مذہب فلسفہ اور سائنس

آرٹیکل لسٹ (حدیث)

۔

حجیت/ضرورت حدیث 1.     قرآن کی موجودگی میں حدیث کی ضرورت ہی کیا ہے؟ 2.      رسولؐ اور اسوہ رسولؐ کی ضرورت 3.     اختیارات رسولؐ قرآن کی روشنی میں 4.      سنت کی حیثیت قرآن کی روشنی میں 5.     کیا وحی متلواورغیرمتلوایک قرآنی تقسیم ہے؟ 6.     کیاحدیث قرآن کے خلاف عجمی سازش ہے؟(قرآن و حدیث کے تناظر میں) 7.     حدیث اور تاریخ میں فرق 8.     حجیت، ضرورت اوراصول حدیث-چندقابل غور نکات

تدوین وحفاظت 1.     دورِ نبوی ؐ میں کتابت حدیث 2.      خلفائےراشدین ؓ اور کتابت حدیث 3.     اکابرصحابہؓ اور کتابت حدیث 4.      پہلی اوردوسری صدی ہجری میں کتابت حدیث 5.     احادیث کی کتابوں کےپرانےذخائرکہاں چلےگئے؟ 6.     حدیث کی پہلی دس مشہور کتابیں 7.     صحاح ستہ کا دور تدوین و تالیف 8.     صحاح ستہ کے مؤلفین کی اغراضِ تالیف 9.     حدیث اور مستشرقین (Orientilist) 10. مستشرقین ، بنوامیہ اور امام زہری ؒ 11. حدیث اورمستشرقین-چند بڑے اعتراضات کا جائزہ 12. مستشرقین اور حدیث کے دوسوسال بعد مرتب ہونے کا مفروضہ 13. کتابت وحفاظت حدیث پر اعتراضات کے جواب میں اتمام حجت (صحیفہ ابن ہمام) 14. کیاخلفائےراشدین نےسنت کی پیروی نہیں کی؟ 15. کیاحضرت عمرنے حضورؐکےفیصلوں کوبدلا؟ 16. حضرت عمراور منکرین حدیث کے مغالطے 17. حضرت ابوہریرہ پرمستشرقین کے اعتراضات کاجائزہ 18. حضرت ابوھریرہؓ پرمستغربین[منکرین حدیث]کےاعتراضات 19. اعتراض:حضرت عمرابوھریرہؓ کو اللہ کا دشمن اورخائن کہتے تھے 20.  حضرت ابوھریرہؓ، کعب الاحبارؒاوراسرائیلی روایات 21. کیاامام ابوحنیفہ ؒ نے صرف سترہ احادیث پراعتبارکیا ؟ 22.  کتب حدیث میں شیعہ راویوں کی روایات 23. روایت بالمعنی کی حقیقت اور اسکا پس منظر 24.  موضوع اور من گھڑت روایات حدیث 25. صحاح ستہ اور عجمی/ایرانی سازش کا افسانہ(تاریخی تناظر میں) 26. حدیث اور اسلوب نبوی کی انفرادیت 27. علم حدیث میں خواتین کا کردار

حدیث-اصول تحقیق 1.     ترتیبِ حدیث کا تدریجی ارتقاء 2.      احادیث کی کتابوں کے درجات اورانکے احکام 3.     حدیث کی اقسام 4.      حدیث کی قبولیت کے اصول و قواعد 5.     فن اسماء الرجال- ایک تعارف 6.     علم اصولِ جرح وتعدیل 7.     اسنادِحدیث کےنقدوتحقیق کےاصول 8.     احادیث پر جرح و تعدیل کا طریقہ 9.     قبولِ حدیث کا روایتی معیار 10. قبولِ حدیث کا درایتی معیار 11. اصولِ حدیث اور صحابہ-ایک اعتراض کا جواب 12. فہم حدیث میں مقام اورعرف کےدرست تصورکی اہمیت 13. فہم حدیث میں خرابی کیوجہ اوراسکاعلاج 14. حدیث اورعوامی اشکالات کی بنیادی وجوہات

فکرِغلام احمدپرویز 1.     حدیث کے انکار کا فتنہ 2.      قرآن حدیث اور منکرین حدیث 3.     مسلم دنیا میں انکار حدیث کے جدید فتنے کی ابتداء 4.      ہندوستان میں انکار حدیث کی تحریک کی ابتداء 5.     انکارِحدیث کے اسباب اور وجوہات 6.     غلام احمد پرویز اور قرآن میں اختلاف کا مسئلہ 7.     پرویزصاحب کی قرآنی فکر1/2 8.     پرویزصاحب کی قرآنی فکر 2/2 9.     پرویز صاحب کی قرآنی فکر – خلاصہ 10. پرویزصاحب کے فہم قرآن کے اصول-ایک جائزہ 11. مذہبی پیشوائیت/ملاازم اور غلام احمد پرویز 12. پاکستان، ملاازم اور غلام احمد پرویز 13. غلام احمد پرویز صاحب کے نظام ربوبیت کی قرآنی بنیادوں کا جائزہ 14. غلام احمد پرویز صاحب کے ‘نظام ربوبیت’ کی قرآنی بنیادوں کا جائزہ [2] 15. نظام ربوبیت اورقرآنی انقلاب- کتنی حقیقت کتنافسانہ 16. پرویز صاحب کا’ ایمان باالقرآن’ انکی تحقیقات کے آئینے میں 17. اللہ رسول یا مرکز ملت؟ قرآن کی روشنی میں 18. پرویز صاحب اور قرآنی آیات کی کھچڑیاں اورعجیب وغریب فلسفے 19.                                                                                                   علامہ اقبال ، حدیث نبوی ؐ اور منکرین حدیث حدیث-مغالطے/اشکالات 1.     سنت – چند بنیادی سوالات 2.      کیا سنت بھی قرآن کی طرح اختلافات سے پاک ہے؟ 3.     سنت کی ضرورت کیوں ؟ کیا کتاب اللہ کا قانون نامکمل ہے؟ 4.      اشکال:حفاظتِ حدیث کی ذمہ داری اللہ نے نہیں اٹھائی۔! 5.     اشکال:احادیث قرآن کی طرح لکھوائی نہیں گئی 6.     قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ حضورﷺ پرقرآن کے علاوہ بھی وحی آئی؟ 7.     کیا سابقہ انبیاء پربھی کتاب اللہ کےعلاوہ وحی نازل ہوئی ؟ 8.     اشکال:محمد ؐ نےکوئی گناہ نہیں کیامگروہ غلطیاں توکرسکتےتھے 9.     پیروی کس کی ؟ کتاب اللہ یا رسول اللہ کی ؟ 10. اشکال: چندآیات سےاستدلال کہ قرآن ہی کی پیروی کاحکم ہے 11. قرآن تفصیلا لکل شیء ہےاسکےبعدحدیث  کی ضرورت ؟ 12. حدیث اوران گنت راویوں پرایمان لانے کا اعتراض 13. کیا احادیث بھی قرآن کی طرح شک سے پاک ہیں؟ 14. کیاذخیرہ احادیث کی حیثیت محض تاریخ کی سی ہے؟ 15. امام بخاری اور چھے لاکھ احادیث کا فسانہ 16. اعتراض:محدثین معصوم نہیں تھےان سےخطاممکن ہے 17. اعتراض : قرآن يقينى اور حدیث ظنی ہے اور ظن دین نہیں ہوسکتا 18. کیاظن دین بن سکتاہے؟دیتےہیں دھوکہ یہ بازیگرکھلا 19. کیااللہ کادین صحیح اورضعیف ہوسکتاہے؟ 20.  کیامحمدؐکی اطاعت صرف عہدنبوت کےلوگوں کیلئےہی ضروری تھی؟ 21. کیاحضورﷺ کاہرعمل سنت اورواجب الاتباع ہے ؟ 22.  محمدؐ خدا تو نہیں تھے کہ خدا کیطرح انکی پیروی کی جائے! 23. حدیث اور مسلکی انتشار/فرقہ واریت کا اعتراض 24.  انکارحدیث کےبعدبھی منکرین حدیث میں فرقے کیوں؟ 25. قدیم وجدید معتزلہ اورانکارِحدیث کے حربے 26. منکرین حدیث کی حدیث دشمنی میں علمی خیانتیں 27. انکارحدیث کی جدید صورتیں اورخدشات 28. کیاسنت صرف ‘تواترعملی’ سے ثابت ہے؟ 29. کیااحادیث الحاد کےپھیلنےکاذریعہ ہیں؟

خیرخواہی کےنام پرانکارِحدیث 1.     خیرخواہی کےنام پر حدیث کا انکار 2.      معیارِقبولِ حدیث:حدیث قرآن اورنبیؐ وصحابہ کی شان کیخلاف ناہو 3.     معیارِقبولِ حدیث:خلاف علم/عقل/مشاہدہ ناہو 4.      حضورؐکا جونیہ سے نکاح اور حدیث 5.     حضورؐپرخودکشی کی تہمت اور حدیث 6.     رسول اکرمؐ پرجادوکی حقیقت -ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ 7.     بعض احادیث میں عریاں مضامین کیوں ہیں؟ 8.     کیاحضورؐاپنی ازواج کےہمراہ برہنہ غسل فرمایا کرتے تھے؟ 9.     حدیث اور حیض و روزے میں مباثرت 10. حدیث غسلِ حضرت عائشہ پر اعتراض کی حقیقت 11. حضورؐ کی ایک رات میں تمام بیویوں سےمباثرت کی حدیث 12. اشکال حدیث:تم انصاری عورتیں مجھےسب سےذیادہ محبوب ہو 13. روایت حضرت حفصہ نےحضورؐکوڈانٹ پلائی-منکرین حدیث کی علمی خیانت 14. حضرت ابراھیمؑ اورتین جھوٹ-تحقیقی جائزہ 15. حدیث:سورج بوقت طلوع شیطان کے دو سینگوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ 16. آفتاب کےزیرعرش سجدہ کرنےکی روایت- تحقیقی جائزہ 17. بخارکاجہنم سے تعلق اور حدیث 18. ‘شیطان کاکان میں پیشاب کرنا’ حدیث کادرست مفہوم 19. اونٹنی کاپیشاب اوردودھ ملاکرپلانےکی حدیث-ایک جائزہ 20.  اسلام میں بالغوں کی رضاعت کاتصوراورحدیث 21. عورت،گھراورگھوڑے میں نحوست اور حدیث 22.خیرخواہی کے نام پر انکار حدیث- متفرق روایات :

٭اعتراض :حضرت ماریہ قبطیہ کی ام ولد، مخنث اور حضرت علی

٭اعتراض :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد پر جانے والے اصحاب پر طنز اور تبرا والی حدیث

٭اعتراض :خوبصورت عورت کا نماز پڑھنااورصحابہ کا اسے دیکھنا

٭اعتراض :زمانہ جاہلیت کے نکاح اور حضرت عائشہ

٭اعتراض :کبوتری کو زوجہ بنانے کی روایت

٭اعتراض:فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے :امت کا بہترین آدمی وہ ہے جس کی زیادہ بیویاں ہوں ۔ (اسلام کے مجرم صفحہ 22)

٭اعتراض :حضرت عائشہ کی کنوارے کی فضیلت کی حدیث

٭اعتراض:ایسی عورت سے نکاح کرنا چاہیئے جس کی خوب اولاد ہو ۔ (اسلام کے مجرم صفحہ 42)

٭اعتراض :قرآنی کی کسوٹی پر پرکھنے کی روایت

٭اعتراض :حضرت جابر کابیوہ عورت سے نکاح اور حدیث

٭اعتراض :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” میرے بعد لوگوں پر عورت سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں” (اسلام کے مجرم صفحہ26)

٭اعتراض: حضرت علی نے نشے میں نماز پڑھائی

٭اعتراض:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منگل خون کا دن ہے اس دن خون تھمتا ہی نہیں ”(اسلام کے مجرم صفحہ 27)

٭اعتراض: ایک روایت پر اعتراض جس میں مذکور واقعہ کا بیان قرآن میں بھی ہے۔

٭اعتراض:حضورؐ کی حضرت عائشہ سے دل لگی کی باتیں

٭اعتراض :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا غصہ آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں گال سرخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ لال ہوگیا ۔ (اسلام کے مجرم صفحہ44)

٭ اعتراض:عورت پسلی کی مانند ٹیڑھی ہے۔

٭اعتراض:حضرت علی نے فرمایا مجھے جریان تھا جس سے میری مذی نکلا کرتی تھی ۔(اسلام کے مجرم صفحہ 45)

٭اعتراض : تقدیر کی روایت پر اعتراض

٭اعتراض:حضور ؐ کا دم کرنا اور تحفہ قبول کرنا

٭اعتراض:حضورؐ کا بھول جانا

٭اعتراض: کبوتری کو شیطان کہنے کی روایت

٭اعتراض: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی صفیہ سے کہا او سر منڈی ہلاک ہوئی۔(اسلام کے مجرم صفحہ 31)

٭اعتراض:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے گھوڑے پر آئے اوروہیں کھڑے کھڑے پیشاب کیا۔(اسلام کے مجرم صفحہ 45)

٭اعتراض: نحوست ، چھوت کی روایت

٭اعتراض:ابوہریرہ اورحبشی زبان میں کلام

٭اعتراض: بندروں کا زنا اور سنگسار کرنا

٭اعتراض: بہت سی لباس والیاں آخرت میں ننگی ہونگی

٭اعتراض:”سلیمان نے ایک رات میں سوبیویوں کے ساتھ مباشرت کی ۔ ”ملاحظہ فرمائیے ایک رات چند گھنٹے اور اللہ کا ایک عالی مقام پیغمبر (اسلام کے مجرم ،صفحہ 34)

٭اعتراض:محمود بن ربیع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے منہ میں کلی کی جب میں پانچ سال کا تھا ۔ (اسلام کے مجرم صفحہ 44)

علم حدیث میں خواتین کا کردار

اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے، اس کی تہذیب وتمدن، ثقافت وحضارت، اس کے نظم ونسق، قوانین وضوابط اور طریقہ تعلیم وتربیت سرمدی وآفاقی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام ہمیشہ سے جہالت وناخواندگی اور آوارگی کا کھلا دشمن اور علم ومعرفت، شائستگی اور آراستگی کا روزازل سے ایک مخلص ساتھی اور دوست رہا ہے۔ چنانچہ اس نے انسانیت کو بغیر کسی تفریق مرد وزن لفظ”اقرء“سے مخاطب کیا .قرآن مجید کے علاوہ نبیﷺ نے بلا تفریق مرد وزن اس کے حصول کا حکم اور جا بجا اس کی اہمیت وفضیلت کو بیان کیا ہے، چنانچہ ابن ماجہ کی ایک روایت ہے کہ”طلب العلم فریضة علی کل مسلم“- یعنی تمام مسلمانوں پرعلم دین حاصل کرنا فرض ہے۔ اس میں مرد وعورت دونوں کے لیے حکم ہے اور اس پرعلماء امت کا اجماع ہے۔اسی ترغیب و تشویق کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کی قوم، جس کی شانِ امتیاز ’ امّیت‘ تھی،جو علم و ثقافت سے کوسوں دور تھی اور جس میں پڑھنالکھنا جاننے والے افراد انگلیوں پر گنے جاتے تھے،اس میں علم کا زبردست چرچا ہونے لگا،مختلف علوم و فنون کی سرپرستی کی گئی اور بہت سے نئے علوم و فنون وجود میں آئے۔ یہاں تک کہ غلام اور باندیاں بھی زیورِ علم سے آراستہ ہونے لگے۔
اسلام پر ایک بڑا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ اس نے عورتوں کو میدانِ علم سے دور رکھا ہے۔ وہ انھیں گھر کی چار دیواری میں محبوس رکھتا اور سماج میں سرگرم کردار ادا کرنے سے روکتا ہے۔وہ مردوں اور عورتوں کو اختلاط سے سختی سے منع کرتا ہے، جس کی بنا پرعورتیں علمی میدان میں مردوں سے استفادہ کرنے سے محروم اور انھیں علمی فیض پہنچانے سے قاصر رہتی ہیں۔مسلمانوں کے دور ِ زوال میں عورتوں کی حالتِ زار خواہ اس اعتراض کو حق بہ جانب قرار دیتی ہو، لیکن قرونِ اولیٰ میں مسلم سماج میں عورتوں کوجو مقام و مرتبہ حاصل تھا اس سے اس اعتراض کی کلّی تردید ہوتی ہے۔ عہدِ نبوی میں مرد اور عورت دونوں تحصیلِ علم اور استفادہ و افادہ کے میدان میں سر گرم نظر آتے ہیں۔ اس معاملے میں خاص طور سے امہات المومنین کا اہم کردار تھا۔

خواتین اسلام اور علم حدیث:
اگر کتب رجال کی ورق گردانی کریں تو صحابیات، تابعیات اور مختلف ادوار کی راویات ومحدثات کی ایک طویل فہرست دستیاب ہوسکتی ہے، جنھوں نے حفاظت حدیث کے تعلق سے وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے جس کی مثال دنیا کے کسی مذہب وملت میں نہیں مل سکتی۔ فن حدیث ہی کیا شرعی علم وفن کوئی بھی ہو اس میں عورتوں کی کارکردگی نمایاں نظر آتی ہے، فن تفسیر ہو یا حدیث، فقہ ہو یا اصول، ادب ہو یا بلاغت سارے کے سارے فنون کی عورتوں نے جان توڑ خدمت کی۔ اگر صحابیات وتابعیات تحمل اور روایت حدیث میں پیچھے رہتیں تو آج اسلامی دنیا مسائل نسواں کی علم ومعرفت سے محروم رہتی، نکاح وطلاق کے مسائل ہوں یا جماع ومباشرت کے ازدواجی زندگی کا کوئی الجھا ہوا پہلو ہو یا خانگی مشکلات، اگر اس قسم کے الجھے اورپرپیچ مسائل کا حل ہمیں ملتا ہے تو صحابیات وتابعیات کی مرویات ہیں۔ابتدائے اسلام سے لے کر اس وقت تک سینکڑوں ہزاروں پردہ نشیں مسلم خواتین نے حدود شریعت میں رہتے ہوئے گوشہ علم وفن سے لے کر میدان جہاد تک ہر شعبہ زندگی میں حصہ لیا اور اسلامی معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا۔ خواتین اسلام نے علم حدیث کی جو خدمات انجام دی ہیں، ان کی سب سے پہلی نمائندگی صحابیات وتابعیات کرتی ہیں، اس لیے سب سے پہلے انہی کے کارناموں کا اجمالی نقشہ پیش کیا جارہا ہے۔

صحابیات/امہات المومنین:
صحابہ کرام کی طرح صحابیات بھی اپنے ذہن ودماغ کے لحاظ سے ایک درجے اور مرتبے کی نہیں تھیں اورنہ سب کویکساں طورسے آنحضرتﷺ کی صحبت ورفاقت نصیب ہوئی تھی، اس لیے ان کی خدمات بھی اسی کے اعتبار سے کم وبیش ہوں گی، کیونکہ حدیث کی خدمات کے لیے سب سے زیادہ ضرورت حفظ اور فہم وفراست ہی کی تھی۔ صحابیات میں ازواج مطہرات کو نبیﷺ کے ساتھ ہر لحاظ سے زیادہ خصوصیت حاصل تھی، اس لیے اس سلسلے میں ان کی خدمات سب سے زیادہ ہیں۔ ازواج مطہرات کو تاکید بھی کی گئی کہ:” یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کوجو تمھارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں۔‘‘(الاحزاب:۳۴)
حضور کے سپرد جو کام کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ آپؐ ایک ان پڑھ قوم کو، جو اسلامی نقطۂ نظر سے ہی نہیں، بلکہ عام تہذیب و تمدن کے نقطۂ نظر سے بھی نا تراشیدہ تھی، ہر شعبۂ زندگی میں تعلیم و تربیت دے کر ایک اعلیٰ درجہ کی مہذب و شائستہ اور پاکیزہ قوم بنائیں ۔اس غرض کے لیے صرف مردوں کو تعلیم دینا کافی نہ تھا، بلکہ عورتوں کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری تھی۔ مگر جو اصولِ تہذیب و تمدن سکھانے کے لیے آپ مامور کیے گئے تھے ان کی رو سے مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ممنوع تھا اور اس قاعدے کوتوڑے بغیر آپ کے لیے عورتوں کو بہ راہ راست خود تربیت دینا ممکن نہ تھا۔ اس بنا پر عورتوں میں کام کرنے کی صرف یہی ایک صورت آپ کے لیے ممکن تھی کہ مختلف عمروں اور ذہنی صلاحیتوں کی متعدد خواتین سے آپ نکاح کریں، ان کو بہ راہ راست خود تعلیم و تربیت دے کر اپنی مدد کے لیے تیار کریں اورپھر ان سے شہری اور بدوی اور جوان اور ادھیڑ اور بوڑھی ہر قسم کی عورتوں کو دین سکھانے اور اخلاق و تہذیب کے لیے اصول سمجھانے کا کام لیں۔ ( تفہیم القرآن،سید ابو الاعلیٰ مودودی، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی، ۲۰۱۵ء:۴؍۱۱۵ )
چنانچہ امہات المومنین کے ذریعے امت کو بڑے پیمانے پر علمی فیض پہنچا۔ اس کا آغاز عہدِ صحابہ ہی سے ہو گیا تھا۔علمی مسائل میں صحابۂ کرام کے درمیان اختلاف ہوتا یا انھیں کوئی الجھن درپیش ہوتی تو وہ امہات المومنین کی طرف رجوع کرتے اور وہ اس سلسلے میں جو کچھ بیان کرتیں اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے۔ علامہ ابن قیم ؒنے’زاد المعاد‘ میں لکھا ہے: ’’صحابہ کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوتا اور امہات المومنین میں سے کوئی نبی ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی حدیث بیان کر دیتیں تو وہ اس کو فوراً قبول کر لیتے اور اپنے تمام اختلافات کو چھوڑ کر اس کی طرف رجوع کرتے۔‘‘)زاد المعاد، ابن قیم:۵؍۵۳۴( حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں:’’ہم اصحابِ رسول کو جب کبھی کسی حدیث کے معاملے میں کوئی دشواری پیش آتی اور ہم اس کے سلسلے میں حضرت عائشہؓ سے دریافت کرتے تو ہمیں ان کے پاس ضروراس کے متعلق علم حاصل ہوتا۔‘‘ (ترمذی، ابواب المناقب، باب فضل عائشۃ،۳۸۸۳)
نسوانی مسائل کی بہت سی گتھیوں کو سلجھانے میں امہات المومنین کا غیر معمولی کردار ہے۔ انھوں نے وہ مسائل خود آنحضرت ؐ سے دریافت کرکے دوسری صحابیات کو بتائے، یا صحابیات ان کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کرتی تھیں تو وہ حضورؐ سے رجوع کرکے انھیں جواب دیتی تھیں۔ مخصوص مسائل سے ہٹ کر بھی بہت سی تعلیمات اور احکام کا علم امت کو امہات المومنین ہی کے واسطے سے ہوا ہے۔وہ خلوت گاہِ نبوت کی را زدار تھیں۔ انھیں بہت سی ان باتوں کی خبر رہتی تھی جو دوسروں کی نگاہوں سے پوشیدہ تھیں۔ آنحضرت ؐ کے ارشاداتِ عالیہ کی معتد بہ تعداد ایسی ہے جو ہم تک صرف امہات المومنین کے ذریعے ہی پہنچی ہے۔( حقائقِ اسلام، محمد رضی الاسلام ندوی،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی ،۲۰۰۸ء،ص ۸۳)

امہات المومنین کاعلمی مقام و مرتبہ:
علامہ ابن حزم اپنی کتاب”اسماء الصحاب الروا ة وما لکل واحد من العدد“کے اندر کم وبیش (125) صحابیات کا تذکرہ کیا ہے جن سے روایات مروی ہیں اور ان کے اعداد وشمار کے مطابق صحابیات سے مروی احادیث کی کل تعداد(2560) ہے جن میں سب سے زیادہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، حضرت عائشہ مکثرین الروایة صحابہ میں سے ہیں، ان کی مرویات کی تعداد(2210) ہے(بقی بن مخلد القرطبی ص79، تدریب الراوی:20/677)، جن میں(286) حدیثیں بخاری ومسلم میں موجود ہیں، مرویات کی کثرت کے لحاظ سے صحابہ کرام میں ان کا چھٹا نمبر ہے(خدمت حدیث میں خواتین کا حصہ ص 17 ، تالیف: مجیب اللہ ندوی)،
مرویات کی کثرت کے ساتھ احادیث سے استدلال اور استنباط مسائل، ان کے علل واسباب کی تلاش وتحقیق میں بھی ان کو خاص امتیاز حاصل تھا اور ان کی صفت میں بہت کم صحابہ ان کے شریک تھے، کتب حدیث میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں۔ ۔ رسول اللہ ﷺ سے استفادہ کے معاملے میں ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سب سے آگے تھیں۔ ان کے ذہن میں جو بھی اشکال پیدا ہوتا وہ فوراً آپ ؐ کے سامنے اس کا اظہار کرتیں اور آپؐ اس کی وضاحت فرمادیتے۔ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:مَن حُوسِبَ عُذِّبَ( روزِ قیامت جس کا حساب لیا گیا وہ گرفتارِ عذاب ہوگا۔) اس پر حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! قرآن میں تو کہا گیا ہے:فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَاباً یَسِیْراً ً( اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔)اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس سے مراد اعمال کی پیشی ہے۔جس کے اعمال میں جرح شروع ہو گئی وہ توہلاک ہوگیا۔‘‘ ( بخاری، کتاب العلم،۱۰۳)
ان کے شاگردِ خاص اور بھانجے عروہ بن زبیرؒ کہتے ہیں: ’’ میں حضرت عائشہ ؓ کی صحبت میں رہا۔ میں نے ان سے زیادہ آیات کی شانِ نزول، فرائض، سنت، شعر و ادب، عرب کی تاریخ اور قبائل کے انساب وغیرہ اور مقدمات کے فیصلوں، حتیٰ کہ طب کا جاننے والا کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔سیر اعلام النبلاء، ذہبی :۲؍۱۲۸۔۱۲۹)
عطا بن ابی رباح کہتے ہیں:’’حضرت عائشہؓ لوگوں میں سب سے بڑی فقیہ، سب سے زیادہ علم رکھنے والی اور عوام میں سب سے اچھی رائے رکھنے والی تھیں۔‘‘(تلخیص المستدرک، ذہبی:۴؍۱۴)امام ذہبی ؒفرماتے ہیں:’’رسول اللہ ﷺ کی امت میں، بلکہ مطلقاً سب ہی عورتوں میں ان سے زیادہ علم والی کسی عورت سے میں واقف نہیں ہوں۔‘‘(سیر اعلام النبلاء، ذہبی:۱؍ ۱۰۱)(عورت اور اسلام، مولاناسید جلال الدین عمری، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ۲۰۰۹ء، ص ۷۷ ۔۸۰)
امام زہری جو کبار تابعین میں سے تھے وہ فرماتے ہیں: ” حضرت عائشہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والی تھیں، بڑے بڑے صحابہ کرام ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ (تھذیب التھذیب: 12/463، سیر الصحابیات: ص 28)دوسری جگہ اس طرح رقمطراز ہیں:”اگر تمام ازواج مطہرات کا علم بلکہ تمام مسلمان عورتوں کا علم جمع کیا جائے تو حضرت عائشہ کا علم سب سے اعلی وافضل ہوگا“(تھذیب التھذیب:12/463، الاستیعاب:4/1883)۔
حضرت عائشہ فتوی اور درس دیا کرتی تھیں، یہی نہیں بلکہ آپ نے صحابہ کرام کی لغزشوں کی بھی نشاندہی فرمائی، علامہ جلال الدین سیوطی اور زرکشی رحمہما اللہ نے اس موضوع پر”الاصاب فیما استدرکتہ عائشة علی الصحاب“ کے نام پر مستقل کتاب لکھ رکھی ہے، حضرت عائشہ سے روایت کرنے والے صحابہ وتابعین کی تعداد سو سے متجاوز ہے“(تھذیب التھذیب: 12/461، 463)
حافظ ابن حجر ؒ نے ان سے متعلق لکھا ہے:’’انھوں نے حضورؐ سے بہت سی باتیں یاد رکھیں۔ وہ آپ کے بعد تقریباً پچاس سال زندہ رہیں، چنانچہ لوگوں نے ان سے بہت زیادہ اخذ و استفادہ کیا اور بہت سے احکام و آداب ان سے نقل کیے، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ شریعت کے ایک چوتھائی احکام ان سے منقول ہیں۔‘‘ ( فتح الباری، ابن حجر:۷؍۴۷۹)
حافظ ابن حجر ؒ نے تہذیب التہذیب میں حضرت عائشہ ؓ سے استفادہ کرنے والے اٹھاسی(۸۸) افراد، جن میں صحابہ اور تابعین، مرد اور عورت، آزاد اور غلام سب ہیں،ان کے نام گنانے کے بعد لکھا ہے: و خلق کثیر ، یعنی ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد نے ان سے روایت کی ہے۔( تہذیب التہذیب، ابن حجر:۱۲؍۳۸۵)
ازواج مطہرات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے بعد حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا علم حدیث میں ممتاز نظر آتی ہیں، علم حدیث میں ان کے مقام ومرتبے کے متعلق محمد بن لبید فرماتے ہیں:” عام طور سے رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرات آپ کی حدیثوں کو بہت زیادہ محفوظ رکھتی تھیں، مگر حضرت عائشہ اور ام سلمہ اس سلسلے میں سب سے ممتاز تھیں۔( طبقات ابن سعد:2/375) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے(378) حدیثیں مروی ہیں(بقی بن مخلد القرطبی ص:81، سیر الصحابیات: ص 9)۔ ان کے فتوے بکثرت پائے جاتے ہیں، علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے”اعلام الموقعین“میں لکھا ہے: ”اگر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے فتوے جمع کیے جائیں تو ایک چھوٹا سا رسالہ تیار ہوسکتا ہے(اعلام الموقعین لابن قیم الجوزی: 1/15)، ان کا شمار محدثین کے تیسرے طبقے میں ہے۔ ان کے تلامذہ حدیث میں بے شمار تابعین اور بعض صحابہ بھی شامل ہیں۔
ان دونوں کی طرح دوسری ازواج مطہرات نے بھی حدیث کی روایت اور اشاعت میں حصہ لیا اور ان سے بھی بڑے جلیل القدر صحابہ اور تابعین نے احادیث حاصل کیں، جیسے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہاہیں۔ ان سے76، ام حبیبہ رضی اللہ عنہاسے65، حفصہ رضی اللہ عنہا سے60، زینب بنت جحش رضی اللہ عنہاسے11،جویریہ رضی اللہ عنہاسے7،سودہ رضی اللہ عنہاسے5،، خدیجہ رضی اللہ عنہاسے1، میمونہ اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہما سے دو دو حدیثیں مروی ہیں۔
ایک تابعیہ حضرت صہیرہ بنت جیفرؒ بیان کرتی ہیں:’’ہم چند خواتین حج سے فارغ ہونے کے بعد مدینہ گئیں تو حضرت صفیہ ؓ کی خدمت میں حاضری دی۔ دیکھا کہ وہاں پہلے ہی سے کوفہ کی چند عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ہم نے ان سے زن و شو سے متعلق مختلف مسائل اور حیض اور نبیذ کے احکام دریافت کیے۔‘‘) مسند احمد،حدیث صفیہ ام المومنین، حدیث:۲۶۳۲۴(
امہات المومنین کے علاوہ صحابیات میں مشکل ہی سے کوئی صحابیہ ایسی ہوں گی جن سے کوئی نہ کوئی روایت موجود نہ ہو، چنانچہ آپ کی پیاری بیٹی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے18، آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاسے11حدیثیں مروی ہیں(بقی بن مخلد القرطبی ص: 84/ 160)۔ عام صحابیات میں سے حضرت ام خطل رضی اللہ عنہا سے30حدیثیں مروی ہیں، حضرت ام سلیم اور ام رومان رضی اللہ عنہماسے چند حدیثیں مروی ہیں، ام سلیم رضی اللہ عنہاسے بڑے بڑے صحابہ مسائل دریافت کرتے تھے، ایک بار کسی مسئلے میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہمامیں اختلاف ہوا تو دونوں نے ان ہی کو حکم مانا(مسند احمد:6/430 ، منقول از خدمت حدیث میں خواتین کا حصہ ص: 12)۔ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے متعدد صحابہ وتابعین نے روایت کیا اور صحابہ وتابعین ان سے مردے کو نہلانے کا طریقہ سیکھتے تھے(تھذیب التھذیب:12/455) ۔
مختلف عقدہ ہائے حیات کو لے کر ان کی طرف چھوٹوں نے بھی رجوع کیا اور بڑوں نے بھی، مردوں نے بھی اور عورتوں نے بھی، اصحابِ قرب و جوار نے بھی اور دور دراز کے رہنے والوں نے بھی، اور ان خواتینِ امت کی دینی سوجھ بوجھ اور بصیرت و دانائی نے ان گرہوں کو کھولا اور راہِ حق واضح کی۔‘‘(عورت اسلامی معاشرہ میں، سید جلال الدین عمری، مرکزی مکتبہ سلامی پبلشرز نئی دہلی، ۲۰۱۱ء،ص۱۵۴)
مسانید صحابیات:
صحابیات کی کثرت روایت اور ان کی خدمت حدیث کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ امام احمد بن حنبل نے (140) سے زائد صحابیات کا تذکرہ لکھا ہے، اسی طرح”اسد الغابة“ اور ”الاصاب فی تمییز الصحابة“ میں (500)سے زائد صحابیات کے تراجم موجود ہیں، ”تھذیب التھذیب“میں (233) خواتین اسلام کا تذکرہ ہے جن میں بیشتر صحابیات ہیں(تھذیب التھذیب:: 12/426-516)۔

