محمد اویس

یاددہانی (وقت کو ضائع نہ کریں)



اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ اپنے گزشتہ پانچ برسوں کو یا د کیجیے اور یہ بتائیں کہ پانچ سال پہلے آپ  نے اپنے لئے جس مقام کا تعین کیا تھا کیا آپ آج اسی مقام پہ ہیں ؟یا آپ جو حاصل کرنا چاہتےتھے وہ حاصل کر چکے ہیں ؟ یقینا ً صرف آپ کا نہیں  ہم میں سے اکثر کا جواب نفی میں ہو گا۔کیونکہ ہم نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ اگلے پانچ برس  بعد  ہم کہاہوں گے۔اب ذرا یہ تصور کریں،اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ آنے والے پانچ برسوں کے بعد آپ کہا ہوں گے تو آپ کا جوب کیا ہوگا؟ کیا گزشتہ پانچ برسوں کی طرح اس کو  بھی ضائع کریں گے ؟یا اس کے لئے کوئی منظم منصوبہ بندی کر یں گے ؟جنا ب والا! اگر آپ اپنے وقت کی منصوبہ بندی نہیں کریں گے تو آپ کی ساری زندگی یونہی گزر جائے گی ،اپنے  باقی ماندۂ وقت  کو منظم انداز میں گزاریں اور آنے والے وقت کی باقاعدہ منصوبہ بندی  کریں ،کیونکہ "زندگی تو وقت کا خمیر ہے" اگر آپ وقت کو ضائع کررہے  ہیں  تو اس کا  سیدھا سادہ مطلب  یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کو ضائع کر رہے ہیں۔


