انکل ٹام (خاموش آواز)

قصہ حلال پونڈی ماحول کا

قصہ حلال پونڈی ماحول کا

ہر وقت مسلمانوں کے زوال کا ذمہ دار داڑھی والے مولوی کو ٹھرانے والے داڑھی منڈے غیر مولوی لبرل حضرات نے آج ہماری مسجد کے پارکنگ لاٹ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی ایک میلہ لگایا تھا-

جناب میلہ کیا تھا پونڈی بازی کے لئے “الانت والاخیر” ہی مچی ہوئی تھی، آپ یقین کریں پونڈی کرنے کے لئے شاپنگ مال جانے کی بجائے بندا مسجد چلا جائے اور امی بھی خوش اور پونڈی بھی حلال کہ مسجد میں ہی ہو رہی ہے، آنٹیوں کے وہ تنگ و چست کپڑے اور انکی بیٹیوں کی ننگی ٹانگیں ایسے نکلی جا رہی تھیں کہ بندا اوپر دیکھے تو اسغفراللہ اور نظریں جھکانے لگے تو ان للہ

لڑکے لڑکیوں کے میل ملاپ سے تنگ پڑ کر آرگنائزر انکل نے آخر علان ہی کیا کہ اگر کوئی شادی کروانے میں انٹرسٹڈ ہے تو میرے پاس آجائے آگے میں اسے ڈئریکٹ کر دوں گا، آگے وہ جانیں، میں نے کہا ہاں بئی کرو کرو تاکہ ڈیٹنگ بھی حلال ہو-

لڑکیاں لڑکوں کو تاڑ رہیں تھیں اور لڑکے لڑکیوں کو، ایک کونے میں محلے کے بابے بڈھے بھی کالی عینکیں لگا کر شیڈ میں بیٹھے سبحان اللہ کا ذکر جہر کر رہے تھے – وجہ شاید بے پردگی کی وجہ سے پیدا ہونے والے اثر کو زائل کرنا ہو۔

jiraiya-animestockscom-018

رات کو ہماری دکان پر مسجد کے مولانا صاحب آگئے، میں نے کہا حضرت آپ آج کدھر گئے تھے، کہنے لگے یار میں تو آج ہملٹن گیا تھا بچوں کو امی ابو سے ملانے واپسی پر سوچا پیزا کھلا دوں،

میں نے کہا اچھا کیا آپ مسجد نہیں گئے وہاں آج مسجد کا ماحول تو نہیں تھا ہاں شاپنگ مال کا محول ضرور تھا-

میں نے کہا آپ ان لوگوں کو منع نہیں کرتے؟

کہنے لگے یار کتنی دفعہ سمجھائیں گے ؟

میں نے کہا حضرت سمجھانے کے بھی طریقے ہوتے ہیں جو لوگ پیار سے نہ مانیں انکے لئے دوسرے طریقے استعمال کریں -

میں نے مولانا صاحب کو اس جمعہ میں اسی بات کو موضوع خطاب بنانے کی بھی درخواست کی -

پہلا روزہ اور بے ربطگیاں

شروع رمضان میں ہی کوثر بیگ صاحبہ نے یہ سلسلہ شروع کر دیا تھا کہ آپ اپنے پہلے روزے کے بارے بتلائیں، شاید وکیل گھمن صیب کی پوسٹ کے بعد یہ سلسلہ شروع ہوا، میری سستی ہے کہ پوسٹ نہیں پڑھی، ویسے تو اس موضوع پر کسی بھی بلاگر کی کوئی پوسٹ نہیں پڑھی، پتا نہیں کیوں ، دل ہی نہیں کیا، مجھے بھی کوثر بیگ صاحبہ کا میسج آیا تھا، کہ تم بھی اس موضوع پر پوسٹ لکھو، جب کچھ لکھنا ہوتا ہے تو میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آجاتا ہے، پھر لکھنے بیٹھتا ہوں تو الفاظوں سے جملے اور جملوں سے پیرے بننا شروع ہو جاتے ہیں، لیکن اس موضوع پر سوچ کر بھی کچھ نہیں آیا، خیر جاب پر کافی بریک کا وقت تھا، اس وقت کہہ دیا کہ گھر جا کر شام کو لکھ دوں گا، انہوں نے بتلایا بھی کہ وہ انتظار کریں گی، ارادہ میرا بھی تھا، لیکن گھر جا کر پتا نہیں کیا کیا، ہاں شام کو ابا کی دکان پر خواری کی اور اگلے دن پھر سویرے سویرے جاب پر واپس جانا تھا، ہر دوسرے دن سوچا کہ آج لکھوں آج لکھوں، لیکن میں بھی ویسا ہی سست اور نکما انسان ہوں جیسے اکثر اجکل پائے جاتے ہیں ۔ آج وقار بھائی کا میسج آگیا، آنکھ مار کر پوچھ رہے تھے کہ ہاں بھئی لکھ دی پہلے روزے کی کارگزاری تو انکا میسج اور بلاگ پوسٹ کا لنک دیکھ کر شرم آگئی کہ ایسے ایسے مصروف انسان لکھ گئے اور میں ابھی تک اس تالاب سے مچھلی نہیں پکڑ سکا ۔ تو سوچا آج کچھ لکھ ہی دوں ویسے بھی کوثر بیگ صاحبہ نے کہا تھا کہ اگر پہلا روزے نہیں یاد تو کچھ بھی لکھ دو ۔

سچی بات کہوں تو مجھے اپنے بچپن کے روزے، کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک تو یہ کہ شروع سے ہی رکھتے آئے کبھی “چڑی روزے” جو سحر کھا کر سونے کے بعد صبح اٹھتے ہی افطار بھی ہو جاتے تھے، اور چونکہ یہ سلسلہ اتنی کم عمری سے ہی شروع ہو چکا تھا کہ دماغ کے یاد رکھنے والے حصے نے اسکو یاد رکھنے کی ضرورت نہ سمجھی ،
ایک دوسری وجہ شاید یہ بھی تھی کہ دوسرے بچوں کی طرح میرے گھر والوں نے روزہ کشائی نامی کوئی پارٹی وغیرہ نہیں رکھی، شاید اس شو شا کی وجہ سے بھی یاد نہیں ۔ بہر کیف پہلا روزہ بلکل بھی یاد نہیں ۔
ہاں کچھ باتیں یاد ہیں، بچپن میں سحری میں اٹھ جایا کرتے تھے تو گھر والے سلانے کی کوشش کرتے تھے، اور اگر کبھی نہیں اٹھایا جاتا تھا تو گھر والوں سے صبح اٹھ کر بحث کی جاتی تھی کہ سحری کے وقت اٹھایا کیوں نہیں تھا، کئی دفعہ تو والدہ صاحبہ سے یہ بھی سنا کہ ہم خود دیر سے اٹھے تھے تو اتنا وقت نہیں تھا کہ تمہیں بھی اٹھاتے ۔
ایک دھندھلا سا سین ضرور یاد ہے جب ایک کمرے میں مٹھائی کا ڈبہ رکھا ہوا تھا تو میں روزے کے باوجود ہر دس منٹ بعد ایک لڈو کھا لیا کرتا تھا۔۔۔ روزے شاید سردیوں کے تھے اسی لئے مین نے کوئی ڈارک رنگ کی جرسی بھی پہن رکھی تھی، اس وقت ہم لوگ جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے، سارے خاندان کا چھت پر جمع ہو کر دھوپ سینکنا بھی یاد ہے ۔ یہاں کینیڈا میں بھی سردیوں کے ہی روزے ہوتے تھے، مجھے یاد ہے برف میں شلوار قمیض پر چپلیں پہن کر عید کی نماز پڑھنے جاتے تھے۔ پھر پتا نہیں کب سورج کب نکلا کب غروب ہوا چاند نے کتنے چکر کاٹے کے روزے گرمیوں کے ہو گئے ۔

روزہ پہلے ہی مسلمانوں کو بہت لگتا تھا ، اب اور بھی لگنا شروع ہو گیا، ایک دن پہلے روزے کسی کام سے شاپنگ مال چلا گیا، وہاں اک بندا بڑا لمبا چوڑا موٹا تازہ جوان ایسے منہ لٹکائے بیٹھا جیسے کوئی مر گیا، میں نے پریشان ہو کر پوچھا کہ یار کیا ہوا ایسے کیوں بیٹھا وا، کہنے لگا یار روزہ رکھا ہے، میں تو یہ بھی نہ سوچ سکا کہ اس پر ہنسوں یا رووں، خیر اسکو تسلی دی، بہت سے مسلمانوں کی حالت پہلے روزے ایسی ہی ہوتی ہے، مجھے نہیں معلوم پچھلے رمضان انہوں نے روزے کیسے رکھے ہوتے ہیں، میرے خیال سے روزے میں دب کے سحری اور دب کے ہی افطاری کرنے کے نتائج ہیں، روزے کا مقصد فاقہ کشی کا احساس بھی ہے، اگر وہ فاقہ کشی کا احساس نہیں ہو رہا تو آپکو دب کے سحری نہیں کرنی چاہئیے، ہاں سحری کی سنت ضرور پوری کر لیں لیکن سحری کے ساتھ ساتھ دوپہر اور شام کی گنجائش پوری نہ کریں۔
ہمارے لڑکپن میں کیبل کا رواج بہت ہو گیا تھا، ایک دفعہ روزوں کے شروع میں ہی ایک ہمسائے سے اس وجہ سے ہی لڑائی ہو گئی تھی کہ رمضان شروع ہوتے ہی انہوں نے کیبل لگوائی، کیبل کی تار لگانے آیا کیبل آپریٹر تو ہم اسکو کہہ بیٹھے کہ روزے میں گناہوں کی تیاریاں ، یہ کیا مسلمانیت ہے بھائی تو جناب کی گھوری بھی دیکھی اور گالیاں بھی سنیں۔ کچھ اپنی مسلمانیت بھی ایسی سی ہی ہے ۔

ہاں ہمارے بچپن میں غیر رسمی قسم کے مقابلے بھی بہت ہوا کرتے تھے، کہ فلاں نے اتنے روزے رکھ لئے، فلاں نے اتنے روزے رکھ لئے ۔۔ عبادتوں کے بھی مقابلے تھے، کچھ لوگوں میں تو یہ مقابلے بازی کی عادت ایسی پختہ ہو گئی کہ اب بھی وہ اپنی عبادت کے چرچے جس انداز سے کرتے پھرتے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ عبادت اللہ کے لئے نہیں مقابلے کے لئے کر رہے تھے،

پچھلے کئی رمضان ایسا ہی ہوا کہ میری طبیعت رمضان میں خراب ہو جاتی تھی،
میں پچھلے کئی رمضانوں سے اچھا مسلمان بننے کی کوشش کر رہا ہوں، ہر دفعہ یہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ چلو اس دفعہ مسلمان بن جاتے ہیں، نمازوں کی پابندی کر لیتے ہیں قرآن ختم کر لیتے ہیں، تراویح پورا رمضان پڑھ لیتے ہیں۔ لیکن ہر دفعہ ارادے بس ارادے ہی رہ جاتے ہیں۔

آجکل تو یہ سوچتا ہوں کہ رمضان میں یہ جو شیطان کو قید کر لیا جاتا ہے یہ ہمیں یہ احساس دلانے کے واسطے کیا جاتا ہے کہ ہم لوگوں کو بہکانے نیکیوں سے دور رکھنے اور گناہگاری میں ڈالنے کے لئے شیطان کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ رمضان میں بھی وہی کام جاری رکھے ہوئے ہیں، ویسے ہی ان نیکیوں سے ہٹے ہوئے ہیں جن سے غیر رمضان میں ہٹے ہوئے تھے، ویسے ہی وہی گناہ سر انجام دے رہے ہیں جو رمضان سے پہلے دے رہے تھے، ویسے ہی نمازیں پوری نہیں ہو رہیں اور ویسے ہی قرآن کھولا نہیں جا رہا۔۔۔۔ اب بندا شیطان کو کیا کیا قصور وار ٹھہرائے ۔۔۔

انسانیت کی کمی

سلیم بھائی نے فیس بک پر ایک نئے سٹیٹس کے تحت یہ بات لکھی کہ وہ چائنا میں سفر کر رہے تھے جہاں انکے ہمراہ ایک عورت اپنی ایک معذور بچی کے ساتھ سفر کر رہی تھی اور سفر میں موجود پاکستانی مردوں اور دیگر ممالک کے لوگوں کے کسی نے نہ انکی کوئی فکر کی نہ مدد کی نہ ہی کسی قسم کی کوئی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی، اس سے مجھے یہ بات یاد آئی کہ میں جاب پر ایک بندے سے بات کر رہا تھا جس نے شاید اب بڑھاپے کی طرف جاتے ہوئے ان چیزوں کے بارے سوچنا شروع کیا ہے جن پر انسان شاید جوانی میں نہیں سوچتا، بس باتیں کرتے ہوئے ہم انسانوں کی بغیرتیوں پر نکل گئے تو وہ انکل کہنے لگے کہ ان لوگوں میں تعلیم کی کمی ہوتی ہے، میں نے کہا کچھ چیزیں سیکھنے کے لئے انسان کو کالج اور یونیورسٹی جانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف بنیادی انسانیت کا ہونا ضروری ہے (اگر کسی کے پاس بنیادی انسانیت ہو تو اسکو پتا ہو کہ ہماری بس میں ایک معذور بچی ہے جسکی سہولت کا سامان اپنے بس میں چڑھنے سے پہلے کرنا ہے) -

تو وہ صاحب مجھ سے پوچھنے لگے کہ ہاں تو بنیادی انسانیت کہاں سے آئے گی ؟
میں نے کہا کالج میں بائیو کیمیسٹری یا انجنئیرنگ پڑھنے سے تو یقینا نہیں آئے گی کیونکہ ان مضامین میں انسانیت یا اخلاقیات کے نام پر کچھ پڑھایا نہیں جاتا -

تو وہ کہنے لگے کہ ضروری نہیں ہے کہ کالج یونیورسٹی سے ہی انسانیت سیکھی جائے اگر آدمی کچھ “تعلیم” حاصل کرنے لگے تو اپنے کلچر اور مذہب وغیرہ سے بھی بہت سے اخلاقیات سیکھتا ہے -

مجھے نہیں معلوم کہ انکل کی بات میں کس قسم کے لوگ شامل تھے لیکن مجھے مسلمان ہونے کے ناتے یہ بڑا زناٹے دار تھپڑ اپنے گال پر محسوس ہوا کہ بحثیت مسلمان ہمارا دین اسلام اور ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی سب سے زیادہ انسانیت ہمیں سکھائی ہے ٹھیک ہے ہم اگر گالیاں سن کر دعائیں نہیں دے سکتے یا زخم کھا زخم دینے والے پر پھول نہیں برسا سکتے تو کم سے کم ہم اتنا تو احساس کر سکتے ہیں کہ بس میں ایک بچی معذور ہے جسکی ماں اسکو سفر میں پتا نہیں کب سے گھسیٹ رہی ہے اور کچھ نہیں تو اسکی ماں کو دروازے کے ساتھ والی سیٹ ہی دے دیں کہ اترنے چڑھنے میں آسانی ہو -

یہ زمانے کی سختی کا بہانہ بھی ایک بہانہ ہے میں نے زمانے کی اختی سے گزرے ہوئے انسانوں کو سخت نرم خو بنتے دیکھا ہے ایسے لوگوں کو سختیوں کا احساس ہوتا ہے اور دوسرے انسانوں کی خدمت کا کچھ قدر جذبہ ہوتا ہے لیکن میرے مشاہدے کے مطابق پاکستانی زمانے کی شکار نہیں ہیں بلکہ سخت قسم کی مادہ پرستی، حوس اور لالچ کا شکار ہیں، دوسروں کے ساتھ معاشی ترقی کا مقابلہ کرنے کی دوڑ میں لوگ مذہب اور اقدار سے بہت دور چلے گئے ہیں دماغوں پر پیسے دولت کا ایسا خول چڑھ چکا ہے جس نے دلوں کو بھی کالا کر دیا ہے-

میرے خیال سے اس بات پر دھرنے دینے کی بجائے کہ کس شخص کو ملک کا وزیر اعظم ہونا چاہئیے ہمیں اس بات پر دھرنا دینے کی ضرورت ہے کہ ملک کے لوگوں میں بنیادی انسانیت ہونی چاہئیے -

