اپنی موت آپ مر گئے اور تیسری صدی کے بعد پھر صدیوں تک اسلامی دنیا میں ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ جن بڑے بڑے اسباب نے اس وقت ان فتنوں کا قلع قمع کر ڈالا، وہ حسب ذیل تھے:
۱۔ محدثین کا زبردست تحقیقی کام، جس نے مسلمانوں کے تمام سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو مطمئن کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت جن روایات سے ثابت ہوتی ہے، وہ ہرگز مشتبہ نہیں ہیں بلکہ نہایت معتبر ذرائع سے امت کو پہنچی ہیں اور ان کو مشتبہ روایات سے الگ کرنے کے لیے بہترین علمی ذرائع موجود ہیں۔
۲۔ قرآن کی تصریحات، جن سے اس زمانے کے اہل علم نے عام لوگوں کے سامنے یہ بات ثابت کر دی کہ دین کے نظام میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ حیثیت ہر گز نہیں ہے جو منکرین حدیث حضورؐ کو دینا چاہتے ہیں۔ آپﷺ قرآن پہنچا دینے کے لیے محض ایک نامہ بر مقرر نہیں کیے گۓ تھے بلکہ آپﷺ کو خدا نے معلم، رہنما، مفسرِ قرآن، شارعِ قانون اور قاضی و حاکم بھی مقرر کیا تھا۔ لہٰذا خود قرآن ہی کی رو سے آپﷺ کی اطاعت و پیروی ہم پر فرض ہے اور اس سے آزاد ہو کر جو شخص قرآن کی پیروی کا دعویٰ کرتا ہے وہ دراصل قرآن کا پیرو بھی نہیں ہے۔

۳۔ منکرین سنت کی اپنی تاویلات، جن کا کھلونا قرآن کو بنا کر انہوں نے عام مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل برہنہ کر دی کہ سنت رسول اللہؐ سے جب کتابُ اللہ کا تعلق توڑ دیا جائے تو دین کا حلیہ کس بری طرح بگڑتا ہے، خدا کی کتاب کے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیلے جاتے ہیں اور اس کی معنوی تحریف کے کیسے مضحکہ انگیز نمونے سامنے آتے ہیں۔
۴۔ امت کا اجتماعی ضمیر، جو کسی طرح یہ بات قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا کہ مسلمان کبھی رسولؐ کی اطاعت و پیروی سے آزاد بھی ہو سکتا ہے۔ چند سرپھرے انسان تو ہر زمانے میں اور ہر قوم میں ایسے نکلتے ہیں جو بے تکی باتوں ہی میں وزن محسوس کرتے ہوں مگر پوری امت کا سرپھرا ہو جانا بہت مشکل ہے۔ عام مسلمانوں کے ذہنی سانچے میں یہ غیر معقول بات کبھی ٹھیک نہ بیٹھ سکی کہ آدمی رسولؐ کی رسالت پر ایمان بھی لائے اور پھر اس کی اطاعت کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار بھی پھینکے۔ ایک سیدھا سادا مسلمان جس کے دماغ میں ٹیڑھ نہ ہو، عملاً نافرمانی کا مرتکب تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ عقیدہ اختیار کبھی نہیں کر سکتا کہ جس رسول پر وہ ایمان لایا ہے اس کی اطاعت کا وہ سرے سے پابند ہی نہیں ہے۔ یہ سب سے بڑی بنیادی چیز تھی جس نے آخرکار منکرینِ سنت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی۔ اس پر مزید یہ کہ مسلمان قوم کا مزاج اتنی بڑی بدعت کو ہضم کرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ ہو سکا کہ اس پورے نظامِ زندگی کو، اس کے تمام قاعدوں اور ضابطوں اور اداروں سمیت، رد کر دیا جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد سے شروع ہو کر خلفائے راشدین، صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدین اور فقہائے امت کی رہنمائی میں مسلسل ایک ہموار طریقے سے ارتقاء کرتا چلا آ رہا تھا اور اسے چھوڑ کر آئے دن ایک نیا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں بنوایا جائے جو دنیا کے ہر فلسفے اور ہر تخیل سے متاثر ہو کر اسلام کا ایک جدید ایڈیشن نکالنا چاہتے ہوں۔

اس طرح فنا کے گھاٹ اتر کر یہ انکارِ سنت کا فتنہ کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا، یہاں تک کہ تیرھویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) میں وہ پھر جی اٹھا۔ اس نے پہلا جنم عراق میں لیا تھا۔ اب یہ دوسرا جنم اس نے ہندوستان میں لیا۔ یہاں اس کی ابتداء کرنے والے سر سید احمد خاں اور مولوی چراغ علی تھے۔ پھر مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ اسے کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے اس کا بیڑا اٹھایا۔ پھر مولانا اسلم جیراج پوری اسے لے کر آگے بڑھے اور آخرکار اس کی ریاست چودھری غلام احمد پرویز کے حصے میں آئی جنہوں نے اس کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔

اس کی دوسری پیدائش کا سبب بھی وہی تھا جو دوسری صدی میں پہلی مرتبہ اس کی پیدائش کا سبب بنا تھا، یعنی بیرونی فلسفوں اور غیر اسلامی تہذیبوں سے سابقہ پیش آنے پر ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہو جانا اور تنقید کیے بغیر باہر کی ان ساری چیزوں کو سراسر تقاضائے عقل مان کر اسلام کو ان کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا۔ لیکن دوسری صدی کی بہ نسبت تیرھویں صدی کے حالات بہت مختلف تھے۔ اس وقت مسلمان فاتح تھے، ان کو فوجی و سیاسی غلبہ حاصل تھا اور جن فلسفوں سے انہیں سابقہ پیش آیا تھا، وہ مفتوح و مغلوب قوموں کے فلسفے تھے۔اس وجہ سے ان کے ذہن پر ان فلسفوں کا حملہ بہت ہلکا ثابت ہوا اور بہت جلدی رد کر دیا گیا۔اس کے برعکس تیرھویں صدی میں یہ حملہ ایسے وقت ہوا جبکہ مسلمان ہر میدان میں پٹ چکے تھے۔ ان کے اقتدار کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی تھی۔ ان کے ملک پر دشمنوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔ ان کو معاشی حیثیت سے بری طرح کچل ڈالا گیا تھا، ان کا نظامِ تعلیم درہم برہم کر دیا گیا تھا اور ان پر فاتح قوم نے اپنی تعلیم، اپنی تہذیب، اپنی زبان، اپنے قوانین اور اپنے اجتماعی و سیاسی اور معاشی اداروں کو پوری طرح مسلط کر دیا تھا۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کو فاتحوں کے فلسفے اور سائنس سے اور ان کے قوانین اور تہذیبی اصولوں سے سابقہ پیش آیا تو قدیم زمانے کے معتزلہ کی بہ نسبت ہزار درجہ زیادہ سخت مرعوب ذہن رکھنے والے معتزلہ ان کے اندر پیدا ہونے لگے۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ مغرب سے جو نظریات، جو افکار و تخیلات، جو اصولِ تہذیب و تمدن اور جو قوانینِ حیات آ رہے ہیں، وہ سراسر معقول ہیں، ان پر اسلام کے نقطۂ نظر سے تنقید کر کے حق و باطل کا فیصلہ کرنا محض تاریک خیالی ہے۔ زمانے کے ساتھ چلنے کی صورت بس یہ ہے کہ اسلام کو کسی نہ کسی طرح ان کے مطابق ڈھال دیا جائے۔
اس غرض سے جب انہوں نے اسلام کی مرمت کرنی چاہی تو انہیں بھی وہی مشکل پیش آئی جو قدیم زمانے کے معتزلہ کو پیش آئی تھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام کے نظامِ حیات کو جس چیز نے تفصیلی اور عملی صورت میں قائم کیا ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے۔ اسی سنت نے قرآن کی ہدایات کا مقصد و منشا متعین کر کے مسلمانوں کے تہذیبی تصورات کی تشکیل کی ہے۔ اور اسی نے ہر شعبۂ زندگی میں اسلام کے عملی ادارے مضبوط بنیادوں پر تعمیر کر دیے ہیں۔ لہٰذا اسلام کی کوئی مرمت اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ اس سنت سے پیچھا چھڑا لیا جائے۔ اس کے بعد صرف قرآن کے الفاظ رہ جاتے ہیں۔ جن کے پیچھے نہ کوئی عملی نمونہ ہو گا، نہ کوئی مستند تعبیر و تشریح ہو گی اور نہ کسی قسم کی روایات اور نظیریں ہوں گی۔ ان کو تاویلات کا تختۂ مشق بنانا آسان ہو گا اور اس طرح اسلام بالکل ایک موم کا گولہ بن کر رہ جائے گا جسے دنیا کے ہر چلتے ہوئے فلسفے کے مطابق ہر روز ایک نئی صورت دی جا سکے گی۔
اِس مقصد کے لیے انہوں نے پھر وہی تکنیک، انہی دو حربوں کے ساتھ اختیار کیا جو قدیم زمانے میں اختیار کیا گیا، یعنی ایک طرف ان روایات کی صحت میں شک ڈالا جائے جن سے سنت ثابت ہوتی ہے اور دوسری طرف سنت کو بجائے خود حجت و سند ہونے سے انکار کر دیا جائے۔ لیکن یہاں پھر حالات کے فرق نے اس ٹیکنیک اور اس کے حربوں کی تفصیلی صورت میں بڑا فرق پیدا کر دیا ہے۔ قدیم زمانے میں جو لوگ اس فتنے کا عَلم لے کر اٹھے تھے وہ ذی علم لوگ تھے۔ عربی زبان و ادب میں بڑا پایہ رکھتے تھے۔ قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم میں کافی درک رکھتے تھے۔ اور ان کو سابقہ بھی اس مسلمان پبلک سے تھا جس کی علمی زبان عربی تھی، جس میں عام لوگوں کا تعلیمی معیار بہت بلند تھا، جس میں علومِ دینی کے ماہرین بہت بری تعداد میں ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور ایسی پبلک کے سامنے کوئی کچی پکی بات لا کر ڈال دینے سے خود اس شخص کی ہوا خیزی ہو جانے کا خطرہ تھا جو ایسی بات لے کر آئے۔ اسی وجہ سے قدیم زمانے کے معتزلہ بہت سنبھل کر بات کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے دور میں جو لوگ اس فتنے کو ہوا دینے کے لیے اٹھے ہیں ان کا اپنا علمی پایہ بھی سر سید کے زمانہ سے لے کر آج تک درجہ بدرجہ ایک دوسرے سے فروتر ہوتا چلا گیا ہے اور ان کو سابقہ بھی ایسی پبلک سے پیش آیا ہے جس میں عربی زبان اور دینی علوم جاننے والے کا نام “تعلیم یافتہ” نہیں ہے اور “تعلیم یافتہ” اس شخص کا نام ہے جو دنیا میں اور چاہے سب کچھ جانتا ہو، مگر قرآن پر بہت مہربانی کرے تو کبھی اس کو ترجموں ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی انگریزی ترجموں ۔ ۔ ۔ کی مدد سے پڑھ لے، حدیث اور فقہ کے متعلق حد سے حد کچھ سنی سنائی معلومات ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی مستشرقین کی پہنچائی ہوئی معلومات ۔ ۔ ۔ پر اکتفا کرے، اسلامی روایات پر زیادہ سے زیادہ ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال لے اور وہ بھی اس حیثیت سے کہ یہ کچھ بوسیدہ ہڈیوں کا مجموعہ ہے جسے ٹھکرا کر زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے، پھر اس ذخیرۂ علمِ دین کے بل بوتے پر وہ اس زعم میں مبتلا ہو کہ اسلام کے بارے میں آخری اور فیصلہ کن رائیں قائم کرنے کی وہ پوری اہلیت اپنے اندر رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں پرانے اعتزال کی بہ نسبت نئے اعتزال کا معیار جیسا کچھ گھٹیا ہو سکتا ہے ۔ظاہر ہے۔ یہاں علم کم اور بے علمی کی جسارت بہت زیادہ ہے۔
اب جو ٹیکنیک اس فتنے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، اس کے اہم اجزاء یہ ہیں:
۱۔ حدیث کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے مغربی مستشرقین نے جتنے حربے استعمال کیے ہیں ان پر ایمان لانا اور اپنی طرف سے حواشی کا اضافہ کر کے انہیں عام مسلمانوں میں پھیلا دینا تا کہ ناواقف لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا جائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے قرآن کے سوا کوئی چیز بھی امت کو قابلِ اعتماد ذرائع سے نہیں ملی ہے۔
۲۔ احادیث کے مجموعوں کو عیب چینی کی غرض سے کھنگالنا۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریوں نے کبھی قرآن کو کھنگالا تھا اور ایسی چیزیں نکال نکال کر بلکہ بنا بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنا، جن سے یہ تاثر دیا جا سکے کہ حدیث کی کتابیں نہایت شرمناک یا مضحکہ خیز مواد سے لبریز ہیں، پھر آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ اپیل کرنا کہ اسلام کو رسوائی سے بچانا ہے تو اس سارے دفترِ بے معنی کو غرق کر دو۔
۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے منصبِ رسالت کو محض ایک ڈاکیے کا منصب قرار دینا جس کا کام بس اس قدر تھا کہ لوگوں کو قرآن پہنچا دے۔
۴۔ صرف قرآن کو اسلامی قانون کا مآخذ قرار دینا اور سنتِ رسولؐ کو اسلام کے قانونی نظام سے خارج کر دینا۔
۵۔ امت کے تمام فقہاء، محدثین، مفسرین اور ائمۂ لغت کو ساقط الاعتبار قرار دینا تا کہ مسلمان قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے ان کی طرف رجوع نہ کریں بلکہ ان کے متعلق اس غلط فہمی میں پڑ جائیں کہ ان سب نے قرآن کی حقیقی تعلیمات پر پردے ڈالنے کے لیے ایک سازش کر رکھی تھی۔
۶۔ خود ایک نئی لغت تصنیف کر کے قرآن کی تمام اصطلاحات کے معنی بدل ڈالنا اور آیاتِ قرآنی کو وہ معانی پہنانا جن کی کوئی گنجائش دنیا کے کسی عربی دان آدمی کو قرآن میں نظر نہ آئے۔ (لطف یہ ہے کہ جو صاحب یہ کام کر رہے ہیں ان کے سامنے اگر قرآن کی چند آیتیں اعراب کے بغیر لکھ دی جائیں تو وہ انہیں صحیح پڑھ بھی نہیں سکتے۔ لیکن ان کا دعویٰ یہ ہے کہ اب خود عرب بھی عربی نہیں جانتے اس لیے اگر ان کے بیان کردہ معنوں کی گنجائش کسی عرب کو قرآن کے الفاظ میں نظر نہ آئے تو قصور اس عرب ہی کا ہے)۔
اس تخریبی کام کے ساتھ ساتھ ایک نئے اسلام کی تعبیر بھی ہو رہی ہے جس کے بنیادی اصول تعداد میں صرف تین ہیں، مگر دیکھیے کہ کیسے بے نظیر اصول ہیں:
اس کا پہلا اصول یہ ہے کہ تمام شخصی املاک کو ختم کر کے ایک مرکزی حکومت کے تصرف میں دے دیا جائے اور وہی حکومت افراد کے درمیان تقسیمِ رزق کی مختارِ کُل ہو۔ اس کا نام ہے “نظامِ ربوبیت” اور کہا جاتا ہے کہ قرآن کا اصل مقصود یہی نظام قائم کرنا تھا۔ مگر پچھلے تیرہ سو سال میں کسی کو اسے سمجھنے کی توفیق میسر نہ ہوئی، صرف حضرتِ مارکس اور ان کے خلیفۂ خاص حضرتِ اینجلز قرآن کے اس مقصدِ اصل کو پا سکے۔
اس کا دوسرا اصول یہ ہے کہ تمام پارٹیاں اور جماعتیں توڑ دی جائیں اور مسلمانوں کو قطعاً کوئی جماعت بنانے کی اجازت نہ دی جائے، تا کہ وہ معاشی حیثیت سے بے بس ہو جانے کے باوجود اگر مرکزی حکومت کے کسی فیصلے کی مزاحمت کرنا چاہیں تو غیر منظم ہونے کی وجہ سے نہ کر سکیں۔
اس کا تیسرا اصول یہ ہے کہ قرآن میں جس “اللہ اور رسول” پر ایمان لانے اور جس کی اطاعت بجا لانے اور جسے آخری سند تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد ہے “مرکزِ ملت”۔ یہ مرکزِ ملت چونکہ خود “اللہ اور رسولؐ” ہے۔ اس لیے قرآن کو جو معنی وہ پہنائے وہی اس کے اصل معنی ہیں۔ اس کے حکم یا قانون کے متعلق یہ سوال سرے سے اٹھایا ہی نہیں جا سکتا کہ و ہ قرآن کے خلاف ہے۔ جو کچھ وہ حرام کرے وہ حرام اور جو کچھ وہ حلال کرے وہ حلال۔
اس نئے اسلام کے “نظامِ ربوبیت” پر ایمان لانے والے تو ابھی بہت کم ہیں لیکن اس کے باقی تمام تعمیری اور تخریبی اجزاء چند مخصوص حلقوں میں بڑے مقبول ہو رہے ہیں۔ مغربیت زدہ لوگوں کو یہ مسلک اپنی طرف کھینچ رہا ہے کیوں کہ اسلام سے نکل کر مسلمان رہنے کا اس سے زیادہ اچھا نسخہ ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا ہے۔ آخر اس سے زیادہ مزے کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو کچھ مغرب میں حلال اور “ملا کے اسلام” میں آج تک حرام ہے وہ حلال بھی ہو جائے اور قرآن کی سند ان حلال کرنے والوں کے ہاتھ میں ہو۔
استفادہ تحریر: سنت کی آئینی حیثیت سید مودودی رحمہ اللہ

علامہ اقبال ، حدیث نبوی ؐ اور منکرین حدیث

۔

علامہ اقبال اور حدیث نبوی کا موضوع کئی اعتبار سے اہم ہے – افکار اقبال کی تفہیم ، اشعار میں عیاں و پنہاں تلمیحات کی شرح اور عمومی فکری رجحانات کے تجزیہ و تحلیل کے لیے احادیث نبوی کے مطالعہ اور تخریج کی ضرورت تو سامنے کی بات ہے – اس ضمن میں بہت سا کام ہوا بھی ہے . مثال کے طور پر دیکھئے : اکبر حسین قریشی ، مطالعہ تلمیحات و اشارات اقبال ، اقبال اکادمی پاکستان،۱۹۸۶ باب:تلمیحات حدیث، ص ۱۰۵ ؛ محمد حنیف شاہد ، ’’احادیث نبوی ، کلام اقبال میں‘‘، اقبال ، بزم اقبال لاہور ۱۹۹۱ء جلد ۳۸ ، شمارہ ۱ – ۲ ، صفحات ۱۳ – ۵۰ ؛ حافظ منیر خان ’’ اقبال اور حدیث (اسرار خودی کے حوالے سے)، اقبال ، بزم اقبال ، لاہور ، جلد ۴۷، شمارہ ۳،۲،۱، جنوری – جولائی ۲۰۰۰ء ، ص ۱۳۹ – ۱۵۸-
ان تحریروں کو معیار اور تعداد دونوں اعتبار سے قابل اطمینان قرار دیا جا سکتا ہے – تاہم احادیث نبوی کی تشریعی حیثیت ، صحت و استناد حدیث اور حجیت و حفاظت حدیث کا پہلو ایسا ہے جس کے حوالے سے اقبالیات میں تحقیقی کام نسبتاً کم نظر آتا ہے – حدیث کی اس حیثیت کے بارے میں علامہ کی رائے کا تعین کرنے کے لیے جن مصنفین نے قلم اٹھایا ہے انہیں ہم دو دستہ قرار دے سکتے ہیں –
ایک طرف وہ اہل قلم ہیں جنہوں نے صرف اتنا بتانا کافی سمجھا ہے کہ اگر علامہ اقبال کے اشعار میں احادیث رسولؐ کے بکثرت حوالے اور تلمیحات پائی جاتی ہیں تو یہ فی نفسہ اس امر کا ثبوت ہے کہ علامہ احادیث رسولؐ کو قانون سازی کے عمل میں قرآن کے بعد مأخذ قانون کا درجہ دیتے تھے (مثال کے طور پر دیکھئے ، محمد فرمان ، اقبال اور منکرین حدیث ، گجرات ، ۱۹۶۳ء ص ا تا۶۰)
دوسری طرف ماہرین اقبالیات کا وہ گروہ ہے جس نے علامہ کی نثری تحریروں، خطوط اور مقالات کے حوالے سے علامہ کی شعری تخلیقات اور نثر میں ظاہر کی گئی آراء کے درمیان ایک امتیاز قائم کیا ہے – (مثلا عمران نذر حسین ، ’’ اقبال اور زمان آخر ‘‘ ، تیسری علامہ اقبال کانفرنس پنجاب یونیورسٹی ، لاہور ، ۱۹۹۸ء -) ان حضرات کی تحریروں میں عموماً یہ بات سامنے آتی ہے کہ علامہ کا رویہ اس ضمن میں دولخت ہے , شعر میں وہ احادیث سے استناد و استشہاد کرتے ہیں اور ضعیف روایات بھی منظوم کر لیتے ہیں جبکہ نثری تحریروں بالخصوص تشکیل جدید میں حدیث کے بارے میں ان کا رویہ احتیاط و گریز کا ہے۔ اقبال کی شاعری اور نثر میں جو یہ تضاد دکھائی دیتا ہے اسے مختلف ماہرین اقبال اپنے وسعت و قلت علم کے مطابق اور اپنے حسب فہم گمان مختلف طرح سے حل کرتے ہیں۔ بعضوں کا خیال ہے کہ اقبال کی شاعری وجدانی ہے اور نثر عقلی، وجدانی سطح پر وہ مسلمان تھے اور عقلی سطح پر فلسفی۔ ایک ہی وقت میں اقبال پر دو متضاد افکار و مناہج کا غلبہ تھا جیسا کہ اکثر مفکرین کے یہاں یہ مختلف پہلووں میں دیکھنے کو ملتا ہے اور یہی بات قرین قیاس محسوس ہوتی ہے۔
بعض ماہرین نے اس احتیاط و گریز میں سے ایک اصول فقہ دریافت کرنے کی سعی کی جس کے تحت قانون سازی کے عمل میں حدیث کو ماخذ قانون نہ بنانا علامہ کی منشا قرار پائی (جیسے الطاف حسین آہنگر ، ’’ اقبال اور حدیث – قانونی تناظر ‘‘ ،( انگریزی) اقبال ریویو ، اقبال اکادمی پاکستان ، جلد ۳۷ ، شمارہ ۳ ، اکتوبر ۱۹۹۶ء ص ۸۹ – ۱۱۰(خصوصاً ص ۱۰۲ ، ۱۰۵ )
کچھ اور حضرات نے اس میں ایک فلسفہ تشکیک اور ’’ تاریخی تنقید ‘‘ کی جھلک دیکھی اور اسے علامہ کی رائے قرار دیا ۔ جبکہ حقیقت میں اس میں سے اصول فقہ اور فلسفہ تشکیک برامد کرنا شوق فضول و جرأت رندانہ کے زمرے میں شمار ہونا چاہیے – اس وقت ہمیں ان آراء سے بحث نہیں ہے ,تفصیلی بحث کے لیے محمد سہیل عمر کی کتاب خطبات اقبال نئے تناظر میں ، اقبال اکادمی پاکستان ، لاہور ، ۱۹۹۶ء دیکھی جاسکتی ہے -سردست قارئین اقبالیات کی توجہ ایک اور مسئلے کی طرف دلانا مقصود ہے جو علامہ کے احتیاط پسند رویے کو سمجھنے کی کلید بھی ہے اور تاریخ و تدوین حدیث کی ایک الجھن کو حل کرنے میں ہماری مدد بھی کرتا ہے – اس بات کے پس منظر کو واضح کرنے کے لیے مندرجہ ذیل نکات سامنے رکھنا مناسب ہو گا –
علم مغرب کے ظلمات طلسم میں کے حجرئہ ہائے چند بلا میں سے یوں تو بہت سے بلائیں نکلی ہیں لیکن ان میں ’’تاریخی تنقید‘‘historical criticism کا عفریت ایسا ہے جس نے عیسوی دینیات کو سب سے زیادہ متاثر کیا – مطالعہ انجیل کو تو گویا اس نے سارا نگل رکھا ہے- مستشرقین اسی معاشرے کے نمائندے اور اسی ذہنی فضا کے پروردہ تھے سو ان کی تحریروں میں یہ بلا اسلام پر بھی حملہ آور ہوئی- مطالعات قرآن کے ضمن میں تو اس کی کامیابی سرے سے قابل اعتناء نہ ہو سکی لیکن حدیث نبوی پر مغربی محققین اور مستشرقین کی تاریخی تنقید نے عالم اسلام کے بہت سے جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو متاثر کیا – کچھ حصہ اس میں مرعوبیت کا بھی تھا – جدید مسلمان مفکرین پر مغربی مورخین اور مستشرقین کی دیانت و وسعت علمی اور تحقیق کے اسالیب و وسائل کے نتیجہ خیزی کی دھاک جو بیٹھی ہوئی تھی – علامہ اقبال تک آتے آتے صحت و استناد حدیث کے بارے میں مغربی اہل علم کی ایک خاص رائے قائم ہو چکی تھی اور اس کو ہمارے مفکرین میں سے کئی لوگوں نے قبول کر لیا تھا – اس رائے کے قائم ہونے کا ایک پس منظر ہے –
احادیث نبوی کی صحت و استناد کو معرض تشکیک میں ڈالنے کا عمل برسوں پہلے اسپرنگر کی جرمن تحریروں سے شروع ہو چکا تھا (A Sprenger; “Ueber das Traditionswesen beiden Arabern”, Zeitschift des Dcentschen Mondentandische gesellschaft (ZDMG) vol . 10 , 11856), pp 1-17) – ان کا انگریزی ترجمہ بھی ہندوستان میں اسی دور (۱۸۵۶ئ) میں چھپ گیا تھا (A Sprenger; “On the origin and Progress of writing down Historical Facts among the Musulmans” Journal of the Asiatic Society of Bengal, 25 (1856), pp,303-329, 375-381.) -اس کے چار برس بعد نولد یکے کا کام سامنے آیا (M.Noldeke: Geschichte des Korans.1860)- ۷۷- ۱۸۷۵ء میں الفرڈ وان کریمر کی تصنیف دو جلدوں میں منظر عام پر آئی (Alfred von Kremer: Kulturgeschichte des Orlients unter den Chalifen, 2 vols., 1875 – 1877) –
ان سب کے ہاں ذخیرہ احادیث کے بارے میں وہی رویہ کارفرما تھا جسے بعدازاں تاریخی تنقید کے نام سے شہرت ملی – گولٹ تسیھر تک آتے آتے یہ رجحان ایک مکمل فلسفہ تشکیک اور مدلل تنقید و تردید صحت احادیث میں ڈھل چکا تھا جو اس کی کتاب Muhammedanische Studien میں پوری شدت اور تفصیل سے ظاہر ہوا –
بیسویں صدی کے اوائل تک مستشرقین کے حلقوں اور ان کی تصانیف کا مطالعہ کرنے والوں میں یہ بات مسلمات میں داخل ہو چکی تھی کہ احادیث کا ذخیرہ تاریخی اعتبار سے قابل اعتبار نہیں ہے – یہی وہ رائے ہے جو تشکیل جدید میں علامہ نے نقل کی اور علامہ اقبال اور حدیث نبوی کے موضوع پر قلم اٹھانے والے مصنفین نے اسی عبارت کا بار بار حوالہ دیا ہے –
یہ تشکیل جدید کا وہ اقتباس ہے جو حدیث کے مأخذ قانون ہونے کی بحث کا آغاز کرتے ہوئے علامہ نے درج کیا ہے – عبارت کا تعلق ہے گولٹ تسیھر کی اس رائے سے جو اس نے اپنی کتاب کی جلد دوم میں نقد حدیث کے ضمن میں پیش کی تھی – تشکیل کی انگریزی عبارت درج ذیل ہے –
The Hadith. The second great source of Muhammadan Law is the traditions of the Holy prophet. These have been the subject of great discussion both in ancient and modern times. Among their modern critics Professor Goldziher has subjected them to a searching examination in the light of modern canons of historical criticism, and arrives at the conclusion that they are, on the whole, untrustworthy
بعد کے سالوں میں اس صورتحال میں خاصی تبدیلی آئی لیکن علامہ کے زمانے کو پیش نظر رکھئے تو تین ہی امکانات سامنے آتے ہیں –
1. مخاطب کے مسلمات فکر کی رعایت کرتے ہوئے انہی کے حوالے سے تعبیر دین یا تعبیر حقائق کی جائے –
2. مخاطب کے مسلمات کی ترمیم، تردید، تغلیط کی جائے اور اسے اپنے مسلمات فکر اور قضایا تک لا کر آغاز کلام کیا جائے –
3. اساسی مفاہیم اور مبادی فکر پر اتفاق رائے نہ پا کر مکالمے کے امکانات کو رد کرتے ہوئے خود کلامی پر اکتفا کیا جائے –
علامہ نے اول الذکر منہاج تطبیق اپنائی اور تشکیل جدید کے دیگر بہت سے مباحث کی طرح یہاں بھی مخاطب کو رعایت دیتے ہوئے اسی کی بات کے سہارے اسے اپنانقطۂ نظر سمجھانے کی سعی کی –
اس کے علاوہ اس مسئلے کا ایک پہلو بھی تھا – مذکورہ بالا مصنفین کے علاوہ مغرب میں جو دیگر انصاف پسند اہل قلم ہوئے ہیں ان کا کام ابھی سامنے نہیں آیا تھا – مسلمان اہل علم نے تاریخ حدیث ، تدوین حدیث اور صحت و استناد و حدیث پر مذکورہ مغربی اعتراضات کا جوابی کام ابھی پیش نہیں کیا تھا – مغربی تعلیم یافتہ مسلمانوں میں علوم حدیث پر فنی گرفت بھی مفقود تھی اور مغرب کی تنقید کا رعب بھی طاری تھا – ہر دو اسباب نے ان میں علمی جواب دینے کی اہلیت باقی نہ چھوڑی تھی – علمائے وقت مغربی اہل قلم کی جرح و تنقید سے نہ تو واقف تھے نہ اس کے نئے ڈھنگ کے اعتراضات کو سمجھ پائے تھے – ایسے حالات میں انگریزی میں مغربی تعلیم یافتہ اور مغرب زدہ مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقبال یہی راستہ اختیار کر سکتے تھے جو انہوں نے کیا – ان کا محتاط رویہ اور گریز اسی مجبوری کا نتیجہ اور اسی منہاج کا تقاضا تھا۔
علامہ کے زمانے کے بعد صورتحال رفتہ رفتہ بدلتی چلی گئی – ایک طرف تو مغرب میں کچھ لوگوں نے معروضیت اور انصاف پسندی سے کام لیتے ہوئے ذخیرہ حدیث اور تاریخ حدیث کا مطالعہ کیا اور مذکورہ بالا مستشرقین کی آراء کی کمزوری واضح کی اور دوسری طرف مسلمانوں کے جدید تعلیم یافتہ طبقے میں سے ایسے اہل علم ابھرے جو علوم حدیث پر اور علوم اسلامیہ پر عبور رکھنے کے ساتھ ساتھ مغربی منہاج علم اور مستشرقین کی تحقیقات سے بخوبی آشنا تھے – ان کی اس جامعیت نے حدیث اور مطالعات حدیث میں ایک نئے دور کا آغاز کیا- ان کی تحریروں سے مستشرقین کی غلط آراء کا طلسم بھی ٹوٹا اور مسلمانوں کے جدید تعلیم یافتہ طبقات میں پائی جانے والی بے بنیاد مرعوبیت کا بھی کسی حد تک ازالہ ہوا- ان لوگوں میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ، فواد سیزگین، ڈاکٹر محمد مصطفی الاعظمی اور ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب کے نام سر فہرست ہیں۔انگلش میں چند قابل ذکر ریسرچ یہ ہیں :
)M.M.Azami, Studies in Early Hadith Literature (Beirut: al-Maktab al-Islami,1968)،
M.M.Azmi, On Schacht’s Origins of Muhammadan Jurisprudence (New York: John Wiley,1985)،
Nabia Abbott, Studies in Arabic Literary Papyri, ii (Chicago: University of Chicago press,1967)
Fuat Sezgin, Geschichen Schrifttums,I (Leiden: E.J.Brill, 1967). 53-84 (
گولڈ تسیھر اور ان کے ہم خیال حضرات کی میراث فکر بھی معددم نہیں ہوئی – ان کی آراء پر حاشیہ چڑھانے والے اور اسی روش تحقیق کو آگے بڑھانے والے لوگ بھی سامنے آئے – ان میں سب سے نمایاں نام جوزف شاخت کا ہے – شاخت کو صحیح معنوں میں گولڈ تسیھر کا فکری جانشین کہا جا سکتا ہے بلکہ یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ گولڈ تسیھر کی تنقید حدیث شاخت تک آتے آتے دو آتشہ ہو کر کہیں زیادہ شدید اور جارحانہ ہو گئی – ہم نے جن مسلمان محققین کا ذکر سطور بالا میں کیا ہے ان میں سے مصطفی اعظمی صاحب اور طفر اسحاق انصاری صاحب نے شاخت کی تحریروں کو خصوصیت سے اپنا موضوع نقد بنایا ہے اور اس کے منہاج علم ، تحقیق اور نتائج پر ایسے موثر علمی انداز میں تنقید کی ہے کہ اس کے اعتراضات کا بودا پن تو خیر واضح ہو ہی جاتا ہے اس کے استدلال کی کمزوری بھی کچھ اس طرح آشکار ہوتی ہے کہ شاخت کی دیانت ہی نہیں ذہانت بھی مشکوک معلوم ہونے لگتی ہے – ان حضرات کے علمی کام کی گہرائی ، گیرائی اور قوت کا نتیجہ ہے کہ آج مغرب کی علمی دنیا میں بھی گولڈ تسیھر وغیرہ کی آراء کو پہلے سا قبول عام حاصل نہیں رہا اور سنجیدہ اہل علم ان تحریروں کو’’ مستند ہے ان کا فرمایا ہوا ‘‘ کے طور پر پیش کرنے سے کترانے لگے ہیں – ان حضرات کی محنت ، علمی لیاقت اور دلائل کی مضبوطی نے اپنا لوہا عہد جدید کے مغربی محققین سے بھی منوا لیا ہے – ویل بی حلاق (Wael B. Hallaq) جو اس وقت فقہ اسلامی کی تاریخ اور ارتقاء پر مغرب میں سند سمجھے جاتے ہیں ، ان حضرات کی تحریروں نے جو اثر مغرب میں چھوڑا ہے اس کا عکس ہمیں حلاق کی تازہ کتاب میں نظر آتا ہے- حلاق نے ان تحریروں کے سامنے پسپائی اختیار کرتے ہوئے مجبوراً اعتراف کیا ہے کہ :
However, mounting recent research, concerned with the historical origins of individual prophetic reports, suggests that Goldziher, Schacht and Juynboll have been excessively skeptical and that a number of reports can be dated earlier than previously thought, even as early as the Prophet. These findings, coupled with other important studies critical of Schacht’s thesis, go to show that while a great bulk of prophetic reports may have originated many decades after the Hijra, there exists a body of material that can be dated to the prophet’s time. Therefore, I shall not a priori preclude the entirety of prophetic reports as an unauthentic body of material, nor shall I accept their majority though many may have been admitted as autentic (sahih) by the Muslim “science” of hadith criticism.
(Wael B. Hallaq, A history of Islamic Legal Theories. An Introduction to Sunni Usul al-Fiqh, Cambridge University Press, 1997, pp.2-3)

استفادہ تحریر : اقبال اور حدیث نبوی از محمد سہیل عمر، ماہنامہ اقبالیات، جنوری 2000

پاکستان، ملاازم اور غلام احمد پرویز

.