تابعیات وتبع تابعیات:
صحابیات کی صحبت اور ایمان کی حالت میں جن خواتین نے پرورش پائی یا ان سے استفادہ کیا ان کو تابعیات کہا جاتا ہے، صحابیات کی طرح تابعیات نے بھی فن حدیث کی حفاظت واشاعت اور اس کی روایت اور درس وتدریس میں کافی حصہ لیا اور بعض نے تو اس فن میں اتنی مہارت حاصل کی کہ بہت سے کبار تابعین نے ان سے اکتساب فیض کیا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کتاب”تقریب التھذیب“کی ورق گردانی کرنے سے یہ بات مترشح ہوجاتی ہے کہ صحابیات کی طرح تابعیات کی ایک بڑی تعداد نے روایت وتحمل حدیث میں انتھک کوشش کی، چنانچہ ان کے اعداد وشمار کے مطابق(121) تابعیات اور(26) تبع تابعیات ہیں۔ البتہ”تقریب التھذیب“ کے مطالعے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان تابعیات میں کچھ پائے ثقاہت کو پہنچی ہیں، زیادہ تعداد میں مجہولات پائی جاتی ہیں۔ چند مشہور تابعیات کی خدمت کا تذکرہ کیا جاتا ہے:
حضرت حفصہ بنت سیرین:
انھوں نے متعدد صحابہ وتابعین سے روایت کی ہے، جن میں انس بن مالک اور ام عطیہ وغیرہ ہیں اور ان سے روایت کرنے والوں میں ابن عون، خالد الحذاء، قتادہ وغیرہ شامل ہیں(تھذیب التھذیب: 12/438)۔ جرح وتعدیل کے امام یحیی بن معین نے ان کو”ثقة “ ‘فرمایا (تھذیب التھذیب: 12/438)۔ ایاس بن معاویہ فرماتے ہیں”میں نے حفصہ سے زیادہ فضل والا کسی کو نہیں پایا۔( ایضاً:12/438) امام ذہبی سے انھیں حفاظ حدیث کے دوسرے طبقے میں شامل کیا ہے(تذکر الحفاظ:1/9)۔

حضرتعمرہ بنت عبد الرحمن:
یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خاص تربیت یافتہ اور ان کی احادیث کی امین تھیں، ابن المدینی فرماتے ہیں”حضرت عائشہ کی حدیثوں میں سب سے زیادہ قابل اعتماد احادیث عمرہ بنت عبد الرحمن، قاسم اور عروہ کی ہیں“۔ محمد بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن عبد العزیز نے فرمایا” اس وقت حضرت عائشہ کی احادیث کا ان سے بڑا کوئی جاننے والا موجود نہیں ہے۔( تھذیب التھذیب:12/466) اور امام ذہبی نے ان کو تابعین کے تیسرے طبقے میں شمار کیا ہے(تذکر ة الحفاظ: 1/94)۔ حضرت عائشہ کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام سے بھی انھوں نے روایتیں کی ہیں۔ ان سے روایت کرنے والوں میں تیرہ سے زیادہ کبار تابعین ہیں۔ 103ھ یا 116 ھ میں وفات پائی(ایضاً:12/466) ۔

روایت حدیث کے مختلف ادوار:
خیر القرون کے تذکرے کے بعد متاخرین کے مختلف ادوار کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے، ان ادوار میں بھی محدثین اور رواة کے ہمراہ راویات ومحدثات کی ایک لمبی فہرست دستیاب ہوتی ہے جنھوں نے حفاظت حدیث کی ذمہ داری اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائی۔ خدمت حدیث کی نوعیت علیحدہ علیحدہ اور مختلف ہے۔ کوئی اپنے زمانہ کی شیخ الحدیث تھی، کسی کا مسکن علم حدیث کا مرکز تھا، کسی نے حدیث کی تلاش وجستجو میں محرم کے ساتھ اپنے گھر کو خیرباد کہا، تو کسی نے محدثین کے ایک جم غفیر کو روایت حدیث کی اجازت مرحمت فرمائی۔ کسی نے حدیث کی مخصوص کتاب صحیح بخاری کا درس دیا، کتب ستہ اور دیگر کتب حدیث میں سینکڑوں حدیثیں ایسی ہیں جو کسی محدثہ یا راویہ کے توسط سے مروی ہیں۔ امام بخاری، امام شافعی، امام ابن حبان، امام ابن حجر، امام سیوطی، امام سخاوی، عراقی، سمعانی اور امام ابن خلکان رحمہم اللہ جیسے اساطین علم وفن کے اساتذہ کی فہرست میں متعدد خواتین اسلام کے نام ملتے ہیں(تلخیص از ماہنامہ السراج مارچ 2001 ء ص 24)، جن سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ خواتین نے اپنے ذاتی ذوق وشوق کی بنیاد پر نہ صرف علم حدیث حاصل کیا بلکہ اس کی نشرواشاعت کا فریضہ بھی انجام دیاہے۔
علم حدیث سے شغف رکھنے والی خواتین اسلام کی ایک طویل فہرست کتب اسماء ورجال کی ورق گردانی کے بعد دستیاب ہوسکتی ہے، چنانچہ چوتھی صدی ہجری میں پانچ خواتین، پانچویں صدی ہجری میں پندرہ، چھٹی صدی ہجری میں پچھتر، ساتویں صدی ہجری میں پینسٹھ، آٹھویں صدی ہجری میں ایک سو بانوے، نویں صدی ہجری میں ایک سو اکسٹھ اور دسویں صدی ہجری میں تین خواتین اسلام نے مختلف حوالوں سے خدمت حدیث کا کا انجام دیا(تلخیص از مجلہ الفرقان جولائی تا ستمبر 2002ء ص 26- 37)۔

تحصیل حدیث کے لیے سفراور محدثات کی درس گاہیں:
جس طرح احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش وجستجو میں محدثین نے عالم اسلام کی خاک چھانی ہے اور جملہ نوائب ومصائب کو برداشت کیا، ابتدائی دور میں احادیث وآثار کی روایت اور ان کی تدوین کے لیے بہت لمبے لمبے اسفار کیے تھے، لیکن بعد میں سند عالی کی طلب بھی ان اسفار کا سبب بن گئی، اسی طرح خواتین اسلام نے بھی اپنی صنفی حیثیت وصلاحیت کے مطابق شرعی پردے میں رہ کر تحصیل حدیث کے لیے دور دراز ملکوں اور شہروں کا سفر کیا اور محدثین کی فہرست میں اپنا نام درج کروایا(خواتین اسلام کی دینی وعلمی خدمات ص: 29-30) ۔
ام علی تقیہ بنت ابو الفرج بغدادیہ نے بغداد سے مصر جاکر قیام کیا اور اسکندریہ میں امام ابو طاہر احمد بن محمد السلفی سے اکتساب علم کیا(ابن خلکان:1/103)۔ اسی طرح زینب بنت برہان الدین اردبیلیہ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی، ہوش سنبھالنے کے بعد انھوں نے اپنے چچا کے ساتھ بلاد عجم کا سفر کیا اور بیس سال کے بعد مکہ مکرمہ واپس آئیں(العقد الثمین: 8/224) ۔ ام محمد زینب بنت احمد بن عمر کا وطن بیت المقدس تھا، امام ذہبی نے ان کو “المعمر الرحال “کے القاب سے یاد کیا ہے، کیونکہ دور دراز کا سفر کرکے تحصیل علم اور حدیث کی روایت میں مشہور تھیں، اسی وجہ سے بعد میں دور دراز ملکوں کے طلبہ حدیث ان سے روایت کرتے تھے(ذیل العبر للذہبی: ص126)۔ (یاد رہے کہ ان محدثات کے یہ اسفار محرم کے بغیر ہرگز نہ ہوتے تھے اور ان کی درسگاہیں بھی اسلامی اقدار اور حجاب کی پابندی میں ہوتی تھی) ۔
ان خواتین اسلام پاک طینت محدثات اور راویات سے شرف تلمذ حاصل کرنے کے لیے مختلف علاقوں اور دور دراز ملکوں سے طلبہ حدیث جوق در جوق حاضر ہوتے تھے اور ان سے روایت کرنے کو اپنے لیے باعث صد افتخار تصور کرتے تھے، ان کی درس گاہوں میں طلبہ ہی نہیں بلکہ ائمہ وحفاظ حدیث بھی آکر اکتساب فیض کرتے تھے۔ ام محمد زینب بنت مکی حرانیہ نے چورانوے سال کی عمر تک حدیث کا درس دیا اور ان کی درس گاہ میں طلبہ کا کافی ہجوم رہا کرتا تھا، امام ذہبی نے لکھا ہے: ”وازدحم علیھا الطلبة“(العبر: 5/358)۔ ام عبد اللہ زینب بنت کمال الدین مقدسیہ مسند الشام کی پوری زندگی احادیث کی روایت اور کتب حدیث کی تعلیم میں گزری، ان کی درس گاہ میں طلبہ کی کثرت ہوا کرتی تھی، امام ذہبی نے لکھا ہے: ”تکاثر علیھا وتفردت وروت کتبا کثیرا“(العبر:5/213)۔

علم حدیث میں خواتین کی تدریسی خدمات:
عام طور سے محدثات کی مجلس درس ان کی رہائش گاہوں میں منعقد ہوتی تھی اور طلبہ حدیث وہیں جاکر استفادہ کرتے تھے، جیسا کہ امام ذہبی اور ابن الجوزی نے ان سے روایت کے سلسلے میں ان کی قیام گاہوں کی نشاندہی کی ہے، مگر بعض محدثات نے مختلف شہروں میں بھی درس دیا ہے اور دینی علم کو عام کیا ہے(خواتین اسلام کی دینی وعلمی خدمات ص:54)۔ خلدیہ بنت جعفر بن محمد بغداد کی باشندہ تھیں، ایک مرتبہ وہ بلاد عجم کے سفر پہ نکلیں تو مقام دینور میں ان سے خطیب ابو الفتح منصور بن ربیعہ زہری نے حدیث کی روایت کی (تاریخ بغداد:14/444)۔ مسند الوقت ست الوزراء بنت عمر تنوخیہ نے متعدد بار مصر اور دمشق میں صحیح بخاری اور مسند امام شافعی کا درس دیا(خواتین اسلام کی دینی وعلمی خدمات ص:54)۔

علم حدیث میں خواتین کی تصنیفی خدمات:
مسلم خواتین نے صرف درس وتدریس اور روایت ہی سے اشاعت حدیث کا کام نہیں لیا، بلکہ محدثین کی طرح تصنیف وتالیف ، کتب احادیث کے نقل اور اپنی مرویات کو کتابی شکل میں مدون کرکے محفوظ کیا، نیز فن اسماء ورجال وفن حدیث میں بھی کتابیں تصنیف کیں اور اپنی نفع بخش تالیفات سے مکتبات اسلامیہ کو مالامال کیا اور دنیا کے کتب خانوں کو سنوارنے اور انھیں زیب وزینت بخشنے میں ان اہل قلم محدثات کا بڑا دخل رہا ہے، اس مختصر مقالے میں تمام صاحب قلم خواتین اور ان کی تصنیفات کا احصاء تو ممکن نہیں، البتہ بطور مثال چند مسلم خواتین کا نام اور ان کی مولفات کا نام پیش کیا جارہا ہے:
1۔ ام محمد فاطمہ بنت محمد اصفہانی کو تصنیف وتالیف میں بڑا اچھا سلیقہ حاصل تھا، انھوں نے بہت ہی عمدہ عمدہ کتابیں تصنیف کی تھیں، جن میں ”الرموز من الکنوز“ پانچ جلدوں میں آج بھی موجود ہے(العقد الثمین:8/202)۔
2۔ طالبہ علم: انھوں نے ابن حبان کی مشہور کتاب “المجروحین” میں مذکور احادیث کی فہرست تیار کی ہے۔
3۔ عجیبہ بنت حافظ بغدادیہ: انھوں نے اپنے اساتذہ وشیوخ کے حالات اور ان کے مسموعات پر دس جلدوں میں”المشیخ“ نامی کتاب لکھی(العبر للذہبی:5/194) ۔
4۔ ام محمد محمد شہدہ بنت کمال:ان کو بہت سی حدیثیں زبانی یاد تھیں۔ لہٰذا انہوں نے بہت سی احادیث کو کتابی شکل میں یکجا کیا(ذیل العبر للذہبی:ص 49)
5۔ امة اللہ تسنیم:یہ علامہ ابو الحسن علی ندوی کی بہن ہیں، انھوں نے امام نووی کی کتاب ”ریاض الصالحین“کا اردو ترجمہ ”زاد سفر“ کے نام سے کیا ہے۔

دور حاضر اور خدمات حدیث میں خواتین کا کردار:
عصر حاضر میں ہمارے ملک میں شاید ہی کوئی ایسا جماعتی ادارہ ہو جس کے ساتھ”شعبہ بنات” منسلک ومربوط نہ ہو۔ فی الحال ہندوستان میں تقریبا سینکڑوں ادارے خواتین اسلام کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں اور جہاں دیگر علوم وفنون کے ساتھ ساتھ علم حدیث ، اصول حدیث اور فقہ واصول فقہ کی بھی خاطر خواہ تعلیم دی جاتی ہے، آئندہ نسلوں کے لیے یہ بہترین اور خوش آئند شئ ہے اور ہو بھی کیوں نہ جب کہ نسواں مدارس اسلامیہ میں فی الحال کتنی معلمات ایسی ہیں جو درس حدیث کے منصب پر فائز ہیں۔

خلاصہٴ کلام:
حاصل کلام یہ ہے کہ خیر القرون سے لے کر عصر حاضر تک ہر دور میں کم وبیش خواتین اسلام نے علم حدیث کی اشاعت میں جو خدمات جلیلہ انجام دی ہیں خواہ تعلیم وتدریس کے میدان میں ہو، یا تصنیف وتالیف کے میدان میں وہ قابل تعریف وستائش اور ناقابل فراموش ہے اور پورے وثوق واعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ خواتین اسلام کی علمی خدمات سے چشم پوشی کرنا تاریخ کے ایک روشن باب کو صفحہٴ ہستی سے ناپید کرنا ہے۔ الٰہی ان خواتین اسلام کی علمی خدمات اور مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت عطا فرما، نیز ہم طالبان علوم نبوت کو علم کے ساتھ ساتھ اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت فرما، آمین۔

 

حدیث اورعوامی اشکالات کی بنیادی وجوہات

اہل علم جانتے ہیں کہ صحیحین، سنن اور دیگرمفصل کتب حدیث نہ تو عوام الناس کیلئے لکھی گئی ہیں اورنہ ہی عوام کو پڑھائی جاتی تھیں۔یہ مجموعات مختلف اصولوں کے پیش نظرمختلف مقاصد کے لئے مرتب کیئے گئے۔بعض کی ترتیب میں صرف سند کی مضبوطی کا اہتمام کیا گیا تو سخت شرائط کے التزام کی وجہ سے متن کامل نہ ہوئے ۔صحیح بخاری کو اصح الکتب سند کے اسی عالی معیار کی وجہ سے کہا جاتا ہے اور اس التزام کی وجہ سے اس میں متن اور ترتیب ایسی ہے جو عامی آدمی تو کجا عام عالم کیلئے بھی استفادے سے مانع بن جاتی ہے۔امام بخاری کی بعض دیگر کتب مثلا الادب المفرد اور دیگرمصنفین کی صحاح مثلا صحیح مسلم وغیرہ اس اعتبار سے صحیح بخاری سے زیادہ نافع ہیں۔
امام بخاریؒ کا ذوق یہ ہے کہ وہ ’’الجامع الصحیح‘‘ میں صرف احادیث بیان نہیں کرتے بلکہ ان سے مستنبط ہونے والے احکام و مسائل کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ بلکہ پہلے وہ مسئلہ بیان کرتے ہیں جو ان کے نزدیک اس حدیث سے قائم ہو رہا ہے اور مسئلہ بیان کرنے کے بعد اس سے متعلقہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ جو مسئلہ وہ قائم کرتے ہیں اس کے بارے میں اکثر مقامات پر پوری حدیث بھی ذکر نہیں کرتے بلکہ حدیث کا صرف اتنا حصہ بیان کر دیتے ہیں جو اس مسئلہ کی وضاحت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔اس بات کا علم نا ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ کنفیوز ہوجاتے ہیں جیسے چند ہی دن پہلے ایک ‘فیس بکی مفکر’ نےحضورﷺ کے جونیہ کے ساتھ نکاح کے سلسلے میں بخاری کی حدیث سے مرضی کے استدلالات کیے اور انتہائی غلط انداز میں منظری کشی کی۔ غلط فہمی کی وجہ صرف امام بخاری کی اس ترتیب سے لاعلمی تھی ۔امام بخاری نے اسی ترتیب سے سارا واقعہ بیان کرنے کے بجائے اپنے قائم کیے گئے باب کے حساب سے حدیث کا صرف مخصوص حصہ نقل کیا ہوا تھا اور معترض اسی ہی کو ساری تفصیل سمجھ کے حدیث اور امام بخاری پر چڑھ دوڑے۔ معترض خود کو ایک دینی مدرستے سے فارغ التحصیل عالم کہتے ہیں لیکن اتنی بنیادی بات سے بھی لاعلم نکلے۔
اسی طرح بعض محدثین نے اپنی کتابوں کے متون مکمل کیے ،بعض نے اطراف ومتابعات پر کام کیا جبکہ بعض محدثین نے یہ کیا کہ ہر روایت بلا شرط جمع کردی۔ اس طرح یہ مجموعات وجود میں آئے ۔ عظیم محدث امام مسلم رحمہ اللہ نے اصول حدیث کے شہرہ آفاق اصول ماخذ مقدمہ مسلم میں اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ ان مجموعات کے مقاصد مختلف تھے کوئی سند محفوظ کرنے کیلئے وجود میں آیا، کوئی متون اور کوئی تمام روایات۔اب جو عام علماء ہیں وہ صرف ان مجموعات سے استفادہ کریں جو صحیح ہیں اور جو راسخین فی العلم ہیں وہ ہر طرح کے مجموعات دیکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ حقائق روایت سے واقف ہیں اسلئے انکی گمراہی کا خطرہ نہیں۔
عوام کیلئے یہ مجموعے نہ تھے نہ ہیں کیونکہ بغیر مبادیات جانے کوئی شخص صرف حدیث ہی نہیں کسی بھی فن کی اونچے درجے کی کتب پڑھے تو گمراہ ہوتا ہے۔عوام کیلئے علماء نے وہ احادیث جمع کردیں جنکا تعلق ترغیب وترہیب اور تاثرات سے تھا اور احکام سے متعلق احادیث سے استنباط واستخراج کرکے مسائل کے مجموعات بعنوان علم فقہ مرتب کردئے۔عوام نہ تو احادیث سے مسائل خود سمجھ سکتے تھے نہ اب ایسا ہے۔حدیث کو فقہ میں ڈھالنا علماء امت کا وہ کارنامہ تھا جس پر محدثین کو فقہاء کے سامنے معترف ہونا پڑا کہ”ہماری مثال پنساری کی ہے اور آپ طبیب ہیں”آپ جملے کا مطلب اور دونوں کا فرق خوب سمجھتے ہوں گے۔
امام بخاری ؒ نے حضرت علیؓ کا یہ قول تعلیقاًنقل کیا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ (عام) لوگوں کے سامنے وہ حدیث بیان کرو جو لوگوں کے معروفات ومسلمات کے دائرے میں ہو۔ ایسی بات مت کرو جس سے ان کے ذہن میں نفرت پیدا ہو اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی منزل پر چلے جائیں۔ یعنی معروفات کو سامنے رکھو اور اس کے مطابق حدیث کی بات کرو۔ ایک قول امام مسلم ؒ نے مقدمہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا نقل کیا ہے، فرماتے ہیں: ما انت بمحدث قوما حدیثا لا تبلغہ عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ۔ اگر تم لوگوں کے سامنے کسی گروہ کے سامنے ایسی حدیث بیان کروگے یا ایسے انداز سے بیان کروگے کہ ان کی عقلوں کی جہاں تک رسائی نہیں ہے تو تمہارا یہ بیان کرنا ان میں سے بعض لوگوں کے لیے فتنہ اور آزمائش بن جائے گا۔ ان ارشاد ات سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ حدیث کو بیان کرنے میں اور اس کے انداز میں مخاطبین کے فہم کو اور اس دور کے معروفات ومسلمات کو سامنے رکھناضروری ہوتا ہے تاکہ حدیث لوگوں کے ایمان میں اضافہ کا ذریعہ بنے نا کہ انکی کم علمی کی وجہ سے تشکیک وشبہات کا۔
جب تک حدیث سمجھنے سمجھانے کا یہ کام علماء کے ہاتھ میں رہا۔ عوام اسی طریقے سے دین سمجھتے رہے گمراہی سے بچے رہے۔کسی عالم نے دین پر عمل اور اسکی فہم کیلئے مطولات حدیث عوام کے ہاتھ میں نہیں دیں بلکہ انہیں ان احادیث سے اخذ کرکے دین سمجھایا ۔ اس طرح گمراہی کا دروازہ بند رہا اور علمی مباحث علماء کے مابین رہے۔جب پوری کتب حدیث کے تراجم کرکے عوام کے ہاتھ میں دے دئے گئے تو شروع ہوا یہ دور جسکی بھیانک ترین شکل اب سامنے آگئی۔لوگوں کو احادیث کے نہ تو مطالب سمجھ آسکے نہ مفاہیم،نہ وہ تعارض کو سمجھ سکے نہ تطبیق،نہ انہیں ناسخ کا علم نہ منسوخ کا۔اذہان انکے البتہ ضرور الجھ گئے۔ حدیث پر بحث وتنقید اور ایسی احادیث جو انکی سمجھ سے بالاتر تھیں ان پر مطلع ہونےکا دروازہ انکے لئےکھول دیا گیا جسکا بند رہنا ہی انکے لئے نافع تھا۔انکے لئے نفع مند تھا تو صرف ان احادیث پر مطلع ہونا تھا جنکا تعلق اخلاق اور رقاق کے موضوعات سے تھا ۔ یہ غلط روش ہمارے ہاں فتنہ انکار حدیث کے دور اول کا سبب بنی۔
عصری تعلیم یافتگان نے احادیث کے ظاہر کو پکڑا اور اول اول کچھ باتوں کو خلاف عقل قرار دے کر انکا انکار کیا کچھ میں انہیں مخالفت قرآن نظر آئی اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے مطلق انکار تک جاپہنچا۔یہ لوگ نہ اصول حدیث سے واقف تھے نہ عربیت سے اور نہ عرب معاشرے سے۔بس اپنے دماغ سے پڑھتے گئے اور اور انکار کرتے گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عوام اور فیسبکی طبقہ مبادیات علم حدیث سے قطعا ناواقف ہے۔جو لوگ حدیث کی موٹی موٹی اصطلاحات نہیں جانتے۔امر نہی وقائع سنت عادیہ اور شرعیہ جیسے بنیادی امور سے نا آشنا ہیں انکے سامنے دقیق مسائل رکھ کر انہیں جج بھی بنا دیا گیا ہے۔گویا بندر کے ہاتھ میں ماچس دیدی گئی ہے ۔اب جو طوفان بدتمیزی برپا ہے وہ سب کے سامنےہے۔
جو لوگ فتنہ پھیلانا چاہتے ہیں انہوں نے بھی یہ آسان میدان چن لیا ہے۔یہ اس کام کیلئے منبرومحراب استعمال کرتے تو نمازیوں سے جوتے کھاتے۔ اسلئے اب بھی ان میں جو صاحبان منبر ہیں مسجد میں نفاق اوڑھے رہتے ہیں۔اگر کتاب لکھتے تو تحقیق کا جوکھم بھی اٹھانا پڑتا اور ایک ایڈیشن مشکل سے نکلتا وہ دستخطوں کے ساتھ مفت بٹتا ۔ اس لیے فیس بک پر آبیٹھےیہاں بات کا نہ کوئی اصول ہے نہ ضابطہ۔جو جواب مانگے بلاک کردو۔جو بحث چھیڑے جواب میں بکواس چھیڑدو جسے جومرضی کہہ دو آزادی ہے ۔اور پڑھنے والا طبقہ وہ ہے جو باقی ہرمعاملے میں عقل و تحقیق کے اصولوں پر قائم ہے سوائے دین کے معاملے کے۔یہاں اسکی سوچ الگ ہے۔آپ مجھے بتائیے کیا فیس بک پر کوئی ایساآدمی جو علم طب اور سائنس کے مبادیات سے ناآشنا ہو’ ان علوم کی باریکیوں اور انتہائی درجے کے مسائل پر بحث یا رائے زنی کرتا ہے؟اور اگر کرتا ہوتو اسے کیا کہا جاتا ہے؟اللہ تعالی نے کتاب کو ذریعہ علم اور استاذ کو معلم بنایا ہے جبکہ یہاں اصرار ہے دونوں کے بغیر علم کی منتہاء کو پہنچنا ہے۔ یہی کمی فتنے اور کنفیوزین کی بنیاد ہے جنہوں نے علم حدیث کا نورانی قاعدہ نہیں پڑھا وہ بخاری شریف کے بارے میں آراء دیتے ہیں۔فیسبک ضرورذریعہ علم ہے مگر ضابطے سے یہاں عامی اپنی ضرورت کے مسائل معلوم کرے اور علماء اپنے دائرے میں مباحثہ کریں، ہر علم وفن کا مبتدی ابتداء سے ارتقاء کا آغاز کرے اور منتہی ہر ایک کو اسکی استعداد کے مطابق سیراب کریں تو تب ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔
وہ لوگ کتنے بڑے مجرم ہیں امت کے جو وضواور نماز کے بنیادی مسائل سے ناآشنا نوجوانوں کو علم کے متنازعہ پہلو دکھا کر انکا ایمان لوٹ رہے ہیں۔اور وہ نوجوان کتنے نادان ہیں جو علم کے اس مسلم اصول کونظرانداز کرکے گمراہی کے گڑھے میں گر رہے ہیں۔اگر کوئی واقعی شوق رکھتا ہے کہ ان دقیق مسائل میں رائے زنی کریں تو بسم اللہ آئے مبادیات سیکھے اصول جانے اور بات کرے اور اگر انہی مفکرین کے پیچھے چل کر اسلاف امت پر بکواس بازی کرنی ہے تو شوق سے کرے لیکن اس میں دین و دنیا دونوں کا نقصان ہے۔اللہ ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔
استفادہ تحریر مولانا طلحہ السیف

فہم حدیث میں مقام اورعرف کےدرست تصورکی اہمیت

معترضین کے خیال میں ایسی روایات جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات زن وشو کا ذکر ہے (جنہیں یہ اپنی خبیث اصطلاح میں نعوذباللہ جنسی روایات کا نام دیتے ہیں)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہیں اسلئے ناقابل قبول ہیں اور انکا روایت کرنا امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی شان کے بھی خلاف ہے کہ ایسی عفت مآب خواتین ایسی باتیں کس طرح نقل کرسکتی ہیں۔اسی خودساختہ اصول کے تحت انہوں نے ان روایات کا انکار کردیا جن میں مثلا ایک برتن سے غسل،روزے اورحالت حیض میں بوس وکنار،ازواج مطہرات کی خانگی معاملات میں کچھ سخت باتیں وغیرہ شامل ہیں۔ان روایات کے علمی جوابات ہم پہلے دے چکے ہیں ۔ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ منکرین کا یہ اعتراض انکے سوئے فہم کا شاہکار ہے۔اور انکی یہ بات حب رسول کی بناء پر نہیں جیسا کہ بعض خوش گمان حضرات باور کرارہے ہیں بلکہ یہ مقام نبوت سے ناآشنائی ہے۔
1۔کسی بھی معاشرے کیلئے معلم اور اسوہء حسنہ وہ ذات ہوسکتی ہے جو ان کی ہم جنس ہو،انہی کے فطری اوصاف سے مالامال ہو،تقاضوں میں ہم آہنگ ہو،اسکی بھی معاشرتی ضروریات یکساں ہوں اور پھر وہ ان تمام امور کو حکم خداوندی کے تحت ایسا چلا کر اور ان تقاضوں سے اس طرح نمٹ کر دکھائے کہ اسکا طرزعمل قیامت تک معیار اور اسوہ قرار دےدیا جائے۔ایسا شخص کس طرح ان معاملات میں معلم و اسوہ بن سکتاہے جو نہ عملی طور پر ان سے گذرے اور نہ ان فطری تقاضوں کی ادائیگی پر مجبور ہو۔
2۔بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام فطری خصائص میں اعلی ترین درجے پر پیدا کیئے گئے۔جسمانی قوت میں ساری قوم میں ممتاز تھے حسن وملاحت میں بے نظیر تھے،رحمت اور غضب دونوں مادے طبیعت میں فراواں تھے۔اسلام دین فطرت ہے وہ ان فطری خصائل کو دبانے کا حکم نہیں کرتا بلکہ استعمال کا حکم کرتا ہے لیکن حدود میں۔اور یہی کمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی فطرت کے مطابق ان تمام خصائص کو اعلی ترین درجے پر نبھایا لیکن غالب رہ کر نہ کہ مغلوب ہوکر۔اور یہ سب ہمیں پتا چلتا ہے انہی روایات سے۔سوچئے اگر ہمیں یہ دونوں روایات نہ پہنچی ہوتیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میں اپنی کئی ازواج سے ملاقات فرمالیتے تھے ،اکثر اسفار میں بھی ازواج ساتھ ہوتی تھیں اوریہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار پورے مہینے کیلئے ازواج سے کنارہ کشی اختیار فرمالی تھی کیونکہ آپ ایک دینی وجہ سے ناراض ہوگئے تھے تو ضبط نفس کا یہ کمال کیسے آشکار ہوتا کہ اللہ نے جسے 11بیویاں رکھنے کی قوت عطاء فرمائی ہے وہ اللہ کی خاطر ان سے یوں بھی بے تعلق ہوسکتا ہے۔یہ اسوہ حسنہ ہے ان لوگوں کیلئے جو ایک بیوی کے سامنے ہار مان جاتے ہیں اگرچہ اللہ کا حکم پامال ہورہا ہو۔
اس ہرشادی شدہ امتی کو گھر میں حیض ونفاس کے ایام کی مشکل کا سامنا ہے۔ اس دوران ضبط نفس کتنا مشکل کام ہے سب جانتے ہیں ۔اگر یہ روایات نہ پہنچی ہوتیں جن میں ان حالات میں استمتاع کی حدود کا ذکر ہے تو اسوہ حسنہ کہاں ملتا؟۔اسی طرح روزے کی حالت میں کئی بار ضبط نہیں رہتا۔امت کیسے فیصلہ کرتی کہ کس حد تک معاملہ ہوتو کیا حکم ہے؟۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج امہات المومنین رضی اللہ عنہن انسان تھیں۔۔خواتین تھیں۔۔آپس میں سوکنیں تھیں۔اسلئے وہ تمام حالات پیش آئے جو سوکنوں میں ہوتے ہیں۔جھگڑے ہوئے،برتن بجے،طعنے ہوئے اسکے باوجود انہی کو مثالی نمونہ اور مائیں کہا گیا تاکہ سب سمجھ لیں کہ بڑے انسان انہی فطری تقاضوں اور حالات کے ساتھ ہی بڑے ہوتے ہیں۔اب ان امہات کا احسان اورایمانداری ملاحظہ ہو کہ اپنے یہ سارے فطری احوال چھپائے نہیں بلکہ بیان فرمائے تاکہ امت کو علم ہوکہ بڑاانسان اپنے گھر میں کیسے رہتا ہے؟اختلاف اور جھگڑے کیسے برداشت کرتا ہے؟سوکنوں سے کیسے نمٹتا ہے؟انصاف کیسے کرتا ہے؟تحمل کسے کہتے ہیں؟۔
انہوں نے بہت اچھا کہلوانے کیلئے یہ سب چھپایا نہیں خود بتا دیا کہ ہم سے اس طرح کی سخت باتیں بھی ہوجایا کرتی تھیں آقا برداشت فرماتے تھے۔یہ سب چھپا لیا جاتا اور ہماری مزعومہ تصویر ہمارے سامنے رکھ دی جاتی تو کس بڑے انسان کے سامنے برتن پھینک دینے والی کس بیوی کا منہ اپنی جگہ سلامت رہتا؟۔اور ہم اس احسان کو کیا سمجھ بیٹھے۔۔افسوس۔
بات مختصر کرتا ہوں۔مقام نبوت اور شان نبوت کی یہ مزعومہ تصویر صرف ہم نے نہیں بنا رکھی بات پرانی ہے۔اسی زمانے میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے سے پہلے کئی لوگوں کے ذہن میں نبوت کی اپنی بنائی ہوئی ایک تصویر تھی۔صحیح مسلم کی روایت ہے تین شخص دور سے آئے۔آکر صحابہ کرام سے حضور کی زندگی کے بارے میں پوچھا۔انہوں نے بتایا کہ آپکی اتنی ازواج ہیں اور یہ یہ معمولات ہیں۔الفاظ پڑھئے گا
“کأنہم تقالوھا”۔انہیں یہ سب کم لگا۔انکے خیال میں نبی کا نقشہ شاید ایک مافوق البشر شخصیت یا ایک تارک الدنیا راہب مردم بیزار خدامست درویش مجرد بے نکاح
گھربار سے فارغ بسم اللہ کے گنبد کی اسیر شخصیت کا تھا جسکی کوئی دنیوی زندگی نہ ہو۔لوگ اس سے بات نہ کرسکتے ہوں۔گپ شپ اور بےتکلفی کا کوئی گذر نہ ہو مگر یہاں وہ سب تصورات چکنا چور ہوگئے۔انہوں نے اپنے لئے اپنےگمان کی بلند معیار زندگی اپنانے کے عہد شروع کردئے ۔ ایک نے کہا میں رات بھر نماز پڑھا کروں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، تیسرے نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا اور عورت سے ہمیشہ الگ رہوں گا۔۔ حضور نے سنا اور انکی اصلاح فرمائی
أنتم الذين قلتم كذا وكذا ؟ أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكني أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن رغب عن سنتي فليس مني ۔ ترجمہ: کیا تم لوگوں نے یوں یوں کہا ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ ڈرنے والا اور خوف کھانے والا ہوں، پھر روزہ رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور ساتھ ساتھ عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، یاد رکھو جو میری سنت سے روگردانی کرے گا، وہ میرے طریقے پر نہیں۔( صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 57 )
اب بتائیے آجکا انسان کیا طے کرے گا کہ شان نبوت کیا ہے؟۔
نظر کا فرق ہے اور زاویہ فکر کا۔ایک شخص کے لئے نبی علیہ السلام کا زوجہ کے ساتھ ایک برتن سے نہانا ایسی روایت ہے جس سے درجنوں مسائل کا استنباط ہورہا ہے۔نبی علیہ السلام کی ازواج کا سامنے بات کرلینا اسکے لئے انسانی فطرت کی پیچیدگیوں اور ان میں اسوہ مبارکہ پر غور وفکر کا باب عظیم کھول دیتا اور دوسرے کیلئے یہ صرف اعتراض ہیں اور گستاخیاں۔اب قصور کس کا ہے؟۔یہ اس طبیعت کا قصور ہے جو مکھی اور شہد کی مکھی کا فرق واضح کرتی ہے۔
ان اعتراضات کی پہلی وجہ ہوئی یہ۔اور دوسری وجہ ہے عرب کے عرف ،مزاج اور عادات سے ناواقفیت۔کسی عرف میں کیا مناسب ہوتا کیا نامناسب؟ ادب اور بےادبی کی حد کیا ہوتی ہے؟یہ وہی عرف اور معاشرہ طے کرتا ہے نہ کہ دوسرے معاشرے کا فرد۔
ایک موٹی سی مثال ہمارے برصغیر کے معاشرے میں کسی تھوڑے سے بڑے کو بھی صیغہ واحد سے پکارنا شدید درجے کی بےادبی شمار ہوتا ہے اور خانقاہی آداب میں تو سامنے بیٹھے حضرت کو صیغہ جمع سے خطاب کرنا بھی۔بلکہ انہیں صیغہ غائب سے مدعا پیش کیا جاتا ہے۔اس تناظر میں پلنے والا آدمی صحابہ کے بچوں کا بھی حضور کو واحد سے مخاطب کرنا گستاخی پرمحمول کرنے لگے تو کیا کہیں گے؟۔
اسی طرح سمجھئے ہر ماحول کے حیائے عرفی میں بھی فرق ہوتا ہے۔عرب میں آج بھی دیندار باپ یا بھائی رشتہ کرتے ہوئے اپنی بیٹی بہن کے اوصاف اس طرح ذکر کرتے ہیں جسکا ہمارےہاں بے دین لوگوں میں تحمل نہیں۔۔اس زمانے میں باندیاں خریدی جاتی تھیں ۔باندیوں کی خرید فروخت میں بھی یہ معاملہ عام بات تھی۔اب عرب کے عرف سےناواقف آدمی (بفرض ثبوت)”یہ نہیں تو اس سے اچھی” جیسے الفاظ پر اعتراض کرے تو اسکی جہالت دور کرنی چاہئے نہ کہ بات کا انکار۔

