افتخار راجہ (ہم اور ہماری دنیا)

میٹابولک سینڈروم اور رمضان المبارک

میٹابولک سینڈروم  اور رمضان المبارک Metabolic syndrome تحریر  ڈاکٹر راجہ افتخار خان، ہومیوپیتھ ، کنسلٹنٹ ھیرنگ لیبارٹریز اٹلی۔ رمضان المبارک میں چونکہ سب سے اہم کام جو ہوتا ہے اور ہوتا دکھائی بھی دیتا ہے وہ ہے کھانے پینے اور خواہشات کو قابو میں کرنا۔ اسی مد میں میٹابولک سینڈروم کو بھی قابو کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ہی ہمارا آج کا موضوع ہے۔ میٹابولک سینڈروم کیا ہے؟؟ یہ کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کے اندر ہونے والی میٹابولک تبدیلیوں  کو معمول سے ہٹا کر پیدا کردہ ترتیب دیتے ہوئے جسم کی خود کی پیدا کردہ صورتحال ہے جو تکلیف دہ اور بعد میں زندگی کےلئے بھی خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ وضاحت کے طور پر یوں کہا جاسکتا ہے کہ  اگر کسی شخص کا وزن اچانک بڑھ جائے ، بلخصوص پیٹ پر چربی کا جمع ہوجانا اور گردن موٹی ہوجانا، اور  بلڈپریشر ، شوگر ، کولیسٹرول،  کا درجہ معمول سے زیادہ ہوجائے تو وہ شخص میٹا بولک سینڈروم میں انتہائی درجہ پر  مبتلا ہے۔ اگر ان چاروں فیکٹرز میں سے تین بھی موجود ہوں تو اسکو میٹابولک سینڈروم ہی کہا جاوے گا۔ اگر دو ہوں مثلا، وزن کا بڑھ جانا اور شوگر ،  یا کولیسٹرول اور بلڈپریشر کا زیادہ ہونا تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میٹابولک سینڈروم کے رستہ پر چل پڑا ہے۔ اگر صرف وزن زیادہ ہوگیا  ہو تو اسکو میٹابولک سینڈروم کے راستہ کی طرف جانا کہا جائے گا۔ یعنی یہ بھی الارمنگ ہے۔ بلخصوص اس صورت میں  کہ اگر والدین یا موروثیت میں کسی کو اس  صورت حال کا سامنا رہا ہو تو۔ چونکہ یہ بیماری نہیں ہے بلکہ جسم کی خود سے ہی پیدا کردہ صورت حال ہے تو اسکو دوا دے کر ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی طریقہ علاج میں اسکا شافی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔اب یہ ایلوپیتھی ہو، ہومیوپیتھی، طب یونانی ، اسپاجیریرک میڈیسن یا پھر اکوپنکچر یا سرجری۔ کسی طور پر اسکا فوری اور مکمل علاج ممکن نہیں۔
میٹابولک سینڈروم کیوں ہوتا ہے؟؟ اسکی وجوہات نامعلوم ہیں  جو وراثتی بھی ہوسکتی ہیں۔لیکن اسکےلئے ایک بڑا فیکٹر خوراک میں غیرضروری طور پر چینی کا اضافہ ہے۔ یہ چینی جسم میں فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ وہ افراد جو محنت مشقت کا کام کررہے ہوتے ہیں یا پروفیشنل کھلاڑی وہ تو اس کو استعمال کرلیتے ہیں،  اسکے کے برعکس دفتری کام کاج کرنے والے، یا سہل و آسان زندگی گزارنے والے افرادکےلئے یہ فالتو چینی اور فوری توانائی کسی کام کی نہیں ہوتی بلکہ اسکو ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہماری خوراک میں ھائی گلیسیمک انڈیکس  (high glycemic index food)کا اچانک اور بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں، چینی، سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرینکس، بیکر ی اور مٹھائیاں، روٹی چاول ، پاستہ ، بریڈ اور گندم کے آٹے سے بنی ہوئی دیگر اشیاء، سبزیوں میں آلو، مٹر، پھلوں میں، انگور، تربوز، کیلا، آم  وغیرہ ہیں۔  یہ وہ خوراکیں ہیں جنکے کھانے کے پندرہ سے تیس منٹ کے بعد آپ کے خون میں گلوکوز کی مقدار سے بڑھ جاتی ہے۔ اسکے علاوہ خوراک کی مقدار کا بہت زیادہ ہونا اور بار بار کھانا  بھی اس عمل میں معاون ثابت ہوتاہے۔ ہوتا یوں ہے کہ جب جسم کے اندر گلوکوز کی بڑی مقدار پہنچتی ہے اور فوری طور پر توانائی دستیاب ہونے کی وجہ سے ہم چست و چالاک ہوجاتے ہیں۔ اب اس چستی کو فوری طور استعمال کرلیا جائے، جسمانی مشقت یا فیزیکل ایکٹیویٹیز کے ذریعے تو ٹھیک ہوگیا، ورنہ اس گلوکوز کو فوری طور پر  ٹھکانے لگانے کےلئے جسم انسولین کو پیدا کرتا ہے جس اس شوگر چربی کی صورت دیتا ہے، پھر کولیسٹرول کو خارج کیا جاتا ہے تا کہ اس گھومتی ہوئی چربی (فیٹ) کو کسی مناسب جگہ تک پہنچا کر ٹھکانے  لگائے (ڈیپازٹ کرنا)۔ گویا اس ایک چینی یا گلوکوز کی زیادتی کی وجہ سے انسولین، چربی اور کولیسٹرول بیک وقت جسم میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اس سے خون کا  حجم بڑھ جاتا ہے اور بلند فشار خون( ہائی بلڈپریشر ) کا باعث بنتا ہے۔ ممکنہ خطرات میٹابولک سینڈرم کی موجودگی   صحت کےلے ذیل کے خطرات کا باعث بن  سکتی ہے، ہارٹ اٹیکس(myocardial infraction)،    ذیابیطس ٹائپ 2، انسولین کے خلاف قوت مدافعت کا پیدا ہوجانا، شاک (cerobrovescolar disease)۔  جلد موت کا واقع ہوجانا۔
مسئلہ سمجھ میں آگیا ہے، تو اسکا حل بھی سمجھ آگیا ہوگا؟ جی بلکل، چینی اور ھائی گلیسیمک انڈیکس والی خوراک کا بہت ہی کم استعمال۔ اگر آپ کو شوگر نہیں ہے تو کھانے میں سے، چینی۔ چائے کافی میں، شربت میں۔ جوسز، سافٹ ڈرنکس کولے وغیرہ  کو منع کریں بیکری کا سامان اور مٹھائیاں منع کریں روٹی، بریڈ، چاول  یا گندم کی دیگر اشیاء  سے دور رہیں۔ پھلوں میں سےتربوز،  کیلا، آم اور انگور سے پرہیز کریں سبزیوں میں، آلو اور مٹر سے دور رہا جاوے۔ تیل اور بناسپتی گھی کی مقدار بہت ہی کم کردیں۔ اپنے کھانے کی مقدار کم کردیں۔ اب آپ کے دماغ میں آرہا ہوگا کہ کھایا کیا جاوے۔ تو جناب  باقی کا سب کچھ ہے۔   آپ کے پاس گوشت، مچھلی مرغی، انڈے پنیر، دہی دودھ سب ہے۔ اسکے علاوہ  پھلوں میں خربوزہ۔ انار، انجیر، چیری، اسٹرابری، خشک میوے، آڑو، سیب خوب کھائیں۔ دالیں کھائیں، سبزیاں کھائیں۔ سبز پتے والی اور زمین پر اگنے والی سبزیاں اور زیرزمین اگنے والی سبزیاں۔ رمضان الکریم برکتوں کا مہینہ ہے اس میں  ویسے ہی رک جانے کا حکم ہے تو آپ اوپر دی گئی چیزوں سے رک کر اپنی خراب ہوتی ہوئی صحت بحال کرسکتے ہیں۔
سحری کا پروگرام ایک پیالہ  دلیہ، کارن فلیکس  نٹس  اور دودھ۔   چائے کی پیالی، پانی کے دو گلاس یا پھر فروٹ ، چائے پانی کے دو گلاس یا پھرآملیٹ، چائے، پانی کے دوگلاس یا کچھ اور جو آپ کو پسند ہو دہی وغیرہ افطار  کا پروگرام دوعدد کھجوریں، اس سے زیادہ نہیں۔ پانی کا گلاس اور مغرب کی نماز اسکے بعد، چار پکوڑے یا دو سموسے یا ایک پلیٹ چنا چاٹ، یا پھر گوشت یا دال  یا سبزیوں کا سوپ ، کھانا ایک نشت میں نہ کھائیں اور جب بھوک ختم ہوجائے تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔  اپنے کھانے بدلی کرتے رہیں۔ مصالہ جات نہ چھوڑیں، چسکا برقرار رہنا چاہئے۔ اس ضمن  میں مدد کےلئے اپنے ہومیوپیتھ سے آپ ایناکارڈیم، فیوکس، اینٹی مونیم کروڈ، نامی ادویات  ڈسکس کرسکتے ہیں۔ یاد رہے سینڈروم کو قابو کیا جاتا ہے اسکو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان حالات کو ختم کرنا ہوتا ہے جو اس سینڈروم کا باعث بنتے ہیں۔ خوراک  کا کم استعمال، خوراک کا محتاط استعمال، جسمانی وزش۔  اگر ضروری ہوتو کچھ ادویات بھی معالج کے مشورے سے استعمال کرسکتے ہیں۔
اگر آپ کسی بات کی وضاحت درکار ہے تو کمنٹ میں لکھ دیجئے، جواب دینے کی بھرپور کوشش کی جائے گی