ہندوؤں سے برہمنیت اور عیسائیوں سے پاپائیت کا تصور لے کر ‘مذہبی پیشوائیت’ کے نام سے اسے مسلمانوں کی تاریخ کی ایک ‘مستقل اور ٹھوس حقیقت’ قرار دے ڈالنے کے بعد،اب پاکستان کی تاریخ کا بھی اسے حصہ بنا ڈالنے کی کوشش ‘مفکر قرآن’ نے بایں الفاظ کی ہے :
”اب حالت یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے تحریک ِپاکستان کی اس قدر مخالفت کی تھی، یہاں سب سے زیادہ معتبر بنے ہوئے ہیں اور سرمایہ داری اور تھیاکریسی جن سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس مملکت کا وجود عمل میں آیا تھا، اور جن کا ہمیشہ آپس میں گٹھ جوڑ ہوتا ہے، مملکت پرمسلط ہورہی ہے۔( طلوع اسلام: 30 جولائی 1955ء، صفحہ 13)
”اربابِ شریعت سے، اس طبقے (اربابِ حکومت و سیاست)کا ساجھا ہے اور ا س کی وجہ سے یہ حضرات بھی اس ٹھاٹھ کی زندگی بسر کررہے ہیں جو تشکیل پاکستان سے پہلے ان کے حیطۂ تصور میں بھی نہیں آسکتی تھی۔( طلوع اسلام: جنوری 1952ء، صفحہ 11 فروری 1962ء، صفحہ 75)
یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ ‘مفکر قرآن ‘کے نزدیک ‘ملائیت’ کی بدترین شکل جماعت اسلامی کے پیکر میں پاے کوب ہے، اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اس ‘مزاج شناس خدا’کے ہاں ”مولانا مودودی ہی ملائیت کے سرخیل ہیں ” … نیز یہ بات بھی مذکور ہوچکی ہے کہ ”جماعت ِاسلامی ہی مُلا ہے۔” لہٰذا پاکستان میں ارباب اقتدار اور جن ارباب ِشریعت کے درمیان ‘گٹھ جوڑ’، ‘ساجھا پن’، ‘ملی بھگت’ اور ‘شریفانہ معاہدہ’ ہوا ہے، ان سے مراد جماعت اسلامی ہی کے افراد و اَعیان ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو حکمرانوں کے ظلم و ستم کے لئے ‘شرعی سندات’ مہیا کرتے ہیں اور یہی وہ جماعت ہے جواربابِ اقتدار کی ہاں میں ہاں ملاتی اور ان کی بانہوں میں بانہیں ڈالتی ہے۔جماعت اسلامی ہی وہ’مذہبی پیشوائیت’ ہے جو اربابِ حکومت کو ظل اللہ کے مقدس خطاب سے نوازتی ہے اور اس کے بدلے میں سربراہانِ مملکت مالی وظائف کا انتظام کیا کرتے ہیں ۔ ۔۔

لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ دروغ گو را حافظہ نہ باید، تو اس کی واضح اور بہترین مثال ‘مفکرقرآن’کے کردار میں پائی جاتی ہے۔ حکومت کے ساتھ ‘ساجھا پن’، ‘گٹھ جوڑ’ اور ‘شریفانہ معاہدہ’ کے وقوع کا اعلان کرڈالنے کے بعد جماعت اسلامی کے متعلق یہ بھی کہا جاتاہے کہ
”قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر اس وقت تک ملک میں جو حکومت بھی قائم ہوئی ہے، اس جماعت نے شور مچا دیا ہے کہ اقتدار ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو فاسق و فاجر ہیں ، مغرب زدہ ہیں ، خدا ورسول سے بیگانہ ہیں ۔ شریعت سے ناآشنا ہیں ، کلبوں میں جاتے ہیں ۔ جم خانوں میں رنگ رلیاں مناتے ہیں ۔ یہ جماعت ہر برسراقتدار پارٹی کے خلاف، اسی قسم کا پراپیگنڈہ مسلسل کرتی چلی آرہی ہے۔( طلوع اسلام: مارچ 1967ء، صفحہ 16)
ایک اور مقام پر جماعت ِاسلامی کی ہر حکومت کے خلاف مخالفانہ پالیسی کو بایں الفاظ بیان کیا گیا ہے :
”اس کی ہر دل عزیزی کا راز صرف یہ ہے کہ یہ ہر حکومت کو برابر گالیاں دیتی رہتی ہے۔ موجودہ حکومت ہی کو نہیں ، بلکہ پہلے دن سے ہر اُس حکومت کو جس نے ان کی کوئی بات نہیں مانی، اگر یہ آج حکومت کو گالیاں دینا بند کردے تو اس کی ساری شہرت ختم ہوجائے۔ شہرت کیا، اس کا وجود ہی باقی نہ رہے۔( طلوع اسلام: جولائی 1967ء، صفحہ 72)
اب ذرا اس تضاد بیانی کو ملاحظہ فرمائیے کہ جماعت ِاسلامی، ہر حکومت کی مخالف بھی رہی ہے۔ اس کے خلاف شوروغوغا بھی کرتی رہی ہے، اور یہ بھی کہ ‘ملا’ ہونے کی حیثیت سے اربابِ اقتدار کے ساتھ اس کا گٹھ جوڑ ، ساجھا پن اور ‘شریفانہ معاہدہ’ بھی رہا ہے۔ اب سیدھی سی بات ہے کہ یا تو مذہبی پیشوائیت کے بارے میں یہ پرویزی قاعدہ کلیہ بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہے کہ اس کا اربابِ اقتدار کے ساتھ گٹھ جوڑ ہوا کرتا ہے اور یا پھر یہ کہئے کہ جماعت ِاسلامی سرے سے ‘ملا’ ہے ہی نہیں ۔ کیا وابستگانِ طلوع اسلام اس کی وضاحت فرمائیں گے؟

پاکستان میں تھیاکریسی کا مصداق کون؟
‘مفکر ِقرآن’ صاحب نے ‘مذہبی پیشوائیت’ کی صفات اتنی کثرت سے بیان کی ہیں کہ ان کاشمار کرنا مشکل ہے کہ ان کا اقتدارِ وقت کے ساتھ گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ محراب و منبر اور تاج وتخت کے درمیان ملی بھگت ہوا کرتی ہے، ارباب ِشریعت اربابِاقتدارکے گن گاتے ہیں اور وہ جواباً اُنہیں مراعات فراہم کرتے ہیں ۔ پیشوایانِ مذہب، عامة الناس کو کرسی نشینوں کی اطاعت و اِنقیاد پر آمادہ کرتے ہیں اور اہل اقتدار کے ساتھ ‘ساجھا پن’ کے مزے لوٹتے ہیں ۔ گدی نشینوں اور کرسی نشینوں کے درمیان ‘شریفانہ معاہدہ’ کے باعث علما حضرات لوگوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ ”راجہ، ایشور کا اوتار ہوتا ہے اور بادشاہ، خدائی حقوق کا حامل ہوتا ہے، لہٰذا اس کی اطاعت تم پر فرض ہے۔” اس کے بدلہ میں راجہ اور بادشاہ مالی وظائف کا انتظام کرتے ہیں اور یوں مذہبی پیشوائیت اور اربابِ اقتدار کے درمیان راہ و رسم ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔
‘مفکر قرآن’ کی بیان کردہ ان صفات کی روشنی میں اگر بے لاگ عدل و انصاف سے کام لے کر تحقیق کی جائے توایک طرف تویہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ‘ملائیت کے سرخیل’ مولانا مودودی اور ان کی جماعت پاکستان میں ہر حکومت کے مخالف رہے ہیں ۔ بلکہ بقول پرویز صاحب، اربابِ حکومت کو گالیاں دیتے رہے ہیں اور دوسری طرف یہ حقیقت بھی طشت اَز بام ہوجاتی ہے کہ چوہدری غلام احمد پرویز کے ہر حکومت کے سربراہ کے ساتھ اچھے اور خوشگوار تعلقات ہمیشہ قائم رہے ہیں ، ہر حکمران کے وہ مقرب رہے ہیں اور ہر ذی اقتدار ہستی کے ساتھ ان کی اچھی علیک سلیک رہی ہے اور یہ بات اس اعتبار سے بھی قرین قیاس ہے کہ ہمارے حکمرانوں میں سے جو بھی تخت ِاقتدار پر متمکن ہوا ہے، وہ مغربی افکار و نظریات ہی کا دودھ پی پی کر مغرب ہی کی بے حیا معاشرت کی گود میں پل کر آیا ہے اور اسے تقویٰ و پرہیزگاری کی اسلامی پابندی ہمیشہ گراں گزری ہے اس لئے ایسی پابندیوں کو ‘ملا کی عائد کردہ پابندیاں ‘ قرار دے کر اُنہیں ختم کردینے کی ‘دانشورانہ’ کاوشیں برسر اقتدار طبقہ کوبڑی بھلی لگتی رہی ہیں ، کیونکہ وہ سب کچھ جو مغرب میں حلال اور جائز ہے اور ‘ملاّ کے اسلام’ میں حرام اور ممنوع ہے، وہ اگر ‘مفکر قرآن’ کی بارگاہ سے جائز اور حلال قرا رپائیں اور قرآن کی سند بھی ہاتھ میں رہے تو اس سے بڑھ کر اسلام کو چھوڑ کر مسلمان بنے رہنے کا اچھا نسخہ کون سا ہوسکتا ہے۔ اس لئے حکمرانوں کے ساتھ ‘مفکر قرآن’کی راہ و رسم کا ہونا عین قرین قیاس ہے، لیکن ‘مفکر قرآن’ کے حکمرانوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا ہونا محض قیاس و گمان ہی کا تقاضا نہیں ہے بلکہ طلوعِ اسلام کے مشمولات بھی اسے امر واقعہ قرار دیتے ہیں :
”پرویز صاحب کے قائداعظم سے لے کر ان تمام حضرات سے جو وقتاً فوقتاً صاحب ِاقتدار رہے، اچھے مراسم تھے، لیکن اُنہوں نے ان میں سے کسی سے بھی کوئی مفاد حاصل نہیں کیا، نہ کوئی منصب مانگا، نہ کوئی اعزاز طلب کیا، نہ کوئی فیکٹری الاٹ کرائی، نہ جاگیر حاصل کی۔( طلوع اسلام، جنوری1974ء صفحہ 23)
صرف یہی نہیں بلکہ اربابِ اقتدار کو وہ اپنے سالانہ کنونشنوں میں مدعو کیا کرتے تھے، اور حکومتی وزرا کرسئ صدارت پر جلوہ افروز ہوکر شریک ِکنونشن ہوا کرتے تھے۔صرف ایک مثال ملاحظہ فرمائیے:
”طلوعِ اسلام کے کنونشن کے اجلاس، منعقدہ ۱۲ نومبر کی صدارت محترم المقام خواجہ شہاب الدین صاحب مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات نے فرمائی۔( طلوع اسلام، دسمبر 1967ء، صفحہ 14)

ارباب ِ اقتدار سے استفادۂ پرویز:
اب رہی یہ بات کہ ‘مفکر قرآن’ نے، اربابِ اقتدار سے اپنی ‘قرآنی خدمات’ کا کوئی اجر، کوئی معاوضہ اور کوئی مفاد حاصل نہیں کیا ۔ مفاد کی متنوع شکلیں ہیں جیسا کہ خود ‘مفکر قرآن’ فرمایا کرتے تھے:
”واضح رہے کہ دنیا میں مفاد صرف روپے کی شکل ہی میں نہیں ہوا کرتا۔ ذرا علم و فضل کی مسندوں ، زہدو تقویٰ کے آستانوں اور رہبرانِ ملت کی بارگاہوں پر ایک سرسری نظر ڈالو، اور دیکھو کہ کس قدر متنوع شکلیں ہیں جن میں اپنی بے لوث خدمات کامعاوضہ طلب کیا جاتا ہے۔ نذرانہ نہیں تو مخدومیت اور اطاعت اور اطاعت بھی اکثر پرستش کی حد تک، کبر نفس کے تقاضوں کی تکمیل، أنا الموجود ولاغیري کے بلند آہنگ دعاوی، تنقید کی حد سے ماورائیت اور کم ا زکم نام کی جھوٹی شہرت اور ان تمام داعیات واقتضائات کے باوجود بلا مدد ومعاوضہ خدمت کا دعویٰ۔ کتنا بڑا فریب ہے جواپنے آپ کو اور دوسروں کو دیا جاتا ہے۔( جوئے نور ، صفحہ 89)

1954ء کی مقننہ کے خاتمہ میں کردار ِ پرویز:
خواجہ ناظم الدین ایک شریف النفس سیاست دان تھے اور چاہتے تھے کہ ملک کواسلامی خطوط پر چلایا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس مزاج کا آدمی طلوع اسلام ( یا پرویز صاحب) کو طبعاً گوارا نہیں جس میں ایسی اسلامیت کی ذرا سی رمق بھی پائی جائے جو کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ سنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دلیل ٹھہراتا ہو، پھر اس پر مستزاد یہ کہ اس کی وزارت میں مقننہ جو آئین بنا رہی تھی وہ بہرحال قرآن و سنت پرمبنی تھا۔ ایسے آئین سے بڑھ کر ‘غلط اور خطرناک آئین’ پرویز صاحب کی نگاہ میں اور کیا ہوسکتا تھا اور جو قانون ساز اسمبلی، ایسا آئین بنا رہی تھی اس کا وجود ‘مفکر ِقرآن’ کے لئے کیونکر قابل برداشت ہوسکتا تھا۔ اس لئے اُنہوں نے اس وقت کے ہمہ مقتدر گورنر جنرل ملک غلام محمد کو مشورہ دیا کہ مقننہ میں قرآن و سنت کی بنیاد پر آئین سازی کا اب تک جو کام ہوچکا ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے اور صرف قرآن ہی کی بنیاد پر از سر نو دستور سازی شروع کی جائے۔
”کرنے کاکام یہ ہے کہ جو کچھ اس وقت تک اس جذبے کے ماتحت ہوا ہے، اس پر خط ِتنسیخ کھینچ دیا جائے۔ ملک سے ایسے اربابِ فکر و نظر کو اکٹھا کرلیا جائے جو یہ بتا سکیں کہ دورِ حاضرہ کے تقاضوں کوپورا کرنے کے لئے قرآن کون کون سے اُصول دیتا ہے اور ان اُصولوں کی روشنی میں فکرِ انسانی کے مطابق اپنا آئین مرتب کرلیا جائے۔( طلوع اسلام، مئی 1953ء، صفحہ 11)
چنانچہ اس مشورہ کے بعد کیا ہوا؟
”ملک غلام محمد (مرحوم) نے پوری جرأتِ رندانہ سے کام لیا اور اکتوبر ۱۹۵۴ء میں مجلس دستور ساز کو برخاست کردیا اور اس طرح مملکت کو تباہی سے بچالیا۔( طلوع اسلام، دسمبر 1980ء، صفحہ 13)

دورِ ایوبی اور پرویز صاحب:
ایوبی دور میں بھی اربابِ اقتدار کے ساتھ بالعموم اور ایوب خاں کے ساتھ بالخصوص ‘مفکر قرآن’ صاحب کے گہرے تعلقات تھے۔ایوب خاں طلوع اسلام کے لٹریچر سے گہری دلچسپی رکھتے تھے اور پرویز صاحب کی مالی اعانت بھی کیا کرتے تھے۔ اس مالی معاونت کا اعتراف دبے لفظوں میں طلوع اسلام میں بھی موجود ہے، خود پرویز صاحب فرماتے ہیں :
”صدر ایوب (مرحوم) سے میرے خاص روابط تھے، لیکن میں نے ان سے بھی کبھی کچھ نہیں مانگا تھا (جیسا کہ میں نے پہلے لکھا ہے) وہ میرے لٹریچر میں بڑی دلچسپی لیتے تھے (ایک آدھ بار ایسا بھی ہوا کہ اُنہیں میری کوئی کتاب خاص طور پر پسند آئی تو اُنہوں نے کہا ”میں چاہتا ہوں کہ اس کی اشاعت وسیع تر ہو، اس کے لئے میں اپنی طرف سے بطورِ اعانت کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں ۔” اس سے زیادہ میں نے ان سے بھی، نہ کچھ لیا، نہ مانگا) اس میں البتہ ایک استثناء ہوئی۔( طلوع اسلام، جنوری 1984ء، صفحہ 47)
علماے کرام جب یہ کہتے کہ…”ہم قرآن و سنت کی بنیاد پر، طرزِ یثرب، پاکستان کی تعمیر کے خواہاں ہیں ، کیونکہ وہی ریاست ِنبویہؐ ہمارے لئے نمونہ اور مثالی حیثیت رکھتی ہے۔”… تو اس کے جواب میں ایوب خاں کہا کرتے تھے :”ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ملک کو تیرہ چودہ سو سال پیچھے دھکیل دیا جائے۔( طلوع اسلام، جون 1974ء، صفحہ 22)
ایوبی دور میں جماعت اسلامی اور اس کے امیر شدید ابتلا و آزمایش میں سے گزرے تھے۔ حتیٰ کہ جماعت ِاسلامی کو سرکاری طور پر کالعدم قرار دے دیا گیا تھا جسے بعد میں سپریم کورٹ نے بحال کردیا۔ ایوبی حکومت کو جس کی پشت پر پرویز صاحب کے ‘مفکرانہ مشورے’ اور ‘دانشورانہ تجاویز’ اور ‘بصیرت افروز’ تدابیر بھی موجود تھیں ، اس عدالتی جنگ میں شکست فاش ہوئی تھی۔ اسی ایوبی دور میں مولانا مودودی کو سزاے جیل بھی دی گئی تھی۔

کرو خود اور الزام دوسروں پر لگاؤ!
پرویز صاحب پھر بھی اُلٹا الزام علماے کرام پر لگایا کرتے تھے کہ ‘مذہبی پیشوائیت’ اور ‘اقتدار و ملوکیت’ میں ہمیشہ گٹھ جوڑ رہا کرتا ہے اور پھر اس گٹھ جوڑ کی تان یہاں آکر ٹوٹا کرتی تھی کہ… ”پاکستان میں ملائیت کے منظم ادارے کے سرخیل سید ابوالاعلیٰ مودودی ہیں ” …اب اگر واقعی یہ حقیقت ہے کہ ‘ملائیت’ اپنے دور کی ‘ ملوکیت و اقتدار’ کی حامی ہوتی ہے، تو پھر مولانا مودودی اور جماعت ِاسلامی آخر کس قسم کی ‘ملائیت’ ہیں جو اربابِ حکومت اور اہل اقتدار کی حامی و ناصر ہونے کی بجائے ہر حکومت کے خلاف رہے ہیں ۔۔۔؟!
حقائق کی روشنی میں ‘ملائیت’ کا مصداق پاکستان میں تحریک ِطلوعِ اسلام سے بڑھ کر اور کون سی تحریک ہوسکتی ہے جس کے سرخیل نے اربابِ حکومت کی بہتی گنگا سے ہمیشہ ہاتھ دھوئے ہیں ۔ ہر حکمران سے خوشگوار تعلقات استوار کئے رکھے ہیں ۔ ہر سربراہِ پاکستان سے راہ و رسم برقرار رکھی ہے۔ مخفی دروازوں سے اربابِ حکومت کے ساتھ ‘شریفانہ معاہدے’ کرتے رہے ہیں ۔ اربابِ اقتدار سے مالی اعانت وصول کرتے رہے ہیں ۔ اپنے صحافتی آرگن کو، ان گوشوں تک پہنچاتے رہے ہیں جن تک پہنچنا اہل اقتدار کی آشیرباد کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ اپنے فکری حریفوں کو نیچا دکھانے کے لئے اربابِ اقتدار کے ساتھ اپنے روابط کو استعمال کرتے رہے ہیں ۔ اپنے مخالفین کے خلاف ‘مرکزانِ ملت’ کے ذریعہ وہ کچھ کرتے رہے ہیں جو ان کے نفس حسد پرست کی تسکین کا ذریعہ بن سکے۔لیکن یہ سب کچھ کرڈالنے کے بعد ذرا اس دیدہ دلیری کو بھی ملاحظہ فرمائیے۔جس کے ساتھ بڑی بلند آہنگی کے ساتھ یہ جھوٹ بھی بولا جاتا ہے کہ ‘طلوع اسلام’ اپنے خوے ‘حق گوئی’ کو قائم رکھنے کے لئے اقتدار کے ایوانوں سے دور رہا ہے :
”تشکیل پاکستان کے بعد بھی اُس نے اربابِ حل و عقد کو ہر دوراہے پر للکارا، اور اُنہیں قرآن کے تجویز کردہ صراط ِ مستقیم کی طرف دعوت دی۔ وہ ان کی بارگاہوں سے دور دور رہا تاکہ وہاں کی سحر انگیز فضائیں ، اس کے جذبۂ حق گوئی و بے باکی کو نرم خیز نہ بنا دیں حتیٰ کہ یہ ملک کی عملی سیاسیات سے بھی کنارہ کش رہا۔( طلوع اسلام، جنوری 1971ء، صفحہ 8)

پرویز صاحب کا افسانہ مذہبی پیشوائیت (Mullaism)  – خلاصہ:

‘مفکر قرآن’ نے ‘اربابِ اقتدار اور مذہبی پیشوائیت کے باہمی گٹھ جوڑ’ کے اس افسانے کو اس کثرت سے دہرایا ہے کہ اسے شمار کرنامشکل ہے۔ہندومت، عیسائیت اور یہودیت سے ‘مذہبی پیشوائیت’ کا تصور لے کر اسے اُمت ِمسلمہ کی تاریخ میں ایک ‘واقعی حقیقت’ کے طور پر لاگھسیڑنا ہمارے اس’مفکر قرآن’کے متعدد اباطیل میں سے ایک ‘اچھوتا’ اکذدبہ ہے۔ پرویز صاحب صاحب انتہائی متانت و سنجیدگی سے ، از حد وقار و شائستگی، نہایت سلیقہ و قرینہ اور بکمال اعتماد و وثوق سے ایساجھوٹ بولتے ہیں کہ ناواقف آدمی تو فوراً ہی اسے سچ سمجھ لیتا ہے۔ مگر حقیقت ِحال سے شناسا شخص وقف ِحیرت و استعجاب ہوجاتا اور یہ سوچنے لگ جاتا کہ کتاب اللہ کا یہ’مفسر’ اور قرآنِ کریم کا یہ ‘مفکر’ کس قدر دیدہ دلیری اور دھڑلے سے جھوٹ بولتا ہے۔ اسے نہ آخرت میں اللہ کے ہاں اپنی جوابدہی کا احساس ہے اور نہ دنیا میں مخلوق ہی سے شرم و حیا کا پاس ہے۔ گزشتہ تحاریر میں انکے اس جھوٹ کاانہی کےلٹریچر سے ہی تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
آخری مثال :
‘مذہبی پیشوائیت’ کے ظالمانہ اور مستبدانہ اقتدار کی قباحت و شناعت کی نہایت گھناؤنی تصویر پیش کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
”جس زمانے میں ہماری مذہبی پیشوائیت ذی اقتدار تھی، مسئلہ تقدیر کے ضمن میں خونِ مسلم کی جس قدراَرزانی ہوئی اور باہم قتل و غارت گری اس فتنۂ ارتداد کو دبانے کے لئے روا رکھی گئی، اس کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔(طلوع اسلام، نومبر 1981ء، صفحہ 47)
اب معلوم نہیں کہ ‘مفکر قرآن’ صاحب اگر زندہ ہوتے تو ان سوالات کا کیاجواب دیتے کہ مذہبی پیشوائیت کس دور میں ‘ذی اقتدار’ تھی؟ کس سرزمین میں ‘ذی اقتدار’ تھی؟ وہ کون سی تھیاکریٹک شخصیت تھی جو’ذی اقتدار’ تھی؟ مذہبی پیشوائیت کے ‘ذی اقتدار’ ہونے کا سن وسال کیا تھا؟ اور اُس ‘ملا’ کا نام کیا تھا جو ‘ذی اقتدار’ تھا؟۔ ہم اس کذب ِ خالص کانرا جھوٹ ہونا، طلوعِ اسلام ہی کے اوراق سے پیش کئے دیتے ہیں تاکہ اس دروغ بے فروغ پر ایمان لانے والے اس تحریر کے آئینے میں ‘مفکر قرآن’ کا سراپا ملاحظہ فرما سکیں :
”چودہ صدیوں میں کبھی بھی مسلمانوں نے مولویوں کے ہاتھ میں حکومت نہیں دی۔ اس لئے کہ وہ حکومت چلانے کی ضروری تربیت سے محروم تھے۔(طلوع اسلام، اگست 1981ء، صفحہ29)
اسی اندا ز میں انہوں نے ” مذہبی پیشواؤں کے حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ کے افسانے گھڑے ۔ لیکن حرام ہے جو کسی مقام پر کوئی ثبوث پیش کیا ہو۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں سے کسی ایک حکمران کابھی حوالہ نہیں دیاجس کے اور کسی ‘ملا’ کے درمیان ایسا کوئی ‘شریفانہ معاہدہ’ ہوا ہو۔ کس عہد میں ، کس سلطان کے ساتھ،کس عالم کا ایسا سمجھوتہ ہوا؟ کس کی ملوکیت کے ساتھ، کس ‘مذہبی پیشوا’ کا گٹھ جوڑ ہوا؟ کس عہد میں کس بادشاہ کے ساتھ، کس مسلمان ‘برہمن’ کا ساجھا رہا؟ کوئی متعین اور ٹھوس حوالہ؟ کوئی مضبوط دلیل؟ کوئی قوی برہان؟ کوئی پُرزور حجت؟
حقیقت یہ ہے کہ خلافت ِراشدہ سے لے کر دورِ حاضر تک کبھی کوئی عالم دین ، کوئی مفسر قرآن، کوئی محدثِ ذی شان اور کوئی فقیہ عالی مقام، کسی مقام پر کبھی بھی’ذی اقتدار’ نہیں رہا۔ یہ صرف’ مفکر قرآن’ کا اپنا خود ساختہ جھوٹ ہے جس کی کوئی تائید، مسلمان کی تاریخ کی کسی گری پڑی کتاب سے بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔ اتنی بات قابل تسلیم ہے کہ صدیوں پر محیط مسلم معاشرے میں ہر دور میں ، ہر جگہ اور ہر طبقے میں اچھے اور بُرے لوگ موجود رہے ہیں اور اُنہوں نے سرکار دربار سے تعلق پیدا کرکے کچھ مالی مفاد بھی حاصل کیا ہو، لیکن یہ بات صرف ‘مُلّا’ ہی کے طبقے کے لئے خاص نہیں ہے، بلکہ ہر طبقے کے لئے عام ہے۔ لیکن پوری تاریخ میں سے کسی ایک بھی ایسے پیشوا کا نام پیش نہیں کیا جاسکتا ہے، جسے افرادِ اُمت پر قائدانہ اثر و رسوخ، پیشوایانہ وجاہت اور راہنمایانہ مرتبہ و مقام حاصل ہو اور پھر اس نے حکومت ِوقت کی کاسہ لیسی بھی کی ہو۔
گزشتہ تحریر سے یہ بھی واضح ہے کہ تاریخ میں بھی انکے فکری اسلاف ‘ملائیت’ کا یہ مخصوص کردار ادا کرتے رہے اور پاکستان کی تاریخ میں بھی وہ خود بھی اسی مذموم حرکت کے مرتکب ہوئے ۔ اقتدارِ وقت کے ساتھ ‘ملی بھگت’ اور راہ و رسم کا رویہ انہوں نے خود اپنائے رکھا ہے نہ کہ انکی مخالف دینی جماعتوں نے۔ ۔ لیکن ”کرو خود، مگر الزام دوسروں پر لگاؤ” کی پالیسی کے تحت’ملائیت’، ‘مذہبی پیشوائیت’ ‘پریسٹ ہڈ’ اور ‘تھیا کریسی’ کی اصطلاحات کی آڑ میں وہ نشانہ علماے کرام، محدثین عظام اور مفسرین و مجتہدین کو بناتے رہے ۔

مذہبی پیشوائیت اور عجمی سازش کے افسانے گھڑنے کی وجوہات :
اس کی تین وجوہ نظر آتی ہیں :
اولاً… یہ کہ قرآن و سنت پر اساس پذیر جس دین کے علماے کرام علمبردار ہیں وہ دین چونکہ ‘مفکر قرآن’ صاحب کے اس مذہب سے کلی منافات رکھتا ہے جس کے معاشی نظام کو اشتراکیت سے اور معاشرتی طور طریقوں کو تہذیب ِمغرب سے قرآنِ کریم کے جعلی پرمٹ پر درآمد کیا گیاہے۔ اس لئے قرآن و سنت پر مبنی اسلام کی مخالفت کے لئے ‘ملا’ اور ‘ملائیت’ کی اصطلاحات وضع کی گئی ہیں تاکہ اسلامی شعائر اور دینی ثقافت کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کے لئے ان اصطلاحی الفاظ سے پردے کاکام لیا جائے اور کھلے عام دین اور اسلام کا نام لے کر اسے مطعون کرنے کی بجائے ‘ملائیت’ کی آڑ میں اسے نشانہ بنایا جاسکے۔
ثانیاً… یہ کہ ‘مصلحت’ اور ‘حسن تدبیر’ کا بھی یہی تقاضا تھا کہ براہِ راست اسلام اور اس کے مبادیات و مبانی اور اس کے ثقافتی علامات و آثار کو نشانہ نہ بنایا جائے تاکہ مسلمان، مشتعل نہ ہونے پائیں ۔ اس لئے اسلام سے تنفر اور گریز پیدا کرنے کے لئے حکمت ِعملی یہ اپنائی گئی کہ اس کی ایک ایک چیز کومطعون تو کیا جائے، لیکن اسلام کے نام پر نہیں بلکہ ‘ملائیت’ کے نام پر ایسا کیا جائے۔
ثالثا ً… یہ کہ چونکہ قرآن و سنت پر مبنی اسلام کے علمبردار علماے کرام ہیں ۔ اس لئے عامة الناس کو ان سے برگشتہ کرنے کے لئے جس اصطلاح کو کارگر سمجھا گیا، وہ ‘ملا’ کی اصطلاح تھی۔ اس لفظ میں سارے جہاں کی نفرتوں کو سمیٹ کر اسے ہر اس عالم دین پر چسپاں کردیا گیا جو پرویزی نظریات کا مخالف اور قرآن و سنت کا شیدائی ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ ‘ملا’ قرآن سے جاہل ، کتاب اللہ کا منکر، فہم و فراست سے عاری، عقل ودانش کا دشمن اور تقاضاے وقت سے نابلد ہے اور کبھی دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لئے، اس لفظ کو کسی گندی اور گھناؤنی صفت کا موصوف بنا کر مرکب ِتوصیفی کی صورت میں پیش کیا گیا۔ مثلاً کوڑھ مغز ملا وغیرہ۔ پھر اس لفظ (ملا) کی کمان سے جو تیر اندازی کی جاتی ہے، اس کا نشانہ اور ہدف صرف دورِ حاضر کے علماے کرام ہی نہیں بنتے ہیں بلکہ سلف و خلف کے جملہ اکابرین تک اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں ۔
آپ طلوع اسلام کے اس سارے دور پر نگاہ دوڑائیں گے تو آپ کو نظر آئے گا کہ اس نے شروع دن سے ذوقِ دشنام طرازی کو ایک فن بناکر طعن و تشنیع، طنز و استہزا اور تضحیک کی خدمت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ ان لوگوں نے کتاب کے ساتھ سنت کو دینی حیثیت باور کرنے والے دین دار طبقہ کی محض توہین و تذلیل کی خاطر ایک اصطلاح ‘ملا اور ملائیت’ کی وضع کی اور اس اصطلاح کی آڑ میں ابھی تک دل کی بھڑاس نکالتے آرہے ہیں ۔ یہ خدمت انکی طرف سے اس لئے بھی پوری دلچسپی کے ساتھ ایک مہم کے انداز میں انجام دی جاتی ہے کہ اخلاقی بضاعت کے افلاس پر فریب و ریا کے پردے ڈالے جائیں ، اور احساسِ کمتری کے جو یہ حضرات شکار ہیں اس باب میں تسکینِ خاطر کے کچھ سامان فراہم ہوسکیں ۔اس کے علاوہ علم و فن میں اپنی ناپختہ کاری کی پردہ پوشی بھی اس خدمت کے پس پردہ مطلوب ہے۔ اسکے علاوہ قرآن جسے پیغمبر قرآن سے منقطع کرکے ہتھیایا گیا اور اس کی تشریح و توضیح اور تفسیر و تفصیل اس ‘عقل عیار’ کی روشنی میں کی گئی ہے جو مغربی علمیات کے سانچہ میں ڈھلی ہوئی ہے اور قرآن کے نام پر متفرق اجزاے کفر کو مشرف بالاسلام کرنے کی جو ‘عربی سازش ‘ کی گئی اسے بھی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے کے لئے ‘عجمی سازش’ کے پراپیگنڈے کی دُھول اڑاتے رہتے ہیں ۔

پرویزی مکتبہ فکر سے متاثر نوجوانوں کا مسئلہ :
پرویزی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہماری دوست عقلیت ، تحقیق اور دلیل کو اہمیت دیتے ہیں ۔یہ ایک جائز اور قابل تعریف رویہ ہے ۔
لیکن عقلیت کا اوّلین اور بنیادی اصول تو یہ ہے کہ کسی مسئلہ میں بھی کوئی رائے بلاتحقیق قائم نہ کی جائے اور تحقیق کا معنی یہ ہے کہ انسان دوسروں کی جیب میں اپنے ایمان ڈال کر ان کی اندھی تقلید کرنے کی بجائے خود اپنی سعی و کاوش سے حقیقت کا سراغ لگائے اور جس مسئلہ کی حقیقت وہ معلوم کرنا چاہتا ہے اس کی بابت زیادہ سے زیادہ صحیح اور معتبر ذرائع سے معلومات فراہم کرکے ان سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ پھر ایک صاحب عقل و دانش محقق کی شان یہ ہے کہ نہ وہ وہم و گمان اور شک و شبہ پر اپنی رائے کی بنیاد رکھتا ہے اور نہ ہی وہ دوسروں کی عبارات میں اپنے ہی خیالات کو پڑھنے کا خوگر بنتا ہے اور نہ ہی وہ یہ بددیانتی کرتا ہے کہ اپنے مخالفین کومطعون کرنے کی خاطر ان کے قوی دلائل سے صرفِ نظر کرکے کمزور باتوں کو زورِ آزمائی کے لئے تلاش کرتاہے، اور نہ ہی وہ چند سنی سنائی باتوں اور چند کتابوں کے سرسری مطالعہ سے سطحی معلومات حاصل کرکے ان پر اعتماد کرتے ہوئے رائے قائم کرتاہے۔
لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہمارے ان جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں نے اسکے الٹ روش اختیار کی ہے ، ان لوگوں نے علوم حدیث کا خود تحقیقی مطالعہ کرنے کی بجائے مستشرقین و مستغربین کی اندھی تقلید پر اعتماد کیا، احادیث کو پرکھنے اور اس سے اخذ ِمسائل کے طریقوں کو جاننے کی رتی بھر کوشش نہیں کی، کتب ِاحادیث کا مطالعہ اس ذہنیت کے ساتھ کیا جس کے ساتھ عیسائی مشنریوں اور آریہ سماجی تحریکوں نے کبھی قرآن کا مطالعہ کیا تھا۔ فقہ کے مآخذ اور اس کے اُصولوں کو معلوم کرنے کے لئے معمولی اور قلیل وقت بھی صرف نہیں کیا، اس ناقص اور غیرمعتبر معلومات کی بنا پر یہ لوگ خود مجتہد ِمطلق بن کر ایک رائے قائم کرتے ہیں اور پھر بڑے فاضلانہ طمطراق کے ساتھ ایک ایسا مضمون تحریر فرماتے ہیں جس کی ابتدا مولوی پر سب و شتم اور انتہا اپنے اعلانِ اجتہاد و تفقہ پر ہوتی ہے۔ان کے مضامین پڑھنے سے یہ حقیقت و اشگاف ہوجاتی ہے کہ جن اُمو رپر یہ لوگ بحث کرتے ہیں ، ان کی ابجد تک سے ناواقف ہیں ، لیکن اپنے جہل و بے علمی پر پردہ ڈالنے کے لئے حربہ یہ اختیار کرتے ہیں کہ اپنے فکری مخالفین کے خلاف طعن و تشنیع کا ایسا شور مچا دیا جائے کہ عامة الناس کی نگاہیں ان کے علمی اِفلاس کی طرف متوجہ ہی نہ ہوپائیں ۔ اللہ انہیں سمجھ و ہدایت دے۔
استفادہ : مذہبی پیشوائیت؛ مذہب ِپرویز کا ایک کھوٹا سکہ از محمد دین قاسمی

مذہبی پیشوائیت/ملاازم اور غلام احمد پرویز

پریسٹ ہڈ(Priesthood) یعنی ‘مذہبی پیشوائیت’اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے علاوہ دیگر ادیان، مثلاً نصرانیت، ہندومت اور یہودیت کا تصور ہے۔ لیکن ہمارے ‘مفکر ِقرآن’ جناب چوہدری غلام احمد پرویز صاحب نے مذاہب ِباطلہ سے اس کا تخم لے کر، اسے سرزمین اسلام میں کاشت کیا، اور پھر اس کا ترجمہ’مُلَّا اِزم’ کرتے ہوئے علماے امت، محدثین ِکرام اور فقہاے عظام کو مطعون کرنے کا ذریعہ بنایا۔

پرویز صاحب کا اعتراف:

حالانکہ خود طلوعِ اسلا م میں اس بات کا بارہا اعتراف کیا گیا ہے کہ ‘مذہبی پیشوائیت’ نا م کی کوئی چیز اسلام میں موجود نہیں ہے ۔ مثلا:
”اس مذہب (اسلام) میں نہ رسومات ہیں ، نہ بت پرستی، نہ پیشہ ور مقتدایا نِ مذہب ہیں ، اور نہ کوئی ایسا دینی راہنما جو گناہ اور معصیت سے مبرا ہو۔ یہاں کوئی مجلس بھی مسیحیت کی طرح، چرچ کونسل کی مانند نہیں جو اختلافات و نزاعات کا فیصلہ کرے۔( طلوع اسلام، اپریل، مئی 1958ء،ص 60)
پریسٹ ہڈ یا تھیاکریسی (Theocracy) اصلاً عیسائیت کا تصور ہے، جس نے اسے ایک نظام اور ادارے کے طور پر اختیار کررکھا تھا ، بقولِ پرویز:”تھیا کریسی کا تصور تو پرانا ہے، لیکن اسے بطور نظامِ حکومت، عیسائی کلیسا (چرچ) نے یورپ میں رائج کیا ہے۔( طلوع اسلام، دسمبر1980ء ،ص 61)
ایک اور مقام پرتھیاکریسی کو عیسائیت کا تصور قرار دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ”ازمنہ متوسطہ میں ایک اندازِ حکومت ظہور میں آیا تھا جسے تھیاکریسی کہتے ہیں ۔ اس طرزِ حکومت میں اقتدارِ اعلیٰ مذہبی پیشواؤں کے ہاتھ میں رہتا تھا جو خدا کے نام پر لوگوں سے اپنی اطاعت کراتے تھے۔ جب یورپ ان خدائی فوجداروں سے تنگ آگیا تو وہاں (اس طرزِ حکومت کے خلاف) ایک جدید اندازِ حکومت وضع ہوا جس میں مذہبی پیشواؤں کا عمل دخل نہ تھا۔ اس اندازِ حکومت کوسیکولر کی اصطلاح سے تعبیر کیا گیا ۔( طلوع اسلام،جولائی 1959ء،ص 73)
طلوعِ اسلام، جون 1966ء کے صفحہ نمبر 10 پر واقع اقتباس میں اس تصور کو ہندومت کا تصور بھی قرار دیا گیا ہے۔

