Nostalgia, Scream and Flower

clinic


یہ ابھی کچھ دیر پہلے کی بات کی ہے۔سرددر اور کمزوری کی شکائیت سے آنے والی مریضہ کو جب میں نے ٹینشن کم لینے اور خود کو مصروف رکھنے کا کہا تو مسکرا کرجواب دیا۔ کوشش تو کرتی ہوں لیکن کیا کروں؟ کبھی کبھی سوچ خود ہی آجاتی ہے ۔ اللہ نے تین بیٹے اور ایک بیٹی عطا کی تھی۔ ایک بیٹا قتل ہوگیا ، دوسرا ایکسیڈنٹ میں چلا گیا اور تیسرے کو بیماری کے بہانے اللہ نے واپس بلا لیا ۔ ایک بیٹی ادھر بیاہی ہوئی ہے۔ اس سے ملنے آئی تھی۔ کسی نے آپ کا بتایا تو چیک اپ کروانے ادھر آگئی۔
ایک دوست کے والد کہا کرتے تھے ۔کچھ باتیں ہم کتابوں سے سیکھتے ہیں کچھ تجربے سے اور کچھ لوگوں سے ۔
اور جو صبر کا سبق مجھے آج تک کوئی کتاب، کوئی وعظ ،کوئی نصیحت نہیں سکھا سکی تھی ۔وہ مجھے اس خاتون کی ایک مسکراہٹ نے سکھا دیا

clinic

چار پانچ سال کا بچہ کھانسی کی شکائیت کے ساتھ آیا ۔موٹی سی جیکٹ پہن رکھی تھی۔ جب اس کی ماں اس کی زپ کھولنے میں ناکام ہورہی تھی تو میں نے تھوڑا سا مدد کیلئےزور لگایا تو وہ ٹوٹ گئی۔ اتنے میں اسکا باپ کمرے میں داخل ہوا تو بچے نے چیختے ہوئے اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے میری جیکٹ کی زپ توڑ دی ہے ۔اس کے باپ نے مجھے گھور کر دیکھا ہے تب سے بڑا ہی شرمندہ شرمندہ سا محسوس کررھا ہوں

tabsra

کتابوں پر تبصرہ...
مکہ مکرمہ کے ہزار راستے
مائیکل وولف
ترجمہ تصدق حسینتاریخ سے دلجسپی رکھنے والوں کیلیئے ایک بہت ہی دلچسپ کتاب ..جس میں مکہ شہر اور حج کے حوالے سے لکھے گئے لگ بھگ تئیس سفرناموں سے اقتباسات کو اکھٹا کیا گیا ہے.. پہلا سفرنامہ 1050 عیسوی اور آخری 1990سے منتخب کیا گیا ہے....
ہر دور کا ایک شعور ہوتا ہے اور اس دور کے شعور کو سمجھے بغیر اس دور کے فیصلوں اور واقعات کو سمجھا نہیں جاسکتا۔اور کسی دور کے شعور کو سمجھنے کیلئے سفرنامے اور خود نوشت سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے
ایک ایسا شہر جہاں کوئی فصل نہیں ہوتی نہ ہی کوئی اناج پیدا ہوتا ہے ۔ ایک ایسا شہر جہاں پینے کا پانی بھی بارشوں کا محتاج ہے اور ایک ایسا شہر جس کے لوگوں کو اپنی زندگی کی ساری ضروریات کیلئے باہر کی دنیا کی طرف دیکھنا پڑتا ہو ۔ اور ایک ایسا شہر جہاں تک پہنچنے کیلئے خطرات کے پل صراط موجود ہو۔ اس شہر کو اللہ تعالی اپنا شہر قرار دے کر وہاں سے ایک ایسی دعوت کو کھڑا کرتا ہے کہ جس کی بازگشت چند ہی صدیوں بعد پوری دنیا میں گونج رہی تھی۔ اور وہ دعوت کس قدر جامع اور مضبوط تھی کہ راستوں کی سختیاں اور موسم کی نا مہربانیاں بھی کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرسکیں ۔ایسے ہی سمجھ لیں اگر لاہور سے ایک کام شروع کیا جائے تو اس کو لوگوں تک پہنچانا کس قدر آسان ہوگا اور تھر کے صحرا میں کھڑی کسی بستی سے ایک پیغام کو دنیا تک پہنچانے کیلئے حالات کتنے ساز گار ہوسکتے ہیں ؟ ۔
مکہ شہر ویسا نہیں تھا جیسا اب ہے ۔اس شہر میں زندگی کس قدر مشکل تھی اور وہاں رہنے اور پہنچنے کیلئے کن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا تھا ۔مکہ شہر کا حدود اربعہ وہاں کے صعوبتیں اور مسافروں کو در پیش مسائل اور تکالیف کا ادراک مجھے ان سفرناموں کو پڑھ کرہوا جو اس کتاب میں جمع کیئے گئے ہیں
عرب چھوٹے چھوٹےقبائل میں تقسیم تھے۔ اور ان قبائل کو عبور کرکے مکہ آنا یا پھر عرب کے اس خطے سے باہر نکلنا ایک بہت جان جوکھوں کا کام تھا۔ اس کے علاوہ خوراک اور پانی کی کمیابی اور موسم کی سختی الگ سے مسئلہ ہمیشہ سے درپیش رھا ہے۔ مکہ تک پہنچنے کیلئے کون کون سے راستے تھے اورحکمران طبقے کی طرف سے حاجیوں کو کیلئے کیا کیا سہولتیں مہیا کی جاتی تھیں۔اور حاجیوں کی راہ میں کیسے روڑے اٹکائے جاتے تھے۔یہ محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ مکہ شہر ، حج اور حج کے سفر کے ارتقا کی ایک دستاویزی ڈاکومنٹری ہے۔
ایک اور اہم چیز جو اس کتاب کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے ، وہ ہماری مسلم تاریخ کی معتدل تصویر ہے جو کتابوں میں درج قتل غارت سے بھرپور تاریخ کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔
میں نے یہ کتاب رومیل پبلیکیشنز کے فیس بک پیج سے آرڈر کرکے منگوائی تھی..
https://www.facebook.com/romailpublications/میم سین

yadoon ka


یادوں کا جھروکہ......پانچ منٹ تک مرغا بنے رہنے کے بعد کھڑا ہوا تو اوسان بحال ہونے میں کچھ وقت لگ ہی گیا
بہت دنوں بعد جب دھند سےآسمان صاف ہوا تو چمکدار دھوپ دیکھ کر ریاضی کی کلاس گراؤنڈ میں لینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس گراؤنڈ میں ہماری کلاس نے ڈیڑہ ڈالا اس کے ساتھ والی گرائونڈمیں سالانہ کھیلوں کی تیاری کیلئے طالب علم کرکٹ کی پریکٹس کررہے تھے۔ ماسٹر صاحب جونہی بلیک بورڈ پر لکھنے کیلئے رخ بدلتے، میں فورا بالر اور بیٹس مین کی کارکردگی دیکھنے میں مصروف ہوجاتا اور ماسٹر صاحب کے کلاس کی طرف مڑنے سے پہلے دوبارہ اپنی توجہ کلاس میں مرکوز کرلیتا۔
بیٹسمین نے ایک سٹروک کھیلا اور گیندہوا میں کافی بلند ہوگئی ۔ فیلڈر اس کے نیچے تھا۔ میری نگائیں بال اور فیلڈر پر مرکوز تھیں ۔ کیچ کرسکے گا یا نہیں۔اور جب میں کلاس کی طرف متوجہ ہوا تو ماسٹر صاحب اشارے سے مجھے اپنے پاس بلارہے تھے۔۔۔۔۔ریاضی کے یہ ماسٹر صاحب ناصرف پڑھائی کے معاملے میں کافی سخت مزاج تھے بلکہ وقت کے بھی بہت پابند تھے۔ چھٹی کا لفظ شائد ان کی ڈکشنری میں نہیں تھا ۔ سکول شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے زیرو پیریڈ کے نام پر اضافی کلاس بھی لیا کرتے تھے ۔ جس کی وجہ سے ان کی طالب علموں میں مقبولیت حکومتی کارکردگی کی طرح کافی کم رہتی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن سکول سے بنا کسی اطلاع کے غائب ہوگئے۔دوپہرکو خبر ملی، لقوہ ہوگیا ہے۔ محمد بخش تو کہہ کر گیا تھادشمن بیمار پوے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی بیمار پر جاناں
ٹیگر تے دن ہویا محمد اوڑک نوں ڈب جانالیکن خوشی وہی، جو چھپائے نہ چھپے ۔باوثوق ذرائع سے پتا چلا، دو ہفتے سے پہلے ان کا سکول آنا ممکن نہیں ۔اور کلاس میں جشن کی گھٹا چھا گئی۔ ۔لیکن سانحہ یہ ہوا کہ تیسرے دن ہی منہ پر کپڑا لپیٹ کر کلاس میں چلے آئے اور سرپرائز ٹسٹ کا علان بھی کردیاولی محمد صاحب کو اللہ غریق رحمت کرے اور جنت کے بلند مقام پر جگہ دے۔ ایک بار کلاس میں میرے بارے کہا تھا کہ اس کو سعادت مندی کی وجہ سے اللہ ہمیشہ کچھ نمبر تیاری کے بغیر ہی دے دیا کرے گا ۔اور اللہ تب سے کچھ نہیں، سے کچھ زیادہ ہی نواز رھا ہے۔۔۔
میم.سین