وائر ھیپاٹائیٹس ، ایک ایمرجنسی

دو دھائیاں قبل جہلم میں  فیملی فزیشنز ایسوس ایشن کا ایک جلسہ ہوا تھا۔ آپ سیمینار کہہ لو، اس کے مہمان خصوصی  ڈی سی صاحب تھے، اس میں جلسہ میں میرا مقالہ تھا  ہمیں ایڈز کی بجائے ھیپاٹائیٹس پر توجہ دینی چاہئے۔ ان دنوں میں ایڈز کا بول بالا تھا، مغرب میں  ایڈز کے کافی کیسز سامنے آچکے تھے اور اس کا علاج دریا فت نہ ہونے کی وجہ سے اسے ایک ہولناک عفریت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ ہسپتالوں و دیگر این جی اوز کو اس  کی اگاہی اور روک تھام کےلئے متحرک کردیا گیا تھا۔
اس وقت وطن عزیز میں ایڈز کے پازیٹیو مریضوں کی تعداد  280 تھی، وہ بھی باہر سے آنے والے لوگ تھے۔ اب ایڈز کے پھیلنے کے دو طریقے ہوتے ہیں، جنسی تعلقات  اور انتقال خون کے ذریعے۔ دوئم الذکر کو تو قابو کرنا آسان ہے بس خون  کو چیک کرلیں۔ جبکہ اولذکر مغرب کےلئے تو ایک المیہ ہے مگر  وطن عزیز  میں اسلامی تہذیب کی وجہ سے  شادی سے باہر جنسی تعلقات بہت کم ہوتے ہیں، اس میں  بڑی رکاوٹیں، گناہ کا تصور، مشترکہ خاندانی نظام اور ایک دوسرے کی خبرگیری رکھنے والا معاشرہ ہے، جس میں ایک دوسرے کا سارے خیال رکھتے ہیں۔ اور اسکے نتیجہ میں بہت سے دماغ فتور سے بھرے ہونے کے باوجود قابو میں رہتے ہیں۔ نتیجہ ایڈز جیسے مرض سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ ہارے ملک میں میرے خیال سے  جو خطرہ تھا وہ تھا وائرل ھیپاٹئیٹس۔  میں چونکہ اس وقت سال سوئم کو پیتھالوجی  یعنی علم الامراض پڑھاتا تھا تو اس وجہ سے پڑھنا بھی پڑتا تھا۔  تب  ایک دھائی قبل یہ بات سامنے آئی کہ ہمارے ہاں وائرل ھیپاٹائیٹس   بہت عام ہے۔ اس وقت 1997 میں یہ عالم تھا کہ ھیپاٹائیٹس بی 10 ٖفیصد لوگ پازیٹیو آرہے تھے اور سی ٹائپ 3 فیصد پازیٹیو آرہے تھےجبکہ اے ٹائپ ہر تیسرے بندے کو تھا۔ خیر اس ٹائپ A  سے وقتی طور پر کچھ زیادہ خطرہ  نہیں ہوتا۔ بہرحال ایک بیماری ہے۔ بندے کو تندرست نہیں کہا جاسکتا۔  یہ سب اس طرح یاد آیا کہ   پرسوں رات کو ڈنر پر میں  ڈاکٹر  میکیلے فائیزنزا،  جو اینفکیشنز اور وائیرولوجی کے اسپیشلسٹ ہیں۔ ڈاکٹر بینانتی نوچو، ڈائیریکٹر ھیرنگ لیبارٹری اور ڈاکٹر ماریہ سالوینی جو ڈائیٹولوجسٹ ہیں کے ساتھ تھا۔ باتیں چلتے چلتے  وائرس کی دریافت، اسی کی دھائی میں ایڈز کا پادوا  میں پہلا کیس جو ڈاکٹر میکیلے نے تشخیص کیا تھا۔ پھر ھیپاٹئیٹس  اے  اور بی کا حوالہ آیا۔ اور ڈاکٹر میکیلے بتا رہا تھا کہ تب ایک قسم ہوتی تھی ھیپاٹائیٹس کی  No A, اور No B  ، مطلب یہ کہ وائرس ہوتا تھا پر یہ نہیں پتا چلتا تھا کہ کونسا ہے ، نہ اے ہوتا نہ بی ، بعد میں اسکا نام سی رکھ دیا گیا۔ کہتے لگے پادوا  کے یونورسٹی ھسپتال میں 80 کی دھائی میں 200 بستر تھے اور بھرے ہوتے تھے۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ شہر کے ارد گرد نالیوں کا پانی سبزیوں کو لگایا جاتا تھا۔ اس سے پاخانہ کے فضلہ میں موجود ھیپاٹائیٹس بی کا وائرس ایک وبا کی طرح پھیل رہا تھا۔ ہم نے اس مسئلہ کو سمجھا اور پھر ضلعی کونسل نے اس مسئلہ کو حل کیا، بس پھر کیا تھا ھیپاٹائیٹس بی کا پھیلاو ختم ہوگیا۔ میں ساتھ ساتھ سوچ رہا تھا کہ ہمارے ہاں تو یہ کچھ اب بھی ہورہا ہے، باوجود اس کے کہ ھیپاٹائیٹس بہت عام ہے پر پھر بھی گندے پانی والی سبزیوں کی کوئی روک تھام نہیں ہے۔ وائر ھیپاٹائیٹس بی ، خون ، جنسی روابط، ماں سے بچے کو اور پاخانہ ، لعاب دھن و پسینہ سے بھی پھیل سکتا ہے۔  یہ جان لیوا مرض  ہے جس سے جگر تباہ ہوجاتا ہے۔ اسکا علاج بہت ہی مشکل ہے وجہ اسکی بروقت تشخیص نہ ہونا ہے اور پھر علاج مہنگا بھی ہے۔  اگر حکومت اور انتظامیہ نہیں تو جہ دیتی تو بندے خود تو احتیاط کرسکتے ہیں۔ جہا ں تک ممکن ہے سبزیاں گھروں کی اگائی جائیں ، صاف پانی سے۔ ورنہ دیکھ بھال کر خریدی جاویں۔ 

پانچواں درویش ، راوی اور تماشہ

تو صاحبو ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ راوی بیان کرتا ہے ہے پانچواں درویش راوی چلتا چلتا چلتا، اور پھر چلتا چلتا ایک اور راوی کے پاس پہنچ گیا، وہ راوی تب کافی عرصے سے خاموش ہوچکا تھا، شاید فالج زدہ۔ اسکے اندر کسی قسم کی کوئی حرکت نہ ہورہی تھی، ہر طرف خشکی اور ویرانی۔ راوی کے اس پار جاےکے لئے درویش کشتی کے انتظار میں بیٹھ رہا۔ کہ دریا ہے، بھلے سوکھا ہوا ہی سہی پر پھر بھی دریا کا احترام کرنا چاہئے۔ جیسے ہرجادو کا تماشا دکھانے والے کا احترام کیا جاتا ہے اور اسکو پروفیسر کہا جاتا ہے۔ کچھ تماشہ گر جو بہت ہی بڑے ہوجاتے ہیں انکی پہنچ دنیا کے دوسرے کونے تک ہوجاتی ہے۔ اور پھر وہ  پلک جھبپکتے ہی سال میں دو چار بار لاہور آتا ہے    اور تماشہ دکھاتا ہے، یہ اب اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اپنے نام کے ساتھ علامہ  پروفیسر ڈاکٹر  کا اضافہ کرچکا ہے۔ ایسا جادوگر ہے جو ہرکام خواب میں کرسکتا ہے۔ حتیٰ کہ تعلیم بھی خواب میں حاصل کرسکتا ہے۔ درویش  کا دوپہر کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے  حرارت سے دماغ ٹھکانے آیا  تو سر پر ہاتھ مار کر چلا اٹھا کہ خشک دریا میں بھی بھلا کشتیاں چلا کرتی ہیں،  پس چاروناچار درویش وہا ں سے اٹھا  اور دریا کے بیچو بیچ  خشک ریت کو سر پر ڈالتا اور اپنے آپ کو سخت سست کہتا ہوا آگے چل پڑا۔ راوی کے دوسری طرف اب ہر طرف  لاہور شہر آباد ہے،  پر درویشوں کو شہروں آبادیوں  سے کیا لینا دینا۔ چلتے چلتے  ایک پہر گزرگیا ، تب درویش کو ایک طرف سے شور ، روشنیاں اور بے ھنگم موسیقی سنائی دی۔ سادہ بندہ تھا۔ سمجھا شاید کوئی قبائلی رسم ہورہی ہے چلو دیکھتے ہیں۔ دریش ادھر پہنچا  تو کیا دیکھا ایک بڑے سے میدان میں قناتیں لگئی ہوئی اسٹیچ سجا ہوا , ہر طرف چہل پہل، بہت سے لوگ تماشہ دیکھنے آئے ہوئے تھے، کچھ جا بھی رہے تھے، البتہ تماشہ کرنے والوں کی تعداد بھی بہت تھی ، اسٹیج پر خوب رونق تھی۔  پورا ایک میلہ  لگا  ہوا تھا۔ درویش  میلہ دیکھنے بیٹھ  گیا بلکہ کھڑا ہی رہا۔  باوجود اسکے کہ جگہ بہت خالی تھی۔ بے شمار کرسیاں خالی پری ہوئی تھیں۔  باندر اور ریچھ کے ساتھ ساتھ اپنی دم پکڑنے والا کتا بھی تھا۔ پروفیسر  خود بھی موجود تھا۔ مگر درویش کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ تماشہ کروا  کون رہا ہے؟؟ کس نے اتنا خرچہ کردیا؟؟ اور کیوں؟ مگر کھیل دیکھتا رہا کھیل بہت  اچھا  تھا، درویش کا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا،  اور سوچتا رہا کہ  لوگ تھوڑے ہیں۔  لاہورئے بہوں خراب ہیں، ریچھ دیکھنے ہی چلے جاتے۔ ویسے بھی تو چڑیا گھر جاتے ہی ہو، اس بار تو باہر کھلے ہوئے تھے، تماشہ ہورہا تھا شاید کھانا بھی مل جاتا۔ کرسیاں بھی کافی پڑئی تھیں "تشریف رکھنے" کو۔ بگڑے ہوئے لوگ۔ اپنے پیسے دیے کر ہی نان پائے کھاتے رہے۔ سرکس والے انتظار ہی کرتے رہ گئے۔ بقول عین: یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشہ ختم ہوگا نوٹ۔ یہ ایک غیر سیاہ سی پوسٹ ہے۔ کسی بھی قسم کی مماثلت یقینی ہوگی۔ نیزہم نے جیسا محسوس کیا ویسا ہی لکھ دیا۔ دروغ برگردن دریائے راوی

میرا 2017 کا احوال

میرا یہ سال یوں رہا۔ 
جنوری میں سپاجیریک میڈیسن کے بنیادی کورس کا اغاز کیا۔ جسم میں آکسیجن کی کمی اور اسکے بد اثرات۔ ٹیومز وغیرہ کا پیدا ہونا، بڑھنا اور روکنا۔ 
فرروی میں فنکشنل میڈیسن کا بنیادی کورس شروع کیا، 
فروری میں ہی ایپلائیڈ کینیسولوجی کا کورس بھی شروع کرلیا، 
اب یہ ہوتا کہ جون تک ایک ویک اینڈ بیرگاموں اور ایک ویچنزا میں گزرتا۔ 
فرروی میں نیپلز گئے ھیرنگ لیبارٹریز کے سالانہ کنوینشن کے سلسلہ میں۔ 
مارچ میں ہومیوپیتھی ان ڈینٹیسری کا کورس شروع ہوا اور اس میں مجھے تعلیم دینی تھی۔تب مہینے مین ایک بار بولونیا بھی جانا ہوتا۔ اور ساتھ ہی میٹابولزم سینڈروم فنکشنل میڈیسن کی ایپروچ۔ 
اب ہر ویک اینڈ پر کورسز ہوتے اور دوران ہفتہ کام۔ 
مئی میں فلا ڈیلفیا کا دورہ رہا فارماسیوٹیکل انڈسٹری کی ایکسپو کے سلسلہ میں۔ بہت سے دوستوں سے ملاقات بھی ہوئی اور براعظم امریکہ مٰیں اپنے قدم رنجہ رکھے۔ بلکہ فرمائے۔ 
جون کا مہینہ بھی رمضان اور کورسز میں گزرا۔ 
بیس جولائی سے بھانجہ لوگ ادھر تشریف لائے یہ میرے لئے خوشی اور مسرت کے دن رہے۔ اور دس اگست کو ہم پاکستان عازم ہوئے۔ گھر، گھر والے، اباجی اور دیگر احباب، بس رونق شونق میں عید آگئی اور پھر 
عید کی اپنی رونقیں اور ہنگامے رہے۔ انکل اختر صاحب سے عمدہ کمپنی رہی، اللہ ہمارے بزرگوں کو سلامت رکھے۔ اس بار جو خاص بات رہی وہ اساتذہ کرام پروفیسر منظور ملک اور ڈاکٹر انعام اللہ مرزا صاحبان کی قدم بوسی اور ملاقات تھی۔  
عید کے بعد واپسی اور پھر میٹابولک سینڈروم اور اسپاجیریک میڈیسن کا کورس
ستمبر کے آخیر میں سسلی کا دورہ رہا اور اکتوبر کے آخیر میں ہم فرینکفرٹ میں تھے۔ باقی وہی کورسز اور ہم، تو جنابو، اس برس خوب ہنگامہ رہا، گھومے بھی، تعلیم بھی کی، میٹابولک سینڈروم کو مختلف نقطہ نظر سے سیکھنے کا موقع بھی ملا 
بلکہ کہہ لیجئے کہ ہم اپنے آپ کو اس موضوع کا ماہر سمجھنے لگے ہیں۔
بقلم خود،
یعنی
پین دی سری
بہت کچھ سیکھا اور سکھایا۔ وللہ توانائیاں برابر رہیں۔ 
ابھی سال کا اختتام ہورہا ہے۔ آج ہم گھر پر ہی ہیں اور کل بھی گھر پر ہی رہین گے۔ صفائی ستھرائی کا پروگرام ہے۔ 
باقی نیا سال اللہ کرے گا امن اور سکون کا ہوگا، اللہ مالک ہے وہ اور بھی بہتریاں لائے گا۔

