Nostalgia, Scream and Flower

مغلوں کا ملک ریاض




میر جملہ کو ہم اورنگزیب کی آسام کی اس مہم کے حوالے سے جانتے ہیں جس میں عظم اور ہمت کی ایک ایسی داستان رقم کی گئی  جس کی نظیر تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ میر جملہ نے برسات کے موسم میں سپلائی لائن کٹ جانے کے بعد اپنی فوج کے ہمراہ جس طرح چھ ماہ جنگلوں میں گزارے اس پر ہالی وڈ کی ایک فلم ضروربننی چایئے تھی۔ میر جملہ ایک ایسا کردار جس کے بارے میں ہندستانی تاریخ میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں لیکن ایک فرنچ تاجر نے اپنی کتاب میں کافی تفصیل سے اس کے بارے میں لکھا ہے۔ اونچے لمبے قد کا مالک ایک ایرانی تاجر جو ہیروں کی تجارت کرتا تھا۔گولکنڈہ کی ریاست میں کلرک بھرتی ہوا اور ترقی کرتے کرتے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچ گیا ۔ اس کی اپنی ذاتی جائیداد کا حساب نہیں تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بیس من ہیروں کا مالک تھا۔ اس کی ذاتی جاگیر پانچ سو کلومیٹر لمبی اور آٹھ کلومیٹر چوڑی تھی۔ جس کی سالانہ انکم چالیس لاکھ روپے تھی۔سرکاری فوج کی سربراہی کے علاوہ اس کی ذاتی پانچ ہزار افراد پر مشتمل فوج تھی ۔جس کے پاس اسلحہ کے علاوہ گھوڑوں اور ہاتھیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اور یوں ایک ریاست کے اندر ایک ریاست بنا رکھی تھی۔اس کے تجارتی جہازوں کا وسیع بیڑا تھا جن کے ذریعے دنیا بھر میں تجارت کی جاتی تھی۔ اپنے تجارتی راستوں کو سہولت دینے کیلئے دریاؤں پراپنے ذاتی خرچ سے پل بنوائے۔میر جملہ کے اگر اورنگزیب کے ساتھ اچھے تعلقات تھے تو شاہجہاں اور دار کا بھی ہم رکاب تھا۔ہمسائیہ ریاستوں کے سربراہوں سے ذاتی دوستی تھی ۔بہت زیرک انسان تھا۔دنیا بھر میں تجارت کی وجہ سے ہر کلچر اور اور مختلف قسم کے معاشروں سے واسطہ تھا جس نے اسے ایک وسیع وژن دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے ریاستوں کے گورنر اس کے مشوروں کو بہت اہمیت دیتے تھے بلکہ شاہجہاں خود اس کا کافی مداح تھا۔اورنگزیب کے دھلی کے تخت پر بیٹھنے کے بعد اس کو باقائدہ فوج کی کمانڈ دے دی گئی اور پہلا مشن شجاع کی بغاوت کو کچلنے کا دیا گیا جو اس نے کامیابی سے پورا کیا۔ جس پر اسے بنگال کا گورنر تعینات کردیا گیا۔اور اپنی گورنر شپ کے دوران اورنگ زیب کو بہت سے علاقے فتح کرکے دیئے۔آسام کی غیر معمولی اعصاب کی اس جنگ میں بارشوں کے سیزن کے بعد جب دوبارہ آسام کی طرف مارچ شروع کیا تو آسام کے حاکم نے گھٹنے ٹیک دیئے ۔۔ حکومت کے دوران اس نے عوام کو بہت سی سڑکوں اور پلوں کا تحفہ دیا جو فوج کیلئے بھی ضروری تھے اور عوام کو بھی ان کا بہت فائدہ ہوااونگ زیب کی بدقسمتی میر جمعہ جیسا ذہین شخص اوررنگ زیب کے حکومت سنبھالنے کے صرف چھ سال بعد آسام کی مہم سے واپسی پر چل بسا
پس ثابت ہوا ہر دور میں ایک ملک ریاض ہوتا ہے جس کے کندھوں کو اس وقت کے حکمران استعمال کرتے ہیں۔

قصہ ایک محبت کا


مغلیہ عہد میں ایک شہزادے کی ایک رقاصہ اور مغنیہ کے ساتھ عشق کی داستان سلطنت میں اس قدر مشہور ہوئی تھی کہ زباں زد عام اس کے قصے تھے۔ حتی کہ اس کی بازگشت دھلی کے شاہی دربار میں بھی  سنائی دیتی تھی۔دکن کو جاتے ہوئے شہزادہ حضور برہان پور اپنے ایک رشتہ دار کو ملنے کیلئے رک گیا۔  سیر  کرتے کرتے ایک دن باغ میں نکل گئے جو حرم کی عورتوں کے لیئے مختص تھا۔ شہزادے کو اتنے قریب سے دیکھا تولڑکیاں بالیاں تو اپنے کام چھوڑ کر اسے تکنے لگیں اور سرد آہیں بھرنے لگیں لیکن ایک نوجوان لڑکی نے شہزادے کے موجودگی کو یکسر نظر انداز کردیا اور  بےنیاز قدموں سے چلتی ہوئی  آم کے درخت پر چڑھ کر آم توڑنے لگ گئی۔سورج کی کرنیں گھنے درخت کے پتوں سے  چھن چھن کر اس کے شوخ سیمیں بدن کے ساتھ کھیل رہی تھیں ۔ کیا روح فرساں انداز تھا ماہ جبیں کا۔داخلی اور خارجی کشمکش کا حسین امتزاج ۔اور اتنی سنگین حقیقت کی تاب نہ لاتے ہوئےعالم وارفتگی میں شہزادہ بے ہوش ہوگیا۔پتا چلا گیا کہ یہ حور صفت کون ہے؟ تو معلوم ہوا، عیسائی مغنیہ اوررقاصہ ہے جو برہان پور کے گورنر کی ملکیت ہے۔ نام اس کا ہیرا بائی ہے۔شہزادے نے اسے اپنے لیئے مانگ لیا اور نام اسکا زین آبادی محل رکھا۔کیونکہ جس باغ میں ایک روح دوسری روح سے ہمکلام ہوئی تھی۔ وہ زین آباد میں واقع تھا ۔شہزادے پر اس کا عشق سر چڑھ کے ایسا دوڑا کہ ساری کائینات ہیچ ہوگئی۔زندگی کی سعادت اس کا قرب بن گیا۔عشق بھی تھا اور صحبت بھی میسر تھی۔کئی ماہ تک، نہ دن کا ہوش رھا نہ راتوں کی خبر رہی۔شہزادہ بادہ کش نہیں تھا لیکن ایک دن ماہ جبین نے شہزادے کا امتحان لینے کیلئے جام بڑھا دیا کہ مجھ سے کتنی محبت ہے؟ شہزادے نے ہاتھ میں پکڑ کر جام منہ کے قریب ہی کیا تھا کہ اس نے ہاتھ سے الٹ دیا اور کہا میں تو بس آپ کی محبت کا امتحان لے رہی تھیلیکن صدیوں  کے اھساس سے سرشار ان لمحوں کو گزرے ابھی ایک سال بھی نہ ہوا تھا کہ زینب آبادی محل چل بسی۔شہزادہ اس کے غم میں کئی ماہ تک امور سلطنت سے بیگانہ رھا۔ کہتے ہیں شہزادہ اورنگزیب عالمگیر کی رقص اور موسیقی سے عداوت اس کے مرنے کے بعد شروع ہوئی تھیلیکن اس بات کو سمجھنے سے میں قاصر ہوں کہ چار بیویوں دس بچوں اور حرم میں سینکڑوں لونڈیوں، کنیزوں کی موجودگی کے باوجود وہ ایسی کونسی ایسی ماوارئی طاقت ہے کہ دنیا او مافیہا کو بھول کر ایک دوسرے میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ جیسے  جسم ہی نہیں روحیں بھی ایک دوسرے میں تحلیل ہوگئی ہوں ۔کیا یہ بھی ایک حقیقت ہے یا سچائی ہے جو پلک جھپکتے دل میں کپکپی اور روح میں گدگدی پیدا کردیتی ہے۔وجدان میں اتر کر اعصاب کو معطل کردیتی ہے۔عشق نہ پچھے ذات، نہ دیکھے تخت، نہ ویکھے تاج۔
اوہ عشقا ! جیون جوگیا ، سانوں مار دِتّا ای تھاںاسیں ماہی ماہی کُوکدے ، تیرا اُچّا کر گئے ناں
اوہ ہجرا ! مگروں لیہنیا ، ساڈے سِر تے تیرا واراسیں تیرے قیدی بن کے ، اج بازی بیٹھے ہار
اوہ رُتے نی مستانئیے ! نہ نویں بھلیکھے پافیر سانوں سجری مہک دے ، نہ ایویں پِچھّے لا
اوہ ویلیا ! ظالم ویلیا ، کیہ تیرا اے دستوردو ہانی کھیڈاں کھیڈدے ، کر دِتّے کاہنوں دور
اوہ ویرنے ! دل دئیے ویرنے ایہ سارے تیرے غمتوں ہان بھُلایا ہان دا ، ایہ چنگا کیتا کم
اوہ موسما ! چیتر موسما ، اسیں بُھلّے تیرے پُھلتوں ساڈے پِچھّے سوہنیا ! نہ ککھاں وانگوں رُل
اوہ یار صفی مستانیا ، نہ عشق دی تار ہلااسیں تھکّے ٹُٹے ہجر دے ، تے مُکی پئی اے وا

ہسٹری میڈ ایزی


شاہجہاں کے چار بیٹے تھے ۔ دارالشکوہ ، شجاع ، اورنگ زیب اور مراد۔شاہجہاں کی ساری ہمدردیاں دارا کے ساتھ تھیں ۔دارا ایک پڑھا لکھا ،سمجھدار شہزادہ تھا لیکن اس کا ہندومت کی طرف رجحان بہت زیادہ تھا جس کی وجہ سے دوسرے شہزادوں، امرا اور عوام میں کافی تحفظات پائے جاتے تھے۔ اور یہی بات اس کے خلاف بغاوت اوراسکی شکست کا سبب بنیں ۔پھر ایک دن اچانک بادشاہ بیمار ہو گیا اور اتنا بیمار کہ اس کے بچنے کی امید نہ رہی جس سے فائدہ اٹھا کر دارا نے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ جس کے مقابلے میں شجاع نے اپنے صوبے میں اور مراد نے اپنے علاقے میں اپنی تخت نشینی کا اعلان کردیا۔ اورنگزیب نے بادشاہت کا اعلان تو نہ کیا لیکن دارا کو وارننگ بھیجتا رھا کہ یہ سب کچھ قبل از وقت ہے۔ ابھی ایسا اعلان کردینا صرف جلد بازی ہے۔ادھر شاہجاں کی صحت بہتر ہونا شروع ہوگئی لیکن اس نے دارا کا بھرپور ساتھ دیا۔ جس پر اورنگ زیب نے مراد کے ساتھ صلح کرکے دھلی پر فوج کشی کی تیاری شروع کردی۔ دارا  اپنی فوج کا ایک بڑا حصہ شجاع کی سرکوبی کیلئے اپنے بیٹے سلیمان کے زیرنگرانی بھیج چکا تھا۔ اور شجاع شکست کھا کر پیچھے ہٹا تو سلیمان تعاقب میں دھلی سے بہت دور نکل چکا تھا۔  دارا جب  نگزیب اور مراد کے ساتھ لڑائی کیلئے نکلا تو بیٹے کیلئے اس کی مدد کیلئے پہنچنا ممکن نہیں رھا تھا۔ شاہ جہاں کی نصیحت کے برخلاف کہ بیٹے کی واپسی تک دھلی انتظار کرو، فوج لیکر اورنگ زیب سے لڑنے نکل پڑا۔گھمسان کی جنگ ہوئی ابتدا میں پلڑا دارا کا بھاری تھا لیکن پھر مراد کی غیر معمولی بہادری سے جنگ کا نقشہ بدل گیا اور دارا کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ مراد اور اورنگزیب نے  جنگی میدان سے  آگرہ پہنچ کر شاہجہاں کے قلعے کا پانی بند کردیا۔جس پر بادشاہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگیا ۔اسی قلعے میں بادشاہ کو نظر بند کردیا گیا۔جہاں شاہجہاں نے زندگی کے باقی دس سال قید میں گزارے۔آگرہ سے اورنگ زیب اور مراد نے دھلی کیلئے سفر شروع کیا۔رستے میں اورنگ زیب نے دھوکے سے مراد کو اغوا کیا اور گوالیار کے قلعے میں نظر بند کردیا۔اور بعد میں ایک مقدمہ میں قصاص کی ادائیگی میں پھانسی پر چڑھا دیادارا کے خلاف ایک اور جنگ لڑی گئی اور وہ بھاگتا ہوا سندھ کے رستے افغانستان جارھا تھا لیکن بلوچستان میں ایک بلوچ سردار نے پکڑ کر اسے اورنگ زیب کی خدمت میں پیش کردیا جس کے بعد اس کا سرقلم کرکے شاہجہاں کی ناشتے کی میز پر سجا دیا گیاشجاع کی بغاوت کچلنے کیلئے فوج بھیجی گئی اوروہ شکست کھا کر بھاگتا بھاگتا بنگال سے اراکان کے جنگلوں میں جا نکلا جہاں کہا جاتا ہے کہ وہاں کے مقامی لوگوں نے اسے قتل کر دیااور یوں اورنگزیب کے انچاس سالہ عہد کا آغاز ہوادارا کے بیٹے جس نے شجاع کی بغاوت کو کچلا تھا اسے گرفتار کرے جیل میں ڈالا دیا گیا جہاں زہر دے کر اسے مار دیا گیااپنے بیٹے محمد سلطان کو بھی بغاوت کے الزام میں گرفتار کرکے اسے زندان میں ڈال دیا تھا اورزندان خانے میں ہی انتقال کرگیاایک اور بیٹے محمد اکبر نے اورنگ زیب کے خلاف بغاوت کی تو شکست کھا کر باقی زندگی ایران میں گزاریاور اورنگ زیب نے اپنی زندگی میں کسی بھی ایسے قابل بندے کو زندہ نہیں چھوڑا تھا جو اس کی بادشاہت کیلئے خطرہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے مرنے کے بعد ایک بھی شخص ایسا نہیں تھا جس کے اندر  صلاحیت ہوتی کہ وہ مغلیہ سلطنت کو سنبھال سکتا اور نتیجہ یہ نکلا کہ مغل سلطنت اورنگ زیب کی وفات کے بعد چند سالوں میں بکھر گئی اور ہندوستان چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا اور انگریزوں کو ہندستان پر قبضہ کیلئے آسانی ہوگئ