moulvi

بھولی بسری یاد...گزرے دنوں کی بات ہے کالج کی مسجد میں ایک صاحب جمعہ پڑھایا کرتے تھے..کالج کی مسجد تھی تو مقتدی زیادہ تر طالبعلم ہی ہوا کرتے تھے لیکن.جمعہ کے موضوعات کافی اڈلٹ نوعیت کے ہوتے تھے..جیسے ایک سے زائد شادی کی شرعی حیثیت، مسئلہ لعان، شوہر کے ازدواجی حقوق، حلالہ کیا ہے..
ایک ایسے ہی جمعہ میں نقشہ کھینچ رہے تھے ایک اچھی بیوی کا... کہنے لگے ایسی بیوی ملے تو دل کرتا ہے ایسی ایک اور بیوی ہو، دو نہیں تین.ہوں اور تین بھی کیا چار بھی کم ہونگی...
لیکن یہ بات کنواروں کو سمجھ نہیں آسکتی..
اور ہم نے بے ساختہ ارد گرد نظردوڑائی کہ یہاں شادی شدہ کون ہے؟

ایک لمحے کے تعاقب میں

آوارہ گرد کی ڈائری...
ایک لمحے کے تعاقب میںکچھ لمحے لافانی ہوتے ہیں۔ فردوسی لمحے ۔ وہ لمحے جن میں انسان قید ہوجاتا ہے ۔وہ لمحے جو تنہائی میں بھی مسرت کا سامان مہیا کرتے ہیں ۔وہ لمحے جو پروں کے بغیر اڑان بھرنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ایک انوکھی روحانیت، ایک انوکھی راحت۔وہ لمحہ بھی کچھ ایسا ہی تھا جس نے مجھے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ جس سے رہائی کا سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔
فطرت کے نظام میں کبھی ترتیب نہیں ہوتی لیکں اس ترتیب میں ایک حسن ہوتا ہے۔اور اس حسن کی تلاش میں ابوزر کے ہمراہ ایک بار پھر محو سفر تھا ۔کلرکہار انٹر چینج سے اتر کر چکوال روڈ پر سفر شروع کیا تو چند کلومیٹر کے فاصلے پر جلیبی چوک سے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو جانے والے راستے پر سفر شروع کیا۔ اس روڈ پر کوئی تین کلومیٹر چلنے کے بعد دائیں جانب ایک سڑک نکلتی ہے جو موٹر وے کے نیچے سے گزر کرکلرکہار ایریا کی سب سے خوبصورت سیوک جھیل کوجانے والے ٹریک کو ملاتی ہے جس پر پچھلے سال ایڈونچر کیا تھا لیکن بدقستی سے جہاں سے پیدل ٹریک شروع ہوتا ہے وہاں تک پہنچتے پہنچتے شام ہوچکی تھی اور سیوک جھیل کو ،پھر آئیں گے کہہ کر واپس لوٹ آئے تھے۔ بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے بعد سڑک سنگل ہوجاتی ہے ۔کٹی پھٹی لیکن اس قابل ہے کہ آسانی سے اس پر سفر کیا جاسکے۔ چڑھائی دھیرے دھیرے بڑھتی ہے اس لیئے ڈرائیونگ میں کوئی زیادہ مشکل پیش نہیں آتی ۔
میلوٹ ٹیمپل کے قریب پہنچ کر گاڑی کو ایک طرف پارک کیا۔باہر نکلے تو منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ گہرے بادل اور یخ بستہ ہوائوں نے جسم میں ایک سنسناہٹ پھیلا دی۔ اور ہیبت ناک ہزاروں سال پرانے ٹیمپل کے آثار کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتے ہوئے جب دوسری طرف نکلا تو سفید چٹانوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے قدموں کے نیچے سے جیسے چھت ختم ہوگئی ہو اور سامنے جہلم کا وسیع و عریض ڈیلٹا تاریخ کے ہزاروں صفحوں کو اپنے اندر سموئے اپنی بے پناہ تابناکیوں کے ساتھ کسی آرٹسٹ کے کینوس کی مانند میری نظروں کے سامنے پھیلا ہواتھا۔
ٹھنڈی یخ ہوا ایک عجیب پر اسرایت پیدا کررہی تھی ۔میرے سامنے فطرت کی رعنائی اپنی بھرپور دلفریبی کے ساتھ میرے اوپر ایک سحر طاری کرچکی تھی ۔جس میں بل کھاتی ندیاں اور موٹر وے ایک لکیر کی صورت دکھائی دے رہی تھی۔تاحد نظر سر سبز و شاداب وادی بکھری ہوئی تھی۔ ہواؤں کے سرد تھپرے کسی نظر نہ آنے والے ہیولوں کی مانند جسم کو سہلاتے اٹھکیلیاں کرتے کبھی سامنے سے دھکا دیتے تو کبھی سائیڈ سے۔
میں وادی کی طرف منہ کرکے ایک چٹان پر بیٹھ گیا۔یہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان تنہائی میں مسرت محسوس کرتا ہے۔ امنگیں اور ولولے ایک ہجوم بپا کردیتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جو انسانی فطرت کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔انسانی احساسات کے گمشدہ گوشوں کو روشن کرتے ہیں ۔انسانی ذہن کی متضاد کیفیتوں کی آماجگاہ کو ایک نقطے پر سمیٹ دیتے ہیں۔
میں سرشار تھا۔ایک مدھر ترنگ سرشاری دکھا رھا تھا۔پہلا لمحہ دوسرے میں ڈھل رھا تھا اور دوسرا تیسرے میں، تیسرا ایک احساس میں ۔اور میں ایک وجدانی کیفیت اور خودفراموشانہ محویت سے ایک جذبے میں ڈھل رھا تھا۔ اس جذبے کا کوئی نام نہیں تھا ۔ جس جذبے کو آپ کوئی نام نہ دے سکیں اس کو خوشی کہتے ہیں ۔ روحانی خوشی۔
وہ لافانی لمحے تھے ۔وجدانی لمحے۔وہ لمحے جن کا کوئی مول نہیں
وہ لمحے ، جن کے اختتام پر احساسات کا ہجوم ہوتا ہے، ناقابل بیان ہیجان ہوتا ہے۔
امید، حزن، توقعات، ملال، حسن، اداسی، خوشی، سرشاری، جوش۔
جذبات و احساسات کا ہجوم ہوتا ہے جو انسانی وجود اور زندگی کے ضامن ہیں وہ جذبات جن کے دم سے انسانی زندگی چل رہی ہے اور اپنے اپنے محور میں زندہ ہے۔
زندگی اسی کا نام ہے شائد ہر جذبے کا احساس، اس کا ظہور اور اس ظہور کا احساس۔
اور انسانی زندگی کی معراج شائد ان جذبوں کو زبان دینا ہے ۔
احساسات کے اظہار کی لگن روز ازل سے انسان کے خمیر میں ہے۔.....کیمرہ سے قلم تکسفر کریں۔ خوش رہیں۔ احساسات لکھیں اور خوشی محسوس کریں
میم سین