عظیم فلسفی و دانشور انکل ٹام

دہشت گردی کے واقعات میں معتدل موقف

تجربہ یہ سکهاتا ہے کہ اچها سوشیالوجسٹ بننے یا سوشل مسائل کو انکی گہرائی میں جا کر سمجهنے کے لئے آپکو بے حسی کی حد تک کسی بهی قسم کے جذبات سے عاری ہو کر مکمل طور پر ریشنل ہو کر دیکهنا پڑتا ہے، لبرل اور مذہبی طبقے میں موجود اختلافات میں شدت پسندی کی ایک وجہ ایک “اچها سوشیالوجسٹ” نہ ہونا بهی ہے، یعنی یہ حضرات کسی بهی واقعے پر غور و فکر کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نہ تو احساسات سے عاری کرتے ہیں نہ ہی تصویر کو مخالف کی نظر سے دیکهنے کی صلاحیت ان حضرات میں ہوتی ہے۔

دوسری چیز سوچنے سمجهنے کی صلاحیت ہے اور چونکہ “سائبر سوشیالوجسٹس” جذبات سے عاری نہیں ہیں لہذا مسئلے کی اصل وجوہات کے بارے میں غور و فکر کرنے کی بجائے مخالفت الزام برائے الزام کی کیفیت زیادہ ہوتی ہے، مخالف نظریات کو قبول کرنا تو دور اس پر غور و فکر کرنے اور امکان وقوع کو تسلیم کرنے کے لئے بهی دماغ تیار نہیں ہوتا، ایک گروہ کو ہر دہشت گردانہ کاروائی میں طالبان کا ہاته نظر ہے جبکہ دوسرا گروہ ہر واقعے میں “یہودی سازش” اور امریکی و بهارتی گٹه جوڑ تلاش کرتا رہتا ہے، معاملہ مزید اس وقت مزحکہ خیز ہو جاتا ہے جب سائنسی حوالے سے ہر قسم کی “کانسپیریسی نظریے” پر اندها اعتماد رکهنے والے مخالف کی کسی بهی تهیوری یا نظرئیے پر غور و فکر کرنے کی بجائے “کانسپیریسی پکوڑا” کہہ کر ایسے رد کرتے ہیں جیسےآئی ایس آئی کے ساته واقعہ کی پانچ سالہ تحقیقات کرتے رہے ہوں۔

اسی لئے موجودہ سانحہ یوحنا آباد کے تناظر میں ہونے والے واقعات پر آپ نے کچه لوگوں کے ایسے کمنٹس دیکهیے ہوں گے کہ جب مسلمانوں نے عیسائی جوڑے کو جلایا تها تو تب تم کیوں خاموش تهے، اور دوسری طرف سے واقعہ یوحنا آباد میں ہلاک ہونے والے عیسائی حضرات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، اور یہ ہی چیز معاشرے میں شدت پسندی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ہمیں بحثیت مسلمان اس واقعے پر افسوس ہے، عیسائی حضرات کے ساته ہونے والے ظلم پر بهی اور مسلمان جوانوں کے ساته ہونے والے ظلم پر بهی، وجہ اسکی واضح ہے کہ ظلم بہرحال ظلم ہے عیسائی کے ساته ہو یا مسلمان کے ساتھ اور بحثیت مسلمان ہمیں ہر ظلم پر اظہار افسوس کرنا چاہئیے یہ دیکھے بغیر کہ مظلوم کا مذہب کیا ہے۔ – لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم معاملے کی گہرائی اور اسکے اثرات پر جذبات کی شدت میں بہہ کر غور و فکر کرنا چهوڑ دیں بہت سے لبرل اور کچھ پڑھے لکھے سمجھدار حضرات بھی اپنی اپنی مرضی کی جگہ پر واقعات کے تانے بانے ملانا شروع کر دیتے ہیں،جہاں تک ان تانوں بانوں کی بات ہے تو یہ تانے بانے بهی طاقت کا کهیل ہیں، جسکے پاس پیسہ اور پراپگینڈا کی طاقت ہے وہ جسکے تانے جسکے بانوں سے چاہے ملا سکتا ہے، ورنہ طالبان کے نام پر بهتہ تو کالج یونیورسٹی کی لڑکیاں بهی کها گئی ہیں۔

عظیم فلسفی و دانشور انکل ٹام

میں کون ہوں؟

لیں جناب ایک دفعہ پھر سے تعارف کا وقت ہوا ہے، کچھ دوستوں نے کہا تعارف کروائیں اور ایک دوست نے تو مجھ سے بائیوگرافی لکھنے کی درخواست ہی کر دی، ایک تعارف میں اپنے بلاگ پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں، اور شاید یہ تعارف بھی اس سے ملتا جلتا ہے، تعارف کیا ہے، عمومی طور پر یار دوست اپنا نام عمر کام شام تعلیم  بتا کر فارغ ہو جاتے ہیں، لیکن کیا وہ تعارف ہے ، میرے لئے شاید نہیں، حقیقت میں مجھے نام سے غرض بھی نہیں ہوتی، میں شاز شاز ہی اپنے فیسبکی دوستوں وغیرہ سے انکے اصل نام کی درخواست کرتا ہوں، اکثر جب لوگ مجھ سے میرا اصل نام جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو انکو بھی ٹالنے کی کوشش ہی کرتا ہوں، وہ کیا ہے کہ شیکشپئیر بھی کہہ گیا ہے کہ جناب نام میں کیا رکھا ہے، حقیقت بھی یہی ہے دنیا اصل چیز پر توجہ نہیں کرتی، جو کہ کام ہے، اور ایک غیر ضروری چیز کو بہت اہمیت دیتی ہے وہ نام ہے، اسی لئے پاکستانیوں میں فقرہ مشہور ہے کہ جناب ہمارا تو نام ہی کافی ہے، جناب فلاں کا تو نام چلتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستانیوں کا کہیں کام نہیں چلتا۔

میرا تعارف، میں کون ہوں ؟

اپنے اجمل چاچا کے بلاگ کا سلوگن بھی اس سے ملتا جلتا ہے “میں کیا ہوں“، جون ایلیا کہہ گیا تھا

تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم
میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں

اجمل چاچا کے بلاگ کا سلوگن اشارہ دیتا ہے کہ انکے بلاگ کا ایک مقصد خود کو جاننے کی کوشش ہے لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ انسان بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو کبھی خود کو جان پاتے ہیں، اگر انسان خود سے خود کو جان پاتے تو شاید کبھی نفسیات کا موضوع وجود میں نہیں آتا، ویسے تو نفسیات کے موضوع کا مقصد انسان کا “خود” کو سمجھنا تھا، لیکن انسانوں نے اس موضوع کو ہی غلط سمجھ لیا انہوں نے اس سے خود کو سمجھنے کی بجائے دوسروں کو سمجھنے کا کام لینا شروع کر دیا، اسی لئے آپ نے مشکل ہی کسی انسان کا نام سنا ہو گا جس نے اپنا نفسیاتی علاج خود کیا ہو، بلکہ ماہر نفسیات بھی خود کو سمجھنے کے لئے دوسرے ماہر نفسیات کے پاس ہی جاتے ہیں۔

خود کو سمجھنا اور دوسروں کو سمجھنا، تجربے نے بتایا ہے کہ انسان دونوں معاملات میں ہی فیل ہوا ہے!

میں کون ہوں ؟
Who_am_I__by_xed83
اس موضوع پر دہریت کی اپروچ بھی غلط ہے، انہوں نے میں کون ہوں کی بجائے میں کیوں ہوں پر غور فکر کرنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ بنیادی سی بات ہے کہ آپ “الف” کو جانے بغیر “ب” کو نہیں جان سکتے، اور اس موضوع کا “الف” یہ تھا کہ “میں کون ہوں” اور اگر آپکو “ب” پر جانے کی اتنی جلدی ہی تھی تو اس موضوع پر غور کر لیتے کہ “میں ایسا کیوں ہوں” لیکن نہیں جناب انسان کی “مت” ماری جاتی ہے تو اسکو سمجھ نہیں آتا کہ میں نے کس راستے سے کس منزل کی جانب جانا ہے اسئی لئے وہ موضوع سے بہت دور نکل گئے اور پوچھنا شروع کر دیا کہ “میں کیوں ہوں” ۔ میں کیوں ہوں کا جواب آپکو نہیں مل سکتا، کیوں کہ ظاہر ہے، آپ کے پاس کیوں کا ہونا آپکو “جاہل” ثابت کرتا ہے، تبھی آپ علم کی تلاش یعنی کیوں کی تلاش مین ہیں، اور آپکی جہالت سے یہ خوبخود ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ کسی کی مخلوق ہیں، اور یہ اس دنیا کا اصول ہے کہ مخلوق کو اسکی ضرورت کی معلومات خالق کی طرف سے پہنچا دی جاتی ہیں، اگر آپکو یہ جاننا ہے کہ میں کیوں ہوں تو خالق کی طرف سے دی گئی معلومات میں سے اسکا جواب تلاش کریں۔

میں کون ہوں؟

میں انسان ہوں، آپ جیسا ہونے کے باوجود میں آپ جیسا نہیں ہوں، میں آپ جیسا ہوں، لیکن میری شکل آپ جیسی نہیں ہے، میں آپ جیسا ہوں لیکن میری آواز آپ جیسی نہیں ہے، میں آپ جیسا ہوں میرے بال ناک کان ہونٹ آپ جیسے نہیں ہیں، میں آپ جیسا ہوں ، میرا رویہ آپ جیسا نہیں ہے، میں آپ جیسا ہوں لیکن میری سوچ آپ کی سوچ جیسی نہیں ہے۔

میرا رویہ اور سوچ آپ کے رویے اور سوچ جیسے نہیں ہیں، اصل چیز جو مجھے آپ سے الگ اور ممتاز کرتی ہے، جو کسی بھی انسان کو دوسرے سے الگ اور ممتاز کرتی ہے، وہ اسکا نام ، پتا اسکی عمر رنگ و شباہت نہیں ہے، وہ اس انسان کا رویہ اور اسکی سوچ ہے۔

آپ کی سوچ کیسی ہے؟
آپکا رویہ کیسا ہے ؟

جی مجھ سے بہت دنیا خوش ہے، میری سوچ یہ ہے کہ میرا رویہ ایسا ہونا چاہئیے کہ کسی کو مجھ سے تکلیف نہ ہو ۔

کیسی تکلیف نہ ہو ؟

کوئی انسان میری کسی بات سے نا خوش نہ ہو

کیوں بھئی آپ منافق ہیں ؟

جی ہاں آپ منافق ہیں، کیونکہ آپ حق بات نہیں کہتے آپ سچے کے سامنے تو سچ بولتے ہیں لیکن جھوٹے کو خوش کرنے کے لئے اسکے سامنے جھوٹ بھی بولتے ہیں، آپ منافق ہیں، کیونکہ آپ خدا سے نہیں انسان سے ڈرتے ہیں، آپ ڈرتے ہیں کہ کوئی مجھے “بدتہذیب” نہ سمجھ لے، آپ اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کے بجائے فوراً کسی کے غلط نقطہ نظر سے اتفاق کر لیتے ہیں، آپ ڈرتے ہیں کہ کوئی آپ پر “اختلافی” کا فتوی نہ لگا دے، آپ ڈرتے ہیں کہ آپکے بےباکانہ روئیے سے کوئی آپ کو بدتمیز نہ سمجھ لے۔

میں کون ہوں ؟

میں ایک نہایت بد تہذیب انسان ہوں، مجھے انسانوں کے درمیان اٹھنے بیٹھنے بات کرنے کی تہذیب نہیں ہے، میں غریبوں والے کپڑے پہن کر امیروں میں بیٹھ جاتا ہوں، غریبوں کے درمیان زمین پر بیٹھنے سے میرے کپڑے گندے نہیں ہوتے، میں اپنی غربت کے باوجود اپنے میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ انکو برا لگے گا، میں اردو دانوں کے سامنے پنچابی بولنے سے نہیں شرماتا، میں پنجابی ایکسنٹ میں رادو بولنے سے نہیں ڈرتا، میں انگریزی دانوں کے سامنے اپنی اردو پر فخر کرتا ہوں۔

میں کون ہوں ؟

میں ایک نہایت بدتمیز انسان ہوں، میں اس بات کی پرواہ سے عاری ہوں کہ میرے آپکو جاہل کہنے سے آپ یا کوئی اور مجھے کیا سمجھے گا ، میں آپکی جہالت کا ثبوت آپکے سامنے رکھ کر آپکو جاہل کہنے سے باز نہیں آوں گا حالانکہ میں جانتا ہوں کہ آپ خود کو علامہ سے کم نہیں سمجھتے۔

میں کون ہوں؟

میں تفرقے باز ہوں، مجھے اتفاقی ہوائیں راس نہیں آتیں، میں لوگوں کی ان باتوں سے اتفاق نہیں کر سکتا جن سے مجھے اتفاق نہ ہو، جب موقع ملے میں اپنا اختلاف ضرور ظاہر کرتا ہوں، میں ہر وقت اس موقعے کی تلاش میں رہتا ہوں کہ باطل کے سامنے حق کا اظہار کیا جائے، میری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ میں جھوٹ کو جھوٹ کہا جائے، میں جھوٹے کے سامنے سچ کہنے سے نہیں ہچکچاتا ۔ یقیناً میں ایک تفرقے باز ہی ہوں۔

میں کون ہوں؟

میں بے حس انسان ہوں، میں ایک بے پرواہ انسان ہوں، میرے اندر سے اس بات کا احساس ختم ہو چکا ہے کہ “انسان” مجھے کیا سمجھتے ہیں، میں اس بات سے بے پرواہ ہو چکا ہوں کہ انسان مجھے کیا سمجھیں گے۔

تو میرا حوصلہ تو دیکھ
تو داد تو دے کہ اب مجھے
شوقِ کمال بھی نہیں
خوفِ زوال بھی نہیں

جون ایلیا

نیک نے نیک اور بد نے بد جانا مجھے

کالج میں میرا ایک استاد تھا، ہر دفعہ کلاس میں میرے ساتھ “سٹیروٹیپیکل” لطیفے مارتا تھا، کبھی میری داڑھی پر کبھی مسلمانی پر وغیرہ وغیرہ، میں اسکو ہنس کر ٹال دیتا تھا، ویسے اسکو لطیفے مارنے کی بڑی عادت تھی ہر ایک کے ساتھ مارتا تھا، اور کھل کر گندے لطیفے بھی مارتا تھا ایک دن کہتا کہ اگر کبھی کالج والوں نے مجھے کالج سے نکالا تو انہی حرکتوں کی وجہ سے نکالیں گے، خیر کسی کے دل میں کیا، اللہ جانے، میں نے بھی کبھی اس کے لطیفوں کو لطیفوں سے آگے نہیں لیا، ایک دن اس نے میرے بارے “دہشت گردی” والا لطیفہ مارا، میں وہ ہی مسکراہٹ چہرے پر لے آیا، تو ایک دم رک کر دوسرے لڑکوں کو کہنے لگا کہ “تمہیں اس کی مسکراہٹ سے ڈر نہیں لگتا”؟ کسی کے دل میں کیا اللہ جانے، لیکن کچھ لوگ اپنے دل اپنے الفاظوں سے ظاہر کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔

میں باہر جاتا ہوں، بہت سے لوگوں سے ملتا ہوں، میں فیس بک پر بہت بکواس کرتا ہوں یہاں بھی بہت لوگ کمنٹ کرتے ہیں، لوگ میرے بارے میں کتنا جانتے ہوں گے ؟ چار فیصد ، دس فیصد، حد ہو گئی پچاس فیصد، لیکن کبھی آپ انکے کمنٹ پڑھا کریں اور جو اصل زندگی میں جاننے والے کمنٹ دیتے ہیں انکے کمنٹ سنا کریں، سو فیصد کے لیول پر رکھ کر دیتے ہیں کہ جیسے انکی فہم نہیں قرآن کی آیت ہے جو غلط ہو نہیں سکتی۔۔۔۔

d17c15aa3df44238ba00014bd03b2e4e

کچھ سالوں پہلے کی بات ہے جب میں مزدوری کیا کرتا تھا ایک دن اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لے گیا، اس دن ڈرائے وال ڈیلیور ہوئی تھی جسکو اٹھا کر بیسمینٹ میں لے کر جانا تھا، اگر ڈرائے وال بس گتے کے اندر چونا بھرا ہوتا ہے، زرا زور لگاو تو ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، میرا چھوٹا بھائی جوانی کا زور لگا را کہ میں نہ کر سکوں تو اور کون کر سکے، میں نے اسکو تب یہ کہا تھا کہ کانفیڈینس بہت اچھی چیز ہے، انسان میں ہونا چاہیے، لیکن اوور کانفیڈینس بہت بری چیز ہے، یہ جاہل بندے کو اپنے جاہل ہونے کا احساس نہیں ہونے دیتا۔

