Nostalgia, Scream and Flower

کٹاس کے مندر


یہ پچھلی سردیوں کی بات ہے جب پہلی بار کٹاس جانے کا پروگرام بنایا ۔طیب کو ساتھ چلنے کی دعوت دی تو اس نے خوش دلی سے  قبول کرلی لیکن جس دن جانا تھا اس سے ایک دن پہلے ایک قریبی عزیزہ کے انتقال کرجانے کی وجہ سے پروگرام کینسل ہوگیا۔پھر دھند کا سلسلہ شروع ہوا تو پورا مہینہ رکنے کا نام نہیں لیا۔ پھر خدا کا کرنا کچھ ایسا ہوا طیب بیوی کو پیارا ہوگیا۔یوں کٹاس دیکھنے کا خواب خواب ہی رہ گیا۔
چند دن پہلے کسی کام سے اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا تو واپسی پر اچانک کٹاس کی یاد دوبارہ جاگ اٹھی اور یوں کٹاس کے دیومالائی مندر دیکھنے کی خواہش مکمل ہوگئیکٹاس کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ کہ مقدس جگہ ہے وہاں پر سیاحوں کو بھی ننگے پاؤں جانا پڑتا ہے۔چونکہ یہ جگہ ناصرف ہندوؤں بلکہ بدھ مت اور سکھ مذہب کے ماننے والوں کیلئے بھی مقدس ہے اس لیئے  ہزاروں لوگ بھارت سے ہر سال اس جگہ کی زیارت کیلئے آتے ہیں ۔اس لیئے ذہن میں ایک بہت صاف شفاف اور پرسکون جگہ کا تصور تھالیکن وہاں جانے کے بعد معلوم ہوا یہ جگہ بھی  پاکستان کی دوسری تاریخی جگہوں سے زیادہ مختلف نہیں۔ ایک مندر کے ساتھ لوگ باربی کیو کا اہتمام کرچکے تھے اور دوسرے مندر کے ساتھ چاول پک رہے تھے۔ ایک جگہ کچھ نوجوان چپس کھا رہے تھے اور کولڈ ڈرنکس کی خالی بوتلوں سے مندر کی دیواروں کا نشانہ لے رہے تھے۔ایک جگہ ایک فیملی دستر خوان بچھائے کھانے کا اہتمام کررہی تھی۔ کچھ نوجوان مندر کے اوپر چڑھنے کی شرط پوری کرنے کی کوشش کررہے تھے تو کسی کو کھڑکیوں پر چڑھ کر سیلفی بنانے کا شوق ستا رھا تھا۔ اور یوں ایک دیومالائی جگہ کی تصویر جو کئی سالوں سے میں اپنے ساتھ لیے پھر رھا تھا وہ ٹوٹ گئی۔متعدد ہندو دیو مالائی داستانوں کے مطابق شیو نامی دیوتا نے ستی نامی دیوی کے ساتھ اپنی شادی کے بعد کئی سال کٹاس راج میں ہی گزارے تھے۔ ہندو عقیدے کے مطابق کٹاس راج کے تالاب میں نہانے والوں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ دو ہزار پانچ میں جب بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی پاکستان آئے تھے تو انہوں نے خاص طور پر کٹاس راج کی یاترا کی تھی۔چوہاسیدن شاہ سے کچھ ہی دوری پر کٹاس کا کمپلکس واقع ہے۔ جو سات مندروں اور بدھ مت اور سکھوں کی عبادت گاہوں کا ایک سلسلہ ہے۔ہندو عقیدے کے مطابق شیو کی بیوی سیتا کا جب انتقال ہوا تھا تو شیو کے آنسوؤں سے دو لڑیاں جاری ہوگئی تھیں جن سے پانی کے دو تالاب وجود میں آئے تھے ۔ ایک تو بھارت میں  پشکارجو اب نینی تال کہلاتا ہے نامی علاقے میں پیدا ہوا تھا اوردوسرا کٹاشکا  میں بنا،جو بگڑتے بگڑتے کٹاس رہ گیا ہے میں وجود میں آیا تھا۔لیکن کچھ داستانوں میں ذکر ہے کہ شیو جی پتنی کے مرنے پر نہیں بلکہ اپنے سب سے پسندیدہ  گھوڑے کے مرنےپر روئے تھے،۔ بحرحال وجہ جو بھی ہو شیو جی روئے تھے، یہ سب روایات میں ذکر ملتا ہے۔ اس تالاب کے پانی کو مقدس جانا جاتا ہے اور ہندوؤں اور دوسرے مذاہب  کے عقیدے کے مطابق  مخصوص تہواروں کے موقع پر اس میں نہانے سے گناہ دھل جاتے ہیں ۔ایک ہندو روایت کے مطابق کوروں کے ساتھ لڑائی کے بعد شکست کے بعد پانڈوں نے بارہ سال کٹاس میں گزارے تھے۔ جس دوران انہوں نے متعدد مندر تعمیر کروائے اس سے ان مندروں کی تاریخی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کوروں اور پانڈوں یعنی مہا بھارت کے زمانے میں بھی موجود تھے۔کٹاس کی شہرت کی ایک بہت اہم وجہ وہ قدرتی چشمے بھی ہیں، جن کے پانیوں کے ایک دوسرے کے ساتھ مل جانے سے گنیا نالہ وجود میں آیا تھا۔کٹاس راج کے تالاب کی گہرائی تیس فٹ ہے اور یہ تالاب آہستہ آہستہ خشک ہوتا جا رہا ہے۔جس کی وجہ علاقے میں  قائم سیمنٹ فیکٹریاں بتائی جاتی ہیں۔  شری کٹاس راج کے مندروں کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ تالاب کے ارد گرد یا قریب ہی یہ مرکزی مندر اور دیگر عبادت خانے دو دو کے جوڑوں کی شکل میں بنائے گئے ہیں۔۔سکھ جنرل نلوا نے کٹاس راج میں جو حویلی تعمیر کروائی، اس کے چند جھروکے آج بھی کافی حد تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔شری کٹاس راج کے مندروں اور دوسری عمارات کے کئی حصوں میں مونگے کی چٹانوں، جانوروں کی ہڈیوں اور فوصل شدہ آبی حیات کی ایسی قدیم باقیات دیکھی جا سکتی ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان صدیوں پرانے آثار کی تعمیر میں سمندری یا دریائی پانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔مقامی لوگوں سے یہ بھی سننے میں آیا کہ البیرونی نے اسی جگہ پر کھڑے ہو کر کرہ ارض کا قطر ماپا تھا۔
میم سین

میرا شہر



سنا ہے کہ چھوٹی اینٹ سے بنے اس دو منزلہ مکان کو جس میں، میں نے اپنی آنکھ کھولی تھی ، ایک سکھ پولیس انسپکٹر نے بہت محبت  سے بنایا تھا۔ بھارت میں رہ جانے والی تحصیل نکودر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تو دادا جی نے جب کمالیہ میں بسیرا ڈالا تو یہ مکان ان کو الاٹ ہوگیا تھا۔ اونچی چھت کے اس مکان کو چھوڑے اگرچہ اب کئی برس بیت گئے ہیں لیکن میں اور میرا ناسٹیلجیا آج بھی وہیں آباد ہیں۔ گھر کی پہلی منزل کی کچی مٹی سے بنی چھت سردیوں میں دھوپ سینکنے اور گرمیوں میں رات کو سونے کے کام آتی تھی اور دوسری منزل سردیوں میں پتنگ بازی کے اور گرمیوں میں ویران رہتی تھی۔دوسری منزل سے میرے بھائی باقائدہ ڈور کو مانجھا لگا کر خوب پیچ لڑایا کرتے تھے اور میں کبھی کبھار کسی پلاسٹک کے شاپر سے پتنگ بنا کر سلائی کے دھاگے سے باندھ کر بلند کیا کرتا تھا۔ چونکہ ہمارے گھر کی چھت اردگرد کے گھروں سے کافی بلند تھی اس لیئے جب کبھی تیز ہوا چلا کرتی تھی تو کاغذ کے ہوائی جہاز بنا کر خوب اڑایا کرتے تھے۔ پہلی منزل کے ہی ایک خالی کمرے میں سالانہ امتحان کی تیاری کیلئے بسیرا ڈالا کرتا تھا۔یہ وہی کمرہ تھا جس میں میرا وہ صندوق رکھا تھا جس کے بارے میں ایک بار لکھا تھایہ کوئی ساتویں یا آٹھویں جماعت کی بات ہے جب مجھے وہ اٹیچی کیس ملا تھا جو میری امی نے بوسیدہ جان کر پھینک دیا تھا۔ لیکن یہ بوسیدہ باکس میری کائنات بن گیا۔اس میں میری کل متاعِ حیات تھی۔اس میں پیپل کے وہ پتے تھے جو میں نے جاڑے کے دنوں میں اس ویران ریلوے سٹیشن سے اٹھائے تھے جہاں ریل گاڑی خراب ہو کر ساری رات کھڑی رہی تھی۔ اس میں نیل کانٹھ کے وہ دو پر بھی تھے جسے میں زخمی حالت میں پکڑ کے لایا تھا اور جب وہ صحت یابی کے قریب تھا تو ایک بلی کا نوالہ بن گیا تھا۔اس میں وہ چھوٹا سا پودا بھی کاغذوں کے درمیان محفوظ کر رکھا تھا جو کول تار کی سڑک کا سینہ چیڑ کر اگ آیا تھا، اس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کے وہ تعریفی خطوط بھی موجود تھے جو انہوں نے میرے بنائے ہوئے پوسٹرز کے جواب میں بھیجے تھے۔اس بکس میں اس کالے بھنورے کا حنوط شدہ جسم بھی تھا جسے میں نے جیم کی خالی بوتل مین ڈھکن میں سوراخ کر کے رکھا تھا مگر ایک دن ٹھنڈ میں باہر بھول گیا اور وہ سخت سردی برداشت نہ کر پایا تھا۔ اس میں میرے ہاتھ سے بنے اور دوسروں کے بھیجے عید کارڈ بھی تھے اور اخباروں اور میگزینوں کے تراشے بھی بھی ،جو گاہے بگاہے میں جمع کرتا رہتا تھا۔ایسی ہی بے شمار چیزیں جن سے میری گہری یادیں وابستہ تھیں۔جب ہم اپنے آبائی گھر سے ذیشان کالونی والے گھرشفٹ ہوئے تو میرے گھر والوں نے فالتو سامان کے ساتھ میری اس کل کائنات کو مجھ سے جداکر دیاتھا۔۔
  اسی چھت پر بارش کے بعد ٹوکرہ  کی مدد سے چڑیا پکڑا کرتا تھا۔کئی بار ایسا ہوا کہ چڑیا پکڑ بھی لی لیکن ان کو پکڑ کر کرناکیا ہے،یہ آج تک بات  سمجھ میں نہیں آئی اور کچھ گھنٹوں بعد اسے آزاد کر دیا کرتا تھا۔ گھر کا بڑا سا دلان وہ مرکزی کمرہ تھا جو گرمیوں میں لڈواور کیرم کی بازی جمانے کے کام آتا تھا اور سردیوں میں کوئلوں کی انگھیٹی کی مدد سے اسے گرم رکھا جاتا تھا ۔ وہی انگھیٹی جس میں ہم بہن بھائی آلو بھون کر کھایا کرتے تھے۔ یہ وہی گھر تھا جس کی سیڑھوں کے سامنے چھت سے آتی ہوا میں بیٹھ کر گرمیوں کا چھٹیوں کا کام کیاکرتے تھے اور دوپہر کو جب بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی تھی تو گھر کا بیرونی دروازہ کھول کرکراس ونٹیلیشن کا اصول اپنایا جاتا تھا۔ اور جب کھوئے والی قلفی کی آواز کانوں میں گونجا کرتی تھی تو سب گلی کی جانب بھاگتے تھے ۔
اگر کسی نے پرانا لاہور دیکھا ہوا ہے تو اس کیلئے کمالیہ شہر کا نقشہ سمجھنا  مشکل نہیں ہوگا۔ تنگ سی گلیاں اوراونچے اونچے مکان۔جہاں دن بھر کھوے سے کھوا چھلک رھا ہوتا ہے۔ گلیوں کی نکڑ پر کھڑے نوجوان کی ٹولیاں،اور ننگے بدن نیکریں پہنے لکڑی کی چھڑیاں تھامے ایک دوسرے کا پیچھا کرتے بچے،کسی کونے میں بنٹوں کا کھیل تو کسی نکڑ پر موبائل تھامے کوئی نوجوان، گھروں سے باہر جھانکتی عورتیں،گلیوں میں جھاڑو دیتی چھوٹی بچیاں ، گندی نالیوں سے چھلکتا پانی،اور گلیوں میں کھڑے پانی کے تالاب۔دہلیز پر وقت کی چادر اوڑھے پنکھا جھلتی بوڑھی عورتیں،  گھروں کے دروازے پر عموما کسی کپڑے کی آڑ اور بیٹھکوں کے کھلے دروازے جن میں کسی زمانے میں تاش کی بازیاں ہوا کرتی تھیں توکبھی اکھٹے ہوکر ریڈیو سنا جاتا تھا، اب ایل سی ڈیز پر نیوز یا سپورٹس چینل چلتے ہیں ۔ لوگ آج بھی اتنے ہی بے فکرے اور سہل پسند ہیں جتنے آج سے تیس سال پہلے تھے۔
 کہا جاتا  ہے کہ لگ بھگ سوا گیارہ لاکھ کی آبادی کا کمالیہ شہر آج جس جگہ آباد ہے کسی زمانے میں بڈھا راوی، جو شائد اس زمانے میں جوان تھا   بہا کرتا تھا۔ لیکن اب بیس کلومیٹر دور مسکن بنا چکا ہے ۔شہر کی اونچی نیچی گلیوں کو دیکھتے ہوئے اس مفروضے کومضبوط بنیاد ملتی ہے۔ ضلع ٹوبہ سنگھ کی تحصیل کمالیہ ایک تاریخی شہر ہے۔جس کے ایک طرف رجانہ شہر دوسری طرف چیچہ وطنی ہے۔ اسی طرح پیرمحل اور مامونکانجن بھی ہمسائے بنتے ہیں ۔کہا جاتا ہے جب سکند اعظم ہندوستان میں داخل ہوا تھا تب بھی راوی کے کنارے یہ شہر آباد تھا۔کہنے والے تو اور بھی بہت کچھ کہتے ہیں لیکن اب سب کی کون سنے۔ تاریخی لحاظ سے کوٹ کمالیہ کے نام سے مشہور کمالیہ شہر کا نام کمال خان کھرل کے نام پر رکھا گیا تھا۔ جو کھرل برادری کے آباو اجداد میں سے تھے۔ لوگوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ اٹھارہ  سوستاون کی بغاوت میں کمالیہ شہر نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کمالیہ کے اس چھوٹے سے قصبے نے ایک ہفتے تک علم بغاوت اٹھائے رکھا تھا۔جہانگیر کے زمانے کی تاریخی جامعہ مسجد آج بھی کمالیہ کی تایخی اہمیت کی گواہی دینے کیلئے موجود ہے۔
کمالیہ ایک زرعی علاقہ ہے ۔ گندم ، کماد، کپاس، مکئی یہاں کی خاص اجناس ہے ۔ لیکن سبزیوں کی پیداوار کیلئے کافی مشہور ہے۔خاص طور پر ٹنل فارمنگ کے بعد سبزیوں کی پیداوار میں مرکزی شہر گنا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے بھنڈی کی سب سے بڑی منڈی کمالیہ ہے۔لیکن کمالیہ کی اصل پہچان کھدر ہے۔کسی زمانے میں شائد ہی کوئی محلہ یا گلی ایسی ہوا کرتی تھی جس میں کھدر بنانے والی کھڈی نہیں لگی ہوتی تھی لیکن اب شہر میں اکا دکا کھڈیاں رہ گئی ہیں ۔ شروع میں کھدر صرف سفید اور کیمل/زرد رنگ میں ہی دستیاب ہوا کرتا تھا ۔ وقت کے ساتھ نت نئے رنگوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو کپڑے کو ڈائی کرنے کیلئے  ملتان بھیجا جانے لگا۔ بدقسمتی سے کپڑے کو رنگنے کی صنعت کمالیہ میں نہ قائم ہوسکی اور ملتان کپڑے کو ڈائی  کیلئے بھیجنے کی وجہ سے کپڑے کی لاگت میں اضافہ ہونے لگا۔ جس کو کنٹرول کرنے کیلئے  کپڑا بننے کی صنعت ملتان منتقل  ہوگئی ۔لیکن کھدر کی فروخت کا سب سے بڑا مرکز آج بھی کمالیہ شہر ہی ہے اور کمالیہ کا کھدر کے نام سے ہی جانا جاتا ہےکمالیہ کی ایک اور پہچان یہاں جنم لینے والی پولٹری کی انڈسسٹری بھی ہے۔ ایک وقت تھا جب کمالیہ شہر انڈے کی پورے ملک کی ضرورت کا بڑا حصہ پیدا کیا کرتا تھا۔ اگرچہ اب یہ انڈسٹری پورے ملک میں پھیل چکی ہے لیکن اس انڈسٹڑی نے اپنا ابتدائی جنم یہیں پر لیا تھا ۔۔