haqeeqat

یہ چند دن پہلے کی بات ہے .اپنے بھائی ابوزر کے ہمراہ چورپرجی والے خان بابا کے ریسٹورنٹ پر کھانا کھانے پہنچا...خان بابا کا مٹن قورمہ ذائقے میں اپنی نوعیت کی منفرد ڈش ہے.. سالوں بعد بھی جائیں تو وہی ذائقہ ملتا ہے جو آپ کی زبان.محسوس کررہی ہوتی ہے....اس دن بھی کچھ ایسا ہی ذائقہ زبان.پر رکھے وہاں پہنچے اور قورمہ آرڈر کردیا..سروس کا بھی جواب نہیں اور چند ہی لمحوں بعد کھانا میز پر موجود تھا..اس دن ذائقہ تو ہمیشہ کی طرح ویسے ہی اعلی لگ رھا تھا لیکن گوشت کی کوالٹی بھی معمول سے زیادہ اچھی دکھائی دے رہی تھی..
لیکن ہوا کچھ یوں کہ ابھی ابتدائی لقمے ہی چل رہے تھے کہ گردے کا درد شروع ہوگیا..جووقفے وقفے سے اٹھتا اور پھر کچھ سنبھل جاتا... جیسے تیسے کھانا ختم.کرلیا..لیکن.کھانے کا ذائقہ یاد رھا نہ گوشت کی کوالٹی..درد بھی کچھ دیر بعد کافی سنبھل گیا
لیکن اس سارے واقعے سے میں نے ایک نتیجہ نکالا...
دوسری شادی کا فیصلہ کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو لیکن اگر اس کے ساتھ کوئی گردے کے درد جیسی بدمزگی پیدا ہوجائے تو سارا مزہ کرکراہ ہوجانا ہے..

flowers

بہار آئی توجیسے یک بار۔۔۔۔کچھ قربتیں , کچھ تعلق زبان کے محتاج نہیں ہوتے۔ لیکن پھر بھی ہم ان سے باتیں کرتے ہیں ۔ آبشار کے پتھروں سے ٹکرا کر نکلتی ترنم کی زبان ، ہوا سے ٹکراتے، سرسراتے پتوں کی زبان، ندی کے پانی کی، پتھروں سے ٹکرا کر پیدا ہوتی گونج کی زبان۔ خشک مٹی پر پڑنے والے بارش کے پہلے چھینٹوں سے اٹھتی خوشبو کی زبان۔ پسینے سے شرابور جسم سے ٹکرانے والی ہوا کے پہلے جھونکے کی زبان۔ ساحل پر سمندر کے پانی کے پاؤں پر پہلے لمس کی زبان ۔ پتوں میں سے چھن چھن کر آتی سورج کی شوخکرنوں کی زبان ۔
جذبات اور احساسات خود ساختہ نہیں ہوتے۔ یہ فطری ہوتے ہیں۔ فطرت جب فطرت سے باتیں کرتی ہے تو تو روحیں تحلیل ہوجاتی ہیں ۔ایک خودفراموشی کا عالم ہوتا ہے۔ مسرت، طمانیت، ایک جذباتی یگانگت، اپنائیت۔
پرندوں کی خوش الحانی میں صدا سنائی دیتی ہے۔ درختوں کے پتوں کے رنگوں میں سانسوں کا گماں ہوتا ہے۔پھول کی پنکھڑیوں میں خوشبو کسی سنگیت میں رنگ بھرتی نظر آتی ہیں۔ یہ کتنا دلکش احساس ہے۔ کس قدر دل نشیں۔
چلیں پھر پھولوں سے باتیں کریں ۔ایک نیا رنگ ایک نیا روپ ایک نیا کیف محسوس کریں۔ ایک الہام کو۔ ایک وجدان کو ۔محبت کے اس اھساس کو جو لہو کی طرح ہمارے جسموں میں رواں ہے۔کائنات کی ان بہاروں کو جو ہمارے ارد گرد سماں باندھے کھڑی ہیں۔ زندگی کی ان گنت رعنائیوں کو جو آرزوئوں کو پروان چڑھاتی ہیں۔اس ابدی خوشی کیلئے جس کو زوال نہیں ۔
میم سین

clinic

یاداشتیں....چند سال پہلے ہمیں ایک تعریفی خط موصول ہوا تھا..خوشی سے ہم پھولے نہ.سمائے تھے..پھر ایک غزل نما بھی موصول ہوئی جس میں ہماری تعریف کچھ کچھ ڈبے میں کیک رکھ کر کی گئی تھی...پاس ہی عید تھی .عید کا کارڈ بھی ملا...جس پر ایک چھوٹا سا دل بھی بنا ہوا تھا.سرخ مارکر کے ساتھ جس میں ایک تیر بھی پیوست تھا...جس دن غائبانہ مداح نے اپنا تعارف کروایا تو معلوم ہوا ان کی تو پوری فیملی ہی ذہنی مریض ہے اور خود بھی ڈیپریشن کا ہی علاج کروا رہی تھی....ایک فیملی اپنی لڑکی کو بے ہوش حالت میں لائے جس نے زہر پی لیا تھا.چونکہ پرانا تعلق تھا اس لیئے ریفر نہ کرسکا .جب معدہ واش کرنے کیلئے نالی لائی گئی تو لڑکی نے کن اکھیوں سے موٹی سی نالی دیکھی تو اوسان خطا ہوگئے اور جونہی موقع ملا کہ تو ہاتھ جوڑ دیئے. میں نے تو اسے پریشان کرنا تھا جو کئی دن سے میری کال نہیں سن رھا تھا اور میرے میسجز کا جواب نہیں دے رھا تھا..ایک لڑکی چہرے کی دوائی لینے آئی.ہاتھ میں موبائل تھا.جونہی سٹول پر.بیٹھی تو سکرین آن ہوگئی...اس پر اس کی تصویر لگی تھی....بڑی گلاسز ...سیلفی سٹائل .. سفید شفاف جلد کے ساتھ ...
نقاب ہٹایا تو سارا چہرہ دانوں اور سیاہیوں سے بھرا ہوا تھا..بےساختہ منہ سے نکلا..
دیتے ہیں دھوکہ یہ موبائل کے فلٹر کھلا..یہ ابھی کل کی بات ہے..ایک پٹھان فیملی کو بچے کے بارے سمجھایا کہ گھر جاکر پہلے گرم.پانی سے نہلانا ہے پھر اس کو دوائی پلانی ہے اس کے آدھے گھنٹے بعد دودھ پلانا ہے...
اور آج خان صاحب کافی غصے میں تھے..ہمارے بچے کو کوئی افاقہ نہیں ہوا..
گھر جا کر ہم نے دوائی سے نہلایا پھر اس کوگرم.پانی کرکے پلایا ..آدھے گھنٹے بعد دودھ پلایا لیکن اس نے پھر الٹی کر دی...چلتے چلتے ایک بھولی بسری کہانی سناتا چلوں۔یہ کہانی ہے ایک چار جوان بچوں کی ماں کی جو ایک نوجوان ڈاکٹر کی اداؤں پر فریفتہ ہوگئی تھی۔خاتون کو اس نوجوان سے محبت ہوگئی تھی یا پھر صرف عقیدت تھی۔ اس کا جواب شائد اتناآسان نہیں ۔ ہوا کچھ یوں کہ نوجوان ڈاکٹرنے ایک قصبے میں نیا نیا کلینک کھولا تو وہ خاتون جو اپنے ایک سو بیس کلو وزن سے نالاں تھی ۔ اس ڈاکٹر کو بھی آزمانے پہنچ گئی۔ اور نوجوان جو نیا نیا ڈگری لیکر کالج سے نکلا تھا۔ پوری توجہ سے اسکی رہنمائی کی۔ اور خاتون اس توجہ پر کچھ اس طرح فدا ہوئیں کہ ناصرف ہدایات کو وحی سمجھ کر عمل کرنا شروع کردیا بلکہ ڈاکٹر کیلئے کبھی تازہ پھلوں کا جوس، کبھی ملک شیک، کبھی گاجروں کا حلوہ کے تحفے میں لانا شروع کردیئے۔ نوجوان ڈاکٹر تکلف کا مارا انکار تو نہ کرتا لیکن خاتون کے جانے کے بعد وہ کلینک کے عملے میں تقسیم کر دیتا۔ اور یوں خاتون نے چند مہینوں میں پورے تیس کلو وزن کم کرلیا۔ اور پھر ایک دن کچھ یوں ہوا کہ وہ خاتون بہت محبت کے ساتھ میووں میں بنا سوجی کا حلوہ بنا کرلائی۔ اورڈاکٹر نے حسب عادت اس کے جانے کے بعد پلیٹ عملے کے حوالے کر دی۔ لیکن خاتون کو کسی کام سے واپس لوٹ کر آنا پڑااور سویپر کے ہاتھ میں سوجی کے حلوہ کی پلیٹ دیکھ کر اس کے دل پر کیا گزری اس کا تو پتا نہیں لیکن وہ دوبارہ لوٹ کر کلینک پر نہیں آئی۔ راوی لکھتا ہے کہ ایک ماہ بعد ہی خاتون کا وزن دوبارہ ایک سو بیس کلو ہوگیا تھا اور وہ نوجوان ڈاکٹرآجکل کلینک سے کتاب تک لکھنے کے بعد اس کے اگلے حصے کی تیاری میں مصروف ہے۔میم سین

