بلا امتیاز

9 نومبر 2015

آماں کو اس بستر پہ لیٹے چھ سال ہو گئے تھے ، وہ سوچنے  سمجھنے ، پہچاننے کی صلاحیت بہت عرصہ پہلے کھو چکی  تھیں، وہ ایک بستر پہ پڑی رہیں ، کوئی زی شعور انسان اتنا عرصہ بستر پہ نہیں رہ سکتا،  یہ اللہ کی حکمت تھی کہ زماں و مکاں سے لا علم کر دیا گیا انکو ، کبھی بات بھی کرتیں تو کسی اور دور کی ، ان کے زہن میں بھی وہی تین چار جگہیں جہاں انہوں نے بیشتر زندگی گزاری تھی گھومتی رہتی ، اماں کو کھانا کھلانا بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com0

ہتھ دکھائی (اصلی ڈفری پوسٹ)

 نوٹ:  نقالوں سے ہوشیار ، ڈفری پوسٹ کو پڑھ کر پہچانیں،   پچھلی ڈفری پوسٹ  انوکھا لاڈلا اصلی نہیں تھی ، سینٹی منٹل ہونے والوں پہ "آہو" ۔ زیرا  چہرے پہ کمینی ہنسی سجائے ہر کسی کو دیکھ کر دور سے ہاتھ دکھاتا اور زیر لب کہتا   یہ ہاتھ دیکھا ہے میرا تیرے بوتھے پہ چھاپ دوں گا ، اور بہت سے کام آتے مجھے اس سے ، اور جواب میں اگلا بندہ بڑا مشکور ہو کر کہتا کہ بس ٹھیک ٹھاک ، اے ون ، تم سنائو اور یہ سننے بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com10

نیئک محترم

میں ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں کرسی پہ پیٹھ کر ہیٹر کی جالی کے ڈنڈے گن رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی اور میں شمار بھول گیا ، فون کرنے والے کو دو تین گالیاں دینے کے بعد میں نے فون اٹھایا اور نہایت اخلاق سے اسلام علیکم کہا ، آگے سے جو آواز آئی تو گویا کان کے پردے پھٹنے لگے  فون کو کان سے دور کیا ، سوچا کہ اتنی اونچی آواز سے بولنا تھا تو فون کرنے کی کیا ضرورت تھی براہ راست  بھی آواز پہنچ ہی رہی تھی ،بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com36

گاڑی برائے فروخت

اندر باہر سے جینوئن ہے جی گاڑی ـ اپنے رنگ اور کمپنی کنڈیشن میں ہے ـاور پرانی گاڑی ہے سٹیل باڈی ـ اجکل کی کاریں تو پیپر باڈی ہیں لگی اور رول ہو گئی ـ پیس گاڑی ہے ـ سکریچ لیس ہے بلکل صاف ـ چابی لیں اور ڈرائیو کریں ـ روپے کا کام نہیں ہے گاڑی میں ـ رکھنے والی گاڑی تو ہے ہی یہی نئی کاریں صرف ششکے ہیں ـ پسند اپنی اپنی ہوتی ہے مگر مجھے بہت پسند ہے جی گاڑی اور آپکو بھی ضرور پسند آئے گی ـ بس اپنے بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com5

میری کانی محبت

 شکور کی نگاہیں  گُلی پر مرکوز تھیں ،  سڑک کے  بیچ دو اینٹوں کے درمیاں گُلی  نہایت توازن کے ساتھ رکھی تھی اور شکور کے ہآتھوں میں ترشا ہوا ڈنڈا اور شکور  کی آنکھوں میں خون  اترا تھا ، پورا محلہ جانتا تھا کہ شکور کے ڈنڈے سے نکلی ہوئی گُلی کا راستہ آج تک کوئی مائی کا لال نہ روک سکا ، جب شکور گلی میں ڈنڈا اٹھا کر آتا تو مائیں اپنے بچوں کو مرغی کہ ڈربے میں بند کر دیتیں کہ کہیں شکور کے ڈنڈے سے نکلی بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com21