تحریر طلحہ سیف

فہم حدیث میں خرابی کیوجہ اوراسکاعلاج

آج کل جو متجددین احادیث صحیحہ کو بظاہر مانتے تو ہیں لیکن ان کے مطالب و مفاہیم کسی پر اعتماد کئے بغیر اپنی عقل نارسا سے طے کرتے ہیں، انہیں فہمِ حدیث میں جب دشواری پیش آتی ہے تو قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کا آپس میں تعارض و تضاد پیش کر دیتے ہیں اور پھر اپنی کم علمی اور اصول حدیث سے عدم واقفیت کی وجہ سے جب کسی صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ پاتے تویا احادیث کا ہی انکار کر دیتے ہیں یا رواۃ حدیث پر برستے ہیں اور یا پھر صحیح مطالب بیان کرنے والے علماء کاتیا پانچہ کر دیتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں فہم حدیث میں خرابی کی جو وجہ مجھے سمجھ آئی ہے وہ احباب کی خدمت میں عرض ہے۔
ان لوگوں کو معلوم ہے کہ کلام اللہ کے نزول کو نبی کی ذات پر وحی کے ذریعے ثابت کرنے کیلئے حدیث کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں ہے، اگر کسی کے پاس ہے تو ضرور بتائے، جب تک نبی نہیں کہے گا کہ یہ قرآن ہے تو قرآن کریم کا ایک لفظ بھی ثابت نہیں ہو سکتا، لہٰذا حدیث کو مانے بغیر چارہ کار ہی نہیں، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ جس ذات اقدس پر قرآن نازل ہوا وہی خود اس کے خلاف بیان دینا شروع ہو جائے، یہ عقل سلیم میں آنے والی بات نہیں ہے، اسلئے جمہور محدثین کرامؒ کے ہاں اجمالی اور تفصیلی تمام احادیث کو مد نظر رکھ کے کسی نتیجہ تک پہنچا جاتا ہے جس سے یہ لوگ عاری ہوتے ہیں لہٰذا یہ خرابی کا پہلا درجہ ہے۔
پھر ان لوگوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ احادیث مبارکہ ہم تک پہنچنے کیلئے رواۃ حدیث کے بغیر اور کوئی راستہ نہیں ہے اگر کسی کے پاس ہے تو ضرور بتائے، اب یہ لوگ حدیث کو بھی مانتے ہیں، اس درمیانی واسطہ کو بھی مانتے ہیں لیکن صاحب حدیث اور درمیانی واسطوں نے جو اس حدیث کا مطلب و مفہوم خود بیان کیا اور صراحت کی اسے نہیں مانتے یہ خرابی کا دوسرا درجہ ہے۔
اور یہی وہ موقع ہے جب یہ تمام امت کے محدثین کرامؒ کے فہم حدیث کو پس پشت ڈال کر انانیت کی راہ اختیار کرتے ہوئے ”ہمچو ما دیگرے نیست“ کا دعویٰ کر دیتے ہیں، ان کی مثال تو اس نادان جیسی ہے جو اپنے کسی واقف کار اور قابل اعتماد پھل فروش کی دکان پر اپنا معتمد قاصد بھیجے کہ وہ اس سے چونسا آم خرید کر لائے، جب وہ چونسا آم خرید کر لائے تو یہ اسے کہہ دے کہ یہ تو چونسا آم نہیں یہ تو لنگڑا آم ہے یا یہ آم ہی نہیں بلکہ آڑو ہے، ایسے آدمی کو کون عقل مند کہے گا جسے پھل فروش اور اپنے قاصد پر اعتماد تو ہے جو صراحت کر رہے ہیں کہ یہ چونسا آم ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس کی بات پر یقین نہیں کرتا اور زور سے چونسے آم کو لنگڑا آم یا آڑو بنانے پر تلا ہوا ہے، یہی حال ان لوگوں کا ہے، یہ صاحب حدیث اور راویوں کو تو بادل نخواستہ مانتے ہیں کیونکہ ان کے بغیر ان کے پاس صاحب حدیث اور حدیث رہتی ہی نہیں لیکن ان ہی لوگوں نے حدیث کا جو مفہوم اور مطلب بیان کیا اسے نہیں مانتے بلکہ اپنا خود ساختہ مطلب الٹا ان پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں، ظاہر بات ہے کہ ایسی باتوں کو انکے چند ہمنواؤں کے علاوہ اور کون تسلیم کر سکتا ہے، اس لئے یہ طیش میں آکر اس کا پورا پورا غصہ ان علماء امت پر نکالتے ہیں جو ان کی اس بد عقلی کو طشت ازبام کرتے ہیں۔
فرماتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں حدیث کو اس لئے نہیں مانتے اور رد کرتے ہیں کہ وہ حدیث قرآن کے خلاف ہے..حضورﷺ اور آپ کی ازواج کی شان کے خلاف ہے.حضورﷺ کے اخلاق عالی کے خلاف ہے….اس سے آپﷺ کے اخلاق پر حملہ ہورہا ہے..مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے..کہ یہ کون طے کریگا کہ یہ چیز قرآن کے خلاف ہے..حضورﷺ کے اخلاق پر اس سے حملہ ہورہا.؟اس کا معیار اور پیرامیٹر کون طے کریگا؟مثلاﹰ ایک چیز آپ کو قرآن کی مخالف نطر آرہی ہے..مجھے نہیں آتی…ایک شے آپ کو حضورﷺ کے اخلاق کے منافی نظر آتی ہے، مجھے نہین..تو اب فیصل کون بنے گا؟ اور کیا چیز معیار بنے گی..؟
اس کا درست اور آسان جواب یہ ہے کہ فیصل امت کے جمہور کا ضمیر بنے..امت کے کسی شے کے اخذ وترک کی تاریخ بنے..یعنی جس چیز کو امت کا جمہور قرآن کے مخالف کہے، ہم بھی اسے مخالف کہیں، جس چیز کو جمہورِ امت کا ضمیر حضورﷺ کے اخلاق کے منافی سمجھے، ہم بھی اسے منافی سمجھ لیں..
اب اس پیمانے پر رکھ کر احادیث کے مجموعے کو دیکھیں کہ امت نے کس چیز کو لیا اور کس چیز کو چھوڑ دیا..اب اگر اس مشاہدے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ امت تواس چیز کو ابتداء سے مانتی اور قبول کرتی آئی ہے.نہ اسے یہ قرآن کے خلاف لگی، نہ اسے یہ چیز حضورﷺ کے اخلاق ِ عالیشان کے خلاف نظر آئ، تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ چیز اصل میں ٹھیک ہے، مسئلہ آپ کے ہاں ہے..
ایک آدمی کہتا ہےصحاح ستہ کا نوے فی صد(نقل جھوٹ جھوٹ نہ باشد) شیعہ راویوں کے کندھوں پر ہے۔۔بخاری غیر معتبر ہے۔۔ حدیث کے راویوں نے دین کا بیڑا غرق کیا ۔۔وغیرہ وغیرہ اس کے بعد یہ بھی کہتا ہے کہ میں نماز کی تمام احادیث کو مانتا ہوں، روزہ حج زکوة میراث بیوع وغیرہ کے احکام پر مشتمل روایات پرمکمل یقین رکھتا ہوں۔حالانکہ یہ ساری احادیث بھی صحاح میں ہیں،انہی راویوں سے منقول ہیں، انہی محدثین کی جمع کردہ ہیں۔کیا اسے ایوارڈ نہیں دینا چاہیے؟۔
ایمان کے بعد سب سے اہم فریضہ نماز ہے۔اسے ایمان وکفر کے درمیان حد فاصل قرار دیا گیا ہے اور اس کے ترک کو شرک سے مشابہہ عمل کہا گیا۔قرآن نے سینکڑوں بار نماز قائم کرنےحکم دیا لیکن نمازیں کتنی ہیں؟ نام کیا ہیں؟ اوقات؟ طریقہ؟شرائط ،فرائض،واجبات،سنن،مفسدات؟ زکوةادا کرو۔مگر کس مال میں؟ کتنی؟ کب؟۔یہ سب جن احادیث سے سیکھا ہے وہ انہی لوگوں کے واسطے سے پہنچی ہیں جن کی عظمت کے برج گرانے کیلئے ساری کوششیں کی جارہی ہیں۔اب کتنی عجیب منطق ہے۔جو کتابیں غیرمعتبر ہیں ان سے منقول نماز کیسے معتبر ہے؟جب یہ پوچھا جائے تو مغالطے ڈالے جاتے ہیں کہ
1۔یہ اعمال سنت متواترہ سے ثابت ہیں۔
تو تواتر کن کا تھا؟ کیا وہ تواتر انہی غیرمعتبر لوگوں کا نہ تھا؟۔ کیسا تواتر ہے جس میں الگ الگ طریقے منقول ہیں؟ اجماعی اور متواتر نماز کونسی ہے؟۔اور اس بڑھ کر امت کا اجماع تو اس بات پر ہے کہ امت ان راویوں کی روایات لیتی آئی ہے اور ان محدثین پر اعتبار کرتی آئی ہے۔اگر تعامل وہاں معتبر ہے تو یہاں کس لئے نہیں؟۔اس اجماع کے منکر تو کسی زمانے میں بھی ایک گاوں کے چھپڑ میں پائے جانے والے مینڈکوں سے زیادہ نہیں ہوئے۔
2۔جو حدیث قرآن کےخلاف ہو اسے ترک کیا جائے گا۔
قرآن کے خلاف ہونے کا معیار کیا ہے؟کوئی شخص کئی باتوں کو سطحی نظر سے دیکھ کر قرآن کے خلاف قرار دیتا ہے اور انہی پر غور کرنے والا انہیں بالکل قرآن کے عین مطابق قرار دے کر قبول کرتا ہے اس میں قصور کس کا ہے؟ ویسے بھی جمہوری بیانیے کے علمبرداروں کوتو جمہور سے اختلاف کرتے ہوئے ڈوب کےمرجانا چاہیے کس منہ سے ایسا کرتے ہیں؟ سیدھا سا حل ہے امت کے سامنے اپنا مسئلہ رکھ دیں دوسرا فریق بھی اپنی رائے پیش کردے پھر گنتی کروائیں کتنے لوگ اس بات کو قرآن کے خلاف سمجھتے ہیں کتنے مطابق؟ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔
3۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف جو روایت ہوگی وہ رد کی جائے گی۔
کئی مثالیں پہلے عرض کرچکا کہ شان کیا ہے سمجھنے کا فرق ہے۔ویسے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بھی کہاں سےمعلوم ہوئی؟ بیچ میں انہی کتابوں یا راویوں کا واسطہ تو نہیں؟۔
پھر یہ اصول ہر محدث کے ہیں آپ نے کوئی نیا اجتہاد نہیں لایا ۔ قرآن کے خلاف ہر روایت رد ہے، شان نبوت کے خلاف ہر روایت رد ہے، قرآن وحدیث سے کسی مسئلہ میں جو مسلمہ اصول منقول ہو اسکے خلاف روایت متروک ہے اس اصول کو سامنے رکھ کر ہر ایک نے استخراج کیا۔اب کچھ کوتاہ عقلوں کو ان میں یہ مخالفتیں نظر آنے لگی ہیں تو قصور چاند کا نہیں انگلی پر لگی ہوئی نجاست کا ہے حضور ،چاند سڑا ہوا نہیں نکلا ۔
اور اگر یہ سب تسلیم بھی کرلیا جائے تو جن کتب کو اور محدثین کو غیر معتبر ثابت کرنے پر حواس خمسہ مع متعلقات کا زور صرف ہورہا ہے ان میں یہ تمیز کس اصول کی بناء پر پیدا کی جائے گی کہ (نماز کے مسئلے میں )اسی شخص کی یہ بات درست ہے اور یہ غلط؟؟ محدثین کا اصول تو ناقابل اعتراض ہے۔وہ جس شخصیت کو مجروح کرتے ہیں پھر اسکی کوئی بات نہیں لیتےخواہ کتنی ہی اعلی پائے کی کیوں نہ ہو البتہ جس شخصیت کو قابل قبول گردانیں اسکی بات کو کتاب اللہ اور سنت پر پیش کرکے ردواخذ کا فیصلہ کرتے ہیں۔آپ تو ان تمام شخصیات کی ذات پر اتنے سوقیانہ انداز میں اتر آئے اب انہی سے کچھ لینا اور کچھ ترک کرنا کس اصول سے؟۔اس طرز عمل سے اسلام کی بنیاد کھود ڈالی۔روایت کا سارا ذخیرہ ناقابل اعتبار قرار دےدیا اب ثابت کردکھائیے نماز اور زکوة۔غالبا مقصد بھی یہی تھا کہ اسلام کو ہی مشکوک کردیا جائے۔ٹرین اسی طرف تیزی سے رواں دواں ہے۔جو لوگ اس طرز عمل کو اسلام کی خدمت قرار دے رہے ہیں ان سے یہی سوال ہے کہ اگر کوئی ملحد یہ اعتراض کرے تو جواب کیا ہوگا؟اس بات کا جواب صرف اسی سے ممکن ہے جسکی جرح وتعدیل کسی اصول کے مطابق ہو۔اندھی لاٹھی چلانے والا اسی طرح ہنومان کا نائب بن کر اپنی لنکا ہی جلا سکتا ہے اور کچھ نہیں۔
طلحہ سیف

انکارحدیث کی جدید صورتیں اورخدشات

فتنہ انکارِحدیث جو آج کے دور میں گویا سر چڑھ کر بول رہا ہے، اور ہرخاص و عام کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے، گو امت میں یہ نئی چیز بالکل نہیں، اور ہم علمی توارث میں جگہ جگہ اس کا ظہور دیکھتے ہیں، مگر جس شدت کے ساتھ یہ گذشتہ صدی سے امت میں در آیا ہے، اور جس طرح اس نے امت کے مسلمات کو گڑبڑانا شروع کیا ہے، یہ البتہ ایک ایسی شے ہے کہ جو نئی بھی ہے اور پریشان کن بھی.سلف کے زمانے میں انکارِ حدیث ہوا. کچھ اس وقت کے عوام میں دینی حمیت، کچھ عصرِنبوی کی قربت، کہ خیرالقرون کا قرب حقیقتاً فتن سے بچنے کا ایک نہایت عمدہ ذریعہ ہے، مسلم ریاست کا مذہب کے معاملے میں تنبیہی اور نہی عن المنکر کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کا رویہ، اور سب سے بڑھ کر علمائے متقدمین کے علمی مجاہدات کا نور اور ان کا علمی رسوخ و تصلب، یہ وہ فیکٹرز ہیں کہ جنہوں نے اس فتنے کو دبائے ہی رکھا. کہیں پر سر اٹھایا بھی، تو ہر رخ اور ہر لائن سے اتنا زور پڑا کہ ریت میں دوبارہ سرچھپانا ہی مجبوری ٹھہری، مگر یہ زمانہ جبکہ ریاست کا سایہ اسلام کے سر سے اٹھ چکا ہے اور بہت سے وہ مسائل، اور بہت سی وہ بلائیں کہ جن کا راستہ ریاست کی قوت نے روکے رکھا تھا، آزاد ہوگئیں، آزاد ہی نہیں بلکہ درپے آزار ہوگئیں.کچھ فتنے تو ایسے ابھرے، گویا ان کی تمتماہٹ اور شان وشوکت دیکھ کر لگتا ہے کہ اسلام کی بنیادیں ہی ان سے ہل جائیں گی، ایسے عوامی فتنے کہ جنہوں نے گونگوں کو زبان دی، اندھوں بہروں کو جگایا، انھی میں سے ایک فتنہ جدید انکارِ حدیث ہے. انکارِ حدیث کا فتنہ اصل میں حدیث کو حجت نہ ماننے کا فتنہ ہے، یعنی حدیث کو مصدرِ فہم دین نہ ماننا اور دین کے احکام لینے کے لیے حدیث کو ذریعہ نہ بنانا ہے.
منکرینِ حدیث کو ہم دو کیٹگریز میں تقسیم کریں گے. ایک وہ جو صاف اور صریح الفاظ میں حدیث کی اس حیثیت کا انکار کرتے ہیں، جیسے عبداللہ چکڑالوی اور غلام احمد پرویز وغیرہ، جبکہ دوسری قسم کے اندر وہ لوگ آتے ہیں، جو صریح الفاظ میں انکار تو نہیں کرتے. کہیں پر اسے دعوت الی القرآن کے الفاظ کا لبادہ اور سہارا ملا ہے، تو کہیں پر یہ ننگ دھڑنگ الحاد کی گود میں بیٹھ کر اپنا تعفن حدیث و سنت کے صافی چشموں میں انڈیل رہے ہیں. چونکہ چنانچہ، اگر، مگر اور تاویلاتِ باطلہ سے کام لیتے ہیں، اور اس کے لیے چودہ صدیوں سے آنے والے اصول علم حدیث اور اصول فقہ کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے اپنی من مانی کرتے ہیں. ہر میدان میں اپنی عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہیں، جو خواہش کے مطابق ہوتا ہے، اس کو لیتے ہیں، جو مخالف ہو، اسے بےتکلف پھینک دیتے ہیں. یا تو محض عقل کے پجاری ہیں، پھر سلف کے اصول و ضوابط کو چھوڑ کر اپنے نئے اصول و ضوابط وضع کر لیے ہیں. تاویل کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مکر کو چھپا رہے ہیں، اور امت میں حدیث کی حیثیت کوگرد آلود کر رہے ہیں. چاہے علمی اعتبار سے ان کو منکرین حدیث کا نام دینے میں اشکال ہو، مگر واقعاتی دنیا میں یہ پہلے گروہ سے بڑھ کر نقصان دہ ہیں۔ کیونکہ جب ان کو متنبہ اور خبردار کیا جاتا ہے، تو یہ فورا سے پیشتر کہہ اٹھتے ہیں کہ جی ہم تو حدیث کو مانتے ہیں، دیکھیں ہم نے فلاں فلاں جگہ پر اپنی کتاب میں اتنی اتنی احادیث ذکر کی ہیں، جن احادیث کا تعلق اخلاق اور انسانی ذمہ داریوں سے ہے، وہاں پر یہ حدیث کو تائید کے طور پر عام طور پر لاتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے مطلب کی چیز ہے۔یہی جماعت اس وقت ہمارا موضوع ِ گفتگو ہے۔ اس قسم کے سربراہ جناب سرسید احمد خان صاحب تھے، ان کے بعد حافظ اسلم جیراج پوری، تمنا عمادی، نیاز فتح پوری آتے ہیں. زمانۂ جدید میں علامہ جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے تلامذہ اس ”مقدس“ مشن کو بہ اصرار جاری رکھے ہوئے ہیں. ہمارا موضوع خاص کر اسی گروہ کے گرد گھومتا ہے. یہاں پر ہم ان خدشات و اسباب پر بات کریں گے، جو اس فتنے سے متعلق ہیں .
ہندوستان کے ماحول میں ہمیں سب سے پہلے جناب سرسید احمد خان اس صف میں کھڑے نظر آتے ہیں. اگر چند الفاظ میں سرسید کی انکارِ حدیث کی وجوہات بیان کی جائیں، تو عقل کا غلط استعمال، اصل حدیث و فقہ سے پوری طرح عدم واقفیت، مصالح قوم کا غلبہ، استشراق سے بےجا متاثر ہونا اور سائنسی تجزیہ کار کا عام ہونا، یہ چیزیں ہر صاحب نظر کو سر سید کے اندر پہلی نظر میں ہی نظر آجاتی ہیں.
پھر فکری اور ملکی جمیعت ٹوٹی اور مسالک کا وجود ہوا، تو یہی فتنہ اسلم جیراج پوری، تمنا عمادی وغیرہ کی شکلوں میں پھوٹا. ان کی اس فکر کے پیچھے دعوت الی القران کے علاوہ احادیث کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک، جیسا کہ ڈیڑھ، دو صدیوں کے بعد احادیث کا مدون ہونا، راویان میں تشیع کا غلبہ.، جیسی باتیں بنیاد بنیں.
تیسرا مرحلہ ہمارا موجودہ مرحلہ ہے، جس کے اندر ہمارے ممدوح جناب جاوید احمد غامدی صاحب سرفہرست نظر آتے ہیں. یہاں پر احادیث کا خلافِ قرآن ہونا، خلافِ عقل عامہ ہونا، اور سب سے بڑھ کر خود غامدی صاحب کے خود ساختہ اصولوں کے خلاف ہونا ہے۔ یہ ہمارا موجودہ مسئلہ ہے اور سر پر کھڑا دستک دے رہا ہے، کیونکہ فکرغامدی میں ہر عصری خواہش کو پورا کرنے کا تمام مواد موجود ہے۔ خواہش سے سب سے زیادہ ٹکرانے والی چیز سنت ہے اور محترم غامدی صاحب کی سب سے زیادہ تیشہ زنی سنت کو ہی صفِ سنت سے نکالنے پر ہے. یہاں تک کہ اب ایک مسلمان اور کافر کے درمیان تمیز اتنی مشکل ہوگئی ہے کہ الامان والحفیظ..جب لباس مسئلہ رہے نہ صورت و شکل، اور نہ معاملات میں کسی حرام بلکہ اشد الحرام سود سے بچنا کوئی مسئلہ رہے، جب دین میں ریاست اپنی اصل شکل میں کسی کو خلاف شرع کام کرنے پر نہ ٹوک سکے، بلکہ جب مسلمان بننے کے لیے ایمان بالرسالت ہی غیر ضروری ٹھہرے، مطلب آپ یہودی، عیسائی رہ کر بھی (ایک خاص ماحول کے اندر) حقدار ِ جنت بنتے ہیں، تو پھر کہاں رہا اسلام، اور کہاں رہی شوکتِ اسلام. یہ وہ خدشات ہیں، جو خدشات نہیں، واقعہ کی دنیا میں سورج کی طرح واضح روپ دھارے دِکھ رہے ہیں.
سوال یہ نہیں کہ المورد والے مخلص نہیں، ان کے اخلاص پر شک کی کوئی ضرورت نہیں، ان کے رجوع الی القرآن کی دعوت بہت عمدہ، دین کو قابلِ فہم اور معقولی بنانے کی کوشش، کوئی شک نہیں کہ یہ ان کے مقاصد ہوسکتے ہیں. قرآن کو ہی دین کی بنیاد بنانے اور فہمِ دین کا مصدر بنانے کا نعرہ بھی بہت خوبصورت ہے. افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ ان حضرات کی کوششوں سے جیسا دین کا حلیہ بگڑا، اور حدیث کی تشریعی حیثیت متاثر ہونے سے دین کی بنیادیں جیسے کمزور پڑ رہی ہیں، اور وہ ایک دین کی جو چاردیواری چودہ صدیوں سے بن گئی تھی کہ جس کو دور سے ہی دیکھ کر پتہ چلتا تھا کہ یہ اسلام ہے، اس کی اپنی ایک پہچان، ایک خاص ٹرمنالوجی اورا یک خاص آئیڈیالوجی ہے، ان حضرات کی کوششوں سے یہ سارا کچھ ریت کےگھروندوں کی طرح منہدم ہوتا اور ہاتھ سے پھسلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے. ۔ نفسانیت اور خواہش، جو براہ راست سنت سے ٹکراتے ہیں، سنت کو درمیان سے ہٹا کر اسلام کی ایک ایسی من چاہی شکل بنا دی گئی ہے اور بنائی جا رہی ہے کہ جہاں آپ کچھ بھی کرکے، کچھ بھی بول کر، کچھ بھی بن کر مسلمان ہی رہتے ہیں. وہ سیکولرازم اور لبرل ازم، جن کی جڑوں میں خدابیزاری اور دین بیزاری ہے، جن کی جڑوں میں ہیومنزم کا تازہ انسانی خدا، جن کی باہوں میں نیشن سٹیٹ کے برچھے ہیں، یہ ساری اتنی آسانی سے اور اتنی ہوشیاری سے دین میں داخل کی جا رہی اور نفوذ کرتی جا رہی ہیں، کہ اچھے بھلے انسان کو بھی جب بتایا جاتا ہے کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ یہ کیا چیز ہے؟ اسلام کی درست تعلیمات کے مطابق تو یہ شرک کی کسی قسم سے ہی تعلق رکھتے ہیں، تو وہ چونک اٹھتا ہے ایک دم. وہ آپ کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوگا کہ نہیں جی، یہ تو عین اسلام ہے.
جب آپ چودہ صدیوں کی ساری اصطلاحات پر پانی پھیر دیں گے اور خود ایک مغلوب،احساسِ کمتری میں مبتلا تہذیب، ایک مری ہوئی قوم کے مالک اور حامل ہوں گے اور آپ کا دین کسی مائع کی مثل ایک ایسی سیال شے ہے، کہ اسے جس برتن میں ڈالا جائے، یہ اس کی شکل ہی، اس کی ہیئت ہی اختیار کرلے، تب غالب تہذیبیں اور غالب اقوام آپ کے وجودِفکری اور تشخصِِ دینی کا وہ جنازہ نکالیں گی، کہ صدیوں نہیں، شاید چند دہائیوں بعد ہی اس تہذیب اور اس قوم کا نشان مٹ جائے گا. بس شخصی آزادی کے نام پر وہ چند رسوم، جنھیں کوئی روکنے کی ضرورت اس لیے بھی محسوس نہیں کرےگا کہ جی یہ تو ایزی فیل کرنے اور سکون حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے. اور بس. گویا جو شرارِ بولہبی ازل سے، روزِ اول سے خداپرستوں سے ستیزہ کار رہا ہے اور اپنی انتہائی چاہت، انتہائی کوشش اور جان توڑ محنتوں کے باوجود اس دین کو مٹانے اور بگاڑنے میں ناکام رہا ہے، وہ خواب، جو کبھی اس نے اپنا سارا جاہ و حشم خرچ کرکے بھی پورا ہونے کا نہیں سوچا تھا، وہ گویا کسی پکے پھل کی طرح، خود ہم نے ہی اس کی جھولی میں ڈال دیا ہے. بلا کچھ کیے، ہاتھ پاؤں ہلائے، ایک دمڑی بھی خرچ کیے بغیر، بشرطیکہ مان لیا جائے کہ ان ”مصلحین“ کے پیچھے اس طرح کی کوئی چیز نہیں. اور واقعاتی شہادتوں کو بھی محض حسنِ ظن کی بنیاد پر جھٹلایا جائے. یہ گویا ایسی خدمت ہے کہ جو آج خود مسلمانوں کے ہاتھوں انجام دی جارہی ہے۔
جاہلیت جدیدہ کی ساری شکلیں، جن کا اسلام پہلے قدم پر انکار کرکے اپنے وجود اور حیثیت کی یاددہانی کا راستہ بناتا ہے، اس کو اپنے ہی اندر سے بیساکھیاں فراہم کی جا رہی ہیں، اور سمجھا یہ جارہا ہے کہ دین کی خدمت ہو رہی ہے. یہ دیکھے بغیر کہ ان چیزوں کی، جن کی طرف آپ شدومد سے بلا رہے ہیں اور انہیں ہی اسلام کا حقیقی چہرہ بتلا رہے ہیں، کی تعمیم سے اسلام کا وہی چہرہ بنےگا، جیسا جاہلیتِ جدیدہ کے یہ معمار بنانا چاہتے ہیں.. کیا یہ حقیقت نہیں کہ یورپ سے پوری تاریخ میں بھی اسلام کو ایسا نقصان کبھی نہیں پہنچا تھا کہ اسلام ہی پہچانا نہ جاسکے. بےشک مسلمانوں کے ساتھ بہت کچھ ہوا، بہت کچھ کیا گیا، مگر اسلام محفوظ ہی رہا، کیا پتہ تھا کہ اسلام کی یہ درگت خود کو مسلمان کہلوانے والوں کے ہاتھوں بنے گی.. فیا اسفی.. سوال جو ہم قارئین سے کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ کیا یہ سب کچھ اتفاقی ہے؟
تحریر : مولانا علی عمران

کیااحادیث الحاد کےپھیلنےکاذریعہ ہیں؟

ایک فیس بکی مفکر قاری ڈار صاحب کچھ عرصے سے تواتر کے ساتھ احادیث کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں. اگر تو یہ کوئ صالح تنقید ہوتی، علمی بنیادوں پر ہوتی،اصولِ حدیث کی روشنی میں ہوتی،رد کا منہج سلف کا منہج ہوتاکہ حدیث نہیں بھی لی تو حدیث کی توقیر میں کمی نہ آئے تو بسروچشم قبول لیکن یہ تو صر ف لفاظی ہے ، اور جذباتیت ہے۔بحرحال ہم حدیث کے موضوع پر اپنے اس تحریری سلسلےمیں انکے تمام اعتراضات زیر بحث لاچکے ہیں ابھی انکے اس دعوی کا جائزہ لینا مقصود ہے کہ ‘احادیث کی وجہ سے الحاد پھیل رہا ہے’۔
عجیب بات یہ ہے کہ موصوف کی یہ ساری کوشش/تبلیغ فیس بک تک محدود ہے، صاحب کا اپنی مسجد کا جمعہ کاخطاب اب بھی اسی روایتی دین کی تشریح ہوتی ہے، اپنی ان لاکھوں کیسٹوں میں محفوظ ہزاروں خطبات میں پرانا روایتی دین ہی بیان کیا جس میں ‘قصوں کہانیوں ضعیف روایات اور الحاد افزاء خیالات’ کی بھرمار ہے۔ جو حق منکشف ہوا اور اپنی عظیم الشان مقبولیت کو دائو پر لگا کر حق بولنے لگےمگرصرف فیس بک پر۔۔ یہ مہدی ومسیح کی آمد اور دجال کا خروج کعب الاحبار کے کاربن پیپر کا کمال ہے، صحاح ستہ ملحد ساز فیکٹریاں ہیں، قرآن کی قراءت متواترہ کے ا فسانے، حفص اور عاصم شیعہ ، بخاری ومسلم شیعہ کی مرہون منت۔۔ یہ سارے حق صرف فیس بک پر ہی بیان ہوتے ہیں۔
موصوف کے عالم عرب میں الحاد کی بارش دیکھ کر حواس گم ہیں، جلتے توے پر کھڑے ہیں،جل رہے ہیں،پگھل رہے ہیں گل رہے ہیں مگر بایں ہمہ اندازہ لگائیے ہوش کتنے سلامت ہیں کہ ان میں سے کوئی بات نہ برسر منبر زبان پر آتی ہے اور نہ کیسٹ میں ریکارڈ ہوتی ہے ۔۔۔ دیوانگی میں فرزانگی کا ایسا نظارہ چشم فلک دیکھ ہی نہ پاتی اگر جناب پیدا نہ ہوئے ہوتے۔
پاگل کررکھا ہے عرب کے الحادی سیلاب نے اور جو کچھ اخذ ہورہا ہے اسکا منبع بھی عرب میڈیا ،عرب ماحول اور عرب کا جدید ذہن ہے مگر برآمد کچھ بھی عربی میں نہیں ہورہا۔یعنی سیلاب “نیل” میں آرہا ہے پشتے “راوی” کے مضبوط کیئے جارہے ہیں۔فیا سبحان اللہ۔

