فکرستان

یورپ ، شخصی آزادی اور سوالیہ نشان ؟۔

منجانب فکرستان۔
 اب ٹوئٹر پر: https://twitter.com/sunday77
"یورپ اور شخصی آزادی" غوروفکر کیلئے" (چرند پرند تا ذرے سے لیکر موج تک میں قوانین فطرت جوڑوں کی شکل میں رقصاں ہیں) یوں کوئی شخص اپنی ہم جنس پرستی کی علت کو ایک ایب نارمل علت سمجھتے ہوئے اپنا علاج کرانا چاہے۔۔
 علاج کرانے کے اس حق پر قدغن لگانا، کیونکر جائز کہلائے گا ؟؟ 
یورپ والے شخصی آزادی کے بہت گن گاتے ہیں، تاہم رکن ملک مالٹا میں مذکورہ شخص کو علاج کرانے کی اجازت نہیں، معالج کیلئے بھی ایک سال کی جیل یا  10 ہزار یورو جرمانہ کی سزا مقرر ہے۔۔۔جرمنی کے وفاقی وزیر برائے صحت ژینز سپاہن بھی ہم جنس پرست ہیں، چاہتے ہیں  کہ جرمنی میں بھی مالٹائی  طرز کے قوانین کا نفاذ جلد دستوری صورت اختیار کرلے ۔۔۔
-----------------------------------پوسٹ کی تیاری میں DW نیوز سائیٹ سے مدد لی گئی ہے۔ 
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }  

۔ " پروپیگنڈے کی شکست " ۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے
------------------------
کہا جاتا ہے کہ موجودہ سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے خود سائنسی  معجزے دکھا رہا ہے۔ یوں سائنس نے غیرسائنسی  معجزات کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی ہے ،شاعر عرفان صدیقی نے اس کیفیت کو اس شعر میں ڈھالا ہے ۔روح کےمعجزوں کا زمانہ نہیں،جسم ہی کچھ کرامات کرتے ہیں۔اپنے ہونے کا اعلان کرتے رہیں اپنے ہونے کا اثبات کرتے رہیں  تاہم آج بھی ایسی غیرسائنسی حقیقتیں نظر آتی ہیں کہ جو انسانی ذہن کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں،جس کو بلاشبہ "معجزہ" کے روایتی  زمرے میں داخل  کیے  بغیر کسی طرح کی توضیح ممکن نہیں۔۔۔مثلاً اسلام مخالف فلم  پروڈیوسر "آئرن ڈون ڈوم" کا اسلام قبول کرنا ہے۔ 
اسی طرح جورم وان کلیویرین کا اسلام قبول کرنے کا واقعہ  بھی معمولی واقعہ نہیں ، کیوں کہ وان کلیویرین نے ہر سطح پر اسلام مخالف  اپنا وتیرہ بنایا ہوا تھا ، بیسیوں بار یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ ہالینڈ میں برقعے اور مساجد کے میناروں پر پابندی ہونا چاہیے۔حتیٰ کہ یہ تک کہہ دیا کہ ’’ہم (اپنے ملک میں) اسلام نہیں چاہتے"۔ ایسے شخص کا اسلام لانا "معجزہ" نہیں تو کیا ہے ؟ ۔۔الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا۔۔آج کی دنیا میں پروپیگنڈا کو سب سے بڑا ہتھیار مانا جاتا ہے، سانحہ نائن الیون کے بعد پوری دُنیا میں اسلام مخالف لوگوں نے اس سانحہ کو بنیاد بنا کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دنیا بھر میں خوب خوب پروپیگنڈائی عصبیت کا زہر بھرنے کی اپنی سی کوششیں کی گئیں لیکن اِن پروپیگنڈائی  کوششوں کا کُچھ اُلٹا اثر  ہو رہا ہے ۔ ظاہر ہےکہ جورم وان کلیویرین جیسا اسلام مُخالف شخص بھی اسلام قبول کر رہا ہے۔بی بی سی نیوز کے مطابق آئرش گلوکارہ سینیڈ اکونور نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے، جبکہ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سن دو ہزار پچاس تک دنیا میں مسلمانوں اکثریت ہوجائے گی ۔۔۔
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }  

