امتیاز خان

عاقب 15روز قبل عسکری میدان میں کود پڑا تھا

عید الفطر سے قبل عاقب کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ عنقریب وہ اس دنیا کو خیر باد کہنے والا ہے۔مہاراشٹر کے شہر پونے میں بی ٹیک میں ایک سال پڑھائی کرنے کے بعد اُس نے ناگام چاڈورہ میں دوکان کھولی اور اپنے والدین کی کفالت کرنے لگا۔عاقب نے صرف 15روز قبل عسکریت میں شمولیت اختیار کی تھی اور منگل کی شام جب فورسز نے اُس مکان کو گھیرا جس میں عاقب اپنے دو ساتھیوں سمیت پھنسا ہوا تھا تو اُس نے اپنی ماں کو فون پر یہ روح فرسا خبر سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ سرنڈر نہیں کرے گا۔
23سالہ محمد عاقب گل ولد غلام الدین ڈار ساکن عثمانیہ کالونی غوری پورہ صنعت نگرمنگل اور بدھ کی درمیانی رات کو رڈبگ مکہامہ ماگام میں فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں اپنے دو ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوا۔عاقب نے 12ویں جماعت پاس کرنے کے بعد پونے مہاراشٹر کے ایک کالج میں بی ٹیک میں داخلہ لیا تھالیکن ایک سال بعد ہی اُس نے نہ صرف پونا کو خیر باد کہہ دیا بلکہ تعلیم جاری رکھنے کا سفر بھی ترک کیا ۔عاقب کے لواحقین کے مطابق وہ انتہائی ذہین اور شریف بچہ تھا ۔عاقب کے ایک قریبی رشتہ دار نے کہا کہ عاقب کو کاروبار کی طرف مائل پاکر اُس کے والد نے اُسے حوصلہ افزائی کی اوراس ہونہار بچے نے ناگام چاڈورہ میں ہارڈ ویئرکی دوکان کھولی،جہاں وہ اچھی کمائی کررہا تھا۔ مذکورہ نوجوان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ عیدالطفر کے دوسرے دن یعنی27جون کو وہ اچانک غائب ہوگیا اور انہیں کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں گیا اور کیوں گیا۔انہوں نے کہا کہ بسیار تلاش کرنے کے باوجود جب کوئی اتہ پتہ نہیں چلا تو انہوں نے مقامی اخبارات میں اشتہار دے دیاجس میں عاقب سے گھر واپس لوٹنے کی گذارش کی گئی تھی۔ تاہم اشتہار شائع ہونے کے ایک ہفتہ بعد بعد منگل کی شام کو عاقب کی ماں کا فون بج گیا جو اِس ماں کیلئے کسی قیامت سے کم ثابت نہ ہواکیونکہ اُس نے علیک سلیک کے بعد ماں کو یہ روح فرسا خبر سنائی کہ وہ اپنے دو ساتھیوں سمیت رڈبگ (مکہامہ)میں ایک مکان کے اندر پھنسا ہوا ہے۔یہ خبر سنتے ہی ماں پر سکتہ طاری ہوا تاہم 15روز قبل عسکری میدان میں قدم رکھنے والے اِس نوجوان نے ماں کو ہمت کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ’’ماں ایسا محسوس ہورہا کہ میں زندگی کے آخری لمحات گن رہا ہوں لیکن مجھے بہت خوشی ہورہی ہے کہ میں شہادت کا جام پینے جارہا ہوں۔ماں فوج ہمیں سرنڈر کرنے کا مشورہ دے رہی ہے لیکن ہم سرنڈرکے بجائے موت کو ہی ترجیح دیں گے‘‘۔اس جملے کے ساتھ ہی فون کٹ گیا۔فون کٹنے کے ساتھ ہی ماں زاروقطاررونے لگی اور گھر میں ماتم چھاگیا۔عاقب کے والد غلام الدین ڈار اور اُن کے کئی عزیز و اقارب اُسی وقت اُس علاقے کی طرف دوڑ پرے جہاں جھڑپ جاری تھی تاہم انہیں گاؤں کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔رات بھر انتظار کرنے کے بعد بدھ کی صبح پولیس نے انہیں عاقب کی لاش سونپ دی اور8بجے صبح وہ لاش لیکر اپنے گھر پہنچے جہاں پہلے ہی سینکڑوں لوگ عاقب کے آخری دیدار کیلئے منتظر تھے۔گھر میں اپنے عزیز و اقارب کو آخری دیدار کروانے کے بعد اُسے جلوس کی صورت میں جامع مسجد غوری پورہ کے صحن میں پہنچایا گیاجہاں اُس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔یہاں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد عاقب کو فلک شگاف نعروں کے بیچ حیدرپورہ چوک پہنچایا گیاجہاں ایک مرتبہ پھر نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اپنے محلے کے ہی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔


راجپورہ کا غریب کنبہ اپنے محنت کش بیٹے سے محروم

Altaf Rajporaراجپورہ (پلوامہ)//گھر سے بازار چاول لانے گیا تھا لیکن واپس نہ لوٹا اور راستے میں ہی فورسز کی گولیوںکا شکار ہوکر ابدی نیند سوگیا ۔یہ کہانی راجپورہ پلوامہ کے 18سالہ الطاف احمد راتھر کی ہے،جو پیشے سے ٹریکٹرڈرائیور تھا۔اپنے والد کی صحت اورگھر کی معیشی حالت مدنظر رکھتے ہوئے الطاف نے 12سال کی عمر میں ہی تعلیم کو خیر باد کہہ دیا اور مزدوری شروع کی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الطاف نے ٹریکٹر چلانا سیکھ لیا اورآج اُسے ٹریکٹر چلانے کیلئے ماہانہ4ہزار روپئے تنخواہ ملتی تھی۔اپنی کم تنخواہ،گھر کی کمزورمالی حالت،اپنے لاغروالداور چھوٹی بہن کی صحت کے پیش نظروہ نہ صرف ٹریکٹر چلاتا تھا بلکہ اُسے لوڈ اور اَن لوڈکرنے کا کام بھی خود ہی کرتا تھا جس کیلئے اُسے مزیدمزدوری مل جاتی تھی۔الطاف جولائی کی9تاریخ کو اُس وقت شدید زخمی ہوا تھا جب حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعدراجپورہ میںہزاروں لوگ سڑکوں پر آئے اوراسلام اور آزادی کے حق میںنعرے بلند کرتے ہوئے پلوامہ کی طرف بڑھنے لگے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جونہی احتجاجی مظاہرین بیلو نامی گائوں کے چوک میںپہنچ گئے تووہاں موجود سی آر پی ایف نے اُن پربے تحاشہ پیلٹ اور ٹیئرگیس شلنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین شدید زخمی ہوگئے جن میں الطاف بھی شامل تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ الطاف کی چھاتی میں پیلٹ پیوست ہوگئے اور مظاہرین نے انتہائی جرأت کا مظاہرہ کرکے چندزخمیوں کوضلع ہسپتال پلوامہ جبکہ شدید زخمیوں کو صدر ہسپتال سرینگر منتقل کیا جن میں الطاف بھی شامل تھاتاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ الطاف کے والد محمد اکبر کا کہنا ہے ’’ ہمیں ساڑھے دس بجے رات کو پتہ چلا کہ الطاف کو زخمی حالت میں صدر ہسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم ہسپتال بھی نہیں پہنچ سکے کیونکہ ٹرانسپورٹ کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔پوری رات آنکھوں میں کاٹنے کے بعد10جولائی کی صبح کسی نے فون پہ یہ دلدوز خبر دی کہ الطاف زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا‘‘۔الطاف کی 15سالہ بہن رُبی جان نے روتے بلکتے کہا ’’سنیچر ایک بجے تک وہ گھر پر ہی تھا اور ایک بجے ماں نے اُسے کہا کہ گھرمیںچاول ختم ہوگیا ہے اوروہ فوراً چاول لینے کیلئے بازار نکلا لیکن واپس نہیں آیا‘‘۔اپنے بھائی کی یاد میں نڈھال بہن نے کہا ’’میرا بھائی مجھے بے حد پیا رکرتا تھا ،گذشتہ سال میں بہت زیادہ بیمار رہی لیکن اُس نے دن رات ایک کرکے میرا اچھے سے اچھا علاجہ و معالجہ کرایا اور کبھی غربت کا احساس نہیں ہونے دیا‘‘۔ اپنی بیٹی کے آنسو پونچھتے ہوئے محمد اکبر نے کہا’’گھر کی مالی حالت دیکھ کر میرے بیٹے نے بچپن میں سکول جانے کے بجائے مزدوری کا راستہ اختیار کیا اورجونہی جوانی میں قدم رکھا تو ایک نیا مکان تعمیر کرنے کا خواب بُنتا رہا ‘‘۔محمد اکبر نے مزید کہا’’بغیر چھت کے چار کمروں پرمشتمل وہ مکان بالآخر تعمیر ہوالیکن جس بچے نے اِسے تعمیر کرنے کیلئے نہ صرف دن رات خون پسینہ ایک کیا بلکہ بنک سے 90ہزار کا قرضہ(کے سی سی لون)بھی لیا ،آج خود زیرزمین ہے‘‘۔ ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے اِس غمزدہ باپ نے کہا’’ یوں سمجھ لیجئے کہ میرے بیٹے نے بچپن دیکھا نہ جوانی ‘‘۔ گھر کے سبھی افراد خانہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے بعد الطاف ہی اُن کا واحد سہاراتھا۔ مرحوم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ الطاف انتہائی محنتی اور تابعدار بچہ تھا۔ ایک پڑوسی نے کہا ’’اس بچے نے نہ صرف اپنے کھیل کود کے ایام ،بچپن اور تعلیم کو اپنے والدین اوربھائی بہن پر قربان کیا بلکہ اپنی چڑھتی جوانی کو قوم پر قربان کرکے نیک صفت ہونے کا ثبوت پیش کیا‘‘۔