یہاں تک تھی لفاظی اسلئے جواب بھی لفاظی۔آگے سوالات ہیں تو سوالات ہی رکھے جاتے ہیں۔
1۔ مجھے عرصہ ہوگیا انہیں پڑھتے ہوئے۔پوری ایمانداری سے عرض ہے کہ کسی بھی علمی موضوع پر کوئی ایک سوال آج تک انکا ایسا نہیں دیکھا جو ان سے پہلے کر نہیں لیا گیا اور امت اس پر سوال جواب سے فارغ نہیں ہوچکی۔اگر کوئی بھی شخص کوئی ایک سوال کوئی ایک سطری تحقیق ایسی پیش نہیں کرسکتا جو پائیمال نہیں جو جواب طلب ہے جسکا حل باقی ہے۔صدیوں سے یہ سلسلہ جاری ہے کہ ہر کچھ عرصے بعد ایسا ہی ایک “مقبول ومعروف” آدمی کتابوں کے ذخیرے میں قید اس گند کو پھرولتا ہے۔تھوڑی دیر ماحول متعفن ہوتا ہے پھر ختم۔زیادہ پرانی بات نہیں تھوڑا ہی زمانہ گذرا ہے غلام احمد پرویز،اسلم جیراجپوری،عبداللہ چکڑالوی،تمنا عمادی وغیرہ یہی راگ الاپتے ہوئے ۔جو تنبورہ سنبھالے آپ خود کو تان سین سمجھ رہےہیں اسکا کوئی راگ آپ نے ایجاد کیا ہوتا تو آپ کو کچھ سمجھ لیتے آپ تو صرف نقال ہیں اور وہ بھی بے ڈھنگے۔کراچی کی ایک بڑی مسجد میں ایک ملا بھی یہی سب کچھ سناتا ہے۔آپ سے بہت بہتر انداز ہے بس فیسبکی نہیں اور سر پر کسی المورد کا سایہ نہیں۔تمناعمادی کے گھسے پٹے نظریات کا تعفن اڑاکر لفاظی کے زور پر خود کو مصلح امت ثابت کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے مگر منوایا نہیں جا سکتا۔جس دن کوئی نئی بات لائیں بڑے شوق سے علمیت کا دعوی کریں ، فخر سے “میں میں” کریں اور جواب طلب کرلیں۔

2۔فرماتے ہیں الحاد پھیل رہا ہے اور امت اس میں گر کر برباد ہورہی ہے اسلئے ان تمام احادیث کو اسلام سے دیس نکالا ضروری ہے جو ملحدین کی اسلام کے خلاف دلیل بنیں۔
یہ ہے وہ اصل مقدمہ جس پر انکار وتحقیق کی یہ عمارت استوار کی جارہی ہے۔
کیا ملحدین کا مسئلہ اماں عائشہ صدیقہ کی 6سال میں شادی اور مہدی ومسیح کی آمد وخروج دجال ہے؟کیا الحاد کی بناء صرف بخاری ومسلم ہیں؟یہ سوچ بالکل ایسے ہے جیسے زید حامد کے خیال میں شدت پسندی کی وجہ مولاناطارق جمیل صاحب کی خاموشی ہے۔
الحاد خدا کا انکار ہے۔مذہب کی لامعنویت ہے۔ملحد تخلیق انسان کا منکر ہے۔جنت وجہنم کا منکر ہے۔انبیاء کا منکر ہے۔وہ سائنس اور فلسفے میں اور ان دونوں سے بڑھ کر نفسانیت میں غرق ہوکر ملحد بنا اور ادھر کنویں کی مخلوق کی سوچ ہے کہ چند احادیث کا انکار کرکے الحاد کے سیلاب کا راستہ روک لیا جائے گا۔اس عقل ودانش کو پتا نہیں کیا پیش کرنا چاہئے۔آئیے!ملحدین کے سامنے آپشن رکھتے ہیں کہ سب مسلمان مان لیتے ہیں اماں عائشہ صدیقہ کا نکاح 18 سال میں ہوا۔کتنے ملحد تیار ہیں الحاد ترک کرنے پر؟۔
ملحد کو مسئلہ قرآن سے ہے جناب!۔
وہ کہتا ہے میں اس خدا کو نہیں مانتا جو نظر نہیں آتا۔جو مٹی سے انسان بنانے کا اعلان کرتا ہے۔جو بعث بعدالموت کا اثبات کرتا ہے۔جو اپنے بندوں کو جہنم میں جلانے کا کہتا ہے۔جو قتل وقتال کا حکم دیتا ہے۔جو بدر میں قیدی زندہ چھوڑنے پر ناراض ہوا۔جو “شرد بہم من خلفہم” جیسے احکام دیتا ہے۔ملحد کو نبی کی 9سال میں شادی پر نہیں 11 شادیوں پر پہلے اعتراض ہے۔اگر انکار کی روش سے ہی الحاد کا راستہ روکنا ہے تو کس کس بات کا انکار کروگے؟ کیا کیا خارج کروگے؟۔

بخاری مسلم نہیں یہاں قرآن ٹارگٹ ہے۔ کیا عقل ہے ان اسلام کے دوست نما دشمنوں کی۔ملحد نے کہا خدا تمہیں قتال کا کہتا ہے اسلئے ہم اسے نہیں مانتے۔وکلاء نے کہا کہ ہمیں نہیں دیتا صرف انبیاء کو دیا۔انبیاء کو بھی کیوں دیا؟۔نبی رحمت ہیں تو قتال کیوں؟۔جواب آیا صرف دفاع کا حکم دیا۔اچھا تو بدر والے قافلے سے کس کا دفاع کرنے نکلے تھے؟۔قرآن تو خود کہہ رہا ہے کہ تم نہتے قافلےکو پکڑنے کی نیت سے نکلے تھے۔اب؟کیا سورت الانفال بخاری کی روایت ہے؟۔اور اس روش سے کتنی باتوں کا جواب دیا جاسکتا ہے؟۔
آپ اپنی زعم میں لوگوں کو الحاد سے بچانے کے لیے احادیث کا انکار کررہے ہیں جبکہ ملحدین کوویسا ہی اعتراض قرآن پر بھی ہے، آپ حدیث کا انکار کررہے ہیں کہ سورج اللہ کے عرش کے نیچے جا کر کیسے سجدہ کر سکتا ہے ملحد کو قرآن مجید سے یہ شکایت ہے کہ قرآن کا سورج ایک گدلے پانی کے چشمے میں غروب ہوتا ہے؟ آپ کو یہ اعتراض ہے کہ حضرت موسی اپنی قوم کے سامنے بے لباس ہو گئے تھے تو ملحد کو قرآن سے یہ شکایت ہے کہ آدم اور حوا اپنے دشمن کے سامنے بے لباس ہو گئے؟ اگر آپ کو حدیث پریہ اعتراض ہے کہ اللہ کے رسول چھوٹی عمر کی لڑکی سے کیسے نکاح کر سکتے ہیں؟ تو ملحد کوقرآن کی آیت سے یہ شکایت ہے کہ خدا چھوٹے بچے کے قتل کا حکم خضر کو کیسے دے سکتا ہے؟ اگر آپ کو یہ اعتراض ہے کہ مرتد کی سزا قتل کیسے ہو سکتی ہے؟ تو ملحد کو قرآن مجید سے یہ شکایت ہے کہ بچھڑے کی پوجا کرنے پر توبہ کی یہ صورت کہ آپس میں ہی ایک دوسرے کی گردنیں اڑائیں، کیسے خدا کی طرف سے ہو سکتی ہے؟ وعلی ہذا القیاس، حدیث پر کوئی اعتراض ایسا نہیں ہے جو قرآن مجید پر بھی وارد نہ ہوتا ہو۔ تو اعتراض کی لونڈی اور عقل کی فاحشہ کے پیچھے چلو گے تو حدیث کیا، قرآن کا بھی انکار کرو گے۔۔!
اس الحاد کے منہ میں کانٹے دار لگام ڈالی ہے تو انہوں نے ڈالی ہے جو نہ مہدی مسیح کے منکر تھے نہ دجال کے خروج کے انکار کی انکو حاجت تھی اور نہ انہیں نکاح کی عمر سے کوئی مسئلہ تھا، نا سورج کے زیر عرش سجدہ کرنے سے نا گدلے پانی میں غروب ہونے سے ۔ ملحدین اور مستشرقین نے قرآن مجید پر جو کیچڑ اچھالا ہے، اس کا بھی علمی وتحقیقی جواب سینکڑوں کتب ومقالات کی صورت میں اگر کسی نے دیا ہے تو یہ وہی لوگ ہیں جو حدیثوں پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ جس کو علمی جواب سے ایمان لانا ہو اسکے لیے شافی جواب موجود ہیں اور جسے محض بکواس اور عناد کی بناء پر ملحد ہی رہنا ہو تو کسی مسلمان پر یہ لازم نہیں کہ وہ اپنا دین کاٹ کر اپنے آباء کو گالی دے کر مسلمات دینیہ میں تحریف کرکے اور اجماعی مسائل کا انکار کرکے انہیں قریب لائے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ الحاد کی فیکٹریاں چلی ہی انکار حدیث  سے ہیں اور حدیث سے بدظن کرنا ہی ملحد بنانے کی راہ ہموار کرنا ہے ،یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ جتنے ملحدین اس انکار حدیث کی تحریک کے بعد پیدا ہوئے اتنے پہلے کبھی نا دیکھے گئے ، فیس بک پر ان ملحدین کی ہسٹری دیکھ لیں جو پہلے مسلمان تھے ، ان میں سے اسی فیصد ملحد انکار حدیث کے راستے سے ہوئے ہیں۔ پہلے دن سے مسلمانوں کا ایمان محفوظ ہی حدیث نے کیا۔ اسلام کے نظامِ حیات کو جس چیز نے تفصیلی اور عملی صورت میں قائم کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہی ہے۔ اسی سنت نے قرآن کی ہدایات کا مقصد و منشا متعین کر کے مسلمانوں کے تہذیبی تصورات کی تشکیل کی ہے اور اسی نے ہر شعبۂ زندگی میں اسلام کے عملی ادارے مضبوط بنیادوں پر تعمیر کر دیے ہیں۔ لہٰذا اسلام کی کوئی مرمت اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ اس سنت سے پیچھا چھڑا لیا جائے۔ اس کے بعد صرف قرآن کے الفاظ رہ جاتے ہیں۔ جن کے پیچھے نہ کوئی عملی نمونہ ہو گا، نہ کوئی مستند تعبیر و تشریح ہو گی اور نہ کسی قسم کی روایات اور نظیریں ہوں گی۔ ان کو من پسند تاویلات کا تختۂ مشق بنانا آسان ہو گا اور اس طرح اسلام بالکل ایک موم کا گولہ بن کر رہ جائے گا جسے دنیا کے ہر چلتے ہوئے فلسفے کے مطابق ہر روز ایک نئی صورت دی جا سکے گی۔ جدید منکرین حدیث نے اسی طریقے سے قرآن کو اپنی تاویلات کا کھلونا بنا کر عام مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت بالکل برہنہ کر دی ہے کہ سنت رسول اللہؐ سے جب کتابُ اللہ کا تعلق توڑ دیا جائے تو دین کا حلیہ کس بری طرح بگڑتا ہے، دین کی کوئی پریکٹکل شکل باقی ہی نہیں رہتی ، انکار حدیث کی راہ پر چلنے والے کچھ ہی عرصے میں ملحدین کی صفوں میں نظر آتے ہیں ۔

افسوس تو ذیادہ اس بات کا ہے کہ یہ ڈھائی سو برس بعد احادیث کے قلمبند ہونے کی باتیں ، حدیث کے ذخیرے کو ساقط الاعتبار ثابت کرنے کی سکیمیں، یہ رجالِ حدیث کی ثقاہت پر اعتراضات اور یہ عقلی حیثیت سے احادیث پر شکوک وشبہات کا اظہار، یہ سب کچھ مستشرقین یورپ کی اُتارن ہیں جن کو یہ نام نہاد عشاق قرآن پہن پہن کر اِتراتے ہیں۔ یہ وہی اعتراضات و شبہات ہیں جو مستشرقین نے اسلام کے بارے میں پیش کئے اور اب یہ لوگ انہیں اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے جذبے سے دوہرا رہے ہیں۔

استفادہ تحریر: طلحہ السیف

اونٹنی کاپیشاب اوردودھ ملاکرپلانےکی حدیث-ایک جائزہ

صحیح بخاری میں ایک حدیث کچھ یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک بیماری کے علاج کے طور پراونٹ کا پیشاب اور دودھ تجویز کیا (صحیح بخاری ۔ باب الدواء بابوال الابل)۔ اس حدیث پر کچھ مسلمانوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضور ﷺ پیشاب جیسی نجس چیز کو پینا کیسے تجویز کر سکتے ہیں ؟ عیسائی مشنریز اور ملحدین اسکو اپنے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ اس حدیث میں تمام مسلمانوں کو اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا گیا ہے، ایک صاحب لکھتے ہیں “ہندوؤں کیلئے گائے کا موتر جبکہ مسلمانوں کیلئے اونٹ کا پیشاب پینا مقدس اور ثواب ہے “۔ اس تحریر میں ہم اس حدیث کی حیثیت ، اسکے حکم اور اس پر اٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ لیں گے ۔

حدیث کی سندی حیثیت
ائمہ محدثین اور علمائے عظام کی تحقیق کے مطابق اونٹ کا پیشاب پینے والی حدیث بالکل صحیح ہے اور اس کے ضعیف یا موضوع ہونے کی جانب کسی ایک معتبر محدث نے اشارہ تک نہیں کیا ہے۔ مزید یہ حدیث صرف “صحیح بخاری” ہی میں نہیں بلکہ بیسوں کتبِ حدیث میں دیگر محدثین نے بھی یہی حدیث اپنی سند سے بیان کی ہے۔

اونٹ کے دودھ یا دودھ اور پیشاب سے بیماری کا علاج- فقہاء کی رائے
اس نوعیت کا صرف ایک واقعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں پیش آیاتھا، اس کے بعد صحابۂ کرام کے زمانہ میں بھی کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، اس کو دیکھتے ہوئے اس واقعہ کے متعلق علماء نے متعدد جوابات دئے ہیں جن میں سے دو پیش ہیں:
1۔حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کا موقف یہ ہے کہ حضورﷺ نے اللہ کے دیے علم سے یہ جان لیا تھا انکو شفا اسی سے ہی مل سکتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ مضطر کے حکم میں آگئے اور مضطر کے لئے نجس چیز کا استعمال جائز ہے۔ یعنی اگر کسی انسان کی جان خطرہ میں ہو تو اس کی جان بچانے کے لئے حرام چیز سے علاج کیا جاسکتا ہے ۔ اس حدیث میں عمومی حکم نہیں ہے کہ کوئی بھی شخص اونٹ کے پیشاب سے علاج کرے جیساکہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے بلکہ یہ ایک خصوصی واقعہ ہے، جس طرح جمہور علماء نے صحیح مسلم میں وارد حدیث کو خصوصی واقعہ قراردیا ہے جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم کو دودھ پلادیں جس سے دونوں کے درمیان حرمت ثابت ہوجائے(تفصیل)، حالانکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ دو سال کے بعد دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوگی یعنی ماں بیٹے کا رشتہ نہیں بن سکتا۔ ۔(خلاصہ مضمون: التداوی ببول الابل از محمد بن عبداللطیف آل الشیخ، ویب سائٹ العربیہ)
2۔متعدد شواہد دلالت کررہے ہیں کہ یہ واقعہ سن ۶ ہجری سے قبل کا ہے، خود حدیث کے راوی حضرت قتادہؒ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سیرین ؒ نے حدیث بیان کی کہ یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے، (بعد میں اس طرح کی سزا کی ممانعت نازل ہوگئی جو انکو دی گئی)، یعنی یہ واقعہ مثلہ کی حرمت سے قبل کا ہے،لہذا ظاہر یہی ہے کہ یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا ہو اور اس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اس نوعیت کا علاج نہیں بتایا اور نہ کسی صحابی سے اس نوعیت کا علاج کرنا منقول ہے۔
خلاصہ یہ کہ صحیح بخاری میں وارد اونٹ کے پیشاب سے علاج والا واقعہ خصوصی واستثنائی ہے۔ ایسی “تخصیص” قرآن سے بھی ثابت ہے،”تم پر مردہ اور (بہا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو، اس پر ان کے کھانے میں کوئی پابندی نہیں، اللہ تعالٰی بخشنے والا مہربان ہے۔(: سورہ البقرہ (2) ، آیت : 173)

گائے کا پیشاب پینے کے ساتھ مماثلت
کچھ لوگ اس حدیث کو ہندوؤں کا گائے کا پیشاب پینے سے ملاتے ہیں حالانکہ ہندووں کا گائے کا پیشاب پینا گائے کے تقدس کے طور پر باقاعدہ ایک مشغلہ ہے نہ کہ کسی خاص بیماری کی وجہ سے۔ اسلام میں نہ تو اونٹ کو مقدس جانور سمجھا جاتا ہے نہ اس کا پیشاب بابرکت سمجھ کر ہر چیز پر چھڑکنے کا کوئی تصور ہے نا اس کا تعلق عبادت اور شعائر دین سے ہے۔ حدیث میں اونٹ کے پیشاب کا استعمال محض ایک دوا کے طور پر کرایا گیااس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ بغرض علاج بھی لازم قرار نہیں دیا گیا جس کی طبیعت مائل نہ ہو وہ نہ پیے ۔ اس کو کسی کے لیے لازم قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے کوئی وعید سنائی ، اور نہ ہی کسی اور کو یہ علاج بتایا، نا اس طریقہء علاج کو کبھی سنّت سمجھا گیا۔
آجکل حرام اور نجس چیزوں سے علاج عام ہے،ہزاروں ادویات میں ایسے کیمیکل استعمال ہوتے ہیں جو انتہائی نجس چیزوں سے حاصل کیے جاتے ہیں ۔ یہ تو اسلام کی خوبی ہے کہ اس نے پہلے دن سے اسکی گنجائش رکھی کہ بوقت انتہائی ضرورت اور علاج کسی نجس لیکن فائدہ مند چیز کو استعمال کیا جاسکتا ہے ، ہر چیز کو ہر حال میں حرام قرار دے کرانسانوں کو بلاوجہ کی تنگی اور سختی میں مبتلا نہیں کیا۔ حیرت ہوتی ہے اسلام کی اس ریلکسیشن پر بھی لوگ اعتراض کرتے اور الٹا اسے اسلام کے لیے ایک نقص اور طعنے کی بات بنا لیتے ہیں۔
کچھ اہل علم نے اس حدیث پر اعتراضات کے سائنسی حوالے سے بھی جواب دیے ہیں ملاحظہ کیجیے  لنک 1، لنک 2، لنک 3

ٓ

حدیث:سورج بوقت طلوع شیطان کے دو سینگوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔

منکرین حدیث اس حدیث کا اپنی مرضی کا ترجمہ و تشریح کرتے اور پھر مذاق اڑاتے ہیں . ایک منکر حدیث کی کتاب سے اس حدیث کا ترجمہ و تشریح ملاحظہ کیجیے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ حضور سے روایت کرتے ہیں کہ سورج نکلتے اور ڈوبتے وقت نماز نہ پڑھا کرو اس لیے کہ سورج بوقت طلوع شیطان کے دو سینگوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ (بخاری جلد ۲، ص ۱۳۴)
پھر اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہیں “سورج کی موٹائی ساڑھے بتیس ارب میل ہے اگر اتنی بڑی شے شیطان کی سینگوں میں سما جاتی ہے اتنابڑا شیطان کھڑا کہاں ہوتا ہوگا زمین سے سورج نو کروڑ پینتیس لاکھ میل دور ہے اور شیطان کی لمبائی سوا پانچ کھرب میل ۔ اگر شیطان کو زمین پر کھڑا کیا جائے تو سورج اسکی ٹخنوں سے بھی نیچے رہ جاتا ہے پھر لکھتے ہیں کہ کلکتہ کی صبح چند لمحوں بعد بنارس پہنچتی ہے پھر دہلی پھر لاہور پھر پشاور پھر کابل وعلی ہزا القیاس جس کا یہ مطلب ہوا کہ سورج ہر وقت شیطان کی سینگوں میں پھنسا رہتا ہے چونکہ ایسی حالت میں نماز ناجائز ہے اس لئے مسلمانوں کو نماز بالکل ترک کردینی چاہئے یہ ہے ہمارے ملا کا مبلغ علم ___ ! (دو اسلام ص ۳۲۴)

٭جواب ٭
اس پیراگراف میں جو مرکزی نقاط قابل تحقیق ہیں وہ یہ ہیں
1۔سورج بوقت طلوع شیطان کے دو سینگوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے.2۔شیطان کے حقیقتا دو سینگ ہیں اور سورج حقیقتا سینگوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔3۔ بڑی چیزیں چھوٹی چیزوں میں نہیں سما سکتی۔ 4۔ چونکہ زمین گول ہے اور سورج ہر لمحہ زمین کے کسی نہ کسی حصے میں طلوع ہوتا رہتا ہے اسلئے مسلمانوں کو نماز بالکل ترک کردینی چاہئے گویا یہ نماز ملا کے مبلغ علم پر بھینٹ چڑھ گئی ہے _

٭حدیث کا پس منظر٭
بات صرف اتنی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے طلوع ہوتے وقت عبادت کرنے سے منع فرمایا ہے اس لئے کہ سورج کے پجاری اس وقت سورج کی پوجا کرتے ہیں اور شیطان طلوع شمس کے وقت پر عرفی طور پر سورج کے بالکل اس طرح سامنے آجاتاہے کہ گویا سورج اس کی سینگوں کے درمیان طلوع ہورہا ہے ۔متعد د سورج پرست قومیں پہلے بھی ایسی گزر چکی ہیں اور آج بھی موجود ہیں کہ انکے لوگ سورج چڑھتے وقت اور غروب ہوتے وقت باقائدہ صفیں باندھ کے عبادت کرتے ہیں اور اس کو سلام و دعا کرتے ہیں اور نظام عالم کا کرتا دھرتا اس کو سمجھتے ہیں ۔ گویا طلوع و غروب آفتاب مشرکوں اور آفتاب پرستوں کی عبادت کا وقت ہے _ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے امت کو شرک کے وہم سے بھی بچانے کی سعی فرمائی کہ تم ایسے وقت میں نماز بھی نہ پڑھو کیونکہ یہ کافروں کی عبادت کا وقت ہے (نسائی) لہٰذا اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے ممانعت فرما دی ۔

٭سورج کا شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہونا٭
عرف عام میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ گرمی کے موسم میں سورج فلاں اور فلاں پہاڑیافلاں اور فلاں درخت یا فلاں اور فلاں مکان کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور سردیوں میں فلاں اور فلاں کے درمیان سے طلوع کرتا ہے اس سے کوئی عقلمند یہ نہیں سمجھتا کہ سورج پہاڑوں اور درختوں ٹیلوں اور مکانوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے اور نہ اس سے عوام ان منکرین حدیث کی طرح اسے پھنسا ہوا سمجھتے ہیں ۔ بول چال اور گفتگو کا یہ طریقہ صحیح اور رائج سمجھا جاتا ہے اور کوئی مصنف مزاج اس قسم کا کلام کرنے والوں کے مبلغ علم کا رونا نہیں روتا لیکن ان منکرین حدیث کو حدیث اور ملا پر طنز کا بہانہ چاہیے۔
‘بین قرنی الشیطان’ (سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان) سے شیطان کے سر کے دو کنارے مراد ہیں ۔ قرن کے معنی سینگ کے بھی آتے ہیں قرن سے سر کے دو کناروں کے بھی ، قرن کے لفظ کاسر پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔ لغت کی کتابوں میں اس کی تصریح کیلئے دیکھئے ( تاج العروس صفحہ 21) ۔ شراح حدیث نے بھی اسکی تصریح کی ہے کہ شیطان کے دو سینگوں سے اسکی سر کی دونوں جانب مراد ہے(نووی شرح مسلم جلد 1 صفحہ 275) اور اگر بالفرض شیطان کے حقیقتا دو سینگ ہوں تب بھی گزر چکا ہے کہ عرفی طور پر یہ کہنا بالکل صحیح اور بجا ہے کہ سورج اس کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔
ہاں البتہ ‘سورج شیطان کے دو سینگوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے’ یہ مفہوم خالص معترضین/ منکرین حدیث کی ایجاد ہے ۔حدیث میں اس کا کہیں نشان موجود نہیں ہےاور اسی مفروضہ پر انکا سارا اعتراض بھی مبنی تھا جسکی وجہ سے بلا سبب وہ ادہام و خیالات کی وادیوں میں شیطان کی طول وعرض کی پیمائش کرنے لگ گئے۔
ؔکچھ حال عجب ہے دل آئینہ ساز کا

٭بڑی چیز کا چھوٹی میں سمانا٭
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں میں پھنسا ہوا طلوع کرتا ہے یہ معترض کی اپنی گھڑی ہوئی بات تھی حدیث کا بیان صرف اتنا ہے کہ عرفی طور پر دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے اور یہ نظریہ قابل اعتراض نہیں ہے ۔ جہاں تک یہ بات کہ مطلقا بڑی چیز چھوٹی چیز میں نہیں سما سکتی گو مثالی طور پر ہی ہو ‘یقینا باطل ہے ، یہی سورج جو زمین سے بارہ لاکھ اسی ہزار گنا بڑا ہے اور جسکا محیط بتیس ارب پچاس کروڑ میل ہے ہماری ایک چھوٹی سی آنکھ میں کیسے سما جاتا ہے ۔؟
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے ذوالقرنین کا واقعہ نقل کیا ہے اور اس میں اس کا ذکر بھی فرمایا ہے کہ
حتی اذا بلغ مغرب الشمس وجدھا تغرب فی عین حمئة ووجد عندھا قوما ۔ ترجمہ :” یہاں تک کہ وہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا اور اسے ایک دلدل کے چشمے میں غروب ہوتا پایا”(سورہ الکہف ۔آیت 86)
ہمارا سوال یہ ہے کہ جس سورج کا محیط بتیس ارب پچاس کروڑ میل ہے جو زمین سے بارہ لاکھ اسی ہزار گنا بڑا ہے وہ زمین کے مغربی کونے کے ایک چشمہ میں ذوالقرنین کو کیسے ڈویتا ہوا نظر آیا ؟ اور اتنا بڑا سورج ایک چھوٹے سے (گو وہ فی نفسہ بحر بیکراں اور سمندر نا پیدا کنار ہی سہی مگر سورج کے مقابلے میں تو وہ بے مقدار ہی ہے ) چشمے میں کیسے سما گیا ؟
معترض صاحب کو مناسب تھا کہ وہ ملا کے مبلغ علم کا ماتم کرنے سے پہلے ٹھنڈے دل سے اس حقیقت کو سوچ لیتے اور اس کے بعد قلم کو جنبش دیتے مگر ان کی بلا سے وہ تو میدان ادہام اور ظنون میں بےسروپا باتیں کرنے اور خیالی گھوڑے دوڑاے کے عادی ہیں نہ دماغ پر کنٹرول ہے نہ قلم میں قابو ہے۔
شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبال دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
جب اس مشاہدہ کی چیز اور مادی دنیا کے حوادثات کے متعلق قرآن کا یہ بیان ہو اور بغیر تشریح کے اس کا صحیح مطلب سمجھا نہ جاسکتا ہو، تو پھر جو حدیث روحانیات سے تعلق رکھتی ہو، جس کا مشاہدہ اور مادیت سے کوئی تعلق نہ ہو، اس کو بغیر تشریح اس طرح ظاہر ترجمہ سے کس طرح سمجھا جاسکتا ہے؟انصاف کیجئے۔

معترض نے حدیث کا اپنا ایک مفہوم گھڑنے کے بعد مزید رنگ آمیز ی کے لیے لکھا کہ ” سورج ہر وقت شیطان کی سینگوں میں پھنسا رہتا ہے چونکہ ایسی حالت میں نماز ناجائز ہے اس لئے مسلمانوں کو نماز بالکل ترک کردینی چاہئے” یہ اعتراض بھی بلاوجہ ہے۔ جہاں تک نماز کی بات ہے معترض بھی جانتے ہیں کہ ہر جگہ اور زمین کے ہر حصے کے مسلمانوں کیلئے ان کے افق اور ان کے مشرق و مغرب کا اعتبار ہوتا ہے۔ کلکتہ والوں کیلئے ان کے طلوع آفتاب کا لحاظ ہوگا اور لاہور / کابل والوں کیلئے ان کے طلوع اور غروب کا ۔ کلکتہ والے اس وقت نماز نہیں پڑھتے جب کہ ان کے افق پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہو اور کابل والے اپنے طلوع و غروب کے وقت ۔ معترض صاحب یہ فرمائیں کہ جب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ زمین گول ہے اور زمین کے کسی نہ کسی حصے پر سورج ہر وقت طلوع ہوتا رہتا ہے کیا مسلمانوں کو رمضان شریف میں منکرین حدیث کی خود ساختہ منطق کے رو سے کھانا پینا بھی بالکل تک کردینا چاہئے کہ نہ رات کو کھائیں نہ دن کو۔؟

آفتاب کےزیرعرش سجدہ کرنےکی روایت- تحقیقی جائزہ

عرش کے نیچے سجدہ کرنے کے متعلق روایت کی سیاق و سباق اور سورت یس کی آیت اڑتیس کی روشنی میں تحقیق پیش ہے ۔ اس روایت کو مخالفین اسلام خصوصا عیسائی مشنریز نے اسلام پر حملے اور منکرین حدیث نے حدیث کے الہامی ہونے پر سوالیہ نشان لگانے کے لیے استعمال کیا ۔ اس حدیث کو پڑھ کر عام مسلمان کے ذہن میں بھی جو سوالات اٹھتے ہیں اس تحریر کا مقصد انکا جواب مہیا کرنا بھی ہے۔
حدیث:
حضرت ابوذر (رض) روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں آفتاب غروب ہونے کے وقت مسجد میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے ابوذر ! کیا تم جانتے ہو کہ آفتاب کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ جاتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے قول (وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِکَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ) کے یہی معنی ہیں۔ (صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2011)
صحیح مسلم میں اس حدیث کی مزید تفصیل موجود ہے:
حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج ( غروب ہونے کے بعد) کہا جاتا ہے صحابہ (رض) نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سورج چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے جب وہ اپنی مقررہ منزل تک پہنچتا ہے تو سجدہ کرتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے، بلند ہو اور جہاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا ، پس وہ لوٹ جاتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے، پھر سورج ( حسب سابق) چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے جب وہ اپنی مقررہ منزل تک پہنچتا ہے تو سجدہ کرتا ہے اور اسی حالت میں رہتا ہے یہاں تک کہ اسے کہا جاتا ہے، بلند ہو اور جہاں سے آیا تھا وہیں لوٹ جا، پس وہ لوٹ جاتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے، پھر یہ معمول جاری رہے گا اور لوگ اس میں کچھ فرق محسوس نہیں کریں گے یہاں تک کہ ایک دن جب سور ج عرش کے نیچے اپنی مقرہر منزل تک پہنچے گا تو اسے کہا جائے گا : بلند ہوا اور اپنے مغرب سے طلوع ہو، تو اس صبح کو سورج اپنے مغرب سے طلوع ہوگا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون سا دن ہوگا ؟ یہ وہ دن ہوگا جس دن کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی نہ کرلی تھی۔ ( مسلم :399: کتاب الایمان : باب 72، بخاری :3199: کتاب بدء الخلق : ب ٤)