ایک دوا عجیب


کیا آپ کے بچے کند ذہن ہیں؟آپ استا د ہیں۔۔۔۔۔یا ماں۔۔۔۔۔یا باپ اور آپ کو شکا یت ہے کہ سخت محنت کے با وجود آپ کے بچے وہ نتائج نہیں دے پاتے جس طرح آپ ان سے توقع رکھتے ہیں ،یا آ پ کسی دوسرے شعبے کے بندے ہیں اور آپ کے ماتحت مطلوبہ نتا ئج کے حصول میں آپ کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کرتے ۔۔۔۔۔یا کوئی بھی شخص آپ کی باتوں کو توجہ نہیں دیتا ۔۔۔۔۔یا آپ چاہتے ہیں کہ جب ارد گرد کے لوگ آپ کی طرف دیکھے تو خندہ پیشانی اور مسکراہٹ چہرے پہ سجا کر دیکھے اور آپ کے سا تھ ہر ممکن تعاون کریں ۔۔۔۔۔۔یا آپ کو اس طرح کے بہت سے شکایات ہیں اور آپ اس کو رفع کرنے میں ناکام ہیں تو گھبرائیے نہیں۔آج ہم آپ کو ایک ایسی دوا سے روشنا س کراتے ہیں جو آپ کے ان سب مسائل کو چٹکی بجاتے ہی حل کریں،بس اس دوا کو متعلقہ لوگو ں کو کسی نہ کسی طرح کھلائیں اور فوری نتائج پائیں ۔
یہ دوا جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں ،ایک کراماتی دوا ہے ،نہایت مفید اور مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ،یہ ایک طلسماتی دوا ہے جس کے نتائج آپ کو حیران کر دے گا۔ آپ اسے جادوئی یا اعجاز آفریں دوا بھی کہہ سکتے ہیں ۔العرض آپ اس دوا کو کوئی بھی نام دے سکتے ہیں ۔وہ دوا ہے ۔۔۔۔۔لیکن ذرا ٹھرئیے ،پہلے یہ بتائیں ، کہ آپ اس کی کیا قیمت ادا کر سکتے ہیں ،یقیناًآپ کہیں گے کہ اگر یہ اتنی ہی مؤثر ہے تو ہر ممکن قیمت ادا کریں گے۔لیکن میں آپ کو ایک ناقابل یقین بات بتاتا ہوں،کہ ۔۔۔۔۔۔۔یہ دوا بالکل مفت ہے اور دوسری بات یہ کہ اس کو بنانے کے لئے کسی خام مال کی ضرورت نہیں اور یہ ہر وقت آپ کی دسترس میں ہے اس کے لئے آپ کو ادھر ادھر بھٹکنا نہیں پڑے گا ۔لیجئے ایک اور مزے کی بات بھی بتاؤں کہ یہ دوا آپ خود بھی بنا سکتے ہیں ،جب چاہے بنا سکتے ہیں اور منٹوں اور سیکنڈوں میں بنا سکتے ہیں ۔تو کیا آپ جاننا چاہیں گے کہ یہ کونسی دوا ہے ؟لیجئے آپ بھی کہیں گے کہ اگر نہیں جاننا چاہتے تو اب تک اس کالم کو کیونکر پڑھتے تو سنئے ،اوہ ۔۔۔معاف کیجئے پڑھئے ،وہ دوا ہے ’’تعریف‘‘۔ کیوں جی ہو گئے نا آپ حیران کہ جس دوا کی اتنی تعریف کی گئی وہ توخود ’’تعریف ‘‘ہی نکلی۔جی ہاں دوسروں کی حوصلہ افزائی کیجئے ،ان کے چھوٹے چھوٹے اچھے کا موں کی بھی تعریف کیجئے ،اس سے نہ صرف ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو گا بلکہ وہ لگن اور محنت سے کا م بھی کریں گے۔
مشہور ماہرنفسیات ’’ولیم جیمز‘‘نے کہا تھا کہ ’’انسان کی سب سے بڑی فطری خواہش یہ ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے ،اسے سراہا جائے ۔خوشامد نہیں ستائش۔‘‘
جب کہ ہما رے ہاں ۔۔۔۔معا ف کیجئے گا برے کاموں پر تو کسی کو خوب رگڑا دیا جا تا ہے اور ہر کو ئی اس کی پگڑی اچھالنے کی کوشش کرتا ہے ،لیکن اس کے اچھے کام کرنے پر چپ سادھ لی جاتی ہے ۔اپنے ارد گرد دیکھئے آپ کو بے شمار ایسی مثالیں نظر آئیں گی ۔
ایک سائنسی تحقیق کے دوران سکو ل کے بچوں کے کام کی بہت حوصلہ افزائی کی گئی،ان کی قابلیت ،ذہانت اور صلاحیتوں کو سراہا گیا ،امتحان سے قبل کی گئی اس تعریف میں بچوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ وہ اس امتحان میں یقیناًکامیاب ہوں گے ۔جب نتیجہ آیا تو تمام طالبعلم بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوئے تھے ۔اس کے بعد انھی طالبعلموں سے ایک اور ٹیسٹ لیا گیا ،ٹیسٹ سے پہلے بچوں کے کام ،ذہانت اور قابلیت پر خاصی تنقید کی گئی اور انھیں اس انداز سے لیکچر ز دیئے گئے کہ وہ بہت مشکل سے پاس ہوں گے ۔اس با رجب نتیجہ آیا تو سائنسدان یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ بہت ہی کم طالب علم کامیاب ہو گئے تھے اور کوئی بھی اعلیٰ نمبر نہیں لے سکا۔
نامور ماہر نفسیات ’’ڈاکٹر الفریڈ ایڈر‘‘ کا کہنا ہے کہ’’میں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ تمھارا خوف، اضطراب اور افسردگی صرف چالیس دنوں میں ختم ہو سکتی ہے اگر آپ تہہ دل سے یہ ارادہ کر لیں کہ آپ کسی نہ کسی شخص کی تعریف ضرور کریں گے۔‘‘
تو اپنے اردگر د کے لوگوں ،خاندان والوں ،ہنر مندوں ،ماتحتوں اور بچوں کی سچے دل سے تعریف کریں ۔ ’’خوشامد نہیں تعریف‘‘ جہاں ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو گاوہاں آ پ کو بھی وہ کچھ ملے گا جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔تو خدارا اس قیمتی مگر ’’مفت‘‘دوا کو فراخدلی سے تقسیم کریں اس کے استعما ل میں کنجوسی سے کام نہ لیں ۔
اللہ آپ کو خوش رکھے اور دوسروں کے لئے خوشیوں کا ذریعہ بنائیں۔آمین۔
نوٹ:اس کالم کو تیا ر کرنے میں ’’ایم آرکوپ میئر ‘‘ کی کتا ب ’’خیالات کی طاقت ‘‘ سے مدد لی گئی ہے