عقیدے اور یقین کی یہ کیسی داستان ؟

منجانب فکرستان:غوروفکرکیلئے"داستان" پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن*دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے ۔غالب نے اپنا یہ خیال اٹھارہویں صدی میں ظاہر کیا تھا، تاہم گُزرتی اِس بیس ویں صدی  میں بھی یہ خیال کس طور استعمال ہو رہا ہے اِس بارے میں حقیقت پر مبنی اسٹوری گزشتہ ماہ نومبر کے متعدد اخبارات میں شائع ہوئی۔جنوبی کورین جیراک لی نامی باشندہ نے شہر "سیول" کے مضافات میں  واقع علاقے گورو میں صرف 12 پیروکاروں کے ساتھ چرچ قائم کیا تاہم اپنی چرب زبانی کے  طفیل قرب و جوار کے باشندوں  کے خیالات پر اثر انداز ہُوا، یوں 12 پیروکاروں کی جگہ 130،000 اراکین کا اضافہ ہوا ۔۔عقیدے اور یقین کی یہ داستان متعدد اخبارات میں شائع ہوئی اُن میں سے ایک درج ذیل ہے تاکہ آپ براہ راست پڑھ سکیں۔https://www.businesstimes.com.sg/government-economy/south-korean-cult-leader-jailed-for-raping-followers۔  نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }             

اک دھند سے آنا ہے/ اک میں جانا ہے ۔۔۔۔۔

منجانب فکرستان:
Mohammad Aziz,Mohammad Aziz dead,Mohammad Aziz dies خبر کے مطابق گلوکار محمدعزیز گزشتہ رات ایک شو کے سلسلے میں کولکتہ میں تھے بعدازاں دوپہر کی فلائٹ سے ممبئی پہنچے اور کیب کے ذریعے اپنی رہائش گاہ جارہے تھے کہ اچانک  اُنہیں سینے میں تکلیف محسوس ہوئی، ناناوتی ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی موت کی تصدیق کردی۔( غور و فکرکیلئے)۔۔سنسار کی ہر شہ کا اتنا ہی فسانہ ہے
اک دھند سے آنا ہے اک  میں جانا ہے * یہ راہ کہاں سے ہے ، یہ راہ کہاں تک ہے یہ راز کوئی راہی سمجھا ہے نا جانا ہےاک دھند سے آنا ہے اک  میں جانا ہے
----------------------------------------- محمد عزیز 2جولائی 1954ء کو اسِ دُنیا میں آئے 27 نومبر 2018ء میں 64 سال عمر اِس دُنیا سے چلے گئے ۔۔ محمد عزیز  سے سرزد لغزشیوں پر رب رحم فرمائے ۔۔۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔{  رب   مہربان  رہے  }
 ۤۤ/ 

ہنسی بھی آ تی ہے/ دُکھ بھی ہوتا ہے۔

منجانب فکرستان:
کیسا اعتماد، بھروسہ،یقین ( غور و فکرکیلئے)۔۔
آئے دن، اخبارات کے ذریعے ایسی"داستانِ محبت"کی روداد پڑھنے کو ملتی ہیں کہ جسے پڑھ کر انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔
ایسی ہی ایک داستانِ محبت جو کہ متعدد برطانوی اخبارات زینت بنی۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہےکہ چالیس سال کے بعد دِلی جذبات کی آنچ دھیمی اور شعور کی لو بلند ہونے لگتی ہے تاہم اسِ داستانِ محبت کی ہیروئن 60سالہ برطانوی خاتون ہیں جبکہ ہیرو سری لنکن  26سالہ لڑکا ہے۔۔ رشتہ داروں نےسمجھایا، دوستوں نے مشورے دیے، احباب نے  فراڈ  کی  داستانیں سُنائیں۔ سب کی سب بے سود ثابت ہوئیں ۔۔۔ خاتون نے  مکان بیچ، جمع پونجی بھی ساتھ لئے سری لنکا اپنے ہیرو کے پاس چلے گئیں۔۔۔خاتون کی تصاویر دیکھ کر ہنسی بھی آ تی ہے / دُکھ بھی ہوتا ہے ۔۔۔مکمل داستانِ محبت وتصاویر  براہ راست لنک پر ۔۔۔https://www.google.com.pk/search?rlz=1C1CHBD_enPK769PK769&biw=1280&bih=606&ei=2ur7W52OFuPsrgTs4pS4Bg&q=British+woman%2C+60%2C+who+spent+her+%C2%A390%2C000+&oq=British+woman%2C+60%2C+who+spent+her+%C2%A390%2C000+&gs_l=psy-ab.12..35i302i39.104249.104249..110513...0.0..0.279.279.2-1......0....1..gws-wiz.ZcvMOIccPSE نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }

۔"فقط" اتنا سا فسانہ ہے !!۔۔

منجانب فکرستان : غوروفکرکے لئے لنک پہ جانا ہوگا    زندگی کا فقط، اِتنا سا تو فسانہ ہے :: جوآیا ہے ،اُسکو جانا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  انجم نیاز سے سرزد لغزشیوں پر "رب کا رحم ہوکرم ہو"٭٭٭٭٭ مرحوم صحافی الیاس شاکر کراچی کے نوحہ گر تھے تو انجم نیاز صاحبہ پاکستانی لیڈروں کی  لیڈری کی نوحہ گر تھیں، تاہم شگفتہ کالم بھی لکھے (لنک آخر میں) جس میں معمر خاتون کا تذکرہ کیا ہے کہ جب ان کا حُسن  سا تھ چھوڑ نے لگے تو کیا کرنا چاہیے ؟۔1948 انجم نیاز صاحبہ کی اسِ دُنیا میں آنے کا سال ہے 20 اکتوبر 2018 سال اسِ دُنیا سے جانے کا ہے۔۔۔صحافت کاآغاز ڈان نیوز سے شروع ہوکیا دنیا نیوز سے ہوتے ہوئے 92 نیوز پر اختتام کیا ۔ (میری معلومات کے مطابق)
اب اجازت  https://universe-zeeno.blogspot.com/2014/01/blog-post_23.html

 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔{  رب   مہربان  رہے  }

کراچی کا نوحہ گر۔۔۔

 منجانب فکرستان : غور و فکرکیلئے۔۔
فواد چوہدری کا سینئر صحافی الیاس شاکر کی وفات پر اظہار افسوسزندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہور ترتیب::موت کیا ہے؟ انہیں اجزا کا پریشاں ہونا۔
سینئر صحافی الیاس شاکر کی زندگی کا آغاز 26 اکتوبر 19951 حیدرآباد سندھ سے ہُوا۔
 جمعہ اور ہفتےکی درمیانی شب اُنہیں دل کا دورہ پڑا،اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے  یوں 7-8ستمبر 2018 کی شب کراچی میں اُنکی زندگی کا اختتام ہُوا۔۔
الیاس شاکر بھی تو اوِلاد آدم تھے اسلئے اُن سے سرزد (دانستہ غیر دانستہ) لغزشیوں پر" رب کا کرم ہو ،رب کا رحم ہو"۔۔۔ 
الیاس شاکر مرتے دم تک اپنے کالموں میں "کراچی" شہر کے ایسے رستے زخم دِکھا تے رہے کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کو بھی  کرہ زمین کے باسیوں کہنا پڑا کہ" کراچی کا مقام دنیا کے ناقابلِ رہائش شہروں میں چوتھے نمبر پر ہے"۔۔۔
کوئی حد ہے، کراچی سے ناانصافیوں کی کہ "کراچی'' وفاقی بجٹ کا 67 فیصد اورسندھ بجٹ کا 97 فیصد فراہم کرتا ہے ۔۔
 پربھی " کراچی کا مقام دنیا کے ناقابلِ رہائش شہروں میں چوتھے نمبر پر ہے"۔۔۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }

''آب حیات''

 منجانب فکرستان: چیدہ چیدہ جملوں کی شیئرنگ ''غور و فکر کیلئے''٭: بحر روم کے پانی میں ایسی مچھلی پائی جاتی ہے،جب کسی بیماری  یا موت کے خدشے  میں مبتلا ہوتی ہے، ریورس گئیر لگا کر دوباری طفیلی دور میں پہنچ جاتی ہے، یہ عمل ایک بار نہیں بار بار کرسکتی ہے۔۔۔
گویا ''آب حیات'' پیا ہُوا ہے۔https://www.bbcearth.com/blog/?article=the-animal-that-lives-forever 
٭:خدا صرف ایک ہے اور وہ ہمارے اندر ہے؛اکشےکمار (گوگل سرچ)
٭:ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قانون منسوخ کردیاہے۔۔۔
یاد رہے مہاتیر محمد بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن کو اس قانون کے تحت تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔(گوگل سرچ)
 ٭:شرجیل میمن کے کمرے سے ملنے والی بوتلوں میں شراب نہیں بلکہ شہد اور زیتون کا تیل تھا۔۔۔پی پی رہنما  سید ناصر حسین شاہ (گوگل سرچ)
٭: جگنو محسن نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار سردار عثمان بزدار کو ووٹ دیا ۔ (گوگل سرچ)
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  } 



'' مبارک ہو ''

