تانیہ رحمان (عین الیقین)

غیر اخلاقی گفتگو سے پرہیز کریں

ایک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی   ماننے والے اپنےاگر اسلام پر کوئی بات کرنا چاہتے ہیں قرآن و سنت کی روشنی میں تو ٹھیک ہے ورنہ بلاگ پر رشریف لانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔ میرا خیال ہے اس سے ذیادہ مجھے کچھ نہیں کہنا ۔۔۔

الیکشن الیکشن اور الیکشن

ختم ہوئے ۔۔ مایوسی ہوئی ۔ سوچا کچھ تھا ہوا کچھ ۔جیسی عوام ویسے حکمران ۔ اب کیوں کیسے کہاں ۔ بہت سے سوالات ہیں ۔ لیکن اصل بات وہی جو ملک کے لیے اچھا ہو وہی اچھا ہے ۔ جس جماعت نے آنا تھا وہ آگئی ۔ اس کے ساتھ وہ بھی آگے جن کو عوام خاص کر خیبر والے نہیں چاہتے تھے ۔ جن کے گھر کی خواتین گھر کے اندر تو پردہ کرتی ہیں لیکن جوں ہی گھر سے بے گھر ہوتی ہیں تو پردہ کہاں ۔ وہ کہاں ۔ اب تو ویسے بھی پاکستان لگتا ہی نہیں پاکستان لباس طور طریقوں سے بہت آگے نکل گیا ہے ۔ بہت ماڈرن ہو گیا ۔ پھر وہ خواتین کیوں حلوئے پر گزارہ کریں ۔ ان کا حق بنتا ہے برگر کھانے کو ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ آنے والی تبدیلی کیا تبدیلی لاتی ہے ۔۔۔ جو بھی ہو اچھا ہو پاکستان دنیا کے نقشیے میں ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے ۔۔۔ دشت گردی ، غربت ، ۔ لوڈشیڈنگ اور دوسرے مسائل پر قابو پا سکیں ۔ پھر روز روز مرنا نا پرئے ۔۔۔۔

بہت افسوس کی بات ہے

ہم لوگوں کو شرم کب آئے گی ۔ ہمارا شمار مہذب لوگوں میں ہوتا ہے ۔۔ کسی کو گالی دینی ہے اور خود کو مرد کہتے ہو تو انکے بلاگ پر جا کر گالی دو ۔ خواتین کے بلاگ کا سہارا کیوں لیتے ہو ۔۔؟

ہوتا ہے شب روز تماشا تیرے آگے ،،

نورا کشتی اپنے آخری مراحل میں داخل ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے ۔ 3 دن سے عوام کھلے آسمان کے تلے اس پرچم کی آس لگائے بیٹھی ہے ۔ کہ ہم ایک ہیں اور شاہد یہی پرچم سے محبت ان کو ٹھنڈ کا احساس نہیں ہونے دے رہا ۔ محبت بھی بڑی عجیب چیز ہے جان بھی لے لیتی ہے ۔ اور دینے والے اس محبت میں جان دیتے بھی ہیں ۔ کہتے ہیں طاہرالقادری صاحب غریب عوام کی محبت مین پاکستان آ ئے ہیں ۔ ان کی محبت پر شک کریں کبھی نہیں ہو سکتا ۔۔۔ لانگ مارچ بھی تو محبت کا جیتا جاگتا ثبوت ہم سب کے سامنے ہے کیا ہم اس محبت سے انکار کر سکتے ہیں نہیں ۔ ان کو بدلے میں کچھ نہیں لینا ۔ وہ غریب کی محبت میں اپنی جیب سے لگا کر لاہور سے اسلام آباد پہنچے ۔۔۔۔امیں اور صادق جیسی ہستی پر الزام لگانا توبہ توبہ ۔۔خود چھوٹے سے گھر میں آرام فرما ۔۔۔ جس میں ہیٹر لائٹ ۔ پانی ۔۔ مناسب سہولیتات موجود ۔ ۔۔۔۔ لیکن قادری صاحب آپ نے سب کچھ غریب کے لیے کیا ۔۔۔ پھر بھی غریب کا پورا ساتھ نہیں دیا چھت تو پھر بھی آپ کے پاس ہی رہی ۔۔۔ دوسرا روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ بھٹو نے لگایا ۔۔۔۔۔ اور اللہ رسول قرآن کا حلف نامہ اور قسم آپ نے آتھوا لی ۔۔۔۔۔ غریب تو پھر وہی کا وہی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔کب ایک سچا اور کھرا لیڈر حکمران غریب کے حصے مین ائے گا ۔ کب پاکستان اور پاکستان کے غریب عوام کی جان بخشی ہو گی ۔۔۔۔۔ کب غریب ہو بھی یہ احساس ہو گا ، کہ اس کا شمار بھی انسانوں میں ہوتا ہے ۔۔ آب پتا نہیں آپ کے بعد کس کی باری ہے ۔ غریب کی جھولی میں جھوٹے وعدے امید کی شمع ڈالنے کی ۔۔۔ پھر ایک نیا تماشا کون کرنے چلا ہے ۔۔۔۔۔۔

