ایم ایے امین (بیاد سڈنی)

چندا رے چندا ۴

اللہ تعالٰی نے انسان کو عقل عطا کی ہے اور علم کی نعمت سے بھی نوازا ہے، اللہ اور فرشتوں  کے مابین انسان کی تخلیق کے معاملہ پر ہونے والے مکالمہ سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ فلکیات کا علم بھی دیگر علوم کےساتھ ساتھ آجکل بہت اہمیت کا حامل ہے۔اسی علم کی بدولت انسان آج ستاروں پر کمند ڈال چکا ہے، لیکن قابو میں نہیں آتا تو بس مہتاب۔ جب آفتاب کے طلوع اور غروب پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں اور نمازوں کے اوقات ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2016/06/blog-post.html

تصویرِ ہمدرداں ۔ جنے لہور نئی ویکھیا

پس منظر کے لئے گذشتہ بلاگ یہاں پڑھیں۔ یہ جنوری سن دو ہزار چار کے آخری ہفتے کا ذکر ہے کہ ہم بحیثیت انچارج اگزیمینشن سیل کے مسسز گلزار کے ساتھ لاہور روانہ ہوئے۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ حکیم صاحب کے نام سے جاری کردہ وظائف دینے کی خاطر لاہور کے ہونہاروں کا  تحریری اور زبانی امتحان لیا جائے اور فاونڈیشن کو نتیجہ ارسال کیا جائے۔ امتحانی پرچے خصوصی طور پر تیار کئے گئے تھے- میٹرک پاس اور انٹر پاس ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2016/02/blog-post_15.html

تصویر ہمدرداں،قصہ معروضی امتحانات کا

اس سلسلے کا آخری بلاگ ہم نےپانچ برس پہلے تحریر کیا تھا۔آج اس سلسلہ کو دوبارہ شروع کرتے ہیں اور گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑاتے ہیں۔ حکیم محمد شہید کی یاد میں ہمدرد فاونڈیشن نے میٹرک اور انٹر پاس طلبہ و طالبات کے لئے دو دو سالوں کے وظیفہ کا اعلان کیا تھا، پہلے سال یہ وظیفے صرف کراچی کے طلبہ و طالبات کو دیئے گئے، بعد میں ان کا دائرہ لاہور اور پشاور تک بڑھا دیا گیا۔ بورڈ کے سالانہ امتحان میں ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2016/02/blog-post.html

اشتیاق احمد کے نام

 از کراچی 27 نومبر 2015 پیارے انکل اشتیاق احمد اسلام علیکم، امید ہے کہ آپ جنت میں ہونگے، دل چاہا کہ خراج عقیدت کے طور پر آپ پر ایک مضمون لکھوں، مگر پھر سوچا کہ کیوں نا آپ کو براہ راست ہی مخاطب کر لیا جائے۔ آپ کی حیات تو سسپنس سے بھرپور کہانیوں پر مشتمل رہی لیکن آپکی وفات بھی آپ کے ناولز کے کیسسز کی طرح تفتیش کا شکار ہو گئی۔ سترہ نومبر کو ہاتھ میں بورڈنگ پاس پکڑے آپ کراچی کے ہوائی اڈے سے ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2015/11/blog-post.html

چندا رے چندا-۳

ہم نےآج ایک بار پھر سے اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ کر ڈالا، گذشتہ دو بلاگ، اول اور دوم میں ہم نے ہلکے پھلکے انداز میں اظہارِ خیال کیا تھا۔ اب کی بار چاند کے آج کے ڈیٹا کا ذکر کرتے ہیں۔ آج پاکستان میں سرکاری طور پر ۲۸ رمضان المبارک ۱۴۳۶ ہجری ہے اور وطن میں چند ایک مقامات پر رمضان کی ۲۹ تاریخ ہے۔ سائنسی اعتبار سے نئے چاند کی پیدائش آج بروز جمعرات پاکستانی معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجکر چوبیس منٹ ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2015/07/blog-post.html