clinic

اماں حاجرہ اپنی بیماری کی فائلوں کے ساتھ پہلی بار آئیں تو ان کی ایک سال سے پخانے کے ساتھ خون آنے کی شکائیت ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے اور ہر ٹیسٹ کروانے اور کئی ڈاکٹرز کو چیک اپ کروانے کے باوجود رفع نہیں ہوسکی تھی..چیک اپ کرنیاور رپورٹس دیکھنے کے بعد میں نے ان کو ان کی بتائی ہوئی علامات پر سوچنے کی بجائے ذہنی امراض کی ادوایات شروع کرنے کا فیصلہ کیا..اور ہفتے بعد ہی کافی مطمئن واپس آئیں کہ اب خون آنا کافی کم ہوگیا ہے..چند ملاقاتوں کے بعد اماں سے بے تکلفی بڑھی تو ان کا میرے اوپر اعتماد بھی بڑھ گیا...جب اپنی اس کیفیت سے باہر نکل آئیں تو ایک دن بتانے لگیں....میرے چار بیٹے ہیں..زمینوں کا انتظام اور کاروبار کے سلسلے میں صبح گھر سے نکل جاتے ہیں..سب کی شادی میری مرضی اور پسند سے ہوئی ہے. شام کو جب واپس آتے ہیں تو ہم سب اکھٹے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں..اس دن بھی جب سب کھانا کھانے لگے تو مجھے اپنا بیٹا ماجد یاد اگیا جو پانچ سال پہلے خونی پیچش لگنے کے بعد فوت ہوگیا تھا.. اور اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال نہ سکی..اگر وہ زندہ ہوتا تو آج وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رھا ہوتا.....ماں تو آخر ماں ہی ہوتی ہے....اسکے سارے بچے ایک جیسےمیم سین

camera

آوارہ گردی کے تین سال۔۔۔لوگ سمجھتے ہیں شائد ایک اچھا کیمرہ ایک اچھی تصویر کی ضمانت ہے اور میں بھی یہی سمجھتا تھا۔ لیکن وقت اور تجربے نے سکھایا ایک اچھا کیمرہ ایک اچھے ہتھیار کی طرح ہوتا ہے لیکن اسکو کب استعمال کرنا کیسے کرنا اور کس اینگل سے کرنا یہ سب کچھ تجربہ اور وقت سکھاتا ہے۔ایک اچھی تصویر کیلئے مناسب روشنی ، مناسب زاویہ, رنگوں کا امتزاج، اور بہت سارے دوسرے اجزا کے ساتھ فوٹو شاپ کا استعمال ضروری ہےفوٹو شاپ کا استعمال ضروری کیوں؟ روشنی کو کم زیادہ کرنا، زاویہ درست کرنا،غیر ضروری ابجیکٹس کو غائب کرنا، کراپ کرنا، بلرحصوں کو کلیئر کرنا۔وغیرہ وغیرہانسانی شعوراور علم وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہم جس بات پر کل یقین رکھ رہے ہوتے ہیں اس پر آج سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں اور جس بات کو کل ماننے سے انکاری ہوتے ہیں اس کو آج ایمان کا حصہ بنا چکے ہوتے ہیں۔ شعور ہمیشہ ارتقا کا سفر کرتا ہے۔ ایسے ہی علم وقت کے ساتھ بالیدگی کی سیڑھیاں طے کررھا ہوتا ہے۔۔ باقائدگی سے شروع کی ہوئی اس فوٹوگرافی کو لگ بھگ تین سال ہوچکے ۔اورہر سال جب اپنی پرانی تصویروں کو نکال کر دیکھتا ہوں تو آدھی سے زائد تصویروں کو نظر آنے والی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ریجیکٹ کردیتا ہوں۔میں کوئی بہت اچھا فوٹو گرافر نہیں ہوں نہ ہی مجھے کوئی ایسا دعوی ہے بس ایک ایگزاسٹ ہے جو قلم اور کیمرے کی مدد سے نکالتا رہتا ہوں لیکن جب مجھے کوئی فوٹو گرافی کے بارے پوچھتا کہ اچھی تصویر کیلئے کیا ضروری ہوتا ہے تو میرا جواب ہوتا ہے ۔ زندگی کے ہر کام کی طرح مستقل مزاجی۔۔میم سین

summer

ہمارے ہاں بہت سی خواتین کے نزدیک پچے کی پیدائش کے بعد سوا مہینے بعد پاک ہونے کیلئے جو غسل کیا جاتا ہے اس سیپہلے نہانا منع ہوتا ہے...ایسے ہی بہت سی عبایا پہننے والی خواتین سمجھتی ہیں کہ عبایا کا کپڑا شائد دھونے سے خراب ہوجاتا ہے....اور دونوں باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے..اپنے اوپر نہ سہی دوسروں پر رحم کھائیں جو مروت کے مارے بدبو کو برداش کرنے مجبور ہوتے ہیں..میم سین کلینک سے کتاب تک والے #عبایا #عبایادھونا #پسینا #گرمیاں #شاور
اضافی حاشیہ بشکریہ شہباز ملک صاحب..
حضرات سے بھی گذارش کہ گرمی کے موسم میں وضو کرتے ہوئے ایک گیلا ہاتھ اپنی کَچھ میں بھی مار لیا کریں۔ اسی طرح سردی کے موسم میں جرابوں کی دھلائی پر بھی تھوڑی توجہ کی ضرورت ہے۔ دوران جماعت اگر اگلی صف میں کوئی“مجرب”بھائی سجدہ ریز ہوں تو پچھلی صف والے بندے کے لئے سانس بند کر کے سبحان ربی الاعلیࣿ کا ورد مشکل ہو جاتا ہے۔
عمومی تاثر یہی ہے کہ سادگی دراصل اپنے حال اور آپٹکس سے بے خبری کا نام ہے۔ ذاتی صفائی سے بے اعتنا بندے کو پتہ نہیں کیوں سادہ مزاج سمجھا جاتا ہے۔

clinic

ایک شکل اور حلیئے سے کافی معقول اور پڑھے لکھے بندے نے آکر بتایا.چند دن پہلے آپ سے دوائی لی تھی لیکن ایک تیلے دا وی فیدہ نہ ہویا (اس سے کوئی افاقہ نہیں ہوا).پھر ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس چلا گیا تو اس کی صرف ایک خوارک سے ٹھیک ہوگیا.کم ازکم تہانو ایڈا تے پتا ہونا چاہی دا سی کہ مرض ایلوپیتھک اے کہ ہومیوپیتھک(آپ کو اتنا تو پتا ہونا چاہیئے تھا کہ بیماری ہومیوپیتھک ہے یا ایلوپیتھک)..اب چیک اپ کے بعد میرا تجربہ تو رھنمائی کرنے میں ناکام ہوچکا.. گوگل نے بھی کسی قسم کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے..اب مجھے سمجھ نہیں آرہی رہنمائی کیلئے کس سے رجوع کروں...فیلنگ کنفیوزڈ ود بابا کی ڈول اینڈ نائنٹی ایٹ ادرزمیم سین