سوئیبگ میں فوجی اہلکاروں کی ہڑبونگ

حزب سپریم کمانڈر سیدصلاح الدین کے آبائی گاؤں سوئیبگ اوردہرمنہ میں اُس وقت قیامت صغریٰ برپا ہوئی جب مقامی آبادی کے مطابق فوجی اہلکاروں نے بلا لحاظ عمر و جنس لوگوں کی شدیدمارپیٹ کے بعدمتعددرہائشی مکانوں،نجی گاڑیوں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کی۔مقامی لوگوں کے مطابق دہرمنہ میں قائم 2آرآرفوجی کیمپ سے وابستہ اہلکاروں نے متعدد رہائشی مکانوں ،دکانوں اور نجی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ کئی نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جن میں ساتویں جماعت کے تین طالب علم بھی شامل ہیں،جن میں سے ایک طالب علم شوکت احمد ملک کو نیم مردہ حالت میں رہا کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ شوکت جہلم ویلی کالج (جے وی سی)میں زیر علاج ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہیں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے رہائشی مکانوں میں گھس کرمال و اسباب لوٹنے کے بعد خواتین کے ساتھ بھی دست درزای کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں پورے گاؤں کے لوگ سڑکوں پر آگئے اور رات بھر احتجاجی مظاہرے کئے۔ واضح رہے کہ ریفرنڈم مارچ اور یوم پاکستان کے موقعہ پرعلاقے میں سبز ہلالی جھنڈے نصب کئے گئے تھے اوردہرمنہ میں قائم2آر آر کیمپ سے وابستہ اہلکاروں نے اتوارکی دوپہر اِن جھنڈوں کو اتاردیا تھا۔مقامی لوگوں کے مطابق حریت پروگرام کے مطابق علاقے میں سبز ہلالی جھنڈے نصب کئے گئے تھے جن میں کئی ایک پر کلمہ طیبہ بھی درج تھا۔انہوں نے کہا کہ فوج نے جھنڈا اتارنے کے بعد اْن کی بے حرمتی کی جس کے نتیجے میں نوجوان مشتعل ہوگئے اور گاؤں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں جس دوران فوج نے مظاہرین پر راست فائرنگ کی اورکئی نوجوان شدید زخمی ہوگئے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج فائرنگ کرنے کے بعد گاؤں میں داخل ہوئی اور انہوں نے توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ مکینوں کا بھی زدوکوب کیا۔معلوم ہوا ہے کہ اس صورتحال کے بعد دہرمنہ ،سوئیبگ اور دیگر مضافاتی علاقوں میں لوگ مشتعل ہوگئے اور وہ فوج کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔اطلاعات کے مطابق سوموار کو فوج نے علاقے میں ایک بارپھر اُس وقت قیامت صغریٰ بپا کی جب انہوں نے گاؤں میں گھس کرمتعدد رہائشی مکانوں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کی۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ فوج نے 12دوکانوں کے شیٹر توڑکر اُن میں موجود اشیاء کو لوٹ لیا۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر چاول اور تیل سیاہ سمیت قیمتی اشیاء لوٹ لیں جن میں سونے کے زیورات ، لیپ ٹاپ اور شال شامل ہیں۔انہوں نے فوج پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی رہائشی مکانوں میں گھس کر واشنگ مشینیں ، فرج اور ٹیلی ویژن بھی توڑ دئے اور حد یہ ہے کہ غسل خانوں میں موجود نل بھی اکھاڑ دئے۔انہوں نے کہا کہ 9ماروتی گاڑیوں،3ٹاٹا موبائل گاڑیوں اور6موٹر سائیکلوں کی توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔سوئیبگ کے ایک باشندے نے بتایا ’’بلال احمد نامی ایک شہری ،جو ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا ہے اور چند روز قبل کرگل میں کام کرتے ہوئے کھمبے سے گر کر زخمی ہوا تھا اور کئی روز تک شیر کشمیر میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زیر علاج رہنے کے بعد گھر بیج دیا گیا اور اس وقت اپنے گھر پر صاحب فراش ہے ،کو اُس بیڈ کے سمیت باہر پھینک دیا گیا جس پر وہ دراز تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے بعد گاؤں کے ہزاروں لوگ سڑکوں پر آئے اور احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین رات بھر سوئیبگ چوک میں اسلام اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے رہے۔مظاہرین دہرمنہ میں قائم فوجی کیمپ ہٹانے کا مطالبہ کررہے تھے۔واضح رہے کہ سوئیبگ ضلع بڈگام کا ایک بہت بڑا گاؤں ہے جو 32محلوں پر مشتمل ہے ۔گاؤں میں مساجد کی تعداد 35ہے اور آبادی25ہزار کے قریب ہے ۔کئی لوگوں نے بتایا کہ بونہ پورہ سوئیبگ میں فوجی اہلکاروں نے خواتین کے ساتھ بھی دست درازی کی کوشش کی جو احتجاج کیلئے ایک خاص وجہ بنی۔انہوں نے کہا کہ فوج نے بونہ پورہ میں حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کے رہائشی مکان کی توڑ پھوڑ بھی کی ۔


رواں جدوجہد میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں/گیلانی،میرواعظ

مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق نے رواں جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ کشمیری ایک باغیرت قوم ہے جس نے 70سال سے بھارت کے قبضے کو کبھی قبول نہیں کیا ہے۔مذکورہ قائدین کے مطابق بھارت حقائق کو نظرانداز کرکے جموں و کشمیر میں جبروتشدد کا اراستہ اختیار کئے ہوئے ہے اورنہتے لوگوں کے پُرامن پروگرام ناکام بنانے کیلئے انسانی اور جمہوری اقدار کو پامال کرنے میں مصروف عمل ہے۔ریفرنڈم مارچ کے پیش نظرپولیس نے سنیچر کومزاحمتی قائدین سید علی گیلانی اور میرواعظ محمد عمرفاروق کوگرفتار کرکے مقامی تھانوں میں بند کردیا۔واضح رہے کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے اپنے تازہ احتجاجی کلینڈر میں عوام سے اپیل کی تھی کہ 13اور14اگست کوہر محلے، گاؤں، تحصیل اور ضلع صدر مقامات سے لالچوک کی جانب ریفرنڈم مارچ نکالیں۔پروگرام میں مزید کہا گیا تھا کہ اگر لالچوک کی جانب پیش قدمی کرنے سے روکا گیا تو اتوار شام تک وہیں بیٹھ کر پْر امن احتجاج کیاجائے۔ مجوزہ ریفرنڈم مارچ کے پیش نظر حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی جونہی اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے تو وہاں پہلے سے موجود پولیس کی ایک بھاری جمعیت نے انہیں لالچوک کی طرف پیش قدمی سے روکا جس کے بعد موصوف نے پروگرام کے تحت اپنے کارکنوں کے ہمراہ آدھے گھنٹے تک سڑک پراحتجاجی دھرنا دیا۔یہاں مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ،جن پر گو انڈ یا گو بیک اور آزادی کے حق میں نعرے درج تھے ۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے حریت چیئرمین کومسلسل دھرنادینے کی اجازت نہیں دی اور گرفتار کرکے پولیس تھانہ ہمہامہ منتقل کیا۔گرفتاری سے قبل گیلانی نے کہا کہ تنازعہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر ایک منظور شدہ متنازعہ مسئلہ ہے اور اس کی قراردادوں پر خود بھارت کے دستخط بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب بھارت طاقت کے نشے میں بدمست ہوکر ٹھوس حقائق کو نظرانداز کرکے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔گیلانی نے کہا کہ دلی میں منعقد ہوئی آل پارٹی میٹنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چار گھنٹے کی طویل میٹنگ میں حقیقت کو نظرانداز کیا گیااور حقیقت یہ ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کے حل کی خاطر جموں و کشمیر کے عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے آزادی حاصل کرنے کیلئے جموں و کشمیر کے عوام نے 6لاکھ سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔انہوں نے ریفرنڈم مارچ پر پولیس کی پابندیوں کو غیر اخلاقی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں۔انہوں نے کہا ’’میں کشمیر ی قوم بالخصوص بزرگوں، ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کے بلند حوصلہ کیلئے انہیں مباکباد دیتا ہوں ۔انہوں نے رواں جدوجہد کو کشمیریوں کی اپنی تحریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے پولیس زیادتیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بجبہاڑہ میں ارشد خان نامی ایک پولیس افسربھی جبروتشدد کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے ۔ لالچوک چلو پروگرام کے تحت حریت (ع) چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق نے جب اپنی نظر بندی توڑ کر گھر سے نکلنے کی کوشش کی تو موقعے پر موجود فورسز اور پولیس کی بھاری جمعیت نے مشترکہ کارروائی کر کے میرواعظ کو گرفتار کر لیا اور مقامی تھانے میں بند کر دیا۔ گرفتاری سے قبل انہوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ’’ حکومت ہمارے ہر پُرامن پروگرام کو طاقت کے بل پر ناکام بنانے کیلئے تمام مسلمہ جمہوری اصولوں اور قدروں کو پامال کر کے ہماری پُرامن آواز کو دبانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حق و انصاف پر مبنی جدوجہد کسی بیرونی قوتوں کے ایما یا اشاروں پر نہیں بلکہ کشمیری عوام اپنے بل بوتے پر 1931 سے چلارہے ہیں اور اس کیلئے ہر طرح کی جانی و مالی قربانیاں دی جا رہی ہیں جسے خود بھارت سمیت پوری دنیا دیکھتی اور محسوس کرتی ہے۔ میرواعظ نے کہا ’’حکومت ہندکہتی ہے کہ کچھ گمراہ عناصر کشمیر میں تحریک چلارہے ہیں تو آج ایک سنہری موقع تھا کہ ہمیں ریفر نڈم کا موقعہ دیا جاتا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجاتا‘‘۔میرواعظ نے کہا کہ دراصل حکومت ہند ایسا کہہ کر خود اپنے ہی عوام اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت کی بنیاد پر رائے شماری کا موقعہ فراہم کرے اور یہ دیکھا جائے کہ کشمیری عوام بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ یا پھر آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ میرواعظ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ’’ جموں کشمیر کے عوام کو جب تک اپنا آئینی اور پیدائشی حق ’حق خودارادیت‘ فراہم نہیں کیا جاتا ہماری پُرامن جدوجہد ہر قیمت پر جاری وساری رہے گی‘‘۔


جامع مسجد سرینگر نرغے میں،مسلسل5ویں مرتبہ نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن

12کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ کے طویل عرصے سے سخت ترین کرفیو اور جاری احتجاجی لہر کے بیچ مسلسل پانچویں مرتبہ سرینگر کی مرکزی جامع مسجدمیں پولیس نے نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔کرفیو کے ان ایام میں پانچ وقت کی نمازوں پربھی قدغن عائد رہی۔ واضح رہے کہ 8جولائی کی شام حزب کمانڈر برہان وانی کواپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ جاں بحق کیا گیا ۔پولیس نے اُن کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے ساتھ ہی جامع مسجد کو حصار میں لے لیا اورتب سے لیکر آج تک نہ صرف جمعہ بلکہ پانچ وقت کی نمازوں پر بھی مکمل قدغن ہے۔اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت نے 29جولائی(جمعہ) کوجامع مسجد چلنے کی اپیل کی تھی جس کو پولیس نے ناکام بنایا۔جامع مسجد کے نزدیک لوگوں کو جمع ہونے سے روکنے کے لئے اس کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سی آرپی ایف اور پولیس اہلکاروں کو تعینات رکھا گیا ہے۔جامع مسجدکے امام حی مولانا سید احمد سعید نقشبندی نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجدمیں نماز جمعہ پر پابندی عائد کرنے کومداخلت فی الدین سے تعبیر کیا ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ حکومت جان بوجھ کر عوام کو ان کے مذہبی فریضہ ادا کر نے سے روکتی ہے۔انہوں نے سرکاری اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو زبردستی بندوق کے زور پر نماز ادا کر نے سے روکنا نہ غیر جمہوری اور غیر آئینی ہے۔مولانا نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سے اپیل کی کہ کشمیر میں لوگوں کو مذہبی فریضہ انجام دینے سے روکنے اور معصوم نوجوانوں کی ہلاکتوں کا سنجیدہ نوٹس لیں‘‘۔یاد رہے کہ جامع مسجد میں لوگوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کی یہ روایت نئی نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی شخصی حکومتوں کے دوران وادی کی یہ تاریخی مسجد سیاسی عتاب کا نشانہ بنتی رہی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اْن دنوں یہ اقدام مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت کے طور پر کیا جاتا تھا اور آج حکومت امن و قانون کے نام پر لاکھوں لوگوں کو اس مسجد میں نماز کی ادائیگی سے باز رکھنے میں کوئی کوفت محسوس نہیں کرتی۔ جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ تاریخی اعتبار سے پہلی مرتبہ لاہور دربار کے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی تھی۔متحدہ مجلس علماء کے رکن مولانا سید الرحمان شمس ، جنہوں نے جامع مسجد کی تاریخ پر ایک کتابچہ بھی تحریر کیا ہے، کا کہنا ہے کہ ’’رنجیت سنگھ کے گورنر موتی رام نے پہلی مرتبہ 1819 میں جامع مسجد میں اذان اور نماز پر پابندی عائد کی، جو تقریباً 20 برس سے زائد عرصہ تک جاری رہی‘‘۔ شمس الرحمن کے مطابق مسجد کو ’’1842 میں کھولا گیا اور 11برس تک صرف نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی‘‘۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے ’’2008سے مسجد کو نماز کے لئے بند کرنا ایک عام بات بن گئی ہے، جو لوگوں کے مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت اور مسلمانوں کا اتحاد توڑنے کی کوشش ہے‘‘۔معلوم رہے کہ 2008کے امر ناتھ اراضی تنازعہ اور2010کی ایجی ٹیشن کے دوران بھی انتظامیہ نے ایسی ہی پابندیاں عائد کی تھیں اور کئی ہفتوں تک لوگوں کو اس تاریخی جامع مسجد میں نماز ادا کر نے سے روکا گیا۔ معروف مورخ پروفیسر محمد اسحاق خان کا کہنا ہے کہ شاہمیری سلطان زمین العابدین بڈشاہ کے والد سلطان سکندر نے یہ مسجد1389۔1420 میں تعمیر کی۔ کشمیر یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پرفیسر گل محمد وانی کا کہنا ہے ’’جہاں تک جامع مسجد کا تعلق ہے یہ مذہب و سیاست کا صحنہ ہے، جو 1947سے پہلے بھی موجود تھا۔ یہ متبادل سیاست اور متبادل سیاسی مباحثے کا مرکز رہا ہے، جس کا ثبوت 1947کے بعد 1953میں شیخ محمد عبداللہ کی گرفتاری، 1964میں موئے مقدس تحریک اور 1975میں اندرا عبداللہ ایکارڈ کے وقت کی سرگرمیوں سے ملتا ہے، جب مرحوم میرواعظ مولوی محمد فاروق نے جامع مسجد سے لالچوک تک تاریخی جلوس برآمد کیا تھا‘‘۔ پروفیسر موصوف کا کہنا ہے کہ جامع مسجد کے محاصرے کی کئی وجوہات ہیں: اول حکومت شہر میں سیکورٹی حالات کی خرابی سے گھبراتی ہے اور سرینگر میں واقع ہونے کی وجہ سے اس پر میڈیا کا زبردست فوکس رہتا ہے۔