مجھے لوگوں کی باتیں بری لگتی تھیں، میرے بھی یار دوست ہیں جنکو میں شکایتیں لگا دیا کرتا تھا، اب بھی کبھی لگا دیتا ہوں، لیکن وہ بھی جانتے ہیں کہ اب میری شکایتوں میں کمی آگئی ہے، کیوں؟ میں نے برا منانا چھوڑ دیا ہے، میں نے یہ جان لیا ہے کہ لوگوں کی عمریں انکی عقل و فہم سے پچیس سال بڑی ہوتی ہیں، لوگ بیوقوف ہیں، لوگ جاہل ہیں، یہ جاہل اور بیوقوف رہنا پسند کرتے ہیں، یہ آپ کے بارے میں بہت جلد بہت گھٹیا نتائج اخذ کر لیتے ہیں، میں کرنے دیتا ہوں۔

پچھلے دن ایک بندا مجھے ایسی ہی شکایت لگا رہا تھا، تو میں نے اسکو بتایا تھا کہ تمہیں معلوم ہے
کسی بیوقوف اور جاہل انسان پر تم سب سے بڑا احسان کیا کر سکتے ہو ؟
وہ پوچھنے لگا کہ کیا ؟
میں نے کہا اس کو یہ احساس دلا دو کہ وہ جاہل اور بیوقوف ہے۔

پھر میں نے اس سے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ کسی جاہل
اور بیوقوف سے تم سب سے بڑا انتقام کیسے لے سکتے ہو ؟
کہنے لگا کیسے ؟
میں نے کہا کہ اسکو یہ احساس نہ ہونے دو کہ وہ جاہل اور بیوقوف ہے۔

لوگ آپ کے بارے میں ججمینٹس بناتے ہیں، انکو بنانے دیں، اصل میں وہ ججمینٹس آپ کے بارے میں کم ہوتی ہیں، زیادہ تو وہ لوگوں کی اپنی عقل و فہم، انکی شخصیت میں موجود صبر و تحمل، اور وہ زندگی کو کس طرح دیکھتے ہیں اس سب کی آئینہ دار ہوتی ہے۔

موجودہ دور کے زیادہ تر انسانوں کا دماغ سولہ سترہ سال کی عمر میں ترقی کرنا بند کر دیتا ہے، اور وہ اسی سولہ سترہ سالہ دماغ کے ساتھ پچاس سال کا جسم لئے پھرتے رہتے ہیں۔۔۔۔

قصہ وہی ہے جو کسی شاعر نے کہا

نیک نے نیک بد نے بد جانا مجھے
جس کا جتنا ظرف تھا اتنا ہی پہچانا مجھے

زندگی کی خوشیاں اور بے حسی

یار یہ کتنے افسوس کی بات ہے میں نے تاسف سے سر ہلایا تها، اور تمہاری ہنسی نہیں رک رہی، شمس نے اپنی ہنسی روکی کچه کہنے کو منہ کهولا اور کچه کہے بغیر پهر ہنسنے لگا اور میرا منہ پهر بن گیا، یہ بلکل بهی مزاحیہ بات نہیں ہے شمس، مجهے اسکے ایسے ہنسنے سے اب الجهن ہونے لگی تهی، یہ بہت مزاحیہ بات ہے اگر تم اسکو محسوس نہ کرو تو شمس نے ہنسی روک کر نہایت سیریس انداز سے کہا-
کیوں؟ کیا تمہارے نزدیک دوسروں کے دکه درد کو محسوس نہیں کرنا چاہئیے؟ کیا دوسروں کے دکه کو اپنا دکه نہیں سمجهنا چاہئیے ؟
نہیں بلکل نہیں، شمس کے چہرے پر کافی گہری سنجیدگی چها گئی تهی، ہم کیوں محسوس کریں دوسروں کے غم کو؟ وہ خود ہی کافی ہیں-
تم جیسے لوگ خود غرض ہوتے ہیں شمس، بے شک تم میرے دوست ہو لیکن تم ایک خود غرض انسان ہو، اور تم جیسے خود غرض لوگ شاید کتے سے بهی بدتر ہوتے ہیں کتا بهی دوسروں کو تکلیف میں دیکه کر پریشان ہوتا ہے انکی مدد کو دوڑتا ہے لیکن تم لوگ کتے سے بهی بدتر جانور ہو جو دوسروں کی تکلیف پر ہنستے ہو-

شمس نے بہت پرسکون انداز سے میری بات سنی پهر مسکراتے ہوئے کہنے لگا ہاں ہم جانور ہیں، انسان ہے ہی کیا، حیوان ناطق ایک جانور ہی تو ہے، اور ہم خود غرض ہی ٹهیک ہیں خوش و خرم زندگی گزارنے کے لئےnbsp; یہ خود گرزی بہت ضروری ہے-

دیکه ٹامے جیسے وہ کہتے ہیں نہ بڑے بوڑهے کے زیادہ سوچنے سے انسان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے ایسے ہی زیادہ محسوس کرنے سے انسان کا دل خراب ہو جاتا ہے، اور خراب دماغ تو کبهی ٹهیک ہو بهی جاتا ہے لیکن دل اگر ایک دفعہ خراب ہو جائے تو پهر کبهی ٹهیک نہیں ہوتا، انسان ساری عمر خوش نہیں رہ سکتا، اسکو چهوٹی چهوٹی بات بهی محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے- اور تو، تو سمجهتا ہے یہ تیرے دل میں دوسروں کے لئے محبت پیدا کرے گی، بہت غلط سوچتا ہے تو ٹامے، یہ چیز تیرے اندر بہت خاموشی سے تیرےnbsp; اندر نفرت کے انگارے جلا دے گی، تجهے دنیا کا ہر شخص برا لگنے لگے گا تو خود بهی خوش نہیں رہ سکے گا اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بهی خوش نہیں ہونے دے گا- اچها چل چهوڑ اسے مجهے اینڈنگ بتا-

شمس نے موضوع ایسے تبدیل کیا جیسے اسکی کوئی اہمیت ہی نہیں تهی-
یار اینڈنگ کیا ہونی تهی اسنے دو دن پہلے ہی شہیر کو گفٹ دیا تها اور شہیر کہہ را تها کافی مہنگی شرٹ تهی، اور اگلے ہی دن اسکو لات بهی مار دی، میں بهی وہیں تها اور شہیر کو تو کچه نی کہا، لیکن جاتے جاتے مجهے کہہ گئی کہ مجهے تم سے سخت نفرت ہے –

اب اس میں میرا کیا قصور تها؟ میں نے تو اسکا بهلا سوچ کر ہی کیا تها جو کچه کیا تها، اور وہ شہیر وہ بهی چهوٹے بچوں کی طرح رو را تها-

تجهے پتا اس نے یہ سب کیوں کیا؟ شمس نے کافی کا کپ سائیڈ پر رکه کر پوچها-

دماغ خراب ہوا ہو گا اسکا، حالانکہ شہیر

نہیں نہیں، دماغ تو تیرا خراب تها جو تو نے یہ حرکت کی اور اس نے تیرے سے بدلا اتار لیا، اب سمجها میں کیوں ہنس رہا تها

اس بات نے مجهے گہری سوچ میں ڈال دیا،

یار اب تم یہ بات شہیر کو نہ بتانا میں نے شمس سے التجا کی

کیوں ؟

کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ وہ بهی مجه سے نفرت کرے مجه سے نفرت کرنے والے پہلے سے ہی بہت ہیں-

فلاسفر صیب جو کافی دیر سے بہت خاموشی سے ہماری حرکت سن رہے تهے اچانک اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے گویا ہوئے ” یار مجهے تمہاری ساری باتیں تو سمجه نہیں آئیں لیکن بہت ہی نازک صورت حال ہے”-nbsp;

یہ کہانی یوں یاد آئی جب پچهلے دن شمس سے ملاقات ہو گئی مجهے کہنے لگا کہ تو بڑی جلدی ضرورت اور وقت سے پہلے بڑا ہو گیا ہے اور اس چیز نے مجهے بہت ڈس اپوائنٹ کیا ابهی بهی وقت ہے اپنے ساته ساته دوسروں پر بهی ہنسنا سیکه لے —– میں نے کہا یار کیا کروں عادت سے مجبور ہوں

عمرانی انقلاب میں زرداری کی آمد

اصل میں عمران جو کہہ را ہے وہ غلط نہیں ہے، ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ کرپشن نہ ہو، عوام کو بجلی اور دیگر سہولیات ملیں، نااہل لوگوں کو ذمہ دار عہدوں سے ہٹایا جائے، بندر کو ریوڑیاں بانٹنے کی طرح حکومتی عہدے اور وزارتیں رشتے داروں اور قرابت داروں میں نہ بانٹی جائیں۔

لیکن جو طریقہ کار اس کام کے لئے عمران نے اختیار کر لیا ہے وہ غلط ہے، اور رہی سہی کثر انکل قادری نے انہی دنوں اسی جگہ اپنا ٹوپی ڈرامہ چلا کر نکال دی ہے۔ اسکو چاہئیے تھا کہ الیکشن میں دھاندھلی پر ان تمام لوگوں کو ساتھ ملاتا جو اسکا شکار ہوئے ہیں، اسکو جھنگ سے مولانا احمد لدھانوی، اور کرک سے شاہ عبدالعزیز جیسے مضبوط گروپوں کو اپنے ساتھ ملا کر ایک مضبوط پریشر گروپ بنا لینا چاہئیے تھا۔ اور اصلاحات کو عملی طور پر نافظ کروانے اور جن جن جگہ الیکشن میں دھاندھلی ثابت ہوئی ہے وہاں ری الیکشن کروانے کی کوشش کرتا۔

ایسا نہ کرنے کی واحد وجہ میری سمجھ میں یہ ہی آتی ہے کہ عمران اپنے ساتھ کسی مذہبی نظریے کے حامل گروہ کو ملانا نہیں چاہتا، وہ اپنی ایک الگ لبرل پارٹی والی شناخت قائم رکھنا چاہتا ہے، اور پیچھے جہاں سے اسکو چابی مل رہی ہے وہ لوگ بھی ان مذہبی گروہوں کو الیکشن ہروانے میں شامل رہے ہیں اور خود وہ بھی نہیں چاہئیں گے کہ یہ عمران کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد قائم کریں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران یہ بات سمجھ چکا ہے کہ اب اس ملک میں اسلامی نظام نافظ ہو ہی نہیں سکتا، جو کرنے کی کوشش کرے گا اسکا بھی تیا پانچا ہو جائے گااسی لئے اس نے اس چیز کو بلکل سائیڈ پر رکھ دیا ہے اور انتظامی اصلاحات پر کام شروع کر دیاکہ اگر اسلام نافظ نہیں ہو سکتا تو کم سے کم انتظامی اصلاحات تو ہوکرپٹ لوگوں کو وزارت وغیرہ نہ ملے

میرے خیال سے  ن لیگ اور دیگر پارٹیوں کے حامی جو لوگ عمران پر یہ اعتراض کرتے ہیں ناچ گانے کا وہ غلط اعتراض کرتے ہیں، کیونکہ یہ ہی سارے ڈرامے باقی پارٹیوں کے بھی ہیں، جب نواز الیکشن جیتا تھا تب میں نے لوگوں سے پوچھا تھا کہ یہ جو جیت کی خوشی میں ناچ گا کر جشن ہو رہا ہے اس پر کتنے نفلوں کا ثواب ہے ؟

اس سارے قضئیے سے عمران خان کے ساتھ تو جو کچھ ہونا تھا سو ہوا، اسکی جو رپیوٹیشن خراب ہونی تھی وہ ہوئی، لیکن ن لیگ نے اپنے زرداری کو مدد کے لئے بلا کر اپنے آپ کو مکمل طور پر نااہل ثابت کر دیا ہے، اگر سیاسی کیریر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو نواز و شہباز کے مقابلے میں زرداری کل کا بچہ ہے، لیکن اس نے اپنی پریس کانفرنس میں خود کو ڈاکٹر کہہ کر ثابت کر دیا کہ صحیح سیاستدان بننے کے لئے ن لیگیوں کو ابھی دس سال زرداری کی شاگردی کرنی پڑے گی ۔ میرے خیال سے نواز و شہباز کو اب سیاہ ست وغیرہ چھوڑ کر اپنی ملوں اور شوگر کی فیکٹریوں پر ہی  مکمل دھیان دینا چاہئیے ۔

ماہر سیاسی تجزیہ نگار انکل ٹام

چنگیز خان سے مار کیوں پڑتی ہے؟

ایک عالم بننے کے لئے مدرسے میں سات سال لگانے پڑتے ہیں اور مفتی بننے کے لئے ایک دو سال اور لگانے پڑه جاتے ہیں پهر کئی سال مدرسے میں حدیث کی کتابیں پڑهانے کے بعد بندا شیخ الحدیث بنتا ہے اور ان حدیث کی کتابوں کی مدرسی تک پہنچنے کے لئے پہلے کئی سال دیگر کتابوں کی تدریس کرنی پڑتی ہے اس ساری تفصیل کو پڑه کر آپ اندازہ لگا لیں کہ شیخ الاسلام بننے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہوں گے، اور ہر عالم کا ایک سلسلہ حدیث ہوتا ہے جسکو عمومی طور پر سند بهی کہا جاتا ہے جو بالترتیب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے-

اب پاکستان میں ایک “خود ساختہ شیخ الاسلام” صاحب انقلاب کا تازیانہ بجاتے ہوئے نازل ہوئے ہیں، جنکو اوپر بیان کردہ تفصیل کی روشنی میں میں تو کوئی عالم تک ماننے کو تیار نہیں چاجائیکہ شیخ الاسلام، شیخ الاسلام صاحب کہتے ہیں وہ انقلاب لائیں گے، اور انقلاب جمہوریت میں رہتے ہوئے آئے گا، اگر اس بات کو مان لیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات نہین ہے اسی لئے شیخ السلام صاحب کو جمہوریت خے تحت ہی انقلاب لانا ہے، اور ایسے میں ہمیں ان شیخ صاحب پر لعنت بهیج کر سائیڈ پر ہو جانا پڑے گا اور اگر یہ مان لیا جائے کہ شیخ صاحب کے نزدیک اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو پهر شیخ صاحب سے پوچها جائے کہ آپ اسلام نافظ کرنے کا اعلان کیوں نہیں کرتے ؟

دو دن پہلے ان نام نہاد شیخ الاسلام کے بارے عطا الحق قاسمی نے ان صاحب کا مذاق اڑایا، جس قسم کی ان شیخ الاسلام صاحب کی حرکتیں ہیں ویسا ہی انکا مذاق ہی بننا تها اور انکی وجہ سے ہم جیسے نام کے داڑهی والے مسلمانوں کا بهی مذاق اڑتا ہے، کوئی بندا پوچه لے کہ سناو فیر مولوی صیب آپکے شیخ الاسلام پاکستان میں کیا گل کهلا رہے ہیں تو ہم جیسا بندا بغلیں جهانکنے لگتا ہے، اسکو صحیح کہہ نہیں سکتے اور غلط کہنے کی جرات کر لیں تو فرقہ واریت کے طعنے الگ-