clinic

ایک بچے کی ماں کو کافی دیر سمجھایا کہ اسے ماں کے دودھ کے علاوہ چھ ماہ تک کوئی چیز منہ کو نہیں لگانی..ماں ہلکی سی آواز میں بولیانگوراں دی کھنڈ دے دیان کراںمیں نے کہا نہیںپانی منہ نون لا دیاں کراںنہینچاروں عرق؟پھر ایک بار دھرایا سوائے ماں کے دودھ کے، اس کے منہ کو کچھ نہیں لگانا...شیزان دی بوتل منہ نون لا دیاں کراں..میں نے مایوس ہوکر ساتھ آئی اماں سے کہاتسی اینوں کج سمجھا دیو..میری تے کوئی گل ایڈی سمجھ نہین آندی پئی.وہ خاتون اس کی طرف مڑی اور کہنیلگی..گل سن. توں اینوں کچھ نہ دیا کر بس ماکھی دے دیا کر..میں نے حیرت کے ساتھ اماں کو دیکھا تو میرے چہرے پر خفگی کے آثار دیکھ کر بولیہن بچہ روندا ہویا ویکھیا وی تے نہین جاندا
میم.سین

clinic

کچھ سال پہلے ہم کچھ دوست ایک کینٹین پر بیٹھے تھے. گفتگو شیخوں کے لطیفوں سے شروع ہوئی. اور ارائیوں کی طرف نکل گئی اور میں نے بھی بھرپور حصہ لیا.. محفل برخواست ہوئی تو ایک دوست قریب آیا... ہاتھ پر ہاتھ مارا...ایک مزے کی بات بتائوں..میں اج تک آپ کو ارائیں سمجھتا رہا ہوں.بات سے بات نکلی تو پوچھا گیا پہلا کرش کون تھا..کہا سنا معاف..چند گھر دور ایک بٹ فیملی تھی.ان کی ایک مہ جبیں دوسری منزل پر بالوں میں کنگھی کرنے آیا کرتی تھی.. ہوبہو موتیے کا پھول...تب میں ساتویں جماعت میں تھا.اٹھویں میں پہنچا تو اس کی شادی ہوگئی.میں کئی دن اداس رھا..وقت گزرا تو اس کی یاد بھی محو ہوگئی.ایک دن گھر آیا تو تو دو فربہ خواتین کو گھر میں مہمان پایا..پتا چلا.ان.میں سے ایک موتیے کا پھول بھی ہے جو اب گوبھی کے پھول میں ڈھل چکا تھا...بٹوں کے حسن سے اعتبار کچھ ایسااٹھا کہ شادی سے پہلے جب کسی لڑکی کومستقبل کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی تو حفظ ماتقدم پوچھ لیتا تھا..تسی بٹ تے نہیں ہندے؟
میم.سین

clinic

صبح جس خاتون کو بڑی مشکل سے تسلی دے کر بھیجا تھا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں..بچے میں پانی کی کمی نہیں ہے.. دوائی استعمال کرائیں... بہتر ہوجائے گا..اور اب دو گھنٹے بعد خاتون دوبارہ بچے کو لیکر آگئی ہے کہ بالکل پانی نکالے جارھا ہے... نڈھال ہوچکا ہے... کچھ کھایا پیا بھی نہیں صبح سے..اور مجبورا مجھے اس کو ڈرپ لگانا پڑی.اور کچھ دیر پہلے ہی ایک کونسلر صاحب کی اپنے بھتیجے کے بارے میں کال موصول ہوئی تھی کہ اس بچے کو اس وقت تک چھٹی نہیں دینی جب تک اس کے پخانے بہتر نہیں ہوجاتے...اور میں اپنے علم فہم اور ابزرویشن کے درمیان الجھا ہوا تھا.کہ میرابیماری کی شدت بارے اندازہ غلط ہے یا پھر والدین کے تفکر میں انتہاپسندی ہے...کوئی دو گھنٹوں بعد ایک نوجوان نے خاتون کا ڈرپ لگوانے کے معاملے کا ڈراپ سین کیا..اس نے بتایا کہ مصروفیات کی وجہ سے گھر فون کیا تھا اس ویکنڈ نہیں آسکوں گالیکن بچے کی بیماری کا سن کر سب کچھ چھوڑ کر آنے پر مجبور ہوگیا ہوں......اگلے چند گھنٹوں میں کونسلر صاحب کے بھتیجے کی بیماری کی نوعیت بارے بھی علم ہوگیا..اتوار کی چھٹی کو بچے کی بیماری کے سہارے ہفتہ کے ساتھ ملایا جارھا تھا..لیکن میرے ذہن میں سوال یہ پیدا ہورھا ہے کہ بچوں کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے والے والدین کی اس کوشش کو میڈیکل سائنس کس نظر سے دیکھتی ہے؟؟

ہاتھ کی کھڈی

چند دن پہلے ڈاکٹر رابعہ درانی نے لکھا تھا چاند پر چرخا کاتنے والی بی بی اگر حقیقت ہوتی تو وہ چاند پر چرخا کیوں کاتا کرتی اسے زمین پر آنا چاہیے تھا کپاس تو یہاں اگتی ہے ۔۔ دراصل چاند الی اماں اپنے محبوب" بہت پہنچی ہوئی سرکار" کے مزار کی مجاور ہے ۔
 پھر بھی ہزارہا صدیوں کا وقت کیسے کاٹے تو چاند بی جی چرخے والی نے'وقت کاٹنے' کی بجائے ''چرخا کاتنے '' کا فیصلہ کیا ۔سمارٹ چوائس ازنٹ اٹ ! اپنے ہاتھوں سے بٹی سوت کی کیا ہی بات ہے۔
 عشق کی قیمت ملے نہ ملے۔۔۔اپنی پہچان سے عشق،اپنی  شناخت، اپنی مٹی سے عشق، اپنی ثقافت اپنی تہذیب ۔۔ ۔انسان جب عشق کے زیر اثر آتا ہے تو یہ خوشی کا لمحہ ہوتا ہے۔ایک دنیا جاگ رہی ہوتی ہے ایک آلائو روشن ہوچکا ہوتا ہے۔سچائی کی قندیل آپ کی رہنمائی پر مامور ہوچکی ہوتی ہے۔پھر عشق کی کیا قیمت ۔ عشق کا کیا صلہ۔کمالیہ شہر کی  پہچان کھدر ہے۔ اور اصلی کھدر وہی تھا جو ہاتھ کی کھڈی پر بنایا جاتا تھا۔ کمالیہ کے ہی ایک رہائشی  اعظم بانکا کو بھی اپنی اس شناخت سے عشق ہے۔ اور اس  نے مشینی دور میں اپنے عشق کو دیکھا۔اور ہاتھ سے دو کھڈیاں بنا کر ان پر کپڑا بننا شروع کیا۔
عشق کی قیمت ملے یا نہ ملے۔اعظم بانکا ہمارے ہی آبائی محلے بلکہ آبائی گلی کا مکین ہے۔اس سے ملا تو  دلچسپ انکشاف ہوا کہ یہ کھڈیاں اس نے  اپنے ہاتھ سے اس لکڑی سے بنائی ہیں جو ہمارے آبائی گھر  کے نئے مالکان  کی جانب سے تعمیر نو کیلئے پرانے گھر کو گرانے کے بعد فروخت کی تھی ہاتھ سے بنا کھدر کا دھاگہ کچھ موٹا ہوتا ہے اس لیئے اس سے بنا ہوا کپڑا عموما سردیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔کپڑے کی بنتی میں ایک تانا ہوتا ہے اور ایک بانا۔ تانا وہ دھاگہ ہوتا ہے جو ورٹیکل باندھا ہوتا ہے اور بانا وہ دھاگہ ہوتا ہے جسے ایک ایک لکڑی کے بنے چوہا نما کی مدد سے تانے میں سے گزارا جا رھا ہوتا ہے۔ہاتھ سے بنی کھڈی کا کپڑا  ایک تارہ یا دو تارہ یا پھر تین تارہ ہوتا ہے۔ تارہ کہتے ہیں رنگوں کے ان شیڈز کو جو بانا کے ذریئے پیدا کیا جاتا ہے۔ایک تھان میں  انچاس سے چھپن  میٹر کپڑا ہوتا ہے۔ اور ایک دن میں آٹھ سے دس گھنٹے محنت کے بعد ایک کھڈی پر سات سے دس میٹر کپڑا بنا جاسکتا ہے۔کاروباری لوگ ان کاریگر لوگوں سے اڑھائی سو سے تین سو روپے  میٹر میں کپڑا خرید کر پانچ سے آٹھ سو روپے میٹر تک فروخت کرتے ہیں۔کچھ لوگوں کے نزدیک قیمت بہت زیادہ ہے۔لیکن یہ قیمت کپڑے کی نہیں ہے اس عشق کی ہے جس کی کوئی قیمت نہیں ہوسکتی ۔۔۔ 

