Nostalgia, Scream and Flower

یادش بخیر


 امام صاحب نے نماز کے بعد مقتدیوں کے ہاتھ دعا کیلئے بلند کروائے تو میرے سامنے بیٹھے صاحب نے جیب سے فون نکال کر ایک ہاتھ کان کو لگا لیا اور دوسرا ہاتھ دعا کیلئے اٹھا لیا۔مسجد و بازار کے درمیان تفریق کے فلسفے میں الجھے بغیر ایک طرف وہ کسی شخص کو مسلسل ٹالنے کیلئے بہانے بنا رھا تھا تو دوسری طرف مقتدیوں کی آمین کا ساتھ نبھا رھا تھا۔یادش بخیر! وہ اگلا وقت جب ہمار ابھی بچپنا تھا لیکن ہمارے دادا جی اپنے بڑھاپے کا دور گزار رہے تھے۔جب دادا جی کی باتیں یاد کرنے کی کوشش کی تو ذہن پر تالا سا پر گیا جسے یاداشت کی کنجیوں سے کھولنے کی کوشش شروع کی تو ایک مختصر سا کیلنڈر بن گیادادا جی کا کرکٹ سے لگاؤ جنون کی حد تک تھا ۔کرکٹ کے ساتھ پاکستانیت کو ایمان کا حصہ سمجھتے تھے۔ جس دن پاکستان کا کرکٹ میچ ہوتا تھا اس دن گھر سے نہیں نکلتے تھے۔ پاکستان کی ٹیم ویسٹ اینڈیز کے دورے پر گئی ہوئی تھی تو ساری رات کمنٹری سن کرفجرکی نماز پڑھ کر سو جاتے۔کمنٹری سننا بھی ایک نشے سے کم فعل نہیں لیکن یہ فعل اعلان صحت ہے جو شب بیداری اور سحر خیزی میں مدد دیتا ہے ۔۔ ٹیم آسٹریلیا کے دورے پر ہوتی تو تہجد سے بھی پہلے ان کے کمرے سے کمنٹری کی آواز سنائی دے رہی ہوتی تھی۔اب اگر کوئی اعتراض کرے کہ تہجد کے وقت کمنٹری سننے میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں تو اس کا جواب آسان سا ہے کہ تہجد چھوڑنے میں اگر کوئی قباحت نہیں تو اعتراض کمنٹری پر کیسا۔آسٹریلیا یا ویسٹ انڈیز میں کرکٹ سیریز کا دکھ ان چوروں سے بڑھ کر کسی کو نہیں ہوسکتا جو ساری رات کمنٹری نشر کرنے والوں کو کوستے رہتے ہیں۔۔ اچھے وقت تھے گرمیوں میں رات کو چھتوں پر سویا کرتے تھے۔ مٹی کی چھت ہو اور زرا سی ہوا چلےتو گرمی کا سارا احساس جاتا رہتا ہے۔کچھ ایسے ہی گرمی کے دن تھے جب ایک رات ہمسائی نے شور مچا دیا کہ فوجی کے گھر چور دیکھا ہے۔ گھر سے گھر جڑا تھا ۔اس کا شور مچانا تھا کہ چند ہی منٹوں بعد گھر کا دروازہ بجنا شروع ہوگیا۔ کنڈی کھولی گئی ۔ سارا محلہ ڈنڈے ، ہاکیاں اور کرکٹ کے بیٹ تھامے ہمارے گھر داخل ہونا شروع ہوگیا۔ دو نوجوان پندرہ فٹ کا بانس لیکر گھر میں گھسنے کی کوشش کرنے لگے ۔شائد ان کا ارادہ چور کو باندھ کر لے جانے کا تھا۔مشیت ایزدی تھی کہ چور کو ملنا تھا اور نہ ملا اور سب لوگ اس عورت کی تلاش میں لگ گئے جس نے آدھی رات کو محلے کی غیرت اور دلیری کو للکاڑا تھا ہاں تو بات ہو رہی تھی دادا جی کی کرکٹ سے محبت کی۔ جس طرح پرانے زمانے کے شہزادوں کی جان اور آن طوطوں میں بند ہوتی تھی ،کبھی کبھی گمان ہوتا تھا داداجی کی جان پاکستان کی کرکٹ میں بند ہے ۔جس کی حفاظت پر کھلاڑی مامور تھے ۔ریڈیو کی کمنٹری سے ایمپائرز کی جانب داری ڈھونڈ نکالتے تھے۔ ۔ اس قدر متعصب پاکستانی تھے کہ کسی کھلاڑی کی کارکردگی پر تنقید  غداری سے کم نہیں سمجھتے تھے۔ پاکستانی بیٹسمین کے آؤٹ ہونے میں ایمپائرز کی ساز باز پر یقین رکھتے تھے۔اگرچہ ہمیں بچپن میں  سانپ سیڑھی اور لڈو جیسے ذہنی استعداد بڑھانے والی کھیلوں میں دلچسپی زیادہ تھی۔لیکن پھر بھی  کرکٹ  میں ان کا خوب ساتھ نبھایا کرتے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان آسٹریلیا کے دورے پر تھا ۔ ایک ون ڈے میچ کا اختتام دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا ۔ لیکن ادھر مغرب کی اذان ہوگئی۔ آخری اوور کا کھیل تھا اور بے یقینی کی کیفیت ۔ایک طرف اللہ کا بلاوہ اور دوسری طرف طوطے کی جان ۔مغرب کی نماز تھی، زیادہ التوا میں بھی نہیں ڈالا جا سکتا ۔ ریڈیو کی آوا ز کو تھوڑا سا ہلکا کیا اور اللہ اکبر کہہ کر نماز کی نیت کر لی۔ دادا جی جہاں دیدہ شخص تھے، مزاج شناس لیکن مردم شناس نہیں ہر خاص وعام پر بھروسہ کر لیتے تھے۔رہن سہن میں ایک سادگی تھی اپنے کان اور قول کے پکے لیکن دھن کے نہیں اس لیئے زندگی میں اپنے لیئے کوئی جائیداد نہ بنا سکے تھے۔لیکن  اپنی متانت اور اپنی شرافت کے سہارے زندگی کا بھرم قائم رکھا 
کسی زمانے میں حقے کے بلا کے شوقین تھے لیکن پھر کسی دن احساس ہوا  کہ تمباکو ایسا کڑوہ اور بدذائقہ ملغوبہ  ہے جس سے بہت زیادہ دوری یا نزدیکی اہمیت نہیں رکھتی اس لیئے سگریٹ پر شفٹ ہوگئے ۔لیکن حقے سے دوری نے ان کو بہت سے دوستوں سے بھی دور کر دیا۔لیکن دوستیاں نبھانے کیلئے اپنے فیصلے سے ر جوع کرنے سے ساری عمر انکاری رہے۔لوگ سگریٹ نوشی سے اپنے غم غلط کرتے ہیں لیکن اباجی کے غم اتنے ضدی ہیں کہ روازانہ پندرہ بیس سگریٹ پینے کے باوجود ختم نہیں ہورہے ۔ اب پتا نہیں کون سے ابدی غم تھے جو ابا جی کو بچپن سے لاحق ہوگئے تھے اوربڑھاپے میں بھی کش پر کش لگاتے نظر آتے ہیں۔اگرچہ سننے میں آیا ہے کہ سگریٹ پی کر کچھ لوگ بہت سنجیدہ گفتگو شروع کر دیتے ہیں لیکن ہم نے ابا جی کو کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا۔ ۔ ایک دفعہ دادا جی سے کہاکہ جب ابا جی کی سگریٹ نوشی کا علم ہوا تھا تو  ان کو سمجھانا چاہیئے تھا۔ بڑے سنجیدہ لہجے میں کہنے لگے۔ سمجھایا تو بہت تھا کہ بیٹا  سگریٹ حقے کی چلم والی جگہ پر لگا کر پیا کرو لیکن یہ کہاں مانتا تھا ۔
ہم نے اپنی آنکھ نوائے وقت کے ساتھ کھولی۔بلکہ نوائے وقت نے ہی ہمیں گھٹی دی تھی اس لیئے  غیر مشروط پاکستانی ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگی ہونا ہمارے خون میں شامل ہوگیا تھا ۔ جونہی ہاکر اخبار پھینک کر جاتا تو ہماری کوشش ہوتی کہ اخبار دادا جی کے ہاتھ نہ لگ جائے کیوں کہ ان کا اخبار کا مطالعہ صرف ہیڈ لائینز تک محدود نہیں رہتا تھا بلکہ بقیہ نمبر نکال کر خبر کی تہہ تک پہنچتے تھے۔ نو بجے ناشتہ کرنے کے بعد مزید خبروں کی تلاش میں نکل جاتے۔ رات کو عظیم سرور کا سپورٹس راؤنڈز اپ سن کر ہم ان کے پاس سے اٹھ آتے اور وہ ریڈیو کی سوئی گھما کر بی بی سی پر منتقل ہوجاتے۔اگر متعصب پاکستانی تھے تو بنیاد پرست پیپیلئے بھی۔ یعنی پیپلز پارٹی کے بھرپور جیالے ۔  ضیا دور میں نوائے وقت کا مسلسل مطالعہ بھی انہیں بھٹو کے خلاف نہیں کر سکا۔ انیس سو اٹھاسی کے الیکشن  کے بعد ہمارا گھر واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ ایک جو نوائے وقت کے زیر اثر پیپلزپارٹی کے خلاف تھا اور دوسرے ہمارے دادا جی۔اب ہم ٹھہرے سرسری نظر سے اخبار کو نظروں سے گزارنے والے اور وہ جنگ پاکستان نوائے وقت مشرق کا ست بنا نے والے ۔اب یہ کہنا آسان نہیں کہ بحث کن دل آزار مرحلوں سے گزرتی تھی لیکن اخباروں کے دقیق مطالعے اور اپنے بزرگی کے سہارے اپنے سیاسی نظریے کا جواز ڈھونڈ نکالتے تھے اور ہم اپنی کم فہمی اور ان کے کی بزرگی کی تاب نہ لاتے ہوئے دفاعی پوزیشن اختیار کرلینے پر مجبور ہوجاتے ۔الیکشن کا رزلٹ جو بھی نکلے لیکن اپنے  مطالعے اور عالمی سیاست پر بھرپور نظر رکھنے کی وجہ سے ہمارے گھر کے جمہوری نظام میں پلڑا  انہی کا بھاری ہوتا تھا
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب کہیں جسے جب لوگ دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں تو ان کے اچھے پہلوئوں کو یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن دادا جی کی زندگی میں بھی ان کا کوئی منفی پہلو نہیں ملتا تھا۔اپنی زندگی ہنستے مسکراتے گزار گئے کوئی بھی ایسا نہ ملا جو انہیں اچھا نہ کہے
آسمان اس کی لحد پر شبنم افشانی کرے