منجانب فکرستاناور مبارک ہو
''عرفان خان ،فیملی عرفان خان،اور لور عرفان خان کو 
عرفان کا زندگی کی جانب لوٹنا بہت بہت مبارک ہو '' 
https://www.dawnnews.tv/news/1085489/عرفان خان نے دوران علاج  صحت، زندگی اور فطرت، مذہب  اور یقین  کے حوالے سے جنِ خیالات کا اظہار کیا نیز اسی حوالے  سے بیماری سے پہلے کے خیالات کو ''فکرستان'' نے غور و فکر کیلئے پوسٹ زندگی/موت ؟ایک سوال؟ کی صورت میں سجایا ہے ۔۔ملاحظہ ہو۔ http://universe-zeeno.blogspot.com/2018/08/blog-post_18.html 
نوٹ :  پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔۔اب اجازت۔۔۔۔تاہم  اگر  دل چاہے تو  زندگی  سے  متعلق   میلوڈی  سونگ  ۔۔۔

{  رب   مہربان  رہے  }

زندگی/موت ؟

منجانب فکرستان:عرفان خان کے خیالات 
 بیماری سے پہلے بیماری کے بعد۔انسانی بیداری شعور نے جب "کائنات اور اپنی ذات" کا سوال اُٹھایا تو وہ دو رویا شاہراہ" دل و دماغ "پر گامزن ہوُا۔
"دل"نے اپنی شاہراہ کو مختلف مذاہب فرقوں سے سجایا تو ''دماغ'' نے اپنی شاہراہ کو حیران کُن ایجادات سے سجایا،
دُنیا گلوبل ولیج بن گئی تو جان پایا کہ ''جس خطہ زمین اورجس گھرانے میں پیدا ہوا '' ،وہاں کا مذہبی ماحول اِس یقین کو پکّا کرتا ہے کہ دُنیا میں صرف  اُسی کا مذہب یا فرقہ ہی سچّا ہے کہ بخشش بھی صرف  اِسی مذہب یا فرقے کے پیروکاروں کی ہوگی اور جنّت کے حقدار بھی صرف یہی ٹھرائے جائیں گے ۔۔اِس تمہید کے بعد آئیں جانیں کہ مذہب کے بارے میں عرفان خان کا نقطہ نظر کیا ہے؟۔۔۔۔
''بیماری سے پہلے عرفان کے "خیالات " ہر فرد کو اپنے لئے، اپنے مذہب کو تلاش کرنا چاہئے۔ دوسرے کی طرف سے بتایا گیا مذہب کوئی مذہب نہیں ہوتا اور جو ایمان لائے ہے وہ صرف اپنی تسلی کے لئے  مانتے ہے۔ "ہر مذہب میں موت کے بعد کی کہانی بتائی گئی ہے اور ہر مذہبی شخص کو لگتا ہے کہ اس کے مذہب نے صحیح کہا ہے تو دیکھ لیجئے دنیا کتنے بڑے بھلاوے میں جی رہی ہے."۔۔۔
''بیماری کے بعد کے "خیالات'' 
 عرفان خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب انہیں پہلی بار پتہ چلا کہ انہیں نیورو اینڈوکرائن ٹیومر کا مرض لاحق ہوگیا ہے تو وہ بہت زیادہ پریشان ہوگئے تھے اور وہ ہر وقت یہی سوچتے تھے کہ وہ ٹھیک ہو پائیں گے یا نہیں۔عرفان نے اپنے مداحوں سے دعاؤں کی التجا کی۔  عرفان خان نے تسلیم کیا کہ بیماری کے ابتدائی دنوں میں وہ بہت ڈر گئے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کے سامنے زندگی کا نیا نظریہ آیا جو پہلے سے بہتر ہے۔۔اس لئے بیماری کو غنیمت قرار دیتے ہوئے اقرار کیا کہ اگر انہیں بیماری نہ ہوتی تو وہ دنیا اور زندگی کو اتنا جلد اس طرح نہیں سمجھ پاتے۔ان کہنا ہے کہ بیماری کے چند ماہ میں انہوں نے 30 سالہ زندگی کا تجربہ کرلیا، یہ تجربہ انہیں میڈیٹیشن کا علم حاصل کرنے سے بھی نہ ملتا ۔۔۔
 عرفان کی خواہش ہے کہ دنیا کے تمام لوگ قدرت پر یقین رکھیں کیوں کہ اس سے زیادہ قابل بھروسہ اور کوئی چیز نہیں۔