تعارف کچھ سوانح عمریوں کا


ہر دور کا ایک شعور ہوتا ہے ۔ اور اس شعور کو سمجھے بغیر اس دور کے فیصلوں کو سمجھا نہیں جاسکتا۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں کسی بھی دور کے فیصلوں سے تو آگاہ کرتا ہے لیکن اس شعور سے آشنائی نہیں دلاتا جس کے زیر اثر وہ فیصلے ہوئے ہوتے ہیں ۔
اگر آپ انیسویں اور بیسویں صدی میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر دوڑائیں اور اکسویں صدی کے شعور کے ساتھ اس دور کے فیصلوں اور واقعات کو سمجھنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔ کمیونزم کی قبولیت کا معاملہ ہو یا کارل مارکس کے نظریات کی مقبولیت کا۔ جنگیں ہوں یاآزادی کی تحریکیں ، مشاعروں کی مقبولیت کا معاملہ ہو یا ادب کی قدردانی کا، اخبار کا ایک عام شہری کی زندگی میں اہمیت کا معاملہ ہو یا پھر ریڈیو کے ارتقا کا معاملہ ، نوآبادیاتی نظام کے کل پرزوں کی بات ہو یا انتظامی ڈھانچے پر عمل درآمد کا معاملہ ۔جب تک ان کے پیچھے کارفرما شعور کو نہ سمجھا جائے تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔۔
کسی بھی دور کی کی ثقافت، رہن سہن، رسم ورواج ، سیاست، سماج ،تجارت،رواج کو سمجھنے کیلئے میرے نزدیک سوانح عمریوں سے بہتر کوئی چیز نہیں۔لوگوں کی زندگی کی داستان انسانی فکر کا ارتقا دکھاتی ہے۔انسانی معاشرت اور بدلتی ہوئی ذہنیت سکھاتی ہے۔جیسے لفظ قوم کے معنی اور مفہوم ماضی میں وہ نہیں تھے جو آج سمجھے جاتے ہیں۔ آج کا سیاسی شعور اس شعور سے بہت مختلف ہے جو ایک صدی پہلے رائج تھا۔۔
ذیل میں ان سوانح کی فہرست ترتیب دی ہے جن کا تعلق ہندستان اور اس کی تمدن  سے جڑا ہےیادوں کی بارات۔۔جوش ملیح آبادیایک محاورہ اکثر بولا جاتا ہے، لفظوں کی جادوگری۔کسی نے اگر اس جادوگری کا عملی ثبوت دیکھنا ہے تو وہ یادوں کی بارات کھول لے۔بہت سے اخلاقی اعتراضات کے باوجود اس کتاب کا ادبی وزن بہت زیادہ ہے۔ یہ صرف ایک شاعر کی زندگی کی کہانی ہی نہیں بلکہ ہندستان کی تاریخ ثقافت اور تہذیب کی ایک تصویر ہے۔جس قدر دلچسپ انداز میں لکھی گئی ہے ،اس کی تحریر ساری عمر آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتیجب تک میں زندہ ہوں ۔۔مجید نظامی کہسار باقی افغان باقی ۔۔ نوائے وقت گروپ کے سابقہ مدیر مجید نظامی کی داستان حیات جو  عائشہ مسعود نے ترتیب دی ہے۔ اگر کتاب مجید نظامی کی زبانی لکھی جاتی اور محترمہ اپنی اردو علمیت جھاڑنے کیلئے بھاری بھر کم الفاظ کا استعمال کم کرتیں تو کتاب دلچسپ ہوجاتی۔ لیکن بحرحال پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کیلئے بہت زبردست کتاب ہے قبر کی آغوش ۔۔راجہ انورجھوٹے روپ کے جھوٹے درشن سے شہرت پانے والے پیپلز پارٹی کے جیالے راجہ انور کی کی افغانسان کی بدنام زمانہ جیل پل چرخی میں گزرے دنوں کی داستان ہے۔ یہ صرف جیل کی ایک داستان ہی نہیں بلکہ افغان ثقافت اور جنگ کو سمجھنے کیلئے  دستاویزات ہے۔رسیدی ٹکٹ۔ امرتا پریتمپنجابی زبان سے سے محبت کرنے والوں کیلئے امرتا پریتم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اگرچہ ان کا اپنا ایک مخصوص انداز ان کی پہچان ہے لیکن جو روانی اور اسلوب اس کتاب میں ہے وہ بہت مسحور کن ہے ۔ یہ کتاب امرتا کی زندگی  کے بہت سے پہلوؤں کو کھولتی ہےدردر ٹھوکر کھائے۔ ڈاکٹر مبارک علیتاریخ سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کیلئے ڈاکٹرمبارک علی کا نام اجنبی نہیں ہے۔ جس دلچسپ انداز سے تاریخ لکھتے ہیں اتنے ہی دلچسپ انداز میں اپنی زندگی کی کہانی لکھی ہے۔مفلسی کی دہلیز سے اٹھ کر اپنی تعلیم کیسے پائی اور کیسے تاریخ کے شعبے میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں صرف کیں ۔ ہمارا نظام کیسے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے اور کیسے ان کو عبور کیا جاتا ہے،۔یہ کتاب اس بات کو سمجھنے میں کافی مدد دیتی ہے کہ ہماری روایات اور اقدار کسی طرح سماجی ڈھانچے کی نشاندگی کرتی ہیں۔وہ بھی کیا دن تھے۔۔حکیم محمد سعیداگرچہ یہ داستان بچوں کیلئے لکھی گئی لیکن ہندستان کے رسم ورواج ، گھروں میں رہنے کے سلیقے آداب اور تہذیبی گھرانوں کے ماحول پر گہری روشنی ڈالتی ہے ۔بڑے لوگ بھی کبھی بچے ہوتے تھے وہ بھی شرارتیں کیا کرتے تھے۔ حکیم صاحب نے لکھتے وقت خود کو بالکل ایک بچہ بنا کر اپنی شرارتیں اور زندگی کے پہلوئوں کو قلم بند کیا ہےرفعتوں کی تلاش۔۔اسد اللہ غالبامریکی انڈسٹریل ترقی سے متاثر نوجوان رفیع بٹ کی پو شیدہ زندگی کو ڈھونڈنے کی اسداللہ غالب کی ایک کوشش ہے جو بہت کم عمری میں بورے والا کے قریب پرائیویٹ جہاز کے حادثے میں جہاںبحق ہوگئے تھے۔رفیع بٹ کو محمد علی جناح کا رائٹ ہینڈ سمجھا جاتا تھا۔ اپنا گریبان چاک۔۔ ڈاکٹر جاوید اقبالڈاکٹر جاوید اقبال نے ایک بار کہا تھا کہ جاوید اقبال کو جاویدمنزل کے ایک پنجرے میں قید کر دیا گیا تھا اوروہ ساری عمر اقبال کے نام کے ساتھ جیتے رہے۔اس کتاب کو پڑھ کر ان کی یہ بات درست لگتی ہے کہ اقبال کے بیٹے سے وہ توقعات پوری ہوتی نظر نہیں آتیں جن کی توقع وابستہ کرلی جاتی ہیں ۔ پوری کتاب میں کہیں بھی نظر نہیں آتا کہ وہ کوئی غیر معمولی شخصیت تھے۔ ہر جگہ وہ اقبال کا زینہ چڑھتے نظر آتےہیں۔لیکن بہت سے واقعات کے عینی گواہ ہونے کی وجہ سے یہ کتاب  تاریخی دستاویزات کی حیثیت رکھتی ہے کچھ یادیں کچھ باتیں۔۔شوکت تھانویاردو ادب کے ابتدائی مزاح نگا ر کی حیثیت سے جانے پہچانے ادیب شوکت تھانوی کی اپنی زندگی کے کچھ گوشوں سے پردہ ہٹاتی کتاب لمحوں کا سفر۔۔محمد اسلم لودھینوائے وقت پڑھنے والے قارئین کیلئے اسلم لودھی کا نام شائد اجنبی نہ ہو لیکن پھر بھی ان کا نام یا شخصیت اتنی معروف نہیں ۔شائد اسی لیئے  اس کتاب کو وہ پزیرائی نہیں  ملی ،جو اس کا حق تھا۔  اس کتاب میں ہماری غربت کی لکیر سے نیچے رہنے  والے اور مڈل کلاس کے گھروں کے رہن سہن ان کی ثقافت، رواج کو سمجھا جاسکتا ہے۔مصنف نے بہت سے کردار بنائے ہیں پھر ان کے گرد کہانیاں اکھٹی کی ہیں اس طرح یہ کتاب صرف مصنف کی زندگی بیان کرتی نظر نہیں  آتی بلکہ معاشرے میں بکھرے ان گنت کرداروں کی کہانی سناتی ہے یہ محض ایک کتاب نہیں ہے ۔ ایک جدوجہد کی داستان ہے۔ ریلوے کواٹرز کے اردگرد سے شروع ہونے والی داستان نصف صدی پر محیط ہوجاتی ہے