‘مذہبی پیشوائیت’ کے تصور کی برآمد کی وجہ :
سوال یہ ہے کہ ‘مفکر ِقرآن’ صاحب کو ‘ملا ازم’،’مذہبی پیشوائیت’، ‘تھیاکریسی’ یا ‘پریسٹ ہڈ’ کا یہ کھوٹا سکہ اَدیانِ باطلہ سے لے کر بازارِ اسلام میں کیوں لانا پڑا؟ اسکی بہت سی وجوہات تھیں جو اس ساری بحث سے واضح ہونگی ۔
‘مفکر ِقرآن’ صاحب کے تصورِ اسلام اور علماے اُمت کے تصورِ اسلام میں مشرق و مغرب کا سا بعد پایا جاتا ہے۔ علماے کرام کا تصورِ اسلام، قرآن وسنت پر مبنی ہے لیکن ہمارے ‘مفکر قرآن’ صاحب نے سنت ِرسولؐ کی سندیت اور حدیث ِنبوی ؐ کی حجیت سے انکار کرتے ہوئے قرآنِ کریم سے وہ ‘انقلابی اسلام’ ڈھونڈ ڈالاجس کے اجزا سرمایہ دارانہ تہذیب اور اشتراکی تمدن میں بغیرکسی قرآن کے پہلے سے موجود ہیں ۔ ‘مفکر ِقرآن’ صاحب کے نزدیک یہی ‘قرآنی دین’ اور ‘انقلابی اسلام’ ہے۔چونکہ علمائے اسلام پرویز صاحب کے پیش کردہ اس عجمی دین کے منکر اور مخالف ہیں اس لئے انتہائی تحقیر آمیز اور معاندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے تمام دنیا وجہان کی سمیٹی ہوئی برائیوں کو لفظ ‘ملاَّ’ یا ‘مولوی’ میں سمو کر اسے علما سے منسوب کرتے رہنا ‘مفکر ِقرآن’ کا مستقل شیوہ رہا ہے۔
اس ‘انقلابی عجمی اسلام’ کو متعارف کروانے سے پہلے دین کے پہلے سے موجود تصور اور اسکے حاملین کوبدنام کرنا پرویز صاحب کی مجبوری بھی تھی، اس کے لئے اُنہوں نے ایک ایسی ٹیکنیک اختیار کی جس کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ کہ علما حضرات کو خوب کثرت سے نشانہ بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے اُنہوں نے مُلا کا لیبل تراشا اور سارے جہاں کی نفرتوں کو اسی لفظ میں سمیٹتے ہوئے ہر اس عالم دین پر اس لیبل کو چپکا دیا جو قرآن و سنت کا داعی تھا۔پرویزی مخالفت ِعلما کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ حدیث وسنت کو بھی نشانہ بناکر اسے مشکوک قرار دیتے ہوئے ساقط الاعتبار ٹھہرایا جائے اسکے بعد قرآن کی اپنی پسند اور جدید تہذیب کے معیار کی تشریحات کرنا ممکن ہوجائے گا۔ جہاں تک پہلے کا تعلق ہے، ‘مفکر قرآن’ نے لیبل تراشی کرتے ہوئے لفظ ‘ملا’ کا پیکر ان الفاظ میں پیش کیا ہے :
1. ‘ملا’ کے پیکر کا خمیر ہی نفرت اور خوف سے مرکب ہوتا ہے او ریہ خصوصیت مسلمانوں کے ‘ملا’ ہی کی نہیں ، بلکہ دنیا کے ہر مذہب کے ‘ملا’کی ہی خصوصیت ہوتی ہے۔ ( طلوع اسلام، مارچ 1967ء ،ص 13)
2. ‘ملا’ کے پاس نہ علم ہوتا ہے، نہ بصیرت؛ نہ دلائل ہوتے ہیں ، نہ براہین۔ ( طلوع اسلام 5 فروری 1955ء،ص 4)
3. حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرات قرآن سے قطعاً نابلد ہوتے ہیں اور جس چیز کو یہ قرآن کہہ کرپیش کرتے ہیں ، اس میں قرآن کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ ( طلوع اسلام، جون 1956ء،ص 6)
4. یہ لوگ قرآن کے عملاً منکر ہوتے ہیں ۔( طلوع اسلام، فروری 1953ء،ص 10)
مولانا مودودی رحمہ اللہ کے بارے میں ‘مفکر ِقرآن’ صاحب کا خاص طور پریہ اعلان تھا:
”پاکستان میں ملائیت کے منظم ادارے کے سرخیل سید ابوالاعلیٰ مودودی ہیں ۔( طلوع اسلام، فروری 1953ء،ص 15)
انہی سیدابوالاعلیٰ مودودی کے متعلق کبھی طلوع اسلام نے بقلم پرویز یہ بھی لکھا تھا:
”خدا تعالیٰ نے مولانا موصوف کو اس زمانہ میں اسلام کی خدمت اور ملت ِکی تجدید کے لئے بہرۂ وافر عطا فرمایاہے اور وہ شرحِ صدر، وہ اسلامی بصیرت اور تفقہ فی الدین دیاہے جو مغربی الحاد کے دور میں ہر چیز کا صحیح اِدراک کرکے قرآنِ کریم کی روشنی میں ہر مرض کا تریاق مہیا کرتا ہے۔ ‘ترجمان القرآن’ کاموضوع قرآنِ حکیم ہے۔ ایک طرف وہ قرآن حکیم کی روشنی میں تاریک دلوں کو منور کررہا ہے اور دوسری طرف فرنگی اور مغربی الحاد کے خلاف مسلسل جہاد کرکے مغربی فلسفہ کا رعب دلوں سے نکال رہا ہے۔ قرآنِ حکیم کو منشاے الٰہی کے مطابق صحیح سمجھنا، صحیح اُصولوں پر اس کی نشرواشاعت کرنا، اسلام کے خلاف باطل سرچشموں کا پتہ لگانا او ر اُن کو عقل سلیم کی حجت سے بند کرنا، اسلام کے مقابلہ میں بڑی سے بڑی مخالفت سے مرعوب نہ ہونا، ذہنیتوں میں یکسر انقلاب پیدا کردینا اور وقت کی مناسبت سے جملہ مشکلات کا حل قرآنِ کریم سے پیش کرنا وغیرہ،وہ خصوصیات ہیں جو بحمداﷲ رسالہ ‘ترجمان القرآن’ کو حاصل ہیں ۔ ہندوستان میں آج کل سیاست کے نام سے جو گمراہی پھیلائی جارہی ہے، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اس سے غافل نہیں ہیں او رکتاب وسنت کی روشنی میں مسلمانوں کی سیاسی راہنمائی بھی فرما رہے ہیں ۔( طلوع اسلام، جولائی 1938ء،ص 73)
لیکن جب پرویز صاحب نے نیا اسلام وضع کیا اور مولانا مودودی سے اس نوساختہ اسلام کے انکار کا جرم سرزد ہوا تو ‘مفکر ِقرآن’ ان کے شرف و امتیاز کو خاک میں ملانے کے لئے یہ کہنے لگے :
”حقیقت یہ ہے کہ مولوی نہ کسی شخص کا خطاب ہے او رنہ کسی زمانہ سے مختص۔یہ ایک ذہنیت ہے۔ پرانا مولوی جو کچھ کہے گا اور کرے گا، ماڈرن مولوی اس سے بہتر مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ البتہ اس کے ہاں انگریزی کے بعض الفاظ کا استعمال ہوگا۔( طلوع اسلام، مئی 1950ء،ص 29)
آگے لکھتے ہیں
”ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اگرچہ تعلیم یافتہ کہلاتا ہے،لیکن ابتدائی تعلیم وتربیت او رماحول کے اثرات اور اپنی فکری صلاحیتوں کے فقدان کے باعث مذہب کے معاملہ میں بالکل عوام جیسا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کا ظاہر ماڈرن ہے، لیکن باطن، اسی دقیانوسی ملائیت کا حامل ۔ ۔ ۔ یہ جماعت، دقیانوسی ملائیت کی پیکر ہے لیکن اُنہوں نے اُسلوبِ نگارش ماڈرن رنگ کا اختیار کررکھا ہے۔ چنانچہ یہ طریق پرانے مولویانہ طریق سے مختلف ہے۔ اس لئے یہ لوگ محض اُسلوبِ بیاں اور طریق استدلال کے فرق کی بنا پر یہ خیال (Impression)عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا پیش کردہ مذہب ملائیت سے مختلف ہے۔اس سے وہ تعلیم یافتہ طبقہ یعنی سوٹ پہننے والاملا ان کا ہم نوا ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے ان کی ظاہری ماڈرنز م بھی قائم رہ جاتی ہے اور قلبی ملائیت کی بھی تسکین ہوجاتی ہے۔( طلوع اسلام، اگست و ستمبر 1952ء،ص 13)

اس سے دو باتیں بالکل واضح ہیں :
اوّلاً یہ کہ ‘مفکر قرآن’ صاحب کے نزدیک مُلّا ہر وہ شخص ہے جو ان کی فکر کو قبول نہیں کرتا، قطع نظر اس کے کہ وہ جدید تعلیم یافتہ ہے یا نہیں ۔ وہ اپنی فکر سے بیگانہ افراد کو خواہ ان کا اُسلوبِ تحریر جدید انداز کا ہو یا قدیم، اس خود ساختہ لیبل کا مستحق گردانتے ہیں ۔ اس کے برعکس ہر وہ شخص مُلّا نہیں ہے جو قرآن کے نام پر ان کے خود ساختہ دین کو قبول کئے ہوئے ہے۔ خواہ وہ جدید تعلیم پائے ہو یا قدیم۔ یہ وہی ٹریڈ یونین ازم ہے جس کے تحت وہ قرآن کے نام کی آڑ میں جاہلانہ عصبیت کا شکار ہیں اور اپنے گروہ سے باہر ہر فرد کو مُلَّا گردانتے ہوئے کشتنی و سوختنی قرار دیتے ہیں ۔
ثانیاً یہ کہ اپنے مخالفین کے لئے لیبل تراش کر اس کے تحت اِنہیں مطعون کرنا خود ‘مفکر قرآن’ (اور منکرین حدیث) کی وہ قبیح حرکت ہے جسے بہتاناً وہ اپنے فکری حریفوں کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ ‘کرو خود، مگر الزام دوسروں پر لگاؤ’ کا رویہ اپنانا، ‘مفکر ِقرآن’کی ایک مستمر پالیسی تھی تاکہ ان کی اپنی ایسی عادت چھپی رہے اور لوگوں کی توجہ اس شخص کی طرف مبذول ہوجائے جس کی طرف وہ اُسے منسوب کردیا کرتے تھے۔ اب یہاں یہ ملاحظہ فرمائیے کہ لیبل تراشی کی جو حرکت وہ خود علماے کرام کے خلاف کررہے ہیں ، ٹھیک اسی حرکت کا مرتکب وہ زعماے دین کو قرار دیتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں :
”یہ حضرات طلوعِ اسلام کے پیش کردہ قرآنی دلائل کا جواب تو دے نہیں سکتے، اس لئے اُنہوں نے اس کے خلاف وہی حربہ استعمال کیا ہے جسے یہ اپنے مخالفین کے لئے شروع سے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں ۔ اُنہوں نے مشہور کردیا کہ طلوعِ اسلام، منکر حدیث ہے اور اس طرح عوام کے جذبات کو اس کے خلاف مشتعل کردیا۔( طلوع اسلام،12 فروری 1955ء،ص 3)
امر واقعہ یہ ہے کہ ‘مفکر ِقرآن’ کو منکر ِحدیث یا منکر ِسنت کہنا، نہ کوئی لیبل تراشی ہے اور نہ الزام بازی، نہ کوئی طنز ہے اور نہ کوئی گالی، بلکہ یہ صرف امر واقعہ کا اظہار ہے، کیونکہ یہ لوگ خود حجیت ِحدیث انکار کرتے ہیں۔لیکن علما پر لیبل سازی کا الزام، بہ تکرارِ بسیار صرف اس لئے دہرایا جاتا ہے کہ ملا اور ملائیت کے جو لیبل وہ خود تراش چکے ہیں ، ان کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول نہ ہوسکے۔
آخر یہ کیسے ممکن تھا کہ علماے کرام آنکھوں سے دیکھتے اس مکھی کونگل لیتے اور قرآن کے نام پر کی جانے والی اس بدترین تحریف کو ٹھنڈے پیٹوں گوارا کرلیتے۔ علماے کرام اور پرویز صاحب کے درمیان کشمکش کا واقع ہونا ناگزیر تھا۔ چنانچہ یہ کشمکش واقع ہوئی اور ‘مفکر ِقرآن’ فرماتے ہیں :
”اور اس کے ساتھ دیکھئے کہ اس (طلوعِ اسلام) کی زندگی میں کوئی وقت ایسا آیا ہے جب عصا بردارانِ شریعت، اس کے پیچھے لٹھ لئے نہ پھر رہے ہوں ؟ ۔( مقام حدیث:ج2ص 384)
سوچنے کی بات ہے کہ اس ‘خالص قرآنی دعوت’ سے صرف ‘عصا بردارانِ شریعت’ ہی کیوں نعل در آتش ہیں ؟ آخر یہ کیسی ‘قرآنی دعوت’ ہے جس پر اربابِ اقتدار کو نہ صرف یہ کہ کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے بلکہ وہ اس پر راضی بھی ہیں ۔ جبکہ قرآن کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ جب بھی آواز ۂ قرآن اُٹھا، اس کی سب سے پہلی مخالفت ‘اربابِ اقتدار’ ہی کی طرف سے ہوئی۔ طاغوت کو اس میں اپنی موت نظر آئی۔ نمرودیت نے اس آواز کوکچل ڈالنے کی ٹھانی۔ فرعونیت اسی آواز پر لرزہ براندام ہوئی۔ لیکن یہ کیسی ‘خالص قرآنی دعوت’ ہے جس کو وقت کی طاغوتی طاقتیں ٹھنڈے پیٹوں گوارا کررہی ہیں ۔ عصرحاضر کے فراعنہ نہ صرف یہ کہ اس دعوت سے خائف نہیں ہیں بلکہ اس سے راضی بھی ہیں ۔ اگر واقعی یہ ‘خالص قرآنی دعوت’ ہوتی تو اَسود و اَحمر، اسے مٹا ڈالنے پر تُل جاتے۔ فرعون و نمرود اپنے لاؤ لشکروں کے ساتھ اس کا تعاقب کرتے۔ طاغوتی طاقتیں اس ‘دعوتِ حق’ اور اس کے علمبرداروں کوکچل ڈالنے کے لئے اپنے جملہ ذرائع و وسائل جھونک دیتیں اور دنیا کا ہر باطل اقتدار اس کا گلا گھونٹ دینے سے کم کسی بات پر راضی نہ ہوتا لیکن دیکھا یہ جارہا ہے کہ باطل اقتدار اور طاغوتی طاقتیں اس ‘قرآنی دعوت’ کو اپنے استحکام کا ذریعہ جانتے ہوئے درپردہ اس کی حمایت پر کمربستہ ہیں ۔
آخر کیا وجہ ہے کہ عالم اسلام کے علما اس ‘خالص قرآنی دعوت’ کے علمبردار کی مخالفت کررہے ہیں اور خالص کفر کے علمبردار نہ صرف یہ کہ ‘مفکر ِقرآن’ کی تعریف و تحسین کرتے ہوئے اُنہیں خراجِ تہنیت اور گل ہائے عقیدت پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ایسی کتابیں بھی لکھ رہے ہیں جو اس ‘خالص قرآنی دعوت’ کو دنیا کے دور دراز گوشوں تک متعارف کرانے کا موجب بن چکی ہیں ۔تفصیل کے لیے ہماری تحریر”مستشرقین کو غلام احمد پرویز صاحب کو خراج تحسین” ملاحظہ فرمائیے۔

پرویز صاحب کے مذہبی پیشوائیت کے تاریخی افسانے کی حقیقت :

پرویز صاحب نے علماے اسلام کو مُلّا قرار دے ڈالنے کے بعد اُن کی توہین و تذلیل اور استہزاء و تضحیک کے لئے ‘ملّائیت’، ‘مذہبی پیشوائیت’، ‘تھیا کریسی’ اور ‘پریسٹ ہڈ’کی اصطلاحات کو ذریعہ بنایا اور پھر یہ ‘افسانہ’ تراشا کہ ملاؤں اور حکومت کا ہمیشہ اور ہر جگہ گٹھ جوڑ رہا ہے۔پرویز صاحب کے مذہبی پیشوائیت/ملائیت کے بارے میں چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے :
1. ”مذہب میں حکومت اور مذہبی پیشوائیت میں ایک سمجھوتہ ہوتا ہے جس کی رو سے مذہبی اُمور، مثل اعتقادات، عبادات، پرسنل لاز وغیرہ، مذہبی پیشوائیت کے دائرہ اقتدار میں رہتے ہیں اور دنیاوی اُمور حکومت کے اختیار میں ۔ مسلمانوں میں صدرِ اوّل کے بعد یہ ثنویت پیدا ہوئی اور مسلسل آگے بڑھتی گئی۔( طلوع اسلام، نومبر1974ء، صفحہ 25)
2. ”اس قسم کی (یعنی فرعونی) آمریت، مذہبی پیشواؤں کی تائید کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی تھی، اس مقصد کے لئے تخت و تاج اور محراب و منبر کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا، جس کی رُو سے اُمورِ مملکت سلطان کی تحویل میں دے دیئے گئے اور معاملاتِ شریعت اربابِ مذہب کے قبضے میں ۔( طلوع اسلام، ستمبر 1973ء، صفحہ 8)
3. ”مفاد پرست گروہ نے اقتدار کی کرسیوں اور رزق کے سرچشموں پر قبضہ کرلیا، مذہبی پیشوائیت نے اس خلافِ اسلام نظام کو عین اسلام ثابت کرنے میں ‘شرعی سندات’مہیا کردیں ۔( طلوع اسلام، جون 1967ء، صفحہ 5)
اس تحریر میں ہم پرویز صاحب کے افسانۂ مذکورہ کا خود انہی کے لٹریچر سے کذبِ خالص ہونا واضح کریں گے۔ اس سے یہ بات آفتاب نصف النہار کی طرح اُجاگر ہوجائے کہ ‘مذہبی پیشوائیت’ کے نام سے جس گھناؤنے کردار سے علماے اُمت کو متہم کیا گیاہے، وہ صرف ‘مفکر قرآن’ کے ‘ذہن رسا’ ہی کا کرشمہ ہےاور صرف ان ہی کے حلقہ دامِ خیال میں پایا جاتا ہے، ورنہ واقعات کی دنیا میں اس کا وجود معدوم محض ہے، بلکہ اس کے برعکس ہماری تاریخ کے پیشوا یانِ دین کا کردار قابل صد فخر و مباہات رہا ہے۔ وہ اربابِ اقتدار کی دہلیز پر سجدہ ریز ہونے کی بجائے ان کے زیر عتاب رہ کر خدمت ِاسلام کرتے رہے ہیں ۔ اگر ہم اس کا ثبوت کتب تاریخ سے پیش کریں تو ہمیں یقین ہے کہ ‘مفکر ِقرآن’ کے اندھے مقلدین یہ کہہ کر اس کا انکار کردیں گے کہ
”دین میں سند، نہ تاریخ کے مشمولات ہیں اور نہ مسلمانوں کے متواتر و متوارث عقائد ومسالک … سند ہے خدا کی کتاب۔( نظام ربوبیت، صفحہ 192)
اور خدا کی کتاب سے مراد، منکرین حدیث کے نزدیک وہ تعبیرات و تشریحات ہیں جنہیں پرویز صاحب نے اپنے لٹریچر میں قرآن کے گلے مڑھ رکھا ہے۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ پرویز صاحب ہی کے لٹریچر سے علماے اُمت کا قابل صد فخر کردار واضح کردیا جائے، چند واقعات ملاحظہ فرمائیے:

پہلا واقعہ:
امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کو مسئلہ خلقِ قرآن کے سلسلہ میں انتہائی اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اُنہوں نے اربابِ اقتدار کے ہاتھوں مصائب میں مبتلا ہونا قبول کرلیا لیکن ان کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔ معلوم نہیں ‘مفکر قرآن’ صاحب کی وہ مذہبی پیشوائیت کہاں تھی جو اربابِ اقتدار کی ہاں میں ہاں ملایا کرتی تھی :
”امام صاحب کو جس طرح قید و بند کے عذاب میں مبتلا رکھا گیا، اس کے تصور سے روح کانپ اُٹھتی ہے۔ اُنہیں دربار میں بلوا کر کوڑوں سے پیٹا جاتا تھا اور جب وہ بے ہوش ہوجاتے تو پھر قیدخانے میں بھجوا دیا جاتاتھا۔یہ سلسلہ ایک دن، دو دن نہیں ، بلکہ پورے اڑھائی سال تک جاری رہا۔ معتصم (مامون الرشید کا جانشین) ان سب لوگوں کو قتل کردیا کرتا تھا جو قرآن کو غیر مخلوق کہتے تھے، لیکن امام صاحب کے قتل کی جرأت اس نے نہیں کی، کیونکہ ان کے ساتھ عوام کی عقیدت بہت گہری تھی۔( طلوع اسلام: مارچ 1952ء، صفحہ 52)

دوسرا واقعہ:
امام ابویوسف (جو امام ابوحنیفہ کے شاگردِ رشید تھے)کے متعلق خود طلوع اسلام ایک مقام پر یہ لکھتا ہے :
”اس زمانہ میں بعض علما کا یہ نظریہ بھی رہا ہے کہ سلطانی عہدوں کو قبول کرنا، اپنے دین کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔ چنانچہ بہت سے محدثین، ان لوگوں کی حدیثیں ہی روایت نہیں کرتے جو شاہی درباروں میں مقرب تھے۔ اکثر علما نے امام ابویوسف پر محض اس لئے طعن کیا ہے کہ اُنہوں نے قضا کا عہدہ قبول کرلیاتھا۔ اس قسم کی حکایات بہت کثرت سے ملتی ہیں ۔ محمد بن جریر طبری کہتے ہیں کہ اہل حدیث کی ایک جماعت، امام ابویوسف کی احادیث سے صرف اس لئے پرہیز کرتی ہے کہ ان پر رائے کا غلبہ تھا اور وہ فروع و احکام کی تفریع کے عادی تھے اور ساتھ ہی بادشاہوں کی صحبت میں رہتے تھے اور قضا کے عہدے پر فائز تھے۔ شاید مجموعی طور پر یہ دونوں باتیں ہی عہد اُموی میں امام ابوحنیفہ کے انکارِ قضا کا باعث ہوں ۔ ان کے خیال میں یہ حکومت ظالم ، سخت اور مضطرب الحال تھی… اس کے علاوہ قضا کے عہدے میں ، اس کا ہر وقت اندیشہ تھا کہ اگر خدا کو راضی رکھیں تو بادشاہ کے غضب کا نشانہ بنتے ہیں اور اگر بادشاہ کو راضی رکھیں تو خدا ناراض ہوتاہے۔چنانچہ بعض روایات میں امام صاحب کا یہ قول موجود ہے کہ آپ نے منصور سے فرمایا تھا کہ اگر تم مجھے یہ دھمکی دو کہ یا تو میں حکومت کو قبول کرلوں ورنہ تم مجھے دریائے فرات میں غرق کردو گے، تو میں غرق ہوجانے کو ترجیح دوں گا۔ تمہارے اور بہت سے حاشیہ بردار موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ تم انہیں یہ اعزاز عطا کرو، مگر میں اس لائق نہیں ہوں ۔( طلوع اسلام: مارچ 1954ء، صفحہ 26)

تیسرا واقعہ:
امام مالک رحمتہ اللہ علیہ جو بربناے حدیث ِنبویؐ جبری طلاق کے مخالف تھے۔ چونکہ جبری طلاق کے ناجائز ہونے کا اثر جبری بیعت پر بھی پڑتا تھا جو اس دور کے حکمران لیا کرتے تھے، اس لئے امام مالک رحمة اللہ علیہ ، اپنے اس فتوے کی بدولت سزائے تازیانہ کے مستحق قرار پائے۔ طلوع اسلام لکھتا ہے:
”امام مالک رحمة اللہ علیہ ، ایک حدیث بیان کرتے تھے کہ اگر جبراً طلاق کسی سے دلائی جائے تو وہ واقع نہ ہوگی اور فتنہ اُٹھانے والوں نے اس حدیث سے ابوجعفر منصور کی بیعت کے باطل ہونے پر، دلیل حاصل کی۔ یہ بات محمد بن عبداللہ بن حسن النفس الزکیہ کے خروج کے وقت مدینہ میں پھیل گئی، اور منصور نے امام صاحب کو منع کیا کہ وہ جبری طلاق والی حدیث بیان نہ کریں ۔ پھر ایک جاسوس کو بھیجا جو آپ سے سوال کرے۔ آپ نے اس سے یہ حدیث تمام لوگوں کے سامنے بیان کی، لہٰذا حاکم مدینہ نے کوڑوں کی سزا دی۔ دوسرے ائمہ نے بھی ملوکیت کی ان اَغراض کی مختلف صورتوں میں مخالفت کی۔( طلوع اسلام: اگست ،ستمبر 1964ء، صفحہ 105)

چوتھا واقعہ:
یہ واقعہ اس مرد مجاہد کا ہے، جس نے ہارون الرشید کے بھرے دربار میں ، اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایسا کلمہ حق کہہ دیا جس کی توقع شخصی حکومت میں نہیں کی جاسکتی۔ طلوع اسلام لکھتا ہے:
”اگرچہ جب خلافت، بادشاہی میں بدلی تو درباری زندگی اور عجمی اثرات نے خوشامد پرستی کا جذبہ پیداکردیا تھا، لیکن پھر بھی ایمان کی یہ چنگاری، اس میں اکثر اوقات شعلہ فشاں نظر آتی ہے۔ ہارون الرشید کے دربار میں ایک شاعر قصیدۂ مدحیہ پڑھتا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ ”اے خلیفہ! اگر عمرو علی کے زمانہ میں آپ ہوتے تو خلافت پر کوئی جھگڑا ہی نہ پڑتا۔(یعنی بلا اختلاف لوگ آپ کو خلیفہ منتخب کرلیتے) وہیں اہل دربار میں سے ایک مرد مؤمن اٹھتا ہے اور کہتا کہ ”کیوں غلط بات کہتے ہو، خلیفہ کے جدامجد حضرت عباسؓ، اس وقت موجود تھے، پھر جھگڑا کیوں نہ چک گیا؟”کچھ اندازہ فرمایا آپ نے، اس جرأتِ ایمانی کا؟ شخصی حکومت، بھرا دربار، لیکن حق و باطل کے مقابلہ میں کسی ڈرانے والے کا ڈر اُسے باز نہ رکھ سکا اور اعلائے کلمة الحق میں وہ رُعب تھا کہ خلیفہ بھی سن کر مسکرا دیا اور اُسے یہ کہنا پڑا کہ ”ٹھیک کہتے ہو۔( طلوع اسلام: فروری 1941ء ، صفحہ 21)

پانچواں واقعہ:
ایک ‘ملا’ کا تذکرہ طلوع اسلام یوں کرتا ہے :
”مامون الرشید کے عہد میں مسئلہ خلق قرآن نے جو قیامت برپا کررکھی تھی، کس سے پوشیدہ ہے؟ ایک صاحب ِایمان (عبدالعزیز بن یحییٰ) اس جسارت و صداقت کو قلب میں لے کر مکہ سے روانہ ہوتے ہیں اور جامع بغداد میں جاکر علیٰ الاعلان کہتے ہیں کہ قرآن خدا کا کلام ہے، ہرگز ہرگز مخلوق نہیں ہوسکتا، حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ اس کہنے کا انجام کیا ہوگا۔( طلوع اسلام: فروری 1941ء، صفحہ 21)

چھٹا واقعہ:
یہ واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تزکیۂ شہود کے معاملہ میں مسلم عدالتوں کا معیار کس قدر بلند تھا اور حضرات قضاة کرام اس بلندمعیار کو برقرار رکھنے کے لئے کسی بڑے سے بڑے آدمی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔
”اس طرح کا واقعہ قاضی شرف الدین بن عین الدولہ کا ہے جو مصر میں قاضی تھے۔ ان کی عدالت میں ملک کامل سلطانِ مصر کسی مقدمہ میں شہادت میں طلب ہوا، وہ چونکہ روزانہ ایک مغنیہ کا گانا سنا کرتا تھا، اس وجہ سے قاضی موصوف نے اس کی شہادت لینے سے انکار کردیا۔ اس پر اس نے قاضی کی شان میں سخت کلمہ استعمال کیا۔ قاضی نے کہا کہ یہ عدالت کی توہین ہے اور اسی وقت اپنی برطرفی کا اعلان کرکے مسند سے اُٹھ کر چلے آئے، سلطان نے مجبوراً جاکر معافی چاہی اور ان کو راضی کیا کیونکہ اس کو اپنی بدنامی اور نامقبولیت کا خطرہ ہوا۔( طلوع اسلام، جون 1938ء ،صفحہ 67)

علماے کرام کا یہی کردار، چودہ سو سالہ تاریخ میں:
تحریر کی تنگ دامنی اور خوفِ طوالت، مزید مثالیں پیش کرنے میں حائل ہیں اور یہ چند مثالیں بھی کتب ِتاریخ سے پیش کرنے کی بجائے’مفکر قرآن’ کے لٹریچر ہی سے پیش کی گئی ہیں ، ورنہ تاریخ کی کتب اُٹھا کر دیکھئے تو ایسی لاتعداد اور لازوال داستانیں ، موجب ِافزائشِ ایمان ہوں گی۔ سلطانِ جائر اور ملک ِعضوض کے سامنے کلمۂ حق کہنے والے ہر دور میں ہر جگہ موجود رہے ہیں ۔ اب طلوعِ اسلام ہی سے ایک ایسا اقتباس پیش کیا جارہا ہے جو اختصار وایجاز کے ساتھ یہ واضح کرتا ہے کہ ہماری چودہ صدیوں پر محیط تاریخ اس قسم کے قابل رشک واقعات سے بھری پڑی ہے :
”مسلمانوں کی تاریخ میں افراط و تفریط کے خلاف خالص اور صحیح اسلام پیش کرنے کے لئے ہر دور میں قلندرانہ تحریکات چلتی رہی ہیں ۔ محدثین اور متکلمین کی آویزش اور ازاں بعد متکلمین کی باہمی سرپھٹول، مامون الرشید عباسی کے دور میں فتنۂ خلق قرآن اور اس طوفان میں امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کا محیر العقول عزم و ثبات، اس کے بعد منطق و علم کلام کے غیر اسلامی اثرات کو کالعدم ٹھہرانے کے لئے علامہ ابن تیمیہ کی مبارک تحریک، نجد میں وہابی تحریک کا آغاز، افریقہ میں مہدی سوڈانی اور شیخ سنوسی کی سرگرمیاں ، ہندوستان میں غیراسلامی تصورات کے خلاف حضرت مجدد الف ثانی کے مسلسل و پیہم جہاد اور حضرت سید جمال الدین افغانی کی تحریک ِاتحاد عالم اسلام (Pan-Islamism) وغیرہ، اس دعویٰ کا زندہ ثبوت ہیں کہ آڑے وقت میں ، مسلمانوں کے اندر ایک ذہنی انقلاب کی تیز رو موجود رہی ہے۔( طلوع اسلام: نومبر 1940ء، صفحہ 20)
یہ اقتباسات اس حقیقت کو ہر شک و شبہ سے بالاتر کردیتے ہیں کہ نہ تو اسلام ہی میں ، ‘مذہبی پیشوائیت’ کا وہ تصور پایا جاتا ہے جسے ‘مفکر قرآن’ کے سامری دماغ نے محض اپنے تسویلِ نفس کے زور پر گھڑ ڈالا ہے اور نہ ہی اُمت ِمسلمہ میں تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ کسی قابل ذکر پیشواے اسلام نے، تقاضائے حق کو پس پشت ڈال کر، اربابِ اقتدار کی ہاں میں ہاں ملاکر، دنیا کے جاہ و منصب اور مال و دولت کو سمیٹا ہو۔یہ سارا افسانہ’مفکر قرآن’نے صرف اس لئے تراشا ہے کہ ‘نظامِ ربوبیت’ کے نام سے، اشتراکیت کا جو ‘قرآنی ایڈیشن’ وہ خود نکال چکے ہیں ، اس کے لئے راہ ہموار کی جائے۔ لیکن چونکہ یہ راہ ہموار ہو نہیں سکتی جب تک کہ وہ علما (اور وہ جماعت یہاں موجود ہے) جو محمد رسول اﷲ والذین معہ کادین، بلاکم و کاست یہاں رائج کرنا چاہتے ہیں ۔ اس لئے علما کی مخالفت کرنے کے لئے وہ افسانہ تراشا گیا ہے، جس کا بنیادی تصور،ہندوؤں ، عیسائیوں اور یہودیوں کے ہاں سے لیا گیا ہے اور پھر برسوں بار بار اسے دہرایا گیا ہے تاکہ یہ جھوٹ ‘سچ’ بن جائے۔

پرویز صاحب کے فکری اسلاف ہی ‘ملا’ تھے :

ہمارے علمائےتفسیر ہوں یا علماے حدیث، ائمۂ فقہ ہوں یا ائمۂ تاریخ، ان میں تو ‘مُلّائیت’ کا وہ تصور قطعی مفقود ہے جسے پرویز صاحب نے گھڑ ا۔ ہاں البتہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ خلافت ِراشدہ کے بعد کچھ باطل اور گمراہ فرقے ایسے پیدا ہوئے تھے جن کے ساتھ دورِ حاضر کے منکرین حدیث، اعتقادی و فکری رشتے میں منسلک ہیں ۔ ان میں ‘مذہبی پیشوائیت’ اور ‘مُلّائیت’ کی وہ تمام خصوصیات موجود تھیں جنہیں پرویز صاحب نے دور حاضر کے علما کی طرف منسوب کیا ہے۔

قدیم و جدید معتزلہ میں مشترک قدریں-طلوع اسلام کی زبانی:
جس طرح آج کے منکرینِ حدیث، وحی اور کتاب اللہ کا نام لے کر عقل کو بالاتر حیثیت دیتے ہوئے فکر ِاغیار کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہوکر قرآن کا تیاپانچہ کرڈالتے ہیں ، بالکل اسی طرح قدیم معتزلہ کے ‘قرآنی دانشور’ بھی غیروں کی فکری اسیری میں مبتلا ہوکر غلبۂ عقل کے نعرہ کے ساتھ قرآنِ کریم کو نشانہ بنایا کرتے تھے۔ جیسا کہ ‘عقل کا غلبہ’ کے زیرعنوان خود طلوع اسلام یہ لکھتا ہے :
”وہ عقل کے تسلط کے قائل تھے اور کہتے تھے کہ عقل خود حسن و قبح کی معرفت حاصل کرسکتی ہے، خواہ شریعت نے کسی بات کے حسن و قبح کو بیان کیا، یابیان نہ کیا ہو۔( طلوع اسلام: فروری 1960ء، صفحہ 70)
جس طرح یہ لوگ انکارِ حجیت ِحدیث کے باوجود خود کو منکرینِ حدیث کہنا یا کہلوانا پسند نہیں کرتے ہیں ، اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھنے اور کہنے پر مصر ہیں ، بالکل اسی طرح وہ لوگ بھی اعتقاداً مسلمانوں سے الگ راہ اختیار کرنے کے باوجود بھی خود کو ‘معتزلہ’ کہنا یا کہلوانا پسند نہیں کرتے تھے :
”یاد رہے کہ یہ لوگ خود اپنے آپ کو خوارج یا معتزلہ نہیں کہتے تھے، اپنے آپ کو خالص مسلمان سمجھتے تھے۔( طلوع اسلام: مارچ 1973ء، صفحہ 55)
جس طرح آج کے منکرین حدیث صرف قرآن ہی کو سند مانتے ہیں ، اسی طرح وہ لوگ بھی تنہا قرآن ہی کو حجت تسلیم کرتے تھے۔ وہ ہر دینی معاملے میں قرآنِ مجید کو سند قرار دیتے تھے۔ ( طلوع اسلام: جون 1978ء، صفحہ 48)
جس طرح دورِ حاضر کے منکرین حدیث مغربی معاشرت کے اجزاء و عناصر کو اور اشتراکیت کے نظامِ معیشت کو قرآنِ کریم میں زبردستی گھسیڑنے پر جُتے ہوئے ہیں ، اسی طرح کل کے معتزلہ بھی یونانی فلسفہ کا پھانہ اسلامی عقائد میں ٹھونکنے پر تلے ہوئے تھے:
”یونانی فلسفہ کو اپنا کر اُنہوں نے اسلامی عقائد میں اسے جس خوبی سے سمویااورعلم کلام کے نام سے ایک مستقل علم کی بنیاد رکھی، وہ اس کی زندہ شہادت ہے۔( طلوع اسلام: جولائی 1955ء، صفحہ 11)
ان وجوہِ مشابہت کی بنا پر آج کے منکرین حدیث اپنے فکری اسلاف یعنی قدیم معتزلہ کی انتہائی تعریف و تحسین کرتے ہیں اور ان کے زوال و فنا پر یوں نوحہ کناں ہیں :
”ہمارے متقدمین میں ‘معتزلہ’ اہل علم کا وہ گروہ تھا جن کی نگاہ صحیح اسلام پر تھی اور وہ قرآن مجید پر عقل و بصیرت کی رو سے غور کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کو ہماری ‘مذہبی پیشوائیت’ کس طرح جینے دیتی۔ نتیجہ یہ کہ نہ صرف ان اربابِ فکرونظر کا خاتمہ کردیا گیا بلکہ ان کے علمی کارناموں کو بھی جلا کر راکھ کردیا۔( طلوع اسلام: فروری 1967ء، صفحہ 57)

معتزلہ کی ‘ملائیت’ کا ارباب ِ اقتدار سے گٹھ جوڑ:
ماضی کے فتنۂ اعتزال کے عروج پر ایک نگاہ ڈالئے تو آپ کو واضح طور پر یہ دکھائی دے گا کہ کس طرح اس فتنہ کے علمبرداروں نے اپنے عروج کے لئے اربابِ اقتدار کے ساتھ گٹھ جوڑ کا ‘شریفانہ معاہدہ’ کیا۔