میرے متعلق

چونکہ فدوی  بچپن سے ہی کبھی مصائب الہامی  سے 'بےفکرمند'  نہیں ہوا اس لیے فدوی  'بےغم زدہ طبیعت' کا مالک بن گیا  ۔ اور ایسی مخمصے کی ہنس دکھ کیفیت پائی کہ کوئی جو خود ہنس رہا ہو مجھے دیکھے تو روتا ہوا سمجھے اور اگر خود  رو رہا   ہو تو مجھے  ہنستا ہوا سمجھے۔اور یہ میرا دل  ،بلکہ کتے کی دم ، اس دل میں خواہشوں کے غول در غول  ہول اٹھتے  ہیں اس قدر کہ اگر عمرہ عیار کی  زنبیل ، نیٹو سپلائی کے کنٹینرز بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com14

خواہش

جب بلاگستاں قدم رنجا فرمائے تو نیواں نیواں ہو کہ آیا  وجہ اول تو یہ کہ ہر نئی جگہ جاتے بچپن سے ہی ہاتھ پائوں پھول   جاتے ، اور پھر دل میں کچھ اندیشے بھی تھےاول تو میری املا  ایسی کہ  جیسے عربی انسٹآل کر کے کسی نے اردو لکھنے کی کوشش کی ہو ۔املا میں 'ز' اور 'ض' میں عمر بھر کنفیوز رہا ،  یہی  کچھ 'س' اور 'ص' کا رہا ، " یہ راض آشکاروں کہ میری پہلی  صہیلی سائمہ بھی اصی وجہ صے ناراز ہوئی مجھ صے ۔ " بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com14

لائف ان آ ۱۲ بائے ۱۲

 نوٹ:لکھ کر دوبارہ نہیں پڑھا گیا بے شمار غلطیوں کے لیے معزرت۔ مجھے پہلے ہی خاصی دیر ہو چکی تھی اور اس کے فون بھی آ رہے تھے بار بار ، وہ میرے پہنچتے ہی بیگ کے ساتھ ہی گیٹ پہ آگیا میں نے ایک نظر اس کو دیکھا تو  تھکن اس کے چہرے سے عیان تھی ، اس نے مجھے جلدی سے کچھ باتیں بتائیں اور چل پڑے جیسے اسے بہت جلدی ہو جانے کی اس کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ میرے یہ اگلے کچھ دن کچھ اتنے آسان نہیں ہوں گے۔ بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com4

خدائی ردھم

سانسیں ۔ مستقل طور پر چلتی ہوئیں - ایک مناسب  وقفے کے ساتھ ۔ ابتدا کی سختی سے نالاں نہ ہی انجام سے وحشت زدہ - بس اپنی ہی دھن میں برابر چلتی رہتی ۔ نہ اتنی تیز کہ خود کو تھکا ڈآلیں نہ اتنی سست کہ ان کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے ۔ نہ  تھکن کوئی نہ عجلت ۔ نہ اتنی خاموش کہ لاشعور ہی ان کی آواز سے بیگانہ ہو جائے اور نہ اتنی آواز کہ کانوں میں مدھم سی آواز کو بھی آنے سے روکیں۔ ا ایک لڑی میں پروئی ہوئی بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com1

میلنکلی

یہ تب کی  بات ہے جب میں شاید سولہ برس کا تھا سکول کی چھٹیاں تھیں سردیوں کی اور گائوں آیا ہوا تھا ۔ رات کو بیت خلا جانے کی حاجت ہوئی تو گائوں میں نقشے وغیرہ تو تھے نہیں اور بیت الخلا بھی بعد میں باہر کی طرف بنا ہوا تھا میں خاموشی سے اٹھ کر جونہی باہر نکلا تو سامنے ایک عورت کو کھلے بالوں کے ساتھ بہت وحشی انداز میں دیکھ کر میری حالت خٔوف سے غیر یو گئی ایک لمحے کے لیے کانپ ہی گیا لیکن خوش قسمتی بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com6

