حجاب شب

بس یادیں باقی ….

نانی کہا کرتی تهیں دسمبر کے دکه ہمیں سقوط ڈهاکہ سے ملے ہیں اور صرف دسمبر کیا یہ دکه زندگی کی ہر سانس کے ساته ہے اور ایک تم ہو تمہیں دسمبر میں اٹکهیلیاں سوجهتی ہیں … اب میں نانی کو کیا بتاتی کہ جب ابرار کا بهیگا بهیگا دسمبر ہو ، عامر سلیم کی دسمبر میں منگل کی سہانی شام آجائے ، بہت سارے نیو ائیر کارڈز ملنے والے ہوں ، ساته بہترین شاعری کا ذخیرہ ہو جسے ایف ایم پہ سنا کر واہ واہ کے ساته مشہور ہونا مقصد ہو تو دسمبر کی حسین صبح ، اداس مگر خوبصورت شام اور خاموش راتیں مزید سحر انگیز ہوجاتی ہیں … اب یہ شوق گزرے وقت کا قصہ ہوئے بس یاد باقی …..
پهر وہی سال کے آخری دن ہیں جب نئے سال کی شاعری تلاش کرتے آدهی رات گزار کے دوپہر کو صبح ہوا کرتی تهی تو چائے کی خوشبو سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دهوپ کی رنگت کے ساته فضا میں پهیلے گرد وغبار پہ بهی غور ہو جایا کرتا تها ، سارے کهیل وقت کے ہیں ….

مگر اب کے سال دسمبر کی دهوپ میں بیٹه کر گزرے وقت کی ایک یاد تازہ کرتے ہوئے اون سلائیوں سے کهیل رہی ہوں …2015-12-29 00.05.47
مجهے اس کام پہ پهر سے لگانے والی میری جانو بهتیجی ہے جس کی وجہ سے ہمارے ہاں زندگی پهر سے مسکرائی ہے … اللہ اسے نظر بد سے بچائے آمین ….
اس تحریر کو لکهنے میں تعاون رہا ، ابرار ، عامر سلیم ، امجد اسلام امجد اور ایک ہندوستانی گانے کا ورنہ میں اور ……. ہونہہ 😕


فلو نامہ ….

جانے کون سی تحریر تهی جس میں لکها تها زندگی جتنی بهی مصروف ہو آنے جانے والے ہر موسم میں حسن تلاش کرتی رہوں گی … حسین نظارے دیکهتی رہی مگر بلاگ پہ تعریفی تحریر نہ آسکی … سوچوں میں ہزار عنوان رہے جن پہ لکها جا سکتا تها مگر فرصت میں بهی ذہن یہی تانے بانے بنتا رہ جاتا ہے کہ کون کون سے کام پینڈنگ پڑے ہیں …. 

اور اب جب سے فلو نے ہیلو ہائے کی ہے ، سستی و کاہلی کی ساری حدیں فنش ہو گئی ہیں تو سوچا لیٹ کر ٹشو اور رومال گندے کرنے سے بہتر فلو نامہ ہی لکه دوں ….

مگر ہے یہ سب ناشکری کی سزا …. جب اپنی ہی آواز بری لگنے لگے (کچه دنوں سے جب بهی کسی سے فون پہ بات کر رہی تهی اپنی آواز بری لگ رہی تهی )… چائے کا رنگ بکواس اور ذائقہ بدمزہ لگ رہا ہو …. اللہ کی ثناء میں کمی ہو تو ہر چیز کی اہمیت یاد دلانے کو زکام کا تحفہ ملا مجهے …

جوشاندہ پی کر اور ہر چهینک پہ الحمداللہ ادا کرکے ناشکرے پن کا ہرجانہ ادا ہوا …

اور ایک مزے کی بات یہ کہ زکام میں آواز رومینٹک ہو جاتی ہے ( یہ میرا خیال ہے ضروری نہیں کہ ہرکوئی متفق ہو ) بلکل ویسے جیسے بقول ” احمد فراز ” باتیں رکی رکی سی لہجہ تهکا تهکا سا …. 

کبهی کسی سے پوچه لیں بے شک بس بندے کا باذوق ہونا ضروری ہے 😊

اب سچ کہیں تو یارو ہم کو خبر نہیں تهی 

بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا …

ٹهنڈا پانی پیا تها اور تیز مصالحے والے چهولے کهائے تهے بس ، مگر 4 دن ہونے کو آئے سڑ سڑ سڑ آچهیںںں 😡