یاداشتیں


بات کچھ یوں ہے کہ جب ہم نے اپنا کلینک کھول کر مریضوں پر تجربات شروع کیئے تو ٹھیک ہونے والے مریضوں میں بچوں کی شرح کچھ زیادہ ہوگئی جس بنا پر بچوں والے کلینک کے نام سے شہرت پائی۔۔ باوجود ہمارے اس دعوی کے، ہم بلڈ پریشر اور شوگر کے بارے میں بھی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ، لیکن بوجوہ جو ہمارے علم میں نہیں, اس دعوے کو عوام نے زیادہ پزیرائی نہیں بخشی اور تاحال بچوں کے ڈاکٹر سے ہی جانے جاتےہیں ۔ لیکن میرا ذاتی ماننا ہے کہ ہمارے ہاں عوام بیمار ہونے کے فنی آداب سے ناواقف ہیں ۔ اور ان کی ڈاکٹرز کے بارے میں خوش اعتقادی بھی کوئی بہت زیادہ پرستائش نہیں ہے۔ ہمارا بیمار مختلف گروہوں میں بٹ چکا ہے ایک وہ ہے جو علاج بالغزا پر یقین رکھتا ہے اور دوسرا پرہیز پر اور تیسرا گروہ بھی ہےجو صرف ڈاکٹر سے مشورے کو ہی علاج سمجھتا ہے۔ اور نسخہ کا مقصد دلجوئی سے زیادہ نہیں ہوتا۔ اور میڈیکل سٹور تک جانا کیپیٹلزم کے فروغ سے زیادہ کچھ نہیں ۔علاوہ ازیں دماغی صحت بھی کچھ تسلی بخش نہیں ہے۔ جو طب یونانی اور طب جدید کے درمیان منتشر رہتی ہے ۔۔ اور بچے ان لوازمات سے ابھی مبرا ہوتے ہیں۔ وہ ابھی کڑوی دوا اور مصفی خون کے فلسفے سے ناواقف ہوتے ہیں اور دوسرا دوا کے پمفلٹ نکال کر سائیڈ ایفیکٹس پڑھے بغیر نوش جاتے ہیں ۔ شائد اس لیئے جلد صحت یاب ہوجاتے ہیں کل شام ایک خاتون نے ایک دوائی کے بارے میں مشورے کیلئے انباکس رابطہ کیا میرے جواب کے بعد ان کا میسج آیا کہ آپ کے کلینک کے تجربات دلچسپ ہوتے ہیں ۔ شیئر کرتے رہا کریں۔ ذہن فورا بچوں کی طرف نکل گیا جن سے پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے ڈائیریا اور سانس کی بیماریوں کی وجہ سے واسطہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہےچند دن پہلے ایک خاتون گول مٹول سے چھ ماہ کے بچے کو چیک اپ کروانے کیلئے لائیں ۔ جونہی میں نے اس کے پیٹ کے اوپر ہاتھ رکھا اس نے قہقہہ لگایا۔ جس سن کے میں مسکرائے بنا نہیں رہ سکا۔ دوبارہ ہاتھ لگایا تو اس نے بے ساختہ ہنسنا شروع کر دیا۔ پھر تو اس نے تماشہ ہی سمجھ لیا جونہی ہاتھ لگاتا ایک قہقہہ لگا دیتا۔ بس بچے کی اس بے ساختہ ہنسی نے دل میں پیار امڈ دیا اور اس کی ماں سے پکڑ کر اپنی گود میں اٹھا لیا۔ لیکن اس وقت تک مسلسل قہقہوں کی وجہ سے اس کا مثانہ کمزور ہوچکا تھا۔اس دن ڈیڑھ سال کے بچے کو چیک اپ کیلئے جب ہاتھ لگایا تو اسے میری دست درازی کچھ پسند نہ آئی اور اپنے ہاتھوں سے میرے ہاتھ کو دھکیلنا شروع کر دیا ۔جس پر اس کی ماں نے اسکے بازووں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ بچہ بھی اکسویں صدی کی پیداوار تھا۔ جس کی آنکھ ٹی وی اور موبائل سکرین کے سامنے ڈبلیو ڈبلیو ایف کی کشتیاں دیکھتے ہوئے کھلی تھی۔ ماں کے یوں جکڑنے نے اس مشتعل کر دیا ۔اور اپنا سارا اشتعال میرے ہاتھ کی انگلی کو دانتوں میں دپوچ کر نکالا اور اس تکلیف کو سہنے کی اپنی ساری کوشش کے باوجود کرسی سے اٹھ کھڑے ہونے پر مجبور ہوگیاابھی تو مجھے دوسال کا وہ بچہ بھی نہیں بھولا تھا کہ جس کو ایک دن پہلے انجیکشن لگایا گیا تھا ۔ اگلے دن میرے دفتر میں داخل ہوتے ہی میرے اوپر گھونسوں اور پاؤں کی ککس کے ساتھ حملہ آوور ہوگیا تھا۔ اورمیں سپورٹس مین سپرٹ کے تحت اس وقت تک اس کے سارے حملوں کو برداشت کرتا رھا جب تک اس کی ماں نے بڑھ کر مداخلت نہیں کر دی اورابھی کل کی ہی تو بات ہے جب ڈاکٹر فوبیا کا شکار ایک ڈیڑھ سال کے بچے نے کمرے میں داخل ہوتے ہی گلا پھاڑ کر وہ دھائی مچائی کہ اس کا چیک اپ مشکل ہوگیا۔ لیکن چند لمحوں بعد اس چیختے چلاتے بچے نے یکدم ناصرف خاموشی اختیار کر لی بلکہ اس کے چہرے پر ایک خوشگوار مسکراہٹ امڈ آئی ۔ میں ابھی بے یقینی میں اس کی اس اچانک تبدیلی پر غور ہی کر رھا تھا کہ اس نے جھپٹ کر میری جیب سے موبائل نکال کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس کی ماں نے اس سے چھیننے کی کوشش کی تو موبائل اس دھینگا مشتی میں فرش پر جا پڑا ۔اور میں نے چشم زدن میں اس کو اٹھا کر شکر ادا کیا کہ اس ساری ناگہانی صورتحال میں محفوظ رھا تھا۔ شام کو اپنے ایک دوست ابوزر کاٹھیہ صاحب سے اس واقعے کے حوالے سے بچوں کی موبائل میں بڑھتی دلچسپی اور اس کے اثرات پر بات شروع کی تو کاٹھیہ صاحب کہنے لگے لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ اتنے بڑی داڑھی کے پیچھے چھپی جیب کو، اس نے ڈھونڈا کیسے؟میم سین

کچھ خسرہ کے بارے میں


خسرہ کیا ہے؟
خسرہ  کے مرض کی وجہ ایک وائرس ہوتا ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں آج بھی خسرہ اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کو پانچ سال سے چھوٹے بچوں کی اموات کا  بڑا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔تین سال پہلے، خسرہ کی وبا نے سندھ اور پنجاب میں لاکھوں بچوں کو متاثر کیا ۔اور بہت بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکت اور دوسرے مسائل کا سبب بنا ۔ جس کے بعد ویکسین کے شیڈول کو بھی تبدیل کردیا گیا۔خسرہ سے عام طور پر بچے متاثر ہوتے ہیں لیکن کسی بھی عمر کا فرد اس سے متاثر ہوہوسکتا ہےخسرہ کیسے مریض تک پہنچتا ہےخسرہ  ، متاثرہ مریض کے ناک اور منہ کی رطوبتوں کے ذریئے صحت مندمریض تک منتقل ہوتا ہے ۔خسرہ سے متاثرہ شخص جب کھانستا ہے یا چھینکتا ہے تو اس سے نکلنے والے رطوبتیں یا تو صحت مند  مریض اپنی سانس کے ساتھ اپنے اندر لے جاتا ہے یا پھر وہ رطوبتیں ارد گرد کی چیزوں پر گر جاتی ہیں جہاں سے مریض کے ہاتھوں پر  اور وہاں سے جسم کے اندر منتقل ہوجاتی ہیں
علاماتبچہ کو کھانسی اور چھینکیں شروع ہوجاتی ہیں جس کے بعد بخارکا شروع ہوجاتاہے۔بچہ جسم میں بہت زیادہ درد محسوس کرتا ہے ۔ آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں، جن سے پانی بہنا شروع ہوجاتا ہے۔۔ اس کے بعد کان کے ارد گرد اورچہرے پر بہت  باریک سرخ دانے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اور گردن سے ہوتے ہوئے سینے پیٹ پر اور ساتھ ساتھ بازوؤں سے ہوتے ہوئے ٹانگوں تک پھیل جاتے ہیں ۔ اور وقت کے  ساتھ، اسی ترتیب سے ختم ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ بچے کا گلا بھی خراب ہوجاتا ہے اور کھانے پینے میں دقت محسوس کرتا ہے ۔ نڈھال ہو جاتا ہے اور کمزوری محسوس کرتا ہے۔کھانا پینا کم ہوجاتا ہے۔جسم پر دانے نمودار ہونے کے بعد ان کو کو ختم ہونے میں لگ بھگ ایک ہفتہ لگ جاتا ہے
علاجچونکہ وائرل انفیکشن ہے اور اس کاکوئی باقائدہ علاج موجود نہیں ہے۔ اپنی مدت پوری کرکے  بیماری  ختم ہوجاتی ہے۔بچے کو دوسرے بچوں سے الگ کردیں ۔ سکول مت بھیجیں تاکہ دوسرے بچے محفوظ رہ سکیں بچے کے آرام کا بہت زیادہ خیال کریں بخار کیلئے پیراسیٹامول استعمال کروائیں بہت سا پانی اور جوسزز وغیرہ پینے کو دیںبچہ جو بھی پینا چاہے یا کھانا چاہے اسے منع مت کریںکھانسی کو کم کرنے کیلئے گرم پانی کی بھاپ یا نیبولائز کیا جا سکتا ہے۔خسرہ سے متاثرہ بچوں میں وٹامن اے کا استعمال کروایا جاسکتا ہے ۔ اس کے استعمال سے خسرہ کی وجہ سے درپیش مسائل سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے ۔ڈاکٹر سے فوری رابطہ کرنا چاہیئے اگربچہ قوت مدافعت کی کمی یا کسی پیدائشی بیماری کا شکار ہےبخار کنٹرول نہ ہورھا ہوبچہ سانس میں دقت محسوس کر رھا ہےہوش وہواس میں کسی قسم کی تبدیلی محسوس کریںبار بار پخانے کرنا شروع کردےحاملہ ماں خسرہ کا شکار ہوجائے
کچھ متھ کے بارے میں
لوگوں میں عام خوف پایا جاتا ہے کہ خسرہ کے دوران کسی قسم کی کوئی دوائی استعمال نہیں کرنا  چاہیئے ورنہ دانے اندر رہ جائیں گے۔، نہانے نہیں دینا چاہیئے۔  گرم چیزیں کھلا کر دانے باہر نکالنے چاہئیں۔  ٹھنڈی چیزیں سے پرہیز کروانا چاہیئے ۔
ایسی کسی بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے
بچاؤجب بچہ نو ماہ کا ہوجائے تو اس کو خسرہ سے بچاؤ کا پہلا ٹیکہ لگوادیں اور جب پندرہ ماہ کا ہوجائے تو دوسرا ٹیکہ لگوانا چاہیئےدوسرے ٹیکے کیلئے خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین کی بجائے اگر ایم ایم آر ویکسین استعمال کی جائے تو وہ خسرہ کے ساتھ ساتھ ممپس(کن پیڑوں) اور روبیلا( خسرہ سے ملتی جلتی ایک بیماری) سے اضافی بچاؤ مل جاتا ہےویکسین کے بعد ہلکا پھلکا بخار ہونا معمول کی بات ہے۔جس کیلئے پیراسیٹامول استعمال کروایا جاسکتا ہے ۔ کچھ بچوں میں ویکسین کے بعد خسرہ کی طرح کے دانے بھی جسم پر نمودار ہوجاتے جاتے ہیں ۔ جو کہ خطرے والی بات نہیں ہوتی ایک آدھ دن بعد خود ہی غائب ہوجاتے ہیں
ویکسین کیوں ضروری ہے؟خسرہ کا کوئی باقائدہ علاج موجود نہیں ہے اور بیماری کے حملے کی صورت میں مریض بہت سے مسائل میں الجھ سکتا ہے اس لیئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ بچے کو ویکسین لگوا کر پہلے ہی اس مرض سے بچا لیا جائےبچہ نمونیا کا شکار ہوسکتا ہےدماغ کی سوزش کا شکار ہوسکتا ہےسانس کی تکلیف میں الجھ سکتا ہےکان میں انفیکشن ہوسکتی ہےبہت زیادہ پتلے پخانے لگ سکتے ہیں ۔جس سے پانی کی کمی ہوسکتی ہےخون کی کمی ہوسکتی ہےخسرہ کی وجہ سے بچے کا مدافعتی نظام کافی کمزور پر جاتا ہے ۔ اور ایسے بچوں میں ٹی بی کا مرض لاحق ہونے کی چانس بہت بڑھ جاتے ہیں
میم سین

