مستنصر حسین (فوٹوگرافر کی ڈائری)

ظلم اور تجاوزات


یار کیا مصیبت ہے،،،، کس طرح کے عجیب لوگ ہیں یہ،،،، جب دیکھو گھر کے آگے گاڑی کھڑی کردیتے ہیں،، یہ کوئی چارجڈ پارکنگ ہے؟
لگتا ہے کہ انسانیت تو ختم ہی ہو گئی لوگوں میں، اشتیاق صاحب نے اپنے گھر کے آگے کھڑی ہوئی گاڑی دیکھ کر بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
ارے تمھاری سمجھ نہیں آتی،، میں نے منع کیا تھا کل بھی،،، یہ کوئی کیبن لگانے کی جگہ ہے، اشتیاق صاحب  سلطان کو اپنے گھر کے کونے پر فنگر چپس کا خوانچہ لگاتے ہوئے دیکھ کر غراتے ہوئے کہا۔ 
صاحب ایک کونے میں ہی رہونگا،، آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی،، آپ مہربانی کریں گے تو میں اپنے بچوں کی روزی کما لوں گا،،،، سلطان منت سماجت کرتے ہوئے بولا۔
عجیب آدمی ہو،،، ایک سیدھی بات سمجھ نہیں اتی،،، یہ جگہ میری ملکیت ہے اور قانونی کے مطابق اس جگہ تم قبضہ نہیں کر سکتے،،، بچوں کی روزی کمانے کے اور بھی جائز ذرائع ہیں،، کسی کی جگہ قبضہ تو نہ کرو نا،،، حلال روزی کھلائو اولاد کو،،،، اشتیاق صاحب نے سلطان کو لیکچر دیتے ہوئے جواب دیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے مئیر کراچی اور متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کراچی شہر سے تجاوزات کا خاتمہ کر کے فوری طور پر اس کی خوبصورتی کو بحال کیا جائے۔
کراچی ایمپریس مارکیٹ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع پہلے مرحلے میں ایمپریس مارکیٹ گرد قائم ایک ہزار سے زائد ناجائز دکانوں کو مسمار کیا جائے گا،،، ٹی وی پر نیوز اینکر خبریں پڑھ رہی تھی۔
یہ کیا بکواس ہے،،، شرم آنی چاہیے اس حکومت کو،،، غریب کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا انہوں نے،،، کتنے لوگوں کا روزگار وابستہ تھا ان دکانوں سے،،،، ارے ان غریبوں کو تو جینے دو ظالموں،،، اشتیاق صاحب نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا۔
ہمارے معاشرے میں سلطان اور اشتیاق جیسے ہزاروں کردار موجود ہیں، سلطان جیسے لوگ اپنے بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم تو دلاتے ہیں مگر ان کے اخلاقی تربیت نہیں کرتے، وہ اپنے بچوں کو مذکورہ حدیث،"رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں"
پڑھاتے تو ہیں لیکن اس پر عمل کرنا نہیں سکھاتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں کئی سلطان پیدا ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ رشوت دے دے کر شہر موجود کئی جگہوں پر قبضہ کر لیتے ہیں، اور نتیجتاً شہر میں تجاوزات کے باعث ٹریفک جام اور رش جیسے مسائل جنم لیتے ہیں جو مشکلات بڑھانے کے ساتھ ساتھ شہر کی خوبصورتی کو بھی گہنا کر رکھ دیتے ہیں،،،، اور جب ان تمام لوگوں یا تجاوزات کے خلاف کوئی آپریشن کیا جاتا ہے تو مذکورہ بالا حضرات کرہ ارض کی مظلوم ترین مخلوق بن کر سامنے آتے ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کا رونا روتے ہیں۔دوسری جانب اشتیاق جیسے لوگ بھی ہیں جنہیں اپنے گھر کے آگے چند گھنٹوں کے لئے پارک ہونے والی گاڑی بھی برداشت نہیں ہوتی،،،، لیکن شہر کی خوبصورتی اور روانی کو متاثر کرنے والی تجاوزات کے خلاف ہونے والے ایکشن پر ان میں غم و غصّے کی لہر دوڑ جاتی ہے اور غریبوں کے لئے ہمدردی کا سیلاب ان کے دل میں امڈ آتا ہے۔
میرے نزدیک اگر ہم اور آپ اس معاشرے کو سدھارنا اور ملک و شہر کو مہذب و خوبصورت بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں پر توجہ دینے اور انہیں بہتر بنانے کی ضرورت پڑے گی۔

<div dir="ltr" style="text-align: left;

ہمارا معاشرہ اور ہماری تہذیبیہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب کراچی سب کا تھا، نا کوئی سندھی نا مہاجر، پٹھان، پنجابی  غرض کہ سب پاکستانی ہوا کرتے تھے اس شہر کراچی نے سب کو اپنی پناہ میں لیا ہوا تھا اس بات سے قطع نظر کے کسی کی قومیت کیا ہے، اور وہ مثال کہ 
شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیتے تھے عروس البلاد کراچی پر پوری اترتی
میری جنم بھومی بھی یہی شہر ہے اور میں بچپن سے اس کے عشق میں گرفتار ہوں، دنیا کہ کسی کونے میں بھی چلا جائوں کراچی یاد آتا ہے، اور اس شہر کو سب سے خاص جو بات بناتی تھی وہ اس شہر کے لوگ تھے جن کی تمیز اور تہذیب یہاں کی ثقافت مانی جاتی تھی بس میں سفر کرنے والے جانتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ کراچی کی بسوں میں کوئی بھی بزرگ شہری کھڑا رہ کر سفر نہ کرپاتا اور جو نوجوان بسوں میں سوار ہوتے کسی بھی بزرگ شہری کی آمد پر اپنی نشست سے  کھڑے ہوجاتے اور انہیں پیش کردیتے، یہی نہیں بلکہ اسی شہر میں اساتذہ کرام کی اتنی عزت کی جاتی کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں سے نکل کر جو طلباء عملی زندگیوں میں کامیابی سے قدم رکھ دیتے وہ اسکے بعد بھی تاحیات اپنے اساتذہ کرام سے نہ صرف رابطے میں رہتے بلکہ زندگی بھر ان کے احسانات کا دم بھرتے رہتے، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے والدین نے میری تربیت کس محنت اور جانفشانی سے کی گو کہ میں ایک ادنا سا انسان ہوں لیکن مجھے میری تمیز اور تہذیب محفلوں میں ممتاز     بناتی ہےہے 