الوداع دسمبر ۔۔۔۔

دسمبر براؤن ہو پنک یا سرمئی سوگوار ہی رہتا ہے ، لیکن کیوں ؟؟؟ باقی مہینوں میں کیا اداسی نہیں ہوتی ۔۔۔ اپنے پیارے بچھڑتے نہیں یا ان کی یاد نہیں آتی ۔۔۔۔ سوچ کے گدھے دوڑانے پر خیال آیا کہ ہر مہینہ دُکھی کرتا ہے مگر جب دسمبر میں پورے سال کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ایک ٹھنڈی آہ دسمبر اداس کر دیتی ہے ۔۔۔
جنوری میں “ وہ سالِ نو پہ ملا بھی تو سرسری اب کے
اداس کر گئی پہلی ہی جنوری اب کے “
فروری میں کچھ لوگوں کو خوش فہمیاں مار دیتی ہیں اور کچھ کو ویلنٹائن کے دکھ ۔۔۔ ۔۔۔ مارچ میں یومِ خواتین ہوتا ہے مرد حضرات دُکھی ۔۔۔ اپریل فول کی بدتمیزیاں غصہ تو دلائیں گی ناں ۔۔۔۔ مئی جون گرمی لوڈ شیڈنگ کے دُکھ ۔۔۔۔ جولائی سے اگست ساون کے دُکھ ( بارش نہیں ہوئی ناں آخر :( )
ستمبر سے اکتوبر پت جھڑ کے ساتھ سردی کا انتظار ۔۔۔۔
گیارہ ماہ کی برداشت اگر بارہویں مہینے جواب دے جائے تو الزام محبت پہ کیوں یہ کوئی بات ہوئی بھلا ۔۔۔ اور اس بار تو دسمبر نے بھی حد کردی جون کا منظر دکھا کے الوداع کہہ رہا ہے ۔۔۔ نہ وہ صبحیں نہ شامیں ۔۔۔۔ موسم پر بھی پاکستان کے حالات کا اثر ہوگیا ۔۔۔۔ کون جانے اگلا سال کیا رنگ دکھائے مگر پھر بھی اُمید باقی ۔۔۔۔ اللہ کرے نیا سال سب کو راس آئے آمین ۔۔۔۔ ( اس تحریر کو لکھتے ہوئے شدت سے احساس ہوا میں لکھنا بھول چکی :( )


آخخ تھو ۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی غم سے عبارت ہے خوشیاں کشید کرنا پڑتی ہیں اور جب خوشی مل جائے تو مدّتوں اُس کے ہر لمحے کا یوں مزا لیا جاتا ہے جیسے ہم اپنے پسندیدہ مشروب کا آخری قطرہ بھی ضائع نہیں ہونے دیتے ۔۔۔
شادی بھی ایسی ہی خوشی کا نام ہے عمر بھر کی جمع پونجی لُٹا کے والدین بیٹی بیاہتے ہیں کہ وہ اپنا گھر آباد کرے ۔۔۔ اور خود خالی جھولی کے ساتھ زندگی کی آخری سانس تک اسے خوش دیکھ کے پُرسکون رہیں ۔۔۔ مگر قسمت کہیں یا دنیا داروں کی سفاکیاں کبھی کبھی آنسو مقدر ٹہرتے ہیں ۔۔۔
زندگی بھر نافرمان بیٹے سے جب مائیں کہتی ہیں بیٹا تمہارے لیئے دلہن پسند کرلی ۔۔۔ اس وقت باچھیں کھل جاتی ہیں ۔۔۔۔ یاد داشت کھو جاتی ہے ۔۔۔۔ جس طرف آنکھ اٹھائی جائے دلہن نظر آتی ہے ۔۔۔ شادی کے ایک ہفتے بعد خیال آتا ہے او ہو مجھے تو کوئی اور پسند ہے ۔۔۔۔ پھر دلہن کا جینا مشکل ۔۔۔ اماں ابا معصوم بن کے کہتے ہیں پتہ ہی نہیں تھا کس کلموہی نے ڈورے ڈال رکھے ہیں ۔۔۔( یہاں بھی قصور بیٹے کا نہیں ہے )
رکھنا نہیں چاہتا اس سے شادی کرنے کی ضد کر لی ہے ۔۔۔ انوکھے لاڈلے کی ضد پوری کرنی ہے ، پرائی بیٹی کی کیا پرواہ ۔۔۔۔
اس طرح کے دو واقعات ہو چکے جاننے والوں میں پہلے ہی ہمت کر لیں لڑکے تو زندگی خراب نہ ہو ۔۔۔ جب سے پتہ چلا بہت دُکھی ہوں میں اس بربادی پہ ، کہہ آئی ہوں اتنا پیٹیں لڑکے کو کہ ساری پسند ہوا ہوجائے ۔۔۔ یہ دو لفظ دُکھ کا مداوا تو نہیں ہوسکتے پھر بھی ہونہہ !!!!! آخخ تھو ۔۔۔۔۔۔۔۔


موسمِ خزاں ۔۔۔۔

اب کے سال موسم کا مزاج گرم ہی رہا ۔۔۔ برکھا برسی نہ مٹی کی خوشبو نہ بھیگی فضا میں سبزے نے دل لُبھایا ۔۔۔۔ اور برسات کے مہینے گزر کے ویران اکتوبر آگیا ۔۔۔ ہر منظر خاموش ۔۔۔ پتّے ساکت سہمے سہمے کہ ان کا شجر سے وقتِ رخصت قریب ہے ۔۔۔ اداس لیکن خوبصورت رنگوں سے بھرے موسمِ خزاں خوش آمدید ۔۔۔۔

