مذہب فلسفہ اور سائنس

کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء وطالبات سے ایک درخواست

. آج سے دو سو برس پیشتر ایک آدمی اچھا مسلمان ہو سکتا تھا اور رہ سکتا تھا خواہ اس نے کبھی امام غزالی اور ابن عربی کا نام بھی نہ سنا ہوتا۔ اس وقت نرا ایمان کافی تھا کیونکہ اس کی حفاظت ہوتی رہتی تھی۔ آج کا مسلمان اگر ان عقائد کے بارے میں…

مسجدوں اور اذانوں کا پاکستان

عالم اسلام میں آئیں تو سب کشمکش آج اس پر ہے، اور ہوگی، کہ ہم اپنی اُسی ملت پر اصرار کریں جو چودہ سو سال سے ہماری نظریاتی تشکیل کرتی آئی؛ اور اُن کے دیے ہوئے اِس نئے تصورِ ملت کو اپنے لیے قبول نہ کریں۔ ’اپنی ملت کو قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کرنے‘…

نیشنلزم اورانسان کےاندرکچھ طبعی جذبے

اسلام جہاں ایک اصولی دستورِ حیات ہے وہاں فطرت کے مقاصد کا بہترین نگہبان بھی ہے۔ اپنے کنبے قبیلے سے عام انسانوں کی نسبت آدمی کو زیادہ محبت ہونا، خاص اپنی زبان اور پھر زبان میں بھی خاص اپنا لہجہ بولا جا رہا ہو تو آدمی کا اس پر پھڑک اٹھنا، اپنے خون کےلیے آدمی…

کیاسیکولرازم لادینیت کانام ہے؟

کس معصومیت اور تجاہل عارفانہ سے سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا سیکولرزم لادینیت کا نام ہے؟اور پھر سارا زور یہ ثابت کرنے میں لگا دیا جاتا ہے کہ سیکولرزم تو محض انسان دوستی اور اعلی اخلاقیات کا نام ہے اسے لادینیت نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستانی معاشرے کی اپنی نفسیات ہیں۔مذہبی تعلیمات پر عمل…

مغالطہ :سیکولرازم لادینی نہیں کثیرالمذہبی نظام ہے

برادر سید متین نے پروفیسر امجد علی شاکر صاحب کے ایک اقتباس کی روشنی میں سوال اٹھایا ہے کہ سیکولر ریاست کا معنی کیا ہوتا ہے؟ پروفیسر صاحب فرماتے ہیں کہ مولانا مودودی نے سیکولرازم کا ترجمہ “لادینی” کیا ہے تو یہ درست نہیں بلکہ سیکولرازم کا معنی “ہمہ دینی یا کثیر مذہبی” ہوتا ہے۔…

مذہب کوذاتی زندگی تک محدود کرنےکا مطلب

موجودہ تہذیب آزادی کے نام پر یہ جھانسہ دیتی ھے کہ فرد یہاں ”جو” چاھنا چاھے چاھنے اور اسے حاصل کرسکنے کیلئے آزاد ھے”۔ مگر فی الحقیقت یہ ایک لغو دعوی ھے، عملا اس نظام میں فرد صرف وہی چاہ سکتا اور چاھتا ھے جس کے نتیجے میں سرمائے میں اضافہ ھو کیونکہ آزادی کا…

مغالطہ:کون سا اِسلام جناب؟مولوی لڑتے ہیں ہم لڑتے نہیں

1. کون سا اِسلام جناب، کیونکہ مولویوں کا اسلامی احکامات کی تشریح میں اختلاف ہے، لٰہذا جب تک یہ اختلاف ختم نہیں ہوجاتے،اسلام کو اجتماعی نظم سے باہر رکھو۔ 2. ٹھیک ہے اختلافات ہمارے درمیان بھی ہیں،مگر ہم لڑتے تو نہیں نا، مولوی تو لڑتے ہیں،ایک دوسرے کو کافر وگمراہ کہتے ہیں۔ 3. عقل پر…

مغالطہ: کونسی شریعت ؟

سیکولرز کا پیش کردہ اشکال: کونسی شریعت شریعت شریعت تو سب کرتے ہیں۔ مگر اِن داعیانِ شریعت میں سے آج تک کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ کونسی شریعت؟ کوئی ایک شریعت ہو تو بات کریں۔ یہاں خمینی کی شریعت ہے۔ نمیری کی شریعت ہے۔ ضیاءالحق کی شریعت ہے۔ قذافی کی شریعت الگ ہے۔ سعودیہ…

مغالطہ:عقل پرمبنی سیکولرنظام متشدد نہیں ہوتا!

 ٭عقل پر مبنی اجتماعی نظم ڈاگمیٹک نہیں ہوتا جب ان باتوں کا جواب نہیں بنتا تو عقل پرست و سیکولر لوگ ایک نئے قسم کا داؤ پیچ کھیلتے ہیں اور وہ یہ کہ ‘مذہبی عقیدہ چونکہ معین،غیر متبدل وآفاقی ہونے کا مدعی ہوتا ہے لٰہذا یہ اپنے ماننے والوں میں ڈاگمیٹک (متشدد) رویے کو فروغ…

مغالطہ:سیکولر ریاست کسی تصورخیر کی بیخ کنی نہیں کرتی

گزشتہ بحث کےبعد یہ غلط فہمی خودبخود صاف ہوجانی چاہیئے کیونکہ اپنے دائرہ عمل میں سیکولر ریاست صرف انہی تصورات خیر اور حقوق کو برداشت کرتی ہے جو اسکے اپنے تصور خیر (ہیومن رائٹس،یعنی ہیومن کی آزادی) سے متصادم نہ ہوں، اور ایسے تصورات خیر جو ہیومن رائٹس سے متصادم ہوں انکی بذریعہ قوت بیخ…