کشمیر میں اخبارات کی اشاعت پر سرکاری قدغن

aaکرفیو زدہ کشمیر میں اتوار کو اخبارات کی اشاعت پر تین روز تک جاری رہنے والی سرکاری پابندی شروع ہوگئی۔ واضح رہے کہ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل ہیں جبکہ کیبل ٹی وی پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ریاستی حکومت نے سنیچر کو اخبار مالکان اور مدیران سے اگلے تین روز تک پابندی جاری رکھنے کی اطلاع دی جس کے بعد مدیران و مالکان نے حکومتی کارروائی کو’پریس ایمرجنسی ‘ قرار دیتے ہوئے اخبارات کی اشاعت روک دینے کا فیصلہ لیا۔اس سے قبل پولیس نے جمعہ اورسنیچر کی درمیانی شب اردو روزنامہ کشمیر عظمیٰ اورانگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر کے رنگریٹ کارپوریٹ آفس پر چھاپہ مارا اور کشمیر عظمیٰ کی پرنٹ شدہ کاپیاں اور گریٹر کشمیر کے پلیٹ ضبط کرنے کے علاوہ 3ملازمین کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے دیگر کئی اخباری دفاتر پر بھی چھاپے مارے اور اخبارات کی ترسیل و اشاعت پربھی پابندی عائد کردی۔جی کے کمیونکیشن کے کارپوریٹ آفس میں جمعہ اورسنیچر کی درمیانی رات 20پولیس اہلکار داخل ہوئے اور وہاں موجود کشمیرعظمیٰ کی50000کاپیاں ضبط کیں۔اس موقعے پر پولیس نے ملازمین کے موبائل فون بھی چھین لئے جبکہ مزاحمت کرنے پر تین ملازمین بشمول پریس انچارج بجو چودھری کو گرفتار کرکے تھانے پہنچایا گیا۔پولیس نے اس کے علاوہ دیگر کئی اخباری دفاتر اور پریس پر چھاپے مارے اور تیار شدہ اخباری کاپیاں ضبط کیں۔اس صورتحال پر مقامی اخبارات اور میڈیا سے وابستہ افراد میں زبردست بے چینی پھیل گئی اور سرکار کے اس اقدام کو پریس کی آزادی پر قدغن قرار دیا گیا۔سرکاری اقدام پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پریس کالونی میں مختلف اخبارات کے مالکان اور مدیران کی مشترکہ میٹنگ میں میڈیا قدغن پر سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور اسے پریس کی آزادی پر کاری ضرب سے تعبیر کیا گیا۔میٹنگ کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک سرکاری ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وادی میں جاری حالات کے تناظر میں اخبارات کی ترسیل ممکن نہیں ہے۔لہٰذا سرکاری حکم پر اخبارات کی اشاعت تا اطلاع ثانی بند رہے گی۔ سرکاری حکم نامے کے خلاف پریس کالونی میں پرنٹ میڈیا سے وابستہ مدیران اور نمائندوں نے دھرنا دیا اور زبردست احتجاج کیا۔اس موقعہ پر مدیران نے اعلان کیا کہ سرکاری موقف کی صورت میں اخبارات کی ترسیل و اشاعت ممکن نہیں ہے۔مدیران نے قارئین کو یقین دلایا ہے کہ جونہی سرکار پریس ایمرجنسی ختم کرے گی تو اخبارات کی اشاعت شروع ہوجائے گی۔ اخبارات کی اشاعت پر تین روزہ پابندی کے باعث وادی میں اتوار کو بیشتر اخباری دفاتر بند رہے، تاہم کچھ انگریزی اور اردو روزناموں نے اپنی ویب سائٹس پر تازہ ترین خبریں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اخبارات کی اشاعت اور تقسیم پر عائد پابندی کی وجہ سے ریڈیو کشمیر سرینگر اور دوردرشن پر اخباروں کی خبروں پر مبنی مارننگ پروگرام کی نشریات اتوار کو دوسرے روز بھی متاثر رہیں۔یاد رہے کہ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے دوران تاحال 42 افرادجاں بحق جبکہ2ہزار کے قریب دیگر زخمی ہیں۔


فورسزنے زخمیوں کو بخشا نہ تیمارداروں کو

حزب کمانڈر برہان وانی اور اْس کے دوساتھیوں کی ہلاکت کے بعد احتجاجی لہر کے دوران فورسزکی فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو سرینگر لانے کے دوران بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔جس زخمی کا گلو کوز چڑھایا گیا تھا وہ باہر پھینک دیا گیا اور تیمار داروں کی بھی شدید مارپیٹ کی گئی۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ زخمی شہریوں کو سرینگر پہنچانے سے قبل پولیس و فورسز کے بعض اہلکاروں نے راستے میں ہی بے تحاشا تشدد کا نشانہ بنایا۔حالانکہ 2010میں اس سے بھی بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا لیکن اس طرح کی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔اتنا ہی نہیں بلکہ صدر اسپتال میں شلنگ کی گئی۔تیمارداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ فورسز نے جنوبی کشمیر میں کئی مقامات پر نہ صرف زخمی افرادکو اسپتالوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے ایمبولنس گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی بلکہ اْن میں موجود افراد کی بھی شدید مارپیٹ کی۔سرینگر کے بیشتر ہسپتالوں میں داخل زخمیوں کے تیمارداروں نے بتایا کہ زخمیوں کو شہر منتقل کرنے کے دوران پانپور، نیوہ، سنگم اور کولگام میں پولیس اور فورسز نے نہ صرف وقت ضائع کیا بلکہ زخمیوں کے تیمارداروں کو انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ مقامی ہسپتالوں میں اگر کسی زخمی کو گلوکوز یا خون کی بوتل چڑھائی گئی تھی تو فورسز نے وہ بھی کاٹ دیں۔بجبہاڑہ کے ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پانپور میں ریڈکراس کی ایک گاڑی کی بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔مذکورہ شہری کے مطابق جب اْس نے ایک مقامی اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ کیوں زخمیوں کو بھی شہر پہنچنے نہیں دیتے ہیں تو اْس نے کہا’ ’ہمیں صاحب نے کہا ہے کہ اِن کی ہڈی پسلی ایک کردینا‘‘۔صدر اسپتال میں ایک زخمی کے تیماردار نے کہا ’’ہمیں دو مقامات پر فورسز نے ایمبولینس سے اْتارا اور شدید مارپیٹ کی ‘‘۔ ایسی ہی شکایات کوکرناگ، کولگام، سنگم، بجبہاڑہ، پانپور، پلوامہ اور شوپیاں سے سرینگر منتقل ہوئے تیمارداروں نے کی۔ برزلہ ہسپتال میں ایک ایمبولینس ڈرائیور نے کہا کہ وہ گولی لگنے سے شدید زخمی نوجوان کو سرینگر پہنچانے کیلئے جارہا تھا کہ سنگم بجبہاڑہ کے قریب سی آر پی ایف نے گاڑی کو روکا اورنہ صرف ایمبولینس کے شیشے توڑ دئے بلکہ ایمبولینس میں سوار زخمی نوجوان کے ساتھیوں کی شدید مارپیٹ کردی جس کے نتیجے میں کئی تیماردار بھی زخمی ہوئے۔ مذکورہ ڈرائیورکے مطابق سی آر پی ایف اہلکاروں نے اْسے بھی نہیں بخشا۔فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہوئے نوجوانوں کے عزیز و اقارب نے حکام سے اپیل کی کہ فورسز کو ایسی حرکات سے روکنے کیلئے ہدایات جاری کئے جائیں۔