پیرس ، شانزے لیزے اور قطری شہزادے

پیرس   اورلی  اترنے کا فیصلہ  میرا اپنا تھا۔ تین برس قبل پیرس میں ہونے والی فارماسیوٹیکل ایکسپو CPhI میں شرکت کےلئے ہم تینوں کو جانا تھا، باقی کے دونوں  اطالوی کولیگ الایطالیہ ائیرلانز پر چارلس دے گال پر اتر رہے تھے۔ جب کے میرے دماغ میں حسب عادت رائن ائر گھسی ہوئی تھی۔ جسکے ہم عادی ہیں۔ کم قیمت اور وقت کی پابند۔ باوجود کہ  کمپنی نے ادائیگی کرنی تھی ۔  مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ میں نے کیا  کرلیا ہے۔ ادھر چارلس دی گال سے 2 اسٹیشن   پر ایکسپو تھا اور باقیوں کا ہوٹل بھی اگلے دو  اسٹاپ پر، جب کہ مجھے شہر کے  ایک طرف اتر کر دوسری طرف جانا تھا ہوٹل کےلئے جبکہ ایکسپو اسکے بعد دوسری طرف تھا۔ گویا شہر کے تین کونے ماپنے تھے، ا"چھا وائی جو کرے " کہہ کر ٹرین میں سوار ہوگیا  لا فرتینیلے اتر اور ادھر سے  آر ای آر پکڑی گار دے آوستریلیاس کےلئے پھر وہاں سے بوبینی  پابلو پیکاسو پہنچا۔ کوئی  27 کلومیٹر کا سفر تھا۔ گوگل میپ پر  حساب میں لگا چکا تھا۔ ٹکیں ساتھ ساتھ لیتا  گیا  اور بغیر کسی کھیچل کے پہنچ گیا اپنے ہوٹل  جو اسٹیشن کے پاس ہی تھا۔ بس 10 منٹ پیدل اور ٹیکسی کے پانچ منٹ۔ کسی سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہ پڑی، کچھ ویسے بھی ٹریولنگ کا  عادی ہوں۔ کچھ ادھر ہر طرح کی نشاندہی  موجود تھی۔ بس آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ میں نے جانا کہاں پر ہے اور کونسی ٹرانسپورٹ پکڑنی ہے۔ 

پیرس  ایک بڑا اور عالمی شہر ہے، جس میں فرینچ کم اور دوسرے ملکوں سے آنے والے زیادہ ہیں۔ کالے، عربی ، انڈینز، فلپینو، چینی ہر طرح کے لوگ  فرینچ بولتے ہوئے اپنے اپنے چکروں میں رواں دواں تھے۔  بوبینی شاید بنگالیوں کا گڑھ ہے۔ لگ رہا تھا کہ سارے مجھے ہی گھور رہے ہیں۔ شہر پرانا سا تھابڑی بڑی عمارات اور انکے نیچے کی طرف  کی کالی ہوئی پڑی دیواریں۔  ہوٹل کی ریسپشن پر ایک لڑکی تھی بہت منہ لگنی سی ، جو مجھے مراکشی لگی، عادتاُ اس سے پوچھ بیٹھا ، مروکن ہو، جواب ملا اگر ناں ہوں تو؟؟ ہیں ،اب میں  ہڑبڑا گیا۔ ارے نہیں میں نے تو بس پوچھا ہی ہے؟؟ اہو اچھا۔ میں فرینچ ہوں۔ پر میرے بزرگ الجیریا کے تھے۔ دھت تیرے کی۔ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ نہیں میں لاہور کا نہیں بلکہ جالندھر کا ہوں۔ ہلا چلو، سانوں کی۔ ہوٹل میں بیگ  رکھا، کپڑے اور شیو کا سامان رکھا اور نیچے اتر ا اور   فون  پر پھر سے شانزے لیزے ایوینیو  پر آرک دے ٹریومپف کا نقشہ دیکھا، کیمرہ اٹھایا،  ہوٹل سے نکلا اور دو میٹروز پکڑتا ہوا  2 بجے ادھر جاپہنچا ۔ ادھر اس دن گھوڑوں کی ریس کا فارمولہ ون  تھا۔ قطر اسکا آفیشل سپانسر تھا۔ شارہراہ کے دونوں طرف قطر کے جھنڈے  اور ریس کورس کے علم لہرا رہے تھے۔  کالے برقعے پہنے ہوئے  چیٹی سفید قطرنیاں اور انکے ساتھ کالے کالے قطری ، وللہ  وللہ ، ھنا، طعال کے نعرے ماررہے تھے۔ گویا پیرس اغوا ہوچکا تھا۔  یا پھر میں قطر پہنچ چکا تھا۔ اور قطری شہزادے ، شہزادیاں میرے اردگرد ہی تھے۔ شام کی روشنیوں  میں ویسے ہی  بندہ اکیلا پن زیادہ محسوس کرتا ہے
میں اپنے ساتھ کی قطری  شہزادی کے بارے سوچتا  ہوا ،  جو کہیں بھی نہ تھی ادھر ادھر کی فوٹوز کھینچتا رہا۔  فوٹو کھینچتا رہا۔ فیراری، اور ہوملیس کتے کے ساتھ اسی سڑک پر تھے، لوئیس ویٹون کے جوتے اور پانچ یورو لیکر رکشہ میں شانزےلیزے ایوینیو کی سیرکروانے والا، تیونسی نما فرینچ۔ ، دیکھتا رہا اور   بس پولے پولےفوٹو بناتا رہا۔  اور انتظار کرتا رہا باقی دونوں ساتھیوں کا جنکو شام گئے آنا تھا۔ اکتوبر کی شام صرف ایک کوٹ میں اچھی بھلی ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔ مجھے جو چیز پیرس کی سب سے اچھی لگی وہ اسکی ٹرانسپورٹ کا نظام تھا جہاں ریل، آری آی آر، میٹرو اور بس ایک ساتھ بندے کو اسکی منزل تک پہنچا دیتی ہیں۔ میٹرو اسکی کوئی ڈیڑھ سو برس پرانی ہے، پر چل رہی، ٹرینیں پرانی ضورر ہیں، پر کوئی دھماچوکڑی نہیں اور یہی وہ چیز ہے جو پیرس کو پیرس بناتی ہے۔ اتنے بڑے شہر میں اگر آپ کسی کو کہہ دیں کہ 30 منٹ  بعد ملیں گے تو  ایسا ہوتا ہے۔ ابھی لاہور، راولپنڈی، ملتان ،  پشاور میں ماس ٹرانسپوٹیشن  کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ چلو ایک صدی بعد ہی سہی پر کچھ کام چلا تو،  لاہور کی رونقیں ہوں یا پشاور کی ، یا پھر پنڈی میں موتی محل سے راجہ بازار پیدل جانا ہو، میرے لئے ہمیشہ خوابناک رہا۔ پر پاکستان  کے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ پر آپ نہ کہیں وقت پر پہنچ سکتے تھے اور نہ ہی کسی کے پہنچنے کی توقع کرسکتے تھے۔  جبکہ میں  پورے تین دن اپنے ہوٹل سے دو بسیں بدل کر اور ایک ایک ٹرین پکڑ کر  کامپو دے ناتسیون پہنچ ہی جاتا تھا۔ نہ کوئی بھولنے کا رولا اور نہ دیر سے پہنچے کا خوف۔  پیر کو پھر فلائیٹ ہے فرینکفرٹ کی ۔ 

بندہ مزدور اور رومن غلام

میں اپنے اطالوی دوستوں سے یہ سوال کرتا ہوں: تم نے جو رومن تاریخ پڑھی ہے، بلکہ اسکے ماہر ہو،     رومنز کا زمانہ غلامی کے نظام کا بدترین زمانہ سمجھا جاتا تھا، رومنز کے زمانے میں غلاموں کے کیا حقوق ہوتے تھے؟؟ جواب آتا ہے " ہیں؟؟ غلاموں کے کیا حقوق ہوئے؟؟  کوئی حقوق نہیں ہوتے تھے غلاموں کے۔ ہیں؟؟ ایسا کیسے ہوا۔ کیا غلاموں کو  کھانا نہیں دیا جاتا تھا؟؟   حیرت سے، " ہاں دیا جاتا تھا"۔ کیا غلاموں کو سونے کےلئے جگہ نہیں دی جاتی تھی؟ ایک چھت ایک بستر، کوالٹی کچھ بھی ہو، چاہے "پیال" ہی ہو۔ جواب آتا  پھر حیرت سے " ہاں دیا جاتا تھا"۔ اچھا ، تو کیا انکو  لباس نہیں دیا جاتا تھا، تن ڈھانکنے کو؟؟  چاہے ایک لنگوٹ ہی ہو؟ پھر حیرت بھری تائید " ہاں  وہ بھی دیا جاتا ہے" ۔ اور ساتھ ہی اس موضوع پر "دماغی ریفلیکشن شروع ہوجاتا ہے،  تبصرہ آجاتا ہے " پر یہ سب تو انکو زندہ رکھنے کےلئے ضروری ہے، ورنہ وہ تو مر جائیں"۔ بلکل اور اگر غلام مرجاویں گے تو پھر کام کون کرے گا۔ مالکوں نے خود تو کرنا نہیں۔  اب ترتیب یہ ہوتی تھی کہ غلام کو صرف اتنا ہی دیا جائے  جو اسکو زندہ رہنے کو کافی ہے۔ اس سے زیادہ  "قطرہ " بھی نہیں۔  اسکے ساتھ ساتھ۔ غلام کا کام تھا کہ  وہ مالک کے ہر حکم کو بجالائے اور اسکی طرف سے سونپی گئی ذمہ داری و اوقات کار  کا خیا ل رکھے۔ یہاں تک ٹھیک ہے۔ اب ایک تجزیہ کیجئے ہمارے آج کے مزدور کا، یورپ میں مزدور کی حالت سب سے بہتر ہے۔ ایک ہزار عمومی تنخواہ سوپچاس کم یا زیادہ، پاکستانی کرنسی میں  ایک کو ایک سو پندرہ  سے ضرب دے لیں۔  ایک یورو برابر 115 روپئے۔ اس  ایک ہزار میں سے   450 گھر کا کرایہ 100 مختلف یوٹیلیٹی بلز 200 کھانے  کا خرچہ 50  کپڑے جوتے اور دیگر لوازمات باقی دوسو بچے تو وہ گاڑی کی قسط اور پیٹرول کا خرچہ، یا پھر 100 کا بس کا مہینہ بھر کا پاس۔ آپ ہی بتاؤ۔ گاڑی اسکو چاہئے کہ کام پر وقت سے پہنچ سکے۔ گھر اسکےلئے صرف سونے کی ایک جگہ ہے۔ بجلی گیس پانی  چاہئے۔ کھانا واجبی سا کھانا ہی ہے۔ آج بھی مزدور مالک کے سامنے اونچی بات نہیں کرسکتا، اسکو دیکھ کر سلام کرتا ہے اور نظر جھکا کر بات کرتا ہے۔  اسکے سامنے اپنی رائے نہیں رکھ سکتا۔  مجھے یاد ہے ہم اپنے مرغی خانے میں ملازموں کی تنخواہ  "فیڈ  کے خالی توڑے" بیچ کے دیتے تھے۔ یا پھر مرغیوں کی بیٹوں والا برادہ بیچ کر۔  کیا یہ سب رومن کے زمانے کے مزدوروں والے حالات نہیں؟؟؟؟ آپ ہی بتاؤ؟؟



وعدہ خلافی ہمارا عمومی رویہ ہے


ڈاکٹر سلیم الموید میرے دوست ہیں کولیگ بھی، وہ فیملی ڈاکٹر ہیں اور میں اس پولی کلینک کا ہومیوپیتھ۔ ۔ دوست اسلئے کہ وہ فلسطین سے ہیں اور میں پاکستان سے۔ ہمارے بیچ اسلام علیکم کا رشتہ ہے جو ہم دنوں کو فوراُ قریب کردیتا ہے۔ میری ان سے ملاقات اکثر کام کے دوران ہی ہوتی ہے، کبھی کبھار باہر اتفاقیہ ملاقات ہوگئی۔ یا وھاٹس اپ پر کوئ چٹکلہ شئر کردیا۔ شاید گزشتہ دو برس سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ہم۔ پرسوں مجھے وھاٹس اپ میسج آیا "کب فون کرسکتا ہوں؟" میں نے جواباُ کال کی۔ کہنے لگے "تمھاری ضرورت ہے۔ کلینک سے باہر کسی جگہ پر ملنا چاہتا ہوں"۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ابھی تو میں شہر سے باہر ہوں۔ میں کل واپس آؤں گا اور آپ کو فون کروں گا اور طے کرلیں گے کہ کہاں اور کب ملاقات ہوسکتی ہے۔ آج دن کو کال کی۔ کہنے لگے میں اولڈ ھوم سے چاربجے فارغ ہونگا، تو ملتے ہیں۔ ادھر "سابلون کیفے" میں۔ چلو ٹھیک ہے۔ میں چاربجے وہاں پہنچا تو نہیں تھے۔ فوراُ کال آگئی،"ایک مریض کی طبیعیت اچانک خراب ہوجانے کی وجہ سے ابھی نکلا ہوں۔ دیکھ لو اگر انتظار کرسکتے ہو تو دس منٹ میں پہنچتا ہوں"۔ میں نے کہا : "کوئ بات  نہیں آجاؤ"۔ دس منٹ بعد ہم کافی کا آرڈر دے رہے تھے اورایک کیس ڈسکس کررہے تھے۔