میرے والدین نے بچپن لڑکپن سے لیکر جوانی تک تقریبا میری تمام سرگرمیوں پر نظر رکھی اور میں اس دور کا کوئی انوکھا لاڈلا نہیں تھا اس وقت کے تمام لوگ تھے ہی بڑے رکھ رکھائو والے جو اپنی اولاد کی تعلیم اور تربیت پر خاص توجہ دیتے اور اس ضمن میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر والدین جو کہ ناخواندہ ہوتے اس کے باوجود وہ اپنی اولاد کی تربیت ایسے ہی کیا کرتے، میرے نزدیک درسی تعلیم آپکو عملی زندگی میں کھڑے ہونے کے قابل تو بنادیتی ہے لیکن تمیز،  تہذیب اور شعور انسان اپنے والدین سے ہی سیکھتا ہے اور ماں ہی اس پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔



ہم اپنے بچوں کو اکثر و بیشتر کسی بھی ایسی جگہ لے جانے سے گریز کرتے ہیں جہاں کا ماحول ان کے ننھے ذہنوں کے لئے سازگار نہ ہو جہاں ایسے بچے موجود ہوں جن کے لئے گالی گلوچ کرنا عام بات ہو اور اخلاقیات سے گری ہوئی باتیں کرنے میں انہیں کسی قسم کی شرم محسوس نہ ہو، کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں پر پابندیاں عائد کردیتے ہیں کہ بیٹا فلاں کزن کے ساتھ نہ کھیلانا وہ بدتمیز ہے گالیاں بکتا ہے، والدین کی بات نہیں مانتا۔
موجودہ دور ترقی کے اعتبار سے پچھلے ادوار سے بہت زیادہ جدید ہے علمی میدان میں بھی خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور عملی زندگی میں بھی، تمام والدین کی یہی خواہشات ہیں کہ ہمارے بچے اعلی تعلیم یافتہ بن جائیں اور اس تمام تر صورتحال میں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لئے ایک ایسے اسکول کا انتخاب کریں جو شہر کا سب سے  بہترین اسکول ہو اور اس مد میں ہر انسان اپنی اسطاعت کے مطابق پیسہ خرچ کرتا ہے۔
لیکن ان تمام والدین کو یہ جان لینا چاہیئے کہ صرف اچھا اسکول اور پیسہ آپ کے بچوں کہ وہ سب کچھ نہیں دے سکتا جس کی آپ تمنا رکھتے ہیں، اسکی جیتی جاگتی مثال ہمارے معاشرے میں عام طور پر موجود ہے۔
اس حوالے سے آپ اپنے مشاہدے کی آنکھ کو وسیع کرکے با آسانی دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ جوکہ انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ان کا رویہ اپنے شاگردوں سے کیسا ہے اس ضمن میں کئی ویڈیوز روزانہ آپکی نظروں سے گزرتی ہونگی،
 ملک میں قانون سازی کرنے والے سیاستدانوں کے اخلاق، تمیز اور تہذیب تو آپ روزمرہ میں ٹیلی ویژن  اسکرینوں پر دیکھ ہی لیتے ہونگے اس حوالے سے حکام بالا سے عرض ہے کہ برائے مہربانی ان تمام پروگراموں پر جن میں سیاستدان شرکت کرتے ہوں کو شروع کرنے سے پہلے ایک پٹی چلادیا کریں کہ بچے نہ دیکھیں اس سے ان کی اخلاقیات پر فرق پڑ سکتا ہے۔


 اور ہمارے کئی علماء کرام بھی کسی حد تک اپنے آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، کبھی کبھی کوئی اشتعال انگیز بات بھی کرجاتے ہیں، باوجود اس کہ وہ جانتے ہیں کہ اس قسم کی گفتگوں سے ہمارے مریدین اور ہمارے پیچھے چلنے والوں پر کیا اثر پڑے گا۔ 

اور اس کے بعد عوام الناس  جس میں کم وبیش جتنے بھی خواتین و حضرات سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان کی اکژیت اعلی تعلیم یافتہ ہے اور باقی افراد بھی پڑھے لکھے ہیں لیکن بد تیمزی اور بد تہذیبی کی جو مثال آپ کو اس جگہ ملے گی وہ اور کہیں نہیں ،،، معذرت کیساتھ کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے ایک دوسرے سے باتیں کرنے والے بلکل ایسے باتیں کرتے ہیں جیسے وہ سوشل میڈیا کے کسی فورم پر نہیں بازار حسن کی کسی گلی میں ایک دوسرے پر آوازیں کس رہے ہوں،  کبھی کوئی کافر بن جاتا ہے کوئی کسی کی ماں پر سوال اٹھاتا ہے، کوئی کسی کی بہن کو بازار حسن میں بیٹھاتا ہے غرض کہ اس قسم کے کلمات ادا ہوتے ہیں جس کے بارے میں میری کچھ بھی لکھنے کی ہمت نہیں آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔
میری آپ تمام دوستوں سے گذارش ہے کہ اسطرح کی گفتگوں سے اجتناب کریں، اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کریں اور جہاں بھی اس قسم کی باتیں آپ کے سامنے آئیں ان پر گفتگوں کرنے سے گریز کریں، اپنے بچوں کے مستقبل کو تباہ مت کریں، اپنے بچوں کی تربیت بہتر انداز میں کریں اور ان کے سامنے اس قسم کی گفتگوں سے اجتناب کریں ان کی اخلاقی اقدار مضبوط کریں اور ان کو اور اپنے آپ کو مندرجہ بالا قسم کے لوگوں کی پہنچ سے دور رکھیں