سکیبیز کی خارش کیا ہے؟


سکیبیز خارش کی ایک ایسی قسم ہے جو ہمارے ہاں بہت عام ہے ۔ اور اس کے بارے میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے طویل عرصے تک لوگ خارش کا عذاب برداشت کرتے رہتے ہیں ۔ لوگوں کی طرف سے مرض کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ٹائیفائیڈ اور نمونیا کا علاج تو آسان ہے لیکن سکیبیز کا نہیں کیونکہ یہ بیماری فرد واحد کی نہیں بلکہ پورے گھرانے کی ہے۔ بلکہ پورے معاشرے کی کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگاسکیبیز (خارش) کیا ہے؟
سکیبیز خارش کی ایک قسم ہے جو ایک کیڑے کی وجہ سے ہوتی ہے۔اس کی مادہ انسانی جلد میں سوراخ بنا کر انڈے دیتی ہے۔تین سے چار دن پر لاروا نکل کر بڑا ہوتا ہے اور نئی جگہیں تلاش کرکے انڈے دیتا رہتا ہے اور یوں جسم میں اس کی نسل کشی جاری رہتی ہے۔خارش کے عمل کے دواران اس کے لاروا یا کیڑا کپڑوں میں گر جاتا ہے اور ان کپڑوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچ جاتا ہے یا خارش کے عمل کے دوران ہاتھوں کے ذریئے دوسروں تک پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اگر کیڑا بستر پر گر جائے تو جسم سے باہر بھی چوبیس سے چھتیس گھنٹے زندہ رہ سکتا ہے۔اور یہ  خارش کا آغاز عام طور پر سکیبیز کا کیڑا جسم میں داخل ہونے کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد شروع ہوتی ہے۔اسلیئے جب تک بیماری کا علم ہوتا ہے سارا گھر متاثر ہوچکا ہوتا ہےکیڑے سے متاثر بستر اور کپڑے بیماری کے فروغ کی ایک بڑی وجہ بن جاتے ہیں ۔
سکیبیز سے کون لوگ زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں ۔یہ کیڑا کسی کے بھی  جسم میں ڈیڑے ڈال سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ مرض ان لوگوں میں زیادہ پھیلتا ہے ۔جوایک دوسرے کے زیادہ قریب رہتے ہیں۔ جیسے کالجوں کے ہوسٹل، دینی مدارس، کلاس روم، کمبائن فیملی سسٹم میں رہنے والے افراد،۔۔اور ایسے گھروں میں رہنے والے لوگوںمیں بھی جہاں دھوپ کم آتی ہے نمی کا تناسب زیادہ رہتا ہے اور صفائی کا خیال کم رکھا جاتا ہے۔ ۔خارش والے مریض کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے کیڑا صحت مند جسم میں منتقل ہوجاتا ہے۔ گھر کا ایک فرد اگر سکیبیز سے متاثر ہوگیا ہے تو سمجھیں سارا گھر متاثر ہوچکا ہےعلاماتسب سے واضح علامت خارش ہوتی ہے۔ جو رات کو زیادہ ہوجاتی ہے، یا کمبل رضائی لینے سے جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو خارش بھی بڑھ جاتی ہے۔ بہت سے لوگ مصالحے دار کھانے کے ساتھ بھی خارش کی شدت کو زیادہ محسوس کرتے ہیں ۔ اور اکثرلوگ گوشت کی الرجی سمجھ کر گوشت کھانا چھوڑ چکے ہوتے ہیں ۔بڑوں میں زیادہ تر خارش ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان، کلائیوں پرکہنیوں کے پیچھے اور بغلوں میں ہوتی ہے۔ عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے اور مردوں میں پیشاب والی نالی کے اوپر خارش کے نشانات کافی واضح ہوتے ہیں ۔ چہرہ عام طور پر محفوظ رہتا ہے۔ بچوں میں پورا جسم متاثر ہوسکتا ہے۔  مناسب لائٹ کے ساتھ خارش والی جگہوں کو دیکھیں تو باریک باریک سوراخ نظر آئیں گے۔ جو خارش کی وجہ سے دانوں یا زخم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ وہ پناہ گاہیں ہیں جن میں کیڑا انڈے دیتا ہےجس میں پاؤں اور پاؤں کی انگلیوں کی درمیانی جگہ بھی شامل ہوتی ہے۔ بہت سے مریضوں میں بار بار خارش کرنے کی وجہ سے بیکٹرییل انفیکشن داخل ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پیپ والے دانے بننا شروع ہو جاتے ہیں جو اکثر اوقت زخم کی صورت اختیار کرلیتے ہیں
 علاجعلاج سے پہلے ضروری ہے کہ ان رستوں کو بند کیا جائے، جہاں سے کیڑا مریض تک منتقل ہوا ہےسکول جانے والے بچوں کے یونفارم کی صفائی میں بہت زیادہ احتیاط برتنا۔ گھر واپسی پر پہلا کام یہ کریں کہ یونیفارم تبدیل کروا کر یا تواسے دھو ڈالیں یا پھر استری کرکے اگلے دن کیلئے تیار کریںہوسٹل یا مدرسوں میں رہنے والے لوگ خارش والے لوگوں سے دور رہیں۔ اپنا تولیا صابن، بستر ہر چیز دسروں سے الگ رکھیں۔بستروں کی چادریں جلدی تبدیل کریں، تولیئے جلدی دھوئیں ہوسکے تو الگ الگ تولیا استعمال کریںسارے بستر ، رضائیاں، کمبل سرھانے، قالین، اور پردوں کو دھوپ لگوائیں تاکہ ان میں موجود کیڑا مر سکے بچوں کے کپڑے دن میں دو تین بار بدلیں ، اور بڑے افراد بھی روزانہ تبدیل کریںکپڑے جب بھی پہنیں استری کرکے پہنیںجراثیم کو مارنے کیلئے بہت سی کریمیں لوشن دستیاب ہیں جن کو جسم پر ملا جاتا ہے۔ جیسے پرمیتھرین، سلفر پلس کروٹامیٹون یا پھر صرف سادہ سلفر کسی لوشن میں ملا کر لگایا جاتا ہے۔
 پرمیتھرین کو چونکہ ہر عمر کیلئے محفوظ سمجھا جاتا ہے اور اگر صحیح طرح استعمال کیا جائے تو صرف ایک بار لگانے سے سارے کیڑوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اسلیئے اس کا ستعمال مناسب   بھی ہے اور محفوظ بھی ۔ لوشن کو جسم پر لگانے سے پہلے درج ذیل باتوں کو دھیان میں رکھیںایک تو لوشن لگانے سے پہلے اگر جسم پر کوئی زخم وغیرہ ہے تو اس کا پہلے علاج کروا لیں دوسرا لوشن استعمال کرنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ گھر کے سب افراد دستیاب ہوں اور لوشن لگانے پر راضی بھی۔ بے شک کسی کو خارش ہے یا نہیں۔۔ یا پہلے تھی اب نہیں ، وہ بزرگ ہے یا کوئی شیر خوار بچہ ایک ہی دن سب لوگ لوشن لگائیںلوشن لگانے سے پہلے نہائیںنہانے کے بعد جسم کو تولیئے سے تھوڑا سا خشک کرکے سارے جسم پر لوشن کو ملیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ جسم کا کوئی حصہ بغیر دوائی کے نہ رہ جائے ۔خاص طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کے درمیان، بغلوں میں ، (عورتوں میں چھاتیوں کے نیچے)، پیشاب والی جگہ پر ، پخانے والی جگہ کے ارد گرد، پاؤں کے تلوئوں پر۔چار سے پانچ منٹ تک دوائی کو جسم میں جذب ہونے کا موقع دیںدوائی لگانے کے بعد صاف ستھرے کپڑے جو استری شدہ ہوں، وہ پہنیں ۔ دوائی کو کم ازکم بارہ گھنٹے ورنہ مناسب ہوگا کہ چوبیس گھنٹے جسم پر لگا رہنا دیں اگر اس دوران کہیں سے دوائی اتر جائے تو فوری  طور پردوبارہ لگائیں چوبیس گھنٹے بعد اچھی طرح صابن سے نہا کر دوائی کو صاف کر دیں اور صاف کپڑے پہن لیںاتارے گئے کپڑوں کو گرم پانی سے دھوئیں اور اچھی طرح سے دھوپ لگا دیں
میم سین  