welcome-autumn-3


تعمیرِ نو اور ہم ۔۔۔۔

کافی دنوں سے یوں محسوس ہورہا ہے جیسے کچھ کمی سی ہے ۔۔۔۔ سارے کام ہو رہے ہیں مگر نظرانداز ہورہا ہے تو بیچارہ بلاگ ۔۔۔۔ لکھنے کے لیئے سوچنا پڑتا ہے اور سوچنے کے لیئے مجھے خاموشی چاہیئے تاکہ لفظوں کے تانے بانے بُن سکوں مگرخاموشی ہم نے اس شام گِروی رکھ دی تھی جب یہ فیصلہ ہوا تھا کہ گھر کے ایک حصّے کی تعمیر کے لیئے گھر ٹھیکیدار کے حوالے کر دیا جائے ۔۔۔ اس کے بعد اب تک گھر مزدوروں کے قبضے میں ہے ۔۔۔۔
ہر وقت کی ٹھک ٹھک دھم میں خاموشی کیسے ہو ۔۔۔۔ بڑے کمروں اور کُھلے صحن کے عادی ہم دو کمروں تک محدود ہوگئے ۔۔۔۔ پہلے پہل تو گھر بننے کی خوشی میں آنے جانے کا عارضی سمارٹ سا رستہ 6 فٹ چوڑا لگتا تھا مگر جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے اور کام کی سست رفتار دیکھ کر اب اسی رستے سے آتے جاتے نہ جانے کتنی بار کبھی ہاتھ چِھلتے ہیں کبھی ٹھوکر لگتی ہے ۔۔۔۔۔
گھر بننے میں اتنے پھڈے ہوتے ہیں توبہ ہر کوئی سوا پانچ کلو کا منہ بنا کے بیٹھ جاتا ہے کہ اس کی مرضی نہیں چل رہی ، ایسی صورتِ حال میں مجھے آتی ہے ہنسی کہ ہم گھریلو تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں گھر میں رہتے ہوئے گھر کی تعمیر مشکل کام ہے ۔۔۔
ساتھ ہی ٹھیکیدار نے جو ڈرامہ رچایا ہے پلمبر اور الیکٹریشن اپنے بندے لانے کا اس وجہ سے دو پلمبر اور الیکٹریشن فرار ہوچکے ہیں ۔۔۔۔ اس نے یہ کہہ کر ڈرایا کہ یہاں کوئی سایہ وایہ ہے کام مت کرو اور فرار ہونے والے جاہل یہ نہیں سوچتے کہ وہ خود کس طرح کام کروارہا ہے ۔۔۔
خیر ہم بھی ڈرامے کی تہہ تک پہنچ ہی گئے مزید کوئی کام اس بدتمیز بنگالی سے نہیں کروانا ۔۔۔۔ لگتا تو یہی ہے کہ گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے ساتھ سامان سے بھرے اوور لوڈڈ کمرے میں رمضان کیا عید بھی گزرے گی :roll:
جگہ کی تنگی سہی مگر ہمارے پھول پودے بھی ادھر ہی ہیں ان کے بغیر گزارہ مشکل ہے اور خوشی کی بات یہ کہ پودوں میں رہنے والی چھوٹی چڑیا بھی اپنی فیملی کے ساتھ ادھر شفٹ ہوگئی ہے :)


یادِ پروین شاکر ۔۔۔

تمہاری زندگی میں
میں کہاں پر ہوں؟
ہوائے صبح میں
یا شام کے پہلے ستارے میں
جھجھکتی بوندا باندی میں
کہ بے حد تیز بارش میں
رو پہلی چاندنی میں
یا کہ پھر تپتی دوپہروں میں
بہت گہرے خیالوں میں
کہ بے حد سرسری دُھن میں
تمہاری زندگی میں
میں کہاں پر ہوں؟
ہجومِ کار سے گھبرا کے
ساحل کے کنارے پر
کِسی ویک اینڈ کا وقفہ
کہ سگرٹ کے تسلسل میں
تمہاری انگلیوں کے بیچ
کوئی بے ارادہ ریشمیں فرصت؟
کہ جامِ سُرخ سے
یکسر تہی
اور پھر سے
بھر جانے کا خوش آداب لمحہ
کہ اِک خوابِ محبت ٹوٹنے
اور دُوسرا آغاز ہونے کے
کہیں مابین اک بے نام لمحے کی فراغت؟
تمہاری زندگی میں
میں کہاں پر ہوں؟
یہ نظم میں نے نیٹ سے کاپی کرکے یہاں پیسٹ کی ہے ، لگ رہا ہے کہ غلطیاں ہیں اور نام بھی نہیں لکھا ہوا نظم کا ۔۔۔ میں نے وضاحتی نوٹ اس لیئے لکھا کہ میرا دل نہیں چاہ رہا تنقید پڑھنے کا :)


آج کی محبت ۔۔۔

نئے زمانے کے عاشقوں کے نام جون ایلیا کا پیغام ۔۔۔۔
اے جانِ عہد و پیماں
ہم گھر بسائیں گے
ہاں !! تو اپنے گھر میں ہوگا
ہم اپنے گھر میں ہونگے ۔۔۔
لیکن محبت اور جنگ میں سب جائز ہے کل کے لیئے آج کیوں برباد کریں ڈیٹ پہ چلو مزے کریں گے :P