الف میرے شہر کے ہیں اور پاکستان میں بقول انکے میرے شاگرد بھی رہے۔ یہاں اٹلی میں شروع میں جب آئے تو انکو ساتھ جاب پر بھی لگوایا اور گھر میں بھی رکھا۔ ہم لوگ اپارٹمنٹ شئرنگ میں شاید کچھ برس اکٹھے رہے۔ کھانا پینا، کام کاچ سب ایک ساتھ۔ پھر وہ ایک دوسرے شہر شفٹ ہوگئے اور میں ایک اور شہر میں۔ کبھی کبھار رابطہ ہوجاتا۔ گزشتہ ہفتے انکا فون آیا۔ کہنے لگے کبھی چکرلگاؤ، میں نے بتایا کہ میرا ویک اینڈ پر کورس ہے، فلاں جگہ پر، رات کو میں نے ادھر ہی ٹھہرنا ہے ہوٹل میں۔ یا تو ہفتہ کی شام کو ملاقات ہوسکتی ہے فراغت سے یا پھر دوپہر کو کھانے کے وقفہ کےلئے ڈیڑھ گھنٹے کےلئے۔ کہنے لگے واہ جی واہ وہ تو مجھ سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ بس ٹھیک ہے میں شام کو آپ کو پک کرلوں گا۔ ملاقات ہوگی۔ چلو ٹھیک ہے، میں رابطہ کرلوں گا۔ گزشتہ ویک اینڈ پر میں اس شہر میں کورس پر تھا۔ حسب وعدہ میں نے انکو وھاٹس اپ کردیا کہ جناب میں پہنچ گیا ہوں۔

شام کو انکا فون آیا کہ میں آج مصروف ہوں کل شام کو، عرض کیا کہ کل تو میری واپسی ہے۔ اچھا دوپہر کو کیا پروگرام ہے؟ دوپہر کو ڈیڑھ سے تین بجے تک فری ہوں۔ چلو ٹھیک ہے، میں ڈیڑھ بجے ادھر ہوٹل ہونگا۔ بس ٹھیک ہے۔ میں نے ڈیڑھ بجے فون کیا تو، ایک بچے نے اٹھایا۔ آپ کون ہیں؟؟ اور کس سے بات کرنی ہے؟؟ اپنا تعارف کرویا تو اس نے فون اپنی ماں کو تھمادیا، وہ فرمانے لگیں کہ "وہ" تو گھر نہیں ہیں اور فون بھی گھر چھوڑ گئے ہیں۔ میں نے "چلو ٹھیک ہے" کہہ کر فون بند کیا اور اپنے کھانے کی میز کی طرف چلا گیا۔ پھر انکی طرف سے کوئی رابطہ نہیں۔ شاید ابھی تک گھر ہی نہ پہنچے ہوں۔
 یا پھر  "وڑے" کہہ کر فون بچے کو تھما دیا ہوگا۔  کہ کہہ دو "ابا گھر پے نہیں ہے۔ بچہ شاید بات سنبھال نہیں سکا اور اماں کو پکڑا دیا ہوگا فون۔  اور میں کل سے سوچ رہا ہوں، کچھ بھی ہوجاوے ہم پاکستانیوں کی عادتیں نہیں بدلیں، وقت کی پابندی نہ کرنا اور وعدہ خلافی ہمارا  عمومی مزاج ہے۔ 





رب ہے

ملحدوں کےلئے۔۔۔۔۔۔۔ شکم مادر میں دو جڑواں بچے تھے ۔ ایک دوسرے سے پوچھتا ہے: تم بعد از پیدائش حیات پر یقین رکھتے ہو؟؟ دوسرا جواب دیتا ہے: "یقیناُ، کچھ تو ہوگا پیدائش کے بعد۔ شاید ہم یہاں تیار ہورہے ہیں اس دوسری حیات کےلئے۔ جو بعد میں آوے گی"۔     " ایک دم بکواس" پہلا کہتا ہے۔ "بعد از پیدائش کوئی حیات نہیں ہے۔ کس طرح کی زندگی ہوسکتی ہے وہ   والی؟" دوسرا جواب دیتا ہے: " مجھے نہیں معلوم، مگر یہاں سے زیادہ روشنی ہوگی، شاید ہم چل بھی سکیں گے اپنی ٹانگوں کے ساتھ اور اپنے منہ کے ساتھ کھا بھی سکیں۔ شاید ہماری اور حسیں بھی ہوں جو ہم اب نہیں سمجھ پا رہے"۔ پہلا اعتراض کرتا ہے: "یہ تو بلکل ہی بونگی ہے۔ چلنا ناممکن ہے۔ اور منہ کے ساتھ کھانا؟ ذلالت۔ ناف کے ذریعے ہمیں سب مل تو رہا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔۔۔ اور پھریہ ناف  بہت چھوٹی ہے۔ بعد از پیدائش حیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔" دوسرا مسلسل اپنی بات پر اڑا رہتا ہے: بہرحال، مجھے یقین ہے کہ کچھ تو ہے اور شاید جو یہاں ہے اس سے مختلف ہو۔ شاید لوگوں کو اس ناف کی ضرورت ہی  نہ ہوتی ہو"۔ پہلا پھر سے اعتراض کرتا ہے: "سب بکواس، اور باوجودیکہ، بلفرض اگر کوئی حیات بعد از پیدائش ہے، تو پھر ادھر سے کبھی کوئی واپس کیوں نہیں آیا؟؟ پیدائش حیات کا اختتام ہے اور بعد از پیدائش کچھ بھی نہیں ہے سوائے غیرشفافیت، خاموشی اور فراموشی کے۔ پیدائش ہمیں کسی طرف نہیں لے کے جائے گی"۔ "اہو، مجھے یہ تو نہیں معلوم" دوسرا کہتا ہے "لیکن یقینا ہم ماں سے ملیں گے اور وہ ہماری دیکھ بھال کرے گی، ہمارا خیال رکھے گی"۔ پہلا گویا ہوتا ہے: "ماں؟" تم ماں پر یقین رکھتے ہو؟  اہو، یہ تو بکواس ہے بلکل ہی، اگر ماں بلفرض ہے، تو پھر، اس وقت کہاں ہے؟" دوسرا جواب دیتا ہے: " وہ ہمارے ارد گرد ہے۔ ہم اسکے حصار میں ہیں۔ ہم اسکے اندر ہیں۔ اور اسکی وجہ سے ہی تو زندہ ہیں۔ اسکے بغیر تو اس دنیا کا وجود ہی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اسکی بقا ممکن ہے"۔ پہلا جواب دیتا ہے: توپھر، میں تو اسےنہیں   دیکھ  سکتا،  پس ثابت ہوا کہ ، اصولی طور پر اسکا کوئی وجود نہیں ہے"۔ اور پھر دوسرا  گویا ہوتا ہے: " کبھی کبار، جب خاموشی ہوتی ہے،   اگر سچی میں سننے کی کوشش کرو تو، اسکی موجودگی محسوس کی جاسکتی ہے اور اسکی آواز وہاںاوپر سے سنی جاسکتی ہے"۔ اس طور پر ایک ہنگارین لکھاری سمجھاتا ہے کہ "رب" ہے۔





گورا گاڑی کا حادثہ اور معشوقیں

منگل کو البینیازیگو ایک دوست کے میڈیکل اسٹور پر گیا۔ سڑک کے دوسری طرف گاڑی کھڑی کی، جہاں پر سفید لکیریں لگی ہوئی باقاعدہ پارکنگ تھی، جو کہ مفت ہوتی ہے، اور اسکو دیکھ کر ہی ہمارا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ ورنہ نیلی لکیروں والی پارکنگ بھی ہوسکتی ہے۔ جو سرخ آنکھوں والے جن کی طرح گھوررہی ہوتی ہے۔ یورپ میں “فری فنڈے” کی پارکنگ کا مل جانا بندے کی خوش قسمتی کی علامت ہے۔
ادھر کوئی دو گھنٹے تک بیٹھ کر “گلاں ماردے” رہے۔ ایریکا اپنی پرانی دوستوں میں سے ہے۔ میرے پاس بھی کافی فارغ وقت تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معالجاتی تجربے شئر کرتے رہے۔ ایک دو نئی ادویات پر بھی بحث ہوئی، میں نے اسے اپنے زیر استعمال “ونکا مائیر” والے بال اگانے کے فارمولے کے بارے بتایا کہ کس طرح کام کرتا نظر آرہا ہے۔ اور میرا گنجا پن دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پس اگر یہ کام کرگیا تو میں نے بالوں کو اگانے والے بابے کی طرح اپنے آپ کو اسپیشلسٹ قرار دے لینا ہے۔ سنا ہے اس شعبہ میں بہت “ کمائی “ ہے۔ مطلب “آم کے آم اور سونے کے دام”۔
بدھ کے روز صبح گھر سے نکلا ، گاڑی کے پاس پہنچاتو دیکھا تو گاڑی کی ونڈ اسکرین پر ایک پوسٹ اٹ پڑا ہوا تھا، وائیپر کے نیچے دبا ہوا۔ اس پر  یہ تحریر تھی: بے احتیاطی سے آپ کی گاڑی کو”ٹھوک” دیا ہے۔ نیچے فون نمبر اور ایک نام لکھا ہوا تھا۔
لوجی فوراُ خیال آیا کہ کسی نے رات کو ٹھونک دی ہے۔ کوئی بچارا نیند کا مارا کام کرگیا، یا پھر "کوئی ٹُن" ہوگا۔  پر دیکھو جی گورے کی تربیت اور اچھائی کہ اس نے “چٹ” چھوڑ دی ہے۔ فوراُ یہ خیال بھی آیا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہوتا تو اول تو مارنے والا چپکے سے نکل لیتا، اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو بھاگ لیتا۔ پکڑے جانے پر اسکو کُٹ بھی پڑنی تھی۔ اور خرچہ بھی بھرنا پڑتا۔ پر گورے کو اپنے سسٹم پر اعتماد ہے۔ کہ انشورنس نے پیسے بھرنے ہیں۔
میں نے گاڑی کو آگے پیچھے سے دیکھا، تو کچھ کچھ نظر نہیں آیا کہ کدھر سے لگی اور کیا نقصان ہوا۔ پھر دیکھا کہ سامنے والے مڈگارڈ پر نیچے دھند والی لائیٹ کے ساتھ ایک ہلکا سا “چیر” آیا ہوا ہے۔ کچھ خاص نقصان نہ تھا۔ میں نے کہا چلو جی کچھ نہیں ہوا۔ چلو چھڈو پراں۔ ہیں جی۔ خیر ای اے۔ پرانی گاڑی ہے، کوئی گل نہیں۔

کل اس نمبر پر تجربہ کے طور پر فون کیا تو جواب ملا کہ میں تو کال کا اتنظار کررہا تھا۔ پریشان تھا کہ وہ “چٹ” کہیں ہوا میں ہی نہ اڑگئی ہو۔ بہت پریشان تھا میں، کہ منگل کو حادثہ ہوا تھا اور وہ بھی البیانیزیگو میں۔، میں نے بہانہ کردیا کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کرسکا۔ ۔ کہنے لگا کہ آپ کسی ڈینٹر سے پتا کروائیں کتنا خرچہ آتا ہے اگر زیادہ ہوا تو انشورنس بھر دوں گا نہیں تو کیش دے دوں گا۔