چند اصولی باتیں اور نقاط

اس کا جواب سمجھنے سے پہلے یہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ جہاں تک آیت مذکورہ کی تصریح ہے اس پر اٹھائے جانے والے شبہات واشکالات میں سے قرآن پر کوئی بھی اشکال نہیں ہوتا۔ اس کا مفہوم تو صرف اتنا ہے کہ آفتاب کو حق تعالیٰ نے ایک ایسی منظم اور مستحکم حرکت پر لگایا ہوا ہے کہ وہ اپنے مستقر کی طرف برابر ایک حالت پر چلتا رہتا ہے۔ اگر اس مستقر (ٹھکانہ) سے مراد تفسیر قتادہ کے مطابق مستقر زمانی لیا جائے، یعنی روز قیامت، تو معنی اس کے یہ ہیں کہ آفتاب کی یہ حرکت قیامت تک دائمی ایک حال پر چلتی رہے گی پھر اس روز ختم ہوجائے گی۔ اور اگر مستقر مکانی مراد لیں تو بھی اس کا مستقر مدار شمسی کے اس نقطہ کو کہا جاسکتا ہے جہاں سے اول تخلیق کے وقت آفتاب نے حرکت شروع کی اسی نقطہ پر پہنچ کر اس کا شبانہ روز کا ایک دورہ مکمل ہوتا ہے۔ کیونکہ یہی نقطہ اس کا انتہا سفر ہے، اس پر پہنچ کر نئے دورہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ رہا یہ کہ اس عظیم الشان دائرہ کا وہ نقطہ کہاں اور کونسا ہے جہاں سے آفتاب کی حرکت ابتداء آفرینش میں شروع ہوئی، قرآن کریم اس قسم کی فضول بحثوں میں انسان کو نہیں الجھاتا جس کا تعلق اس کے کسی دینی یا دنیوی فائدے سے نہ ہو۔ یہ اسی قسم کی بحث ہے، اس لئے اس کو چھوڑ کر قرآن کریم نے اصل مقصد کی طرف توجہ دلائی۔ اور وہ مقصد حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کاملہ کے خاص مظاہر کا بیان ہے، کہ اس جہان میں سب سے بڑا اور سب سے روشن ترین کرہ آفتاب کا ہے، وہ بھی نہ خود بخود بن گیا ہے اور نہ خودبخود اس کی کوئی حرکت پیدا ہوتی ہے نہ باقی رہ سکتی ہے، اور وہ اپنی اس شبانہ روز کی حرکت میں ہر وقت حق تعالیٰ کی اجازت و مشیت کے تابع چلتا ہے۔
جتنے اشکالات اٹھائے گئے ہیں آیات مذکورہ کے بیان پر ان میں سے کوئی بھی شبہ اور اشکال نہیں، البتہ احادیث مذکورہ جن میں یہ آیا ہے کہ وہ غروب کے بعد زیر عرش پہنچ کر سجدہ کرتا ہے اور اگلے دورے کی اجازت مانگتا ہے یہ سب اشکالات اس سے متعلق ہیں۔ اور اس آیت کے ذیل میں یہ بحث اس لئے چھڑی کہ حدیث کے بعض الفاظ میں اس آیت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس کے جوابات محدثین و مفسرین حضرات نے مختلف دیئے ہیں، ظاہر الفاظ کے اعتبار سے جو یہ سمجھا جاتا ہے کہ آفتاب کا یہ سجدہ دن رات میں صرف ایک مرتبہ بعد الغروب ہوتا ہے، جن حضرات نے حدیث کو اسی ظاہری مفہوم پر محمول کیا ہے انہوں نے غروب کے متعلق تین احتمال بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ معظم معمورہ کا غروب مراد ہو، یعنی اس مقام کا جہاں کے غروب پر اکثر دنیا کی آبادی میں غروب ہوجاتا ہے، یا خط استواء کا غروب، یا افق مدینہ کا غروب۔ اس طرح یہ اشکال نہیں رہتا کہ آفتاب کا غروب وطلوع تو ہر وقت ہر آن ہوتا رہتا ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں ایک خاص افق کے غروب پر کلام کیا گیا ہے، لیکن صاف و بےغبار جواب وہ معلوم ہوتا ہے جو علامہ شبیر احمد عثمانی رحمة اللہ علیہ نے اپنے مقالے ” سجود الشمس “ میں اختیار فرمایا ہے، اور متعدد ائمہ تفسیر کے کلام سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
اس کے سمجھنے سے پہلے پیغمبرانہ تعلیمات و تعبیرات کے متعلق یہ اصولی بات سمجھ لینی ضروری ہے کہ آسمانی کتابیں اور اس کے لانے والے انبیاء (علیہم السلام) خلق خدا کو آسمان و زمین کی مخلوقات میں غور و فکر اور تدبر کی طرف مسلسل دعوت دیتے ہیں، اور ان سے اللہ تعالیٰ کے وجود، توحید، علم وقدرت پر استدلال کرتے ہیں، مگر ان چیزوں میں تدبیر اسی حد تک مطلوب شرعی ہے جس حد تک اس کا تعلق انسان کی دنیوی اور معاشرتی ضرورت سے یا دینی اور اخروی ضرورت سے ہو۔ اس سے زائد نری فلسفیانہ تدقیق اور حقائق اشیاء کے کھوج لگانے کی فکر میں عام خلق اللہ کو نہیں ڈالا جاتا۔ کیونکہ اول تو حقائق اشیاء کا مکمل حقیقی علم خود حکماء و فلاسفہ کو بھی باوجود عمریں صرف کرنے کے نہیں ہوسکا، بیچارے عوام تو کس شمار میں ہیں، پھر اگر وہ حاصل بھی ہوجائے اور اس سے نہ ان کی کوئی دینی ضرورت پوری ہو اور نہ کوئی صحیح مقصد دنیوی اس سے حاصل ہو تو اس لایعنی اور فضول بحث میں دخل دینا اضاعت عمر اور اضاعت مال کے سوا کیا ہے۔
قرآن اور انبیاء کا استدلال آسمان و زمین کی مخلوقات اور ان کے تغیرات و انقلابات سے صرف اس حد تک ہوتا ہے جو ہر انسان کو مشاہدہ اور ادنیٰ غور و فکر سے حاصل ہو سکے۔ فلسفہ اور ریاضی کی فنی تدقیقات جو صرف حکماء و علماء ہی کرسکتے ہیں نہ ان پر استدلال کا مدار رکھا جاتا ہے نہ ان میں غور وخوض کی ترغیب دی جاتی ہے، کیونکہ خدا تعالیٰ پر ایمان اور اس کے پیغام پر عمل ہر انسان کا فرض ہے۔ عالم ہو یا جاہل، مرد ہو یا عورت، شہری ہو یا دیہاتی، کسی پہاڑ اور جزیرہ میں رہتا ہو یا کسی متمدن شہر میں، اس لئے پیغمبرانہ تعلیمات عوام کی نظر اور ان کی عقل وفہم کے مطابق ہوتی ہیں جن میں کسی فنی مہارت کی ضرورت نہ ہو۔
نماز کے اوقات کی پہچان، سمت قبلہ کا متعین کرنا، مہینوں اور سالوں اور تاریخوں کا ادراک، ان سب چیزوں کا علم ریاضی کے حسابات کے ذریعہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، مگر شریعت اسلام نے ان میں سے کسی چیز کا مدار ریاضی کی فنی تحقیقات پر رکھنے کے بجائے عام مشاہدات پر رکھا ہے۔ مہینے اور سال اور ان کی تاریخیں قمری حساب سے رکھیں اور چاند کے ہونے نہ ہونے کا مدار صرف رویت ہلال اور مشاہد پر رکھا۔ روزے اور حج کے ایام اسی بنیاد سے متعین کئے گئے۔ چاند کے گھٹنے، بڑھنے، چھپنے اور پھر طلوع ہونے کا راز بعض لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا، تو اس کا جواب قرآن نے یہ دیا کہ قل ھی مواقیت للناس والحج، یعنی آپ کہہ دیں کہ چاند کے یہ سب تغیرات اس مقصد کے لئے ہیں کہ تم ان سے مہینے کا شروع اور ختم اور اس کی تاریخیں معلوم کر کے حج وغیرہ کے دن متعین کرسکو۔ اس جواب نے ان کو اس پر تنبیہ فرما دی کہ تمہارا سوال لایعنی اور فضول ہے، اس کی حقیقت معلوم کرنے پر تمہارا کوئی کام دین یا دنیا کا اٹکا ہوا نہیں، اس لئے سوال اس چیز کا کرو جس کا تعلق تمہاری دینی و دنیوی ضرورت سے ہو۔

*حدیث میں مذکور آیت کا سیاق وسباق*
اس تمہید کے بعد اصل معاملہ پر غور کیجئے، کہ آیات مذکورہ میں حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے چند مظاہر کا ذکر کر کے انسان کو اللہ کی توحید اور علم وقدرت کاملہ پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے اس میں سب سے پہلے زمین کا ذکر کیا، جو ہر وقت ہمارے سامنے ہے (آیت) وایة لہم الارض، پھر اس پر پانی برسا کر درخت اور نباتات اگانے کا ذکر کیا، جو ہر انسان دیکھتا اور جانتا ہے، احییناھا الایة۔ اس کے بعد آسمان اور فضائے آسمانی سے متعلق چیزوں کا ذکر شروع کر کے پہلے سے لیل و نہار کے روزانہ انقلاب کا ذکر فرمایا (آیت) و ایة لہم الیل الآیة، اس کے بعد سورج اور چاند جو سیارات و انجم میں سب سے بڑے ستارے ہیں ان کا ذکر فرمایا۔ ان میں پہلے آفتاب کے متعلق فرمایا والشمس تجری لمستقر لھا ذلک تقدیر العزیز العلیم، اس میں غور کیجئے کہ مقصد اس کا یہ بتلانا ہے کہ آفتاب خود بخود اپنے ارادے اور اپنی قدرت سے نہیں چل رہا بلکہ یہ ایک عزیز وعلیم یعنی قدرت والے اور جاننے والے کے مقرر کردہ نظام کے تابع چل رہا ہے۔

*حدیث کے بیان کی حقیقت*
1. آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غروب آفتاب کے قریب حضرت ابوذرغفاری کو ایک سوال و جواب کے ذریعہ اسی آیت میں مذکور حقیقت پر متنبہ ہونے کی ہدایت فرمائی، جس میں بتلایا کہ آفتاب غروب ہونے کے بعد عرش کے نیچے اللہ کو سجدہ کرتا ہے اور پھر اگلا دورہ شروع کرنے کی اجازت مانگتا ہے، جب اجازت مل جاتی ہے تو حسب دستور آگے چلتا ہے، اور صبح کو جانب مشرق سے طلوع ہوجاتا ہے۔اس کا حاصل اس سے زائد نہیں کہ آفتاب کے طلوع و غروب کے وقت عالم دنیا میں ایک نیا انقلاب آتا ہے، جس کا مدار آفتاب پر ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس انقلابی وقت کو انسانی تنبیہ کے لئے موزوں سمجھ کر یہ تلقین فرمائی کہ آفتاب کو خود مختار اپنی قدرت سے چلنے والا نہ سمجھو، یہ صرف اللہ تعالیٰ کے اذن و مشیت کے تابع چل رہا ہے۔ اس کا ہر طلوع و غروب اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ہوتا ہے، یہ اس کی اجازت کے تابع ہے، اس کے تابع فرمان حرکت کرنے ہی کو اس کا سجدہ قرار دیا گیا۔ کیونکہ سجدہ ہر چیز کا اس کے مناسب حال پر ہوتا ہے، جیسا کہ قرآن نے خود تصریح فرما دی ہے کل قد علم صلوٰتہ و تسبیحہ، یعنی ساری مخلوق اللہ کی عبادت اور تسبیح میں مشغول ہے، مگر ہر ایک کی عبادت و تسبیح کا طریقہ الگ الگ ہے، اور ہر مخلوق کو اس کی عبادت و تسبیح کا طریقہ سکھلا دیا جاتا ہے۔ جیسے انسان کو اس کی نماز و تسبیح کا طریقہ بتلا دیا گیا ہے، اس لئے آفتاب کے سجدہ کے یہ معنی سمجھنا کہ وہ انسان کے سجدہ کی طرح زمین پر ماتھا ٹیکنے ہی سے ہوگا صحیح نہیں۔قرآن کے مطابق پہاڑ اور درخت بھی سجدہ کرتے ہیں مگر ہم نے انہیں کبھی اپنی جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جاتے نہیں دیکھا۔ ساری کائنات میں انسان اور جن ہی مکلف مخلوق ہیں اور انھیں کو قوت ارادہ و اختیار دیا گیا ہے باقی مخلوق تکوینی طور پر اللہ کے حضور ہر وقت سجدہ ریز رہتی ہے اور ان کے سجدہ کا مطلب یہ ہے کہ جس کام پر اللہ نے انھیں لگا دیا ہے یا جو خدمت ان کے ذمہ کردی ہے اور جو قوانین ان کے لئے مقرر کردیئے ہیں ان سے وہ سرمو تجاوز نہیں کرتے
2. قرآن و سنت کی تصریحات کے مطابق عرش خداوندی تمام آسمانوں، سیاروں، زمینوں پر محیط ہے، تو یہ ظاہر ہے کہ آفتاب ہر وقت ہر جگہ زیر عرش ہی ہے۔ اور جبکہ تجربہ شاہد ہے کہ آفتاب جس وقت ایک جگہ غروب ہو رہا ہوتا ہے تو دوسری جگہ طلوع بھی ہو رہا ہوتا ہے، اس لئے اس کا ہر لمحہ طلوع و غروب سے خالی نہیں، تو آفتاب کا زیر عرش رہنا بھی دائمی ہر حال میں ہے، اور غروب و طلوع ہونا بھی ہر حال میں ہے۔ اس لئے حاصل مضمون حدیث کا یہ ہوا کہ آفتاب اپنے پورے دورے میں زیر عرش اللہ کے سامنے سجدہ ریز رہتا ہے، یعنی اس کی اجازت اور فرمان کے تابع حرکت کرتا ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح قریب قیامت تک چلتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت کی بالکل قریبی علامت ظاہر کرنے کا وقت آجائے گا، تو آفتاب کو اپنے مدار پر اگلا دورہ شروع کرنے کی بجائے پیچھے لوٹ جانے کا حکم ہوجائے گا، اور وہ پھر مغرب کی طرف سے طلوع ہوجائے گا۔ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا، کسی کا ایمان و توبہ اس وقت مقبول نہیں ہوگا۔
3. خلاصہ یہ ہے کہ غروب آفتاب کی تخصیص اور اس کے بعد زیر عرش جانے اور وہاں سجدہ کرنے اور اگلے دورے کی اجازت مانگنے کے جو واقعات اس روایت میں بتلائے گئے ہیں وہ پیغمبرانہ موثر تعلیم کے مناسب بالکل عوامی نظر کے اعتبار سے ایک تمثیل ہے۔ نہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ انسان کی طرح زمین پر سجدہ کرے، اور نہ سجدہ کرنے کے وقت آفتاب کی حرکت میں کچھ وقفہ ہونا لازم آتا ہے۔ اور نہ یہ مراد ہے کہ وہ دن رات میں صرف ایک ہی سجدہ کسی خاص جگہ جا کر کرتا ہے، اور نہ یہ کہ وہ صرف غروب کے بعد تحت العرش ہوجاتا ہے۔ مگر اس انقلابی وقت میں جبکہ سب عوام یہ دیکھ رہے ہیں کہ آفتاب ہم سے غائب ہو رہا ہے اس وقت بطور تمثیل ان کو اس حقیقت سے آگاہ کردیا گیا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ درحقیقت آفتاب کے زیر عرش تابع فرمان چلنے رہنے سے ہو رہا ہے، آفتاب خود کوئی قدرت و طاقت نہیں رکھتا، تو جس طرح اس وقت اہل مدینہ اپنی جگہ یہ محسوس کر رہے تھے کہ اب آفتاب سجدہ کر کے اگلے دورے کی اجازت لے گا اس طرح جہاں جہاں وہ غروب ہوتا جائے گا سب کے لئے ہی سبق حاصل کرنے کی تلقین ہوگئی اور حقیقت معاملہ یہ نکلی کہ آفتاب اپنے مدار پر حرکت کے درمیان ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ بھی کرتا ہے اور آگے چلنے کی اجازت بھی مانگتا رہتا ہے، اور اس سجدہ اور اجازت کے لئے اس کو کسی سکون اور وقفہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس تفصیل پر حدیث مذکورہ میں نہ مشاہدات کی رو سے کوئی شبہ ہوتا ہے نہ قواعد ہیئت و ریاضی کے اعتبار سے اور نظام شمسی اور حرکت سیارات میں بطلیموسی تحقیق صحیح ہو یا فیثا غورث والی تحقیق جو آج کل نئی تحقیقات سے موید ہوگئی ہے، دونوں صورتوں میں حدیث مذکورہ پر کوئی شبہ اور اشکال باقی نہیں رہتا۔
رہا یہ سوال کہ حدیث مذکور میں جو آفتاب کا سجدہ کرنا اور اگلے دورے کی اجازت طلب کرنا مذکور ہے، یہ کام تو حیات اور علم و عقل کا ہے، آفتاب و ماہتاب بےجان بےشعور مخلوقات ہیں، ان سے یہ افعال کیسے صادر ہوئے ؟ تو اس کا جواب قرآن کی آیت وان من شئی الا یسبع بحمدہ کے تحت میں ہے
(تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ 44؀ ترجمہ : ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی ساری مخلوقات اس کی پاکی بیان کرتی ہیں، اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، لیکن تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔(سورۃ الاسراء آیت 44)
کہ ہم جن چیزوں کو بےجان اور بےعقل و بےشعور سمجھتے ہیں، وہ بھی درحقیقت روح اور جان اور عقل و شعور کا ایک خاص حصہ رکھتے ہیں، البتہ ان کی حیات اور عقل و شور انسان و حیوان کے مقابلہ میں کم اور اتنی کم ہے کہ عام احساسات اس کا ادراک نہیں کرسکتے، مگر اس کی نفی پر بھی کوئی شرعی یا عقلی دلیل موجود نہیں اور قرآن کریم نے آیت مذکورہ میں ان کا ذی حیات اور ذی عقل و شعور ہونا ثابت کردیا ہے، اور نئی تحقیقات نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔
ایک مشہور سابقہ منکر حدیث اس حدیث پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں اگر ہم رات کے دس بجے پاکستان ریڈیو سے دنیا کو یہ حدیث سنائیں اور کہیں کہ اس وقت سورج عرش کے نیچے سجدہ میں پڑا ہوا ہے، تو ساری مغربی دنیا کھلکھلا کر ہنس دے اور وہاں کے تمام مسلمان اسلام چھوڑ دیں۔ (دو اسلام ص ۳۲۴) کیا ہم دن کے بارہ بجے ریڈیو سے یہ آیت دنیا کو سنائیں اور کہیں کہ اس وقت سورج سجدہ میں پڑا ہوا ہے، اور ہمالیہ پہاڑ بھی سجدہ میں پڑا ہوا ہے، درخت بھی سجدہ کررہے ہیں تو بھی کوئی ہنسے گا یا نہیں ۔ ؟ صاحب نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جس طرح ہم سجدہ کرتے ہیں، اسی طرح تمام مخلوق سجدہ کرتی ہے، یہی اصلی غلط فہمی ہے۔حالانکہ ہر ایک مخلوق کی نماز ، تسبیح، سجدہ علیحدہ علیحدہ ہے، اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:{ قُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلٰوتَہٗ وَتَسْبِیْحَہٗ ترجمہ :ہر چیز اپنی نماز اور تسبیح کو جانتی ہے۔ (سورت نور)

قرآن و حدیث کی مذکورہ تصریحات سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوئی کہ شمس و قمر دونوں متحرک ہیں۔ ایک میعاد کے لئے چل رہے ہیں جدید سائنسی نظریات بھی آفتاب کی حرکت کو تسلیم کرتے ہیں کہ سورج مرکز ہونے کے باوجود اپنی فیملی (سیاروں) کے ساتھ حرکت کر رہا ہے ۔ حدیث میں اصل حقیقت کی طرف ذہنوں کو موڑنے کے لیے استعارہ (Metaphor) کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ سورج اپنی ضیا پاشیوں کے بعد جن نظروں سے غائب ہوجاتا ہے تو وہ اللہ کے زیر اقتدار ہی رہتا ہے اور اس کے اس قانون کی تابعداری کرتے ہوئے جو اس کے لیے مقرر کردیا گیا ہے اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اللہ ہی کے آگے جھکا ہوا ہے۔ جو لوگ بات کو اس کے محل پر رکھ کر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے وہ الفاظ کو پکڑ کر بحثیں کھڑی کردیتے ہیں اور نا فہمی کی بنا پر حدیث ہی کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔

اسلام میں بالغوں کی رضاعت کاتصوراورحدیث

بہت سے ملحدین و عیسائی مشنری صحیح مسلم کی ایک روایت کا سہارا لے کر اس بات کا جواز پیش کرتے ہیں کہ اسلام میں بالغوں کی رضاعت (اُنھیں دودھ پلانے) جائز ہے اور اس روایت کے سہارے بہت غلیظ انداز میں اسلام کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ہم اس تحریر میں اس روایت سے متعلق تمام اشکالات و اعتراضات کا جائزہ لیں گے ۔

اس حوالے سے موجود حدیث:
صحیح مسلم اور بعض دوسری کتابوں میں اس حوالے سے کچھ روایتیں موجود ہیں، ان میں سے ایک کچھ یوں ہے:
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: سہلا بنت سہیل بنت عمر حضورؐ کے پاس تشریف لائیں، اور کہا: اے اللہ کے رسول سالم (ابو حذیفہ کا آزاد کردہ غلام) ہمارے گھر میں رہ رہا ہے، اور وہ بالغ ہو چُکا ہے جیسے کہ ہر لڑکا ہوتا ہے، اور اسے (جنسی مسائل) کا بھی علم ہو چکا ہے، جیسے لڑکوں کو علم ہو جایا کرتا ہے۔ جس پر آپ ؐ نے فرمایا کہ اس کی رضاعت (اپنا دودھ پلاؤ) کرو تاکہ وہ تمہارے لیے ناجائز (شادی کے لیے) ہو جائے۔(صحیح مسلم ، حدیث 2636)
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو اسے دودھ پلا دے اس سے حذیفہ کے دل میں جو کراہت ہے وہ جاتی رہے گی کہتی ہیں اللہ کی قسم پھر میں نے ابوحذیفہ کے چہرہ پر ناگواری کے اثرات نہیں دیکھے۔ ۔(صحیح مسلم ، حدیث 2638)
یہی روایت امام مالکؒ کی موطا(حدیث 1113) اور حدیث کی بعض دُوسری کُتب میں بھی موجود ہے۔

روایت میں بیان کیے گئے فریقین کے مابین کوئی جسمانی ربط موجود نہیں تھا:
پہلی بات جس کی وضاحت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ سہلا بن سہیل اور سالم کے درمیان کوئی جسمانی تعلق موجود نہیں تھا
حدیث میں لفظ أَرْضِعِيهِ استعمال کیا گیا ہے اور یہی وہ کام تھا جو حضور ؐ نے سہلا کو بتایا۔ یہ لفظ رضاع سے نکلا ہوا ہے اور اس کا مطلب ہرگز چھاتیوں سے دودھ پینا نہیں ہے۔ قدیم عربی ادب کے ایک شاہکار “تاج العروس” میں اس لفظ کو کچھ یوں استعمال کیا گیا ہے:
رضع (من) ثدي أمه:ترجمہ: اُ س نے اپنی ماں کی چھاتیوں سے رضاع کی(دودھ پیا)۔
اس مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رضاع کا مطلب “چُوسنا” نہیں ہو سکتا بلکہ یہ پلانے کے زُمرے میں آتا ہے۔ اگر اس لفظ کا مطلب چھاتیوں سے چُوسنا ہوتا تو اس جملے میں صرف یہی لفظ استعمال کیا جاتا دوبارہ چھاتیوں کا ذکر ایک ہی جُملے میں نہ آتا۔ اس لفظ کا حقیقی معنی پلانا ہی ہےاور صرف سیاق و سباق سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پلانے کے لیے استعمال ہوا ہے یا چُوسنے یعنی کہ چھاتیوں سے دودھ پینے کے زُمرے میں۔

واضح روایت:
صحیح مسلم کی روایات سے سیاق و سباق ٹھیک سے واضح نہیں ہوتا، اس لیے ہمیں مزید جانچ پڑتال کے لیے کچھ دوسرے ماخذ کا جائزہ لینا ہوگا۔
محمد بن عمر (الواقدی)٭نے ہمیں بتایا:محمد بن عمداللہ، الظہری کے بھتیجے اپنے والد کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ “ایک پیالےیا گلاس میں دودھ اکٹھا کیا جاتا تھا، اور سالم پانچ دن تک ہر روز یہ دودھ پیا کرتا تھا۔ اس کے بعد وہ گھر میں داخل ہوتا تھا جب کہ سہلا کا سر ڈھکا ہوا نہیں ہوتا تھا۔ اور یہ اجازت اللہ کے رسول ؐ کی جانب سے سہلا بنت عمر کو دی گئی تھی”۔ (ابنِ سعد، طبقات الکبریٰ271/8، رقمطراز: ابن حجر، الاصابۃ11/4)

یہ ایک خاص کیس تھا:
امہات المومنین ؓ کا یہ مؤقف ہے کہ یہ ایک خاص کیس تھا اور اس کی عام اجازت نہیں ہے۔
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے مجھے خبر دی کہ ان کی والدہ زینب بنت ابی سلمہ (رض) نے انہیں بتایا کہ ان کی والدہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ (رض) عنہاکہا کرتی تھیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام ازواج نے اس بات سے انکار کیا کہ اس (بڑی عمر کی) رضاعت کی وجہ سے کسی کو اپنے گھر میں داخل ہونے دیں، اور انہوں نے عائشہ (رض) سے کہا : اللہ کی قسم ! ہم اسے محض رخصت خیال کرتی ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاص طور پر سالم (رض) کو دی تھی، لہذا اس (طرح کی) رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہمارے پاس آنے والا بن سکے گا اور نہ ہمیں دیکھنے والا۔(صحیح مسلم۔ حدیث نمبر:3605)
رضاعت کا عام قانون کچھ اس طرح ہے:
“چھاتیوں سے دودھ پلانے کا تعلق صرف اس وقت قائم ہو سکتا ہے جب کہ بچے کی واحد غذاء دودھ ہو”۔(صحیح بخاری، حدیث 4712)
امام نووی لکھتے ہیں کہ: صحابہ اور ان کے بعد آنے والے علماء اور مشائخ یہ کہتے ہیں کہ : چھاتیوں سے دودھ پلانے کا رشتہ دو سال کی عمر کے بعد ثابت نہیں ہوتا۔(شرح النووی 5/182)
یہ بات متفق علیہ ہے۔ اس بات سے جس نے اختلاف کیا ان میں امام ابو حنیفہؒ اورامام مالک ؒشامل ہیں لیکن اُن دونوں کی بھی یہ رائے نہیں تھی کہ بالغ بھی چھاتی سے دودھ پی سکتے ہیں ، بلکہ انھوں نے دو سال کی میعاد میں کچھ ماہ کی چھُوٹ بتائی ہے۔
اس لیے صحابہ اور باقی امہات المومنین کا یہ ماننا تھا کہ یہ صرف سالم کے لیے ایک رعایت تھی۔ بعد میں آنے والے علماء میں سے بھی شاذ و نادر ہی کوئی ایسا عالم ملے گا جس نے اس بات کی اجازت دی ہو، زیادہ تر علماء نے بھی وہی مؤقف اختیار کیا ہے جو صحابہ اور امہات المومنین کی اکثریت کا تھا۔

یہ کیس مخصوص کیوں تھا ؟ پس منظر:
اب تھوڑا اور گہرائی میں جا کر دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے ایک خاص کیس تھا اور اس کا اطلاق دوسرے لوگوں پر نہیں ہوتا۔
موطا امام مالک کی حدیث 1113 میں اسکا پس منظر پڑھنے کو ملتا ہے؛
ابو حذیفہ ابن عتبہ ابن ربیعہ ؓ صحابی اور جو بدر کے وقت بھی موجود تھے ، نے سالم کو گود لیا۔جیسے کہ حضور ؐ نے زید ابن حارثہؓ کو گود لیا(اور اسے اپنا بیٹامانا)۔ جب اللہ نے زید ابن حارثہ کے بارے میں وحی نازل فرمائی کہ انھیں ان کے حقیقی والد کے نام سے پُکارو، یہ اللہ کے نزدیک انصاف کے زیادہ قریب ہےاور اگر تمہیں ان کے والد کا پتہ نہیں ہے تو وہ دین میں تمہارے بھائی اور مددگار ہیں۔ (سورۃ 33، آیت 5)گود لینے والے بچوں کو ان کے والد کے نام سے پکارا جاتا تھا اور جہاں والد کا نام پتہ نہیں ہوتا تھا وہاں وہ مولا یا مددگار ہوتے تھے۔سہلا بنت سہیل جو کہ ابو حذیفہ کی بیوی تھیں اور عمر ابن لوئے کے قبیلے میں سے تھیں ، ایک دن رسول اللہؐ کے پاس آئیں اور کہا کہ ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے ہیں اور وہ اس وقت بھی میرے پاس آ جاتا ہے جب کہ میں نے پردہ نہیں کیا ہوتا، اور ہمارے پاس صرف ایک کمرہ ہے، آپؐ ہماری اس حالت کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے؟حضورؐ نے فرمایا کہ اسے پانچ دن اپنا دودھ دو جس سے وہ تمہارا محرم بن جائے گا۔ جس کے بعد سہلا نے سالم کو اپنا رضاعی بیٹا سمجھا۔ (موطا امام مالک،حدیث 1113)۔
اس سے پوری بات کی سمجھ آ جاتی ہے۔ حذیفہ ؓ نے سالم کو گود لیا اور وہ اور ان کی بیوی دونوں سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے۔ سالم کا معاملہ بھی زید بن حارث والا تھا، زیدؓ کو حضرت خدیجہ ؓ کی موجودگی میں گود لیا گیا تھا، لیکن حضرت خدیجہ ؓ کی وفات سورۃ احزاب کی پردے کے متعلق آیات سے پہلے ہو چکی تھی۔ اور دوسری بات یہ کہ زید ؓ کے والدین کا پتہ تھا لیکن سالم کے آباءو اجداد کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ (طبقات الکبریٰ 87/3)
جب سورۃ احزاب نازل ہوئی تو دو مسئلے سامنے آئے۔ آیت نمبر پانچ کے مطابق گود لیے جانے والے بچوں کو ان کے والد کے نام سے تعارف کرایا جائےاور اگر والد کا نہ پتہ ہو تا انھیں بطور اپنا بھائی متعارف کروایا جائے۔ اور آیت 59 میں خواتین کے لیے پردے کا حکم دیا گیا۔ آیت 5 کی روشنی میں سالم کو مولا ابوحذیفہ کہا گیا اور ہر جگہ سالم کا تعارف اسی طرح ہی کرایا گیا ہے۔ اور دوسرا مسئلہ پردے کے حوالے سے تھا ، اور سالم کے بالغ ہونے کے بعد اس کا اپنی منہ بولی والدہ سے ملنے جانے کا مسئلہ سامنے آیا۔ سہلا نے اپنا مسئلہ محمدؐ کے سامنے پیش کیا اور آپ ؐ نے سالم کو ان کا بیٹا سمجھتے ہوئے ایک راستہ بتایا۔
اب جب کہ حجاب اور گود لینے کے حوالے سے پہلے ہی احکامات کو موجود ہیں اس لیے اب یہ مسئلہ دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتا۔اب اگر تو گود لیا جانے والا بچہ شیر خوار ہو گا تو وہ رضاعی بیٹا بن جائے گا اور اگر گود لیا جانے والا بچہ بالغ ہو گا تو شروع سے ہی پردے کے احکامات پر عمل کیا جائے گا۔

ابو حذیفہ کی ناگواری کی وجہ :
حدیث کی عبارت یہ کہتی ہے کہ سالم کا سہلا کو بغیر پردے کی حالت میں ملنا ابوحذیفہ کو ناگوار گزرا تھا۔ (صحیح مسلم2638)اور ایسا اس وقت ہوا جب سالم بالغ ہوا (مسلم 2638) اور سورۃ احزاب کی آیات نازل ہوئیں(موطا 1113)۔ لیکن موطا کی روایت یہ بھی کہتی ہے کہ ابوحذیفہ اور سہلا، سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے۔ اس لیے ابوحذیفہ کی ناگواری صرف اس وجہ سے تھی کہ ان کے مطابق ایسا کام ہو رہا تھا جو قرآن کے احکامات کے مطابق درست نہیں تھا اور سوائے اس کے ان کی ناگواری کی کوئی اور وجہ نہیں تھی۔ اور عملی طور پر جب اس مسئلے کا حل ڈھونڈ کر اس پر عملدرآمد کیا گیا تو ساتھ ہی ابو حذیفہ کے چہرے سے ناگواری بھی ختم ہو گئی۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ابوحذیفہ جو سالم کے دیکھنے سے اتنی ناگواری محسوس کر رہے تھے ‘ چھاتیوں سے دودھ پلانے کا حل ان کے لئے کیسے قبول کرسکتے تھے ۔ نا رسول اللہؐ جسمانی طور پر مس کرنے کی اجازت دے سکتے تھے ۔ ۔ آپؐ نے روٹین سے ہٹ کر اس مسئلے کا جو حل بتایا وہ ان تینوں کے مخصوص قلبی اور گہرے تعلق (منہ بولا بیٹا ) کی وجہ سے تھا ۔ (موطا 1113)
اور چونکہ وہ اسکو احکامات نازل ہونے سے پہلے گود لے چکے تھے اس لیے انھیں ایک خصوصی رعایت دی گئی۔