اس بات پر پچهلے دن اپنے ایک محترم بزرگ سے کچه گفتگو ہو گئی انکی بات کو مفہوم کچه یوں تها کہ جو کچه بهی ہے ہمیں عطا الحق قاسمی جیسے لبرل لوگوں جو شراب کی محفلوں میں بهی بیٹه جاتے ہیں سے علامہ صاحب کا مذاق نہیں کرنا چاہئیے کہ جو عالم بهی ہیں اور ایک دنیا انکی مرید بهی ہے، میرے خیال سے یہ ہی ایک وجہ ہے کہ علامہ صاحب کے علامہ پن پر کهلے عام بولا جائے اور کهل کر تنقید کی جائے کیونکہ ایک جاہل بڑا طبقہ انکا پیرو ہے اور انکے حکم پر کٹ کهانے کو بهی تیار ہو جاتا ہے، یہ ایک عوامی جہالت اور بد اخلاقی ہے اور عوامی جہالت اخلاقی دیوالیہ ایسی چیز ہے جو قوموں کو چنگیز خان کے کوڑے کے سامنے کهڑا کر دیتی ہے، اس چیز پر چهوٹے بهائی کے دوست سے پچهلے دن گفتگو ہوئی-

wpid-genghis_khan_by_zeynowar.jpg
چهوٹا بهائی اپنے ایک دوست کو دکان پر پیزا کهلانے لے آیا، وہ ہفتے کے ایک ایسے دن میں ایسے وقت پر آیا جب علاقے کے سارے پاکستانیوں کو پیزا یاد آجاتا ہے، شاید تنخواہ ملنے کی وجہ سے، اس نے لوگوں کی ریل پیل ہوتی دیکهی تو پوچهنے لگا کہ یار اس بزنس میں کتنا پرافٹ ہوتا ہے، میں نے اسکو کہا کہ یار دیکهو لوگوں کی ریل پیل تو بہت ہے لیکن یہ اسی وقت ہے اسکے علاوہ سارے گاہک دیسی ہیں، اور ابهی کل کی ہی کہانی سنو، ایک انکل آئے، پیزے میں ایکسٹرا ٹاپنگ ڈلوائی، ایکسٹرا ٹاپنگ کے پیسے تو چهوڑو پیزے کے ہی پیسے پورے نی دئیے اور ساته کیڑے بهی نکال کر گئے، کیڑے وہ خیر نہ نکالتے لیکن میں نے پورے پیسوں کا مطالبہ کر لیا تها- اس نے پهر مجه سے بڑی معصومیت سے پوچها کہ یار ہم دیسی ایسے کیوں ہوتے ہیں؟

میں نے اسکو کہا کہ یار ایک چیز ہے کہ یہاں دیسی لوگ غریب ہیں، لیکن ان حرکتوں کہ وجہ غربت نہیں ہے کیونکہ جو امیر ہیں انکی بهی یہ ہی حرکتیں ہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ ہماری قوم کا اخلاقی دیوالیہ نکل گیا ہے، ہم لوگوں نے کمینگی کو سٹینڈرڈ بنا لیا ہے، یہ لوگ دوسرے کا حق مارنا حلال سمجهتے ہیں، یہ لوگ اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے، یہ ڈرتے ہیں کہ اگر غلطی تسلیم کر لی تو اپنی گندی عادتوں کو چهوڑنا پڑ جائے گا، یہ لوگ احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں، یہ گوری چمڑی دیکهتے ہی پیروں میں بچه جاتے ہیں، اور اپنے جیسے لوگوں کو حقیر سمجهتے ہیں ان سے بدتمیزی پر اتر آتے ہیں، یہ لوگ دزبان ہیں، انکو بات کرنے کی تمیز نہیں ہے یہ بات بات پر گالیاں بکتے ہیں، ان لوگوں میں برداشت نہیں ہے یہ لوگ زرا زرا سے اختلاف پر مرنے مارنے کو تل جاتے ہیں- اور جب قوم اس حالت کو پہنچ جائے تو یا پهر ایک خونی انقلاب چاہئیے ہوتا ہے جیسا ماوزے تنگ انقلاب لے کر آیا تها کہ جس نے بهی زرا سی چوں چاں کی اسکو گولی سے اڑوا دیا اور اس طرح قوم سیدهی ہوتی ہے اور اگر قوم اس سے بهی زیادہ مردہ ہو جائے کہ یا تو اس میں کوئی ماوزے تنگ پیدا نہ ہو یا وہ اس ماوزے تنگ کی بات کو جوتے کی نوک پر رکه کر اڑا دے تو اللہ تعالی اس قوم پر چنگیز خان نازل کرتا ہے جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے -

وَ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ فِی الۡکِتٰبِ لَتُفۡسِدُنَّ فِی الۡاَرۡضِ مَرَّتَیۡنِ وَ لَتَعۡلُنَّ عُلُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۴﴾ اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم خرابی کرو گے ملک میں دو بار اور سرکشی کرو گے بڑی سرکشی [۸] فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ اُوۡلٰىہُمَا بَعَثۡنَا عَلَیۡکُمۡ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیۡ بَاۡسٍ شَدِیۡدٍ فَجَاسُوۡا خِلٰلَ الدِّیَارِ ؕ وَ کَانَ وَعۡدًا مَّفۡعُوۡلًا ﴿۵﴾ پھر جب آیا پہلا وعدہ بھیجے ہم نے تم پر اپنے بندے [۹] سخت لڑائی والے پھر پھیل پڑے شہروں کے بیچ اور وہ وعدہ ہونا ہی تھا [۱۰] ثُمَّ رَدَدۡنَا لَکُمُ الۡکَرَّۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَمۡدَدۡنٰکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ جَعَلۡنٰکُمۡ اَکۡثَرَ نَفِیۡرًا ﴿۶﴾ پھر ہم نے پھیر دی تمہاری باری [۱۱] ان پر اور قوت دی تم کو مال سے اور بیٹوں سے اور اس سے زیادہ کر دیا تمہارا لشکر اِنۡ اَحۡسَنۡتُمۡ اَحۡسَنۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ ۟ وَ اِنۡ اَسَاۡتُمۡ فَلَہَا ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَۃِ لِیَسُوۡٓءٗا وُجُوۡہَکُمۡ وَ لِیَدۡخُلُوا الۡمَسۡجِدَ کَمَا دَخَلُوۡہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوۡا مَا عَلَوۡا تَتۡبِیۡرًا ﴿۷﴾ اگر بھلائی کی تم نے تو بھلا کیا اپنا اور اگر برائی کی تو اپنے لئے [۱۲] پھر جب پہنچا وعدہ دوسرا بھیجے اور بندے کہ اداس کر دیں تمہارے منہ اور گھس جائیں مسجد میں جیسےگھس گئے تھے پہلی بار اور خراب کر دیں جس جگہ غالب ہوں پوری خرابی [۱۳] عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یَّرۡحَمَکُمۡ ۚ وَ اِنۡ عُدۡتُّمۡ عُدۡنَا ۘ وَ جَعَلۡنَا جَہَنَّمَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ حَصِیۡرًا ﴿۸﴾ بعید نہیں تمہارے رب سے کہ رحم کرے تم پر اور اگر پھر وہی کرو گے تو ہم پھر وہی کریں گے اور کیا ہے ہم نے دوزخ کو کافروں کا قید خانہ [۱۴]

قصہ اک بد تہذیب درویش کا

qadiyani
ویسے تو میں چاہتا تھا کہ اس مسئلے پر ایک بلاگ پوسٹ لکھ دوں، لیکن آج کل کچھ نجی مصروفیات ہین اور ان سے بھی زیادہ سستی چڑھی ہوئی ہے کہباوجود خواہش کے میں کوئی بلاگ پوسٹ لکھ نہیں پایا، عرض اتنی ہے کہ اللہ کا کرم ہے کہ میں اپنی مڈ ٹین ایج سے ہی علمی کاموں کے شغف میں مبتلا رہا ہوں، اور پورے پورے دن لائبریری میں کتابیں پڑھتے ڈھونڈتے گزارے ہیں، اور اپنی ٹین ایج میں ہی ردِ قادیانیت کا علمی کام کرنے کا موقع ملا ہے، جسکی وجہ سے میرے رد قادیانیت کے حوالے سے متحرک لوگوں سے سلام دعا بھی رہی ہے، اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ اکثر قادیانی مربیوں سے اس حوالے سے مباحث بھی ہوئے ہیں اور الحمداللہ اس میں میری کوئی بڑائی نہیں بلکہ حضور نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی فضیلت ہے کہ اپنے سے تین چار گنا بڑی عمر کے مربیوں سے مرزا کی سیرت پر مباحثے کئیے ہیں اور انکو ناکوں چنے چبوائے ہیں، اور یہ علمی مباحثے اب بھی انٹرنیٹ کی اکثر ویب سائٹس پر موجود ہیں، اور مقصد کسی بات پر غرور و تکبر کرنا نہیں ہے کہ اللہ ہمیں بچائے رکھے ایسے رویوں سے، جو لوگ میرے بلاگ کو عرصہ سے فالو کر رہے ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ شروع میں جب میرا بلاگ ورڈ پریس پے کے پر ہوتا تھا تب میں نے اپنے بلاگ پر مرزا قادیانی کی سیرت کے حوالے سے ایک پوسٹ لکھی تھی جس میں اس زمانے میں بلاگستان میں قادیانیت کے تبلیغ کرنے والوں کو کھلے عام ایک علمی مباحثے کی دعوت دی تھی، اور چونکہ ورڈ پریس پی کے والی سائٹ بند ہو گئی تھی لہذا میری وہاں کی تمام پوسٹس بھی ضائع ہو گئی تھیں۔

 

ایک دو سال پہلے ایک اردو بلاگر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں کینیڈا کے ایک صحافی کا بڑا کردار تھا، اور اردو بلاگرز نے اس اردو بلاگرز کانفرنس کو کامیاب کروانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا، اور ملک بھر سے اردو بلاگرز اس کانفرنس میں شامل ہونے کو لاہور پہنچے تھے، اس وقت فاروق درویش نامی ایک شخص نے بہت فساد مچایا تھا اور بغیر ثبوت کے کافی لوگوں پر الٹے سیدھے الزامات عائد کئیے تھے، جن میں ایک الزام اکثر حضرات پر قادیانی ہونے کا بھی تھا، اس وقت بھی اردو بلاگرز کی اکثریت ایک طرف تھی جبکہ فاروق درویش صاحب ایک طرف تھے۔

 

بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ سیدہ سارا غزل نامی آئی ڈی فاروق درویش ہی کی ہے اور اس آئی ڈی کو چلانے والے بھی فاروق درویش صاحب ہیں اور یہ بات بہت سے سمجھدار اردو بلاگرز کو بھی معلوم ہے اور سوشل میڈیا کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص فاروق درویش صاحب کی پروفائل اور سیدہ سارا غزل کی پروفائل دیکھ کر باآسانی ڈڈکٹ کر سکتا ہے ۔

 

کچھ دن پہلے سیدہ سارا غزل کی آئی ڈی سے فاروق درویش نے کچھ لوگوں کو گالیاں وغیرہ دی تھیں اور قادیانی ہونے کا الزام لگایا تھا، اس پر ہمارے محترم بلاگر دوست ڈاکٹر جواد صاحب نے صرف اس مفہوم کی بات لکھی تھی ’’ اپنے ہر مخالف کو قادیانی بنانا ٹھیک رویہ نہیں ہے‘‘ اس پر ڈاکٹر صاحب کو جو برا بھلا کہا گیا، اس پر ڈاکڑ صاحب کا ہی کا بڑا ظرف اور ہمت اور برداشت ہے کہ اسکا برا منانے کی بجائے ان تبصروں کے سکرین شاٹ اپنی وال پر چٹکلے کے طور پر لگا دئیے، جس پر اکثر بلاگر دوستوں نے انکی مذمت کی کچھ نے اپنے انداز سے مذاق بھی کیا۔

 

اس پر فاروق درویش صاحب نے بجائے اسکے کہ اپنا رویہ درست کریں، اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں یا جن کے ساتھ انہوں نے زیادتی کی ہے انسے معذرت کریں، فاروق درویش صاحب نے ڈاکڑ جواد صاحب اور ان تمام لوگوں کو اپنی وال پر گالیاں دینا شروع کر دیں جنہوں نے ان تبصروں کی مذمت کی تھی، اور رمضان کے مبارک مہینے کا بھی نہ کچھ خیال کیا نہ کچھ غیرت کی اور ایسی ایسی گالیاں دیں کہ ہم نے زندگی میں پہلی دفعہ سنی تھیں ، الامان والحفیظ۔ ان گالیوں کی زد میں ڈاکٹر جواد صاحب، ڈاکٹر افتخار راجہ اٹلی والے، میرے محترم اونی چاں یاسر خوامخواہ جاپانی ، جعفر حسین، اور میرا نام بھی شامل تھا۔

 

فاروق درویش نے نہ صرف مجھ سمیت ان تمام حضرات کو گالیاں بکیں بلکہ اسکے علاوہ ہم پر قادیانی ہونے اور قادیانی نواز ہونے کا الزام بھی لگایا اور اسکے علاوہ دھمکیاں بھی دیں، جو کہ اردو بلاگرز گروپ میں انکے کمینٹس وغیرہ میں ابھی بھی موجود ہیں، بات یہ ہے کہ ہم اردو بلاگرز بہت آزاد منش لوگ ہیں، ہم سب کے اپنے اپنے نظریات ہیں، اور بہت سی باتوں پر آپس میں اختلافات بھی ہیں بلکہ خود میرا ڈاکٹر جواد صاحب سے ایک مسئلے پر اختلاف ہوا تھا اور میں نے اس پر ایک پوسٹ لکھی تھی وہ پوسٹ ابھی بھی میرے بلاگ پر موجود ہے، اسکے باوجود میں نے ڈاکٹر صاحب کی ہمیشہ عزت کی اور انہوں نے میرے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا۔ مجھے اس حوالے سے سب سے زیادہ دکھ ڈاکٹر جواد صاحب کی اس پوسٹ سے ہوا تھا جس میں انہوں نے درویش صاحب کی گالیوں پر ہم سے معافی مانگی تھی حالانکہ اس میں انکا کوئی قصور بھی نہیں تھا ۔

 drjawwad mazrat

لیکن یہ رویہ جو فاروق درویش صاحب نے اپنایا ہے جس میں اپنے مخالف لوگوں کو گالیاں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں، جس میں ختم نبوت پر ایمان رکھنے والوں کو قادیانی اور قادیانیت نواز کہا جاتا ہے ، اس رویے کا اردو بلاگرز سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم اردو بلاگرز اس بد تہذیب رویے سے کھل کر براءت کا اظہار کرتے ہیں، اسکے علاوہ یہ بات بھی کھل کر کہتے ہیں کہ ہم میں سے جن لوگوں پر قادیانیت کا الزام لگایا ہے ہمارا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ہم میں سے اکثر کے بلاگ پر قادیانیت کے خلاف پوسٹس موجود ہیں اور اکثر اپنے کمنٹس اور فیس بک سٹیٹس میں قادیانیت پر تنقید کرتے پائے گئے ہیں۔

 

نیز یہ بھی کہ ہم لوگ کسی کی گالیوں، دھونس اور دھمکیوں سے نہین ڈرتے، اور یہ بات بھی کہے دیتے ہیں کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ ایسا برا رویہ رکھنے سے باز نہ آئے تو ہم مل کر انکے خلاف لیگل ایکشن بھی لیں گے۔

فاروق درویش صاحب کی گالیوں اور دھونس دھمکیون کے کچھ نمونے نیچے ملاحظہ فرمائیں۔

farooq1 farooq2 farooq3 farooq4 farooq5

غم جذب کرنے کی خواہش

تمنا مختصر سے مختصر تر ہو گئی ہے
میرے اپنوں کی دنیا میری دشمن ہو گئی ہے

وہ سورج دھوپ برسا کر کہیں اب سو چکا ہے
مجھے بارش میں جینے کی ہی عادت ہو گئی ہے

میرا اب دل دکھانے سے نہیں کچھ فائدہ ہے
مجھے اب گھاو کھانے کی ہی عادت ہو گئی ہے

مجھے رستے زخم کے ساتھ رہنا آگیا ہے
مجھےخود زخم سینے کی ہی عادت ہو گئی ہے

کبھی آکر ملو اس باغ کے پیڑوں کے نیچے
کہ جن پیڑوں کا ویرانی مقدر ہو گئی ہے

کرو اب بات اس مجذوب کی کچھ دیر مجھ سے مجھے
کچھ غم جذب کرنے کی خواہش ہو گئی ہے
10363729_1612926925599239_1675587867_n

کم عمری کی شادیاں اور معاشرتی گھن چکر

کچھ سال قبل ایک کورین فلم دیکھی تھی جس میں ایک دادا شور مچا دیتا ہے کہ میرے دوست کے پوتے اور میری پوتی کی شادی ہونی چاہئیے، چونکہ اسنے اپنے دوست کے بیٹے کو بھی پالا ہوتا ہے تو وہ اسکا اپنے ابا جیسا ہی احترام کرتا ہے اور اسکا بیٹا بھی اسکو دادا ہی مانتا ہے لیکن مسئلہ یہ کہ لڑکا یونیورسٹی ختم کر را اور لڑکی ابھی سولہ سترہ سال کی سکول میں ۔ اور دادے کو مسئلہ یہ کہ شادی ابھی کہ ابھی انجام پائے ۔ خیر پھڈے ڈال ڈال کے وہ شادی کروا ہی دیتا ہے اس فلم سے یہ پتا چلا تھا کہ کوریا میں قانون ہے کہ اگر ماں باپ بھی بچوں کے رشتے سے راضی ہوں تو سولہ سال کی عمر کی لڑکی کی شادی ہو سکتی ہے ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ ایسے کسی قانون میں شادی کرنے والے مرد کی عمر کا تعین ابھی تک میری نظر سے نہیں گزرا، یعنی اگر سولہ سال کی لڑکی کے والدین کو کوئی اعتراض نہ ہو تو وہ کسی ساٹھ سال کے تایا جی سے بھی شادی کر سکتی ہے ۔