آج صبح ایک ڈینٹر سے پتا کروایا تو اس نے کہا کہ مڈگارڈ تبدیل ہوگا 650 یورو کا خرچہ ہے۔ پھر ایک اور سے بات ہوئی تو کہنے لگا اس کو “جیل” لگا کر مرمت کردوں گا ، 200 یورو میں ہوجائے گا۔
میں نے میسج کردیا۔ جواب آیا کہ چار بجے ملیں جہاں آپ کہیں۔ میں نے اسی علاقہ میں ایک بار کا بتایا۔ ، میں البینیازیگو پہنچا۔ بندہ ادھر موجود تھا۔ اگلے   اس بندے نےمعذرت کی، کہ آپ کو خوامخواہ میں پریشانی ہوئی۔ اچھا چلو جو ہوا سو ہوا۔ اب چلیں بار میں کافی پیتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔
میں نے کافی کا آرڈر کیا دونوںکےلئے  اور اس سے پوچھا:  تو بتائیں جناب کیا کرنا ہے، میں نے کہا کہ بہتر ہے پیسے دو اور مرمت کروا لیتا ہوں مڈگارڈ کی، بدلی کروانے کی بجائے۔ اس نے  فوراُ 200 یورو نکال دئے، تب تک میں دو عدد کافی آرڈر کرچکا تھا۔ 
اور اس سے پوچھا: ہوا کیا تھا؟؟ ادھر تو پارکنگ بھی کافی تھی، میرے خیال میں۔ کہ زیادہ رش بھی نہ تھا۔ پھر؟؟ کہنے لگا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ پاس ہی، ادھرگئے تو آپ کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی کی جگہ خالی تھی اور پھر ایک گاڑی کھڑی ھی۔ اسکے آگے تین گاڑیوں کی جگہ خالی تھی۔
تب تک اسکی آواز بدل چکی تھی۔ کہنے لگا میرے ساتھ میری معشوقہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اور پتا ہے میں نے گاڑی کہاں کھڑی کی؟؟ جہاں پر ایک گاڑی کی جگہ تھی۔ وہ کہ کہنے لگی، پیچے پیچھے اور پیچھےاور ، اور ، اور ، اور پھر پتا اس وقت چلا جب آپ کی گاڑی کو ٹھوک چکا تھا۔ اب میں اتنا برا بھی نہیں کہ بھاگ جاؤں، میں نے، آپ کی گاڑی پر ایک پیغام چھوڑا اور کال کا انتظار کرنے لگا۔ پر میں ایک بات بتاؤں آپ کو، بندے کو یہ معشوقیں ہمیشہ مرواتی ہیں۔
چلو سستے چھوٹے،  ہم نے کافی پی، اور ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اچھا جی، پھر ملیں، گے، ضرور، پھر سے معذرت۔ ہیں جی

عزت طوائف میراثی شریف اور پانامہ لیکس

 آپ نے اکثر فلموں میں ایک عدالتی سین دیکھا ہوگا جس میں ایک خاتون اپنی عزت لوٹنے والے ولن پر مقدمہ کرتی ھے، اور پھر اس ولن کا وکیل اس عورت سے کچھ اس قسم کے سوال کرتا ھے کہ:

ملزم نے تمہاری عزت بستر پر لوٹی یا زمین پر؟

کیا عزت لوٹتے وقت ملزم نے شراب پی رکھی تھی؟ کیا اس نے تمہیں بھی زبردستی پلائی؟

عزت لوٹنے سے پہلے کیا ملزم نے تمہیں چوما، یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ لگائے؟ اگر ہاں، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کیسے لگائے؟

کیا ملزم نے تمہارے کپڑے پھاڑے تھے یا تم نے ڈر کر خود اتار دیئے؟

اس پورے عمل میں کتنی دیر لگی؟

یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ غریب دکھیا لڑکی جو پہلے تنہائی میں اپنی عزت لٹوا چکی تھی، اب وہ ساری دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر اپنی عزت لٹوائے۔ ان سوالات سے تنگ آکر وہ لڑکی اپنا کیس چھوڑ دیتی ھے۔ یہ سین آپ کو بھارتی فلم دامنی، اعتراض اور ایسی دوسری کئی فلموں میں ملے گا۔

پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی لگاتار جدوجہد  اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔

اب سپیرم کورٹ میں عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ

نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟

نوازشریف جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا تھا؟

نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟

معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!
 کچھ عرصہ قبل ایک میراثی کا رائےونڈ سے گزر ھوا۔ رات کا وقت تھا- میراثی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس نے سوچا کہ کیوں ناں رات یہاں ہی گزار لی جائے- لہذا اس نے قریبی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک شریف شخص باہر نکلا میراثی نے ان سے رات  گزارنے کے لئے ایک چارپائی کی درخواست کی، شریف بزرگ نے میراثی کو بتایا کہ ان کے گھرصرف 5 چارپایاں ھیں جن پر گھر والے کچھ اس طرح سوتے ہیں:-
"ایک چارپائی پر میں اور میری بہو دوسری پر میرا داماد اپنی ساس کے ساتھ تیسری پر میرا بڑا بیٹا چھوٹی بہو کے ساتھ چوتھی پر میرا چھوٹا بیٹا نوکرانی کے ساتھ اور پانچویں پر میرا نوکر میری بیٹی کے ساتھ سوتا ہے لہذا ان کے پاس کوئی چارپائی نہ ہے- میراثی یہ تفصیل سن کر تلملا اٹھا اور شریف بزرگ کو کہا مجھے چارپائی دیں یا نہ دیں مگر اپنے سونے کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں:”
Morale of the story:-


پانامہ لیک میں فلیٹس کسی کے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم تمام گھر والے اپنے بیانات کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں😂


-------------------------------


خبردار: اس تحریر کے مصنف کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہے۔ 

شریف طوائف میراثی اور پانامہ لیکس

 آپ نے اکثر فلموں میں ایک عدالتی سین دیکھا ہوگا جس میں ایک خاتون اپنی عزت لوٹنے والے ولن پر مقدمہ کرتی ھے، اور پھر اس ولن کا وکیل اس عورت سے کچھ اس قسم کے سوال کرتا ھے کہ:

ملزم نے تمہاری عزت بستر پر لوٹی یا زمین پر؟

کیا عزت لوٹتے وقت ملزم نے شراب پی رکھی تھی؟ کیا اس نے تمہیں بھی زبردستی پلائی؟

عزت لوٹنے سے پہلے کیا ملزم نے تمہیں چوما، یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ لگائے؟ اگر ہاں، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کیسے لگائے؟

کیا ملزم نے تمہارے کپڑے پھاڑے تھے یا تم نے ڈر کر خود اتار دیئے؟

اس پورے عمل میں کتنی دیر لگی؟

یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ غریب دکھیا لڑکی جو پہلے تنہائی میں اپنی عزت لٹوا چکی تھی، اب وہ ساری دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر اپنی عزت لٹوائے۔ ان سوالات سے تنگ آکر وہ لڑکی اپنا کیس چھوڑ دیتی ھے۔ یہ سین آپ کو بھارتی فلم دامنی، اعتراض اور ایسی دوسری کئی فلموں میں ملے گا۔

پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی لگاتار جدوجہد  اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔

اب سپیرم کورٹ میں عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ

نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟

نوازشریف جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا تھا؟

نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟

معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!
 کچھ عرصہ قبل ایک میراثی کا رائےونڈ سے گزر ھوا۔ رات کا وقت تھا- میراثی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس نے سوچا کہ کیوں ناں رات یہاں ہی گزار لی جائے- لہذا اس نے قریبی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک شریف شخص باہر نکلا میراثی نے ان سے رات  گزارنے کے لئے ایک چارپائی کی درخواست کی، شریف بزرگ نے میراثی کو بتایا کہ ان کے گھرصرف 5 چارپایاں ھیں جن پر گھر والے کچھ اس طرح سوتے ہیں:-
"ایک چارپائی پر میں اور میری بہو دوسری پر میرا داماد اپنی ساس کے ساتھ تیسری پر میرا بڑا بیٹا چھوٹی بہو کے ساتھ چوتھی پر میرا چھوٹا بیٹا نوکرانی کے ساتھ اور پانچویں پر میرا نوکر میری بیٹی کے ساتھ سوتا ہے لہذا ان کے پاس کوئی چارپائی نہ ہے- میراثی یہ تفصیل سن کر تلملا اٹھا اور شریف بزرگ کو کہا مجھے چارپائی دیں یا نہ دیں مگر اپنے سونے کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں:”
Morale of the story:-
پانامہ لیک میں فلیٹس کسی کے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم تمام گھر والے اپنے بیانات کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں😂

شہید، مقتول اور فسادات

اگرکوئی گھر سے نکلے مزدورکرنے، بچوں کےلئے کھانے کا سامان لینے، بہن کےلئے کپڑے لینے یا کسی دوست سے ملنے۔ اسکول جانے، مسجد نماز کےلئے جانے یا کسی بھی اور کام سے جو اسکی ذات سے متعلق ہے اور کسی دوسرے سے اسکا کوئی مطلب مقصد نہ ہو۔ ایسے کو راہ میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسکو شہادت کہا جائے گا، کہ حادثاتی موت مرنے والا شہید ہے اور اللہ اسکو اسکا اجر دے گا۔ ہم انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کرخاموش ہوجاتے ہیں۔ کہ "چنگا وائی جو اللہ دی مرضی"۔

اور اسکے برعکس اسکو کوئی شخص جان کر اور پلاننگ کرکے اسکو "ٹھوک" دے، دو گولیاں۔ تو یہ قتل ہے، بلکہ اسکو قتل عمد کہا جائے گا۔ ایسا ہی دنیا کے ہرقانون میں ہے اور اسلامی شریعت میں بھی ایسا ہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی قتل کا لفظ استعمال ہوا جبکہ مقتول اور قاتل کے الفاظ بھی ہیں اور اسکا بدلہ قتل مقررہ ہوا، یا پھر قصاص و دیت یا پھر معافی۔ بلترتیب۔

اور اگر یہ قتل کسی "پبلک پلیس" پر ہوا، جس میں زیادہ لوگ ملوث ہوں یا جس سے زیادہ لوگ متاثر و خوفزدہ ہوں تو اسکو " دہشت گردی " کہا جائے گا۔ قرآن میں فساد اور فتنہ  کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اور ایسا کرنے والے کےلئے  "فسادی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ایسی صورتوں میں دیت معافی کا کوئی چکر نہیں ہوتا۔ بلکہ "ملٹری کورٹس" میں فوری مقدمہ چلایا جاتا ہے اورمجرمین کو براہ راست" ٹھونک" دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔
کتاب  اللہ میں فساد  پھیلانے اور فساد کی روک تھام کےلئے بہت ہی سختی کی  گئی ہے۔ قرآن مجید میں کل گیارہ مقامات پر فساد کا بیا ن آیا  ہے۔ 
فساد کا پہلا ذکر سورہ بقرہ میں ملتا ہے۔ 
( 204 )   اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے ( 205 )   اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا ( 206 )   اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
  سورہ المائدہ میں بیان ہوتا ہے۔  ( 32 )   اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں
اور اگلی آیت مبارکہ میں ایسوں کی سزا مقرر کردی جاتی ہے۔ اور وہ بھی وہی سزا جو خدا اور اسکے رسول سے لڑائی کرنے والوں کی ہے ۔ 
( 33 )   جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے

امجد صابری قتل کیس میں پوری قوم متاثر ہوئی، اسکو دھشت گردی قرار دیا جائے گا۔ مرنے والا مقتول ہے جو اسکی مظلومیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قاتلوں کے پکڑنے اور سزا پانے تک ریاست کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ایسے ہیں ہم عوام کو بھی یہ جھگڑا کرنے سے گریز کرنا چاہئے کہ وہ شہید تھا کہ نہیں تھا۔

یاد رہے، ہر مرنے والا شہید نہیں ہوتا، اگر ایسا ہوتا تو حضرت خالد ابن ولید، سیف اللہ کا لقب پانے والے رسول اللہ ﷺ سے اپنے آخری وقت میں شہادت کےلئے رو نہ رہے ہوتے۔



بارسیلونہ، روم اور راولپنڈی

اکتوبر میں بارسلونہ فارماسیوٹیکل ایکسپو میں  جانے کا پرو گرام ہے، ایسے ہی آج صبح دیکھ رہا تھا کہ ادھر ائیرپورٹ سے ایکسپو اور پھر شہر کا کیا نظام ہے ٹرانسپورٹ کا۔ اچھی ویب  سائیٹ ہے جوہمیں بہت سی معلومات دیتی ہے۔  اگر بارسیلونہ میٹرو کی تفصیل میں جایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ 1920 میں بنی تھی، اسکی گیارہ لائینں ہیں  113 کلومیٹر لمبائی ہے اور 148 اسٹیشنز ہیں۔ ایسے ہیں جیسے جہلم سے اسلام آباد کوئی جائے۔ 
مطلب یہ سب کچھ آج سے  صدی قبل، چار برس باقی ہیں  2020 آنے میں، ہمارے ہاں شاید تب تک کوئی سب وے میٹرو ٹرین  ایک لائین کی ہی بن ہی جائے۔ اللہ کرے۔ 