بیشتر نوجوانوں کے کولہوں اور ٹانگوں میں گولیاں پیوست

MIXحزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی تشدد کی لہر میں جہاں 34 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں وہیں سینکڑوں افراد گولیاں اور پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے کئی ایک کی حالت اسپتالوں میں تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ ہڈیوں اور جوڑوں کے ہسپتال برزلہ میں 30زخمی نوجوان فی الوقت زیر علاج ہیں جن میں ایک18سالہ دوشیزہ بھی شامل ہے۔اکثرزخمیوں کے کولہوں میں گولیاں لگی ہیں جبکہ کچھ زخمیوں کی ٹانگوں اور کندھوں میں بھی گولیاں لگی ہیں۔الفت جان دختر غلام محمد گنائی ساکن پنجرن پلوامہ کے کولہے میں گولی لگی ہے اور وہ ہسپتال کے وارڈ نمبر15میں بیڈ نمبر21پر زیر علاج ہے۔الفت نے کہا کہ کسی احتجاج میں شامل نہیں تھی بلکہ سنیچر کو5بجے کے قریب اپنے گھر کے گیٹ کے باہراپنی سہیلی کے ساتھ باتیں کررہی تھی کہ اچانک وہاں سے پولیس کی ایک گاڑی نمودار ہوئی اور اُس میں موجود ایک اہلکار نے ہم پر راست فائر کئے ۔انہوں نے کہا ’’ایک گولی میرے کولہے پر لگی اور میں وہیں گرپڑی‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’میں اُس اہلکار کو اچھی طرح پہچانتی ہوں ،وہ پولیس چوکی لاسی پورہ میں تعینات ہے‘‘۔ہسپتال کے ہی وارڈ نمبر5میں بیڈ نمبر47پر 17سالہ محمدعامرچوپان ولد بشیر احمد ساکن وائل گڈول کوکرناگ زیر علاج ہے۔اُس کے کندھے میں جمعہ کی شام کو ہی گولی لگی ہے ۔واضح رہے کہ اسی دن برہان اپنے دو ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوا۔درد سے کراہتے ہوئے عامر نے کہا ’’ہم ایک بہت بڑے احتجاجی جلوس میں آگے بڑھ رہے تھے کہ فورسز نے مظاہرین کو روکنے کیلئے کسی ٹئیرگیس شیل کا استعمال نہیں کیا بلکہ راست فائرنگ کی‘‘۔وارڈ نمبر 5میں ہی 18سالہ اشفاق احمد ولد عبدالغنی بھی زیر علاج ہے جس کی بائیں ٹانگ میں گولی لگی ہے جبکہ 25سالہ میر مظفر ولد نثار احمد ساکن ڈاڈہ سر ترال کی بائیں بازو میں گولی لگی ہے۔وہ وارڈ نمبر 4میں زیرعلاج ہے۔مظفر نے کہا کہ وہ سنیچر کی شام اُس وقت گولی کگنے سے زخمی ہوا جب پولیس اور فورسز نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی۔انہوں نے کہا کہ آو دیکھا نہ تاؤ کے مصداق فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ ،ٹئیرگیس شیلنگ اور فائرنگ کا زبردست استعمال کیا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بیشتر زخمی نوجوانوں کی عمر 15سے 25 سال کے قریب ہے۔ میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالرشید بڈو کے مطابق بیشتر زخمیوں کی بازؤں اور کولہوں اور ٹانگوں میں گولیاں لگی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں 50زخمیوں کو داخل کیا گیا تھا جن میں سے 20کو رخصت کیا گیا اور 30ہنوز زیر علاج ہیں۔


5سو دعوتی تقاریب منسوخ، تعداد1000تک پہنچنے کا امکان

معروف عسکری کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ احتجاجی صورتحال اور کرفیو کی وجہ سے سینکڑوں شادی بیاہ کی تقاریب منسوخ ہوگئی ہیں اور آئندہ ہفتے کے دوران منعقد ہونے والی شادیوں کی تقاریب بھی تیزی کے ساتھ منسوخ کی جارہی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق محض سرینگر شہر میں 10جولائی سنیچرسے 13جولائی بدھوار تک مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے بیچ500 کے قریب تقاریب منسوخ ہوئی ہیں جبکہ ہڑتال جاری رہنے کے پیش نظر 20جولائی تک مزید500 شادیاں منسوخ کی جارہی ہیں تاہم نکاح خوانی کی تقاریب کا انعقاد انتہائی سادگی سے ہورہا ہے۔کشمیری روایت کے مطابق شادیوں کی تقاریب میں خصوصی دعوت کیلئے اہم طبقہ آشپازان ،گوشت فراہم کرنے والے قصاب اور کوٹھدار وں کے علاوہ ملبوسات اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرنے والے طبقے کے مطابق شادیوں کی تقاریب منسوخ ہونے سے جہاں تجارت کو کافی نقصان پہنچ رہاہے وہیں دوسری طرف شادیوں کے سادگی کا رواج عام ہورہا ہے جوکہ ایک مثبت تبدیلی ہوسکتی ہے۔شادی کی تقریبات سادگی کے ساتھ انجام دینے کیلئے اخباری اشتہارات، فون اور موبائل کا سہارا لیکر دعوت کی منسوخی کے بارے میں مہمانوں کو مطلع کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ وادی میں سال 2008 اور 2010 کی عوامی احتجاجی لہر کے دوران بھی اسی طرح شادی کی تقریبات منسوخ کی گئی تھیں۔ گذشتہ تین روز کے دوران کشمیر سے شائع ہونے والے بیشتر اردو اور انگریزی روزناموں میں ’دعوت کی منسوخی‘ کے سلسلے میں ایسے اشتہارات دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔وادی کے مؤقر روزناموں کشمیر عظمیٰ اورگریٹر کشمیر میں اس طرح کے 250اشتہارات شائع ہوچکے ہیں۔شادیوں میں لذیذ کھانوں کو تیار کرنے والے آشپاز اور قصاب شادیوں کی منسوخی کے پیش نظر سیزن جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔آل جموں وکشمیر پوچرس یونین کے سیکریٹری وسیم احمد کاچرو نے بتایا کہ 20جولائی تک تقریباایک ہزار شادیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور لوگ صرف دعوت کو منسوخ کرکے نکاح خوانی کی رسم سادگی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قصاب طبقے کو تقاریب منسوخ ہونے کی وجہ سے زبردست نقصان سے دوچار ہونا پڑرہاہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ وادی میں شادیوں کے سیزن میں روانہ ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کا گوشت درآمد ہوتا ہے اور موجودہ صورتحال کی وجہ سے اس میں نمایاں کمی آرہی ہے۔آل کشمیر انجمن آشپازان کے جنرل سیکریٹری فیاض احمد نے کہا کہ سرینگر میں500کے قریب شادی کی تقاریب منسوخ کی گئی ہیں جبکہ وادی میں ہزاروں تقاریب منسوخ کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آشپازان اور ان کے ساتھ کام کررہا مزدورطبقہ اس وقت بری طرح متاثر ہوگیا ہے۔


پیلٹ کا قہر۔۔۔ 3لڑکیوں سمیت 71 افرادکی آنکھیں متاثر

وادی میں حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد چار روز کے پر تشدد واقعات کے دوران احتجاجی مظاہرین کو روکنے کیلئے فورسزاہلکاروں نے طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا جس کے نتیجے میں اندھا دھند طریقے سے ہلاکتیں بھی ہوئیں اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔صورتحال کا المناک پہلو یہ ہے کہ تشدد کے واقعات کے دوران درجنوں کی تعداد میں نوجوان بینائی سے محروم ہونے کی دہلیز پر ہیں۔ان نوجوانوں کو قابو میں کرنے کیلئے اْن کے جسم کوہی نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ اْن کے چہرے پر بھی پیلٹ فائر کئے گئے اور وہ اس وقت سرینگر کے صدر ہسپتال اور جہلم ویلی کالج (جے وی سی) میں زیرعلاج ہیں۔ابھی تک ایک کی بینائی متاثر ہوچکی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صدر اسپتال میں فی الوقت 65نوجوان مکمل طور زیر علاج ہیں ،15نوجوانوں کو وقتی طور پر داخل کیا گیا جبکہ12 نوجوانوں کی مرہم پٹی کی گئی۔ صدر ہسپتال میں جو نوجوان لائے گئے اْن میں 15کو گولیاں لگی تھیں جن میں سے 7کو صورہ اور برزلہ منتقل کیا گیا ہے۔3 نوجوان شل لگنے سے زخمی ہوئے ہیں، ایک پتھر لگنے سے اور 3مارپیٹ سے مضروب ہوئے ہیں لیکن زخمیوں کی اس کثیر تعداد میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اْن کی بینائی جانے کے قوی امکانات ہیں۔ صدر ہسپتال میں ایسے77نوجوانوں کو لایا گیا تھا جن کو پیلٹ لگے تھے لیکن حیران کن طور پر اِن نوجوانوں میں 71ایسے ہیں جن کی آنکھوں پر پیلٹ لگے ہیں۔ان میں 3جواں سال لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ شاہینہ ، شمیمہ اور رخسانہ ساکنان بجبہاڑہ سنیچر کی آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئیں اور تب سے وہ صدر ہسپتال کے امراض چشم وارڈ میں داخل ہیں۔71افراد میں سے قریب دو درجن نوجوانوں کی ایک ایک آنکھ پیلٹ لگنے سے متاثر ہوئی ہے جبکہ باقی ماندہ زیر علاج زیر نوجوانوں کی دونوں آنکھوں پر براہ راست پیلٹ فائر کئے گئے ہیں۔صرف آنکھیں ہی نہیں بلکہ اْن کے چہرے بھی بدنما بن گئے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کئی ایک نوجوانوں کی دونوں آنکھوں کی بصارت متاثر ہوسکتی ہے جبکہ درجنوں نوجوانوں کی ایک آنکھ متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتی۔ان نوجوانوں کے علاج و معالجہ پر کثیر رقم درکار ہوگی لیکن تب بھی وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اْن کی بینائی واپس آسکتی ہے یا نہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ پیلٹ فائر سے جو نوجوان متاثر ہوئے ہیں اْن میں ایک معصوم بچہ بھی شامل ہے جس کی عمر فقط 13برس ہے۔ عمر نذیر ولد نذیر احمد شاہ ساکن اہربل شوپیان وہ لڑکا بھی متاثرین میں شامل ہے جس کی آنکھوں پر پیلٹ لگے ہیں۔ جے سی سی میں جن نوجوانوں کی آنکھوں میں پیلٹ لگے تھے انکی تعداد 30ہے۔ ان میں 15کے چہروں پر بھی پیلٹ لگے ہیں جنہیں اسپتال سے رخصت کیا گیا ہے اور ابھی بھی15نوجوان زیر علاج ہیں جن میں عاصف احمد ساکن یاری پورہ کولگام کی بینائی ختم ہوچکی ہے۔باقی ماندہ پیلٹ سے متاثرہ افراد کا علاج و معالجہ چل رہا ہے لیکن انکی بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔


انٹرنیٹ پر غلط افواہیں،کیس رجسٹر

معروف عسکری کمانڈربرہان مظفر وانی اور اْس کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد جہاں وادی میں سخت ترین کرفیو نافذ ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے وہیں دوسری طرف جموں اور بیرون ریاست مقیم چند کشمیری پنڈتوں نے غلط افواہیں پھیلاکر کشمیری عوام کو بدنام کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔پولیس نے اس ضمن میں ایک کیس درج کرلیا ہے۔سماجی نیٹ ورک پر انتہائی سرگرم ایک کشمیری پنڈت اشوک کول نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے ’’کشمیر کے کسی گاؤں میں دو پنڈتوں کو مارا گیا ہے اور کئی مکانوں کو جلایا گیا ہے‘‘۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی ہے۔واضح رہے کہ یہ وہی اشوک کول ہے جس نے دو سال قبل کہا تھا کہ ہندوارہ میں ایک پنڈت لڑکی کی عصمت لوٹ لی گئی۔اس دوران ایک اورشخص ونود پنڈت نے سماجی نیٹ ورک ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کیا ہے ’’میں کاکرن کے ایک مندر کے اندر ہوں۔ہمیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے گھیرلیا ہے جو مسلسل مندر پر پتھروں سے حملہ کررہے ہیں۔ کوئی فوج یا سکیورٹی موجود نہیں ہے‘‘۔ معلوم رہے کہ ونود پنڈت آل پنڈت مائیگرنٹ کارڈی نیشن کمیٹی(APMCC) کے چیئرمین ہیں۔ اْس کے ٹویٹر کے جواب میں سابق ناظم اطلاعات فاروق رینزو نے لکھا ہے’’بہت افسوس ہے اور میں ابھی حکام کے ساتھ رابطہ کروں گا کہ وہ آپکو اور مندر کو حفاظت فراہم کریں،کوئی بھی نقصان کشمیر کیلئے کسی بڑی نقصان کا سبب بن سکتا ہے ‘‘۔اشوک کول نامی اس پنڈت نے سماجی نیٹ ورک پر حقائق کا سامنے کرنے کے بعد لکھا ہے ’’میں نے غلط خبر کی تشہیر کی تھی جس کیلئے میں معذرت خواہ ہوں‘‘۔ذرائع کے مطابق کشمیری عوام کی طرف سے سخت ناراضگی کے بعد انتظامیہ نے اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے اور غلط افواہیں پھیلانے کے مرتکب افراد کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرلیا ہے۔ پولیس نے اس ضمن میں دو کشمیری پنڈتوں کے مارنے کی غلط افواہ پھیلانے کے تناظر میں اشوک کول کے خلاف ایک کیس زیر نمبر505B2/2016/44کوٹھی باغ تھانے میں درج کرلیا ہے۔پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا’’ہم نے غلط افواہ پھیلانے کی پاداش میں اشوک کول کے خلاف ایک کیس درج کرلیا ہے ‘‘۔