چینی شہرِ بہاراں کا حال

مارچ ۲۰۱۵ کے آخری ایام کی ایک سہ پہر تین بجے کے لگ بھگ ہم چین کے پھولوں کے شہر کُنمنگ کے مرکز میں واقع  ہوٹل کراون پلازہ کی سولہویں منزل کے کمرہ نمبر سترہ میں داخل ہو رہے تھے۔ اب کی بار ہم کراچی سے براستہ کولمبو، کُنمنگ پہنچے تھے۔ ہمارا ارادہ لنکا ڈھانے کا نہیں تھا بلکہ سری لنکا کی ہوائی کمپنی والے ہمیں ڈھونے پر معمور تھے۔ یہ سفر  طیارے  کی کولمبو سے روانگی میں تاخیر کے باعث خاصی تھکا وٹ والا ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2015/05/blog-post_49.html

تعزیتِ استادِ محترم

گذشتہ ہفتہ جامعہ این ایس ڈبلیو سے  برقی پیغام موصول ہوا کہ ہمارے استادِ محترم ڈاکٹر رابرٹ جان اسٹیننگ دنیا میں نہیں رہے۔ اس افسوس ناک خبر پر ان کی سر پرستی میں بسر کئے دو برس  آنکھوں کے سامنے ایک فلم رول کی طرح چلنے لگے۔ ان دو برسوں میں بارہا ایسے مواقع آئے کہ ہم  اُنکی علمیت اور قابلیت کے قائل ہوئے۔ حالاتِ حاضرہ ہوں یا تاریخی واقعات ، گھریلو معاملات ہوں یا  سائنسی موضوعات ، غرض  وہ دنیا جہان کےایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2015/01/blog-post.html

پوٹھوہاراور لاہور کی سیر، تیسرا اورآخری ٹکڑا

پہلا ٹکڑا یہاں اور دوسرا یہاں پڑھیں۔ اگلے دن صبح سویرے ہی ہم ڈائیوو کے اڈے پر پہنچے، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور موسم کچھ خنک تھا، بہار کی بارش پوٹھوہار کو بھی سر سبز بنا دیتی ہے اور بقول چچا غالب درودیوار پر بھی سبزہ اُگنے لگتا ہے۔ ڈائیوو کا سفر نہایت آرام دہ تھا اور آجکل کی جدید مواصلاتی سہولیات سے پُر تھا کہ وطن میں پہلی بار ہم نے بس کے سفر میں وائی فائی کا لطف اٹھایا۔ آجکل کے دورمیں ہم ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2014/11/blog-post.html

پوٹھوہاراور لاہور کی سیر، دوسرا ٹکڑا

اگلے دن ہم بچوں کو جامعہ قائدِاعظم میں بنے اپنے ایک دفتر لے گئے۔ وہاں پر ہمارے ماتحت عملہ نے ہماری تواضع جامعہ کی سموسہ چاٹ سے کی۔ وہاں کچھ وقت گزار کر ہم واپس پہنچے اور ظہرانے کے بعد بچوں کی خالہ اورخالو ہمیں دامنِ کوہ اور مونال دِکھانے لے گئے۔ مونال ہم اپنے گذشتہ سرکاری دورے میں نہ جا سکے، جسکا حال ہم قارئین کے نذر کر چکے ہیں مگر اب کی بار ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ وہاں دن کے اجالے میں ہو آئے۔ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2014/10/blog-post_10.html

پوٹھوہار اور لاہور کی سیر- پہلا ٹکڑا

'ہاں ایسے ٹورسٹ جو ایک چھوٹی سی پہاڑی چڑھ کر ہی تھک جاتے ہیں'، وجیہہ نے  پھبتی کسی۔ اسی لمحے ہم اسلام آباد کے سینٹورس پلازہ کے صدر دروازہ پر پہنچے اور ٹیکسی والے عمر عباسی کو فارغ کیا۔ الحمد اللہ ، ہم تو اندرون اور بیرون ملک سفر کیا ہی کرتے ہیں اور نگری نگری گھومتےرہتے ہیں مگر ہمارے اہل و عیال اب تک ملتان سے آگے نہ جا سکے۔ اس بار تعلیمی سال کے خاتمہ پر بچہ پارٹی ملتان اپنے ننھیال روانہ ہوئی اورایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2014/10/blog-post.html