المیہ


میں بہت کم سوچتا ہوں ۔لیکن کبھی کبھی  سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔ لگ بھگ  ایک سال پہلے  ایک نوجوان لڑکی میرے پاس آئی . جب اسے  کہا کہ خود کو خوش رکھا کرو ذہنی تناؤ سے بچا کرو، تو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بتانے لگی۔  تین ماہ پہلے میری شادی ہوئی تھی اور  اپنے سسرال کافی خوش تھی ۔ ایک دن  والد مجھے ملنے کیلئے  آئے اور باتوں باتوں میں، میرے سسر کے ساتھ لڑائی ہوگی۔اور مجھے اپنے ساتھ لے آئے کہ اس گھر میں اپنی لڑکی  نہیں چھوڑ سکتا۔سارے خاندان نے  صلح کیلئے  کوشش کی  لیکن میرے والد اور سسر اپنی انا سے دستبردار نہیں ہوئے اور اب خلع کا دعوی کردیا ہے۔میں نے اسے سمجھایا کہ اپنے خاوند سے بات کرو کہ وہ الگ گھر لے کر تمہیں لے جائے ۔جس پر اس نے بتایا کہ وہ تو کئی بار چھپ کر مجھے ملنے آچکا لیکن اس میں پنے والد کی ناراضگی مول لینے کی ہمت نہیں ۔خیر سمجھا بجھا کر بھیجا کہ حوصلہ رکھو انشاللہ کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا۔کل جب ایک لڑکی کو شدید ذہنی ٹینشن میں لایا گیا تو پہلی نظر میں اس کو پہچان نہیں سکا کیونکہ نقاب نہیں لیا ہوا تھا اور اس کے ساتھ اس کی بوڑھی ماں اور ایک چھوٹی عمر کا بھائی تھا۔ کچھ سنبھلی تو بتایا کہ اس کی خلع ہوگئی ہے اور آج جہیز کا سامان واپس پہنچ گیا ہے۔میں تب سے سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ قصور کس تھا۔ لڑکی  یا لڑکے کے باپ کا۔جنہوں نے ایک بسا ہوا گھر اجاڑ دیا یا پھر اس لڑکے کا جس نے اپنی بیوی کو تحفظ دینے سے انکار کردیا۔۔

ہسٹری میڈ ایزی


اکبر بادشاہ کو ہماری نئی نسل زیادہ تر جودھا بائی کے حوالے سے جانتی ہے جو شہزادہ سلیم کی ماں تھی ۔ لیکن مغلیہ تاریخ کی کسی بھی مستند کتاب میں جودھا بائی کا نام نہیں ملتا۔ بلکہ شہزادہ سلیم کا نام بھی یا بالکل بچپن کے دنوں میں ملتا ہے یا اس کا تذکرہ ملتا ہے جب  شہزادے نے فرسٹیٹ ہوکر  اپنے باپ کے خلاف بغاوت کردی تھی
کون جانتا تھا گھر سے بے گھر، ہمایوں کے ہاں سندھ میں عمرکوٹ کے مقام پر پیدا ہونے والا بچہ آنے والے دنوں میں پورے ہندستان میں حکومت کرے گا ۔جو  ایک ایسی مضبوط حکومت کی بنیاد رکھے گا جسکی وجہ سے مغلیہ حکومت کو ہندستان سے اگلے تین سو سال نکالا نہیں جاسکے کا۔ کابل سے قندھار تک ، بہار سے بنگال تک۔ کشمیر سے مکران   تک ۔ دھلی سے گجرات اور راجھستان دکن تک کی ریاستوں تک ایک عظیم اور مضبوط سلطنت کی ناصرف بنیاد رکھی بلکہ اس کو بہترین ایڈمنسٹریشن مہیا کی۔ اکبر کے زمانے  کا ہندستان دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کا درجہ حاصل کرچکا تھا۔بادشاہ تھا مرضی کا مالک۔ جہاں بے شمار بڑی بڑی عمارتیں بنوائیں وہیں اس کو اپنے باپ کا دارلحکومت پسند نہ آیا تو آگرہ سے کچھ فاصلے پر سکری میں ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی اور اسے اپنا دارلحکومت بنالیا۔ بادشاہ سارے مذاہب کو اہمیت دیتا تھا۔کبھی لگتا تھا بادشاہ پارسی ہوگیا ہے تو کبھی جین مت میں داخل ہوگیا ہے۔ کبھی ہندؤں کے قریب لگتا تھا تو کبھی پرتگال سے آئے راہبوں کو یقین مل جاتاتھا جلد بادشاہ عیسائیت قبول کرلے گا۔ لیکن بادشاہ کو اپنی حکومت مضبوط کرنا تھا سو سب کو لالی پاپ دے کر رکھتا تھا۔ اپنی حکومت کو مضبوط رکھنے کیلئے ۔ہندو گھروں میں بھی شادیاں کیں ۔ اور ہندؤں کو کلیدی عہدوں پر ترقی دی ۔ہندوئوں کو خوش رکھنے کیلئے بے شمار اقدامات جیئے۔ لیکن جس طرح مسلمان علما اور اولیا کرام کا احترام کرتا تھا اور ان کی خدمت میں حاضری دیا کرتا تھا اس سے اس کی اسلام پسندی کا جذبہ بھی رد نہیں کیا جاسکتا تھا۔
بہت زیرک انسان تھا جب جہانگیر نے بغاوت کی تو اس کے خلاف جنگ نہیں کی۔ اس نے اکبر کے بہترین دوست ابولفضل جس شمار اکبر کے نورتنوں میں ہوتا تھا، کو مروا دیا جس کے غم میں بادشاہ کی کمر ٹوٹ گئی لیکن پھر بھی جہانگیر کے خلاف فوج کشی سے پرہیز کیا ۔ حرم کی عورتوں  نے تعاون کیا اورجہانگیر سے معافی دلوائی۔ کیونکہ اکبر جانتا تھا کہ آپس کی لڑائی سلطنت کو کمزور کردی گی اور اور عالمگیر کےمقابلے میں اس کے  بیٹے خسرو کو بادشاہ بنانے کی خواہش سے دستبردار ہوکر مغل عہد کو دوام بخشا۔ میں جب تاریخ کے صفحے کھنگال رھا  ہوتا ہوں تو مجھے عموما اس سے کوئی سبق حاصل کرنے کا زیادہ شوق نہیں ہوتا ۔میری  ماضی کے شعور کو سمجھنے کی ایک کوشش ہوتی ہے جن کے زیر اثر اس زمانے کی فیصلے کیئے گئے ہوتے ہیں۔ ماضی کی ضروریات کو سمجھنا اور ان کیلئے اقدامات کو اس زمانے کے شعور کے ساتھ سمجھنا۔ لیکن اس کوشش کے دوران بہت سے واقعات ایسے مل جاتے جن سے محظوظ بھی ہوتا ہوں اور کبھی کبھی عبرت بھی ملتی ہے کئی دن سے اکبر کی زندگی  پڑھ رھا تھا۔ اس کے کی زندگی کے اہم واقعات، فیصلے ، لڑائیاں بغاوتیں، انتظام کوئی پچاس سالہ حکومت اور تریسٹھ سالہ زندگی کے جب سارے باب ختم ہوگئے تو ایک ایسا واقعہ نظر سے گزرا جس کو پڑھ کر ناصرف ایک اداسی چھا گئی بلکہ انسانی بے چارگی لاچارگی کا پہلو سامنے آگیا۔اکبر کے انتقال کے بعد اس کو آگرہ کے شہر سکندرہ میں ایک مقبرہ میں دفن کردیا گیا تھا۔جو اس نے اپنی زندگی میں ہی بنوا رکھا تھا۔ جس پرسونے چاندی کا کافی کام کیا گیا تھا۔قیمتی قالین بچھائے گئے تھے۔ جہانگیر بادشاہ بنا پھر اس کے بعد شاہجہاں اور اس کے بعد اورنگ زیب عالمگیر۔اکبر کے مرنے کے کوئی پجھتر سال بعد مقامی جاٹ قوم نے راجارام جاٹ کی قیادت میں اورنگ زیب سے بغاوت کردی اور آگرے پر قابض ہوگئے۔ انہوں نے نہ صرف تاج محل کو نقصان پہنچایا بلکہ اکبر کے مقبرے پر جاکر سونا چاندی قالین لوٹ کر قیمتی لکڑی کو آگ لگا دی ۔ میناروں پر توڑ پھوڑ کی اورعمارت کو بھی کافی نقصان پہنچایا  اور قبر سے بادشاہ کی ہڈیاں نکال کر ان کو جلا دیا گیا۔ 

تاریخ کا المیہ



تاریخ کا المیہ:
اگر میں اپنی زندگی کے گزارے گئے چالیس سالوں کو تین سو پینسٹھ دن شمار کروں اور پھر زندگی کے اہم واقعات کی فہرست بنا کر اس پر کوئی کتاب لکھوں تو ایسے واقعات زیادہ سے زیادہ تیس دن بن جائیں گے چلیں مزید کچھ اضافہ کرلیں تو یہ پچاس دن بن جائیں گے۔اور جب دنیا میری زندگی کو پڑھے گی تو ان کو وہ پچاس دن معلوم ہوجائیں گے لیکن میری زندگی کے جو تین سو پندرہ دن باقی رہ جائیں گے اس سے کسی کو شناسائی نہیں ہوگی اور ان کے بارے میں کوئی نہیں سوچے گا۔حالانکہ وہ میری اصل زندگی ہے جو میں نے گزاری ہے۔
اور یہی تاریخ کاالمیہ ہےجب ہم خاندان عباسیہ ، خاندان امیہ کی تاریخ کو مرتب کرتے ہیں تو ہمیں سال کے پچاس دن مل جاتے ہیں جو ظلم، جبر اور قتل وغارت سے بھری پڑی ہے لیکن وہ تین سو پندرہ دن جن میں راز پوشیدہ تھے ،مدینہ سے سے شروع ہونے والے ریاست کی سرحدیں افریقہ اور یورپ تک پہنچنے کے ،وہ کسی کو دکھائی نہیں دیتے
یہی حال ہندستان کی تاریخ کا ہے اور یہی سلطنت عثمانیہ کا۔ ہمارے سامنے وہ پچاس دن رکھ کر باقی سوا تین سو دن نظروں سے اوجھل کردیئے جاتے ہیں۔
اکبر کے دین الہی کو تو سبھی جانتے ہیں۔اسے کافر قرار دینے والوں کی بھی کمی نہیں۔کیونکہ وہ سب پچاس دنوں پر لکھا گیا ہے لیکن ہمارے علم میں وہ انتظامی فیصلے،ادارے، وہ اصلاحات سامنے نہیں آتیں جن کی بدولت پچاس سال تک کابل سے بنگال تک حکومت کی رٹ قائم رکھی گئی کیونکہ وہ سب بھی تین سو پندرہ دنوں پر مشتمل تھے ۔۔
میرا سلطان کی بدولت حرم کی سازشوں اور حرص اور ہوس کی داستانیں تو سب جانتے ہیں۔ لیکن سلطان کو سلیمان دا مگنیفیشنٹ کس نے بنایا تھا۔ہمیں ان سے کبھی آگائی نہیں ہوئی۔ شائد بہت کم لوگ جانتے ہیں میرا سلطان کے بادشاہ کی سلطنت اپنے زمانے کی روئے زمین پر سب سے بڑی، مضبوط اور طاقتور ریاست سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کے پیچھے کون سے کون سے راز تھے ہم تاریخ کے ان سوا تین سو دنوں میں میں کھو دیتے ہیں ۔
تاریخ ہمیں آئس برگ کی صرف ٹپ دکھاتی ہے اور ہمارے ذہنی مرعوبیت کا شکار، احساس کمتری میں مبتلا دانشور اس ٹپ کو اٹھا کر پورے آئس برگ کی ساکھ کو گہنا دیتے ہیں
اور یہی تاریخ کا ایک دردناک المیہ ہے
میم سین

ہسٹری میڈ ایزی...