رنگوں بھرا موسم ۔۔۔

رخصت ہوتی سردیوں کا بہت خوبصورت رنگوں بھرا موسم ہے آج کل ۔۔۔ مٹیالی فضا ۔۔۔ ٹنڈ منڈ خاکی ٹہنیوں پہ زندگی کی نوید دیتی ننھی سبز کونپلیں ۔۔۔ آنگن میں بچھی سرخ پتوں کی چادر پہ کبھی چمکیلی کبھی زرد دھوپ کی شعاعوں کا خوش رنگ منظر ۔۔۔ کبھی کبھار کوئی بھٹکا ہوا بادل کا ٹکڑا بھی نظر آجاتا ہے ۔۔۔ پودوں پہ منڈلاتے بھنورے ۔۔۔ کوئل کی شوخ ہوتی کوک اور رخ بدلتی ہوا کے انداز بتا رہے ہیں بہار آ چکی ہے ۔۔۔
اس وقت شفاف نیلے آسمان پہ چمکتے چاند ستارے اور چاندنی اس قدر دلفریب و حسین ہے کہ اگر میرے ارد گرد شور نہ ہوتا تو میں آنگن میں رکھی اپنی آرام دہ کرسی پہ بیٹھی چاند کی سیر کر آتی مگر ۔۔۔ اِرد گِرد سے بےنیاز ہونے کا گُر بھی آنا چاہیئے ۔۔۔۔


2013 in review

The WordPress.com stats helper monkeys prepared a 2013 annual report for this blog.

Here’s an excerpt:

The concert hall at the Sydney Opera House holds 2,700 people. This blog was viewed about 9,900 times in 2013. If it were a concert at Sydney Opera House, it would take about 4 sold-out performances for that many people to see it.

Click here to see the complete report.


جانے کہاں گئے وہ دن ۔۔۔۔۔۔

آج دوپہر ہونے والی بھابی جی کا میسج آیا میرا نیو ائیر کا تحفہ کیا ہوگا سرپرائز ہے یا بتا رہی ہیں ۔۔۔ لو بھئی ایک اور خرچہ وہ بھی زبردستی کا ۔۔۔۔ کلینڈر پر نظر ڈالی 28 دن گزر گئے دسمبر کے اور پتہ بھی نہیں چلا ۔۔۔ ایک وہ وقت تھا جب دن گنے جاتے تھے کونسے کارڈز لوں جو منفرد سے ہوں تحفہ کیا لیا جائے پہلی وش میری ہو ۔۔۔ پھر وقت نے ایسی کروٹ لی کہ اب دسمبر سال کا بارہواں مہینہ اور بس ۔۔۔ بہت شکوے تھے اہلیانِ کراچی کو سردی سے آئی تو ایسی شوخ رنگ کے سارے شکوے ٹھٹھرے پڑے ہیں ۔۔۔ وہی مٹیالی گرد آلود خاموش فضا ۔۔۔ خشک پتّوں سے بھرے آنگن میں زرد دھوپ ۔۔۔ حسین چاندنی راتیں ۔۔۔ رومینٹک رات کی رانی ۔۔۔ بھاپ اڑاتی چائے کی خوشبو ہے مگر میں وہ نہیں ہوں ۔۔۔ اب دسمبر کی دھوپ میں بیٹھ کر “ ذرا سی دیر دسمبر کی دھوپ میں بیٹھیں “ والا شعر یاد نہیں آتا چائے کی خوشبو کوئی اچھوتا خیال نہیں لاتی گویا صرف چکّی کی مشقت ہے مشقِ سخن وقت کی نظر ہوگئی ۔۔۔
سردیوں میں جیسے پرانے درد لوٹ آتے ہیں اسی طرح جانے والے کسی بھی موسم میں گئے ہوں سرد موسم ان کی یادوں کی کسک دو آتشہ کردیتا ہے ۔۔۔ پھر کیسی چاندنی راتیں اور رات کی رانی ۔۔۔۔
شائد اس سال شکستہ ہوں مصائب کی سِلیں
شائد اس سال ہی صحراؤں میں کچھ پھول کھلیں
شائد اس سال جو سوچا تھا وہ پورا ہو جائے
شائد اس سال مرادیں بر آئیں
یہ نیا سال مبارک ہو تمہیں ۔۔۔۔


سگھڑ بمقابلہ پھوہڑ …..

کل ہم ایک دعوت میں مدعو تھے ۔۔۔ دعوت کا اہتمام گھر میں تھا اور مہمانوں کی تواضع کا انتظام ہوٹل کے ذمّے اس لیئے اہلِ خانہ لشکارے مارتے ڈریسز پہنے خوشی سے سرشار اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے ۔۔۔۔ سب سے ملنے کے بعد میں نے آتے جاتے ہوئے لوگوں اور گھر پہ نظر ڈالی تو دل چاہا اسی وقت دو سطری بلاگ لکھ کے قلم توڑ دوں ۔۔۔۔
میزبان خواتین نے صرف خود پہ توجہ دی تھی ۔۔۔ گھر کی حالتِ زار بتا رہی تھی کہ اگر سارے مہمانوں کو لگاؤں تو بھی آج صفائی مکمل نہیں ہونی ۔۔۔ میری بک بک کا مقصد اتنا سا ہے کہ “ پھوہڑ خواتین “ کی قسمت اعلٰی ہوتی ہے ۔۔۔۔ ناز و انداز اور اداؤں سے آنکھوں پہ پٹی باندھی جا سکتی ہے ۔۔۔ پھر کچھ نظر نہیں آتا اداؤں کے ماروں کو :roll:
اس لیئے سُگھڑ بیبیو اب اصغری کے زمانے والے فیشن تو اِن ہوسکتے ہیں اصغری نہیں ۔۔۔۔ اب فیوی کول کے استعمال سے سیّاں کا دل بگاوت کرتا ہے یہ گھر میرا گلشن ہے کہہ کر نہیں ۔۔۔ چلو بھئی کبھی کام بھی کر لیا کرو تعریف کی آس میں پوری پوسٹ پڑھ لی ناں ویسے کیا خیال ہے بادل کے بغیر بجلیاں گِرانا اچھا ہے یا دیگچیاں چمکانا :P