امریکی زرا اور بھی کھلے ڈھلے مزاج کے ہیں ، وہاں اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچتے بچے ویسے ہی گھر سے بھاگنے کو تیار رہتے ہیں ، اسی لئے ان مغربی ممالک میں ایک خاص اصطلاح استعمال ہوتی ہے ’’گولڈ ڈگرز‘‘ کی یعنی روکڑے کی تلاش میں رہنی والی وہ لڑکیاں جو عمر میں تو اٹھارہ سال کی ہوتی ہیں لیکن انکو کسی پچاس ساٹھ سال کے ملینئیر تایا جی سے سچی محبت ہو جاتی ہے۔ انکے معاشرے میں اس پر کوئی پابندی نہیں، منڈے کھنڈے تو ایسی لڑکیوں کو اتنا اچھا نی سمجھتے ظاہر سی بات ہے آپ نوجوان اور خوبرو ہوں اور پھر بھی کوئی لڑکی آپکو چھوڑ کر کسی تائے کے پیچھے چل پڑے تو کہاں اچھا لگے گا۔

کہانی اتنی سی ہے کہ انسانیت کو ابھی یہ ہی کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے ہلکی ہلکی عقل آئی تھی کہ کم عمر لڑکیوں کی شادی نہیں کرنی تبھی یہ معیوب ہو گیا تھا، ورنہ رنگ ، نسل ، ملک، مذہب وغیرہ کی تفریق کے علاوہ انسان چھوٹی عمر کے بچوں کی اور چھوٹی عمر کی بچیوں سے شادیاں رچاتے رہے ہیں، آپ اسکو جنسی تسکین کا نام دیں، یا جلیں بھنیں۔ لیکن یہ انسانیت کا معمول رہا ہے اور یہ ہی کوئی ڈیڑھ سو سال کے دور سے پہلے کے انسانوں کے وڈے وڈے اخلاق دان دانشوروں نے بھی اسکو برا نہ کہا نہ سمجھا۔

pb-sy-child-marriage2-100517.photoblog900
انڈیا میں بچوں کی شادی کی ایک تصویر، تصویر کا ربط

اسی لئے اگر آپ نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے حضرت عائشہ سے نکاح پر اعتراضات تلاش کرنا شروع کریں تو آپکو اٹھاوریں صدی سے پہلے اس پر کوئی اعتراض نہیں ملے ، کسی غیر مسلم سے بھی کوئی اعتراض نہیں ملے گا۔ وجہ کوئی سمجھ سے باہر آنے والی نہیں ہے یہ ہی ہے کہ عمر چاہے ، چھ سال ہو، نو سال ہو یا تیرہ یا سولہ یا انیس سال ہو۔ اس معاشرے میں یہ ایک معمول تھا بلکہ کوئی انیس سال تک کنواری رہی ہو یہ بڑی ہی غیر معمولی بات میرے خیال سے سمجھی جاتی ہو گی ۔

اسی لئے جب ہائی سکول کے دور میں بھی میری لوگوں سے اس مسئلے پر بات ہوتی تھی تو میں انکو یہ ہی کہتا تھا کہ یار نبی پاک صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر لوگوں نے طرح طرح کے اعتراضات کئیے ہیں، کہا کہ یہ کسی اور سے سیکھ کر آتے ہیں ، نعوذ باللہ جادوگر ہیں اور پتا نی کیا کیا کہا، لیکن کسی نے بھی کم عمر لڑکی سے شادی کرنے پر اعتراض نہیں کیا ؟ آخر کیا وجہ ہے کیوں نہیں کیا ؟ وجہ سادہ ہے کہ یہ اس معاشرے کا معمول تھا ۔ ہمارے یہاں تو کوئی چھبیس سال کی لڑکی سے پچاس سال کا بندا شادی کر لے تو لوگ کیا کیا باتیں بنائیں گے ہم سبھی اچھی طرح جانتے ہیں، بلکہ ہمارے ادھر کینیڈا میں تو اکثر لڑکے اگر اپنی عمر سے دو چار سال بڑی لڑکی کو بھی ڈیٹ کا پوچھ لیں تو کچھ تو آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں کہ میں تمہیں شکل سے ’’پیڈو‘‘ لگتی ہوں۔

اس پر ذاہد صاحب کی بات بڑی کمال کی ہے کہ آپ اس بات کو کتنا بھی زور لگا لیں چاہے انیس سال تک عمر کو پنچا دیں جدید ذہن کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ ہی ہے کہ معاشرہ خود کو تین سو ساٹھ ڈگری کا ٹرن لے کر مکمل طور پر تبدیل کر چکا ہے، کہاں وہ زمانہ تھا کہ چھوٹے چھوٹے دو صحابی جنگ میں گھسنے کی کوشش کرتے تھے اور کہاں آج کا زمانہ ہے کہ تیس سال کے انکل بھی ایکس باکس اور پلے سٹیشن پر مقابلے کرتے ہیں ۔ آپ موجودہ ذہن کو سمجھا ہی نہیں سکتے کہ یہ بات مکمل طور پر قابل قبول ہے ۔

ذاہد صاحب نے بہت اچھا سوال پوچھا ہے کہ چلیں اگر سولہ یا انیس سال کی عمر بھی مان ہی لیں تو کتنے ہیں جو چون سال کے شخص سے اپنی سولہ یا انیس سال کی لڑکی کی شادی کر دیں گے۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ لڑکا پڑھا لکھا ہو، اسکے سر پر بال مکمل ہوں، اسکے نوکری ایک لاکھ سے کم نہ ہو، ماں باپ کے ساتھ بیگم کو نہ رکھے، اور ہر مہینے باہر کھانا بھی کھلائے ۔ ہیں جی کہ شہزادہ گلفام چاہئیے ۔

تو کہانی صرف اتنی سی ہے جیسے ہمارے وڈے بابے کہا کرتے تھے کہ شادی پر چاہے دیگ ایک پکاو یا دس نکتے تو کھڑے ہونے ہی ہیں، تو جب نکتے کھڑے ہی ہونے ہیں تو صرف اعتراضات کے طوفان سے بچنے کے لئے عمر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا کیا فائدہ ؟؟؟ اٹھارہ سالہ گولڈ ڈگر کے طعنے مارنے کے بجائے بندا ڈائیریکٹ یہ پوچھ لے کہ بتاو تمہارے سکولوں میں کتنے فیصد ’’ٹین پریگنینسیز‘‘ ہو رہی ہیں تو زیادہ اچھی نی ؟

اور پھر آپ دفاع کریں گے بھی کہاں تک؟ مثال کے طور پر کزن میرج، ہمارے ہاں بلکل جائز، آپ کسی گورے کو کہہ دیں وہ کہے گا ’’انسیسٹ‘‘ یعنی بہن بھائیوں کا آپس میں شادی کرنا۔ اور ناک بھوں چڑھائے گا۔ برا منائے گا ہو سکتا آپکے ساتھ بیٹھنے سے بھی اسکو الجھن ہو ۔ ۔۔۔ اگر اگر بلفرض یہ مان بھی لیں تو پھر آپ اس بات کا کیسے دفاع کریں گے کہ اسلام میں شادی جسمانی بلغوت کے بعد جائز ہو جاتی ہے اور جسمانی بلوغت کسی لڑکی کو آٹھ سال کی عمر میں بھی ہو سکتی ہے ۔ تو تکنیکی اعتبار سے اسکی شادی جائز ہو گئی ۔ تو اسکو کس کھڈے لین لگائیں گے آپ ؟

لیکن ایک بات آخر میں آپکو بتا دوں، کہ جس گروہ کو آپ مطمئن کرنے کی کوشش کرنے کے لئے اپنے نظریات و دلائل کو بگاڑ رہے ہیں ، اسکا کوئی فائدی نہیں ۔ انکے معاشرے میں تو ہر دوسرے دن ’’اخلاق تبدیل‘‘ ہوتے رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں ان لوگوں کے نزدیک افریقہ کے کالوں کو غلام بنانے پر فخر تھا، جسکے پاس جتنے زیادہ غلام اتنا بڑا سردار اور لارڈ مانا جاتا تھا، آج وہی لوگ آپ سے سوال پوچھتے ہیں کہ بتاو تمہارے مذہب میں یہ غلامی کا کیا تصور کیا اجازت ہے، کیوں تمہارے نبی کے پاس غلام تھا۔ ویسے تو یہ ہی کہتے ہیں کہ ڈارون نے اپنی کزن سے شادی کی تھی، اب ان لوگوں کے نزدیک کزن سے شادی کرنا ایسے ہی ہے جیسے سگے بہن بھائیوں سے شادی کرنا۔ کل ان لوگوں کے نزدیک ہم جنس پرستی اتنی معیوب تھی کہ لوگ اسکو چھپاتے پھرتے تھے، آج آپ زرا ایک لفظ زبان سے اسکے خلاف نکال کر دیکھیں پھر یہ آپکو بتائیں گے کہ اظہار رائے کی آزادی کیا ہوتی ہے ۔ جنابو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس قوم کے اخلاق گرگٹ کے رنگ کی طرح بدلتے ہوں، اسکو مطمئن کرنے کی کوششوں میں اپنے مذہب کے حقائق و حلیہ بگاڑنا ایک بیوقوفی سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا۔

حضرت عائشہؓ کی کم عمری کے نکاح پر میں اس سے پہلے بھی ایک پوسٹ لکھ چکا ہوں جو کہ یہاں پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔

عظیم فلسفی و دانشور انکل ٹام

حادثے کا خوف

آج شام میں ہی ملائشئن ائیر لائن سے رابطہ منقطع ہونے کی خبریں نظر سے گریں۔
جن جن دوستوں نے خبر پڑھی ہے انکو بتاتا چلوں کہ ہر جہاز میں ایک آلہ نصب ہوتا ہے جسکا نام ہے ای ایل ٹی یعنی ایمر جنسی لوکیٹنگ ٹرانسمیٹر، یہ آلہ امپیکٹ کے ساتھ ہی خود کو ایکٹیویٹ کر کے فریکوینسی بھیجا شروع کر دیتا ہے تاکہ امپیکٹ کہ جگہ کو آسانی سے تلاش کیا جا سکے ۔

پھر اسکے بعد خبر پڑھی کہ
ویت نام ایمرجنسی ریسکیو والوں کو ای ایل ٹی کا سنگل موصول ہوا ہے جسکا مطلب یہ ہی ہے کہ جہاز کریش ہو گیا ہے ، اور امریکی نیوی نے بھی اس بات کو کنفرم کیا ہے کہ جہاز سمندر میں کریش کر گیا ہے
article-2576087-1C1EA44D00000578-34_634x438
جیسا کہ دوستوں کو پچھلے دن میری کچھ فیسبکیاں پڑھ کر اندازہ ہو چکا ہو گا کہ میں ایک مقامی ائیر لائن کے ساتھ دو دن کی انٹرنشپ کر رہا تھا، تو وہاں پر کام کرنے کے دوران ایک انجنئیر سے میری اسی معاملے میں بات چیت ہو رہی تھی کہ اگر کوئی کیٹیسٹرافک ایوینٹ ہو جائے خدانخواستہ کسی جہاز کے ساتھ اور اس جہاز پر کام کرنے والوں میں ہم بھی شامل ہوں تو کیا بنے گا۔

یہ ایک خوف ہوتا ہے جسکے ساتھ شاید ہر انجنئیر کو ڈیل کرنا پڑتا ہے، جس انجنئیر سے میں بات کر رہا تھا اسکا کہنا تھا کہ اس معاملے سے ڈیل کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہی ہے کہ اپنا کام ہمیشہ حاضر دماغی سے اور قوانین کے مطابق کیا جائے، اور ہمیشہ اچھے سے اچھا انجنئیر بننے کی کوشش کی جائے۔ اس انجنئیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ لوگ اسی خوف سے شراب نوشی بھی شروع کر دیتے ہیں۔

لیکن موجودہ دور میں ایوی ایشن کا سسٹم اتنا ری ڈنڈنٹ بن چکا ہے کہ اگر کوئی انجنئیرنگ غلطی کی وجہ سے خرابی ہوئی ہو تو وہ واقعی بہت بڑا بلنڈر تصور کیا جاتا ہے ، مثال کے طور پر کسی بھی ملک کے سول ایوی ایشن کی وزارت نے ایک لسٹ ترتیب دی ہوتی ہے جسکو ہم لوگ ’’ایم ای ایل‘‘ کہتے ہیں، یعنی مینمم ایکوپمنٹ لسٹ، جس میں یہ بتایا گیا ہوتا ہے کہ کون کون سے پرزے اگر کام نہ کر رہے ہوں تو اسکے باوجود بھی جہاز اڑایا جا سکتا ہے، لیکن بڑی بڑی کمپنیوں نے جو ایکویپمینٹ لسٹ ترتیب دی ہوتی ہے وہ سول ایوی ایشن کی وزارت کی لسٹ سے بھی زیادہ سخت ہوتی ہے۔

ویسے تو ایوی ایشن میں ایکسیڈینٹ سیریز آف ایوینٹس کا نام ہے لیکن ایک انجنئیرنگ کے طالب علم کی حثیت سے میں یہ ہی امید کروں گا کہ اس کریش میں کوئی انجنئیرنگ کی خرابی نہ ہو ۔

سمندر کا شور

آج کے دن میں نے تم سے
اتنی ساری باتیں کی ہیں

میری باتیں تمہارے واسطے
فقط سیلاب کا شور ہوں جیسے

تم سب یہ جو مل جل کر
ایسے مجھ پر ہنستے ہو

کل جب تم کو یاد آئے گا
میں بھی باتیں کرتا تھا

میں بھی کبھی تیز ہوا کے
جھونکوں جیسا شور رکھتا تھا

پھر تم جب کبھی یہ سوچو گے
مین اتنا چپ چپ کیوں رہتا ہوں

میرا وجود کیوں اک دم جیسے
گنگ صحرا کی خاموشی ہے

پھر جب تم یہ جانو گے
سمندر میں بھی شور ہوتا ہے

عظیم شاعر و ادیب انکل ٹام

khamoshi

احساس محرومی

میں نے عشا کی باقی نماز مکمل کی، مسجد کے دفتر کی دیوار پر بنے ہوئے ہینگر سے اپنی جیکٹ ہی اتار رہا تھا کہ اچانک انکل جمیل باہر نکلے، میری طرف دیکھ کر مسکرائے، اور کہنے لگئے بھئی کیا بات ہے، سمش تمہاری بہت تعریف کر رہا تھا۔ انکل جمیل سے تو میری سلام دعا سے زیادہ بات چیت نہیں ہے، لیکن شمس سے کافی گہری بات چیت ہے، مجھے نہیں معلوم کہ شمس کیوں میری تعریف کر رہا تھا۔ حیرت انگیز طور پر اس دن جنید بھی مسجد میں تھا اور اس سے بھی بڑھ کر جو حیرت کی بات ہے وہ عشا کی نماز کے لئے، میں باہر نکلا تو وہ باہر ہی کھڑا تھا، ہمیشہ کی طرح اسکو اوائیڈ کر کے جانے لگا تو اس نے مجھے آواز دے کر روک لیا۔

مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے

میں نے اسکی طرف دیکھا، اسکی نگاہوں میں کچھ اداسی سی محسوس کی۔

چلو ٹم ہارٹنز چلتے ہیں، میں نے آگے بڑھتے ہوئے کہا ۔

یہ شاید پہلا موقع تھا جب میری اور جنید کی کوئی بات چیت ہونے والی تھی میں تھوڑا نروس ضرور تھا، اس سے پہلے سکول میں جنید اکثر میری طرف عجیب سی نگاہوں سے دیکھا کرتا تھا، ایک دو لڑکوں سے یہ بھی سننے کو ملا کہ جنید کو میرا ثانیہ کے ساتھ ملنا جلنا پسند نہیں ہے اسی لئے وہ مجھے اپنے دوستون کے ساتھ مل کر مارے گا۔