خلافت بنو امیہ:
پرویز صاحب بنو اُمیہ کے دور کی تاریخ میں سے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئےعلماے کرام کو یوں نشانہ بناتے ہیں :
”جب قانونِ مکافات کا احساس جاتا رہا تو پھر بادشاہ ہر قسم کی من مانی کرتا۔ سلب و نہب، لوٹ کھسوٹ، ظلم و استبداد، اُمت کے حقوق کی پامالی اس کا معمول بن جاتا۔ وہ اپنی مطلق العنانی کے زور پر یہ کچھ کرتا تو رہتا لیکن اسے یہ خیال ضرور ستاتا کہ اگر ان مظالم سے تنگ آکر کسی دن قوم اس کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی تو اس سیلاب کا روکنا ناممکن ہوگا۔ وہ اس فکر میں غلطاں و پیچاں رہتا ۔ جب اس خطرہ کا احساس زیادہ نزاکت اختیار کرگیا تو (جیسا کہ ہوتا چلا آیا ہے) مذہبی پیشوائیت آگے بڑھی۔ اس نے سلاطین سے کہا کہ فکرکی کوئی بات نہیں ۔ قوم مذہب پرست واقع ہوئی ہے، اسے مذہب کے حربوں سے ایسا مفلوج کیا جاسکتا ہے کہ یہ اُٹھنا تو درکنار، ہلنے تک کے قابل نہ رہے۔ اس کے لئے اُنہوں نے اس عقیدہ کو عام کیا کہ تمام کائنات خداے مطلق کے حیطۂ اقتدار میں ہے۔ یہاں ایک پتہ بھی، اس کے حکم کے بغیر ہل نہیں سکتا۔ جو کچھ ہوتاہے سب اس کے حکم اور اجازت سے ہوتا ہے۔انسانوں کا غلط قدم اٹھانا تو درکنار وہ آنکھ تک بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں جھپک سکتا۔ انسان مجبور محض ہے۔ وہی ہوتا ہے جومنظورِ خدا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے سلاطین کی مطلق العنانیت (ڈکٹیٹر شپ) کے مسلک کی تائید اس آیت ِقرآنی کی غلط تاویل سے کی کہ {تُؤْتِى ٱلْمُلْكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلْمُلْكَ مِمَّن تَشَآءُ…﴿٢٦﴾…سورۃ آل عمران} ”حکومت خدا کی طرف سے عطاکردہ ہوتی ہے، وہ جسے چاہتا ہے، حکومت عطا کردیتا ہے، جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔”
اس ایک عقیدہ سے، حکومت سے قوم کا عمل دخل ختم ہوگیا۔ کسی نے خلیفہ سے کچھ کہنے کی جرأت کی تو اس کا جواب موجود تھا کہ مجھے حکومت خدا نے دی ہیــ، تم اس پر اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہو؟ تم خدا کے فیصلے کے خلاف سرکشی کرنا چاہتے ہو۔” 10
پرویز صاحب ہی کی فکر سے وابستہ ایک اور مفکر قرآن صاحب لکھتے ہیں ” نماز روزہ زمانہ ملوکیت کی ایجاد ہے، مولویوں نے عبادات کے نام پر عوام کو مذہبی افیون پلا رکھی ہے “۔(اثر سلام سید)
پرویز صاحب کے اس جملے پر غور فرمائیے ” اس ایک عقیدہ سے، حکومت سے قوم کا عمل دخل ختم ہوگیا۔ کسی نے خلیفہ سے کچھ کہنے کی جرأت کی تو اس کا جواب موجود تھا کہ مجھے حکومت خدا نے دی ہے، تم اس پر اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہو؟ تم خدا کے فیصلے کے خلاف سرکشی کرنا چاہتے ہو۔”دیکھا جائے تو یہ پرویز صاحب کی ہی مزعومہ اس وقت کی’مرکز ِملت (خدا اور رسول)’ کا جواب ہے ،مرکزیت ِاُمت ِمسلمہ بھی اس وقت تک قائم تھی (اس پر ہماری گزشتہ تحریر ملاحظہ کیجیے)۔ مزید جس ‘مذہبی پیشوائیت’ نے عقیدئہ جبر کی آڑ میں بنواُمیہ کی پشت پناہی کی تھی، وہ وہی تھے جو قرآن کے سواکسی چیز کو حجت نہیں مانتے تھے۔ بالفاظِ دیگر وہ موجودہ دور کے منکرین حدیث ہی کے فکری آباء و اجداد تھے۔ آج منکرین حدیث، لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اپنے ہی فکری باپ دادوں کی کرتوتوں کو علماے امت کے کھاتے میں ڈالتے ہیں اور پھر اُنہیں بدنام کرتے ہیں ۔
علماے امت نے نہ صرف کہ اقتدارِ باطل کی حمایت نہیں کی بلکہ طواغیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈا ل کر کلمہ حق کہتے رہے۔ چنانچہ بنواُمیہ کی حکومت نے جب مسئلہ جبر کو اپنی ڈھال بنایا تو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اس کی تردید کی۔ بعد میں امام ابوحنیفہ ، امام احمد بن حنبل کے ساتھ پرویز صاحب کے فکری آباء معتزلہ نے حکمرانوں کے ساتھ مل کر کیا سلوک کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، تفصیل کے لیے گزشتہ تحریر ملاحظہ فرمائیں ۔یہاں یہ بتانا مقصود تھا کہI. عقیدۂ جبر کو اپنے مظالم کی پردہ پوشی کا ذریعہ بنانا کسی ‘مُلّا’ کا کام نہیں تھا بلکہ حکمرانوں کاکام تھا۔II. اس عقیدہ کی پشت پناہی کرنے والے وہ لوگ تھے جن کے قارورے کے ساتھ موجودہ دور کے منکرین حدیث کا قارورہ ملتا ہے۔

خلافت عباسیہ اور فتنہ اعتزال :
عباسی دور میں فتنۂ اعتزال کے علمبرداروں میں سے دو ‘قرآنی دانشوروں ‘ احمد بن ابی دؤاد اور ثمامہ نے کسی نہ کسی طرح ارباب اقتدار تک رسائی پالی تھی اور انہیں اپنا ہم خیال بنالیا تھا، جس کے نتیجہ میں اس فتنہ کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوگئی اس ‘سرکاری اور سرپرستانہ ملی بھگت’ اور ‘شریفانہ معاہدہ’ کے نتیجہ میں ، حکومتی اثرو رسوخ اور ذرائع و وسائل سے اس کا حلقہ اثر پھیلتا چلا گیا۔ انتظامیہ اور عدلیہ کے اعلیٰ مناصب کے دروازے اس ‘گٹھ جوڑ’ کے نتیجہ میں معتزلہ کیلئے چوپٹ کھول دیئے گئے اور جو لوگ اس مسلک کے خلاف تھے، ان سے حکومت ِوقت، اس ‘شریفانہ معاہدہ’ کی بنا پر بڑے جابرانہ اور ظالمانہ انداز سے نپٹتی اور اُنہیں قیدو بند سے لے کر دارورَسن کی صعوبتوں میں سے گزرنا پڑتا، یہ ایک ایسی حقیقت تھی جس کا انکار طلوعِ اسلام سے بھی بن نہیں پڑا :
”احمد بن ابی داؤد (داود نہیں ، بلکہ دُؤاد) اور ثمامہ کی کوششوں سے مامون الرشید نے باقاعدہ طور پر اس مسلک کو قبول کرلیا اور مسلک ِاعتزال کو سرکاری سرپرستی میں لے لیا۔ اس سے وقتی طور پر مسلک ِاعتزال کو بہت مقبولیت حاصل ہوگئی۔ الناس علی دین ملوکھم کے مطابق ہر طرف مسلک ِاعتزال کا چرچا ہونے لگا۔ ان کا مسلک چونکہ عقل و بصیرت پر مبنی تھا، ا س لئے وہ خود بھی لوگوں کو اپیل کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری مشینری بھی اس کی تائید میں حرکت کرنے لگی تو وہ پورے عالم اسلام پر چھا گیا۔ عدالتوں میں فیصلے اسی مسلک کے مطابق ہونے لگے۔ جو لوگ اس مسلک کے خلاف زبان ہلاتے تھے، ان سے حکومت ِوقت کی طرف سے باقاعدہ باز پرس کی جاتی تھی اور سزائیں دی جاتی تھیں ۔( طلوع اسلام: 23 جولائی 1955ء، صفحہ 11)
کم ظرف اور دنیا پرست لوگوں کو اقتدار کا سہارا مل جائے تو وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ، چنانچہ معتزلہ کو جو اقتدار کی پشت پناہی حاصل ہوئی تو وہ قوت و تکبر کے ساتویں آسمان پر پہنچ گئے اور پھر انہوں نے وہی حرکت کی جسے ‘مفکر ِقرآن’ صاحب، بہتاناً ‘تھیاکریسی’ اور ‘پریسٹ ہڈ’ کی خود ساختہ اصطلاحات کے تحت علماے کرام کی طرف منسوب کرنے کے عادی رہے ہیں ، یعنی فتویٰ بازی :
”خلق قرآن کا مسئلہ، معتزلہ کو جعد بن درہم ہی سے وراثت ملا۔ پہلے معتزلہ اس نظریہ کے قائل نہیں تھے۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد وہ قرآن کے مخلوق ہونے پر متفق ہوگئے اور جو شخص قرآن کو غیر مخلوق کہتا تھا اس پر کفر اور فسق کے فتوے لگاتے تھے۔ معتزلہ میں احمد بن ابی داؤد پہلا معتزلی ہے جس نے قرآن کو غیر مخلوق کہنے والوں پر کفر کا فتویٰ لگایا۔( طلوع اسلام: 30 جولائی 1955ء صفحہ 13)
اس فتویٰ کے اجرا کے بعد معتزلہ کی ‘مذہبی پیشوائیت’ اور ‘تھیاکریسی’ نے اربابِ حکومت کے ساتھ جو ‘شریفانہ معاہدہ’ کررکھا تھا، اس کی روشنی میں اگلا قدم اُٹھایا، وہ کیا تھا؟ طلوع اسلام ہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے :
”انہوں نے کہا کہ خلیفہ اسلا م کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے عقیدہ کو، جو توحید کے خلاف ہے، قوت سے مٹائے۔( طلوع اسلام: 30 جولائی 1955ء، صفحہ 13)
پھر کیا ہوا؟ قید و بند، دارورَسن اور ضربِ تازیانہ کے ذریعہ خون کی ندیاں بہا دینے کی نئی تاریخ معتزلہ کے ‘ملاؤں ‘ کے ہاتھوں رقم ہوئی۔ جس کا اعتراف خود طلوعِ اسلام کو بھی کرتے ہی بنی :
”اس عقیدہ کی پشت پر چونکہ حکومت ِوقت بھی تھی، اس لئے لوگوں کو صرف کفر و شرک کے فتوؤں ہی سے مرعوب نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ ان فتوؤں کے بعد لوگوں کو طرح طرح کی سزائیں بھی دی جاتی تھیں اور قتل بھی کردیا جاتا تھا۔( طلوع اسلام: 30 جولائی 1955ء، صفحہ 13)

یہ ہے حقائق کی صحیح اور اصل تصویر جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اربابِ اقتدار اور اعیانِ سلطنت کے ساتھ ‘ملی بھگت’ اور ‘شریفانہ معاہدہ’کرنے اور اس کے نتیجہ میں سرکاری عہدے حاصل کرنے والے درحقیقت وہ ‘اربابِ فکرونظر’ اور ‘صاحبانِ عقل و بصیرت’تھے جو یونانی فلسفہ کو اسلامی عقائد میں سمو ڈالنے کی کوششوں میں جتے رہے تھے اور جو آج کے منکرین حدیث کے فکری آباء و اجداد تھے، نہ کہ وہ علماء و فقہا اور وہ محدثین و مجتہدین جو پابند ِسلاسل رہ کر قید و بند کی اذیتیں جھیلتے ہوئے اور ضربِ تازیانہ کا نشانہ بنتے ہوئے حکومتی مناصب اور سرکاری وظائف سے بے نیاز ہوکر خدمت ِدین اور اشاعت ِاسلام پر کمربستہ رہے۔
مفکر قرآن’ صاحب بیان واقعات، تقلیبِ اُمور اور مسخِ حقائق میں کس قدر جھوٹ اور دیدہ دلیری سے کام لیا کرتے تھے، وہ ان کے اس دوگونہ کذب ہی سے واضح ہے ،جس میں وہ … اُن علماے حدیث اور ائمۂ فقہ پر جو اَعیانِ سلطنت اور اَربابِ حکومت سے الگ رہے، یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ ان کی ہمیشہ اہل اقتدار سے ‘ملی بھگت’ رہی ہے اور … جو لوگ فی الواقعہ اقتدار کی چھتری تلے بیٹھ کر علماء و ائمہ کرام پر کفر و شرک کے فتوے لگا کر وقت کے حکمرانوں کو ان کے خاتمہ پر اُکساتے رہے ہیں ، وہ سب ‘حاملین قرآن’، ‘اہل علم و بصیرت’ اور ‘اصحابِ فکر و نظر’قرار پائے۔
الغرض’مذہبی پیشوائیت’، ‘ملا ازم’، ‘تھیاکریسی’ اور ‘پریسٹ ہڈ’ کی خود ساختہ اصطلاحات کی آڑ میں ‘مفکر قرآن’ صاحب، جن رذائل و معائب اور مثالب و نقائص کو علماے کرام کے گلے مڑھتے رہے ہیں ، وہ فی الواقع خود پرویز صاحب (اور ان کے اندھے مقلدین) ہی کے فکری اسلاف میں پائے جاتے تھے، لیکن وہ ان عیوب کواپنے آباء و اجداد کی طرف منسوب کرنے کی بجائے علماے کرام کے کھاتے میں ڈالتے رہے ہیں ۔

سببِ زوالِ معتزلہ:
سرکاری سرپرستی میں شجر اسلام پر پھیلنے والی اس آکاس بیل (معتزلہ) کا خاتمہ کیسے ہوا؟ پرویز صاحب نے حقائق کو پس پشت پھینکتے ہوئے یہ بے پرکی اُڑائی ہے کہ… ”ان اصحابِف کرونظر کا خاتمہ’مذہبی پیشوائیت’ نے کیا”… حالانکہ ان کے زوال بلکہ خاتمہ کا سبب خود ان کی اپنی یہ حرکت تھی .سبب ِاصلی بھی کسی کتابِ تاریخ سے پیش کرنے کی بجائے طلوعِ اسلام ہی کے اوراق سے پیش کرنا مناسب ہے :
”احمد بن ابی دؤاد اور ثمامہ نے یہ بڑی سیاسی غلطی کی کہ مسلک ِاعتزال کو سرکاری سرپرستی میں دے دیا۔ مامون الرشید معتصم باﷲ، اور واثق باللہ نے مسلک ِاعتزال کو قبول کرکے جبر و اکراہ سے اس مسلک کو عوام میں پھیلانے کی کوششیں شروع کردیں ۔ اس سے تشدد اور سختیاں شروع ہوئیں تو جس نے بھی اس تشدد کے مقابلہ میں ثابت قدمی کا ثبوت دیا، وہ عوام میں ہیرو بن گیا۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر عباسی خلفا مسلک ِاعتزال کو قبول نہ کرتے تو اعتزال کے مسلک پر ان کا یہ بڑا ہی احسان ہوتا، یا اگر اُنہوں نے اس مسلک کو قبول کرلیا تھا تو اسے بنوکِ شمشیر عوام سے منوانے کی کوشش نہ کرتے تو معتزلہ اس تباہی سے یقینا محفوظ رہتے، جس سے اُنہیں آگے چل کر دوچار ہونا پڑا۔ معتزلہ نے اپنی اس سیاسی غلطی کو بروقت محسوس نہ کیا۔ یہ محدثین و فقہا کے خلاف کفر و شرک کا فتویٰ دیتے تھے اور برسراقتدار طبقہ ان علما و مشائخ کو دارورَسن کی مشقتوں میں مبتلاکرکے عوام میں ان کو ہیرو بنا دینے پر اپنی تمام کوششیں صرف کررہا تھا۔(طلوع اسلام: 30 جولائی 1955ء، صفحہ 13)

لیکن کیا آج کے معتزلہ نے اور تحریک ِطلوعِ اسلام نے اپنے پیشرو معتزلہ سے کوئی سبق سیکھا؟ ہرگز نہیں ۔ پرویز صاحب خود نظامِ طاغوت کی سرکاری مشینری کے کل پرزہ کی حیثیت سے روٹی کے غلام بنے رہے، اپنے مخالفین پر ‘منکرینِ قرآن’ اور ‘منافقین’ ہونے کے فتوے عائد کرتے رہے ، ہر صاحب اقتدار سے ہر دور میں محبت کی پینگیں چڑھاتے رہے، اپنے کنونشن میں وزرائ، اور اربابِ اقتدار کو کرسئ صدارت پر بٹھاتے ۔ اپنے فکری حریفوں کے خلاف حکومت کو مشورے دیتے رہے، ماضی کے معتزلہ کے نقشِ قدم پرچل کر غیر اسلامی تصورات کو قرآنِ مجید میں سمو ڈالنے کی کوشش میں جتے رہے،

اللہ رسول یا مرکز ملت؟ قرآن کی روشنی میں

مسٹر پرویز قرآن پاک کی وہ آیات جن میں “اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم” کی اطاعت کا ذکر ہےمیں “اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم” سے مراد “مرکزِ نظام اسلامی” یا “مرکزِ ملت” لیتے رہے۔انکی کتابوں سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:
٭ اللہ اور رسول سے مراد مرکزِ نظامِ اسلامی ہے۔” (تفسیر مطالب الفرقان ج4 ص 340)
٭ اللہ اوررسول سے مراد، اسلامی مملکت یا قرآنی نظامِ حکومت ہوتا ہے۔” (تفسیرِ مطالب الفرقان ج6 ص 70)
٭ اللہ اور رسول سے مراد وہ مرکزِ نظامِ اسلامی (Central Authority) ہے، جہاں قرآنی احکام نافذ ہوں۔ یہ حقیقت، کہ اللہ اور رسول سے مراد مرکزِ ملت ہے، قرآن کریم میں ایسے واضح الفاظ میں اور اس شرح و بسط سے بیان ہوئی ہے کہ ان مقامات کو بغور دیکھ لینے کے بعد، اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔” (معراجِ انسانیت ص 318)

مزعومہ پرویز میں اسقام و علل:
بعض لوگوں کی دماغی ساخت کچھ اس قسم کی واقع ہوتی ہے کہ وہ ہر معاملے میں نرالی ایچ اختیار کرتے ہیں اور اسے بزعمِ خویش “بڑا علمی نکتہ” قرار دیتے ہیں۔ لیکن نہیں سمجھتے کہ ان کے یہ “علمی نکات” میزانِ علم میں کوئی وزن نہیں رکھتے، بلکہ الٹا عامۃ الناس کی گمراہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ “خدا و رسول” کا معنیٰ “مرکزِ ملت” کرنا ایسی ہی نکتہ آفرینی ہے، جس نے صرف عوام الناس ہی کو نہیں، بلکہ بعض پڑھے لکھے لوگوں کو بھی ہم آغوش، ضلالت کر دیا ہے۔ “اللہ اور رسول” کی اس تشریح و تفسیر میں جو اسقام و علل مضمر ہیں، ہم ذیل میں درج کرتے ہیں:

1۔نظامِ اسلام کے قیام سے قبل “خدا اور رسول کی اطاعت؟”
اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے مراد، اگر نظامِ اسلامی کے مرکز کی اطاعت لی جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نظامِ اسلامی ہنوز قائم ہی نہ ہوا تھا تو اس وقت “اللہ اور رسول” کی اطاعت کا کیا مفہوم تھا؟ مثلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برپا کی ہوئی تحریک کے نتیجہ میں اسلامی نظام کا قیام تو مدنی دور میں ہوا تھا، خود پرویز صاحب رقم طراز ہیں:
٭ فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کی حقیقی حکومت کی بنیاد پڑتی ہے۔” (معارف القرآن ج4 ص 568)
٭ ہجرت کے بعد، اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی گئی وہ آہستہ آہستہ مستحکم بھی ہوتی گئی۔۔۔حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدنی زندگی کے ابتدائی آٹھ سال میں صورت یہ تھی کہ اسلامی مملکت قائم تھی۔” (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 129)
اب سوال یہ ہے کہ اگر “نظامِ اسلامی” یا “اسلامی حکومت” کا قیام، فتح مکہ کے بعد ہوتا ہے یا ہجرت کے فورا بعد ہی ہو جاتا ہے تو آخر مکی دور میں نازل ہونے والی اُن آیات کا کیا مفہوم ہو گا جن میں “اللہ و رسول” کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے؟ کیونکہ اطاعتِ “خدا تعالیٰ و رسول” کا حکم تو مکی دور میں بھی لازم تھا اور مدنی دور میں بھی۔۔۔مدنی دور میں “اللہ اوررسول” سے مراد “اگر نظامِ اسلامی” لیا جائے تو مکی دور میں اس نظام کا موجود نہ ہونا کیا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس وقت “اللہ اور رسول” کا وجود ہی نہ تھا اور لوگوں کو خواہ مخواہ “اللہ و رسول” کی نافرمانی پر جہنم کی وعید سنائی گئی؟

2۔ ایک “اللہ و رسول” یا متعدد الہہ و رسل؟
عہد نبوی اور خلافتِ راشدہ میں وسیع و عریض دنیا پر پھیلی ہوئی مملکت، بہرحال ایک مرکز کے ماتحت تھی۔ آج عالمِ اسلام انتشار کا شکار ہے اور مسلمان سلطنتیں بیسیوں مراکز میں بٹ چکی ہیں۔ اب کیا ہم ہر مسلم سلطنت کے لیے جدا جدا “اللہ اور رسول” تسلیم کر لیں یا سب کے لیے ایک ہی “اللہ اوررسول” کو تسلیم کریں؟ کیا یہ سب “اللہ اوررسول” اپنی اپنی جگہ خود معیارِ حق ہوں گے یا ان میں سے بالاتر بھی کوئی “اللہ اور رسول” ہو گا، جس کے سامنے بصورتِ نزاع باقی سب “اللہ اور رسول” سر جھکا دیں گے؟۔۔۔ کیا پوری ملتِ اسلامیہ کو آپ ایک ہی “اللہ اوررسول” کے تابع رکھیں گے یا جملہ ممالک کے لیے متعدد اور متفرق “خداؤں اوررسولوں” کا وجود مانیں گے؟ ۔۔۔
اگر آپ ساری زمین کے مسلمانوں کو ایک ہی “اللہ اور رسول” کی تابعداری میں رکھنا چاہیں گے تو اس مقصد کے لیے آپ تلوار سونت میدانِ حزب و قتال میں آئیں گے تاکہ ایک “اللہ و رسول” کے سوا باقی سب “اللہ اور رسول” فنا کے گھاٹ اتر جائیں، یا آپ الیکشن کے ذریعہ کسی ایک “اللہ اور رسول” کو منتخب کر لیں گے؟ ۔۔۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر مسٹر پرویز اپنی زندگی میں ان الجھنوں کو حل کر جاتے، یا اب ادارہ طلوعِ اسلام ہی اس فریضہ کو انجام دے ڈالے۔

3۔ مرکزِ ملت پر ایمان یا اس کی اطاعت؟
“اللہ اور رسول سے” سے “مرکزِ ملت” مراد لینے کی لغویت اس سے بھی واضح ہے کہ اس معنیٰ میں حکومت کی اطاعت کی طرف دعوت تو دی جا سکتی ہے مگر “مرکزِ ملت” پر ایمان لانے کی دعوت ایک بعید از کار سی بات ہے۔ جبکہ قرآن کریم فرماتا ہے:
1۔ ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا ءامِنوا بِاللَّهِ وَرَ‌سولِهِ…﴿١٣٦﴾… سورة النساء
“اے ایمان والو، اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ”
2۔ ﴿وَلَو كانوا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِىِّ … ﴿٨١﴾… سورة المائدة
“اگر وہ اللہ اور نبی پر ایمان رکھتے۔۔۔؟”
3۔ ﴿فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرَ‌سولِهِ النَّبِىِّ…﴿١٥٨﴾… سورة الاعراف
“پس تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ”
ان آیات میں “اللہ اوررسول” کے معنی “مرکزِ ملت” کسی طرح بھی نہیں لیے جا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ خود مسٹر پرویز۔۔۔جو قرآن کریم کے ہر مقام پر، جہاں انہیں “اللہ اور رسول” کے الفاظ نظر آئے وہاں “نظامِ خداوندی” “نظامِ جماعت” یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ بڑی بے تکلفی سے رکھ دیتے رہے۔۔۔ان آیات میں انتہائی کوشش کے باوجود بھی یہ معانی داخل نہ کر پائے۔ چنانچہ انہی آیات کا مفہوم خود پرویز نے بایں الفاظ بیان کیا ہے:
1۔ “اے جماعت مومنین، تم ہمیشہ اس نظام کے بنیادی اصولوں کی صداقت پر یقین رکھو اور وہ بنیادی اصول ہیں ۔۔۔ اللہ پر ایمان، رسول پر ایمان۔۔۔(136/4)” (مفہوم القرآن ص 223)
2۔ “جن کفار سے یہ اس وقت دوستانہ تعلقات قائم کرتے ہیں، اگر وہ اللہ پر اور اس نبی پر اور جو کچھ اس پر نازل کیا گیا ہے، اس پر ایمان لے آئے تو۔۔ (81/5)” (مفہوم القرآن ص 267)
3۔ “۔۔۔اس خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر، جو (قرآن ملنے سے پہلے (48/29)امی تھا (158/7)” (مفہوم القرآن ص 379)
حقیقت یہ ہے کہ ان آیات میں “اللہ اور رسول” کا جو مفہوم مسٹر پرویز نے بیان کیا ہے، بالکل وہی مفہوم ان آیات کا بھی ہے جن میں پرویز نے “مرکزِ ملت” کی خودساختہ اصطلاح سے انوکھا اور اجنبی مفہوم پیدا کیا ہے۔

4۔ خدا و رسول کے نام پر بدترین آمریت:
نظامِ مرکز اسلامی کے مرکز کو “اللہ اور رسول” قرار دینے سے “خدا اور رسول” کے نام پر ایسی بدترین آمریت پیدا ہو جاتی ہے جس کا تصورفرعون، نمرود، ہلاکو خاں، ہٹلر اور مسولینی تک کو نہ سوجھا تھا ۔۔۔مسٹر پرویز تھیاکریسی پر لب کشائی فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
“جب تک اسلامی نظام قائم رہا اس کے سربراہ خلفائے راشدین کے لقب سے سرفراز رہے۔ یہ سوء اتفاق ہے (اور امت کی حرماں نصیبی) کہ یہ سلسلہ معدودے چند تک قائم رہا۔ بعد میں جب یہ نظام ملوکیت میں بدل گیا تو اس آیت (النساء: 59۔ قاسمی) کے مفہوم میں دشواری پیش آ گئی۔ نظامِ ملوکیت میں امت میں ثنویت پیدا ہو گئی، دنیاوی امور حکومت کی تحویل میں آ گئے اور امورِ شریعت علماء کی تحویل میں۔ اس ثنویت کی رو سے اس آیت کے معنیٰ یہ کیے گئے کہ تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اس کے رسول کی اور اربابِ حکومت کی “اولو الامر منكم”۔ اگر تم میں اور حکومت میں کسی امر میں اختلاف ہو جائے تو اس اختلاف کو رفع کرنے کے لیے حضرات علماء کی طرف رجوع کریں تاکہ وہ بتائیں کہ اس باب میں اللہ اور اس کے رسول کا کیا حکم ہے، علماء کا فیصلہ، تمہارے (عوام) اور حکومت دونوں کے لیے قولِ فیصل ہو گا۔
بادنیٰ تدبر اس سے یہ حقیقت سمجھ میں آ جائے گی کہ اس سے آخری اقتدار، مذہبی پیشوائیت کے ہاتھ میں آ گیا اور چونکہ وہ اپنے فیصلے کو اپنا فیصلہ قرار نہیں دیتے تھے بلکہ اسے “خدا و رسول” کا فیصلہ کہہ کر صادر کرتے تھے، اس لیے کسی کی مجال نہیں تھی کہ اس سے سرتابی کر سکے۔ عوام کا بے پناہ ہجوم (خدا و رسول کے نام پر مٹنے کے لیے) ان کے ساتھ ہوتا تھا اس سے ایسی تھیاکریسی وجود میں آ گئی۔ جس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔” (تفسیر مطالب الفرقان ج4 ص 342)
تھیاکریسی کی اس تصویر کے مطابق بھی، جو مسٹر پرویز کے موئے قلم سے تیار ہوئی ہے، بات یوں بنتی ہے کہ ۔۔۔ “علماء کرام اپنے فیصلے کو اپنا فیصلہ قرار نہیں دیتے تھے۔ بلکہ اُسے خدا اور رسول کا فیصلہ کہہ کر صادر کرتے تھے۔” لیکن خود پرویز صاحب جس تھیاکریسی کو جنم دے رہے ہیں اس میں خود “مرکزِ ملت” ہی “اللہ او رسول” بن جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص “مرکزِ ملت” کی کسی غلطی پر ٹوکتے ہوئے یہ کہہ کہ ۔۔”آپ کا یہ اقدام غلط ہے، خدا و رسول کا حکم یہ ہے اور آپ یہ کر رہے ہیں” ۔۔۔تو “مرکزِ ملت” پلٹ کر جواب دے گا کہ ۔۔۔ “آپ کس خدا و رسول کی بات کر رہے ہیں، خدا و رسول کا تو معنیٰ ہوتا ہے نظامِ حکومت۔ وہ “مرکزِ ملت” ہونے کی بناء پر اپنے زمانے میں “خدا و رسول” تھے، ہم اپنے زمانے کے “مرکزِ ملت” ہونے کی بناء پر “خدا و رسول” ہیں۔ ہم گزشتہ زمانوں کے “خدا و رسول” کے فیصلوں کے پابند نہیں ہیں” ۔۔۔اس طرح، پرویز صاحب کا نظامِ اسلامی کا یہ تصور، جسے وہ بڑا معرکۃ الآراء تصور سمجھتے ہوئے پیش کرتے ہیں، “خدا و رسول” کے نام کو اپنے لیے مخصوص کرتے ہوئے اور “خدا و رسول” کے منصب پر براجمان ہوتے ہوئے وہ کچھ کرے گا جس کی مثال دنیا کی کسی تھیاکریسی میں نہیں ملتی۔۔۔یقینا وہ شخص بڑا ظالم ہے جو خدا اور رسول کا نام لے کر اپنا حکم چلاتا ہے، لیکن اس سے بھی بڑھ کر ظالم وہ شخص ہے جو “مرکزِ ملت” کی خود ساختہ اصطلاح کی آڑ میں خود خدا و رسول بن بیٹھتا اور اپنا حکم چلاتا ہے۔
پرویز صاحب کے اقتباس پر تبصرہ:
1. حضرات علماء کی طرف اس لیے رجوع کرنا کہ وہ نزاعی امور میں حکمِ خدا سے آگاہ کریں، اگر واقعی ایک “عیب” ہے تو یہ “عیب” پرویز صاحب کے تصورِ “مرکزِ ملت” میں بھی موجود ہے۔ آخر نزاعی معاملے میں حکمِ خدا کو جاننے کے لیے کسی نہ کسی طرف رجوع تو ناگزیر ہو گا۔ حضرات علماء کی طرف رجوع نہ کیا جائے گا تو ان “مسٹروں” کی طرف راجع ہونا پڑے گا جو مرکزِ ملت کی طرف سے پروانہ تقرری پاکر قرآن کے اجارہ دار بن بیٹھیں گے۔
2. پرویز صاحب کے تصورِ “مرکزِ ملت” کی رو سے بھی آخری اقتدار “مذہبی پیشوائیت” کے ہاتھ ہی میں رہتا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ اب مذہبی پیشوا “باریش متقی علماء” کی بجائے “بے ریش غلامانِ مغرب، مسٹر” ہوں گے۔
3. تھیاکریسی کی یہ صورتِ حال، دراصل عیسائیت کی پیداوار ہے۔ یہ محض پرویز صاحب کے قلم کا کرشمہ ہے کہ علماء کا نام لے کر انہوں نے اسے اسلام کے کھاتے میں ڈال دیا ہے، ورنہ ہر دور میں اہل تقویٰ و متدین علماء کرام ملوکیت کے منظور نظر ہوتا تو درکنار، الٹا ان کے مغضوب اور معتوب ہوتے ہوئے خدمتِ اسلام کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ معدودے چند دنیا پرست علماء ملوکیت کا ساتھ دے کر اپنے مفادات اسی طرح حاصل کرتے رہے ہیں جس طرح مسٹر پرویز، پاکستان کے اربابِ بست و کشاد سے ہمیشہ خوشگوار تعلقات رکھتے ہوئے اپنے کام کرواتے رہے ہیں۔ آخر یہ بات کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے علماء اپنی حق گوئی کی بناء پر حکمرانوں کے زیرِ عتاب رہے ہیں لیکن مسٹر پرویز ان کی ہاں میں ہاں ملانے کے باعث اربابِ اقتدار کے منظورِ نظر رہے۔

ایک مغالطہ اور اس کی حقیقت:
بعض اوقات علمائے اسلاف کی عبارتوں سے یہ تاثر اچھالا جاتا ہے کہ آخر ایک صحیح اسلامی حکومت کو اگر “خدا و رسول” کی حکومت نہ قرار دیا جائے تو اسے کیا کہا جائے؟ پس جس طرح صحیح اسلامی حکومت، “خدا و رسول” کی حکومت قرار پاتی ہے، اسی طرح اگر ایسی حکومت کے سربراہ یا اربابِ اقتدار کو (یا پرویز صاحب کی اصطلاح میں “مرکزِ ملت” کو) “خدا و رسول” کہہ دیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟
یہ بظاہر بڑا سادہ مگر بباطن بڑا گہرا مغالطہ ہے۔۔یہ درست ہے کہ ایک صحیح “اسلامی حکومت” واقعی “خدا و رسول” کی حکومت ہوتی ہے، ایسی حکومت کی مخالفت فی الواقعہ “اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم” ہی کی مخالفت قرار پاتی ہے۔ لیکن اس حکومت کے اربابِ اقتدار کو جن کے لیے پرویز صاحب نے “مرکزِ ملت کی اصطلاح وضع کی ہے، خود “خدا و رسول” قرار نہیں دیا جا سکتا۔۔!
ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ مسٹر پرویز بزعمِ خویش عمر بھر قرآنی تحقیق میں مشغول رہنے کے باوجود بھی اس عظیم فرق و تفاوت کو نہ سمجھ پائے جو اسلامی حکومت کو خدا و رسول کی حکومت قرار دینے میں اور اس حکومت کے اربابِ اقتدار کو بذاتِ خود “خدا اور رسول” قرار دینے میں پایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالودود، مولانا مودودی اور پرویز:
ادارہ طلوعِ اسلام سے وابستہ ایک ممتاز سکالر جناب ڈاکٹر عبدالودود صاحب نے مودودی صاحب کے ساتھ قلمی مناظرے میں اپنے آخری خط میں لکھا تھا:
“یہ جو میں نے کہا ہے کہ “خدا و رسول” سے مراد “اسلامی نظام ہے، تو یہ میری اختراع نہیں، اس کے مجرم آپ بھی ہیں۔ آپ نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں سورہ مائدہ کی آیت ۔۔۔”﴿إِنَّما جَز‌ٰؤُا۟ الَّذينَ يُحارِ‌بونَ اللَّهَ وَرَ‌سولَهُ﴾۔۔۔” کی تشریح کرتے ہوئے لکھا تھا ۔۔۔ “اللہ اور رسول سے لڑنے کا مطلب اس صالح نظام کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اسلام کی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو۔ ایسا نظام جب کسی سرزمین میں قائل ہو جاتا ہے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا دراصل خدا اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے۔۔۔ذرا غور فرمائیے، اگر میں “خدا و رسول” سے مراد، اسلامی حکومت لوں تو ہدفِ طعن و تشنیع بن جاؤں اور اس سے آپ وہی مراد لیں تو مفسرِ قرآن کہلائیں۔” (بحوالہ ترجمان القرآن، منصبِ رسالت نمبر 171)
اس وقت مودودی صاحب نے ڈاکٹر صاحب کے جواب میں لکھا تھا:
“یہاں پھر ڈاکٹر صاحب نے میری سامنے میری ہی عبارت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اصل عبارت یہ ہے۔۔۔۔
“ایسا نظام جب کسی سرزمین پر قائم ہو جائے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا، قطع نظر اس کے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل و غارت اور رہزنی و ڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس صالح نطام کو الٹنے اور اس کی جگہ کوئی فاسد نظام قائم کر دینے کے لیے ہو، دراصل خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلا ف جنگ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیراتِ ہند میں، ہر اُس شخص کو جو برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے بادشاہ کے خلاف لڑائی کا مجرم قرار دیا گیا ہے، چاہے اس کی یہ کاروائی ملک کے کسی دور دراز گوشے میں ایک معمولی سپاہی ہی کے خلاف کیوں نہ ہو اور بادشاہ اس کی دسترس سے کتنا ہی دور ہو۔۔۔
تفہیم القرآن سے خود اپنا اقتباس پیش کرنے کے بعد مودودی صاحب نے لکھا تھا:
“اب ایک معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی خود دیکھ سکتا ہے کہ بادشاہ کی نمائندگی کرنے والے سپاہی کے خلاف جنگ کو بادشاہ کے خلاف جنگ قرار دینے اور سپاہی کو خود بادشاہ قرار دینے میں کتنا بڑا فرق ہے؟ ایسا عظیم فرق ان دو باتوں میں ہے کہ ایک شخص اللہ اور رسول کے نظامِ مطلوب کو چلانے والی حکومت کے خلاف کاروائی کو اللہ اور رسول کے خلاف کاروائی قرار دے اور دوسرا شخص یہ دعویٰ کرے کہ یہ حکومت خود “اللہ اور رسول” ہے۔ اس فرق کی نزاکت پوری طرح سمجھ میں نہیں آ سکتی جب تک آپ ان دونوں کے نتائج پر تھوڑا سا غور نہ کر لیں۔
فرض کیجئے کہ اسلامی حکومت کس وقت ایک غلط حکم دے بیٹھتی ہے جو قرآن و سنت کے خلاف پڑتا ہے۔ اس صورت حال میں میری تعبیر کے مطابق تو عام مسلمانوں کو اٹھ کر یہ کہنے کا حق پہنچتا ہے کہ۔۔ “آپ اپنا حکم واپس لیجیے کیونکہ آپ نے اللہ اور رسول کے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے۔ اللہ نے قرآن میں یہ فرمایا ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے یہ ثابت ہے اور آپ اس سے ہٹ کر یہ حکم دے رہے ہیں لہذا آپ اس معاملہ میں اللہ اور رسول کی صحیح نمائندگی نہیں کرتے”۔۔۔ مگر منکرین حدیث کی تعبیر کے مطابق اسلامی حکومت خود ہی اللہ اور رسول ہے۔ لہذا مسلمان اس کے کسی حکم کے خلاف یہ استدلال لانے کا حق نہیں رکھتے۔ جس وقت وہ یہ استدلال کریں گے اس وقت حکومت یہ کہہ کر ان کا مند بند کر دے گی کہ ۔۔۔ اللہ اور رسول ہم خود ہیں جو کچھ ہم کہیں اور کریں، وہی قرآن بھی ہے اور سنت بھی” (ترجمان القرآن، منصبِ رسالت نمبر ص 171-172)
استفادہ تحریر: خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا مرکزِ ملت؟قرآن کریم کی روشنی میں از محمد دین قاسمی

