یاسر خوامخواہ جاپانی

“پیالہ و جام”

“فارمی چوزے” سے پوچھا جائے کہ
“مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا؟”
فارمی چوزا “عینکاں” ٹھیک کرے گا انگلیوں میں دبے گولڈ لیف کے امپورٹڈ سگریٹ کو “ٹَشن” سے چٹخ جھاڑے گا۔
اور دانشورانہ انداز میں “ارشادے” گا کہ
انڈا “مشین” میں گرمایا جاتا ہے ،گرمائش سے انڈے سے چوزا نکلتا ہے  چوزا “مرغی” بنتا ہے۔اور مرغی انڈا دیتی ہے۔ اس لئے “چوزا” پہلے پیدا ہوتا ہے۔
فارمی چوزا مزید نخوت سے “ارشادتا” ہے۔کہ تم مسلمان اسی لئے جدید سائینس میں ترقی نہیں کرسکے کہ سوچوں پر پہرے بیٹھا رکھے ہیں!

“ٹھیکیداری چوزے” سے پوچھا جائے کہ
“مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا ”
پاؤں میں “رُلتی” ٹوپی اٹھا کر جھاڑے گا دوچار پھونکیں مار کر اس ٹوپی کو باوضو کرے گا۔
بھنگ میں “ٹُن” سر اور کندھے جھٹک کر۔
اورپُرجلال آواز میں چنگھاڑے گا!
او ملحد ، سیکولر، تُجھے مرغی اور انڈے کی تخلیق پر سوچنے کی جراءت کیسے ہوئی!
کافر۔۔۔۔۔۔۔تجھ جیسوں کی وجہ سے ہی آج اسلام کی یہ حالت ہے اور مسلمان ذلیل ہورہا ہے۔

دونوں طرف سے دھتکارے جانے کے بعد “ککڑ” نے” بانگیں” ہی دینی ہوتی ہیں۔
بوجہ” مذکر” انڈے نہیں دیئے جا سکتے۔
“فارمی” چوزے کا مسئلہ” دنیا” دیکھ کراس سے مرعوب ہوکر اپنے پیدائشی “پراسس” پر احساس کمتری کا شکار ہونا اور اپنے “ڈی این اے” سے “الرجک” ہوجانا ہوتا ہے۔
“الرجک” ہوجانے کی وجہ سے یہ “اماں ابا” سے بھی حقارت کا سلوک کرتا ہے۔ اسے “اماں ابا” میں بھی “کیڑے” نظر آتے ہیں۔
اس “فارمی چوزے” کو یہی غم کھائے جا رہا ہوتا ہے ،کہ اس کے “اماں ابا ” ، “ہیلری و کلنٹن” کیوں نہیں ہیں۔

“ٹھیکیداری چوزا” بھنگ کے پیالے سے سڑوکا لگا کر سرشاری سے مست “آہ” (سڑکاہ؟)بھرتا ہے۔ جب اس کے پیالے کیطرف حیرت سے دیکھا جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لال جلالی آنکھوں سے فٹ کفر کا فتوی دے گا۔
کافر “حرام شے” کی طلب کرتا ہے!۔
“ہم پیئیں تو حلال تو پئے تو حرام”
بچپن میں ہماری نانی ماں جب ہم سے خوش ہوتی تھیں تو ایک دعا دیا کرتی تھیں۔ہم دعا کا مطلب سمجھے بغیر خوش ہو جایا کرتے تھے۔
اس وقت صرف خوش ہوا کرتے تھے ،لیکن اب اس دعا کی گہرائی کو سمجھ کر صرف تڑپ کر پہلو بدل لیتے ہیں۔
دعا کچھ اسطرح ہوتی تھی۔
“تجھے اللہ ایمان کی زندگی دے اور ایمان پر خاتمہ کرے”
اس دیس میں ہماری ایمان کی حالت یہ ہے، کہ “صبح جیتے ہیں تو شام کو غیرمرئی کانٹوں سے لہو لہان ہو کر زخموں کو چاٹتے بستر پر مر جاتے ہیں”۔

صبح سے شام تک ایمان کے ترازو پر تولیں تو نظر نہ آنے والی خاردار جھاڑیاں ہی جھاڑیاں “پیراہن” تار تار کر رہی ہوتی ہیں۔
“دعوت” دیں تو کس طرح دیں؟
کس “شے” کی دیں؟
“اخلاقیات” ، “معاملات” جو کہ بتا دیا کہ “دینِ کامل” ہے۔
اس “دینِ کامل” کے معاملے میں تو” یہ” ، “مکمل” ہیں۔
اپنا تو “پیراہین” ہی تار تار ہے۔
“اپنے” اندر جھانکیں تو “دین کامل” سے کوسوں دور ہیں۔
رہ جاتا ہے ان کا  “حرامخور” ،خنزیر خور” ،”عیاش” ، “شرابی کبابی” ہونا!!
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھنگ کے پیالےکو تین دن چھٹی دے کر دیکھ لیں “سب” ،”حلال” ہو جائے گا۔
” ہم پیئیں تو حلال تُو پئے تو حرام”

رہ جاتا ہے ،ایک ہی “کام” کا ڈھنکے کی چوٹ پر مقابلہ ۔
کہ کس معاشرے میں “کمزورں” ،”کمسنوں” کی حرمت زیادہ پامال ہوتی ہے۔

بیچارا کمبل

واہ یارو۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے تاتاریوں کی افواج کو منت ترلے کرکے بغداد پر حملے کیلئے تیار کروانے والے مولوی صاحب یاد آرہے ہیں۔تاتاری خلیفہ پر حملے کرنے سے ڈر رہے تھے کہ مسلمانوں کا خدا ناراض ہو جائے گا۔مولوی صاحب نے راضی کر ہی لیا تھا! اور دیگر مولوی عوام کو فرقہ وارانہ حق و باطل کے جہاد میں مشغول کئے ہوئے تھے۔

پھر صلیبی جنگیں شروع ہوئیں تو مسلمان ہی اپنے ننھے ننھے ٹکڑوں پر حکمرانی کے شوق میں صلیبیوں کے معاونین بن جایا کرتے تھے۔تیمور لنگ (عظیم مسلمان ہیرو)جو ایک عالم دین بھی تھا۔نے ایک مجاہد کو جس نے صلیبیوں کو نتھ ڈالی ہوئی تھی۔اپنے رومان کی خاطراس مجاہد کو پنجرے میں بند کرکے مسلمانوں کو سرکس کا شیر دکھایا تھا۔
فدائی صلاح الدین ایوبی کو مارنے کے جتن کرتے رہے۔وجہ ابھی تک نامعلوم !!۔۔۔۔ہیں جی

پھر میری” ولادت باسعادت” ہوئی تو میں نے افغانستان کا مجاہدانہ دور امیر المومنین ضیا کے سائے تلے دیکھا۔پھر کشمیر کو فتح کرنے کی تڑپ میں مبتلا اپنے “آس پاس “  کےہم عمروں کو غائب ہوتے دیکھا۔

پھر امیر المومنین سید مشرف شاہ صاحب کو ہر داڑھی والے کو ”بحکم خلیفۃ الخصوصین بش” دہشت گرد بناتے دیکھا۔اور “غائب ہونے  کا سلسلہ ” ہنوزجاری ہوتے دیکھا ۔مولویوں کو گلی محلے کی مسجد سے لیکر سوشل میڈیا ،یو ٹیوب ،فیس بک پر اپنے مخالف فرقے سے جہاد کرتے دیکھا ۔
لال مسجد کے مولوی صاحب کی  زنانہ افواج کو ڈنڈے لئے شریعت کے نفاذ اور معاشرے سے برائیوں کے اختتام کیلئے جہاد کرتے دیکھا۔

پھر انہیں بے دردی ،بے حیائی ، سے جلاکر بھسم کرتے دیکھا۔عربوں کا تعصب اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ہر دردمند مسلمان سے لیکر عالم دین و علما سو کوبھی امت محمدی کے اتحاد کا رونا روتے دیکھا۔

“مجاہدین” کو مسلمانوں کے ہی پڑ کھچے اڑاتے دیکھا۔فلسطینیوں کے الم کو کشمیریوں کے الم کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا۔ عراقیوں ، افغانیوں کے تہس نہس ہونے پر اپنے ہی دل کو  “حیرت” سے خون کے آنسو روتے دیکھا!
ہر طرف افراتفری دیکھی۔یہود و ہنوو نصاری کو اتنی بے دردی بے رحمی سے مسلمانوں کو مارتے نہیں دیکھا ۔جتنی بے دردی سے اسلام کے نام لیواؤں کے ہاتھوں مرتے دیکھا۔

ایک نہیں کئی بار اپنے ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بے حیائی کے ساتھ فسق و فجو ر ڈھٹائی کے ساتھ مذہب کے نام پر دھوکہ ہوتے دیکھا۔
اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں ہی انتہائی بے حیائی کے ساتھ اسلام کا  نام لینے والوں کے ہاتھو ں مسلمان  کی حق تلفی ہوتے دیکھا۔
سیاسی جماعتوں ، مسلکی اختلافات کی بنیادوں پر ایک دوسرے پر فحش گوئی کرتے دیکھا۔
مصر میں مسلمانوں کے  ہاتھوں مسلمانوں کو قتل ہوتے دیکھا۔شام میں مسلمانوں کے ہاتھو ں مسلمانوں کا بہیمانہ قتل ہوتے دیکھا۔
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قاتل و مقتول دونوں کے “پرزور” حامیوں کو ایک دوسرے کی “مٹی پلید” کرتے دیکھا۔اب امریکہ شام پر چڑھ دوڑا ہے اور مسلمانوں کوامریکہ کی حمایت اور مخالفت پر “لڑتے ” دیکھ رہا ہوں۔

اور مستقبل قریب میں مجھے نظر آرہا ہے۔ کہ امریکہ دور دور سے مزائیل پھینکے گا آسمان سے قہر بر سائے گا ۔اور مسلمان اسلام کے نام پر ایک دوسرے کی مجاہدانہ گردن زنی ہی کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔
تو۔۔۔۔۔۔۔۔یارو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا بتاؤں کہ “ادھر جاپان” میں ہر  کسی مسلمانی بیچنے والے سے دور میں کتنی “پُرسکون” اور “پُرامن ” زندگی گذار رہا ہوں۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے ساتھ بھی مسئلہ ہے۔کہ مسلمانی تو مجھے چھوڑ چکی ہے۔میں مسلمانی کو نہیں چھوڑ پا رہا!!
یعنی کمبل تو مجھے چھوڑ چکا ہے میں ہی کمبل کو نہیں چھوڑ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیچارا کمبل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے فلم غالب دیکھی ہے؟

ہمارے جاپانی دوست توکائی صاحب ہیں۔اور ان کے پاس بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری ہے۔انہیں بین القوامی سیاست میں کافی دلچسپی ہے۔خاص کر یہ مڈل ایسٹ اور سنٹرل ایشیاء ہند وپاک کی معاشیت اور سیاست میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔

ہمیں کوئی خاص سمجھ بوجھ نہیں ہے۔اس لئے انہی کی سنتے ہیں۔سنانے کیلئے کچھ ہو تو سنائیں۔پاکستان کی نئی حکومت نے جب آئی ایم ایف سے قرضے کیلئے معاملات کئے تو ان کا کہنا تھا،قرضہ تو پاکستان کو آئی ایم ایف ضرور دے گا۔اگر آئی ایم ایف نے قرضہ نہ دیا تو شاید پاکستان کے دوست ممالک بھی پاکستان کی کوئی خاص مدد نہ کر سکیں ،اور پاکستان کے ڈیفالٹ کر جانے کا خطرہ ہے۔ڈیفالٹ کرنے سے مہنگائی بہت ہو جائے گی  اور اس کے نتائج  میں پاکستان میں انارکی پھیلے گی۔

ہما رے لئے تو یہ مہنگائی بھی کمر توڑ ہے اس سے زیادہ کیا مہنگائی ہونی۔بحرحال ان کا کہنا تھا کہ ڈیفالٹ کی صورت میں روپے سے ٹائیلٹ پیپر کا تو کام لیا جا سکتا ہے۔اجناس خریدنے کے کام نہیں آسکتا۔اسی لئے  کچھ عرصے کیلئے سونے کی درآمد پر پابندی معاشی پہیئے کو حد میں رکھنے کیلئے لگائی گئی ہے۔اس وقت پاکستان کا ڈیفالٹ کرنا عالمی طاقتوں اور خطے کی طاقتوں کیلئے بھی فائدہ مند نہیں ہے۔اس لئے سب پاکستان کی نئی حکومت کو سانس جاری رکھنے کیلئے آکسیجن فراہم کرتے رہیں گے۔

لیکن یہ آکسیجن بھی اگلے پانچ سالوں تک ہی ہے۔اگر اس عرصے میں پاکستان کی حکومت نے کرپشن اور امن و امان پر کنٹرول کر لیا تو دس سے پندرہ سال میں پاکستان ایشیا و سنٹرل ایشیا کیلئے ایک بہت بڑی معاشی طاقت بن جائے گا جس سے ساری دنیا فیض یاب ہو گی۔
ہمارے پوچھنے پر کہ پاکستان کرپشن اور امن و امان پر کنٹرول نہ کر سکا اور اگلے پانچ سال بھی گزشتہ پانچ سالوں جیسے ہی گذرے تو اس کے بعد کیا ہو گا؟
جواب ان کا بھی یہی تھا ،کہ اللہ بڑا بادشاہ ۔۔ہیں جی

یعنی اسی طرح کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہے گا۔پاکستان کی توڑ پھوڑ کی صورت میں آس پاس کے ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔اتنا انہوں نے وثوق سے کہا کہ پاکستان کی عوام جہنم کو زمین پر ہی دیکھ لے گی۔دلچسپ بات جو انہوں نے کہی جو کہ دل کو بھی لگتی ہے۔ کہ پاکستانی جیلوں پر حملہ اور مجاہدین کا “آزاد” کروانا۔”سب فریقوں” میں “اتفاق رائے” سے ہوا ہے۔ بس عوام کو “باؤلا” رکھنے کیلئے یہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔کہ “کھلم کھلا” ریاست کی مرضی سے “قانون” کی خلاف ورزی کرکے “نئی نویلی “حکومت کو کسی پیچیدہ بحران میں پھنسایا نہیں جا سکتا۔ بحرحال ہمیں ان “سازشی” قسم کی باتوں کی سمجھ کم ہی آتی ہے۔اس لئے ہم نے بھی یہی کہا کہ دیکھئے زندہ رہے تو “نیا پاکستان” بھی شاید دیکھنے کو مل جائے ۔ورنہ “پرانا پاکستان ” تو ہمارا اپنا  ہےہی نہیں!!۔

http://www.amazon.co.jp/%E6%88%A6%E5%BE%8C%E5%8F%B2%E3%81%AE%E6%AD%A3%E4%BD%93-%E3%80%8C%E6%88%A6%E5%BE%8C%E5%86%8D%E7%99%BA%E8%A6%8B%E3%80%8D%E5%8F%8C%E6%9B%B8-%E5%AD%AB%E5%B4%8E-%E4%BA%AB/dp/4422300512

انہوں نے ہمیں ایک کتاب تحفہ دی کہ اسے پڑھئے تو شاید آپکو کچھ اس وقت کے پاکستان کے سیاسی اور   عالمی طاقتوں کی سیاست کے حالات سمجھنے میں  مدد ملے گی کتاب کے ٹائٹل کا ترجمہ کروں تو کچھ یوں بنتا ہے “۔بعد از جنگ  تاریخ کی حقیقت” یہ جاپان کا جنگ میں شکست کھا کر تباہ و بربادہونے کے بعد ”معاہدوں”اور “سازشوں” کا ذکر بیان کرتی کتاب ہے۔

کافی سے زیادہ خشک کتاب ہے۔جو میری جاپانی زبان پر مکمل گرفت نہ ہونے کی وجہ سے مجھے دماغ پر کافی زور دینے سے پڑھنی پڑ رہی ہے۔دماغ پر زور پڑے تو میں پڑھتا کم جگالی زیادہ کرتا ہوں۔لیکن کتاب کے صفحہ ایک سو اکیس پر دو ہفتے بعد پہونچا تو دماغ سے زیادہ کان کھڑے ہوگئے ،اس صفحہ پر ہمارے پاکستان کا تذکرہ تھا۔وہ بھی انیس سو اکیاون میں  ٹریٹی آف سان فرانسسکوکانفرنس کا شاید امن و امان کی بین الاقوامی کانفرنس ہے۔
تفصیلات اس لنک  پر دیکھی جا سکتی ہیں

http://en.wikipedia.org/wiki/Treaty_of_San_Francisco

اس کانفرنس میں پاکستان کے وفد کی تقریر کا ذکر ہے۔کہ انہوں نے ایک نہایت  دانشورانہ نصحیت  اقوام عالم کو اور خاص کر جاپان کو کی کہ “اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے” یعنی دینے والا لینے والے سے اعلی ہوتا ہے۔

انیس سو اکیاون میں  ہمارے والدین کی سن پیدائش کے ماہ وسال میں ہمارے حکومتی وفد ایسی نصیحتیں کرتے تھے۔ اور ہم پیدا ہوئے اساتذہ سے  بھی تدریسی کتابوں میں بھی یہی پڑھا کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
آج باسٹھ سال بعد بھی ہمارے ہر آنے والے حکمران کشکول توڑنے کی ہی بات کرتے ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے فلم”مرزا غالب ” دیکھی ہے؟
میں نے اس وقت دیکھی تھی جب ٹی وی پر ہمارے “قابل احترام” علماء کرام سے پوچھا گیا تھاکہ ۔۔۔ابے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نےفلم غالب دیکھی ہے؟
اس فلم میں مرزا غالب “ادھار ” کی مے پیتے ہیں۔ جوا کھیلتے ہیں۔انتہائی “کھلے اوپروالے ہاتھ” سے “بخشش” بھی دیتے ہیں۔ “غیور” ایسے کہ ساہوکار سے ادھار تو لے لیتے ہیں۔کسی کا “احسان” لینا گوارا نہیں کرتے!

ادھار کی مے اس “امید” پر پیتے ہیں ،کہ “مغلیہ سلطنت” سے ملنے والی “آباؤ اجداد” کی پنشن جو رکی ہوئی ہے۔جب ملے گی سب “ادھار “چکا کر عیش و عشرت سے “شاعری” کیا کریں گے۔
پنشن بھال کروانے بڑی لمبی مسافت طے کرکے دلی سے کلکتہ جاتے ہیں۔بڑی مشکل سے “گورے آقا” کے دربار میں حاضری دیتے ہیں۔لیکن گورے آقا کو معلوم ہو جاتا ہے ،کہ یہ “آقاؤں” کو “تڑیاں” لگاتے رہتے ہیں۔

“گورے آقا” غصہ سے طنز کے تیر برساتےہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔جاؤ اپنے باد شاہ سلامت “ظلِ سبحانی” کے دربار سے پنشن بحال کرواؤَ۔
مرزا غالب ایک لفظ بولے بغیر نہایت طنطنے سے “گورے آقا” کے دربار نکل جاتے ہیں۔فلم دیکھنے والے مرزا غالب کا طنطنہ وقار اکڑ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں،کہ ہمارے آباؤاجداد “سر ” جھکانے والے نہیں تھے!! نہایت باوقار لوگ تھے۔
آپ نے شہید ذولفقار علی بھٹو کی اقوام متحدہ میں اکہتر کی جنگ کے  بعد کی تقریر  والی وڈیو بھی دیکھی ہوگی؟
کیسے طنطنے سے کاغذات کو پھاڑ کر ہوا  میں اڑا دیا تھا!!
بس ہمیں معلوم ہے ہمارا “ماضی” ہمارے لئے قابل فخر ہے۔
تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جناب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے فلم غالب دیکھی ہے؟

چالاک لوگ

آپ نے چالاک لوگ دیکھے ہیں؟
شاید نہ دیکھے ہوں۔آپ کو دیکھنے کا طریقہ بتاتا ہوں۔چالاک لوگوں کو دیکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ہماری ہر صبح آنکھ کھلتی ہے ،تو ہم چالاک لوگوں کو ہی سب سے پہلے دیکھتے ہیں۔اماں ابا بہن بھائی میاں بیوی بچے یہی سب لوگ تو چالاک لوگ ہوتے ہیں۔

یہ تو ایسے رشتے ہوتے ہیں، کہ ان کی چالاکی ہم دیکھنا ہی نہیں چاھتے ،اس لئے یہ پیدائش سے لیکر مرنے تک معصوم اور بعض اوقات مظلوم ہی رہتے ہیں۔
مجھے ایک دعوی کرنے میں بلکہ اعلان کرنے میں کوئی” چالاکی” محسوس نہیں ہوتی کہ میں ناقص العقل تو ہوں ہی چالاک تو بالکل نہیں ہوں۔آج تک جاپان میں کسی پاکستانی کو “ہتھ دکھائی” نہیں کر سکا!