کتابوں کا جائزہ ۔۔۔۔۔۔

کتابوں سے اپنی دوستی پرانی ہے گو کہ اب وقت نکالنا پڑتا ہے کبھی کوئی کتاب اٹھائی پڑھی اور پھر دوسری یعنی ہر کتاب میری قسمت پہ رو رہی ہوتی ہے کہ میں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔۔۔ لیکن کتابیں خریدنے کا شوق کم نہیں ہوتا ۔۔۔۔
پچھلے سال کتب میلہ گئی تھی اور بہت ساری کتابوں کے ساتھ 2 کتابیں ایسی لے آئی جو میرے ساتھ شئرنگ کرکے کتابیں خریدنے والے فسادی بھائی کو پسند نہیں آئیں ۔۔۔۔ سال بھر یہ سُن سُن کر کان خراب ہوگئے کہ تم نے پیسے ضائع کیئے ، کہا بھی کسی کو گفٹ کردو لیکن وہی بک بک ۔۔۔۔ اس بار کہا خود جاؤ لیکن میری مطلوبہ کتابیں لے آنا ۔۔۔ تو بس پھر جمع پونجی لٹا دی لیکن دل مطمئن کہ پیسے ضائع نہیں ہوئے ۔۔۔۔
مظہر السلام کی “ محبت مردہ پھولوں کی سِمفنی “ کا ابتدائی جائزہ لیا مصنف نے حرف حرف میں موتی پرو دیئے ہیں “ محبت کی روٹی روز تازہ پکانی پڑتی ہے “ والی لائن ہو یا “ محبت کی ایک نہیں کئی زندگیاں ہوتی ہیں “ ہر جملے پہ فدا ہونے کو دل چاہ گیا ۔۔۔
سرفراز شاہ کی “ فقیر نگری “ کا اب تک جتنا مطالعہ کیا یوں لگااب تک کی زندگی میں جتنی باتیں سُنی اور کیں وقت ضائع کیا ۔۔۔۔ روحانی گفتگو پڑھ کے اندازہ ہوا کہ زندگی میں سب کچھ ہی تو ہے اگر کچھ نہ ہونے کا غم ہے تو اپنے اِرد گِرد ایک نظر ڈالنا کافی ہے اس کے بعد شُکر ہی شُکر ادا ہونا چاہیئے لیکن ایسا کچھ دیر ہی ہوتا ہے پھر وہی نا شُکرا پن ۔۔۔۔
قمر اجنالوی کی “ دھرتی کے رنگ “ کا سرسری جائزہ لیا لگتا ہے اچھا ناول ہوگا ۔۔۔
مستنصر کی “ رتی گلی “ کے بارے میں بہت تعریف سُنی تھی ہے کیسی یہ پڑھ کے پتہ چلے گا ۔۔۔۔
“ فلسفہء محبت “ مصنف کا نام لکھنے کی ضرورت نہیں کہ آپ اپنا تعارف ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ہے اب آپ کی مرضی اس ڈیش میں بہار سے ملتا جلتا کوئی لفظ فٹ کرلیں ۔۔۔۔ اس کتاب کو لینے کا مقصد صرف اتنا کہ 50 روپے میں مل رہی تھی ۔۔۔ جائزہ لینے کا اتفاق شائد کبھی نہ ہوتا اگر فیس بک پہ اس حوالے سے تبصرے نہ پڑھے ہوتے ۔۔۔ انور مقصود کے “ فن پارے “ پہ غور کرتے ہوئے آگے بڑھی تو “ حسن نثار “ کہتے نظر آئے کہ وہ بابائے قوم کے بعد مصنف سے متاثر ہیں ۔۔۔
“ محمود شام“ کا کہنا ہے محبت کرنے والے مصنف کے ممنون رہیں گے کہ انہیں محبت کا ایسا فلسفہ پڑھنے کو ملا ۔۔۔
اجمل دہلوی کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو پڑھنے والے کبھی صراطِ مستقیم سے نہیں بھٹکیں گے :shock:
تمام لوگوں کی آراء پڑھنے کے بعد مختلف ابواب سے ہوتے ہوئے جب آپ “ خونی رشتوں میں جسمانی کشش “ پہ جائین تو توبہ استغفار کے بعد صفحہ 47 پہ چلے جائیں ۔۔۔ استاد اور شاگرد کی محبت پرانی پاکستانی فلم “ نہیں ابھی نہیں “ سے متاثر لگے گی ۔۔۔ صفحہ 48 سے 78 تک “ تباہ کُن “ اور “ جینیٹک “ پہ زور ہے ۔۔۔
جائزے میں پندرہ تباہ کن منٹ لگے اور برباد ہوگئے وقت کی قدر کرنا سیکھیں :P