ضروری نہیں

ضروری نہیں کہ آپ کی ہر با ت ہر کوئی سمجھے ۔بعض باتیں صرف بعض لوگوں کے لئے ہی ہوتی ہیں نہ کہ ہر کسی کے لئے۔

جس دور میں جینا مشکل ہو

جہاں کوئی خود اچھا کام نہ کریں اور آپ کو بھی نیک کام نہ کرنے دیں۔۔۔۔۔جہاں اچھے کام پر حوصلہ افزئی نہ ہواور غلطی پر خوب رگڑا دیا جاتا ہو۔۔۔۔۔۔جہاں اچھا کام کرنا مشکل اور برا کام کرنا آسان۔۔۔۔۔جہاں نیکی کرنے والا کا سر جھکا ہوا  اور بدمعاش کا سینہ تان ۔۔۔۔۔۔جہاں غیر قانونی کام نہ کرنے  پر آپ کو بزدل کا طعنہ ملے  اور قانون توڑنے  پر واہ واہ۔۔۔۔۔جہاں حق بات کر نا آگ کے انگارے چبانا ہواور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں جیناں مشکل ہو جائے  وہاں صرف ایک بات یاد رکھیں ،کہ جس دور میں جینا مشکل ہو اس دور میں جینا لازم ہے اور اندھیر ہو کہ طوفاں ہو           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم مشعل جلا کر دکھائیں گے ستم ہو کہ ظلم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم سر کٹا کر دکھائیں گے
جینا ہو کتنا ہی مشکل ۔۔۔۔۔۔۔۔ہم جی کر دکھائیں گے

برے حالات


السلام علیکم
حالات چاہے جیسے بھی ہوں ،خواہ وہ مکمل آپ کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں ،کبھی بھی ہمت نہ ہاریں ۔کہیں ایسا نہ ہوکہ آپ وہیں ہار مان لیں جہاں سے آپ کا منزل  چند قدم کے فاصلے پر تھا،لیکن کسی آڑ یا پردے کی وجہ سے آپ کو نظر نہیں آ رہا تھا۔ہر وقت اپنے منزل کی جستجو میں رہیں ،اگر منزل تک نہ بھی پہنچ جائیں ،تب بھی آ پ بہت سی چیزیں دیکھ چکے ہوں گے۔یاد رہے ،کہ یہ برے حالات ہی آپ کی اونچی اڑان کا سبب بنتے ہیں،ان سے بالکل نہ گھبرائے۔تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقابیہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئےاپنی کوشش جاری رکھیں ،مالک کائنات آپ  کو آپ کی کوششوں کا بدلہ ضرور دے گا۔

قدرت کے اشارے






قدرت کے اشاروں کو سمجھا کریں ۔اگر آپ پریشانی اور مصیبت میں مبتلا ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ،کہ آپ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔کیوں کہ دوسرے لوگ خوشی اور سکھ کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور آپ تکلیف وکرب سے گزر رہے ہیں ۔تکلیف اور کرب آپ کو یہ اشارا دیتی ہے کہ کچھ کرنا ہوگا ۔یہ بے چینی اور پریشانی آپ کو بتاتی ہے کہ اپنی روش کو بدل ڈالیں اورقدرت نے آپ کو جو صلاحییتیں  دی ہے اس کو استعمال کریں۔  آپ کو شکریہ ادا کرنا چاہیے  غم اور تکلیف کا جو آپ کو وہ  طاقت دیتی ہے جس کو استعمال کر کے آپ اپنی زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں ۔یہ قدرت کے اشارے ہیں ،ہاں وہی قدرت جو آپ کو موجودہ حال سے اچھے حال میں دیکھنا چاہتی ہے۔برائے مہربانی ان اشاروں کو نظر اندا ز نہ کریں ۔شکریہ۔

اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں










سالہا سال سے سورج ،چاند اور ستارے چمکتے جا رہے ہیں کبھی بھی ان میں کسی نے رک کےانسان سے  یہ گلہ ،شکوہ نہ کیا،کہ حضرت میرا شکریہ ادا تو کرو !میں تیرے لئے کتنے عرصے سے  فضاؤں میں سر گرداں ہوں یااسی طرح کبھی بھی کسی  درخت نے اس وجہ سے پھل نہیں دیئے کہ انسا ن نے اس کا شکریہ ادا نہیں کیا ،یا اس کی تعریف نہیں کی ۔آپ بھی اسی طرح بے لوث ہو کے کام کریں ،کسی سے بھی کوئی تعریف یا شکریے کی توقع نہ رکھیں ،انعام اور صلے کی توقع اس مالک کا ئنات سے رکھیں ۔چند ہی دنوں میں آپ کی زندگی خوش گوار ہو جائے گی۔آپ کے سارے گلے شکوے ختم ہوجائیں گے۔  