ہمارے ہاں اسکے جواب میں ایک بس سروس شروع ہوئی جسکو میٹرو بس کہا گیا، اور یار لوگ اس پر بھی احتجاج کرتے ہیں کہ جنگلا بس چلا دی ہے۔ آہو ہو ہو، چنگچی والے غریبون کا کیا ہوگا۔ مگر نہیں سوچتے کہ دریا پر  پُل بنانے سے کشتی بانو ں کا بھی رزق جاتا ہے، تو پھر پُل بھی نہ بنایا جائے؟؟  خیر یہ سب تو پوری دنیا میں ہی چلتا ہے۔   شاید بارسلونہ میٹرو کے بارے بھی ایسے ہی ہوتارہا ہوگا، کچھ نعرے بازی تو ہوتی ہی ہے۔

چین جاپان اور فرانس میں تیز رفتار ٹرینیں چلانے کا مقابلہ ہے، اٹلی میں بھی چلارہے ہیں، کچھ برس سے پراجیکٹ پر کام ہورہا ، نئی  ریلوے لائنیں بچھ رہی ہیں اور نئے پل بھی بن رہے ہیں۔  اور جگہ جگہ no tavکے سلوگن  بھی لکھے ہوتے ہیں، مطلب ادھر بھی کچھ لوگ ہیں جو اس طرح کے میگا پراجکیٹس کی مخالفت کرتے ہیں۔ 
میں اٹلی کے شمال میں رہتا ہوں اور مجھے پاسپورٹ کی تجدید کےلئے روم پاکستان ایبمیسی میں جانا ہوتا ہے ۔ روم یہاں سے تقریبا چھ سو کلومیٹر ہے ، پہلے اسکےلئے تین طریقے اختیار کئے گئے ہیں ، مختلف اوقات میں۔ 
  ایک بعذریہ نائیٹ ٹرین، مطلب رات کو نو بجے ٹرین پکڑی، گیارہ بجے ویرونا سے بدلی کی اور پھر صبح پونے سات بجے، روم تیرمینی اسٹیشن پر جا منہہ دھویا۔ اور وہاں سے دو بسیں بدلی کرکے پاکستان ایمبیسی پہنچے۔پاسپورت تو رینیو وہوگیا  پر دوراتوں  کا جاگراتا اور سفر کی طوالت اگلے دو دن کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔
دوسرا طریقہ ہوائی جہاز کا سفر ہے تھا، بظاہر سستا محسوس ہوا، کہ یہ ڈیڑھ گھنٹے کی فلائیٹ ہے، چلوجی، مگر یہ کیا، چالیس منٹ پر ائیرپورٹ ہے، لوکل فلائیٹ ہے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنا کافی ہے مگر کسی غیرمتوقع ٹریفک بلاک میں پھنسنے کی صورت میں دوگھنٹے کا وقت لے کر نکلنا مناسب ہے۔صبح سات  بجے کی فلائیٹ تھی، بس تین بجے اٹھ کھڑے ہوئے، چاربجے گھر سے نکلے اور پانچ بجے  ائیر پورٹ پر پہنچ کر گاڑی پارکنگ میں چھوڑی اور انکو 12 یورو یومیہ کے حساب سے پیسے دے کر جہاز پکڑنے نکلے۔ اب ادھر دو گھنٹے "میں جہاج نوں اڈیکاں"  پھر روم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ائیرپورٹ سے تیرمینی  ریلواسٹیشن تک پہنچنے کےلئے شٹل بس ہے جو ایک گھنٹہ لیتی ہے اور اسکو چلنے میں مذیدادھ گھنٹہ ہے۔ یوں صبح 5 بجے کے گھر سے نکلے ہوئے گیارہ بجے روم اسٹیشن پر پہنچے اور وہاں سے ایمبیسی کو فون کرنا پڑا کہ جنابو لیٹ آویں گے، بھلے مانس تھے کہنے لگے آجاؤ، گیٹ بند ہوا تو فون کردینا کھولوا دیں گے۔ یہی کرنا پڑا۔ اسکے بعد حساب لگایا تو ہمارے پاس کل تین گھنٹے تھے، پاسپورٹ آفیسر کو عرض کیا کہ جناب 7 بجے کی واپسی  فلائیٹ ہے۔ کمال شفقت سے فرمانے لگے، اہو، اچھا کوئی کوئی بات نہیں، آپ کو جلدی فارغ کردیں گے۔ واقعی ہم سب اہل خانہ ایک گھنٹہ بعد فارغ تھے۔ وہاں سے ٹیکسی پکڑی اور ریلوے اسٹیشن اور پونے چار بجے والی بس پکڑ کے پونے پانچ بجے ائیرپورٹ موجود تھے، اس دوران ہمارے پاس وقت صرف ایک سینڈویچ کھانے کا تھا، پون گھنٹہ،  پھر ائیرپورٹ پر پہنچ کر فلائیٹ کا انتطار اور رات کو جب گھر پہہنچے تو تھکن سے چور تھے، دوسرے دن سب کو بخار چڑھا ہوا تھا۔ اسٹریس اور تھکن کی وجہ سے۔بس اس سے توبہ ہماری۔ 
تیسرا طریقہ یہ اختیار کیا کہ گاڑی پر چلتے ہیں، ایک دوست ڈاکٹر سمیر صاحب ہیں، ان سے بات ہوئی کہنے لگے میرا بھی کام ہے، اچھا جی دو اور پکڑو تاکہ خرچہ فی کس تقسیم ہوکر کم ہوجائے۔ اب کے 6گھنٹوں کا سفر ایک طرف کا کرنا تھا، مطلب نوبجے ایمبیسی پہنچنے کےلئے، صبح تین بجے، روانگی، بس جی ہمہ یاراں جنت ہمہ یاراں بہشت۔ وہی نو بجے ایمبیسی پہنچے، بارہ بجے فارغ ہوئے، دو گھنٹے کھانا وغیرہ کھایا اور واپسی کی راہ لی، عشاءکے وقت گھر پہنچے، کمر تختہ ہوگئی تھی بیٹھ بیٹھ کر، ڈاکٹرسمیر صاحب کی ہمت جو اتنی طویل ڈرائیونگ کرگئے۔ خیر اتنا برا بھی نہیں۔ 
اس بار پھر جانا ہوا تو تیز رفتار ٹرین کا علم ہوا،  یہ نئی نئی سروس ہے اڑھائی سو کلومیٹر فی گھنٹہ میں نے پھر ڈاکڑسمیر صاحب سے بات کی تو وہ بھی تیار تھے، ویلنٹائن ڈے پر آفر لگی ہوئی تھی کہ ایک ٹکٹ میں دو بندے سفر کرسکتے ہیں۔ بس ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا ویلنٹائن مانا اور چڑھ گئے ٹرین پر، صبح پونے سات بجے کی ٹرین تھی اور ساڑے نو بجے ہم روما تیرمینی اسٹیشن پر تھے، مزے سے ایمبیسی پہنچے ایک بجے فارغ ہوئے اور اب ہمارے پاس رات کو نو بجے تک وقت
تھا، بس پھر میٹرو اور ہم بلکہ پیدلو پیدلی، روم کلوسیو۔ پیاسا ہسپانیہ، پیاسا تریوی۔ پیاسا وینیزیا اور ویتوریانو (اس بارے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں، اگر نہیں تو یہاں کلک کرکے پڑھ لیں)۔ سے ہوتے ہوئے پھر سے میٹرو پکڑ کر ویتی کن سٹی پہنچے، پاپائے روم کی زیارت تو نہ ہوسکتی پر چلو۔ مزے سے رات نو بجے ٹرین پکڑی اور ساڑے گیارہ بجے گھر تھے۔
نہ کھجل خراب ہوئے نہ بے خوابی اور نہ ہی تھکن، بلکہ بہت خوش بھی تھے، کہ جنابو اس بار پھر روم کی اچھی سیر ہوگئی، کچھ پرانی دیکھی ہوئی چیزیں کچھ نئیں دیکھ لیں۔ گویا تیز رفتار سفر کے ذرائع ایک عمدہ سہولت ہیں۔
مجھے لاہور میں زیادہ جانے کا موقع نہیں ملا مگر راولپنڈی تو اپنا دوسرا گھر ہی سمجھو۔ موتی محل سے اسلام آباد جانا کوئ خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ تین سے چار گھنٹے اور وہ بھی ہائی ایس میں بندہ کبھا ہوجاتا تھا۔ اب بتانے والے بتاتے ہیں کہ سفر آسان بھی ہوگیا ہے  اور کم وقت میں بندہ اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہے۔ رزائع رسل و رسائل قوموں اور ملکوں کی ترقی میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں، جتنے ڈیم اور اسکول، میں تو اس رائے پر ہوں کہ جو لوگ، ذرائع آمدورفت اور ڈیموں کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں۔ ہاں اسکول ہسپتال اور دیگر ضروریات پر حکمرانوں کو ضرورت کھینچ تان کیجئے، مگر یہ مت کہیں کہ میٹرو بس اور سرکلر ریلوے کیوں اور ہسپتال کیوں نہیں۔


یہ کہئے کہ انڈرگرائونڈ بھی چلاؤ اور ہسپتال بھی اور اسکول بھی،  کھیل کے گرائونڈ بھی اورتفریحی پارک بھی۔ انصاف کی عدم فراہمی پر شور کرنے کی ضرورت ہے، رشوت اور قربا پروری  کی طرف توجہ دینے کی شدید ضرورت ہے۔ صفائی اور پینے کے پانی پر کھپ ڈالیں، اور جو کچھ آپ کے دماغ شریف میں آتا ہے اس پر بھی ۔ 



روزے کی تیاریاں

اہو ہو کل روزہ پینڑاں ہے بابیو۔ ہیں جی، چل بچہ کچھ سامان ہی لے آئیں، 
دیکھ گھر میں کیا کیا ہے، کیا کیا لانا ہے
اچھا اور کچھ؟؟
پر دیکھنا روزہ بہت لمبا ہے، اوپر جون کا مہینہ بھی ہے 
گرمی تو ہوگئی ہی ہوگی۔ 
جوس، نمبو، چار کلو چینی، شربت بھی تو پئیں گے
فروٹ، بابیو، 
سارے فروٹ لانا، جو تازے ہیں وہ والے
ہاں اور کھجوریں بھی، وہ موٹی آلی، آچھا جی
اچار، الائیچی ہاں الائیچی اور دار چینی بھی، ان کا قہوہ پینے سے پیاس کم لگتی ہے۔ 
سالن اچھا ہو، تاکہ دن کو بھوک نہ لگے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کل کا سین تھا۔ 
آج پاکستان سے نسخے آرہے ہیں 
پھکیوں اور معجونوں کے، قلاقند کے، 
دیسی گھی اور مکھن
سرد مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال۔ 
تاکہ دن کو بھوک نہ لگے پیاس نہ لگے۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آج کا سین ہے۔  
اور میں سوچ رہا تھا، 
کہ اگر رمضان کے آنے کا مقصد بھوک اور پیاس سے بچنا ہی ہے تو پھر بندہ آرام سے دن کو کھانا کھائے اور پانی پئے۔ نہ رکھے روزے، آخر اللہ کو بھی تو ہماری بھوک اور پیاس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، 
وہ تو نیت دیکھتا ہے، وہ تو نیاز مندی دیکھتا ہے۔ 
مقصد تو تھا، کہ تو بھوک محسوس کر، پیاس محسوس کر، لڑائی جھگڑا ترک کردے، مسکین ہوجا۔ 
مسکین کی حالت کو محسوس کر، اور اسکی فکر کر۔ 
پر نہ ہم کو تو اتنا سوچنا ہی نہیں ہے۔ اچھا آپ ہی بتاؤ روزے میں بھوک اور پیاس و کمزوری سے بچنے کے کچھ نسخے

سوری، یاد کرانا تھا، کہ رمضان میں عبادت ہوتی ہے،  نماز قرآن اور معافی  تلافی۔ دوسروں کا خیال رکھنا،  نہ کہ پھاوے ہوئے پھرنا ۔ 




غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا

مسلمان، بلکہ اچھے مسلمان 1400 سو برس سے غیر محرم خواتین سے مصافحہ نہیں کررہے، فوراُ منع ہوجاتے ہیں۔ نظریں جھکا لیتے ہیں۔ عرض کردیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔ اور دوسرے مزاہب والے بھی برا نہیں مناتے، اگر کوئی کم ظرف سوال اٹھائے بھی تو "پھاں" کرکے اسکا منہ بند کردیا جاتا ہے۔ کہ مذہب ساڈا ہے، تہاڈا نئیں۔ "ہیں جی" ۔ پھر تو اگلا چپ ہی کرجاتا ہے۔ اگر کسی موقع پر کوئی " بُڑ بُڑ" کرے تو اسکا "کھنہ بھی سینکا" جاتا ہے۔ کہ توں ساڈے مذہب دے وچ پنگے کریں، سانوں دسیں گا ہنڑں؟؟ پھر اگلا چپ ہی سمجھو۔ مجال ہے جو چوں بھی کرجائے۔