لوگ آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں کا رزلٹ ۔۔۔

ماہرِ نفسیات کے مطابق آپ کے جواب نیچے لکھے “ ہاں “ اور “ نہیں “ سے ملنے چاہیئے تھے یعنی اس سوالنامے کا اعلیٰ ترین اسکور 25 ہے ۔۔ 17 نمبر اسکور کرنے والے قابلِ قبول کہ وہ اپنے حلقہء احباب میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں ۔۔ اور اس سے کم والے سارے سڑیل ہیں :P
میں بھی لٹل لٹل سڑیل :(
1 ۔ نہیں ۔۔
2 – نہیں ۔۔
3 – نہیں ۔۔
4 – ہاں ۔۔
5 – ہاں ۔۔
6 – ہاں ۔۔
7 – نہیں ۔۔
8 – نہیں ۔۔
9 – نہیں ۔۔
10 ۔ ہاں ۔۔
11 – نہیں ۔۔
12 – نہیں ۔۔
13 – ہاں ۔۔
14 – نہیں ۔۔
15 – نہیں ۔۔
16 ۔ نہیں ۔۔
17 – نہیں ۔۔
18 – ہاں ۔۔
19 – نہیں ۔۔
20 – نہیں ۔۔
21 – نہیں ۔۔
22 – نہیں ۔۔
23 – نہیں ۔۔
24 – ہاں ۔۔
25 – ہاں ۔۔


لوگ آپ کو کتنا پسند کرتے ہیں ؟؟؟

بہت دن گزرے کوئی امتحان نہیں لیا میں نے اس لیئے حاضر ہے ایک سوالنامہ ۔۔۔ ویسے بھی اب سارے بلاگرز مصروف ہوگئے ہیں جواب ملنے کی امید کم ہی نظر آتی ہے پھر بھی کوشش کرنے میں کیا ہرج ۔۔۔ اپنے بارے میں جاننے کا شوق تو ہر کسی کو ہوتا ہے کہ وہ دوستوں اور جاننے والوں میں کتنا مشہور یا پسند کیا جاتا ہے ۔۔۔ نیچے لکھے ہوئے سوال میرے نہیں کسی ماہرِ نفسیات کے ہیں ۔۔۔ آپ “ ہاں “ اور “ نہیں “ میں جواب دے کر اندازہ لگائیں کہ آپ اپنے حلقہء احباب میں کتنے مقبول ہیں ۔۔۔
سوال : 1 – کیا آپ اپنے دوستوں کے سامنے برملا اور بلا جھجھک اپنی رائے کا اظہار کرتے / کرتی ہیں ؟؟
سوال : 2 – کیا آپ اپنے بہترین دوستوں کے مقابلے میں خود کو ان سے برتر سمجھتے ہیں ؟؟
سوال : 3 – کیا آپ اکیلے کھانا کھانا پسند کرتے ہیں ؟؟
سوال : 4 – کیا آپ اخبار کے پہلے صفحے پہ شائع ہونے والی قتل و غارت پر مشتمل کہانیاں پڑھتے ہیں ؟؟
سوال :5 – کیا آپ عموماً اس طرح کے سوالناموں مین دلچسپی لیتے ہیں ؟؟
سوال :6 – کیا آپ اکثر و بیشتر دوستوں سے ادھار لیتے ہیں ؟؟
سوال :7 – جب آپ کسی واقعہ کی تفصیل بیان کریں تو اس کی چھوٹی چھوٹی جزئیات بھی بتائیں گے ؟؟
سوال : 8 – کیا آپ اپنی خوش اخلاقی پہ فخر کرتے ہیں ؟؟
سوال : 9 – جب کسی دوست کو ملنے کا وقت دیتے ہیں تو اسے انتظار کرواتے ہیں ؟؟
سوال : 10 – کیا آپ کو بچے اچھے لگتے ہیں ؟؟ ( اپنے بچوں کے علاوہ )
سوال : 11 – کیا آپ لوگوں کے ساتھ عملی قسم کے مذاق کرتے ہیں ؟؟
سوال :12 – کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادھیڑ عمری کے دور میں محبت میں مبتلا ہونا حماقت کے سوا کچھ نہیں ؟؟
سوال : 13 – کیا آپ کو سات افراد سے زیادہ کا مجمع گھبراہٹ مین مبتلا کردیتا ہے ؟؟
سوال : 14 – کیا آپ باتیں دل میں رکھنے کے عادی ہیں ؟؟
سوال : 15 – کیا آپ اکثر و بیشتر “ کیا مصیبت ہے “ اور مجھے تو سخت گھبراہٹ ہورہی ہے جیسے جملے ادا کرنے کے عادی ہیں ؟؟
سوال : 16 – کیا سیلز مین اور سیلز وومین ٹائپ کے لوگ آپ کو جھنجلاہٹ میں مبتلا کردیتے ہیں ؟؟
سوال : 17 – کیا آپ ایسے لوگوں کو غیر دلچسپ اور احمق تصور کرتے ہیں جنہیں آپ کی طرح میوزک ، کتابوں اور کھیلوں سے دلچسپی نہیں ہوتی ؟؟
سوال : 18 – کیا آپ اکثر و بیشتر اپنے وعدے توڑ دیا کرتے ہیں ؟؟
سوال : 19 – کیا آپ لوگوں کے سامنے ان پہ تنقید کرتے ہیں ؟؟
سوال : 20 – جب قسمت آپ کا ساتھ نہ دے رہی ہو تب اپنے دوستوں کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتے ہیں ؟؟
سوال : 21 – کیا دوستوں کے سامنے اپنی توقعات ، مسائل اور ناکامیوں پر بات کرتے ہیں ؟؟
سوال : 22 – کیا چھوٹی موٹی تفریحات پہ پیسے خرچ کرنے کے قائل ہیں ؟؟
سوال : 23 – جب آپ کے کام بگڑ رہے ہوں تو مایوس ہوکر ہمت ہار بیٹھتے ہیں ؟؟
سوال : 24 – کیا اپ نے کبھی کسی دلچسپ قسم کی گپ شپ میں حصہ لیا ؟؟
سوال ؛ 25 – دوستوں کے ساتھ باہر کھانا کھاتے ہوئے اپنا اپنا بل ادا کرنے پہ یقین رکھتے ہیں ؟؟
ہر وہ سوال جس کا جواب “ ہاں “ میں ہوگا اس کا ایک پوائنٹ ہے یعنی ایک نمبر ۔۔۔ اپنے پوائنٹس لکھیں پھر میں رزلٹ لکھوں گی ۔۔۔