خُلاصہ اور نتیجہ
سالم ابوحذیفہ کا آزاد کردہ غلام ابوحذیفہ ؓ کا منہ بولا بیٹا تھا۔ ابوحذیفہ ؓ اور ان کی بیوی سہلا دونوں سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے۔ اور سالم اپنی منہ بولی ماں سے ملنے بغیر پردے کے ان کے پاس جایا کرتا تھا اور جب حجاب کا حکم نازل ہوا تو ابوحذیفہ کو بغیر پردے کے یہ ملنا ناگوار گزرا۔ اسی لیے حضور ؐ نے انکے اس معاملے کی تفصیلات کودیکھتے ہوئے انھیں خصوصی رعایت دی۔ اس رعایت پر عمل کرتے ہوئے ان دونوں کے درمیان جسمانی تعلق نہیں تھا ۔ دودھ ایک پیالے میں لایا جاتا تھا، جسے سالم پی لیتا تھا۔
اب جب کہ گود لینے اور پردے کے متعلق احکامات موجود ہیں تو اس رعایت پر عمل کرنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ اس پر تمام صحابہ ، فقہ کے چاروں مکاتب اورتقریبا تمام بڑے علماء کا اجماع ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭الواقدی کی روایت کی حیثیت:
محمد بن عمر الواقدی ان راویوں میں سے ہیں جن کی سندی حیثیت پر علماء میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک طرف بہت سے لوگوں نے ان پر سخت تنقید کی ہے وہیں بہت سے لوگوں کی جانب سےانھیں قابل اعتماد قرار دیا گیا ہے۔ ایک طرف لوگوں نے واقدی کو جھوٹا کہا ہے اور دوسری طرف لوگوں نے واقدی کی تعریف کی ہے۔
الدراوردی تو واقدی کو حدیث میں ایمان والوں کا رہنما تسلیم کرتے ہیں۔(دیکھیے تہذیب الکمال)
یہ مختلف آراء ہمارے جیسے طالب ِعلموں کو پس و پیش میں ڈال دیتی ہیں۔ تاہم کچھ علماء: ابن حجر، الذہبی، اور ابنِ کثیر نے تمام آراء کا احتیاظ سے جائزہ لیا ہے اور ایک درمیانی راہ نکالی ہے۔
الذہبی لکھتے ہیں: اس نے جمع کیا اور مکھن کو چربی کے ساتھ اور کنکریوں کو موتیوں کے ساتھ شامل کر دیااس لیے اُسے نظر انداذ کر دیا گیا ہے، اس کے با وجود جنگوں کے بارے میں موجود روایتوں کے حوالے سے اور اصحاب اور ان کی زندگیوں کے حوالے سے روایتو ں میں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ (سیر العالم النبالا455-454/9)
ابن حجر کہتے ہیں: جب واقدی مصدق روایات کی نفی نہیں کرتا، یا جنگوں کےراویوں کی نفی نہیں کرتا تو اس کو مغازی میں قبول کیا جا سکتا ہے، اور اللہ بہتر جاننے والا ہے۔( تلخیص الہبیر 324/3)
اور اس سے پہلے ابن کثیر کہتے ہیں: الواقدی، نے ایک اچھی تحریر شدہ تاریخ میں قیمتی اضافہ کیا۔ وہ اس شعبے کے بڑے اماموں میں سے ہیں۔اور وہ بذات خود ایک قابل اعتماد شخصیت ہیں، جنھوں نے بہت زیادہ روایات بیان کی، میں نے اپنی کتاب التکمیل فی معرفہ الثقات میں ان پر تنقید اور ان کے قابل اعتماد ہونے پر بحث کی ہے۔ (البدایہ والنہایہ)
واقدی کے بارے میں ہم سیرت کے سلسلے میں تفصیلی تحقیق پیش کرچکے ہیں جو یہاں دیکھی جاسکتی ہے ۔
ان تمام روایتوں سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ واقدی کی بیان کردہ روایتوں کو تسلیم کیا جا سکتا ہے ، اگر وہ بالکل ہی مصدقہ روایات کی نفی نہ کرتی ہوں، اور خاص طور پر جب وہ صحابہ کے وقت سے تعلق رکھتی ہوں اورجب وہ دوسرے ذرائع سے معلوم حقائق میں تھوڑا بہت اضافہ کرتی ہوں۔ یہ بات خاص طور پر وہ لوگ بھی جانتے ہیں جنھوں نے ابن حجر کا مطالعہ کیا ہے۔ اگر پہلے بیان کی گئی تمام باتیں درست ہیں تو واقدی کی بیان کردی روایت کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔

روایت حضرت حفصہ نےحضورؐکوڈانٹ پلائی-منکرین حدیث کی علمی خیانت

ڈاکٹر شبیر لکھتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ کے سامنے قسم کھائی کہ اپنی کنیز سے مقاربت نہ کریں گے حضرت حفصہ اپنے گھر میں گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماریہ کے ساتھ ہمبستر دیکھا اس پر انھوں نے حضور(ص) کو بہت ڈانٹ پلائی” سیرت النبی(ص) ، شبلی۔ جلد اوّل۔ صفحہ 146۔
(اسلام کے مجرم،صفحہ51,52)
تبصرہ
منکرین حدیث کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ عوام کی جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محض حدیث دشمنی میں بدترین علمی خیانتیں کرتے ہیں ۔ گزشتہ کئی تحاریر میں اسکا ذکر آیا کہ علماء نے موضوع/ گھڑی ہوئی روایات کو چھانٹ کے علیحدہ کتابوں میں جمع کیا ہے، منکرین حدیث انہی کتابوں میں سے گھڑی ہوئی روایات اٹھا کے حدیث پر اعتراض اٹھاتے ہیں ۔ اکثر علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ کی کتاب “الموضوعات” سے روایت نقل کرتے ہیں اور حوالہ دینا ‘بھول’ جاتے ہیں ۔چند دن پہلے فیس بکی متجدد المعروف قاری صاحب نے ایسی ہی علمی دیانت دار کا مظاہرہ کرتے ہوئے حدیث پر اعتراضات اٹھائے۔ اس طرح طلوع اسلام کے ایک مقالہ نگار صاحب موضوعات پر مشتمل کتابوں سے چند ایسی روایات نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ حدیث کے مجموعوں میں ایسی روایات بکثرت ملتی ہیں جو ‘الزام تراشی’، ‘دروغ بافی’ اور ‘فحش نگاری’ کامرقع ہیں۔۔۔۔! ملاحظہ کیجیے ان لوگوں کے نزدیک گھر کے مالک اور محافظ ہی چور اور پولیس ڈاکو ہے ۔ان روایات کو جنہیں ‘الزام تراشی’ اور ‘فحش نگاری’ کا مرقع قرار دیا ان کے جھوٹ ہونے کی قلعی خود محدثین نے پہلے ہی کھول دی ہے لیکن یہ کمال ڈھٹائی سے ان چوری پکڑنے والوں ہی کو چور کہہ رہے ہیں ۔
اس طرح بہت سے منکرین حدیث اس مکروفریب کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ محدثین نے اپنی کتابوں میں روایات پر تحقیق کرتے ہوئے انکی کمزوری کو واضح کیا ، ان پر اعتراضات اٹھائے اور انکے جھوٹا ہونے کو ثابت کیا ہے ، منکرین حدیث ان کتابوں میں سے وہ روایات بمعہ اعتراضات و مطاعن تو بعینہ نقل کر دیتے ہیں مگر علماء نے ان پر جو جرح یا تبصرہ کیا ہے اسے مطلقاً نظر انداز کر جاتے ہیں ۔اسی انداز میں امام ابن قتیبہ کی کتاب ‘ مختلف الحدیث” سے جناب غلام احمد پرویز صاحب نے بہت استفادہ کیا ۔
اوپر پیش کردہ اعتراض بھی اسی کی ایک مثال ہے یہ منکرین حدیث کی بائبل ڈاکٹر شبیر کی کتاب ‘ اسلام سے مجرم ‘ سے نقل کیا گیا ہے۔ اس میں ڈاکٹر صاحب نے بھی اسی طرح کی علمی خیانت کی ۔ انہوں نے علامہ شبلی نعمانی صاحب کی سیرت النبی سے روایت تو نقل کردی مگر اس روایت پر علامہ شبلی نعمانی کا طویل علمی تبصرہ شیر مادر سمجھ کر ہضم کرگئے۔
ہم زیر بحث روایت پر کی گئی علامہ شبلی نعمانی کی بھرپور علمی تنقید کو من وعن نقل کررہے ہیں اس سے قارئین کو ڈاکٹر شبیر کی تلبیسات وعلمی خیانت کا بغور اندازہ ہوجائے گا ۔
علامہ شبلی نعمانی نے اس بحث پر ”روایات کاذبة” کے نام سے باب باندھا ہے ۔
یہ بات اس قدر مسلّم ہے اور خود قرآن مجید میں مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کی خاطر اپنے اوپر کوئی چیز حرام کرلی تھی ۔ اختلاف اس میں ہے کہ وہ کیا چیز تھی ؟ بہت سی روایتوں میں ہے کہ وہ ماریہ قبطیہ ایک کنیز تھیں جن کو عزیز مصر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفہ بھیجا تھا ۔ماریہ قبطیہ کی روایت تفصیل کے ساتھ مختلف طریقوں سے بیان کی گئی ہے جس میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو راز سیدہ حفصہ نے فاش کردیا تھا وہ انہی ماریہ قبطیہ کے متعلق تھا اگر چہ یہ روایتیں بالکل موضوع اور ناقابل ذکر ہیں ۔ لیکن چونکہ یورپ کے اکثر مؤرخوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معیار اخلاق پر جو حرف گیری کی ہے ان کا گل سرسر ی ہی ہے اس لئے ان سے تعرض کرنا ضروری ہے ۔ ان روایتوں میں واقع کی تفصیل سے متعلق اگرچہ نہایت اختلاف ہے لیکن اس قدر سب کا قدر مشترک ہے کہ ماریہ قبطیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موطورة کنیزوں میں تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ کی ناراضگی کی وجہ سے ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا ۔
حافظ ابن حجر شرح صحیح بخاری تفسیر سورہ تحریم میں لکھتے ہیں ۔
” ووقع عند سعید بن منصور باسناد صحیح الی مسروق قال حلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لحفصة لایقرب امة ”(فتح الباری جلد 8صفحہ 837)
”اور سعید بن منصور نے صحیح سند کے ساتھ جوامام مسروق تک منتہیٰ ہوتی ہے یہ روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ کے سامنے قسم کھائی کہ اپنی کنیز سے مقاربت نہ کریں گے ”
اس کے بعد موصوف نے مسند (ہیثم بن کلیب )اور طبرانی سے متعدد روایتیں نقل کی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے ۔
”وللطبرانی من طریق ضحاک عن ابن عباس قال دخلت حفصة بیتھا فوجدہ یطاء ماریة فعاتبة ”(فتح الباری جلد 8صفحہ 837)
”اور طبرانی نے ضحاک کے سلسلے میں سیدنا ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ سیدہ حفصہ اپنے گھر گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوسیدہ ماریہ کے ساتھ ہمبستر دیکھا اس پر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معاتب کیا ۔”
ابن سعد اور واقدی نے اس روایت کو مزید بدنما پیرایوں میں نقل کیا ہے ہم ان کو نظر انداز کرتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ تمام روایتیں محض افتراء اور بہتان ہیں ۔
علامہ عینی شرح صحیح بخاری باب النکاح جلد 5صفحہ 548میں لکھتے ہیں کہ :
” والصحیح فی سبب نزول الآیة فی قصة العسل لا فی قصة ماریة المروی فی غیر الصحیحین وقال النووی ولم تات قصة ماریة من طریق صحیح ”
”اور آیت کے شان نزول کے باب میں صحیح روایت یہ ہے کہ جو شہد کے واقعہ میں ہے ماریہ کے قصے کے بارے میں نہیں ہے جو کہ صحیحین کے سوا اور کتابوں میں مذکور ہے نووی نے کہا کہ ماریہ کا یہ واقعہ کسی صحیح طریق سے مروی نہیں ہے ۔”
یہ حدیث تفسیر ابن جریر ، طبرانی ومسندہیثم میں مختلف طریقوں سے مروی ہے ان کتابوں میں عموماً جس قسم کی رطب یا بس(صحیح ضعیف)روایتیں مذکور ہیں اس کے لحاظ سے جب تک ان کی صحت کے متعلق کوئی خاص تصریح نہ ہو لائق التفات نہیں ۔ حافظ ابن حجر نے ایک طریقے کی توثیق کی ہے یعنی وہ روایت جس کے اخیر میں مسروق ہے لیکن اولاً تو اس روایت میں ماریہ قبطیہ کا نام مطلق نہیں ۔ صرف اس قدر ہے کہ آپ نے سیدہ حفصہ کے سامنے قسم کھائی تھی کہ میں اپنی
کنیز کے پاس نہ جاؤں گا اور وہ مجھ پر حرام ہے اس کے علاوہ مسروق تابعی ہیں یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تھا اس لئے یہ روایت اصول حدیث کی رو سے منقطع ہے ۔ یعنی اس کا سلسلہ سند صحابی تک نہیں پہنچتا اس حدیث کے ایک اور طریقہ(سند) کو حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں صحیح کہا ہے لیکن اس طریقے(سند) کے ایک اور راوی عبدالملک رقاشی ہیں جن کی نسبت دارقطنی نے لکھا ہے ۔ ” کثیر الخطاء فی الاسناد والمتون یحدث عن حفظہ ” یعنی ”سندوں میں اور اصل الفاظ حدیث میں بہت خطا کرتے ہیں ۔”
علامہ شبلی نعمانی مزید رقمطراز ہیں کہ:
امام نووی نے جو ائمہ محدثین میں سے ہیں صاف تصریح کی ہے کہ ماریہ کے باب میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ۔ حافظ ابن حجر اور ابن کثیر نے جن طریقوں (سند)کو صحیح کہا ہے ان میں سے ایک منقطع اور دوسرا کثیرالخطا ء ہے۔ ان واقعات کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ روایت استناد کے قابل ہے ۔
یہ بحث اصول روایت کی بناء پر تھی درایت کا لحاظ کیا جائے تو مطلق کدوکاوش کی حاجت نہیں جو دقیق واقعہ ان روایتوں میں بیان کیا گیا ہے خصوصاً طبری وغیرہ میں جو جزئیات مذکور ہیں وہ ایک معمولی آدمی کی طرف (بھی )منسوب نہیں کئے جاسکتے نہ کہ اس ذات پاک کی طرف جو تقدس ونزاہت کا پیکر تھا صلی اللہ علیہ وسلم (سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم جلد 1صفحہ 322.321)

یہ وہ تبصرہ اور نقد تھا جو علامہ شبلی نعمانی نے اس روایت پر کیا تھا جس کو ڈاکٹر شبیر نے حذف کرتے ہوئے یہ من گھڑت روایت تحریر کرکے عوام الناس کو دھوکہ دینے کی سعی نا تمام کی ہے ۔ اللہ عوام کو ان مکاروں کے شر سے محفوظ رکھے ۔آمین

اشکال حدیث:تم انصاری عورتیں مجھےسب سےذیادہ محبوب ہو

ایک منکر حدیث اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں :” حضرت انس کہتے ہیں ایک انصاری عورت جناب رسول علیہ السلام کی خدمت میں آئی۔ آپ نے اس کے ساتھ خلوت کی ، اس کے بعد اس سے کہا کہ قسم اللہ کی کہ تم (انصاری) عورتیں سب لوگوں میں سے مجھے زیادہ محبوب ہو۔(کتاب النکاح ، بخاری ، حدیث نمبر ٢١٨)اس حدیث پر بھی پڑھنے والے خود سوچیں، میں کوئی تبصرہ نہیں کر رہا۔

تجزیہ :
یہ خیرخواہی کے نام پر کم علم لوگوں سے حدیث کا انکار کروانے کی ایک واضح مثال ہے۔ اس حدیث میں شاید دو باتیں منکرین حدیث کو قابل اعتراض معلوم ہوئی ہیں۔
1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کی۔
اس سلسلے میں دو باتیں ملحوظ رہنی ضروری ہیں : پہلی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عورت سے خلوت اور علیحدگی ایسی نہیں تھی جو اسلام کی نظر میں حرام ہے اور جس میں شیطان تیسرا فرد ہوتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے تھے بلکہ اس عورت کے ساتھ ایک راستے میں کھڑے تھے جہاں لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے۔ دوسری بات یہ کہ وہ ایک مجنونہ عورت تھی۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک کام ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ مجھ سے ملاقات کسی راستے میں کر لینا ۔یہ ملاقات ایک کھلے راستے میں ہوئی جہاں سے لوگوں کا گزر عام تھا ، یہی وجہ ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے کی گئی نبوی بات بیان سن لی اور پھر بیان کی۔یہاں خلوت سے مراد کسی بند مکان میں ملاقات ہوتی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو اس ملاقات کے احوال کیسے معلوم ہوتے؟ اگر یہی حدیث صحیح مسلم میں ملاحظہ کر لی جاتی تو سارے اشکالات ختم ہو جاتے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی کا بیان ہے :
”ایک عورت کی عقل میں کچھ فتور تھا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام فلاں ! تم کسی بھی گلی کا انتخاب کر لینا تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے میں اسے ملے یہاں تک کہ وہ اپنے کام(کی تفصیلات بتانے)سے فارغ ہو گئی۔”(صحیح مسلم :حدیث نمبر ٢٣٢٦،)
نیز یہ بھی مدنظر رہنا چاہیے کہ اس عورت کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا۔(صحیح بخاری : ٣٧٨٦، )
اس حدیث نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی تبرا نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طہارت و پاکیزگی کی انتہا بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجنونہ عورت سے بھی کسی الگ جگہ ملاقات نہیں کی بلکہ اسے لوگوں کے عام گزر والی گلی میں بلا کر اس کی بات سنی تاکہ کوئی شک و شبہ میں مبتلا نہ ہوجائے۔نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت متواضع اور حلیم طبیعت کے مالک تھے ، آپ چھوٹے بڑے ہر ایک کی داد رسی کرتے تھے حتی کہ مجنونوں کی بھی، جیسا کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ لکھتے ہیں : وفیہ سعۃ حلمہ وتواضعہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم وصبرہ علی قضاء حوائج الصغیر والکبیر ۔۔۔(فتح الباری لابن حجر : ٩/٣٣٣، طبع دار المعرفۃ، بیروت)
کیا یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پربہتان اور تبرا ہے ؟

2. رہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی کہ انصاری عورتیں مجھے سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب ہیں۔۔۔ تو اس میں کون سا اعتراض ہے ؟ اس سے بس انصاری عورتوں کی دوسری عورتوں پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اور یہ بات صرف انصاری عورتوں کے لیے نہ تھی بلکہ انصاری مرد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں دوسرے عام مَردوں سے افضل تھے۔ انصار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص محبت اور انس تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ یہ میرے خاص لوگ اور میرے راز دان ہیں۔انہوں نے اپنے فرائض پورے کر لیے ہیں اور اب ان کے حقوق باقی رہ گئے ہیں۔ تم ان کے نیک لوگوں کی بات قبول کرنا اور بُرے لوگوں سے درگزر کرنا۔”(صحیح البخاری : ٣٧٩٩، صحیح مسلم : ٢٥١٠، طبع دار السلام،)
مزید تفصیلات کے لیے کتب حدیث میں انصار کی فضیلت و منقبت کے ابواب ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔ایک موقع پر انصار کی عورتوں اور بچوں کو آتے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور تین مرتبہ فرمایا: اللّٰہمّ ! أنتم من أحبّ الناس إلیّ ، یعنی الأنصار۔ ترجمہ :”اللہ گواہ ہے کہ تم انصاری لوگ مجھے سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب ہو۔”(صحیح البخاری : ٣٧٨٥، صحیح مسلم : ٢٥٠٨، )
معلوم ہوا کہ اس حدیث کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں انصار کی عورتوںکا مقام و مرتبہ دوسری عورتوں سے بلند تھا۔اس سے کوئی اور مراد لینا کسی شخص کی اپنی ہی ذہنی پستی اور عقلی درماندگی کا ثبوت ہے۔

عورت،گھراورگھوڑے میں نحوست اور حدیث

اعتراض :
”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں منحوس ہیں گھوڑا، عورت اور مکان” … اس ارشاد کا مقصد تو یہی ہوسکتا ہے کہ لوگ ان منحوس چیزوں سے بچیں، لیکن لوگ کیسے بچ سکتے ہیں، جب خود حضور نے ایک گھوڑا، گیارہ بیویاں اور نومکانات اپنے قبضے میں رکھے تھے، اگر کوئی ہم سے پوچھ بیٹھے، کہ کیا یہ قول اسی رسول کا ہے… جس نے فرمایا تھا کہ ”نکاح میری سنت ہے” … تو ہم کیا جواب دیں گے۔۔۔”کیا جن عورتوں نے لاکھوں انبیاء و اولیاء پیدا کیے جن کی گود میں لقمان و افلاطون کھیلے… وہ منحوس ہیں، اور ہم مسعود؟” (دو اسلام ص: ۳۱۴)

تبصرہ:
عیسائی مشنریز اور ملحدین بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اسلام عورت کو حقیر سمجھتا ہے اور اسے منحوس یا اس کے مترادف کوئی شے گردانتا ہے، مخصوص روایات کا حوالہ دیتے ہیں ۔ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ؐ نے ارشاد فرمایا نحوست عورت ،گھر اور گھوڑے میں ہے (بخاری حدیث ۴۷۰۳)
ایسی ہی (روایت )چند دیگر صحابہ سے بھی مروی ہے جن میں حدیث سیدنا ابو ہریرہ ۷۷۱۰معجم اوسط طبرانی بھی شامل ہے۔

*ان روایات کی حقیقت*
منکرین حدیث ذخیرہ حدیث میں سے کسی مجمل حدیث کو اٹھاتے ہیں پھر عوام کےحدیث کے خلاف جذبات کو بھڑکانے کے لیے اپنی مرضی کے نتائج نکالنا شروع کردیتے ہیں ۔اس اعتراض میں بھی معترض نے اک مخصوص روایت کی بنیاد پر مبالغہ آرائی و رنگینی سے کام لیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان برگزیدہ اصحاب نے آپؐ کے ارشادکا ایک حصہ سنا تھا انکی یہ غلط فہمی بعد میں باقی صحابہ کے ذریعے دور ہوگئی اسکا تذکرہ بھی حدیث میں موجود ہے۔ جس طرح ایک آیت کی تشریح دوسری آیت کر دیتی ہے، یہی حال حدیث کا ہے، ایک حدیث کی تشریح دوسری جگہ موجود ہوتی ہے، اگر کہیں مجمل حدیث ہو، تو غلط فہمی کا امکان تو ضرور ہے لیکن اس کا ازالہ دوسری احادیث سے ہوسکتا ہے جو آگے پیچھے موجود ہوتی ہیں، مگر اس کے لیے تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے،
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس طرح کی روایت کے متعلق حدیث میں ہی ذکر ہے۔
حضرت عائشہؓ سے کے سامنے کہا گیا کہ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے، آپؐ نے ارشاد فرمایا:نحوست تین چیزوں میں ہے ،حضرت عائشہؓ نے فرمایا ابوہریرہ کے آنے سے قبل آپؐ نے ارشاد فرمایا تھا : اللہ یہودیوں کو ان کے اس قول پر غارت کرے کہ نحوست تین چیزوں میں ہے عورت ،گھر اور گھوڑا ۔ اس طرح انھوں نے آپؐ کے ارشاد کا آخری حصہ سنا اور پہلا نہ سنا۔(مسند طیالسی حدیث۱۶۳۰۔البانی اس کو سلسلہ صحیحہ میں حسن کے درجہ میں رکھتے ہیں ۶۷ّ/۳)
یہی آخری حصہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ایک روایت مروی ہے جو معترض نے بھی پیش کی ۔ لیکن دوسری جگہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ کی زبان سے ہی اسکی تصحیح و تشریح بھی موجود ہے ۔، عبداللہ بن عمر رضی اللہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کان الشؤم فی شئی ففی الدار والمرأۃ والفراس ۔ ترجمہ :”نحوست اگر کسی چیز میں ہوتی تو ان تین چیزوں میں بھی ہوتی، گھر، عورت، گھوڑا۔”(صحیح بخاری)
اسی طرح سہیل بن سعد ساعدی سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی، تو عورت میں ہوتی، مکان میں ہوتی اور گھوڑے میں ہوتی۔( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 132 ).
اس حدیث سے یہ واضح ہے کہ آپؐ نے عورت کو منحوس قرار نہیں دیا تھا بلکہ آپؐ نے تو یہودیوں کے اس خیال پر تنقید کی اور اسے غلط کہا ۔ یہ چند صحابہ تھے جنہوں نے آپؐ کے ارشاد کا ایک حصہ سنا جس سے صحابہ کے دور میں ہی اشکالات پیدا ہوئے اور ام المومنین سیدنا عائشہؓ نے انہیں دور کر دیا ۔ درحقیقت اسلام زیر بحث مسئلے کے حوالے سے اور خصوصاً عورت کے متعلق یہ رائے بیان کرتا ہے۔مخمر بن معاویہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : ” نحوست کوئی چیز نہیں، تین چیزوں میں برکت ہوتی ہے : عورت، گھوڑا اور گھر میں “۔ (سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۹۳،البانی اس کو حسن قرار دیتے ہیں )۔

حضورؐ کی ایک رات میں تمام بیویوں سےمباثرت کی حدیث

ایک منکر حدیث حدیث پیش کرتے ہیں :
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام بیویوں کے پاس ہررات میں دورہ فرمالیا کرتے تھے اور وہ تعداد میں ٩ تھیں۔”
اس کے بعد لکھتے ہیں حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کو اُمت کی مصروفیات سے اتنی فرصت کہاں تھی اور وہ پاک ہستی تھے (معاذاللہ) جنسی مشین نہ تھے۔( اسلام کے مجرم )

جواب:۔
حدیث کا اصل متن اور اسکادرست مفہوم:
امام بخاری نے یہ حدیث اپنی صحیح میں ذکرفرمائی اور حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں
عن انس ان النبیی صلی اللہ علیہ وسلم طوف علی نسائہ فی لیلۃ واحدۃ ولہ تسع نسوا۔ ترجمہ: ”انس سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں اپنی بیویوں کے پاس جایا کرتے تھے اور وہ تعداد میں نو تھیں” (صحیح بخاری کتاب النکاح باب 4 حدیث 5068۔)
کچھ غیر مسلم اور منکرین حدیث اس حدیث میں لفظ ”یطوف” سے جماع مراد لیتے ہیں حالانکہ”یطوف” کا معنی ہے ”دورہ کرنا ، چکر لگانا” اس حدیث کی مزید وضاحت دوسری احادیث سے ہو جاتی ہے ملاحظہ ہو ۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے بعد اپنی ازواج کے ہاں تشریف لے جاتے ۔”(صحیح بخاری کتاب النکاح رقم الحدیث 5216 )
صحیح مسلم میں ہے:اذا صلی العصر دار علی نسائہ۔ ترجمہ : ”آپ جب عصر کی نماز سے فارغ ہوجاتے تو اپنی ازواج کے ہاں دورہ فرماتے ۔” (صحیح مسلم کتاب الطلاق باب رجوب الکفاراعلی من حرم رقم الحدیث 3679)

حضور ﷺ کے اس دورے کی تفصیل:
عروہ (رح) نے بیان کیا کہ سیدہ عائشہ (رض) نے کہا : اے میرے بھانجے ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( ہم ازواج میں ) باری مقرر کرنے کے معاملے میں ، یعنی ہمارے پاس ٹھہرنے کے معاملے میں ہم میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ دیا کرتے تھے ۔ اور آپ تقریباً ہر روز ہم سب کے پاس چکر لگایا کرتے تھے اور ہر بیوی کے قریب ہوتے ۔ یہ نہیں کہ آپ صحبت کرتے تھے ۔ حتیٰ کہ اس کے پاس جا پہنچتے جس کی باری کا دن ہوتا اور رات اس کے ہاں گزارتے ۔ (سنن ابوداود حدیث مرفوع صحیح ،حدیث نمبر:،2135)
اس حدیث سے واضح ہے حضور ﷺ تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور سب کے ساتھ جماع نہیں فرماتے صرف اسکے ساتھ جسکی اس دن باری ہوتی تھی ۔یعنی آپ روزانہ صبح وشام کے اوقات میں اپنی ازواج کی گھریلو ضروریات کو پورا کرنے اور ان کی دل جوئی کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے اگر آپ ایسانہ کرتے تو ہر بیوی کے پاس نو دن بعد پہنچتے اور اتنے طویل عرصے تک آپ کو یہ خبر نہ ہوتی کہ وہ کس حال میں ہیں اوران پر کیاگزررہی ہے لہٰذا اس مشترک وقت میں جو لیل ونہار کی ایک گھڑی تھی آپ سب کے ہاں تشریف لے جاتے۔
اور جہاں تک بات ہے ”امت کی مصروفیات اور حقوق ازواج”کی اس کے جواب میں ہم ایک غیر مسلم مؤلف پال برنٹن کے الفاظ نقل کئے دیتے ہیں۔
I could not but respect the wisdom of the Prophet Muhammad(S.A.W) for so deftly teaching his followers to mingle the life of religious devotion with the life of the busy world،(A search in the secret Egypt by Paul Bruntin page 134)
”میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دانائی کی تکریم کئے بغیر نہیں رہ سکتا جنہوں نے اپنے پیرو کاروں کو اتنی خوش اسلوبی کے ساتھ دینی زندگی کو دنیاوی مصروف زندگی کے ساتھ سمونا سکھا دیا۔”
مزید تفصیل :
اس مسئلے میں ایک حدیث اور پیش کی جاسکتی ہے وہ یہ کہ قتادہ کہتے ہیں کہ مجھے انس بن مالک نے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن ہو یا رات ایک ہی وقت میں اپنی گیارہ بیویوں سے مجامعت فرمایا کرتے تھے، میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اتنی طاقت تھی کہا آپ میں تیس مردوں کی طاقت موجود تھی۔ (بخاری)
کوئی اس سے یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ حضور ﷺ روز تمام بیویوں کے ساتھ جماع فرماتے تھے ۔ لیکن کسی صحابی کا فہم خود حضورﷺ کی بیوی کی بیان کردہ مستند حدیث کے مقابلے میں کیسے حجت بن سکتا ہے ؟ حضور ﷺ کی ذاتی زندگی کے ایسے معاملات کے متعلق اتنی کلوز ڈیٹیل کے متعلق درست رائے صرف آپ کی ازواج کی ہی قرار دی سکتی ہے ۔ اگر لفظ ‘ یطوف ‘ سے جماع بھی مراد لے لیا جائے تو وہ حضور ﷺ کی بیوی کی بیان کردہ تفصیل کے مقابلے میں حجت نہیں بن سکتا۔

حدیث غسلِ حضرت عائشہ پر اعتراض کی حقیقت

حدیث: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بھانجے ابوسلمہؓ اور آپ کے بھائی (رضاعی) عبداللہ بن یزید آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ سے آپ کے بھائی نے حضورﷺ کے غسل کے بارے میں پوچھا، آپ نے ایک برتن میں پانی منگوایا جوصاع (ایک پیمانہ) کے برابر ہوگا اور اس سے غسل کیا اور اپنے سرسے پانی بہایا، ہمارے اور آپﷺ کے مابین پردہ تھا۔(بخاری، كِتَاب الْغُسْلِ،بَاب الْغُسْلِ بِالصَّاعِ وَنَحْوِهِ،حدیث نمبر:۲۴۳، شاملہ، موقع الإسلام)
منکرینِ حدیث اس حدیث کو نہایت تمسخر سے پیش کرتے نظر آتے ہیں اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے انکو ہم نے اس بہانے امی عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق انتہائی غلیظ زبان استعمال کرتے دیکھا۔ یہاں اس حدیث پر مختصر تبصرہ پیش ہے۔