ماہ و سال

لو جی یہ سال بھی گززر گیا ہے ۔ اپنی ٹو ڈو لسٹ جو سال کے شروع میں بنائی تھی اس کو کھولا تو پتہ لگا کہ جو کام اس سال پورے کرنے کی ٹھانی تھی جوں کے توں اپنی جگہ پہ موجود ہیں۔ ان کو مکمل تو کیا ان کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔ ہاں البتہ  کچھ تبدیلیاں دو ہزار دس کی لسٹ میں ضرور ہو گئیں ہیں وہ کام جو 2010 کی ٹو ڈو لسٹ میں اپنی طرف سے پورے کر چکا تھا وہ دوبارہ سے منہ کھول کر سوالیہ نشان کے ساتھ کھڑے ہیں بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com3

بکری والی ٹکر

ایک شیر کا بچہ شیروں کے گروہ سے علیحدہ ہو کر کھو گیا ، چلتا پھرتا وہ بکری کے ریوڑ میں شامل ہو گیا اور انہی کے ساتھ پل کر بڑا ہونے لگا انہی کی طرح چال ڈھال اور آواز بھی اختیار کر لی، ایک دفعہ بھیڑیوں نے بکریوں کے ریوڑ کو گھیر لیا  یہ دیکھ کر شیر کو بہت غصہ آیا جب بھیڑیوں نے بکریوں پر حملہ کیا تو شیر کا غصہ شدید ہو گیا اور اس نے دھاڑ کر شیروں والی آواز نکالی ، آواز سنتے ہی بھیڑیے سہم گئے شیر بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com10

کردار

رات کی تاریکی میں سڑک کے کنارے کھمبے پر لگے بلب کی تیز پیلی روشنی میں  اس کے سائے کا قد اس کے اصل قد سے کئی گنا بڑھ چکا تھا لیکن جیسے ہی وہ روشنی سے دور ہوتا گیا اس کے سائے کا قد گھٹتا گیا حتی کہ اندھیرے میں پہنچ کر اس کے قد کا سایا ہی نہ رہا۔بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com6

تیرا دل تو ہے فلم آشنا

ہاسٹل میں ہمارے وارڈن صاحب حو کہ اردو ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بھی تھے ان سے کافی علیک سلیک ہو گئی اس کی ابتداء یوں ہوئی کہ جب سٹڈی آور میں وہ کمروں کا چکر لگانے آیا کرتے تو میں لمبی تان کر سو رہا ہوتا لیکن بلکل کمرے کے دروازے کے سامنے میز پر ایک شاعری کی کتاب رکھ دیا کرتا وہ دروازہ کھول کر مجھے سویا دیکھتے اور کتاب اٹھا کر لے جاتے آگلے دن کتاب واپس لے آتے ۔ میں اپنی دانست میں ان کو یہ رشوت دیا کرتا ، بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com8

بلا فلسفوف- کم بیک پوسٹ

بہت دن ہو گئے دماغ میں فلسفیاتی موجوں کی دھما چوکڑی مچتے سو آج سوچا کہ ان کو آج کسی طرح سر سے اتار پھینکوں۔ مگر کچھ سمجھ نی آ رہی کہ کروں کیا ۔ پہلے سوچا کہ نائی کے پاس جا کر سر پر استرا پھرا لوں کہ بالوں کے  وزن کی وجہ سے تو کہیں یہ آتش فشانی خیالات نہیں آتے رہتے لیکن فرق اس سے بھی نہیں پڑنا یہ تو کمپنی فالٹ لگتا ہے مجھے اور ویسے بھی مردے کے بال کترنے سے مردے کا تابوت کونسا ہلکا ہو جانا ہے۔ الٹابلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com8