غم نہ کریں


 غم نہ کر ۔۔۔۔۔اگر آپ پچھلے کئی دنوں سے آپ بیمار ہیں  ۔۔۔تو بہت سے لوگ مہینوںسے ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں ،اگر کسی کام کو کرتے ہوئے آپ نا کام ہو گئے ہیں۔۔۔۔تو آپ سے پہلے بھی بہت سے لو گ یہ کام کرتے ہوئے ناکام ہو گئے تھے،غم نہ کر۔۔۔۔۔۔اگر آپ کے پاس رہنے کے لئے چھوٹا سا مکان ہے۔۔۔۔تو یہ بھی سوچھئے کہ بہت سے لوگ  فٹ پاتوں پر اپنی رات گزارتے ہیں ،اگر آپ  خاندان کے کسی فرد کو کھو چکے ہیں ۔۔۔۔۔تو کئی ایسے ہیں ۔۔۔جو اپنے خاندان میں اکیلے رہ گئے ہیں ،اگر آپ گناہ کر چکے ہیں ۔۔۔۔تو غم نہ کر ۔۔۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے،گر کوئی کام غلط ہو چکا ہے تو ۔۔۔۔۔آپ دوبارہ کر کے اسے  ٹھیک کر سکتے ہیں ،اگر آپ بری حالت میں ہیں ۔۔۔۔تو کئی ایسے ہیں جو آپ سے بھی بری حالت میں زندگی گزار رہےہیں۔سو غم نہ کر۔ ہمت کر۔  حو صلہ رکھ ۔"اور یقیناًہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔القرآن"رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہوں ۔اختتام پر سورج ہی نکلتا ہے۔کبھی بھی غم کو اپنے اوپر سوار مت کریں ،ہر حالت میں بہتری کی امید رکھیں اور اپنی کوشش جاری رکھیں ۔بقول "میکسم گورکی"(روسی ادیب)"یہ دنیا ہر ایک کے لئے اندھیری رات ہے ۔ہر ایک کو اپنی ہمت سے اجالا کرنا پڑتا ہے"۔اور آخری بات مسکراؤ ۔۔۔۔۔تا کہ  غم ،مصیبت اور پریشانیاں آپ کو خوش دیکھ کر واپس لوٹ جائیں۔ 

خوش طبعی

کہتے ہیں کہ خوش طبعی  بدقسمتی کو خوش قسمتی میں بدل سکتی ہے ۔اور بقول چینی فلاسفر لاؤنزے "خوش طبعی انسانی عظمت کی سب سے بڑی خوبی ہے۔"یادرہے کہ بد مزاج انسان کے ساتھ کوئی بھی بات کرنا ،سفر کرنا یا ٹھرنا پسند نہیں کرتا اور بقول نطشے "انسان خواہ کتنا ہی ذہین اور دانا کیوں نہ ہوں بدمزاجی اس سے سب کچھ چین لیتی ہے۔"
اگر آپ خوش رہنا  یا لوگوں سے پیا ر ومحبت وصول کر ناچاہتے ہیں، تو اپنے اندر خوش مزاجی کی صفت کو اجا گر کیجئے ۔اس کے بعد آپ چھوٹے بڑے سب کے لئے ایک مقنا طیس بن جائینگے،ہر کوئی آپ کی طرف کھنچ کر آئے گا ۔اس کے علاوہ خو ش طبعی چڑچڑے پن کا بھی مؤثر علاج ہے۔ 

کام چھوٹے یا بڑے(تھکن)