مگر

اسکے باوجود بھی ہمارے مسلمانوں کی حالت خاصی پتلی ہے۔ پوری دنیا میں "چوہڑے" ہوکر رہے گئے ہیں۔ ادھر حجاب کرکے ٹائلٹ صاف کررہے ہوتےہیں۔ دنیا کی ترقی میں نام کردار نہیں ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی ہر برائی موجود ہے۔ غریبی سے لیکربے حیائی، جھوٹ، فریب، بے ایمانی، کم تولنا، دوسرے کا حق مارنا، رشوت، سفارش اقربا پروری ہمارے اندر رچی پڑی ہے۔ اور ہم کسی گندے "رینو" کی طرح اس کیچر میں لت پت پڑے ہوئے ہیں۔



غامدی صاحب نے اگر عمومی طور پر خاتون سے مصافحہ کرنے کے بارے کہہ ہی دیا ہے کہ اس بارے دین نہین منع کرتا تو انکی بات پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کا قرآن و سنت سے رد کیا جائے، نہ کو اسکو  گالیاں دینے، ٹھٹھہ کرنے، اور تذلیل کی جائے، اس کی بجائے کیون نہ اس کو یکسر مسترد کیوں نہ کردیا جائے۔

اور توجہ دی جائے ان امور پر جن کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں جوتے کھا رہے ہیں۔ جن کی وجہ سے آج ہم چھترو چھتری ہورہے ہیں۔ مگر کیوں؟؟ اگر ایسا ہوتو پھر ہم وہ رینو تو نہ ہوئے۔



اچھا چھڈو یہ رینو والی فوٹو ویرونا والے سفاری پارک میں بنائی تھی میں نے اصلی ہے

سفرنامہ روم۔ ویتوریانو Vittoriano

ویتوریانو Vittoriano   المشہور قیصر روم کا محل
اطالیہ  یا اٹلی کا  "انتخابی نشان"  یہ عمارت جوکہ منصوب ہے،اطالیہ  کے پہلے بادشاہ ویتوریو ایمانیویلےدوئم   Vittorio Emanuele II کے نام سے۔  
دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑا محل ہے، عام  طور پر پاکستانی اسے  قیصرروم کا محل  کہتے ہیں ۔ یہ ایک  یادگاری عمارت ہے، جس کو ویتوریانو یا پھر سرزمین  کی قربان گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی یادگار ہے جو اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع ہے۔ اور مشہور اطالوی ماہرتعمیرات Giuseppe sacconi کا  ڈیزائنر کردہ  ایک شاہکار ہے۔ اس عمارت کا نام  "ویتوریانو" اطالیہ کے پہلے بادشاہ  ٗویتوریو ایمانیولے دوئم  کے نام سے لیا گیا ہے۔  اس بادشاہ نے آج کے اطالیہ متحد کیا تھا جو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بس پھر کیا ہے اطالیہ میں ہر شہر میں ان صاحب کے نام کی مرکزی گلی ہوتی ہے،  کوئی کھلی سی سڑک، اسی طرح دالخلافہ میں انکے نام کی یادگار تعمیر کردی گئی، جو ریاست عوام اور حکومت کی علامتی طور پر نمائندگی کرتی ہے۔ 

جب 1921 میں یہاں  ایک گمشدہ سپاہی کو دفن کیا گیا ، تب اس عمارت کو ایک نئی علامتی حیثیت ملی، اس مقبرے میں پہلی جنگ عظیم  کے دوران  ھلاک ہونے والے ایک ایسے سپاہی  کی نعش کو دفن کیا گیا جسکی شناخت نہ ہوسکی۔ ، یوں  حقیقتاُ   یہ  عمارت  اطالیہ کی قومی،  ریاستی اور سرزمین کی نمائندگی کے طور پہچانی جاتی ہے۔  یہ عمارت اپنی پوری تاریخ  میں کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کا محل نہیں رہی۔ اور نہ اس میں کبھی کسی نے سرکاری یا غیرکاری طور پر ہائش رکھی ۔ جب  1878 میں موجودہ اطالیہ کے پہلے بادشاہ کی وفات ہوئی  تو  ایک یادگاری عمارت کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا۔ جو سرزمین  اطالیہ کی نمائندگی کرے اور اسکی نشاط ثانیہ کی علامت ہو۔ یوں 1880 میں اس عمارت کی تعمیر کےلئے باقاعد منصوبہ بندی کا آغاز ہوا،1885 میں اسکا سنگ بنیاد اس وقت کے بادشاہ Umberto I نے رکھا ، 1888میں اسکی تعمیر کا پہلا حصہ مکمل ہوا جبکہ 1927  تک اس میں وقتاُ فوقتاُ تبدیلیاں  و اضافے ہوئے۔  1911 میں  اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا تھا۔
اس عمارت کو جدید اطالیہ  کی علامت بھی کہا جاتا ہے، وہ  اطالیہ جس کو ہم جانتے ہیں کیونکہ یہ قدیم اور المشہور سلطنت روم کے شاہی محلات کی بغل میں واقع ہے، اسی طرح پا پائے روم کا علاقہ بھی ادھر پاس ہی ہے اور اوپر "چو بارے" سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میری فیس بک پر شیئر  کردہ  ویڈیو  دیکھ کر اپنے علم میں مزید "بالٹی بھر" اضافہ فرماویں۔ اور اگر آپ کو میرے علم پر بھی شک ہے تو وصیت لکھوا کر، خود اطالیہ کا ٹکٹ کٹوائیں،  روم تشریف لائیں، اس عمارت کے چو بارے پر جائیں،  کلمہ پڑھیں اور نیچے چھلانگ لگائیں۔ انشا اللہ لو گ آپ کو پا پائے روم کے محلے میں پائیں گے اور عبرت حاصل کریں گے۔
اس عمارت کی اونچائی 81 میٹر ، چوڑائی 135 میٹر ہے ، جبکہ کل رقبہ 17000 اسکوائر میٹر ہے۔  اسکی تعمیر میں بوتیچینو سنگ مرمر کا استعمال ہوا ہے۔ جو شمالی اطالیہ کے شہر بریشیا کے گاؤں بوتیچینو  Botticino  سے لایا گیا ہے اور  اس کو  آسانی سے ڈھالا  جا سکتا ہے جبکہ یہ سفید سنگ مرمر سے کافی مشابہہ ہے۔
باہر سے دیکھنے پر پہلی نظر میں یہ ایک سادہ ، پر وقار اور روشن  عمارت دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے اس  لئے اس کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے بہت پیچیدگی  اور نفاست سے تعمیر کیا گیا ہے۔ بظاہر اس عمارت میں سب اہم نظر آنے والی سیڑھیاں ،  سامنے ایک طویل  دیوار جسکے ایک طرف سے دوسری طرف تک   سنگ مرمر پر ابھرے  ہوئے  مجسمے، انکے درمیان میں  اور انکے اوپر بڑے بڑے ستونوں پر مشتمل ایک بہت بڑا  "بر آمدہ"  ہے ، یہ ایک U  شکل کی تعمیر ہے،  اور دونوں کونوں میں چھت  پر گھوڑوں والے مجسمے نصب ہیں ، جو رومن کے زمانے سے ہی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عمارت کے عین درمیان میں   اگر آپ عمارت کے سامنے کھڑے ہوں تو آپ کو سب  سے پہلے سیڑیوں کے آغاز میں ہی دائیں بائیں دو ستونوں پر کانسی  کے بنے ہوئے فوجیوں  کے علامتی مجسمے  اور رومن  دیوی  Minervaکے مجسمے دکھائی  دیں گے۔

سنگر مرمر کی سیڑھیوں  کو چڑھ کر آپ عمارت کے مرکز میں کھڑے ہوتے ہیں  تو آپ کے سامنے ، عمارت کے عین درمیان میں  ایک بلند بالا ستون پر بادشاہ   کا گھوڑے پر سوار مجسمہ کھڑا ہے۔ اس کو آج کے اطالیہ کے ھیرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔  جبکہ اسے دائیں بائیں کچھ مقدس مجسمے ہیں۔ بادشاہ کے مجسمے کے عین نیچے ایک  طویل سنگ مرمر کی دیوار ہے جسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کنندہ کاری سے ابھار کے  لوگوں کے تسلسل  سے مجسمے بنا کر لوگوں اور عوام کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس تسلسل کے درمیاں میں ایک چوکھٹ بنا کر اس کے بیچ ایک بڑا سا فوجی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے عین نیچے  " گمشدہ فوجی"  کی قبر ہے اس پر پھول  چڑھے ہوتے  ہیں اور اطراف میں دومسلح فوجی ساکن پہرہ دے رہے ہیں ، انکے سامنے دو ستونوں پر آتشدانوں میں آگ جل رہی  ہے جبکہ دنوں ستونوں پر دو سطروں میں لکھا ہوا ہے " پردیس میں پائے جانے والے اطالویوں اور مادر وطن کے نام"۔

اطراف میں سیڑھیاں ہیں جن سے آپ اوپر کی منزل پر جاتے ہیں، بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ اٹلی کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے  مجسمے ترتیب سے نصب ہیں۔
دائیں ہاتھ ھال سے آپ اندر جاتے ہیں اور درحقیت یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے پہلی منزل پر استقبالیہ اور دوسری منزل پر
جہاں سے آپ جھانک کر پہلی منزل کو بھی دیکھ سکتے ہیں ، پر اطالوی نشاط ثانیہ کا میوزیم موجود ہے، جسکے اندر توپیں اور جنگی ہتھیار رکھے ہوئے ۔ جبکہ دائیں ہاتھ میں آپ باہر چھت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور ارد گرد شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں، ایک طرف آپ کو پاپائے روم کے محلات تو پچھلی طرف  قیصر روم کے زمانے کے محلات و کھنڈرات دکھائی دینگے۔ جبکہ عمارت کے سامنے جدید روم ہے۔ جدید روم بھی بہرحال کافی پرانا ہے۔ ادھر قدیم و جدید میں یہ فرق ہے کہ 2ہزار برس یا اس سے قبل کی تعمیرات قدیم اور پانچ سات سو برس والی عمارات جدید ہیں۔
 تو جنابو، یہ قیصر روم کا محل جو ہے یہ روم کے تینوں ادوار کے بیچ میں  پیاسا وینزیا  کے مقام پر کھڑا ہے، پیچھے قدیم سلطنت روم کے کھنڈرات اور دائیں طرف پاپائے روم کے پاپائی محلات،  بائیں جانب medioevo  کے زمانے کے محلات ہیں، بس اس مرکزی مقام پر بہت سی medioevo کے زمانے کی عمارات کو گرا کر یہ  شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ آج اطالیہ میں ہونے والی قومی دنوں کی تقریبات اور پریڈ وغیرہ اسی عمارت کے سامنے ہوتی ہے، صدر صاحب کا قوم سے خطاب بھی ادھر سے ہی ہوتا ہے
اوپر کے برآمدے میں جانے کا ہمارے پاس وقت بھی نہ تھا اور بارش کے باعث حوصلہ بھی۔  بہرحال بہت صاف ستھرا  لشک پشک قسم کا ماربل کا کام اندھے کو بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بلکل ایسے ہی عمارت کے سامنے والے اوپر ٹیرس کی طرف جانے کا بھی نہ سوچا۔ سنا ہے کہ لفٹ کا کوئی  "جغاڑ " بھی ہے۔ وللہ اعلم ، آپ کوشش کر لینا موقع ملا تو۔ یا پھر صبر کریں کہ اگلی بار کبھی ہمارا چکر لگا اور قت بھی ہوا تو ۔


اگر آپ کو مذید  طالبعلمی  کا  "چسکا"  چڑھا ہوا ہے تو " سائیں گوگلو" سرکار سے رجوع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے علم میں مذید اضافہ ہوسکے۔  ۔