پڑیئے گر بیمار ۔۔۔۔

ہیلو کیسی ہو ۔۔۔ کہاں غائب ہو نہ فون نہ میسج ۔۔۔ عید کیسی گزری ۔۔۔ عید بس میں تو عید کی صبح ۔۔۔۔۔۔ ہاں مصروف ہوگی بہاری کباب بنا کے کھا لیا ہوگا یاد تو نہیں آئی ناں ہماری ۔۔۔۔۔ مجھے کب کھلا رہی ہو ۔۔۔۔ میں کچھ کہوں اگر اجازت ہو ؟؟ ہی ہی ہی ہاں بولو ناں ۔۔۔ میرا پاؤں پھسل گیا تھا عید کی صبح تو بس ایویں گزری عید ۔۔۔ او ہو سب خیر تو ہے مہرہ وہرہ تو نہیں ہٹ گیا جگہ سے ۔۔۔ اس موسم کی چوٹ کا اثر تو اب رہے گا دیر تک ۔۔۔ فلاں کو ایسا ہوا تھا سالوں گزر گئے اب تک پوری طرح نہیں ٹھیک ۔۔۔ علاج کرو یونہی چھوڑ دیا تو مشکل ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل چاہتا ہے کہ کوئی نہ ہو ایسا تیمار دار جو تسّلی دینے کی بجائے ننّھا سا دل دہلا دے :roll:
جب سے پیر پھسلا بار بار یہ گانا یاد آیا “ آج پھسل جائیں تو ہمیں نا اٹھئیو “ ہم پھسلیں تو تختے پہ سوئیں اور اس گانے میں :P سوچنے کی بات ہے کہ نہیں ۔۔۔۔۔


میں اداس ہوں ۔۔۔

وقت اتنی تیز رفتاری سے گزر رہا ہے جیسے بلائیں پیچھے لگی ہوں ۔۔۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو عید کی تھکن اتری تھی اور اب بقرعید آکے چلی گئی لیکن پھر وہی مہمانوں کا جمِّ غفیر اور میں ۔۔۔۔۔۔
مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ موسم چاہے جتنی کروٹ لے دل و نظر کو تسکین تو ملتی ہے مگر مدّح سرائی میں کوئی تحریر نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن خزاں کا ذکر نہ ہو یہ ہونہیں سکتا ، خزاں کا حسین موسم درختوں پہ دستک دے چکا ہے ۔۔۔ آنگن میں جابجا بادام کے سرخ رنگ پتے بکھرے ہوئے ہیں لیکن خشک پتوں کا وہ مدھُر حسین ساز جسے سن کر روح سرشار ہوا کرتی تھی کہیں کھو گیا ہے ، یا شائد میں اداس ہوں کہ بادام کا درخت اپنی زندگی کے آخری ایّام گزار رہا ہے ۔۔۔۔۔ اگلے سال یہ منظر نہیں ہوگا ۔۔۔ بہت چاہا کہ گھر کی تعمیر میں درخت نہ کٹے لیکن :(
خیر زندگی میں تبدیلیاں تو آتی رہتی ہیں ، درخت لگانے والے نہیں رہے تو درخت کی کیا اہمیت ۔۔۔ بادام کے پتے تو میں ڈائری میں جمع کرلوں گی مگر غم تو اس بات کا ہے کہ کُھلا آنگن ۔۔۔ دھوپ ۔۔۔ بارش ۔۔ چاند اور چاندنی میرے بِنا اداس ہوجائیں گے :P :( ویسے اب تک ہار نہیں مانی میں نے درخت کو بچانے کی کوشش آخری وقت تک جاری رہے گی ۔۔۔۔


اولڈ از گولڈ ….