ناقابل فراموش۔۔ دیوان سنگھ مفتوںہندستان کی صحافت کا گرو کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اپنے دور میں تحقیقی صحافت کی بنیاد رکھنے والا اور بریکنگ نیوز کا ماہر دیوان سنگھ مفتوں ۔ اس کتاب میں مصنف نے مختلف موضوعات کے حوالے سے یاداشتوں کا یکجا کیا گیا۔ جو ہندستان کی تحریک آزادی اور سیاسی کشمکش کی اندرونی  کہانیوں پر بڑی گہری روشنی ڈالتی ہے۔علی پور کا ایلی۔۔ ممتاز مفتیمفتی کے اس اقرار کے بعد کہ یہ کتاب محض ایک ناول نہیں بلکہ اس کی اپنی زندگی کی کہانی ہے ۔اس کتاب کو سوانح کی فہرست میں رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اگرچہ ابتدایہ کافی طویل اور اکتا دینے والا ہے۔ کرداروں کو سمجھنے میں بھی کافی وقت لگتا ہے لیکن اس کے بعد آخری صفحے تک آپ ایلی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ زندگی کی بھول بھلیوں میں کھونے کے بعد جس طرح شہزاد کی یادوں کو نکالتا ہے اس کا احساس ناقابل بیان ہے۔ پوری کتاب میں کردار بکھرے ہوئے ہیں ہر کردار کے ساتھ ایک کہانی شروع ہوجاتی ہے لیکن جو تپش جو خلش شہزاد کا کردار پیدا کرتا ہے اسے پڑھتے ہوئے بار بار دل ڈولتا ہے۔ جو کردار نگاری اور منظر نگاری پوری کتاب میں کی گئی ہے وہ ایک ایسا طلسم  ہے جو آپ کو اپنے حصار سے نکلنے نہیں دیتا۔ سرگزشت بخاری۔ذولفقار علی بخاریپطرس بخاری کے بھائی زیڈ اے بخاری جو ایک پہلے انڈیا اور بعد میں پاکستان میں ریڈیو براڈکاسٹر رہے ۔ بہت اچھے ادیب، شاعر اور موسیقار بھی تھے۔ یہ داستان مختلف موضوعات کو لیکر یکجا کی گئی ہے۔ ہندستان میں براڈکاسٹنگ کی تاریخ کو بہت خوبصورت اور دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا۔ یہ صرف ایک شخص کی داستان ہی نہیں بلکہ ہندستان کی ثقافت اور تہذیب و تمدن کو سمجھنے کیلئے بہت اعلی کتاب ہےاورتاریخ کے گمشدہ اوراق کو ڈھونڈنے میں مدد دیتی ہے۔ بجنگ آمد ۔۔ کرنل محمد خاںیہ نہیں ہوسکتا کہ آپ نے بجنگ آمد پڑھی ہو اور آپ دیوانہ وار کرنل کی دوسری کتابوں کی تلاش میں نکل نہ پڑے ہوں۔ کرنل محمد خان کا لکھنے کا انداز اس قدر دلچسپ ہے کہ وہ آپ کو اس عورت کی صرف آنکھوں کا حسن بیان کرکے آپ کو عشق میں مبتلا کرسکتا ہے جس کے دانت گرے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ مزاح نگاری میں میرا پہلا ووٹ یوسفی کیلئے دوسرا محمد خان اور تیسرا شفیق الرحمن کیلئے ہے اور چوتھی پانچویں نمبر پر بہت سے احباب آتے ہیں۔۔اس کتاب میں ان کی فوج کے ساتھ وابستگی کے ابتدائی دنوں کی داستان ہےشہاب نامہ۔۔ قدرت اللہ شہابشہاب نامہ پر کوئی تبصرہ بنتا ہی نہیں۔ یہ صرف شہاب کی داستان حیات ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ابتدائی سالوں کی تاریخی دستاویزات کا درجہ رکھتی ہے۔ صرف ایک صرف ایک طویل داستان ہی نہیں بلکہ ایک ادبی شہ پارہ ہےسوانح خواجہ حسن نظامی۔۔ملا واھدیاگر کسی نے بیگمات کے آنسو کتاب نہیں پڑھی تو اسے جنگ آزادی کے اسباب اور اس کے نتائج پر تبصرہ کرنے کا بھی کوئی حق نہیں دیاجاسکتا۔ بیگمات کے آنسو اور جنگ آزادی ۱۸۵۷ اور بے شمار کتابوں کے کے خالق خواجہ حسن نظامی کی کی زندگی پر لکھی گئی کتاب اس لحاظ سے کافی دلچسپ ہے کہ یہ ہندستان کے رہن سہن کو سمجھے کیلئے بہت گہرائی مہیا کرتی ہے۔پرواز۔۔عبدالکلامبھارتی میزائل ٹیکنالوجی کا بانی سمجھے جانے والے عبدلکلام کی زندگی کی کہانی جو نا صرف ان کی زندگی کے گوشوں کو عیاں کرتی ہے بلکہ بھارت کی میزائل ٹیکنالوجی کو سمجھنے کیلئے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہےداستان چھوڑ آئے۔۔رحیم گلجنت کی تلاش، وادی گمان سے،ترنم، تن تن تارہ، پیاس کا دریا جیسی کتابوں کے خالق رحیم گل کو ہماری ادبی تاریخ میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کے وہ حق دار تھے۔ وہ نثر میں شاعری لکھنے کا ہنر رکھتے تھے۔اپنے زندگی کی داستان لکھتے وقت بھی اپنے انداز کو نہیں چھوڑا۔ ایڈونچر سے بھرپور اس داستان کو ایک بار شروع کر دیں تو پھر آخری صفحہ تک آپ ساتھ نہیں چھوڑتےآپ بیتی ۔ موہن داس کرم چند گاندھی۔ یہ کتاب صرف مہاتمہ گاندھی کی زندگی پر روشنی نہیں ڈالتی بلکہ ان کی جدوجہد اور ہندستان کی آزادی کی تحریک کو سمجھنے میں بھی بہت مدد دیتی ہے آزادی ہند ۔۔عبداکلام آزادبرصغیر کی تقسیم کو اس وقت نہیں سمجھا جا سکتا جب تک آپ دونوں پارٹیوں کے موقف کو اچھی طرح جان نہیں لیتے۔ لیکن یہ کتاب صرف آزادی یا تقسیم کی کہانی نہیں بلکہ ایک ادبی سرمایہ بھی ہے جو ابولکلام کی زندگی کے سفر کو بیان کرتی ہے ۔ہندستان میں اٹھنے والی اصلاحی تحریکوں اور انقلابی کرداروں سے پردہ اٹھاتی ہے ۔سچ محبت اور زرا سا کینہ۔۔ خشونت سنگھخشونت سنگھ کے نام سے کون واقف نہیں۔ایک ایسے صحافی اور ادیب کی حیثیت سے جانے جاتے تھے جو پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھتے تھے۔لاہور سے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل  کی حیثیت سے کرنے کی وجہ سے کبھی لاہور کو اپنے آپ سے جدا نہ کر سکے ۔ روڈ ٹو پاکستان سے اپنی ادبی شناخت بنانے والے خشونت سنگھ ناصرف ایک ادیب اور صحافی تھے بلکہ سکھ ہسٹری پر ایک مستند تاریخ دان سمجھے جاتے ہیں ۔ بنگلہ دیش کے قیام کو سمجھنے کیلئے بھی خشونت سنگھ کی تحریروں کو ضرور پڑھنا چاہیئے۔ ان کی زندگی کی اس داستان میں وہی بولڈ انداز موجود ہے جو عام طور پر ان کی تحریروں کا خاصہ سمجھا جاتا ہے ۔ اور بہت سے لوگ سڈنی شیلڈن کے ناولوں کی طرح ان متنازعہ حصوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو ہمارے معاشرے میں ٹیبو سمجھے جاتے ہیں 

غیبی امداد


اسے میں جب بھی دیکھتا ہوں تو کوشش ہوتی ہے کہ رستہ بدل لوں ۔بات یہ نہیں ہے کہ مجھے اس سے ڈر لگتا ہے یا میرے اس سے کوئی اختلاف چل رہے ہیں۔   وہ  جب بھی مل جائے تو اس کے پاس سنانے کو اپنی بہت سی مجبوریاں  موجود ہوتی ہیں۔ بجلی کا بل بہت زیادہ آگیا ہے۔  بچوں کی فیس ادا کرنا ہے ۔ گھر کا پنکھا خراب ہوگیا ہے،ٹھیک کروانا ہے ۔ ساس بیمار ہے اور تیمارداری کیلئے جانے کیلئے کرایہ نہیں ہے ۔۔ جتنے بہانے اس کے پاس اپنی  مجبوریاں ثابت کرنےکیلئے ہوتے ہیں، اتنے ہی کام نہ کرنے کے بھی اس کے پاس موجود ہیں ۔الرجی کا مسئلہ ہے ۔معدہ کام نہیں کرتا ۔جگر خون نہیں بناتا۔پٹھے کمزور ہیں  ...اس لیئے جونہی اس پر نظر پڑے میری کوشش ہوتی ہے کہ راستہ بدل لوں
یہ پچھلے سال ستائیس اگست کی بات جس دن بارش نے سارا شہر ڈبو دیا ۔ ایک جگہ کھڑے پانی سے گزرتے ہوئے  گاڑی بند ہوگئی ۔سخت پریشانی میں  کھڑا تھا کہ وہ شخص سامنے آگیا اور کچھ بندوںکی مدد سے گاڑی کو دھکا لگوا کر  گاڑی سٹارٹ کروا دی..۔۔۔مجھے اس کے بارے میں اپنی سوچ تبدیل کرنا پڑی اور چند ماہ تک اسکی ضروریات پوری کرتا رھا...لیکن پھر روز روز  کے مطالبوں سے  تنگ آکر مشکل سے جان چھڑائی۔۔
چند ماہ بعد  گٹر کے ڈھکن  کے اوپر سے گزرتے ہوئے  ڈھکن ٹوٹنے کی وجہ سے گاڑی کا ٹائر  پھنس گیا لیکن یہ بندہ پھر کہیں سے نکل آیا اور دو تین بچوں کی مدد سے گاڑی نکلوائی...جس کے بعد مجھے اس کی ماں کے ختم.میں بھی حصہ ڈالنا پڑا اوراس کے بعد اس کی فیملی کو ماسی کے جنازے پر جانے کیلئے کرایہ بھی دینا پڑا..اور والد کی قبر کی مرمت کیلئے پیسے  الگ سے دینا پڑے۔لیکن روز روز کے مطالبوں سے تنگ آکراس سے جان چھڑانے پر مجبور ہوگیا 
اور اب پرسوںکی بات ہے جب شدید بارش میں گاڑی سڑک کے درمیان بند ہوگئی ..اور وہ بندہ پتا نہیں کہاں سے مدد کیلئے آن پہنچا..اور آج گھر  کا بوسیدہ دروازہ تبدیل کروانے کیلئے پیسے لیکر گیا ہے اور ساتھ ہی گھر کی بیرونی دیوار کی کمزوری کی نوید بھی سنا گیا ہے یاد رہے یہ سارے واقعات الگ الگ مقامات پر پیش آئےاور میں ابھی بیٹھا سوچ رھا ہوں کہ یہ بندہ میری غیبی مدد ہے یا ۔۔۔۔۔