کچھ چکن پاکس کے بارے میں



چکن پاکس کیا ہے؟.عام زبان میں اسے لاکڑا کاکڑا بولا جاتا ہے ایک وائرس کی وجہ سے انسانی جسم کو یہ بیماری لگتی ہے. عام طور پر اس سے بچے متاثر ہوتے ہیں لیکن یہ کسی بھی عمر کے انسان کو متاثر کر سکتا ہے۔ بیماری لگنے کی صورت میں جسم میں اس کے خلاف مدافعتی نظام قائم ہوجاتا ہے جس کی وجہ یہ زندگی میں عام طور پر صرف ایک بار لاحق ہوتی ہے۔
بیماری کیسے لگتی ہےیہ ایک وبائی یا متعدی مرض ہے جو ایک متاثرہ شخص سے صحت مند شخص کو منتقل ہوتا ہے۔ مریض کے تھوک سے، کھانسی کرنے سے یا چھینکنے سے یا پھر دانوں کا پانی صحت مند مریض تک پہنچنے سےاسے چکن پاکس کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔
علاماتعام طور پر تیز بخار کے ساتھ بچہ کھانا پینا چھوڑ جاتا ہے سستی کا شکار ہونا شروع ہوجاتا ہے اور بخار کے ایک دو دن کے بعد جسم پر سرخ رنگ کے دانے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں جن کے اندر پانی بھرا ہوتا ہے ۔ وقت کے ساتھ ان دانوں میں خارش بڑھتی جاتی ہے ۔کئی دفعہ دانے پہلے نکل آتے ہیں اور بخار بعدمیں شروع ہوتا ہے ۔بخار اور دانوں کی شدت ہر مریض میں مختلف ہوسکتی ہےچند دنوں بعد دانے پھٹ جاتے ہیں اور کرسٹ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جو براؤن یا کالے رنگ کے نشان بناتا ہے۔کچھ دنوں بعد کرسٹ اتر جاتا ہے ۔ اور لگ بھگ ایک ڈیڑھ ماہ بعد نشانات مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں
علاجچکن پاکس چونکہ ایک وائرل بیماری ہے اور اپنے دن پورے کرکے جسم سے ختم ہوجاتی ہے اس لیئے کسی باقائدہ علاج کی ضرورت نہیں ہوتی ۔صرف علامتوں کے مطابق دوائی کاستعمال کروانا چاہیئے۔جیسے بخار کیلئے پیراسیٹامول کا استعمال ۔ اور خارش کوکم کرنے کیلئے کیلامین لوشن یا کسی انٹی ہسٹامین کا استعما ل کافی ہوتا ہے۔خارش کیلئے نہانے کے پانی میں میٹھے سوڈے کا استعمال یا دانوں پر برف کی ٹکور بھی خارش کی تکلیف کو کم کرتی ہے لیکناگر بچے کی آنکھیں سرخ ہورہی ہیں یا پھر دانوں میں پیپ کی علامات نظر آرہی ہیں یا پھر ساتھ کھانسی یا سانس کا مسئلہ محسوس ہورھا ہے تو فوری طور پر اپنے قریبی ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ایسے افراد بھی ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ جنہیں کوئی دل کا عارضہ ہے یا پھر انہیں کوئی قوت مدافعت کی کمی کی بیماری ہے یا زیادہ عمر رسیدہ شخص ہے ۔حاملہ ماں یا نوزائیدہ بچے میں اس بیماری کی علامتیں دیکھنے پر بھی اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر نا چاہیئے
احتیاطی تدابیربچوں کو چکن پاکس کے مریض سے دور رکھیں چکن پاکس کا حفاظتی ٹیکہ دستیاب ہے ۔ جو کہ بچے کو ایک سال کی عمر میں لگ جانا چاہیئے اور اس کے بعد بوسٹردو سال کی عمر میں لگوا دینا چاہیئے۔اگر گھر میں کسی کو چکن پاکس نکل آئے تو باقی گھر والے فوری طور پر ویکسین لگوا لیں تو کافی چانس ہیں کہ وہ اس مرض سے محفوظ ہوجائیں گے۔کچھ لوگ شکایئیت کرتے ہیں کہ ٹیکہ لگنے کے باوجود ان کے بچے کو چکن پاکس کا مرض لاحق ہوا ہے۔ ایسا ممکن ہے لیکن ایسے بچوں میں بیماری کی شدت بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہے
کچھ متھ کے بارے میںعام طور پر لوگوں میں یہ یہ خیال پایا جاتا ہے کہ چکن پاکس نکلنے کی صورت میں بچے کو نہلانا نہیں چاہیئے ۔ اسی ٹھنڈی چیزیں نہیں دینا چاہیئے ۔ بچے کو گرم چیزیں کھلائیں تاکہ سارے دانے باہر نکل آئیں اور کوئی دانہ جسم کے اندر نہ رہ جائےان تمام باتوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ بلکہ نہانے سے بچہ خارش اور جلن سے سکون پاتا ہے ۔ ہاں کوشش کریں کہ نہانے کے بعد کسی سخت کپڑے سے جسم کو صاف نہ کریں تاکہ دانے پھٹنے نہ پائیں۔
چکن پاکس کے نشانات کا علاججو دانے نکل کر اپنی طبعی عمر پا کر ختم ہوجاتے ہیں ان کی نشانات کچھ عرصے بعد مکمل طور پر ختم ہوجاتے ہیں لیکن جن دانوں کو خارش کے دوران چھیل دیا جائے یا پھر کسی رگڑ کی وجہ سے پھٹ جائیں ان کے نشانات عام طور پر ختم نہیں ہوتے ان کے علاج کیلئے سکن سپیشلسٹ سے رابطہ کرنا چاہیئےمیم سین

ایک مخلصانہ اور ضروری مشورہ:



جب بھی اپنے بچے کو ڈاکٹر کو چیک اپ کروانے جائیں تو اس بات کا اہتمام ضرور کریں کہ بچے کی والدہ ساتھ ہو۔ ۔کیونکہ بچے کی بیماری کے حوالے سے ڈاکٹر کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات کیلئے سب سے مناسب رشتہ وہی ہوتا ہے۔کیونکہ کسی بھی بیماری کی تشخیص کیلئے سب سے اہم چیز ہسٹری ہوتی ہے اوراکثر اوقات بیماری کا ستر فیصد سے بھی زیادہ درست اندازہ صرف اچھی ہسٹری سے ہوجاتا ہےلیکن مصروفیت کے اس دور میں یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ مائیں بچے کو ڈاکٹر کے پاس دفتر سے شام کو لوٹنے والے باپ کے ہاتھ بھیج دیتی ہیں یا پھر ماموں چچا یا کسی کزن کے ساتھ ۔۔ جن کو صرف بیماری کی بنیادی نوعیت کے بارے میں بتایا گیا ہوتا ہے اور جب ان سے بچے کی بیماری کے بارے میں سوالات کیئے جاتے ہیں تو لاعلمی میں یا تواندازے سے جواب دینا شروع کردیتے ہیں یا پھر فون نکال کر ماں سے رابطہ کرنا ۔ جو یا تو اس وقت کہیں مصروف ہوتی ہے یا پھر سوالات کی نوعیت کو صحیح سمجھ نہیں پا رہی ہوتی ہےاور اس ساری صورتحال کا نقصان بچے کی بیماری کی غلط تشخیص کی صورت میں نکل سکتا ہےکوشش کیا کریں کسی بھی ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں تو اس کی کی لکھی ہوئی دوائیوں والی پرچی اور کروائے گئے ٹسٹ ہمیشہ ایک فائل کی صورت میں محفوظ رکھیں۔ جب بھی بچے کے کسی مسئلے میں ڈاکٹر سے ملنے جائیں تو بچے کی اس فائل کو ہمیشہ ساتھ لے کر جائیں ۔ بہت سی بیماریوں کی نوعیت اور بچے کی صحت کے حوالے سے اس فائل کی ڈاکٹر کیلئے کافی اہمیت ہوتی ہےمیم سین

متھ کیسے بنتے ہیں۔۔۔



چند سال پہلے ایک فیملی میرے پاس آئی ۔ ان کے پاس ہومیو پیتھی گولیوں کی ایک شیشی تھی ۔ جاتے ہوئے وہ گولیوں کی شیشی میز پر بھول گئےچند دن بعد ایک خاتون ایک ماہ کے بچے کے ساتھ اس شکایئت کے ساتھ آئی کہ اس کا دودھ بہت کم ہے اس کیلئے کوئی دوائی دیںمیں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ ماں کا دودھ کم نہیں ہوتا لیکن خاتون بضد رہیں کہ کوئی دوائی دیں یا پھر دودھ کا ڈبہ بتائیں جو میں اپنے دودھ کے ساتھ پلا سکوںاچانک میری نظر انہی ہومیو پیتھی گولیوں پر پڑی ۔ اسے اٹھا کر اس خاتون کے حوالے کیا کہ جب دودھ پلانے لگیں تو ایک گولی زبان کے نیچے رکھ لیں اور ایک ہفتے بعد مجھے بتائیں ۔۔ اگر پھر بھی دودھ پورا نہ ہوا تو ڈبے کا دودھ شروع کر دیں گےاور ایک ہفتے بعد خاتون اپنے ساتھ اپنی ایک رشتہ دار کو بھی ساتھ لائیں کہ اس کو بھی ایک شیشی گولیوں کی دے دیں ہمیں کسی میڈیکل سٹور سے نہیں ملی

محب وطن پاکستانیوں کے نام


السلام علیکممیرا نام میجر ثاقب ہے اور آئی ایس آئی کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے بیلونگ کرتا ہوںجی بالکل ٹھیک پہچانا وہی وٹس اپ کے وائس میسج والا۔ جس کو محب وطن پاکستانیوں نے لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔ بلکہ ایک ایک بندے کو بیسیوں بار پہنچاکر یاد دھانی کروائی اور میں شکرگزار ہوں پوری قوم کا کہ اس میسج کی وجہ سے اب کوئی بھی  اپنا تعارف ثاقب نام سے کرواتا ہے تو لوگ کھڑے ہوکر ملتے ہیں اور ایک رپورٹ کے مطابق نیو بارن بچوں میں ثاقب نام ٹاپ پر آچکا ہے۔ویل مائی فرینڈز جیسا کہ آپ جانتے ہیں انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایک ہی میڈیم استعمال کرنے کی اجازت نہیں اس لیئے اس بار فیس بک سے مخاطب ہوں اس وقت میں ایک اہم مشن پر ہوں اس لیئے زیادہ بات نہیں کر سکتا لیکن کل خفیہ اداروں کی اطلاع پر کی گئی ایک اہم کاروائی کی کچھ تفصیلات آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ جس میں کسوال سے بیلونگ کرنے والی ایک فیملی جو مغل پورہ میں ایک کرائے کے گھر میں پچھلے بیس سال سے مقیم تھی۔ ریڈ کے دوران معلوم ہوا کہ پچھلے بیس سال سے علاقے میں مقیم شخص کے بارے میں پورے محلے میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ اتنے شاندا دہی بھلے بناتا ہے ۔مزید تفتیش پر معلوم ہوا کہ وہ علاقے کی مشہور نیلی مسجد کے گیٹ کے باہر اپنی ریڑھی لگاتا ہے ۔آپ لوگوں سے التماس ہے کہ اس میسج کو جتنا ہو سکے شیئر کریں تاکہ ہمارے ہنرمندوں کو دنیا کے نظروں سے دور رکھنے کے دشمن کے عزائم کو شکست دی جاسکے۔