یقین

کسی شہر میں بارش نہ ہونے کے باعث بہت خشک سالی و قحط تھا  ،شدید گرمی بھوک  اور پیاس سے اموات ہونے لگیں شہر کے  لوگوں نے شہر سے باہر ایک کھلے میدان میں جمع ہونے کا  فیصلہ کیا  کہ جہاں مشترکہ عبادت کی جائے تاکہ خدا آن پر رحم کرے اور آسمان سے بارش برسائے، جس سے قحط سالی دور کرے اور شدید گرمی کا خاتمہ ہو۔شہر کا ہر فرد  امیرو  غریب ،مزہبی اور سیاسی رہنما  مقررہ وقت پر متعین شدہ جگہ کی طرف روانہ ہو گیا بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com5

سمت

وہ ترچھے زاویئے پر تعمیر کیے گئے ایک چھوٹے سے  کمرے میں رہائش پزیر تھا یہ کمرہ مستطیل یا مربع کے بجائے ایک پیرالالوگرام کی شکل آختیار کیئے ہوئے تھا۔کمرے کا کوئی بیرونی دروازہ نہ ہونے کے باعث کمرے میں رہتے ہوئے باہر کا نظآرہ کرنے کا واحد زریعہ ایک چھ بٹا چار کی کھڑکی تھی۔ وہ روزانہ  کمرے کی کھڑکی میں آ کر مشرق کی طرف سمت کر کے باہر کا نظارہ کرتا ، لیکن کمرے کے ترچھے زاویئے پر ہونے کی بناء پر وہ بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com4

جون کلوزنگ پارٹ-۱

اکتیس مئی آخری دن تھا  ، میز پر پڑی سبھی کمپنیوں کی بیلنس شیٹ میں آخری رقم صفر تھی ۔ ان میں ایسی کمپنیاں  "اے" گروپ بھی تھی جس کا بزنس اربوں میں ہوا  اور "وائے" گروپ بھی جس نے بمشکل چند لاکھ کا ہی کاروبار کیا مگر قدر مشترک دونوں کا اختتامی بیلنس صفر تھا ، یہی حال ساری  کمپینوں کی بیلنس شیٹس کا تھا۔اگرچہ ہر ایک کی ٹرانزیکشن ہسٹری بہت مخلتف تھی اور کسی نے کروڑوں کی منتقلی یومیہ ہوئی تو کوئی کئی کئیبلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com3

تین منٹ

دوسرا ٹیکنیکل فائول کرنے پر ایک کھلاڑی کو تین منٹ کے لیے باہر کر دیا گیا ۔  اب تین منٹ تک اس کے بغیر باقی چار کھلاڑیوں کو باسکٹ بال جیسے برق رفتار کھیل میں  خود کو کھیل میں  رکھنا تھا۔ جو بھی کھلاڑی باہر چلا جاتا ہے وہ محض تین منٹ کے لیے جاتا ہے اس کے بعد وہ خود یا اس کا متبادل مل جاتا ہے۔ اس لیے تین منٹ کا  کا پلان بنانا ہوتا ہے نہ کہ اگلی پوری گیم کا ۔ کیونکہ  پانچویں کھلاڑی نے واپس ضرور آنا بلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com4

پر

آجکل ساون کا موسم ہے ساون میں زمیں کے اندر سے عجیب عجیب مخلوقات نکل آتی ہیں۔ کیڑوں مکوڑوں کے پر نکل آئے ہیں ۔  آج میں  بال ترزشوانےحجام کے پاس گیا تو اس سیلوں میں کچھ پتنگے گھس آئے۔ حجام نے پہلے تو ہاتھوں سے ان کو دور کرنے کی کو شش کی ، کچھ تو سمجھ گئے باقی دوبارہ واپس آ کر تنگ  کرنے لگے ، دوسری بار جب حجام تنگ ہوا تو اس نے جو سامنے بیٹھتے تھے زرا بھر کو ان کے پروں پر پانی کے قطرے ٹپکا دیئے ان کےبلاامتیازhttp://www.blogger.com/profile/01265011304348792367noreply@blogger.com3

Pages