یادش بخیر


 امام صاحب نے نماز کے بعد مقتدیوں کے ہاتھ دعا کیلئے بلند کروائے تو میرے سامنے بیٹھے صاحب نے جیب سے فون نکال کر ایک ہاتھ کان کو لگا لیا اور دوسرا ہاتھ دعا کیلئے اٹھا لیا۔مسجد و بازار کے درمیان تفریق کے فلسفے میں الجھے بغیر ایک طرف وہ کسی شخص کو مسلسل ٹالنے کیلئے بہانے بنا رھا تھا تو دوسری طرف مقتدیوں کی آمین کا ساتھ نبھا رھا تھا۔یادش بخیر! وہ اگلا وقت جب ہمار ابھی بچپنا تھا لیکن ہمارے دادا جی اپنے بڑھاپے کا دور گزار رہے تھے۔جب دادا جی کی باتیں یاد کرنے کی کوشش کی تو ذہن پر تالا سا پر گیا جسے یاداشت کی کنجیوں سے کھولنے کی کوشش شروع کی تو ایک مختصر سا کیلنڈر بن گیادادا جی کا کرکٹ سے لگاؤ جنون کی حد تک تھا ۔کرکٹ کے ساتھ پاکستانیت کو ایمان کا حصہ سمجھتے تھے۔ جس دن پاکستان کا کرکٹ میچ ہوتا تھا اس دن گھر سے نہیں نکلتے تھے۔ پاکستان کی ٹیم ویسٹ اینڈیز کے دورے پر گئی ہوئی تھی تو ساری رات کمنٹری سن کرفجرکی نماز پڑھ کر سو جاتے۔کمنٹری سننا بھی ایک نشے سے کم فعل نہیں لیکن یہ فعل اعلان صحت ہے جو شب بیداری اور سحر خیزی میں مدد دیتا ہے ۔۔ ٹیم آسٹریلیا کے دورے پر ہوتی تو تہجد سے بھی پہلے ان کے کمرے سے کمنٹری کی آواز سنائی دے رہی ہوتی تھی۔اب اگر کوئی اعتراض کرے کہ تہجد کے وقت کمنٹری سننے میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں تو اس کا جواب آسان سا ہے کہ تہجد چھوڑنے میں اگر کوئی قباحت نہیں تو اعتراض کمنٹری پر کیسا۔آسٹریلیا یا ویسٹ انڈیز میں کرکٹ سیریز کا دکھ ان چوروں سے بڑھ کر کسی کو نہیں ہوسکتا جو ساری رات کمنٹری نشر کرنے والوں کو کوستے رہتے ہیں۔۔ اچھے وقت تھے گرمیوں میں رات کو چھتوں پر سویا کرتے تھے۔ مٹی کی چھت ہو اور زرا سی ہوا چلےتو گرمی کا سارا احساس جاتا رہتا ہے۔کچھ ایسے ہی گرمی کے دن تھے جب ایک رات ہمسائی نے شور مچا دیا کہ فوجی کے گھر چور دیکھا ہے۔ گھر سے گھر جڑا تھا ۔اس کا شور مچانا تھا کہ چند ہی منٹوں بعد گھر کا دروازہ بجنا شروع ہوگیا۔ کنڈی کھولی گئی ۔ سارا محلہ ڈنڈے ، ہاکیاں اور کرکٹ کے بیٹ تھامے ہمارے گھر داخل ہونا شروع ہوگیا۔ دو نوجوان پندرہ فٹ کا بانس لیکر گھر میں گھسنے کی کوشش کرنے لگے ۔شائد ان کا ارادہ چور کو باندھ کر لے جانے کا تھا۔مشیت ایزدی تھی کہ چور کو ملنا تھا اور نہ ملا اور سب لوگ اس عورت کی تلاش میں لگ گئے جس نے آدھی رات کو محلے کی غیرت اور دلیری کو للکاڑا تھا ہاں تو بات ہو رہی تھی دادا جی کی کرکٹ سے محبت کی۔ جس طرح پرانے زمانے کے شہزادوں کی جان اور آن طوطوں میں بند ہوتی تھی ،کبھی کبھی گمان ہوتا تھا داداجی کی جان پاکستان کی کرکٹ میں بند ہے ۔جس کی حفاظت پر کھلاڑی مامور تھے ۔ریڈیو کی کمنٹری سے ایمپائرز کی جانب داری ڈھونڈ نکالتے تھے۔ ۔ اس قدر متعصب پاکستانی تھے کہ کسی کھلاڑی کی کارکردگی پر تنقید  غداری سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ پاکستانی بیٹسمین کے آؤٹ ہونے میں ایمپائرز کی ساز باز پر یقین رکھتے تھے۔اگرچہ ہمیں بچپن میں  سانپ سیڑھی اور لڈو جیسے ذہنی استعداد بڑھانے والی کھیلوں میں دلچسپی زیادہ تھی۔لیکن پھر بھی  کرکٹ  میں ان کا خوب ساتھ نبھایا کرتے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان آسٹریلیا کے دورے پر تھا ۔ ایک ون ڈے میچ کا اختتام دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ۔ لیکن ادھر مغرب کی اذان ہوگئی۔ آخری اوور کا کھیل تھا اور بے یقینی کی کیفیت ۔ایک طرف اللہ کا بلاوہ اور دوسری طرف طوطے کی جان ۔مغرب کی نماز تھی، زیادہ التوا میں بھی نہیں ڈالا جا سکتا ۔ ریڈیو کی آوا ز کو تھوڑا سا ہلکا کیا اور اللہ اکبر کہہ کر نماز کی نیت کر لی۔ دادا جی جہاں دیدہ شخص تھے، مزاج شناس لیکن مردم شناس نہیں ہر خاص وعام پر بھروسہ کر لیتے تھے۔رہن سہن میں ایک سادگی تھی اپنے کان اور قول کے پکے لیکن دھن کے نہیں اس لیئے زندگی میں اپنے لیئے کوئی جائیداد نہ بنا سکے تھے۔لیکن  اپنی متانت اور اپنی شرافت کے سہارے زندگی کا بھرم قائم رکھا 
کسی زمانے میں حقے کے بلا کے شوقین تھے لیکن پھر کسی دن احساس ہوا  کہ تمباکو ایسا کڑوہ اور بدذائقہ ملغوبہ  ہے جس سے بہت زیادہ دوری یا نزدیکی اہمیت نہیں رکھتی اس لیئے سگریٹ پر شفٹ ہوگئے ۔لیکن حقے سے دوری نے ان کو بہت سے دوستوں سے بھی دور کر دیا۔لیکن دوستیاں نبھانے کیلئے اپنے فیصلے سے ر جوع کرنے سے ساری عمر انکاری رہے۔لوگ سگریٹ نوشی سے اپنے غم غلط کرتے ہیں لیکن اباجی کے غم اتنے ضدی ہیں کہ روازانہ پندرہ بیس سگریٹ پینے کے باوجود ختم نہیں ہورہے ۔ اب پتا نہیں کون سے ابدی غم تھے جو ابا جی کو بچپن سے لاحق ہوگئے تھے اوربڑھاپے میں بھی کش پر کش لگاتے نظر آتے ہیں۔اگرچہ سننے میں آیا ہے کہ سگریٹ پی کر کچھ لوگ بہت سنجیدہ گفتگو شروع کر دیتے ہیں لیکن ہم نے ابا جی کو کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ ۔ ایک دفعہ دادا جی سے کہاکہ جب ابا جی کی سگریٹ نوشی کا علم ہوا تھا تو  ان کو سمجھانا چاہیئے تھا۔ بڑے سنجیدہ لہجے میں کہنے لگے۔ سمجھایا تو بہت تھا کہ بیٹا  سگریٹ حقے کی چلم والی جگہ پر لگا کر پیا کرو لیکن یہ کہاں مانتا تھا ۔
ہم نے اپنی آنکھ نوائے وقت کے ساتھ کھولی۔بلکہ نوائے وقت نے ہی ہمیں گھٹی دی تھی اس لیئے  غیر مشروط پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگی ہونا ہمارے خون میں شامل ہوگیا تھا ۔ جونہی ہاکر اخبار پھینک کر جاتا تو ہماری کوشش ہوتی کہ اخبار دادا جی کے ہاتھ نہ لگ جائے کیوں کہ ان کا اخبار کا مطالعہ صرف ہیڈ لائینز تک محدود نہیں رہتا تھا بلکہ بقیہ نمبر نکال کر خبر کی تہہ تک پہنچتے تھے۔ نو بجے ناشتہ کرنے کے بعد مزید خبروں کی تلاش میں نکل جاتے۔ رات کو عظیم سرور کا سپورٹس راؤنڈز اپ سن کر ہم ان کے پاس سے اٹھ آتے اور وہ ریڈیو کی سوئی گھما کر بی بی سی پر منتقل ہوجاتے۔اگر متعصب پاکستانی تھے تو بنیاد پرست پیپیلئے بھی۔ یعنی پیپلز پارٹی کے بھرپور جیالے ۔  ضیا دور میں نوائے وقت کا مسلسل مطالعہ بھی انہیں بھٹو کے خلاف نہیں کر سکا۔ انیس سو اٹھاسی کے الیکشن  کے بعد ہمارا گھر واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ ایک جو نوائے وقت کے زیر اثر پیپلزپارٹی کے خلاف تھا اور دوسرے ہمارے دادا جی۔اب ہم ٹھہرے سرسری نظر سے اخبار کو نظروں سے گزارنے والے اور وہ جنگ پاکستان نوائے وقت مشرق کا ست بنا نے والے ۔اب یہ کہنا آسان نہیں کہ بحث کن دل آزار مرحلوں سے گزرتی تھی لیکن اخباروں کے دقیق مطالعے اور اپنے بزرگی کے سہارے اپنے سیاسی نظریے کا جواز ڈھونڈ نکالتے تھے اور ہم اپنی کم فہمی اور ان کے کی بزرگی کی تاب نہ لاتے ہوئے دفاعی پوزیشن اختیار کرلینے پر مجبور ہوجاتے ۔الیکشن کا رزلٹ جو بھی نکلے لیکن اپنے  مطالعے اور عالمی سیاست پر بھرپور نظر رکھنے کی وجہ سے ہمارے گھر کے جمہوری نظام میں پلڑا  انہی کا بھاری ہوتا تھا
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب کہیں جسے جب لوگ دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں تو ان کے اچھے پہلوئوں کو یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن دادا جی کی زندگی میں بھی ان کا کوئی منفی پہلو نہیں ملتا تھا۔اپنی زندگی ہنستے مسکراتے گزار گئے کوئی بھی ایسا نہ ملا جو انہیں اچھا نہ کہے
آسمان اس کی لحد پر شبنم افشانی کرے

یاداشتیں


بات کچھ یوں ہے کہ جب ہم نے اپنا کلینک کھول کر مریضوں پر تجربات شروع کیئے تو ٹھیک ہونے والے مریضوں میں بچوں کی شرح کچھ زیادہ ہوگئی جس بنا پر بچوں والے کلینک کے نام سے شہرت پائی۔۔ باوجود ہمارے اس دعوی کے، ہم بلڈ پریشر اور شوگر کے بارے میں بھی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ، لیکن بوجوہ جو ہمارے علم میں نہیں, اس دعوے کو عوام نے زیادہ پزیرائی نہیں بخشی اور تاحال بچوں کے ڈاکٹر سے ہی جانے جاتےہیں ۔ لیکن میرا ذاتی ماننا ہے کہ ہمارے ہاں عوام بیمار ہونے کے فنی آداب سے ناواقف ہیں ۔ اور ان کی ڈاکٹرز کے بارے میں خوش اعتقادی بھی کوئی بہت زیادہ پرستائش نہیں ہے۔ ہمارا بیمار مختلف گروہوں میں بٹ چکا ہے ایک وہ ہے جو علاج بالغزا پر یقین رکھتا ہے اور دوسرا پرہیز پر اور تیسرا گروہ بھی ہےجو صرف ڈاکٹر سے مشورے کو ہی علاج سمجھتا ہے۔ اور نسخہ کا مقصد دلجوئی سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اور میڈیکل سٹور تک جانا کیپیٹلزم کے فروغ سے زیادہ کچھ نہیں ۔علاوہ ازیں دماغی صحت بھی کچھ تسلی بخش نہیں ہے۔ جو طب یونانی اور طب جدید کے درمیان منتشر رہتی ہے ۔۔ اور بچے ان لوازمات سے ابھی مبرا ہوتے ہیں۔ وہ ابھی کڑوی دوا اور مصفی خون کے فلسفے سے ناواقف ہوتے ہیں اور دوسرا دوا کے پمفلٹ نکال کر سائیڈ ایفیکٹس پڑھے بغیر نوش جاتے ہیں ۔ شائد اس لیئے جلد صحت یاب ہوجاتے ہیں کل شام ایک خاتون نے ایک دوائی کے بارے میں مشورے کیلئے انباکس رابطہ کیا میرے جواب کے بعد ان کا میسج آیا کہ آپ کے کلینک کے تجربات دلچسپ ہوتے ہیں ۔ شیئر کرتے رہا کریں۔ ذہن فورا بچوں کی طرف نکل گیا جن سے پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے ڈائیریا اور سانس کی بیماریوں کی وجہ سے واسطہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہےچند دن پہلے ایک خاتون گول مٹول سے چھ ماہ کے بچے کو چیک اپ کروانے کیلئے لائیں ۔ جونہی میں نے اس کے پیٹ کے اوپر ہاتھ رکھا اس نے قہقہہ لگایا۔ جس سن کے میں مسکرائے بنا نہیں رہ سکا۔ دوبارہ ہاتھ لگایا تو اس نے بے ساختہ ہنسنا شروع کر دیا۔ پھر تو اس نے تماشہ ہی سمجھ لیا جونہی ہاتھ لگاتا ایک قہقہہ لگا دیتا۔ بس بچے کی اس بے ساختہ ہنسی نے دل میں پیار امڈ دیا اور اس کی ماں سے پکڑ کر اپنی گود میں اٹھا لیا۔ لیکن اس وقت تک مسلسل قہقہوں کی وجہ سے اس کا مثانہ کمزور ہوچکا تھا۔اس دن ڈیڑھ سال کے بچے کو چیک اپ کیلئے جب ہاتھ لگایا تو اسے میری دست درازی کچھ پسند نہ آئی اور اپنے ہاتھوں سے میرے ہاتھ کو دھکیلنا شروع کر دیا ۔جس پر اس کی ماں نے اسکے بازووں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ بچہ بھی اکسویں صدی کی پیداوار تھا۔ جس کی آنکھ ٹی وی اور موبائل سکرین کے سامنے ڈبلیو ڈبلیو ایف کی کشتیاں دیکھتے ہوئے کھلی تھی۔ ماں کے یوں جکڑنے نے اس مشتعل کر دیا ۔اور اپنا سارا اشتعال میرے ہاتھ کی انگلی کو دانتوں میں دپوچ کر نکالا اور اس تکلیف کو سہنے کی اپنی ساری کوشش کے باوجود کرسی سے اٹھ کھڑے ہونے پر مجبور ہوگیاابھی تو مجھے دوسال کا وہ بچہ بھی نہیں بھولا تھا کہ جس کو ایک دن پہلے انجیکشن لگایا گیا تھا ۔ اگلے دن میرے دفتر میں داخل ہوتے ہی میرے اوپر گھونسوں اور پاؤں کی ککس کے ساتھ حملہ آوور ہوگیا تھا۔ اورمیں سپورٹس مین سپرٹ کے تحت اس وقت تک اس کے سارے حملوں کو برداشت کرتا رھا جب تک اس کی ماں نے بڑھ کر مداخلت نہیں کر دی اورابھی کل کی ہی تو بات ہے جب ڈاکٹر فوبیا کا شکار ایک ڈیڑھ سال کے بچے نے کمرے میں داخل ہوتے ہی گلا پھاڑ کر وہ دھائی مچائی کہ اس کا چیک اپ مشکل ہوگیا۔ لیکن چند لمحوں بعد اس چیختے چلاتے بچے نے یکدم ناصرف خاموشی اختیار کر لی بلکہ اس کے چہرے پر ایک خوشگوار مسکراہٹ امڈ آئی ۔ میں ابھی بے یقینی میں اس کی اس اچانک تبدیلی پر غور ہی کر رھا تھا کہ اس نے جھپٹ کر میری جیب سے موبائل نکال کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس کی ماں نے اس سے چھیننے کی کوشش کی تو موبائل اس دھینگا مشتی میں فرش پر جا پڑا ۔اور میں نے چشم زدن میں اس کو اٹھا کر شکر ادا کیا کہ اس ساری ناگہانی صورتحال میں محفوظ رھا تھا۔ شام کو اپنے ایک دوست ابوزر کاٹھیہ صاحب سے اس واقعے کے حوالے سے بچوں کی موبائل میں بڑھتی دلچسپی اور اس کے اثرات پر بات شروع کی تو کاٹھیہ صاحب کہنے لگے لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اتنے بڑی داڑھی کے پیچھے چھپی جیب کو، اس نے ڈھونڈا کیسے؟میم سین