آپ نے بچپن میں اکثر ایسی کہانیاں سنی ہونگی. جس میں شہزادی کو ایک جن اٹھا کر لیجاتا ہے اور پھر کوئی لکڑہارا یا کسی دور کی بستی کا شہزادہ اسے بازیاب کرواتا ہے اور بادشاہ اور ملکہ اپنی بیٹی کی شادی اس سے کروا کر خود حج کرنے چلے جاتے تھے ۔ تو آج ہم آپ کو بادشاہوں کے اس حج کے راز کے بارے میں بتاتے ہیں ۔اگر بیرم خان نہ ہوتا توآج تاریخ کی کتابیں مغلیہ عہد کا سرسری ذکر کرکے آگے بڑھ گئی ہوتیں ۔جس دن ہمایوں سیڑھیوں سے گرنے کے بعد کچھ دن زخمی رہنے کے بعد انتقال کرگیا تو اس وقت اکبر صرف چودہ سال کا تھا اور بیرم خاں کے ساتھ ستلج کے کنارے پنجاب کے علاقے میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ہمایوں کی وفات کو کافی عرصے تک خفیہ رکھا گیا۔ ایک شخص روزانہ ہمایوں کے حلیہ میں تمام ضروری کاروائیوں کا حصہ بنتا جو ہمایوں کے معمولات کا خاصہ تھا۔ اور بیرم خان برق رفتاری سے اکبر کو لیکر دھلی کی طرف روانہ ہوا اور ہمایوں کی وفات کا اعلان کرکے اکبر کی تخت نشینی کا اعلان کردیا۔بیرم خان ترک النسل اور بخارہ کا باشندہ تھا اور ایرانی بادشاہ کا سالار تھا۔ بابر بادشاہ کی سمرقند مہم میں بیرم خان کو مدد کیلئے بھیجا گیا۔ بابر اس کی صلاحیتوں سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے بیرم خان کو اپنے ساتھ کام کرنے کی درخواست کی اوریوں بیرم خان بابر کے ساتھ ہندستان آگیا۔بابر کے ساتھ اس نے کیا کارنامے سرانجام دیئے تاریخ خاموش ہے ۔ لیکن جب ہمایوں نے گجرات کی مہم کا آغاز کیا تو بیرم خان پہلی مرتبہ ایک اہم کمانڈر کی حیثیت سے سامنے آیا۔ اس کے بعد جب ہمایوں کو سیر شاہ سوری سے شکست ہوئی تو یہ یہ بیرم خان ہی تھا جس نے ہمایوں کو سندھ تک پہنچایا اور پھر ایران کے بادشاہ کے ساتھ تعلقات بنا کر دیئے اور بادشاہ کو ایران میں سیاسی پناہ دلوائی۔ اور پھر ایرانی شاہ کی مدد سے ہمایوں نے اپنی فتوحات کا دوبارہ آغاز کیااور دوبارہ دہلی کی سلطنت پر قابض ہوا۔اکبر کی پیدائش ہمایوں کی جلاوطنی کے دور میں ہوئی تھی. کابل کی فتح کے بعد اکبر کو باقائدہ بیرم خان کی سرپرستی میں دے دیاگیا۔جس وقت ہمایوں کی موت واقع ہوئی بیرم خان کیلئے سلطنت پر قابض ہوجانا کوئی مشکل کام نہیں تھا لیکن اس نے نمک حلالی کا ثبوت دیتے ہوئے اکبر کو دھلی لاکر اسے تخت پر بٹھایا اور اگلے چار سالوں میں پنجاب، گوالیار، اجمیر اور بہت سے علاقے فتح کرکے دھلی کی سلطنت کو وسیع کر کے دیا۔۔لیکن اکبر بادشاہ کو بیرم خان کی یہ چاپکدستی اور سلطنت کے امور میں مداخلت کچھ پسند نہیں آرہی تھی اور دبے الفاظ میں اسے اپنی اوقات میں رہنے کیلئے اشارہ دیتا رہا لیکن جب بیرم خان نہیں مانا تو پھر ایک دن اسے بلا کر کہا ..تسی سلطنت دی بہت خدمت کرلئی جے۔ تے ہن کچھ اللہ اللہ کروجاکر حج کرکے آؤ۔یہ وہ زمانہ تھا جب حج کا سفر بہت طویل اور بہت پر خطر سمجھا جاتا تھا۔حج پر جانے سے پہلے آخری ملاقاتیں کر لی جاتی تھیں۔اورآج بھی حج پر جانے سے پہلے رشتہ داروں اور دوستوں سے ملاقات کی یہ رسم کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ ۔ بے یقینی ہوتی تھی کہ پتا نہیں حاجی صاحب کا دوبارہ چہرہ دیکھنا بھی نصیب ہوگا یا نہیں ۔بیرم خان گھاگ بندہ تھا بادشاہ کی نیت جان گیا اورحج پر جانے سے انکار کرکے بغاوت کردی لیکن شکست کھائی اور چاروناچارحج کیلئے نکلنا پڑا۔بیرم.خان نے ساری دنیا سے پنگے لیئے ہوئے تھے اور ہر جگہ دشمنیاں پال رکھی تھیں . گجرات سے گزرتے ہوئے اس کی علاقے میں موجودگی کی مخبری ہوگئی کہ اور سوریوں کے ایک کمانڈر کی موت کا بدلہ بیرم خان کو قتل کرکے لے لیا گیا اوراطلاع ملنے پربادشاہ سلامت نے "جو اللہ کی مرضی " کہہ کر اپنے دربار میں مصروف ہوگیا..میم.سین

بات سے بات


کل عید ہے ۔ چلیں کل اگر عید نہ بھی ہوئی تو پرسوں تو ہوہی جائے گی۔
عید کے موقع پر ایک دوسرے کو تحفے بھیجنے ، مٹھائیاں، بانٹنے اورآجکل کیک بھیجنے کی روایت کافی پرانی ہے۔یہ کافی پرانی بات ہے شائد ہمارے بچپن کی.جی ہمارا بھی ایک.بچپن تھا ۔ ابو کے ایک دوست کے ہاں کسی نے سپیشل مٹھائی بھیجی جو انہوں نے عید کی مناسبت سے ہماری طرف بھیج دی ۔ شائد ہم بھی کہیں فارورڈ کردیتے لیکن کسی وجہ سے پیکنگ کھولنی پڑی۔ بہت خوبصورت گفٹ پیپر میں لپٹے ڈبے کو اگرچہ کھولنے کو دل تو نہیں کر رھا تھا لیکن جب گفٹ پیپراتارا تو اندر سے ایک عید کارڈ اور پانچ سو روپے عیدی نکلی۔جس کے بعد ہمیشہ کیلئے ایسے گفٹ فارورڈ کرنے سے پہلے نئی پیکنگ کی روایت رکھ دی ۔
تایا کی بیٹی کی شادی میں شرکت کیلئے ہوسٹل سے سیدھا ان کے ہاں پہنچا تو انہوں نے میرے اس قدم کی خوب پزیرائی کی اور واپسی پر سب خوبصورت پیکنگ والا مٹھائی کا ڈبہ ساتھ دیا جو وزن میں بھی یقیناًسب سے بھاری تھا۔لیکن جب ہوسٹل آکر دوستوں کو مٹھائی تقسیم کرنے کی غرض سے ڈبہ کھولا گیا تو اندر سے لڈو نکلے اور دوستوں نے تاحیات ہوسٹل سے شادیاں اٹینڈ کرنے پر پابندی لگا دی۔
ہمارا ایک دوست تھا ۔وہ جب وجد میں آتا تھا یا موڈ کے انتہائی اونچے نوڈز میں ہوتا تھا تو بلند آواز میں کاریڈور میں یا باتھ روم میں گانا شروع کردیتا تھا لیکن آواز کے سر اتنے خراب تھے کی ایک بار سب دوستوں نے اس کے گانے پر پابندی لگا دی کہ آئیندہ سے کمرہ بند کرکے بھی نہیں گانا۔ اس معاملے میں, میں خوش قسمت واقع ہوا تھا کہ مجھے کمرے کو کنڈی لگا کر گانے کی اجازت مل گئی تھی۔ کسی زمانے میں یقین کی حد تک وہم تھا کہ میری آواز سہگل سے بہت ملتی ہے۔ چھپو نہ چھپو نہ او پیاری۔۔۔۔ ایک دن اپنے یقین کے بارے ایک دوست سے مشورہ کیا تو اس نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا کہ اس میں قصور سہگل کی آوازکا نہیں تھا بلکہ اس زمانے میں ریکارڈنگز ہی اتنی خراب ہوتی تھی۔
ابھی جب ان پیج پر لکھنے کا ہنر نہیں آیا تھا تو اس وقت اپنی تحریریں اپنی آواز میں ریکارڈ کرکے ایک ویب پیج پر اپلوڈ کردیتا تھا۔ یہ فیس بک کے ابتدائی دنوں کی بات ہے جب اپنی گھریلو سبزیوں کی کاشت کے حوالے پوسٹیں لگائیں تو ایک خاتون نے رہنمائی کیلئے انباکس رابطہ کیا۔باتوں کے دوران جب انہوں نے پوچھا کہ باغبانی کے علاوہ کیا مصروفیات ہیں تو جھٹ سے اپنی آڈیو فائلز کا لنک بھیج دیا۔چند دن بعد ان کی طرف سے ایک ریکوئسٹ موصول ہوئی کہ اگر فلاں آڈیو والی تحریر ان پیج کردیں تو مہربانی ہوگی۔ اور اگلے ہی لمحے ان پیج پر مصروف ہوچکےتھے۔دو تین دن لگا کر ایک ڈیڑھ صفحے کی تحریر کو کی بورڈ سے کمپیوٹر سکرین پر منتقل کردیا۔ ٹاسک تو مکمل ہوگیا لیکن ہاتھ کی انگلیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور اپنی ساری تحریریں اپنی ڈائری سے اٹھا کر کمپیوٹر میں محفوظ کرلیں۔ 
ایک بلاگ بنا رکھا تھا جو دراصل میری ڈیجیٹل ڈائری تھی جس میں تصوریریں ویڈیوز، اقتباسات، شاعری پوسٹ کیا کرتا تھا۔وہ سب وہاں سے ڈیلیٹ کیا اور اپنی تحریریں وہاں سجانا شروع کردیں۔کچھ دوستوں کو لنک بھیجا تو ایک مہربان نے مشورہ دیا کہ کہاں چھپے بیٹھے ہو ۔ ان کو فیس بک پر شیئر کرو۔ ڈرتے ڈرتے فیس بک پر شیئر کرنا شروع کیا تو حوصلہ افزائی پا کر باقائدہ لکھنا شروع کردیا۔
پھر ایک دن کسی نے چورنگی نام کے ایک گروپ میں ایڈ کردیاتو فیس بک کی ایک نئی دنیا کا علم ہوا۔وہاں سے آواز سے ہوتے ہوئے بے شمار گروپوں تک رسائی حاصل ہوئی۔ ان گروپس کی بدولت بہت سے نئے لوگ ملے ۔ نئی سوچ، نئے انداز زندگی اور نیا فہم ملا۔ان لوگوں کے بارے میں کسی دن تفصیل سے لکھوں گا کہ جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ جن کی بدولت دماغ کی بہت سے بتیاں روشن ہوئیں۔ اور سوچ کے بے شمار نئے زاویے دریافت ہوئے۔
کل عید ہے۔ اور اگر کل عید نہ بھی ہوئی تو پرسوں ہوجائے گی اور ہماری فیس بک سے وابستگی کے دس سال بھی مکمل ہوجائیں گے.
میم.سین

ایک لازوال داستان


یہ ان دنوں کی بات ہے جب  سبزی فروشوں نے پرائیویٹ سیکورٹی رکھنا شروع کر دی تھی
جب ٹماٹر کے کاشکاروں نے کھیتوں کے اردگرد خاردار تار بجھا کر کرنٹ چھوڑ رکھا تھا
یہ ان دنوں کی بات ہے جب جہیز کی فہرست میں لوگوں نے  ٹماٹروں کو سرفہرست رکھنا شروع کردیا تھا
جب ڈاکو گھروں میں گھس کر لوٹ مار کرنے سے پہلے گھر کے کچن میں ٹماٹروں کو تلاش کیا کرتے تھے
یہ ان دنوں کی بات ہے جب نوجوان اپنی پہلی تنخواہ سے ٹماٹر خرید کر والدین کو گفٹ کرنے کے خواب دیکھا کرتے تھے
جب خاوند ناراض بیویوں کو منانے کیلئے دفتروں سے گھر کا رخ  کرنے سے پہلے  ٹماٹر خریدنے کیلئے منڈی کو نکل جایا کرتے تھے
یہ ان دنوں کی بات ہے جب سبزی کی دکان پر کھڑے ہوکر ٹماٹروں کو دیکھ کر لوگ سرد آہیں  بھرا کرتے تھے
جب لڑکے آسمان سے تاڑے توڑ کر لانے کا وعدہ  کرنے کی بجائے  ٹماٹر لا کر دینےکی آس  دلا کر لڑکیاں پھنسایا کرتے تھے
یہ ان دنوں کی بات ہے
جب ہم نے دوبارہ ٹماٹر اگانے کا فیصلہ کیا۔
جہاں ہمارے اس فیصلے پر گردونواح میں خوشی کی شدید لہر دوڑ گئی وہیں اس فیصلے سے ہمارے ضمیر نے ہمیں تھپکی دے کر بتایا کہ اس قوم کا اگر کوئی مسیحا ہے تو وہ صرف تم ہی ہو۔ ہم جو مصیبت کی ہر گھڑی میں، مشکل کی ہر دوڑ میں اس قوم کے مسائل کے سامنے سینہ سپر ہوئے ہیں تو اس بہادری عزم صمیم اور لازوال قربانیوں نے ہمیں یہ رتبہ عظیم بخشا کہ ہم اس قوم کی مسیحائی کرسکیں۔
لہذا ہم صبح تہجد کے وقت اٹھے اس قوم کے گناہوں کی معافی مانگی۔ اوزار سنبھالے، بیج لیےاکیلے ہی جانب منزل گامزن ہوئے۔
منزل مقصود پر پہنچ کر ہم نے زمین کے ساتھ مختصر خطاب کیا جس میں اسے بتایا گیا کہ اس کی ذمہ داری کیا ہے اور ہماری اس سے کیا توقعات ہیں۔پانی دے کر زمین کی صدیوں کی پیاس بجھائی۔ بیج ڈال کر اسے معتبر کردیا اور مٹی اور کھاد کے ساتھ زمین کی آبیاری کی۔
پھر کسی پریمی کی طرح ان کے گرد منڈالتے کئی ہفتے گزار دیئے۔ کبھی چھپ چھپ کر اور کبھی سامنے آکر دیکھتے رہے۔مستقبل کا خوف دل میں چھپائے۔اردگرد پھیلی ناکامیوں کے درمیان امید کے دیئے کو بجھنے سے بچانے کی جستجو میں لگے رہے ۔مجھے معلوم ہے بدھ نے ایک درخت کے نیچے نروان کا گیان پایا تھا ۔اب میری آتما بھی شانتی کی تلاش میں تھی اور مجھے محسوس ہوتا تھا کہ ٹماٹروں کے یہ ننھے ننھے پودے میرے لیئے نروان کا سندیسہ لانے والے ہیں
ایک دیہاتی صبح  یہ اطلاع ملی کہ ہماری تپسیا رنگ لائی ہے اور ہمارے  لگائے پودوں کی گود بھرنے لگیں ہیں۔ پھول کھلنے لگے اور پھولوں سے  پھل بننے لگا تو ٹہنیاں جھکنے لگیں۔ سبز ٹماٹر محنت کے سرخ رنگ کو پانے کے قریب پہنچ گیا۔ گویا ہماری زندگی میں سرخ انقلاب کا زمانہ آنے ہی والا ہے۔
ہم سوچتے ہیں یہ قوم کیسے احسان مند ہوسکتی ہے ہماری۔
لیکن یہ سوچ کر درگزر کردیتے ہیں کہ ناداں ہیں سمجھ جائیں گے۔ کبھی تو قدردان ہوں گے  ہمارے۔
تب تک ہم ٹماٹروں کے اترنے کا انتظار کرتے ہیں۔