مستشرقین کا غلام احمد پرویزصاحب کو خراج تحسین

تہذیب ِمغرب کے سامنے’مفکر ِقرآن’ کی فکری اسیری اور ذہنی غلامی کا صرف یہی نتیجہ نہیں تھا کہ وہ محض نظریہ و اعتقاد کی حد تک ہی اس کے سامنے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے ہوئے تھے،بلکہ وہ عملی دنیا میں مغربی معاشرت کے ان جملہ اجزا کو بھی قرآن کے نام پر اپنانے کے داعی تھے، جنہیں مغرب نے بغیر کسی قرآن کے اختیار کررکھا تھا۔ اورجنہیں جبل ِقرآن سے کھود نکالنے کو وہ بڑے فخر سے اپنی پچاس سالہ ‘قرآنی خدمات’ قرار دیا کرتے تھے۔ اب چونکہ ‘مفکر ِقرآن’ صاحب کا یہ ‘انقلابی اسلام’ درحقیقت محمد رسول اﷲ والذین معہ کے اصل اسلام میں نقب زنی کے نتیجہ میں نمودار ہوا ہے، اس لئے دنیاے مغرب کی نگاہ میں یہ ایک قابل قدر چیز ہے او رہمارے ‘مفکر ِقرآن’ صاحب عالم ِکفر کی آنکھ کا تارا ہیں ، بے ایمانوں کے منظور ِ نظر اور غیرمسلموں کے محبوبِ نگاہ ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ دنیاے مغرب کے یہودی سکالر ہوں یا عیسائی عالم، ملحد دانشور ہوں یا فلسفی، سب کے سب ‘مفکر قرآن’ کے اس ‘انقلابی اسلام’ سے خوش ہیں او راسے اپنے مخصوص مقاصد کے لئے ممدومعاون جانتے ہوئے پرویز صاحب کی تعریف و تحسین میں رطب اللسان ہیں ۔ چنانچہ وہ خود بھی اور ان کا آرگن طلوعِ اسلام بھی بڑے شاداں و فرحاں ہیں کہ چلو! عالم اسلام میں نہیں تو عالم کفر میں تو ان کی پذیرائی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ طلوعِ اسلام، علمبردارانِ کفر کے ہاں ‘مفکر ِقرآن’ (اور ان کی ‘قرآنی خدمات’) کی قدر افزائی پر خوشی سے نہال ہوتے لکھتا ہے:
”ڈاکٹر Freeland Abbot امریکہ کی Tufts یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کے صدر اور بین الاقوامی شہرت کے مالک ہیں ۔ انہوں نے ‘اسلام اینڈپاکستان ‘ کے نام سے 1968ء میں ایک بلند پایہ کتاب شائع کی تھی، اُس میں انہوں نے فکر ِپرویز اور تحریک ِطلوعِ اسلام کے متعلق بڑی تفصیل سے دادِ تحسین دینے کے بعد کہا ہے کہ __ ”پرویز صاحب، اس وقت پاکستان کے سب سے بڑے فعال ریفارمر ہیں ” __ یہ کتاب فکر ِپرویز کو دنیا کے دور دراز گوشوں تک متعارف کرانے کا موجب بن گئی ہے۔” (طلوع اسلام ، نومبر 1976ئ، ص58)
یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر یہ ‘انقلابی اسلام’ واقعی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا صحیح اسلام ہے تو امریکہ کو اسلام کا یہ درد کیسے اُٹھ آیا کہ وہ اس کو متعارف کروانے کا موجب بن جائے؟
کیا یہ ‘انقلابی اسلام’ فی الواقعہ اشتراکی نظامِ معیشت اور مغربی معاشرت کے لوازمات کو قرآن کے جعلی پرمٹ پردرآمد کرنے کی وہ عجمی سازش نہیں ہے جو امریکہ، یورپ اور روس کی مادّہ پرست تہذیب کو اس لئے پسند ہے کہ اس ‘انقلابی اسلام’ کو محمد رسول اﷲ والذین معه کے حقیقی اسلام کے متبادل قرار دیا جارہا ہے۔ یوں دین ِاسلام میں رخنہ اندازی اور پیوند کاری امریکہ ، یورپی اور اشتراکی حکومتوں کے سیاسی اغراض کے عین مطابق ہے۔ جیسا کہ خود پرویز صاحب نے بھی ایک دفعہ اس طرف اشارہ کیا تھاکہ
”مغربی ممالک، خواہ وہ یورپ ہو یا امریکہ ، اسلامیات کی طرف خالص علمی نقطہ نگاہ سے توجہ نہیں کررہے ہیں ۔ یورپ کے سامنے بھی اپنے سیاسی مقاصد تھے، اس طرح، امریکہ کے پیش نظر بھی اپنے سیاسی مصالح ہیں ۔”( طلوع اسلام، 3 ستمبر1955ئ، ص13)
ٍ
طلوع اسلام مسرت کے ساتویں آسمان پر پرواز کرتے ہوئے بڑے فخر و ابتہاج کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہے :
”امریکہ اور کینیڈا وغیرہ کی یونیورسٹیاں ، فکر ِپرویز کو ڈاکٹریٹ کے لئے تحقیقاتی مقالات کا موضوع منتخب کررہی ہیں ۔”( طلوع اسلام، نومبر 1976ئ، ص59)
آگے لکھتا ہے:
”ہالینڈ کے مشہور مستشرق Dr. J. M. S. Baljon نے ایک کتاب شائع کی جس کا عنوان ہے: “Modern Muslim Koran Interpretation” یعنی ”عصر جدید کے مفسرین قرآن” اس مقصد کے لئے برصغیر ہندوپاک سے تین مفسرین کا انتخاب کیا ہے: مولانا ابوالکلام آزاد (مرحوم) علامہ عنایت اللہ مشرقی (مرحوم) اور پرویز صاحب۔۔۔”( طلوعِ اسلام، نومبر 1976ئ، ص58)
ضمناً یہاں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ عنوانِ کتاب کا جو ترجمہ ”عصرجدید کے مسلم مفسرین” کے الفاظ میں کیا گیا ہے، وہ قطعی غلط ترجمہ ہے۔ صحیح ترجمہ یا تو یہ ہے کہ ”تجددپسند مسلمانوں کی ترجمانی ٔ قرآن” یا پھر یہ کہ ”قرآنِ مسلم کی تجدد پسندانہ ترجمانی” طلوعِ اسلام کا غلط ترجمہ خواہ جہالت علمی کے باعث ہو یا جان بوجھ کر شعوری خیانت کے تحت؛ بہرحال اور بہرصورت معیوب حرکت ہے۔اس ضمنی وضاحت کے بعد اس غیر مسلم مصنف نے ‘مفکر ِقرآن’ کو ان الفاظ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا ہے :
”پرویز صاحب کی شخصیت کے حقیقی جوہروں کو ان کی درخشندہ اور بلند پایہ علمی صلاحیتوں میں تلاش نہیں کرنا چاہئے۔ مبدائِ فیض نے اُنہیں ، ان نوجوانوں کے لئے، جن کا موجوں کے تلاطم میں گھرا ہوا سفینۂ حیات مذہبی لنگر کی تلاش میں ہو، اعلیٰ صلاحیتوں کا اُستاد او رباپ کی طرح شفیق دوست بنایا ہے۔ ان کی صاف اور شفاف نگاہ پیش آمدہ مسائل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتی ہے اور ان کے متعلق بلا کاوش و تردّد صائب رائے، آزادانہ فیصلے، ان کے اطمینانِ قلب و شرحِ صدر کے آئینہ دار ہوتے ہیں ۔ اس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ ان کے اثرونفوذ کا دائرہ دن بدن وسیع تر ہوتا جائے گا۔”( طلوع اسلام، نومبر 1976ئ، ص58)
ایک اور مستشرق کی طرف سے پرویز صاحب کو ملنے والے شرفِ ِتہنیت و پذیرائی کو طلوعِ اسلام ان الفاظ میں پیش کرتا ہے:
”مستشرقین مغرب میں سے پروفیسر E. I. J. Rosentnal کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ اُنہوں نے”Islam, In the Modern National”کے عنوان سے ایک شہرۂ آفاق کتاب لکھی ہے، جسے کیمبرج یونیورسٹی پریس نے 1965ء میں شائع کیا۔ اس میں اُنہوں نے مختلف اسلامی تحریکوں کا وسیع جائزہ لیا اور پرویز صاحب اور ان کی تحریک کا ذکر خاصی تفصیل سے کیا ہے۔”( طلوع اسلام، نومبر 1976ئ، ص58)

”کچھ عرصہ ہوا، McGill یونیورسٹی (کینیڈا) کی طرف سےMiss Sheila McDonough نامی ایک طالبہ ڈاکٹریٹ کے لئے اپنے تھیسس کی غرض سے آئی تھی۔ وہ کافی عرصہ یہاں رہی اور اس کے بعد The Authority of the past کے عنوان سے اپنا تحقیقاتی مقالہ لکھا جسے امریکن اکادمی آف ریلجئن نے 1970ء میں شائع کیا۔ اس میں اس نے سرسید، اقبال اور پرویز کو اپنی تحقیق کا موضوع قرار دیا ہے۔ مقالہ اگرچہ ایک طالب علم کا ہے لیکن اس سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور کینیڈا وغیرہ کی یونیورسٹیاں فکر ِپرویز کو ڈاکٹریٹ کے لئے تحقیقاتی مقالات کا موضوع منتخب کررہی ہیں ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ McDonough نے “Social Import of Pervez’s Religius Thoughts” کے نام سے ایک اور تحقیقاتی مقالہ بھی شائع کیا ہے، وہ ابھی تک ہماری نظروں سے نہیں گزرا، لیکن علمی حلقوں میں اس کا بھی ذکر آتا ہے۔” (طلوع اسلام، نومبر 1976ئ، ص59)

ایک عیسائی مشنری سکالر پرویز صاحب کو جو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے، اسے طلوعِ اسلام یوں پیش کرتا ہے:
”سوئٹزر لینڈ کے ڈاکٹر P. Robert A. Butler پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ لاطینی سے وابستہ اور عیسائی مشنری حلقہ کی ایک ممتاز شخصیت ہیں ۔ فکر ِپرویز کے ساتھ ان کی وابستگی کا اندازہ، اس سے لگائیے کہ وہ طلوعِ اسلام کا التزاماً مطالعہ کرتے ہیں ، او رپرویز صاحب کی کوئی کتاب ایسی نہیں ، جسے وہ اس کے شائع ہونے کے ساتھ ہی حاصل نہ کرلیتے ہوں ۔ سالِ گذشتہ اُنہوں نے اپنے عرصۂ دراز کے اس مطالعہ کا ماحاصل”Ideological Revolution Through the Quran” کے نام سے ایک تحقیقاتی مقالہ کی شکل میں پیش کیاجس نے مشنری دوائر میں بالخصوص بڑی شہرت حاصل کی۔ اس مقالہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اب حال ہی میں ، اس کا فرانسیسی زبان میں ایڈیشن ،ٹیونس (مراکو) سے شائع ہوا۔( طلوع اسلام، نومبر 1976ئ، ص59)

یہ خراجِ تحسین، یہ تعریف و توصیف، یہ تہنیت و پذیرائی اور یہ گلہاے عقیدت ‘مفکر ِقرآن’ صاحب کو یہودی، عیسائی علماے مغرب کی طرف سے پیش کئے گئے ہیں ؛ کیوں ؟ اور کس لئے؟ ان اس بات کی خوشی ہے کہ پرویز صاحب نے نبوی اسلام دریافت کرلیا ہے ؟نہیں بلکہ اس لئے کہ جو ‘انقلابی اسلام’ اُنہوں نے پیش کیا ہے ، وہ مغربی ممالک کے سیاسی اغراض و مقاصد کے عین مطابق ہے۔ آج روے زمین پر پورا عالم کفر پرویز صاحب سے، سلمان رشدی سے اور تسلیمہ نسرین جیسی شخصیتوں کی ‘قرآنی خدمات’، ‘حق گوئی’ اور ‘لبرل اسلام’ سے راضی بھی ہے اور خوش بھی۔پرویز صاحب طلوعِ اسلام خوش ہیں کہ یہودی سکالرز، عیسائی مفکر، لادین و بے دین محقق، علمبردارانِ کفر، ‘مفکر ِقرآن’ کے ‘انقلابی اسلام’ سے راضی ہیں اورچاہتے ہیں کہ یہ ‘انقلابی اسلام’ پھیلتا چلا جائے۔
یہودی علما، عیسائی رہبان، مشنری احبار، ملحد فلاسفہ، زندیق مفکروں ، لادین دانشوروں ، بے دین سکالروں اور غیرمسلم ماہرین ِتحقیق کی طرف سے ہمارے ‘مفکر قرآن’ پر داد و تحسین کے یہ ڈونگرے اسی لئے تو برسائے گئے ہیں کہ دیار ِ مغرب میں بسنے والے اسلام کے یہ دانا دشمن خوب جانتے ہیں کہ یہ شخص مفکر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر قرآن کی بجائے، مغربی مآخذ ہی کو شرف ِ تقدم عطا کرتا ہے (اور قرآن کے نام کی آڑ میں وہی کچھ کہہ اور کررہا ہے جو دنیاے مغرب چاہتی ہے)۔

آخر میں یہ جملہ معترضہ بھی:
مغرب کے جن علماے کفر والحاد اور علمبردارانِ لادینیت نے پرویز صاحب کے لٹریچر پر ریسرچ کرکے اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، ان ہی علما نے بیسیویں صدی میں دفاعِ اسلام کا عظیم فرض انجام دینے والے مولانا مودودی ؒ کی کتب پر بھی ریسرچ کی ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ مولانا مودودیؒ کی تعریف وتحسین کرنے کی بجائے ان کی تحقیر و توہین کرتے ہیں اور اُنہیں نامبارک، نامسعود اور منحوس قرار دیتے ہیں ۔ صرف ایک حوالہ ملاحظہ فرمائیے اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ اقتباس بھی غالباً اُسی پروفیسر اسمتھ کا ہے، جس نے پرویز صاحب سے کراچی میں ملاقات کی تھی۔ (اس ملاقات کا ذکر طلوع اسلام: 3؍ستمبر 1955ء صفحہ 13 پر موجود ہے)۔ وہ لکھتا ہے:
“Finally we come to the most ominous representative of this trend, back to religious conservation:Syed Abu-Al-A’la Mawdudi
(Modern Islam in India, by Wilfred Cantwel Smith, Sh. M. Ashraf, 7-Aibak Road, New Anarkali, Lahore, 1969. Page 164)
مانا کہ مولانا مودودیؒ کوئی مبرا عن الخطا یا کوئی معصوم شخصیت نہیں تھے، یقینا ان سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن بہرحال وہ ایسے خطاکار اور گنہگار نہ تھے کہ عالم کفر کے کافر سکالر، ملحد پیشوا، زندیق، فلاسفہ، یہودی ربی اور عیسائی احبار و رہبان ان سے خوش ہوتے۔! اگرکسی کی آنکھوں پرتعصب کی عینک نہ چڑھی ہو، سینے میں کینہ و کدورت نہ ہو، دلِ درد مند اور قلب ِحق پسند میں ذرّہ برابر بھی ایمان موجود ہو تو وہ یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ”مودودی صاحب کی یہی فضیلت ومنقبت کیا کم ہے کہ کفار اہل مغرب کے ہاں وہ انتہائی نامسعود، از حد نامبارک، اور منحوس ترین (The most ominous) شخصیت قرار پاتے ہیں ۔:
اور اس کے برعکس’مفکر ِقرآن’ جناب چوہدری غلام احمد پرویز کی یہی رسوائی کیا کم ہے کہ علمائِ یہود ہوں یا احبار و رہبانِ عیسائیت، علمبردارانِ کفر ہوں یا پیشوا یانِ الحاد، فلاسفۂ زندقہ ہوں یا دانشورانِ دہریت؛ وہ سب کے سب راضی اور خوش ہوکر اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ خود سوچ لیجئے کہ ان کا ‘انقلابی اسلام’ کفار و ملحدین کے کام کا ہے؟ یا خدا اور رسولؐ کے کام کا؟
استفادہ تحریر :غلام احمدپرویز کی “قرآنی خدمات” از محمد دین قاسمی

پرویز صاحب کا ایمان باالقرآن انکی تحقیقات کے آئینے میں

شیطان اور اسکے کارندے اس حقیقت سے خوب واقف ہیں کہ وہ اگر اپنی دعوتِ ضلالت کو ضلالت کے نام سے پیش کریں گے تو وہ ہرگز قابل قبول نہ ہوگی، چنانچہ وہ ہمیشہ یہ حربہ اختیار کرتے رہے ہیں کہ وہ گمراہی کو ہدایت کے روپ میں پیش کریں۔ جھوٹ کو لباسِ صدق پہنائیں، بے دینی کو دین کے بھیس میں سامنے لائیں اور خلقِ خداکو دھوکہ دینے کے لئے فریب ِکار کی بجائے ناصحِ درد مند کا بہروپ اپنائیں ۔ اگر وہ فساد کو صلاح کانقاب نہ اوڑھیں اور خود بے نقاب ہوکر سامنے آئیں تو کوئی اس کے فریب میں نہ آئے۔ وہ اپنی شیطنت کو پارسائیت کے پردے میں پیش کرتے ہیں اور یوں وہ ابناے آدم کو اپنی مفاد پرستیوں کی بھینٹ چڑھاتا ہے۔ نہ صرف تاریخ انسانیت بلکہ اسلام کی سرگذشت بھی اس حقیقت پر شاہد ہے کہ ہر عصر و مصر میں لوگوں نے ہدایت کے نام پر ضلالت کو، اسلام کے نام پر بے دینی کو، سچ کے نام پرجھوٹ کو اورقرآن کے نام پرخلافِ قرآن افکار و نظریات کو پھیلانے کی مذموم کوششیں کیں ۔
اِن ہی کوششوں میں ایک کوشش وہ بھی ہے جو ہمارے دور میں مغربیت کی ذہنی غلامی اور اشتراکیت کی فکری اسیری میں مبتلا ہوکر چوہدری غلام احمد پرویز نے قرآنِ کریم کے نام پر کی ۔انہوں نے ہر جدید نظریے اور نظام ، مغربی معاشرت کے عادات و اطوار،اشتراکیت کے معاشی نظام کو قرآن کے نام پر پیش کیا ۔ جو کہ قرآن کے بغیر ہی عصر حاضر کی گمراہ قومیں پہلے سے اپنائے ہوئے تھیں ۔جو کام مغربی ممالک کے ملحد فلاسفہ اوربے دین دانشور،مسلم معاشروں میں براہِ راست خود نہیں کرسکتے تھے، وہ کام ہمارے ‘مفکر ِقرآن’،’قرآنی دانشور’ بن کرکرتے رہے ہیں ۔

پرویز صاحب کی تعلّی آمیز انانیت:
غلام احمد پرویز صاحب سنت کی تحقیر کرکے حسبنا کتاب اللہ اور ایمان باالقرآن کا نعرہ لگاتے اور خود کو خادم قرآن کہتے تھے اور اپنے مقابلے میں جملہ اہل علم کو قرآن سے بے خبر اورجاہل قرار دیا کرتے تھے۔ چنانچہ انانیت کے ساتویں آسمان پر محو ِپرواز رہتے ہوئے وہ بلااستثنا تمام علماے کرام کے متعلق یہ اعلان کیاکرتے ہیں :
”حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرات قرآن سے قطعاً نابلد ہوتے ہیں ۔'(طلوعِ اسلام: جون1956ء ص6)
ایک اور مقام پرعلما کے خلاف بڑا تحقیر آمیز رویہ اپناتے ہوئے، لیکن غرور و تکبر کی انتہائی بلندیوں پر براجمان ہوکر یہ فتویٰ داغتے ہیں :
”ہمارا مُلّاطلوعِ اسلام میں پیش کردہ دعوت کاجواب دلائل و براہین سے تو دے نہیں سکتا (اس لئے کہ یہ دعوت قرآن کی دعوت ہے او رمُلّا بے چارہ قرآنی نور سے محروم ہوتاہے۔( طلوعِ اسلام: مئی 1953ء، ص47)
ایک اورموقع پر اُسی اہانت آمیز لب و لہجہ میں جو علما کے خلاف ان کامستقل وطیرہ تھا، یہ فرماتے ہیں :
”مُلّا کے پاس نہ علم ہوتاہے، نہ بصیرت، نہ دلائل ہوتے ہیں ، نہ براہین۔( طلوع اسلام: 5 فروری 1955ء، ص4)
چنانچہ ‘مفکر ِقرآن’ صاحب اپنے عقیدت مندوں کے جھرمٹ میں علماء کرام پر ‘قدامت پرستی’ کالیبل لگاکر اپنے متعلق تعلّی آمیز خود ستائی کا اظہار بایں الفاظ کیا کرتے تھے :
”جو کچھ میں قرآن سے پیش کرتاہوں ، اس کی تردید کے لئے چونکہ ہمارے قدامت پرست طبقہ کے پاس دلائل و براہین نہیں ہوتیں ، اس لئے وہ خود بھی مشتعل ہوتاہے اور عوام کو بھی مشتعل کرتاہے۔( طلوعِ اسلام: اگست 1973ء، ص36)

أعلم الناس بالقرآن کی پندار افزائی:
‘مفکر ِقرآن’ صاحب خود أعلم الناس بالقرآن کے پندار میں مبتلاہوکر یہی پندار اپنے نیاز مندوں میں بھی پیدا کیا کرتے تھے اور اُنہیں اس زعم میں مبتلا کیا کرتے تھے کہ تیرہ چودہ صدیوں بعد جو قرآنی آواز طلوعِ اسلام کے ذریعہ بلند ہورہی ہے، آپ لوگ ہی اس کے واحد امین ہیں ، باقی ساری دنیا اس آواز کا گلاگھونٹتی چلی آرہی ہے۔
تیرہ سوسال کے بعد پھرسے خالص قرآن کی آواز طلوعِ اسلام کی وساطت سے بلند ہونی شروع ہوئی ہے۔( طلوعِ اسلام: نومبر1953ء، ص13)
اس سرزمین سے تیرہ سو سال کے بعد پہلی بار قرآن کی آواز اُٹھی ہے او رقدرت کو یہ منظور ہے کہ تیرہ سو سال کے بعد ایک بار پھر قرآنی نظام اپنی عملی شکل میں سامنے آئے۔ ( طلوعِ اسلام: نومبر1954ء، ص11)
اس وقت ساری دنیامیں قرآنِ خالص کی آواز صرف آپ کی اس ننھی سی جماعت کی طرف سے بلند ہورہی ہے۔ ( طلوعِ اسلام: دسمبر1964ء، ص87)
صدرِاوّل کے بعد ہماری تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ قرآنی نظام کی آواز بلند ہورہی ہے۔ ( طلوعِ اسلام: جون 1966ء،ص78)
پورے عالم اسلام میں ادارہ طلوعِ اسلام ہی وہ واحد ادارہ ہے جس نے چاروں طرف سے چھائی ہوئی مایوسیوں میں مسلمانوں کو پکارا اور بتایاکہ ان کی ذلت ورسوائی کاواحد سبب یہ ہے کہ وہ خدا کی دی ہوئی کتاب اور اس عطا فرمودہ روشنی سے دور جا پڑے ہیں ۔ مسلمانوں کی باز آفرینی کے لئے یہی ایک صورت ہوسکتی ہے کہ جس طرح خدا کی دی ہوئی روشنی نے اس قوم کو آج سے چودہ سو سال پہلے ترقی اور عروج کے بامِ ثریاتک پہنچا دیاتھا۔ یہ قوم پھر اُسی مینارۂ نور سے کسب ِضیا سے کرے اوراپنی زندگی کو اسی قالب میں ڈھال لے ۔ادارہ طلوع اسلام قریب تیس سال سے قرآن کریم کی آواز کو بلند کررہاہے۔( طلوعِ اسلام: جولائی 1969ء، ص73)
چنانچہ ایک مقام پر ‘مفکر ِقرآن’ اپنے منہ آپ میاں مٹھو بنتے ہوئے، اپنے حلقہ احباب کو یہ باورکرواتے ہیں کہ
6۔ اس وقت ملک میں خالص فکری تحریک صرف آپ کی ہے، باقی سب وقتی ہنگامہ آرائیاں ہیں ، جن میں اسلام کا نام لیاجاتاہے، جیسے خطوں کی پیشانی پر 786 لکھ دیا جاتا ہے، لیکن نفس مضمون سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ ( طلوعِ اسلام: دسمبر1967ء، ص52)
7۔ اس وقت ساری دنیا میں صرف آپ کی یہ مختصر سی جماعت ہے، جوپیغام خداوندی کی مئے بے درد و صاف کو شفاف اوربے رنگ پیمانوں میں پیش کررہی ہے۔ ( طلوع اسلام، نومبر1969ء ، ص68)

ایک اور مقام پر خود نمائی اور خود ستائی کے ساتویں آسمان پرمحو ِپروازکرتے ہوئے ‘مفکر قرآن’ یوں تسلی آمیز انداز میں فرماتے ہیں :
”ہمارے ہاں ، نہ کوئی ایسا صاحب ِفکر نکلا جو یہ سوچ سکے کہ قوم کی یہ حالت کیوں ہوگئی اورنہ کوئی ایسا صاحب ِعمل جو اس بے راہ ہجوم کا ہاتھ پکڑ کر اُسے راستہ پرلگا دے۔ سارے ملک میں لے دے کے، ایک طلوعِ اسلام کی آواز تھی (اور ہے) جو صحرا میں کھوئے ہوئے اس کارواں کے منتشر افراد کے لئے بانگ ِدرا تھی۔( طلوع اسلام: اکتوبر1971ء، ص51)
”اس وقت ،ملک جن ہنگامی حالات سے دوچار ہے، ان میں قوم کوقرآنی راہنمائی کی اشد ضرورت ہے او ریہ راہنمائی اُسے طلوعِ اسلام کے علاوہ اور کہیں سے نہیں مل رہی ہے۔ (طلوعِ اسلام: جنوری 1972ء، ص45)

ایمان بالقرآن کی بابت دعوی جات:
نظریاتی اور قولی و قلمی حیثیت سے ایمان بالقرآن کی بابت اُن کے بلند بانگ دعاوی کی ایک جھلک مندرجہ ذیل اقتباسات میں ملاحظہ فرمائیے:
1۔ صحت و سقم کامعیار میزانِ قرآنی ہے نہ میرا دعویٰ ، نہ غیر کی تردید۔ اس لئے اگر کوئی میری گذارشات کو باطل ٹھہراتا ہے تو اُسے کہو کہ اس کے لئے قرآن کی بارگاہ سے سند لائے۔( طلوعِ اسلام: مئی1952ء،ص48)
2۔ ہمارے نزدیک دین کامعیار فقط کتاب اللہ ہے،خواہ اس کی تائید میں ہزار حدیثیں بھی ایسی کیوں نہ پیش کردی جائیں ، جن کے راویوں میں جبرائیل و میکائیل تک کا بھی نام شامل کردیاگیا ہو۔( طلوعِ اسلام: نومبر1953ء، ص37)
3۔ صحیح اور غلط کے پرکھنے کا ایک ہی معیار ہے یعنی یہ کہ اس کے متعلق قرآن کا کیا فیصلہ ہے۔ جیسے قرآن صحیح قرار دے، وہ صحیح ہے خواہ اُسے ایک آدمی بھی صحیح نہ مانتا ہو، اور جسے وہ غلط قرار دے، وہ غلط ہے خواہ اُسے ساری دنیا مسلمہ کی حیثیت سے جانتی ہو۔( طلوعِ اسلام، فروری 1954ء، ص25)
4۔ قانون کے صحیح ہونے کی سند نہ زید ہے نہ بکر، نہ اسلاف ہیں نہ اخلاف۔ اس کی سند ہے اللہ کی کتاب جو اس کے مطابق ہے وہ صحیح ہے۔ جو اس کے خلاف ہے وہ غلط ہے خواہ اسے کسی کی بدنیتی یانادانی، کسی بڑی سے بڑی ہستی کی طرف بھی منسوب کیوں نہ کردے۔ ( طلوعِ اسلام: مارچ 1959ء، ص9)
5۔ سوال یہ ہے کہ کسی چیز کے ‘درحقیقت صحیح’ ہونے کا معیار کیاہے؟ قرآن کی رُو سے وہ معیار یہ ہے کہ جو بات کتابِ خداوندی کے مطابق ہو، وہ صحیح ہے اور جو اس کے خلاف ہو وہ غلط ہے۔ ( طلوعِ اسلام: ستمبر1959ء، ص6)
6۔ کسی بات کے لئے اسلامی یا غیراسلامی ہونے کے لئے کسی انسان کی سند کافی نہیں ہوسکتی۔ اس کے لئے سند صرف خدا کی کتاب کی ہونی چاہئے۔( طلوعِ اسلام: جنوری 1960ء، ص58)
7۔ ہمارے پاس خدا کی کتاب موجود ہے، جس کی روشنی میں ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ جو کچھ کسی اور انسان نے کہا ہے (خواہ وہ اس وقت موجود ہے یا ہم سے پہلے گزر چکا ہے) اسے پرکھے۔اگر وہ اس کتاب کے مطابق ہے تو اسے صحیح تسلیم کرلیاجائے، اگر اس کے خلاف ہے تو مسترد کردیاجائے۔( طلوعِ اسلام: جون 1967ء ص62)
8۔ طلوعِ اسلام کا مسلک یہ ہے کہ حق اور باطل کا معیار قرآن ہے۔ہر وہ بات جو قرآن کے مطابق ہے، صحیح ہے۔( طلوعِ اسلام، فروری 1968ء، ص60)
9۔ دین کے معاملہ میں حق و باطل اور صحیح و غلط کا معیار قرآنِ کریم ہے۔( شاہکارِ رسالت، گذرگاہ خیال: ص39)
10۔ ہمارے سامنے ہدایت و ضلالت کامعیار قرآنِ مجیدہے۔( طلوعِ اسلام: جنوری 1959ء، ص31)
‘مفکر ِقرآن’ کے وسیع لٹریچر میں سے مُشتے نمونہ از خروارے کے طور پر یہ وہ چند اقتباسات ہیں جن میں فقط قرآن ہی کے واحد معیار، اسی کے تنہا سند ہونے اور اسی کے پیمانۂ ردّ و قبول اور اسی کے کسوٹی ٔ حق و باطل ہونے اور اسی کے فرقانِ صحت و سقم ہونے اور اسی کے میزانِ ہدایت و ضلالت ہونے کے خوش کن دعاوی مرقوم ہیں ۔
ہماری گزشتہ تحاریر سے بھی واضح ہے کہ ان ‘خوش کن دعاوی’کی حیثیت دراصل کسی بد دیانت اور فریب کار تاجر کی دکان میں موجود اُن اصلی اورکھری چند اشیا کی سی ہے جنہیں وہ اپنے جعلی اور کھوٹے سروسامان کی بہتات میں مصلحتاً رکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس تحریر میں ہم انکی تحقیقات و تحریرات کی روشنی میں انکے ایمان بالقرآن کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے ۔

 پرویز صاحب کا ایمان باالقرآن انکی تحقیقات کے آئینے میں: 

پرویز صاحب کے سارے لٹریچر پر نظر ڈال کر دیکھا جائے تو جس چیز کو ‘مفکر ِقرآن’ اور طلوعِ اسلام، قرآنی راہنمائی قرار دیتے ہیں غور کیا جائے تو وہ قطعاً اور ہرگز قرآنی راہنمائی نہیں ہے، بلکہ وہ مارکسی اشتراکیت اور کرمغربی سوچ و فکر ، معاشرت کے عادات و اطوار ہیں جنہیں قرآنی چھتری فراہم کی گئی ہے۔جہاں تک ‘مفکر قرآن’ کے ایمان بالقرآن کی اصل حقیقت ہے وہ ذلك قولھم بأفواھھم سے زیادہ نہیں ہے،وہ اگرچہ اپنے ایمان بالقرآن کاڈھنڈورا پیٹا کرتے تھے اور قرآنِ کریم ہی کو واحداتھارٹی اور سند قرار دیا کرتے تھے، لیکن عملاً اُن کے ہاں سند و معیار علماے مغرب کی تحقیقات ہی تھیں ۔
ہماری گزشتہ ایک تحریر سے یہ واضح ہے کہ کس طرح پرویز صاحب نے کارل مارکس کی اشتراکیت کو من و عن قبول کرکے اسے ‘نظامِ ربوبیت’ کے نام سے مشرف بہ اسلام کرتے ہوئے قرآنِ کریم کے جعلی پرمٹ پر درآمد کیا۔ پھر مغربی معاشرت اور اشتراکیت کا یہ ملغوبہ ‘انقلابی اسلام’ قرارپا جاتا ہے اور ‘مفکر قرآن’ صاحب اِسے اپنی ندرتِ نگاہ کا شاہکار قرا ردیتے رہے۔پرویز صاحب کے ایمان بالقرآن کی حقیقت واضح کرتی چند مزید مثالیں پیش ہیں ۔

پہلی مثال: انسانوں میں تصورِ خدا کیسے پیداہوا؟
بنی نوع انسان میں خدا کا تصور،عقیدۂ اُلوہیت او رایمان باللہ کا نظریہ کیسے پیدا ہوا؟اس سوال کاواضح اور اطمینان بخش جواب ازروے قرآن یہ ہے کہ ایسا وحی ٔ خداوندی کی بنا پرہوا۔ لیکن ہمارے ‘مفکر ِقرآن’ کی عقل و دانش اور ‘قرآنی بصیرت’ اس کا کوئی او رہی جواب فراہم کرتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے یہ جواب:
”جب انسانی شعور نے آنکھ کھولی تو اپنے آپ کو عجیب دنیامیں پایا۔ سرپر آتش باری کرنے والا ایک عظیم اورمہیب گولہ، چاروں طرف بڑے بڑے پہاڑ، ادھر اُدھر ساحل ناآشنا سمندر اور اس کی خوفناک تلاطم انگیزیاں ، یہاں وہاں کف بردہاں اور سیلاب درآغوش دریاؤں کی خوف سامانیاں ، میلوں تک ڈراؤنے جنگل اور ان میں بڑے بڑے خطرناک درندے اور اژدہے، کبھی بادل کی لرزہ خیز گرج، کبھی زلزلوں کی تباہ کاریوں کاہجوم، شش جہات میں اس قسم کی خوفناک بلاؤں کا ہجوم و اژدہام اور ان کے اندر گھرا ہوابے یارو مددگار اور بے سروسامان تنہا ابن آدم۔آپ سوچئے کہ ان حالات میں خارجی کائنات کے متعلق اس کاردّعمل اس کے سوا کیاہوسکتا تھا کہ جو بلا سامنے آئے، یہ گڑگڑانا شروع کردے۔جہاں کوئی خطرہ آنکھ دکھائے یہ اس کے سامنے سرنگوں ہوجائے۔اس طرح فطرت کی مختلف قوتیں اس کا ‘اِلٰہ’ او ریہ اس کا پرستار بن گیا۔ چاند، سورج، ستارے، گرج، کڑک، بارش، آندھی، آگ، دریا،سانپ، شیر، حتیٰ کہ وبائی امراض، سب دیوی دیوتا تصور کرلئے گئے اور ان کی بارگاہ میں نذونیاز، منت و سماجت اور مدح و ستائش سے اُنہیں خوش رکھنے اور راضی رکھنے کی تدابیر اختیار کی جانے لگیں ۔ یہ تھا(اُس ماحول میں ) انسان کااوّلین ردّعمل۔ خارجی کائنات کے متعلق رفتہ رفتہ اسی ردّعمل نے مذہب کی شکل اختیار کرلی اور آپ جانتے ہیں کہ جب کوئی عقیدہ یا تصور مذہب کی شکل اختیار کرلے تو حالات کتنے ہی کیوں نہ بدل جائیں اس میں تبدیلی نہیں آیا کرتی، چنانچہ دنیا کے بیشتر مذاہب کائنات کے متعلق انسان کے اس اوّلین ردّعمل کے مظاہر ہیں ۔ (اسلام کیا ہے؟’ ص 194)
‘مفکر ِقرآن’کایہ اقتباس اس امر کو واضح کردیتاہے کہ انسان نے اپنی زندگی کی ابتدا عقیدہ توحید سے نہیں بلکہ نظریۂ شرک سے کی تھی۔ یہ نظریہ دراصل دین بیزار، توحید مخالف اور دہریت پسندقوموں کافلسفہ ہے جسے اُنہوں نے اپنی عقل کی کسوٹی پرپرکھ کر پیش کیا ہے اور ہمارے’مفکر ِقرآن’ نے اپنی فکری اسیری اور ذہنی غلامی کی بنا پر اسے من وعن قبول کرلیاہے حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ انسان نے اپنے سفر حیات کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی رہنمائی میں عقیدۂ توحیدکی روشنی میں کی تھی نہ کہ کفر و شرک کی ظلمت میں ۔ انسان کو پیداکرنے کے بعد اس کی رہنمائی کرنا خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھاہے جیسا کہ قرآنِ کریم میں بکثرت مقامات پرخداے قدوس کی اس ذمہ داری کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً : إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ …﴿١٢﴾…سورة الیل”اور ہم پر ہی یہ لازم ہے کہ ہم رہنمائی کریں ۔”اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا انسان جو پیدا کیا تو اسے علم وحی سے نوازا۔ مرتبۂ نبوت عطافرمایاتاکہ وہ علم کی روشنی میں ، نہ کہ جہالت و بے خبری کی تاریکی میں ، اپنے سفر حیات کاآغاز کرے۔
‘مفکر قرآن’ کے وہ دلائل جو اُنہوں نے’خارجی کائنات’کے متعلق انسان کے اوّلین ردّعمل کے ضمن میں پیش کئے ہیں تو وہ دراصل ‘دلائل’ نہیں بلکہ دانشورانِ مغرب کی چچوری ہوئی وہ ہڈیاں ہیں جنہیں منکرین حدیث اپنے منہ سے اُگل رہے ہیں۔ اور حیرت بالاے حیرت یہ امر ہے کہ تہذیب ِمغرب کے سحر میں گرفتار یہ غلام فطرت لوگ اپنی اسلامی حس اور تنقیدی قوت کو سرے سے ہی کھو چکے ہیں یہاں تک کہ مغرب سے جو کچھ بھی آتا ہے، اُسے وحی سمجھ کر من وعن قبول کرلیا جاتا ہے۔ہمارے ‘مفکر قرآن’ چونکہ ذہنا ًاور کلیا ً فلسفہ سے مرعوب و مسحور تھے۔ اس لئے وہ مقہور و مجبور تھے کہ اس سوال کے جواب میں کہ بنی نوع انسان میں خدا کاتصور کیسے پیداہوا؟ وہی فلسفہ اپنائیں جس کی روشنی میں اہل مغرب کے ہاں انسان کاسفر حیات شرک و کفر کی تاریکیوں میں ہواتھا او رپھر اسی فلسفۂ باطلہ کی لاج رکھتے ہوئے، اُنہوں نے اپنی فکری مرعوبیت اورذ ہنی غلامی کاکھلا کھلا ثبوت فراہم کرڈالا ہے۔ یہ طرزِعمل خود اس حقیقت کو بے نقاب کردیتا ہے کہ ‘مفکر ِقرآن’ کس طرح قرآن کانام لے کر، فکر ِفرنگ اور فلسفۂ مغرب کی پیروی کیا کرتے تھے۔