عرفان خان نے اپنی پوسٹ میں آسٹرین ناول نگار اور شاعر رائنر ماریہ رلکے کی انتہائی جذباتی نظم لکھی کہ
’خدا ہم سب سے بات کرتا ہے، جیسا کہ وہ ہم سب کو بناتا ہے، پھر رات کی تاریکی میں خاموشی سے وہ ہمارے ساتھ چلتا ہے، اور ہم اس سفر میں کچھ الفاظ آہستہ آہستہ سن لیتے ہیں‘۔
عرفان خان کہنا کہ "یہاں کچھ بھی مستحکم و مضبوط نہیں، تاہم خود کو کبھی شکست خوردہ نہ سمجھو اور آگے بڑھتے رہو، یہاں خوبصورتی بھی ہے، دہشت بھی ہے، یہاں ایک شعلے کی طرح زندگی گزارو اور چمکنا سیکھو"۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پوسٹ کی تیاری میں درج ذیل سائیٹس کا شُکریہ ۔۔۔۔
http://www.bbc.com/hindi/entertainment-39771377
www.dawnnews.tv/news/1084335/?preview
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }

پاکستان کے تناظر میں

فکرستان کی شیئرنگ و تبصرہ ۔۔۔
محترم افتخار اجمل بھوپال کا سوالیہ مدعا کہ پانچ سات سالوں میں وہ بلاگر کہاں چلے گئے؟ جو ایک دوسرے کی مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔ تبصرہ:- حضور وہ سب اُس قانون کی نذر ہوگئے، جو پوری کائنات میں جاری وہ ساری ہے یعنی "قانونِتبدیلی"۔چینج کا نعرہ لگاکر"کالا" گوروں کا سربراہ بن گیا۔۔ٹرمپ امریکی پالیسی میں تبدیلی کا اندیہ دیا، انتخابی نتیجہ دنیا کو حیرت زدہ کرگیا۔بعض سعودی عرب میں "انقلابی تبدیلیوں" کو امریکی پالیسی تبدیلی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔موسیقی کے بارے میں "معروف سعودی داعی شیخ عادل الکبانی  کا کہناہے کہ موسیقی کے حوالے سے جو حدیث پیش کی جاتی ہے،وہ حدیث من گھڑت اور درست نہیں ہے"۔(گوگل سرچ)۔۔۔امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ   کا  نتیجہ تمام عوامی جائزوں  کے برعکس آیا،جبکہ پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو حالیہ انتخابات میں عوامی جائزوں کی رائے بٹی ہوئی تھی،تاہم ترازو کے ایک پلڑے کا جھکاؤ کسی حد تک مسلم لیگ (نون) کے حق میں جُھکا ہُوا تھا، نتیجہ قانون تبدیلی کے حق میں یعنی "نیا پاکستان" کے حق میں آیا۔۔۔  نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }

خدا جانتا ہے۔۔۔

فکرستان کی شیئرنگ وہ تبصرہ ۔۔۔
عمران خان لوگوں کوبیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں:سعد رفیقلیڈراں کے بارے میں یہ بات "افلاطون"بھی کہہ چُکے ہیں۔۔مثلاً: فلپائن کے صدر روڈریگوڈوٹرٹے کا یہ کہنا کہ ۔" اگر کوئی ثابت کر دے کہ خدا موجود ہے تو میں صدارت سے استعفیٰ دے دوں گا "، لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش نہیں تو کیا ہے؟۔۔۔"روٹی کُپڑا مکان" کا نعرہ ہو کہ قرض اوتارو ملک سنوارو کا سلوگن یا کشکول توڑنے کی باتوں کو کیا نام دیں گے ؟ ۔۔محترم جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب کا شُکریہ کہ اُنہوں نے  ووٹ سے متعلق "شرعی فتوٰی" کی آگہی دی، اِسکی روشنی میں  میرے حلقے سے جو امید واران الیکش میں حصّہ لے رہے ہیں، انِ میں سے میں کسی کو نہیں جانتا ۔۔۔شرعی فتوے کی روشنی میں،میں ووٹ کے ذریعے کسی کے کردار کی گواہی نہیں دے سکتا ۔۔۔یوں  خُدا جانتا ہے کہ میں اپنا ووٹ کسی کو نہیں دوں گا ۔۔۔۔۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب اجازت۔۔{  رب   مہربان  رہے  }