نیا پاکستان اور بوجھ اٹھانے والے قلی

 نیا پاکستان اور بوجھ اٹھانے والے قلی


 صاحب سامان اٹھالوں ؟؟ کہاں جائیں گے آپ؟
کراچی کینٹ اسٹیشن میں داخل ہوتے ہی آپکی نظر سبز رنگ کی وردیوں میں ملبوس قلیوں پر پڑتی ہے جوکہ اسٹیشن میں داخل ہونے والے ہر مسافر کو مخاطب کرتے ہوئے لگ بھگ اسی طرح کے جملے استعمال کرتے ہیں،


 جون جولائی کی تپتی دوپہر ہو یا دسمبر جنوری کی سرد راتیں ان قلیوں کی زندگی میں موسم کوئی معنی نہیں رکھتا معنی رکھتی ہے تو صرف ان کی دیہاڑی, یہ قلی اسٹیشن میں داخل ہونے والے مسافروں کو اپنے تجربے سے شناخت کرتے ہوئے روزی کی آس میں ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں



تیس سالہ امان بھی روزی کمانے کی تلاش میں کراچی آیا اور کینٹ اسٹیشن کا ہی ہو کر رہ گیا، امان کا کہنا تھا کہ جہاں انسان کا دانہ پانی لکھا ہوتا ہے انسان اسی جگہ جا کر رزق کماتا ہے، دیہاڑی کی مد میں ملنے والی رقم نا کافی ہے گھر کچھ بھی نہیں بھیج پاتے اور اس پر مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے، امان نے بتایا کہ وہ کراجی جیسے شہر میں کرائے کا گھر نہیں لے سکتا ہاں رات گزارنے کے لئے کبھی اسٹیشن کی بینچیں اور کبھی منجی والے ہوٹل کی چارپائی ہی پر اکتفا کرتا ہے

کراچی کینٹ اسٹیشن پر کام کرنے والے اکثر قلیوں کی حالت ایسی ہی ہے اور اس مہنگائی کے دور میں مسافر یہی سوچتے ہیں کہ بجائے قلی کو سو یا ڈیڑھ سو روپے دینے اگر اس مہنگائی میں وہ خود ہی سامان اٹھا لیں تو کچھ پیسوں کی بچت ہو جائے گی، اور مسافروں کی یہ سوچ قلیوں کی دیہاڑی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے
پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے دور میں ریلوے سمیت دیگر ادارے سست یا تیز سہی بہرحال ترقی کی جانب گامزن ہیں لیکن ماضی سے لیکر اب تک اگر قلیوں کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی آئی ہے تو وہ صرف ان کی وردی جو کہ سرخ سے سبز رنگ کی ہوگئی ہے

اگر نئے پاکستان میں جہاں محترم وفاقی وزیر ریلوے جناب شیخ رشید لاہور سے کاشغر فریٹ ٹرین چلانے سمیت کئی منصوبوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں ان قلیوں کی بہتری پر بھی توجہ دیں لیں تو پاکستان ریلوے کے اس نظام میں نہ صرف بہتر آئے گی بلکہ جناب شیخ صاحب کو دعائیں بھی ملیں گی۔

صدر مملکت پاکستان اور نا شکری عوام

صدر مملکت پاکستان  اور نا شکری عوام 
سال 2018 ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال کےحوالے سے تبدیلی کا سال تھا، اس سال ملک کی تیسری بڑی جماعت 
نے تمام پرانی جماعتوں کو انتخابات کے اندر پچھاڑ کر مملکت خداد کے ایوان بالا تک رسائی حاصل کرلی، تاہم یہ حالیہ 
انتخابات کے نتائج کودیگر سیاسی جماعتوں اور ان کے ووٹرز نے درست ماننے سے انکار کردیا لیکن قطع نظر اسکے 
پاکستان تحریک انصاف حکومتی جماعت کی حیثیت سے ملک میں موجود ہے،حکومت میں آنے کے بعد سے لیکر اب تک پاکستان تحریک انصاف کے کئی وزراء اور اعلی عہدیداران اپنے کئی فیصلوں 
اور بیانات کے باعث شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں اور یہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہے، لیکن حکومتی جماعت کے سربراہ

اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے گذشتہ دنوں انتہائی شاندار فیصلوں اور بیانات سے عوام کی ایک بڑی تعداد کے 
دل موہ لئے، اسی طرح پاکستان تحریک انصاف میں کئی ایسے لوگ شامل ہیں جنہیں اگر انکے فیصلوں سے اور بیانات سے 
پرے رکھ کر دیکھا جائے تو وہ بحثیت انسان بے حد شاندار طبیعت کے مالک ہیں اور انہی شخصیات میں سے ایک شخصیت 
صدر مملکت پاکستان محترم جناب ڈاکٹر عارف علوی کی بھی ہے، ڈاکٹر عارف علوی انتہائی سادہ طبیعت کے مالک اور 
پڑھے لکھے مہذب انسان ہیں، پیشے کے لحاظ سے دانتوں کے ڈاکٹر ہیں اور ملنسار، خوش باش اور عاجز انسان ہیں، اور 
انکی حس مزاح بھی کمال ہے،
 گذشتہ کئی دنوں سے جناب ڈاکٹر عارف علوی کراچی شہر کے دورے پر ہیں اور ادارے کی جانب سے مجھے انکی کوریج پر معمور کیا گیا ہے، انکے صدر مملکت پاکستان کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد میرا انکی کوریج کا سب سے پہلا جو اتفاق ہوا وہ کراچی کینٹ اسٹیشن پر ہوا جہاں صدر مملکت کراچی سے دھابیجی ٹرین سروس کا افتتاح کرنے کے لئے مدعو تھے ماضی کی حکومتوں کو دیکھتے ہوئے میں حیران تھا کہ صدر مملکت پاکستان جس پروگرام میں شرکت کرنے والے ہیں وہاں نجی میڈیا کا کیا کام ان کو اجازت کیسے مل گئی ایسا کیسے اور کیوںکر ممکن ہوا، بہرحال ایک روزہ مرہ کے سیکیورٹی چیک کے بعد اس اسٹیشن پر جانے کی اجازت ملی جہاں مذکورہ پروگرام منقعد ہوا تھا،
پنڈال میں داخل ہونے کے بعد اندازہ ہو کہ انتہائی سادہ سی تقریب تھی اور جس طرح کا انتظام تھا شک گزرا کہ صدر مملکت 
شاید ہی یہاں تشریف لائیں، اور میں اپنی تیاری کرنے میں لگ گیا لیکن کچھ دیر بعد دیکھا تو واقعی جناب عارف علوی وہاں 
تشریف لا چکے تھے، مذکورہ بالا پروگرام کی کوریج کرنے کے بعد مجھے اندازہ ہو کہ یہاں تو معاملات میری سوچ کے 
برعکس ہیں، دوران کوریج مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کوِئی عام سا پروگرام ہیں اور گمان ہونے لگتا کہ میں ان 
کے صدر مملکت بننے سے پہلے کے کسی پروگرام کی کوریج کر رہا ہوں،
اس پروگرام کے دوران جب ڈاکٹر صاحب تقریر کرنے آئے تو انکی حس مزاح کا اندازہ ہوا پنڈال میں بیٹھے تقریبا تمام لوگ 
ان کی گفتگو سے محظوظ ہورہے تھے، انہوں نے دوران تقریر اپنے ماضی کے وہ انتہائی معمولی قصے بھی سامعین کو 
سنائے جنہیں شاید اکثر لوگ اپنے اسٹیٹس کو مد نظر رکھتے ہوئے سنانے سے گریز کرتے ہیں،
صدر مملکت کے اعزاز میں ایک اور تقریب جو کہ کراچی یونیورسٹی میں رکھی گئی تھی جب اس میں صدر پاکستان پہنچے 
اور انہوں نے اپنی تقریر شروع کی اسے دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ جناب صدر ایک قابل انسان ہیں دوران تقریر وہ 
دیگر صدور کی طرح اپنی ڈائس پر موجود پرچہ (جو کہ نہیں تھا) کو دیکھ کر تقریر کرنے کے بجائے سامعین کی آنکھوں 
میں آنکھیں ڈالے بات کرتے رہے تھے، اور باتوں باتوں میں انہوں نے انتہائی ہلکے اور پرمزاح انداز میں ٹیلی ویژن کے 
مارننگ شوز میں کام کرنے والے جادوگروں کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے کہا اور کہ مارننگ شوز میں بالوں کا تیل 
بیچنے والے اور والیاں دعوا کرتے ہیں کہ اگر ان کے تیارکردہ تیل کو ہتھیلی پر لگائے تو اس پر بھی بال اگ جاتے ہیں اور 
یہ بات کہتے ہو صدر صاحب  بھی ہنسی پر قابو نا رکھ سکے اور سامعین سے ساتھ ہنس پڑے، اس قسم کے دو تین اور واقعات بھی ہیں تاہم صدر پاکستان ایک بے حد زبردست شخصیت ہیں جن سے ملاقات کے دوران آپ 
کو یہ احساس بھی نہ ہوگا کہ آپ پاکستان کی اعلی ترین شخصیت سے بات کر رہے ہیں،
ایرانی صدر احمدی نجاد کی سڑک پر نماز پڑھتے ہوئے تصاویر، کینیڈا کے وزیر اعظم کی عوام سے گھلنے ملنے کی تصاویر،
،امریکی الیکشن میں صدارتی امیدواروں کے ناچتے ہوئے ویڈیو کلپ اکثر و بیشتر لوگوں کی طرف سےسوشل میڈیا پر شئیر 
ہوتے ہیں اور سراہے جاتے ہیں اور ان کی عوام سے ملنساری کی مثالیں دی جاتیں ہیں، لیکن جب آپ کے اپنے ملک کا صدر 
آپ سے اسی طرح گھلنے ملنے کی کوشش کرے اور اس کے چٹکلے آپ کو ہنسادیں تو اکثر لوگوں کو اس پر اعتراض ہوتا 
ہے، مجھے کافی سارے پڑھے لکھے لوگوں کی اس حوالے سے کافی بحث ہوتے نظر آئی زیادہ تر کا کہنا تھا کہ 
صدر مملکت کو اپنے پروٹوکول کا خیال رکھنا چاہئیے اور اس قسم کی باتوں سے گریز کرنا چاہیئے،
جبکہ میری نظر میں صدر پاکستان کو بالکل ایسا ہی ہونا چاہیئے بلکہ اس بھی زیادہ نرم اور خوش مزاج ہونا چاہیئے تا کہ 
لوگ اپنے صدر کے قریب جاتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں،

لیکن مشکل یہ ہے کہ اگر صدرممنون حسین جیسے ہوں تو بھی لوگوں کو مسائل ہیں کہ یہ تو شوپیس ہیں، کچھ بولتے ہی 
نہیں بلکہ یہ تو نظر ہی نہیں آتے اور اگر صدر ڈاکٹر عارف علوی جیسے خوش مزاج ہوں تو بھی اعتراض، میرے نزدیک 
نتیجہ یہ ہے کہ ہماری عوام کی اکثریت نا شکری ہوگئی ہے۔           