عمر بھر کے مطالعۂ قرآن کے بعد بھی قرآن سے بے خبری:
‘مفکر ِقرآن’ اپنی ستائش آپ کرتے ہوئے اکثر اپنی عمر بھر کی قرآنی تحقیق و ریسرچ کاڈھنڈورا پیٹاکرتے تھے، مثلاً
”میں ، اے برادرانِ گرامی قدر! قرآنِ کریم کاطالب علم ہوں ، میں نے اپنی عمر کابیشتر حصہ اس کتابِ عظیم کی روشنی میں اپنی بصیرت کے مطابق اسلام کے بنیادی تصورات کامفہوم متعین کرنے میں صرف کیا ہے اورمیری اس کوشش کاماحصل،میری تصانیف کے اَوراق میں محفوظ ہے۔”( طلوعِ اسلام:جنوری 1973ء، ص27)
حیرت ہے قرآنِ کریم کی وہ واضح آیات جو فکر ِمغرب کی تردید کرتے ہوئے یہ اعلان کرتی ہیں کہ کاروانِ انسانیت نے اپنا سفر، کفر وشرک اور جہالت و بے علمی کی تاریکیوں میں نہیں بلکہ عقیدئہ توحید اور علم وحی کی روشنی میں شروع کیاتھا، اُن کی نگاہوں سے اوجھل ہی رہیں ۔صرف دو آیات ملاحظہ فرمائیے :
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةً وَ‌ٰحِدَةً فَٱخْتَلَفُوا…﴿١٩﴾…سورة یونس
”اور لوگ تو ایک ہی اُمت تھے پھر اُنہوں نے اختلاف کیا۔”
كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةً وَ‌ٰحِدَةً فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِ‌ينَ وَمُنذِرِ‌ينَ…﴿٢١٣﴾…
”(ابتدا میں )سب کچھ لوگ ایک ہی طریقے پر تھے۔ (پھریہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو مبشر اورمنذر تھے۔”
یہ دونوں آیات فکر ِپرویز کی تردیدکرتی ہیں ۔پہلی آیت کے تحت مولاناامین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :
”ضمناً اس سے جدید فلسفیوں کے اس نظریہ کی بھی تردید ہوگئی کہ انسان نے دین کاآغاز شرک سے کیا، پھر درجہ بدرجہ اِرتقا کرتے ہوئے توحید تک پہنچا۔ قرآن اس کے برعکس یہ کہتا ہے کہ خدا نے شروع ہی سے انسان کو توحیدکی تعلیم دی،لیکن گمراہوں نے اس میں اختلاف پیدا کرکے فتنے کھڑے کردیئے۔ہم نے فلسفۂ جدید کے اس باطل نظریہ کی تردید اپنی کتاب’حقیقت ِتوحید’ میں تفصیل سے کی ہے۔”( تدبر قرآن، جلد4 ص35)
اور دوسری آیت کے تحت مولانا عبدالماجد دریابادی فرماتے ہیں :
”آیت نے ایک بڑی گرہ کھول دی۔ فرنگی ‘محققین’ حسب ِمعمول مدتوں اس باب میں بھٹکتے رہے اور ان میں اکثر یہی کہے گئے کہ انسان کا ابتدائی مذہب شرک یاتعددِ آلہہ تھا۔ شروع شروع میں وہ ایک ایک چیز کو خدا سمجھتا تھا اور عقیدۂ توحید تک نسلی انسانی بہت سی ٹھوکریں کھانے کے بعد اور عقلی اور دماغی ارتقا کے بڑے طویل سفر کے بعد پہنچی ہے۔ قرآنِ مجیدنے اس خرافی نظریہ کوٹھکرا کر صاف اعلان کردیا کہ نسلِ انسانی آغازِ فطرت میں دینی حیثیت سے ایک اور واحد تھی۔ اس میں ‘مذہب’ و ‘اَدیان’ کے یہ تفرقے کچھ بھی نہ تھے۔امت ِواحدہ میں جس وحدت کا ذکر ہے، ظاہر ہے کہ اس سے دینی و اعتقادی وحدت ہی مراد ہے:
صدیوں کی اُلٹ پھیر اور قیل و قال کے بعد اب آخری فیصلہ بڑے بڑے ماہرین اَثریات، انسانیات و اجتماعیات (سرچارلس مارسٹن، پروفیسر لنگڈن اور پروفیسر شمڈٹ) کا یہی ہے کہ انسان کا اوّلین دین، دینِ توحیدتھا۔( تفسیرماجدی: صفحہ 83، حاشیہ 772)
تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے ہماری تحریر” مذہب کی ابتداء و تاریخ کے متعلق مختلف نظریات-ایک جائزہ

دوسری مثال: انکارِ نبوت ِ آدم:
پرویز صاحب حضرت آدم علیہ السلام کو نبی تسلیم نہیں کرتے اور اس کے لئے بایں الفاظ دلیل پیش کرتے ہیں :
”سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ قصۂ آدم میں کہا گیا ہے کہ خدانے آدم کو بالتصریح ایک حکم دیا اور آدم نے اس سے معصیت برتی، اس قسم کی معصیت کسی نبی کا شیوہ نہیں ہوسکتا… حضرات انبیا تو رہے ایک طرف، جیسا کہ بتایا جاچکا ہے،ابلیس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہے کہ {إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَـٰنٌ…﴿٤٢﴾…سورة الحجر} ”یقینا میرے بندوں پرتجھے غلبہ حاصل نہیں ہوگا۔”( تفسیر مطالب الفرقان: ج2؍ ص63)
یہاں دو باتیں قابل غور ہیں :
اوّلاً یہ کہ … آدم علیہ السلام کی یہ معصیت تھی کس قسم کی؟ جس کے متعلق خود پرویز صاحب فرماتے ہیں کہ ”اس قسم کی معصیت، کسی نبی کا شیوہ نہیں ہوسکتی۔”
حقیقت یہ ہے کہ آدم علیہ السلام، نہ تو معصیت کوش تھے اور نہ ہی نافرمانی ربّ کا وہ کوئی ارادہ رکھتے تھے۔ بات صرف یہ ہوئی کہ جیسا کہ پرویز صاحب بھی یہی ترجمہ کرتے ہیں :”{وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ …﴿٢١﴾…سورة الاعراف}”شیطان نے قسمیں کھا کر کہا: جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ، اس میں میرا کوئی فائدہ نہیں ۔ میں یہ سب کچھ تمہاری خیرخواہی کے لئے کررہا ہوں ۔” (مفہوم القرآن: آیت 7؍21)حضرت آدم علیہ السلام جن کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ کوئی فرد اللہ کے نام کی قسم کھاکر کسی کودھوکہ دے سکتاہے، اپنی فطری سادگی کی بنا پراس شیطانی چکمہ کا شکار ہوگئے، پھر یہ دھوکہ دہی کی واردات بھی پہلی ہی تھی کہ اس سے قبل اُنہیں کبھی کسی فریب دہی اور دھوکہ بازی کی صورتِ حال کا سامنا نہ ہواتھا، بلکہ اس وقت تک آدم علیہ السلام اپنی فطرت کی سادگی اور پاکیزگی پرقائم تھے کہ جھوٹ، دھوکہ اور فریب جیسے رذائل سے ان کاتعارف ہی نہ ہوا تھا۔ اس لئے وہ شیطان کے فریب میں آگئے ۔ کیا یہ واقعی اس قسم کی معصیت تھی جس سے انبیاے کرام بالاتر ہوا کرتے ہیں ؟ آخر وہ کسوٹی اور معیار تو بیان کیا جاتا جس کی رو سے انبیا کی معصیت اور غیر انبیا کی معصیت میں فرق کیا جاسکے۔

لغزشِ یونس او رپرویز صاحب:
پھر از روے قرآن حضرت یونس علیہ السلام سے جو کچھ سرزد ہوا ،کیا وہ آدم علیہ السلام کی لغزش سے بڑی لغزش نہ تھی، حالانکہ نبوتِ یونس ؑکے خود پرویز صاحب بھی قائل ہیں ۔حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق خودپرویز صاحب لکھتے ہیں :
”… وہ قوم کی مخالفت سے سخت گھبرا گیا اور پیشتر اس کے کہ اسے خدا کی طرف سے ہجرت کرنے کا حکم ملتا، وہ اپنے فرائض منصبی کو چھوڑ کر وہاں سے روانہ ہوگیا…۔”( برقِ طور: ص289)
پھرایک اور مقام پر حضرت یونس علیہ السلام کی لغزش کی وضاحت بایں الفاظ کرتے ہیں :
”خدا کی طرف سے ہجرت کا حکم، اُس وقت ملاکرتاہے جب اس قوم کا حق و صداقت کو قبول کرنے کا اِمکان باقی نہ رہے۔ اس سے پہلے وہاں سے چلے جانا گویا اپنے فرائضِ منصبی کو چھوڑ دینا ہے۔ یہی یونس علیہ السلام کی اجتہادی غلطی تھی۔” ( برقِ طور: ص289،290)
اب غور فرمائیے کہ ہمارے ‘مفکر ِقرآن’ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”اس قسم کی معصیت کسی نبی کا شیوہ نہیں ہوسکتا” یعنی کسی کی قسموں پراعتبار کرکے اسے شفیق ناصح جان کر اگر کسی سے لغزش ہوجائے تو یہ تو نبی کا شیوہ نہیں ہوسکتا، لیکن اگر کسی نبی سے ایسے حکم خدا کی نافرمانی ہوجائے جو سب انبیا کے لئے ہجرت کے لئے ایک مستقل ضابطہ کی حیثیت رکھتا ہے تو ایسی نافرمانی ”نبی کا شیوہ ہوسکتی ہے۔”
قربان جائیے’مفکر قرآن’ کی اس ‘قرانی فہم و بصیرت ‘کے!
ثانیاً یہ کہ … پرویز صاحب کا یہ استدلال کہ … ” شیطان نے آدم پر غلبہ پالیاجبکہ نبی تو رہا ایک طرف وہ اللہ کے مخلص بندوں پر بھی حاوی نہیں ہوسکتا۔” از حد لغو استدلال ہے، جو ‘مفکر ِقرآن’ کے غلبۂ شیطان کی حقیقت سے بے بہرہ ہونے کا نتیجہ ہے۔
غلبۂ شیطان کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے جملہ اُمور میں نہیں تو اکثر و بیشتر معاملات میں شیطان کا پیرو بن جائے اور شیطان کو اس پر اس قدر قابوحاصل ہوجائے کہ وہ راہِ راست پر نہ رہنے پائے۔ رہا کسی ایک آدھ معاملے میں ، شیطانی وسوسہ یاابلیسی نسیان کا شکار ہوجانا، تو اسے غلبۂ شیطان سے تعبیر کرناسوئے تعبیر ہے۔ اسے بیش از بیش’مسّ شیطان’ کہا جاسکتا ہے، چنانچہ قرآن مجید خود ‘غلبۂ شیطان’ اور ‘مسِ شیطان’ میں فرق کرتاہے۔ وہ اوّل الذکر کے متعلق یہ کہتا ہے کہ إنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنٌ (15؍42) ”یقینامیرے بندوں پر تجھے غلبہ حاصل نہیں ہوگا۔” اور ‘مس شیطان’ کے بارے میں خود قرآنِ کریم ہی میں یہ مذکور ہے کہ اہل تقویٰ حضرات بھی بعض اوقات اس سے محفوظ نہیں رہ پاتے، تاہم خدا کی یاد جب اُن کی آنکھیں کھول دیتی ہے تو ان کی خفیہ یا مدھم بصیرت میں بیداری یا جلا پیدا ہوجاتی ہے اور وہ ‘مس شیطان’ کے اثر سے چھٹکارا پالیتے ہیں ۔ قرآن مجید اس سلسلہ میں یہ فرماتا ہے:إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا إِذَا مَسَّهُمْ طَـٰٓئِفٌ مِّنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ تَذَكَّرُ‌وا فَإِذَا هُم مُّبْصِرُ‌ونَ …﴿٢٠١﴾…سورة الاعراف
”بے شک جو لوگ تقوی شعار ہیں انہیں جب شیطان کی طرف سے وسوسہ پہنچتا ہے اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کو آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔

انکارِ نبوت آدم علیہ السلام کی اصل وجہ:
حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت کے انکار کی اصل وجہ دراصل وہ فلسفہ تاریخ ہے جسے مغرب نے پیش کیاہے اور پرویز صاحب اُسے دل و جان قبول کرچکے ہیں ۔ نبوتِ آدم کا اقرار و اعتراف اس فلسفۂ تاریخ سے میل نہیں کھاتا جبکہ اسلامی فلسفۂ تاریخ کی رو سے آدم ؑ کی نبوت کوقبول کئے بغیر چارۂ کارنہیں ،کیونکہ روئے زمین پر اوّلین انسان کے ظہور پذیر ہونے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلسلۂ رشدو ہدایت کا اِجرا و آغاز ، رحمت ِخداوندی کا ویسا ہی ناگزیر تقاضا ہے جیسا انسان کی مادی ضروریات کو پورا کرنا۔
قرآن کریم کی رُو سے تخلیقِ بشر (آدم ؑ) کا مقصد ہی زمین میں خلافت کے فرائض کو انجام دینا ہے ( وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً)۔اگر وہ خدائی رہنمائی سے انحراف کرتاہے تو نہ صرف یہ کہ خلافت کی بجائے بغاوت کی راہ اختیار کرتا ہے بلکہ وہ مستحق سزا بھی ٹھہرتا ہے ۔آدمؑ کو زمین پر اُتارتے وقت یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دی تھیں :
فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًى فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ ﴿١٢٣﴾ وَمَنْ أَعْرَ‌ضَ عَن ذِكْرِ‌ى فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُ‌هُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ أَعْمَىٰ ﴿١٢٤﴾…سورہ طہ
”اب اگر میری طرف سے تمہیں ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا، وہ نہ بھٹکے گا، نہ بدبختی میں مبتلاہوگا اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، تو اس کے لئے دنیامیں بھی تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز بھی ہم اسے اندھا کرکے اُٹھائیں گے۔”
چنانچہ آدمؑ جو ابوالبشر اور اولیٰ الانسان تھے، اُسے امورِ خلافت کی انجام دہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے نورِ ہدایت سے نوازا اور مقامِ نبوت پرسرفراز فرمایا۔اس طرح انسانی معاشرہ کی ابتدا کفر و شرک او رالحاد و دہریت کی تاریکیوں میں ہونے کی بجائے توحید و رسالت اور رشد و ہدایت کی روشنی میں ہوئی۔ لیکن ‘مفکر ِقرآن’ کے قلب و ذہن اور حواس و مشاعر پر جو فلسفہ اپنی مضبوط گرفت قائم کرچکا ہے، اس کی رُو سے انسانی معاشرہ کی ابتدا، کفروشرک یاالحاد و دہریت سے ہوئی تھی او رپھررفتہ رفتہ یہ معاشرہ ارتقائی منازل طے کرتا ہوا توحید تک پہنچا۔ اب اس فلسفہ کی رو سے چونکہ اس نظریے کو ماننے کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی جسے قرآن پیدائشِ آدمؑ کے ساتھ ہی آغاز پذیرقرار دیتا ہے اس لیے پرویز صاحب کسی ایسی صورت حال کے قائل نہیں ہوسکتے جس میں انسانی معاشرہ کی ابتدا نور وحی اور ضیاے ہدایت میں ہوناقرار پائے۔
پرویز صاحب قرآن کے حقائق اور جدید تحقیقات میں جہاں کہیں تضاد و تصادم نظر آتا ہے بجائے اسکے کہ وہ بحیثیت’ محب قرآن’ قرآنی حقائق کو حتمی، قطعی اور یقینی قرار دے کر ‘جدیدتحقیقات’ کو یہ کہہ کر ردّ کر دیں کہ ”یہ تحقیقات ابھی خام ہیں ، ممکن ہے مستقبل کے علمی انکشافات اُنہیں ردّ کرکے وہ چیز پیش کردیں جومطابق وحی ہو” ‘ قرآنی آیات کی تعبیر ہی جدید تحقیقات کے مطابق بدل جاتے ہیں ۔ اس طرح وہ ہمیشہ قرآن پر ان تحقیقات کو شرفِ تقدم بخشتے رہے جواہل مغرب نے پیش کیں ۔اس سے بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ’مفکر ِقرآن’ کا راسخ ایمان قرآنِ کریم پرتھایا تحقیقات مغرب پر؟

تیسری مثال: حضرت نوح ؑ کی عمر
ہم اپنی تحریر ‘غلام احمد پرویز صاحب کی قرانی فکر-تضادات کا سیل رواں ‘ میں اس پر تفصیل پیش کرچکے ہیں ۔ اس میں اسکے علاوہ بھی بیسوں مثالیں پیش کی گئی تھیں کہ کیسے پہلے پرویز صاحب قرآنی موقف بیان کرتے رہے اور پھر بعد میں جب مغربی موقف سے آشنائی ہوئی تو قرآنی تعبیر ات کو اسکے مطابق بدل ڈالا۔ تحریر یہاں سے ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

‘مفکر قرآن’ پڑھتے تو قرآن ہی رہے ہیں مگر سوچتے رہے ہیں تہذیب ِغالب کی تحقیقات کی روشنی میں ۔ آنکھیں تو اُن کی اپنی تھیں مگر دیکھتے رہے ہیں مغرب کے زاویۂ نگاہ سے۔ الفاظ تو وہ قرآن ہی کے اپنی زبان سے ادا کرتے رہے ہیں مگر ان کے اندر معانی وہ فکر جدید سے لے کر داخل کیا کرتے تھے۔
پرویز صاحب اگر واقعی قرآن کو حجت اور سند سمجھتے تو ان پر لازم تھاکہ وہ قرآنی تعبیر کو ہی جدید نظریے مطابق بدل دینے کے بجائے أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًاسے 950 سال ہی مراد لیتے۔پھر جو کوئی اس طویل العمری پرشک و شبہ کااظہار کرتا تواسے یہ ہدایت فرماتے کہ وہ علمی انکشافات کا ابھی اور انتظار کرے تاآنکہ قرآن (وحی) کا یہ مفہوم ثابت ہوجائے۔” یہی رویہ ان کے لیے زیبا تھا اور ایک مقام پر خود اُنہوں نے اسے اختیار بھی کیاتھا، چنانچہ قصۂ صاحب ِموسیٰ ؑ کے ضمن میں اُنہوں نے یہی ہدایت فرمائی کہ
”عقل اپنی محدود معلومات کی بنا پر وحی کے کسی حکم کے خلاف اعتراض کرتی ہے، لیکن جب اس کی معلومات میں اضافہ ہوجاتا ہے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جو کچھ وحی نے کہا تھا، وہ سچ تھا۔لہٰذا عقل کے لیے صحیح روش یہی ہے کہ وہ وحی کی بات تسلیم کرنے اور اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتی رہے۔ جب اسے صحیح معلومات حاصل ہوجائیں گی تو وہ خود بخود وحی کی تصدیق کردے گی۔”( مفہوم القرآن: ص679)

چوتھی مثال: قتل ابناے بنی اسرائیل
یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ فرعونِ مصر نے ولادتِ موسوی سے قبل ابناے بنی اسرائیل کو قتل کرنے کا ظالمانہ سلسلہ شروع کررکھا تھا، خود قرآنِ مجیدبھی اس حقیقت کی تائید کرتا ہے۔ مگر جناب غلام احمد پرویز کو اس سے انکار ہے۔چنانچہ قرآنِ کریم کے ہر اُس مقام پر جہاں فرعون کے ہاتھوں ابناے بنی اسرائیل کاقتل مذکور ہے، اُنہوں نے یہ تاویل (بشرطیکہ اسے تحریف کی بجائے تاویل کہا بھی جاسکے) فرمائی ہے کہ فرعون اور آلِ فرعون فرزندانِ بنی اسرائیل کو ”جو ہر انسانیت سے محروم رکھنے کی کوشش” کہا کرتے تھے نہ کہ اُنہیں جان سے مار دینے کی۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں :”يُذَبِّحُ أَبْنَآءَهُمْ وَيَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ” …﴿٤﴾…سورة القصص ) اس کا عام ترجمہ یہ ہے کہ ” وہ ان کے اَبناء کو قتل کرتا اور ان کی نساء کو زندہ رکھتا اور اس طرح اس میں فساد برپاکرتارہتا” یہ الفاظ دو ایک دیگر مقامات پر بھی آئے ہیں ۔(مثلاً الاعراف:127،غافر:25،البقرة:49) ہمارے ہاں ان الفاظ کامفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ فرعون نے حکم دے رکھاتھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جتنے بھی بچے پیداہوں ، ان میں سے لڑکوں کوپیدا ہوتے ہی قتل کردیاجائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔یہ مفہوم صحیح نہیں ، اسے تورات سے لیا گیا ہے۔”( تفسیر مطالب الفرقان : ج2 ص173)
ہمیں افسوس ہے کہ مقالہ کی تنگ دامنی نہ تو ہمیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اقتباسِ بالا میں سوے تعبیر کے ذریعہ جو کرشمہ سازی کی گئی ہے، اس کاپردہ چاک کیاجائے اورنہ ہی اس بات کی کہ موقف ِ پرویز کے جملہ دلائل کاتفصیلی رد پیش کیا جائے اورنہ ہی اس امر کی کہ علماے سلف و خلف کے موقف کادلائل و براہین سے اثبات کیا جائے۔ مزید یہاں چونکہ موضوع کی مناسبت سے صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ’مفکر ِقرآن’ کے ایمان بالقرآن کی حقیقت کیا ہے اس لیے اس پر تفصیلی بات کرنا بہتر بھی نہیں ، جو احباب ان جملہ اُمور پرتفصیلی بحث پڑھنا چاہتے ہوں وہ یہ لنک (1،2) ملاحظہ کرلیں ۔

انکارِ قتل ابنائے بنی اسرائیل کی وجہ:
پرویز صاحب جس وجہ سے قتلِ ابناے بنی اسرائیل کاانکارکرتے ہیں ، وہی اس امر کو واضح کردیتی ہے کہ وہ فی الواقع قرآن کومانتے ہیں یاغیرقرآن کو؟ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ
”اس وقت تک مصر کی قدیم تاریخ سے جس قدر پردے اُٹھے ہیں ، ان میں سے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کردینے کاکوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ممکن ہے جب تاریخ کے مزید اوراق سامنے آئیں تو ان میں اس کے متعلق کوئی ذکر ہو، اس وقت تک صرف تورات میں یہ ملتا ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو مارنے کاحکم دے رکھا تھا۔ (کتابِ خروج)لیکن تاریخی نقطۂ نگاہ سے موجودہ تورات کی جو حیثیت ہے وہ اربابِ علم سے پوشیدہ نہیں ہے۔”( لغات القرآن: ص693،694)
اقتباسِ بالا نے پرویز صاحب کی مغرب کے مقابلے میں ذہنی غلامی اور فکری اسیری کو بالکل بے نقاب کرکے رکھ دیاہے۔ قرآنِ کریم بالفاظِ صریحہ فرعون کے متعلق یہ کہتا ہے کہ”يُذَبِّحُ أَبْنَآءَهُمْ وَيَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ” …﴿٤﴾…سورة القصص ) ”وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کیا کرتاتھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھا کرتاتھا” فرعونیوں کے متعلق بھی قرآن صراحت سے بیان کرتاہے کہ ”يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ…﴿٤٩﴾…سورہ البقرة”وہ تمہارے بچوں کو ذبح کیا کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کوزندہ رہنے دیا کرتے تھی۔۔۔”ایک دوسرے مقام پر ”یذبحون”کی جگہ ”یُقَتِّلُوْنَ” کے الفاظ آئے ہیں یعنی ”خوب قتل کیاکرتے تھے۔”
الغرض قرآن کریم نےیذبحون کہا ہو یا یقتلون، دونوں کامعنی ‘جان سے مار ڈالنا’ ہی ہے۔ لیکن ہمارے ‘مفکر قرآن’ کو یہ حقیقی اور عام فہم مفہوم قابل قبول نہیں کیوں ؟ محض اس لیے کہ ابھی تک حجری اور اثری انکشافات نے اس معنی کی تصدیق نہیں کی۔ گویا اصلی قابل اعتماد ماخذ الفاظ کلام اللہ نہیں ہیں بلکہ تاریخی آثار اور انکشافاتِ آثارِ قدیمہ ہیں ۔لہٰذا قرآنی مفہوم ان ہی کی روشنی میں متعین کیاجائے گا یعنی قرآنی الفاظ کا مفہوم قطعی نہیں بلکہ تاریخی آثار و کتبات سے برآمد شدہ مفہوم ہی قطعی ہے۔ یہ رویہ مغرب کی انتہائی ذہنی غلامی کا غماز ہے۔

ہمارے ‘مفکر قرآن’ ہوں یا دیگر منکرینِ حدیث، اُن کی یہ بات کس قدر قابل توجہ ہے اورموجب ِصد حیرت ہے کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور آپؐ کے اُسوۂ حسنہ کے متعلق بخاری، مسلم، موطا اور دیگر کتب ِحدیث کی شہادتوں کو بلا تکلف ردّ کردیتے ہیں اور محققین مغرب کی آثارِ قدیمہ سے ماخوذ تاریخی شہادت کو قبول کرلیتے ہیں حالانکہ یہ تاریخی شہادتیں اُن شہادات کے مقابلہ میں کوئی وزن نہیں رکھتیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں پائی جاتی ہیں ۔ منکرین حدیث مغرب کی جن تاریخی شہادتوں پر اعتماد کرتے ہیں ، ان میں سے قوی سے قوی ذریعہ بھی ابن ماجہ، حاکم، بیہقی کی ضعیف سے ضعیف روایت کے مقابلہ میں بھی ہیچ ہے۔ لیکن بُرا ہو ذہنی غلامی کا، ستیاناس ہو دماغی مغلوبیت کا، بیڑہ غرق ہو فکری اسیری کا، جس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ؎
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر!
ہمارے’مفکر قرآن’ فرماتے ہیں کہ قتل ابناے بنی اسرائیل کو مقتول و مذبوح قرار دینے والی آیات میں ‘جان سے مار ڈالنے’ کامفہوم اس لیے قابل قبول نہیں کہ ”اس وقت تک مصر کی قدیم تاریخ سے جس قدر پردے اُٹھے ہیں ، ان میں سے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیاہے، ممکن ہے جب تاریخ کے مزید اوراق سامنے آئیں تو ان میں اس کے متعلق کوئی ذکر ہو۔ کیایہ عجیب بات نہیں کہ قرآنی الفاظ کے قطعی مفہوم کونظر انداز کرکے مصر کی تاریخ پر سے مزید پردوں کے اُٹھنے کاانتظار کرتے کرتے وہ شخص مرگیا جواُٹھتے بیٹھتے قرآن قرآن کی رٹ لگائے رکھتا تھا اور قرآن کے اوّل و آخر سند ہونے کی دہائی دیا کرتاتھا۔ اب گویا حیاتِ پرویز ہی میں جب اثری تحقیقات میں سے کوئی ایسی شہادت مل جاتی جو ولادتِ موسیٰ علیہ السلام کے وقت اسرائیلی بچوں کو’جان سے مار ڈالنے’ کا انکشاف کرڈالتی تو پھر’مفکر قرآن’ ایک اور قلابازی کھاتے اور مفہوم قرآن از سر نو بدل کر کچھ اور ہوجاتا اورجب تک کوئی ایسی شہادت نہیں مل پاتی اس وقت تک ‘پیروانِ دعوتِ قرآنی’ پر لازم ہے کہ وہ ‘مفکر قرآن’ کے اندازاً بتائے ہوئے قیاسی معانی ہی کو سینے سے لگائے رکھیں ۔

تورات اور پرویز:
اور یہ بھی کیا خوب کہا ہے کہ ”اسرائیلی بچوں کو سچ مچ مار ڈالنے کا فرعونی حکم صرف تورات میں پایا جاتاہے مگر موجودہ تورات ‘ساقط الاعتبار’ ہے۔” یہاں ہمارے ‘مفکر قرآن’ کا یہ دو رُخا پَن بھی قابل غور ہے کہ اُنہوں نے جب اور جہاں چاہا تورات کے اُن واقعات کو بھی جو مطابقِ قرآن ہیں یہ کہہ کر رد کردیا کہ یہ واقعات تورات جیسی ساقط الاعتبار کتاب سے ماخوذ ہیں ” (مثلاً یہی قتل ابناے بنی اسرائیل کے واقعات) لہٰذا ناقابل قبول ہیں ۔لیکن دوسری طرف توراتِ محرفہ کے جن واقعات کو وہ اپنے منسوب الی القرآن تصورات کے موافق پاتے ہیں اُنہیں وہ ہاتھوں ہاتھ قبول کرلیتے ہیں (مثلاً نظامِ یوسفی میں اقتصادی نظام) پھر اُس وقت نہ تورات اُنہیں تحریف شدہ نظر آتی ہے اور نہ ہی ساقط الاعتبار۔
پھر ‘مفکر قرآن’ صاحب کا یہ دو رُخا پَن بھی ملاحظہ فرمائیے کہ قرآنِ کریم اگر یہ کہہ دے کہ”فرعون ابناے بنی اسرائیل کو قتل اور ذبح کیا کرتاتھا اور ان کی خواتین کو زندہ رکھاکرتا تھا۔” تو یہ قرآنی بیان ‘مفکر قرآن’ کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور اسے مردود قرار دینے کے لیے یہ فرماتے ہیں کہ ”یہ تورات جیسی ساقط الاعتبار کتاب سے ماخوذ تصور ہے۔” لیکن دوسری طرف وہ خود ایک ایسی ہی حقیقت کو جب اہل کتاب کی مذہبی کتابوں سے پیش کرتے ہیں تو بغیر کسی تردد، دغدغہ، تامل اور حیل و حجت کے ‘حقیقت ِواقعہ’ قرار دے کر قبول کرتے ہیں ، چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
”انجیل متی میں یہ بھی مذکور ہے کہ ہیرودلیسس نے بیت اللحم اور اس کی سرحدوں کے تمام بچوں کو جن کی عمر دو برس یا اس سے کم تھی، قتل کردیا تھا۔”( شعلہ مستور: حاشیہ بر ص16)
غور فرمائیے، انجیل متی کی سند پر ہیرودلیسس کا قتل اطفالِ مسلّم ومعتبر ہے لیکن قرآن کی سند پر قتل اطفال بنی اسرائیل غیر مسلّم ہے :
شعور و فکر کی یہ کافری معاذ اللہ!

پانچویں مثال: واقعہ قتل نفس اور ذبح بقرہ:
سورة البقرة میں ذبح البقرہ کے واقعہ کے ضمن میں قتلِ نفس کا واقعہ بایں الفاظ مذکور ہے :
وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَٱدَّ‌ٰرَ‌ٰ‌ْٔتُمْ فِيهَا ۖ وَٱللَّهُ مُخْرِ‌جٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ﴿٧٢﴾ فَقُلْنَا ٱضْرِ‌بُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَ‌ٰلِكَ يُحْىِ ٱللَّهُ ٱلْمَوْتَىٰ وَيُرِ‌يكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿٧٣﴾…سورة البقرة
”اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تب اس ضمن میں باہم جھگڑے اور ایک دوسرے پر الزام قتل تھوپنے لگے اور اللہ اُس امر کو کھولنے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھے۔ تب ہم نے کہا: لاشِ مقتول کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ، دیکھو! اللہ یوں اپنی نشایاں دکھاتے ہوئے لوگوں کو زندگی بخشتا ہے تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔”
اس آیت کی تفسیر میں قریب قریب جملہ علماے تفسیر نے یہ لکھا ہے کہ جس گائے کو ذبح کرنے کا حکم اس سے متصل پہلی آیات میں دیا گیا ہے، اسی کے گوشت کو مقتول کی لاش کے ساتھ لگانے کاحکم دیاگیا ہے:فَقُلْنَا ٱضْرِ‌بُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ﴿٧٣﴾…سورة البقرة) اس کے نتیجہ میں مقتول کچھ دیر کے لیے زندہ ہوا اور اپنے قاتل کا نام بتا کر ہمیشہ کے لیے پھر موت کی نیندسوگیا اور قاتل کو اس کے جرم کی سزا دے دی گئی۔
لیکن پرویز صاحب نے اس آیت کی تفسیر میں علماء کے اس تفسیری موقف کو نظر انداز کرکے ایک ایسی بات کہی ہے جو کسی حد تک ان کے اَنسب و احوط رویہ کی غماز ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
”اضربوہ ببعضھاکی تفسیر میں اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ خواب کثرتِ تعبیر سے پریشان ہوگیا ہے لیکن بایں ہمہ بات ویسی کی ویسی ہی مشکل رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے اور اس کا صحیح مفہوم تاریخی انکشافات کی روشنی میں ہی متعین ہوسکتاہے جس طرح فرعون کی لاش کے محفوظ رکھے جانے کا بیان ایک تاریخی واقعہ تھا۔ صدیوں تک اس آیت کی تفسیر میں مختلف قیاس آرائیاں ہوتی رہیں لیکن جب تاریخ نے اپنے چہرہ سے نقاب اُٹھایا تو مصر کے تہہ خانہ میں اس آیت کی تفسیر مجسم نظر آگئی۔ اسی طرح محولہ صدر واقعہ بھی تاریخ سے متعلق ہے قیاس آرائیوں سے اس کا صحیح مفہوم متعین نہیں ہوسکتا۔ یہ آیت بھی ابھی متشابہات کی فہرست میں ہے، تاریخ اپنا کوئی اور ورق الٹے گی تو اس وقت یہ آیت محکمات کی فہرست میں منتقل ہوجائے گی۔ قرآنی حقائق و معارف زمانہ کے شکن درشکن گیسوؤں میں لپٹے ہوئے ہیں ۔ علم انسانی کی نسیم سحری جوں جوں ان پیچوں کو کھولتی جاتی ہے یہ گوہر آبدار حسین آویزوں کی طرح وجۂ درخشندگی عالم ہوتے جاتے ہیں ۔”( معارف القرآن: ج3؍ ص356)
یہ تفسیری موقف پرویز صاحب نے 1935ء میں اختیار کیاتھاجس کے تحت ایسی آیات کومتشابہات میں سمجھتے ہوئے اس کی تفسیر کو یہ کہہ کر معرضِ اِلتوا و انتظار میں ڈال دیا تھا کہ ”جب تک تاریخ اس طرح کی کوئی مجسم تفسیر پیش نہیں کردیتی جیسی کہ فرعون کے بدن کو محفوظ رکھنے والی آیت میں پیش کی گئی ہے، اس وقت تک اسے متشابہات میں سے ہی سمجھا جائے گا۔”نیز اُنہوں نے یہ بھی فرمایا تھاکہ ‘قتل نفس’کے زیر بحث واقعہ میں ا بھی ‘قیاس آرائیوں ‘ سے اس کامفہوم متعین نہیں ہوسکتا۔
لیکن بعد میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد ان کی فضاے دماغی میں ایک لہر اُٹھی اور ظن و تخمین اور گمان و تخریص پر مبنی ایک خالص قیاسی تفسیر بایں الفاظ صفحۂ قرطاس پر مرتسم ہوگئی :
”ہم جو کچھ سمجھ سکے ہیں ، وہ یہ ہے کہ توہم پرستیوں سے لوگوں کی نفسیاتی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ ذرا سے خلافِ معمول واقعہ کا سامنا نہیں کرسکتے اور اس کے احساس سے ان پرلرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ یہی کیفیت بنی اسرائیل کی ہوچکی تھی اور واقعۂ قتل میں ان کی نفسیاتی حالت کو تحقیق مجرم کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ ان سے کہا گیا کہ مشتبہ ملزموں میں سے ایک ایک شخص، لاش کے قریب سے گزرے اور لاش کا کوئی حصہ اُٹھاکر اس شخص کے جسم سے چھوا جائے، ملزم کی پہچان ہوجائے گی۔ ظاہر ہے کہ اس سے مجرم کی جو حالت ہوئی ہوگی، وہ اس کے داخلی احساسات کی غماز بن گئی ہوگی۔ اس طرح جب مجرم کاتعین ہوگیا تو اس سے قصاص لے لیا گیا۔ قرآن نے قصاص کے متعلق کہا ہے کہ اس میں رازِ حیات ہے۔ یہ بہرحال ہمارا قیاس ہے حقیقت اس وقت ہی سامنے آئے گی جب تاریخی انکشافات اس کی نقاب کشائی کریں گے۔”( برقِ طور:ص190،191)
پھر اس’قیاسی تفسیر’ کو جس کے متعلق خود اُن کا اپنا اعتراف ہے کہ ”یہ ہمارا قیاس ہے۔” عین مفہوم قرآن بناکر یوں پیش کرتے ہیں :
”ایک طرف تمہاری یہ حالت کہ ایک جانور کو ذبح کرنے میں اس قدر حیل و حجت اوردوسری طرف یہ عالم کہ ایک انسانی جان ناحق لے لی اوراسے خفیہ طور پر مار دیا اور جب تفتیش شروع ہوئی تو لگے ایک دوسرے کے سر الزام تھوپنے یعنی تم میں اتنی اخلاقی جرات بھی نہ تھی کہ جرم ہوگیاتو کھلے بندوں اس کااعتراف کرلیتے، لیکن جس بات کوتم چھپانا چاہتے تھے، خدا اُسے ظاہر کردینا چاہتا تھا تاکہ جرم بلاقصاص نہ رہ جائے۔مشرکانہ توہم پرستیوں سے جن میں تم مبتلا ہوچکے تھے، انسان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے کسی ذرا سی خلافِ معمول بات کا سامنا کرنا پڑے تو اس پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ (22؍31) چونکہ خدا تمہاری اس نفسیاتی کیفیت سے واقف تھا، اس نے قاتل کاسراغ لگانے کے لیے ایک نفسیاتی ترکیب بتائی ( جوانسان کی اُس زمانے کی ذہنی سطح کے اعتبار سے بڑی خلافِ معمول تھی) اُس نے کہا: تم میں سے ایک ایک جاؤ اوراپنے حصہ جسم کو لاش کے ساتھ لگا دو۔ (چنانچہ جو مجرم تھا، وہ جب لاش کے قریب پہنچا تو خوف کی وجہ سے اس سے ایسے آثار نمایاں ہوگئے جو اس کے جرم کی غمازی کرنے کے لیے کافی تھے) اس طرح اللہ نے اس قتل کے راز کو بے نقاب کردیا اورمجرم سے قصاص لے کر موت کو زندگی سے بدل دیا کیونکہ قصاص میں قوم کی حیات کاراز پوشیدہ ہوتا ہے۔(2؍179) اللہ اس طرح اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل و شعور سے کام لے کر ایسے معاملات کو سلجھایا کرو اور اس حقیقت کوسمجھ لو کہ نفسیاتی تغیرسے (افراد سے آگے بڑھ کر)کس طرح خود قوموں کی حالت بدل جاتی ہے۔”( مفہوم القرآن:ص25)