کشمیر خاک و خون میں غلطاں،31جاں بحق

کشمیر میں عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان مظفر وانی اور اُس کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی لہر کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعدادپیر کی شام تک 31 پہنچ گئی جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار کے سوا تمام عام شہری ہیں۔ احتجاجی لہر کے دوران پیلٹ،ٹیر گیس گولوں اور گولیوں سے زخمی ہونے والوں کی تعداد500 سے زائد بتائی جارہی ہے۔اس دوران پوری وادی میں منگل کو بھی کرفیو نافذ رہا جبکہ مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے 13جولائی تک ہڑتال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔واضح رہے کہ سرینگر کے اسپتالوں میں زخمیوں کو لانے کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔گذشتہ جمعہ کوحزب کمانڈر برہان وانی کی ایک مبینہ تصادم میں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کی لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس دوران پیر کو جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں میں ٹیلیفون اور موبائل سروس بحال کی گئی تاہم انٹرنیٹ پر بدستور پابندی ہے۔سنیچر کو 21 سالہ برہان کے جنازے میں وادی بھر سے لوگوں نے شرکت کیلئے مارچ کیا تو مختلف مقامات پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس میں پیر کی شام تک 30 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ زخمیوں میں سے قریب 60 شہریوں کو گولیوں کے زخم آئے ہیں جبکہ قریب ایک سو سے زائد کو پیلٹ لگے ہیں۔ قریب دو درجن کی حالت اسپتالوں میں تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ریاستی حکومت نے وادی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔اتوار کی شام سے 10 افراد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ اِن میں سے سب سے زیادہ یعنی 7 کا تعلق جنوبی کشمیر سے ہے،جن کی شناخت یاسمینہ اختر، شاہد حسین بٹ، زبیر کھانڈے، نذیر احمد شیخ اور مشاق احمد قاضی گنڈ جبکہ شاہد گلزار ساکن شوپیان، عبدالرشید ساکن چک رنبیر سنگھ پورہ ، بلال احمد شاہ ساکن اسلام آباد (اننت ناگ) اور عامر احمد لٹو ساکن بجبہاڑہ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔عامر کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ دہلی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا ۔وہ پیر اور منگل کی درمیانی شب کو صدر اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ اس دوران سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی 8 کمپنیاں( 8 سو اہلکار) کشمیر روانہ کردی گئی ہیں۔ اس سے قبل 9 جولائی کو 1200 اہلکار یہاں پہنچے تھے۔سنیچر سے جاری کرفیو اور ہڑتال نے انسانی بحران کی صورت اختیار کرلی ہے کیونکہ لوگ اپنے گھروں میں قید ہیں ۔دریں اثناء سرینگر اور دیگر بڑے قصبوں سے لوگوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر مکینوں کو ہراساں کیا اور توڑ پھوڑ کی۔


’سینک وپنڈت کالونیاں جدوجہد آزادی سے توجہ ہٹانے کی کوشش‘

Geelani+Mirwaizسینک وپنڈت کالونیوں اور نئی انڈسٹریل پالیسی کے مجوزہ منصوبوں کو جدوجہد آزادی سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش قرار دیتے ہوئے آزادی پسند قیادت نے کہا کہ بھارت ان حربوں سے جموں و کشمیر میں اپنے فوجی قبضے کو دوام بخشنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو متنبہ کیا کہ اگران منصوبوں کو ترک نہیں کیا گیاتو اس کے خلاف ایک منظم ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی اور اس کے جو بھی نتائج نکلیں گے، اُس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔مزاحمتی لیڈران تحریک حریت کے مرکزی دفتر واقع حیدر پورہ میں ’سینک و پنڈت کالونیاں اور حکومت کی مبہم پالیسی‘ کے عنوان پرایک سمینار سے خطاب کررہے تھے،جس کا اہتمام حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اورلبریشن فرنٹ نے مشترکہ طور کیا تھا ۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ’’ بھارت کے پالیسی ساز کشمیر میں نت نئے فتنے کھڑا کرکے اصل اور بنیادی مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ ان حربوں کے ذریعے اپنے فوجی قبضے کو دوام بخشنا چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا’’بنیادی مسئلہ تنازعہ کشمیر ہے اور باقی جتنے بھی مسائل ہیں، وہ اس کی ذیلی شاخیں ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ پنڈت انسانی رشتے کے ناطے ہمارے بھائی ہیں اور ہمارے سماج کا ایک اہم حصہ ہیں، ہم ہر وقت ان کی وادی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں البتہ ان کیلئے الگ کالونیاں بنانے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔گیلانی کے مطابق یہ منصوبہ کشمیریوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے اور یہاں کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے اور بھارت اس طرح سے کشمیریوں کی آزادی کیلئے جدوجہد کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتا ہے۔بزرگ آزادی پسند لیڈر نے کہا ’’نوکریوں سے سبکدوش فوجیوں کے لیے کالونی بنانے کی کوئی تُک نہیں ہے بلکہ سراسر ایک فریب ہے کیونکہ جو فوجی ریٹائر ہوگئے ہیں ،انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ گیلانی نے کہا’’ بھارت جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب ختم کرنے کی درپے ہے ،جس طرح 1947میں جموں میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے کیا گیا‘‘۔انہوں نے کہا ’’1947سے قبل جموں میں مسلمان اکثریت میں تھے اور اب اقلیت میں ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جموں کو الگ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں غیر ریاستی باشندوں کو بسایا جائے ۔بزرگ آزادی پسند لیڈر کے مطابق اِس پر طرہ یہ کہ یہاں کی حکومت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اقتدار کیلئے سب کچھ بیچنا چاہتی ہے۔اس موقع پر انہوں نے حلقہ اننت ناگ( اسلام آباد) میں ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس، عوامی اتحاد پارٹی اور دوسری جتنی بھی ہند نواز جماعتیں ہیں، وہ سب کشمیریوں کی دشمن ہیں۔انہوں نے کہا ’’ہند نواز جماعتیں ظلم کی اُس کلہاڑی کے دستے ہیں، جو بھارت ہم پر چلارہا ہے‘‘۔ اتحاد کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے گیلانی نے کہا ’’ بنیادی اہداف کے بارے میں قیادت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم سب بھارت کے فوجی قبضے سے آزادی چاہتے ہیں‘‘۔ اس سے قبل حریت (ع)چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے اپنی تقریر میں سینک وفوجی کالونیوں اور نئی صنعتی پالیسی کو اسرائیلی حکومت کی پالیسی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیری قوم کو اپنی ہی ریاست میں بے گھر اور اجنبی بنانا چاہتا ہے، جس طرح سے فلسطینیوں کے ساتھ کیا گیا ، انہیں اکثریت کے بجائے اقلیت میں تبدیل کیا گیا۔میرواعظ نے آنے والے مشترکہ پروگراموں پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مجوزہ منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے ہر ممکن طریقے سے آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ قیادت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے کے پیش نظر ہلکے اور عوام موافق پروگرام ہی دئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا ’’ پنڈت وسینک کالونیاں اور نئی صنعتی پالیسی جیسے منصوبوں کو جب تک ترک نہیں کیا جاتا، ہماری جدوجہد جاری رہے گی‘‘۔سمینار سے لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد بٹ نے بھی خطاب کیا کیونکہ فرنٹ سربراہ محمد یاسین ملک نظربندی کی وجہ سے سمینار میں شرکت نہیں کرسکے۔سمینارمیں سینک و پنڈت کالونیوں اور نئی انڈسٹریل پالیسی کے بارے میں پی ڈی پی، بی جے پی مخلوط حکومت کی مبہم اور مشکوک پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ناگپور کا ایجنڈا ہے اور فرقہ پرست جماعتیں جموں کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے اور مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کیلئے ان کالونیوں کے قیام کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ سمینار میں محمد یاسین ملک اور شبیر احمد شاہ کو پولیس حراست میں رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اس موقع پر لوگوں نے آزادی اور اسلام کے حق میں اور بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کئے ۔ سمینار سے فریڈم پارٹی کے نمائندے مولانا محمد عبداللہ طاری،ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم، ڈاکٹر شیخ شوکت، ڈاکٹر جاوید اقبال، عبدالمجید زرگر، زیڈ جی محمد، حسن زینہ گیری اور شکیل قلندرنے بھی خطاب کیاجبکہ اس دوران تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی اور گیلانی کے پرسنل سیکریٹری پیر سیف اللہ اور سرگرم کارکن سید امتیاز حیدر بھی سمینار میں موجود رہے۔


’جانشین مقرر کرنے کی قیاس آرائیاں ختم‘

حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے اپنے جانشین کی تقرری پر ہورہی تمام قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ تحریک حریت کو معلوم ہے کہ اُن (گیلانی)کے رحمت حق ہونے کے بعد کیا کرنا ہے اور حریت کانفرنس کی سبھی اکائیاں مشاورت کرکے اپنے سربراہ کا انتخاب کریں گی۔سید علی گیلانی پیر کو حیدرپورہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔معلوم رہے کہ گذشتہ کئی روز سے یہ قیاس آرائیاں عوامی حلقوں اور سماجی نیٹ ورک پر گشت کررہی تھیں کہ سید علی گیلانی اپنے دیرینہ ساتھی اور تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی کو اپنا جانشین مقرر کرنے والے ہیں۔باور کیا جارہا تھا کہ گیلانی نے شائد اسی سلسلے میں پریس کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔گیلانی سے جب پوچھا گیا کہ کئی روز سے یہ قیاس آرائیاں گشت کررہی ہیں کہ آپ نے اپنا جانشین مقرر کیا ہے ،وہ کون ہوگا؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’ایک تو تحریک حریت اور دوسرا مزاحمتی جماعتوں پر مشتمل فورم حریت کانفرنس‘‘۔بزرگ حریت لیڈر نے کہا ’’تحریک حریت کو پتہ ہے کہ گیلانی کے مرنے کے بعد کیا کرنا ہے اورحریت کانفرنس بھی مشاورت سے اپنے سربراہ کا انتخاب کرے گی‘‘۔تاہم گیلانی نے اپنی تنظیم تحریک حریت اورسال 2013 میں معرض وجود میں لائے گئے ملی ٹرسٹ کو قوم کی امانت قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ اِن قیمتی اثاثوں کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ ہمیشہ ساتھ نبھائیں۔اس موقع پر گیلانی نے کہا کہ نئی دلی جموں و کشمیر کے اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اسی لئے فوج اور ہندو برادری کو بسانے کیلئے کنکریٹ عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہندوستان برق رفتاری کے ساتھ جموں و کشمیر کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے نت نئے حربے آزما آرہا ہے ،اسی لئے ریجنل انجینئرنگ کالج(آرای اسی) کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (این آئی ٹی )میں تبدیل کیا گیا جہاں غیر ریاستی ریاستی طلبہ من مانیاں کررہے ہیں اور دلی میں اُنکی آواز پر زلزلہ ہوتا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہاکہ اب جموں و کشمیر کے میڈیکل کالجوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔گیلانی نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام سے نہیں بلکہ یہاں کی زمین حاصل کرنے میں دلچسپی ہے۔ سینئر مزاحمتی لیڈر کے مطابق افسوس اس بات کا ہے کہ ریاست کی ہندنواز جماعتیں آر ایس ایس کے خاکوں میں رنگ بھرررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا نشانہ مسلمان اور اسلام ہے۔حریت چیئرمین کے مطابق اسی لئے صوفی ازم کو پروان چڑھایا جارہا ہے،جو اسلامی نظام کے خلاف ہے اور اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرایس ایس اور بھاجپا اولیائے کرام کی اس سرزمین کو ہندوراشٹر میں تبدیل کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں ،اسی لئے اردو کو دیس بدر کیا جارہا ہے۔حریت چیئرمین نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کو اس لئے بنک لون فراہم کروانا چاہتی ہیں تاکہ وہ قرض کے بوجھ تلے دب کرتحریک آزادی سے دور رہیں۔ انہوں نے ہندوارہ واقعہ میں پولیس کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’’پولیس نے لڑکی کو اپنی حراست میں رکھا ہے تاکہ وہ صحیح بیان نہ دے پائے‘‘۔انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ قاتلوں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کیا جارہا ہے بلکہ طالب علموں اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔گیلانی نے اس صورتحال کو انسانی حقوق کی پامالی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی قسم ’ریاستی دہشت گردی‘ ہے ،جس میں امریکہ اورہندوستان سرفہرست ہیں۔واضح رہے کہ پریس کانفرنس 12بجے شروع ہونے والی تھی لیکن پولیس نے اس پر روک لگائی اورذرائع ابلاغ سے وابستہ نمائندوں کو گیلانی کی رہائش گاہ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اپنے اعلیٰ حکام سے اجازت حاصل کرنے کے بعد اجازت دی گئی ،جس کے نتیجے میں پریس کانفرنس تاخیر سے شروع ہوئی۔