بعض اوقات ہم بڑے کام بھی بہت آسانی سے سر انجام دے پاتے ہیں لیکن بعض اوقات چھوٹے چھوٹے کام بھی درد سر بن جا تے ہیں ۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ دوہی وجہ ہیں 1۔شوق وجذبہ 2۔یقین ۔کام کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہوں ،ہمارا شوق و جذبہ ہم سے وہ کرا دیتا ہے ،جو ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہوتا ہے ۔دوسری بات یقین،اگر آپ کو یقین ہو کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں تو آپ ضرور اسے کر گزریں گے ،لیکن اگر آپ متزلزل یقین کے ساتھ کوئی کام شروع کرتے ہیں تو وہ کا م نہ تو صحیح طور پر آپ مکمل کر سکیں گے بلکہ آپ کے لئے درد سر بھی بن جائے گا۔بقول ماہر نفسیات ولیم جیمز"یقین ہی حقیقت کو جنم دیتا ہے۔"
اس لئے کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے اپنےاندر یقین محکم پیداکرلیجئے،دوم شوق وجذبہ پیدا کرنے کے لئے اس کام کے فوائد ڈھونڈئیےجو آپ کر نے جا رہے ہیں ،اس کے ساتھ یہ بھی سوچیں کہ اگر اس کام کو میں ابھی اسی وقت نہ کروں تو آگے مجھے کیا مشکلات سامنے پیش آسکتی ہیں ۔

اپنی طاقت پہچانوں

تم اس خالق عظیم کے بندے ہوجس نے یہ کائنات بنائی ،ہاں وہی جو اس پورے کائنات کو چلانے والا ہے،اس طاقت ور اور عظیم بادشاہ نے تمھیں وہ تمام صلاحیتیں اور طاقتیں دی ہیں جو زندگی گزارنے کے لئے تمھارے پاس ہو نا ضروری تھیں۔ 

ہمت نہ ہاریں

سنوغور سے سنو!تم جہاں بھی ہو،جیسے بھی ہو،اکیلے ہو یا ہجوم میں ،اندھیرے میں ہو یا روشنی میں،سنو غور سے سنو ہمت کبھی نہ ہارنا

اگرآپ بدل جائیں





کیا آپ بتا سکتے ہیں ،کہ زندگی بدلنے               کے لئے کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟سال ،مہینہ،ہفتہ یا دن ؟نہیں پتا !چلو میں بتا تا ہوں۔"زندگی ایک ہی لمحے میں بدل سکتی ہیں اور یہ وہی لمحہ ہے  جس میں آپ فیصلہ  کرتے ہیں زندگی کو بدلنے کا"۔یاد رہے کہ آپ کسی اور کوبدل نہیں سکتے اس کے لئے آپ کو بدلنا ہوگا ۔"دنیا بدل جائے گی اگر آپ بدل جائیں۔"

محافظ





  کیاآپ نے پتہ کاٹ چیونٹی کے بارے میں سنا ہے؟ہاں۔۔۔۔۔وہی جس کو برگ تراش یا اٹا( atta)             چیونٹی بھی کہتے ہیں ۔ یہ چیونٹیا ں اپنی خوراک پتوں کی مدد سے بناتی ہے۔ان میں جو کارکن چیو نٹیا ں ہوتی ہیں وہ پتے کتر کر اپنے گھر لاتی ہے۔ان برگ تراش چیو نٹیوں کی دشمن ایک خاص طرح کی مکھی ہے ۔جو موقع پا کر ان کے سر پر انڈے دیتی ہے جس سے لاروا نکل کر اس چیونٹی کے دماغ میں چلا جاتا ہے اور نتیجتاً پتہ کا ٹ چیونٹی مر جا تی ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان کے جبڑوں میں  پتہ ہوتا ہے تو یہ اپنی دفاع کس طرح کرتی ہے؟دراصل ان کارکن چیونٹی کے ساتھ ہر وقت ایک چھو ٹی محافظ چیونٹی ہوتی ہے ،جو ان کی حفاظت  کرتی ہےاور اسے اس مکھی سے بچاتی ہے۔
آپ بھی اپنے دماغ اندر  ،اپنی سوچوں کے اندر ایک ایسا ہی محا فظ رکھیں ،جو آپ کی حفاظت کریں اور جب بھی مایوسی یا ناامیدی آپ پر حملہ آور ہو جائیں تو یہ محافظ آپ کی حفاظت کریں۔وہ محافظ آپ کا عزم ، حوصلہ اور غیر متزلزل یقین ہو سکتا ہے۔یاد رکھیں ، مایوسی اور نا امیدی آپ کی  ذہنی توانائیوں کو بکھیر دیتی ہے ۔اپنے محافظ(حوصلہ، عزم اور یقین )کے زریعے اس کو بھگائیں۔