لیکن میرے ساتھ عموماً “ہاتھ ” ہو جاتا ہے۔یعنی نہایت ہی آسانی سے “الو” بن جاتا ہوں۔اس لئے اپنے “مخلص” پاکستانی بھائیوں سے کنی کترا کر ہی گذر بسر کرتا ہوں۔مجھے یقین سے زیادہ ایمان ہے کہ پورے جاپان میں ایسا کوئی پاکستانی نہیں پایا جائے گا جو مجھے چالاک کہہ سکے!!ہاں یاسر تو بس “بیوقوف ” سا بندہ ہے  کہنے والے ضرور مل جائیں گئے۔بس جناب سمجھ جائیں کہ ان کے یقین کی وجہ ضرور “ہو چکی” ہو گی! یعنی ہمیں بیوقوف بنا چکے ہوں گے اس لئے “دندیاں کڈ” وثوق سے آپ کو بتارہے ہیں۔

زیادہ تر مجھے چالاک لوگوں سے واسطہ پاکستان میں ہی پڑتا ہے۔یا جدھر جدھر ہم  پاکستانی پائے جاتے ہیں ادھر سے ہی فیض یاب ہوتا ہوں۔ پاکستان میں تو خیر ائیر پورٹ کے بعد گھر والے ہی “کافی” ہیں۔جو کہ میرے لئے جب سے ہوش سنبھالا ہے۔معصوم سے  زیادہ مظلوم ہی چلے آرہے ہیں۔اماں ابا معصوم ہیں تو بھائی جنہیں میں آجکل ” سگے قصائی” کے خطاب سے یاد کرتاہوں۔بس یہ بھائی بیچارے مظلوم ہیں۔معصومیت تو ان کی جناب۔۔۔۔ بس بے اختیار گنگنا اٹھتا ہوں۔۔یا دل قربان میرے قصائی  جان۔

گھر والوں کو جوابدہی کیلئے اتنا ہی کافی ہے آپ جو یہ پڑھ رہے ہیں۔چالاکی میں تو آپ بھی کسی عمرو عیار سے کم نہیں!! ہیں !! آپ کو یک دم راز فاش ہونے کی حیرت ہو رہی ہے نا؟
ساری دنیا کے “کھلے کافروں” کو معلوم ہے کہ آپ پاکستانی ہو اور پاکستانی چالاک نہ ہو تو پاکستانی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔خوامخواہ جاپانی۔۔۔یاپھر ڈفر  ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ہی ہی ہی ہی

آپ حج و عمرہ سے واپس آرہے ہیں اور ہوائی لائن پی آئی اے والی ہے۔آپ کے آس پاس ” حاجی بابے” بیٹھے ہوئے ہیں۔جیسے ہی کھانے کی خوشبو آپ کی ناک سے ٹکرائے “حاجی بابے” فٹا فٹ آپ کی سامنے والی ٹرے کھولیں اور مفت میں حکومت سعودیہ سے ملے ہوئے قرآنی نسخے آپ کے سامنے “چُن” دیں اور انتہائی “پہونچی ” ہوئی پُر ایمانی موج میں آپ کو بتائیں بیٹا یہ قرآنی نسخے ہیں یہاں رکھنے سے ان کی بے حرمتی نہیں ہو گی ۔اللہ اجر دے گا!

ائیر ہوسٹس “حاجی بابوں” کو کھانے کی ٹرے تھماتی ہے۔اور آپ کو گُھرکی کے ساتھ دو چار سناتی ہے ،کہ جاہل آدمی سامان کھانے کی ٹرے پر رکھا ہوا ہے اور کھانا کہاں رکھ کر کھائے گا؟ اور یہی حسین ائیر ہوسٹس آپ کے دل کا خون کرتے ہوئے مزید کہتی ہے۔پتہ نہیں کیسے کیسے جاہل “پلین” میں بیٹھ جاتے ہیں۔”حاجی بابے” اس وقت من و سلوی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس حالت میں ان معصوموں کے کان ویسے بھی کم سنتے ہیں۔

آپ پی آئی اے کے علاوہ کسی “پلین” پر سفر کرتے ہیں ،دیکھتے ہیں اکا دکا پاکستانی ہی نظر آرہا ہے۔آپ کو اطمینان ہو تا ہے ۔کہ بارہ گھنٹے کا سفر “خوشگوار” گذرے گا۔ایک عدد معقول سے پاکستانی سے آپ کی “ہیلو ہائے” بھی ہو جاتی ہے۔آپ اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہیں “لمبی ” آلی سیٹ ہے اس کی دو سیٹیں خالی ہیں۔جہاز کی اڈاری لگاتے ہی “معقول” بندہ آپ کے پاس پہونچ جاتا ہے۔

کہتا ہے لمبا سفر ہے “گپ شپ” لگاتے جائیں گے۔آپ مروت میں خاموش ہو جاتے ہیں۔یہ “معقول بندہ” پانچ منٹ بعد ہی ٹانگیں پسار لیتا ہے۔سر اُدھر اور ٹانگیں ادھر۔اور ٹانگیں اتنی پسارتا ہے۔ کہ اس کی ٹانگیں آپ کو گود لینی پڑ جاتی ہیں۔اب آپ اسے جھنجھوڑ کر اٹھاتے ہیں ۔اور کہتے ہیں خانصاحب اپنی  سیٹ پر جاؤ۔خانصاحب کو یک دم خیال آتا ہے کہ اسے مسلمانی غیرت بتانی چاھئے کہ کسی مسلمان کو تنگ کرنا انتہائی دوزخی گناہ ہے۔ آپ اسے بتاتے ہیں کہ آپ نے بھی بارہ گھنٹے کا سفر طے کرنا ہے۔قسمت کی یاوری سے ان سیٹوں پر آپ کا ہی حق ہے۔

یہ پی آئی اے بھی نہیں ہے اس لئے خانصاحب “ٹیاؤں ٹیاؤں” چھوڑو اور اپنی راہ پکڑو۔نہیں تو ائیر ہوسٹس بلائی جائے گی اور آپ کو بیست ہوکر جانا ہی پڑے گا۔خانصاحب کیوں کہ سادہ اور  معصوم ہیں۔آپ کی وجہ سے مظلوم بھی ہو گئے ہیں۔اس لئے اب بس نہیں چل رہا اور بد دعائیں دیتے ہوئے اپنی سیٹ پر واپس جارہے ہیں۔اب آپ نے سکون سے ٹانگیں لمبی کرنی ہیں  اور آپ کا سفر “خوشگوار” ہو گیا۔۔

آپ کا دل تو نہیں کر رہا لیکن مجبوری ہے کہ معصومان ِقدیم اماں ابا اور مظلومان ِجدید بہن بھائیوں کو ملنے کیلئے پاکستان جا رہے ہیں۔آپ کے پاس ایک عدد سفری تھیلا ہے۔جس میں صرف آپ کے استعمال کے زیر جامے پڑے ہوئے ہیں۔اور آپ “شکلوں” احمق بھی دکھائی دے رہے ہیں۔آپ اکیلے اکیلے کین کافی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔۔خیال رکھئے کیا گا کہ اس کافی سے لطف اندوز ہونا ماہ رمضان میں منع ہے۔

آپ کے پاس ایک “کارواں” آکر رکتا ہے۔کوچوان آپ سے “مسلمانی ہیلو ہائے ” کرتا ہے۔آپ کی منزل مقصود کی تصدیق کی جاتی ہے۔آپ سے پوچھا جاتا ہے ،کہ بورڈنگ کیوں نہیں کروا رہے۔آپ بتاتے ہیں تھوڑی رش کم ہو تو جاتا ہوں ،کوئی جلدی نہیں ہے۔

“کارواں ” کے “کوچوان” صاحب آپ کے پاس ہی ڈیرا ڈال لیتے ہیں۔پانچ منٹ کی “گپ شپ” کے بعد موڈ خوشگوار دیکھنے کے بعد آپ کو کہا جاتا ہے۔کہ بورڈنگ کروا لیتے ہیں ۔ بعد میں آرام سے بیٹھ کر گپ شپ لگائیں گے۔آپ مروت میں “اپنی” بورڈنگ کروانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

لیکن آپ کو کچھ کچھ الجھن ہورہی ہوتی ہے۔کہ” کوچوان “صاحب کسی دوسرے پاکستانی سے آپ کو بات چیت کرنے نہیں دے رہے۔اگر کوئی “مسلمانی ہیلو ہائے” کرتا بھی ہے تو اسے گھورتے ہیں اور آپ کو کسی “گپ شپ” میں لگا دیتے ہیں۔اور آپ کو لائن میں اپنے” پیچھے” ہی رکھتے ہیں۔

اتنے میں “کوچوان” صاحب کی بورڈنگ کی باری آتی ہے۔سامان جو جہاز میں لوڈنا ہے۔وہ سو کلو گرام نکلتا ہے۔”کوچوان” صاحب منت سماجت کرکے کچھ چھڑوا لیتے ہیں۔جب کہا جاتا ہے اتنی ادائیگی کر دیں۔تو یہ ادائیگی اتنی ہی بن رہی ہوتی ہے،جو کہ آپ کے پاسپورٹ پر لوڈنے کی صورت میں صفر ہو جانی ہوتی ہے۔

“کوچوان” صاحب فٹ کہتے ہیں۔یہ تو اس کے پاسپورٹ پر لوڈ ہو جائے گا۔اب آپ کی باری آتی ہے ۔آپ کہتے ہیں “کوچوان” صاحب میں تو آپ کو اپنا پاسپورٹ استعمال کرنے نہیں دوں گا۔

ایک عدد لمبی بحث کے بعد آپ کوچوان صاحب سے کہتے ہیں ۔کہ جناب جب گھر سے نکلتے وقت سامان اٹھایا تھا تو سوچ لیتے ناکہ “وقتی طور” پر کچھ نہ ہو سکنے کی صورت میں آپ کو پیسہ لگانا پڑے گا۔میں تو آپ کو پاسپورٹ نہیں دے سکتا۔اور ویسے بھی آپ کے “پیچھے” تو ایسے ہی کھڑا ہوگیا تھا۔مجھے لائن میں کھڑا ہونے کی ضرورت ہی نہیں تھی میری تو فرسٹ کلاس ہے۔

آپ لائن سے نکل کر “شفاف” لائن کیطرف جب جارہے ہوتے ہیں۔تو ایک معصوم سا مظلوم چہرہ جس پر دو معصوم سی بٹن نما آنکھیں ہوتی ہیں وہ بیچارگی کی علامت بنا کھڑا ہوتا ہے۔دو چار دوسرے معصوم بھی آپ کی “یزیدیت” پر آپ پر مسلمانی بھائی چارے کی “افادیت “کے جملے کس رہے ہوتے ہیں۔

چالاک لوگ “وقتی طور” اپنا کام نکال لیتے ہیں۔کل کی نہیں سوچتے وقت آنے پر یہ کچھ نا کچھ کر ہی لیتے ہیں۔یا پھر بیستی کروالیتے ہیں۔جو کہ ان کیلئے بے عزتی  نہیں ہوتی کہ “احساس ذلت” کا انسان کے اندر ہونے سے اسے بیستی محسوس ہوتی ہے۔

ذہین معصوم اور سادہ ہوتے ہیں۔”وقتی طور” پر بیوقوف بن جاتے ہیں۔چند ٹکوں کا نقصان بھی ہو جاتا ہے۔لیکن “پر سکون” رہتے ہیں۔
ہم پاکستانی کم و بیشتر سارے ہی “چالاک”  لوگ ہیں۔اس لئے ہم وقت آنے پرہر “مشکل” ، “عذاب” کا “بندوبست” کر ہی لیتے ہیں”۔بندوبست” نہ ہوسکے تو “رولا” ڈال لیتے ہیں۔

ڈسکو مولوی

بچپن میں قوالی کی آواز کانوں میں پڑھتی تھی تو عجیب الجھن ہوتی تھی،کہ اللہ رسول کے نام کے ساتھ ”باجے “ کی سُر اور ڈھول کی چھاپ کا کیا کام  ؟ ایک بار اس بابت سوال پوچھنے پر سختی سے دوبارہ ایسا گستاخانہ سوال کرنے سے منع کر دیا گیا۔جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے۔ویگنوں ، بسوں ، دکانوں پر سے قوالی سنائی دینا شروع ہوئی تو ہم بھی سننے کے عادی ہوگئے۔آہستہ آہستہ عادت پختہ  کر دی جائے تو برائی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔

قوالی کے اشعار کو کچھ سمجھنا شروع ہوئے تو کچھ مزید “کرب” بڑھتا گیا۔
جب جہاد کلچر عروج پر تھا،اور مجاہدین روڈ ٹول ادا کرنے کے بجائے ۔بیرئیل سے مجاہدین  ہیں جی  ، کہہ کر گذر جاتے تھے۔ڈبل کیبن میں چار باریش بیٹھے ہوئے ہوتے تھے تو مجاہدین کا ٹہلکہ ہوتا تھا۔آجکل کی طرح دہشت گرد نہیں سمجھے جاتے تھے۔او ر ان کی حب الوطنی مشکوک نہیں سمجھی جاتی تھی۔بلکہ ملک و امت کے “بے لوث” محافظ سمجھے جاتے تھے۔  گردش ایام؟

انہی دنوں ریسٹورنٹ میں صبح کا ناشتہ کر رہا تھا ،کہ مجاہدین آئے اورریسٹورنٹ والے کو قوالی بند کرنے کا کہا ۔یہ اسلام آباد ائیر پورٹ کا واقعہ ہے۔ریسٹورنٹ والے نے غصے سے شور مچا دیا تھا ،کہ نور پیر کا وقت ہے اور یہ اللہ رسول کا ذکر سننے سے منع کرتے ہیں۔

جب مجاہدین کے جہاد میں اپنے جگر گوشے گم ہوئے اور پہلے سے ہی دشوار ”زندگی” ہمیں بھگتنا پڑی تو سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ چکر کیا ہے۔
یہ وقتی مقاصد یا مفاد کیلئے عمومیہ کے “مذہبی جذبات” کو استعمال کرنے والی سوچ ہے۔اور اس سوچ والوں کیلئے مذہب کھیل تماشہ ہوتا ہے۔اور سادہ لوح مسلمان استعمال ہو جاتے ہیں

ہو سکتا ہے مجھ ناقص العقل کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو۔لیکن حقیقت یہی ہے۔کہ بھگت ہم ہی رہے ہیں!(ڈر لگتا ہے کسی کو غصہ ہی نہ آجائے)
عمومیہ کسی “مذہب” کی ماننے والی ہی کیوں نہ ہو۔”  جذبات” کی تسکین کی خواہش مند ہوتی ہے۔ جذبات کی تسکین کا نشہ دنیا کی اعلی ترین اور گھٹیا ترین نشے سے بھی تباہ کُن ہوتا ہے۔کہ اس نشے میں مبتلا شخص سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں کھوتا۔اس نشے میں مبتلا نہ ہونے والوں کیلئے اس کے دل میں حقارت و بغض بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

ان “مذہبی جذبات” سے آجکل جیو ٹی وی والے “مولوی ڈسکو” کے ذریعے ماہ رمضان کے فضائل حاصل کرر ہے ہیں ،اور “دیگر” غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔غصے کا اظہار کرنے والوں کیلئے “مولوی ڈسکو” کے حقارت نما “جواب” پر عمومیہ تالیاں بجا کر ہوٹنگ سے خوشی کا اظہار کرتی ہے۔

رمضان کے علاوہ دنوں میں بھی انہی ٹی وی چینلز پر پروگرام کی ابتدا موسیقی سے ہوتی دیکھی جاتی ہے اور ایک قاری صاحب آکر تلاوت کرتےہیں ۔موسیقی کا بے ہنگ شور مچتا ہے اور میزبان کہتا ہے۔اب ملتے ہیں ایک بریک کے بعد!! بریک میں اشتہار چلتے ہیں اور “اشتہار” کتنے “مذہبی” ہوتے ہیں دیکھنے سننے والے سب جانتے ہیں۔

حمد و نعت تو ساز کی تان پر “خواتین کی حسین” آواز سے “مذہبی جذبات” کو تسکین دیتی ہی رہتی ہے۔امپورٹڈ میک اپ کٹ کا کمال؟یا بے پردہ حسین مورت دل موہ لیتی ہے؟
لیکن سوچنے کی بات ہے ،کہ مذہب کو اس حد تک کھیل تماشہ کیوں بنا دیا گیا؟

مذہبی مدارس سے طالب علم تیار ہوکر مذہب کو ہی پیشہ بنائے گا تو وہ مذہب کی خدمت کرنے سے پہلے پیٹ کا سوچے گا۔ایک عالم کی سند لیکر معاشرے میں آنے والا روزگار کیلئے کوئی مسجد یا مدرسہ ہی تلاش کرے گا۔جب مذہب کے ساتھ معاش کی مجبوری بھی آجائے گی تو یہ عالم میرے جیسے جنہوں نے دین میں ریاضت نہیں کی ہوتی ان کےسامنے پیٹ کی خاطر بے بس ہو جاتے ہیں۔یہ مجبوری ان “عالم” کو عمومیہ کے “مذہبی جذبات” کو تسکین دینے پر مجبور کرتی ہے۔اور عالم عوام کے “رواج” کے سامنے مجبور ہو جاتا ہے۔

اس مجبوری کا مجھے اس طرح تجربہ ہوا کہ عیدین کے نماز وخطبے کے بعد جب امام صاحب نے ایک گھنٹے تک اجتماعی دعا کروائی اور ایک بار ہی نہیں کئی بار ایسا ہوا تو انہی کے مسلک کے ایک دوسرے عالم صاحب سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

تو ان عالم صاحب کا سر سری سا ٹالنے والا جواب تھا کہ ہے تو غلط بات لیکن مجبوری ہے کہ عوام میں اسکا ” رواج” جڑ پکڑ چکا ہے۔اس لئے ہم ایسا کرتے ہیں۔یہ ایک چھوٹی سی مثال اس لئے دے رہا ہوں ،کہ اس کے علاوہ دی جانے والی مثال فرقے پر چوٹ کرنے والی بات ہو جائے گی۔

نوجوان نسل جو پڑھی لکھی ذہین بھی ہے اور مطالعے کا شوق بھی رکھتی ہے۔یہ نسل سارے فساد کا قصوروار علماء دین کو ہی سمجھتی ہے۔اور یہی “روشن خیال ” نسل دین کو تماشہ بنانے والوں اور عمومیہ کے “مذہبی جذبات” سے کھیل کر مفاد حاصل کرنے والوں سے بھی نفرت کرتی ہے۔اور علماء حق چاھے کسی مسلک کے بھی ہوں بے شک خلوص دل سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔لیکن مفاد پرستوں کے ساتھ یہ بھی دین بیزاروں کے حقارت کا شکار ہوئے جاتے ہیں۔

لازمی نہیں کہ ہر مطالعہ کا شوق رکھنے والا ذہین نوجوان “روشن خیال” اور “دین بیزار” ہی ہو۔ذہنی انتشار کو دور کرنے کیلئے کچھ سوچتا ہے اور سوالات اٹھاتا ہے۔لیکن “مذہبی رہنماؤں” کیطرف اس خوف سے نہیں جاتا کہ اس کی بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی جائے گی ۔راہنمائی کی امید کا گلہ یہ نوجوان اپنے ہاتھوں ہی گھونٹ دیتا ہے۔وجہ کیلئے غور کریں تو عصر حاضر کے حالات ہمارے سامنے ہی ہیں۔

کئی علماء کرام کو اس نئی نسل کے انتشار کو سمجھنے کے بجائے ان پر جارحیت کے ساتھ تنقید کرتے اور صرف اپنا “دفاع ” کرتے ہوئے پایا۔
جب  “مجبور” اپنے “ہم مسلک” حضرات کو عوام کے “رواج” کے آگے مجبور ہو کر نئی نئی حرکات سے روکنے کی دینی جراءت نہیں کرتے ۔

تو “مولوی ڈسکو” کیطرح کے مفاد پرست دین کو کھیل تماشہ ہی بنائیں گے۔
مال دنیا کی طلب میں “رواج” کے سامنے مجبور ہونے والے ہی اگر بھول جائیں کہ اللہ تو آخرت میں نوازنے کا ارادہ رکھتاہے تو “رواج” کو کون روکے گا؟

اور عمومیہ کا رواج تو ہوتا ہی نفس کا غلام ہے۔
میڈیا کے مفاد اور اپنے مفاد کی خاطر مذہب کو کھیل تماشہ بنانے والے ایک شخص کو لعن طعن کرنے کے بجائے ہمیں اس سوچ کی مذمت کرنی چاھئے ۔چاھے یہ سوچ محلے کی مسجد کے منبر سے نکل رہی ہو،یا شیطانی چرخے پر ڈرامے بازی سے دکھائی جا رہی ہو۔
اس سوچ کی اذیت کا شکا ر ہم اپنی ذہین اور  پڑھی لکھی  نئی نسل کو پا رہے۔اس نسل کے ذہنی  انتشار کو کوئی سمجھ بھی رہا ہے؟ظاہرہے کوئی نیا” عالم “ ہی نئے انداز میں سامنے آکر انہیں متاثر کر ے گا! پرانوں سے اس نئی نسل کو “نا امیدی” ہو تی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر عامر لیاقت ایک “پیشہ ور” شخص ہے۔اور ہربے حیائی کو برائی سمجھے بغیر نشر کرنے والے ادارے کیلئے کام کرکے اس کا معاوضہ حاصل کر رہا ہے۔
ناظرین کی “ریٹنگ” مل رہی تو اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ”عمومیہ” میں اس کی مانگ ہے۔عمومیہ کی اصلاح کا کام جن کے ذمے ہے وہ”مذاہب” کو چھوڑ کر “مذہب” کی خدمت کیطرف آئیں تو اس طرح کے”ڈرامے” اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

دھرتی

میں انسانوں کے ہراول دستے کے سنگ اس چمچماتی راہگذر پر کھڑا ہوں۔
ہر سو ہریالی ہے،پھول ہیں۔خوشبوئیں ہیں۔
یہاں زندگی جیتی ہے،اور موت راحت دیتی ہے۔            

یہاں ہر سانس ایک نئی مہک سے آسودہ کرتی ہے۔
یہاں کی وادیاں حسین ہیں، یہاں انسان خوشبو دار ہیں مہکتے ہیں
یہاں کے پہاڑ پُرشکوہ ہیں
یہاں کے دریا گنگناتے ہیں
یہاں لوگ سسکتے نہیں ،
یہاں لہو رستا نہیں،
یہاں لوگ بدبودار نہیں
لیکن
یہاں دھرتی نہیں ہے  

میں ایک ایسا تیر ہوں جو کمان سے نکل کر واپس نہیں ہو سکتا
میں اپنی کمان کیطرف لوٹنا چاہتا ہوں
میری کمان میری کمان۔۔۔۔۔۔۔
بغیر کمان کا تیر تو صرف الاؤ جلانے کے کام آسکتا ہے۔
تپش ، دھواں ، راکھ۔
میں اپنی کمان کیطرف لوٹنا چاہتا ہوں
جہاں پہاڑ صبح کی روشنی میں چمکتے ہیں
جہاں چاندنی رات میں گھاس پر چمکتی شبنم پاؤں کی تھکن نچوڑ لیتی ہے
جہاں دریا کا شور مچاتا ردھم راتوں کو سحرزدہ کرتا ہے۔

جہاں بھوک کا احساس ہے،جہاں دکھ ہے الم ہے

جہاں لالچ ہے ہوس ہے بے حسی ہے
جہاں بدبودار انسان بستے ہیں
جنکے پسینے مہکتے ہیں ،جن کے بدن سے رستا لہو مہکتا ہے
جہاں ہر آنے والی رات کیلئے شام سورج کی دھوپ چرا لیتی ہے
جہاں ہر آنے والی صبح رات کی راحت چُرا لیتی ہے


جہاں تھکی تھکی سی صبح کو صبح کا تارا  امیدوں، امنگوں سے بھر دیتا ہے
جہاں بہتا لہو ، جہاں بھوک سے سسکتا بدن ، جہاں امیدوں کے جنازے اٹھائے مردے کچھ دیر اور جینا چاھتے ہیں
میں کمان کیطرف لوٹنا چاہتا ہوں
جہاں دریاؤں کے پانی  دکھ درد ، غم و الم ٹھنڈے کرتے ہیں
میں اپنی کمان کیطرف لوٹنا چاہتا ہوں
میں اپنی کمان کے ساتھ گذرے چند لمحوں کی قدر کرتا ہوں
میں کمان سے نکلا بھٹکتا تیر
دھرتی  کی خاک پرلوٹنا چاہتا ہوں۔

میں اس دھرتی پر گرنا چاہتا ہوں
جس کی پھانکی ہوئی خاک اشرف المخلوق کو حشرات الارض کی خوراک بننے تک
محبت کرنے پر مجبور کرتی ہے

برداشت کر!