ناسٹیجیا

شفیق الرحمن کی نیلی جھیل کا طلسم میرے اوپر بہت دیر تک رہا۔جھیل کی دوسری جانب کیا ہے؟ وہاں پریوں کے ڈیڑے ہیں۔بونے وہاں رہتے ہیں یا سمرفس وہاں آباد ہیں ۔جھیل کی دوسری جانب ایلس ان ونڈر لینڈ آباد تھا۔یا سنہرے بالوں والی شہزادی اپنے شہزادے کے انتظار میں بہتی کرنوں کو ڈھونڈ رہی تھی یا پری تھی کوئی ، کسی دیو کی قید میں ،کسی بہادر لکڑہارے کے بیٹے کے انتظار میں ۔ وہ کب آئے گا اور اسے رہائی دلائے گا۔ نیلی جھیل کی پراسراریت ایک رومانوی معنویت کے ساتھ ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہے۔کسی ان دیکھی منزلوں کا متلاشی، کسی دیو ملائی حقیقتوں کا منتظر۔کبھی ٹی وی پر کسی انگلش فلم میں دکھائی دینے والے معصوم چہرے کے ذہن پر ثبت ہوتے نقوش، تو کبھی راہ چلتے کسی دوشیزہ کا دلوں کو مغموم کر دینے والا نگاہوں کا سکوتایڈورڈ دنیا سے مایوس ہو کر خودکشی کے ارادے سے جمپ لگانے دریا پر پہنچا اور اپنے ماضی کی یادوں کو دھرا رہا تھا اور ہاتھ سے پاس پڑی کنکریوں کو اٹھا کر پانی میں پھینک رہا تھا۔  اچانک پانی سے سنہرے بالوں والی لڑکی نکلی اور چلائی۔ کیا کر رہے ہو۔ دیکھ نہیں سکتے۔ میں پانی میں ہوں۔ جل پری کو دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے ابل پڑیں۔اور پھر دونوں کے درمیان تکرار سے ان کی دوستی کا آغاز ہوا۔ اور پھر کیسے دنیا سے چھپتے اور ایک ایڈونچر سے گزرتے رہے، ناول کو تو 262 صفحے لگے اور فلم کو ڈیڑھ گھنٹہ۔
یہ چند سال پہلے کی بات ہے ۔قلم سے کیمرے تک کے پیج کی بنیاد رکھے چند دن گزرے تھے۔  جمعہ کی نماز پڑھ کر نکلا تو مسجد کے باغیچے میں کھلے گلابوں کو دیکھ کر میری رگ فوٹو گرافی پھڑکی ۔اور پھولوں کی ڈھیڑوں تصویریں کھینچیں ۔وہ پھول  ایک عام سا پھول تھا۔سیدھا سادہ سا گلاب کا پھول۔ بہار کی آمد کی نوید  سناتا ہوا۔ لیکن مجھے  معلوم  نہ تھا یہ پھول ایک کردار میں ڈھل جائے گا اور آنے والے دنوں میں میری زندگی کے معیار بدل کے رکھ دے گا۔  اس کردار  میں ایک طلسماتی حسن تھا۔ ایک رومانوی نکھار تھا۔ ایک جذباتی ٹھہراؤ تھا۔ کردار نے میرے وجود کے ارد گرد یوں حصار  باندھا کہ میں چلتے پھرتے،سوتے ، جاگتے اس حصار کا پابند ہوگیا تھا۔۔وہ  ٹھنڈی ہوا کی تازگی کے احساس کا ایک جھونکا تھا۔اس کی موجودگی سرشاری اور شادمانی کا سبب۔ امید کا اک دیا  ۔ کسی پینٹر کا درخت پر بنایا گیا پتا جو جاں بلب مریض کے اندر زندگی کا جذبہ پیدا  کرتا ہے۔ شعور کی ایسی علامت جہاں سے ذہانت کی شعائیں پھوٹتی ہیں۔جہاں سے زندگی اپنا مفہوم اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ایسی علامت، ایسی بلاغت جن کی تکمیل سے مسرتوں کے جام پھوٹتے ہیں۔میرے لئے وہ زندہ رہنے کے بہانوں میں سے ایک بہانہ بن گیا۔مجھے نیلی جھیل کی دوسری جانب جانے پر اکسایا۔میں ایلس ان ونڈر لینڈ کے سفر پر نکلا تو پھر واپس نہ لوٹ سکا۔ میری زندگی کے شب و روز بدل گئے۔کبھی میکسیکو امریکہ کے بارڈر پرکسی ویران گرجا گھر میں ویمپائرز دیکھنے نکل پڑتا۔تو کبھی برمود ا ٹرائینگل کے اسرار ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگ جاتا۔کبھی شخصی اور مذہبی آزادی کی بحث ۔تو کبھی فکری اور تخلیقی کشمکش کا توڑ۔کبھی مزاح سے علاج غم اور کبھی اعتراف عجزو ہنر سے مورال کا نباہ۔میں کیا کہوں ، میں کیا سوچوں جنت گمگشتہ کے تعاقب میں بھٹکتے رستوں پر جب میں، حدت جذبات سے کانپ رہا تھا، وہ پھول شجرسایہ دار بن گیا۔جب حبس جنوں تھا، وہ ابرباراں بن گیا۔ جب سوچ کے دروازوں پر پہرے لگے نظر آتے تو سارے قفل ٹوٹ جاتے۔۔میں ہوس اقدار سے بیگانہ ہوں، میرے جینے کی تمنا سطحی ہے۔جہاں دولت کی فراوانی درکار ہے اور نا مجھے نمودونمائش سے کوئی سروکار ہے۔ زندگی کا مقصد میرے نزدیک جذبوں کا احترام ہے۔انسانیت سےپیار ہے۔اور مجھے لگا میرے ان جذبوں کو ایک زبان مل گئی ہے۔  آنکھوں میں بلا کی گویائی آگئی۔  یکسوئی میں بے نیازی  جھلکنے لگی۔ زندگی کی معنویت بدلنے لگی۔ مسرت کی نئی حدیں متعین ہونے لگیں ۔ ہوسکتا ہے ،یہ میرے وِجدان کا قصور ہو۔میر ی ذہنی تخلیق ہو۔مگر اتنی پرکشش تخلیق اور ان سے وابستگی میں کوئی حرج تو نہیں ہے۔اس دن کے بعد میں نے جسم میں اپنی روح کو پہلی بار محسوس کیا ۔مجھے معلوم ہوا روح کا جسم کے ساتھ رشتہ کیا ہے۔رواں رواں مسرت،اور  ایک سرشاری۔اک ادائے دلنوازی  ۔جسم و جاں کی الاؤ روشن ہو گئی ۔تلخئی سوچ و فکر کسی گلیشئر سے آتی سرد ہوا میں جم گئی ۔روح کو درپیش اتھل پتھل تھم گئی ۔میں جو اپنی ذات کا عرفان جاننے سے قاصر رہا تھا ۔مجھے یوں لگا جیسے کسی نے میری دکھتی رگوں پر مرہم رکھ دیا ہےمیں انسانی تضادات سے پڑے کسی قدم پر آباد ہوگیا۔ میرا ظرف کشادہ  ہوگیا اور وسعت پذیر بھی۔ مزاج میں ایک یکسوئی نظر آنے لگی۔ باتوں میں استقامت ۔آنکھیں جھیل سے نظارے دیکھنے لگیں۔ میں جستجو کا مسافر تھا لیکن کسی جمود کا شکار ہوچکا تھا لیکن ایک نئے سفر کا آغاز کردیا۔ تاریخ کے بوجھ کو اپنا بوجھ سمجھ کر فاصلوں کو کم کرنا شروع کر دیا۔ وِجدان کی باتیں  کرنے لگا۔روح کی بالیدگی کو پھر سے ماننے لگ گیا ۔فرشتے اور انسان میں فرق سیکھ لیا ہے۔یہ سب زندگی کا بہلاوہ بھی  ہو سکتا تھا۔محض دلاسے بھی ۔بچے کو سلانے کیلئے ماں کی سنائی ہوئی کوئی لیلہ رخ پری کی داستان بھی۔جو رات بھر آپ کے ساتھ سفر کرتی ہے اور صبح ہوتے ہی رخصت ہو جاتی ہے ۔مگر یہ بہلاوہ تھا تو کیا حرج تھا؟ ذہنی تخلیق تھی تو اعتراض کیوں؟ یہ زندگی بھی تو اک دھوکہ ہے۔ بہت اندھیرے کے بعد روشنی ملے توخواب بنتے ہی ہیں۔ تو کیا حرج تھا اگر خوابوں سے حقیقت اور حقیقتوں سے خوابوں کا سفر چلتا رہتا۔۔۔۔
لیکن   ایڈونچر کتنا ہی دلچسپ کیوں نہ ہو ۔ ایک انجام دیکھنا ہوتا ہے ۔کتاب  کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو۔ ایک اختتام لکھا ہوتا ہے۔فلم کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو ۔اس کا ایک دورانیہ ہوتا ہے ہے  ۔اور آج شام اس پھول کو بھی کسی نے چرا لیا۔