٭تبصرہ ٭
1. اس زمانے میں آج کی طرح مکمل بند غسل خانے نہیں ہوا کرتے تھے پردے کے پیچھے نہایا جاتا تھا۔ حدیث میں بھی صراحت سے منقول ہے کہ ان کے مابین پردہ تھا۔ یہ ظاہر ھے کہ پردے کے پیچھے نظر آنے کا سوال ھی پیدا نہیں ھوتا ، ورنہ پردہ کرنے کا کیا مقصد؟
2. راویِ حدیث حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ کے رضائی بھانجے او ر عبداللہ بن یزید حضرتِ عائشہ رضی اللہ عنہاکے رضاعی بھائی تھے چنانچہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے محارم میں سے تھے’اور محارم کے سر کے بال ، کان، چہرہ ،بازو، پنڈلیاں،اور پاؤں وغیرہ کی طرف نگاہ جائز ہے ۔(بدائع الصنائع: ۶ /۴۸۹،البحر الرائق:۸ /۳۵۵، حاشیہ ابن عابدین ۵ /۲۵۹)(مواھب الجلیل لشرح مختصرالخلیل:۲ /۱۸۲)(کفایة الاخیار،ص:۴۶۹،۴۷۰، المجموع شرح المہذب :۱۷ /۲۱۵ ، ۲۱۶)(المغنی لابن قدامہ:۷ /۷۵)
3. صحیح مسلم والی روایت میں آیا ھے کہ ترجمہ / مفہوم: سیدہ عائشہ (ر) نے اپنے سر پر تین دفعہ (بال کھولے بغیر) پانی بہایا تھا (320/42)۔ جبکہ باقی جسم کے غسل کا کوئی تذکرہ روایت میں نہیں ھے۔اب اگران حضرات کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سر کان وغیرہ پر کوئی نگاہ پڑی بھی ہے تو اس میں شرعی نقطہ نظر سے کوئی حرج بھی نہیں؛ اس لیے کہ یہ دونو ں ان کے محارم میں سے تھے اور ان کے لیے جسم کے اوپر کے حصے کی طرف نگاہ کرنا جائز تھا۔
4. بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ نے غسل کی کیفیت بتانے کے لیے غسل نہیں کیا بلکہ انھوں نے پانی کی مقدار کا ذکر کیا تو ابوسلمہ اور دیگر نے تعجب کا اظہار کیا کہ اتنے پانی سے کیسے نہایا جاسکتا ہے تو حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ یہ بالکل ممکن ہے اور دیکھو اب میں نہانے کے لیے جا رہی ہوں اور اتنے ہی پانی سے نہاؤں گی اس کے بعد انھوں نے پردہ ڈالا اور غسل کیا اور یہ ثابت کیا کہ اتنے پانی سے نہانا ممکن ہے۔ اس مفہوم کی دلیل یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے مذکورہ حدیث پر ’’الغسل بالصاع و نحوہ‘‘ کا باب باندھا ہے۔امام بخاریؒ کی تبویب منکرین حدیث کی اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے کافی ہے۔ علامہ احمد بن ا سماعیل بن عثمان بن محمد کورانی بھی لکھتے ہیں کہ ممکن ہے ان کا پہلے سے غسل کا ارادہ ہو اور اتفاقی طور سے یہ دونوں حضرات بھی آگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں پوچھا (دیکھیے :الکوثر الجاری :۱ /۴۰۹ ، ۴۱۰)
5. عرف میں جب کسی سے اس طرح کا کوئی سوال کیا جاتا ہے کہ کتنی مقدار پانی سے غسل کیا جاسکتا ہے ؟یا فلاں کتنے مقدار پانی سے غسل کرتے تھے ؟تو اس کے جواب میں اگر وہ اس مخصوص برتن میں پانی منگوا کر پردے اور حجاب میں رہ کر اتنے پانی سے عملاًغسل کر کے بتائے کہ اتنی مقدار پانی سے غسل کیا تھا ، تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پوچھنے والوں نے اسے دیکھا ہو ۔اسی طرح یہاں بھی ہوا ہے، مزید برآں جب راوی خودیہ کہہ رہا ہے کہ” ان کے اور ہمارے درمیان پردہ اور حجاب تھا“تو پھر اپنی طرف سے اعتراض کشید کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟یہ سوائے ان نفوسِ قدسیہ سے عداوت کے اظہار کے اور کچھ نہیں۔
6. یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عام ہدایت یہ تھی کہ دوران ِغسل ستر کو چھپایا جائے ،تو کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف عمل کیا ہو؟ ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے،پھر کسی ایک بھی صحیح روایت میں نہ تو اس کی صراحت ہے اور نہ ہی کنایتاً اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے لباس کے بغیر غسل کیا ہو ، اقرب یہ ہے کہ ان کا یہ غسل لباس پہننے کی حالت میں تھا ،لہٰذا ایک شرعی مسئلہ کی تعلیم کے لیے کپڑے پہنے ہوئے ہونے کے باوجود پردے اور حجاب کے اوٹ میں ہوجانا ، ان پر اعتراض کے بجائے ان کی حیا اور احتیاط پر دلالت کرتا ہے۔
ایک نیک طینت اور سلیم الفطرت آدمی کے لیے تو اتنا ہی کافی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی پاک دامنی اور حیا کو بیان کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی سورت نور میں متعدد آیات نازل فرمائی ہیں اور زبانِ نبوت نے ان کی تعریف و توصیف بیان کی ہے ، ہاں کوئی کج فطرت اور ایمان کی حقیقت سے محروم ہو تو اس کے لیے نہ تو اللہ کا کلام کافی ہوسکتا ہے اور نہ ہی ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم مفید ثابت ہوسکتے ہیں ۔

حدیث اور حیض و روزے میں مباثرت

ایک منکر حدیث صاحب احادیث پیش کرتے ہیں :
1-جب حضور(ص) دوران حیض ہم سے اختلاط کرنا چاہتے تو ازار باندھنے کا حکم دیتے اور مباشرت کرتے”۔ فرمان حضرت عائشہ(ر)۔کتاب الحیض، بخاری۔ صفحہ 198۔
2-حضور(ص) روزے میں ہمارے بوسے لیتے اور مباشرت کرتے۔” حضرت عائشہ (ر)۔ بخاری۔ کتاب الصوم۔ جلد اوّل۔ صفحہ 691
پھر فرماتے ہیں کہ یاد رہے اللہ پاک قرآن میں حیض والیوں کے پاس جانے سے منع فرماتے ہیں ۔ (اسلام کے مجرم صفحہ 46)
ایک اور سابقہ منکرحدیث ڈاکٹر غلام جیلانی برق”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر حدیث میں” کی سرخی جماتے ہوئے لکھتے ہیں :
قرآن شریف میں مذکور ہے:{ وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ھُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَفِی الْمَحِیْضِ وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْنَ فَاِذَا تَطَھَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللہُ (البقرۃ:۲۲۲)
لوگ آپ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ حیض ایک قسم کی غلاظت ہے، اس لیے دوران حیض میں بیویوں سے دور رہیے اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب مت جائیے اور پاک ہونے کے بعد ان سے مباشرت کیجئے۔(آیت مذکور میں ” اذی” وارد ہوا ہے، برق صاحب نے اس کا ترجمہ غلاظت کیا ہے، حالانکہ یہ لفظ اذیت سے بنا ہے، یعنی حیض ایک قسم کی تکلیف ہے اور اس تکلیف کی حالت میں قربت مناسب نہیں ہے۔ایڈمن)
اسکے بعد لکھتے ہیں اس آیت میں دو حکم دئیے گئے ہیں، اول حیض کی حالت میں عورتوں سے دور رہیے، دوم ان کے قریب مت جائیے ، ذرا دیکھیں کہ حدیث نے اس قریب دور کی کیا تشریح کی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تہ پوش پہننے کا حکم دیتے اور اس کے بعد مجھ سے مباشرت کرتے تھے۔…… یہ ہے قریب و دور کی تشریح حدیث میں۔ (دو اسلام ص ۲۰۷۔ ۲۰۸)

*تبصرہ *
منکرین حدیث اس حد یث میں موجود لفظ مباشرت کا رائج اردو مطلب یعنی جماع لیتے ہیں یہ معلوم ہوتے ہوئے بھی کہ اسلامی شریعت میں پہلے دن سے مباشرت کے یہ معنی نہیں لیےگئے۔ اگر یہی معنی ہوتے یا لیے جاتے تو اسلام میں حیض و روزے کی حالت میں جماع جائز ٹھہرتا ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے فتاوی و مسائل کی ہزاروں کتابیں گواہ ہیں کہ آج تک کسی بھی عالم نے حیض اور روزے کے دوران مباشرت کو جائز نہیں لکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی میں مباشرت مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے معنی بالمشافہہ، بلاواسطہ ، رد برد کے بھی ہوتے ہیں مثلاً علامہ احمد محمد شاکر لکھتے ہیں:ویحتمل کما قال ابن الترکمانی ان یکون سمع ھذا الحدیث من عمر مباشرۃ وسمعہ عنہ بالواسطۃ۔یعنی احتمال ہے، جیسا کہ ابن ترکمانی نے کہا ہے کہ راوی نے اس حدیث کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ”مباشرۃ” (بلاواسطہ بالمشافہہ) بھی سنا ہو اور بالواسطہ بھی سنا ہو۔

*حدیث میں لفظ مباشرت سے مراد*
عربی زبان میں اس کے اصلی معنی بدن سے بدن ملانے ہی کے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ چنانچہ مشہور عربی لغت قاموس کی شرح تاج العروس میں لکھا ہے “جب بیوی اور خاوند دونوں ایک ہی لباس میں اکھٹے ہوجائیں اور خاوند کا جسم عورت کے جسم سے چھو جائے تو اسکو مباشرت کہتے ہیں (تاج العروس جلد 3 صفحہ 42)
اسی لیے صاحب عون المعبود (شرح سنن ابی داؤد ) ذکر فرماتے ہیں کہ :معنی المباشرۃ ھھنا المر بالید من التقاء البشرتین۔ترجمہ :یعنی یہاں مباشرت سے صرف ہاتھ سے چھونا، اور دو جسموں کا ملنا مراد ہے۔ (خالص اسلام ص۲۳۹)
اس اقتباس سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ مباشرت کی حقیقت جماع نہیں ہے یہ تو اس سے کنایہ ہے اور مجازا استعمال ہوتا ہے ۔اصل معنی مباشرت کا بدن کا بدن سے چھونا ہے خواہ جس حصے سے ہو۔

*حیض کی حالت میں مباشرت وجماع کی حدود*
حیض اورنفاس کی حالت میں بیوی سے جماع کے ساتھ مباشرت کی جائے ، یہ قسم تو قرآنی نص اورمسلمانوں کے اجماع کے مطابق حرام ہے ۔ناف سے اوپر اورگھٹنے سے نيچے مباشرت کرنا یعنی بوس وکنار ، اورمعانقہ وغیرہ ، اس کے حلال ہونے پر سب علماء کرام کا اتفاق ہے ۔دیکھیے شرح مسلم للنووی ۔ اورالمغنی ابن قدامہ ( 1 / 414 ) ۔
انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یھودیوں میں سے کوئي عورت حالت حیض میں ہوتی تو وہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے بھی نہیں تھے اورنہ ہی انہيں اپنے گھروں میں رکھتے تھے توصحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارہ میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آيت نازل فرمائی :{ آپ سے حيض کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجیے کہ وہ گندگی ہے ، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو ۔۔۔ آیت کے آخر تک } ۔تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جماع کے علاوہ باقی سب کچھ کرو ۔جب یہودیوں کواس کا پتہ چلا تووہ کہنے لگے اس شخص کوہمارے ہر کام میں مخالفت ہی کرنی ہوتی ہے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 302 ) ۔
اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ :حیض کی حالت میں خاوند پر اپنی بیوی سے جماع حرام ہے ، لیکن اسے یہ حق ہے کہ جماع کے علاوہ وہ مباشرت کرسکتا ہے ۔ دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 5 / 359 ) ۔
بہتر یہ ہے کہ اگر وہ بیوی سے حیض کی حالت میں استمتاع کرنا چاہے تواسے کہے کہ وہ ناف سے لیکر گھٹنوں تک کوئي چيز پہن لے پھراس کے علاوہ حصہ میں مباشرت کرلے ۔معترض نے جو پہلی حدیث پیش کی ہے یہ دلیل اسی حدیث سے پکڑی گئی ہے؛ جب حضور(ص) دوران حیض ہم سے اختلاط کرنا چاہتے تو ازار باندھنے کا حکم دیتے اور مباشرت کرتے”۔ فرمان حضرت عائشہ(ر)۔کتاب الحیض، بخاری۔ صفحہ 198۔
اسی طرح روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس اٹھنا، بیٹھنا اور خواہشات پر قابو رکھنے والے کے لیے پیار کرنا بالکل جائز ہے، اس سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے، نہ روزہ میں کوئی خرابی آتی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کو پیار کیا، پھر میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا:
ارأیت لو تمخمضت بما، وانت صائم قلت لا باس بذلک فقال ففیم۔ ترجمہ :یہ بتاؤ، اگر تم روزے میں پانی سے کلی کرتے تو کیا ہوتا، میں نے کہا اس میں تو کوئی حرج نہیں آپ نے فرمایا پھر اس میں کیا حرج ہے۔ (ابوداؤد کتاب الصیام)
مطلب یہ کہ معنی میں پانی لینا اگرچہ پانی پینے کا پیش خیمہ ہے، لیکن چونکہ اس سے پانی پینے کی نیت نہیں ہوتی، لہٰذا روزہ میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوتی بالکل اسی طرح پیار کرنا جماع کا پیش خیمہ ہے۔ لیکن جب پیار کرنے سے جماع و شہوت کی نیت نہیں ہوتی، تو ایسا پیار بھی روزہ میں کوئی نقص پیدا نہیں کرتا۔
یہاں یہ یاد رہے کہ حدیث میں اجازت اس کے لیے ہے جو اپنے آپ پر کنٹرول اورقابو رکھ سکتا ہو جو شخص اپنی خواہش قابو میں نہ رکھ سکتا ہو، اس کے لیے بحالت روزہ مباشرت منع ہے ، اسی لئے عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: “نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوس و کنار اور مباشرت کیا کرتے تھے؛ [کیونکہ] آپ اپنے نفس پر سب سے زیادہ ضبط رکھتے تھے”( صحیح بخاری: (1826) اور مسلم: (1106))
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بوس و کنار ایسے شخص کیلئے جائز ہے جو اپنے آپ پر مکمل ضبط رکھتا ہو، اور جسے حرام کام میں واقع ہونے کا خدشہ ہو تو اس کیلئے بوس و کنار جائز نہیں ہے” (فتح الباری)یہی معاملہ حائضہ عورت کے ساتھ مباشرت کا بھی ہے۔

٭اسلام دین فطرت٭
یہود ایام حیض میں عورت سے بالکل قطع تعلق کرلیا تھے۔ ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا تو کجا اس کے ساتھ کھانا پینا بھی بند کردیا جاتا۔ بلکہ اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی ناپاک خیال کیا جاتا تھا اور مشرکین عرب کا رویہ بھی تقریبا ایسا ہی تھا۔ لیکن نصاریٰ ان دنوں میں کسی قسم کا پرہیز نہیں کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم بستری سے بھی باز نہ آتے۔ اسلام دین اعتدال ہے اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں ان دنوں میں صرف اس بات سے منع کیا گیا جو مرد و عورت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں ، عورت کو ناپاکی کی وجہ سے دھتکارنے کے بجائے عزت دی ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں ناپاکی کی حالت میں ایک برتن سے کھالیتے تھے اور بعض اوقات میں ناپاک ہوتی تو حضرت مجھے تہبند باندھ لینے کے لیے فرمایا اور جب میں باندھ لیتی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس لیٹ جاتے تھے اور اعتکاف کی حالت میں ( مسجد سے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر سر نکال دیتے تو میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سر دھو دیتی تھی۔ (متفق علیہ )اور فرماتی ہیں کہ میں پانی پی کر پیالہ حضرت کو دیدیتی تھی تو آپ اس میں میرے منہ کی جگہ منہ لگا کر پانی پی لیتے تھے۔ اسی طرح میں ایک ہڈی کو چوس کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیدیتی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے منہ کی جگہ منہ لگا کر اسے چوس لیتے تھے۔ (مسلم) اور فرماتی ہیں کہ میری ناپاکی کی حالت میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری گود میں سر رکھ لیتے اور پھر قرآن شریف پڑھتے رہتے تھے۔ (متفق علیہ ) اور فرماتی ہیں کہ ایک روز حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں مجھ سے فرمایا : بوریا اٹھا دو ۔ میں نے کہا : ناپاک ہوں۔ فرمایا : تمہارے ہاتھ میں ناپاکی نہیں ہے۔ (مسلم )۔

*خلاصہ *
مباشرت کا حقیقی معنی بدن کا بدن سے ملنا ہے اور کنایہ کے طور پر اس سے جماع بھی مراد لیا جاسکتا ہے ۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس حدیث میں مباشرت کے لفظ سے جماع مراد نہیں لیا گیا لیکن منکرین حدیث کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں حدیث کا رد کرنا ہے چاہے اسکے لیے انہیں حدیث میں اپنی طرف سے الفاظ ڈالنے اور حذف کرنے پڑیں یا کہیں معنی اور مراد کو ہی بدل دینا پڑے۔

بعض احادیث میں عریاں مضامین کیوں ہیں؟

حدیث اور فحش نگاری کا الزام
ایک صاحب نے ایسی کچھ احادیث نقل کیں اور اسکے بعد لکھا مذکورہ بالا احادیث میں جو مضامین بیان کیے گئے ہیں، ان کی روایت حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ام سلمہ کی طرف منسوب ہیں۔ میں یہ باور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ یہ دونوں ازواج ہر لحاظ سے کامل تھیں۔ انہوں نے اسی عریانی کے ساتھ اپنی ان پرائیویٹ باتوں کو ظاہر کر دیا ہو گا جو ان کے اور محمد رسول اللہ کے درمیان میاں بیوی کی صورت میں ہوئی ہوں گی۔
انکار حدیث کے مذہب سے منسلک لوگاسی طرح بہت سی احادیث نقل کرتے ہیں۔ ان کی پیش کردہ احادیث پر فرداً فرداً کلام کرنے سے پہلے چند اصولی باتیں بیان کر دینی ضروری ہیں، کیونکہ موجودہ زمانے کے “تعلیم یافتہ” اصحاب بھی بالعموم انہی باتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اسی طرح کی احادیث پر الجھتے ہیں۔

1. انسان کی داخلی زندگی کے چند گوشے ایسے ہیں جن کے متعلق اس کو ضروری تعلیم و تربیت اور ہدایات دینے میں شرم کا بے جا احساس اکثر مانع ہوتا رہا ہے اور اسی وجہ سے اعلیٰ ترقی یافتہ قومیں تک ان کے بارے میں طہارت و نظافت کے ابتدائی اصولوں تک سے ناواقف رہی ہیں۔ شریعت الہٰی کا یہ احسان ہے کہ اس نے ان گوشوں کے بارے میں بھی ہم کو ہدایات دیں اور ان کے متعلق قواعد و ضوابط بتا کر ہمیں غلطیوں سے بچایا۔ غیر قوموں کے صاحب فکر لوگ اس چیز کی قدر کرتے ہیں، کیونکہ ان کی قومیں اس خاص شعبۂ زندگی کی تعلیم و تربیت سے محروم ہیں۔ مگر مسلمان جن کو گھر بیٹھے یہ ضابطے مل گئے، آج اس تعلیم کی ناقدری کر رہے ہیں اور عجیب لطیفہ ہے کہ ان ناقدری کے اظہار میں وہ لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں جو اہل مغرب کی تقلید میں (Sex Education) تک مدارس میں رائج کرنے کے قائل ہیں۔
2. اللہ تعالیٰ نے جس نبی پاک کو ہماری تعلیم کے لیے مامور فرمایا تھا، اسی کے ذمہ یہ خدمت بھی کی تھی کہ اس خاص شعبۂ زندگی کی تعلیم و تربیت بھی ہمیں دے۔ اہل عرب اس معاملہ میں ابتدائی ضابطوں تک سے ناواقف تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو ان کے مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی طہارت، استنجا اور غسل وغیرہ کے مسائل، نیز ایسے ہی دوسرے مسائل نہ صرف زبان سے سمجھائے بلکہ اپنی ازواج مطہرات کو بھی اجازت دی کہ آپ کی خانگی زندگی کے ان گوشوں کو بے نقاب کریں اور عام لوگوں کو بتائیں کہ حضورﷺ خود کن ضابطوں پر عمل فرماتے تھے۔
3. اللہ تعالیٰ نے اسی ضرورت کی خاطر حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کو مومنین کے لیے ماں کا درجہ عطا فرمایا تھا تا کہ مسلمان ان کی خدمت میں حاضر ہو کر زندگی کے ان گوشوں کے متعلق رہنمائی حاصل کر سکیں اور جانبین میں ان مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کسی قسم کے ناپاک جذبہ کی دخل اندازی کا خطرہ نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کے پورے ذخیرہ میں کوئی ایک نظیر بھی اس بات کی نہیں ملتی کہ جو باتیں امہات المومنین سے پوچھی گئی ہیں وہ خلفائے راشدین یا دوسرے صحابیوں کی بیگمات سے بھی کبھی پوچھی گئی ہوں اور انہوں نے مردوں سے اس نوعیت کی گفتگو کی ہو۔
4. لوگ اپنے گمان سے، یا یہود و نصاریٰ کے اثر سے جن چیزوں کو حرام یا مکروہ اور ناپسندیدہ سمجھ بیٹھے تھے، ان کے متعلق صرف یہ سن کر ان کا اطمینان نہیں ہوتا تھا کہ شریعت میں وہ جائز ہیں۔ حکم جواز کے باوجود ان کے دلوں میں یہ شک باقی رہ جاتا تھا کہ شاید یہ کراہت سے خالی نہ ہو اس لیے وہ اپنے اطمینان کی خاطر یہ معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے کہ حضور ﷺ کا اپنا طرز عمل کیا تھا۔ جب وہ یہ جان لیتے تھے کہ حضور ﷺ نے خود فلاں عمل کیا ہے، تب ان کے دلوں سے کراہت کا خیال نکل جاتا تھا، کیونکہ وہ حضور ﷺ کو ایک مثالی انسان سمجھتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ جو کام آپ نے کیا ہو وہ مکروہ یا پایۂ ثقاہت سے گرا ہوا نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک اہم درجہ ہے جس کی بنا پر ازواج مطہرات کو حضور ﷺ کی خانگی زندگی کے بعض ایسے معاملات کو بیان کرنا پڑا جو دوسری خواتین نہ بیان کر سکتی ہیں، نہ ان کو بیان کرنا چاہیے۔
5. احادیث کا یہ حصہ درحقیقت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمت اور ان کی نبوت کے بڑے اہم شواہد میں شمار کرنے کے لائق ہے۔ محمد رسول اللہ کے سوا دنیا میں کون یہ ہمت کر سکتا تھا اور پوری تاریخ انسانی میں کس نے یہ ہمت کی ہے 23 سال تک شب و روز کے ہر لمحے اپنے آپ کو منظر عام پر رکھ دے، اپنی پرائیویٹ زندگی کو بھی پبلک بنا دے اور اپنی بیویوں تک کو اجازت دے دے کہ میری گھر کی زندگی کا حال بھی لوگوں کو صاف صاف بتا دو۔

٭احادیث سے چند مثالیں ٭

معترض کی احادیث بمعہ تبصرہ پیش ہیں۔
حدیث:
عطاء سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جو سب سے زیادہ پسندیدہ اور عجیب بات دیکھی ہو، وہ بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رو دیں اور فرمایا: آنحضور ﷺ کی کون سی حالت عجیب اور خوش کن نہیں تھی۔ ایک رات آپ تشریف لائے اور میرے ساتھ میرے بستر یا لحاف میں داخل ہو گئے حتیٰ کہ میرے بدن نے آپ ﷺ کے بدن کو چھو لیا۔ پھر فرمایا اے ابو بکر کی بیٹی، مجھے اپنے رب کی عبادت کرنے دو۔ میں نے عرض کیا: مجھے آپ کا قرب پسند ہے لیکن میں آپ کی خواہش کو قابل ترجیح سمجھتی ہوں۔ پس میں نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی۔ آپ ﷺ پانی کے ایک مشکیزے کے پاس تشریف لے گئے۔ پھر آپ ﷺ نے وضو کیا اور زیادہ پانی نہیں بہایا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور اتنے روئے کہ آپ ﷺ کے آنسو آپ ﷺ کے سینۂ مبارک پر بہہ نکلے۔ پھر آپ ﷺ نے روتے ہوئے رکوع کیا پھر روتے ہوئے سجدہ کیا، پھر روتے ہوئے سر اٹھایا۔ آپ ﷺ مسلسل اسی طرح روتے رہے یہاں تک کہ بلال آئے اور انہوں نے نماز (کا وقت ہو جانے) کی خبر دی۔ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول، آپ کیوں روتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے؟ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تو کیا میں ایک شکر گذار بندہ نہ بنوں؟”
تبصرہ:
اس حدیث میں حضرت عائشہ دراصل یہ بتانا چاہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اگرچہ رہبانیت سے بالکل دور تھے اور اپنی بیویوں سے وہی ربط و تعلق رکھتے تھے جو دنیا کے ہر شوہر کا اپنی بیوی سے ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے آپ کا ایسا گہرا تعلق تھا کہ بستر میں بیوی کے ساتھ لیٹ جانے کے بعد بھی بسا اوقات یکایک آپ پر عبادت کا شوق غالب آ جاتا تھا اور آپ دنیا کا لطف و عیش چھوڑ کر اس طرح اٹھ جاتے تھے کہ گویا آپ کو خدا کی بندگی کے سوا کسی چیز سے دلچسپی نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ کا یہ مخفی گوشہ آپ کی اہلیہ کے سوا اور کون بتا سکتا تھا؟ اور اگر یہ روشنی میں نہ آتا تو آپ کے اخلاص لِلہ کی صحیح کیفیت دنیا کیسے جانتی؟ مجلس وعظ میں خدا کی محبت اور خشیت کا مظاہرہ کون نہیں کرتا۔ سچی اور گہری محبت و خشیت کا حال تو اسی وقت کھلتا ہے جب معلوم ہو کہ گوشۂ تنہائی میں آدمی کا رنگِ زندگی کیا ہوتا ہے۔

حدیث:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیتے تھے اور پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے تھے۔
تبصرہ:
اس حدیث میں دراصل بتانے کا مقصود یہ ہے کہ بوسہ بجائے خود وضو توڑنے والے چیز نہیں ہے جب تک کہ غلبۂ جذبات سے کوئی رطوبت خارج نہ ہو جائے۔ عام طور پر لوگ خود بوسے ہی کو ناقصِ وضو سمجھتے تھے اور ان کا خیال یہ تھا کہ اس اگر وضو ٹوٹتا نہیں ہے تو کم از کم طہارت میں فرق ضرور آ جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کو ان کا شک دور کرنے کے لیے یہ بتانا پڑا کہ حضور ﷺ نے خود اس کے بعد وضو کیے بغیر نماز پڑھی ہے۔ یہ مسئلہ دوسرے لوگوں کے لیے چاہے کوئی اہمیت نہ رکھتا ہو، مگر جنہیں نماز پڑھنی ہو، ان کو تو یہ معلوم ہونے کی بہرحال ضرورت ہے کہ کس حالت میں وہ نماز پڑھنے کے قابل ہوتے ہیں اور کس حالت میں نہیں ہوتے۔

حدیث:
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام سلیم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ حق (بات) سے شرم روا نہیں رکھتا۔ پس کیا عورت پر غسل ہے جب اسے احتلام ہو؟ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، ہاں، جب وہ پانی دیکھے (یعنی جبکہ فی الواقع خواب میں اسے انزال ہو گیا ہو)۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور کہا: اے اللہ کے رسول، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، تیرا سیدھا ہاتھ خاک آلود ہو، آخر اس کا بچہ اس سے کیسے مشابہ ہوتا ہے۔ اور مسلم نے ام سلیم کی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ مرد کا مادہ گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پتلا اور پیلا۔ پس ان میں سے جو بھی غلبہ حاصل کرے اسی سے مشابہت ہوتی ہے۔
تبصرہ:
اس حدیث میں ایک خاتون کو اس مسئلے سے سابقہ پیش آ جاتا ہے کہ اگر ایک عورت اسی طرح کا خواب دیکھے جیسا عام طور پر بالغ مرد دیکھا کرتے ہیں تو وہ کیا کرے۔ یہ صورت چونکہ عورتوں کو بہت کم پیش آتی ہے اس لیے عورتیں اس کے شرعی حکم سے ناواقف تھیں۔ ان خاتون نے جا کر مسئلہ پوچھ لیا اور حضورﷺ نے یہ بتا کر عورت کو بھی مرد ہی طرح غسل کرنا چاہیے، نہ صرف ان کو بلکہ تمام عورتوں کو ایک ضروری تعلیم دے دی۔
اس پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو گویا وہ یہ چاہتا ہے کہ عورتیں اپنی زندگی کے مسائل کسی سے نہ پوچھیں اور شرم کے مارے خود ہی جو کچھ اپنی سمجھ میں آئے، کرتی رہیں۔ رہا حدیث کا دوسرا ٹکڑا تو اس میں ایک خاتون کے اظہار تعجب پر حضور ﷺ نے یہ علمی حقیقت بیان فرمائی ہے کہ عورت سے بھی اسی طرح مادہ خارج ہوتا ہے، جس طرح مرد سے ہوتا ہے۔ اولاد ان دونوں کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے اور دونوں میں سے جس کا نطفہ غالب رہتا ہے بچے میں اسی کی خصوصیت زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔ اس حدیث کی جو تفصیلات بخاری و مسلم کے مختلف ابواب میں آئی ہیں ان کو ملا کر دیکھیے۔ ایک روایت میں حضور ﷺ کے الفاظ یہ ہیں :”اور کیا اولاد کی مشابہت اس کے سوا کسی اور وجہ سے ہوتی ہے؟ جب عورت کا نطفہ مرد کے نطفے پر غالب رہتا ہے تو ننھیال پر جاتا ہے اور جب مرد کا نطفہ اس کے نطفے پر غالب رہتا ہے تو بچہ ددھیال پر جاتا ہے”۔
منکرین حدیث نے جہالت یا شرارت سے ان احادیث کو یہ معنی پہنائے ہیں کہ مجامعت میں اگر مرد کا انزال عورت سے پہلے ہو تو بچہ باپ پر جاتا ہے ورنہ ماں پر۔ ہم اس ملک کی حالت پر حیران ہیں کہ یہاں جہلا اور اشرار اعلانیہ اس قسم کی علمی دغا بازی کر رہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تک تحقیق کے بغیر اس سے متاثر ہو کر اس غلط فہمی میں پڑ رہے ہیں کہ احادیث ناقابل یقین باتوں سے لبریز ہیں۔

چند مزید احادیث:
1. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں حیض کی حالت میں برتن سے پانی پیتی تھی اور پھر اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب بڑھا دیتی تھی۔ پس آپ ﷺ وہاں منہ رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا اور آپ پیتے تھے۔ اور میں بحالت حیض ہڈی پر سے گوشت کھاتی تھی اور پھر اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دے دیتی تھی اور آپ ﷺ اس جگہ اپنا منہ رکھتے تھے جہاں میں نے رکھا ہوتا تھا۔
2. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب میں حائضہ ہوتی تو میں بستر چھوڑ کر چٹائی پر لیٹتی تھی پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مقاربت نہیں کرتے تھے جب تک کہ پاکیزگی حاصل نہیں کر لیتے تھے۔
3. انہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو۔ میں نے عرض کیا کہ میں حیض کی حالت میں ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: حیض (کا اثر) تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے (یعنی تم ہاتھ بڑھا کر مسجد سے چٹائی لے سکتی ہو)۔
تبصرہ:
ان احادیث کو سمجھے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ جنابت اور حیض کی حالت میں انسان کے ناپاک ہونے کا تصور قدیم شریعتوں میں بھی تھا اور شریعت محمدیہ میں بھی پیش کیا گیا۔ لیکن قدیم شریعتوں میں یہودیوں اور عیسائی راہبوں کی مبالغہ آرائی نے اس تصور کو حد اعتدال سے اتنا بڑھا دیا تھا کہ وہ اس حالت میں انسان کے وجود ہی کو ناپاک سمجھنے لگے تھے اور ان کے اثر سے حجاز کے اور خصوصاً مدینے کے باشندوں میں بھی یہ تصور حدِ مبالغہ کو پہنچ گیا تھا۔ خصوصاً حائضہ عورت کا تو اس معاشرے میں گویا پورا مقاطعہ ہو جاتا تھا۔ چنانچہ اسی کتاب مشکوٰۃ میں، جس سے معترض نے یہ حدیث نقل کی ہیں، باب الحیض کی پہلی حدیث یہ ہے کہ “جب عورت کو حیض آتا تھا تو یہودی اس کے ساتھ کھانا پینا اور اس کے ساتھ رہنا سہنا چھوڑ دیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو بتایا کہ اس حالت میں صرف فعل مباشرت ناجائز ہے، باقی ساری معاشرت اسی طرح رہنی چاہیے جیسی عام حالت میں ہوتی ہے۔” لیکن اس کے باوجود ایک مدت تک لوگوں میں قدیم تعصبات باقی رہے اور لوگ یہ سمجھتے رہے کہ جنابت اور حیض کی حالت میں انسان کا وجود کچھ نہ کچھ گندا تو رہتا ہی ہے اور اس حالت میں اس کا ہاتھ جس چیز کو لگ جائے وہ بھی کم از کم مکروہ تو ضرور ہو جاتی ہے۔ ان تصورات کو اعتدال پر لانے کے لیے حضرت عائشہ کو یہ بتانا پڑا کہ حضورﷺ خود اس حالت میں کوئی اجتناب نہیں فرماتے تھے۔ آپﷺ کے نزدیک نہ پانی گندا ہوتا تھا، نہ بستر ، نہ جانماز۔ نیز یہ بھی انہوں نے ہی بتایا کہ حائضہ بیوی کے ساتھ اس کا شوہر صرف ایک فعل نہیں کر سکتا، باقی ہر قسم کا اختلاط جائز ہے۔ ان تعصبات کو حضور ﷺ کا اپنا فعل بتا کر حضرت عائشہ اور دوسری ازواج مطہرات نے نہ توڑ دیا ہوتا تو آج ہمیں اپنی گھریلو معاشرت میں جن تنگیوں سے سابقہ پیش آ سکتا تھا ان کا اندازہ کیا جا سکتا ہے لیکن اپنے ان محسنوں کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے ہم اب بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں کہ بھلا نبی کی بیوی اور ایسی باتیں بیان کرے!