جب پاکستان کا نیا بجٹ پیش ہوا تو بڑی حیرت ہوئی کہ حکومت پاکستان نے ہائی برڈ گاڑیوں کو ڈیوٹی فری کردیا ہے۔لیکن شرط رکھی کہ 1200سو سی سی  تک کی گاڑیوں کو ہی ڈیوٹی فری رکھا جائے گا۔محبت وطن  حکمرانوں کو حکومت ملی تو پہلا کام انرجی کرائسس ختم کرنے کی پیش رفت کی ۔۔۔  خوب است خوب است۔

پچھلی صدی کےشریفانہ اور محبابہ حکمرانی کے دور کا ذکر ہے کہ خبر گرم ہوئی تھی  جاپان  سے اب پاکستان گاڑیاں بھیجی جا سکتی ہیں۔یعنی پاکستان کا کام  “کھل “گیا ہے۔ جاپان کے میرے جیسے چھوٹے کاروباری خوش ہو گئے تھے۔کہ روزگار کچھ بہتر ہو جائے گا۔ابھی معلومات جمع ہی کر رہے تھے۔کہ پتہ چلا جن کے لئے اور جتنا  “کام “کھلا تھا۔وہ پورا ہو چکا ہے۔گاڑیاں جاپان کیا جرمنی سے بھی پاکستان پہونچ چکی ہیں اور اب “کام” بند ہو چکا ہے۔

جن کاروباریوں نے انویسٹ کی تھی ۔ہکے بکے منہ کھولے لمبے لیٹ گئے اور نقصان اٹھا کر خاموشی اختیار کر لی۔اس  دفعہ بار ہ سو سی سی  ہائی برڈکی گاڑیوں  کا بجٹ میں ذکر ہوا تو بہت کم پاکستانی کاروباریوں نے دلچسپی لی ،کہ پاکستان کا معاملہ اللہ توکل پر ہی چلتا ہے۔اللہ پر توکل پاکستان سے باہر تو  بندے کو اللہ کا شکر گذار بنا دیتا ہے۔معاملات پاکستان کی حکومت اور حکمرانی کے ہوں تو بندہ اللہ کا نا شکرا ہونے کے ڈر سے دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔

پچھلی حکومت کے دور میں بھی کچھ عرصے کیلئے ڈیوٹی میں کمی اور پرانی گاڑیاں یعنی پانچ سات سال  سےبھی زیادہ پرانی گاڑیوں کا “کام ” کھلا بعد میں پتہ چلا کہ مرشد ملتان والی سرکار کے فرزند ارجمند کمپنی کی “لاٹ” پاکستان پہونچ چکی ہے۔اب چپ کرکے  بیٹھ جاؤ۔اللہ ہی جانے حقیقت کیا تھی۔ہم نے نہ پہلے کبھی دلچسپی لی اور نہ مستقبل میں دلچسپی نما رسک لینے کا کوئی ارادہ ہے۔تھوڑا سہی ستھرا ہی کھانے کو ملے تو اچھا ہے۔

بارہ سو سی سی کی ہائی برڈ  گاڑیاں  تیار ہی نہیں ہوتیں۔ ہنڈا نے ایک عدد تیار کی تھی وہ بھی عرصہ ہوا  تیار ہونا بند ہو چکی ہے۔حقیت کا نہیں علم جناب!! لیکن مارکیٹ میں بات گھوم رہی ہے۔کہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے ہی ساٹھ ہزار بارہ سو سی سی ہائی برڈ گاڑیوں کی تیاری کا آڈر دے دیا گیا تھا۔ظاہر ہے میکر کو ایسا آڈر دیا جائے تو اس نے تیار کر کے پیش خدمت کر دینی ہے۔مال بنانے والے کا مال بکنا چاھئے۔اسے غرض نہیں ہوتی کہ وصولنے والا قانون کا پابند ہے یا قانون اس کی لونڈی!!

عام آدمی سے لیکر سیاستدان ،بیوروکریٹ ، فوجی ہر بندہ ہی کرپٹ ہے۔پاکستان میں کسی سرکاری ادارے سے پالا پڑ جائے تو شریف آدمی خوار ہو جاتا ہے۔ہم دیار غیرمیں بسنے والے تارک وطن ہونے کے باوجود بے بس ہیں ،کہ ماں باپ بہن بھائی پاکستان میں بستے ہیں نہ چاھتے ہوئے بھی پاکستان سے تعلق  قائم رکھنے کی مجبوری ہے۔پاکستان کے سرکاری اداروں سے واسطہ پڑے یا نہ پڑے پاکستان ایمبیسی سے پاکستانی پاسپورٹ نہ ہونے  کے باوجود واسطہ پڑ ہی جاتا ہے۔

اول تو اپنے  کام سے متعلقہ معلومات لینا ہی جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔کسی نہ کسی طرح معلومات حاصل کر ہی لیں۔تو اس کے بعد جو پراسس ہوتا ہے۔اس کیلئے خواری ہی خواری ہوتی ہے۔پاکستانی اورسیز کارڈ کی تجدید کروانی تھی۔پہلے فون کیا تو متعلقہ آفیسر کو لفظ “تجدید” کی ہی سمجھ نہیں آئی ۔جب “رینیو” کروانے کا پوچھا تو اچھا اچھا کہہ کر کہا گیا کہ نیشنل بینک میں مبلغ سکہ رائج الوقت ڈیڑھ سو ڈالر جمع کروا کر رسید اور کاغذات ایمبیسی بھیج دیں ۔بہت آسان سا طریقہ ہے نا؟

نیشنل بینک کو فون کیا تو بتایا گیا کہ جناب بینک میں آکر پیسے جمع کروا دیں!!! جس جگہ میری رہائش ہے یہاں سے مجھے پانچ سو کلو میٹر کا سفر کرکے ٹوکیو جانا ہے۔بینک میں پیسے جمع کروانے ہیں۔اور ایمبیسی کو کاغذات “بذریعہ پوسٹ” روانہ کرنے ہیں۔آسان سا طریقہ ہے نا؟

نہایت آسانی سے مجھے کم ازکم “آسان” سے حساب کتاب سے سات سو ڈالر کا خرچہ پڑنا ہے۔غریب بندہ ہوں۔سات سو ڈالر سے پاکستان میں میرے گھر کا چولہا کم ازکم ایک ماہ تو جل ہی جائے گا۔یعنی پاکستان میں جنم لینے کا “تاوان” مجھے تاحیات ادا کرنا ہی ہے۔اور جس جس اسلامی جمہوریہ پاکستان کے داخلی اور خارجی محکمے سے واسطہ پڑنا ہے۔حسب توفیق ان سے ذلیل ہونا  ہی ہے۔

آپ کے ذہن میں آئے گا ،کہ اس میں ذلالت کی کیا بات؟ سات سو ڈالرخرچ کرو اور کام کروا لو!! جاپان میں رہتے ہو۔کما ہی لو گے!! بجا سوچا جناب!! ذلیل اس طرح ہو رہا ہوں کہ سوچا شاید ایمبیسی کے “روزہ دار مسلمان” صاحبان سے پوچھ ہی لوں شاید کوئی “وچکارلا” رستہ ہی ہو۔اور ٹوکیو جانے کی زحمت سے بچ ہی جاؤں۔۔اپنا بھی روزہ ہوتا ہے جناب۔
تجدید کی جلدی اس لئے ہے۔کہ کیا پتہ اپنا ہی وقت پورا ہو جائے اور پتہ صاف ہو جائے۔موت برحق ہے۔اماں ابا بھی بوڑھے ہیں اور  جوان کیلئے بھی اللہ میاں نے کوئی زندگی کے اختتام کا ٹائم نہیں بتایا ہوا۔

ہفتہ ہوگیا ۔روزانہ فون کر رہا ہوں۔ لیکن ماہِ رمضان ہے۔اور جاپان کے روزے “اعلی افسران” کیلئے نہایت شدید اور عین عباد ت ہونے کی وجہ سے کوئی بھی فون نہیں اٹھا رہا!!بلکہ خود کار طریقے سے “کھٹاک” سے بند ہو جاتا ہے۔
“جلن”  ، “ساڑ” ، “دکھ” اس وقت شدید ہو جاتا ہے۔جب قرون اولی کے مسلمانوں کی فرض شناسی ،احساس ذمہ داری، اور قرون اولی کے مسلمانوں کے متعلق کتب میں پڑھنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے۔کہ ان کے نزدیک سرکاری نو کری عوام کی چاکری ہوا کرتی تھی۔

لیکن جناب اتنے میں ہی بس نہیں جو کچھ قرون اولی کے مسلمانوں کے متعلق کتب میں پڑھنے کو  ملتا ہے۔اس طرح کے معاملات ہمارے  ساتھ روزانہ پیش آتے ہیں ۔اور ان معاملات سے ہمارے ایمان تازہ نہیں ہوتے!! وجہ ظاہر ہے۔کہ یہ معاملات کرنے والے قرون اولی کے مسلمان بھی نہیں اور “خادم اعلی” بھی نہیں!! یہا ں کے کفار ہیں ۔اور ان کا “خادم ادنی”(وزیر اعظم) عاجزی کا چلتا پھرتا نمونہ ہوتاہے۔

پاکستانی عوام کو نہ تو “نیا پاکستان” چاھئے اور نہ ہی “روشن پاکستان” صرف اور صرف “داخلی “اور “خارجی”  کفار کی طرح کے  “خیانت” سے پاک “ایماندار “سرکاری و غیر سرکاری اہلکار اور  خصوصاً “عوام” کی ضرورت ہے۔
لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات کچھ زیادہ ہی سخت کہہ دی۔۔برداشت کر۔۔۔۔۔ نہیں تو خلاص کر!!

“لگا لپٹا مصالحے دار “

بات تو بُری لگے گی۔لیکن سوچیں تو یہی سچ ہے ، اور سچ کو بندہ خود خوب سمجھتا ہے۔جو دوسروں کو بتاتا ہے وہ ہمیشہ “لگا لپٹا مصالحے دار ” ہوتا ہے۔
معاشرہ لیڈر جنم دیتا ہے۔یہی معاشرہ لیڈر کی پرورش کرتا۔لیڈر سوچ بچار کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو معاشرے کیلئے کچھ کرنے کی تڑپ اسے بے چین کرتی ہے۔معاشرے بانجھ اس وقت ہوتے ہیں۔ جب ان میں لیڈروں کی پیدائش ہر گلی کوچے میں ہونا شروع ہو جائے۔

اِدھر کسی محل میں لیڈر کی ولادت باسعادت ہوتی ہے جو کہ پیدا ہی “حکمرانی ” کیلئے ہوتا ہے۔اس لیڈر کے پیدا ہونے کا مقصد ہی اگلا لیڈر پیدا کرنا ہوتا ہے۔یعنی نسل در نسل “لیڈر” کے ڈی این اے کو طوالت دینا!

اُدھر کوئی لیڈر جھونپڑی میں ولادت با سعادت پاتا ہے تو ادھر کوئی جھاڑی کے پیچھے ولادت باسعادت کو عزت بخشتا ہے۔کچھ لیڈروں کی ولادت باسعادت کو حسب ضرورت ولادت کے مراحل سے  گذارنے والے گذار لیتے ہیں۔یعنی  سرزمین  پاک  جوج ماجوج کیطرح لیڈروں کو اُگل رہی ہے۔

مذہبی، سیاسی، فلاحی  ، اصلاحی تحریکوں ،تنظیموں  ، جماعتوں کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔کہ  ہر خود رو جنگلی جھاڑی کے پیچھے ایک عدد تحریک “متحرک” ہوتی ہے۔فلاحی تنظیم زیادہ تر این جی اوز ہوتی ہیں یا پھر کسی “مخصوص” مذہبی جماعت کی “فلاحی شاخ” ہوتی ہے۔ این جی او  ذرا انگریجی ہو تی ہے ،اس لئے یہ “فنڈ” جمع کرتی ہے۔جو کہ  عموماً معروف غیر ملکی کرنسی میں ہوتی ہے۔ھذا من فضل ربی بھی انہیں قبول ہوتا ہے۔

مذہبی جماعت کی “فلاحی شاخ” قطعی طور پر  “دینی ” ہوتی ہے۔”چندہ” صدقہ ،  خیرات  ، زکواۃ ،  کھال ، کے علاوہ غیر ملکی “کرنسی” کا فنڈ بھی لازماً قبول ہوتا ہے۔اس کے علاوہ جانوری و انسانی “چمڑی ” بھی قبول ہوتی ہے۔

بحرحال دونوں طرز کی “فلاحی” تنظیموں کا مقصدمخلوق خدا کی “خدمت ” ہوتا ہے۔اور ان کے کرتا دھرتا  “انتہائی نیک اور  اچھے ” لوگ ہی ہوتے ہیں۔انہی کے دم سے معاشرہ قائم  ہےورنہ  “شیطان “ اتنا کامیاب ہو چکا ہے کہ اللہ کا عذاب کسی وقت بھی اتر سکتا ہے۔ اللہ کی رحمت اتارنے کیلئے دعاؤں ، التجاؤں ، نذرو نیاز ، چڑھاؤں کی ضرورت ہوتی ہے اولاد نرینہ کیلئے پیر صاحب کی !۔اور عذاب بغیر طلب کی کسی وقت بھی نزول فرما دیا جاتا ہے۔بھولاپن اتنا کہ کرتوت کرکے معصومیت سے پوچھا جاتا ہے۔آخر کیا وجہ ہے  کہ مسلمان بہترین “امت” بہترین  “قوم ” اعلی ” کوالٹی انسان” ہونے کے باوجود   دنیاوی عتاب کا شکار ہیں؟

سیاسی جماعتوں میں دو طرح کی سوچ رکھنے والی جماعتیں  پائی جاتی ہیں۔ایک  “کُلی جمہوری ” جو مغربی طرز کی سیاست ہی کر رہی ہے۔یہ سیاسی سوچ یا  اس سیاسی سوچ کو ہم مسلمان طاغوتی سوچ کہتے ہیں۔جس نے صدیوں سے معاشرے کو تباہ کیا ہوا ہے۔ اور انہی “کُلی جمہوری ” جماعتوں میں “لسانی”  “نسلی” سوچ بھی پائی جاتی۔جمہوریت بی بی کا حسن ہے جو جس طرح چاہے  پوجے ۔مذہبی نہیں سیاسی جماعتیں  ہیں جمہوریت بی بی کے ہی پجاری ہو سکتے ہیں ۔

دوسری مذہبی سیاسی سوچ والی جماعتیں ہیں۔یہ جماعتیں لوگوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ  “جمہوری” طریقے سے شریعت کا نفاذ کریں گئیں۔ فی الحال مجبوری ہے جمہوریت بی بی سے “تعلقات” رکھنے ہی پڑیں گے۔

مذہبی جماعتوں کے کارنامے سنیں تو فرمایا جاتا ہے ،لاکھوں لوگ بشرف ایمان ہوئے اور  لاکھوں تائب ہوکر  لباس و جسد باشرع ہوئے۔یعنی مُردوں میں جان پڑ گئی۔پینسٹھ سالہ “زن آزاد” قسم کی “آزادی ” کی تاریخ میں مذہبی جماعتوں کے اصلاحی و فلاحی کام ملک و قوم و ملت کیلئے اتنے مفید  انجام ہوئے کہ  بازار میں چلتے ہوئے شیدا گاما تے “رامی درویش” “پنکچر” کئے بغیر گذرنے دیتے ہیں۔

مغربی تعلیم یافتہ طبقے(روشن خیال) کے” دستہ شفقت” کے نیچے پینسٹھ سال پرورش پانے والی نئی نویلی سلطنت  کو “بدحال” کرنے کا الزام “مولوی” کے سر رکھا ہوا ہے۔اور “مولوی” سر دھناتے ہوئے ۔صرف خلافت  اسلامیہ کو ہی تمام مسائل کا حل  بتائی جا رہا ہے۔

“مولوی” کی مسلکی مسجد میں دوسرے مسلک کا “مولوی” مستقل ، ماہانہ تنخواہ پر نماز پڑھانے کیلئے بھرتی نہیں ہو سکتا تو یہ “مولوی”  “اپنا خلیفہ ” ہی بھرتی کروائے گا۔دوسرے مسلک والے کا خلیفہ کیسے قابل قبول ہوگا؟مسجد مشترکہ نہیں ! امام  باڑہ مشترکہ نہیں! امام مشترکہ نہیں !!مقتدی مشترکہ؟ ! تو “خلیفہ “کیسے مشترکہ ہو گا؟
مغربی بے حیا بے غیرت  مدر پدر آزاد جمہوری ملک میں  طاغوتی سیاسی طاقتیں کامیاب بلکہ سرخرو ہیں ، ان ممالک میں عوام کی اصلاح کیلئے  ہر جھاڑی کے پیچھے “متحرک” دینی جماعتیں بھی نہیں ہیں۔ان کی روحانی “راہنمائی ” کیلئے پیر ، مرشد ، درویش بھی نہیں !!!

ان کی ناپاک سر زمین برتھ کنٹرول کی وجہ سے ” لیڈرروں” کی ولادت باسعادت سے متبرک بھی نہیں ہوتی!ان کے باپ  اپنے اپنے ہوتے ہیں  چاھے بے نام ہی کیوں نہ ہوں۔لیکن مشترکہ زبردستی کا “قوم کا باپ” انہیں میسر نہیں ہوتا۔

سچ کہا گیا ہے حق کہا گیا ہے۔کہ مشرکوں کے ساتھ  زندگی نہیں گذارنی چاھئے ۔اہل شرک کے ممالک میں بغیر شرعی جواز کے بود وباش اختیار نہیں کرنی چاھئے۔اہل شرک کے ساتھ زندگی بسر کرنے والوں کے دل چاک کرکے دیکھو تو دکھائی دے کہ خوف و ڈر(اللہ کا بندے کا نہیں) سے کالے داغدار ہوئے جاتے ہیں۔حرام ہو یا حلال ملاوٹ سے پاک ان کے پاس مل جاتا ہے۔کھانے والے پر ہے کہ وہ کیا کھانا پسند کرے گا۔

“پاک سر زمین”پر تو حرام بھی خالص نہیں ملتا ! اسلامی سلطنت کیطرف ہجرت کون کرے؟ ہجرت کر بھی جائے تو جب ہفتے کے سات دن “اجتماعی” طور پر آس پاس سے لہولہان ہو کر آٹھوین دن “اجتماعی” عبادت کیلئے جائے تو خالص مومنین کے بھیجے گئے “فرشتہ کے ہاتھوں پرخچے اڑاوئے!
دور دراز کی امت کا درد لئے تڑپنے والو ! اڑوس پڑوس گلی محلے میں سسکنے والوں کا درد محسوس کرو!
روشن خیال کی اوقات اتنی ہی ہے،کہ وہ اپنے بچوں کو اقوام عالم میں فروخت  کرکے بھی ترقی کرنا چاہتا ہے۔ اور  اسلام پسند کی حالت  یہ ہے کہ  فروخت کر دیئے جانے والے معصوم بچوں  کو بھی اپنا دشمن ڈکلیئر کر دیتا ہے۔مسلمان کے پاس  مشرک کافر کی بھی جان مال عزت جب محفوظ ہو جائے گی۔تو مسلم معاشرے کو اپنے نظام سسٹم کو کوئی نام دینے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔کہ بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں ہم مسلمان بستے ہیں۔

تن آسانی

اس دفعہ جاپان کا ساون بھی سوکھا سوکھا نکل گیا ۔ سردیوں میں جسطرح برفباری خوب ہوتی ہے ۔
اسی طرح گرمیوں میں  سورج خوب انگارے اگل رہا ہے۔

دن کے تقریباً ہزار بندے تو  ایمبولینس میں اسپتال پہونچائے جا رہے ہیں، وجہ اور کوئی نہیں لُو لگنے سے بڈھے بڈھیاں ڈھیر ہوئے جاتے ہیں۔
یہ علیحدہ بات ہے ،کہ رمضان کے ایک دن پہلے ہی میں چکرا کر گرا اور اسپتال میں ڈرپ لگوا کر تگڑا ہوا۔
آپے ہی اسپتال لیکر گئے اور آپے ہی ڈرپ لگائی ۔گھر واپس خود آنا پڑا ۔ گھر واپس چھوڑنے کی سروس یہ لوگ نہیں دیتے۔
ہمارے چکرا کر گرنے کی وجہ اور کچھ نہیں تھی رمضان سے پہلے پہلے لمبی ساری دوڑ لگا کر کچھ دوڑ بیلنس بنانا چاہ رہا تھا ،کہ رمضان میں گرمی بھی ہے ۔
اور روزے میں دوڑا بھی نہیں جائے گا۔بحر حال ہنڑ ارام اے۔

میرا کتا دن میں اٹھارہ گھنٹے سویا ہی رہتا ہے۔گرمیوں میں سارادن زبان لٹکائے سویا ہی رہتا ہے۔نہ دم ہلاتا ہے اور نہ ہی اپنی جگہ سے حرکت کرتا ہے۔
بس بیزاری سے ہمیں آتا جاتا دیکھتا رہتا ہے۔جس دن موسم خوشگوار ہو اس دن فجر کے وقت سے ہی خر مستیاں شروع کر دیتا ہے۔

میں بھی بعض اوقات سوچتا ہوں۔اس کتے کو پالنے کا مجھے کیا فائدہ؟ کوئی گائے بھینس بکری پال لیتا  تو اتنا فائدہ تو ہوتا ہی کہ  دودھ دہی مجھے مل جاتی اور کھال الطاف بھائی کو بھیجی جا سکتی تھی۔کتا پالنے کا بس ایک ہی فائدہ ہے کہ اس کی معصوم سی حرکتوں سے دل خوش ہو جاتا ہے۔ایک عجیب سا رحمدلی کا جذبہ سینے میں ابھرتا ہو ا محسوس کرتا ہوں۔بس اتنا سا ہی فائدہ ہے۔ یہ ہی مفاد مجھے کسی بندے سے حاصل ہونا ناممکن ہے ،اس لئے بندہ پالنے کے بجائے کتا پالا ہوا ہے۔

ماہِ رمضان میں تو خیر زیادہ تر حضرات جن  کےگھردانےپائے جاتے ہیں انہیں ظہر تک سوئے ہوئے پایا،اور باقی وقت بیزاری  سے”موویز” دیکھتے افطار کا انتظار کرتے پایا۔جو نکمے حضرات ہیں انکا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔آپ کے آس پاس ایسے حضرات کثیر تعداد میں پائے جاتے ہوں گے جو بوجہ رمضان اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے سوئے ہی رہتے ہیں۔

بعض تو ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دیکھ دل خوش بھی نہیں ہوتا۔اور نہ ہی  سینے میں کوئی لطیف انسانی جذبہ محسوس ہوتا ہے۔بحرحال بہت سوچ بچار کے بعد مجھے ایک بات ضرور سمجھ آئی کہ بندے اور کتے میں ایک بہت نمایاں فرق ہے۔
بندہ مخلص ہوتا ہے۔خلوص  ایک ایسا  انسانی جذبہ ہے جو کسی وقت بھی اڑن چھو ووووووووو  غائب بھی ہوسکتا ہے۔
بس  فرق صرف اتنا ہی ہے۔
بندہ مخلص ہوتا ہے اور کتا وفادار!!