مجھے گولڈ پسند نہیں ۔۔۔ وُڈ ، اسٹون ، پرل ، پرانی چیزیں اور روایات کی عاشق ہوں لیکن تھوڑی بہت جدّت بھی ساتھ ہوتی ہے کہ زمانے کے ساتھ بھی چلنا ہے ۔۔۔ لیکن دوستی میں جدّت ناقابلِ معافی جرم لگتی ہے ۔۔۔ کسی پرانی سہیلی سے اچانک ملنے پہ اس کے انداز میں ازلی گھٹیا پن اور سلام دعا کے بغیر بے ساختہ جملے بازی سے دل میں ٹھنڈ پڑ کر یوں محسوس ہوتا ہے یہی زندگی ہے ۔۔۔
رواں ہفتے کا ایک دن میرے لیئے بھی ایسا ہی تھا ۔۔۔ سویرے سویرے کسی کی آمد پہ مکمل تفتیش کے بعد دروازہ جو کھولا تو ! ارے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر شروع ہوئے اسکول کے قصّے ۔۔۔ ناکام محبت کی کہانیاں ۔۔۔ کون کس ٹیچر پہ مرتی تھی ، ویسے سندھی کے اقبال سر تھے بھی تو شاندار ۔۔۔ اس پہ ان کا چشمہ اور غصّہ ۔۔۔ بے چاری معصوم لڑکیاں :P
سب کچھ بلاگ از بام نہیں کیا جاسکتا اتنا کافی ہے کہ ہنستے مسکراتے اس وعدے پر دن تمام ہوا کہ
لوگ کہتے ہیں زندہ رہے تو ملتے رہیں گے
ہم کہتے ہیں ملتے رہے تو زندہ رہیں گے ۔۔۔


بارش کا ہے موسم ۔۔۔

واہ کیا خوبصورت موسم ہے ۔۔۔ رم جھم پڑتی پھوار سے پھول پودے پرندے سب خوش ہیں لیکن سامنے شاپ والے سے شاید کوئی ناراض ہے “ بھری برسات میں پی لینے دو “ صبح سے یہی ایک گانا لگایا ہوا اس نے ۔۔۔ سُن سُن کر کان خراب ہوگئے ۔۔۔ انڈا پراٹھا چائے کا ناشتہ کرنے کے باوجود بھوک لگنے لگی ہے ۔۔۔ مہمانوں کے لیئے کیک منگوا کر رکھا تھا اب بارش میں کون آئے گا بھلا ۔۔۔۔ کیک پہ کب سے نیت خراب تھی کھا ہی لوں ۔۔۔۔


تیز رو زندگی ۔۔۔

آخری بلاگ کب لکھا تھا تاریخ یاد نہیں ، نہ جانے کتنی پوسٹس کا خیال ہی رہا کہ یہ بھی لکھنا ہے وہ بھی لکھنا ہے ۔۔۔ لیکن دن گزرتے گئے اور بلاگ لکھنے کا وقت نہیں ملا یا یوں کہنا بہتر کہ وقت ملا لیکن “ پھر سہی “ پہ ٹالنا اچھا لگا ۔۔۔ یہ اور وہ تو اب یاد نہیں مگر ایک پوسٹ مرد حضرات کے بارے میں تھی ، لگائی بجھائی میں کم نہیں ہوتی یہ صنف خواہ مخواہ نام خواتین کا بدنام کیا ہوا ہے ۔۔۔ اس پہ رمضان کے بعد لکھوں گی ابھی لکھ کر جنگ کرنی پڑے گی سارے حضرات آ جائیں گے معصوم بن کر :P اور فی الحال ٹائم نِشتہ ۔۔۔۔
رمضان شروع ہونے والے تھے تو گرمی کی شدت سے بارہا یہ سوچا کہ یا اللہ اس بار روزے کیسے گزریں گے ۔۔۔ 2 روزے بے حال گزرے پھر اللہ نے کرم کردیا اور آج انیس روزے ہوگئے ۔۔۔
مجھے روزے میں بھوک نہیں ستاتی لیکن افطار تو بنانی ہوتی ہے اسی بارے سوچتے ہوئے آج دوپہر اخبار پہ سرسری سی نظر ڈال کر جیسے اخبار رکھا ایک اشتہار پہ نظر پڑی “ افطار دلچسپی “ ہوش میں آگئی میں کہ یہ کیا پھر سے دیکھا تو “ اظہارِ دلچسپی “ لکھا تھا :oops: پھر جو ریکارڈ لگا بھوکی ندیدی روزہ لگ گیا کا وہ تفصیل سے لکھنے کی کیا ضرورت :P
یہ لفظوں کے ہیر پھیر تو اکثر ہوتے رہتے ہیں اس میں پبلشر کا قصور ہوتا ہے جلد بازی کا نہیں ، حروف فاصلے سے ٹائپ کیئے گئے ہوں تو یہی ہوگا ناں جیسے کتابچہ میں فاصلہ ہو تو “ کتا “ “ بچہ “ ہی پڑھا جائے گا اور بھی بہت سے لفظ ہیں یاد نہیں آرہے ۔۔ دعا اور دغا ، محرم اور مجرم والا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہوگا ۔۔۔
آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہوگا ایسا ؟؟ تو بتایئے اور معلومات میں اضافہ کیجیئے ۔۔۔


Pages