ہسٹری میڈ ایزی


چلیں آج پھر ایک بادشاہ کی کہانی سناتے ہیں ۔جس کے عروج وزوال کو دیکھتے ہوئے سیکھنے والوں کیلئے بڑی نصیحت ہے۔
یہ انیس سو انیس کی بات ہے افغانستان پر امیر حبیب اللہ کی حکومت تھی ایک دن اس کو کسی نے سوتے میں قتل کردیا ۔جس کا فائدہ اٹھا کر سردار نصراللہ نے اپنی حکومت کا اعلان کر دیا۔ ان دنوں کابل کا گورنر امان اللہ تھا۔اس نے ہمت دکھائی اور تخت پر قبضہ کرکے بادشاہت کا اعلان کردیا۔ امان اللہ چونکہ روس کے بہت قریب تھا اس لیئے شہ پا کر برطانوی انڈیا پر حملہ کردیا۔ پہلی جنگ عظیم کی وجہ ایک تو برطانوی حکومت پہلے ہی کافی کمزور تھی اور کچھ انڈیا کے حالات بھی کروٹ کھا رہے تھے اس لیئے زیادہ مزاحمت نہ کرسکے اور افغانستان سے صلح پر مجبور ہوگئی ۔جس کے بعد کابل کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے سٹک اینڈ کیرٹ والی پالیسی کا آغاز ہوا۔امان اللہ ایک انتہائی آزاد خیال انسان تھا اور ملک کو مغربی طرز پر چلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔کافی آزاد خیال پالیسیوں پر گامزن ہوا۔ نہ صرف طرز حکومت بلکہ مغربی کلچر بھی نافذ کرنے پر تلا ہوا تھا۔ملک میں امن امان بحال ہوا تو امان اللہ نے ملکہ کے ساتھ یورپ کا قصد کیا۔ انڈین گورنمنٹ کیلئے کیرٹ پالیسی کیلئے اس سے بہتر کوئی موقع نہیں ہوسکتا تھا۔فوری طور پر لاہور میں  ریل کے چار سپیشل ڈبے تیار کرکے چمن پہنچائے گئے۔جہاں سے بادشاہ سلامت اپنی فیملی کے ہمراہ کراچی پہنچے اور کراچی سے فرانس کی بندرگاہ مارسیلز پہنچے۔ماسیلز پہنچنے پر امان اللہ کا استقبال فرانسیسی صدر نے اپنی کابینہ کے ساتھ بھرپور انداز میں کیا اور ملکہ ثریا بھی مغربی لباس میں داد تحسین وصول کرتی رہیں ۔بادشاہ کو نپولین کے بستر پر سونے کا اعزا بخشا گیا۔ اس کے بعد جس شہر بھی گیا بھرپور استقبال کیا گیا ۔بہت سے شہروں کی اعزازی چابیاں حوالے کی گئیں۔فرانس کا دورہ مکمل کرکے برطانیہ پہنچے تو کنگ جارج بمع اپنی ملکہ  استقبال کیلئے واٹرلو کے اسٹیشن پر موجود تھا۔تین دن شاہی مہمان رہے اس کے بعد ایک ہفتہ سرکاری مہمان ۔برطانیہ سے بلجیئم کے دورے کا ارادہ تھا اور اندازہ یہی تھا کہ بلجیم کا دورہ مکمل کرکے  واپسی کا سفر شروع کریں گے۔ لیکن ابھی برطانیہ میں ہی تھے کہ بادشاہ سلامت نے اعلان کردیا کیا بلجیم کے بعد وہ روس کا دورہ بھی کریں گے۔حکومت برطانیہ نے اپنے نمائیندو ں کے ذریئے اشاروں کنایوں میں سمجھانے کی کوشش کی کہ عالی جاہ بندے بن جاؤ۔ یہ ساری شان شوکت جو آپ کو دی ہے وہ روس سے دور رکھنے کیلئے ہی دی تھی لیکن بادشاہ پھر بادشاہ ہوتا ہے اورمرضی کا مالک ۔ اور اپنی ضد پر اڑا رھا اور روس کا دورہ کرکے ہی واپس گیا۔اب کیرٹ والا معاملہ توہوگیا تھا ختم اور اب شروع ہونی تھی کہانی سٹک والیلارنس آف عریبیہ کے نام سے کون واقف نہیں ۔ جس نے ترکوں کے خلاف عربوں کو اکسایا اور خلافت سے نکال کر اپنی حکومت قائم کرنے میں مدد کی ۔ ترکی کا عربوں سے رابطہ ہجاز ٹرین کے ذریعے تھا ۔اور اس ٹریں کی پٹری کو نقصان پہنچانے کیلئے لارنس نے جس حکمت عملی پر عمل کیا وہ کسی ہالی وڈ کی فلم کی کہانی سے مختلف نہیں۔ لیکن یہاں ہم لارنس کا عرب مشن نہیں سنائیں گے بلکہ  آپ کو افغانستان لیئے چلتے ہیںسٹک پالیسی پر عمل کرنےکیلئے لارنس آف عریبیہ کی خدمات لی گئیں اورایک بزرگ کا روپ دھار کر پشتو سیکھی ۔عربی پر پہلے ہی کمال حاصل تھااور جگہ جگہ وعظ دینا شروع کر دیا ۔جلد ہی ایک نیک بزرگ کی حیثیت سے افغان لوگوں میں اپنا نام بنالیا۔ اس کے معجزوں نے جلد ہی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔جب اپنے معتقدین کا ایک اچھا حلقہ قائم ہوگیا تو اس کے بعد اس نے امان اللہ کے خلاف وہی کام شروع کیا جو آئی جے آئی نے اٹھاسی کے الیکشن میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا تھا۔اور نوائے وقت اخبار نے رعنا لیاقت علی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ یورپ کے دورے کی ملکہ کے مغربی لباس میں ملبوس، غیر ملکیوں سے ہاتھ ملانے کی تصویریں اور ایکٹرسز کی تصویروں کو ملکہ کی تصویر کے ساتھ ملا کر بنائی گئی تصویریں عوام میں تقسیم کی گئیں۔ اور بادشاہ کے بارے میں  زوردار پرپیگنڈہ کیا گیا کہ روس جا کر کافر ہوگیا ہے۔ اور اب الحاد کو ملک میں نافذ کرنے کے درپر ہے۔اور یوں بادشاہ کے خلاف نفرت کی ایک ایسی فضا بنا دی گئی کہ اسے عوامی حمایت سے یکسر محروم ہونا پڑ گیاایسے حالات میں ایک سابقہ افغان فوجی نظام سقہ نے انگریزوں کے تعاون سے شہروں میں ماڑ دھاڑ شروع کردی اور جلد ہی اپنا اثر و رسوخ قائم کرلیا۔اور پھر ایک اور ڈاکو سید حسین کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک رات سرکاری محل پر حملہ کردیا۔اب یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ سب کچھ کیسے ممکن ہوگیا ہے لیکن امان اللہ کو محل سے فرار ہونا پڑا اور نظام سقہ کابل کے تخت پر قابض ہوگیا۔ امان اللہ اپنی فیملی کے ہمراہ چھپتا چھپاتا چمن پہنچا۔وہی چمن جہاں سے چند سال پہلے انتہائی لگزری ڈبوں میں اور سرکاری پروٹوکول میں کراچی کیلئے روانہ ہوا تھا اب بے یارومددگار عام مسافروں کے ساتھ بیٹھ کر بمبئی پہنچا اور اور پھر وہاں سے نکل کر باقی عمر اٹلی گزارنے پر مجبور ہوگیا۔

تاریخ کے جھروکوں سے


چلیں آپ کو ایک کہانی سناتے ہیں ایک بادشاہ کی ۔ بادشاہ بھی ہندستان کا یعنی میرا  آپ کا سب کا بادشاہ۔
 نام تھا اس کا علاؤالدین خلجی ۔ ارے نہیں یہ بالی وڈ کی باتوں میں آکر پہلے ہی منہ نہ بنالیں ۔میں اس کی کسی ملکہ یا غلام کی کہانی نہیں سنانے جا رھا۔بلکہ بادشاہ کی  زندگی کا ایک واقعہ بیان کرنے جا رھا ہوں  ۔علائوالدین  ایک ان پڑھ حکمران تھا جس نے بیس سال تک ہندستان کے ایک وسیع علاقے پر حکومت کی۔انتظامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے حروف  پہچاننا  سیکھ لیئے جس سے تحریر کا مدعا سمجھ جاتا تھا ۔ ہندستان پر مسلمان حکمرانوں کی تاریخ اگر کھولی جائے تو صرف تین یا چار حکمران  نظروں سے گزریں گے جن کو آپ مضبوط حکمران قرار دے سکتے ہیں۔ان میں سے ایک علائوالدین کا دور بھی تھا۔ اس کا عہد انتظامی حوالے سے بہترین عہد سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ کچھ لوگ اس کی سفاکی اور ظلم کے واقعات بہت بڑھا چرھا کر پیش کرتے ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ ہندستان کو ایسے اعلی منتظم کم کم ہی نصیب ہوئے ہیں۔جس کے فیصلوں اور طرز حکومت سے ایک عام آدمی کو بھی کچھ فائدہ مل سکا تھا۔
ہاں تو بات ہورہی تھی بادشاہ کی ۔بادشاہ قسمت کا کچھ ایسا دھنی ثابت ہوا کہ جو مہم شروع کرتا  وہ کامیاب ہوجاتی ۔ ایک طرف فتوھات اور دوسری طرف کسی میں بغاوت کی جرات نہ ہوئی ۔کچھ امرا ایسے میسر آئے کہ وہ بادشاہ  سے  وفاداری کی اپنی مثال آپ تھے ۔  
جب بادشاہ اپنی غیر معمولی اور مسلسل فتوحات کے نشے میں تھا۔منگول حملہ آوروں کا قلع قمع کر چکا تھا ۔ملک میں غلے اور سامان معیشت کی فراوانی تھی ۔ملک کا انتظام اس قدر مضبوط ہوچکا تھا کہ سلطنت کے راستے اور شہر گڈ گورنس کی بہترین مثال پیش کررہے تھے تو ایسے میں بادشاہ کو خیال آیا کہ قسمت اتنی مہربان ہے تو کیوں نہ سکندر کی طرح پوری دنیا کو فتح کرنے نکلوں یا پھر کچھ ایسا کام کروں کہ میرا نام قیامت تک رہے۔اس کے چار بہت معتمد ساتھی تھے جن کو وہ چار یار کہا کرتا تھا ان کی مدد سے پہلے نئی شریعت جاری کرنے کا سوچا۔پھر  دنیا کو فتح کرنے کا خبط ذہن پر سوار ہوگیا تھا۔بلکہ مسلسل فتوحات کے بعد سکندر ثانی کا لقب اختیار کرلیا اورناصرف جمعہ کے خطبوں میں  یہ لقب بولا جانے لگا بلکہ سکوں پر بھی کھدوا دیا گیا۔ بادشاہ کے غیص و غضب سے ڈرنے والے درباریوں نے بھی ہاں میں ہاں ملا کر بادشاہ کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا رکھا تھا۔ ایسے میں ایک دن کوتوال دھلی علاؤالدین علاؤلملک ملنے کیلئے آیا۔ بادشاہ اس کی بڑی قدر کرتا تھا اسلئے  اپنے دونوں منصوبوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بادشاہ کے چاروں یاروں کے علاوہ سب کو محفل سے اٹھوا دیا شراب کی بوتلیں بھی ہٹا دی گئیں اور بادشاہ کو جو دلائل دیئے وہ سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں اور بادشاہ جیسا بھی تھا جہاندیدہ تھا اور باتیں سمجھ میں آگئیں۔
جب نئی شریعت نافذ کرنے کے بارے میں سوال کیا تو علائوالدین گویا ہوا
شریعت کا تعلق وحی آسمانی سے ہوتا ہے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکی ہے اور یہ بات سب خاص و عام کو پتا ہے ۔اگر آپ ایسا کوئی سلسلہ شروع کرنے کی کوشش کریں گے تو فساد اور بدنظمی ہوگی۔چنگیز خان اور اس کی اولادکی اسلام دشمنی ایک مثال ہے۔ انہوں نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا لیکن وہ اسلام کی روشنی کو ختم نہ کر پائے بلکہ ان کی اولاد مسلمان ہوگئی اور کفار سے جنگ بھی کی بادشاہ علاالملک کے جواب سے خاصا مطمئن ہوا اور دنیا کو فتح کرنے کے ارادے کے بارے میں مشورہ طلب کیا تو جواب ملابادشاہ سلامت پہلے تو یہ سوچیں کہ کس کو دھلی کی حکومت سونپ کر جائیں گے جو آپ کی عدم موجودگی میں سلطنت کا انتظام بھی سنبھالے اور آپ کی واپسی پر حکومت بھی آپ کے حوالے کر دے۔اور سکندر کے زمانے میں تو بغاوتوں کی مثال شاذ ونادر ہی ملتی تھی اور آج تو حالات ہی مختلف ہیں۔سکندر کے پاس ارسطو جیسا وزیر باتدبیر تھا جس نے نہ صرف سکندر کی عدم موجودگی میں انتظام سنبھالا بلکہ سکندر کی واپسی پر محفوظ حکومت واپس بھی کر دی ۔اگر بادشاہ کو اپنے امرا پر اس قدر اعتماد ہے تو ضرور اپنے ارادے پر عمل کریں ۔بادشاہ مشورہ ماننے میں کچھ ہچکچاہٹ کا شکار ہوا اور پوچھا کہ پھر میرا یہ ساز وسامان ہاتھی گھوڑے لاؤلشکر کس کام کا؟ تو علاؤلملک نے توجہ ہندستان کی بہت سے مہمات کی طرف دلوائی کہ وہاں بہت ساز وسامان درکار ہوگا بہت توانائی اور پیسے کی ضرورت ہوگی اگر آپ وہی مہمات مکمل کرلیں تو آپ کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ۔ بادشاہ نے علاءالملک کو بہت سے انعام اکرام سے نوازا اور اپنے دونوں ارادے ترک کردیئے ۔
 علاؤالدین خلجی ایک جہاندیدہ بادشاہ تھا ۔ جب منگولوں کا ایک سپہ سالار دھلی پر چڑھ دوڑا تھا توعلاالملک نے لڑائی سے بچنے کا مشورہ دیا تھا لیکن بادشاہ نے اس مشورے کو رد کرکے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا اور تاریخ نے بادشاہ کے اس فیصلے کو درست قرار دیا 