مغرب کی ترقی کا راز اور ہم



سولہویں صدی کے بعد تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ایک طرف یورپ بیداری کیلئے کروٹ لے رھا تھا ۔اور دوسری طرف امریکہ کی دریافت کے بعد ایک نیا معاشرہ جنم لے رھا تھا جس کی بنیاد صاحب ثروت لوگ، چور اچکے ،مجرم اور مہم جو افراد رکھ رہے تھےجس کی اساس فرد واحد کی بجائےاداروں پر تھی۔
ایک علم ہوتا ہے جو ہم کتابوں سے ڈھونڈتے ہیں۔ دوسرا علم  ہم استاد سے حاصل کرتے ہیں ۔لیکن ایک تیسرا علم ایسا بھی ہے جو ہم سفر سے حاصل کرتے ہیں۔ لوگوں سے مل کر حاصل کرتے ہیں اور وہ علم بہت بہتر اور تیار حالت میں ہوتا جن سے نتائج اخذ کرنا آسان ہوتا ہے ۔اور امریکی معاشرے کی بنیاد ایسے ہی مہم جو افراد نے رکھی تھی ۔جن کے پاس دنیا گھوم پھر کر تجربہ بھی تھا اور وژن بھی 
ایشیا کے بیشتر ممالک اپنی ضروریات کیلئے چونکہ کسی کے محتاج نہیں تھے اس لیئے وہ تیزی سے ہونے والی دنیا کی سیاسی اور فکری تبدیلی سے بے خبر رہے اور اور نتیجہ نوآبادیاتی نظام کا حصہ بننے کی صورت میں نکلا۔ 
تیسری طرف یورپ تھا جو چرچ کی گرفت میں تھا جب یورپ میں چرچ کے اثر ورسوخ کو کم کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں تو ان شعبوں کو چلانے کا مسئلہ سامنے آیا جن کی ذمہ داری چرچ نے سنبھال رکھی تھی۔ان شعبوں کو چلانے کیلئے ادارے بنائے گئے ۔ وقت کے ساتھ ادارے مضبوط ہوتے گئے ۔اختیارات فرد کےہاتھوں سے نکل کر اداروں کو منتقل ہوتے گئے اور ایک وقت ایسا آیا ہے کہ ریاستوں کا مکمل انتظام ان اداروں نے سنبھال لیا اورفرد کی اہمیت علامتی رہ گئی۔ریاستوں کا انتظام اداروں کے ہاتھ میں جانے کے بعد ایک تو انصاف کی فراہمی ممکن ہوئی دوسرا مساوات نے عملی شکل اختیار کرنا شروع کی۔اور انصاف اور مساوات دو ایسے خواص ہیں جو  کسی بھی فلاحی معاشرے کی لیئے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں ۔ اور یوں ان اداروں کے سہارے یورپ اپنے ڈارک ایجز سے نکل کر دنیا کے سامنے ایک مستحکم پوزیشن میں سامنے آیا۔اتنا مستحکم کہ دو عظیم جنگیں اور شدید ترین کساد بازاری اور معاشی بحرانوں کے باوجود دنیا کی حکمرانی سے یورپ کے قدم نہیں اکھڑے.کیونکہ یہ سب ان اداروں کی مرہون منت تھا جو یورپ نے مستحکم کر لیے تھے۔ انصاف کا نظام ہو یا پھر پارلیمنٹ کی بالادستی، تعلیم کا شعبہ ہو یا پھر  صحت کا  میدان یہ وہ شعبے  ہیں جنہیں ہمارے ہاں سب سے سے زیادہ نظر انداز کیا جاتاہے.لیکن مغرب نے ان کو خصوصی توجہ کا مرکز بنایا۔ ان اداروں نے یورپ کو اندھیروں سے نکالااور ایک نئی روح پھونکی۔ ابن خلدون کی عصبیت کی مجسم شکل یورپ کے وہ ممالک نظر آئے جو پانچ پانچ سو سال اسی "قومیت" کے چکر میں حالت جنگ میں رہے تھے لیکن جب ادارے مضبوط کر لیے تو پھر تمام تر اختلافات بھلا کر معاشی و معاشرتی ترقی پر اپنی توجہ مبذول کرلی اور ان اداروں نے لوگوں کو نا صرف ترقی دی بلکہ شعور دیااوروہ مجموعی قومی عرفان بھی جس سے آج ہمارہ معاشرہ یکسر محروم نظر آتا ہے 
یہ ایک لمبی بحث ہوجائے گی کہ مغرب کے عروج کے پیچھے اور کون کون سے عوامل کارفرما تھے لیکن یہ  بات طے شدہ ہے کہ ان سب عوامل نے اداروں کو ہی استحکام بخشا اورآج مغرب جس مقام پر کھڑا نظر آتاہے وہ ان ہی اداروں کی مرہو ن منت ہے ۔اور آج بھی جس قوم نے بھی اداروں کے سہارے ملک چلانے کی کوشش کی ہے وہ ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نظر آئیں گے۔دبئی سمیت ایشیا کے کئی ممالک کا نام لیا جاسکتا ہے ۔
لیکن جب میں ملک عزیز میں انتہائے تضادات کی نئی نئی راہیں دیکھتا ہوں ۔اور فریب ہنر بنا کر کیسے کیسے شعور سینوں میں اتارے جا رھے ہیں ۔تو میری سمجھ میں آتا کہ ہمارا علم بے کار کیوں ہوجاتا ہے ہماری تہذیب بے بسی کی تصویر کیوں بنی دکھائی دیتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ علم سے انسان میں صرف بھلائی کا بیج جنم لیتا ہے۔لیکن جو علم مرعوبیت  کے سائے میں حاصل ہو وہ بھلائی سے زیادہ شر پھیلاتا ہے ۔ ایساباخبر شخص زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔اس میں ایک لچک آجاتی ہے ۔وہ نفع اور نقصان کو بہتر طور پر جذب کرسکتا ہے ۔وہ اگر اچھائی کو اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہے تو بدی کو بھی یکساں جذب کرتا ہے۔ دوسری طرف انسان میں نیکی اور محبت کی تلقین عام ہے لیکن عملی طور پر انسانی رویہ مختلف ہے۔اور نصیحت اور عمل کا یہی تضاد ہمہ گیر مذہبی سچائی کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔جب مذہب مشکوک ٹھہرا تو تو پھر ذاتی آدرشوں کو زندگی کا عرفان ٹھہرایا جانے لگتا ہے۔ اور یوں مرعوبیت کا شکارافراد نے  ترقی کی راہ میں حائل سب سے پہلا الزام مذہب پر لگایا۔
مذہب سے نکلے تو  عورت کے حقوق کو آزادی کے راہ میں رکاوٹ پایا۔ عورت کی آزادی کا مسئلہ۔حجاب کا مسئلہ ، عورت کی ڈرائیونگ کا مسئلہ ۔عورت۔عورت عورت ۔ترقی کی طرف اٹھنے والا ہر قدم عورت کی شخصی مجبوریوں سے شروع ہوکر ہوکر  عورت کی جنسی محرومیوں سے نکلنے لگا۔
 علم میں غرق اور مذہب سے دورشخص نفع و نقصان کے  معیار اپنی سوچ کے مطابق بناتا ہے۔نفع و نقصان کے یہ ترازو خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں جن کا دائرہ تکمیل ذات سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہمارا شعور ،ہمارا ادراک  مغرب کی ترقی سے متاثر تو ضرور ہوا ہے لیکن اس کے اسباب ڈھونڈ نکالنے کے لیئے جو معیار ترتیب دیئے ہیں وہ اس کے ذاتی عرفان کے طابع ہیں ۔اور ذاتی عرفان کے تابع معیار ذاتی تو ہو سکتے ہیں معاشرتی یا اجتماعی نہیں۔  ریاستوں اور معاشروں کے معاملات اجتماعی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور اجتماعی دانش و عمل کے ہی متقاضی بھی اور مذہب کی ضد میں بنائے گئے ذاتی نفع و نقصان کو ناپتے تولتے معیارات کس حد تک کسی قوم یا معاشرہ کے لیے سود مند ہو سکتے ہیں ہماری موجودہ بدحالی کو دیکھتے ہوئے اس کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں

کچھ پولیو ویکسین کے حوالے سے


چند سال پہلے امریکہ میں ایک کسان کے حوالے ایک کیس بہت مشہور ہوا تھا جو اپنے بچے کو گائے کا کچا دودھ پلانا چاہ رھا تھا لیکن صحت کے اداروں نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا تھا کہ بچے کی صحت کے ساتھ کوئی نہیں کھیل سکتا خواہ وہ اس کے والدین ہی کیوں نہ ہوں
ایسے ہی چند سال پہلے فرانس میں کھلونے بنانے والے ایک ادارے نے  ان کے ایک کھلونے کی کاپی بنانے پر دوسرے ادارے پر کیس کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا نہیں کیا تھا بلکہ اس پرلکھے پانچ سے بارہ سال کی بجائے دو سے بارہ سال کے بچوں کیلئے لکھنے پر کیا تھا کہ یہ چھوٹے بچوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ قانون کی نظر میں بچوں کی صحت سے کھیلنا بڑا جرم ہے۔مغرب میں عوام کی صحت کے بارے میں حکومتی فکر اور اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔جتنے سخت قوانین صحت کے حوالے سے موجود ہیں شائد ہی کسی اور شعبے کے متعلق ہوں۔غیر معیاری خوارک ہو یا مضرصحت اجناس اس پر کسی رعائیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔  لیکن ہمارے لیئے مغرب کی صحت کے معاملے میں اتنی فکر سمجھنا مشکل کام ہے ۔ چند دن پہلے ایک دودھ پیک کرنے والی کمپنی کو انسانی جانوں سے کھیلنے پر دس لاکھ روپے جرمانہ کرکے کے سپریم کورٹ نے پوری قوم کے منہ پر جوطمانچہ مارا ہے۔ اس کے بعد ہمیں صحت کے بارے میں مغرب کی ہر بے چینی میں کوئی سازش ہی نظر آئی گی۔اور آئل و گھی اور منرل واٹرکی کوالٹی کے حوالے سے آنے والی تشویش ناک رپورٹ ویسے ہی منظر نامے سے ہٹا دی گئی ہے۔ورنہ ہماری صحت کے بارے میں بے حسی کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔یہ ساری تمہید میں نے باندھی ہے پولیو ویکسین کے حوالے سے کہ ہمارے ہاں آج بھی پولیو ویکسین کے حوالے سے نہ صرف کنفیوژن پائی جاتی ہے بلکہ پھیلائی بھی جاتی ہے اور آئے دن بہت سے سازشی نظریات کوجنم دیا جاتا ہےلوگوں کے اس مہم کے بارے میں بہت سے تحفظات ہیں جیسے آخر مغرب کو ہمارے ملک سے پولیو کے خاتمے میں اتنی دلچسپ کیوں ہے؟اربوں روپے وہ صرف پولیو کے خاتمے کیلئے خرچ کر رہے ہیں جبکہ یہاں کروڑوں لوگ بھوک اور غربت سے متاثر ہیںانتظامیہ کی طرف سے پولیس کا استعمال اور سختی اس مہم کو مشکوک بنا رہی ہےچلیں ایک نظر اس مہم پر ڈال لیں تو شائد بہت سے سوالوں کے جواب خود ہی مل جائیںپولیو کا وائرس انسانی جسم سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر اس وائرس کو رہنے کو کوئی جسم نہیں ملے گا تو وہ خود ہی اپنے موت مر جائے گا اس حقیقت کو لیکر پولیو کے خاتمے کیلئے مہم کا آغاز 1988 میں شروع کی گئی تھی اس وقت ہر سال ساڑھے تین لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہوجایا کرتے تھے لیکن اگلے بیس سالوں میں لگ بھگ دنیا کے تین چوتھائی ممالک سے اس وائرس کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ 2016 میں صرف 37 کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 20 پاکستان سے تھے۔ 2015  میں 74 کیس رپورٹ ہوئے تھے جن میں سے 54 پاکستان سے تھے۔ 2013میں 416 اور دو ہزار بارہ میں 223کیس رپورٹ ہوئے اور ان میں  سےبھی بیشتر مریضوں کا تعلق پاکستان سے تھاہم سے کئی گنا بڑا اور مسائل میں الجھا بھارت بھی بہتر منصوبہ بندی کی بدولت دوہزار چودہ میں پولیو فری ملک قرار پا چکا ہے ۔لیکن اربوں ڈالر خرچ کرکے بھی پاکستان پولیو کے دوبارہ پھیلاؤ کیلئے دنیا کا سب سے خطرہ بنا ہوا ہےدوہزار پانچ میں امریکہ میں پولیو کے کیس کی موجودگی نے صحت کے اداروں کیلئے الارم بجا دیا تھا جس کے بعد اس پروگرام کو پہلے سے زیادہ متحرک کر دیا گیا اور یہی وہ خوف ہے جو مغرب کو پاکستان پر اتنی زیادہ توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کررھاہے کہ کہیں پولیو واپس نہ لوٹ آئے
کیونکہ جب تک دنیا سے پولیو کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک یہ مغرب کے حواسوں پر خوف بن کر چمٹا رہے گا۔ان مختصر سے اعداد وشمار سے اندازہ ہوجانا چاہیئے کہ پولیو کی اس مہم پر اربوں روپے کیوں خرچ ہورہے ہیں اور انتظامیہ اس معاملے میں بیرونی دباؤ کیوں برداشت نہیں کر پا رہییہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ پولیو ویکسین کے حوالے سے جن تحفظات کا اکثر انٹر نیٹ کے صفحات کے حوالے سے ذکر کیا جاتا ہے وہ تحفظات لگ بھگ ہر ویکسین کے ساتھ پایا جاتا ہے۔ ہاں جن تحفظات کا ذکر ہونا چاہیئے جن پر سوال اٹھنے چاہییں وہ  ویکسین کی کوالٹی کی یقین دھانی ایک بچے کے کورس کو مکمل کرنے کے باوجود اسے بار بار قطرے پلانے سے متعلق خدشات کے بارے میں یقین دھانیفیکٹری سے بچے کو پلانے تک ویکسین کی کولڈ چین کو محفوظ بناناویکسین پلانے والےورکرز کی مکمل تربیت اور ان کی ذمہ داریوں سے آگاہی اور ان کی ڈیوٹی کے دوران پائی جانے والی کوتاہیوں سے نبٹنا
میم سین