مغالطہ:سیکولرریاست پرامن مذہبی بقائے باہمی ممکن بناتی ہے

اس ضمن میں سیکولر لوگ بڑے طمطراق سے یہ بھی کہتے ہیں کہ سیکولر ریاست مذہبی اختلافات (مثلاً شیعہ،سنی،دیوبندی،بریلوی) کو ختم کرکے انکے پرامن بقائے باہمی کوممکن بناتی ہے، اور ہمارے چند دینی لوگ بھی اس جھانسے کاشکار ہوکر اسے سیکولر ریاست کی کوئی ‘خوبی’ اور اہل مذہب پر اس کا کوئی’احسان’ تصور کرنے لگتےہیں۔…

سیکولرمغالطہ-سیکولر ریاست فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی

سیکولر لوگوں کی پھیلائی ھوئی بہت سی مغالطہ انگیزیوں میں سے ایک یہ بھی ھے کہ ”سیکولر ریاست مذہبی ریاست کی طرح فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتی، لہذا یہ مذہبی ریاست کی طرح جابرانہ (coercive) نہیں ھوتی۔ پس ریاست کو مذہبی نہیں بلکہ سیکولر بنیاد پر قائم ھونا چاھئے”۔ مگر حقیقت یہ…

ذاتی زندگی میں عدم مداخلت کےلبرل اصول کاتجزیہ

لبرل ریاستوں کا موجودہ پالیسی فریم ورک علم معاشیات کے مباحث سے ماخوذ ہے۔ معاشیات کی کتب لکھنے والے مصنفین بظاہر اپنے قاری کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ’’ریاست کو کیوں نجی سیکٹر کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے‘‘ ۔ معاشیات میں گریجویشن کرنے والے عام طالب علم اور لبرل سیاسی فکر کا…

غامدی صاحب کاجوابی بیانیہ مولاناامین احسن اصلاحی کی سیاسی فکرکی روشنی میں

گذشتہ ایک تحریر میں راقم نے مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی کی فکر میں موجود تصورِ خلافت پر اپنی طالب علمانہ گزارشات پیش کی تھیں۔اس تحریر میں زیادہ فوکس ان بزرگوں کی قرآنی فکر اور تفسیری آرا پر رہا اور اپنے تفسیری افکار کے ضمن میں انھوں نے جہاں اسلامی روایت…

خلافت-فکرفراہیؒ واصلاحیؒ کی روشنی میں

12اپریل 2017ء کے ایک کالم میں جناب خورشید احمد ندیم نے محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے جوابی بیانیے کے الفاظ کو نکات کی شکل میں ملخص کر کے پیش فرمایا ہے۔ بات پرانی ہے، اس پر لکھا بھی بہت کچھ جا چکا ہے۔ ان سطور میں پہلے سوال پر گفتگو کرنے کی کوشش کی…

عوام کی حاکمیت[جمہوریت]-ایک جائزہ

آج کا سب سے زیادہ فیشن ایبل سیاسی نظریہ سیکولر جمہوریت ہے، اس وقت دنیا میں یہ کہا اور سمجھا جارہا ہے کہ دنیا کے مختلف نظاموں کے تجربات کرنے کے بعد آخر میں میں سیکولر جمہوریت ہی سب سے بہتر نظام حکومت ہے۔ یہاں تک کہا جارہا ہے کہ اب اس سے بہتر نظام…

اللہ کےقانون کی حاکمیت [اسلامی سیاست]

تھیوکریسی(Theocracy): تھیوکریسی کا لفظ یونانی اصلیت رکھتا ہے۔ یونانی زبان میں Theo خدا کو کہتے ہیں، ( اور اسی سے تھیولوجی بنا ہے لوجی کہتے ہیں علم کو۔ توتھیولوجی کے معنی عالم الٰہیات ہیں)، Cracy کے معنی ہیں حاکمیت۔ اس طرح Theoracyکے معنی ہوئے خدا کی حاکمیت۔ اس نظام کا اصل تصور تو بڑا مبارک…

خلافت کی شرعی حیثیت- چند منطقی مغالطوں کا جائزہ

خلافت کی ناگزیریت: فطری تقاضوں اور استطاعت کا مغالطہ ہماری تحریر “خلافت ناگزیر ہے” کے جواب میں احباب نے دلائل کی جو عمارت قائم کی ہے اس کا ایک ستون یہ ہے: “فطری تقاضوں (بشمول اجتماعی نظام کے قیام) کو فطرت تک ہی رکھنا چاھئے۔ فطری اور عقلی تقاضے بدیہات ہوتے ہیں۔ ان پر انسانوں…

کس آیت میں لکھاہےکہ خلافت قائم کرناضروری ہے؟

یہ سوال پوچھتے پھرنا کہ “بتاؤ کس آیت میں لکھا ہے کہ خلافت قائم کرنا ضروری ہے” ظاہر کرتا ہے کہ سائل کو معاملے کی نوعیت کی خبر ہی نہیں۔ یہ سوال ہی باطل ہے۔ متعلقہ سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالی نے جن حقوق و فرائض کو متعین کیا ہے ان کی ادائیگی…

اسلامی ریاست کے بنیادی اصول

نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد کے سلسلے میں 1951ء میں تمام مسالک کے نمائندہ علماء نے متفقہ طور پر 22 دستوری نکات مرتب کیے۔ یہ علماء جملہ اسلامی فرقوں کے نمائندہ علماء اور ملک کے عوام کی دینی اور روحانی وابستگی کا مرکز ہیں جنہیں پاکستانی عوام کے جذبات کا نشان قرار دیا جاتا ہے۔…

Pages