ایک خط کے جواب میں


سدا خوش رھو!
اتنے عرصے بعد خط ملا پہلے تو اچنبھا ہوا پھر وہ خوشگوار حیرت میں بدل گیادوبارہ پڑھا تو ناسٹیلجیا کے گہرے بادلوں میں خود کو محبوس پایامیں دیر تک اسی سوچ میں اٹکا رھا کہ تم کہاں ہو؟ کیونکہ یہ خط تو تمہارا ہے لیکن یہ لفظ تمہارے نہیںوہی انداز لیکن بے روح تحریر۔جیسے تم اداس رہنے لگی ہو، جیسے تمہارا دھیان زندگی میں نہیں رھا۔جیسے تمہارے قدم راستے کی گرد سے بوجھل ہوگئے ہوں۔ جیسے تمہارا سنگ میل تمہاری نظروں سے کسی نے اوجھل کر دیا ہو۔لیکن جب میں نے تمہاری یاد کے بادلوں میں جھانکا تو تو مجھے تمہارے الفاظ کی روح پر وہ سب بھاری پتھر نظر آنے لگے۔ جنہون نے تمہارے لہجے کو یہ تھکاوٹ بخشی ہے۔ تم پوچھتی ہو کہ وہ کونسی امپلس ہے جو تمہیں چٹھیاں لکھنے پر مجبور کرتی ہے تو سنو تمہیں خدا نے ایک امتیاز بخشا ہے، تمہاری سوچ کو ایک جلا دی ہے لکھنے کی قدرت عطا کی تم خیالات کی شمعیں جلا سکتی ہو تم وہ صلاحیت رکھتی ہو کہ جو بن مانگے اپنے حصے کی روشنی دوسروں میں بانٹ دیتے ہیں۔ اس لیئے مجھے یقین ہے کہ تم کبھی لکھنے سے نہیں رک سکتی ۔ تم اب بھی سنگ بہاروں کی تلاش میں نکل سکتی ہو تم ہمالیہ کے شفاف پہاڑوں پر چڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ کم زور تو میں تھا جب تم نے گل پوش وادیوں کی سحرانگیزیاں ڈھونڈنے کیلئے مجھ سے وعدہ مانگا تھا تو میں وہ حوصلہ ڈھونڈ نہیں پایا تھا جس کو پا کر میں تمہارے ساتھ شبنی قطروں کی راہ میں ساتھ چلنے کیلئے ہاں کرتا ۔ میں عذر ڈھونڈ سکتا تھا ۔لیکن میں میں ان دیکھی ان کڑیوں کو توڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا جنہوں نے میرے وجود کو باندھ رکھا تھاتم واقعی بربت ہو۔ تمہاری سوچ تمہارے ارادے واقعی پربتوں کی طرح بلند اور سنگلاخ چٹانوں کی طرح پائیدار ہیں۔ تمہیں یاد ہے میں کہا کرتا تھا میں کسی دن وہ حوصلہ وہ عظم ڈھونڈ لاؤں گا جو تمہیں تسخیر کرنے کیلئے کافی ہوگا تو تم نے مسکرا کر کہا تھا کہ تم صرف ارادہ باندھ لو میں خود تمہیں سرسبز وادی کے دامن میں بنی اپنی جھونپڑی میں لے جاؤں گی جو چیل اور چنار کے درختوں سے اٹی ہوگی۔ جس کے اوپر نیلا آسمان ہوگا جس کے ساتھ شفاف اور میٹھے پانی کے چشمے بہتے ہونگے ۔لیکن وہ سب باتیں دھرانے کا اب کیا فائدہ ؟تمہاری باتیں ویسی ہی ہیں جیسی تم پہلے کیا کرتی تھی۔وہی خواب بسنانے کی باتیں، وہی ہوا میں معلق آشیانوں کو ڈھونڈنے کی باتیں ۔ پہلے تم آسمان کے تارے اس سے جدا کرنے کی باتیں کرتی تھی اور اب آسمان کی ریشمی چادر کی بات کرتی ہو لیکن کچھ نہیں ہونے والا ۔ کوئی نئی دنیا دریافت نہیں ہونے والی ۔کوئی تعلق نیا نہیں ملنے والا ہم میں سے کوئی بھی غلط نہیں تھا۔ اپنی جگہ ہم دنوں درست تھے ۔ میں مجبوریوں کا پابند تھا تم اپنی خواہشوں کی۔ بالوں میں چاندی اتر اائی تو کیا ہوا مجھے یقین ہے تمہارے خواب آج بھی تمہارے ارد گرد آباد ہیں تمہارے خط میں موجود وارفتگی اور اضطراب بتا رھا ہے کہ تم اپنے افسانوں کے کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے آج بھی بے تاب ہوتم پہلے بھی خواب دیکھتی تھی، خیالوں کے اڑن کھٹولے لیئے پھرتی تھی تم زندگی کو کو بھی خیالی آنکھوں سے دیکھنے کے قائل تھی ۔ تم امنگوں پر جیتی تھی اور تمہارے تصور کی جنت بھی ایسے ہی حسیں تصورات کے سہارے مہک جاتی تھی ۔ مجھے یقین ہے تم آج بھی خواب دیکھتی ہو انہی خوابوں نے تمہیاری جستجو کی حس کو تمہیں ایک بار پھر میرے سامنے لاکھڑا کیا ہے لیکن کیا کیا جائے میرا اور تمہارا رشتہ زمین اور آسمان کا ہے جو ایک ساتھ نظر آنے کے باوجود ہمیشہ دور رہتے ہیں ۔ ہم دونوں ایک بینچ پر اکھٹے بیٹھ کر ایک دوسرے کو تنگ نہیں کر سکتے ایک دوسرے کو قائل نہیں کر سکتے لیکن میں سمجھ سکتا ہوں تڑپ کے کنول کھلنے سے روکناکسی کے بس میں نہیں ہوتے ۔ایک مجروح مسکان کی طرح ،روح کی تسکین کیلئے لیکن میری جان! زندگی چند رنگینیوں کا نام نہیں ہے یہ یکطرفہ خیالوں کا مجموعہ نہیں ہے ۔مجھے ڈر لگتا ہے جس دنیا کو تم آسمانوں کے پڑے ڈھونڈتی تھی کہیں وہ جیون کے سپنوں کا سحر توڑ نہ دے ۔ مجھے ڈر ہے ریشمی چادر کے پیچھے کی دنیا تمہاری بسائی جنت کو تحلیل نہ کر دے۔ تمہارے نازک سے دل کا آبیگینہ کہیں دوبارہ نہ ٹوٹ جائےکیونکہ اب تمہارے دل کا ٹوٹنا کافی دردناک ہو سکتا ہے.میں بتا نہیں پایا کبھی لیکن یہ مجھے بھی بہت عزیز رہا ہے.تمہارا دل تمہارے قلم ہی کی طرح تتلیاں بناتا ان میں رنگ بھرتا ہے خواہشوں کی تتلیوں کے پیچھے بھاگتا ہے تو دوسری طرف آس کے جگنو بھی بناتا ہے جو رستے کو پرنور کر کے مسافروں کے لیے آسانی کر دیتے ہیں.نا چاہتے ہوئے بھی خط ختم کرنا پڑ رہا ہے. کیونکہ صفحہ کتنا بھی لمبا کیوں نہ ہو ختم ہوجاتا ہےزندگی کا ہو چاہے کتاب کا صفحہ پلٹنا تو پڑتا ہے.فقطتمہارا

ناقابل فراموش


انیس سو ستانوے میں پہلی بارسوئمنگ پول میں قدم رکھا اور پہلا قدم ہی ڈگمگا گیا اور میں چار فٹ گہرے پانی سے سترہ فٹ گہرے پانی کی طرف بہہ گیا۔مغرب سے کچھ دیر پہلے جب پول کے بند ہونے کا وقت تھا بہت کم لڑکے وہاں موجود تھے۔ جب اپنے جسم کو پانی میں سنبھالنے کی کوشش شروع کی تو جسم سطح پر آنے کی بجائے گہرائی میں ڈوبتا جارھا تھا۔ باوجود اس کے کہ میرے حواس قائم تھے لیکن میں بے بس تھا۔آواز دینے کی کوشش کرتا تو پانی منہ میں جاتا، ہاتھ پائوں مارتا تو پانی کے نیچے جاتا۔دماغ میں بس ایک ہی خیال گھومے جارھا تھا۔ کسی کی میرے اوپر نظر پڑ جائے اور گارڈ تک خبر پہنچ سکے۔جو وہیں کہیں موجود تھا۔ لگ بھگ چار پانچ منٹ کے بعد سوئمنگ کرتے ایک لڑکے نے مجھے پانی میں ہچکولے کھاتے دیکھ لیا اور چیخیں مارنا شروع کردیں۔اس وقت تک میرے اعصاب جواب دے چکے تھے۔ گارڈ نے کپڑوں سمیت چھلانگ لگا دی۔ پیٹ دبا کر پانی نکالا، ہاتھوں اور ٹانگوں کو ہلا کر ان کی ورزش کروائی۔ چند منٹ بعدہوش آیا تو لگا سب کچھ خواب تھا ۔۔۔۔۔دو سال کیفیت یہ رہی کہ نالی میں بھی بہتا پانی دیکھ لیتا تو چکر آنے لگتے اور دل ڈوبنے لگتا ۔لیکن پھر ہمت کرکے دوبارہ پول میں اترا اور تیرنا سیکھا اور پھر بہت سے لوگوں کو سکھایا بھی۔۔۔۔دو ہزار چھ میں ایک کام کے سلسلے میں لاہور جانا ہوا۔رات کو ایک ڈیڑھ بجے کام سے فارغ ہوگئے تو سوچا  اب یہاں کیا رکنا۔ ڈرائیور ساتھ ہے واپس نکلتے ہیں۔فروری کا مہینہ تھا اور کچھ جگہوں پر دھند سے واسطہ پر رھا تھا۔جب تاندلیانوالہ سمندری روڈ سے اتر کر کنجوانی روڈ پر گاڑی مڑی تو میں نے اپنی سیٹ بیلٹ کھول دی کہ اب گھر زیادہ دور نہیں رھا۔ اور اگلے ہی لمحۓ دھند کا ایک ٹکڑا سامنے آگیا اور اس سے پہلے ڈرائیور گاڑی کی رفتار کم کرتا، گاڑی سڑک کے درمیان گنے کی ایک خراب ٹرالی کے نیچے گھس گئی۔ میں اچھلا اور میرا سرگاڑی کی ونڈ سکرین سے ٹکرایا اور گاڑی کا کنارہ ٹرالی کے پریشر سے پچک کر اس سیٹ کے ساتھ جا لگا جہاں لمحہ پہلے میں بیٹھا تھا۔ اگر سیٹ بیلٹ لگی ہوتی تو یقینا وہ مجھے اپنی لپیٹ میں لے چکا ہوتا۔ہوش اس وقت آیا جب لوگ مجھے نکال چکے تھے۔ اللہ کا شکرتھا کہ سر میں چند ٹانکوں کے علاوہ کہیں کوئی ضرب نہیں آئی تھی۔ 

مکھی شہد کیوں بناتی ہے


شہد دراصل وہ غذا ہے جو شہد کی مکھی اپنے لیئے سردیوں کیلئے محفوظ کرتی ہے۔ اور جس خوارک پر وہ اپنے بچے پالتی ہےشہد کی مکھی پھولوں سے دو طرح کی چیز اکھٹی کرتی ہے۔ ایک تو نیکٹر ہوتا ہے اور دوسرا پولنز۔پولن پھول کا نر حصہ پیدا کرتا ہے جو فیمیل حصے تک پہنچ کر پولی نیشن کا عمل کرواتا ہے۔نیکٹر ایک میٹھی رطوبت ہوتی ہے جو پھول پولی نیشن کیلئے مکھیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے پیدا کرتا ہے۔نیکٹر سے شہد بنتا ہے۔ جو شہد کی مکھی اپنے معدے میں بنی تھیلیوں میں جمع کرتی رہتی ہے اوراگر جسم کو ضرورت محسوس ہوتو جسم ان تھیلیوں کو پھاڑ کر اس کو استعمال بھی کر لیتا ہے۔ عام طور پر جب نیکٹر کا وزن شہد کی مکھی کے وزن کے برابر ہوجاتا ہے تو مکھی اپنے چھتے کو لوٹ جاتی ہے۔۔ اور وہاں سے ایک کھیل شروع ہوتا ہے وہ ہے نیکٹر کا ایک مکھی سے دوسری مکھی کو منتقلی ۔۔ اور یہ کھیل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک نمی کا تناسب بہت کم رہ جاتا ہے۔جو لگ بھگ ستر فیصد سے کم ہوکر بیس فیصد پر آجاتا ہے۔۔۔جب نمی کا تناسب اس قدر کم ہوجاتا ہے تو شہد کی تیاری مکمل ہوچکی ہوتی ہے۔اسےچھتے میں بنی ویکس کی نالیوں میں ڈال کر اوپر سے ویکس کا ڈھکن لگا کر محفوظ بنا دیا جاتا ہے۔اب آتا ہے سوال شہد تو نیکٹڑ سے بن گیا پولن کہاں گیا؟تو جناب جب بچوں کو شہد کھلایا جاتا ہے تو مکھی کو معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کو پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے اس لیئے شہد کے ساتھ پولن کا سینڈوچ تیار کرکے بچوں کو کھلایا جاتا ہے۔