منجانب فکرستان

منجانب فکرستان

 رب ہمیشہ مہربان رہے ایم۔ڈی۔نور ـــــــــــــــــــــــ

کیا شوپن ہار کا سکّہ کبھی خیرات ہو سکے گا؟؟؟۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کیلئے 
 نیٹ کا ٭بنجارہ، ہر گُزرتے لمحے کے ساتھ گاؤں گاؤں قریہ قریہ ، چیزیں ہوں کہ خیالات سب کو نئے نئے معنی نئے نئے پیرہن  پہناتا جا رہا ہوں۔۔"میرا جسم میری مرضی " جیسے جملے  تراش تا جا رہا ہے تو دوسری جانب " دیدوں کا پانی مر گیا/ڈھل گیا " جیسے محاورں کو "طاق نسیان" میں بِٹھاتا جا رہا ہے ۔۔ایسے ناپائیدار عالم میں میری نظروں سے ایسی تحریر گزری کہ یقین ہوچلا کہ فلسفی شوپن ہار کے سکّے پر زمانوں کے دُھول تک نہیں پڑی۔۔۔ "ول ڈیورانٹ " کی وجہ سے شوپن ہار کے سکے نے شہُرت حاصل کی  ۔ اس سکے سے وابستہ روداد اس طرح سے ہے کہ " شوپن ہار بیرے کو کھانے کا آڈر دینے کے بعد جیب میں سے سونے کا سکہ نکال کر میز پر رکھ دیتا اور پھر اپنے کانوں کو اپنی میز سے ملحق میزوں پر بیٹھے افراد کی گفتگو سننے کے کام پر لگا دیتا،جسکا مقصد  کہ جس دن بھی لوگوں کی گفتگو کا محور گھوڑوں، کتوں اور عورتوں ذکر سے خالی ہوگا،اُس دن اِس سکے خیرات کر دے گا ۔۔۔کیا شوپن ہار کا یہ سکّہ کبھی خیرات ہو سکے گا ؟؟؟۔دُنیا کے طاقتور ترین صدور کے مابین گفتگو کا  محور !!!میمو کے مطابق" صدر ٹرمپ نے کہا ’جسم فروش خواتین والی بات فضول ہے لیکن صدر پوتن نے مجھ سے کہا تھا کہ ہمارے پاس دنیا کی خوبصورت ترین جسم فروش خواتین ہیں"۔۔۔۔۔---------------------------------------------پوسٹ کی تیاری میں بی بی سی نیوز سے مدد لی ہے 
----------------------------------------------٭بنجارے ایک قوم جو خانہ بدوش ہے اور بیوپار بھی کرتی ہے
http://www.urduinc.com/english-dictionary/%D8%A8%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%B1%D8%A7-meaning-in-urdu

نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب جازت۔۔{  رب   مہربان  رہے  }

زندگی کا،بس اتنا سا فسانہ ہے، جو آیا ہے،اُسے جانا ہے ۔۔۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کیلئے شاعر "اندیور"نے  27 فروری1997 کو اِس دُنیا کو خُدا حافظ کہہ دیا، تاہم اِس دُنیا سے جاتے ہوئے فلم "سفر" کیلئے زندگی اورموت کے بارے میں کُچھ ایسا فلسفیانہ گیت لکھ دیا کہ جو انسان کو غوروفکر کی دُنیا میں پُہنچا کے دم لیتا ہے ۔۔۔ 
INDEEVAR
سینئرصحافی عبدالواحد نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں نیو ائیر 2018۔نائٹ کے ہنگامے میں حصہ لیا، خوشی خوشی گھر پہنچے اچانک طبیعت میں خلل واقع ہُوا یوں سال 2018۔ کو پہلے ہی دن خُدا حافظ کہہ دیا۔۔
پھر تو 2018 کو خُدا حافظ کہنے والوں کیلائن لگ گئی،4 جنوری زبیدہ آپا5 جنوری اصغر خان19 جنوری منو بھائی یکم فروری میر ہزار خان بجارانی اُنکی اہلیہ11 فروری عاصمہ جہانگیر11 فروری قاضی واجد17فروری مُنا لاہوری المعروف ''زکوٹا جن''25 فروری سری دیویزندگی کی سفر ہے یہ کیسا سفرکوئی سمجھا نہیں،کوئی جانا نہیںہے یہ کیسی ڈگر،چلتے ہیں سب مگر کوئی سمجھا نہیں،کوئی جانا نہیںزندگی کو بہت پیار ہم نے کیاموت سے بھی محبت نبھائیں گے ہمروتے روتے زمانے میں آئے مگر ہنستے ہنستے زمانے سے جائیں گے ہمجائیں  پر کدھر ہے کسے  یہ خبر کوئی سمجھا نہیں،کوئی جانا نہیںایسے جیون بھی ہیں جوجئے ہی نہیںجنکو جینے سے پہلے ہی موت آگئیپھول ایسے بھی ہیں جو کھِلے ہی نہیںجِنکو کھلنے سے پہلے خزاں کھا گئیہے پریشان نظر تھک گئے چارہ گرکوئی سمجھا نہیں،کوئی جانا نہیںhttps://www.youtube.com/watch?v=SPhJvvHw1_k
نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب جازت۔۔
{  رب   مہربان  رہے  }