چندا رے چندا- ۲

نوٹ: اس مو ضوع پر ہم پہلے بھی اظہارِ خیال کر چکے ہیں اور اسے جامعہ کراچی میں پیش کرنے کا بھی اتفاق ہوا۔ اس سال دوبارہ اسی موضوع کو تھوڑے مختلف انداز میں سامعین کی نذر کیا اور اب بطور بلاگ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے۔ گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی جب شیخ زائد اسلامک سینٹر سے محترم ڈاکٹر نور احمد شاہتاز صاحب کا دعوت نامہ برائے سیمنار دیکھا تو اس مضمون کے لکھنے کا ارادہ کر لیا۔ ذکر ہے چاند ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2014/06/blog-post_7764.html

منال سے میلوڈی تک

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا چکر ہم سال میں ایک آدھ بار لگا ہی لیا کرتے ہیں اور یہ دورے سرکاری  ہُوا کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی ہم ایک ایسےہی سرکاری دورے پر پوٹھوہار میں تھے۔ اس دفعہ ہمارے ساتھ دفتر کے چندساتھی بھی تھے۔ سرکاری مصروفیات کے ساتھ ساتھ اس بار ہم نے خود سے  آوارہ گردی کرنے کی بھی ٹھان رکھی تھی اور اس ارادے کو تکمیل کا درجہ بخشنے والوں میں ہمارے سڈنی کےدوست  ڈاکٹر فیصل پیش پیش تھے۔ وہ ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2014/03/blog-post.html

ہم نے ووٹ ڈالا

 جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہم نے پہلے عام انتخابات سن پچاسی میں دیکھے، اتنا یاد ہے کہ وہ غیر جماعتی انتخابات تھے اور جونیجو مرحوم کی حکومت بنی تھی، نئی روشنی اسکول انکے دور کا ہی کارنامہ تھا۔ اس کے بعد کے سیاسی حالات قارئین  ہم سے بہتر جانتے ہونگے یا وکی وغیرہ پر دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے دور میں مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں بھی یہ تمام تاریخ درج ہوا کرتی تھی۔ خیر بات کرتے ہیں موجودہ انتخابات کی،ہم ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2013/05/blog-post_11.html

نیاگرا کے دیس میں، چھَٹا اور آخری ٹکڑا

اگلی صبح ہم الوداعی دورے پر ایلکس کے ساتھ کمپنی پہنچے اور کاغذی کاورائی وغیرہ مکمل کی، ہمیں اسناد سے نوازا گیاکہ ہم نے مقررہ مشق مکمل کر لی تھی۔ ظہرانہ اختتامِ ہفتہ کے باعث کمپنی میں ہی تھا، جہاں عہدہ سے بالاتر ہو کر سب ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں، ہم نے سبزی والا اڑایا اور ساتھ میں ندیم کے گھر کا کوفتوں کا سالن تھا۔ ایلکس کو ندیم نے کوفتوں کی  پیشکش کی تو وہ پوچھنے لگا کہ یہ کیا ہے، ہم نے کہا کہ ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2013/05/blog-post.html

نیاگرا کے دیس میں، تصویری ٹکڑا

گذشتہ ٹکڑوں میں قارئین نے سفر نامہ میں تصاویر نہ ہونے کی شکایت کی، ان شکایات کا ازالہ ہم اس تصویری ٹکڑے میں کئے دیتے ہیں۔ پہلی تصویر میں ندیم ، ایلکس کی استادی میں مقناطیس پیما پرمشق کر رہے ہیں۔ دوسری تصویر کے بارے میں ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے اس آبشار پر نظر اور کیمرہ دونوں جمانا مشکل ہے۔  اس کے بعد والے منظر میں کہیں برف ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2013/04/blog-post_30.html