قصہ ایک مثالی گائوں کا


کسی زمانے میں ماموں کانجن شہر کی شناخت اہل حدیثوں کا مشہور مدرسہ اور کجھور مارکہ صابن ہوا کرتے تھے۔ ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ بہت بڑی عمارت میں صوفی محمد عبداللہ کے ہاتھوں وجود میں آنے ادارہ آج بھی موجودہے۔ کسی زمانے میں دنیا بھر سے طالب علم حصول علم کی خاطر اس چھوٹے سے قصبے کا رخ کیا کرتے تھے۔ جس کے زیر اہتمام ہونے والے سالانہ اجتماع میں ملک بھر سے لوگ شرکت کیا کرتے تھے اور میزبانی کی ذمہ داریاں صرف مدرسہ کی انتظامیہ ہی نہیں بلکہ پورا شہر اور ارد گرد کے گاؤں سنبھالا کرتے تھے لیکن حالات نے کروٹ بدلی تو اجتماع بھی ختم ہوگیا اور بیرونی ممالک سے طلبہ کے آنے پر بھی پابندی لگ گئی۔ اسی جامعہ کی عمارت کے سامنے حاجی دین محمد صاحب کےکجھور مارکہ صابن کے کارخانے کی بلڈنگ ہے۔جو اپنے معیار کی وجہ سے ایک عرصے تک اپنی پہچان آپ تھا ۔ فیکٹری تو خیر اب بھی چل رہی ہے اور کاروبار بھی لیکن اب مارکیٹنگ کا دور ہے اور اس کے مالکان آج بھی معیار کی بنیاد پر صابن بیچنے کی کوشش کررہے ہیں اور کچھ حاجی صاحب کی کاروبار سے علیحدگی کے بعد پہچان دھندلکوں میں گم ہوتی جارہی ہے۔حاجی دین محمد صاحب سے آخری دنوں میں ان کے علاج معالجے کے سلسلے میں ملاقاتیں رہی ہیں ۔ بہت ہی نفیس انسان تھے۔آخری عمر میں گھٹنوں کی تکلیف کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے۔ ان کے ہاں جانے کا اتفاق ہوتاتو ان کی آنکھوں میں ایک چمک آجاتی۔جب  پوری ہمت جمع  کرکے بیٹھ کر سلام لینے کی کوشش کرتے تو بے ساختہ ان پر پیار آجاتا تھا۔اس قدر جامع انسان تھے کہ ان کی شخصیت  پر لکھنے کیلئے ایک الگ مضمون کی ضرورت ہے۔لیکن چند سال پہلے سوشل میڈیا پر ایک مثالی گاؤں کی اخباری رپورٹ شائع ہوئی ۔جس  کے بعد مامونکانجن کی شناخت میں اس گاؤں کا ذکر ملنا شروع ہوگیا ہے۔کہیں بھی مامونکانجن شہر کا تذکرہ  نکل پڑے تو فورا مثالی گائوں کے بارے سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا کوئی گائوں علاقے میں موجود ہے۔چند دن پہلے انباکس بنوریہ ٹاؤن  مدرسے کے ایک طالب علم نے اس گاؤں کے بارے کچھ سوالات کیئے تو سوچا کہ اس پر کچھ لکھا جانا چاہیئے۔صوفی عبداللہ صاحب نے 1931 میں اپنے مدرسے کی بنیاد اوڈاں والی 493 گ ب میں ہی رکھی تھی لیکن اس زمانے کے اکلوتے ذریعہ مواصلات ریلوے  سے کافی دور ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مدرسے تک پہنچنے کیلئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جس کے پیش نظر  ریلوے سٹیشن کے قریب زمین خرید کر مدرسے کو    1964 میں وہاں منتقل کردیا گیا۔ لیکن گاؤں والوں نے پرانے مدرسے کو بند نہیں ہونے دیا اور مولانا یعقوب صاحب نے اس مدرسے کو جاری رکھا۔ ان کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے حافظ امین صاحب نے اپنے والد کی ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔مامونکانجن میں کلینک شروع کرنے کے کچھ عرصے بعد  میں ٹریفک حادثے میں جانبحق ہونے والے ایک جواں سال  کے جنازے میں شرکت کیلئے اوڈاں والی جانے کا اتفاق ہوا۔ امام صاحب نے جس رقت آمیز لہجے میں مرحوم کیلئے دعائیں کرنا شروع کیں تو بے اختیار آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایسے لگا جیسے اللہ سے مغفرت کا وعدہ لیکر ہی دعائیں ختم کریں گے۔ میرا اندازہ تھا کہ چونکہ جوان موت تھی اور وہ بھی ناگہانی تو شائد اسلیئے اتنے خشوع خضوع سے دعائیں کی گئیں ہیں لیکن دوبارہ پڑھنے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا وہ ہر جنازہ ہی اتنے خلوص اور درد کے ساتھ پڑھاتے ہیں۔حافظ امین صاحب سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ اور اوڈاں والی کو ایک مثالی گاؤں کی حیثیت دینے اور اسے برقرار رکھنے میں انہی باپ اور بیٹے کا سارا کردار ہے۔ہمارے ہاں مثالی کا لفظ سن کر ذہن میں فورا خیال آتا ہے کہ شائد گاؤں کی ہر گلی پختہ ہوگی۔ پورے گاؤں کو سیوریج کی سہولت میسر ہوگی۔گھر گھر سوئی گیس موجود ہوگی ۔ بھرے بازار ہونگے۔ ہر گھر پکا ہوگا۔ ۔خواندگی کا تناسب سو فیصد ہوگا اور ہر دوسرا بندہ اعلی تعلیم یافتہ  ہوگا۔گائوں کی معیشت بہت بلند ہوگی۔ ہر گھرانے کا شمار صاحب ثروت لوگوں میں ہوتا ہوگا۔
 تو ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ یہ وہ گاؤں  ہے جس کا کوئی جھگڑا آج تک تھانے نہیں پہنچا۔ہر تنازعہ مسجد میں طے پاجاتا ہے۔یہ وہ گاؤں ہے جس کی دکانوں پر سگریٹ کی فروخت ممنوع ہے۔جہاں صرف دو مسجدیں ہیں ایک تو وہ جس کے ساتھ مدرسہ منسلک ہے اور دوسری لوگوں کی سہولت کی خاطر گاؤں کے دوسرے کنارے کچھ عرصہ پہلے تعمیر کی گئی تھی لیکن اذان کیلئے اس کا سپیکر مرکزی مسجد سے منسلک ہے۔ یہ وہ گاؤں ہے جہاں بارات کے ساتھ بینڈ باجا لانے کی اجازت نہیں ۔اگر کسی نے ایسا کیا تو پورا گائوں اس گھرانے کا بائیکاٹ کردیتا ہے۔ ہر نکاح مسجد میں ہوتا ہے اور گاؤں کی اپنی جنازہ گاہ ہے ۔ وفات کا صدمہ کسی بھی گھرانے کو اٹھانا پڑے لیکن اس کے جنازے میں پورا گائوں شرکت کی کوشش کرتا ہے۔ گاؤں کا قبرستان انتہائی منظم اورقبریں انتہائی ترتیب کے ساتھ بنائی جاتی ہیں ۔پورے قبرستان میں کوئی قبر پختہ نہیں دکھائی دے گی۔ کیبل کا داخلہ تو ممنوع  تو ہے ہی ۔لیکن دوسرے گاؤں جانے کیلئے بھی کیبل کو گاؤں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پورے گاؤں میں ناجائز تجاوزات نظر نہیں آئیں گی ۔اس لیئے گاؤں کی گلیاں اور بازار آج بھی کشادہ نظر آتے ہیں اور کسی چوک میں نوجوانوں کی ٹولیاں کھڑی دکھائی نہیں دیں گی۔ ہاں بیٹھکیں آباد ہیں، جہاں خوب محفلیں جمتی ہیں۔ حافظ امین صاحب کے زیر نگرانی ایک انجمن کام کرتی ہے جو غریب بچیوں کیلئے شادی کا اہتمام کرتی ہے۔۔۔

بتانے کو شائد کچھ اور باتیں بھی ہوں  لیکن اہم بات یہ ہے کہ نظریات یا نظریاتی ہم آہنگی کسی بھی سماج کے دو فیصد سے بھی کم افراد کا مسئلہ ہوتا ہے۔ جو کہ حل کا متقاضی بھی نہیں ہوتا۔ اور معلوم تاریخ سے ہمیں یہ بھی پتا چلا ہے کہ نظریاتی ہم آہنگی ممکنات میں شائد کم ہی آتی ہے۔اوڈاں والی گائوں سے  میں دو سبق ڈھونڈتا ہوں ایک تنظیم اور دوسرا لیڈرشپ۔لہذا اگر اس گاؤں کو ایک چھوٹی اکائی تصور کر کے اس ڈھانچہ پر بڑے لیول پر ضروری تبدیلیوں کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو کیا وجہ ہےکہ ہم ایسے مثالی "گاؤں" تخلیق نہ کر سکیں۔
میم سین

تبصرہ کتب


Shelter Of The Golden Rosewood by Pritam Singh Mahna

فرام سپاہی ٹو صوبیدار، آٹوبائیوگرافی آف لطف اللہ اور ٹریولز ان انڈیا ایسی کتابیں تھیں کہ جنہوں نے مجھے سوانح عمریاں پڑھنے پر لگا دیا تھا۔اگرچہ ٹریولز ان انڈیا کا دوسرا والیم کوشش کے باوجود مل نہیں سکا اس لیئے اس کتاب کی تشنگی ابھی تک باقی ہے۔اور اب فیس بک کے توسط سےملنے والے پریتم سنگھ ماہنا کی اس کتاب نے ایک بار پھر سحر پھونکا ہے کہ کتاب کا پہلا صفحہ شروع کیا تو پھر ختم کرکے کی ہی اٹھا۔شیلٹر آف دا روزوڈ جدوجہد کی ایک لازوال داستان ہے ہے۔جو پریتم سنگھ ماہنا کی زندگی پر مبنی ہے پاکستان میں منڈی بہاؤلدین کے ایک گاؤں میں ایک غریب کسان کے گھر آنکھ کھولی تو خود کو مصائب اور مسائل کے لمبے سلسلوں میں خود کو قید پایا۔لیکن یہ داستان ان کی پیدائش سے شروع نہیں ہوتی بلکہ کہانی کے سرے ان کے والد کی پیدائش سے بھی پہلے جڑےہوئے ہیں ۔مصنف نے واقعات کو غیر ضروری طوالت سے بچایا ہے۔ واقعات کے بیان میں بھی مقصدیت کو سامنے رکھا ہے۔ اسے کوئی افسانوی رنگ دینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ کتاب کا آغاز ہی کچھ ایسا دلچسپ ہے کہ ایک بار جب پڑھنا شروع کریں تو پھر کتاب بند کرنے کی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔تقسیم سے پہلے کی زندگی کی تلخیاں ،ہجرت اور اس دوران پیش آنے والے اندوھناک واقعات ۔ پناہ گزیں کیمپوں کے دردناک حالات، مسائل در مسائل۔پناہ گزیں کیمپ سے نکل کر جھگیوں تک کا سفر۔ اور تعلیمی مشکلات لیکن کوئی بھی تکلیف کوئی بھی رکاوٹ پریتم سنگھ ماہناکو آگے بڑھنے سے نہ روک سکی۔ 
یہ کتاب محض ایک شخص کی داستان حیات ہی نہیں ہے۔اور نہ ہی ایک شخص کی جدوجہد کا نام ہے۔ بلکہ یہ ایک تاریخی سند کا درجہ رکھتی ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کا رہن سہن کیسا تھا، ایک عام آدمی کی مشکلات کیا تھیں، اسباب زندگی کیا ہوتے تھے۔ خواراک کے مسائل کیا تھے۔ رشتے کیسے نبھائے جاتے تھے۔ اس کتاب کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں تقسیم ہند کے وقت ہونے والی قتل وغارت کا ایک ایسا رخ بھی دکھایا گیا ہے جو شائد ان کیلئے بالکل نیا ہو جو تقسیم ہند کو صرف ایک زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ہندوستان منتقل ہونے کے بعد جن صعوبتوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا وہ سب کچھ پڑھ کر دل بھر جاتا ہے۔ ایک عجیب بے بسی اور بیچارگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ لیکن جہدمسلسل، دیانت ، صداقت اور مصمم ارادوں سے سے جس مقام تک پہنچے وہ ناصرف سب کیلئے مشعل راہ ہے بلکہ زندگی میں کامیابی کے بنیادی اصولوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے
تقسیم کے بعد جب پہلی بار پریتم سنگھ ماہنا پاکستان آئے تواپنی روداد کو یوں بیان کیا
MY FIRST VISIT TO PAKISTAN AFTER THE PARTITION
In the year 1998, I received a telephonic invitation from the brother of my daughter-in-law's grandfather from Pakistan. After the partition, he had opted to continue to be there after embracing Islam.To get a visa, I approached the Visa Officer in the office of the High Commission of Pakistan. He was, nevertheless, reluctant to issue the Visa without obtaining a verification from the Ministry of External Affairs in Islamabad and that would have taken about 6 months . I, therefore decided to blackmail him emotionally. I talked to him in Punjabi "Mainu bahut afsos lag riha hai ke saadi jis zameen te tusi Pakistan banaya, asin oh vekhan vi nahi ja sakde" (I am feeling tense to imagine that we cannot see our own land over which you have created Pakistan). Hearing this, he laughed a lot and ultimately, issued to me the visa instantly.We (I alongwith my two brothers, one sister-in-law and my wife) reached CHAK 19 JANUBI, Padhiyawali, P.S. Kotmoman, Distt. Sargodha on 3rd March, 1998. The affection showered by the entire family there, is beyond description and in case I mention the details, the Post will be in a big volume.The Head of the family Sheikh Ghulam Rasool (Original Hindu name: Hans Raj Oberoi) took over the charge of our tour to various destinations one of which was my home village Rukkan. He took out his own car and did not allow us to spend even a rupee from our pocket during the entire tour.After showing us his Kinnoo Gardens in the village, and Sargodhacity, He took us to Rukkan, our native place (our actual native village was "Bhutta Mahnia da", but in the year 1921, my father had shifted to Rukkan). First of all, we entered my school then I studied in. All the teachers were so excited to meet us that they would not allow us to go till such time as we all had been served with tea and snacks. We were then taken to the Pori Family's Haveli. The host's family and friends were about 25 in number. We chatted a lot with them and each of them was overjoyed to meet us all. They served us with LASSI, Tea and snacks. Nevertheless, they were not prepared to believe that our speaking language was the same Punjabi as that of Rukkan.The head of the Pori family Mr. Ghulam Qadir Pori, took us to our ex-houses. A large mob of people had gathered on the road and outside our ex-houses on learning about our arrival from India. We were then seen off. We had walked about 100 meters when we stopped in front of a shop of utensils. After buying a few, we were still in the process of making payment when the Poris came running and paid the money to the shopkeeper on our behalf.While leaving Pakistan, we were required to get a clearance certificate from Police Station, Kotmoman. Here too, the Inspector on duty paid a lot of respects and regards and did not allow us to leave without serving refreshment. On coming out of the Police Station, we saw the kiosk owner outside and he too, with tears in his eyes, persuaded us to accept his tea, since, according to him, he was a very poor man and, thus, should not be discarded on account of his poverty. Besides, he gave us a few gifts before we left.To return to India, we had to take a bus from Kotmoman, The entire family of Sheikh Ghulam Rasool had come to see us off. He purchased the tickets with his money and thus, we had not spent even a rupee while in Pakistan in the first week of March, 1998.The entire family had tears in their eyes.How great the Pakistanis are in the matter of respecting the guests despite the fact that we were from a rival country.