٭اعتراض :٭
حیا عورت کی فطرت ہے کوئی عورت کسی صورت میں بھی شرمگاہوں (مردانہ ہوں یا زنانہ) کا ذکر نہیں کرتی، آج تک کسی بیوی نے اپنے شوہر سے مباشرت کی التجا نہیں کی اور نہ مرد کے سامنے کبھی عریاں بات کی تو پھر ہم یہ کیسے تسلیم کرلیں کہ حضرت عائشہ غیر مردوں کو اپنے گھر میں اور وہ بھی روزہ کی حالت میں بوس و کنار کی ترغیب دیتی تھیں۔ (دو اسلام ص ۲۰۶۔ ۲۰۷)
جواب:
بے شک حیا عورت کی فطرت ہے لیکن اظہار حق کے معاملہ میں حیا مذموم ہے، یہی وجہ ہے کہ مسائل کے بیان میں ازواج مطہرات نے اخفائے حق سے کام نہیں لیا، اور کنایوں میں مسائل کو حل کردیا، یہ قطعاً صحیح نہیں کہ کسی زوجہ مطہرہ نے شرمگاہوں کا ذکر کیا ہو، اگر ایسی کوئی حدیث ہو، تو بتائیے پھر یہ بھی بتائیے کہ ڈاکٹری و طب یونانی کے کالجوں اور مدرسوں میں تناسل و توالد پر لیکچر دئیے جاتے ہیں یا نہیں اور آج کل کا گندہ معاشرہ ہوتا ہے، لیکن کبھی کسی نے کہا ہے کہ یہ کیا بے حیائی ہے بلکہ اب تو عام اسکولوں میں اس قسم کی ابتدائی تعلیم لازمی ہوگئی ہے، ہر اسکول میں اعضائے تناسل کے متعلق پڑھایا جاتا ہے اس کی شکلیں تک کھینچی جاتی ہے، پڑھانے والی عورتیں ہوتی ہیں، پڑھنے والی بھی عورتیں ہوتی ہیں لیکن اس تعلیم سے ان دونوں کو روکنے والی کوئی چیز نہیں ہوتی ، یہاں عورت کی فطرت کہاں چلی جاتی ہے۔
پھر یہ بھی صحیح نہیں کہ ”حضرت عائشہ نے غیر مردوں کو اپنے گھر میں بوس و کنار کی ترغیب دی تھی” جس شخص سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات کہی تھی، آپ ہی کے بیان کے مطابق وہ حضرت ابوبکر کے پوتے عبداللہ تھے (دو اسلام ص ۲۰۶) لہٰذا عبداللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حقیقی بھتیجے اور محرم تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی حقیقی پھوپھی تھیں، اب بتائیے کہ وہ محرم تھے یا نا محرم ، معلوم نہیں آپ لکھتے وقت کچھ غور بھی کرتے ہیں یا نہیں؟ اچھا اب یہ بھی بتائیے کہ اماں یا پھوپھی اپنے بچہ کو اس قسم کے مسائل سے آشنا کرتی ہے یا نہیں، خصوصاً اس وقت جب کہ بچہ مسئلہ کو غلط سمجھا ہو، حضرت عائشہ نے عبداللہ کی غلط فہمی دور کرکے مسئلہ سمجھا دیا اور روزہ میں راہبانہ زندگی کو مہمل قرار دیا۔

٭اعتراض٭
اگر اعتراض اس بات پر ہے کہ یہ فحش الفاظ احادیث رسول اللہ ۖکس طرح ہوسکتے ہیں یا اس طرح کی حدیث کو بنیاد بناکر غیر مسلم اسلام پر بے ہودہ اعتراض کرتے ہیں وغیرہ۔ تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے مشرکین شروع دن ہی سے اسی طرح اسلام و مسلمان کو طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے رہے ہیں جیساکہ حدیث میں ہے۔
”سلمان فارسی سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ بعض مشرکوں نے بطور استہزاء کے کہا کہ میں تمہارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتا ہوں کہ وہ تمہیں ہر چیز کی تعلیم دیتے ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت کے طریقے بھی بتاتے ہے ۔تو سلمان فارسی نے جواب دیا ۔بالکل درست بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم قبلہ کی جانب منہ نہ کریں اور نہ ہی دائیں ہاتھ سے استنجا کریں اور تین ڈھیلوں سے کم پر اکتفاء نہ کریں نیز ڈھیلوں میں گوبر اور ہڈی نہ ہو ۔”(مسند احمد 5/437رقم الحدیث 23593قال احمد شاکر اسنادہ صحیح۔)
مذکورہ روایت میں صحابی رسول نے کس قدر فخر کے ساتھ طہارت پر مبنی مسائل کو بیان فرمایا اور ذرہ برابر بھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوئے. منکرین حدیث جس چیز کو اسلام کا جرم سمجھ رہے ہیں ۔صحیح احادیث پر مبنی اس سرمائے پر ہم فخر کرتے ہیں اور” ڈنکے کی چوٹ” پر کہتے ہیں کہ دین اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے کہ ہمیں اپنی رہنمائی کے لئے باہر جانے کا تکلف نہیں کرنا پڑتا۔
یہ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة ہی کا تقاضہ تھا کہ احادیث کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزو شب اعمال و اقوال خلوت وجلوت سے ضابطہ حیات تیار کروایا جارہا ہے ۔مسائل ڈھل رہے ہیں حرام وحلال جائز وناجائز میں احادیث وسنن کے ذریعے امتیاز کیا جارہا ہے آپ کو یہاں ہر وہ چیز دستیاب ہوگی جس سے تہذیب وتمدن اور انسانی ضابطہ حیات پر روشنی پڑتی ہو ۔ایسے بیش بہا سرمائے پر فخر کرنا چاہئے نہ کہ احساس کمتری کا شکار ہوکر ان پر اعتراضات شروع کردئیے جائیں ۔جہاں تک غیروں کے اعتراضات کا معاملہ ہے تو یہی اعتراض قرآن کی آیت پر بھی ہوسکتے ہیں مثلاً ”افرأیتم ما تمنون ۔ ترجمہ :کہ اچھا ذرا یہ بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو .یا سورہ مریم میں مریم کا حاملہ ہونے کا ذکر ہے ۔ایسے بچگانہ اعتراضات کی بنیاد پر نا قرآن کو چھوڑا جاسکتا ہے نا حدیث کو.

کیاحضورؐاپنی ازواج کےہمراہ برہنہ غسل فرمایا کرتے تھے؟

ایک منکر حدیث صاحب ایک حدیث مبارکہ ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں کہ عائشہؓ فرماتی ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ایک ہی برتن میں نہاتے تھے صحیح بخاری۔
ایک اورسابقہ منکر حدیث یہ حدیث نقل کرکے لکھتے ہیں “مطلب یہ کہ حضور ازواج کے ہمراہ برہنہ غسل فرمایا کرتے تھے۔ دنیا میں کوئی عورت یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ وقت مباشرت کے علاوہ اسکا خاوند اسے برہنہ دیکھ سکے ، پھر سرور کائنات ؐ اور انکی ازواج مطہرات کے متعلق یہ کیسے تسلیم کرلیں کہ وہ اکھٹے غسل فرمایا کرتے تھے ۔ (دو اسلام ص ۲۱۱)

٭جواب٭
یہ روایت صحیح بخاری میں ان الفاظ سے منقول ہے۔عن عائشہ قالت کنت اغتسل أنا والنبیۖ من اناء واحد کلانا جنب(صحیح بخاری کتاب الحیض،رقم الحدیث 299)وکان یأمرنی فاتزرفیبا شرنی وأنا حائض۔ ترجمہ :”عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل فرماتے تھے اور ہم حالت جنابت میں ہوتے ۔اور آپ مجھے ازار باندھنے کا حکم دیتے اور مجھ سے حالت حیض میں اختلاط فرماتے ”(صحیح بخاری کتاب الحیض،رقم الحدیث 300)
معترض نے یہاں حدیث کا ترجمہ کرتے ہوئے تلبیس سے کام لیتے ہوئے محض حدیث پر اعتراض کے لیے ترجمہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ایک برتن میں نہاتے تھے حالانکہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ایک برتن “سے” نہاتے تھے۔
اس حدیث سے جس مسئلہ کی وضاحت ہوتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرسکتا ہے آخر اس میں اعتراض کی کیا بات ہے ؟ معترض نے جو تبصرہ کیا ہے ” مطلب یہ کہ حضور ازواج کے ہمراہ برہنہ غسل فرمایا کرتے تھے ” ہم اسکی وضاحت کے لیے چند باتیں عرض کردیتے ہیں ۔

1.ہمارا سوال یہ ہے کہ اس پیش کردہ حدیث میں وہ کون سا لفظ موجود ہے جسکا معنی اور ترجمہ برہنہ ہوتا ہے ؟ پھر کیا یہ کھلی خیانت اور بدیانتی نہیں ہے کہ حدیث رسول میں اپنی طرف سے ایک نازیبا لفظ برہنہ کا اضافہ کرکے حدیث کا مضمون بدل کر اس پر اعتراض کیا جائے ؟ کیا ایک جگہ غسل کرنے کے لیے برہنہ ہونا ضروری ہے ؟ غسل کرنے اور بالکل برہنہ ہونے میں کون سا نقلی و عقلی اور عرفی تلازم ہے ؟کیا کپڑا پہن کر غسل کرنا شرعا اور عقلا محال اور ممنوع ہے ؟ منکرین حدیث کی عقل نے صحیح تصویر دماغ میں کیوں نا تیار کرلی ؟ جبکہ احادیث سے اسکی تائید بھی ہوتی ہے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں:ما رأیت فرج رسول اللہ ﷺ قط۔ ترجمہ : میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرم گاہ کو کبھی نہیں دیکھا۔ (ابن ماجہ جلد اول صفحہ 48)اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ آپ اور ازواج مطہرات برہنہ نہیں نہاتے تھے اور اگر بالفرض محال تاریکی میں برہنہ ہو کر نہائے بھی تو ایک دوسرے کو ننگا نہیں دیکھتے تھے، یہ ننگا دیکھنے کی بات منکرین حدیث کی اپنی گھڑی ہوئی ہے۔

2. آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں چراغ نہیں ہوتا تھا، حضرت عائشہ فرماتی ہیں:میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور میرے پیر آپ کے قبلہ کی جانب ہوتے تھے، پس جب آپ سجدہ کرتے تو میرے پیر کو دبا دیتے میں پیر سمیٹ لیتی، پھر جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں پیر پھیلا دیتی اور ان ایام میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ (موطا مالک باب صلوٰۃ اللیل)
یعنی تاریکی کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ آپ سجدہ کے لیے جھک رہے ہیں، لہٰذا آپ کو پیر دبانے کی ضرورت پیش آتی تھی، اگر اجالا ہوتا تو وہ خود بخود آپ کو سجدہ کے لیے جھکتا دیکھ کر پیر سمیٹ لیتیں، دوسری حدیث سنیے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:ایک رات کو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہیں پایا، تو میں نے ٹٹولا تو میرے ہاتھ آپ کے تلووں پر لگے، آپ سجدہ کر رہے تھے اور آپ کے پاؤں مبارک کھڑے تھے۔ (صحیح مسلم باب مایقال فی الرکوع السجود)
ان دونوں احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ کے گھر میں اتنا اندھیرا گھپ ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو دیکھنا محال تھا، لہٰذا حدیث پر جو اعتراض ہے، وہ کالعدم ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ عورتیں جب نماز پڑھ کر اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی واپس ہوتی تھیں تو اندھیرے کے سبب سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ (موطا امام مالک باب وقوت الصلوۃ۔ بخاری و مسلم)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز صبح سے فارغ ہونے کے بعد بھی اتنا اندھیرا ہوتا تھا، کہ کسی کو پہچانا نہیں جاسکتا تھا، یہ تو کھلی جگہ کا حال تھا، حجرہ کے اندھیرے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے، پھر یہ بھی غور فرمائیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بڑی طویل قرأت کیا کرتے تھے، پھر اس سے پہلے کچھ دیر لیٹے رہتے، اس سے پہلے سنتیں پڑھتے تھے، نہانا ان تمام کاموں سے پہلے ہی ہوتا ہوگا، جب نماز کے بعد کھلی جگہ میں اچھی طرح دیکھا نہیں جاسکتا تھا، تو پھر بند حجرے میں شدید تر تاریکی میں کیا نظر آتا ہوگا، پس اس تشریح سے ثابت ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کو برہنہ دیکھ ہی نہیں سکتے تھے، لہٰذا اعتراض فضول ہے۔

3. حدیث میں ہے کہ:من اناء بینی وبینہ واحد۔ ترجمہ:یعنی ہم ایک ہی لگن سے نہا لیا کرتے تھے، جو ہم دونوں کے درمیان رکھا ہوتا تھا۔ (صحیح مسلم عن عائشۃ)
لہٰذا یہ لگن دونوں کے درمیان پر دہ کا کام بھی کرتا ہوگا۔انتہائی تاریکی میں دونوں نہاتے تھے، ایسا اندھیرا ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتا تھا، پھر دونوں کے درمیان لگن رکھا ہوتا تھا ، لہٰذا یہ سمجھنا کہ دونوں ایک دوسرے کو برہنہ دیکھتے تھے، بالکل غلط ہے۔

4. مولانہ مودودی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں :” اس مسئلے کے معلوم کرنے کی ضرورت دراصل ان لوگوں کو پیش آئی تھی جن کے ہاں بیویاں اور شوہر سب نماز کے پابند تھے۔ فجر کے وقت ان کو بارہا اس صورت حال سے سابقہ پیش آتا تھا کہ وقت کی تنگی کے باعث یکے بعد دیگرے غسل کرنے سے ایک کی جماعت چھوٹ جاتی تھی۔ ایسی حالت میں ان کو یہ بتانا ضروری تھا تاکہ دونوں کا ایک ساتھ غسل کر لینا نہ صرف جائز ہے بلکہ اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ مدینے میں اس وقت بجلی کی روشنی والے غسل خانے نہیں تھے اور فجر کی نماز اس زمانے میں اول وقت ہوا کرتی تھی اور عورتیں بھی صبح اور عشا کی نمازوں میں مسجد جایا کرتی تھیں۔ ان باتوں کو نگاہ میں رکھ کر ہمیں بتایا جائے کہ اس حدیث میں کیا چیز ماننے کے لائق نہیں ہے”۔(سنت کی آئینی حیثیت )

حضرت ابراھیمؑ اورتین جھوٹ-تحقیقی جائزہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ایک حدیث نقل کی جاتی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین باتیں خلافِ واقعہ کہیںــان میں سے دوکا ذکر قرآنِ پاک میں بھی ہے۔ منکرین حدیث یہاں اس بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان باتوں کی جواصل حقیقت ہے قرآن کے بیان میں اسے اختیار کرلیتے ہیں اور حدیث کے بیان میں اسے حدیث پر طعنہ بنادیتے ہیں کہ قرآن کہتا ہے کہ حضرت ابراھیم ؑ سچے نبی تھے اور حدیث کہتی ہے کہ انہوں نے جھوٹ بولے۔ اس لئے یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے۔ اس تحریر میں ہم قرآن و حدیث کے بیان کا جائزہ پیش کریں گے اس سے پہلے چند باتیں سمجھ لیں اس سے ان آیات /حدیث کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

٭کذب کی لغوی تحقیق٭

عربی زبان میں ایک ہی لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ کذب بھی ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے معانی میں بہت وسعت رکھتا ہے۔ ایسا اَمر جو حقیقت میں ہو تو صحیح مگر بظاہر خلافِ واقعہ معلوم ہوتا ہو کذب ہی کہلاتا ہے۔اس طرح مغالطہ، اخفاء، کنایہ، خطا، سہو و نسیان اور فریب نظر بات پر بھی یہ الفاظ اطلاق پاتا ہے۔ مثلا کذب کے معنی ترغیب دلانا بھی مستعمل ہے، کذبتہ نفسہ کے معنی ہیں:‌اس کے دل نے اسے ترغیب دلائی۔ اسطرح جوہری اور فراء کہتے ہیں:‌کذب معنی وجب پر ہے۔ ]النھایۃ فی غریب الاثر لابن الاثیر 282/4ْْ]
غلطی یا خطا کے معنی میں‌بھی یہی لفظ‌کذب استعمال ہوتا ہے۔ ذو الرمہ شاعر نے کہا: ما فی سمعہ کذب۔ اس کے سماع میں غلطی نہیں۔[النھایۃ: 282/4]
راغب کی مفردات القرآن 288/2 میں اور دیگر کتب لغات میں بھی اسی قسم کی تفصیل موجود ہے۔ مثلاً دیکھئے:لسان العرب : 708/1،الفائق للزمخشری: 250/3،القاموس المحیط: 166،تاج العروس: 897/1۔

٭کذب بمعنی تعریض اور توریہ٭
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں سچ اور کذب کی تشخیص میں نفس الامر اور متکلم کے قصد اور ارادہ کو بھی دخل ہے۔ اس لحاظ سے اس کی تین صورتیں ہوں گی۔
1. متکلم صحیح اور واقعہ کے مطابق کہے اور مخاطب کو وہی سمجھانا چاہے جو فی الحقیقت ہے۔ یہ دونوں لحاظ (واقعہ اور ارادہ) سے سچ ہے۔
2. متکلم خلاف واقعہ کہے اور مخاطب کو اپنے مقصد سے آگاہ نہ کرنا چاہے بلکہ ایک تیسری صورت پیدا کر دے جو نہ صحیح ہو اور نہ ہی متکلم کا مطلب اور مراد ہو۔ یہ واقعہ اور ارادہ دونوں لحاظ سے جھوٹ ہوگا۔
3. اگر متکلم صحیح اور نفس الامر کے مطابق گفتگو کرے لیکن مخاطب کو اندھیرے میں رکھنا چاہے اور اپنے مقصد کو اس پر ظاہر نہ ہونے دے اسے تعریض اور توریہ کہا جاتا ہے۔ یہ متکلم کے لحاظ سے صدق ہے اور تفہیم کے لحاظ سے کذب ہے۔
صدق اور کذب میں جس طرح واقعے کو دخل ہے، اسی طرح ارادے کو بھی دخل ہے۔ چنانچہ جب متکلم خبر واقع اور مخبر عنہ کے مطابق دے، لیکن اس واقع اور حقیقت کو مخاطب سے مخفی رکھنا چاہے، تو اسے تعریض یا توریہ کہتے ہیں۔ راغب رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔”تعریض ایسی گفتگو ہوتی ہے، جس کے ہر دو پہلو ہوتے ہیں۔ من وجہ صدق اور من وجہ کذب۔ جیسے فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء سے واضح ہے۔”[مفردات القرآن : 85/2]
حدیث سے مثال :یہی تعریض یا توریہ بہت سی جگہوں پر ثابت ہے۔ مثلاً سفر ہجرت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا جاتا کہ تمہارے ساتھ کون ہیں تو فرماتے: رجل یھدینی السبیل، کہ میرے رہبر ہیں۔ یہ مکمل صدق بھی نہیں کہ مخاطب اس سے دنیاوی رہبر سمجھتا تھا۔ اور مکمل جھوٹ بھی نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہرحال دینی لحاظ سے تو رہبر ہی ہیں۔
قرآن سے مثال : اللہ تعالی ٰ نے منافقین کے تذکرہ میں فرمایا:إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ
جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ الله کے رسول ہیں اور الله جانتا ہے کہ بے شک آپ اس کے رسول ہیں اور الله گواہی دیتا ہے کہ بے شک منافق جھوٹے ہیں.[المنافقون: 1]
یہاں منافقین کی صحیح بات کی بھی تصدیق نہیں فرمائی ، اس لئے کہ یہ ان کے ضمیر کی آواز نہیں، بلکہ ضمیر کی آواز اس کے خلاف ہے۔ اگرچہ ان کی بات درحقیقت سچ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن ان کا ضمیر اس حقیقت کو قبول کرنے میں مانع ہے، لہٰذا فقط غلط ارادے کی بنیاد پر ان کی مکمل بات ہی کی تغلیط کر دی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ فقط حقیقت واقعہ کی اہمیت نہیں، بلکہ اس پر متکلم کا ارادہ بھی جھوٹ کا اطلاق کرنے کے لئے ازحد ضروری ہے۔

٭حضرت ابراھیم ؑ کے تین کذبات(توریہ)٭

حدیث میں ذکر :
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابراہیم علیہ السلام نے تین مرتبہ توریہ کیا تھا ، دو ان میں سے خالص اللہ عزوجل کی رضا کے لیے تھے ۔ ایک تو ان کافرمانا ( بطور توریہ کے ) کہ ” میں بیمار ہوں ” اور دوسرا ان کا یہ فرمانا کہ ” بلکہ یہ کام تو ان کے بڑے ( بت ) نے کیا ہے ” اور بیان کیا کہ ایک مرتبہ ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہا السلام ایک ظالم بادشاہ کی حدود سلطنت سے گزررہے تھے ۔ بادشاہ کو خبرملی کہ یہاں ایک شخص آیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ دنیا کی ایک خوبصورت ترین عورت ہے ۔ بادشاہ نے ابراہیم علیہ السلام کے پاس اپنا آدمی بھیج کر انہیں بلوایا اور حضرت سارہ علیہ السلام کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہیں ۔ پھر آپ سارہ علیہ السلام کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے سارہ ! یہاں میرے اور تمہارے سوا اور کوئی بھی مومن نہیں ہے اور اس بادشاہ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری ( دینی اعتبار سے ) بہن ہو ۔ اس لیے اب تم کوئی ایسی بات نہ کہنا جس سے میں جھوٹا بنوں ۔ پھر اس ظالم نے حضرت سارہ کو بلوایا اور جب وہ اس کے پاس گئیں تو اس نے ان کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا لیکن فوراً ہی پکڑلیاگیا ۔ پھر وہ کہنے لگا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کرو ( کہ اس مصیبت سے نجات دے ) میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاوں گا ، چنانچہ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور وہ چھوڑدیاگیا ۔ لیکن پھر دوسری مرتبہ اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس مرتبہ بھی اسی طرح پکڑلیاگیا ، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت اور پھر کہنے لگا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کرو ، میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاوں گا ۔ سارہ علیہ السلام نے دعا کی اور وہ چھوڑ دیاگیا ۔ اس کے بعداس نے اپنے کسی خدمت گار کو بلاکر کہا کہ تم لوگ میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے ہو ، یہ تو کوئی سرکش جن ہے ( جاتے ہوئے ) سارہ علیہ السلام کے لیے اس نے ہاجرہ علیہ السلام کو خدمت کے لیے دیا ۔ جب سارہ آئیں تو ابراہیم علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ۔ آپ نے ہاتھ کے اشارہ سے ان کا حال پوچھا ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر یا ( یہ کہا کہ ) فاجر کے فریب کو اسی کے منھ پر دے مارا اور ہاجرہ کو خدمت کے لیے دیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے بنی ماءالسماء( اے آسمانی پانی کی اولاد ! یعنی اہل عرب ) تمہاری والدہ یہی ( حضرت ہاجرہ علیہ السلام ) ہیں ۔(متفق علیہ)

قرآن میں ذکر :
اوپر حدیث میں مذکور پہلے دو واقعات کا ذکر قرآن میں بھی ہے ۔
پہلا واقعہ: بت شکنی:
(سورہ الانبیاء آیت 52 – 66)
ترجمہ :وہ وقت یاد کرو جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ : یہ کیا مورتیں ہیں جن کے آگے تم دھرنا دیے بیٹھے ہو ؟ 52؀ وہ بولے کہ : ہم نے اپنے باپ دادوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔ 53؀ ابراہیم نے کہا : حقیقت یہ ہے کہ تم بھی اور تمہارے باپ دادے بھی کھلی گمراہی میں مبتلا رہے ہو۔ 54؀انہوں نے کہا : کیا تم ہم سے سچ مچ کی بات کر رہے ہو، یا دل لگی کر رہے ہو ؟ (٢٤) 55؀ ابراہیم نے کہا : نہیں، بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے، جس نے یہ ساری چیزیں پیدا کی ہیں، اور لوگو میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں۔ 56؀ اور اللہ کی قسم ! جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں کے ساتھ ایک (ایسا) کام کروں گا (جس سے ان کی حقیقت کھل جائے گی) 57؀ چناچہ ابراہیم نے ان کے بڑے بت کے سوا سارے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، تاکہ وہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں۔ (٢٥) 58؀ وہ کہنے لگے کہ : ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے ؟ وہ کوئی بڑا ہی ظالم تھا۔ 59؀ کچھ لوگوں نے کہا : ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں باتیں بنایا کرتا ہے، اسے ابراہیم کہتے ہیں۔ 60؀ۭ انہوں نے کہا : تو پھر اس کو سب لوگوں کے سامنے لے کر آؤ، تاکہ سب گواہ بن جائیں۔ 61؀ (پھر جب ابراہیم کو لایا گیا تو) وہ بولے : ابراہیم ! کیا ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت تم ہی نے کی ہے ؟ 62؀ۭ ابراہیم نے کہا : نہیں، بلکہ یہ حرکت ان کے اس بڑے سردار نے کی ہے، اب انہی بتوں سے پوچھ لو، اگر یہ بولتے ہوں۔ 63؀ اس پر وہ لوگ اپنے دل میں کچھ سوچنے لگے، اور (اپنے آپ سے) کہنے لگے کہ : سچی بات تو یہی ہے کہ تم خود ظالم ہو۔ 64؀ۙ پھر انہوں نے اپنے سر جھکا لیے، اور کہا : تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔ 65؀ ابراہیم نے کہا : بھلا بتاؤ کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کر رہے ہو جو تمہیں نہ کچھ فائدہ پہنچاتی ہیں نہ نقصان ؟ 66؀ۭ تف ہے تم پر بھی، اور ان پر بھی جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرے ہو۔ بھلا کیا تمہیں اتنی سمجھ نہیں ؟ 67؀ (آسان ترجمہ قرآن از مفتی تقی عثمانی )
اس واقعے میں آیت نمبر 63 میں حضرت ابراہیم کا یہ جملہ کہا کہ یہ کیا دھرا اس بڑے بت کا ہے۔ اس میں ان کی نیت فقط سمجھانے کی تھی کہ وہ غور کریں جب یہ بت بول نہیں سکتے تو ہماری مدد کیا کریں گے۔ ابراہیم علیہ السلام کی تدبیر کا فوری اثر بھی ہوا جیسا کہ آیت بتاتی ہے ۔ علم معانی میں یہ طریقِ گفتگو تعریض کہلاتا ہے۔ یعنی کسی امر کو ایسے پیرایہ میں بیان کرنا جس کا بطلان خود واضح ہو جائے۔ ہر زبان میں یہ اسلوب مستعمل ہے اور جھوٹ نہیں کہلاتا۔ علماء کا بھی یہی قول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مذکورہ بالا اسلوب بطور تنبیہ و تعریض اختیار کیا ہے۔ علامہ قرطبی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس اسلوب بیان کو ایسا استدلال بلیغ قرار دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرکین لاجواب اور شرمندہ ہو گئے۔ حدیث میں بھی اسکو کذب بمعنی تعریض یا توریہ کہا گیا ۔
اگر منکرین حدیث حدیث میں لفظ کذب سے جھوٹ مراد لیتے ہیں تو پھر یہ جھوٹ تو خود قرآن سے ثابت ہے۔ لہٰذا حدیث لکھ کر نعوذباللہ اور استغفراللہ کی گردان کرنے والوں کو آیت 21:63 لکھ کر بھی یہی گردان کرنی چاہئے۔ اور اگر آپ ہماری طرح یہاں توریہ یا تعریض مراد لیتے ہیں تو فبہا، کیونکہ اس طرح قرآن و حدیث دونوں کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام پر کوئی آنچ نہیں آتی۔

دوسرا واقعہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی علالت
لوگ کسی تہوار یا اجتماعی کام کے لیے جانا چاہتے تھے، ان کی خواہش تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے ہمراہ چلیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بتوں کو توڑنے کا پروگرام تھا۔ چنانچہ آیت بیان کرتی ہے:
فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ88؀ فَقَالَ اِنِّىْ سَقِيْمٌ 89؀ فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِيْنَ 90؀فَرَاغَ اِلٰٓى اٰلِـهَــتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ 91؀ۚ(سورت الصافات آیت 89-91)
پھر اس نے ستاروں کی طرف دیکھا 88؀ اور کہا میری طبیعت خراب ہے۔ 89؀ چناچہ وہ لوگ پیٹھ موڑ کر ان کے پاس سے چلے گئے۔ 90؀ اس کے بعد یہ ان کے بنائے ہوئے معبودوں (یعنی بتوں) میں جا گھسے (اور ان سے) کہا : کیا تم کھاتے نہیں ہو ؟ 91؀ۚ(آسان ترجمہ قرآن تقی عثمانی )
اس کے بعد ابراہیم نے پورے بت خانہ کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا جس کا اوپر مذکور آیات میں بھی ذکر ہے۔ اب یہاں سقیم کے اظہار میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توریہ سے کام لیا۔ اسلوب بیان وہی ہے جو سورۃ الانبیاء میں اختیار فرمایا گیا ہے۔ مشرک تاثیراتِ کواکب پر یقین رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ان میں ستارہ پرستی رائج تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے باطل ثابت کیا اور ستاروں کو دیکھ کر فرمایا: تمہارے علم نجوم کے مطابق میں اس وقت بیمار ہونے والا ہوں اور آپ علیہ السلام کا یہ فرمانہ کاہنوں کے طریق پر تو ٹھیک تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ علیہ السلام بیمار نہیں ہوئے۔ یہ ابہام اور تعریض تھی جو بالکل سچائی اور حقیقت پر مبنی تھی، مگر قوم نے اسے واقعی اہم بیماری سمجھا۔ انہیں حق ہے کہ اس من وجہ صداقت کو کذب سے تعبیر کریں اس لئے تعریض اور توریہ کو من وجہ کذب کہا جا سکتا ہے۔
حدیث میں مذکور تیسرے واقعے کا ذکر قرآن نے نہیں کیا ۔ منکرین حدیث عموما اپنی تنقید و بے جا الزامات ‌کا رخ‌فقط اسی واقعہ کی جانب رکھتے ہیں ۔کیونکہ اگر وہ پہلے دو واقعات بھی پیش کر دئے جاتے تو پھر خود پر بھی زد پڑتی۔ اس واقعے میں ایک کافر ظالم کے دست تظلم سے بچنے کی خاطر حضرت ابراھیم ؑ نےایک ظاہر اور انسانی تدبیر اختیار کی تھی کہ یہ میری (دینی)بہن ہے ۔ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت سارہ رشتے میں ان کی چچا زاد بہن بھی تھیں ۔ چنانچہ آپؑ پر ایک تعلق کا اظہار اور دوسرے تعلق کے اخفاء سے جھوٹ کا الزام عائد نہیں ہوتا۔ یہ تینوں باتیں تعریضی ہیں جیسا کہ امام نودی اور حافظ ابن حجر(۵۱۸) نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ انکی حقیقت کذب کی نہیں ان سے توریہ مقصود ہے اس لیے حدیث میں صاف وارد ہوا کہ یہ سب خدا کے لیے تھیں۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف خدا کے واسطے ایسی تعریضی باتیں کہیں ۔

*خلاصہ*
اہل اسلام پہلے دن سے حدیث میں کذب کے لفظ سے توریہ و تعریض ہی مراد لیتے رہے ہیں جیسا کہ اوپر پیش کی گئی تحقیق اور علماء کے اقوال سے واضح ہے ۔ حتی کہ امام بخاری رحمہ اللہ جنہیں اس حدیث کے نقل کرنے کی وجہ سے مطعون کیا جاتا ہے ‘نے بھی دوسرے موقع پر ایک باب خاص اسی مسئلہ تعریض کے متعلق باندھا ہے اَلْمَعَادِیْضُ ممدُوْحَۃٌ عَنِ الْکِذْبِ(۵۱۹) (کتاب الادب) ۔ یعنی تعریضات حقیقتاً جھوٹ نہیں ہوتیں۔ منکرین حدیث چلاکی یہ کرتے ہیں اس لفظ کذب سے خود جھوٹ مراد لیتے ہیں اور اسے علماء و محدثین کے سر تھونپ دیتے ہیں ۔
قرآن اور حدیث میں اگرفرق ہے توصرف یہ ہے کہ قرآن میں ان میں سے دوباتیں مذکور ہیں اور حدیث میں تین۔ اب اگر کوئی اس نسبت کو ‘الزام تراشی’اور ‘دروغ بافی’ کامرقع قرار دیتا ہے تو اسکے اس الزام کا صرف ۱/۳ حصہ صحیح بخاری پر عائد ہوتا ہے جس کے جواز کا فتویٰ دینے میں خود قرآن بھی شریک ہے اور اس الزام کا باقی ۲/۳ حصہ قرآن پر عائد ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے دفاع قرآن کا انداز ملاحظہ کیجیے کہ محض حدیث دشمنی کے جوش میں قرآنِ مجید ہی کو ‘الزام تراشی’ اور ‘دروغ بافی’ کامرقع قرا ردے رہے ہیں ۔ دیانت اور شرافت کیا اس کی مقتضی نہیں کہ جس طرح ان میں سے دوباتوں کی توجیہ کی جاتی ہے اسی طرح تیسری بات کی بھی کوئی توجیہ کرلی جائے اور حدیث کے اقتباسات کو لے کر جس نہج پر تنقید کی جاتی ہے، قرآن سے وہی چیز ثابت ہو جائے تو قرآن کو بھی لپیٹ میں لے لیا جائے یا پھر اللہ سے ڈر جائیں اور حدیث پر غیر ضروری اور نامناسب شکوک و شبہات پید اکرنے سے باز آ جائیں۔

Pages