ویسے تو اسکے دوستوں کی فہرست میں کوئی اتنے اچھے لڑکے شامل نی تھے، لیکن پھر بھی میں نے کبھی اس قسم کی افواہوں سے ڈرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ اسکی وجہ شاید میرے بھائیوں کے دوستوں کی لمبی فہرست سے زیادہ ثانیہ کا اپنا باغی پن تھا۔

تم رمیز کو جانتے ہو؟ جنید نے کافی کپ کا ڈھکنا کھولتے ہوئے میرے طرف دیکھے بغیر پوچھا۔

شاید مجھے اندازہ تھا کہ جنید مجھ سے یہی بات کرے گا، جنید کی اور میری یہ پہلی دفعہ بات چیت، اور یہ پہلی ملاقات ہی رمیز کے بارے میں، میرا اندازہ بلکل ٹھیک نکلا، رمیز ایک خطرناک شخص ثابت ہوا تھا۔

سکول میں تقریباً ہر کوئی دوسرے کو جانتا ہے، اگر تمہارا سوال دوستی سے متعلق ہے تو شاید تمہیں مجھے ایک دو دفعہ ڈالر پوائنٹ پر دیکھ کر اندازہ ہو گیا ہو کہ میرا اٹھنا بیٹھنا صرف شمس کے ساتھ ہوتا ہے اسکے علاوہ میں اپنے دونوں بھائیوں اور انکے مشترکہ دوستوں کے ساتھ بھی وقت نہیں گزارتا۔

اور ثانیہ ؟ جنید نے مجھ پر گہری نظریں گاڑتے ہوئے سوال کیا ۔

میری اس سے کئی دن سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ میں نے بھی اسکی طرف نظریں جمائے رکھیں، شاید میں اس کے سامنے کمزور نہیں دکھنا چاہتا تھا۔

اور ثانیہ کی تیری فرینڈ نئی اے ؟ جنید کی آواز تھوڑی تیز ہوئی تھی، دونوں بہن بھائی ایک جیسے ہی ہیں،جڑواں ہونے کا کچھ نہ کچھ اثر تو ہونا ہی تھا، اسکی پنجابی نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔

وائے ڈونٹ یو کم ٹو دا پوائنٹ۔ میں نے کافی سیریس انداز میں بہت کام() لہجے میں اس سے کہا۔ شاید مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ بات کس طرف کو جائے گی، لیکن میرے اندازے کے برعکس جنید نے ایک نئی کہانی سنا دی۔

کل ابو نے اسکو رمیز کے ساتھ دیکھ لیا، یو کانٹ ایون امیجین ہاو بگ آف این ایوینٹ اِٹ واز ایٹ مائی پلیس

کہاں پر اور کب ؟ شاید میرے لہجے میں حیرانگی ہونے کے باوجود نہیں تھی ۔ شاید مجھے معلوم ہی تھا کہ ایسا ایک نہ ایک دن ہو گا ہی۔ بلڈی ایڈیٹس، میرے منہ سے نکلتا نکلتا رہ گیا۔

تو اب تم نے کیا سوچا ہے ؟ میں نے اپنے جوس کی بوتل بند کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔

کُٹ لاواں گا اس کتے دے پتر نوں۔

جنید کے الفاظ سے حقارت عیاں تھی۔ ثانیہ بھی ایسے ہی غصے میں آکر پنجابی بولنے لگتی تھی، اور گالیاں شاید دونوں کو اپنے ابا جی سے جنیاتی طریقے سے ملی ہوں گی ۔

اور فائدہ ؟ میرے سوال سے اسکو مزید غصہ آیا

وٹ دا ایف ڈز دیٹ سپوز ٹو مین ؟ اس کی آواز تھوڑی اونچی ہوئی۔

اسکو کُٹ لا کے تمہیں کیا فائدہ ہو گا میں یہ پوچھ رہا ہوں، میرے لہجے میں کامنیس سے جہاں اسکو حیرانی ہو رہی تھی وہیں کچھ کچھ غصہ بھی چڑھ رہا تھا ۔

یو ڈونٹ گیو ایے ایف اباوٹ ہَر ، ڈُو یو ؟ اس نے میری طرف حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا

میں بھی تمہاری طرح گالیاں دینے لگ جاوں تو تمہیں یقین آئے گا؟ اگر تمہیں ایسا ہی لگتا ہے تو پورے ٹورانٹو میں مجھ سے ہی بات کرنے کیوں آئے ہو ؟

میری بات سننے کے بعد جنید کافی دیر تک اپنے کافی کپ کو گھورتا رہا ۔

اینج ای باز آئے گا او بغیرت دا بچہ ، بغیرت کے ساتھ بچہ لگا کر جنید نے اسکو ایک اور گالی دی ۔

ایسے اسکے باز آنے کا تو مجھے پتا نہیں، لیکن ثانیہ بلکل باز نہیں آئے گی، دیٹ ول آنلی کرئیٹ اے سافٹ امیج فار ہِم ان ہر ہارٹ ، خوابوں کی دنیا میں رہنے والی لڑکی نے یہ ہی سوچنا ہے کہ کتنا سچا عاشق ہے یہ بندا جس نے میرے لئے ظالم لوگوں کی مار بھی برداشت کر لی ۔

فیر تو رمیز نوں سمجھا کے باز آجائے۔

میری اودے نال کوئی چنگی سلام دعا نی ، میں نے گفتگو میں پہلی دفعہ پنجابی بولی۔

مجھے مس چین یاد آگئیں، جنکی وجہ سے میں پہلی دفعہ رمیز سے ملا تھا۔ ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

bleak_night
مس چین، درمیانے قد کی خاتون تهیں، بال زیادہ لمبے نہ تهے کندهوں تک لٹکتے تهے ، گو کہ عمر ڈهل گئی تهی لیکن بالوں کا سٹائل نوے کی دہائی کی کالج و یونیورسٹی کی لڑکیوں والا تها سامنے سے ماتها چهپا لیتے تهے اور نیچے آدھی گردن چھپی رہتی – ویسے تو چینی نثاد ہیں لیکن اباو اجداد کسی ساوته امریکی ملک میں جا بسے تهے چہرا چینی نقوش سے بهرپور تها لیکن رنگ میں گندمی بهی واضح تهی محسوس ہوتا تها کہ خود بهی اگر وہیں پیدا نہ ہوئیں تهیں تو پلی بڑهی وہیں ہوں گی – بہت جہاںدیدہ تهیں نامعلوم کیوں انہوں نے شعبہ تعلیم کو چنا میرے خیال سے اگر فلسفہ یا نفسیات پڑهتیں تو زیادہ نام کما لیتیں – چونکہ سکول میں دوسرے ممالک سے آنے والے طلبہ کی سہولت کے پیش نظر انگلش بحثیت دوسری زبان کے شعبہ کی ہیڈ تهیں اور اسی مناسبت سے کام کا بوجه کافی زیادہ ہوتا تها اسکے باوجود بهی ایک کلاس ہر سیمیسٹر لازمی پڑهایا کرتی تهیں – میں انسے اکثر کینیڈن اور پاکستانی رسم و رواج پر گفتگو کیا کرتا تها اسی لئے کچه نظر کرم بهی تهی، بہت کچه سمجهاتیں اور بہت کچه بتاتیں۔

ایک دن کلاس میں داخل ہوئیں، اٹینڈینس شروع کی، میرا نام آنے پر لسٹ کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف دیکھ کر کہنے لگیں کہ کلاس کے بعد مجھ سے مل کر جانا، مجهے لگا کہ مس کو پتا چل گیا ہے کہ میں ہر ہفتہ کتاب پڑهے بغیر پریزینٹیشن دینے لگتا ہوں لیکن کلاس کے بعد گویا ہوئیں کہ ان چهٹیوں میں سکول شروع ہونے سے پہلے چند دن کے لئے سکول کهلا کرے گا تاکہ جن لوگوں نے داخلہ لینا ہے وہ آکر داخلہ ٹیسٹ دیا کریں ہم لوگوں کو “ای ایس ایل” ڈیپارٹمنٹ میں رضاکار کی ظرورت ہے جو دیگر کاموں کے علاوہ اپنے ہم زبان لوگوں کے لئے مترجم کے فرائض بهی سر انجام دے-

ٹورانٹو ڈسٹرکٹ سکول بورڈ کا اصول ہے کہ اگر آپکو سکول کا ڈپلامہ چاہئے ہے تو لازمی کریڈٹ کے علاوہ 40 گهنٹے بحثیت رضاکار کام کرنا پڑتا ہے، میں نے سوچا اور کہیں رضاکاری کے لئے کیا خواری کروں گا چند دن یہیں خوار ہو لیتا ہوں – چهٹیاں آنے پر وہاں چند دن کام کیا کتابوں کی ترتیبیں کچه صفائی اور پهر ایک دن ایک لڑکا امتحان دینے آیا، قد مجھ سے زیادہ نہیں تھا، ناک قدرے ترچھا تھا، اور میرے مقابلے میں رنگ کافی صاف تھا، لیکن جسامت کافی دبلی تھی، ٹیسٹ سے زیادہ اسکی توجہ ان لڑکیوں کی طرف تھی جو کلاس کے ایک کونے میں بیٹھیں تھیں، میں اسکے نزدیک ہی جا کر بیٹھ گیا کہ اسکو کسی چیز کی ضرورت پڑے تو میں موجود ہوں، اچانک اسنے پیپر سے نظریں اٹھائیں، کچھ دیر لڑکیوں کی طرف دیکھا، پھر میری طرف دیکھ کر اچانک پنچابی میں کہنے لگا ’’ او ویکھ او میری اَل ویندی سی پئی ، اوہی لال شرٹ آلی‘‘ مجھے اچانک ہنسی آئی ’’اچھا اونہوں بعد اِچ ویکھ لینا پہلے ٹیسٹ پورا کر لے‘‘ مجھے لگا شاید اسنے ٹیسٹ سے زیادہ ان لڑکیوں پر توجہ دی تھی، لیکن اسکے باوجود بھی مس چین نے اسکو ’’سی‘‘ سیکشن میں بھیجا جو کہ تیسرے درجے کا تھا، شاید پاکستان میں کسی انگلش میڈیم سکول میں کچھ عرصہ رہا ہو گا یا پھر کینیڈا مجھ سے بھی پہلے آیا ہو گا۔

بعد میں نے کچھ لڑکوں کو کہا تھا کہ ہشیار رہنا سکول میں اس سال ایک نہایت چھچھورا لڑکا آئے گا، سب کو وارن کرنے اور ہماری شخصیتوں میں اتنے بڑے تضاد کے باوجود پتا نہیں کیوں لیکن میری ہی اس سے پہلے دوستی ہوئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احساسِ محرومی ہے یار یہ، شمس نے رجسٹر میں کچھ لکھتے ہوئے کہا۔

اب یہ کیا بکواس ہے ؟ مجھے شمس کی باتوں سے کئی دفعہ بہت الجھن ہو جاتی تھی ۔ اور عمر کے ایک بڑے فرق کے باوجود وہ میرے بے تکلفانہ انداز کا کبھی برا نہیں مناتا تھا، اسکے باوجود بھی مجھے حیرت تھی کہ انکل جمیل کے سامنے یہ میری تعریف کیوں کرے گا جب میں اسکو بلانے کے لئے بھائی کا لفظ بھی نہیں لگاتا۔

احساسِ محرومی یار، وہ جیسے احساس کمتری ہوتا ہے نہ جسکو تم انفیریارٹی کملیکس کہتے ہو ، ایسے ہی یہ بھی ایک کمپلیکس ہوتا ہے، بلکہ یہ اسکی بھی ماں ہے ۔ یار ایک سینس آف ڈیپریویشن کہہ لے تو اسکو۔

مجھے معلوم تھا شمس صرف میرے لئے آسان کرنے کے لئے انگلش کے لفظ استعمال کر رہا تھا، اسکی اس حرکت سے مجھے اور بھی غصہ آتا تھا، یہ کیا سمجھتا ہے کہ مجھے اردو سمجھ نہیں آتی ۔

یہ احساس کمتری کا ثانیہ اور رمیز سے کیا تعلق ہے اب ؟

ایک بات کہوں؟ شمس نے رجسٹر بند کرتے ہوئے اچانک میری طرف دیکھا۔

کیا ؟

تجھے بری لگ جائے گی ۔ رمیز کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

تم پھر بھی بتاو۔ میرے لہجے کی سختی سے اسکے چہرے پر مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی ۔

تیرے ثانیہ اور رمیز میں ایک ہی چیز تو مشترک ہے ، یہ ہی احساسِ محرومی ۔ یو آر اے جنریشن آف لاسٹ کڈز۔

اب تم مجھے رمیز کے ساتھ مت ملاو، میں اس جتنا بڑا بغیرت نہیں ہوں، میری وجہ سے ثانیہ کے گھر کبھی ایسے لڑائی جھگڑا نہیں ہوا تھا۔ میری ثانیہ سے اس وقت سے دوستی ہے جب اسکا اس علاقے میں ظہور بھی نہیں ہوا تھا ۔ اور نہ ہی میں کبھی لڑکیوں کے پیچھے کسی ہکلے کتے کی طرح پھرا ہوں۔

یار تو پھر جذباتی ہو کر میری بات کو نہیں سمجھا، شمس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

میں نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ ہٹایا، جذباتی ؟ تم کہہ رے ہو کہ میں اور ثانیہ رمیز جیسے ہیں۔ کیا اب میں تمہیں اسکی باقی بغیرتیوں کے قصے بھی سناوں جو آدھے سکول میں مشہور ہیں ؟

وہ رونے والی کہانی کیا تھی پھر ؟ کیا وہ احساس محرومی نہیں تھا ؟ شمس نے میری بات کاٹی ہاں وہ رونے والی کہانی ، میں نے خاموش ہوتے ہوئے شمس کی طرف دیکھا ، اسکے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی۔

نئے سمیسٹر کے شروع کے دن تھے، پتا نہیں کیوں میں لنچ بریک کے بعد بھی کلاس سے باہر ہیڈ ماسٹر کے آفس کے پاس سے گزرا تو رمیز وہاں سے نکلتا دکھائی دیا، اسکے چہرے پر عجیب قسم کی سنجیدگی تھی جسکی توقعہ کم سے کم اس جیسے شخص سے نہیں کی جا سکتی تھی۔ یا شاید اس وقت میں انسانوں کو اتنی گہرائی سے دیکھنے کے قابل نہیں ہوا تھا ۔

سلام دعا کے بعد رمیز نے میری طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا، اور رندھی ہوئی آواز میں پوچھنے لگا کہ یار یہ بتا کیسے ہوتے ہیں وہ آدمی جو اپنے بچوں کے سامنے اپنی بیوی کو شراب پی کر مارتے ہیں؟

کیسے ہوتے ہیں وہ آدمی؟ میں نے مسکراتے ہوئے رمیز کی طرف دیکھا، میرے چہرے پر جتنی تیزی سے مسکراہٹ آئی تھی، اسی تیزی سے غائب بھی ہو گئی ، کیسے ہوتے ہیں وہ آدمی ؟ میرے منہ سے اچانک دوبارہ نکلا۔ شاید مجھے سمجھ نہیں آئی تھی کہ اس بات کا کیا جواب دیا جا سکتا ہے یا اس سوال سے کیسے ڈیل کیا جا سکتا ہے ۔ اس سوال کا کیا مطلب ہے ۔ میں حیران و پریشان وہیں کھڑا رہ گیا تھا،رمیز نے چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا، اسکی بائیں آنکھ سے آنسو کا قطرا گر رہا تھا ۔

مجھے شمس کی اور تو کوئی بات سمجھ نی آئی تھی، لیکن مسئلے کا ایک حل ضرور مل گیا تھا۔ میں نے اسی وقت شمس کی دکان کا فون اٹھا کر ثانیہ کے گھر کا نمبر ملا دیا۔

جی جنید سے بات ہو سکتی ہے ؟

ہیلو، جنید اپنا مار کٹائی کا پروگرام ختم کر دے، میں خود ہی مسئلہ حل کر دوں گا۔

تو واقعی مسئلہ حل کر دے گا ؟ جنید نے واقعی پر زور دیا ۔

ہاں میں کر دوں گا، لیو اٹ آن می اینڈ تھنک ایز اف دا پرابلم از سالوڈ،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے سینس آف پروٹیکشن یار، شمس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے نہیں پتا شمس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ کیوں رہتی تھی، کبھی ہی اسکا شہرہ سیریس نظر آتا تھا۔ ۔