ہیر رانجھا میڈ ایزی


یہ داستان مغلوں کے ہندوستان آنے سے کچھ سال پہلے کی ہے۔ضلع سرگودھا میں ایک قصبہ تخت ہزارہ تھا۔ جس کے چوہدری موجو کے آٹھ بیٹے تھے جن میں سے سب سے چھوٹا رانجھا تھا۔ کام کا نا کاج کا بس بانسری خوب بجاتا تھا۔لمبے لمبےبال، سوہنا گھبرو تھا ۔بھائیوں بھابیوں نے کام نہ کرنے پر پہلے پہل تو باتیں سنائیں  ۔ لیکن پھر تنگ آکر زمین کا بٹوارہ کرلیا اور سب سے نکمی زمین رانجھے کو دے دی۔ نازک اندام  رانجھا۔ مشقت اس کے بس کاکام نہیں تھا اورجلد ہی مایوس ہوگیا
ادھر جھنگ شہر میں سیال قوم رہتی تھی ۔ ان کے کے سردار مہر چوچک کی بیٹی کا  نام ہیر تھا جس کے حسن کی شہرت دور دور پھیلی ہوئی تھی۔یہ شہرت رانجھے تک بھی پہنچی ہوئی تھی۔ گھر کے طعنوں اور مشقت سے تنگ آکر رانجھے نے جھنگ کے سفر کی ٹھانی۔راستے میں ایک گاؤں کی مسجدمیں رات ٹھہرا تو پہلے تو اس کا مسجد کے امام سے جھگڑا ہوگیا اور صبح جب اٹھا تو کنوئیں پر پانی بھرنےآئی لڑکیوں نے اسے دیکھ لیا اور ایک نے کھلم کھلا اعلان کردیا۔  ویاہ کروں گی تو صرف اس نوجوان سے۔ ورنہ نہیں۔ اور رانجھے کو چھپ چھپا کروہاں سے نکلنا پڑا۔چلتے چلتے دریائے چناب پر  جاپہنچا۔ ایک کشتی کنارے پر آکر رکی تو اس میں سے دوسرے مسافروں کے علاوہ پانچ پیر بھی نکلے اوررانجھے کو بنسری بجاتے دیکھ کر سیالوں کی ہیر اسے بخش دینے کا کہہ کر چل دیئے۔رانجھا کشتی پر سوار ہوا تو دیکھا کہ کشتی پر ایک پلنگ بھی ہے۔ ملاح نے بتایا کہ ہیر اپنی سہیلیوں کے ساتھ جب کشتی پر سیر کیلئے آتی ہے تو اس پلنگ پر آرام کرتی ہے۔ رانجھے نے اجازت مانگی کہ کچھ دیر اس پر سستا لوں تو ملاح جو اس کی بنسری پر فدا ہوچکا تھا انکار نہ کرسکا اور رانجھے کو اس پر لیٹتے ہی نیند آگئی۔ ہیر جب سہیلیوں کے ساتھ کشتی پر پہنچی تو اپنے پلنگ پر ایک اجنبی کو دیکھ کر سخت غصہ آیا۔ سہیلیوں نے اسے مارکر جگایا تو شانوں تک جھولتے سیاہ بال اور رانجھے کے حسین چہرے نے ہیر سے اسکا دل وہیں چھین لیا۔ہیر کو جب پتا چلا اجنبی ہے تو اسے اپنی بھینسوں کی دیکھ بھال کیلئے ملازم رکھ لیااور یوں دونوں کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ہیر کا ایک چاچا تھا ۔کیدو، لنگڑا تھا، اسے رانجھا ایک آنکھ نہ بھایا اور ہیر کے ابا کے کان بھرتا رھا۔ ایک دن کیدو کی باتوں میں آکررانجھے کو نوکری سے نکال دیا۔ لیکن بھینسیں جو رانجھے کی بنسری کی عادی ہوچکی تھیں۔ وہ قابو سے باہر ہونے لگیں تو مجبورا رانجھے  کو دوبارہ ملازمت پر رکھنا پڑا۔ لیکن اب دونوں پر گہری نظر رکھنا شروع کردی گئی ۔ اورایک دن کیدو کی وجہ سے  دونوں کو اکھٹے پیار محبت کی باتیں کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔اور مظفر گڑھ کے ایک گاؤں رنگ پور کے کھیڑوں کے طرف سے آئے ہوئے رشتے کو قبول کرکے شادی کی تیاریاں شروع کردیں ۔لیکن جب نکاح کے وقت رضامندی پوچھی گئی تو ہیر نے صاف انکار کردیا کہ میرا نکاح پانچ پیروں نے رانجھا کے ساتھ کردیا تھا ۔لیکن اس کے اس سارے ہنگامے کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور سیدا کھیڑا اسے بیاہ کر لے گیا۔رانجھا کو نوکری سے نکالا گیا تو واپس اپنے گاؤں تخت ہزارہ واپس لوٹ گیا۔ وہاں اسے ہیر کے بیاہ کی خبر پہنچی تو دل برداشتہ گھر سے نکل گیا۔جہلم کے قریب جوگیوں کا ٹلہ تھا جہاں گوروگال ناتھ کا آستانہ تھا۔ جس نے رانجھے کے کانوں میں مندریاں ڈال کر اسے اپنا جوگ دے دیا اور عشق کی آگ میں رانجھا پہلے ہی تپا ہوا تھا اسلئے ساری منزلیں بہت جلد طے پاگیا۔گورو سے اجازت لیکر رانجھے نے جوگی بن کر رنگ پور  جاکر ایک باغ میں ڈیڑہ ڈال لیا اورایک دن ہیر کی نند سہتی جو خود مراد بلوچ کے عشق میں مبتلا تھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ جوگی کو ملنے آئی اسے جوگی کی باتوں میں پراسرایت نظر آئی جس کا ذکر اس نے ہیر سے بھی کیا۔ایک دن رانجھا جوگی کے روپ میں ہیر کے گھر جاپہنچا اور اللہ کے نام کی صدا لگائی۔سہتی نے اس کے کشکول میں اناج ڈالا تو اس نے گرا دیا جس پر دونوں کے درمیان تکرار ہوگئی جسے سن کر ہیر باہر نکلی تو دونوں کی نگائیں چار ہوگئیں اور ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ہیر نے اپنی نند کو ساری بات بتائی اور رانجھے سے چھپ کر ملنے لگی۔ایک دن ہیر سہیلیوں کے ساتھ کھیتوں میں گئی ہوئی تھی کہ اس کے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا۔ لیکن اس کی نند نے شور ڈالا کی زہریلا سانپ کاٹ گیا اس لیئے کسی جوگی کو بلایا جائے۔ یوں رانجھے کو بلایا گیا۔ جس نے ہیر کے کمرے سے کنواری لڑکیوں  کے علاوہ سب کو نکل جانے کا کہا۔ یوں ہیر سہتی اور رانجھا اکیلے کمرےمیں رہ گئے۔مراد بلوچ سے بھی ربطہ کرلیا گیا اور یوں دم کے بہانے فرار ہونے کا پروگرام مکمل بنا لیا گیا۔صبح جب ناشتہ کیلئے کمرے پر دستک دی گئی تو ان کے فرار کی اطلاع پورے گاؤں میں پھیل گئی اور گھوڑوں پر ان کا پیچھا کیا گیا۔ مراد بلوچ کی مدد کو ان کا قبیلہ پہنچ گیا اور ان کو پناہ میں لے لیا لیکن رانجھے کو پکڑ کر خوب مارا گیا اور ہیر کو لیکر واپس چلے گئے۔ رانجھا روتا پیٹتا وہاں کے راجہ عدلی کے پاس جا پہنچا۔ جہاں کھیڑوں کو بلایا گیا اور دونوں فریقوں کی بات سن کر قاضی نے فیصلہ کھیڑوں کے حق میں دے دیا۔ جس پر رانجھے نے بددعا دی تو سارے شہر کو آگ لگ گئی۔جس پر راجہ ڈر گیا اور کھیڑوں کو بلا کر ہیر کو رانجھے کے حوالے کر دیا گیا۔ جب رانجھا واپس تخت ہزارہ کو جانے لگا تو ہیر کے گھر والوں نے  کہا اس طرح تو تیرے گھر والے ہیر کو قبول نہیں کریں گے تو ایسا کر اپنے گھر جا اور بارات لیکر جھنگ آ۔جو  سب ایک بہانہ تھا۔ جھنگ لیجا کر ہیر کو زہر دے کر مار دیا اور مشہور کردیا گیا کہ بیمار ہوکر ہیر چل بسی اور رانجھا بارات لیکر تخت ہزارے سے نکلنے لگا تھا  اسے  اطلاع ملی تو یقین نہ آیا لیکن جب قبر دیکھی تو زمین پر گرا اور دوبارہ نہ اٹھ سکا