کسی دوست کو پڑھنے سے دلچسپی ہے تو کتاب کیلئے مجھ سے یا مصنف سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں میم سینPritam Singh Mahna

کچھ نکسیر کے بارے میں



کچھ نکسیر کے بارے میں
ناک میں سے خون کا آجانا ایک ایسا مسئلہ ہے جو اکثر وبیشتر دیکھنے کو ملتا ہے۔یہ ایک معمول کا مسئلہ ہے جس کا اکثر بچوں کو سامنا کرنا پڑتاہے۔ اگر بچوں میں یہ مسئلہ کبھی کبھار پیش آئے تو زیادہ فکرمندی کی بات نہیں ہوتی لیکن بار بار ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔۔ کئی بار بڑوں میں بھی دیکھنے میں آجاتا ہے
نکسیر کیا ہے؟اس مرض میں ناک کے اندر دباؤ بڑھ جانے سے کوئی کمزور یا نازک شریان پھٹ جاتی ہے جو اوپر والی جھلی کو پھاڑ کر بہنا شروع ہوجاتا ہے۔۔ خون کبھی قطروں اور کبھی دھار کی صورت میں بہتا ہے۔موسم گرما میں یہ تکلیف زیادہ ہوتی ہے تاہم موسم سرما میں بھی ہو جاتی ہے۔ عام طورپر چھوٹی عمر کے بچے اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
نکسیر کیوں پھوٹتی ہے؟نکسیر کو اکثر گرمی سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن طبی طور پر نکسیر پھوٹنے کا سبب بچوں کی ناک کے اندر خون لے جانے والی نسوں کا کمزور ہونا ہے۔ اس عارضے میں مبتلا بچوں کی ناک کی خون کی نسیں پھول جاتی ہیں اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے یا پریشر بڑھنے ان سے خون بہنے لگتا ہے۔ دوسری وجوہات میں سر یا ناک پر چوٹ لگناناک میں انگلی مار کر زخم کرلیناناک میں بہت زیادہ الرجی والے سپرے کا استعمالہڈی کا ٹیڑھا ہوناناک میں کسی انفیکشن یا پھنسی پھوڑے کا ہونااس کے علاوہ کچھ بچوں میں خون جمنے کا عمل سلو ہوتا ہے ان میں بھی ناک سے خون آنے کی شکائیت اکثر ہوتی ہےبڑی عمر کے افراد میں نکسیر کی بڑی وجہ چوٹ کے بعد عام طور پر ہائی بلڈ پریشر کا مرض ہوتا ہے۔
خون کو کیسے روکا جائے:اس کیلئے ڈھیڑوں ٹوٹکے بتائے جاتے ہیں لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عارضی فائدہ کسی مستقل عارضے کی بنیاد رکھ دیتا ہے۔اس لیئے سنے سنائے ٹوٹکوں سے مریض کو دور رکھیں ناک کو بہت زور سے نہ جھاڑیںمنہ کے ذریئے سانس لینے کا کہیں اور ناک کو دوانگلیوں کی مدد سے مضبوطی سے دس منٹ تک دبا کر رکھنے کو کہیں،اگر بچہ چھوٹا ہے تو خود دبا کر رکھیںسر میں پانی ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔البتہ ٹھنڈے پانی میں پٹیاں بھگو کر نتھنوں پر رکھیں. روئی سے بھی نتھنوں کو بند کیا جا سکتا ہے۔دس منٹ بعد ناک کو چھوڑ کر دیکھیں اگر خون رک گیا ہے تو ٹھیک ورنہ دس منٹ مزید دبا کر رکھیں۔ناک کو 5 سے 10 منٹ تک مسلسل دبا کر رکھنا ضروری ہےدرمیان میں یہ نہ دیکھیں کہ خون رک گیا یا نہیں۔ اگر آدھے گھنٹے کے بعد بھی خون نہ رکے تو فوری طور پر قریبی میڈیکل سنٹر تک پہنچیںبچاؤ:عام طور پر عمر کے ساتھ یہ مسئلہ خود بخود بہتر ہوجاتا ہے۔ناک کی جھلی خشک نہیں رہنی چاہیے. اس سے بچنے کیلئے سردیوں میں بھاپ کا استعمال کریں یا نارمل سیلائین کے قطرے ڈالیں. یا کاٹن بڈ پر ویزلین لگا کر ناک میں لگائیں۔یا انگلی کی مدد سے سرسوں کا تیل ناک میں لگا کر رکھیںایسے بچے جن کو نکسیر پھوٹنے کی اکثر شکائیت ہوجاتی ہے ان کو سٹرس پھل جیسے مالٹا کینو گریپ فروٹ کا استعمال زیادہ کروایا جائے تو نکسیر پھوٹنے کے واقعات کافی کم ہوجاتے ہیںکچھ بچوں کا مرض خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بار بار نکسیر پھوٹنے کی صورت میںیا نکسیر کے بہت زیادہ دیر سے رکنے کی صورت میں بچے کا اسپیشلسٹ سے تفصیلی معائنہ کروالیں، کیوں کہ ایسے بچوں کو مستقل اور بھرپور علاج کی ضرورت ہوسکتی ہے۔۔ 

کچھ وٹامن ڈی کے بارے میں



کچھ عرصے سے پاکستان میں وٹامن ڈی کی جسم میں کمی کے حوالے سے کافی فکرمندی پائی جارہی ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ پچھلے دس سے پندرہ سالوں میں اس کے کمی کے شکار مریضوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔


وٹامن ڈی تھری کیا ہے؟ہمارے جسم میں مختلف قسم کے وٹامن پائے جاتے ہیں۔جن کا کام جسم کے مختلف نظاموں کو چلانے میں مدد دینا ہے۔ایسا ہی ایک وٹامن ،وٹامن ڈی بھی ہے۔ یہ وٹامن مختلف صورتوں میں پایا جاتا ہے جیسے وٹامن ڈی ون، ٹو، تھری وغیرہ۔۔۔ وٹامن ڈی کا کام خون میں کیلشیم اور فاسفورس کی جسم کو درکار نارمل مقدار کو برقرار رکھنا ہے۔جسم میں پایا جانے والا ایک گلینڈ فیصلہ کرتا ہے کہ جسم کو کتنا کیلشیم درکار ہے اور وہ گردوں کو وٹامن ڈی کی ایکٹوو حالت تیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور وٹامن ڈی ایکٹوو فارم میں خون میں کیلشیم اور فاسفورس کی مقدار کو ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کرکے دیتا ہے ۔بچوں میں ناصرف ہڈیوں کے بننے کے عمل کیلئے کیلشیم بہت ضروری جزو ہےبلکہ دانتوں کی مضبوطی کیلئے بھی ۔ اور بڑوں میں یہ ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی کو برقرار رکھنے کیلئے بہت ضروری ہوتا ہےنئی تحقیقات کے مطابق وٹامن ڈی قوت مدافعت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس کے علاوہ دل اور پھیپھروں کو صحتمند رکھنے کیلئےاپنا کام کرتا ہے۔ علاوہ ازیں دماغ کی نشوونما میں بھی اس کے کردار کو تسلیم کیا جارھا ہے۔ بلکہ کینسر کی کچھ اقسام کوجسم میں قدرتی طریقے سے روکنے والے عوامل میں بھی وٹامن ڈی کو دیکھا گیا ہے


وٹامن ڈی کہاں سے آتا ہے؟وٹامن ڈی ہماری کچھ غذائوں میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔جیسے دودھ گوشت، مچھلی، دھی، پنیر، انڈہ،پالک،کلیجی، بادام۔اس کے علاوہ سورج کی روشنی حاصل کرکے جسم خود بھی یہ وٹامن بناتا ہے۔


وٹامن ڈی کی کمی کن افراد کو ہوتی ہے؟ایسے افراد جو ایسی خوراک کم استعمال کرتے ہیں جن میں وٹامن ڈی بہت کم پایا جاتا ہے۔جیسے سبزی خورایسے افراد جن کو سورج کی روشنی بہت کم میسر آتی ہےبہت زیادہ موٹاپابڑھاپاگردوں اور انتڑیوں کی کچھ پیدائشی بیماریاں ماں کا دودھ پینے والے ایسے بچے جن کی مائیں وٹامن ڈی کی کمی کا پہلے سے شکار تھیں یاایسے بچے جن کو لمبے عرصے تک ٹھوس غذا استعمال نہ کروائی جائے اور صرف ماں کے دودھ پر رکھا جائے۔


علاماتبچوں میں چونکہ ہڈیاں بننے کا عمل ابھی چل رھا ہوتا ہے اس لیئے وٹامن ڈی کی کمی کی علامتیں جلد محسوس کی جاسکتی ہیں ہیں۔جیسے ٹانگوں میں دردرہنا،سستی اور کاہلی کا شکار رہنا، تھوڑی سی مشقت پر تھک جانا۔ اگر لمبے عرصےتک کمی رہے تو ہڈیاں نرم اور کھوکھلی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے ٹانگ کی ہڈیوں کا ٹیڑہ ہونا،ریڑھ کی ہڈی میں خم پڑنا، سر کا بڑھا ہوا محسوس ہونا۔ پسلیوں کا اندر کو دھنسنا۔ بعض اوقات ہڈیوں کا ہلکی سی چوٹ پر ٹوٹ جانا۔بڑوں میں کمزوری کا احساس رہنا،جلد تھکاوٹ ہونا، کمر درد، پٹھوں میں کچھاؤ، ٹانگوں میں درداورمعمولی نوعیت کی چوٹ پر ہڈیوں کا ٹوٹ جانا وٹامن ڈی کی کمی سے قوت مدافعت میں کمی آجاتی ہے اور خصوصا بچے بار بار انفیکشن کا شکار ہورہے ہوتے ہیں


ایک نارمل انسان کو کتنا وٹامن ڈی روزانہ درکار ہے؟ایک سال تک کے بچے کو 400انٹرنیشنل یونٹ روزانہ۔ ایک سال سے لیکر بڑھاپا شروع ہونے تک 600یونٹ اور بڑھاپے میں 800 یونٹ تک روزانہ درکار ہوتے ہیں۔حمل کے دوران بھی600 یونٹ درکار ہوتے ہیں۔


کمی کیسے پوری کی جائے؟ایسی غذاؤں کو خوراک کا حصہ بنایا جائے جن میں وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔چونکہ یہ وٹامن چربی میں حل پذیر ہے اس لیئے ایک دفعہ اچھی مقدارکھانے سے کافی عرصے کیلئے جسم میں محفوظ ہوجاتی ہے۔روزانہ دھوپ میں چہل قدمی یا دھوپ میں کچھ وقت گزارنا۔بچوں کو کپڑے اتار کر دھوپ میں روزانہ لٹایا جاسکتا ہےوٹامن ڈی کو دوائی کی صورت استعمال کرنا۔


چونکہ وٹامن ڈی کی کمی کافی زیادہ دیکھنے میں آرہی ہے اس لیئے اگر بچوں کو روزانہ کی درکار مقدار باقائدگی سے دینا شروع کردیا جائے تو ان میں کمی سے ہونے والے نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔یاد رہے وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار نقصان دی ہوسکتی ہے۔علاوہ ازیں کچھ مریضوں کو کیلشیم کی کمی کا بھی سامنا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ کیلشیم کو انتڑیوں سے جذب کرنے والے کچھ اجزا کی کمی بھی جسم میں کیلشیم کی کمی کا باعث بنتے ہیں ۔صرف وٹامن ڈی کا استعمال سودمند ثابت نہیں ہوگا۔ اس لیئے دوائی کے استعمال سے پہلے اپنی قریبی ڈاکٹر سے ضرور رجوع کرلیںمیم سین