کچھ خسرہ کے بارے میں


خسرہ کیا ہے؟
خسرہ  کے مرض کی وجہ ایک وائرس ہوتا ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں آج بھی خسرہ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کو پانچ سال سے چھوٹے بچوں کی اموات کا  بڑا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔تین سال پہلے، خسرہ کی وبا نے سندھ اور پنجاب میں لاکھوں بچوں کو متاثر کیا ۔اور بہت بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکت اور دوسرے مسائل کا سبب بنا ۔ جس کے بعد ویکسین کے شیڈول کو بھی تبدیل کردیا گیا۔خسرہ سے عام طور پر بچے متاثر ہوتے ہیں لیکن کسی بھی عمر کا فرد اس سے متاثر ہوہوسکتا ہےخسرہ کیسے مریض تک پہنچتا ہےخسرہ  ، متاثرہ مریض کے ناک اور منہ کی رطوبتوں کے ذریئے صحت مندمریض تک منتقل ہوتا ہے ۔خسرہ سے متاثرہ شخص جب کھانستا ہے یا چھینکتا ہے تو اس سے نکلنے والے رطوبتیں یا تو صحت مند  مریض اپنی سانس کے ساتھ اپنے اندر لے جاتا ہے یا پھر وہ رطوبتیں ارد گرد کی چیزوں پر گر جاتی ہیں جہاں سے مریض کے ہاتھوں پر  اور وہاں سے جسم کے اندر منتقل ہوجاتی ہیں
علاماتبچہ کو کھانسی اور چھینکیں شروع ہوجاتی ہیں جس کے بعد بخارکا شروع ہوجاتاہے۔بچہ جسم میں بہت زیادہ درد محسوس کرتا ہے ۔ آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں، جن سے پانی بہنا شروع ہوجاتا ہے۔۔ اس کے بعد کان کے ارد گرد اورچہرے پر بہت  باریک سرخ دانے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اور گردن سے ہوتے ہوئے سینے پیٹ پر اور ساتھ ساتھ بازوؤں سے ہوتے ہوئے ٹانگوں تک پھیل جاتے ہیں ۔ اور وقت کے  ساتھ، اسی ترتیب سے ختم ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ بچے کا گلا بھی خراب ہوجاتا ہے اور کھانے پینے میں دقت محسوس کرتا ہے ۔ نڈھال ہو جاتا ہے اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔کھانا پینا کم ہوجاتا ہے۔جسم پر دانے نمودار ہونے کے بعد ان کو کو ختم ہونے میں لگ بھگ ایک ہفتہ لگ جاتا ہے
علاجچونکہ وائرل انفیکشن ہے اور اس کاکوئی باقائدہ علاج موجود نہیں ہے۔ اپنی مدت پوری کرکے  بیماری  ختم ہوجاتی ہے۔بچے کو دوسرے بچوں سے الگ کردیں ۔ سکول مت بھیجیں تاکہ دوسرے بچے محفوظ رہ سکیں بچے کے آرام کا بہت زیادہ خیال کریں بخار کیلئے پیراسیٹامول استعمال کروائیں بہت سا پانی اور جوسزز وغیرہ پینے کو دیںبچہ جو بھی پینا چاہے یا کھانا چاہے اسے منع مت کریںکھانسی کو کم کرنے کیلئے گرم پانی کی بھاپ یا نیبولائز کیا جا سکتا ہے۔خسرہ سے متاثرہ بچوں میں وٹامن اے کا استعمال کروایا جاسکتا ہے ۔ اس کے استعمال سے خسرہ کی وجہ سے درپیش مسائل سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے ۔ڈاکٹر سے فوری رابطہ کرنا چاہیئے اگربچہ قوت مدافعت کی کمی یا کسی پیدائشی بیماری کا شکار ہےبخار کنٹرول نہ ہورھا ہوبچہ سانس میں دقت محسوس کر رھا ہےہوش وہواس میں کسی قسم کی تبدیلی محسوس کریںبار بار پخانے کرنا شروع کردےحاملہ ماں خسرہ کا شکار ہوجائے
کچھ متھ کے بارے میں
لوگوں میں عام خوف پایا جاتا ہے کہ خسرہ کے دوران کسی قسم کی کوئی دوائی استعمال نہیں کرنا  چاہیئے ورنہ دانے اندر رہ جائیں گے۔، نہانے نہیں دینا چاہیئے۔  گرم چیزیں کھلا کر دانے باہر نکالنے چاہئیں۔  ٹھنڈی چیزیں سے پرہیز کروانا چاہیئے ۔
ایسی کسی بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے
بچاؤجب بچہ نو ماہ کا ہوجائے تو اس کو خسرہ سے بچاؤ کا پہلا ٹیکہ لگوادیں اور جب پندرہ ماہ کا ہوجائے تو دوسرا ٹیکہ لگوانا چاہیئےدوسرے ٹیکے کیلئے خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین کی بجائے اگر ایم ایم آر ویکسین استعمال کی جائے تو وہ خسرہ کے ساتھ ساتھ ممپس(کن پیڑوں) اور روبیلا( خسرہ سے ملتی جلتی ایک بیماری) سے اضافی بچاؤ مل جاتا ہےویکسین کے بعد ہلکا پھلکا بخار ہونا معمول کی بات ہے۔جس کیلئے پیراسیٹامول استعمال کروایا جاسکتا ہے ۔ کچھ بچوں میں ویکسین کے بعد خسرہ کی طرح کے دانے بھی جسم پر نمودار ہوجاتے جاتے ہیں ۔ جو کہ خطرے والی بات نہیں ہوتی ایک آدھ دن بعد خود ہی غائب ہوجاتے ہیں
ویکسین کیوں ضروری ہے؟خسرہ کا کوئی باقائدہ علاج موجود نہیں ہے اور بیماری کے حملے کی صورت میں مریض بہت سے مسائل میں الجھ سکتا ہے اس لیئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ بچے کو ویکسین لگوا کر پہلے ہی اس مرض سے بچا لیا جائےبچہ نمونیا کا شکار ہوسکتا ہےدماغ کی سوزش کا شکار ہوسکتا ہےسانس کی تکلیف میں الجھ سکتا ہےکان میں انفیکشن ہوسکتی ہےبہت زیادہ پتلے پخانے لگ سکتے ہیں ۔جس سے پانی کی کمی ہوسکتی ہےخون کی کمی ہوسکتی ہےخسرہ کی وجہ سے بچے کا مدافعتی نظام کافی کمزور پر جاتا ہے ۔ اور ایسے بچوں میں ٹی بی کا مرض لاحق ہونے کی چانس بہت بڑھ جاتے ہیں
میم سین

سکیبیز کی خارش کیا ہے؟


سکیبیز خارش کی ایک ایسی قسم ہے جو ہمارے ہاں بہت عام ہے ۔ اور اس کے بارے میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے طویل عرصے تک لوگ خارش کا عذاب برداشت کرتے رہتے ہیں ۔ لوگوں کی طرف سے مرض کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ٹائیفائیڈ اور نمونیا کا علاج تو آسان ہے لیکن سکیبیز کا نہیں کیونکہ یہ بیماری فرد واحد کی نہیں بلکہ پورے گھرانے کی ہے۔ بلکہ پورے معاشرے کی کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگاسکیبیز (خارش) کیا ہے؟
سکیبیز خارش کی ایک قسم ہے جو ایک کیڑے کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس کی مادہ انسانی جلد میں سوراخ بنا کر انڈے دیتی ہے۔تین سے چار دن پر لاروا نکل کر بڑا ہوتا ہے اور نئی جگہیں تلاش کرکے انڈے دیتا رہتا ہے اور یوں جسم میں اس کی نسل کشی جاری رہتی ہے۔خارش کے عمل کے دواران اس کے لاروا یا کیڑا کپڑوں میں گر جاتا ہے اور ان کپڑوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچ جاتا ہے یا خارش کے عمل کے دوران ہاتھوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر کیڑا بستر پر گر جائے تو جسم سے باہر بھی چوبیس سے چھتیس گھنٹے زندہ رہ سکتا ہے۔اور یہ  خارش کا آغاز عام طور پر سکیبیز کا کیڑا جسم میں داخل ہونے کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد شروع ہوتی ہے۔اسلیئے جب تک بیماری کا علم ہوتا ہے سارا گھر متاثر ہوچکا ہوتا ہےکیڑے سے متاثر بستر اور کپڑے بیماری کے فروغ کی ایک بڑی وجہ بن جاتے ہیں ۔
سکیبیز سے کون لوگ زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ۔یہ کیڑا کسی کے بھی  جسم میں ڈیڑے ڈال سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ مرض ان لوگوں میں زیادہ پھیلتا ہے ۔جوایک دوسرے کے زیادہ قریب رہتے ہیں۔ جیسے کالجوں کے ہوسٹل، دینی مدارس، کلاس روم، کمبائن فیملی سسٹم میں رہنے والے افراد،۔۔اور ایسے گھروں میں رہنے والے لوگوںمیں بھی جہاں دھوپ کم آتی ہے نمی کا تناسب زیادہ رہتا ہے اور صفائی کا خیال کم رکھا جاتا ہے۔ ۔خارش والے مریض کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے کیڑا صحت مند جسم میں منتقل ہوجاتا ہے۔ گھر کا ایک فرد اگر سکیبیز سے متاثر ہوگیا ہے تو سمجھیں سارا گھر متاثر ہوچکا ہےعلاماتسب سے واضح علامت خارش ہوتی ہے۔ جو رات کو زیادہ ہوجاتی ہے، یا کمبل رضائی لینے سے جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو خارش بھی بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے لوگ مصالحے دار کھانے کے ساتھ بھی خارش کی شدت کو زیادہ محسوس کرتے ہیں ۔ اور اکثرلوگ گوشت کی الرجی سمجھ کر گوشت کھانا چھوڑ چکے ہوتے ہیں ۔بڑوں میں زیادہ تر خارش ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان، کلائیوں پرکہنیوں کے پیچھے اور بغلوں میں ہوتی ہے۔ عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے اور مردوں میں پیشاب والی نالی کے اوپر خارش کے نشانات کافی واضح ہوتے ہیں ۔ چہرہ عام طور پر محفوظ رہتا ہے۔ بچوں میں پورا جسم متاثر ہوسکتا ہے۔  مناسب لائٹ کے ساتھ خارش والی جگہوں کو دیکھیں تو باریک باریک سوراخ نظر آئیں گے۔ جو خارش کی وجہ سے دانوں یا زخم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ وہ پناہ گاہیں ہیں جن میں کیڑا انڈے دیتا ہےجس میں پاؤں اور پاؤں کی انگلیوں کی درمیانی جگہ بھی شامل ہوتی ہے۔ بہت سے مریضوں میں بار بار خارش کرنے کی وجہ سے بیکٹرییل انفیکشن داخل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پیپ والے دانے بننا شروع ہو جاتے ہیں جو اکثر اوقت زخم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں
 علاجعلاج سے پہلے ضروری ہے کہ ان رستوں کو بند کیا جائے، جہاں سے کیڑا مریض تک منتقل ہوا ہےسکول جانے والے بچوں کے یونفارم کی صفائی میں بہت زیادہ احتیاط برتنا۔ گھر واپسی پر پہلا کام یہ کریں کہ یونیفارم تبدیل کروا کر یا تواسے دھو ڈالیں یا پھر استری کرکے اگلے دن کیلئے تیار کریںہوسٹل یا مدرسوں میں رہنے والے لوگ خارش والے لوگوں سے دور رہیں۔ اپنا تولیا صابن، بستر ہر چیز دسروں سے الگ رکھیں۔بستروں کی چادریں جلدی تبدیل کریں، تولیئے جلدی دھوئیں ہوسکے تو الگ الگ تولیا استعمال کریںسارے بستر ، رضائیاں، کمبل سرھانے، قالین، اور پردوں کو دھوپ لگوائیں تاکہ ان میں موجود کیڑا مر سکے بچوں کے کپڑے دن میں دو تین بار بدلیں ، اور بڑے افراد بھی روزانہ تبدیل کریںکپڑے جب بھی پہنیں استری کرکے پہنیںجراثیم کو مارنے کیلئے بہت سی کریمیں لوشن دستیاب ہیں جن کو جسم پر ملا جاتا ہے۔ جیسے پرمیتھرین، سلفر پلس کروٹامیٹون یا پھر صرف سادہ سلفر کسی لوشن میں ملا کر لگایا جاتا ہے۔
 پرمیتھرین کو چونکہ ہر عمر کیلئے محفوظ سمجھا جاتا ہے اور اگر صحیح طرح استعمال کیا جائے تو صرف ایک بار لگانے سے سارے کیڑوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اسلیئے اس کا ستعمال مناسب   بھی ہے اور محفوظ بھی ۔ لوشن کو جسم پر لگانے سے پہلے درج ذیل باتوں کو دھیان میں رکھیںایک تو لوشن لگانے سے پہلے اگر جسم پر کوئی زخم وغیرہ ہے تو اس کا پہلے علاج کروا لیں دوسرا لوشن استعمال کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر کے سب افراد دستیاب ہوں اور لوشن لگانے پر راضی بھی۔ بے شک کسی کو خارش ہے یا نہیں۔۔ یا پہلے تھی اب نہیں ، وہ بزرگ ہے یا کوئی شیر خوار بچہ ایک ہی دن سب لوگ لوشن لگائیںلوشن لگانے سے پہلے نہائیںنہانے کے بعد جسم کو تولیئے سے تھوڑا سا خشک کرکے سارے جسم پر لوشن کو ملیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ جسم کا کوئی حصہ بغیر دوائی کے نہ رہ جائے ۔خاص طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان، بغلوں میں ، (عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے)، پیشاب والی جگہ پر ، پخانے والی جگہ کے ارد گرد، پاؤں کے تلوئوں پر۔چار سے پانچ منٹ تک دوائی کو جسم میں جذب ہونے کا موقع دیںدوائی لگانے کے بعد صاف ستھرے کپڑے جو استری شدہ ہوں، وہ پہنیں ۔ دوائی کو کم ازکم بارہ گھنٹے ورنہ مناسب ہوگا کہ چوبیس گھنٹے جسم پر لگا رہنا دیں اگر اس دوران کہیں سے دوائی اتر جائے تو فوری  طور پردوبارہ لگائیں چوبیس گھنٹے بعد اچھی طرح صابن سے نہا کر دوائی کو صاف کر دیں اور صاف کپڑے پہن لیںاتارے گئے کپڑوں کو گرم پانی سے دھوئیں اور اچھی طرح سے دھوپ لگا دیں
میم سین  