یار پروٹیکشن کا تو مجھے نہیں پتا لیکن ایسے چول لڑکوں کے پیچھے بھاگنے والی لڑکیوں میں کوئی سینس مجھے نظر نہیں آتی ۔

یار یہ سینس آف پروٹیکشن ہی ہوتی ہے، چونکہ یہ لڑکے گینگسٹر قسم کے ہوتے ہیں، انکا گروپ ہوتا ہے، لڑکیوں کے تحت الشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ یہ ہی ہماری حفاظت کر سکتے ہیں۔

جہالت ہے یہ سب کچھ، میں نہیں مانتا۔ میں نے منہ بسورتے ہوے کہا اور شمس ہنسنے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لعنت ہے ایسی سینس آف پروٹیکشن پر، میں نے کیفے میں اپنے گروپ کے ساتھ کھڑے رمیز کی طرف دیکھ کر باآواز سوچا۔ اور اسکی طرف قدم بڑھا دئیے۔

مجھے تیرے سے کچھ بات کرنی ہے، ابھی

تو کر لے یار، رمیز نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا۔

اکیلے میں، میں نے اپنا سیریس انداز برقرار رکھا۔

کیا بات کرنی ہے یار تو نے جو اتنی سردی میں باہر لے کر آیا ہے رمیز نے اپنے ہاتھ جیکٹ کی جیب میں ڈالے۔

تجھے یاد ہے تو نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا تھا کہ کیسا آدمی ہوتا ہے جو شراب پی کر اپنے بچوں کے سامنے بیوی کو مارتا ہے؟ ۔

رمیز کا چہرہ یک دم سیریس ہو گیا، میں اس بارے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا، وہ جیب سے ہاتھ نکالتے ہوئے واپسی کو مڑا۔

تیرے جیسا ہوتا ہے وہ مرد، اور مار کھانے والی عورت ثانیہ جیسی ہوتی ہے ۔ میں نے قدرے اونچی آواز سے کہا۔

رمیز اچانک تیزی سے پیچھے مڑا، اور گریبان سے پکڑ کر ایک مُکا زور سے میرے چہرے پر مارا۔اور پیچھے کو دھکا دیا۔

شاید کوئی لڑائی ہو رہی ہے، یہ سوچ کر آدھا سکول کیفیے ٹیرے کی شیشے کی دیوار سے چپک چکا تھا۔

تم ایک ٹوٹے ہوئے خاندان کی ایک ٹوٹی ہوئی اولاد ہو، رمیز مجھے دوبارہ گیریبان سے پکڑ چکا تھا،

وہ بن ماں کی لڑکی ہے، تیرا ٹائم پاس اسکو مزید توڑ دے گا۔ تو اپنا ٹائم پاس اسکو خراب کئے بغیر کہیں اور بھی پاس کر سکتا ہے، میں نے خون تھوکتے ہوئے کہا۔

دیکھ رمیز، میں تجھے جانتا ہوں، اسی لئے تجھے بتا رہا ہوں، مجھے یقین ہے تو نہیں چاہے گا کہ کوئی لڑکی تیری بڑی بہنوں کی طرح ہو۔

رمیز کی آنکھوں سے آگ نکلتی محسوس ہوئی، اسکا چہرہ غصے کی وجہ سے لال ہو چکا تھا۔ لیکن اسنے اس دفعہ مُکا نہیں مارا۔

سامنے مجھے بڑا بھائی بھاگ کر آتا دکھائی دیا، رمیز سے مُکا کھانے کے بعد میری نظریں کیفے کے دروازے کی طرف ہی تھیں، مجھے پتا تھا اب ایسا ہی ہونے والا ہے۔

اب تو کوئی بات نہ کریں، معاملہ اور بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے،۔ میں نے اپنا بازو رمیز کے کندھے پر رکھا، بھائی کے پیچھے پیچھے جنید بھی آرہا تھا۔

او یار سب ٹھیک ہے، میں نے ایویں اسکو غصہ چڑھا دیا تھا دوستوں میں ایسا چلتا ہی رہتا ہے ، بڑے بھائی کو دیکھ کر میں نے زور سے آواز لگائی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس اتوار پھر رمیز مجھے گھر آکر زبردستی شاپنگ مال لے گیا تھا، وہ چھ جیبوں والی کالی پینٹ اسی نے خرید کر دی تھی، وہ تب تک میں نے رگڑی جب تک امی نے تنگ پڑ کر اسکو کاٹ پیٹ کر پھینکا نہیں تھا ۔

میں خود ہی خود میں مر رہا ہوں

میری آواز میں کچھ گونج ہے کیا ؟
یا میں خود سے ہی باتیں کر رہا ہوں
1653540_441456142651539_1921550695_n
میں بھولا ہوا تھا خود کو کب سے
تیری یادوں میں زندہ لگ رہا ہوں

زمانے سے نہیں کچھ مجھ کو رغبت
میں اپنے خول میں جیتا رہا ہوں

محبت مجھ میں اب باقی نہیں ہے
میں نفرت کو لئے چھپتا رہا ہوں

تیری باتوں میں میرا ذکر کیوں ہے؟
میں تیری سوچ میں کیا کر رہا ہوں ؟

کبھی میں جی رہا تھا اپنے اندر
ابھی میں خود ہی خود میں مر رہا ہوں

رویہ عدم برداشت اور دہشت گردی کا حل

یہ تو مجھے پر زمانہ ہائی سکول سے ہی واضح ہو چکا تھا کہ میں کسی خلائی مخلوق سے کم نہیں ہوں، اور میری طرح کے یہاں اور پائے بھی نہیں جاتے، کہتے ہیں الجنس مائل الی الجنس کہ ایک مخلوق اپنی ہی جیسی مخلوق کی طرف مائل ہوتی ہے تو میں بھی اسی تلاش میں انٹرنیٹ پر نکل کھڑا ہوا، کئی ایک طرح کے لوگ ملے، بہت سے تجربات حاصل ہوئے اور بہت سوں سے دوستیاں ہوئیں، بہت کچھ سیکھا اور بہت سوں سے تب کی دوستیاں ابھی تک چل رہی ہیں۔

فیس بک پر بھی میں نے طرح طرح کے لوگوں کو ایڈ کر رکھا ہے، چونکہ میرے بلاگ کا نام خاموش آواز ہے اسی لئے فیسبکی آئی ڈی بھی خاموش آواز کے نام سے بنا رکھی ہے، کوشش یہ ہی کرتا ہوں کہ زیادہ تر بلاگر قسم کے لوگوں کو ہی ایڈوں، لیکن کچھ دانشور، کچھ صحافی، اور کچھ ادیب، اور کچھ ادیب نما صحافیانہ بلاگرز بھی ایڈ رکھے ہیں، پچھلے دن ایسی ہی ایک ادیب نما خاتونہ کے اسٹیٹس پر ایک کمنٹ کر کے انسے اختلاف مول لے لیا، یہ بھی ایک اچھا تجربہ ثابت ہوا، یعنی آپ خود سوچیں کہ آپ ایک گڈ لکنگ خاتونہ ہیں، اسکے بعد آپ دانشور ہیں، اور نور علی نور آپ بلاگری قسم کی صحافی بھی ہیں، اور پھر سونے پر سہاگہ کے آپکے زیادہ تر فیسبکی دوست بھی بقول خود دانشور اور صحافی ہیں، اور پھر اگر اسکے بعد بھی آپکے کسی ایسے سٹیٹس پر جس پر آپنے مذہب کا، خدا کا اور قرآن کا مذاق بھی اڑایا ہو پندرہ شئرز، چار سو بیس لائکس اور نو دو گیارہ کمنٹس ملتے ہوں، تو آپکو کیسا لگے گا کہ کل کا ایک بچونگڑا نہ صرف آپکے سٹیٹس سے اختلاف کرے بلکہ آپکو جواب دینے پر مجبور کرنے کے لئے چند سوال بھی چھوڑ جائے ؟ آپ ایسی دانشور خاتونہ کو تو چھوڑیں یہ سوچیں کہ انکے دانشور اور ادیب دوستوں پر کیا گزرے گی؟؟؟

جناب بس پھر وہی ہوا میرے ساتھ جو ایسی صورت میں کسی بھی مظلوم مرد کے ساتھ ہوتا ہے، مجھے طعنے دئے گئے ، میری مولویت کو چیلنج کیا گیا، اور پھر میری آئی ڈی کے جعلی ہونے کا مذاق اڑایا گیا، مجھے ہر وقت اختلاف کرنے والا جاہل پکارا گیا، لیکن جناب، آپ طنز کر سکتے ہیں ضرور کریں، میرا مذاق اڑا سکتے ہیں ، ضرور اڑائیں، مجھے مولویت کے طعنے اس انداز میں دے سکتے ہیں جیسے کوئی بھیک منگا ہو تو ضرور دیں، اتنا کچھ دے ہی رہے ہیں تو تھوڑی سی اور سخاوت دکھا کر میرے سوالوں کا جواب بھی دے دیں تو مہربانی ہو گی، لیکن جناب میرے اس کمنٹ کا جواب بھی نہیں آیا۔

میں نے پتا نہیں کیا سوچ کر ان ادیبوں کو ایڈ کیا تھا، لیکن اب میں اللہ کا شکر کر را ہوں کہ اپنے یاروں کے سامنے شوخی نہیں ماری تھی کہ میری فیسبک میں یہ یہ ادیب ، یہ یہ صحافی، اور یہ یہ دانشور بھی ایڈ ہیں۔ اور اسکے بعد سے میری دل سے ان لوگوں کی عزت دھڑام سے گر گئی، ابھ بھی اگر کبھی انکا کوئی کمنٹ اور سٹیٹس میری وال پر سے گزرتا ہوا نظر آجائے تو پہلی چیز جو دماغ میں آتی ہے ’’ منحوس ٹھرکی بڈھے‘‘ ہی ہوتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں رویہ عدم برداشت اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے، آپ اپنے لبرل یاروں کو ہی دیکھ لیں، ہر وقت مولوی کو شدت پسندی کے طعنے دیتے انکی زبانیں نہیں تھکتیں، لیکن آپ زرا زبان کھول دیں، چودہ فروری بارے، اگر وہ آپکی بولتی بند نہ کروا دیں، آپ کبھی انکا بدتمیزانہ انداز دیکھیں طالبان سے مذاکرات کی حمایت پر جو انہوں نے عمران خان کے ساتھ روا رکھا ہے۔ یہ ادیب دیکھیں، اپنے فیسبکی سٹیٹس میں قرآن کا مذاق اڑاتے ہیں، حدیث کو نہیں بخشتے ، کئی دفعہ تو اللہ تعالیٰ پر ایسے طنز کرتے ہیں جیسے کوئی لڑکی کسی لڑکے سے پانچسو کا بیلنس ڈلوا کر اپنے غریپ بوائے فرینڈ کو طعنے مارتی ہو۔ غرض یہ ہر طرح سے آپکے مذہب اور عقیدے کو ضرب لگا کر آپکو زِک پہنچاتے ہیں، کوشش انکی یہ ہی ہوتی ہے کہ کسی طرح کوئی جاہل عقیدت مند جوش میں آکر انکو ایک گالی نکال دے تو انکو تھوڑی توجہ مل جائے، لیکن اگر آپ کبھی انسے بڑے میٹھے انداز میں انکے اسی سٹیٹس بارے چند سوال پوچھ لیں تو انکی برداشت کسی غبارے میں سوراخ ہونے سے نکلنے والی ہوا کی طرح ختم ہو جاتی ہے۔
1794754_1423517881222610_16180530_n
جناب اگر یہ ہی رویہ شدت اختیار کر جائے تو قوموں کو قتل و غارت میں ڈال دیتا ہے، یہ جو برما میں مسلمانوں کے خلاف اتنی قتل و غارت ہوئی تھی یہ کیا تھا ؟ یہ وہی رویہ عدم برداشت ہے، یہ جو افریقہ میں عیسائی بمقابلہ مسلمان سے مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی، یہ کیا ہے ؟ یہ بھی تو رویہ عدم برداشت ہے ! یہ سپین سے جو مسلمانوں کو ختم کیا گیا، کیا یہ رویہ عدم برداشت نہیں تھا ؟ آج یہ ساری کہانیاں اسی لئے یاد آئیں کہ کچھ عرصے سے میں دیکھ رہا ہوں، کچھ لوگ جان ماری کر کے زور لگا رہے ہیں کہ کسی طرح یہ امن مذاکرات نہ ہوں، یہ ناکام ہو جائیں۔

ٹھیک ہے ہمارے ملک میں دہشت گرد موجود ہیں، اور دہشت گردوں کا خاتمہ ہونا چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خاتمے کی جنگ کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ؟ کیا دہشت گردی کا خاتمہ دہشت گردوں سے مذاکرات کر کے نہیں کیا جا سکتا ؟ کیا ہزاروں لوگوں کو بے گھر کرنا بہت ضروری ہے ؟ کیا ہزاروں عورتوں اور بچوں کو کھلے آسمان تلے سلانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ؟ کیا لوگوں کے کاروبار تباہ کر کے انکی روزی روٹی چھیننے کے علاوہ دہشت گردی کو روکنے کا اور کوئی زریعہ نہیں ؟

رویہ عدم برداشت کوئی نیا نہیں ہے، ہم پہلے اسکو دیکھ چکے ہیں مشرف کے دور میں، جب ایک چھوٹی سی بات رویہ عدم برداشت کی وجہ سے اتنی بڑی ہوگئی کہ مشرف نے فوج بلا کر کئی سو لوگوں پر بمب اور گولیاں، برسائیں، کئی عورتیں اور بچیاں شہید ہوئیں، مسجد اور قرآن پاک کی بیحرمتی ہوئی، لیکن کیا فائدہ ہوا؟ کیا اس سے دہشت گردی ختم ہو گئی ؟

کئی دفعہ لبرل لوگوں کی برداشت سے جب یہ سوال باہر ہو جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہی کوئی طریقہ ہے تو تم بتاو، جناب یہ طریقے بتانا اور ایجاد کرنا اور سوچنا ہمارا کام نہیں ہے، یہ ان لوگوں اور اداروں کا کام ہے جو قوم کے ووٹ سے وہاں بیٹھتے ہیں، جو قوم کے ٹٰیکس کے پیسوں پر کھڑے ہیں، اگر یہ ادارے جنکا کام ہی ایسے آئیڈئیاز ایجاد کرنا ہے اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتے تو انکو چاہیے کہ وہ کرسیاں خالی کر دیں، گھر جا کر بیٹھیں، اور کچھ ایسے لوگوں کو آنے دیں جو یہ کام کر سکتے ہیں۔

اور آپ جناب لبرل صاحب، آپ میں اور دہشت گردوں میں کوئی فرق نہیں ہے آپ اور وہ دونوں چاہتے ہیں کہ جنگ ہو، دونوں کی یہ یہ خواہش ہے کہ حالات ابتر ہوں، دونوں تباہی پھیلتی دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن جناب لبرل صاحب کبھی آپ اپنے اس رویہ عدم برداشت کو لے کر اپنے ابا جان امریکہ کے پاس جائیں اور انسے پوچھیں کہ وہ کیوں افغانستان میں طالبان سے پیار و محبت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے؟

میری تنہائیوں میں گونج اٹھتی ہے

کیوں، اب خدا تک پہنچنا ہے ؟
قدرت باکمال دیکھئے صاحب

زمانے میں معزز مقام ہے جنکا
وہ بد سے بد کردار دیکھئے صاحب1505520_1456487797902644_668076117_n

دودھ پیتے ہی مجھکو ڈستے ہیں
میرے دوست، میرے احباب دیکھئے صاحب

زندگی کا مزا بہت سمجھا
موت کے بعد دیکھئے صاحب

میری تنہائیوں میں گونج اٹھتی ہے
وہ خاموش، وہ آواز دیکھئے صاحب

مجھکو شاعری کا ذوق تو نہیں
مگر یہ چند اشعار دیکھئے صاحب

عظیم شاعر و ادیب انکل ٹام

گندی تربیت

ہمارے ادهر والد صیب کے جاننے والے ہیں، ایک مہنگے علاقے میں “جان بڈی” کی کمپنی کا گهر ہے جسکی قیمت تقریبا سات لاکه ڈالر سے کم نی ہو گی، گهر کی ایک دن انکے تصویر دیکهی مہنگا فرنیچر اور صوفے کہ بندا دیکهے اور ماشاللہ ماشاللہ کہے، گاڑی بهی ایک بڑی ہائی کلاس کی رکهی ہوئی ہے اسکی قیمت بهی لاکه ڈالر سے کم نی ہو گی- اللہ کی دین ہے اللہ جسکو چاہے دے اور انکے رزق میں مزید برکت دیں-