اٹھارہ سو اٹھاون کا حجاز


پچھلے پندرہ دن جس کتاب کے نشے میں گزارے ہیں اس پر تفصیلی تبصرہ نہ لکھا گیا تو شائد اس کتاب سے زیادتی ہوگی
یہ صرف ایک کتاب ہی نہیں بلکہ ایک ڈاکومیٹری ہے جو آپ کواپنے ساتھ سفر کرواتی ہےرچرڈ برٹن کا لکھا ہوا یہ ایک سفرحج ہے۔جو اٹھارہ سو ترپن میں مسلمانوں کے مقدس جگہوں کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے رائل سوسائٹی آف انگلینڈ کے تعاون سے مسلمان کے بھیس میں کیا گیا اور پھر  سارے سفر کی روداد ایک کتاب کی شکل میں ترتیب دی جو اٹھارہ سو چھپن میں شائع ہوئی۔کتاب میں صرف حجاز کے حوالے سے ہی معلومات نہیں دی گئیں بلکہ مختلف قوموں،عمارتوں، بیماریوں، رسموں، جغرافیائی   خدوخال کے حوالے سے پوری دنیا سے ریفرنس جابجا ملتےہیں ۔قاہرہ میں قیام سے  کتاب کے باقائدہ آغاز  کے بعد جس طرح شہر کے بارے میں تفصیل ملتی ہے..لوگوں کے رہن سہن اور سرکاری دفاتر کا احوال۔بازاروں کی کیفیت، عمارتوں کے ڈیزائن۔۔لوگوں کے رویئے ،مساجد کا نقشہ ۔غیر ملکیوں سے سلوک ۔رہائش کے مسائل، سفر کی صعوبتیں۔ ہر اہم جگہ کے تاریخی حوالے ۔سیاسی منظرنگاری۔۔۔۔۔اور ابتدائی ابواب میں ہی انسان دم بخود رہ جاتا ہےاور پھر مصر سے بحر احمر کے رستے مدینہ منورہ تک کا سفر ۔۔اور سفر کی مشکلات ۔۔مدینہ پہنچ مسجد نبوی کی جس باریک بینی سے تفصیلات فراہم کرتا ہے وہ غیر.معمولی ہے۔مدینہ کی اہم.مساجد سے لیکر شہر کے گلی کوچوں تک اور گھروں کے ڈیزائن سے لیکر مدینہ شہر کے لوگوں کی عادات واطوار،خوارک تک ، مدینہ شہر کے ارد گرد پائی جانے والی بیماریوں سے ان کےعلاج تک ۔مدینے کے ارد گرد آباد قبائل اور ان کے رسم ورواج ۔شہر میں دستیاب پھلوں اور اجناس ۔اور کونسی جنس کہاں سے آتی ہے۔مدینہ میں پائی جانے والی کجھوروں کی اقسام پر طویل مکالمہ ۔  مدینہ شہر میں پائے جانے والے جانور اوراور ان کی اقسام ، علاقے میں اگنے والے پودے،درخت اور پھلوں پر بحث۔۔جنت البقیع میں موجود قبروں اور مزاروں کے سائز اور حدواربعہ پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ہر جگہ اور مقام کے بارے تاریخی حوالوں سے جس طرح قاری کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے وہ ناقابل یقین ہے ۔کم ازکم میرے لیئے ایک بالکل نیا اور پرسحر تجربہحجاز کے بدئوں پر جس تفصیل کے ساتھ اس نے باب باندھا ہے وہ بھی غیر معمولی ہے۔ان کی عادات واطوار رہن سہن ان کی رسموں ،ان کی خواراک ، ان کے عقائد پر بڑی تفصیل سے لکھا ہےمدینہ سے مکہ تک کا سفر پھر حج اور حج کے ارکان کی تفصیل اور پھر ان کی ادائیگی کا احوال...کعبہ اور حرم شریف پر ایسا رواں تبصرہ کہ ایسا لگتا آپ وہاں کھڑے ہوکر ڈیڑھ صدی پرانے حرم کو  اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔خانہ کعبہ کا حدود اربعہ ، اس کی اندرونی اور بیرونی کیفیت  اور ساتھ ہی اس کی مکمل تاریخ ..۔۔جنت المولی کا تفصیلی بیان ۔۔.مکہ شہر کے اہم مقامات، اس کا جغرافیہ ، اس کی تاریخ ، لوگوں کے رویئے،مکہ اور مدینہ شہر کے جغرافیے اور لوگوں کے رہن سہن میں  فرق پر بحث۔۔
کتاب کی زبان اگرچہ کچھ  آسان انگلش میں.نہیں اور پرانے ناموں کی وجہ سےجگہوں کو سمجھنے کیلئے بھی بار بار گوگل کا سہارا لینا پڑتا...لیکن کتاب کا پہلا باب آپ کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو پھر آخری صفحے تک آپ ڈیڑھ سو سال پرانے حجاز سے واپس آنے کو تیار نہیں ہوتے
ڈئون لوڈ کرنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں
http://www.mediafire.com/file/20cavw9obua63vz/Pilgramage_Makka_1856.pdf/file

Pages