قرآنی الفاظ کے اختصارکوبھی دیکھئے اور پھر انہی الفاظ کے مفہوم کے طول وعرض کو بھی اور سوچئے کہ اگر یہی قرآنی مفہوم ہے تو کیا عرب کے اَن پڑھ اور سادہ مزاج بدؤوں کے حاشیۂ خیال میں بھی یہ مفہوم آسکا ہوگا جبکہ اس مفہوم سے خود ‘مفکر قرآن’ بھی بایں علم و دانش اور حکمت و فضیلت 1935ء تک محروم تھے۔ پھر اس ‘مفہوم القرآن’ کو اس پہلو سے بھی دیکھئے کہ اس میں کس قدر قرآنی الفاظ کی رعایت پائی جاتی ہے اورکس قدر ‘مفکر قرآن’ کے اپنے قیاس وگمان کادخل ہے۔ پھر یہ کہ قیاس و گمان اور لفاظی کایہ مرکب ایک سادہ اور عام فہم عرب کو قرآن سے قریب تر کرے گا یا بعید تر؟ یہ ہرشخص خود محسوس کرسکتا ہے۔
پرویز صاحب کے اس ‘مفہوم القرآن’ کے مقابلہ میں مندرجہ ذیل مفہوم آیات کو بھی ملاحظہ فرمائیے جسے قرآنی الفاظ کی حدود میں رہ کر اس خوبی سے پیش کیاگیا ہے کہ قرآنی ترجمہ اور شرحِ مفہوم میں ربط و ہم آہنگی نمایاں ہوجاتی ہے اور عبارت بھی الفاظ کے اِسراف و تبذیر سے قطعی پاک ہے:
”اور (وہ زمانہ یادکرو) جب تم لوگوں (میں سے کسی) نے ایک آدمی کاخون کردیا پھر (اپنی براء ت کے لئے) ایک دوسرے پرڈالنے لگے اور اللہ کو اس امرکاظاہر کرنامقصود تھا جس کو تم (میں سے مجرم و مشتبہ لوگ) مخفی رکھناچاہتے تھے۔ اس لیے (ذبح بقرہ کے بعد) ہم نے حکم دیاکہ اس (مقتول کی لاش) کو اس (بقرہ) کے کوئی سے ٹکڑے سے چھو دو (چنانچہ چھوانے سے وہ زندہ ہوگیا۔ آگے اللہ تعالیٰ بمقابلہ منکرین قیامت کے اس قصہ سے استدلال اورنظر کے طور پر فرماتے ہیں کہ ) اسی طرح حق تعالیٰ (قیامت میں ) مردوں کو زندہ کردیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے نظائر (قدرت)تم کودکھلاتے ہیں اس توقع پر کہ تم عقل سے کام لیا کرو (اور ایک نظیر سے دوسری نظیر کے انکار سے باز آؤ)۔”( تفسیرمعارف القرآن از مفتی محمد شفیع: رحمة اللہ علیہ ج1؍ص246)
اگرچہ ‘مفکر قرآن’ کا کسی ‘تاریخی انکشاف’ کاانتظار بھی کوئی خوشگوار موقف نہیں ہے لیکن اس کی بجائے اپنے قیاس و گمان پرمبنی موقف کو الفاظ کابے تحاشا اسراف کرتے ہوئے لفاظی اور وہم و گمان کے مرکب کی شکل میں ‘مفہوم القرآن’ کے نام سے پیش کرنا اس سے بھی بدتر عمل ہے۔ یہ بحث اور یہ واقعہ بھی ‘مفکر ِقرآن’ کے ایمان بالقرآن کی حقیقت کو بے نقاب کر ڈالتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس قرآن کے واحد مسند اور تنہا حجت ہونے کاڈھنڈورا ‘مفکر ِقرآن’ پیٹا کرتے تھے۔ اس پر ان کازبانی کلامی ایمان ہو تو ہو، عمل کی دنیا میں خوردبین لگا کر دیکھنے سے بھی اس کے اثرات دکھائی نہیں دیتے۔ وہ اپنی عملی زندگی میں قرآن کے نہیں بلکہ مغرب ہی کے پیروکار تھے قرآن کے نام پر جو کچھ وہ عمر بھر پیش کرتے رہے ہیں ، وہ سب کچھ بغیر کسی قرآن کے مغرب میں موجود ہے۔ وہ اشتراکیت جس کاچوہا جبل قرآن سے کھود نکالنے میں ‘مفکر قرآن’ نے بڑی زحمت اور مشقت اُٹھائی ہے وہ اُن کے ایسا کرنے سے بہت پہلے روس، چین اور دیگر ممالک میں موجود تھی۔ ‘مفکر قرآن’ کا اس باب میں اصل ‘اجتہادی کارنامہ’ یہ ہے کہ اُنہوں نے جو کچھ بھی پیش کیا ہے، اسے مغرب کی اصطلاحوں میں پیش کرنے کی بجائے اپنی اصطلاحوں میں پیش کیا ہے مثلاً وہ اشتراکیت کو پیش کرتے ہیں تو اس کے اصل نام کے ساتھ نہیں بلکہ ‘نظام ربوبیت’ کے نام سے پیش کرتے ہیں ۔کارل مارکس کی ‘جدلی مادیت’ کافلسفہ ان کے ہاں ‘حق و باطل کی کشمکش’ قرار پاتا ہے۔’تاریخی وجوب’ کی قوت کو وہ ‘زمانے کے تقاضے’ کہہ دیتے ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ زہرہلاہل کی بوتل پر آبِ حیات کالیبل چسپاں کردینے سے زہر کی اصل حقیقت تو نہیں بدل جاتی۔

ساتویں مثال: ولادت ِ عیسیٰ علیہ السلام ؛ قرآن اور ‘مفکر قرآن’
اس آخری مثال میں اس امر کاپھر جائزہ لیاجارہا ہے کہ زیر بحث معاملہ میں پرویز صاحب اپنے عقائد و تصورات کو تابع قرآن رکھتے ہیں یانہیں ؟ اس ضمن میں اُنہوں نے جو کچھ بھی لکھنا تھا وہ اپنی کتاب ‘شعلۂ مستور’ میں لکھ چکے ہیں کیونکہ باقی ہرجگہ وہ یہی فرماتے ہیں کہ جسے تفصیل درکار ہو، وہ شعلۂ مستور کی طرف رجوع کرے۔جس کاصاف مطلب یہ ہے کہ مسئلہ زیربحث میں ان کے افکار و نظریات کی آخری ترجمان یہی کتاب ہے، اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں :
”اس(قرآن) میں بالتصریح کہیں نہیں لکھا کہ حضرت عیسیٰ ؑکی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی تھی، نہ ہی یہ لکھا ہے کہ آپ یوسف کے بیٹے تھے۔”( شعلۂ مستور، ص105)
اب جب کہ قرآن سے بالتصریح یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیداہوئے تھے یا باپ کے ذریعہ تواس کا لازمی اور منطقی تقاضا یہی قرار پاتا ہے کہ مکمل سکوت اختیار کیاجائے۔نہ اس بات پر زور دیا جائے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور نہ ہی اس بات پرکہ وہ باپ کے ذریعہ متولد ہوئے۔علمی دیانت بھی اسی خاموشی کو لازم ٹھہراتی ہے۔ قرآن کریم کے ایک مخلص اور خداترس طالب ِعلم کے لیے بھی صرف اور صرف یہی رویہ شایانِ شان ہے۔ نیز تقویٰ و پرہیزگاری کے علاوہ حکمت ومصلحت کے لحاظ سے بھی عافیت اسی طرزِ عمل میں ہے۔ لیکن ہمارے ‘مفکر قرآن’ صاحب نہ تو قرآن کی حدود میں رہناپسند کرتے ہیں (کہ آزادی، انسان کا ‘بنیادی حق’ ہے، جس سے محروم ہونا اُنہیں پسند نہیں ) اورنہ ہی سکوت و خاموشی اختیار کرنا چاہتے ہیں (کہ ایساکریں تو ان کی عقلِ عیار بیکار اور ان کا شغلِ قلم کاری تعطل کاشکار ہوکر رہ جاتے ہیں ) اس لیے وہ خود کو مجبور پاتے ہیں کہ قرآنی ‘اَغلال و اِصر’ سے آزاد ہوکر دنیاے مغرب کے اسلام دشمن ‘محققین’ (مثل رینان وغیرہ) کی اتباع میں ابن مریم ؑ کو ‘ابن یوسف’ بنا ڈالیں اور پھر اپنی بے معنی نکتہ آفرینیوں دور ازکارموشگافیوں اور خسیس و رکیک تاویلات کے ذریعہ اپنی ہر لمحہ بدلنے والی عقلِ عیار کی خاطر قرآنِ کریم کے محکم اور اٹل حقائق کو توڑا مروڑا جائے۔
حرام ہے ‘مفکر قرآن’ صاحب یہ سوچیں کہ قرآنی حقائق کی شکست و ریخت کے نتیجہ میں معارف القرآن جلد سوم میں اس بحث پر جو کچھ وہ لکھ چکے ہیں ، اس کے ساتھ قدم قدم پر تضادات و تناقضات کاکس قدر وسیع و عریض خار زار پیدا ہورہا ہے۔ بس اب ان کے قلب و ذہن پر ایک ہی دُھن سوار ہے کہ واقعہ ٔ ولادتِ مسیح علیہ السلام سے معجزانہ پہلو کو زائل کردیا جائے، خواہ اس کے لیے ترجمہ آیت اور مفہوم قرآن میں مسخ و تحریف سے کام لینا پڑے یا قواعد ِزبان کو پس پشت ڈالنا پڑے یابین القوسین اضافی الفاظ کے ذریعہ مدلولاتِ آیات کا حلیہ بگاڑنا پڑے۔
حضرت عیسیٰ ؑ کی بن باپ ولادت سے انکار کے لئے بھی پرویز صاحب کی ‘قرآنی بصیرت’ قرآنِ کریم کو ناکافی سمجھتی رہی۔ (اگرچہ وہ اپنی زبان سے {أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ} کے الفاظ کا ورد کرتے ہوئے ہرمعاملہ میں ، قرآن ہی کے کافی ہونے کا اعلان کرتے رہے) پھر قرآن کو ناکافی گردانتے ہوئے، اُنہیں یہ اعلان کرنا پڑا کہ
”اس میں بالتصریح کہیں نہیں لکھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی تھی اور نہ ہی یہ لکھا ہے کہ آپ یوسف کے بیٹے تھے۔”( شعلہ مستور، ص105)
اب ظاہر ہے کہ جب حسبنا کتاب اﷲ کے دعوے دار ‘مفکر ِقرآن’ کو اس مسئلہ میں قرآن ناکافی نظر آیا اور ان کے سر پر مجبوری کی یہ تلوار بھی لٹک رہی تھی کہ ولادتِ مسیحؑ کو بہرحال بن باپ کی پیدائش ‘ثابت’ کرنا ہے، تو اُنہیں ‘اضطراراً’ اُن اناجیل کی طرف رجوع کرنا پڑا جن کی ثقاہت اور استنادی حیثیت کے وہ خود بھی قائل نہیں تھے، چنانچہ اُنہیں یہ کہنا پڑا :
”قرآنِ کریم تک آنے سے پیشتر، ہمیں ایک بار پھر اناجیل پر غور کرلینا چاہئے، اناجیل جیسی کچھ بھی ہیں ، بہرحال ان ہی کے بیانات کو سامنے رکھا جائے،(اسکے سوا چارہ ہی کیا ہے)۔”( شعلہ مستور ، ص58)
اب اس شخص کا معاملہ کس قدر پرفریب ہے جو تنہا قرآن ہی کو سندو حجت بھی قرار دے اور پھر مغربی مآخذ کو اپنا مرجع بھی بنائے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ‘مفکر ِقرآن’ صاحب، قرآن کو نہیں ، بلکہ تہذیب ِمغرب ہی کے اُصول و مبادی کو اور مغربی تحقیقات ہی کو عملاً حجت و سند سمجھا کرتے تھے۔ وہ بڑے ہی ‘خلوص سے’ اس بات کے متمنی تھے کہ اُمت ِمسلمہ کو قرآن اور رسولِ قرآن سے منحرف کرکے، لوگوں کو اپنی اُن آرا کا تابع فرمان بنایا جائے، جنہیں قرآن کے نام پر مغرب سے مستعار لے کر وہ پیش کیا کرتے تھے۔ کیونکہ (بزعم اُو) آفتابِ قرآن کی روشنی، روایاتِ حدیث کے کثیف بادلوں میں سے گزر کر ہم تک نہیں پہنچ سکتی (لیکن ‘مفکر ِقرآن’ کی آراء و اَہوا کے تہہ در تہہ دھوئیں میں سے گزر کر ہمارے پاس آسکتی ہے)۔۔۔!

قرآن بمقابلہ مغربیت اور روّیۂ پرویز:

گزشتہ ساری بحث سے مفکر قرآن’ صاحب کے ‘قرآنی ذوق’ اور ‘علمی مزاج’ کایہ پہلو قارئین کرام سے مخفی نہیں رہا کہ قرآنی تصریحات اور مغربی تحقیقات میں جب تعارض واقع ہوجاتا ہے تو ان کے نزدیک قرآنی تصریحات کی بجائے مغربی تحقیقات ہی شرفِ تقدم کا مستحق قرارپاتی ہیں ۔ اس کے لیے ان کی دلیل یہ ہوا کرتی ہے کہ ”ہمارے ہاں تو جمود ہی جمود اور تقلید ہی تقلید ہے، تحقیق و ریسرچ کا کام تو ہے ہی نہیں ، یہ تو صرف مغرب ہی میں پایا جاتاہے۔ لہٰذا تحقیقاتِ مغرب کی طرف رجوع ناگزیر ہے۔( سلیم کے نام، ج3، ص140)”
اس سے قارئین کرام یہ نہ سمجھیں کہ پرویز صاحب تقلید سے بے زار اور گریزاں تھے۔ ایساہرگز نہیں تھا، وہ بڑے پختہ مقلد تھے اور انتہائی جامد اور اندھی تقلید میں مبتلا تھے۔ امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ ، امام مالک رحمة اللہ علیہ ، امام شافعی رحمة اللہ علیہ اور امام احمد حنبل رحمة اللہ علیہ کی تقلید کی سخت مخالفت (بلکہ مذمت) کیا کرتے تھے۔ لیکن’امام’ کارل مارکس ، ‘امام’ ماؤزے تنگ، ‘امام’ چارلس ڈارون اور ‘امام’ رینان کی تقلید ِجامد پر ڈٹے ہوئے تھے۔ اور وہ بھی اس حد تک کہ اگر کہیں قرآن اور ائمہ مغرب کے موقف میں غیرفیصلہ کن صورتحال (TIE) پڑ جاتی تو وہ مغرب ہی کے اماموں کی پیروی کو ترجیح دیتے ہوئے قرآن کوچھیل چھال کرکتاب اللہ کو مطابق مغرب بنانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ قرآنی تصریحات کو وہ اپنی اُس ‘عقل عیار’ کی کسوٹی پر پرکھا کرتے تھے جو مغربیت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی اور جسے وہ اپنی ‘قرآنی بصیرت’ کانام دیاکرتے تھے۔
‘مفکر قرآن’ صاحب اگرچہ نام قرآن ہی کا لیا کرتے تھے لیکن ہدایت و ضلالت کا اصل معیار اُن کے ہاں تحقیقاتِ مغرب ہی تھیں ۔ قرآن، قرآن کی رَٹ لگاتے ہوئے بھی وہ اپنے قلبی آرا و افکار، ذہنی نظریات و معتقدات اوردماغی خیالات و تصورات کو اَصل قرار دے کر قرآنِ کریم کو ان کے مطابق ڈھالا کرتے تھے، نہ کہ ان (تخیلات و مزعومات) کو قرآن کے مطابق۔ لیکن بڑی ڈھٹائی اور بلند آہنگی سے وہ الٹا اعلان یہ کیا کرتے تھے :
”ہمارے سامنے ، ہدایت اور ضلالت کا معیارقرآنِ مجیدہے۔ اگر ہمیں اپنی ہدایت و ضلالت کااندازہ لگانا ہو تو اس کے لیے ہمیں یہ کرنا چاہئے کہ اپنے دماغ میں جواعتقادات ہوں ، اُنہیں قرآنِ مجید کی کسوٹی پرپرکھیں اور ایسا کرتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ہم اس بات کا التزام رکھیں کہ اپنے دماغ کے کسی عقیدہ کو قرآن پر اثر انداز نہ ہونے دیں ، ورنہ ترازو، باٹ اور جس چیز کو تولا جارہا ہے۔ سب خلط ملط ہوجائیں گے اور ہم فیصلہ نہیں کرسکیں گے کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا؟ میرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کوتمام مذاہب ، آرا و افکار ، عقائد و خیالات کے بارے میں اصل مانناچاہئے نہ یہ کہ ہم مذاہب و عقائد کو اصل مان کر پھر ان پر قرآنِ مجید کو پرکھیں اور پھر قرآن مجید میں تاویل و تحریف کریں جیسا کہ ضآلین اور بے توفیق لوگوں کا شیوہ رہاہے۔” (طلوعِ اسلام: جنوری 1959ء ص31 )

استفادہ تحریر: غلام احمد پرویز کے ایمان بالقرآن کی حقیقت از محمد دین قاسمی

 

پرویزصاحب کے فہم قرآن کے اصول-ایک جائزہ

پرویز صاحب اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ وہ قرآن ہی سے سب کچھ لیتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں قرآن ہی کی بنیاد پر کہتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ قرآن مجید کے فہم کے لیے یا قرآن مجید تک رسائی کے لیے انھوں نے جو اصول قائم کیے ہیں وہ اصول کتنے معقول اور صحیح ہیں؟
قرآن مجید کو سمجھنے کے لیے پرویز صاحب نے جو اصول اپنائے ہیں ان میں سب سے اہم اور بنیادی چیز، زبان کے بارے میں ان کا تصور ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ قرآن مجید زبان کے لبادے میں ہے۔ قرآن مجید کے فہم کے لیے اس کی زبان سے اعلیٰ سطح کی واقفیت ضروری ہے۔
اب ظاہر ہے کہ زبان میں مسلسل ارتقا سے یہ چیز پیدا ہوگئی ہے کہ آج جو لفظ بھی ہم بولتے ہیں اس کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ یعنی اگر آپ کسی لفظ کی تاریخ کا تتبع کریں، اس کے پیچھے پیچھے چلیں اور یہ جانیں کہ یہ کیسے بنا ہے تو ممکن ہے کہ آپ اس لفظ کی اصل تک پہنچ جائیں کہ یہ لفظ حقیقت میں کیا تھا؟ ارتقا کے کن مراحل سے گزرا؟ ابتداء میں کس مفہوم کا حامل تھا؟ بعد میں اس کے معنی میں کیا تبدیلی آئی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو زبان کے ماہرین زیر بحث لاتے ہیں اور اس طرح لغوی تحقیق کا علم وجود میں آتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض اوقات ایسی تحقیق کسی نتیجے تک نہ پہنچے لیکن بالعموم اس طریقہ تحقیق سے ہم اس لفظ کی حقیقت تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو دنیا کی ہر زبان میں ہوتی ہے۔ عربی زبان کا معاملہ یہ ہے کہ دوسری زبانوں کے اختلاط سے نہیں بنی۔ اس لیے اس میں یہ تحقیق اور بھی آسان ہوجاتی ہے۔ اور اس میں ہم بہت آسانی کے ساتھ یہ بتا دیتے ہیں کہ یہ ایک مادہ ہے جس سے مختلف الفاظ مختلف مراحل میں بنتے چلے گئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے آدمی یہ جان لیتا ہے کہ ہم جس لفظ کو آج بول رہے ہیں یہ لفظ اپنا کیا پس منظر رکھتا ہے، اس میں یہ معانی کیسے پیدا ہوئے ہیں؟

علم لسانیات اور متکلم کا کلام:

لیکن اس ساری بحث میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اس کا تعلق علم لسانیات سے ہے، زبان کے فہم یا کسی کے کلام پر تدبر سے نہیں، یہ بالکل دوسری چیز ہے۔ کسی کلام کا متکلم جب اپنا مدعا بیان کرتا ہے تو اس میں کوئی چیز یہ اہمیت نہیں رکھتی کہ جو لفظ اس نے استعمال کیا ہے، اس لفظ کی تاریخ کیا ہے؟
اس میں جو چیز بہت اہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ اس نے یہ لفظ جب استعمال کیا اس وقت یہ کس معنی میں بولا جاتا تھا؟ جو محاورہ استعمال کیا گیا اس زمانے میں اس کا کیا مفہوم تھا؟ یہ چیز بالکل بدیہی ہے۔ تفہیم کلام کے لیے ہم اردو زبان سے چند آسان مثالیں پیش کر رہے ہیں جو اصول یہاں پیش نظر ہے، ظاہر ہے، ان کا اطلاق دیگر زبانوں پر بھی ہوگا۔

1۔شوربے کی لغوی تاریخ اور آجکل مفہوم:
۱۔ ہم اردو زبان میں ایک لفظ کثرت سے بولتے ہیں ’’شوربا‘‘۔ آج بھی ہم یہ لفظ بولتے ہیں اور آج سے پہلے بھی یہ لفظ بولا جاتا رہا ہے۔ آج اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے شوربے کے ساتھ روٹی کھائی ہے تو اس کا ایک مفہوم جو اس زمانے میں جب ہم یہ لفظ بول رہے ہیں، ہر ایک بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ ہم یہ جملہ زبان سے ادا کرتے ہیں تو ہمارا مخاطب فوراً اس کا مفہوم سمجھ لیتا ہے۔ اس مفہوم کو سمجھ لینے کے بعد وہ ہمارے مدعا کو پالیتا ہے۔ اس میں اس کو کوئی دقت نہیں ہوتی۔ یعنی وہ ’’میں نے شوربے سے روٹی کھائی ہے‘‘۔ کا جملہ سن کر نہ تو ’’میں‘‘ کی لسانی تاریخ سے بحث کرتا ہے نہ ’’نے‘‘ کی تحقیق کرتا ہے نہ تو اسے ’’روٹی‘‘ کا لسانی پس منظر جاننے کی ضرورت پڑتی ہے اور ہی اسے ’’کھائی ہے‘‘ کی لغوی تاریخ سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ اگر اردو زبان سے واقف ہے تو ہم جیسے ہی یہ جملہ بولتے ہیں وہ اپنے متعارف علم کی بنیاد پر ہمارا مفہوم سمجھ لیتا ہے۔ یہی بات زبان میں اصل اہمیت رکھتی ہے۔
اب فرض کیجیے کہ علم و دانش کی کسی مجلس میں کوئی لسانیات کا ماہر ہے۔ اس سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ یہ لفظ ’’شوربا‘‘ کیسے بنا۔ تو وہ مثال کے طور پر کہتا ہے کہ اصل میں یہ لفظ قدیم دری زبان سے ہوتا ہوا آیا ہے۔ ’’شور‘‘ نمک کو کہتے ہیں۔ اب بھی فارسی میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے، اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ سمندر کو اسی وجہ سے دریائے شور کہا جاتا ہے اور ’’با‘‘ پانی کو کہتے ہیں۔ تو یہ لفظ نمکین پانی کے لیے مستعمل تھا۔ رفتہ رفتہ ایک خاص طرح کے سالن کے لیے استعمال ہونے لگا۔ ایک ماہر لسانیات کی اس تحقیق سے ہمیں روشنی ملی کہ یہ لفظ کیسے بنا، اس کا پس منظر کیا ہے، لیکن وہ مفہوم جو متکلم نے یہ جملہ بول کر ’’میں نے شوربے سے روٹی کھائی ہے‘‘ ادا کرنا چاہا تھا، اس نے نہ اس تحقیق میں اضافہ کیا اور نہ رد و بدل کیا۔ وہ مفہوم اپنی جگہ ہے۔ اب دیکھیے کہ یہ بحث اگر لسانیات کے دائرے میں رہے تو اس میں ایک حسن بھی ہے، اس کی داد بھی دی جاسکتی ہے، اس سے لطف بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔
لیکن یہ جملہ اگر ایک مصنف نے اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ میں نے شوربے سے روٹی کھائی۔ یعنی کوئی مضمون بیان کرتے ہوئے یا کوئی روداد لکھتے ہوئے یہ جملہ لکھ دیا۔ اب کتاب پر دو چار پانچ دس صدیاں گزر گئیں۔ اب اس کے بعد ایک آدمی نے اس کتاب کی شرح لکھنے کا ارادہ کیا۔ شرح لکھتے وقت فطری اصول یہ ہوگا کہ شارح یہ دیکھے کہ جب یہ کتاب لکھی گئی اس وقت شوربا کسی مفہوم میں استعمال ہوتا تھا۔ وہ اگر اس زمانے کی تحقیق کرے گا اور اس کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ خاص طرح کے سالن کا شوربا کہا جاتا تھا تو وہ مصنف کا مفہوم صحیح سمجھ لے گا۔ لیکن اس کے برخلاف اگر اس نے کہیں سے لسانیات کی کوئی کتاب اٹھالی اور شوربے کی تاریخ پر تحقیق کرنا شروع کر دی اور تحقیق کرنے کے بعد اس نے یہ معلومات حاصل کرلیں کہ ’’شور‘‘ اصل میں نمک کو کہتے ہیں اور ’’با‘‘ اصل میں پانی کو کہتے ہیں اور پھر اس جملے کا یہ مطلب بیان کر دیا کہ مصنف نے نمکین پانی سے روٹی کھائی ہے تو اصل میں اس نے نہ صرف علم پر ظلم کیا، نہ صرف زبان پر ظلم کیا بلکہ مصنف پر بھی ظلم کیا۔ وہ یہ بات نہیں کہنا چاہتا تھا۔ یہ اس کا مدعا ہی نہیں تھا۔ اس نے نمکین پانی سے ہرگز روٹی نہیں کھائی بلکہ ایک خاص طرح کے سالن سے روٹی کھائی۔ شارح نے چونکہ لفظ کے استعمال اور رائج مفہوم کو نظر انداز کیا، اس لیے وہ مصنف کی بات کو صحی طور پر بیان کرنے میں ناکام ثابت ہوا۔
جن قارئین نے ہماری گزشتہ تحاریر پڑھی ہیں یا وہ پرویز صاحب کے قرآن کے معانی لغت سے اخذ کرنے کے اصول سے واقف ہیں انکے لیے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہوگا کہ پرویز صاحب کی لفظی تحقیق اصل میں شوربے کی تحقیق ہے ۔

2۔ٹیلی ویژن:
ایک لفظ ہے ’’ٹیلی ویژن‘‘۔ فرض کرلیجیے کہ ایک شخص کہتا ہے ’’میں نے ایک ٹیلی ویژن خریدا‘‘ اس زمانے کا ہر آدمی جانتا ہے کہ ’’ٹیلی ویژن‘‘ کیا ہے۔ ایک خاص آلہ ہے، زبان سے یہ لفظ ادا کرتے ہی اس کا ایک تصور ذہن میں آتا ہے لیکن اگر کوئی اس جملے ’’میں نے ایک ٹیلی ویژن خریدا‘‘ کی لسانی تحقیق شروع کر دے اور یہ کہے کہ لغت کے مطابق ٹیلی کا مطلب ہے انتقال اور ویژن کے معنی ہیں منظر، اس لیے اس شخص نے ایک ’’انتقالِ منظر‘‘ خریدا، تو لسانیات کی یہ تحقیق صحیح ہونے کے باوجود ایک لغو بات ہے اور کلام کی غلط تفہیم ہے۔
متکلم کی بات لغت کی تحقیق سے واضح نہیں ہوگی:
اب ٹیلی ویژن کو ٹیلی ویژن کا نام کیوں دیا گیا؟ اس کے لیے لسانیات کی تحقیق کیجیے۔ ’’شوربا‘‘ کا لفظ کیسے وجود میں آیا ہے اور اس سالن کو شوربا کیوں کہتے ہیں؟ اس لیے لسانیات کی تحقیق کیجیے، لیکن کسی متکلم کی بات کا مفہوم جاننے کے لیے اس تحقیق کی پرکاہ کے برابر اہمیت نہیں۔ جو آدمی اس طرح کی حرکت کرے گا، اس کے بارے میں دو ہی باتیں کہی جاسکتی ہیں یا تو یہ کہ اس بے چارے کو زبان سے، ادب سے، اسالیب کلام سے کوئی واقفیت نہیں ہے، وہ اس معاملے میں قطعاً لاعلم ہے اور یا یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر اپنی بات متکلم کے منہ میں ڈالنا چاہ رہا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک بات لازماً کہنی پڑے گی۔

زبان میں تشبیہہ و استعارہ کی اہمیت:
زبان ہی سے متعلق ایک اور بات جان لیجیے کہ ہر زبان میں تشبیہ بھی ہوتی ہے، استعارہ بھی ہوتا ہے، تمثیل بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کہتا ہے ’’جب سے میں نے دوپہر کا کھانا کھایا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ سینے میں آگ لگی ہوئی ہے‘‘۔
اس جملے کو سننے کے بعد اردو زبان سے واقف کوئی عامی بھی یہ نہیں کہے گا کہ متکلم کے سینے میں کسی نے دو چار لکڑیاں گھسا دی ہیں اور ان کو آگ لگی ہوئی ہے۔ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ آگ کا لفظ یہاں مجازاً بولا گیا ہے۔ یعنی اس سے مراد وہ آگ نہیں ہے جو چولہے میں جلتی ہے۔ اب اس جملے پر غور کیجیے ’’خاتون نے چولہے میں آگ جلائی، غلطی سے ساتھ رکھے ہوئے کپڑے نے آگ پکڑلی اور تھوڑی دیر میں پورا گھر آگ کی لپیٹ میں تھا‘‘۔ ان جملوں میں جو لفظ ’’آگ‘‘ استعمال ہوا ہے اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ اس سے مراد سینے کی آگ ہے، تو ظاہری بات ہے کہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ یعنی ہم یہ تو مانتے ہیں کہ آگ کا ایک حقیقی مفہوم ہے اور آگ کا ایک مجازی مفہوم بھی ہے۔ لیکن یہ بات کہ یہ لفظ ایک جملے میں حقیقی معنوں میں استعمال ہوا ہے یا مجازی، اس کا تعین جملے کا اسلوب کرے گا۔
یعنی ہر آدمی جانتا ہے کہ کہاں سینے کی آگ لگی ہوئی ہے اور کہاں چولہے کی آگ لگی ہوئی ہے۔ جب ہم یہ مصرع پڑھتے ہیں ’’دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘ تو ہم جانتے ہیں کہ یہاں کون سی آگ مراد ہے جو برابر دونوں طرف لگی ہوئی ہے۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ یہ صاحب تو غالباً اپنی موم بتی کو دونوں طرف سے جلا کر بیٹھ گئے ہیں۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ یہاں دونوں طرف کون سی آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اس طرح کے سیاق میں آگ کا لفظ استعمال کرتا ہے جس میں سینے کی آگ کے معنی میں لینے کے لیے کوئی قرینہ ہی موجود نہیں ہے تو دو ہی باتیں ہوں گی۔ یا تو وہ اس زبان کے اسالیب سے جاہلِ محض ہے یا وہ کوئی خاص مقصد ہے جس کے تحت وہ سینے کی آگ کو چولہے کی آگ بنانا چاہتا ہے، اور چولہے کی آگ کو سینے کی آگ بنانا چاہتا ہے۔
ایک اور مثال لیجیے۔ ایک شخص ایک استاد سے کہتا ہے ’’آپ کے فلاں شاگرد نے تو کمال کر دیا۔ ایسے حسن و خوبی سے بات کی، ایسی شان و وقار سے بات کی کہ بس مخاطب کے چھکے چھڑا دیے۔ ہم نے کہا کہ تم تو شیر آدمی ہو‘‘۔ ان جملوں سے کسی مخاطب کو بھی یہ شبہ نہیں ہوگا کہ اس شیر سے مراد وہ شیر ہے جس کو اس کے بچے چڑیا گھر میں دیکھ کر آئے ہیں اور ہم بھی جانتے ہیں کہ یہاں شیر کا کیا مفہوم ہے۔ لیکن فرض کیجیے اگر کوئی یہ کہے صبح سے بچے ضد کر رہے تھے کہ ہم تو چڑیا گھر جا کر شیر دیکھیں گے اور آپ یہ کہیں ’’وہ چڑیا گھر ایک بہادر آدمی کو دیکھنے لگے تھے‘‘۔ ظاہر ہے زبان سے واجبی سا تعلق رکھنے والا شخص اس سخن فہمی کا ماتم کرے گا۔

تمثیل کا استعمال اور محل:
تمثیل کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ہم کسی چیز کو جب مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں تو اس میں ایسے ایسے جملے لے آتے ہیں جس سے ہمارا مخاطب یہ جان لیتا ہے کہ یہ بات ہم مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام ایک بہت اعلیٰ درجے کے خطیب ہیں۔ وہ بالعموم تمثیل کے اسلوب میں کلام کرتے ہیں۔ انجیل ان کے ایسے خطبوں سے بھری پڑی ہے، جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک موقع پر انھوں نے ارشاد فرمایا:
تم کو میں کیا کہوں، تم جس کے انتظار میں ہو، تمہارا حال تو یہ ہے کہ تم گیارہ کنواریاں ہو۔ تیل کی کپیاں بھر کے بیٹھی ہو۔ تمہیں نہیں معلوم کہ دولہے نے کس وقت آنا ہے۔ تم انتظار کر رہی ہو کہ دیا جلاتی رہو گی۔ لیکن جب دولہے کے آنے کا وقت ہوا تو تم سوگئیں۔
یہ تمثیل ہے۔ اس کلام میں ہر آدمی جانتا ہے کہ ایسے قرائن موجود ہیں جو واضح کر رہے ہیں کہ یہ نہیں کہ واقعی حضرت مسیح علیہ السلام کی قوم میں گیارہ دلہنیں تھیں اور وہ تیل کی کپیاں لیے بیٹھی تھیں۔
اسی طرح ایک موقع پر حضرت مسیح علیہ السلام اپنی قوم کو خطاب کر کے کہتے ہیں:
تم زمین کا نمک ہو۔ اگر یہ نمک ہی اپنی نمکینی سے محروم ہوگیا تو پھر کیا باقی رہ جائے گا۔
یہ معلوم ہے کہ یہاں زمین کا نمک کس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد کوہستان نمک کا نمک نہیں ہے۔ اس تمثیل کو سنتے ہی آدمی جان لیتا ہے کہ مدعا کیا ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام فریسیوں اور فقیہوں سے خطاب کر کے کہتے ہیں:
بدبختو! تم نے میرے شاگردوں پر اعتراض کیا کہ انھوں نے ہاتھ دھو کر کھانا نہیں کیا۔ تم تو وہ ہو کہ مچھروں کو چھانتے ہو اور اونٹوں کو نگلتے ہو۔
یہ ہر شخص جانتا ہے کہ یہاں اونٹ کو نگلنے سے کیا مراد ہے۔ یعنی وہ اونٹ جو صحرائے عرب میں پایا جاتا ہے، اس کو سموچا نگل لینا مراد نہیں۔ یہاں مجاز کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ ایک بڑی عمدہ تمثیل میں انھوں نے اپنا مدعا بیان کیا ہے۔ یہاں الفاظ اور اسالیب اپنا مفہوم خود بتا رہے ہیں۔ اس کے لیے تشریح کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کے موقع پر اپنی امت کی طرف سے دو اونٹ ذبح کیے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل میں بعض بڑی بڑی حقیقتیں ذبح کر دیں اور ذبح کرنے سے مراد یہ تھا کہ انھوں نے اس سب حقیقتوں کو لیا جو اس وقت عرب کی جاہلیت میں پائی جاتی تھیں اور اپنے پاؤں کے نیچے رکھ دیا تو ظاہر ہے کہ اس سیاق میں اس سباق میں اس مفہوم کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ الفاظ کسی کلام میں حقیقی یا مجازی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں تو یہ جملوں کا دور و بست ہے، جو یہ تعین کرتا ہے کہ کہاں کون سا لفظ حقیقی مفہوم میں ہے اور کہاں مجازی۔

قرآن کے الفاظ کی تحقیق:
قرآن مجید بھی ظاہر ہے کہ ایک زبان میں نازل ہوا ہے پھر وہ ایک مربوط کلام ہے۔ اس کی تفہیم میں بھی یہ تمام امور پیش نظر رہیں گے۔ یعنی اس میں جتنے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ہم ان کے مادوں کی تحقیق بھی کرسکتے ہیں کہ وہ مختلف ادوار میں ترقی کرتے ہوئے اس مفہوم تک کیسے پہنچے ہیں۔ لیکن یہ تحقیق اگر اس مقصد کے لیے کی جائے کہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ لفظ میں معنی کیسے پیدا ہوئے؟ یہ تو لسانیات کی بڑی اعلیٰ بحث ہوئی اور اگر یہ تحقیق اس مقصد کے لیے کی جائے کہ لفظ کا وہ مفہوم جس میں وہ آج استعمال ہوتا ہے یا اس وقت استعمال ہوتا تھا، اس کو تبدیل کر کے ایک نیا مفہوم اس میں شامل کر دیا جائے تو اس کا وہی نتیجہ نکلے گا جو ہم مثالوں سے واضح کرچکے ہیں۔ یعنی قرآن کی آیات کا صحیح مفہوم ہماری نظروں سے اوجھل ہوجائے گا۔
مثال :
ہم اس بحث کو عربی کی ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ ’’لفظ‘‘ عربی زبان کا مصدر ہے۔ مصدر عربی قاعدے کے مطابق اسم فاعل اور اسم مفعول دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے یہ لفظ کے معنی میں عربی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ دونوں زبانوں میں اس کے معنی ایک ہیں۔ لیکن اس کے مادے کی تحقیق کی جائے تو اس کا مطلب ہے پھینکی ہوئی چیز‘‘۔ کسی چیز کو اگر پھینک دیں تو کہیں گے ’’لفظ‘‘۔ اب فرض کیجیے کہ اگر کوئی آدمی یہ کہے ’’میں نے ایک لفظ بولا‘‘ اور آپ یہ کہیں کہ اس نے ایک پھینکی ہوئی چیز بولی، تو اس تحقیق کی کوئی کیا داد دے گا؟ وہ یہی کہے گا کہ آپ زبان سے بالکل واقف نہیں ہیں، آپ کو کسی طرح یہ بات معلوم ہوگئی کہ لفظ کا کوئی مادہ بھی ہوتا ہے اور اس ادھورے علم کے ساتھ آپ نے اسالیب کلام پر اس کا اطلاق شروع کر دیا اور پھر وہ مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوگئی جس کا ذکر ’’لفظ‘‘ کے استعمال کے ضمن میں ہوا ہے۔ عربی زبان میں ایک دو حضرات نے لغت اس اصول پر ترتیب دی ہے۔ ان میں ایک تو امام راغب ہیں، جن کی مشہور لغت قرآن مجید کے مفردات پر ہے اور دوسرے ایک اور صاحب ہیں جنھوں نے ’’مقاییس اللغۃ‘‘ لکھی ہے۔ ان دونوں نے لسانیات کے پہلو سے اپنے لغات میں بتایا ہے کہ کوئی لفظ حقیقت میں کیا تھا۔ اب فرض کیجیے کہ یہ چیز کسی آدمی کے سامنے آگئی اس نے سوچا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اب ایک راز میرے ہاتھ لگ گیا ہے، تو اب میں اس کے ذریعے تشبیہوں کو، استعاروں کو، مطالب کو، مفاہیم کو ہر چیز کو بدل ڈالوں گا۔ یہ حرکت جیسا کہ ہم نے عرض کیا ایسا شخص کرسکتا ہے جو زبان سے اور اس کے قواعد اور اسالیب سے بالکل ناواقف ہو اور یا اس صورت میں کرسکتا ہے کہ وہ جانتے بوجھتے ایک بات کو نہیں ماننا چاہتا اور ایک دوسری بات متکلم کے منہ میں ڈالنا چاہتا ہے، اور اب اس نے زبان کو اس پہلو کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