مفت تعلیم اور میرے بچوں کا مستقبل

مفت تعلیم اور میرے بچوں کا مستقبل


ارے بیگم تمہیں کیا معلوم سرکاری اسکول سرکاری ہی ہوتا ہے قابل اساتذہ قابل لوگ اور بہترین نظام تعلیم آخر میں نے میرے بھائیوں نے اور میرے باپ نے بھی سرکاری اسکول سے ہی تو تعلیم حاصل کی ہے تم شاید جانتی نہیں انہی سرکاری اسکولوں سے اعلی افسران ججز انجینئرز ڈاکٹرز اور نہ جانے کون کون پڑھ کے نکلا ہے
بہرحال میں تو اپنے بچے کو سرکاری سکول میں تعلیم  دلاؤں گا، میں اپنی بیگم سے مخاطب تھا۔
آپ جانتے نہیں ہیں آج کل سرکاری اسکولوں کی کیا حالت ہوگئی ہے، ایک سنہرا دور تھا جب آپ نے اور آپ کے باپ اور بھائیوں نے وہاں تعلیم حاصل کی لیکن اب اب ان سرکاری اسکولوں کا کوئی پرسان حال نہیںٹیچرز،،،،،، ٹیچرز بھی ایسے کے اللہ کی پناہ، نا ہی وہ پڑھنا جانتے ہیں اور نہ ہی پڑھانا، پڑھنا اور پڑھانا تو دور کی بات ان ہیں تو بات تک کرنا نہیں آتیکیا کچھ پیسوں کے خاطر اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگانا بہتر ہوگا، بیگم نے ایک لمبی تمہید باندھی۔
نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے پرائیویٹ اسکولوں کی حالت دیکھی ہے،،  تین تین ہزار روپے کی تنخواہ پر اساتذہ کو رکھا ہوا ہے اب سوچو تین ہزار روپے تنخواہ پانے والا استاد کیسا پڑھاتا ہوگا، یہ فقط میٹرک پاس لڑکیوں کو ہی ٹیچر بھرتی کر لیتے ہیں اور ہمارے بچوں کے مستقبل سے کھیلتے ہیں، میں نے لقمہ دیتے ہوئے کہا۔
اور رہی بات بڑے اسکول گروپس کی تو بھئی ہماری اتنی حیثیت نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو ان بڑے اسکولوں میں پڑھا سکیں، اب پورے مہینے کی تنخواہ ایک بچے کی سکول فیس میں تو نہیں دے سکتے نا،،،پکائیں گے کیا،،،،، کھائیں گے کیا 
بیگم تم دیکھ لینا جب ہمارا بچہ بڑا ہوگا تو ہم اس کو سرکاری اسکول میں ہی داخلہ دلائیں گے، اور دنیا دیکھے گی تم دیکھنا کہ ہمارا بچہ اس سرکاری اسکول سے کتنا قابل بن کے نکلے گا، بیگم کو لیکچر دینے کے بعد میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔،،،،،،،،،،سنیں بچے کی عمر چار سال ہو گئی ہے اسکول میں ایڈمیشن کب کروائیں گے
،کروا دیں گے کروا دیں گے ذرا دم تو لو
بھائی بچے کا ایڈمیشن کرانا ہے کہاں جانا پڑے گا، میں اسکول میں موجود ایک شخص سے مخاطب تھا،
وہ بولا ،،آپ وہاں چلے جائیں سامنے پرنسپل کا کمرہ ہے، 
بھائی یہ کلاسسز میں اتنا شور کیوں ہے کیا ٹیچرز کلاس میں نہیں ہے، میں نے پوچھا،،
ارے بھائی صاحب ٹیچرز آتے ہی کہاں ہیں،،، سرکاری نوکری ہے آئے تو آئے نہیں تو گول،،، اس کمال بے نیازی سے جواب دیا،،،
تو پھر بچوں کو کون پڑھاتا ہے،، میں پھر اس سے مخاطب ہوا،،،
ارے بھائی صاحب غریب کے بچے ہیں خود ہی پڑھ لکھ جاتے ہیں اللہ ان کا وارث ہے، کبھی کبھی تو بیچاروں کے پاس کتابیں تک نہیں ہوتی،، اور جو کتابیں سرکاری کوٹے پر ایشوا ہوتی ہیں بازاروں میں بک جاتی ہیں،اور یہ بیچارے بچے بغیر کتابوں کی ہی رہ جاتے ہیں، ٹیچرز کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر ہے، ابھی کل ہی کی بات ہے میں ٹی وی دیکھ رہا تھا،،،، کیا دیکھتا ہوں کہ کراچی پریس کلب کے باہر اساتذہ کا احتجاج جاری ہے، اس احتجاج کے دوران ایک ٹی وی کا رپورٹر کچھ اساتذہ کا انٹرویو لیتے ہوئے ان کی قابلیت جاننے کی کوشش کر رہا تھا، جانتے
ہیں میں نے کیا دیکھا؟؟ اس نے پوچھا
کیا دیکھا بھائی؟ میں نے تجسس لیتے ہوئے پوچھا


میں نے دیکھا کہ جو اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جنہیں پرائمری اور ٹیچر کی اسپیلنگ تک نہیں آتی اور تو اور انہیں بات کرنے کا بھی ڈھنگ نہیں،
اس کی باتیں سن کر میں نے اپنا سر پکڑ لیا