شاید ذہن کی ساخت ہی ایسی ہو !!۔

منجانب فکرستان
 کسان کا قدیم ذہن اپنی فصل کو نظِر بد سے بچانے کیلئے فکرمند تھا اور کوئی  ٹوٹکا چاہتا تھا ایسے میں کسان کے جدید ذہن نے  ٹوٹکا فراہم کیا کہ اپنی فصل کے قریب زیادہ سرچ کی جانے والی ماڈل کی بڑی سی نیم عُریاں تصویر لگاؤ، تُمہاری فصل کی طرف کوئی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھےگا۔۔یوں قدیم ذہن ، جدید ذہن کا شاندار ملاپ ظہور پزیر ہُوا ۔
ہر مذہب والے آئے دن اپنے مذہب  کے احیاء کی بات کرتے ہیں۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ انسانی ذہن میں جو امیج یا بات پڑ جائے اُسے جدیدیت کے تقاضے بھی نہیں مِٹاسکتے ۔۔۔۔۔نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب جازت۔۔{  رب   مہربان  رہے  }

جبکہ قُرآن کے مُطابق ۔۔۔۔

منجانب فکرستان (جبکہ قُرآن کے مُطابق)۔
کیا یہ غوروفکر کا مُقام نہیں ہے کہ اسرائیلی پارلیمان نے"سبت "(ہفتہ) کے دن بھی کام/ کاروبار جاری رکھنے کی منظوری دے رہی ہے۔جبکہ تورات کی کتاب خروج میں احکاماتِ عشرہ کا پانچواں حُکم یوں ہے۔٭ 5:سبت کے دِن کو یاد سے پاک رکھنا۔ (خروج 20:8) چھ دِن تک تُو محنت سے اپنا سارا کام کاج کرنا۔ (خروج 20:9)۔۔ساتواں دِن خداوند تیرے خدا کا سبت ہے۔ اُس دِن نہ تُو کوئی کام کرنا نہ تیرا بیٹا یا بیٹی، نہ تیرا نوکر یا نوکرانی، نہ تیرے چوپائے اور نہ ہی کوئی مسافر جو تیرے یہاں مقیم ہو۔ (خروج 20:10) کیونکہ چھ دِن میں خداوند نے آسمانوں کو، زمین کو، سمندر کو اور جو کچھ اُن میں ہے، وہ سب بنایا۔ لیکن ساتویں دِن آرام کیا اِس لیے خداوند نے سبت کے دِن کو برکت دِی اور اُسے مقدس ٹھہرایا۔ (خروج 20:11)۔(سورة البقرة) پھرتمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے (65) ابو الاعلیٰ مودودی۔----------------------------------------------
http://www.dw.com/ur/%DB%8C%D9%88%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%D8%AA-%D9%BE%D8%B1-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%84%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D9%82%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%86/a-42083150٭
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AF%D8%B3_%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85
{  رب   مہربان  رہے  }