رمضان مبارک

پتھر کے دور کی بات ہے کہ دن رات سے لمبا ہوتا تھا۔
ایک دن مزدور نے اللہ سے شکوہ کیا
اے اللہ مجھ سے دن میں خوب کام لیا جاتا ہے جب میں تھکاوٹ سے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں تو رات کو آرام کرتا ہوں۔
دن بہت لمبا ہے جو کہ میرے لئے تکلیف دہ ہے۔
آپ سے التجا کی جاتی ہے کہ دن کو چھوٹا اور رات کو لمبا فرمادیں۔اللہ میاں نے اپنے مزدور بندے کی دعا سنی رات اور دن کو برابر مقدار میں بنا دیا۔

پھر “بجلی ” ایجاد ہو  گئی !!
اب مزدور  پڑھا لکھا ہو یا انپڑھ” وائٹ کالر  “مزدور ہو یا “ کالا کالر “مزدور ڈاکٹر ہو یا مریض دن رات “شفٹوں  “میں مزدوری کرتے ہیں۔
اور دن رات”  شفٹوں  “میں ہی   “آرام  “کرتے ہیں۔
کمپیوٹری سائینس کامزدور دن کو افطار کے انتظار  میں نیٹ سرفنگ  یا انڈین فلم دیکھ کر ٹائم پاس کرتا ہے تو۔۔۔۔
رات کو فیس بک پر گپ شپ لگا کر سحری کا انتظار کرتا  ہے۔
جب لوڈ شیڈنگ زیادہ ہوتی ہے تو یہ سارے روزے دار گالیاں دیتے احتجاجی جلوس نکال لیتے ہیں۔
رمضان مبارک۔

نہ تیری نہ میری غریب کی جورو

ہمارے بچپن کی بات ہے،کہ کوئی مر جاتا تھا یا   خیرات وغیرہ کی اطلاع دینی ہوتی تھی ۔اسی طرح عیدین اور رمضان کی چاند بابو کی اطلاع بھی “نقارہ” بجا کر بلند آواز شخص پہاڑی کی چوٹی سے دیتا تھا۔پھر یہ اطلاع زبان با زبان عوام تک پہونچ جاتی تھی۔اب معلوم نہیں کہ یہ رواج چل رہا ہے یا ختم ہو گیا۔ ان چوبیس پچیس سالوں میں تو جب بھی اپنے “علاقے” کیطرف گیا ہمیشہ بدلا بدلا محسوس کیا۔زبان سے لیکر لوگوں کے اطوار تک بدلے ہوئے دیکھے۔”ہم بدلے یاتم بدلے”

ایک اور مردانہ رواج ہوتا تھا ،جو کے مجھے بہت یاد آتا ہے۔کہ ایک لمبی چوڑی  سفید چادر ہر معتبر مرد کندھے پر رکھتا تھا۔یہ  کندھے پر چادر رکھنے والے بھی مجھے کئی سال ہوئے نظر نہیں آتے ۔جس نے چادر کسی کے آگے ڈال دی سمجھ لیا جاتا تھا کہ اب اس شخص کی بات مان لی جائے گی۔کسی  کی عزت کا خیال لحاظ کرنا سب سے بڑی خوبی سمجھا جاتا تھا۔اب نہ جانے ایسے رواجوں کا  کیا ہوا چل رہے ہیں یا ختم ہو گئے ۔ دنیا کی تیز رفتاری اب کچھ لمحے ٹھہر کر غور کرنے کی فرصت  نہیں دیتی۔

حکمرانوں نے اطلاع دینی ہوتی تھی تو ہوائی جہاز سے پرچیاں پھینکا کرتے تھے ۔اب تو سنا ہے” ابابیلیں  ” موت کی اطلاع کیلئے  ”کنکریاں” پھینکتی ہیں۔”اجسام “سے آزاد روحیں سنا ہے ریسائیکل ہونے کیلئے “پینٹاگون بالا”میں جھاڑ جھنکاڑ کے بعد نئی نویلی ہو جاتی ہیں۔ جدید دور ہے ہر شے ہر انداز بدل گیا ہے یا بدلتا جا رہا ہے۔اپنی زبان سے ادا کئے ہوئے الفاظ کی حرمت پر جان دینے والے ناپید ہوئے جاتے ہیں۔وعدہ کرکے مکر جانا کوئی بڑی  بات نہیں سمجھا جاتا۔نہ مانو تو بھی” محفل “جواں ہے حسیں ہے۔

نہ جانے کیا مطلب ہے اس مصرعے کا لیکن دل کو لگتا ہے۔ “سبو اپنا اپنا جام اپنا اپنا”

میرے جیسا بندہ جو دو بندوں کی محفل میں بیٹھ کر اپنی بات احسن طریقے سے کرنے کا سلیقہ نہیں جانتا، سوشل نیٹ ورک پر یک سطری دانش لکھ کر “لائیکیوں” کی واہ واہ سمیٹ کر “نیٹی دانشور” ہونے کی “پھوک” سے  “تونگر” ہو جاتا ہے۔جدید دور کی تبدیلیاں معروف  “نیٹی دانشوروں” کی اجتماع گاہ فیس بک اور ٹوئیٹر پر ہی تخلیق ہو رہی ہیں۔لیکن یہ نئی تبدیلیاں دنیا کے بھاگ دوڑ سنبھالے ہوئے ممالک اور عوام میں نہیں جنم لے رہیں۔

اس سوشل نیٹ ورک سے جنم لینے والی تبدیلیاں صدیوں سے بانجھ ممالک اور عوام کے پیٹ سے ہی جنم لے رہی ہیں۔ ہمیشہ سوچتا تھا کہ لفظ “عوام” ، “رعایا” کو مونث ہی کیوں لکھا پڑھا اور بولا جاتا ہے۔اب سمجھ آئی  کہ” قانون  جہالت “ہے کہ بانجھ پن کا شک سب سے پہلے “مونث” پر ہی کیا جاتا ہے۔مرد بانجھ بھی ہو تو “زنانی” بدلنا اس کے لئے  کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔کاکا ، کاکی جمے یا نہ جمے “زنانی” پاؤں کی جوتی ہی رہتی ہے۔

اس فیس بک کی “پھوک” سے “تونگر” ہونے والے مشرف صاحب” مشرف با ذلت” ہوئے  جاتے ہیں اور انصافئے نا انصافی کی کھائی میں گرے ہوئے ہیں۔عرب ممالک کی صدیوں کی  “خزاں” کے بعد “بہار ” بھی کئی ممالک پر آئی ہوئی ہے۔اور فی الحال  “بہار الرجی ” کا شکار ہے۔مصر والوں کی “پھوک” ٹھس کرکے نکل گئی ہے ۔ اب اسلام پسندوں کے نلکے پانی نہیں دے رہے تو روشن خیالوں کے مٹکے بھی لیک کر رہے ہیں۔آئیندہ  ملا اینڈ مسٹر انقلاب کا نعرہ لگاتے وقت  گلی کوچوں کو تحریر اسکوائر بنانے کا نعرہ لگانے سے پہلے کئی بار سوچیں گے ضرور!!

حالت امن میں بھی گھوڑے تیار رکھنے کا تو سب کو علم ہی ہے۔گھوڑا اسی  کی مانتا ہے۔جو گھڑ سواری کرتا ہے۔باقی میرا گھوڑا تے تیرا گھوڑا ہی ہوتا ہے۔”کاؤ بوائے” کا گھوڑا جب “ بیٹھ “جاتا ہے تو وہ اسے گولی مار کر “خلاص” کر دیتا ہے۔سوشل نیٹ ورک جن کی ایجاد ہے وہ اس کا استعمال بھی خوب کر رہے ہیں۔نظریئے ،عقیدے ، رواج روایات، اخلاقیات کا بھرکس نکالنا ہوتو ان جیسا بن کر نکال لیتے ہیں۔اپنا مفاد حاصل کرنے بعد دور بیٹھ کر دانت نکال رہے ہوتے ہیں۔ایسے ہی جیسے “ابابیلوں” کے ذریعے “روحوں” کو  “پینٹا گون بالا” میں لے جاتے ہیں۔پیچھے خالی ڈھول بج رہا ہوتا ہے۔دھن دھنا دھن  تک تک تک۔۔۔

پرانی چھل چھبیلی  بھولی بھالی غریب کی “جورو “آجکل  پرانے آشناؤں کے ہتھے دوبارہ لگ گئی ہے۔ سنا ہے غریب کی “جورو” امید سے ہے۔کاکا، کاکی جنتی ہے یا صرف “امید” کے دورانئے میں ہی مرتی ہے۔غائب کا حال ہم کیا جانیں۔اپنی کرتوتوں کے نتیجے کا اندازہ ہم ضرور لگا سکتے ہیں۔لگ تو یہی رہا ہے کہ “کاؤ بوائے “  ” اپنے گھوڑے” پر سوار ہو کر آئے گا اور “غریب کی جورو” کو بار بار کیطرح پھر اٹھا کر لے جائے گا۔گاؤں کے غیرت مند ڈولکی کی چھاپ پر ہمیشہ کیطرح ”کبڈی”  ہی کھیلتے رہیں گئے۔

سانس لینے کا بھتہ۔

پاکستان کی نئی حکومت نے جیسے ہی  ایوان بادشاہت میں قدم رکھا  ایک عدد بیان مارکیٹ میں آگیا کہ خزانہ خالی ہے۔نیا بجٹ بھی مارکیٹ میں آگیا ،کچھ ٹیکس ہر کس و ناکس کی نظر میں ہیں تو کچھ پس پردہ لاگو ہو چکے ہیں ۔جو کہ ہر بے کس و شریف شہری کو ضرور ادا کرنے ہیں۔ایک  ساٹھ ستر سالہ بزرگ شہری ساری زندگی محنت کرکے کچھ پس انداز کرتا ہے  محتاجی  اور ہاتھ پھیلانے سے بچنے کیلئے اسلامی جمہوری بادشاہت  کے علماء کرام کا عتاب وصول کرکے بینک میں فکس اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر ( سود) انٹرسٹ سے موت کے انتظار میں باوقار طریقے سے وقت گذارنے کی “ہوس”  میں اپنی آخرت کالی کرتا ہے۔

اس فکس اکاؤنٹ پر بھی خاموشی  سےٹیکس لگ چکا ہے۔یعنی وہ رقم جسے کماتے  وقت ٹیکس ادا کیا جا چکا ہے۔اس رقم کو بینک میں رکھنے پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔(” تے ہور رکھو گِن گِن  کر”) سرمایہ کارانہ نظام کا بھول بھالا ہو کے اس سے آپ کے حرام خور سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ نہیں رکھیں گے اور جو حرام خور پاکستان سے لوٹ مار کرکے کمائیں گے وہ بھی جن کالے  چٹے  کفار ممالک میں منافع زیادہ ہوگا اپنی رقم ان ممالک کے بینکوں میں لے  جائیں گے۔ ان کفار کے ممالک  کے بینک کا منافع ہوتا ہے “سود” میں شمار نہیں ہوتا۔نہیں یقین تو میدان بھی حاضر اور گھوڑا بھی حاضر تصدیق کرنے کی آپ کوکھلم کھلی چھٹی ہے۔

سرکاری مسجد کے ریٹائرڈ خطیب صاحب جو پنشن وصول کرتے ہیں وہ بھی اس “منافع” کے زمرے میں آتی ہے۔بینک میں جمع کرکے منافع حاصل کریں یا تنخواہ سے ادائیگی کرکے جمع کروائیں اور بعد  میں” پنشن فنڈ” سےوصولیں ۔ بات ایک ہی ہے۔بحر حال سود حرام ہے اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔سیدھی سے بات ہے نظام بدلنے کی طاقت نہیں ہے تو ٹوٹی پھوٹی گھسیٹی مسلمانی پر گذارہ کرو۔نہ کرنے کی صورت میں مزید زندگی “ذلیل” ہو گی۔ہر آنے والا باد شاہ نئے نئے  حربے سے چمڑی ادھیڑے گا۔چمڑی ادھڑوائیں یا چمڑی ادھیڑنے والوں میں شامل ہو جائیں۔رائج الوقت  سانس لینے والے جانوروں میں یہی دو اقسام پائی  جاتی ہیں۔

کیونکہ ہم جاپان میں زندگی گذار رہے ہیں، نہ چاھتے ہوئے بھی پاکستان کے حکومتوں کا موازنہ جاپانی حکومت سے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ظاہر ہے ”ڈڈو” نے اپنے کنویں کو ہی سمندر سمجھنا ہوتا ہے۔”ڈڈو” کے کنویں سے باہر تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔

ہم اس ملک کی تمام سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔ٹُچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بٹن دباتے ہیں تو کمرہ روشن ہو جاتا ہے۔ سنا ہے کبھی کبھی اس طرح کے “کرشمے” پاکستان میں بھی ہو ہی جاتے ہیں۔گرم پانی چوبیس گھنٹے حاضر ہوتا ہے،نلکے کا پانی بڑے شہروں میں پینا کچھ  مضر صحت ہے ،لیکن پاکستان میں فروخت ہونے والے منرل واٹر سے بہتر ہے۔لائف لائن کے تمام اخراجات دنیا کے مہنگے ترین ملک جاپان میں پاکستان کی نسبت کم ہیں۔

فرض کریں اور اللہ  نہ کرے۔کہ میں کنگلہ و قلاش ہو جاتا ہوں تو کسی نا کسی  جاپان کے کونے کھدڑے میں حکومت کے خیراتی مکان میں رہائش حاصل کر سکتا ہوں۔اور حکومت جاپان سے خیرات فنڈ سے گذارہ الاؤنس وصول کرکے آپ کو انٹر نیٹ پر ملاقات کیلئے چوبیس گھنٹے “اویے لیبل ” ہو سکتا ہوں۔شہریوں کے ادا کردا ٹیکس سے حکومت کے خیراتی فنڈ سے پاکستان کے متوسط طبقے سے اچھی “لائف” انجوائے کر سکتا ہوں۔

کچھ پاکستانی بھائیوں نے جاپان میں  ملکہ برطانیہ کے تاج کے سائے میں چلنے والے ممالک کے بھائیوں کیطرح ایسا ہی کیا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کچھ “معزز بھائی ” حضرات ایسا ہی کرتے ہوئے ویسے ویسے ہی پرانی گاڑیوں  کے کاروبار سے کچھ کچھ کماتے  ہوئے پکڑے  گے تھے۔جن پر حکومت جاپان نے کوئی کیس شیس کیا تھا۔۔چلتا ہے جی اتنا تو خراج وصولنا ہمارا حق بنتا ہے۔۔یہ ایسے ہی ہے کہ خنزیر کھانے  سےپر ہیز کرنا چاھئے ،خنزیر کھانے والیاں تو ہم جیسی ہی مخلوق ہیں نا۔

ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ہی انسان دوست ہونا ہے۔اگر جھوٹ ہوتا تو ہم ان ممالک میں آکر بس جانے والے واپس جانے کیلئے بے تاب ہوتے اور ان ممالک میں آکر پچھتا رہے ہوتے۔پچھتا واصرف اپنے ملک کادن بدن  غیرانسانی ہونے کا ہی ہے۔خیر شاید کوئی آسمانی فرشتہ نزول فرمائے اور پاکستان بھی انسانی ملک ہو جائے۔ فی الحال کام چل رہا ہے چلتی کا نام گاڑی جناب۔

یہ ترقی یافتہ ممالک خوب ٹیکس وصول کرتے ہیں اور ان کی حکومتیں شہریوں کی فلاح و بہبود کیلئے ان ٹیکسز کا استعمال کرتی ہیں۔ہمارے تو حج اور زکواۃ فنڈ بھی سوئس بینک کے اکاؤنٹ میں پہونچ جاتے ہیں۔تے خزانہ خالی ہی رہتا ہے۔

آپ کی معلومات کیلئے جاپان کی حکومت کو شہری جو ٹیکس ادا کرتے ان  کی سرسری تفصیلات حاضر خدمت ہیں ۔اور اس کے بدلے شہری جو سہولیات حاصل کر رہے ہیں وہ تفصیلات مفقود کی جاتی ہیں ،کہ “ساڑ” کے کیا کرنا جی۔ ایک سہولت کی ہی مثال دے دیتا ہوں ،کہ یہ ہفتہ پورا سوچتا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ ٹریفک بے تحاشہ ہے۔کوئی ہارن کیا “ٹلی” ہی بجا دے لیکن مجال ہے کہ کسی نے روڈ پر پی پوں پاں کی ہو۔
کوئی بھی دو بچے خوشحال عام فیملی کے میاں بیوی “روزگار” نہ کریں تو  جاپان میں گذارہ بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
نوٹ ؛- اصرار کیا گیا تھا کہ جاپان کے ٹیکس کی وصولیوں پر کچھ لکھیں اس لئے انتہائی بیزاری کے ساتھ حاضر خدمت ہے۔
(income tax)
آمدنی ٹیکس
(Special Reconstruction Income Tax)
فکوشیما کی تسونامی کو بعد تمام شہریوں سے تعمیر نو کیلئے ٹیکس وصول کیا جارہا جس کی شرح دو اعشاریہ ایک فیصد ہے جو کہ آمدنی سے وصول کیا جا رہا ہے ۔یہ ٹیکس دو ہزار سینتس تک تمام جاپان کے شہریوں سے وصول کیا جائے گا۔
(resident tax)
رہائشی ٹیکس جو کہ صوبے شہر گاؤں وغیرہ کو ادا کیا جاتا ہے۔یہ ٹیکس ہر صوبے شہر گاؤں کی ضروریات کے مطابق مختلف ہے۔علاقے کی آمدنی کے حساب سے لاگو کیا جاتا ہے۔

(property tax, real estate tax)
پراپرٹی ٹیکس پاکستان  ہر رہائشی اور کاروباری زمین وعمارات پر وصول کیا جاتا ہے۔صرف وزارت مذہبی امور میں رجسٹرڈ زمین و عمارات سے وصول نہیں کیا جاتا۔جیسے جیسے عمارات پرانی ہوتی جاتی ہیں پراپرٹی ٹیکس بھی کم ہوتا جاتا ہے۔ پرانی عمارت پر ٹیکس کم ہوتا ہے اور خالی پڑی ہوئی زمین پر ٹیکس زیادہ ہوتا ہے اور پرانی گلی سڑی عمارت پر ٹیکس اس خالی زمین کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ عموماً لوگ دیہی علاقوں میں  پرانی عمارت کو ویسے ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔اس طرح کرنے کی وجہ آبادی کی کمی ہے۔کہ نئی نسل دوردراز کم سہولیات والے علاقے میں رہنا پسند نہیں کرتے اور بوڑھے بڈھا گھر یا پھر بچوں کے پاس زیادہ سہولیات والے علاقے میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

(real estate acquisition tax)
عمارات جن سے کرائے کی آمدنی ہوتی ہے اس آمدنی سے بھی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔

(automobile tax, light vehicle tax)
بڑی گاڑیاں جو کہ 660 سی سی سے زیادہ ہیں ان پر ٹیکس زیادہ ہوتا ہے اور 660 سی سی تک ہیں ان کا ٹیکس کم ہوتا ہے۔

(automobile acquisition tax)
کوئی بھی “نئی” گاڑی خریدنے پر سیلز ٹیکس کے علاوہ صارف ٹیکس ادا کرتا ہے جو گاڑی کی قیمت کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔

 (automobile weight tax)
یہ ٹیکس گاڑی کے وزن کے حساب سے ہوتا ہے۔ اور اس کا استعمال سڑکیں تعمیر کرنے اور مرمت کرنے کیلئے ہوتا ہے۔

(inheritance tax)
والدین یا کسی کی طرف سے ورثہ ملنے کی صورت میں اس پر بھی ٹیکس ہوتاہے۔

(gift tax)
اگر کسی کو قیمتی شے تحفہ کرتا ہے تو اس پر بھی ٹیکس لگتا ہے۔جیسے کسی کو مکان یا گاڑی تحفہ کی جائےیا خطیر رقم تحفہ کی جائے۔

(consumption tax)
یہ اشیاء پر ٹیکس ہوتا ہے جسے جی ایس ٹی ٹیکس کہا جاتا۔اس وقت جاپان میں پانچ فیصد ہے اور گزشتہ پندرہ سال سے بحث مباحثے کے بعد اگلے سال سے دس فیصد کر دیا جائے گا۔