ترجیحات کا فرق


بات یہ نہیں ہے کہ ہم خود کو مسلمان نہیں کہلووانا  چاہتے 
اور نہ یہ بات درست ہے کہ ہماری مذہب بیزاری کی وجہُ ملا ہےوجہ یہ بھی نہیں کہ ہم  اسلام کو سمجھنا نہیں چاہتے اور بات یہ بھی درست نہیں کہ ہمیں  اسلامی تشخص پر تحفظات ہیںبات یہ ہے کہ زندگی کے تقاضے بدل گئی ہیں ترجیہات  بدل گئی ہیں۔جن کی وجہ سے ضروریات بدل گئی ہیں جن کی خاطر مفہوم بدلنے پڑ رہے  ہیںکیونکہ ہماری زندگیوں میں وہ آواز دم توڑ گئی ہے جو کوہ صفا سے بلند ہوئی تھیاے جماعت قریش اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے بنی کعب اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤسب ہی کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔سب ہی عشق رسول کی بات کرتے ہیں۔ سب کا ہی دعوی ہے کہ قرآن الہامی کتاب ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کے معیار بدل لیئے ہیںہماری لگن، جستجو، محنت اس کامیابی کیلئے مختص ہوکر رہ گئے ہیں جو انسان کو سٹیٹس دیتا ہے۔شہرت دیتا ہے۔ دنیا میں مقام دیتا ہے ۔ اچھا گھر، محفوظ مستقبل کے خواب دکھاتا ہے جو معیار قرآن نے مقرر کیا تھا وہ اب بدل چکا ہے  جو جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں ہماری جستجو کی دوڑ اور ترقی کیلئے استدلال اونچی عمارتیں اور پرتعیش زندگی رہ گئے ہے جس کے بارے میں قرآن نے کہا تھادنیا کے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوش حالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر انکا ٹھکانہ جہنم ہے جو رہنے کی بدترین جگہ ہے بات چھوٹی سی ہے لیکن بات سمجھنے کی ہے وہ بھی ٹھنڈے دل سےجب کامیابی کے معیار ہی بدل گئے تو پھر اس کی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدل جائیں گے۔ پھر ہم نئی توجیحات اخذ کریں گے، ان کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئےصفائیاں پیش کریں گے اس معیار پر پورا اترنے کیلئےجب نئی توجیہات سامنے آئیں گی تو مفہوم بدلیں گے ۔جب صفائیاں پیش ہونگی تو حسرتیں بدلیں گی ۔انفرادی خواہشات اور ارادے تکمیل چاہیں گے اور ہم غیرارادی طور پرراہ راست سے دور ہوتے چلے جائیں گے جب معیار ہی بدل گئے تو پھر گمراہی کا احساس کیسا ؟
طلب کیسی کہ
راہ نجات کونسی سی ہے؟ اور راہ حیات کہاں سے شروع ہوتی ہے؟
میم سین

آزادی کی تکمیل











امن کی علامت فاختہ اپنی شکل سے تو معصوم نظر آتی ہی ہے لیکن اس دن مجھے معلوم ہوا یہ کہ فطرت میں بھی بہت بھولی بھالی ہے جب فاختہ کے ایک جوڑے نے برآمدے میں لٹکے راڈ سے لگے پردے کے اوپر اپنا گھونسلا بنایا۔ اتنی کمزور جگہ گھونسلا، بھلا پائیدارکیسے ہوسکتا تھا۔ چند دن بعد ہی فرش پر دو ٹوٹے ہوئے انڈے ان کے خاندان کی تباہی کی کہانی سنا رہے تھے۔ لیکن اگلی بار بھی اسی جگہ کا انتخاب کیاتو مجھے فاختہ کی معصوم طبیعت پر یقین آگیاچند دن بعد ہی دو ننھے منے فاختہ کے بچے منہ کھولے سارا دن اپنے ماں باپ کا انتظار کرتے نظر آنے لگے ۔ ان کے جسم پر بال نکلنا شروع ہوئے تو نا جانے  انہوں نے ہز فرسٹ فلائٹ کہانی پڑھ لی تھی یا پھر والدین کی کوتاہی تھی کہ وہ اپنے گھونسلے سے نکل آئے ۔ ننھے ننھے پروں کے ساتھ وہ اچھل کود تو کرسکتے تھے لیکن واپس اپنے گھونسلے میں جانا یا کسی محفوظ جگہ کا انتخاب کرنا ان کیلئے ممکن نہیں تھا۔ایک دن تو میں ان کی حرکتیں دیکھتا رھا۔ مجھے لگا اگریہ یونہی آزاد رہے تو کسی پنکھے کے پروں کی زد میں آکر اپنے جان گنوا بیٹھیں گے یا پھر منڈیر سے جھانکتی بلی کا تر نوالہ ثابت ہونگے۔۔ برتنوں والی ٹوکری خالی کی اور ان کو چھپا کر باجرہ اور سرسوں کے بیج کھانے کو دیئے۔ دو دن تک تو ان کے اماں ابا سارا دن اس ٹوکری کے پاس متفکر بیٹھے رہے لیکن پھراچانک غائب ہوگئے۔چند دن خوب پیٹ بھر کر کھانے کو ملا تو جوانی ان کے جسموں پر ظاہر ہونا شروع ہوگئی۔ ایک ہفتے بعد مجھے لگا کہ اب یہ پروازکے قابل ہوگئے ہیں تو ایک دن ان کے اوپر سے ٹوکری اٹھا دی ۔ کچھ دیر ادھر ادھر گھومنے کے بعد وہ اڑ گئے لیکن شام کو اسی ٹوکری کے قریب پھر موجود تھے۔ اور پھر تو یہ معمول ہی بن گیا۔ صبح کو ان کو آزاد کر دیا جاتا لیکن شام کو وہ اسی ٹوکری کے ارد گرد موجود ہوتے۔ جیسے غلامی کے دنوں نے آزادی کے احساس سے نا آشنا کر دیا ہو ۔یہ لگ بھگ کوئی دس دن بعد کی بات ہے جب ایک دن دوپہر کو میں نے بابا فاختہ اور ماما فاختہ کی موجودگی کو صحن میں محسوس کیا۔ دنوں بچے بھی ان کے ساتھ پھدک رہے تھے۔ کبھی اڑ کر منڈیر پر جاتے تو کبھی کسی تار پر بیٹھ کر زمین کو تکتے۔کچھ دیر ان کا تماشا دیکھتا رھا لیکن پھر اپنے معمولات میں مشغول ہوگیا۔ لیکن اس شام دونوں واپس نہیں آئے۔اپنے بچوں کو آزادی اور غلامی میں فرق ایک دن میں سکھا دیا تھا۔.فاختہ کے بچے معصوم تھے کمزور بھی لیکن آزادی پر سمجھوتہ ان کی سرشت میں نہ تھا.اور اس بات کا اندازہ ماما بابا فاختہ کو بھی تھا کہ جلد یا بدیر ہمارے بچوں نے مکمل آزادی حاصل کرنی ہے.کیونکہ ادھوری آزادی کی کوئی ویلیو نہیں ہوتی.آزادی خوردرو پودے کی طرح اپنی تکمیل خود کرتی ہے اور بہرصورت کرتی ہے.آپ لاکھ بار جھاڑی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں وہ پھر اسی جگہ اگتا ہے.یہ اصول فطرت ہے آزادی اپنی تکمیل کرتی ہے.بس دیکھنا یہ ہے کہ انسانوں کی بستی کے یہ مکین کب اپنی آزادی کی تکمیل کر کے ٹوکری سے نجات حاصل کرتے ہیں.کیونکہ ٹوکری کے نیچے چاہے آسائش کا ہر سامان مہیا ہو وہ آزاد فضاؤں کا متبادل نہیں ہوسکتا
میم سین

میرے مشاہدات


سگریٹ اور حقے کے شوقین سانس کی بیماریوں میں مبتلا بابا جی کا چیک اپ کرنے کے بعد سمجھایا کہبابا جی سگریٹ حقہ سے مکمل اجتناب کریں بلکہ آپ کو تو اس قدر پرہیزکرنا چاہیئےکہ کوئی بندہ سگریٹ پی رھا ہو تو اس کے پاس بھی نہ بیٹھیںمیں دوائی لکھنے لگ گیا اور اتنے میں اس کا بیٹا جو کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا ، کمرے میں داخل ہوا اوراپنے باپ سے پوچھنے لگا ڈاکٹر صاحب نے کیا کہا
بابا جی نےجواب دیاڈاکٹر کہہ رھا ہے کہ جب کوئی پاس بیٹھا ہو تو سگریٹ حقہ نہیں پینا ہے
میم سین