کچھ چکن پاکس کے بارے میں



چکن پاکس کیا ہے؟.عام زبان میں اسے لاکڑا کاکڑا بولا جاتا ہے ایک وائرس کی وجہ سے انسانی جسم کو یہ بیماری لگتی ہے. عام طور پر اس سے بچے متاثر ہوتے ہیں لیکن یہ کسی بھی عمر کے انسان کو متاثر کر سکتا ہے۔ بیماری لگنے کی صورت میں جسم میں اس کے خلاف مدافعتی نظام قائم ہوجاتا ہے جس کی وجہ یہ زندگی میں عام طور پر صرف ایک بار لاحق ہوتی ہے۔
بیماری کیسے لگتی ہےیہ ایک وبائی یا متعدی مرض ہے جو ایک متاثرہ شخص سے صحت مند شخص کو منتقل ہوتا ہے۔ مریض کے تھوک سے، کھانسی کرنے سے یا چھینکنے سے یا پھر دانوں کا پانی صحت مند مریض تک پہنچنے سےاسے چکن پاکس کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔
علاماتعام طور پر تیز بخار کے ساتھ بچہ کھانا پینا چھوڑ جاتا ہے سستی کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے اور بخار کے ایک دو دن کے بعد جسم پر سرخ رنگ کے دانے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں جن کے اندر پانی بھرا ہوتا ہے ۔ وقت کے ساتھ ان دانوں میں خارش بڑھتی جاتی ہے ۔کئی دفعہ دانے پہلے نکل آتے ہیں اور بخار بعدمیں شروع ہوتا ہے ۔بخار اور دانوں کی شدت ہر مریض میں مختلف ہوسکتی ہےچند دنوں بعد دانے پھٹ جاتے ہیں اور کرسٹ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جو براؤن یا کالے رنگ کے نشان بناتا ہے۔کچھ دنوں بعد کرسٹ اتر جاتا ہے ۔ اور لگ بھگ ایک ڈیڑھ ماہ بعد نشانات مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں
علاجچکن پاکس چونکہ ایک وائرل بیماری ہے اور اپنے دن پورے کرکے جسم سے ختم ہوجاتی ہے اس لیئے کسی باقائدہ علاج کی ضرورت نہیں ہوتی ۔صرف علامتوں کے مطابق دوائی کاستعمال کروانا چاہیئے۔جیسے بخار کیلئے پیراسیٹامول کا استعمال ۔ اور خارش کوکم کرنے کیلئے کیلامین لوشن یا کسی انٹی ہسٹامین کا استعما ل کافی ہوتا ہے۔خارش کیلئے نہانے کے پانی میں میٹھے سوڈے کا استعمال یا دانوں پر برف کی ٹکور بھی خارش کی تکلیف کو کم کرتی ہے لیکناگر بچے کی آنکھیں سرخ ہورہی ہیں یا پھر دانوں میں پیپ کی علامات نظر آرہی ہیں یا پھر ساتھ کھانسی یا سانس کا مسئلہ محسوس ہورھا ہے تو فوری طور پر اپنے قریبی ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ایسے افراد بھی ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ جنہیں کوئی دل کا عارضہ ہے یا پھر انہیں کوئی قوت مدافعت کی کمی کی بیماری ہے یا زیادہ عمر رسیدہ شخص ہے ۔حاملہ ماں یا نوزائیدہ بچے میں اس بیماری کی علامتیں دیکھنے پر بھی اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر نا چاہیئے
احتیاطی تدابیربچوں کو چکن پاکس کے مریض سے دور رکھیں چکن پاکس کا حفاظتی ٹیکہ دستیاب ہے ۔ جو کہ بچے کو ایک سال کی عمر میں لگ جانا چاہیئے اور اس کے بعد بوسٹردو سال کی عمر میں لگوا دینا چاہیئے۔اگر گھر میں کسی کو چکن پاکس نکل آئے تو باقی گھر والے فوری طور پر ویکسین لگوا لیں تو کافی چانس ہیں کہ وہ اس مرض سے محفوظ ہوجائیں گے۔کچھ لوگ شکایئیت کرتے ہیں کہ ٹیکہ لگنے کے باوجود ان کے بچے کو چکن پاکس کا مرض لاحق ہوا ہے۔ ایسا ممکن ہے لیکن ایسے بچوں میں بیماری کی شدت بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہے
کچھ متھ کے بارے میںعام طور پر لوگوں میں یہ یہ خیال پایا جاتا ہے کہ چکن پاکس نکلنے کی صورت میں بچے کو نہلانا نہیں چاہیئے ۔ اسی ٹھنڈی چیزیں نہیں دینا چاہیئے ۔ بچے کو گرم چیزیں کھلائیں تاکہ سارے دانے باہر نکل آئیں اور کوئی دانہ جسم کے اندر نہ رہ جائےان تمام باتوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ بلکہ نہانے سے بچہ خارش اور جلن سے سکون پاتا ہے ۔ ہاں کوشش کریں کہ نہانے کے بعد کسی سخت کپڑے سے جسم کو صاف نہ کریں تاکہ دانے پھٹنے نہ پائیں۔
چکن پاکس کے نشانات کا علاججو دانے نکل کر اپنی طبعی عمر پا کر ختم ہوجاتے ہیں ان کی نشانات کچھ عرصے بعد مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں لیکن جن دانوں کو خارش کے دوران چھیل دیا جائے یا پھر کسی رگڑ کی وجہ سے پھٹ جائیں ان کے نشانات عام طور پر ختم نہیں ہوتے ان کے علاج کیلئے سکن سپیشلسٹ سے رابطہ کرنا چاہیئےمیم سین

ایک مخلصانہ اور ضروری مشورہ:



جب بھی اپنے بچے کو ڈاکٹر کو چیک اپ کروانے جائیں تو اس بات کا اہتمام ضرور کریں کہ بچے کی والدہ ساتھ ہو۔ ۔کیونکہ بچے کی بیماری کے حوالے سے ڈاکٹر کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات کیلئے سب سے مناسب رشتہ وہی ہوتا ہے۔کیونکہ کسی بھی بیماری کی تشخیص کیلئے سب سے اہم چیز ہسٹری ہوتی ہے اوراکثر اوقات بیماری کا ستر فیصد سے بھی زیادہ درست اندازہ صرف اچھی ہسٹری سے ہوجاتا ہےلیکن مصروفیت کے اس دور میں یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مائیں بچے کو ڈاکٹر کے پاس دفتر سے شام کو لوٹنے والے باپ کے ہاتھ بھیج دیتی ہیں یا پھر ماموں چچا یا کسی کزن کے ساتھ ۔۔ جن کو صرف بیماری کی بنیادی نوعیت کے بارے میں بتایا گیا ہوتا ہے اور جب ان سے بچے کی بیماری کے بارے میں سوالات کیئے جاتے ہیں تو لاعلمی میں یا تواندازے سے جواب دینا شروع کردیتے ہیں یا پھر فون نکال کر ماں سے رابطہ کرنا ۔ جو یا تو اس وقت کہیں مصروف ہوتی ہے یا پھر سوالات کی نوعیت کو صحیح سمجھ نہیں پا رہی ہوتی ہےاور اس ساری صورتحال کا نقصان بچے کی بیماری کی غلط تشخیص کی صورت میں نکل سکتا ہےکوشش کیا کریں کسی بھی ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں تو اس کی کی لکھی ہوئی دوائیوں والی پرچی اور کروائے گئے ٹسٹ ہمیشہ ایک فائل کی صورت میں محفوظ رکھیں۔ جب بھی بچے کے کسی مسئلے میں ڈاکٹر سے ملنے جائیں تو بچے کی اس فائل کو ہمیشہ ساتھ لے کر جائیں ۔ بہت سی بیماریوں کی نوعیت اور بچے کی صحت کے حوالے سے اس فائل کی ڈاکٹر کیلئے کافی اہمیت ہوتی ہےمیم سین

متھ کیسے بنتے ہیں۔۔۔



چند سال پہلے ایک فیملی میرے پاس آئی ۔ ان کے پاس ہومیو پیتھی گولیوں کی ایک شیشی تھی ۔ جاتے ہوئے وہ گولیوں کی شیشی میز پر بھول گئےچند دن بعد ایک خاتون ایک ماہ کے بچے کے ساتھ اس شکایئت کے ساتھ آئی کہ اس کا دودھ بہت کم ہے اس کیلئے کوئی دوائی دیںمیں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ ماں کا دودھ کم نہیں ہوتا لیکن خاتون بضد رہیں کہ کوئی دوائی دیں یا پھر دودھ کا ڈبہ بتائیں جو میں اپنے دودھ کے ساتھ پلا سکوںاچانک میری نظر انہی ہومیو پیتھی گولیوں پر پڑی ۔ اسے اٹھا کر اس خاتون کے حوالے کیا کہ جب دودھ پلانے لگیں تو ایک گولی زبان کے نیچے رکھ لیں اور ایک ہفتے بعد مجھے بتائیں ۔۔ اگر پھر بھی دودھ پورا نہ ہوا تو ڈبے کا دودھ شروع کر دیں گےاور ایک ہفتے بعد خاتون اپنے ساتھ اپنی ایک رشتہ دار کو بھی ساتھ لائیں کہ اس کو بھی ایک شیشی گولیوں کی دے دیں ہمیں کسی میڈیکل سٹور سے نہیں ملی

محب وطن پاکستانیوں کے نام


السلام علیکممیرا نام میجر ثاقب ہے اور آئی ایس آئی کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے بیلونگ کرتا ہوںجی بالکل ٹھیک پہچانا وہی وٹس اپ کے وائس میسج والا۔ جس کو محب وطن پاکستانیوں نے لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔ بلکہ ایک ایک بندے کو بیسیوں بار پہنچاکر یاد دھانی کروائی اور میں شکرگزار ہوں پوری قوم کا کہ اس میسج کی وجہ سے اب کوئی بھی  اپنا تعارف ثاقب نام سے کرواتا ہے تو لوگ کھڑے ہوکر ملتے ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق نیو بارن بچوں میں ثاقب نام ٹاپ پر آچکا ہے۔ویل مائی فرینڈز جیسا کہ آپ جانتے ہیں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک ہی میڈیم استعمال کرنے کی اجازت نہیں اس لیئے اس بار فیس بک سے مخاطب ہوں اس وقت میں ایک اہم مشن پر ہوں اس لیئے زیادہ بات نہیں کر سکتا لیکن کل خفیہ اداروں کی اطلاع پر کی گئی ایک اہم کاروائی کی کچھ تفصیلات آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ جس میں کسوال سے بیلونگ کرنے والی ایک فیملی جو مغل پورہ میں ایک کرائے کے گھر میں پچھلے بیس سال سے مقیم تھی۔ ریڈ کے دوران معلوم ہوا کہ پچھلے بیس سال سے علاقے میں مقیم شخص کے بارے میں پورے محلے میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ اتنے شاندا دہی بھلے بناتا ہے ۔مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ وہ علاقے کی مشہور نیلی مسجد کے گیٹ کے باہر اپنی ریڑھی لگاتا ہے ۔آپ لوگوں سے التماس ہے کہ اس میسج کو جتنا ہو سکے شیئر کریں تاکہ ہمارے ہنرمندوں کو دنیا کے نظروں سے دور رکھنے کے دشمن کے عزائم کو شکست دی جاسکے۔

مغرب کی ترقی کا راز اور ہم



سولہویں صدی کے بعد تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ایک طرف یورپ بیداری کیلئے کروٹ لے رھا تھا ۔اور دوسری طرف امریکہ کی دریافت کے بعد ایک نیا معاشرہ جنم لے رھا تھا جس کی بنیاد صاحب ثروت لوگ، چور اچکے ،مجرم اور مہم جو افراد رکھ رہے تھےجس کی اساس فرد واحد کی بجائےاداروں پر تھی۔
ایک علم ہوتا ہے جو ہم کتابوں سے ڈھونڈتے ہیں۔ دوسرا علم  ہم استاد سے حاصل کرتے ہیں ۔لیکن ایک تیسرا علم ایسا بھی ہے جو ہم سفر سے حاصل کرتے ہیں۔ لوگوں سے مل کر حاصل کرتے ہیں اور وہ علم بہت بہتر اور تیار حالت میں ہوتا جن سے نتائج اخذ کرنا آسان ہوتا ہے ۔اور امریکی معاشرے کی بنیاد ایسے ہی مہم جو افراد نے رکھی تھی ۔جن کے پاس دنیا گھوم پھر کر تجربہ بھی تھا اور وژن بھی 
ایشیا کے بیشتر ممالک اپنی ضروریات کیلئے چونکہ کسی کے محتاج نہیں تھے اس لیئے وہ تیزی سے ہونے والی دنیا کی سیاسی اور فکری تبدیلی سے بے خبر رہے اور اور نتیجہ نوآبادیاتی نظام کا حصہ بننے کی صورت میں نکلا۔ 
تیسری طرف یورپ تھا جو چرچ کی گرفت میں تھا جب یورپ میں چرچ کے اثر ورسوخ کو کم کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں تو ان شعبوں کو چلانے کا مسئلہ سامنے آیا جن کی ذمہ داری چرچ نے سنبھال رکھی تھی۔ان شعبوں کو چلانے کیلئے ادارے بنائے گئے ۔ وقت کے ساتھ ادارے مضبوط ہوتے گئے ۔اختیارات فرد کےہاتھوں سے نکل کر اداروں کو منتقل ہوتے گئے اور ایک وقت ایسا آیا ہے کہ ریاستوں کا مکمل انتظام ان اداروں نے سنبھال لیا اورفرد کی اہمیت علامتی رہ گئی۔ریاستوں کا انتظام اداروں کے ہاتھ میں جانے کے بعد ایک تو انصاف کی فراہمی ممکن ہوئی دوسرا مساوات نے عملی شکل اختیار کرنا شروع کی۔اور انصاف اور مساوات دو ایسے خواص ہیں جو  کسی بھی فلاحی معاشرے کی لیئے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ اور یوں ان اداروں کے سہارے یورپ اپنے ڈارک ایجز سے نکل کر دنیا کے سامنے ایک مستحکم پوزیشن میں سامنے آیا۔اتنا مستحکم کہ دو عظیم جنگیں اور شدید ترین کساد بازاری اور معاشی بحرانوں کے باوجود دنیا کی حکمرانی سے یورپ کے قدم نہیں اکھڑے.کیونکہ یہ سب ان اداروں کی مرہون منت تھا جو یورپ نے مستحکم کر لیے تھے۔ انصاف کا نظام ہو یا پھر پارلیمنٹ کی بالادستی، تعلیم کا شعبہ ہو یا پھر  صحت کا  میدان یہ وہ شعبے  ہیں جنہیں ہمارے ہاں سب سے سے زیادہ نظر انداز کیا جاتاہے.لیکن مغرب نے ان کو خصوصی توجہ کا مرکز بنایا۔ ان اداروں نے یورپ کو اندھیروں سے نکالااور ایک نئی روح پھونکی۔ ابن خلدون کی عصبیت کی مجسم شکل یورپ کے وہ ممالک نظر آئے جو پانچ پانچ سو سال اسی "قومیت" کے چکر میں حالت جنگ میں رہے تھے لیکن جب ادارے مضبوط کر لیے تو پھر تمام تر اختلافات بھلا کر معاشی و معاشرتی ترقی پر اپنی توجہ مبذول کرلی اور ان اداروں نے لوگوں کو نا صرف ترقی دی بلکہ شعور دیااوروہ مجموعی قومی عرفان بھی جس سے آج ہمارہ معاشرہ یکسر محروم نظر آتا ہے 
یہ ایک لمبی بحث ہوجائے گی کہ مغرب کے عروج کے پیچھے اور کون کون سے عوامل کارفرما تھے لیکن یہ  بات طے شدہ ہے کہ ان سب عوامل نے اداروں کو ہی استحکام بخشا اورآج مغرب جس مقام پر کھڑا نظر آتاہے وہ ان ہی اداروں کی مرہو ن منت ہے ۔اور آج بھی جس قوم نے بھی اداروں کے سہارے ملک چلانے کی کوشش کی ہے وہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نظر آئیں گے۔دبئی سمیت ایشیا کے کئی ممالک کا نام لیا جاسکتا ہے ۔
لیکن جب میں ملک عزیز میں انتہائے تضادات کی نئی نئی راہیں دیکھتا ہوں ۔اور فریب ہنر بنا کر کیسے کیسے شعور سینوں میں اتارے جا رھے ہیں ۔تو میری سمجھ میں آتا کہ ہمارا علم بے کار کیوں ہوجاتا ہے ہماری تہذیب بے بسی کی تصویر کیوں بنی دکھائی دیتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ علم سے انسان میں صرف بھلائی کا بیج جنم لیتا ہے۔لیکن جو علم مرعوبیت  کے سائے میں حاصل ہو وہ بھلائی سے زیادہ شر پھیلاتا ہے ۔ ایساباخبر شخص زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔اس میں ایک لچک آجاتی ہے ۔وہ نفع اور نقصان کو بہتر طور پر جذب کرسکتا ہے ۔وہ اگر اچھائی کو اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو بدی کو بھی یکساں جذب کرتا ہے۔ دوسری طرف انسان میں نیکی اور محبت کی تلقین عام ہے لیکن عملی طور پر انسانی رویہ مختلف ہے۔اور نصیحت اور عمل کا یہی تضاد ہمہ گیر مذہبی سچائی کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔جب مذہب مشکوک ٹھہرا تو تو پھر ذاتی آدرشوں کو زندگی کا عرفان ٹھہرایا جانے لگتا ہے۔ اور یوں مرعوبیت کا شکارافراد نے  ترقی کی راہ میں حائل سب سے پہلا الزام مذہب پر لگایا۔
مذہب سے نکلے تو  عورت کے حقوق کو آزادی کے راہ میں رکاوٹ پایا۔ عورت کی آزادی کا مسئلہ۔حجاب کا مسئلہ ، عورت کی ڈرائیونگ کا مسئلہ ۔عورت۔عورت عورت ۔ترقی کی طرف اٹھنے والا ہر قدم عورت کی شخصی مجبوریوں سے شروع ہوکر ہوکر  عورت کی جنسی محرومیوں سے نکلنے لگا۔
 علم میں غرق اور مذہب سے دورشخص نفع و نقصان کے  معیار اپنی سوچ کے مطابق بناتا ہے۔نفع و نقصان کے یہ ترازو خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں جن کا دائرہ تکمیل ذات سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہمارا شعور ،ہمارا ادراک  مغرب کی ترقی سے متاثر تو ضرور ہوا ہے لیکن اس کے اسباب ڈھونڈ نکالنے کے لیئے جو معیار ترتیب دیئے ہیں وہ اس کے ذاتی عرفان کے طابع ہیں ۔اور ذاتی عرفان کے تابع معیار ذاتی تو ہو سکتے ہیں معاشرتی یا اجتماعی نہیں۔  ریاستوں اور معاشروں کے معاملات اجتماعی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور اجتماعی دانش و عمل کے ہی متقاضی بھی اور مذہب کی ضد میں بنائے گئے ذاتی نفع و نقصان کو ناپتے تولتے معیارات کس حد تک کسی قوم یا معاشرہ کے لیے سود مند ہو سکتے ہیں ہماری موجودہ بدحالی کو دیکھتے ہوئے اس کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں

کچھ پولیو ویکسین کے حوالے سے


چند سال پہلے امریکہ میں ایک کسان کے حوالے ایک کیس بہت مشہور ہوا تھا جو اپنے بچے کو گائے کا کچا دودھ پلانا چاہ رھا تھا لیکن صحت کے اداروں نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا تھا کہ بچے کی صحت کے ساتھ کوئی نہیں کھیل سکتا خواہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں
ایسے ہی چند سال پہلے فرانس میں کھلونے بنانے والے ایک ادارے نے  ان کے ایک کھلونے کی کاپی بنانے پر دوسرے ادارے پر کیس کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا نہیں کیا تھا بلکہ اس پرلکھے پانچ سے بارہ سال کی بجائے دو سے بارہ سال کے بچوں کیلئے لکھنے پر کیا تھا کہ یہ چھوٹے بچوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ قانون کی نظر میں بچوں کی صحت سے کھیلنا بڑا جرم ہے۔مغرب میں عوام کی صحت کے بارے میں حکومتی فکر اور اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔جتنے سخت قوانین صحت کے حوالے سے موجود ہیں شائد ہی کسی اور شعبے کے متعلق ہوں۔غیر معیاری خوارک ہو یا مضرصحت اجناس اس پر کسی رعائیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔  لیکن ہمارے لیئے مغرب کی صحت کے معاملے میں اتنی فکر سمجھنا مشکل کام ہے ۔ چند دن پہلے ایک دودھ پیک کرنے والی کمپنی کو انسانی جانوں سے کھیلنے پر دس لاکھ روپے جرمانہ کرکے کے سپریم کورٹ نے پوری قوم کے منہ پر جوطمانچہ مارا ہے۔ اس کے بعد ہمیں صحت کے بارے میں مغرب کی ہر بے چینی میں کوئی سازش ہی نظر آئی گی۔اور آئل و گھی اور منرل واٹرکی کوالٹی کے حوالے سے آنے والی تشویش ناک رپورٹ ویسے ہی منظر نامے سے ہٹا دی گئی ہے۔ورنہ ہماری صحت کے بارے میں بے حسی کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔یہ ساری تمہید میں نے باندھی ہے پولیو ویکسین کے حوالے سے کہ ہمارے ہاں آج بھی پولیو ویکسین کے حوالے سے نہ صرف کنفیوژن پائی جاتی ہے بلکہ پھیلائی بھی جاتی ہے اور آئے دن بہت سے سازشی نظریات کوجنم دیا جاتا ہےلوگوں کے اس مہم کے بارے میں بہت سے تحفظات ہیں جیسے آخر مغرب کو ہمارے ملک سے پولیو کے خاتمے میں اتنی دلچسپ کیوں ہے؟اربوں روپے وہ صرف پولیو کے خاتمے کیلئے خرچ کر رہے ہیں جبکہ یہاں کروڑوں لوگ بھوک اور غربت سے متاثر ہیںانتظامیہ کی طرف سے پولیس کا استعمال اور سختی اس مہم کو مشکوک بنا رہی ہےچلیں ایک نظر اس مہم پر ڈال لیں تو شائد بہت سے سوالوں کے جواب خود ہی مل جائیںپولیو کا وائرس انسانی جسم سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر اس وائرس کو رہنے کو کوئی جسم نہیں ملے گا تو وہ خود ہی اپنے موت مر جائے گا اس حقیقت کو لیکر پولیو کے خاتمے کیلئے مہم کا آغاز 1988 میں شروع کی گئی تھی اس وقت ہر سال ساڑھے تین لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہوجایا کرتے تھے لیکن اگلے بیس سالوں میں لگ بھگ دنیا کے تین چوتھائی ممالک سے اس وائرس کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ 2016 میں صرف 37 کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 20 پاکستان سے تھے۔ 2015  میں 74 کیس رپورٹ ہوئے تھے جن میں سے 54 پاکستان سے تھے۔ 2013میں 416 اور دو ہزار بارہ میں 223کیس رپورٹ ہوئے اور ان میں  سےبھی بیشتر مریضوں کا تعلق پاکستان سے تھاہم سے کئی گنا بڑا اور مسائل میں الجھا بھارت بھی بہتر منصوبہ بندی کی بدولت دوہزار چودہ میں پولیو فری ملک قرار پا چکا ہے ۔لیکن اربوں ڈالر خرچ کرکے بھی پاکستان پولیو کے دوبارہ پھیلاؤ کیلئے دنیا کا سب سے خطرہ بنا ہوا ہےدوہزار پانچ میں امریکہ میں پولیو کے کیس کی موجودگی نے صحت کے اداروں کیلئے الارم بجا دیا تھا جس کے بعد اس پروگرام کو پہلے سے زیادہ متحرک کر دیا گیا اور یہی وہ خوف ہے جو مغرب کو پاکستان پر اتنی زیادہ توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کررھاہے کہ کہیں پولیو واپس نہ لوٹ آئے
کیونکہ جب تک دنیا سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک یہ مغرب کے حواسوں پر خوف بن کر چمٹا رہے گا۔ان مختصر سے اعداد وشمار سے اندازہ ہوجانا چاہیئے کہ پولیو کی اس مہم پر اربوں روپے کیوں خرچ ہورہے ہیں اور انتظامیہ اس معاملے میں بیرونی دباؤ کیوں برداشت نہیں کر پا رہییہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ پولیو ویکسین کے حوالے سے جن تحفظات کا اکثر انٹر نیٹ کے صفحات کے حوالے سے ذکر کیا جاتا ہے وہ تحفظات لگ بھگ ہر ویکسین کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ ہاں جن تحفظات کا ذکر ہونا چاہیئے جن پر سوال اٹھنے چاہییں وہ  ویکسین کی کوالٹی کی یقین دھانی ایک بچے کے کورس کو مکمل کرنے کے باوجود اسے بار بار قطرے پلانے سے متعلق خدشات کے بارے میں یقین دھانیفیکٹری سے بچے کو پلانے تک ویکسین کی کولڈ چین کو محفوظ بناناویکسین پلانے والےورکرز کی مکمل تربیت اور ان کی ذمہ داریوں سے آگاہی اور ان کی ڈیوٹی کے دوران پائی جانے والی کوتاہیوں سے نبٹنا
میم سین

ترجیحات کا فرق


بات یہ نہیں ہے کہ ہم خود کو مسلمان نہیں کہلووانا  چاہتے 
اور نہ یہ بات درست ہے کہ ہماری مذہب بیزاری کی وجہُ ملا ہےوجہ یہ بھی نہیں کہ ہم  اسلام کو سمجھنا نہیں چاہتے اور بات یہ بھی درست نہیں کہ ہمیں  اسلامی تشخص پر تحفظات ہیںبات یہ ہے کہ زندگی کے تقاضے بدل گئی ہیں ترجیہات  بدل گئی ہیں۔جن کی وجہ سے ضروریات بدل گئی ہیں جن کی خاطر مفہوم بدلنے پڑ رہے  ہیںکیونکہ ہماری زندگیوں میں وہ آواز دم توڑ گئی ہے جو کوہ صفا سے بلند ہوئی تھیاے جماعت قریش اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے بنی کعب اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤسب ہی کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔سب ہی عشق رسول کی بات کرتے ہیں۔ سب کا ہی دعوی ہے کہ قرآن الہامی کتاب ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کے معیار بدل لیئے ہیںہماری لگن، جستجو، محنت اس کامیابی کیلئے مختص ہوکر رہ گئے ہیں جو انسان کو سٹیٹس دیتا ہے۔شہرت دیتا ہے۔ دنیا میں مقام دیتا ہے ۔ اچھا گھر، محفوظ مستقبل کے خواب دکھاتا ہے جو معیار قرآن نے مقرر کیا تھا وہ اب بدل چکا ہے  جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں ہماری جستجو کی دوڑ اور ترقی کیلئے استدلال اونچی عمارتیں اور پرتعیش زندگی رہ گئے ہے جس کے بارے میں قرآن نے کہا تھادنیا کے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوش حالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر انکا ٹھکانہ جہنم ہے جو رہنے کی بدترین جگہ ہے بات چھوٹی سی ہے لیکن بات سمجھنے کی ہے وہ بھی ٹھنڈے دل سےجب کامیابی کے معیار ہی بدل گئے تو پھر اس کی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدل جائیں گے۔ پھر ہم نئی توجیحات اخذ کریں گے، ان کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئےصفائیاں پیش کریں گے اس معیار پر پورا اترنے کیلئےجب نئی توجیہات سامنے آئیں گی تو مفہوم بدلیں گے ۔جب صفائیاں پیش ہونگی تو حسرتیں بدلیں گی ۔انفرادی خواہشات اور ارادے تکمیل چاہیں گے اور ہم غیرارادی طور پرراہ راست سے دور ہوتے چلے جائیں گے جب معیار ہی بدل گئے تو پھر گمراہی کا احساس کیسا ؟
طلب کیسی کہ
راہ نجات کونسی سی ہے؟ اور راہ حیات کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
میم سین