(liquor tax)
الکحول پر ٹیکس علیحدہ ہوتا ہے اور یہ سب زیادہ ہوتا ہے۔شراب کی قیمت میں شامل ہوتا ہے اور مشروب بنانے والی کمپنی صارف سے قیمت کی صورت وصول کرکے حکومت کو ادا کرتی ہے۔لیکن صارف دکان سے خریدتے وقت پانچ فیصد سیلز ٹیکس علیحدہ سے ادا کرتا ہے۔

(tabacco tax)
سیگرٹ پر بھی ٹیکس زیادہ ہوتا ہے۔شراب اور سگریٹ اشیائے عیاشی میں شمار کی جاتی ہیں۔جو عیاشی کرنا چاھئے وہ زیادہ پیسے ادا کرے۔

( national health insurance tax)
یہ میڈیکل انشورنس ہوتی ہے۔ہر کمپنی کیلئے اپنے پکے ملازم کیلئے یہ انشورنس رکھنا لازم ہوتا ہے۔جس کی دیکھ بھال حکومت کرتی ہے۔کمپنی رہے یا نہ رہے حکومت ریٹائرمنٹ کے بعد صارف کو اس کی ادائیگی کرتی ہے۔اس کی وصولی آمدنی کے حساب سے ہوتی ہے۔

(National pension plan payments)
یہ ایسے شہریوں کیلئے ہوتا ہے ،جو کہ خود کاروباری کرتے ہیں یا معاہدے کے تحت کام کاج کرتے ہیں۔اس کی دیکھ بھال بھی حکومت کرتی ہے۔اور اس کی ادائیگی بھی  آمدنی کے حساب سے ہوتی ہے۔

2. رجسٹرڈ یا کارپوریشن کمپنیوں کیلئے ٹیکس

(corporation tax)
یہ ٹیکس کارپوریشن کمپنی وفاق کو ادا کرتی ہے۔

(corporate inhabitant tax)
جس صوبے شہر میں یہ کمپنی پائی جائے گی اس صوبے شہر کوبھی  ٹیکس ادا کیا جائے گا

(corporation enterprise tax)
کمپنی کے وجود پر ٹیکس
سیلز ٹیکس جو صوبے اور وفاق کو علیحدہ علیحدہ ادا کیا جاتا ہے

بےربط

 چوری ہو جاتی ہے یا کوئی کسی کو  ہراساں  کرتاہے دھمکی دیتا ہے۔ تھانے چلے جائیں۔ بے عزت ہو کر واپس آئیں گے ، تحفظ نہیں ملے گا۔ایف آئی آر تو تگڑے آدمی کی” تُن” کر لکھی جائے گی۔عام آدمی کو سپاہی ہی بے عزت کرکے واپس کر دے گا۔آپ کتنے ہی شریف ہیں اگر آپ کے آس پاس ایک گروہ نہیں ہے یا آپ کے خاندان برادری والے عددی طور پر کم یا کمزور ہیں تو سمجھ لیں آپ کو “مسکین و عاجز” ہو کر گذارہ کرنا پڑے گا۔
آپ کسی “عوامی “محفل میں بیٹھے ہیں ،ہر دو میں سے تیسرا بندہ اپنی بہادری کا قصہ سنائے گا کہ میں نے فلاں کی کُٹ لگائی اور ایسے ایسے اس کو سبق سکھایا۔ کسی کی زبان سے کُٹ کھانے اور سبق سیکھنے کا واقعہ آج تک سننے کو نہیں ملا۔جہاں زور سے کام نہ نکلے وہاں چاپلوسی اختیار کر لی جائے تو کُٹ کا خطرہ نہیں رہتا۔

آپ انتہائی شرافت کے قائل ہیں کوشش کرتے ہیں جہاں چار بندے جمع ہوں وہاں پر بد مزگی سے بچا جائے۔مسکرا کر ہر کسی سے بات کی جائے ۔یا پھر خاموشی اختیار کی جائے اگر کوئی بکواسی قسم کی دانشوری “بیان” رہا ہے تو بھی بحث میں پڑے بغیر کنی کترا جائیں۔تو اسے آپ کی شرافت نہیں کمزوری سمجھ کر آپ کو “للو” سمجھ لیا جائے گا۔
کوئی نہ کوئی چھچھورا طنز ضرور کرے گا۔آپ کے جواب نہ دینے سے اسے شہہ ملے گی اور یہ آوازے کسنے شروع ہو جائے گا۔اگر آپ سمجھدار ہیں تو آپ کو ایک بار ضرور اپنی سفید چادر اتارنی پڑے گی ورنہ ڈھیٹ ہو کر برداشت کرنا پڑے گا۔
ڈھیٹ نہیں بن سکتے تو ایسے لوگوں سے دوری اختیار کرلیں۔لیکن اس سے پہلے سفید چادر ضرور اتار دیں کہ خاموشی سے دوری اختیار کرنے کی صورت میں یہ چھچھورے پھر بھی تنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔میں نے چوبیس سال جاپان میں گذارنے کے بعد یہ سبق حاصل کیا ہے اور آپ کو مفت میں دے رہا ہوں ۔تاکہ آپ ۔وصول کرکے مشکور ہوں۔

یہ ہم پاکستانیوں کا عمومی رویہ ہے ،جو کے معاشرے میں عدم تحفظ کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے۔عموماً آپ نے سنا ہوگا کہ اس طرح کے رویئے والے صاحب کا کہنا ہوتا ہے۔ کہ اگر میں ایسا نہ کروں تو لوگ مجھے “کچا” چباجائیں! لیکن سوچنے کی بات ہے کہ آخر یہ “لوگ” کون ہوتے ہیں؟۔
جاپانی کافی تگڑے تگڑے جو دوست ہیں ،ان سے کبھی بھی محفل میں خود قصیدہ نما بہادری کے قصے سننے کو نہیں ملتے کہ یہ اس قصیدہ گو  حرکت کو انتہائی گھٹیا سمجھتے ہیں۔جتنا جاپانی تگڑا ہو گا اتنا ہی لڑائی جھگڑے “ٹہکے”(تہلکہ) سے بچے گا۔کوئی اس سے گالی گلوچ بلکہ گریبان بھی پکڑ لے گا تو “سُومیما سین” ہی کہے گا۔یعنی معاف کردیں۔ جو چھچھورے ہوتے ہیں وہ “تڑیاں شڑیاں” لگاتے رہتے ہیں۔ جو “اصلی ” ہوتے ہیں ان کا رویہ عاجزانہ ہی ہوتا ہے۔

میرا واسطہ جاپانیوں ، پاکستانیوں ،کے بعد روسیوں سے زیادہ پڑتا ہے۔روسی پاکستانیوں سے  بھی زیادہ بد اخلاق اور “اجڈ” ہو تے ہیں۔ اور جسمانی طور پر بھی ایک سے ایک ڈنگر نما تگڑا ہوتا ہے۔ ایک روسی نے پرانی گاڑی خریدی اور اسے کاٹ کر اس نے ٹیکس بچانے کیلئے بحری جہاز پر لوڈ کرنا تھا۔بغیر لفٹر کے گاڑی کو الٹا کیا اور کاٹا پیٹی کر کے دوبار سیدھا کر دیا۔ اسی ڈنگر نما تگڑے روسی کو کچھ دن پہلے روس میں “کٹ” لگا کر اس سے گاڑی چھین لی گئی۔اور یہ ہنس کر بتا رہا تھا کہ “خبیثوں” نے بڑی بری طرح “کُٹ” لگائی۔
روسیوں سے بھی خود قصیدہ نما بہادری کے قصے سننے کو نہیں ملتے۔یعنی جاپانی اور روسی پاجامے کے اندر ہی رہتے ہیں۔اسی طرح کورین اور چائینیز بھی پاجامہ پہننے ہوئے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ایک ہم پاکستانی ہیں ،کہ “گرمی کے جوش” سے دھوتی “پیچھے” سے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔خود ساختہ ایئر کنڈیشن۔۔۔۔ہیں جی

دیگر قوموں کا بھی “حال” اچھا ہی ہوگا۔لیکن ہم پاکستانیوں کا ” قصہ خوانی بازار” مچھلی منڈی ہی بنا رہتا ہے۔اس کی وجہ یہی سمجھ آتی ہے۔کہ ہم پاکستانی “کراچی کے ساحل ” سے لیکر کرتابہ خاک”وزیرستان” تک عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارا “آگے پیچھے” کوئی نہیں اور “اوپر” والا “نظر” نہیں آتا اس لئے “نظر ” آنے والے “گروہ” کو پوجنے پر مجبور ہیں۔(آپ اس “گروہ” کو  ،لسانی ،نسلی ، مسلکی ، علاقائی سمجھ سکتے ہیں)
ہماری ایک محافظ فورس پولیس کی رشوت ستانی حرامخوری ھڈ حرامی مشہور و معروف ہے۔ دیگر خفیہ اداروں کا حال سب کو معلوم ہے۔افواج کے جرنیلوں کا حال سب کو معلوم ہے۔(قصہ اشارۃ بیانو تے جان بچاؤ)
سیاستدانوں کودیکھ لیں۔ہر سیاست دان پر عوام خواص کچھ اس طرح کے الزامات لگا تے ہیں۔
زرداری صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسٹر ٹین پرسنٹ کرپشن کے بے تاج بادشاہ
الطاف حسین صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انگلینڈ کے مواصلاتی   کالے صاحب اور انگلینڈ  و بھارت کے ایجنٹ
عمران خان صاحب  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قادیانیوں کے ہمنوا یہودیوں کے ایجنٹ جن کے بچے یہودیوں کے پاس پل رہے ہیں۔سابقہ بیوی کے سکینڈل وغیرہ

نواز شریف صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعودیہ کے ایجنٹ  شیخوں کے ایجنٹ خود پسند سر پر جعلی بال اگانے والے  منی لانڈرنگ وغیرہ
مولانا فضل الرحمن صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اللہ(ایک ضخیم کتاب کی ضروت ہے)
اس کے علاوہ تمام سیاستدانوں کے متعلق عوام کی رائے معلوم کرکے دیکھئے۔
جماعت اسلامی کے منور حسن صاحب کے متعلق بھی “لوگ” کچھ نہ کچھ نکال ہی لائیں گے۔
ہر سیاستدان کا رونا بھی یہی ہے کہ اس کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں۔ملک و مذہب کے خلاف تو امریکہ یہود وہنود و نصاری تو دن رات سازشوں میں ہی مصروف رہتے ہیں ۔اور ہمارے “عوام و خواص” دن رات ان سازشوں کے شکار ہی رہتے ہیں۔سازشوں کا شکار رہنے سے عادات اتنی پختہ ہو گئی ہیں۔ کہ رام رام جپنے کے بجائے سازش سازش جپتے ہیں اور ہر “سانس ” لینے والے کو کچھ نہ کچھ رگڑا دینا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔۔سبق بھی تو سکھانا ہوتا ہے نا۔

جس ملک و عوام کے چیدہ چیدہ “خواص” اس طرح کی ہوں تو کیا اس ملک کی عوام عدم تحفظ کا شکار ہو کر  کرداری و اخلاقی تنزلی کا شکار نہیں ہوں گے؟
جس ملک کے حکمران پرائی جنگ کو “ہماری جنگ” کہہ رہے ہوں اور مارے جانے والے اسی ملک کے “عوام” ہوں تو کیا اس ملک کے عوام عدم تحفظ کا شکار نہیں ہوں گے؟
عموماً جاپانیوں کے اعلی اخلاقیات کے قصیدے پڑھتا رہتا ہوں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ہر طرح کی اخلاقی معاشرتی سماجی تباہ حالی کے باوجود بھی پاکستانی پھر بھی بہتر ہیں ۔ پاکستانیوں کے ساتھ صرف ایک مسئلہ ہے کہ ان کے پاس فخر کرنے یا سینہ تان کر چلنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ پاکستانی کا “پانڈا” خالی خولی ہے۔اور خالی خولی ہونے کی وجہ سے یہ “پانڈا” بجتا ہی رہتا ہے۔
دیہاڑی دار مزدور ایک نوالہ منہ میں رکھتا ہے تو آدھا اس کو چبانے سے پہلے ہی حکومت چھین لیتی ہے۔اور اسے کہا جاتا ہے کہ مزدور ٹیکس نہیں دیتا۔اور مزدور کی حالت یہ ہے ،کہ اسے معلوم ہی نہیں کہ اس کی غربت اس سے ٹیکس  وصول کرنے کی وجہ سے ہی ہے۔ جی ایس ٹی  20فیصد سے بھی زیادہ ادا کرکے اور لوٹ مار کا شکار ہونے کے بعد ملاوٹ زدہ نوالہ اور وہ بھی آدھا نصیب ہونے والے سے کس اعلی کرداری کی امید کی جاسکتی ہے؟

مذہبی تحریکوں سے عوام و خواص کے کردار کی تعمیر نو کی امید رکھنا کافی “مشکل” ہے کہ یہ تمام اللہ کے مقرب بندے ہیں جو ان میں سے نہیں وہ بد کردار جہنمی ہے۔مذہبی اصلاحی تنظیموں کا حال کچھ اسطرح ہے کہ انتہائی لمبا دریا شروع میں تو جس جس جگہ سے گذرتا ہے ہریالی ہی ہریالی کرتا جاتا ہے اور آخر میں سکڑ کر کیچیڑ کیچیڑ ہو جاتا ہے۔

مسلمان کو بھوکا رکھ کر مارا جائے تو رازق کی یہی مرضی کہہ کر صبر کر لیتا ہے ،اگر اسی مسلمان کی عزت نفس مجروح ہو اور اسے ذلیل کیا جائے تواس کا  اپنے پرائے کا احساس مردہ ہو جاتا ہے، پھر دل و دماغ میں زندگی کو نعمت خداوندی سمجھ  کراللہ کا شکر گذار ہونے کے بجائے زندگی تو گندی  ہے کھیل تماشہ ہے زندگی سے تو محبت ایمان کے کمزور لوگ کرتے ہیں وغیرہ سوچ کراپنے آپ  کو اللہ کا مقرب بندے سمجھ لیتا ہے اور پھر دوسروں کو بھی یہی سمجھاتا ہے کہ میں اللہ کا خاص اور مقرب بندہ ہوں۔میری مانو نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی اور اپنی “قوم”  کی  اخلاقی تباہ حالی بد کرداری اب بری محسوس نہیں ہوتی کہ عدم تحفظ کے احساس نے “کچھ اور سوچنے” کے قابل ہی نہیں  چھوڑا! ہم عوام صرف قابل ترس ہیں کہ ہم پر کوئی ترس کھائے اور ہم کسی پر ترس نہ کھائیں!

نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے

ہم جاپان کے جس صوبہ میں کاروبار کرتے ہیں ،اور یہاں سے روس اور وسطی ایشیا کو  پرانی گاڑیاں برآمد کرتے ہیں۔یہاں کافی تعداد میں پاکستانی بستے ہیں ۔ دیگر کئی وجوہات جیسے کھانے پینے میں فرق ، معاشرت کا فرق ، مزاج کا فرق ، مرد و  زن کا کسی بھی  محفل میں  بلاتفریق شرکت کرنا، اور سب  سےبڑا فرق ہم پاکستانیوں کا عادات کا اصلی پاکستانی ہونا۔اور اس سے بڑی وجہ جاپانیوں کا سخت  متعصب ہونا بھی ہے۔لیکن یہ تعصب  عادات دیکھنے کے بعد شدت اختیار کر جاتا ہے۔
اس طرح کی وجوہات سے پاکستانی کمیونٹی  جاپانی معاشرے مل جل نہیں سکتی ۔

کسی محفل میں جوان و نوجوان خواتین بھی ہوں اور ہوں بھی ہر طرح کی قید و بند سے آزاد تو ظاہر سی بات ہے۔ پاکستانی مرد کیوں کہ اس طرح کے معاملات کے عادی نہیں ہیں، اس لئے  گھٹیا انداز میں” بونگیاں “ ماریں گے اور آخر کار ہر دوسرا غیر مسلم ان سے کراہت کا اظہار ہی کرے گا۔اور میں نے  اس کراہت کو جاپان کے علاوہ بھی دیگر غیر اسلامی ممالک میں مشترکہ طور پر ہی دیکھا ہے۔اور یہ کراہت صرف عادات کی وجہ سے دیکھی ہے۔پھر بھی  ان غیر مسلموں کی فراخدلی ہے، کہ بندہ  جانچ کر  اپنا رویہ ٹھیک کر لیتے ہیں۔لیکن رہتے پھر بھی محتاط ہی ہیں۔جن سے دوستی کو ایک لمبا عرصہ ہو جاتا ہے ،وہ کسی قسم تکلف نہیں رکھتے ،ایسی ہی دوستی ہو جاتی ہے، جیسی ہم پاکستانیو میں عموما بااعتماد قسم کی دوستی ہو جاتی ہے۔

یہ علیحدہ بات ہے ،کہ کفار سے دوستی نہیں رکھنی چاھئے۔ لیکن دنیاوی “نقصان” سے بچنے کا سوچا جائے تو کفار سے دوستی “مفید” ہی ہوتی ہے۔اخلاق  سے گرے ہوئے ، معاملات کے گندے اور مذہب کو  اپنے مفاد کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے والوں سے “سلام” دینے لینے سے بھی پرہیز کرنا چاھئے کہ کچھ نا کچھ بد معاملگی ضرور ہو گی۔(آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں)۔

ہم پاکستانیو  کےیہاں پر بہت سارے شو رو م تھے۔ اب کاروبار ی حالات کی خرابی سے کافی کم ہو گئے ہیں۔خرید و فروخت کی گاڑیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ زیادہ مصروفیت کے وقت یہ آمد رفت زیادہ ہوتی تھی ۔ جگہ کی کمی کی وجوہات سے گاڑیوں کو ٹرالر وغیرہ پر اتارنے چڑھانے کا کام غیر مناسب جگہ اور غیر مناسب  طریقے سے ہوتا تھا۔جو کہ مقامی جاپانیوں کے آنے جانے کے راستوں پر رش کا باعث  اور تکلیف دہ ہوتا تھا۔

دس بارہ سال پہلے کی بات ہے ۔کہ مقامی جاپانیوں نے منظم طریقے سے مہم چلائی اور جلوس نکالنے شروع کر دیئے تھے ،کہ  غیر ملکیو ، پاکستانیو یہاں سے نکل جاؤ!! ان پاکستانی مخالف مہموں کی ایک  وجہ یہ بھی تھی کہ روپے پیسے کی ریل پیل تھی پاکستانیو کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ بہت مالدار لوگ ہیں۔جو کہ اس علاقے میں ابھی بھی خیال کیا جاتا ہے۔ کچھ جاپانی کاروباری رقیبوں کا اثر و رسوخ بھی ان مہموں شامل تھا ۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جاپانیوں میں تعصب بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔خاص کر ان لوگوں کے متعلق جو ان سے دنیاوی ترقی میں بہت پیچھے ہیں۔چائینیز ، کورین کے متعلق تو ان کا یہ تعصب حقارت کی شکل میں ہوتا ہے۔(تمام جاپانی ایسے نہیں ہیں۔اچھے برے انسان تو ہر معاشرے میں ہوتے ہیں، لیکن جاپانیو ں کی اکثریت متعصب ہی ہے)

ہم پاکستانی جو  کافی عرصے سے جاپان میں “معاشی مجبوریوں” کی وجہ سے مقیم ہیں۔ ہمیں کئی بار اس تعصب ،حقارت کا تجربہ ہو چکا ہے۔لیکن ہم اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نظر انداز نہ بھی کریں تو ہمارے بس میں دل میں برا محسوس کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ اپنے آپ سے یہی کہہ کر خوش ہو لیتے ہیں ،کہ یہ ہمارا “وطن ” نہیں ہے۔

یہ بھی تلخ حقیقت ہے ،کہ ہم  اپنے “وطن” سے زیادہ محفوظ پر امن اور پر سکون زندگی گذار رہے ہیں۔ ان کفار کی مہیا کر دہ سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یہاں سے کما کر اپنے “وطن” کے عزیز اقارب کو  معاشی تعاون دے رہے ہیں۔اس لئے خاموشی  سے اپنی زندگی گذار رہے ہیں ۔کہ اپنے “وطن” میں تعصب و حقارت کے بجائے  “ذلت”  ہماری منتظر ہے۔آپ شاید نہ مانیں لیکن “باہر پلٹ” والوں کے ساتھ  ایسا ہی ہوتا ہے۔(آپ کا  نہ ماننا بھی سمجھ آتا ہے   :D )

برطانیہ میں ایک فوجی کو خنجروں سے قتل کر دیا گیا۔اس کے بعد  اسلام اور مسلمان مخالف مظاہرے ہونا شروع ہو گئے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات میں مساجد پر  حملے ، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے ،مسلمان خواتین کے حجابوں کو کھینچنا ، مسلمانوں کو گالیاں دینا ، مسلمانوں کو غلیظ ناموں سے پکارنا وغیرہ ۔

میرے جیسے مسلمان جو معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ان ممالک میں بستے ہیں۔ ایسے واقعات کو بے بسی سے دیکھتے ہیں یا پھر بے حسی سے دیکھتے ہیں۔ شاید آپ کی نظر میں ہمارا ایمان ناقص ہو۔
یہ بات نہیں کہ مجھ کو رب  پریقین نہیں
بس ڈر گیا خود کو صاحب ایماں کہتے کہتے
کیونکہ آپ “وطن” میں بستے ہیں ۔ ایسے معاملات میں ہماری بے بسی اور مجبوری کو سمجھنا مشکل بلکہ کافی حد ناممکن بھی  ہو گا۔اگر آپ “صاحبِ ایماں”  ہیں تو پھر آپ کے “ دل و نگاہ ” میں ہمارے لئے حقارت و نفرت بھی  ضروری پائی جاتی ہو گی۔

ہماری بے بسی اور بے حسی کی وجوہات کچھ اس طرح کے  جوابات ہوتے ہیں جو ہمارے ذہنوں میں گھومنا شروع ہو جاتے ہیں۔

(1)مسلمانوں کے خلاف نفرت کے واقعات میں مساجد پر  حملے۔۔۔
مسلکی جنگ مسجد  پر قبضہ کرنا اور قبضہ چھڑوانا!!  باری تعالی کی بارگاہ میں رکوع و سجود میں جھکے انسانوں کے پر خچے اڑانا!!
کفار نے بھی یہ کام کردیا تو کیا حرج !! آپ کو کیا معلوم کہ کس فرقے کی مسجد تھی؟!!