نیاگرا کے دیس میں، پانچواں ٹکڑا

نیاگرا پر پہلی نظر پڑتے ہی دم بخود رہ گئے، اب تک اس کے بارے میں سنا کرتے تھے یا ٹی وی پر دیکھا تھا، مگر اب خود کو اس کے سامنے پاکرہماری سٹی گُم ہو گئی۔ ایک تو اسکا شور، دوسرے اسکے چھینٹے اور تیسرا کڑاکے کی سردی، یک نہ شُد سہ شُد ہو گیا۔ اللہ نے کیا قدرتی سرحد بنائی ہے دو بڑی زمینی طاقتوں کے درمیان، جھیل امریکی ہے تو آبشار کینیڈیائی۔آبشار کا دیدار ٹھیک طور پر کینیڈا سے ہی ممکن ہے کیونکہ یہ اِسی ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2013/04/blog-post_28.html

نیاگرا کے دیس میں، چوتھا ٹکڑا

ایلکس کی بات سو فیصد درست نکلی اور ہم نے نیاگرا جانے کے ارادے کو حتمی شکل دے ڈالی۔ فجر میں بیدارہوئے اور نماز کے بعد تیار ہو کر ناشتے کی میز پر پہنچے، ابھی ساڑھے آٹھ بھی نہ ہوئے تھے کہ ایلکس ہمیں لینے آن پہنچا۔ ایلکس کی گاڑی تھی، اونٹاریو کی شاہراہ اور ہم دیدارِ نیاگرا کی چاہ لئے محوِ سفر تھے۔ سڑکوں پر سے گذشتہ روز کی برف صاف کی جا رہی تھی، زیادہ تر صفائی کی جا چکی تھی، مگر شاہراہ کے کنارے اب ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2013/04/blog-post_25.html

نیاگرا کے دیس میں، تیسرا ٹکڑا

اگلی صبح پھر وہی ہوا کہ تڑکے ہی آنکھ کھل گئی۔ فجر کی نمازادا کی، برف باری شروع ہو گئی تھی- یہاں پر برف صاف کرنے کا ایک مکمل نظام موجود تھا جس پر ہر سال پچاس لاکھ ڈالر کی لاگت آتی تھی اور زیادہ تر دیسی موسمِ سرما میں یہ کام انجام دیتے تھے- ہاتھ گاڑی سے لے کر برف کھرچنے کے بڑے بڑے بلڈوزر اس کام کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ ہر خاص وعام اپنی گاڑیوں میں کُھرپیاں رکھتے تھےاور کام سے فارغ ہو کر کھلی ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com1http://bayaadesydney.blogspot.com/2013/04/blog-post_21.html

نیاگرا کے دیس میں، دوسرا ٹکڑا

یہ سڑک ووڈبائن ایونیو بھی خوب تھی کہ اس کے کنارے بنی عمارتیں لکڑی کے کام کا ایک خوبصورت منظر پیش کرتی تھیں حتٰی کہ یہاں لگے بجلی کے کھمبے بھی لکڑی کے تھے۔ قریب ہی ایک چھوٹا تربیتی ہوائی اڈا تھا اور ٹی وی پر اس علاقہ کے موسمی حالات الگ سے بتائے جاتے تھے۔ صبح سحری میں ہی آنکھ کھل گئی، وجہ زمینی گردش اور وطن میں وقت کا فرق تھا، اپنے قیام کے دوران مسلسل ہم اس الجھن کا شکار رہے۔ رات کو سو نہ سکتے ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2013/04/blog-post_15.html

نیاگرا کے دیس میں، پہلا ٹکڑا

یہ سن ۲۰۰۸ کے اوائل کا ذکر ہے کہ ہم نے اپنا پہلا بین الاقوامی سفر نیاگرا کے دیس یعنی کینیڈا کی جانب کیا۔ کڑاکے کی سردی میں برفیلی جھیلوں کی سرزمین کی سیر کا ہمیں کوئی خاص شوق تو نہیں تھا مگر سرکاری نوکری کی وجہ سے ہمیں اپنے ایک دفتری ساتھی جنھیں ہم ندیم کے نام سے یاد کریں گے، کے ہمراہ رختِ سفر باندھنا پڑا۔ سو جناح کا بین الاقوامی ہوائی اڈا تھا اور ہم تھے دوستو۔ علی الصبح  ہوائی اڈے میں داخل ہو ایم۔اے۔امینhttp://www.blogger.com/profile/04425754577499948453noreply@blogger.com0http://bayaadesydney.blogspot.com/2013/04/blog-post.html

Pages