 بیگم نے طعنہ دیا،،،،، میں نہ کہتی تھی کہ سرکاری اسکولوں کی حالت ابتر ہے، کیا اب بھی آپ اپنے فیصلے قائم ہیں؟؟؟؟
کیا اب بھی آپ اپنے بچے کو ایسے ماحول میں بڑھانا چاہیں گے،،، بیگم کے سوالات سنکر میں سوچ میں گم ہوگیااور میری آنکھوں میں صوبائی وزیر تعلیم کی وہ ویڈیو
کلپ گھوم گئی جو کہ اب سے کچھ دن پہلے ٹیلی وژن پر نشر اور سوشل میڈیا پر بڑی گردش میں تھی، جس میں محترم صوبائی وزیر تعلیم صاحب نے اپنے گھر کی بچیوں کو ایک سرکاری اسکول میں داخلہ دلایا تھا 
لیکن اس اسکول کو دیکھ کر کہیں سے بھی یہ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کوئی سرکاری اسکول ہے
اس کے بعد میں نے اپنے طور پر شہر کے کچھ سرکاری اسکولوں کا دورہ کیا اور ان پہ اپنی ادارے کے لیے کچھ رپورٹس بنائیںاس دوران میں نے دیکھا کہ کچھ اسکولوں کی حالت انتہائی بوسیدہ ہے اور بچے خوف کے سائے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کئی اسکولوں کی چھتیں ایسی ہیں کہ اب گری اور تب گری، جگہ جگہ سے پلاستر  جھڑ چکا ہے، کئی ایک اسکول تو نشے کے عادی افراد کی آماجگاہ بن چکے ہیں جبکہ کچھ اسکولوں میں بیٹھنے کے لیے نشستیں ہی نہیں ہیں اور بچے دریاں بچھائے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں،،،، کہیں پینے کا پانی نہیں تو کہیں بجلی اور بیت الخلا کی سہولیات بھی میسر نہیں
سرکاری سکولوں کے اس قدر سنگین حالات دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے بچوں کو اب تعلیم سرکاری اسکول میں نہیں دلاؤں گا
اب مشکل یہ تھی کہ پرائیویٹ اسکولز میں بھی تین اقسام کے اسکول ہیں
پہلی قسم کی اسکولز جن کی فیسیں 800 سے 1500 کے درمیان ہیں، جہاں پر ٹیچرز کی تنخواہ دو سے تین ہزار کے درمیان ہے، اور انکی تعلیم کا معیار میٹرک اور انٹر تک ہے،،،،دوسری قسم کے اسکولز جنکی فیسز 3300  روپے سے لیکر 5000 روپے کے درمیان ہیں, جہاں پر ٹیچرز کی تنخواہ آٹھ ہزار سے بیس ہزار کے درمیان ہے اور ان کی تعلیمی قابلیت گریجویشن سے ماسٹرز کے درمیان ہے،،،،تیسری قسم کے اسکولز جنکی فیسز 8000 سے لیکر  30000 کے درمیان ہیں، جہاں پر ٹیچرز کی تنخواہ 20000  سے 50000 کے درمیان ہیں اور یہاں کے اساتذہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں
پہلی قسم کے اسکول میں، میں اپنے بچے کو پڑھانا نہیں چاہتا تھا
اور تیسری قسم کے اسکول میں اپنے بچے کو پڑھانے کی میری حیثیت نہیں تھی
لہذا میں نے ایک درمیانے درجے کے اسکول کا انتخاب کیا اور اپنے بچے کو داخلہ دلادیا،  بچے کو اسکول میں داخل کرانے کے بعد مجھے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہونا شروع ہوا 
کسی سیانے سے سنا تھا کہ تعلیم انسان کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے، اور یہ بھی سنا تھا کہ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے، لیکن یہ بنیادی حق میں نے اس مملکت خداد میں اپنے بچے کے لیے خاصے مہنگے داموں خریدا ہےکیونکہ جس طرح سے مفت میں تعلیم کا حق سرکار ہمیں دے رہی ہے وہ میں ہرگز ہرگز اپنے بچے کے لئے لینا نہیں چاہتا ایک متوسط فیملی سے تعلق رکھنے اور ایک بہتر تنخواہ پانے کے باوجود بھی میں جس مشکل حالات میں اپنے بچے کو پڑھا رہا ہوں یہ میں ہی جانتا ہوں
آج جب میں کسی مفکر یا دانشور کی گفتگو سنتا ہوں، اور نام نہاد، خودساختہ تجزیہ نگاروں کی تعلیم کے حوالے یہ بات سنتا ہوں کہ پاکستان میں شرح تعلیم انتہائی کم ہے، تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے،،،،،اب بھلا مجھے کوئی یہ بتائے کہ اس قسم کے حالات میں کوئی اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں تعلیم کیسے دلائیگا، یا تو وہ انسان بہت ہی غریب اور مجبور ہوگا جو اپنے بچوں کو اس طرح کے اسکول میں تعلیم دلانے کے لئے بھیجے گا یا پھر بے وقوف
میری تمام حکام وزیراعلی، وزیراعظم سے اپیل ہے کہ خدارا نظام تعلیم پر توجہ دی جائے تاکہ ہم جیسے متوسط گھرانے کے لوگوں کے لیے بھی اپنے بچوں کو پڑھانا آسان ہو اور غریب کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم مفت میں دستیاب ہوں
 کاش ایک بار پھر انہی سرکاری اسکول میں معیاری اساتذہ ہمارے بچوں کو تعلیم دیں اور ایک بار پھر انھی سرکاری اسکولوں سے افسران ڈاکٹرز انجینئرز جوق در جوق نکلیں۔