ادھر ادھر سے


احسن صاحب اب اتنے عمر رسیدہ بھی نہیں تھے کہ بیوی کے انتقال کے بعد باقی عمر تنہا گزار لیتے ۔ چار بچوں کی ذمہ داری نے احساس دلایا تو ایک دن اماں نے بھی ہاتھ اٹھا لیئے کہ اب ان کی بوڑھی ہڈیوں میں اتنی طاقت نہیں کہ بچوں کی شرارتوں کا بوجھ برداشت کر سکیں ۔ احسن صاحب نے حامی بھری اور چند ہی دن میں ایک بیوہ ڈھونڈ نکالی گئی جس کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی۔ چند دن گھر میں خوب رونق رہی۔لیکن ساتویں دن دلہن اچانک بے ہوش ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ بلڈ پریشر کی مریضہ تھی ۔شادی کے چکر میں اپنی دوائی استعمال نہ کر سکی اور اب فالج کا حملہ ہوگیا تھا۔ یوں احسن علی کے کندھوں پر ایک اور ذمہ داری نے اپنا بوجھ ڈال دیا
اس کہانی سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے لیکن یہ کہانی بچوں کیلئے تو لکھی نہیں گئی کہ جس سے کوئی سبق نکالنا ضروری ہو ۔ فرحانہ صادق کی رائے میں اس کو ایک اچھا انشائیہ سمجھ کر پڑھ لیں بھائی کی شادی پر ننھے میاں نے اپنا کمرہ سجانے کی فرمائش کر ڈالی۔ فرمائش کیا ضد شروع کر دی تو اسے سمجھایا گیا کہ ہماری روایات صرف دلھن کا کمرہ سجانے کی ہیں لیکن ننھے میاں کے سوالوں نے نے سب کو لاجواب کر دیا کہ قرآن پاک میں ایسا کہیں لکھا ہے یا پھر حدیث میں آیا ہے؟ تو مجبورا اس کاکمرہ سجا دیا گیا۔ کچھ عرصے بعد جب اس کے ماموں کے بیٹے نے بھی فرمائش کر ڈالی تو اسے زیادہ بحث نہیں کرنا پڑی کیونکہ خاندان میں روایت موجود تھی۔لیکن بڑی عید پر قربانی کیلئے روایت بھی موجود ہیں اور احکام بھی اس لیئے قربانی کیلئے جانور کی خریداری پر بچوں کی فرمائش پر جیب کی تنگی کا عذر پیش کرنا ممکن نہیں رہتا۔ لیکن اس بار تو کانگو کا بھوت ایسا ذہنوں پر سمایا ہوا ہے کہ مویشی منڈیاں سائیں سائیں کر رہی ہیں۔ حکومتی سختیاں الگ سے آڑھتیوں کو روک رہی ہیں۔ طرح طرح کے میڈیکل سرٹیفکیٹ مانگے جارہے ہیں ۔ بہاولپور میں ایک ڈاکٹر کی موت کی ذمہ داری جس وائرس کے کھاتوں میں لکھی گئی اس کی تصدیق نہ تو مزید کسی کیس میں ہو سکی اور نہ ہی اس کو پورے ہسپتال کے کسی دوسرے بندے میں ڈھونڈا جا سکا۔لیکن کانگو کی روک تھام کیلئے عوامی شعور کی لیئے حکومتی اور میڈیا کوششیں اچھی ہیں لیکن حد سے زیادہ شعور بیدا کر دیا گیاہے ۔ لوگ مویشی منڈیوں کا رخ کرنے سے بھی کترانے لگے ہیں ۔ بہاولپور میں تو لوگ وکٹوریہ ہسپتال کے باہر سے گزرنے ہی گریز کرنے لگے ہیں یا پھر گزرتے وقت اپنی گاڑیوں کا شیشہ چڑھا لیتے ہیں ایسی ہی ایک کوشش تھیلیسمیا کے کنٹرول کیلئے بھی کی گئی ہے کہ آئیندہ سے کوئی نکاح اس وقت رجسٹر نہیں ہوسکے گا جب تک ان کے پاس تھیلیسمیا کی سکرینگ کا سرٹیفیکیٹ پیش نہیں کیاجائے گا۔ کیونکہ تھیلیسیمیا کا مرض زندگی بھر کیلئے معذوری ہے۔ اس کی باقی ماندہ زندگی دوسروں کے خون کے سہارے گزرتی ہے۔ لیکن ایسی کئی معذوریوں کا سبب زچگی کے مسائل بھی ہیں۔ جن سے عہدہ برا ہونے کیلئے حاملہ عورتوں کو عطائی دائیوں اور نرسوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال تھیلیسیمیا کے پانچ ہزار بچوں کو معذور ہونے سے روکنے کیلئے تو قانون سازی ہوگئی ہے لیکن جو پانچ ہزار بچہ ہر روز دائیوں، غیر تربیت یافتہ نرسوں اور نامناسب سہولتوں کی وجہ سے
معذور ہورھا ہے ان کیلئے اقدام کب اٹھائے جائیں گے ؟
میم سین

میرے مشاہدات


یہ چند دن پہلے کی بات ہے، چار پانچ مرد وخواتین میرے دفتر میں داخل ہوئے اور میرے تعریفوں میں قلابے ملانا شروع کر دیئے۔
 ایک مرد بولا دو سال پہلے میرے بچے کو سب ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا لیکن آپ کی دوائی سے ایسا ٹھیک ہوا کہ آج تک دوبارہ بیمار ہی نہیں ہوا۔
 دوسرا بولا میری بیوی کی خارش ٹھیک نہیں ہورہی تھی لیکن آپ کی صرف ایک خوارک سے چار سال پرانی بیماری ختم ہوگئی ۔۔۔۔
 اس سے پہلے کہ ساتھ آئی خاتون بھی کسی بیمارکے بارے میں میرے معجزے کا ذکر کرتی، میں نے آنے کا مقصد پوچھا تو ایک مرد بولا میں بڑی امید لےکر اپنی ماں کا چیک اپ کروانےآیا ہوں، باہر چارپائی پر لٹایا ہے۔
 مریض کو دیکھنے پہنچا تو دیکھا کہ کوئی  ایک ہفتے سے بے ہوش، اسی سال کی ایک  بوڑھی عورت، ہڈیوں کا ڈھانچہ بنی لیٹی ہوئی ہے ۔مشکل سے نکلتے سانس دیکھ کر اندازہ ہورھا تھا کہ بوڑھی خاتون کے سانس گنے جا چکے ہیں ۔ مریض کی حالت دیکھ کر میں نے کہا
انہیں غلط جگہ لے آئے ہیں ۔ میں صرف مریضوں کا علاج کرتا ہوں ، جسموں میں جان ڈالنے کی ذمہ داری اللہ پاک نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے ۔لیکن پھر بھی سب کا اصرار جاری رھا کہ نہیں جی!کوشش کریں اللہ نے بڑی شفا دے رکھی آپ کے ہاتھ میں
میں نے پھر سمجھانے کی کوشش کی مریض تو اپنی آخری سانسوں پر ہے۔آکسیجن لگوا رھا ہوں اگر سانس بہتر ہوئی تو پھر دیکھتے ہیں۔ساتھ آئی ایک خاتون بولی ۔ جلدی سے اسے گیس لگائیں اور اس کا علاج شروع کریں۔ساڈے دو دن لنگا دیو، کل منڈا ویان جانا اے۔۔بس دو دن کی مہلت مل جائے ، کل ہمارے لڑکے کی بارات جانا ہے
میم سین

برہمن اور زاویہ


 ساری گڑبڑ پرسپشن کی ہے۔ ہمیشہ وہ رخ ہمیں نظر آتا ہے جو دیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یا ایسے سمجھ لیں ایک ایک نادیدہ قوت سب کو اس زاویے پر بٹھا دیتی ہے جہاں سے سب کو ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ جیسے ایک لیڈر کو کنٹینر پر چڑھا دیا جائے اور ایک قوت سب لوگوں کو اس کی باتیں سننے پر مجبور کرے۔ اور اگر وہ قوت چاہے تو ایک پھانسی کی سزا کی خبر کو نظروں سے اوجھل کر دے ایک زاویہ وہ بھی ہے جہاں پر سیاستدان ووٹ کا مینڈیٹ لے کر اختیارات کو روند رھا ہے، کالے کوٹ کی حرمت لیکر بھی کچھ لوگ استحصال کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ڈگریوں کا سہارا لیکر امراض سے ہراساں کر رہے ہیں۔ تو بے چارے برہمن نے کیا قصور کیا ہے؟ اس کے پاس بھی لوگوں کے چندے کا مینڈیٹ ہے۔ سات سو اکیاسی  ارب روپے کا بجٹ رکھنے والے ادارے کی کوتاہیوں کو دکھانے والا زاویہ بھی ڈھونڈیں۔۔ جس کا دعوی ہے کہ جی ایچ کیو، مہران بیس، تباہ کروانے والے بلوچستان اور کراچی کا امن برباد کرنے والے جاسوس کی چودہ سال بعد گرفتاری اس کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔۔۔ کچھ اس بے بسی کا زاویہ بھی ڈھونڈیں جو سارے گواہان اور رپورٹوں اور ثبوتوں کے باوجود لندن میں ایک شخص کے خلاف کاروائی سے روک رھا ہے۔۔یقین جانئے فرق صرف پرسپشن کا ہے۔دوسرے معاملات ایک عام آدمی کے ساتھ اتنے ہی گہرے جڑے ہیں جتنے برہمن کے معاملات ۔۔ لیکن ہم ان سب کو نظر انداز کر دیتے ہیں
میں برہمن کو کلین چیک نہیں دے رھا لیکن ہمارے ہر شعبے کے ہاتھ اتنے ہی آلودہ ہیں جتنے کہ برہمن کے ۔۔اور اس کا اندازہ صرف کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے لگایا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔ لیکن ہمارا دیکھنے اور سوچنے کا زاویہ کہیں اور فٹ کر دیا گیا ہے۔
اور صورتحال اس کہانی جیسی ہے جس میں ایک شخص سارے گائوں کو درخت کے اوپر چڑیا کوے کی لڑائی پر لگا کر خود سارے درخت کاٹ دیتا ہے
(نوٹ بجٹ میں اسلحے کی خریداری اور پینشن وغیرہ کی مد شامل نہیں ہے)

اندھی گولی



یہ جبر، سفاکیت اور انتقام کی وہ داستان ہے جو آدم کی پیدائش پر لکھی جانا شروع ہوئی تھی اور تاقیامت لکھی جاتی رہے گی۔جس طرح صبح اور رات کا ساتھ ہے، مرد اور عورت ایک دوسرے کے ساتھ نتھی ہیں ، بھوک اور روٹی کا رشتہ ہے۔ایسے ہی انسانی فطرت میں نیکی اور بدی کا ساتھ ہے۔ایسے ہی خدا کے ساتھ شیطان کا ساتھ ناگزیر ہے۔ایک نصیحت ہے اور دوسرااس کا رد۔ دنیا کا کوئی علم ، دنیا کی کوئی تہذیب، دنیا کا کوئی مذہب اس فطری انسانی تضادات کی خلیج کو پر کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔ جب خدائی تلقین فتح پاتی ہے تو تہذیبیں جنم لیتی ہیں ۔ انسانی تاریخ کثافتوں کو دھو دیتی ہے ۔ لیکن جب شیطان کا رد تلقین پر غالب آنا شروع ہوجائے تو پھر کوئی بخت نصر، کوئی ہلاکو کوئی نادر شاہ کسی بھوت کے بھیس میں نازل ہوجاتے ہیں۔
انسانی شرست میں نیکی کا جو شائبہ موجود ہے وہ انسانی تضادات کے بہیمانہ طاقتوں کے سامنے جب بے بس ہوجاتا ہے تو عدل اور انصاف کے دروازوں پر قفل ڈال دیئے جاتے ہیں ۔ ضمیر روشنی دیکھنا بھول جاتے ہیں۔ سینوں کے اندر دھڑکتے دل سخت گیر ہوجاتے ہیں ۔تو پھر ہر نئے سورج کے نکلنے کے ساتھ المیوں کی بھی ایک داستان لکھ دی جاتی ہے۔شادی کے ڈیڑھ سال بعد فاطمہ کا خاوند لاہور میں ہونے والے دھماکے میں مارا گیا تو اس دن مجھے احساس ہوا تھا ایک مرنے والے کے ساتھ کتنے رشتے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کی جوان بیوہ اور دو ماہ کے بچے کو تو میڈیا کی آنکھ سے سب دیکھ رہے تھے لیکن فاطمہ کی دل کی مریضہ ماں جو چارپائی سے جا لگی تھی اور اس کا بوڑا باپ جس کی کمر وقت سے پہلے دھری ہوگئی تھی۔ اس کے بہن بھائی جن کے آنسو خشک نہیں ہو رہے تھے ۔ ہلاک ہونے والا کا اپنا بھی خاندان تھا۔ اس کے ماں باپ اس کے بہن بھائی اسکے چچا ، چچا زاد بہن بھائی، اس کا تایا اور ان کی اولاد، پھوپھیاں ۔۔رشتوں کی ایک طویل قطار ہوتی ہے جو ہر شخص کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔ جب سے فاطمہ کا دکھ دیکھا ہے تب سے کسی کی ہلاکت کی خبر سنتا ہوں تو نگاہوں کے سامنے درد میں ڈوبے رشتوں کے انبار دکھائی دینے لگتے ہیں۔کتنی آسانی سے نیوز کاسٹر شہ سرخیوں میں تیرہ افراد کی ہلاکت کی خبر سنا کر انٹرٹینمنٹ نیوز کی طرف بڑھ جاتی ہے۔یہ تیرہ افراد نہیں ہوتے ، تیرہ خاندان ہوتے ہیں جو اجڑ جاتے ہیں۔اور میں پھر بھی جان نہیں سکا کہ استقامت کی روشنی کیونکر لغزش کی تاریکی میں کھو جاتی ہے
انسان میں نیکی اور محبت کی تلقین عام ہے لیکن عملی طور پر انسانی رویہ مختلف ہے۔اور نصیحت اور عمل کا یہی تضاد ہمہ گیر مذہبی سچائی کو بھی مشکوک بنا دیتی ہے۔جب مذہب مشکوک ٹھہرا تو تو پھر ذاتی آدرشوں کو زندگی کا عرفان ٹھہرایا جانے لگتا ہے۔ اخلاقیات اور اقدار کے معیار بدلنے لگتے ہیں ۔وراثت میں ملی نیکیوں کا رنگ بدل جاتا ہے۔تو پھر فرقے جنم لیتے ہیں۔ ہر فرقہ زندگی کو اپنے وجدان، اپنے عرفان سے پڑکھتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شائد علم سے انسان کے اندر کا درندہ مر جاتا ہے ۔ لیکن نہیں وہ زیادہ مہلک ہورھا ہے۔لوگ کہتے ہیں ہمارا شعور بدل گیا
 ہے۔ ہمارا شعور ،ہمارا ادراک زمین کے سطح سے اٹھ کر آسمان پر کمانیں ڈال رھا ہے ۔ لیکن وہ جو طاقت کا طلسم تھا وہ تو اب بھی موجود ہے۔وہ جو خدا بننے کی آرزو تھی وہ تو اب بھی موجود ہے۔تمکنت شاہی جن اصولوں کو وضع کر دیں ان پر کٹ مرنے کیلئے شاہ کے جنبش ابرو کے اشارے کے منتظر لوگ اب بھی موجود ہیں۔
لوگ کہتے ہیں ہم تہذیب کے سفر میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔لیکن وہ اجڈ اور وحشی دور اچھے تھے کہ اجتماعی قتل کے قائل تھے تاکہ کوئی آنسو بہانے والا نہ رہے ۔۔۔جن المیوں کی تاریخ فرعون نے مرتب کی۔ جن جبر کے دنوں کو بخت نصر نے مرتب کیا، جن نوحوں کو چنگیز خان اور ہلاکو خان نے لکھنے پر مجبور کیا ، جن سانحوں کو تیمور لنگ اور نادر شاہ نے جنم دیا ان میں کیا فرق تھا جو المیے دوسری جنگ عظیم ، کوریا، ویتنام ، کولمبیا، لاطینی امریکہ اور مشرق وسطی میں لکھے گئے ہیں۔کیونکہ یہ تاریخ تو بیسویں صدی کی با شعور نسل نے لکھی ہے۔
ہم شائد جبر کو قبول اس لئے کرتے ہیں کیونکہ ہم میں جبر کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اور  مجبوراً آنکھیں بند کرکے ان پرفریب لوگوں کے ظلم کو سہہ کر ان کی اطاعت پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔اوریہی جبر کا ساتھ  ہمارا اصل المیہ ہے اور جب تک یہ المیہ موجود ہے ۔انسانیت کا لہو بکھرتا رہے گا۔ اور ہم شہید اور ہلاک کے درمیان حساب کتاب میں لگے رہیں گے۔تاریخ اپنے اوراق سیاہ کرتی رہے گی۔
کیونکہ یہ مسئلہ نہ مذہبی ہے، نہ سیاسی۔ یہ مسئلہ ہماری اجتمائی بے حسی اور خاموشی کا ہے۔ آفاقی عرفان کی بجائے ذاتی آدرشوں کی پیروی کا ہے
میم سین