پرویز صاحب کی اصل غلطی-لفظوں کی لغوی تحقیق:

قرآن مجید کے ساتھ پرویز صاحب نے دراصل وہی سلوک کیا ہے جس کو ہم نے اوپر بعض مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے قرآن کی زبان کو اس کے استعمال، عرف، ہر چیز سے جدا کر کے لغت سے سمجھنے کی کوشش کی۔ یعنی قرآن مجید کے اس عرف کو جو معاشرے نے پیدا کیا، وہ عرف جو سیاق و سباق نے پیدا کیا، وہ عرف جو متکلم نے پیدا کیا اسے ملحوظ رکھے بغیر اس کے الفاظ کو وہ معانی پہنائے جیسے کوئی علامہ اقبال کے کلام میں خودی کا وہ مفہوم داخل کر دے جو لغت میں لکھا ہوا تھا۔ اسی طرح سے ایک مقام پر کوئی قرینہ موجود نہیں کہ لفظ کو مجازی مفہوم میں لیا جائے لیکن وہ اس کا مجازی مفہوم ہی لینے پر مصر ہیں۔
مثلاً جملہ یہ کہ میری بیوی چولہے میں آگ جلا کر چائے بنا رہی ہے اور وہ اس بات پر مصر ہیں کہ یہاں آگ سے مراد حسد کی آگ ہے ایک مقام پر تشبیہ اور استعارے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ زبان ابا کرتی ہے کہ وہاں حقیقی مطلب کے علاوہ کوئی اور مفہوم مانا جائے لیکن وہ اس کو تشبیہ اور استعارے کے مفہوم میں لے رہے ہیں۔ اب اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو بات متکلم کہنا چاہتا ہے وہ کہیں سے کہیں چلی جاتی ہے۔

لغوی تحقیق کا خمیرہ:
ہمارے پیش نظر ان کی تصانیف ’’مفہوم القرآن‘‘ اور ’’لغات القرآن‘‘ ہیں۔ ’’مفہوم القرآن‘‘ میں انھوں نے اپنی تحقیق کے مطابق قرآن مجید کا مفہوم بیان کیا ہے اور ’’لغات القرآن‘‘ میں انھوں نے اپنے بیان کردہ مفہوم کا پس منظر اور اس کا علمی استدلال واضح کیا ہے۔ ان دونوں کتابوں میں پرویز صاحب نے الفاظ کی لغوی تحقیق کا خمیرہ داخل کر کے نقش مضمون کو لغو بنا دیا ہے اور ایسی فاش اور فاحش غلطیاں کیں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ہم اپنے اس تاثر کی تائید میں ان دونوں کتابوں سے چند مثالیں پیش کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوجائے گا کہ وہ قرآن کی آیات سے کس طرح نئے معنی دریافت کرتے ہیں۔

مثال 1: سورہ نمل-‘جن’ و’طیر’ کی پرویزی لغوی تحقیق :۔
مفہوم القرآن میں ایک جگہ جناب غلام احمد پرویز نے سورہ نمل کے ان مقامات کی تشریح کی ہے جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کے واقعات زیر بحث ہیں۔
قرآن اس کو اس طرح بیان کرتا ہے:
وحشر لسلیمٰن جنودہ من الجن والانس والطیر فھم یوزعون O (النمل: ۱۷)
یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے سارا لشکر اکٹھا کیا گیا جس میں جن بھی تھے، انسان بھی تھے اور پرندے بھی تھے۔
اب اس آیت میں استعمال ہونے والا لفظ ’’جن‘‘ عربی زبان کا معروف لفظ ہے۔ یہ اردو زبان کا بھی معروف لفظ ہے۔ اسی طرح لفظ ’’انس‘‘ عربی کا معروف لفظ ہے جو اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ انس و جان کے علاوہ ’’طیر‘‘ بھی اردو میں استعمال ہوتا ہے اور عربی میں بھی۔ پرویز صاحب کے لیے یہ تسلیم کرنا تو آسان تھا کہ ’’انس‘‘ کا مطلب آدمی ہے اس لیے کہ اس دنیا میں آدمی تو بہرحال پائے جاتے ہیں لیکن یہ بات کہ جن اور پرندے بھی حضرت سلیمان علیہ والسلام کے لشکر میں شامل تھے، ان کے لیے ماننا آسان نہیں تھا۔ اس مسئلے کا حل انھوں نے یہ دریافت کیا کہ ’’جن‘‘ اور ’’طیر‘‘ دونوں کو اس طرح تختہ مشق بنایا جیسے ہم نے گزشتہ تحریر میں شوربے کی مثال پیش کی ہے۔
جن کے معنی:
’’جن‘‘ عربی کا معروف لفظ ہے۔ اگر کوئی آدمی اس پر تحقیق کرے تو یہ کہے گا کہ جنوں کو جن اس لیے کہتے ہیں کہ عربی میں جن، جنا، جنون کے معنی ہیں چھپا ہوا۔ یہ چونکہ نظر نہیں آتے اس وجہ سے ان کو جن کہا جاتا ہے ایک دوسرا محقق داد تحقیق دیتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ جنہ کے معنی ہوتے ہیں ’’چھپا ہوا‘‘ لہٰذا چھپی ہوئی مخلوق سے مراد صحرا کے باشندے بھی ہوسکتے ہیں۔ (لغات القرآن جلد اول ص ۴۴۷)
پرویز صاحب چونکہ ’’جن‘‘ کو ’’انس‘‘ کی طرح الگ سے کوئی مخلوق ماننے پر آمادہ نہیں، اس لیے انھوں نے لغت کو سامنے رکھتے ہوئے جنوں کو صحرا کے باشندے بنایا۔ اسی اصول کا اطلاق انھوں نے ’’طیر‘‘ پر بھی کیا، لیکن وہاں معاملہ کچھ الجھ گیا۔
طیر عربی لغت میں گھوڑوں کے لیے نہیں:
’’طیر‘‘ عربی زبان میں اتنا معروف اور عام استعمال ہونے والا لفظ ہے کہ کوئی دوسرا لفظ تلاش کرنا شاید مشکل ہوجائے۔ چونکہ وہ یہ مان کر دینے کے لیے تیار نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر میں پرندے بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے انھوں نے اس معروف معنی سے انحراف کی جو کوشش کی وہ علم کی دنیا میں ایک عجوبہ ہے۔ لفظ ’’طیر‘‘ کی تحقیق کے ضمن میں اس کے مختلف مفاہیم بیان کرتے ہوئے وہ ’’لغات القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:
فرس، مطار، طیّار ہوشیار اور تیر رفتار گھوڑے کو کہتے ہیں۔ سورہ نمل میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر جن، انس، طیر پر مشتمل تھے۔ ’’جن‘‘ سے مراد وحشی قبائل ہیں ’’انس‘‘ مہذب آبادیاں اور طیر تیز رفتارگھوڑے۔ (لغات القرآن ج ۳ ص ۱۱۰۵)
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ مفہوم کہاں سے برآمد ہوا۔ عربی زبان کی تمام لغتوں میں اگر اس کے تمام استعمال کو دیکھا جائے تو ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ طیر گھوڑے کے لیے استعمال ہوتا ہو۔ ہم یہ جملہ کہہ سکتے ہیں ’’یہ گھوڑا کیا ہے؟ یہ تو اڑتا ہوا پرندہ ہے‘‘ یہاں جملہ خود بتا رہا ہے کہ گھوڑے کے لیے مجازا پرندے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ زبان و بیان کا ایک عام اسلوب ہے، لیکن اگر قرینہ موجود ہی نہیں ہے تو پھر ’’طیر‘‘ کے معنی پرندے ہی کے ہوں گے۔ پرویز صاحب نے مثال دی ’’فرس‘‘، ’’طیار‘‘ یعنی تیز رفتار گھوڑا۔ اس مقام پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ جب فرس کا لفظ بولا جائے گا اور ساتھ طیار بولا جائے گا تو یہ معنی اس میں پیدا ہوجائیں گے لیکن یہ معنی مجازاً پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم مجازی مفہوم میں جہاز کو طیارہ کہہ دیتے ہیں۔ لیکن جب لفظ ’’طیر‘‘ ان سارے قرینوں سے بالاتر ہو کر آئے گا یعنی اس کے ساتھ فرس نہیں لکھا گیا تو اس کے معنی گھوڑے کے کیسے ہو جائیں گے؟ وہ تو پرندہ ہی رہے گا۔
معلوم ہوتا ہے کہ پرویز صاحب کو بعد میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ دوراز کار تاویل ہے تو انھوں نے ’’مفہوم القرآن‘‘ میں اس کو مختلف انداز سے بیان کیا۔ یہاں انھوں نے لکھا:
سلیمان علیہ السلام کے لشکروں میں شہروں کے مہذب باشندے، جنگوں اور پہاڑوں کے دیوہیکل وحشی اور قبیلہ طیر کے شاہ سوار سب شامل تھے۔ (مفہوم القرآن ج ۲، ص ۸۶۴)
گویا ’’لغات القرآن‘‘ سے ’’مفہوم القرآن‘‘ تک آتے آتے تیز رفتار گھوڑے قبیلہ طیر کے شاہسواروں میں تبدیل ہوگئے۔ اگر پہلا مفہوم لیا جائے تو غرابت محسوس ہوتی ہے اس لیے یہاں انھوں نے یہ ترجمہ کر دیا۔ اب اس تاویل پر بھی ایک نظر ڈالیے۔
کیا قواعد عربی کے تحت الطیر قبیلہ ہوسکتا ہے؟
یہ ’’قبیلہ الطیر‘‘ کیا چیز ہے؟ کسی قبیلے کا نام قرآن کو لینا ہو تو کیا اس کا یہی طریقہ ہے؟ یعنی ’’الطیر‘‘ کہہ دیا جائے کہ ساری دنیا اس مصیبت میں پڑی رہے کہ ’’پرندے‘‘ ہیں اور اس سے اصلاً مراد ہو قبیلہ۔ اگر کسی قبیلے کا نام ’’الطیر‘‘ ہو تو اس کے لیے بھی زبان اور بیان کا ایک قرینہ ہوگا شواہد ہوں گے، زبان اور بیان کے قواعد میں وہ چیز موجود ہوگی کہ اس کو جان لیا جائے۔ قرآن مجید میں صحرا کے باشندوں، جنگل میں رہنے والوں کے لیے معروف لفظ’’اعراب‘‘ استعمال ہوا ہے۔ فرض کریں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ لشکر میں یہ لوگ تھے تو قرآن نے جہاں صحرا کے باشندوں کا ذکر کیا ہے تو کہا ہے ’’وقالت الاعراب امنا‘‘ اعراب ایک معروف لفظ ہے۔ اب ایک معروف لفظ کو چھوڑ کر قرآن نے ایک نیا لفظ استعمال کیا جن، جس سے نہ عربی زبان واقف تھی نہ عرب واقف تھے۔ گویا کسی طرح بھی یہ تاویل اختیار کرنا ممکن نہیں ہے۔
آگے ذکر ہوا کہ علمنا منطق الطیر یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے اوپر اللہ کا یہ احسان بیان کیا ہے کہ ہم کو پرندوں کی زبان سکھائی گئی۔ منطق معروف لفظ ہے۔ طیر بھی معروف لفظ ہے۔ پرویز صاحب کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ سلیمان علیہ السلام کو پرندوں کی زبان سکھائی گئی ان کے نزدیک طیر سے مراد ہے گھوڑوں کا لشکر اور علمنا منطق الطیر سے مراد ہے گھوڑوں کے لشکر کو سدھانے اور استعمال میں لانے کے قواعد اور ضوابط اللہ تعالیٰ نے ہم کو سکھائے (مفہوم القرآن ج ۲، ص۸۶۳) سوال یہ ہے کہ عربی زبان کا کوئی جاننے والا لفظ منطق کو اس معنی میں بولے گا، طیر کو اس معنی میں بولے گا۔ اس کا کوئی امکان نہ اردو میں ہے نہ عربی میں۔

اس کے بعد پرویز صاحب فرماتے ہیں ’’جب یہ سب لشکر تیار ہوگئے آیت : حتی اذا اتوا علی و ادا النمل ۔ ترجمہ یہاں تک کہ وہ وادی نمل میں آئے۔
نمل عربی زبان کا معروف لفظ ہے جو چونیٹوں کے لیے بولتے ہیں۔ یعنی مطلب ہوگا کہ چیونٹیوں کی وادی میں آئے۔ یہ قرآن مجید کا مشہور مقام ہے لوگ اسے جانتے بھی ہیں لیکن پرویز صاحب کے لیے یہ بڑا مشکل مقام ہے جو آگے بات بیان ہوئی ہے وہ یہ کہ وہاں چیونٹی نے گفتگو کی اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے سن لی۔ ان کے لیے یہ ماننا بہت مشکل کام ہے۔ وہ اپنے ذوق کے تحت اس کو نہیں ماننا چاہتے۔ اس لیے انھوں نے جو راستہ اختیار کیا، وہ بہت دلچسپ ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت سلیمان علیہ والسلام کو معلوم ہوا کہ سبا کی مملکت ان کے خلاف سرکشی کا ارادہ رکھتی ہے۔ چنانچہ وہ بطور حفظ ماتقدم اس کی طرف لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ راستے میں وادی نمل پڑتی تھی۔ ملکہ سبا کی طرح اس مملکت کی سربراہ بھی ایک عورت تھی۔ جب اس نے اس لشکر کی آمد کی خبر سنی تو اپنی رعایا کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں جا کر پناہ گزیں ہوجائیں۔ (مفہوم القرآن ج۲، ص ۸۶۴)
یہاں ان کے نزدیک نملہ ایک عورت کا نام ہے جو وادی نمل کی تھی۔ اب دیکھیے یہ تسلیم کرنے سے کیا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے کہا ‘قالت نملۃ’ نمل اسم جنس ہے۔ نملہ چیونٹی کو کہتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ عورت اس قبیلے کی سربراہ تھی تو عربی کے کس قاعدے کی رو سے یہ نکرہ استعمال ہوسکتا ہے۔ اسے ایک نملہ (A Namla) تو نہیں کہہ سکتے “The Namla” ہی کہیں گے۔ لیکن قرآن میں تو یہاں قالت نملۃ ہے یعنی نکرہ استعمال ہوا ہے۔ دوسری بات یہ ہوسکتی ہے کہ نملہ اس کا نام تھا یہ بات تو نمل سے معلوم ہوتی ہے جو صحیح نہیں کیونکہ یہ عربی زبان کے معروف استعمال کے خلاف ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی عورت قبیلہ اوس کی ہو تو اس کو عربی میں کیا کہیں گے؟ اوسہ یا اوسیہ اگر کوئی قبیلہ بنی عبدالشمس کی ہو تو کیا کہیں گے؟ عبدالشمسیہ کہیں گے کہ عبدالشمسہ؟ یعنی اگر فرض کیجیے کہ قرآن مجید کو یہاں کہنا ہوتا کہ ’’قبیلہ نمل کی عورت‘‘ تو قرآن کہتا قالت نملیۃ جب آپ پاکستانی بولیں گے تو نسبت کے لیے ’’ی‘‘ لگائیں گے، اس کے بعد لفظ میں یہ مفہوم پیدا ہوگا۔
پرویز صاحب نے ان سب چیزوں کو نظر انداز کر دیا ہے جو زبان کے مسلمہ اصول ہیں۔ ان سب کو نظر انداز کر کے فرمایا ’’ان کی سربراہ بھی ایک عورت تھی‘‘ اور اس کا نام اس لیے نملہ آیا کہ وہ قبیلہ نمل سے تعلق رکھتی تھی۔ یعنی یہاں اگر فرض کرلیجیے کہ اس کو قبیلہ نمل کی عورت کے معنی میں لینا چاہیں تو عربی زبان کی رو سے یہ ضروری ہوگاکہ قالت نملیۃ کہا جائے گویا علاقے سے نسبت کریں یا قبیلے سے بہرحال اسی طرح بولیں گے۔

مثال 2:ملکہ سباء کا تخت پایہ تخت بن گیا:۔
اس کے بعد دیکھیے کہ جہاں پر ملکہ سبا کا تخت لانے کا ذکر ہے حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا ‘قال یایھا الملوا ایکم یاتنی بعر شھا ‘یعنی مجھے کون اس کا تخت لا کر دے گا سادہ ترجمہ ہے۔ اس کے سوا لفظوں کا مفہوم وہ بھی کوئی اور نہیں کرسکے۔ پرویز صاحب کہتے ہیں کہ اصل میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا تھا کہ مجھے اس کے پایہ تخت کو کون فتح کر کے دے گا؟ اگر یہ جملے کا سیاق و سباق، زبان کے قواعد اور استعمالات کو پیش نظر رکھا جائے تو یہاں بھی اس مفہوم کو اختیار کرنا ممکن نہیں۔
پرویز صاحب منطق عقل لغت سے قرآن کی تفسیر کرتے ہیں وہ بھی غلط:
اب اگر بعد کے واقعات کو بھی دیکھا جائے جن میں ملکہ بلقیس کے تخت کو لانے، اس کے مفتوح ہونے اور ایک کتاب کا علم رکھنے والے صاحب کا ذکر ہے جنھوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا، وہ پلک جھپکنے تک ملکہ کے تخت کو ان کے حضور میں پیش کر دیں گے، تو عجیب و غریب صورت حال پیش آتی ہے۔ چونکہ پرویز صاحب اس طرح کی کسی بات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں اس لیے وہ ان مقامات پر بھی عربی زبان اور قرآن مجید کے الفاظ کو تختہِ مشق بناتے ہیں اور وہ مفہوم برآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو متکلم کے پیش نظر نہیں تھا۔
قرآن مجید کے ایک سچے طالب علم کا رویہ تو یہ ہونا چاہیے کہ وہ قرآن مجید کو خالی الذہن ہو کر پڑھے اور اس پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے، اسے قبول کرتا جائے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن نے غور و فکر کی دعوت دی ہے لیکن یہ غور و فکر کسی قاعدے اور ضابطے کا پابند ہونا چاہیے۔ اگر ہم قرآن کے الفاظ اس کے اسالیب اور ہر چیز کو نظر انداز کر کے، اس سے وہ خیالات برآمد کرنا چاہیں جو ہمیں پسند ہیں تو منطق اور عقل کے ہر پیمانے سے یہ تحریف کہلائے گی۔
سورہ نمل کے ساتھ جو سلوک پرویز صاحب نے کیا وہ دراصل ان کی قرآن فہمی کی ایک مثال ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ قرآن کو کیا سمجھتے ہیں اور انھیں کتاب اللہ کا کتنا احترام ہے اور اپنے خیالات کے سامنے قرآن کو کس مقام پر رکھتے ہیں؟ اگرچہ یہی مثال پرویز صاحب کے فہم قرآن کے اصول سمجھنے کے لیے کافی ہے لیکن اپنے نقطۂ نظر کی مزید وضاحت کے لیے ہم قرآن کا ایک اور مقام دیکھتے ہیں۔

 مثال 3: سورۃ تکویرکا ترجمہ:۔
سورہ تکویر قرآن مجید کی معروف سورہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ انسان کو خبر کے انداز میں اس طرح مخاطب کرتے ہیں:
اذا الشمس کورت o و اذا النجوم انکدرت o واذا الجبال سیرت o و اذا العشار عطلت o واذا الوحوش حشرت o واذا البحار سبحرتo واذا النفوس زوجت o و اذا المودۃ سئلت o بای ذنب قتلتo واذا الصحف نشرت o واذا السماء کشطت o واذا الجحیم سیرتo واذا الجنۃ ازلفت o علمت نفس مءآ احضرتo
ترجمہ:جب کہ سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور تارے بے نور ہوجائیں گے پہاڑ چلا دیئے جائیں گے اور دس ماہہ گا بھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی۔ وحشی جانور اکھٹے ہوجائیں گے اور سمندر ابل پڑیں گے جب کہ نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی اور زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی! جب کہ اعمال نامے کھولے جائیں گے اورآسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ جب کہ دوزخ بھڑکا دی جائے گی اور جنت قریب لائی جائے گی۔ تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ وہ کیا لے کر آئی ہے۔
اس سورہ میں قیامت کے اس زلزلے کا ذکر ہے جس میں پہاڑ اپنی جگہ سے چل پڑیں گے۔ ستارے اپنے مقام سے گر پڑیں گے۔ سورج پر تیرگی چھا جائے گی۔ اس میں وہ آیت بھی آتی ہے جو قرآن مجید کے اسلوب کا شاہکار ہے کہ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ تجھے کس گناہ میں قتل کیا گیا۔ کیونکہ عرب لڑکیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔ اس کے لیے ’’مودۃ‘‘ کا لفظ کلام عرب میں اتنا عام لفظ ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔

اب ذرا دیکھیے کہ پرویز صاحب ان آیات کا مفہوم کس طرح بیان کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
“کسی آنے والے دور میں جب انسانوں کے خود ساختہ نظامِ تمدن و معاشرت کی جگہ قرآنی نظام لے لے گا تو اس وقت کی انقلابی کیفیات سے متعلق یوں سمجھو کہ ملوکیت کا نظام لپیٹ دیا جائے گا اور ان کے اہالی موالی (چھوٹی چھوٹی ریاستیں) سب جھڑ کر نیچے گر جائیں گی۔ ان کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ان کی قوت ماند پڑ جائے گی اور پہاڑوں جیسے محکم امرا و رؤسا اپنی اپنی جگہ سے ہل جائیں گے اور جن ذرائع رسل و رسائل (مثلاً اونٹوں) کو اس وقت اتنی اہمیت دی جا رہی ہے، وہ سب بے کار ہوجائیں گے اور وحشی اور نامانوس قومیں بھی اجتماعی زندگی کی طرف آتی جائیں گی اور سمندروں میں آمد و رفت کا سلسلہ اتنا وسیع ہوجائے گا کہ ہر وقت بھرے بھرے دکھائی دیں گے اور ان کے کناروں کی بستیاں بھی بڑی آباد ہوجائیں گی اور اطراف و اکناف کی آبادیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملتی جائیں گی۔ جب ان لڑکیوں کے متعلق جنھیں معاشرہ زندہ درگور کر دیتا ہے اور ان بے چاریوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں ہوتا، پوچھا جائے گا کہ انھیں بالآخر کس جرم کی پاداش میں ذبح کیا جاتا رہا (یعنی عورتوں کو ان کے حقوق دلائے جائیں گے) اور اخبارات و رسائل جگہ جگہ پھیل جائیں گے اور اجرامِ فلکی پر پڑے ہوئے پردے ایک ایک کر کے اٹھے چلے جائیں گے (ان کے حالات دریافت کیے جائیں گے۔) تو اس وقت خدا کے قانونِ مکافات کا عمل تیز تر ہو جائے گا۔ کیونکہ اس وقت آخر الامر وہ نظام متشکل ہوجائے گا جس میں ہر معاملہ انصاف اور قانون کے مطابق طے پائے گا لہٰذا اس کی رو سے) مجرمین کے لیے جہنم کے شعلے زیادہ تیزی سے بھڑک اٹھیں گے اور اس نظام کی پابندی کرنے والوں کے لیے جنتی معاشرہ قریب تر لایا جائے گا یعنی اس وقت ہر شخص اپنے اپنے عمل کے نتائج اپنے سامنے بے نقاب دیکھے گا”۔ (مفہوم القرآن ج۳، ص ۱۴۱۸، ۱۴۱۹)
جدیدیت سے مرعوبیت کا عالم دیکھیے کہ ایام عرب میں زندہ درگور لڑکی کے ذریعے تحریک آزادی نسواں کا ذکر آگیا۔ سمندری تجارت کے ضمن میں مغربی اقوام کی قزاقی کی سند آگئی۔ ذرائع ابلاغ کے مغربی انقلاب کے نتائج عہد رسالت میں نازل ہونے والی آیتوں میں داخل کر دیے گئے۔ ] اس مفہوم میں زبان کے عرف، سیاق، الفاظ کے واضح مدلولات، تشبیہہ و تمثیل کے طریقوں کو جن میں دوسری رائے ممکن نہیں تلپٹ کر کے عہد جدید میں پہنچا دیا گیا ہے۔
یہ وہ بنیادی اور اصولی چیز ہے جس کی وجہ سے ہم پرویز صاحب کے سارے نقطہ نظر ہی کو گمراہی سمجھتے ہیں۔ قرآن فہمی کے باب میں یہ اتنی بنیادی اور بڑی غلطی ہے کہ اس کے بعد کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہتی۔ اس لیے پرویز صاحب کی فکر کا معاملہ یہ نہیں ہے کہ وہ دین کو سمجھنے کا ایک زاویہ ہے، جیسے اس سے قبل امت میں مختلف نقطۂ ہائے نظر رہے ہیں۔ پرویز صاحب کی تعبیر نہ تو علمی ہے اور نہ ہی امت کے اجتماعی تعامل کے مطابق ہے، اس لیے اسے اس روایت سے الگ کر کے دیکھنا پڑے گا، جسے ہم امت کی علمی روایت کہتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں پرویز صاحب کا طرز علمی روایت کے بجائے جہالت کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ اسی کا نام جدیدیت ماڈرن ازم ہے جو صرف عقلیت کو حجت سمجھتی ہے۔ عقل کو اساسِ دین، ماخذ دین اور منبع دین قرار دیتی ہے اور قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتی ہے۔
استفادہ تحریر ‘پرویز صاحب کے اصول فہم قرآن ، ماہنامہ ساحل، کراچی

قرآنی آیات کی کھچڑیاں اورعجیب وغریب فلسفے

قرآنی آیات کی اپنے خودساختہ نظریات کی تائید کے لیے بنائی گئی کچھڑیاں :
پرویز صاحب چار مختلف سورتوں الفجر، التوبہ، الہمزہ اور محمد کی مختلف آیات کو جوڑ کر مال جمع کرنے کی مذمت پیش کرتے ہیں :
’’ہر شخص چاہتا تھا کہ جو کچھ اسے مردوں سے ہاتھ آئے سب کچھ سمیٹ کر رکھا جائے (۹۸۔۱۹) اور ادھر ادھر کا مال اکٹھا ہو کر اس کے گھر پہنچ جائے (۲۶۔۸۹) اور ادھر ادھر کا مال اکٹھا ہو کر اس کے گھر پہنچ جائے [۲۶۔۸۹] اس معاشرہ کا انجام اگر جہنم کی تباہیاں نہ ہو تا تو کیا ہوتا؟ یہ آگ کہیں باہر سے نہیں آئی۔ وہی دولت جو انھوں نے جمع کر رکھی تھی، بند رہنے سے اس قدر گرم ہوگئی ہے کہ اس سے ان کے جسموں کو داغا جا رہا ہے۔ [۹:۳۵] جو انھوں نے بڑے بڑے لمبے چوڑے سہاروں اور بھروسوں کے ستونوں میں بند کر رکھی تھی۔ اب وہی آگ ان کے دلوں پر چڑھ رہی ہے۔ [۱۰۴: ۶ تا ۹] قرآن کہتا ہے کہ یہ لوگ درحقیقت انسانیت کی سطح تک پہنچے ہی نہیں تھے۔ ان کی زندگی حیوانی سطح پر تھی جو کھاتے پیتے اور مر جاتے ہیں اور زندگی کا نتیجہ یہ جہنم ہے۔ [۴۷:۱۲] [ن۔ر، ص۹۹]
اس میں درج ذیل انکشافات فرمائے گئے:
۱۔ اگر کہیں دولت کو جمع کر کے رکھا جائے تو وہ دولت اس قدر گرم ہوجاتی ہے کہ اس سے جسموں کو داغا جاسکتا ہے۔
۲۔ اور اگر یہ دولت بڑے لمبے چوڑے سہاروں اور بھروسوں کے ستونوں میں رکھی جائے تو وہ آگ جو اس دولت میں پیدا ہوتی ہے اس سے جسم توخیر نہیں داغے جاتے البتہ وہ آگ دلوں پر چڑھنا شروع کر دیتی ہے۔
آج کل بھی بہت سے لوگ دولت گھروں میں بھی دفن کرتے ہیں اور بینکوں میں بھی رکھتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی یہ جمع شدہ دولت گرم ہوتی ہے یا اس کی گرمی سے کوئی شخص داغا گیا ہے؟ یا یہ دولت کی آگ کسی کے دل پر چڑھا کرتی ہے؟ یہ ہے پرویز صاحب کے حیات بعد الممات میں جہنم کے عذاب سے انکار کا نمونہ۔ ایسے عذاب کو وہ اسی دنیا میں اور محض الفاظ کی بازی گری کے رنگ میں پیش فرما رہے ہیں۔

مقامِ آدمیت اور مقامِ انسانیت؟ پرویز
[۱] جن کی صرف دنیا خوشحال ہو یہ لوگ کافر ہیں، ان کی آخرت تاریک ہے۔ کیوں تاریک ہے؟ اس لیے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ آپ کے خیال میں ایسے لوگ مقام آدمیت پر ہیں کیوں کہ آدم کو ملائکہ یعنی کائناتی قوتوں نے سجدہ کیا تھا لہذا صرف متمدن اقوام مغرب ہی مسجود ملائک اور مقام آدمیت پر فائز ہیں۔
[۲] جن کی دنیا بھی خوشحال ہو اور آخرت بھی تابناک، یہ مومنین ہیں۔ آخرت پر ایمان کے باوجود بھی اگر ان کی دنیا خوشحال نہ ہو تو یہ مومن نہیں ہوسکتے۔ یہ لوگ مقامِ انسانیت پر ہیں ۔
حالانکہ
اللہ تعالیٰ کافروں کو بھی انسان کہتا ہے۔ (۶۔۸۳)قرآن کی بے شمار آیات پرویز صاحب کے موقف کی بھرپور تردید کرتی ہیں، خصوصاً حضرت موسیٰؑ ، حضرت نوحؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق آیات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ صاف لفظوں میں فرماتا ہے کہ آپ کے مخالفین کو دنیا سے جو کچھ دیا گیا ہے اس کی پروا نہ کریں بلکہ اگر تمام لوگوں کے کافر ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم کفار کے گھر اور چھتیں سونے کی بنا دیتے۔ [الزخرف۳۳] قرآن کی بے شمار آیات میں انبیاء کے مقابلے پر کفار کی دنیاوی شان و شوکت اور خوش حالی کا ذکر ہے اور انبیاء کو اس صورت حال پر تاسف سے رکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مثلاً الحجر آیت۸۸، طہٰ آیت ۱۳۱، القصص آیت ۵۸، الحجرات آیت ۳۷، ھود آیت ۱۲، الحج آیت ۱۵، یہ عجیب تصور ہے کہ کامیاب انسان وہ ہے جو دنیا میں لازماً خوش حال ہو، یہ خالص مغربی تصور ہے۔ جس کا تعلق فلاح [Progress] و ترقی [Development] کی مغربی گمراہیوں سے براہ راست تعلق ہے۔
[۳] جن کی دنیا بھی تاریک ہے اور آخرت بھی یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوجاتے ہیں۔ یعنی جیسے آج مسلمانوں کی ’’مذہب پرست‘‘ قوم ہے۔ یہ لوگ مقامِ آدمیت سے بھی ادنیٰ سطح پر ہیں کیوں کہ کائناتی قوتیں ان کے آگے سجدہ ریز نہیں۔ [اسباب زوال امت، ۸۶]

جہنم کا وجود نہیں: قلبی کیفیت ہے
’’جہنم انسان کی قلبی کیفیت کا نام ہے، لیکن قرآنِ کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ غیرمحسوس ، مجرد حقائق کو محسوس مثالوں سے سمجھاتا ہے۔‘‘ [جہانِ فردا: ص ۲۳۵]قرآن کا ارشاد ہے
’’مجرم لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے دیدار سے روک دیئے جائیں گے اس کے بعد وہ جہنم میں داخل ہوں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی جہنم ہے جسے تم [دنیا میں] جھٹلایا کرتے تھے۔ [المصطفین۱۵۔۱۷] جہنم کی تاویل قرآن کریم کا انکار ہے۔
جنت بھی قلبی کیفیت ہے: وجود نہیں رکھتی
’’جہنم کی طرح اُخروی جنت بھی کسی مقام کا نام نہیں، کیفیت کا نام ہے۔ ‘‘ [جہانِ فردا: ص ۲۷۰]
قرآنِ کریم جنت کے متعلق ’’مقام‘‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔قرآن صاف الفاظ میں بیان کرتا ہے:
اِنَّ المتَّقِینَ فِی مَقَامِِ اَمِینِ فِی جَنّاتِِ وَّ عُیُونِِ [ الدخان: ۵۱، ۵۲]
’’پر ہیز گار لوگ اَمن کے مقام جنت اور اس کے چشموں میں ہوں گے۔‘‘

مرنے کے بعد جنت نہیں: اصل جنت دنیا
’’جنت کی آسائشیں اور زیبائشیں وہاں کی فراوانیاں اور خوشحالیاں اس دنیا کی زندگی میں حاصل ہوجاتی ہیں، مرنے کے بعد کی جنت کے سلسلہ میں ان کا بیان تمثیلی ہے۔‘‘ [نظامِ ربوبیت: ص ۸۲]
قرآن کریم واضح الفاظ میں پرویز صاحب کے افکار کی تردید کرتا ہے:
اَعَدَّ اللّٰہ لَھم جَنّتٍ تَّجرِی مِن تحتِھا الانھارُ خالِدِینَ فیھَا ذالِک الفْوزُ الکَبِیر
’’یعنی ان [کامیاب ہونے والوں] کے لیے جنت کے مقامات اللہ تعالیٰ نے خود تیار کیے ہیں، جن میں نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ ان کی بڑی کامیابی ہوگی‘‘۔ [التوبہ: ۸۹]
’’ان مہاجرین و انصار سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگیا، اور وہ اس پر راضی ہوئے اور اس [اللہ] نے ان کے لیے جنت کے مقامات تیار کیے ہیں جن میں نہریں بہتی ہیں، اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ [التوبہ: ۱۰۰]

یوم القیامہ آخرت نہیں انقلاب کا زمانہ ہے:
یوم القیامۃ سے مراد ہوگا وہ انقلابی دور جو قرآن کی رو سے سامنے آیا تھا‘‘۔
[جہانِ فردا: ص ۱۳۳]
الساعۃ قیامت نہیں: حق و باطل کی جنگ ہے:
’’الساعۃ‘‘ سے مراد حق و باطل کی وہ آخری جنگ ہوتی ہے جس میں باطل کی قوتیں شکست کھا کر برباد ہوجاتی ہیں‘‘۔ [لغات القرآن ، ج ۲ ، ص ۹۱۸]

آخرت سے مراد مادی فائدہ مادی دنیا میں:
’’جو فائدہ پوری نوعِ انسانی کے اندر گردش کرتا ہوا افراد تک پہنچتا ہے، اسے مآلِ کار، آخر الامریا مستقبل کا فائدہ کہا گیا ہے جس کے لیے قرآن میں آخرت [مستقبل] کی اصطلاح آئی ہے۔‘‘ [سلیم کے نام: ج ۱ ؍ ص ۲۱۳]
آخرت، یوم القیامہ، الساعۃ کی قرآنی اصطلاحات کے پرویزی تراجم محض لفظوں کی بازی گری ہیں۔ قرآن، سنت اور اجماع اس موقف کو تسلیم نہیں کرتے۔

سامان آخرت: مستقبل کے لیے مادی وسائل
’’سامانِ آخرت سے مقصود ہے وہ متاع جسے [انسان ] آنے والی نسلوں کے لیے جمع کرتا ہے‘‘۔[اسبابِ زوال امت: ص ۲۶]

مرنے والے: قبروں میں نہیں روکے جاتے:
یہ تصور صحیح نہیں کہ جتنے لوگ مرتے ہیں وہ مرنے کے بعد قبروں میں روک لیے جاتے ہیں اور پھر ان سب کو ایک دن اکٹھا اٹھایا جائے گا اسے حشر یا قیامت کا دن کہا جاتا ہے۔ [جہان فردا: ص۱۸]

قیامت میں: خدا سے ملاقات ممکن نہیں:
وہ [خدا] ہماری رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہے اس لیے اس سے جدا ہو کر دنیا میں آنے اور مرنے کے بعد اس سے پھر جا کر ملنے کا تصور قرآنی نہیں۔ [جہاں فردا، ص۳۴]
پرویز صاحب کا مندرجہ بالا موقف البقرہ ۴۶، الجاثیہ ۲۶، الکہف ۴۷، ۴۹ کی آیات سے صریحاً انکار پر مبنی ہے۔ یہ آیات قیامت کے روز اللہ سے ملاقات، میدان حشر میں مجتمع ہونے اور اللہ کے حضور پیشی اور اللہ سے ملاقات کے تصورات کو واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔

ملائکہ وجود نہیں رکھتے: اعمال کے اثرات ہیں
’’ملائکہ ہماری اپنی داخلی قوتیں ہیں یعنی ہمارے اعمال کے وہ اثرات جو ہماری ذات پر مرتب ہوتے رہتے ہیں۔‘‘ [ابلیس و آدم از پرویز: ص ۱۶۲]یہ موقف سورہ الاخراب کی آیت ۵۶ کا انکار ہے۔

تم ہی بتاو اور کافری  کیا ہے ؟!

جب رسولؐ و اصحاب رسولؐ کے فہم کو بیچ میں سے نکال دیا جائے تو ایک گمراہ عقل الہامی کتابوں کے ساتھ یونہی کھیلتی اور انہیں بازیچہ اطفال بنا دیتی ہے۔

Pages