پاکستانی میڈیا انڈسٹری کا بحران

پاکستانی میڈیا انڈسٹری بحرانمملکت خداد کے چوتھے ستون یعنی صحافت کے حالات آج کل تھوڑے پتلے چل رہے ہیں، اور صحافتی حلقوں میں اس حوالے سے شدید قسم کی تشویش پائی جارہی ہے جس کا اظہار اس صنعت اور پیشہ سے وابستہ افراد اب کثرت کے ساتھ محتاط انداز میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کرتے نظر آرہے ہیں، چونکہ اس تشویش کا برملا اظہار کرنا نوکری پیشہ افراد کے لئے مشکل ضرور ہے لیکن ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے اب اس پر باقاعدہ احتجاج شروع کردیا ہےمبینہ طور پر ہحران کا شکارنیوز ٹیلی ویژن  مالکان کے مطابق سرکاری اشتہارات نہ ملنے یا ان میں کمی کے باعث اور دیگر وجوہات کی بناء پر اخراجات بڑھ گئے ہیں اور آمدن سمٹ گئی ہے، جس کی وجہ انہیں افرادی قوت کو کم کرنا پڑ رہا ہے اور وہ  اس بحران سے نکلنے کو کوشش کررہے ہیں تاہم ایک صحافتی حلقے کے مطابق اس طرح حالات جان بوجھ کر پیدا کئے جارہے ہیں تاکہ نوکری پر موجود صحافیوں کی مراعات کو کم کرکے، مراعات بڑھانے کے مطالبے کو کم کیا جاسکے، اور حالیہ دنوں میں صحافی جبری رخصت ورنہ مراعات میں کمی کے جیسے مسائل سے دوچار ہیںتاہم  یہ حقیقت ہے کہ گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ نیوز ٹیلی ویژن کی مقبولیت  کمی واقع ہوتی جارہی ہے لیکن اس میں سرکاری سطح پر اشتہارات کی بندش اور دیگر اسباب کے علاوہ جو سب سے اہم عوامل ہیں وہ وقت کی کمی چینل کی نیوز پالیسی اور اخراجات کی ذیادتی ہےایک ٹیلی ویژن چینل کو اپنا مواد دکھانے  کی مد میں کافی پیسہ خرچا کرنا پڑتا ہے اور اس مواد کو براڈ کاسٹ کرنے کے لئے بڑی تعداد میں افرادی قوت کی بھی ضرورت پڑتی ہے اور تب کہیں جاکر یہ مواد عوام تک پہنچتا ہےماضی کے ذرائع ابلاغ کے شعبہ اخبارات بھی خاصے مقبول تھے، لیکن جیسے ہی سرکاری ٹی وی کے بعد نجی ٹیلی ویژن چینلز کو نشریات شروع کرنے کے لئے لائسنس ملے تو آہستہ آہستہ اخبارات کی مقبولیت میں بھی کمی آنا شروع ہوئی اور بیشتر ورکر جو کہ اخبارات کی صنعت سے وابستہ تھے ایک ایک کر کے بے روزگار ہوگئے، اس کی وجہ بھی وقت کی کمی اور نیا میڈیم ٹہرا کیونکہ اخبار لے کر ایک کونے میں بیٹھنا اور اس کا مطالعہ کرنے میں خاصہ وقت صرف ہوتا تھا جبکہ اس کے برعکس چلتے چلتے ٹی وی کے سامنے رکے اور پانچ منٹ کی شہہ سرخیاں دیکھی اور دنیا کے حالات سے با خبر ہوگئےاس تمام تر صورتحال کے باوجود ان میں سے کئی جہاندیدہ لوگ جنہوں نے معاملے کی سنگینی کو محسوس کیا، انہوں نے کوشش کر کے اپنے آپ کو سیکھنے کے مرحلے سے گزارا اور اس قابل بن گئے کہ وہ نئے میڈیم یعنی ٹیلی ویژن کے ساتھ چل  سکیں۔ اور وہ تمام افراد جو کہ اپنے آپ کو جدید خطوط پر استوار نہ کر سکے اس تبدیلی کہ نتیجے میں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے، اور اب ذرائع ابلاغ کے شعبے نے انتہائی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اپنے آپ کو سکیڑ کر ایک فقط پانچ یا چھہ انچ کی مشین یعنی سیلولر فون میں مقید کر لیا ہے، جوکہ حالات سے باخبر رہنے کا انتہائی سستا، سہل اور آسان طریقہ ہے اور اس نئے میڈیم نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گرویدہ بنالیا ہے اور آہستہ آہستہ اس صنعت میں اپنے پاؤں مظبوطی کے ساتھ جما لئے ہیں، اور اب اس  ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا کہ نیوز ٹیلی ویژن کی انڈسٹری میں جو صحافی اپنی بقاء چاہتے ہیں انہیں اس نئے سسٹم کے مطابق اپنی تربیت کرنی پڑے گی، اور خود اپنی بقاء کی جنگ لڑنی پڑے گی۔



صاحب بہادر اور ٹریفک جام

صاحب بہادر اور ٹریفک جامدفتر سے نکل کر ٹریفک جام سے نبردآزما ہوتے ہوئے بائیک پر گھر کی جانب رواں دواں تھا کہ اچانک ٹائوں ٹائوں کی آواز نے سوچوں کا سلسلہ منقطع کردیا، پلٹ کر دیکھا تو ایک لمبی اور بڑی گاڑی جس کے آگے اور پیچھے پولیس کی موبائیل میں موجود پولیس اہلکار لوگوں کو بھیٹر بکریوں کی طرح ہانک رہے تھے،کراچی میں رہنے اور سفر کرنے والوں کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں اس قسم کے مناظر اکثر اوقات کراچی شہر کی مصروف شاہراہوں پر دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں، پولیس موبائیل میں موجود اہلکار لوگوں کو انتہائی حقارت اور تحقیر آمیز لہجے میں راستہ بنانے کے لئے ہانک رہے تھے، ماضی میں یہ تمام تر صورتحال بہت ہی پریشانی اور بلڈ پریشر میں اضافے کا باعث بنتی تھی مگراب میں اکثر و بیشتر اس تمام تر اس تمام صورتحال سے لطف لیتا ہوا سفر کرتا ہوں، اب ان اہلکاروں کو کون سمجھا سکتا ہے کہ بھئی ہم ان کے لئے نہیں، بلکہ وہ اور انکے" صاحب بہادر" ہمارے لئے  خطرے کا باعث ہیں، کسی بھی عام شہری کو فائرنگ کرکے قتل کرنے سے کسی کو کیا ملے گا، ٹارگٹ کلرز کا نشانہ تو زیادہ تر پولیس اہلکار اور افسرانِ بالا اور بیورو کریٹس ہیں ہوا کرتے ہیں عام عوام تو فقط ہونے والی فائرنگ کی زد میں آجاتے ہیں، اور پھر انہیں یہ کیوں سمجھ نہیں آتی کے یہ جن لوگوں کو ہانک رہے یہ انہی کے تو خدمت گار، نوکر ہیں اگر عوام اپنا خون پسینہ ایک کرکے حکومت کوٹیکس نام کا بھتہ نہ دیں تو انہیں تنخواہیں کون اور کس پیسےسے دیگا، اور اگر اس عام عوام کو ختم کردیا جائے تو یہ کس پرحکمرانی کریں گے۔پولیس کے اہلکار جو گارڈ کے فرائض سرانجام دیکر اس بڑی گاڑی کو ٹریفک جام سے نکالنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے بڑی بے بسی سے مجھ سمیت ان تمام بائیک والے حضرات کو ٹریفک جام سے نکلتا دیکھ رہے تھے اور میں مسکراتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ لینڈکروزر میں جو بھی موجود ہوگا ایک لمحے کے لئے یہ ضرور سوچ رہا ہوگا کہ میری چند ہزار روپے کی بائیک اس کی لاکھوں کی گاڑی سے کئی گنا بہتر ہے وہ جتنی بھی کوشش کرلے اس ٹریفک جام میں پھنسنا اس کا مقدر ہے اس ٹریفک جام سے نکلنے کے لئے یا تو اسے مملکت خداداد کا صدر، وزیراعظم، وزیرداخلہ، فوج کا اعلی عہدیدار بننا پڑے گا کہ وہ تمام تر ٹریفک روک کر سفرکرے یا پھرایک موٹرسائیکل خرید کر اس ٹریفک جام کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرے لیکن دوسرا طریقہ "صاحب بہادر" کی عزت میں کمی لانے کا سبب بن سکتا ہے  وی آئی پی موومنٹ کرنے والے ان تمام افسران کو چاہیئے کہ سرکار کو کہہ کر یا تو اپنے سفر کرنے کہ لئے ایک علیحدہ سڑک بنوالیں یا پھر اپنے لئے فضائی سفر کا انتظام کریں تا کہ عوام ان پر ہونے والی کسی بھی تخریب کاری کی زد میں آنے سے محفوظ رہیں۔