انسانی شعور صدیوں سے سرگراں ہے۔۔

منجانب فکرستان 
امجد اسلام امجد کی زندگی کا  ناقابل فراموش واقعہ "سُرخاب" میں  جِس کسی نے پڑھا ہوگا، اُسکے ذہن نے دعوتِ فکر دی ہوگی۔امجداسلام امجد کا یہ واقعہ کائناتی مظہراور انسانی زندگی کے بارے میں ایسا سوال اُٹھاتا ہے کہ جس کے حل کیلئے انسانی شعور صدیوں سے سرگراں ہے۔۔اُن دوستوں کیلئے واقعے کا اقتباس حاضر ہے کہ جنکی نظروں سے یہ واقعہ نہ  گُزرا ہو۔  حسبِ روایت آخر میں اصل سائٹ کا لنک ہوگا اسکے علاوہ واقعے کو مزید نمایاں کرتے وڈیو کے بول ۔۔  امجد اسلام امجد "شیزان" میں دوستوں کے ساتھ تبالہ خیال میں  مصروف  تھے کہ اچانک کسی خیال میں کھوکر خاموش سے ہوگئے، ایسے میں اُنہوں نے دیکھا کہ سامنے سے ایک بیرا ٹرے میں چائے کی پیالیاں و دیگر برتن تھامے چلا آرہا تھا کہ وہ لڑکھڑاگیا ،ٹرے ہاتھوں سے ِپھسل کر فرش پر جا گری یوں برتن کرچی کرچی ہوگئے، بیرا کرچیاں سمیٹنے لگا،اتنے میں امجد صاحب کی نگاہ باہر کی جانب اُٹھی تو دیکھتے کیا ہیں کہ فریدہ خانم نیلے رنگ کی ساڑی میں ملبوس سیڑھیاں چڑھتی چلی آرہی تھیں۔کہ اچانک امجد صاحب اس خیالی تصور سے باہر نکل آئے ۔ انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا وہ  سب واہمہ تھا ۔نہ  بیرا سامنے سے آیا تھا،نہ ہی  برتن ٹوٹے تھے  نہ ہی فریدہ خانم  آئی تھیں۔۔۔تاہم امجد صاحب ابھی اس خیال سے بمشکل باہر نکل ہی پائے تھے کہ دیکھتے کیا ہیں کہ سامنے سے وہی بیرا اُسی طرح سے ٹرے میں چائے کی پیالیاں و دیگر برتن تھامے چلا آرہا تھا کہ وہ لڑکھڑاگیا ، اُسی  طرح سے ٹرے ہاتھوں سے ِپھسل کر فرش پر جا گری برتن کرچی کرچی ہوگئے، بیرا کرچیاں سمیٹنے لگا،اتنے میں امجد صاحب کی نگاہ باہر کی جانب اُٹھی تو دیکھتے کیا ہیں کہ فریدہ خانم وہی نیلے رنگ کی ساڑی میں ملبوس اُسی طرح سیڑھیاں چڑھتی چلی آرہی تھیں، جیسا کہ امجد صاحب نے تصور میں دیکھا تھا،بالکل ویسا ہی حقیقی زندگی میں بھی ہُوا ۔ گویا ( ایکشن ری پلے) ۔۔۔نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب جازت۔۔{  رب   مہربان  رہے  }http://e.jang.com.pk/11-12-2017/karachi/mag13.asp

اگر نگائیں چند ساعتوں کیلئے !!۔

منجانب فکرستان غوروفکر کیلئے 
ہالی وڈ فلمساز ہاروی وائن سٹین  بنیادی وجہ بنے،خواتین جنسی ہراسمنٹ کو وسیع تر مفہومی اصطلاحی زبان #Metoo دینے میں۔پہلےپہل یہ اصطلاح ِنکلی سماجی کارکن  ترانا بر کے ذہن سے جسے پروان چڑھایا اداکارہ الیسا میلانونے،یوں اب یہ سکّہ #Metoo خُواتین جنسی ہراسمنٹ کا  رائج وقت سکّہ  بن  گیا ہے۔۔۔
سائنس چاہے  جس قدر  ترقی کرجائے عورت کے جنسی جذبات کی تشریح ممکن نہیں (خود عورت بھی اپنے جنسی جذبات نہیں جانتی)تاہم عورت  کے  حوالے سے مردانہ جنسی جذبات  کیا ہوتے ہیں؟اِس کی ترجمانی  حال ہی میں آسٹریلوی  امام  مسجد  نے  اپنے میسیج  میں بخوبی  کی ہے ۔ (لنک پوسٹ کے آخر میں)چلتے چلتے   اچانک محمود  صاحب نیچی  نگاہ کئے چلنے لگے وجہ معلوم کی،  کہنے لگے تم نے دیکھا نہیں  سامنے سےآتی ہوئی خُواتین کو  کس قدر ٹائیٹ ٹرائوزر  پہنے ہوئیں تھیں ،اگر میری نگائیں چند ساعتوں کیلئے غیر ارادہ اُن پرٹہر جاتیں تو یقیناً وہ اپنے لباس کو تو کچھ نہ کہتیں تاہم ممکن ہے مُجھ پر #Metoo چپکادیتیں😎۔
http://www.dailymail.co.uk/news/article-5074715/Sheikh-sacked-saying-women-need-hijabs-ward-men.htmlنوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔اب اجازت دیں۔{  رب   مہربان  رہے  }

Pages