اے ایم سی : ایک ہی چھت کے نیچے سبھی سہولیات دستیاب

IMG_0341احمد آباد//ایک فعال اور مضبوط جمہوری نظام میں جہاں عوام کو طاقت کا سرچشمہ مانا جاتا ہے وہیں بلدیاتی ادارے اس ضمن میں بے حد اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ ادارے عوامی رائے کے اظہار کیلئے بنیاد فراہم کرتے ہیں ۔ انہی بلدیاتی اداروں میں احمد آباد میونسپل کارپوریشن (اے ایم سی) ہے ۔اے ایم سی کا دائرہ اختیارنہ صرف صحت وصفائی تک محدود ہے بلکہ شہر کے اسکولوں ، کالجوں اور اسپتالوں کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔

اگر یوں کہا جائے کہ بلدیاتی اداروں کی خودمختاری میں گجرات ایک ایسی ریاست ہے جہاں شہری آبادی کیلئے ایک ہی چھت کے نیچے سبھی سہولیات دستیاب ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔ اس کا دائرہ اختیار464.16مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس کی آبادی 2001کی مردم شماری کے مطابق تقریباً45لاکھ ہے۔ کمشنرمیونسپل کارپوریشن ڈی تھارا کے مطابق اے ایم سی نہ صرف احمد آباد کی صحت و صفائی کا ہی خیال رکھتی ہے بلکہ ہسپتالوں، کالجوں ،سڑکوں ،ٹرانسپورٹ، سینٹرل لیبارٹریزاور صحت عامہ کا بھرپور خیال رکھتی ہے۔انہوں نے کہا ’’ شجرکاری پر خصوصی توجہ دینے کے علاوہ،ہم نے عوام کی تفریح کیلئے پارکیں ، باغات اور دیگر سہولیات بہم رکھی ہیں ‘‘۔کمشنر تھارا کے مطابق سبھی لوازمات مکمل ہونے کی صورت میں اے ایم سی 15دن کے اندر اندرمکان کی تعمیر کیلئے اجازت نامہ دیتی ہے ۔ اے ایم سی افسران کے مطابق شہر میں سڑکوں کا جال اس طرح بچھایا گیا ہے کہ شہر سے گذرنے والی سابرمتی ندی پراب تک55پل تعمیر کئے گئے ہیں جن میں ایک درجن کے قریب ریلوے پل اورکئی فلائی اوور بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کے دائرہ اختیار میں احمد آباد کے 3میڈیکل کالج ، ایک ڈینٹل کالج ،510کے قریب پرائمری اور ہائی اسکول شامل ہیں۔ مذکورہ افسران کشمیری صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ تبادلہٌ خیال کررہے تھے، جوپریس انفارمیشن بیورو(پی آئی بی)،حکومت ہند کی طرف سے احمد آبا کے دورے پر تھا۔وفد کی قیادت پی آئی بی سرینگر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر غلام عباس کررہے تھے۔ اے ایم سی حکام کے مطابق 64 وارڈوں پر مشتمل احمد آبادشہر میں میونسپل کارپوریشن ایک متبادل حکومت کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کارپوریشن نے اب تک 20ہزار گھرانوں کیلئے رہائشی مکانات تعمیر کئے ہیں جن میں کم آمدنی والے کنبوں کو 3لاکھ روپے کے عوض رہائشی مکان جبکہ اسے زیادہ آمدنی والے کنبوں کو 10لاکھ روپے کے عوض رہائشی مکانات فراہم کئے گئے ہیں۔ یہ رہائشی مکانات راجیو آواس یوجنا اور پردھان منتری آواس یوجنا اسکیم کے تحت تعمیر کئے گئے ہیں۔ کارپوریشن نے ٹریفک دباؤ کم کرنے اور مسافروں کی سہولیات کیلئے بی آرٹی ایس یعنی (بس ریپڈٹریزنٹ سسٹم )سروس شروع کی ہے ۔بی آر ٹی ایس نے اپنی 250گاڑیوں کیلئے ایک مخصوص روڑ تعمیر کئے ہیں جس پر کسی پرائیویٹ یا سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں ہے ۔اس مخصوص ٹرانسپورٹ سسٹم کو چلانے کیلئے اے ایم سی کے مرکزی دفتر میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانیوں یا مشکلات کا سامنا نہ کرنے پڑے ۔بی آر ٹی ایس کے جنرل منجر (اوپریشنز)دیپک ترویدی کا کہنا ہے کہ پورے احمدآباد شہر میں اس بس سروس کیلئے 55جدید قسم کے بس اسٹاپ تعمیر کئے گئے ہیں ۔شائد یہی وجہ ہے کہ احمد آباد شہر میں کہیں بھی ٹریفک جام دکھائی نہیں دیا ۔اتنا ہی نہیں احمد آباد میں شروع کی جانی والی ایک نئی سکیم کارپوریشن کے ہیلتھ افسر چلا رہے ہیں جس کے تحت کچی آبادیوں میں رہائش پذیر آبادی کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ عوامی بیت الخلا ء استعمال کریں جن میں سے کچھ تو مفت ہیں جبکہ کچھ استعمال کرنے کیلئے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ہیلتھ افسر ڈاکٹر بھون سولنکی نے کہا’ ’ ہمارے ہاں 320 عوامی بیت الخلاء ہیں جن میں سے 143 ایسے ہیں جنہیں آپ بلامعاوضہ استعمال کر سکتے ہیں ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ہم نے یہ مشاہدہ کیا کہ ہمیں کوئی نئی سکیم متعارف کرنا پڑے گی، چنانچہ ہم نے بیت الخلاء استعمال کرنے والے ہر بچے کو روزانہ ایک روپیہ یا چاکلیٹ انعام میں دینے کا فصیلہ کیا ‘‘۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہتی ہے تو کارپوریشن مستقبل میں بالغ افراد کو بھی اسی قسم کا انعام دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔


سابرمتی ریورفرنٹ پروجیکٹ ایک قابل تقلید نمونہ

sabrmati-riverfrontاحمدآباد//انسانی ترقی میزانئے پر گجرات کے بلند بانگ دعوؤں کی صداقت پر جہاں حتمی طور کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے وہیں آبی ذخائرکے تحفظ ،اِن کی بہترین دیکھ بھال اور لاجواب استعمال میں مغربی بھارت کی اس ریاست کو ایک قابل تقلیدنمونہ بنایا ہے۔ سابرمتی ریور فرنٹ پارک(Sabarmati Riverfront Park) اور کنکریا جھیل (Kankaria Lake)اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ سابرمتی دریا مغربی بھارت سے بہتا ہے۔ یہ دریا 371 کلو میٹر لمبا ہے جو راجستھان کے ضلع اْدیپور کے اراولی پہاڑ سے نکلتا ہے۔ اس کا اکثر حصّہ گجرات سے گزرتا ہے اور احمد آباد شہراس دریا کے کنارے پرواقع ہے۔ انسانی عمل دخل کے نتیجے میں یہ دریا دس سال پہلے اپنی پہچان کھوچکا تھا تاہم اب سابرمتی ریورفرنٹ پروجیکٹ کی بدولت نہ صرف اس کی شان رفتہ بحال ہوچکی ہے بلکہ سیاحوں کے لئے ایک اہم جگہ بن چکی ہے۔اس پروجیکٹ کو 16.06کروڑ روپئے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے ۔ پروجیکٹ انجینئر پرکاش پالیکیش نے کہا کہ اس پروجیکٹ کے تحت اب تک سابرمتی دریا کے تقریباً 24کلو میٹر (دونوں کنارے )مکمل طور تعمیرکئے گئے ہیں اور یہ کام تب تک جاری رہے گا جب تک نہ اس کے کناروں کو پوری طرح جاذب نظر بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور 202.79ہیکٹئر اراضی کو آبادکیا جارہا ہے۔ انجینئرپرکاش کشمیری صحافیوں کے ایک گروپ کو تفاصیل سے آگاہ کررہے تھے۔وادی کے مختلف صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں کا یہ گروپ گذشتہ دنوں پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)سرینگر کی وساطت سے احمدآباد کے پانچ روزہ دورے پر تھا جس کی قیادت اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی آئی بی سرینگر غلام عباس کررہے تھے۔ گجرات حکومت نے سال 2007میں اس پروجیکٹ پر اُس وقت کام شروع کیا تھاجب نریندرمودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔احمد آباد میونسپل کارپو ریشن کے تحت آنے والے اس جدید طرز کے پروجیکٹ کو عملانے کے دوران تقریباً 10ہزار سابرمتی باسیوں کو دوسری جگہوں پرمنتقل کیا گیاہے۔انجینئر پرکاش کے مطابق اس پروجیکٹ کاا ہم پہلو سابرمتی باسیوں کی بازآبادکاری تھی اسلئے پہلے ایسے مکانات تعمیر کئے گئے جہاں انہیں منتقل کیا گیا۔مذکورہ انجینئر کے مطابق70ہزار روپے قرض کے عوض انہیں مکانات فراہم کئے گئے جو انہیں 10سال کے عرصے میں ادا کرنے ہونگے۔احمدآباد میونسپل کارپوریشن (اے ایم سی)کی اطلاعا ت کے مطابق جن 10ہزار سابرمتی باسیوں کی بازآبادکاری عمل میں لائی گئی وہ دریا کے کناروں پر جھونپڑپٹیوں میں رہتے تھے۔اس پروجیکٹ کے تحت سابرمتی کے دونوں کناروں پر چار لین والی کشادہ سڑکوں کے علاوہ سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والے مسافروں کیلئے مخصوص فٹ پاتھ تعمیر کئے گئے ہیں۔سڑکوں کے کناروں پرمخصوص قمقمے نصب کئے گئے ہیں اور سرسبز درختوں کے علاوہ پھولوں کی کیاریاں سجائی گئی ہیں جبکہ دریا کے کناروں پر مختلف جگہوں پر بچی زمین پر پبلک پارکیں اور باغات تعمیر کئے گئے ہیں۔انجینئر پرکاش کا کہنا تھا کہ دریاکے کناروں پر ماضی سے ہی دھوبی اپنا روزگار کمارہے تھے جن کو پروجیکٹ کی تکمیل کے دوران نظرانداز نہیں کیا گیا،اُن کیلئے جدید قسم کی مشینری سے لیس دھوبی گاٹ تعمیر کئے گئے ۔انجینئر پرکاش کے مطابق سابرمتی سنڈے مارکیٹ بھی ایک اہم معاملہ تھا کیونکہ ہر اتوار کو یہاں لوگوں کا بھاری رش لگا رہتا ہے اور اس روایت کو بھی برقرار رکھا گیا ،تاہم اس مارکیٹ کو جدید خطوط پر ڈیزائن کیا گیا ۔احمدآباد شہر کو دو حصًوں میں تقسیم کرنے والی سابرمتی ریورفرنٹ پارک کی خوبصورتی سے نہ صرف احمد آباد شہر شام ہوتے ہی ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے اور سیاحوں کے دل موہ لیتا ہے۔اس پروجیکٹ کی دیکھ ریکھ میں مصروف کئی افسران نے کہا کہ سابرمتی ریور فرنٹ پارک ریاست جموں و کشمیر کے سیاستدانوں،پالیسی سازوں اور بیورو کریٹوں کیلئے ایک نقش راہ بن سکتا ہے جو دریائے جہلم ، ڈل جھیل اور دیگر آبی ذخائرکو بچانا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ اب تک ڈل کے تحفظ کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے لیکن یہ بات روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس عالمی شہرت یا فتہ جھیل کی حالت ہر گزرنے والے دن کے ساتھ خراب ہی ہوتی جارہی ہے۔ ہر نئے سروے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ڈل کا رقبہ مزید سکڑ گیا ہے۔ اسی طرح دریائے جہلم بھی حکام کی عدم توجہی کے باعث بربادی کے دہانے تک پہنچ گیا ہے۔ ایک زمانے میں اس دریا کا پانی اتنا شفاف تھا کہ لوگ اسے پینے کیلئے استعمال کرتے تھے اورلیکن اب وادی کے مختلف علاقوں میں نکاس کا پانی اس میں شامل ہوجاتا ہے۔نتیجے کے طور پر اس دریا کے پانی کو استعمال کرنا تو دور اسے چھونا بھی بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔جہاں ریورفرنٹ پارک احمدآبادکی ترقی کا ایک نمونہ مانا جارہا ہے وہیں کنکریا جھیل بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔احمدآباد کے منی نگر علاقے میں واقع اس جھیل کو 500سال سے احمد آباد کی شناخت تصور کیا جارہا ہے جو اڈھائی کلومیٹرعلاقے پر محیط ہے۔یہ جھیل نہ صرف عام سیاحوں کیلئے ایک دلچسپی کا مرکز بن گیا ہے بلکہ بچوں کیلئے چڑیا گھر،ایکویرئم،چھوٹی ریل(ٹائے ٹرین )،تفریحی پارکوں اورناگنہ وادی سمیت 23 مختلف تفریحی مقامات نے جھیل کی خوبصورتی میں چار چاند لگائے ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس جھیل کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے احمدآباد میونسپل کارپوریشن نے 2006میں کام شروع کیا اوردسمبر2008میں مکمل کیا ۔جس کے نتیجے میں آج یہ جھیل مقامی ، غیر ریاستی و غیر ملکی سیاحوں کیلئے ایک اہم سیاحتی منزل کے بطور ابھر چکا ہے۔کنکریا جھیل کے رکھ رکھاؤ پر تعینات انجینئروں کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی عناد اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھا جائے تو ڈل جھیل کی عظمت رفتہ بحال کرنے میں بھی زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا۔


سمارٹ سٹی پروجیکٹ،جموں و کشمیر کا کہیں ذکر نہیں

مرکزی حکومت نے 100 سمارٹ سٹی تیار کرنے کے اپنے ’ڈریم پروجیکٹ‘ کے تحت جمعرات کو 20 شہروں پر مشتمل پہلی فہرست کا اعلان کر دیا تاہم اس فہرست میں ریاست جموں و کشمیر کے کسی ایک شہر کا بھی انتخاب نہیں ہوا ہے۔ سمارٹ سٹی مشن گذشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی نے متعارف کیا تھاجس کے تحت مرکزی حکومت 100منتخب شہروں میں شہری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے فی کس 100کروڑ روپے کی امداد فراہم کر رہی ہے اور بہتر انتظامیہ کی فراہمی بشمول ای گورننس ایند سٹیزن سروس ، کوڑاکرٹ ، پانی اور توانائی کی سہولیات کا انتظام و انصرام کے لئے سہولیات دستیاب رکھنا ہے۔ جموں وکشمیر واحد ریاست ہے جس کے سرینگر اور جموں دو راجدھانیاں ہیں اور دونوں پروجیکٹ کے دائرے میں آتے ہیں۔ دونوں شہر نہ صرف زئد از ریاست کی 50فیصد شہر ی آبادی کو اقامت فراہم کرتے ہیں بلکہ سیاحت اور یاترا پر آنے والے لوگوں کے ایک بڑی تعداد کو بھی اقامتی اور دیگر سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

شہری ترقی کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نا ئیڈو نے نئی دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پہلے مرحلے میں بھوبنیشور، پونے ، جے پور، سورت، کوچی، احمد آباد، جبل پور، وشاکھاپٹنم،شولا پور، داونگیرے ، اندور، نئی دہلی میونسپل کارپوریشن، کویمبٹور، کاکی ناڑا، بیل گاوی، ادے پور، گوہاٹی، چنئی، لدھیانہ اور بھوپال کو اسمارٹ شہر کے طور پر ترقی دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ اسماٹ سٹی بنانے پر 50,802کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے اور یہ خرچہ جات 2019تک کےلئے مختص رکھے گئے ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ اگلے دو مراحل میں 40-40 شہروں کو اسمارٹ سٹی کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ ان تمام شہروں میں جدید سہولیات فراہم کرائی جائیں گی۔مرکزی وزیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں مختلف ریاستوں میں جن شہروں کو اسماٹ سٹی بنانے کا فیصلہ لیا گیا ہے ، وہاں جلد سے جلد کام شروع کیاجائےگا۔ مرکزی وزیربرائے شہری ترقی کا مزید کہنا تھا کہ 20شہروں کا انتخاب باضابطہ مقابلے کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا اور اس سلسلے میں مختلف ضروری لوازمات کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو بھی ملحوظ نظر رکھا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کا انتخاب عمل میں لاتے وقت یہ بھی ملحوظ نظر رکھا گیا کہ کس شہر کو اسماٹ سٹی بنانے کے کتنے امکانات ہیں اور کس شہر میں اس سلسلے میں ضروری بنیادی ڈھانچہ موجود ہے ۔معلوم رہے کہ اس سے قبل بھی شہری ترقی کے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائڈو نے 27اگست2015 کو مختلف ریاستوں کیلئے 98شہروں کی فہرست کا اعلان کیا تھا جنہیں ’سمارٹ سٹی‘ پروجیکٹ کے تحت جدید ترین طرز پر ترقی دی جائے گی لیکن اس میں بھی جموں و کشمیر کا کوئی شہر شامل نہیں تھا کیونکہ نائڈو کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت نے اس منصوبہ پر شہر کا انتخاب کرنے کے لئے کچھ مزید وقت مانگا ہے۔ چونکہ ریاست میں علاقائی حساسیت کا مسئلہ درپیش تھا جس کے نتیجے میں ریاستی حکومت نے جموں اور سرینگر دونوں شہروں کو’سمارٹ سٹی ‘ پروجیکٹ کے تحت لانے کی گذارش کی تھی۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے اُس وقت یقین دلایا تھا کہ وہ اس ضمن میں کوئی حل نکالیں گے تاہم اس کے بعد مکمل خاموشی اختیار کر لی گئی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاستی مکانات و شہری ترقی محکمہ کے کمشنر سیکریٹری بپل پاٹھک نے بھی اس ضمن میں کہا تھاکہ ’ چونکہ ریاست کے دونوں دارالحکومتی شہر سمارٹ سٹی پروجیکٹ کیلئے مطلوب لوازمات پورے کرتے ہیں ، اسلئے ہم نے شہری ترقی کی مرکزی وزارت کو دونوں شہروں(جموں اور سرینگر) کو اس پروجیکٹ کے تحت لانے کی تجویز ارسال کی ہے‘۔


راولپورہ میں سینکڑوں لوگوں نے منگل کو

Kashmiri Muslims hold funeral prayers in absentia for a missing Kashmiri man in Srinagar, Indian controlled Kashmir, Tuesday, Jan. 19, 2016. Hundreds Tuesday participated in funeral prayers in absentia for a Kashmiri man who disappeared fourteen years back. Relatives allege that the man was killed in the custody of Indian troops. (AP Photo/Dar Yasin)

راولپورہ میں سینکڑوں لوگوں نے منگل کو 14سال قبل لاپتہ کئے گئے شہری کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی ،جس میں لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک سمیت کئی مزاحتمی لیڈران اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے شرکت کی۔اس موقعہ پر آزادی کے حق میں اور ہندوستان مخالف فلک شگاف نعرے بلند کئے گئے۔معلوم رہے کہ غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں8000افراد حراست کے دوران لاپتہ کئے گئے ہیں جبکہ سرکار کا کہنا ہے کہ تین ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہیں۔پیشے سے دوافروش منظور احمد ڈارساکن راولپورہ کو 18جنوری 2002میں نامعلوم افراد نے راولپورہ سے اٹھایا تھا اور اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن صدر میں ایک ایف آئی آرزیر دفعہ364 کے تحت فوج کی 35راشٹریہ رائفلز کے خلاف درج کیا گیا تھا جبکہ تحقیقات کے دوران فوج کے میجر کشور ملہوترا کا نام بطور ملزم سامنے آیا تھا۔واضح رہے کہ کشور ملہوترہ 2002میں میجر(آج برگیڈئرہیں) کے عہدے پر راولپورہ علاقے کے انچارچ تھے جس وقت منظور احمد ڈار نامی مذکورہ دوا فروش کی حراستی گمشدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔جبری گمشدگی کا یہ واقعہ عدالت عالیہ میں بھی زیر سماعت رہا اور اس کی تحقیقات کیلئے پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم(SIT)تشکیل دی گئی۔ 26 نومبر 2015 کو پولیس کی خصوصی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ عدالت عالیہ میں پیش کی جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ منظور احمدجنوری2002میں گھر سے اغوا ہونے کے بعدمیجر کشور ملہوترا کی قیادت والی35آر آر کی تحویل میں جاں بحق ہوگیا ہوگا اور بعد میں اسکی لاش ٹھکانے لگائی گئی ہوگی۔پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کی اس رپورٹ کے تناظر میں معاملے کی نسبت پہلے سے درج ایف آئی آر میں آر پی سی کی دفعہ302یعنی قتل کا اضافہ کیا گیا۔چنانچہ پولیس رپورٹ میں منظور احمد کو جاں بحق قرار دئے جانے کے بعد اس کے اہل خانہ نے اس کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور لوگوں سے اس میں شرکت کی اپیل کی۔ منگل کو منظور احمد کی حراستی گمشدگی کے 14سال مکمل ہونے کے موقع پرراولپورہ ہائی سکول میں اْس(منظور) کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔نماز جنازہ کی پیشوائی تحریک حریت لیڈر اور حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی کے پرسنل سیکریٹری پیر سیف اللہ نے انجام دی جبکہ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک سمیت کئی مزاحتمی لیڈران اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔نماز جنازہ سے قبل اْن کی رہائش گاہ سے جنازہ گاہ تک ایک احتجاجی جلوس برآمد ہوا جس میں اسلام و آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بلند کئے گئے۔نماز جنازہ کے بعد منظور احمد کے گھر تک لوگ ایک بار پھر احتجاجی جلوس کی صورت میں پہنچ گئے جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔واضح رہے کہ نماز جنازہ سے قبل منظورکے لواحقین کے ساتھ ساتھ خواتین نے رنگریٹ راولپورہ روڈ پر دھرنا دیا۔اس دوران علاقے میں صبح سے ہی ماتم کا ماحول تھااور لاپتہ شہری کی یاد میں اس کے گھر پر تعزیتی تقریب کے دوران آہ و فغاں کا عالم تھا۔علاقے میں تمام کاروباری ادارے بند تھے اور صنعت نگر کراسنگ سے پولیس کسی بھی گاڑی کو راولپورہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔


گیلانی کی طبیعت ناساز/نظربندی بنیادی وجہ:معالجین

SAGحریت کانفرنس (گ) چیئرمین اور بزرگ آزادی پسند لیڈر سید علی گیلانی کی طبیعت گذشتہ کئی روز سے چھاتی میں درد ہونے کی وجہ سے ناساز ہے۔اْن کا بدن درد محسوس کررہا ہے اور وہ بات کرنے میں بھی دقت محسوس کررہے ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گیلانی کی مسلسل خانہ نظر بندی اُن کی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ وہ سینے میں تکلیف کی وجہ سے کافی کمزور ہو چکے ہیں۔ماہر معالجین کے مطابق اگر کسی صحت مند شہری کو بھی اس کے گھر میں مسلسل بند رکھا جائے گا تو اْس کی صحت پر بھی اس کا برا اثر پڑ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سید علی گیلانی اپنی اپنی رہائش گاہ واقع حیدرپورہ میں سال 2010سے خانہ نظر بند ہیں ۔ایک معالج نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ’’گیلانی صاحب کومتعدد بیماریاں لاحق ہیں ،انہیں کئی جراحیاں ہوئی ہیں،سورج کی گرمی نہ ملنے کے بہ سبب ان کے بدن میں وٹامن ڈی کی کمی ہے جس سے ان کی ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور معمولی چوٹ لگنے سے ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہے‘‘۔معلوم رہے کہ اتوار کو انہیں اْس وقت اکسیجن دیا گیا جب انہیں سانس لینے میں سخت تکلیف ہو رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ تازہ ہوا متواتر طور نہ ملنے کی وجہ سے اْن کی صحت پر کافی اثر پڑا ہے۔86سالہ گیلانی 1997سے پیس میکر پر زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ان کے بائیں گردہ کو 2003میں کار سنوما کی شکایت کے بعد ٹاٹا میموریل ہسپتال ممبئی میں نکالا گیا ہے۔سال 2004میں گیلانی کا پتا گنگا رام ہسپتال دہلی میں نکالا گیا جبکہ 2007میں اْن کی دوبارہ جراحی کے دوران بائیں گردے کا نصف حصہ بھی نکالا گیا۔2008میں انہیں دہلی کے اسکاٹس ہارٹ انسٹچوٹ میں نیا پیس میکر لگایا گیاجبکہ 2010 میں اپالو ہسپتال دلی میں ان کی آنکھوں کا آپریشن کیا گیا۔ ایک اور معالج کے مطابق جسمانی حرکت نہ کرنے اور مسلسل گھر میں نظر بند رہنے سے ان کے دل پر اثر بڑھ سکتا ہے۔ معلوم رہے کہ گذشتہ کئی برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب گیلانی نے سردیوں کے دوران کشمیر میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے فرزند نسیم گیلانی کا کہنا ہے’’ معالجین کے مشورے پر گیلانی صاحب سردیوں میں مالویہ نگر نئی دہلی منتقل ہوتے تھے ، جہاں وہ باقاعدگی کے ساتھ صبح کی سیر کرتے تھے،جس سے ان کی صحت قدرے ٹھیک رہتی تھی مگر رواں سال انہوں نے یہاں ٹھہرنے کو ہی ترجیح دی ‘‘۔ نسیم گیلانی کے مطابق مسلسل نظر بندی کے سبب وہ صرف ڈراینگ روم میں چہل قدمی کرتے ہیں۔حریت( گ) لیڈر الطاف شاہ کا کہنا ہے ’’ حریت نے سید علی گیلانی کی خانہ نظر بندی کو کئی مرتبہ عدالت میں چیلنج کیا لیکن عدالتی ہدایات کے باوجود پولیس نے بزرگ اور بیمارآزادی پسند قائد کو بغیر کسی جواز کے مسلسل نظر بند رکھا ہوا ہے۔حتیٰ کہ طبی ملاحظہ اور میڈکل ٹسٹ کروانے کی خاطر ہسپتال لیجانے کیلئے پہلے پولیس سے اجازت طلب کرنا لازمی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال میں یہ طریقہ کار نہایت ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔


مفتی محمد سعیدکا انتقال ، سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

Mufti Sayeedریاست جموں و کشمیر کے12ویں وزیراعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سرپرست 79سالہ مفتی محمد سعید جمعرات کی صبح نئی دلی میں انتقال کرگئے۔اُنہیں پھیپھڑوں میں انفیکشن ہونے کی وجہ سے 24دسمبر2015کو ہنگامی بنیادوں پر علاج و معالجہ کیلئے آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈکل سائنسز (ایمز) میں داخل کیا گیا تھا،جہاں وہ جمعرات کی صبح 7:30 بجے چل بسے۔اتفاق کی بات یہ ہے کہ 24دسمبر جمعرات کو ہی وہ علیل ہونے کے بعد نئی دلی منتقل کئے گئے اور جمعرات کو ہی انکی روح پرواز کر گئی۔مرحوم کوبلند فشار خون(ہائی بلڈ پریشر) ،گردوں اور جگر کے امراض کا بھی سامنا تھا۔ انہیں14دن تک ایمز کے انتہائی نگہداشت والے یونٹ( آئی سی یو) میں رکھا گیا تاہم بدھ کو اُن کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کے بعد انہیں لائف سپورٹ سسٹم پر رکھا گیا ۔مفتی سعید کی تین بیٹیاں محبوبہ مفتی، ڈاکٹر روبیہ سعید، محمودہ سعید عرف بے بی اور ایک بیٹا تصدق مفتی عرف نکسن ہیں۔ان میں سے صرف محبوبہ مفتی سیاست میں ہیں ۔محبوبہ فی الوقت رکن پارلیمان ہیں اور گذشتہ 20سال سے کشمیر کی مقامی سیاست میں سرگرم ہیں۔مفتی محمد سعید کے جسد خاکی کو پہلے دلی سے سرینگر اور بعد میں بجبہاڑہ (اننت ناگ) پہنچایا گیا جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ داراشکوہ(پادشاہی باغ)بجبہاڑ ہ کے ایک کونے میں دفن کیاگیا۔24دسمبر جمعرات کی صبح وزیر اعلیٰ نے گپکار روڑ سرینگر پر واقع اپنی رہائش گاہ پر اچانک بے چینی محسوس کی اور ان پر غشی طاری ہوئی۔ اس کی شکایت کرنے کے فوراً بعد وزیر اعلیٰ کو نئی دلی لیجانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مفتی محمد سعید کو سرکاری طیارے میں سرینگر سے براہ راست دلی منتقل کیا گیا جہاں آل انڈیا انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ان کا طبی معائنہ کرکے انہیں اسپتال میں ہی داخل کردیا گیا۔دلی منتقل کرنے سے دوروز قبل مفتی محمد سعید نے سخت سردی کے بیچ شہر سرینگر کا تفصیلی دورہ کیا تھا جو قریب چھ گھنٹوں تک جاری رہا۔دورے کے بعد مفتی محمد سعید نے تھکان اور کمزوری کی شکایت کی اور ایک دن اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مکمل آرام کیالیکن اگلے ہی روز انہیں ہنگامی بنیادوں پر ایمز منتقل کیا گیا جہاں وہ مسلسل 14روز تک ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم کی نگرانی میں رہے۔ڈاکٹروں کے مطابق بدھ کو ان کی طبیعت زیادہ بگڑنے کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا تھا جہاں وہ جمعرات کی صبح 7بجکر30منٹ پر چل بسے۔ ان کی جسد خاکی کو قریب 11بجے ایمز سے پالم ہوائی اڈے لے جایا گیا،جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے اُن کی میت پر پھولوں کے ہار چڑھاکر خراج عقیدت پیش کیاجبکہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ وہاں پہلے سے موجود تھے ۔اس موقع پر قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوؤل سمیت مرکزی حکومت کے کئی عہدیدار بھی ہوائی اڈے پر موجود تھے ۔مفتی محمد سعید کے جسد خاکی کو بعد دوپہر قریب دو بجے نئی دلی سے ائر فورس کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے براہ راست سرینگر پہنچایا گیا۔سرینگر کے ہوائی اڈے سے ان کی میت ایک ایمبولنس کے ذریعے گپکار روڑ پر ان کی سرکاری رہائش گاہ’فیئر ویو‘ لائی گئی جہاں پی ڈی پی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے سیاسی لیڈران کے ساتھ ساتھ سینکڑوں پی ڈی پی کارکنان موجود تھے۔دلی سے مفتی محمد سعید کی میت کے ساتھ ان کی بیٹی اور پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور وزیر اعظم کے آفس میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ، سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد بھی سرینگر پہنچے۔اس موقعہ پر پی ڈی پی اور مرحوم وزیر اعلیٰ کے حق میں زوردار نعرے بازی کے بیچ پی ڈی پی کارکنوں کو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اپنے لیڈر کو یاد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد میں ان کی میت ایک جلوس کی صورت میں سرینگر کے شیر کشمیر اسٹیڈیم پہنچائی گئی جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔اس موقعہ پر گپکارروڑاور اسٹیڈیم کے آس پاس حفاظت کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور اہم شخصیات کی موجودگی کے باعث ہر طرف سیکورٹی اہلکاروں کا جال بچھا یا گیا تھا۔نماز جنازہ میں متعدد سیاسی لیڈران اور پی ڈی پی کارکنوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔اس سے قبل پولیس کے ایک خصوصی دستے نے مرحو م وزیر اعلیٰ کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔ سرینگر میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد مفتی محمد سعیدکا جسد خاکی گاڑیوں کے ایک قافلے کی صورت میں ان کے آبائی قصبہ بجبہاڑہ منتقل کیا گیا۔بجبہاڑہ میں لوگوں کی بھاری تعداد میت کا انتظار کررہی تھی ۔یہاں داراشکوہ(پادشاہی باغ)میں ان کی ایک مرتبہ پھر نماز جنازہ ادا کی گئی اورشام دیر گئے اسی باغ کے ایک کونے میں سپرد خاک کیاگیا۔


Pages