فوٹو جرنلزم اور فوٹو گرافرز

فوٹو جرنلزم اور فوٹوگرافرز
پاکستان بلخصوص کراچی میں کام کرنے والے فوٹوجرنلسٹ اور کیمرامین  بڑے بہادر اور انتہائی محنتی ہیں ، اور لگن سے کام کرتے ہیں ، لیکن جب میں نے فوٹوجرنلزم کی فیلڈ میں قدم رکھا اور اسے اپنا مستقل پروفیشن بنایا تو ابتداء سے لے کر کئی سال تک مجھے فوٹوگرافی کے بنیادی اصول تک معلوم نہ تھے، عرصہ دراز گزر جانے کے بعد کچھ اچھے اور اپنے شبعے کے بہترین لوگوں سے رابطہ ہوا اور یوں فوٹوگرافی باقاعدہ سیکھنے کی ابتداء ہوئی، کئی عرصے تک میں یہی سمجھتا رہا کہ شاید ایک میں ہی ہوں جسے فوٹو گرافی کی بنیادی باتیں معلوم نہیں لیکن یہ تاثر انتہائی غلط نکلا جب مجھے پتا چلا کہ میری طرح زیادہ تر لوگ فوٹو گرافی سے نابلد تھے لیکن اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں یہ ذمہ داری سرکار پر بھی عائد ہوتی ہے کہ اس شعبے سے متعلق سستی اور معیاری تربیت فراہم کی جائے اور اس کے ذمہ دار اس شعبے سے وابستہ سنیئر حضرات بھی ہیں جنہیں اس متعلق کوئی نہ کوئی قدم تو ضرور آٹھانا چاہیئے تھا، اس وقت کراچی میں صرف ایک سے دو آرٹ اسکول اس شعبے کی تربیت فراہم کررہے تھے جو کہ خاصی مہنگی تھی، تاہم صورتحال اب قدرے بہتر ہے ، بنیادی طور پر فوٹو جرنلزم میں اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو آنے کی ضرورت ہے لیکن کراچی کی صورتحال اس کے برخلاف ہے جسے کچھ نہیں آتا اسے مشورہ دیا جاتا ہے کہ تم فوٹو جرنلسٹ کیوں نہیں بن جاتےایک دور میں فوٹو جرنلزم بہت مہذب اور طاقتور شعبہ مانا جاتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں کی قدر میں کمی آرہی ہے جس کے کافی سارے عوامل ہیں براڈکاسٹنگ اور پبلشنگ کے شعبے سے وابستہ ارباب اختیار کے لئے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے  کہ ایک معیاری تصویر اور ایک معیاری وڈیو کلپ کی کتنی اہمیت ہے ، اگر کسی اخبار سے تصاویر اور کسی چینل سے وڈیو کا شعبہ نکال دیا جائے تو آپ بہتر سمجھتے ہونگے کہ اس اخبار اور اس ٹیلی ویژن چینل کا کیاحال ہوگا۔لیکن اس بابت میں یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ٹرینگ یافتہ پروفیشنل اور ایک اناڑی  کے کام میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ ایک سائیکل اور موٹر سائیکل میں، ، بہرحال بات نکلے گی تو دور تلک جائیگی ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اور ارباب اختیار کو اس شبعے ٘میں بہتری اور فلاح کے لئے عملی اقدام کرنے ہونگے۔

<div dir="ltr" style="text-align: left;

میرے بارے میںمیرا نام مستنصر حسین ہے اور میں تقریبا 18سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوں، کراچی شہر سے تعلق ہے اور دوران ملازمت میں نے جن باتوں کا مشاہدہ کیا اور انہیں محسوس کیا شاید ان باتوں کا اظہار میں اپنے اس بلاگ کے علاوہ کسی فورم پر نہ کرسکوں، ہی بلاگ خصوصاِِ ان دوستوں اور عوام الناس کے لئے ہے جو کہ ہمارے پیشے کے متعلق غلط ، تاثر رکھتے ہیں ہمیں برے القابات سے نوازتے ہیں، بہرحال اس بلاگ میں، میں اپنے خوشگوار لمحات اور باتوں کو بھی آپ دوستوں سے شیئر کرونگا جن سے آپ ضرور ٘محضوظ ہونگے