(2)مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے
مسلکی اختلاف!! سیاسی اختلاف!! نظریاتی اختلاف!!
کسی بحث  مباحثے میں اختلاف !!!!
مسلمان ،مسلمان کی ماں بہن “وطن” میں ایک کر دیتا ہے۔
حضرت مسلمان کے چند تبصروں کے نمونے ہمارے بلاگ پر محفوظ ہیں۔!!
کافر نے یہ کام کردیا تو کیا حرج ہے؟

(3)مسلمان خواتین کے حجابوں کو کھینچنا ، مسلمانوں کو گالیاں دینا ، مسلمانوں کو غلیظ ناموں سے پکارنا!!
یہ تو کوئی بڑی بات ہی نہیں !! عمران خان ، نواز شریف ، اور دیگر نمایاں سیاستدانوں کے مخالفین  کے ارشادات گرامی دیکھ لیں۔ ان کی مائیں بہنیں تو کیا انکے حامی ایک دوسرے کی ماں بہن کو ایک سے ایک نئے لقب اور گالیوں سے نوازتے ہیں!!
مسلکی فرقے کے اختلاف پر  جن ناموں اور گالیوں سے ایک دوسرے کو پکارا جاتا ہے،اگر آپ کو نہیں معلوم تو ہم اقتباس اور لنک پیسٹنا شروع کر دیں؟ اور اگر مسلکی اختلاف والے کی ماں بہن “کلمہ گو” ہی کیوں نہ ہو اگر اس مخالف کے ہتھے لگ  جائے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کافر نے یہ کر دیا تو کیا حرج ہے؟ شام کے حالات کا آپ کو علم ہی ہو گا؟
کرہ عرض پر کوئی مسلمان اور اسلام کو گالی دینا والا نہیں ملے گا ، جس دن مسلمان کے دل میں مسلمان کی حرمت خانہ کعبہ سے بڑ جائے گی۔انتشار شدہ معاشرے کا کوئی  “دین مذہب ” نہیں ہوتا  بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی میں میں میں میں ہی ہوتی ہے۔

وراثت

اتنی پرانی بات نہیں ہے!
تین سے پانچ صدیاں پہلے کے بر صغیر ہند کی تاریخ دوبارہ پڑھیں ،
تو  محلاتی سازشیں بادشاہ کی موت کے خواہش مند ،باد شاہ کے مرنے سے پہلے جوڑ توڑ کرنا شروع ہو جاتے تھے اپنا اپنا بادشاہ تخت چڑھانے کیلئے جُت جاتے تھے!
جو گروہ تگڑا ہوتا تھا۔ وہ بادشاہ کے مرنے کے بعد  اپنا بادشاہ تخت چڑھا دیتا تھا ۔۔۔بلے بلے ڈی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہپ ہپ  ہرے
بادشاہ نہ مرے تو مار دیا جاتا تھا۔۔بلے بلے ڈی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہپ ہپ ہرے

محلاتی شہزادیاں، معزز خواتیں بھی اس سیاست میں اپنا اپنا  حصہ ڈالتی تھیں۔
شراب و شباب کا”دور” ان محلات میں خوب چلتا تھا۔امراء تہذیب ، ادب و آداب سیکھنے طوائف کے کوٹھے پر جاتے تھے۔
محلات اور طبقہ امراء میں روشن خیالی اور  تہذیب یافتہ ، تعلیم یافتہ ، اعلی نسل ، اعلی خاندان ، اعلی طبقے سے ہونے کا  فخر و تکبر عام تھا۔

عوام میں مذہبی  جذبہ خوب تھا۔ مساجد میں بلند پایہ  علماء کرام درس و تدریس کا کام انجام دیتے تھے۔اور مسلمان بر صغیر  میں طاقتور تصور کئے جاتے تھے۔
کم ازکم  مسلمان اپنے آپ کو  “حکمران کُل ” ضرور سمجھتے تھے ۔
عوام کا بھوک سے واویلا کرنا بھی عام سی بات تھی۔ بادشاہوں “بزرگوں”  امراءکے لنگر ان کی فیاضی و سخاوت کو مشہور کرنے کیلئے جب چلتے تھے تو یہ بھوکے ان لنگروں پر  ٹوٹ پڑتے تھے۔اور نسل در نسل بھیکارانہ مزاج ” محفوظ” رکھتے تھے۔اس مزاج سے ان کی ذہنیت کی تعمیر ہوتی تھی ، اور عوام بھیک کو اپنا حق سمجھتے تھے۔ان کی یہ ذہنیت عوام کو ان کے حقوق کیا ہیں ؟  سے انہیں اس کا شعور پیدا ہونے کی سوچ سے کوسوں دور رکھتی تھی۔
مذہبی رہنما مدارس میں تعلیم و تربیت کا کام کرتے تھے ، جس سے مسلمان اپنے اپنے “مسلک” کا جان نثار  تیار ہو کر نکلتا تھا۔مسلکی فرقی مسائل پر علما ء کرام کی گونجدار آوازیں ہر  سو گونجتی تھیں۔
مسلمانوں کے یہ معاملات اس وقت بھی زور شور سے چل رہے تھے ، جب شہنشاہ دہلی ، شہزادے  اور محلات کی معزز خواتین ملکہ بر طانیہ کے  “وظائف”  سے نہایت طمطراق سے تخت دہلی اور شاہی محلات میں حکمرانی کر رہے تھے۔ اللہ تعالی  بر صغیر کے مسلمان بادشاہوں ، بزرگان اسلام ، علما ء کرام ،امراء کرام کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں شراب طہور ،محلات ، بادشاہت کیلئے بڑے بڑے خطے ، روتی بلبلاتی سسکتی عوام، حوریں ،کنزیں ، غلام عطا فرمائے۔

کہ ان تاریخ کی عظیم شخصیات کی نسلیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ان کی عادات و خصائل کو “مضبوطی ” سے “قائم” کئے ہوئے ہے۔آمین
اللہ تعالی ہم سب کو اگلی پانچ صدیاں بھی اپنے تمام  رذیل  و خبیث خصائل پر قائم  رہنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں کسی کا حق  ادا کرنے کی سوچ سے دور رکھے، اپنے حق کیلئے ہر  طرف توڑ پھوڑ ، مار کٹائی ،قتل و غارت کی قوت و استقامت عطا فرمائے ، فرقہ واریت کو قائم رکھنے کیلئے ہم  پر قابل عزت و قابل احترام “ملا” حضرات کا سایہ عطا فر مائے۔۔آمین۔

ہمیں اگلی دس بیس صدیاں بھی یہود و نصاری کی سازشوں سے “پردے در پردے” اٹھا نے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری نازک اندام گردنیں جب یہود و نصاری کا دل کرے کسی “ککڑ”  کو حسب بھوک دبوچنے کیطرح دبوچنے والا ہی رکھے ۔۔اور سلوک و اتفاق سے ہمیشہ کیلئے دور رکھے ۔آمین۔

برگرز کون؟

برگرز خوشحال ہیں، انہیں سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہے۔انہیں یہ فکر نہیں ہوتی کہ ان کے گھر آٹا ہے یا نہیں! سستی روٹی سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں! انہیں روٹی نہ ملے تو کیک کھا لیں گے۔ یلو کیپ ٹیکسی میں بیٹھنا ان کے بس میں نہیں۔یہ لیگزری گاڑیوں میں گھومتے ہیں جن میں سی این جی کٹ نہیں لگی ہوئی ہوتی ۔!
جنگلہ بس کی افادیت کا انہیں کوئی احساس و سمجھ نہیں(جنگلہ بس میری نظر میں ایک بہترین منصوبہ ہے اور یہ پورے پاکستان میں ہونا چاھئے )ان برگرز کو چار پانچ لاکھ کے بینک لون سے بھی کوئی دلچسپی نہیں کہ اتنا تو انکا جیب خرچ ہی ہوتا ہے۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی ان کیلئے کوئی خاص مسئلہ نہیں۔کہ یہ سولر لیمپ کی خیرات وصول کریں۔ ان کے گھروں  میں سولر پینل بھی لگے ہوئے ہیں اور پیٹرول و ڈیزل کے جنریٹر بھی! روٹی ، کپڑا ، مکان کا نعرہ ان کے لئے ان کے ماں باپ نے مال کمانے کیلئے ایجاد کیا تھا۔ اس لئے روٹی کپڑا مکان کے نعرے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں!!۔ ا
ن کے ماں باپ سے ایک غلطی ہوگئی کہ انہیں اعلی تعلیم دلا دی۔ ملکی و غیر ملکی  اعلی تعلیمی اداروں میں انہیں رسائی حاصل ہوئی تو دیکھنے کو دنیا ملی !۔ تعلیم چاھے مراثی کے سازو راگ کی ہی کیوں نہ ہو۔ سارے گاما پا دا نی  سا اپنے  سُر ضرور دکھاتی ہے۔

طوائف  رقص کی تعلیم و تربیت کے بعد گھنگھرو بندھے پاؤں سے تھرکتی ہے تو ایک ہجوم کو سحرزدہ کر دیتی ہے۔ ان برگرز کی مغربی تعلیم نے جہاں انہیں مغربی ترقی سے مرعوب کیا تو وہاں انہیں اسی مغرب میں انسانی سماجی فلاحی معاشرتی نظام نے بھی مرعوب کیا۔ یہ برگرز “ویلنٹائن” ،”کرسمس ڈے”، کرسمس ایو” منانا برا نہیں سمجھتے تو نام مسلمانی ہونے کی وجہ کچھ نہ کچھ اسلامی تہواروں کا احترام بھی کرتے ہیں!
۔ شادی بیاہ کے وقت مولوی صاحب سے نکاح پڑھانے کا تکلف بھی کرلیتے ہیں تو کسی عزیز کی موت پر مولوی صاحب سے جنازہ بھی پڑھواتے ہیں تو ختم شریف بھی کروا دیتے ہیں۔ خوف کے وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں تو خوشی کا اظہار “تھینکس گاڈ”کہہ کرکر دیتے ہیں۔ لیکن آخر ایسی کونسی وجہ ہے،کہ یہ “برگرز”یا برگربننے کے خواہشمند نوجوان و جوان تحریک انصاف کی کامیابی کو تبدیلی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں؟

ایک بڑی اور واحد اکلوتی وجہ عمران خان ہے، چٹا گورا مردانہ حسن  کاشاہکار اعلی تعلیم یافتہ کرکٹ کی دنیا کا لیجنڈ قومی ہیرو!۔ خواتین تو کیا مرد بھی اس سے رشک نما محبت کرتے ہیں۔منڈاتے سونڑا ہی نا!۔ عمران خان کی شاندار وجاہت کے سامنے تو چٹی چمڑی والے جن کو ہم پاکستانی رنگ “چٹا” کرنے والی کریم لگا کر  پوجتے ہیں۔ وہ بھی انتہائی مرعوب کھڑے ہوتے ہیں۔
سونے پر سوہاگہ ایک عدد گوری میم صاحبہ اور دو عدد گورے گورے بچوں کے ابا بھی ہیں۔   یہ بات بھی ہم مانتے ہیں ، بندہ ایماندار ہے ،لالچی نہیں ہے۔صرف شہرت کا بھوکا ہوتا تو “بالی وڈ” میں دیگر “خوانین” کی طرح “ٹھمکے لگا رہا ہوتا۔ دھن بھی برستا ہی رہتا نام بھی رہتا اور “موجاں”بھی چلتی رہتیں۔ امیتابھ بچن کو اپنا “چوکیدار ” رکھ لیتا۔۔۔ہیں جی…… بندہ انتہائی با صلاحیت  کھرا اعلی تعلیم یافتہ ہے۔

میں بھی پنجوں بل کھڑے ہوکر برگرز کے ساتھ ہیلو ہائے کے شوق میں عمران خان کو ہی وزیر اعظم دیکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن عمران خان کے ساتھ جب گدی نشین شاہ صاحبان قصوری صاحب وغیرہ شامل ہوئےتو جذبہ “ٹھنڈا” ہوگیا۔ اس کے علاوہ بھی کچھ ہمارے مذہب کا مذاق اڑانے والے بھی اردگرد منڈلانے لگے تو عمران خان سے محبت کی وجہ سے اتنے ہی اقتدار کی ملنے امید ہوئی جتنا عمران خان کو مل گیا۔
یہاں سے کامیاب ہوگیا تو آگے تاریخ میں نام ضرور چھوڑ جائے گا۔  یہ برگرز عمران سے محبت کرتے ہیں ،،عمران کی مغرب سے مرعوب ہوئے بغیر مغرب سے معاشرت کو پسند کرتے ہیں۔ یہ برگرز جب غیرممالک جاتے ہیں تو ان سے  ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے جیسا کہ ایک عام ترقی یافتہ ملک کے شہری سے کیا جاتا ہے۔ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کا ملک دہشت گردی کا شکار کیوں ہے؟۔

تو یہ تفصیل سے بتاتے ہیں کہ ان ترقی یافتہ انسان دوست ممالک کے مفادات کیلئے پاکستان استعمال ہو رہا ہے۔ اور ان ترقی یافتہ ممالک کے مفادات کیلئے ہی ان کا ملک دہشت گردی کا شکار ہورہاہے۔ یہ کہنا بھی نہیں بولتے کہ جاہل مولوی نے عوام کی سوچوں پر پہرے بیٹھا رکھے ہیں!!۔ لیکن ان برگرز کی بات کو لوگ حقارت سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی !۔ انہیں احساس ہوتا ہے۔کہ ان کے حکمران ان ترقی یافتہ ممالک کی چاپلوسی اپنے وقتی اقتدار کیلئے کر رہے ہیں۔
ان حکمرانوں کی سیاست گلیاں ،نالیاں پکی کرنے تک ہی ہے۔ اس سے آگے کی سوچ ہی نہیں رکھتے!۔ یہ اپنا اور اپنی قوم کا موازنہ ان ترقی یافتہ ممالک کی اقوام سے کرتے ہیں تو انہیں اپنا آپ اور اپنی قوم ہر حال میں بہتر محسوس ہوتی ہے۔ یہ انہیں ترقی یافتہ ممالک میں دیکھتے ہیں ،کہ نورا ،عمو ، شیدا گاما گھسیٹا نیم خواندہ ہونے کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرکے ان ترقی یافتہ ممالک کی عوام سے زیادہ خوشحال و کامیاب ہیں۔ شفاف نظام ہے جی

نورا ،عمو ، شیدا گاما گھسیٹا نیم خواندہ پاکستان میں ہوتے تو ان کے نوکر چاکر ہوتے،لیکن ترقی یافتہ ممالک جہاں پر انسانی حقوق ، انسانیت ،معاشرتی سماجی فلاحی ادارے چندے جمع کئے بغیر حکومت کے زیر اثر اپنے فرائض انجام دے ہوتے ہیں۔ ان ترقی یافتہ ممالک کے سیاست دان نالیاں ،گلیاں پکی کرنے کی  سیاست نہیں کرتے۔ اگر کوئی نالی ،گلی ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے۔ یا گندگی کا ڈھیر بیچ چوراہے پڑا ہوتا ہے تو یہ برگرز ان ممالک میں غیر ملکی ہونے کے باوجود سٹی کونسل یعنی بلدیہ والوں کو فون کرتے ہیں۔ اور بلدیہ ان سے ان کی قومیت پوچھنے کا تکلف کئے بغیر اپنے فرائض انجام دیتی ہے۔ اور برگرز دیکھتے ہیں کہ کسی سیاستدان کے در پر جائے بغیر یہ عام سا کا ہو گیا ہے۔
تو ان کی خواہش شدت اختیار کر جاتی ہے،کہ ان کے ملک میں بھی ایسا نظام آجائے!۔ یہ تبدیلی کے خواہش مند برگرز خوب جانتے ہیں ، ان کا ملک ہیومن ریسوس ،نیچرل ریسورس ، اور خطی اعتبار سے دنیا کا امیر ترین ملک ہے۔ صرف اس ملک میں شفاف ،نظام ہو۔تو یہ برگرز بھی اقوام عالم میں سینہ تان کر باعزت “موجاں”کر سکتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ برگرز “دین بیزار”تو نہیں ہیں ۔”ملا” بیزار ضرور ہیں۔ “ملا بیزاری”  کی وجہ جو برگر نہیں ہیں ان میں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔لیکن ملا کو پیٹ پوجا سے فرصت نہیں کہ وہ انہیں اپنے سے محبت کرنے پر مائل کر سکے۔ “ملا” نظام کو چلانے کے بجائے مسالک ، کی جنگ سے نفرت کے نظام کو چلا رہا ہے۔

ان برگرز نے “ملا” سے بیزار ہی ہونا ہے۔ اور بیزاری کے بعد مغرب میں بھی اپنی صلاحیتوں اور “حسن” کی وجہ سے اثر و رسوخ رکھنے والے سے ہی امیدیں باندھنی ہیں۔ یہ برگرز ہمارا وہ طبقہ ہے، جس کے خلوص و اخلاص پر کسی قسم کا شک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن انتہائی بے صبرا طبقہ ہے۔کچھ دینی حدود کا  خیال نہ رکھنے والا بھی ہے ۔ یہ ملک میں صرف تیس فیصد ہی ہو سکتا ہے۔ باقی ستر فیصد نورا ،عمو ، شیدا گاما گھسیٹا نیم خواندہ کم فہم طبقہ ہی ہے۔ جو دین سے محبت کرتا ہے۔ اور “ملا” کے زیر اثر ہی ہے۔ اس ستر فیصد کے دینی جذبات مجروح کئے بغیر اس کی معاشرت کی بہتری کیلئے ضرور کچھ کریں۔ ہم بھی اس برگر کلاس کے ساتھ ہیں، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہر دور میں اقتدار میں رہنے والے مفاد پر ست بہروپیئے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

نورا ،عمو ، شیدا گاما گھسیٹا کا تمسخر بھی اڑایا جاتا ہے۔  ان کے مذہب کا مذاق اڑانے والا ٹولہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے۔ تو ہم اپنے پیارے ہیرو عمران خان کے ساتھ اپنی تمام نیک خواہشات کے ساتھ ہونے کے باوجود!! سرد مہری سے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ان برگرز پر طنز کرنے سے پہلے انہیں شفاف نظام دے دیں۔دنیا کے تہذیب یافتہ ممالک جیسا معاشرتی نظام دے دیں۔ رہ گیا عمران خان کے آس پاس منڈلانے والا مفاد پرست ٹولہ تو یہ ٹولہ وقت کے ساتھ ساتھ غائب ہو جائے گا۔ یہ برگرز ہمارے معاشرے کے ساتھ مطابقت نہ رکھنے کے باوجود محب وطن ہیں ۔ اور اپنے ملک کو اقوام عالم میں اسی طرح باوقار دیکھنا چاہتے ہیں ۔ جس طرح ہر محب وطن پاکستانی دیکھنا چاہتا ہے۔رہ گئی ان میں سے کچھ کی مذہب بیزار تو  ان وجوہات کو سمجھ کر ان کی اصلاح کرنا علماء کرام کا فرض ہے۔

واریاں اور پہلا قدم

الیکشن تو  سلیکشن  تھا ایسا ہی ہونا تھا۔ سوہو گیا۔اندازہ تھا ،اس لئے کوئی حیرت کی بات نہیں ۔
بات ہارنے والی سیاسی تنظیموں کی کریں تو ہلکی پھلکی کمزور سی احتجاجی آواز بلوچستان سے سنائی دی۔
پختون خواہ میں ہارنے والے بھی خاموش بیٹھ گئے۔

ہمیں صبح بیداری کی عادت ہے۔ جب بھی پاکستان گیا اور سوچا ذرا بازار کا چکر لگا کر آوں یا کسی دوسست کو کہا کہ آٹھ نو بجے ملاقات کیلئے آتا ہوں توحیرت سے جواب ملا دماغ خراب ہے دس گیا رہ بجے تو ہم سو کر اٹھیں گے ،اتنی سویرے ملاقات نہیں ہو سکتی!!
ہمارے لئے آٹھ ،نو بجے تو دوپہر قریب کا وقت ہوتا ہے!
پاکستان میں شاید مزدور طبقہ ہی صبح سویرے بیدار ہوتا ہے۔تاجر حضرات ان کا عملہ سرکاری وائٹ کالر ملازم بھی اطمینان سے ہی دوپہر کے قریب کام پر جاتے ہیں۔کاروباری سرگرمیاں شام ڈھلے ہی دیکھنے کو ملیں۔پاکستان کی ترقی نہ کرنے کی وجہ ہماری نظر میں ہمیشہ سستی آلسی تن آسانی حیلے بہانے لمبی تان کر سونا ہی رہا ہے۔
آداب سحر گاہی سے نا آشنا  کفار تو آدھا پونا گھنٹا پہلے ہی اپنے کام کی جگہ پہونچ جاتے ہیں۔اور کام کاج ذمہ داری سے نباتے ہیں، حیلہ بہانے کرکے سارا  الزام خدا پر نہیں ڈالتے۔ نہ ہی شان بے نیازی سے اللہ توکل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۔اللہ مالک ہے جی ۔کہہ کر ہاتھ جھاڑ دیتے ہیں۔ جیسے ان کے فرائض بھی اللہ ہی ادا کرے گا(لاحول )
آپ الیکشن والے دن دیکھئے صبح سویرے اپنے فرائض اور مفادات سے مخلص پاکستانی کس طرح صبح سویرے بیدار ہوئے اور پریس کانفرنس کی  !،پہلا قدم اٹھاتے ہوئے ۔سب کے ہاتھ پاؤں باندھے اور ایک طرف پھینک کراپنا کام انتہا ئی فر ض شناسی سے انجام دیا!!

ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس دیکھئے سوشل میڈیا پر دستیاب ہے۔فوج ،رینجرز، پولیس پر  الزام لگا دیا گیا کہ ہمارے ووٹرز کو روکا جا رہا ہے۔ بکسے دیر  سےپہونچ رہے ہیں۔وغیرہ وغیرہ!!پیش بندی کے بعد عوام نے سیکورٹی فورس کو غیرت دلانے کیلئے خواتین کی چوڑیاں پیش کیں! لیکن سیکورٹی فورس بلیک میل ہو چکیں تھیں۔ چوڑیاں وصولیں اور خاموش تماشائی بن گئے۔اور شیطانی ذہانت نے کھل کر کھیل کھیلا!
شام ڈھلے جماعت اسلامی نے ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری اور ہر طرف سے طعنوں کا شکار ہو گئی۔ہمیشہ کی طرح اپنا ہی نقصان کیا ۔۔غلاظت میں گندے ہی ہو جاتے تو شاید کچھ سیٹیں  خیرات میں مل ہی جاتیں!!