تبدیلی Chang

بہت کچھ تبدیل ہو سکتا تھا ،   نئے چہرے لائے جانا ایک بڑی تبدیلی ہوتی، نوجوان قیادت ہوتی،  چالیس برس سے اوپر کے کسی بندے کو ٹکٹ نہ ملتی کہ یہ لوگ اپنے پانچ سال کے مقامی حکومتوں میں تجربے  کو اور مقامی مسائل کو سمجھ کر آگے لے جا سکتے تھے۔
تبدیلی  یہ ہوتی کہ سب لوگ نئے ہوتے، چہرے نہیں بلکہ نئے، ایسے لوگ  جو پہلے سے ہی مشہور اور کرپٹ سیاہ سی خاندانوں کے سپوت نہ ہوتے۔
تبدیلی یہ ہوتی کہ یہ سارے لوگ پڑھے لکھے ہوتے،  اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ آگے آتے۔ جو اپنے  علم اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے  عوام کے مسئلے  حل کرتے۔
پرانی "سیاہ سی"  پارٹیوں سے تو امید کم ہی  رہی ہے مگر تحریک انصاف خاص طور پر اس بات کا نعرہ لگاتی رہی ہے، اور انکے "چالے" دیکھ  دیکھ کہ ہم یہ کہتے رہے کہ یہ بھی ایک سیاہ سی پارٹی ہے، باقیوں کی طرح۔ ہم دیکھتے رہے کہ وہی مچھلیں ایک مرتبان سے دوسرے میں چھلانگیں مارتی رہیں۔ 


صرف نعروں  سے تبدیلی نہیں آتی، اگر ایسا ہوتا تو سب سے بہترین نعرہ   پیپلز پارٹی کا تھا، "روٹی ، کپڑا اور مکان"۔ مگر چونکہ یہ صرف ایک نعرہ ہی رہا عملی کام کچھ بھی نہ ہوا ، تو جنابو موقع ملتے ہی عوام  نے اس پارٹی کا دھڑن تختہ کردیا۔ بھٹو "زندہ  ہے " کا نعرہ دب گیا ہے۔ اب تبدیلی اگر صرف آسکتی ہے تو تو وہ ہے کچھ کرنے سے، دوسروں پر تنقید ضرور کرو، مگر خود بھی کچھ کرو، تاکہ جو دوسرا کچھ کررہا ہےاسکو اپنے نمبر بنانے کو کچھ بڑا کرنا پڑے۔
کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا۔ 
کا بیٹا، کا بھتیجا، کا بھائی، کا کزن ، ہی ناظم بنا،
تحریک انصاف سمیت باقی پارٹیوں کا بھی حال ایک سا ہی رہا باوجود ناامیدی کے ایک بار پھر بہت دکھ ہوا۔ 

پاؤں کی پھپھوندی یا فنگس fungus

پاؤں کی پھپھوندی یا فنگس FUNGUS

اسے ایتھیلیٹ فٹ یا کھلاڑی کا پاؤں بھی کہا جاتاہے۔  اسکے علاوہ اسکا ایک اور نام  tinea pedis   بھی ہے، یہ ایک جلدی بیماری ہے جو  پاؤں کی جلد میں بہت عام پائی جاتی ہے۔  اس میں پھھپوندی یا  fungus  پاؤں کی انگلیوں کی بیچ کی نرم جلد میں یاپھر پاؤں کی جلد کے مردہ خلیات میں پرورش پاتی ہے۔  اسکی وجہ سے پاؤں کا پھٹ جانا، خراش، خارش وکھجلی، زخم اور آبلے پڑنے جیسی تکالیف سامنے آتی ہیں۔  جبکہ ناخن بھربھرے ہوکر خراب اور بدشکل ہوسکتےہیں۔





یہ بیماری کیوں ہوتی ہے؟ اسکی وجہ فنگس یا پھپھوندی ہے، جسکےلئے بنیادی طور پر دستیاب ماحول  پاؤں میں ہوتا ہے۔ جس میں گرمائش اور نمی کا اہم کردار ہے۔ جوتوں میں، جرابوں میں  یا پھر  سوئمنگ پولز میں اور لاکررومز میں پرورش پاتی ہے۔ اسکے علاوہ پبلک باتھ رومز اسکوپھیلانے کا اہم ذریعہ ہیں۔  یہ عمومی طورپر ان افراد میں نمودار ہوتی ہے جو بند جوتے اور پبلک باتھ رومز یا عوامی غسلخانے استعمال کرتےہیں۔

پاؤں کی فنگس کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟

اسکی وجہ بہت خوردبینی قسم کے فنگس ہیں۔ جو پاؤں، ٹانسلز، دانتوںاور مسوڑوں،  بالوں  کے مردہ خلیات میں پرورش پاتے ہیں، اسکے علاوہ جلد میں کہیں پر بھی مردہ خلیات موجود ہوں تو یہ وہاں پر باآسانی پرورش پاسکتے ہیں، ناخن اس انفیکشن کا اہم شکار ہوسکتے ہیں۔ چارقسم کی فنگس اس ایتھلیٹ فٹ کا باعث بنتی ہیں جن میں سے trichophyton rubrumسب سے عام ہے ۔

پاؤں کی فنگس کی علامات کیا ہوسکتی ہیں؟؟ یوں تو اسکی بہت سی علامات ہوسکتی ہیں، جو ایک فرد سے دوسرے فرد میں مختلف ہوسکتی ہیں پھر بھی کچھ عام معلومات بیان کردی جاتی ہیں۔ ·        پاؤں کی جلد کا کھچاؤ، جلد کا پھٹ جانا، جلد کا سخت ہوجانا  اور پاؤں کی جلد پر سے چھلکے اترنا وغیرہ ·        سرخی اور آبلے  بن جانا، اسی طرح پاؤں کے تلووں کی جلد کا نرم ہوجانا اور پھٹ جانا  اور زخم بن جانا۔ ·        خارش ، جلن پھر دونوں ہی۔



پاؤں کی فنگس یا ایتھیلیٹ فٹ کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں؟

اسکی تین قسمیں ہوتی ہیں۔

·        انٹرڈیجیٹل یا انگلیوں کےدرمیان ہونے والی انفیکشن۔  اسکے toe web infection   بھی کہا جاتا ہے، یہ بہت عام قسم ہے اور اکثروبیشتر  لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ  انگلیوں کے درمیان سے شروع ہوتی ہے، اس میں علامات  کھجلی یا خارش کا ہونا،  جلد کا پھٹ جانا اور  چھلکے اترنا ہوتی ہیں، یہ پاؤں کی چھوٹی انگلیوں کے درمیاں سے شروع ہوکر پورے پاؤں کی جلد پر پھیل جاتی ہے یا پھیل سکتی ہے


·        مکیشن ٹائپ فنگس moccasion اس قسمی کی انفیکشن کی بڑی علامت ہیں کجھلی، خارش ک ہونا، جلد کا خشک ہوجانا اور جلد کے چھلکے اترنا، یہ معمولی سی خراش سے شروع ہوسکتی ہے اور پورے پاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اور جیسے مکیشن جوتا پاؤں کے ارد گرد ہوتا ہے ایسے ہی یہ پاؤں کے نیچے کی جلد کے علاوہ پہلوکی جلد کو بھی متاثرکرسکتی ہے۔

·        ویسیکولر vesicular قسم کی فنگل انفیکشن گوکہ بہت عام نہیں پائی جاتی مگر پھر بھی کافی حدتک دیکھنے میں آتی ہے۔ اس میں اچانک پاؤں کی جلد کے اندر آبلے یا چھالے سے بن جاتے ہیں، اور ان میں سے سفید بلکہ بےرنگ سیال خارج ہوتا ہے، شدیدکھجلی، خراش اور زخم بھی بن سکتے ہیں ۔ عام طورپر یہ چھالے پاؤں کے نیچے سے شروع ہوتے ہیں اورپھر پھیلتے ہوئے جسم کے کسی حصہ کی جلد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں ۔ اسکے علاوہ یہ انگلیوں کے درمیان، پاؤں کے تلوے اور پاؤں کے اوپر کی طرف بھی نمودار ہوسکتے ہیں۔





پاؤں کے فنگس کی تشخیص کیسے ہوگی؟ پاؤں میں اگر کھجلی یا خارش ہورہی ہے ، یا ابلے بنے ہیں، یا پھر چھلکے اتر رہے ہیں تو لازمی نہیں ہے کہ اس  کی وجہ فنگس ہی ہو، بہترین طریقہ اسکا خوردبینی چیک آپ ہے۔ آپ اپنے ڈاکٹر کے پاس جائیں وہ خشک جلد کو کھرچ کر اسکا خوردبینی مشاہدہ کرے گا اور فنگس یا پھپھوندی کی موجودگی  کے آثار تلاش کرے گا۔

فنگس کا علاج کیسے کیا جائے گا؟؟ اسکےلئے عمومی طور پر ہرطریقہ علاج میں مقامی استعمال کی ادویات دستیاب ہیں، انکے استعمال کرنے سے  اس فنگس سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔ بعض اوقات  مریض کی صورت حال زیادہ خراب ہونے کی ضرورت میں اندرونی طورپر بھی دوا کا استعمال کروایا جاتا ہے۔


پاؤں کے فنگس  ایتھلیٹ فٹ سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟ پبلک باتھ رومز میں، جوتے پہن کرنہایا جائے۔ جرابیں روز کے روز تبدیل کی جائیں ایسے جوتے استعمال کئے جائیں جو سانس لیتے ہیں، مطلب جن میں ہوا داخل ہوتی رہتی ہے GEOXNنامی کمپنی اس بارے بہت ایکسپرٹ ہے۔ ہرروز پاؤں کو صابن اور پانی کے ساتھ دھویاجاوے۔ پاؤں کو باقاعدہ طور پر خشک کیاجائے اور ہوا لگوائی جائے۔

یہ جو وضو کے دوران انگلیوں مین مسح کرنے کا بیان ہے میرے خیال سے اس فنگس سے بہت حدتک محفوظ رکھ سکتا ہے۔


اصطلاحات terminology پھپوندیFungus ،  خوردبینی   microscopic   ،   کھجلیitching،  خارش، آبلے یا چھالےblisters، چھلکے scals ،  بدشکل mis-shaped۔  ایتھلیٹس فٹathlete’s foot ، زخمsores، 
اگر آپ کو اس بارے کچھ مذید معلومات یا وضاحت درکار ہو تو کمنٹ میں لکھ دیں، جواب دینے کی پوری کوشش کی جائے گی۔



حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ کا خطبہ خلافت

حضور ﷺ کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد دوسرے روزمسجد میں بیعت عامہ ہوئی، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ممبر پر بیٹھ کر ان الفاظ میں اپنے طرز عمل کی توضیح فرمائی: یا ایہاالناس! فانی قد ولّیت علیکم و لست بخیرکم فان احسنت فاعینونی و ان اسأت فقومونی، الصدق امانۃ و الکذب خیانۃ والضعیف فیکم قوی عندی حتی ازیح علیہ حقہ انشاء اللہ ، والقوی فیکم ضعیف عندی حتی اٰخذ الحق منہ انشاء اللہ، لا یدع قوم الجھاد فی سبیل اللہ الا ضربھم اللہ بالذل ، ولا تشیع الفاحشۃ فی قوم الا عممھم اللہ بالبلاء و اطیعونی ما اطعتُ اللہ و رسولہ فاذا عصیت اللہ و رسولہ فلا طاعۃ لی علیکم فقومولی صلاتکم یرحمکم اللہ ۔ (۸) "صاحبو! میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں ، حالانکہ میں تم لوگوں میں سب سے بہتر نہیں ہو،اگر میں اچھا کروں تو میری اعانت کرو اور اگر برائی کی طرف جاؤں تو مجھے سیدھا کردو، صدق امانت ہے اور کذب خیانت ہے، انشاء اللہ تمہارا ضعیف فرد میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک میں اس کا حق واپس دلادوں ، انشاء اللہ اور تمہارا قوی فرد بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق دلادوں ، جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑدیتی ہے اس کو خدا ذلیل و خوار کردیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری عام ہوجاتی ہے خدا اس کی مصیبت کو بھی عام کردیتا ہے، میں خدا اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو، لیکن جب خدا اور اس کے رسولﷺ  کی نافرمانی کروں تو تم پر اطاعت نہیں ، اچھا اب نماز کے لئے کھڑے ہوجاؤ، خدا تم پر رحم کرے"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو صاحبو میں نے ادھر لکھ دیا یاد دہانی کےلئے بغیر کسی ترمیم و اضافہ کے، تاکہ بار بار پڑھتا رہوں اور سمجھ آتی رہے کہ ہمارے دین کی حکمرانی کیا ہے اور حاکمیت کیا ہے۔  رضی اللہ عنہ

Pages