آزادی کی تکمیل











امن کی علامت فاختہ اپنی شکل سے تو معصوم نظر آتی ہی ہے لیکن اس دن مجھے معلوم ہوا یہ کہ فطرت میں بھی بہت بھولی بھالی ہے جب فاختہ کے ایک جوڑے نے برآمدے میں لٹکے راڈ سے لگے پردے کے اوپر اپنا گھونسلا بنایا۔ اتنی کمزور جگہ گھونسلا، بھلا پائیدارکیسے ہوسکتا تھا۔ چند دن بعد ہی فرش پر دو ٹوٹے ہوئے انڈے ان کے خاندان کی تباہی کی کہانی سنا رہے تھے۔ لیکن اگلی بار بھی اسی جگہ کا انتخاب کیاتو مجھے فاختہ کی معصوم طبیعت پر یقین آگیاچند دن بعد ہی دو ننھے منے فاختہ کے بچے منہ کھولے سارا دن اپنے ماں باپ کا انتظار کرتے نظر آنے لگے ۔ ان کے جسم پر بال نکلنا شروع ہوئے تو نا جانے  انہوں نے ہز فرسٹ فلائٹ کہانی پڑھ لی تھی یا پھر والدین کی کوتاہی تھی کہ وہ اپنے گھونسلے سے نکل آئے ۔ ننھے ننھے پروں کے ساتھ وہ اچھل کود تو کرسکتے تھے لیکن واپس اپنے گھونسلے میں جانا یا کسی محفوظ جگہ کا انتخاب کرنا ان کیلئے ممکن نہیں تھا۔ایک دن تو میں ان کی حرکتیں دیکھتا رھا۔ مجھے لگا اگریہ یونہی آزاد رہے تو کسی پنکھے کے پروں کی زد میں آکر اپنے جان گنوا بیٹھیں گے یا پھر منڈیر سے جھانکتی بلی کا تر نوالہ ثابت ہونگے۔۔ برتنوں والی ٹوکری خالی کی اور ان کو چھپا کر باجرہ اور سرسوں کے بیج کھانے کو دیئے۔ دو دن تک تو ان کے اماں ابا سارا دن اس ٹوکری کے پاس متفکر بیٹھے رہے لیکن پھراچانک غائب ہوگئے۔چند دن خوب پیٹ بھر کر کھانے کو ملا تو جوانی ان کے جسموں پر ظاہر ہونا شروع ہوگئی۔ ایک ہفتے بعد مجھے لگا کہ اب یہ پروازکے قابل ہوگئے ہیں تو ایک دن ان کے اوپر سے ٹوکری اٹھا دی ۔ کچھ دیر ادھر ادھر گھومنے کے بعد وہ اڑ گئے لیکن شام کو اسی ٹوکری کے قریب پھر موجود تھے۔ اور پھر تو یہ معمول ہی بن گیا۔ صبح کو ان کو آزاد کر دیا جاتا لیکن شام کو وہ اسی ٹوکری کے ارد گرد موجود ہوتے۔ جیسے غلامی کے دنوں نے آزادی کے احساس سے نا آشنا کر دیا ہو ۔یہ لگ بھگ کوئی دس دن بعد کی بات ہے جب ایک دن دوپہر کو میں نے بابا فاختہ اور ماما فاختہ کی موجودگی کو صحن میں محسوس کیا۔ دنوں بچے بھی ان کے ساتھ پھدک رہے تھے۔ کبھی اڑ کر منڈیر پر جاتے تو کبھی کسی تار پر بیٹھ کر زمین کو تکتے۔کچھ دیر ان کا تماشا دیکھتا رھا لیکن پھر اپنے معمولات میں مشغول ہوگیا۔ لیکن اس شام دونوں واپس نہیں آئے۔اپنے بچوں کو آزادی اور غلامی میں فرق ایک دن میں سکھا دیا تھا۔.فاختہ کے بچے معصوم تھے کمزور بھی لیکن آزادی پر سمجھوتہ ان کی سرشت میں نہ تھا.اور اس بات کا اندازہ ماما بابا فاختہ کو بھی تھا کہ جلد یا بدیر ہمارے بچوں نے مکمل آزادی حاصل کرنی ہے.کیونکہ ادھوری آزادی کی کوئی ویلیو نہیں ہوتی.آزادی خوردرو پودے کی طرح اپنی تکمیل خود کرتی ہے اور بہرصورت کرتی ہے.آپ لاکھ بار جھاڑی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں وہ پھر اسی جگہ اگتا ہے.یہ اصول فطرت ہے آزادی اپنی تکمیل کرتی ہے.بس دیکھنا یہ ہے کہ انسانوں کی بستی کے یہ مکین کب اپنی آزادی کی تکمیل کر کے ٹوکری سے نجات حاصل کرتے ہیں.کیونکہ ٹوکری کے نیچے چاہے آسائش کا ہر سامان مہیا ہو وہ آزاد فضاؤں کا متبادل نہیں ہوسکتا
میم سین

میرے مشاہدات


سگریٹ اور حقے کے شوقین سانس کی بیماریوں میں مبتلا بابا جی کا چیک اپ کرنے کے بعد سمجھایا کہبابا جی سگریٹ حقہ سے مکمل اجتناب کریں بلکہ آپ کو تو اس قدر پرہیزکرنا چاہیئےکہ کوئی بندہ سگریٹ پی رھا ہو تو اس کے پاس بھی نہ بیٹھیںمیں دوائی لکھنے لگ گیا اور اتنے میں اس کا بیٹا جو کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا ، کمرے میں داخل ہوا اوراپنے باپ سے پوچھنے لگا ڈاکٹر صاحب نے کیا کہا
بابا جی نےجواب دیاڈاکٹر کہہ رھا ہے کہ جب کوئی پاس بیٹھا ہو تو سگریٹ حقہ نہیں پینا ہے
میم سین

ادھر ادھر سے


احسن صاحب اب اتنے عمر رسیدہ بھی نہیں تھے کہ بیوی کے انتقال کے بعد باقی عمر تنہا گزار لیتے ۔ چار بچوں کی ذمہ داری نے احساس دلایا تو ایک دن اماں نے بھی ہاتھ اٹھا لیئے کہ اب ان کی بوڑھی ہڈیوں میں اتنی طاقت نہیں کہ بچوں کی شرارتوں کا بوجھ برداشت کر سکیں ۔ احسن صاحب نے حامی بھری اور چند ہی دن میں ایک بیوہ ڈھونڈ نکالی گئی جس کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ چند دن گھر میں خوب رونق رہی۔لیکن ساتویں دن دلہن اچانک بے ہوش ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ بلڈ پریشر کی مریضہ تھی ۔شادی کے چکر میں اپنی دوائی استعمال نہ کر سکی اور اب فالج کا حملہ ہوگیا تھا۔ یوں احسن علی کے کندھوں پر ایک اور ذمہ داری نے اپنا بوجھ ڈال دیا
اس کہانی سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے لیکن یہ کہانی بچوں کیلئے تو لکھی نہیں گئی کہ جس سے کوئی سبق نکالنا ضروری ہو ۔ فرحانہ صادق کی رائے میں اس کو ایک اچھا انشائیہ سمجھ کر پڑھ لیں بھائی کی شادی پر ننھے میاں نے اپنا کمرہ سجانے کی فرمائش کر ڈالی۔ فرمائش کیا ضد شروع کر دی تو اسے سمجھایا گیا کہ ہماری روایات صرف دلھن کا کمرہ سجانے کی ہیں لیکن ننھے میاں کے سوالوں نے نے سب کو لاجواب کر دیا کہ قرآن پاک میں ایسا کہیں لکھا ہے یا پھر حدیث میں آیا ہے؟ تو مجبورا اس کاکمرہ سجا دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد جب اس کے ماموں کے بیٹے نے بھی فرمائش کر ڈالی تو اسے زیادہ بحث نہیں کرنا پڑی کیونکہ خاندان میں روایت موجود تھی۔لیکن بڑی عید پر قربانی کیلئے روایت بھی موجود ہیں اور احکام بھی اس لیئے قربانی کیلئے جانور کی خریداری پر بچوں کی فرمائش پر جیب کی تنگی کا عذر پیش کرنا ممکن نہیں رہتا۔ لیکن اس بار تو کانگو کا بھوت ایسا ذہنوں پر سمایا ہوا ہے کہ مویشی منڈیاں سائیں سائیں کر رہی ہیں۔ حکومتی سختیاں الگ سے آڑھتیوں کو روک رہی ہیں۔ طرح طرح کے میڈیکل سرٹیفکیٹ مانگے جارہے ہیں ۔ بہاولپور میں ایک ڈاکٹر کی موت کی ذمہ داری جس وائرس کے کھاتوں میں لکھی گئی اس کی تصدیق نہ تو مزید کسی کیس میں ہو سکی اور نہ ہی اس کو پورے ہسپتال کے کسی دوسرے بندے میں ڈھونڈا جا سکا۔لیکن کانگو کی روک تھام کیلئے عوامی شعور کی لیئے حکومتی اور میڈیا کوششیں اچھی ہیں لیکن حد سے زیادہ شعور بیدا کر دیا گیاہے ۔ لوگ مویشی منڈیوں کا رخ کرنے سے بھی کترانے لگے ہیں ۔ بہاولپور میں تو لوگ وکٹوریہ ہسپتال کے باہر سے گزرنے ہی گریز کرنے لگے ہیں یا پھر گزرتے وقت اپنی گاڑیوں کا شیشہ چڑھا لیتے ہیں ایسی ہی ایک کوشش تھیلیسمیا کے کنٹرول کیلئے بھی کی گئی ہے کہ آئیندہ سے کوئی نکاح اس وقت رجسٹر نہیں ہوسکے گا جب تک ان کے پاس تھیلیسمیا کی سکرینگ کا سرٹیفیکیٹ پیش نہیں کیاجائے گا۔ کیونکہ تھیلیسیمیا کا مرض زندگی بھر کیلئے معذوری ہے۔ اس کی باقی ماندہ زندگی دوسروں کے خون کے سہارے گزرتی ہے۔ لیکن ایسی کئی معذوریوں کا سبب زچگی کے مسائل بھی ہیں۔ جن سے عہدہ برا ہونے کیلئے حاملہ عورتوں کو عطائی دائیوں اور نرسوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال تھیلیسیمیا کے پانچ ہزار بچوں کو معذور ہونے سے روکنے کیلئے تو قانون سازی ہوگئی ہے لیکن جو پانچ ہزار بچہ ہر روز دائیوں، غیر تربیت یافتہ نرسوں اور نامناسب سہولتوں کی وجہ سے
معذور ہورھا ہے ان کیلئے اقدام کب اٹھائے جائیں گے ؟
میم سین

میرے مشاہدات


یہ چند دن پہلے کی بات ہے، چار پانچ مرد وخواتین میرے دفتر میں داخل ہوئے اور میرے تعریفوں میں قلابے ملانا شروع کر دیئے۔
 ایک مرد بولا دو سال پہلے میرے بچے کو سب ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا لیکن آپ کی دوائی سے ایسا ٹھیک ہوا کہ آج تک دوبارہ بیمار ہی نہیں ہوا۔
 دوسرا بولا میری بیوی کی خارش ٹھیک نہیں ہورہی تھی لیکن آپ کی صرف ایک خوارک سے چار سال پرانی بیماری ختم ہوگئی ۔۔۔۔
 اس سے پہلے کہ ساتھ آئی خاتون بھی کسی بیمارکے بارے میں میرے معجزے کا ذکر کرتی، میں نے آنے کا مقصد پوچھا تو ایک مرد بولا میں بڑی امید لےکر اپنی ماں کا چیک اپ کروانےآیا ہوں، باہر چارپائی پر لٹایا ہے۔
 مریض کو دیکھنے پہنچا تو دیکھا کہ کوئی  ایک ہفتے سے بے ہوش، اسی سال کی ایک  بوڑھی عورت، ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی لیٹی ہوئی ہے ۔مشکل سے نکلتے سانس دیکھ کر اندازہ ہورھا تھا کہ بوڑھی خاتون کے سانس گنے جا چکے ہیں ۔ مریض کی حالت دیکھ کر میں نے کہا
انہیں غلط جگہ لے آئے ہیں ۔ میں صرف مریضوں کا علاج کرتا ہوں ، جسموں میں جان ڈالنے کی ذمہ داری اللہ پاک نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے ۔لیکن پھر بھی سب کا اصرار جاری رھا کہ نہیں جی!کوشش کریں اللہ نے بڑی شفا دے رکھی آپ کے ہاتھ میں
میں نے پھر سمجھانے کی کوشش کی مریض تو اپنی آخری سانسوں پر ہے۔آکسیجن لگوا رھا ہوں اگر سانس بہتر ہوئی تو پھر دیکھتے ہیں۔ساتھ آئی ایک خاتون بولی ۔ جلدی سے اسے گیس لگائیں اور اس کا علاج شروع کریں۔ساڈے دو دن لنگا دیو، کل منڈا ویان جانا اے۔۔بس دو دن کی مہلت مل جائے ، کل ہمارے لڑکے کی بارات جانا ہے
میم سین

برہمن اور زاویہ


 ساری گڑبڑ پرسپشن کی ہے۔ ہمیشہ وہ رخ ہمیں نظر آتا ہے جو دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یا ایسے سمجھ لیں ایک ایک نادیدہ قوت سب کو اس زاویے پر بٹھا دیتی ہے جہاں سے سب کو ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ جیسے ایک لیڈر کو کنٹینر پر چڑھا دیا جائے اور ایک قوت سب لوگوں کو اس کی باتیں سننے پر مجبور کرے۔ اور اگر وہ قوت چاہے تو ایک پھانسی کی سزا کی خبر کو نظروں سے اوجھل کر دے ایک زاویہ وہ بھی ہے جہاں پر سیاستدان ووٹ کا مینڈیٹ لے کر اختیارات کو روند رھا ہے، کالے کوٹ کی حرمت لیکر بھی کچھ لوگ استحصال کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ڈگریوں کا سہارا لیکر امراض سے ہراساں کر رہے ہیں۔ تو بے چارے برہمن نے کیا قصور کیا ہے؟ اس کے پاس بھی لوگوں کے چندے کا مینڈیٹ ہے۔ سات سو اکیاسی  ارب روپے کا بجٹ رکھنے والے ادارے کی کوتاہیوں کو دکھانے والا زاویہ بھی ڈھونڈیں۔۔ جس کا دعوی ہے کہ جی ایچ کیو، مہران بیس، تباہ کروانے والے بلوچستان اور کراچی کا امن برباد کرنے والے جاسوس کی چودہ سال بعد گرفتاری اس کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔۔۔ کچھ اس بے بسی کا زاویہ بھی ڈھونڈیں جو سارے گواہان اور رپورٹوں اور ثبوتوں کے باوجود لندن میں ایک شخص کے خلاف کاروائی سے روک رھا ہے۔۔یقین جانئے فرق صرف پرسپشن کا ہے۔دوسرے معاملات ایک عام آدمی کے ساتھ اتنے ہی گہرے جڑے ہیں جتنے برہمن کے معاملات ۔۔ لیکن ہم ان سب کو نظر انداز کر دیتے ہیں
میں برہمن کو کلین چیک نہیں دے رھا لیکن ہمارے ہر شعبے کے ہاتھ اتنے ہی آلودہ ہیں جتنے کہ برہمن کے ۔۔اور اس کا اندازہ صرف کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے لگایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔ لیکن ہمارا دیکھنے اور سوچنے کا زاویہ کہیں اور فٹ کر دیا گیا ہے۔
اور صورتحال اس کہانی جیسی ہے جس میں ایک شخص سارے گائوں کو درخت کے اوپر چڑیا کوے کی لڑائی پر لگا کر خود سارے درخت کاٹ دیتا ہے
(نوٹ بجٹ میں اسلحے کی خریداری اور پینشن وغیرہ کی مد شامل نہیں ہے)

Pages