کٹاس کے مندر


یہ پچھلی سردیوں کی بات ہے جب پہلی بار کٹاس جانے کا پروگرام بنایا ۔طیب کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تو اس نے خوش دلی سے  قبول کرلی لیکن جس دن جانا تھا اس سے ایک دن پہلے ایک قریبی عزیزہ کے انتقال کرجانے کی وجہ سے پروگرام کینسل ہوگیا۔پھر دھند کا سلسلہ شروع ہوا تو پورا مہینہ رکنے کا نام نہیں لیا۔ پھر خدا کا کرنا کچھ ایسا ہوا طیب بیوی کو پیارا ہوگیا۔یوں کٹاس دیکھنے کا خواب خواب ہی رہ گیا۔
چند دن پہلے کسی کام سے اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو واپسی پر اچانک کٹاس کی یاد دوبارہ جاگ اٹھی اور یوں کٹاس کے دیومالائی مندر دیکھنے کی خواہش مکمل ہوگئیکٹاس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ کہ مقدس جگہ ہے وہاں پر سیاحوں کو بھی ننگے پاؤں جانا پڑتا ہے۔چونکہ یہ جگہ ناصرف ہندوؤں بلکہ بدھ مت اور سکھ مذہب کے ماننے والوں کیلئے بھی مقدس ہے اس لیئے  ہزاروں لوگ بھارت سے ہر سال اس جگہ کی زیارت کیلئے آتے ہیں ۔اس لیئے ذہن میں ایک بہت صاف شفاف اور پرسکون جگہ کا تصور تھالیکن وہاں جانے کے بعد معلوم ہوا یہ جگہ بھی  پاکستان کی دوسری تاریخی جگہوں سے زیادہ مختلف نہیں۔ ایک مندر کے ساتھ لوگ باربی کیو کا اہتمام کرچکے تھے اور دوسرے مندر کے ساتھ چاول پک رہے تھے۔ ایک جگہ کچھ نوجوان چپس کھا رہے تھے اور کولڈ ڈرنکس کی خالی بوتلوں سے مندر کی دیواروں کا نشانہ لے رہے تھے۔ایک جگہ ایک فیملی دستر خوان بچھائے کھانے کا اہتمام کررہی تھی۔ کچھ نوجوان مندر کے اوپر چڑھنے کی شرط پوری کرنے کی کوشش کررہے تھے تو کسی کو کھڑکیوں پر چڑھ کر سیلفی بنانے کا شوق ستا رھا تھا۔ اور یوں ایک دیومالائی جگہ کی تصویر جو کئی سالوں سے میں اپنے ساتھ لیے پھر رھا تھا وہ ٹوٹ گئی۔متعدد ہندو دیو مالائی داستانوں کے مطابق شیو نامی دیوتا نے ستی نامی دیوی کے ساتھ اپنی شادی کے بعد کئی سال کٹاس راج میں ہی گزارے تھے۔ ہندو عقیدے کے مطابق کٹاس راج کے تالاب میں نہانے والوں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ دو ہزار پانچ میں جب بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی پاکستان آئے تھے تو انہوں نے خاص طور پر کٹاس راج کی یاترا کی تھی۔چوہاسیدن شاہ سے کچھ ہی دوری پر کٹاس کا کمپلکس واقع ہے۔ جو سات مندروں اور بدھ مت اور سکھوں کی عبادت گاہوں کا ایک سلسلہ ہے۔ہندو عقیدے کے مطابق شیو کی بیوی سیتا کا جب انتقال ہوا تھا تو شیو کے آنسوؤں سے دو لڑیاں جاری ہوگئی تھیں جن سے پانی کے دو تالاب وجود میں آئے تھے ۔ ایک تو بھارت میں  پشکارجو اب نینی تال کہلاتا ہے نامی علاقے میں پیدا ہوا تھا اوردوسرا کٹاشکا  میں بنا،جو بگڑتے بگڑتے کٹاس رہ گیا ہے میں وجود میں آیا تھا۔لیکن کچھ داستانوں میں ذکر ہے کہ شیو جی پتنی کے مرنے پر نہیں بلکہ اپنے سب سے پسندیدہ  گھوڑے کے مرنےپر روئے تھے،۔ بحرحال وجہ جو بھی ہو شیو جی روئے تھے، یہ سب روایات میں ذکر ملتا ہے۔ اس تالاب کے پانی کو مقدس جانا جاتا ہے اور ہندوؤں اور دوسرے مذاہب  کے عقیدے کے مطابق  مخصوص تہواروں کے موقع پر اس میں نہانے سے گناہ دھل جاتے ہیں ۔ایک ہندو روایت کے مطابق کوروں کے ساتھ لڑائی کے بعد شکست کے بعد پانڈوں نے بارہ سال کٹاس میں گزارے تھے۔ جس دوران انہوں نے متعدد مندر تعمیر کروائے اس سے ان مندروں کی تاریخی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوروں اور پانڈوں یعنی مہا بھارت کے زمانے میں بھی موجود تھے۔کٹاس کی شہرت کی ایک بہت اہم وجہ وہ قدرتی چشمے بھی ہیں، جن کے پانیوں کے ایک دوسرے کے ساتھ مل جانے سے گنیا نالہ وجود میں آیا تھا۔کٹاس راج کے تالاب کی گہرائی تیس فٹ ہے اور یہ تالاب آہستہ آہستہ خشک ہوتا جا رہا ہے۔جس کی وجہ علاقے میں  قائم سیمنٹ فیکٹریاں بتائی جاتی ہیں۔  شری کٹاس راج کے مندروں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ تالاب کے ارد گرد یا قریب ہی یہ مرکزی مندر اور دیگر عبادت خانے دو دو کے جوڑوں کی شکل میں بنائے گئے ہیں۔۔سکھ جنرل نلوا نے کٹاس راج میں جو حویلی تعمیر کروائی، اس کے چند جھروکے آج بھی کافی حد تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔شری کٹاس راج کے مندروں اور دوسری عمارات کے کئی حصوں میں مونگے کی چٹانوں، جانوروں کی ہڈیوں اور فوصل شدہ آبی حیات کی ایسی قدیم باقیات دیکھی جا سکتی ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان صدیوں پرانے آثار کی تعمیر میں سمندری یا دریائی پانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔مقامی لوگوں سے یہ بھی سننے میں آیا کہ البیرونی نے اسی جگہ پر کھڑے ہو کر کرہ ارض کا قطر ماپا تھا۔
میم سین

میرا شہر



سنا ہے کہ چھوٹی اینٹ سے بنے اس دو منزلہ مکان کو جس میں، میں نے اپنی آنکھ کھولی تھی ، ایک سکھ پولیس انسپکٹر نے بہت محبت  سے بنایا تھا۔ بھارت میں رہ جانے والی تحصیل نکودر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تو دادا جی نے جب کمالیہ میں بسیرا ڈالا تو یہ مکان ان کو الاٹ ہوگیا تھا۔ اونچی چھت کے اس مکان کو چھوڑے اگرچہ اب کئی برس بیت گئے ہیں لیکن میں اور میرا ناسٹیلجیا آج بھی وہیں آباد ہیں۔ گھر کی پہلی منزل کی کچی مٹی سے بنی چھت سردیوں میں دھوپ سینکنے اور گرمیوں میں رات کو سونے کے کام آتی تھی اور دوسری منزل سردیوں میں پتنگ بازی کے اور گرمیوں میں ویران رہتی تھی۔دوسری منزل سے میرے بھائی باقائدہ ڈور کو مانجھا لگا کر خوب پیچ لڑایا کرتے تھے اور میں کبھی کبھار کسی پلاسٹک کے شاپر سے پتنگ بنا کر سلائی کے دھاگے سے باندھ کر بلند کیا کرتا تھا۔ چونکہ ہمارے گھر کی چھت اردگرد کے گھروں سے کافی بلند تھی اس لیئے جب کبھی تیز ہوا چلا کرتی تھی تو کاغذ کے ہوائی جہاز بنا کر خوب اڑایا کرتے تھے۔ پہلی منزل کے ہی ایک خالی کمرے میں سالانہ امتحان کی تیاری کیلئے بسیرا ڈالا کرتا تھا۔یہ وہی کمرہ تھا جس میں میرا وہ صندوق رکھا تھا جس کے بارے میں ایک بار لکھا تھایہ کوئی ساتویں یا آٹھویں جماعت کی بات ہے جب مجھے وہ اٹیچی کیس ملا تھا جو میری امی نے بوسیدہ جان کر پھینک دیا تھا۔ لیکن یہ بوسیدہ باکس میری کائنات بن گیا۔اس میں میری کل متاعِ حیات تھی۔اس میں پیپل کے وہ پتے تھے جو میں نے جاڑے کے دنوں میں اس ویران ریلوے سٹیشن سے اٹھائے تھے جہاں ریل گاڑی خراب ہو کر ساری رات کھڑی رہی تھی۔ اس میں نیل کانٹھ کے وہ دو پر بھی تھے جسے میں زخمی حالت میں پکڑ کے لایا تھا اور جب وہ صحت یابی کے قریب تھا تو ایک بلی کا نوالہ بن گیا تھا۔اس میں وہ چھوٹا سا پودا بھی کاغذوں کے درمیان محفوظ کر رکھا تھا جو کول تار کی سڑک کا سینہ چیڑ کر اگ آیا تھا، اس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے وہ تعریفی خطوط بھی موجود تھے جو انہوں نے میرے بنائے ہوئے پوسٹرز کے جواب میں بھیجے تھے۔اس بکس میں اس کالے بھنورے کا حنوط شدہ جسم بھی تھا جسے میں نے جیم کی خالی بوتل مین ڈھکن میں سوراخ کر کے رکھا تھا مگر ایک دن ٹھنڈ میں باہر بھول گیا اور وہ سخت سردی برداشت نہ کر پایا تھا۔ اس میں میرے ہاتھ سے بنے اور دوسروں کے بھیجے عید کارڈ بھی تھے اور اخباروں اور میگزینوں کے تراشے بھی بھی ،جو گاہے بگاہے میں جمع کرتا رہتا تھا۔ایسی ہی بے شمار چیزیں جن سے میری گہری یادیں وابستہ تھیں۔جب ہم اپنے آبائی گھر سے ذیشان کالونی والے گھرشفٹ ہوئے تو میرے گھر والوں نے فالتو سامان کے ساتھ میری اس کل کائنات کو مجھ سے جداکر دیاتھا۔۔
  اسی چھت پر بارش کے بعد ٹوکرہ  کی مدد سے چڑیا پکڑا کرتا تھا۔کئی بار ایسا ہوا کہ چڑیا پکڑ بھی لی لیکن ان کو پکڑ کر کرناکیا ہے،یہ آج تک بات  سمجھ میں نہیں آئی اور کچھ گھنٹوں بعد اسے آزاد کر دیا کرتا تھا۔ گھر کا بڑا سا دلان وہ مرکزی کمرہ تھا جو گرمیوں میں لڈواور کیرم کی بازی جمانے کے کام آتا تھا اور سردیوں میں کوئلوں کی انگھیٹی کی مدد سے اسے گرم رکھا جاتا تھا ۔ وہی انگھیٹی جس میں ہم بہن بھائی آلو بھون کر کھایا کرتے تھے۔ یہ وہی گھر تھا جس کی سیڑھوں کے سامنے چھت سے آتی ہوا میں بیٹھ کر گرمیوں کا چھٹیوں کا کام کیاکرتے تھے اور دوپہر کو جب بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی تھی تو گھر کا بیرونی دروازہ کھول کرکراس ونٹیلیشن کا اصول اپنایا جاتا تھا۔ اور جب کھوئے والی قلفی کی آواز کانوں میں گونجا کرتی تھی تو سب گلی کی جانب بھاگتے تھے ۔
اگر کسی نے پرانا لاہور دیکھا ہوا ہے تو اس کیلئے کمالیہ شہر کا نقشہ سمجھنا  مشکل نہیں ہوگا۔ تنگ سی گلیاں اوراونچے اونچے مکان۔جہاں دن بھر کھوے سے کھوا چھلک رھا ہوتا ہے۔ گلیوں کی نکڑ پر کھڑے نوجوان کی ٹولیاں،اور ننگے بدن نیکریں پہنے لکڑی کی چھڑیاں تھامے ایک دوسرے کا پیچھا کرتے بچے،کسی کونے میں بنٹوں کا کھیل تو کسی نکڑ پر موبائل تھامے کوئی نوجوان، گھروں سے باہر جھانکتی عورتیں،گلیوں میں جھاڑو دیتی چھوٹی بچیاں ، گندی نالیوں سے چھلکتا پانی،اور گلیوں میں کھڑے پانی کے تالاب۔دہلیز پر وقت کی چادر اوڑھے پنکھا جھلتی بوڑھی عورتیں،  گھروں کے دروازے پر عموما کسی کپڑے کی آڑ اور بیٹھکوں کے کھلے دروازے جن میں کسی زمانے میں تاش کی بازیاں ہوا کرتی تھیں توکبھی اکھٹے ہوکر ریڈیو سنا جاتا تھا، اب ایل سی ڈیز پر نیوز یا سپورٹس چینل چلتے ہیں ۔ لوگ آج بھی اتنے ہی بے فکرے اور سہل پسند ہیں جتنے آج سے تیس سال پہلے تھے۔
 کہا جاتا  ہے کہ لگ بھگ سوا گیارہ لاکھ کی آبادی کا کمالیہ شہر آج جس جگہ آباد ہے کسی زمانے میں بڈھا راوی، جو شائد اس زمانے میں جوان تھا   بہا کرتا تھا۔ لیکن اب بیس کلومیٹر دور مسکن بنا چکا ہے ۔شہر کی اونچی نیچی گلیوں کو دیکھتے ہوئے اس مفروضے کومضبوط بنیاد ملتی ہے۔ ضلع ٹوبہ سنگھ کی تحصیل کمالیہ ایک تاریخی شہر ہے۔جس کے ایک طرف رجانہ شہر دوسری طرف چیچہ وطنی ہے۔ اسی طرح پیرمحل اور مامونکانجن بھی ہمسائے بنتے ہیں ۔کہا جاتا ہے جب سکند اعظم ہندوستان میں داخل ہوا تھا تب بھی راوی کے کنارے یہ شہر آباد تھا۔کہنے والے تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں لیکن اب سب کی کون سنے۔ تاریخی لحاظ سے کوٹ کمالیہ کے نام سے مشہور کمالیہ شہر کا نام کمال خان کھرل کے نام پر رکھا گیا تھا۔ جو کھرل برادری کے آباو اجداد میں سے تھے۔ لوگوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ اٹھارہ  سوستاون کی بغاوت میں کمالیہ شہر نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کمالیہ کے اس چھوٹے سے قصبے نے ایک ہفتے تک علم بغاوت اٹھائے رکھا تھا۔جہانگیر کے زمانے کی تاریخی جامعہ مسجد آج بھی کمالیہ کی تایخی اہمیت کی گواہی دینے کیلئے موجود ہے۔
کمالیہ ایک زرعی علاقہ ہے ۔ گندم ، کماد، کپاس، مکئی یہاں کی خاص اجناس ہے ۔ لیکن سبزیوں کی پیداوار کیلئے کافی مشہور ہے۔خاص طور پر ٹنل فارمنگ کے بعد سبزیوں کی پیداوار میں مرکزی شہر گنا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے بھنڈی کی سب سے بڑی منڈی کمالیہ ہے۔لیکن کمالیہ کی اصل پہچان کھدر ہے۔کسی زمانے میں شائد ہی کوئی محلہ یا گلی ایسی ہوا کرتی تھی جس میں کھدر بنانے والی کھڈی نہیں لگی ہوتی تھی لیکن اب شہر میں اکا دکا کھڈیاں رہ گئی ہیں ۔ شروع میں کھدر صرف سفید اور کیمل/زرد رنگ میں ہی دستیاب ہوا کرتا تھا ۔ وقت کے ساتھ نت نئے رنگوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو کپڑے کو ڈائی کرنے کیلئے  ملتان بھیجا جانے لگا۔ بدقسمتی سے کپڑے کو رنگنے کی صنعت کمالیہ میں نہ قائم ہوسکی اور ملتان کپڑے کو ڈائی  کیلئے بھیجنے کی وجہ سے کپڑے کی لاگت میں اضافہ ہونے لگا۔ جس کو کنٹرول کرنے کیلئے  کپڑا بننے کی صنعت ملتان منتقل  ہوگئی ۔لیکن کھدر کی فروخت کا سب سے بڑا مرکز آج بھی کمالیہ شہر ہی ہے اور کمالیہ کا کھدر کے نام سے ہی جانا جاتا ہےکمالیہ کی ایک اور پہچان یہاں جنم لینے والی پولٹری کی انڈسسٹری بھی ہے۔ ایک وقت تھا جب کمالیہ شہر انڈے کی پورے ملک کی ضرورت کا بڑا حصہ پیدا کیا کرتا تھا۔ اگرچہ اب یہ انڈسٹری پورے ملک میں پھیل چکی ہے لیکن اس انڈسٹڑی نے اپنا ابتدائی جنم یہیں پر لیا تھا ۔۔

Pages