فرض، یا قرض

ہم نے دوسروں کو نیچا دیکھانا اپنا اہم فرض سمجھ لیا ہے ۔کیوں ؟

خاموشی

وضاحت کبھی سچائی ثابت نہیں کر سکتی، ندامت کبھی نیم البدل نہیں ہو سکتی.
الفاظ کبھی بھی انسان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس نہین دلا سکتے.
ہاں! خاموشی مزید تذلیل سے بچا لیتی ہے.
بلکل اسی طرح جیسے، جب تک انسان زندہ رہتا ہے ہر طرف سے طنز بھی برداشت کرتا ہے ، شکایات بھی سنتا ہے، مذاق کا نشانہ بھی بنتا ہے، ہر طرف سے برا بھلا بھی سہتا ہے،
لیکن جب وہ موت کی خاموش وادی میں اتر جاتا ہے تو اس ناختم ہونے والی تذلیل سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے.
خاموشی اور موت کا ساتھ بہت قریب کا ہے. خاموشی بھی موت کی سی ہے

~ خلیل جبران ~

عنیقہ ناز اب ہم میں نہیں ہیں

موت کا وقت مقرر ہے اس کو آنا ہے وہ آ کر رہئے گی ۔ کبھی کوئی تو کبھی کوئی ۔ زندگی دیکھتے ہی دیکھتے موت کی آغوش میں چھپ جاتی ہے ۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔۔۔ہم بے بس دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ دنیا کا کام چلتا ہے چلتا رہے گا ، مرنے والے کے ساتھ کوئی نہیں مرا ۔ ہاں افسوس جانے والی پر ہے کہ وہ اتنی جلدی کیوں چلی گئی ۔۔عنیقہ ناز اتنے جلدی جانے کے دن نہ تھے ۔ لیکن شاہد اللہ کو یہی منظور تھا ۔۔۔ اپنے ایک قابل ساتھی کے جانے کا بہت افسوس اور دکھ ہے ۔۔166651_190501657635232_2079076_n

اداسی کیوں ؟

کبھی کھبی یا پھر اکشر ایسا ہوتا ہے ۔۔۔۔ ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہوتی ۔۔۔ لیکن ہم اداس ہوتے ہیں ۔ فون پر بات کرنے کا موڈ نہیں ہوتا ۔ چاہیئے کتنا قریبی دوست ہی کیوں نہ ہو ۔۔ٹی وی زہر لگتا ہے ۔ گھر کے کام کرنے سے پہلے ہی موت پڑہ جاتی ہے ۔ مرد حغرات باہر جا کر بلاوجہ دوسروں پر گرم ہوتے ہیں ۔۔۔عبادت کر کے بھی دیکھا لیا ہوتا ہے ۔۔ایسا کیوں ہوتا ہے اگر ہوتا ہے تو بتانا پسند کرو گے ۔ ہو سکتا ہے میرے پاس وجہ نہ ہو لیکن آپ لوگوں کے پاس ہو ۔۔۔

بلاگ اور فونٹ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کسی نے بلاگ کو چوری کرنے کی کوشش کی ۔۔۔ میری نیکی اور اس کی بدقسمتی بلاگ میرے پاس ہی رہا ۔۔۔۔ پوچھا تھا ۔۔۔۔۔ اگر چاہیئے تو مجھ سے لے جاو ۔۔۔ پوری شرافت سے مانگ کر ۔۔۔۔۔۔ اب اس سے ذیادہ اور کیا نیکی کر سکتی ہوں ۔۔۔۔۔ خود کو بھی جہنم کی آگ سے بچانا چاہا اور اس نیک سیرت انسان کو بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔چلیں چھوڑیں ۔۔ مسلہ کیا ہوا کہ میرے بلاگ میں اردو لکھائی صحیح نہیں آ رہی ۔ بلال بھائی آپ اگر پڑھ لو تو بتانا کہاں کیا گڑبڑ ہے ۔۔۔۔۔

بہت دنوں سے بیکار ہو کام سے لگ جاو ۔

اﺱ کی ﮐﺎﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ہیں ﺟﻨﺘﺮ ﻣﻨﺘﺮ ﺳﺐ
ﭼﺎﻗﻮ ﻭﺍﻗﻮ، ﭼﮭﺮﯾﺎﮞ ﻭُﺭﯾﺎﮞ، ﺧﻨﺠﺮ ﻭﻧﺠﺮ ﺳﺐ

ﺟﺲ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺭﻭﭨﮭﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ، ﺭﻭﭨﮭﮯ ﺭﻭﭨﮭﮯ ہیں
ﭼﺎﺩﺭ ﻭﺍﺩﺭ، ﺗﮑﯿﮧ ﻭﮐﯿﮧ، ﺑﺴﺘﺮ ﻭِﺳﺘﺮ ﺳﺐ

ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍ کے ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺍﺏ
ﭘﮩﻠﮯ ﺟﯿﺴﯽ ہے
پھیکے پڑ گئے کپڑے ﻭﭘﮍﮮ، ﺯﯾﻮﺭ ﺷﯿﻮﺭ ﺳﺐ

ﺁﺧﺮ ﮐﺲ ﺩﻥ ﮈﻭﺑﻮﮞ ﮔﺎ ﻣﯿﮟ ﻓﮑﺮﯾﮟ ﮐﺮﺗﮯہیں
ﺩﺭﯾﺎ ﻭﺭﯾﺎ، ﮐﺸﺘﯽ ﻭﺷﺘﯽ، ﻟﻨﮕﺮ ﻭﻧﮕﺮ ﺳﺐ