اور پھر دیکھئے اسے کہتے ہیں ذہانت !!! قائد ملت عظیم لیڈر قوم کے مائی باپ  نےٹیلیفونک خطاب میں چنگھاڑنا شروع ہوگئے کہ ہمارے مینڈیٹ کو نہیں مانتے تو کراچی کو علیحدہ کردیں!! کراچی ان کی اماں جی جہیز میں لائیں تھیں!!
سب سے پہلے دھاندلی کا واویلا مچانے والی بھی ایم کیو ایم اور آخر میں فتح کا جشن بھی یہی جماعت منا رہی ہے۔دھاندلی ہی ہوئی تھی اور ایم کیو ایم کے ووٹرز کو روکا جا رہا تھا تو جیتے کیسے؟!!!!!!!!!!!!
سوات کی ریاست نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔جو کچھ سوات والوں کے ساتھ ہوا سب کو معلوم ہے لیکن سوات سے آواز نہیں آئی کہ ہمیں سینڈویچ بنا کر مار  ہی رہے ہو تو ہمیں علیحدہ ہی کر دو!!

دیکھا جائے تو سارے پاکستان میں الیکشن میں دھاندلی ہوئی  ہے،کسی جگہ کم کسی جگہ زیادہ ! اگر ایماندار معاشرے میں ایسا ایک دو جگہ ہو جائے تو سارے الیکشن ہی مشکوک قرار دے دیئے جائیں گے۔ لیکن کیونکہ ہمارا باوا آدم نرالہ ہے۔ اس لئے تاویلوں سے کام چل رہا ہے ،کہ کوئی بات نہیں چند جگہوں پر دھاندلی ہوئی ہے۔سب ٹھیک ہے ،اتنا تو چلتا ہے۔ اور اب جو دھاندلی پر شور مچائیں گے ان کی زبان کچھ دے دلا کر خاموش کر دی جائے گی یا پھر غنڈہ گردی سے بند کر دی جائے گی!

میڈیا خاموش ہے، دانشور  فنکارانہ لفاظی سے گند چھپا نے میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کچھ وہی جانتے ہیں جنہیں سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہے۔ لیکن کتنے فیصد پاکستانی عوام کو سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہے؟جنہیں حاصل ہے۔ ان کی کون سنے گا؟

سوشل میڈیا پر کراچی کے علاوہ  دیگر علاقوں کے وڈیوز بھی میسر ہیں ۔اور الیکشن کمیشن کے فخرو جی کا ارشاد ہے ہم نے شفاف الیکشن کروا دیا!!ٗ
عرض ہے ،کہ طاہر القادری پر ہم بہت طنز کرتے ہیں لیکن بات تو طاہر القادری کی ہی سچی نکلی!! سچ تو سچ ہی ہے۔ چاھے  ہمارے نا پسندیدہ شخص کی زبان سے ہی کیوں نہ نکلے!! اس قوم نما ہجوم سے واریاں ہو رہی ہیں۔یہ صدقے واریاں تو خیر نہیں!!
اب اگر چوکیدار گھر پر سینہ تان کر قابض ہو گیا تو پھر پندرہ  سال بعد شعور کی آنکھیں کھو لنے والی نسل کو بھی یہی کچھ دکھاؤ گے؟ پلان میکر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔جب دل چاھے گا، ٹنٹوا دبا دے گا!!
مسلم لیگ کی جیت اعلی فنکاری کی مرہون منت ہے تو ایم کیو ایم کی گھٹیا فنکاری کی مرہون منت ہے !(آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں!)
اس سیاسی دنگل کے اختتام کو دیکھ میرے ذہن میں بار بار ایک ہی جملہ گردش کر رہا ہے کہ
ہم پاکستانی خدا کا نام لے لے کر اتنا ننگا جھوٹ بولتے ہیں کہ شاید ہی کوئی جاندار بولتا ہو سوائے شیطان کے!!

سیاست

سیاست  اور جمہوریت بی بی سے کبھی اتنی دلچسپی نہیں رہی۔کہ انتہائی غریب گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے اس طرح کا رومان پالنے سے پہلے ہی  روزی روٹی کی تلاش نے حقیقت پسند بنا دیا تھا، رزاق کی کرم نوازی سے کچھ خصوصی کرم ہوا ، تو  جینا کچھ آسان ہوا۔ ابھی بھی معاشی حالات شاہانہ نہیں ہیں، لیکن اللہ کا شکر گذار ہوں کہ جس نے چالیس سال تک ہاتھ پھیلانے سے بچایا وہ ہی باقی بچی “بونس” کی زندگی میں بھی رزق عطا فرمائے گا۔

حقیقت کچھ اس طرح ہے ،  کہ پاکستان کی  غربت بیروزگاری ابھی بھی سر اٹھانے نہیں دیتی اور زیر کفالت افراد کی وجہ سے کسی نا کسی معاشی پریشانی کا شکار ہی رہتا ہوں۔ تقریباً پاکستان کے ہر گھر کے مسائل کچھ ایسے ہی  ہوں گے۔ سب گھر والے ایک دوسرے سے مشورہ کریں اور جو میسر ہے، اسی میں گذارہ کریں فضولیات سے بچیں اور اپنے طور پر بھی اپنے معاشی معاملات کو بہتر کرنے کی سہی کریں تو فرد واحد کا بوجھ سر سے کندھوں تک اتر سکتا ہے۔

جس نے رضا کارانہ طور پر بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ اسے بھی کچھ سکھ کا سانس نصیب ہو سکتا ہے۔ اور مزاج چیڑچڑے پن سے کچھ خوشگوار ہو سکتا ہے۔عموماً بیرون ملک روزگار کیلئے آئے ہوئے حضرات ایک دوسرے سے دل کھول کر دکھ سکھ کا  اظہار کرتے ہیں ،جو اپنے دیس میں رہتے ہوئے نہیں کر سکتے ۔( لوگ کیا کہیں گے! بیستی کا ڈر؟)

اس طرح کے دکھ سکھ سنتے اور سناتے ہوئے  پچیس سال ہونے کو ہیں۔اس لئے مجھے  کسی بھی بندے کی دکھ بھری داستان سننے سے پہلے ہی سارے قصے کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ بہت کم ہوا کہ میرا اندازہ غلط ہوا ہو۔ اس میں بھی جو بندہ دکھ سنانے جا رہا ہوتا ہے۔ اس کا چیڑچڑا پن ہی اسے کچھ زیادہ “حساس” کئے ہوئے ہوتا ہے۔لیکن وجہ پھر بھی معاشی مسائل ہی ہوتے ہیں۔یا بعض کو “گھر والے” تنگ آکر پردیس مزدوری کیلئے بھیجتے ہیں ، ایسے حضرات پردیس میں  جاکر بھی اپنا کام غیر ذمہ داری سے ہی  کرتے ہیں۔

وجہ ایک ہی ہوتی ہے، کہ انہیں محنت کرکے کمانے کی عادت نہیں ہوتی۔ جسطرح ان کی زندگی دوسروں کی “سپورٹ” سے گذری ہوتی ہے  اس سے ان کی مزاج میں غیر ذمہ داری لاپرواہی  آجاتی ہے۔ کچھ کئے بغیر اللہ بڑا بادشاہ کہہ کر “رضا کار” پر بوجھ پھینک دیتے ہیں۔”دل ” سے مجبور رضا کار یہ غیر ضروری ذمہ داری نباتا ہے۔ اور مزاج کا چیڑچڑا ہو جاتا ہے۔

جس طرح مفلسی  برائیوں کو جنم دیتی ہے، اس طرح  میری طرح کے غریب طبقے کے لوگ بھی رزق میں تھوڑی سی فراوانی ہضم نہیں کر پاتے اور ان کے “گھرانے” والے  بھی مختلف مسائل کو تیار کر لیتے ہیں۔
چھوٹے بھائی ہیں،  چھوٹا  موٹاکام بھی تھا ،کچھ کرائے بھاڑے کی آمدنی کا بندوبست بھی  کر دیا تھا۔حسب ضرورت دیگر معاملات بھی اچھے طریقے سے چل رہے تھے۔ اس سیاست کا خانہ خراب ہوکہ اس میں گھس گئے ، اچھے خاصے سمجھدار بندے ہیں۔ جس  علاقے میں بستے آئے ہیں، اس علاقے کے لوگ حقیقتاً انتہائی شریف طبع ہیں۔صدیوں سے ہم لوگ یہاں بس رہے ہیں۔ان لوگوں کے دلوں کے خلوص کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ اس لئے سیاست بازی میں پڑ کر “باعزت” ہونے کی انہیں ضرورت نہیں تھی۔

لیکن نشہ تو نشہ ہے۔اس  نشے نے اچھے خاصے گھریلو معاملات کا خانہ خراب کر دیئے۔ بھائی پر سختی کی تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ گئے، اور کہا کہ جو اللہ آپ کو دیتا ہے وہ ہی مجھے بھی دے گا۔میں آپ کی زیر کفالت نہیں رہنا چاہتا۔

جناب شاہ صاحب کو اوکھا سوکھا ہو کر سعودی عرب بھیجا کہ اس گندگی سے نکلیں ،پیسہ بے شک نہ کمائیں لیکن اس گندی سیاست خواری سے دور رہیں ،سال انہوں نے بھی دلجمعی سے گذارا  کچھ تسلی ہوئی کہ اب جان چھوٹ گئی ، اللہ میاں تیرا شکر ہے۔شکر اس لئے دل سے ادا ہوا، کہ سیاست مالداروں کا کام ہے اور میری کوئی  دلچسپی  اور تعلق نہ ہونے کے باوجود “چیکاں” نکل گئی تھیں۔

جیسے ہی الیکشن کا دنگل بجا شاہ صاحب نے شیخوں کی نوکری پر لعنت بھیجی اور پاکستان پہونچ گئے۔حضرات آپ کی دنیا وسیع  ہے میری ننھی سے دنیا ہے، آپ  سیاست  میں دخل انداز ہوتے ہیں، اور  یہ سیاست  میری زندگی  دخل انداز ہوئی ہے۔ اس لئے اس سے نفرت تو ہونی ہی ہے۔

سیاست  بھٹوؤں ، زرداریوں، شریفوں، عمرانوں، کا کھیل  تماشہ ہے۔ہمارے جیسے غریب غرباء روٹی روزی میں فروانی ، زندگی میں بہتری ، سہولیات کے  خواہش مند ہوتے ہیں۔میرے جیسے  غریب غربا ء کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ رائج نظام “اسلامی جمہوریت ” یا خلافت ہے، یا مغربی جمہوریت ہے۔ رہے نام اللہ کا۔

میرے جیسے لاکھوں مسلمان “مغربی جمہوریت ” کے ممالک میں پُر امن زندگی گذار رہے ہیں ،اور  اپنی محنت سے بغیر کسی جھوٹ فراڈ دھوکہ دہی رشوت ستانی ، سفارش سے اپنا  “رزق حلال” حاصل کر رہے ہیں، اور اسی حلال رزق  سے “آپ پاکستان میں بسنے والوں”  کو زر مبادلہ کے ذریعے “سپورٹ” کر رہے ہیں۔(آپ مانیں یا  نہ مانیں  خاندان کے علاوہ آپ پر بھی احسان کر رہے ہیں)

ہم مسلمان مغربی جمہوری معاشرے میں بستے ہیں تو مسلمان ہونے کی حثیت سے ہمیں اس میں  دین نظر نہیں آتا لیکن اتنا اس مغربی جمہوریت کودیکھ کر سمجھتے ہیں کہ اگر یہ پاکستان میں بھی رائج ہو جائے تو  اس کی “مسلمانی “  بھی  ہو سکتی ہے۔اس مغربی جمہوریت کے “عمومیہ “  ” خواص” کا چناؤ کر کے انہیں پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں ، اور یہ ” خواص”   عمومیہ ” کیلئے سہولیات میسر کرتے ہیں۔ حسب ضرورت قانون سازی کرتے ہیں۔

ان قوانین کا  قانونی ادارے “عمومیہ ” سے عمل کرواتے ہیں۔ اور اس قانون سے “عمومیہ اور خواص” کوئی بچ نہیں سکتا۔ ہر شخص  قانون کا احترام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔کہ  اس کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون “بے رحمی” سے سزادیتا ہے۔

آپ  کسی بھی ترقی یافتہ “مغربی جمہوری ” معاشرے میں امن و امان  دیکھ سکتے ہیں،ہر شخص اپنی صلاحیتیں استعمال کرکے اس معاشرے میں ملک اور اور معاشرے کیلئے اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔پارلیمنٹ قانون سازی ہی کے ذریعے عوام کی تعلیم و تربیت  فلاح و بہبود کے فرائض انجام دیتی ہے۔اور  عوام اپنے چنے ہوئے “نمائیندوں” کے دفاتر کے سامنے اپنا “کام ” کروانے کیلئے لائن لگائے بیٹھے نہیں ہوتے ۔ اور نہ ہی ان کے نمائیندے  ”کھلا دربار” لگا کر عوام کے مسائل سنتے ہیں۔ ان نمائیندوں کو مسائل کا علم ہوتا ہے اسی لئے وہ عوام سے ووٹ لیکر ان کے خواص بنتے ہیں۔
جمہوریت اور  خلافت پر لکھنے والوں نے  اچھا لکھا ہے۔ لیکن میں نے یہی محسوس کیا کہ  اصل مسئلے کیطرف کوئی دھیان نہیں دے رہا۔اصل مسئلہ ہمارا ہمارے “خواص” کا ہے، کہ  یہ خواص اگرمسلمان ہیں تو اسی مغربی جمہوریت کو ہم مسلمانوں کیلئے “مسلمان” کر سکتے ہیں۔
مان لیا کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے۔ لیکن اسی اسلامی آئین والے ملک پاکستان کی عدالتوں میں اینگلو سیکسن قوانین رائج نہیں ہیں؟ پی پی پی  کےحکومتی دورانئے کو ہم الزام نہیں دے سکتے کہ یہ ایک سیکولر جماعت ہے۔ اور اسے عوام کی اکثریت نے  اسےمنتخب کرکے حکمرانی دی ہے۔
آمرانہ ادوار میں اسلامی شریعت نافذ ہو گئی تھی؟

مسلم لیگ کے دور میں خلافت رائج ہو گئی تھی؟ ہوتی بھی تو خلیفہ بھی اس جماعت کا ہی ہوتا جسے آپ امیر المومنین کہتے۔باقی میرے خیال میں پاکستان میں آمریت  بھی اور جمہوریت بھی اپنے اپنے ادوار میں انتہائی پست اور بری حالت میں رائج رہی ہے۔ اور اس وقت کوئی بھی “نظام” اس ملک میں رائج نہیں ہے۔اس ملک کے باسی مسلمان ہیں تو حکمرانی “شیاطین”  کی محسوس ہوتی ہے۔

اور قوانین ان “شیاطین” کی لونڈی باندی ہے۔بڑی مثالیں ، ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ ، عافیہ صدیقی کی  امریکہ کو حوالگی  لال مسجد۔۔افراد کا غائب ہونا ، اور اس وقت بھی معصوم عوام کا ڈرون حملوں میں مارا جانا!  باقی روزانہ کے حساب سے قتل و غارت معصوم بچے بچیوں سے جنسی زیادتی یہ قانون کا “شیاطین” کی لونڈی باندی غلام ہونے کی وجہ سے ہی ہے۔

یہ سب کچھ ہمارے “خواص” کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔اگر یہی کچھ مغربی جمہوری ملک میں ہو تو “قانون” حرکت میں آجاتا ہے اور کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ امریکہ میں ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری امریکہ میں قانون کی حکمرانی کا ثبوت ہے۔(کافی تکلیف ہو رہی ہے نا؟)

جمہوریت کی وضاحت سید ابو اعلی مودودی صاحب نے  ملوکیت و خلافت کتاب میں کچھ اسطرح کی ہے۔

مغربی جمہوریت کا تصور عوام کی حاکمیت کے اصول پر قائم ہے۔
اور اسلامی جمہوریت میں عوام  اللہ کے احکامات کو راضی خوشی تسلیم کر کے
اپنے اختیارات اپنی حکمرانی کے معاملات  برضاو رغبت شریعی قوانین کی حدود میں محدود کر لیتے ہیں۔
اسلامی جمہوریت اگر شریعی قوانین پر قائم ہوتو ہم اسے اسلامی جمہوری خلافت یا خلافت اسلامیہ
کہہ سکتے ہیں “( جن صاحب کو بھی اس کتاب کی پی ڈی ایف فائل کی ضرورت ہو مجھ سے مانگ سکتے ہیں)

ہم دیکھتے ہیں ، جو سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، ان کے سپورٹر گالی گلوچ ایک دوسرے کے لیڈروں کی کردار کشی کر رہے ہیں، اور اس کردار کشی کے کام میں جھوٹ مبالغہ سب جائز کیا ہوا  ہے۔ ان کے سپورٹر “میرے بھائی ” جیسے غیر ذمہ درانہ مزاج والے ہیں،کیا یہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آکر ان کے “خواص ” عوام کیلئے شریعی حدود قائم کرکے قانون سازی کر یں گے؟مجھے تو انتہائی مشکل لگتا ہے کہ کوئی کرپشن کا ماضی رکھتا ہے تو کسی کو گانے  گا بجا کر تبدیلی لانی ہے۔

میں جماعت اسلامی کا ذکر ہی نہیں کروں گا اور نہ ہی آپ سے جماعت اسلامی کیلئے ووٹ مانگوں گا۔۔آپ کی تسلی کیلئے ایک عدد عرض کر دیتا ہوں۔۔بھاڑ میں  جائے جماعت اسلامی تے سانوں کی!!( مجھے کونسا جماعت اسلامی نے جیت کر جاپان کا سفیر لگانا ہے، ویسے منور حسن صاحب سوچ لیں ۔۔۔ہیں جی )
اس سیاست میں اصل کام “خواص” کا ہے۔ عوام نے اگر اپنے حالات بدلنے ہیں تو اپنے “خواص” کا چناؤ  نسلیت ، لسانیت ، مسالک ، علاقیت سے بالاتر ہو کر  کردار کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔ اور یہ خواص بھی اگر عوام جیسے “مسلمان” ہوئے تو  عوام کو ایک عدد شریعی  حکومت ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔
اگر یہ سیاست اپنے اپنے “بندے” کو جتانا ہی ہے ،تو جو کچھ عوام کو مل رہا ہے ، یہی کچھ ملتا رہے گا۔ “خواص” ایک دوسرے پر الزام تراشیاں گالی گلوچ بہتان بازی اپنے اپنے مقاصد کیلئے دھرنے دیتے رہیں گے اور عوام بھی انہی کی پیروی کرتے ہوئے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے رہیں گے۔
ہم تو یہی کہیں گے کہ کم برائی والی مغربی جمہوریت ہی “اصل” شکل میں رائج کر لیں ، اور بعد میں اپنے “خواص” کے ذریعے شریعی قوانین نافذ کر وا کر اس کی  ”مسلمانی” کر لیں۔نظام تو نظام ہے مسئلہ قانون کا ہے، اور  اس پر عمل کروانے والے اداروں کا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی مثال آپ کے سامنے ہے ،کہ” سیکولر “ہونے کے باوجود پر امن ہیں۔

پیارے خالق کی پیاری مخلوق

سات آٹھ سال پہلے کی بات ہے ، سنہری دور تھا ، کاروبار عروج پر تھا۔
کہ ہماری دکان پر ایک روسی گاہک جن کا نام آلیکس تھا  آئے ،خریداری کے بعد ایک تھیلی ہمارے دکان پر بھول گے۔
تھیلی کھول کر تصدیق کی تو تیس ہزار ڈالر تھیلی میں پڑے ہوئے تھے۔
لبھی چیز خدا دی نہ تہلے دی نہ پا دی۔

یعنی جو شے راہ چلتے مل جائے خدا کی ہوتی ہے، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔۔یعنی میری ہی ہوئی نا!۔۔۔تالیاں
ٹھنڈے علاقے کے روسی جب جاپان کی گرمیوں میں جاپان آتے ہیں تو
ان کی مت ماری جاتی ہے۔
دس پندرہ بیئر کے ڈبے بھی انہیں ٹھنڈا نہیں کر سکتے!۔
کچھ دیر بعد روسی گاہک جن کا نام آلیکس تھا۔ منہ لال سرخ کئے بوکھلائے ہوئے ۔
ہماری دکان پر واپس آئے اور چیخنے لگے کہ میرے پیسے واپس کرو۔

مرتے کیا نہ کرتے ۔دو ٹھنڈےجام روح افزاء( سچی مچی روح افزاء تھی ایویں خیالی پکوڑے نہ پکاؤ) کے پیش خدمت کئے۔
اور تھیلی واپس کرنی پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے۔
دو ہزار آٹھ کے معاشی بحران سے کچھ دن پہلے ایک رشین خاتونہ  نے گاڑی کا آڈر دیا اور ایڈوانس میں دو ہزار ڈالر بھی دے گئیں۔
لیکن چند دن بعد فون آیا کہ گاڑی نہیں چاھئے،آپ دو ہزار ڈالر واپس کردیں۔

ہم نے کہا اکاؤنٹ نمبر دے دیں، بینک چارجز کاٹ کر آپ کے پیسے آپ کو ارسال کر دیئے جائیں گے۔
یا جس بندے کا آپ کہیں گیئں اسے دے دیئے جائیں گے۔
خاتونہ نے کہا کہ کل بتاتی ہوں۔

جب کل نہیں آیا تو ہم نے اس وقت کے آج کو خاتونہ کو فون کیا ،کہ
بی بی اپنے پیسے واپس لے لیں بندے کی نیت خراب ہونے میں دیر نہیں لگتی۔
بعد میں روتی رہو گی۔
خاتونہ نے جواب دیا۔
کہ جس نے رونا ہے وہ روئے ۔۔۔۔تے سانوں کی۔
حیرت سے پوچھا مسئلہ کیا ہے۔ اتنی فراخ دلی؟