میرے تجربات


ایک خاتون کہنے لگیں بچہ مٹی  بہت کھاتا ہے کوئی دوائی دیں۔،میں نےکافی سمجھایا کہ مٹی کھانا بچے کی عادت ہوتی ہے۔ ماں باپ کی ذمہ داری ہوتی ہے،بچے پر نظر رکھیں، بروقت روکیں تاکہ مٹی کھانے کی عادت پختہ نہ ہوجائےلیکن خاتون کا پھر بھی اصرار جاری رھا تو تو میں نے مثال دیکہ بچے کیلئے مٹی کھانے سے روکنے کیلئے دوائی کا مطالبہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے کل کو آپ کہیں کہ بچہ ننہیال والوں سے کم پیار کرتا ہے کوئی دوائی دیں ؟جواب میں  خاتون بولیںجی ضرور، اسکی بھی دوائی ساتھ میں دے دیں اور میں  نےجلدی سے پیٹ کی کیڑوں کی دوائی لکھ دی کہ کہیں خاتون یہ فرمائش بھی نہ کر بیٹھیں کہبچہ ابلا ہوا انڈہ شوق سے کھاتا ہے ، دوائی دیں کہ یہ فرائی انڈہ بھی شوق سے کھایا کرے،سکول میں یہ اپنے بھائی کی مس سے شوق سے پڑھتا ہے، کوئی دوائی دیں کہ یہ اپنی مس سے بھی اتنے ہی شوق سے پڑھا کرے،انگلش میں تو ٹھیک ہے کوئی دوائی دے دیں کہ حساب میں دلچسپی لینے لگے۔باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن ٹی وی بہت دیکھتا ہے کوئی دوائی دیں کہ ٹی وی کم دیکھا کرےمیم سین

میرے تجربات


ایک خاتون پچھلے چند ماہ سے  معدے کی دوائی لینے میرے پاس آرہی ہے
دو دن  دوائی استعمال کرتی  ہے اور اس کے بعد دوائی کا استعمال چھوڑ دیتی ہے۔
جب بھی آتی ہے اتنا سر کھاتی ہے کہ خدا کی پناہآج میں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ لگاتار دوائی استعمال کریں ورنہ صرف مجھے چیک اپ کروانے سے افاقہ نہیں ہوگا ۔
اورسمجھاتے ہوئے کہااگر  چیک اپ کروانے سے آرام آنا ہو تو پھر روزانہ مجھے سے چیک  اپ کروا لیا کرو۔  خاتون نے بڑی توجہ سے میری بات سنی اور بولی، تو کتنے بجے آیا کروں؟

کیا ماں کا دودھ بچے کیلئے ناکافی ہوسکتا ہے؟


کیا ماں کا دودھ بچے کیلئے ناکافی ہوسکتا ہے؟

ایک ایسی شکائیت جوآجکل بہت زیادہ سننے میں آتی ہے۔وہ یہ کہماں کا دودھ بچے کیلئے ناکافی ہے ۔بچہ ماں کا دودھ پی کر بھی روتا رہتا ہے۔بچہ ماں کا دودھ نہیں پیتا۔ماں کا دودھ خراب ہے۔کیا واقعی ایسی کوئی بات ہے؟ماں کا دودھ پورا نہ ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کچھ ٹیکنیکل مسائل کو چھوڑ کر جوکہ بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تروہ غلطیاں ہوتی ہیں جو مائیں ابتدائی دنوں سے کرنا شروع کر دیتی ہیں۔پہلے یہ بات کلیئر کر لیں:ماں کے دودھ کی غذائیت اور مقدار ہمیشہ بچے کی عمر اور ضرورت کے مطابق ہوتی ہے۔اور اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ ماں کا دودھ کم ہے اور بچے کیلئے ناکافی ہے۔ورنہ جتنا دودھ بچہ پیئے گا اتنا دودھ پیدا ہوگا۔ اگر ایک بچہ ماں کا دودھ پی رھا ہے ، ایک اور بچے کو بھی ساتھ پلانا شروع کردیا جائے تو قدرت کی طرف سے جسم میں ایسی صلاحیت ہوتی ہے کہ دودھ اتنا بڑھ جائے گا کہ دوسرا بچہ بھی پیٹ بڑھ کر دودھ پینا شروع کردے گا۔۔ماں کے دودھ کے ساتھ فیڈر کا ستعمال ماں کا دودھ کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہمارے ہاں ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ ماں کا دودھ تیسرے دن اترے گا۔ اور ابتدائی دودھ جو کچھ گہرا زردی مائل پانی کی صورت میں ہوتا ہے۔جسے کلوسٹرم کہا جاتا ہے، غذائیت اور توانائی سے بھرپور ہوتا ہے ۔بلکہ اس دودھ کو بچے کا پہلا حفاظتی ٹیکہ بھی کہا جاتا ہے۔پلانے سے گریز کیا جاتا ہے۔۔ اور پہلے تین دن فیڈر پر رکھا جاتا ہے۔بچے کے ابتدائی دس سے بارہ دن خوارک کی بہت زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔بلکہ کچھ وجوہات کی بنا پر پہلے ہفتے بچے کا وزن لگ بھگ دس فیصد کم ہوجاتا ہے۔ جو کہ دوسرے ہفتے کے اختتام تک دوبارہ بحال ہوجاتا ہے لیکن بہت زیادہ متفکر مائیں بچے کی پیدائش کے بعداس کمزوری کو دودھ کی کمی سمجھ کر فیڈر کا استعمال شروع کروادیتی ہیں۔ماں کا دودھ شروع کرنے کے ابتدائی دنوں میں بچہ بار بار پخانہ کر سکتا ہے لیکن ماں کے دودھ میں خرابی قرار دے کر یا تو دودھ روک دیا جاتا ہے یا پھر فیڈر کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔


جب بچے کو فیڈر کا استعمال شروع کیا جاتاہے تو ماں کا دودھ کم پینے کی وجہ سے دودھ خود بخود کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اوردوسرا ماں کا دودھ نکالنے میں بچے کو کافی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ فیڈر کا دود ھ باآسانی حاصل ہوجاتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ رو کر اور ماں کا دودھ نہ پینے کی ضد کرکے فیڈر کے دودھ کی مقداربڑھاتا جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اگر آپ باڑے جا کر دودھ لانے کے عادی ہوں۔ لیکن کوئی گوالا وہی دودھ آپ کے دروازے تک پہنچانا شروع کردے تو کس کا دل کرے گا کہ روز باڑے جا کر دودھ لانے کی تکلیف اٹھائے۔اور یوں فیڈر کے استعمال کے بعد بچہ ماں کا دودھ کم پیتاہے تو دودھ بھی خودبخود کم ہونا شروع ہوجاتا ہےتو کیا کرنا چاہیئے؟۔۔۔بچے کی پیدائش کے بعد بچے کے منہ میں پہلی خواراک ماں کا دودھ ہی ہونا چاہیئے۔ حتی کے آپریشن سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی جونہی ماں سنبھلے، بچے کو اپنا دودھ پلانا شروع کردے۔۔۔۔بچے کو دودھ پلاتے وقت مناسب وقت دیں۔ پیٹ بڑھ کر دودھ پینے کیلئے بچہ پندرہ منٹ سے پونا گھنٹہ تک وقت لے سکتا ہے۔۔۔۔بچے کے زیادہ رونے یا تنگ کرنے پر فیڈر کا استعمال شروع نہ کروایا جائے بلکہ اپنے قریبی بچوں کے ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کریں۔۔۔۔ بچے کو ہمیشہ دودھ اس وقت پلانا چاہیئے جب وہ بھوکا ہو اور صحت میں ٹھیک ہے تو اسے اچھی طرح رو لینے دیا جائے۔ تاکہ جب بھی دودھ پیئے تو اتنا دودھ پی لے کہ بار بار دودھ نہ مانگے ۔۔۔بچے کو صحت مند بنانے کیلئے غیر ضروری ٹوٹکوں سے بچائیں ۔روایتی غیر تصدیق شدہ نسخے بچے کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں
میم سین 

Pages