انکے ماشااللہ بچے بهی ہیں میں ملا ہوں بچے کوفی سمجهدار ہیں انکل جی ان پر اتنا اعتماد کرتے ہیں کہ کئی کئی ہزار ڈالر کا لین دین اپنے بچے سے کرواتے ہیں مجهے یہ چیز بڑی پسند ہے اس سے بچے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے، اور وہ بچے اپنی عمر کے لحاظ سے بہت زیادہ سمجهدار ہیں-

ویسے مجهے وہ انکل کوئی اتنے برے نئی لگتے لیکن میرا بهائی انکو بڑا ناپسند کرتا ہے، جب بهی وہ یا انکے بچے آئیں تو فورا بدتمیز سا آوازیں لگانا شروع ہو جاتا ہے کہ “اوئے مفت خورے آئے” میں نے بڑا اسکو سمجهایا ہے کہ پاگلا نہ کیا کر لیکن باز نی آتا-

ایک دن وہ انکل آئے کچه پیسے ابو کو دینے تهے بهائی مجهے سائیڈ پر لے جا کر میرے کان میں کہتا کہ آنکهیں انکل کہ منہ کی طرف رکهنا جب ابو انکو پیسے بتائیں گے تو انکا منہ دیکهیں، لیکن شرط یہ ہے کہ منہ انکے چہرے سے نہیں ہٹانا، میں بهی اسکی باتوں میں آگیا، جب ابو نے پیسے بتائے تو واقعی میں حیران رہ گیا کہ اچانک انکے چہرے پر اتنی بڑی فیزئیکل تبدیلی آئی میں تو اس سوچ میں ہی پڑ گیا کہ کیا ایسا بائیولاجیکلی ممکن ہے بهی کہ نہیں- جناب آپ یقین نہیں کریں گے انکا منہ سکڑ کر چهوٹا سا ہو گیا، آنکهیں بہت زیادہ پهیل گئیں، گال پچک کر اندر چلے گئے، اور زبان نکل کر باہر آگی، وہ نہایت مریل سی چال چلتے ہوئے ابو کے قریب ہوئے اور نہایت گهٹی ہوئی آواز میں گویا ہوئے “پائین اے تهوڑے کم نی ہو سکدے؟”- ابو نے انکی طرف دیکها اور پهر عالم حیرانگی میں پہنچے ہوئے میرے چہرے کی طرف دیکها اور انکل کو کہا “اچها فیر تسی چلو اینے دے دئیو”- پہلے میں انکل کے چہرے پر اتنی بڑی تبدیلی سے حیران پریشان تها پهر والد صیب کے جواب سے حیران ہوا کہ پیسے اس سے کم بهی ہو سکتے، خیر بعد میں وہ انکل گئے تو میرے بهائی نے میری طرف دیکها اور کہنے لگا کیا کہا تها پهر ؟ اور خوب زور زور سے ہنسنے لگا، فیر میری بهی ہنسی نکلنی ہی تهی-

بعد میں ایک دفعہ ابو کسی سے بات کر رہے تهے کہ جی یہ کام جو آپ کروانے لگے ہیں یہ ایسے ایسے ہوتا ہے لیکن ایک بات میں آپ کو بتا دوں کہ اس کام میں فکس پرائس نی ہوتی اسی لئے بڑها چڑها کر لوگ بتاتے ہیں اسی لئے کسی جاننے والے سے کبهی مت کروائیے گا جتنے وہ کہہ دے گا اتنے دینے پڑ جائیں گے اور ہو سکتا وہ آپ کو معمول سے بهی زیادہ بتا دے جیسا اکثر پاکستانی ادهر کرتے بهہ ہیں فیر والد صیب مزید گویا ہوئے کہ ہمارے بهی ایک جاننے والے ہیں وہ یہ کام کرتے ہیں اعر انہوں نے ہمارے ساته ایسا ہی کیا تها، مجهے سمجه آگئی کہ ابا جی انہی انکل کی گل بات کر رہے ہیں- عجیب بات ہے اپنی واری تو انکل کا منہ “مری ہوئی چوئی” ورگا ہو گیا تها اور دوجوں واری کهال ہی اتار دیتے ہیں-

انکل کے بچوں کو بهی ایک دو دفعہ بهائی سے معاملات کرتے دیکها پہلے تو بهائی بار بار مجهے آگے کرے میں نے کہا بهائی یاری تیری ہے یا میری پهر دیکها بڑا ہی پریشان ہے انکل کا بچہ کبهی ایک چیز اٹها کر کہے کہ یہ بهی مفت دے کبهی دوسری فیر پیسے دینے واری کہتا بڑے زیادہ ہیں کم کر فیر جاتی واری کبهی اس چیز میں ہاته مار کے منہ میں ڈالے کبهی دوسری چیز میں حالانکہ میرے ابو دوسروں کے بچوں کو کچه کہتے نی ہیں لیکن ایک دفعی اسکو بڑے پیار سے اس کام سے منع بهی کیا تها-

آج انکل اور انکے بچوں کی یاد ایسے اٹهائی کہ ایک لڑکا بهائی کی اس سے بڑی اچهی سلام دعا ہے میں بهی اسکو جانتا ہوں نیک شریف ہے سکول سے چهٹی ہو تو گهر کالی شلوار قمیض بهی پہنتا ہے گینگسٹر قسم کے لڑکوں کی طرح الٹی سیدهی انگوٹهیاں پہننے کی بجائے صرف “کالے عقیق” والی ایک انگوٹهی پہنتا ہے اور آتے جاتے مولا سلامت رکهے بهی کہتا ہے، اور نویں دسویں محرم کو امام بارگاہ جانے کے لئے خاص سکول اور جاب سے چهٹی کرتا ہے- غرض ایسے نیک شریف لڑکے کم ہی کینیڈا میں ملتے ہیں، آج اس نے فون کیا تو پیچهے اسکی امی کہ آوازیں آرہی تهیں “ایہنوں کہہ بہتی پا دے کج نی ہوندا” کبهی کہیں “پیسے اینے نہ دئیں” اور کبهی کہیں “ایہنوں کہہ کم کرے” ، اور وہ بیچارا کبهی کہے “امی جی اسطرع نئی ہوندا”، “امی جی کم چیزاں کر لیتے ہیں” – خیر بهائی کے ساته اسکی اچهی سلام دعا تهی میں نے کہا آجا یار سب سیٹ کر دیتے ہیں اور پهر اسکو بتائے بغیر کر بهی دیا کہ کہیں شرمندہ نہ ہو-

اسی طرح ایک افغانی انکل آتے رہتے ہیں کوئی تقریبا دو ہفتے پہلے انکی وائف اور بیٹی آگئی، آنٹی کبهی کہیں جلدی کرو بهئیا اتنی دیر کر دی، کبهی کہیں پیسے تو کم کرو بهئیا ہم اکثر آتا ہیں، کبهی کہیں کہ ٹیکس چارج نہ کرنا بهئیا، غرض جتنی دیر آنٹی کهڑی رہیں انکو کهلبلی ہی مچی رہی کہ کسی طرح مال آج گهر مفت لیجائیں، اور انکی بیٹی بیچاری بڑی پیاری تهی شرمندگی کے مارے اور بهی پیاری لگنے لگ گئی-

ادهر سکول میں اپنی کافی انڈین لڑکوں سے یاری تهی، ایک دن انہی یاروں کے ساته شاپنگ مال میں خریداری کر رہے تهے تو مجهے ایک شرٹ پسند آگئی، لیکن میری جیب سے تهوڑی بهاری تهی تو مجهے اپنا یار کہتا کہ وہ فلاں شرٹ کا ٹیگ لگا کر خرید لے اور اسکا اتار دے، میں نے کہا باو اگر پکڑے گئے نہ تو میرے ساته ساته تم بهی مرغے بنو گے، تو وہ بیچارا بڑی معصومیت سے بولا کہ جب ہم امی ابو کے ساته آتے ہیں شاپنگ کرنے تب تو کبهی نئی پکڑے گئے-

کئی دفعہ میں والد صیب سے نہایت افسردہ انداز سے پوچهتا ہوں کہ ابو جی کیا آپ نہیں سمجهتے کہ یہ انکل اپنے بچوں کی بری تربیت کر رہے ہیں- ابو میری طرف دیکه کر نہایت طنزیہ انداز سے کہتا ہیں کیا برا ہے اس میں؟ دیکهتا نہیں کتنا سمجهدار ہے انکا بیٹا اس عمر میں یہ پینتیس سال کے بندے جتنا سمجهدار ہے- میں نے کہا ابو جی اور یہ مفت خوری والی عادت؟ ابو نے ایک طنزیہ ہنسی کے ساته میری طرف دیکها اور گویا ہوئے کہ پتر کوئی چیز مفت میں مل جائے تو کیا برا ہے ؟ کئی دفعہ میں بهی سوچتا ہوں کہ ٹهیک ہی ہے ویسے بهی اعلی حضرت نے ملفوظات میں فرمایا ہے کہ “مال موذی نصیب غازی-

wpid-bad_parenting_8.jpg

تو جنابو یہ ساری کہانی سنانے کا مقصد آپ ماں باپوں کو یہ بتانا ہے کہ جی کفایت شعاری، پیسے پر سانپ بننے اوہ میرا مطلب ہے پیسے بچانے کی عادت اور کمینیگیت میں کچه فرق ہوتا ہے-آپ ضرور پیسے بچانا سکهائیں اپنے بچوں کو، انکو کفایت شعاری سکهائیں انکو فضول خرچی سے بچائیں، لیکن انکو مفت خوری، چور چکاری، اور چند ٹکے کے لئے دهوکے اور مکو ٹهپنے والی عادتیں نہ سکهائیں- ہم نئی نسل آپ لوگوں کی ان گندی عادتوں سے بہت پریشان ہیں، ہمیں شرمندگی ہوتی ہے ان سے ! آپ لوگوں کے دکان سے نکلنے کے بعد ہمیں آپ لوگوں کی طرف سے سوری بولنا پڑتا ہے، ہمیں لوگوں کی طنزیہ مسکراہٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے- ہم لوگ اپنے ہم عمر لوگوں میں آپ لوگوں کی وجہ سے پیدا شدہ ان گندی عادتوں کو دیکه کر اس جنریشن اور اسکے بعد والی جنریشن کی اخلاقی تربیت کے بارے میں پریشان ہو جاتے ہیں- اب بس کر دیں جہاں چار ڈالر دے رہے ہیں وہاں پانچ دینے سے آپ سڑک پر نہیں آجائیں گے، اگر کہیں کوئی چیز خریدنے کے پیسے کم ہیں تو ڈسکاونٹ کی بهیک مانگنے کی بجائے مت خریدیں، پلیز بس کر دیں اب-

آہ انکے رخِ آتشیں

ایک تو مجھے کبھی اپنے فلاسفر صیب کی سمجھ نی آئی،پہلے تو ایک نمبر کے تاڑو تھے، پھر انکا دل موٹی پر آگیا، ویسے تو مجھے نصیتیں کیا کرتے تھے، جب سے موٹی پر دل آیا ہے تو مجھے کی ہوئی نصیتیں بھی بھول گئی ہیں اور ہر وقت اسکے آگے پیچھے ہی گھومتے رہتے ہیں ۔

پچھلے اتوار اچانک ہی ملاقات ہو گئی، میں نے دیکھا تو پہلے اسنے چھپنے کی کوشش کی ، مجھے بڑی حیرانگی ہوئی، بھلا اب یاروں سے بھی کوئی ایسے چھپتا ہے، فیر میں نے آواز دی تو دانت نکالتا وا میری طرف آیا، میں نے کہا اوئے چھپتا کیوں پھر را، وہ یار وہ میں نے وہ دیکھا نئی تھا تجھے۔

اچھا کدھر مر را ہے آج ، ویسے تو تو میرے خیال سے کوئی زندگی میں پہلی دفعہ آج سب وے سٹیشن پر نی آیا؟

نئی یار وہ بس کسی کام سے جا را تھا ڈاون ٹاون ۔

میں: کس کام سے ؟

بس یار ہے وہ کچھ کام ہے

میں تو جا را ہوں لائبریری میں نے کندھے پر اپنا بیگ سیدھا کیا، ویسے بھی سامنے سے ٹرین آتی دکھائی دے رہی تھی اور لوگ دھیمے دھیمے قدموں سے زمین پر بنائی گئی پیلی حفاظتی لائن کی طرف چلنا شروع کر دیا جس سے آگے ٹرین نے رکنا تھا۔

لائبریری یار وہ تو اپنے گھر کے پاس بھی ہے ادھر کیوں نی جاتا ؟

یار ایک تو وہ چھوٹی سی ہے میں آگے بھی بات کرنے لگا تھا لیکن اسنے میری بات کاٹ دی

اوئے چھوٹی سی ؟ دو منزلہ لائبریری ہے ۔ تو اسکو چھوٹی سی کہہ را

میں نے سامنے ٹرین کی طرف دیکھا، باہر برف بھی گرتی نظر آرہی تھی ۔ چلو شکر ہے تھوڑی ہوا تو کم ہو گی، میں نے اسکی بات سنتے ہوئے سوچا۔

ابے جدھر میں جا را ہوں نہ تو وہ لائبریری دیکھ، پانچ منزلہ ہے ، اور اسکی پہلی منزل پر جو کمپیوٹر والا کمرہ ہے نہ وہی ہماری لائبریری جتنا ہو گا۔

یار ایسی کونسی لائبریری ہے وہاں ؟

ابے جدھر تم رات بارہ بجے ڈپنے مرنے جاتے ہو نہ میرے بغیر کنگ پیلس اسکے بلکل برابر میں ہے ٹورانٹو ریفرینس لائبریری ۔

اچھاااا ،

ہاں چل ابھی دیکھ لے۔ ویسے تو نے بتایا نی کہ تو کونسا ایسا کام ہے جو کرنے ڈاونٹاون جا را ۔
یار بس ہے بتا نی سکتا ۔

میں نے اترنا تھا ینگ اور بلور کے سٹیشن پر ، راستہ سارا فلاسفر صیب کی کہانیاں سنتے گزر گیا، اور باقی رستہ انکو مولانا ابرہیم کاشمیری کی آواز کے کرشمے سناتے گزر گیا۔ وہیں ریفرینس لائبریری کے آس پاس میں ہی ایک کلاس میٹ صاحبہ بھی رہتی ہیں ، واپسی گھر کا چکر کاٹتے ہوئے انکا فون آگیا کہ اگر ڈاونٹاون ہی ہو تو مجھے فلاں سٹار بکس میں مل لو ۔

میں نے کہا چلو مفت کے نوٹس مل جائیں تو برا ہی کیا، سٹار بکس داخل ہوا سامنے ہی نظر آگئیں، لیکن سب سے عجیب چیز وہ تھی کہ موٹی صاحبہ ادھر سٹار بکس میں لوگوں کو کافیاں بنا کر دے رہی تھیں، مجھے فوراً اپنا فلاسفر صیب کا خیال آیا، میں نے سوچا یار یہ بندا اتنا خوار تو نی ہو سکتا کہ ادھر ڈاون ٹاون صرف موٹی کو تاڑنے آئے آمنے سامنے نظر دوڑانے پر بھی نظر نی آیا، خیر میں جا کر بیٹھ گیا ہماری سہیلی صاحبہ اٹھ کر اپنے لئے اور میرے لئے کافی لینے گئیں۔

اب میرے پیچھے بیٹھا بندا کچھ گنگنا را، مجھے شک پڑا کہ کوئی اردو ٹائپ بول را خیر میں دھیان نی کیا اتنا، تھوڑی دیر میں کافی آئی تو پھر کچھ آواز آئی گنگنانے کی اس دفعہ تھوڑی اونچی تھی۔
واہ، اُنکے رخِ آتشیں، واہ انکے رخ آتشیں

میں نے ہنستے ہوئے پیچھے کو مڑا اور رکھ کر سر کے اوپر ایک لگائی ، فلاسفر صیب نے بڑی حیرانگی سے گالی نکالتے ہوئے پیچھے مڑے اور میری طرف دیکھ کر اور حیران ہوئے ۔

میں نے کہا بغیرت آدمی یہ

واہ انکے رخِ آتشیں نہیں ہے بلکہ

’’آہ انکے رخِ آتشیں‘‘ اور آگے والی لائن تجھے بھول گئی ’’بن کے مثلِ چلم رہ گئے ‘‘

Pages