بولیں آلیکس میرے اپارٹمنٹ کی بلڈنگ میں ہی رہتا ہے۔
سر راہ اس نے سلامی ماری تو اس سے تذکرہ کر بیٹھی کہ یاشا(یاسر)سے پیسے واپس منگوانے ہیں۔
آلیکس صاحب نے فٹ پیسے نکالے اور اس خاتونہ کو دے دیئے، کہ جب جاپان جانا ہوا تو یاشا سے لے لوں گا۔
آلیکس صاحب نے مجھ سے تصدیقنے کا تکلف بھی نہیں کیا تھا!!۔

ہم نے بھی سوچا جب آلیکس صاحب آئیں گے تو انہیں دے دیں گے۔
دینے ہیں لینے تو ہیں نہیں۔۔۔۔ٹینشن کائے کی۔۔۔۔۔ہیں جی
کچھ عرصے تک جب آلیکس صاحب نہیں آئے تو
انہی خاتونہ کو فون کیا کہ بی بی آلیکس کا کوئی رابطہ نمبر دیں،انہیں پیسے دینے ہیں اور وہ آئے نہیں!۔

خاتونہ  نے جواب دیا کہ آلیکس تو اس بلڈنگ سے کہیں اور منتقل ہو گئے ہیں۔
اور رابطہ نمبر وغیرہ بھی نہیں ہے۔
چند اور دوستوں سے بھی اتہ پتہ کروایا لیکن آلیکس صاحب غائب ہی رہے۔
ہم نے بھی سوچا دینے ہیں لینے تو ہیں نہیں۔۔۔ٹینشن کائے کی۔۔۔۔ہیں جی
مال مال جپنا پرایا مال اپنا!۔

کرتے کرتے عرصہ پانچ سال تو گذر ہی گیا ہو گا۔ آلیکس صاحب غائب ہی رہے۔
کل شام اتفاقاً ایک روسی دوست ولاڈی میر صاحب سے ملاقات ہوئی اور ان سے معلوم ہوا کہ
آلیکس صاحب ادھر جاپان آئے ہوئے ہیں اور وہ بھی ہمارے علاقے میں۔۔

دو چار صلواتیں ولاڈی میر کو سنائیں تو ولاڈی میر نے تپ کر  کہا مجھے کیا معلوم کہ اس نے تمہیں اطلاع کیوں نہیں دی،
اور مجھے کیوں بیست کر رہا ہے۔
ولاڈی میر کے ذمے ہی  ڈیوٹی لگائی کہ آلیکس کو بھنک لگے بغیر اس کی رہائش کا پتہ کرکے مجھے راتوں رات دو۔
راتوں رات تو پتہ نہیں لگا صبح ولاڈی میر کا فون آیا کہ اس ہوٹل میں بیوی بچوں سمیت آلیکس رکا ہوا ہے۔

ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔
صبح صبح ہوٹل پہونچے اور آلیکس صاحب کو جا لیا۔
رشین سٹائل میں دھول دھپے کے ساتھ تپاک سے ملے۔اللہ میاں کی  گائے کو کیا ہونا تھا۔
اس تپاک نے ہمارے انجر پنجر ضرور ھلا دیئے۔

حال احوال کے بعد شکوہ کیا کہ آپ کو دو ہزار ڈالر دینے تھے اور آپ نے اتنے عرصے رابطہ ہی نہیں کیا۔
مسکرا کر گویا ہوئے۔
یار یاشا معاشی بحران کے بعد سب کا برا حال ہے۔سوچا آپ کا حال نا جانے کیا ہو۔
اس لئے رابطہ کرنے سے گریز کیا۔ دوستی ہر وقت رابطے میں رہنا ہی تو نہیں ہوتی۔
خدانخواستہ آپ کو شرمندہ کر دیتا تو مجھے دکھ ہوتا یار۔

چل اب جانے دے غصہ نا کر۔ میں نے تو اب گاڑیوں کا کاروبار بھی عرصہ ہوا چھوڑا ہوا ہے۔
اس بار ایسے ہی بچوں کے ساتھ گھومنے آگیا تھا۔کہ آپ کو پتہ لگ گیا  معاف کر دے یار۔
آلیکس صاحب سوموار کو واپس چلے جائیں گے۔
لیکن میں سوچ رہا ہوں۔
ان آلیکس خانہ خراب صاحب نے میرا  تو خوامخواہ  میں بتیس ہزار ڈالر  کانقصان کر دیا۔!!

نوٹ :-  ہمیں اپنے کاروبار میں گاہکوں کے اعتماد کی انتہائی ضرورت ہوتی ہے۔ ا میج خراب ہونے کی صورت میں کاروبار تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس لئے ہم اس طرح  کے لین دین کے معاملا ت اپنی تشہیر کیلئے انجام  دیتے ہیں۔ برائے مہربانی آپ اسے ہماری ایمانداری مت سمجھئے گا۔
ایمانداری سمجھنے کی صورت میں نقصان کے ذمہ دار آپ بذات خود ہوں گے۔ “بلاگر” کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں فرمائے گا۔

تہذیب یافتہ معاشرہ اور ہم

جاپانی بڑی دلچسپ زبان ہے،  دوسری زبانوں میں انتہائی فحش گالیاں ہوتی ہیں۔ لیکن یہ جاپانی  شاید دنیا  کی واحد  زبان ہے ۔جس کی گالیاں انتہائی قلیل ہیں۔
بیہودہ سے بیہودہ جاپانی کی  گالی گلوچ تین چار الفاظ کے درمیان ہی ہوتی ہے۔
اور تین چار الفاظ کا مطلب بھی اگر آپ کو بتایا جائے تو آپ ہنس کر کہیں گئے ، ایسی دو چار گالیاں کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا!

باکا      ـ        پاگل  ، بیوقوف ، احمق
کونو یارَو   ـ   یارو لفظ  کا مطلب “بندہ” یا “شخص” ہوتا ہے۔۔کونو کا مطلب  “یہ  “اور آنو کا مطلب “ وہ  “ہوتا ہے۔
اسی طرح آنو یاروبھی گالی بنتا ہے۔
باکا یارَو  ـ    اس کا مطلب پاگل، بیوقوف ، احمق ” شخص ” ہی بنتا ہے۔
چِکو شو     ـ   اس لفظ کا مطلب لغت میں دیکھنے سے یہی ملا ،کہ بدھ ازم میں جو موت کے بعد دوبارہ پیدائش کا تصور ہے۔
اس کے مطابق دوسرا جنم  کسی پرندے یا کیڑے مکوڑے  کی شکل میں جنم لینے کو کہا جاتا ہے، یعنی دوسرا جنم جس کا انسانوں میں نہ ہو۔
لفظ “یارَو” کو ماضی میں ہم جنس پرست مرد کیلئے استعمال کیا  جاتا تھا۔ لیکن عام جاپانی کو ان الفاظ کے معانی کا  علم نہیں ہے۔بس اس لفظ کو اپنے غصے کے اظہار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اسی  طرح ہم جنس پرست کیلئے لفظ “اوکاما”  بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام گالیاں سوائے “اوکاما” کے مذکر و مونث کیلئے مشترکہ ہیں
اسی طرح چند ایک دوسرے بے ضرر سے الفاظ ہیں  جو گالی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یا علاقائی بولیوں میں  کچھ تلفظ کی مختلف ادائیگی سے یہی الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
جاپان کی معروف رائج الوقت گالیاں یہی ہیں۔ انسان کی اخلاقی ذہنیت انتہائی غلیظ ہوتو جاپانی میں بھی گالیاں تخلیق کی جاسکتی ہیں۔لیکن وہ ایسی ہی ہوں گئیں ،کہ
عام  وخاص جاپانی انہیں سن کر ہنس دیں گے۔ بہت دلچسپ ہوئیں تو قہقہ لگا دیں گے۔

یہی الفاظ اگر غصے کے اظہار کے طور پر بار بار اونچی آواز میں   کسی پر چنگھاڑتے ہوئے  ادا کئے جائیں تو پولیس متحرک ہو جاتی ہے۔ ایک بار فیملی ریسٹورنٹ میں  شرابی کو اونچی آواز میں ریسٹورنٹ کی ویٹریس  پر چنگھاڑتے دیکھا ۔ ویٹریس بیچاری خوف سے  گھٹنوں میں سر دبائے کاونٹر سے چمٹی بیٹھی کپکپا رہی تھی۔ کسی نے پولیس کو فون کر دیا ،پولیس آئی اور شرابی کو اٹھا کر لے گئی۔سیدھا سادہ ہراس منٹ کا کیس بنتا ہے۔

اوئے لفظ جاپانی میں بھی پاکستانی تلفظ اور معانی میں ہی استعمال ہوتا ہے۔بس ذرا سا اس لفظ کو مذکر سے مونث کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ایسا نہ کرنے سے بھی کام چلتا رہتا ہے۔
ایک انتہائی دلچسپ بات مجھے کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک جاپانی استاد ہیں ان سے معلوم ہوئی ، اور شاید جاپان میں مقیم پاکستانیو کو بھی معلوم نہ ہو۔

کُرًا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لفظ کسی کو ڈرانے کیلئے استعمال کرنے پر بھی پولیس متحرک ہو سکتی ہے۔ کہ کسی کو ڈرانے دھمکانے کیلئے استعمال کیا گیا  ہے۔
جاپان کی مافیا جس کے لئے لفظ “یاکوزا”  معروف ہے۔یہ مافیا عموماً عام عوام جو کے  ان کے سامنے نہیں پھنستے ان کو تنگ نہیں کرتے۔ انکی آپس کی گینگ وار کاروباری مفادات کیلئے ہوتی رہتی ہے۔ انکی انتہائی کوشش ہوتی ہے ،کہ عام بندے کو گزند نہ پہونچے کہ قانونی ادارے متحرک ہو جاتے ہیں۔اور پھر پکڑ دھکڑ سے کچھ عرصے تک کاروبار مفلوج ہو جاتا ہے۔ کسی بڑے جرم ہو جانے سے مافیا گروہ کا جرم پتہ چلنے پر مافیا کو ملزم پولیس کو دینا ہی ہوتا ہے۔ چاھے وہ مجرم ہی ہو یا خود ساختہ مجرم ہی کیوں نہ ہو۔خود ساختہ اس لئے کہ پیش ہونے والا ملزم خود مانتا ہے۔ کہ یہ جرم اس نے کیا ہے ، اور ہنسی خوشی سزا بھی کاٹتا ہے۔

اگر کو ئی کسی کو   “میں یاکوزا” ہوں کہہ کر دھمکی دے تو یہ دھمکی  بھی قانون کی گرفت میں آتی ہے۔ کسی کو ڈرانا دھمکانا قانون کو متحرک کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔
ہم اس معاشرے میں رہتے بستے ہیں، امن و امان ہے،ہم تارکین وطن ہیں ، ہم عدم تحفظ کا شکار نہیں  ہیں۔ہمیں اپنی حفاظت کیلئے غنڈے بد معاش پالنے کی قطعی ضرورت نہیں !
۔
کسی سے لڑائی جھگڑا گالی گلوچ ہو جائے یا بات  ہاتھا پائی تک چلی جائے تو پولیس متحرک ہوتی ہے۔جس کی غلطی ہو اسے سزا ملتی ہے۔انتقام لینے کی شدید خواہش رکھنے والے بھی ہزار بار سو چتے ہیں۔پاکستانیوں کے لڑائی جھگڑے دھونس دھمکیاں بھی عدالت تک جا کر دم توڑ جاتی ہیں ،اور بات بعد میں الزام تراشی گالی گلوچ پر چلتی رہتی ہے۔

اب ہم اگر اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں ۔ایسا لگتا ہے، بندہ مارنا کتا مارنا ایک برابر ہے ۔ کوئی قانون نہیں ۔اگر ہے بھی تو “مافیا نما ” طاقتوروں کا غلام ہے ۔جسے جو طاقتور ہے وہ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر لیتا ہے۔
جاپان  میں ہمارے معاشرے کیطرح ساری گالیاں خواتین کیلئے ہی یا ان سے منسلک نہیں ہوتیں، غیرت مند معاشرہ ہے نا جناب!  آپ دیندار ہیں ، ظاہر ہے کسی سے لڑائی جھگڑے کی صورت میں  اس کی ماں بہن کو غلیظ ترین جانور ثابت نہیں کریں گے تو آپ کے انتقام کے جذبے کو تسکین نہیں ملے گی!! کیونکہ عالم دین ہونے کے دعوی دار ہیں،اس لئے  آپ کو ہر طرح کا حق حاصل ہے، آپ کے دشمن کی ماں بہن گھر پر تلاوت کر رہی ہو یا نماز پڑھ رہی ہو آپ نے ان کو بری بری گالیاں ضرور دینی ہیں۔

کیونکہ آپ مجاہد ہیں، قادیانیوں ،دہریوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں،اس لئے کسی مسلمان سے پنگے کی صورت میں آپ نے اپنی بدمعاشی ضرور دکھانی ہوتی ہے۔اس مسلمان پربھی دہرئیہ ،ملعون قادیانی  علماءکرام کی شان میں گستاخی کرنے والا۔ قحبہ خانے والا وغیرہ  وغیرہ کے الزام اور بہتان تراشنا ضروری حق سمجھتے ہیں۔ لعنتی ملعون مرزے کی کتب کا کثیر مطالعہ اس زبان کی غلاظت کی وجہ؟

جیسا کہ میری پچھلی پوسٹ پر ایک “انتہائی خطرناک” لاہو ر کے سب سے بڑی مافیا کے سردار  (شاید)نے مجھے دھمکی دی ہے۔جسے میں “ مذہبی کنجر بہروپیا ” کہتا ہوں۔کیونکہ اس شخص کا دعوی ہے ،کہ یہ کوئی عالم دین ہے۔بحرحال اگر اس جیسی دھمکیاں دینے والے ۔
ان دھمکیوں پر عمل کر سکتے ہیں ،تو اس کا مطلب یہی ہو سکتا ہے ،کہ ہمارا معاشرہ مردہ ہو چکا ہے۔  کوئی حکومت کوئی قانون نہیں ہے!!!!کسی جگہ پر آپ کی کسی اسطرح کے شخص سے بحث ہو جائے اور  تلخ کلامی ہوجائے  آپ کو اس جیسے شخص کی بات ماننی پڑے گی اور اس سے معافی طلب کر کے   جان چھڑانی پڑے گی۔اس شخص کی ذہنی حالت تو یہ ہے ،کہ عمران خان کی طلاق شدہ بیوی کی عریاں تصاویر بلاگ پر لگا کر مومن بنا پھرتا ہے۔اختلاف ہے تو دوسروں کی نجی زندگی میں گھسے بغیر بھی بات لکھی جا سکتی ہے۔

اس سے معافی نہ مانگنے  کی صورت میں یا اس کی بات نہ ماننے صورت میں  اس جیسا شخص  آپ کو ایسی “جدید و عجیب” گالیوں سے نوازے گا کہ آپ واقعی میں منہ چھپاتے پھریں گے اور تاحیات اگر اس کے ہاتھو ں بچ گئے تو غلطی سے بھی کسی کو گالی دینے کا نہیں سوچیں گئے!!! مولوی کٹینر  اور مولانا ڈیزل بھی بد معاشی  پر اتر آئیں ، تو لوگ ان پر تنقید یا انہیں ان جیسے ناموں سے پکارنا چھوڑ دیں گے!! ،ہزار اختلاف اور ان دونوں مولویوں کو اسطرح کے نام دینے سے ہمیں  ابھی تک کوئی دھمکی وصول نہیں ہوئی نا ہی ان کے کسی مرید نے دھمکی دی!! دو اردو بلاگر اپنی اپنی سیاسی جماعت کے “جیالے” ہیں ،عموماً لڑتے رہتے ہیں ، اور میں دونوں کو  کبھی کبھی چھیڑ تا ہوں۔ تپتے ہیں لیکن بیچاروں نے کبھی دھمکیاں نہیں دیں۔ایک ن لیگ کے ہیں تو دوسرے تحریک انصاف کے! جماعت اسلامی کے کارکن نے تو بلاگ بنا کر دیا ہوا ہے اور میں جماعت اسلامی والوں پر  بھی تنقید کرتا رہتا ہوں!! ویسے کوئی بتانا پسند کرے گا کہ وارث سیالکوٹی کون ہیں؟ اور ان کا  قصور ؟ کافی جگہ پر ان کے خلاف گالی گلوچ پڑھنے کو ملی ہے۔

اگر آپ اس جیسے شخص کی ذہنیت استعمال کریں اور اسے بھی اسی طرح گالیاں دینا شروع کردیں۔ جو کہ میں نے اس “مذہبی کنجر بہروپیئے ” کو دی ہیں(اس معاملے میں ،میں ہٹ دھرمی نہیں کروں گا ، کہ  مانتا ہوں کہ یہ کام واقعی  انتہائی گھٹیا ہے)۔ لیکن میری گالیاں  جاپانی طرز کی نہایت معصوم سی ہی  ہوتی ہیں(میری خوش فہمی؟)۔آپ کو اپنے آپ سے کچھ “گن” سی ضرور  محسوس ہو گی۔ کہ کس گندگی میں چھلانگیں مار رہا ہوں۔لیکن بات سچ یہی ہے کہ  اسطرح کی چھلانگیں مارنے پر بندے کی کچھ نہ دبنے والی فطرت ہی مجبور کرتی ہے۔ چاھئے  اسے “ اچھا ”   “برا  ” یا گند ا کچھ بھی کہا جائے۔ بعض لوگ میری طرح “دڑ وٹ زمانہ کٹ” کے فلسفے پر عمل نہیں کر سکتے۔جان بوجھ  کرپنگا  ایسی جگہ پر کرنے پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں جہاں سے “کٹ” لگنے کا پختہ امکان ہوتا ہے۔

کیونکہ حکومت اور قانون ہمارے معاشرے میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ آپ کو بے عزت ہو کر  سر جھکا کر جینا پڑے گا یا پھر ہنگامی بنیادوں پر غنڈے بدمعاش اپنے آس پاس پالنے پڑیں گے اور اس طرح کی مافیا سے پنگا کرنا پڑے گا۔ یہ کام بھی کسی شریف شخص کے بس کا نہیں ہے۔جس گندے بندے کے ہاتھ میں دو پیسے آگئے وہ یہی کچھ ہمارے معاشرے میں کر رہا ہے۔ طاقتور وں کی چاپلوسی اور جو کمزور دکھائی دے اسے دبا کر رکھنا۔سبق سکھانے کے کام کو مردانگی سمجھ رہا  ہے۔ اس کی طرح بد معاشی نہ کر سکنے والا ان کی نظر میں  ہیجڑہ ہوتا ہے(تے ماما تجھے ہیجڑوں کی بڑی پہچان ہے) اور معاشرہ انتشار کا شکار ہے۔

تیسری صورت انتہائی دلچسپ ہے۔ اور آپ اس پر تجربہ کر سکتے ہیں۔لیکن اس کیلئے انتہائی بیوقوف ، جاہل ، نڈر ،  اور کچھ تھوڑا سا کھسکا ہوا ہونا چاھئے۔ اپنا ذاتی کیمرا مین ساتھ لیکر اس طرح کے “غنڈے” کے ڈیرے پر پہونچ جائیں ، گھنٹی بجا کر اور  ہاتھ باندھ کر عرض کردیں۔ مہاراج آپ سے بڑا بڈھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔می کوئی نہیں ہے۔ مجھے آپ سے بہت ڈر لگتا ہے  باواگدھا  حضور نکالیں اور  اپنا انتقام پورا کریں۔(ویسے کھسکا ہوا تو میں بھی ہوں لیکن ابھی بیوقوفی کی حدود کراس نہیں کیں شاید میری غلط فہمی؟)

بندے کی جان بچ جائے تو کم ازکم یہ تو تسلی ہو جائے گی کہ واقعی ہمارا معاشرہ مردہ ہوچکا ہے۔ اور غنڈوں ، بد معاشوں ، پھنے خانوں، مذہبی بہروپیئوں کے ہاتھو ں یر غمال بن چکا ہے۔ایسے معاشرے میں انسانوں کا جینا مشکل ہے۔  ویسے آپ کا کیا خیال ہے، کہ یہ شخص اپنا انتقام پورا کرنے کیلئے اپنی  دھمکی پر عمل کرے اور پورے پاکستان میں کوئی روکنے والا نہیں ہوگا؟ کوئی حکومت کوئی  سیکورٹی فورس ؟  یا سارے  پاکستان میں  مقامی ریمنڈ ڈیوسوں کی حکمرانی ہے؟کہنے کو دل کرتا ہے ۔۔اوئے خادم اعلی خانہ خرابہ بین الاقوامی ریمنڈ دیوسوں کی تو سمجھ آتی ہے لیکن ان مقامیوں کو نتھ نا ڈالی تو جناب کی بادشاہت بھی خطرے میں ہے!!

چوتھی صورت ہی قابل عمل ہے۔اور جس کیلئے میرے جیسا ڈرپوک بندہ کوالیفائی کر تا ہے۔ ڈرپوک اس لئے جناب کے  سارے ہی بہادر ہیں، ایک آدھ کو ڈرپوک بھی ہونا چاھئے۔ظاہر ہے بہادروں کی بہادر ی غنڈوں کی بد معاشی کو نمایاں کرنے کیلئے شریف اور ڈرپوکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔تو اس چوتھی صورت کے مطابق یہ شخص جب تک اپنی روش نہیں بدلتا ۔ فرصت کے وقت موقع دیکھ کر جس جگہ یہ مباحثہ کررہا ہوگا۔ وہاں جاکر ایک عدد پھلجڑی چھوڑ آیا کریں گے۔اسے گالیاں تو ہر دوسرا بندہ سر عام دیتا ہے۔ہم ذرا اس کے “باوا ” بننے کے شوق کو ننھی سی گزند پہونچا دیا کریں گے ۔ خود ہی باؤلا ہو کر مرجائے گا۔میرا کتورا تو کبھی کبھی بھونکتا ہے(کافی سلجھا ہوا ہے نا)،  یہ بڈھا کتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توبہ توبہ

نوٹ : غلیظ گالیوں کی لغت میں اضافے کیلئے ،  نامعلوم پوسٹ کے تبصروں میں اس شخص کا تبصرہ ضرور پڑھئے گا۔

Pages